﻿
فی شرح بسم اللہ


تالیف: عبدالکریم جیلی
ترجمہ: محمود احمد غزنوی





بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الکہف والرقیم فی شرح بسم اللہ الرحمن الرحیم 

مقدّمہ

سب تعریف اللہ کے لئے  جو پوشیدہ ہے  اپنی کنہِ ذات میں، مخفی ہے  اپنے  غیبوں  کے  مہیب بادل میں، کامل ہے  اپنے  اسماء و صفات میں، جامع ہے  اپنی الوہیت کے  ساتھ جس میں  اس (الوہیت) کے  متضاد امور بھی شامل ہیں، احد ہے  اپنی تمام وجوہ میں، واحد ہے  اپنے  تمام تعدّدات میں، محیط ہے  اپنے  تمام اوصاف کو جن سے  اس کا ادراک کیا جاتا ہے، ازلی ہے  اپنی اْخریات کے  ابد میں، ابدی ہے  اپنی اولیات کے  ازل میں، ظاہر ہے  ہر صورت اور معنی میں  اپنی علامات اور نشانیوں  سے، ماوراء  ہے  ان تمام باتوں  سے  جو عقل و وہم اور حواس و گفتگو میں  آتی ہیں  ظاہر ہے ، ان تمام باہم ممتاز امور میں  بغیر کسی امتیاز کے، متخلّق ہے  تمام اخلاق سے  اپنی مخلوقات کی خلق میں، جلوہ گر ہے  عالم کی تمام صورتوں  میں  بشمول اس کے  انسان، حیوانات و نباتات و جمادات کے، خلوت گزیں  ہے  اپنی تنزیہہ کے  پردوں  میں  جہاں  نہ وصل ہے  نہ فصل، نہ ضدّ، نہ ندّ، نہ کیف ہے  نہ کم، اس کی تشبیہہ و تنزیہہ میں  نہ جسمانیت ہے، نہ محدودیت اور نہ ہی تقیید۔ پاک ایسا کہ اس کے  اسماء  نے  اس کی کنہِ ذات کے  سمندر میں  شناوری کی لیکن اس کی انتہاؤں  تک پہنچنے  سے  پہلے  ہی اس کی گہرائیوں  میں  کھو گئے، متّصف ہے  ہر وصف سے، مؤتلف ہے  ہر الفت سے، مجتمع ہے  ہر جمع سے، ممتنع ہے  ہر منع سے، ممتاز ہے  ہر امتیاز سے، مطلق ہے  ہر اطلاق سے، مقیّد ہے  ہر تحدید سے، مقدّس و منزّہ ہے  عین اپنی تشبیہات میں، این و آں  سے  محصور نہیں او ر نہ ہی ان کے  سامنے  ہے، کوئی آنکھ اس کا ادراک نہیں  کر سکتی اور نہ ہی وہ ان سے  چھپا ہوا ہے، خالق ہے  خلق کے  معنی میں، رازق ہے  رزق کے  معنی میں، ایسا عرض ہے  جوہر پر جو اس جوہر کی حقیقت ہو اور ایسا جوہر ہے  جسے  کوئی عرض عریاں  نہیں  کر سکتا، تنزّل کیا اس نے  ایک مرتبے  میں او ر اسے  خلق کا نام دے  دیا تاکہ ایک دوسرے  مرتبے  کا حکم اس کی حکمت اور تقدیرات کے  تقاضوں  کے  مطابق پورا ہوا۔ اپنی مخلوقات کو معروف طریقوں  کے  مطابق اپنی پہچان کرانے  کے  باوجود ہنوز پوشیدہ ہے  حقیقتِ کنتْ کنزاً لم اعرف(میں  ایک خزانہ تھا جس سے  کوئی آشنا نہ تھا) میں۔ اس نے  اسمِ خلق کو اپنی ذات کا محلّ بنایا اور اس سے  تجاوز نہ کیا، اور اسمِ حق کو اپنی ذات کا حکم قرار دیا جو تمہیں  اس بات (یعنی اس کی ذات کا حکم ہونے ) کے  سوا اور کوئی فائدہ نہ دیگا، اور اپنی الوہیت کو ان دونوں  (یعنی خلق و حق) کی جمع کا حکم دیا۔ پس تمہارے  لئے  اللہ سے  ماوراء  اس کا کوئی غیر نہیں  جس کی جانب توجّہ کی جائے۔ اور یہ سب اس لئے  کہ اس کی الوہیت اس کی احدیت کو محیط ہو اور اس کی احدیت کو اس کی الوہیت پر مراتب کی ترتیب میں  غلبہ حاصل رہے۔ پہچان کرائی اس نے  ہر موجود کو اس کے  اس مرتبے  کے  مطابق جس مرتبے  میں  اس کی (اس موجود کی) عین نے  ظہور کیا۔ اور اس (موجود) کے  حسن و جمال میں  اس کو (اللہ کو) کسی نے  نہیں  پہچانا 
سوائے  اس کی (اللہ کی) اپنی ذات کے، جس نے  عالمِ کون و مکاں  کو مزیّن کیا۔ 
میں  حمد کرتا ہوں  اس کی، وہ حمد جو وہ خود اپنے  لئے  کرتا ہے  غیب کے  پردوں  کی اوٹ سے ، اور اس کی ثناء  کرتا ہوں  اسی کے  جمالِ اکمل کی زباں  سے۔ وہ ویسا ہی ہے  جیسی ثنا ء وہ خود اپنے  آپ کے لئے  کرتا ہے ، کیونکہ میں  اس کی ثناء کا شمار نہیں  کر سکتا۔ اور میں  مدد مانگتا ہوں  ان کی بارگاہِ اعظم سے  جو غیبِ جمع میں  پوشیدہ ہیں او ر جو نقطہ ہیں  حروفِ معجمہ کی ذات کا۔ یعنی سیّدنا محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم جو سردار ہیں  عرب و عجم کے ، مرکز ہیں  کنہِ حقائق و توحید کے ، جامع ہیں  تنزیہہ و تحدید کے  دقائق کے ، روشن کرنے  والے  ہیں  جمالِ قدیم و جدید کے ، صورت ہیں  کمالِ ذات کی،ازلی ابدی مکین ہیں  باغہائے  صفات اور میدانِ الوہیات میں۔ صلٰوۃ و سلام ہوں  ان پر اور ان کی آلِ پاک پر جو ھادی اور مقتداء  ہیں، جو آپ کے  جمالِ جہاں  آراء  سے  مزیّن ہیں او ر آپکے  احوال و مواجید کے  خوشہ چین ہیں او ر آپکے  افعال و اقوال میں  آپ ہی کی طرف سے  
آپ کے  قائم مقام ہیں۔ صلٰوات و سلام، شرف و کرم اور بزرگی نازل ہو آپکے  اصحاب ہر، آپکی عترت ہر اور آپ کی ذرّیتِ طیبہ پر۔ آمین۔ 
امّابعد: پس میں  نے  اس الکہف والرقیم فی شرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نامی کتاب لکھنے  کے لئے  اس وقت اللہ سے  استخارہ کیا جب اس کام کے لئے  میرے  بھائی (عارفِ ربّانی، صاحبِ فہم و ذکاء  سیّدی عمادالدّین یحیٰی بن ابی القاسم التونسی المغربی جو نواسۂِ حسن بن علی ہیں ، تجرید و تفرید کے  مقام پر فائز ہیں او ر طلب میں  قدمِ صدق رکھتے  ہیں ) نے  اس کی فرمائش کی۔ ہرچند کہ میں  نے  بہت ہچکچاہٹ ظاہر کی اور ان کے  اس ارشاد کی تعمیل سے  گریز کرنا چاہا، لیکن انہوں  نے  ایک نہ سنی اور جب میں  نے  دیکھا کہ چارہ غیر از اطاعت نہیں  تو ان کے  اس صدقِ رغبت نے  مجھے  ان کی موافقت پر آمادہ کر دیا اور میں  نے  اللہ کی بارگاہ میں  التجا و استخارہ کیا۔ میں  اللہ سے  سوال کرتا ہوں  کہ اس کتاب کے  لکھنے، پڑھنے او ر سننے  والے  کو اس سے  نفع حاصل ہو۔ کیونکہ اس کی قبولیت اور اس کی درست طریقے  سے  تکمیل اور سب توفیق اللہ ہی کی طرف سے  ہے او ر اسی کو سزاوار ہے۔ 
اور میں  اس کتاب میں  نظر کرنے  والے  اہل اللہ اور سادات و اخوان سلام اللہ علیہم و رضوان سے  التماس کرتا ہوں  کہ وہ ہر کلمے  کے  معنی میں  غور کریں ، یہاں  تک کہ اس کی عبارات و اشارات، اس کی تصریحات و تلویحات (لہریں )اور کنایات، اور اس کی تقدیم و تاخیر، قواعدِ شرعیہ اور اصولِ دینیّیہ کی رعایت سے  خوب واضح ہو جائیں۔ اور اگر وہ توحید کے  معانی میں  سے  کسی معنی پر ٹھریں  جس کی تائید کتاب و سنّت سے  ہوتی ہو تو وہی دراصل میرا مطلوب و مقصود ہے۔ اور اگر ان کو کوئی بات کتاب و سنّت سے  مخالف لگے  تو میں اس فہم سے  بری ہوں ، پس اس بات کو دور پھینک دیں او ر جو بات میں  نے  لکھی ہے  اس کی تحقیق و تفتیش کتاب و سنّت سے  کریں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے  کرم سے  امّید ہے  کہ کچھ عرصے  میں  وہ اس بات کو پا جائیں  گے۔ اور اللہ ہر شئے  پر قادر ہے۔ اور یہ بھی التماس ہے  کہ انفاسِ الٰہیہ سے  ہمیں  مدد دیں او ر ہم جس بات پر ہیں  
اسے  قبول کریں۔ ہم اپنی اس کوشش کو دعائے  نجات و نظرِ قبولیت کی امید پران کے  روبرو پیش کرتے  ہیں۔ 
فان تجد عیبا ً فسدّ الخللا		فجلّ من لا عیب فیہ و علا
اگر تم کسی عیب سے  آگاہ ہوئے  تو اس کی اصلاح کرو بجائے  رسوا کرنے  کے، کیونکہ عیب سے  مبّرا تو صرف 
وہی ذاتِ عالی ہے  جو بزرگ و برتر ہے۔ 
اور اب میں  اس بات کو شروع کرتا ہوں  جس کا کہ ذکر کیا،اور میں  اس میں  اسی سے  مدد مانگتا ہوں ، اسی کی طرف مری نظر ہے ، اسی کی جانب سے  اسی سے  اخذ کرتا ہوں۔ پس کچھ نہیں  سوائے  اللہ کے۔ واللہ یقول الحقّ و ھو یہدی السّبیل۔ وما توفیقی الّا باللہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم
اخبارِ نبوی میں  سے  ہے  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے  فرمایا کہ "جو کچھ گذشتہ آسمانی کتابوں  میں  نازل ہوا، وہ سب قرآن میں  ہے، اور جو کچھ قرآن میں  ہے، وہ سب سورہ فاتحہ میں  ہے او ر جو کچھ فاتحہ میں  ہے  وہ سب بسم اللہ الرحمن الرحیم میں  موجود ہے۔ " اور یہ بھی وارد ہوا ہے  کہ " جو کچھ بسم اللہ میں  ہے  وہ سب کچھ 'باء ' میں  ہے او ر جو کچھ 'باء ' میں  ہے  وہ سب باء کے  نیچے  یعنی نقطے  کے  اندر ہے۔ "
اور کچھ عارفین نے  فرمایا کہ " عارف کی طرف سے  بسم اللہ الرحمن الرحیم بمنزلہِ 'کن' کے  ہے  جو اللہ سے  صادر ہوا۔ "
اور جان لو کہ بسم اللہ پر کثیر وجوہ سے  کلام کیا گیا ہے۔ مثلاً  صرف و نحو اور لغت۔ اور اس میں  وہ کلام بھی شامل ہے  جس میں  اس کے  حروف کے  مادّوں، ان کے  صیغوں، ان کی طبائع، ان کی ہیئتِ ترکیبی اور ان خصائص پر بھی بات کی جاتی ہے  جو اس کے  حروف کو فاتحہ کے  بقّیہ حروف کے  مقابلے  مین حاصل ہیں۔ اور بسم اللہ کے  فوائد اور اسرارو خواص پر بھی کلام کیا گیا۔ اور ہم ان میں  سے  کسی بھی چیز سے  منہ نہیں  موڑتے  لیکن ان (حروف) پر ہمارا کلام ان معنوں، اور حقائق کے  ان پہلوؤں  سے  ہے  جو حق سبحانہ تعالی کی بارگاہ کے  لائق ہیں۔ ان باتوں  میں  سے  کچھ باتیں  ایک دوسرے  میں  مندرج ہیں او ر ان باتوں او ر کلام کے  ان پہلوؤں  سے  ہمارا مقصد حق سبحانہ و تعالی کی معرفت ہے۔ اور ہم اس پاک ذات کے  در پر پڑے  ہوئے  ہیں۔ پس اس حالت میں  جو بھی تازگی اس ذات کے  فیض سے  ہماری سانسوں  میں  آتی ہے، روح الامیں  اسی کو لے  کر صفحۂ قلب پر اترتی ہے۔ 
اور جان لو کہ نقطہ جو 'ب' کے  نیچے  ہے، کتاب اللہ کی ہر سورت کے  شروع میں  آیا ہے۔ یہ اس لئے  کہ حروف نقطے  سے  بنے  ہیں۔ او جب یہ ضروری ہے  کہ ہر سورت کی شروعات کسی حرف سے  ہو اور کسی بھی حرف کی شروعات نقطے  سے، پس اس سے  یہ لازم آیا کہ کتاب اللہ کی تمام سورتوں  کی ابتداء نقطہ سے  ہی ہو۔ پس جب نقطہ ایسے  ہی ہے  جیسے  کہ ہم نے  ذکر کیا۔۔۔ اور اس کے او ر 'ب' کے  درمیان ایک کامل اور مکمّل نسبت پائی جاتی ہے  جس کو عنقریب ہم بیان کریں  گے۔۔۔ پس اس کی وجہ سے  لازم ہوا کہ 'ب' ہر سورت کے  شروع میں  بسملہ کی طرح آئے۔ حتّی کہ سورہ توبہ بھی کیونکہ 'ب' اس کا بھی پہلا ہی حرف ہے۔ پس اوپر بیان کی گئی حدیثِ مبارکہ کی رْو سے  ضروری ہوا کہ کل قرآن اور کل سورتیں  فاتحہ کے  اندر ہی ہیں، اور وہی کچھ بسملہ میں، اور وہی کچھ 'ب' میں، اور وہی سب کچھ نقطے  میں  ہے۔ اسی طرح حق سبحانہ تعالی ہر ایک کے  ساتھ اپنے  کمال کو لئے  ہوئے  ہے  جس کے  نہ تو اجزاء  ہی کئے  جا سکتے  ہیں او ر نہ ہی علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ پس نقطہ ایک اشارہ ہے  اللہ تعالی کی ذات کی طرف جو اپنی مخلوق میں  اپنے  ظہور کے  باوجود، قیمتی خزانے  کی طرح پردوں  کی اوٹ میں  ہے۔ 
کیا تم نے  نہیں  دیکھا کہ نقطہ دیکھا تو جاتا ہے  لیکن اپنے  اخفاء اور مخارجِ حروف میں  سے  کسی بھی مخرج سے  مخصوص ہونے  کی قید سے  منزّہ ہونے  کے  سبب، پڑھا نہیں  جاتا۔ چونکہ تمام مخارج سے  ادا ہونے  والے  حروف کا نفس یہ نقطہ ہی ہے، چنانچہ یہی نقطہ اپنے  اس تقابل سے  غیبِ احدیت کی ہویت کی خبر دیتا ہے۔ 
اور ایک اعتبار سے  نقطہ پڑھا بھی جاتا ہے۔ 'ت' میں  یہ دو مرتبہ آیا اور جب ایک اور مرتبہ آیا تو 'ث' بن گئی۔ چنانچہ قرأت نہیں  کی گئی سوائے  اس نقطے  کے۔ کیونکہ 'ت' اور 'ث' کی صورت بغیر نقطے  کے  ایک ہی صورت ہے۔ لہذا جو پڑھا گیا وہ ان کا نقطہ ہی تھا۔ کیونکہ 'ت' اور 'ث' نقطے  سے  ہٹ کر اگر اپنی ذات کے  سبب ہی پڑھے  جاتے  تو ان کی صورتیں  ایک دوسرے  سے  الگ ہوتیں۔ اور چونکہ نقطے  ہی کی وجہ سے  ان میں  تمیز کی جا سکتی ہے  تو ان حروف میں  سوائے  نقطے  کے او ر کچھ نہیں  پڑھا گیا۔ اسی طرح مخلوق سے  کچھ بھی نہیں  پہچانا گیا سوائے  اللہ کے۔ پس جب تم نے  خلق سے  اس کو پہچانا تو حقیقت میں  اللہ سے  ہی اس کو پہچانا۔ 
نقطہ بعض حروف میں  دوسرے  حروف کی نسبت زیادہ شدّت سے  جلوہ گر ہوتا ہے۔ کسی کسی حرف میں  یہ زائد یعنی الگ سے  ہوتا ہے  تاکہ اس حرف کی تکمیل ہو سکے  جیسے  کہ حروفِ معجمہ۔ کیونکہ ان حروف کی تکمیل نقطے  سے  ہوتی ہے۔ اور بعض حروف میں  یہ بعینہ موجود ہوتا ہے۔ جیسے  کہ الف اور حروفِ مہملہ۔ کیونکہ دراصل یہ نقطے  سے  ہی مرکب ہیں۔ لہذا الف شرف اور بزرگی میں  'ب' سے  زیادہ ہے۔ کیونکہ نقطے  کا ظہور الف کی ذات میں  ہے۔ جبکہ 'ب' میں  نقطہ صرف 'ب' کی تکمیلِ ذات کی وجہ سے  متحد ہوا۔ اور یہی اتّحاد غیریت کا پتہ دیتا ہے۔ اور یہ غیریت وہی فاصلہ ہے  جو حرف اور نقطے  کے  درمیان نظر آتا ہے۔ اور الف واحد کے  قائم مقام ہے۔ لہذا الف اپنی ذات کے  ساتھ تمام حروف میں  ظاہر ہوا۔ جیسے  کہ کہا جاتا ہے  کہ 'ب' ایک لیٹا ہوا یعنی افقی الف ہے۔ اور 'ج' بھی الف ہی ہے  جس کی دونوں  اطراف کو خم دے  دیا گیا۔ اور ' د ' الف ہے  جس کو درمیان سے  خم دے  دیا گیا۔ جبکہ الف نقطے  کے  مقام پر ہے  کیونکہ جب تمام حروف کی ترکیب الف سے  ہے او ر الف اور تمام حروف نقطے  سے  ہی بنے  ہیں، پس نقطہ ہر حرف کے لئے  بمنزلہ جوہر بسیط ہے او ر حرف جسمِ مرکب ہے۔ 
پس حروف کی ترکیب میں  الف اپنے  جسم کے  ساتھ نقطے  کا مقام رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے  ذکر کیا کہ 'ب' الف مبسوطہ ہے۔ اور اسی طرح حقیقتِ محمّدیہ ہے  کہ تمام عالم کی اسی سے  تخلیق ہوئی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ میں  آیا ہے  کہ " اللہ تعالیٰ نے  نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی روح کو اپنی ذات سے  پیدا کیا اور تمام عالم کو روحِ محمّد سے "۔ پس مظاہر الٰہیہ سے  خلق میں  محمّد ہی اپنے  نام سے  ظاہر ہوئے  صلی اللہ علیہ وسلّم۔ کیا تم نے  نہیں  دیکھا کہ آپ اپنے  جسم کے  ساتھ عرش سے  اوپر تشریف لے  گئے  جبکہ عرش وہ مقام ہے  جہاں  الرحمٰن کا استواء ہے۔ 
اور اگرچہ باقی حروفِ مہملہ بھی الف کی مثل ہیں  جن میں  نقطہ اپنی ذات کے  ساتھ ظاہر ہوا ہے  جیسا کہ وہ الف میں  ظاہر ہوا تھا لیکن الف کو ان حروف سے  ایک زائد خصوصیّت بھی حاصل ہے  وہ یہ کہ الف نقطے  سے  صرف ایک درجہ دور ہے۔ کیونکہ جب دو نقطوں  کو ملایا گیا تو وہ الف بن گئے۔ پس الف نقطے  سے  ایک بْعد پر ہے  یعنی ایک ڈائمنشن Dimension میں  واقع ہے  جسے  لمبائی کہتے  ہیں۔ کیونکہ ابعاد (Dimensions) تین ہیں  لمبائی، چوڑائی اور گہرائی۔ باقی حروف میں  ایک سے  زیادہ Dimensions ہیں۔ مثلاً  'ج' جس کا سرا لمبائی ہے او ر گولائی گہرائی ہے۔ یا جیسے  کہ 'ک' ہے  جس کا سرا لمبائی ہے، اور سرے  سے  اگلے  موڑ تک کا حصّہ چوڑائی ہے او ر پہلے  موڑسے  آخری موڑ تک کا حصّہ گہرائی ہے۔ سو یہ تین Dimensions ہوئیں۔ اور الف کے  علاوہ باقی تمام حروف میں  لازمی طور پر دو یا تین ابعاد موجود ہیں۔ جبکہ الف میں  صرف ایک ہے۔ لہٰذا الف قرب میں  نقطے  کے  سب سے  زیادہ قریب ہوا۔ کیونکہ نقطہ بغیر کسی Dimension کے  ہوتا ہے۔ پس الف کی باقی حروفِ مہملہ کے  ساتھ وہی نسبت ہے  جو محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم کی باقی انبیاء او ر کامل وارثین کے  ساتھ ہے۔ لہٰذا الف باقی تمام 
حروف سے  آگے  بڑھ گیا۔ پس غور کرو اور اس کو سمجھو۔ 
اور حروف میں  کچھ ایسے  ہیں  جن کے  اوپر نقطہ ہوتا ہے او ر وہ اس کے  نیچے  ہوتے  ہیں۔ یہ وہ مقام ہے  جسے  " ما رائیت شئیاّ الّا و رائیت اللہ قبلہْ " کہا گیا ہے۔ یعنی میں  نے  نہیں  دیکھی کوئی شئے  مگر یہ کا اس سے  پہلے  اللہ ہی نظر آیا۔ 
اورحروف میں  کچھ ایسے  بھی ہیں  جن کے  نیچے  نقطہ ہوتا ہے او ر وہ اس نقطے  کے  اوپر ہوتے  ہیں۔ یہ وہ مقام ہے  جسے  " ما رائیت شئیاّ الّا و رائیت اللہ بعدہ " کہا گیا ہے۔ یعنی میں  نے  نہیں  دیکھی کوئی شئے  مگر یہ کہ اس کے  بعد اللہ ہی نظر آیا۔ 
اور اسی طرح کچھ ایسے  بھی حروف ہیں  کہ نقطہ ان کے  درمیان میں  یعنی ان کے  اندر ہوتا ہے۔ جیسے  کہ 'م' کے  قلب میں  سفید نقطہ اور واؤ اور اس جیسے  اور۔ اور یہ وہ مقام ہے  جسے  " ما رائیت شئیاّ الّا و رائیت اللہ فیہ " کہتے  ہیں۔ یعنی میں  نے  نہیں  دیکھی کوئی چیز مگر یہ کہ اللہ ہی اس میں  نظر آیا۔ اور اسی لئے  یہ حروف جوف لئے  ہوئے  ہیں  کیونکہ اس جوف میں  وہ ظاہر ہوا ہے  جو ان کا غیر ہے۔ پس 'م' کا مقام ہے  " ما رائیت شئیاّ " (میں  نے  جو بھی دیکھا) اور سفید نقطے  کا مقام ہے  " الّا و رائیت اللہ فیہ " (مگر یہ کہ اللہ کو اس میں  دیکھا)۔ 
اور الف کا مقام ہے  " انّ الذّین یبایعونک انّما یبایعون اللہ "۔ بیشک جو تیری بیعت کرتے  ہیں  وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے  ہیں۔ 'انّما' کے  معنی میں  کہا گیا ہے  کہ وہ بمنزلہ 'ما و الّا ' کے  ہے۔ اور تقدیرِ کلام یوں  بنتی ہے  کہ جو تیری بیعت کرتے  ہیں  سوائے  اللہ کے  کسی کی بیعت نہیں  کرتے۔ حالانکہ یہ معلوم ہے  کہ وہ محمّد ہی تھے  جن کی بیعت کی گئی۔ پس اللہ نے  گواہی دی اپنے  نفس کے  ساتھ کہ 'بیعت نہیں  کی گئی سوائے  اللہ کے ' گویا کہ اس نے  کہا کہ ' تو وہ نہیں  جس کی محمّد ہوتے  ہوئے  بیعت کی گئی، بلکہ تو وہی اللہ ہے  پوشیدگی میں '۔ کیونکہ وہ حقیقت میں  اللہ کی بیعت کرتے  ہیں او ر یہی معنی ہیں  خلافت کے۔ کیا تم نے  نہیں  دیکھا کہ اللہ کے  رسول یا کسی بادشاہ کے  پیغامبر کے لئے  یہ کہنا کس طریقے  سے  درست ہوتا ہے  اگر وہ کسی مخالف سے  کہیں  کہ تم نے  میری نہیں  بلکہ بادشاہ کی مخالفت کی ہے۔ اور اسی طرح بادشاہ بھی ان لوگوں  سے  اگر کہے  کہ اس شخص کو فلاں  فلاں  شخص نہ سمجھو بلکہ یہ میں  ہی ہوں۔ اور یہ سب اس کی اطاعت پر کمربستہ کرنے  کے لئے  کہا جاتا ہے 


