﻿


عہد سے ظہور تک

   



سید اسد عالم نقوی






 
انتساب




اس عظیم الشان ماں حضرت نرجس خاتون علیہا السلام کے نام کہ جن کے فرزند کے ظہور سے کائنات جگمگا اٹھے گی!




مقدمہ

(الحمد الله رب العالمین باری الخلائق اجمعین الصلاة والسلام علی نبیہ و حبیبہ مولانا ابو القاسم محمد و آلہ الطیبین الطاہرین المعصومین ولاسیما حضرت بقیة اللہ الاعظم روحی و ارواح العالمین لہ الفدی واللعنة الدائمة علیٰ اعدائھم اجمعین الی قیام یوم الدین)

امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت ہر مومن اور مومنہ کے لئے واجب عینی ہے ہم فقط اپنے بچوں کو چہاردہ معصومین علیہم السلام کے نام یاد کروا کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی لیکن نہ فقط یہ بلکہ اگر اس سے بڑھ کر بھی بتائیں تو ہم حق معرفت امام علیہ السلام ادا نہیں کر سکتے ہیں ہم نے گذشتہ سالوں میں متعدد تبلیغی دوروں کے دوران اس بات کی اہمیت کو بہت نزدیک سے احسا س کیا کہ حضرت ولی عصر (عج) کے حوالے سے لوگوں کی معلومات بہت ہی مجمل ہے بس لوگ یہی جانتے ہیں کہ ہمارے امام (عج) غیبت میں ہیں۔ اور وہ ظہور کریں گے تو پوری دنیا کے مسائل حل ہو جائیں گے۔۔ ۔۔۔۔۔اور بس !۔

لیکن اس سے آگے کوئی نہیں سوچتا ہے کہ آیا ہماری بھی امام کے لئے کوئی ذمہ داری بنتی ہے کتنے ہی دن مہینے اور سال گزر جاتے ہیں لیکن ہماری دم میں امام (ع) کا خیال تک نہیں آ تا جب کہ ہم عالم اسلام کی کتب کا جائزہ لیں تو معلوم چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اس تمام گفتگو سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

کتنے ہی لوگ قم میں زیارت پر آ کر یہ سوال کرتے ہیں کہ’’مسجد جمکران کہاں ہے کہ جہاں امام زمان(عج) نماز پڑھاتے ہیں ‘‘اور اس ے ملتے جلتے سوالات۔۔۔۔۔۔۔

ہماری منطق اور ذہن کی کندی کا انھیں سوالات کی روشنی میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر چہ کہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت محدود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ محدود تعداد بھی کیوں ایسے سوالات کرتی ہیں ؟

وافر مقدار میں عقلی اور نقلی براہین موجود ہیں کہ جو معرفت اور امام وقت کی شناخت کے واجب ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ 

یہاں پر فقط معروف حدیث کہ جسے بارہا آپ نے سنا اور پڑھا ہو گا بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ 

حضرت ختمی مرتبت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)فرماتے ہیں :

 (من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیة)

اس روایت کو علماء اہل سنت اور اہل تشیع نے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے۔ 

البتہ بعض روایات تھوڑی کمی یا بیشی کے ساتھ بھی نقل ہوئی ہیں۔ 
مانند ’’من مات و لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتة جاھلیة ‘‘
’’من مات بغیر امام مات میتة جاھلیة‘‘
’’من مات لایعرف امامہ مات میتة جاھلیة ‘‘
من مات لیس علیہ امام فمیتة جاھلیة ‘‘
من مات لیس علیہ امام فمیتة میتة جاھلیة ‘‘
’’من مات لیس لہ امام مات میتة جاھلیة
ہم فقط ان احادیث کے حوالے پر ہی اکتفاء کریں گے۔ 

کتب علماء اہل تشیع

الذخیرة فی الکلام ص ۴۹۵،کشف الغمہ ج۳ ص۳۱۸،نفخات الاھوت ص ۳ ۱، اربعین شیخ بھائی (رہ)ص۶۰۲،اعلام الوریٰ ص۴۱۵،وسائل الشیعہ ج۱۶ ص۲۴۶، بحار الانوار ج۸ ص۳۶۸،ج۳۲ ص ۳۲۱و۳۳۱،ج۵۱ ص۱۶۰،ج۶۸ ص۳۳۹، مناقب آل ابی طالب ج۱ ص۳۰۴،اختصاس شیخ مفید(رہ) ص۲۶۸،تفسیر عیاشی ج۲ ص۳۰۳، تفسیر کنزالدقائق ج۷ص۴۶۰،محاسن برقی ج۱ ص۲۵۲ح۴۷۵،الامامة والتبصرة ج۱ ص۲۷۷،اصول کافی ج۱ ص۳۷۷،غیبت نعمانی ص۱۳۰،ثواب الاعمال ص۲۰۵،تفسیر برھان ج۱ ص۳۸۶،اختیار رجال کشی ص۴۲۵ ح۷۹۹،الامامة والتبصرة ص۲۲۰،کمال الدین ج۲ ص۴۱۲ و ۴۱۳ پیروان معرف امام ص۸،

کتب علماء اہل سنت 

صحیح مسلم ج۲ ص۴۷۵، ج۳ ص۱۴۷۸ح۱۸۵۱،المغنی ج۱ ص۱۱۶،الجمع بین الصحیحین حمیدی ج۲ ص۳۰۶،شرح المقاصد ج۵ ص۲۳۹،الجواھر المضیئة ج۲ ص۵۰۹،ازالة الفین ص۴۲،ینابیع المودة ج۳ص۳۷۲،یریقة المحمودیہ ج۱ ص ۱۱۶،مسند طیالسی ص۲۵۹ ح۱۹۱۳،مسند احمد ج۴ ص۹۶،معجم الکبیر ج۱۹ ص۳۸۸،مجمع الزوائد ج۵ص۲۱۸،کنزالعمال ج۱ ص۱۰۳،ح۴۶۴،،ج۶ص۶۵ ح۱۴۸۶ جممع الزائد ج۵ ص۲۴۴و۲۵۵،کشف الاستار عن زوائد البزار ج۲ص۲۵۲ ح۱۶۳۵،الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج۷ ص۴۹۔

ا س کتاب میں دعا عہد کی شرح بیان کی ہے تاکہ اس کی اہمیت اور عمق معنی کے حاصل ہونے کا اندازہ ہو سکے اگر چہ کہ معصوم کے کلام کی تشریح کا حق فقط معصوم ہی ادا کر سکتا ہے، ہم تو اپنی ظرفیت کے حساب سے کلام معصوم کو سمجھتے اور بیان کرتے ہیں۔ 

اس کتاب کے لکھنے میں ایک شخصیت کا نام ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنھوں نے اپنے ارشادات اور راہنمائی سے حقیر کی اس کتاب کے لکھنے میں بہت مدد فرمائی، حجة الاسلام والمسلمین جناب آقای شیخ علی اکبر مہدی پور مد ظلہ۔ خداوند عالم آپ کی توفیقات میں روز افزون اضافہ فرمائے (الٰہی آمین )

آخر میں تمام مومنین و مومنات کے لئے دعا کرتے ہیں کہ ہم سب کو حق معرفت امام زمانہ عطا فرمائے اور ہم کو اتنا علم عطا فرماتے کہ آپ علیہ السلام کے بیان کر دہ کلمات کو سمجھ کر اس پر عمل پیر ا ہو سکیں۔ (الٰہی آمین )

سید اسد عالم نقوی



 حوزہ علمیہ قم، ایران

دعائے عہد۔ دعا کی سند

اس دعا کو مرحوم مجلسی (رہ) نے متعدد واسطوں سے اپنی کتاب بحار الانوار میں مختلف مقامات پر نقل کیا ہے۔ من جملہ سید ابن طاؤس کی مصباح الزائر اور محمد بن علی جبعی کی مجموعہ جباعی ہے اور اس کے علاوہ بلد الامین،مصباح کفعمی اور کتاب عتیق سے بھی نقل کیا ہے۔[1]

ہم نمونہ کے طور پر فقط ایک سند کو نقل کرنے پر اکتفاء کریں گے۔

جلال الدین ابوالقاسم 
اور انھوں نے فخار بن معد بن فخار العلوی الحسینی الموسوی سے
اور انھوں نے تاج الدین ابو محمد الحسن بن علی سے
اور انھوں نے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بحرانی سے
اور انھوں نے ابی محمد الحسن بن علی سے
اور انھوں نے علی بن اسماعیل سے
اور انھوں نے  ابو ذکریا یحیٰ بن کثیر سے
اور انھوں نے محمد بن علی القرشی سے
اور انھوں نے احمد بن سعید سے
اور انھوں نے  علی بن حکم سے
اور انھوں نے  ربیع بن محمد المسلمی سے
اور انھوں نے  ابو عبداللہ بن سلمی سے
اور انھوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ’’جو کوئی بھی اس دعا کو چالیس روز تک صبح کے وقت پڑھے گا ہمارے قائم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھیوں میں سے ہو گا اور اگر حضرت  علیہ السلام کے ظہور سے پہلے انتقال کر جائے تو خداوند عالم اسے قبر سے نکالے گا تاکہ حضرت کے ساتھیوں میں شامل ہو جائے اور خدائے متعال دعا کے ہر جملہ کے بدلے اسے ہزار نیکیاں اور کرامت عطاء فرمائے گا اور اس کے ہزار گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

چالیس دنوں کی خصوصیات

ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ نہ صرف اس دعا کو پڑھنے کی تاکید چالیس روز تک ہے بلکہ بہت سے دوسرے مقامات پر ان چالیس دنوں کو خاص اہمیت حاصل  ہے۔

جیسا کہ مرحوم کلینی (رہ)  نقل کرتے ہیں 

 ’’ ما اجمل عبد ذکر اللّٰہ اربعین صباحاً الّا زَہَّدَہُ فی الدنیا……  واَثْبَتَ الحکمةَ فی قلبہ[2]

ترجمہ:  اس سے خوبصورت بندہ کون ہو گا جو خدا کا ذکر چالیس صبح تک کرے اور خدا اس کو زاہد قرار دے اور اس کے قلب میں حکمت راسخ فرمائے۔ 

علامہ مجلسی (رہ) جناب قطب راوندی(رہ) کی کتاب لب اللباب سے نقل کرتے ہیں کہ:

من اخلص العبادة لِلّٰہ اربعین صباحاً ینابیع الحکمة من قلبہ علی لسانہ[3]

ترجمہ: جو کوئی چالیس روز تک خلوص کے ساتھ خدا کی عبادت انجام دے تو حکمت کا چشمہ اس کے قلب سے پھوٹ کر زبان پر جاری ہو جائے گا۔

معرفت اور عبودیت کے درجات اور منازل کو طے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس طرح سے قدم بہ قدم بڑھے تاکہ کسی نتیجہ تک پہنچ سکے اس کے برعکس گناہوں اور معصیت کے بارے میں بیان ہوا ہے۔ 

جیسا کہ امام موسی کاظم سے نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

 ’’من شرب الخمر لم ےحتسب لہ صلا تہ اربعین یوماً ‘‘[4]

ترجمہ: جو کوئی شراب نوشی کرے تو چالیس دنوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔

اگر کوئی بھی گناہ انجام نہ دیا جائے فقط شراب پی جائے تو اس کا اثر چالیس روز تک برقرار رہتا ہے اس بارے میں متعدد روایت بیان ہوئی ہیں۔ 

بھلول نبّاش کا واقعہ بہت مشہور ہے اس واقعہ کو مرحوم صدوق  (رہ) نے اپنی کتاب امالی میں ذکر کیا ہے’’ بھلول کا گناہ کبیرہ میں مبتلا ہونے کے بعد حضرت رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی خدمت اقدس میں حاضر ہونا پھر اس کا چالیس دنوں تک مدینہ کے پہاڑوں میں پناہ لینا اور خداوند کے حضور میں اپنے  گناہوں کی معافی طلب کرنا اور مسلسل گریہ و زاری میں مشغول رہنا، اس واقعہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی :

<یا ایھا الذین امنواتوبوا الی اللّٰہ توبةً نصوحاً>[5]

  ترجمہ: اے ایمان والو !  خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو۔

اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ہوا کہ انھوں نے کتاب خدا اور احکامات الٰہی کے حصول کے لئے چالیس دنوں تک کھانا پینا ترک کیا۔ [6]

ان تمام روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کے لئے چالیس دن تک کوئی عمل انجام دینا خاص اہمیت رکھتا ہے۔جس طرح دعاؤں کا اثرچالیس دنوں بعد ظاہر ہوتا ہے اسی طرح گناہوں کا اثر بھی چالیس دنوں تک باقی رہتا ہے۔ 

< الَّلھُمَّ ربِّ النُّورِ الْعَظِیم  >

(اے اللہ !  اے نور عظیم کے پروردگار)

ممکن ہے کہ اس نور عظیم سے مراد رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا نور ہو کیونکہ اولین اور آخرین میں ان سے بڑا کوئی نہیں جیسا کہ بعض روایت کے مطابق آنحضرت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ راوی نے سوال کیا مثل نورہ سے کون لوگ مراد ہیں ؟

تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:

 ’’ محمد  (ص)‘‘[7] اور ممکن ہے کہ اس نور سے مراد مطلق (ہر قسم کا)نور ہو جیسے ان آیت میں ذکر ہوا ہے۔

<یا ایھا الناس قد جائکم برھان من ربکم و انزلنا الیکم نوراً مبینا> [8]

ترجمہ:  اے انسانو! تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی طرف سے برہان آ چکا ہے اور ہم نے تمھاری طرف روشن نور بھی نازل کر دیا ہے۔

<فآمنوا باللّٰہ و رسولہ والنور الذی انزلنا >[9]

ترجمہ: لہٰذا خدا اور رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے۔

جو نور بھی خداوند کی جانب سے خلق ہوا وہ نور عظیم ہے اگرچہ اس بارے میں اور بہت سے احتمالات دیئے جا سکتے ہیں جیسا کہ نور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا یا نور ائمہ معصومین  علیهم السلام.

لیکن ایک بات حتمی ہے اور وہ یہ کہ یہاں خداوند عالم سے جو درخواست کی جا رہی ہے وہ ایک بہت بڑی خواہش ہے یعنی حضرت بقیة الله روحی و ارواح العالمین لہ الفدیٰ کے ظہور کی خواہش ہے اسی لئے واسطہ بھی کوئی عظیم اور بڑا ہونا چاہیے۔

حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نور عظیم سے مراد خود حضرت حجت اللہ فرجہ شریف کی ذات اقدس ہو، اس سے بہتر بات کیا ہوسکتی ہے کہ ہم آپ  کے ظہور کے لئے خود حضرت  کوواسطہ قرار دیں۔ 

< و ربّ الکرسی الرفیع >

اے بلند کرسی والے پروردگار۔

عام طور پر کرسی سے وہ مقام مراد لیا جاتا ہے جو عرش سے نچلے درجے پر ہو جسکے بارے میں روایت میں بھی اشارہ ہوا ہے یعنی فضیلت اور مقام میں عرش کے بعد والے مرحلہ کو کرسی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قال رسول اللہ  (ص): 

’’ یا اباذر ما السماوات السبع فی الکرسی الّا کحلقة ملقاة فی ارض فلاة[10]

اے ابوذر ! کرسی میں سات آسمان نہیں ہیں مگر جیسے بیابان میں دائرے ہوں۔ 

یعنی تمام آسمانوں کی حیثیت کرسی کے سامنے ایک دائرے سے زیادہ نہیں بس یہیں سے کرسی کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ اوراگرکرسی سے مراد علم خداوند لیا جائے جیسا کہ آیت شریفہ میں ہے :

<وسع کرسیہ السموات و الارض>[11]

 اس کی کرسی علم و اقتدار زمین و آسمان سے وسیع تر ہے۔

تو پھر اس کرسی کی وسعت میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا۔

ساٴلت ابا عبداللّٰہ علیہ السلام  عن قول اللّٰہ عزّ و جلّ وسع کرسیہ السموات والارض قال علیہ السلام علمہ[12]

امام جعفر صادق  علیہ السلام سے  ’’وسع کرسیہ السموات و الارض ‘‘ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس سے کیا مراد ہے تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ’’خداوند عالم کا علم‘‘

اللہ تعالیٰ کے علم کی کوئی قید نہیں علم خدا سے وسیع کیا چیز ہوسکتی ہے؟ جو خود اس کی ذات کا حصہ ہے البتہ یہ عرض کرتے چلیں کہ ذات کا حصہ ہونے سے یہ مراد نہیں کہ پہلے ذات پھر علم بلکہ یہاں مسامحہ کے خاطر ایسی عبارات کو مطلب سمجھنے کے لئے لایا جاتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہی کرسی ہو جو مقام و منزلت میں عرش کے بعد آتی ہے پھر بھی یہ عظیم خلق ہے کہ جس کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’الشمس جزء من سبعین جزء من نور الکرسی والکرسی جزء من سبعین جزء من نور العرش[13]

سورج کرسی کے نور کا سترّواں حصّہ ہے اور کرسی نور عرش کا سترّواں حصّہ ہے۔

<ربّ البحر المسجور >

اے مارتی ہوئی موجوں سے بھرے ہوئے سمندر کے ربّ۔

مناسب تو یہ ہے کہ اس بحر مسجور سے مراد امام علیہ السلام ہوں کیونکہ وہی حجت اور مظہر خداوند ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام مخلوقات کے اوپر احاطہ کئے ہوئے ہیں اور جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے و ہ انھیں کے دم سے ہے یہاں تک کہ زندگی کا تصور ان کے بغیر ناممکن ہے، یہ نا ممکن ہونا محالات عقلیہ میں سے ہے نہ کہ عادتاً ممکن نہ ہو۔

اگرچہ بعض روایت میں بحر مسجور سے مراد وہ سمندر ہے کہ جو آسمان اور زمین کے--- درمیان پایا جاتا ہے، جیسے مولائے کائنات امیر المومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ:

  ’’ البحر المسجور بحر فی السماء تحت العرش [14]

بحر مسجور وہ سمندر ہے جو آسمانوں پر عرش کے نیچے ہے۔

بعض روایت میں اس کو انسان کی منی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو قیامت کے وقت آسمان سے بارش کی صورت میں نازل ہو گی کہ جس کے سبب مرنے والوں میں (جو مٹی کی صورت میں ہیں )دوبارہ زندگی نمودار ہو جائے گی اورسب اٹھ کھڑے ہوں گے۔ منی سے تشبیہ دینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ مردہ مخلوقات کے لئے حیات لے کر نازل ہو گی جیسے ایک مفصّل روایت میں بیان ہوا ہے :

 ’’ والبحر المسجور و ہی من منی کمنی الرجل فی مطر ذلک علی الارض فیلقی الماء المنی مع السموات البالیہ فینبتون من الارض و یحیون[15]

بحر مسجور منی سے ہے اور انسان کی منی کی طرح ہے زمین پر بارش کی صورت میں برسے گی اور مردوں کی مٹی میں مل جائے گی پھر وہ زمین سے زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے۔

اسی طرح بعض  مقامات پر اس کو بحر الحیوان سے تعبیر کیا گیا ہے جیسے:

و ہو  بحر معروف فی السماء یسمّی بحر الحیوان[16]

اور وہ بحر معروف ہے جو آسمان پر ہے اور جسے بحر الحیوان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ 

<منزل التوارےٰة والانجےل و الزّبور>

اے تورات، انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے۔

یہاں پر واسطہ ان آسمانی کتابوں کا دیا جا رہا ہے جو عالم بشریت کے لئے رحمت بن کر نازل ہوئیں لوگوں کو مقصد حیات بتانے آئیں اور مومنین کے لئے جنت کی بشارت اور کفار کے لئے عذاب کا وعدہ دینے آئیں۔ 

تورات حضرت موسی علیہ السلام پر انجیل حضرت عیسی علیہ السلام پر اور زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔

اے خداوند تجھے ان آسمانی صحائف کاواسطہ کہ اپنی کتاب ناطق صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو اپنے بے یار و مددگار اور صالحین کے لئے ظہور فرما۔

<رب الظل والحرور>

اے سایہ اور گرمی کے پروردگار

واضح ہے کہ سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور گرمی گرم ہوتی ہے یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی ضد ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ سایہ سے مراد نیک لوگ ہوں جن کے قلوب امید رحمت پروردگار سے ٹھنڈے ہیں جبکہ کفار و منافقین عذاب جہنم کے خوف سے اپنے سینوں میں آگ کی تپش لئے گھوم رہے ہیں۔ 

اگرچہ ممکن ہے کہ یہاں پر ظاہری معنیٰ یعنی سایہ اور حرارت ہی مراد ہو خداوند متعال نے عالم ھستی کو نظم کے ساتھ خلق کیا اور انسان کے لئے رات اور دن خلق کئے رات کو لوگوں کے آرام اور آسائش  کے لئے قرار دیا جبکہ دن کو حرارت کی صورت میں کام کرنے کے لئے مقرر کیا۔

< اٴلم یرو انا جعلنا اللےل لیسکنوا فیہ و النھار مبصراً >[17]

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو سکون حاصل کرنے کے لئے خلق کیا اور دن کو روشنی کا ذریعہ بنایا۔

 <منزل القرآن العظیم>

اے قرآن عظیم کو نازل کرنے والے۔

یہاں پر خداوند عالم کو اس کی اکمل اور اتم کتاب کا واسطہ دیا جا رہا ہے کہ جسکے بارے میں خود باری تعالی کا ارشاد ہے کہ۔

 <ما فرّطنا فی الکتاب من شیء>[18]

ہم نے کتاب میں کسی شے کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی۔

<ولا رطب و لا یابس الّا فی کتاب مبین >[19]

 نہ کوئی خشک اور نہ ہی کوئی تر ایسا ہے جو کتاب میں محفوظ نہ ہو۔

<و کلّ شیٴ احصیناہ فی اما م مبین>[20]

ہم نے ہر شئے کے شمار کو ایک روشن امام کے حصار میں رکھا ہے۔

<تبیاناً لکل شیٴ>[21]

ہر چیز کی وضاحت اس (کتاب) میں موجود ہے۔

<تنزِّل من القرآن ما ہو شفاء و رحمة للموٴمنین>[22]

اور ہم نے قرآن میں وہ سب کچھ نازل کیا جو صاحبان ایمان کے لئے شفاء اور رحمت ہے۔

پس معلوم ہو گیا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کتاب مقدس میں بیان نہ کی گئی ہو اور یہ بیان پورے عالم بشریت کے لئے حجت ہے اور یہی مومنین کے لئے نجات کی صورت میں رحمت ہے جبکہ کفار کے لئے عذاب کی شکل میں نازل ہوا۔

ارشاد رب العزت ہے :۔

<ولایزید الظالمین الا خساراً>[23]

اور ظالمین کے لئے خسارے میں اضافہ کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔

اور یہ وہی کتاب ہے جو حضرت کے ظہور کے سبب مقام عمل میں آئے گی آپ  کے ظہور کے بعد دنیا میں صرف دو گروہ رہ جائیں گے ایک وہ جو آپ کی صدا پر لبیک کھے گا اور دوسرا وہ جو آپ کی اطاعت کرنے سے انکار کرے گا چاہے وہ حربی ہوں یا فقط حق کا انکار کر نے والے۔ سب برابر ہوں گے اور خسارا انھیں لوگوں کے لئے بیان کیا گیا ہے۔

 < و رب الملائکة المقربین و الانبیاء و المرسلین >

اے مقربین ملائکہ اور انبیاء اور رسولوں کے پروردگار !

یہاں پر ان تمام مقدس ہستیوں کا واسطہ دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ جیسے قیامت کبریٰ کے دن لوگوں کے اعمال کا حساب ہو گا انسانوں کو مومن اور کافر کی صورت میں پیش کیا جائے گا اور ان کو جنت یا جہنم میں بھیجا جائے گا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :

<ھل ینظرون الانسان یاتیہم اللّٰہ فی ظلل من العمام والملائکة>[24]

 (۵)  بقرہ آیت ۲۱۰۔

ترجمہ:کیاانسان اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ ابر کے سایہ کے پیچھے عذاب خدا یا ملائکہ آ جائیں۔ 

جاء ربک والملک صفاً صفاً (۱)

ترجمہ:  ادھر تمھارے پروردگار عالم کا حکم ہوا اور ادھر فرشتے صفیں باندھے ہوئے صف در صف آ جائیں گے۔

<فاذا جاء امر اللّٰہ قُضی بینھم بالحق و خسر ھنا لک المبطلون>[25]

پھر جب حکم خدا آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور اس وقت اہل باطل ہی خسارے میں رہے۔

<و جییء بالنبین و الشھداء >[26]

اور انبیاء اور شہدا کو لایا جائے گا۔

حضرت کا ظہور میدان عمل میں قیامت صغریٰ کی صورت میں یہی عمل پیش کرے گا جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہو چکا ہے اور آپ اس مقصد اور مشن کو پورا کریں گے جو انبیاء اور ملائکہ لے کر آئے تھے۔

< اللھم انّی اساٴلک بوجھک الکریم و بنور وجھک المنیر >

اے خدا  ! بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری کریم اور روشن ذات کے صدقے میں۔ 

 نور اور وجہ میں ایسا ہی فرق ہے جیسا ذات اور مظہر ذات میں فرق ہوتا ہے۔

 یہاں پر ممکن ہے کہ وجہ سے مراد ذات پروردگار ہو جیسا کہ آیت شریفہ میں وارد ہوا ہے :

<کل شیٴ ھالکٌ الّا وجھہ >

اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے[27]

 اس سے مراد وجہ اللہ یعنی ذات خداوند عالم ہے[28]۔اور ممکن ہے کہ اس ’’وجہ‘‘ سے مراد ائمہ علیہم لسلام ہوں۔ 

 جیساکہ امام جعفر صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں :

نحن حجة اللّٰہ نحن باب اللّٰہ نحن لسان اللّٰہ نحن وجہ اللّٰہ[29]

ہم خدا کی حجت ہیں۔ ہم خدا کے دروازے ہیں۔ ہم خدا کی زبان ہیں اور ہم وجہ اللہ ہیں۔ 

اب چاہے اس سے مراد ذات پروردگار ہو یا خود ائمہ علیہم السلام ہوں جو مظہر ذات ہیں مطلب واضح اور روشن ہے۔ کہ ایک عظیم چیز کے لئے دعا مانگتے وقت واسطہ بھی عظیم ہی ہونا چاہئے۔

 <وَمُلْکِکَ القَدیم>

اور تجھے تیری قدیم مملکت کا واسطہ ہے

یہ واضح رہے کہ ملک اور مملکت افعالِ خداوند کے مظہر ہیں یہ پوری کائنات ائمہ  / کے صدقہ میں خلق ہوئی ہے اسی قدیم اور نا قابل تغیر بادشاہیت کا واسطہ،اُس بادشاہیت کا جو تیری ذات کی طرح قدیم اور جس کی تجھ سے جدائی غیر ممکن ہے۔

< یا حیّ یا قیوم >

اے زندہ جاودان کہ جس کا مرنا محال ہے اور اے ہمیشہ رہنے والے کہ جس کا زوال ممکن نہیں ہے۔

یہ اسماء حسنیٰ خداوند میں سے ہیں یعنی اللہ تبارک و تعالی نہ فقط زندہ تھا اور رہے گا بلکہ اس کی موت محال ہے وہی حیات دینے والا بھی ہے اور وہی ہے جو عدم سے وجود میں لے کر آتا ہے۔ مردہ کو زندہ کرتا ہے اور بعض مخلوقات تو بار بار موت و زندگی کا مزا چکھتی ہیں جیسے کہ آیت شریفہ میں بیان ہوا ہے۔

<اذ قال ابراھیم ربّی یحی و یمیت>[30]

جب ابراہیم نے یہ کہا کہ میرا پروردگار زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔

<واللّٰہ یحی و یمیت واللّٰہ بما تعملون بصیر>[31]

اور اللہ ہی زندگی اور موت کا اختیار رکھتا ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

<ھو یحی و یمیت و الیہ ترجعون>[32]

(اللہ) ہی ہے جو زندگی اور موت عطا کرتا ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

<یخرج ا  لمیت من الحیئّ و یحي الارض بعد موتھا>[33]

زندگی سے موت کی جانب لے جاتا ہے اور زمین کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔

حیّ کی طرح قیوم بھی ایسی صفت ہے جو صرف خداوند متعال کے لئے مخصوص ہے اور اس کی قیوّمیت میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔لفظِ قیوم قرآن مجید میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے اور تینوں مرتبہ صفت حیّ کے ساتھ وارد ہوا ہے جیسا کہ:

<  اللّہ لا الہ الّا ہو الحیّ القیوّم  >[34]

اللہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ ہمیشہ زندہ ہے اور ہر شے اس کے طفیل قائم ہے۔

<وعنت الوجوہ للحیّ القیوّم>[35]

اور اس دن سارے چہرے خدائے حیّ اور قیوّم کے سامنے جھکے ہوں گے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس دعائے شریفہ میں بھی لفظ قیوّم حیّ کے ساتھ آیا ہے اور خداوند عالم کو ان دو اسماء اعظم کا واسطہ دیا جا رہا ہے۔

<اساٴلُکَ بِاسْمِکَ الَذّی اَشّرَقْتَ بِہِ السَمٰواتِ والاٴَرْضُونَ>

سوال کرتا ہوں تیرے اس نام کے صدقے میں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کو منور کرتا ہے۔

ممکن ہے اس نام سے مراد باعث خلقت عالم نور پاک حضرت رسوال     خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)ہوں جیسا کہ حدیث ’’لولاک‘‘ میں بیان ہوا ہے۔ خداوند متعال فرماتا ہے:

یا احمدُ لَوْلاکَ لَما خَلَقْتَ الا فلاک

و لولا علی لما خلقتک ولولا فاطمہ لما خلقتکما[36]

اے احمد  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اگر آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نہ ہوتے تو ہر گز اس کائنات کو خلق نہ کرتا اور اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو ہر گز آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کو خلق نہ کرتا اور اگر فاطمہ سلام اللہ علیہا نہ ہوتیں تو ہرگز آپ دونوں کو خلق نہ کرتا۔

ممکن ہے اس سے مراد نور حضرت بقیة اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہو جیسے کلام مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

<اشرقت الارض بنور ربھا >[37]

زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

اس آیت شریفہ کے ذیل میں امام جعفر صادق  علیہ السلام  سے روایت ہے کہ:

اذ ا قام قائمنا اشرقت الارض بنور ربّھاو استغنی العباد عن ضوء الشمس ونور القمر [38]

جس وقت ہمارے قائم   = قیام کریں گے تو زمین پروردگار عالم کے نور سے روشن ہو جائے گی اور لوگ سورج اور چاند کی روشنی سے بے نیاز ہو جائیں گے۔

<و باسمک الذّی ےصلح بہ الاوّلون ولآخرون>

اور تیرے اس نام کا واسطہ جس سے اگلوں اور پچھلوں نے بھلائی پائی۔

بات واضح ہے کہ یہاں پر خداوند متعال کی ثناء کے ساتھ ساتھ اسی نام کو بھی واسطہ قرار دیا جا رہا ہے ممکن ہے یہاں خداوند کے ہم مثال نہ ہونے کو اشارے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہو۔

جب کوئی اس کا ہم نام اور ہم صفت اگلے اور پچھلوں میں نہ مل سکتا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کوئی اس کا ہم مثال ہو جیسے قرآن مجید میں ارشاد ربّ العزت ہوتا ہے:

<لیس کمثلہ شیٴ و ہو السمیع البصیر>[39]

اس جیسا کوئی نہیں ہے اور وہ سب کی سننے اور ہر چیز کا دیکھنے والا ہے۔

شناخت خدا کی بحث میں یہ مسئلہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور یہی مقام ہے کہ جہاں پرانسان بھٹک کر خدائے حقیقی لا یزال سے دور چلا جاتا ہے اور مادّیات میں سے خدا بنا بیٹھتا ہے جبکہ آیہ شریفہ میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ کوئی بھی شے اس جیسی نہیں ہوسکتی جسکی مثال دی جا سکے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمارے محدود۔ ذہنوں میں ایک لامحدود ذات کو تصویری شکل دی جا سکے شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ عقل سالم کے لئے اصل وجود خدا کو درک کرنا ایک بدیہی، آسان ا ور فطری بات ہے لیکن خدا کی صفات کے بارے میں جاننا انتہائی مشکل ہے خلاصہ یہ کہ وہ ایک ایسا وجود ہے جو ہر جہت سے لامحدود اور مطلق ہے۔

< یا حیّ قبل کلِّ حی ّ>

اے وہ زندہ جو ہر زندہ سے پہلے موجود تھا۔


جیسا کہ ذکر کیا  جا چکا ہے کہ ذات باری تعالی قدیم ہے، جب وہ قدیم اور لامحدود ہے تو اس کے علاوہ ہر شے اس کے بعد وجود میں آئی چاہے وہ مخلوق، جمادات میں سے ہویا مادیات میں سے یا انسانوں میں سے ہویا جنوں میں سے ہو۔

 جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

<و ان من شیٴ الّا یسبّح بحمدہ و لکن لا تفھمون تسبّحھم >[40]

اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن یہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔

یعنی تمام مخلوقات عالم چاہے وہ کسی بھی جنس یا نوع میں سے ہوں جو کچھ بھی غیر از خدا ہے، وہ خداوند عالم کی تسبیح اور عبادت میں مشغول ہے۔

< یا حیّ بعد کل حیّ >

اے ہر زندہ کے بعد زندہ رہنے والے۔

یعنی ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب صرف خدا ہو گا اور کچھ نہیں ہو گا جیسا کہ خداوند کی توصیف میں بیان کر چکے ہیں کہ وہ واجب الوجودِ لازوال ہے جبکہ فنا اور نابودی تو فقط زوال پذیر اشیاء کے لئے تصور کی جا سکتی ہے۔

< یا حیّ حین لاحیّ >

اے زندہ کہ جب کوئی زندہ نہ تھا۔ 

ممکن ہے یہ جملہ گذشتہ دو جملوں کو دوسرے الفاظ میں بیان کر رہا ہو جس میں بیان کیا گیا کہ ہر شے سے پہلے اور بعد میں فقط خدا ہے یہاں پر پہلے اور بعد کی قید ہٹا کر کلی طور پر بیان کیا جا رہا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں پر بیان کیا جا رہا ہو کہ خدا متعال کا وجود ایک ایسا وجود ہے جو اُس وقت بھی موجود ہے کہ جب کوئی نہ ہو جبکہ گذشتہ دو جملوں کا مطلب خداوند کا ہر شے سے مقدّم اور موخّر ہونا منظور ہو۔

< یا محی الموتی و ممیت الاحیاء >

اے مردوں کو زندہ اور زندہ کو موت دینے والے۔

اگرچہ اس بارے میں لفظ حیّ کی تفسیر میں بھی اشارہ ہو چکا ہے لیکن پھر بھی چند مزید آیت کو ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں :

<و ہو الذی احیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم>[41]

’’وہی خدا ہے جس نے تم کو حیات دی ہے اور پھر موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا۔‘‘

<اللّٰہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحیکم>[42]

’’اللہ وہی ہے جس نے تم سب کو خلق کیا ہے پھر روزی دی ہے پھر موت دیتا ہے پھر زندہ کرتا ہے‘‘

<کیف تکفرون باللّٰہ و کنتم امواتاً فاحیاکم>[43]

