﻿



فیضؔ کی جمالیات




ڈاکٹر شکیل الرحمٰن




انتساب

نئی نسل کے با شعور نقادوں کے نام
ادبی تنقید 
’منتھن‘ 
کا تقاضا کر رہی ہے
پہلے تو زہر ہی نکالنا ہے 
پھر ’امرت‘ نکلے گا
بابا سائیں 





فیض احمد فیضؔ برصغیر کی تہذیب کی جمالیات سے رشتہ رکھتے ہیں جس کی     جڑیں اس زمین کی گہرائیوں میں پیوست اور دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ، جس کی خوبصورت روایتیں تاریخ میں مسلسل سفر کرتی رہی ہیں اور جس نے اس عہد     میں اپنی تاریخی، سماجی اور سیاسی حیثیتوں کو زندگی کی معنویت کے ساتھ اُجاگر کر   رکھا ہے۔
فیضؔ کی شخصیت کا ارتقاء اسی تہذیب میں ہوا ہے، ان کی شاعری اسی تہذیب کی جمالیات کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، ان پہلوؤں اور جہتوں کو ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر سے تعبیر کرنا مناسب ہوگا۔ فیضؔ کا اپنا منفرد رومانی،جمالیاتی شعور و احساس ہے جو اس عہد کی دین ہے۔ ’ہیومنزم‘ کے جمالیاتی مظاہر، معاشرے کے مختلف طبقوں کے احساس و شعور کا حصہ بن کر ’’جمالیاتی ثقافت‘‘ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ۔
فیضؔ، ترقی پسند تحریک سے، جو بلاشبہ اُردو زبان و ادب کی سب سے بڑی تحریک بن کر پھیلی، بے حد متاثر ہوئے، اسی تحریک کے زیر اثر گہری رومانیت کو لیے انقلابی تجربوں کی جانب بڑھے اور انقلابی رومانیت اور رومانی انقلاب کی آمیزش کے ایک اہم معتبر شاعر بن گئے۔
برصغیر کے سماجی حالات اور دنیا کے نقشے پر اُبھرتی ہوئی فاشزم اور دوسری جنگِ عظیم کے تجربوں نے انھیں بعض بنیادی سماجی، معاشرتی اور سیاسی سچائیوں سے آشنا کیا، انقلابِ روس نے جہاں ’’ہیومنزم‘‘ کا شعور و احساس عطا کیا تھا وہاں قوموں کی آزادی اور قومی تہذیبوں کے تئیں بھی بیدار کیا تھا۔ فیضؔ بھی اس فکر و نظر سے متاثر ہوئے اور ہندوستان میں ادبی تحریک کے اثرات قبول کرتے رہے جو 1935-36ء سے سامراج اور جاگیرداری کے خلاف منظم ہو کر اپنی کئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔
فیضؔ ایسے دانشور تھے جو اعلیٰ انسانی اقدار اور انسان دشمن قدروں کو پہچانتے تھے۔ ملک کے سامراجی اور جاگیرداری نظام کی تاریخ سے واقف تھے اور طبقاتی کشمکش کی قدر و قیمت جانتے تھے، انسان کے ایک خوبصورت مستقبل کا خواب ان کا عزیز تر اور محبوب ترین خواب بن گیا تھا:

متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
لبوں پہ مہر لگی ہے تو کیا، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں نے!
*
الم نصیبوں ، جگر فگاروں 
کی صبح افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں 
سحر کا روشن اُفق یہیں ہے
*

گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں 
ہر ایک اپنے مسیحا کے خوں کا رنگ لئے
ہر ایک وصلِ خداوند کی اُمنگ لئے
کسی پہ کرتے ہیں ابر بہار کو قرباں 
کسی پہ قتل مہ تابناک کرتے ہیں 
کسی پہ ہوتی ہے سرمست شاخسار دونیم
کسی پہ بادِ صبا کو ہلاک کرتے ہیں 
ہر آئے دن یہ خداوندگانِ مہر و جمال
لہو میں غرق مرے غم کدے میں آتے ہیں 
 اور آئے دن مری نظروں کے سامنے ان کے
شہید جسم سلامت اُٹھائے جاتے ہیں 
*
صبا نے پھر درِ زنداں پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے
*

یہ اشعار فیضؔ کے کلام کے جوہر (Essence) کی نمائندگی کرتی ہیں ، ان کے مزاج، رجحان اور بنیادی رویے کو سمجھاتے ہیں ، ان سے ان کے کلام کے بنیادی رنگ اور اس رنگ کی جہتوں کی پہچان ہوتی ہے، ان کی جمالیاتی تجربوں کا سفرنامہ احساس اور حساس جذبے کی آنچ اور سوز کے لمس کو لیے اسی طرح پیش ہوا ہے۔ فیضؔ نے تحریر کیا ہے:
’’۔۔۔یونیورسٹی میں ایم۔اے کی ڈگری کے لیے انگریزی ادب اور خاص طور سے اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کا ادب میرا مضمون تھا، انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ اس عہد کے باقی یورپی ادب کا مطالعہ بھی لازمی تھا، کبھی ہم شوقیہ بھی اِدھر اُدھر کی کتابیں پڑھتے رہتے تھے اور یوں روس کے کلاسیکی ادب سے تعارف ہوا، چنانچہ گوگلؔ، پشکن، دوستویفسکی، ترگنیف، ٹالسٹائے، چیخوف، باری باری سے سب کو بہت ڈوب کر پڑھا اور پرانے روس کی پوری دنیا نظر میں گھوم گئی۔‘‘			(مہ و سال آشنائی، صفحہ 918)

آگے چل کر تحریر کرتے ہیں :
’’کالج میں میرے دوچار اور ہم جماعت بھی اس سرزمین اور اِس کے رہنے والوں سے اسی طرح مسحور تھے اور ہم لوگ گھنٹوں بیٹھ کر ان کلاسیکی کتابوں ا وراُن کے کرداروں کا تجزیہ کرتے رہتے لیکن ہم اس پرانی دنیا میں اتنے کھوئے رہے کہ انقلاب کے بعد کی نئی سوویت دنیا پر ہم نے زیادہ توجہ نہ کی البتہ اس دنیا کے وجود کا کچھ موہوم سا احساس بھی ضرور تھا، وہ اس وجہ سے کہ صدی کی دوسری دہائی کے آخر میں گلی کوچوں میں تو نہیں لیکن بعض نوجوان حلقوں میں لیننؔ، سوشلزم اور انقلاب کا چرچا ضرور ہونے لگا تھا، برصغیر میں یہ دہشت پسند تحریک کے عروج کے دن تھے، چٹاگانگ آرمی کیس، کاکوری ڈکیتی کیس، بھگت سنگھ آزاد، شیر جنگ، گھر گھر یہی تذکرہ تھا، میرٹھ سازش کیس وغیرہ کا ہم پہلے سے سن چکے تھے، بھگت سنگھ تحریک میں میرے دو تین قریبی دوست بھی شامل تھے اور اُن کے سرغنے خواجہ خورشید انور نے جو اَب مشہور میوزک ڈائرکٹر ہیں ہوسٹل میں میرے کمرے کو اپنے خفیہ لٹریچر بانٹنے کا اڈّہ بنا رکھا تھا۔ یہ تحریریں بیشتر کارلؔ مارکس، لیننؔ اور انقلابِ روس سے متعلق تھیں اور کبھی کبھی سرسری نظر سے میں بھی دیکھ لیا کرتا تھا، اس کے علاوہ قریب قریب ہر روز، کبھی کوئی انقلابی پوسٹر کالج کے نوٹس بورڈ پر چسپاں نظر آتا، کبھی روزانہ اخبار کی تہ میں چھپا ہوا ملتا۔‘‘	(ایضاً، صفحہ 10/9)

