﻿


عذاب دربدری



ثروت حسین

ترتیب: اعجاز عبید







سلام

کس کی خوں رنگ قبا آتی ہے
روشنی اب کے سوا آتی ہے

ساعتِ علم و خبر سے پہلے
منزلِ کرب و بلا آتی ہے

روزِ پیکار و جدل ختم ہوا
شبِ تسلیم و رضا آتی ہے

گریہ و گرد کا ہنگام نہیں
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے

پھر سرِ خاکِ شہیداں ثروت
پھول رکھنے کو ہوا آتی ہے
٭٭٭



نیند کا فرشتہ 

زمیں اطراف کی کالی ہوئی جلنے لگے دیوے 
ہوائیں خشک پتوّں کو گرا کر سو گئیں شاید
فرشتہ نیند کا ناراض ہے مجھ سے یہ کہتا ہے 
بہت دن سو لیے بیدار رہ کر بھی ذرا دیکھو
اذان فجر ہونے تک ستاروں کی ادا دیکھو
٭٭٭


نسیان کا فرشتہ

نسیان کے فرشتے 
وہ یاد محو کر دے 
جو میرے دل کی تہہ میں 
کانٹا بنی ہوئی ہے 
٭٭٭

آشنائی کا فرشتہ

آشنائی کے فرشتے 
ان زمینوں کا پتہ دے 
جو مری مانند تنہا
ہجر کا دکھ سہہ رہی ہیں 
٭٭٭


شادمانی کا فرشتہ

شادمانی کے فرشتے 
صبح میں چہرہ ہے کس کا
جھلملاتی شام کیا ہے 
وہ جو آتی ہے چمن میں 
اس پری کا نام کیا ہے 
٭٭٭



سخاوت کا فرشتہ


سخاوت کے فرشتے کو اترتا دیکھ کر سورج
ہوا رُو پوش بادل میں زمین کہنے لگی آؤ
طلائی ، نقرئی سکے ّ اچھالو شادمانی کے 
کھلیں اوراق لوگوں پر کتاب زندگانی کے 
٭٭٭


ایک نظم

مری موجودگی کا پھول پانی پر کھِلا ہے 
سلطنت، صبحِ بہاراں کی بہت نزدیک سے آواز دیتی ہے 
سبک رفتار ۔ ۔ ۔
پیہم گھومتے پہیے ۔ ۔
گراں خوابی سے جاگے ،آفتابی پیرہن کا گھیر دیواروں کو چھوتا
پیار کرتا۔ ۔ ۔
رقص فرماتا 
ارے !‌‌!‌!
سورج نکل آیا ۔
٭٭٭


کتابِ سبز و درِ داستان بند کئے 
وہ آنکھ سو گئی خوابوں کو ارجمند کئے 

گزر گیا ہے وہ سیلابِ آتشِ امروز
بغیر خیمہ و خاشاک کو گزند کئے 

بہت مصر تھے خدایانِ ثابت و سیار
سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کئے 

اسی جزیرۂ جائے نماز پر ثروت
زمانہ ہو گیا دستِ دعا بلند کئے 
٭٭٭





یہ جو پھُوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہو گا
روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہو گا

زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی 
ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہو گا 

گھائل پنچھی تیرے کنج میں آن گرا ہے 
اس پنچھی کہ دوسرا پھیرا پھر نہیں ہو گا 

میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں 
یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہو گا 

شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گا 
لیکن اسکو چومنے والا پھر نہیں ہو گا 

ثروت تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو 
جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہو گا 
٭٭٭


لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا
بادل تھا اور جَل پریوں کے ساتھ رہا

