﻿


دین کی باتیں 



(فقہ احناف)







کتب الصلوٰۃ


مسئلہ :  جب الحمد اور سورۃ پڑھ چکا، بھولے سے کچھ سوچنے لگا اور رکوع کرنے میں اتنی دیر ہوئی جتنی کہ اوپر بیان ہوئی تو سجدۂ سہو کرنا واجب ہے۔

مسئلہ :  اسی طرح اگر پڑھتے پڑھتے درمیان میں رک گیا اور کچھ سوچنے لگا اور سوچنے میں اتنی دیر لگ گئی یا جب دوسری یا چوتھی رکعت پر التحیات کے لیے بیٹھا تو فوراً التحیات شروع نہیں کی کچھ سوچنے میں اتنی دیر لگ گئی یا جب رکوع سے اٹھا تو دیر تک کچھ کھڑا سوچا کیا یا دونوں سجدوں کے بیچ میں جب بیٹھا تو کچھ سوچنے میں اتنی دیر لگا دی تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو کرنا واجب ہے غرض کہ جب بھولے سے کسی بات کے کرنے میں دیر کر دے گا یا کسی بات کے سوچنے کی  وجہ سے دیر لگ جائے گی تو سجدۂ سہو واجب ہو گا۔

مسئلہ :  تین رکعت یا چار رکعت والی فرض نماز میں جب دو رکعت پر التحیات کے لیے بیٹھا اور دو دفعہ التحیات پڑھ گیا تو سجدۂ سہو واجب ہے اگر التحیات کے بعد اتنا درود شریف بھی پڑھ گیا۔ ’’اللہم صلی علی محمد‘‘ یا اس سے زیادہ پڑھ گیا تب یاد آیا اور اٹھ کھڑا ہوا تو بھی سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر اس سے کم پڑھا ہو تو سہو کا سجدہ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  نفل نماز میں دو رکعت پر بیٹھ کر التحیات کے ساتھ درود شریف بھی پڑھنا جائز ہے اس لیے کہ نفل میں درود شریف کے پڑھنے سے سہو کا سجدہ نہیں ہوتا۔ البتہ اگر دو دفعہ التحیات پڑھ جائے تو نفل میں بھی سجدۂ سہو واجب ہے۔

مسئلہ :  التحیات پڑھنے بیٹھا مگر بھولے سے التحیات کی جگہ کچھ اور پڑھ گیا یا الحمد پڑھنے لگا تو بھی سجدۂ سہو واجب ہے۔

مسئلہ :  نیت باندھنے کے بعد ’’سبحانک اللہم‘‘ کی جگہ دعائے قنوت پڑھنے لگا تو سہو کا سجدہ واجب نہیں ، اسی طرح فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت میں اگر الحمد کی جگہ التحیات یا کچھ اور پڑھنے لگا تو بھی سہو کا سجدہ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  تین رکعت یا چار رکعت والی نماز میں بیچ میں بیٹھنا بھول گیا اور دو رکعت پڑھ کی تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو اگر نیچے کا آدھا دھڑ ابھی سیدھا نہیں ہوا ہو تو بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ لے تب کھڑا ہو اور ایسی حالت میں سجدۂ سہو کرنا واجب نہیں ۔ اگر آدھا دھڑ سیدھا ہو گیا تو نہ بیٹھے بلکہ کھڑے ہو کر چاروں رکعتیں پڑھ لے فقط اخیر میں بیٹھے اور اس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہے اگر سیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد پھر لوٹ آئے گا اور بیٹھ کر التحیات پڑھے گا تو گنہگار ہو گا اور سجدۂ سہو کرنا اب بھی واجب ہو گا۔

مسئلہ :  اگر چوتھی رکعت پر بیٹھنا بھول گیا اور اوپر کا دھڑ بھی سیدھا نہیں ہوا تو بیٹھ جائے اور التحیات اور درود وغیرہ پڑھ کے سلام پھیرے اور سجدۂ سہو نہ کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تب بھی بیٹھ جائے بلکہ اگر الحمد اور سورۃ بھی پڑھ چکا ہو یا رکوع بھی کر چکا ہو تب بھی بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ کر سجدۂ سہو کرے البتہ رکوع کے بعد بھی یاد نہ آیا اور پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تو فرض نماز پھر سے پڑھے یہ نماز نفل ہو گئی، ایک رکعت اور ملا کر پوری چھ رکعت کر لے اور سجدۂ سہو نہ کرے اور اگر ایک رکعت اور نہیں ملائی یا پانچویں رکعت پر سلام پھیر دیا تو چار رکعتیں نفل ہو گئیں اور ایک رکعت اکارت گئی۔

مسئلہ :  اگر چوتھی رکعت پر بیٹھا اور التحیات پڑھ کے کھڑا ہو گیا تو سجدہ کرنے سے پہلے جب یاد آئے بیٹھ جائے اور التحیات نہ پڑھے بلکہ بیٹھ کر فوراً سلام پھیر کے سجدۂ سہو کرے اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کر چکا تب یاد آیا تو ایک رکعت اور ملا کر چھ رکعت کر لے۔ چار فرض ہو گئے اور دو نفل اور چھٹی رکعت پر سجدۂ سہو بھی کر لے اگر پانچویں رکعت پر سلام پھیر دیا اور سجدۂ سہو کر لیا تو برا کیا۔ چار فرض ہوئے اور ایک رکعت اکارت گئی۔

مسئلہ :  اگر چار رکعت نفل نماز پڑھی اور بیچ میں بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تب تک یاد آ جانے پر بیٹھ جانا چاہئے اگر سجدہ کر لیا تو خیر، تب بھی نماز ہو گئی اور سجدۂ سہو ان دونوں صورتوں میں واجب ہے۔

مسئلہ :  اگر نماز میں شک ہو گیا کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں تو اگر یہ شک اتفاق سے ہو گیا، ایسا شبہ پڑنے کی اس کی عادت نہیں ہے تو پھر سے نماز پڑھے اور اگر شک کرنے کی عادت ہے اور اکثر ایسا شبہ پڑ جاتا ہے تو دل میں سوچ کر دیکھے کہ دل زیادہ کدھر جاتا ہے اگر زیادہ گمان تین رکعت پڑھنے کا ہے تو ایک اور پڑھ لے اور سجدۂ سہو کرنا واجب نہیں ہے اور اگر زیادہ گمان یہی ہو کہ میں نے چاروں رکعتیں پڑھ لی ہیں تو اور رکعت نہ پڑھے اور سجدۂ سہو بھی نہ کرے اور اگر سوچنے کے بعد بھی دونوں طرف برابر خیال رہے نہ تین رکعت کی طرف زیادہ گمان جاتا ہے نہ چار کی طرف تو تین ہی رکعتیں سمجھے اور ایک رکعت اور پڑھ لے لیکن اس صورت میں تیسری رکعت پر بھی التحیات پڑھے تب کھڑا ہو کے چوتھی رکعت پڑھے اور سجدۂ سہو بھی کرے۔

مسئلہ :  اگر یہ شک ہوا کہ پہلی رکعت ہے یا دوسری رکعت تو اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن اس میں سب رکعتوں پر پہنچ کر التحیات پڑھے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے۔

مسئلہ :  اگر نماز پڑھ چکنے کے بعد یہ شک ہوا کہ نہ معلوم تین رکعتیں پڑھیں تو اِس شک کا کچھ اعتبار نہیں نماز ہو گئی، البتہ اگر ٹھیک یاد آ جائے کہ تین ہی ہوئیں تو پھر کھڑے ہو کر ایک اور رکعت پڑھ لے اور سجدۂ سہو کر لے اور اگر پڑھ کے بول پڑا ہو یا کوئی ایسی بات کی جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو پھر سے پڑھے اسی طرح اگر التحیات پڑھ چکنے کے بعد یہ شک ہوا تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک ٹھیک یاد نہ آئے اس کا کچھ اعتبار نہ کرے لیکن اگر کوئی احتیاط کی راہ سے نماز پھر سے پڑھ لے تو اچھا ہے دل کی کھٹک نکل جائے اور شبہ باقی نہ رہے۔

مسئلہ :  اگر نماز میں کئی باتیں ایسی ہو گئیں جن سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے تو ایک ہی سجدۂ سہو کی طرف سے ہو جائے گا  ایک نماز میں دو دفعہ سجدۂ سہو نہیں کیا جاتا۔

مسئلہ :  سجدۂ سہو کرنے کے بعد پھر کوئی ایسی بات ہو گئی جس سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے تو وہی پہلا سجدۂ سہو کافی ہے اب پھر سجدۂ سہو نہ کرے۔

مسئلہ :  نماز میں کچھ بھول ہو گئی تھی جس سے سجدۂ سہو واجب تھا لیکن سجدۂ سہو کرنا بھول گیا اور دونوں طرف سلام پھیر دیا لیکن ابھی اسی جگہ بیٹھا ہے اور سینہ قبلہ کی طرف سے نہیں پھرا نہ کسی سے کچھ بولا نہ کوئی  اور ایسی بات ہوئی جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اب سجدۂ سہو کر لے بلکہ اگر اسی طرح بیٹھے بیٹھے کلمہ درود شریف وغیرہ کوئی وظیفہ بھی پڑھنے لگا۔ تب بھی کچھ حرج نہیں اب سجدہ کر لے تو نماز ہو جائے گی۔

مسئلہ :  سجدۂ سہو واجب تھا اور اس نے قصداً دونوں طرف سلام پھیر دیا اور یہ نیت کی کہ میں سجدۂ سہو کر لینے کا اختیار ہے۔

مسئلہ :  چار رکعت والی یا تین رکعت والی نماز میں بھولے سے دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو اب اٹھ کر اس نماز کو پورا کر لے اور سجدۂ سہو کرے البتہ اگر سلام پھیرنے کے بعد کوئی ایسی بات ہو گئی جس سے نماز جاتی رہتی ہے تو پھر سے نماز پڑھے۔

مسئلہ :  بھولے سے وتر کی پہلی یا دوسری رکعت میں دعاء قنوت پڑھ گیا تو اس کا کچھ اعتبار نہیں ، تیسری رکعت میں پھر سے پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔

مسئلہ :  وتر کی نماز میں شبہ ہوا کہ نامعلوم یہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت اور کسی بات کی طرف زیادہ گمان نہیں ہے بلکہ دونوں طرف برابر درجہ کا گمان ہے تو اسی رکعت میں دعائے قنوت پڑھے اور بیٹھ کر التحیات کے بعد کھڑا ہو کر ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں دعائے قنوت پڑھے اور اخیر میں سجدۂ سہو کرے۔

مسئلہ :  وتر میں دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا۔ سورت پڑھ کے رکوع میں چلا گیا تو سجدۂ سہو واجب نہیں ۔

مسئلہ :  الحمد پڑھ کے دو یا تین سورتیں پڑھ گیا تو کچھ ڈر نہیں اور سجدۂ سہو واجب نہیں ۔

مسئلہ :  نماز کے اول میں سبحانک اللہم پڑھنا بھول گیا یا رکوع میں سبحان ربی العظیم نہیں پڑھا یا سجدہ میں سبحان ربی الاعلیٰ نہیں کہا یا رکوع سے اٹھ کر سمع اللہ لمن حمدہ کہنا یاد نہ رہا یا نیت باندھتے وقت کندھوں تک ہاتھ نہیں اٹھائے یا اخیر رکعت میں درود شریف یا دعا نہیں پڑھی یونہی سلام پھیر دیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب نہیں ۔

مسئلہ :  فرض کی دونوں پچھلی رکعتوں میں یا ایک رکعت میں الحمد پڑھنا بھول گیا، چپکا کھڑا رہ کے رکوع میں چلا گیا تو بھی سجدۂ سہو واجب نہیں ۔

مسئلہ :  جن چیزوں کو بھول کر مکروہ کرنے سے سجدۂ سہو واجب ہے اگر ان کو قصداً کرے تو سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا بلکہ نماز پھر سے پڑھے اگر سجدۂ سہو کر بھی لیا تب بھی نماز نہیں ہوئی، جو چیزیں نماز میں نہ فرض ہیں نہ واجب ان کے بھول کر چھوٹ جانے سے نماز ہو جاتی ہے اور سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔

مسئلہ :  اگر آہستہ آواز کی  نماز میں کوئی شخص امام ہو یا منفرد بلند آواز سے قرأت کر جائے یا بلند آواز کی نماز میں امام آہستہ آواز سے قرأت کرے تو اس کو سجدۂ سہو کرنا چاہئے، ہاں اگر آہستہ آواز کی نماز میں بہت تھوڑی قرأت بلند آواز سے کی جائے جو نماز صحیح ہونے کے لیے کافی نہ ہو مثلاً دو تین لفظ بلند آواز سے نکل جائیں یا جہری نماز امام اسی قدر آہستہ پڑھ دے تو سجدۂ سہو لازم نہیں اور یہی صحیح ہے۔

تِلاوت کا بیان

مسئلہ :  قرآن شریف میں تلاوت کے سجدے چودہ ہیں ، جہاں جہاں کلام مجید کے کنارے پر ’’سجدہ‘‘ لکھا رہتا ہے، اس آیت کو پڑھ کر سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے اور اسی کو سجدۂ تلاوت کہتے ہیں ۔

مسئلہ :  سجدۂ تلاوت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کے سجدہ کرے اور اللہ اکبر کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے ، سجدہ میں کم سے کم تین دفعہ سبحان ربی الاعلی کہے، پھر اللہ اکبر کہہ کے سر اٹھا لے، پس سجدۂ تلاوت ادا ہو گیا۔

مسئلہ :  بہتر یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اللہ اکبر کہہ کے سجدہ میں جائے پھر اللہ اکبر کہہ کے کھڑا ہو جائے اور اگر بیٹھ کر اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں جائے پھر اللہ اکبر کہہ کر اٹھ بیٹھ کھڑا  نہ ہو تب بھی درست ہے۔

مسئلہ :  سجدے کی آیت کو جو شخص پڑھے اس پر بھی سجدہ کرنا واجب ہے اور جو سنے اس پر بھی واجب ہو جاتا ہے چاہے قرآن شریف سننے کے قصد سے بیٹھا ہو یا کسی اور کام میں لگا ہو اور بغیر قصد کے سجدہ کی آیت سن لی ہو اس لیے بہتر ہے کہ سجدے کی آیت کو آہستہ سے پڑھے تاکہ کسی اور پر سجدہ واجب نہ ہو۔

مسئلہ :  جو چیزیں نماز کے لیے شرط ہیں وہ سجدۂ تلاوت کے لیے بھی شرط ہیں یعنی وضو کا ہونا، جگہ کا پاک ہونا، بدن اور کپڑے کا پاک ہونا، قبلے کی طرف سجدہ کرنا وغیرہ۔

مسئلہ :  جس طرح نماز کا سجدہ کیا جاتا ہے اسی طرح سجدۂ تلاوت بھی کرنا چاہئے۔ بعض آدمی قرآن شریف پر ہی سجدہ کر لیتے اس سے سجدہ ادا نہیں ہوتا اور سر سے نہیں اترتا۔

مسئلہ :  اگر کسی کا وضو اس وقت نہ ہو تو پھر کسی وقت وضو کر کے سجدہ کر لے، فوراً اس  اسی وقت سجدہ کرنا ضروری نہیں لیکن بہتر ہے کہ اسی وقت سجدہ کر لے کیونکہ شاید بعد میں یاد نہ رہے۔

مسئلہ :  اگر کسی کے ذمہ بہت سے سجدے تلاوت باقی ہوں جو اب تک ادا نہ کئے ہوں تو اب ادا کر لے، عمر بھر میں کبھی نہ کبھی ضرور ادا کر لینے چاہئیں کبھی ادا نہ کرے گا تو گنہگار ہو گا۔

مسئلہ :  اگر کسی عورت نے حیض یا نفاس کی حالت میں کسی سے سجدہ کی آیت سن لی تو اس پر سجدہ واجب نہیں ہوا اور اگر ایسی حالت میں سنا جب کہ اس پر نہانا واجب تھا تو نہانے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہے۔

مسئلہ :  اگر بیماری کی حالت میں سنے اور سجدہ کی طاقت نہ ہو تو جس طرح نماز کا اشارے سے ادا کرتا ہو اسی طرح اس کا سجدہ بھی اشارے سے کرے۔

مسئلہ :  اگر نماز میں سجدے کی آیت پڑھے تو وہ آیت پڑھنے کے بعد فوراً نماز ہی میں سجدہ کر لے، پھر باقی سورۃ پڑھ کے رکوع میں جائے، اگر اس آیت کو پڑھ کر فوراً سجدہ نہ کیا اس کے بعد دو یا تین آیتیں اور پڑھ لیں تب سجدہ کیا تو یہ بھی درست ہے اگر اس سے بھی زیادہ پڑھ گیا تب سجدہ کیا تو سجدہ ادا ہو گیا لیکن گنہگار ہوا۔

مسئلہ :  سجدہ کی آیت پڑھ کے اگر فوراً رکوع میں چلا جائے اور رکوع میں یہ نیت کرے کہ میں سجدۂ تلاوت کی طرف سے بھی یہی رکوع کرتا ہوں تب بھی  وہ سجدہ ادا ہو جائے گا، اور رکوع میں یہ نیت نہیں کی تو رکوع کی بعد جب سجدہ کرے گا تو اسی سجدے سے سجدۂ تلاوت بھی ادا ہو جائے گا چاہے کچھ نیت کرے چاہے نہ کرے۔

مسئلہ :  نماز پڑھتے میں کسی اور سے سجدے کی آیت سنے تو نماز میں سجدہ نہ کرے بلکہ نماز کے بعد کرے اگر نماز ہی میں کرے گا تو وہ سجدہ ادا نہ ہو گا پھر کرنا پڑے گا اور گناہ بھی ہو گا۔

مسئلہ :  ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے سجدہ کی آیت کو کئی بار دوہرا کر پڑھے تو ایک ہی سجدہ واجب ہے چاہے سب دفعہ پڑھ کے آخیر سجدہ کرے یا پہلی دفعہ پڑھ کے سجدہ کر لے پھر اسی کو بار بار دہراتا رہے اور اگر جگہ بدل گئی تب اس آیت کو دوہرایا پھر تیسری جگہ جا کے وہی آیت پڑھی، اسی طرح برابر جگہ بدلتا رہا تو جتنی دفعہ دوہرائے اتنی ہی دفعہ سجدہ کرے۔

مسئلہ :  اگر ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے سجدہ کی کئی آیتیں پڑھیں تو بھی جتنی آیتیں پڑھے اتنے ہی سجدے کرے۔

مسئلہ :  بیٹھے بیٹھے سجدے کی کوئی آیت پڑھی پھر اٹھ کھڑا ہوا لیکن چلا پھرا نہیں جہاں بیٹھا تھا وہیں کھڑے کھڑے وہی آیت پھر دوہرائی تو ایک ہی سجدہ واجب ہے۔

مسئلہ :  ایک ہی جگہ سجدے کی آیت پڑھی اور اٹھ کر کسی کام کو چلا گیا پھر اسی جگہ آ کر وہی آیت پڑھی تب بھی دو سجدے کرے۔

مسئلہ :  ایک جگہ بیٹھے بیٹھے سجدہ کی کوئی پڑھی پھر جب قرآن مجید کی تلاوت کر چکا تو اسی جگہ بیٹھے بیٹھے کسی اور کام میں لگ گیا جیسے کتابت کرنے لگا یا کپڑا سینے لگا اس کے بعد پھر وہی آیت اسی جگہ پڑھی تب بھی دو سجدے واجب ہوئے یعنی جب کوئی اور کام کرنے لگے تو ایسا سمجھیں گے کہ جگہ بدل گئی۔

مسئلہ :  ایک کوٹھری یا دالان کے ایک کونہ میں سجدہ کی کوئی آیت پڑھی اور پھر دوسرے کونے میں جا کر وہی آیت پڑھی تب بھی ایک سجدہ کافی ہے چاہے جتنی دفعہ پڑھے، البتہ دوسرے کام میں لگ جانے کے بعد وہی آیت پڑھے گا تو دوسرا سجدہ کرنا پڑے گا پھر تیسرے کام میں لگ جانے کے بعد اگر پڑھے گا تو تیسرا سجدہ واجب ہو جائے گا۔

مسئلہ :  اگر بڑا گھر ہو تو دوسرے کونے میں جا کر دوہرانے سے دوسرا سجدہ واجب ہو گا، اور تیسرے کونے میں تیسرا سجدہ۔

مسئلہ :  مسجد کا بھی یہی حکم ہے جو ایک کوٹھری کا حکم ہے، اگر سجدہ کی آیت کئی دفعہ پڑھے تو ایک ہی سجدہ واجب ہے چاہے ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے دوہرایا کرے یا مسجد میں ادھر ادھر ٹہل کر پڑھے۔

مسئلہ :  اگر نماز میں سجدے کی ایک ہی آیت کو کئی دفعہ پڑھے تب بھی ایک ہی سجدہ واجب ہے چاہے سب دفعہ پڑھ کے اخیر میں سجدہ کرے یا ایک دفعہ پڑھ کے سجدہ کر لیا پھر اسی رکعت یا دوسری رکعت میں وہی آیت پڑھے۔

مسئلہ :  سجدے کی کوئی آیت پڑھی اور سجدہ نہیں کیا  پھر اسی جگہ نیت باندھ لی اور وہی آیت پھر نماز میں پڑھے اور نماز میں سجدۂ تلاوت کیا تو یہی سجدہ کافی ہے، دونوں سجدے اسی سے ادا ہو جائیں گے البتہ اگر جگہ بدل گئی ہو تو دوسرا سجدہ بھی واجب ہے۔

مسئلہ :  اگر سجدے کی آیت پڑھ کے سجدہ کر لیا پھر اسی جگہ نماز کی نیت باندھ لی اور وہی آیت نماز میں دوہرائی تو اب نماز میں پھر سجدہ کرے۔

مسئلہ :  پڑھنے والے کی جگہ نہیں بدلی ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے ایک ہی آیت کو بار بار پڑھتا رہا لیکن سننے والے کی جگہ بدل گئی کہ پہلی دفعہ اور جگہ سنا تھا، دوسری دفعہ اور جگہ، تیسری دفعہ تیسری جگہ تو پڑھنے والے پر ایک ہی سجدہ واجب ہے اور سننے والے پر کئی سجدے واجب ہیں جتنی مرتبہ سنے اتنے ہی سجدے کرے۔

مسئلہ :  اگر سننے والے کی جگہ نہیں بدلی بلکہ پڑھنے والے کی جگہ بدل گئی تو پڑھنے والے پر کئی سجدے واجب ہوں گے اور سننے والے پر ایک ہی سجدہ ہے۔

مسئلہ :  ساری سورۃ پڑھنا اور سجدے کی آیت کو چھوڑ دینا مکروہ اور منع ہے فقط سجدے سے بچنے کے لیے وہ آیت نہ چھوڑے کہ اس میں سجدے سے گویا انکار ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص کسی امام سے آیتِ سجدہ سنے اور اس کے بعد اس کی اقتداء کرے تو اس کو امام کے ساتھ سجدہ کرنا چاہئے اور اگر امام سجدہ کر چکا ہو تو اس میں دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ جس رکعت میں آیتِ سجدہ کی تلاوت امام نے کی ہو،  وہی رکعت اگر اس کو مل جائے تو سجدہ کی ضرورت نہیں اس رکعت کے مل جانے سے سمجھا جائے گا کہ وہ سجدہ بھی مل گیا، دوسرے یہ کہ  وہ رکعت نہ ملے اس کو بعد نماز تمام کرنے کے خارج نماز میں سجدہ کرنا واجب ہے۔

مسئلہ :  مقتدی سے اگر آیت سجدہ سُنی جائے تو سجدہ واجب نہ ہو گا نہ اس پر نہ اس کے امام پر نہ ان لوگوں پر جو اس نماز میں شریک ہیں ہاں جو اس نماز میں شریک نہیں خواہ وہ نماز ہی نہ پڑھتے ہوں یا کوئی دوسری نماز پڑھ رہے ہوں تو ان پر سجدہ واجب ہو گا۔

مسئلہ :  عورت کی محاذات مفسد سجدۂ تلاوت نہیں ۔

مسئلہ :  سجدۂ تلاوت اگر نماز میں واجب ہوا ہو تو اس کا ادا کرنا فوراً واجب ہے تاخیر کی اجازت نہیں ۔

مسئلہ :  خارج نماز کا سجدہ نماز میں اور نماز کا سجدہ خارج میں بلکہ دوسری نماز میں بھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ پس اگر کوئی شخص نماز میں آیتِ سجدہ پڑھے اور سجدہ نہ کرے تو اس کا گناہ اس کے ذمہ ہو گا اور اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں کہ توبہ کرے یا ارحم الراحمین اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دے۔

مسئلہ :  جمعہ اور عیدین اور آہستہ آواز کی نمازوں میں سجدہ کی آیت نہ پڑھنا چاہئے اس لئے کہ سجدہ کرنے میں مقتدیوں کے اشتباہ کا خوف ہے۔

بیمار کی نماز

مسئلہ :  نماز کو کسی حالت میں نہ چھوڑے جب تک کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی قوت رہے کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہے اور جب کھڑا نہ ہوا جائے تو بیٹھ کر نماز پڑھے بیٹھے بیٹھے رکوع کر لے اور رکوع کر کے دونوں سجدے کرے اور رکوع کے لئے اتنا جھکے کہ پیشانی گھٹنوں کے مقابل ہو جائے۔

مسئلہ :  اگر رکوع و سجدہ کرنے کی بھی قدرت نہ ہو تو رکوع سجدہ کر اشاروں سے ادا کرے اور سجدے کے لئے رکوع سے زیادہ جھک جایا کرے۔

مسئلہ :  سجدہ کرنے کے لئے تکیہ وغیرہ کوئی اونچی چیز رکھ لینا اور اس پر سجدہ کرنا بہتر نہیں ، جب سجدے کی قدرت نہ ہو تو بس اشارہ کر لیا کرے۔

مسئلہ :  اگر کھڑا ہونے کی قوت تو ہے لیکن کھڑا ہونے سے بڑی تکلیف ہوتی ہے یا بیماری بڑھ جانے کا ڈر ہے تب بھی بیٹھ کر نماز پڑھنا درست ہے۔

مسئلہ :  اگر کھڑا تو ہوسکتا ہے لیکن رکوع و سجدہ نہیں کرسکتا تو چاہے کھڑا ہو کر پڑھے اور رکوع و سجدہ اشارے سے ادا کرے اور چاہے بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجدہ کو اشارے سے ادا کرے لیکن بیٹھ کر پڑھنا بہتر ہے۔

مسئلہ :  اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں رہی تو پیچھے کوئی گاؤ تکیہ وغیرہ لگا کر اس طرح لیٹ جائے کہ سر خوب اونچا رہے بلکہ قریب قریب بیٹھنے کے رہے اور پاؤں قبلہ کی طرف پھیلا لے اور اگر کچھ طاقت ہو تو قبلہ کی طرف پیر نہ پھیلائے بلکہ گھٹنے کھڑے رکھے پھر سر کے اشارے سے نماز پڑھے اور سجدہ کا اشارہ زیادہ نیچا کرے اور اگر گاؤ تکیہ سے ٹیک لگا کر بھی اس طرح نہ لیٹ سکے کہ سر اور سینہ وغیرہ اونچا رہے تو قبلے کی طرف پیر کر کے بالکل چت لیٹ جائے لیکن سر کے نیچے کوئی اونچا تکیہ رکھ دیں کہ منہ قبلہ کی طرف ہو جائے آسمان کی طرف نہ رہے پھر سر کے اشارے سے نماز پڑھے رکوع کا اشارہ کم کرے اور سجدہ کا اشارہ زیادہ کرے۔

مسئلہ :  اگر چت نہ لیٹے بلکہ دائیں یا بائیں کروٹ پر قبلہ کی طرف منہ کر کے لیٹے اور سر کے اشارے سے رکوع و سجدہ کرے یہ بھی جائز ہے لیکن چت لیٹ کر پڑھنا زیادہ اچھا ہے۔

مسئلہ :  اگر سر سے اشارہ کرنے کی بھی طاقت نہیں تو نماز بالکل نہ پڑھے پھر اگر ایک دن رات سے زیادہ یہی حالت رہے تو نماز بالکل معاف۔ اچھے ہونے کے بعد قضا پڑھنا واجب نہیں ہے، اگر ایک دن رات سے زیادہ یہ حالت نہیں رہی بلکہ ایک دن رات میں پھر اشارے سے پڑھنے کی طاقت آ گئی تو اشارے ہی سے ان کی قضا پڑھے اور ارادہ نہ کرے کہ جب بالکل اچھا ہو جاؤں گا تب پڑھوں گا کہ شاید مرگیا تو گنہگار مرے گا۔

مسئلہ :  اسی طرح اچھا خاصہ آدمی بے ہوش ہو جائے تو اگر بے ہوشی ایک دن رات  سے زیادہ نہ ہوئی تو قضا پڑھنا واجب ہے اور اگر ایک دن رات سے زیادہ ہو گئی تو قضا پڑھنا واجب نہیں ۔

مسئلہ :  جب نماز شروع کی اس وقت بھلا چنگا تھا، پھر جب تھوڑی دیر نماز پڑھ چکا تو نماز ہی میں کوئی ایسی رگ چڑھ گئی کہ کھڑا نہ ہوسکا تو باقی نماز بیٹھ کر پڑھے، اگر رکوع و سجدہ کرسکے تو کرے نہیں تو رکوع و سجدہ کو سر کے اشارے سے ادا کرے اور اگر ایسا حال ہو گیا کہ بیٹھنے کی بھی قدرت نہیں تو اسی طرح لیٹ کر باقی نماز کو پورا کرے۔

مسئلہ :  بیماری کی وجہ سے تھوڑی نماز بیٹھ کر پڑھی اور رکوع کی جگہ رکوع اور سجدہ کی جگہ سجدہ کیا پھر نماز میں ہی اچھا ہو گیا تو اسی نماز کو کھڑا ہو کر پورا کرے۔

مسئلہ :  اگر بیماری کی وجہ سے رکوع ، سجدہ کی قوت نہ تھی اس لئے سر کے اشارے سے رکوع سجدہ کیا، پھر جب کچھ نماز پڑھ چکا تو ایسا ہو گیا کہ اب  رکوع کرسکتا ہے تو اب یہ نماز جاتی رہی اس کو پورا نہ کرے بلکہ پھر سے نماز پڑھے۔

مسئلہ :  فالج گرا اور ایسا بیمار ہو گیا کہ پانی سے استنجا نہیں کرسکتا تو کپڑے یا ڈھیلے سے صاف کر لے اور اسی طرح نماز پڑھے۔ اگر خود تیمم نہ کر سکے تو دوسرا کرا دے۔ اگر ڈھیلے یا کپڑے سے بھی صاف کرنے کی طاقت نہیں ہے تو بھی نماز قضا نہ کرے اسی طرح نماز پڑھے کسی اور کو اس کے بدن کا دیکھنا اور صاف کرنا درست نہیں نہ ماں باپ کو نہ لڑکا لڑکی کو البتہ بیوی کو اپنے میاں اور میاں کو اپنی بیوی کا بدن دیکھنا درست ہے اس کے سوا اور کو درست نہیں ۔

مسئلہ :  تندرستی کے زمانہ میں کچھ نمازیں قضا ہو گئی تھیں پھر بیمار ہو گیا تو بیماری کے زمانے میں جس طرح نماز پڑھنے کی قوت ہو ان کی قضا پڑھے یہ انتظار نہ کرے کہ جب کھڑا ہونے کی قوت آئے تب پڑھوں یا جب بیٹھنے لگوں اور رکوع سجدہ کرنے کی قوت آئے تب پڑھوں بلکہ فوراً پڑھے دیر نہ کرے۔

مسئلہ :  اگر بیمار کا بستر نجس ہے اور اس کے بدلنے میں بہت تکلیف ہو گی تو اسی پر نماز پڑھ لینا درست ہے۔

مسئلہ :  حکیم نے کسی کی آنکھ بنائی اور ہلنے جلنے سے منع کر دیا تو لیٹے لیتے نماز پڑھتا رہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص قرأت کے طویل ہونے کے سبب سے کھڑے کھڑے تھک جائے اور تکلیف ہونے لگے تو اس کو کسی دیوار یا درخت یا لکڑی وغیرہ سے تکیہ لگا لینا مکروہ نہیں ، تراویح کی نماز میں ضعیف اور بوڑھے لوگوں کو اکثر اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔

مُسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان


مسئلہ :  اگر کوئی ایک منزل یا دو منزل کا سفر کرے تو اس سفر سے شریعت کا کوئی حکم نہیں بدلتا اور شریعت کے قاعدے سے اس کو مسافر نہیں کہتے۔ اس کو ساری باتیں اسی طرح کرنی چاہئیں جیسے کہ اپنے گھر کرتا تھا، چار رکعت والی نماز کو چار رکعت پڑھے اور موزہ پہنے ہو تو ایک دن رات مسح کرے پھر اس کے بعد مسح کرنا درست نہیں ۔

مسئلہ :  جو کوئی تین منزل کا قصد کر کے نکلے وہ شریعت کے قاعدے سے مسافر ہے، جب اپنے شہر کی آبادی سے باہر ہو گیا تو شریعت سے مسافر بن گیا  اور جب تک آبادی کے اندر اندر چلتا رہا تب تک مسافر نہیں ہے اور اگر اسٹیشن آبادی کے اندر ہے تو آبادی کے حکم میں ہے اور اگر آبادی کے باہر ہو تو وہاں پہنچ کر مسافر ہو جائے گا۔

مسئلہ :  تین منزل یہ ہے کہ اکثر پیدل چلنے والی وہاں تین روز میں پہنچا کرتے ہیں تخمینہ اس کا ہمارے ملک میں کہ دریا اور پہاڑ میں سفر نہیں کرنا پڑتا۔ اڑتالیس میل انگریزی ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی جگہ اتنی دور ہے کہ اونٹ اور آدمی کی چال کے اعتبار سے تو تین منزل ہے لیکن تیز یکہ اور تیز بہلی پر سوار ہے اس لئے دو ہی دن میں پہنچ جائے گا یا ریل میں سوار ہو کر ذرا سی دیر میں پہونچ جائے گا تب بھی وہ شریعت سے مسافر ہے۔

مسئلہ :  جو کوئی شریعت سے مسافر ہو وہ ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نماز دو دو  رکعتیں پڑھے اور سنتیں چھوڑ دینا درست ہے۔ اس چھوڑ دینے سے کچھ گناہ نہ ہو گا اور اگر کچھ جلدی نہ ہو نہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جانے کا ڈر ہو تو نہ چھوڑے اور سُنتیں سفر میں پوری پوری پڑھے ان میں کمی نہیں ہے۔

مسئلہ :  فجر، مغرب اور وتر کی نماز میں بھی کوئی کمی نہیں ہے، جیسے ہمیشہ پڑھتا رہا ویسے ہی پڑھے۔

مسئلہ :  ظہر، عصر اور عشاء کی نماز دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھے  پوری چار رکعتیں پڑھنا گناہ ہے۔

مسئلہ :  اگر بھولے سے چار رکعتیں پڑھ لیں تو اگر دوسری رکعت پر التحیات پڑھی ہے تب تو دو رکعتیں فرض ہو گئیں اور دو رکعتیں نفل کی ہو جائیں گی اور سجدہ سہو کرنا پڑے گا اور اگر دو رکعت  میں نہ بیٹھا ہو تو چاروں رکعتیں نفل ہو گئیں ، فرض نماز پھر سے پڑھے۔

مسئلہ :  اگر راستہ میں کہیں ٹھہر گیا تو اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہے تو برابر وہ مسافر رہے گا، چار رکعت فرض والی نماز دو رکعت پڑھتا رہے اور اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کر لی ہے تو اب وہ مسافر نہیں رہا، پھر اگر نیت بدل گئی اور پندرہ دن سے پہلے چلے جانے کا ارادہ ہو گیا تب بھی مسافر نہ بنے گا۔ نمازیں پوری پڑھے پھر جب یہاں سے چلے تو اگر یہاں سے وہ جگہ تین منزل ہو جہاں جاتا ہے تو پھر مسافر ہو جائے گا اور جو اس سے کم ہو تو مسافر نہیں ہوا۔

مسئلہ :  اگر عورت چار منزل جانے کی نیت سے چلی لیکن پہلی دو منزلیں حیض کی حالت میں گزریں تب بھی وہ مسافر نہیں ہے اب نہا دھو کر پوری چار رکعتیں پڑھے البتہ حیض سے پاک ہونے کے بعد وہ جگہ اگر تین منزل ہو یا چلتے وقت پاک تھی راستہ میں  حیض آگیا تو وہ البتہ مسافر ہے حیض سے پاک ہو کر نماز مسافروں کی طرح پڑھے۔

مسئلہ :  نماز پڑھتے پڑھتے نماز کے اندر ہی پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت ہو گئی تو مسافر نہیں رہا یہ نماز بھی پوری پڑھے۔

مسئلہ :  دو چار دن کے لئے راستے میں کہیں ٹھہرنا پڑا لیکن کچھ ایسی باتیں ہو جاتیں ہیں کہ جانا نہیں ہوتا۔ روز نیت ہوتی ہے کہ کل پرسوں چلا جاؤں گا لیکن نہیں جا نا ہوتا، اسی طرح پورے پندرہ یا بیس دن یا ایک مہینہ یا اس سے بھی زیادہ رہنا ہو گیا لیکن پورے پندرہ دن کی نیت کبھی نہیں ہوئی تب بھی وہ مسافر رہے گا چاہے جتنے دن اسی طرح گذر جائیں ۔

مسئلہ :  تین منزل کا ارادہ کر کے چلا پھر کچھ دور جا کر کسی وجہ سے ارادہ بدل گیا اور گھر لوٹ آیا تو جب سے لوٹنے کا ارادہ ہوا ہے تب ہی سے مسافر نہیں رہا۔