ا س کے بعد لکھتے ہیں :
’’1935ء میں جب میں نے امرتسر کے ایک کالج میں پڑھانا شروع کر دیا تو نوجوان اساتذہ میں انہی مسائل پر بحث رہتی تھی۔ ایک دن میرے رفیق کار صاحبزادہ محمود الظفر (مرحوم) نے ایک پتلی سی کتاب میرے حوالے کی اور کہا لو یہ پڑھو اور اگلے ہفتہ اس پر ہم سے بحث کرو، لیکن غیر قانونی کتاب ہے اس لیے ذرا احتیاط سے رکھنا، یہ کتاب تھی کمیونسٹ مینی فیسٹو جو میں نے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی بلکہ دو تین بار پھر پڑھی۔ انسان اور فطرت، فرد اور معاشرہ ، معاشرہ اور طبقات ، طبقے اور ذرائع پیداوار کی تقسیم، ذرائع پیداوار اور پیداواری رشتے اور معاشرے کا ارتقائ، انسانوں کی دنیا کے پیچ در پیچ اور تہ بہ تہ رشتے ناتے، قدریں ، عقیدے، فکر و عمل وغیرہ وغیرہ کے بارے میں یوں محسوس ہوا کہ کسی نے اس پورے (خزینۂ اسرار) کی کنجی ہاتھ میں تھمادی ہے۔ یوں سوشلزم اور مارکسزم سے اپنی دلچسپی کی ابتدا ہوئی۔ پھر لینن کی کتابیں پڑھیں اور یوں لینن کا اکتوبر انقلاب اور اُس کی انقلابی سرزمین سے واقفیت کی شدت سے طلب ہوئی، انقلاب کے بارے میں جانؔ ریڈ کی کتاب Ten days that shook the world  وسط ایشیا کے بارے میں کنٹرؔ کی کتاب Dawn over Samarkand  مطالعہ کی اور پھر سوویت معاشرے کے بارے میں سڈنیؔ اور پیٹرس دیب کی کتاب ’’ڈین ہیولیٹ جانسن مارسؔ ڈاب اور لندن کے لیفٹ بک کلب کی شائع کردہ دوسری کتابیں ۔‘‘	(ایضاً، صفحہ 11/12)

اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ مارکسزم اور لینن ازم کے قریب آئے ہیں ان کے ذریعہ کس طرح تہذیبی زندگی اور اس کے ارتقاء اور معاشری اور طبقاتی زندگی اور اس زندگی کی کشمکش کو سمجھا ہے، ان کی کتاب ’’مہ و سال آشنائی‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ انقلابِ روس اور مارکسزم اور لیننؔ ازم کی حقیقت اور بنیادی سچائیوں کو سمجھتے ہوئے وہ برصغیر کے معاشی اور سیاسی حالات اور نظامِ زندگی پربھی گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور ایک بڑے فلسفے کا مطالعہ کرتے ہوئے ہندوستان کے حالا ت کو بھی بخوبی سمجھ رہے تھے مارکسزم کی روشنی میں برصغیر کی معاشی اور سماجی اور سیاسی اور نفسیاتی حقیقتوں کا تجربہ کر رہے تھے، کسادبازاری اور اقتصادی بحران،کسانوں کی منتشر زندگی، بے روزگاری، سرمایہ داروں اور ساہوکاروں کے استحصال کا عمل، سیاسی بحران، سامراجی نظام اور قومی آزادی کا مسئلہ، قومی دولت کی تقسیم، کسان سبھاؤں اور مزدور تحریک کا فطری تحرک، سوشلزم اور سماجی عدل و مساوات کے تقاضے، یہ سارے مسائل اور موضوعات ان کے سامنے تھے۔ ترقی پسند مصنفین کی انجمن قائم ہوئی تو اُن کے ذہن نے بھی برصغیر میں ایک آزاد اور غیر طبقاتی معاشرے کی تصویر میں رنگ بھرنا شروع کر دیا، دوسری جنگ عظیم کو انھوں نے بہت ہی قریب سے دیکھا اور روس کے عوام اور سرخ فوج کے کارناموں سے بے حد متاثر ہوئے، فاشزم کی شکست میں سوویت یونین نے جو تاریخی کارنامہ انجام دیا اس کا اُن پر بڑا گہرا تاثر تھا ہیومنزم کا وہ تصور جو اُن کی شاعری کا سرچشمہ بھی ہے اور بنیادی جوہر بھی، ان ہی تجربوں کی دین ہے۔ تحریر فرماتے ہیں :
’’یہ 1943ء کا ذکر ہے جب قریب قریب ہر محاذپر انگریز اور امریکن اتحادی فوجیں پسپا ہو رہی تھیں ، ہمارے اور فاشسٹ حملہ آوروں کے درمیان اگر کوئی دیوار کھڑی نظر آرہی تھی، تو وہ سوویت یونین ہی کے عوام اور سپاہی تھے جو قدم قدم پر غنیم سے مصروف پیکار تھے، ہم نے ان کی فوجوں کے اعلیٰ کمانڈروں کے نام سنے، ژوکوفؔ، کوہنفؔ، تموشنکوؔ، بڈینی، راکوسوفسکیؔ، ہیلیؔ نوفسکی، گودروف وغیرہ، چھاپہ مار گوریلا بہادروں کے کارنامے پڑھے، زویا، متروسوف، گاستوا۔‘‘			(مہ و سال آشنائی، ص 17-18)

ہیومنزم کا یہی تصور تھا کہ جس نے ایسی نظم کی تخلیق کی تھی:
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں 
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں 
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شبِ مست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رُکے گا سفینۂ غمِ دل
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں 
کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں 
ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

