﻿


فلسفہ، تصوّف، فطرت اور ادب



ڈاکٹر شیخ عقیل احمد
جمع و ترتیب: اعجاز عبید









سماجی ہم آہنگی اور اردو شاعری میں صوفیانہ افکار



راستے الگ ہو سکتے ہیں مگر منزل ایک ہے۔کائنات و فطرت کے نظام سے یہی اشارہ ملتا ہے۔نظامِ کائنات کا انحصار ہم آہنگی پر ہے اور اس کی بقا کا دارومدار بھی وحدت پر ہے۔جس دن ہم آہنگی کا خاتمہ ہو گا قیامت آ جائے گی۔ قیامت اسی ہم آہنگی کے خاتمے کا نام ہے۔دیکھا جائے تو کائنات رفتہ رفتہ قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے۔گلوبل وارمنگ کا خطرہ اور ماحولیاتی توازن کا بگڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔اسی لئے گلوبل وارمنگ کو کائنات کی بقا کے لئے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے اور ایسے منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں کہ کائنات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور کائناتی توازن برقرار رہے۔اربابِ تصوف کائناتِ فطرت کے رموز و اسرار سے آشنا تھے اسی لئے وہ بھی اسی نہج پر سوچتے تھے۔انہوں نے فطری توازن کی قندیلیں روشن کیں اور کائنات کی ہر شے میں اسی وحدت کا جلوہ دیکھا۔انہیں فطرت کے ہر ذرّے میں خدا کا نور نظر آتا ہے۔فطرت کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے اس میں کس قدر توازن رکھا ہے۔سورہ رحمٰن میں اسی طرح کے اشارات ملتے ہیں جو کائناتی ہم آہنگی کی طرف انسانوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔  اربابِ تصوف نے کائناتی مظاہر کا گہرا مطالعہ کیا ہے اسی لئے ان کے ذہن میں فطری ہم آہنگی روشن ہے۔
خدا تعالیٰ نے موجوداتِ کائنات کے درمیان جو ہم آہنگی پیدا کی ہے اس کی فلسفیانہ وضاحت مشہور فلسفی لائبنیز نے اس وقت کی جب اس نے ذہن و جسم کے درمیان پائی جانے والی ہم آہنگی کو ثابت کرنے کے لئے"Pre-Established harmony" کے نظریے کو پیش کیا۔اس نے اپنے فلسفے کی بنیاد جوہر کے تصور پر رکھی۔ڈیکارڈ اور اسپنوزا کی طرح اس کا بھی خیال تھا کہ جوہر مطلقاً آزاد اور خود مُکتفی ہوتا ہے۔لیکن لائبنیز کا یہ بھی ماننا تھا کہ جوہروں کی ایک لا متناہی تعداد ہے جنہیں اس نے ’’موناد‘‘ کا نام دیا تھا۔موناد دراصل ایک قسم کے مراکز قوت ہیں اور توانائی ان میں سے ہمہ وقت پھوٹتی رہتی ہے۔اس کے مطابق موناد، روحیتی اکائیاں ہیں اور ہر موناد ایک دوسرے سے مطلق آزاد ہوتا ہے اور ان میں ایک بھی موناد ایسا نہیں پایا جاتا جو کسی دوسرے موناد سے مماثل ہو۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ہر موناد بے روزن ہوتا ہے اس لئے ان میں سے کوئی شے نہ اندر آسکتی ہے اور نہ باہر جا سکتی ہے۔ یہ موناد ایک دوسرے پر عمل یا تعامل کی قوت سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ ہر موناد اپنی ذات میں ایک ایسی خورد بینی کائنات سموئے ہوتا ہے جو ساری کائنات کو اپنے خاص زاویہ نگاہ سے منعکس کرتی ہے۔مونادوں کے درمیان ایک خاص نظام پایا جاتا ہے۔اس نظام کے مطابق ادنیٰ ترین موناد یں ’’بے شعور موناد‘‘ کہلاتے ہیں جو مادی دنیا کے ترجمان ہوتے ہیں۔ ان مونادوں کے اُوپر کے درجے میں ’’ذی شعور موناد‘‘ ہوتے ہیں جو نامیاتی دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سے اُوپر کے درجے میں ’’خود آگاہ موناد‘‘ ہوتے ہیں جو ذی عقل موجودات کے نمائندے ہیں اور سب سے اوپر خدا ہے، مونادوں کا موناد ہے یعنی مونادِ اعلیٰ۔مونادوں کے سلسلے میں لائبنیز نے جو جانکاری دی اس پر اعتراض کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر مونادبے روزن اور مطلقاً آزاد اور خودمُکتفی اکائیاں ہیں تو نفسی موناد اور جسمی موناد میں کیسے رشتہ قائم کیا جا سکتا ہے۔لائبنیز نے اس مسئلے کا حل "Pre-Established harmony" کے نظریے سے نکالا اور کہا کہ مونادِ اعلیٰ یعنی خدا تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش میں ہی ذہن و جسم کے درمیان ایک ہم آہنگ مطابقت پیدا کر دی تھی۔لائبنیز کہتا ہے کہ جس طرح کوئی خیال سوچنے والے کے ذہن سے ابھرتا ہے اسی طرح خدا کے حکم سے ہر موناد عالمِ ظہور میں آیا۔خدا نے ان مونادوں کو اس طرح خلق کیا ہے کہ ان میں سے کسی میں بھی اگر کوئی تغیر ہوتا ہے تو دوسرے موناد میں بھی اسی کی مطابقت سے لازمی طور پر تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ نے تمام مونادوں کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے عمل کرتے ہیں اور عمل کے نتیجے میں ہونے والے تغیرات ایک دوسرے سے پوری طرح موافقت رکھتے ہیں۔ 
ہیگل، بریڈلے، بوزانکے، رائیس،کروچے اور جنٹائل وغیرہ فلسفیوں نے کائنات کے بارے میں بنیادی طور پر اس بات پر متفق تھے کہ مبداءِ کائنات روح و عقل ہے اور اس بات پر بھی متفق تھے کہ تمام کائنات میں ایک عضویاتی وحدت(Organic Unity) موجود ہے اور اس وحدت میں پوری مقصدیت اور مفہوم ہے۔کائنات کے صدر الصدور میں اور قلب انسانی میں ایک طرح کا ’’آہنگ فی البطن‘‘(Self Harmony)ہے۔مادیت کی اس تنظیم کے پس پشت ایک روحیتی ترتیب، ایک آہنگ و توازن پایا جاتا ہے۔
فطرت میں جو ہم آہنگی پائی جاتی ہے، اس کی وضاحت علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کی ہے۔
فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفتِ سورہ رحمٰن
دنیا کے تمام مقدس یا آسمانی کتابوں میں بھی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک خاص نظام کے تحت اس کائنات کی تخلیق کی اور تخلیق کردہ موجودات میں ہم آہنگی پیدا کی۔ مثلاً چاند، سورج اور زمین اپنے اپنے مدار میں ایک دوسرے کی گردش ایک نظام کے تحت کرتے ہیں جس کی وجہ سے صبح ہوتی ہے،دن ہوتا ہے، شام ہوتی ہے پھر رات ہوتی ہے اور یوں ہی وقت گزرتا رہتا ہے یعنی ان تینوں سیاروں میں بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ان میں ہونے والے تغیرات کے اثرات بلاواسطہ یا با لواسطہ طور پر بے شمار چیزوں پر پڑتے ہیں مثلاً ان تمام سیاروں میں ہونے والے تغیرات اور جائے مقام(Location) کے اثرات انسانی زندگی پر بھی پڑتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستاروں کی چال اور ان کے جائے مقام(Location) میں بھی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ان سیاروں کی گردش سے اوقات میں تبدیلی آتی ہے اور تبدیلی اوقات سے موسم بدلتے ہیں اور پھر موسموں کی تبدیلی سے پھل،پھول اور غلّوں کے بے شمار اقسام کی پیداوار ہوتی ہے۔الغرض آسمان،زمین اور سمندر میں پائی جانے والی ایسی کوئی چیز نہیں ہے جن کا رشتہ دوسری چیزوں سے نہ ہو اور ان میں ہونے والے تغیرات کے اثرات ایک دوسرے پر نہ پڑتے ہوں اور ان تمام چیزوں میں ہم آہنگی نہ پائی جاتی ہو۔ لہٰذا کائنات میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے انسانی رشتے قائم نہ ہو سکیں۔ 
ہمارا ملک ہندوستان کائناتی وحدت و ہم آہنگی کی عظیم ترین مثال اور مظہر ہے۔ یہاں کی سر زمین میں ہم آہنگی کی سب سے حسین تعبیریں نظر آتی ہیں۔  بدھ، جین اور بے شمار صوفی سنت پیدا ہوئے جنہوں نے خدا کی ذات، خدا کے پیغامات اور اس کائنات کی حقیقت کی وضاحت اور تشہیر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق کی لیکن ان سب کا مقصد اور منزل ایک ہی رہا ہے۔ انہیں صوفیوں،  سنتوں، رشیوں اور منیوں کے پیغامات کا اثر تھا کہ ہندوستان کو گلستاں اور ہندوستانیوں کو کبھی مختلف رنگوں کے پھولوں سے تو کبھی بلبلوں سے تعبیر کیا گیا کیوں کہ بلبلوں کی طرح تمام ہندوستانی بھی محبت کے ہی ترانے گاتے تھے۔ ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب، مذہبی روا داری،  آپسی محبت اور قومی اتحاد ہمارے ملک کی بہت بڑی خوبی اور سب سے بڑی طاقت بھی تھی جس کی وجہ سے بعض دوسرے ممالک خوف زدہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ لارڈ میکالے نے فروری 1835 ء میں برطانوی پارلیامنٹ میں کہا تھا:
’’میں نے پورے ہندوستان کے دورے میں نہ تو کوئی فقیر دیکھا اور نہ چور۔اس ملک میں اخلاقی قدروں اور لوگوں کی صلاحیتوں کی ایسی دولت پائی جاتی ہے جس کو ختم کر کے اور اس کے روحانی ورثہ کو تہس نہس کر کے ہی ہم اس پر پورا قبضہ جما سکتے ہیں۔ اس لئے میری تجویز ہے کہ اس کے پرانے طریقہ تعلیم اور تمدن کو بالکل بدل دیا جائے تاکہ ہندوستانی ہر غیر ملکی اور انگریزی چیز کو اپنی چیزوں سے اچھا سمجھنے لگیں۔  اسی صورت میں وہ خود اعتمادی اور اپنے کلچر سے محروم ہو کر ہر طرح سے ہمارے تابع اور محکوم بن سکتے ہیں۔ ‘‘
( ڈی .سی . منجوداس، آئی. ایف. ایس، Social Harmony and Economic Development، (48-49-P
اسی لئے علامہ اقبال نے کہا تھا :

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا
سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری ہندوستان میں ہمیشہ رہی ہے اور ہم یہاں کے مختلف النوع کلچر اور تہذیبی ورثہ پر فخر محسوس کرتے رہے ہیں لیکن آج پورے ملک میں پھیلی ہوئی فرقہ ورانہ کشیدگی، مذہبی کٹرپن، علیحدگی پسندی، علاقائیت اورلسانی تعصب نے ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔مذہب کی آڑ میں چند سیاسی گرگوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے تخریبی طاقتوں کے ساتھ مل کر ملک میں انتشار اور بدامنی پیدا کر دی ہے۔آزادی کے بعد کی سماجی صورتِ حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ مذہبی اور فرقہ ورانہ کشیدگی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔بھاگل پور کے دنگوں کے بعد 1990 میں ممبئی کے فسادات اور پھر 2002 میں دل دہلا دینے والے گجرات کے فسادات نے سماج میں نفرت اور عدم رواداری پھیلا دی ہے۔ہماری آزادی اور جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔  ہماری گنگا جمنی تہذیب مٹ رہی ہے۔ایسے حادثات اور صورت حال سے یہاں کے معاشی حالات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں ہندوستان کو محفوظ رکھنے کے لئے سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو پھر سے بحال کرنا ہو گا۔مشترکہ تہذیب و تمدن، مذہبی رواداری اور روحانی قدروں کو پھر سے قائم کرنا ہو گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ملک میں دنیا کے عظیم مذاہب کے ماننے والے، بے شمار زبانوں کے بولنے والے اور مختلف تہذیب اوررسم و رواج کے ماننے والے جغرافیائی اور لسانی اختلافات کے باوجود سیکڑوں سالوں سے مل جل کر رہتے آرہے تھے اور یہ صرف اس لئے کہ انہیں مذہبی اور صوفیانہ تعلیمات سے واقفیت تھی اور ہمارے ملک کے دانشوروں اور مفکروں نے ہمیشہ مل جل کر رہنے کا درس دیا ہے۔مثلاً سوامی وویکا نند نے ایک جگہ لکھا ہے:
’’اگر تم اپنے بھائی کی جو خدا کی قدرت کا مظہر ہے، عزت نہیں کرو گے تو بھلا تم خدا کی عبادت کیسے کر پاؤ گے جو مادی اعتبار سے یکتا اور ہر جلوہ سے بے نیاز ہے۔‘‘
دراصل ہندوستان شروع سے صوفیوں، سنتوں،  رشیوں اور منیوں کا گہوارہ رہا ہے جن کی تعلیمات اور پیغامات نے ہمیں انسان دوستی اور محبت کا درس دیا ہے۔ یہاں انبیا اور مذہبی صحیفے بھی بھیجے گئے جن کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا کہ ہے دنیا میں ایک مذہب ہے،ایک ہی خدا ہے جس نے اس کائنات کو خلق کیا اور ہم سب اسی کی مخلوق ہیں۔ ہندوستان کے دو عظیم مذاہب،  اسلام اور ویدک دھرم کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے اور دونوں مذاہب کی کتابوں، قرآن شریف اور وید مقدس کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ دونوں مذاہب کے درمیان کافی مماثلت ہے اور کم و بیش دونوں مقدس کتابوں میں ایک ہی طرح کی باتیں بتائی گئی ہیں۔ مثلاً سورہ النساء، پارہ چھ، میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد سے پہلے بھی بہت سے رسول کھلی کھلی نشانیاں،  صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابوں کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ ویدوں میں بھی کہا گیا ہے کہ جب جب دھرم کا ناش ہو گا تب تب ہم (یعنی خدا )انسانوں کے روپ میں اس دھرتی پر آئیں گے۔قرآن میں آگے کہا گیا ہے کہ وہ رسول بھی(وحی سے مشرف ہیں )جن کا ذکر آپ سے کیا ہے اور وہ رسول بھی(وحی سے مشرف ہیں ) جن کا ذکر آپ سے نہیں کیا ہے۔ان دونوں ارشادات کی روشنی میں متعدد صوفیوں،  عالموں اورمسلم دانشوروں نے وید کو سماوی کتاب اور برہما،جن پر وید نازل ہوئی ہے،کو نبی مانا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت مرزا مظہر جانِ جانا ں شہید جو اپنے زمانے کے جید عالم دین، صوفی اور درویش تھے، نے لکھا ہے:
’’اہلِ ہند کی قدیم کتابوں سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوعِ انسان کی پیدائش کی ابتدا میں ان کی دنیاوی زندگی کی سدھار کے لئے اور حیات بعد الممات کی درستی کے لئے اﷲ پاک نے اپنی مہربانی سے وید نامی کتاب برہما فرشتے کی وساطت سے نازل فرمائی جو ایجادِ عالم سے متعلق کارکن ہے۔اس کے چار دفتر ہیں جو احکامِ امر و نہی اور اخبارِ ماضی و مستقبل ہیں۔ ‘‘
(بحوالہ علامہ اخلاق دہلوی، ویدک دھرم اور اسلام، ص- 9,19 )
ویدوں کے مسلم عالموں کے مطابق چاروں ویدوں میں پہلا رِگ وید ہے جس میں زیادہ تر شلوک حمدِ باری پر مشتمل ہے۔اس میں دوزخ کے عذاب، جنت کی نعمتوں،  توحید اور آخرت کے تصور کا ایسا ہی ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں موجود ہے۔رِگ وید میں پیغمبرِ اسلام حضور سے متعلق پیشن گوئیاں بھی ہیں۔ اس میں مصر،شام،  بابِل اور فلسطین کے محاربات کا کہیں کہیں ذکر بھی ہے۔طوفانِ نوح اور آتشِ نمرود کا بھی ذکر ہے۔دوسرا یجُر وید ہے جس کا آخری حصہ علمِ الٰہیات پر مبنی ہے۔تیسرا سام وید ہے۔ اس میں بھی حضور سے متعلق پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ چوتھا اَتھَر وید ہے جسے علمِ الٰہی بھی کہتے ہیں اس میں توحید اور صفات الٰہی کا بھی ذکر ہے اور تصور آخرت کا بھی ذکر ہے۔اس میں بھی حضور سے متعلق پیشن گوئیاں ہیں۔ قابلِ غور بات یہ کہ ان ویدوں کو ایڈٹ کرنے والے شخص منی بیاس دیو جی نے مبشراتِ نبی آخرالزماں کے متعلق ان ویدوں میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ اپنی ایک کتاب ’’مسمیٰ راہ سنگ رام پوتھی میں (چھٹی کانڈ، بارہویں اسکڈ) میں قلم بند کیا ہے جس کا ترجمہ تلسی داس جی نے پوربی بھاشا میں کیا ہے۔اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔
’’یہاں میں کوئی بات رکھوں گا نہیں (چھپاؤ ں گا نہیں )جو وید پران میں لکھا ہے وہی سچ سچ کہوں گا۔دس ہزار برس تک مرتبہ رسالت کی تکمیل ہو جائے گی۔بعد میں یہ مرتبہ کوئی نہیں پائے گا۔عرب دیش میں ایک ستارہ جگمگائے گا۔وہ سرزمین بھی اچھی شان کی ہو گی۔اَن ہونی باتیں (معجزات) اس سے ظاہر ہوں گی۔وہ اﷲ کا دوست اور سخی داتا کہلائے گا۔سمت بکرما کے سمّتوں کے مطابق (ساتویں صدی میں ہو گا)۔نہایت اندھیری رات میں چار سورجوں کے مثل چمکے گا۔‘‘
(بحوالہ علامہ اخلاق دہلوی، ویدک دھرم اور اسلام، ص- 20 )
ویدوں میں موجود وہ تمام باتیں جو قرآن سے ملتی ہیں اور اس کے علاوہ حضور سے متعلق جو پیشن گوئیاں کی گئی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وید بھی قرآن شریف کی طرح آسمانی کتاب ہے۔ 
حضرت مولانا فضلِ رحمان گنج مرادآبادی نے قرآن کا پوربی بھاشا میں ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ کئی دوسرے ہندو عالموں نے قرآن کا ہندی میں ترجمہ کیا ہے جسے پڑھ کر وید کے شلوک کا گمان ہوتا ہے اسی طرح ویدوں کے شلوکوں کا عربی اور اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے جو قرآنی آیتوں کی مانند معلوم ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت مرزا مظہر جانِ جاں نے فرمایا ہے کہ ویدک دھرم با ضابطہ دین رہا ہے جو منسوخ ہو گیا ہے۔اسی طرح حضرت امیر خسرو نے ویدک دھرم کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور سابق مذاہب سے اس کا موازنہ کر کے ان پر ویدک دھرم کو ترجیح دی تھی۔ ایک شعر میں انہوں فرمایا ہے:
نیست ہندو ارچہ دین دار چو ما
ہست او لیکن بے قرار چو ما
یعنی ہندو اگر چہ ہمارے جیسے دین دار تو نہیں ہیں مگر بہت سی باتوں میں ہم اور وہ ایک ہی ہیں۔  انہوں نے ویدک دھرم کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے اپنی مثنوی ’’نہ سپہر‘‘ پندرہ شعر بطور موازنہ شامل کئے ہیں جو بصیرت افروز ہیں۔ مفسرِ قرآن حضرت قاضی ثناء اﷲ پانی پتی نے بھی آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’اہلِ ہند کے اصولِ دین اکثر تو قرآن وسنّت کے مطابق ہیں اور جہاں اختلاف ہے وہ شیطان کی کارستانی کا نتیجہ ہے۔‘‘مشہور مورخ اور عالمِ دین سید صباح الدین عبدالرحمٰن اور ڈاکٹر سید محمود کے مطابق حضرت محمد نے فرمایا ہے کہ مجھے ہندوستان کی طرف سے ربّانی خوشبو آتی ہے اور حضرت علی نے فرما کہ یہ سب سے پاکیزہ اور خوشبو دار مقام ہے۔کیوں کہ یہاں حضرت آدم اترے اور یہاں کے درختوں میں جنّت کی خوشبو کا اثر ہے۔ان حضرات کا خیال ہے کہ ربّانی خوشبو اور جنّت کی خوشبو کے معنی یہ ہیں کہ یہاں کوئی کتاب ضرور اتری ہے۔علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ:
ہے اگر قومیتِ اسلام پابندِ مقام
ہند ہی بنیاد ہے اس کی نہ فارس ہے نہ شام
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
علامہ اقبال نے بھی ہندو صوفیوں،  رشیوں اور منیوں کی کتابیں جو سنسکرت زبان میں ہیں پڑھی تھی۔ انہوں نے ویدوں کا بھی مطالعہ کیا تھا جس سے انہوں نے ویدک دھرم،  رام چندر جی اور کرشن بھگوان جیسی شخصیتوں کی عظمت کو تسلیم کیا ہے اور ویدوں کے کئی شلوکوں کا ترجمہ بھی نظم کی صورت میں کیا ہے۔سری رام چند کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے ان پر ایک نظم لکھی ہے جس کا عنوان ’’رام‘‘ ہے۔انہوں نے رِگ وید کی ایک مشہور منتر ’’گایتری منتر (یعنی نغمہ وحدت) ‘‘ کا منظوم ترجمہ ’’آفتاب‘‘ کے عنوان سے بھی کیا ہے۔اس سے متعلق انہوں نے شذرہ بھی لکھا تھا جو ’بانگِ درا‘ کے خاص نسخوں میں موجود ہے۔اس میں انہوں کہا کہ سنسکرت کے لفظ سوترتکا ہم معنیٰ اور جامع لفظ اردو زبان میں نہ ملنے کی مجبوری سے لفظ ’’آفتاب‘‘ کو سوتر کا مترادف قرار دیا ہے۔مراد اس سے آفتاب ما فوق المحسوسات ہے یعنی ذاتِ پاک وحدہ لاشریک ہے۔جسے قرآن کریم میں ’’اﷲنُورُالسمٰواتِ وَالاَرض‘‘سے تعبیر کیا ہے۔ابن عربی نے بھی فرما یا کہ اﷲ ایک نور ہے جس سے تمام چیزیں نظر آتی ہیں۔ علامہ اقبال کی مشہور تخلیق بالِ جبریل‘‘ کی ابتدا میں بھرتری ہری جو ایک صوفی شاعر اور ویدوں کے ماہر تھے، کے خیال کو اس شعر میں باندھا ہے لیکن شعر پر بھرتری ہری کا ہی نام درج کیا ہے :
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلام کلام نرم نازک بے اثر
اقبال نے ویدانتی فلسفہ کا تذکرہ کرتے ہوئے دیباچہ اسرارِ خودی میں لکھا ہے کہ:
’’بنی انسان کی ذہنی تاریخ میں سری کرشن کا نام ہمیشہ ادب و احترام سے لیا جائے گا کہ اسی عظیم الشان انسان نے ایک نہایت دلفریب پیرائے میں اپنے ملک و قوم کی فلسفیانہ روایات کی تنقید کی اور اس حقیقت کو آشکار کیا کہ ترک عمل سے مراد ترک کلّی نہیں ہے کیوں کہ عمل اقتضائے فطرت ہے اور اسی سے زندگی کا استحکام ہے بلکہ ترک عمل سے مراد یہ ہے کہ عمل اس کے نتائج سے متعلق دل بستگی نہ ہو۔‘‘
(بحوالہ میکش اکبرآبادی، نقدِ اقبال،ص- 96)
عہدِ وسطیٰ میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری پائی جاتی تھی۔اس زمانے میں متعدد صوفی شاعر، سنت جن میں نانک، کبیر،  خسرو،تکا رام وغیرہ خاص تھے۔ان تمام لوگوں نے محبت اور یگانگت کا درس دیا۔خاص طور پر پر سنت کبیر نے ذات پات، رنگ اور مذہب کی بنا پر فرق کرنے کے خلاف آواز بلند کی۔انہوں نے ملّاؤ ں اور پنڈتوں کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا۔ایک دوہے میں انہوں نے کہا ہے کہ
پنڈت کہے موہے رام پیارا
تُرک کہے رحیمٰنا
دونوں لڑ لڑ مر گئے موا
پر رام کو کوئی نہ جانا
اس عہد کے ایک اور مشہور صوفی سنت گرونانک نے ایک ایسے مذہب کی بنیاد ڈالی جس میں دونوں مذاہب ہندو اور اسلام کی خوبیوں کو شامل کیا۔انہوں نے ملک کے کونے کونے میں گھوم کر صوفیوں اور رِشیوں،  منیوں سے ملاقات کی اور ان سب کی تعلیمات اور کلام کو جمع کیا اور انہیں سِکھ مذہب کی کتاب ’’آدی گرنتھ‘‘کی زینت بنائی۔بابا فرید شکر گنج کی تعلیمات آج بھی آدی گرنتھ میں کوٹیشن کے طور شامل ہیں۔ اس دور کے تمام صوفیوں نے مذہبی رواداری، امن اور باہمی میل جول کی تبلیغ کی۔ ہندو ں کو ان کی مذہبی کتابوں اور مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں راہِ راست پر چلنے کا درس دیا۔فرقہ ورانہ منافرت کی جگہ اعلیٰ اخلاقی قدروں کی تعلیم دی اور یہ کہا کہ خدا کا جلوہ ذرّے ذرّے میں موجود ہے۔خواجہ معین الدین چشتی،  خواجہ نظام الدین اولیا اور بابا فرید شکر گنج جیسے صوفیائے کرام نے ہندوستان کی شاندار تہذیب میں صوفی مسلک پھیلایا جس سے مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی قائم ہوئی۔حضرت امیر خسرو نے ہماری مشترکہ تہذیب میں صوفیانہ افکار کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی زبانوں کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنی شاعری کو بیک وقت فارسی، اردو اور ہندی کے الفاظ سے آراستہ کیا۔انہوں نے طبلہ کے علاوہ موسیقی کے کئی راگ ایجاد کئے۔قوالی کو بھی رواج دیا اسی لئے ہندو اور مسلم دونوں ان سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی بہترین مثال ہیں۔ ان صوفیوں کے علاوہ رامانوج،شنکرآچاریہ، تیاگ راج اور رامانند جیسے شاعروں اور سنتوں کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی مذہبی رواداری، قومی اتحاد،  آپسی میل محبت کا درس دیا ہے۔انہوں نے ’’اتحادِ  زندگی ‘‘(Oneness)کے تصور کو اپنی تخلیق اور فکر کا بنیاد بنایا کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ انسان اور فطرتNature) ( کے درمیان ایک قریبی رشتہ ہے۔ اس کا اظہار انہوں نے اپنی ایک نظم میں بھی کیا ہے:
My heart is full, full of joy, no one is out side, all are within my heart.
ایک دوسری نظم میں وہ کہتے ہیں :
Come brothers, come, plunge into this stream of life, to be carried away with the world current in company with the sun, moon and stars.
دراصل ان کی نظموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف انسان اور کائناتِ فطرت کے گہرے اتحاد کو شدت سے محسوس کرتے تھے بلکہ انسان اور خالق کائنات کے درمیان بھی گہرے اتحاد کو محسوس کرتے تھے۔’’اتحاد زندگی‘‘ کے تصور سے شاعر کا یہ اعتقاد اُبھرتا ہے کہ تمام زندگی ایک ہے کیوں کہ خدا بھی ایک ہے۔ کبیر کی تعلیمات اور ان کے فلسفے کا اثر بھی ان کی شاعری پڑا تھا جس کی وجہ سے انہوں اسلام اور ہندو مذہب میں در آئے سخت رویے کی مخالفت کی۔ 
’’بال سنگیت‘‘ (Baul songs) میں پائی جانے والی سادگی، فکر میں گہرائی اور درد سے بھری آواز نے بھی سماجی منافرت ختم کرنے میں اہم رول نبھایا تھا۔بال سنگیت دراصل بنگال کے گاؤ ں گاؤ ں میں گھوم گھوم کر گائے جانے والی وہ علاقائی سنگیت ہے جو انسانی ہمدردی اور آپسی محبت کا درس دیتا ہے۔اس سنگیت سے جو پیغام ملتا ہے اس کے مطابق خدا انسان کے دل میں رہتا ہے اس لیے انسانوں سے نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انسان ہی وہ اصل خدا ہے جو محبت اور خدمت کیے جانے کے لائق ہے۔
یہاں کے تمام مفکروں،  صوفیوں اورسنتوں کے نظریات یا افکار کو عوام تک پہچانے میں شاعروں نے بھی اہم کردار نبھا یا ہے۔ دراصل شاعری وہ ذریعہ اظہار ہے کہ کوئی بھی فلسفہ یا صوفیانہ فکر شاعر کے دل سے نکل کر قاری اور سامع کے دل تک پہنچتا ہے۔صوفیوں کے افکار کی تشریح و تعبیر جن عظیم شخصیتوں نے کی ہے ان میں شیخ محی الدین ابن عربی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔  انسان اور کائنات کے درمیان جو رشتہ ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کائنات عین واحد ہے اور اس عینیت کا اثبات وہ یا تو کائنات کے وجود کے انکار سے کرتے ہیں یا پھر خدائے واحد کے اقرار سے کرتے ہیں۔ کائنات کے وجود کی نفی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پہلے یہ کہا کہ ’’کائنات جیسی کہ وہ ہے اسے غیر حقیقی اور واہمہ ہی کہا جا سکتا ہے۔آگے انہوں نے یہ کہا کہ وجود اگر ہے تو صرف خد ا کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کائنات اور اس کی کثرت اگر موجود ہے تو وہ اسی خدا کی پرچھائیں ہے۔کائنات کے وجود کی نفی کرتے ہوئے ان کا قول ہے کہ:
’’الاعیان ماشمت رائحتہ من الوجود‘‘(یعنی اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بو تک نہیں سونگھی۔)
ابن عربی کے انہیں خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے غالب نے بھی کائنات کو واہمہ قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں ان کے اشعار ملاحظہ کیجئے۔
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
غالب نے اس دنیا کو بازیچہ اطفال قرار دے کر صوفیوں کے اس نظریے کی حمایت کی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کی حقیقت فریبِ نظر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔غالب نے اسی خیال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اشعار میں کہا ہے :
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد
عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے
ہاں کھائیو مت فریبِ ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
یعنی تمام دنیا وہم و خیال کے جال کا ایک حلقہ ہے اس لیے ہستی کو ہستی نہیں بلکہ نیستی سمجھنا چاہئے اور ہستی کے فریب میں نہیں آنا چاہئے کیوں کہ ہستی کے فریب میں پھنس کر انسان جلوہ حقیقت سے محروم ہو جاتا ہے۔اسی نظریے کی تائید کرتے ہوئے فانی نے بھی یہ کہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عالمِ شہود مرتبہ غیب کی تجلی کا نام ہے مگر یہ صرف آنکھوں کا دھوکا ہے۔فانی کاشعر یہ ہے۔
جلوہ غیب شہود ہے پھر بھی غیب کے جلوے غیب میں ہیں 
نظارہ نظر میں شامل ہے نظارہ میں شامل کوئی نہیں 
تجلیات وہم ہیں مشاہداتِ آب گِل
کرشمہ حیات ہے خیال وہ بھی خراب کا
فانی نے مزید کہا ہے کہ ہستی تو صرف ایک ہے یعنی حقیقی ہستی۔باطل ہستی کہنا غلط بیانی سے زیادہ کچھ نہیں ہے :
ہستی ہی نہیں جو باطل ہو پھر فرق مجاز و حقیقت کیا
یہ عرض حقیقت ہے وہ حقیقت ہستی باطل کوئی نہیں۔ 
اک حق کے سوا کوئی ہستی ہی نہ تھی یارب
یوں میرے سرآنکھوں پر تمیز حق و باطل
صوفی اپنی ہستی کی نفی کرنا عین تصوف سمجھتے ہیں یہ ذرا فرسودہ خیال لگتا ہے لیکن اصغر نے اس کو کس خوبی سے ادا کیا ہے:
اصغر حریمِ عشق میں ہستی ہی حرم ہے
رکھنا کبھی نہ پاؤ ں یہاں سر لئے ہوئے
صبا اکبر آبادی بھی غالب کی طرح صوفیوں کے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں :
کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم
اُلجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم
کچھ بھی نہیں جہان میں جب نیند اچٹ گئی
سچ پوچھئے تو آنکھ کا سرمایہ خواب ہے
بجا کہ مجھ کو ہے انکار اپنے ہونے سے
اِس ایک جھوٹ میں گُم ہیں صداقتیں کیا کیا
انہیں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے غالب نے پھر کہا ہے :
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے
ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں 
اس شعر میں شاعر نے کہا ہے کہ انسان جسے شہود یعنی حق سمجھتا ہے وہ دراصل غیب الغیب ہے۔ بالکل اسی طرح سے جیسے انسان خواب میں اپنے آپ کو بیدار سمجھتا ہے اور اپنے تمام حرکات و سکنات کو حقیقت سمجھتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خوابِ غفلت میں ہوتا ہے۔ در اصل د ورانِ سلوک صوفیوں کو موجوداتِ عالم میں جب حق ہی حق نظر آئے تو اس مقام کو شہود اور غیبِ غیب کو مرتبہ احدیت اور ذات خاص کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ مرتبہ احدیت و ذاتِ خاص انسانی عقل و ادراک سے بالکل الگ ہے۔
تھک تھک کے ہر مقام پر دوچار رہ گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں 
اسی خیال کا اظہار فانی نے اس طرح کیا ہے۔فانی کا یہ شعر لطافت اور ندرت کے اعتبار سے قابلِ تحسین ہے۔
مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی
وہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا
دراصل خدا غیب الغیب ہے اس کا پتہ کہیں نہیں ملتا۔ اسی لیے مقاماتِ سلوک و معرفت کی جستجو میں ہمیشہ کوشاں رہنے کے باوجود سالک کی رسائی منزلِ مقصود تک نہیں ہو پاتی اور دورانِ سلوک مختلف مقامات میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ غالب کا شعر ہے:
تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گل
صحنِ  چمن میں پھول یکے بعد دیگرے ہمہ وقت بے اختیار کھلتے جا رہے ہیں کہ کہیں تو خدا کا جلوہ دیکھ سکیں لیکن خدا ابتدائے آفرینش سے آج تک دھوکے میں ہی جلوہ گر ہوا ہے۔اسی لیے غالب نے ایک دوسرے شعر میں کہا ہے کہ:
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ، اس نے کہ اُٹھائے نہ بنے
یعنی خدا نے عالمِ امکاں پر رنگا رنگی اور کثرت کے ایسے پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے اٹھا کر حقیقت دریافت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ایک دوسرے شعر میں غالب نے کہا ہے کہ اس کائنات میں ہزاروں ایسی چیزیں ہیں جو یہ اشارہ کرتی ہیں کہ وہ سب خالقِ ہستی ہیں لیکن یہ اشارہ محض گمراہ کن ہے۔مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازیگر کھلا
آسمان میں بکھرے ہوئے بے شمار ستاروں کی روشنی اور جھلملاہٹ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب خالقِ ہستی کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن سائنس کے مطابق ان کی حقیقت کچھ اور ہے۔اسی لیے غالب نے انہیں بازیگر قرار دیا ہے جو اہلِ دنیا کو دھو کا دیتے رہتے ہیں کیوں کہ یہ اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے خالقِ ہستی کا مکمل آئینہ نہیں ہیں۔ 
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
کر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے
صبا اکبر آبادی نے اس شعر میں تصوف کے اسی نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ماسوا ڈھونڈ کے آئے تری دنیا والے
تیری دنیا کو کوئی تیرے سوا بھی نہ ملا
یعنی وجود ایک ہے اور کائنات کی ہر وہ شے جو اس کے ماسوا ہے دراصل اسی ’’وجودِ واحد‘‘ کا ایک مظہر ہے۔لیکن عینیت کا یہ باطنی مشاہدہ کوئی مستقل تجربہ نہیں ہے اس لئے ابن عربی نے ایک نئے تجربے ’’فرق بعد الجمع‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر کوئی چاہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ حقیقی طور پر موجود ہے وہی خدا ہے اور اگر کوئی چاہے تو اسی کو کائنات بھی کہہ سکتا ہے۔لہٰذا شیخ اکبر کے نئے تجربے ’’فرق بعدالجمع‘‘ کے پہلے حصے کے مطابق ماسوا ڈھونڈنے والوں کو خدا کے علاوہ کچھ نہیں مل سکتا ہے۔ 
صوفیوں کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ خدا ایک ہے لیکن اس کا جلوہ دنیا کے ہر ذرّے میں موجود ہے یعنی وحدت،کثرت میں جلوہ گر ہے۔  غالب اس نظریے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وحدت کی حقیقت کو سمجھے بغیر کثرت کو یقینی سمجھنا وہم ہے اس لیے کہا کہ کثرتِ اصنامِ خیالی نے مجھے کافر بنا دیا۔غالب کا خیال ہے کہ خدا کی ذات ’’با ہمہ اور بے ہمہ کے مصداق ہے‘‘۔اس لیے ایک دوسرے شعر میں کہتے ہیں کہ:
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے
پر تجھ سی کوئی شے نہیں ہے
یعنی خدا کا جلوہ ہر شے میں موجود ہونے کے باوجود بھی خدا جیسی کوئی چیز عالمِ جسمانی میں نہیں ہے۔
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے
اس شعر میں غالب نے وحدت الوجود کے اس نظریے کو پیش کیا ہے جس کے مطابق اس کائنات میں جو ہنگامہ نظر آتا ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مختلف چیزوں کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے حالانکہ صوفیوں کا خیال یہ ہے کہ عالم اور اشیاء عالم و اشخاص موجود نہیں ہیں بلکہ اعیان ثابتہ ہیں اور یہ ازل سے ہی علم الٰہی میں ہے اور ہمیشہ رہے گا کیوں کہ ’’اعیان نے وجود کی بو بھی نہیں سونگھی ہے‘‘۔کائنات اور خدا کے کے درمیان جو رشتہ ہے اس سلسلے میں شیخ اکبر کہتے ہیں کہ یہ کائنات بھی عین واحد ہے۔اس لیے اس عینیت کا اثبات یا تو وہ ’’کائنات کے وجود‘‘ کی نفی یعنی انکار سے کرتے ہیں یا خدا کے اثبات سے۔ کائنات کی وجودسے انکار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ:
’’کائنات’’جیسی کہ وہ ہے‘‘ اسے محض نام نہاد، غیر حقیقی اور واہمہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ جو معروضی طور پر غیر موجود ہے۔ وجود صرف خدا ہی کاہے۔ یہ کائنات اوراس کی کثرت اگر موجود ہے تو اس کی حیثیت اسی ’’وحدت تامہ‘‘ کے شیون کی سی ہے۔ پہلی صورت میں شیخ کہتے ہیں کہ کائنات خارج میں معدوم ہے۔ آپ کا قول ہے کہ:’’الاعیان ماشمبت رائحتہ من الوجود٬ (یعنی اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بو تک نہیں سونگھی۔)
(فلسفے کے بنیادی مسائل، قاضی قیصر الا اسلام،ص:١٤٤)
کائنات اور خدا کے ربط کے بارے میں شیخ اکبر کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک عین واحد ہے۔ چنانچہ اس عینیت کا اثبات یا تو وہ ’’وجود کائنات‘‘ کی نفی سے کرتے ہیں یا پھر خدا کے اثبات سے کرتے ہیں۔  وجود کائنات کی نفی سے آغاز کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ کائنات ’’جیسی کہ وہ ہے‘‘ اسے محض نام نہاد، غیر حقیقی اور واہمہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ جو معروضی طور پر غیر موجود ہے۔ وجود صرف خدا ہی کاہے۔ یہ کائنات اواس کی کثرت اگر موجود ہے توا س کی حیثیت اسی ’’وحدت تامہ‘‘ کے شیون کی سی ہے۔ پہلی صورت میں شیخ کہتے ہیں کہ کائنات خارج میں معدوم ہے۔ آپ کا قول ہے کہ:
’’الاعیان ماشمبت رائحتہ من الوجود‘‘(یعنی اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بو تک نہیں سونگھی۔)
دوسری صور ت میں وہ کہتے ہیں کہ:
’’عالم ہی خدا ہے۔ یہ اسی ذات واحد کی تجلی ہے جس میں اس وحدت مطلقہ نے اپنے تئیں ظہور کیا اور ان تجلیات میں یہ وحدت کلی طور پر گم ہو گئی ہے۔ ان تجلیات کے ماورا وحدت کا الگ تھلگ اپنا کوئی وجود نہیں،  یعنی مابعد ہذا الاالعدم المحض (ان تجلیات کے ماورا عدم محض کے علاوہ کچھ نہیں )۔ لہٰذا سالک کے لیے اس عالم سے ماورا خدا کی جستجو فضول ہے۔‘‘
لہٰذا اس صورتِ حال سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عربی کے مطابق خدا یا وجود ان ہی صفات کا عین ہے اور یہی صفات خود کو تجلیات میں منکشف کرتی رہتی ہے۔اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ جو کچھ حقیقی طور پر مو جود ہے وہی خدا ہے یا اسی کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ حقیقی طور پر موجود ہے وہی کائنات بھی ہے۔ ابن عربی کے اس نظریے سے متاثر ہو کر غالب نے اپنی ایک غزل کے مقطعے میں ہستی اور عدم کے وجود سے پہلے انکار کیا ہے پھرسوال کیا ہے کہ اگر یہ دونوں نہیں ہے تو خود غالب کی ہستی کیا ہے؟
ہستی ہے، نہ کچھ عدم ہے غالب
آخر تو کیا ہے، ہے نہیں ہے
خدا اور کائنات کے متعلق شک و شبہات میں مبتلا ہو نے بعد معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے حقیقت کو دریافت کر لیا ہے۔اسی لیے ابن عربی کے دوسرے نظریات کا اظہار اپنے اشعار میں اس طرح کرتے ہیں۔ 
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں 
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں 
اس شعر میں وحدت الوجود کے اُس نظریے کو پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کائنات جسے عالمِ کثرت سے تعبیر کیا جا تا ہے جو اصل میں خدائے واحد ہے، کا مظہر ہے اسے بنائے جانے کا مقصد ظہورِ حسنِ مطلق ہے یعنی خدا نے یہ دنیا اس لیے بنائی کہ وہ خود کو اس دنیا کے آئینے میں دیکھ سکے اور ساتھ ہی انہیں پہچانا جا سکے۔
صبا اکبرآبادی کے اس شعر میں اسی نظریے کو پیش کیا گیا ہے۔ :
دنیا کو دیکھ کر انھیں کیا دیکھتے صبا
گم ہو گیا صفات میں احساس،  ذات کا