کون تھا میں ،یہ تو مجھ کو معلوم نہیں 
پھُولوں ،پتّوں اور دِیوں کے ساتھ رہا

مِلنا اور بچھڑ جانا کِسی رستے پر
اک یہی قصّہ آدمیوں کے ساتھ رہا

وہ اک سُورج صبح تلک مرے پہلو میں 
اپنی سب ناراضگیوں کے ساتھ رہا

سب نے جانا بہت سبک،بے حد شفاف
دریا تو آلودگیوں کے ساتھ رہا
٭٭٭



روشن تھی ہوا کہیں کہیں پر 
ایک آدھ کواڑ کھل چکا تھا 

تالاب تھا یا کہ شہر کے بیچ 
آئینہ کسی نے رکھ دیا تھا 

شاخوں میں ہوا رکی ہوئی تھی 
رستہ دریا میں جا گرا تھا 

لڑکی کوئی گھاٹ پر کھڑی تھی 
پانی پہ چراغ جل رہا تھا 
٭٭٭




پورے چاند کی سج دھج ہے شہزادوں والی 
کیسی عجیب گھڑی ہے نیک ارادوں والی 

نئی نئی سی آگ ہے یا پھر کون ہے وہ 
پیلے پھولوں ،گہرے سرخ لبادوں والی 

بھری رہیں یہ گلیاں پھول پرندوں سے 
سجی رہے تاروں سے طاق مرادوں والی 

آنکھیں ہیں اور دھول بھرا سنّاٹا ہے 
گزر گئی ہے عجب سواری یادوں والی 
٭٭٭



جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا
ڈوبا ہوا خورشید سمندر سے نکالا

ہر چند کہ اس رہ میں تہی دست رہے ہم
سودائے محبت نہ مگر سر سے نکالا

جب چاند نمو دار ہوا دور اُفق پر
ہم نے بھی پری زاد کو پتھر سے نکالا

دہکا تھا چمن اور دمِ صبح کسی نے
اک اور ہی مفہوم گلِ تر سے نکالا

اس مردِ شفق فام نے اک اسم پڑھا اور
شہزادی کو دیوار کے اندر سے نکالا
٭٭٭






جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں
اُس مور کو ہم شجر بناؤں

بہتے جاتے ہیں آئینے سب
میں بھی تو کوئی بھنور بناؤں

دُوری ہے بس ایک فیصلے کی
پتوار چُنوں کہ پَر بناؤں

بہتی ہوئی آگ سے پرندہ
بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں

گھر سونپ دوں گردِ رہ گزر کو
دہلیز کو ہم سفر بناؤں

ہو فرصتِ خواب جو میسّر
اک اور ہی بحر و بر بناؤں
٭٭٭




بارشوں میں 


ٹہنیاں بادل نہ ہو جائیں کہیں 
بستیاں اوجھل نہ ہو جائیں کہیں 
لڑکیاں پاگل نہ ہو جائیں کہیں 
٭٭٭




رات ڈھلنے کے بعد کیا ہو گا
دن نکلنے کے بعد کیا ہو گا

سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوں 
بچ نکلنے کے بعد کیا ہو گا

خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے
آنکھ ملنے کے بعد کیا ہو گا

رقص میں ہو گی ایک پرچھائیں 
دیپ جلنے کے بعد کیا ہو گا

دشت چھوڑا تو کیا ملا ثروت
گھر بدلنے کے بعد کیا ہو گا
٭٭٭



پھر وہ برسات دھیان میں آئی
تب کہیں جان جان میں آئی

پھول پانی میں گر پڑے سارے
اچھی جنبش چٹان میں آئی

روشنی کا اتا پتا لینے
شبِ تیرہ جہان میں آئی

رقصِ سیارگاں کی منزل بھی
سفرِ خاک دان میں آئی
٭٭٭



میں جو گزرا سلام کرنے لگا
پیڑ مجھ سے کلام کرنے لگا

دیکھ اے نوجوان میں تجھ پر
اپنی چاہت تمام کرنے لگا

کیوں کسی شب چراغ کی خاطر
اپنی نیندیں حرام کرنے لگا

سوچتا ہوں دیار بے پروا
کیوں مرا احترام کرنے لگا

عمرِ یک روز کم نہیں ثروت
کیوں تلاشِ دوام کرنے لگا
٭٭٭


ساقی فاروقی کے لئے 

وہیں پر مرا سیم تن بھی تو ہے 
اسی راستے میں وطن بھی تو ہے 

بجھی روح کی پیاس لیکن سخی
مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے 