’یہ داغ داغ اُجالا‘، اس آزادی کا عنوان ہے!
سچائی، جذباتی ردّ عمل اور ذہنی کیفیت، سب اس میں جذب ہیں ، غنائیت اور شخصیت کے سوزوگداز نے تجربے کو حد درجہ محسوس بتا دیا ہے۔ رومانی علامت پسندی کا رجحان متحرک ہے، یہی اسی کا کرشمہ ہے کہ یہ نظم ایک رومانی مثال، یا نشان اور ایک علامت بن گئی ہے، ایک مجسمے کی مانند نصب ہو گئی ہے۔ اس نظم کا آہنگ، ایک بنیادی لہر سے کئی لہروں کو خلق کرتا ہے۔ فیضؔ، عموماً جانے پہچانے اور محسوس کئے ہوئے لفظوں اور پیکروں سے حسّیات کو اس طرح متحرک کر دیتے ہیں کہ ایک ساتھ کئی خیالات اور تصورات اُبھرنے لگتے ہیں ، ’اُجالے‘ اور ’سحر‘ کے امیج (Image)  نے اس نظم میں ایک متحرک جمالیاتی تصویر پیش کر دی ہے۔ ’’داغ داغ اُجالا‘‘ اور ’شب گزیدہ سحر‘ طلسم شکنی یا ازالۂ   اوہام کے تمثال ہیں ، ایک ایسا المیہ کردار اُبھرتا ہے جو اس غم کو سینے سے لگائے مستقبل کے حسن سے مایوس نہیں ہے۔ آخری مصرعہ نظم کے آہنگ میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر کے اس ’امید‘ کو محسوس بنا دیتا ہے۔ طلسم شکنی سے جو قلبی صدمہ ملتا ہے وہ نظم کے آخر میں ایک خوبصورت تمنا، ایک آرزو اور ایک اُمید- اور ایک یقین میں تبدیل ہو جاتا ہے، ’تجربہ‘ ایک ایسے خواب کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس سے جمالیاتی انبساط حاصل ہوتا ہے۔
میکسم گور کی نے رومانیت کے موضوع پر بڑی سنجیدگی سے غور کیا تھا۔ کہا تھا کہ رومانی فنکار کسی نئی خوبصورت سچائی کی آرزو سے پہچانا جاتا ہے، یہی آرزو اس میں کرب اور اضطراب پیدا کرتی ہے، اس کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اس خوبصورت سچائی کو جلد حاصل کر لے اس کا کرب اور اس کا درد ہی رومانی مظہر بنتا ہے۔
کسی خوبصورت سی کلی کو دیکھ کر ایک دلکش پھول کا تصور تو کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ تصور مثالی ہو سکتا ہے، کلی کا مستقبل تو دھندلکوں میں چھپا ہوا ہے، جو ’شے‘ ابھی ’حقیقت‘ یا سچائی نہیں بنی ہے، بن سکتی ہے — رومانیت اسی احساس سے وابستہ ہو کر مثالی بنتی ہے، جمالیاتی التباس میں مضطرب اور بے چین رہتی ہے، اس کا یہی اضطراب اہمیت رکھتا ہے، اسی کرب اور اضطراب سے رومانی مثالیت پسندی کا جنم ہوتا ہے، ایسی ’آئیڈیل‘ سے تخلیقی آرٹ کو انگنت مظاہر اور جلوے نصیب ہوئے ہیں ، جن تخلیقی فنکاروں نے اپنے احساس و شعور اور سچائیوں کے عرفان سے، اس ’آئیڈیل‘ کو ایک کردار عطا کیا ہے وہ تخلیقی آرٹ کی تاریخ پر نقش ہو گئے ہیں ۔
اس نظم میں ایک ایسے رومانی اضطراب کا احساس ملتا ہے جو اس ’تجربے‘ سے قبل موجود تھا، ’کلی‘ کو دیکھ کر فنکار ایک دلکش ’پھول‘ کا رومانی تصور پیدا کر چکا تھا، اس تصور کے جمالیاتی تاثرات سے سرشار ہو چکا ہے، اسے یقین سا تھا کہ مستقبل کے دھندلکوں سے ’یہی سچائی، باہر  آئے گی۔ ایک جمالیاتی، التباس پیدا کر کے اس نے اپنی ’آرزو‘ کو حقیقت کی صورت دے دی تھی، ’عکس‘ رومانی حقیقت بن چکا تھا، اس طرح ایک رومانی وجدان اور ’وژن‘ کا تاثر ہمیں اس نظم کے قریب لے آتا ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ ’کلی‘ خوبصورت پھول بن نہیں پاتی، دھندلکوں سے جو پھول نکل کر آتا ہے، اس کی پنکھڑیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ، جو اُجالا سامنے آیا ہے وہ داغ داغ ہے!
رومانی تصور ٹوٹ جاتا ہے، طلسم بکھر جاتا ہے، ہم اس کا تاثر ارتعاشات اور نظم کے آہنگ میں پاتے ہیں ۔ رومانی فنکار کے ’وژن‘ کے ایک ’تمثال‘ کے ٹوٹنے کا احساس دیتی ہوئی یہ نظم احساس اور جذبے سے قریب آتی ہے۔
لیکن — مایوسی اور نااُمیدی کی فضا میں تاثرات کا اظہار کرتا ہوا رومانی فنکار ایک بار پھر مستقبل کے دھندلکوں میں اس صورت کو محسوس کرنے لگتا ہے جو اس کا ’آئیڈیل‘ بن چکا تھا اور — اس کا ایک ہی احساس، مایوسی کو یقین میں تبدیل کر دیتا ہے، منزل کی تلاش پھر شروع ہو جاتی ہے، طلسم کے ٹوٹنے کے بعد رومانی مثالیت اسی طلسم کو پھر پیدا کر دیتی ہے، ایک بار پھر وہی تمنّا، وہی آرزو، کرب اور درد کا رومانی مظہر بن جاتی ہے۔ عصری زندگی کے اسرار کی رومانی جمالیاتی دریافت کا یہ وژن، جو تخلیقی سطح پر زندگی کی تبدیلی میں یقین رکھتا ہے، اور ’ہیومنزم‘ کی سچائی کو پہچانتا ہے، توجہ کا مرکز بن جاتا ہے، یہ اُمید اور یہ مایوسی اور نا اُمیدی — اور یہ نئی تمنا، آرزو اور یقین، سب عوامی جذبوں کے رنگوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ، یہ سب آزادی کے لیے عوامی جدوجہد کی فضا کے بلیغ اشارے بن جاتے ہیں ، رومانی مثالیت پسندی، حقیقی تاریخی سچائی سے ٹکرا کر شکستہ تو ہوتی ہے لیکن ایک بار پھر اپنی مثالی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
1977ء میں فیضؔ بیروت میں رہے، لوٹس (Lotus) کے مدیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے، وہاں بھی انھوں نے خوب صورت نظمیں کہیں ، عربوں کا المیہ، ان کی ذات کا المیہ بن گیا، ہیومنزم، ان کے فن کی روح ہے یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اس المیے سے ایک ذہنی اور جذباتی رشتہ قائم کیا اور تخلیقی سطح پر اس المیے کو بھی اسی طرح محسوس کیا جس طرح وہ برصغیر کے المیہ واقعات کو محسوس کرتے رہے، انسان کی ٹریجڈی، کا ایک انتہائی دردناک پہلو اُن کے سامنے تھا۔ فیضؔ کی شاعری میں ابتداء سے ایک المیہ کردار کو مضطرب اور بے چین پاتے ہیں ، عربوں کے لہو نے پوری انسانیت کے درد کو ایک پیکر کی صورت عطا کر دی اور فیضؔ نے اس پیکر کو اپنے لہو میں شامل کر لیا، درد کا ایک ہی رشتہ تھا تخلیقی سطح پر!
المیہ کی یکسانیت کے احساس اور اس کی شناخت اور نشاندہی پر نظر رکھئے تو محسوس ہوگا کہ ایسی نظموں میں فیضؔ نے تخلیقی سطح پر شناخت کو اپنے ’ہیومنزم‘ کے گہرے شعور و احساس کے ساتھ کتنی ارفع سطح عطا کر دی ہے:

      مری تری نگاہ میں 
جو لاکھ انتظار ہیں 
جو میرے تیرے تن بدن میں 
لاکھ دل فگار ہیں 
جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے
سب قلم نزار ہیں 
جو تیرے میرے شہر میں 
ہر اک گلی میں 
میرے تیرے نقش پا کے بے نشاں مزار ہیں 
جو میری تیری رات کے
ستارے زخم زخم ہیں 
جو میری تیری صبح کے
گلاب چاک چاک ہیں 
یہ زخم سارے بے دوا
یہ چاک سارے بے رفو
کسی پہ راکھ چاند کی
کسی پہ اوس کا لہو
یہ ہے بھی یا نہیں ، بتا
یہ ہے کہ محض جال ہے
مرے تمہارے عنکبوت وہم کا بنا ہوا
جو ہے تو اس کا کیا کریں 
نہیں ہے تو بھی کیا کریں 
بتا، بتا
بتا، بتا!
(کیا کریں ، بیروت 1980ء)
*
*    مت رو بچے
رو رو کے ابھی
تیری امّی کی آنکھ لگی ہے
مت رو بچّے
کچھ ہی پہلے
تیرے ابّا نے
اپنے غم سے رخصت لی ہے
مت رو بچّے
تیرا بھائی
اپنے خواب کی تتلی پیچھے
دور کہیں پردیس گیا ہے
مت رو بچّے
تیری باجی کا
ڈولا پرائے پردیس گیا ہے
مت رو بچّے
تیرے آنگن میں 
مردہ سورج نہلائے گئے ہیں 
چندرما دفنائے گئے ہیں 
امّی، ابّا، باجی، بھائی
چاند اور سورج
روئے گا تو اور بھی تجھ کو دلوائیں گے
تو مسکائے گا تو شاید
سارے اک دن بھیس بدل کر
تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے!
(فلسطینی بچّے کی لوری/بیروت 1980ء)

ماضی کے جلال و جمال کے عرفان اور عصری ثقافتی، تاریخی قدروں کے تئیں بیداری کے بغیر کسی شخصیت کا جمالیاتی ارتقاء نہیں ہوتا، یہ آہنگ اور آہنگ کا بڑا پراسرار رشتہ ہوتا ہے، ماضی اور حال— اور فرد کی شخصیت کے آہنگ کا رشتہ! اس سے تخلیقی صلاحیتیں متحرک ہوتی ہیں ۔ جمالیاتی رجحان کی تشکیل ہوتی ہے، اور جمالیاتی حسّیت اپنے فنکار کی شخصیت کو اس طرح نمایاں کرتی ہے کہ حالات اور سچائیوں کی بھی پہچان ہوتی رہتی ہے۔ فیضؔ کی شخصیت نے جمالیاتی ارتقاء کی منزلیں اپنے طور پر طے کی ہیں ، ان کا فن مختلف طبقوں کے شعور سے ہم آہنگ ہو کر ایک جمالیاتی ثقافت کا احساس دیتا ہے۔ شاعری کی داخلی کیفیت یا فطرت کو سمجھتے ہوئے اور اس کے حسن کو پہچانتے ہوئے انھوں نے اپنے جمالیاتی رجحان کے مطابق ایک نئی رومانیت کو خلق کیا ہے، کچھ اس طور پر پر کہ ان کی ثقافتی، تاریخی شخصیت کی پہچان ہو جاتی ہے۔ اپنی ذات اور اپنے معاشرے کے تئیں بیدار ذہن بنیادی طور پر حسن کی جانب بڑھنے کے رجحان ہی کو واضح کرتا ہے۔ فیضؔ اپنے جمالیاتی تجربوں اور جمالیاتی اسلوب میں حسن کی قدروں کی ہی توسیع کرتے ہیں ۔
l    فیضؔ نے اُردو اور فارسی شاعری کی روایات سے اپنا تخلیقی رشتہ قائم کیا تھا۔ انھوں نے کلاسیکی لفظوں اور پیکروں کو نئی معنویت عطا کی، کلاسیکی اُردو اور فارسی شاعری سے جو الفاظ اپنے تجربوں کے اظہار کے لیے منتخب کئے، ان کی وسعتوں اور گہرائیوں کا بھی احساس ہوتا ہے۔ خود ان لفظوں میں بہت سے جمالیاتی تجربے پہلے سے موجود تھے۔ فیضؔ نے جہاں اپنے جمالیاتی احساس و فکر سے معنوی تبدیلی کی وہاں اکثر لفظوں کے معنوی پہلو بھی تبدیل کئے۔ یہ ان کے تخلیقی تخئیل کا کرشمہ ہے۔
*	دلؔ، جانؔ، یارؔ، آرزوؔ، انتظارؔ، تلاشؔ،فراقؔ، شوقؔ، وصلؔ، وصالؔ، ہجرؔ،   خوابؔ، نالہؔ، پیارؔ، فرہادؔ، سرفروشیؔ، دیدؔ، دردؔ، خلشؔ، غمؔ، وحشیؔ، دیدہ ترؔ، عشقؔ، گناہؔ، جنوں ؔ، لہوؔ۔

*	لیلیٰؔ، بتاں ؔ، حسنؔ، فتنہؔ، پائے نازؔ، نگاہؔ، شبابؔ، شوخیؔ، نقشؔپا، لغزشِؔپا، بیاضِ رخ، زلفؔ، لبؔ، آنکھؔ، ہونٹؔ، جسمؔ، قباؔ، پیرہنؔ، قدؔ، رخسارؔ، قاتلؔ، کافرؔ، یارؔ، غرورؔ، دستؔ، بامؔ، آوازِ پاؔ، تابشِؔ حنا۔

*	شجرؔ، پتّےؔ، شاخؔ، شبنمؔ، چاندؔ، بادلؔ، گھٹاؔ، ستارہؔ، بہارؔ، خزاں ؔ، صحراؔ، خاموشیؔ، صبحؔ، شامؔ، شبؔ، سحرؔ، چمنؔ، گلچیں ؔ، صباؔ، محملؔ، بلبلؔ، فلکؔ، گلشنؔ، صیادؔ، پھولؔ، ٹہنیؔ، نورؔ، روشنیؔ، خوشبوؔ، ابرؔ، آسماں ؔ، مہتاب۔

