﻿

اسلامی نصب العین



شاہ عبد العلیم میرٹھی

The Islamic Ideal 2nd Addition
مترجم: ندیم احمد قادری نورانی





اللہ قادرِ مطلق کا شکر ادا کرنا میرا اوّلین خوش گَوار فرض ہے جس نے مجھے اس مرکز میں آ کر اپنے عظیم ترین اور آخری رسول نبیِّ پاک محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا پیغامِ محبت پہنچانے کا موقع عطا فرمایا۔ اس کے بعد مجھے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے لندن میں میرے قیام کے دوران میرے مشن کی تکمیل میں اخلاقی طور پر میری معاونت فرمائی۔

مجھے اپنے بھائی (دینی رشتے کے اعتبار سے) ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر کے اظہارِ تشکّر کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔ وہ اسلامی اُخوّت کا ایک مجسّمہ ہیں۔ جو انمول تعاون مجھے ان سے حاصل ہوا اس کے لیے اللہ (تبارک و تعالیٰ) ان کو برکتوں سے نوازے!

جلالۃ الملک مصر کے فاروق الاوّل نے اسلامک کلچرل سینٹر (اسلامی ثقافتی مرکز) قائم کر کے تمام عالمِ اسلام کو ممنون و مشکور کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے عظیم اسلاف کی اعلیٰ روایت کی پیروی کی ہے۔ اللہ (عَزَّوَجَلّ) انہیں اس کی برکات سے مالا مال فرمائے اور انہیں اور دیگر حکّام کو اشاعتِ اسلام کے مقصد کو مزید ترقی دینے کی توفیق عطا فرمائے!

میرے دوستو! اسلامی تعلیم کے مطابق ہر مسلمان کو پیدائشی مبلغ کے فرائض ضرور سر انجام دینے چاہییں، کیوں کہ قرآنِ پاک میں مسلمانوں کو ’’بہترین امّت‘‘ ٭ کہا گیا ہے، اس بنیاد پر کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور بدی (برائی) سے منع کرتے ہیں۔ لہٰذا، اگر موجودہ دور کے(بھی) مسلمان اس فریضے کو پورا کریں، تو وہ بھی اس خطاب کے مستحق ہوں گے۔ اگر مسلمان اس فریضے کی ادائیگی میں غفلت برتیں گے تو اُن کا شمار اس دنیا اور خدا کے حضور حساب کے وقت بہترین امّت کے برعکس دوسرے قسم کے لوگوں میں ہو گا۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اسلام کے متحرک اور اثر آفریں پیغام کو پہنچانے کے مُفَوَّضہ (سونپے ہوئے) کام کو پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا وہ تمام اقوام کے سبھی لوگوں میں قابلِ رشک مقام کے حامل رہے۔ اس فریضے سے غفلت انھیں پستی میں لے گئی اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ ایک بار پھر اس کی طرف لوٹ آئیں، تو وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لیں گے۔

(٭ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ط مِنْھُمُ الْمُؤمِنُوْنَ وَاَکْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ
(پارہ : 4، سورۂ اٰلِ عمران، آیت: 110)
اُردو ترجمہ کنز الایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ:
’’تم بہتر ہو اُن سب اُمّتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے تو اُن کا بھلا تھا۔ اُن میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر۔‘‘)

