Month: November 2021

  • Pakistan Railways provides standard and comfortable travel facilities to the people

    تحریر: سید اعجازالحسن
    پاکستان ریلوے محض سفری یا فریٹ سروس کی سہولتیں ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ یہ قومی ادارہ ملک کے مختلف حصوں کو جوڑنے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لیے بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔ عوام کو معیاری اور آرام دہ سفری سہولتیں فراہم کرنا ریلوے کی ترجیحات میں سب سے اول ہے جس کے لئے ٹرین آپریشن کو تسلسل کے ساتھ ریلوے انتظامیہ رواں دواں رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کرتی رہتی ہے۔پاکستان ریلوے عوام الناس اور خصوصی طور پر اپنے مسافروں کی زندگیوں کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ جس کے لئے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر سیفٹی اور ٹریس پاسنگ کی روک تھام کے حوالے سے اکثر آگاہی مہم اخبارات،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلاتا رہتا ہے اور لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کرتا ہے جس میں بچوں اور بڑوں کو فزیکلی بھی جا کر بتایا جاتا ہے کہ ٹریک کو کہاں سے اور کس طرح سے عبور کرنا ہے۔ریلوے ٹریک پر زیادہ تر حادثات انسانی غلطی اور لاپرواہی سے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے ا ور ریلوے کی قیمتیں اثاثوں کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان ریلوے نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا۔ جس میں صحافیوں کو ریلوے ٹریک پر موجود پھاٹک اور بغیر پھاٹک لیول کراسنگ کامعائنہ کروایا گیا اور اس سلسلے میں بریفنگ بھی دی گئی۔ صحافیوں کو بتایا کہ صرف لاہور ڈویژن میں تقریباً 800 کے قریب لیول کراسنگ ہیں۔ جن میں 464 بغیر پھاٹک لیول کراسنگ ہیں اور باقی پھاٹک والے لیول کراسنگ ہیں۔ پھاٹک والے لیول کراسنگ پر عوام کی سہولت کے لیے پھاٹک موجود ہوتاہے جو ٹرین کے آنے سے کچھ دیر قبل بندکردیاجاتاہے اور ٹرین گزرنے کے بعد کھول دیاجاتاہے۔ جبکہ بغیر پھاٹک لیول کراسنگ پر پھاٹک موجود نہیں ہوتا یہاں سے ریلوے ٹریک کراس کرنے کی ذمہ داری عوام پر عائد ہوتی ہے۔جس میں شہریوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ریلوے ٹریک کراس کرتے وقت دائیں یا بائیں جانب اچھی طرح دیکھیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ کوئی ٹرین تو نہیں آرہی اور اگر کوئی ٹرین آرہی ہے تو وہا ں رُک جائیں اور پہلے ٹرین کو گزرنے دیں اور پھر ٹریک کو کراس کریں۔ ہر قسم کے لیول کراسنگ پر شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں جس کے تحت صرف لاہور ڈویژن میں 185 لیول کراسنگ پر ٹرین ڈرائیور کے لیے 800 میٹر اور 400 میٹر پر ہارن بجانے کے لیے بورڈ آویزاں کیے گئے ہیں۔ جہاں پر ریلوے ڈرائیور کے لیے لازم ہے کہ وہ شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے ہارن بجائے جبکہ 134 نان انٹر لاکڈ لیول کراسنگ پر ریلوے کے ڈرائیورز کے لیے خصوصی وارننگ بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں۔ لاہور ڈویژن کے 96 پھاٹک لیول کراسنگ ایسے ہیں جو حادثات کے لیے بہت حساس ہیں۔ ایسے لیول کراسنگ پر ریلوے کا عملہ سڑک استعمال کرنے والے شہریوں کو عمومی طورپر اور بلخصوص دھند کے دنوں میں ٹرین کی آمدورفت سے آگاہ کرتا ہے۔ 112 لیول کراسنگ پر پختہ راستے تعمیر کردیئے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو گزرنے میں سہولت رہے۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ 970 مقامات پر باڑ لگادی گئی ہے تاکہ شہری وہاں سے ٹریک کراس نہ کرسکیں۔ جبکہ 277 مقامات پر خندق کھود کر عوام کی آمدورفت کو محدود کردیاگیاہے۔ لاہور ڈویژن میں 54 مقامات پر ایسے بغیر پھاٹک لیول کراسنگ بند کردیئے ہیں جہاں پر شہریوں کی آمدورفت بہت زیادہ تھی اور حادثات کا زیادہ خطرہ تھا۔ غیر قانونی طور پرریلوے ٹریک کراس کرنے کے جرم میں مختلف شہروں میں سینکڑوں ایف آئی آر بھی درج کی ہیں جن پر قانونی کاروائیاں بھی جاری ہیں۔ لاہور ڈویژن کی طرح پاکستان ریلوے کی باقی ڈویژنوں میں بھی سیفٹی کے حوالے سے ایسے ہی اقدامات ڈویژنل سپرٹینڈنٹس کی نگرانی میں اٹھائے جا رہے ہیں اور آگاہی کے لیے مختلف سیمینار بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔یہاں یہ تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کے بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگ پر پھاٹک لگانے کے لیے فنڈز کی فراہمی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔پاکستان ریلوے صوبائی حکومتوں کو گاہے بگاہے فنڈز کی فراہمی کے لیے خط و خطابت کرتا رہتا ہے اور جیسے جیسے فنڈ فراہم ہوتے جاتے ہیں تو بغیر پھاٹک والی جگہوں پر پھاٹک لگا دیے جاتے ہیں۔وزیرریلوے محمد اعظم خان سواتی کی ہدایت کی روشنی میں ٹرین سیفٹی اور ٹریس پاسنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے سیکرٹری/ چیئرمین ریلویزحبیب الرحمن گیلانی سیفی اور ٹریس پاسنگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔اسی طرح چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز نثار احمد میمن روزانہ کی بنیاد پرٹرین سیفٹی اور ٹرین پنکچوالیٹی کے حوالے سے پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔

  • Good nutrition helps the human immune system.