’’آخر تم لوگ کس طرح کفر اختیار کرتے ہو جبکہ تم بے جان تھے اور خدا نے تمھیں زندگی بخشی ہے‘‘

آخری آیت میں خداوند متعال اپنے وجود کی دلیل پیش کر رہا ہے کہ میں تو وہ ہوں جو تمھیں عدم سے وجود اور نیستی سے ھستی میں لے کر آیا اور اس کے باوجود بھی تم میرے وجود کا انکار کر رہے ہو۔

< یا حیّ لا الہ الا انت >

اے زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے

یہاں گذشتہ جملات کو مزید تاکید کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے اب جبکہ تو ایسا حیّ ہے تو بھلا کون تیرے علاوہ معبود ہوسکتا ہے فقط تو ہی ہمارا معبود ہے اور ہم فقط تجھ ہی کو سجدہ کریں گے اور تجھ ہی سے مدد مانگیں گے‘‘۔

ضمناً یہ بیان کرتے چلیں کہ ’’ لا الہ ‘‘ مادّہ  ’’حیّ‘‘ کے ساتھ قرآن مجید میں  متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلاً:

<لا الہ الا ہو یحی و یمیت ربّکم و ربّ آبائکم الاوّلین >[44]

’’اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہی حیات عطا کرنے والا ہے اور وہی موت دینے والا ہے

وہی تمھارا بھی پروردگار ہے اور تمھارے گذشتہ آباء و  اجداد کا بھی پروردگار ہے‘‘

<لا الہ الا ہو یحی و یمیت فاٰمنوا  باللّٰہ و رسولہ > [45]

’’اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہی حیات دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے لہٰذا اللہ اور اس کے پیغمبر  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر ایمان لے آؤ‘‘

<اللّٰہ لا الہ الّا ہو الحیّ القیوم > [46]

’’وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہر شے اس کے طفیل میں قائم ہے‘‘

<الم۔ اللّٰہ لا الہ الّا ہو الحیّ القیوم>[47]

’’الم۔ وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں اور وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہر شے اس کے طفیل میں قائم ہے‘‘

<ھو الحیّ لا الہ الّا ہو فادعوہ  >[48]

’’وہ ہمیشہ زندہ جاوید رہنے والا ہے اوراس کے علاوہ کوئی دو سراخدا نہیں پس اسی کی عبادت کرو ‘‘

مذکورہ آیت کریمہ کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حیات باری تعالیٰ اور اس کے معبود ہونے میں کوئی خاص رابطہ ہے، معبود صرف حیّ ہوسکتا ہے مردہ اور زوال پذیر چیز کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

< اللھمّ بلغّ مولانا الامام الپادی المھدی القائم بامرک صلوات اللّٰہ علیہ و علی آبائہ الطاھرین>

اے خداوند ! ہمارے آقا امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو بھیج، جو ہماری ہدایت کرنے والے اور خود ہدایت شدہ ہیں اور تیرے امر کو انجام دینے کے لئے تیار ہیں، خدا کا درود ہو ان پر اور ان کے اجداد طاہرین پر۔

’’مولا‘‘  مشترک لفظ ہے کبھی کنیز ور غلام کے مالک کو مولا کہا جاتا ہے اور کبھی کسی بزرگ یا عالم دین کو مولانا (ہمارے مولا)کہتے ہیں، جب کہ کبھی اپنے حقیقی اور مکمل معنی میں جو کہ صاحب اختیار کے ہیں استعمال ہوتا ہے جو کہ فقط پروردگار عالم کی ذات اقدس کے لئے مخصوص ہے جبکہ کبھی ایسی شخصیات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو خداوند عالم کی جانب سے ہمارے دنیاوی اور اخروی امور کے مالک ہوں ہمارے دین اور دنیا میں تصرف کا حق رکھتے ہوں خلاصہ یہ کہ ہم سراپا ان کے اختیار میں ہوں یقیناً ہر زمانے کی حجت صاحب اختیار اور مولا ہیں لہٰذا ہمارے زمانے کے مولیٰ حضرت بقیة اللہ الاعظم روحی و ارواح العالمین لہ الفدیٰ ہیں۔ 

لفظ ’’ امام‘‘ کے معنی رہبر اور آگے چلنے والے کے ہیں امام ملّت یعنی قوم کے رہبر یا پیش امام جن کی اقتداء میں نماز پڑھی جائے جو وقت ادائے فریضہ نماز میں سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔ 

 یہاں پر امام اپنے حقیقی اور وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی پوری امت کے رہبر جیسا کہ رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے لئے رب العزت کا ارشاد ہے:

<و ما ارسالناک الّا رحمة للعالمین>[49]

’’اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘

 فقط مومنین یا انسانوں تک بات محدود نہیں بلکہ عالمین کے لئے رحمت ہیں، آپ کے کاندھوں پر دو عالم کی رہبری کی ذمّہ داری ہے لہٰذا جو بھی انکا نائب حقیقی ہو گا وہ بھی عالمین کے لئے امام اور رحمت ہو گاپس اسی طرح امام معصوم (ع) عالمین کے امام اور رحمت ہیں۔ 

لفظ ’’ ہادی‘‘ یہاں اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی وہ لوگوں کی ہدایت کریں گے، گمراہی اور ضلالت سے نکال کر صراط مستقیم کی جانب رہنمائی فرمائیں گے جیسا کہ آدم علیہ السلام سے لے کر سارے اولیاء اور اوصیاء کا یہی ہدف اور مقصد رہا ہے اورسب کا ایک ہی نعرہ رہا ہے ’’ لوگوں کی حق مطلق کی طرف ہدایت‘‘ آپ کے ظہور سے وہ دعا جو ہم دن میں حد اقل دس مرتبہ اپنی نمازوں میں دہراتے ہیں :

<اھدنا الصراط المستقیم > [50]

’’ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما‘‘  اپنے انجام کو پہنچے گی۔

لفظ ’’مہدی‘‘ (عج) حضرت کے لئے متعدد روایت میں وارد ہوا ہے آپ کے اسماء گرامی میں یہ نام سب سے زیادہ شہرت کا حامل ہے اہل سنت اور اہل تشیع کے منابع میں یہ نام یکساں طور پر پہچانا جاتا ہے۔

جیسے کہ امام صادق  علیہ السلام سے روایت ہے کہ:

 انما سمّی القائم مھدیا لاَنّہ یہدی الیٰ امر مضلول عنہ[51]

’’ بے شک حضرت قائم کو مہدی اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک گمشدہ اور ترک شدہ امر کی جانب ہدایت کریں گے،

ایک اور مقام پر امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

  لاَنّہ یہدی الی کل امر خفیّ[52]

’’کیونکہ وہ ہر پوشیدہ امر کی جانب ہدایت فرمائیں گے‘‘۔

ایک اور مقام پر امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوتا ہے :

 فانّما سمّی المھدی لانّہ یہدی لامر خفیّ [53]

’’ بے شک حضرت کو مہدی(عج) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پوشیدہ امر کی طرف ہدایت کریں گے۔

تمام مذکورہ روایت میں گمشدہ امر سے مراد دین مبین اسلام ہے جس کو یا تو بھلایا جا چکا ہے یا پھر ابھی تک بہت سے ایسے احکامات ہیں کہ جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ 

لفظ  ’’قائم‘‘  کا اطلاق بھی فقط آپ ہی کے لئے مخصوص ہے، حضرت ابو حمزہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا کہ :

’’یا ابن رسول اللّٰہ اٴلستم کلکم قائمین بالحق‘‘ آیا آپ سارے ائمہ  قائم بر حق نہیں ہیں۔ 

امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:  ہاں (کیوں نہیں ؟)

ابو حمزہؒ  نے پوچھا:  تو پھر حضرت بقیة اللہ الاعظم کا نام قائم کیوں رکھا گیا ہے ؟

جس کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا:  لمّا قتل جدّی الحسین علیہ السلام ضجّت الملائکة الیٰ اللّٰہ عزّ و جلّ بالبکاء والنجیب و قالوا الھنا و سیدنا اَ تفعل عمّن قتل صفوتک و ابن صفوتک من خلقک فاوحیٰ اللّٰہ عزّ و جلّ الیہم قرّوا ملائکتی فوعزّتی وجلالی لاٴنتقمنَّ منھم و لو بعد حین ثم کشف اللّٰہ عزّ و جلّ عن الائمة من ولد  الحسین علیہ السلام للملائکة فسّرت الملائکة بذلک فاذا احدھم قائم ےصلّی فقال اللّٰہ عزّ و جلّ بذلک القائم انتقم منھم [54]

  ترجمہ:’’جس وقت میرے جدّ حضرت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے تھے تو ملائکہ نے گریہ و زاری شروع کر دی اور خداوند عالم سے کہنے لگے  اے خدا آیا تو اپنے برگزیدہ اور پیامبر گرامی  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے فرزند کے قتل کو نظر انداز کر دے گا جو تیری بہترین مخلوق کا فرزند ہیں۔ 

پھر خداوند عالم نے ملائکہ کے لئے وحی فرمائی: اے میرے ملائکہ ! صبر کرو، میری عزت اور جلال کی قسم بے شک ان لوگوں سے انتقام لوں گا چاہے کتنا عرصہ بھی کیوں نہ گزر جائے، پھر خداوند عالم نے پردہ ہٹا کر فرشتوں کو امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ائمہ  علیہم السلام کی زیارت کروائی جس پر فرشتے خوش ہو گئے انھوں نے انوار ائمہ  علیہم السلام  میں سے ایک کو دیکھا جو ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز میں مشغول تھے۔

پھر خداوند عالم نے فرمایا:  میں اس قائم (عج)کے ذریعہ انتقام لوں گا‘‘ جیسا کہ ہم دعائے شریف ندبہ میں پڑھتے ہیں ’’این الطالب بدم المقتول بکربلا  (دعائے ندبہ)کہاں ہے کربلا میں شہید ہونے والے کے خون کا بدلہ لینے والے۔

اسی لفظ ’’قائم‘‘ کے بارے میں مزید روایت میں یوں وارد ہوا ہے:

امام جواد علیہ السلام سے جب سوال ہوا کہ حضرت (ع) کو قائم کیوں کہا جاتا ہے تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

لاَنّہ یقوم بعد موت ذکرہ و ارتداد اکثر القائلین بامامتہ[55]

کیونکہ وہ اس وقت ظہور فرمائیں گے کہ جب ان کا ذکر ختم ہو چکا ہو گا اور اکثر لوگ جو انکی امامت کے قائل ہوں گے وہ مرتد ہو چکے ہوں گے۔

اور یہ واضح رہے کہ یہ قیام پروردگار عالم کے امر سے ہو گا اور حضرت (عج) خداوند عالم کے احکامات کو لوگوں تک پہنچائیں گے شاید مراد وہ امر ہو کہ جسکی اطاعت کا قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے:

< اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم[56]

’’اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو اولی الامر ہوں ‘‘

اگرچہ مسلمانوں کے درمیان اولی الامر کے معنی میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے بعض مفسرین کا کھنا ہے کہ اولی الامر سے مراد حکومت کی سب سے بڑی اور اعلیٰ شخصیت ہے اور بعض کا کھنا ہے کہ اس سے مراد علماء اور لوگوں کا نمائندہ ہے۔ بعض افراد کے مطابق روحانی اور معنوی قائدین  ہیں یعنی فقط عادل علماء جو قرآن و سنت کو مکمل طور پر جانتے ہوں جبکہ بعض علماء اہل سنت کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس سے مراد اجماع ہے یعنی لوگوں کی اکثریت جس بات پر قائل ہو جائے وہی حجت ہے۔

جبکہ اہل تشیع کے سارے علماء اور مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت شریفہ میں اولی الامر سے مراد ائمہ  معصومین علیہم السلام  ہیں۔ 

آیہ شریفہ میں اطاعت کا حکم مطلق آیا ہے، جسکا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی خدشہ اور خوف کے ان کی اطاعت کی جائے، اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس کی اطاعت کا حکم بغیر کسی خطا ء کے خوف سے ہو اسے یقیناً  ’’معصوم‘‘  ہونا چاہیے کیونکہ ہرگز غیر معصوم کی مطلق اطاعت معقول نہیں کیونکہ اس کے ہر فعل و قول میں غلطی اور اشتباہ کا احتمال ہوتا ہے جبکہ فقط معصوم علیم السلام کی ہی ذات ایسی ہوتی ہے جس میں غلطی اور بھولنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔

ان تمام باتوں کو مد نظر رکھیں تو گذشتہ تمام احتمالات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ حکومتی رئیسوں کی اطاعت کسی طور پر جائز نہیں ہوسکتی کیونکہ حکومت کے بڑے عہدے پر فائز ہو نے کا ہرگز یہ لازمہ نہیں کہ وہ خطاؤں سے پاک ہو جس کا مشاہدہ مسلمانوں کے درمیان ہونے والے واقعات میں کثرت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

بغیر کسی تردید کے بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفاء اس کی بہت روشن مثال ہیں اسی طرح موجودہ زمانے تک مشاہدہ کرتے چلے آئیں کس مسلمان حکومت کے حاکم صدر یا وزیر اعظم پر اندھا اعتماد کیا جا سکتا ہے ؟اگر اپنے ضمیر سے جواب طلب کریں تو بغیر کسی شک کے جواب منفی ہو گا۔

جن لوگوں کا کہنا ہے کہ’’ وہ عادل علماء جو قرآن و سنت سے آگاہ ہوں ‘‘ مراد ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہو گا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کونسا عالم عادل ہے اور قرآن و سنت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ عوام میں تو اس بات کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے لہٰذا اہل خُبراء یعنی مفتی اور مجتہدین ہی اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ مفتی اور مجتہدین حضرات جس کے حق میں فیصلہ کریں وہ ہی واجب الاطاعت ہو گاجس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دراصل مفتی اور مجتہدین ہی واجب الاطاعت ہوں گے کیونکہ اصل فیصلہ تو انکا ہو گا نہ کہ اس عالم کاجو منتخب ہوا ہے، اور یہ بات قطعاً آیہ مبارکہ کے خلاف ہے۔

اگر اس سے مراد اجماع ہے تو عرض کرتے چلیں کہ اس بات کا وجود میں آنا کہ ساری امت متفق ہو جائے یہ غیر ممکن ہے رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی حیات طیّبہ کے بعد سے آج تک مسلمان رہبری اور امامت جیسے اہم مسئلہ پر متفق نہیں ہوسکے ہیں اگر پھلی اور دوسری صدی کی تاریخ کو ہی مد نظر رکھیں تو حکومت اور سیاسی نوک جھوک میں کتنے ہی قتل و غارت اور جنگی نظر سے گزریں گی حتی حکومت کے حصول کے لئے بچے اور عورتوں کا تو کیا اپنے خاندان کے افراد کو بھی ذبح کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ یہ ساری سیاسی چالیں اور مکاریاں آج بھی تاریخ میں درج ہیں۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امت کو کوئی بھی شخص معصوم نہیں ہے یعنی اگر سب کو الگ الگ کر کے حساب کیا جائے تو کوئی بھی گناہوں اور خطاؤں کی لپیٹ سے آزاد نہیں ملے گا ایسی صورت حال میں ان کی حیثیت صفر کی ہے اب یہ صفر چاہے لاکھوں اور کروڑوں میں بھی تبدیل ہو جائیں صفر ہی رہیں گے ان کی حیثیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔

اگرچہ اہل تشیع میں کسی بھی اجماع کی اگر وہ معصوم (ع) کے بغیر ہو کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر کہیں اجماع کو دلیل مانا بھی جاتا ہے تو وہ وجود مقدس معصوم (ع) کی وجہ سے ہے۔ معصوم (ع) کے وجود سے خالی اجماع ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔

اس بات کا اعتراف کہ اطاعت مطلق کے واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس کی اطاعت کی جا رہی ہو وہ معصوم ہو اہل سنت کے عظیم مفسر فخر رازی نے اس طرح کیا ہے کہ ’’ خدا جس کی اطاعت کا حکم قطعی طور پر اور بغیر کسی چون و چرا کے دیتا ہے وہ یقیناً معصوم (ع) ہونا چاہیے کیونکہ اگر خطاء سے محفوظ نہ ہو اور خداوند عالم نے اس کی اطاعت کا حکم دے رکھا ہو تو یہ ایک قسم کا کلام خدا میں تضاد ہے کیونکہ ایک جانب سے اس کا حکم ماننا ممنوع ہے اور دوسری طرف سے اطاعت کا حکم دیا جا رہا ہو کہ جو ایک ہی فعل میں امر و نہی کے جمع ہونے کا سبب بنے گا جو محال ہے لہذا اس بات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ خداوند عالم نے جو قطعی طور پر مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اس کا لازمہ یہ ہے کہ یہ اولی الامر معصوم (ع) ہو‘‘[57]

لہٰذا اب جو احتمال باقی بچتا ہے کہ جس پر کوئی اعتراض ممکن نہیں ہے وہ یہی ہے کہ جو علمائے اہل تشیع کہتے ہیں۔ اس آیت مبارکہ شریفہ میں اولی الامر سے مراد ائمہ  معصومین  علیہم السلام ہیں۔ 

اس بات کی تائید میں منابع اہل تشیع میں متعدد روایت بھی وارد ہوئی ہیں ہم فقط منابع اہل سنت سے نمونہ کے طور پر چند ایک روایت کو نقل کرتے ہیں۔ 

ابو حیان اندلسی نے لکھا ہے کہ یہ آیت علی علیہ السلام کے حق میں نازل ہوئی  ہے۔[58]

علامہ ابوبکر بن مومن شیرازی اپنے  ’’رسالة الاعتقاد ‘‘  میں لکھتے ہیں۔ (طبق مناقب الکاشی) ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ آیت مبارکہ علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے[59]

شیخ سلیمان حنفی قندوزی لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک آدمی حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ سب سے معمولی چیز کون سی ہے کہ جس کی وجہ سے انسان مومن بن جاتا ہے ؟ اور سب سے کم چیز کون سی ہے کہ جس کے سبب انسان کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے؟

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:  ’’ سب سے کم چیز کی جس کے سبب انسان گمراہ ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان حجّت خدا کہ جس کی اطاعت لازم ہو اس کو نہ پہچانے‘‘

اس آدمی نے سوال کیا :’’ یا امیر المومنین علیہ السلام وہ لوگ کون ہیں مجھے بتلائیں ‘‘

امام علیہ السلام نے فرمایا:  وہی لوگ جو آیت شریفہ :< یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم>[60] میں ذکر ہیں۔ 

اس شخص نے پھر سوال کیا  ’’ میری جان آپ پر قربان ہو کچھ وضاحت کے ساتھ فرمائیں۔ 

امام عالی مقام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:   وہی لوگ کہ جن کے بارے میں رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنے آخری خطبہ میں ذکر کیا تھا  ’’ انی ترکت فیکم امرین لن تضلوا بعدی ان تمسکتم بھما کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی ‘‘[61]

’’ میں تمھارے درمیان دو یادگار چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر ان کے ساتھ رہو گے تو ہر گز میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے خدا کی کتاب قرآن اور میرے اہل بیت علیہم السلام۔ ‘‘

یہ بات تو مقدمہ میں بیان ہو چکی ہے کہ اگر کوئی منصب یا فضیلت کسی ایک معصوم (ع)کے لئے ثابت ہو جائے تو سب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم حضرت بقیة اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کو ’’صاحب امر‘‘ ارواحنا فدا بھی کہتے ہیں۔ 

محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر درود بھیجنے کے بارے میں ارشاد رب العزت ہے کہ :

< ان اللّٰہ و ملائکتہ و ےصلون علی النبی یا ایہا الذین آمنوا صلّوا علیہ و سلّموا تسلیماً>

’’بے شک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر صلوات بھیجتے ہیں تو اے صاحبان ایمان تم بھی ان پر صلوات بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو[62]

البتہ یہ بات واضح رہے کہ جب صلوات کو خداو ند  متعال سے نسبت دی جائے تو رحمت کے نزول کے معنی میں آتا ہے اور جس وقت فرشتوں او مومنین سے نسبت دی جائے تو طلب رحمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

دوسری بات کہ جسکا جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ’’ صلوات اور سلام ‘‘ میں فرق ہے۔ صلّوا طلب رحمت اور پیامبر گرامی  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر درود بھیجنے کے لئے آتا ہے لیکن سلّموا کے بارے میں دو احتمال ہیں ’’ ایک تو یہ کہ حضرت ختمی مرتبت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے زمانے میں اور احکامات کے سامنے سر تسلیم خم ہونا ہے جیسے ایک اور مقام پر خالق کائنات کا ارشاد ہوتا ہے کہ :

< ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا  جامعا قضیت و یسلموا تسلیماً> [63]

ترجمہ: ’’اور پھر جب آپ فیصلہ کر دیں تو اپنے دل میں کسی طرح تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہو جائیں ‘‘۔

جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی نسبت کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا :

 ہو التسلیم لہ فی الامور [64]

 ہر کام میں پیامبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے سامنے تسلیم رہنا ہے۔دوسرا معنی آپ پر سلام بھیجنے کے لئے ہے جیسے ’’ السلام علیک یا رسول اللّٰہ   (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)‘‘

ابو حمزہ ثمالیؒ سے روایت ہے کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے صحابی کعب نے پوچھا کہ آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر سلام کرنے کو تو ہم سمجھ گئے ہیں لیکن صلوات کیسے بھیجی جائے تو حضرت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے جواب میں فرمایا کھو:

اللھم صلی علی محمد وآل محمدکماصلیت علی ابراھیم انک حمید مجیدو با ر ک علی محمد و آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و آل ابراھیم انک حمید مجید[65]

اگرچہ ظاہری طور پر یہ دونوں معنیٰ ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں اس کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص آپ  (ص)پر سلام بھیج رہا ہے اور خدائے متعال سے آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی سلامتی کا طلب گار ہے یقیناً وہ آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے دوستوں اور محبت کرنے والوں میں سے ہے جبکہ محبت کرنے والا صرف اسی کو کہا جائے گا کہ جو مطلق طور پر آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے فرمان اور احکامات کے سامنے تسلیم ہو۔

اہل سنت کے بزرگ مفسر امام جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر در المنثور میں اس آیت شریفہ کے ذیل میں بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن مردویہ سے متعدد روایت نقل کرتے ہیں [66]ہم صرف ایک روایت کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ 

ایک شخص حضرت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر سلام بھیجنے کو تو ہم سمجھ گئے لیکن صلوات کیسے بھیجی جائے حضرت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے جواب میں فرمایا کھو:  ’’اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم انّک حمید مجید اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و آل ابراھیم انّک حمید مجید‘‘

اسی مضمون کی تفسیر میں ۱۸ روایت نقل ہوئی ہیں البتہ یاد رہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے منابع میں متعدد روایت میں کلمہ ’’علی‘‘ کے بغیر صلوات نقل ہوئی ہے جیسے :  اللھم صلی علی محمد و آل محمد۔

اہل تشیع کے تمام فقہاء اور مجتہدین کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ نماز کے دونوں تشہدوں میں صلوات بھیجنا واجب ہے اور اگر کوئی بغیر صلوات کے نماز پڑھے گا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہے۔

<عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الاََْرْضِ وَمَغارِبِھا سَہْلِھا وَجَبَلِھا وَبَرِّھا وَبَحْرِھا >

(تمام مومنین اور مومنات کی جانب سے چاہے وہ کرۂ  ارض کے شرق میں ہوں یا غرب میں، صحراء میں ہوں یا پہاڑوں میں خشکی میں ہوں یا سمندر میں )

تمام خلائق عالم کی جانب سے اُن پر اور اُن کے اجداد پر صلوات ہو دنیا کی ہر مخلوق اُن کے انتظار میں سرگرداں ہے۔حضرت عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور سے ہر چیز کو قرار آ جائے گا۔اسی لئے ہماری دعا ہے کہ ہماری اور تمام مخلوقات کی جانب سے حضرت کو درود اور سلام پہنچے۔

<وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَواتِ >

(اور میری طرف سے اور میرے والدین کی طرف سے درود ہو)

یہاں پر ادبی لحاظ سے عطف خاص، عام کے بعد ذکر ہوا ہے یعنی مطلب یہ ہوا کہ جب مومنین اور مومنات کہا جا چکا تو پھر (میں اور میرے والدین) بھی انہی مومنین میں شامل ہیں لیکن اہمیت اور خصوصیت کو بیان کرنے کے لئے یہ عطف خاص، عام  کے بعد لانا معمول کے مطابق ہے۔

< زِنَةَ عَرْشِ اللّہِ وَمِدادَ کَلِماتِہ وَمَا اٴَحْصاہُ عِلْمُہُ وَاٴَحاطَ بِہِ کِتابُہُ>

(جو عرش خدا کا ہم وزن ہو خدا کے کلمات کی طرح پھیلاؤ کا حامل ہو اور اس کے علم نے جس جس شے کا احاطہ کیا ہے اور جس جس شے کا اس کتاب میں ذکر ہے اتنا ہی وسیع اور گستردہ ہو)

ظاہری طور پر سارے کلمات دعا کی اہمیت اور خصوصیت کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جب کسی عظیم چیز کو مانگا جائے تو واسطہ بھی اس کے شایان شان ہونا چاہیے۔ عرش خدا کا وزن باوجود اس کے کہ وہ بھی مخلوق خداوند ہے لیکن ممکن نہیں کہ خداوند اور اس کے خاص بندوں کے علاوہ کوئی بھی اس کے بارے میں علم رکھتا ہو۔

کلمات خداوند کی مقدار بھی اسی طرح سے ہے کہ جس طرح سے خود ارشاد خداوند رب العزت ہے کہ:

<قل لو کان البحر مداداً لکلمات ربّی لنفذ البحرُ قَبْلَ ان تنفذ کلمات ربّی و لو جئنا بمثلہ مداداً>[67]

’’آپ کہہ دیجئے کہ اگر پروردگار کے کلمات کے لئے سمندر بھی روشنائی بن جائے تو کلمات رب ختم ہونے سے پہلے ہی سارے سمندر ختم ہو جائیں گے چاہیں ان کی مدد کے لئے ہم ویسے ہی سمندر اور بھی لے آئیں ‘‘

علم اور کتاب خداوند عالم لا محدود ہے اس لامحدود علم اور کتاب کو واسطہ قرار دیا جا رہا ہے جیسا کہ کتاب خداوند کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔ 

<ما فّرطنا فی الکتاب من شیٴ >

(ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے)[68]

<و لا رطب و لا یابس الّا فی کتاب مبین>

(ا ور کوئی خشک وتر ایسا نہیں ہے جو کتاب مبین کے اندر محفوظ نہ ہو)[69]

<تبیاناً لکلّ شیٴ>

(اس (کتاب ) میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے)[70]

اس کتاب خدا کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ ظاہر تو معلوم ہے کہ شریعت ختمی مرتبت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اور باطن وہ علم ہے کہ جو خداوند کی طرف سے حضرت خاتم الانبیاء  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اور ان کے جانشین کو عطا ہوا ہے۔

جیسے رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)فرماتے ہیں : 

’’انا مدینة العلم و علی بابھا فمن اراد العلم فلیات باب المدینة‘‘

میں علم کا شہر ہوں اور علی علیہ السلام اس کا دروازہ ہیں لہذا جو کوئی علم کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے وہ دروازے سے آئے۔[71]

اسی طرح امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام نے فرمایا:

اعلم ان جمیع اسرار الکتب السماویہ فی القرآن وجمیع ما فی القرآن فی الفاتحة و جمیع مافی الفاتحة فی البسملہ وجمیع مافی البسملہ فی باء البسملہ و جمیع ما فی باء البسملہ فی النقطة التی ہی تحت الباء قال الامام علیہ السلام انا نقطة التی تحت اللباء [72]

ترجمہ:’’جان جاؤ بے شک ساری آسمانی کتابوں کا علم قرآن میں ہے اور جو کچھ قرآن میں ہے وہ سورہ فاتحہ میں ہے اور کچھ سورہ فاتحہ میں ہے۔۔ ۔میں ہے وہ بسم اللہ میں ہے اور جو کچھ بسم اللہ میں ہے وہ اس کے حرف باء میں ہے اور جو کچھ حرف باء میں ہے وہ اس کے نقطہ میں ہے امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اور میں وہ نقطہ ہوں جو باء کے نیچے ہے۔‘‘

اسی طرح جب جنگ صفین میں شامیوں نے قرآن کو نیزوں پر اٹھایا اور اس کو حَکَم بنانا چاہا تو حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:

’’انا القرآن الناطق‘‘[73]

  ترجمہ:  میں قرآن ناطق ہوں۔ 

جب دعا قرآن ناطق اور باء بسم اللہ کے ظہور کی ہو تو واسطہ بھی اس کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔

 حال حاضر میں خلائق کائنات میں حضرت (عج)سے زیادہ افضل و اعلم کوئی ذات وجود نہیں رکھتی وہ وارث علم انبیاء اور اوصیاء سلام اللہ علیہم اجمعین ہیں لہٰذا ان کی حیثیت کے مطابق وسیع و عریض چیزوں کے واسطہ دیئے جا رہے ہیں۔ 

< اللّہُمَّ إِنِّی اٴُجَدِّدُ لَہُ فِی صَبِیحَةِ یَوْمِی ہذَا وَمَا عِشْتُ مِنْ اٴَیَّامِی عَہْداً وَعَقْداً وَبَیْعَةً لَہُ فِی عُنُقِی لاَ اٴَحُولُ عَنْہ وَلاَ اٴَزُولُ اٴَبَداً >

(اے خدا ! بے شک میں آج کی صبح کا آغاز اور جب تک زندہ رہوں گا یہ عہد اور پیمان اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے اس کو نہ بدلوں گا اور نہ کبھی ترک کروں گا۔)

 یہ بات صرف اس صبح اور باقی ماندہ زندگی کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عہد و عقد اور بیعت کرتا ہوں واضح رہے کہ ’’عہد‘‘ ایک عملی مظاہرہ ہے کہ جو معاہدہ کے بعد کا مرحلہ ہے جبکہ ’’عقد‘‘ اعتقاد قلبی اور اس پر ایمان کا نام ہے اسی طرح ’’بیعت‘‘ ملکی معاملات میں تسلیم ہونے کا نام ہے۔ میرا پورا اخلاص میرا ایمان میرا عقیدہ میرا ظاہر میرا باطن سب حضرت بقیة اللہ کے لئے ہے اس طرح سے کہ ان امور میں سے کچھ بھی کمی نہ ہونے پائے۔

یہاں پر امامت اور ولایت کے تابع ہونے کا ثبوت دیا جا رہا ہے اور یہ عقیدہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے اس میں کچھ تبدیلی نہ آنے پائے۔

یہ ہر صبح پڑھنے کے لئے ہے حدّ اقل چالیس صبح کو ضرور پڑھے کیونکہ چالیس دنوں میں جا کر ممکن ہے کہ انسان کا عہد،عقد اور بیعت مکمل ہو جیسے کہ چالیس سال میں پہنچ کر انسان کامل ہوتا ہے۔

امام جعفر صادق  علیہ السلام سے روایت ہے کہ:  اذا بلغ اربعین سنة فقد بلغ منتھا [74]

جب انسان چالیس سال کا ہوتا ہے تو پھر جا کر مکمل ہوتا ہے۔

لہٰذا جب تک چالیس عدد پورے نہ ہو جائیں اس کو پڑھا جائے یہاں تک کہ ایمان کامل ہو جائے اور اس کے بعد اس لئے پڑھتا رہے کہ ایمان باقی رکھ سکے۔

امام جعفر صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں : ما اخلص عبد الایمان با للّٰہ اربعین یوماً الّا زھدہ اللّٰہ فی الدنیا و بصّرہ دائھا و دوائھا و اثبت الحکمة فی قلبہ  [75]

کسی بندہ کا ایمان خداوند کے اوپر خالص نہیں ہوتا مگر یہ کہ خداوند ا س کو چالیس روز دنیا سے بے رغبت کر دیتا ہے اور اس کے درد اور  دواء کی نشاندہی کر دیتا ہے اور حکمت کو اس کے قلب پر ثابت کر دیتا ہے۔

اب جبکہ چالیس دنوں میں ایمان خالص،بیعت و عہد و عقد خالص ہو جائے تو ہرگز میں اپنے مقام سے تنزل نہ کروں اور صبح کی تاکید بھی اسی لئے ہے کہ جب اس دعا کے نتیجہ کا وقت ہو گا یعنی جب دعا کا ثمرہ ظہور کی صورت میں نصیب ہو گا تو میں شروع سے ان کے ساتھ رہوں خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ظہور کے وقت میرے ایمان میں کمی آ جائے مجھے شروع سے ان کے ساتھ رہنا چاہیے نہ یہ کہ وسط یا آخری دور میں جا کر ملوں۔ میں اپنی شروعات انھیں کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں جیسے اپنے دن کی شروعات اس عقد و عہد کے ذریعہ کر رہا ہوں۔ 

اور پھر جب عہد و پیمان ہو گیا اور بیعت کر لی گئی تو پھر کہا جائے گا:

< اللّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ اٴَنْصارِہِ وَاٴَعْوانِہِ وَالذَّابِّینَ عَنْہُ والْمُسارِعِینَ إِلَیْہِ فِی قَضاءِ حوَائِجِہِ وَا لْمُمْتَثِلِینَ لاََِوامِرِہِ وَالْمُحامِینَ عَنْہُ وَالسَّابِقِینَ إِلی إِرادَتِہِ وَالْمُسْتَشْہَدِینَ بَیْنَ یَدَیْہِ>

(اے خدا!  مجھے ان کے انصار اور اعوان میں سے قرار دے اور ان کا دفاع کرنے والوں میں سے اور انکی حاجت روائی کرنے والوں میں انکی طرف بڑھنے والوں میں سے اور انکے حکم پر چلنے والوں میں سے اور انکی جانب لوگوں کو بلانے والوں میں سے اور انکے ارادوں کو پہلے پورا کرنے والوں میں سے اور انکے سامنے شہید ہونے والوں میں سے قرار دے)۔

اس مقام پر آ کر بندہ اپنے خالق سے توفیق طلب کر رہا ہے کہ مجھے اُن کے انصار و اعوان میں سے قرار دے۔ تمام نیکیوں اور خوبیوں کا منشاء اور منبع خداوند متعال ہے اسی لئے ہمیشہ انسان کو طالب توفیق ہونا چاہیے کہ خداوند عالم انسان کو راہ مستقیم پر لا کر اس پر باقی رکھے ہر شخص کو چاہیے کہ صدق دل سے دعا کرے کیونکہ خداوند متعال اس کے دل کے حال سے آگاہ ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔

ارشاد رب العزت ہے: 

<عالم الغیب و الشہادة و ہو الحکیم الخبیر >[76]

’’وہ غائب اور حاضر سب کا جاننے والا صاحب حکمت اور ہر شے سے باخبر ہے‘‘

<و للّٰہ غیب السموات والارض >[77]

’’اور آسمان اور زمین کا سارا غیب اللہ ہی کے لئے ہے‘‘

<ان اللّٰہ یعلم غیب السموات و الارض واللّٰہ بصیر بما تعملون >[78]

’’بے شک اللہ آسمان اور زمین کے ہر غیب کا جاننے والا ہے اور وہ تمھارے اعمال کا بھی دیکہنے والا ہے‘‘