مسئلہ :  کوئی عورت اپنے خاوند کے ساتھ ہے راستے میں جتنا وہ ٹھہرے گا اتنا ہی یہ ٹھہرے گی اس سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتی تو ایسی حالت میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہے  اگر شوہر کا ارادہ پندرہ دن ٹھہرنے کا ہے تو عورت بھی مسافر نہیں رہی چاہے ٹھہرنے کی نیت کرے یا نہ کرے اور اگر مرد کا ارادہ کم ٹھہرنے کا ہو تو عورت بھی مسافر ہے ۔ 

مسئلہ :  تین منزل چل کر کہیں پہنچا تو اگر وہ اپنا گھر ہے تو مسافر نہیں رہا چاہے کم رہے یا زیادہ، اور اگر اپنا گھر نہیں ہے تو اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو تب بھی مسافر نہیں رہا، اب نمازیں پوری پوری پڑھے اور اگر نہ اپنا گھر ہے ، نہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہے تو وہاں پہنچ کر بھی مسافر رہے گا۔

مسئلہ :  راستے میں کئی جگہ ٹھہرنے کا ارادہ ہے دس دن یہاں پانچ دن وہاں لیکن پورے پندرہ دن ٹھہرنے کا کہیں ارادہ نہیں تب بھی مسافر رہے گا۔

مسئلہ :  کسی نے اپنا شہر بالکل چھوڑ دیا اور کسی دوسری جگہ گھر بنا لیا اور وہیں رہنے سہنے لگا، اب پہلے شہر سے اور پہلے گھر سے کچھ مطلب نہیں رہا، تو اب وہ شہر اور پردیس دونوں برابر ہیں تو اگر سفر کرتے وقت راستے میں پہلا شہر پڑے اور دو چار دن وہاں رہنا ہو تو مسافر رہے گا۔

مسئلہ :  اگر کسی کی نمازیں سفر میں قضا ہو گئیں تو گھر پہنچ کر بھی ظہر، عصر عشاء کی دو ہی رکعتیں قضا پڑھے، اور اگر سفر سے پہلے ظہر کی نماز قضا ہو گئی تو سفر کی حالت میں چار رکعتیں اس کی قضا پڑھے۔

مسئلہ :  بیاہ کے بعد اگر عورت مستقل طور پر سُسرال رہنے لگی تو اس کا اصلی گھر سُسرال ہے تو اگر تین منزل چل کر میکے گئی اور پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت نہیں ہے تو مسافر رہے گی، مسافرت کے قاعدے سے نماز روزہ ادا کرے اور اگر وہاں کا رہنا ہمیشہ دل میں نہیں تو جو وطن پہلے سے اصلی تھا وہ ہی اب بھی اصلی رہے گا۔

مسئلہ :  دریا میں کشتی چل رہی ہے  اور نماز کا وقت آگیا تو اسی کشتی پر نماز پڑھ لے اگر کھڑے ہو کر پڑھنے میں سر گھومنے لگے تو بیٹھ کر پڑھے۔

مسئلہ :  ریل پر نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے کہ چلتی ریل میں نماز پڑھنا درست ہے اگر کھڑے ہو کر پڑھنے سے سر گھومے یا گرنے کا خوف ہو تو بیٹھ کر پڑھے۔

مسئلہ :  نماز پڑھتے میں ریل پھر گئی اور قبلہ دوسری طرف ہو گیا تو نماز ہی میں گھوم جائے اور قبلہ کی طرف منہ کر لے۔

مسئلہ :  اگر کسی عورت کو تین منزل جانا ہو تو جب تک مردوں میں سے کوئی اپنا محرم یا شوہر ساتھ نہ ہو تو اس وقت تک سفر کرنا درست نہیں ہے۔ بے محرم کے ساتھ سفر کرنا بڑا گناہ ہے اور اگر ایک منزل یا دو منزل جانا ہو تب بھی بے محرم کے ساتھ جانا بہتر نہیں ۔

مسئلہ :  جس محرم کو خدا و رسول کا ڈر نہ ہو اور شریعت کی پابندی نہ کرتا ہو ایسے محرم کے ساتھ بھی سفر کرنا درست نہیں ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی عورت ایسی بیمار ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنا درست ہے تب بھی چلتے یکہ پر نماز پڑھنا درست نہیں جب تک گھوڑا کھول کر الگ نہ کر دیا جائے اس وقت تک اس پر نماز پڑھنا درست نہیں ، یہی حکم پالکی کا ہے۔

مسئلہ :  اگر اونٹ سے یا بہلی سے اترنے میں جان یا مال کا اندیشہ ہے تو بدون اترے بھی نماز درست ہے۔

مسافر کی نماز کے مسائل

مسئلہ :  بے مقیم کی اقتداء مسافر کے پیچھے ہر حال میں درست ہے خواہ ادا نماز ہو یا قضا، اور مسافر امام جب دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے تو مقیم مقتدی کو چاہئے کہ اپنی نماز اٹھ کر تمام کرے اور اس میں قرأت نہ کرے بلکہ چپ کھڑا رہے اس لئے کہ وہ لاحق ہے اور قعدۂ اولیٰ اس مقتدی پر بھی متابعت امام کی وجہ سے فرض ہو گا، مسافر امام کو مستحب ہے کہ اپنے مقتدیوں کو بعد دونوں طرف سلام پھیرنے کے فوراً اپنے مسافر ہونے کی اطلاع کر دے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ قبل نماز شروع کرنے کے بھی اپنے مسافر ہونے کی اطلاع کر دے۔

مسئلہ :  مسافر بھی امام کی اقتداء کرسکتا ہے مگر وقت کے اندر، اور وقت جاتا رہا تو فجر اور مغرب میں کرسکتا ہے اور ظہر، عصر اور عشاء میں نہیں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی مسافر حالت نماز میں اقامت کی نیت کر لے خواہ اوّل میں یا درمیان میں یا اخیر میں مگر سجدۂ سہو یا سلام سے پہلے تو اس کو وہ نماز پوری پڑھنا چاہئے اس میں قصر جائز نہیں ۔

نوافلِ سفر

مسئلہ :  جب کوئی شخص اپنے وطن سے سفر کرنے لگے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ دو رکعت گھر میں پڑھ کر سفر کرے اور جب سفر سے آئے تو مستحب ہے کہ پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ لے اس کے بعد اپنے گھر جائے، احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔

قضا نمازوں کے پڑھنے کا بیان

مسئلہ :  جس کی کوئی نماز چھوٹ گئی ہو تو جب یاد آئے فوراً اس کی قضا پڑھے، بلا عذر کے قضا پڑھنے میں دیر لگانا گناہ ہے، سو جس کی کوئی نماز قضا ہو گئی اور اس نے اس کی قضا فوراً نہ پڑھی دوسرے وقت پر یا دوسرے دن پر ٹال دی کہ فلاں دن پڑھ لوں گا اور اس دن سے پہلے ہی اچانک مر گیا تو دوسرا گناہ ہوا، ایک نماز کے قضا ہو جانے کا اور دوسرے فوراً قضا نہ پڑھنے کا۔

مسئلہ :  اگر کسی کی کئی نمازیں قضا ہو گئیں تو جہاں تک ہوسکے سب کی قضا پڑھ لے۔ ہو سکے تو ایک ہی وقت سب کی قضا پڑھ لے اور اگر بہت سی نمازیں کئی مہینے یا کئی برس کی قضا ہوں تو ان کی قضا میں بھی جہاں تک ہوسکے جلدی کرے ایک ایک وقت میں دو دو چار چار نمازیں قضا پڑھ لیا کرے اور اگر کوئی مجبوری اور نا چاری ہو تو خیر، ایک وقت میں ایک ہی نماز کی قضا سہی، یہ بہت کم درجہ کی بات ہے۔

مسئلہ :  قضا پڑھنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے جس وقت فرصت ملے وضو کر کے پڑھ لے البتہ اتنا خیال رکھے کہ مکروہ وقت نہ ہو۔

مسئلہ :  جس کی ایک ہی نماز قضا ہوئی اس سے پہلے اس کی کوئی نماز قضا نہیں ہوئی یا اس سے پہلے نمازیں قضا تو ہوئیں لیکن سب کی قضا پڑھ چکا ہے فقط اسی ایک نماز کی قضا پڑھنا باقی ہے تو پہلے اس کی قضا پڑھ لے تب کوئی ادا نماز پڑھے اگر بغیر قضا نماز پڑھے ہوئے ادا نماز پڑھی تو ادا درست نہیں ہوئی، قضا پڑھ کے پھر ادا پڑھے۔ ہاں اگر قضا پڑھنا یاد نہیں رہا بالکل بھول گیا تو ادا درست ہو گئی، اب جب یاد آئے تو فقط قضا پڑھ لے ادا کو نہ دہرائے۔

مسئلہ :  اگر وقت بہت تنگ ہے کہ اگر پہلے قضا پڑھے گا تو ادا نماز کا وقت باقی نہ رہے گا تو پہلے ادا پڑھ لے پھر قضا پڑھے۔

مسئلہ :  اگر دو یا تین یا چار یا پانچ نمازیں قضا ہو گئیں اور سوائے ان نمازوں کے اس کے ذمہ کسی اور نماز کی قضا  باقی نہیں ہے یعنی عمر بھر میں جب سے جوان ہوا ہے کبھی کوئی نماز قضا نہیں ہوئی یا قضا تو ہو گئی لیکن سب کی قضا پڑھ چکا ہے تو جب تک ان پانچوں کی قضا نہ پڑھ لے تب تک ادا نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور جب ان پانچوں کی قضا پڑھے تو اس طرح پڑھے کہ جو نماز سب سے اوّل چھوٹی ہے پہلے اس کی قضا پڑھے پھر اس کے بعد والی پھر اس کے بعد والی اسی ترتیب سے پانچوں کی قضا پڑھے اگر ترتیب کے خلاف پڑھی تو درست نہیں ہوئی پھر سے پڑھنا پڑے گی۔

مسئلہ :  اگر کسی کی چھ نمازیں قضا ہو گئیں تو اب بے اُن کی قضا پڑھے ہوئے بھی ادا نماز پڑھنا جائز ہے اور جب ان چھ نمازوں کی قضا پڑھے تو جو نماز سب سے اول قضا ہوئی ہے پہلے اس کی قضا پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ جو چاہے پہلے پڑھے اور جو چاہے پیچھے پڑھے سب جائز ہے اور اب ترتیب سے پڑھنا واجب نہیں ہے۔

مسئلہ :  کسی کے ذمہ چھ نمازیں یا بہت سی نمازیں قضا تھیں اس وجہ سے ترتیب سے پڑھنی اس پر واجب نہیں تھی لیکن اس نے ایک ایک دو دو کر کے سب کی قضا پڑھ لی اب کسی نماز کی قضا پڑھنا باقی نہیں رہا تو اب پھر جب ایک نماز یا پانچ نمازیں قضا ہو جائیں تو ترتیب سے قضا پڑھنا پڑیں گی اور بے ان پانچوں کی قضا پڑھے ادا پڑھنا درست نہیں البتہ اب پھر چھ نمازیں چھوٹ جائیں تو پھر ترتیب معاف ہو جائے گی۔ اور بغیر ان چھ نمازوں کی قضا پڑھے بھی ادا پڑھنا درست ہو گی۔

مسئلہ :  اگر وتر کی نماز قضا ہو گئی اور سوائے وتر کے کوئی اور نماز اس کے ذمہ قضا نہیں تو پھر بغیر وتر کی قضا پڑھے ہوئے فجر کی نماز پڑھنا درست نہیں ہے اگر وتر کا قضا ہونا یاد ہو پھر بھی پہلے قضا نہ پڑھے بلکہ فجر کی نماز پڑھ لے تو اب قضا پڑھ کے فجر کی نماز پھر پڑھنا پڑے گی۔

مسئلہ :  فقط عشاء کی نماز پڑھ کے سو رہا پھر تہجد کے وقت اٹھا اور وضو کر کے تہجد اور وتر کی نماز پڑھی پھر صبح کو یاد آیا کہ عشاء کی نماز بھولے سے بے وضو پڑھ لی تھی تو اب فقط عشاء کی قضا پڑھے وتر کی قضا نہ پڑھے۔

مسئلہ :  قضا فقط فرض نمازوں اور وتر کی پڑھی جاتی ہے سنتوں کی قضا نہیں ہے، البتہ اگر فجر کی نماز قضا ہو جائے تو اگر دوپہر سے پہلے پہلے قضا پڑھے تو سنت اور فرض دونوں کی قضا پڑھے اور اگر دوپہر کے بعد قضا پڑھے تو فقط دو رکعت فرض کی قضا پڑھے۔

مسئلہ :  اگر فجر کا وقت تنگ ہو گیا اس لئے فقط دو رکعت فرض پڑھ لئے سنت چھوڑ دی تو بہتر یہ ہے کہ سورج اونچا ہونے کے بعد سنت کی قضا پڑھ لے لیکن دوپہر سے پہلے ہی پہلے پڑھ لے۔

مسئلہ :  کسی بے نمازی نے توبہ کی تو جتنی نمازیں عمر بھر میں قضا ہوئی ہیں اس کی قضا پڑھنا واجب ہے، توبہ سے نمازیں معاف نہیں ہوتیں البتہ نہ پڑھنے سے جو گناہ ہوا تھا وہ توبہ سے معاف ہو گیا۔ اب ان کی قضا نہ پڑھے گا تو پھر گنہگار ہو گا۔

مسئلہ :  اگر کسی کی کچھ نمازیں قضا ہو گئی ہوں اور ان کی قضا پڑھنے کی ابھی نوبت نہیں آئی تو مرتے وقت نمازوں کی طرف سے فدیہ دینے کی وصیت کر جانا واجب ہے نہیں تو گناہ ہو گا اور نماز کے فدیہ کا بیان روزہ کے فدیہ کے ساتھ آئے گا۔ (انشاء اللہ)

مسئلہ :  اگر چند لوگوں کی نماز کسی وقت کی قضا ہو گئی تو ان کو چاہئے کہ اس نماز کو جماعت سے ادا کریں ۔ اگر بلند آواز کی نماز ہو تو بلند آواز کی قرأت کی جائے اور آہستہ آواز کی ہو تو آہستہ آواز سے۔

مسئلہ :  اگر کوئی نابالغ لڑکا عشاء کی نماز پڑھ کے سوئے اور بعد طلوع فجر کے بیدار ہو کر منی کا اثر دیکھے جس سے معلوم ہو کہ اس کو احتلام ہو گیا ہے تو بقول راجح اس کو چاہئے کہ عشاء کی نماز کا پھر اعادہ کرے اور قبل طلوع بیدار ہو کر منی کا اثر دیکھے تو بالاتفاق کی نماز قضا پڑھے۔

استخارہ کی نماز کا بیان

مسئلہ :  جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے صلاح لے لے۔ اس صلاح لینے کو استخارہ کہتے ہیں ، حدیث میں اس کی بہت ترغیب آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے صلاح نہ لینا اور استخارہ نہ کرنا بدبختی اور کم نصیبی کی بات ہے، کہیں منگنی کرے یا بیاہ کرے یا سفر کرے یا اور کوئی کام کرے تو بے استخارہ کئے نہ کرے، انشاء اللہ کبھی اپنے کئے پر پشیمان نہ ہو گا۔

مسئلہ :  استخارہ کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نفل نماز پڑھے اس کے بعد خوب دل لگا کر دعاء پڑھے۔

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ من فضلک العظیم فانک تقدروولا اقلہ وتعکم ولا اعلم وانت علام الغیوب ط اللھم ان کنت تعلم ان ہذا الامر خیر لی فی دینی ومعاشی و عاقبۃ امری فاقدرہ ویسرلی ثم بارک لی فیہ وان کنت تعلم ان ہذا الامر شر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ امری ناصر فہ عنی واصرفنی عنہ واقدر لی الخیر حیث کان ثم ارضنی بہ
اے اللہ میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ سے بھلائی مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تیرے بڑے فضل کا کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو بیشک پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ اگر تو اس کام کو میرے دین اور زندگی میں اور انجام کار میں میرے لئے بہتر جانتا ہے تواس کو  میرے لئے مقدر کر دے اور آسان کر دے اور اس میں میرے لئے برکت عطا فرما اور اگر یہ کام میرے دین اور زندگی میں اور انجام کار میں تو بُرا جانتا ہے تو اس کو مجھ سے پھیر دے اور مجھ کو اس سے پھیر دے اور جہاں بھی ہو بھلائی میرے مقدر کر دے ساتھ اپنی رحمت کے اور مجھ کو اس پر راضی کر دے۔

اور جب ہٰذَالْاَمْر پر پہنچے جس لفظ پر لکیر بنی ہے تو اس کے وقت اسی کام کا دھیان کر لے جس کے لئے استخارہ کرنا چاہتا ہے اس کے بعد پاک صاف بچھونے پر قبلہ کی طرف منہ کر کے با وضو سوجائے جب سو کر اٹھے اس وقت جو بات مضبوطی سے دل میں آئے وہی بہتر ہے اسی کو کرنا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر ایک دن میں کچھ معلوم نہ ہو اور دل کا خلجان اور تردّد نہ جائے تو دوسرے دن پھر ایسا ہی کرے، اسی طرح سات دن تک کرے انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس کام کی اچھائی برائی معلوم ہو جائے گی۔

مسئلہ :  اگر حج کے لئے جانا ہو تو یہ استخارہ نہ کرے کہ میں جاؤں یا نہ جاؤں بلکہ یوں استخارہ کرے کہ فلاں دن جاؤں یا نہ جاؤں ۔

خوف کی نماز

	جب کسی دشمن کا سامنا ہونے والا ہو خواہ دشمن انسان ہو یا کوئی درندہ جانور یا کوئی اژدہا وغیرہ اور ایسی حالت میں سب مسلمان یا بعض لوگ بھی مل کر جماعت سے نماز پڑھ سکیں اور سواریوں سے بھی اُترنے کی مہلت نہ ہو تو سب لوگوں کو چاہئے کہ سواریوں پر بیٹھے بیٹھے اشاروں سے تنہا پڑھ لیں استقبال بھی اس وقت شرط نہیں ۔ ہاں اگر دو آدمی ایک ہی سواری پر بیٹھے ہوں تو وہ دونوں جماعت کر لیں اور اس کی مہلت نہ ہو تو معذور ہیں اس وقت نماز نہ پڑھیں ۔ اطمینان کے بعد اس کی قضا پڑھ لیں اور اگر یہ ممکن ہو کہ کچھ لوگ جماعت سے نماز پڑھ سکیں اگرچہ سب آدمی نہ پڑھ سکتے ہوں تو ایسی حالت میں ان کو جماعت نہ چھوڑنا چاہئے، اس قاعدے سے نماز پڑھیں یعنی تمام مسلمانوں کے دو حصے کر دئے جائیں ۔ ایک حصہ ایک امام کے ساتھ پوری نماز پڑھ لے اور دشمن کے مقابلہ پر چلا جائے پھر دوسرا حصہ دوسرے شخص کو امام بنا کر پوری نماز پڑھ لے۔

نماز قتل اور نماز توبہ کا بیان

مسئلہ :  اگر کوئی بات خلافِ شرع ہو جائے تو دو رکعت نفل پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے خوب گڑا گڑا کر اس سے توبہ کرے اور اپنے کئے پر پچھتائے اور اللہ تعالیٰ سے معاف کرائے اور آئندہ کے لئے پکا ارادہ کرے کہ اب کبھی نہ کروں گا اس سے بفضلِ خداوند وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے۔

مسئلہ :  جب کوئی مسلمان قتل کیا جاتا ہو تو اس کو مستحب ہے کہ دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تاکہ یہی نماز و استغفار دنیا میں اس کا عمل آخر رہے۔

حدیث :  ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے چند قاریوں کو قرآن مجید کی تعلیم کے لئے کہیں بھیجا تھا۔ اثنائِ راہ میں کفار مکہ نے انہیں گرفتار کر لیا، سوا حضرت خبیبؓ کے اور سب کو وہیں قتل کر دیا گیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو مکہ میں لے جا کر بڑی دھوم اور بڑے اہتمام سے شہید کیا جب یہ شہید ہونے لگے تو ان لوگوں سے اجازت لے کر دو رکعت نماز پڑھی اس وقت سے یہ نماز مستحب ہو گئی۔

استسقاء کی نماز کا بیان

	جب پانی کی ضرورت ہو اور پانی نہ برستا ہو اس وقت پانی برسنے کی اللہ تعالیٰ سے دعاء کرنا مسنون ہے۔ استسقاء کے لئے دعا کرنا اس طریقے سے مستحب ہے کہ تمام مسلمان مل کر معہ اپنے بوڑھوں اور جانوروں کے پاپیادہ خشوع و عاجزی کے ساتھ معمولی لباس میں جنگل کی طرف جائیں اور توبہ کی تجدید کریں اور اہل حقوق کے حقوق ادا کریں اور اپنے ہمراہ کسی کافر کو نہ لے جائیں پھر دو رکعت بلا اذان و اقامت کے جماعت سے پڑھیں اور امام قرأت جہر سے پڑھے پھر دو خطبے پڑھے جس طرح عید کے روز کیا جاتا ہے پھر امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو جائے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے پانی برسانے کی دعا کرے اور سب حاضرین بھی دعا کریں ۔ تین روز متواتر ایسا ہی کریں ۔ تین روز بعد نہیں کیونکہ اس سے زیادہ ثابت نہیں اور اگر گھروں سے نکلنے سے پہلے یا ایک دن نماز پڑھ کر بارش ہو جائے تو جب بھی تین دن پورے کر دیں اور تینوں دنوں میں روزہ بھی رکھیں تو مستحب ہے اور جانے سے پہلے صدقہ خیرات کرنا بھی مستحب ہے۔

نماز کسوف و خسوف

مسئلہ :  کسوف (سورج گرہن) کے وقت دو رکعت نماز مسنون ہے۔

مسئلہ :  نماز کسوف جماعت سے ادا کی جائے بشرطیکہ امام جمعہ یا حاکم وقت یا اس کا نائب امامت کرے اور ایک روایت میں ہے کہ ہر امام اپنی مسجد میں نماز کسوف پڑھا سکتا ہے۔

مسئلہ :  نماز کسوف کے لئے اذان یا اقامت نہیں ہے اگر لوگوں کا جمع کرنا مقصود ہو تو  اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ پکار دیا جائے۔

مسئلہ :  نماز کسوف میں بڑی بڑی سورتوں کا مثل سورہ بقرہ وغیرہ کے پڑھنا اور رکوع و سجدوں کا بہت دیر تک ادا کرنا مسنون ہے اور قرأت آہستہ پڑھے۔

مسئلہ :  نماز کے بعد امام کو چاہئے کہ دعاء میں مصروف ہو جائے اور سب مقتدی آمین آمین کہیں جب تک کہ گرہن موقوف نہ ہو جائے دعا میں مشغول رہنا چاہئے ہاں اگر ایسی حالت میں آفتاب غروب ہو جائے یا کسی نما ز کا وقت آ جائے تو البتہ دعا کو موقوف کر کے نماز میں مشغول ہو جانا چاہئے۔

مسئلہ :  خسوف (چاند گرہن) کے وقت بھی دو رکعت نماز مسنون ہے مگر اس میں جماعت مسنون نہیں ۔ سب لوگ تنہا علیٰحدہ علیٰحدہ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھیں ۔

مسئلہ :  اسی طرح جب کوئی خوف یا مصیبت پیش آئے تو نماز پڑھنا مسنون ہے، مثلاً سخت آندھی چلے یا زلزلہ آئے یا بجلی گرے یا ستارے ٹوٹیں یا برف گرے یا پانی بہت برسے یا کوئی عام مرض مثل ہیضہ وغیرہ پھیل جائے یا کسی دشمن وغیرہ کا خوف ہو مگر ان اوقات میں جو نمازیں پڑھی جائیں ان میں جماعت نہ کی جائے ہر شخص اپنے گھر میں تنہا پڑھے۔ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی مصیبت یا رنج ہوتا تو نماز میں مشغول ہو جاتے۔
٭٭٭


کتاب الجمعہ

	اللہ تعالیٰ کو نماز سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں اور اسی واسطے کسی عبادت کی اس قدر سخت تاکید اور فضیلت شریعتِ صافیہ میں وارد نہیں ہوئی، شریعت نے ہفتے میں ایک دن ایسا مقرر فرمایا ہے جس میں مختلف محلّوں اور گاؤں کے مسلمان آپس میں جمع ہو کر اس عبادت کو ادا کریں اور چونکہ جمعہ کا دن تمام دنوں میں افضل و اشرف تھا لہٰذا یہ تخصیص اسی دن کے لئے کی گئی ہے۔

جمعے کے فضائل

۱۔	نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمام دنوں سے بہتر جمعہ کا دن ہے۔

۲۔	نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو ضرورت قبول ہو، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے سفر السعادت میں دو قولوں کو ترجیح دی ہے (۱) یہ کہ وہ ساعت خطبہ پڑھنے کے وقت سے نماز کے ختم ہونے تک ہے (۲) یہ کہ وہ ساعت اخیر دن میں ہے اور دوسرے قول کو ایک جماعتِ کثیرہ نے اختیار کیا ہے اور بہت سی احادیثِ صحیحہ اس کی موید ہیں ، شیخ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جمعہ کے دن کسی خادمہ کو حکم دیتی تھیں کہ جب جمعہ کا دن ختم ہونے لگے تو ان کو خیر دے تاکہ وہ اس وقت ذکرو دعاء میں مشغول ہو جائیں (۳) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کا دن افضل ہے اس دن کثرت سے مجھ پر درود شریف پڑھا کرو، وہ اسی دن میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے، صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ پر کیسے پیش کیا جاتا ہے حالانکہ بعد وفات آپ کی ہڈیاں بھی نہ ہوں گی۔ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے زمین پر انبیاء علیہم السلام کا بدن حرام کر دیا ہے۔

جمعہ کے آداب

(۱)	ہر مسلمان کو چاہئے کہ جمعہ کا اہتمام پنجشنبہ سے کرے پنجشنبہ (جمعرات) کے دن عصر کے بعد استغفار وغیرہ زیادہ کرے اور اپنے پہننے کے کپڑے صاف کر رکھے۔ اگر خوشبو گھر میں نہ ہو اور ممکن ہو تو اسی دن لا کر رکھے  تاکہ پھر جمعہ کے دن کاموں میں اس کو مشغول نہ ہونا پڑے  (۲) پھر جمعہ کے دن غسل کرے، سر کے بالوں کو اور بدن کو خوب صاف کرے اور مسواک کرنا بھی اس دن بہت فضیلت رکھتا ہے۔  (۳) جمعہ کے دن بعد غسل عمدہ سے عمدہ کپڑے جو اس کے پاس ہوں پہنے اور ممکن ہو تو خوشبو لگائے اور ناخن وغیرہ بھی کتروائے (۴) جامع مسجد میں بہت سویرے جائے جو شخص جتنی سویرے جائے گا اسی قدر اس کو ثواب زیادہ ملے گا  (۵) جمعہ کے دن پاپیادہ جانے میں ہر قدم پر ایک سال روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔ (۶) جمعہ کے دن خواہ نماز سے پہلے یا پیچھے سورہ کہف پڑھنے میں بہت ثواب ہے۔

جمعہ کی نماز کی فضیلت اور تاکید

	نماز جمعہ فرض عین ہے۔ قرآن مجید اور احادیث متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے اور اعظم شعائر اسلام سے ہے، منکر اس کا کافر ہے، اور بے عذر اس کا تارک فاسق ہے۔

(۱)	جب جمعہ کے لئے اذان کہی جائے تو تم اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو (قرآن) ذکرسے مراد اس آیت میں نماز جمعہ اور اس کا خطبہ ہے، دوڑنے سے مراد نہایت اہتمام کے ساتھ جانا ہے۔ (۲) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تین جمعے سستی سے یعنی بے عذر ترک کر دیتا ہے اس کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے۔

نماز جمعہ واجب ہونے کی شرطیں 

(۱) مقیم ہونا۔ پس مسافر پر نماز جمعہ واجب نہیں ۔ (۲) صحیح ہونا۔ مریض پر نماز جمعہ واجب نہیں ، جو مرض جامع مسجد تک پاپیادہ جانے سے مانع ہو اسی کا اعتبار ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے اگر کوئی شخص کمزور ہو گیا ہو کہ مسجد تک نہ جا سکے یا نابینا ہو، یہ سب لوگ مریض سمجھے جائیں گے اور نماز جمعہ ان پر واجب نہ ہو گی۔ (۳) آزاد ہونا۔ غلام پر نماز جمعہ واجب نہیں (۴) مرد ہونا، عورت پر نماز جمعہ واجب نہیں (۵) جماعت کے ترک کرنے کے لئے جو عذر اوپر بیان ہو چکے ہیں ان سے خالی ہونا، اگر ان عذروں میں سے کوئی عذر موجود ہو تو نماز جمعہ واجب نہ ہو گی۔ اگر کوئی شخص باوجود نہ پائے جانے ان شرطوں کے نماز جمعہ پڑھے تو نماز ہو جائے گی، یعنی ظہر کا فرض اس کے ذمہ سے اُتر جائے گا۔ مثلاً کوئی مسافر یا کوئی عورت نماز جمعہ پڑھے۔

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں 

(۱) مصر یعنی شہر یا قصبہ پس گاؤں یا جنگل میں نماز جمعہ درست نہیں البتہ جس گاؤں کی آبادی قصبہ کے برابر ہو مثلاً تین چار ہزار آدمی ہوں وہاں جمعہ درست ہے۔ (۲) ظہر کا وقت، پس ظہر سے پہلے اور ظہر کا وقت نکل جانے کے بعد نماز جمعہ درست نہیں حتی کہ اگر نماز جمعہ پڑھنے کی حالت میں وقت جاتا رہے تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ اگرچہ قعدۂ اخیرہ بقدر تشہد کے ہو چکا ہو، اور اسی وجہ سے نماز جمعہ قضا نہیں پڑھی جاتی۔ (۳) خطبہ یعنی لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ (۴) خطبہ کا نماز سے پہلے ہونا۔ اگر نماز کے بعد خطبہ پڑھا جائے تو نماز نہ ہو گی (۵) خطبہ کا نماز ظہر کے اندر ہونا، پس وقت آنے سے پہلے اگر خطبہ پڑھ لیا جائے تو نماز نہ ہو گی۔ (۶) عام اجازت کے ساتھ علی الاشتہار نماز جمعہ پڑھنا، پس کسی خاص مقام میں چھپ کر نماز جمعہ پڑھنا درست نہیں ۔ اگر کسی ایسے مقام میں نماز جمعہ پڑھی جائے تو نماز نہ ہو گی۔

جمعہ کے خطبہ کے مسائل

مسئلہ :  جب سب لوگ مسجد میں آ جائیں تو امام کو چاہئے کہ ممبر پر بیٹھ جائے اور مؤذن اس کے سامنے کھڑے ہو کر اذان کہے۔ بعد اذان کے فوراً امام کھڑے ہو کر خطبہ شروع کر دے۔

مسئلہ :  خطبہ میں بارہ چیزیں مسنون ہیں ۔ (۱) خطبہ پڑھنے کی حالت میں خطبہ پڑھنے والے کا کھڑا رہنا  (۲) دو خطبے پڑھنا  (۳) دونوں خطبوں کے درمیان میں اتنی دیر تک بیٹھنا کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکیں ۔ (۴) دونوں حدثوں سے پاک ہونا (۵) خطبہ پڑھنے کی حالت میں منہ لوگوں کی طرف رکھنا (۶) خطبہ شروع کرنے سے پہلے اپنے دل میں اعوذ باللہ من الشیطٰن الرَّجیم کہنا (۷) خطبہ ایسی آواز سے پڑھنا تاکہ لوگ سن سکیں ۔ (۸) خطبہ میں ان آٹھ قسم کے مضامین کا ہونا۔

	۱؎  اللہ تعالیٰ کا شکر  ۲؎  اور اس کی تعریف  ۳؎ خداوند کریم کی وحدت  ۴؎ اور نبی ﷺ کی شہادت  ۵؎  نبی ﷺ پر درود   ۶؎ وعظ و نصیحت   ۷؎ قرآن مجید کی آیتوں کا یا کسی سورت کا پڑھنا، دوسرے خطبہ میں ان چیزوں کا اعادہ کرنا۔  ۸؎  دوسرے خطبہ میں بجائے وعظ و نصیحت کے مسلمانوں کے لیے دعا کرنا۔   ۹؎  خطبہ کو زیادہ طول نہ دینا بلکہ نماز سے کم رکھنا،  ۱۰؎ خطبہ منبر پر پڑھنا، اگر منبر نہ ہو تو کسی لاٹھی وغیرہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا اور ہاتھ کا ہاتھ پر رکھ لینا منقول نہیں ،  ۱۱؎ دونوں خطبوں کا عربی زبان میں ہونا (اور کسی زبان میں خطبہ پڑھنا یا اس کے ساتھ کسی اور زبان کے اشعار ملا دینا خلاف سُنّتِ مؤکدہ اور مکروہ تحریمی ہے)  ۱۲؎ خطبہ سننے والوں کو قبلہ رو ہو کر بیٹھنا، دوسرے خطبہ میں نبی ﷺ کے آل و اصحاب و ازواجِ مطہرات خصوصاً خلفاء راشدین اور حضرت حمزہ و عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لئے دعا کرنا مستحب ہے۔ بادشاہِ اسلام کے لئے بھی دعا کرنا جائز ہے۔

مسئلہ :  جب امام خطبہ کے لئے اٹھ کھڑا ہو اس وقت سے کوئی نماز پڑھنا یا آپس میں بات چیت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ ہاں قضاء نماز کا پڑھنا صاحبِ ترتیب کے لئے اس وقت بھی جائز بلکہ واجب ہے۔

مسئلہ :  جب خطبہ شروع ہو جائے تو تمام حاضرین کو اس کا سُننا واجب ہے خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دور، اور کوئی ایسا فعل کرنا جو سننے میں مخل ہو مکروہ تحریمی ہے۔ اور کھانا پینا ، بات چیت کرنا، چلنا، پھرنا، سلام یا سلام کا جواب یا تسبیح پڑھنا یا کسی کو شرعی مسئلہ بتانا جیسا کہ حالتِ نماز میں ممنوع ہے ویسا ہی اس وقت بھی ممنوع ہے ہاں خطیب کو جائز ہے کہ خطبہ پڑھنے کی حالت میں کسی کو شرعی مسئلہ بتا دے۔

مسئلہ :  اگر سنت نفل پڑھتے میں خطبہ شروع ہو جائے تو سنتِ مؤکدہ تو پوری کر لے اور نفل میں دو رکعت پر سلام پھیر دے۔

مسئلہ :  دونوں خطبوں کے درمیان میں بیٹھنے کی حالت میں امام کو یا مقتدیوں کو ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا مکروہ تحریمی ہے، رمضان کے اخیر جمعہ کے خطبہ میں وداع و فراق کے مضامین پڑھنا نبی ﷺ اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے منقول نہیں ۔

مسئلہ :  خطبہ کسی کتاب وغیرہ سے دیکھ کر پڑھنا جائز ہے۔

مسئلہ :  نبی کریم ﷺ کا اسمِ مبارک اگر خطبہ میں آئے تو مقتدیوں کو اپنے دل میں درود شریف پڑھ لینا چاہئے۔

جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ کا خطبہ

	نبی کریم ﷺ کا خطبہ نقل کرنے سے یہ غرض نہیں کہ لوگ اسی خطبہ پر التزام کر لیں بلکہ کبھی کبھی بغرض تبرک و اتباع اس کو بھی پڑھ لیا جایا کرے آپ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب لوگ جمع ہو جاتے اس وقت آپ تشریف لاتے اور حاضرین کو سلام کرتے اور حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے جب اذان ختم ہو جاتی آپ کھڑے ہو جاتے اور معاً خطبہ شروع فرما دیتے جب تک منبر نہ بنا تھا کسی لاٹھی یا کمان سے ہاتھ کو سہارا دے لیتے اور کبھی کبھی اس لکڑی کے ستون سے جو محراب کے پاس تھا جہاں آپ خطبہ پڑھتے تھے تکیہ لگا لیتے تھے بعد منبر بن جانے کے پھر کسی لاٹھی وغیرہ سے سہارا دینا منقول نہیں ، دو خطبے پڑھتے اور دونوں کے درمیان میں کچھ تھوڑی دیر بیٹھ جاتے اور اس وقت کچھ کلام نہ کرتے۔ نہ دعا مانگتے، جب دوسرے خطبے سے آپ کو فراغت ہوتی تب حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہتے اور آپ نماز شروع فرماتے اکثر خطبے میں فرمایا کرتے تھے  بُعْثِتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْن  یعنی میں اور قیامت اس طرح ساتھ بھیجا گیا ہوں جیسے دو انگلیاں اور بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی کو ملا دیتے تھے اور اس کے بعد فرماتے تھے۔

اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہ وَخَیْرالْھَدیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ  وَّ شَرَّ الْاُمُوْرِ مُحَدَثَائَھا وَکُلَّ بِدْعَتِہ ضَلالَۃٌ اَنَا اَوْلٰے بِکُلِّ مُؤمِنٍ مِّنْ نَفْسِہِ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلا اَہْلِہٖ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْضِیَاعًا فَعَلَیَّ۔

سب سے اچھی بات کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سب سے اچھا طریقہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ دین میں سب سے بُرا کام دین میں نئی بات پیدا کرنا ہے کیونکہ اس سے لوگو گمراہ ہوتے ہیں ۔ میں ہر مومن کے ساتھ اس کی ذات سے زیادہ قریب ہوں مرتے وقت آدمی جو مال چھوڑے گا وہ اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا اولاد چھوڑے گا وہ میرے ذمہ ہے ۔