فصل 

عالمِ غیب۔۔۔ جس میں  کوئی تفرقہ نہیں۔۔۔ میں  نقطۂ باء  واحد ایک ہی ذات ہے۔ ہاں  یہ کہ وہ 'ت' میں  دو بار اور 'ث' میں  تین بار ظاہر ہوا ہے۔ اس بات میں  (کہ نقطہ ایک ہی ہے ) اس شخص کے لئے  تنبیہ ہے  جو دوئی اور شرک کا قائل ہے۔ جو اس کو دو کا دوسرا اور تین کا تیسرا کہتا ہے۔ حالانکہ ہمارے  اس قول میں  اس بات کی طرف اشارہ ہے  کہ نقطہ ایک ہی ہے  اگرچہ کئی مرتبہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اپنی ذات میں  ایک ہی ہے۔ کیا تم نہیں  دیکھتے  کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ واحد ہے، جبکہ مشرک اس میں  شرک کا تخیّل کرتا ہے۔ کیونکہ مشرک جس شریک کا اپنے  خیال کے  مطابق اعتقاد رکھ رہا ہے، وہ تو اللہ کی مخلوق ہے۔ اور حق ہر مخلوق میں  اپنے  کمال کے  ساتھ موجود ہے۔ پس مشرک مخلوق ہے او ر جس شریک کا اعتقاد کیا گیا وہ بھی مخلوق ہے او ر اعتقاد بھی مخلوق ہے۔ اور حق سبحانہ تعالیٰ ان سب میں اپنے  ذاتی کمال کے  ساتھ ہے  جس کو نہ تو جز ء جزء  ہی کیا جا سکتا ہے ، نہ متعدد کیا جا سکتا ہے او ر نہ ہی کسی کیفیت کے  ساتھ متکیف کیا جا سکتا ہے۔ وہ تو واحد ہے  جس کا کوئی دوسرا نہیں۔ تم چاہے  شرک کرو یا تفرید، وہ نہیں  ہے  مگر یہ کہ تمہاری ذات۔ کیا تم نہیں  دیکھتے  کہ نقطہ اس حیثّیت سے  کہ وہ نقطہ ہے، نہ تو متعدّد ہوتا ہے او ر نہ ہی اجزاء میں  تقسیم ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کی ذات اس بات سے  بہت بلند اور پاک ہے  کہ اشخاص میں  سے  کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کے  اجزاء میں  سے  کوئی جزء  ہو۔ پس نقطہ عین تعداد میں  بھی اپنی یگانگت کی قوّت سے  غیر منقسم اور غیر متعدّد ہی پایا گیا۔ 
اور جان لو کہ حقیقت میں  نقطہ نگاہ کے  قابو میں  نہیں  آ سکتا کیونکہ عالمِ اجسام میں  جو کچھ بھی نظر آتا ہے  وہ قابلِ تقسیم ہے۔ اور یہ نقطہ جو شہود میں  آ رہا ہے  دراصل اس کی حقیقت کا ایک اعتبار ہے۔ اور وہ حقیقت یہ ہے  کہ وہ جوہر ہے، فرد ہے او ر ناقابلِ تقسیم ہے۔ پس جب وہ غیب الوہم سے  قلم کی زبان پر اور وہاں  سے  عالمِ شہادت کے  موجودات کی لوح پر آیا تو یہ بات مزید محکم ہوئی کہ اس کی ذات حد سے او ر تقسیم سے  منسوب نہیں۔ کیونکہ عالمِ کون و مکان میں۔۔۔ جس کا ہم حواس سے  ادراک کر سکتے  ہیں۔۔۔ یہ بات شاذ ہے  کہ نا قابلِ تقسیم جوہر فرد، پایا جائے۔ بلکہ پایا ہی نہیں  جاتا۔ پس جب یہ جوہر اس حرف کے  تحت روشن ہو گیا یعنی ظاہر ہو گیا تو باوجود اس کے  کہ یہ ناقابلِ تقسیم ہے، ایک اعتبار سے  تقسیم ہو گیا۔ اور یہی وہ جگہ ہے  جسے  تشبیہہ حق کہتے  ہیں۔ اور جیسا کہ نص میں  آیا ہے  کہ اس کے  دو ہاتھ ہیں، چہرہ ہے، اور حدیثِ عکرمہ میں  ہے  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے  فرمایا کہ " میں  نے  اپنے  رب کو ایک نوجوان لڑکے  کی صورت میں  دیکھا جو سنہری پوشاک زیبِ تن کئے  ہوئے  تھا اور اس کے  سر پر سونے  کا تاج اور پاؤں  میں  سونے  کے  جوتے  تھے "۔ سو اس مقام پر وہ اللہ ہی ہے  جو ہمارے  لئے  اپنے  حق میں  نوجوان لڑکے  یا کسی اور صورت میں  جلوہ گر ہوتا ہے 
کتب الجمال علیٰ جلال وجھہ			اللہ احسن کلّ شئیٍ خلقہْ
اس نے  اپنے  چہرے  کی جلالت پر جمال لکھ دیا ہے او ر اللہ ہر تخلیق کردہ چیز سے  حسین تر ہے۔ 
یہ حدیث اپنے  پورے  کمال کے  ساتھ عینِ تنزیہہ میں  تشبیہہ ہے۔ اس لئے  کہ حق کے  معنی ہی یہ ہیں  کہ وہ منزّہ ہے۔ (الّذی لیس کمثلہ شئیٍ و ھو السّمیع البصیر)۔ پس تشبیہہ کی قید اس کے  لئے  محال ہے۔ ہمیشہ اس کے  لئے  یہی بات ہے۔ 
پس جب کتاب و سنّت کی نص کے  حکم سے  تنزیہہ میں  تشبیہہ اور تشبیہہ میں  تنزیہہ ہوئی تو تمہارے  لئے  عالمِ غیب عالمِ شہادت کے  اندر ہی ظاہر ہوا۔ اور عین عالمِ غیب میں  عالمِ شہادت تم سے  پوشیدہ ہو گیا۔ پس جب نقطہ تمام حروف کے لئے  ہے  تو تو تمام حروف نقطے  میں  بالقوّت پائے  گئے۔ اور میرے  قول بالقوّت کے  معنی یہ ہیں  کہ عقل کی رو سے  حروف کا ثبوت نقطے  میں  ملا لیکن ان کے  وجود کا ادراک نہیں  ہو سکتا جب تک کہ وہ نقطے  سے  ظاہر ہو کر واضح نہ ہو جائیں۔ 