*	میکدہؔ، ساغرؔ، گردشؔ، شیشہؔ، جامؔ، سبوؔ، صبوحیؔ۔
	شیخؔ،ناصحؔ، محتسبؔ، صنم کدہؔ، بت ؔخانہ،کعبہؔ، دیاؔ، شمعؔ۔

*	زنداں ؔ، دیوارؔ، قفسؔ، قتلؔ، طوقؔ، زنجیریں ؔ، جیلؔ، دروازہؔ، دریچہؔ، دستکؔ، 
	کارواں ؔ، منزلؔ، راہؔ، شاہراہؔ، قافلہؔ۔

*	کماں ؔ، تیرؔ، قتلؔ، قتلؔ گاہ،زخمؔ، خوفؔ، لہوؔ۔

*	سرابؔ، خوابؔ، سائےؔ، عکسؔ۔
کم و بیش یہ تمام الفاظ اور پیکر اور ایسے دوسرے تمام الفاظ اور تمثال اُردو فارسی شاعری کی جمالیاتی روایات کی دین ہیں جو فیضؔ کے جمالیاتی تجربوں کے اظہار کا ذریعہ بنے ہیں ۔ شاعر کی تخلیقی فکر نے ان میں نئی معنویت پیدا کر دی ہے اور ان کے نئے پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے، کچھ اس طرح کہ ان کی اپنی لطافت بھی قائم رہے اور ذوق جمال کو نئی جمالیاتی مسرت اور آسودگی بھی حاصل ہوتی رہے۔
فیضؔ اپنی شاعری کے ذریعہ کلاسیکی لفظوں اور ان کے آہنگ کو اپنے تخئیل کی آنچ اور اپنے احساس اور جذبے کے رنگوں کے ساتھ نئی نسل کو اس طرح بھی سونپتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ دیکھو، یہ کتنی بڑی میراث اور کتنی بڑی نعمت ہے،ماضی کا کتنا بڑا سرمایہ ہے کہ ان میں نئے تجربوں کو پیش کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہوتی، ان کی کشادگی اور ان کے مفاہیم کی پہلو داری نئے فنی تجربوں کے اظہار کا ذریعہ اور وسیلہ بن سکتی ہیں ۔ فیضؔ کا اس طرح وسیلہ بن جانا اُردو شاعری کی ادبی تاریخ میں ایک کارنامے کی حیثیت رکھتا ہے، شاعر نے ایسے لفظوں کو اپنا پیکر بھی بنایا ہے اور ان کی مدد سے اظہارِ خیال کے لیے پیکر بھی تراشے ہیں مثلاً:
l	رات کا گرم لہو، خون میں نہائے ہوئے، آسمانوں کا لہو، خون کا آگ، نہر خون، ہتھیلی پر لہو، شب کی رگوں کا لہو، خونِ دلِ وحشی، خوفِ بداماں ، خونِ عشاق، خونِ بہار، خون کی مہک۔
	صبح کی دھڑکن، رات کی آہنی میت، دستِ شب، داغ داغ اُجالا، شب گزیدہ سحر، راتوں کا سیہ فام جلال، صبح کی تمہید، سحر کا دام، دامنِ شام، دھڑکتا دن، ماتمی تاروں کی صف نور کی لہر، راتوں کی کسک، کہکشاں کی نیم وا آنکھیں ، رات کا گرم لہو۔
l	درد کا رنگ، درد کا شجر، درد کا رشتہ، موجِ درد، عہد غم کی حکایتیں ، زخموں کے ایاغ، چاندنی راتوں کا درد۔
l	سرخ و سیاہ صدموں کے سائے، بیاض رُخ پہ سحر کی صباحتیں ، کاجل کی لکیر، رنگِ پیراہن، سرخ آہن، چلمن کی رنگینی، حنا کی تحریر۔
l	خوابیدہ چراغ، گمشدہ آواز، تاریک راہیں ، دیدہ تر کے شعلے، خواب گاہوں کی نیم تاریکی، بجھے ہوئے راستے، چاکِ گریباں ، گل شدہ شمعیں ، فریبِ زیست، سازوں کے خاموش تار، پیکر التجا، دل کے تاریک شگاف۔