اسی خیال کو فارسی کے ایک شعر میں اس طرح کہا گیا ہے۔
جلوہ و نظارہ پنداری کہ از یک گوہر است
خویش را در پردہ خلقے تماشا کردہ
اس نظریے کی وضاحت مندرجہ ذیل اشعار میں بھی کی ہے۔کہتے ہیں کہ جس طرح آفتاب کی شعاعوں سے ذرّے جیسے بے جان شے میں حرکت اور روشنی پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح خدا کی ذات کے پرتو کی بدولت تمام موجوداتِ عالم ظاہر ہوئے ہیں یعنی خدا کی تجلّی ہی موجوداتِ عالم کا سبب ہے۔
ہے تجلّی تری سامانِ وجود
ذرہ بے پر تُو خورشید نہیں 
ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
پرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
جگر مراد آبادی نے اسی مضمون کو انتہائی ندرت سے بیان کیا ہے۔جگر کا شعر ہے:
ایک ذرّے کا اگر نور نمایاں ہو جائے
آدمی کثرتِ انوار سے حیراں ہو جائے
اسی لئے غالب نے ایک دوسرے شعر میں کہا ہے کہ:
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں 
یعنی خدا تعالیٰ اس دنیا کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کا کام مسلسل کر رہا ہے تاکہ اس میں وہ اپنا جلوہ دیکھ سکے دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا خدا کا مظہر ہے۔  غالب نے دراصل اس شعر میں شیخ ابن عربی کے اس نظریے کو بھی پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ عالم ہر آن فیضان وجود حاصل کر رہا ہے‘‘۔حضرت شاہ نیاز نے بھی اس نظریے کو ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے۔
از تقاضائے حبِ جلوہ گری
آمد اندر حصارِ شیشہ پری
صوفیہ کرام کے مطابق یہ نظریہ اس حدیث سے ماخوذ ہے۔:’’کنتُ کن زَاًمَخ فِیافَاَحبَتُ اَن اَعرَفَ فَخَلَقتُ ال خَلقَ‘‘
اس سلسلے میں ابن عربی کا توحیدی نقطہ نظریہ ہے :
’’وجود ایک یا واحد ہے‘‘ اوربس صرف یہی موجود ہے۔ یہی وجود واحد خدا ہے، اللہ ہے، ذات حق ہے، حقیقت مطلقہ ہے جو اپنے مختلف ناموں سے معروف ہے۔ ہر وہ شئے جو اس کے علاوہ یا اس کے ماسوا ہے، محض اسی وجود واحد کا ایک مظہر ہے۔ گویا یہ کائنات، یہ سارے کا سارا عالم فطرت اسی خدا کا عین ہے۔ کائنات کی اللہ سے عینیت کو ہم اس کی ذات و صفات کے تناظر میں ہی مدرک کرتے ہیں۔  یعنی جوہر کی عینیت کی بنا پر۔ گویا یہ تمام کائنات اسی وجود مطلق کی ’’تجلی‘‘ ہے یا پھریوں کہیے کہ یہ تمام عالم ظواہر اسی ’’وجود تامہ‘‘ کے صدور کی ایک صورت ہے‘‘۔
( فلسفے کی بنیادی مسائل، قاضی قیصر الا اسلام،ص:۴۳۹)
اس نظریے کی وضاحت کے لیے غالب نے مختلف قسم کے الگ الگ رنگوں کے پھولوں کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے :
ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اِثبات چاہیے
یعنی موجوداتِ کائنات اپنے رنگ و روپ کے اعتبار سے مختلف ہیں لیکن ان سب میں خدا کا جلوہ مو جود ہے۔
صوفیانہ نظریے کے مطابق خدا واحد ہونے کے باوجود ہر ذرّے میں موجود ہے۔یعنی قطرے میں دریا اور جُز میں کل ہے جسے دیکھنا بچّوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ اسے دیکھنے کے لیے دیدہ بینا یعنی عارف کی آنکھ کی درکار ہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے۔
قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جُزو میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
ویدانت اور بدھ مت کی نفی خودی (مکتی،نروان) کے نظریے کے مطابق جس طرح سمندر کل اور قطرہ اس کا جز ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ واحد ہونے کے باوجود بھی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے بحرِ بے کراں کی مانند ہے اور انسان اس کا جز ہے۔ قطرہ (یعنی جز) سمندر میں مل کر کل( یعنی سمندر) بن جاتا ہے جو باعثِ عشرت اور سعادت کا وسیلہ ہے۔اسی طرح انسان بھی جو جز ہے فنا ہو کر کل یعنی خدا تعلی سے مل کر کل بن جاتا ہے۔اس حقیقت کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ فنا ہی کائنات کے تمام اشیا کی شیرازہ بندی کی ضمانت ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف فنا کے ذریعے ہی روح سے مادے کا وصال ہو سکتا ہے۔ افلاطون کا بھی یہی خیال ہے کہ اشیاء عالم اپنی اصل کی طرف بازگشت کرتی ہے۔ افلاطون وہ پہلا فلسفی تھا جس نے روح کے تصور کو روحانی جوہر کی حیثیت سے روشناس کرایا۔ اس کا خیال تھا کہ انسانی روح کائنات کی روح کی ہی ایک قسم ہے جو ابدی اور لافانی جوہر ہے اور اس کی فطری جگہ عالمِ مثال ہے جہاں اس پہلی بار تصورات کے تصور کے رو سے بغیرجسم کے وجود پایا۔انسان چونکہ ان تمام تعینات میں سب سے افضل اور ان تمام مظاہرِ صفات میں سب سے اکمل ہے اسی لئے سب سے زیادہ مرتبہ تعین سے جدائی کی شکایت کرتا ہے اس لئے وصال کے لئے ہمیشہ بے قرار رہتا ہے۔رومی شعر ہے:
بشنو از نے چوں حکایت می کند
و زجدائی ہا شکایت می کند
غالب نے اس نظریے کو مندرجہ ذیل اشعار میں یوں بیان کیا ہے۔
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
نظر میں ہے ہماری جادہ راہ فنا غالب
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
رونقِ ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز ہے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں 
فانی نے اسی تصور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی ذات کو حسن سے تعبیر کیا ہے۔عالِم تعینات میں آ کر اسی ذات نے مظاہر کائنات کی صورت اختیار کر لی اور یہ مانا گیا کہ تمام مظاہر بالطبع اسی سابق مرتبہ لاتعین کی جانب بازگشت کرنے کی آرزو رکھتے ہیں جس کو فانی نے عشق کا نام دیا۔ان توجیہات کے بعد فانی کا شعر ملاحظہ کیجئے:
حسن ہے ذات میری عشق صفت ہے میری
ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
اصغر نے اسی خیا ل کو اس طرح ادا کیا ہے:
کارفرما ہے فقط حسن کا نیرنگِ کمال
چاہے وہ شمع بنے چاہے وہ پروانہ بنے
غالب نے اس نظریے کی مزید وضاحت مندرجہ ذیل شعر میں اس طرح کی ہے۔
ہے مشتمل وجود صور پر وجودِ بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج حباب میں 
یعنی قطرہ، موج اور حباب وغیرہ سمندر کا ہی حصہ ہیں لیکن سمندر سے الگ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجوداتِ عالم کی ہستی وجودِ واجب میں مضمر ہے۔ اسی سلسلے کے مندرجہ ذیل اشعار بھی قابلِ غور ہے۔
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ اناالبحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں 
پہلے شعر کا مطلب یہ ہے کہ پانی کا قطرہ جو سمندر کا ایک ادنیٰ سا جُز ہے، اس کے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ وہ بھی سمندر کا ہے اور سمندر میں مِل کر سمندر ہو جانے کا دعویٰ پیش کرتا ہے۔  اس لیے انسان بھی یہ دعویٰ پیش کر سکتا ہے کہ وہ بھی خدا ہے کیوں کہ انسان بھی خدا کا جز ہے۔دوسرے شعر میں غالب نے کہا ہے کہ وہ منصور کی نقل میں ’’انا الحق‘‘ کہنے سے گریز کرتے ہیں لیکن دل میں انا الحق ہی کہتے ہیں کیوں کہ صحیح معنوں میں قطرہ دریا ہی ہے یعنی انسان حقیقت میں خدا ہے۔
اسی خیال کو فانی نے اس طرح ادا کیا ہے:
ہے اتصال قطرہ و دریا پہ منحصر
وہ آبروئے قطرہ کہ دریا کہیں جسے
اس جگہ کو حاصل ہے اعتبار ساحل کا
حد جہاں پہ قطرے کی مل گئی ہے دریا سے
فانی نے اسی نظریے کو صحرا اور ذرّہ کی مثال دے کر سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ صحرا کی سعی بروئے کار آتی ہے تو ذرّے کی ہستی موہوم نمایاں ہونے لگتی ہے اور جب ذرّہ اعتبار بہم پہنچا لیتا ہے تو صحرا میں جذب ہو کر خود صحرا بن جاتا ہے۔
صحرا کا اجتہاد ہے ذرّے کی ہر نمود
ذرّہ کا اعتبار ہے صحرا کہیں جسے
غالب نے ایک اور شعر میں کہا ہے کہ وہ ہستی پا کر خدا کی ذات سے الگ ہو گئے اس لیے اس ہستی سے نیستی اچھی ہے۔اس کے لیے دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ دنیا کے وجود میں آنے سے پہلے خدا تھا اور اگر دنیا وجود میں نہیں آتی تو بھی خدا کا وجود ہوتا۔ اس لیے انہیں اگر پیدا نہیں کیا گیا ہوتا تو وہ خدا ہوتے۔شعر ملاحظہ کیجئے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ماہرینِ  تصوف کے مطابق تصوف کی فنا، ویدانت اور بدھ مت کی فنا سے مختلف ہے۔میکش اکبرآبادی نے تصوف کی فنا سے بحث کرتے ہوئے ’’لوائح جامی‘‘ کے حوالے ’’نقدِ اقبال‘‘ میں لکھا ہے:
فنا کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے باطن پر خدا کی ہستی کے ظہور کا غلبہ ہو تو سوائے خدا کے کسی شے کا علم و شعور باقی نہ رہے اور فناء الفنا یہ ہے کہ اس بے شعوری کا بھی شعور نہ رہے۔‘‘(نقدِ اقبال، ص- 117 )
اس نظریے کی روشنی میں آتش کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
دکھلا کے جلوہ آنکھوں نے اک شمع نور کا
گل کر دیا چراغ ہمارے شعور کا
خدا اور انسان کے متعلق ابن عربی کا خیال ہے کہ ان دونوں کے درمیان عینیت،سریان،تقرب و معیت کا رشتہ ہے۔خدا اور انسان کے درمیان قرب و معیت کی نسبت کے لیے قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں : ’’نحن اقرب الیہ من حبل الورید‘‘(ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ )اوراس آیت کے ذریعے ابن عربی کہنا یہ چاہتے ہیں کہ خداخود بندے کے اعضا وجوارح ہیں۔ ابن عربی اپنے اس نظریے کی دلیل میں ایک اور حدیث پیش کرتے ہیں : ’’خلق الادم علی صورتہ‘‘ (یعنی ہم نے آدم کو اپنی ہی صورت پر پیدا کیا)۔ابن عربی در اصل یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انسان صفاتِ ربانی کا مجسمہ ہے۔مظاہرِ اسمائے الٰہیہ میں انسان کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی کتاب فصوص الحکم میں تمام عالم کو انسانِ کبیر سے اور تجّلی اعظم اور شانِ الوہیت کو روح سے تشبیہ دے کر فرمایا ہے کہ انسان جب تک اس دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھااس وقت تک عالم بے جان جسم کی مانند تھا کیوں کہ اس میں حاکمانہ شان کا مظہر نہیں تھالیکن جب انسان پیدا ہوا تو عالم کے جسم میں جان پیدا ہو گئی اور وہ مکمل انسان ہو گیا۔ابن عربی کے اس بیان سے معلوم ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی حاکمانہ شان صرف انسانوں میں ہی منعکس ہوتا ہے۔ آتش نے اس تصور کی وضاحت اس شعر میں کی ہے۔
ظہور آدمِ خاکی سے یہ ہم کو یقیں آیا
تماشا انجمن کا دیکھنے خلوت نشیں آیا
علّامہ اقبال نے ذاتِ خداوندی کے اپنے اسماوصفات میں متعین ہو کراس عالمِ مشہود میں ظہور کرنے کی توجیہ یہ دی ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ خود گہرِ زندگی کی جستجو میں مضطرب و بے چین رہتی ہے کیوں کہ یہ گہرِ نایاب بھی اسی ایک بحرِ عظیم کا قطرہ سیمابی ہے۔اقبال کے نزدیک متذکرہ گہرِ نایاب ہے جسے انہوں نے کائنات اصغر سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ انسان پر حقیقتِ الوہی کے اسرارورموز خود بخود منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں اور اسے پیہم یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ واجب الوجود اور انسان کی روح کے درمیان جو پردہ تھا وہ ہٹ گیا۔اس لئے علّامہ نے کہا ہے :
نمود اس کی نمود تیری، نمود تیری نمود اس کی
خدا کو تو بے حجاب کر دے، خدا تجھے بے حجاب کر دے
انسان اور خدا کے درمیان جو مماثلت ہے اس سے خدا کا راز کہیں فاش نہ ہو جائے اس خدشے کا اظہار اقبال نے ایک شعر میں اس طرح کیا ہے۔
تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں 
الغرض صوفیانہ افکار کے مطابق اس دنیا میں کوئی بھی شے ایسی نہیں ہے جس میں خدا کا جلوہ موجود نہ ہو تو پھر مذہب، نسل، علاقائیت اور زبان کو بنیاد بنا کر سماج میں منافرت پھیلانے والوں کے دام میں ہم کیسے پھنس جاتے ہیں۔ 
"Pre-Established harmony" کے متعلق لائبنیز کے فلسفے، ویدک دھرم اور اسلام مذہب کے متعلق اہلِ علم حضرات کے خیالات اور صوفیوں کے افکار کا جو جائزہ پیش کیا گیا اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جو ہم آہنگی فطرت کے نظام ہے وہی ہم آہنگی سماجی سطح پر بھی ہونی چاہئے کیوں سماج نظامِ فطرت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے چند سماجی وسیاسی رہنما اپنی ذاتی مفاد کے لئے مذہب، ذات پات،علاقائیت اور زبان کو بنیاد بنا کر سماجی ہم آہنگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔  اس لئے عوام کو خبردار کرنے کے لئے صوفیانہ افکار کی تشہیر کی ضرورت پھر سے محسوس ہو رہی ہے لہٰذا ادیبو ں اور خاص کر شاعروں کو یہ احساس دلا نا چاہئے کہ اس پہلو کی طرف بھی توجہ دیں۔ 
٭٭٭