نہیں شام تیرہ سے مایوس میں 
بیاباں کے پیچھے چمن بھی تو ہے 

مشقت بھرے دن کے آخیر پر
ستاروں بھری انجمن بھی تو ہے 

مہکتی دہکتی لہکتی ہوئی
یہ تنہائی باغ عدن بھی تو ہے 
٭٭٭




اک روز میں بھی باغ عدن کو نکل گیا
توڑی جو شاخ رنگ فشاں ،ہاتھ جل گیا

دیوار و سقف و بام نئے لگ رہے ہیں سب
یہ شہر چند روز میں کتنا بدل گیا

میں سو رہا تھا اور مری خواب گاہ میں 
اک اژدہا چراغ کی لو کو نگل گیا

بچپن کی نیند ٹوٹ گئی اس کی چاپ سے
میرے لبوں سے نغمہ صبحِ ازل گیا

تنہائی کے الاؤ سے روشن ہوا مکاں 
ثروت جو دل کا درد تھا نغموں میں ڈھل گیا
٭٭٭




قسم اس آگ اور پانی کی
موت اچھی ہے بس جوانی کی

اور بھی ہیں روایتیں لیکن
اک روایت ہے خوں فشانی کی

جسے انجام تم سمجھتی ہو
ابتدا ہے کسی کہانی کی

رنج کی ریت ہے کناروں پر
موج گزری تھی شادمانی کی

چوم لیں میری انگلیاں ثروت
اس نے اتنی تو مہربانی کی
٭٭٭



جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں 
پھر سے ہو گیا شامل زندگی کے دھارے میں 

اسم بھول بیٹھے ہم،جسم بھول بیٹھے ہم
وہ مجھے ملی یارو رات اک ستارے میں 

اپنے اپنے گھر جا کر سکھ کی نیند سو جائیں 
تُو نہیں خسارے میں ،میں نہیں خسارے میں 

میں نے دس برس پہلے جس کا نام رکھا تھا
کام کر رہی ہو گی جانے کس ادارے میں 

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں 
٭٭٭


دشت لے جائے کہ گھر لے جائے 
تیری آواز جدھر لے جائے 

اب یہی سوچ رہی ہیں آنکھیں 
کوئی تا حدّ نظر لے جائے 

منزلیں بجھ گئیں چہروں کی طرح
اب جدھر راہگزر لے جائے 

تیری آشفتہ مزاجی، اے دِل
کیا خبر کون نگر لے جائے 

سایہ ابر سے پوچھو ثروت
اپنے ہمراہ اگر لے جائے 
٭٭٭



ا ک کام سونپتے ہیں میا ں کر سکو اگر
روشن چرا غ دل زدگاں کر سکو اگر

تصویر با غ و را غ بد ل جائے د و ستو
اِن ٹہنیوں کو ر نگ فشاں کر سکو اگر

مہکے ہمارا گھر بھی گلاب و سحاب سے 
دو ایک دن قیام یہاں کر سکو اگر

وہ رنج و غم جو اور کسی سے کہے نہ ہوں 
ہم سے بیا ن کر د و، بیا ں کر سکو ا گر

آئندگاں کو صبر ملے آ شتی ملے 
ثروت علا ج شہر خزاں کر سکو اگر
٭٭٭



گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے 
کہاں ملتی ہے خوشی اتنی فراوانی سے 

خوش لباسی ہے بڑی چیز مگر کیا کیجے 
کام اس پل ہے ترے جسم کی عریانی سے 

سامنے اور ہی دیوار و شجر پاتا ہوں 
جاگ اٹھتا ہوں اگر خواب جہاں بانی سے 

شام تھی اور شفق پھوٹ رہی تھی ثروت 
ایک رقاصہ کی جلتی ہوئی پیشانی سے 

عمر کا کوہ گراں اور شب و روز مرے 
یہ وہ پتھر ہے جو کٹتا نہیں آسانی سے 
٭٭٭


روایت ہے کہ آبائی مکانوں پر ستارہ
بہت روشن مگر نمناک و افسردہ ملے گا

اسی کی وادیوں میں طائران رزق جو کو
نشیمن اور اجلی نیند کا دریا ملے گا

اسے بھی یاد رکھنا بادبانی ساعتوں میں 
وہ سیارہ کنار صبح فردا آملے گا

شجر ہیں اور اس مٹی سے پیوستہ رہیں گے 
جو ہم میں سے نہیں آسائشوں سے جا ملے گا 

ردائے ریشمیں اوڑھے ہوے ٴ گزرے گی مشعل 
نشست سنگ پہ ہر صبح گلدستہ ملے گا 

وہ آئینہ جسے عجلت میں چھوڑ آئے تھے ساتھی 
نہ جانے باد و خاک آثار میں کیسا ملے گا 

چراگاہوں میں روک کر آسمانی گھنٹیوں کو 
سنو کچھ دیر کہ وہ زمزمہ پیرا ملے گا 

اسی جائے نماز و راز پر اک روز ثروت 
اچانک دار کھلے گا اور وہ جھونکا ملے گا 
٭٭٭



آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام 
یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر 