    غذائیت سے مراد بہترین غذا اور کھانے کی عادات کے ذریعے صحت کو قائم رکھنا ہے۔ یعنی غذائیت وہ عمل ہے جس سے جاندار اشیا ء اپنے جسموں میں خوراک سے غذائی اجزاء حاصل کرتے ہیں، یوں تو غذائی اجزا بہت سے ہیں۔ مگر مندرجہ ذیل چھ (6) اجزا بے حد ضروری ہیں اگریہ اجزاء کسی غذا میں موجود ہوں تو اس کے استعمال سے باقی اجزاء خود بخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

    1. پروٹین, 2. کاربوہائیڈریٹ, 3. چکنائی, 4. نمکیات, 5. وٹامن اور چھٹی اور نہایت اہم پانی

    اچھی صحت اور غذائیت کے لیے صحت بخش خوراک انتہائی ضروری ہے۔ یہ آپ کو بہت سی دائمی غیر متعدی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے  جیسے کہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور کینسر وغیرہ۔ مختلف قسم کے کھانے جن میں کم نمک، اور شکر کا استعمال صحت مند غذا کے لیے ضروری ہے۔

    ایک صحت مند غذا مختلف کھانوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جن میں شامل ہیں:

    اناج جیسے گندم، جو، رائی، مکئی یا چاول، یا نشاستہ دار کند یا جڑیں جیسے آلو، شکرقندی وغیرہ۔
    پھلیاں (دال اور پھلیاں)، پھل اور سبزیاں.
    جانوروں کے ذرائع سے حاصل کردہ خوراک (گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ)۔
    صحت مند غذا پر عمل کرنے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO کی سفارشات پر مبنی کچھ مفید معلومات۔

    بچوں اور چھوٹے بچوں کو دودھ پلائیں:
    ایک صحت مند غذا زندگی کے اوائل میں شروع ہوتی ہے – دودھ پلانا صحت مند نشوونما کو فروغ دیتا ہے، اور اس کے طویل مدتی صحت کے فوائد ہو سکتے ہیں، جیسے زیادہ وزن اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنا اور بعد میں بے شمار بیماریاں پیدا کرنا۔
    بچوں کو پیدائش سے لے کر 6 ماہ کی زندگی تک خصوصی طور پر ماں کا دودھ پلانا صحت مند غذا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ 6 ماہ کی عمر میں مختلف قسم کی محفوظ اور غذائیت سے بھرپور غذائیں استعمال کروائی جائیں، جب تک کہ آپ کا بچہ دو سال یا اس سے زیادہ کا نہ ہو جائے دودھ پلانے کو جاری رکھیں۔

    قرآنِ مجید کی روشنی میں:

    مائیں اپنی اوﻻد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا اراده دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔(Surah Al-Baqarah – Ayah 233)

    سبزیاں اور پھل زیادہ کھائیں:
    یہ وٹامنز، معدنیات، غذائی ریشہ، پلانٹ پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس کے اہم ذرائع ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں سے بھرپور غذا والے افراد میں موٹاپے، امراض قلب، فالج، ذیابیطس اور بعض قسم کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔

    چربی کم کھائیں:
    چربی،تیل اور توانائی کے مرتکز ذرائع۔ بہت زیادہ کھانا، خاص طور پر غلط قسم کی چکنائی، جیسے سیر شدہ اور صنعتی طور پر پیدا ہونے والی ٹرانس فیٹ، دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
    جانوروں کی چربی یا سیر شدہ چکنائی (مکھن، گھی، ناریل اور پام آئل) کی بجائے غیر سیر شدہ سبزیوں کے تیل (زیتون، سویا، سورج مکھی یا مکئی کا تیل) استعمال کرنے سے صحت مند چکنائیوں کو استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔
    غیر صحت بخش وزن میں اضافے سے بچنے کے لیے، کل چربی کا استعمال کسی شخص کی توانائی کی مجموعی مقدار کے 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

    شکر کی مقدار کو محدود کریں:
    ایک صحت مند غذا کے لیے، شکر کو آپ کی توانائی کی کل مقدار کا 10فیصد سے کم ہونا چاہیے۔ 5 فیصد سے بھی کم کرنے کے اضافی صحت کے فوائد ہیں۔
    میٹھے اسنیکس جیسے کوکیز، کیک اور چاکلیٹ کے بجائے تازہ پھلوں کا انتخاب چینی کی کھپت کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
    سوفٹ ڈرنکس، سوڈا اور دیگر مشروبات (پھلوں کے جوس، کارڈیلز اور شربت، ذائقہ دار دودھ اور دہی کے مشروبات) کے استعمال کو محدود کرنا بھی شکر کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    نمک کا استعمال کم کریں:
    اپنی روٹین کی غذا میں نمک کی مقدار کو کم رکھنے سے ہائی بلڈ پریشر کو روکنے میں مدد ملتی ہے اور دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
    کھانا پکانے اور تیار کرتے وقت نمک اور زیادہ سوڈیم والے مصالحہ جات (سویا ساس اور مچھلی کی چٹنی) کی مقدار کو محدود کرنا نمک کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

  • Local Martial Arts Club “Pasban” Wins Vietnamese Championship

    Pasban Martial Arts Club Multan won the final competition of the divisional Vietnamese Martial Arts Championship arranged here on Monday.

    A prize distribution ceremony titled “Iqbal Day Vovinam Demonstration Championship” was organized by the local sports department at the sports gymnasium where a large number of children aged between 7-17 and their parents participated.

    As many as 30 winners of the fighting competition were awarded a trophy with 80 declared as runner-ups receiving medals during the ceremony.

    The event was graced by chief guests Including Divisional Sports Officer Rana Nadeem, Chairman Insaf Sports Cultural Wing Muhammed Nadeem, Tehsil Sports Officer Noor Qaisrani, District Sports Officer Adnan Naeem. While Rana Jahanzeb was the event’s organizer.

    After the prize distribution, chief guest Rana Nadeem suggested the winners rank to use their knowledge and skills only for the purposes of self-defense and never for the motive of aggression.

    Noor Qaisrani asked kids and young players if martial arts practice would keep a huge impact on their lives.

    He said if someone gets in a confrontation anytime, it doesn’t need to escalate. Rana Jahanzeb said, “ Being an instructor, he tried to teach kids and young people that there’s more to life than wasting time on gadgets. —APP

    پاسبان مارشل آرٹس کلب ملتان نے پیر کو یہاں منعقد ہونے والی ڈویژنل ویتنامی مارشل آرٹس چیمپئن شپ کا فائنل مقابلہ جیت لیا۔

    مقامی سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سپورٹس جمنازیم میں “اقبال ڈے ووینم ڈیمانسٹریشن چیمپئن شپ” کے عنوان سے تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں 7 سے 17 سال کی عمر کے بچوں اور ان کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران فائٹنگ مقابلے کے 30 فاتحین کو ٹرافی دی گئی اور 80 کو رنر اپ قرار دیا گیا جنہوں نے تمغے حاصل کیے۔

    تقریب کے مہمان خصوصی ڈویژنل سپورٹس آفیسر رانا ندیم، چیئرمین انصاف سپورٹس کلچرل ونگ محمد ندیم، تحصیل سپورٹس آفیسر نور قیصرانی، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عدنان نعیم نے شرکت کی۔ جبکہ رانا جہانزیب تقریب کے منتظم تھے۔

    انعامات کی تقسیم کے بعد مہمان خصوصی رانا ندیم نے جیتنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے علم اور صلاحیتوں کو صرف اپنے دفاع کے لیے استعمال کریں اور کبھی بھی جارحیت کے مقاصد کے لیے نہ ہوں۔ نور قیصرانی نے بچوں اور نوجوان کھلاڑیوں سے پوچھا کہ کیا مارشل آرٹ کی مشق ان کی زندگیوں پر بہت زیادہ اثر ڈالے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی وقت بھی تصادم کا شکار ہو جائے تو اسے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رانا جہانزیب نے کہا، ’’ایک انسٹرکٹر ہونے کے ناطے اس نے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھانے کی کوشش کی کہ گیجٹس پر وقت ضائع کرنے کے علاوہ زندگی میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ -اے پی پی

  • Lee Zii Jia Set to Play at 2021 Indonesia Masters

    Lee Zii Jia to open against Rasmus Gemke in the 2021 Indonesia Masters first round. (photo: Shi Tang/Getty Images)

    Bali: Malaysia’s World No. 7 Lee Zii Jia who was previously plagued by a back injury he suffered at the HYLO Open one week ago in Germany, has decided to participate at the 2021 Indonesia Masters which is scheduled to kick off on Tuesday, Nov 15th.