فصل۔۔ نقطے او ر 'ب' کی گفتگو

نقطے  نے  'ب' سے  کہا کہ اے  حرف میں  ہی تیری اصل ہوں  کیونکہ تیری ترکیب مجھ سے  ہے۔ بلکہ ترکیب کے  لحاظ سے  تُو میری اصل ہے  کیونکہ تیرا ہر ہر جزو نقطہ ہے۔ پس تُو کل ہوئی اور میں  جزو۔ کل اصل ہوتی ہے او ر جزو اس کی ایک شاخ۔ حقیقت کی رْو سے  تو میں  ہی اصل ہوں  کیونکہ تیری ترکیب عین میری ہی ذات ہے۔ میرے  اس ظہور کو خود سے  وراء  مت جان کہ کہیں  تُو کہہ بیٹھے  کہ یہ جو ظاہر ہوا ہے  یہ میرا غیر ہے۔ میری تو صرف ذاتِ غیب تجھ سے  وراء ہے۔ اور اگر تجھ میں  میرا وجود نہ ہوتا تو میرا تیرے  ساتھ یہ تعلق بھی نہ ہوتا۔ تُو کب تک اپنے  عالمِ شہادت سے  مجھ سے  منہ موڑتی رہے  گی؟ اور کب تک مجھے  پسِ پشت ڈالتی رہے  گی؟ اپنے  غیب کو شہادت بنا ڈال اور شہادت کو غیب کر دے۔ میرے  تیرے  ساتھ جو وحدت ہے  کیا وہ ابھی تک تجھ پر واضح نہیں  ہوئی؟ اگر تُو نہ ہوتی تو میں  بھی 'ب' کا نقطہ نہ ہوتا۔ اور اگر میں  نہ ہوتا تو تُو بھی نقطے  والی نہ ہوتی۔ میں  تجھے  آخر کتنی مثالیں  دوں  کہ تُو سمجھ سکے  کہ مجھے  تجھ سے  کیا یگانگت ہے۔ جس سے  تجھے  معلوم ہو جائے  کہ عالمِ شہادت میں  تیرا پھیلاؤ اور عالمِ غیب میں  میری پوشیدگی، ہماری ایک ہی ذات کے  دو اعتبارات ہیں۔ مجھ میں  تیری شرکت نہیں او ر تجھ میں  میری شرکت نہیں۔ تُو نہیں  ہے  مگر یہ کہ میں۔ کیونکہ تیرا نام میرے  نام پر ہے۔ کیا تُو نہیں  دیکھتی کہ تیرے  نام کے  اجزاء  میں  سے  پہلے  جزو کا نام نقطہ ہے، دوسرے  جزو کا نام نقطہ ہے او ر تیسرے  جزو کا نام بھی نقطہ ہی ہے۔ اور تیرے  تمام اجزاء  نقطے  پر نقطہ ہیں۔ پس میں  تُو ہے۔ تیرے  لئے  تجھ میں  تیری انّیت نہیں  ہے  بلکہ میرا 'وہ ہونا' تیرا 'میں  ہونا' ہے  جس سے  تُو 'تْو' بنا ہے۔ کاش کہ تُو اپنے  آپ کے  بارے  میں  'میں ' کہتے  ہوئے  میری ذات کا تخیّل کر لیتا تو میں  بھی 'وہ' کہتے  وقت اپنے  چہرے  کا تخیّل کرتا تاکہ اس وقت تُو 'میں ' کو جان جاتا۔ 'میں ' اور 'وہ' ایک ہی ذاتِ واحد کے لئے  وضع کی گئی دو عبارتیں  ہیں۔ 
'ب' نے  کہا کہ سیّدی میں  سمجھ گئی کہ تُو میری اصل ہے او ر تجھے  پتہ ہے  کہ اصل اور فرع دو چیزیں  ہیں۔ اور یہ میرا قالب جو بچھا ہوا ہے، ترکیب شدہ ہے۔ میرا اس کے  بغیر کوئی وجود نہیں۔ اور تُو جوہر لطیف ہے  جو ہر شئے  میں  پایا جاتا ہے۔ اور میں  جسمِ کثیف ہوں  کہ تنگنائیِ مکان میں  مقیّد ہوں۔ پھر آخر مجھے  وہ حقیقت کہاں  سے  مل سکتی ہے  جو تجھے  حاصل ہے ؟ اور کس طرح یہ ہو سکتا ہے  کہ میں  تُو بن جاؤں ؟ اور کیسے  تیرا حکم میرا حکم ہو جائے  گا؟
پس نقطے  نے  جواب میں  کہا کہ تیرا اپنی جسمانیت کو دیکھنا اور میری روحانیت کا تخیّل کرنا، میری گْوناگْوں  ہیئات میں  سے  ایک ہیئت ہے او ر میرے  اوصاف میں  سے  ایک وصف ہے۔ اور یہ کہ تمام متفرق حروف اور کلمات اپنے  جملوں  کے  ساتھ میری ایک صورت ہیں۔ پھر تعدد کہاں  سے  آ گیا؟ جب تُو جانتی ہے  کہ مثلاً  دس ایک اسم ہے  جو ان دونوں  پانچوں  کا مجموعہ ہے  پھر دس کی حقیقت میں  (اسم میں  نہیں  کیونکہ اسم علیحدہ ہیں ) پانچ کی غیریت کدھر سے  آ گئی؟ اور جب تُو اپنی تمام وجوہ سے  میرے  اوصاف میں  سے  ایک وصف ہے او ر میری نسبتوں  میں  سے  ایک نسبت ہے  تو پھر تیرے او ر میرے  درمیان یہ دوئی کہاں  سے  آ گئی؟ اور میرے او ر تیرے  درمیان یہ بحث کیسے  ہو سکتی ہے  جبکہ میں  ہی وہ اصل ہوں  جو تجھ سے  مراد لی جاتی ہے او ر مجھ سے  مراد لی جاتی ہے۔ یہ مجموعی طور پر میری ہی ذات ہے  جس میں  حکمتِ الٰہیہ سے  یہ رتبے  ترتیب دئے  گئے  ہیں۔ پس اگر تُو چاہے  کہ میرا تخیّل کرے  تو اپنے  آپ کا، تمام حروف کا اور تمام چھوٹے  بڑے  کلمات کا تصوّر کر اور پھر مجھے  نقطہ کہہ۔ تو یہ سب مجموعہ عین میری ذات ہے۔ اور میری ذات بعینہِ یہ مجموعہ ہے۔ بلکہ تیرا ہی نفس ہے  جس میں  یہ سب جمع ہے۔ نا تُو ہے او ر نہ وہ ہیں، بس ایک نقطۂ واحد ہے۔ یہ نہ سمجھ کہ ان میں  سے  کوئی تجھ جیسا ہے۔ پس اگر تُو اپنی قمیص سے  میری قمیص بدل لے  تو تجھے  معلوم ہو جائے  جو کچھ میں  جانتا ہوں، تُو وہ مشاہدہ کرے  جو میرے  مشاہدے  میں  ہے، تُو وہ سنے  جو میں  سنتا ہوں  اور تُو وہ کچھ دیکھے  جو میں  دیکھتا ہوں۔ 
پس 'ب' نے  اس کو جواب دیا کہ بے  شک جو کچھ تو نے  کہا ہے  وہ مجھ پر بجلی کی طرح لمحہ بھر کے لئے  چمک اٹھا لیکن یہ بتا کہ مجھے  اس فجر سے  اس کی صبح میں  جانا کیسے  میسّر ہو گا؟ جبکہ تو نے  کہا کہ قرب و بعد اور کیف و کم تیرے  ہی وجود کے  مرتبے  ہیں  تو جب میں  نے  اس بات کی اپنے  مرتبے  کے  مطابق شہادت دی اور اس پر سرِ تسلیم خم کیا اور عالمِ شہادت کی طرف اپنا منہ موڑا اور تیرے  ادب کو خود پر لازم کر لیا اور جب ملکوت میں  میرے  معانی جلوہ گر ہوئے  تو میں  نے  خود کو پالیا۔ اور جب میں  نے  اپنے  آپ سے  وہ طلب کیا جو کہ تیرے  لئے  مخصوص ہے  یعنی ہر حرف میں  اپنے  کمال کے  ساتھ سرائیت پذیر ہونا اور حروف کا حلّ و عقد (کھولنا اور باندھنا) کرنا، تو مجھے  کچھ نہ ملا۔ پس میری ہمّت کا کانچ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اور میں  تھک ہار کر واپس لوٹ آئی۔ 
نقطے  نے  جواب میں  کہا کہ ہاں  تُو لوٹ آئی اس لئیے  کہ تُو نے  اپنے  نفس سے  طلب کیا اس حال میں  کہ تیرے  نزدیک تیرا نفس میرے  نفس کا غیر تھا۔ اس لئیے  تجھے  وہ کچھ نہ ملا جو میرے  لئیے  ہے۔ اگر تُو اس میں  اْس 'میں ' سے  طلب کرتی جو کہ تجھ میں  مجھ سے  ہے او ر جو تیری ہی ذات ہے  تو تُو گھر میں  اس کے  دروازے  سے  داخل ہوتی۔ اور اْس حالت میں  سوائے  نقطے  کے او ر کسی سے  وہ طلب نہ کرتی جو نقطے  کے لئے  ہے۔ بلکہ اس حالت میں  بجز نقطہ کچھ نہ طلب کرتی جو کہ اس کو اپنے  آپ سے  ہی حاصل ہے۔ پس تجھ پر یہ معنی روشن ہو 
جاتے  اگر تُو ہمارے  ساتھ ہوتی۔ 
ھذہِ الخیام قد بدت علیٰ اطنابھا		فانزل بھا ان کنت من احبابھا۔۔۔ 
یہ خیمہ نصب ہوا اپنی رسّیوں  پر پس اگر تُو اس میں  رہنے  والوں  کا عزیز ہے  تو اس میں  اتر۔ 
قف بین ھاتیک المعانی انھا			وقفت بھا الازمان فی اترابھا
ان معنوں  میں  توقّف کر کہ لوگ مدتّوں  ان میں  ٹھرے  رہے۔ 
ما ھند الّا من اقام علی الغضا		والبان والاثلاث فی اجنابھا۔۔۔ 
وہ ہند (محبوبہ کا نام) ہی ہے  جو غضا کے  درختوں  میں  رہتی ہے  جن کے  ارد گرد بان اور اثل کے  درخت بھی موجود ہیں۔ 
فانخ معطیک فی الدّیار فانھا		دار مبارکۃ علی اصحابھا۔۔۔ 
اس دیار میں  اقامت گزیں  ہو جا تاکہ تجھ پر عطائیں  ہوں  کہ یہ گھر اپنے  رہنے  والوں  کے لئے  برکت والا ہے۔ 
للہ دْرّ منازل قد شرفت۔۔۔ 			بالساکنین و شرفو باترابھا
واللہ کتنی پیاری منزلیں  ہیں  یہ جو اپنے  رہائشیوں  کی وجہ سے  بزرگ قرار پائیں او ر وہ ان منازل سے  بلندیوں  پر فائز ہوئے۔ 
لا تعرف الاغیار فی عرفانھا			مجھولۃ سدّت علی ابوابھا
اغیار ان کا عرفان حاصل نہیں  کر سکتے  کہ ان پر اس کے  دروازے  بند ہیں۔ 
النازلین بحیّھا ھم اھلھا۔۔۔۔۔ 		من بان عنھا لیس من انسابھا
اس کی بستیوں  میں  اترنے  والے  ہی اس کے  اہل ہیں۔ جو اس سے  دور ہو گئے  ان کو اس سے  کوئی نسبت نہیں۔ 
'ب' نفس ہے۔ اور یہ ظلمانی حرف ہے۔ بسملہ میں  سوائے  'ب' کے او ر کوئی ظلمانی حرف نہیں  آیا۔ اور ظلمانی حروف سے  میری مراد (ب ج د ز ف ش ت ث خ ذ ض ظ غ) ہیں۔ کیونکہ نورانی حروف وہی ہیں  جو حروفِ مقطّعات کی صورت میں  کچھ سورتوں  کے  شروع میں  آئے  ہیں  (ا ھ ح ط ی ک ل م ن س ع ص ق ر)۔ پس حق تعالیٰ نے  ہر سورت کے  شروع میں  'ب' کو رکھا کیونکہ تمہارے او ر حق تعالیٰ کی پاک ذات کے  درمیان پہلا حجاب تمہارے  وجود کی ظلمت ہی ہے۔ اور جب وہ فنا ہو گئی اور حق کے  علاوہ کچھ باقی نہ رہا تو اس کے  اسماء  و صفات جو اسی کی طرف سے  ہیں، اْس پر حجاب بن گئے۔ کیا تم نے  نہیں  دیکھا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے  تمام حروف نورانی ہیں  سوائے  'ب' کے  جس کے  معنی یہ ہوئے  کہ یہ تمہارا وجود ہے  جو ظلمانی ہے او ر باقی سب کچھ نورانی۔ اور یہیں  سے  'ب' نقطے  کے  اوپر ایک قمیص بن گئی، کیونکہ وہ نقطے  کے  اوپر ہے او ر قمیص تو باقی لباس کے  اوپر ہی ہوتی ہے۔ پس 'ب' ایک ظلمت ہوئی جس کے  وجود سے  نقطے  کا نور حجاب میں  ہے۔ اور اس کا وجود یہی عالم ہے  جو نقطے  کے  عالمِ جمال سے  ظاہر ہوا۔ اور نقطے  کا ظہور اشارے  سے  ماوراء ہونے  میں  حکمت یہ ہے  کہ جو کچھ ظاہر ہوا ہے، امرِ حقیقی اس سے  وراء  الوراء ہے۔ 
جب نقطہ 'ب' کے  ساتھ چمٹ گیا تو 'ب' کلامِ عرب میں  الصاق یعنی چمٹنے او ر وابستہ ہونے  کے  معنوں  میں  استعمال ہونے  لگی۔ 
اور جب نقطے  نے  'ب' کی جانب مدد کی نظر کی تو 'ب' کلامِ عرب میں  استعانت یعنی مدد کے  معنوں  میں  استعمال ہونے  لگی۔ 
اور جب 'ب' پر غیب کی اندھیری رات میں  اس کے  شجرِ نفس کے  پاس سے  نارِ سعادت روشن ہوئی تو وہ اپنے او ر اپنے  اھل کے لئے  نقطے  کی آگ لینے  چل پڑی۔ یا یوں  کہو کہ اس نے  اپنے  نفس کی جانب سے  اپنے  نفس کے لئے  اپنے  نفس ہی میں  ہدایت پائی۔ اور شجرِ الف۔۔۔ جو اسم اللہ ہے۔۔۔ کی جانب سے  اسے  ندا کی گئی کہ جوتے  اتار دے  تُو اس وادیِ مقدّس میں  ہے۔ یعنی اپنے  وصف اور اپنی ذات کا چولہ اتار پھینک کہ تُو تشبیہ اور کثافت کی مورد و محلّ ہے او ر تیرے  لئے  نقطے  کی وادیِ تقدیس میں  کوئی جگہ نہیں  جب تک تُو اپنی ذات کی تشبیہ اور صفات کی آلودگی سے  پاک نہیں  ہو جاتی۔ حتّی کہ قدس میں  قدّوس کے  سوا اور کچھ باقی نہ بچے۔ 
پس توفیق کے  ہاتھ نے 'ب'کی لگامیں  تھام لیں او ر وہ الف کے  نور میں  سائے  کی طرح لیٹ گئی۔ کیونکہ کسی بھی شئے  کا سایہ اس جیسا ہی ہوتا ہے۔ پس 'ب' کتابت کی مقدار میں  اتنا ہی لیٹی ہوئی ہے  جتنا کہ الف کھڑا ہوا ہے۔ پس اس نے  اپنے  نفس کو اس کھڑے  ہوئے  الف کا سایہ جانا اور جان گئی کہ اس کا وجود اس الف سے  ہی قائم ہے۔ کیونکہ کسی بھی شخص کا سایہ اس شخص کے  دم قدم سے  ہی ہوتا ہے۔ پس 'ب' کے  پڑھے  جانے  کی حقیقت واضح ہو گئی۔ اور اس کے  وجود کی وہمیّت دور ہو گئی۔ کیونکہ سایہ بذاتِ خود کوئی وجودِ تام نہیں  رکھتا۔ لیکن اس کے  لئے  ایک وجود تو پھر بھی ہے  ہی۔ پس جب 'ب' نے  فنا کے  رستے  سے  اپنی قدر کو جان لیا تو الف نے  بھی اس کو تھام کر اپنی طرف اٹھا لیا اور اپنی جگہ پر اس کو رکھ کر خود اس میں  مندرج ہو گیا۔ اور یہی وجہ ہے  کہ بسم اللہ کی 'ب' طویل ہو گئی تاکہ وہ اس مین مندرج الف کی دلالت کر سکے۔ کیونکہ معنی کے  لحاظ سے  وہ الف کی خلیفہ ہے او ر صورت میں  اس کی طوالت الف کی ہیئت پر ہے۔ پس اسے  الف کی جانب سے  ہیئت بھی ملی اور معنی بھی ملے۔ اور بسم اللہ میں  الف کے  قائم مقام ہو گئی۔ کیونکہ بسم اللہ کے  علاوہ کلامِ عرب میں  ایسا کبھی نہیں  دیکھا گیا تھا کہ 'ب' الف کے  مقام پر کھڑی ہو جائے۔ پس دیکھ کہ کیسے  'ب' اپنا حال اور جمال دیکھ کر یہ گنگنا اٹھی کہ
و غنی لی منّی قلبی
فغنیتْ کما غنا۔۔۔۔۔ 
و کنّا حیثْ ما کانوا۔۔۔ 
و کانوا حیث ما کنّا۔۔۔ 
میرے  دل نے  میری خاطر میرے  ہی ذریعے  نغمہ آرائی کی تو میں  نے  بھی اسے  گیت سنائے۔ پس ہم ایسے  ہی ہو گئے  جیسے  وہ تھے او ر وہ ایسے  ہو گئے  جیسے  ہم تھے۔ 
الف فی نفسہ لفظ الفت سے  مشتق ہے۔ بلکہ حقیقت میں  الفت الف سے  نکلی ہے۔ کیا تم نے  علمِ صرف کے  ماہرین کا اختلاف نہیں  دیکھا جو وہ مصدر کے  فعل سے  مشتق ہونے  یا فعل کے  مصدر سے  مشتق ہونے  کے  بارے  میں  کرتے  ہیں۔ جب 'ب' نے  ادب کرتے  ہوئے  سائے  کی طرح خود کو الف کے  قدموں  میں  ٹھہرایا تو الف کو 'ب' سے  الفت ہوئی لہذا الف نے  جود و سخاوت کرتے  ہوئے  اسے  اپنے  مقام سے  نواز دیا۔ جیسے  کہ ہم پہلے  بیان کر آئے  کہ الف اپنی صورت کے  لحاظ سے  تمام حروف میں  موجود ہے۔ مثلاً  'ب' ایک بچھا ہوا الف ہے، 'ج' خمدار کناروں  والا الف ہے، 'د' اور 'ر' ایسے  الف ہیں  جو درمیان سے  خم کھائے  ہوئے  ہیں، اور 'ش' دراصل چار الف ہیں  اس کا ہر دندانہ ایک خمدار اور بچھا ہوا الف ہے۔ اور اسی طرح باقی سب حروف ہیں۔ یہ سب تو صورت تھی اور جہاں  تک معنی کا تعلّق ہے  تو لازمی طور الف ہر ایک حرف میں  لفظی طور پر موجود ہے۔ کیونکہ جب 'ب' کے  ہجے  کرتے  ہیں  تو کہتے  ہیں  ب اور الف۔ اور جب 'ج' کے  ہجے  کرتے  ہیں  تو کہتے  ہیں  ج ی م اور اس 'ی' کی ہجے  میں  بھی الف آتا ہے  (یاء )۔ پس الف کسی بھی حرف میں  صورتاّ اور معناّ دونوں  طرح سے  موجود ہے۔ کیونکہ وہ عالمِ غیب کے  نقطے  سے  عالمِ شہادت کی طرف نازل ہوا۔ 
ذاک ھی ھی ذاک یہ یہ
ذاک بعض ذاک ابضع۔۔۔ 
ذاک جبریل المعالی۔۔۔ 
قد تدحیٰ و تلفع۔۔۔۔۔ 
(وہ جو ہے  وہ وہی ہے،اور یہ جو ہے  یہ یہی ہے۔ وہ ٹکڑا ہے او ر یہ چھوٹا ٹکڑا ہے۔ وہی جبرئیلِ عالی مرتبہ ہے  جو دحیہ کلبی کی صورت میں  آ کر چادر اوڑھ لیتا ہے )۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے  فرمایا کہ" تم میں  سے  کسی کے  بھی پاؤں  میں  ایسا کوئی کانٹا نہیں  چبھتا جس کا درد مجھے  بھی محسوس نہ ہوتا ہو"۔ یہ کہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کی تمام عالم کے  افراد و اجزاء  کے  ساتھ یگانگت کو ثابت کرتا ہے۔ حتّیٰ کہ آپ ہر فرد کے  نفس کی حالت اسی طرح پاتے  ہیں  جیسے  کہ وہ فرد بذاتِ خود۔ 
سوال: کیا وجہ ہے  کہ الف بسم اللہ میں  سے  تو حذف ہو گیا لیکن 'اقراء باسم ربّک' میں  حذف نہیں  ہوا؟
جواب: یہ اس لئے  کہ بسم اللہ میں  اسم کی اضافت 'اللہ' کی طرف ہے  جو کہ تمام مراتب کا جامع ہے او ر کسی ایک مخصوص صفت سے  مقیّد نہیں۔ جبکہ 'اقراء  باسم ربّک' میں  اسم کی اضافت 'رب' کی طرف ہے۔ اور لازم ہے  کہ رب کے لئے  کوئی بندہ ہو جس کی وہ پرورش کرے۔ پس اس مقام پر یہ محال ہے  کہ 'ب' الف کے  ساتھ متّحد ہو۔ کیونکہ اگر بندگی نہ ہو تو ربوبیّت بھی نہ ہو۔ لیکن الوہیت کے  معاملے  میں  یہ ہے  کہ اگر عبودیت مٹ بھی جائے  تو یہ نہیں  مٹتی کیونکہ یہ اسم ایسے  مرتبے  میں  ہے  جس میں  تمام مراتب جمع ہیں۔ پس بندے  کا نہ رہنا جیسے  کہ وہ نہیں  تھا۔ اور ذاتِ رب کی بقا جس کو کوئی زوال نہیں، الوہیت کے  مرتبوں  میں  سے  ایک مرتبہ ہے۔ پس الوہیت کبھی بھی زائل نہیں  ہو گی۔ پس جب وہ باقی رہ گئی تو الف اس مقام میں  'ب' کے  ساتھ متّحد ہو کر اس میں  مندرج ہو گیا۔ اور کتابت اور قرأت دونوں  سے  ساقط ہو گیا۔ پس بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حقیقتِ محض ہے او ر اقراء  باسم ربّک شریعتِ محض ہے۔ کیا تم نہیں  دیکھتے  کہ اقراء  (پڑھ) ایک حکم ہے او ر حکم شریعت کے  ساتھ مخصوص ہوتا ہے  جبکہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں  کسی امر اور نہی کی قید نہیں۔ پس اس پر غور کرو۔ 