اس طرح کے اِحیا یعنی تبلیغِ اسلام کی سرگرمی کی ضرورت بے شک آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان تمام ذرائع جو مخالفینِ اسلام نے اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے استعمال کیے ان میں کوئی ذریعہ اتنا کارگر ثابت نہ ہوا جتنا کہ ’’جھوٹا پروپیگنڈا‘‘ کہ جس نے بعض اوقات خطرناک ترین صورتیں اختیار کیں۔ بوس ورتھ سمتھ (Bosworth Smith) نے اپنی کتاب ‘‘Muhammad and Muhammadanism’’(محمد اور محمدِیَّت) میں ان تہمتوں اور بہتانوں کا مختصر حال بیان کیا ہے اور نہ صرف اس نے بل کہ اور بہت سے دیانت دار غیر مسلم فُضَلا (Scholars) نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسلام سے زیادہ کسی اور مذہب پر بہتان نہیں باندھے گئے۔ غلط بیانی اور الزام تراشی کی اس مہم نے کامیابی سے بھی کچھ زیادہ ہی نتیجہ حاصل کیا۔ آج اوسط درجے کا مغربی باشندہ اسلام کے متعلق ایسے نظریات رکھتا ہے جو ایمان کو محض متزلزل کرنے والے ہیں اور وہ اس دین سے اسی تناسب سے نفرت کرتا ہے کہ جس تناسب سے اسے اس دین سے محبت ہونی چاہیے تھی، اگر وہ تصویر کا صحیح رُخ دیکھتا۔ اہلِ مغرب کے علاوہ عام مسلمانوں میں بھی کچھ خواتین و حضرات ایسے ہیں جو یک طرفہ مغربی تعلیم کی وجہ سے اسلام کی اسی تصویر کو دیکھتے ہیں جو اُن کے اسلام دشمن اساتذہ نے اُن کے سامنے کھینچی ہوئی ہوتی ہے اور نتیجتاً وہ غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ مسلمان والدین کی اولاد ہیں، وہ عظیم اور اعلیٰ روایت کے وارث ہیں۔ مگر انھیں درست ذریعے سے اس روایت کو جاننے کا موقع نہیں ملا، نتیجتاً وہ خود اپنے لیے اور اسلام کے لیے کمزوری کا باعث بن گئے ہیں۔

لہٰذا علومِ اسلامی کی نشر و اشاعت کی اہم ضرورت ہے اور (یہ نشر و اشاعت) مضبوط، منظم اور خوب مربوط کوشش کا تقاضا کرتی ہے اور اس کی منصوبہ بندی جدید حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔ میں مسلمانوں کو اس قسم کے رسمی اور بے جان پروپیگنڈوں کے خلاف متنبّہ (خبردار) کرنا چاہتا ہوں جو بعض لوگوں نے اسلام کے نام پر جاری کر رکھے ہیں۔ (اس طرح کے) سطحی (بے وزن اور بے بنیاد) الزامات و اقدامات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور سطحی اقدامات کا عروج ہمیشہ چند روزہ ہی ہوتا ہے۔ ہمیں ایک طرف تو ایک اعلیٰ معیار کی اور مخلصانہ اسلامی فکری و معنوی مہم کی ضرورت ہے تو دوسرے جانب شخصی کردار و مثال کے ذریعے نورِ اسلام کی شعاعیں پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس (تبلیغی) شعبے میں میرے تیس سالہ تجربے نے مجھے یہ باور کرایا ہے کہ یہ بالآخر آدمی ہی ہے جو (دوسرے) آدمی کو کشش کرتا (کھینچتا) ہے۔ یہ مبلّغ کے اپنے کردار کا عملی نمونہ ہی تو ہے کہ جسے دوسرے تمام تبلیغی امور پر اہمیّت و برتری حاصل ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج یقینا ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی تاریخ کو بھلا دیا ہے۔ میں اپنے مسلمان دوستوں کو یاد دلاتا ہوں کہ اسلام کے درست فکری و معنوی تعارف کے علاوہ یہ ہمارے نبیِّ پاک حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت ہی تھی جو انسانی تاریخ کے حیرت انگیز ترین انقلاب کی ضامن تھی۔ (میں) ایک بار پھر (کہوں گا کہ) اشاعتِ اسلام کی پوری تاریخ ان شخصیات کے گرد گھومتی ہے جو اپنی ذات میں اسلام کی چمکتی ہوئی تصاویر تھیں اور نہ صرف ان کے پاس علمِ دین تھا بل کہ نبیِّ پاک (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم) کی روحانی مقناطیسیّت سے بھی ان کو حصّہ ملا تھا۔ ہندوستان یا انڈونیشیا، چین یا افریقہ یا دنیائے اسلام کے کسی اور حصّے میں اشاعتِ اسلام کی تاریخ پڑھیں اور دوبارہ پڑھیں آپ کو اتفاق سے ایک ہی جیسی داستان ملے گی۔ میری خواہش ہے کہ میرے مسلمان دوست اس تاریخ کا مطالعہ کریں اور پھر ان اقدامات پر ایک نظر ڈالیں کہ جہاں اس رسمی اور بے جان پروپیگنڈے پر لاکھوں پاؤنڈز (Pounds) خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات ان لوگوں کی خاموش کوششوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے جو اپنے تبلیغی اُمور میں تنہا اپنے اخلاص اور تقوے ہی پر اعتماد کیے ہوئے ہیں، ہمارے عظیم اسلاف کے درخشاں تاریخی کارناموں کا تو ذکر ہی کیا جنہوں نے محض تبلیغی جدّوجہد کے ذریعے پوری دنیا میں اسلام کے لیے راہ ہموار کی۔
میں نے یہ ساری وضاحت اس اہم حقیقت پر زور دینے کے لیے کی ہے کہ ہماری طرف سے کوئی کوشش اس وقت تک بار آور ثابت نہیں ہو سکتی کہ جب تک یہ علمی و ادبی حدود کو عبور نہ کر لے اور شخصی کردار کے عملی نمونے کی بنیاد پر اخلاقی و روحانی میدان کے راستے کو جگمگا نہ دے۔
میرے دوستو! برطانیۂ عظمیٰ (Great Britain) اور عالمِ اسلام کے درمیان گزشتہ ایک صدی سے جو قریبی تعلّقات قائم رہے ہیں ان تعلّقات نے ہمارے لیے یہ اور بھی لازم کر دیا ہے کہ ہم برطانوی قوم میں علومِ اسلامی کی نشر و اشاعت کریں۔ کیوں کہ جتنا زیادہ انھیں اسلام کے بارے میں درست حقائق کا علم ہو گا، مسلمانوں کے لیے اُن کا رَوَیَّہ اتنا ہی زیادہ دوستانہ ہو گا اور بالآخر یہ بین الاقوامی تعلّقات اور خیر سگالی کا باعث ہو گا۔ مزید برآں، برطانیہ ایک مرکز ہے جہاں علم کی تلاش میں دُنیا کے تمام حصوں سے نوجوان مسلمان خواتین و حضرات آتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں ان نوجوانوں کو روشن اور واضح معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ایک طرف تو خلافِ اسلام نظریات و عادات سے وہ خود کو بچا سکیں اور دوسری طرف وہ دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانے والے (عالمی مبلّغینِ اسلام) بھی بن سکیں۔