کبھی یہ خطبہ پڑھتے تھے۔

یَا اَیُّہَا النَّاسُ تُولو قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا وَبَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ الصَّالِحَۃِ وَصِلُوا الَّذِیْ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ رَبِّکُمْ بِکَثْرَۃِ ذِکْرِکُمْ لَہٗ وَکَثْرَۃ الصَّدَقَۃ بالسر والعلانیۃ  توجروا ونحمدوا و ترزقوا وعلموا ان اللہ قد فرض   علیکم الجمعۃ فکتوبۃ فی مقامی ہٰذا فی شہری ہذا فی عامی ہٰذا الی یوم القیامۃ من وجد الیہ سبیلا فمن ترکہا فی حیاتی او بعدی محودا بھا واستخفافا بھا ولہ امام جائر او عامل فلا جمع اللہ شملہ ولا بارک لہ فی امرہ الا ولا صلوۃ لہ الا ولا صوم لہ الا ولا ذکرۃ لہ الا ولا حج لہ الا ولا برلہ حتے یتوب فان تاب تاب اللہ الا تومن امرأۃ رجلا الا ولا یومن اعرابی مہاجرا الا ولا یومن فاجر مومنا الا ان یقہرہ سلطان یخاف سیفتوسوطہ۔

اے لوگو! مرنے سے پہلے توبہ کرو اور نیک کاموں میں جلدی کرو، اپنے اور اپنے خدا کے بیچ کلام پاک کی پڑھائی اور پوشیدہ علانیہ صدقے کی کثرت پیدا کرو تمہیں اس کا پھل ملے گا اور تمہاری تعریف کی جاوے گی تم کو روزی دی جائے گی اور جان  لو کہ اللہ نے تمہارے اوپر جمعہ فرض کیا ہے اس جگہ پر اس مہینے میں اس سال میں   قیامت تک جو آدمی راستہ پاتا ہے اس جمعہ کی طرف پھر جو بھی میری زندگی میں یا میرے بعد جمعہ کا انکار کرتے ہوئے اور اسے خاص نہ سمجھ کر اس لئے چھوڑے گا کہ اس کا امام ظالم ہے یا عالم تو اللہ اس کے حال کو ٹھیک کرے اور اس کے معاملات میں برکت دے، جمعہ چھوڑنے والی کی نہ نماز ہو گی نہ کوئی روزہ نہ زکوٰۃ ہو گی اور نہ اس کا حج، نہ اس کی کوئی نیکی قبول ہو گی جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے، پھر اگر توبہ کرے گا تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ خبردار کوئی عورت کسی مرد کی امامت نہ کرے نہ کوئی اعرابی کسی مہاجر کی اور نہ کوئی جھوٹا کسی سچے کی۔ لیکن اگر کسی بادشاہ یا حاکم کا ڈر ہو تو دوسری بات ہے۔

اور کبھی بعد حمد و صلوٰۃ کے یہ خطبہ پڑھتے تھے۔ 

الحمد للہ نحمدہ وستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیاٰتِ اعماانا من یھد اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشہد ان لآالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ ارسلہ بالحق بشیراً ونذیراً بین یدی الساعۃ من یطع اللہ ورسولہ نقد رشد واھتدیٰ ومن یعصھا فانہ لا یضرا لا نفسہ ولا یضر اللہ شیئا (ابوداؤد وغیرہ)

سب تعریف میں اللہ کے لئے ہی ہیں جس کی ہم تعریف کرتے ہیں اور نجات چاہتے ہیں ۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کی برائی سے اور اپنے برے کاموں سے ، جسے اللہ ہدایت دیتا ہے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں اور جس کا کوئی ساجھی نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اللہ نے حق کے ساتھ بھیجا ہے جو فرمانبرداروں کو خوشخبری دینے والے ہیں اور نافرمانوں کو ڈرانے والے ہیں قیامت آنے تک، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت پا گیا اور جو نافرمانی کرے گا وہ نقصان اٹھا گیا اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔

	ایک صحابیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سورہ قٓ خطبہ میں اکثر پڑھا کرتے تھے حتی کے میں نے سورہ  قٓ حضرت ہی سے سن کر یاد کی ہے۔ جب آپ منبر پر اس کو پڑھا کرتے تھے اور کبھی سورۃ العصر اور کبھی نایَسْتَویْ اصحاب النار و اصحاب الجنۃ ط  اصحاب الجنۃ ہم الفائزون ط  اور کبھی ونادوا یا مالک لیقض علینا ربک قال انکم ماکثون ط پڑھا کرتے تھے۔

نماز جمعہ کے مسائل

مسئلہ :  بہتر یہ ہے کہ جو شخص خطبہ پڑھے وہی نماز پڑھائے اور اگر دوسرا پڑھائے تب بھی جائز ہے۔

مسئلہ :  خطبہ ختم ہوتے ہی فوراً اقامت کہہ کر نماز شروع کر دینا مسنون ہے، خطبہ اور نماز کے درمیان میں کوئی دنیاوی کام کرنا مکروہ تحریمی ہے اگر وضو نہ رہے اور وضو کرنے  جائے یا بعد خطبے کے اس کو معلوم ہو کہ اس کو غسل کی ضرورت تھی اور غسل کرنے جائے تو کچھ کراہیت نہیں نہ خطبے کے اعادے کی ضرورت ہے ۔

مسئلہ :  نماز جمعہ اس نیت سے پڑھی جائے نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّی رَکْعَتِی الْفَرْضِ مِنْ صَلٰوۃِ الْجُمْعَۃِ  یعنی میں نے یہ ارادہ کیا کہ دو رکعت فرض نماز جمعہ پڑھوں ۔

مسئلہ :  بہتر یہ ہے کہ جمعہ کی نماز ایک مقام میں ایک ہی مسجد میں سب لوگ جمع ہو کر پڑھیں اگر ایک مقام کی متعدد مسجدوں میں بھی نماز جمعہ جائز ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی مسبوق قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھتے وقت یا سجدہ سہو کے بعد آ کر ملے تو اس کی شرکت صحیح ہو جائے گی اور اس کو جمعہ کی نماز تمام کرنا چاہئے۔ ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔
٭٭٭



عیدین کی نماز کا بیان

مسئلہ :  شوال کے مہینے کی پہلی تاریخ کو عید الفطر کہتے ہیں اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید الاضحی۔ یہ دونوں دن اسلام میں عید اور خوشی کے دن ہیں اور دونوں دنوں میں دو دو رکعت نماز بطور شکریہ کے پڑھنا واجب ہے۔ جمعہ کی نماز کی صحت و جوب کے لیے جو شرائط اوپر  ذکر ہو چکے ہیں وہی سب عیدین کی نماز میں بھی ہیں ۔ سوا خطبہ کے جمعہ کی نماز میں خطبہ فرض اور شرط ہے نماز سے پہلے پڑھا جاتا ہے اور عیدین کی نماز میں شرط یعنی فرض نہیں سنت ہے اور پیچھے پڑھا جاتا ہے مگر عیدین کے خطبہ کا سُننا بھی مثل جمعہ کے خطبے کے واجب ہے یعنی اس وقت بولنا، چالنا نماز پڑھنا سب حرا م ہے۔

مسئلہ :  عید الفطر کے دن تیرہ چیزیں مسنون ہیں ۔  ۱؎ شرع کے موافق اپنی آرائش کرنا  ۲؎ غسل کرنا   ۳؎ مسواک کرنا   ۴؎ عمدہ سے عمدہ کپڑے جو پاس موجود ہوں پہننا۔  ۵؎ خوشبو لگانا   ۶؎ صبح کو بہت سویرے اٹھنا   ۷؎ عید گاہ میں بہت سویرے جانا  ۸؎ قبل عیدگاہ جانے کے کوئی شیریں چیز مثل چھوارے وغیرہ کھانا   ۹؎  قبل عیدگاہ جانے صدقۂ فطر دے دینا  ۱۰؎ عید کی نماز عیدگاہ میں جا کر پڑھنا یعنی شہر کی مسجد میں بلا عذر نہ پڑھنا  ۱۱؎ جس راستے سے جانا اس کے سوا دوسرے راستے سے واپس آنا  ۱۲؎ پیادہ پا جانا اور راستے میں اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ  واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد  آہستہ آواز سے پڑھتے ہوئے جانا چاہئے۔

مسئلہ :  عید الفطر کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ نیت کرے  نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّیْ رَکْعَتِی الْوَاجِبْ صَلوۃَ الْعِیْدُ الْفِطْر مَعَ سِتَّ تَکْبِیْرَاتٍ وَاجِبَۃٍ ط یعنی میں نے یہ نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عید کی چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں یہ نیت کر کے ہاتھ باندھ لے اور سبحانک اللہم آخر تک پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہر مرتبہ مثل تکبیر تحریمہ کے دونوں کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور بعد تکبیر کے ہاتھ لٹکائے اور ہر تکبیر کے بعد اتنی دیر توقف کرے کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکیں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائے بلکہ باندھ لے اور اعوذ باللہ بسم اللہ پڑھ کر سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھ کر حسبِ دستور رکوع و سجدہ کر کے کھڑا ہو اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھ لے اس کے بعد تین تکبیریں اسی طرح کہے لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے اور پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے۔

مسئلہ :  عیدین کی نماز کے دو خطبے منبر پر کھڑے ہو کر پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان اتنی ہی دیر تک بیٹھے جتنی دیر جمعہ کے خطبہ میں ۔

مسئلہ :  بعد نماز عیدین کے دعا مانگنا گو نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ اور تبع تابعین رضی اللہ عنہم سے منقول نہیں مگر چونکہ عموماً ہر نماز کے بعد دعا مانگنا مسنون ہے اس لئے بعد نماز عیدین بھی دعا مانگنا مسنون ہو گا۔

مسئلہ :  عیدین کے خطبے میں پہلے تکبیر سے ابتدا کرے پہلے خطبہ میں نو مرتبہ اللہ اکبر کہے، دوسرے میں سات مرتبہ۔

مسئلہ :  عید الاضحی کی نماز کا بھی یہی طریقہ ہے اور اس میں بھی وہ سب چیزیں مسنون ہیں جو عید الفطر میں ، فرق صرف اس قدر ہے کہ عید الاضحی کی نیت میں بجائے عید الفطر کے عید الاضحی کا لفظ داخل کرے، عید الفطر میں عیدگاہ جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا مسنون ہے یہاں نہیں اور عید الفطر میں راستے میں چلتے وقت آہستہ تکبیر کہنا مسنون ہے اور یہاں بلند آواز سے اور عید الفطر کی نماز دیر کر کے پڑھنا مسنون ہے اور عید الاضحی کی سویرے اور یہاں صدقہ فطر نہیں بلکہ بعد میں قربانی ہے۔ اہلِ وسعت پر اور اذان و اقامت نہ یہاں پر ہے نہ وہاں پر۔

مسئلہ :  جہاں عید کی نماز پڑھائی جائے  وہاں اس دن اور کوئی نماز پڑھنا مکروہ ہے، نماز سے پہلے بھی اور پیچھے، ہاں بعد نماز کے گھر میں آ کر نماز پڑھنا مکروہ نہیں اور قبل نماز کے یہ بھی مکروہ ہے۔

مسئلہ :  عید الفطر کے خطبہ میں صدقۂ فطر کے احکام اور عید الاضحی کے خطبہ میں قربانی کے مسائل اور تکبیر تشریق کے احکام بیان کرنا چاہئیں ۔ تکبیر تشریق یعنی ہر فرض عین نماز کے بعد ایک مرتبہ  اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَللّٰہُ اَکْبَرُاَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْد ط کہنا واجب ہے بشرطیکہ وہ فرض جماعت سے پڑھا گیا ہو۔ اور وہ مقام مصر ہو، یہ تکبیر عورت اور مسافر پر واجب نہیں ۔ اگر یہ شخص کسی ایسے شخص کے مقتدی ہوں جس پر تکبیر واجب ہے تو ان پر بھی واجب ہو جائے گی۔

	لیکن اگر منفرد اور عورت اور مسافر بھی کہہ لے تو بہتر ہے کہ صاحبین کے نزدیک ان سب پر واجب ہے۔

مسئلہ :  یہ تکبیر عرفہ یعنی نویں تاریخ کی فجر سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک کہنا چاہئے۔ یہ سب تیئیس نمازیں ہوئیں جن کے بعد تکبیر واجب ہے۔

مسئلہ :  اس تکبیر کا بلند آواز سے کہنا واجب ہے ہاں عورتیں آہستہ آواز سے کہیں ۔

مسئلہ :  نماز کے فوراً بعد تکبیر کہنا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر امام تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ فوراً تکبیر کہہ دیں انتظار نہ کریں کہ جب امام کہے تو کہیں ۔

مسئلہ :  عید الاضحی کی نماز کے بعد بھی تکبیر کہہ لینا بعض کے نزدیک واجب ہے۔

مسئلہ :  عیدین کی نماز بالاتفاق متعدد مساجد میں جائز ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی کو عید کی نماز نہ ملی اور سب لوگ پڑھ چکے ہوں تو وہ شخص تنہا عید کی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے کہ جماعت اس میں شرط ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص شریکِ نماز ہوا ہو اور کسی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہو گئی ہو وہ بھی اس کی قضا نہیں پڑھ سکتا نہ اس کی اس پر قضا واجب ہے۔ ہاں اگر کچھ لوگ اور بھی اس کے ساتھ شریک ہو جائیں تو پڑھنا واجب ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی عذر سے پہلے دن نماز نہ پڑھے جا سکے تو عید الفطر کی نماز دوسرے دن اور عید الاضحی کی بارہویں تاریخ تک تاخیر کرنے سے نماز ہو جائے گی مگر مکروہ ہے اور عید الفطر میں بے عذر تاخیر کرنے سے بالکل نماز نہ ہو گی۔

مسئلہ :  اگر کوئی عید کی نماز میں ایسے وقت شریک ہوا کہ امام تکبیروں سے فراغت کر چکا ہو تو اگر قیام میں آ کر شریک ہوا ہو تو فوراً بعد نیت باندھنے کے تکبیریں کہہ لے اگرچہ امام قرأت شروع کر چکا ہو اور اگر رکوع میں آ کر شریک ہوا ہو تو اگر غالب گمان ہو کہ تکبیروں کی فراغت کے بعد امام کا رکوع مل جائے گا تو نیت باندھ کر تکبیریں کہہ لے بعد اس کے رکوع میں جائے اور اگر رکوع نہ ملنے کا خوف ہو تو رکوع میں شریک ہو جائے۔ حالتِ رکوع میں بجائے تسبیح تکبیریں کہہ لے مگر حالتِ رکوع میں تکبیریں کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر قبل اس کے کہ پوری تکبیریں کہہ چکے امام رکوع سے سر اٹھا لے تو یہ بھی کھڑا ہو جائے اور جس قدر تکبیریں رہ گئی ہیں وہ اس کو معاف ہیں ۔

مسئلہ :  اگر کسی کی ایک رکعت عید کی نماز میں چلی جائے تو جب وہ اس کو ادا کرنے لگے تو پہلے قرأت کرے اس کے بعد تکبیریں کہے، اگر امام تکبیریں کہنا بھول جائے اور رکوع میں اس کو خیال آئے تو اس کو چاہئے کہ حالتِ رکوع میں تکبیریں کہہ لے پھر قیام کی طرف نہ لوٹے اور اگر لوٹ جائے تب بھی جائز ہے یعنی نماز فاسد نہ ہو گی لیکن ہر حالت میں بوجہ کثرت اژدہام کے سجدۂ سہو نہ کرے۔	٭٭٭



کعبۂ مکرّمہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان

مسئلہ :  جیسا کہ کعبہ شریف کے باہر اس کے رخ پر نماز پڑھنا درست ہے ویسا ہی کعبہ مکرمہ کے اندر بھی نماز پڑھنا درست ہے استقبال قبلہ ہو جائے گا۔ خواہ جس طرف پڑھے اس وجہ سے کہ وہاں چاروں طرف قبلہ ہے جس طرف منہ کیا جائے کعبہ ہی کعبہ ہے اور جس طرح نفل اسی طرح فرض نماز بھی۔

مسئلہ :  کعبہ کے اندر تنہا نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور جماعت سے بھی اور وہاں یہ بھی شرط نہیں کہ امام اور مقتدیوں کا منہ ایک ہی طرف ہو اس لئے کہ وہاں ہر طرف قبلہ ہے، ہاں یہ شرط ضروری ہے کہ مقتدی امام سے آگے بڑھ کر نہ کھڑے ہوں اگر مقتدی کا منہ امام کے سامنے ہو تب بھی درست ہے مگر وہاں اس صورت میں نماز مکروہ ہو گی اس لئے کہ کسی آدمی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر کوئی چیز بیچ میں حائل کر لی جائے تو یہ کراہت نہ رہے گی۔

مسئلہ :  اور اگر سب کعبہ کے باہر ہوں اور ایک طرف امام ہو اور چاروں طرف مقتدی حلقہ باندھے ہوئے ہوں جیسا کہ عام عادت وہاں اسی طرح نماز پڑھنے کی ہے تو بھی درست ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جس طرف امام کھڑا ہے اس طرف کوئی مقتدی بہ نسبت امام کے خانہ کعبہ کے نزدیک نہ ہو کیونکہ اس صورت میں وہ امام سے آگے سمجھا جائے گا جو کہ مانع اقتداء ہے البتہ دوسری طرف کے مقتدی خانہ کعبہ سے بہ نسبت امام کے نزدیک بھی ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں اور اس کی یہ صورت ہے۔
٭٭٭



کتاب الجنائز

مسئلہ :  جب آدمی مرنے لگے تو اس کو چت لٹا دو اور اس کے پیر قبلہ کی طرف کر دو، سر اونچا کر دو تاکہ منہ قبلہ کی طرف ہو جائے اور اس کے پاس بیٹھ کر کلمہ طیبہ زور زور سے پڑھو تاکہ تم کو پڑھتے سن کر خود بھی کلمہ پڑھنے لگے اور اس کو کلمہ پڑھنے کا حکم نہ کرو، کیونکہ وہ وقت بڑا مشکل ہے نہ معلوم اس کے منہ سے کیا نکل جائے۔

مسئلہ :  جب وہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے تو چب رہو یہ کوشش نہ کرو کہ کلمہ برابر جاری رہے  اور پڑھتے پڑھتے دم نکلے۔ کیونکہ مطلب تو فقط اتنا ہے کہ سب سے آخری بات جو اس کے منہ سے نکلے کلمہ ہونا چاہئے اس کی ضرورت نہیں کہ دم ٹوٹتے تک کلمہ برابر جاری رہے۔ ہاں اگر کلمہ پڑھ لینے کے بعد پھر کوئی بات چیت کرے تو پھر کلمہ پڑھنے لگو، جب وہ پڑھ لے تو چُپ ہو جاؤ۔

مسئلہ :  جب سانس اکھڑ جائے اور جلدی جلدی چلنے لگے اور ٹانگیں ڈھیلی پڑ جائیں کہ کھڑی نہ ہوسکیں اور ناک ٹیڑھی ہو جائے اور کنپٹیاں بیٹھ جائیں تو سمجھو کہ اس کی موت آ گئی، اس وقت کلمہ زور زور سے پڑھنا شروع کرو۔

مسئلہ :  سورہ یٰسین پڑھنے سے موت کی سختی کم ہوتی ہے اس کے سرہانے یا اور کہیں اس کے پاس بیٹھ کر پڑھو یا کسی سے پڑھوا دو۔

مسئلہ :  اس وقت کوئی ایسی بات نہ کرو کہ اس کا دل دنیا کی طرف مائل ہو جائے کیونکہ یہ وقت دنیا سے جدائی اور اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں حاضری کا ہے ایسے کام کرو، ایسی باتیں کرو تاکہ دل دنیا سے پھر کر اللہ کی طرف ہو جائے کہ مُردے کی خیر خواہی اسی میں ہے ایسے وقت بال بچّوں کو سامنے لانا اور کوئی چیز جس سے اس کو زیادہ رغبت تھی اس کے سامنے لانا ایسی باتیں کرنا کہ دل اس کا ان کی طرف متوجہ ہو جائے اور ان کی محبت ا س کے دل میں سما جائے بڑی بری بات ہے، دنیا کی محبت لے کر رخصت ہوا تو نعوذ باللہ بُری موت مرا۔

مسئلہ :  جب مر جائے تو سب عضو درست کر دو اور کسی کپڑے سے اس کا منہ  اس ترکیب سے باندھو کہ کپڑا ٹھوڑی کے نیچے سے نکال کر اس کے دونوں سرے سر پر لے جائے اور گرہ لگا دو تاکہ منہ پھیل نہ جائے اور آنکھیں بند کر دو اور پیر کے دونوں انگوٹھے ملا کر باندھ دو ٹانگیں پھیل نہ جائیں پھر چادر اُڑھا دو اور نہلانے اور کفنانے میں جہاں تک ہوسکے جلدی کرو۔

مسئلہ :  منہ وغیرہ بند کرتے وقت یہ دعا پڑھو۔ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ط

مسئلہ :  مر جانے کے بعد اس کے پاس لوبان وغیرہ کچھ خوشبو سُلگا دی جائے اور حیض و نفاس والی عورت اور جس کو نہانے کی ضرورت ہو اس کے پاس نہ رہے۔

مسئلہ :  مر جانے کے بعد جب تک اس کو غسل نہ دیا جائے اس کے پاس قرآن مجید پڑھنا درست نہیں ۔

نہلانے کا بیان

مسئلہ :  جب گور کفن کا سب سامان ہو جائے اور نہلانا چاہو تو پہلے کسی تخت یا بڑے تختے کو لوبان یا اگر بتی وغیرہ خوشبودار چیز کی دھونی دے دو، تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ چاروں طرف دھونی دے کر مُردے کو اس پر لٹا دو اور کپڑے اتار لو اور کوئی کپڑا ناف سے لے کر زانوؤں تک ڈال دو کہ اتنا بدن چھپا رہے۔

مسئلہ :  اگر نہلانے کی کوئی جگہ الگ ہے کہ پانی کہیں الگ بہہ جائے گا تو خیر،  نہیں تو تخت کے نیچے گڑھا کھدوا لو کہ سارا پانی اسی میں جمع رہے۔

مسئلہ :  نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مردے کو استنجا کرا دو لیکن اس کی رانوں اور استنجے کی جگہ اپنا ہاتھ مت لگاؤ، اور اس پر نگاہ بھی نہ ڈالو، بلکہ اپنے ہاتھ میں کوئی کپڑا لپیٹ لو اور جو کپڑا ناف سے لے کر زانو تک پڑا ہے اس کے اندر تک دھلاؤ پھر اس کو وضو کرا دو، لیکن نہ کلی کراؤ، نہ ناک میں پانی ڈالو اور نہ پہنچوں تک ہاتھ دھلاؤ بلکہ پہلے منہ دھلاؤ، پھر ہاتھ کہنی سمیت، پھر سر کا مسح، پھر دونوں پیر اور اگر تین دفعہ روئی تر کر کے دانتوں اور مسوڑھوں پر پھیر دی جائے اور ناک کے دونوں سوراخوں میں پھیر دی جائے تو بھی جائز ہے اور اگر مردہ ناپاکی کی حالت میں یا حیض و نفاس میں مر جائے تو اس طرح سے منہ اور ناک میں پانی پہنچانا ضروری ہے اور ناک اور منہ اور کانوں میں روئی بھر دو تاکہ وضو کراتے وقت اور نہلاتے وقت پانی نہ جانے پائے جب وضو کرا چکو تو سر کو گلِ خیرو یا کسی اور چیز سے جس سے صاف ہو جائے یا بیسن یا صابن مل کر دھوئے اور صاف کر کے پھر مردے کو بائیں کروٹ پر لٹا کر بیری کے پتے ڈال کر پکایا ہوا پانی نیم گرم تین دفعہ سر سے پیر تک ڈالے یہاں تک کہ بائیں کروٹ تک پہنچ جائے پھر داہنی کروٹ پر لٹائے اور اسی طرح سر سے پیر تک تین دفعہ اتنا پانی ڈالے کہ داہنی کروٹ تک پہنچ جائے اس کے بعد مردے کو اپنے بدن کی ٹیک لگا کر ذرا بٹھلائے اور اس کے پیٹ کو آہستہ آہستہ ملے اور دبائے اگر پاخانہ نکلے تو اس کو صاف کر کے دھو ڈالے اور وضو اور غسل میں اس کے نکلنے سے کچھ نقصان نہیں اب نہ دوہراؤ، اس کے بعد پھر اس کو دائیں کروٹ پر لٹائیے اور کافور پڑا ہوا پانی سر سے پیر تک تین دفعہ ڈالے پھر سارا بدن کسی کپڑے سے صاف کر کے کفنا دے۔

مسئلہ :  اگر بیری کے پتے ڈال کر پکایا ہوا پانی نہ ہو تو یہی سادہ نیم گرم پانی کافی ہے اس سے اسی طرح تین دفعہ نہلا دے اور بہت تیز گرم پانی سے مردے کو نہ نہلاؤ اور نہلانے کا یہ طریقہ جو بیان ہوا سنت ہے اگر کوئی اس طرح تین دفعہ نہ نہلائے بلکہ ایک دفعہ سارے بدن کو دھو ڈالے تب بھی فرض ادا ہو گیا۔

مسئلہ :  جب مردے کو کفن پر رکھو تو سر پر عطر لگا دو اور اگر مردہ مرد ہو تو داڑھی پر بھی عطر لگا دو، پھر پیشانی ناک اور دونوں ہتھیلی اور گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر کافور مل دو، بعضے بعضے کفن میں عطر لگاتے ہیں اور کان میں پھریری رکھ دیتے ہیں یہ سب جہالت ہے، جتنا شرع میں حکم آیا ہے اس سے زائد مت کرو۔

مسئلہ :  بالوں میں کنگھی نہ کرو، نہ ناخن کاٹو، نہ کہیں کے بال کاٹو سب اسی طرح رہنے دو۔

مسئلہ :  اگر کوئی مرد مر گیا اور مردوں میں سے کوئی نہلانے والا نہیں تو جو عورت اس کی محرم ہے وہی نہلائے۔ غیر محرم کو ہاتھ لگانا درست نہیں ۔ اگر کوئی محرم عورت نہ ہو تو اس کو تیمم کرا دو، لیکن اس کے بدن پر ہاتھ نہ لگاؤ بلکہ اپنے ہاتھ میں پہلے دستانے پہن لو تب تیمم کراؤ۔

مسئلہ :  کسی کا خاوند مرگیا تو اس کی بیوی کو اسے نہلانا اور کفنانا درست ہے اور اگر بیوی مر جائے تو خاوند کو بدن چھونا اور ہاتھ لگانا درست نہیں البتہ دیکھنا درست ہے اور کپڑے کے اوپر سے ہاتھ بھی لگانا درست ہے۔

مسئلہ :  جو عورت حیض یا نفاس سے ہو وہ مردے کو نہ نہلائے کہ یہ مکروہ ہے اور منع ہے۔

مسئلہ :  بہتر یہ ہے کہ جس عورت کا رشتہ زیادہ قریب ہو وہ نہلائے اور اگر وہ نہ نہلا سکے تو کوئی اور دیندار نیک عورت نہلائے۔

مسئلہ :  اگر نہلانے میں کوئی عیب دیکھے تو کسی سے نہ کہے ہاں اگر وہ کھلم کھلا کوئی گناہ کرتا ہو جیسے کوئی شرابی ہو یا زانی ہو یا کوئی عورت ناچتی تھی یا گانے بجانے کا پیشہ کرتی تھی یا رنڈی تھی تو ایسی باتیں کہہ دینا درست ہیں اور لوگ ایسی باتیں کرنے سے بچیں اور توبہ کریں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص دریا میں ڈوب کر مرگیا ہو تو وہ جس وقت نکالا جائے اس کو غسل دینا واجب ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی آدمی کا صرف سر کہیں دیکھا جائے تو اس کو غسل نہ دیا جائے گا، بلکہ یوں ہی دفن کر دیا جائے گا، اور اگر کسی آدمی کا بدن نصف سے زیادہ کہیں ملے تو اس کو غسل دینا ضروری ہے خواہ سر کے ساتھ ملے یا بے سر کے  اور اگر نصف سے زیادہ نہ ہو بلکہ نصف ہو تو اگر سر کے ساتھ ملے تو غسل دیا جائے گا ورنہ نہیں اور اگر نصف سے کم ہو تو غسل نہ دیا جائے گا خواہ سر کے ساتھ ہو یا بے سر کے ۔

مسئلہ :  اگر کسی کا کوئی عزیز کافر ہو اور وہ مر جائے تو اس کی نعش اس کے ہم مذہب کو دے دی جائے گی اگر اس کا کوئی ہم مذہب نہ ہو یا ہو مگر لینا قبول کرے تو بدرجہ مجبوری وہ مسلمان اس کافر کو غسل دے گر مسنون طریقے سے نہیں یعنی اس کو وضو نہ کرائے اور سر اس کا صاف نہ کرایا جائے، کافور وغیرہ اس کے بدن میں نہ ملا جائے بلکہ جس طرح نجس چیز کو دھوتے ہیں اسی طرح اس کو دھوئیں اور کافر دھونے سے پاک نہ ہو گا۔

مسئلہ :  باغی لوگ یا ڈاکو اگر مارے جائیں تو ان کے مردوں کو غسل نہ دیا جائے بشرطیکہ عین لڑائی کے وقت مارے گئے ہوں ۔

مسئلہ :  مرتد اگر مر جائے تو اس کو بھی غسل نہ دیا جائے  اور اس اہلِ مذہب اس کی نعش مانگیں تو ان کو بھی نہ دی جائے۔

مسئلہ :  اگر پانی نہ ہونے کے سبب سے کسی میت کو تیمم کرایا گیا اور پھر پانی مل جائے تو اس کو غسل دے دینا چاہئے۔

کفنانے کا بیان

مسئلہ :  مرد کا کفن تین کپڑے ہیں ، ایک چادر ایک اِزار اور ایک کُرتہ۔

مسئلہ :  مرد کے کفن میں اگر دوہی کپڑے ہوں یعنی چادر اور اِزار ہو اور کرتہ نہ ہو تب بھی کچھ حرج نہیں ، دو کپڑے بھی کافی ہیں اور دو سے کم دینا مکروہ ہے لیکن اگر کوئی مجبوری اور لاچاری ہو تو مکروہ بھی نہیں ۔

مسئلہ :  عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا سنت ہے، ایک کرتہ دوسرے اِزار، تیسرے سینہ بند، چوتھے چادر، پانچویں سر بند، اِزار سر سے لے کر پاؤں تک ہونا چاہئے اور چادر اس سے ایک ہاتھ بڑی ہو اور کرتہ گلے سے لے کر پاؤں تک ہو لیکن نہ اس میں کلیاں ہوں نہ آستینیں اور سربند تین ہاتھ لمبا ہو اور سینہ بند چھاتیوں سے لے کر رانوں تک چوڑا اور اتنا لمبا ہو کہ بندھ جائے۔

مسئلہ :  اگر کوئی پانچ کپڑوں میں نہ کفنائے بلکہ فقط تین کپڑے کفن میں دے ، ایک ازار، دوسرے چادر، تیسرے سربند تو یہ بھی درست ہے اور اتنا کفن بھی کافی ہے اور تین کپڑوں سے بھی کم دینا مکروہ اور برا ہے، ہاں اگر کوئی مجبوری اور لاچاری ہو تو کم دینا بھی سنت ہے۔

مسئلہ :  سینہ بند اگر چھاتیوں سے لے کر ناف تک ہو تب بھی درست ہے، لیکن زانوؤں تک ہونا زیادہ اچھا ہے۔

مسئلہ :  پہلے کفن کو تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ لوبان وغیرہ کی دھونی دے دو، تب اس میں مُردے کو کفنا دو۔

مسئلہ :  کفنانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے چادر بچھاؤ، پھر ازار اس کے اوپر کرتہ، پھر مردے کو اس کے اوپر لے جا کر پہلے کرتہ پہناؤ اور سر کے بالوں کو دو حصے کر کے کرتے کے اوپر سینے پر ڈال دو، ایک حصہ داہنی طرف اور ایک بائیں طرف اس کے بعد کے بند سر پر اور بالوں پر ڈال دو، اس کو نہ باندھو، نہ لپیٹو پھر ازار لپیٹ دو پہلے بائیں طرف لپیٹو پھر دائیں طرف۔ اس کے بعد سینہ باندھو پھر چادر لپیٹو پہلے بائیں طرف پھر دائیں طرف۔ پھر کسی دھجی سے پیر اور سر کی طرف کفن باندھ دو اور ایک بند سے کمر کے پاس بھی باندھ دو کہ راستے میں کہیں کھل نہ پڑے۔

مسئلہ :  سینہ بند کو اگر سر بند کے بعد اِزار لپیٹنے سے پہلے ہی باندھ دیا تو یہ بھی جائز ہے اور اگر سب کفنوں کے اوپر سے باندھے تو بھی درست ہے۔

مسئلہ :  جب کفنا چکو تو رخصت کرو کہ مرد لوگ نماز پڑھ کر دفنا دیں ۔

مسئلہ :  اگر عورتیں جنازے کی نماز پڑھ دیں تو بھی جائز ہے۔

مسئلہ :  کفن میں یا قبر میں عہد نامہ یا اپنے پیر کا شجرہ یا اور کوئی دعا رکھنا درست نہیں ،  اسی طرح کفن یا سینہ پر کافور یا روشنائی سے کلمہ وغیرہ بھی لکھنا درست نہیں ۔ البتہ کعبہ شریف کا غلاف یا اپنے پیر کا رومال وغیرہ کوئی کپڑا تبرکا رکھ دینا درست ہے۔

مسئلہ :  جو بچہ زندہ پیدا ہوا پھر تھوڑی ہی دیر میں مرگیا یا فوراً پیدا ہونے کے بعد ہی مرگیا تو وہ بھی اسی قاعدے سے نہلایا جائے اور کفنانے کے بعد نمازِ جنازہ پڑھی جائے پھر دفن کر دیا جائے اور اس کا نام بھی کچھ رکھ دیا جائے۔

مسئلہ :  جو لڑکا ماں کے پیٹ سے مرا ہوا پیدا ہوا اور پیدا ہوتے وقت زندگی کی کوئی علامت نہیں پائی گئی اس کو بھی اسی طرح نہلاؤ لیکن قاعدے کے موافق کفن نہ دو بلکہ کسی ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دو اور نام اس کا کچھ نہ کچھ رکھ دینا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر چھوٹی لڑکی مر جائے جو ابھی جوان نہیں ہوئی لیکن جوانی کے قریب پہنچ گئی تو اس کے بھی وہی پانچ کپڑے سنت ہیں جو جوان عورت کے لئیے ہیں اگر پانچ کپڑے نہ دو تو تین ہی کپڑے دو تب بھی کافی ہیں غرض یہ کہ جو حکم سیانی عورت کا ہے وہی کنواری اور چھوٹی لڑکی کا بھی ہے مگر سیانی کے لئے وہ حکم تاکیدی ہے اور کم عمر کے لئے بہتر ہے۔

مسئلہ :  جو لڑکی بہت چھوٹی ہو اور جوانی کے قریب بھی نہ ہوئی ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ پانچ کپڑے دئے جائیں اور دو کپڑے دینا بھی درست ہے ایک اِزار اور ایک چادر۔

مسئلہ :  جو چادر جنازے کے اوپر یعنی چارپائی پر ڈالی جاتی ہے وہ کفن میں شامل نہیں ہے کفن فقط اتنا ہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔

مسئلہ :  جس شہر میں کوئی مرے وہیں اس کو گورو کفن کیا جائے دوسری جگہ لے جانا بہتر نہیں ہے البتہ کوئی جگہ کوس آدھ کوس ہو تو وہاں لے جانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

مسئلہ :  اگر حمل گر جائے تو اگر بچہ کے ہاتھ پاؤں ، منہ، ناک وغیرہ کچھ نہ بنے ہوں تو نہ نہلائے اور نہ کفنائے کچھ بھی نہ کرے بلکہ کسی کپڑے میں لپیٹ کر ایک گڑھا کھود کر گاڑ دو اور اگر اس بچے کے کچھ عضو بن گئے ہوں تو اس کا وہی حکم ہے جو مردہ بچہ پیدا ہونے کا ہے یعنی نام رکھا جائے اور نہلایا جائے لیکن قاعدے کے موافق کفن نہ دیا جائے نہ نماز پڑھی جائے بلکہ کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے۔

مسئلہ :  لڑکے کا فقط سر نکلا اس وقت وہ زندہ تھا پھر مرگیا تو اس کا وہی حکم ہے جو مردہ پیدا ہونے کا ہے۔ البتہ اگر زیادہ حصہ نکل آیا اس کے بعد مرا تو ایسا سمجھیں گے کہ زندہ پیدا ہوا۔ اگر سر کی طرف پیدا ہوا تو سینے تک نکلنے سے سمجھیں گے کہ زیادہ حصّہ نکل آیا اور اگر اُلٹا پیدا ہوا تو ناف تک نکلنا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر انسان کا کوئی عضو یا نصف جسم بغیر سر کے پایا جائے تو اس کو بھی کسی نہ کسی کپڑے میں لپیٹ دینا کافی ہے ہاں اگر نصف جسم کے ساتھ سر بھی ہو یا نصف سے زیادہ حصہ جسم کا ہو کر سر نہ ہو پھر کفن مسنون دینا چاہئے۔

مسئلہ :  کسی انسان کی قبر کھل جائے اور کسی وجہ سے اس کی نعش باہر نکل آئے اور اس پر کفن نہ ہو تو اس کو بھی کفن مسنون دینا چاہئے بشرطیکہ وہ نعش پھٹی نہ ہو اور اگر پھٹ گئی ہو تو صرف کپڑے میں دینا کافی ہے۔

جنازے کی نماز کے مسائل

نماز جنازہ در حقیقت ارحم الراحمن سے اس میت کے لئے دعا ہے

مسئلہ :  نمازِ جنازہ واجب ہونے کی وہی سب شرطیں ہیں جو اور نمازوں کی ہم اوپر لکھ چکے ہیں ہاں اس میں ایک شرط اور زیادہ ہے وہ یہ کہ اس شخص کی موت کا علم بھی ہو، پس جس کو یہ خبر نہ ہو گی وہ معذور ہے نماز جنازہ اس پر ضروری نہیں ۔