حافظؔ اور غالبؔ کے بعض پیکروں کو بھی اپنے تجربوں کی ترسیل کا ذریعہ بنایا ہے، ان دونوں شاعروں کے خلاّق ذہنوں سے انھوں نے یقیناً ایک تخلیقی رشتہ قائم کر رکھا تھا، روایتی اور کلاسیکی الفاظ جو پیکر بنے ہیں اور جن کی مدد سے پیکر خلق ہوئے ہیں وہ سب فیضؔ کے اپنے ذاتی تجربوں کے تمثال ہیں کہ جن سے جدید اُردو شاعر میں ایک نیا ’فینوفیا‘ خلق ہوا ہے۔
یہ الفاظ، پیکر اور علامات ہمیں شاعر کے تخئیل ، اس کے فکر اور اس کے تجربوں کی گہرائیوں سے آشنا کر کے جمالیاتی انبساط عطا کرتے ہیں ، ان کے ذریعہ ہم فیضؔ کے ترقی پسند خیالات اور ان کی ادبی اور فنی اقدار سے آشنا ہوتے ہیں کہ جن کا رشتہ اپنے عہد کے ترقی پسند فلسفے سے بہت ہی گہرا ہے۔ وہ اُردو ادب کے ان شعراء میں ممتاز ہیں جنھوں نے شاعری کو اپنے عہد کا جمالیاتی فلسفہ بنانا چاہا ہے، یہ نئی تخلیق کا عمل ہے، شاعر نے اپنے تجربوں کے لیے ان تمام اور ایسے تمام لفظوں اور پیکروں کو اپنے ’وژن‘ سے قریب کیا ہے، ان میں اکثر الفاظ اور پیکر محض علامات نہیں رہے ہیں بلکہ ’سگنل‘ (Signal) بن گئے ہیں ، اس لیے کہ یہ ترسیل اور ابلاغ سے آگے بھی سرگوشیاں کرتے ہیں ۔ فیضؔ ایک ایسے رومانی جمالیاتی مظہر کے خالق ہیں کہ جن پر نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ تجربہ اور جمالیاتی احساس کی وحدت اس مظہر کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ یہ زبان اور لفظوں کی شاعری نہیں ہے۔ جمالیاتی تجربوں کا ایسا فن ہے جس میں شاعر کا ’وژن‘ لفظوں کی نئی تشکیل اور ان کی نئی تخلیق کرتا ہے اور اپنی فکر، جمالیاتی احساس، رومانی زاویۂ نگاہ اور اسلوب کی خوبصورت وحدت ایک قابل توجہ سسٹم (Signal System) سے جمالیاتی سطح پر آشنا کرتا ہے، ملاقاتؔ، شامؔ، سرودِ شبانہؔ، ہم لوگ، تنہائیؔ، یادؔ، شاہراہؔ، زنداں ؔ کی ایک شام، صبح آزادیؔ، ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے، دریچہؔ، نوحہؔ، انتظارؔ، رنگ ہے دل کا مرے، منظر وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جو ان سچائیوں کو بخوبی واضح کر دیتی ہیں ۔
ایسی نظموں میں تجربوں کی حسّی خصوصیتوں کو تمثال کی صورت نقش کرنے کا تخلیقی عمل ملتا ہے۔ فطرت اپنے منظر اور آواز کے ساتھ فنکار کے احساس و شعور بھی جذب ہوتی ہے، اور تمثال قاری کے جذبات اور تلازمات سے رشتہ قائم کر لیتے ہیں اور اپنی گہرائی اور زرخیزی کا احساس عطا کرنے لگتے ہیں ۔پیکر نظم کی فضا کی تخلیق میں حصہ لے کر خود اس کا حصہ بن جاتے ہیں اور مجموعی طور پر ایک شعری کردار کی تشکیل کرتے ہیں ۔ یہ تخلیقی سطح پر خیال اور جذبے کی آمیزش کو پیش کرنے کے عمدہ ذرائع ہیں ، جہاں مصنوعی کشادگی کے ضامن بنتے ہیں وہاں شاعر کے جذبہ اور اس کے تخئیل کے اشارے بھی بن جاتے ہیں ، ایسی نظمیں خیال، رنگ، پیکر اور رموز و نیت کی آمیزش اور آویزش سے پر تاثیر بن جاتی ہیں ۔
غنائیت (Lyricism)  مغربی ہوتی ہے اور نہ مشرقی، یہ تو شخصیت کے آہنگ کی سیّال صورت ہے جو تحریر میں جذب ہو کر تحریر کا آہنگ بن جاتی ہے۔ شاعر کے تغزل کو مشرق کا تغزل اور اس کی غنائیت کو مغرب کی غنائیت سے تعبیر کرتے ہوئے عموماً اس کی شخصیت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جو روایات اور اقدار کی آمیزش اور آویزش کے ایک پراسرار عمل سے گزر کر اپنے منفرد مزاج اور اپنی جمالیاتی فکر و نظر کے ساتھ اُبھرتی ہے۔ فیضؔ کی شخصیت کا معاملہ یہ ہے کہ یہ تغزل اور غنائیت کی بہتر آمیزش کے بعد جلوہ گر ہوئی ہے۔ ان کے کلام میں ’تغزل‘ اور ’غنائیت‘ کا جو سحر ملتا ہے وہ ان کی شخصیت کے آہنگ کی دین ہے۔ اس آہنگ کی پہچان ضروری ہے، اپنی آواز کی تخلیق میں فیضؔ نے کلاسیکی روایات اور نئی اقدار کے آہنگ اور دونوں کے اسرارِ باطنی سے رشتہ قائم کیا ہے اور اسی رشتے کا کرشمہ ہے کہ ہمیں ایک منفرد لہجہ ملا ہے۔ یہ لہجہ اُردو شاعری میں نیا ہے، اس کے نئے پن کی ایک پہچان تو فضا آفرینی سے ہوتی ہے اور دوسری پہچان اس وقت ہوتی ہے جب جمالیاتی تجربے خواب ناک صورتیں اختیار کر کے اپنی رمزیت کو لیے ذہن سے پراسرار رشتہ قائم کرتے ہیں ۔ تشبیہوں سے زیادہ ایسے تمثالوں کے ذریعہ رشتہ پیدا ہوتا ہے جو شاعر کے اپنے استعارے بن جاتے ہیں ۔ ان استعاروں سے شاعر ا س کے ذہن،اس کی شخصیت اور اس کے جمالیاتی تجربوں کی انفرادیت کی پہچان ہونے لگتی ہے، مثلاً:
رات باقی تھی ابھی جب سرِ بالیں آ کر
چاند نے مجھ سے کہا ’’جاگ سحر آئی ہے
جاگ اس شب جو مئے خواب ترا حصہ تھی
جام کے لب سے جام اُتر آئی ہے‘‘
عکس جاناں کو وداع کر کے اُٹھی مری نظر
شب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سیہ چادر پر
جابجا رقص میں آنے لگے چاندی کے بھنور
چاند کے ہاتھ سے تاروں کے کنول گر گر کر
ڈوبتے تیرتے مرجھاتے رہے کھلتے رہے
صحنِ زنداں میں رفیقوں کے سنہرے چہرے
سطحِ ظلمت سے دمکتے ہوئے اُبھرے کم کم
نیند کی اوس نے ان چہروں سے دھو ڈالا تھا
دیس کا دردِ فراقِ رخ محبوب کا غم
دور نوبت ہوئی، پھرنے لگے بیزار قدم
زرد فاقوں کے ستائے ہوئے پہرے والے
اہلِ زنداں کے غضب ناک خروشاں نالے
جس کی باہوں میں پھرا کرتے ہیں باہیں ڈالے
لذتِ خواب سے مخمور ہوائیں جاگیں !
جیل کی زہر بھری چور صدائیں جاگیں 
دور دروازہ کھلا کوئی، کوئی بند ہوا
دور مچلی کوئی زنجیر، مچل کے روئی
دور اُترا کسی تالے کے جگر میں خنجر
سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئی
گویا پھر خواب سے بیدار ہوئے دشمنِ جاں 
سنگ و فولاد سے ڈھالے ہوئے جنات گراں 
جن کے چنگل میں شب و روز ہیں فریاد کناں 
میرے بے کار شب و روز کی نازک پریاں 
اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہی ہیں یہ اسیر
جن کے ترکش میں ہیں اُمید کے جلتے ہوئے تیر!
(زنداں کی ایک صبح)
’امیجری‘ اور غنائیت کے پیش نظر یہ ایک شاہکار نظم ہے۔ تمثال، خارجی اور معروضی حقیقت اور شاعر کے داخلی رویے اور رجحان کی آمیزش سے غور طلب بنا ہے، ’زنداں کی ایک صبح، اجتماعی تمثال کے اندر سے شعری تمثال کو لیے باہر نکلتی ہے اور جمالیاتی تنظیم کی ایک مثال قائم کرتی ہے۔ تجربے کے معنوی امکانات روشن صورتوں میں تبدیل ہو گئے ہیں ، عام جانے پہچانے الفاظ تمثال کو بامعنی اور تہہ دار بنا دیتے ہیں :

شب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سیہ چادر پر
جا بجا رقص میں آنے لگے چاندی کے بھنور!
چاند کے ہاتھ سے تاروں کے کنول گر گر کر
ڈوبتے تیرتے مرجھاتے رہے کھلتے رہے
***

لذتِ خواب سے مخمور ہوائیں جاگیں 
جیل کی زہر بھری چور صدائیں جاگیں 
دور دروازہ کھلا کوئی، کوئی بند ہوا
دور مچلی کوئی زنجیر، مچل کے روئی!!
دور اترا کسی تالے کے جگر میں خنجر
سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئی
***

سنگ و فولاد سے ڈھالے ہوئے جنت گراں 
جن کے چنگل میں شب و روز ہیں فریاد کناں 
میرے بے کار شب و روز کی نازک پریاں 
اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہی ہیں یہ اسیر
جس کے ترکش میں ہیں اُمید کے جلتے ہوئے تیر
***