تا دیر رہا ذائقہ مرگ لبوں پر 
اک نیند کے ٹوٹے ہوئے منظر سے نکل کر 

یہ میرا دل ہے مرا آئینہ ہے شہزادی 
اور آئنے میں گرفتار اک سمندر ہے 

یہ انتہا ہے مسرت کا شہر ہے ثروت 
یہاں تو ہر در و دیوار اک سمندر ہے 
٭٭٭



اے دل آشفتہ سر ،رات اندھیری ہے پر 
رقص ترا شمع ساں خوب ہے اپنی جگہ 

کاغذ آتش زدہ ،تیری حکایت ہی کیا 
پھر بھی تماشائے جاں ،خوب ہے اپنی جگہ 

سیر بیاباں و در ،عقدہ کشائے ہنر 
رنج مسافت میاں ،خوب ہے اپنی جگہ 
٭٭٭



فضاۓ ثابت و سیار میرے ساتھ چلتی ہے 
میں چلتا ہوں تو یہ دیوار میرے ساتھ چلتی ہے 

تنفس کا اجالا کاٹتا جاتا ہے پتھر کو 
جہاں بھی جاؤں یہ تلوار میرے ساتھ چلتی ہے 

کشادہ منظروں میں انکسار اچھا نہیں لگتا 
ہوائے وادی پندار میرے ساتھ چلتی ہے 
٭٭٭



آیا ہوں وہ زمین و شجر ڈھونڈتا ہوا 
کھینچی تھی اک لکیر جہاں اپنے ہاتھ سے 

حسن بہار مجھ کو مکمّل نہیں لگا 
میں نے تراش لی ہے خزاں اپنے ہاتھ سے 

آئینے کا حضور سمندر لگا مجھے 
کاٹا ہے میں نے سیل گراں اپنے ہاتھ سے 
٭٭٭


اس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے 
توڑ ہی لیا آخر ایک برگ تر میں نے 

جل اٹھا اندھیرے میں انبساط کہ پتھر 
جب زمین کو دیکھا اسکو دیکھ کر میں نے 

میری گفتگو ثروت خواب گاہ جنت ہے 
خواب ہی تو دیکھا ہے خواب سے ادھر میں نے 
٭٭٭



سوچو یہ خاموش مسافر کیوں افسردہ ہے 
جب بھی تم دروازہ دیکھو اور مجھے دیکھو 

صبح کے ٹھنڈے فرش پہ گونجا اسکا ایک سخن 
کرنوں کہ گلدستہ دیکھو اور مجھے دیکھو 

دو ہی چیزیں اس دھرتی پر دیکھنے والی ہیں 
مٹی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو 
٭٭٭



دیواروں کو ڈھال تھے مرے ہاتھ 
جنگل ہے تو راستہ بنا جاؤں 

بانہیں وہ شجر کہ روک لیں راہ 
آنکھیں وہ بھنور کہ ڈوبتا جاؤں 

جاتا ہوں خزاں کی سلطنت کو 
تصویر بہار کھینچتا جاؤں 
٭٭٭


قندیل مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا 
کچھ اس سے زیادہ ہے مرا خاک پہ ہونا 

ہر صبح نکلنا کِسی دیوار طرب سے 
ہر شام کِسی منزل غم ناک پہ ہونا

یا ایک ستارے کا گزرنا کسی در سے 
یا ایک پیالے کا کسی چاک پہ ہونا 

لو دیتی ہے تصویر نہاں خانہ دل میں 
لازم نہیں اس پھول کا پوشاک پہ ہونا 

لے آئے گا اِک روز گل و برگ بھی ثروت
باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا
٭٭٭