مسئلہ :  نماز جنازہ کے صحیح ہونے کے لئے دو قسم کی شرطیں ہیں ، ایک قسم کی وہ شرطیں جو نماز پڑھنے والوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ وہی ہیں جو اور نمازوں کے لئے اور بیان ہو چکیں یعنی طہارت۔ ستر عورت، استقبال قبلہ، نیت،    ہاں وقت اس کے لئے شرط نہیں اور اس کے لیے تیمم نماز نہ ملنے کے خیال سے جائز ہے۔ مثلاً نماز جنازہ ہو رہی ہو اور وضو کرنے میں یہ خیال ہو کہ نماز ختم ہو جائے گی تو تیمم کر لے بخلاف اور نمازوں کے کہ ان میں اگر وقت کے چلے جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز نہیں ۔

مسئلہ :  آجکل بعضے آدمی جنازے کی نماز جوتہ پہنے ہوئے پڑھتے ہیں ان کے لئے یہ امر ضروری ہے کہ وہ جس پر کھڑے ہوئے ہوں اور جوتے دونوں پاک ہوں اور اگر جوتہ پیر سے نکال دیا جائے اور اس پر کھڑے ہوں تو صرف جوتے کا پاک ہونا ضروری ہے، دوسری قسم کی شرطیں وہ ہیں جس کو میت سے تعلق ہے وہ یہ ہیں شرط (۱) میت کا مسلمان ہونا۔ پس کافر اور مرتد کی نماز صحیح نہیں ۔ مسلمان اگرچہ فاسق یا بدھنی ہو اس کی نماز صحیح ہے اور جس نے اپنی جان خودکشی کر کے دی ہو اس پر نماز پڑھنا صحیح یہ ہے کہ درست ہے۔

مسئلہ :  جس لڑکے کا باپ یا ماں مسلمان ہو کر وہ لڑکا مسلمان سمجھا جائے گا اور اس کی نماز پڑھی جائے گی۔

مسئلہ :  میت سے مراد وہ شخص ہے جو زندہ پیدا ہو کر مرگیا ہو اور اگر مرا ہوا لڑکا پیدا ہوا ہو تو  اس کی نماز درست نہیں۔

شرط (۲) میت کا بدن اور جسم نجاست حقیقہ اور حکمیہ سے ظاہر ہونا۔ ہاں اگر نجاستِ حقیقہ اس کے بدن سے خارج ہوئی ہو اور اس سبب سے اس کا بدن نجس ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ، نماز درست ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی مسلمان بے نماز پڑھے ہوئے دفن کر دیا گیا ہو تو اس کی نماز اس کی قبر پر پڑھی جائے گی، جب تک اس کی نعش کے پھٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو، جب خیال ہو کہ اب نعش پھٹ گئی ہو گی تو پھر نماز نہ پڑھی جائے۔ اور نعش پھٹنے کی مدت ہر جگہ کے اعتبار سے مختلف ہے اس کا تعین نہیں ہوسکتا یہی اصح ہے اور بعض نے تین دن اور بعض نے ایک ماہ بیان کی ہے۔

مسئلہ :  میت جس جگہ رکھی ہو اس جگہ کا پاک ہونا شرط نہیں اگر میت پاک پلنگ یا تخت پر ہو اور اگر پلنگ یا تخت بھی ناپاک ہو یا میت بدون پلنگ و تخت کے ناپاک زمین پر رکھ دی جائے تو اس صورت میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک طہارت مکانِ میت شرط ہے اس لئے نماز نہ ہو گی اور بعض کے نزدیک شرط نہیں اس لئے نماز صحیح ہو جائے گی۔

شرط (۳) میت کے جسم واجب الستر کا پوشیدہ ہونا، اگر میت بالکل برہنہ ہو تو اس کی نماز درست نہ ہو گی۔

شرط (۴)  میت کا نماز پڑھنے والوں کے آگے ہونا۔ اگر میت نماز پڑھنے والے کے پیچھے ہو تو درست نہیں ۔

شرط (۵) میت کا یا جس چیز پر میت ہو اس کا زمین پر رکھا ہوا ہونا۔ اگر میت کو لوگ اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ہوں یا کسی گاڑی یا جانور پر ہو اور اسی حالت میں اس کی نماز پڑھی جائے تو صحیح نہ ہو گی۔

شرط (۶) میت کا وہاں موجود نہ ہونا، اگر میت وہاں موجود نہ ہو تو نماز صحیح نہ ہو گی۔

مسئلہ :  نماز جنازہ میں دو چیزیں فرض ہیں ۔  (۱) چار مرتبہ اللہ اکبر کہنا، ہر تکبیر یہاں قائم مقام ایک رکعت کے سمجھی جائے گی۔  (۲) قیام یعنی کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھنا جس طرح فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض ہے اور بے عذر کے اس کا ترک جائز نہیں ۔

مسئلہ :  رکوع، سجدہ، تعدہ وغیرہ اس نماز میں نہیں ۔

مسئلہ :  نماز جنازہ میں تین چیزیں مسنون ہیں ۔  (۱) اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا  (۲) نبی ﷺ پر درود پڑھنا   (۳) میت کے لئے دعا کرنا۔ جماعت اس میں شرط نہیں ہے۔ پس اگر ایک شخص بھی جنازے کی نماز ادا کر لے فرض ادا ہو جائے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بالغ ہو یا نابالغ۔

مسئلہ :  ہاں یہاں جماعت کی ضرورت زیادہ ہے اس لئے کہ یہ دعا ہے میت کے لئے اور چند مسلمانوں کا جمع ہو کر بارگاہ الٰہی میں کسی چیز کے لئے دعا کرنا ایک عجیب خاصیت رکھتا ہے۔ نزول رحمت اور قبولیت کے لئے۔

مسئلہ :  نماز جنازہ کا مسنون و مستحب طریقہ یہ ہے کہ میت کو آگے رکھ کر امام اس کے سینے کے محاذی کھڑا ہو جائے اور سب لوگ یہ نیت کریں  نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّیْ عَلَی الْجَنَازَۃِ لِلّٰہِ تَعَالٰی دُعَائً الْمَیِّتِ  یعنی میں نے یہ ارادہ کیا کہ نماز جنازہ پڑھوں جو خدا کی نماز ہے اور میت کے لئے دعا ہے یہ نیت کر کے دونوں ہاتھ مثل تکبیر تحریمہ کے  کانوں تک اٹھا کر ایک مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ مثل نماز کے باندھ لیں ۔ پھر سبحانک اللہم آخر تک پڑھیں اس کے بعد پھر ایک بار اللہ اکبر کہیں مگر اس مرتبہ ہاتھ نہ اٹھائیں بعد اس کے درود شریف پڑھیں اور بہتر یہ ہے کہ وہی درود شریف پڑھا جائے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے پھر ایک مرتبہ اللہ اکبر کہیں اس مرتبہ بھی ہاتھ نہ اٹھائیں اس تکبیر کے بعد میت کے لئے دعاء کریں ، اگر وہ بالغ ہو خواہ مرد ہو یا عورت یہ دعاء پڑھیں ۔

اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَ شَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَ صَغِیْرِنَا وَ کَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَ اُنْثَانَااَللّٰہُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ ۔ ۵ط 

اور اگر میت نابالغ لڑکا ہو تو یہ دعا پڑھے :

اَللّٰہُمَّ  اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًاوَّاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرًاوَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًاوَّ مُشَفَّعًا اور اگر نابالغ لڑکی ہو تو بھی یہی دعا ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ تینوں اجْعَلْہُ  کی جگہ  اجْعَلُہَا اور  شَافِعًاوَّ مُشَفَّعًا کی جگہ  شَافِعَۃً وَّ مُشَفَّعَۃٌ  پڑھیں ۔ جب یہ دعا پڑھ چکیں تو پھر ایک مرتبہ اللہ اکبر کہیں اور اس مرتبہ بھی ہاتھ نہ اٹھائیں اور اس تکبیر کے بعد سلام پھیر دیں جس طرح نماز میں سلام پھیر دیتے ہیں اس نماز میں التحیات اور قرآن مجید کی قرأت وغیرہ نہیں ہے۔

مسئلہ :  نماز جنازہ امام اور مقتدی دونوں کے حق میں یکساں ہے صرف اس قدر فرق ہے کہ امام تکبیریں اور سلام بلند آواز سے کہے گا اور مقتدی آہستہ آواز سے پڑھیں گے  اور امام بھی آہستہ آواز سے پڑھے گا۔

مسئلہ :  جنازے کی نماز میں مستحب ہے کہ حاضرین کی تین صفیں کر دی جائیں یہاں تک کہ اگر صرف سات آدمی ہوں تو ایک آدمی ان میں سے امام بنا دیا جائے اور پہلی صف میں تین آدمی کھڑے ہوں اور دوسری صف میں دو اور تیسری میں ایک۔

مسئلہ :  جنازے کی نماز بھی ان چیزوں سے فاسد ہو جاتی ہے جن چیزوں سے دوسری نماز میں فساد آ جاتا ہے۔ صرف اسی قدر فرق ہے کہ جنازے کی نماز میں قہقہے سے وضو نہیں جاتا اور عورت کی محاذات سے بھی اس میں فساد نہیں آتا۔

مسئلہ :  جنازے کی نماز اس مسجد میں پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جو پنج وقتی نمازوں یا جمعہ یا عیدین کی نماز کے لئے بنائی گئی ہو خواہ جنازہ مسجد کے اندر ہو یا مسجد سے باہر ہو اور نماز پڑھنے والے اندر ہوں ۔

مسئلہ :  میت کی نماز میں اس غرض سے تاخیر زیادہ کرنا کہ جماعت زیادہ ہو جائے مکروہ ہے۔

مسئلہ :  جنازے کی نماز بیٹھ کر یا سواری کی حالت میں پڑھنا جائز نہیں جب کہ کوئی عذر نہ ہو۔

مسئلہ :  اگر ایک ہی وقت میں کئی جنازے جمع ہو جائیں تو بہتر یہ ہے کہ ہر جنازے کی نماز علیٰحدہ پڑھی جائے اور اگر سب جنازوں کی ایک ہی نماز پڑھی جائے تب بھی جائز ہے اور اس وقت چاہئے کہ سب جنازوں کی صف قائم کر دی جائے جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ ایک جنازے کے آگے دوسرا جنازہ رکھ دیا جائے کہ سب کے پیر ایک طرف ہوں اور سب کے سر ایک طرف اور یہ صورت اس لئے بہتر ہے کہ اس میں سب کا سینہ امام کے محاذی ہو جائے گا جو مسنون ہے۔

مسئلہ :  اگر جنازے مختلف اصناف کے ہوں تو اس ترتیب سے ان کی صف قائم کر دی جائے کہ امام کے قریب مردوں کے جنازے، ان کے بعد لڑکوں کے اور اُن کے بعد بالغہ عورتوں کے، ان کے بعد نابالغہ لڑکیوں کے۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص جنازے کی نماز میں ایسے وقت پہنچا کہ کچھ تکبیریں اس کے آنے سے پہلے ہو چکی ہو تو جس قدر تکبیریں ہو چکی ہیں ان کے اعتبار سے وہ شخص مسبوق سمجھا جائے گا اور اس کو چاہئے کہ فوراً آتے ہی مثل اور نمازوں کے تکبیر تحریمہ کہہ کر شریک ہو جائے۔ بلکہ امام کی تکبیر کا انتظار کرے جب امام تکبیر کہے تو یہ بھی اس کے ساتھ تکبیر کہے اور یہ تکبیر اس کے حق میں تکبیر تحریمہ ہو گی پھر جب امام سلام پھیر دے تو یہ شخص اپنی گئی ہوئی تکبیروں کو ادا کر لے اور اس میں کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ اگر کوئی شخص ایسے وقت پہنچے کے امام چوتھی تکبیر بھی کہہ چکا ہو تو وہ شخص اس تکبیر کے حق میں مسبوق نہ سمجھا جائے گا اس کو چاہئے کہ فوراً تکبیر کہہ کر امام کے سلام سے پہلے شریک ہو جائے اور ختم نماز کے بعد اپنی گئی ہوئی تکبیروں کا اعادہ کرے۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص تکبیر تحریمہ یعنی پہلی تکبیر یا کسی اور تکبیر کے وقت موجود تھا اور نماز میں شرکت کے لئے مستعد تھا مگر سستی یا اور کسی وجہ سے شریک نہ ہوا تو اس کو فوراً تکبیر کہہ کر شریک نماز ہونا چاہئے، امام کی دوسری تکبیر کا اس کو انتظار نہ کرنا چاہئے۔

مسئلہ :  جنازے کی نماز کا مسبوق جب اپنی گئی ہوئی تکبیروں کو ادا کر لے اور خوف ہو کہ اگر دعا پڑھے گا تو دیر ہو گی اور جنازہ اس کے سامنے سے اٹھا لیا جائے گا تو دعا نہ پڑھے۔

مسئلہ :  جنازے کی نماز میں امامت کا استحقاق سب سے زیادہ بادشاہِ وقت کو ہے گو تقویٰ اور دروع میں اس سے بہتر لوگ بھی وہاں موجود ہوں ، اگر بادشاہِ وقت وہاں نہ ہو تو اس کا نائب یعنی جو شخص اس کی طرف سے حاکم شہر ہو وہ مستحق امامت ہے اور وہ بھی نہ ہو تو قاضی شہر، وہ بھی نہ ہو تو اس کا نائب۔ ان لوگوں کے ہوتے ہوئے دوسرے کو امام بنانا بلا ان کے اذن کے جائز نہیں ۔ انہیں کا امام بنانا واجب ہے، اگر ان میں کوئی وہاں موجود نہ ہو تو اس محلے کا امام مستحق ہے بشرطیکہ میت کے اعزّا میں کوئی شخص اس سے افضل نہ ہو ورنہ میت کے وہ اعزاء جن کو حق ولایت حاصل ہے امامت مستحق نہیں ہیں یا اس شخص کو وہ اجازت دیں ۔ اگر یہ اجازت میت کے کسی ایسے شخص نے نماز پڑھا دی ہو جس کو امامت کا استحقاق نہیں تو ولی کو اختیار ہے کہ پھر دوبارہ نماز پڑھے حتی کہ اگر میت دن ہو چکی ہو تو اس کی قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے تاوقتیکہ نعش کے پھٹ جانے کا خیال نہ ہو۔

دفن کے مسائل

مسئلہ :  میت کا دفن کرنا فرض کفایہ ہے جس طرح اس کا غسل اور نماز

مسئلہ :  جب میت کی نماز سے فراغت ہو جائے تو فوراً اس کو دفن کرنے کے لئے جہاں قبر کھدی ہے لے جانا چاہیے۔

مسئلہ :  اگر میت کوئی شیر خوار بچہ یا اس سے کچھ بڑا ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ اس کو دست بدست لے جائیں یعنی ایک اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر اٹھا لے پھر اس سے دوسرا آدمی لے لے۔ اسی طرح بدلتے ہوئے لے جائیں اور اگر میت کوئی بڑا آدمی ہو تو اس کو کسی چارپائی وغیرہ پر رکھ کر لے جائیں ۔ اور اس کے چاروں پایوں کو ایک ایک آدمی اٹھائے۔ میت کی چارپائی ہاتھوں سے اٹھا کر کندھوں پر رکھنا چاہئے مثل مال اسباب کے شانوں پر لادنا مکروہ ہے۔ اسی طرح بلا عذر اس کا کسی جانور یا گاڑی وغیرہ پر رکھ کر لے جانا مکروہ ہے اور عذر ہو تو بلا کراہیت جائز ہے۔ مثلاً قبرستان بہت دور ہے۔

مسئلہ :  میت کے اٹھانے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کا اگلا داہنا پایہ اپنے داہنے شانے پر رکھ کر کم سے کم دس قدم چلے بعد اس کے پچھلا داہنا پایہ داہنے شانے پر رکھ کر کم سے کم دس قد چلے بعد اس کے اگلا بایاں پایہ بائیں شانہ پر رکھ کر دس قدم چلے پھر پچھلا بایاں پایہ بائیں شانہ پر رکھ کر کم سے کم دس قدم چلے تاکہ چاروں پایوں کو ملا کر چالیس قدم ہو جائیں ۔

مسئلہ :  جنازے کا تیز قدم لے جانا مسنون ہے گر نہ اس قدر کہ نعش کو حرکت و اضطراب ہونے لگے۔

مسئلہ :  جو لوگ جنازے کے ہمراہ جائیں ان کو قبل اس کے کہ جنازہ شانوں سے اتارا جائے بیٹھنا مکروہ ہے، ہاں اگر کوئی ضرورت بیٹھنے کی پیش آئے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔

مسئلہ :  جو لوگ جنازے کے ساتھ ہوں ان کو جنازے کے پیچھے چلنا مستحب ہے۔ اگرچہ جنازے کے آگے چلنا بھی جائز ہے ہاں اگر سب لوگ جنازے کے آگے ہو جائیں تو مکروہ ہے، اسی طرح جنازے کے آگے کسی سواری پر چلنا بھی مکروہ ہے۔

مسئلہ :  جنازے کے ہمراہ پیادہ چلنا مستحب ہے اور اگر کسی سواری پر ہو تو جنازے کے پیچھے چلے۔

مسئلہ :  جنازے کے ہمراہ جو لوگ ہوں ان کو کوئی دعا یا ذکر بلند آواز سے پڑھنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  میت کی قبر کم از کم اس کے نصف قد کے برابر گہری کھودی جائے اور قدسے زیادہ نہ ہونی چاہئے۔ اور موافق اس کے قدر کے لمبی ہو اور بغلی قبر بہ نسبت صندوقی کے بہتر ہے ہاں اگر زمین بہت نرم ہو کہ بغلی کھودنے میں قبر کے بیٹھ جانے کا اندیشہ ہو تو پھر بغلی نہ کھودی جائے۔

مسئلہ :  جب قبر تیار ہو چکے تو میت کو قبلہ کی طرف سے قبر میں اتاریں اس کی صورت یہ ہے کہ جنازہ قبر سے قبلہ کی جانب رکھا جائے اور اتارنے والے قبلہ رو کھڑے ہو کر میت کو اٹھا کر قبر میں رکھ دیں ۔

مسئلہ :  قبر میں اتارنے والوں کا طاق یا جفت ہونا مسنون نہیں ۔ نبی کریم ﷺ کو آپ کی قبر مقدس میں چار آدمیوں نے اتارا تھا۔

مسئلہ :  میت کو قبر میں رکھتے وقت  بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ط  کہنا مستحب ہے۔

مسئلہ :  قبر میں رکھ دینے کے بعد کفن کی وہ گرہ جو کفن کے کھل جانے کے خوف سے دی گئی تھی کھول دی جائے۔

مسئلہ :  بعد اس کے کچی اینٹوں یا نرکل سے بند کر دیں ریختہ اینٹوں یا لکڑی کے تختوں سے بند کرنا مکروہ ہے، ہاں جہاں زمین بہت نرم ہو کہ قبر کے بیٹھ جانے کا خوف ہو تو پختہ اینٹ یا لکڑی کے تختے رکھ دینا یا صندوق میں رکھنا بھی جائز ہے۔

مسئلہ :  عورت کو قبر میں رکھتے وقت پردہ کر کے رکھنا مستحب ہے اور اگر میت کے بدن کے ظاہر ہو جانے کا خوف ہو تو پھر پردہ کرنا واجب ہے۔

مسئلہ :  جب میت کو قبر میں رکھ چکیں تو جس قدر مٹی  اس کی قبر سے نکلی ہو وہ سب اس پر ڈال دیں اس سے زیادہ مٹی ڈالنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ :  قبر میں مٹی ڈالتے وقت مستحب ہے کہ سرہانے کی طرف سے ابتداء کی جائے اور ہر شخص اپنے دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کر قبر میں ڈال دے اور پہلی مرتبہ پڑھے  مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ اور دوسری مرتبہ  وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ  اور تیسری مرتبہ  وَ مِنْہَا تُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ۔ 

مسئلہ :  بعد دفن کے تھوڑی دیر تک قبر پر ٹھیرنا اور میت کے لئے دعائے مغفرت کرنا یا قرآن مجید پڑھ کر اس کا ثواب اس کو پہنچانا مستحب ہے۔

مسئلہ :  بعد مٹی ڈال چکنے کے قبر پر پانی چھڑک دینا مستحب ہے۔

مسئلہ :  کسی میت کو چھوٹا ہو یا بڑا مکان کے اندر دفن نہ کرنا چاہئے اس لئے کہ یہ بات انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے۔

مسئلہ :  قبر کا مربع بنانا مکروہ ہے۔ مستحب یہ ہے کہ اٹھی ہوئی سمتل کوہان شُتر کی بنائی جائے اس کی بلندی ایک بالشت یا اس سے کچھ زیادہ ہونی چاہئے۔

مسئلہ :  قبر کا ایک بالشت سے بہت زیادہ بلند کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ قبر پر گچ کرنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  بعد دفن کر چکنے کے قبر پر کوئی عمارت مثل گنبد یا قبے وغیرہ کے بنانا بغرض زینت حرام ہے اور مضبوطی کی نیت سے مکروہ ہے۔ میت کی قبر پر کوئی چیز بطور یادداشت کے لکھنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ضرورت ہو ورنہ جائز نہیں ۔ لیکن اس زمانے میں چونکہ عوام نے اپنے عقائد اور اعمال کو بہت خراب کر دیا ہے اور ان مفاسد سے مباح بھی ناجائز ہو جاتا ہے اس لئے ایسے امور بالکل ناجائز ہوں گے۔

جنازے کے متفرق مسائل

مسئلہ :  اگر میت کو قبر میں قبلہ رو کرنا یاد نہ رہا اور بعد دفن کر دینے یا مٹی ڈال دینے کے خیال آئے تو پھر قبلہ رو کرنے کے لئے اس کی قبر کھولنا جائز نہیں ہاں اگر صرف تختے رکھے گئے ہوں مٹی نہ ڈالی گئی ہو تو تختے ہٹا کر اس کو قبلہ رو کر دینا چاہئے۔

مسئلہ :  رونے والی عورتوں یا بین کرنے والیوں کا جنازے کے ساتھ جانا ممنوع ہے۔

مسئلہ :  میت کو قبر میں رکھتے وقت اذان کہنا بدعت ہے۔

مسئلہ :  اگر امام جنازے کی نماز میں چار تکبیر سے زیادہ کہے تو حنفی مقتدیوں کو چاہئے کہ ان زائر تکبیروں میں امام کا اتباع نہ کریں بلکہ سکوت کئے ہوئے کھڑے رہیں ، جب امام سلام پھیرے تو خود بھی سلام پھیر دیں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص کشتی یا جہاز پر مر جائے اور زمین وہاں سے اس قدر دور ہو کہ نعش کے خراب ہونے کا خوف ہو تو اس وقت چاہئے کہ غسل اور تکفین اور نماز سے فارغ ہو کر اس کو دریا میں ڈال دیں اور اگر کنارہ اس قدر دور نہ ہو اور وہاں جلدی اترنے کی امید ہو تو اس نعش کو رکھ چھوڑیں اور زمین میں دفن کر دیں ۔

مسئلہ :  اگر کسی شخص کو نماز جنازہ کی وہ دعا جو منقول ہے یاد نہ ہو تو اس کو صرف  اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ المُومِنِیْنَ وَالْمُومِنَاتِ (یعنی اے اللہ مومن و مومنات کو بخش دے) کہہ دینا کافی ہے۔

مسئلہ :  جب قبر پر مٹی پڑ چکے تو اس کے بعد میت کا قبر سے نکالنا جائز نہیں ہاں اگر کسی آدمی کو حق تلفی ہوتی ہو تو البتہ جائز ہے۔

مثال:  (۱) جس زمین میں اس کو دن کیا ہے وہ کسی دوسرے کی مِلک ہو اور وہ اس کے دفن پر راضی نہ ہو (۲) کسی شخص کا مال قبر میں گر گیا ہو۔

مسئلہ :  اگر کوئی عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہو تو اس کا پیٹ چاک کر کے وہ بچہ نکال لیا جائے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کا مال نِگل کر مر جائے اور مال والا مانگے تو وہ مال اس کا پیٹ چاک کر کے نکال لیا جائے لیکن اگر مردہ مال چھوڑ کر مرا ہے تو اس کے ترکہ میں سے وہ مال ادا کر دیا جائے اور پیٹ چاک نہ کیا جائے۔

مسئلہ :  قبل دفن کے نعش کا ایک مقام سے دوسرے مقام میں دفن کرنے کے لئے لے جانا خلاف اولیٰ ہے جب کہ وہ دوسرا مقام ایک میل دو میل سے زیادہ نہ ہو اور اگر اس سے زیادہ ہو تو جائز نہیں اور بعد دفن کے نعش کو کھود کر لے جانا تو ہر حالت میں ناجائز ہے۔

مسئلہ :  میت کی تعریف کرنا خواہ نظم میں ہو یا نثر میں جائز ہے بشرطیکہ تعریف میں کسی قسم کا مبالغہ نہ ہو وہ تعریفیں بیان نہ کی جائیں جو اس میں نہ ہوں ۔ 

مسئلہ :  میت کے اعزّہ کو تسکین و تسلی دینا اور صبر کے فضائل اور اس کا ثواب ان کو سنا کر صبر پر رغبت دلانا اور ا ن کے نیز میت کے لئے دعا کرنا جائز ہے اسی کو تعزیت کہتے ہیں ، تین دن کے بعد تعزیت کرنا مکروہ تنزیہی ہے لیکن اگر تعزیت کرنے والا یا میت کے اعزاء سفر میں ہوں اور تین دن کے بعد آئیں تو اس صورت میں تین دن کے بعد بھی تعزیت مکروہ نہیں ، جو شخص ایک مرتبہ تعزیت کر چکا ہو، اس کو پھر دوبارہ تعزیت کرنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  اپنے لئے کفن تیار رکھنا مکروہ نہیں ، قبر کا تیار رکھنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  میت کے کفن پر بغیر روشنائی کے ویسے ہی انگلی کی حرکت سے کوئی دعاء لکھنا یا اس کے سینہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پیشانی پر کلمہ   لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ (ﷺ)  لکھنا جائز ہے مگر کسی صحیح حدیث سے اس کا ثبوت نہیں ہے اس لئے اس کے مسنون یا مستحب ہونے کا خیال نہ رکھنا چاہئے۔

مسئلہ :  قبر پر کوئی سبز شاخ رکھ دینا مستحب ہے اور اس کے قریب کوئی درخت وغیرہ نکل آیا ہو تو اس کا کاٹ ڈالنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  ایک قبر میں ایک سے زیادہ نعش کو دفن نہ کرنا چاہئے مگر بوقتِ ضرورت شدیدہ جائز ہے، پھر اگر سب مرُدے مرد ہی مرد ہوں تو جو اُن سب میں افضل ہو اس کو آگے رکھیں باقی سب کو اس کے پیچھے درجہ بدرجہ رکھ دیں اور اگر کچھ مرد ہوں اور کچھ عورتیں تو مردوں کو آگے رکھیں اور اُن کے پیچھے عورتوں کو۔

مسئلہ :  قبروں کی زیارت کرنا یعنی اُن کو جا کر دیکھنا مردوں کے لئے مستحب ہے بہتر یہ ہے کہ ہر جمعہ کو زیارت قبر کی جائے۔ بزرگوں کی زیارت کے لئے سفر کر کے جانا کبھی جائز ہے جب کہ کوئی عقیدہ اور عمل خلافِ شرع نہ ہو جیسا کہ آجکل عُرسوں میں مفاسد ہوتے ہیں ۔

شہید کے احکام

	اگرچہ شہید بھی بظاہر میت ہے، مگر عام مولیٰ کے سب احکام اس میں جاری نہیں ہوسکتے اور فضائل بھی اس کے بہت ہیں ، اس لئے اس کے احکام علیٰحدہ بیان کئے جاتے ہیں ۔

	شہید وہ ہے جس میں یہ شرائط پائے جائیں ۔

(۱)	 مسلمان ہونا، پس غیر اسلام کے لئے کسی قسم کی شہادت ثابت نہیں ہوسکتی۔ 

(۲) 	مکلّف یعنی عاقل بالغ ہونا، پس جو شخص حالتِ جنون وغیرہ میں مارا جائے یا عدم بلوغ کی حالت میں تو اس کے لئے شہادت کے وہ احکام جن کا ذکر ہم آگے کریں گے ثابت نہ ہوں گے۔

(۳)	حدثِ اکبر سے پاک ہونا، اگر کوئی حالتِ جنابت میں یا کوئی عورت حیض و نفاس میں شہید ہو جائے تو اس کے لئے بھی شہید کے وہ احکام ثابت ہوں گے۔

(۴)	بے گناہ مقتول ہونا، پس اگر کوئی شخص بے گناہ نہیں مقتول ہوا بلکہ جرمِ شرعی کی سزا میں مارا گیا ہو تو اس کے لئے شہید کے وہ احکام ثابت نہ ہوں گے۔

(۵)	اگر کسی مسلمان یا ذمی کے ہاتھ سے مارا گیا ہو تو یہ بھی شرط ہے کہ کسی آلۂ جارحہ سے مارا گیا ہو، اگر کسی مسلمان یا ذمّی کے  ہاتھ سے بذریعہ آلۂ غیر جارحہ کے مارا گیا ہو مثلاً کسی پتھر وغیرہ سے مارا جائے تو اس پر شہید کے احکام جاری نہ ہوں گے، لیکن لوہا مطلقاً آلۂ  جارحہ کے حکم میں ہے گو اس میں دھار نہ ہو، اور اگر کوئی شخص حربی کافروں یا باغیوں یا ڈاکوؤں کے ہاتھ سے مارا گیا ہو یا اُن کے معرکۂ جنگ میں مقتول ملے تو اس میں آلۂ  جارحہ سے مقتول ہونے کی شرط نہیں حتی کہ کسی پتھر وغیرہ سے بھی وہ  لوگ ماریں اور مر جائے تو شہید کے احکام اس پر جاری ہو جائیں گے۔

(۶)	اس قتل کی سزا میں ابتداءً شریعت کی طرف سے کوئی مالی عوض مقرر نہ ہوا ہو، بلکہ قصاص واجب ہوا ہو، پس اگر مالی عوض مقرر ہو گا تب بھی اس مقتول پر شہید کے احکام جاری نہ ہوں گے گو ظلماً مارا جائے۔

مثال : (۱) کوئی مسلمان کسی مسلمان کو آلۂ  جارحہ سے قتل کر دے  (۲) کوئی مسلمان کسی مسلمان کو آلۂ  جارحہ سے قتل کرے مگر خطاءً مثلاً کسی جانور پر یا کسی جانور پر یا کسی نشانے پر حملہ کر رہا ہو اور وہ کسی انسان کے لگ جائے  (۳) کوئی شخص کسی جگہ سوائے معرکۂ جنگ کے مقتول پایا جائے اور کوئی قاتل اس کا معلوم نہ ہو۔ ان سب صورتوں میں چونکہ قتل کے عوض میں مال واجب ہوتا ہے قصاص نہیں واجب ہوتا، اس لئے یہاں شہید کے احکام نہ جاری  ہوں گے۔

(۷)	بعد زخم لگنے کے پھر کوئی امر راحت و تمتع زندگی کا مثل کھانے پینے، سونے، دوا کرنے، خریدو فروخت وغیرہ کے اس سے وقوع میں نہ آئے اور نہ بمقدارِ وقت ایک نماز کے اس کی زندگی حالتِ ہوش و حواس میں گذرے اور نہ اس کو حالتِ ہوش میں معرکہ سے اٹھا کر لائیں ہاں اگر جانوروں کے پامال کرنے کے خوف سے اٹھا لائیں تو کچھ حرج نہ ہو گا، پس اگر کوئی شخص بعد زخم کے زیادہ کلام کرے تو وہ بھی شہید کے احکام میں داخل نہ ہو گا، اس لئے کہ زیادہ کلام کرنا زندوں کی شان ہے اسی طرح اگر کوئی شخص وصیّت کرے تو وہ وصیت اگر کسی دنیاوی معاملے میں ہو تو شہید کے حکم سے خارج ہو جائے گا، اور اگر دینی معاملے میں ہو تو خارج نہ ہو گا۔ اگر کوئی شخص معرکۂ  جنگ میں شہید ہوا ہو اور اس سے یہ باتیں صادر ہوں تو شہید کے احکام سے خارج ہو جائے گا ورنہ نہیں ، لیکن اگر یہ شخص محاربہ میں شہید ہوا ہے اور ہنوز لڑائی ختم نہیں ہوئی تو باوجود تمتعات مذکورہ کے بھی وہ شہید ہے۔

مسئلہ :  جس شہید میں ر یہ سب باتیں پائی جائیں اس کا ایک حکم یہ ہے کہ اس کو غسل نہ دیا جائے اور اس کا خون اس کے جسم سے زائل نہ کیا جائے اسی طرح اس کو دفن کر دیا جائے، دوسرا حکم یہ ہے کہ جو کپڑے پہنے ہوئے ہو ان کپڑوں کو اس کے جسم سے نہ اتاریں ۔ ہاں اگر اس کے کپڑے عدد مسنون سے کم ہوں تو عدد مسنون کے پورا کرنے کے لئے اور کپڑے زیادہ کر دئے جائیں ، اسی طرح اگر اس کے کپڑے کفن مسنون سے زیادہ ہوں تو زائد کپڑے اتار لئے جائیں ، اور اگر اس کے جسم پر  ایسے کپڑے ہوں جن میں کفن ہونے کی صلاحیت نہ ہو جیسے پوستین وغیرہ تو اس کو اتارنا چاہئے۔ ٹوپی، جوتا، ہتھیار وغیرہ ہر حال میں اتار لئے جائیں گے اور باقی سب احکام جو اور موتی کے لئے ہیں مثلاً نماز وغیرہ کے وہ سب ان کے حق میں بھی جاری ہوں گے۔ اگر کسی شہید میں ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو اس کو غسل بھی دیا جائے گا اور مثل دوسرے مردوں کے کفن بھی پہنایا جائے گا۔
٭٭٭



مسجد کے احکام

	وہ احکام جو نماز سے یا مسجد کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔

مسئلہ :  مسجد کے دروازے کا بند کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ ہاں اگر نماز کا وقت نہ ہو اور مال و اسباب کی حفاظت کے لئے دروازہ بند کرایا جائے تو جائز ہے۔

مسئلہ :  جس گھر میں مسجد ہو اس پورے گھر کا مسجد کا حکم نہیں ، اسی طرح اس جگہ کا بھی مسجد کا حکم نہیں جو عیدین یا جنازے کی نماز کے لئے مقرر کی گئی ہو۔

مسئلہ :  مسجد کے در و دیوار کا منقش کرانا اگر اپنے خاص مال سے ہو تو کچھ مضائقہ نہیں گر محراب اور محراب والی دیوار پر مکروہ ہے۔ اگر مسجد کی آمدنی سے ہو تو ناجائز ہے۔

مسئلہ :  مسجد کی در و دیوار پر قرآن مجید کی آیتوں یا سورتوں کا لکھنا اچھا نہیں ۔

مسئلہ :  مسجد کے اندر یا مسجد کی دیواروں پر تھوکنا یا ناک صاف کرنا بہت بری بات ہے اور اگر نہایت ضرورت پیش آئے تو اپنے رومال یا کرتے وغیرہ میں تھوک لے اور صاف کر لے۔

مسئلہ :  مسجد کے اندر وضو یا کلی کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

مسئلہ :  جنب اور حائض کو مسجد کے اندر جانا گناہ ہے۔

مسئلہ :  مسجد کے اندر خرید و فروخت کرنا مکروہ تحریمی ہے ہاں اعتکاف کی حالت میں بقدر ضرورت مسجد کے اندر خریدو فروخت کرنا جائز ہے۔ ضرورت سے زیادہ اس وقت بھی جائز نہیں مگر وہ چیز مسجد کے اندر موجود نہ ہونا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر کسی کے پیر میں مٹی وغیرہ بھر جائے تو اس کو مسجد کی دیوار یا ستون سے صاف کرنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  مسجد کے اندر درختوں کا لگانا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ دستور العمل اہلِ کتاب کا ہے۔

مسئلہ :  مسجد کو راستہ قرار دینا جائز نہیں ہے، ہاں اگر سخت ضرورت لاحق ہو گاہے  گاہے ایسی حالت میں مسجد سے ہو کر نکل جانا جائز ہے ۔

مسئلہ :  مسجد میں کسی پیشہ ور کو اپنا پیشہ کرنا جائز نہیں اس لئے کہ مسجد دین کے کاموں خصوصاً نماز کے لئے بنائی جاتی ہے اس میں دنیا کے کام نہ ہونے چاہئیں حتی کہ جو شخص قرآن وغیرہ تنخواہ لے کر پڑھاتا ہو وہ بھی پیشہ والوں میں داخل ہے اس کو مسجد سے علیٰحدہ بیٹھ کر پڑھانا چاہئے۔

حدیث :  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسجد میں جھاڑو دینا، مسجد کو پاک صاف رکھنا، مسجد کا کوڑا پھینک دینا، مسجد میں خوشبو سُلگانا بالخصوص جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو سے  معطر کرنا یہ تمام افعال موجب جنت ہیں ۔

حدیث:  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسجد بنانے والے کے لئے مسجد کی مثل جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔

حدیث:  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسجد کی تعمیر باقیات الصالحات میں سے ہے ۔

حدیث:  نبی کریم ﷺ  نے فرمایا کہ دنیا میں زمین کا سب سے بہترین ٹکڑا اللہ کی نظر میں وہ ہے جس پر مسجد بنائی جائے اور سب سے بدترین زمین کا وہ قطعہ ہے جس پر بازار بنایا جائے۔
٭٭٭