اسی لئے زیارت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام میں بھی ہم پڑھتے ہیں :

یا لیتنی کنتُ معکم فافوز فوزاً عظیماً۔ 

’’اے کاش میں بھی (کربلا میں ) آپ کے ساتھ ہوتا تاکہ آپ علیہم السلام  کے اوپر اپنی جان نثار کر کے اس مقامِ شہادت پر فائز ہوسکتا‘‘۔

اگر واقعاً یہ خواہش ہو اور صدق دل کے ساتھ مانگا جائے یقیناً درگاہ پروردگار میں قبول ہو گئی جس کے بارے میں متعدد روایت وارد ہوئی ہیں مانند:

حضرت ابو بصیرؒ امام جعفر صادق  علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا:

بے شک عبد مومن فقیر یہ کہے:  یا ربّ ارزقنی حتّی افعل کذا کذا من البرّ و وجوہ الخیر فاذا علم اللہ عز و جلّ ذلک منہ بصدق نیة کتب اللّٰہ لہ من الاجر مثل ما یکتب لہ عملہ ان اللّٰہ واسع علیم[79]

’’پروردگار مجھے رزق عطا فرما تاکہ میں نیکی اور بھلائی وغیرہ کرسکوں پھر جب خداوند عالم اس کی نیت کی سچائی کو دیکھے گا تو اس کے لئے وہی اجر لکھ دے گا کہ جو اس پر عمل کرنے سے لکھا جا تا بے شک خداوند عالم واسع اور سب چیزوں کو جاننے والا ہے۔‘‘

ابو ہاشم امام جعفر صادق  علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: انّما خلّد اہل النار فی النار لاٴنّ نےّاتھم کانت فی الدنیا ان لو خلدوا فیہا ان یعصو اللّہ ابداً و انّما خلّد اہل الجنة فی الجنة نیا تھم کانت فی الدنیا ان لو بقوا فیہا ان ےطیعوا اللّٰہ ابداً فبا لنےّات خلّد ہولاء و ہو لاء ثم تلا قولہ تعالیٰ:   قل کل یعمل علی شاکلة [80]

’’آپ کہہ دیجئے کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کرتا ہے‘‘

 قال علی علیہ السلام :  علی نیتہ[81]

’’بے شک اہل جہنم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے کیونکہ دنیا میں ان کی نیت یہ تھی کہ اگر ہمیشہ کے لئے دنیا میں رہ جائیں تو خدا کی نافرمانی کرتے رہیں گے اور اہل جنت ہمیشہ جنت میں رہیں گے کیونکہ دنیا میں ان کی نیت یہ تھی کہ اگر دنیا میں ہمیشہ کے لئے بھی رہ جائیں تو پھر بھی خداوند کی فرمانبرداری کرتے رہیں گے لہٰذا نیتوں پر ہے۔ جس کی جیسی نیت ہے وہ ویسا ہی رہے گا پھر امام علیہ السلام نے اس آیت شریفہ کی تلاوت فرمائی:

<’’ (اے رسول(ص))کہہ دو ہر شخص اپنی ذات اور طبیعت کے مطابق عمل انجام دے گا‘‘>

امام علیہ السلام نے فرمایا:  ’’اس سے مراد ان کی نیت ہے‘‘

یہاں پر ہماری نیتوں پر منحصر ہے کہ ہم کس چیز کی خواہش رکھتے ہیں۔ اگر ہماری دعا میں خلوص شامل ہے تو یقیناً ہمیں یہ درجہ عطا کیا جائے گا کہ جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں۔ 

لفظ انصار اور اعوان کا مطلب تقریباً ملتا جلتا ہے۔البتہ عون کا درجہ نصرت سے ذرا زیادہ ہے یعنی اگر کوئی زبانی حمایت بھی کرے تو ناصر کھلائے گا مگر عون اس وقت بنے گا جب عملی طور پر حمایت کرے ممکن ہے کہ یہ سوال پیدا ہو کہ غیبت کے زمانے میں عملی طور پر کس طرح کام کیا جا سکتا ہے؟ توا س کے جواب میں عرض کرتے چلیں کہ فرائض اور واجبات ہر دو رکی مناسبت سے مختلف ہوتے ہیں۔ زمان ظہور میں جو فرائض  ہوں گے وہ خود ہی حضرت(عج) آ کر معین فرمائیں گے لیکن زمان غیبت میں ہمارے کچھ فرائض ہیں یہ فرائض تکالیف اور احکامات شرعی  کے علاوہ ہیں کہ جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ خود امام زمان(عج) کی نسبت سے بھی مخصوص فرائض ہیں جیسے حضرت(عج) کے ظہور کے لئے دعا کی جائے۔

کہ جس کی روایت میں بہت تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ افضل الاعمال میں سے قرار دیا گیا ہے۔آپ کے ذکر کو زندہ رکھا جائے۔ بچوں کی تربیت کرتے وقت شروع ہی سے آپ کے لئے وقف کیا جائے وغیرہ۔

شروع ہی سے بچوں کے ذہن میں ڈالا جائے کہ ہم اور ہمارے پاس جو کچھ ہے اس کے اصل مالک خدا کے بعد آج کے دور میں حضرت ولی عصر (عج) ہیں۔ 

’’زابین عنہ‘‘سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ حضرت کو دشمنوں کے شرّ سے بچائیں کیونکہ حضرت کو کسی کی محتاجگی نہیں ہے۔

بلکہ یہاں احتیاج تو ہماری طرف سے ہے ہمیں ان کی ضرورت ہے نہ یہ کہ اُن کو ہماری ضرورت ہو۔اس سے مراد اپنے خلوص کو ظاہر کرنا ہے اور یہ ایک طرح کا مومنین کا حضرت سے اظہار محبت ہے۔

’’المسار عین الیہ‘‘سے بھی مراد یہ ہے کہ حضرت کی خدمت میں رہ کر ان کی غلامی کی جائے خداوند عالم کے بعد وہ ہمارے امور کے مالک ہیں جس طرح ایک غلام اپنے مالک کے فرمان کو بجا لانے کے لئے ہر دم تیار رہتا ہے۔ یہی نسبت ہماری حضرت کے ساتھ ہو کہ جس کو باقی جملوں ’’الممتثلین لاوامرہ‘‘ اور  ’’والمحامین عنہ‘‘ میں بیان کیا جا رہا ہے۔

ہمارا پورا وجود حضرت(عج) کے اختیار میں ہو اس طرح سے کہ کوئی فکر و سوچ ہماری اپنی نہ رہے بلکہ جیسے حضرت(عج) مستقل طور پر ہر وقت اپنے پروردگار اور خالق کائنات سے رابطہ میں رہتے ہیں اور کسی لمحہ بھی اپنے خدا سے غافل نہیں ہوتے اس طرح ہمارا وجود اور فکر حضرت (عج)کے اختیار میں رہے اور لمحہ بھر کے لئے بھی حضرت(عج) سے غافل نہ ہونے پائے۔

جملہ ’’ السابقین الیٰ ارادتہ ‘‘ میں بیان کیا گیا ہے ہمیں حضرت (عج) کے پاس پہلے جانے والوں میں قرار دیا جائے کیونکہ جس کا ایمان زیادہ محکم ہو گا وہ پہلے حضرت(عج) کی خدمت میں پہنچے گا ہمارے ایمان کو اس درجہ پر لے جا کہ حضرت (عج)کی نصرت میں پھل کرنے والوں میں سے ہوں۔ 

جتنے پرانے اصحاب ہوں گے اتنا ہی حضرت(عج) کے مورد عنایت قرار پائیں گے جیسے کہ آیت شریفہ میں بھی اس بات کی جانب اشارہ ملتا ہے:

<والسابقون السابقون اولئک المقربون >

’’اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہی ہیں، وہی اللہ کی بارگاہ کے مقرّب ہوں گے‘‘[82]

’’المستشھدین بین یدیہ ‘‘  میں بھی مومن کی جانب سے شہادت کی تمنّا کا اظہار کیا جا رہا ہے یعنی امام علیہ السلام کی رکاب میں شہادت نصیب ہو۔ جبکہ بہترین موت اور فضیلت تو صرف شہادت میں ہے اور جو مقام شہیدوں کا ہے وہ کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

<ولا تحسبنّ الذین قتلوا فی سبیل اللّٰہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون>

 ترجمہ: اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرو وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں [83]

یہ عام شیعوں کا مقام ہے اور جب امام علیہ السلام کی رکاب میں شہادت نصیب ہو گی تو اس کا مقام اور فضیلت کیا ہو گی ؟ واللہ اعلم۔

<اللّہُمَّ إِنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَہُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَاٴَخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی شاہِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَناتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی>

(اے خدا ! اگر میرے اور میرے آقا امام زمان(عج) کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لئے قرار دی ہے تو پھر مجھے میری قبر سے اس طرح نکالنا کہ میں نے کفن پھنا ہوا ہو ننگی تلوار ایک ہاتھ میں ہو جبکہ دوسرے ہاتھ میں نیزہ اٹھایا ہو اور آپکی آواز پر لبیک کہہ رہا ہوں چاہے شہر میں ہو ں یا بیابان میں )۔

یہاں پر مومن اپنے خلوص کی انتہاء کو پہنچ کر حضرت حجت(عج) سے اپنی محبت اور عشق کا اظہار کر رہا ہے حضرت (عج)کی زیارت اور ہمراہی ہونے کا شدت کے ساتھ ایسے بیان کیا جا رہا ہے کہ اگر حضرت (عج)کے ظہور سے پہلے میری اجل اور موت کا وقت آ پہنچے تو پھر بھی مجھے قبر سے اٹھا لیا جائے جیسا کہ بعض ائمہ  علیہم السلام کے اصحاب کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ ظہور کے وقت اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے یہاں تک کہ اصحاب کہف وغیرہ کے لئے بھی یوں ہی بیان ہوتا ہے۔

یقیناً ایسا ہی ہو گا کہ جو دنیا میں اور اپنی زندگی میں حضرت(عج) کی نصرت کی تمنا رکھتا ہو یقیناً ظہور کے وقت قبروں سے اٹھایا جائے گا۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر شخص کے لئے موت حتمی ہے جیساکہ آیہ شریفہ میں بیان ہوا ہے:
<کل نفس ذائقة الموت ثم الینا ترجعون>

ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اس کے بعد تم سب ہماری بارگاہ میں پلٹا کر لائے جاؤ گے۔[84]

موت اور زندگی تو کسی کے اختیار میں نہیں ہے لیکن اس موت کے بعد زندگی جو حضرت (عج)کی خدمت میں گذرے اس کی تمنا کا اختیار ہے۔

کفن پوش ہو کر قبر سے نکلنے کی خواہش کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جس طرح انسان دنیاوی بناوٹوں اور رنگا رنگ لباس کو چھوڑ کر ایک سادہ کپڑے میں لپٹ کر قبر میں جاتا ہے مجھے اسی سادگی کے ساتھ اٹھا اور میرے پاس سوائے ننگی تلوار اور نیزہ کے کچھ نہ ہو۔

ممکن ہے مراد یہ ہو کہ جیسے انسان قبر میں فقط اپنے اعمال لے کر جاتا ہے اور انہی اعمال کے ساتھ قبر سے اٹھا لیا جائے گا۔اگر اعمال اچھے ہوں گے تو صحیح ہے ورنہ سب کے سامنے بے آبرو ہو جائے گا اور سب کے اعمال ایک دوسرے پر ظاہر ہو جائیں گے۔یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ مجھے برہنہ نہ اٹھانا بلکہ میرے نیک اعمال کے ہمراہ با لباس اٹھانا اور یہ لباس وہی عقیدہ امامت و ولایت ہو کہ جس پر میں دنیا میں ایمان رکھتا تھا جیسا کہ کلام مجید میں ایسے لباس کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ سب سے بہتر لباس کونسا ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

<یابنی آدم قد انزلنا علیکم لباساً یواری  سواتکم و ریشا! ولباس التقوی ذلک خیر>

’’اے اولاد آدم ہم نے تمھارے لئے لباس نازل کیا ہے جس سے اپنی شرمگاہوں کا پردہ کرو اور زینت کا لباس بھی دیا ہے لیکن تقوی کا لباس سب سے بہتر ہے۔‘‘[85]

اس کے بعد اسی گذشتہ بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ میں جس حالت میں بھی ہوں چاہے سفر میں رہوں یا اپنے وطن میں ہمیشہ حضرت (عج)کو لبیک کہنے کے لئے تیار ہوں ممکن ہے یہاں پر اشارہ اس خدشہ کی جانب ہو جو تاریخ میں انبیاء علیہم السلام یا معصوم  علیہم السلام کے ساتھ پیش آتا رہا ہے جب انھوں نے کسی ضرورت کے وقت یا کسی

جنگ کے موقع پر لوگوں کو طلب  کرنا چاہا تو سب کو بھانے سوجھنے لگتے تھے کسی کو بیوی بچوں کا بہانہ تو کسی کو والدین کا، کسی کو سیاسی خوف تو کسی کو اقتصادی مسائل ہر شخص اپنی مشکل کو لے کر بیٹھ جاتا تھا اور عذر تراشی کرنے لگتا ایسے موقع پر فقط خالص ایمان والے ہی ساتھ ہوسکتے ہیں۔ 

اگر کوئی اپنی دنیوی مشکلات کو اہمیت دے گا تو یقیناً وہ فضیلت کے قافلہ سے پیچھے رہ جائے گا لہذا ہر وقت یہی دعا کریں کہ ہمیشہ سراپا حضرت (عج) کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہیں اور ہمیں ایمان کے اس درجہ سے نیچے نہ گرنے دیا جائے جو امام(ع) کی نصرت کے لئے ہونا ضروری ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت اور کشش ہمارے اور حضرت کے درمیان حائل نہ  ہو پائے۔

< اللّہُمَّ اٴَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ وَاکْحَُلْ ناظِرِی بِنَظْرَةِ مِنِّی إِلَیْہِ >

(اے خدا!  مجھے حضرت  (عج)کا چمکتا ہوا چھرہ دکھا اور درخشاں پیشانی کو اور ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرما بنا دے)۔

’’الطلعة الرشیدہ ‘‘ سے مراد خود حضرت  (عج)ہیں کیونکہ قرآن اور روایت میں حضرت  (عج)کو آفتاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔

ارشاد رب العزت ہے: 

<اشرقت الارض بنور ربّھا>

(زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی)[86]

اس آیت کے ذیل میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو زمین آپ کو خدا کی طرف سے عطا کئے گئے نور سے بھر جائے گی[87]

اسی طرح خود حضرت (عج) بھی اپنی غیبت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھ سے زمانہ غیبت میں کسی طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اما وجہ الانتفاع فی غیبتی فکالانتفاع بالشمس اذا غیبھا عن الابصار السحاب[88]

’’مجھ سے غیبت کے زمانہ میں اس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جیسے بادلوں میں سورج کے چھپ جانے سے فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘

’’الغرة الحمیدة‘‘ کا مطلب سفید پیشانی ہے جو کنایہ ہے خوش بختی اور خوش قسمتی سے،مراد وہ نور ہے جس سے دنیا روشن ہو جائے۔ اس علامت خوش بختی کو جو مومنین کے لئے باعث مسرت ہو مجھ پر ظاہر فرما اور حضرت (عج) کے دیدار کو میری آنکھوں کے لئے  ٹھنڈک قرار دے۔ میرے غم اور درد کا علاج خود حضرت (عج) ہیں۔ 

جیسے انسان اپنی پسند کی چیز کو دیکھ کر کہتا ہے کہ میری آنکھوں میں ٹھنڈک پڑ گئی یہ اسی مناسبت سے ہے کیونکہ ا س کا دیدار مومنین کے لئے باعث مسرت اور فرح ہو گا۔

ایسے دیدار چاہے عالم رویا اور خواب میں بھی کیوں نہ ہوں انسان پوری زندگی اس پر فخر محسوس کرتا رہے اور خواب میں بھی یہی تمنا رہے گی کہ خدایا یہ خواب کبھی ختم نہ ہونے پائے۔

البتہ ایک بات قابل ذکر رہے کہ دیدار فقط مومنین کے لئے باعث مسرت ہو گا کیونکہ مومن کی دعا فقط آنکھوں سے زیارت کرنا نہیں بلکہ آنکھوں کے ذریعہ اپنے دل کو زیارت سے منور کرنا ہے۔ ایمان اور عقیدہ کے اس درجہ کے حصول کے لئے جو محبت اور ولایت اہل بیت علیہم السلام کے لئے مطلوب ہے۔

یوں تو بہت سے لوگوں نے رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی زیارت کی اور مسلسل زیارت کرتے رہے مگر یہ محبت ان کے لئے فائدہ مند نہ رہی کیونکہ ان کے قلوب گناہوں کی میل سے ڈھک چکے تھے یہاں تک کہ نہ انھیں حق سمجھ میں آیا اور نہ ہی اپنی عاقبت سنوار سکے۔

ارشاد رب العزت ہے: 

<ختم اللّٰہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوة ولھم عذاب عظیم> [89]

’’خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر گویا مہر لگا دی ہے کہ نہ کچھ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں اور آنکھوں پر بھی پردے پڑ گئے ہیں ‘‘

پھر جب یہ لوگ گمراہی اور ضلالت کے سمندر میں غرق ہونے لگتے ہیں تو پھر خداوند عالم فرماتا ہے: 

<فی قلوبھم مرض فزادھم اللّٰہ مرضا و لھم عذاب الیم بما کانوا یکذبون >

’’ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بڑھا دیا ہے اب اس جھوٹ کے نتیجے میں انھیں دردناک عذاب ملے گا۔‘‘[90]

لہٰذا ہماری دعا ہے کہ ہمیں وہ زیارت نصیب عطا فرما جیسے کہ زیارت کرنے کا حق ہے ہمارا وجود ایمان میں غرق ہوا ور قلب کی دھڑکنوں سے آواز آ رہی ہو لبیک میرے امام  (عج)خداوند ہمارے قلوب کو دنیاوی غلاظتوں کے میل سے پاک کر دے تاکہ نور ایمان و ہدایت ہمارے دل میں اتر سکے۔

< وَعَجِّلْ فَرَجَہُ وَسَہِّلْ مَخْرَجَہُ وَاٴَوْسِعْ مَنْہَجَہُ وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَہُ وَاٴَنْفِذْ اٴَمْرَہُ وَاشْدُدْ اٴَزْرَہُ>

(حضرت (عج) کے ظہور میں تعجیل فرما اور اُن کے خروج کو آسان فرما اور ان کے راستہ کو وسیع فرما اور مجھے ان کی راہ میں قرار دے اور ان کے امر کو نافذ فرما اور ان کی پشت کو مضبوط و محکم فرما)۔

یا تو ممکن ہے کہ فرج سے مراد حضرت  (عج)کا ظہور یا پھر یہ کہ وہ چیزیں ہوں جو آپ  (عج)کے ظہور کے اثرات میں سے ہوں جیسے فتح و نصرت اور دشمنان خدا پر غلبہ حاصل کرنا۔

دوسری بات زیادہ بہتر لگتی ہے جبکہ پھلی بات بھی قاعدہ عقلی سے دور نہیں کیونکہ اس سے بڑھ کر کیا مصیبت اور بلا ہو گی کہ ہمارے امام (عج) ہم سے دور اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوں۔ 

کیونکہ یہ سب باتیں لوگوں کے لئے طغیان اور نافرمانی کے اسباب فراہم کرتی ہیں اور پھر ایسے موقع سے فائدہ اٹھا کر شیطان بہت آسانی سے خداوند متعال کے راستہ سے لوگوں کو شکار کر کے اپنا قیدی بنا لیتا ہے۔

حضرت موسی علیہ السلام کی مثال جو صرف چالیس روز کے لئے اپنی امت سے دور ہو گئے تو ادھر بنی اسرائیل خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر ایک بچھیا کی پرستش کرنے لگے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 <و اذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلة ثم اتّخذ تم العجل من بعدہ و انتم ظالمون>

’’اور ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا تو تم نے ان کے بعد گوسالہ تیار کر لیا کہ تم بڑے ظالم ہو’’[91]

’’ان کے خروج کو آسان فرما ‘‘سے مراد یہ ہے کہ ایسے اسباب پیدا کر جو حضرت(عج) کے ظہور میں مددگار بن سکیں۔ سب سے پہلے تو خود لوگوں کو اتنی صلاحیت اور قوت ایمان دے کہ حضرت(عج) کو پہچان سکیں۔ حضرت(عج) کی خدمت اور غلامی کے لئے دنیا کے کونے کونے سے آپ کے یاروں اور ناصروں کو آمادہ کر اور سب سے بڑھ کر اے خدائے متعال تو خود ظہور کی اجازت دے اور مومنین کے مرجھائے ہوئے دلوں کو بھار ظہور کی نسیم و شبنم سے طراوت فرما۔

ان کے راستے کو وسیع کرنے سے مراد ان کے ظہور کے موانع کو ختم کر دے کسی بھی مورد میں آپ کو کوئی وقت نہ پیش آئے مجھے ان کے راستہ میں قرار دے یعنی میرے

لئے ان کو قبول کرنے میں آسانی فرما مجھے ان کی معرفت عطا فرما اور میرے ایمان کو اتنا محکم بنا کہ مجھے حضرت(عج) کو پہچاننے میں کوئی دشواری نہ ہو۔

ان کے امر کو نافذ کروانے سے بھی یہی مراد ہے کہ لوگوں کو حضرت (عج)کی اتنی معرفت ہو کہ فوراً آپ(عج) کی بات کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔ 

ایسا نہ ہو کہ جیسے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوتا رہا ہے کہ ان کی قومیں نہ فقط یہ کہ ان کی بات اور حجتوں کو سمجھ نہیں پائی تھیں بلکہ بات بات پر شک میں مبتلا ہو جاتی تھیں لاتعداد واقعات تاریخ میں ہمیں اس مطلب کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ 

حضرت بقیة اللہ (عج)کی پشت کو محکم کرنے سے مراد ممکن ہے کہ آپ(عج) کے لئے ایسے احباب اور ناصر مہیا کرے کہ جو آپ(عج) کی پشت پناہی کرسکیں یہ سنت انبیاء ہے کہ جو چلی آ رہی ہے۔

قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام دعا فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں :

 <قال ربّ اشرح لی صدری و یسّر لی امری واحلُلْ عقدة ً من لسانی یفقھوا قولی واجعل لی وزیراً من اہلی ھٰرون اخی واشدد بہ ازری واٴشرکہ فی امری>[92]

’’موسی (ع)نے عرض کی پروردگار میرے سینے کو کشادہ فرما، میرے کام کو آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دیدے۔ ہارون جو میرا بھائی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط فرما اسے میرے کام میں شریک بنا دے‘‘

اس طرح معروف روایت کہ جو اہل سنت اور اہل تشیع کے یہاں یکساں طور پر مقبول ہے۔

رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:  ’’انت منی بمنزلة ھٰرون من موسیٰ الّا انہ لا نبی بعدی … ‘[93]

’’تمھارا میری نسبت وہی مرتبہ ہے جو ہارون کا موسی  علیہ السلام کی نسبت تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

امیرالمومنین علیہ السلام اول بعثت سے آخر رحلت تک حضرت ختمی مرتبت(ص) کی خدمت میں رہے اور ہمیشہ ان کے یار و ناصر رہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ایسے دلائل اور براہین حضرت(عج) کے ساتھ بھیجے جس کے سبب آپ کو حق کی حقانیت ثابت کرنے میں کم سے کم دشواری پیش آئے اور جلد سے جلد لوگوں پر اتمام حجّت ہوسکے یہ دلائل سبب بنیں کہ لوگ جلد از جلد آپ(عج) کی حمایت اور نصرت کے لئے تیار ہو جائیں۔ 

< وَاعْمُرِ اللّہُمَّ بِہِ بِلادَکَ وَاٴَحْیِ بِہِ عِبادَکَ فَإِنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِی النَّاسِ>

(پروردگار اپنے شہروں کو حضرت(عج) کے توسط سے آباد فرما اور اپنے بندوں کو زندہ فرما بے شک تو نے کہا ہے اور تیرا کہا حق ہے کہ خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو جائے گا جو لوگوں کے اپنے اعمال کے ہاتھوں سے ہو گا)

ممکن ہے شہروں کو آباد کرنے سے مراد یہ ہو کہ حضرت بقیة اللہ کا شہروں پر غلبہ حاصل ہو جائے اور وھاں پر خدا کی حکومت قائم ہو جائے اگرچہ خدا کی حکومت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی مراد یہ ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہو جائے اور سب لوگ خدا کی بندگی میں آ جائیں۔ 

لوگوں کو زندہ کرنے سے بھی یہی مراد ہے کہ مردہ قلوب جو گمراہ ہو چکے ہیں نور ایمان سے زندہ ہو جائیں اور ان کے دلوں میں فقط خدا کی حکومت ہو۔ اس بات پر دعا کے بعد والا جملہ جو آیت ہے قرینہ ہے۔

<ظہر الفساد فی البرّ و البحر بما کَسَبَتْ ایدی الناس لےذیقھم بعض الذی عملوا لعلّھم یرجعون>

’’لوگوں  کے ہاتھوں کی کمائی(اعمال) کی وجہ سے خشکی اور تری ہر جگہ فساد غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آ جائیں ‘‘[94]

اس آیت شریفہ کے ذیل میں بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ جو بھی تباہی اور بربادی ہمیں دنیا میں نظر آتی ہے اس کا سبب خود وہاں کے لوگ ہوتے ہیں اور یہاں لو گو ں  کو ہوشیار کیا جا رہا ہے جو فساد اور نقصان ہو گا اس کے اصل ذمہ دار تم لوگ خود ہو گے۔

لہٰذا اس سے مراد زمین میں فساد اور عمومی بلائیں ہیں جو جہان میں نمودار ہوں گی وہاں کے لوگوں کو تباہ و برباد کر دیں گی چاہے وہ قحط کی صورت میں ہو یا مرض کی، چاہے زلزلہ کی صورت میں ہو یا معاشرے میں بدامنی کی وجہ سے ہو۔

جو بھی چیز نظام معاشرت اور زندگی میں خلل پیدا کرے گی اس کا سبب لوگوں کا اپنا عمل ہو گا۔

 جیسا کہ امام جعفر صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’  حیات دواب البحر بالمطر فاذا کف المطر ظہر الفساد فی البحر و البر و ذلک اذا کثرت الذنوب والمعاصی‘‘[95]

’’سمندری حیوانات کی حیات بارشوں پر منحصر ہے اور جب بارشیں نہ ہوں تو سمندر اور خشکی پر تباہی آ جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب گناہ اور نافرمانی حد سے زیادہ ہو جائے۔‘‘

اس کے برعکس مطلب کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے کہ: 

<ولو ان اہل القری آمنوا واتّقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض>

’’اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کر لیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘[96]

انسان اگر عبودیت اختیار کر لے اور خدا کا ہو کر رہ جائے تو زمین و آسمان اس کے لئے خزانے اگلنے لگی اور چاروں طرف سے نعمتوں کا نزول شروع ہو جائے گا۔

< فَاٴَظْہِرِ اللّہُمَّ لَنا وَلِیَّکَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ الْمُسَمَّی بِاسْمِ رَسُولِکَ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَآلِہِ >

( پروردگار !  ہمارے لئے اپنے ولی اور اپنے نبی  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی بےٹی کے فرزند کو کو ظاہر فرما جو تیرے رسول  (ص)کا ہم نام ہے)

یہاں پر حضرت بقیة اللہ کو خدا کے ولی ہونے سے نسبت دی گئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ وہ صاحب اور مالک ہیں یعنی خداوند عالم کی جانب سے یہ مالکیت ان کو عطا کی گئی ہے جیسا کہ آیت مبارکہ میں حضرت (عج)کے جد بزرگوار مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کے لئے نازل ہوا۔

<انّما ولیکم اللّٰہ و رسولہ والذین آمنوا و یقیمون الصلوة و یوتون الزکاة و ہم راکعون>

’’بس تمھارا ولی، اللہ ہے اور اس کا رسول(ص) اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں ‘‘[97]

اہل تشیع [98] کے نزدیک اور اہل تسنن[99] کے نزدیک اتفاق ہے کہ یہ آیت حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے لئے نازل ہوئی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہاں لفظ  ’’ ولی ‘‘ دوست یا ناصر کے معنی میں نہیں آیا کیونکہ یا رو دوستی کرنے کا حکم فقط ان لوگوں کے لئے نہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں بلکہ ایک کلی اور عام حکم ہے حتی ان لوگوں کے لئے بھی یہی حکم ہے جن پر زکات اور صدقہ دینا واجب ہی نہیں بلکہ خود فقیر ہیں لیکن پھر   بھی مسلمانوں میں آپس کے بھائی چارے کا حکم ان کے بھی شامل حال ہے۔

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت مبارکہ میں ’’ولی‘‘  ولایت کے معنی میں ہے جس کا لازمہ سرپرستی کرنا اور مادی و معنوی امور میں تصرف کا حق رکھنے کے ہے خصوصاً جب اس ولایت کی بات اللہ اور رسول  (ص)کی ولایت کے ساتھ کی جا رہی ہو اور یہ پورا جملہ ایک ہی سیاق میں بیان ہوا ہے۔

یہ بات تو ذکر ہو چکی ہے کہ اگر کسی بھی معصوم (ع)کے لئے کوئی فضیلت ثابت ہو جاتی ہے تو تمام معصوم (ع)اس میں شریک ہوتے ہیں جیسا کہ معروف روایت میں ذکر ہوا ہے کہ:

  اولنا محمد و آخرنا محمد و اوسطنا محمد [100]

’’ہمارا پھلا بھی محمد اور ہمارا آخری بھی محمد اور ہمارے اوسط بھی محمد ہیں ‘‘

 یہاں پر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے نسبت دینے کا مقصد ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی ذریت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے ہے۔

قال رسول اللہ  (ص):  کل نبی اُمّ ینتمنون الی عصبتھم الا ولد فاطمہ فانی انا ابوھم و عصبتھم[101]

’’ ہر ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو اس کے باپ کے اجداد سے نسبت دی جائے گی سوائے اولاد فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا بے شک میں ان کا باپ ہوں اور میں ہی ان کا جد ہوں۔ ‘‘

اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اہل آسمان میں بہت معروف ہیں لہذا ان کی شہرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے نسبت دی گئی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ کے صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؒ نے سوال کیا کہ:

 ’’حضرت فاطمہ کو زہرا کیوں کہا جاتا ہے ‘‘ 

تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:  ’’لاٴن اللّٰہ عزّ و جلّ خلقھما من نور عظمتہ فلمّا اشرقت اضائت السموات والارض بنوریہا و غشیت ابصار الملائکة و خرّت الملائکة للّٰہ ساجدین، قالوا الھنا و سیدنا ما ھذا النور ؟ فاوحیٰ اللّہ الیہم ھذا نور من نوری [102]

’’کیوں کہ جب خداوند عالم نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنے نور سے خلق کیا اور جب اس نور نے پوری کائنات کو اپنی آغوش میں لے لیا تو ملائکہ نے سوال کیا پروردگار ! یہ کونسا نور ہے ؟ جس کے جواب میں خداوند نے فرمایا: ’’ یہ میرے نور میں سے ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ بقاء دین حضرت زہرا(س)کے توسط سے ممکن ہوا ہے، اسلام اور رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے نام کو زندہ رکھنے والے یہی لوگ ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ اور رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی مرضی کے مطابق حضرت بقیة اللہ   اس دنیا کو عدل اور انصاف سے بھر دیں گے جیسے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے۔

رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے ہمنام ہونے کی جانب جو اشارہ ہوا ہے در اصل ان روایت کی روشنی میں ہے جن کے مطابق حضرت حجت(عج) کی کنیت اور نام اپنے جد بزرگوار رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)والا ہو گا۔

<حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْءٍ مِنَ الْباطِلِ إِلاَّ مَزَّقَہ ُوَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَہ>

(یہاں تک کہ باطل کامیاب نہ ہونے پائے مگر یہ کہ وہ متفرق ہو جائیں اور حق پائیدار اور اپنے مقام پر ثابت ہو جائے)

یہ بات تو روایت علامات ظہور میں بیان ہو چکی ہے کہ حضرت ولی عصر(عج) باطل پر غلبہ پا جائیں گے اور کوئی نا حق اس دنیا میں باقی نہیں رہے گا جیسا کہ پہلے بھی اس چیز کی جانب اشارہ کر چکے ہیں۔ اس زمانے میں فقط دو گروہ رہ جائیں گے ایک وہ جو حضرت(عج) کے ساتھ ہوں گے اور آپ کے حامی و ناصر ہوں گے اور دوسرا و ہ گروہ ہے جو حضرت (عج)کے مخالف ہوں گے چاہے وہ بے طرفی اور کسی کے ساتھ نہ ہونے کا بھی اقرار کر لیں یہ سب لوگ ایک حساب میں شمار کئے جائیں گے۔

یہ معلوم رہے کہ حق جو حقیقت اور واقعیت ہے ایک وقت میں ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا جبکہ باطل ممکن ہے کہ متعدد گروہوں کی شکل میں ہو۔اب جبکہ حق صرف ایک ہی ہوسکتا ہے تو آپ(عج) پوری دنیا میں حق کی حکومت قائم کریں گے اور حق کو وہ مقام دلائیں گے جو اس کا حق ہے۔ جیسا کہ عدالت کی تعریف میں بیان کیا جاتا ہے کہ:  ’’وضع شیٴ علی موضعہ ‘‘

یعنی ’’عدالت یہ ہے کہ ہر چیز کواس کے مقام پر رکھ دیا جائے‘‘ نتیجہ کے طور پر یہ وہ زمانہ ہو گا جب اہل کو منصب ملے گا اور نااہلوں کو ہٹا دیا جائے گا یہ زمانہ عدالت اور انصاف کا زمانہ ہو گا۔

گر ہم دیکھیں کہ جس معاشرے میں نظم و ضبط نہ رہے اور وہ تباہی کی جانب تنزل کرتا نظر آئے تو اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ نااہل آگے آ جاتے ہیں جبکہ حقدار کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ جب کہ وہ زمانہ حق کا باطل پر چھا جانے کا زمانہ ہو گا جہاں عزت اور شرافت کا معیار آیت مبارکہ کے مطابق ہو گا جیسے: 

<انَّ اکرمکم عند اللّٰہ اٴتقٰکم >[103]

’’ تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘‘

 شرافت و عزت کا معیارکسی عہدے یا مال و دولت کی وجہ سے نہیں ہو گا موجودہ زمانہ میں کیونکہ باطل کا بول بالا ہے حتی ایک گوییّے اور ناچنے والے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ معاشرے میں دیندار طبقہ کو حقارت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا یہ وہ بے عدالتی اور حق تلفی ہے کہ جس کو آپ(عج) مٹانے کے لئے ظہور فرمائیں گے۔

<وَاجْعَلْہُ اللّہُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ لَہُ ناصِراً غَیْرَکَ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ اٴَحْکامِکِتابِکَ وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ اٴَعْلامِ دِینِکَ وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وآلِہ>

(پروردگارا ! ان کو اپنے مظلوم  بندوں کے لئے پناہ گاہ اور جن کا کوئی تیرے سوا  ’’یاور‘‘  نہ ہو  ’’ یاور‘‘  قرار دے اور اپنی کتاب(قرآن)  کے متروک قوانین کو زندہ فرما اور اپنے دین کی علامتوں اور اپنے نبی  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی سنت کو مضبوط فرما درود ہو ان پر اور انکی آل  پر۔)