    The coaching director of the Badminton Association of Malaysia (BAM) Wong Choong Hann said that Lee had recovered from his injury and was ready to start his action in Bali.

    “Although Zii Jia previously suffered a little fatigue after going through five tournaments in a row in Europe but now he looks enthusiastic and is fully prepared mentally and physically,” said Wong.

    “The injury suffered by Zii Jia was actually not serious and after resting for a few days and going through the recovery process, he is OK now and ready to play,” added Wong.

    “He and his coach – Hendrawan have reached the consensus that he is all right to compete at the Indonesia Masters.”

    “The busy competition schedule Zii Jia is going through now is part of a learning process for him. Not only this year but he will also face the same situation next year where the competition calendar will also be busy,” continued Wong.

    “So, he has to learn how to use his energy wisely through various tournaments and how to recover from fatigue more effectively. This can be considered as one of the challenges for him to become a better player,” explained Wong.

    From September until the end of October, Lee had participated in five consecutive tournaments, starting with the Sudirman Cup in Finland, the Thomas Cup in Denmark, the Denmark Open, the French Open, and the HYLO Open in Germany.

    The world number seven missed the chance to win his second title of 2021 a week ago when he had to withdraw from the HYLO Open final against Loh Kean Yew of Singapore after suffering a back injury.

    After the Indonesian Masters, Lee will play at the Indonesia Open and also in the BWF World Tour Finals where all these tournaments are taking place in Bali.

    Lee was seeded seventh at the Indonesia Masters and will open against World No. 13 Rasmus Gemke of Denmark on Tuesday. If he could make the quarter-finals, he is very likely to set up a mouth-watering clash with World No. 1 Kento Momota of Japan on Friday.

  • Air Pollution: Everything You Need to Know

    How smog, soot, greenhouse gases, and other top air pollutants are affecting the planet—and your health.

    What Is Air Pollution?

    Air pollution refers to the release of pollutants into the air—pollutants which are detrimental to human health and the planet as a whole. According to the World Health Organization (WHO), each year air pollution is responsible for nearly seven million deaths around the globe. Nine out of ten human beings currently breathe air that exceeds the WHO’s guideline limits for pollutants, with those living in low- and middle-income countries suffering the most. In the United States, the Clean Air Act, established in 1970, authorizes the U.S. Environmental Protection Agency (EPA) to safeguard public health by regulating the emissions of these harmful air pollutants.

    What Causes Air Pollution?

    “Most air pollution comes from energy use and production,” says John Walke, director of the Clean Air Project, part of the Climate and Clean Energy program at NRDC. “Burning fossil fuels releases gases and chemicals into the air.” And in an especially destructive feedback loop, air pollution not only contributes to climate change but is also exacerbated by it. “Air pollution in the form of carbon dioxide and methane raises the earth’s temperature,” Walke says. “Another type of air pollution, smog, is then worsened by that increased heat, forming when the weather is warmer and there’s more ultraviolet radiation.” Climate change also increases the production of allergenic air pollutants, including mold (thanks to damp conditions caused by extreme weather and increased flooding) and pollen (due to a longer pollen season).

    “We’ve made progress over the last 50 years improving air quality in the United States thanks to the Clean Air Act,” says Kim Knowlton, senior scientist and deputy director of the NRDC Science Center. “But climate change will make it harder in the future to meet pollution standards, which are designed to protect health.”

    Effects of Air Pollution

    The effects of air pollution on the human body vary depending on the type of pollutant and the length and level of exposure—as well as other factors, including a person’s individual health risks and the cumulative impacts of multiple pollutants or stressors.

    Smog and soot

    These are the two most prevalent types of air pollution. Smog (sometimes referred to as ground-level ozone) occurs when emissions from combusting fossil fuels react with sunlight. Soot (also known as particulate matter) is made up of tiny particles of chemicals, soil, smoke, dust, or allergens—in the form of either gas or solids—that are carried in the air. The sources of smog and soot are similar. “Both come from cars and trucks, factories, power plants, incinerators, engines, generally anything that combusts fossil fuels such as coal, gas, or natural gas,” Walke says.

    Photo by Craig Adderley from Pexels

    Smog can irritate the eyes and throat and also damage the lungs, especially those of children, senior citizens, and people who work or exercise outdoors. It’s even worse for people who have asthma or allergies: these extra pollutants can intensify their symptoms and trigger asthma attacks. The tiniest airborne particles in soot, whether gaseous or solid, are especially dangerous because they can penetrate the lungs and bloodstream and worsen bronchitis, lead to heart attacks, and even hasten death. In 2020 a report from Harvard’s T. H. Chan School of Public Health showed COVID-19 mortality rates in areas with more soot pollution were higher than in areas with even slightly less, showing a correlation between the virus’s deadliness and long-term exposure to fine particulate matter and illuminating an environmental justice issue.

    Because highways and polluting facilities have historically been sited in or next to low-income neighborhoods and communities of color, the negative effects of this pollution have been disproportionately experienced by the people who live in these communities. In 2019 the Union of Concerned Scientists found that soot exposure was 34 percent higher for Asian Americans, on average than for other Americans. For Black people, the exposure rate was 24 percent higher; for Latinos, 23 percent higher.

    Hazardous air pollutants

    A number of air pollutants pose severe health risks and can sometimes be fatal even in small amounts.

    AF&PA on proposed National Emission Standards for Hazardous Air Pollutants for Kraft pulp mills

    Almost 200 of them are regulated by law; some of the most common are mercury, lead, dioxins, and benzene. “These are also most often emitted during gas or coal combustion, incinerating, or—in the case of benzene—found in gasoline,” Walke says. Benzene, classified as a carcinogen by the EPA, can cause eye, skin, and lung irritation in the short term and blood disorders in the long term. Dioxins, more typically found in food but also present in small amounts in the air, can affect the liver in the short term and harm the immune, nervous, and endocrine systems as well as reproductive functions. Mercury attacks the central nervous system. In large amounts, lead can damage children’s brains and kidneys, and even minimal exposure can affect children’s IQ and ability to learn.