کتاب الصوم

روزہ کا بیان

	حدیث شریف میں روزہ کا بڑا ثواب آیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک  روزہ دار کا بڑا رتبہ ہے ۔ نبی کریم ﷺ  نے فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے محض اللہ کے واسطے ثواب سمجھ کر رکھے تو اس کے سب اگلے گناہ بخش دئے جائیں گے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔ قیامت کے دن روزے کا بے حد ثواب ملے گا۔

مسئلہ :  رمضان شریف کے روزے ہر مسلمان پر جو مجنون اور نابالغ نہ ہو فرض ہیں ، تب تک کوئی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں اور اگر کوئی روزے کی نذر کرے تو نذر کر لینے سے روزہ فرض ہو جاتا ہے، اور قضا اور کفارے کے روزے بھی فرض ہیں اور اس کے سوا اور روزے نفل ہیں ۔ رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں البتہ عید اور بقر عید کے دن سے تین دن بعد تک روزہ رکھنا حرام ہے۔

مسئلہ :  جب سے فجر کا وقت آتا ہے، اس وقت سے لے کر سورج ڈوبنے تک روزہ کی نیت سے سب کچھ کھانا پینا چھوڑ دیا اور جماع نہ کرنا شرع میں اس کو روزہ کہتے ہیں ۔

مسئلہ :  زبان سے نیت کرنا اور کچھ کہنا ضروری نہیں ہے بلکہ جب دل میں یہ دھیان ہے کہ آج میرا روزہ ہو گیا اور اگر کوئی زبان سے بھی یہ کہہ دے کہ یا اللہ میں کل تیرا روزہ رکھوں گا یا عربی میں یہ کہہ دے کہ بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ  تو بھی کچھ حرج نہیں یہ بھی بہتر ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی نے نہ تو دن بھر کچھ کھایا نہ پیا ۔ صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہا لیکن دم میں روزے کا ارادہ نہ تھا بلکہ بھوک نہیں لگی یا کسی وجہ سے کچھ کھانے پینے کی نوبت نہیں آئی تو اس کا روزہ نہیں ہوا اگر دل میں روزے کا ارادہ کر لیتا تو روزہ ہو جاتا۔

مسئلہ :  شرع میں روزے کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اس لئے جب تک صبح صادق نہ ہو کھانا پینا وغیرہ سب کچھ جائز ہے۔ بعض عورتیں پچھلے ہی کو سحری کھا کر روزہ کی نیت کی دعا پڑھ کر لیٹ رہتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ اب نیت کر لینے کے بعد کچھ کھانا پینا  نہ چاہئے، یہ خیال غلط ہے جب تک صبح نہ ہو برابر کھاتی رہیں ، چاہے نیت کر چکی ہوں یا ابھی نہ کی ہو۔

رمضان شریف کے روزے کا بیان

مسئلہ :  رمضان شریف کے روزے کی اگر رات سے نیت کر لے تو بھی فرض ادا ہو جائے گا۔ اور اگر رات کو روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا بلکہ صبح ہو گئی تب بھی یہی خیال رہا کہ میں آج کا روزہ  نہ رکھوں گا پھر دن چڑھے خیال آیا کہ فرض چھوڑ دینا بُری بات ہے اس لئے اب روزے کی نیت کر لی تب بھی روزہ ہو گیا لیکن اگر صبح کو کچھ کھا پی لیا ہو تو اب نیت نہیں کر سکتا۔

مسئلہ :  اگر کچھ کھایا نہ ہو تو دن کو ٹھیک دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کر لینا درست ہے۔

مسئلہ :  رمضان شریف کے روزے میں بس اتنی نیت کر لینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ یا رات کو اتنا سوچ لے کہ کل میرا روزہ ہے، بس اتنی ہی نیت سے رمضان کا روزہ ادا  ہو جائے گا۔

مسئلہ :  کسی نے نذر مانی تھی کہ اگر میرا کام ہو جائے تو میں اللہ تعالیٰ کے لئے دروازے یا ایک روزہ رکھوں گا پھر جب رمضان آیا تو اس نے اسی نذر کے روزے رکھنے کی نیت کی رمضان کے روزے کی نہیں کی تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا نذر کا روزہ ادا نہیں ہوا ۔ نذر کے روزے رمضان کے بعد پھر رکھے سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ رمضان کے مہینے میں جب کسی روزے کی نیت کرو گے تو رمضان ہی کا روزہ ہو گا، کوئی اور روزہ صحیح نہ ہو گا۔

مسئلہ :  شعبان کی انتیسویں تاریخ کو اگر رمضان شریف کا چاند نکل آئے تو صبح کو روزہ رکھو اور اگر چاند نہ دکھائی دے تو صبح کو روزہ نہ رکھو، حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے بلکہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان شریف کے روزے شروع کرو۔

مسئلہ :  انتیسویں تاریخ کو ابر کی وجہ سے رمضان شریف کا چاند نہیں دکھائی دیا تو صبح کو نفل روزہ بھی نہ رکھو۔ ہاں اگر ایسا اتفاق پڑا کہ ہمیشہ پیر اور جمعرات یا کسی اور مقرر دن کا روزہ رکھا  کرتا اور کل وہی دن ہے تو نفل کی نیت سے صبح کو روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ پھر اگر کہیں سے چاند کی خبر آ گئی تو اسی نفل روزے سے رمضان کا فرض ادا ہو گیا۔ اب اس کی قضا نہ رکھے۔

مسئلہ :  بدلی کی وجہ سے انتیس کا چاند نہیں دکھائی دیا تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک کچھ نہ کھاؤ نہ پیو۔ اگر کہیں سے خبر آ جائے تو اب روزے کی نیت کر لو اور اگر خبر نہ آئے تو کھاؤ پیو۔

مسئلہ :  انتیس تاریخ کو چاند نہیں ہوا تو یہ خیال نہ کرو کہ کل کا دن رمضان کا تو ہے نہیں لاؤ میرے ذمہ پار سال کا ایک روزہ قضا ہے  اس کی قضا ہی رکھ لوں یا کوئی نذر مانی تھی اس کا روزہ رکھ لوں اس دن قضا کا روزہ اور کفارے کا روزہ اور نذر کا روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے، کوئی روزہ نہ رکھنا چاہئے۔ اگر قضا یا نذر کا روزہ رکھ لیا تو پھر چاند کی خبر کہیں سے آ گئی تو بھی رمضان ہی کا روزہ ادا ہو گیا ۔ قضا اور نذر کا روزہ پھر سے رکھے اور اگر خبر نہیں آئی تو جس روزے کی نیت کی تھی وہی ادا ہو گیا۔

چاند کا بیان

مسئلہ :  اگر آسمان پر غبار ہے یا بادل ہے۔ اس وجہ سے رمضان کا چاند نظر نہیں آیا لیکن ایک دیندار پرہیزگار سچے آدمی نے گواہی دی کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے تو چاند کا ثبوت ہو گیا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔

مسئلہ :  اور اگر بدلی کی وجہ سے عید کا چاند نہ دکھائی دیا تو ایک شخص کی گواہی کا اعتبار نہیں ہے، چاہے جتنا بڑا معتبر آدمی ہو بلکہ جب دو معتبر اور پرہیزگار یا ایک دیندار مرد اور دو دیندار عورتیں اپنے چاند دیکھنے کی گواہی دیں تب چاند کا ثبوت ہو گا اور اگر چار عورتیں گواہی دیں تو بھی قبول نہیں ۔

مسئلہ :  جو آدمی دین کا  پابند نہیں برابر گناہ کرتا رہتا ہے مثلاً نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا یا جھوٹ بولا کرتا ہے یا اور کوئی گناہ کرتا ہے، شریعت کی پابندی نہیں کرتا تو شرع میں اس کی بات کا کچھ اعتبار نہیں ہے، چاہے جتنی قسمیں کھا کر بیان کرے، بلکہ اگر دو تین آدمی ہوں ان کا بھی کوئی اعتبار نہیں ۔

مسئلہ :  اگر آسمان بالکل صاف ہو تو دو چار آدمیوں کے کہنے اور گواہی دینے سے چاند ثابت نہ ہو گا، چاہے رمضان کا چاند ہو چاہے عید کا البتہ اگر اتنی کثرت سے  لوگ اپنا چاند دیکھنا بیان کریں کہ دل گواہی دینے لگے کہ یہ سب بات بنا کر نہیں آئے ہیں اتنے لوگوں کا جھوٹا ہونا کسی طرح بھی نہیں ہوسکتا، تب چاند ثابت ہو گا۔

مسئلہ :  شہر بھر میں یہ خبر مشہور ہے کہ کل چاند ہوا اور بہت لوگوں نے دیکھا لیکن بہت ڈھونڈھا تلاش کیا پھر بھی کوئی ایسا آدمی نہیں ملتا جس نے خود چاند دیکھا ہو تو ایسی خبر کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

مسئلہ :  ایک شہر والوں کا چاند دیکھنا دوسرے شہر والوں پر بھی حجت ہے۔ ان دونوں شہر والوں میں کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو، حتی کہ ابتدائے مغرب میں چاند دیکھا جائے اور اس کی خبر معتبر طریقے سے انتہائے مشرق کے رہنے والوں کو پہنچ جائے تو ان پر اس دن کا روزہ ضروری ہو گا۔

مسئلہ :  اگر دو ثقہ (معتمد) آدمیوں کی شہادت سے رویتِ ہلال ثابت ہو جائے اور اسی حساب سے لوگ روزہ رکھیں ، بعد تیس روزے پورے ہو جانے کے عید الفطر کا چاند نہ دیکھا جائے، خواہ مطلع صاف ہو یا نہ ہو تو اکتیسویں دن افطار کر لیا جائے اور وہ دن شوّال کی پہلی تاریخ سمجھی جائے ۔

مسئلہ :  اگر تیس تاریخ کو دن کے وقت چاند دکھلائی دے تو وہ شب آئندہ کا سمجھا جائے گا، شبِ گذشتہ کا نہ سمجھا جائے گا اور وہ دن آئندہ ماہ کی تاریخ نہ قرار دیا جائے گا، خواہ یہ رویتِ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد۔

مسئلہ :  جو شخص رمضان یا عید کا چاند دیکھے اور کسی سبب سے اس کی شہادت شرعاً قابلِ اعتبار نہ قرار پائے اس پر ان دونوں کا روزہ رکھنا واجب ہے۔

سحری کھانے اور افطار کرنے کا بیان

مسئلہ :  سحری کھانا سنت ہے اگرچہ بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم سے کم دو تین چھوارے ہی کھا لے یا اور کوئی چیز تھوڑی بہت کھا لے اور کچھ نہ سہی تو تھوڑا سا پانی ہی پی لے۔

مسئلہ :  اگر کسی نے سحری نہ کھائی اٹھ کر ایک آدھ پان کھا لیا تب بھی سحری کھانے کا ثواب مل گیا۔

مسئلہ :  سحری میں جہاں تک ہو سکے دیر کر کے کھانا بہتر ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزے میں شبہ پڑ جائے۔

مسئلہ :  اگر سحری بڑی جلدی کھا لی مگر اس کے بعد پان تمباکو، چائے پانی دیر تک کھاتا پیتا رہا، جب صبح ہونے میں تھوڑی دیر رہ گئی تب کلی کر ڈالی  تب بھی دیر کر کے کھانے کا ثواب مل گیا اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو دیر کر کے کھانے کا حکم ہے۔

مسئلہ :  اگر رات کو سحری کھانے کے لئے آنکھ نہ کھلی سب سو گئے تو بے سحری کھائے صبح کا روزہ رکھو، سحری چھوٹ جانے سے روزہ چھوڑ دینا بڑی کم ہمتی کی بات اور بڑا گناہ ہے۔

مسئلہ :  کسی کی آنکھ دیر میں کھلی اور یہ خیال ہوا کہ ابھی رات باقی ہے اس گمان پر سحری کھا لی، پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو جانے کے بعد سحری کھائی تھی تو روزہ نہیں ہوا، قضا روزہ رکھے اور کفارہ واجب نہیں لیکن پھر بھی کچھ کھائے پئے نہیں ، روزے داروں کی طرح رہے اسی طرح اگر سورج ڈوبنے کے گمان سے روزہ کھول لیا پھر سورج نکل آیا تو روزہ جاتا رہا اس کی قضا کرے۔ کفارہ واجب نہیں اور جب تک سورج نہ ڈوب جائے کچھ کھانا پینا درست نہیں ۔

مسئلہ :  اگر اتنی دیر ہو گئی کہ صبح ہو جانے کا شبہ پڑ گیا تو اب کچھ کھانا مکروہ ہے اور اگر ایسے وقت کچھ کھا لیا یا پی لیا تو برا کیا اور گناہ ہوا پھر اگر معلوم ہوا کہ اس وقت صبح ہو گئی تھی تو اس روزے کی قضا رکھے اور کچھ نہ معلوم ہو شبہ ہی شبہ رہ جائے تو قضا رکھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط کی بات یہ ہے کہ اس کی قضا رکھ لے۔

مسئلہ :  مستحب یہ ہے کہ جب سورج یقیناً ڈوب جائے تو فوراً روزہ کھول ڈالے، دیر کر کے روزہ کھولنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  بدلی کے دن ذرا دیر کر کے روزہ کھولو ۔ جب خوب یقین ہو جائے کہ سورج ڈوب گیا ہو گا تب افطار کرو اور صرف گھڑی گھڑیال پر کچھ اعتبار نہ کرو، جب تک کہ تمہارا دل گواہی نہ دے، کیونکہ گھڑی شاید کچھ غلط ہو گئی ہو بلکہ اگر کوئی اذان بھی کہہ دے لیکن ابھی وقت ہونے میں کچھ شبہ ہے تب بھی روزہ کھولنا درست نہیں ۔

مسئلہ :  چھوہارے سے روزہ کھولنا بہتر ہے یا اور کوئی میٹھی چیز ہو اس سے کھولے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے افطار کرے، بعضی عورتیں اور بعضے مرد نمک کی کنکری سے افطار کرتے ہیں اور اس میں ثواب سمجھتے ہیں یہ عقیدہ غلط ہے۔

مسئلہ :  جب تک سورج ڈوبنے میں شبہ رہے تب تک افطار کرنا جائز نہیں ہے۔

قضا روزے کا بیان

مسئلہ :  جو روزے کسی وجہ سے جاتے رہے ہوں ،  رمضان کے بعد جہاں تک جلدی ہوسکے ان کی قضا رکھ لے دیر نہ کرے بے وجہ قضا رکھنے میں دیر لگانا گناہ ہے۔

مسئلہ :  روزے کی قضا میں دن تاریخ مقرر کر کے قضا کی نیت کرنا کہ فلاں تاریخ کے روزے کی قضا رکھتا ہوں ۔ یہ ضروری نہیں ہے بلکہ جتنے روزے قضا ہوں اتنے ہی روزے رکھ لینا چاہئے البتہ دو رمضان کے کچھ روزے قضا ہو گئے اس لیے دونوں سال کے روزوں کی قضا رکھنا ہے تو سال کا مقرر کرنا ضروری نہیں یعنی اس طرح نیت کرے کے فلاں سال کے روزوں کی قضا رکھتا ہوں ۔

مسئلہ :  قضا روزے میں رات سے نیت کرنا ضروری ہے اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو قضا صحیح نہیں ہوئی بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا قضا کا روزہ پھر سے رکھے۔ 

مسئلہ :  کفارے کے روزے کا بھی یہی حکم ہے کہ رات سے نیت کرنا چاہئے اگر صبح ہونے کے بعد نیت کی تو کفارے کا روزہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ :  جتنے روزے قضا ہو گئے ہوں ان سب کو چاہے ایک دم رکھے یا تھوڑے تھوڑے کر کے رکھے دونوں باتیں درست ہیں ۔

مسئلہ :  اگر رمضان کے روزے ابھی قضا نہیں رکھے اور دوسرا رمضان آگیا تو خیر اب رمضان کے ادا روزے رکھے اور عید کے بعد قضا رکھے لیکن اتنی دیر کرنا بری بات ہے ۔ 

مسئلہ :  رمضان کے مہینے میں دن کو بے ہوش ہو گیا اور تین دن تک برابر بے ہوش رہا تو فقط دو دن کے روزے قضا رکھے جس دن بے ہوش ہوا  اس ایک دن کی قضا  واجب نہیں ہے کیونکہ  اس دن کا روزہ بوجہ نیت کے درست ہو گیا ہاں اگر اس دن روزے سے تھا یا اس دن حلق میں کوئی دوا ڈالی اور وہ حلق سے اتر گئی تو اس دن کی قضا بھی واجب ہے۔

مسئلہ :  اور اگر رات کو بے ہوش ہوا ہو تب بھی جس رات کو بے ہوش ہوا اس ایک دن کی قضا واجب نہیں ہے باقی اور جتنے دن بے ہوش رہا سب کی قضا واجب ہے ہاں اگر رات کو صبح کا روزہ رکھنے کی نیت نہ تھی یا صبح کو کوئی دوا حلق میں ڈالی گئی تو اس دن کا روزہ بھی قضا رکھے۔

مسئلہ :  اگر سارے رمضان بھر بے ہوش رہے تب بھی  قضا رکھنا چاہئے یہ نہ سمجھے کہ سب روزے معاف ہو گئے البتہ اگر جنون ہو گیا اور پورے رمضان بھر سڑی دیوانہ رہا تو اس رمضان کے کسی روزے کی قضا واجب نہیں اور اگر رمضان شریف کے مہینے میں کسی دن جنون جاتا رہا اور عقل ٹھکانے ہو گئی تو اب سے روزے رکھنا شروع کرے اور جتنے روز جنون میں گئے ان کی بھی قضا  رکھے۔

نذر کے روزہ کا بیان

مسئلہ :  جب کوئی نذر مانے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر پورا نہ کرے گا تو گنہگار ہو گا۔

مسئلہ :  نذر دو طرح کی ہے ایک تو یہ ہے کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر مانی کہ یا اللہ اگر آج فلاں کام ہو جائے تو کل ہی تیرا روزہ رکھوں گا یا یوں کہا کہ یا اللہ میری فلاں مراد پوری ہو جائے  تو پرسوں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا ایسی نذر میں اگر رات سے روزہ کی نیت کرے تو بھی درست ہے اور اگر رات سے  روزے کی نیت نہ کی تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے نیت کر لے یہ بھی درست ہے نذر ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ :  جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانی اور جب جمعہ آیا تو بس اتنی نیت کر لی کہ آج میرا روزہ ہے یہ مقرر نہیں کیا کہ یہ نذر کا روزہ ہے یا یہ کہ نفل کی نیت کر لی کہ آج  میرا روزہ ہے یہ مقرر نہیں کیا کہ یہ نذر کا روزہ ہے  یا یہ کہ نفل کی نیت کر لی تب بھی نذر کا روزہ ادا ہو گیا، البتہ اس جمعہ کو قضا روزہ رکھ لیا اور نذر کا روزہ رکھنا یاد نہ رہا یا یاد تو تھا مگر قصداً قضا کا روزہ رکھا تو نذر کا روزہ ادا نہ ہو گا بلکہ قضا روزہ ہو جائے گا، نذر کا روزہ پھر رکھے۔

مسئلہ :  اور دوسری نذر یہ ہے کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر نہیں مانی بس اتنا ہی کہہ دیا کہ یا اللہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو ایک روزہ رکھوں گا یا کسی کام کا نام نہیں لیا ویسے ہی کہہ دیا کہ پانچ روزے رکھوں گا، ایسی نذر میں رات سے نیت کرنا شرط ہے، اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو نذر کا روزہ نہیں ہوا بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا۔

نفل روزے کا بیان

مسئلہ :  نفل روزے کی نیت اگر یہ مقرر کر کے کرے کہ میں نفل کا روزہ رکھتا ہوں تو بھی صحیح ہے اور اگر فقط اتنی نیت کرے کہ میں روزہ رکھتا ہوں تب بھی صحیح ہے۔

مسئلہ :  دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک نفل روزہ کی نیت کر لینا درست ہے اگر دس بجے دن تک مثلاً روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا لیکن ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں پھر جی میں آگیا اور روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے۔

مسئلہ :  رمضان شریف کے مہینے کے سوا جس دن چاہے نفل کا روزہ رکھے جتنے زیادہ روزے رکھے گا اتنا ہی زیادہ ثواب پائے گا، البتہ عید کے دن اور بقر عید کی دسویں ، گیارہویں ، بارہویں اور تیرہویں تاریخ کے یعنی سال بھر میں فقط پانچ روزے حرام ہیں ، اس کے سوا باقی سب روزے درست ہیں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص عید کے دن روزہ رکھنے کی منت مانے تب بھی اس دن کا روزہ درست نہیں اس کے بدلے کسی اور دن رکھ لے۔

مسئلہ :  نفل کا روزہ نیت کرنے سے واجب ہو جاتا ہے سو اگر صبح کو یہ نیت کی کہ آج میرا روزہ ہے پھر اس کے بعد توڑ دیا تو اب اس کی قضا رکھے۔

مسئلہ :  بے شوہر کی اجازت کے عورت کو نفل روزہ رکھنا درست نہیں اگر بے اس کی اجازت روزہ رکھ لیا تو اس کے تُڑوانے سے توڑ دینا درست ہے پھر جب وہ کہے اس کی قضا رکھے۔

مسئلہ :  کسی کے یہاں مہمان گیا  یا کسی نے دعوت کر دی اور کھانا نہ کھانے سے اس کا دل برا ہو گا، دل شکنی ہو گی تو اس کی خاطر سے نفل روزہ توڑ دینا درست ہے مہمان کی خاطر گھر والے کو بھی روزہ توڑ دینا درست ہے۔

مسئلہ :  کسی نے عید کے دن نفل روزہ رکھ لیا اور نیت کر لی تب بھی توڑ دے اور اس کی قضا رکھنی بھی واجب نہیں ۔

مسئلہ :  محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کوئی یہ روزہ رکھے اس کے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

مسئلہ :  اسی طرح بقر عید کی نویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا بھی بڑا ثواب ہے اس سے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر شروع چاند سے نویں تک برابر روزے رکھے تو بہت ہی بہتر ہے۔

مسئلہ :  شب برات کی پندرہویں اور عید کے مہینے میں چھ دن نفل روزے رکھنے کا بھی بہت زیادہ ثواب ہے۔

مسئلہ :  اگر ہر مہینے کی تیرہویں ، چودہویں ، پندرہویں تاریخ کو تین دن روزے رکھ لیا کرے تو گویا اس نے سال بھر برابر روزے رکھے، حضور ؐ یہ تین دن روزے رکھا کرتے تھے ایسے ہی ہر دوشنبہ و جمعرات کے دن بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔ اگر کوئی ہمت کرے تو ان کا بھی ثواب بہت ہے۔

روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے اور قضا یا کفارہ لازم آنے کا بیان

مسئلہ :  اگر روزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے جماع کر لے تو اس کا روزہ نہیں گیا اگرچہ پیٹ بھر کر کھائے۔

مسئلہ :  ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھا تو اگر وہ اس قدر طاقتور ہے کہ روزے سے  زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاد دلا دینا واجب ہے اور اگر کوئی کمزور ہے کہ روزے سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یاد نہ دلائے کھانے دے۔

مسئلہ :  دن کو سو گیا اور ایسا خواب دیکھا جس سے نہانے کی ضرورت ہو گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ :  دن کو سرمہ لگانا، تیل لگانا، خوشبو سونگھنا درست ہے اس سے روزے میں کچھ نقصان نہیں آتا چاہے جس وقت ہو بلکہ اگر سرمہ لگانے کے بعد تھوک یا رینٹھ میں سرمہ کا رنگ دکھائی دے تو بھی روزہ نہیں گیا نہ مکروہ ہوا۔

مسئلہ :  مرد عورت کا ساتھ لیٹنا، ہاتھ لگانا، پیار کرنا، یہ سب درست ہے لیکن اگر جوانی کا اتنا جوش ہو کہ ان باتوں سے صحبت کرنے کا ڈر ہو تو ایسا نہ کرنا چاہیے مکروہ ہے۔

مسئلہ :  حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا دھواں آپ ہی آپ چلا گیا یا گردو غبار چلا گیا تو روزہ نہیں گیا، البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔

مسئلہ :  لوبان وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتا رہا، اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر، کیوڑہ، گلاب، پھول وغیرہ اور خوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔

مسئلہ :  دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہوا تھا یا چھالی کا ٹکڑا وغیرہ کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کر کھا گیا لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا، آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھو اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو جاتا رہا البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل گیا تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ چاہے وہ چیز چنے کے برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو دونوں کا ایک یہ حکم ہے۔ 

مسئلہ :  اگر پان کھا کر خوب کلی کی غرغرہ کر منہ صاف کر لیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تو اس کا کچھ حرج نہیں روزہ ہو گیا۔

مسئلہ :  روزے میں تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا چاہے جتنا ہو۔

مسئلہ :  رات کو نہانے کی ضرورت ہوئی مگر غسل نہیں کیا دن کو نہایا تب بھی روزہ ہو گیا بلکہ اگر دن بھر نہ نہائے تب بھی روزہ نہیں جاتا البتہ اس کا گناہ الگ ہو گا۔

مسئلہ :  ناک کو اس زور سے سڑک لیا کہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ اسی طرح منہ کی رال سڑک کر نگل جانے سے بھی روزہ نہیں جاتا۔

مسئلہ :  منہ میں پان دبا کر سو گیا اور صبح ہو جانے کے بعد آنکھ کھلی تو روزہ نہیں ہوا، قضا رکھے کفارہ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  کلی کرتے وقت حلق میں پانی چلا گیا اور روزہ یاد تھا تو روزہ جاتا رہا قضا واجب ہے، کفارہ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  آپ ہی آپ قے ہو گئی تو روزہ نہیں گیا چاہے تھوڑی سی ہوئی ہو یا زیادہ البتہ اگر اپنے اختیار سے قے کی ہو اور منہ بھر کر قے ہوئی تو روزہ جاتا رہا اور اگر اس سے کم ہو تو خود کرنے سے بھی نہیں گیا۔

مسئلہ :  تھوڑی سی قے آئی پھر آپ ہی آپ حلق میں لوٹ گئی تب بھی روزہ نہیں ٹوٹا البتہ اگر قصداً لوٹا لیتا تو ٹوٹ جاتا۔

مسئلہ :  کسی نے کنکری یا لوہے کا ٹکڑا یا کوئی ایسی چیز کھا لی جس کو نہیں کھایا کرتے اور نہ اس کو کوئی بطور دوا کے کھاتا ہے تو اس کا روزہ جاتا رہا لیکن اس پر کفارہ واجب نہیں اور اگر ایسی چیز کھائی یا لی جس کو لوگ کھایا پیا کرتے ہیں یا کوئی ایسی چیز ہے کہ یوں تو نہیں کھاتے لیکن بطور دوا کے ضرورت کے وقت کھاتے ہیں تو بھی روزہ جاتا رہا اور قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ۔

مسئلہ :  اگر مرد نے جماع کیا تب بھی روزہ جاتا رہا اس کی قضا بھی رکھے اور کفارہ بھی دے جب مرد کے پیشاب کے مقام کی سپاری اندر چلی گئی تو روزہ ٹوٹ گیا اور قضا و کفارہ دونوں واجب ہو گئے چاہے منی نکلے یا نہ نکلے۔

مسئلہ :  اگر مرد نے پاخانے کی جگہ اپنا عضو کر دیا اور سپاری اندر چلی گئی تب بھی عورت مرد دونوں کا روزہ جاتا رہا، قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ۔

مسئلہ :  روزے کے توڑنے سے کفارہ جب ہی لازم آتا ہے جب کہ رمضان شریف میں روزہ توڑ ڈالے اور رمضان شریف کے سوا اور کسی روزے کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا چاہے جس طرح توڑے اگرچہ وہ روزہ رمضان کی قضا ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ :  عورت کو روزے میں پیشاب کی جگہ کوئی دوا رکھنا یا تیل وغیرہ کوئی چیز ڈالنا درست نہیں اگر کسی نے دوا رکھ لی تو روزہ جاتا رہا قضا واجب ہے، کفارہ نہیں ۔

مسئلہ :  اگر کسی ضرورت سے دائی نے پیشاب کی جگہ انگلی ڈالی یا خود اس نے اپنی انگلی ڈالی پھر ساری انگلی یا تھوڑی سی انگلی نکالنے کے بعد اندر کر دی تو روزہ جاتا رہا لیکن کفارہ واجب نہیں اور اگر نکالنے کے بعد پھر نہیں کی تو روزہ نہیں گیا ہاں اگر پہلے ہی سے پانی وغیرہ کسی چیز میں انگلی بھیگی ہوئی ہو تو اول ہی دفعہ کرنے سے روزہ جاتا رہے گا۔

مسئہ :  منہ سے خون نکلتا ہے اس کو تھوک کے ساتھ نگل گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ البتہ اگر خون تھوک سے کم ہو اور خون کا مزہ حلق میں معلوم نہ ہو تو روزہ نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ :  اگر زبان سے کوئی چیز چکھ کر تھوک دی تو روزہ نہیں ٹوٹا لیکن بے ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر کسی عورت کا شوہر بڑا بدمزاج ہو اور یہ ڈر ہو کہ سالن میں نمک پانی درست نہ ہو تو ناک میں دم کر دے گا، اس کو نمک چکھ لینا درست ہے اور مکروہ نہیں ۔

مسئلہ :  اپنے منہ سے چبا کر چھوٹے بچے کو کوئی چیز کھلانا مکروہ ہے البتہ اگر اس کی ضرورت پڑے اور مجبوری و ناچاری ہو جائے تو مکروہ نہیں ۔

مسئلہ :  کوئلہ چبا کر دانت صاف کرنا اور منجن سے دانت صاف کرنا مکروہ ہے اور اگر اس میں سے کچھ حلق میں اتر جائے گا تو روزہ جاتا رہے گا اور مسواک سے دانت صاف کرنا درست ہے چاہے سوکھی مسواک ہو یا تازی اسی وقت کی توڑی ہوئی۔ نیب کی  اگر مسواک ہے اور اس کا کڑوا پن منہ میں معلوم ہوتا ہے تب بھی مکروہ نہیں ۔

مسئلہ :  کوئی عورت غافل سو رہی تھی یا بے ہوش پڑی تھی یا زبردستی اس سے اس کے شوہر نے صحبت کی تو روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں اور مرد پر کفارہ بھی واجب ہے۔

مسئلہ :  کسی نے بھولے سے کچھ کھا لیا اور یوں سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے قصداً کچھ کھا لیا تو اب روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں اور اگر مسئلہ جانتا ہو اور پھر بھول کر ایسا کرنے کے بعد عمداً افطار کر دے تو جماع کی صورت میں کفارہ بھی لازم ہو گا اور کھانے کی صورت میں اس وقت بھی صرف قضا ہی ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی کو بے اختیار قے ہوئی یا احتلام ہو گیا اور وہ یہ سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں اور اگر مسئلہ معلوم ہو کہ اس سے روزہ نہیں جاتا اور پھر عمداً افطار کر لیا تو کفارہ بھی لازم ہو گا۔

مسئلہ :  اگر سرمہ لگایا یا  فصد لی یا تیل ڈالا پھر سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداً کھا لیا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں ۔

مسئلہ :  مرد اگر اپنے خاص حصے کے سوراخ میں کوئی چیز ڈالے تو وہ جوف تک نہیں پہنچتی اس لیے روزہ فاسد نہ ہو گا۔

مسئلہ :  کسی نے مردہ عورت سے یا کسی ایسی کم سن نابالغہ لڑکی سے جس کے ساتھ  جماع کی رغبت نہیں ہوتی یا کسی جانور سے جماع کیا یا کسی کو لپٹا لیا یا بوسہ لیا یا جلق کا  مرتکب ہوا اور ان سب صورتوں میں منی کا خروج ہو گیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا اور کفارہ واجب نہ ہو گا۔

مسئلہ :  وہ شخص جس میں روزے کے واجب ہونے کے تمام شرائط پائے جاتے ہوں رمضان کے اس ادائے روزہ میں جس کی نیت صبح صادق سے پہلے کر چکا ہو عمداً منہ کے ذریعہ سے جوف میں کوئی ایسی چیز پہنچائے جو انسان کی دوا یا غذا میں مستعمل ہوتی ہے گو وہ بہت ہی قلیل ہو حتی کہ  ایک تل کے برابر ہی ہو یا جماع کرے یا کرائے، لواطت بھی اسی حکم میں ہے۔ جماع میں خاص حصّے کے سر کا داخل ہو جانا کافی ہے منی کا خارج ہونا بھی شرط نہیں ان سب صورتوں میں قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔

مسئلہ :  جو لوگ حقہ پینے کے عادی ہوں یا کسی نفع کی غرض سے پئیں روزے کی حالت میں تو ان پر بھی قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔

مسئلہ :  اگر کوئی عورت کسی نابالغ بچے یا مجنوں سے جماع کرائے تب بھی اس کو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

مسئلہ :  جماع میں عورت اور مرد دونوں کا عاقل ہونا شرط نہیں ۔ حتی کہ اگر مجنوں ہو اور دوسرا عاقل تو عاقل پر کفارہ لازم ہو گا۔

مسئلہ :  سونے کی حالت میں منی کے خارج ہونے سے جس کو احتلام کہتے ہیں اگرچہ بغیر غسل کئے ہوئے روزہ رکھے روزہ فاسد نہ ہو گا، اسی طرح اگر کسی عورت کے دیکھنے یا اس کا خاص حصہ دیکھنے سے یا صرف کسی بات کا خیال دل میں کرنے سے منی خارج ہو جائے جب بھی روزہ فاسد نہ ہو گا۔

مسئلہ :  عورت کا بوسہ لینا اور اس سے بغل گیر ہونا مکروہ ہے جبکہ انزال کا خوف ہو یا اپنے نفس کو بے اختیار ہو جانے کا اور اس حالت میں جماع کر لینے کا اندیشہ ہو اور اگر یہ خوف و اندیشہ نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں ۔

مسئلہ :  کسی عورت وغیرہ کے ہونٹ کا منہ میں لینا اور مباشرتِ فاحشہ یعنی خاص بدن کا برہنہ ملانا بدون و خول کے ہر حال میں مکروہ ہے خواہ انزال اور جماع کا خوف ہو یا نہ ہو۔

مسئلہ :  اگر کوئی مقیم بعد نیت صوم کے مسافر بن جائے اور تھوڑی دور جا کر کسی بھولی ہوئی چیز کے لینے کو اپنے مکان واپس آئے اور وہاں پہنچ کر روزہ کو فاسد کر دے تو اس کو کفارہ دینا ہو گا اس لیے کہ اس پر اس وقت مسافر کا اطلاق نہ تھا گو وہ ٹھہرنے کی نیت سے نہ گیا تھا اور نہ وہاں ٹھہرا۔

مسئلہ :  سوائے جماع کے اور کسی سبب سے اگر کفارہ واجب ہوا ہو اور ایک کفارہ ادا نہ کرنے پایا ہو کہ دوسرا واجب ہو جائے تو ان دونوں کے لیے ایک ہی کفارہ کافی ہے۔ اگرچہ دونوں کفارے دو  رمضانوں کے ہوں ۔

	ہاں جماع کے سبب سے جتنے روزے فاسد ہوئے ہوں تو اگر وہ ایک ہی رمضان کے روزے ہیں تو ایک ہی کفارہ کافی ہے اور دو رمضانوں کے ہیں تو ہر ایک رمضان کا کفارہ علیٰحدہ دینا ہو گا اگرچہ پہلا کفارہ نہ ادا کیا ہو۔

مسئلہ :  رمضان کے مہینے میں اگر کسی کا روزہ اتفاقاً ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں ۔ سارے دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے ۔

مسئلہ :  کسی نے رمضان میں روزے کی نیت ہی نہیں کی اس لیے کھاتا پیتا رہا اس پر کفارہ واجب نہیں ۔ کفارہ جب ہے کہ نیت کر کے توڑ دے۔

کفارہ کا بیان

مسئلہ :  رمضان شریف کے روزہ کے توڑ ڈالنے کا کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے تک برابر لگاتار روزے رکھے ، تھوڑے تھوڑے روزے رکھنا درست نہیں ، اگر کسی وجہ سے بیچ میں دو ایک روزے نہیں رکھے تو اب پھر سے دو مہینے کے روزے رکھے ہاں جتنے روزے عورت  کے حیض کی وجہ سے جاتے رہے ہیں وہ معاف ہیں ان کے چھوٹ جانے سے کفارے میں کچھ نقصان نہیں آیا لیکن پاک ہونے کے بعد فوراً پھر روزے رکھنا شروع کرے اور ساٹھ روزے پورے کر لے۔

مسئلہ :  اگر کسی عورت کے نفاس کی وجہ سے بیچ میں روزے چھوٹ گئے تب بھی تندرست ہونے کے بعد پھر سے روزے رکھنا شروع کرے۔

مسئلہ :  اگر بیچ میں رمضان کا مہینہ آگیا تب بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ :  اگر کسی کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائے جتنا ان کے پیٹ میں سمائے خوب تن کے کھا لیں ۔

مسئلہ :  ان مسکینوں میں اگر بعضے بالکل چھوٹے بچے ہوں تو جائز نہیں ، ان بچوں کے بدلے اور مسکینوں کو پھر کھلائے۔

مسئلہ :  اگر گیہوں کی روٹی ہو تو روکھی روٹی کھلانا بھی درست ہے اور اگر جَو باجرہ، جوار وغیرہ کی روٹی ہو تو اس کے ساتھ کچھ دال وغیرہ دینا چاہئے جس کے ساتھ روٹی کھائیں ۔

مسئلہ :  اگر کھانا نہ کھلائے بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کچا اناج دے دے تو بھی جائز ہے۔ ہر ایک مسکین کو اتنا دے دے جتنا صدقۂ فطر دیا جاتا ہے اور صدقۂ فطر کا بیان زکوٰۃ کے باب میں آئے گا انشاء اللہ۔