یہ تصویریں امیجری کی عمدہ ترین مثالیں ہیں ، حساس جذبے کی آنچ نے وحدت میں کثرت کا عجیب جذبہ پیش کر دیا ہے۔ لب و لہجہ کا انوکھا پن معنوی وسعت کے ساتھ المیہ کے حسن کو نمایاں کرتا ہے۔
دو مثالیں اور ملاحظہ فرمائیے:
دل کے ایواں میں لیے گل شدہ شمعوں کی قطار
نورِ خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئے
حسن محبوب کے سیال تصور کی طرح
اپنی تاریکی کو بھینچے ہوئے، لپٹائے ہوئے
غایت سود و زیاں صورتِ آغاز و وصال
دہی بے سود تجسس وہی بے کار سوال
مضمحل ساعتِ امروز کی بے رنگی سے
یادِ ماضی سے غمگیں ، دہشتِ فردا سے نڈھال
تشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیں 
سوختہ اشک جو آنکھوں میں نہیں آتے ہیں 
اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں 
دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں 
ادراک اُلجھی ہوئی موہوم سی درماں کی تلاش
دشت و زنداں کی ہوس چاک گریباں کی تلاش
(ہم لوگ)

***
نیم شب، چاند، خود فراموشی
محفلِ ہست و بود ویراں ہے
پیکرِ التجا ہے خاموشی
بزمِ انجمن فسردہ ساماں ہے
آبشار سکوت جاری ہے
چار سو بے خودی سی طاری ہے
زندگی جز و خواب ہے گویا!
ساری دنیا سراب ہے گویا
سو رہی ہے گھنے درختوں پر
چاندنی کی تھکی ہوئی آواز
کہکشاں نیم وا نگاہوں سے
کہہ رہی ہے حدیثِ شوقِ نیاز
سایہ دل کے خموش تاروں سے
چھن رہا ہے خمار کیف آگیں 
آرزو، خواب، تیرا روئے حسن!
(سرودِ شبانہ)

یہ شخصیت کا آہنگ ہے جو مختلف فضاؤں میں تحلیل ہے، اسی آہنگ کی تخلیقی قوت ہے کہ جس سے تمثال فضاؤں کی مختلف کیفیتوں کا مظہر بن گئے ہیں ۔
اس آہنگ کی تشکیل میں جہاں فارسی اُردو شاعری کی کلاسیکی آواز اور آہنگ نے حصہ لیا ہے، وہاں دنیا کے مختلف ممالک کے جدید تجربوں کے آہنگ کے سر بھی شامل رہے ہیں ، حافظؔ، میرؔ، سوداؔ اور غالبؔ کے علامتی نظام سے بھی شاعر اپنے منفرد رجحان کے ساتھ ایک رشتہ قائم کرتا ہے اور بین الاقوامی علامتی نظام اور اس کے آہنگ سے بھی قریب تر نظر آتا ہے، کلاسیکی اور جدید علامتی اور استعاراتی نظام نے جہانِ معنی عطا کیا ہے، فنکار اُن کے تئیں اپنے طور پر بیدار ہے۔
شخصیت کے سوز و گداز اور محسوساتی اور جذباتی تناؤ — اور اپنی منفرد جمالیاتی حسیت سے شاعر نے اپنی علامتوں اور اپنے استعاروں کو بلاغت عطا کی ہے، اس کا شخصی رویہ توجہ طلب بنتا ہے اس لیے کہ فضا آفرینی اور تمثال سازی میں شخصی رویہ اور جمالیاتی حسّیت ہی کا عمل دخل ہے۔ یہ رویہ اور یہ حسّیت اپنی آزادی کا اظہار اجتماعی شعور کی وسعتوں ہی میں کرتی ہے اس شخصیت کا کارنامہ یہ بھی ہے کہ صورت اور تجربہ دونوں پیوست ہو جاتے ہیں اور انھیں علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اور لہجہ کے ذریعہ ہی ان تک رسائی ہوتی ہے اور اکثر لہجہ ’میڈیم‘ بن جاتا ہے۔
فیضؔ کا کلام غنائی شاعری کے ایک نئے معیار کو پیش کرتا ہے۔ اس نئے معیار کی پہچان اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ شاعر محض تماشائی نہیں رہتا۔ حالات اور حادثات کو تکتا نہیں رہتا یا صرف ان کی تصویریں پیش نہیں کرتا بلکہ خود اپنی ذات کو حالات اور حادثات میں اُلجھا ہوا پاتا ہے، اور اپنے احساس اور خیال میں اپنی شناخت کرتا ہے۔ پورے کلام کا المیہ کردار خود اس کی ذات کی علامت ہے، مختلف تجربوں میں غنائیت مختلف لہروں کو لیے نئی صورتوں میں ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے، شاعر المیہ کردار کے باطن کا تحرک بن جاتا ہے، ایک نئی صبح کو دیکھنے کی آرزو اور ایک خوبصورت مستقبل پر یقین، غنائیت کی تخلیق کا محرک ہے۔
فیضؔ کی غنائیت ، زندگی کے احساساتی حدود کو توڑ کر اندر داخل ہو جاتی ہے اور احساس مختلف رنگوں اور جہتوں کو پیش کر کے جمالیاتی انبساط عطا کرتی ہے۔ بعض خوب صورت نظموں میں داخلی خود کلامی کی خصوصیت ملتی ہیں جو شاعر کے تجربوں کی غنائیت کو حد درجہ محسوس بنا دیتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ذاتی احساس اور جذبہ ایک ایسے کردار کے جذبات سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں ، جو ذہن میں تشکیل شدہ فضا کو پھیلا کر اور بلند کر کے ہییومنزم کے تئیں بیدار کر دیتا ہے۔ بعض معاشرتی اور تاریخی واقعات کے شعری تاثرات اپنی غنائی خصوصیات کے ساتھ فلسفیانہ توجیہات کے ضامن بھی بن جاتے ہیں ۔ صبح یا خوبصورت مستقبل کا تصور واضح نہیں ہے اور اس کا واضح ہونا ممکن بھی نہ تھا ، لہٰذا فیضؔ کی غنائیت کا مطالعہ کرتے ہوئے نتائج سے زیادہ فکر کے عمل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، تلاش کا ایک عمل ہے، تلاش کے عمل کا یہ غنائی سفرنامہ آرزو، تمنا اور یقین کو لیے شروع بھی ہوتا ہے، جدلیاتی اور حسّیاتی تلاش کی معنوی جہتیں نئی غنائیت کے معیار کو زیادہ سمجھا سکتی ہیں ۔
غنائی اظہار یا غنائیت کا انحصار کئی باتوں پر ہوتا ہے، مثلاً فنکار کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں ، وہ سچائیاں جو فنکار کا موضوع بنتی ہیں اور ان سچائیوں کے مختلف پہلو اور شعور و احساس کہ جن سے وقت یا زمانے کا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ زندگی کی سچائیوں اور عوامی مسائل سے ذہنی اور جذباتی رشتہ قائم ہو جاتا ہے، تو تخلیقی فکر میں شدت آ جاتی ہے، اور جو فنی تجربہ پیدا ہوتا ہے اس کی غنائیت عموماً ایک سے زیادہ جہتوں کو پیش کرنے لگتی ہے:
*     میرے قاتل، مرے دلدار مرے پاس رہو
جس گھڑی رات چلی
آسمانوں کا لہو پی کے سیاہ رات چلی
مرہم شک لیے، نشترِ الماس لیے
بین کرتی ہوئی، ہنستی ہوئی، گاتی نکلے
درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے
جس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دل
آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی راہ تکنے لگیں 
آس لیے
 اور بچوں کے بلکنے کی طرح قلقلِ مے
بہر ناسودگی مچلے تو منائے نہ منے
جب کوئی بات بنائے نہ بنے
جب نہ کوئی بات چلے
جس گھڑی رات چلے
جس گھڑی ماتمی، سنسان، سیہ رات چلے
پاس رہو
میرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو!