جب الفت الف سے  مشتق ہوئی تو اس نے  حروف کے  درمیان الفت و کشش پیدا کی۔ بعض حروف کی ذات میں  اس نے  اپنی ذات سے  الفت جگائی جیسا کہ ب ت اور ث کہ یہ سب بچھے  ہوئے  الف ہیں او ر ہر ایک دوسرے  جیسا ہے، اور بعض حروف میں  الف نے  لفظ کی صورت میں  آ کر الفت پیدا کی، مثلاً  'خ' کو خاء  کہتے  ہیں  تو الف ایسے  حروف کے  آخر میں  ظاہر ہوا۔ پس یہ حروف اور پہلے  والے  حروف کتابت میں او ر صورت میں  عین الف ہی ہیں۔ صرف تلفظ میں  فرق ظاہر ہوا۔ پس الف نے  ان تمام حروف میں  اپنی ذات اور اپنی صورت کے  ذریعے  باہم الفت پیدا کی۔ اور جیسے  کہ پہلے  بیان ہو چکا ہے  کہ الف ان کی ہجّے  میں  بھی موجود ہے۔ اسی طرح حق تعالی ہے  جس نے  فرمایا کہ ( لو انفقت ما فی الارض جمیعاّ ما الّفت بین قلوبھم و لٰکنّ اللہ الّف بینھم)۔ یعنی اے  محمّد۔۔۔ اور جائز ہے  کہ یہ خطاب تمام سننے  والوں  کے لئے  ہو۔۔۔۔ آپ اگر زمین کے  تمام خزانے  بھی خرچ کر دیتے  تب بھی ان کے  دلوں  کو جوڑ نہ پاتے  لیکن اللہ ہی ہے  جس نے  اپنی قوّت و کمال سے  ان کے  جسموں، ان کی ذاتوں او ر ان کی صفتوں  کو ایک دوسرے  کے لئے  مالوف کیا۔ کسی گروہ کو تو اپنی ذات سے، کسی کو اپنی صفات سے او ر کسی گروہ کو اپنے  افعال و ہیئات سے  باہم یکجا کیا۔ بلکہ یوں  کہنا چاہئیے  کہ سب میں  اپنی ذات اور جمیع صفات کے  ذریعے  یکجائی اور الفت پیدا کی۔ 
ھذا الوجود ان تعدد ظاہراّ			و حیاتکم ما فیہ الّا انتم۔۔ 
اس وجود میں  گو ظاہراّ کثرت نظر آتی ہے  لیکن اس کی جانِ جاں  تو فقط تم ہی ہو۔ 
حروف الف سے  وابستہ ہوتے  ہیں  لیکن الف کسی حرف سے  وابستہ نہیں  ہوتا۔ اسی طرح تمام مخلوق اللہ سبحانہ کی محتاج ہے او ر وہ سب جہانوں  سے  غنی ہے۔ 
کہنے  والے  نے  کہا کہ الف میں  ایس کونسی خوبی تھی کہ اسے  نقطے  سے  اتنا قربِ عظیم حاصل ہوا اور باقی حروف میں  کیا خامی تھی کہ جس نے  انہیں  رْو گرداں  کر دیا حتّیٰ کہ وہ دور ہو گئے ؟ جواب میں  کہا گیا کہ نقطے  کی ذات کا حکم رکھنے  والے  مقام سے  دور نہ ہونا ہی الف کی وہ خوبی تھی جس کی جزاء  میں  وہ نقطے  کے  اوصاف سے  متّصف کیا گیا ( من وْجد فی رحلہِ فھو جزآؤہ۔ جس کے  سامانِ سفر میں  وہ پایا گیا وہ شخص ہی اس کی جزاء  قرار پائے  گا۔ سورہ یوسف۔ 75)۔ ہاں او ر نقطے  کی ذات کا حکم رکھنے  والے  مقام سے  قریب نہ ہونا ہی وہ خامی تھی جو باقی حروف کو لاحق ہوئی (کذٰلک کدنا لیوسفْ ما کان لیاء خذْ اخاہْ فی دین الملک۔ ہم نے  اس طرح یوسف کے لئے  تدبیر کی ورنہ وہ بادشاہ کے  قانون کی رْو سے  اپنے  بھائی کو حاصل نہ کر پاتے۔ سورہ یوسف۔ 76)۔ 
تنبیہ: 'ب' کے  الف کے  ساتھ اتّحاد میں  نکتہ یہ ہے  کہ اس 'ب' میں  الف کا وجود ہے۔ اگر 'ب' میں  الف کا وجود ھجاء  کی صورت میں  نہ ہوتا تو وہ متّحد نہ ہوتا۔ اور اگر الف پہلے  ہوتا اور  'ب' بعد میں، تب بھی متّحد نہ ہوتا۔ کیونکہ جس وجہ سے  الف باء  میں  موجود ہے  وہ اس کا آخر ہے، جو عین الف ہے۔ لہٰذا اس وجہ کے  بغیر ممکن نہ تھا کہ 'ب' کے  ساتھ الف کا اتّحاد ہو جاتا۔ پس الف حقیقت میں  الف ہی کے  ساتھ متّحد ہوا، کیونکہ اتّحاد غیریّت کے  زائل ہو جانے  کو کہتے  ہیں۔ اور اسی طرح تمام حروف اپنے  آخر کی طرف سے  الف کے  ساتھ متّحد ہوتے  ہیں  کیونکہ الف اسی طرف موجود ہوتا ہے۔ کیا تم نہیں  دیکھتے  کہ کوئی بھی حرف کتابت میں  الف کے  ساتھ جڑ نہیں  سکتا اِلّا یہ کہ حرف پہلے  آئے او ر الف بعد میں۔ اس کے  برعکس کبھی نہیں  ہوتا۔ کیونکہ اس حرف کی ھجاء  میں  حرف کی مادّیت الف کی غیر مادّیت سے  پہلے  آتی ہے او ر پھر الف کا مادّہ پڑھا جاتا ہے۔ یا تو فی نفسہِ جیسے  کہ باء کی ہجے  ہے، اور یا اس کے  غیر میں  (جیسے  کہ جیم، سین اور نون وغیرہ کی ھجّے  ہے۔ ) جس قدر کہ وہ حرف الف کی ہیئت، اس کی طبیعت اور اس کی رفعت سے  دور یا نزدیک ہوتا ہے۔ اور اسی طرح سارے  حروف ہیں  کہ ان سب میں  الف موجود ہے او ر وہ کسی حرف سے  کسی خاص وجہ سے  ملحق ہوتا ہے  (جڑتا ہے ) اور کسی کسی حرف سے  کسی دوسری وجہ سے  نہیں جڑتا جیسے  کہ د، ذ، ر،ز، و۔ یہی پانچ حروف ہیں  جن کے  ساتھ الف نہیں  جڑتا (کتابت میں )۔ لیکن غور سے  دیکھو کہ کس طرح الف اپنے  پورے  کمال کے  ساتھ ان حروف کی لکھی ہوئی صورت میں  موجود ہے۔ اسی طرح جمادات اور چوپائے  ہیں  کہ جب قیامت کے  دن اپنے  پروردگار کی طرف اٹھائے  جائیں  گے  تو فنائے محض سے  ہمکنار کر دئے  جائیں  گے۔ کوئی نہیں  بچے  گا سوائے  اس کے  جس کی ہویّت کی ان (جمادات و حیوانات) میں  کوئی نظر نہیں۔ بخلاف انسان کے  کہ جب وہ اللہ سبحانہ کی طرف لوٹے  گا تو فناء  کے  بعد صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ہویّت ہی اس میں  باقی رہ جائے  گی۔ کیونکہ وجود کے  اِس مرتبے  کو جسے  انسان کہا جاتا ہے، ہویّت کی وہ نظر حاصل ہو گی جس سے  جہل کی نفی ہو جائے  گی اور لذّت و تکریم اپنے  کمال کے  ساتھ حاصل ہو گی۔ اور اللہ کے  سوا سب کچھ عدم سے  ہمکنار ہو گا۔ جمادات کا معاملہ اس کے  برعکس ہے  کیونکہ اللہ ان کو فناء کر کے  ان کے  اجساد اور نفوس کو عدم سے  ہمکنار کر دے  گا۔ کیونکہ دنیا میں  ان کو وجودِ تام حاصل نہیں  تھا۔ بلکہ وہ (حق) ان میں  ظاہر تھا اور اس نے  ان کو ملکیتِ وجود نہیں  بخشی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے  الف اْن پانچ حروف (د، ذ، ر،ز،و) میں  بنفسہِ ظاہر ہے  لیکن ان حروف کے  ساتھ جڑتا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے  جس کی وجہ سے  جمادات کو دعویِٰ وجود نہیں۔ کیونکہ حرف کی تکمیل الف کے  ساتھ جڑے  بغیر نہیں  ہوتی اگرچہ ہجّے  میں  وہ موجود ہو۔ کیونکہ ہجّے  میں  الف کا موجود ہونا ہی حرف کی عینِ حیات ہے (الف حروف کے  اجساد میں  حیات کی طرح جاری و ساری ہے )۔ لیکن خط میں  یہ پانچ حروف الف کے  ساتھ نہیں  جڑتے  اس لئے  دعویِٰ وجود سے  بری ہیں۔ اور ان پانچ حروف کے  سوا ء جو بھی حروف ہیں  وہ ملکیتِ وجود رکھتے  ہیں۔ جیسے  کہ انسان کہ اللہ سبحانہ نے  اسے  وجود بخشا جس سے  وہ اپنی ذات کو دوسروں  کی ذات سے  ممتاز جانتا ہے او ر جانتا ہے  کہ اس کا ایک وجود ہے، ایک ذات ہے  جو دوسروں  کی ذات و وجود سے  ہٹ کر ہے۔ بخلاف حیوان کے  کہ اس میں  اگر روح ہو بھی تو عقل نہیں۔ اور اگر عقل ہو بھی تو حافظہ نہیں  جس سے  کہ وہ اپنے  خیال اور تصوّر میں  آنے  والی چیز کو محفوظ رکھ سکے۔ کیونکہ حیوان کی عقل کی غایت یہی ہے  کہ وہ اس چیز کے  در پئے  ہوتا ہے  جس کو اس کا نفس اپنی طبعی عادات و شہوات کے  زیرِ اثر طلب کرتا ہے۔ اور یہ سب آناّ فاناّ ہوتا ہے  بغیر کسی حافظے  کے  کیونکہ اگر اس کو حافظہ حاصل ہوتا تو وہ موازنہ کر کے  بعض اشیاء  کے  مقابلے  میں  بعض پر حسن و خوبی یا اعلیٰ و ادنیٰ کا حکم لگا یا کرتا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا وجود بھی وجودِ تام ہوتا۔ اور یہ بات صرف انسان اور فرشتے  کو حاصل ہے۔ اور یہی وجہ ہے  کہ حق تعالیٰ نے  سوائے  انسان کے  کسی اور شئے  میں  اپنی ذات کی تجّلی نہیں  کی۔ کیونکہ انسان میں  عقل اور شہوت دونوں  جمع ہیں۔ اور فرشتے  کے لئے  حق نے  فرشتے  کی ذات میں  تجلّی کی نہ کہ اپنی ذات میں، کیونکہ اس کے  پاس صرف عقل ہے  شہوت نہیں  جس کے  سبب وہ اس کمال سے  محروم رہ گیا جس میں  تشبیہ اور تنزیہہ دونوں  اکٹھے  ہوتے  ہیں۔ اور حیوان کو ان دونوں  میں  سے  کچھ بھی حاصل نہیں او ر اسے  انسان کی طرح ملکیتِ وجود حاصل نہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے  جہاں  انسان کو دعویِٰ وجود ہے او ر یہی حجابِ اعظم ہے  جو موتِ اکبر کے  بعد ہی اٹھتا ہے۔ اور موتِ اکبر تیرے  وجود کے  بارے  میں  تیرا علم زائل ہو جانا ہے  جو حقائقِ توحید کے  تحقق کے  بعد ہوتا ہے۔ اور لازم ہے  کہ اس کے  بعد تمہیں  وہ نظر ملے  جس سے  اللہ تعالیٰ نے  انسان پر تجلّی کی اور اس کی نشاۃ اور صورتِ ظاہرہ کو بقا حاصل ہوئی۔ اور یہ نظر اْس پہلی والی نظر سے  علیحدہ ہے۔ پس اس کو سمجھو۔ اللہ ہمیں  اس سارے  معاملے  کی تحقیق نصیب کرے  بے  شک وہ ہر شئے  پر قادر ہے۔ 
الف نقطے  کی قیود سے  آزاد ہوا اور اس کے  بعد آنے  والی دوسری قیود(جیسے  حروف کا ایک دوسرے  کے  ساتھ تعلّق ہونا) سے  بھی مخلصی حاصل کی۔ پس اپنی عینِ ذات کے  لحاظ سے  اس کی کسی حرف کے  ساتھ وابستگی نہیں  ہے۔ اور لکھنے  میں  بھی الف کسی حرف کے  ساتھ کوئی بندھن نہیں  رکھتا۔ اسی وجہ سے  وہ نقطے  کی مانند تمام حروف میں  سرایت کئے  ہوئے  ہے۔ پس الف اللہ کے  اسماء  میں  سے  تمام اسماءِ معرفہ(Proper noun) کے  شروع میں  ثبت ہو(یعنی تمام اسماء الحسنیٰ کو لکھنے  سے  پہلے  ان کے  شروع میں  ال لگایا جاتا ہے )۔ اور وہ حق کا مظہر اور حق سے  متحقّق ہے۔ بلکہ حق الف ہی ہے۔ پس نقطہ اس کے  لئے  ایک میزان ہوا جس سے  اس نے  اپنے  آپ کو تولا۔ اور ان سب میں  مندرج ہو گیا جن میں  نقطہ مندرج ہے۔ گویا نقطہ اس کے  لئے  حکم ہے او ر وہ اس کا محکوم۔ بلکہ حقیقت میں  دوئی کی نفی کا سبب وہ نقطہ ہی ہے۔ وہ جسے  الف کہا جاتا ہے  نقطے  کے  بغیر کوئی وجود نہیں  رکھتا۔ کیونکہ وہ نقطے  کا پھیلاؤ ہے او ر وہ حرف ہے  جس کو نقطے  نے  اپنی صورت پر ظاہر کیا۔ جیسے  کہ پہلے  بیان ہو چکا ہے  کہ ہر حرف نقطے  کا پھیلاؤ ہے او ر تمام کلمات و حروف کی ترکیب نقطے  سے  ہی ہے۔ وہ ان میں  متعدّد اجساد لیکن روحِ واحد کے  ساتھ روشن ہوا ہے۔ اسی طرح الف مرکب ہے  کئی نقطوں  سے  جو ایک دوسرے  کے  ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ اور نقطہ ایک کلّی(ادھر بمعنی Atom) ہے  جو ناقابلِ تقسیم ہے او ر نہ ہی یہ متعدّد ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ نقطہ اپنی تمام جزئیات میں  پایا جاتا ہے  لیکن فی نفسہِ متعدّد نہیں  ہے۔ جیسے  کہ حق تعالی نوافل کے  ذریعے  تقّرب حاصل کرنے  والے  بندے  کی سماعت، بصارت، زبان اور ہاتھ ہو جاتا ہے، لیکن وہ پاک ذات بندے  کی سماعت ہوتے  ہوئے  بصارت بھی ہو جانے  سے  متعدّد نہیں  ہوتی۔ اور ایسے  ہی وہ اجناسِ عالم کی تمام اشیاء  میں  اپنے  کمال کے  ساتھ موجود ہے  لیکن اشیاء  کے  تعدّد کے  ساتھ وہ خود متعدّد نہیں  ہوتا۔ پس الف تمام حروف میں  ہونے  کے  باوجود الگ تھلگ اکیلا اور واحد ہے۔ اور یہیں  سے  کہنے  والے  نے  کہا ہے  کہ الف جملہ حروف میں  شامل نہیں  ہے۔ یہ اس لئیے  کہا کہ اس کا دعوی تھا کہ 'الانسان الکامل'اپنے  غیر یعنی مخلوقات کے  ضمن میں  نہیں  آتا۔ پس اس کو سمجھو۔ 
اب کچھ اقتباس اپنی کاوش اساطیر ہندی سے  کرنا چاہتا ہوں  تاکہ موقع کی مناسبت سے  بات کو مزید واضح کیا جا سکے 
واضح ہو کہ تمام مرتبے  الف سے  ہی ہیں او ر سب حروف الف کے  محتاج ہیں او ر یہ خود اور حروف سے  غنی ہے او ر جو حرف الف کے  ظاہرو باطن کو پا گیا وہ درجہ صدیقین اور مقربین تک پہنچ گیا۔ 
حرف الف کے  ۳ ظواہر ہیں  عرش و لوح و قلم اور الف مرکب ہے  ۳ نقطوں  سے او ر بواطن اس کے  ۵ ہیں  باطن اول اس کے  ۳ ہیں  عقل و روح و نفس اور باطن ثانی اس کا ۱۱۰ہے  (یعنی لف کا)جو کہ عدد اسم اعظم ہے  کیونکہ علی کے  اعداد بھی ۱۱۰ ہیں  پس جب ۱۱۰ سے  ۱۱ منہا کیئے  تو ۹۹ باقی بچے  کہ جو ۹۹ اسماء الحسنیٰ کی تعداد کے  برابر ہیں او ر باطن ثالث اس ۷۱ ہے  جو کہ لام جو کہ لام کے  عدد مفصل یا لام کا جمل کبیر ہے او ر لام ہی قلب الف ہے  کیونکہ لام الف کے  درمیان میں  آتا ہے  یہ عدد بھی مادہ اسم اعظم کا ہے او ر باطن رابع اس کا ۹۲ ہے  کہ یہ فیض لام ہے  یعنی میم کہ عدد اس کے  ۹۰ ہیں او ر ۲ عددالف و لام میں  ہیں او ر یہ عدد ظاہر اسم اعظم ہے او ر باطن خامس اس کا ۹ ہے  کہ مفردات الف کو فی نفسہٖ ضرب کرنے  سے  ۹ ہوتے  ہیں  یعنی الف کے  ۳ حروف ہیں  ۳ کو ۳ میں  ضرب دیا تو ۹ حاصل ہوئے او ر اگر الف کو بسط حرفی کریں  تو بھی ۹ حرف ہوتے  ہیں  اس طرح (ا ل ف ل ا م م ی م)اور مفردات عرش و لوح و قلم بھی ۹ ہیں  اس طرح ع ر ش ل و ح ق ل م اور مفردات عقل و روح و نفس بھی ۹ ہیں  اس طرح ع ق ل ر و ح ن ف س۔ 
پس نفس روح سے  استمداد کرتا ہے او ر روح عقل سے  مدد طلب کرتی ہے او ر جمیع انوارعلویہ حرز عرش سے   استمداد کرتے  ہیں  جس طرح کہ نورِ الف سے  تمام حروف استمداد کرتے  ہیں اور ہر ایک حرف قائم ہے  سر الف سے  اور الف سر کلمہ ہے  جو متعلق ہے  ساتھ عقل کے او ر قائم ہے  ساتھ سر عقل کے او ر عقل قائم ہے  ساتھ اس کے او ر تمام حروف سر الف میں  ہیں  لیکن درمیان اُن سب کے  فرق ہے  مراتب میں، پس الف عقل ہے  اور الف ہی روح مبسوط ہے 
۔ فَمَنْ عَرَفَ ظاہر وَبَاطِنَہٗ اَدْرَک خَفِیَّ الْاَسْرَارِ وَمَکنُوْنَ الْاَنْوَارِ وَھٰذَالْعِلْم الشَّرِیْف لَوْکشِفَ لِلنَّاسِ مِنْہٗ سِرُّٗ مَابَیْنَ الْاَلْفِ وَاللَّامِ وَالْمِیْمِ الَّتِیْ ھِیَ جَوَامِع الْاَمْرِ الْحَکیْمِ لَاَضْطَرَبَ کلّ سَلِیْمٍ وَجَھَلَ کلّ عَلِیْمٍ۔ اور بعض کہتے  ہیں  کہ اَلْاَلِف سِرُّالْاَحَدِیَّۃِ وَالْبَاء بَھَاء الْاَلِفِ وَالتَّاء تَابِع الْاَلِفِ وَالثَّاء ثَنَاء الْاَلِفِ وَالْجِیْم جَمَال الْاَلِفِ وَالْحَاء حَیَات الْاَلِفِ وَالْخَاء خُلْق الْاَلِفِ وَالدَّال دَوَام الْاَلِفِ وَالذَّال ذَات الْاَلِفِ وَالرَّائ رَفَع الْاَلِفِ وَالزاء زَیْن الْاَلِفِ وَالسِّیْنِ سِرُّالْاَلْفِ وَالشِّیْن شَرَف الْاَلِفِ وَالصَّاد صَفَاء الْاَلِفِ وَالضَّاد ضِیَاء الْاَلِفِ وَالطَّاء طِیْب الْاَلِفِ وَالظَّاء ظاہر الْاَلِفِ وَالْعَیْن عِلْم الْاَلِفِ وَالْغَیْن غَیْب الْاَلِفِ وَالْفَاء فَھْم الْاَلِفِ وَالْقَاف قُوَّۃ الْاَلِفِ وَالْکاف کمَال الْاَلِفِ وَاللَّامِ لُطْف الْاَلِفِ وَالْمِیْمِ مُلْک الْاَلِفِ وَالنُّون نَفْس الْاَلِفِ والْوِاو وَصْل الْاَلِفِ وَالْھَاء ھِدَایۃ الْاَلِفِ وَالْیَاء یَقِیْن الْاَلِفِ۔ 
جان کہ ہر حرف کا راز الف میں او ر تمام لکھت پڑھت یعنی کتابت کا راز ۲۸ حروف ابجد میں  ہے او ر حرف کی الگ الگ خاصیت ہے او ر جان کہ حروف کا راز یا روحانیت اعداد میں  ہے او ر جو حرف طاق (فرد) ہے  وہ جلالی خاصیت رکھتا ہے او ر جفت (زوج)ہے  وہ جمالی خاصیت رکھتا ہے۔ 
جان کہ زُبُر یعنی لفظ الف کا پہلا حرف یعنی (ا)چابی ہے  رازوں  کی اور بینات یعنی حرف الف کے  آخری دو حرف یعنی (لف)جن کی عددی قیمت ۱۱۰ہے  جو کہ اسم علی کے  قائم مقام ہے  او ر نصف اس کا ۵۵ ہے  جو کہ اسم مجیب کے  قائم مقام ہے او ر عشر اس کا گیارہ ہے  جو کہ اسم ھو کے  قائم مقام ہے او ر ان تمام کا مجموعہ یعنی110+55+11=176ہے  جو کہ قائم مقام ہے  اَللّٰہ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۔ (واضح ہو کہ کل عددی قیمت 175بنتی ہے  لیکن ہم اس میں  الٰہ پر کھڑا زبر کے  بھی ایک عدد شمار کریں  گے۔ مؤلف: عظیم اللہ قریشی)اور نصف اس۸۸ بنتا ہے  جو کہ اسم حلیم کا قائم مقام ہے  اسم حلیم کا نصف ۴۴ اور ۴۴ کا نصف ۲۲ اور ۲۲ کا نصف گیارہ ہے او ر ان سب کا مجموعہ ۱۶۵ ہے  جو کہ لا الہ الا اللہ ہے  اس کے  علاوہ زبر و بینات الف کے  ایک سو گیارہ ہیں  اوراسم کافی کے  بھی اعداد اتنے  ہی ہیں او ر جواہر خمسہ میں  مرقوم ہے  کہ ہر حرف بذاتہٖ مرکز ہے او ر مدار ظہور اس کا اُسی سے  ہے او ر مرکز کل حروف کا الف ہے او ر الف قطب حروف ہے او ر قطب اسمائے  الٰہی ہے  کیونکہ اعداد الف اور اعداد قطب ایک ہی ہیں  یعنی ۱۱۱پس جس کسی پر حرف الف کے  اسرار کھلتے  ہیں  وہ قطب عالم ہو جاتا ہے۔ 