اقبال اور کالی داس کی شاعری میں مناظرِ فطرت



’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اﷲآسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ پہاڑوں میں بھی سفید،  سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور اسی طرح انسانوں،  جانوروں اور مویسیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ حقیقت یہ کہ اﷲ کے بندوں میں صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں ‘‘۔
(قرآن شریف کے سورہ فاطرِ  ٧٢،٥٢،٥٣)
قرآن شریف میں مطالعہ کائنات سے متعلق ۷۵۶ آیتیں ہیں جو اہلِ علم کو دعوتِ فکر دیتی ہیں۔ موجوداتِ کائنات میں پائی جانے والی خوبیوں کا جوہر جو ناظرین میں لذت اور سرور کی خاص کیفیت پیدا کرتا ہے،دراصل حسن کہلاتا ہے اور حسن کے مظاہر کو قبول کرنے کے رجحانات انسانوں میں عموماً اور تخلیق کاروں میں خصوصاً پیدائشی طور پر پائے جاتے ہیں۔ حسن کے مظاہر کو قبول کرنے کے بعد ہی تخلیق کار اشیاء کے مظہری پہلوؤں میں ایک طرح کی حقیقت سمو دینے کا کام کرتا ہے جسے فن کہا جاتا ہے۔موسیقی، نغمہ و آہنگ، رنگ آمیزی یا تصویر کشی وغیرہ کچھ ایسے فنون ہیں جو ہماری پیشہ ورانہ اور کاروباری امور اور سیاسی و اقتصادی زندگی کے فرائض کو پورا کرنے میں ہونے والی محنت اور تھکن کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور ہماری پریشان و مضطرب زندگی کو ایک طرح کاسکون بخشتے ہیں۔ اسی لئے عظیم شاعر یا فن کار کچھ ایسی تخلیقات کو جنم دیتے ہیں جو خود ان کی حیات کی بقا کے لئے اتنی ضروری نہیں ہوا کرتیں لیکن پھر بھی ایسا کرتے ہوئے انہیں مسرت ضرور ہوتی ہے۔اسی لئے ایک تخلیق کار اپنی فطری ذہانت کے سہارے ایک قسم کی شاہانہ فیاضیوں کا برملا اظہار کرتا رہتا ہے۔ان تخلیق کاروں میں سنسکرت کے مہا کوی کالی داس اور اردو کے عظیم شاعر علّامہ اقبال خاص اہمیت کے حامل ہیں جنہوں نے فطرت کا مطالعہ کیا ہے اور اس کے حسین مناظر کی ایسی تصویر کشی کی ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی ہے۔ان شعرا کی شاعری میں مناظر فطرت کی تصویر کشی کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کائنات کیا ہے؟فطرت کسے کہتے ہیں ؟کیا فطرتِ کائنات واقعی بے حد حسین ہے؟یا صرف ایک بد صورت مادہ ہے؟فطرتِ کائنات اگر حسین ہے تو پھر حسن کیا ہے؟ان تمام سوالوں کے جواب فلسفیوں اور صوفیوں نے دیا ہے۔ مطالعہ کائنات فلسفیوں اور صوفیوں کا اہم موضوع رہا ہے۔اس کے متعلق متعدد فلسفیوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔مثلاً لائیبنیز کے فلسفہ مونادیت کے مطابق کائنات موناد وں کا ایک بڑا مجموعہ ہے۔جو نہایت ہی سادہ،  ناقابلِ تقسیم اور غیر فانی ہے۔(واضح ہو کہ موناد ایک طرح کے مراکز قوت ہیں جن میں سے ہر وقت توانائی پھوٹتی رہتی ہے۔مونادوں کو روحیتی ذرّات(Spiritual Atoms) بھی کہا جاتا ہے۔لائبنیزکا یہ خیال کہ کائنات مونادوں کا مجموعہ ہے صحیح معلوم ہوتا ہے کیوں کہ اس نے مونادوں کو روحیتی ذرّات یعنی Spiritual Atoms کہا ہے جو قوت کے مراکز ہیں اور جن سے توانائی نکلتی رہتی۔جدید سائنسی تھیوریزTheories) ( نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ مادے کا سب سے چھوٹا ذرّہ جسے تقسیم نہیں کیا جا سکے Atom کہلاتا ہے جس کے اندر بے شمار توانائی ہوتی ہےAtom کے اندر پائے جانے والے Electron,Proton and Nitron توانائی کے سرچشمے ہیں۔ لیکن لائبنیز کا یہ کہنا کہ کائنات نہایت ساد ہ ہے قابلِ قبول نہیں ہے کیوں کہ موناد اگر مراکز توانائی ہے تو آفتاب کی ست رنگی روشنی، پہاڑ کی اونچی چوٹیوں سے بہتے ہوئے خوبصورت جھرنے کیا توانائی کے سرچشمے نہیں ہیں ؟ اگر ہاں تو پھر کائنات سادہ کہا ں ہے۔
برکلے نے بھی فطرتِ کائنات کے متعلق اپنا جو نظر یہ پیش کیا ہے وہ درست معلوم ہوتا ہے۔وہ خارجی عالم کے وجود کو تسلیم کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ تجربہ ہمیں اشیا کی صفات کا علم فراہم کرتا ہے اور صفات صرف ہمارے نفس یا ذہن کے تصورات ہیں۔ اس لئے فطرت کے متعلق وہ کہتا ہے کہ فطرت دراصل تصورات اور حسیات کا ایک نظام ہے جسے خدا کچھ خاص اصولوں کے تحت محدود اذہان میں پیدا کر دیتا ہے۔
فطرتِ کائنات کے سلسلے میں وھائیٹ ہیڈ نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’گلاب کا پھول اپنے عطر کے لیے، بلبل اپنے سرور انگیز گیتوں کے لیے اور سورج اپنی درخشندگی کے لیے شاعرانہ تخئیل کے خوبصورت موضوعات بنتے رہے ہیں۔  مگر حقیقت تو یہ ہے کہ شعرا ء غلط فہمی کے شکار ہیں اور انھیں اپنی نظموں میں خود اپنی ذات کو موضوع داد و دہش بنانا چاہیے اور تحسین بالذات اور بالذات تشکر کے کلمات ادا کرنے چاہئیں کیونکہ یہ سارا حسنِ فطرت خود فطرت میں موجود نہیں،  بلکہ یہ حسن تو خودانسانی ذہن کے عمل ادراک کا کمال و اعجاز ہے کہ وہ فطرت کو اس قدر خوبصورت اور خوشنما بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ فطرت بالذات تو ایک بوجھل و مکدر صورت حال ہے، جس میں نہ تو کوئی رنگ و آہنگ ہے اور نہ ہی کوئی عالم بو و سرور ہے۔ نہ تو فطرت کوئی شئے چشیدنی ہے اور نہ ہی یہ کوئی عالم دیدنی ہے بلکہ فطرت توبالذات ایک سریع التغیر چیز ہے جس کا کوئی سرا نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی معنی و مفہوم ہیں۔  نہ ہی اس میں غایات و مقاصد ہیں۔ ‘‘
(بحوالہ قاضی قیصر الاسلام، فلسفے کے بنیادی مسائل،ص:88-89)
وھائیٹ ہیڈ کے پہلے جملے میں ہی تضاد ہے۔ایک طرف وہ کہتا ہے کہ ’’گلاب کا پھول اپنے عطر کے لیے، بلبل اپنے سرور انگیز گیتوں کے لیے اور سورج اپنی درخشندگی کے لیے شاعرانہ تخئیل کے خوبصورت موضوعات بنتے رہے ہیں۔ ‘‘ دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ’’فطرت بالذات تو ایک بوجھل و مکدر صورت حال ہے،  جس میں نہ تو کوئی رنگ و آہنگ ہے اور نہ ہی کوئی عالم بو و سرور ہے۔ ‘‘تو پھر گلاب کی خوشبو،بلبل کے سر ور انگیز گیت اور سورج کی درخشندگی کیا فطرت کے حسین مناظر نہیں ہیں ؟اور اگر یہ حسین مناظر نہیں ہیں تو پھر شاعرانہ تخیل کے خوبصورت موضوعات کیسے بنتے رہے ہیں ؟البتہ وھائیٹ ہیڈ کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’یہ حسن تو خودانسانی ذہن کے عمل ادراک کا کمال و اعجاز ہے کہ وہ فطرت کو اس قدر خوبصورت اور خوشنما بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔‘‘
وھائیٹ ہیڈ کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے کروچے نے حسن کے موضوعی نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ :
’’حسن کلیتاً یا ذہن کا پیدا کردہ ہے۔ یعنی یہ کہ طبیعی اشیاء بجائے خود اپنے اندر ذاتی طور پر کوئی حسن نہیں رکھتیں۔  بلکہ ان اشیاء کے اندرحسن کا ادراک خود ہمارے ذہن کا اعجاز ہوا کرتا ہے۔ اور انھیں ہمارا ذہن ہی حسین، قبیح اور جلیل بناتا ہے۔‘‘
(بحوالہ قاضی قیصر الاسلام، فلسفے کے بنیادی مسائل،ص:46-47)
حسن کے متعلق رسکن کا خیال ہے کہ ہم حسن کی حقیقت سے اس وقت واقف ہو سکتے ہیں جب ہم اپنے اندر خدا کے ہر کام میں حسن و جمال کا احساس کرنے لگ جائیں۔ لیگس نے حسن کو ایک جال قرار دیا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس سے قدرت عقل یا شعور کا شکار کرتی ہے۔
حسن کے متعلق اہلِ علم حضرات کا خیال ہے کہ کوئی چیز صرف اسی قدرحسین ہوتی ہے، جس قدر کہ اس چیز کو اپنی نوع کے اعتبار سے ایک خاص تناسب حسن کا درکار ہوتا ہو۔ چنانچہ ہم کو مثالی حسن کا مکمل عرفان صرف اسی وقت ہوسکتا ہے، جب کہ ہم فنا فی التصور ہو جائیں۔  یہ تصوّر ایک ایسا نقطہ عروج ہے کہ جہاں تمام خواہشیں یا تمام ارادے ایک ارادۂ مطلق یا خواہش کلی میں ضم ہو کر ایک بڑے کل میں فنا ہو جاتی ہیں۔ ایک بڑے شاعر کا شدّتِ احساس ایک خاص تناسب حسن والی اشیا کو دیکھنے کے بعد شدید ہو جاتا ہے یا وہ ان کے تصور میں اپنے آپ کو فنا کر لیتے ہیں اس لئے فطرتِ کائنات انہیں بے حد حسین نظر آتی ہے اور مناظر فطرت کی حسین تصویر کشی کرنے لگتے ہیں۔ 
وھائیٹ ہیڈ کے برخلاف ایمرسن کا خیال ہے کہ یہ کائنات بے حد خوبصورت ہے۔ہمارے چاروں طرف سحر انگیز کیفیت کا جال سا بچھا ہوا ہے جو اپنی طرف ناظرین کو متوجہ کرتی رہتی ہے لیکن ہم دنیاوی اور کاروباری معاملات میں اس قدر الجھے رہتے ہیں کہ کائنات کا حسن ہمیں نظر نہیں آتا۔اگر ہم پھر سے اپنے بچپن میں لوٹ جائیں اور ایک بچّے کی نظر سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ کائنات بے حد حسین ہے۔وہ ایک جگہ لکھتا ہے:
’’ہمارے چاروں طرف کائنات کی سحر انگیز کیفیات نے ایک جال سا بنا رکھا ہے۔اور ہم خوبصورتی کے سمندر میں گویا ڈوبے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے دنیاوی مسائل میں گرفتار ہونے کے باعث اور اپنے ماحول کا ہر روز نظارہ کرنے کی وجہ سے اس کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ ہماری آنکھیں کائنات کی رعنائیوں کے لیے اندھی ہو کر رہ گئی ہیں۔ اگر ایک لمحے کے لیے ہمارا بچپن واپس آ جائے تو ہمیں اڑتے ہوئے طیور،  چمکتے ہوئے تارے حیران نظروں والے پھول اور شفق کے لا مثال رنگ ایک مسحور کن ترتیب کی صورت میں نظر آئیں اور ہم فرطِ طرب سے لرز اٹھیں۔  ‘‘
(بحوالہ وزیر آغا، نظم جدید کی کروٹیں،  ص ٧٢)
اس سلسلے میں ہیگل کا خیال ہے کہ کائنات ایک عالمِ متصورہ (The world of Ideas) ہے۔اس کو ہم عالمِ فطرت کہتے ہیں۔ اس کے مطابق عالمِ فطرت دراصل افکار و تصورات کا ایک عالم خارجی ہے اور عقل مطلق(یعنی خدا) اپنے آپ کو اشکالِ خارجیہ میں تبدیل کر کے ہمارے سامنے عالمِ ظاہر کے طور پر ہر وقت پیش ہوتی رہتی ہے۔
ہیگل کے جدلیاتی تصور کے مطابق’’نفس کی دنیا‘‘ یعنی مبدائے اوّل ہی اصل ہے اور مادہ نفس (یعنی مبدائے اوّل) ک امظہر ہے۔ہیگل کہتا ہے کہ جدلیاتی عمل، نفس سے مادہ کی جانب نزول کرتا ہے گویا لطیف ترین تصور جب بلندی سے پستی کی طرف یا عروج سے زوال کی جانب آتا ہے تو لطیف ترین سے کثیف ترین صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ کثیف ترین صورت مادہ کہلاتی ہے جسے ہم عالمِ ظاہر کہتے ہیں اور جسے ہمارے حواس اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں اور ہم اس کا ادراک کرنے لگتے ہیں۔ 
صوفیائے کرام کے مطابق کائنات فطرت خدا کا عین ہے۔ابنِ عربی نے اس سلسلے میں یہ آیت ’’کنت کنزاً مخفیاً فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق‘‘(یعنی میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں اس لیے میں نے خلقت کو پیدا کیا)۔گویا یہ تمام کائنات اسی وجود مطلق کی ’ تجلی‘ ہے۔ اگر فطرتِ کائنات واقعی خدائے مطلق کی تجلّی ہے تو یہ یقیناً بے حد حسین ہے۔غالب بھی اس نظریے سے متفق ہیں اس لئے اس نظریے کی وضاحت کے لئے انہوں نے مختلف قسم کے الگ الگ رنگوں کے پھولوں کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ان مختلف رنگوں میں بہار کا ثبوت ملتا ہے:
ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اِثبات چاہیے
یعنی موجوداتِ کائنات اپنے رنگ و روپ کے اعتبار سے مختلف ہیں لیکن ان سب میں خدا کا جلوہ مو جود ہے۔
علّامہ اقبال بھی اس نظریے کے قائل ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنی نظم ’ہمالہ‘ میں ’ہمالہ‘ کو خدا کے جلوہ سے تعبیر کہا ہے :
ایک جلوہ تھا کلیمِ طور سینا کے لیے
تو تجلّی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
اس لئے فطرت کی منظر کشی کرتے وقت اکثر مقامات پر ان کا وجود فطرت میں فنا ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن فنا کے مقام سے جب واپس آتے ہیں تو ان پر یہ راز منکشف ہو جاتا ہے کہ کائناتِ فطرت اگر ایک جسم ہے تو انسان اس کی روح ہے اس لئے اقبال انسان کی عظمت کے قائل ہو جاتے ہیں اور فلسفہ خودی جیسے نظریے کو پیش کرتے ہیں۔  دوسری طرف کالی داس جب رگھوونشم، کمار سمبھوَ، میگھ دوتم اور ابھگیان شکنتلم جیسے مہا کاویہ کی تخلیق کر رہے تھے اس وقت ان کے ذہن میں موجودہ دنیا نہیں تھی جسے ’کل یگ٬‘سے تعبیر کیا جاتا ہے بلکہ ان کے ذہن میں وہ دنیا تھی جسے’’ست یگ‘‘ کہا جاتا تھا اور جس دنیا میں تمام دیوی اور دیوتا چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ کالی داس کی نظر میں ’’ہمالہ‘‘ صرف ایک پہاڑ ہی نہیں بلکہ ایک دیوتا بھی تھا جس کی بیٹی پاروتی تھی۔اس زمانے میں زمین سے سورگ لوک میں جانا اور وہاں سے واپس آ جانا ایک عام بات تھی۔پہاڑ کی وادیوں میں رنگ برنگ کے پھول کھلا نے اور تمام گلستاں کو پھولوں کی خوشبو سے معطر کرنے کے لئے ’’کام دیو ‘‘بھی مامور کئے جاتے تھے۔ ایسی صورتِ حال میں کالی داس کی تخلیقات میں فطرت کی حسین مناظر کی تصویر کشی نہیں کی گئی ہوتی تو یہ حیرت کی بات ہوتی۔اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ دونوں شاعروں نے فطرت کی جو منظر کشی کی ہے اس کی نوعیت کیا ہے؟فطرت کے مناظر کو دلکش و دلفریب بنانے کے لئے کس طرح کی کی تشبیہات و استعارات کا استعمال کیا ہے۔ایک ہی منظر کو دونوں شاعروں نے کس طرح پیش کیا ہے؟ان تمام پہلوؤں کو جاننے کے لئے دونوں شاعروں نے فطرت کی جو تصویر کشی کی ہے اس کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔
علاّمہ اقبال کی ابتدائی نظموں میں فطرت کی منظر کشی کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ بانگِ درا کی پہلی ہی نظم ’’ہمالہ‘‘ میں اقبال نے خوبصورت تشبیہات و استعارات کی مدد سے قدرت کا مطالعہ اور فطرت کے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کی شاعری بھی کی ہے۔  ہمالہ سے خطاب کرتے ہوئے اس کی جغرافیائی حالت،  عظمت،  اہمیت اور افادیت کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں۔ اس نظم کا پہلا بند ہے

اے ہمالہ اے فصیل کشورِ ہندوستاں 
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں 
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں 
تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں 

اس بند کے پہلے ہی مصرعے میں ’’فصیل کشورِ ہندوستاں ‘‘کہہ کر اقبال نے ہمالہ کی وسعت اور پھیلاؤ کا منظر پیش کرنے کے ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ ہندوستان کی وہ سرحدیں جو خشکی میں ہیں،  ہمالہ کے لمبے سلسلے سے گھِری ہوئی ہیں۔  اسی بات کو کالی داس نے اپنی تخلیق ’’کمار سمبھَو‘‘میں پہلے سرگ کے پہلے شلوک میں اس طرح کہی ہے کہ بھارت کے شمال میں دیوتا کی طرح عبادت کے لائق ہمالہ نام کا بڑا بھاری پہاڑ ہے جو مشرق اور مغرب کے سمندری ساحل تک پھیلا ہوا ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس سرزمین کو ماپنے اور تولنے کا میزان ہو۔ کالی داس نے ہمالہ کو دیوتا کی طرح لائقِ عبادت کہہ کر ہندو مائیتھولوجی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس کے مطابق ہمالہ صرف ایک پہاڑ ہی نہیں ہے بلکہ بھگوان شیو کی اہلیہ پاروتی کے جننی(تخلیق کا سرچشمہ) بھی ہیں۔ اقبال نے بھی کہا ہے کہ اہلِ بینا کے لئے ہمالہ سراپا تجلّی خدا ہے :
تو تجلّی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
اقبال نے جب یہ کہا ہے کہ آسمان اس کی بلندی کو جھک کر چومتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کی بلندی ظاہر ہوتی ہے بلکہ زمین سے آسمان تک کا نظارہ آنکھوں میں گھومنے لگتا ہے اور ساتھ ہی زمین و آسمان کی دوری بھی مٹتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح ہمالہ کو یہ کہہ کر کہ ’’تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں ‘‘ اس کے مناظر کو مزید دلفریب بنا دیا ہے کیوں کہ جوانی سے زیادہ پُر کشش کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔  ایک دوسرے شعر میں علّامہ اقبال نے ہمالہ پہاڑ کے نظارے پیش کرنے کے لیے اس کی چوٹیوں کو ثریا سے سرگوشی کرتے ہوئے دکھایا ہے اور یہ کہا ہے کہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی ہمالہ کا وطن آسمان ہے۔اس سے نہ صرف ہمالہ کی بلندی کا احساس ہوتا ہے بلکہ ہمالہ کی وادیوں سے چوٹیوں تک اور چوٹیوں سے تاروں کی انجمن تک کے مناظر آنکھوں میں پھر نے لگتے ہیں۔ 
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پنہائے فلک تیرا وطن
شاعر نے اس کے علاوہ ہمالہ کے دامن میں پائی جانے و لی کالی گھٹاؤ ں،  چشموں اور ہوا کے جھونکوں کی بھی انتہائی خوبصورت منظر کشی کی ہے۔ فطرت کے ان حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے کے لیے شاعر نے ہمالہ کی گود میں پائے جانے والے چشموں کے پانی کو صاف اور شفاف بتانے کے لیے اس کی سطح کو آئینہ سیال قرار د یا ہے جس میں فطرت اپنی تصویر دیکھا کرتی ہے۔
چشمہ دامن ترا آئینہ سیال ہے
آئینے میں جب کوئی حسینہ اپنے حسن کو دیکھتی ہے تواس کے چہرے پر ایک عجیب و غریب کیفیت طاری ہونے لگتی ہے مثلاً نپولین کی بہن پولائن نے مرتے وقت آئینہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور جب اسے آئینہ پیش کیا گیا تو آئینہ میں دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ خدا کا شکر ہے میں اب بھی خوبصورت ہوں۔  اس لئے آئینہ دیکھنے کے بعد کی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔لیکن فطرت جو انتہائی حسین ہے اس پر کیا گزرتی ہو گی جب وہ اپنے حسن کو آئینے میں دیکھتا ہو گا۔اقبال کا یہ شعر:
حسن آئینہ حق، دل آئینہ حسن
دلِ انساں کو ترا حسنِ کلامِ آئینہ
بھی اس کی تائید کرتا ہے۔کالی داس نے کیلاش پربت کی گود میں بسی ہوئی ’الکا پوری‘ کی تشبیہہ عاشق کی گود میں بیٹھی ہوئی ’’کامنی‘‘ سے اور وہاں سے نکلنے والی گنگا کی دھار کی تشبیہہ اس کامنی( یعنی الکاپوری)کے جسم سے ڈھلکی ہوئی ساڑی سے اور پھر الکا پوری پر بارش کے دنوں میں برستے ہوئے بادل کے سایے کی تشبیہہ کامنیوں کے سر پر موتی گتھے ہوئے جُڑے سے دے کر الکاپوری کی نہ صرف خوبصورت تصویر کشی کی ہے بلکہ گنگا کی دھار، برستے ہوئے بادل اور بادلوں کے سایے کے اثرات اور موتی جڑے ہوئے کامنیوں کے جُڑے کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ تمام مناظر حرکت کرتے ہوئے آنکھوں میں پھرنے لگتے ہیں۔  کالی داس نے الکا پوری کو کامنی سے تعبیر کر کے پہلے قاری کی جنسی تلذذ کو بیدار کیا اور پھر اس کے بدن سے اس کی ساڑی کو سرکا کر قاری کی جنسی خواہش کو بھڑکا دیا اور وہاں کے پوری فضا میں رومان اور سرمستی کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔۶۷ویں شلوک میں کالی داس نے لکھا ہے:
’’ہے کام چارنی اس کیلاش پروت کی گود میں الکاپوری ویسے ہی بسی ہوئی ہے جیسے اپنے پیارے کی گود میں کوئی کامنی بیٹھی ہو۔وہاں سے نکلی گنگا جی کی دھارا ایسی لگتی ہے، مانو اس کامنی کے شریر پر سے سرکی ہوئی اس کی ساڑی ہو۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایسی الکا کو دیکھ کر تم پہچان نہ پاو۔ اُونچے اُونچے بھونوں والی الکا پوری پر ورسا کے دنوں میں برستے ہوئے بادل کامِنیوں کے سر پر موتی گُتھے ہوئے جُڑے جیسے چھائے رہتے ہیں۔ ‘‘
(کالی داس گرنتھاولی،ص ۳۰۹)
اقبال نے ہمالہ کی رونق اور چمک کو ظاہر کرنے کے لیے اور  آلودگی سے پاک وہاں کی ہواؤ ں کی اہمیت کو بتانے کے لیے اسے ہمالہ کا رومال قرار دیا ہے۔
دامن موجِ ہوا جس کے لیے رومال ہے
اسی نظم کے ایک اور بند میں شاعر نے فطرت کے حسین مناظر کی تصویر اس حسن و خوبی سے کی ہے کہ پہاڑ کی وادی میں نہ صرف حرکت پیدا ہو گئی ہے بلکہ محاکات کی عمدہ مثال بھی ہے جس سے وہاں کے تمام مناظر آنکھوں میں رقص کرنے لگتے ہیں۔ ہمالہ کی وادی میں کالی گھٹاؤ ں کو گھڑسوار، تیز ہوا کے جھونکوں کو گھوڑے اور بجلی کی چمک کو چابک سے تعبیر کر کے ہمالہ کی وادی کو بازی گاہ بنا دیا ہے جہاں فطرت کے عناصر ہمہ وقت مختلف کھیلوں میں مصروف رہتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں شاعر نے ہوا میں اڑتی ہوئی کالی گھٹاؤ ں کو اس مست ہاتھی سے جس کے پاؤ ں میں زنجیر نہ ہو سے تشبیہہ د ے کر عجیب و غریب نظارہ پیش کیا ہے۔
ابر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برقِ سرِ کوہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی، جسے
دستِ قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرطِ طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیل بے زنجیر کی صورت اُڑا جاتا ہے ابر
ایسے ہی نادر تشبیہات کالی داس نے بھی اپنی تخلیق میگھ دوتم میں بڑے آب و تاب سے استعمال کیے ہیں۔ پُرو َ میگھ، شلوک۔٢، میں کالی داس نے پہاڑ کی چوٹی سے لپٹے ہوئے بادل کی تصویر کشی کرتے ہوئے اس کی تشبیہہ ہاتھی سے دی ہے۔یکچھ کے متعلق لکھتے ہیں :
’’اساڑھ کے پہلے ہی دن وہ دیکھتا کیا ہے کہ سامنے پہاڑی کی چوٹی سے لپٹا ہوا بادل ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی ہاتھی اپنے ماتھے کی ٹکر سے مٹی کے ٹیلے کو ہٹانے کا کھیل کھیل رہا ہو۔‘‘
کالی داس نے ہوا کے جھونکوں سے اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے بادلوں کی تشبیہ مٹّی کے ٹیلوں کو اپنے ماتھے سے مار مار کر ہٹانے کا کھیل کھیلتے ہوئے ہاتھی سے دے کر موثر انداز میں فطری منظر کشی کی ہے۔علامہ اقبال نے ایسے بادلوں کو فیلِ بے زنجیر کہا ہے اور پہاڑی علاقوں کو بازی گاہ یعنی کھیل کا میدان قرار دیا ہے جہاں فطرت ہاتھی اور گھوڑوں کا کھیل کھیلا کرتی ہے۔ ایک دوسرے بند میں صبح کی ٹھنڈی ہواؤ ں کے جھونکے اور ان جھونکوں کے اثرات سے پھولوں کی کلیوں پر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو انتہائی شاعرانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صبح کی ٹھنڈی ہواؤ ں نے کلیوں پر ایسا اثر ڈالا کہ زندگی کے نشے میں ہر پھول کی کلی جھومتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔زندگی کے نشے میں پھول کی کلیوں کا جھومنا انتہائی لطیف خیال ہے۔
جنبش موجِ نسیمِ صبح گہوارہ بنی
جھومتی ہے نشّہ ہستی میں ہر گل کی کلی
مثنوی سحر البیان کے مصنف میر حسن نے بھی ایک باغ کا منظر اس طرح کھینچا ہے :
گلوں کا لبِ نہر وہ جھومنا
اسی اپنے عالم میں منھ چومنا
وہ جھک جھک کے گرنا خیابان پر
نشے کا سا عالم گلستان پر
کالی داس نے اپنی تخلیق رگھو ونشم میں موسمِ بہار کا نقشہ پیش کرتے ہوئے کچھ ایسی ہی منظر کشی کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اچانک نوخیز منجری(flower of mango tree) سے بھرے آم کے پیڑ کی ڈالیاں،  ہمالہ سے آتی ہوئی ہوا و ں سے ایسی جھوم اٹھتی ہیں جیسے انہوں نے اداکاری سیکھنا شروع کر دیا ہو اور انہیں دیکھ کر حسد اور کدورت سے دور رہنے والے یوگیوں کا دل بھی جھوم اٹھا۔
(نواں سرگ،٣٣واں اشلوک،ص ١٨)
علامہ اقبال نے پودوں اور پھولوں کی پتیوں کو زبان سے تشبیہہ دے کر ان کی خاموشی میں قوتِ گویائی پیدا کر دی ہے اور تمام پھول یہ کہنے لگے ہیں کہ گلچیں کے ہاتھوں کی رسائی آج تک ان پھولوں تک نہیں ہو سکی۔
یوں زبانِ برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
اسی نظم کے ایک اور بند میں شاعر نے پہاڑ کی بلندی سے جو ندیاں راستے میں پڑے چٹّانوں اور پتھروں سے ٹکراتی ہوئی نیچے آتی ہیں ان کی نہ صرف خوبصورت منظر کشی کی ہے بلکہ ان ندیوں کو جنّت کی ندیوں کوثر و تسنیم سے بہتر قرار دیا ہے جس میں قدرت اپنے آپ کو دیکھتی رہتی ہے کہ اس کے مناظر کس قدر حسین ہیں ساتھ ہی ان ندیوں سے نکلنے والی آواز کو موسیقی سے تعبیر کیا ہے۔ ساتھ ہی راستے کے نشیب و فراز سے ٹکراتی ہوئی اور مسلسل اپنی منزلیں طے کرتی ہوئی ندیوں سے فلسفہ زندگی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے :

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگِ رہ سے گاہ بچتی، گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراقِ دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو

وادی کہسارکی شام کی منظر کشی کرتے ہوئے شام میں پھیلتی ہوئی سیاہی کو اندھیری رات کے زلفِ رسا سے تعبیر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلیٰ شب کوئی جیتی جاگتی دلہن ہو جس نے اپنے بالوں کو کھول کر اپنے حسن میں اضافہ کر لیا ہو اور اس حسین مناظر میں آبشاروں کی آواز دل کو اپنی طرف کھینچ ر ہی ہو۔ شاعر نے اس پر فریب شام میں چاروں طرف چھائی ہوئی خاموشی کو یہ کہہ کر :’’وہ خموشی شام کی جس پر تکلّم ہو فدا‘‘ شام کے وقت کی خاموشی کی اہمیت کو بڑھا دی ہے۔عام طور پر رات کی خاموشی کو وحشت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن اقبال نے اس کی اہمیت کو justify کرنے کے لیے پیڑ پودوں اور درختوں پر چھائی ہوئی شام کی خاموشی کو فکری استغراق سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بند ملاحظہ کیجئے۔

لیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلفِ رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلّم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا

برف سے ڈھکی ہوئی ہمالہ کی چوٹیوں پر آفتاب کی پہلی کرن جب پڑتی ہے تو اس کا حسن دید کے قابل ہوتا ہے۔اقبال نے اس حسین منظر کی نہ صرف تصویر کشی کی ہے بلکہ چوٹیوں کو ٫ سر٬ اور برف کو دستارِ فضیلت سے تعبیر کر کے ہمالہ کی اہمیت اور بڑھا دیا ہے۔
برف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہ مہرِ عالم تاب پر
اسی طرح غروب آفتاب کے وقت پہاڑوں پر پڑنے والے شفق رنگ اور اس سے ابھرنے والے مناظر کی تصویر کشی اقبال نے انتہائی خوبصورت انداز سے کی ہے۔
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفق کہسارپر
خوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
شاعر نے شعر کے پہلے مصرعے میں رنگ شفق کو کانپتے ہوئے دکھا کر عجیب و غریب منظر پیش کیا ہے اور دوسرے مصرعے میں شفق رنگ کو غازہ سے اور پہاڑ پر جمی ہوئی برف کو رخسار سے تعبیر کر نا انتہائی لطیف خیال ہے۔
اقبال نے جس طرح ہما لہ،  گلِ رنگیں، آفتابِ صبح، چاند، جگنو، شمع اور بزمِ انجم وغیرہ نظموں میں فطرت کا مطالعہ پیش کیا ہے اور قدرت کے حسین مناظر کی تصویر کشی کی ہے اسی طرح نظم ’’ابرِ کوہسار‘‘ میں بھی فطرت کا مطالعہ کیا ہے اور خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں کی مدد سے قدرت کے حسین مناظر کی بے حد خوبصورت تصویر کھینچی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے تمثیلی اندازِ بیان اختیار کرتے ہوئے  کوہسار کے بادل کو جاندار کی صورت میں پیش کیا ہے اور بادل کی زبانی اس کی تمام خوبیوں کو بیان کیا ہے اور بادل کی وجہ سے پہاڑ کی وادیوں میں جو حسین مناظر نظر آتے ہیں ان کی تصویر کشی کی ہے۔
شاعر نے یہ کہہ کر کہ ابرِ کوہسار کے دامن میں چاروں طرف پھول بکھرے ہوئے ہوتے ہیں اور پہاڑ کی وادیوں کے ہرے بھرے گھاس کو مخمل کے بچھونے سے تشبیہ دے کر نہ صرف پہاڑ کی وادیوں کی حسین منظر نگاری کی ہے بلکہ ابرِکوہسار کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے:

ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا
کبھی صحرا، کبھی گلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا، بحر مرا، بن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو

دراصل بارش کی وجہ سے ہی کسانوں کی کھیتی اور میدانوں کے سبزے لہلہا تے ہیں۔ لیکن اس بات کو کہنے کے لیے شاعر نے جو پیرایہ بیان اختیار کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔اس بند کا پہلا مصرع ملاحظہ کیجیے۔

مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے دُر افشاں ہونا
ناقہ شاہد رحمت کا حُدی خواں ہونا
غم زدائے دلِ افسردۂ دہقاں ہونا
رونق بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا

دُر افشاں (یعنی موتی ) بلبلے کا استعارہ بالکنایہ ہے۔ اس استعارے سے مصرعے میں جہاں حسن پیدا ہوا ہے وہیں بارش کے وقت کھیتوں اور میدانوں کا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔کالی داس نے میگھ دوتم میں ایک جگہ بارش کے دنوں میں بادل اور بادل سے لپٹے ہوئے قوس و قزح(اندر دھنش) کی منظر کشی کی ہے اور اس کے ساتوں رنگوں کو قیمتی جواہرات سے تعبیر کیا ہے۔اس رنگین فضا میں بادلوں کے سانولے رنگ کو کرشن جی کے چہرے کے رنگ سے اور اندر دھنش کے رنگوں کو کرشن جی کے تاج سے مشابہ قرار دے کر عجیب و غریب کیفیت پیدا کر دی ہے۔پندرہویں شلوک میں لکھتے ہیں :
’’دیکھو سامنے سورج کی کانتی سے پربھاوِت میگھ اٹھا ہوا اندر دھنش کا وہ ٹکرا ایسی خوبصورت دکھائی پڑ رہا ہے، جیسے بہت سے جواہرات کی چمک ایک ساتھ یہاں لا کر اکٹھّی کر دی گئی ہو۔ اس اندر دھنش سے سجا ہوا تمہارا سانولا جسم اتنا خوبصورت لگنے لگا ہے جیسے مور مکٹ پہنے اور گوالے کا بھیس بنائے ہوئے خود شری کرشن آ کھڑے ہوئے ہوں۔ ‘‘
(کالی داس گرنتھاولی،ص ١٠٣)
اس بند کے دوسرے مصرعے میں بادل کو شاہدِ رحمت اور ناقہ حُدی خواں سے تعبیر کر کے بادل کی آواز کو نغمہ قرار دیا گیا ہے جس کی تاثیر سے ریگستان میں اوُنٹ کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور اس طرح بادل کے گرجنے کی تصویر بھی سامنے آ جاتی ہے۔کالی داس نے بھی بادلوں کے گرجنے اور اس کی گرجن سے ڈر کر محبوب کے آپس میں لپٹنے گلے سے لپٹنے کا بھی نقشہ کھینچا ہے اور بادلوں کی آواز کو دو چاہنے والے جوڑوں کے درمیان کی دوری ختم کرنے والا نغمہ قرار دیا ہے۔٣٢ویں شلوک میں کالی داس نے لکھا ہے:
’’اور دیکھو برسات کی بوندوں کو اُوپر ہی اُوپر سے چونچ میں لے لینے چتُر چاتکوں اور جھنڈ باندھ کر اُڑتی ہوئی چاتکیوں کو گناتے ہوئے سِدھ جن، جب تم وہاں پہنچ کر گرجنے لگو گے تو سِدھانڈنائیں گھبرا کر اپنے اپنے محبوب سے لپٹ جائیں گی۔اس گھبراہٹ بھرے ہم آغوش کو پا کر وہ تمہارا احسان مانیں گے‘‘۔
(کالی داس گرنتھاولی،ص ۳۰۲)
اقبال کے اس بند کا یہ مصرع استعارہ بالکنایہ کی بہترین مثال ہے۔اس بند کا یہ آخری شعر قابلِ توجہ ہے۔
بن کے گیسو رخِ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں 
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں 
اس شعر میں شاعر نے بادل کو گیسوسے تشبیہہ دے کر اس سر زمین کو خوبصورت حسینہ بنا دیا ہے اور پھر گیسو کی رعایت سے یہ کہہ کر کہ بادل ’’شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہے‘‘ ہوا کو حسینہ کے کندھے سے تعبیر کیا ہے جو انتہائی بلیغ ہے۔کیوں کہ ہوا کے تیز جھونکوں سے آسمان میں بادلوں کے بکھرنے اور پھر بکھر کر سنورنے کے منظر کی تصویر کشی اس سے زیادہ خوبصورت انداز میں ممکن نہیں ہے۔
علّامہ اقبال نے اس سرزمین کو ایک دلہن قرار دیا اور کالے کالے بادلوں کو دلہن کے زلف سے تعبیر کیا ہے جو ہوا کے جھونکوں سے دلہن کے کندھوں پر کبھی بکھر جاتے ہیں تو کبھی سنور جاتے ہیں۔ کالی داس نے بھی میگھ دوت میں ایک جگہ کہا ہے کہ بادل جب ہوا کے کندھوں پر سوار ہو کر اُوپر اٹھے گا تو الکا پوری کی وہ تمام عورتیں جن کے شوہر ان سے دور ہیں اپنے لمبے بالوں کو اوپر اٹھا کے بڑے بھروسے سے تمہیں دیکھیں گی۔کھلے ہوئے کالے بال گھنے بادلوں کی علامت ہے تو دوسری طرف یہ جدائی اور غم کی بھی علامت ہے۔
کالی داس نے ایک جگہ اور کالے کالے بادلوں کو کہیں نرم و نازک جُڑوں سے تو کہیں پہاڑوں میں پائے جانے والے جواہرات اور کہیں موتیوں سے بھرے ہوئے کامنیوں کے جُڑوں سے تشبیہہ دی ہے۔کالی داس نے میگھ دوتم کے پہلے سرگ کے اٹھارہویں شلوک میں کہا ہے کہ پکے ہوئے پھلوں سے لدے آم کے پیڑوں سے گھرا ہوا آمر کوٹ پہاڑ پیلا ہو گا۔اس کی چوٹی پر جب تم(بادل) نازک بالوں کی جڑوں کی طرح سانولا رنگ لے کر چڑھو گے تب وہ پہاڑی دیوتاؤ ں کی بیویوں کو دور سے ایسے دکھائی دے گاجیسے وہ زمین سے اٹھا ہوا ایسا جوہر ہو جس کے بیچ میں سیاہ اور چاروں طرف زرد ہو۔اسی طرح ۶۷واں شلوک میں وہ کہتے ہیں کہ اُونچے اُونچے محلوں والی الکا پوری پر برسات کے دنوں میں برستے ہوئے بادل ’کامنیوں‘ کے سر پر موتی گتھے ہوئے جُڑے کی مانند چھائے رہتے ہیں۔ 
تیسرے بند میں بھی بادل اور بارش کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس مضمون کو نئے نئے انداز میں باندھنے کی کوشش کی گئی ہے۔بظاہر شاعر صرف یہ کہنا چاہتا ہے کہ بادل کہیں برستا ہے اور کہیں نہیں برستا ہے۔ لیکن جہاں برستا ہے وہاں کے نہر کو بھنور کی بالیاں پہناتا ہے۔دراصل پانی کی بوندوں سے نہر میں جو بھنور پیدا ہوتا ہے اسے شاعر نے بالیوں سے تعبیر کیا ہے۔ نہر کو گرداب کی بالیاں پہنانا صرف Poetic description ہے۔ اس مصرعے سے بھی بارش کی خوبصورت تصویر کھینچی گئی ہے۔شاعر آگے کہتا ہے کہ کسی جگہ سے بغیر برسے ہوئے اگر بادل گزر جاتا ہے تو وہاں کے لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور بارش کے لیے ترسنے لگتے ہیں کیوں کہ بادل نوخیز سبزے کی امید ہے یعنی جو سبزہ ابھی ابھی زمین سے اگتا ہے وہ پانی کی کمی سے سوکھ جاتا ہے۔اس لیے اس کی زندگی کا دارومدار بارش پر ہے۔اس بند کے آخری مصرعے میں شاعر نے بادل کے بننے کی سائنسی وجوہات کی طرف روشنی ڈالی ہے۔بند ملاحظہ کیجیے۔

دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں 
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں 
سیر کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں 
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں 
سبزۂ مزرعِ نوخیز کی امّید ہوں میں 
زادۂ بحر ہوں،  پروردۂ خورشید ہوں میں 

بندھیا پہاڑ کی چوٹی( جسے نیچ بھی کہا جاتا ہے)پر کھِلے ہوئے کدمبھ کے پیڑ اور بادلوں کے دیدہ امید کے خواہش مند، ان پیڑوں کی بے قراری اوراس پہاڑ کے غاروں سے خوشبودار اشیا سے نکلتی ہوئی خوشبو کو بھی کالی د اس نے محسوس کیا ہے۔وہاں کے بازارِحسن کی عورتوں کے ذریعے جنسی لذت حاصل کرتے وقت ان خوشبوؤں کا صحیح استعمال کئے جانے کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔۲۷ویں شلوک میں لکھا ہے:
’’ہے مِتر وہاں پہنچ کر تم تھکاوٹ مٹانے کے لئے ُنیچ‘ نام کی پہاڑی پر اُتر جانا۔وہاں پر پھولے ہوئے کدمب کے پیڑوں کو دیکھ کر ایسا لگے گا کہ تم سے ملنے کے لئے ان کے روم روم پھڑپھڑا اُٹھے ہوں۔ اس پہاڑی کی گپھاؤ ں میں سے ان خوشبودار اشیا کی خوشبو نکل رہی ہو گی، جنہیں وہاں کی رسک(عاشق مزاج) ویشیاؤں کے ساتھ ہم بستری کرنے کے وقت کام میں لاتے ہیں۔ اس سے تمہیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ وہاں کے شہری کتنی آزادی سے جوانی کے مزے لیتے ہیں ‘‘۔
(کالی داس گرنتھاولی،ص ٣٠٣)
نِروندھیا ندی کی اُچھلتی ہوئی لہروں اور ان لہروں پرکردھنی سی دکھائی دینے والی چڑیوں کی چہکتی ہوئی قطاروں کی تصویر کشی کے علاوہ رُک رُک کر بہنے والی لہروں اور ان میں پڑی ہوئی بھنور(گرداب)کو عورتوں کی ناف سے اور بل کھاتی ہوئی ندی کی لہروں کو عورتوں کی اداؤ ں سے تشبیہ دے کر کالی داس نے پورے منظر کو دلفریب بنا دیا ہے۔۳۰ویں شلوک میں لکھتے ہیں :
’’ہے مِتر اُجّینی کی طرف جاتے ہوئے تم اُتر کر اس نِر وندھیا ندی کا بھی رس پی لینا، جس کی اُچھلتی ہوئی لہروں پر چڑیوں کی چہکتی ہوئی پنکتیاں کردھنی سی دکھلائی دیں گی۔جو بہت خوبصورت ڈھنگ سے رُک رُک کر بہہ رہی ہوں گی اور اور اس میں پڑی ہوئی بھنور تمہیں اس کی نابھی جیسی دکھائی دے گی۔کیوں کہ عورتیں ہاؤ بھاؤ کے ذریعے ہی اپنے محبوب کو محبت کی بات بتلا تی ہیں۔ ‘‘
(کالی داس گرنتھاولی،ص ٣٠٣)
آخری مصرعے میں اقبال نے سائنس کے اس نقطے کو پیش کیا کہ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بھاپ بن کر اُوپر اڑتا ہے یہی بھاپ جب بہت اُوپر چلا جاتا ہے تو ٹھنڈا ہو کر بادل بن جاتا ہے اور یہی بادل ہوا کا دباؤ بڑھ جانے سے برسنے لگتا ہے۔اسی لیے شاعر نے بادل کو سمندر کا بیٹا اور سورج کا پروردہ کہا ہے۔
آخری یعنی چوتھے بند میں بھی شاعر نے بادل کی فضیلت کو خوبصورت انداز میں بیان کی ہے جس سے پہاڑ ی علاقوں، پہاڑی ندیوں پہاڑ کے آس پاس کے میدانوں،  ان میدانوں میں کھلے ہوئے پھولوں اور اس علاقے میں بنے ہوئے جھونپڑوں کا منظر آنکھوں کے سامنے پیش کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ بادل کی اہمیت کا احساس اپنے قاری کو کرا دیا ہے۔شاعر کہتا ہے کہ پہاڑ کے جھرنوں میں سمندر جیسی جو ہلچل ہے وہ بادل نے عطا کی ہے۔ شاعر نے یہ بتا کر کہ پرندے بادل کی آواز میں محو ہو جاتے ہیں، بادل کی آواز کو نغمہ قرار دے دیا ہے۔اس بند کے تیسرے مصرعے میں شاعر نے بادل کو حضرتِ عیسیٰ قرار دے دیا ہے یعنی جس طرح عیسیٰ الیہ اسلام مردوں کو زندہ کر دیتے تھے اسی طرح بادل بھی سبزے کو ہرے بھرے ہو جانے کے لیے حکم دیتا ہے۔ شاعر آگے کہتا ہے کہ بادل صرف غنچوں کو کھلنا ہی نہیں سکھاتا بلکہ اپنی رحمت سے کسانوں کے جھونپڑوں میں وہی خوشی پیدا کر دیتا ہے جو خوشی محلوں میں پائی جاتی ہے۔

چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم میں نے
اور پرندوں کو کیا محو ترنّم میں نے
سر پہ سبزہ کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نے
غنچہ گل کو دیا ذوقِ تبسم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامن کہسار میں دہقانوں کے

کالی داس نے آمرکوٹ کے جنگل اور جنگل میں کدمب کے پیڑ اور اس کے پھولوں کے علاوہ ان پر منڈلاتے ہوئے بھنورے، دلدل میں کھلے ہوئے کمل کے پھول،پتیوں اور ان پتیوں کو چرتے ہوئے ہرن، زمین کی سوندھی خوشبو اور ان خوشبوؤں کو سونگھتے ہوئے ہاتھیوں کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ جنگل میں ایک طرح کا ہلچل پیدا کر دیا ہے۔بائیسویں شلوک میں لکھتے ہیں :
’’اور پھر جس سمے تم پانی برساتے ہوئے چلے جا رہے ہوں گے اس وقت ادھ پکے اور ہرے پیلے کدمب کے پھولوں پر منڈلاتے ہوئے بھنورے،دلدلوں میں نئی پھولی ہوئی کمل کی پتیوں کو چرتے ہوئے ہرن اور جنگلی دھرتی کی سوندھی خوشبو سونگھتے ہوئے ہاتھی تمہیں راستہ بتلائیں گے۔‘‘
(کالی داس گرنتھاولی،ص ۳۰۲)
بارش کی بوندوں کا انتظار نہ صرف پھولوں اور پودوں کو ہوتا ہے بلکہ آسمان میں اُڑتے ہوئے پرندوں کو بھی ہوتا ہے۔بعض پرندے سِواتی نکچھتر پہلے بوند کو پی کر حاملہ ہوتے ہیں۔ کالی داس نے جھنڈ کے جھنڈ آسمان میں اڑتے ہوئے ان پرندوں کی بھی منظر کشی کی ہے جو بارش کی بوندوں کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی اپنی چونچ میں روک لیتی ہیں۔ ۲۳ویں شلوک میں کالی داس نے لکھا ہے:
’’اور دیکھو برسات کی بوندوں کو اُوپر ہی اُوپر سے چونچ میں لے لینے چتُر چاتکوں اور جھنڈ باندھ کر اُڑتی ہوئی چاتکیوں کو گناتے ہوئے سِدھ جن، جب تم وہاں پہنچ کر گرجنے لگو گے تو سِدھانڈنائیں گھبرا کر اپنے اپنے محبوب سے لپٹ جائیں گی۔
(کالی داس گرنتھاولی،ص ٢٠٣)
کالی داس نے پھولوں سے لدے ہوئے پہاڑ،پہاڑ پر بادلوں کے انتظار میں آنکھوں میں آنسو لئے کوئل اور ان کی کوک کی بھی منظر کشی کی ہے۔۲۴ویں شلوک میں لکھا ہے:
’’ہے مِتر میں جانتا ہوں کہ تم میرے کام کے لئے بغیر رُکے جلد جانا چاہو گے پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ کوٹج کے پھولوں سے لدے ہوئے ان خوشبودار پہاڑوں پر تمہیں رکتے تے ہوئے ہی جانا ہو گا کیوں کہ وہاں کے مور آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھر کر اپنی کوک سے تمہارا خیرمقدم کر رہے ہوں گے۔ ‘‘
(کالی داس گرنتھاولی،ص ۳۰۲)
الکا نگری کے راستے میں پڑنے والے دشارن نام کے ایک دیش کے گلشن اور گلشن میں کھلے ہوئے پھول اور خاص کر کیوڑے کے سفید پھولوں سے آراستہ سفید گلشن کی تخلیق کی اور پھر ان کی تصویر کشی کی ہے۔وہاں کے گاؤ ں کے مندروں میں لٹکتی ہوئی چڑیوں کے گھونسلوں،  وہاں کے جنگلوں میں پکی ہوئی جامنوں کے پیڑ اور باہر سے آئے ہوئے ہنسوں کی بھی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ تمام منظر آنکھوں میں پھرنے لگتا ہے۔۲۵ویں شلوک میں لکھا ہے :
’’ہے مِتر جب تم دشارن دیش کے پاس پہنچو گے تب وہاں کی پھولی ہوئی پھلواریاں پھولے ہوئے کیوڑے کی وجہ سے سفید دکھائی دیں گی۔گاؤ ں کے مندر کوّا وغیرہ چڑیوں کے گھونسلوں سے بھرے ملیں گے۔وہاں کے جنگل پکی ہوئی کالی جامنوں سے لدے ملیں گے۔اور ہنس بھی وہاں پر کچھ دنوں کے لئے آ کر بسے ہوں گے۔‘‘
(کالی داس گرنتھاولی،ص ۳۰۲،٣٠٣)
اقبال کی نظم ہمالہ اور ابرِ کہساراور کالی داس کی شاہکار ’’میگھ دوت‘‘ میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ کالی داس نے اپنی اس بیانیہ نظم میں بادل کو اپنا پیغامبر بنا کر جہاں اپنی بیوی کے پاس اپنا پیغام بھیجا وہیں فطرت کاوسیع مطالعہ اورحسین منظر بھی پیش کیا۔اقبال نے بھی اپنی ان دونوں نظموں میں کالی داس کی طرح بادل اور قدرت کے مناظر کا بیان جس طرح کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کے تخیل کی پرواز کس قدر بلند ہے۔
مناظر فطرت کا مطالعہ کی اہمیت آج کے دور میں اور بھی بڑھ جاتی ہے کیوں کہ ملحق ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے ہو رہے ہیں اورانسانیت کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی توازن بگڑتا جا رہا ہے جس سے کائنات کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔اس لئے ایسے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں جس سے کائنات کو محفوظ رکھا جا سکے اور فطرت کے لطیف و نازک حسن کو برقرار رکھا جا سکے۔ان منصوبوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اہلِ دنیا کو پھر سے فطرت کے حسین مناظر کی طرف متوجہہ کیا جائے تاکہ ان کے اندر کی درندگی ختم ہو جائے اور معصومیت پیدا ہو سکے ساتھ ہی میر کی طرح یہ محسوس کر سکیں کہ :
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
کار گہ آفاق کی اس شیشہ گری کا
٭٭٭