دور افتادہ ویرانوں پر لہراتے بادل 
اک دہلیز سے کچھ عہد و پیمان بھی رکھتے ہیں 

اندیشوں میں جھلسنے والے دلوں کے یہ دالان 
خوابوں اور خیالوں کو مہمان بھی رکھتے ہیں 

رات کی رات چمکنے والے آسمان کے رنگ 
دیواروں کو صدیوں تک حیران بھی رکھتے ہیں 
٭٭٭



ٹوٹ چکا آسماں ،ڈوب چلے گھر ترے 
ایک دھواں دھار دیں اور یہ منظر ترے 

حشمت آئینہ سے ہیبت افلاک تک 
بول ستارے کہاں راکھ ہوئے پر ترے 

شام شکستوں سے چور ،بے شجر و بے حضور 
کون ہوائیں تھیں ،وہ کیا ہوئے لشکر ترے 

گونجتی گلیوں میں ہے انکے خیالوں کی چاپ 
گشت و گلیم آشنا پاک پیمبر ترے 
٭٭٭


وہی ایک چراغ دمکتا ہے 
گندم کی بالی بالی پر 

دل دکھتا ہے دل روتا ہے 
اک پتے کی پامالی پر 

کوئی نور ظہور کرے ثروت 
اسی حمد الحمد کی جالی پر 
٭٭٭


نشیب حلقہ صحن مکاں سے دور نہیں 
کہیں بھی ہو وہ ستارہ یہاں سے دور نہیں 

حد سپہر و بیاباں پہ جاگتی ہوئی لو 
جو ہم سے دور ہے آئندگاں سے دور نہیں 

میں اپنے حجرہ تاریک تر میں رہ کر بھی 
سرشت حلقہ آوارگاں سے دور نہیں 

گزرنے والی ہے گلیوں سے باد برگ آثار 
کہ اب وہ صبح مری داستاں سے دور نہیں 
٭٭٭



کبھی تیغ تیز سپرد کی ، کبھی تحفہ گل تر دیا 
کسی شاہ زادی کے عشق نے مرا دل ستاروں سے بھر دیا

یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میں 
مجھے صبر نے یہ ثمر دیا ، مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا

زمین چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ، نیا شہر ایک بساؤں گا
مرے بخت نے مرے عہد نے مجھے اختیار اگر دیا
٭٭٭


ایک ایک دو دو اشعار

خود کلامی کے بھنور میں ڈوبتی پرچھائیں بن کر رہ گئے ہیں 
اس اندھیری رات میں گھر سے نکلتے تو ستارہ یاب ہوتے 

خاک آلودہ زمانوں پر برستیں جھومتی کالی گھٹائیں 
موسموں کی آب و خاک آرائیوں سے آئینے سیراب ہوتے 
٭٭٭

گیتوں سے کچھ خواب تھے جانے کس کے سپرد کیے 
اسی شہر کی دیواروں میں یا پھر بن میں کہیں 

دو آئینے ایک چراغ کی لو کو دوہرانے میں 
جلتے جائیں ،پگھلتے جائیں تیز پون میں کہیں 
٭٭٭




چھوٹے چھوٹے لوگ تھے اور چھوٹی چھوٹی خواہشیں 
سو میں ان کے درمیاں اک داستاں بنتا گیا 

میری سیرابی کے قصّے شہر کی گلیوں میں تھے 
میری محرومی کہ قصّہ جاوداں بنتا گیا 
٭٭٭