فصل

الف کا عدد ایک ہے او ر واحد ایک ایسا عدد ہے  جو جملہ اعداد میں  سے  نہیں۔ کیونکہ عدد اس کو کہتے  ہیں  جس میں  واحد کی تکرار ہوتی ہے، خواہ دو مرتبہ ہو یا زیادہ۔ چنانچہ کوئی بھی عدد گنی جانے  والی چیز کو مقدار کے  لحاظ سے  مرتبۂِ غیریّت کے  اندر موسوم کرنے  کے  کام آتا ہے۔ اور واحد کو فی نفسہِ غیریّت حاصل نہیں  ہے  یعنی اس میں  اس جیسا کوئی اور نہیں، پس اس زاویے  سے  دیکھا جائے  تو واحد عدد کی حد Definition میں  نہیں  آتا۔ لیکن اگر اس لحاظ سے  سوچیں  کہ گو فی نفسہِ اس میں کوئی اور غیر نہیں  لیکن گننے  میں  تو آتا ہے  اس لحاظ سے  یہ عدد ہوا لیکن دوسرے  اعداد کی طرح نہیں۔ جیسے  کے  کچھ عقلاء نے  کہا ہے  کہ۔ ’’اللہ ایک شئے  ہے  لیکن دوسری اشیاء  کی طرح نہیں ‘‘۔ 
اور عددِ واحد میں  الف کے  ظاہر ہونے  کا راز یہی ہے  کہ وہ نقطے  سے  صرف ایک دوری پر واقع ہے۔ کیونکہ نقطے  کی نہ تو کوئی لمبائی ہوتی ہے، نہ چوڑائی اور نہ ہی گہرائی یا اونچائی۔ پس الف کے لئے  صرف ایک لمبائی ہے  جس کی وجہ سے  وہ خطِ مستقیم ہے۔ اور ' 'ب' کے  عدد دو ہیں  کیونکہ وہ نقطے  سے  دو دوریوں  پر واقع ہے، لمبائی اور چوڑائی۔ اس کا سرا چوڑائی ہے او ر باقی جسد لمبائی۔ اور 'ج' تین کے  عدد میں  ظاہر ہوا کیونکہ اس میں  لمبائی، چوڑائی اور گہرائی تینوں  واقع ہیں۔ (گہرائی کہو یا اونچائی کیونکہ یہ دونوں  مساوی ہیں  صرف نسبت کے  لحاظ سے  بدل جاتے  ہیں  اگر نیچے  سے  اوپر آئیں  تو سمک یعنی اونچائی اور اگر اوپر سے  نیچے  جائیں  تو عمق یعنی گہرائی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس علّت سے  یہ عددیّت میں  مختلف نہیں  ہو جاتے )۔ اور یہ ایک عمدہ راز ہے  جس کی تعبیر بیان کرنے  والا میں  اوّلین شخص ہوں۔ اور ہو سکتا ہے  کہ اس راز کی ہم مزید شرح و بسط کر سکیں او ر اگر اللہ تعالی نے  چاہا تو لسانِ حقیقت میں  باقی تمام حروف و اعداد کے  اسرار بیان کرنے  کے  قابل ہو سکیں او ر یہ کہ کسی بھی حرف میں  ایسی کونسی مخصوص وجہ تھی جس سے  وہ کسی خاص عدد سے  منسوب ہوا اور اس عدد میں  بھی فی نفسہِ کیا راز ہے۔ 
 'ب' عرش ہے، اور نفسِ ناطقہ بھی یہی ہے  جسے  بعض اعتبارات سے  ایسا قلب بھی کہا گیا ہے  جس میں  اللہ سما جاتا ہے۔ اور نقطہ غیبِ ہویّت ہے  جسے  کنزِ مخفی (پوشیدہ خزانہ) کہا گیا ہے، جس کی پوشیدگی اور کنزیت کبھی ختم نہیں  ہوتی۔ پس 'ب' اعداد کے لئے  گویا ایک مستویPlane ہے  کیونکہ یہ پہلا عدد ہے او ر کوئی ایسا عدد نہیں  جس جس میں  'ب' موجود نہ ہو۔ اسی طرح رحمانیت ایک مستوی Plane ہے  ان سات اسماء  کا جو خاص ذاتی اسماء  ہیں۔ اور تمام اسماء  اسمِ رحمٰن کے  تحت میں  آتے  ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے  فرمایا کہ " قل ادعوا اللہ او ادعوا الرحمٰن۔ ایّاماّ تدعوا فلہ اسماء الحسنیٰ "۔ کہو کہ تم اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو پکارو، جس کو بھی پکارو اس کے  اسماءِ حسنیٰ ہیں۔ پس تمام اسماء حسنیٰ سے  موسوم ہونے  میں  اسم رحمٰن ہی اسم اللہ سے  اشتراک رکھتا ہے، اور اس کے  علاوہ باقی ان تمام باتوں  میں  اسم اللہ سے  جدا ہے  جن باتوں  پر ہمارے  نزدیک اسمیّت واقع نہیں  ہوتی۔ جیسا کہ عالم بالذّات صلی اللہ علیہ وسلّم نے  فرمایا کہ 'اے  اللہ میں  تجھ سے  ان تمام اسماء  کے  ذریعے  سوال کرتا ہوں  جنہیں  تْو نے  اپنے  غیب میں  فقط اپنے  لئیے  مخصوص فرمایا اور جن پر تیرے  سوا کوئی مطّلع نہیں  ہے '۔ 