اس بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ عالمِ اسلام کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ اسلامک کلچرل سینٹر، جو کہ شاندار اور مثالی انداز میں لندن کے وسط میں واقع ہے، کو مستحکم کرے۔مجوّزہ مسجد کی تعمیر کی بھی ضرورت ہے، اُس استحکام کے پیشِ نظر جو اس مسجد کی تعمیر سے اس ملک میں اسلام کو پہنچے گا اور عمومی نفسیاتی اثرات کی وجہ سے بھی۔ مگر مسجد کا عابدین (عبادت گزاروں/نمازیوں) سے خالی رہنا بے ضابطگی (و خلافِ منشائے خداوندی) ہے۔ لہٰذا کسی بھی دوسری چیز سے پہلے ہمیں جس فکر و عمل کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ہر مسلمان اسلامک (کلچرل) سینٹر کو اپنا سمجھے اور اسے ’’مسلمانوں کا اجتماع گاہ بنانا‘‘ اپنا فرض جانے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ یہاں اس قیمتی و مفید لائبریری، جو جلالۃ الملک کنگ فاروق نے اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے از راہِ  نوازِش و کرم عطیّہ کی ہے، میں صرف مطالعہ کرنے کے لیے ہی نہ آئیں، بل کہ اُنھیں چاہیے کہ شرعاً جائز کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کی دیگر تمام صحت افزا صورتوں کے لیے (بھی) وہ اسے اپنا مرکز بنائیں۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں (دونوں) کے سامنے یک ساں طور پر اسلام کی حقیقی و ذہنی و خیالی نیز عملی تصویر پیش کرنے کے لیے اس عظیم سرمائے، جو کہ اس عالی شان عمارت کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے، سے فائدہ اُٹھانا ہی (ہمارا) مقصد ہونا چاہیے۔

دوستو! اسلام دین کے بارے میں اُن تصوّرات و خیالات سے بالاتر اور ماورا ہے جو آج عام طور پر پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک دین صرف چند رسومات اور چند دعاؤں ہی کا مجموعہ ہے۔ بعض دیگر افراد کے نزدیک یہ چند مفروضہ اور فطری حقائق سے بالاتر اشیا پر اندھے اعتقاد کا نام ہے جس کے متعلق عقلِ انسانی کچھ نہیں کہہ سکتی۔ کچھ اور لوگوں کے نزدیک ’’ism‘‘(اِزم یعنی کوئی عقیدہ یا نظریہ) کا مترادف ہے اور زندگی کے کسی خاص پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دین کی تعبیر انفرادی اعتقاد سے کرتے ہیں جس کی رو سے ہر شخص قیاس آرائی سے کام لیتے ہوئے کسی بھی چیز پر ایمان و اعتقاد رکھنے میں آزاد ہوتا ہے اور اس کا معاشرتی زندگی اور اس کے معانی و اطلاقات سے کوئی عملی رشتہ نہیں ہوتا۔

