﻿

عذاب رت کے صحیفے




کلیم احسان بٹ


کلیم احسان بٹ کے دو مجموعوں پر مشتمل ایک کتاب










 انتساب 

پیارے بھانجے 
 منیب زیب 
 کے نام










اپنی تلاش کا سفر

میں آپ اپنی تلاش میں ہوں۔میں نے اپنی تلاش کے سفر میں رہبر بھی اپنے آپ کو چنا۔ میں منزل منزل بھٹکتا رہا۔ میری چاروں جانب صرف راستے ہی راستے تھے۔ میں ہر راستے پر اتنی دیر تک چلتا رہا جب تک معلوم نہ ہو گیا کہ میری منزل اس راستے پر نہیں ہے۔ میں لوٹ کر پھر اپنے مرکز کی طرف آ جاتا ہوں۔ اور از سر نو راستے کا تعین کرتا ہوں۔ روح عصر اور تاریخی شعور میرے کسی کام کے نہیں۔ کسی دوسرے کے تجربات سے میں کسی دوسرے کی منزل پر پہنچ سکوں گا۔ لہذا میں آگ میں جل کر یقین کر لینا چاہتا ہوں کہ شعلے پھول بن سکتے ہیں۔ میں آگ میں جل جانا چاہتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ میں ابراہیم کے تجربے کی نفی چاہتا ہوں بلکہ اس لیے بھی کہ میں ابراہیم نہیں ہوں۔ اور میں اپنا اثبات چاہتا ہوں۔
دنیا نے روٹی کو خدا کر کے دیکھ لیا ہے۔ روٹی روٹی سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہو سکی۔اگر روٹی ہی انسان کا سب کچھ ہے تو موتی توندوں والے پریشان کیوں ہیں۔ کتا روٹی کھا کر نہیں بھونکتا مگر ہم انسان ہیں۔ ہمیں روٹی ڈال کر بھونکنے سے منع نہیں کیا جا سکتا۔ہماری منزل کوئی اور ہے۔ چلو واپس چلتے ہیں۔میں آپ اپنی تلاش میں ہوں۔ اور میں نے اپنی تلاش کے سفر میں رہبر بھی اپنے آپ کو چنا۔ میرے چاروں جانب راستے ہی راستے تھے۔ میں منزل منزل بھٹکتا رہا
 اور ایک وہ ہے جو کہتا ہے کہ آدم کا پہلا ہمارا آخری گناہ ہو گا اور دنیا صرف گناہگار جسموں کی افزائش کرتی رہے گی۔ خواہ اس کے لیے وہ سماج سے اجازت نامہ لے لے یا صرف دو دلوں کی گواہی کافی سمجھے۔ بہر حال ہم ایسے درخت کی مانند ہیں جو جس بیج سے اگتا ہے اس جیسے بہت سے بیج چھوڑ کر مر جاتا ہے۔میں آدم کی اولاد سہی مگر میں جو گناہ دہرا رہا ہوں میرا اپنا ہے۔اور میں نے اسے نیکی کا روپ دے لیا ہے۔ میں اسے محبت کہہ لیتا ہوں مگر میری محبت کی آخری حدیں بھی مجھے احساس گناہ سے نجات نہیں دے سکیں اور میں اب بھی بے خواب راتوں میں برہنہ جسموں کے خوش پیکر ہیولوں سے اپنی نیند کا خام مال تیار کرتا ہوں۔ اور جب کبھی رات پچھلے پہر ایک خوش کن سی تھکاوٹ کا احساس میرے پیکر سے نکل پڑتا ہے۔تو میں پھر لوٹ کر اپنی طرف آ جاتا ہوں۔اور از سر نو رستے کا تعین کرتا ہوں۔
میں آپ اپنی تلاش میں ہوں۔ میں نے اپنی تلاش کے سفر میں رہبر بھی اپنے آ پ کو چنا۔میں منزل منزل بھٹکتا رہا۔ میرے چاروں جانب راستے ہی راستے تھے۔
اور وہ جو دھوئیں کی طرح ہو ا میں کہیں اوپر جا کر جانے کس شے میں تحلیل ہو ا جاتا ہے۔ اپنا ان دیکھا مگر سوچا خدا۔ میرے ہاتھوں کی لکیروں سے مٹا جاتا ہے۔ ہر اک قوم ، ہر اک شخص خدا رکھتا ہے اور کسی کا بھی خدا کسی دوسرے کے خدا سے نہیں ملتا۔میں نے بھی اک اپنا خدا بنا رکھا ہے۔بعض اوقات وہ یوں مجھ میں اتر جاتا ہے کہ وہ پانی جو میرے اندر تو کناروں سے کہیں نیچے ہے اس کے حجم سے دب کر اتنی اوپر بھی چلا آتا ہے کہ میری آنکھوں سے خون بن کر بھی ٹپک جاتا ہے۔بعض اوقات میں بھی کسی روزن سے اس کے سینے میں اتر جاتا ہوں اور اک داغ سا بن جاتا ہے۔ اس اندھیرے غار میں داغ کا رنگ پھر مجھ کو ڈرا دیتا ہے۔ چیخ اٹھتا ہو ں۔ صدا حلق تک نہیں آتی۔بھاگتے بھاگتے پھر وہیں آ جاتا ہوں میں جہاں سے سفر پہ نکلا تھا۔
میں آپ اپنی تلاش میں ہوں۔ میں نے اپنی تلاش کے سفر میں رہبر اپنے آپ کو چنا۔
اور تاریخ نے انسان کو ترقی دے کر کتنا احسان کیا ہے اس پر۔اب تو بندر سے آگے چلا آیا ہے گو ابھی اس کے نشان باقی ہیں۔یا ہم آج اسے بندر سمجھ رہے ہیں جس کو کل انسان ہی ہو جانا ہے اور بندروں کے کھیل بھی عجب ہیں۔چاند پر جا کے کمند ڈالی ہے اور لٹکتا ، پھدکتا سیاروں کو چھلانگ رہا ہے۔کہیں مٹی نہیں ملتی کہیں پانی نہیں ملتا۔ اگر سب کچھ مل بھی جائے تو اسے ایسا کوئی بندر نہیں ملتا جس نے انسان تک ترقی حاصل کر لی ہو یا جس کو کل انسان ہی ہو جانا ہے۔بہتر ہے واپس زمین پر چلے آئیں۔بندر بن کر نہیں انسان بن کر یا تم بندر رہو مجھے انسان رہنے دو۔کیونکہ میں تمھاری نفی نہیں چاہتا مگر اپنا اثبات ضرور چاہتا ہوں۔کوئی بات نہیں میں تھک ہار کے لوٹ آیا ہوں۔چاند اور مریخ سے واپس اپنی زمین پر۔پھر اسی نقطے پریا نکتے پر جہاں سے میں نے سفر کا آغاز کیا تھا
میں آپ اپنی تلاش میں ہوں۔ میں نے اپنی تلاش کے سفر میں رہبر بھی اپنے آپ کو چنا۔ میں منزل منزل بھٹکتا رہا۔میرے چاروں جانب راستے ہی راستے تھے۔
میں تھک ہار کے ٹوٹ چکا تھا۔کرچی کرچی بکھر چکا تھا۔ مجھ میں ہمت نہ تھی سفر آغاز کروں۔میں نے بڑی مشکل سے ریزہ ریزہ جمع کیا اور یوں اپنے مرکز  کے اوپر اور اس کے ذرا ارد گرد سفر کرتا رہا۔ جب میں جڑ گیا تو منزل مجھے مل چکی تھی۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے میں سفر آغاز کرتا تھا۔ہر شے کو اپنے آغاز کی طرف لوٹ جانا ہے۔میں تھک ہار کے اپنے آغاز کی طرف لوٹا تھا۔میں نے منزل تو پا لی ہے مگر اس کا اعلان ابھی باقی ہے۔میں ڈھول کی تھاپ پر پہلا رقص کرنے والا ہوں مگر ہمت نہیں پڑتی۔نعرہ انا الحق اتنا آسان بھی نہیں۔منصور سولی پر چڑھ جاتا ہے۔میں سولی سے تو نہیں ڈرتا مگر روح عصر اور تاریخی شعور میرے کسی کام کے نہیں۔کسی دوسرے کے تجربات سے میں کسی دوسرے کی منزل تک پہنچ سکوں گا۔میں سولی پہ چڑھ جا نا چاہتا ہوں اور یقین کر لینا چاہتا ہوں کہ میں خدا نہیں ہو ں۔اس لیے نہیں کہ میں منصور کی نفی چاہتا ہوں بلکہ اس لیے بھی کہ میں اپنا اثبات چاہتا ہوں۔مگر جانے کیوں اس کے باوجود یہ میری خواہش ہے۔میرے چاروں طرف ڈھول بج رہے ہوں میرے آنکھوں سے خون بہہ رہا ہو اور میں مستانہ وار رقص کرتا جاؤں میں آنکھوں میں ایک قطرہ خون بھی باقی نہ رہے میرے اور میرے خدا کے حجم میں کوئی فرق باقی نہ رہے۔میرے اندر روشنی ہی روشنی ہو جائے۔میں خدا نہ ہوں اور خدا ہو جاؤں۔میں باقی بھی رہوں اور فنا ہو جاؤں۔
میں آپ اپنی تلاش میں ہوں۔میں نے اپنی تلاش کے سفر میں رہبر بھی اپنے آپ کو چنا۔ 

 کلیم احسان بٹ


نعتیں

لاکھ لفظوں پہ مجھ کو قدرت ہے
نعت کہنا خدا کی نعمت ہے
مجھ گناہگار پر ہے تیرا کرم 
دل میان حصار رحمت ہے
ہجر تیرا مجھے نصیب رہے
درد سہنا بھی ایک لذت ہے
حشر میں ایک آ سر ا تیر ا 
چھوٹ جائے تو پھر قیامت ہے
علم کی بے بسی یہ کہتی ہے
دین اب وقت کی ضرورت ہے
ایک تسکین ہے درود و سلام 
زندگی سو طرح مصیبت ہے
نعت کہنے کا گر سلیقہ ہو
شعر کہنا بھی اک عبادت ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭





 لفظ بے کار ہیں نعت کیسے کہیں
 حرف دیوار ہیں نعت کیسے کہیں
 ہم کہ ادنیٰ سے ادنیٰ سے ادنیٰ غلام
 آپ سرکار ہیں نعت کیسے کہیں
 ہم کہ کہتے رہے ہیں ہمیشہ غزل
 ہم گنہ گار ہیں نعت کیسے کہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭



ہم نے کھینچے لاکھ نقشے نعت کے
 ہو سکے ہیں چند مصرعے نعت کے

 چل رہا تھا نور کا اک سلسلہ 
 بن رہا تھا تانے بانے نعت کے

 پھر درودوں سے بھری آئی ہوا
 پھر کہیں مہکے ہیں غنچے نعت کے
 
 میرے ہاتھوں پر محمد مرتسم 
 میری قسمت میں ستارے نعت کے
 
 میں نے محشر سے خریدی بخششیں
 میری جیبوں میں تھے سکے نعت کے 




 امی لقب سے نسبت بانٹی مجھ کو یاد رکھا
 انسانوں میں الفت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

 من اور سلویٰ سے بھی بڑھ کر رزق دیا ہے تو نے
 کام و دہن میں لذت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

 تو نے پائے ہمت کو خود ذوقِ مسافت بخشا 
 دشت و جبل میں وسعت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

 تو نے میرے قدموں میں کوہسار دیے ہیں مولا
 شان و شوکت ، نصرت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

 میں نظروں میں تھا جب تو نے حرفِ قناعت لکھا
 صبر اور شکر کی دولت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

تیر ی سخاوت سے پا یا ہے عجز فرشتوں جیسا
ا نسانوں میں عظمت بانٹی مجھ کو یاد رکھا


تو نے دیا ہے چپ کو میری درویشی کا درجہ 
تو نے نطق کی قدرت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

تو نے ادنیٰ لفظوں کو تاثیر عنایت کی
شعر و سخن میں حکمت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

جب بہنوں کو عصمت بخشی مجھ پر کرم کیے
جب بھائیوں میں غیرت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

تو نے عمر کا ساتھی مجھ کو من چا ہا دے ڈالا
دنیا میں جب جنت بانٹی مجھ کو یاد رکھا 

مجھ کمزور کو تو نے اپنی حفظ امان نوازی
اہل ستم میں طاقت بانٹی مجھ کو یاد رکھا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 حرف کچھ بھی نہ تھے نعت کے واسطے
 میں نے موتی چنے نعت کے واسطے
 کوہ و صحرا میں ذکرِ نبی ﷺ عام ہے
 موجِ در یا چلے نعت کے واسطے
 پڑھ رہی تھیں ہوائیں درود و سلام
 جب پرندے اڑے نعت کے واسطے
 دل پھلوں کے محبت سے لب ریز ہیں
 رس ٹپکنے لگے نعت کے واسطے
 جو بھی پیدا کیا جن ، ملائک ، بشر
 اس نے پید ا کیے نعت کے واسطے
 ا تنا روشن رہا میرا دلد و ستو
 جتنے مضموں ملے نعت کے واسطے
 کون ہے اس جہاں میں جو عاجز رہے
 خود خدا جب کہے نعت کے واسطے
یا خدا میری کرنا خطائیں معاف 
شعر کم ہو سکے نعت کے واسطے
 آسماں کی ردائے سیہ پر محیط
 اس نے تارے لکھے نعت کے واسطے
 برگِ گل مسکرا کے محمد کہے
 اس پہ شبنم گرے نعت کے واسطے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




منقبت



 خیال آج مرے روبرو حسین کا ہے
 جو دوڑتا ہے رگوں میں لہو حسین کا ہے
 ہمارے ہاتھ بنے ہیں کمک یزیدوں کی 
 نہیں حسین کا میں بھی نہ تو حسین کا ہے
 پسِ سجود اٹھا ئی ہے لا ش کتنوں کی
 سو خون آل پیمبر وضو حسین کا ہے
 یہ کہہ کے آج بھی نہر فرات روتی ہے
 کہ پسر پیاسا لبِ آب جو حسین کا ہے
 زمانے بھر میں کوئی ایک ہو نہیں سکتا
 جو حق پسند ہے لیکن عدو حسین کا ہے
 شرف لہو سے نہیں ہے کسی کو نسبت کا 
ستم سے ہوتا ہے جو دو بدو حسین کا ہے
صداقتوں کا یہ پرچم سد ا بلند رہے
یہ نوکِ نیزہ پہ گویا گلو حسین کا ہے
مجھے تو فاتحِ خیبر کی یاد آئی خلش
علی کا چہر ہ ہے جو ہو بہو حسین کا ہے


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




غزلیں





چلو جگنو پکڑتے ہیں



 اہلِ سخن کی شوخیِ فن حق شناس سے
 آنے لگی ہے بوئے چمن آس پاس سے
 جنت میں جو سنے تھے وہ چشمے یہیں پہ ہیں
 کوثر کے گھونٹ پیتا ہوں راوی بیاس سے
 اترے ہوئے ہیں چاند سے سرسوں کے کھیت میں
چمکے ہوئے ہیں کیسے ستارے کپاس سے
اہلِ چمن پہ جانے کیا افتاد آ پڑی
سہمے ہوئے ہیں سرو و سمن تک ہراس سے
میں نے سنا تھا شام چمن خوش گوار ہے
مجھ کو تو سارے پھول ملے ہیں اداس سے
جی چاہتا ہے خاک کی حرمت پہ مر مٹوں
جینا مرا ہو ایسے ہی مرنے کی آس سے
چہرے پہ یا الہی شہادت کے پھول ہوں
لپٹا ہوا ہو چاند ستارا لباس سے
٭٭٭٭٭٭٭٭


چشمِ پُر نم نے کہا سارا فسانہ میرا
ضبط کرتا تو کبھی حال نہ کھلتا میرا

وہ تو پھر غیر ہے غیروں سے شکایت کیسی؟
دھوپ کے ساتھ بدل جاتا ہے سایہ میرا

فائدہ اتنا ہوا دستِ بریدہ کا مجھے
کسی مشکل میں کبھی ہاتھ نہ پھیلا میرا

جس پری وش کے لیے دکھ کے سفر کو کاٹا
اس نے دیکھا ہی نہیں روح کا چھالا میرا

 داغِ دامن نہیں پیمانۂ کردار خلش
 میرے ملبوس سے تھا جسم تو اجلا میرا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




جو درد مری روح میں پھیلا نہیں ملتا 
اب دائرہ در دائرہ دریا نہیں ملتا

تدبیر کا مرہم بھلا کیا کام کرے گا
تقدیر کے زخموں کا مدا و ا نہیں ملتا

اس شہر کی گلیوں میں کسے ڈھونڈ رہے ہو
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا مسیحا نہیں ملتا

اغراض نے اخلاص کی صورت ہی بدل دی
اب کوئی کسی سے کبھی بے جا نہیں ملتا
٭٭٭٭٭٭٭


 ہر نفس موجۂ بے تاب کی اک صورت ہے
 زندگی ذات میں گرداب کی اک صورت ہے

 اشک بھی رکھتا ہے اک اپنی زباں سمجھو تو
 حرف بھی قطرۂ خونناب کی اک صورت ہے

 لوٹ کر آتے ہیں گزرے ہوئے دن کب لیکن
 یاد بھی صحبت احباب کی اک صورت ہے

 خواب بھی خواب ہوئے اب تو یہاں پر یارو
 زخم بھی دیدۂ بے خواب کی اک صورت ہے

 چاند بھی گلشنِ افلاک کا اک غنچہ ہے
پھول بھی صورتِ مہتاب کی اک صورت ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 جب تک ترا خیال مرا ہم سفر نہ تھا
 میں آشنائے لذتِ دردِ جگر نہ تھا