    Another category of toxic compounds, polycyclic aromatic hydrocarbons (PAHs), are by-products of traffic exhaust and wildfire smoke. In large amounts they have been linked to eye and lung irritation, blood and liver issues, and even cancer. In one study, the children of mothers exposed to PAHs during pregnancy showed slower brain-processing speeds and more pronounced symptoms of ADHD.

    Greenhouse gases

    By trapping the earth’s heat in the atmosphere, greenhouse gases lead to warmer temperatures, which in turn lead to the hallmarks of climate change: rising sea levels, more extreme weather, heat-related deaths, and the increased transmission of infectious diseases. In 2018 carbon dioxide accounted for 81 percent of the country’s total greenhouse gas emissions, and methane made up 10 percent. “Carbon dioxide comes from combusting fossil fuels, and methane comes from natural and industrial sources, including large amounts that are released during oil and gas drilling,” Walke says. “We emit far larger amounts of carbon dioxide, but methane is significantly more potent, so it’s also very destructive.” Another class of greenhouse gases, hydrofluorocarbons (HFCs), are thousands of times more powerful than carbon dioxide in their ability to trap heat. In October 2016 more than 140 countries reached an agreement to reduce the use of these chemicals—which are found in air conditioners and refrigerators—and develop greener alternatives over time. Though President Trump was unwilling to sign on to this agreement, a bipartisan group of senators overrode his objections in 2020 and set the United States on track to slash HFCs by 85 percent by 2035. According to David Doniger, senior strategic director of NRDC’s Climate and Clean Energy program, “the agreed-to HFC phasedown will avoid the equivalent of more than 80 billion tons of carbon dioxide over the next 35 years.”

    Pollen and mold

    Mold and allergens from trees, weeds, and grass are also carried in the air, are exacerbated by climate change, and can be hazardous to health. Though they aren’t regulated and are less directly connected to human actions, they can be considered a form of air pollution. “When homes, schools, or businesses get water damage, mold can grow and can produce allergenic airborne pollutants,” Knowlton says. “Mold exposure can precipitate asthma attacks or an allergic response, and some molds can even produce toxins that would be dangerous for anyone to inhale.”

    Pollen allergies are worsening because of climate change. “Lab and field studies are showing that pollen-producing plants—especially ragweed—grow larger and produce more pollen when you increase the amount of carbon dioxide that they grow in,” Knowlton says. “Climate change also extends the pollen production season, and some studies are beginning to suggest that ragweed pollen itself might be becoming a more potent allergen.” If so, more people will suffer runny noses, fevers, itchy eyes, and other symptoms.

    Air pollution is now the world’s fourth-largest risk factor for early death. According to the most recent State of Global Air report—which summarizes the latest scientific understanding of air pollution around the world—4.5 million deaths were linked to outdoor air pollution exposures in 2019, and another 2.2 million deaths were caused by indoor air pollution. “Despite improvements in reducing global average mortality rates from air pollution, the world’s most populous countries, India and China, continue to bear the highest burdens of disease,” says Vijay Lamaye, staff scientist at the NRDC Science Center. “This report is a sobering reminder that the climate crisis threatens to worsen air pollution problems significantly if we fail to act to cut carbon pollution.”

    Air Pollution in the United States

    Some four out of ten U.S. residents—135 million people—live in counties with unhealthy levels of air pollution, according to the 2021 State of the Air report by the American Lung Association (ALA). Since the annual report was first published, in 2000, its findings have shown how the Clean Air Act has been able to reduce harmful emissions from transportation, power plants, and manufacturing.

    Recent findings, however, reflect how climate change–fueled wildfires and extreme heat are adding to the challenges of protecting public health. The latest report—which focuses on ozone, year-round particle pollution, and short-term particle pollution—also finds that people of color are 61 percent more likely than white people to live in a county with a failing grade in at least one of those categories, and three times more likely to live in a county that fails in all three.

    In rankings for each of the three pollution categories covered by the ALA report, California cities occupy the top three slots (i.e., were highest in pollution) despite significant gains the Golden State has made in the past half-century. At the other end of the spectrum, Burlington, Vermont; Honolulu; and Wilmington, North Carolina, consistently rank among the country’s best cities for air quality. (You can check the air quality of your own city or state on this map.)

    Air Pollution and Environmental Justice

    No one wants to live next door to an incinerator, oil refinery, port, toxic waste dump, or other polluting site. Yet millions of people around the world do, and this puts them at a much higher risk for respiratory disease, cardiovascular disease, neurological damage, cancer, and death. In the United States, people of color are 1.5 times more likely than whites to live in areas with poor air quality, according to the ALA.

    Historically, racist zoning policies and the discriminatory lending practices known as redlining have combined to keep polluting industries and car-choked highways away from white neighborhoods and have turned communities of color—especially poor and working-class communities of color—into sacrifice zones where residents are forced to breathe dirty air and suffer the many health problems associated with it. In addition to the increased health risks that come from living in such places, members of these communities experience economic harm in the form of missed workdays, higher medical costs, and local underinvestment.

    Environmental racism isn’t limited to cities and industrial areas. Outdoor laborers, including the estimated three million migrant and seasonal farmworkers in the United States, are among the most vulnerable to air pollution—and also among the least equipped, politically, to pressure employers and lawmakers to affirm their right to breathe clean air.

    Recently, cumulative impact mapping, which uses data on environmental conditions and demographics, has been able to show how some communities are overburdened with layers of issues, like high levels of poverty, unemployment, and pollution. Tools like the Environmental Justice Screening Method and the EPA’s EJSCREEN provide evidence of what many environmental justice communities have been explaining for decades: that we need land-use and public health reforms to ensure that vulnerable areas are not overburdened and that the people who need resources most are receiving them.

    Controlling Air Pollution

    In the United States, the Clean Air Act has been a crucial tool for reducing air pollution since its passage in 1970, although fossil-fuel interests aided by industry-friendly lawmakers have frequently attempted to weaken its many protections. Ensuring that this bedrock environmental law remains intact and properly enforced will always be key to maintaining and improving our air quality.

    But the best, most effective way to control air pollution is to speed up our transition to cleaner fuels and industrial processes. By switching over to renewable energy sources (such as wind and solar power), maximizing fuel efficiency in our vehicles, and replacing more and more of our gasoline-powered cars and trucks with electric versions, we’ll be limiting air pollution at its source while also curbing the global warming that heightens so many of its worst health impacts.

    And what about the economic costs of controlling air pollution? According to a report on the Clean Air Act commissioned by NRDC, the annual benefits of cleaner air are up to 32 times greater than the cost of clean-air regulations. Those benefits include up to 370,000 avoided premature deaths, 189,000 fewer hospital admissions for cardiac and respiratory illnesses, and net economic benefits of up to $3.8 trillion for the U.S. economy every year.