فصل

'ب' کی دوئی کے  معنی ہیں  حق کا اپنی ذات کے لئے  خلق کے  مرتبۂ ذات میں  ظہور کرنا۔ اور یہ دوسری نظر ہے۔ کیونکہ حق سبحانہ و تعالیٰ کے لئے  دو مشہد(Planes  of View) ہیں۔ ایک مشہد احدی ذاتی ہے  جس میں  اللہ خلق نامی کسی بھی شئے  کو نہیں  دیکھتا، پس اس مشہد میں  خلق کے لئے  کوئی وجود نہیں  ہے۔ اور دوسرا مشہد ذاتی ہے  جس میں  اللہ اپنی ذات کے  اْس مرتبے  کو دیکھتا ہے  جس کا نام خلق ہے۔ اور یہ اس کی ترتیبِ ذات یعنی ذات کے  مراتب قرار دینے  کے  لحاظ سے  ہے او ر اس ترتیب کو 'صفات' کہتے  ہیں۔ پس  'ب' یہی دوسرا مشہد ہے  جس میں  اس کے۔۔۔۔ جسے  رحمان کہا گیا ہے۔۔۔ آثارو احکام ظاہر ہوتے  ہیں۔ اور یہی 'رحمٰن' ہے  جس سے  مراد بارگاہِ اسماءِ خلقیہ کی مستوی(Plane) ہے  یعنی اسی میں  تمام اسماءِ خلقیہ آ جاتے  ہیں۔ اور پھر اسی مقام سے  ہی یہ کہا گیا ہے  کہ آدم کو صورتِ رحمٰن پر پیدا کیا 
گیا۔ چنانچہ صوفیہ کی اصطلاح میں  انسان کو عالمِ صغیرMicrocasm اور عالم کو انسانِ کبیر Macrocasm کہا گیا ہے۔ 
اور جان لو کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں  اصل باسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے  جس کے  بعد لازم ہوتا ہے  کہ کوئی فعل آئے  جو 'ب' سے  وابستہ ہو جیسے  کہ 'شروع کرتا ہوں ' یا 'مدد لیتا ہوں ' یا برکت طلب کرتا ہوں '۔ یا تو یہ فعل صراحتاّ بیان میں  آتا ہے  یا کلام میں  تقدیری طور پر پایا جاتا ہے  جو بسم اللہ پڑھنے والے  کے  مقصد کو واضح کرتا ہے۔ جیسے  بسم اللہ پڑھ کر کچھ پینا یہ دلالت کرتا ہے  کہ بسم اللہ پڑھنے  والے  نے  اس کے  بعد کچھ پینے  یا پینے  میں  مدد چاہنے  کے لئے  پڑھا کہ (اللہ کے  نام سے  جو رحمان اور رحیم ہے )۔۔ پس اگر کہنے  والا کہے  کہ بسم اللہ سے  فلاں  کام کرتا ہوں  تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے  کہ اللہ سے  (باللہ) یا اللہ کی مدد سے  فلاں  کام کرتا ہوں۔ کیونکہ اسم مسمّیٰ کا غیر نہیں  ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرما چکے  ہیں  کہ "سبّح اسم ربّک" اپنے  رب کے  نام کی تسبیح کرو۔ اور ہمارے  اس قول کہ'میں  اللہ سے  (باللہ) یہ کام کرتا ہوں ' کا مطلب یہ ہے  کہ وہ سبحانہ تعالیٰ عین فاعل ہے  اس فعل کا جو تجھ میں  تیرے  ہی ذریعے  انجام دیا گیا۔ یعنی گویا تم یہ کہتے  ہو کہ" میری ذاتِ ظاہری جس کا باطن وہ ہے  جسے  الہٰ کہا جاتا ہے او ر میری ذاتِ باطنی جس کا ظاہر وہ ہے  جسے  الہٰ کا غیر کہتے  ہیں، ان دونوں  میں  لپٹی ہوئی پوشیدہ الوہیت سے  میں  یہ کام کرتا ہوں "۔ اور اس سے  یہ مستفاد ہوتا ہے  کہ تمہاری خلق سے  فعل کی نفی ہوتی ہے او ر تمہارے  حق کے لئے  اس کا اثبات ہوتا ہے، اگر یہ فعلی مشہد ہو۔ 
اور اگر اسمائے مشہد ہو تو یہ تمہاری ذات کے  'مخلوق' نامی مرتبے  کا، تمہاری ہی عین انیّت میں  غلبہ و عظمت کے  حامل 'خالق' نامی مرتبے  کے  تحت مضمحل ہو جانے  کا اظہار ہے۔ اور اگر مشہد ذاتی ہو تو یہ واحدیّت کی کثرت میں  تمہارے  وجود کی احدیّت کا ظاہر ہونا ہے۔ پس اسے  سمجھو۔ 
اور تمہارے  لئیے  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہتے  وقت کم از کم اس مفہوم کا (جو اوپر بیان کیا گیا) تعقّل کر لینا ضروری ہے  تاکہ تم حیوانات کے  زمرے  سے  خارج قرار دئیے  جا سکو، کیونکہ کسی مفہوم و معنی کو جانے  بغیر منہ سے  الفاظ نکالنا درجۂ حیوانیت میں  شامل ہے۔ نعوذ باللہ من ذٰلک۔ 
الف کے  سقوط کے  بعد  'ب' کو دراز کیا گیا اور الف کے  مقام پر رکھا گیا تاکہ معلوم ہو جائے  کہ وہ ہر حرف میں  الف کی نائب اور قائم مقام ہے۔ جیسا کہ پہلے  بیان کیا گیا ہے  کہ 'الرحمٰن' تمام اوصاف اور اسماء  الحسنیٰ کے  ساتھ موسوم ہونے  میں  اسم 'اللہ کا نائب اور قائم مقام ہے۔ پس 'اللہ' کی معرفت کے لئے  مخلوق کی عقل کی رسائی 'الرحمٰن' کی بارگاہ کی حد تک ہے او ر اس سے  آگے  مخلوق کے لئے  کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ اس سے  آگے  احدیتِ محض ہے۔ اور اس کی یہ احدیت وہ چہرہ ہے  جو کسی شئے  سے  فنا نہیں  ہوتا۔ ارشادِ الٰہی ہے  کہ" کلّ شئی ھالک الّا وجہہ۔ لہ الحکم و الیہ ترجعون" یعنی ہر شئے  فنا ہونے  والی ہے  سوائے  'اس' کی ذات۔ اور اْسی کے لئے  حکم ہے او ر اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔ پس تمام کونیات (جو کچھ وجود میں  آیا) اور تمام رحمانیت کی بارگا ہوں  میں  اْسی احدیت کے لئے  حکم ہے او ر وہی ہر شئے  کی ذات (وجہ) ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے  کہ "فاینما تولّو فثمّ وجہْ اللہ"۔ یعنی تم جدھر بھی منہ پھیرو ادھر اللہ کا چہرہ ہے۔ اور اسی معنی میں  میں  نے  کہا ہے  کہ :
ما ثمّ غیر سعاد بالنقاء  اْحد۔۔۔ 		ھی الموارد حقاّ و ھی من یرد
احد کے  ٹیلے  پر بجز سعاد(محبوبہ کا نام) اور کوئی نہیں  ہے۔ منزل بھی وہی ہے  راستہ بھی وہی ہے او ر مسافر بھی وہی۔ 
ھی البقیع ھی الوعساء قاعتہْ		ھی المحصّب مِن خیف ھی البلد
یہی بقیع ہے (خود رو جھاڑیوں  والا قطعہ)، یہی نرم ریتلی زمین ہے  جس پر اس کے  گھر کی نچلی منزل ہے۔ یہی خیف(منیٰ کا نشیبی علاقہ) کی وادیِ محصّب ہے او ر یہی بلد(مکہ) ہے۔ 
ھی النبات ھی الاجساد جامعۃّ۔۔۔ 	ھی النفوس ھی الحیوان ھی الجمد
نباتات، جمادات، حیوانات، نفوس اور اجسام سب کچھ یہی ہے۔ 
ھی الجواھر ھی الاعراض قاطبۃّ		ھی النتاج، ھی الآباءھی الولد
جواہر و اعراض بھی یقیناً یہی ہے او ر آباء و اجداد، آل اولاد اور آثارو نتائج بھی یہی ہے۔ 
قل للّذین سرّوا عنّی لقصد قبا		انا قبا و فوادی ذٰلک السند۔۔۔ 
جن لوگوں  نے  قبا کی طرف جانے  کا ارادہ کیا ان کو میری جانب سے  کہہ دو کہ وہ اونچی زمین(قبا) میں  ہی ہوں او ر میرا ہی سر اس اونچائی پر ہے۔ 
استغفراللہ تنزیھاّ لمرتبتی			ما بین خلق و بین اللہ متّحد
میں  اللہ تعالیٰ سے  اپنے  مراتبِ خلق و حق کے  درمیان تنزیہہ کا پردہ حائل کرنے  کی التجا کرتا ہوں  کیونکہ خالق و مخلوق میں  کوئی اتحاد نہیں  ہے۔ 
نکتہ:  'ب' اور 'س'کا بسم اللہ میں  ایک دوسرے  کے  ساتھ جڑنے  میں  ایک عمدہ راز ہے او ر وہ یہ کہ 'س' کا اعداد کے  مراتب میں چھٹا مرتبہ ہے او ر وہ واحد کے  مراتب میں  سے  چھ مراتب پر حاوی ہے۔ اور یہ شش جہات (چھ سمتیں ) ہیں  جن میں  ' 'ب' ظاہر ہوئی ہے او ر یہی عرش کے  نام سے  موسوم ہے  جس میں  بالجملہ تمام مخلوقات شامل ہیں۔ اور ان چھ سمتوں  میں  جن میں  'ب' ظاہر ہوئی، ہر ایک میں  وجہ اللہ(اللہ کا چہرہ) اپنے  کمال کے  ساتھ موجود ہے۔ جیسی کہ 'س' کے  چھ مراتب میں  سے  ہر مرتبے  میں  واحد (ایک) اپنے  پورے  کمال کے  ساتھ موجود ہے۔ 
جان لو کہ 'س' اللہ کے  سِرّ (راز) سے  عبارت ہے، اور وہ راز انسان ہے۔ بعض مفسّرین نے  کہا کہ 'یاسین' میں  یا حرفِ ندا ہے او ر سین انسان ہے۔ اور یہ کلام اشارے  کے  باب سے  ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں  کہ "یا سین یعنی اے  انسان (اے  میری آنکھ کی پتلی)۔ والقرآن الحکیم" اور قرآن الحکیم عطف ہے  عینِ ذاتی (میری آنکھ کی پتلی)پر، جس کی طرف انسان مضاف کیا گیا ہے۔ پس انسان سّرِ ذات اور سّرِ قرآنِ حکیم ہے۔ 
اور جان لو کہ قرآنِ حکیم اللہ سبحان و تعالیٰ کی صفت ہے۔ قرآن کے  معانی سے  الوہیت کے  ان اوصاف کا ادراک و تعقّل ہوتا ہے  جو الٰہ کے  شایانِ شان ہیں۔ اور یہ ادراک و تعقّل گویا قرأت ہے۔ اور جہاں  تک ذاتِ حق کی بات ہے، تو اس کا ادراک و تعقّل نہیں  کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے  کہ احدیتِ منزّہ،اسماء کی کثرت سے  وراء الوراء ہے  اور یہ سناٹے  یعنی ھْو کا عالم ہے۔ پس جتنا تم قرآن سے  اللہ کی کسی صفت کے  متعلق پڑھو گے  جو تمہارے  نفس میں  ہے (یعنی وہی صفت)، تمہارے  لئے  اْس قرأت کے  بقدر اللہ کی صفات ظاہر ہونگی۔ اسی لئے  'یٰس۔  والقرآن الحکیم' میں  قرآن کے  ساتھ لفظ حکیم لایا گیا۔ تاکہ یہ قرأت حکمتِ الٰہیہ کے  لیے  لامتناہی مراتب کے  مطابق درجہ بدرجہ ابد تک واقع ہوتی رہے  جن کی کوئی انتہا نہیں  ہے۔ پس اللہ کے او ر اس کی حکمت کے  یہ مراتب عین وہ ذات ہے  جو 'تْو' ہے۔ اور تیرا غیب تیری ذات میں  سے  جو بھی پڑھتا ہے  وہ تیری شہادت کے  سوا کچھ نہیں۔ اور تیرے  غیب نے  تیری ذات میں  سے  جو کچھ نہیں پڑھا، وہ تیرے  غیب کے لئے  ہے  تیرے  عالمِ شہادت کے لئے  نہیں۔ اورعین تیرا رُخِ شہادت، عین تیرارُخِ غیب ہے۔ پس میں  حیران و سرگرداں  ہو گیا جس طرح اسم 'اللہ' اپنی ذات میں  متحیّر ہے  کیونکہ وہ (اسم) اس کی ذات کا کامل احاطہ نہ کر پایا۔ یعنی اس میں  ذات کے  تمام معانی اپنے  پورے  کمالات کے  ساتھ ظاہر نہ ہوئے  کیونکہ کئی معانی ذاتِ الٰہیہ میں  مستور ہیں  جن کا صرف اس کو علم ہے۔ لیکن اس کے  باوجود اس ذات پر اسم 'اللہ' کا اطلاق ہوا اور وہ ایک واحد ذات ہے۔ پس ہمارا یہ کہنا کہ "اسم اور مسّمٰی ایک ہی شئے  ہے "، ہمارے  اس قول کی نفی کرتا ہے  کہ ' اسم اللہ ذات کے  تمام معنی کا مکمل احاطہ نہیں  کرتا"۔ چونکہ ذاتِ حق کا اجزاء میں  منقسم ہونا محال ہے،لہٰذا جب اس پر اسم 'اللہ' کا اطلاق کیا گیا تو اسم نے  ذات کی پوری ترجمانی کی، لیکن اگر اس نے  ذات کی پوری ترجمانی اور مکمل حکایت نہیں  کی تو پھر اسم اور مسمّٰی ایک ہی شئے  نہ ہوئے۔ یہی بات ہے  جس کی وجہ سے  عقلاء  حیرتِ مذموم میں  غلطاں  ہوئے او ر اہل اللہ کو حیرتِ محمود نصیب ہوئی۔ 
 جب 'اللہ' یعنی اسم اپنی ذات میں  حیراں  و سرگرداں  ہے  تو اس مقام میں  بندے  کی حیرت کا کیا عالم ہو گا۔ بندے  کو تو بطریقِ اولٰی متحّیر ہونا چاہئیے۔ 
تحیّرتْ من حیرتی ممّ ھی				فقد حار فھمی فی وھمہِ
میری حیرت نے  مجھے  پریشان و سرگرداں  کر دیا کہ یہ کیا ہے۔ پس میری فہم اپنے  وہم میں  ہی متحیّر رہ گئی۔ 
فلم ادرِ ھذا تحّیر من۔۔ 				تجاھل فھمی ام علمہِ
پس میں  نہیں  سمجھ سکتا کہ یہ حیرت میری فہم کے  جاہل رہ جانے  سے  ہے  یا یہ اس کا علم ہے۔ 
فان قلتْ جھلاّ فانّی کذوب				و ان قلتْ علماّ فمن اھلہِ؟
پس اگر میں  کہوں  کہ یہ جہالت سے  ہے  تو میں  جھوٹوں  میں سے  ہوں او ر اگر کہوں  کہ یہ علم سے  ہے  تو اس معرفت کا اہل کون ہے ؟اور انہی معنوں  میں  میرا ایک قصیدہ ہے  جس کی یہاں  جگہ نہیں۔ اس میں  میں  نے  کہا کہ:
ا اْحطت خبراّ مجملاّ مفصلاّ			بجمیع ذاتک یا جمیع صفاتہِ
اے  اس کی تمام صفتو ! بھلا یہ تو بتاؤ کہ کیا میں نے  تمہاری ذات کی اجمالی اور تفصیلی خبر کا احاطہ کر لیا ؟
ام جلّ وجھک ان یحاط بکنھہ			فاحطتہْ ان لا یحاط بذاتہ۔۔۔ 
یا یہ کہ تیرے  چہرے  کا جلال برتر ہے  اس بات سے  کہ اس کا احاطہ کیا جاس کے۔ پس میں  نے  اس بات کو اچھی 
طرح جان لیا کہ اس ذات کا احاطہ نہیں  کیا جا سکتا۔ 
حاشاک من غائی و حاشا ان یکن			بک جاھلاً ویلاہ من حیراتہ
مبرّا ہے  تُو کسی بھی انتہا سے، اور ایسا ہرگز نہ ہو کہ کوئی تجھ سے  بالکل ناواقف رہ جائے او ر اس پر اس کی حیرتوں  
کی طرف سے  افسوس ہو۔ 
پس (یٰس۔ والقرآن الحکیم) کا مطلب یہ ہوا کہ" اے  اللہ کے  راز کہ جس کی قرأت نہیں  کی گئی اور اے  عینِ قرآن کہ جس کی اللہ کی جانب سے  ذاتِ احدیت کی ترتیبِ حکمت کے  تحت تلاوت کی گئی۔ (انّک من المرسلین) بیشک تُو اْس بلند اور مقدّس بارگاہ سے  اِس عالمِ خلق کے  تشبیہی، انسانی مرتبے  کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (علی صراط المستقیم) اور سیدھے  راستے  پر ہے  یعنی میری اْن سنّتوں پر ہے  جو احدی اور قیومی ہیں  یعنی جن کا قیام اپنی ذات اور جمیع عالم کے  ساتھ ہے۔ (تنزیل العزیز ) اور یہ معزّز تنزیل سوائے  ہیکلِ محمّدی کے او ر کہیں  نہیں  پائی جاتی۔ (الرّحیم) جب اس نے  عالم پر رحم کا ارادہ کیا کہ لوگ اس کی ذات کو پا جائیں،لیکن چونکہ وہ عزیز یعنی بلند مرتبہ ہے، لہٰذا اْس نے  ان لوگوں  کی جنس میں  تنزّل کیا۔ (لقد جاء کم من رسولٍ ) بیشک تمہاری طرف ایک رسول آیا جو تمہیں  میں  سے  ہے  تاکہ وہ تمہیں  اپنی راہ بتائے او ر اپنے  خزانۂِ جود سے  لطف و عنایت کرتے  ہوئے  تمہیں اپنی طرف کھینچے۔ (حریصّ علیکم عزیزْْ علیہ ما عنتّم) کیونکہ وہ تمہارے  لئے  بوجھ اٹھانے  والا ہے او ر تمہارے  ذریعے  تم میں  کارفرما ہے۔ پس وجود تمہارے  لئے  نہیں  بلکہ وجودِ مطلق تو اْس ذات کے لئے  ہے۔ (بالمؤمنین رؤف الرّحیم) اور رؤف و رحیم ہے  مومنین کے لئے  جو ایمان لائے  کہ وہ اْنکا عین ہے۔ (فاِن تولّوا) پس اگر ان کی عقلیں  اپنی کثرت میں  تیری احدیت کی دید کو قبول نہ کریں  (فقل حسبی اللہ) تو کہہ دو کہ مجھے  اللہ ہی کافی ہے  کیونکہ الوہیت جامع ہوتی ہے۔ (فاینما تولّوا فثمّ وجہ اللہ) اور وہ جدھر بھی منہ پھیریں  گے  ادھر اللہ ہی کا چہرہ ہے، پس گواہ رہ ان کے  لئے  کہ وہ اس کے  دائیں  سے  اس کے  بائیں  کی طرف بھاگ اٹھے  حالانکہ اس کے  دونوں  ہاتھ یمین(یعنی دائیں ) ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلّم تمام جہانوں  کے لئے  رحمت ہیں  خواہ مومن ہوں  یا کافر، ماننے  والے  ہوں  یا مخالف۔ 
ہماری زبان اثناءِ گفتگو میں  ان چھپے  ہوئے  امور کے  بیان کی جانب بڑھ گئی جن کا افشاء نہیں  کیا جاتا، لہٰذا ہم واپس اپنے  مقصد یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی شرح کی جانب لوٹتے  ہیں۔ 
اور جان لو کہ جب الف غیبِ احدیت سے  ہے او ر سین اس کا سّرِ شہادت، تو میم سے  مراد ہے  وجود، جو ایک ایسی حقیقت ہے  جو غیب اور شہادت دونوں  کی جامع ہے۔ کیا تم نے  میم کے  حلقے  کا جوف نہیں  دیکھا کہ کیسے  وہ سفید نقطے  کا محلّ بنا ہوا ہے۔ اور یہ بیان پہلے  گذر چکا ہے  کہ نقطہ کنزِ مخفی ہے۔ پس یوں  کہو کہ میم کے  حلقے  کا دائرہ دراصل حق ہے  کہ جس میں  چھپا ہوا خزانہ ظاہر ہوا ہے۔ کیا تم نے  اس حدیثِ قدسی پر غور نہیں  کیا کہ "میں ایک چْھپا ہوا خزانہ تھا، اور میں  نے  چاہا کہ مجھے  پہچانا جائے، پس میں  نے  خلق کو پیدا کیا اور انہیں  اپنی پہچان کرائی اور وہ میرے  ذریعے  مجھے  پہچانتے  ہیں "(کنْت کنْزاً مَخْفِیاً فَاحْبَتْ اَنْ اَعْرَف فَخَلَقْت الْخَلْقَ)۔ اور اسی مقام سے  اسم 'ذوالجلال' ہے  اللہ تعالیٰ کے  اس قول میں  کہ(تبارک اسم ربّک ذوالجلال والا کرام) کیونکہ اگر یہ وصف 'ربّک' کا ہوتا تو مجرور ہوتا، لیکن 'ذوالجلال' مجرور نہیں  بلکہ مرفوع آیا ہے  چنانچہ 'اسم' کے  تابع ہے  'ربّک' کے  نہیں۔ پس اس پر غور کرو۔ 
اور جان لو کہ 'م' روحِ محمّد ہے  صلی اللہ علیہ وسلّم۔ یہ اس لئیے  کہ وہ محلّ جس میں  چھپا ہوا خزانہ ظاہر ہوا، عالم ہے۔ اور حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ میں  آیا ہے  کہ سب سے  پہلے  اللہ تعالیٰ نے  روحِ محمّد کو خلق کیا پھر بالترتیب اْس سے  عالم کو پیدا کیا۔ پس میم کے  حلقۂِ سر میں  جو سفید نقطہ اور کنزِ مخفی ہے  وہ عینِ محمّد ہے  صلی اللہ علیہ وسلّم۔ اور آپ اس بیان کردہ وجہ سے  ذاتِ عظیم اور قرآنِ حکیم کی جامع حقیقت ہیں۔ اور اسی معنی میں  میں  نے  کہا ہے  کہ:
رسول اللہ یا مجلٰی الاْلوھہ			و یا من ذاتہْ ذاتْ النزیھہ۔۔۔ 
اے  اللہ کے  رسول اے  جلوہ گاہِ الوہیت، اور اے  وہ کہ جس کی ذات پاک اور منزّہ ہے۔ 
ظھرت بکلِّ مظھرِّ کلِّ حسن		تستر عن عیانٍ بالبدیھہ۔۔۔۔ 
آپ حسن کے  ہر مظہر میں  ظاہر ہوئے  اس کے  باوجود یہ حقیقت سب پر عیاں  ہے  کہ آپ کا حسن و جمال ہنوز پردے  میں  ہے۔ 
باوصافٍ ھی سبعْْ المثانی			و قرآنْْ ھی ذات النبیھہ۔۔۔ 
اوصاف کے  لحاظ سے  آپ سبعِ مثانی(کنایہ ہے  سورہ فاتحہ کی سات آیات یا سات صفاتِ امّہات سے ) ہیں او ر قرآن آپکی ذات کی خبر دے  رہا ہے۔ 
خْصصت و کنت انت بھا حقیقاّ		حقیقتک المقدمۃْ الشبیھہ۔۔۔ 
آپ ہی مخصوص کئے  گئے  اْس حقیقت سے  جو عالمِ شہادت سے  مقدّم ہے او ر بلاشبہ آپ ہی اس اعزاز کے  مستحق تھے۔ 
سکنت دیار ھند و ان تعالت۔۔ 		و جلّت و قد لبست ردا المویھہ
باوجود اس کے  کہ آپ کی ذات عالی قدر اور بلند مرتبہ ہے،آپ نے  دیارِ ہند(عالمِ تشبیہہ) میں  سکونت اختیار کی اور شفّاف بے  رنگ چادر اوڑھ لی۔ 
لانّک کنت قبل الکلّ حکماّ			فذاتک للذواتِ ھی الفقیھہ
یہ اس لئے  کہ آپکی ذات کو ہی محکم کیا گیا قبل ہر ایک کے، اور آپ ہی کی ذات سے  سب ذاتیں  واضح و عیاں  ہوئیں۔ میرا ان ابیات کو گنگنانا ایک سبب سے  تھا اور وہ یہ کہ ہم اصحابِ طریقت سن 799 ہجری میں  اپنے  شیخ اور استاد العالم قطبِ اکبر کبریتِ احمر سیّدی شرف الدّین اسماعیل بن ابراہیم الجبرتی کی مسجد میں  چند راتوں  کے لئے  سماعِ عام کے  موقع پر اکٹھے  ہوئے۔ صحنِ مسجد میں  شیخ کے  روبرو ہمارے  ایک معزّز بھائی فقیہہ احمد الحبایبی نے  قرآن کی اس آیت کو پڑھا(لقد آتئیناک سبعاّ من المثانی والقرآن العظیم) پس حق تعالیٰ نے  مجھے  وہیں  اپنے  نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کا اپنے  سات اوصاف(یعنی حیات، علم، ارادہ، قدرت، سمع، بصر اور کلام) سے  متّصف ہونے  کا مشاہدہ کروایا۔ میں  نے  آپ کو ان اوصاف سے  متصف ہونے  کے  بعد یوں  دیکھا کہ آپ ہویتِ غیبیات میں  ذاتِ غائب کا عین ہیں۔ اور قرآن عظیم کی اس آیت میں  آپ کی ذات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے  کیونکہ اس کی قرأت کی کوئی انتہا و غایت نہیں۔ پس وارثانِ اہلِ قرآن نے  اللہ تعالیٰ کی ذات سے  جس حقیقت کو پڑھا ہے  وہ عینِ محمّد ہے  صلی اللہ علیہ وسلّم۔ اسی طرف حدیث میں  اشارہ ہے  کہ 'اہلِ قرآن اہل اللہ ہیں جو اس کے  خاص بندے  ہیں '۔ پس غور کرو اس پر۔ کیونکہ وہ احدیت کی غیبِ ھویت ہیں۔ اور سب رسول، انبیاء او ر ان کے  کامل وارثین اللہ میں  محمّد کی غیبِ ہویت کی قرأت کرتے  ہیں  صلی اللہ علیہ وسلّم۔ اور اس معنی میں  آپ اللہ اور عالم کے  درمیان ایک واسطہ ہیں۔ اور آپکا یہ قول اسی طرف اشارہ کرتا ہے  کہ" انا من اللہ والمؤمنون منّی" یعنی میں  اللہ سے  ہوں او ر مومن مجھ سے  ہیں۔ پس اس کو اچھی طرح سمجھو۔ 