 توڑ ا گیا ہے کیوں میرے بت کو تراش کر
 یہ تو کبھی بھی شیوۂ اہلِ ہنر نہ تھا

 تو باس تھی کسی کی تو سانسوں میں بس گئی
 میں پھول تھا مجھے بھی تو آخر بکھر نا تھا

 کہنے کو کہہ گیا ہے ہر اک اشک داستاں
 لیکن حدیث دل کا بیاں مختصر نہ تھا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 پرندے ہجرتیں کرنے لگے ہیں
 شجر یوں کٹ کٹا کر گر رہے ہیں
 ہرے چولے دعائیں مانگتے ہیں
 مزاروں سے کبوتر اڑ چکے ہیں
 صدائیں اب فضا میں مر رہی ہیں
 ہو ا میں دائرے سے پھیلتے ہیں
 کبھی دل میں اتر کر دیکھنا تم
 تمھارے واسطے جو دکھ سہے ہیں
 چر ا غوں کو ا بھی بجھنے نہ دینا
 تھکے ہارے مسا فر لوٹتے ہیں
کبھی پوچھو تمھیں ہم بھی بتائیں
 ہمیں بھی کس قدر تم سے گلے ہیں
تمھیں اتنی خبر بھی تو نہیں ہے
جیے کیسے بھلا کیسے مرے ہیں ؟
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 رنگ اپنے خون سے ان میں دوبارہ بھر دیے
 موسموں کے زہر نے جو پھول پیلے کر دیے
 رفتہ رفتہ یوں مکمل گھر کا نقشہ ہو گیا 
 تم نے دیواریں بنائیں ہم نے ان کو در دیے
 اشک آنکھوں سے رواں تھے اور انا خاموش تھی 
جب ضرورت نے خود اپنے ہاتھ آگے کر دیے
یا الہی ! زندگی کے خواب کی تعبیر کیا ؟
حوصلہ پرواز کا اور پھر شکستہ پر دیے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ہر صف الٹی ، لشکر زخمی ، تیر نشانے دیکھے
 جب دشمن کی صف میں سارے یار پرانے دیکھے
 اک آجر کا بیٹا ان کی قیمت دینے آیا
 اک مزدور کی بیٹی نے جو خواب سہانے دیکھے
 اس کی تیری باتوں سے تسکین بھلا کیا ہوتی
 جس نے تیری یادوں کے رنگین زمانے دیکھے
 ماں نے اپنے بچے کو پردیس کمانے بھیجا
 اک دن اپنی تربت پر پھر پھول نہ ماں نے دیکھے
ترک الفت مشکل ہو گا کون کرے گا ایسا
جس کی تجھ سے نسبت ہو وہ لاکھ بہانے دیکھے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 پتھر مرے و جود پہ برسے تمام عمر
 اے دوست لطف زیست کو ترسے تمام عمر
 میرے پروں میں ہمت پرواز ہی نہیں
 اڑنے نہ پائے ا یک ہی ڈر سے تمام عمر
 رستوں کی خاک چھاننا لازم ہے دوستو
 منزل کبھی ملی نہیں گھر سے تمام عمر
 میرے بدن سے خون کی بوندیں نچوڑ لیں
 اترا نہ بوجھ پھو لوں کا سر سے تمام عمر
 جب بھی جلائی بجھ گئی شمع حیات شوق
 دیکھا جہاں کو دیدۂ تر سے تمام عمر
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 میرے لیے صورت ہے یہ خوش کن بھی عجب بھی
 اس درجہ عنا یا ت کا کچھ ہو گا سبب بھی
گھر سے کہیں بہتر ہے بیا با ن کا عالم
 گو کم نہیں گھر میرا بیابان سے اب بھی
 ہم نے شب فرقت کی طرح اس کو گزارا
 سب وصل جسے کہتے ہیں آئی تھی وہ شب بھی
 اخلاص کے دھاگوں سے جو چند خواب بنے تھے
تو بھول گیا کب کا مجھے یاد ہیں اب بھی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 اک زور سے پھر درد کا طوفان اٹھا ہے
 بھولے ہوئے لمحات کو کیا یاد کیا ہے
 لب درد کی ٹیسوں میں تر ا نام نہ لے لیں
 اب سوچ کے زخموں سے لہو رسنے لگا ہے
جو دور محبت میں کبھی ا س نے دیا تھا
وہ پھول کتابوں میں کہیں سوکھ چکا ہے
گو وقت کی رفتار میں اب بھول گیا ہوں 
وہ چہر ہ مجھے دیر تلک یاد رہا ہے
پھر آج کئی شعر ہوئے جاتے ہیں مجھ سے
پھر آج تر ی یاد کا غم تا زہ ہوا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 اک تعلق کا سرا تھا دوسرا کوئی نہ تھا
اس سے بڑھ کر میرا اس سے واسطہ کوئی نہ تھا
شہر سے نکلا تو میرے ساتھ تھا عالم تمام
 دشت میں پہنچا تو واں میرے سوا کوئی نہ تھا
اس طرح جیتا رہا ہوں دوستوں کے شہر میں
لاکھ غم تھے اور غم سے آشنا کوئی نہ تھا 
 جب ہوئے رخصت ہمیشہ اس طرح رخصت ہوئے
 دیکھتے جا تے تھے منہ کو موڑتا کوئی نہ تھا
 کیا تماشہ ہے کہ خود اپنی عدالت میں خلش
 ہم ہی ٹھہرے بے وفا یا بے وفا کوئی نہ تھا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



صحن گلزار میں یوں پھولوں کے زیور چمکے
 شاخیں مدہوش ہوئیں پتوں پہ ساغر چمکے
 پھر مری پلکوں پہ موتی سے لرز آئے ہیں
 پھر مری آنکھ میں اس روپ کے منظر چمکے
اس سے پہلے کہ میں انصاف طلب کر سکتا
خون کے قطر ے سرِ تیغ ستم گر چمکے
اپنا دل چیر کے میں کس کو دکھاؤں یا رب
بند سیپوں میں مری ذات کے جوہر چمکے
پاؤں کی زد میں یہ رہتے تھے زمیں پر اکثر
اوج پر پہنچے تو کم مایہ سے پتھر چمکے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ہر بات اس کی قول کسی کا کہا ہوا 
 چھوٹی سی عمر میں ہے و ہ کتنا بڑا ہوا
 جس نے بھی اپنی ذات کی چوکھٹ پہ سر رکھا
 اس کا تو ایک عمر میں سجدہ ادا ہوا
 تیرے بغیر جینا پڑا تو بھی جی لیے
 اتنا ہی تجھ سے عشق ہوا تھا بھلا ہوا
 تم نے نجانے کیسے زمانے کو پا لیا
 ہم سے تو اپنی ذات کا عقدہ نہ وا ہوا
 بارِ کرم سے اٹھ نہ سکی نگہ باریاب
 سو بار و ہ تو بام پر جلوہ نما ہوا
 چیں بر جبین ایسی کہ تلوار تیز دھار
 باتیں کہ جیسے زہر میں نشتر بجھا ہوا
 ہم اس سے مل کے اور بھی شرمندہ ہو گئے
 اک میکدے کے در پہ تھا ناصح کھڑا ہوا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 پانی اتر گیا ہے نجانے وہ کیا ہوئے 
 ہم نے یہیں کہیں جو گھروندے بنائے تھے
 آنچل کسی خیال کا لہرا کے رہ گیا
 بچوں نے تیز آندھی میں کاغذ اڑائے تھے
 کوشش کے با وجود مجھے بھولتے نہیں
 کچھ ایسے زندگی میں مری لوگ آئے تھے
 ہنس کر ملا کو ئی تو ہمیں یاد آ گئے
 ہم نے ترے خلوص سے جو زخم کھائے تھے
 ان راستوں کی دیکھئے منزل ملی تو کیا 
 جن راستوں کی دھوپ پر اپنے بھی سائے تھے
 اہل ستم کی شوخیاں تو دیکھنا ذرا
 دامن میں بھر کے خار وہ اب پھول لائے تھے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 اس زبانِ نکتہ سنج کو روکنا اچھا لگا
 اس قدر اس کم سخن کا بولنا اچھا لگا 
 اپنی مٹی سے رہا رشتہ مرا مضبوط تر
 گو زمین آسماں تک پھیلنا اچھا لگا
 یوں سفر کو کچھ نہ کچھ تو طول ملتا جائے گا
 تھک کر اس کا راہگزر میں بیٹھنا اچھا لگا
کم نگاہی بھی قیامت تھی مگر اے جان من
 آج تیرا آنکھ بھر کر دیکھنا اچھا لگا
 یوں محبت تھی سرایت بچپنے سے جسم میں
تتلیوں کا شاخِ گل کو چومنا اچھا لگا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 عذاب رت میں جو اترے وہ کیا صحیفے تھے
 گلاب شہر کے حا کم ببول زادے تھے
 جو آج سر سے اٹھا میر ے باپ کا سایہ
نظر پڑا ہے کہ کتنے یتیم بچے تھے
وہ جس کی لاش کو کاندھا دیا ہے غیروں نے
پرائے دیس میں اس کے بھی چار بیٹے تھے
اب ایک خوف بسا ہے تمام کمروں میں
وہ دن گئے کہ چھتوں پر بھی لوگ سوتے تھے
تمھارے بعد یہ احسا س ہو رہا تھا مجھے
 تمھارے ساتھ ہی پھولوں کے شہر ہوتے تھے
ہوا ہوئے ہیں زمانے کی تلخیوں میں مگر
ہمارے ذہن میں کتنے خیال پارے تھے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



ایک دیکھی ہو ئی خوشبو مہکے
ترا پیکر مرے ہر سو مہکے
 ان کو پہلو میں لیے بیٹھا ہوں
 مری دنیا ، مرا پہلو مہکے
 رات کی رات مرے شانوں پر
 ترے بھیگے ہوئے گیسو مہکے
 جب تری یاد کا در باز ہوا 
 پھول چمکے کبھی جگنو مہکے
 وہ بد ن تختۂ گل کی مانند
 وہ مہک ، نافۂ آہو مہکے
 ٭٭٭٭٭٭٭




 موسم گل حیران کھڑا ہے
 گھر کا گھر ویران پڑا ہے
 دل کی بات بتائیں کیسے ؟
 یارو وہ نادان بڑا ہے
 ہم اور اس کو سجدہ کرتے 
 کافر نے بہتا ن گھڑا ہے
 جیون بھی فٹ پاتھ ہے جیسے
 سڑکوں پر سا ما ن پڑا ہے
 موتی جیسے لفظ تھے جن کو 
 شعروں میں آسان جڑا ہے
٭٭٭٭٭٭٭



 زمانہ اور زمانے کے بعد کیا ہو گا
 یہ نقش اپنا مٹانے کے بعد کیا ہو گا
 پھر ایک تلخ حقیقت کا سا منا ہو گا 
 پھر ایک خواب سہانے کے بعد کیا ہو گا
 میں سوچتا ہوں ذرا تو بھی سوچ اے ہمدم
 کہ تیرے میرے فسانے کے بعد کیا ہو گا
 کبھی یہ سوچا ہے پھر کیسے روشنی ہو گی 
 ہمارا دل بھی جلانے کے بعد کیا ہو گا
 تمھیں بھی حال غم دل سنائے دیتے ہیں
 تمھیں بھی حال سنانے کے بعد کیا ہو گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



غموں کے بوجھ کو اس طرح ہلکا کیا کروں یا رب
میں چشم یار کے کاجل کو گیلا کیا کروں یا رب 
مجھے تو سوکھے پتوں کا بھی دکھ دشوار ہے سہنا
میں اپنے گھر کے جلنے کا تماشا کیا کروں یا رب
کوئی عنوان دے داغِ قبا گر اک فسانہ ہے
گناہِ عشق یا قتلِ تمنا کیا کروں یا رب
یہ دنیا اک تماشا گاہ ہے رنج و مسرت کی
میں تیرا کیا کروں یا رب میں اپنا کیا کروں یا رب
سرابوں ہی سرابوں کا تعاقب زندگی نکلی
حقیقت کے فسانوں کا میں پیچھا کیا کروں یا رب
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 کھویا کھویا رہتا ہوں 
 بکھرے لمحے چنتا ہوں
 چاروں جانب سائے ہیں
 دل ہی دل میں ڈرتا ہوں
 تیری باتیں کر نے سے 
 میں ہلکا ہو جا تا ہوں
 اب کے تھوڑی فرصت ہے
 اب کے کچھ دن ٹھہرا ہوں
 اشکوں کا اک دریا تھا 
 قطرہ قطرہ بہتا ہوں
جب بھی تنہا ہو تا ہوں
کتنا تنہا ہو تا ہوں
 ٭٭٭٭٭٭



 دوست بھی یاں رقیب ہوتے ہیں 
 ا پنے ا پنے نصیب ہوتے ہیں
 جان من ٹوٹتے ہوئے تارے 
 زندگی کے نقیب ہوتے ہیں
 اس میں کیا اختیار اپنا ہے
 دل کے رشتے عجیب ہوتے ہیں
 وہ بھی دیکھو بدلتے رہتے ہیں
 سائے کتنے قریب ہوتے ہیں
 اس خلش کو دوام رہنا ہے
 آپ مانا طبیب ہوتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭



کبھی ہنستا کبھی روتا رہا ہوں
تماشا رات بھر کرتا رہا ہوں
مرے چاروں طرف اک روشنی تھی
تمھاری یاد میں جلتا رہا ہوں
 پرانی یاد کے ملبے پہ بیٹھا 
 بڑی ہی دیر تک روتا رہا ہو ں
 مسافر جان کر سب پوچھتے تھے
 گلی میں دیر تک ٹھہرا رہا ہوں
 کسی کے درد کا قصہ سنا تھا
 میں اپنے آپ کو سلگا رہا ہوں
٭٭٭٭٭٭٭٭



 کس نے کس کا سمجھا دکھ
 سب کا اپنا اپنا دکھ
 دیپک سنتا رہتا ہے وہ 
 جس کے من میں سلگا دکھ
 روتے روتے پوچھ لیا تھا
 ہنستے ہنستے بو لا دکھ
 مشکل یوں بھی سہنا ہو گا
 لیکن تنہا سہنا دکھ
 تیرے غم کو پالا ہم نے
 ہم نے اپنا ٹالا دکھ
 یاد سنہرا سپنا کوئی
 کالی خوشیاں اجلا دکھ
٭٭٭٭٭٭٭



 لمحہ لمحہ حادثہ در حادثہ پھیلا ہوا 
 دور تک ہے آرزو کا سلسلہ پھیلا ہوا
 میں تمھاری چاہ میں گھر تک تمھارے آ گیا
 کچھ تو تم بھی اب سمیٹو فاصلہ پھیلا ہوا
 گردشِ حالات تو مجھ کو رلا سکتی نہیں
 آنکھ تک کیا آ گیا ہے آبلہ پھیلا ہوا
 منزلوں کی دور تک ہم نے جھلک دیکھی نہیں
 دور تک ہے راستہ ہی راستہ پھیلا ہوا
 اپنا منظر اپنی آنکھوں سے کبھی دیکھو خلش
 ہر طرف ہے انجمن میں آئینہ پھیلا ہوا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 حرف کو معتبر ہی رہنے دو
 بات کو مختصر ہی رہنے دو
 کبھی ملنا پڑے تو مل بھی لیں
 فاصلے اس قدر ہی رہنے دو 
 مری آنکھوں کو بھیگتا رکھو
 مرے دامن کو تر ہی رہنے دو
 میں اسی کو ہنر سمجھتا ہو ں
 تم مجھے بے ہنر ہی رہنے دو
 مری تعریف اس قدر نہ کرو 
 مجھے بندہ بشر ہی رہنے دو
 با ت کرنا بہت ضروری ہے
 ہاں مجھے چپ مگر ہی رہنے دو
 منزلیں اس طرح نہیں ملتیں
 دھوپ دیکھو سفر ہی رہنے دو
 ٭٭٭٭٭٭٭٭

حسرت یک نظر میں بیٹھے ہیں
ہم تری راہ گزر میں بیٹھے ہیں
ایک بستی بسانے آئے تھے
ایک ا جڑے نگر میں بیٹھے ہیں
آ پ کے ہا تھ میں بھی پتھر ہیں
 آ پ شیشے کے گھر میں بیٹھے ہیں
 دھوپ کا سائبا ن اوڑھے ہوئے
 سایۂ بے شجر میں بیٹھے ہیں
 لو گ منزل تلاش کر لائے
 ہم ابھی گر مگر میں بیٹھے ہیں
 اپنے ہی بازوؤں سے اڑنا ہے
 اپنے ہی بال و پر میں بیٹھے ہیں
 ٭٭٭٭٭٭٭٭



 جبر یا اختیار میں رہنا 
 اپنے اپنے غبار میں رہنا 
 تری ہستی فریب ہستی ہے
 مت کسی اعتبار میں رہنا 
 مری آنکھوں کو ایک عادت ہے
 بس ترے انتظار میں رہنا
 ایک عمر خزاں کا حاصل ہے
 چار دن کی بہار میں رہنا 
 مرے دشمن کو زیب کیا دیتا
 صورت غمگسار میں رہنا
 کتنے پتھر نصیب کرتا ہے
 دامن تار تار میں رہنا
٭٭٭٭٭٭



 اشکوں سے بھر گیا ہے جو دامن بہار میں
 برسا ہے آج خوب ہی ساون بہار میں
 قسمت پہ اس غریب کی کیسے نہ روئیے
 و ہ پیڑ بن گیا ہے جو ایندھن بہار میں
 پھولوں کے ہیں نصیب میں یہ خوشبوئیں کہاں
 مہکا خیال یار سے آنگن بہار میں
 پوچھو تو ہم سے کیسے کٹا مو سم خزاں
 ٹھہرو ہمارے پا س بھی کچھ دن بہار میں
 میں ہوں خزاں نصیب مری خواہشیں نہ پوچھ
 میں شاخ گل بناؤں گا مسکن بہار میں
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 اب نصیبوں میں فقط اک روسیاہی رہ گئی
 باپ کے مرنے سے بیٹی بن بیاہی رہ گئی
 دل ربائی ، جاں ستائی ، خوش نگاہی اٹھ گئی
 کج ادائی ، بے نیازی ، کم نگاہی رہ گئی
 اور تو سب کچھ گیا ہے شہر پر افتاد میں
 بس امیر شہر کی اک کج کلاہی رہ گئی
 مل ہی جاتی ہے کسی صورت تو قاتل کو پناہ
 کوئی منصف بک گیا یا پھر گواہی رہ گئی
 اک محبت درمیاں تھی دوستوں کے ، نہ رہی 
 سو عدو میدان میں اور بے پناہی رہ گئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 زمیں کو گھومتا رکھا گیا ہے 
 یہیں اک سلسلہ رکھا گیا ہے
 مقدر سے مفر ممکن نہیں ہے
 جو دکھ جس نام کا رکھا گیا ہے
 تری آنکھیں ہی تکتا جا رہا ہوں 
 مری آنکھوں میں کیا رکھا گیا ہے
 مرے اندر صدائیں مر رہی ہیں
 یہ گنبد بے صدا رکھا گیا ہے
 انہیں ہی مبتلا ہو نا تھا آخر
 دلوں میں حوصلہ رکھا گیا ہے
مرے مسلک کی یہ صورت گری ہے
خدا بھی خود نما رکھا گیا ہے
وہیں پر ہوائیں تیز تر تھیں
جہاں جلتا دیا رکھا گیا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭
 