ہے کوئی خاک نہادوں کو جگانے والا 
اس سے پہلے کہ قدم تندی سیلاب رکھے 

انہی گلیوں انہی لوگوں سے ہوں ناراض مگر 
پالنے والا انہیں خرّم و شاداب رکھے 
٭٭٭


کسی کی نیم نگاہی کہ جل رہا ہے چراغ 
نگار خانہ آغاز و انتہا سے ادھر 

یہ میرے ہونٹ سمندر کو چوم سکتے ہیں 
حکایت شب افراد و آئنہ سے ادھر 
٭٭٭

رمیدگی کا بیاباں اور بے خور و خواب 
غبار کرتا سکوت و صدا کو جاتا ہوں 

قریب ہی کسی خیمے سے آگ پوچھتی ہے 
کہ اس شکوہ سے کس قرطبہ کو جاتا ہوں 
٭٭٭


رزم گہ وجود میں آنکھ جھپک نہیں سکی 
یورش باد واپسیں مجھ پہ چہار سو سے ہے 

جنبش برگ بے خزاں ،آمد و رفت کا سماں 
وسعت ریگزار میں موجۂ آب جو سے ہے 
٭٭٭

زرد زبور تلاوت کرتی ہے تصویر خزاں کی 
عین بہار میں کیسے کیسے خواب نظر آتے ہیں 

شہزادی تجھے کون بتاۓ تیرے چراغ کدے تک 
کتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں 
٭٭٭

کون تھا میں ،یہ تو مجھ کو معلوم نہیں 
پھولوں پتوں اور دیوں کے ساتھ رہا 

میں اپنی جلا وطنی کے پچیس برس 
پنکھڑیوں اور تیتریوں کے ساتھ رہا 
٭٭٭


دروازوں میں لوگ کھڑے تھے اور ہماری آنکھوں نے 
پانی کہ چہرہ دیکھا تھا مٹی کی تمثالوں میں 

کنج خزاں آثار میں ثروت آج یہ کس کی یاد آئی
ایک شعاع سبز اچانک تیر گئی پاتالوں میں 
٭٭٭

اب یہی سوچ رہی ہیں آنکھیں 
کوئی تا حد نظر لے جائے 

تیری آشفتہ مزاجی اے دل 
کیا خبر کون نگر لے جائے 
٭٭٭


ہم پہروں بیٹھ کر رو لئے 
موسم نمناک ہوئے ہی نہیں 

اوپر تارے بھی کھلے ہوں گے 
بادل تو چاک ہوئے ہی نہیں 
٭٭٭

اڑتے بالوں کی اوٹ لیے ،ہاتھوں میں زرد چراغ لیے 
اسی ٹھنڈے فرش کے صحرا پر کوئی ننگے پیر چلا ہو گا 

خاموش چراگاہوں کے لیے کوئی بادل ایسا گیت لکھوں 
انہی دھوپ بھرے میدانوں میں کہیں بھیڑوں کا گلہ ہو گا 
٭٭٭


ہم خلوتیان آب و افلاک 
کیا ہوتے اگر ندا نہ ہوتے 

ثروت اگر یہ درخت یہ ستارے 
مٹی سے رہا نہ ہوتے 
٭٭٭

بھٹکے گی ہوا صنوبروں میں 
سب لوگ ہیں شام سے گھروں میں 

راتوں سے ڈری ہوئی زمیں کو 
سورج نے چھپا لیا پروں میں 
٭٭٭


جوئے کم آب ہو کہ سینہ بحر
صورت عکس آسمان رہوں 

دل میں رکھ لوں کوئی کرن ثروت 
اور تا صبح میزبان رہوں 
٭٭٭

عجب نہیں کہ مری طرح یہ اکیلی رات 
کسی کو ڈھونڈنے نکلی ہو ماہتاب لیے 

یہی امید کہ شاید ہو کوئی چشم براہ
چراغ دل میں لیے ہاتھ میں گلاب لیے 
٭٭٭



خزاں زدہ باغ کی حدوں پر کہانیاں سی گزر رہی ہیں 
سلگتے پتوں کی خامشی میں بہار خاشاک پر نظر کر 

وہ قصر شاہاں ،وہ کج کلاہاں زمیں کا پیوند ہو چکے ہیں 
یہ پرچم خاک اسی جگہ ہے گلیم صد چاک پر نظر کر 
٭٭٭