مسئلہ :  اگر اتنے اناج کی قیمت دے دے تو بھی جائز ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی اور سے کہہ دے کہ تم میری طرف سے کفارہ ادا کر دو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور اس نے اس کی طرف سے کھلایا، کچا اناج دے دیا تب بھی کفارہ ادا ہو گیا اور اگر بے اس کے کہے کسی نے اس کی طرف سے دے دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ :  اگر ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن تک صبح و شام کھانا کھلا دیا یا ساٹھ دن تک کچا اناج یا قیمت دیتا رہا تب بھی کفارہ صحیح ہو گیا۔

مسئلہ :  اگر ساٹھ دن تک لگاتار کھانا نہیں کھلایا بلکہ بیچ میں کچھ دن ناغہ ہو گئے تو کچھ حرج نہیں یہ درست ہے۔

مسئلہ :  اگر ساٹھ دن کا اناج حساب کر کے ایک فقیر کو ایک ہی دن دے دیا تو درست نہیں ۔ اسی طرح ایک ہی فقیر کو ایک ہی دن اگر ساٹھ دفعہ کر کے یا دے دیا تب بھی ایک ہی دن کا ادا ہوا، ایک کم ساٹھ مسکینوں کو پھر دینا چاہئے اسی طرح قیمت دینے کا بھی حکم ہے یعنی ایک دن میں ایک مسکین کو ایک روزے کے بدلے سے زیادہ دینا درست نہیں ۔ 

مسئلہ :  اگر کسی فقیر کو صدقۂ فطر کی مقدار سے کم دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

مسئلہ :  اگر ایک  ہی رمضان کے دو یا تین روزے توڑ ڈالے تو ایک ہی کفارہ واجب ہے البتہ اگر یہ دونوں روزے ایک رمضان کے نہ ہو تو الگ الگ کفارہ دینا پڑے گا۔

روزہ توڑ دینے کا بیان

مسئلہ :  اچانک ایسا بیمار ہو گیا کہ اگر روزہ نہ توڑے گا تو جان پر بن جائے گی یا بیماری بہت بڑھ جائے گی تو روزہ توڑ دینا درست ہے جیسے دفعتاً پیٹ میں ایسا درد اٹھا کہ بے تاب ہو گیا یا سانپ نے کاٹ لیا تو دوا پی لینا اور روزہ توڑ ڈالنا درست ہے ایسے ہی اگر پیاس لگی کہ ہلاکت کا ڈر ہے تو بھی روزہ توڑ ڈالنا درست ہے۔

مسئلہ :  حاملہ عورت کو کوئی ایسی بات پیش آ گئی جس سے اپنی جان کا یا بچہ کی جان کا ڈر ہے تو روزہ توڑ ڈالنا درست ہے۔

مسئلہ :  کھانا پکانے کی وجہ سے بے حد پیاس لگ آئی اور اتنی بے تابی ہوئی  کہ اب جان کا خوف ہے تو روزہ کھول ڈالنا درست ہے لیکن اگر خود اس نے قصداً اتنا کام کیا جس سے ایسی حالت ہو گئی تو گنہ گار ہو گی۔

جن وجہوں سے روزہ توڑ دینا جائز ہے ان کا بیان

مسئلہ :  اگر ایسا بیمار ہے کہ روزہ نقصان کرتا ہے  اور یہ ڈر ہے کہ اگر روزہ رکھا تو بیمار پڑ جائے گی یا دیر میں اچھا ہو گا یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے جب اچھا ہو جائے تو اس کی قضا رکھ لے لیکن فقط اپنے دل سے ایسا خیال کر لینے سے روزہ چھوڑ دینا درست نہیں بلکہ جب کوئی مسلمان دیندار حکیم طبیب کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑنا چاہیے۔

مسئلہ :  اگر حکیم یا ڈاکٹر کافر ہے یا شرع کا پابند نہیں ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں ہے فقط اس کے کہنے سے روزہ نہ چھوڑے۔

مسئلہ :  اگر حکیم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن خود اپنا تجربہ ہے اور کچھ ایسی نشانیاں معلوم ہوئیں جن کی وجہ سے دل گواہی دیتا ہے کہ روزہ نقصان کرے گا تب بھی روزہ نہ رکھے اور اگر خود بھی تجربہ کار نہ ہو اور اس بیماری کا کچھ حال معلوم نہ ہو تو فقط خیال کا اعتبار نہیں اگر دیندار حکیم کے بغیر بتلائے اور بے تجربے کے اپنے خیال ہی سے رمضان کا روزہ توڑے گا تو کفارہ دینا پڑے گا۔ اور اگر روزہ نہ رکھے گا تو گنہ گار ہو گا۔

مسئلہ :  اگر بیماری سے اچھا ہو گیا لیکن ابھی ضعف باقی ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ اگر روزہ رکھا تو پھر بیمار پڑ جائے گا تب بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی مسافرت میں ہو تو اس کو بھی درست ہے کہ روزہ نہ رکھے پھر کبھی اس کی قضا رکھ لے ۔

مسئلہ :  مسافرت میں اگر روزے سے کوئی تکلیف نہ ہو جیسے ریل پر سوار ہے اور یہ خیال ہے کہ شام تک گھر پہنچ جاؤں گا یا اپنے ساتھ سب راحت و اکرام کا سامان موجود ہے تو ایسے وقت سفر میں بھی روزہ رکھ لینا بہتر ہے اور اگر روزہ نہ رکھے بلکہ قضا رکھ لے تب بھی کوئی گناہ نہیں ۔ ہاں رمضان شریف کے روزہ کی جو فضیلت ہے اس سے محروم رہے گا اور اگر راستے میں روزہ کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی ہو تو ایسے وقت روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔

مسئلہ :  اگر بیماری سے اچھا نہیں  ہوا، اسی میں مرگیا یا ابھی گھر نہیں پہنچا مسافرت ہی میں مرگیا تو جتنے روزے بیماری کی وجہ سے یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہیں آخرت میں ان کا مواخذہ نہ ہو گا، کیونکہ قضا رکھنے کی مہلت اس کو ابھی نہیں ملی تھی۔

مسئلہ :  اگر بیماری میں دس روزہ گئے تھے پھر پانچ دن اچھا رہا لیکن قضا روزے نہیں رکھے تو پانچ روزے تو معاف ہیں فقط پانچ روزوں کی قضا نہ رکھنے پر پکڑا جائے گا اور اگر پورے دس دن اچھا رہا تو پورے دسوں تک کی پکڑ ہو گی اس لیے ضروری ہے کہ جتنے روزوں کا مواخذہ اس پر ہونے والا ہے  اتنے روزوں کا فدیہ دینے کے لیے کہہ مرے جب کہ اس کے پاس مال ہو۔ 

مسئلہ :  اگر راستے میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے ٹھہر گیا تو اب روزہ چھوڑنا درست نہیں کیونکہ شرع سے اب وہ مسافر نہیں رہا البتہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو روزہ نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ :  حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی جان یا بچہ کی  جان کا کچھ ڈر ہو تو روزہ نہ رکھے پھر کبھی قضا رکھ لے لیکن اگر اپنا شوہر مالدار ہے کہ کوئی انّا رکھ کر دودھ پلوا سکتاہے تو دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کو روزہ چھوڑ دینا درست نہیں ہے البتہ اگر وہ ایسا لڑکا ہے کہ سوائے اپنی ماں کے کسی اور کا دودھ نہیں پیتا تو ایسے وقت ماں کا روزہ نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ :  کسی انّا نے دودھ پلانے کی نوکری کی پھر رمضان شریف اور  روزے سے  بچہ کی جان کا ڈر ہے تو انّا کو بھی روزے نہ رکھنا درست ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی عورت کو حیض آگیا یا بچہ پیدا ہوا اور نفاس ہو گیا تو حیض و نفاس رہنے تک روزہ رکھنا درست نہیں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی عورت رات کو پاک ہو گئی تو اب صبح روزہ نہ چھوڑے، اگر رات کو نہائی ہو تب بھی روزہ رکھ لے اور صبح کو نہا لے اور اگر صبح ہونے کے بعد پاک ہوئی تو اب پاک ہونے کے بعد روزہ کی نیت کرنا درست نہیں لیکن کچھ کھانا پینا بھی درست نہیں ہے۔ اب دن بھر روزے داروں کی طرح رہنا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر کوئی دن کو مسلمان ہوا یا دن کو جوان ہوا تو اب دن بھر کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے، اور اگر کچھ کھا لیا تو اس روزے کی قضا رکھنی بھی نئے مسلمان اور نئے جوان کے ذمہ واجب نہیں ۔

فدیہ کا بیان

مسئلہ :  جس کو اتنا بڑھاپا ہو گیا کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی یا ایسا بیمار ہے کہ اب اچھا ہونے کی امید نہیں نہ روزہ رکھنے کی طاقت ہے تو وہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو صدقۂ فطر کے برابر غلہ دے دے یا صبح و شام پیٹ بھر کے اس کو کھانا دے شرع میں اس کو فدیہ کہتے ہیں اور اگر غلہ کے بدلے میں اسی قدر غلہ کی قیمت دے دے تب بھی درست ہے۔

مسئلہ :  وہ گیہوں اگر تھوڑے تھوڑے کر کے کئی مسکینوں کو بانٹ دے تب بھی صحیح ہے۔

مسئلہ :  پھر اگر کبھی طاقت آ گئی یا بیماری سے اچھا ہو گیا تو سب روزے قضا رکھنے پڑیں گے اور جو فدیہ دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔

مسئلہ :  کسی کے ذمہ کئی روزے قضا تھے اور مرتے وقت وصیت کر گیا کہ میرے روزوں کے بدلے فدیہ دے دینا تو اس کے مال میں سے اس کا ولی یہ فدیہ دے دے اور کفن دفن اور قرض ادا کر کے جتنا مال بچے اس کی تہائی میں سے اگر سب فدیہ نکل آئے تو دینا واجب ہو گا۔

مسئلہ :  اگر اس نے وصیت نہیں کی مگر ولی نے اپنے مال میں سے فدیہ دے دیا تب بھی خدا سے امید رکھے کہ شاید قبول کر لے اور اب روزوں کا مواخذہ نہ کرے گا اور بغیر وصیت کئے خود مردے کے مال میں سے فدیہ دینا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر تہائی مال سے زیادہ ہو جائے تو باوجود وصیت کے بھی زیادہ دینا بدون رضا مندی سب وارثوں کے جائز نہیں ہاں اگر سب وارث خوشی سے راضی ہو جائیں تو دونوں صورتوں میں فدیہ دینا درست ہے۔ لیکن نابالغ وارث کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں ہے بالغ وارث اپنا حصہ جُدا کر کے اس میں سے دے دیں تو درست ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی کی نمازیں قضا ہو گئی ہوں اور وصیت کر کے مرگیا کہ میری نمازوں کے بدلے یہ فدیہ دے دینا اس کا بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ :  ہر وقت کی نمازوں کا اتنا ہی فدیہ ہے جتنا ایک روزہ کا فدیہ ہے اس حساب سے دن رات کی پانچ فرض اور ایک وتر چھ نمازوں کی طرف سے ایک چھٹانک کم پورے گیارہ سیر گیہوں اسی روپیہ کے سیر سے دے مگر احتیاطاً پورے بارہ سیر دے۔

مسئلہ :  کسی کے ذمہ زکوٰۃ باقی ہے ابھی ادا نہیں کی تو وصیت کر جانے سے اس کا بھی ادا کر دینا وارثوں پر واجب ہے اگر وصیت نہیں کی اور وارثوں نے اپنی خوشی سے دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔

مسئلہ :  اگر ولی مردے کی طرف سے قضا روزے  رکھ لے یا اس کی طرف سے نمازیں قضا پڑھ لے تو یہ درست نہیں یعنی اس کے دئے سے اتریں گی ۔

مسئلہ :  بے وجہ رمضان کا روزہ چھوڑ دینا درست نہیں اور بڑا گناہ ہے یہ نہ سمجھے کہ اس کے بدلے ایک روزہ  قضا رکھ لوں گا کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رمضان کے ایک روزہ کے بدلے میں اگر سال بھر برابر روزہ رکھتا رہے تب بھی اتنا ثواب نہ ملے گا جتنا کہ رمضان میں ایک روزہ کا ثواب ملتا ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی نے شامت اعمال سے روزہ نہ رکھا تو اور لوگوں کے سامنے کچھ نہ کھائے نہ پئے نہ یہ ظاہر  کرے کہ آج میرا روزہ نہیں ہے اس لئے کہ گناہ کر کے اس کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اگر سب سے کہہ دے گا تو دہرا گناہ ہو گا ایک تو روزہ نہ رکھنے کا دوسرا گناہ ظاہر کرنے کا۔

مسئلہ :  جب لڑکا یا لڑکی روزہ رکھنے کے لائق ہو جائیں تو ان کو بھی روزہ رکھنے کا حکم کرے اور جب دس برس کی عمر ہو جائے تو مار کر روزہ رکھائے اگر سارے روزے نہ رکھ سکے تو جتنے بھی رکھ سکے رکھائے۔

مسئلہ :  اگر نابالغ لڑکا لڑکی روزہ رکھ کے توڑ ڈالے تو اس کی قضا نہ رکھائے البتہ اگر نماز کی نیت کر کے توڑ دے تو اس کو دہرائے۔
٭٭٭



اعتکاف کا بیان

	رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کے دن چھپنے سے ذرا پہلے سے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آئے اس تاریخ کے دن  سورج چھپنے تک مسجد میں بیٹھنا اس کو اعتکاف کہتے ہیں اس کا بڑا ثواب ہے۔

اعتکاف کے مسائل

مسئلہ :  اعتکاف کے لئے کئی چیزیں ضروری ہیں ۔   (۱) مسجد جماعت میں ٹھیرنا   (۲) بہ نیت اعتکاف ٹھیرنا، پس بے قصد و ارادہ ٹھیر جانے کو اعتکاف نہیں کہتے چونکہ نیت کے صحیح ہونے کے لیے نیت کرنے والے کا مسلمان ہونا اور عاقل ہونا شرط ہے لہٰذا عقل اور اسلام کا شرط ہونا بھی نیت کے ضمن میں آگیا (۳) حیض و نفاس سے خالی اور پاک ہونا اور جنابت سے پاک ہونا۔

مسئلہ :  سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام یعنی کعبہ مکرمہ میں کیا جائے اس کے بعد مسجد نبوی کا ۔ اس کے بعد مسجد بیت المقدس کا اس کے بعد اس جامع مسجد کا جس میں جماعت کا انتظام ہو، اگر جامع مسجد میں جماعت کا انتظام نہ ہو تو محلہ کی مسجد۔ اس کے بعد وہ مسجد جس میں زیادہ جماعت ہوتی ہو۔

مسئلہ :  اعتکاف کی تین قسمیں ہیں ۔   ۱؎  واجب  ۲؎ سنت مؤکدہ۔  ۳؎ مستحب 

واجب وہ ہے جو نذر کی کی جائے نذر خواہ غیر متعلق ہو جیسے کوئی شخص بے کسی شرط کے اعتکاف کی نذر کرے یا معلق جیسے کوئی شخص یہ شرط کرے کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے گا تو میں اعتکاف کروں گا، اور 

سنت مؤکدہ ہے رمضان کے اخیر عشرہ میں نبی کریم ﷺ سے بالالتزام اعتکاف کرنا احادیث صحیحہ میں منقول ہے مگر یہ سنت مؤکدہ بعض کے کرنے سے سب کے ذمے سے اتر جائے گی اور

مستحب وہ ہے ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کے سوا اور کسی زمانہ میں خواہ رمضان کا پہلا دوسرا عشرہ ہو یا اور کوئی مہینہ ہو۔

مسئلہ :  اعتکاف واجب کے لئے صوم شرط ہے جب کوئی شخص اعتکاف کرے تو اس کو روزہ رکھنا بھی ضروری ہو گا بلکہ اگر یہ بھی نیت کرے کہ میں روزہ رکھوں گا، تب بھی اس کو روزہ رکھنا لازم ہو گا اسی وجہ سے اگر کوئی شخص رات کے اعتکاف کی نیت کرے تو وہ لغو سمجھی جائے گی کیونکہ رات روزے کا محل نہیں ۔ ہاں اگر رات دن دونوں کی نیت کرے یا صرف کئی دنوں کی، تو پھر رات ضمنا داخل ہو جائے گی اور رات کو بھی اعتکاف کرنا ضروری ہو گا۔ روزہ کا خاص اعتکاف کے لئے رکھنا ضروری نہیں خواہ کسی  غرض سے روزہ رکھا جائے اعتکاف کے لئے کافی ہے۔ مثلاً کوئی شخص  رمضان میں اعتکاف کی نذر کرے تو رمضان کا روزہ اس اعتکاف کے لئے بھی کافی ہے۔ ہاں اس روزہ کا واجب ہونا ضروری ہے نفل روزہ اس کے لئے کافی نہیں مثلاً کوئی شخص نفل روزہ رکھے اور بعد اس کے اسی دن اعتکاف کی نذر کرے تو صحیح نہیں اگر  کوئی شخص پورے  رمضان کے اعتکاف کی نذر کرے اور اتفاق سے رمضان میں نہ کر سکے تو کسی اور مہینے میں اس کے بدلے کر لینے سے اس کی نذر پوری ہو جائے گی مگر علی الاتصال روزے رکھنا اور ان میں اعتکاف کرنا ضروری ہو گا۔

مسئلہ :  اعتکاف مسنون میں تو روزہ ہوتا ہی ہے اس لئے  اس کے واسطے سرا کرنے کی ضرورت نہیں ۔

مسئلہ :  اعتکاف مستحب میں بھی احتیاط یہ ہے کہ روزہ شرط ہے اور معتمد یہ ہے کہ شرط نہیں ۔

مسئلہ :  اعتکاف واجب کم سے کم ایک دن ہوسکتا ہے اور زیادہ جس قدر نیت کرے اور اعتکاف مسنون ایک عشرہ اس لئے کہ اعتکاف مسنون رمضان کے اخیر عشرہ میں ہوتا ہے اور اعتکاف مستحب کے لئے کوئی مقدار مقرر نہیں ہے ایک منٹ بلکہ اس سے بھی کم ہوسکتا ہے۔

مسئلہ :  حالت اعتکاف میں دو قسم کے افعال حرام ہیں یعنی ان کے ارتکاب سے اگر اعتکاف واجب یا مسنون ہے تو فاسد ہو جائے گا اور اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ اور اگر اعتکاف مستحب ہے تو ختم ہو جائے گا۔

پہلی قسم :  اعتکاف کی جگہ سے بے ضرورت  باہر نکلنا ضرورت عام ہے خواہ طبعی ہو یا شرعی جیسے پاخانہ پیشاب غسلِ جنابت کھانا کھانا بھی ضرورت طبعی میں داخل ہے۔ جب کہ کوئی شخص کھانا لانے والا نہ ہو شرعی ضرورت جیسے جمعہ کی نماز ہے۔

مسئلہ :  جس ضرورت کے لئے اپنے اعتکاف کی مسجد سے باہر جائے بعد اس کے فارغ ہونے کے وہاں قیام نہ کرے اور جہاں تک ممکن ہو ایسی جگہ اپنی ضرورت رفع کرے۔

حدیث :  نبی کریم ﷺ  کار ارشاد ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لئے ایک دن کا بھی اعتکاف کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے تین خندقوں کی مقدار دور کر دے گا : (طبرانی)

حدیث :  نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان  بھائی کی حاجت پوری کر دینا اس میں کوشش کرنا دس سال کے اعتکاف سے بھی زیادہ ثواب  کا موجب ہے۔ (طبرانی)

حدیث :  نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ رمضان  کے دس دنوں میں اعتکاف کرنے کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔ (بیہقی)

	جو اس مسجد سے زیادہ قریب ہو اگر جمعہ کی نماز کے لئے کسی مسجد میں جائے اور بعد نماز کے وہیں ٹھیر جائے اور وہیں اعتکاف کو پورا کرے تب بھی جائز ہے مگر مکروہ ہے۔

مسئلہ :  بھولے سے بھی اپنے اعتکاف کی مسجد کو ایک منٹ بلکہ اس سے بھی کم چھوڑ دینا جائز نہیں ۔

مسئلہ :  جو عذر کثیر الوقوع نہ ہوں ان کے لیے اپنے معتکف کو چھوڑ دینا منافی اعتکاف ہے مثلاً کسی مریض کی عیادت کے لئے یا کسی ڈوبتے ہوئے کو بچانے کے لئے یا آگ بجھانے کے لئے یا مسجد کے گرنے کے خوف سے ان صورتوں میں معتکف کا نکل جانا گناہ نہیں بلکہ جان بچانے کی غرض سے  ضروری ہے مگر اعتکاف قائم نہ رہے گا۔ اگر کسی شرعی یا طبعی ضرورت کے لئے نکلے اور اس درمیان میں خواہ ضرورت رفع  ہونے سے پہلے یا اس کے بعد کسی مریض کی عیادت کرے یا نماز جنازہ میں شریک ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ 

مسئلہ :  جمعہ کی نماز کے لیے ایسے وقت جائے کہ تحیۃ المسجد اور سنت جمعہ وہاں پڑھ سکے اور بعد نماز کے بھی سنت پڑھنے کے لئے ٹھیرنا جائز ہے۔ اس مقدار وقت کا اندازہ اس شخص کی رائے پر چھوڑ دیا گیا ہے اگر اندازہ غلط ہو جائے یعنی کچھ پہلے پہنچ جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص زبردستی معتکف سے  باہر نکال دیا جائے تب بھی اس کا اعتکاف نہ رہے گا۔ مثلاً کسی جرم میں حاکم وقت کی طرف سے وارنٹ جاری ہوا اور سپاہی اس کو گرفتار کر کے لے جائیں یا کسی کا قرض چاہتا ہو اور وہ اس کو باہر نکالے۔

مسئلہ :  اسی طرح اگر کسی شرعی یا طبعی ضرورت سے نکلے اور راستہ میں کوئی خواہ روک لے یا بیمار ہو جائے اور پھر معتکف تک پہنچنے میں کچھ دیر ہو جائے تب بھی اعتکاف قائم نہ رہے گا۔

دوسری قسم :  ان افعال کی جو اعتکاف میں ناجائز ہیں ۔ جماع وغیرہ کرنا خواہ  عمداً کیا جائے یا سہواً۔ اعتکاف کا خیال نہ رہنے کے سبب سے مسجد میں کیا جائے یا مسجد سے باہر ہر حال میں اعتکاف باطل ہو جائے گا۔ جو افعال کہ تابع جماع کے ہیں جیسے بوسہ لینا، یا معانقہ کرنا وہ بھی حالت اعتکاف میں ناجائز ہیں مگر ان سے اعتکاف باطل نہیں ہوتا تاوقتیکہ منی خارج نہ ہو البتہ صرف خیال اور فکر سے اگر منی خارج ہو تو اعتکاف فاسد نہ ہو گا۔

مسئلہ :  حالتِ اعتکاف میں بے ضرورت کسی دنیاوی کام میں مشغول ہونا مکروہ تحریمی ہے۔ مثلاً بے ضرورت خریدو فروخت یا تجارت کا کوئی کام کرنا۔ ہاں جو کام نہایت ضروری ہو مثلاً گھر میں  کھانے کو نہ ہو اور اس کے سوا کوئی دوسرا شخص قابل اطمینان خریدنے والا ہو ایسی حالت میں خریدو فروخت کرنا جائز ہے  مگر مبیع کا مسجد میں لانا کسی حال میں جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس کے مسجد میں لانے سے مسجد خراب ہو جائے یا جگہ رک جانے کا خوف ہو، ہاں اگر مسجد کے خراب ہو جانے یا جگہ رک جانے کا خوف نہ ہو تو بعض کے نزدیک جائز ہے۔

مسئلہ :  حالت اعتکاف میں  بالکل چپ چاپ بیٹھنا بھی مکروہ ہے تحریمی ہے۔ ہاں بری باتیں زبان سے نہ نکالے، جھوٹ نہ بولے ، غیبت نہ کرے بلکہ قرآن مجید کی تلاوت یا کسی دینی علم کے پڑھنے پڑھانے یا کسی اور عبادت میں اپنے اوقات صرف کرے۔

مسئلہ :  اگر کوئی عورت اعتکاف کرے تو اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پابندی سے جم کر بیٹھنے فقط پیشاب پاخانہ کی مجبوری سے تو وہاں اے اٹھنا درست ہے اگر کوئی کھانا پانی دینے والا ہو  تو کھانے کے لئے بھی نہ اٹھے ہر وقت اسی جگہ بیٹھی رہے اور وہیں سوئے :

مسئلہ :  اگر عورت کو حالت اعتکاف میں حیض یا نفاس آ جائے تو اعتکاف چھوڑ دے اس میں درست نہیں ۔

مسئلہ :  اعتکاف میں مرد سے ہم بستر ہونا، لیٹنا، چمٹنا بھی درست نہیں ۔
٭٭٭




 کتاب الزّکوٰۃ

زکوٰۃ کا بیان

	جس کے پاس مال ہو اور اس کی زکوٰۃ نہ نکالتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا گنہگار ہے قیامت کے دن اس پر بڑا عذاب ہو گا۔

مسئلہ :  جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گذرنے پر اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ دینا واجب نہیں ۔

مسئلہ :  کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے یا چھ مہینے تک رہا پھر وہ گم ہو گیا اور دو تین مہینے کے بعد پھر مل گیا تب بھی زکوٰۃ دینا واجب ہے، غرض کہ جب سال کے اوّل و آخر میں مالدار ہو جائے اور سال کے بیچ میں تھوڑے دن کم ہو جانے سے زکوٰۃ معاف نہیں ہوتی۔

مسئلہ :  کسی کے پاس آٹھ نو تولہ سونا تھا لیکن سال گذرنے سے پہلے پہلے جاتا رہا۔ پورا سال نہیں گزرنے پایا تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  اگر دو سو روپے پاس ہیں اور ایک سو روپے کا قرض دار ہے تو ایک سو روپے کی زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ :  چاندی کے زیور، برتن اور سچا گوٹہ ٹھپہ سب پر زکوٰۃ واجب ہے ۔ چاہے پہنتی رہتی ہو یا بند رکھے ہوں اور کبھی پہنتی ہو۔ غرض کہ چاندی سونے کی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے البتہ اگر اسی مقدار سے کم ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔

مسئلہ :  سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں کچھ میل ہو جیسے مثلاً چاندی میں رانگا ملا ہوا ہے تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا۔ اگر چاندی زیادہ ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے اور اگر رانگا زیادہ ہے تو اس کو چاندی نہ سمجھیں گے پس جو حکم پیتل، تانبے، لوہے، رانگے، وغیرہ اسباب کا آگے آئے گا وہی اس کا بھی حکم ہے۔

مسئلہ :  کسی کے پاس نہ تو پوری مقدار  سونے کی ہے نہ پوری مقدار چاندی کی ہے بلکہ تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی تو اگر دونوں کی قیمت ملا کر ساٹھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے یا ساڑھے سات تولہ سونے کی برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر دونوں چیزیں تھوڑی تھوڑی ہیں کہ دونوں کی قیمت نہ اتنی چاندی کے برابر ہے نہ اتنے سونے کے برابر تو زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر سونے اور چاندی دونوں کی پوری پوری مقدار ہے تو قیمت لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

مسئلہ :  کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زائد رکھے تھے پھر سال پورا ہنے سے پہلے پہلے پچاس روپے اور مل گئے تو ان پچاس روپے کا حساب الگ نہ کریں گے بلکہ اسی سو روپے کے ساتھ اس کو ملا دیں گے اور جب ان سو روپے کا مال پورا ہو گا تو پورے ڈیڑھ سو کی زکوٰۃ واجب ہو گی، اور ایسا سمجھیں گے کہ پورے ڈیڑھ سو پر سال گذر گیا۔

مسئلہ :  کسی کے پاس سو تولے چاندی رکھی تھی  پھر سال گزرنے سے پہلے دو چار تولے سونا آگیا یا نو دس تولہ سونا مل گیا تب بھی اس کا حساب الگ نہ ہو گا بلکہ  اس چاندی کے ساتھ ملا کر کے زکوٰۃ کا حساب ہو گا پس جب اس چاندی کا سال پورا ہو جائے گا تو اس سب مال پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔

مسئلہ :  سونے چاندی کے سوا اور چیزیں جتنی ہیں جیسے لوہا، تانبہ، پیتل، گلٹ،  رانگا وغیرہ ان چیزوں کے بنے ہوئے برتن وغیرہ اور کپڑے جوتے اور اس کے سوا جو کچھ اسباب ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کو بیچتا اور سوداگری کرتا ہے تو دیکھو وہ اسباب کتنا ہے اگر اتنا ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کے برابر ہے تو جب سال گذر جائے تو اس سوداگری کے اسباب میں زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر وہ مال سوداگری کے لیے نہیں ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے چاہے جتنا مال ہو اگر ہزاروں روپیہ کا مال ہو تب بھی زکوٰۃ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  گھر کا اسباب جیسے پتیلی، دیگچہ، بڑی دیگ، سینی، لگن اور کھانے پینے کے برتن اور رہنے سہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے سچے موتیوں کے ہار وغیرہ ان چیزوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔ خلاصہ یہ کہ سونے چاندی کے سوا اور جتنا مال اسباب ہو اگر وہ سوداگری کا اسباب ہے تو زکوٰۃ واجب ہے نہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  کسی کے پا س دس یا پانچ گھر ہیں ان کو کرایہ پر چلاتا ہے تو ان مکانوں پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنی قیمت کے ہوں ۔ ایسے ہی اگر کسی نے دوچار سو روپے کے برتن خرید لیے اور ان کو کرایہ پر چلاتا رہتا ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔

مسئلہ :  عورت کے پہننے کے دھراؤ جوڑے جتنے قیمتی ہوں اس میں زکوٰۃ واجب نہیں لیکن اگر  ان میں سچا کام ہے اور اتنا کام ہے کہ اگر چاندنی چھڑائی جائے تو ساڑے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے گی تو اس چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔

مسئلہ :  کسی کے پاس کچھ چاندی سونا ہے اور کچھ سوداگری کا مال ہے تو سب کو ملا کر دیکھو اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کے برابر ہو جائے  تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو واجب نہیں ۔

مسئلہ :  سوداگری کا مال وہ کہلائے گا جس کو اسی ارادے سے مول لیا ہو کہ اس کی سوداگری کریں گے۔ اگر کسی نے اپنے گھر خرچ کے لئے یا شادی وغیرہ کے خرچ کے لئے چاول مول لئے پھر ارادہ ہو گیا کہ لاؤ اس کی سوداگری کر لیں تو یہ مال سوداگری کا نہیں ہے اور اس پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہے، لیکن قرض کی تین قسمیں ہیں ،۔ ایک یہ کہ نقد روپیہ یا سونا، چاندی کسی کو قرض دیا یا سوداگری کا اسباب بچا اس کی قیمت باقی ہے اور ایک سال کے بعد یا دو تین برس کے بعد وصول ہوا تو اگر اتنی مقدار ہو جتنی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ان سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر یک مشت نہ وصول ہو تو جب اس میں سے گیارہ روپئے ملیں تب اتنے کی زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اس سے کم ملیں تو واجب نہیں پھر جب گیارہ روپے اور ملیں تو اس کی زکوٰۃ دے اسی طرح دیتا رہے اور جب دے تو سب برسوں کی دے اور اگر قرضہ اس سے کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔ البتہ اگر اس کے پاس کچھ اور مال بھی ہو اور دونوں کو ملا کر مقدار پوری ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔

مسئلہ :  اور اگر نقد نہیں دیا اور نہ سوداگری کا مال بیچا ہے بلکہ کوئی اور چیز بیچی تھی جو سوداگری کی نہ تھی جیسے پہننے کے کپڑے بیچ ڈالے یا گھر کا اسباب بیچ دیا اس کی قیمت باقی ہے اور اتنی ہے جتنی میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے پھر وہ کئی برس کے بعد وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر سب ایک دفعہ کر کے نہ وسول ہو بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ملے تو جب تک چون,۵۴ روپے بارہ آنے مل جائیں تو سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے۔

مسئلہ :  تیسری قسم یہ ہے کہ شوہر کے ذمہ مہر ہے وہ کئی برسوں کے بعد ملا تو اس کی زکوٰۃ کا حساب ملنے کے دن سے ہے ۔ پچھلے برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ اب اگر اس کے پاس رکھا رہے اور اس پر سال گذر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی، نہیں تو نہیں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زکوٰۃ واجب ہے سال گذرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دے اور سال کے پورا ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔

مسئلہ :  کسی کے مال پر پورا سال گذر گیا لیکن ابھی زکوٰۃ نہیں نکالی تھی کہ مال چوری ہو گیا یا اور کسی طرح جاتا رہا، تو زکوٰۃ بھی معاف ہو گئی اگر خود اپنا مال کسی کو دے دیا یا اور کسی طرح اپنے اختیار سے ہلا کر ڈالا تو جتنی زکوٰۃ واجب ہوئی تھی وہ معاف نہیں ہوئی بلکہ دینا پڑے گی۔

مسئلہ :  سال پورا ہونے کے بعد کسی نے اپنا سارا مال خیرات کر دیا تب بھی زکوٰۃ معاف ہو گئی۔

مسئلہ :  کسی کے پاس دو سو روپے تھے ایک سال کے بعد اس میں سے ایک سو چوری ہو گئے یا ایک سو روپے خیرات کر دئیے تو ایک سو کی زکوٰۃ معاف ہو گئی فقط ایک سو کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔

زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

مسئلہ :  جب مال پر پورا سال گذر جائے تو فوراً زکوٰۃ ادا کر دے نیک کام میں دیر لگانا اچھا نہیں کہ شاید اچانک موت آ جائے اور یہ مواخذہ اپنی گردن پر رہ جائے اگر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا نہیں کی یہاں تک کہ دوسرا سال بھی گذر گیا تو گنہگار ہوا اب بھی توبہ کر کے دونوں سال کی زکوٰۃ دے دے غرض کہ عمر بھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دے دے باقی نہ رکھے۔

مسئلہ :  جتنا مال ہے اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا واجب ہے یعنی سو روپیہ پر ڈھائی روپیہ۔

مسئلہ :  ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا جتنے مال کے ہونے سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مکروہ ہے لیکن اگر دے دیا تو زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ اور اس سے کم دینا جائز ہے مکروہ بھی نہیں ۔

مسئلہ :  کوئی قرض مانگنے آیا اور یہ معلوم ہے کہ وہ اتنا تنگدست اور مفلس ہے کہ کبھی ادا نہ کر سکے گا یا ایسا نادہند ہے کہ قرض لے کر کبھی ادا نہیں کرتا اس کو قرض کے نام سے زکوٰۃ کا روپیہ  دے دیا اور اپنے دل میں سوچ لیا کہ میں زکوٰۃ دیتا ہوں تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اگرچہ وہ اپنے دل میں یہی سمجھے کہ مجھے قرض دیا ہے۔

مسئلہ :  کسی غریب آدمی پر تمہارے دس روپے قرض ہیں اور تمہارے مال کی زکوٰۃ بھی دس روپے یا اس سے زیادہ ہے اس کو اپنا قرضہ زکوٰۃ کی نیت سے معاف کر دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی البتہ اس کو دس روپے زکوٰۃ کی نیت سے دے دو تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اب یہی روپے اپنے قرض میں اس سے لے لینا درست ہیں ۔

مسئلہ :  زکوٰۃ کا روپیہ خود نہیں دیا بلکہ کسی اور کو دے دیا کہ تم کسی کو دے دینا یہ بھی جائز ہے اب وہ شخص اگر دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت بھی نہ کرے تب بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

مسئلہ :  اگر تم نے کسی سے اتنا کہہ دیا کہ تم ہمارے طرف سے زکوٰۃ دے دینا اس لئے اس نے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور جتنا اس نے تمہاری طرف سے دیا ہے تم سے لے لے۔

پیداوار کی زکوٰۃ کا بیان

مسئلہ :  کوئی شہر کافروں کے قبضہ میں تھا وہی لوگ وہاں رہتے سہتے تھے پھر مسلمانوں نے لڑ کر وہ شہر ان سے چھین لیا اور وہاں دین اسلام پھیلا دیا اور مسلمان بادشاہ نے کافروں سے لے کر شہر کی ساری زمین ان ہی مسلمانوں کو بانٹ دی، ایسی زمین کو شرع میں عشری کہتے ہیں اور عرب کے ملک کی بھی ساری زمین عشری ہے۔

مسئلہ :  اگر کسی کے باپ دادا سے یہی عشری زمین برابر چلی آ رہی ہو یا کسی ایسے مسلمان سے خریدی جس کے پاس اسی طرح چلی آتی ہو تو ایسی زمین میں جو کچھ پیدا ہو اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کھیت سینچنا نہ پڑے فقط بارش کے پانی سے پیداوار ہو گئی یا ندی اور دریا کے کنارے پر ترائی میں کوئی چیز بوئی گئی اور بے سینچے پیدا ہو گئی تو ایسے کھیت میں جتنا پیدا ہوا ہے اس کا دسواں حصہ خیرات کر دینا واجب ہے یعنی د من میں ایک من اور اگر کھیت کو پُر (یعنی چرس یا رہٹ) چلا کر یا اور کسی طریقہ سے سینچا ہے تو پیداوار کا بیسواں حصہ خیرات کر دے یعنی بیس من میں ایک من اور یہی حکم ہے باغ کا ایسی زمین میں اگرچہ کتنی ہی تھوڑی چیز پیدا ہوئی ہو۔  بہرحال یہ صدقہ خیرات کرنا واجب ہے کم اور زیادہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

مسئلہ :  اناج، ساگ، ترکاری،  میوہ، پھل پھول وغیرہ جو کچھ پیدا ہو سب کا یہی حکم ہے۔

مسئلہ :  عشری زمین یا پہاڑ یا جنگل سے اگر شہد نکالا جائے تو اس میں بھی یہ صدقہ واجب ہے۔