 آئے ہمارے ذہن میں آ کر بکھر گئے
 مصروفیت میں کتنے خیالات مر گئے
 یارو اندھیری رات کے عادی تھے اس لیے
 ہم روشنی میں اپنے ہی سائے سے ڈر گئے
 تیری طرح کی کوئی بھی صورت نہ مل سکی
 لے کر ترے خیال کو ہم در بدر گئے
 عرصہ سمٹ کر ایک ہی قطرے میں آ گیا 
 لمحے تمھاری یاد کے کیا کام کر گئے
 رکھ کر مرے وجود کو نشتر کی نوک پر
 چارہ نہ ہو سکا تو مرے چار ہ گر گئے
 گرد سفر نے چہرے کو اوڑھا ہوا تھا یوں
 ہم اجنبیتوں کے سمندر اتر گئے
 ماں بھی نہ سو سکی تھی خلش انتظار میں
 ہم ساری رات بعد بھی گر اپنے گھر گئے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 جب شکستہ مرے دل سے بھی گریباں نکلا
 میں غم عشق تھا سمجھا غم دوراں نکلا
 لوگ تو لوگ تھے توقیر مری کیا کرتے
 میرا سایہ بھی یہاں مجھ سے گریزاں نکلا
 میں نے جس شخص کو ہر حال میں خوش دیکھا تھا
 وہ تمنا کے سرابوں کا بیاباں نکلا
 پھر ترے سچ میں بھی اخلاص بھلا کیا ہو گا
 تری ہر بات میں جب جھوٹ مری جاں نکلا
 آپ اپنی حقیقت پہ ندامت ہے مجھے
 خود غرض اتنا مرے دور کا ا نساں نکلا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 وہ مہرباں بھی ہوا تھا نہ مہر باں ایسا
 خیال یار ہوا ہے عذاب جاں ایسا
 اسے مٹاؤں تو اپنی ہی ذات مٹ جائے
 جو فاصلہ بھی رہا ہے تو درمیاں ایسا 
 کبھی جو یاد بھی آیا تو رو دیے ہنس کر
 قفس میں چھوڑ کے آئے ہیں آشیاں ایسا
 جنوں میں دو ہی قدم چل کے میں تو لوٹ آیا
 سواد شہر میں دیکھا ہے کچھ سماں ایسا
 ہجوم شہر میں ملتی ہے ایک تنہائی
 میں اپنی ذات میں تنہا ہوں دوستاں ایسا 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 اب کیسے کریں شکوے گلے چھوڑ دیا ہے
 اس نے بھی مصیبت کے سمے چھوڑ دیا ہے
 دن بھر تو کڑی دھوپ میں وہ ساتھ رہا تھا
 کیوں سائے نے اب شام ڈھلے چھوڑ دیا ہے
 خود اپنی محبت میں گرفتار رہا ہوں
 ہر چاہنے والے نے مجھے چھوڑ دیا ہے
 خود مجھ کو بھی اس بات کا شاید نہ یقیں ہو
 کہنے کو تو کہہ لوں گا اسے چھوڑ دیا ہے
 مانا کہ چلا جائے گا و ہ چھوڑ کے لیکن
 سوچے گا کسی وقت کسے چھوڑ دیا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 یوں تو پاگل بنتا ہو گا
 تیر ا نام نہ لیتا ہو گا
 سارے رستے منزل ہوں گے
 ہر منزل کا رستہ ہو گا
 بچھڑا تھا تو میرا تھا
 اب وہ جانے کس کا ہو گا
 چاہے نہ چاہے اس کی مرضی 
 اس نے مجھ کو سوچا ہو گا
 کون تھا میرا جانِ محفل
 کس نے مجھ کو پوچھا ہو گا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 اک بت کو محبت میں خد ا کرتا رہا ہوں
 مجرم ہوں بہر حال وفا کرتا رہا ہوں
 ہر گام پہ تیرے ہی مجھے دھوکے ہوئے ہیں 
 ہر در پہ میں رک رک کے صدا کرتا رہا ہوں
 فنکار ہوں توہین انا سہہ نہیں سکتا 
 مجبور تھا توہین انا کرتا رہا ہوں
 جو لطف تری یاد میں ہے تجھ میں نہیں ہے
 میں تجھ سے بچھڑنے کی دعا کر تا رہا ہوں
 میں وقت کے بدلے ہوئے تیور نہیں سمجھا
 میں سوچ کے زخموں کو ہرا کرتا رہا ہوں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





 یار جانے گمان کیا کرتا 
 درد دل کا بیان کیا کرتا
 بعد مد ت کے گر گیا آخر 
 اور اجڑا مکان کیا کرتا
 آج محفل میں آنکھ برسی ہے
 اب بھلا راز دان کیا کرتا
 جانتا تھا تری وفاؤں کو 
 میں ترا امتحان کیا کرتا
 آج عزت کو بیچ آیا ہے
 اور بھوکا کسان کیا کرتا
 ٭٭٭٭٭٭



 جسے حرف غم نہ سنا سکا ترا غم گسار ہے بھول جا
 کوئی منتظر ترے واسطے سرِ راہ گزار ہے بھول جا
 مرا نامہ بر بھی عجیب ہے وہ جو کہہ گیا ہے سنو ذرا
 جو گزر گیا ہے وہ سانحہ بڑا دل فگار ہے بھول جا
 وہی اضطراب دوام ہے وہی روز وعدۂ شام ہے
 یہ نیا نہیں کوئی سلسلہ ہمیں اعتبار ہے بھول جا
 وہی آسماں وہی لوگ ہیں وہیں نشتریں وہی روگ ہیں
 وہی دکھ نصیب کے یاد رکھ کوئی راز دار ہے بھول جا
 کوئی برگِ ساز خیال ہے نہ ہوائیں نغمہ سرا ہیں اب
 کوئی آشیاں جو بکھر گیا سرِ شاخسار ہے بھول جا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 حسرت تو دیکھئے کہ ہمیں غم بھی کیا ملے
 نا لے ملے نصیب میں تو نا رسا ملے
 کچھ ہم حصارِ ذات سے نکلے نہ عمر بھر 
 کچھ دوست زندگی میں ہمیں بے وفا ملے
 آنکھوں کو کر گیا ہے کوئی جلتے ہوئے چراغ
 کب تک انہیں بھی دیکھئے لیکن ہوا ملے
 گہری مسافتوں کے شریک سفر کہاں
 ساحل کے ساتھ ساتھ بڑے نا خدا ملے
 میں دوستوں سے بات چھپاؤں تو کس لیے
 لیکن بتاؤں بات بھی گر دل ربا ملے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 تری گلیوں کا تھا گدا میں بھی
یونہی دیتا رہا صدا میں بھی
خود پہ ڈھاتا رہا ستم برسوں
اپنا ہمدرد ہو چلا میں بھی
اتنے آلام مجھ پہ آئے ہیں
اب تو پتھر سا ہو گیا میں بھی
تیری گلیوں میں آن نکلا ہوں
خود کو اب ڈھونڈتا ہوا میں بھی
تو مجھے بھول کے ملول نہ ہو
 خوش تجھے بھول کر رہا میں بھی
 دن تو ہنستے ہنساتے بیت گیا
 رات تنہا تھا رو پڑا میں بھی
 تو نے کیسی نظر سے دیکھا ہے
 اب تو شاعر سا ہو گیا میں بھی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭




 یہ دعا ہے کہ مرا حرفِ دعا راز رہے
 تیری الفت میرے سینے میں صدا راز رہے
 ایک مدت سے ملا قا ت نہیں ہے کوئی
 اب مرا حالِ زبوں نامہ برار از رہے
 میں نے گھبرا کے غمِ دل تو کہا ہے لیکن
 اب یہ ڈر ڈر کے میں کہتا ہوں ذرا راز رہے
 میں سمجھتا ہوں اندھیروں سے الجھنا ہے حیات
 تم یہ کہتے ہو کہ سورج کی ضیا راز رہے
 واشد گل نے کہی شب کی کہانی ساری
 ورنہ ممکن تھا کہ گلشن میں صبا راز رہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 تیری آنکھوں سے اب غمزے اشارے کیوں نہیں ملتے
 بتا کچھ تو ہمیں اب حق ہمارے کیوں نہیں ملتے
 زمانے کی بہاریں جا کے پھر بھی لوٹ آتی ہیں
ہمیں بیتے ہوئے اب دن ہمارے کیوں نہیں ملتے
 طلب کرتی ہے ہر خواہش مشقت دو ستو دیکھو
 اگر کوشش کریں تو چاند تارے کیوں نہیں ملتے
 سجا کے رنگ آنکھوں میں کسی کے پیار کا دیکھو
 یہ دنیا خوب صورت ہے نظارے کیوں نہیں ملتے
 زمیں برگد کی شاخوں کو سدا مضبوط کرتی ہے
 جہاں میں بے سہاروں کو سہارے کیوں نہیں ملتے
 مجھے ٹکرا کے ان سے پھر مگر واپس ہی آنا ہے
 مری بے تاب موجوں کو کنارے کیوں نہیں ملتے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 قتل بھی کرتا نہیں جانے و ہ قاتل کیا تھا
 جز ندامت کے مرے عشق کا حاصل کیا تھا
 دور منزل سے رکھا ذوقِ مسافت نے مجھے
 بر سر راہ تو میں تھا سرِ منزل کیا تھا
 مجھ سے ملنے میں تمھیں لاکھ سہی دشواری
 خلقت شہر میں کھو جانا بھی مشکل کیا تھا
 مجھ جواں مرگ پہ رونے کو تو عالم رویا
 رونے والوں میں مرا شوخ بھی شامل کیا تھا
 چھوڑ ہنگامۂ محشر تو مجھے سونے دے
 مت دلا یاد مجھے گرمئ دل ، دل کیا تھا
 دیکھ کر مجھ کو ہوئے دوست خلش چپ کیونکر
 ذکر تو میرا تھا لیکن سرِ محفل کیا تھا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 ضد سے کہتا ہے ہاں نہیں ہوتا
 ہم پہ کیوں مہرباں نہیں ہوتا
 غیر سے بھی ہے بد گماں لیکن 
 اس قدر بد گماں نہیں ہوتا
 داستاں میرے غم کی ہے یارو
غم مگر داستاں نہیں ہوتا
تم نے پوچھا ہے عشق کا حاصل 
اس میں سود و زیاں نہیں ہوتا
اس سے ملنے تو روز جاتے ہیں
دل کا عالم بیاں نہیں ہوتا
کسی پتھر سے پوچھ کر دیکھو
دل سے بہتر مکاں نہیں ہوتا
وہ گھڑی بھی ہے امتحاں شاید
 جس گھڑی امتحاں نہیں ہوتا
 اپنے ہی دل سے پوچھ لو یارو
 کوئی بھی راز داں نہیں ہوتا
 ٭٭٭٭٭٭٭



 لے اب ترکِ محبت کر رہا ہوں
 تری دنیا سے ہجرت کر رہا ہوں
 جبیں سجدوں سے عاجز آ چکی ہے
 خداؤں سے بغاوت کر رہا ہوں
مرے آنگن میں بہنیں کھیلتی ہیں
میں عزت کی حفاظت کر رہا ہوں
کبھی تفصیل سے ملنا بھی ہو گا 
ابھی صاحب سلا مت کر رہا ہوں
برائی روز سر زد ہو رہی ہے
 مگر نیکی کی نیت کر رہا ہوں
 ٭٭٭٭٭٭٭



 سبھی اصول سبھی تجزیے بدل جائیں
 تمھارے واسطے سب ضابطے بدل جائیں
 جو لوگ آج مرے ہم سفر ہیں ہمدم ہیں
 کسے خبر کہ کہاں راستے بدل جائیں
 کسی کے نام سے نسبت بڑا رلاتی ہے
 کتاب زیست کے جب حاشیے بدل جائیں
 ترے سلوک سے گھبرا کے بارہا سوچا
 ہمارا دل پہ اگر بس چلے بدل جائیں
 عدو کے سامنے جب تذکرہ ہے یاروں کا
 صداقتیں نہ رکھیں ، واقعے بدل جائیں
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 بے حقیقت اپنا ہونا یا نہ ہونا رہ گیا 
 زندگی کے ہاتھ میں بن کر کھلونا رہ گیا
 ہم نے اپنے آپ کو انمول سمجھا تھا مگر
 دام جب گرنے لگا تو اونا پونا رہ گیا
 کل تلک تو اس کے قد میں دیو کے آثار تھے
 آج دیکھا تو مری نظروں میں بونا رہ گیا
 سوچتا ہے اب امیرِ شہر ، لوٹوں کس طرح
 شہر میں بکھرا ہو ا سورج کا سونار ہ گیا
 ہم جہاں سوئے وہاں ہاتھوں کو تکیہ کر لیا
 کیا خبر کس گام پر اپنا بچھونا رہ گیا 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 کبھی کٹتے ہوئے سر بولتے ہیں
 کبھی ٹوٹے ہوئے پر بولتے ہیں
 مرے باہر خموشی چھا گئی ہے
 مرے اندر کبوتر بولتے ہیں
 شجر کوئی ثمر ور تھا یہاں پر
 ترے آنگن کے پتھر بولتے ہیں
 یہ لب خاموش بھی جادو اثر ہیں
یہ جب بولیں تو منتر بولتے ہیں
ابھی ہم کو ذرا زنجیر رکھو
ابھی ہم بندہ پرور بولتے ہیں
ہم ایسے سادہ دل لوگوں سے اکثر 
نجانے کیوں بگڑ کر بولتے ہیں
مسافت کا ٹنا آساں نہیں تھا
یہ دنیا بھر کے چکر بولتے ہیں
ہمارے حال پر ہے مہرباں کیوں
جسے سارے ستم گر بولتے ہیں
 ٭٭٭٭٭٭٭٭





 سوچوں کے سنسان سفر پر 
 ہے کیسے انسان سفر پر 
 راہ میں ناصر پڑھتے جانا
 لے جانا دیوان سفر پر
 ہر رستے پر پہرے دکھ کے
 مت نکلو نادان سفر پر
 ایک ملن کی آس سنہری
 کافی ہے سامان سفر پر
 منزل بھی مل ہی جاتی ہے
لیکن میری جان سفر پر
 ٭٭٭٭٭٭٭



 اچھے لوگوں سے گفتگو رکھنا 
 اپنے لفظوں کی آبرو رکھنا
 شرط دیدار کی کڑی تو نہیں
 صرف آنکھوں کو با وضو رکھنا
 مجھ کو جو چاہے تم سزا دے دو
 مر ا محضر نہ رو بر و رکھنا
 خاک تو کر دیا زمانے نے 
 اب مری خاک میں نمو رکھنا
 اور تو تجھ سے کچھ نہیں کہنا 
 مرے دل کا خیال تو رکھنا
 ٭٭٭٭٭٭٭





 آدھا دھڑ انسانوں جیسا آدھا دھڑ تھا پتھر کا 
 کانے دیو نے نگری نگری منتر پھونکا پتھر کا 
 پتھر کے پانی سے سا رے پتھر کے تالاب بھرے
 پہلے پتھر آندھی آئی مینہ پھر برسا پتھر کا
 میں نے جس کے دامن کو خوشبو خوشبو رکھا تھا
 اس نے میرے صحن کے اندر پھول اگایا پتھر کا
 پتھر کے پھل پھول تھے سارے پتھر جیسے موسم تھے
 پتھر کے اس جنگل میں تھا پتا پتا پتھر کا 
 اس بت سے ملنے کی خاطر پتھر کا دل کر ڈالو
 دیکھو آگ لگاتا ہے پتھر سے ملنا پتھر کا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 اک خون کا در یا ہے کہ تا حد نظر ہے
 اور کوئے ستم گر بھی نہیں اپنا ہی گھر ہے
 مانا کہ مرے واسطے تدبیر کرو گے
 تقدیر کے زخموں سے مگر کس کو مفر ہے
 یوں چھینی ہے حاکم نے زباں اہلِ ہنر سے
 لگتا ہے مرا شہر کوئی چپ کا نگر ہے
 اک شکوۂ بے جا ہے کہ منزل نہیں ملتی
 بے نام مسافت ہے تو بے سمت سفر ہے
 اس شخص سے اس شہر کے حالات نہ پوچھو
 جو چاک قبا ، خار بپا ، خاک بسر ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 جیسے ہر آن کوئی مرتا ہے 
 ہم نے یوں زندگی کو برتا ہے
 ہم سے سادہ مزاج لوگوں سے 
 خمِ کاکل بھی کب سنورتا ہے
 اب بھی تیرے حسین چہرے کا 
 نقش کچھ دیر کو ا بھر تا ہے
 رات گلشن میں کو ئی روتا ہے
 رنگ پھولوں کا تب نکھرتا ہے
 آدمی آدمی کا دشمن ہے
 آدمی آدمی سے ڈرتا ہے
 کوئی تازہ غزل نہیں ہوتی
 زخم اک روح میں اترتا ہے
 دل کی باتیں نہ مانیے زاہد
 دل مگر آرزو تو کرتا ہے
 ٭٭٭٭٭٭