لذّت کے معمورے میں 
دور تلک کوئی آج نہ کل 

رتھ پہیوں میں ڈوب گئے 
قرنوں تک پھیلے جنگل 
٭٭٭



سبز اندر سبز راتوں میں سفر ہے دور تک 
سینہ عشاق گویا خواہشوں کا بن ہوا 

بادیہ پیمائے حیرت کو اشارہ چاہیے 
دھوپ کا آنچل ہوا یا ابر کہ دامن ہوا 
٭٭٭

ایک دیوار ہے تا حد نظر پھیلی ہوئی 
اور دیوار میں در دیکھنے والے کے لیے 

کسی کھوئی ہوئی جنّت کہ نشاں ہو جیسے 
ایک طاؤس کہ پر ،دیکھنے والے کے لیے 
٭٭٭



بس ایک لذّت بے نام کے ستائے ہوئے 
عذاب دربدری راہگیر کھینچتے ہیں 

پلک جھپک نہ سکی کارزار ہستی میں 
کمان دار اشارے پہ تیر کھینچتے ہیں 
٭٭٭

تہ زمین کسی اژدھے نے جنبش کی 
بساط خاک پہ منظر مرا بدلنے لگا 

یہ کون اترا پئے گشت اپنی مسند سے 
اور انتظام مکان و سرا بدلنے لگا 
٭٭٭


کہاں کس آئینے میں کونسا چہرہ دمکتا ہے 
ذرا حیرت سرائے آب و گل میں گھوم کر دیکھوں 

گزر گاہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں وہاں کیا ہے 
کوئی راہرو پلٹ کر آئے تو معلوم کر دیکھوں 
٭٭٭

خواب ہو کر رہ گیا اپنے لیے 
جاگ اٹھنے کی سزا موجود ہے 

آسمانی گھنٹیوں کے شور میں 
اس بدن کی ہر صدا موجود ہے 
٭٭٭


بیج میں سوئی ہوئی تھی آتش آئندگاں 
ایک پیراہن کی ٹھنڈک دھوپ کی چادر میں تھی 

پاؤں ساکت ہو گئے ثروت کسی کو دیکھ کر 
اک کشش مہتاب جیسی چہرہ دلبر میں تھی 
٭٭٭

طائران سرخ سے اک بات کہنی ہے مجھے 
اب کہاں کس جا پہ وہ پروردگار نغمہ ہے 

منتظر بیٹھا ہوں بچپن کے پرندے کے لیے 
دو گلابوں سے ادھر اک جوئے بار نغمہ ہے 
٭٭٭


گیتوں سے جب بھر جاتا ہوں گانے لگتا ہوں 
دیواروں سے اپنا سر ٹکرانے لگتا ہوں 

کانٹوں کہ ملبوس پہن کر آتا ہوں باہر 
اور مٹی پر اپنے پھول بنانے لگتا ہوں 
٭٭٭

دامن زمیں کہ تھام لے ،تیشے سے اپنے کام لے 
تیرے ہی اندر رونما فرماں روائے آب و گل 

طغیان حیرانی میں ہوں ،اسکی ثناء خوانی میں ہوں 
جس ہاتھ نے پہلے پہل رکھی بنائے آب و گل 
٭٭٭


لوٹ کر کوئی جہاں سے نہیں آتا ثروت 
انہی راہوں پہ کسی وقت نکل دیکھیں گے 
٭٭٭

میں سو رہا تھا اور مری خواب گاہ میں 
اک اژدھا چراغ کی لو کو نگل گیا 
٭٭٭

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت 
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں 
٭٭٭

روایت ہے کہ آبائی مکانوں پر ستارہ
بہت نمناک و افسردہ ملے گا 
٭٭٭


پھولوں سے بھرے کنج تو اک خواب ہی ٹھہرے 
یہ سایہ دیوار خزاں ہے مگر اپنا 
٭٭٭

جنگل کہانیوں کی طرح پھیل جائیں گے 
پل بھر سمے کی شاخ پہ منظر سہانا ہے 
٭٭٭

بہت سے لوگ ہیں آشفتہ کار و خاک بسر 
جہاں تلک ہے یہ صحرا تمام اپنا نہیں 
٭٭٭

مجھے اپنا سیارہ تبدیل کرنے کی خواہش ہی کیوں ہو 
کہ اب بھی زمیں پر بڑا حسن ہے اور گمبھیرتا ہے 
٭٭٭



مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے 
ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا 
٭٭٭

خلوتیان ذی شرف ،شور بہت ہے ہر طرف 
لفظ کوئی نہ کہہ سکیں ،حرف کوئی سنا نہ جائے 
٭٭٭

نہیں ہے کربلا سے واپسی کا راستہ کوئی 
جہاں بھی جائیں گے شہزادیوں کو ساتھ رکھیں گے 
٭٭٭


ماخذ:مختلف فیس بک صفحات سے
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