اور جان لو کہ میم کے  عدد چالیس ہیں۔ اور کسی بھی شئے  کے  اعتدال میں  کمال اسی عدد سے  ہوتا ہے۔ اور یہ رب سبحانہ و تعالیٰ کی میقات(مقرر کردہ معاعد) ہے۔ اور اس عدد کے  میقات ہونے  کے  معنی یہ ہیں  کہ یہ ان چالیس مراتبِ وجود کے  موافق ہیں  جن کے  بعد وہی مرتبہ آ جاتا ہے  جو سب سے  پہلا تھا۔ 
پہلا مرتبہ: ذاتِ ساذج ہے  یعنی ایسی ذات جو ہر نقش سے  عاری، ہر تعیّن سے  مبرّا اور ماورائے  شعور ہے۔ 
دوسرا مرتبہ: عْماء  ہے۔ یعنی گہرا بادل جس کے  اندر کیا ہے  کچھ پتہ نہیں۔ معرفت کی زبان میں  عْماء عبارت ہے  اللہ کی کنہہِ ذات سے۔ 
تیسرا مرتبہ: احدیت ہے او ر یہ عبارت ہے  اْس ذاتِ محض سے  جس میں  خزانے  مخفی ہیں۔ 
چوتھا مرتبہ: واحدیت ہے  جو کہ اسماء  و صفات میں  ذات کا پہلا تنزّل ہے۔ 
پانچواں  مرتبہ: الوہیت ہے  جو وجود کے  تمام اعلٰی و ادنٰی مراتب کو محیط ہے۔ 
چھٹا مرتبہ: رحمانیت ہے او ر یہ وجود کے  اعلٰی مراتب سے  متّصف ہے۔ 
ساتواں  مرتبہ: ربوبیت ہے او ر یہ وہ مرتبہ ہے  جو بندے  یعنی مربوب(جس کی پرورش کی جائے ) کا تقاضا کرتا ہے او ر اسی مرتبے  سے  خلق ظاہر ہوئی۔ 
آٹھواں  مرتبہ: عرش ہے  جسے  جسمِ کلّی بھی کہتے  ہیں۔ 
نواں  مرتبہ: قلمِ اعلِی ہے  جسے  عقلِ اوّل بھی کہا جاتا ہے۔ 
دسواں  مرتبہ: لوحِ محفوظ ہے  جو کہ نفسِ کلّی ہے۔ 
گیارھواں  مرتبہ: کرسی ہے  جسے  عقلِ کلّی بھی کہتے  ہیں او ر قلب بھی۔ 
بارھواں  مرتبہ:ہیولٰی۔ 
تیرھواں  مرتبہ: ھباء۔ 
چودھواں  مرتبہ: عناصر کا فلک۔ 
پندھرواں  مرتبہ: فلک اطلس۔ 
سولھواں  مرتبہ: فلک بروج۔ 
سترھواں  مرتبہ: فلک زحل۔ 
اٹھارواں  مرتبہ: فلک مشتری۔ 
انیسواں  مرتبہ: فلک مریخ۔ 
بیسواں  مرتبہ: فلک شمس۔ 
اکیسواں  مرتبہ: فلک عطارد۔ 
بائیسواں  مرتبہ: فلک زہرہ۔ 
تئیسواں  مرتبہ: فلک قمر۔ 
چوبیسواں  مرتبہ: فلک نار۔ 
پچیسواں  مرتبہ: فلک باد۔ 
چھبیسوں  مرتبہ: فلک آب۔ 
ستائیسواں  مرتبہ: فلک خاک۔ 
اٹھائیسواں  مرتبہ: فلک مولدات۔ 
انتیسواں  مرتبہ: فلک جوہر بسیط۔ 
تیسواں  مرتبہ: فلک عرضِ لازم۔ 
اکتیسواں  مرتبہ: مرکبات۔ 
بتیسواں  مرتبہ: جمادات۔ 
تینتیسواں  مرتبہ: نباتات۔ 
چونتیسواں  مرتبہ: حیوانات۔ 
پینتیسواں  مرتبہ: انسان۔ 
چھتیسواں  مرتبہ: عالمِ صور و اشکال جس سے  دنیا ملحق ہے۔ 
سینتیسواں  مرتبہ: عالمِ معانی جس سے  برزخ ملحق ہے۔ 
اڑتیسواں  مرتبہ: عالمِ حقائق جس سے  آخرت و قیامت ملحق ہے۔ 
انتالیسواں  مرتبہ: جنت و دوزخ۔ 
چالیسواں  مرتبہ: کثیبِ ابیض(سفید ریت کا ٹیلہ) جس کی طرف اہلِ جنت دیدارِ الہٰی کے لئے  لے جائے جائیں  گے۔ اور اللہ تعالیٰ جلوہ نما ہونگے۔ اس کے  بعد کچھ نہیں  سوائے  پہلے  مرتبے  کے  یعنی ذاتِ محض۔ 
پس یہ عدد اشیاء کی اصل ہے او ر اسی عدد کے  موافق عالمِ انسانی کی پہلی ہستی ہعنی آدم علیہ السلام کی مٹّی کو خمیر کیا گیا۔ اور یہ عدد مراتبِ اعداد میں  چوتھا مرتبہ رکھتا ہے۔ کیونکہ عالم بحیثیتِ مجموعی چار انواع میں  منقسم ہے  یعنی قدیم و حدیث اور لطیف و کثیف۔ ان چار کے  علاوہ اور مرتبے  نہیں  ہو سکتے۔ اور یہی چاروں  مراتب جمع ہو کر عین میمِ محمّد ہوئے۔ جس کے  بارے  میں  ہم نے  پہلے  کہا کہ وہ جمیعِ وجود ہے۔ اس عدد پر بہت کلام کیا گیا ہے  طبائع اور عناصر کے  لحاظ سے او ر بہت کچھ متفرق طور پر لکھا بھی گیا ہے۔ لیکن دل میں  اگر بصیرت ہو تو اشارہ ہی کافی ہے۔ کیونکہ کسی شئے  کا نام وہ علامت ہوتی ہے  جس سے  اس شئے  کو دوسری شئے  سے  ممتاز کیا جاتا ہے او ر علامت کا حامل شخص اس شخص سے  علیحدہ و ممتاز ہوتا ہے  جس میں  وہ علامت نہ ہو۔ 
اس کے  نام 'اللہ' کی اصل 'الالٰہ' ہے۔ لیکن پڑھنے  میں  آنے  سے  دوسرا الف ساقط ہو گیا اور لام کا ادغام ہونے  سے  یہ کلمہ'اللہ' بن گیا۔ لیکن اس کی اصل سات ہی حروف ہیں  جن میں  سے  چھ لکھنے  میں  آتے  ہیں او ر آخر میں  'ہ' کے  اشباع سے  واؤ ظاہر ہوئی ہے  جو لکھنے  میں  نہیں  آتی۔ اور جیسے  کہ تم ابھی دیکھو گے  کہ یہ سات حروف(ا ل ا ل ا ہ و) دراصل وہی سات اْمہات صفات ہیں (حیات، ارادہ، علم، قدرت، سمع، بصر، کلام) جو الوہیت کے  معنی ہیں :
1۔ پہلا الف عین اس کا اسمِ حیّ ہے۔ کیا تم تمام وجود میں  اللہ کی حیات کو سرائیت کئے  ہوئے  نہیں  دیکھتے ؟ اور ہم تمام حروف میں  الف کا سریان تم پر واضح کر چکے  ہیں۔ 
2۔ پہلا لام ارادہ ہے  جو حق تعالیٰ کی وہ توجّہ ہے  جس سے  عالم ظہور پذیر ہوا۔ جیسا کہ حدیث نے  اشارہ کیا کہ 'میں  ایک خزانہ تھا جس سے  کوئی واقف نہیں  تھا پس میں  نے  چاہا کہ مجھے  پہچانا جائے '۔ اور یہ چاہنا ارادے  کے  سوا اور کچھ نہیں۔ 
3۔ دوسرا الف قدرت ہے، جو تمام موجوداتِ کونیہ میں  جاری و ساری ہے۔ کیونکہ موجوداتِ کونیہ(کن کے  تحت وجود میں  آنے  والے ) قدرت ہی کی حکمرانی کے  تحت آتے  ہیں۔ 
4۔ دوسرا لام علم ہے  جو اللہ تعالیٰ کا جمال ہے  جو اس کی ذات اور اس کی مخلوقات کے  ساتھ تعلق پذیر ہے۔ پس 'ل' کا وہ حصہ جو سیدھا کھڑا ہے  اللہ کے  اْس علم کا محل ہے  جو اس کی اپنی ذات سے  تعلق رکھتا ہے۔ اور 'ل' کا وہ حصہ جو نیم دائرے  کی قوس ہے، اللہ کے  اپنی مخلوقات سے  متعلقہ علم کا مقام ہے۔ اور یہ پورا حرف فی نفسہ علمِ جامع ہے۔ 
5۔ دوسرا الف ہے  جو سننے  والے  کی سماعت ہے۔ کہا گیا کہ (و انّ من شئی الّا یسبّح بحمدہ) یعنی کوئی ایسی شئے  نہیں  جو اس کی حمد سے  تسبیح نہ پڑہتی ہو۔ 
6۔ 'ہ' ہے  یعنی اللہ کی بصر۔ 'ہ' کا دائرہ اس کے  غیبِ محیط کی پْتلی ہے  جس سے  وہ تمام عالم کی طرف نظر کرتا ہے۔ اور عالم 'ہ' کے  دائرے  میں  موجود سفیدی ہے۔ اور اِس میں  اس بات کی خبر ہے  کہ عالم کے لئے  وجود نہیں  ہے  سوائے  اللہ کی اْس نظر کے  جو اس کی جانب ہے۔ اگر وہ عالم سے  اپنی نظر ہٹا لے  تو تمام عالم فناءِ محض سے  ہمکنار ہو جائے۔ اسی طرح اگر 'ہ' کا دائرہ نقطے  کے  گرد نہ ہوتا تو اس کا وجود بھی نہ ہوتا۔ اور وہ اپنے  اس وجود کے  ساتھ اپنی حالتِ عدم پر برقرار ہے۔ کیونکہ یہ سفیدی 'ہ' کے  دائرہ بنانے  سے  پہلے  بھی موجود تھی اور دائرہ بنانے  کے  بعد بھی موجود ہے۔ اسی طرح عالم اللہ کے  ساتھ اْسی حالت پر ہے  جیسا کہ اللہ سبحانہ کے  خلق کرنے  سے  پہلے  تھا۔ پس اس کو سمجھو اور اس عجیب و غریب راز میں  غور و فکر کرو۔ اور میں  نے  تم سے  باہر کی جس بات کا ذکر کیا ہے  اس کا موازنہ اْس بات سے  کرو جو تمہاری ذات کے  اندر ہے۔ کیونکہ میرا مقصد اس سے  یہی ہے  کہ تمہیں  سعادت حاصل ہو اور تم اس بات کا وقوع اپنے  اندر دیکھ سکو۔ 
7۔ 'و' ہے  جس کا عدد چھٹے  مرتبے  میں ظاہر ہوا۔ اور یہ وہ معنی ہے  جو اللہ کے  کلام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیا تم نہیں  دیکھتے  کہ چھ سمتوں  کی انتہاء  و غایت عرشِ رحمانی ہے  جو تمام سمتوں  سے  منسوب ہے او ر یہ سب بارگاہِ کن سے  منسوب ہے۔ (اور کن یعنی 'ہو جا' اللہ کا کلام ہے )۔ پس جس طرح اللہ کے  کلام کی کوئی انتہا نہیں  اسی طرح ممکن کی بھی کوئی انتہا نہیں  جو مخلوقات ہیں او ر محیطِ عرش کے  تحت میں  آتی ہیں او ر کن سے  ممکن ہوئی ہیں۔ پس دیکھو کہ کس طرح واجب الوجود کا لا انتہاء ہونا بعینہ ممکن میں  ظاہر ہوا جس کے  لئے  وجود و عدم دونوں  جائز ہیں۔ 
پس یہ سات اسماء  اسمی طور پر بھی اور ذاتی طور پر بھی 'اللہ' ہی کے  معنی و صورت ہیں، اس کے  سوا کچھ نہیں۔ یہی 
ہیں  وہ۔ اور اس اسم کے  حوالے  سے  لوگوں  میں  اختلاف رونما ہوا ہے۔ کچھ کہتے  ہیں  کہ یہ مشتق ہے  ' الہ یالہ الھا 'سے  'عبد یعبد عبادۃ ' کے  اعتبار سے۔ انہوں  نے  مصدر کو اسم بنالیا معبود کے لئے او ر یہ کہا کہ لفظ الٰہ تھا اس میں  لام اور الف معرفہ کے لئے  زائد ہوا تو اللہ کہلایا۔ 
کچھ لوگ کہتے  ہیں  کہ الہ عشق کے  معنوں  میں  ہے۔ پس الٰہ عشق کا مصدر ہے۔ 
اور کچھ نے  کہا کہ یہ اسم جامد غیر مشتق ہے او ر اس کی اصل الہ نہیں  بلکہ یہ اپنے  حال پر ہے او ر واجب الوجود جس نے  اس عالم کی اختراع کی ہے  اس کے  لئیے  بمنزلہ عَلم (علامت، جھنڈا) ہے۔ اور وہ یہ پانچ حروف (ا ل ل ا ھ) ہی ہیں۔ اور یہی ہمارا بھی مذہب ہے۔ اور اس پر دلیل یہ ہے  کہ کیونکہ اللہ عالم سے  غنی ہے  اس لئے  حق تعالیٰ عالم کی تخلیق سے  پہلے  ہی اس اسم سے  موسوم تھا۔ بخلاف اپنے  اسم رحمٰن کے، کیونکہ اس کی (رحمٰن کی) نظر مرحوم (جس پر رحم کیا گیا) میں  رحمانیت کے  اثر کے  ظہور سے  تعلق پذیر رہتی ہے۔ اس اعتبار سے  لازمی طور پر حق تعالیٰ وجود کے  ظاہر میں  یا اپنے  علم کے  باطن میں  اس (مرحوم) کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اور اسی طرح باقی رحمانی اسماء  ہیں  یعنی رب، خالق، معطی، وہاب اور منتقم وغیرہ۔ اور روحانی اسماء  سے  میری مراد وہ اسماء ہیں  جو اپنے  اثر کے  ظہور کے لئے  مؤثر کو طلب کرتے  ہیں۔ جیسے  علم کے لئے  معلوم درکار ہوتا ہے۔ اور کلمہ کن (ہو جا) ہونے  والی شئے  کو طلب کرتا ہے۔ اور اسی طرح السمیع، البصیر، القدیر، المرید اور المتکلم ہیں۔ پس یہ اور ان جیسے او ر اسماء  رحمانی اسماء  ہیں۔ اور اس سے  پہلے  یہ بیان ہو چکا ہے  کہ الرحمٰن وہی اللہ ہے  جس کی نظر عرش اور ان تمام اشیاء  کے لئے  ہے  جن پر عرش محیط ہے۔ 
بخلاف اس کے  اسم اللہ کے  کیونکہ وہ ذات کے لئے  عَلم (یعنی علامت) ہے۔ وہ ذات جو ہر ہویت کی ہویت، ہر انیت کی انیت اور ہر انانیت کی انانیت ہے۔ اور اس میں  کسی اعتبار سے  تقیید نہیں۔ اور نہ ہی اس کا تقیید کسی اعتبار سے  عدم ہو سکتا ہے۔ وہ کسی بھی شئے او ر اس کی ضد کی جامع ہے۔ اسی لئے  کہنے  والے  نے  کہا کہ اللہ عین ہے  وجود کا اور عدم کا بھی۔ 
اس میں  ایک باریک راز کی بات ہے  کیونکہ اس کا کہنا کہ 'وہ عین ہے  وجود کا' یہ تو ظاہر سی بات ہے  لیکن 'عین ہے  عدم کا'، یہ باریک سا راز ہے  جس پر اہل اللہ میں  سے  اپنے  مقامات کے  کاملین کے  سوا کوئی مطلع نہیں  ہو سکتا، یا پھر وہ شخص جس پر یہ دشواری اس مقام کے  حصول سے  پہلے  ہی آسان کر دی گئی ہو۔ پس ہمارے  لئے  ضروری ہے  کہ جس بات کو چھیڑ بیٹھے  ہیں  اس پر کلام کریں۔ اور یہ ان وجوہ میں  سے  ایک وجہ ہے  جن کی بناء  پر اسم عدم کا اطلاق حق تعالیٰ پر کرنا صحیح قرار پاتا ہے  اس کے  کمال اور وجوب کو بھی مد نظر رکھتے  ہوئے۔ بلند و برتر ہے  وہ ذات۔ 
اور جان لو کہ 'اللہ' ایک عَلم (علامت) ہے  جس کی بدولت تم اس موسوم کا تعقل کرتے  ہو جو الوہیت کے  تمام مراتب پر حاوی ہے۔ اور یہ تعقل تمہارے  تصور میں  ایک زائد امر ہے  جو تمہاری ذات سے  مغائر ہے۔ پس یہ متصور عدم ہے، وجود نہیں  رکھتا اس لئے  کہ عین مراد تمہاری ذات ہے۔ پس اللہ کے  سوا کوئی مصور نہیں او ر اس تعقل میں  تصور کرنے  والا تمہارے  علاوہ اور کوئی نہیں۔ بلکہ یوں  ہے  کہ اللہ کے  سوا کوئی نہیں۔ 
اور جان لو کہ ہمارا خلق و حق اور عبد و رب کہنا یہ دراصل ایک ہی ذاتِ واحد کے  نسبی اور حکمی مراتب ہیں۔ ان میں  سے  کوئی ایک بھی پورے  پورے  معانی کی حکایت نہیں  کرتا۔ چنانچہ اگر حقیقت کی نظر سے  دیکھا جائے  تو تمہارا ان درجات کے  تعدد میں  کسی ایک شئے  پر رک جانا محض زور و زبردستی اور تضیعِ اوقات ہے۔ الّا یہ کہ تمہارا تعلق اس گروہ سے  ہو جو مشک کو اس حالت میں  سونگھ لیتے  ہیں  جب وہ نافہ میں  ہوتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں  یہ سب مراتب (حق و خلق، عبد و رب) وغیرہ اصل کے  اعتبار سے  تمہاری ہی ذات کے  مراتب قرار پائیں  گے۔ ایسی صورت میں  گویا تم نے  ذفر (ایک خوشبودار جڑی بوٹی) کسی دوسرے  کے  ہاتھ سے  چکھی، اور اپنے  آپ کو اپنے  مرتبے  کی کسوٹی اور میزان پر پرکھا۔ پس اس مقام سے  تم نے  جو کچھ پایا، عین حقیقت ہے۔ اور تم نے  اتصال اور اتحاد کی راہ سے  اسے  اللہ سے  حاصل نہیں  کیا کیونکہ وہ گمراہی و الحاد ہے۔ 
اور اس بات کا ذوق وہی شخص حاصل کرے  گا جو عربی عجمی ہے، جس کی زبان خلق کی زبان نہیں او ر جس کا مقام خلق کے  مقام سے  مغائر ہے۔ اور وہ اس بات کو جو اسے  حاصل ہوئی ہے، پوری طرح پا لیتا ہے۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ سے  ہی تھی۔ 
اور وہ اپنے  اس ہاتھ سے  جو احدیت سے  قائم ہے، اپنی ذات کے  ہدف پر اپنی مقتضیات کی کمان سے  اپنے  ہی مراتب کا تیر چلاتا ہے۔ پس اس کا نشانہ نہیں  چْوکتا، نہ اس کا تیر اوندھے  منہ گرتا ہے  نہ ہی ادھر اُدھر ہوتا ہے او ر نہ ہی نشانے  باز کی آنکھ اس سے  ہٹتی ہے۔ بلند و برتر ہے  اللہ اس بات سے  کہ اس کی الوہیت زائل ہو یا اس کی احدیت منقسم ہو۔ 
جان لو کہ جلالت (اسم اللہ) مرکب ہے  چھ حروف سے، اور وہ ہین (ا، ل، ف، م، ی، ھ)۔ اس لئیے  کہ الف کو بسط کریں  تو وہ تین حروف ہیں  (ا، ل، ف)، اور پہلے  لام کو بسط کریں  تو وہ بھی تین حروف ہیں  (ل، ا، م)۔ اسی طرح اسم اللہ کا دوسرا الف ہے۔ اور دوسرا لام بھی پہلے  والے  لام کی طرح ہے۔ اور ھاء کو بسط کریں  تو وہ دو حروف ہین (ھ، ا)۔ تو یہ کل چودہ حروف ہوئے  جو نورانی حروف کی تعداد کے  برابر ہیں۔ ان میں  سے  دہرائے  جانے  والے  حروف نکالے  تو یہ چھ حروف( ا، ل، ف، م، ی،ھ) باقی بچے۔ 
پس الف دراصل تین عالم ہیں۔ ایک عالم غیبی ہے  جس کے  ظہور اور شہادت کا کبھی تصور بھی نہیں  کیا جا سکتا۔ دوسرا عالم غیبی برزخی ہے  جس کا ظہور اور شہادت ممکن ہے۔ اور تیسرا عالم شہادی ہے۔ اور تمام وجود اور موجودات دراصل یہی تین عالم ہیں۔ 
کیا تم الف کا مخرج نہیں  دیکھتے  کہ اس کی ابتداء  ہمزہ ہے  جو سینے  کا غیب ہے، اور جس کو کبھی دیکھا نہیں  گیا۔ اور درمیانی حرف لام ہے  جو تمام مخارض کے  وسط میں  یعنی منہ میں  تالو کے  پاس ہے او ر یہ وہ غیب ہے  جس کا ظہور اور شہادت ممکن ہے۔ اور الف کا آخری حصہ فاء ہے  جس کا مخرج دونوں  ہونٹ ہیں او ر یہ شہادتِ محض ہے۔ پس الف غیب الغیب سے  شہادت میں  ظاہر ہوا۔ 
اور دوسرا حرف لام ہے  جس کا مقام عالمِ غیب ہے او ر اس کے  درمیان میں  الف آنے  کی وجہ سے  یہ لام الف کے  غیب الغیب میں  بھی دخل رکھتا ہے او ر اسی طرح اس کے  آخر میں  میم ہے  جس کا مخرج دونوں  ہونٹ ہیں  پس یہ میم شہادی ہے او ر اس کی وجہ سے  لام عالمِ شہادت میں  بھی دخل رکھتا ہے۔ 
تیسرا حرف فاء ہے  جس کا اول شہادت ہے او ر آخر غیب الغیب ہے۔ 
چوتھا حرف میم ہے  جس کی ابتداء  شہادی ہے، وسط غیبی ہے او ر انتہاء  بھی شہادی ہے۔ 
اور پانچویں  حرف یاء  کا اول غیب سے  ہے او ر آخر غیب الغیب سے۔ 
چھٹے  حرف ھاء  کے  لئے  اس کے  مخرج کا کوئی محل نہیں  ہے او ر اس کا تعین نہیں  کیا جا سکتا اور اس کے  وراء کوئی تعین 
نہیں۔ 
پس دیکھو 'اللہ' کی طرف، جو جامع ہے۔ جب وہ الف کی طرح غیب الغیب سے  غیب کی طرف آیا اور اس غیب سے  شہادت میں  ظاہر ہوا۔ اور جب وہ لام کی طرح غیبِ برزخی سے  عالمِ شہادت میں  روشن ہو۔ فاء کی طرح عالمِ شہادت سے  عالمِ غیب کو لوٹا۔ اور جب میم کی طرح عالمِ شہادت سے  عالمِ غیب اور پھر وہاں  سے  اپنے  مرکز عالمِ شہادت میں  داخل ہوا۔ اور یاء  کی طرح جب اس نے  غیب سے  غیب الغیب کی طرف نظر کی اور اس دوران وہ ھاء کی طرح اپنے  غیب پر ہی برقرار رہا۔ پس یہ سب عین ذات اللہ ہے  جو الوہیت کی حقیقت ہے۔ کیونکہ الوہیت احاطے  کا مرتبہ ہے۔ پس اس کو سمجھو اور دیکھو کہ اس اسم کا حکم کس عجیب طریقے  سے  تینوں  عالموں  میں  مختلف انداز سے  داخل ہے او ر کیا عجیب ہیئت ہے  اس اسم کی۔ اور اگر ہم اس باب میں  کلام کو مزید وسعت دیں  تو یہ بیان اس کی تاب نہیں  لاس کے  گا اور یہ مختصر سی کتاب اس بات کا محل نہیں  ہے۔ 
اور جان لو کہ وہ عالم جسے  ہم نے  غیب الغیب کہا ہے  اس سے  مراد ہے  ذاتِ الٰہیہ کے  کمالات کی تفصیل، جس کا کماحقہٗ ادراک ناممکن ہے۔ 
اور جس عالم کو ہم نے  برزخی غیب کہا ہے  وہ لاہوت کا عالمِ غیب ہے  کہ جس کا رحمٰن اس بات کا مستحق ہے  کہ 
اسے  اسمائِے حْسنٰی سے  موسوم کیا جائے۔ 
اور عالمِ شہادی عالمِ ملک ہے۔ اور عالمِ ملک سے  ہماری مراد وہ سب کچھ ہے  جس کو عرش محیط ہے۔ روح، جسد اور معانی، سب اسی میں  ہیں۔ پس اس کو سمجھو اور اس جمعیت کا راز جان لو جو اسم اللہ کو حاصل ہے  کہ وہ کس طرح اپنے  مسمّیٰ کی صورت پر ظاہر ہوا۔ 
اور جان لو کہ ذاتِ مطلق کو اللہ پر احاطہ حاصل ہے، لیکن اللہ کو ذاتِ مطلق میں  افضلیت حاصل ہے۔ کیونکہ ذات کے  کئی ایسے  پہلو ہیں  جو اللہ نہیں او ر جن میں  الوہیت نہیں  پائی جاتی۔ جبکہ اللہ کا ہر پہلُو دراصل وہی ذات ہے  اپنے  کمال کے  ساتھ۔ اور یہ سب جو کہا گیا اسی وقت درست قرار پائے  گا جب ایسا تعقل کیا جائے  جس میں  ذات اور اللہ کے  درمیان کوئی تقسیم نہ ہو۔ اور ایسا ھرگز خیال نہ کرنا کہ میں  اسے  معدود یا تقسیم کر رہا ہوں، یا اسے  معطّل یا مشابہ قرار دے  رہا ہوں، یا اسے  جسمانیت سے  موصوف کر رہا ہوں۔ حاشا و کلّا۔ میں  ایسے  تمام باطل تخیّلات سے  بری ہوں او ر ان سے  بیزار ہوں۔ اگر تم نے  میری بات کا یہ مطلب نکالا تو گویا تم نے  اسے  سمجھا ہی نہیں۔ اور اللہ کی پناہ اگر تم علمِ الوہیت کی قابلیت رکھے  بغیر اسے  سمجھ سکو۔ ہم اس بات سے  اللہ کی پناہ چاہتے  ہیں او ر اسی سے  مدد مانگتے  ہیں  کہ وہ ہمیں  سیدھے  رستے  پر چلائے  
، وہ رستہ جو اسی سے  اس کی طرف جاتا ہے۔ 