مسئلہ :  اگر عشری زمین کوئی کافر خرید لے تو وہ عشری نہیں رہتی پھر اگر اس سے مسلمان بھی خرید لے یا اور طور پر اس کو مل جائے تب بھی وہ عشری نہ ہو گی۔

مسئلہ :  یہ دسواں یا بیسواں حصہ پیداوار والے کے ذمہ ہے۔ سو اگر کھیت پٹائی پر ہو تو زمیندار اور کسان دونوں اپنے اپنے حصہ کا دیں ۔

جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اُن کا بیان

مسئلہ :  جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اتنی ہی قیمت کا سوداگری کا اسباب ہو اس کو شریعت میں مال دار کہتے ہیں ۔ ایسے شخص کو زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور کھانا بھی حلال نہیں ۔ اسی طرح جس کے پاس اتنی ہی قیمت کا کوئی مال ہو جو سوداگری کا تو نہیں لیکن ضرورت سے زائد ہے تو وہ بھی مال دار ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور کھانا حلال نہیں ہے۔

مسئلہ :  اور جس کے پاس اتنا مال نہیں بلکہ تھوڑا مال ہے یا کچھ بھی نہیں یعنی ایک دن کے گذارہ کے موافق بھی نہیں اس کو غریب کہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور ان لوگوں کو لینا بھی درست ہے۔

مسئلہ :  بڑی بڑی دیگیں اور بڑے بڑے فرش فروش اور شامیانے جن کی برسوں میں ایک آدھ دفعہ کہیں شادی بیا میں ضرورت پڑتی ہے اور روز مرہ ان کی ضرورت نہیں ہوتی وہ ضروری اسباب میں داخل نہیں ۔

مسئلہ :  رہنے کا گھر اور پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے لئے نوکر چاکر اور گھر کا سامان جو اکثر کام میں رہتا ہے یہ سب ضروری اسباب میں  داخل ہیں ان کے ہونے سے مالدار نہیں ہو گا۔ چاہے جتنی قیمت کا ہو اس لئے اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اسی طرح پڑھے آدمی کے پاس اس کی سمجھ اور برتاؤ کی کتابیں بھی ضروری اسباب میں داخل ہیں ۔

مسئلہ :  کسی کے دس پانچ مکان ہیں جن کو کرایہ پر چلاتا ہے اور اس کی آمدنی سے گذر کرتا ہے یا ایک آدھ گاؤں ہے جس کی آمدنی آتی ہے لیکن بال بچے  اور گھر میں کھانے پینے والے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ اچھی طرح بسر نہیں ہوسکتی اور تنگی رہتی ہے اور اس کے پاس کوئی ایسا مال بھی نہیں جس میں زکوٰۃ واجب ہو تو ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ :  کسی کے پاس ہزار روپے نقد موجود ہیں لیکن وہ پورے ہزار روپے یا اس سے بھی زائد کا قرض دار ہے تو اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر قرضہ ہزار روپے سے کم ہو تو دیکھو قرضہ دے کر کتنے روپے بچتے ہیں اگر اتنے بچیں جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اگر اس سے کم بچیں تو دینا درست ہے۔

مسئلہ :  ایک شخص اپنے گھر کا بڑا مالدار ہے لیکن کہیں سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ اس کے پاس کچھ خرچ نہیں رہا، سارا مال چوری ہو گیا یا اور کوئی وجہ ایسی ہوئی کہ اب گھر تک پہنچنے کا بھی خرچ نہیں ہے، ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔ ایسے ہی اگر حاجی کے پاس راستہ میں روپیہ ختم ہو گیا اور اس کے گھر میں بہت مال و دولت ہے اس کو بھی زکوٰۃ دینا درست ہے۔

مسئلہ :  زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں ۔ مسلمان ہی کو دے اور زکوٰۃ، عشرہ صدقۂ فطر،  نذر اور کفارے کے سوا اور خیر خیرات کا کافر کو بھی دینا درست ہے۔ 

مسئلہ :  زکوٰۃ کے پیسے سے مسجد بنوانا یا کسی لا وارث مردہ کا گورو کفن کر دینا یا مردہ کی طرف سے اس کا قرضہ ادا کر دینا یا کسی اور نیک کام میں لگا دینا درست نہیں ، جب تک کسی مستحق کو نہ دیا جائے زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔

مسئلہ :  اپنی زکوٰۃ کا پیسہ اپنے ماں باپ، دادا-دادی، نانا نانی پر دادا وغیرہ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوا ہے ان کو دینا درست نہیں ہے اسی طرح اپنی اولاد، پوتے، پڑپوتے، نواسے وغیرہ جو لوگ اس کی اولاد میں داخل ہیں ان کو بھی درست نہیں ، ایسے ہی بیوی اپنے میاں کو اور میاں اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔

	ان رشتہ داروں کے سوا سب کو زکوٰۃ دینا درست ہے جیسے بھائی بہن، بھتیجی، بھانجی، چچا ، پھوپھی، خالہ، ماموں ، سوتیلی ماں ، سوتیلا باپ، دادا، ساس، خُسر وغیرہ سب کو دینا درست ہے۔

مسئلہ :  اگر نابالغ لڑکے کا باپ مالدار ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں اور اگر لڑکا، لڑکی بالغ ہو گئے اور خود وہ مالدار نہیں لیکن ان کا باپ مالدار ہے تو ان کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔ 

مسئلہ :  اگر چھوٹے بچے کا باپ تو مالدار نہیں لیکن ماں مالدار ہے تو اس بچے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ :  سیدوں کو اور علویوں کو اسی طرح جو حضرت عباسؓ، یا حضرت جعفرؓ یا حضرت عقیلؓ یا حضرت حارثؓ بن عبدالمطلبؓ کی اولاد میں ہوں ان کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں ، جیسے نذر، کفارہ ، عشرہ صدقۂ فطر اور اس کے سوا اور کسی صدقۂ خیرات کا دینا درست ہے۔

مسئلہ :  گھر کے نوکر چاکر خدمت گار۔ مام۔ دائی کھلائی وغیرہ کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے لیکن اُن کی تنخواہ میں حساب نہ کرے بلکہ تنخواہ سے زائد بطور انعام و اکرام کے دے دے اور دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت رکھے، تو درست ہے۔

مسئلہ :  کسی عورت نے جس لڑکے کو دودھ پلایا ہے اس کو اور جس عورت نے بچپن میں تم کو دودھ پلایا ہے اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔

مسئلہ :  ایک عورت کا مہر ہزار روپیہ ہے، لیکن اس عورت کا شوہر بہت غریب ہے کہ ادا نہیں کرسکتا، تو ایسی عورت کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے، اور اگر اس کا شوہر امیر ہے لیکن مہر دیتا نہیں ، یا اس نے اپنا مہر معاف کر دیا تو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے، اور اگر یہ امید ہے کہ جب مانگے گی تو وہ ادا کر دے گا، کچھ تامل نہ کرے گا، تو ایسی عورت کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں ۔

مسئلہ :  ایک شخص کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا  مال دار ہے یا سیّد ہے یا اندھیری رات میں کسی کو دے دی پھر معلوم ہوا کہ وہ تو میرا رشتہ دار ہے جس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو گئی دوبارہ ادا کرنا واجب نہیں لیکن اگر لینے والے کو معلوم ہو جائے کہ یہ زکوٰۃ کا پیسہ ہے اور میں زکوٰۃ لینے کا مستحق نہیں ہوں تو نہ لے اور پھیر دے اور اگر دینے کے بعد معلوم ہو کہ جس کو دیا ہے وہ کافر ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر ادا کرے۔

مسئلہ :  اگر کسی پر شبہ ہو کہ معلوم نہیں مالدار ہے یا محتاج ہے تو جب تک تحقیق نہ ہو جائے اس کو زکوٰۃ نہ دے اگر بے تحقیق کئے دی تو دیکھے دل زیادہ کِدھر جاتا ہے۔ اگر دل یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ فقیر ہے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اگر دل یہ کہے کہ وہ مالدار ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دے لیکن  اگر دینے کے بعد معلوم ہو جائے کہ وہ غریب ہی ہے تو پھر سے نہ دے، زکوٰۃ ادا ہو گئی۔

مسئلہ :  زکوٰۃ کے دینے میں اور زکوٰۃ کے سوا اور صدقۂ خیرات میں سب سے زیادہ اپنے رشتے ناطے کے لوگوں کا خیال رکھو کہ پہلے ان ہی لوگوں کو دو لیکن ان سے یہ نہ بتاؤ کہ یہ صدقہ اور خیرات کی چیز ہے تاکہ وہ بُرا نہ مانیں حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرابت والوں کو خیرات دینے سے دوہرا ثواب ملتا ہے، ایک تو خیرات کا، دوسرے اپنے عزیزوں کے ساتھ سلوک و احسان کرنے کا، پھر جو کچھ ان سے بچے وہ اور لوگوں کو دو۔

مسئلہ :  ایک شہر کی  زکوٰۃ دوسرے شہر میں بھیجنا مکروہ ہے ہاں اگر دوسرے شہر میں اس کے رشتہ دار رہتے ہیں ان کو بھیج دیا یا یاں والوں کے اعتبار سے وہاں کے لوگ زیادہ محتاج ہیں یا وہ لوگ دین کے کام میں لگے ہیں ان کو بھیج دیا تو مکروہ نہیں کہ طالب علموں اور دیندار عالموں کو دینا بڑا ثواب ہے۔

جانوروں کی زکوٰۃ کا بیان

مسئلہ :  سال گذرنا سب میں شرط ہے۔

مسئلہ :  ایک قسم جانوروں کی جن میں زکوٰۃ فرض ہے سائمہ ہے اور سائمہ وہ جانور ہیں جن میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں ۔ 

(۱)	سال کے اکثر حصے میں اپنے منہ سے چر کر اکتفا کرتے ہیں اور گھر میں ان کو کھڑے کر کے نہ کھلایا جاتا ہو، اگر نصف سال اپنے منہ سے چر کے رہتے ہوں اور نصف سال ان کو گھر میں کھڑے ہو کر کھلایا جاتا ہو تو پھر وہ سائمہ نہیں ہیں ۔ اسی طرح اگر گھاس ان کے لئے گھر میں منگائی جاتی ہو، خواہ بہ قیمت یا بے قیمت تو پھر وہ سائمہ نہیں ہیں ۔

(۲)	دودھ کی غرض سے یا نسل کے زیادہ ہونے کے لئے یا فربہ کرنے کے لئے رکھے گئے ہوں ، اگر دودھ اور نسل اور فربہی کی غرض سے نہ رکھے گئے ہوں بلکہ گوشت کھانے کے لئے یا سواری کے لئے تو پھر سائمہ نہ کہلائیں گے۔

سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ کا بیان

مسئلہ :  سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ میں یہ شرط ہے کہ وہ اونٹ اونٹنی یا گائے، بیل، بھینس، بھینسا، بکری، بکرا، بھیڑا، دنبہ ہو،	جنگلی جانوروں جیسے ہرن وغیرہ پر زکوٰۃ فرض نہیں ۔ ہاں اگر تجارت کی نیت سے خریدے کر رکھے جائیں تو اُن پر تجارت کی زکوٰۃ فرض ہو گئی۔ جو جانور کسی دیسی اور جنگلی جانور سے مل کر پیدا ہو تو  اگر اُن کی ماں دیسی ہے تو وہ بھی  دیسی سمجھے جائیں گے۔

مثال :  بکری اور ہرن سے کوئی جانور پیدا ہوا تو وہ بکری کے حکم میں ہے، اور نیل گاؤ اور گائے سے کوئی جانور پیدا ہوا تو وہ گائے کے حکم میں ہے۔

مسئلہ :  جانوروں کے بچوں میں اگر وہ تنہا ہوں تو زکوٰۃ فرض نہیں ، ہاں اگر اُن کے ساتھ بڑا جانور بھی ہو تو پھر اُن پر بھی زکوٰۃ فرض ہو جائے گی اور زکوٰۃ میں وہی بڑا جانور دیا جائے گا، اور سال پورا ہونے کے بعد اگر وہ بڑا جانور مر جائے تو زکوٰۃ ساقِط ہو جائے گی۔

مسئلہ :  وقف کے جانوروں پر زکوٰۃ فرض نہیں ۔

مسئلہ :  گھوڑوں پر جب وہ سائمہ ہوں اور نر و مادہ مخلوط ہوں تو زکوٰۃ ہے یا تو فی گھوڑا  ایک دینار یعنی پونے تین روپے  دے دے اور یا سب کی قیمت لگا کر اس قیمت کا چالیسواں حصہ دے دے۔

مسئلہ :  گدھے اور خچر پر جبکہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوں زکوٰۃ فرض نہیں ۔

اونٹ کا نصاب

	یاد رکھو کہ پانچ اونٹ میں زکوٰۃ فرض ہے۔ اس سے کم میں نہیں ، پانچ اونٹ میں ایک بکری، اور دس میں دو، اور پندرہ میں تین اور بیس میں چار بکری دینا فرض ہے، خواہ وہ نر ہو یا مادہ ، مگر ایک سال سے کم نہ ہو۔

مسئلہ :  اونٹ کی زکوٰۃ میں اگر اونٹ دیا جائے تو مادہ ہونا چاہئے ۔ البتہ اگر نر قیمت میں مادہ کے برابر ہو تو درست ہے۔

گائے اور بھینس کا نصاب

	گائے اور بھینس دونوں ایک قسم میں ہیں ، دونوں کا نصاب بھی ایک ہے اور اگر دونوں کے ملانے سے نصاب پورا ہوتا ہو تو دونوں کو ملا لیں گے، مثلاً بیس گائے ہوں اور دس بھینسیں تو دونوں کو ملا کر تیس کا نصاب پورا کر لیں گے۔  مگر زکوٰۃ میں وہی جانور دیا جائے گا جس کی تعداد زیادہ ہو اگر گائیں زیادہ ہوں تو زکوٰۃ میں گائے دی جائے گی، اور اگر بھینس زیادہ ہیں تو  زکوٰۃ میں بھینس دی جائے گی، اور جو دونوں برابر ہوں تو قسم اعلیٰ میں جو جانور کم قیمت کا ہو یا قسم ادنیٰ میں جو جانور زیادہ قیمت کا ہو دیا جائے گا۔ پس تیس گائے بھینس میں گائے  یا بھینس کا ایک بچہ جو پورے ایک برس کا ہو نر ہو یا مادہ تیس سے کم میں کچھ نہیں ، چالیس گائے یا بھینس میں پورے دو برس کا بچہ نر یا مادہ۔ جب ساٹھ ہو جائیں تو ایک ایک برس کے دو بچے دئے جائیں گے، پھر جب ساٹھ سے زیادہ ہو جائیں تو ہر تیس میں ایک برس کا بچہ اور ہر چالیس میں دو برس کا بچہ۔

بکری، بھیڑ کا نصاب

	زکوٰۃ کے بارے میں بکری، بھیڑ سب یکساں ہیں ، خواہ بھیڑ دُم دار ہو جس کو دُنبہ کہتے ہیں یا معمولی ہو، اگر دونوں کا نصاب الگ الگ پورا ہو تو دونوں کی زکوٰۃ ساتھ دی جائے گی اور مجموعہ ایک نصاب ہو گا اور اگر ہر ایک نصاب کا پورا نہ ہو مگر دونوں کے ملانے سے  نصاب پورا ہو جاتا ہے تو بھی دونوں کو ملا لیں گے، اور جو زیادہ ہو گا تو زکوٰۃ میں وہی دیا جائے گا، اور دونوں برابر ہوں تو اختیار ہے، چالیس بکری یا بھیڑ سے کم میں کچھ نہیں ، چالیس بکری یا بھیڑ میں ایک بکری یا بھیڑ، پھر ایک سو اکیس میں دو بھیڑ یا بکریاں ، پھر دو سو ایک میں تین بھیڑ یا بکریاں ، پھر چار سو میں چار بھیڑیں یا بکریاں  پھر چار سو سے زیادہ میں ہر سو میں ، ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ دینی ہو گی۔

مسئلہ :  بھیڑ بکری کی زکوٰۃ میں نر یا مادہ کی قید نہیں ۔ ہاں ایک سال سے کم کا بچہ نہ ہونا چاہئے۔ خواہ بھیڑ ہو یا بکری۔

زکوٰۃ کے متفرق مسائل

مسئلہ :  اگر کوئی شخص حرام مال  کو حلال کے ساتھ ملا دے تو سب کی زکوٰۃ اس کو دینا ہو گی۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد مر جائے تو اس کے مال کی زکوٰۃ نہ لی جائے گی۔ ہاں اگر وہ وصیّت کر گیا ہو تو اس کا تہائی مال زکوٰۃ میں لے لیا جائے گا گو یہ تہائی پوری زکوٰۃ کو کفایت نہ کرے اور اس کے وارث تہائی سے زیادہ دینے پر راضی ہوں تو جس قدر وہ اپنی خوشی سے دے دیں لے لیا جائے گا۔

مسئلہ :  اگر ایک سال کے بعد قرض خواہ اپنا قرض مقروض کو معاف کر دے تو قرض خواہ کو زکوٰۃ اس ایک سال کی نہ دینا پڑے گی۔

مسئلہ :  فرض و واجب صدقات کے علاوہ صدقہ دینا اسی وقت میں مستحب ہے  جبکہ مال اپنی ضرورتوں اور اپنے اہل و عیال کی ضرورتوں سے زیادہ ہو ورنہ مکروہ ہے، اسی طرح اپنے کل مال کا صدقہ میں دینا بھی مکروہ ہے۔ ہاں اگر وہ اپنے نفس میں توکل اور صبر کی صفت بہ یقین جانتا ہو اور اہل و عیال کو بھی تکلیف کا احتمال نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں بلکہ بہتر ہے ۔

صدقۂ فطر کا بیان

مسئلہ :  جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو اس پر زکوٰۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت  کا مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو تو اس پر عید کے دن صدقہ دینا واجب ہے چاہے وہ سوداگری کا مال ہو یا سوداگری کا نہ ہو، اور چاہے سال پورا گذر چکا ہو یا نہ گذرا ہو، اور اس صدقہ کو شرع میں صدقۂ فطر کہتے ہیں ۔

مسئلہ :  کسی کے دو گھر ہیں ۔ ایک میں خود رہتا ہے اور ایک خالی پڑا ہے یا کرایہ پر دے دیا ہے تو یہ دوسرا مکان ضرورت سے زائد ہے۔ اگر اس کی قیمت اتنی ہو جتنی پر کہ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہے اور ایسے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا بھی جائز نہیں البتہ اگر اسی پر اس کا گذارہ ہو تو یہ مکان بھی ضروری اسباب میں داخل ہو جائے گا اور اس پر صدقۂ فطر واجب نہ ہو گا۔اور زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور دینا بھی درست ہو گا۔

	خلاصہ یہ ہوا کہ جس کو زکوٰۃ اور صدقہ کا پیسہ لینا درست ہے اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں اور جس کو صدقہ اور زکوٰۃ کا لینا درست نہیں اس پر صدقۂ  فطر واجب ہے۔

مسئلہ :  کسی کے پاس ضروری اسباب سے زائد مال و اسباب ہے لیکن وہ قرضدار بھی ہے تو قرضہ  مجراء کر کے دیکھو کیا بچتا ہے اگر اتنی قیمت کا اسباب بچ رہے جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو صدقۂ فطر واجب ہے اور اگر اس سے کم بچے تو واجب نہیں ۔

مسئلہ :  عید کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے اسی وقت یہ صدقہ واجب ہوتا ہے تو اگر کوئی فجر کا وقت آنے سے پہلے ہی مر گیا اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں ۔ اس کے مال میں سے نہ دیا جائے گا۔

مسئلہ :  بہتر یہ ہے کہ نماز کے لئے عیدگاہ میں جانے سے پہلے ہی صدقہ دے دے، اگر پہلے نہ دیا تو خیر بعد میں سہی۔

مسئلہ :  کسی نے صدقۂ فطر عید کے دن سے پہلے ہی  رمضان میں دے دیا تب بھی ادا ہو گیا، اب دوبارہ دینا واجب نہیں ۔

مسئلہ :  اگر کسی نے عید کے دن صدقۂ فطر نہ دیا تو معاف نہ ہوا  اب کسی دن دے دینا چاہئے۔

مسئلہ :  صدقۂ فطر اپنی طرف سے واجب ہے اور نابالغ اولاد کی طرف سے بھی دینا واجب ہے، بالغ اولاد کی طرف سے دینا واجب نہیں البتہ اگر کوئی لڑکا مجنون ہو تو اس کی طرف سے بھی دے۔

مسئلہ :  جس نے کسی وجہ سے رمضان کے روزے نہیں رکھے اس پر بھی یہ صدقہ واجب ہے اور جس نے روزے رکھے اس پر بھی واجب ہے۔

مسئلہ :  صدقۂ فطر میں اگر گیہوں یا گیہوں کا آٹا یا گیہوں کا ستّو دے تو اسّی (۸۰) روپئے کے سیر یعنی انگریزی تول سے آدھی چھٹانک اوپر پونے دو سیر بلکہ احتیاط کے لئے پورے دو سیر یا کچھ اور زیادہ دے دینا چاہئے، کیونکہ  زیادہ ہونے میں کچھ حرج نہیں ہے بلکہ بہتر ہے اور اگر جَو یا جَو کا آٹا دے تو اس کا دونا دینا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر گیہوں اور جَو کے سوا کوئی اور اناج دیا جیسے چنا، جوار، تو اتنا کہ اس کی قیمت اتنے گیہوں یا اتنے جَو کے برابر ہو جائے جتنے اوپر بیان ہوئے ہیں ۔

مسئلہ :  اگر گیہوں اور جَو نہیں دئے بلکہ اتنے گیہوں اور جَو کی قیمت دے دے تو یہ سب سے بہتر ہے۔

مسئلہ :  ایک آدمی کا صدقۂ فطر ایک ہی فقیر کو دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی فقیروں کو دے دے، دونوں باتیں جائز ہیں ۔

مسئلہ :  اگر کئی آدمیوں کا صدقۂ فطر ایک ہی فقیر کو دے دیا تو یہ بھی درست ہے۔
٭٭٭


قربانی کا بیان

	قربانی کرنے کا بڑا ثواب ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قربانی کے دنوں سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت یعنی ذبح کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول ہو جاتا ہے، اور حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے ، پس اگر کسی پر قربانی کرنا واجب بھی نہ ہو تب بھی اتنے بے حساب ثواب کے لالچ سے قربانی کر دینا چاہئے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے مالدار اور امیر بنایا ہو تو مناسب ہے کہ جہاں اپنی طرف سے قربانی  کرے تو جو رشتہ دار مر گئے ہوں جیسے ماں باپ وغیرہ ان کی طرف سے بھی قربانی کر دے کہ اُن کی روح کو اتنا بڑا ثواب پہنچ جائے۔ حضرت سولِ خدا ﷺ کی طرف سے آپ کی بیبیوں کی طرف سے اپنے پیر وغیرہ کی طرف سے کر دے، نہیں تو کم سے کم اتنا ضرور کر دے کہ اپنی طرف سے قربانی کرے کیونکہ مالدار پر تو واجب ہے اگر اس نے قربانی نہ کی تو اس سے بڑھ کر بد نصیب اور محروم کون ہو گا اور گناہ رہا سو الگ۔  جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹا دے تو پہلے یہ دعاء پڑھے۔

اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْھِیَ  لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ حَنِیْفاً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَo لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ یَذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔

میں اس اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس نے زمین و آسمان پیدا کیا ہے۔ میں سب سے الگ ہو کر خدا کی عبادت کرتا ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں ۔ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا جینا سب اللہ کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے فرمانبردار لوگوں میں سے ہوں ۔ الٰہی! میں تیری خوشنودی کے لئے یہ قربانی کرتا ہوں ۔

	پھر بسم اللہ  اللہ اکبر کہہ کے ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّی کَما تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّخَلِیْلِکَ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہُمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام

الٰہی ! تو میری قربانی قبول فرما جس طرح تونے اپنے حبیب محمد الرسول اللہ ﷺ کا اور اپنے خلیل (حضرت) ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانی قبول فرمائی ہے ۔

مسئلہ :  جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر بقر عید کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہے، اور اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر کر دے تو بہت ثواب پائیے گا۔

مسئلہ :  مسافر پر قربانی کرنا واجب نہیں ۔

مسئلہ :  بقر عید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک قربانی کرنے کا وقت ہے ۔ چاہے جس دن قربانی کرے، لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہتر دن بقرعید کا دن ہے ، پھر گیارہویں تاریخ پھر بارہویں تاریخ۔

مسئلہ :  بقر عید کی نماز ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے جب لوگ نماز پڑھ چکیں تب کرے البتہ اگر کوئی کسی گاؤں میں رہتا ہو تو وہاں فجر کی نماز کے بعد بھی قربانی کرنا درست ہے، شہر اور قصبہ کے رہنے والے نماز کے بعد کریں ۔

مسئلہ :  اگر کوئی شہر کا رہنے والا اپنی قربانی کا جانور کسی گاؤں میں بھیج دے تو اس کی قربانی نماز سے پہلے بھی درست ہے اگرچہ وہ خود شہر ہی میں موجود ہو، لیکن جب قربانی دیہات میں بھیج دی تو نماز سے پہلے قربانی کرنا درست ہو گیا۔ ذبح  ہو جانے کے بعد اس کو منگوا لے اور گوشت کھا لے۔

مسئلہ :  بارہویں تاریخ کے سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قربانی کرنا درست ہے، جب سورج ڈوب گیا تو اب قربانی کرنا درست نہیں ۔

مسئلہ :  دسویں سے بارہویں تک جب جی چاہے قربانی کرے چاہے دن میں چاہے رات میں لیکن رات کو ذبح کرنا بہتر نہیں ہے، شاید کوئی رگ نہ کٹے  اور قربانی درست نہ ہو۔

مسئلہ :  دسویں ، گیارہویں تاریخ کو سفر میں تھا پھر بارہویں تاریخ کو سورج ڈوبنے سے پہلے گھر پہنچ گیا یا پندرہ دن کہیں ٹھیرنے کی نیت کر لی تو اب قربانی کرنا واجب ہو گیا، اسی طرح اگر پہلے اتنا مال نہ تھا اس لئے قربانی واجب نہ تھی، پھر بارہویں تاریخ کے سورج ڈوبنے سے پہلے کہیں سے مال مِل گیا تو قربانی کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ :  اپنی قربانی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے، اگر کوئی عورت خود ذبح کرنا نہ جانتی ہو تو کسی اور سے ذبح کرالے اور ذبح کے وقت وہاں جانور کے سامنے کھڑے ہو جانا بہتر ہے، اور اگر ایسی وجہ ہے کہ پردہ کی وجہ سے سامنے نہیں کھڑی ہوسکتی تو نہ کھڑی ہو، اس میں کچھ حرج نہیں ۔

مسئلہ :  قربانی کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا اور دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے ، اگر دل میں خیال کر لیا کہ میں قربانی کرتا ہوں اور زبان سے کچھ نہیں پڑھا فقط بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کر دیا تو بھی قربانی درست ہو گئی، لیکن اگر یاد ہو تو وہ دعا پڑھ لینا بہتر ہے جو اوپر بیان ہوئی۔

	مسئلہ :  قربانی فقط اپنی طرف سے کرنا واجب ہے اولاد کی طرف سے کرنا واجب نہیں ، بلکہ اگر نابالغ اولاد مالدار بھی ہو تب بھی اس کی طرف سے کرنا واجب نہیں نہ ُاس کے مال میں سے نہ اِس کے مال میں سے ۔

	مسئلہ :  گائے ، بھینس، اونٹ، میں اگر سات آدمی شریک ہو کر  قربانی کریں تو بھی درست ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب کی نیت قربانی کرنے کی یا عقیقہ کی ہو، صرف گوشت کھانے کی نہ ہو، اگر کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہو گا تو کسی کی قربانی درست نہ ہو گی۔

	مسئلہ :  قربانی کے لئے کسی نے گائے خریدی اور خریدتے وقت یہ نیت کی کہ اگر کوئی اور مل گیا تو اس کو بھی اس گائے میں شریک کر لیں گے اور قربانی کریں گے اس کے بعد کچھ اور لوگ گائے میں  شریک ہو گئے تو یہ درست ہے اور اگر خریدتے وقت اس کی نیت شریک کرنے کی نہ تھی بلکہ پوری گائے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا ارادہ تھا تو اب اس کسی اور کا شریک کرنا بہتر نہیں ہے لیکن اگر کسی کو شریک کر لیا تو دیکھنا چاہئے جس نے شریک کیا ہے وہ امیر ہے کہ اس پر قربانی واجب ہے یا غریب ہے کہ جس پر قربانی واجب نہیں اگر امیر ہے تو درست ہے اور اگر غریب ہے تو درست نہیں ۔

	مسئلہ :  اگر قربانی کا جانور کہیں گم ہو گیا اس لئے دوسرا خریدا، پھر وہ پہلا مل گیا، تو اگر امیر آدمی کو ایسا اتفاق پڑا تو ایک ہی جانور کی قربانی اس پر واجب ہے  اور اگر غریب آدمی کو ایسا اتفاق ہوا تو، دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہو گی۔

	مسئلہ :  سات آدمی بھینس میں شریک ہوئے تو گوشت بانٹتے وقت اٹکل سے نہ بانٹیں ، بلکہ خوب ٹھیک ٹھیک تول کر بانٹیں نہیں تو اگر کوئی حصہ کم زیادہ رہے گا تو سود ہو جائے گا  اور گناہ ہو گا۔

	مسئلہ :  بکری سال بھر سے کم کی درست نہیں ، جب پورے سال بھر کی ہو تب قربانی درست ہے، اور گائے بھینس دو برس سے کم کی درست نہیں ، پورے دو برس کی ہو چکیں ، تب قربانی درست ہے ، اونٹ پانچ برس سے کم کا درست نہیں ، اور دُنبہ یا بھیڑ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو سال بھر سے کم کے دُنبہ اور بھیڑ کی قربانی بھی درست ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو سال بھر کا ہونا چاہئے۔

	مسئلہ :  جو جانور، اندھا یا کانا ہو، ایک آنکھ کی تہائی روشنی، یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا ہو یا تہائی دم یا تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہو تو اس جانور کی قربانی درست نہیں ۔

	مسئلہ :  جو جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پاؤں سے چلتا ہے چوتھا پاؤں رکھا ہی نہیں جاتا یا چوتھا پاؤں رکھتا تو ہے لیکن اس سے چل نہیں سکتا اس کی بھی قربانی درست نہیں ۔ اور اگر چلتے وقت وہ پاؤں زمین پر ٹیک کر چلتا ہے اور چلنے میں اس سے سہارا لگتا ہے لیکن لنگڑا کر چلتا ہے تو اس کی قربانی درست نہیں ۔

	مسئلہ :  اتنا دُبلا بالکل مریَل جانور جس کی ہڈیوں میں بالکل گودا نہ رہا ہو  اس کی قربانی درست نہیں ہے، اور اگر اتنا دُبلا نہ ہو تو دُبلے ہونے سے کچھ نہیں ، اس کی قربانی درست ہے لیکن موٹے تازے جانور کی قربانی کرنا زیادہ بہتر ہے۔

	مسئلہ :  جس جانور کے دانت بالکل نہ ہو اس کی قربانی درست نہیں اور اگر کچھ دانت گر گئے لیکن جتنے گر گئے ہیں ان سے زیادہ باقی ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔

	مسئلہ :  جس جانور کے پیدائش ہی سے کان نہیں ہیں اس کی بھی قربانی درست نہیں ہے اور اگر کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں اس کی قربانی درست ہے۔

	مسئلہ :  جس جانور کی پیدائش ہی سے سینگ نہیں یا سینگ تو تھے، لیکن ٹوٹ گئے اس کی قربانی درست ہے، البتہ اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں تو قربانی درست نہیں ۔

	مسئلہ :  خصی یعنی بدھیا بکرے اور مینڈھے کی قربانی درست ہے۔

	مسئلہ :  اگر جانور قربانی کے لئے خرید لیا تب کوئی ایسا عیب پیدا ہو گیا جس سے قربانی درست نہیں تو اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے ہاں اگر غریب آدمی ہو جس پر قربانی کرنا واجب نہیں تو اس کے واسطے درست ہے کہ اسی جانور کی قربانی کر دے۔

	مسئلہ :  قربانی کا گوشت آپ کھائے اور اپنے رشتے ناطے کے لوگوں کو دے، فقیروں ، محتاجوں کو خیرات کرے اور بہتر یہ ہے کہ کم سے کم تہائی حصّہ خیرات کرے، خیرات میں تہائی سے کمی نہ کرے، لیکن اگر کسی نے تھوڑا ہی گوشت خیرات کیا تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔

	مسئلہ :  قربانی کی کھال یا تو یوں ہی خیرات کر دے یا بیچ کر اس کی قیمت خیرات کر دے، وہ قیمت  ایسے لوگوں کو دے جن کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔ اور قیمت میں جو پیسے ملے ہیں بعینہ وہی پیسے خیرات کرنا چاہئیں اگر وہ پیسے کسی کام میں خرچ کر ڈالے  اور اتنے ہی پیسے اور اپنے پاس سے دے دئے تو بُری بات ہے مگر ادا ہو جائیں گے۔

	مسئلہ :  اس کھال کی قیمت کو مسجد کی مرمّت یا اور کسی نیک کام میں لگانا درست نہیں ، خیرات ہی کرنا چاہئے۔

	مسئلہ :  اگر کھال کو اپنے کام میں لائے جیسے اس کی مشک یا ڈول یا جانماز بنوا لی یہ بھی درست ہے۔

	مسئلہ :  کچھ گوشت یا چربی یا چھچڑے قصائی کو مزدوری میں نہ دے بلکہ مزدوری اپنے پاس سے الگ دے۔

	مسئلہ :  قربانی کی رسّی جھول وغیرہ سب چیزیں خیرات کر دے۔

	مسئلہ :  کسی پر قربانی واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا، تو اب اس جانور کی قربانی واجب ہو گی۔

	مسئلہ :  کسی پر قربانی واجب تھی، لیکن قربانی کے تینوں دن گذر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دے، اور اگر بکری خرید لی تھی، تو وہی بکری بعینہ خیرات کر دے۔

	مسئلہ :  جس نے قربانی کرنے کی منت مانی، پھر وہ کام پورا ہو گیا جس کے واسطے منّت مانی تھی تو اب قربانی کرنا واجب ہے چاہے مالدار ہو یا نہ ہو، اور منت کی قربانی کا سب گوشت فقیروں کو خیرات کر دے نہ آپ کھائے نہ امیروں کو دے، جتنا آپ کھایا ہو یا امیروں کو دیا ہو اتنا پھر خیرات کرنا پڑے گا۔

	مسئلہ :  کسی پر قربانی واجب نہیں تھی، لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا، تو اب اس جانور کی قربانی واجب ہو گی۔

	مسئلہ :  اپنی خوشی سے کری مُردے کو ثواب پہنچانے کے لئے قربانی کرے تو اس کے گوشت میں سے خود کھانا، کھلانا، بانٹنا سب درست ہے۔ جس طرح اپنی قربانی کا حکم ہے۔

	مسئلہ :  لیکن اگر کوئی مردہ وصیت کر گیا ہو کہ میرے ترکہ میں سے میری طرف سے قربانی کی جائے اور اس کی وصیت پر اسی کے مال سے قربانی کی گئی تو اس قربانی کے تمام گوشت وغیرہ کا خیرات کرنا واجب ہے ۔

	مسئلہ :  اگر کوئی شخص یہاں موجود نہیں اور دوسرے شخص نے اس کی طرف سے بغیر اس کے کہے قربانی کر دی تو یہ قربانی صحیح نہیں ہوئی اور اگر کسی جانور میں کسی غائب کا حصہ بغیر اس کے کہے تجویز کر لیا تو اور حصہ داروں کی قربانی بھی صحیح نہ ہو گی۔

	مسئلہ :  اگر ایک جانور میں کئی آدمی شریک ہیں ، اور وہ سب گوشت کو آپس میں تقسیم نہیں کرتے بلکہ ایک جاہی فقراء و احباب کو تقسیم کرنا یا پکا کر کھلانا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے ۔ اگر تقسیم کریں گے تو اس میں برابری ضروری ہے ۔

مسئلہ :  قربانی کی کھال کی قیمت کسی کو اجرت میں دینا جائز نہیں کیونکہ  اس کا خیرات کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ :  قربانی کا گوشت کافر کو بھی دینا جائز ہے پھر اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کر دے۔

عقیقہ کا بیان

مسئلہ :  جس کے کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو بہتر ہے کہ ساتویں دن اس کا نام رکھ دے  اور عقیقہ کر دے۔ عقیقہ کر دینے سے بچے کی سب الا بلا دور ہو جاتی ہے اور آفتوں سے حفاظت رہتی ہے۔

مسئلہ :  عقیقہ کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر لڑکا ہو تو دو بکری یا دو بھیڑ اور لڑکی ہو تو ایک بکری یا ایک بھیڑ ذبح کرے یا قربانی کی گائے میں لڑکے کے واسطے دو حصے اور لڑکی کے واسطے ایک حصہ لے لے اور سر کے بال منڈوا دے اور بالوں کے برابر چاندی یا سونا تول کر خیرات کر دے اور لڑکے کے سر میں زعفران لگا دے۔

مسئلہ :  اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرے تو جب کرے ساتویں دن ہونے کا خیال بہتر ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن  بچہ پیدا ہوا ہو  اس کے ایک دن پہلے  عقیقہ کر دے یعنی اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہو تو جمعرات کو عقیقہ کرے چاہے جب کرے وہ حساب سے ساتواں دن پڑے گا۔