    How to Help Reduce Air Pollution

    “The less gasoline we burn, the better we’re doing to reduce air pollution and harmful effects of climate change,” Walke says. “Make good choices about transportation. When you can, walk, ride a bike, or take public transportation. For driving, choose a car that gets better miles per gallon of gas, or choose an electric car.” You can also investigate your power provider options—you may be able to request that your electricity be supplied by wind or solar. Buying your food locally cuts down on the fossil fuels burned in trucking or flying food in from across the country. And most important, “Support leaders who push for clean air and water and responsible steps on climate change,” Walke says.

    How to Protect Your Health

    • “When you see in the news or hear on the weather report that pollution levels are high, it may be useful to limit the time when children go outside or you go for a jog,” Walke says. Generally, ozone levels tend to be lower in the morning.
    • If you exercise outside, stay as far as you can from heavily trafficked roads. Then shower and wash your clothes to remove fine particles.
    • The air may look clear, but that doesn’t mean it’s pollution-free. Utilize tools like the EPA’s air pollution monitor, AirNow, to get the latest conditions. If the air quality is bad, stay inside with windows closed.
    • If you live or work in an area prone to wildfires, stay away from the harmful smoke as much as you’re able. Consider keeping a small stock of masks to wear when conditions are poor.
    • Wear sunscreen. When ultraviolet radiation comes through the weakened ozone layer, it can cause skin damage and skin cancer.
  • Benefits of Sweet Potato – an invaluable gift of winter

    ویب ڈیسک: بنی نوع انسان کیلئے اللہ رب٘ العزت نے طرح طرح کے پھل اور سبزیاں تخلیق کی ہیں جو انسانی جسم کی صحت اور توانائی برقرار رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ انہی نعمتوں میں سے ایک نعمتِ خداوندی شکرقندی بھی ہے۔

    Photo by Mark Stebnicki from Pexels

    شکر قندی دل کو مضبوط کرتی ہے، بلند فشار خون کو کم کرتی ہے، اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور ہے، آنکھوں کی روشنائی تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ، وزن کم کرنے میں مدد کرتی ہے ۔ وٹامن سی، ای، بی6 اور بیٹا کیروٹیں سے بھرپور ہوتی ہے، جلد اور بالوں کی افزائش میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ شکر قندی کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو سویٹ پوٹیٹو بھی کہا جاتا ہے۔ شکر قندی میں فائبر ، وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں۔ 

    100گرام شکرقندی میں درج ذیل غذائیت پائی جاتی ہے۔ 

    • کیلوریز : 86 فیصد
    • پانی : 77 فیصد
    • پروٹین : 1.6 گرام
    • کاربوہائیڈریٹس : 20.1 گرام
    • شوگر : 3 گرام
    • فیٹ : 0.1 گرام

    طبی ماہرین کے مطابق شکرقندی لاغر جسم کو صحتمند کرتی ہے دماغ کو تقویت پہنچاتی ہے،  قوتِ باہ اور جریان کے مرض میں بے حد فائدہ مند ہے جبکہ جامنی رنگ والی شکر قندی میں پایا جانے والا ایک خاص مادہ جسے اینتھوسیانن کہتے ہیں آنتوں، چھاتی اور مثانے کے کینسر کے خلاف مفید ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق شکرقندی ذیابطیس کے مریضوں بہت مفید ہے کیوں کہ اس کا استعمال انسولین کے خلاف مزاحمت کے علاوہ جسم میں شوگر کی سطح کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ شکر قندی وٹامن اے سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ ایک اہم اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جس کے استعمال کی وجہ سے پھیپھڑوں کی ایک بیماری ایمفیسیما سے بچا جا سکتا ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بھی 33 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ 

  • Olive: Why do Pakistani farmers call it a ‘silent green revolution’?

    زیتون
    ’آج ہماری آبائی زمین پر ایک لاکھ سے زائد زیتون کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 22 ہزار پھل دے رہے ہیں‘

    اعظم خان اور محمد زبیر خان

    یہ مضمون پہلی بار یکم دسمبر، 2020 کو شائع کیا گیا تھا اور اسے آج وزیر اعظم عمران خان کی بلین ٹری سونامی مہم میں زیتون کے درخت لگانے کے حوالے سے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد میں واقع اٹلی کے سفارتخانے میں کنٹریکٹ کی ملازمت چھوڑ کر خاندانی زمین پر زیتون کے درختوں کی قلم کاری کرنے کا مشورہ قبول کرنا دیر کے رہائشی محمد اسرار کے لیے آسان نہیں تھا۔

    ’والد صاحب نے ہمت افزائی کی اور آج ہماری آبائی زمین پر ایک لاکھ سے زائد زیتون کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 22 ہزار پھل دے رہے ہیں۔ ہمارے خاندان کے 25 لوگ اس میں حصہ دار ہیں اور ہر حصہ دار کو سالانہ کم ازکم دس لاکھ سے بیس لاکھ مل رہے ہیں۔‘

    محمد اسرار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سنہ 2004 کی بات ہے جب اٹلی کے سفارتخانے میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات اٹلی کے ماہر زراعت رافیل ڈیل سیما سے ہوئی، جو اس وقت پاکستان میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کے مشن پر تھے۔

    ’رافیل نے مجھ سے کہا کہ تمھارے علاقے (ضلع دیر) میں خونہ (جنگلی زیتون) کے لاکھوں درخت ہیں۔ یہ بہت قیمتی دولت ہے۔ ان پر اٹلی سے لائے گے اچھے زیتون کے درختوں سے تیار کردہ قلموں کی قلم کاری کر کے زیتون کی دولت حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ ان کی اپنی زمین پر بھی خونہ کے کئی ہزار درخت تھے مگر اچھی نوکری چھوڑ کر کُل وقتی بنیادوں پر یہ کام کرنے کا مشورہ قبول کرنا آسان نہ تھا۔ مگر گھر والوں سے مشورے کے بعد وہ راضی ہو گئے۔

     
    ویڈیو کیپشن,تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

    ’سنہ 2005 میں ہم نے رافیل ڈیل سیما اور زراعت سے منسلک سرکاری اہلکاروں سے تربیت حاصل کی۔ کئی درختوں پر قلم کاری کی گئی۔ تین ہفتوں کے اندر ہی ان درختوں پر کونپلیں پھوٹ آئیں جبکہ سنہ 2009 میں کئی سو درختوں پر مختلف اقسام کی بہترین قسم کا زیتون کا پھل لدا ہوا تھا۔ مگر ہمیں ابھی بھی پتا نہیں تھا کہ پھل تو آ چکا ہے اور اب اس کا کرنا کیا ہے۔‘

    محمد اسرار کہتے ہیں کہ ابتدائی مشکلات کے بعد اب وہ ناصرف تیل حاصل کرتے ہیں بلکہ اس سے دیگر اشیا، جن میں مربہ، اچار، زیتون کے پتوں کا قہوہ وغیرہ شامل ہے، کو بھی تیار کر کے مارکیٹ میں لاتے ہیں۔