یہاں پر گذشتہ کلمات کی تفسیر کی جا رہی ہے کہ صرف آپ(عج) ہی مظلوموں کے لئے سھارا ہوں گے اور آپ(عج) ظالموں سے مظلوموں کا حق واپس دلوائیں گے۔ جیسا کہ بیان کر چکے ہیں۔ وہ زمانہ حق کی بالادستی کا زمانہ ہو گا لہذا کوئی مظلوم باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ اس کا حق اس کو مل جائے۔ اور اسی طرح بے سھارا لوگ جو صرف خداوند متعال کے آسرے پر ہوتے ہیں جن کو کوئی پناہ دینے والا نہیں ہوتا۔ آپ(عج) آ کر انکی مدد فرمائیں گے۔ان لوگوں کو اس حالت میں آ کر نجات دیں گے جب کوئی انکا پوچھنے والا نہیں رہ جائے گا۔

کتاب خدا کے احکامات کو زندہ کرنے سے مراد ممکن ہے یہ ہو کہ زمان غیبت کے طولانی ہونے کے سبب جو لوگ تعلیمات قرآنی سے دور ہو چکے ہیں اور قرآن پر عمل نہیں کرتے آپ آ کر اس قرآن کو احیاء کریں گے اس صورت میں کہ اس  کے احکامات کو دنیا میں رائج کریں گے۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن کو ہر فرقہ اور گروہ نے اپنی نظر اور عقیدے کے مطابق بیان کیا ہے اور اپنے ذہن کے مطابق اس کی تفسیر اور تاویل کرتے پھرتے ہیں جب کہ آپ(عج) کے آنے کے بعد وہ باتیں جو ابھی تک قرآن میں مخفی تھیں ظاہر ہو جائیں گی اور آپ(عج) ہی کے توسط سے ان کو بیان کیا جائے گا۔

البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن میں کچھ کمی ہے اور کچھ باتیں بیان نہیں ہوئیں بلکہ قرآن کامل ہے اور اس میں ہر چیز بیان ہو چکی ہے جیسا کہ خداوند عالم نے ارشاد فرمایا: 

<ما فرّطنا فی الکتاب من شیٴ>

’’ ہم نے اس (کتاب) میں کسی چیز کی وضاحت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘‘[104]

دین اور سنتِ رسول خدا   (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کو مضبوط کرنے سے مراد دین اسلام کی نصرت کرنا ہے اور صرف یہی دین خداوند عالم کے نزدیک مقبول ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

<ان الدین عند اللّٰہ الاسلام >

  ’’ بے شک ! خداوند عالم کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے‘‘[105]

اعلام دین سے مراد احکام اسلام ہیں کہ جن کا پیروان مذہب اسلام پر بجا لانا واجب ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ جو احکامات بجا نہیں لاتے۔ اور محرمات علنی طور پر مرتکب ہوتے ہیں۔ حضرت (عج) ان کو احکام پر عمل کروائیں گے۔ سادہ زبان میں یوں عرض کریں کہ واجبات پر عمل کروانے اور محرمات سے روکنے کا فریضہ بھی آپ(عج) ہی کے کاندھوں پر ہو گا۔ اور یہی حال سنت رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا ہے جو کافی حد تک لوگوں کے درمیان سے ختم ہو چکی ہو گی اس کے احیاء کے فرائض انجام دیں گے۔

البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہاں پر مضبوط کرنے کی بات کی گئی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہوں لیکن مومنین ہوں گے اور وہ احکامات خداوند اور سنتِ رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر قائم ہوں گے۔ یقیناً ایسے ہی مومنین سب سے پہلے ندائے امام (ع)پر لبیک کہیں گے اور یہی لوگ:

 < والسابقون السابقون اولئک المقربون >

ترجمہ: ’’اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہی ہیں، وہی اللہ کی بارگاہ کے مقرّب ہیں ‘‘[106]کے مصداق بنیں گے۔

< وَاجْعَلْہُ اللّہُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَہُ مِنْ بَاٴْسِ الْمُعْتَدِینَ >

(پروردگارا ! ان کو قرار دے ان لوگوں میں سے جن کی تو محافظت کرے گا باغیوں کے شرّ سے)

یہ ایک طبعی رد عمل ہوتا ہے یہ مسئلہ ہمیشہ سے انبیاء (ع)اور اولیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ ہر زمانے میں باغی اور طغیان کرنے والے ہوتے ہیں اور اگر کوئی بات ان کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو ہر گز اس کو نہیں مانتے اور اگر کوئی ان سے اصرار کرے تو دشمنی اور قتل غارت گری پر اتر آتے ہیں۔ 

جب حضرت بقیتہ اللہ اوراحنا فدا ظہور کریں گے تو بہت بڑی تعداد بلکہ اکثر بڑی قوتیں چاہے وہ علاقائی سطح پر ہوں یا عالمی سطح پر آپ (عج) کے وجود کو برداشت نہیں کریں گی اور آپ(عج) کو نقصان پہچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گی  جس کے سبب بات جنگ و جدال تک جا پہنچے گی۔ 

یقیناً اسی صورت حال میں آپ(عج) کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اسی لئے یہ دعا کی جا رہی ہے جیسے خداوند متعال نے حضر ت عیسی مسیح علیہ السلام اور اصحاب کہف و غیرہ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور خود حضرت (عج) کو بھی ایک طویل عرصہ تک غیبت میں رکھ کر ہر نقصان سے بچایا اسی طرح ظہور کے بعد بھی محافظت فرما۔ اور یقیناً خداوند عالم محافظت فرمائے گا کیونکہ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی کہ جو عقلاً و نقلا ً ثابت شدہ بات ہے۔

<ُ اللّہُمّ و سر نبیک محمد اً صلی اللہ علیہ و آلہ برویتہ ومن تبعہ علیہ دعوتہ>

(پروردگارا!اپنے پیغمبر(ص) اور ان کی دعوت پر پیروی کرنے والوں کو آپ (ع)کے دیدار سے خوشحال کر۔)

یہاں پر خداوند عالم سے ظہور کی درخواست کہ جا رہی ہے جو آپ کا ظاہر ہونا مومنین کے لئے خوشحالی کا باعث ہو گا اس سے بڑھ کر خود ذات مقدس رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے لئے بھی باعث مسرت ہو گا یہ وہ موقع ہو گا جب صدر اسلام سے لے کر ظہور تک جن لوگوں نے محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کی حق تلفی کی ہو گی چاہے وہ جنگ و جدال کی صورت میں ہو چاہے ان کی پیروی نہ کرنے کی وجہ سے ہو سب سے بدلہ لیا جائے گا۔

جیسا کہ ہم دعا میں پڑھتے ہیں :  ’’  یا ربّ الحسین بحق الحسین اشفع صدر الحسین بظہور الحجة  ‘‘ 

’’اے حسین علیہ السلام کے پروردگار تجھے حسین علیہ السلام  کا واسطہ، حضرت حجت کو ظاہر کر کے حسین علیہ السلام کے سینے کو شفا (قلب کو خوشحال فرما دے )بخش دے۔‘‘

اوراسی طرح دعاء شریف ندبہ میں پڑھتے ہیں ’’این الطالب بدم المقتول بکربلا‘‘

’’کربلا میں شہید ہونے والے کے خون کا بدلہ لینے والا کہاں ہے۔‘‘

رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی شفاعت سے لے کر جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی کمر شکنی اور محسن علیہ السلام کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔مسجد کوفہ کی محراب کو خون سے رنگین کرنے کا حساب لیا جائے گا۔حسن علیہ السلام کے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا جواب طلب کیا جائے گا پھر جو کچھ مظالم کربلا اور شام میں گزرے یہاں تک کہ بغداد اور شام کے زندانوں میں رونما ہونے والے واقعات کا بھی حساب ہو گا۔

خلاصہ یوں کہیں کہ محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے خون سے لکھی گئی تاریخ کا حساب ہو گا اور بات فقط اہل بیت علیہم السلام پر آ کر نہیں رکتی بلکہ ان کے تابعین اور محبت کرنے والوں کے خون کے قطرہ قطرہ کا حساب ہو گا۔

تو اس حال میں محمد و آل محمد  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کیوں نہ خوشحال ہوں جب اللہ اور اس کے رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے دشمنوں سے حساب چکایا جا رہا ہو گا اس وقت نفاق اور ایمان ظاہر ہو چکے ہوں گے اور منافق کا وجود باقی نہیں رہے گا۔

< وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَہُ >

(اے پروردگار !  آپ کے ظہور کے بعد ہم پر رحم فرما اور ہمیں اس غم سے نجات دے)

یہاں پر دو احتمال دیئے جا سکتے ہیں ممکن ہے اس سے مراد یہ ہو کہ وہ مصیبتیں جو کفار کی طرف سے ظہور کے بعد مومنین پر پڑیں گی ہمیں ان سے نجات دے اور ہمارے ایمان کو محفوظ فرما۔

اور دوسری بات ممکن ہے یہ ہو کہ اے خدارا اب جب کہ گریہ و زاری کے ساتھ تجھ سے اپنی حاجت بیان کر چکے ہیں۔ ہمارے غم کے آنسووں کو آپ(عج) کے ظہور سے خوشی کے آنسووں میں بدل دے اور ہماری دعا کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔

اگرچہ سیاق جملہ سے دوسری بات بہتر لگتی ہے کیونکہ اس کے بعد ہم پڑھتے ہیں :

 <اللَّہُمَّ اکْشِفْ ہذِہِ الْغُمَّةَ عَنْ ہذِہِ الاَُْمَّةِ بِحُضُورہِ وَعَجِّلْ لَنا ظُہُورَہُ>

(پروردگارا !  آپ(عج) کے ظاہر کرنے کے سبب اس امت کے غم کو دور فرما اور ہمارے لئے ان کے ظہور میں تعجیل فرما)

یہاں پر بھی پچھلے مطالب کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ہم کو آپ(عج)کے ظہور کے سبب غم سے باہر نکال دے یہی ہماری دعا ہے اور یہی تمنّا۔خدایا اس امت پر بہت ظلم ہو چکے ہیں ہمارے شانے جنازوں کے بوجھ سے خم ہو چکے ہیں۔ 

 <إِنَّہُمْ یَرَوْنَہُ بَعِیداً وَنَرَاہُ قَرِیباً >

(بے شک دشمنان خدا اور اسلام آپ(عج) کے ظہور کو دور اور ہم نزدیک دیکھ رہے ہیں )

خدارا ہم کبھی بھی تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ہیں خدارا ہماری حیات میں حضرت حجت (عج)کو ظاہر فرما ہمیں تجھ سے امید ہے اور بس۔تو ہی ہمارا مالک ہے تو ہی نے ہم کو اس دنیا میں پیدا کیا تو ہی نے محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرنے کا حکم دیا۔اے خدا ہم تیرے ناچیز بندے تیری بارگاہ میں سوالی ہیں ہم ہر سال ہر ماہ اور ہر دن کو اسی امید سے شروع کرتے ہیں کہ شاید آج خانہ کعبہ کی دیوار کے پاس سے آواز آ جائے۔ہمارے آنسووں کو آپ(عج) کے دیدار سے خشک فرما۔

< بِرَحْمَتِکَ یَا اٴَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔ >

(اے ارحم الراحمین تجھے تیری رحمت کی قسم)

پروردگارا  تجھ کو تیری رحمت کا واسطہ تجھے تیری رحمت کی قسم، تو جو رحم کرنے والوں میں سب سے برتر ہے ہماری حالت زار پر رحم فرما ہماری دعا کو مستجاب کر دے۔

اس کے بعد حکم ہوا ہے کہ تین مرتبہ اپنی دائیں ران پر ہاتھ مار کر کہیں :

 < الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ>

(جلدی آئیے، جلدی آیئے،  اے میرے مولیٰ اے اس زمانہ کے امام (ع))

یہاں موالی انتہائی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے اے میرے مولیٰ آپ جلدی کیوں نہیں آتے ؟ جلدی سے آئیں آپ کے غلام قدم بوسی کے لئے آمادہ ہیں انھیں اپنی زیارت کا شرف بخشیں۔ 

اے خدا ہماری اس دعا کو قبول فرما ہمیں، ہمارے والدین،ہمارے اجداد اور ہماری اولاد کو اصحاب اور اعوان حضرت بقیة اللہ میں سے قرار دے۔
الٰہی آمین ثم آمین۔




زمانہ غیبت میں حضرت (عج)کا کر دار

 ایک سوال جو بہت زیادہ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت بقیة اللہ (عج)   زمانہ غیبت میں کس طرح استفادہ کریں ؟ جبکہ غیبت کے زمانہ میں امام علیہ السلام تک کسی کی رسائی بھی نہیں ہے تو وہ کون سا طریقہ ہے یا سادہ الفاظ میں یوں بیان کریں کہ وجود مقدس بقیة اللہ (عج)کا ہماری زندگی میں کیا کر دار ہے ؟

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ سوال ائمہ  علیہم السلام کے زمانہ میں بھی کیا جا چکا ہے اور متعدد روایت میں ہمیں اس کا جواب ملتا ہے ہم نمونہ کے طور پر چند ایک روایت کو بیان کرتے ہیں۔ 

 پہلی روایت:

حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؒ نے حضرت پیغمبر اسلام  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے سوال کیا کہ ’’ آیا زمانہ غیبت میں شیعہ حضرت قائم آل محمد علیہ السلام سے استفادہ کرسکیں گے۔

حضرت رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

’’ای والذی بعثنی بالنبوة انھم لیستضیون بنورہ و ینتفعون بولایتہِ فی غیبتہ کانتفاع بالشمس و واٴن تجلَّھَا سحاب‘‘

ہاں اس خدا کی قسم جس نے مجھے پیغمبری کے لئے منتخب کیا ان سے شیعہ ان سے اور انکے نور ولایت سے اسی طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح سورج جب بادلوں میں چھپ جائے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ [107]

 دوسری روایت:

امام جعفر صادق  علیہ السلام  نے فرمایا’’ جب سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو خلق کیا ہے اور روز قیامت تک یہ زمین نہ حجّت خدا سے خالی رہی ہے اور نہ رہے گی‘‘

راوی نے سوال کیا:  ’’پھر غائب امام علیہ السلام سے کس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: 

’’کما ینتفعون بالشمس اذا سترھا السحاب ‘‘  جیسا کہ بادلوں میں چھپنے کے بعد سورج سے استفادہ کیا جاتا ہے[108]

تیسری روایت:

حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف خود اپنی توقیع میں جو اپنے دوسرے نائب

خاص حضرت محمد بن عثمان کے ذریعہ اسحاق بن یعقوب (رہ) کے نام بھیجتے ہیں، فرمایا :

  اماوجہ الإنتفاع بی فی غیبتی فکالإنتفاع بالشمس اذا غیبتھا عن الابصار السحاب [109]

’’اور لوگ مجھ سے غیبت میں اس طرح مستفیض ہوں گے جیسے سورج کے بادلوں میں چھپ جانے کے بعد مستفےض ہوتے ہیں۔ ‘‘

 حدیث  ’’ من مات ولم یعرف۔۔۔۔۔‘‘  کی توضیح اور تشریح:

البتہ بہت سے مخالفوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب ہم امام علیہ السلام کو دیکھ نہیں سکتے اور ان کی بات کو سن نہیں سکتے تو ہم کس طرح اس متفقہ حدیث پر عمل کرسکتے ہیں۔ 

رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

 ’’من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیة‘‘ 

(جو بھی اس حالت میں مرے کہ اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کے زمانہ کے کافر کی موت مرے گا)

جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اس حدیث کا صادر ہونا تواتر[110]سے ثابت ہو چکا ہے اسی وجہ سے بعض علماء اہل سنت نے سوال اٹھایا تو پھر زمانہ غیبت میں ہم کیونکر امام علیہ السلام کو پہچان سکتے ہیں ؟ اور کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟

علمائے شیعہ نے جواب د یا کہ پھلی بات یہ ہے کہ فائدہ فقط اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ امام علیہ السلام کی زیارت کی جائے۔ 

خود حضرت(عج) کے وصی ہونے کی تصدیق کرنا کیونکہ منصب خدا کی طرف سے عطاء شدہ ہے اور دراصل یہ خدا کی تصدیق ہے یہ بھی ذاتاً مطلوب ہے۔ اور یہ بات ارکان دین میں سے ہے جیسا کہ حضرت پیغمبر  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے زمانہ میں تھا۔

فقط حضرت پیغمبر  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی زیارت کرنے والوں کو مسلمان نہیں کہا جاتا تھا۔بلکہ زیارت کرنا یا نہ کرنا تو کبھی بھی معیار نہیں رہا۔ معیار تو آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی نبی اللہ کی حیثیت سے تصدیق اور آپ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر ایمان لانا تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی وفات کے بعد دنیا میں آئے انھوں نے تو حضرت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی زیارت نہیں کی جبکہ آج تک کیا بلکہ قیامت تک کسی کے مسلمان ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)پر ایمان لایا جائے۔

اسی اعتراض کی بنا پر بعض علماء مخالف نے حدیث شریف میں معرفت امام کا مطلب کتاب خدا کی معرفت جانا ہے۔[111]

جس کے جواب میں عرض کرتے چلیں کہ روایت میں امام کا ساتھ زمانہ کا اضافہ ہے یعنی ’’زمانہ کے امام‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں امام مختلف ہو گا یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیں  کہ یہ تو امام کے تبدیل ہونے کا ثبوت ہے جبکہ قرآن تو ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے اور رہے گا اور اس کتاب خدا کے بدلنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

اگر یہی بات ہوتی تو کہہ دیا جاتا کہ کتاب خدا کی معرفت حاصل کرو نہ یہ کہ زمانہ کی کتاب کی معرفت حاصل کرو۔

حدیث شریف میں حضرت  کی سورج سے تشبیہ:

اس حدیث شریف کو سمجھنے کے لئے جس میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کوسورج سے تشبیہ دی گئی ہے ضروری ہے کہ سورج کے کر دار پر ایک نظر ڈالی جائے۔

ھمارا منظومہ شمسی(سولر سیسٹم) اگرچہ کائنات میں ایک ناچیز حیثیت رکھتا ہے ابھی تک کی تحقیق کے مطابق ۰۰۰,۳۰ سے زیادہ منظومہ کا انکشاف ہو چکا ہے جبکہ یہ جستجو اور تحقیق ہمیشہ جاری رہے گی با وجود اس کے کہ اس عظیم خلقت خداوند متعال کو دیکھ کر ہمارے منظومہ شمسی کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی لیکن کیونکہ ہم اسی منظومہ سے زیادہ ماٴنوس ہیں لہذا اسی کو معیار گفتگو قرار دیں گے۔

سورج کے گرد متعدد سیارے مسلسل گردش میں ہیں جس میں سے تیسرا نمبر ہماری زمین کا آتا ہے ہماری یہ زمین ۵۹۵۵ بلین ٹن وزن کے ساتھ چار ہزار ملین سال سے ۱۰۶۲۰۰ کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے گرد گھوم رہی ہے اس کے باوجود کبھی بھی اپنے مدار سے خارج نہیں ہوتی ہے اس کی وجہ وہ جاذبہ اور کشش ہے کہ جو سورج میں پایا جاتا ہے۔جو زمین کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور دوسری طرف سے زمین میں وہ قدرت ہے کہ جو مسلسل اپنے مرکز(سورج) سے دور ہونے کے اوپر صرف کر رہی ہے۔انھی دونوں قوتوں اور کشش کا نتیجہ ہے کہ زمین اپنے مدار میں باقی ہے۔

اگر ایک لمحہ کے لئے بھی سورج اپنی کشش کو روک لے تو یہ زمین اپنے مدار سے خارج ہونے کے بعد دوسرے سیاروں سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی اسی طرح سے اگر زمین اپنی قوت دافعہ کو ایک لمحہ کے لئے بھی ختم کر لے تو سورج سے جا ٹکرائے گی یہ سورج جو ۳،ملین اور ۳۳۰ ہزار زمین کے برابر وزن رکھتا ہے جس کی وجہ سے زمین کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔

حیات اور بقاء زمین اس پر متوقف ہے کہ زمین اور سورج مسلسل اپنی قوت دافعہ اور جاذبہ کو برقرار رکھیں اگر یہ رابطہ لمحہ بھر کے لئے بھی منقطع ہو جائے تو اسی وقت زمین کا وجود عدم میں بدل جائے گا۔سورج کا کر دار زمین اور منظومہ شمسی کے دوسرے سےّاروں کی بقاء کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح کائنات میں جہان ہستی کی نسبت سے مرکزی کر دار امام زمانہ(عج) کا ہے یہ جہان ہستی اپنے محور اور مرکز حضرت حجّت(عج)کے گرد گردِش میں ہے میں ہے اگر ایک لمحہ کے لئے بھی رابطہ منقطع ہو جائے تو سب کے سب فوراً ہلاک ہو جائیں گے۔حجّت خدا کا صرف موجود ہونا ہی بقاء زندگی کے لئے کافی ہے اگر یہ حجّت نہ رہے تو کائنات فنا ہو جائے گی۔

اس بات کی تائید میں متعدد روایت نقل ہوئی ہیں ہم نمونہ کے طور پر چند ایک روایت کو نقل کرتے ہیں۔ 
پھلی  روایت:

حضرت رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)حضرت علی ابن ابی طالب علیہماالسلام سے فرماتے ہیں :

’’ انی و احد عشر من ولدی و انت یا علیّ زرُّ الارض بنا اوتد اللہ الارض ان تسیخ باہلھا فاذا ذھب الاثنا عشر فی ولدی ساخت الارض باہلھا و لم ینظروا  ‘‘[112]

’’میں اور میرے اولادوں میں سے گیارہ آدمی اور تم اے علی زمین کے لنگر ہیں ہمارے توسط سے خداوند عالم نے زمین کو بچا رکھا ہے وہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل نہ سکے پھر جب ہمارا بارہواں اس زمین سے چلا جائے گا تو زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے گی اور انھیں مہلت نہ دی جائے گی۔‘‘

دوسری روایت:

ایک اور مقام پر پیغمبر  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اپنی زندگی کے آخری ایّام کے خطبہ میں فرماتے ہیں :

’’معاشر النّاس کاٴنی اُدعی فاجیب وانّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ و عترتی اہل بیتی ما إن تمسّکتُم بھما لن تضلّوا فتعلّموا منھم و لا تعلِّمُوھم فانھم اٴعلم منکم لاتخلوالارض منھم و لو خَلَتْ اذاً لساخت باٴھلھا‘‘ [113]

’’اے لوگوں وقت نزدیک آگیا ہے کہ مجھے بلایا جائے اور دعوت حق کو لبیک کہوں۔ میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں خدا کی کتاب اور میری آل اگر ان دونوں سے منسلک رہو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ان سے سیکھو اُن کو پڑھانے کی کوشش مت کرنا کیونکہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ کبھی بھی زمین ان سے خالی نہیں رہے گی اور اگر خالی ہو گئی تو یہ زمین اپنے اہل کو نگل لے گی۔‘‘

 تیسری روایت:

ارشاد رب العزت ہے:

 <انما انت منذرٌ و لکل قوم ھادٍ >[114]

آیت مبارکہ کے ذیل میں رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)فرماتے ہیں :

بے شک منذر میں ہوں، آیا جانتے ہو کہ ہدایت کرنے والا کون ہے ؟  لوگوں نے جواب دیا: نہیں یا رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)حضرت ختمی مرتبت  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی جانب اشارہ کیا اور پھر امیر المومنین علیہ السلام کے کچھ فضائل بیان کئے اور پھر فرمایا:

’’  ہو الامام ابو الائمّة الزُھَر ‘‘

’’وہ امام ہیں اور نور بانٹنے والے اماموں کے والد ہیں۔ ‘‘

لوگوں نے سوال کیا : ’’ یا رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)آپ کے بعد کتنے امام آئیں گے ؟

حضرت  (ص)نے جواب میں فرمایا:

’’ اثنا عشر عدد نقباء بنی اسرائیل و منّا مھدی ھذہ الامة یملَاُ اللّٰہ بہ الارض قسطاً و عدلاً کما مُلِئَتْ جوراً و ظلماً و لا یخلو الارض منھم الّا ساٰخَت باٴھلھا‘‘[115]

بارہ عدد بنی اسرائیل کے خلفاء کے جتنے۔ امت کا مہدی بھی ہم میں سے ہے خداوند عالم ان کے توسط سے زمین کو عدل سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔زمین ان سے خالی نہیں ہو گی مگر یہ کہ اہل زمین کو نگل لے گی۔

 چوتھی روایت:

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’بنا یمسک الارض ان تمید باٴھلھا و بنا ینزِّلُ الغیث و بنا ینشرُ الرحمة و یخرجُ برکاتِ الارضِ و لولا ما فی الارض منّا لساخت باٴھلھا‘‘[116]

’’ہمارے توسط سے زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو تنگ نہیں کرتی ہے اور ہماری وجہ سے بارشیں ہوتی ہیں اور ہماری وجہ سے زمین اپنے اوپر خزانے اگل دیتی ہے اگر ہم میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو زمین اپنے اہل کو نگل لے گی۔‘‘

پانچویں روایت:

امام محمد باقر  علیہ السلام  فرماتے ہیں :

’’لو اَنَّ الامامَ رُفِعَ من الارض ساعةً لماٰ جَتْ باٴھلھا کما یموجُ البحر باٴھلہ‘‘[117]

اگر ایک لمحہ کے لئے بھی امام زمین سے اٹھا لئے جائیں تو زمین اپنے رہنے والوں کو اس طرح غرق کر دے گی جیسے طوفان سمندر میں رہنے والوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

 چھٹی روایت:

امام محمد باقر  علیہ السلام ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

’’ لو بقیت الارض یوماً بلا امام منّا لساخَتْ باٴھلھا‘‘ [118]

اگر ایک دن بھی ہم میں سے کوئی امام زمین پر نہ رہے تو زمین اپنے رہنے والوں کو نگل لے گی۔

ساتویں روایت:

امام جعفر صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں :

’’  و لولا مَن علی الارض مِن حجج اللّٰہ لنفضتِ الارض ما فیہا و اٴلْقَتْ ما علیہا انّ الارضَ لا تخلوا ساعةً من الحجة‘‘[119]

اگر زمین پر خدا کی حجت نہ رہے تو جو کچھ اس کے اندر ہے باہر اگل دے گی اور جو کوئی اس پر رہنے والے ہیں دور پھینک دے گی بے شک زمین ایک لمحہ کے لئے بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔

 آٹھویں روایت:

حضرت ابو حمزہ ثمالی  (رہ) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر فرماتے ہیں :

 ’’ آیا ممکن ہے کہ زمین حجت سے  خالی رہ جائے‘‘

  امام  علیہ السلام نے فرمایا:

’’ لو بقیت الارض بغیر امام لساخت‘‘[120]

’’اگر زمین امام سے خالی ہو جائے تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔‘‘
نویں روایت:

امام جعفر صادق  علیہ السلام ایک طویل حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں :

 ’’لوخَلَتِ الارض ساعة واحدةً من حجّةٍ للّٰہ لساخت باٴھلھا‘‘[121]

’’اگر زمین ایک لمحہ کے لئے بھی حجت خدا سے خالی ہو جائے تو اپنے رہنے والوں کو نگل لے گی۔‘‘

مذکورہ روایت کو مد نظر  رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سورج بادلوں میں چھپ کر اور اہل زمین سے بظاہر رابطہ منقطع کرنے کے باوجود پورے نظام شمسی کو تباہی اور بربادی سے بچائے رکھتا ہے اور سورج ہی کی وجہ سے پورا نظام اپنی جگہ پر قائم اور دائم رہتا ہے بالکل اسی طرح خود حضرت(عج) انسانوں سے بظاہر دوری اور غیبت میں رہ کر بھی ان کو حیات بخشے ہوئے ہیں اور اگر یہ رابطہ منقطع ہو جائے تو حیات انسانی وجود سے عدم میں بدل جائے گی اور سب کچھ نابود ہو جائے گا انھی کے وجود کی برکت سے اہل زمین،آسمان اور زمین سے فیوضات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ 

زمین اپنے خزانے اگلتی رہے گی اور آسمان سے عنصر حیات جس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے باران رحمت نازل ہوتی رہے گی جس طرح مادی زندگی میں انسان آپ(عج) سے فیضیاب ہوتا رہتا ہے اسی طرح سے معنوی زندگی میں بھی آپ (عج) کا کر دار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔آپ(عج) کا ذکر لوگوں کو خدا کی جانب ہدایت کرتا ہے۔آپ(عج) کے انتظار میں لوگ خدا سے گڑگڑا کر انتہائی عاجزی کی حالت میں ظہور کی دعائیں کرتے ہیں خود یہ عمل انسان کو عبودیت کی منزل کی جانب دھکیلتا ہے۔

آپ (عج)کی معرفت فرض کی گئی ہے جیسا کہ معروف روایت میں ارشاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

’’  من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتةً جاہلیة  ‘‘

جو کوئی بھی اس حالت میں مرے کہ اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کو نہ پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

آپ(عج)سے دوری انسان کو زمانہ جاہلیت میں پلٹا دیتی ہے آپ (عج)کی معرفت نہ رکھنا اس کا مترادف ہے کہ انسان بے دین ہے اور وہ زمانہ قبل از اسلام کی طرح گمراہ ہو چکا۔ 



کچھ امام زمانہ (ع) کی والدہ معظمہ کے بارے میں 

یہ بھی معجزاتِ  الٰہی میں سے ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے لیے زوجہ کا انتخاب کہاں سے کیا گیا ہے حضرت نرجس کا تعلق سلسلہ بادشاہت روم سے ہے جس کا دار الخلافہ بیزانس کہ جو مو جو ہ دور میں استنبول کے نام سے معروف ہے۔ حضرت نرجس خاتون کے والد یشوعا قیصر روم کے بیٹے تھے جن کا سلسلہ نسب حضرت عیسیٰ علیٰ نبّینا و علیہ السلام  کے اصحاب سے ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے شمعون علیہ السلام  کی نسل سے ہیں جو حضرت عیسیٰ مسیح  علیہ السلام کے وصی تھے۔

اسماء شریفہ

حضرت نرجس خاتون علیہا السلام کے نو(۹) نام نقل ہوئے ہیں :  جو ملیکہ، حکیمہ، سبیکہ، نرجس، سوسن، مریم، ریحانہ، خمط اور صقیل ہیں۔ 

(۱)نرجس:   ایک پھول کا نام ہے جسے اردو  زبان میں نرگس کا پھول کہتے ہیں۔ [122]

(۲)سوسن  :   موسمی پھول کا نام ہے اور مختلف رنگوں میں ہوتا ہے۔ یہ اصل میں یورپ،امریکہ اور ہمالیہ میں پایا جاتا ہے۔[123]

(۳)سبیکہ   :   خالص سو نے کو کہتے ہیں۔ اور خالص چاندی کے لیے بھی استعما ل ہوتا ہے۔ [124]

(۴(حکیمہ    :   اسکالر خاتون کو کہا جاتا ہے۔ آپ نے علم و حکمت کوبیزانس میں ایک خصوصی عربی زبان استانی سے سیکھا تھا۔[125] جبکہ اسلامی تعلیمات کو امام علی نقی علیہ السلام کی بیٹی حکیمہ خاتون سے سیکھا۔[126]

(۵)  ملیکہ   -:  ملکہ کے معنٰی میں استعمال ہو تا ہے اور حق بھی یہی ہے کہ وہ پوری دنیا پر حکومت کرنے والے فرزند ارجمند کی والدہ ماجدہ ہیں 

(۶) مریم  :   حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا نام ہے اور علماء اہل تشیع اور اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت بقیّة اللہ کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔ [127]

(۷)  ریحانہ:   ہر خوشبو والے پودے کو کہا جاتا ہے۔ [128] اور یقیناً ایسا ہی ہے کہ جن کے فرزند کی خوشبو سے پورا جہان معّطر ہو گا اور نور ولایت ہر جگہ چھا جائے گا۔ 

(۸)  خمط  :   پھلدار درخت کا نام ہے اور ہر تازہ اور خوشبو والی چیز کو کہتے ہیں۔ [129]

(۹)  صقیل  :   ہر نورانی چیز کو کہتے ہیں۔ شیخ صدوق  (رہ)اور شیخ طوسی (رہ) کا کھنا ہے کہ حضرت نرجس خاتون کے حاملہ ہونے کے بعد آپ کو صقیل کا نام دیا گیا تھا۔[130]

 دو خاندانوں کا ملاپ 

اب دیکھتے ہیں کہ یہ قیصر روم کی خوشبو خاندان نبّوت و عصمت تک کیسے پہنچ گئی۔ اس قصّہ کو علماء اکرام نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھا ہے مانند شیخ صدوق(رہ) نے کمال الدین میں، شیخ طوسی(رہ) نے غیبت میں، طبری(رہ) نے دلائل الامامة میں، ابن شہر آشوب (رہ)نے مناقب میں، لیلیٰ(رہ) نے منتخب میں، ابن فتّال نیشاپوری(رہ) نے روضہ میں، شیخ حرّعاملی(رہ) نے اثبات الھداة میں، سید ھاشم بحرانی(رہ) نے حلیّةالابرار میں اور علامہ مجلسی(رہ) نے بحار الانوار میں نقل کیا ہے، ہم اس واقعہ کو تلخیص کے ساتھ پیش کریں گے۔ 

بشر بن سلیمان نخّاس 

بشر کا تعلق رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری (رہ) کی نسل سے ہے

بشر حضرت امام ہادی علیہ السلام اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے صحابیوں میں سے تھے پیشہ کے اعتبار سے بشر بن سلیمان غلام اور کنیز وغیرہ کی خرید و فروخت کا کام کیا کرتے تھے۔ 

بشر بن سلیمان کا بلا وا 

  ایک رات سامرہ میں بشر بن سلیمان اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ دروازہ پر دستک ہوئی تو پتہ چلا کہ امام پادی علیہ السلام کا خادم کافور آیا ہے اور کہتا ہے کہ فوراً چلو! حضرت امام علیہ السلام نے بلایا ہے۔ بشر بن سلیمان بھی جلدی سے تیار ہو کر حضرت امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے۔ انھوں نے دیکھا کے امام ہادی علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند امام حسن عسکری علیہ السلام سے گفتگو میں مشغول ہیں۔ 

امام ہادی علیہ السلام نے بشر بن سلیما ن سے فرمایا :

’’ اے بشر تم انصاری کی نسل سے ہو۔ ہماری محبت ہمیشہ سے تمھارے دلوں میں رہتی آ رہی ہے تمھاری ہر نسل نے ہماری محبت کو ارث میں حاصل کیا اور اب میں چاہتا ہوں کہ ایک راز تم پر آشکار کروں اور تمھیں ایک اہم کام کی ذمہ داری سونپوں۔ یہ کام تمھارے لیے باعث فضیلت ہو گا اس طرح سے کہ تم سارے شیعوں میں اس فضیلت میں پھل کرو گے۔ ‘‘