مسئلہ :  یہ جو دستور ہے کہ جس وقت بچہ کے سر پر اُسترہ رکھا جائے اور نائی سر مونڈنا شروع کرے فوراً اسی وقت بکری ذبح ہو، یہ محض مہمل رسم ہے، شریعت سے سب جائز ہے، چاہے سر مونڈنے کے بعد ذبح کرے یا پہلے ذبح کرے تب سر مونڈے۔

مسئلہ :  جس جانور کی قربانی جائز نہیں اس کا عقیقہ بھی درست نہیں اور جس کی قربانی درست ہے اس کا عقیقہ بھی درست ہے۔

مسئلہ :  عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کرے چاہے پکا کر بانٹے چاہے دعوت کر کے کھلا دے سب درست ہے۔

مسئلہ :  عقیقہ کا گوشت، ماں ، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ سب کو کھانا درست ہے ۔

مسئلہ :  کسی کو زیادہ توفیق نہیں اس لئے اس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری کا عقیقہ کیا تو اس کا بھی کچھ حرج نہیں جائز ہے اور اگر بالکل عقیقہ ہی نہ کرے تو بھی کچھ حرج نہیں ۔

مسئلہ :  جب عقیقہ کا جانور ذبح کرنا چاہیں تو پہلے یہ دعا پڑھیں ۔

اَللّٰہُمَّ ہٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ ابْنِیْ فُلَانٍ دَمُہَا بِدَمِہٖ وَلَحْمُہَا بِلَحْمِہٖ وَ عَظْمُھَا بِعَظْمِہٖ وَجِلْدُھَا بِجِلْدِہٖ وَ شَعْرُہَا بِشَعْرِہٖ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْھَا فِدَائً لِّابْنِیْ مِنَ النَّارِ اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ حَنِیْفًا وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَo لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo اَللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔

اے اللہ میں اپنے اس بچے کے صدقہ میں یہ جانور تیرے نام پر ذبح کرتا ہوں جس کے خون کے عوض خون۔ گوشت کے عوض گوشت، ہڈیوں کے عوض ہڈیاں ، کھال کے عوض کھال، بال کے عوض بال، اے اللہ میرے بیٹے کو  دوزخ کی آگ سے بچانے کا یہ جانور کا فدیہ قبول فرما۔ میں نے اپنی توجہ ہر طرف سے ہٹا کر صرف اس طرف لگا دی ہے جس نے زمین و آسمان پیدا کئے ہیں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ بلا شبہ میری نماز میری قربانی میری موت میری زندگی اللہ رب العالمین کے واسطے ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے تو اسی کا حکم دیا گیا ہے اور حکم ماننے والوں میں پہلا آدمی ہوں ۔ اے اللہ یہ صدقہ فدیہ تیری ہی طرف سے ہے۔
پھر بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے۔ 
٭٭٭



کتاب الحج

حج کا بیان

	جس شخص کے پاس ضرورت سے زاید اتنا خرچ ہو کہ سواری پر متوسط گذران سے کھاتا پیتا چلا جائے اور حج کر کے واپس چلا آئے اس کے ذمہ حج فرض ہو جاتا ہے اور حج کی بڑی بزرگی آئی ہے ۔ چنانچہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو حج گناہوں اور خرابیوں سے پاک ہو اس کا بدلہ بجز بہشت کے اور کچھ نہیں ، اسی طرح عمرہ کرنے پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ حج، عمرہ دونوں کے دونوں گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے اور جس کے ذمہ حج فرض ہو اور وہ نہ کرے اس کے لئے بڑی وعید آئی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جس شخص کے پاس کھانے پینے اور سواری کا اتنا انتظام ہو جس سے وہ بیت اللہ شریف تک جا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کچھ تعجب نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے اور یہ بھی فرمایا کہ حج کا ترک کرنا اسلام کا طریق نہیں ہے۔

مسئلہ :  عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرنا  فرض ہے اگر کئی حج کئے تو ایک فرض ہوا اور سب نفل ہیں اور ان کا بھی بڑا ثواب ہے۔

مسئلہ :  جوانی سے پہلے، لڑکپن میں اگر کوئی حج کیا ہے اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ اگر مالدار ہے تو جوان ہونے کے بعد پھر حج کرنا فرض ہے اور جو حج لڑکپن میں کیا ہے وہ نفل ہے ۔ 

مسئلہ :  اندھے پر حج فرض نہیں چاہے جتنا مالدار ہو۔

مسئلہ :  جب کسی پر حج فرض ہو گیا تو فوراً اسی سال حج کرنا واجب ہے بلا عذر دیر کرنا اور یہ خیال کرنا کہ ابھی عمر پڑی ہے پھر کسی سال حج کر لیں گے درست نہیں ہے، پھر دو چار برس کے بعد بھی اگر حج کر لیا تو ادا ہو گیا۔ لیکن گنہگار ہوا۔

مسئلہ :  اگر کوئی عورت حج کرنے جائے تو راستے میں اس کے شوہر کا یا کسی محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ بغیر اس کے حج کے لئے جانا درست نہیں ہے۔

مسئلہ :  اگر وہ محرم نا بالغ ہو یا ایسا بد دین ہو کہ ماں بہن وغیرہ سے بھی اس پر اطمینان نہیں تو اس کے ساتھ جانا درست نہیں ۔

مسئلہ :  جب کوئی محرم قابل اطمینان ساتھ جانے کے لئے مل جائے تو اب حج کو جانے سے شوہر کا روکنا درست نہیں ہے اور اگر شوہر روکے بھی تو اس کی نہ مانے اور چلی جائے۔

مسئلہ :  جو لڑکی ابھی جوان نہیں ہوئی لیکن جوانی کے قریب ہو چکی ہے اس کو بھی بغیر شرعی محرم کے جانا درست نہیں اور غیر محرم کے ساتھ جانا بھی درست نہیں ۔

مسئلہ :  جو محرم اس کو حج کرانے کے لئے جائے اس کا سارا خرچ اسی پر واجب ہے کہ جو کچھ خرچ ہوئے۔

مسئلہ :  اگر ساری عمر ایسا محرم نہ ملا جس کے ساتھ سفر کرے تو حج نہ کرنے کا گناہ نہ ہو گا، لیکن مرتے وقت یہ وصیت  کر جانا واجب ہے کہ میری طرف سے حج کرا دینا، مر جانے کے بعد اس کے وارث اسی کے مال میں سے کسی آدمی کو خرچ دے کر بھیجیں کہ وہ جا کر مردے کی طرف سے حج کر آئے اس سے اس کے ذمہ کا حج اتر جائے گا اور اس حج کو دوسرے کی طرف سے کیا جاتا ہے ، حج ّبدل کہتے ہیں ۔

مسئلہ :  اگر کسی کے ذمے حج فرض تھا اور اس نے سُستی سے دیر کر دی پھر وہ اندھا ہو گیا یا ایسا بیمار ہو گیا کہ سفر کے قابل نہ رہا تو اس کو بھی حج بدل کی وصیت کرنی چاہئے۔

مسئلہ :  اگر وہ اتنا مال چھوڑ کر مرا کہ قرض وغیرہ دے کر تہائی مال سے حج بدل کر سکتے ہیں ، تب تو وارث پر اس کی وصیت کا پورا کرنا واجب ہے اور اگر مال تھوڑا ہے کہ ایک تہائی میں سے حج بدل نہیں ہوسکتا تو اس کا ولی حج نہ کرائے۔

مسئلہ :  اگر وہ حج بدل کی وصیت کر کے مر گیا، لیکن مال کم تھا اس لئے تہائی مال میں حج بدل نہ ہوسکا اور تہائی سے زیادہ لگانے کو وارثوں نے خوشی سے منظور نہ کیا  اس لئے حج نہیں کرایا گیا تو اس بے چارے پر کوئی گناہ نہیں ۔

مسئلہ :  بغیر وصیت کئے اس کے مال میں سے حج بدل کرانا درست نہیں ہے۔ ہاں اگر سب وارث خوشی سے منظور کر لیں تو جائز ہے مگر نابالغ کی اجازت کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

مسئلہ :  اگر عورت عدت میں ہو تو عدت چھوڑ کر حج کو جانا درست نہیں ۔

مسئلہ :  جس کے پاس مکہ کی آمدو رفت کے لائق خرچ ہو اور مدینہ کا خرچ نہ ہو اس کے ذمہ حج فرض ہو گا۔ بعضے آدمی سمجھتے ہیں کہ جب تک مدینہ کا بھی خرچ نہ ہو جانا فرض نہیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔

حج کرنے کا طریقہ اور مسائل

عمرہ :  خانہ کعبہ کی زیارت اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا جو احرام کے ساتھ ہو۔

حج :  عرفات پر وقوف کرنا  اور طوافِ زیارت کرنا جو احرام کے ساتھ ایک وقت معیّن پر ہو۔

قِرآن :  عمرہ اور حج کا مجموعہ  جو ایک ہی احرام سے لگاتار کیا جائے۔

تمتع:  عمرہ اور حج کا مجموعہ جو وہ احرام سے الگ الگ ادا کیا جائے۔ امام اعظمؒ کے نزدیک سب سے افضل قِرآن ہے پھر تمتع پھر افراد۔

حج کے شرائط :  (۱) احرام، بغیر احرام کے کوئی فعل حج کا صحیح نہیں ۔  

(۲) زبان، تمام ارکان ایام حج میں ادا ہوں ۔  (۳) مکان، مسجد حرام و صفا و مَروہ، عرفات ۔

حج کے فرائض:  (۱) احرام باندھنا    (۲) عرفات میں وقوف۔  (۳) طواف زیارت

حج کے واجبات :  (۱) میقات سے احرام باندھنا   (۲) صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا   (۳) زوالِ آفتاب سے ڈوبنے کے تھوڑی دیر کے بعد تک عرفات میں وقوف کرنا    (۴) وقوف مزدلفہ   (۵)  سر منڈوانا  (۶) رمی جمار کرنا   (۷)طوافِ وداع   (۸) طوافِ زیارت   (۹) رمی جمار کو ذبح پر مقدم کرنا۔   (۱۰) ہدی کا ذبح کرنا    (۱۱) ہدی کے ذبح کو حلق پر مقدم کرنا  (۱۲) ہدی کو ایام نحر میں ذبح کرنا۔

حج کے سُنن :  (۱) طواف قدوم   (۲) امام کا خطبہ پڑھنا۔ ساتویں تاریخ کو مکہ میں ، نویں کو بعد زوال کے عرفات میں ، گیارہویں کو مسجدِ نمرہ میں  (۳)مکہ سے منٰی کی جانب، آٹھویں تاریخ کو بعد نماز فجر نکلنا  (۴) پانچ نمازیں منٰی میں پڑھنا    (۵) عرفہ کی شب میں منیٰ میں رہنا   (۶) عرفہ کے دن طلوع آفتاب کے بعد منیٰ سے عرفات جانا  (۷) منیٰ سے مکہ واپس ہوتے ہوئے محصّب میں ذرا ٹھیرنا۔

مستحبّات :  (۱) سفرِ حج کی ایک قربانی کرنا۔   (۲) مکہ میں داخل  ہونے کے وقت غسل کرنا۔   (۳) مزدلفہ میں جانے کے وقت غسل کرنا۔

احرام باندھنا :  جب میقات پر پہنچے  تو احرام باندھ لے یعنی نہا دھو کر ایک چادر اور تہمد پہن کر دو رکعت نفل پڑھے اور جا نماز پر بیٹھے اور سر کھولے اور حج بیت اللہ کی نیت کر دے اور تلبیہ کہے۔

لَبَِیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَِیْکَ لَبَِیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ  لَبَِیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔

حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں نہیں کوئی شریک تیرا۔ حاضر ہوں تیرے لئے، سب تعریف ہے اور تیری ہی نعمتیں سب ہیں اور تیرا ہی ملک ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ۔

بس احرام بندھ گیا۔

مسئلہ :  گھر سے احرام باندھ کر چلنا افضل ہے ، ہندوستانیوں کے لئے میقات یلملم ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی شخص بے ہوش ہو تو دوسرا اس کی طرف سے احرام باندھ سکتا ہے۔

مسئلہ :  تلبیہ کے الفاظ بجنسہ ادا ہونے چاہئیں ان الفاظ میں کمی بیشی نہ کی جائے۔

تلبیہ کہنے کے اوقات

(۱) ہر نماز کے بعد  (۲) جب ایک دوسرے سے ملاقات کرے  (۳) جب اوپر چڑھے یا نیچے اُترے  (۴) جب شُتر سواروں کو آتے جاتے دیکھے۔  (۵) جب سواری پر سوار ہو یا اُترے  (۶) ہر روز صبح کے وقت۔

مسئلہ :  احرام باندھنے کے بعد  (۱)رفث فسوق اور جدال (یعنی گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے)   (۲)جانور کا شکار نہ کرے   (۳) کرُتہ، پائجامہ، قبا، عمامہ، ٹوپی اور موزے نہ پہنے  (۴) کوئی کپڑا جو زعفران وغیرہ کسی خوشبو دار چیز سے رنگا ہوا ہو نہ پہنے  (۵) مرد سر اور منہ کو نہ ڈھانکے اور عورت صرف منہ نہ ڈھانکے  (۶) خوشبو دار تیل استعمال نہ کرے  (۷) بدن کے بال نہ مونڈے، ناخن نہ کترے۔

مسئلہ :  اگر ممکن ہو تو زمین حرم میں پیدل چلے، اور بڑی عاجزی سے قدم اٹھائے اور اس طرح چلے جیسے کوئی عاجز مسکین آدمی شہنشاہ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔

مسئلہ :  مسجد حرام میں باب السّلام سے داخل ہونا بہتر ہے، بہت عاجزی سے لبیک کہتا ہوا داخل ہو اور اس مقام کی عظمت و جلال دل میں قائم کرے۔ اگر کوئی مزاحمت کرے تو اس سے بہت نرمی سے پیش آئے۔ بہتر یہ ہے کہ ننگے پاؤں داخل ہو۔

مسئلہ :  جب خانہ کعبہ کو دیکھے تو دعا مانگے پھر طواف کرے۔

مسئلہ :  جب حجرِ اسود کی طرف جائے تو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور تکبیر و تہلیل کہے پھر ہاتھ چھوڑ دے جس طرح نماز میں تکبیر تحریمہ کرتے ہیں ۔ 

مسئلہ :  حجر اسود کو بوسہ دے، اس طرح کے دونوں ہاتھ حجرِ اسود پر رکھ کر دونوں ہونٹوں کو حجر اسود پر لگائے۔

مسئلہ :  اگر ہجوم زیادہ ہو تو عورت کے واسطے ہجر اَسود کو بوسہ دینا ضروری نہیں ۔

مسئلہ :  خانہ کعبہ کے گرد چکّر کرنے کو طواف کہتے ہیں پہلے نیت کرے۔ ہر چکر حجر اسود سے شروع کر کے حجر اسود ہی پر ختم کرے۔

مسئلہ :  اپنے سیدھے ہاتھ کی طرف سے طواف شروع کرے کہ حطیم اور خانہ کعبہ بیچ میں رہے۔

مسئلہ :  طواف کے پہلے تین چکروں میں اضطباع اور رمل کرے۔

مسئلہ :  طواف سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھے، پھر دعاء مانگے۔

مسئلہ :  صفا جانے سے پہلے زمزم کے پاس آئے اور اس کا پانی  پیٹ بھر کر پئے اور باقی پانی کنویں میں ڈال دے اور دعا مانگے پھر ملتزم کے پاس آئے اور اس کو بوسہ دے اس کے بعد صفا و مروہ کی سعی کرے۔

مسئلہ :  کوہِ صفا پر چڑھے تو سعی کی نیت کر لے، صفا پر اس قدر اونچا چڑھے کہ خانۂ کعبہ دکھائی دینے لگے۔

مسئلہ :  کوہِ صفا پر منہ قبلہ کی طرف کرے اور تکبیر و تہلیل کہے اور درود شریف آنحضرت ﷺ پر بھیجے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر خدائے تعالیٰ سے حاجت چاہے۔

مسئلہ :  سعی صفا سے شروع کرے تاکہ سات پھیروں کے بعد سعی مروہ پر ختم ہو۔

مسئلہ :  میلین، اخضرین کے درمیان دوڑ کر چلے۔

مسئلہ :  مَروہ پر بھی اتنا اونچا چڑھے کہ خانہ کعبہ کو دیکھ سکے اور خانہ کعبہ کی طرف منہ کرے۔ سعی میں تلبیہ کہتا رہے۔

مسئلہ :  سعی کے بعد چاہئے کہ مسجد میں جائے اور دو رکعت نماز پڑھے۔

مسئلہ :  قیام مکہ میں جس قدر نیکی ہو سکے کرے، کیونکہ وہاں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ گنا ہوتا ہے، اور گناہوں سے پرہیز کرے۔

مسئلہ :  قیام مکہ میں مسجدِ حرام میں بیٹھ کر کم از کم ایک قرآن شریف ختم کرے۔

مسئلہ :  آٹھویں تاریخ کو حج کے واسطے احرام باندھیں ، صبح کی نماز مکہ معظمہ میں پڑھ کر آفتاب نکلنے کے بعد منیٰ کی طرف روانہ ہوں ۔

مسئلہ :  نویں تاریخ کو بعد نمازِ فجر سب حاجی منیٰ سے عرفات کو جائیں ۔

مسئلہ :  مسجدِ نمرہ میں امام منبر پر آ جائے اور اذان کے بعد کھڑے ہو کر دو خطبے پڑھے۔ اس خطبے میں لوگوں کو وقوف، رمی جمار، قربانی، حلقِ سر اور طوافِ زیارت کے احکام سُنائے۔

مسئلہ :  جب امام خطبہ سے فارغ ہو تو مؤذن اقامت کہے اور ظہر اور عصر کی نماز ملا کر ظہر کے وقت میں پڑھے، اس طرح کہ ظہر کے دو فرض کے بعد مؤذن دوسری اقامت کہے اور عصر کی نماز پڑھی جائے۔

مسئلہ :  ان دونوں نمازوں میں فاصلہ نہ دینا چاہئے۔ درمیان میں نفل بھی نہ پڑھے۔ ان دونوں نمازوں کو جمع کرنا سُنت ہے۔

مسئلہ :  نماز عصر کے بعد سب موقف کی طرف روانہ ہوں جبلِ رحمت کے پاس وقوف کرنا بہتر ہے۔ موقف میں تلبیہ برابر کہتے رہیں ۔

مسئلہ :  امام کو چاہئے کہ جبلِ رحمت کے قریب قبلہ کی طرف منہ کر کے اونٹ پر کھڑا ہو اور دعا مانگے، اور سب آدمی بھی اپنے لئے اور اپنے عزیز و اقارب کے لئے دعا مانگیں اور دل میں عہد کریں کہ آئندہ گناہ نہ کریں گے۔

مسئلہ :  غروب آفتاب کے بعد امام سب آدمیوں کو لے کر مزدلفہ کی طرف چلے۔ مزدلفہ میں  جبل قزح  کے پاس اُترنا افضل ہے،  وادی محرم میں نہ ٹھیرے ۔

مسئلہ :  عشاء کے وقت اذان و اقامت کے بعد امام دونوں نمازیں مغرب اور عشاء کی جمع کر کے پڑھائے ان دونوں نمازوں کے درمیان نہ نفل پڑھے نہ فاصلہ کرے۔

مسئلہ :  عشاء کے بعد تمام رات جاگتا رہے، نماز اور تلاوتِ قرآن اور دعاء میں مصروف رہے کیونکہ یہ شبِ لیلۃ القدر سے افضل ہے۔

مسئلہ :  امام کو چاہئے کہ عید کے روز مزدلفہ سے صبح کے وقت سورج نکلنے سے پہلے مع حاجیوں کے منیٰ کی طرف کوچ کرے۔

مسئلہ :  منیٰ میں آج پہلے رمی جمرہ عقبہ کرے اس کے بعد قربانی کرے، قربانی کے بعد سر منڈائے یا بال کتروائے لیکن سر منڈانا بہتر ہے۔ عورت کو صرف انگلی کے ایک پورے کے برابر بال کتروانے چاہئیں ۔

مسئلہ :  ۱۰،  ذی الحجہ آج ہی سر منڈوانے کے بعد مکہ معظمہ جا کر طوافِ زیارت کرے اور واپس منیٰ آ جائے۔

مسئلہ :  طوافِ زیارت کے بعد سب چیزیں جائز ہیں ، جماع بھی درست ہے اور خوشبو کا استعمال بھی جائز ہے۔

مسئلہ :  ۱۱،  ۱۲،  ۱۳  تاریخ کو منیٰ میں قیام کرے اور تینوں دن تمام جمروں کو رمی کرتا رہے اس کے بعد منیٰ سے کوچ کرے۔

مسئلہ :  اب مکہ معظمہ میں آ کر طواف الصدر یا طواف الوداع ادا کرے، اس طواف میں رمل نہ کرے۔

مسئلہ :  طوافِ وداع کے بعد چاہِ زمزم پر آ کر اپنے ہاتھ سے پانی نکال کر پئے، اس کے بعد ملتزم پر آئے اور اس کو بوسہ دے۔

مسئلہ :  اب کعبہ شریف کی طرف منہ کئے ہوئے الٹے پاؤں چلے اور کعبہ کی جدائی پر حسرت کرتا اور روتا چلے اور اسی طرح مسجدِ حرام سے باہر جائے۔

حجِّ بدل

مسئلہ :  جس کی طرف سے حج کیا جائے وہ ایسا شخص ہو کہ خود حج کرنے سے عاجز ہو اور مالدار ہو۔

مسئلہ :  جس طرف سے حج کیا جائے اسی کی طرف سے احرام کے وقت حج کی نیت کی جائے اور اسی کے مال سے حج کیا جائے۔

مسئلہ :  حج کے واسطے نائب ایسے شخص کو مقرر کیا جائے جو خود حج کر چکا ہو۔

مسئلہ :  غیر کی طرف سے حج کرنے والے کو اس غیر کی جانب سے اتنا خرچ ملنا چاہیے کہ مکہ تک جانے اور واپس آنے تک کافی ہو۔

مسئلہ :  میّت کے تہائی مال میں سے حج کرایا جائے۔

عورتوں کے افعالِ حج

مسئلہ :  اگر عورت حالتِ احرام میں حائض ہو جائے تو غسل کرے اور پھر احرام باندھے اور تمام افعال حج کے کرے سوائے طواف کے۔

مسئلہ :  وقوف عرفات سے پہلے اگر عورت حائض ہو جائے تو چاہئے کہ غسل کر کے احرام حج کا باندھے اور تمام افعال حج کے کرے سوائے طواف کے کہ وہ حیض سے پاک ہونے کے بعد کرے۔

مسئلہ :  طوافِ زیارت کے موقع پر اگر حالتِ حیض یا نفاس کی پیش آ جائے یا بیمار ہو جائے تو پاک ہونے کے بعد طواف کرے۔ 

مسئلہ :  طوافِ وداع کے موقع پر اگر عورت حائض ہو جائے اور گھر واپس جانا ضروری ہو تو طوافِ وداع کرنے کی ضرورت نہیں ۔

مسئلہ :  عورت کو احرام میں سیا ہوا اور رنگا ہوا لباس پہننا جائز ہے مگر خوشبو سے نہ رنگا ہو، موزے، دستانے، قمیص، اوڑھنی حریر اور زیور پہننا بھی جائز ہے۔

مسئلہ :  عورت احرام میں سر ڈھانکے اور منہ کھلا رکھے۔

مسئلہ :  عورت سعی صفا و مروہ کے وقت نہ دوڑے اگر ہجوم ہو تو صفا اور مروہ پر بھی نہ چڑھے۔

مسئلہ :  عورت کے واسطے سر منڈانا حرام ہے قصر کرائے۔

حج کرنے سے رک جانا

مسئلہ :  محرم اگر بیمار ہو جائے یا دشمن کا خوف ہو یا عورت کا خاوند راستے میں فوت ہو جائے یا راستے میں خرچ جاتا رہے یا کرائے کا جانور ہلاک ہو جائے تو وہ شخص محصّر ہے۔

مسئلہ :  محصر احرام سے اس طرح باہر ہو کہ ایک ہدی کا جانور کسی شخص کے ہاتھ بھیج دے کہ حرم میں ذبح کرے یا قیمت بھیج دے کہ وہاں ہدی خرید کر ذبح کی جائے۔ ذبح کا دن اور وقت مقرر کرے کہ اس کے بعد گھر بیٹھے ہی احرام اتار دے، حلق یا قصر کی ضرورت نہیں ۔

مسئلہ :  سال آئندہ محصر کو اس کے بدلے ایک حج اور ایک عمرہ کرنا چاہئے۔

مسئلہ :  اگر محرم عید کی صبح تک وقوفِ عرفات نہ کر سکے تو حج فوت ہو جاتا ہے۔

مسئلہ :  جب حج فوت ہو جائے تو لازم ہے کہ طواف خانہ کعبہ و سعی صفا و مروہ کی کر کے احرام اتار دے اور یہ حج آئندہ سال میں کرے اور قربانی واجب نہیں ۔

مسئلہ :  ہدی کے تین جانور ہیں سب سے افضل اونٹ ہے پھر گائے، بیل، پھر بھیڑ بکری۔

مسئلہ :  ہدی پر سواری نہ کرنی چاہئے، نہ اس کی کوئی چیز کام میں لائی جائے۔

مسئلہ :  ہدی کا دودھ نہ نکالنا چاہئے۔ اگر نکالے تو اس کو خیرات کر دے۔

مسئلہ :  ہدی کے اگر بچہ پیدا ہو تو اس کو خیرات کر دے یا ساتھ ہی ذبح کر دے۔

مسئلہ :  اونٹ کو نحر کرنا افضل ہے اور گائے، بکری کو ذبح کرنا افضل ہے ۔

مسئلہ :  حج کی قربانی بقر عید کی قربانی سے نہ کرے۔

مسئلہ :  ہدی کا گوشت کھانا مالک کو درست ہے۔ ہدی کے گوشت کو مساکین پر تقسیم کرنا چاہئے، جس طرح قربانی کا گوشت تقسیم کرتے ہیں ۔

جزا اور کفارہ

مسئلہ :  ممنوعاتِ احرام یا ممنوعاتِ افعالِ حج میں سے کوئی بھی  اگر بلا عذر کیا جائے تو جزا لازم ہو گی اور اگر بعذر شرعی کیا جائے تو کفارہ لازم ہو گا۔

مسئلہ :  جزا میں مقررہ قربانی یا صدقہ دیا جائے گا اور کفارہ میں مقررہ قربانی یا صدقہ یا روزہ جو چاہے اختیار کرے۔

شکار کی جزاء

(۱) جو جانور شکار کیا ہے اس کے بدلے ہدی خرید کر خیرات کرے  ورنہ اس کی قیمت خیرات کرے   (۲) جو جانور شکار کیا ہے اس کی جزا میں روزہ رکھے۔

جوں یا ٹڈّی مارنے کی جزاء

	چاہیے کہ صدقہ دے، چاہے تھوڑا ہی ہو مثلاً ایک کف طعام۔

مسئلہ :  صاحب احرام یا بے احرام کسی محرم کا سر مونڈے تو مونڈنے والے کو صدقہ دینا ہو گا اور منڈوانے والے کو قربانی۔

مسئلہ :  بال اکھاڑنے یا کاٹنے یا کسی ردا سے صاف کرنے کا حکم مثل مونڈنے کے ہے۔

مسئلہ :  اگر ہاتھ پیر کے ناخن کاٹے تو قربانی دینا ہو گی۔

مسئلہ :  اگر سِلے ہوئے کپڑے بلا عذر ایک دن پہنے تو قربانی دینا ہو گی۔

مسئلہ :  اگر سِلا ہوا اور خوشبو میں رنگا ہوا کپڑا مرد پہنے تو دو قربانی دینا ہوں گی اور عورت پہنے تو ایک کیونکہ وہ سلا ہوا پہن سکتی ہے۔

مسئلہ :  اگر خوشبو کا استعمال کیا، خوشبو لگائی  یا خوشبودار تیل استعمال کیا تو کفارہ لازم ہو گا، اگرچہ دوا کے طور پر ہی استعمال کیا ہو۔

مسئلہ :  خوشبو لگانے سے جو جزا لازم ہوئی ہے اگر وہ دے دی گئی تو اس خوشبو کی چیز کو علیٰحدہ کر دینا چاہئے۔

مسئلہ :  پھول وغیرہ خوشبو کی چیزیں سونگھنے سے کچھ جزا نہیں دینی پڑتی لیکن ان کا سونگھنا مکروہ ہے۔

مسئلہ :  اگر احرام باندھنے کے بعد سے وقوفِ عرفات تک کسی وقت جماع کیا تو عمرہ فاسد ہو گیا۔ اگر اس کے بعد کیا تو فاسد نہ ہو گا۔

مسئلہ :  اگر کسی کو حالتِ احرام میں احتلام ہو جائے تو غسل کرے۔

مسئلہ :  اگر عورت کا بوسہ لیا یا اس کو شہوت سے ہاتھ لگایا تو قربانی لازم آئے گی۔

مسئلہ :  محرم حدود حرم میں یا غیر حرم میں شکار کرے تو جزا دینا ہو گی اور بے احرام صرف حدودِ حرم میں شکار کرے تو تاوان لازم ہے ۔ 

مسئلہ :  خشکی کے جانوروں کا شکار حرام ہے، دریائی جانوروں کا حلال ہے۔

مسئلہ :  اگر محرم خود شکار کرے دانستہ یا بھول کر تو اس کی جزا دینا ہو گی۔

مسئلہ :  اگر محرم بوجہ بھوک کے شکار کرنے پر مجبور ہو جائے اور شکار کرے تب بھی اس کو جزا دینا ہو گی۔

مسئلہ :  درندہ جانور کے شکار میں ایک بکری جزا دی جاتی ہے۔

مسئلہ :  اگر کوئی درندہ جانور محرم پر حملہ کرے اور مدافعت میں محرم اس کو  مار ڈالے تو کچھ جزا  لازم نہیں ۔

مسئلہ :  اگر حرم کے جانور کا دودھ نکالے تو اس کی قیمت کے موافق جزا دینا ہو گی۔

مسئلہ :  اگر کسی شکاری جانور کے انڈے کو توڑے تو اس کی قیمت بھی دینا لازم ہو گی۔

مسئلہ :  اگر محرم شکار خریدے یا فروخت کرے وا بیع باطل ہے۔

زیارتِ مدینہ کا بیان

	اگر گنجائش ہو تو حج سے پہلے یا حج کے بعد مدینہ منورہ حاضر ہو کر حضرت رسول مقبول ﷺ کے روضہ مبارک اور مسجد نبوی کی زیارت سے برکت حاصل کرے اس کی نسبت رسول مقبولﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس کو وہی برکت ملے گی جیسے میری زندگی میں کسی نے میری زیارت کی اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص خالی حج کرے اور میری زیارت کو نہ آئے اس نے میری ساتھ بڑی بے مروّتی برتی اور اس مسجد کے حق میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس میں ایک نماز پڑھے اس کو پچاس ہزار نمازوں کے برابر ثواب ملے گا۔

حدیث:  حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے میری مسجد میں چالیس  نمازیں ادا کیں اور کوئی نماز قضا نہ کی تو وہ نفاق اور دوزخ کے عذاب سے بری کر دیا گیا۔

حدیث :  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مساجد میں صرف تین ہی مسجدیں ایسی ہیں جن کی زیارت کے لئے سفر کیا جا سکتاہے۔ ایک مسجد حرام ، دوسرے میری مسجد، یعنی مسجد نبوی، تیسرے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس کی مسجد۔

حدیث :  حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی مدینہ میں مر سکتا ہے اس کو مدینہ میں مرنا چاہئے۔ قیامت کے دن میں مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔
٭٭٭



کتَابُ النِّکَاح

نکاح کا بیان

مسئلہ :  نکاح بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے ۔ دین اور دنیا دونوں کے کام اس سے درست ہو جاتے ہیں ۔ آدمی گناہ سے بچتا ہے۔ دل ٹھکانے ہو جاتا ہے۔ نیت خراب اور ڈانوا ڈول نہیں ہونے پاتی۔

مسئلہ :  نکاح فقط دو لفظوں سے بندھ جاتا ہے جیسے کسی نے گواہوں کے روبرو کہا میں نے اپنی لڑکی قدسیہ کا نکاح تمہارے ساتھ کیا، اس نے کہا میں نے قبول کیا۔ بس نکاح بندھ گیا اور دونوں میاں بیوی ہو گئے۔

مسئلہ :  کسی نے کہا اپنی فلانی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کر دو۔ اس نے کہا میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ کر دیا تو نکاح ہو گیا چاہے پھر وہ یوں کہے کہ میں نے قبول کیا یا نہ کہے۔ بہر حال نکاح ہو گیا۔

مسئلہ :  اگر خود عورت وہاں موجود ہو اور اشارہ کر کے یوں کہہ دے کہ میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ کر دیا، وہ کہے کہ میں نے قبول کیا تب بھی نکاح ہو گیا۔ نام لینے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ خود موجود نہ ہو تو اس کا بھی نام لے اور اس کے باپ کا نام بھی اتنے زور سے لے کہ گواہ سن لیں ۔

مسئلہ :  نکاح ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ کم از کم  دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے کیا جائے اور وہ لوگ اپنے کانوں سے نکاح ہونے اور ایجاب و قبول کے دونوں لفظ کہتے سُنیں تب نکاح ہو گا، نیز وہ مرد اور عورتیں مسلمان ہوں اور بالغ بھی ہوں ۔

مسئلہ :  اگر مرد کوئی نہ ہو صرف عورتیں ہی عورتیں ہیں تب بھی نکاح درست نہیں ہے چاہے دس بارہ کیوں نہ ہوں ، دو عورتوں کے ساتھ ایک مرد ہونا چاہئے۔

مسئلہ :  بہتر یہ ہے کہ پڑے مجمع میں نکاح کیا جائے جیسے نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں یا اور کہیں تاکہ نکاح کی خوب شہرت ہو جائے اور چھپ چھپا کے نکاح نہ کرے لیکن اگر کوئی ایسی ضرورت پڑ گئی کہ بہت سے آدمی جمع نہ ہوسکیں تو خیر کم سے کم دو مرد یا ایک مرد، دو عورتیں ضرور موجود ہوں جو اپنے کانوں سے نکاح ہوتے سُنیں ۔

مسئلہ :  اگر مرد بھی جوان ہے اور عورت بھی  جوان ہے تو وہ دونوں اپنا نکاح خود کر سکتے ہیں ۔ دو گواہوں کے سامنے ایک کہہ دے کہ میں نے اپنا نکاح تیرے ساتھ کیا۔ دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ بس نکاح ہو گیا۔

مسئلہ :  اگر کسی نے اپنا نکاح خود نہیں کیا بلکہ کسی نے کہہ دیا کہ تم میرا نکاح کسی سے کر دو یا یوں کہا کہ میرا نکاح فلاں سے کر دو اور اس نے دو گواہوں کے سامنے کر دیا تب بھی نکاح ہو گیا۔ اب اگر وہ انکار کرے تب بھی کچھ نہیں ہوسکتا۔

جِن لوگوں سے نکاح کرنا حرام ہے اُن کا بیان

مسئلہ :  اپنی اولاد کے ساتھ اور پوتی، پڑ پوتی اور نواسی وغیرہ کے ساتھ نکاح درست نہیں ہے اور باپ، دادا، پردادا، نانا اور پر نانا وغیرہ سے بھی درست نہیں ۔

مسئلہ :  اپنے بھائی اور ماموں اور چچا  اور بھتیجے، بھانجے کے ساتھ نکاح درست نہیں ۔ اور شرع میں بھائی وہ ہے جو ایک ماں باپ سے ہوں یا ان دونوں کا باپ ایک ہو اور ماں وہ ہوں یا دونوں کی  ماں ایک ہو اور باپ دو ہوں اور جس کا باپ بھی الگ ہو اور ماں بھی الگ ہو وہ بھائی نہیں اس سے نکاح درست ہے۔

مسئلہ :  داماد کے ساتھ بھی نکاح درست نہیں ہے چاہے لڑکی کی رخصتی ہو چکی ہو اور دونوں میاں بی بی ایک ساتھ رہے ہوں یا ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو، ہر طرح حرام ہے۔

مسئلہ :  کسی کا باپ مرگیا اور ماں نے دوسرا نکاح کیا لیکن ابھی اس کے گھر رہنے نہ پائی تھی کہ مر گئی یا اس نے طلاق دے دی تو اس سوتیلے باپ سے نکاح کرنا درست ہے ہاں اگر ماں اس کے پاس رہ چکی ہو تو اس سے نکاح درست نہیں ۔

مسئلہ :  سوتیلی اولاد سے نکاح کرنا درست نہیں یعنی ایک مرد کے کئی بیبیاں ہیں تو سَوت کی اولاد سے کسی طرح نکاح درست نہیں چاہے اپنے میاں کے پاس رہ چکی ہو یا نہ رہی ہو۔ ہر طرح نکاح حرام ہے۔

مسئلہ :  جب اپنی بہن نکاح میں رہے تب تک بہنوئی سے نکاح درست نہیں البتہ اگر بہن مر گئی یا اس نے چھوڑ دیا اور عدت پوری ہو چکی تو اب بہنوئی سے نکاح درست ہے اور طلاق کی عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح درست نہیں ۔

مسئلہ :  ایک مرد کا نکاح ایک عورت سے ہوا تو اب جب تک وہ عورت  اس کے نکاح میں رہے اُس کی پھوپھی اور اس کی خالہ اور بھتیجی، بھانجی کا نکاح اس مرد سے نہیں ہوسکتا۔

مسئلہ :  جن دو عورتوں میں ایسا رشتہ ہو کہ اگر ان دونوں عورتوں میں کوئی مرد ہوتی تو آپس میں دونوں کا نکاح نہ ہوسکتا ایسی دو عورتیں ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں ، جب ایک مر جائے یا طلاق مل جائے اور عدت گذر جائے تب دوسری عورت اس مرد سے نکاح کرے۔
٭٭٭

تشکر: عبد الرازق خلیل الرحمٰن جن کے توسط سے ان پیج فائل کا حصول ہوا
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