فصل


عرش وہ عالمِ کبیر ہے  جو الرحمٰن کے  استواء کا محلّ ہے۔ اور انسان وہ عالمِ صغیر ہے  جو اللہ کے  استواء کا محلّ ہے۔ کیونکہ اس نے  آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ پس اس لطیف، انسانی عالمِ صغیر کو دیکھو کہ کس طرح اسے  عالمِ کبیر پر فضل و شرف حاصل ہوا اور کس طرح چھوٹا بڑا بن گیا اور بڑا چھوٹا بن گیا۔ اور سب اپنے  اپنے  محلّ و مرتبے  پر ہیں۔ اگر تم اس بھید کو سمجھ لو تو تم اس بات کا مطلب جان لو گے  کہ "وسّعنی قلب عبدی مؤمن۔ یعنی میرے  مؤمن بندے  کا قلب میری گنجائش رکھتا ہے "۔ اور جہاں  تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے  کہ "میرے  لئے  اللہ کے  ساتھ ایک ایسا وقت بھی ہے  کہ جس میں  کسی مقرب فرشتے او ر نبی مرسل کی کوئی گنجائش نہیں  ہوتی"۔ ظاہراً تو اس کا یہی مطلب ہے  کہ اس وقت میں  آپ کو اللہ کے  سوا کسی کی گنجائش نہیں  رہتی۔ اور کتنے  ہی نبی مرسل، مقرب فرشتے او ر اولیاء  و عارفین ہیں  کہ جن کو عالمِ کبیر یعنی عرش پر وسعت حاصل ہوئی اور ان کو کچھ بھی نہ ہوا اور اپنے  حال پر مستحکم رہے۔ اور یوں  اس لطیفہ انسانی کا فصل و شرف عالمِ کبیر پر ظاہر ہوا۔ 
اور یوں  سمجھو کہ وہ اور عالمِ کبیر ایسے  ہیں  جیسے  نقطہ اور محیط۔ محیط کو خواہ کتنا ہی بڑا کریں، اس کی ترکیب اس نقطے  پر ہی ہے او ر اسی سے  ہے۔ اور نقطے  کو دائرے  کے  ہر ہر جزو سے  ایک خاص نسبت حاصل ہے، اور اسی اختصاص کی وجہ سے  وہ دائرے  سے  افضل ہے، کیونکہ اس کی ذات میں  تعدد نہیں  منجملہ اس کے  دیگر خصائص کے۔ 
پس نقطہ اسم اللہ ہے او ر محیط اسم رحمٰن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  فرمایا کہ "قل ادعوا اللہ او ادعوا الرحمٰن۔ ایّاماً تدعوا فلہ الاسماء  الحسنٰی"۔ یعنی کہہ دو کہ تم خواہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، اسی کے لئے  ہیں  تمام خوبصورت نام، تم جو بھی کہہ کر پکارو۔ اور ہم واضح کر چکے  ہیں  کہ نقطے  کو دائرے  کے  تمام اجزاء  میں  سے  ہر ہر جزو کے  ساتھ مخصوص نسب و اعتبارات حاصل ہیں۔ اور بیشک یہ تمام نسبتیں او ر اعتبارات دائرے  کو بھی حاصل ہیں۔ پس یہ سب نسبتیں او ر اضافتیں  جس کی طرف منسوب ہیں  بیشک وہ ان کا مستحق تھا جیسے  کہ تمام اسماءِ حسنٰی۔ اگر اسم اللہ کو ان تمام ناموں  سے  منسوب و موصوف کیا جائے  تو وہ نام اسی اسم اللہ کے  ہونگے۔ اور اسم اللہ کی مختلف وجوہ میں  سے  ایک مخصوص وجہ اسم رحمٰن کو حاصل ہے  جس میں  وہ ظاہر ہوا جیسا کہ اس کے  مرتبۂ رحمانیت کے  لائق تھا۔ 
پس دائرہ بجز عین نقطے  کے، اور کچھ نہیں۔ اس لئیے  کہ اس کے  ہر ہر جزو میں  نقطے  کا ظہور ہوا ہے۔ پس نہیں  ہے  دائرہ مگر یہ کہ نقطہ۔ 
اور جان لو کہ رحمٰن فعلان کے  وزن پر ہے۔ اور یہ صفت جب بھی کسی اسمِ صفت میں  ہو گی تو اْس میں  اس صفت کا عموم پایا جائے  گا، اور اْس موصوف میں  اس وصف کے  ظہور کی شدّت پر دلالت کرے  گی۔ 
لہٰذا اسم رحمٰن دنیا اور آخرت میں  عام اور ظاہر ہے، بخلاف اسم رحیم کے۔ کیونکہ رحیم کی رحمت دنیا کی نسبت آخرت میں  زیادہ شدّت سے  جلوہ گر ہو گی۔ جیسا کہ حدیث میں  ہے  کہ " اللہ کی سو رحمتیں  ہیں  جن میں  سے  ایک دنیا میں  ہے  جس کی وجہ سے  مخلوق آپس میں  میل جول اور مہر و محبت رکھتی ہے۔ جبکہ باقی ننانوے  رحمتیں  آخرت میں  ہیں او ر اللہ انہیں  قیامت کے  دن ظاہر کرے  گا۔ "
اور اسم رحیم کا سرّ ہے  اللہ کی طرف منتہی ہونا اور خلقیّت کا حقّیت کی طرف رجوع کرنا۔ جیسا کہ قرآن میں  ہے  کہ و انّ الٰی ربّک المنتہٰی اور و الی اللہ تصیر الامور۔ 
تعالوا بنا حتّٰیٰ نعود کما کنّا۔۔۔ 		فما عھدنا خنتم ولا عھدکم خنّا
آ جاؤ ہماری طرف حتّٰیٰ کہ ہم اسی طرح ہو جائیں  جس طرح کبھی ہوتے  تھے۔ پس نہ تم ہمارا عہد توڑو نہ ہم 
تمہارا عہد توڑیں۔ 
ونترک وشیاً والوشاۃ و طائراً			غراباً لوقع البین فی ربعنا غنّا
اور کوّے  کی مانند گا گا کر لگائی بجھائی کرنے  والوں  کو چھوڑ دیں  تاکہ ہمارے  گھر میں  علیٰحدگیوں کی گنجائش ہی نہ رہے۔ 
ونطوی بساط التعب والحب والجفا 		و نرمی السوٰی والبین لیت السوٰی یفنٰی
اور مشقت، جفا اور حب (طلب) کی بساط ہی لپیٹ دیں۔ اور غیریت اور فاصلوں  کو دور پھینکیں۔ کاش کہ غیریت فنا ہو جائے۔ 
عسٰی ان یعود الشمل والحیّ مثل ما	عھدنا و عود الوصل اثمارہْ تجنٰی
شائد کہ ہمارے  علاقے  میں  وہی یگانگت لوٹ آئے  جو کبھی ہوتی تھی۔ اور وصال کا موسم پھر سے  آئے  جس کے  پھل اتارے  جائیں۔ 
و ینشد حادی الحال عنّی مترجماً		الا لا اعاد اللہ بیتاً نای عنّا۔۔ 
اور گانے  والے  گنگنا کر میرے  حال کی ترجمانی کریں  کہ " اللہ نہ کرے  کہ پھر وہ وقت آئے  جب ہمارے  گھر ہم سے  دور کر دئیے  گئے۔ 
ا احبابنا طیّبوا فلم یک ما مضٰی۔۔۔ 	سوی الحلم کاللفظ لیس لہْ معنٰی
کیا ہمارے  احباب خوش تھے  بھلا؟"۔ پس جو کچھ بیت گیا وہ ایک بھولا بسرا خواب ہو جائے  گویا کہ کوئی بے  معنی لفظ ہو۔ 
فلا طال ہجران و لا ثمّ عازل۔۔۔ 		ولا سھر المشتاق لیلاً و قد حنّا
ھجر و فراق طول نہ کھینچیں  بلکہ گھڑی بھر کی جدائی بھی نہ رہے او ر نہ ہی وہ شوق و اشتیاق کے  رتجگے۔ 
ولا کان ما قلتم ولا کان ما قلنا		ولا بنتم عنّا و لا عنکم بنّا۔۔۔۔ 
اورایسا ہو جائے  کہ جو کچھ ہم نے او ر تم نے  کہا، گویا وہ کبھی ہوا ہی نہ تھا۔ اور نہ تم ہم سے  جدا ہو اور نہ ہم تم سے  جدا رہیں۔ 
و الحمدللہ وحدہْ و صلی اللہ علِی سیّدنا محمدّ و آلہِ و صحبہِ و سلّم تسلیماً کثیراً برحمتک یا ارحم الراحمین۔ 

٭٭٭
تشکر: مترجم ، اور اردو ویب داٹ آرگ
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