    یہ تو ہوئی دیر کے محمد اسرار کی کہانی۔ اب سنتے ہیں ایبٹ آباد کے رہائشی نصرت جمیل کی داستان۔

    بیرون ملک رہنے والوں سے عام طور پر ان کے رشتہ دار اور قریبی دوست مہنگی گھڑیاں، موبائل فون یا پرفیوم جیسے کسی قیمتی تحفے کی فرمائش کرتے ہیں مگر نصرت جمیل گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے دوستوں سے بار بار ایک ہی تحفے کی فرمائش کرتے آ رہے ہیں اور وہ ہے عمدہ نسل کے زیتون کے پودے کی قلم کا تحفہ۔

    ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں میں اب نصرت جمیل کی آبائی زمین پر کئی اقسام کے زیتون کے درخت اپنی بہاریں دکھا رہے ہیں۔ ٹھنڈا پانی نامی اس چھوٹے سے گاؤں میں زیتون کی بہت سی اقسام کی موجودگی کی وجہ نصرف کے وہ دوست ہیں جو کینیڈا، اٹلی، سپین، ترکی اور دیگر ممالک سے اُن کے لیے زیتون کا تحفہ لانا نہیں بھولتے۔

    نصرت جمیل زیتون سے اپنی دو دہائیوں سے زائد دوستی کے سفر کے بارے میں کہتے ہیں کہ حویلیاں میں ان کے گاؤں کے ایک دوست نے سنہ 1996 میں انھیں اس پھل سے متعارف کروایا تھا، جب پاکستان میں زیتون کی کاشت کا منصوبہ نیا نیا شروع ہوا تھا۔

    زیتون

    حکومتوں کے عزم میں تو اونچ نیچ آتی رہی مگر نصرت جمیل تو اس میں ایسے مگن ہوئے کہ جیسے وہ زیتون کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہوں۔ نصرت جمیل کی صبح شام کا معمول اب ان زیتون کے درختوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرنا رہ گیا ہے۔

    پاکستان میں نصرت جمیل یا محمد اسرار ہی زیتون کی کاشت کرنے والے واحد کاشتکار نہیں ہیں بلکہ اس وقت پاکستان میں سینکڑوں ایسے کسان ہیں جو اپنی گھریلو، معاشی اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیتون کی کاشت کر رہے ہیں۔ زیادہ تر کسان جنگلی زیتون میں ‘قلمکاری’ سے زیتون کی پیداوار کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں زیتون کی کاشت کا خیال کب اور کیسے آیا؟

    ایبٹ آباد میں قائم ہزارہ زرعی تحقیقی سٹیشن کے ڈائریکٹر اختر نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت تقریباً تین دہائی قبل اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان آئل ڈویلپمنٹ بورڈ نے سنہ 1996-97 میں اس پر کام شروع کیا۔

    ان کے مطابق ابتدا میں اس منصوبے کے تحت جنگلی زیتون کی پیوند کاری کی گئی کیونکہ یہ قسم صرف پہاڑی اور کھردری سطح زمین پر کامیاب ہے۔ ان کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں لاکھوں کی تعداد میں جنگلی زیتون کے درخت پائے جاتے ہیں۔

    ان کے مطابق ترکی اور اٹلی سے آنے والی زیتون کی قسمیں پاکستان کی آب و ہوا کے لیے نہ صرف موزوں ہیں بلکہ ان سے تیل کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے۔

    زیتون
     
    ،تصویر کا کیپشن

    زتیون کا تیل نکالا جا رہا ہے

    جنگلی زتیون کیا ہے؟

    جنگلی زیتون کا درخت خونہ کہلاتا ہے، جس کو خیبر پختونخوا کے اکثریتی علاقوں میں خونہ، جنوبی اضلاع میں خن، پنجاب اور کشمیر میں کہو اور بلوچستان میں ہث یا حث کہا جاتا ہے۔

    پاکستان کے چاروں صوبوں میں کئی گاؤں اور دیہات ایسے پائے جاتے ہیں جن کے نام ہی کہو کے نام پر ہیں جیسے کہو دی قلعہ، کہو دا بانڈہ ہیں۔ اسی طرح ایبٹ آباد کے علاقے بکوٹ میں مشہور گاؤں کہو شرقی، مری سے اسلام آباد کے راستے پر آباد بہارہ کہو بھی اسی درخت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ ان جگہوں کے یہ نام کہو کے بہت زیادہ درختوں کی وجہ سے رکھے گئے۔ زرعی تحقیقاتی مرکز ترناب فارم پشاور کے تحقیقاتی افسر اور صوبہ خیبر پختونخوا میں زیتون کے پراجیکٹ انچارج احمد سید کے مطابق زتیون کے مختلف اقسام کے درخت ہیں جن میں سے ایک قسم جنگلی زیتون کی ہے۔ جنگلی زیتون پاکستان کا مقامی اور خوردرو درخت ہے۔

    یہ ملک کے چاروں صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ بکثرت موجود ہے۔ جس کا ہر علاقے میں الگ مقامی نام ہے۔ جنگلی زیتون کی جڑ اور لکڑی بڑی مضبوط ہوتی ہے اور یہ پاکستان کے ماحولیاتی نظام سے مکمل موافقت رکھتا ہے۔

    زیتون کے درخت کی عمر لگ بھگ ایک ہزار سال سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔

    زیتون

    زیتون کی مصنوعات باآسانی فروخت ہوتی ہیں

    محمد اسرار اور ان کے خاندان کے افراد نہ صرف اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کی پیکنگ کر رہے ہیں بلکہ زیتون کے پتوں کا قہوہ تیار کر کے اس کو مارکیٹ میں فروخت بھی کرتے ہیں۔

    محمد اسرار کا کہنا ہے کہ ہمیں زیتون کی مصنوعات کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتی اور زیادہ تر خریدار ان مصنوعات کو خریدنے کے لیے خود ہی رابطہ کرتے ہیں۔

    خاموش سبز انقلاب

    اس وقت پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایبٹ آباد، مانسہرہ (شنکیاری)، پشاور، سنگھبٹی اور نوشہرہ (ترناب فارم) میں بھی کسانوں کے لیے یہ سہولت دستیاب ہے جبکہ چکوال سمیت پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی زیتون کی پیداوار ہو رہی ہے۔

    چکوال میں حکومت کا زیتون کا ایک ’ماڈل فارم‘ بھی ہے۔ یہاں پر قائم تحقیقاتی مرکز میں زیتون کی مختلف اقسام پر سنہ 1991 سے تحقیق کی جا رہی ہے۔

    ہزارہ زرعی تحقیقی سٹیشن کے ڈائریکٹر اختر نواز کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں اب تک ایبٹ آباد میں پانچ ٹن سے زیادہ وزن کے زیتون سے تیل نکالا جا چکا ہے۔