 دلوں میں سیلِ تمنا کی شورشیں لے کر
 چمن میں آئے ہیں کچھ پھول رونقیں لے کر
 یہ دیکھنا ہے کہ اب ریت کتنی پیاسی ہے
 دعائیں آئی ہیں صحرا میں بارشیں لے کر
 کسی کے نام سے نسبت تلاش کیا کرنا
 چلیں گے کاندھوں پہ اپنی ہی گردنیں لے کر
 مجھے یقین ہے روشن جہان کر دیں گی
 ہوا کی زد میں جو نکلا ہوں مشعلیں لے کر
 وہ برف ہوں کہ مرے پاس دھوپ جم جائے
 اتر پڑ ا ہوں جو دریا میں گرمیاں لے کر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 بساطِ تارِ نظر میں جو شکل یار نہ تھی
 ہزار پھول کھلے تھے مگر بہار نہ تھی
 یہ اور بات کہ ایسا غبار نہ تھا کبھی
 فضائے شہر تو پہلے بھی ساز گار نہ تھی
 جنوں میں اب کے کوئی اور غم بھی شامل ہے
 قبا دریدہ سہی یوں بھی تار تار نہ تھی
 وہ عمر بھر کی تھکن ساتھ لے کے سو ہی گیا
 وہ ایک پل بھی جسے تابِ انتظار نہ تھی
 کہاں سے آئے گی سوچو تو موسموں میں نمی
 کسی کی آنکھ بھی ساون میں اشک بار نہ تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 تیرے دروازے پہ آیا تھا صدا کی میں نے
 توڑا پندار کو توہین ا نا کی میں نے
 میرے دامن میں ترے غم کے سوا کچھ بھی نہیں
 اس پہ دعویٰ ہے تمھیں یہ کہ وفا کی میں نے
 تم ہی منصف ہو سزا وار سزا تو رکھو
 میں ہی مجرم ہوں چلو مانا خطا کی میں نے
 دل میں خنجر کی طرح نوکِ ز باں اتری ہے
 کس سے یہ ترکِ تعلق کی دعا کی میں نے
 ساتھ ہر بار گیا پارۂ دل بھی ہائے
 دل سے سو بار تری یاد جدا کی میں نے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 دلیل دیتا ہے نہ خود قبول کر تا ہے
 وہ بات بات پہ بحثیں فضول کرتا ہے 
 وہ اشک بن کے مری آنکھ سے برستا ہے
 جو خون دل سے ترا غم وصول کرتا ہے
 تمھارے شہر میں آ کر ہی ہم نے دیکھا ہے
 کہ خوشبوؤں کی تجارت بھی پھول کرتا ہے
 اسے خبر ہی نہیں ہم اداس لوگوں کی 
 وہ عادتاً ہی جود نیا ملول کر تا ہے 
 مرے گناہوں کو بھی وہ معاف کر دے گا
 سنا ہے میں نے وہ توبہ قبول کرتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 آتا ہے دعاؤں سے ، دعاؤں کو بھلا کے
 اک آن میں جاتا ہے وہ سو درد جگا کے
 حیرت ہے کہ ہم دونوں میں اخلاص نہیں ہے
 گو دونوں طلب گار ہیں دنیا میں وفا کے
 پتھر کو بھی انمول بنا لیتے ہیں زر گر
 لہجوں سے بدل جاتے ہیں مفہوم نوا کے
 تم اہل سخا ا پنی عنا یا ت کو گن لو
 اک حرفِ دعا باقی ہے کاسے میں گدا کے
 دیکھا ہے کبھی تو نے اسیرانِ چمن کو
 کیا ان پہ گزرتی ہے پر و بال گنوا کے
 سجدہ جسے کرتے ہیں ازل ہی سے فرشتے
 انسان بھی ڈھل جاتا ہے سانچے میں خدا کے
 ہر بات ہے بہنوں کی ، حفاظت کا وظیفہ
 اور بول ہیں ماؤں کے سبھی ردِ بلا کے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ورق پہ نام جو ، پڑھتا تھا خواب چہرے سے
 وہ سو چکا تھا جو سرکی کتاب چہرے سے
 ابھی تو اس نے فقط ایک روپ بدلا ہے
 ابھی تو کتنے اٹھیں گے نقاب چہرے سے
 ہمارا ہنسنا ہنسانا تو ٹھیک ہے لیکن
 کسی کے دل کا نہ کرنا حساب چہرے سے
 میں لے کے جاتا ہوں کتنے سوال آنکھوں میں
 وہ دے کے جاتا ہے سارے جواب چہرے سے
 ہر ایک پھول ہے جیسے خلش کوئی مصحف 
 جو بانٹتا ہے چمن میں ثواب چہرے سے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 حق نے کبھی بھی اس کو مجدد نہیں کیا 
 جس نے سخن میں میر کو مرشد نہیں کیا
 اشکوں کے آبشار کا تم تو سبب نہیں
 ہم نے تمھیں تو یاد بھی شاید نہیں کیا 
 آنکھوں میں بس رہے ہیں وہی خواب اب تلک
 دل نے کسی لکیر کو سرحد نہیں کیا 
 پگڑی اچھالنا تو رذیلوں کا کام ہے
 پھر کیا جو ہم کو صاحب مسند نہیں کیا
 اک نیم خامشی جو صدا زیر لب رہی
 اک حرفِ بے صدا جسے گنبد نہیں کیا
 کل بھی تھے بے چراغ گھروں کے مکین ہم
 روشن کسی نے آج بھی مرقد نہیں کیا
 دربار میں وہ محترم ہو بھی تو کیوں بھلا 
 لفظوں کو جس نے صرفِ خوشا مد نہیں کیا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 رقص کا روپ دھار کر دیکھو
 سر پہ مستی سوار کر دیکھو
 ہجر کیسا عذاب ہوتا ہے
 چند لمحے گزار کر دیکھو
 آرزوۓ بہار کا کیا ہے
 آرزوۓ بہار کر دیکھو
 ایک لمحہ ہے اور کچھ بھی نہیں
گزرے لمحے شمار کر دیکھو 
 سبز خاموشیوں کے جنگل میں 
 حرف روشن شکار کر دیکھو
 ہجر بھی تو وصال ہو تا ہے 
 اسے دل سے پکار کر دیکھو
 اپنے چاروں طرف اجالا ہے
 خوف کا سانپ مار کر دیکھو
 ٭٭٭٭٭٭٭٭


 آرام سے اک بات بھی سنتا ہی نہیں ہے
 کڑوا بھی ہے وہ پھل ابھی کچا ہی نہیں ہے
 خود اس کا بدلتا ہوا ہر روپ بتائے
 وہ ویسا بھی ہو سکتا ہے ایسا ہی نہیں ہے
 وہ شخص مرے ساتھ کئی سال رہا ہے
 اب پاس سے گزرا ہے تو پوچھا ہی نہیں ہے
 دریا ہے جو آنکھوں سے گزر کر نہیں آتا 
 آ نسو تو کبھی آنکھ میں ٹھہر ا ہی نہیں ہے
 جو گاؤں میں پھیلے ہوئے جھگڑوں کو مٹا دے
 اب گاؤں میں ایسا کوئی دانا ہی نہیں ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





 ایک کے بعد دوسرا دے گی 
 زندگی روز غم نیا دے گی
 ہم تو شبنم نصیب لوگ ہیں دوست 
 ہم کو بادِ سحر رلا دے گی
 زندگی بھر کی ظلمتوں کا صلہ 
 چاندنی رات بھر میں کیا دے گی
 وہ بڑی خوش نصیب عورت ہے
وہ مجھے بادشاہ بنا دے گی
سو چتا ہوں ہو ا چراغوں کو 
چل پڑی جو ذرا ، بجھا دے گی
کیا خبر تھی کہ ڈوب جانے پر
ریت بھی لاش کو دبا دے گی
یوں لپٹتا ہوں ماں کی چھاتی سے
جیسے وہ بچپنا دلا دے گی
پچھلی برسات میں بھی خطرہ تھا 
اب کے برسات چھت گرا دے گی
یاد اک بے چراغ سی دیوار 
 شام کو صحن میں بچھا دے گی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭





 کبھی ایسا بھی آسماں دیکھیں
 سب ستاروں کو مہرباں دیکھیں
 حبس ماحول میں اتر آئی
 بند ہیں ساری کھڑ کیاں دیکھیں
 تیری آنکھوں کو دیکھنے والے 
 اپنی حیرانیاں کہاں دیکھیں
گیلی شاخیں جلا کے چھوڑ گیا
سارا گلشن دھواں دھواں دیکھیں
 زندگی سو گئی ہے جانے کہاں 
 آؤ کچھ دیر لڑکیاں دیکھیں
 آج مجھ کو ذرا سی جلدی ہے
 پھر کبھی باقی داستاں دیکھیں
 برگِ گل کو بھی کاٹ کھاتا ہے
 اس کے لہجے کی تلخیاں دیکھیں
 وہ چلیں سرخ آندھیاں سر پر
وہ گئے سارے بادباں دیکھیں
یہی رسم کلیم ہے تو ضرور
رکھ کے انگار بر زباں دیکھیں
 ٭٭٭٭٭٭٭٭




 ہم سخن فہم کہاں اس سے بھی کچھ کم تر تھے
 وہ سخن ور تھا اسے سارے سخن ا ز بر تھے
 میں تو جھکتا ہی رہا شاخ ثمر ور ہو کر
 تم سے بے برگ ہی اے نا ز بتاں خود سر تھے
 تیرے ملنے سے سوا ہاں تھا مزا فرقت میں
 تیری صورت سے مرے خو ا ب بہت سندر تھے
 اب کہاں اہل مروت کی وہ اجلی سنگت
 اب کہاں لو گ جو اخلاص کا اک پیکر تھے
 اس کی بس اتنی فضیلت تھی کہ بس اپنا تھا
 ورنہ اس گھر میں تو اس جیسے کئی نوکر تھے
اب مری قوت پرواز سے جل جاتے ہیں
یہ مرے دوست کہ کل تک جو مرے شہپر تھے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ا سے ہے عادتِ تعجیل ہو نہیں سکتا 
 سنے وہ درد کی تفصیل ہو نہیں سکتا
 وہ لاکھ اپنے زمانے کا صادقین سہی 
 یہ حسن وہ ہے جو تمثیل ہو نہیں سکتا
 وہ جس نے دن کو جلائے ہیں سورجوں کے چراغ
 بجھائے چاند کی قندیل ہو نہیں سکتا
 مرے ہی نام سے اس کا وقار باقی ہے
 وہ میرے نام کی تذلیل ہو نہیں سکتا 
 ہمارا خون تو تبدیل ہو بھی جاتا ہے
 ہمارا باپ تو تبدیل ہو نہیں سکتا
 امیرِ شہر سے کہہ د و کہ یہ فقیر کبھی
 کرے یوں حکم کی تعمیل ہو نہیں سکتا
 مجھے عزیز ہے بھائی کسی بھی صورت میں
 کسی بھی طور میں قابیل ہو نہیں سکتا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 کسے کہیں کہ ہمیں درد دل ستاتا ہے
 ہمارے حال پہ جب تو بھی مسکراتا ہے
 وہ جس کی یاد مری زندگی کا حاصل تھی
 اب اس کا نام بھی بھولے سے یاد آتا ہے
 وہ شہر بھر میں مجھے اب کہیں نہیں ملتا 
 وہ جس کے نام سے مہتاب شرم کھاتا ہے
 بر ا نہیں ہے مگر اس کی ایک عادت ہے
 وہ جو بھی وعدہ کرے جلد بھول جاتا ہے
 وہ جس نے میرے مقدر میں شاعری لکھ دی
 سنا ہی میری غزل اب وہ گنگناتا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 پانی پر بنیاد رکھی ہے
 دیواروں میں ریت بھر ی ہے
 سیدھی ٹیڑھی آڑھی ترچھی
 ہاتھوں پر تقدیر لکھی ہے
 ایک مصیبت آ ج ٹلی تھی
 ایک مصیبت آن کھڑی ہے
 سر سے گم ہیں سائے سارے
 دیواروں پہ دھوپ تنی ہے
 میں حیرت سے دیکھ رہا ہوں
 اک تصویر پہ آنکھ پڑی ہے
 غیر کے پکوانوں سے ہم کو
 اپنے گھر کی دال بھلی ہے
جس کو یاد کیا کرتا ہوں
وہ تو کب کی بھول چکی ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭
 


دل جو ٹوٹا تو دیر تک روئے
اس کو سوچا تو دیر تک روئے
تیری یا دوں کا بند در و ا زہ 
ہم نے کھولا تو دیر تک روئے
اس نے چا ہا تو ہنس دیے ہم بھی 
اس نے چاہا تو دیر تک روئے
 ایسے کاٹا تھا انتظار کہ وہ 
 مل کے بچھڑا تو دیر تک روئے
 حالِ دل اور کس طرح کہتے
 تم نے پوچھا تو دیر تک روئے
 ٭٭٭٭٭٭٭




 ہم نے کن مشکلوں سے ٹالا ہے
 وقت جو چال چلنے والا ہے
 سارے خوابوں کو کھا گئی دیمک
 نیند ا لماریوں پہ تالا ہے
 مائیں بیٹے نہ پا لتی ہوں گی
 ہم نے جیسے غموں کو پالا ہے
 جس کو ہاتھوں سے دودھ دیتا تھا
 آج وہ سانپ مار ڈالا ہے
 اس کی دہشت ہے دیکھنے والی 
 اس کا کچھ بے بسوں سے پالا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 جہاں حرفِ تمنا لکھ رکھا تھا 
 وہ کاغذ خون میں بھیگا ہوا تھا
 وہ بالکل برف جیسا آدمی ہے
 تمھیں پہلے بھی میں نے تو کہا تھا
 سناتے ہیں وفائیں آپ جس کی
ہمارے ساتھ بھی کچھ دن رہا تھا
بڑی مشکل سے فرصت مل سکی ہے
تمھارا خط تو کب کا مل چکا تھا
شہر بھر میں کو ئی کھڑکی نہیں تھی
تبھی تو سانس مشکل ہو رہا تھا
اندھیرے میں ا ک ایسی روشنی تھی
 کہ سورج چھت سے جیسے آ لگا تھا
 اسے میں خط مسلسل لکھ رہا ہوں
 وہ جس سے فون تک نہ ہو سکا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 وہ بچپن کا سا تھی تھا
 ا س کا غصہ و قتی تھا
 اس کے بال ملائم تھے
 اس کا چہر ہ چا ندی تھا
 ایسا پت جھڑ مو سم تھا
 پتا پتا ہلدی تھا
 اس گھر میں اک چڑیا تھی
 جس کار ستہ کھڑکی تھا
 اس کے ہاتھ میں گرمی تھی 
 اس کا ملنا اصلی تھا
 گھر میں سب کچھ اس کا تھا 
 میں بس گھر کی تختی تھا
 جس میں یادیں بستی تھیں 
 اب وہ کمر ہ خالی تھا
٭٭٭٭٭٭





 اپنے ہاتھوں میں کدالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 دستِ محنت میں کما لوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 مجھ کو دیمک کے سوا اور کسی سے کیا ڈر
 مرے کمرے میں رسالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 تم نے تقسیم کیا اس کو مہ و سال میں یوں
 وقت تو خواب خیالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 لوگ کہتے ہیں کہ وہ آج سند رکھتا ہے 
 جو کبھی میرے حوالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 آؤ اے تیرہ شبو اس کو منا لیں جا کر
 جس کے دامن میں اجالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 میں بھی ہر بات پہ قصداً ہی جواباً چپ تھا
 اس کا مقصد بھی سوالوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 ایک تصویر کے کچھ نقش تھے دھندلے دھندلے
 اور دیوار پہ جا لوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 دو شعر

 غم سے ہوئے نڈھال تو برسات چھڑ گئی
 آ یا ترا خیال تو برسات چھڑ گئی
 کب سے تھے اس امید پر آنسو رکے ہوئے
 پوچھا جو تم نے حال تو برسات چھڑ گئی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








موسمِ گل حیران کھڑا ہے
 





 ترا اپنا طریقہ تھا مرا اپنا طریقہ تھا
 محبت ہی ہماری ذات کا پہلا حوالہ تھا
 تمھارے روپ کا جادو جسے تصویر کر تا ہے
 ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا حیرت کا لمحہ تھا
 تمھارے غم نے اس کو آج تنکا کر دیا کیسے
 یہ آدم زاد تو ہم نے سنا ہے اک ہمالہ تھا
 جو خوشبو کے سفر میں ساتھ مجھ کو لے کے نکلی تھی
 وہ لڑکی ایک تتلی تھی میں اک چھوٹا سا بچہ تھا
 کسی کے ہاتھ میں جوکر سے لے کر بادشاہ تک تھے
 کسی کے ہاتھ میں ہارا ہوا بے کار یکہ تھا
 سنا ہے اس حویلی میں بڑے آسیب رہتے ہیں
 جہاں چھت ہے وہاں پہلے کسی مندر کا گھنٹا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