سائنسی اور صوفیانہ فکریات کا شاعر:صبا اکبر آبادی



صبا اکبرآبادی کا تعلق اس سرزمین سے ہے جہاں کی مٹّی فنونِ لطیفہ کے لئے زرخیز مانی جاتی ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جس نے فنِ تعمیر کی بہترین اور لاثانی مثال تاج محل اور فنِ شاعری کی بے نظیر مثال غزلیات غالب دنیا کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے۔ تاج محل اگر دنیا کا ساتواں عجوبہ ہے تو ’’دیوانِ غالب‘‘ بقول بجنوری ایک الہامی کتاب ہے۔
اسی مٹّی سے میر تقی میر اور عوامی شاعری کا بلند مرتبت شاعر نظیر اکبر آبادی کا بھی تعلق تھا۔میر،  غالب اور نظیر کے علاوہ سیماب اکبر آبادی، میکش اکبر آبادی،اخضر اکبرآبادی، صبا اکبرآبادی، مغیث الدین فریدی، معین فریدی اور موجودہ دور میں اسرار اکبرآبادی اور خلش اکبرآبادی وغیرہ شعرا کا تعلق بھی آگرہ کی ہی سرزمین سے ہے۔
ان شعر ا کی اپنی ایک الگ پہچان ہے لیکن صبا اکبر آبادی کی بات ہی کچھ اور ہے۔صبا ۱۹۰۸ء میں پیدا ہوئے اور دس سال کی عمر یعنی ۱۹۱۸ء سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور ۱۹۲۰ء یعنی ۱۲سال کی عمر سے مختلف رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونے لگا تھا۔  صبا اکبر آبادی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے لیکن انہوں نے حمد و نعت، مرثیے، تضمین اور رباعیوں کا ترجمہ رباعی کے فارم میں کر کے ایک قادر الکلام شاعر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔ صبا کی سب سے پہلے شائع ہونے والی تخلیق حمد و نعت اور سلام کا مجموعہ ’’ذکر و فکر ‘‘ ہے جو ۱۹۳۸ میں شائع ہوئی۔اس کے بعد نظموں کا مجموعہ ’’زمزمہ پاکستان‘‘۱۹۴۶میں شائع ہوا۔غزلوں کے تین مجموعے ’’اوراق گل‘‘، ’’چراغِ بہار‘‘ اور ’’ثبات ‘‘ شائع ہوئے۔مرثیوں کے بھی تین مجموعے ’’سر بکف‘‘،  ’’شہادت‘‘ اور ’’خونناب‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ غالب کی تمام فارسی رباعیات کا ترجمہ ’’ہم کلام‘‘ اور عمر خیام کی بارہ سو رباعیات میں سے صرف سو رباعیوں کا ترجمہ ’’دست زر فشاں ‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ غالب کے مکمل دیوان کی تضمین بھی صبا نے کی ہے لیکن وہ بھی عمر خیام کی گیارہ سو رباعیات کی طرح ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔
صبا اکبر آبادی کا تخلیقی سفر ۱۹۱۸سے شروع ہوا اور مختلف رسائل اور جرائد میں چھپنے کا سلسلہ مئی ۱۹۹۱ تک جاری رہا۔ اس طویل عرصے میں بے شمار غزلیں ایسی بھی تھیں جو رسالوں میں تو شائع ہوئیں لیکن ان کی غزلوں کے مجموعوں میں شامل نہ ہو سکیں۔  صبا کا زیرِ نظر مجموعہ کلام ’’میرے حصے کی روشنی ‘‘ انہیں غزلیات پر مشتمل ہے۔’’میرے حصے کی روشنی‘‘ ان کے باقی تینوں غزلیہ مجموعوں کا Trailer ہے جسے پڑھ کر ان کے تمام غزلیہ سرمائے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس اعتبار سے اس مجموعہ کلام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
صبا اکبرآبادی کی شاعری پر بے شمار ادیبوں،  شاعروں اور ناقدوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جن میں ڈاکٹر جمیل جالبی، مجنوں گورکھ پوری، پروفیسر قرار حسین، پروفیسر سید موسیٰ رضا کے نام اہم ہیں۔ لیکن ان تمام حضرات نے ان کی شاعری کے صرف ایک پہلو کو موضوع بحث بنایا ہے کہ صبا اکبر آبادی ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے غزل کی روایت کو برقرار رکھا اور غزل کی قدیم روایت کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ’’ثبات‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’صبا صاحب نے اردو غزل کی تاریخ میں جو کچھ کیا ہے وہ اردو غزل کی روایت سے پوری طرح وابستہ رہ کر کیا ہے۔انہوں نے بعض شاعروں کی طرح روایت سے دامن بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ روایت میں عصر حاضر کے مزاج کو شامل کر کے اسے بدلا بھی ہے اور وسیع بھی کیا ہے۔اس میں نئی حسیت کو سمویا بھی ہے اور اپنے تجربات اور مشاہدات کا اظہار بھی کیا ہے۔اسی لئے صبا صاحب کی غزل ایک با شعور شاعر کے جذبات کا زندہ اظہار ہے اور اسی لئے ان کے شعر ہمارے دلوں کی ترجمانی کر کے ہمیں متاثر کرتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں ماضی بھی محفوظ ہے اور حال بھی لیکن حال ماضی بن کر نہیں بلکہ ماضی حال بن کر محفوظ ہے۔‘‘
ڈاکٹر جمیل جالبی نے مندرجہ بالا عبارت میں جو کچھ کہا وہ درست سہی لیکن اس طرح کے بیانات کسی بھی شاعر کے لئے دیئے جا سکتے ہیں کیوں کہ شاید ہی کوئی غزل کا شاعر ہو جس نے غزل کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شاعری نہ کی ہو اور اگر کسی نے غزل کی روایت سے ہٹ کر غزل کہنے کی کوشش کی ہے تو ان کا لہجہ اکھڑ گیا ہے اور غزل کی تمام تر شیرینی ختم ہو گئی ہے مثال کے طور پر مولانا حالی کی ان غزلوں کو دیکھ سکتے ہیں جہاں انہوں نے غزل کی روایت سے انحراف کرنے کی کوشش کی ہے وہاں ان کا لہجہ اکھڑ گیا ہے لیکن جن غزلوں میں غزل کی روایت کو برقرار رکھا ہے وہ غزلیں پر لطف ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی نظموں اور غزلوں میں روایت سے کوئی انحراف نہیں کیا ہے پھر بھی وہ بیک وقت اردو کے عظیم غزل گو اور نظم نگار ہیں۔ اسی طرح ناصر کاظمی نے غزل کی روایت سے کوئی انحراف نہیں کیا لیکن غزل کے بڑے شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے بلکہ جدید غزل کے پیش رو کہلاتے ہیں۔ 
ڈاکٹر جمیل جالبی نے روایت کے علاوہ غزل میں نئی حسیت اور تجربات و مشاہدات کے اظہار کی بات بھی کی ہے۔ یہ بھی ہر شاعر کے لئے کہا جا سکتا ہے۔
اسی طرح مجنوں گورکھپوری نے ایک جگہ لکھا ہے :
’’صبا اکبر آبادی کی غزل میں ہمیں ان کی شخصیت،  تجربے، اور زمانے کی روح بھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اور غزل کے حوالے سے صبا کی شخصیت کو دیکھیں تو تہذیب کے تمام عناصر صبا کی ذات میں مجتمع نظر آئیں گے۔صبا اکبرآبادی کی شاعری میں تغزل کے ساتھ خوبصورت زبان اور تازگی بھی ملتی ہے۔عصر موجود کا شعور بھی اور مستقبل کا امکان بھی۔یعنی اگر یہ کہا جائے تو شاید میرا بیان مکمل ہو کہ صبا صاحب کی شخصیت Infinite Past یعنی لامتناہی ماضی کی روح اور اس کی سب خوبیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے اور سموئے اور ساتھ ہی اپنے دور کی خصوصیت اور عصر موجود کی روح کو بھی سمیٹے ہوئے اور سب کو ایک آہنگ یعنی Harmony بنائے ہوئے ہے۔‘‘
صبا صاحب کی غزلوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے مجنوں گورکھپوری نے جو کچھ کہا ہے اس طر ح کی باتیں میر تقی میر سے لے کر آج تک کے شعرا کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے نہ جانے کتنے ناقدوں نے کہی ہیں لیکن مجنوں گورکھپوری کے کہنے کا اندازدلچسپ معلوم ہوتا ہے۔ویسے انہوں نے بھی صبا صاحب کی شاعری پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے ایک عام سی بات کہہ دی ہے۔
پروفیسرکرار حسین نے اپنے مضمون ’’ایک سچّا شاعر‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’صبا صاحب نے زنداں،  صحرا، بہار، خزاں، قفس، آشیاں،  بلبل، گُل و خار،ساقی، میخانہ، حسن،  عشق،  جنون، گریباں۔ غرض غزل کی روایتی علامتوں سے کام لے کر آپ بیتی گو جگ بیتی بنایا ہے۔روایتی علامتوں کے استعمال پرکسی صاحب کو ’’گُل و بلبل‘‘ کی شاعری کہہ کر ناک بھون
چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ آج کل روایت کے نام سے ایک چڑھ سی ہو گئی ہے اور جدّت بہر نوع ایک مستحسن صنف شمار کی جاتی ہے۔لیکن ایک جدّت قدرتی ہوتی ہے جو اپنے عہد سے قوّتِ نمو حاصل کرتی ہے اور ایک مصنوعی جدّت ہوتی ہے۔صبا صاحب روایت کے تسلسل کے ساتھ جب شاعری میں آگے کا سفر کرتے ہیں اور اپنے عہد کا المیہ بیان کرتے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کی شاعری اعلیٰ شاعری کی طرح جدید اور قدیم کی تقسیم سے بے نیاز ہو کرسچّی شاعری کے منصب پر نظر آتی ہے۔‘‘
پروفیسرکرار حسین کی مندرجہ بالا عبارت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صبا صاحب کی شاعری میں پائی جانے والی غزل کی روایت سے خوف زدہ ہیں اور غزل کی روایت کی حمایت میں دفاعی طریق کار اپنا رہے ہیں۔ 
مجھے حیرت کہ صبا اکبر آبادی کے ناقدوں میں سے کسی نے بھی ان کی شاعری کی ان پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالی ہے جن میں وہ فکر اور فلسفے کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔ صبا اکبرآبادی کی زیرِ بحث مجموعہ کلام کا نام ’’مرے حصّے کی روشنی‘‘ گہرے فلسفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ نام جس شعر سے ماخوذ ہے وہ یہ ہے۔
طے کر چکی سفر مرے حصے کی روشنی
اِس شمعِ انجمن سے چراغ مزار تک
شاعر نے اس شعر میں ’’مرے حصے کی روشنی‘‘ اور ’’شمعِ انجمن‘‘ کہہ کر اس کائنات اور کائنات کے تمام موجودات کے وجود میں آنے اور ایک خاص مدت تک زندہ رہنے اور دوسرے اشیاء کو زندہ رکھنے کا جو فلسفہ ہے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔دراصل اشراقی فلسفے کے مطابق موجوداتِ کائنات کی حرکات کا مبدا نورِ اوّل (یا نورِ قاہر) ہے۔حرکات سے مراد تبدیلی مقام نہیں بلکہ حرکات کا سبب منوّر کرنے کی خواہش ہے جو نورِ اوّل کا جوہر بھی ہے۔یہی وہ خواہش ہے جس کی بدولت نور چاروں طرف پھیل جاتا ہے اور اپنی شعاعوں کو تمام موجودات پر ڈال کر ان میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے اور اس سے جو تجلّیات پیدا ہوتی ہیں ان کی تعداد لا محدود ہوتی ہے۔ان تجلیات میں جن کی روشنی شدید ہوتی ہے وہ دوسری تجلیات کا سرچشمہ بن جاتی ہیں جس سے آہستہ آہستہ ان کی روشنی میں کمی آنے لگتی ہے یہاں تک کہ ان میں دوسری تجلّیوں کو پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اپنا وجود بھی کھو دیتی ہیں۔ اس طرح ایک تجلّی اپنا وجود کھوتی ہے تو بے شمار تجلّیاں دوسری تجلّیوں کا سرچشمہ بن جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔یہ تمام تجلّیات ایسے ذرائع ہیں جن کے وسیلے سے نورِ اوّل وجود کے بے شمار اقسام کو حیات و قیام بخش دیتا ہے۔
صبا اکبر آبادی نے مندرجہ بالا شعر میں جس روشنی کے سفر کر چکنے کی بات کہی ہے وہ دراصل وہی روشنی ہے جو دوسری تجلیوں کا سرچشمہ بننے کے بعد خود اپنی روشنی اور اپنا وجود کھو دیتی ہے۔
صبا اکبر آبادی کو روایتی شاعر کہنے والے اور روایت کے حوالے سے انہیں Defend کرنے والے ناقدین ذرا اس شعر کو بھی ملاحظہ کریں جس میں صبا صاحب نے ذرّے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بیک وقت Physicsکی Quantum Theory اور تصوّف کے نظریہ وحدت الوجود کی وضاحت کی ہے۔شعر یہ ہے:
بتا دیا ہے یہ جوہر شناس نظروں نے
کہ ایک ذرے میں ہوتی ہیں قوتیں کیا کیا
اس شعر میں سائنس کے اس نقطے کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق مادّے کے سب سے چھوٹے حصّے کو جسے مزیدتقسیم نہیں کیا جاسکے ’’جوہر‘‘(Atom ) کہتے ہیں جس میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ اس کے تخریبی استعمال سے پل بھر میں یہ دنیا تباہ و برباد ہو سکتی ہے اور تعمیری استعمال سے دنیاوی ترقی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
جدید فلسفے میں ڈیکارٹ نے ’’جوہر‘‘ اور ’’صفات‘‘ کے درمیان رشتہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جوہر موجود بالذات ہے اور اپنے وجود کے لئے کسی اور علت کا پابند نہیں ہے‘‘۔ڈیکارٹ کی اس تعریف سے ’’جوہر‘‘ صرف ایک ہو سکتا ہے اور وہ خدا ہے۔ اس تعریف کی رو سے تصوّف کے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ موجوداتِ عالم کے ذرّے ذرّے میں خدا ہے۔ کیوں کہ موجوداتِ عالم ایک مادہ ہے جس کے ذرّے بے شمار ہیں اور ہر ذرّہ ایک ’’جوہر‘‘ ہے۔
صبا اکبر آبادی کی غزلوں میں مختلف فلسفیانہ نظریے سے متعلق اشعار کے علاوہ ایسے اشعار کی بھی کمی نہیں ہے جن میں ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود کو سیدھے سادے اور آسان لفظوں میں ایسے بیان کیا گیا ہے کہ تصوف کے پیچیدہ مسئلے کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً ابن عربی کے توحیدی نقطہ نظر کے مطابق ’’وجود‘‘ ایک ہے اور اس ایک وجود کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں ہے اور یہی ’’وجود‘‘ خدا ہے جو واحد ہے لیکن اپنے مختلف ناموں سے معروف ہے۔کائنات کی ہر وہ شے جو اس کے ماسوا ہے وہ صرف اسی وجودِ واحد یعنی خدا کا مظہر ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کائنات خدا کا عین ہے۔اس لئے اس کائنات کی ہر شے کو خدا کی ذات و صفات کے تناظر میں یا خدا کی عینیت کی بنا پر سمجھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام موجوداتِ کائنات اسی خدا کی تجلّی ہے۔
صبا اکبر آبادی نے اس شعر میں تصوف کے اسی نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ٰٓٓماسوا ڈھونڈ کے آئے تری دنیا والے
تیری دنیا کو کوئی تیرے سوا بھی نہ ملا
یعنی وجود ایک ہے اور کائنات کی ہر وہ شے جو اس کے ماسوا ہے دراصل اسی ’’وجودِ واحد‘‘ کا ایک مظہر ہے۔لیکن عینیت کا یہ باطنی مشاہدہ کوئی مستقل تجربہ نہیں ہے اس لئے ابن عربی نے ایک نئے تجربے ’’فرق بعدالجمع‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر کوئی چاہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ حقیقی طور پر موجود ہے وہی خدا ہے اور اگر کوئی چاہے تو اسی کو کائنات بھی کہہ سکتا ہے۔لہٰذا شیخ اکبر کے نئے تجربے ’’فرق بعدالجمع‘‘ کے پہلے حصے کے مطابق ماسوا ڈھونڈنے والوں کو خدا کے علاوہ کچھ نہیں مل سکتا ہے۔ صبا اکبرآبادی کے اس شعر:

دنیا کو دیکھ کر انھیں کیا دیکھتے صبا
گم ہو گیا صفات میں احساس،  ذات کا

میں بھی ابن عربی کے اس نظریے کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کائنات چونکہ عین وجود واحد ہے اسی لئے موجوداتِ عالم اس خدا کی تجلّی ہے جس میں 
خدا اپنے تئیں ظہور کیا اور ان تجلّیات میں وہ پوری طرح گم ہو گیا اور اس لئے ان تجلیات کے علاوہ خدا کا الگ تھلگ کوئی وجود نہیں ہے یعنی صفات میں ذات گم ہے۔ یہ شعر بھی انہیں خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔
نمود غیب کو عین شہود کہتے ہیں 
کہانیوں میں ڈھلی ہیں حقیقتیں کیا کیا
ابن عربی کے نظریہ انسان کامل کے مطابق انسان ہی وہ مخلوق ہے جو خدا اور اس کائنات کی صورتوں کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے اور یہی انسان خدا کے تمام اسما اور صفات کو متجلّی کرتا رہتا ہے اور خدا انسان کے آئینے میں خود کا جلوہ دیکھتا رہتا ہے۔اسی نظرئے کی روشنی میں صبا صاحب نے کہا ہے :
جب ہمیں مظہرِ انوارِ حقیقت ٹھہرے
اپنے ہی عکس کو آئینے میں دیکھا نہ کریں 
صبا کا یہ شعر بھی ابن عربی کے نظریات کے مطابق ہے۔
عجب ہیں بھول بھلیاں جہانِ جلوہ کی
بھٹکتے رہتے ہیں اور راستہ نہیں ملتا
یہ کائنات دراصل خدا کی تجلّی ہے جس میں خدائے واحد خود گم ہو گیا ہے تو پھر جہانِ جلوہ ایک ایسے بھول بھلیاں کی مانند ہے جس میں انسان زندگی بھر بھٹکتا رہے تو بھی اسے راستہ نہیں مل سکتا ہے۔
خدا اور کائنات کے درمیان جو رشتہ ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ابن عربی نے کہا ہے کہ کائنات عین واحد ہے اور اس عینیت کا اثبات وہ یا تو کائنات کے وجود کے انکار سے کرتے ہیں یا پھر خدائے واحد کے اقرار سے کرتے ہیں۔ کائنات کے وجود کی نفی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پہلے یہ کہا کہ ’’کائنات جیسی کہ وہ ہے اسے غیر حقیقی اور واہمہ ہی کہا جا سکتا ہے۔آگے انہوں نے یہ کہا کہ وجود اگر ہے تو صرف خد ا کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کائنات اور اس کی کثرت اگر موجود ہے تو وہ اسی خدا کی پرچھائیں ہے۔کائنات کے وجود کی نفی کرتے ہوئے ان کا قول ہے کہ:
’’الاعیان ماشمت رائحتہ من الوجود‘‘(یعنی اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بو تک نہیں سونگھی۔)
ابن عربی کے انہیں خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے صبا اکبرآبادی نے بھی کائنات کو واہمہ قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں ان کے اشعار ملاحظہ کیجئے۔
کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم
اُلجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم

کچھ بھی نہیں جہان میں جب نیند اچٹ گئی
سچ پوچھئے تو آنکھ کا سرمایہ خواب ہے

بجا کہ مجھ کو ہے انکار اپنے ہونے سے
اِس ایک جھوٹ میں گُم ہیں صداقتیں کیا کیا
صبا اکبر آبادی نے مکمل دیوان غالب کی تضمین کی ہے۔ان تضمینوں کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صبا نے غالب کے فلسفیانہ اشعار کی گہرائیوں میں اتر کر تضمینیں کی ہیں۔ اس لئے ممکن ہے صبا اکبرآبادی کی شاعری میں فلسفیانہ یا صوفیانہ رنگ غالب کے اثر سے پیدا ہوا ہو لیکن حیرت ہوتی ہے جب صبا نے غالب کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں :
اَبر و سبزَہ،  گل و نکہت،  شفق و رنگِ شراب
جو ہے وہ دشمنِ ایماں ہے خدا خیر کرے
اور ابن عربی کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے غالب کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔  غالب کی مشہور غزل کا مطلع ہے:
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا
غالب نے ابن عربی کے اس نظریے کو کہ ’’موجوداتِ عالم واہمہ یا محض آنکھوں کا دھوکا ہے‘‘ کو رد کرتے ہوئے مندرجہ ذیل قطع بند اشعار میں استعجاب کے عالم میں یہ سوال کیا ہے :
جب کے تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں ؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
شکنِ زلفِ عنبری کیوں ہے؟
نگہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ؟
ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے؟
صبا اکبر آبادی نے ابن عربی کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے غالب کے سوالوں کا جواب دیا ہے بلکہ انہیں خبردار کیا ہے یہ کہہ کر کہ موجوداتِ عالم ایمان کا دشمن ہے۔
غالب کے تمام سوالات کا جواب صبا صاحب نے صرف ایک ہی شعر میں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ بڑے سے بڑے موضوع کو غزل کے ایک ہی شعر میں سمویا جا سکتا ہے۔
صبا اکبرآبادی نے موجودات عالم رنگ و بو کو طلسمات قرار دے کر کہا ہے کہ انسان کی قسمت میں نہ جانے کیا کیا امتحان آ گئے ہیں۔ :

دل کو ہر اک قدم پہ طلسماتِ نو مِلے
کیا امتحان قسمتِ انساں میں آ گئے
علامہ اقبال نے کہا ہے کہ کسی شے کو اپنا بنانے یا اپنے اندر جذب کر لینے کی آرزو کا نام عشق ہے۔واضح رہے کہ جس شے سے محبت کی جاتی ہے اسے اپنے اندر جذب کر لینے کے بعد جو خوشی ملتی ہے اس کا دائرہ بحرِ بے کراں کی طرح ہوتا ہے اور اس مقام پر پہنچ کر عاشق اور معشوق کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے اور فاصلے ختم ہو جاتے ہیں،  ’’میں ‘‘،’’میں ‘‘ نہیں رہتا ہے بلکہ تو ہو جاتا ہے۔یہ مقام روحانی مدارج میں چوتھا درجہ ’’تو ہے‘‘ کا ہے۔اس مر تبہ میں ’’انا کی کلیتاً نفی کی جاتی ہے اور ’’تو‘‘ کا اثبات کیا جاتا ہے جس کا مطلب اپنی ذات کو منشائے الٰہی کے سپرد کر دینے کے ہیں۔  ایسی صورت میں کہیں سے بھی محبوب کو پکارا جائے لیکن جواب اپنے ہی دل سے آتا ہے۔صبا اکبرآبادی نے ایسی ہی صورتِ حال کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے۔
ہم بے خبر ہیں اور وہ اِتنے قریب ہیں 
دل سے جواب آئے پکاریں کہیں سے ہم
محبت کی اس سطح پر پہنچ کر جو خوشی ہوتی ہے اس کا اظہار شاعر نے اس طرح کیا ہے۔
سُرورِ محبت سے مدہوش ہیں ہم
عجب سرخوشی ہے عجب زندگی ہے
محبت کی یہی کیفیت ان کے نعتیہ اشعار میں بھی ملتی ہے۔صبا صاحب کی پہچان غزل گو شاعر کے علاوہ نعت گو کی بھی ہے۔ الگ سے ان کا نعتیہ کلام بھی شائع ہو چکا ہے جس کا ہر شعر عشق رسول سے سرشار ہے۔صبا صاحب کی غزلوں میں بھی چند نعتیہ اشعار ملتے ہیں جن میں وہی عقیدت اور وہی سرشاری ہے جو ان کے نعتیہ کلام میں موجود ہے۔ مثلاً یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
دیکھ اے باب حرم پائے صبا کی لغزش
پھر ہے اس رندِ خرابات کا رُخ تیری طرف
بو علی سیناکا خیال ہے کہ جس طرح مادی لذتوں کے کئی درجات ہوتے ہیں اسی طرح روحانی لذتوں کے بھی کئی درجات ہوتے ہیں۔ مثلاً حسین یادوں میں ایک خاص طرح کی لذت کا احساس ہوتا ہے جو روحانی لذت کا ایک درجہ ہے۔لذت کا دوسرا درجہ مخلص اور سچے دوست احباب کی قربت ہے۔تیسرا درجہ علم کا حصول ہے۔چوتھا درجہ فکر ہے۔اسی طرح پانچویں درجے کی لذت ذکر و سجود سے پیدا ہوتی ہے۔عالموں کا خیال ہے کہ نماز میں نمازی کی روح خدا سے ہم کلام ہوتی ہے۔مسرت قرب یزداں ہے اور الم یزداں سے دوری کا نام ہے۔اسی لئے صبا اکبر آبادی نے کہا ہے :
کعبہ ہے کہ بت خانہ مجھے ہوش نہیں ہے
اک لذت سجدہ ہے جو محسوس جبیں ہے
علامہ اقبال نے اپنے تصوّرِ مردِ مومن کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مردِ مومن دراصل نائبِ خدا ہوتا ہے۔اس منصب کو حاصل کرنے کے لئے عشق رسول اختیار کرنا ضروری ہے۔صبا کے یہاں عشق کا جب یہ عالم ہو تو ان کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ
اے دور آسمان صبا کو سلام کر
یہ زائرِ دیارِ رسالت مآب ہے
پروفیسر سید موسیٰ رضا بہ عنوان ’’صبا اکبرآبادی کی غزل میں نعت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’میں نے بار بار ذکر محمد مصطفے کو ان کی غزل میں بھی مختلف طرح سے جلوہ گر دیکھا۔ذیل کا شعر آسمانِ نعت کا ستارہ نہیں تو اور کیا ہے؟
دل کافر خدا کا منکر تھا
تم کو دیکھا تو اعتبار کیا
صبا صاحب کی عشق رسول کی شدّت میں میرا خیال تھا کہ ان کی غزل میں نعت کے شعر ضرور ملیں گے لیکن اگر ملیں گے تو کیا غزل کے تنگنائے میں وہ اپنے جوہر دکھا سکیں گے؟لیکن ان کی غزل پڑھ کر نظر آیا کہ جو شخص ہر سال التزاماً چار پانچ مرثیے لکھتا تھا اور مراثی میں ذکر رسول کو مختلف انداز اور جہات سے پیش کرتا تھا، وہ غزل کے رمزیہ سلسلہ میں کس شائستگی اور کس نزاکتِ احساس کے ساتھ بیان عقیدت کرتا ہے، متذکرہ بالا شعر سے اندازہ ہوتا ہے۔‘‘
اقبال کا خیال ہے کہ ’’خودی ‘‘کا سب سے موثر پہلو عشق میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ عشق صرف گرمی حیات کا ہی ضامن نہیں ہوتا بلکہ موت کے بعد کی زندگی کا امکان بھی اسی عشق کے موثر تحریک کا نتیجہ ہے۔عشق وہ عظیم نعمت ہے جو زندگی کو محکم تر بناتا ہے اور موت کے بعد کی زندگی زندگی میں اعتماد بحال کرتا ہے۔ جنون دراصل عشق کی انتہائی ترقی یافتہ صورت ہے۔اسی لئے اقبال نے عقل پر جنون اور عشق کو ترجیح دی ہے
عقل، عشق اور جنون کے درمیان جو فرق ہے اس کا اندازہ صبا اکبرآبادی کو بھی ہے اسی لئے اقبال کی طرح وہ بھی عقل پر جنون کو ترجیح دیتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
لَو جُنوں کی جو بڑھا دی ہم نے
عقل کو آگ لگا دی ہم نے

ٹھوکریں کھاتے ہیں صحرائے خرد میں جو صبا
کبھی دیوانوں میں شامل نہیں ہونے پاتے

خرد کو بیخودی کا تابع فرماں بنا ڈالا
محبت کا اچھوتا انتقام آنکھوں میں پھرتا ہے
زمانہ جس طرح سے سو رہا ہے آج سونے دو
جنوں کو ہوش میں لا کر نہ بدلو زندگی میری
رفوئے پیرہن سے در گزر کر خوش نظر دُنیا
ذرا پروان چڑھنے دے ابھی دیوانگی میری
خرد کو آج بھی ہے اعترافِ محکومی
دیارِ ہوش میں ہے وحشتوں کا آج بھی راج
جنون چونکہ عشق کی انتہائی ترقی یافتہ صورت ہے اور عشق موت کے بعد کی زندگی میں اعتماد بحال کرتا ہے تو پھر زندگی کی پرواہ کون کرے۔ اسی لئے صبا اکبر آبادی ہستی و عدم کی باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زندگی ا ن کے لئے محض ایک رسم سی ہے۔یہ اشعار ملاحظہ کیجئے۔
ہستی و عدم میں فرق کیا ہے
بس اِک دو نفس کا فاصلہ ہے
اب تک نفس کی آمد و شُد کا رواج ہے
اِک رسم سی ہے میرے لیے زندگی ابھی
بدھ اور اوشو کے فلسفے کے مطابق دنیا کا ہر انسان غلام ہے۔چاہے وہ کوئی عام انسان ہو یا کوئی بادشاہ، پیر فقیر ہو یا صوفی سنت سب کے سب غلام ہیں۔ یہاں تک کہ چرندے،  پرندے حیوانات یا ہر وہ چیز چاہے وہ جاندار ہو یا غیر جاندار۔ آزادی کسی چیز کو بھی نصیب نہیں ہے۔ دنیا کی ہر شے قدرت کے ایک منظم نظام کے تحت اپنا وجود رکھتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ دنیا کی ہر شے کسی نہ کسی نظام کی پابند ہے۔ 
ہستی و عدم اور زندگی و موت کے موضوعات میر، خواجہ میر درد،نظیر، غالب گویا سب ہی عظیم شاعروں کے کلام میں اُن کی فکر کے مطابق موجود ہیں غالب کا شعر ہے
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں 
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں 
جبکہ صبا اکبرآبادی زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں سمجھتے کیوں کہ انسان مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد بھی آزاد نہیں ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
دُنیا سے بچ کے قبر کے چکر میں قید ہوں 
اُس گھر سے چھٹ گیا ہوں تو اِس گھر میں قید ہو ں 

میرے لئے صبا مرے زنداں کی حد نہیں 
آزاد ہوکے میں تو جہاں بھر میں قید ہوں 
صبا اکبر آبادی کے نزدیک صرف انسان ہی نہیں بلکہ دریا کی لہر بھی ساحل میں اور شراب ساغر میں قید ہے۔
دریا کی لہر کہئے تو ساحل کی قید ہے
ہوں جرعۂ شراب تو ساغر میں قید ہوں 
صبا اکبرآبادی نے اساتذہ کرام کا مطالعہ کثرت سے کیا تھاجس کا اعتراف انہوں نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کیا ہے۔
اساتذہ کو سمجھ کر پڑھو گے تو سمجھو گے
پرانے رنگ میں ہوتی ہیں ندرتیں کیا کیا
غالب کا ایک شعر ہے۔ 
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
صبا نے غالب کے مضمون کو اپنے ایک شعر میں اس طرح باندھا ہے۔
غنچہ سرِ شاخِ گُل کھلا ہے
اب میرے جنوں کی ابتداء ہے
ان دونوں اشعار میں غنچہ کھلنا محبت کی علامت ہے۔غالب نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ محبت ہو چکی ہے ڈیڑھ مصرعوں کا سہارا لیا یعنی غالب نے یہ کہا کہ ’’آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا‘‘۔جبکہ صبا اکبرآبادی نے ا سی خیال کا اظہار صرف یہ کہہ کر کر دیا کہ ’’اب میرے جنوں کی ابتدا ہے‘‘۔
دو شاعروں کے مضامین جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو اسے شعری اصطلاح میں توارد کہا جاتا ہے۔دراصل کسی شاعر کے کلام کے مطالعہ کے دوران کوئی خیال یا خوبصورت مضمون کوئی دوسرا شاعر پڑھ لیتا ہے جو اس کی یادداشت میں محفوظ رہ جاتا ہے اور غیر شعوری طور پر وہی مضمون شعر میں نظم ہو جاتا ہے۔یا کبھی کبھی ایسا خیال قدرتی طور پر شاعر کے ذہن میں آ جاتا ہے اور اسے اپنے شعر میں نظم کر لیتا ہے۔ ممکن ہے کہ صبا اکبرآبادی کے بعض اشعار کے مضامین جو کسی دوسرے شاعر کے مضامین سے ٹکرا رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہو۔
صبا نے غالب کی طرح اپنے اشعار میں مرکب تراکیب،مرکب افعال اور مرکب الفاظ کا استعمال کثرت سے کیا ہے جس سے ان کے اسلوب
میں زور، اختصار اور معنوی تہ داری کے علاوہ استعاراتی حسن پیدا ہو گیا ہے جو غزل کے اشعار کے لئے ضروری ہے۔
صبا کا مطلع ہے:


کوئی آنسو تو نہیں ہے تری مژگاں کے قریب
ایک کانٹا سا کھٹکتا ہے رگِ جاں کے قریب
فانی کی اسی زمین میں غزل کا ایک مصرع ثانی ملاحظہ کیجئے۔
’’کھینچ لایا ہے دل اک شاہدِ پنہاں کے قریب‘‘
اس مصرعے سے صبا کا یہ مصرع کس قدر ملتا ہے دیکھئے۔
کھنچ کے خود رُوح نہ آئے غم پنہاں کے قریب
لیکن فانی اور صبا اکبر آبادی کے اشعار کے مفہوم میں کافی فرق ہے۔
صبا نے صرف اساتذہ کی غزلوں کا ہی مطالعہ نہیں کیا تھا بلکہ اپنے ہم عصروں اور شاگردوں کے کلام کا بھی مطالعہ کیا کرتے تھے۔ مثلاً ڈاکٹر مغیث الدین فریدی (جو صبا صاحب کے دوست اور شاگرد بھی تھے) نے صبا صاحب کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی چھ غزلیں لکھ کر صبا صاحب کے پاس بھیجی تھیں۔ صبا صاحب نے ۱۹۴۲ میں ایک غزل کہی تھی جس کا مطلع ہے۔
وہ بزمِ میکدہ کا اہتمام آنکھوں پھرتا ہے
 صراحی جھومتی ہے دل میں جام آنکھوں میں پھرتا ہے
مغیث صاحب کو یہ غزل شاید اتنی پسند آئی کہ انہوں نے شعوری یا لاشعوری طوراس غزل کے چند اشعار میں لفظی اور معنوی تصرف کر کے ایک انتہا ئی اچھی غزل کہی جس میں وہی کیف و اثر ہے جو صبا صاحب کی غزل میں موجود ہے۔مثال کے طور پر یہ اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔ 
وہ دورِ بادہ مینا گداز آنکھوں میں پھرتا ہے
ترانے جھومتے ہیں دل میں،  ساز آنکھوں میں پھرتا ہے
(فریدی )
وہ بزم میکدہ کا اہتمام آنکھوں میں پھرتا ہے
صراحی جھومتی ہے دل میں،  جام آنکھوں میں پھرتا ہے
(صبا)
ر صبا صاحب کے ا شعار کے مصرعِ اوّل میں ’’بزم میکدہ کا اہتمام‘‘ اور فریدی صاحب نے ’’دورِ بادۂ مینا گداز‘‘ کہا ہے، اسی طرح مصرعِ ثانی میں صرف دو لفظ تبدیل کئے گئے ہیں مثلاً ’’ترانے‘‘ کی جگہ ’’صراحی‘‘ اور’’ساز‘‘ کی جگہ پر ’’جام‘‘ استعمال کئے گئے ہیں۔ اسی غزل کا یہ شعر بھی ملاحظہ کیجئے جس میں معنوی تصرف کیا گیا ہے۔
فریدی جس کی محفل میں خدا کو بھول جاتے ہیں 
وہ کفرِ عشق و مستی کا جواز آنکھوں میں پھرتا ہے
(فریدی )


زمانہ عاشقی کا صبح و شام آنکھوں میں پھرتا ہے
جہاں سجدے کئے تھے وہ مقام آنکھوں میں پھرتا ہے
(صبا )
اردو زبان و ادب میں دنیا کی بے شمار زبانوں سے بے شمار لفظی و معنوی تصرف کیا گیا ہے۔شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ دنیا کی ایسی کوئی بات نہیں ہے جو پہلے کہی نہیں جا چکی ہو۔لیکن انہیں باتوں کو نئے انداز اور نئی ترتیب سے جب شاعر کہتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ اکبر آبادی شعرا کے کلام میں تصوف کی نزاکت اور لطافتِ خیال سب سے زیادہ غالب۔ میکش اکبرآبادی اور صبا اکبرآبادی کی شاعری میں پائی جاتی ہے ہیں۔  میکش اکبر آبادی اور صبا اکبر آبادی کی شاعری سے ایک ایک مثال پیش کیا جاتا ہے۔میکش کا ایک شعر ہے :
نسیم آئی ہے شاید گلے لگا کے انہیں 
مرے قریب تو آئی مگر جھجھک بھی گئی
صبا اکبرآبادی کا یہ شعر دیکھئے جس میں انہوں نے وہی کیفیت پیدا کی ہے جو میکش اکبر آبادی کی شاعری میں موجود ہے۔
دل سُلگ اُٹّھا ہے پھر شعلہ سوزاں کی طرح
پھر صبا آیا ہے جھونکا سا گلستاں سے ہمیں 
میکش اکبر آبادی کے شعر میں نسیم محبوب کو گلے لگا کر عاشق کے پاس آتی ہے تو شرم سے ٹھٹھر جاتی ہے جبکہ صبا کے شعر میں صرف گلستاں سے ہوا کا جھونکا آنے سے دل سلگ اٹھتا ہے۔گلستاں سے ہوا کا آنا محبت ہونے کی علامت ہے۔
غزل میں محبت کا اظہار زبان سے نہیں بلکہ چہرے کے تاثرات اور اشاروں ہی اشاروں میں کی جاتی ہے۔ماہرین لسان البدن کے مطابق
صرف ٦ فیصد ترسیلِ ابلاغ الفاظ کے ذریعے اور ۹۴ فیصد حرکات و سکنات (Body Language)کے ذریعے ہوتا ہے۔بدن کے لسان کے ذریعے جو کچھ کہا جاتا ہے اس میں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہیں کے برابر ہوتی ہے۔اس لئے غزل کے اشعار میں محبوب یا عاشق بدن کے لسان کے ذریعے گفتگو کرتے ہیں تو اس میں عجیب و غریب لطافت اور صداقت کا احساس ہو تا ہے۔صبا اکبر آبادی کی غزلوں میں ایسے اشعار کی کمی نہیں ہے جن میں بدن کے لسان سے کام لیا گیا ہے۔چند شعر ملاحظہ ہوں۔ 
جب کسی نے ان سے پوچھا میرا نام
کچھ نہ بولے، سر جھکا کر رہ گئے
پوچھا جو دل کا حال کسی کی نگاہ نے
اک آہ زیر لب کے سوا کیا جواب تھا
صبا اکبر آبادی آگرے کے رہنے والے تھے لیکن بعد میں پاکستان چلے گئے تھے۔پاکستان میں ایک شاعر کی حیثیت سے اپنا الگ مقام بنا کر ادبی دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کر چکے تھے لیکن اپنے آبائی وطن کی یاد انہیں ہمیشہ ستاتی رہی اسی لئے پاکستان میں انہیں اکثر اجنبیت کا احساس ہو تا رہا جس

کا ذکر انہوں اپنے اشعار میں کیا ہے۔مثلاً ان کا یہ شعر دیکھئے۔
کسے پکارئیے اِن اجنبی فضاؤ ں میں 
نظر اُٹھے تو نظر آشنا نہیں ملتا
دراصل انسان اپنے بچپن کی حسین یادوں کو کبھی بھلا نہیں سکتا ہے کیوں کہ بچپن کی یادوں میں اپنے دوستوں، رشتہ داروں،  چاہنے والوں کے ساتھ گذارے ہوئے پل اور ان پلوں میں بے شمار واقعات و حادثات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بھلانا مشکل ہو تا ہے۔اکثر آنکھیں ان چہروں کو ڈھونڈتی ہیں جن کے ساتھ کئی حسین یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اس لئے صبا کی غزلوں کے بعض اشعار میں جذبہ حب الوطنی ملتا ہے۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
کبھی جو گزرا تھا موسم وہی ہے دل میں صبا
زمانہ ہو گیا ہم کو چمن سے آئے ہوئے
ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیں 
ہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیا
صبا اکبرآبادی کی غزلوں کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے غزل کی روایت کے دائرے میں رہ کر غزل کے دامن میں وسعت پیدا کی ہے لیکن ان کی شاعری میں فلسفے اور تصوف کے بعض مسائل جس طرح در آئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر معمولی شاعر ہیں۔ اس لئے ان کے ناقدین ان کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی فلسفیانہ اور صوفیانہ شاعری کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔انہوں نے غزل کی پرانی علامتوں کا استعمال اگر اپنی غزلوں میں کیا ہے تو ان کے مفہوم کو بدل دیا ہے اور ان علامتوں میں نئی معنویت اور نئی کیفیت پیدا کی ہے۔انہوں نے اساتذہ کے کلام کا اثر قبول کیا ہے اور انہی کے طرز میں شاعری کی ہے تو اس میں ایک نئی فضا پیدا کی ہے۔صبا اکبر آبادی غزل کے فن کی نزاکتوں سے بخوبی واقف تھے لہٰذا ان کے کلام کو پڑھ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک فطری شاعر تھے۔  ان کے ذہن کی روشنی،  روح کی تازگی اور شعلہ احساس، حرف کے پیکر میں ڈھل کر کسی شعلہ رو کی طرح نکھر گئے ہیں جو با کمال شاعر کی پہچان ہے۔
٭٭٭






رابندر ناتھ ٹیگور اور فلسفہ زندگی


ایشیائی ادیبوں، شاعروں مفکروں اورفلسفیوں کے کہکشاں میں رابندر ناتھ ٹیگور ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں۔ ایک ادیب و شاعر کی حیثیت سے ٹیگور بنگالی زبان و ادب کے گوئیٹے مانے جاتے ہیں۔ مغرب کی نظر میں وہ ایک غیر معمولی قومی رہنما اور مغرب میں روحانیت کے مشرقی سفیر تھے۔انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے ہم وطنوں کے دل میں دھیرے دھیرے حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا تھا۔اسی لیے گاندھی جی نے انہیں ایک قد آور قومی نگہبان کے مجسمے سے تشبیہ دی ہے۔وہ انسانیت، آفاقیت اورانسانی اتحاد کی زندہ مثال تھے۔
ویویکا نند نے ہندوستان کے نشاۃِ ثانیہ کو خود آگاہ اور جواں سال بنانے اور مغرب و مشرق کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی تھی تاکہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور ایک دوسرے کی تہذیبی قدروں سے مستفید ہو سکیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے ویویکا نند کے ان دونوں کاموں کو اپنے دیگر پیشرو ں اور ہم عصروں کے مقابلے میں زیادہ پُر زور طریقے سے آگے بڑھایا۔اس اعتبار سے ویویکا نند کو رابندر ناتھ ٹیگور کا پیشرو اور خود رابندر ناتھ ٹیگور کو قدیم و جدید کے درمیان تخلیقی کڑی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ادب اور فن کی روشنی میں نشاۃِ ثانیہ کے اہم پہلوؤں کو آگے بڑھایا اور زندگی کے تمام گوشوں کو مشترکہ فلسفے کی روشنی میں اپنایا جن میں ادب،موسیقی، پینٹنگ،معیشت، سیاست، سماجی اصلاح اور تعلیم اہم ہیں۔ ان معاملات میں انہیں اپنے ہم عصروں سے نظریاتی اختلافات تھے تاہم ان تمام چیزوں سے پیشتر وہ لازماً ایک شاعر اور موسیقار تھے۔وہ ایک ڈرامہ نگار، ایک ناول نگار، ایک کہانی کار، ایک اداکار، ایک ماہرِ تعلیم اور ایک اعلیٰ درجے کے مفکر بھی تھے۔وہ ایک عظیم محبِّ وطن بھی تھے لیکن ان کا جذبہ حبّ الوطنی لاکھوں ہندوستانیوں سے مختلف تھا۔وہ تعمیری اور سماجی کاموں سے زیادہ جڑے رہے جبکہ دوسروں نے اپنے جذبہ حب الوطنی کے اظہار کے لیے نعرہ بازی اور مظاہروں کا سہارا لیا۔اگرچہ ٹیگور نے سیاسی واقعات و حادثات میں تمام عمر پوری دلچسپی لی مگر ذہنی طور پر انہیں سیاست سے نفرت تھی۔اسی لیے وہ کبھی بھی سیاسی تحریکوں سے اپنے آپ کو متحرک طور پر وابستہ نہیں کیا۔البتّہ وہ مختصر عرصے کے لیے تقسیم ہند کے خلاف جو احتجاج کیے جا رہے تھے اس سے جڑے رہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور٧ مئی۱۸۶۱ میں اپنے آبائی مکان جوراسنکو(JORASANKO) میں پیدا ہوئے تھے جو کلکتّے میں گنگا کے کنارے واقع ہے۔ٹیگور کا خاندان ٹیگور فیملی کے نام سے مشہور و معروف تھا جو بیک وقت قدیم و جدید کا سنگم تھا۔کہا جاتا ہے کہ ٨ویں صدی کے وسط میں کنّوج کی راجدھانی سے پانچ برہمنوں کو ہندو سماج کو پاک کرنے کے لیے لایا گیا تھا جسے بد چلن بدہسٹ لا حکومت نے ناپاک کر دیا تھا۔مانا جاتا ہے کہ ٹیگور کے جدِ اول کا نام دَکشا (DAKSHA) تھا۔
ربندر ناتھ ٹیگور کا خاندان قدیم و جدید کا منفرد سنگم تھا۔اس بات کا اندازہ اس سے چلتا ہے کہ ان کے گھر میں ایک طرف اُپنیشدکا مطالعہ ہر روز پابندی سے کیا جاتا تھا اور دوسری جانب اہلِ خانہ ہمیشہ نئے خیالات اور نئی سوچ کے حق میں رہتے تھے جس نے پرانے رسم و رواج کو درکنار کر دیا۔دراصل رابندر ناتھ ٹیگور کے والد دبندر ناتھ ٹیگور اُپنیشد کے ایک بڑے عالم اور قدیم ہندوستانی تہذیب کے استعارہ تھے۔والد کی تمام علمی اور تہذیبی خوبیاں ورثے کے طور پر بیٹے کے اندر منتقل ہو گئیں۔ 
قدیم و جدید کے اس خوشگوار سنگم نے ٹیگور کے فکر کے بنیاد کو پختہ کرنے میں کار آمد ثابت ہوا۔ ماضی کی روشنی میں نئی تہذیب کی تمام خوبیوں کو انہوں نے اپنا یا اور اسے ہندوستانی تہذیب کے سانچے میں ڈھالا۔ٹیگور کی تخلیقات میں شاعری،  موسیقی، کہانیاں، ناول اور ڈراموں کے علاوہ ان کا قائم کردہ وِشوَ بھارتی جیسے علمی اور تہذیبی ادارہ بھی مغرب و مشرق کے خوبصورت امتزاج کا بہترین نمونہ ہے جو آج بھی اپنی معنویت اور محبوبیت کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ٹیگور قدیم ہندوستان کے رشیوں اور منیوں کے نقشِ قدم پر چلتے رہے لیکن اپنا ذہن ہمیشہ کھلا رکھا اور مغرب کی اچھائیوں سے فیضیاب ہو نے کی ترغیب دیتے رہے۔اس لیے انہیں اگر جدید رشی سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہیں ہو گا۔
رابندر ناتھ ٹیگور کا دور ہندوستان کی تاریخ کا عظیم الشان دور تھا۔ اُس دور کی اہمیت اس اعتبار سے اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس دور میں تین بڑی انقلابی تحریکیں ایک ساتھ چلائی جا رہی تھیں جن میں پہلی تحریک ’’برہموں سماج ‘‘کی تحریک تھی جس کے بانی راجہ رام موہن رائے تھے۔دوسری تحریک ’’قومی تحریک ‘‘تھی جس کا مقصد تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان تیزی سے پھیلتے ہوئے اس رجحان کی مخالفت کرنا تھی جس سے متاثر ہو کر ماضی کی قدروں کو ترک کیا جا رہا تھا۔اس تحریک کے ذریعے عوام سے اپنے سوچ میں توازن پیدا کرنے اور ماضی کی قدروں کو بغیر سوچے سمجھے ترک نہ کرنے کے لیے اپیل کی جاتی تھی کیوں کہ صحیح معنوں میں ماضی اپنے دامن میں کچھ ایسی قدریں سمیٹے ہوئے رہتی ہے جو لازوال ہوتی ہیں۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر ٹیگور نے کہا تھا کہ ہمیں اپنی عقل و فکرسے اپنی دنیا تخلیق کرنی چاہئے۔اس کے لیے ہمیں ایسے بنیاد پر اپنی مثالی دنیا کی تخلیق کرنی ہو گی جو بے حد مضبوط ہو۔اور ایسا بنیاد کوئی اور نہیں بلکہ ہندوستان کی شاندار ماضی ہے۔  تیسری سب سے اہم تحریک اصلاحِ زبان و ادب کی تحریک تھی جو بنکم چندر چٹر جی (Bankim Chandra Chatterjee) کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔اس تحریک نے بنگالی ادب میں قدیم مرصع و مسجع اسلوب اور مشکل اور ثقیل ہیئت کو ترک کر کے آسان، سادہ اور سلیس اسلوب ایجاد کیا اور جدید جہت اور ہیئت سے روشناس کرا کر ادبی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔را بندر ناتھ ٹیگور نے بھی بنکم چندر چٹر جی کے اس تحریک سے متاثر ہو کر نہ صرف نثر و نظم کی ہیئت ا ور اسلوب میں نت نئے کامیاب تجربے کیے بلکہ بنگالی نظم و نثر میں نشاۃِ ثانیہ کا آغاز کیا۔
رابندر ناتھ ٹیگور سات سال کی عمر سے اسکول جانے لگے تھے لیکن اسکول کا ماحول اور طالب علمی کا وہ زمانہ ان کے لیے خوشگوار نہیں تھا لہٰذا انہوں نے اسکول میں شرارتیں بھی کی اور اسکول سے کلاس چھوڑ کر بھاگتے بھی رہے۔اسکولی زمانے کی تمام ناخوشگوار یادوں نے انہیں اپنے بچوں اور دوسرے بچوں کی تعلیم کے لیے ایک ایسے اسکول قائم کرنے پر مجبور کر دیا جس کا طرز تعلیم اور ماحول خوشگوار اور منفرد ہو۔لہٰذا انہوں نے ٢٢ دسمبر ۱۹۰۱ میں شانتی نیکیتن میں ایک آشرم قائم کیا جس نام ’’برہم چریہ آشرم‘‘ رکھا گیا۔اس آشرم کو قائم کرنے کا مقصد خوشگوار ماحول میں طالب علموں کو تعلیم دینے کے علاوہ ان کے دماغ کو ایسے خیالات اور سوچ سے بھر نا تھا کہ انسان،انسانوں کی دنیا میں پیدا ہوا ہے لہٰذا ہماری زندگی اور دنیا کے تمام انسانوں کی زندگی کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔اسی لیے آگے چل کراس ادارے کو آفاقی سطح پر شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی۔
والدہ کے انتقال کے بعد رابندر ناتھ ٹیگور کی تعلیم و تربیت ان کے بڑے بھائی جوتی رندرا ٹیگور اور بھابھی کادمبنی نے کی۔بڑے بھائی اور بھابھی کی بے انتہا محبت اور بہترین تربیت نے ان میں فرشتہ جیسی صفت پیدا کی اور ان کے اندر چھپے ہوئے شاعرانہ وموسیقانہ جوہر کو پہچاننے اور پھر اسے بروئے کار لانے میں مدد کی۔اس بات کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ٤١ سال کی ہی عمر میں اپنی پہلی طویل بیانیہ نظم لکھی تھی جو ۱۶ ۹۰۱بدہسٹ لا حکومپنے جذبہ حب الا                                                                                                ٠٠مصرعوں پر مشتمل تھی۔اس کے بعد انہوں نے کبھی بھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اپنی طویل زندگی کو شاعری اور موسیقی، ڈرامہ،  ناول اور کہانیوں کی تخلیق کے لیے وقف کر دیا۔  تخلیقی زندگی کے پہلے سال کی چند تخلیقات شائع نہیں ہو سکیں لیکن ان کی طویل اور متحرک زندگی میں جو تخلیقات منظر عام پر آئیں ان میں ان کی نظمیہ شاعری کے مجموعوں کی تعداد ۲۵ ہیں جبکہ ناولوں کی تعداد ٥، ڈراموں کی تعداد ۱۵ اور مضامین کے مجموعوں کی تعداد ٥ ہے۔انہوں نے اپنی تخلیقات بنگالی اور انگریزی میں ہی لکھی لیکن عالمی سطح پر ان کی تخلیقات نے مقبولیت و محبوبیت حاصل کی جس کی وجہ سے دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ان کے ترجمے کرائے گئے۔  ان تخلیقات میں ’’گیتانجلی ‘‘ قابل ذکر ہے جس کی بدولت انہیں ’’نوبل انعام‘‘ سے نوازا گیا۔ ان کی پوری زندگی میں جو تخلیقات شائع ہوئیں ان کی کل تعداد ۶۷ ہے۔ان کے انتقال کے بعد جو کتابیں شائع ہوئیں ان کی تعداد ۱۸ ہے۔ان کی کتابیں جو بہت مشہور ہوئیں ان میں گیتانجلی کے علاوہ The Gardener, Crescent Moon, The Fruit Gathering, Lover's Gift and Crossing وغیرہ خاص اہمیت کی حامل ہیں۔  شاعری میں Glimpses of Bengal Life اور Hungry Stones اور دوسری کہانیاں جیسے’’ماسی‘‘ وغیرہ بہت مشہور ہوئیں۔ ان کے ڈراموں میں چترا، The King of the Dark Chamber, The Post Office, اور The Cycle of the Springs وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ ان کے ناولوں میں The Home and the World, Gora, اورThe Wreck وغیرہ بے حد مقبول و مشہور ہیں۔ ان تمام تخلیقات کے علاوہ لندن اور Oxford میں دیئے گئے ان کے خطبات بھی قابلِ ذکر ہیں جن میں My Reminiscences, Nationalism, Nationalism, Creative Unity, The Religion of Man اورCrisis of Civilization وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ 
رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیقات کی بنیادی خصوصیات وہ ہیں جن میں انہوں نے انسانی ہمدردی کی بات کی ہے جو انسانی روح پر خوشگوار اور گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انہیں پسندیدگی کی نظر دیکھی گئی اور انہیں آفاقی شہرت بھی حاصل ہوئی اس کے باوجود کہ ان کی تخلیقات ہندوستانی عناصر کی بھینی بھینی خوشبو اور ابتدا تا آخر قومی جذبے سے سرشار ہیں کیوں کہ یہ خالص ہندوستانی نشاۃِ ثانیہ کی پیداوار ہیں۔ ٹیگور نے اپنے ناولوں اور ڈراموں کے جو کردار خلق کیے ہیں وہ انتہائی معمولی درجے کے عام انسان ہیں لیکن ان کے حرکات و سکنات، غموں اور خوشیوں سے غیر معمولی بصیرت انعکاس ہوتا ہے۔
رابندر ناتھ ٹیگور کی شاعری جن چیزوں سے سب سے زیاد ہ اثر انداز ہوئی ان میں اپنیشد اور بدھ مذہب کا گہرا مطالعہ خاص ہے جس نے ان کی شاعری میں اس فلسفے کو جنم دیاجس میں کہا گیا ہے کہ اپنی روح میں اتنی وسعت پیدا کرو کہ دنیا کے تمام انسان اس میں سما جائیں کیوں کہ دنیا کے تمام انسانوں میں جو بنیادی جوہر ہے وہ صرف روح ہے۔ Quantum Physics نے تو اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر مادے میں جو چیز قدر مشترک ہے وہ جوہر ہے۔ اس لیے کائنات میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے انسانی رشتے قائم نہ ہو سکیں اسی لیے فارسی کے ایک شاعر مرزا عبدالقادر بیدل نے کہا ہے کہ میرا دل ہی چھوٹا ہے ورنہ تمام رنگینیوں کے ساتھ کائنات کو اپنے سینے میں بھر لیتا۔ شعر ملاحظہ لیجئے:
دل اگر می داشت وسعت بے نشاں بود ایں چمن
رنگِ مے بیروں نشست از بسکہ مینا تنگ بود
(اگر دل میں کچھ گنجائش ہوتی تو اس باغ یعنی دنیا کا نشان بھی نہ ملتا۔مینا کے تنگ ہونے کی وجہ سے شراب کا رنگ باہر رہ گیا۔شراب کا رنگ استعارہ ہے دنیا کی رونق کے لیے اور مینا سے تشبیہ دی ہے اپنے دل کو)
اپنیشد اور بدھ مذہب کی تعلیمات کے بعد ویشنَو مت کا بھی ان کی شاعری پر گہرا اثر ہے۔ان کی شاعری میں جو سوز و گداز کی کیفیت اور بے پناہ محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے وہ وَیشنَو مت کی دین ہے۔ کبیر کی تعلیمات اور ان کے فلسفے کا اثر بھی ان کی شاعری پڑا تھا جس کی وجہ سے انہوں اسلام اور ہندو مذہب میں در آئے سخت رویے کی مخالفت کی تھی۔ ان سب کے علاوہ ان کی شاعری کو ’’بال سنگیت‘‘ Baul songs " " میں پائی جانے والی سادگی، فکر میں گہرائی اور درد سے بھری آواز نے بھی بے حد متاثر کیا۔بال سنگیت دراصل بنگال کے گاؤ ں گاؤ ں میں گھوم گھوم کر گائے جانے والی وہ علاقائی سنگیت ہے جو انسانی ہمدردی اور آپسی محبت کا درس دیتا ہے۔اس سنگیت سے جو پیغام ملتا ہے اس کے مطابق خدا انسان کے دل میں رہتا ہے اس لیے رابندر ناتھ ٹیگور کا ماننا ہے کہ انسانوں سے نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انسان ہی وہ اصل خدا ہے جو محبت اور خدمت کیے جانے کے لائق ہے۔متذکرہ تمام اثرات نے انسانی تاریخ یعنی انسانی کائنات کی تخلیق کی تاریخ کے تئیں عزت اور محبت کے جذبے سے ٹیگور کو سرشار کر دیا۔
انگریزوں کی آزادہ روی نے بھی رابندر ناتھ ٹیگور کو بے حد متاثر کیا تھا۔وہ یوروپ کے اعلیٰ تمدن اور بے شمار سائنسی ترقی کی تحسین کرتے تھے۔ انگریزوں کے ذریعے لائی ہوئی نئی تہذیب اور نئے علوم و فنون سے مستفید ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔انگریز مصنفوں خاص کر ورڈسورتھ اور شیلی جیسے شاعروں کی تخلیقات بھی انہیں پسند تھیں کیوں کہ ان میں انسانی محبت، انصاف اور انسان کی آزادی جیسے موضوعات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ:
"When I was young we were all full of admiration for Europe, with its high civilization and its vast scientific progress, and especially for England which had brought this knowledge to our doors. We had come to know England through her glorious literature, which had brought a new inspiration into our young lives. The English authors, whose books and poems we studied, were full of love for humanity, justice and freedom. This great literary tradition had come down to us from the revolution period. We felt its power in Wordsworth's sonnets about human liberty. We gloried in it even in the immature productions of Shelley.....All this fired our youthful imaginations. We believed with all our simple faith that even if we rebelled against foreign rule, we should have the sympathy of the west."
ر اجہ رام موہن رائے اور برہمو سماج کی تعلیمات نے بھی ان کو متاثر کیا تھا۔ان دونوں تعلیمات کے زیرِ اثر ان کے خیالات اور فکر میں وسعت پیدا ہوئی اور انہوں نے مغربی تہذیب کی اچھائیوں کو اپنانا ضروری سمجھا۔
’’اتحادِ  زندگی ‘‘(Oneness)کے تصور کو انہوں نے اپنی تخلیق اور فکر کی بنیاد بنا یا کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ انسان اور فطرتNature) ( کے درمیان ایک قریبی رشتہ ہے۔ اس کا اظہار انہوں نے اپنی ایک نظم میں بھی کیا ہے۔نظم کا یہ حصہ ملاحظہ کیجئے۔
My heart is full, full of joy, no one is out side, all are within my heart.
ایک دوسری نظم میں وہ کہتے ہیں :
Come brothers, come, plunge into this stream of life, to be carried away with the world current in company with the sun, moon and stars.
دراصل ان کی نظموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف انسان اور کائناتِ فطرت کے گہرے اتحاد کو شدت سے محسوس کرتے تھے بلکہ انسان اور خالق کائنات کے درمیان بھی گہرے اتحاد کو محسوس کرتے تھے۔’’اتحاد زندگی‘‘ کے تصور سے شاعر کا یہ اعتقاد اُبھرتا ہے کہ تمام زندگی ایک ہے کیوں کہ خدا بھی ایک ہے۔ اس لیے انسان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کا جز سمجھے۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی تخلیقات میں روشنی کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے کیوں کہ روشنی ان کے یہاں علم و آگہی کی علامت ہے۔ وہ اپنے ادراک و آگہی کی پختگی اور تصور کی بلند پروازی کے لیے دعا مانگتے تھے۔
"They stand with uplifted eyes thirsty after light, lead them to light My Lord."
(The Times of India, The speaking Tree)
رابندر ناتھ ٹیگور کی نظم کا یہ ٹکڑا بھی ملاحظہ کیجئے :
Light my light, the world filling light, the eye kissing light, heart sweetening light." "
(The Times of India, The speaking Tree)
رابندر ناتھ ٹیگور کے فلسفے کا محرک سورج بھی ہے۔ان کے یہاں روحانی حقیقت کا ادراک سورج کی شعاعوں کے ذریعہ ہوا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ:
"One day while I stood watching at early dawn the Sun sending out its rays from behind the trees, I suddenly felt as if some ancient mist had in a moment lifted from my sight and the morning light on the face of the world revealed an inner radiance of joy. The invisible screen of the common place was removed from all things and all of mankind and this ultimate significance was intensified in my mind and this is the definition of beauty."
(The Times of India, Soma Chakravarty , speaking tree)
رابندر ناتھ ٹیگور کا مندرجہ بالا انگریزی عبارت میں روشنی کی اہمیت اور افادیت پر زور دیا گیا ہے کیوں کہ یہ وہ روشنی ہے جس سے آنکھوں پر پڑے ہوے قدیم دھند اور عام جگہوں کی ظلمت ختم ہو جاتی ہیں اور دل و دماغ منور ہو جا تے ہیں جس کی وجہ سے معنی و مفہوم اور ادراک کااحساس شدت کے ساتھ ہوتا ہے جو حسن کی صحیح تعریف ہے۔فراق گورکھ پوری نے اپنے کسی مضمون لکھا ہے کہ کسی بھی شے کو دیکھ کر احساس کی شدّت جتنی زیادہ تیز ہو گی وہ شے اتنی ہی زیادہ خوبصورت نظر آئے گی۔بہر حال ٹیگور کے مندرجہ بالا عبارت میں آنکھوں پر پڑے قدیم دھند اور ظلمت کے پردے جاہلیت کی علامت ہے جبکہ نور یا روشنی عقل و آگہی کی علامت ہے لیکن ان دونوں میں گہری معنویت اور فلسفہ بھی چھپا ہوا ہے جسے اشراقی فلسفے کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔اس فلسفے کے مطابق نور و ظلمت دو الگ چیزیں نہیں ہیں اور نہ یہ دونوں مختلف قائم بالذات ماخذ سے ظہور میں نہیں آئی ہیں۔ واضح رہے کہ قدیم ایرانی فلسفی زرتشی کے پیروکاروں کا خیال تھا کہ نورو ظلمت کے دو مستقل ماخذ ہیں۔ دراصل زرتشی مسلک کے ماننے والے ثنویت پر اعتقاد ر نہیں رکھتے تھے اس لیے ان کا یہ خیال تھا کہ ایک سے صرف ایک ہی صادر ہو سکتا ہے۔اسی بنیا د پر انہوں نے نور و ظلمت کے دو مختلف ماخذ قرار دیا تھا جسے بعد میں اشراقی فلسفیوں نے اسے بے بنیاد بتایا جو صحیح ہے۔ اشراقیوں کا کہنا تھا کہ نور کے اثبات میں ہی ظلمت کی نفی پوشیدہ ہے۔دراصل نور خود کو قائم رکھنے کے لیے ظلمت کو منور کر دیتا ہے۔ٹیگور نے اپنے اقتباس میں جس نور کی بات کی ہے وہ در اصل ’’نور مجرد‘‘ یعنی ’’عقل کلی‘‘ ہے۔ایک مادی جسم ظلمت اور نامعلوم جوہر کا مرکب ہے جس کو ’’نور مجرد‘‘ منور کر دیتا ہے۔ اس سلسلے میں اشراقی فلسفیوں کا خیال ہے کہ :
’’انفرادی عقل یا جسے روح بھی کہا جا تا ہے نور اول کی ایک دھندلی سی تصویر یا عکس بعید ہے۔ نور مجرد خود کو بالذات جانتا ہے اور کسی’’غیر انا ‘‘ کا پابند نہیں ہوتا جو اس کے وجود کو منکشف کر سکے۔شعور یا علم ذات نور مجرد کا جوہر ہے۔یہی نور مجرد کو نفی نور سے متمیز کرتا ہے۔‘‘
ٹیگور نے کہا تھا کہ خدا کے متعلق معلومات حاصل کرنا اور اپنے وجود کو خدا کا جز سمجھنا ہی انسان کا اصل اور آخری مقصد ہو نا چاہئے۔  اس عظیم مقصد کو دنیاوی مقاصد کا زائدہ نہیں سمجھناچاہئے۔ٹیگور نے اپنی نظموں میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ خدمت خلق اور عشق خلق کے ذریعے خدا کے سامنے اپنے آپ کوسپرد کر دیں۔  اسلامی نظرئے کے مطابق بھی عبادت کا مطلب ہے خدا کے سامنے اپنے آپ کو سپرد کرنا اور خدا کے سامنے خود سپردگی سے مراد ہے کہ انسان کے جسم کا ہر جز اوراس کے علاوہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کے مخلوق کی خدمت کے لیے وقف ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری لا محدود اور غیر فانی خوشیاں قوم و ملک اور انسانیت کی خدمت میں مضمر ہیں۔  رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی اپنی نظموں میں جا بجا یہ کہا ہے کہ ایک انسان کی زندگی تکالیف سے بھر جائیگی اگر وہ مادی دنیا کی آرزو ؤں سے اپنے آپ کو الگ نہ کر لے۔صوفیا کرام کا بھی یہی خیال ہے کہ انسان جب مادی دنیا کی تمام آرزو ں سے بیگانہ ہو جائے تو وہ تمام غموں سے نجات پا لیتا ہے۔ دراصل ٹیگور اپنی تخلیقات میں دنیا وی چیزوں کو حاصل کرنے کی آرزو ں کو ترک کرنے کا پیغام دیا ہے۔ ان کی تصانیف سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ صرف اپنے ملک اور اپنی سر زمین سے محبت کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ صرف اپنے ملک کا شہری نہیں بلکہ پوری کائنات کا شہری ہے اس لیے اسے پوری کائنات سے اتنی ہی محبت کرنی چاہئے جتنی کہ وہ اپنے ملک اور اپنی سر زمین سے کرتا ہے۔آفاقیت یا پوری دنیا کے لیے اتحاد کے فلسفے کے ذریعے انہوں نے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا تھا جو انسانی استحصال اور کمزور ملک پر طاقتور ملک کے غلبے سے پاک صاف ہو۔
۱۹ویں صدی کے آخر تک رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے آپ کو ادب کے لیے وقف کر دیا تھا۔سماجی اور سیاسی تقاضے اور ان سے جڑے سوالات نے انہیں اپنی طرف بہت زیادہ متوجہ نہیں کیا لیکن انیسویں صدی کے خاتمے کے بعد انہوں نے اپنے ادبی کاموں کو بہت حد تک کم کر کے دھیرے دھیرے قومی رہنما کا رول ادا .کرنے لگے
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہت کہ رابندر ناتھ ٹیگور صرف ایک ادبی اورسماجی شخصیت کے مالک نہیں تھے بلکہ وہ ایک محب وطن بھی تھے۔وہ کبھی بھی سیاست داں نہیں رہے لیکن وہ ایک سیاسی مفکر ضرور تھے۔انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ہمارے سماجی تنظیم میں فرد کو ذات پات کے بنا پر نظر انداز کر کے ہندوستان اپنی آزادی کھو چکا ہے۔اس لیے انہوں نے ہمیشہ قومی فلاح و بہبود کے لیے مختلف طرح کی خدمات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔انہوں نے اپنے ملک سے بے پناہ محبت کی جس کا انعکاس ان کی کئی نظموں میں موجود ہے۔ان کی مشہور نظم ’’جَنَ گَنَ من ادھینا یک ‘‘ قومی ترانہ بنی۔ان کی حب الوطنی الگ نوعیت کی ہے۔انسانیت کے لیے ان کے دل میں محبت کا جو جذبہ تھا اس نے انہیں اپنے ملک و قوم سے بھی محبت کرنا سکھایا اور ساتھ ہی پوری دنیا میں امن پیدا کرنے کا جذبہ بھی ان کے اندر پیدا کیا۔اس طرح وہ انسانیت کے پیغامبر بنے۔انسان اور انسان کے درمیان بہتر مفاہمت کے لیے انہوں نے عوام کے اندر استعداد پیدا کر کے انسانیت کی خدمت کرنے کی کوشش کی۔وہ ہندوستان میں سماج کے مختلف نسلوں کو مدغم کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب و مشرق کو بھی متحد کرنا چاہتے تھے۔ انسانی اتحاد ان کی زندگی کا آخری مقصد تھا۔آپسی مفاہمت اور تعاون کے ذریعے دنیا بھر میں نوعِ انسان کی اتحاد کی کوشش اور انسان کی قدر و عظمت کے اعتراف پر زور دے کر انہوں نے انسانیت کی بہت بڑی خدمت کی۔یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک شاعر اور ادبی شخصیت کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ایک انسان دوست کی حیثیت سے پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔
٭٭٭