بد قسمتی سے، یہ غلط خیالات و تصوّرات کسی نہ کسی طرح سے اسلام کی طرف بھی منسوب کیے جا رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام فطرت کے ساتھ ساتھ (فطرت کے عین مطابق) ہے اور حیاتِ انسانی کے تمام گوشوں کو محیط ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ جس میں انسانی سرگرمی کے تمام پہلوؤں، یعنی ایمان و عمل۔۔۔ ریاضتی و مجاہداتی، انفرادی و اجتماعی، معاشرتی و اخلاقی، سیاسی و معاشی (پہلوؤں) کے لیے کامل ہدایت موجود ہے۔ لہٰذا، اسلامی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جو اِن تمام پہلوؤں میں اسلامی رہ نمائی کا عکس و روشنی ڈالتی ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کا ایمان ہو کہ خدا موجود ہے، دنیا ایک اخلاقی نظام (Moral Order) ہے۔ اللہ (تبارک و تعالیٰ) اپنے منتخب نبیوں (علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے ذریعے نوعِ انسان کو ہدایت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ وہ اپنی خواہش اور اپنی تمام سرگرمیوں (اعمال) کو ان ہدایات کے تابع کرے جو اسے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر اللہ (جَلَّ جَلَالُہ) کی وحی کے ذریعے حاصل ہوئیں۔ مسلمان وہ ہے جو ان سب باتوں پر ایمان لائے اور ان کے مطابق عمل کرے۔

لیکن لفظ ’’ضابطہ‘‘ (Code) سے ہم اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ اسلام محض ایک معاشرتی نظریاتی نظام (Social Ideology System) ہے۔ بل کہ جیسا کہ پہلے نشان دہی کی جاچکی ہے کہ اسلام انسان کو اس کی تمام فطری ضروریات و حاجات میں ہدایت و رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ درحقیقت، اس کی ابتدا معاشرے کی طرف سے نہیں بل کہ خدا کی طرف سے ہے۔ جس مقام پر فطری سائنس (Natural Science) کی حد ختم ہوتی ہے وہیں سے دینِ اسلام کی حد شروع ہوتی ہے، جہاں ہمارے طبعی حواس مزید آگے بڑھنے سے انکار کر دیں، وہیں اس ’’قائم بالذّات‘‘/’’حقیقتِ ابدی‘‘/’’حقیقتِ اکبر‘‘ (the Great Reality) یا سر اولیور  لیج (Sir Oliver Ledge) کے الفاظ میں ’’نامعلوم (Unknown) ذات‘‘ سے متعلق فلسفیانہ بحث کا آغاز ہوتا ہے، جہاں ہماری فطری و طبعی صلاحیتیں اپنی بے بسی و معذوری کا اعلان کر دیں وہیں اسلام انسانی شعور و ادراک کے عمیق تر نہاں خانوں (پوشیدہ خانوں یا حصّوں یا مقامات) کی راہ دِکھاتا ہے۔ یہ ایک طرف تو دعا اور عبادت کے ذریعے اور دوسری طرف ہماری معاشرتی سرگرمی کو روحانی نور (روشنی) سے ہم آہنگ کر کے حیات و موت اور اس ناقابلِ فہم و ادراک عظیم ذات (the Great Beyond) سے متعلق اسرار (رازوں) کے دروازے کھول دیتا ہے۔ کیوں کہ اسلام میں، اللہ (تبارک و تعالیٰ) کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہر عمل، خواہ وہ کیسا ہی دنیوی کیوں نہ ہو، ’’عبادت‘‘ ہے اور روحانی ترقّی کا باعث ہے۔ اسلام میں روز مرّہ کی پانچ نمازیں، در اصل، روحانی غذا ہیں، جو دانستہ عمل کرنے والے مسلمان کی روحانی طاقت میں بالکل اسی طرح اضافے کا باعث ہوتی ہے کہ جس طرح ہماری روز مرّہ کی وقتِ مقرّرہ پر لی جانے والی خوراک ہماری جسمانی بالیدگی کی ضامن ہے۔ ’’خدا سے ناتا جوڑ لینا اور، دین و دنیا کے ہر معاملے میں، معاشرتی زندگی کو اللہ (تبارک و تعالیٰ) کے نازل کردہ احکامات کے مطابق ڈھال لینا ہی ’اسلام‘ ہے۔‘‘