عمر بھر بھیگنے کی خواہش تھی
اس کی قدرت میں ایک بارش تھی
یونہی سڑکوں پہ گھومنا میر ا
بس اسے بھولنے کی کوشش تھی
اس کے لہجے میں ایک نرمی تھی
اس کی باتوں میں ایک دانش تھی
 ہم جسے اب بھی پیار کہتے ہیں
 ناصحا ! سچ بتا وہ لغزش تھی
میری آنکھوں میں آج آنسو ہیں
میرے ہاتھوں میں آج بخشش تھی
 میرے دشمن شکست کیا دیتے
اس میں کچھ دوستوں کی سازش تھی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 میرے آنگن میں وہ خوشبو کی طرح مہکا رہا
 میری قسمت کا ستارہ رات بھر چمکا رہا
 ہل رہے تھے ہاتھ اس کے الوداع کہتے ہوئے
 میرے کانوں میں وہ کنگن دیر تک بجتا رہا
 گھر گئی ہے مشکلوں میں زندگی کچھ اس طرح
اب تمھارے ساتھ نہ ہونے کا غم جاتا رہا
اک ترے دکھ میں انہیں ہنس کر گوار ا کر لیا
جن غموں سے زندگی بھر واسطہ پڑتا رہا
ہوتے ہوتے ہو گئی اک اور یوں تازہ غزل
اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر روتا رہا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 چاند پر سوت کاتنے والی
 میرے بچپن میں ا یک بڑھیا تھی
 خوف اور خواب میں تصادم ہے
 سانپ بھی کھیل میں ہے سیڑھی بھی
 جس کے دیکھے تھے خواب آنکھوں نے
 اس نے آنکھوں سے نیند بھی لے لی
 ہر طرف رات ہو گئی جیسے
 ایک سور ج کی آنکھ لگتے ہی
 سب کتابوں میں مور کے پر تھے
 پتیاں پھول کی یا پھر تتلی
 اس کو چھوتے ہی میرے پوروں سے
 دھوپ سار ے بدن میں پھیلے گی
 چھت میں اک گھونسلا تھا چڑیا کا
 گھر میں رونق تھی چہچہا نے کی
 عمر بھر سوچ میں رہا آخر 
 اس نے آنے میں دیر کیوں کر دی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 ہوا دیوار و در سے جھانکتی ہے
 حیا سے اس نے چادر اوڑھ لی ہے
 ضروری ہے کہ ہم ہی مان جائیں
 وہ پاگل ضد ہی جب کرنے لگی ہے
 تمھارا کھیل تھا نادان بچو !
 مگر چڑیا کو دیکھو مر رہی ہے
 ہمیشہ ہجرتوں کی زد میں رہنا
 ہماری خاک کی قسمت یہی ہے
 ہماری ماں نے سمجھایا تھا ہم کو
 غموں میں مسکر ا نا زندگی ہے
 ابھی قاتل ہمارا بے نشاں ہے
 ابھی تک وہ معزز آدمی ہے
 ہوا نے ننگی شاخوں کے بدن پر
 ہمارے نام کی تختی لکھی ہے
٭٭٭٭٭٭٭




 اسے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے
 مری مٹھی سے لمحہ گر چکا ہے
 امیر شہر کے قاتل کا کل سے
 فصیل شہر پر پہر ہ لگا ہے
 ہمارا غم سے رشتہ مستقل ہے
 ہمارے ہاتھ میں رونا لکھا ہے
 چلو اس بار ہم ہی ہار جائیں
 ہمیں وہ جیتنے آیا ہوا ہے
 وہ جس سے میں نے پہلا دکھ کہا تھا
 اب اس کا غم بھی مجھ پر آ پڑا ہے
 چلو جلدی سے واپس شہر اپنے
 وہ مجھ کو یاد کر کے رو رہا ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭

 

 اک شہر غریباں میں فقیروں کی طرح تھے
 وہ لوگ جو توقیر میں شاہوں کی طرح تھے
 جن لوگوں کو ہم دشمن جاں کہتے رہے ہیں
 وہ لوگ بھی اپنے ہی عزیزوں کی طرح تھے
 وہ یادیں جو مجھ کو مری ہستی کا نشاں تھیں
 وہ خواب جو مجھ کو مری آنکھوں کی طرح تھے
 کہنے کو تو یہ سال بھی اب بیت گیا ہے
 اس سال میں دن رات مہینوں کی طرح تھے
 ا س لہجے کی خوشبو سے بسا رہتا تھا آنگن
 وہ بولے تو پھر لفظ بھی پھولوں کی طرح تھے
 اس رات ستاروں کی بھی آنکھوں میں نمی تھی
 اس رات تو آنسو بھی چراغوں کی طرح تھے
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 



 شاہزادے کو کسی حربے سے کالا کر دیا
 اس نے کانے دیو کو پریوں کا راجا کر دیا 
 شہر کی بنیاد میں پانی بھرا جس کے سبب
 آپ نے اس کے حوالے شہر سارا کر دیا
 پہلے اس نے تیر پھینکا اور پھر خنجر بکف
 فاختاؤں پر بڑی تیزی سے حملہ کر دیا
 شیشہ گر کے ہاتھ کاٹے اور پھر ایسا کیا 
 اس نے سارے شہر کے شیشوں کو اندھا کر دیا
 اب تمھاری یاد بھی اکثر رلا پاتی نہیں
 وقت نے یہ زخم بھی پہلے سے اچھا کر دیا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


یہ رائیگانیِ رنج سفر یہی کچھ تھا
سفر سے آئے جو ہم لوٹ کر یہی کچھ تھا
جو دل پہ گزری وہ کاغذ پہ منتقل کر دی
ہمارے پاس تھا جو کچھ ہنر یہی کچھ تھا
یہ بزدلی ہے یا پھر احتجاج جو کچھ ہے
ہمارے بس میں مگر چشم تر یہی کچھ تھا
میں کتنے خواب ترے پاس لے کے آیا تھا
اے آ سما ن تری خاک پر یہی کچھ تھا
یہ سنگ و طعن و ملامت ، ریا و رسوائی
تمھارے شہر میں اب کیا خبر یہی کچھ تھا
تو کھا کے گالیاں ا ب جی بر ا نہ کر اپنا
ہمارے خط میں بھی اے نامہ بر یہی کچھ تھا
تو اب علاج دل ناتواں کرے نہ کرے
ہماری جیب میں اے چارہ گر یہی کچھ تھا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


قاتل لمحہ تاریکی میں مٹ بھی گیا ہے
 تازہ خون زمیں پر اب بھی رینگ رہا ہے
 رنگ برنگے شعلے جل کر بجھ جاتے ہیں
 خالی کمرہ آوازوں سے گونج رہا ہے
 پچھلے سال بھی گشتی ٹیمیں آئی تھیں
 بستی میں اس سال بھی ہیضہ پھوٹ پڑا ہے
 جس لڑکی کی خاطر گھر میں لڑتا تھا
 اس کی صورت ناک اور نقشہ بھول چکا ہے
 جانے کیسے لوگ محبت کر لیتے ہیں
 میں نے تو یہ کام ادھورا چھوڑ دیا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



متا ع درد و غم ہے اور میں ہوں
یہ ساز زیر و بم ہے اور میں ہوں
کہاں وہ سر کشیدہ شعر گو تھا
کہاں گردن میں خم ہے اور میں ہوں
کسی ترتیب سے خالی ہے کمرہ 
 اجالا کم سے کم ہے اور میں ہو ں
 مرے قاتل کے بازو تھک چکے ہیں
 ابھی سینے میں دم ہے اور میں ہوں
 کہاں صحراؤں کو سیراب کرنا
 کہاں یہ قحط نم ہے اور میں ہوں
 یہی کچھ لفظ ہیں میرا اثاثہ 
 یہی کاغذ قلم ہے اور میں ہوں
٭٭٭٭٭٭٭



 شعر حسن و کمال سے اترا 
 جب وہ بام خیال سے اترا 
 ہم نے دیکھا ہے چاند کا چہرہ 
 تیرے رنگ جمال سے اترا
 میرے چہرے پہ وقت کا نقشہ 
 زینہ ماہ و سال سے اترا
 ایک سایہ ہمارے آنگن میں 
 رات سونے کے تھال سے اترا
 حسن کو کون جانتا تھا یہاں 
 نقش تیر ی مثال سے اترا 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 خواب بہہ گئے سارے ریت کے گھروندے میں 
 کون جان دیتا ہے اب وفا کے رستے میں
 گو کہ ایک مدت سے اب انہیں نہیں دیکھا 
اس کی ساری تصویریں آج بھی ہیں تالے میں
دوستوں کے پہرے میں رات میں تو سویا تھا
جانے کس طرح آیا دشمنوں کے نرغے میں
آؤ ان دنوں کی یاد ڈھونڈنے چلیں مل کر
جن دنوں میں جاتے تھے مل کے عید میلے میں
رات دن کی محنت سے بھوک ہے رعایا کو
بے شمار دولت ہے شاہ کے خزانے میں
 پھول سے برستے تھے اس کی ساری باتوں سے
 خوشبوؤں کا ڈیرا تھا اس کے نرم لہجے میں
 ہاتھ کی لکیروں میں خشک کھیت لکھے ہیں
 کون بانٹ سکتا ہے بارشوں کو ورثے میں
 کھا گئی ہیں پھر سارے گھر کی جاگتی آنکھیں
کتنے خواب رکھے تھے میں نے آج بٹوے میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
د و دو در وا ز ے تھے تین دریچے تھے
چھوٹا سا اک گھر تھا گھر میں رشتے تھے
کو ن بنا تا بگڑی ہوئی تقدیروں کو 
کو ن مٹا تا ہاتھوں پر جو نقشے تھے
اک گٹھڑی میں یادیں روشن چہروں کی 
اک گٹھڑی میں سورج ، چاند ، ستارے تھے
یوں بستی کے ا و پر گدھ منڈلاتے تھے
جیسے مر دہ لو گ یہاں پر بستے تھے
 اس کی آنکھ میں آنسو تیرتے رہتے ہیں
 اس کو جانے مجھ سے کیا کیا شکوے تھے
 گھر آنگن کے پیڑ پہ پنچھی ہو تے تھے
 دن بھر اڑتے شام کو واپس آ جاتے تھے
 اب تو نیند کی گولی کھا کے سوتا ہوں
 ان آنکھوں میں خواب مچلتے رہتے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 کبھی فاقہ کبھی لقمہ ملا ہے
 مجھے یہ باپ سے ورثہ ملا ہے
 تمھارے شہر میں رہنے کی خاطر 
 بڑی مشکل سے اک کمرہ ملا ہے
 اگرچہ طعن سے بھر پور ہو گا
 مگر خوش ہوں ترا نامہ ملا ہے
 وہ کتنی دور ہم سے جا رہی ہے 
 اسے پردیس میں رشتہ ملا ہے
 لب و لہجے میں کتنی سادگی ہے
 مگر ہر با ت میں نکتہ ملا ہے
 تمھارا ہم سفر جب ہو گیا ہوں
 مجھے ہر راہ میں خطرہ ملا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭


 ترا ملنا بھی کوئی کھیل نہیں لگتا ہے
 تو کسی چاند کی نگری کا مکیں لگتا ہے
 خوف سے شہر کے چہرے پہ دھواں اڑتا ہے
 پھر بھڑکتی ہے کوئی آگ کہیں لگتا ہے
تری خواہش ہے دساور میں کمانے جاؤں
مر ا دل ہے کہ ترے پاس یہیں لگتا ہے
اس کے ہاتھوں میں سبھی چاند ستارے سورج
مرے ہاتھوں میں یہاں کچھ بھی نہیں لگتا ہے
اس کو پچھتانا پڑے گا یہ ہوا سے کہہ دو 
پیڑ تو پتوں پرندوں سے حسیں لگتا ہے
پھول لگتا ہے حسیں شاخ پہ جتنا اتنا
کسی جوڑے کسی کالر میں نہیں لگتا ہے
وہ جو ہر بار نیا جھوٹ سنا جاتا ہے
مجھ کو آ جائے گا اک روز یقیں لگتا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 سبز جنگل میں کسی مور کا پر کھلتا ہے
 آنکھ لگتی ہے تو پھر خواب کا در کھلتا ہے
 میں جو جنگل سے نکل آیا تو صحرا ہو گا
 مجھ پہ ہر وقت نیا ایک سفر کھلتا ہے 
 بس ذرا دیر ہے خورشید کے ڈھل جانے میں
 بس ذرا دیر میں اب دام نظر کھلتا ہے 
 ایک زنبیل مسائل کی ادھر کھلتی ہے
 ایک با ز ار تمناؤں کا گر کھلتا ہے 
 آج بولا ہوں جو اس بزم میں ہنس کر بولے
 اس طرح دیکھئے سب عیب و ہنر کھلتا ہے
 کچھ نہ تھا جیب معانی میں بجز حرف غلط
 یعنی توفیق سے یہ باب ہنر کھلتا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ہل رہے ہیں چند پتے شاخ پر
 اڑ گئے بیٹھے پرندے شاخ پر
 ان میں اب آسیب بستے ہیں بڑے 
 گھونسلے جو رہ گئے تھے شاخ پر
 بچپنے کے دن ہمارے کھو گئے
 اب بھی ہیں لیکن وہ جھولے شاخ پر 
 ایک چڑیا بے خطر خطرات سے
 سانپ اک لپٹا ہے آگے شاخ پر
 اڑ گئیں سپنوں کی پریاں پیڑ سے
 رہ گئے یادوں کے جالے شاخ پر
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 
 پورے جو بن پر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا 
 ایک نڈھال کے سر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
 وہ کرنوں کی سیڑھی چڑھتا اور پھر واپس آ جاتا ہے
 اس کا شاید گھر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
 یوں لگتا ہے جیسے اس کو اب یہ جنگل کھا جائے گا
 بس اب لمحہ بھر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
 جانے کتنا اندھا رستہ اس کے گھر کو جاتا ہو گا
 آ پ ہتھیلی پر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
 آج غروب سے پہلے ایسی سرخی تھی ڈر لگتا تھا
 خون میں جیسے تر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا
 میرے تو باہر ظلمت تھی اور میں رستہ کھوج رہا تھا
 اس کے تو اندر سورج تھا اور وہ رستہ ڈھونڈ رہا تھا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




ٹھہر کے دیکھتے ہیں قافلے سفر والے
تمھارے روپ سے رشتے ہیں بام و در والے
ہمارے شہر سے طوفاں گزرنے والا ہے
کہ پر سمیٹ کے بیٹھے ہوئے ہیں پر والے
زبان دانوں نے پا ئی ہیں خلعتیں لیکن 
تمھارے شہر میں رسوا ہوئے ہیں سر والے
وہ دوستوں سے تعلق بھی اتنا رکھتا ہے
اسے ہو کام کبھی جس قدر وہ کر وا لے
مجھے حرام سے بچنے کی کر کے تلقینیں
مری کمائی سے اب خوش نہیں ہیں گھر والے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ہم ترے کوچے میں آئیں ا تنے سودائی نہیں
 اس طرح تو ہی بتا کیا تیری رسوائی نہیں
 اس طرف اک لشکر اعدا ہے مصروف قتال
 اس طرف برہم صفوں میں ایک بھی بھائی نہیں
 اب تمھاری یاد میں رونے کی فرصت بھی کہاں
 اب میسر ہی ہمیں و ہ شام تنہائی نہیں
 دیکھنا تم بھی کلف اس طرہ دستار کی
 اس کے ہاتھوں کی لکیروں ہی میں پسپائی نہیں
 یہ بھی اک دربار داری کی تمنا ہے کلیم
 شہر یار وقت سے لڑنا تو دانائی نہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭



 وہ چاند کا ملبوس وہ تاروں سے سجے خواب
 دن بھر کی تھکن رات کو دیتی ہے نئے خواب
 اے نرمی رفتار ذرا اور سنبھل کے
 رکھے ہیں جو رستے میں ترے پاؤں تلے خواب
 اک وقت وہ گزرا ہے کہ خوابوں پہ یقیں تھا
 اک وقت یہ آیا ہے کہ وہ دن بھی ہوئے خواب
 اس طور حقیقت سے گریزاں نہ رہا کر
 کیا ہو گا کسی وقت ا گر ٹوٹ گئے خواب
 صد شکر تمنائیں ابھی باقی ہیں دل میں
 صد شکر کہ آنکھوں میں کئی زند ہ رہے خواب

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 اک اک کر کے پنچھی ا ڑتے رہتے ہیں
 سرد ہوا میں پتے جلتے رہتے ہیں 
 بس دیوار پہ کوا بیٹھنا بھول گیا 
 لوگ تو اب بھی گھر میں آتے رہتے ہیں
 اپنی شر کت ان میں ا یسی خاص نہیں
 یہ دنیا کے دھند ے چلتے رہتے ہیں
 ان کو بھی کچھ کام نہیں تھا سارا دن 
 ہم بھی دن بھر فارغ سوتے رہتے ہیں
وہ بھی غزلیں نا صر ہی کی پڑھتا تھا
ہم بھی میر کو پڑھ کے رو تے رہتے ہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 ہر کوئی بے ا مان بیٹھا ہے
 دل میں وہم و گمان بیٹھا ہے
 سانپ خوابوں میں آ کے رینگتے ہیں
 خوف کمرے میں آن بیٹھا ہے
 خاک اڑتی ہے آسمانوں پر
 خاک پر آسمان بیٹھا ہے 
 ایک بالکل اجاڑ بستی میں 
 بس غم رفتگان بیٹھا ہے
 آج ہم بھی کو ئی غزل چھیڑیں 
 آج وہ درمیان بیٹھا ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 بیکار گیا میں نے جو ہتھیار خریدا
 دشمن نے مری فوج کا سالار خریدا
 جتنے تھے فصیلوں پہ کماندار ملائے
 شاہ در کا محافظ پس دیوار خریدا
 بازار سے ہر رنگ کی دستار خریدی
 ہر شہر سے اک اپنا نمک خوار خریدا
 ہر جنس مخنث کو کیا اس نے علم دار
 ہر صاحب شمشیر سے زنگار خریدا
 مسجد کے لیے ڈھونڈ کے لایا ہے عمامہ
 مندر کے لیے قشقہ و زنار خریدا
 خوشبو کی تجارت میں منافع بھی بہت تھا 
 گل چیں نے بہاروں سے چمن زار خریدا
 آنکھوں کو رکھا رہن تو دیدار کمایا
 دل دے کے خریدا ہے تو دیدار خریدا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



اڑتی تھی خاک شہر میں اتنا تو یاد تھا
مشت غبار تھی کہ کوئی گرد باد تھا
باندھا ہوا ہے ماں کی محبت نے گھر مجھے
ورنہ میں اک مسافت بے جا میں شاد تھا
چوتھی طرف سے روک رہا ہے خضر مجھے
لیکن وہیں تو کوچہ مینو سواد تھا
آفت سے کیا خبر تری صورت مراد تھی
بستی سے کون جانے مرا دل مراد تھا
وہ رات مجھ سے نیند کے عالم میں کھو گیا
میں ڈھونڈتا پھر ا جو مرا خواب زاد تھا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 ہم سے پھر شمس و قمر چھین لیا
 ایک دربان نے در چھین لیا
 اس نے بیگار میں چلنا لکھا 
 اس نے تاوان میں سر چھین لیا
 بات کرنے کی سزا یہ دی ہے
 بات کرنے کا ہنر چھین لیا
 حوصلہ گھر سے نکل جا نے کا 
 دل نے پھر وقت سفر چھین لیا
 کتنے معصوم پرندوں کا کلیم
 ایک طوفان نے گھر چھین لیا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