نظمیہ شاعری میں سورج کی اساطیری اور تلمیحی معنویت





کائنات میں بے شمار ایسی اشیاء اور موجودات ہیں جو صدیوں سے ہماری زندگی،  سماج اور تہذیب کو متاثر کرتی رہی ہیں۔  ادب میں بھی ان کا استعمال کہیں لغوی معنوں میں تو کہیں علامت اور استعارے کے طور پر ہوتا رہا ہے۔ ادب میں استعارتی اور علامتی اظہار کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔  اردو شاعری میں بھی علامتی اظہار کے کئی شیڈس ملتے ہیں۔ علویات میں سورج،  چاند اور کواکب دنیا کے وجود میں آنے سے لے کر تا قیامت کسی نہ کسی شکل میں ہماری زندگی کو اثر انداز کرتے رہیں گے۔ ان میں سورج کئی لحاظ سے اہم ہے اسی لیے نظمیہ شاعری میں سورج کا استعمال بطور علامت اور استعارہ ہوتا رہا ہے۔سورج کو اس کے مختلف منازل اور مختلف صورتِ حال کے تحت خوشی، عیش و عشرت، طاقت،  ترقی، علم و آگہی، روشنی کا سر چشمہ، خدااورسیارے وغیرہ کی علامات کے طور پر بہ کثرت استعمال کیا گیا ہے۔اس لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آخر سورج کی اہمیت ہماری تاریخ، تہذیب، معاشرہ اور زندگی میں کیا ہے؟سائنسی نظریے سے اس کا جواب تلاش کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ زرعی پیداوار کے اعتبار سے سورج بہت اہمیت کا حامل ہے۔کیوں کہ سورج کی روشنی سے دریا میں بخارات پیدا ہوتے ہیں اور وہی بخارات کرّہ زمہریر تک پہنچ کر ابر بن جاتے ہیں اور ہوا ابر کو دور دور تک لے جاتی ہے تب بارش ہوتی ہے اور یہی بارش زمین کو نمو عطا کرتی ہے،نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بخارات کو سورج کی روشنی پکاتی ہے اور اس سے سونا، چاندی، لوہا، شیشہ، یاقوت، اور ہیرے جیسے اجساد اور معدنیات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ درخت بھی اگتے ہیں اور نباتات پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے۔
سورج سب ستاروں میں بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ فلک چہارم پر واقع ہے اگر یہ فلک ثوابت میں ہوتا تو حرارت اور برودت دونوں کا اثر اشیا پر نمایاں ہوتا اور اعتدال اور توازن قائم نہ رہ پاتا۔اس لیے سورج مسلسل سفر میں رہتا ہے اور مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہوتا ہے۔اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’’والشمسُ لِمستقرِلہا‘‘۔سورج کے مختلف کردار پر بحث کرنے سے پہلے یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ ہندو مائیتھو لوجی میں سورج سے متعلق کیا کہا گیا ہے؟
ویدک اشلوکوں میں سورج کو ’’سُریا‘‘ اور ’’ساوتری‘‘ کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔کبھی کبھی ان دونوں ناموں کو ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے تو کبھی ایک دوسرے کے بدل کے طور پر۔یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ صبح اور شام میں جو سورج نظر آتا ہے اسے ’’سُریا‘‘ کہا جاتا ہے اور جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو اسے ’’ساوتری ‘‘کہتے ہیں۔  کہا جاتا ہے کہ ساوتری کی سنہری آنکھیں،  سنہرے ہاتھ، سنہری زبان ہوتی ہے۔یہ بگھی کی سواری کرتا ہے جسے سفید پاؤ ں والے چمکیلے گھوڑے کھینچتے ہیں۔ 
ہندوستان کی قدیم ترین ہندو و ں کی مذہبی کتابوں میں سورج کو ’’برہم‘‘ کی علامت مانا گیا ہے۔سورج کائنات کی تخلیق کرتا ہے اور اسے تباہ بھی کرتا ہے۔یہ عمل کی بھی علامت ہے،  یہ مذہب کی بنیاد ہے اور علم کا بھی سر چشمہ ہے۔رِگ وید میں ’’سورج‘‘ کو تمام دیوتاؤ ں کی آنکھ کہا گیا ہے۔’’سورج‘‘ کو بارش کرانے والا دیوتا بھی سمجھا جاتا ہے۔سورج کو آفاقی حقیقت کی بھی علامت مانا جاتا ہے۔اسے ہمیشہ نیا اور جوان رہنے والا اداکار بھی کہا جاتا ہے۔شاید اسی لیے ن م راشد نے اپنی ایک نظم میں یہ کہا ہے کہ ’’مثالِ خورشید و ماہ و انجم مری محبت جواں رہے گی۔‘‘
وید کا مقدس ترین منتر ’’گائتری‘‘ جسے ویدوں کی ماں بھی کہا جاتا ہے، کی تلاوت طلوع آفتاب کے وقت عقیدت مند برہمن کرتے ہیں جس میں سورج کو مخاطب کر کے روحانی معجزاتی طاقت کے حصول کے لیے دعا مانگی جاتی ہے کیوں کہ آفتاب کے اوج سے ہی تمام حیوانات کے بدن میں قوت و نشو پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کے نزول سے انسانی اجسام میں اضمحلال پیدا ہوتا ہے۔ اس منتر کا انگریزی ترجمہ Indian Wisdom',p.20 میں اس طرح درج ہے۔
Let us meditate on the excellent glory of the Divine;
May He enlighten (or stimulate) our understandings.
سائنسی نظریے سے دیکھا جائے تو زرعی پیداوار میں Direct یا Indirect طور پر سورج کا کردار بہت اہم ہے۔مثلاً زرعی پیداوار کے لیے زمین،روشنی،  ہوا اور بارش بے حد ضروری ہے۔ان چاروں عناصر(زمین،روشنی،ہوا اور پانی) کے وجود میں آنے کی سائنسی اور جغرافیائی وجہ سورج ہی ہے۔ اسی لیے W. J. Wilkingsنے برہم پُران کے حوالے سے سورج کو "Mihira" یعنی(وہ جو زمین کو پانی دیتا ہے) "He who waters the earth" اور Vivaswat یعنی (وہ جو پُر نور ہو) "The Radiant one." کہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے قدیم ترین تمدّن میسوپوٹامیا اور مصری تمدّن کی ابتدا سے ہی سورج کو غلہ پیدا کرنے والااورسکھ پہنچانے والا ’’را‘‘ دیوتا سمجھاجاتا تھا۔
فارسی اور اردو شاعری میں انسان کو ایک ذرّہ،  مجبور و ناتواں تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن علامہ اقبال نے مردِ مومن کا تصّور پیش کر کے انسان کے احساسِ کمتری کو دُور کیا۔  اس کے بعد اردو شاعری میں انسان کو مٹی کا نہیں بلکہ خدا کا ذرّہ سمجھا جانے لگا۔ اس ضمن میں کئی شعرا کی نظمیں مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں جن میں شہاب جعفری کی نظمیں تو اس تصور سے پوری طرح معمور ہیں۔ انہوں نے اپنی بعض نظموں میں سورج کوخداسے تعبیر کیا ہے اور انسان کو سورج کا ذرّہ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اُوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے مطابق سورج کو ‘‘برہما‘‘ کی علامت مانا گیا ہے جو اس کائنات کی تخلیق کرتا ہے، اسے اپنے اختیار میں رکھتا ہے اور اسے تباہ بھی کرتا ہے۔ اس قول کو مد نظر رکھتے ہوئے شہاب جعفری کی ایک نظم ’’ذرّے کی موت‘‘ کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
اپنے سورج سے بچھڑا ہوا تارہ ہوں 
اپنی فطرت سے بکھرا ہوا پا رہ ہوں 
اسی نظم ’’ذرّے کی موت‘‘ میں ایک جگہ انسان کو سیارہ سے تعبیر کیا ہے جو سورج سے ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہے۔ جس سے نظامِ کشش کا توازن برقرار نہیں رہنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔انسان کو ایک سیارہ قرار دینے سے جہاں انسان کی عظمت اور اس کے طاقتور وجود کا احساس ہوتا ہے وہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شہاب جعفری سائنسی رموز سے بھی آشنا ہیں۔ 

میں نظامِ کشش سے جدا ہو گیا
چاند سے کس قدر فاصلہ ہو گیا
’’
چاند سے کس قدر فاصلہ ہو گیا ہے‘‘ کہہ کر شاعر نے فلک تدویر کے قمر کی کشش اور آفتاب سے اکتسابِ نور اور پوری فلکی ماہیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔چاند تاریک ہے اور آفتاب سے روبرو ہو کر ہی روشن رہتا ہے۔یہ ایک نظامِ کشش ہے کہ وہ تاریک سیارہ ہوتے ہوئے بھی روشن رہتا ہے۔

اختر الا یمان کی مشہور بیانیہ نظم ’’ایک لڑکا‘‘ جو شاعر کا ہم زاد ہے اور جس میں بیانیہ پوری طرح سے تحلیل ہو گیا ہے، کے دوسرے بند سے شہاب جعفری کے مندرجہ بالا خیالات کی تائید ہوتی ہے۔ اس بند کا یہ حصہ دیکھیے:

خدائے عزّ و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں 
مجھے اقرار ہے اس نے زمین کو ایسے پھیلایا
کہ جیسے بستر کمخواب ہو، دیبا و مخمل ہو
مجھے اقرار ہے، یہ خیمہ افلاک کا سایا
اسی کی بخششیں ہیں،  اس نے سورج، چاند،تاروں کو
فضاؤ ں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کی

متذکرہ بند کے مصرعوں میں شاعر نے خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کیا ہے جن میں سورہ رحمٰن کی پرچھائیاں موجود ہیں لیکن آخری مصرعے میں یہ کہہ کر کہ’’اس نے سورج، چاند، تاروں کو فضاؤ ں میں سنوارا ایک حد فاصل مقرر کی‘‘، سورج، چاند اور تاروں کو سیارے قرار دیا ہے اور فلکیاتی نظام کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
علمِ نجوم میں سورج کو تمام سیاروں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔علمِ نجوم کے مطابق نو سیارے ہیں اور ان سیاروں کی گردش ہی دنیا میں انسان کی تقدیر بناتی اور بگاڑتی ہے۔ان سیاروں میں سورج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ تمام سیارے سورج سے ہی طاقت حاصل کرتے ہیں اور نفع و نقصان پہنچاتے ہیں۔ برہم پوران کے مطابق سورج کے بارہ نام ہیں جن میں W.J.Wilkins کے مطابق ایک نامGrahapati یعنی"The Lord of the stars." بھی ہے۔
ن م راشد نے اپنی ایک علامتی نظم ’’اندھا جنگل ‘‘میں سورج کو علم اور کاتب تقدیر کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے جبکہ اندھا جنگل ظلمت کا مرکز ہے۔اس نظم کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں :

جس جنگل میں سورج درّانہ در آیا ہے
پتھر ہے وہ جنگل، پتھر اس کے باسی بھی
دیو نے لے لی ان سے چھونے تک کی شکتی بھی
آفت دیکھی ایسی بھی؟
پہلے مصرعے میں جنگل ظلمت کی علامت ہے جبکہ سورج روشنی کی علامت ہے۔شاعر نے دو سرے مصرعے میں جنگل اور جنگل کے باسی کو پتھر قرار دے کر یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ یہ دنیا ایک اندھیرے جنگل کی طرح ہے جہاں ہنوز علم کی روشنی نہیں پڑی۔ اسی لیے یہاں کے انسان بھی پتھر کی طرح بے حس اور بے جان ہیں۔ اسی بند کے مندرجہ ذیل مصرعوں میں شاعر نے سورج کی کرنوں کو زندگی بخشنے والی شے سے تعبیر کیا ہے۔

جن پیڑوں پر سورج نے ڈالیں اپنی کرنیں 
وہ صدیوں کے اندھیرے پیڑ ہیں اندھے جنگل میں 
آخر آنکھیں کیسے ان کو مل جائیں پل میں 
یارا ہے کا جل میں ؟
کرنیں پھر بھی کتنی دھنی ہیں، کتنی دریا دل
چھاپ رہی ہیں مردہ پتوں ہی پر تصویریں 

ان مصرعوں میں اندھا جنگل مرکز ظلمت ہے اور مردہ پتّے ان انسانوں کی علامت ہے جن پر نہ علم کی روشنی کا کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ تقدیر بدلنے والے ستاروں کا۔
ن م راشد نے سورج کو مشرقی تہذیب کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ ان کی ایک نظم ’’ظلمِ رنگ‘‘ جس میں امتیازِ رنگ و نسل کی وجہ سے مغرب و مشرق میں جو دوریاں اور نفرتیں پیدا ہو گئی ہیں، ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مغربی تہذیب پر مشرقی تہذیب کو فوقیت دی ہے۔ اس نظم کے یہ مصرعے ملاحظہ کیجیے:

مگر وہ ہاتھ جن کا بخت،
مشرق کی جواں سورج کی تابانی
کبھی ان نرم و نازک، برف پروردہ حسین باہوں 
کو چھو جائیں، 
محبت کی مکیں گاہوں کو چھو جائیں 

شاعر نے ان مصرعوں میں مغربی تہذیب پر مشرقی تہذیب کے تفوق کی بات اس لیے کی ہے کہ مشرقی تہذیب کی بنیاد مذہب پر ہے جو محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔
راشد کی ایک اور نظم ’’ایک زمزمے کا ہاتھ‘‘ میں بھی سورج کو بطور علامت استعمال کیا گیا ہے۔ اس نظم میں زمزمے کا ہاتھ یعنی وہ ہاتھ جو دعا کے لیے یا دعا دینے کے لیے اٹھتا ہو،پر زور دیا گیا ہے۔ شاعر نے اس ہاتھ کی اہمیت اور افادیت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی کہا ہے کہ اس ہاتھ میں شمع کی لرزش ہے جو شاہراہ پر روشنی دکھاتی ہے، کبھی اسے روٹی کمانے والا ہاتھ اور زندگی کا اشارہ کہا ہے تو کبھی اسے جام اٹھانے والا ہاتھ کہا ہے جو خوشی کی علامت ہے۔اس ہاتھ کو غم زدہ کے آنسو پوچھنے والا ہاتھ بھی کہا ہے۔آخر میں اس ہاتھ کو سورج کا جز قرار دے کر اسے عبادت کے لائق قرار دے دیا ہے۔اس
نظم کے یہ مصرعے ملاحظہ کیجیے:

افسوس کہ دہلیز پر
اک عشق کہن سال پڑا ہے
اس عشق کے سوکھے ہوئے چہرے
پہ ڈھلکتے ہوئے آنسو
اس ہاتھ سے پونچھیں 
یہ ہاتھ ہے وہ ہاتھ
جو سورج سے گرا ہے
ہم سامنے اس کے جھک جائیں  دُعا میں 
کہ یہی زندگی و مرگ کی ہر دھوپ میں 
ہر چھاؤ ں میں 
الفاظ و معنی کے نئے وصل کا پیغام بنے گا

یہاں سورج روشنی کے مرکز اور بلندی کے علاوہ خدا کی بھی علامت ہے جو بڑا ہی رحیم و کریم ہے۔متذکرہ نظم میں شاعر نے یہ کہہ کر کہ ’’یہ ہاتھ ہے وہ ہاتھ، جو سورج سے گرا ہے،ہم سامنے اس کے، جھک جائیں دعا میں ‘‘ سورج کے اُس اساطیری کردار کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ یہ بگھی کی سواری کرتا ہے جسے سفید پاؤ ں والے چمکیلے گھوڑے کھینچتے ہیں، وہ زمین کو روشن کرتا ہے،اس کے سنہرے ہاتھ دعا دینے کے لیے پھیلے رہتے ہیں۔ 
ن م راشد نے سورج کو بلند مرتبہ اور جاہ جلال کے استعارے کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔اپنی ایک نظم ’’شباب گریزاں ‘‘ میں دنیا کی بے ثباتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

میں اک تازہ وارد ستارہ سہی،
جانتا ہوں کہ، اس آسماں پر
بہت چاند،  سورج، ستارے اُبھر کر
جو اک بار ڈوبے تو پھر اُبھرے نہیں 
یہاں آسماں،  چاند، سورج اورستارے اُن انسانوں کی علامات ہیں جو اپنی طاقت اور دولت کی بدولت پوری دنیا پر حکومت کرتے آئے ہیں لیکن وقت کی گردش نے صفحہ ہستی سے ایسے لوگوں کا نام و نشان تک مٹا دیا۔
گوہر نوشاہی نے بھی اپنی ایک نظم’’سانپ آ کاٹ مجھے‘‘ میں انسان کو بے بس مجبور، ناتواں اور مفلس کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے جبکہ سورج کو بلندی اور دولت کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے اس نظم میں شاعر نے تذلیل ہونے سے مر جانا بہتر سمجھتا ہے۔چند مصرعے ملاحظہ ہوں۔ 
شہر کے اُونچے مکانوں پہ چمکتا سورج
مجھ سے کہتا ہے کہ تو ننگا ہے
اور میری روح مجھے کہتی ہے:
جسم کو ڈھانک، مری شہر میں تذلیل نہ کر
’’شہر کے اُونچے مکانوں پر چمکتا سورج‘‘ شان و شوکت اور دولت کی علامت ہے جو ہمیشہ غریبوں کو نیچی نظر سے دیکھتی ہے۔اس نظم میں شاعر نے دولت مندوں پر طنز اور مفلسوں پر اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔
ن م راشد نے اپنی کئی نظموں میں ’’سورج‘‘ کو ظلم و ستم کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔اپنی ایک نظم ’’نیا آدمی‘‘ میں ایک خاص ماحول پس منظر میں ایک سین ابھارا ہے۔ پھر جیسے پردہ گرتا ہے اور کوئی نیا منظر کسی نئے پس منظر میں پھر ابھرتا ہے جس سے اس نظم میں ڈرامائی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔اسی ڈرامائی انداز میں سورج کے اساطیری کردار کا رول نظم کے ان مصرعوں میں ملاحظہ کیجیے:

روایت،جنازہ
خدا اپنے سورج کی چھتری کے نیچے کھڑا
نالہ کرتا ہوا
جنازے کے ہمراہ چلتے ہوئے
گھر کے لوگوں کا شور و شغب
ریا کار لوگوں کو شور و شغب کا سرور
یہاں ’’سورج ‘‘ تباہ و برباد کرنے والے آلات کی علامت ہے جسے طاقتور ملک اپنے ملک کی حفاظت کا سامان سمجھتے ہیں لیکن کمزور ملکوں کے لیے یہ تباہ کن ہتھیار ہیں۔ دوسرے مصرعے میں ’’سورج کی چھتری‘‘ سے ذہن میدان حشر کی طرف بھی منتقل ہو جاتا ہے جس کے متعلق قرآن شریف میں کہا گیا ہے کہ سورج سوا نیزے پر ہو گا، آسمان زمین سے مل جائے گا اور خدا کو آٹھویں عرش کے ساتھ نیچے لایا جائے گا اور خدا کے سامنے سبھی کے ا عمال کا حساب کتاب ہو گا۔
جدید نظم نگار شعرا میں میرا جی نے سورج کو بطور علامت تقریباًپچیس نظموں میں استعمال کیا ہے۔ان نظموں میں آمدِ صبح،دن کے روپ میں رات کی کہانی،کتھک،حرامی، سوریہ پوجا، دیو مالا سے سائنس تک،اجنتا کے غار، انجام، دور کنارہ، ایک شکاری، ایک شکار، اے لڑکی، لذت کی بیچارگی، ایک شام کی کہانی،شرابی، کب جوگ مٹے گا تیرا،جیون آس کا دھوکا گیانی،دل دامن کا متوالا ہے، دل میں جس کی دھن ہے سمائی وغیرہ۔ اس کے علاوہ میرا جی نے انگریزی، فرانسیسی اور روسی ادب کے شعرا کی متعدد نظموں کے ترجمے کیے ہیں جن میں سورج کا استعمال بطور علامت دس مرتبہ کیا گیا ہے۔
میرا جی کی ایک نظم ’’آمدِ صبح‘‘ میں رات محبوبہ،چاند،عاشق اور ستارے رات کے دوپٹّے کااستعارہ ہے لیکن ’’سورج‘‘ رات اور چاند کے درمیان کی محبت کا خاتم ہے یعنی villain کی علامت ہے۔اس نظم کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے۔