میرے دوستو! زندگی کا ہر ضابطہ کسی خاص نصب العین سے تعلق رکھتا ہے۔ (کسی نصب العین کے بغیر) ہمارا کوئی ضابطۂ حیات نہیں ہو سکتا۔ پریشانی و ابتری جو آج دنیا میں پھیلی ہوئی ہے کا سبب حقیقتاً یہ ہے کہ آئیڈیل (نصب العین) کا یا تو خوب اچھی طرح سے تعیّن نہیں کیا جاتا یا پھر اس کا تعیّن محدود تناظر میں کیا گیا ہوتا ہے یا پھر قطعی طور پر وہ متعیّن ہی نہیں ہوتا۔ اسی لیے اسلام پہلا کام یہ کرتا ہے کہ وہ انسان کے لیے ایک معقول (عقل کے معیار پر پورا اُترنے والا) نصب العین (مقصد) پیش کرتا ہے۔ قرآنِ پاک میں (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ O
(پارہ: 27، سورة الذّٰرِیٰت، آیت: 56)
انگریزی ترجمہ:
And I have not created the jinn and mankind except that they shall worship Me.
انگریزی سے اُردو ترجمہ:
’’میں نے جن اور نوعِ انسان کو پیدا نہیں کیا ہے مگر صرف اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘
حدیثِ قدسی میں اللہ (عَزَّوَجَلّ) ارشاد فرماتا ہے:
کُنْتُ کَنْزًا مَّخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِکَیْ اُعْرَفَ۔
(احقاق الحق، جلد 1، صفحہ: 431)
انگریزی ترجمہ:
I was a hidden treasure. I loved to be known. So I brought forth Creation.
انگریزی سے اُردو ترجمہ:
’’میں ایک چُھپا ہُوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے پہچانے جانے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا۔‘‘

ہماری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ (تبارک و تعالیٰ) اور اس کی صفات کے متعلق علم حاصل کریں۔ مزید برآں، اس کائنات کا ہر ذرّہ اللہ (عَزّوجلّ) کی صفات کا مظہر ہے۔ لہٰذا جب کوئی مسلمان ایک سچّے مسلمان کی حیثیت سے کسی سائنسی مسئلے کی طرف متوجہ ہوتا ہے، خواہ وہ مسئلہ شعبۂ ارضیات (Geology) سے متعلق ہو، خواہ علمِ ہیئت (Astronomy) یا علمِ کیمیا (Chemistry) سے متعلق، تو اس مسلمان کا مقصود اللہ (جَلَّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ) کی معرفت (کا حصول) ہی ہوتا ہے۔ قرآنِ پاک (میں اللہ سُبْحٰنَہ وَ تَعَالیٰ) ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ O الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلیٰ جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO (پارہ: 4، سورۂِ اٰلِ عمرٰن: 190 تا 191)

انگریزی ترجمہ:
Verily, in the creation of the heavens and the earth and in the alternation of night and day, there are signs for men of understanding, who remember God, standing, sitting and reclining, and ponder over the creation of the heavens and the earth, (and say:) ‘Our Lord! Thou hast not created all this in vain. Glory be to Thee, Preserve us from the doom of Fire’.

انگریزی سے اردو ترجمہ: ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے جو اللہ کی یاد کرتے ہیں، کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (اور کہتے ہیں): (اے) ’ہمارے رب! تُو نے یہ سب بے کار پیدا نہیں کیے ہیں۔ پاکی ہے تجھے۔ ہمیں آگ (جہنم) کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

لہٰذا، ایک خالصتًا سائنسی مسئلہ بھی اسلام میں بڑی وقعت رکھتا ہے۔ سچّا مسلمان سائنس داں (صرف) مادّی اسباب کی دریافت ہی پر نہیں رُک جاتا بل کہ اُس ناقابلِ فہم و ادراک عظیم ہستی (Great Beyond) کی شان و قدرت کو سمجھنے کے لیے مزید آگے بڑھتا جاتا ہے۔ اس طرح کا اندازِ فکر تب ہی ممکن ہے کہ جب معرفتِ الٰہی کے حصول کا مقصد ہمیشہ ہر شے پر مقدم رہے۔ چناں چہ قرآنِ پاک (میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم سے) فرماتا ہے:

قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَO لَا شَرِیْکَ لَہ۔ (پارہ:8، سورۃ الانعام: 162 تا 163)

انگریزی ترجمہ:
Say: Verily, my prayer and my sacrifice, my life and my death are all for Allah, the Lord of the worlds, Who hath no partner.
انگریزی سے اردو ترجمہ:
’’تم فرماؤ: ’بے شک میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، سب اللہ کے لیے ہیں، جو سارے جہانوں کا رب (ہے)۔ (اور) جس کا کوئی شریک نہیں ہے‘۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر قرآنِ پاک ہمیں یہ وظیفہ کرنے کا درس دیتا ہے:
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (پارہ:2، سورۃ البقرۃ:156)
انگریزی ترجمہ:
For God, we are and unto Him is our return.
انگریزی سے اردو ترجمہ:
’’ہم اللہ کے مال ہیں اور اسی کی طرف ہماری مُرَاجَعَت (واپسی/ لوٹنا) ہے۔‘‘

لہٰذا جب اللہ (تبارک و تعالیٰ) ہی مقصدِ اوّل (Ideal) ہو گا تب ہی ایسا ممکن ہے کہ کوئی مسلمان اپنی انفرادی و معاشرتی زندگی کے تمام گوشوں میں حکمِ الٰہی کی موافقت کرے۔ یہ اندازِ فکر ہمیں اس نقطے پر لے جاتا ہے کہ جہاں کسی مسلمان کو خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا کے اصول (یعنی اصولِ اعتدال: Golden Mean) پر، مقامی نقطۂ اعتدال (Local Point of Moderation) پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہنا پڑتا ہے۔ اس نقطے سے بھٹکنے کا مطلب علمِ طب (Science of Medicine) میں ’’امراض‘‘، علمِ اخلاقیات (Science of Morals) میں ’’ظلم و ناانصافی‘‘(Inequity) اور علمِ معاشرت (Science of Social Life) میں ’’جنگ‘‘ ہے۔ (اسی طرح) جب ہم اپنے مقصدِ اوّل اللہ (ربّ العزت) اور اس کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں تو ہم اس چیز کے مرتکب ہوتے ہیں جسے مذہبی اصطلاح میں ’’گناہ‘‘ (Sin) کہا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ جسمانی اعتبار سے ’’بیماری‘‘، اخلاقی لحاظ سے ’’ظلم و ناانصافی‘‘ اور سیاسی اعتبار سے ’’جنگ و جدل‘‘ (war and strife) ہے۔ لہٰذا، آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ہے: ’’سرکش و باغی نوعِ انساں کو اللہ (تبارک و تعالیٰ) کی طرف لوٹانا‘‘۔ خصوصاً ہمیں اپنے تعلیمی نظاموں کی اس طرح سے اصلاح کرنی چاہیے کہ نوجوان نسلیں خدا کی معرفت حاصل کرنا، اس سے محبت کرنا اور اس کی ہدایات پر عمل کرنا سیکھ سکیں۔ اسی سے دنیا میں امن اور صحت افزا ترقّی کی یقین دہانی ہو سکے گی۔ اس کے بغیر ہم نوعِ انساں سے، جنگ، فساد اور تباہی کے گڑھے میں گر کر مزید گہرائی میں جاتے رہنے ہی کی توقّع کر سکتے ہیں۔

میرے دوستو! مجھے افسوس ہے کہ میں امریکا، جہاں میں کل روانہ ہو رہا ہوں، میں بعض اہم مصروفیات کے باعث اس ملک میں اپنے قیام کو طول نہیں دے سکتا۔ لہٰذا، میں یہ پیغام اسلام کے اُن مدّاحوں اور حامیوں کے سپُرد کرتا ہوں جو یہاں مستقل رہائش رکھتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ (اپنے کردار و عمل کا) بہترین نمونہ پیش کر کے (اشاعتِ اسلام کے) مقصد کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

٭٭٭

ماخذ:
http://www.deenemubeen.com/2010/04/the-islamic-ideal/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