 اس کے بعد امام پادی علیہ السلام نے رومی زبان میں ایک خط لکھا اور اپنی مھر مبارک لگا کر بشر کو دیا اور اس کے ساتھ ایک بٹوا بھی دیا۔ جس میں دوسو بیس(۲۲۰)دینار تھے۔ یہ دونوں چیز تھمانے کے بعد فرمایا !’’ یہ دونوں چیزیں لے کر بغداد کی جانب روانہ ہو جاؤ  فلاں دن ظہرسے پہلے فرات کے راستے میں پہنچ جاؤ۔ جب غلاموں اور کنیزوں کی کشتیاں وہاں پہنچیں اس جگہ پر بہت سے لوگ خریداری کی غرض سے آئے ہوئے ہوں گے کچھ لوگ عباسی عہدے داروں کی طرف سے ہوں گے جبکہ تھوڑے بہت جوانان عرب بھی دکھائی دیں گے تم اس دن دور سے دیکھتے رہنا اور ایک کنیز و غلام بیچنے والا بنام عمر بن یزید کے پاس جانا اور تم دیکھو گے کہ اس کے پاس ایک کنیز ہو گی جس نے رنگین ریشمی کپڑے پھٹے ہوئے ہوں گے۔ اور جب کوئی اس کی بولی لگائے گا تو وہ کسی کے لیے بھی اپنا نقاب نہیں اٹھائے گی۔ 

اسی دوران خریداروں کے ہجوم میں ایک سیاہ شخص آگے بڑھ کر تین سو(۳۰۰) دینار میں اس کنیز کو خریدنا چاہے گا۔ جس پر یہ کنیز اس شخص کی غلامی میں جانے سے انکار کر دے گی اور کہے گی کہ:

’’اگر مجھے کوئی رئیس زادہ بھی آ کر کیوں نہ خریدنے کی کوشش کرے مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہو گی لہٰذا تم اپنا پیسہ ضائع مت کرو ‘‘

اس موقع تم اٹھ کر عمرو بن یزید سے کہنا ! میرے پاس اشراف عرب میں سے ایک کا خط ہے جو رومی زبان میں لکھا ہوا ہے یہ اس کنیز کو دے دو اگر یہ راضی ہو جائے تو مجھے اپنے موکّل کی طرف سے اجازت ہے کہ ان کے لیے کنیز خرید لوں کنیز نے خط لے کر پڑھا اور  عمرو بن یزید سے کہا کہ مجھے اس خط کے لکھنے والے کے لیے بیچو ورنہ میں اپنے آپ کو ہلاک کر لوں گی اس موقع پر بشر بن سلیمان اور عمرو بن یزید میں مذاکرہ شروع ہوا اور یہ سودا دوسوبیس(۲۲۰)دینار پر آ کر ختم ہوا۔ 

پھر بشر بن سلیمان کنیز کو لے کر گھر آیا تو دیکھا کہ وہ خط کو ہاتھ میں لے کر چومتی جا رہی ہے۔ بشر بن سلیمان نے حیرت سے سوال کیا کہ ! تم ایسے خط کو چوم رہی ہو جس کے لکھنے والے کو جانتی تک نہیں ہو۔ جس پر اس خاتون نے جواب دیا :غور سے سنو !میں ملیکہ بنت یشوعا بن قیصر رو م ہوں میری ماں کا نسب شمعون علیہ السلام سے ملتا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وصی تھے اب میں تمھیں بہت حیرت انگیز واقعہ سنانے جا رہی ہوں۔ 

خاتون علیہاالسلام کی کہانی ان کی اپنی زبانی

جب میری عمر تیرہ سال کی ہوئی تو میرے دادا قیصر روم نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ محفل منعقد کی گئی تین سو راہب اور سات سوپادری وہاں موجود تھے نیز چار ہزار فوجی سردار، شرفاء اور معززین بھی اس محفل میں شریک تھے۔ تخت و تاج شہنشاہی کو جواہرات سے سجایاھواتھا جیسے ہی میرے دادا کا بھتیجا تخت پر بیٹھا اور صلیب کواس کے گرد گھما یا جانے لگا سب تعظیم میں کھڑے ہو گئے اور انجیل کے صفحات کو کھولا گیا۔

محفل درہم برہم ہو گئی

 جس وقت شادی کی رسم شروع کی جانے لگی ایک مرتبہ ساری صلیبیں الٹ کر گر گئیں۔ تخت و تاج لرزنے لگے وہ جوان جو شادی کی غرض سے آیا تھا بیہوش ہو کر گر پڑا سب کے چھروں سے رنگ اڑ گیا راہبوں کے بزرگ نے میرے داداسے کہا ! اس نحوست والے عمل کو چھوڑ دو کہ جس کی وجہ سے مسیحیت نابود ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ میرے دادا قیصر روم نے جواب میں کھا کہ صلیبوں کو اپنی جگہ نصب کرو۔ ساری چیزوں کو اس کی جگہ پر رکھو پھر اپنے دوسرے نمبر کے بھتیجے کو بلایا تا کہ میری شادی اس سے کر دی جائے دوبارہ سے دربار کو سجایا گیا اور محفل جمائی گئی جیسے ہی رسم شادی شروع کرنے کی بات کی گئی دو بارہ وہی حادثہ پیش آیا اور سب کچھ درہم برہم ہو گیا میرے دادا افسردہ ہو کر اپنے حر م سرا میں چلے گئے۔

پہلا خواب 

 میں نے اس رات ایک خواب دیکھا کہ جس نے مجھے بدل کر رکھ دیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ مسیح  علیہ السلام، شمعون اور حواریوں کا ایک گروہ میر ے دادا  کے محل میں جمع ہے اور ایک نور سے بنا ہوا منبر عین اسی مقام پر نصب ہے کہ جہان میرے دادا کا تخت ہوتا ہے۔ اسی وقت حضرت محمد  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اپنے وصی اور داماد امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور ان کی اولاد میں سے ایک گروہ کے ہمراہ تشریف لائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آگے بڑھ کر حضرت محمد  (ص)کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ اس وقت حضرت محمد  (ص)نے حضرت عیسیٰ سے فرمایا !میں تمھارے وصی شمعون کی بیٹی ملیکہ کا رشتہ اپنے بیٹے ابو محمد علیہ السلام کے لیے مانگنے آیا ہوں۔ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت شمعون علیہ السلام کو مخاطب کر کے فر مایا! اے شمعون علیہ السلام تمھاری قسمت جاگ اٹھی ہے شر افت اور فضیلت تمھیں نصیب ہو رہی ہے اپنے خاندان کا آل محمد علیہم السلام کے خاندان سے رشتہ جوڑ لو۔ 

شمعون نے جواب دیا !اطاعت ہو گی۔ اس وقت رسول خدا  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)منبر پر تشریف لائے اور خطبہ نکاح پڑھ کر میرا ابو محمد سے عقد کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، انکے حواری اور آل محمد علیہم السلام ہمارے نکاح کے گواہ ہیں۔ 

جب اس سنھرے خواب سے میری آنکھ کھلی تو میں ڈر گئی کہ اگر اس خواب کو اپنے دادا کو سنایا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے لہٰذا اس خواب کو ایک راز کی طرح اپنے سینے میں رکھا لیکن اس خواب نے مجھے اتنا بدل دیا تھا کہ ہر وقت ابو محمد علیہ السلام کی محبت کے بارے میں سوچتی رہتی تھی اور کھانے پینے کی طرف سے بالکل توجہ ہٹ گئی تھی یہاں تک کہ میں مریض ہو گئی۔ 

پوری مملکت روم میں کوئی ایسا طبیب نہ تھا جس نے میرا علاج نہ کیا ہو مگر سب کا سب بے فائدہ رہا میرے دادا نے مایوس ہو کر مجھ سے سوال کیا ! میری بیٹی ! کیا تمھارے دل میں کوئی خواہش ہے کہ جو اس دنیا میں تمھارے لئے پوری کروں۔ 

میں نے جواب دیا !  دادا جان اگر آپ حکم کریں کہ جتنے بھی مسلمان آپکی قید میں ہیں انکی زنجیروں کو کھول دیا جائے اور انکو اذیت کرنا بند کر دیا جائے اور ان پر احسان کر کے ان کو آزاد کر دیا جائے تو مجھے امید ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام میرے لیے سلامتی اور رحمت کے دروازے کھول دیں۔ 

کیوں کہ میرے دادا نے میری خواہش پوری کر دی تھی میں بھی کوشش میں لگی رہی کہ اپنے آپ کو صحتمند دکھاؤں لہٰذا تھوڑا بہت کھانا پینا شروع کر دیا میرے دادا نے خوش ہو کر اسیروں کو مزید رعایت دیدی۔ 

دوسرا خواب  

پہلے خواب کے چودہ روز بعد دوبارہ خواب دیکھا کہ خاتون جنت حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا تشریف لائی ہیں اور حضرت مریم  سلام اللہ علیہا بھی انکے ہمراہ ہیں جبکہ ایک ہزار کنیزیں بھی انکے ہمراہ ہیں حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا !  یہ خاتون جنت  سلام اللہ علیہا اور تمھارے شوہر ابو محمد علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ میں حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا کے دامن میں سر رکھ کر رونے لگی اور ابو محمد علیہ السلام کے میرے پاس نہ آنے کا شکوہ کیا۔ 

حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا نے فرمایا ! جب تک تم مشرک رہو گی ابو محمد علیہ السلام تمھارا دیدار کر نے نہیں آئیں گے یہ میری بھن مریم بنت عمران ہیں کہ جو بارگاہ الٰہی میں تمھارے دین سے اظہار  برأت اور دوری کرتی ہیں اب اگر تم خدا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی خوشنودی  چاہتی ہو اور ابو محمد علیہ السلام سے ملنے کی خواہش بھی رکھتی ہو تو بو لو:

اشھد ان لا الہ ا  لّا اللّہ واشھد انّ محمد اًرسول اللّہ۔ 

جیسے ہی میں نے کلمہ شہادتیں اپنی زبان پر جاری کیا حضرت فاطمہ  سلام اللہ علیہا نے مجھے سینے سے لگا کر فرمایا:

اب ابو محمد علیہ السلام کے انتظار میں رہنا تمھاری جلدی ہی ان سے ملاقات ہو جائے گی۔

نیند سے اٹھ کر ابو محمد علیہ السلام کے دیدار کے لئے لمحہ شماری کرتی رہی اس کے بعد والی رات کو خواب میں ابو محمد علیہ السلام کی زیارت کی اور اس کے بعد سے آج تک ہر رات ان کو خواب میں دیکھتی آ رہی ہوں۔ 

حضرت نرجس خاتون کی اسیری

بشر بن سلیمان نے سوال کیا کہ:  پھر اسیر کس طرح ہوئیں ؟

جناب نرجس خاتون علیہا السلام نے جواب دیا :ایک رات ابو محمد علیہ السلام کو خواب میں دیکھا تو انھوں نے فرمایا !  ابھی کچھ دنوں میں تمھارے دادا مسلمانوں سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک لشکر لے کر چلیں گے تم بھی نوکرانیوں کے لباس میں چھپ کر انکے ساتھ مل جانا میں نے ان کے فرمان کی اطاعت کی اور یہی ہوا کہ مسلمانوں نے حملہ کیا اور میں اسیر ہو گئی اور ابھی تک کسی کو معلوم نہیں کہ میں روم کے بادشاہ کی پوتی ہوں بشر بن سلیمان نے سوال کیا کہ یہ فصیح و بلیغ عربی کہاں سے سیکھی ؟ تو خاتون علیہا السلام نے جواب دیا کہ میرے دادا کو پڑھنے پڑھانے کا بہت شوق ہے اور ان کی خواہش تھی کہ میں مختلف قوموں کی زبان اور ان کے ادب و آداب سیکھوں اسی بنا پر انھوں نے ایک خاتون کو حکم دیا کہ وہ مجھے صبح و شام عربی سکھائے۔ 

اور یہ پورا قصّہ تھا کہ اس طرح سے حضرت نرجس خاتون علیہا السلام روم سے سامراء پہنچیں۔ اس کے بعد حضرت امام پادی علیہ السلام نے اپنی بہن حکیمہ علیہا السلام کو بلا کر میری جانب اشارہ کر کے فرمایا یہ وہی خاتون ہیں کہ جن کا انتظار تھا اور ان سے کہا کہ مجھے احکام دین اور اسلامی آداب سیکھائیں۔ [131]

حوالہ جات

[1] بحار الانوار ج۵۳،ص۹۵ اور ج۸۶،ص۲۸۴ اور ج۹۴،ص۴۲ اور ج۱۰۲،ص۱۱۱۔
[2] کافی ج۲،ص۱۲،باب اخلاص ج۶    
[3] بحار الانوار ج۵۳،ص۳۲۶۔
[4] کافی ج۶،ص۴۰۶۔
[5] سورہٴ تحریم آیت ۸۔        
[6] بحارالانوار ج۵۳، ص۳۲۶۔ 
[7] سفینة البحار ج۲،ص۶۱۲،مادہٴ نور، بحار الانوار ج۲۳،ص۳۰۶۔
[8] سورہٴ نساء آیت ۱۷۴۔
[9] تغابن آیت ۸۔
[10] بحارالانوار ج۵۸،ص۵۔
[11] بقرہ آیت ۲۵۵۔
[12] بحارالانوار ج۵۸،ص۲۸۔
[13] بحار الانوار ج۵۸،ص۲۸۔
[14] بحارالانوار ج۵۸،ص۱۰۷۔
[15] بحارالانوار ج۱۳،ص۲۷۳۔
[16] بحارالانوار ج۶۰،ص۲۷۔
[17] سورہٴ نمل آیت ۸۶     ۔ 
[18] سورہٴ انعام آیت ۳۸۔ 
[19] سورئہ انعام آیت ۵۹۔
[20] یس آیت ۱۲۔
[21] نمل آیت ۸۹۔
[22] اسراء آیت ۸۲۔
[23] اسراء آیت ۸۲۔
[24] فجر آیت ۲۲۔
[25] غافر آیت ۷۸۔
[26] زمر آیت ۶۹۔
[27] قصص آیت ۸۸۔ 
[28] مجمع البیان ج۷،ص۴۲۱۔
[29] البرھان ج۳،ص۲۴۱۔
[30] بقرہ آیت ۲۵۸۔
[31] آل عمران آیت ۱۵۶۔
[32] یونس آیت ۵۶۔
[33] روم آیت ۱۹۔
[34] آل عمران آیت ۲،بقرہ آیت ۲۵۵۔
[35] طہ آیت ۱۱۱۔
[36] عوالم العلوم ج۱۱،ص۲۶، مستدرک سفینة البحار ج۳،ص۳۳۴۔
[37] زمر آیت ۶۹۔
[38] تفسیر صافی ج۴،ص۳۳۱، نور الثقلین ج۴،ص۵۰۴۔
[39] شوریٰ آیت ۱۱۔
[40] اسراء۔۴۴۔
[41] حج۔۶۶۔ 
[42] روم۔۴۰۔ 
[43] بقرہ۔ ۲۸
[44] دخان۔۸۔
[45] اعراف۔۱۵۸۔
[46] بقرہ۔۲۵۵۔
[47] ٓل عمران۔ ۲۔
[48] غافر۔۶۵۔
[49] انبیاء۔ ۱۰۷۔ 
[50] حمد۔ ۶۔ 
[51] بحار الانوار ج۵۱،ص۳۰،ح۷۔ 
[52] بحار الانوار ج۵۱،ص۳۰،ح۶۔
[53] بحار الانوار ج۵۱،ص۲۹،ح۲۔ 
[54] بحارالانوار  ج۵۱،ص۲۸،ح۱۔
[55] بحارالانوار ج۵۱،ص۳۰،ح۴۔ 
[56] نساء ۵۹۔ 
[57] تفسیر الکبیر ج۱۰ ص۱۴۴۔
[58] تفسیر البحر المحےط ج۳، ص۲۷۸۔ 
[59] احقاق الحق ج۳،ص۴۲۵۔
[60] نساء آیت ۵۹۔
[61] ینابیع المودہ ص۱۱۶۔
[62] احزاب آیت ۵۶۔ 
[63] نساء آیت ۶۵۔
[64] مجمع البیان ج۸،ص۵۷۹۔
[65] مجمع البیان ج۸،ص۵۷۹۔
[66] تفسیر در المنثور ج۶ص۶۴۶۔۶۵۶۔
[67] کہف، آیت ۱۰۹۔ 
[68] انعام، آیت ۳۸۔
[69] انعام، آیت ۵۹۔ 
[70] نحل، آیت ۸۹،
[71] اسد الغابة ج۴،ص۱۰۸،مختصر تارےخ دمشق ج۱۷،ص۳۵۳
[72] ینابیع المودہ ص۶۹۔
[73] ینابیع المودہ۔ ص۶۹۔
[74] سفینة البحار ج۱،ص۵۰۴ کلمہ ربع۔
[75] سفینة البحار ج۱،ص۵۰۴،کلمہ ربع۔
[76] انعام آیت ۷۳۔
[77] نمل آیت ۷۷۔        
[78] حجرات آیت ۱۸۔ 
[79] بحار الانوار ج۷۰، ص۱۹۹ ح۴۔
[80] اسراء آیت ۸۴۔
[81] بحارالانوار ج۷۰،ص۲۰۱،ح۵۔
[82] واقعہ آیت ۱۱۔
[83] آل عمران  ۱۶۹۔ 
[84] عنکبوت، آیت۵۷۔
[85] اعراف، آیت۲۶۔
[86] زمر، آیت ۶۹۔
[87] بحارالانوار ج۵۳،ص۱۸۰۔
[88] تفسیر صافی ج۴،ص۳۳۱،نور الثقلین ج۴،ص۵۰۴۔
[89] بقرہ، آیت۷۔
[90] بقرہ، آیت ۱۰۔
[91] بقرہ، آیت ۵۱۔ 
[92] طہ، آیت ۲۵۔۳۲
[93] یہ حدیث مختلف کتابوں میں ذکر ہوئی ہے حوالہ کے طور پر بحار الانوار ج۳۳، ص۱۷۶،باب ۱۷۔ اصول کافی ج۸،ص۱۰۷،روایت۸۰،باب۸  اور المستدرک  الوسائل ج۱۸،باب ۲۰، ص۳۶۷ روایت ۲۲۹۷۱  میں رجوع کریں۔ 
[94] روم،آیت ۴۱۔
[95] تفسیر المیزان ج۱۶، ص۲۰۰۔ 
[96] اعراف، آیت ۹۶۔ ۳۔
[97] مائدہ،آیت ۵۵۔
[98] احقاق الحق ج۲،ص۳۹۹ سے ۴۱۰ تک،مجمع البیان ج۳،ص۳۲۴، نورالثقلین ج۱، ص۶۴۷، تفسیر المیزان ج۶،ص۵۔
[99] تفسیر در المنثور ج۳ ص۱۰۵،تفسیر کشاف ج۱ ص۳۴۷،تفسیر فتح القدیر ج۲ ص۶۶۔
[100] بحارالانوار ج۲۵،ص۳۶۳،ج۳۶،ص۴۰۰۔
[101] عوالم العلوم ج۱۱،ص۵۴۰۔
[102] عوالم العلوم ج۱۱،ص۶۱،باب ۳،ح۲۔
[103] حجرات،آیت ۱۳۔ 
[104] انعام،آیت ۳۸۔
[105] آل عمران، آیت ۱۹۔
[106] واقعہ، آیت ۱۰۔۱۱۔ 
[107] کمال الدین ج۱،ص۲۵۳،بحارالانوار ج۳۶،ص۲۵۰، مراٴة العقول ج۴،ص۲۷۔
[108] امالی صدوق ص۱۵۷،کمال الدین ص۲۰۷، بحارالانوار ج۵۲،ص۹۲، فرائد السمطین ج۱،ص۴۶، ینابیع المودة ج۱،ص۷۶،ج۳،ص۳۶۱۔
[109] بحار الانوار ج۵۳ ص۱۸۱،کمال الد ین ج۲ ص۴۸۵،غیبت شیخ طوسی(رہ)ص۱۷۷،احتجاج طبر سی (رہ)ص۴۷۱،اعلام الوری ص۴۲۴،کشف الغمہ ج۳ص۳۲۲،النوادر فیض کاشانی ص۱۶۴،کلمہ الامام مھدی ص۲۲۵،المختارمن کلمات الامام المھدی ج۱ص۲۹۴۔
[110] تواتر اسے کہتے ہیں کہ ایک روایت اتنی تعداد میں مختلف راویوں اور واسطوں سے ایسے نقل کی جائے کہ اس کے جھوٹ ہونے کا احتمال بھی باقی نہ رہے۔
[111] مراٴة العقول،ج۴،ص۲۸۔
[112] غیبت شیخ طوسی ص۱۳۹، بحارالا نوارج۳۶ص۲۵۹، اثبات الھداة ج۱ص۴۶۰ تقریب المعارف ص۱۷۵۵۔
[113] کفایة الاثر ص۱۶۳، بحارالانوار ج۳۶،ص ۲۳۸، محینة البلاغہ ج۱،ص۱۷۰،ینا بیع المودة ج۱ ص۷۴۔
[114] سورہٴ رعد آیت ۷۔
[115] کفایة الاثر، ص۸۹،بحارالانوار ج۳،ص۳۱۶۔
[116] فرائد المسمطین ج۱،ص۴۶،ینابیع المودة ج۱،ص۷۵،ج۳ص۳۶۰۔ امالی شےخ صدوق ص۱۷۵،کمال الدین ج۱،ص۲۰۷۔
[117] کمال الدین ج۱ص۲۰۲،بحارالانوار ج۲۳ص۳۴۔
[118] کمال الدین ج۱،ص۲۰۴، بحارالانوار ج۲۳،ص۳۷۔
[119] کمال الدین ج۱ص۲۰۲، بحارالانوار ج۲۳،ص۲۴۔
[120] غیبت نعمانی ص۱۳۸،علل الشرایع ص۱۹۸،بصائر الدرجات ص۵۰۸۔
[121] غیبت نعمانی ص۱۶۱۔،بحار الانوار ج۵۱ص۱۱۳۔
[122] فرہنگ معین ج۴،ص۴۷۰۲۔
[123] فرہنگ معین ج۲ ص۱۹۵۴۔
[124] لسان العرب ج۶ ص۱۶۳۔
[125] غیبت شیخ طوسی(رہ) ص۱۲۸،کمال الدین ج ۲ص۲۳ ۴۔
[126] دلائل الامامة ص ۲۶۷،بحارالانوار ج۵۱ ص۱۰۔
[127] مصنف ابن ابی شیبہ ج۱۵ ص۱۹۸ ح۱۹۴۹۵
[128] فرہنگ معین ج۲ ص۱۷۰۲۔
[129] لسان العرب ج۴ص۲۲۰۔
[130] غیبت طوسی(رہ) ص۲۴۱،کمال الدین ج۲س۴۳۲۔
[131] غیبت طوسی ص۱۲۴،۱۲۸، کمال الدین صدوق ج۲،ص۴۱۷،۴۲۳ دلائل الامامة ص۲۶۳،۲۶۷، مناقب ابن شہر آشوب ج۴،ص۴۴۰،۴۴۱، روضة الواعظین ج۱،ص۲۵۲،۲۵۵، اثبات الھداة ج۳، ص۳۶۔ ۳۶۵ اور ص ۰۸ ۴۔ ۴۰۹، بحارالانوار ج۵۱،ص۶۔۱۰،حلیة الابرار ج۶،ص۵۱۵۔
٭٭٭


 



علامات ظہور

علامات ظہور کا موضوع ایک دلچسپ موضوع ہے۔ اکثر لوگ اس کو ایک پیشن گوئی کی نظر سے دیکھتے ہیں، اگر کوئی بات ان کو پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہے تو اس پر خوش ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جبکہ یہ علامات نہ پیشن گوئی ہے نہ کوئی علم نجوم اور نہ ہی کوئی ہاتھ کی لکیروں سے نکالا ہوا نتیجہ ہے، بلکہ ایک واقعیت ہے کہ جو واقع ہو رہی ہے یا رو نما ہو گی، یہی وہ مقام ہے کہ جہاں انسان کو متوجہ ہو جانا چاہئے اور ہر مومن کو اپنی کمر کس لینی چاہئے۔ 

 البتہ کچھ علامات قطعی نہیں ہیں بلکہ کسی د وسرے واقع یا شئے پر مشروط ہیں جبکہ بعض علامات قطعی ہیں اور ان کے پورا ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ 

اور ان کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں جس طرح کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

 ’’من المحتوم الذی لابد منہ ان یکون قبل القائم :خروج السفیانی وخسف بالبیداء وقتل النفس الذکیہ والمنادی من السماء وخروج الیمانی۔‘‘ [1]

ترجمہ:وہ نشانیاں جو کہ بغیر کسی شک و شبہ اور حضرت (عج) کے ظہور سے پہلے حتماً رونما ہوں گی :(۱)خروج السفیانی (۲) سورج کو گھن لگنا(۳) نفس ذکیہ کا قتل (۴) آسمان سے ندا کا آ نا (۵) شخص یمانی کا خروج کرنا اور اس کے علاوہ۔ایک اور مقام پر معصوم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :

’’النداء من المحتوم والسفیانی من المحتوم وقتل النفس الذکیہ من المحتوم وکفّ یطلع من السماء من المحتو م۔ ‘‘ [2]

 ترجمہ: آسمانی ندا آنا حتمی ہے۔ سفیانی کا خروج بھی حتمی ہے۔ نفس ذکیہ کا قتل بھی حتمی ہے۔ اور ہاتھ کی ہتھیلی جو کہ آسمان پر ظاہر ہو گی وہ بھی حتمی ہے۔ 

پھر دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں :

’’خمس قبل قیام القائم من العلامات الصحیحة والیمانی و الخسف بالبیداء و خروج السفیانی و قتل النفس الذکیہ۔ ‘[3]

   ترجمہ:پانچ نشانیاں حضرت(عج)کے ظہور سے قبل حتمی ہیں۔ خروج یمانی، سورج گھن، خروج سفیانی اور قتل نفس ذکیہ۔ 

ایک طویل روایت میں حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہما السلام بیان فرماتے ہیں :

’’یخرج اذا خفّت الحقائق ولحق اللاحق وثقلت الظھور وتتابعت الامور، واختلفت العرب واشتدّالطلب،وذھب العفاف واستحوذالشیطان و حکمت النسوان وفدحت الحوادث ونفثت النوافث وھجم الواثب و عبس العبوس و اجلب الناسوس ویفتحون العراق ویحمعون الشقاق بدم یراق‘‘[4]

 ترجمہ:وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب حقیقت کی کوئی وقعت نہ رہے گی۔ دنیا احمقوں کے پیچھے چلے گی، کمریں وزنی ہو جائیں گی، ایک کے بعد دوسرا حادثہ رونما ہوتا رہے گا، عربوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، کسی مصلح کے ظہور کی تمنا بڑھ چکی ہو گی، رشتہ داریاں ختم ہو چکی ہوں گی، شیطان سب پر حاوی ہو چکا ہو گا، عورتیں حکومت کیا کریں گی، کمرتوڑ حادثات رونما ہوں گے، چیڑنے والے چیڑتے ہوئے اور آگے بڑھ جائیں گے، تیز پرواز کرنے والے پرندے حملہ آور ہوں گے، دنیا کی لذتیں کھٹی ہو جائیں گی، راز دان لوگ خیانت کر کے راز فاش کریں گے، عراق کو دوسرے فتح کر لیں گے اور ہر قسم کے اختلاف کا جواب خونریزی سے دیا جانے لگے گا۔ 

’’اذا خفت الحقائق‘‘

--  جب حق کی کوئی وقعت نہ رہے گی۔ 

 ظاہر ہے جب زمانہ گمراہی اور ضلالت کی طرف بڑھ رہا ہو گا تو اس گمراہی کے سیلاب میں حق کی پہچان مٹ جائے گی اور اگر کوئی حق کہتا نظر بھی آیاتواس کو حق کہنے کے جرم میں سزاوار ٹھہرایا جائے گا۔ اس طرح سے حق گو لوگ خود بخود گوشہ نشینی کا شکار ہو جائیں گے۔ 

 اور یہی وہ علامات ہیں جو ہم آجکل اپنے چاروں طرف دیکھ رہے ہیں۔ مشرق سے مغرب تک ظلم کا بازار گرم ہے۔ ہر طاقتور اپنے سے کمزور پر حاوی ہونا چاہتا ہے۔ اس حصول قدرت اور طاقت کی کشمکش میں دنیا ظلم سے بھر تی جا رہی ہے۔

’’لحق الاحق‘‘

پیروی کرنے والے احمقوں  کے پیچھے چل نکلیں گے :

 آج اکثریت کا یہی حال ہے کہ دنیا اندھی تقلید کا شکار ہو رہی ہے۔ انسان جب کسی کی پیروی کرنے پر آتا ہے توایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ وہ حق و نا حق کی پہچان کھو بیٹھتا ہے اور نہ فقط یہ کہ حق کو نہیں پہچان پاتا بلکہ وہ اس ظلمت کے بہاوٴ میں خود اپنے آپ کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ دنیا میں ہر طرف افراط اور تفریط کے شکار ہوئے لوگ نظر آ رہے ہیں۔ چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی اور یہ افراط یا تفریط ہونا پورے معاشرے کے نظام کو درہم برہم کئے ہوئے ہے۔

’’وثقلت الظھور‘‘

پشت و کمر بھاری ہو جائے گی :

اگر اس سے مراد انسانی کمر ہے تو مطلب بہت واضح ہو جائے گا۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کے اوپر کام کا بوجھ اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہو گا۔بظاہر تو انسانی زندگی ایک آرام دہ اور پر آسائش کی طرف جا رہی ہے اور وہ اس کے پیچھے کتنی زحمتیں اٹھا رہا ہے اس طرف بالکل توجہ نہیں کرتا۔ اگر اپنے اس زمانہ سے ذرا ماضی کی طرف چلے جائیں تو بہت سے کام جو کہ آج کی دنیا میں ہو رہے ہیں وہ ناممکن تصور کئے جاتے تھے۔

ایک طرف تو انسان نے الیکٹرونکس کے میدان میں اتنی ترقی کہ ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف اپنے اس آسائش کے حصول کے خاطر اپنے دین اور ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ یہی آسائش اور وقتی لذّتیں انسانی زندگی کا ہدف بن کر رہ گئی ہیں۔ چاہے ان چیزوں کے حصول کے لئے کوئی بھی راستہ اپنانا پڑے انسان اسے انجام دینے سے گریز نہیں کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انسا ن کو آسائشیں تو میسر ہوتی جا رہی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ سکون بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص پریشانی اور مایوسی میں مبتلا ہے آمار کے لحاظ سے چالیس کے سن سال سے اوپر کے لو گوں میں ۸۰ فیصد لوگ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلاء ہو جاتے ہیں۔ اور یہ حساب چالیس سال سے بھی کمسن لوگوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

 اگر ان لوگوں سے ان کی زندگی کے بارے میں سوال کیا جائے۔ تو ان میں سے شاید ہی کوئی انسان اپنی زندگی سے مطمئن نظر آئے گا۔ انسان نے اپنے آپ کو خود سے ہی ایک ختم نہ ہونے والی دوڑ میں شامل کر لیا ہے جس کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی ہے۔

’’تتابعت الامور‘‘

ایک کے بعد دوسرا حادثہ ہوتا نظر آ رہا ہے :

یہ بات اب آج کی دنیا میں بہت واضح ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی جگہ پر کوئی بڑا حادثہ ہوتا نظر آتا ہے اور اس شدت کے ساتھ ہوتا ہے کہ انسان پچھلے واقع کو بھلا دیتا ہے۔ اب تو حال یہ ہو چکا ہے کہ ایسے حوادث پر لوگوں کا رد عمل ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ا ب بڑے سے بڑے واقعہ کو وہ اپنے لئے ایک معمولی سی بات تصور کرتے ہیں۔ اب تو دنیا کے بڑے شہروں کے بارے میں بڑی آسانی سے یہ بات کہہ دی جا سکتی ہے کہ وہاں ایک دن میں ۱۵یا۲۰آدمی کا قتل ہونا ایک معمولی سی بات ہے۔ اسی وجہ سے معصوم علیہ السلام سے یہ بھی منقول ہوا ہے کہ:

’’توقَّعواآیات کنظم الخَرَز‘‘

ایسے حادثات کے منتظر رہو کہ جوتسبیح کے دانہ کی طرح یکے بعد دیگرے رونما ہوں۔ [5]

اور یہی ہو رہا ہے کہ بہت تیزی اور بغیر کسی وقفہ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ 

’’واختلف العرَب‘‘

عربوں میں اختلافات شروع ہو جائیں گے :

یہ بات بھی بہت پہلے سے ظاہر ہو چکی ہے۔ اور ہر روز اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

’’واشتدَّ الطّلب‘‘

کسی مصلح کے ظہور کی تمنا بڑھ چکی ہو گی :

اب یہ بات سرعام پر آ رہی ہے کہ دنیا میں ہر طرف لوگ کسی ایسی شخصیت کے منتظر ہیں جو انہیں دلدل سے نکالے۔مومنین کی آنکھیں میں انتظار اور مایوسی نظر آ رہی ہے اور چشم براہ ہیں کہ وہ نجات دینے والا منجی عالم بشریت کب ظہور کرے؟اور طوفان ظلم وستم کب ختم ہو اور مومنین کا یہ امتحان کب اپنے انجام کو پہنچے۔ ؟

نہ فقط مومنین ومسلمین بلکہ ملحد اور بے دین بھی اپنی طرف سے اسی کوشش میں مصروف نظر آنے لگے ہیں کہ ہم کس طرح اس جہان انسانیت کو عدالت اور حق جوئی کی جانب گھسیٹ کر لائیں اور ظلم کے سیلاب پر قابو حاصل کریں۔ 

’’ذَہَبَ الْعفافُ‘‘

رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گے:

لوگ اپنے خونی رشتوں کو بھلا بیٹھیں گے۔ ایک دوسرے کے تعلقات ان کی مصلحت اندیشی پر منحصر ہونے لیں گے۔خونی رشتوں کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ اس دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے لوگ فقط مصلحت اندیشی پر اتر آئیں گے جدھر سے فائدہ نظر آئے گا ادھر ہی سے رشتہ بھی باقی رکھیں گے۔ 

نوبت تو یہاں تک آ گئی ہے کہ صلہ رحمی کو حماقت اور وقت ضایع کرنے کا نام دیا جانے لگا ہے۔ اگر کوئی شخص صلہ رحمی کی غرض سے کسی کے گھر جائے تو لوگ اس کو ایک بے کار آدمی سمجھنے لگتے ہیں۔ کیونکہ آج کے دور میں مصروفیت ایک بہت بڑا فیشن بن گیا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ مصروف ہوتا ہے اتنا ہی اہم اور بڑا آدمی ہو گا۔

’’واستحوذالشیطان ‘‘

شیطان سب پر حاوی ہو جائے گا :

 ہر شخص کسی نہ کسی طریقہ سے شیطان کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔

اگرچہ یہ حق ہے کہ ’’العصمة لاھلھا‘‘ عصمت اور گناہوں سے پاکیزگی ان لئے ہے جو اس کی اہلیت (معصومین(ع)) رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی گذرے ہیں جو معصوم نہیں تھے اس کے باوجود کمال کے اعلیٰ درجات پر فائز تھے۔ اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں۔ جس طرح معصوم (ع)حجت ہیں اور ہر زمانہ میں کسی نہ کسی معصوم (ع) کا ہونا لازمی ہے اسی طرح سے ایسے افراد بھی ہر زمانے میں رہے ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گے اگرچہ ایسے لوگ انگشت شمار ہی کیوں نہ ہوں۔ صدر اسلام کے دور سے لے کر آج تک ایسے لوگوں کی فہرست بنائی جائے تو کئی کتابیں ان کے اوپر لکھی جا سکتی ہیں۔ حتی آج بھی قم مقدس میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے بارے میں یہ تصور بھی محال نظر آتا ہے کہ انھوں نے کبھی جھوٹ بھی بولا ہوگا یاوہ کبھی بول سکتے ہیں۔ غیبت تہمت تو بہت دور کی بات ہے۔ ’’ استغفر الله  من کل الذنوب ‘‘نہ فقط قم میں ایسی شخصیات ہیں بلکہ دنیا میں کہیں ہی ایسے لوگ مل سکتے ہیں۔ 

نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے خواب میں شیطان کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے زنجیریں بنا  رہا ہے یہ زنجیریں بہت مختلف سائز کی ہیں اور کوئی تو بہت بڑی اور موٹی تو کوئی دھاگے کی طرح باریک۔ خواب دیکھنے والے شخص نے شیطان سے سوال کرنا شروع کیا یہ سب سے موٹی زنجیر کس کے لئے بنا رہا ہے تو شیطان نے اس زمانہ کے کسی جید عالمِ دین کا نام لیا کہ ان کو اس زنجیر سے باندھنے کی کوشش کروں گا۔

اس سے پتلی زنجیر کے بارے میں سوال کیا تو شیطان نے کسی عارف کا نام بتایا، یہ شخص سوال کرتا رہا اور شیطان جواب دیتا رہا ہے یہ زنجیر فلان فلان شخص کے لئے ہے۔ آخر میں اس شخص نے شیطان سے سوال کیا کہ : میرے لئے کونسی زنجیر ہے۔ ؟تو شیطان نے مسکراکرجواب دیا تمھارے لئے کسی زنجیر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم بغیر زنجیر کے میرے قبضہ میں ہو۔

اب یہی حال اکثریت کا ہے اس زمانہ میں شیطان کا کام بہت آسان ہو کر رہ گیا ہے۔ بہت ہی کم لوگوں کے لئے اسے زنجیر بنانے کی ضرورت پڑے گی۔ ہر شخص کسی نہ کسی روحی بیماری میں مبتلاء نظر آ رہا ہے لوگوں کو دین اور حق کے راستہ پر لانا فساد اور گمراہی کے راستہ پر لانے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ کوئی شخص دین اور آخرت کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ حتی اگر کوئی کسی محفل میں خدا اور رسول(ص) کا ذکر کر بیٹھے تو اسے مسخرہ آمیز القاب سے نواز کر نہ فقط اس کی بات ختم کر دی جاتی ہے بلکہ اس شخص کی اپنی اہمیت اور شخصیت کو بھی سخت گزند پہنچتی ہے۔ 

’’حکمت النسوان ‘‘

عورتیں حکومت کریں گی :

یقیناًاس حکومت سے صرف ملکی سطح کی حکومت مراد نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں عورتیں حکومت کرتی نظر آئیں گی۔ اگر کسی ملک کی حکومت کی بات کی جا رہی ہو تو یہ بات کافی عرصہ پہلے سے رونما ہو چکی ہے۔ اب تو یہ بات عادی ہو چکی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ لوگوں میں غیرت ختم ہو چکی ہے۔ آزادی کے نام پر عورتوں کی لگامیں ٹوٹ چکی ہیں۔ 

البتہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ عورتیں خدا کی کوئی پست مخلوق ہے العیاذ باللہ بلکہ اسلام میں جتنا احترام عورتوں کو دیا ہے کسی اور مذہب یا دین نے نہیں دیا ہے۔ یہ جاہلیت کی بات ہے کہ عورتیں گھر میں بندھو کر رہ جائیں۔ یہ اسلام طالبان تو ہوسکتا ہے کہ جو خود اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہیں لیکن دین حق اور مذہب حقہ سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اسلام نے ہر شخص اور مخلوق کو اس کا مقام عطا کرنے کے ساتھ اس کے کاموں کا دائرہ کار بھی معین کیا ہے۔ 

عورت اگر ماں کے روپ میں ہو تو اس کے قدموں کے نیچے جنت قرار دی ہے۔ اگر بیوی ہو تو قابل احترام ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تمام ضروریات زندگی کواس کے شوہر پر لازم قرار دیا ہے۔ اگر بہن کی صورت میں ہو تو بھائی کو اس کا وقار قرار دیا ہے اگر بیٹی کے روپ میں ہو تو باپ پر اس کے لئے شفقت اور محبت لازم کی ہے۔ 

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت اور مرد کے حقوق برابر ہونے کا نعرہ بلند کر کے مغالطہ میں مبتلا کرنے کے بعد اس کی شرم و حیا کو اس سے لے لیا جائے۔ آیا مرد اور عورت کے برابر ہونے کا لازمہ یہ ہے عورت بے حیا ہو جائے۔ ؟آیا مرد اور عورت کے برابر ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ عورت کی ہر بات حق ہو جائے۔ ؟آیا مرد اور عورت کے برابر ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ عورت کو گھر سے بغیر کسی وجہ کے باہر نکال دیا جائے۔ آیا مرد اور عورت کے برابر ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ عورتیں حکم خدا سے تجاوز کر جائیں۔ ؟

آیا مرد اور عورت کے برابر ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ عورتیں سیرت حضرت فاطمہ (ع) اور زینب کبری (ع) کو بھلا بیٹھیں۔ ؟آیا مرد اور عورت کے برابر ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ عورتیں اپنے سروں سے چادریں اتار دیں۔ 

نہیں !ہر گزایسانہیں ہے۔ اسلام نے کسی کے حقوق معین کرتے وقت ہر گز کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں کی ہے۔ ہر شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق حقوق عطا کئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج مغرب میں برابری کے نام سے بے لگام آزادی کا نعرہ ہے وہاں ایک شریف اور با عزت عورت کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے اگر بات یہیں تک ہوتی تو صبر آ جاتا مگر اب وہی آزاد عورتیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ ہماری حفاظت کی جائے، اور اب وہ اس مقام پر پہنچ چکی ہیں کہ وہ لوگ اپنی حفاظت کرنے سے ناچار ہو چکی ہیں، اب اس غلط راہ پر نکلنے کا نتیجہ نظر آنے لگا ہے یہ تو ایک جانب سے عورتوں کا کر دار تھا۔ 

دوسرا کر دار عورتوں کا وہ ہے کہ جو وہ خاندانی سیاستوں میں ادا کرتی ہیں۔ ایک خونی رشتہ کو دوسرے خونی رشتہ سے الگ کرانے سے بڑے بڑے جھگڑوں کے پیچھے انہیں کا کر دار ہوتا ہے۔ افسوس ہے ایسے مردوں کی عقل پر کہ جو اس طرح سے عورتوں کی تقلید کرتے ہیں۔ گھروں اور خاندانوں کے بڑے بڑے فیصلوں میں عورتوں کی سیاست چلا کرتی ہے۔ اور یہ مرد اپنی عقلوں پہ تالہ باندھ کر کونے میں رکھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی گھر میں دین داری اور بے دینی کا دارو مدار عورتوں کے اختیار میں ہے اگر باپ چاہے جتنا بھی متقی یا پرہیزگار کیوں نہ ہو اگر اس کی بیوی مذہبی نہیں ہے تو ساری اولاد پر وہ اپنا ہی رنگ چڑھا دیتی ہے۔ اگرچہ عورتوں کا کردار بے اثر نہیں ہوتا لیکن اس حد تک کہ مرد کو اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑ جائیں۔ 

اس کے برعکس اس بات کی جانب بھی اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ حق تلفیاں جو ہمارے ملک پاکستان میں مختلف مقامات پر عورتوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت تعجب ہو ا کہ اس دور میں کہ جب دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے، ایسے بھی لوگ رہتے ہیں کہ جو عورتوں کو ایک جانور کی حیثیت سے رکھتے ہیں۔ شادی کا تصور ان کے نزدیک یہ ہے کہ ایک عورت بچہ دینے کے ساتھ ساتھ گھر میں کام بھی کرے گی۔ حتی بعض علاقوں میں ہم سے یہ سوال کیا کہ آیا عورت رنگین کپڑے بھی پہن سکتی ہے؟ تو بڑا تعجب ہوا۔معلوم کرنے اور دیکھنے پر پتہ چلا کہ وہاں عورتوں کو سفید کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ اور گاڑی کے پرانے ٹائر سے بنے ہوئے جوتے پہنائے جاتے ہیں، آج بھی مسلمانوں میں ایک طرح سے خرید و فروخت ہو رہی ہے کہ جو کوئی بھی ہو جس عمر کا بھی ہو اگر زیادہ پیسے لائے گا تو اس کو لڑکی دیدی جائے گی حتی خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ستر سالہ شخص کی شادی ایک ۱۰/سالہ لڑکی سے کر دی گئی۔ اور یہ بات ان کے نزدیک بہت عام ہے گاؤں دیہاتوں میں عام دیکھنے کو مل جاتا ہے کہ اگر بیوی سے کوئی روٹی جل جائے کہ جسے اس نے گھنٹوں محنت کر کے لکڑی کے چولھے پر پکایا ہوا ہوتا ہے تو اس کی پٹائی ہو جاتی ہے۔ 

ایسی باتوں پر مرد بڑا فخر کرتے ہیں کہ میں اپنی گھر والی کو مار کر آیا ہوں بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی بعض علاقوں میں تو اپنے جرم کو چھپانے کے لئے کارا کاری کا چکر بنا کر عورتوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ابھی بھی پاکستان میں ایسے مقامات ہیں کہ جہاں شاید ہی کوئی خاندان یا گھر ایسا ہو کہ جو کارا کاری کا شکار نہ ہو چکا ہو اس طرح عورتوں کو علم کے حصول سے محروم رکھ کر اپنے با غیرت ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ 

واضح ہے کہ اسلام کا ان تمام چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ ساری چیزیں اسلامی تعلیمات سے دور ہونے کے سبب پیدا ہوتی ہیں اسی جاہلیت کی وجہ سے ہم افراط اور تفریط کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

’’وفدحتِ الحوادث‘‘

کمر شکن حادثات رونما ہوں گے :

ظاہر ہے کہ جب پوری دنیا میں لوگ افراد و تفریط کا شکار ہو جائیں گے حتی یہ کہ حکومتوں میں حصول قدرت اور طاقت کی دوڑ اپنے عروج پر ہو گی تو اس کے نتیجہ میں ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ جو جبران ناپذیر ہوں۔ یہاں تک کہ کوئی بھی قوم یا حکومت ایسی باقی نہیں رہے گی کہ جن کے بارے میں یہ کہا جا سکے گا کہ یہ امن اور سکون کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 

’’نفثت النوافث و ہَجَمَ الواثب‘‘

چیر کر آگے بڑھنے والے آگے بڑھ جائیں گے اور تیز پرواز کرنے والے حملہ آور ہوں گے :

نہ فقط موجودہ زمانے کے لوگ بلکہ گذشتہ صدی کے لوگ اس چیز کا خوب مشاہدہ کر چکے ہیں کہ یہ جنگی طیارے روز بروز ایک سے بڑھ کر ایک جدّت کے ساتھ دنیا میں ایجاد ہو رہے ہیں کہ جن کے ذریعہ حکومتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے روی زمین پر رہنے والوں کو آگ اور خون میں غلطان کرتی رہتی ہیں۔ اب تو اس دنیا سے بڑھ کر سیاروں کی جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں اگرچہ کہ ابھی تک یہ ایک مفروضہ کی حد تک ہی محدود ہے۔ 

’’وعبس العبوس ‘‘

دنیا کی لذتیں کھٹی ہو جائیں گی :

 تمام گذشتہ باتوں کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب دنیا میں ہر طرف آشوب اور ہنگامہ آرائی بڑھ جائے گی تو کوئی بھی شخص سکو ن کی زندگی بسر نہیں کرسکے گا۔جب سکون ہی باقی نہیں رہے گا تو پھر زندگی میں مزا کہاں سے آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جس طرف توجہ کر کے دیکھیں لوگ ایک سے بڑھ کر ایک اشتعال انگیز قدم اٹھا رہے ہیں خود کشی کرنے والوں کا تناسب پوری دنیا میں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سب نتائج اسی لئے نکل رہے ہیں کیوں کہ دنیا میں ان لوگوں کے لئے کوئی کشش باقی نہیں رہ گئی ہے اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو کر یا تو خود کشی کر بیٹھتے ہیں یا پھر انتقامی جذبہ کے پیش نظر اشتعال انگیز اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ 

ایک اور روایت کے ذیل میں مولیٰ متقیان حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام فرماتے ہیں :

’’وانجر العیص واٴراع َالقنیص و اکثر القمیصُ ‘‘

 جس وقت جنگلات خشک ہو کر ختم ہو جائیں گے شکار کرنے والے سب کو وحشت زدہ کرتے رہتے ہوں گے اور نفرتیں اور ہجرتیں زیادہ ہو جائیں گی۔[6]

’’انجر العیص‘‘

 جس وقت جنگلات خشک ہو کر ختم ہو جائیں گے:

 پوری دنیا میں ہر طرف اس بات کا رونا ہے کہ جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ اس کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو حکومتیں یا پھر کچھ لوگ اپنے مقاصد کے لئے جنگلات ختم کرتے ہیں یا پھر بارشیں کم یا بعض مقامات پر نہ ہونے کے سبب جنگلات ختم ہوتے جا رہے ہیں یا پھر بعض موقع پر اشتعال انگیز کاروائیوں کے نتیجہ میں بھی یہ خداداد نعمت رو بہ زوال ہوتی جا رہی ہے۔ 

آج پوری دنیا میں سیمینار منعقد کئے جا رہے ہیں کہ کسی طرح سے ان قدرتی وسائل کو ضائع ہونے سے روکا جائے۔ قحط سالی روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے حکومتوں کے درمیان پانی کے مسئلہ پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور عنقریب عین ممکن ہے کہ حصول آب کے لئے حکومتوں کے درمیان جنگی چھڑ جائیں۔ 

’’ واٴراع َالقنیص ‘‘
 
شکار کرنے والے سب کو وحشت زدہ کریں گے:

کسی زمانے میں جب شکار کرنے والوں کا ذکر آتا تھا تو اس سے یہ تصور کیا جاتا تھا جانوروں کے شکار کرنے والے۔ لیکن اب بات اس سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اغوا برائے تاوان یا سیاسی مقاصد کے لئے انسانوں کا اغوا بہت عام سی بات ہو کر رہ گئی کسی بھی ملک یا قوم میں اس قسم کی خبریں روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہیں۔ یا تو لوگ پیسہ کی خاطر سرمایہ دار لوگوں کو اغوا کر کے تاوان وصول کرتے ہیں یا پھر سیاسی مقاصد کے تحت بھی ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں مشرق سے لے کر مغرب تک ایسے واقعات روزانہ کا معمول بن گئے ہیں۔ 

 ’’کثر القمیصُ ‘‘

اضطراب اور ہجرت زیادہ ہو جائے گی:

ہجرت کرنے والے افراد بیشتر اس سبب کے تحت کرتے ہیں :کہ کچھ لوگ خشک سالی کی خاطر ہجرت کرتے ہیں جبکہ بعض لوگ امن و امان اور حفظ جان کے لئے بھی ہجرت کرتے ہیں جن ملکوں کے لوگ بیشتر ہجرت کرتے ہیں ان کے اپنے وطن کے حالات معمول پر نہیں ہوتے۔ ان کا ملک اقتصادی، اجتماعی، معاشرتی یا پھر امن وامان کے مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ 

آج لوگ ایک ایک کر کے یا پھر گروہ کی صورت میں نہیں بلکہ پوری کی پوری قوم مل کر ہجرت کرتی ہے حتی بعض ممالک میں تو حشریہ ہے کہ اس ملک کے مقیم حضرات کی تعداد وہاں سے ہجرت کرنے والوں سے کم ہوتی ہے۔ دنیا میں برے پیمانے پر ہجرتیں ہو رہی ہیں، یہ مہاجرین عام طور سے اپنے ملک کے ھمسایہ ملکوں میں یا پھر اپنے مال ووسائل کے مد نظر مغربی دنیا کا رخ کرتے ہیں۔ اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کی مثال آپ کے سامنے ہے اسی طرح عراق، فلسطین اور بعض یورپی ممالک کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ 

اس طرح سے لوگ اقتصادی مسائل یا پھر نقص امن سے بچنے کے لئے بھی دنیا بھر میں ہجرت کرتے جا رہے ہیں۔ مہاجرین کی تعداد پوری دنیا میں اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ بعض ممالک نے اپنے وطن میں قانون بنا دیا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی مہاجر نہیں آ سکتا۔ جن ممالک میں مہاجرت کی جاتی ہے وہاں پر ان مہاجرین کی وجہ سے اقتصادی مسائل پیدا ہونے کے ساتھ اس ملک کے مقیم اصل باشندوں کو نوکریوں کا مسئلہ ہو جاتا ہے اسی طرح ہمسایہ ممالک اس کے ضمن میں کئی ایک مسائل کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں کہ جو ایک طرح کا قوموں میں اضطراب اور نفرت کا سبب بھی بنتا ہے۔ 

ایک اور مقام پر حضرت علی ابن ابی طالبؑ فرماتے ہیں :

’’اذا صاحَ الناقوس وَکَبَسَ الکابوس وتَکلَّمَ الجاموس فعند ذالک عجائبٌوایُّ عجائب‘‘[7]

جس وقت ناقوس سے صدا بلند ہو گی کابوس کا منحوس سایہ ہر جگہ پر پھیل چکا ہو گا، اور جاموس بولنے لگے گا اور اس زمانے میں حیرت انگیز واقعات رونما ہوں گے اور کیا عجیب و غریب واقعات پیش آئیں گے۔ 

ناقوس کا معنی ہوشیار کرنے والی آواز یا خطرے کی گھنٹی وغیرہ ہے۔ یہاں پر اس سے مراد حضرت جبرئیلؑ کی آواز ہے کہ جو پوری دنیا میں سنی جائے گی۔

کابوس خوفزدہ اور وحشت آور خواب کو کہتے ہیں کہ جو پوری دنیا پر حاکم ہو گا ہر جانب سے لوگ خوف وھراس کا شکار ہوں گے۔ 

جاموس ہر جامد چیز کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جامد چیزیں بولنے لگیں گی  یہ بات جب اس زمانے میں کہ جب یہ گفتگو بیان کی جا رہی تھی تو ایک بہت ہی عجیب اور تقریباً محال بات نظر آتی تھی لیکن آج اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جیسے ریڈیو، ٹی و ی ٹیلی فون، ٹیپ ریکاڈر،کمپیوٹر اور اسی طرح کی سیکڑوں اور چیزیں۔ 

آج کی دنیا میں دن بہ دن عجیب و غریب واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک چیز ایجاد ہو رہی ہے کہ جن کو دیکھ کر انسانی عقل مبہوت ہو کر رہ جاتی ہے۔ ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ مہینوں کے حساب سے جدت آ رہی ہے۔ 

 حضرت علی ابن ابی طالبؑ فرماتے ہیں :

’’ولذلک علامات وکشفُ الھکل وخفْقُ آیاتٍ ثلاثٍ حولَ المسجد الاکبر تہتزُّ یُشبھن َ بالمھدی۔۔ ۔وقتلٌ سریعٌ وموت زریعٌ‘‘[8]

اس کام (ظہور حضرت (ع))کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔ ان میں سے ہیکل کا ملنا،تین پرچموں کا بلند ہونا کہ جو تینوں کے تینوں حضرت مہدی (ع) کے پرچم سے ملتے جلتے ہوں گے امان نہ دینے والے قتل اور اچانک موت و۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیکل سے مراد وہ عظیم الشان معبد گاہ ہے کہ جو حضرت سلیمان (ع) نے تعمیر کروائی تھی وہ معبد گاہ بیت المقدس میں تھی۔اس کے تین سو ساٹھ(۳۶۰) ستون تھے،وہ عظیم الشان عمارت مختلف قیمتی پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔اس کی زمین پر شیشے کے مانند پتھر نصب تھے کہ جس کے نیچے سے پانی بھا کرتا تھا کہ جس کو دیکھ کربلقیس نے اپنے پائنچے اوپر اٹھا لئے تھے یہ سمجھ کر کہ یہ پانی ہے اور میرے پائنچے بھیگ جائیں گے۔ اس کے علاوہ اور بھی بے تحاشہ حیرت انگیز اشیاء اس محل میں موجود تھیں۔ 

 ہمارے زمانے میں یہودیوں کی پوری کوشش یہ ہے کہ اس ہیکل کو زمین کے اندر سے نکالا جائے کہ جس کا کچھ حصہ مسجد اقصیٰ اور دوسرا حصہ قیامت کے چرچ کے نیچے ہے۔اس وقت اس ہیکل کا تھوڑا بہت حصہ دریافت ہو چکا ہے لیکن ابھی تک اسرائیلی حکومت مکمل طور پر اس ہیکل تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ اگرچہ اس کی پوری کوشش ہے کہ اس عمارت کو جلد سے جلد کھود کر دریافت کیا جائے۔ تین ملتے جلتے پرچموں سے مراد یہ ہے کہ تین گروہ جو کہ اپنے آپ کو حق پر کہتے ہوں گے اسلام کے نام پر جہاد کرنے کو نکل کھڑے ہوں گے جب کہ ان میں سے کوئی بھی حق پر نہیں ہو گا۔

آج کی دنیا میں ہر طرف حق کے نام پر قتل و غارت و جہاد کے نام سے جنگی ہو رہی ہیں۔ آیا یہ سارے گروہ واقعاً دین اسلام پر عمل پیرا ہیں یا نہیں ؟یہ تو خود انکے اعمال اور گفتار سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے،ہر حق کا دعویدار حقدار نہیں ہوتا ہے۔

 آخری زمانے  کے لوگوں کی خصوصیات

اس سے پہلے کہ ہم آخری زمانے کے لوگوں کے بارے میں کچھ بیان کریں ایک نکتہ کی طرف توجہ بہت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کی دنیا کے لوگ اپنے آپ کو بہت زیادہ متمدن(ماڈرن اور ترقی یافتہ )سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ انسانیت کے دائرے سے کتنا دور جا چکے ہیں، اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے ہمیں معصومین (ع) کے اقوال کے تحت شعاع آنا ہو گا۔جب کہیں جا کر ہم اپنی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ خصوصیات بیان کی جائیں، ہم اپنی گفتگو کا آغاز رسول خدا(ص) کے اس بیان سے کرتے ہیں کہ جہاں پر انھوں نے زمانہ کے بارے میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

’’لا یأتی علیکم زمان الّا الّذی بعدہ شرّ منہ!‘‘[9]

’’کوئی زمانہ نہیں آئے گا مگر یہ کہ اس کے بعد والا زمانہ اس سے برا ہو گا‘‘۔

یہ ایک واضح بات ہے کہ جو پوری دنیا میں قابل مشاہدہ ہے۔ اگر تاریخ کا سھارا لیا جائے تو پھر اور بھی وضاحت کے ساتھ یہ بات روشن ہو جائے گی اگر اپنی زندگی کو بھی نظر میں رکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ زمانہ کہ جو ہمارے بچپن کا تھا جوانی سے بہتر اور جوانی کا زمانہ بڑھاپے سے بہتر ہے۔ آج جس زمانے میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں کل ہماری اولاد کو اس سے برا اور زیادہ سخت زمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے :

یاتی علی النّاس زمانٌ ھمّھم بطونھم وشرَفھم متاعُہُم وقبلتھم نساوٴھم ودینھم دَراھمھم ودنانیرھم اولٰٓئک شرُّ الخلق لاخلاق لَہُم عنداللّہ۔ [10]

’’لوگوں کے لئے ایک زمانہ ایساآئے گا کہ جب ان کا ہم و غم ان کا پیٹ ہو گا۔ ان کی شرافت کا اندازہ ان کے رہن سھن اور دنیا داری سے ہو گا۔ ان کا قبلہ ان کی بیویاں ہوں گی۔ان کا دین ان کا مال و دولت ہو گا۔ وہ لوگ بدترین لوگ ہوں گے اور خداوند متعال کے نزدیک ان کے لئے کوئی مقام نہیں ہو گا۔‘‘

یہ ایسی صفات ہیں کہ جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ ہر شخص دنیا داری اور پیٹ بھرنے کے لئے دوڑ رہا ہے ہر شخص اپنے معیار زندگی کو اوپر سے اوپر لے جانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ لوگوں  کا ملنا جلنا ان کی بیویوں کے ملنے جلنے پر منحصر ہو گیا ہے۔ اگر بیوی کے تعلقات کسی نزدیکی رشتہ دار سے خراب ہو جائیں تو ان کے شوہر اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی قطعہ تعلق کر کے بیٹھ جاتے ہیں جس طرف ان کا قبلہ (ان کی بیگمات) گھومیں گی اسی طرح سے وہ خود بھی گھومتے چلے جاتے ہیں۔ اُن کا دین ان کی دولت ہے۔ اگر دولت کے  حصول کے لئے دین کو بھی روندنا پڑ جائے تو وہ اس کام کو بھی آسانی سے کر گزرتے ہیں۔ یہی ہے آج کی دنیا اور دنیا والوں کا رواج!۔

’’وعندھا یظھرالربا ویتعاملون بالرُّشیٰ ویوضع الدین وترفعُ الدنیا‘‘[11]

’’اور سود عام ہو چکا ہو گا اور معاملات زندگی رشوت سے طے ہوں گے دین کم اہمیت اور دنیا با ارزش ہو چکی ہو گی۔ ‘‘

اسی رشوت کے بارے میں اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :

لیاتینَّ علی النّاس زمانٌ لایبقی احَدٌ الَّا اٴکل الرِّبٰافاٴِنْ لم یاْکُلْہُ اصابَہُ غُبارُہُ[12]

’’ لوگوں کے لئے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جس زمانے میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملے گا کہ جوسود نہ کھا چکا ہو۔ اگر مستقیمابھی سود نہ کھایا ہو لیکن اس کی گرد و غبار ضرور چکھی ہو گی۔ ‘‘

یعنی سود اتنا عام ہو چکا ہو گا کہ ہر شخص اس برائی سے آلودہ ہو چکا ہو گا۔ اور آج بھی یہی حال ہے کہ پوری دنیا کے اقتصاد کا دار و مدار سود پر ہے حتی اسلامی ممالک جو کہ اس بات کا ادعا کرتے ہیں کہ اسلام کے قوانین پر عمل پیرا ہیں لیکن ان ممالک کے بینک کے چلنے کا دارومدار بھی اسی سود آور معاملوں پر ہے اگر آج یہ سود دینا یا لینا بند کر دیں تو ان کی بینک کاری کا نظام بیٹھ جائے گا۔ 

 اسی طرح سے رشوت بھی پوری دنیا میں اپنی جڑیں بچھا چکی ہے اس زمانے میں رشوت کے متعدد نام ہیں مٹھائی، چائے اور پانی کا خرچہ تحفہ، ہدیہ وغیرہ، مختلف عناوین سے رشوت لی اور دی جا رہی ہے۔ انسان کو اپنا حق حاصل کرنے کے لئے بھی اسی کاسھارا لینا پڑتا ہے ورنہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائے۔ اور ظاہر ہے جہاں سودورشوت عام ہو چکی ہو اور لوگوں کے پیٹ میں یہ حرام لقمہ جا رہا ہو تو وہاں خود بخود دین کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور صرف دنیا و دنیاداری باقی رہ جائے گی۔ 

اس حرام لقمہ کا انسانی زندگی، اس کی سوچ اور اس کے رہن سھن پر بہت اثر ہوتا ہے۔ اگر کوئی باپ یہ تصور کرے کہ میں حرام لقمہ کھلا کر اپنے پیچھے کوئی صالح فرزند چھوڑ کر جاؤں تو وہ خام خیالی کا شکار ہے۔ کبھی بھی حرام کے لقمہ سے پلنے پھولنے والے لوگ نیکی اور اچھائی کاراستہ نہیں اختیار کرسکتے مگر یہ کہ اپنے جسم سے اس حرام لقمہ کے اثر کو زائل کر دیں۔ 

معصوم (ع) فرماتے ہیں کہ :

’’یکون اٴسعد الناس بالدنیا لکعٍ ابن لکعٍ لایٴومنُ با اللّہ ورسولہِ‘‘[13]

’’دنیا میں خوش بخت ترین لوگ وہ ہوں گے جو بالکل ذلیل ہو اور جو خدا اور اس کے رسول(ص) پر ایمان نہ رکھتے ہوں۔ ‘‘

 حقیقت بھی یہی ہے کہ آج دنیا میں خوشحالی انہیں کے پاس زیادہ نظر آتی ہے کہ جو کسی چیز کے پابند نہیں ہیں نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی رسول(ص) پر ایمان رکھتے ہیں۔ دنیا کی خوشحالی ان ہی بے دینوں کے پاس نظر آتی ہے اکثر دین دار لوگ اپنی مشکلات کے شکار رہتے ہیں۔ 

’’یصبح الرّجل مومناویمسی کافراًویمسی مومناًویصبح کافراًیَبیعُ اَحَدُکم دینہ بِعرضٍ من الدنیا قلیلٍ‘‘[14]

’’انسان ایمان کی حالت میں صبح کرے گا۔ اور کفر کی حالت میں شام کرے گا اور کفر کی حالت میں صبح کرے۔ اپنے دین کو بہت معمولی سی چیز کے بدلے میں بیچ دے گا۔ ‘‘

اس بارے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’بین یدی الساعة فتنٌ کقطع اللیل المظلم یصبح الرّجل منکم موٴ مناً ویصبح الرّجل مومناًویمسی کافراًویمسی مومناًویصبح کافراًیَبیعُ اقوامٌ دینھم بِعرضِ الدنیا‘‘

’’ظہور سے پہلے رات کی تاریکی کی طرح فتنے پھیل چکے ہوں گے انسان صبح کے وقت مومن اور دن کے آخری حصہ میں کافر اور رات کے پہلے حصہ میں مومن اور رات ہی کے آخری حصہ میں کافر ہو چکا ہو گا۔ قومیں اپنے دین کو بہت معمولی سے مال دنیا کے بدلے میں بیچ دیا کریں گے۔ ‘‘

اس بارے میں متعدد معصومین (ع) سے روایتیں وارد ہوئی ہیں، اور آج بھی یہی صورت حال ہے کہ انسان اپنے دین کو ہتھیلی پر رکھے گھوم رہا ہے، اس سیاست اور فتنہ کے دور میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو جو بہت جلد ختم ہونے والی ہیں اپنے دین کو بیچ دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں دیندار افراد نایاب ہوتے جار ہے ہیں، ایسے وقت کے لئے امام جوادؒ راہ حل بھی پیش کرتے ہیں۔ 

’’وقبل ذالک فتْنَةٌ شرٍیُمسی الرّجُلُ مٴومناً ویصبح کافراویصبح مومناًویمسی کافراًفمن ادرک ذالک الزمان فلیتقِ اللّہ ولیکن من احلاس بیتہ ‘‘[15]

’’روز موعود (ظہور ) سے پہلے بہت بڑا فتنہ ہو گا کہ انسان ایمان کی حالت میں شام کرے گا اور کفر کی حالت میں صبح اور ایمان کی حالت میں صبح اور کفر کی حالت میں 

میں شام کرے گا، اور جو کوئی بھی اس زمانہ کو درک کرے تو وہ اپنے گھر کے بچھونوں میں سے ایک بچھونا بن جائے۔ ‘‘

یعنی اس زمانہ میں انسان اپنے گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کرے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ کوشش یہی رہے کہ اپنے گھر میں وقت گزارے کیونکہ یہی ایک واحد راستہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنے آپ کو دنیا کی آلودگی سے بچا سکتا ہے۔ جتنا انسان دنیا کے لوگوں میں گھلے ملے گا اتنا ہی اس کے گناہ میں پڑنے کا احتمال زیادہ ہو گا۔

حضرت امام صادق(ع) بھی یہی فرماتے ہیں :

’’اذا کان ذالک فکونوا احلاس بیوتکم حتی یظھر الطاہر المطہّرِ‘‘[16]

’’جب وہ وقت آئے تو اپنے گھر کے بچھونوں میں سے بچھونا بن جائے یہاں تک کہ طاہر  و مطہر امام غائب (عج) ظہور کر جائے۔ 

امام صادق(ع) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

’’کُفُّوا الْسِنَتُکُمْ والْزَمُوْا بُیُوتَکُمْ فَاٴِنَّہ لا یصیبکم امرٌ تُخَصِّوْنَ بِہ ابداً‘‘[17]

’’اپنی زبانوں کو قابو میں رکھو اور اپنے گھروں سے باہر نہ نکلو بے شک تمھارے لئے کوئی ایسا حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ جو تم سے مخصوص ہو۔ ‘‘

زبان کو قابو میں رکھنا بھی ایک بہت مسئلہ ہے اسی زبان کی وجہ سے بعض اوقات بہت بڑے فتنہ رونما ہو جاتے ہیں۔ کبھی انسان بے خیالی میں بھی کوئی ایسی بات کر جاتا ہے کہ جس کا نتیجہ بہت بھیانک ثابت ہوتا ہے یہ زبان انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں نقصان پہنچانے میں ایک موثر کر دار ادا کرتی ہے۔ یعنی نہ فقط دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اس زبان کے بے جا ہلانے کا حساب کتاب ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لئے متعدد روایات میں تاکید کی گئی ہے۔ 

’’یتجاہر النَّاس بالمنکرات …فَیُنْفِقُ المالُ للغنٰاءِ‘‘[18]

’’لوگ منکرات کو علناً انجام دیں گے اور کثرت سے اپنے مال و دولت کو گانے نجانے پر خرچ کریں گے۔‘‘

آج کے دور میں بھی یہی ہے کہ لوگ بڑے فخر سے اپنے اور اپنی اولاد کے گناہ کبیرہ کو لوگوں  کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ناچ گانے کی بڑی بڑی محفلیں ہوتی ہیں، کہ جس پر بے تحاشہ مال دولت صرف کیا جاتا ہے مثال کے طور پر صرف شادی بیاہ کی تقاریب ہی کو دیکھ لیں اگر کسی شادی میں ناچ گانا نہ ہو تو اسے بہت بے رونق اور فضول تقریب سمجھا جاتا ہے اس کے برعکس اگر اس تقریب میں ناچنے والے اور والیاں بلائی جائیں رات پھر مہندی کی رسم کے نام پر رقص ہو بڑے بڑے میوزیکل گروپ کو دعوت دی جائے، ایسی محافل کو بہت با رونق اور یادگار شادیوں میں شمار کیا جاتا ہے، حتی آج کل بعض لوگ علماء کے اعتراض سے بچنے کے لئے نکاح وغیرہ کی رسم کو گھر پر مختصر لوگوں کی موجودگی میں انجام دے دیتے ہیں تاکہ مہمانوں کے سامنے کسی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

حضرت امیر المومنینؑ فرماتے ہیں :

’’یُصبح الآمر بالمعروف ذلیلاً والفاسق فیمالاًیحبُّ اللّٰہ محموداً‘‘[19]

’’امر بالمعروف (لوگوں کو واجبات کی تلقین) کرنے والا ذلیل اور گناہ کرنے والا لوگوں کے نزدیک مورد احترام ہو گا۔ 

’’لیاتینَّ علی الناس زمانٌ یَطرَّفُ فیہ الفاجر و یُقَرَّبُ فیہ الماجن ویُضعف فیہ المنصف‘‘[20]

’’لوگوں کے لئے ایک زمانہ آئے گا کہ جب فاجر اور فاسق کا احترام ہو گا اور مداری (ناچنے گانے والے) لوگوں کے نزدیک محبوب ہوں گے اور انصاف کرنے والا ضعیف ہو کر رہ جائے گا۔ ‘‘

آج کی دنیا کی یہی حقیقت ہے۔ اور کوئی شخص دیندار ی کی بات کرے تو لوگ اسے ذہنی مریض اور نجانے کن کن القاب سے پکارنے لگتے ہیں اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی محفل میں فسق و فجور کی بات کرے تو سب بڑی توجہ کے ساتھ سنتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کا احترام بھی کرتے ہیں۔ 


اور بھی بہت سی علامتیں ہے کہ جواس زمانہ کے لوگوں میں پائی جائیں گی ہم نے اختصار سے کام لیتے ہوئے فقط چند ایک پر انحصار کیا ہے۔ خداوند ہمیں اور ہماری اولاد کو ان تمام صفات رزیلہ سے محفوظ فرمائے (الہی آمین)

آخری زمانے کے مرد

حضرت محمد  (ص)فرماتے ہیں :

’’ماترک بعدی فتنة ٌاٴخر علی الرَّجال من النساء‘‘ [21]

’’میرے بعد کے لوگوں کے لئے سب سے برا فتنہ وہ ہو گا کہ عورتوں کی جانب سے آئے گا۔ ‘‘

بعد والی حدیث میں اس طرح سے بیان ہوا کہ :

’’ھلکت الرِّجال حین الطاعت النساء ‘‘[22]

’’وہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے کہ جو عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ ‘‘

یعنی عورتوں کے پیچھے چلنے والے لوگ اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کر بیٹھیں گے۔ 

ایک نکتہ کی وضاحت کرتے چلیں کہ یہاں پر مراد ہر عورت نہیں ہے۔ کیونکہ متدین اور مومنات خواتین اس گفتگو سے خارج ہیں۔ ہماری گفتگو ان عورتوں کے بارے میں ہے کہ جو نہ خود خدا اوررسول(ص) پہ ایمان رکھتی ہیں اور ساتھ میں اپنی اولاد اور شوہر کو بھی گمراہی کے کنوئیں میں ڈھکیلتی ہیں یہ وہ عورتیں ہیں کہ جو اپنے شوہروں کو غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ 

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :

’’لعن اللّہ الرجل لبس لبسة المراٴة والمراٴة لبسة الرجل ‘‘[23]

’’خداوند لعنت کرے ایسے مرد پر کہ جو عورتوں کا لباس پہنے اور ان عورتوں پر کہ جو مردوں کا لباس پہنے۔ ‘‘

یہ بات بھی واضح ہے کہ جو آج کل کے جوان اور نوجوانوں میں فیشن کے نام پر ہو رہا ہے ہر دیکھنے والے کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ کہ جو آج کی دنیا میں ایک رائج اور بہت سے ممالک میں رسمی حیثیت بھی اختیار کر چکا ہے وہ ہم آمیزی کا مسئلہ کہ مرد مرد سے اور عورت عورت سے شادیاں کر رہے ہیں۔ اسی کے بارے میں متعدد روایات چودہ سو برس پہلے ہمارے معصومین علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں۔ 

مانند:

’’اذا رکب الذکور الذکور والاناث الاناث ‘‘[24]

’’جب مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ ہم بستری کریں ‘‘۔

’’اذا اکتفی الرجال بالرجال والنساء با النساء ‘‘[25]

’’جب مردوں کے لئے مرد اور عورتوں کے لئے عورتیں کفایت کریں۔ ‘‘

اور بھی بہت سی روایات اس بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ !

’’تکون معیشة الرَّجل من دبرہ ومعیشة المراٴة من فرجھا‘‘[26]

’’مرد و عورت ذریعہ معاش اپنی شرمگاہوں کو بنائیں گے۔ ‘‘

یہ بات نہ فقط دنیا غرب میں بلکہ دنیا اسلام میں بھی عام ہو چکی ہے۔ اور ہر خاص و عام کے لئے روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اسی کے بارے میں مولائے متقیان علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’ویری الرجل من زوجتہ القبیح فلا ینعاھا ولایردُّ ھاعنہ ویاٴ خُذُ ماتَأتیْ مِنْ کدِّ فرجھا وَمِنْ مُفْسِدِ حِذرھاحتی لونُکِحَتْ طولاً وعرضاً لم ینہھا ولایَسْمَع مَاوقع فَذاکَ ہوالدَّیُّوْثَ‘‘[27]

’’مرد اپنی عورت سے انحراف جنسی دیکھے گا لیکن اسے منع نہیں کرے گا۔ اور جواس عورت نے جسم فروشی سے کمایا ہو  اسے لے کر کھائے گا۔ اور اگر یہ برائی اس عورت کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لے پھر بھی منع نہیں کرے گا اور جو کچھ انجام دیا جا رہا ہو اور اس کے بارے میں کوئی بات کرے تو سننے کو تیار نہیں ہوگا اور یہی شخص دیوث (بے غیرت )ہے۔‘‘

ہاں آج کے زمانے میں ایسی بھی بہت سی مثالیں مل جائیں گی حتی مسلمانوں کے درمیان بھی ایسے کئی واقعات آئے دن عدالتوں کی فائلوں میں اپنے وجود کی سیاھی سے قلم زن ہوتے رہتے ہیں۔ 

امام صادق(ع) اس طویل روایت میں فرماتے ہیں :

’’وَراٴیت الفِسْقَ قَدْ ظَہَرَواکتفی الرجال بالرجال والنساء با النساء وَرَاٴیْتَ الرِّجال یَتَسمَنَّونَ للرجال والنِّساءَ وَرَاٴیْتَ الرِّجل معیشة من دبرہ ومعیشة المراٴة من فرجھاوَاعطَوالرجالَ الاموال علی فروجھم وتُنُوفِسَ فی الرَّجل وتغایرعلیہ الرجال … وَرَاٴیْت الرجل یُعَبَّرُعلی اتیان النساء … وَرَاٴیْت العقوق قد ظَہَرَ واستُحِفَّ بالوالدین وکانا من اٴسوَاٴالناس حالاًعندالولدوَرَاٴیْت اعلامَ الحَقِّ قد درسَتْ فَکن علی حَذَرٍ واطلُبْ الی اللّہ النجاة واعلم انّ الناس فی سُخْطِ اللّہِ عَزَّوجلَّ واِنَّما یُمْہِلُہُمْ لاٴَمرٍیُرَادُ بِھم فَکُنْ مُترَقِّباًواجتھد اٴنْ یراک اللّہُ عزَّوَجَلَّ فی خلافِ ماھم علیہ ‘‘[28]

’’اور دیکھو گے کہ گناہ عام ہو چکے ہوں، مرد مردوں سے اور عورت کو عورتیں پسند کریں مرد مردوں کے لئے آرائش کریں اور عورت عورتوں کے لئے بناوسنگھار کریں۔ مردوں اور عورتوں کا ذریعہ معاش ان کا اپنا وجود بن جائے، مرد جنسی مسائل کے لئے اپنا مال و دولت دل کھول کر خرچ کریں۔ مردوں کے لئے عورتوں کی طرح غیرت اور حسادت پیدا ہو گی (مردوں کے اوپر مرد جان جھڑکیں گے ) مردوں کا جنس مخالف سے ہمبستری پر مذاق اڑے گا۔ عاق والدین عام ہو جائے گا۔ والدین اپنی اولاد کے سامنے ذلیل اور رسوا ہو جائیں گے اور ہر کوئی دوسرا شخص والدین سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا۔ حق کی نشانیاں ختم چکی ہوں گیاس زمانے میں خدا کے غضب سے ڈرو اور خداوند سے نجات طلب کرو۔ جان جاؤ کہ لوگ مورد غضب الٰہی ہیں اور خداوند بعض چیزوں کی وجہ سے ان کو مہلت دیتا ہے۔ کوشش کرو کہ خداوند تم کو ان کی حالت سے مختلف حالت میں دیکھے۔اور کتنے کم لوگ ہیں کہ جو اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘

آخر زمانے کی عورتیں 

عورت کہ جو اسلام میں ایک بلند مرتبہ کی حامل ہے۔ اس کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی جیسے مقدس رشتوں سے نوازا ہے اگر وہ اپنی قدر نہ کرے تو نہ فقط وہ بلکہ اپنے ساتھ اور چاروں طرف رہنے والوں  کو جہنم کی آگ میں ڈھکیل کر لے جاتی ہے۔ وہ اپنا مقام بھلا بیٹھی ہے کہ جس کے پاؤں کے نیچے جنت قرار دی گئی ہے۔ تعالیم اسلام اور قرآن سے دور ہونے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ نہ فقط خود گمراہ ہوتی ہے بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کر ڈالتی ہے اور اس کے برعکس ایسی مومنہ خواتین کی مثالیں بھی بہت ہیں کہ جو اپنے گمراہ شوہر اور گھر والوں کو اپنے دین اور ایمان کی طاقت کے ذریعے راہ راست پہ لے آتی ہیں، یہ عورت ہے کہ جو معاشرے میں صحیح اور سالم فرزند مہیا کرتی ہے، یہ عورت گھر کی چاردیواری میں رہ کر وہ عظیم ذمہ داری ادا کرتی ہے کہ جو مرد میدان جنگ میں ادا نہیں کرسکتے یہی ایک شریف اور باسعادت انسان کی تربیت کرتی ہے۔ 

ہاں اگر یہی گوہر اپنی قیمت بھول کر گمراہ ہو جائے تو پورے معاشرے کو گندا کر دیتی ہے کہ جس کی گندکی بدبو کئی نسلوں تک آتی رہتی ہے۔ 

آخر زمانہ میں عورتوں کا فساد پھیلانے میں بہت بڑا کر دار ہے۔ 

حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ہیں :

’’کیف بِکم اذا فسدت’نسائکم وفَسَقَ شَبابُکم ولم تاٴمروا بالمعروف بل امرتم بالمنکر ونھیتم عن المعروف واذا راٴ یْتُم المعروفَ مُنْکِراً والمنکرَ معروفاً فقیل لہ:ویکون ُ ذالک یارسول(ص) اللّہ؟فقال(ص) :نَعَمْ، وشَرٌ مِنْ ذالک‘‘[29]

’’کیا ہو گا کہ تمھاری عورتیں فاسد ہو جائیں اور تمھارے جوان فسق و فجور کرنے لگیں اور تم بھی امر با المعروف کی جگہ امر با المنکر اور معروف سے نہی کرو گے۔ معروف کو منکر جانو اور منکر کو معروف سمجھو۔لوگوں نے سوال کیا : آیا ایسا بھی کبھی ہو گا ؟ آپ(ص) نے جواب دیا: ہاں اور اس سے بھی زیادہ برا ہو گا۔‘‘

’’اذا شارکَت النِساءُ ازواجَہُنَّ فی التجارة حرصاً علی الدنیا‘‘[30]

’’جس وقت عورتیں دنیا کی حوس میں اپنے شوہروں کے ساتھ تجارتی معاملات میں شریک ہو جائیں۔ ‘‘

آج کل تو بات اس سے آگے بڑھ چکی ہے کہ اب تو خواتین مستقل طور پر سب سے علیحدہ ہو کر اپنے لئے تجارت کرنے لگی ہیں اور یہ ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ 

’’ویَتَشَبَّہُ الرجالُ النساء والنساء بالرجال‘‘[31]

’’مرد خود کو عورتوں کی صورت میں اور عورتیں اپنے آپ کو مردوں کی شکل میں ظاہر کریں۔ ‘‘

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

’’سیکون فی آخرِاُمَّتِیْ رجالٌیرکب نسائُھم علی سروج کاشباہ الرِّجال یَرْکبون علی المیاثر حتی یاتوا ابوابَ المساجدِنسائُہُمْ کاسیاتُ عاریاتٌ علی رُوٴُوسِہِنَّ کاٴَسنِحَةِ البُخْتِ العجافِ لایَجِدْنَ رِیْحَ الْجَنَّة فالعَنُوْھنَّ فانہُنَّ ملعوناتٌ‘‘[32]

’’آخر زمانے میں کتنے ایسے مرد ہوں گے کہ جن کی عورتیں مردوں کی طرح زینوں پر (گھوڑے کی زین سے مراد آجکل کی مرسوم سواریاں ہیں )سوار ہوں گی تشک کے اوپر بیٹھیں گی اور مسجد تک آئیں گی ان کی عورتیں لباس پہننے کے باوجود عریاں نظر آئیں گی ان کے سر اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے وہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکیں گی ان پر لعنت بھیجو کیونکہ وہ سب ملعون ہیں۔ ‘‘

بات بالکل واضح ہے کہ آج کل کی عورتیں جس طرح مردوں سے برابری کے نام پر سڑکوں پر نکل آتی ہیں۔ ہر قدم پہ مردوں کے ساتھ رہنے کے لئے اپنے آپ کو ایک متمدن (اپنی دانست میں ) بنا کر پیش کرتی ہیں ایک طرف سے تو مردوں کی نقل میں انہی کا رنگ اور ڈھنگ اپنا لیتی ہیں، مثال کے طور پر ایک ہی مورد لے لیجئے کہ بعض عورتوں نے اپنے بال اس طرح سے کٹوائے ہیں کہ پیچھے سے دیکھنے والا شک میں پڑ جاتا ہے کہ کوئی عورت ہے یا مرد اوراسی طرح سے بعض مرد بھی اپنے بال اتنے لمبے رکھنے لگے ہیں کہ کچھ لمحہ کو عقل مبہوت ہو جاتی ہے کہ مرد ہے یا عورت اور ایسی بے تحاشہ مثالیں اس بارے میں موجود ہیں۔ 

روایت میں زین اور تشک سے مراد آج کی مرسوم سوریاں ہیں کہ جو موٹر سائیکل اور کار وغیرہ کی صورت میں ہے۔ اور کپڑے بھی ایسے ہی پہنے جانے لگے ہیں کہ جس سے پورا جسم عریان نظر آتا ہے۔ اور یہ سب باتیں سرعام ہیں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو کہ جو حال حاضر میں ان تمام چیزوں کی موجودگی کا انکار کرے۔ انھی کپڑوں کے بارے میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

’’لاتقوم الساعة حتی تظھر ثیابٌ تلبسھا نساءٌ کاسٰاتٌ عاریاتٌ وتعلو التَّحوت الوُعُولَ ‘‘[33]

’’قیامت برپا نہیں ہوگی مگر اس وقت کہ جب ایسے لباس بنائے جائیں گے کہ

جن کو پہن کر عورتیں عریاں ہی رہیں گی اور اوباش لوگ شرفاء پر برتری حاصل کر لیں گے۔ ‘‘

ہاں !یہ انھی کپڑوں کی بات ہو رہی ہے کہ جو سرعام بازاروں میں بک رہے ہیں۔ حتی خاندانی لوگ اور شرفاء کے درمیان میں بھی اس لباس کو بہت زیادہ مقبولیت ہے، ہر ایک اس کو پہن کر اپنے آپ کا زمانے کے ساتھ چلنے کا ثبوت دے رہا ہے۔ 

’’واذا راٴیت المراٴة تصانع زوجھا علی نکاح الرجال۔۔ ۔ و راٴیت خیربیتٍ یساعد النساء علی فِسْقِہِنَّ‘‘[34]

’’جب دیکھو کہ عورت جانتے ہوئے کہ اس کا شوہر ہم جنسی کر رہا ہے لیکن کچھ ظاہر نہ کرے۔ اور دیکھو کہ اچھے اچھے گھروں میں عورت کو فاسقہ اور فاجرہ ہونے پر داد مل رہی ہو۔‘‘

ہاں آجکل آزادی کے نام ہر شخص (بیوی اور شوہر) ایک دوسرے کے عیوب سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی کوئی قدم نہیں اٹھاتے ہیں تاکہ ہر ایک اپنی اپنی حیوانی خواہشات پر بغیر کسی رکاوٹ کے عمل کرسکیں۔ خدا پر تو ایمان چھوڑ ہی چکے ہیں دنیا کی رکاوٹوں کو آزادی کا نعرہ لگا کرراستہ سے ہٹا دیا ہے۔ 

’’اذا رفعوا البنیان وشاوروا النسوانَ ویکثُرُ الاختلاط‘‘[35]

’’جب اونچی اونچی عمارتیں بننے لگی، عورتوں سے مشورہ لیا جانے لگے عورتوں  اور مردوں کا محافل میں اختلاط بڑھ جائے۔‘‘

عمارتیں بھی سبھی دیکھ رہے ہیں۔ عورتوں کے حقوق (women Right ) کے نام پر ہر جگہ عورتوں کو لایا جا رہا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں خواتین کو شامل کر لیا ہے صرف یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ عورت اور مرد مساوی ہیں۔ لیکن اس حقیقت اور واقعیت سے چشم پوشی کر لی ہے کہ عورت اور مرد کی ساخت میں کچھ بنیادی فرق رکھا گیا ہے۔ عورت کو خداوند متعال نے خاص نزاکت اور عفت کے ساتھ خلق کیا ہے اس کا اصل حسن ہی اس کی حیا اور عفت ہے اور اگر اس حیا اور عفت کو اس سے چھین لیا جائے تو پھر وہ اپنے اس مقدس مقام سے گر پڑتی ہے کہ جس کے لئے اسے خلق کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ اس کو اتنے مقدس رشتہ عطا ہوئے ہیں مانند ماں، بہن،بیوی…

حتی اس کی مثال ایسے لے لیں کہ جو مرد بھی ان حیوانی شہوات کا شکار ہوں اور آئے دن مختلف عورتوں سے ان کے تعلقات رہتے ہوں لیکن وہی مرد کبھی  بھی ایسی عورتوں کو اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی ماں بنانا پسند نہیں کریں گے کیونکہ یہ عورت کہ جس کی زینت اس کی حیا اور عفت میں تھی اب کھو چکی ہے۔ 

’’اذا راٴیت المراٴة تقہُرُ زوجَھاویعمل مالایشتھی و تنفق علیہ مِنْ کسبھافیرض بالدنیءِ من الطعام والشراب !‘‘[36]

’’جب دیکھو کہ بیویاں اپنے شوہروں کے ساتھ بدزبانی کریں اور ان کی مرضی کے خلاف عمل کریں اپنے کمائی ہوئے پیسوں میں ان کو بخشیں اور ان کے شوہر بہت ہی معمولی سے مال و دولت کی وجہ سے ان کی بری عادتوں کو برداشت کریں۔ ‘‘

اب یہی زمانہ ہے حتی وہ خواتین کہ جو صحیح راستہ سے بھی نوکریاں کرتی ہیں۔ مختلف دفتروں میں کام کرتی ہیں عام طور پر ان کا اخلاق اپنے شوہروں کے ساتھ حاکمانہ ہوتا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ بھی پیسہ کما کر لا رہی ہیں اور ان کے شوہر بھی اسی بات پر چپ ہو جاتے ہیں کہ چلو کچھ بھی سھی کماتو رہی ہے۔ 

ایک اور اہم مسئلہ کہ جو ہمارے معاشرے میں عام ہے اور وہ ہے خواتین کا حکومت کرنا۔ اکثر محافل میں یہ بحث رہتی ہے کہ آیا کوئی عورت صدر یا وزیر اعظم بن سکتی ہے یا نہیں ؟ مغربی ممالک تو کیا مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی عورتوں کی حکومت رہتی چلی آ رہی ہے۔ کبھی کسی خطہ میں کبھی کسی ملک پر۔ اس بارے میں ختمی مرتبت(ص) فرماتے ہیں :

’’لنْ یُفْلِحُ قَوْمٌ ولَّوا اٴمرَھم اٴِمراٴةٌ‘‘[37]

’’وہ قوم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکتی کہ جس کی رہبری کسی عورت کے ہاتھ میں ہو۔‘‘

ایک اور مقام پر فرمایا:

’’لایُقَدِّس اللّہ اُمَّةًقادتْہُمْ اٴِمراٴة‘‘[38]

’’خداوند کبھی اس قوم کو تقدس نہیں بخشے گا کہ جس کی رہبری کسی عورت کے  پاس ہو۔‘‘

یہ دنیاوی سیاستیں کہ جو چند سال اور چند ماہ سے زیادہ نہیں ہوتیں، دنیا والے کیا کیا قربانیاں نہیں دیتے اس حکومت کے لئے۔، انسان اپنے مطلب کی خاطر اور کرسی کی محبت میں ہر کام کر گزرتا ہے آج اگر ہمارے مفاد میں ہو جائے کہ کسی عورت کی رہبری قبول کرنی پڑے تو وہ بھی کر لیں گے، اگر ہمارے مفاد میں ہو جائے کہ کسی کافر کو آ کر اپنے سروں کا تاج بنائیں تو وقت کی ضرورت کا نام لے کر وہ بھی انجام دے لیں گے، غرض یہ کہ یہ تمام چیزیں ہمارے مفاد کے گرد گھومتی ہیں تو پھر نتیجہ واضح ہے کہ معاشرہ اور عوام کی فلاح کیسے ممکن ہو سکتی ہے کہ جب انسانی معیارات ختم ہو جائیں ’’انسانیت کے حقو ق‘‘ ایک نعرہ بن کر رہ جائیں اور ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہو،ہر شخص اپنی جیب گرم کرنے میں مصروف ہو جائے۔ ہر ایک کی یہ کوشش ہے کہ اس آتے ہوئے وقت سے پوری طرح سے فائدہ اٹھایا جائے تو چلو ہم بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیں۔ کاش کہ بات خالی ہاتھ دھونے کی ہوتی تو صبر آ جاتا یہاں تو کئی مرتبہ پورا غوطہ لگانے کے باوجود بھی طبیعت سیرھوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ 

اسی بارے میں مولائے متقیان حضرت علیؑ فرماتے ہیں :

’’اذا غلبتِ النساء علی الملکِ وغلَبْنَ کل امرءٍ فلایوتی الَّا مالَہُنَّ فیہ ہوی‘‘[39]

’’جب عورتیں حکومت پر غالب آ جائیں اور ہر مرد سے برتری لے جائیں اورسوائے ان کی مرضی کے کوئی کام نہ ہو۔‘‘

ظاہر ہے وہ عورت کہ جو اگر گھر پہ غالب آ جائے تو کسی کو اپنی مرضی کے بغیر ہلنے نہیں دیتی ہے تو وہ حکومت کی کرسی پر بیٹھ کر کیسے کسی کو برداشت کرے گی۔ اگرچہ یہ بات فقط خواتین سے مخصوص نہیں ہے جو کوئی بھی خداوند سے دور ہو گا اس سے ایسی ہی توقعات کی جا سکتی ہیں۔ اور عورتوں کو کہ جنہیں خاص مقدس اور محترم مقاصد کے لئے خلق کیا گیا ہے اپنے کمال کے راستہ کو چھوڑ کر جہنم پر چل نکلتی ہیں اور آخر میں اسی طرح سے گمراہی کے دلدل میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ ایسی ہی عورتوں کے بارے میں امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’تکون النسوةُ کاشفاتٍ عاریاتٍ متبرجاتٍ من الدین خارجاتٍ والی الفتن مائلاتٍ والی الشھواتِ واللذاتِ مسرعاتٍ للمحرماتِ مستحلاتٍ وفی جھنَّم خالداتٍ‘‘[40]

’’عورتیں عریاں ظاہر ہوں گی، اپنی زینتوں کو سب پر ظاہر کریں گی، دین سے خارج ہو جائیں گی، شہوات اور دنیاوی لذتوں کے پیچھے جایا کریں گی اور حرام چیزوں کو اپنے اوپر حلال کریں گی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے  جہنم کی آگ کا ایندھن بن جائیں گی۔‘‘

 آج یہ ساری باتیں عمل کی صورت میں ظاہر ہو چکی ہیں۔ صرف ایک چیز کہ جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوسکی ہے وہ ان کا جہنم میں رہنا ہے۔ اگر چہ کہ ایسے لوگوں کی جہنم کا آغاز ان کی دنیا ہی سے ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی زندگی ہی میں ایسی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جس کے سبب ان کا زندہ رہنا عذاب بن کر رہ جاتا ہے، ان عورتوں پر ایک ایساوقت آتا ہے کہ کوئی ان سے بات کرنے کو تیا نہیں رہتا۔ یہی کتنا بڑا عذاب ہے ایسی عورت کے لئے کہ جو کل تک ہر محفل کی زینت بنا کرتی تھی آج کسی سے بات کرنے کے قابل نہ رہ پائے۔ 

اس کے برعکس وہ لوگ کہ جو خداوند متعال کے عبادت گزار ہوں جس قدر ان کی عمر میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ان کی عزت و احترام لوگوں کے درمیان بڑھتا رہتا ہے چاہے یہ کہ ان کی دینداری کی وجہ سے انہیں ناپسند بھی کیا جاتا ہو مگر برے وقتوں میں انہیں کے پاس پناہ لی جاتی ہے، ہاں ایسے موقع پر اگر یہ عورتیں پلٹ کر آنا چاہیں تو ممکن ہے انہیں بھی وہی جواب ملے کہ جو دریا میں غرق ہوتے وقت فرعون کو ملا تھا۔ 

’’اٴلئٰن وقد عصیت قبلُ وکنتَ من المفسدین۔‘‘[41]

’’اب جبکہ تم اس سے پہلے نافرمانی کرتے تھے اور فساد پھیلانے والوں میں سے تھے۔ ‘‘ 

آخر کار ایسی عورتیں وہاں جا پہنچیں گی کہ جس کی اطلاع ہمیں یوں دے دی گئی ہے۔ ارشاد رب العزت ہے :

’’اذا رأتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیُّظاً وزفیراً واذا القُوا منھا مکاناً ضیِّقاً مقرَّبین دَعَوا ھنا لک ثبوراً‘‘[42]

 ترجمہ:’’جب جہنم ان لوگوں کو دور سے دیکھے گی تو(جوش کھائے گی اور)یہ لوگ اس کے جوش و خروش کی آواز سنیں گے اور جب یہ لوگ زنجیروں سے جکڑ کر اس کی تنگ جگہ میں جھونک دئے جائیں گے تو اس وقت موت کو پکاریں گے۔‘‘

آخری زمانے کے علماء اور رہبر ان قوم کی خصوصیات

حضور اکرم  (ص)کا فرمان ہے :

’’صنفان من الناس اذا صلحا صلح الناس واذا فسد ا فسد الناس : العلماء والامراء ‘‘[43]

’’لوگوں میں سے دو صنفیں ایسی ہیں کہ اگر وہ اصلاح ہو جائیں تو لوگ بھی اصلاح ہو جائیں گے اور اگر فساد کرنے والے ہو جائیں تو لوگ بھی فساد کرنے والے ہو جائیں گے ایک عالم اور دوسرے رہبران قوم۔ ‘‘

ایک اور مقام پر ختمی مرتبت  (ص)فرماتے ہیں :

’’اذا کانت امراوٴکم اشرار کم واغنیائکم بُخلائکم وامورکم الیٰ نسائکم فبطن الارض خیرٌ من ظھرھا۔‘‘[44]

’’جب تھارے رہبران تم میں سے بدترین لوگ ہوں اور تمھارے مالدار لوگ تم میں بخیل بن جائیں اور تمھارے کاموں کو تمھاری عورتیں چلائیں تو اس وقت زمین کے اندر رہنا اس کے اوپر رہنے سے بہتر ہے۔ ‘‘

 مراد واضح ہے کہ ایسی صورت میں مر جانا ہی بہتر ہے کیونکہ اس وقت کسی سے کسی نیکی کی امید نہیں کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پورے معاشرے کا حساب و کتاب درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔

پیغمبراسلام  (ص)فرماتے ہیں :

’’ستکون علیکم ائمة یملکون علیکم ارزاقکم یحدثونکم فیکذبونکم لا یرضون منکم حتی تحسنوا قبیحھم وتصدِّقوا کِذْبَہُمْ۔‘‘[45]

’’تم پر ایسے حکومت کرنے والے مسلط ہو جائیں گے کہ جن کے ہاتھ میں تمھاری روزی ہو گی تم سے جھوٹ بولا کریں گے۔ تم سے راضی نہیں ہوں گے سوائے اس صورت میں کہ تم ان کے غلط کاموں کی تعریف کرو اور ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرو۔‘‘

ظاہر ہے کہ جب معاشرے میں نا اہل لوگ حکومت کریں گے تو چاپلوسی کا بازار گرم ہو جائے گا اور لوگ حقیقی معیار کو چھوڑ کر ظاہری شان و شوکت سے مرعوب ہو کر ان ہی کے پیچھے چل پڑیں گے۔ 

اسی طرح سے امام محمد باقر علیہ السلام نا اہل اور جاہل علماء کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ’’من افتی الناس بغیر علم ولاھدی من اللّہ لعنة ملائکة الرحمة وملائکة العذاب ولحقہ وِزرُ من عمل بِفتیاہ ‘‘[46]

’’جو کوئی بھی بغیر جانتے ہوئے فتوی دے تو رحمت اور عذاب کے فرشتے اس پر لعنت بھجیں گے۔ اور ان کے فتوا  پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی خود انھی کی گردن پر ہو گا۔ ‘‘

اب ہوشیار رہنے کا وقت ہے کہ ہمیں علماء اہل علم اور جاہل علماء کے درمیان فرق رکھنا ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خود بھی اسی گناہ میں مبتلا ہو جائیں اور لوگوں کے درمیان غلط معیار بتلا کر مستحق عذاب بن جائیں۔ 

اس سلسلے میں اس سے زیادہ گفتگو کو جاری نہیں رکھنا ہے کیونکہ یہ ایک واضح سی بات ہے آج ہم مسلمان پورے دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی کفار غرب و شرق کے غلام بنے ہوئے ہیں وہ جیسے چاہتے ہیں ہمیں چلاتے ہیں اسلامی ممالک کے مال و دولت کو لوٹتے ہیں مگر ہم زرہ برابر بھی کچھ نہیں کر پاتے کیونکہ ہماری حکومتیں انھی ظالموں اور کافروں سے وابستہ ہیں۔ اور جب تک یہ وابستگی اور خیانت جاری رہے گی مسلمان قومیں ذلیل ہوتی رہیں گی۔ اس سلسلے میں ایک آخری حدیث امیر المومنین علیؑ سے نقل کر کے اپنی گفتگو کو تمام کرتے ہیں :

’’اذا خرج القائم ینتقم من اھل الفتوی بما لایعلمون فتعسالھم ولأتباعھم اوکان الدین ناقصاًفتمَّمُوہ ام کان بہ عِوَ ج فقوموہ ام ھم النَّاس بالخلاف فاطاعوہ ام امر ہم بالصواب فعصوہ ام ہم المختار فیما اوحِیَ الیہ فذِّکرہ ام الدین لم یکتمل علی عھدہ فکمَّلوہ ام جاء نبی ُ بعدہ فاتبعوہُ‘‘ [47]

’’جس وقت ہمارے قائم(عج) کا ظہور ہو گا جو لوگ بغیر جانتے ہوئے (بغیر علم کے ) فتوی دیتے ہوں گے ان سے انتقام لیں گے۔ واے ہو ان پر اور ان کے پیروکاروں پر۔ آیا دین خدا ناقص تھا جو انہوں نے آ کر کامل کیا؟ آیا دین خدا میں انحراف تھا جو انھوں نے آ کر صحیح کیا؟ یا لوگ انحراف کی طرف جا رہے تھے کہ جوان کی پیروی کی گئی ؟یا  لوگوں کو سچے راستے کی جانب رہنمائی کی گئی لیکن لوگوں نے مخالفت کی ؟ آیا رسول(ص) پر جو وحی نازل ہوئی تھی وہ اس میں سے کچھ چھوڑ چکے تھے جوتم نے آ کر یاد کرایا؟ یا رسول(ص) کے زمانے میں دین کامل نہیں ہوا تھا جو تم نے آ کر مکمل کیا ؟آیا آپ(ص)کے بعد کوئی اور بھی پیغمبر آیا ہے کہ جس کی تم نے پیروی کی ہے۔ ؟‘‘

اس بیان امیر المومنینؑ  سے شک و شبہات رفع ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر امیر المومنینؑ  اپنے زمانے کے حالات کو نظر میں رکھ کر فرما رہے ہیں مگر یہ معصوم(ع) کا قول قیامت تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ہمیں اس بات سے روکنا ہے کہ دین خداوند  متعال میں کسی بھی قسم کی جدیدیت اور رد و بدل کی گنجائش نہیں ہے۔ 


عمومی علامات ظہور

نا گہانی موت اور ویرانی و بربادی

اس سلسلے میں اگرچہ روایات بہت کثرت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں لیکن ہم کوشش کریں گے کہ اختصار سے کام لیتے ہوئے اکثر علامات کو بیان کر دیں۔ 

حضرت ختمی مرتبت  (ص)فرماتے ہیں :

’’اِنَّ عمران بیت المقدس خراب یثرب وخراب یثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح القسطنطنیہ وفتح القسطنطنیہ خروج الدَّجال۔‘‘[48]

’’بیت المقدس کے آباد ہوتے ہی مدینہ (یثرب) ویران ہو جائے گا اور مدینہ کے برباد ہونے سے جنگ شروع ہو جائے گی اس کے بعد قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا پھر دجال کا ظہور ہوگا۔‘‘

بیت المقدس کی آبادی تو اسرائیل کے ہاتھوں شروع ہو چکی ہے کہ جس کے بعد مدینہ کی بربادی اور پھر سفیان کا خروج کرنا ہے۔ 

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :

’’تکثرالبواسیر وموت الفجاةولجذام‘‘ [49]

’’(جس وقت)بواسیراور اچانک موت اور جذام زیادہ ہو جائے۔‘‘

’’واما الزوراء فتخرب من الوقایع والفتن واما واسط فیطغیٰ علیہا الماء وآذربیجان یہلک اھلھا بالطاعون وامالموصل فیھلک اھلھا من الجوع والفلاء واما الحلب فتخرب من الصواعق و تخرب دمشق من شدةالقتل وامابیت المقدس فانہ محفوظة لان فیہ آثارالانبیاء‘‘[50]

’’شہر زورا( فتنہ وفساد کی وجہ سے برباد ہو جائے گا شہر واسط (عراق)سیلاب میں بھر جائے گا آذربائیجان کے لوگ طاعون کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے، موصل (عراق) کے لوگ بھوک اور مہنگائی سے مر جائیں گے، حلب(سوریہ)صاعقہ (آسمانی بلاؤں ) کے سبب بر باد ہو جائے گا (دمشق )کشت و کشتار کی وجہ سے ویران ہو جائے گا۔ لیکن بیت المقدس (یروشلم ) پیغمبروں (ع) کی نشانیوں کے سبب امان میں رہے گا۔‘‘

اس کے علاوہ اور بھی روایات میں ’’صاعقہ‘‘استعمال ہوا ہے۔ یعنی آسمان سے گرنے والی بجلی۔ آج کی دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں جیسے طرح طرح کے میزائیل وغیرہ دور تک مارنے والی توپیں اور جنگی جھاز وغیرہ۔ ان میں سے ہر ایک سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں کرتا آج پوری دنیا میں ہم اس کی مثالیں اپنے چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں اور ان تمام ہتھیاروں میں دن بدن جدت آتی جا رہی ہے۔ اگر اپنے اطراف کے سیاسی حالات اور واقعات کو نظر میں رکھیں تو یہ دن کوئی دور نہیں کہ جب ہمیں یہ واقعات رونما و ہوتے ہوئے نظر  آئیں۔ 