تا دیر پریشانی کے عالم میں رہو گے
یہ شہر خرابی ہے یہاں کس سے ملو گے
اب ساتھ نبھانے کی کوئی شرط نہیں ہے
اے دوست ذرا دیر مرے ساتھ چلو گے
ہر راہ میں جب تم کو ہوس کار ملیں گے
ہم جیسے وفا داروں کو پھر یاد کرو گے
کچھ مال نہ منصب نہ کوئی نام و نسب ہے
اب میرے تعارف میں کیا اس سے کہو گے
یہ کہہ کے مجھے اس نے وہاں روک دیا تھا
اپنی ہی کہے جاؤ گے یا میری سنو گے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 کتاب زندگی کے باب کتنے
 وہ لمحے ہو گئے نا یاب کتنے
 میں ان میں ڈوبتا ہی جار ہا ہوں 
 تری باتوں میں ہیں گرداب کتنے
 لہو رونے سے فرصت ہی نہیں ہے
 یہ آنکھیں دیکھتی تھیں خواب کتنے
 محبت بوجھ بنتی جار ہی ہے
 مر ے تھکنے لگے اعصاب کتنے
 وہ جب سے دیو قامت ہو گیا ہے
 سمندر ہو گئے پا یا ب کتنے
 ادھر اس نے جبیں پر ہاتھ رکھا 
 ادھر بجنے لگے مضر ا ب کتنے
 مری جیبیں ستاروں سے بھری ہیں
 تری قدرت میں ہیں مہتاب کتنے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭


حال ہی دل کا مرے ایسا تھا پچھلی شام کو
میں اکیلے میں بہت رویا تھا پچھلی شام کو
ساری بستی میں اندھیروں کے سبب چمکا رہا
اک دیا جو طاق پر رکھا تھا پچھلی شام کو
اک خبر تھی پھر ابابیلوں کا لشکر آئے گا
سب فصیلوں پر کڑا پہرا تھا پچھلی شام کو
جس جگہ پر ریت کے ٹیلے کھڑے ہیں جا بجا 
اس جگہ بہتا ہوا دریا تھا پچھلی شام کو
تم مجھے پاگل کہو عاشق کہو شاعر کہو
ایک سایہ چاند سے نکلا تھا پچھلی شام کو
وہ گیا تھا یا کوئی شعلہ بجھا تھا جسم میں
درد سا دل میں مرے اٹھتا تھا پچھلی شام کو
اس سے بچھڑے دو برس اب ہو گئے مجھ کو کلیم
میرے گھر میں ہجر کا میلہ تھا پچھلی شام کو

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 اس قدر باندھنا بھی مشکل ہے
 دل کو اب دھڑکنا بھی مشکل ہے
 ہجر میں آنکھ بھی نہیں لگتی 
 دیر تک جاگنا بھی مشکل ہے
 کام کوئی نہیں ہے کرنے کو
 گھر میں یوں بیٹھنا بھی مشکل ہے
 اس قدر ہے قریب و ہ میرے 
 اب اسے دیکھنا بھی مشکل ہے
 ایسے جنگل میں پائلوں کی چھنک 
 خوف سے بھاگنا بھی مشکل ہے
 اتنا روشن ہے خواب کا سورج 
 آنکھ تک کھولنا بھی مشکل ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭
 



ہزار صدق و صفا ہے سرشت میں اس کی
 کہ دوستوں سے وفا ہے سرشت میں اس کی
 میں آگ ہوں وہ مری شعلگی کا باعث ہے
 کہ ا یک تیز ہوا ہے سرشت میں اس کی
وہ تخت و تاج کا کتنا حریص لگتا ہے 
سنا تھا فقر و غنا ہے سرشت میں اس کی
کسی بھی حال میں وہ بد دعا نہیں دیتا
کہ ایک حر ف دعا ہے سر شت میں اس کی
میں اس کے ساتھ سفر پر نکل تو آیا ہوں 
میں جانتا ہوں دغا ہے سرشت میں اس کی
اسے قرینہ نہیں ہے بشر سے ملنے کا
نہ جانے کیسا خدا ہے سرشت میں اس کی

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 
 
اپنے بوجھ کو ڈھوتے آدمی تھک جاتا ہے
دن بھر فارغ بیٹھے آ دمی تھک جاتا ہے
ہم سفروں سے باتیں کرتے وقت گزرتا رہتا ہے
تنہا چلتے چلتے آدمی تھک جاتا ہے
اب تک تیر ے ناز اٹھائے جاتے ہیں
آ خر رنج ا ٹھا تے آدمی تھک جاتا ہے
جیون لمبی دوڑ ہے اتنا تیز نہ چل
کہتے ہیں کہ ا یسے آدمی تھک جاتا ہے
اک دن شاید ہم بھی ہجرت کر جائیں
طاقتور سے لڑتے آدمی تھک جاتا ہے
 بجھ جانے سے پہلے شمع دیکھ ذرا
رک جانے سے پہلے آدمی تھک جاتا ہے
آ خر شعر میں سچی باتیں آ جا تی ہیں
آ خر جھو ٹ سنا تے آدمی تھک جاتا ہے
چھوٹی چھوٹی باتیں سادہ لفظوں میں
اتنا زیادہ سوچے آدمی تھک جاتا ہے
 تیرا میرا جیون سب اک سایا ہے
اس کے پیچھے بھا گے آدمی تھک جاتا ہے
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 ہوا کے ہاتھ میں حیرت تھی اور کچھ بھی نہ تھا 
 مجھے تو تم سے محبت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
 بہار صحن چمن میں ہے سو گوار کھڑی
 کہ پیڑ پیڑ پہ ہجرت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
 اب اس سے اتنا ملیں ہم کہ جی ہی بھر جائے
 یہی گریز کی صورت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
 وہ مسکرا کے جو ملتا تھا پچھلی رت میں ہمیں
 یہ اس کی اپنی ضرورت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
 تمھارا شکوہ ، زمانے سے یا شکایت کیا
 ملا ہے جو بھی وہ قسمت تھی اور کچھ بھی نہ تھا
 وہی وصال کی راتوں کا انتظار کلیم
 وہی فراق کی حالت تھی اور کچھ بھی نہ تھا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
اک عجب سی کیفیت طاری رہی
 رات بھر ٹھنڈی ہوا چلتی رہی 
 اک پرندہ چہچہا کے اڑ گیا 
 خامشی دیوار پر بیٹھی رہی
 ہم تمھاری یاد میں پھر کھو گئے
 چار جانب روشنی پھیلی رہی
 وہ ملا بھی اور بچھڑ کر جا چکا
 بس اسے ہر کام میں جلدی رہی
 کون بھرتا خواب آنکھوں میں کلیم
 دیر تک خالی جگہ خالی رہی
 
 ٭٭٭٭٭٭٭



کوئی علا ج یہاں چارہ گر نہیں ممکن
رفوۓ چاک جگر جز نظر نہیں ممکن
وہ ایک تیز ہوا ہے میں خاک کی مانند 
اب اس کے ساتھ تو لمبا سفر نہیں ممکن
خیال بھاگتے پھرتے ہیں بادلوں کی طرح
کوئی بھی بند ابھی چشم تر نہیں ممکن
تمام عمر یونہی در بدر پھروں شاید
مگر میں لوٹ کے جاؤں گا گھر نہیں ممکن
کسی طرح سے یہ فرقت کی رات کٹ جائے
 چلو وصال کا لمحہ ا گر نہیں ممکن

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 عین ممکن ہے کبھی کم نظری سے گزریں
 جتنے دانا ہیں وہ شوریدہ سری سے گزریں
 بار احسان نظر کو ن اٹھائے یا رب
 چاک دامان و جگر بخیہ گری سے گزریں
 اس نے وہ جی کو جلایا ہے کہ جی جانتا ہے
 شوق ہم سائیگی و ہم سفر ی سے گزریں
 در و دیوار بلا لیتے ہیں اپنی جانب
 ہم ترے شہر سے جب بے خبری سے گزریں
 اب یہ ممکن ہی نہیں گھر کی طرف لوٹ چلیں 
 اب یہ ممکن ہی نہیں در بدری سے گزریں
 اب بھی مل جاتی ہیں اس درد کی نیلم یادیں
 کبھی سرما میں جو کو ہسار مری سے گزریں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے
مرے دشمن تو نہیں یار مرے قاتل تھے
میں نے خود خون دیا تیغ عدو کو ورنہ
بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے
کتنا آساں تھا مرے قتل کا لمحہ ان پر
کیسی مشکل سے یہ دو چار مرے قاتل تھے
وہ مر ے نام کی دستار پہننے والے
وہ مرے حاشیہ بردار مرے قاتل تھے
کتنے مینار مرے قد کے مقابل لائے
مری عظمت سے خبردار مرے قاتل تھے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 وہ ڈھونڈ کے لائے گا کہیں سے بھی سند کو
 لازم وہ سمجھتا ہے مری بات کے رد کو
 بستی سے نکل جانا بھی آسان نہیں ہے
 دریا بھی چڑھا آتا ہے طوفان کی حد کو
 مصروف ہیں اغیار ابھی مشق ستم میں
 پہنچا نہیں لشکر ا بھی یاروں کا مدد کو
 روشن ہے مرے نام سے اسلاف کی عزت
 اب جانتے ہیں لوگ مرے نام سے جد کو
 تم گھر کی منڈیروں کو ذرا اور بڑھا لو
 روکو گے بھلا کیسے کسی بہن کے قد کو

 ٭٭٭٭٭٭٭٭




 مشقت کر کے لوٹا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا 
 ابھی گھر آ کے بیٹھا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا
 جسے تم دیکھ کر ہنستا ہوا سمجھے ہو وہ خوش ہے
 اسے بھی غم نے گھیرا ہے کو ئی دکھ نہ اسے کہنا
 تمھارے ایک آنسو پر وہ دریا ہی بہا دے گا
 یہاں جو تم پہ گزرا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا
 جہاں سب لو گ خوش ہوں دکھ بڑے محسوس ہو تے ہیں
 یہاں پر آج میلا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا
 تری ماں تیری خوشیاں دیکھ کر جیتی ہے دنیا میں 
 اگر تو اس کا بیٹا ہے کوئی دکھ نہ اسے کہنا 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 دل کو دھڑکا ہزار رہتا ہے
 وہ سمندر کے پار رہتا ہے
 زندگی میں دعائیں شامل ہوں
 حوصلہ بر قرار رہتا ہے
 مجھے مشکل میں چھوڑنے والا 
 اب بڑا شرمسار رہتا ہے
 وہ مرے سامنے ہی بیٹھا ہے 
 کس کا پھر انتظار رہتا ہے
 آپ وعدہ وفا نہیں کرتے 
 آپ کا اعتبار رہتا ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ا س کے لہجے میں ایک خو ش بو ہے
 اس کی باتوں کا نام جا دو ہے
 ایک مدت سے میں نہیں رویا 
 اس قدر آنسوؤں پہ قابو ہے
 وہ مجھے کا میا ب رکھتا ہے 
 مری نا کامیوں کا دارو ہے
 چشم و ابرو کو کیا سمجھتے ہو
 ایک جنبش ہزار پہلو ہے
 وہ مجھے راستہد کھاتا ہے 
 مری مٹھی میں ایک جگنو ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 ہمارے ہا تھ ہو تی ہی نہیں ہے
 اسے تو ما ت ہو تی ہی نہیں ہے
 یہاں پر جاگنا ہی جاگنا ہے
 یہاں پر رات ہوتی ہی نہیں ہے
 وہ جس سے روز ملنا طے ہوا تھا
 اب اس سے بات ہوتی ہی نہیں ہے
 کبھی سیلاب کے خطر ے میں بستی 
 کبھی برسات ہوتی ہی نہیں ہے
 ہماری جیب کو کیا ہو گیا ہے
 گزر اوقات ہو تی ہی نہیں ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭



 مری حا لت پہ سوگوار نہ ہو 
 جب مقدر ہی ساز گار نہ ہو
 ایک دریا نظر کی حد تک تھا
 ایک کشتی نظر کے پار نہ ہو
 اس سے ہر گفتگو ہے لا حاصل
 جس کی باتوں کا اعتبار نہ ہو 
 جب ہمارا بھی وقت کٹ جائے
 جب تمھارا بھی انتظار نہ ہو
 لفظ و معنی کی ساد گی بہتر 
 سر و سامان مستعار نہ ہو

٭٭٭٭٭٭٭



 ہر آن کوئی قہر مرے سامنے پھر تھا
 اک دھوپ بھرا شہر مرے سامنے پھر تھا
 اک چہر ہ جسے بھولے ہوئے لحظہ ہوا تھا
 اے دوست ذرا ٹھہر مرے سامنے پھر تھا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 کتنے رشتوں میں باندھے ہوئے لوگ ہیں
 ہم مروت کے ما رے ہوئے لوگ ہیں
 تم نے پو چھا ہے ہم کون ہیں دوستو
 وہ جو نا پید ہوتے ہوئے لوگ ہیں
 چھت پہ بے نام سے خوف کی چاپ ہے
 بند کمروں میں سہمے ہوئے لوگ ہیں
 آشیانوں کو جا تے پرندو سنو
 ہم ٹھکانوں سے اکھڑے ہوئے لوگ ہیں
سر بریدہ ، شکستہ ، برہنہ بدن 
چیختے ، بین کرتے ہوئے لوگ ہیں
کوئی منزل نہ رہبر نہ رہزن کا ڈر
یونہی رستوں میں بیٹھے ہوئے لوگ ہیں
اک لہو سا ہے آنکھوں میں ٹپکا ہوا
جیسے صدیوں سے جاگے ہوئے لوگ ہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 تھا مرے سامنے دشمن میرا
 تیر پھر کس کی کماں سے نکلا
 میں تو ہر حال میں خوش تھا پھر بھی
 غم کا سرطا ن لہو میں پھیلا
 اس نے اک رات ہمیشہ رکھی 
 میں نے اک خواب ہمیشہ دیکھا
 ایک چڑیوں کی پریشانی ہے
 تم نے چوپال سے برگد کاٹا
 خون رویا ہے مری آنکھوں نے
 میں نے جب حرف تمنا لکھا
 وہ مرے نام کو زندہ رکھتا 
 شعر بھی چاند سا بیٹا ہوتا
 اب یہی سوچتا رہتا ہوں کلیم
 میں اسے پیار اگر نہ کرتا

 ٭٭٭٭٭٭٭


 
 ہم کسی شخص کو آزار نہیں دے سکتے 
آپ کے ہاتھ میں تلوار نہیں دے سکتے
وہ اگر سات سمندر کا سفر دیتے ہیں 
وہ تو پھر سایہ دیوار نہیں دے سکتے
ہم سے اس طرح کی دنیا نہیں دیکھی جاتی 
ہم تمھیں دیدۂ بیدار نہیں دے سکتے
ہم نے وہ شور بسا رکھا ہے چاروں جانب
اب کو ئی صورت اظہار نہیں دے سکتے
غیر کا ذکر ضروری ہے فسانے میں مگر
غیر کو مرکزی کردار نہیں دے سکتے
مرے شانوں پہ مرا اپنا ہی سر رہنے دو
تم اگر خلعت و دستار نہیں دے سکتے
کبھی شبنم ، کبھی تتلی ، کبھی جگنو چاہے
دل کو جو کچھ بھی ہو درکار نہیں دے سکتے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 جب درد کے مضموں نہیں ہوتے مرے مرشد 
 پھر شعر بھی موزوں نہیں ہوتے مرے مرشد
 اس چشم کو بیمار کہوں یا نہ کہوں میں
 اس چشم سے افسوں نہیں ہوتے مرے مرشد
 کیا حسن و جنوں شاخ ثمر دار نہیں ہیں
اب لیلی و مجنوں نہیں ہوتے مرے مرشد
ہر گھر سے نکل آتے ہیں یوسف کے برادر 
اب مو سی و ہاروں نہیں ہوتے مرے مرشد
توفیق سے ہوتا ہے مگر کار ہنر بھی
دو بول بھی برسوں نہیں ہوتے مرے مرشد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 وہ بھی ا یسے سنورتا آتا ہے
 جیسے مو سم نکھر تا آتا ہے
 ایک بار ش برستی جا تی ہے
 ایک بادل گر جتا آتا ہے
 سانس رکنے لگا ہے سینے میں
 خوف زینے اترتا آتا ہے
 اس کے کتنے ہزار چہرے ہیں
 کتنے چہر ے بد لتا آتا ہے
 ایک امید کی کرن ہے کلیم
 ایک جگنو چمکتا آتا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 یہ ایک ایک اذیت سے آشنا دل ہے
ہمارا درد محبت سے آشنا دل ہے
ہماری آنکھ بھی برسے گی آج بارش میں
ہمارا اپنی طبیعت سے آشنا دل ہے
یہ اور بات کہ اب فرصت خرید نہیں
وگرنہ تیری بھی قیمت سے آشنا دل ہے
 نہ اس کی شکل نہ کچھ نام نہ نشاں اس کا
وہ جس کا عمر کی مدت سے آشنا دل ہے
چمک رہی ہے ابھی تک ترے جمال کی دھوپ
تمھارے قرب کی حدت سے آشنا دل ہے
 وصال یار کی راتیں ہوں یا کہ ہجر کے دن
یہ ہر طرح کی مصیبت سے آشنا دل ہے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 


 چلو باغوں کو چلتے ہیں
 چلو جگنو پکڑتے ہیں 
 ستارے پھول اور شبنم 
 ہمارا دکھ سمجھتے ہیں
 ہوا میں راکھ اڑتی ہے
 کہیں کاغذ سے جلتے ہیں
 تمھاری با ت کرتے ہیں 
 تمھارا نام لکھتے ہیں
 چلو ناصر کو پڑھتے ہیں
 پہاڑی راگ سنتے ہیں
 جنھیں ہم دودھ دیتے ہیں 
 وہی آ خر کو ڈستے ہیں
 بڑ ے دشوار رستے ہیں 
 یہیں سے لو ٹ جا تے ہیں
 ہمیں تم یاد آتے ہو
 تمھیں ہم بھول سکتے ہیں
 تبھی ہم شعر کہتے ہیں 
 فرشتے جب اترتے ہیں


٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 



 چرمراتے خشک پتے اک ہوائے تیز میں
اڑ رہے ہیں زرد لمحے اک ہوائے تیز میں
وہ اڑے گا کس طرح سے وسعت افلاک میں
 جس نے اپنے پر نہ کھولے اک ہوائے تیز میں
 راکھ اڑتی پھر رہی ہے بستیوں میں کس طرح
 کون آنکھیں کھول دیکھے اک ہوائے تیز میں
 یوں بکھر جائیں گے میرے خواب کیا معلوم تھا
 خاک پر جو نقش کھینچے اک ہوائے تیز میں
 کس قدر ہیبت تھی دل کی تیرہ گلیوں میں کلیم
 دو دیے جلنے سے پہلے اک ہوائے تیز میں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 بے فصیل شہروں میں بے امان بستی میں 
 کس طر ف نکل آئے بے دھیان بستی میں 
راکھ اڑتی پھر تی ہے سب اداس رستوں پر 
بس نشان حیرت ہے اک نشان بستی میں
ہر کسی کے ہونٹوں پر درد کی کہانی ہے
کس سے اپنا دکھ کرتے ہم بیان بستی میں
جو علوم حاضر کی خلعتوں سے عاری ہو
کاش کوئی مل جائے نکتہ دان بستی میں
معرکہ پڑا تو وہ رزم گہ سے بھاگ آیا
جس کو لوگ کہتے تھے پہلوان بستی میں
سارے صادق و کاذب شاہ کی طرف نکلے
ڈھونڈتے پھرے اپنا ہم زبان بستی میں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 


 جب تقدیریں بن جاتی ہیں 
 نئی لکیریں بن جاتی ہیں
 کچھ تصویریں مٹ جاتی ہیں
کچھ تصویریں بن جاتی ہیں
چپ کے معنی کیا ہوتے ہیں
کیا تفسیریں بن جاتی ہیں
خواب نجانے کیا ہوتے ہیں
 ہم بھی رانجھے بن جاتے ہیں
وہ بھی ہیریں بن جاتی ہیں
صحرا صحرا دیوانوں کی
جب جاگیریں بن جاتی ہیں
قسمت میں جب ملنا ہو تو
سو تدبیریں بن جاتی ہیں
بھاگتے بھاگتے ان پیروں میں 
خود زنجیریں بن جاتی ہیں
٭٭٭٭٭٭٭


 گھر کے اندر گھر بنا کے اور بے گھر ہو گیا
ہر طرف ہی ایک جیسا سرد منظر ہو گیا
میرے پیچھے چل رہا تھا اک ہجوم دوستاں
مڑ کے دیکھا اور پھر حیرت سے پتھر ہو گیا
پھر سکوت شب میں اک آواز پا آنے لگی
پھر تری یادوں سے سار ا گھر معطر ہو گیا
جیسے سایہ رات کی تاریکیوں میں کھو گیا 
میں اکیلا کس قدر تجھ سے بچھڑ کر ہو گیا
جو سمجھتا تھا ہمالہ آپ اپنی ذات کو
وقت کی آندھی میں اک تنکے برابر ہو گیا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 جب بھی گفتار لے کے آیا ہے
 حرف پر کار لے کے آیا ہے
 درمیاں سر بریدہ لوگوں کے 
 ایک دستار لے کے آیا ہے
 جب بھی آیا ہے میرے آنگن میں
 گل و گلزار لے کے آ یا ہے
 وہ جسے ہم بھنور سمجھتے تھے
 کشتیاں پار لے کے آیا ہے
 یا الہی ! ہو خیریت گھر میں 
 ڈاکیا تار لے کے آیا ہے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



چل مدح شا ہ میں ہم بھی کریں خون دل کشید 
سر پیچ و ہفت پارچہ مالائے مروارید
اب زور دست و بازوئے قاتل کا ذکر کیا
اہل قفس کے واسطے ہے قفل نو نوید
ہونے لگی ہے شہر میں ارزانی جمال 
جیب طلب میں جب نہ رہی قوت خرید
واحسرتا کہ تنگی دامان آرزو
مژدہ کہ اہتمام دعائے ہلال عید
الجھا رہا ہے فکر و عمل کا معاملہ 
یا راہ اہل بیت ہے یا بیعت یزید



پہلے سے بھی کڑی ہے وہی نامراد رات
رستے میں آ پڑی ہے وہی نامراد رات
دیکھی تھی ہم نے خواب میں اک خوشگوار صبح
جاگے تو پھر کھڑی ہے وہی نامراد رات
سورج ذرا سی دیر میں چمکے گا بام پر
بس ایک دو گھڑی ہے وہی نامراد رات
جتنا بڑا ہے دل میں مرے ظلمتوں کا خوف 
اتنی کہاں بڑی ہے وہی نامراد رات
نہ جانے کتنی دیر تک روتے رہیں گے ہم
تاروں سے پھر جڑی ہے وہی نامراد رات

٭٭٭٭٭٭٭



ہر دل میں تیری شعلہ بیانی اتر گئی
دریا کے ساتھ ساتھ روانی اتر گئی
اوج فلک پہ اڑنے لگا طائر خیال
حرف و قلم میں روح معانی اتر گئی
سورج کو ڈوبتے ہوئے ہم دیکھتے رہے
آنکھوں میں ایک شام سہانی اتر گئی
کمرے کا سارا بوڑھا پلستر اکھڑ گیا
یا دل سے ایک یاد پرانی اتر گئی
شانوں پہ تیری زلف کی خوشبو بکھرنے سے
سانسوں میں جیسے رات کی رانی اتر گئی
اب سچ کو کوئی سچ ہی نہیں مانتا کلیم
ہر دل میں اس کی جھوٹی کہانی اتر گئی

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
ہر قدم منادی ہے زندگی کے رستے میں
موت کیوں بچھا دی ہے زندگی کے رستے میں
اس قدر بھی کیا تیزی اس قدر بھی کیا جلدی
خاک سی اڑا دی ہے زندگی کے رستے میں
ایک کم نصیبی ہے ہر قدم پہ منزل تک
ایک نامرادی ہے زندگی کے رستے میں
جب گزر کے آگے ہوں سامری کی بستی سے
ایک شاہ زادی ہے زندگی کے رستے میں
غم کبھی نہ حائل ہوں دکھ کہیں نہ آ پائیں
ماں نے یہ دعا دی ہے زندگی کے رستے میں
آدمی سے کہتا ہے ڈوبتا ہوا سورج
ہر خوشی تو آدھی ہے زندگی کے رستے میں
ہم کہ چھوڑ جائیں گے روشنی خیالوں کی
شمع اک جلا دی ہے زندگی کے رستے میں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
شہزادہ جب چوتھی سمت کو جاتا ہے 
 سبز پرندہ ا س کو راہ بتلاتا ہے
 اپنا آپ ہی ہم کو دھوکا دیتا ہے
 کون کسی سے ورنہ دھوکا کھاتا ہے
 اک اک کر کے ساتھی بچھڑے رستے میں
 دیکھتے ہیں اب سامنے کیا کیا آتا ہے
 اس بستی میں دھوپ اترنے والی ہے
 بوڑھا برگد ہم کو یہ سمجھاتا ہے
 اسی لیے وہ ایک نیا دن لگتا ہے
 وہ سورج کو ساتھ ہمیشہ لاتا ہے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 ہر نقش اس کے چہرے کا سادہ رکھا گیا
اس پر منافقت کا لبادہ رکھا گیا
کچھ بوجھ ہم کو حد سے زیادہ دیے گئے
کچھ ہم کو سہل حد سے زیادہ رکھا گیا 
ہم اس کی آنکھیں دیکھ کے مجلس سے اٹھ گئے
مینا و جام و ساغر و بادہ رکھا گیا
وہ بزدلوں میں فیل و علم بانٹتا رہا
جبکہ بہا دروں کو پیادہ رکھا گیا
عمریں ہماری تنگ مکانوں میں کٹ گئیں
لیکن ہمارے دل کو کشادہ رکھا گیا
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 حسن شعلہ مثال کے پرچم
 کھل گئے ہیں خیال کے پرچم
 زد میں تیغ ستم کی ہے لشکر
 پھر بھی رکھنا سنبھال کے پرچم
 حوصلہ بڑھ کے تھام لیتا ہے
 بازوئے خستہ حال کے پرچم
 سبز طائر ہوا میں اڑتے ہیں
 یا کہ حسن و جمال کے پرچم
 آنکھ میں چاند سے چمکتے ہیں
 شام عہد وصال کے پرچم
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 
 میر ے بت کو کر کے زندہ لے جائے گا
 اس کی جانب سبز پرندہ لے جائے گا
 جس نے خواب سنانے کی یاں غلطی کی
 اس کو آخر ایک درندہ لے جائے گا 
 جن گلیوں کو شہر سے چھوڑ کے نکلے تھے 
 ان گلیوں میں دل شرمندہ لے جائے گا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 کاغذ ، قلم ، کتاب نہ چھین 
 مجھ سے میرے خواب نہ چھین

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 




 کھڑکی ہے نہ رستہ ہے کوئی پاس گھٹن کا
 رہتا ہے مری سانس کو احساس گھٹن کا
 بچھڑا ہوا پھر تا ہوں کسی تازہ ہوا سے
 موسم نہیں ہر گز یہ مجھے راس گھٹن کا 
 ہے شہر کی اطراف میں اک خوف کا سایا
 ا ک زہر ہو ا شا مل انفاس گھٹن کا
 اب دل میں کسی یاد کی بیلیں نہ سجاؤ
 اس کمرے میں کیا کر لے گی یہ گھاس گھٹن کا
 ان بند مکانوں میں تو آسیب ہیں رقصاں
 چارہ ہے تو بس سورۂ الناس گھٹن کا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

روگ دل کا لگا کے بیٹھ گیا 
وہ تو کونے میں جا کے بیٹھ گیا
در و دیوار سے ا تر کر اب 
خوف کمرے میں آ کے بیٹھ گیا
ہم نے دیکھا ہے ہر طرف جس کو 
آج پردے گرا کے بیٹھ گیا
مجھ سے کہتا تھا آج جلدی ہے
آ پ مجھ کو اٹھا کے بیٹھ گیا
اس نے مجھ کو جواب تک نہ دیا
میں بھی نظریں چرا کے بیٹھ گیا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 
 در و دیوار کو تاروں سے حسیں کیسے کریں
 آسمانوں کو ترے گھر کی زمیں کیسے کریں
 رہن اغیار ہے دستار فضیلت جس کی
 ایسے سردار کی عظمت کا یقیں کیسے کریں
 یوں تو اجداد کی سنت ہے مگر ارض وطن
 ہجرتیں روز بتا تیرے مکیں کیسے کریں
 اس نے وہ مانگ لیا ہے کہ نہیں دے سکتے
 ہم اسی سو چ میں ہیں اس کو نہیں کیسے کریں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 ہم نے تمھارے شہر میں دو سانس تو لیے
 شامل ہوا ہے زہر لہو میں تو کیا ہوا
 لے وہ پڑی ہے سوزن تدبیر ٹوٹ کر 
 بگڑا ہے سارا کام رفو میں تو کیا ہوا
 ہم نے ہمیشہ دشمنوں کو زیر کر لیا
 اب یار ہو گیا ہے عدو میں تو کیا ہو ا
 رنگوں کی ایک قوس قزح سی بکھر گئی
 پایا تمھارا ڈھب جو کسو میں تو کیا ہوا
 واعظ شراب پی کے بھی منبر نشین ہے
 آئے ہیں آج رند وضو میں تو کیا ہوا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 اپنی جیب اور گھر کا خرچہ دیکھ رہے ہیں
 کیسے گزرے گا یہ ہفتہ دیکھ رہے ہیں
 چاند نجانے کس بستی میں جا اترا ہے
 ہم تو بس مدت سے رستہ دیکھ رہے ہیں
 اس بستی پر آ گ برسنے والی ہے
 مستقبل کا ہم جو نقشہ دیکھ رہے ہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



مجھ کو آتا نہیں ظالم کی اطاعت کرنا 
میری تاریخ میں لکھا ہے بغاوت کرنا
گو کہ یہ کام ضروری بھی نہیں ہے اتنا 
دل کی بس ضد ہے ترے ساتھ محبت کرنا
لفظ میراث میں چھوڑے ہیں تو ڈر لگتا ہے
مری اولاد سے مشکل ہے حفاظت کرنا
اپنا شیوہ ہے شکایت نہیں کرتے کچھ بھی
ہم نے سیکھا ہے اسی طور محبت کرنا
اس کو کیا ہو گا کسی نفل عبادت کا ثواب
جس کو آیا نہ کبھی فرض عبادت کرنا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پھر میر کی زمین کوئی ڈھونڈنے لگے
اک دکھ ملا تو شعر کئی سوجھنے لگے
دل کا برا نہیں ہے مگر بد زبان ہے
وہ سو چتا نہیں ہے اگر بولنے لگے
اک زخم انتظار ہرے کا ہرا رہا
شیشم بھی راہگزار کے اب سوکھنے لگے 
یوں دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا
رستے بھی اس گلی کے مجھے بھولنے لگے
یاروں سے پہلا کام پڑا تھا مجھے کلیم
وہ مجھ کو دشمنوں کی طرح سوچنے لگے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 



 جس کی خواہش پر وطن سے دور جا نا پڑ گیا
 لوٹ کر دیکھا تو اس کی آنکھ میں آ نسو بھی تھے
 اک ہمارے غم کا اس کے پاس کچھ چار ہ نہ تھا
 ورنہ ا س کی جیب میں تتلی بھی تھی جگنو بھی تھے
 اک محبت ہی نہیں تھی میرے اس کے درمیاں
 اس تعلق کے ہزاروں دوسرے پہلو بھی تھے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 
 وہ خواب تھا جو مری چشم تر کی قید میں تھا
 کہ عکس مہ تو ابھی شیشہ گر کی قید میں تھا
 مرے وجود سے آ گے مرا سفر نکلا 
 یہ آسماں تو مرے بال و پر کی قید میں تھا
 تمھارے نام سے اس کے کئی معانی تھے
 وہ ا یک لفظ جو دست ہنر کی قید میں تھا
 ہوئے ہیں شش جہت اس طرح سے تنگ مجھ پر 
 جدھر گیا ہوں انہی بام و در کی قید میں تھا
 ہمارے ساتھ پھری ہے ہماری ماں کی یاد
 سفر کا آ خر ی لمحہ بھی گھر کی قید میں تھا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 تمھاری زلف سنورنے میں دیر لگتی ہے
 کہ سرد رات کے ڈھلنے میں دیر لگتی ہے
 یہ ٹھیک ہے کہ بہت جلد مان جاتا ہے
 تمھی کہو کہ مکر نے میں دیر لگتی ہے
 یہ دل نہ ماننا چاہے تو مانتا ہی نہیں
 ذرا سی بات سمجھنے میں دیر لگتی ہے
 میں جس بلندی پہ بیٹھا ہوا ہوں اے واعظ
 مجھے یہاں سے اترنے میں دیر لگتی ہے
 ہمارے عشق کا چرچا گلی گلی میں ہوا
 کہ خوشبوؤں کے بکھرنے میں دیر لگتی ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 شاخوں میں اڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
 اک دھول پڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
 آنکھوں میں اندھیروں کے سو ا کچھ بھی نہیں ہے 
 شیشوں میں جڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
 یا ایک سیاہ رات مقدر ہے ہمارا 
 یا سوکھی سڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
سر سبز درختوں کو کٹا دیجیے لیکن
 رستوں میں بڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
 یہ حرف شکایت ہے نہ یہ جائے شکایت
 دو چار گھڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
 بار ش کا کوئی ایک بھی قطرہ نہیں برسا
 کمروں میں کھڑی دھوپ ہے اے ظل الہی
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 ہر دل سے نکل جانے کا امکان کھلا رکھ
 یا دھوپ میں مت موم کا سامان کھلا رکھ
 اس گاؤں میں ہر شام اتر آتے ہیں عفریت
 اک ورد کا پیڑوں پہ نگہبان کھلا رکھ
 پلکوں پہ دئیے جلتے رہیں اشکوں کے لیکن
 ہاتھوں میں مرے میر کا دیوان کھلا رکھ

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 دل سے صبر و سکوں روانہ ہوا
 اس کو دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
 دل پہ پہلے بھی ایک بوجھ سا تھا
 تیر ا جا نا تو ا ک بہانہ ہوا
 ہم بھی کیسے نصیب والے ہیں
 ایک حر ف غلط خزانہ ہوا
 اب تو چپ سادھنا ہی بہتر ہے
 جب سخن اتنا عامیانہ ہوا
 ہنس کے ملنا کلیم ہر اک سے
 ایک فتنے کا شا خسا نہ ہوا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
 درد ٹھہرے تو بات کرتے ہیں
 چین آ لے تو بات کرتے ہیں
 ہم کسی سے کبھی نہیں کھلتے 
 کوئی سمجھے تو بات کرتے ہیں
 دل میں میرے ہزار شکوے ہیں
 جب وہ کہہ دے تو بات کرتے ہیں
 ہم سے کیونکر وہ کچھ نہیں کہتے 
 آگے پیچھے تو بات کرتے ہیں
 ہم ابھی دیکھتے ہیں بس اس کو
 چاند ڈوبے تو بات کرتے ہیں
 ہم اسی گو مگو میں بیٹھے ہیں
 غیر کہہ لے تو بات کرتے ہیں
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭
 