    لیاقت تنولی ہزارہ یونیورسٹی میں آئل پروسسنگ کا مضمون پڑھاتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زیتون کی پیداوار سے متعلق سب سے اہم بات حکومت کا عزم ہی ہے جس سے پاکستان اس منصوبے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹر لیاقت کی رائے میں پام آئل سے زیتون کے تیل کی کوالٹی کئی گنا بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس کی پراسسنگ کولڈ میتھڈ کے تحت کی جاتی ہے جس سے اس میں موجود انسانی جسم کے لیے مفید اجزا ضائع نہیں ہوتے۔

    ان کے مطابق پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے ماضی میں پام آئل کی کاشت سے متعلق ملائیشیا کی مدد بھی کی مگر اب خود بڑی دولت اس تیل کی درآمد پر خرچ کر رہا ہے۔

    اختر نواز کے مطابق گذشتہ دو برس سے زمینداروں کی زیتون کی کاشت میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت کرنے والوں ایسے آلات بھی مہیا کیے جانے چاہییں جن سے وہ زیتون کے پھل کی محفوظ طریقے سے چنائی کر سکیں کیونکہ زیتون کا پھل سائز میں چھوٹا ہوتا ہے اور اسے اس طرح چننا کے درخت اور پھل کو نقصان نہ پہنچے بہت مشکل کام ہوتا ہے۔

    اختر نواز کے مطابق سرکاری سطح پر فی لیٹر زیتون کے تیل کی مارکیٹ قیمت 1500 روپے قرر کی گئی ہے تاہم ابھی اس کی ہزارہ میں کمرشل سطح پر پیداوار شروع نہیں ہوئی ہے۔

    ڈاکٹر فیاض عالم دعا فاؤنڈیشن تنظیم کے جنرل سیکریٹری ہیں اور یہ تنظیم زیتون کی پیدوار بڑھانے سے متعلق کسانوں کو تعاون فراہم کرتی ہے۔

    ڈاکٹر فیاض عالم کے مطابق پاکستان میں جنگلی زیتون کو کوئی بڑا ماحولیاتی خطرات لاحق نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ سرد و گرم موسموں کا درخت ہے، موسمی شدت اور سختی بھی برداشت کر لیتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے 0.2 رقبے پر جنگلی زیتون کے تاریخی اور پرانے جنگلات اور درخت ہیں، جو مقامی آبادیوں کی کئی ضرورتوں، جن میں مال مویشیوں کا چارہ بھی شامل ہے، پورا کرتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت جنگلی زیتون کو مقامی آبادی کی جانب سے اس کی لکڑی کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی وجہ سے بڑے خطرات لاحق ہیں کیونکہ مقامی طور پر لوگوں کے پاس متبادل ایندھن کی سہولتیں میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگلی زیتون کی لکڑی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر زیتون اسلام آباد ڈاکٹر محمد طارق کے مطابق بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگر غریب اور پہاڑی علاقوں میں بھی جنگلی زیتون کی لکڑی کو ایندھن کے لیے استعمال کیے جانے کی روایت موجود ہے، جس پر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی میں شعور پیدا کرنا ہو گا۔

    زیتون

    جنگلی زیتون کی اچھے زیتون میں تبدیلی کے فوائد اور نقصانات

    ڈاکٹر فیاض عالم کے مطابق جس طرح آم کے پودے پر قلم کاری کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جنگلی زیتون پر اچھے زیتون کی سادہ سے طریقے کے ساتھ قلم کاری کر کے ‘حیرت انگیز’ نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ان کے مطابق اس کا کوئی لمبا چوڑا طریقہ نہیں ہے۔

    جنگلی زیتون کے کسی درخت پر کچھ اچھی شاخوں کا انتخاب کر کے ان کو آری سے کاٹ کر چھال پر دو کٹ لگائے جائیں جو بالکل آمنے سامنے ہوں۔ کاٹے گئے تنے کی موٹائی کے لحاظ سے قلم کا انتخاب کیا جائے۔

    قلم کو تراش کر تنے کی چھال میں پوست کیا جائے۔ پلاسٹک سے اچھی طرح باندھا جائے۔ دونوں قلموں کو بھی اچھی طرح پلاسٹک سے ڈھانپ کر باندھ دیا جائے۔

    ڈاکٹر محمد طارق کے مطابق یہ ٹھیک ہے کہ جنگلی زیتون پر اچھے زیتون کی قلم کاری کر کے اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں مگر اس سلسلے میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے ورنہ خدشہ ہے کہ کچھ ماحولیاتی مسائل پیدا نہ ہو جائیں۔

    قلم کاری کے بعد ان درختون کو پانی اور کھاد دینا ضروری ہوتا ہے۔

    جنگلی زیتون کو تو کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی مگر جب جنگلی زیتون کو اچھے زیتون میں تبدیل کیا جائے گا تو ان کو جس طرح کسی پھل فروٹ کے باغات کو دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح کی ضرورت ان کو بھی ہوتی ہے۔

    احمد سید کے مطابق اگر جنگلی زیتون پر قلم کاری کامیاب ہو جائے تو تین سے چار ہفتے میں قلم کی گئی ٹہنیوں پر کونپلیں پھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ زیتون کا درخت چار سے پانچ سال میں پھل دینا شروع کر دیتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ زیتون کے ایک اچھے درخت سے 40 سے 120 کلو زیتون سالانہ حاصل کیا جاتا ہے۔

    ’25 ہزار ایکٹر پر زیتون کے باغات لگائے گئے ہیں

    ڈاکٹر طارق کے مطابق ہمارے پاس پورے ملک میں اس وقت استعمال میں نہ لائی جانے والی چار ملین ہیکٹر زمین ایسی ہے جہاں پر زیتون کے باغات لگائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپین دنیا میں سب سے زیادہ زیتون پیدا کرتا ہے جبکہ اس کے صرف 2.6 ملین ہیکٹر زمین پر زیتون کے باغات ہیں جبکہ پاکستان میں ہمارے پاس سپین سے زیادہ زمین موجود ہے جہاں اچھی کوالٹی کا زیتون کاشت کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے ہماری زراعت اور مقامی پھل فروٹ کے باغات بالکل متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ اس وقت اس زمین کو کسی بھی کام میں نہیں لایا جا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کے لیے سالانہ تین بلین ڈالر سے زائد کا زیتون کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔

    ان کے مطابق بڑی پیمانے پر زیتون کی کاشت کرنے سے پہلے مرحلے میں اگر پاکستان اپنی ضرورت میں خود کفیل ہو جائے تو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچ جائے گا بلکہ دوسری مرحلے میں ایکسپورٹ شروع کر کے قیمتی زرمبادلہ کما بھی سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی جو منصوبے شروع ہوئے ہیں، ان سے زبردست قسم کی معاشی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔

    احمد سید کے مطابق زیتون ایک ماحول دوست درخت ہے جس میں کاربن کو استعمال کرنے، ہوا اور ماحول کو صاف کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ اس پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملے کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زرعی ادویات کے استعمال کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے جبکہ دیگر پھلوں کے مقابلے میں اس کو پانی کی بھی کم ہی ضرورت ہوتی ہے، جس وجہ سے یہ پوٹھوار جیسے کم پانی والے علاقوں کے لیے بھی انتہائی اہم فصل ہو سکتی ہے۔

    بشکریہ بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

  • Interesting and unique information about Holy Quran

    قرآن مجید اللہ رب العالمین کا معجزانہ کلام ہے جو خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوا، جس کی تلاوت کرنا عبادت ہے اور جس کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے اور اختتام سورۃ الناس پر ہوتا ہے۔ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکولیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فٹ ہے کہ اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔
    (1) الکتاب (2) الفرقان (3) التنزیل (4) الذکر (5) النور (6) الھدی (7) الرحمتہ (8) احسن الحدیث (9) الوحی (10) الروح (11) المبین (12) المجید (13) الحق۔دیکھئے کتاب (حقائق حول القرآن للشیخ محمد رجب، والتبیان فی اسماء القرآن للشیخ البنیمہی)

    1. ​قرآن کریم میں 145 مرتبہ زندگی اور 145 مرتبہ ہی موت کا ذکر آیا ہے۔
    2. فرشتوں کا ذکر 88 مرتبہ اور شیطان کا ذکربھی 88 مرتبہ آیا ہے۔
    3. دنیا کا ذکر 115 مرتبہ اور آخرت کا ذکر بھی 115 مرتبہ آیا ہے۔
    4. ابلیس کا ذکر 11 مرتبہ اور اس سے پناہ کا ذکر بھی 11 مرتبہ آیا ہے۔
    5. مصیبت ومشکل کا ذکر 75 مرتبہ اور صبروشکر کا ذکر بھی 75 مرتبہ آیا ہے۔

    اتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنف کے بس کی بات نہیں۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جدیدترین ریسرچ کے مطابق قرآن حکیم کے حفاظتی نظام میں 19 کے عدد کا بڑا عمل دخل ہے،اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے. 1968ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کو کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے حتی کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ سکول بن گیا۔ ریسرچ کا کام جونہی آگے بڑھا ان لوگوں پر قدم قدم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل ادراک کیلئے اس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔

    کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیاہے جہاں اللہ نے فرمایا:
    دوزخ پر ہم نے انیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو اللہ رب٘ العزت  ہی بہتر جانتا ہے لیکن اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے ہے۔ پھر ہر سورت کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت بسم اللہ کو رکھا گیا ہے گویا کہ اس کا تعلق بھی قرآن کی حفاظت سے ہے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں بسم اللہ کے کل حروف بھی 19 ہی ہیں پھر یہ دیکھ کر مزید حیرت میں اضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اسم پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ لفظ الرحمن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو3×19 کا حاصل ہے
    اور لفظ الرحیم 114 مرتبہ استعمال ہو ہے جو 6×19 کا حاصل ہے۔ 
    اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے
    لیکن یہاں بقیہ ایک رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ رب٘ العزت کی ذاتِ پاک کسی حساب کے تابع نہیں ہے وہ یکتا ہے۔
    قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے۔
    سورہ توبہ کےآغاز میں بسم اللہ نازل نہیں ہوئی لیکن سورہ نمل آیت نمبر 30 میں مکمل بسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔

    اب آئیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کی جانب:
    یہ سورہ علق کی پہلی 5 آیات ہیں: اور یہیں سے 19 کے اس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے! ان 5 آیات کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق کے کل حروف کی گنتی کی گئ تو عقل ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں اور عقل یہ دیکھ کر حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر سورت ہے۔ 
    اب اگر قرآن کی آخری سورت والناس کی طرف سے گنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر قرآن کی ابتدا سے دیکھیں تو اس 96 نمبر سورت سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصل ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حسابی نظام کا ہی ایک حصہ ہے۔
    قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورہ نصر ہے یہ سن کر آپ پر پھر ایک مرتبہ خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نظام برقرار رکھا ہے پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصر ٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔

    سورہ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورت سورہ بقرہ کی کل آیات 286 ہیں 2 ہٹادیں تو مکی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے 6ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے۔
    آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے یہی قرآن پھر اپنا چیلنج دہراتا ہے حسابدان، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کسی کتاب میں ایسا حسابی نظام ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے۔
    طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل ناممکن ہوگی لیکن چودہ سو سال پہلے تو اس کا تصور ہی محال ہے۔
    لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکارنہیں کرسکتا کہ قرآنِ کریم کا حسابی نظام اللہ کا ایسا شاہکار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔

    جزاک اللهﷻ خیراً کثیرا.

  • Ehsaas Rashan Riyat

    گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے  غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کی ڈویژن نے احساس راشن پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کی مکمل تفصیلات رجسٹریشن برائے خاندان اور کریانہ دوکان درج ذیل لنک پر جانیے۔

    اپنا خاندان احساس راشن رعایت پروگرام کیلئے رجسٹر کروائیں

    [button color=”primary” size=”small” link=”https://ehsaasrashan.pass.gov.pk/er_Beneficiary_Registration.aspx” icon=”” target=”true” nofollow=”false”]خاندان رجسٹریشن[/button]

    اپنی کر یانہ دوکان احساس راشن رعایت پروگرام کیلئے رجسٹر کروائیں

    [button color=”primary” size=”small” link=”https://ehsaasrashan.pass.gov.pk/er_Store_Registration.aspx” icon=”” target=”true” nofollow=”false”]سٹور رجسٹریشن[/button]

    • یاد رہے کہ آپ جس موبائل نمبر سے اس پروگرام میں رجسٹریشن کروائیں وہ آپ کے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہو
    • وہ سرکاری ملازمین جن کی تنخواہ 31500 روپے سے کم ہے وہ بھی اس پروگرام کے اہل ہیں۔
    • نیشنل بینک کا عملہ دوکانداروں کی رجسٹریشن کروانے میں مکمل تعاون کر رہا ہے۔
  • Project to test food delivery through drone launched in Islamabad

    ISLAMABAD: A customised drone was used on Friday to test food delivery by Pakistan’s leading food delivery company.

    This picture shows the customised drone during a test flight in Islamabad. — Screengrab via Hamza Shafqaat Twitter

    The test flight of the drone conducted in association with the office of the deputy commissioner Islamabad — named ‘Pandafly’ — took place in the F-9 Park.

    The use of disruptive technology by Foodpanda means faster deliveries over longer distances.

    Customers living in peri-urban and remote areas will especially benefit from this initiative as they have limited food delivery options in their local area so with drone delivery they will be able to order food from main urban centres as well.

Back to top button
PkPoint