مصر کے بارے میں روایات میں ملتا ہے :

’’لایخرج اھل مصرمن مصرھم عدولھم ولکن یخرجھم نیلھم ہذا یغورفلاتبقیٰ منہ قطرة‘‘[51]

’’مصر کے لوگوں کو ان کے ملک سے کوئی بیرونی دشمن نہیں باہر نکالے گا بلکہ خود دریائے نیل ان کو باہر نکالے گا۔ اس کا پانی بالکل خشک ہو جائے گا اور حتی ایک قطرہ بھی اس میں باقی نہیں رہے گا۔‘‘

رسول گرامی  (ص)فرماتے ہیں :

’’وخراب مصر من جفاف النیل ‘‘[52]

’’مصر دریائے نیل کے خشک ہونے سے برباد ہو جائے گا۔‘‘

کوفہ کے بارے میں روایات میں ملتا ہے:

’’وینبثق الفرات حتی یدخل اٴذقة الکوفة وعقدالجسرممایلی اکرخ بمدینة بغداد۔‘‘[53]

’’فرات کے پانی میں طغیانی آ جائے گی اور کوفہ کے گلی کوچوں میں پانی بھر جائے گا۔ کرخ کے سامنے بغداد میں پل تعمیر کیا جائے گا۔ ‘‘

یہ پانی کا طغیان کرنا ظاہراً ابھی تک واقع نہیں ہوا ہے لیکن بغداد میں کرخ کے سامنے پل تعمیر ہو چکا ہے۔ 

آگ و آتش کا تباہی مچانا 

حضور اکرم  (ص)فرماتے ہیں :

’’یکون نار و دخان فی المشرق اربعین لیلة‘‘[54]

’’آتش اور دھواں مشرق سے چالیس دنوں تک نکلتا رہے گا۔ ‘‘

امام صادقؑ  فرماتے ہیں :

’’لاتقوم الساعة حتی تسیل وادمن اودیة الحجاز‘‘[55]

’’قیامت نہیں آئے گی مگر یہ کہ حجاز کی کسی ایک وادی سے آگ بھڑکے گی۔ ‘‘

سید الشہداء امام حسینں فرماتے ہیں :

’’اذا رأتم ناراًمن المشرق ثلاثة ایام اوسبعة فتوقعوا فرج آل محمد ان شاء اللّہ‘‘[56]

’’جس وقت مشرق میں تین دن تک آگ دیکھو تو حضرت آل محمد(ص) کے فرج کے منتظر رہو انشاء اللہ۔ ‘‘

سورج اور چاند گہن

امام محمد باقرؑ  فرماتے ہیں :

’’آیتان تکونان قبل قیام القائم لم یکونا مُنْذُ ھبط آدم علیہ السلام علی الارض تنکسفُ الشمس فی النصف من رمضان والقمر فی آخرہ۔ ‘‘[57]

’’حضرت(عج) کے قیام سے پہلے دو نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ جو حضرت آدم(ع) سے لے کر اب تک ظاہر نہیں ہوئی ہوں گی۔ رمضان کے درمیان میں سورج اور آخر رمضان میں چاند کا گرہن لگنا۔ ‘‘

اس بارے میں اور بہت سی روایات ہیں اگرچہ کہ بعض روایات میں سورج اور چاند گرہن کی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ان تمام روایات کو اگر مجموعی طور پر دیکھیں تو ایک بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ایک ہی رمضان میں چاند اور سورج گرہن دونوں کو گرہن لگنا اگرچہ کہ خلاف عادت ہے لیکن اس کا واقع ہونا حتمی ہے۔ 

زلزلے

رسول اکرم  (ص)فرماتے ہیں :

’’وتکثرالزلازل‘‘ [58]

’’بہت زیادہ زلزلہ آنے لگ جائیں۔ ‘‘

اور ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :

’’ ثم رجفة بالشام یہلک فیھامئة الف یجعلھا اللّہ رحمة   للمومنین و عذاباً علی الکافرین۔ ‘‘[59]

’’سرزمین شام میں زلزلہ آئے گا کہ جس کی وجہ سے ایک لاکھ آدمی مارے جائیں گے خداوند متعال اس زلزلے کو مومنین کے لئے رحمت اور کافروں کے لئے عذاب قرار دے گا۔ ‘‘

البتہ واضح رہے کہ شام سے مراد فقط شہر دمشق مراد نہیں ہے بلکہ اس کے اطراف میں لبنان وغیرہ کا علاقہ بھی شامل ہوتا ہے۔ 

آسمانی ندا

حضرت ختمی مرتبت  (ص)فرماتے ہیں :

’’وینادی منادٍمن السماء اِنَّ امیرُکم فلانٌ وذلک ہو المھدی‘‘[60]

’’منادی آسمان سے آواز لگائے گا۔ تمھارا سردار فلان ہے اور وہ مہدی آخر الزمان (عج) ہوں گے۔ ‘‘

امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ  فرماتے ہیں :

’’اذانادی منادٍمن السماء اِنَّ الحق فی آل محمد فعند ذلک یظھر المھدی علی افواہ الناس ویشربون حبَّہ ولایکون لھم ذکرٌغیرہ ‘‘ [61]

’’جس وقت منادی آسمان سے آواز دے گا کہ حق آل محمد(ص) کے ساتھ ہے۔ حضرت مہدی (عج) کا نام لوگوں کی زبان پر جاری ہو جائے گا۔ اور ان کی محبت دلوں میں اجاگر ہو جائے گی اور ان کی یاد کے علاوہ کوئی کام باقی نہیں رہے گا۔ ‘‘

اگرچہ اس بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں۔ اور یہ ایک مسلم بات ہے کہ آپ(عج) کے ظہور کے وقت ندا لگائی جائے گی اور پوری دنیا میں یہ آواز سنی جائے گی یہاں تک کہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں ایسا باقی نہیں رہے گا کہ جواس آواز کو نہ سن سکے اور پوری کائنات کے لوگوں پر اس وقت اتمام حجت ہو جائے گی اور یہ وہ وقت ہو گا کہ جب دنیا میں صرف دو گروہ رہ جائیں گے ایک حق اور دوسرا باطل پر ہو گا۔ جو کوئی بھی حضرت ( عج ) کے ہم رکاب ہو گا وہ حق پر ہو گا۔ اور جو آپ (عج)کی امامت اور ولایت کو قبول نہیں کرے گا وہ باطل پر ہو گا کہ جس کی سزا سوائے عبرت ناک موت کے کچھ نہ ہو گی۔ 

جنگی اور فسادات 

اس بارے میں رسول اکرم  (ص)فرماتے ہیں :

’’ینزَّل علی امتی بلاءٌ لم یسمع ببلاءٍ اشد منہ فی تضیق بھم الارض الرّحبةّ‘‘[62]

’’میری امت پرایسی بلاء نازل ہو گی کہ جو اس سے پہلے نہیں سنی گئی ہو گی۔ حتی اتنی بڑی دنیا بھی امتیوں کے لئے تنگ ہو کر رہ جائے گی۔ ‘‘

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حق ایسا ہی ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا بازار گرم ہے اور ہر طرف سے انکو تعصب کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے حتی آج مسلمان کو اپنے ملکوں میں بھی امان نہیں ہے ان کو مختلف بھانوں سے دربدری اٹھانی پڑ رہی ہے۔ حتی اسلامی حکومتیں بھی استعمار کے چنگل سے آزاد نہیں ہے۔ اور آج وہی ہو رہا ہے کہ جو دنیا کی استعماری اور طاغوتی طاقتیں چاہ رہی ہیں۔ جنگ بھی ان کے ہاتھ میں ہے اور امن بھی، وہ جس طرح سے چاہتے ہیں عمل کرتے اور کرواتے ہیں۔ 

انہیں طاقتوں کے بارے میں ارشاد ختمی مرتبت  (ص)ھے کہ:

’’ یکون قوم فی آخرالزمان یخضبون بہذا لسواد کحواصلِ الطیور لا یریحون ریح الجنة۔‘‘[63]

’’آخر زمانے میں ایک ایسی قوم آئے گی کہ جو اس زمین کو خون سے رنگین کر دے گی، ماؤں کے پیٹ کو مرغی کے پیٹ کی طرح کاٹا کرے گی۔ ایسی قوم ہر گز جنت کی خوشبو بھی حاصل نہیں کرسکتی۔ ‘‘

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

’’ویومئذٍیکون اختلاف کثیر فی الارض وفتن ویصبح الزمان مکلحاًمفصحاً یشتدّ فیہ البلاد وینقطع فیہ الرجاء۔‘‘[64]

’’اور اس وقت اختلافات اور فتنہ گری بہت بڑھ چکی ہو گی مشکلات اور قحط ہر طرف چھا چکا ہوگا۔ شہروں پر مصیبتیں ٹوٹ رہی ہوں گی اور امیدیں ختم ہو چکی ہوں گی۔‘‘

اسی سلسلے میں پیغمبر  (ص)ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں :

’’لتأتینکم بعدی اربع فتن ٍ الاولیٰ تستحل فیھا الدماء والثانیہ تستحل فیھا الدماء والاموال والثالثة تستحل فیھا الدماء والاموال والفروج الرابعة صمَّاء عمیاء مطبقة تحور مور السفینة فی البحر حتی لایجد احدٌ من الناس مسلما ً تطیر بالشام وتعشٰی العراق وتخبط الجزیرة یدھا ورجلھا یعرک الانام البلاء فیھا عَرْک الادیم لایستطیعُ احد ان یقول فیھا مہ مہ ! لاترفعونھا ناحیة الَّا انفتقت من ناحیةٍ اخری‘‘[65]

’’میرے بعد چار فتنہ برپا ہوں گے۔ پہلے میں خون بہانا مباح ہو جائے گا۔ دوسرے میں خون اور مال مباح ہو جائے گا اورتیسرے میں خون اور مال اور عصمت مباح ہو جائے گی، اور چوتھے میں ایسا اندھا آشوب بپا ہو گا کہ جو پوری دنیا کو اس طرح مضطرب کر دے گاجیسے کوئی بہت بڑا بحری جھاز اپنے چاروں طرف کے پانی کو مضطرب کر دیتا ہے۔ یہ فتنہ شام پر چھا جائے گا اور عراق کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور جزیرة العرب (حجاز) میں ہاتھ پاؤں چلائے گا۔لوگ ان حادثات کی تلخی کو اس طرح احساس کریں گے جیسے دباغی کرتے جسم پر فشار پڑتا ہے۔ کسی میں بھی ایک جملہ بات کرنے کی بھی جرأت نہ ہو گی یہ فتنہ ابھی ایک جگہ ختم نہیں ہو گا مگر یہ کہ کسی دوسرے مقام پر برپا ہو جائے۔ ‘‘

ان تمام فتنوں کے آثار ہم پوری دنیا پر دیکھ رہے ہیں جو کوئی بھی ہے اپنی طاقت سے زور آزمائی میں لگا ہوا ہے۔ طاغوتی قوتیں اپنی طاقت کا استعمال کرتی ہیں جہاں چاہتے ہیں روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ 

اسی بارے میں امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ فرماتے ہیں :

’’تخرب سمرقندوجاح وخوارزم والبصرة وبلخ من العراق والھند من تبَّت وتبَّت من الصین وکرمان وبعض الشام لبنابک الخیل  والتقل والیمن من الجراد والسلطان وسجستان وبعض الشام بالزنج وشامان بالطاعون ومرو بالرمل وھراة بالحےَّات و مصر من انقطاع النیل وآذربیجان لبنانک الخیل والصواعق و البخاریٰ بالغرق والجوع وبغداد یصیرعالیھا سافلہ‘‘[66]

’’سمرقند، جاح خوارزم، بصرہ اور بلخ سیلاب کی وجہ سے ویران ہو جائیں گے ہند تبّتیوں کے ہاتھوں اور تبت چین کی وجہ سے نابود ہو جائے گا۔ کرمان اور شام کا کچھ حصہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور قتل و غارت کی وجہ سے برباد ہو جائے گا۔ یمن ٹڈوں اور بادشاہوں کے ظلم کی وجہ سے نابود ہو جائے گا۔ سجستان اور شام کا بعض حصہ زنجیوں کے ہاتھوں، شام طاعون کے سبب، مرو(مشہد) طوفان کی وجہ سے ہرات سانپوں کے ذریعہ، مصر دریائے نیل کے خشک ہو جانے کے سبب،آذربائیجان گھوڑوں کی ٹاپوں اور صاعقہ (گولہ باری ) کی وجہ سے برباد ہو جائے گا۔ بخارا میں بھوک اور سیلاب سے تباہی آئے گی اور بغداد الٹ پلٹ ہو کر رہ جائے گا۔‘‘

قتل و غارت کے سبب قتل ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں امیر المومنین (ع)علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’لایقوم حتی یقتل الثلث ویموت الثلث ویبقی الثلث‘‘[67]

’’اما م(عج) قیام نہیں کریں گے یہاں تک کہ دو تہائی لوگ مارے جا چکے ہوں اور فقط ایک تہائی لوگ بچے ہوئے ہوں۔ ‘‘

امام محمد باقرؑ  اس بارے میں فرماتے ہیں :

’’لایکون ہذا الامر حتی یذھب ثلثاً الناس فقال:اصحابہ من یبقی فقال اما ترضون ان تکونوا من ثلث الباقی ؟‘‘[68]

’’یہ امر(ظہور) انجام نہیں پائے گا مگر اس وقت کہ دو تہائی لوگ مر چکے ہوں گے، اصحاب نے عرض کیا :پھر کون لوگ باقی بچیں گے۔ آپ (ع) نے فرمایا:آیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ تم لوگ باقی ایک تہائی میں سے ہو؟۔‘‘

جھوٹے دعویداروں کے بارے میں امام جعفر صادقؑ  فرماتے ہیں :

’’کل راٴ یة ترفع قبل قیام القائم فصاحبھا طاغوت یعبد من دون اللّہ عزوجلّ‘‘[69]

’’جو پرچم بھی حضرت (عج) کے قیام سے پہلے بلند ہو گا اس کا بلند کرنے والا طاغوت ہو گا کہ جو خداوند کے علاوہ کسی اور کی پرستش کرتا ہو گا۔ ‘‘

اس بارے  میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :

’’کل بیعة قبل ظہور القائم فبیعة کفر ونفاق وحذیعةٍ‘‘[70]

’’جو بیعت بھی حضرت(عج) کے قیام سے پہلے لی جائے گی وہ کفر و نفاق اور دھوکہ بازی کی بیعت ہو گی۔ ‘‘

رسول  (ص)خدا فرماتے ہیں :

’’ خروج الثلاثة السفیانی والخراسانی والیمانی فی سنة واحدة فی شھر واحد فی یوم واحد ولیس فیھا من راٴیة اھدیٰ من راٴیة الیمانی لانہ ید عو ا الی الحق۔‘‘[71]

’’تین پرچم ایک سال ایک مہینے اور ایک دن قیام کریں گے سفیانی، خراسانی اور یمانی اور ان سب میں سب سے زیادہ خالص پرچم یمانی کا ہو گا کہ جو حق کی طرف دعوت دے گا۔ ‘‘

امام صادقؑ  اس یمنی شخص کے نسب کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’خروج رجل من ولدٍ عمی زید بالیمن ‘‘[72]

’’ایک آدمی ہمارے چچا زید کی اولاد میں سے یمن سے قیام کرے گا۔‘‘

رسول خدا  (ص)اس لشکر یمانی کی تعریف میں فرماتے ہیں :

’’ الیمانی یتولیٰ علیاً الیمانی والسفیانی کفرسی رہان‘‘[73]

’’یمانی علی بن ابی طالبؑ کے شیعوں میں سے ہو گا۔ یمانی اور سفیانی کا قیام دوریس کے گھوڑوں کی مانند ہو گا۔‘‘

رسول خدا  (ص)سید ہاشمی کے خروج کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’یخرج بقزوین رجل اسمہ اسم نبی یسرع الناس الی طاعتہ المشرک والمومن یملا الجبال خوفاً‘‘[74]

’’ایک شخص قزوین سے قیام کرے گا کہ جوکسی پیغمبر کے ہمنام ہو گا مشرک اور مومن اس کی اطاعت کریں گے پہاڑوں اور چٹانوں کو اپنے رعب سے وحشت زدہ کر دے گا۔‘‘

نفس ذکیہ کے قتل کے بارے میں رسول خدا  (ص)فرماتے ہیں :

’’انَّ المھدی لایخرج حتی تقتل النفس الذکیہ فاذا قتلت النفس الذکیہ غضب علیہم من فی السماء ومن فی الارض فأتیٰ الناس المھدی فرفوَّہ کماتذف العروس الی زوجھا لیلة عُرسھا‘‘[75]

’’امام مہدی (عج ) قیام نہیں کریں گے حتی یہ کہ نفس زکیہ کو مارا جائے اور جب نفس زکیہ کو مار دیا جائے گا تو اس وقت زمین اور آسمان پر رہنے والے غضبناک ہو جائیں گے اور پھر امام مہدی (عج)کا قیام شروع ہو گا۔ اور لوگ حضرت ولی عصر(عج) کے گرد اس طرح سے جمع ہو جائیں گے جیسے شادی کی رات دلھن کے گرد لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ ‘‘

امام محمد باقرؑ اس بارے میں فرماتے ہیں :

’’وقتل غلام من آل محمد بین الرکن والمقام اسمہ محمد بن الحسن النفس الزکیہ‘‘ [76]

’’آل محمد(ص) سے ایک جوان رکن اور مقام کے درمیان مارا جائے گا اس کا نام محمد حسن نفس زکیہ ہو گا۔‘‘

امام صادقؑ  فرماتے ہیں :

’’لیس بین القائم وقتل النفس الزکیہ سوی خمس عشرة لیلة‘‘[77]

’’حضرت حجت(عج) اورنفس زکیہ کے قتل میں صرف پندرہ (۱۵) دنوں کا فاصلہ ہے۔‘‘

بہرحال ہم نے کوشش کی ہے کہ اختصار سے کام لیتے ہوئے اکثر مشہور روایات کہ جن میں حتمی نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ حضرت حجت(عج) کے ظہور کی آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ آخر میں حضرت حجت (عج) کے ظہور کی دعا کو ان الفاظ میں کر کے اپنی گفتگو کو تمام کرتے ہیں :

’’اللّھم اجعلنا من اصحاب مولانا صاحب العصر والزمان الامان الامان من فتنة الزمان اللّھم صلی علی محمد وآل محمد وعجل فرجھم الشریف۔‘‘

منابع :

(۱)الائمة الاثنا عشر :شمس الدین محمد بن طولون،طبع ۱۹۵۸  قاھرہ
(۲)اثبات الھداة:شیخ حر عاملی(رہ)، طبع  ۱۳۹۹ ھ۔ قم
(۳)اثبات الوصیة:علی بن حسین مسعودی طبع نجف اشرف
(۴)احتجاج طبرسی :ابو منصور احمد بن علی طبرسی(رہ)، طبع  ۱۴۰۱  ھ بیروت
(۵)احقا ق الحق:قاضی نور اللہ شو شتری(رہ)، طبع قم
(۶) اختصاص :شیخ مفید (رہ)، طبع قم
(۷) اختیار معرفة الرجال : شیخ طوسی (رہ)، طبع مشھد یونیور سیٹی
(۸)اربعین : شیخ بھائی، ۱۳۵۷ ھ ش، طبع تبریز
(۹)ارشاد : شیخ مفید (رہ) محمد بن محمد بن نعمان، طبع  ۱۳۹۹  قم
(۱۰)ازالة الغین: حیدر علی فیض آبادی، طبع دھلی
(۱۱)اسعاف الراغبین : محمد بن صبان مصری شافعی، حاشیہ نور الابصار
(۱۲)اصول کافی: محمد بن یعقوب کلینی (رہ)،طبع بیروت
(۱۳) الاعلام : خیر الدین زرکلی، طبع  ۱۹۸۰ بیروت
(۱۴)اعلام الوریٰ : امین الاسلام ابو علی فضل بن حسن طبرسی،طبع ۱۳۹۹ ھ بیرو ت
(۱۵)اعیان الشیعہ : سید محسن جبل عاملی (رہ)، طبع لبنان
(۱۶)الایضاح : شیخ مفید(رہ)، طبع تھران
(۱۷)الزام الناصب :شیخ علی یزدی، طبع بیروت
(۱۸)الامالی : شیخ صدوق (رہ)،طبع   ۱۴۰۰ھ بیروت
(۱۹)الامامة والتبصرة:علی بن حسین بابویہ قمی(رہ)، طبع  ۱۴۰۷ ھ بیروت
(۲۰)الایضاح : فضل بن شاذان،طبع  ۱۳۶۳ ھ ش تھران
(۲۱)بحار الانوار: علامہ مجلسی (رہ)، طبع تھران
(۲۲)البرھان : سید ھاشم بحرانی، طبع تھران
(۲۳)البیان فی اخبار صاحب الزمان : محمد بن یوسف گنجی شافعی،طبع  ۱۳۹۹ھ بیروت
(۲۴)تاریخ الخلفاء :جلال الدین سیوطی، طبع قاھرہ
(۲۵)تذکرة الخواص : سبط ابن جوزی،طبع  ۱۳۸۳ طبع نجف اشرف
(۲۶)تفسیر صافی : فیض کاشانی، طبع  ۱۳۹۹ ھ بیروت
(۲۷)تفسیر عیاشی : محمد بن مسعود بن عیاش سلمی، طبع  ۱۳۸۰ ھ تھران
(۲۸)تفسیر قمی : علی بن ابراہیم، طبع  ۱۴۰۴ ھ قم
(۲۹)تنقح المقال: شیخ عبدا۔۔۔مامقانی،طبع نجف اشرف
(۳۰)الثاقب فی المناقب :،طبع  ۱۴۱۲قم
(۳۱)ثواب الاعمال : شیخ صدوق (رہ)، طبع  ۱۳۶۴ھ ش قم
(۳۲)جوھر الکلام : محمود بن وھیب قراغلی بغدادی حنفی
(۳۳)حیلة الابرار : سید ھاشم بحرانی، طبع سنگی
(۳۴)الدر المنثور : سیوطی، طبع  ۱۴ ۱۳   ھ قاھرہ
(۳۵)دلائل الامامة : ابو جعفر محمد بن جریر طبری
(۳۶)الذخیرہ فی الکلام : سید مر تضی علم الھدیٰ، طبع  ۱۴۱۱   ھ قم
(۳۷)الذریعہ الی تصانیف الشیعہ : شیخ آغا بزرگ تھرانی، طبع بیروت
(۳۸)روح المعانی : سید محمود آلوسی، طبع بیروت
(۳۹)روز گار رہائی،کامل سلیمان :ترجمہ علی اکبر مھدی پور، طبع سوم تھران
(۴۰)روضةالواعظین : ابن قتال نیشا پوری، طبع سنگی  ۱۳۰۳ ھ تھران
(۴۱)سفینة البحا ر : شیخ عباس قمی، طبع  ۱۵ ۱۴   ھ قم
(۴۲) سنن ابن ماجہ :حافظ ابو عبد اللہ محمد بن یزید قزوینی، طبع  ۱۳۹۵ ھ بیروت
(۴۳)سنن ترمذی : ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ، طبع بیروت
(۴۴)شرح نہج البلاغہ :ابن ابی الحدید، طبع قاھرہ
(۴۵)شواھد التنزیل :عبیداللہ بن عبد اللہ حسکانی، طبع  ۹۳ ۱۳ ھ بیروت
(۴۶)صحیح بخاری :ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل بن ابراہیم، طبع مصر
(۴۷)صحیح مسلم :مسلم بن حجاج نیشاپوری، طبع بیروت
(۴۸)الصواعق المحرقہ: احمد بن حجر ھیشمی مکی، طبع  ۱۳۱۴، طبع قاھرہ
(۴۹)الطبقات الکبریٰ :محمد بن سعد کاتب واقدی، طبع  ۱۴۰۵ ھ بیروت
(۵۰)علل الشرائع :شیخ صدوق (رہ)، طبع  ۱۳۸۵  ھ نجف اشرف
(۵۱)عھدین :طبع انجمن پخش کتب مقدسہ  ۱۹۶۹ لندن
(۵۲)عیون الاخبار :شیخ صدوق(رہ)، طبع  ۱۳۹۰ ھ نجف اشرف
(۵۳)الغدیر: علامہ امینی (رہ) طبع کویت
(۵۴)غیبت شیخ طوسی(رہ) :طبع نجف اشرف،و طبع جدید قم
(۵۵)غیبت نعمانی:طبع  ۱۳۹۷ ھ تھران
(۵۶)فرائدالسمطین :ابراہیم بن محمد بن مویّد جوینی، طبع  ۱۳۹۸ ھ بیروت
(۵۷)فرھنگ معین :محمد معین، طبع تھران
(۵۸)الفصول المھمہ :ابن صباغ مالکی، طبع نجف اشرف
(۵۹)فھرست شیخ طوسی (رہ) :طبع  ۱۴۰۳ ھ بیروت
(۶۰)قاموس الرجال :شیخ محمد تقی شوشتری
(۶۱)الکامل فی التاریخ :ابن ابی اثیر شیبانی، طبع بیروت
(۶۲)کشف الغمہ :علی بن عیسیٰ اربلی طبع بیروت
(۶۳)کفایة الاثر : علی بن محمد بن علی خرّازی،طبع  ۱۴۰۱   ھ۔قم
(۶۴)کمال الدین : شیخ صدوق (رہ)،طبع  ۱۳۹۵ ھ تھران
(۶۵)کنز الدقائق :محمد رضا مشھدی، طبع  ۱۰ ۱۴   ھ تھران
(۶۶)کنزل العمال :متقی ھندی، طبع  ۱۳۹۹ ھ طبع سنگی تبریز
(۶۷)لسان العرب :ابن منظور،طبع  ۱۴۰۸ ھ بیروت
(۶۸)مستدرک صحیحین : حاکم نیشاپوری، طبع بیروت
(۶۹)مستدرک وسائل : میرزا حسین نوری، طبع قم
(۷۰)مسند احمد حنبل :، طبع  ۱۳۱۳ ھ قاھرہ
(۷۱)مناقب آل ابی طالب :ابن شھر آشوب، طبع بیروت
(۷۲)منتخب الاثر : حاج شیخ لطف اللہ صافی، طبع قم
(۷۳)نجم الثاقب :میرزا حسین نوری، طبع تھران
(۷۴)نہج البلاغہ : سید رضی تحقیق صبحی صالحی، طبع بیروت
(۷۵)وسائل الشیعہ : شیخ حر عاملی(رہ)، طبع  ۳۰ جلدی قم
(۷۶)ینابیع المودة : سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی
(۷۷)الیواقیت والجواہر : عبد الوھاب شعرانی، طبع قاھرہ
(۷۸)تحف العقول عن آل الرسول (ع):حسن بن علی حرانی، طبع بیروت  ۱۹۶۹ ھ
(۷۹)جامع احادیث شیعہ:طباطبائی بروجردی، طبع تھران  ۱۳۸۰ ھ
(۸۰)مجمع البحرین :، طبع   ۸۱ ۱۳ھ نجف اشرف
(۸۱)کتاب الفتن: سلسلی، طبع  ۱۹۶۳ھ نجف اشرف
(۸۲)المحجة البیضاء :محمد بن مرتضیٰ کاشانی
(۸۳)المھدی: سید صدر الدین صدر، طبع ۵۸ ۱۳ھ ایران 
(۸۴)نہج الفصاحہ:، طبع  ۱۳۴۱ ھ ایران
(۸۵)نوائب الدھور فی علائم الظھور:محمد بن حسن مھاجری جر قوئی، طبع ۱۳۸۳ھ تھرا ن
(۸۶)ترجمہ قرآن : مرحوم علامہ ذیشان حیدر جوادی(رہ)
۸۷۔او خواھد آمد :علی اکبر مھدی پور، طبع انتشارات رسالت  ۲۰۰۰ قم
(۸۸)تقریب المعارف:ابوالکلام تقی حلبی، طبع ۱۷ ۱۴ھ قم

 حواله جات:
[1] ارشاد مفیدص۳۳۶ منتخب الاثرص ۴۵۵بحارج۵۲ ص۲۰۶الزام الناصب ص۱۸۱
[2] اعلام الوری ص۴۲۶،ارشادمفید ص۳۳۶،منتخب الاثرص۴۵۵،بحار ج۵۲ص۲۰۶۔
[3] بحارج ۵۲ ص۲۰۴،۲۰۹،۳۰۴،ا علام الوری ص۴۲۶،بشارةالاسلام۱۴۰،ارشادمفید ص  ۶ ۳۳، منتخب الاثرص۴۵۲،۴۵۸۔
[4] بشارةالاسلام ص۷۴،الزام الناصب ص۱۹۴،۲۰۳،۲۰۹۔ 
[5] الملاحم والفتن ص۱۰۲۔
[6] الزام لناصب ص ۱۹۴،۲۰۴،۲۰۹و۲۱۳۔
[7] الزام الناصب ص۲۱۳۔
[8] بشارةالاسلام ص ۵۸،۶۷،۷۳؛الزام الناصب ص۱۷۶؛بحار الانوار ج۲ ۵ ص ۳ ۷ ۲، ج ۵۳ ص۸۲۔ 
[9] صحیح بخاری ج ۳ ص ۴۹۔
[10] منتخب الاثرص ۴۳۸۔ 
[11] نہج الفصاحة ج۲ص۵۰۰۔
[12] بشارة الاسلام ص۲۶
[13] نہج الفصاحة ج۲ص۵۰۰و۵۱۷۔ 
[14] نہج الفصاحة ج۱ص۲۱۶،ج۲ص۵۱۰
[15] الحاوی للفتاوی ج۲ص۱۵۹/منتخب الاثرص ۴۳۷
[16] بشارة الاسلام ص۷۶الزام الناصب ص۱۲۱و۱۹۵۔
[17] بحار الانوار ج ۵۲ص۱۳۹۔
[18] بحار الانوار ج۵۲ص۲۶۴
[19] منتخب الاثر ص۲۹۳بحار الانوار ج ۵۲ص۲۵۶،۲۶۴۔
[20] بحار الانوار ج ۵۲/ص۲۶۵۔
[21] نہج الفصاحةج۲ص۵۳۳۔
[22] نہج الفصاحةج۲ص۶۳۸۔
[23] نہج الفصاحةج۲ص۴۷۳بشارة الاسلام ص/۲۳۔
[24] کشف الغمة ج ۳ص۳۲۴منتخب الاثرص۴۳۵
[25] منتخب الاثر ص۴۲بحار ج ۵ص۷۰، ج۵۲ص۱۹۲،۲۲۸۔
[26] بحار الانوار ج ۵۲ص۲۵۷۔
[27] الزام الناصب ص۱۹۵بشارة الاسلام ص۷۷۔
[28] بحار لانوارج ۵۱ص۷۰، ج۵۲ص۷۰،ج ۵۲ ص ۲۵۶منتخب الاثر ص۴۲۰الزام الناصب ص۱۸۳۔
[29] منتخب الاثر ص۴۲۶الزام الناصب ۱۸۰ تحف العقول ص۴۱۔
[30] منتخب الاثر ص۴۲۸الزام الناصب ۱۸۲۔
[31] منتخب الاثر ص۲۹۲،المحجةالبیضاء ج۳ص۳۴۲،اعلام الوری ص۴۳۳،المھدی ص۱۹۹۔
[32] صحیح مسلم ج ۶ص۱۶۸۔
[33] منتخب الاثر ص۴۲۶۔
[34] بحار ج ۵۲ص۲۵۷منتخب الاثرص۴۲۹۔
[35] بحارالانوارج۵۲ ص۲۶۳الزام الناصب ص۱۸۱المھدی ص۱۹۹۔
[36] بحار ج ۵۲ص۲۵۷،منتخب الاثر ص۴۳۰،الزام الناصب ص۱۸۳،بشارة الاسلام ص۱۳۳۔
[37] صحیح بخاری ج ۹ص ۵۵/تحف العقول ص۳۰۔
[38] صحیح بخاری ج ۹ص ۵۵ت/تحف العقول ص۳۰۔
[39] بحار لانوارج ۵ص۲۵۹،بشارة الاسلام ص۱۳۴،الزام الناصب ص۱۸۴۔ 
[40] منتخب الاثر ص۴۲۶
[41] سورةیونس آیت /۹۱۔ 
[42] سورةفرقان/ ۱۲،۱۳۔
[43] نہج الفصاحة ج ۲ ص۳۹۳ تحف العقول ص۴۲۔ 
[44] نہج الفصاحة ج ۱ص۴۵۔
[45] بحارالانوار ج ۵۲ص۲۱۲۔
[46] وسائل الشیعہ ج ۱۸ص۹۔
[47] الزام الناصب ص۱۰۸۔
[48] البیان والتبین ج ۳ص۳۲۔
[49] بحا الانوار ج ۵۲ص۲۶۹۔
[50] الزام الناصب ص۱۷۶،بشارةالاسلام ص۵۸۔
[51] الملاحم والفتن ص۱۴۶۔
[52] بشارة الاسلام ص۲۸۔
[53] بحارالانوار ج۵۳ص۸۵،ارشادمفیدص۳۳۶،بشارة الاسلام ص۱۷۶۔
[54] الملاحم والفتن ص۷۱۔
[55] الملاحم والفتن ص۱۳۰۔
[56] المجةالبیضاء ج۴ص۳۴۳۔
[57] الامام المھدی ص۲۲۷۔
[58] بشارة الاسلام ص۳۲۔
[59] غیبت شیخ طوسی(رہ) ص۲۷۷۔
[60] بشارة الاسلام ص۱۷۷۔
[61] کشف الغمہ ج۳ص۳۲۴،منتخب الاثر ص۱۶۳۔
[62] المھدی (عج) ص۲۲۱۔
[63] صحیح مسلم ج ۸ص۱۷۲۔
[64] بشارةالاسلام ص۱۷۵،الزام الناصب ص۱۸۵۔
[65] الملاحم والفتن ص۱۷۔
[66] بشارة الاسلام ص۴۳۔
[67] منتخب الاثر ص۴۵۳۔
[68] بحارالانوار ج۵۲ص۱۱۳۔
[69] بحارالانوار ج ۵۲ص۱۴۳،غیبت نعمانی ص۵۶،وسائل الشیعہ ج ۱۱ص۳۷۔
[70] بشارة الاسلام ص۲۶۸۔
[71] ارشاد مفیدص۳۳۹،بحارالانوار ج۵۲ص۲۱۰۔
[72] نورالابصارص۱۷۲،بشارة الاسلام ص۱۷۵۔
[73] غیبت نعمانی ص۱۲۳،بحارالانوار ج۵۲ص۲۷۵۔
[74] بحارالانوار ج۵۲ص۲۱۳۔
[75] بشارة الاسلام ص۱۸۳،الملاحم والفتن ص۱۱۳۔
[76] بشارة الاسلام ص۴۹۔
[77] منتخب الاثر ص۴۳۹،بحار الانوار ج ۵۲ ص۲۰۳،اعلام الوری ص۴۲۷۔
٭٭٭
ماخذ:
http://www.sadeqeen.com/?id=library2
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