تیرے کوچے کہاں گزرتی ہے
 زندگی رائگاں گزرتی ہے
 چاند تاروں سے آسماں خالی 
 رات بے خانماں گزرتی ہے
 زندگی میں مزا نہیں باقی 
 بس مرے مہر باں گزرتی ہے
 اسی کونے میں یاد ہے اس کی 
 روشنی سی جہاں گزرتی ہے
 خامشی ہی میں عافیت ہے کلیم 
 بات ان کو گراں گزرتی ہے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 آیا کرو ، بیٹھا کر و اور حال دل پوچھا کرو
 تم ہمارے پاس تھوڑی دیر تو ٹھہر ا کرو
 صحن گلشن میں یوں شب بھر چاندنی پھرتی رہی 
جیسے اس کو نیند میں چلتے ہوئے دیکھا کرو
 اب کسے فرصت تمھارا راستہ دیکھا کرے 
 اب پرانی البموں میں وقت کو کھو جا کرو
آنکھ میں نم لے کے بیٹھے میر کو پڑھتے رہو
آنسوؤں کی دھند میں چہر ہ مر ا سوچا کرو

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 کتنا شیریں بیان لگتا ہے
 آج وہ مہربان لگتا ہے
 دل ہمارا اجاڑ بستی میں
 ایک خالی مکان لگتا ہے
 میرے شانوں پہ بیٹھ کر بونا
 ایک کڑیل جوان لگتا ہے 
 کھیت ہے ہاتھ میں لکیروں کا
 وقت بوڑھا کسان لگتا ہے 
 جس سے میں بار بار گزرا ہوں 
 پھر وہی امتحان لگتا ہے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 آئینہ روبرو بھی دیکھا کر
 تو مگر چار سو بھی دیکھا کر
 وہ جو تصویر کی طرح چپ ہے
 وہ دم گفتگو بھی دیکھا کر
 تو جو ہنس ہنس کے بات کرتا ہے
 میرے دل کا لہو بھی دیکھا کر

 ٭٭٭٭٭٭٭٭


 
تمھارا سانس بھی دشوار کر دیا جائے
ہر ایسے حکم سے انکار کر دیا جائے
وہ جس نے جنگ میں سردار کو گرایا ہے
اسے قبیلے کا سردار کر دیا جائے
یوں دل میں پیار چھپانے سے فائدہ کیا ہے
اب اس کے سامنے اظہار کر دیا جائے
وہ آج تخت پہ بیٹھا ہے تاج پہنے ہوئے
قصیدہ خوانوں کو ہشیار کر دیا جائے
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
دن کڑے اور رات بھا ری ہو گئی
زندگی پر موت طاری ہو گئی
بیچتے ہیں جو کبھی بیچا نہ تھا
اس قدر بے روز گاری ہو گئی 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

 اک ملاقات ترے ساتھ جو کل اور ہوئی
 ایک غم اور پڑا ایک غزل اور ہوئی
 بعد اس وقت کے کہتے ہیں کہ دائم ہے حیات
 اک اجل اور بھی گر شام اجل اور ہوئی
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 اس سے تعلقات کی حسرت بھی کچھ نہیں
 نفرت بھی کچھ نہیں ہے محبت بھی کچھ نہیں
 گھر میں ضرورتوں کے ہیں جنگل اگے ہوئے 
 بستی میں روز گار کی صورت بھی کچھ نہیں
 میں تو سمجھ رہا تھا اثاثہ ہیں لفظ بھی
 لیکن کھلا خیال کی قیمت بھی کچھ نہیں
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 سو رنج و الم کھینچے ہیں سو درد سہے ہیں 
 تب جا کے مری جان یہ دو بول کہے ہیں
 یوں خار و خس و خاک و رہ سنگ پہ چلنا 
 چھالے ہیں کہ آنکھوں سے مری پھوٹ بہے ہی
 ہم لوگ پر کاہ سر راہ گزر ہیں
 بے وجہ مسافت کی سزا کاٹ رہے ہیں
 بیٹھا ہے جہاں بام پہ وہ حسن دل آرا
 ہر اک سے اسی گھر کا پتہ پوچھ رہے ہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 حیلوں کے ساتھ تھی وہ مثالوں کے ساتھ تھی
 وہ گفتگو تمام حوالوں کے ساتھ تھی
 سورج کو میرے سر پہ کھڑا کر دیا گیا
 یعنی مری سزا بھی اجالوں کے ساتھ تھی
 وہ روشنی نجا نے کہاں کھو گئی ا ب 
 جو تھوڑی دیر پہلے خیالوں کے ساتھ تھی
 ترکے میں جو ملے ہیں مجھے والدین سے
 دیمک بھی ان پرانے رسالوں کے ساتھ تھی

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 اس کا چہر ہ یاد نہیں ہے
 باتیں ، لہجہ یاد نہیں ہے
 جانے کب سے بچھڑ گیا ہے 
 میرا سا یہ یاد نہیں ہے
 اس بستی سے پہلے بھی تھا
 کوئی رشتہ یاد نہیں ہے
 تھوڑا تھوڑا یاد ہے لیکن
 سارا قصہ یاد نہیں ہے
 وہ دن یاد ہے اب تک لیکن
 سال مہینہ یاد نہیں ہے
 اس کوچے کی بات نہ چھیڑو
 اب وہ کوچہ یاد نہیں ہے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 کہیں آنکھوں میں خوابوں کا نگر تعمیر کرتے ہیں
 کہیں پانی کے رستے میں بھی گھر تعمیر کرتے ہیں
 وہ کوتا ہ قامتی کی اس طرح خفگی مٹاتے ہیں
 جہاں جائیں وہاں پر شاہ در تعمیر کرتے ہیں
 ہماری آخری منزل ہمارا گھر ہی ہوتا ہے
 بڑے رستے بناتے ہیں سفر تعمیر کرتے ہیں
 وہ جس کا سر نہیں ہوتا اسے دستار دیتے ہیں
 ہزاروں سابقے پھر نام پر تعمیر کرتے ہیں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 دل کی باتیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
 کتنی غزلیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
 کتنے ورق ہیں سادہ جن کو بالکل سادہ رکھ چھوڑا ہے
 کچھ پر سطریں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
جی چاہا ہے آج پرانے کاغذ کھول کے بیٹھ رہوں
جن میں یادیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
تم بھی جانو مجھ کو تمھاری دید کی کتنی حسرت ہے
اپنی آنکھیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
جیسے لکھتے لکھتے کوئی گہرا صدمہ پہنچا ہو
 پاگل سوچیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 ہمارے لفظ بے تاثیر نکلے
 کوئی تو صورت تعمیر نکلے
 ہماری نیند کیسے کھو گئی ہے
 ہمارے خواب کی تعبیر نکلے
 کوئی تو کاسہ و کشکول توڑے
 کوئی تو صاحب توقیر نکلے
 ہماری چھت ہمی پر آ گری ہے
 بڑے ہی کھوکھلے شہ تیر نکلے
 جسے دار و رسن سمجھے ہوئے ہیں
 تمھاری زلف کی زنجیر نکلے
 یہاں سچ بولنا مشکل بہت ہے
 یہاں پر سب ترے کف گیر نکلے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭



ہم پہ آیا ایسا وقت محبت میں
ایک گھٹن تھی باقی اس کی صحبت میں
کل یہ شہر میں چھوڑ کے جانے والا ہوں
 آج ملو ہر صورت میں ہر حالت میں
 اپنے گھر میں رہ کر ایسا لگتا ہے
 جیون جیسے بیت ر ہا ہو ہجرت میں
 ہم نے ساری عمر گنوا د ی سوچوں میں
 ہم سے کچھ بھی ہو نہ سکا اس مہلت میں
 اب تو کتنی دور تعلق آ پہنچا ہے 
 ہم بیٹھے ہیں اب تک پہلی حیرت میں

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 
 شرح غم کیسے کریں لطف بیاں کیسے ہو
 اپنے لہجے میں ترے منہ کی زباں کیسے ہو
 ہم بھی جا نذر کریں کو ئی قصیدہ لیکن
 ہم غریبوں سے یہ لفظوں کا زیاں کیسے ہو
 اس کے اس طرز تغافل کا گلہ کیسے کریں
 ہم سے وہ پوچھ رہا ہے کہ میاں کیسے ہو
اب تو برگد ہے نہ وہ پیڑ ہے شیشم کا کلیم
اب پرندوں کا بسیرا بھی یہاں کیسے ہو

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 گھر چھوڑ کر مکین گھروں کے چلے گئے
قسمت میں اس مکان کی جالے لکھے گئے
پہلے تو قتل آل پیمبر کیا گیا
پھر کربلا کی شام پر ماتم کیے گئے
ہر بے خطا کو دار و رسن کی سزا ملی
جب منصفی کے واسطے قاتل چنے گئے
دشمن کو پہلے جنگ کا نقشہ دیا گیا
الزام پھر شکست کے ہم کو دیے گئے
کل بھی حقیقتوں سے چراتے رہے نظر
 دل چسپیوں سے آج بھی قصے سنے گئے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



مرا دیوان ہوتا جا رہا ہے
 کہ غم آسان ہوتا جا رہا ہے
 محبت روگ بنتی جا رہی ہے 
 مجھے سرطان ہوتا جا رہا ہے
 ہرے شیشم سے چڑیاں اڑ گئی ہیں
 یہ گھر سنسان ہوتا جا رہا ہے
 لٹا بیٹھے ہیں ہم نقد و فا بھی
 بڑا نقصان ہوتا جا رہا ہے
 وہی تھا اک تعارف شہر بھر میں 
 وہی انجان ہوتا جا رہا ہے
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 کچھ سبب ہے یا یونہی وہ بے سبب مصروف ہے
 آدمی کس کے لیے یاں روز و شب مصروف ہے
 ا ب کسے فرصت پیپل کہ تلے بیٹھا رہے
 میں بھی اب مصروف ہوں اور وہ بھی اب مصروف ہے
ہم اکیلے سوچ میں گم سم اسے دیکھا کیے
اتنا نازک ہے مگر کیسا غضب مصروف ہے
فیصلہ ہونے میں ہے تاخیر کا بس یہ سبب
ذی حشم ، شاہ زمن ، عادل لقب مصروف ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




لازم تھی احتیاط کی حد سے گزر گئے
ہم اس سے اختلاط کی حد سے گزر گئے
دل یوں تمھارے شہر میں پتھر کا ہو گیا
ہم قبض و انبساط کی حد سے گزر گئے
وہ لوگ جو اڑان سے آگے چلے گئے
وہ لوگ جو بساط کی حد سے گزر گئے
معنی ہماری بات سے گم ہو گئے ہیں کیوں
لفظوں کے انحطاط کی حد سے گزر گئے
کچھ لوگ امتحان میں پڑنے سے ڈر گئے
کچھ لوگ پل صراط کی حد سے گزر گئے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 ہم سے پھر وعدہ خلا فی ہو گئی
 راستے میں رات کافی ہو گئی
 سارے منصف اس کے آگے بک گئے
 ہر عدالت سے معافی ہو گئی
 اک تر ا غم آ پڑا ہے جان پر
 ساری خوشیوں کی تلافی ہو گئی 
 اس نے اتنی آج کل غزلیں کہیں
 شاعر ی بھی نور با فی ہو گئی

٭٭٭٭٭٭٭٭



 
 یار ہے یا عدو ہمی سا ہے
 آئنہ ہو بہو ہمی سا ہے
 بات سنتا نہیں کسی کی پھر 
 وہ دم گفتگو ہمی سا ہے
 اپنے خنجر پہ جو چمکتا ہے
دیکھنا یہ لہو ہمی سا ہے 
 یہ کہیں آئنہ نہ ہو یارو
 پھر کوئی روبرو ہمی سا ہے 
 بات کیسے چلے گی آگے پھر
 وہ اگر تند خو ہمی سا ہے
 ہم اسی واسطے نہیں ملتے
 جانتے ہیں کہ تو ہمی سا ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہر آن کوئی قہر مرے سامنے پھر تھا
اک دھوپ بھرا شہر مرے سامنے پھر تھا
اک چہر ہ جسے بھولے ہوئے لحظہ ہوا تھا
اے دوست ذرا ٹھہر مرے سا منے پھر تھا
ہر عہد میں ہوتے رہے زندان مقدر 
ہر عہد میں اک زہر مرے سامنے پھر تھا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 



 اس قدر بات بگڑ جائے گی معلوم نہ تھا
 وہ جو سمجھا ہے مری بات کا مفہوم نہ تھا
 شا ہ کی سب پہ عنایات برابر تھیں کلیم
 شہر میں کوئی بھی اس لطف سے محروم نہ تھا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 جلوۂ چہرہ شب تاب نہ آنکھوں میں رہا
 حیف وہ منظر صد خواب نہ آنکھوں میں رہا
 اب تری یاد میں رو لیتے ہیں قطرہ قطرہ 
 یعنی اشکوں کا وہ سیلاب نہ آنکھوں میں رہا
 تو نے الزام دیے غیر کو کیسے کیسے
 اس کے ماتھے کا بھی محراب نہ آنکھوں میں رہا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 دیکھتا اک نظر تو کیا ہوتا
 غیر ہو تا ادھر تو کیا ہوتا
 اپنا دشمن ہے آسماں یوں ہی
 کچھ بھی ہوتا ہنر تو کیا ہوتا
 وہ نہیں ہے تو کیا نہیں اب بھی
 وہ بھی ہوتا ا گر تو کیا ہوتا
 دو قدم ساتھ چل نہیں پایا
 وہ مرا ہم سفر تو کیا ہوتا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 درد اظہار تک نہیں آیا
 میں در یار تک نہیں آیا
 وہ جسے میں سمجھتا تھا سایہ
 وہ شب تار تک نہیں آیا
 آج گھر میں ہو اس کے خیریت
 آج بازار تک نہیں آیا
 دار تک آ گیا ہوں میں لیکن 
 تیرے کردار تک نہیں آیا
 دشمن جاں کو سا منے دیکھا
 ہاتھ تلوار تک نہیں آیا
 اس کو کہتا ہے کون مے خانہ
 ایک مے خوار تک نہیں آیا
 وہ بہت سر بلند ہے لیکن
 مرے معیار تک نہیں آیا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭



 دل لگی سی دل لگانے سے رہی
 ایک رونق اس بہانے سے رہی
 اس قدر صدمے پڑے ہیں جان پر
 زندگی ا ب مسکرانے سے رہی
 ایک تو پہلو بدلتے بج گیا
 آج شب پھر نیند آنے سے رہی
 ایک چارہ بن گئی بے چارگی
 ایک ہمت آزمانے سے رہی
 میں نے کی ہے آسماں سے دوستی 
 اس کی نسبت آب و دانے سے رہی

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
وہ لگ گیا ہے جان کو آزار دوستا
بیٹھا ہوا ہوں جان سے بے زار دوستا
صد شکر آستینوں میں پنہاں نہیں ہے کچھ
صد حیف تیرے ہاتھ میں تلوار دوستا
ہم نے سنا تھا تجھ سا مسیحا نہیں کوئی
ہم نے سنا کہ مر گیا بیمار دوستا
قسمت کہ وہ بھی راستے اپنے بدل گیا
چھوڑا تھا جس کے واسطے گھر بار دوستا
مجھ تک نہ پہنچتے کبھی یوں دشمنوں کے ہاتھ
ہوتے جو تم سے اور بھی دو چار دوستا
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

 


 نہ پر ی کی تھی نہ وہ جادو کی 
 وہ کہانی تھی ایک جگنو کی
 موت کی خامشی میں آتی ہے
 مجھ کو آواز جیسے گھنگھرو کی 
 ہر طرف تیغ زن نکل آئے 
 بات چھیڑی تھی کس نے ابر و کی
 نرم تکیوں پہ سو سکا نہ کلیم 
مجھ کو عادت تھی ماں کے بازو کی
 شکار و ناوک و دانہ و دام ہو تے ہیں
 چمن میں پھر سے وہی اہتمام ہوتے ہیں
 قدم قدم پہ ہمیں روک لیتے ہیں جلوے 
 ہم ایسے لوگ کہاں تیز گام ہوتے ہیں
 زباں پہ ہوتی ہیں اکثر حلال کی باتیں 
 اگرچہ ہاتھ میں لقمے حرام ہوتے ہیں
 تمھارا عشق بھی اپنی جگہ سلامت ہے
 جو زندگی میں مگر اور کام ہوتے ہیں
 گلی میں گاؤں کے بچے یہ کہہ رہے تھے کلیم 
 سنا ہے شہر میں دیدار عام ہوتے ہیں
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 میں مسافر مزاج رکھتا ہوں 
 میرا ہوتا بھی گھر تو کیا ہوتا
 کس قدر سخت زند گی تھی کلیم
 یونہی ہوتی بسر تو کیا ہوتا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا 
 ہاتھ کی لکیروں سے زائچہ نکل آیا
 وہ جہاں بسایا تھا شوق خود نما ئی نے
 آئینے کے پیچھے بھی آئینہ نکل آیا
 کس نے ذکر چھیڑا تھا اس کی سرد مہری کا 
 باد و برف زاروں کا سلسلہ نکل آیا
 دائرے کے باہر بھی دائرے ہی لگتے ہیں
 دائرے کے اندر بھی دائرہ نکل آیا
پھر مرے خیالوں میں پھوٹنے لگی سرسوں 
پھر جنون و وحشت کا مسئلہ نکل آ یا
اس کی جھوٹی باتوں پر میں یقین کیوں کر لو ں؟
پھن اٹھائے بل سے پھر وسو سہ نکل آیا
 میں ابھی سفر کی دھول گھر کو لے کے لوٹا تھا
 پھر نئی مسافت کا راستہ نکل آیا

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
 یہ جانتے تھے کہ ملنا اداس کر دے گا
 کسے خبر تھی کہ اتنا اداس کر دے گا
 یہ جان کر بھی ہے کتنا ترا خیال عزیز
 ترے خیال کا رہنا اداس کر دے گا 
 میں کچھ نہیں ہوں تو ہونے کی کوششوں میں ہوں
 اگرچہ بعد میں ہونا اداس کر دے گا
 وہ میرے گرد لگائے گا ڈھیر خوشیوں کا 
 اور اس طرح مجھے دگنا اداس کر دے گا
 تمام دن میں پریشانیوں میں پھرتا رہا
 کہ چاند شام کو کتنا ا داس کر دے گا
٭٭٭


پروف ریڈنگ اور ای بک: اعجاز عبید