ہے دل میں چاند کے، جذبہ محبت کا
چھپاتا ہے وہ غیروں کی نگاہوں سے اڑھا کر اک دوپٹّہ اس کو تاروں کا
مگر چنچل ہے رانی رات کی بے حد

پرندے چہچہاتے ہیں، 
وہ لو، سورج بھی اپنی سیج پر اب جاگ اٹھا ہے،
گئی رات اور دن آیا

پہلے تینوں مصرعوں میں چاند اور رات کو مجسم قرار دے کر چاند کے جذبہ محبت کو ظاہر کرنے کے لیے شاعر نے کہا ہے کہ چاند اپنے محبوبہ یعنی رات کو غیروں کی نگاہوں سے چھپانے کے لیے تاروں کے دوپٹّے سے اسے ڈھک دیا ہے۔تاروں کے دوپٹے سے ڈھکنے کا خیال انتہائی نازک ہے اور اس عمل میں محبت کی سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔لیکن سورج کو اپنے اسٹیج پر آنے سے چاند،رات،اور ان دونوں کی محبت کا وجود پل بھر میں ختم ہو جاتا ہے یعنی سورج ظلم کی علامت ہے۔اسی طرح شاعر نے ایک دوسری نظم ’’دن کے روپ میں رات کی کہانی‘‘ میں رات کو دن پر ترجیح دی ہے کیوں کہ رات میں سایے نہیں ہوتے ہیں۔ میرا جی کے یہاں سایے دراصل دل کا غم، دل کی خلش اور دل کی وہ تمنائیں ہیں جو خاموش رہتے ہیں مگر سور ج کے آ جانے سے رات کی سیاہی مٹ جاتی ہے اور چاروں طرف ہر چیز کے سایے ابھرنے لگتے ہیں۔  اسی لیے شاعر یہ نہیں چاہتا ہے کہ سورج کبھی نکلے اور اگر نکل بھی جائے تو شاعر دعا کرتا ہے کہ گھٹا چھا جائے۔اس نظم کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:
رات کے سائے ہی خاموش رہا کرتے ہیں 
دن کے سائے تو کہا کرتے ہیں 
بیتی لذت کی کہانی سب سے
اور مری ہستی بھی اب دن کا ہی اک سایہ ہے
جس کے ہر ایک کنارے کو شعاع سوزاں 
اپنی شدّت سے جلانے پہ، مٹانے پہ تلی بیٹھی ہے،
کاش آ جائے گھٹا اور بن جائے
چڑھتے سورج کا زوال
چڑھتا ہوا سورج ایک محاورہ ہے جو طاقت کی علامت ہے۔اسی لیے علامتی پیرایے میں یہ مقولہ مشہور کہ ہمیشہ چڑھتے ہوئے سورج کی پوجا ہوتی ہے۔لیکن یہاں چڑھتا ہوا سورج ظلم و ستم کی علامت ہے۔عمر خیام کی رباعیوں کا انگریزی ترجمہ فیٹز جیرلڈ نے کی تھی۔ میرا جی نے بھی انگریزی ترجمے کو بنیاد بنا کر عمر خیام کی رباعیوں کا اردو ترجمہ کیا تھا۔ان ترجموں میں مندرجہ ذیل رباعی اس لیے قابلِ ذکر ہے کہ اس میں بھی سورج کو ظلم و ستم کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔

جاگو سورج نے تاروں کے جھرمٹ کو دور بھگایا ہے
اور رات کے کھیت نیرجنی کا آکاش سے نام مٹایا ہے
جاگو اب جاگی دھرتی پر اس آن سے سورج آیا ہے
راجہ کے محل کے کنگورے پر اُجول تیر چلایا ہے۔

اس رباعی کے پہلے اور دوسرے مصرعے کی ابتدا لفظ ’’جاگو ‘‘ سے کی گئی ہے جو خبردار کر رہا ہے سورج سے۔ تاروں کو بھگانا اور اجول تیر چلاناجیسے افعال ظلم و جبر کی اشاریہ ہیں۔ 
موجودہ دور کے نظم نگار بلراج کومل نے اپنے مجموعہ کلام ’’سفر مُدام سفر‘‘ کی کئی نظموں میں سورج کو علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ مثلاً نظم ’’میں شاعر میں فنکار‘‘ میں کہا ہے کہ ’’میں سرسوں کے ہنستے ہوئے کھیت میں پھول بن کر کھلا تھا میں سونا تھا پگھلا ہوا گرم سورج یہاں شاعر نے ایک تخلیق کار اور فنکار کو پھول، سونا اور پگھلے ہوئے سورج سے تعبیر کر کے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک تخلیق کار جہاں پھولوں کی طرح نرم و نازک اور شگفتہ ہوتا ہے وہیں پگھلے ہوئے سورج کی طرح اپنے اندر آگ کی گرمی رکھتا ہے۔
ان کی ایک نظم ’’سُرخ سورج کا زہر‘‘ میں سورج ظلم کی علامت ہے۔اس نظم کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:

جستجو کی ہر ایک منزل پر
تنہا ہوتا ہوں،  یاد کرتا ہوں 
آخرِ شب وہ کون آیا ؟
سُرخ سورج کا زہر ہاتھوں سے
کس نے آ کر مجھے پلایا تھا

سُرخ رنگ، خود ہی خطرے کی علامت ہے اور زہر تو جان لیوا ہوتا ہی ہے لیکن ان دونوں کو سورج کے ساتھ جوڑ کر سورج کو مزید ظلم کی علامت بنا دیا ہے۔
حمایت علی شاعر نے بھی ایک نظم ’’تضاد‘‘ میں طاقتور اور دولت مندوں کے زوال کو ڈوبتے ہوئے سورج سے تعبیر کیا ہے۔یہ مصرعے دیکھیے:

نہ جانے اس لمحہ گریزاں کے تنگ دامن میں کتنی صدیاں سمٹ گئی تھیں 
نہ جانے میری نظر میں کتنے نئے افق جگمگائے
کتنے ہی چاند سورج اُبھر کے ڈوبے

حمایت علی شاعر کے اس جملے سے کہ ’’کتنے نئے افق جگمگائے،کتنے ہی چاند سورج ابھر کے ڈوبے‘‘سے ہماری تہذیب کی شکست و ریخت کی طرف بھی ذہن جاتا ہے،  جو درست ہے کیوں کہ اس دور کے اکثر شعرا کے کلام میں تہذیبی عروج و زوال سے متعلق نظمیں ملتی ہیں۔ 
ڈوبتا ہوا سورج بھی ایک محاورہ ہے جو زوال کی علامت ہے۔چڑھتا ہوا سورج کبھی ڈوبتا بھی ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وقت کے بدلنے کے ساتھ ظالم کا ظلم ختم ہو جاتا ہے بلکہ کبھی کبھی ظالم مظلوم بن جاتا ہے۔میرا جی نے اپنی ایک نظم ’’کتھک‘‘ میں ڈوبتے ہوئے سورج کو زوال کی علامت کے روپ میں استعمال کیا ہے۔چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:

کیوں چھوڑ سنگھاسن راجا نے بن باس لیا،کیا بات ہوئی
کب سکھ کا سورج ڈوب گیا، کب شام آئی، کب رات ہوئی
ساون کی رم جھم گونج اٹھی بال چھائے، برسات ہوئی
راجا تو کہاں،  پرجا پیاسی اک اور ہی روپ میں ناچتی ہے

میرا جی کے یہاں سورج، چاند اور رات کے علامتی اظہار کے متعلق فتح محمد ملک اپنے ایک مضمون ’’میرا جی کی کتابِ پریشاں ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
میرا جی کے ہاں دن ظلم کی علامت ہے اور رات تخلیقی جوش و نمو اور انبساط کی علامت۔’’آمدِ صبح‘‘ اور ’’سنجوگ‘‘ جیسی نظموں میں رات اور چاند پریتم اور پریمی ہیں اور سورج رقیب۔اور غروب آفتاب سے لے کر طلوع آفتاب تک کے لیے حد دل کش وقفہ زماں میں انسانی عشق کا ڈراما سارے رنج و راحت سمیت دیکھا جا سکتا ہے۔رات اور دن کی یہ علامات ذاتی اور رومانی ہی نہیں اجتماعی اور سیاسی رنگ بھی رکھتی ہیں۔ 

(میرا جی ایک مطالعہ،ڈاکٹر جمیل جالبی،ص،٢٦٢)
میرا جی کی ایک نظم ’’دیو مالا سے سائنس تک‘‘ میں سورج کو جہاں دیو مالائی علامات کے طور پر استعمال کیا گیا ہے وہیں اسے سائنسی نظریے سے بھی دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:

تارے مل کر شور مچائیں دیکھو چندا ماموں ننگے
ان کو کون یہ بھید سمجھائے
گیان کا سورج بڑھتا جائے
مکتب میں استاد بتائے
کیسے دن ساون کے آئے
چلتے سورج میں ہے گرمی
اس گرمی کے دل کی نرمی
دھیرے دھیرے کھوَلتے ساگر کے سینے پر کرنوں کا اک جال بِچھائے
بوندیں بھاپ بنیں پھر بادل

تینوں اَن مٹِ دھیان کے دھوکے
سورج دیوتا چندا ماموں،  دھرتی ماتا
او ہو ہو ہو بھیگ نہ جائیں لاؤ چھاتا

سورج کی گرمی سے بھاپ کا بننا اور بھاپ بن کر اوپر اٹھنا اور بادل کا بننا پھر ٹھنڈا ہو کر بارش کا ہونا ایک سائنسی عمل ہے۔لیکن اس سائنسی عمل کو دیو مالا سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔شاید اسی لیے ہندو مائیتھو لوجی میں سورج کو ’’مہر‘‘ یعنی پانی برسانے والا دیوتا کہا جا تا ہے۔سائنس کے مطابق دھرتی اور چاندسورج سے الگ ہوئے سیارے ہیں۔ اسی لیے ہندو مائیتھولوجی میں دھرتی کو ماں اور چاند کو ماما کہا جاتا ہے۔چوں کہ سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے اس لیے ویدوں کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ سورج ہمیشہ نیا اور نوجوان رہنے والا ایک اداکار ہے۔ ویسے یہ دوسری بات ہے کہ سورج غروب بھی ہوتا ہے لیکن طلوع ہونے کے لیے غروب ہونا بھی ضروری ہے اس لیے دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ہماری تہذیب میں طلوع آفتاب خوشی و ترقی کی اور غروب آفتاب غم و تنزلی کی علامات ہیں۔  جذبی کی ایک مشہور نظم ’’نیا سورج‘‘ میں سورج ہندستان کی آزادی کا استعارہ ہے جو ہمارے لیے انتہائی خوشی کا مقام ہے۔ اس نظم میں کئی جگہ سورج کا استعمال آزادی کے استعارے کے طور پر ہوا ہے۔چند بند ملاحظہ کیجیے۔

بڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورج
ہمالہ کے اُونچے کلس جگمگائے
فضاؤ ں میں ہونے لگی بارشِ زر
کوئی نازنیں جیسے افشاں چھڑائے

ارے او نئی شان کے میرے سورج
تری آب میں اور بھی تاب آئے
ترے پاس ایسی بھی کوئی کرن ہے
جو ایسے درختوں میں راہ پائے
جو ٹھٹھرے ہوؤں کو، جو سمٹے ہوؤں کو
حرارت بھی بخشے گلے بھی لگائے

ان مصرعوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جذبی کو سورج کی جغرافیائی، سائنسی اور اساطیری معنویت و افادیت کا بھی احساس ہے لیکن انہوں نے سورج کو ’’نیا سورج ‘‘کہہ کر اس کا رشتہ ہندستان کی آزادی سے جوڑ کر نیا پن پیدا کیا۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جذبی نے یہ نظم آزادی کے پس منظر میں لکھی تھی۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے بھی اپنی کتاب ’’جذبی شناسی‘‘ میں اس نظم کا تجزیہ کرتے ہوئے سورج کو آزادی کا استعارہ قرار دیا ہے۔ پروفیسر محمد حسن نے بھی اس نظم کے حوالے سے لکھا ہے کہ :
’’نیا سورج، اس وقت کی نظم ہے جب علامت نگاری کا چلن اردو میں عام نہ تھا اور یہ نظم آزادی کے فوراً بعد اس وقت کہی گئی جب ابھی آزادی کی معنویت اور حقیقت کے بارے میں فلسفہ طرازی،  سیاست کی دنیا میں بھی عام نہیں تھی۔اس وقت آزادی کو سورج کی علامت اس بلاغت اور رمزیت سے استعارہ کرنا، جذبی کے فنکارانہ درک کا ثبوت ہے۔‘‘
(جذبی شناسی،مشتاق صدف،بحوالہ ’’معاصر ادب کے پیش ر و ‘‘،  ص ۱۱۴)
سردار جعفری نے بھی سورج کو اپنی ایک نظم ’’اودھ کی خاک حسیں ‘‘ میں خوشی عطا کرنے والی طاقت کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔اس نظم کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے:

ہمالہ کی بلندیاں برف سے ڈھکی ہیں 
ان آسماں بوس چوٹیوں کو
سحر کے سورج نے سات رنگوں کی کلغیوں سے سجا دیا ہے
شفق کی سرخی میں میری بہنوں کی مسکراہٹ گھلی ہوئی ہے۔
نذیر احمد ناجی نے بھی اپنی ایک نظم ’’اتوار‘‘ میں سورج کی تلمیحی معنویت کا اظہار ان مصرعوں کیا ہے:
بند دریچے کھول کے
صبح کے سورج کی کرنوں کو
کمرے کی تاریکی سے
اک سرگوشی لینے دو
مدّت سے اس تاریکی کی
آگ میں جلتا آیا ہوں 

سورج کے کرنوں کو علم کی روشنی اور کمرے کی تاریکی کو جاہلیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
شہاب جعفری نے اپنی کئی نظموں میں انسان کو خدا کا جز قرار دے کر اسے نور سے تعبیر کیا ہے۔ ’’برہم پران‘‘ کے مطابق بھی سورج کو Bhaskara یعنی(نور کا خالق) "The Creator of light." کہا جاتا ہے۔ نور علم و آگہی کی بھی علامت ہے۔انسان کو خدا نے جب اس دنیا میں بھیجا تو اس کے نور سے یہ دنیا چمک اٹھی اور ارض و سما روشن ہو گئے۔ گیارہ مصرعوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی آزاد نظم ’’میں ‘‘اسی حقیقت کا اشاریہ ہے۔ چند مصرعے ملاحظہ ہوں :
کس قدر روشن ہیں اب ارض و سما
نور ہی نور آسماں تا آسماں 
میرے اندر ڈوبتے چڑھتے ہوئے سورج کئی
جسم میرا روشنی ہی روشنی
پاؤں میرے نور کے پاتال میں 
ہاتھ میرے جگمگاتے آسمانوں کو سنبھالے
سر مرا------ کاندھوں پہ اک سورج،
کہ نا دیدہ خلاؤ ں سے پرے ابھرا ہوا
اور زمیں کے روز و شب سے چھوٹ کر
آگہی کی تیز رو کرنوں پہ میں اڑتا ہوا
چار جانب اک سہانی تیرگی کی کھوج میں نکلا ہوا

اس نظم میں حد درجہ مبالغہ آمیز فقروں کو مصرعوں کے دروبست میں ڈھالا گیا ہے جس سے ان میں تحیر یا Fantasy پیدا ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ نظم میں افعال کے مقابلے، اسمائ کا استعمال کثرت سے کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا کہ شاعر نے زمینی حقیقت کے بجائے آسمانی باتیں کی ہیں۔ لہٰذا قاری کا ذہن تصوف کی طرف لا محالہ منتقل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ’نور‘  اور ’سورج‘ کی علامتوں کی تلاش تصوف یا اسلامی فلسفے کی روشنی میں کرنا مناسب ہو گا۔واضح رہے کہ خدا سراپانور ہے اور نور کا سرچشمہ بھی۔ جبکہ انسان مٹی سے بنا ہے لیکن خدا نے اپنے نور کا پرتو انسان پر ڈال کر اسے بھی نور سے مالا مال کر دیا اس لیے انسان کے اندر وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئیں جس کی بدولت وہ تسخیرِ کائنات کی قدرت رکھتا ہے۔سورج بھی نور کا ایک گولہ ہے شاید اسی لیے سورج کو خدا مانا جا تا ہے۔تیسرے مصرعے میں شاعر نے ’’میرے اندر ڈوبتے چڑھتے ہوئے سورج کئی‘‘ کہہ کر اور چوتھے، پانچویں اور چھٹے مصرعے میں یہ کہ کر کہ ’’جسم میرا روشنی ہی روشنی‘‘،’’پانو میرے نور کے پاتال میں ‘‘اور ’’ہاتھ میرے جگمگاتے آسمانوں کو سمبھالے‘‘اور پھر ساتویں مصرعے میں ٫سر٬ کو سورج سے تشبیہ دے کر جہاں قاری کو تحیر یاFantasy کی دنیا میں لے جاتا ہے وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ انسان علم و آگہی سے پوری طرح معمور ہے اور اب وہ اس لائق ہے کہ ’’چار جانب اک سہانی تیرگی کی کھوج‘‘ کر سکے۔
اسی طرح کا تحیر آمیز سماں شہر یار نے اپنی ایک نظم’’اس کے حصے کی زمین‘‘ میں روشنی اور سورج کے علامتی اظہار سے باندھا ہے۔ روشنی، سورج اور چاند روحانی طاقتوں کے علامات ہیں۔ نظم کے مصرعے دیکھئے:
وہ یہاں تک روشنی کے ساتھ تھا
اس کی مٹھی میں کئی سورج بہت سے چاند تھے
اس کے قدموں کی صدا سے راستے آباد تھے
اس کی آنکھوں میں ادھورے خواب تھے
اس کے ہونٹوں پر خدا کا نام تھا
منزل سودوزیاں آئی نہ تھی
دھوپ اس کے درمیاں آئی نہ تھی
اور اس کے بعد یہ دیکھا گیا
پہلے وہ، پھر روشنی اوجھل ہوئی
اس کے حصے کی زمیں جل تھل ہوئی
وہ یہیں تک روشنی کے ساتھ تھا
پہلے مصرعے ’’وہ یہاں تک روشنی کے ساتھ تھا‘‘ اور دوسرے مصرعے’’اس کی مٹھی میں کئی سورج بہت سے چاند تھے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظم کا مرکزی کردار ’’وہ‘‘ ایک غیر معمولی انسان ہے جو روشنی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے یا جس کے چاروں طرف روشنی کے ہالے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں اس کے ہاتھ میں کئی سورج اور بہت سے چاند ہیں،  سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاروں طرف روشنی بکھیرتے ہوئے چلتا ہے۔ پانچویں مصرعے’’اس کے ہونٹوں پر خدا کا نام تھا‘‘سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مذہبی انسان تھاجسے خداسے غیر معمولی عقیدت اور محبت ہے جس کی بدولت وہ مرد کامل کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور حیرت انگیز روحانی قوتوں سے معمور ہے۔یہی وجہ ہے فطرت کی قوتیں، آفتاب و ماہتاب اور روشنی وغیرہ اس کے تابع ہیں۔ نویں مصرعے میں شاعر نے یہ کہہ کر کہ ’’پہلے وہ، پھر روشنی اوجھل ہوئی اس کے حصے کی زمیں جل تھل ہوئی وہ یہیں تک روشنی کے ساتھ تھا‘‘ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان چاہے جتنی بھی روحانی طاقت پیدا کر لے لیکن اسے بھی ایک دن موت کا مزا چکھنا ہے یہ دوسری بات ہے کہ اس کے حصے کی زمین جہاں وہ دفن ہے ’’جل تھل ہے‘‘ یعنی خدا کی رحمتوں سے معمور ہے۔ پروفیسر حامدی کشمیری نے اس نظم پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’نظم میں اعلیٰ روحانی اوصاف سے آراستہ انسان کی موجودہ صارفیت کے عہد سے متصادم ہونے کے نتیجے میں نا گزیر عدمیت کے المیے کو پیش کیا گیا ہے۔‘‘
رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیقات میں بھی روشنی کا استعمال بہت ہوا ہے۔روشنی ان کے یہاں علم و آگہی کی علامت ہے۔ وہ اپنے اِدراک و آگہی کی پختگی اور تصوّر کی بلند پروازی کے لیے دعا مانگتے تھے۔
"”Thy sand with uplifted eyes thirsty after light, lead them to light My Lord
(The Times of India, The speaking Tree)
رابندر ناتھ ٹیگور کے لیے روشنی خوشی کا سرچشمہ بھی ہے۔ ان کی نظم کا یہ ٹکڑا ملاحظہ کیجئے۔ 

Light my light, the world filling light, the eye kissing light, heart sweetening light
(The Times of India, The speaking Tree)

د راصل  رابندر ناتھ ٹیگور کے فلسفے کا محرک بھی سورج ہی ہے۔ان کے یہاں روحانی حقیقت کا ادراک سورج کی شعاعوں کے ذریعہ ہوا ہے۔
علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم ’’آفتاب‘‘(ترجمہ گایتری منتر)میں خدا کے نور کی وضاحت اس طرح کی ہے:

وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے خرد ہے روحِ رواں ہے شعور ہے
اے آفتاب ہم کو ضیائے شعور دے
چشمِ خرد کو اپنی تجلی سے نور دے
نے ابتدا کوئی، نہ کوئی انتہا تری
آزادِ قیدِ اول و آخر ضیا تری
اسی ضمن میں ابنِ انشا کی نظم ’’افتاد‘‘ کا یہ شعر بھی قابلِ ذکر ہے جس میں سورج کو اجالے کا خالق کہا گیا ہے۔
اجالے کے خلّاق سورج کی رفتار تاروں سے یا کہکشاں سے چھپی ہے
تو پھر آج کی شام کیوں آنے والے سویرے کے وعدوں کو بھولی ہوئی ہے
سائنس کے مطابق تو سورج،  چاند اور زمین سیارے ہیں اور یہ تینوں اپنے اپنے محور پر گردش کرتے رہتے ہیں۔  پچھلے سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ دراصل زمین سورج کے چاروں طرف گردش کرتی ہے۔  گردش کے دوران زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہاں دن ہوتا ہے اور جو حصہ سامنے نہیں آتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔ سائنس کی یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے لیکن سائنسی حقیقتوں تک انسانی ذہن کی رسائی پہلے قصے اور کہانیوں کے ذریعہ ہی ہوتی تھی اور قصے کہانیوں کا سرچشمہ مِتھ اور اساطیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سورج، چاند، رات، صبح، طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب سے متعلق متعدد اساطیری کہانیاں مشہور ہیں جن کی طرف شاعر نے اپنی ایک نظم’’پسِ پردہ‘‘ میں قاری کے ذہن کو منتقل کیا ہے، ساتھ ہی سو رج کے غروب ہونے کے بعد رات کے آغوش میں چلے جانے سے لے کر طلوع ہونے اور پھر صبح سے شام تک گردش میں رہنے تک کے عمل کو پیش کر کے اس سے زندگی کے نشیب و فراز،  تجدید زندگی اور تجدید تہذیب کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔  چند مصرعے ملاحظہ ہوں :
سورج کے پجاریوں نے دیکھا
رات اپنی اداسیوں کے بدلے
سورج کو گہن میں لے کے شاداں 
کس شان سے آسماں سے اتری
رات اتنی سیاہ، سرد، خاموش
بے حس، بے رحم، بے اماں ہے
تصویرِ عذابِ جاوداں ہے

سرچشمہ نور کے نگہباں 
لرزاں ہیں کھڑے ہیں دست بستہ
اقرارِ گنہ کی خامشی کے
خنجر نے زباں تراش دی ہے
تہذیبِ بشر کی لوحِ عصیاں 
ہر بوند لہو کی، پڑھ رہی ہے
شاعر نے سورج سے متعلق جس اساطیری کہانی کی طرف اشارہ کیا ہے وہ بے حد دلچسپ ہے۔ دیومالائی تصور کے مطابق سورج کا اُوشا اور رات سے کیا رشتہ ہے اور سورج دن بھر رات کا تعاقب کیوں کرتا ہے اور وہ رات کی آغوش میں آ کر کیسے اپنے وجود کو ختم کر لیتا ہے۔پھر صبح میں کیسے رات سے اپنا دامن چھڑا کر گردش پر مامور ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر وزیر آغا نے رگ وید کے حوالے سے سورج کو عاشق اور رات کو بہ یک وقت ماں اور محبوبہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ رات کے تین روپ یعنی شام،رات اور صبح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ شام سورج کو نگلنے والی ماں، رات حاملہ عورت کا کردار نبھا تی ہے اور صبح کے کردار کو خون آلود صبح سے تعبیر کیا ہے یعنی رات بچہ کی تخلیق کرتی ہے۔یہی وجہ کہ سورج صبح میں رات سے اپنا دامن چھڑا کر گردش پر معمور ہو جاتا ہے۔وزیر آغا نے اس تمثیل کو زرعی معیشت سے جوڑ کر دیکھا ہے۔
وزیر آغا کے اس خیال کی تائید میں مغنی تبسم کی نظم ’’رشتے‘‘ کے دو مصرعے ملاحظہ کیجیے:
میں کیا جانوں،  کون ہے سورج، کس نگری کاباسی ہے
کیسا سرچشمہ ہے جس سے جیون دھارا بہتی ہے

زاہد ڈار کی نظم ’’زوال کا دن ‘‘کے چند مصرعے ملاحظہ کیجیے جس میں سورج کی اہمیت اور اس کے اثرات ختم ہونے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے شاعر نے مندرجہ بالا خیالات کی وضاحت کی ہے۔
جس دن کھیتوں کی خاموشی
بوجھل دھات کی آوازوں میں کھو جائے گی
اس دن سورج بجھ جائے گا
جیون کی پگڈنڈی اس دن سو جائے گی
افتخار جالب کی نظم ’’دھند‘‘ کے یہ مصرعے بھی قابلِ توجہ ہیں۔ 
ایلو،  سورج، چاند ستارے دھرتی کے سینے پر اترے
میری راہگذر پر بکھرے
ہلکی، مدھم اور مسلسل حرکت
منزل، پھول، کنول کا پھول عدم کے بحرِ بے پایاں میں 
تنہا جھولے

دراصل سماجی ناہمواریوں کی وجہ سے ادب میں طنز کا پہلو در آتا ہے اور جب طنز ادب میں زیادہ پایا جانے لگتا ہے تو اس کے بعد کے زمانوں کے ادب میں خود بخود اساطیر کی واپسی ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ۱۹۶۰ کے بعد کے ادب میں علامتوں کا استعمال کثرت سے ہونے لگا۔
’’رج‘‘ سے متعلق ہزاروں اساطیری قصے کہانیاں وابستہ ہیں جو مذہبی کتابوں اور ٹی وی سیریلس کے ذریعہ ہم تک پہنچتی رہتی ہیں۔ اس لیے تخلیق کار سورج یا سورج جیسی علامتوں کا استعمال اپنی تخلیق میں کرتا ہے تو اس سے قاری کا اجتماعی حافظہ بیدار ہو جاتا ہے اور وہ ہزاروں سال پرانی دنیا میں اپنے آپ کو پاتا ہے۔اس سے ایک عام قاری کی قوتِ متخیلہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ سورج چونکہ ہماری زندگی کو کسی نہ کسی روپ میں متاثر ضرور کرتا ہے اس لیے اس کا استعمال دوسری علامتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کیا گیا ہے۔سورج کی استعاراتی اور اساطیری معنویت کے کئی اور ابعاد ہیں مگر اس پر روشنی طوالت کا موجب ہو گی۔
٭٭٭

ماخذ:
http://aquilahmad.blogspot.in/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