فیضؔ کی شاعری کا المیہ اپنے بے پناہ درد کو لیے درد کا رشتہ قائم کرتا ہے۔ اپنے زخم سے دوسرے زخموں کو پہچانتا ہے، کم آمیز ہے، اشاروں اور کنایوں میں گفتگو کرتا یہ، یہی وجہ ہے کہ ’رمزیت‘ اس کے کلام کی خصوصیت ہے اور یہی رمزیت اس کے تجربوں کا سحر بن جاتی ہے ۔ تجربے دھند کی مانند اس طرح چھا جاتے ہیں کہ جمالیاتی دھند ہی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ موضوع کے ساتھ اس دھند کا جادو گرفت میں لے لیتا ہے۔ اظہارِ خیال کے لیے یہ کردار علامات اور تمثال کہیں سے ڈھونڈھ کر نہیں لاتا بلکہ ان کی پراسرار خوابناک تصویریں اسی دھند سے خلق ہوتی محسوس ہوتی ہیں ۔ اس کی کم آمیزی اور کنایاتی اور کنایاتی گفتگو کی وجہ سے الفاظ کا کوئی بڑا ذخیرہ بھی نہیں ملتا۔ ’تجربہ‘ بس یہ چاہتا ہے کہ درد اور غم کا عرفان مل جائے لیکن ساتھ ہی انبساط کی بشارت بھی ملے۔

—درد آئے گا دبے پاؤں ،
—یہ رات اس درد کا شجر ہے جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے،
—یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے،
—دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے،
—موجِ صبا لیے ہے خوشبوئے خوش کناراں ،
—جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اُٹھی،
—میرے قاتل، مرے دلدار، میرے پاس رہو،
—کوئی بت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے
اظہارِ خیال کا بس یہی انداز ہے، تجربہ، لہجہ بن جاتا ہے، لہجہ پیکری سانچے کو حد درجہ محسوس بنا دیتا ہے، المیہ کردار کے چند کلیدی الفاظ ایسے ہیں جن کے ذریعہ مختلف تجربوں یا جذبات کے مختلف رنگوں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے، درد، لہو اور تاریکی — یہ تین ایسے کلیدی الفاظ ہیں کہ جن سے جمالیاتی انکشافات ہوتے ہیں ، دوسرے تمام لفظوں کا رشتہ ان سے کسی نہ کسی سطح پر جا ملتا ہے۔
’درد‘  اس المیہ کردار کا وجود ہے۔
 اور 
’تاریکی‘ اور ’لہو‘ — اس کی وہ دنیا ہے جس میں وہ سانس لے رہا ہے!
*
دردِ شب ہجراں 
*
دہکتا ہوا درد
*
کڑا درد
*
وفورِ درد
*
درد کا شجر
*
دامنِ درد
*
اہلِ درد کا دستور
*
دھڑکتا ہوا درد
*
شعلۂ درد
*
جاں نواز درد
*
سیہ رات
*
تاریک راہ
*
شبِ ہجراں 
*
تاریک شگاف
*
سائے
*
سلگتی ہوئی شام
*
رات کا گرم لہو
*
سیہ دیوار
*
رات کا سنگین و سیہ سینہ
*
شبِ تار کا رنگ
*
راتوں کی کسک
*
نیم تاریک راہیں 
*
خون کی آگ
*
ہتھیلی پر لہو
*
آسمانوں کا لہو
*
نہرِ خوں 
*
خون میں نہلائے ہوئے
*
لہو میں غرق
*
خونِ دلِ وحشی
*
خونِ عشّاق
*
اپنے مسیحا کا خون
*
جواں لہو
*
خونِ دل
*
لہو کا سراغ

زنجیر، حلقۂ زنجیر، زنداں ، ظلم، دار، صلیب، سب ان ہی کے سبب آئے ہیں ، ان کے درمیان دستِ صبا، بہار، سحر اور نور کے دامن کی ہلکی ہلکی تصویریں آرزوؤں اور خوابوں کے استعاروں میں اُبھرتی ہیں ۔ زلف، ہونٹ، آنچل، دلآویز خطوط، پیراہن اور مہندی بھرے ہاتھوں کے رومانی تجربے جہاں یادوں کی صورتوں میں سہارا دیتے ہیں وہاں اشاروں میں شرح غم کرتے ہوئے، شرح بے دردیِ حالات کے لیے ایک سہارا بھی بن جاتے ہیں ۔ المیہ کردار ان یادوں سے ایک پیکر خلق کر کے اس طرح سامنے رکھ دیتا ہے کہ اس کے تعلق سے تمام یادیں ، تخلیق کا مظہر بن جاتی ہیں ، وہ اسی پیکر کو راز دار بناتا ہے، اسی کو شرح حالات سے آگاہ رکھتا ہے اور اکثر یہ پیکر زندگی ، عہد اور زمانے کے پیکر میں محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ قاتل بھی ہے اور دلدار بھی اور کبھی صرف قاتل ہے اور کبھی صرف دلدار!
فیضؔ کی شخصیت اور ان کے منفرد اندازِ بیان کا غالباً سب سے بڑا رزمیہ ہے کہ شاعر انیسؔ کے ڈکشن اور اقبالؔ کے لہجہ سے بچ کر نکل گیا ہے اور یہ اس عہد کا غیر معمولی کارنامہ ہے، کلاسیکی عرفان کے ساتھ فیضؔ جب اپنے منفرد ڈکشن اور لہجے کے ساتھ ملتے ہیں تو ایک نئی جمالیاتی تازگی کا احساس ملتا ہے، اس سچائی پر یقین آ جاتا ہے کہ تجربہ سچا اور اپنا تو مانگے کے اُجالے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
فیضؔ کی جمالیات یہ احساس دیتی ہے کہ سماجی اور سیاسی زندگی کے گرد ایک ایسی جمالیاتی دائرہ بنا ہوا ہے، جس کے درمیان فنکار اپنے منفرد تصور زندگی اور اپنے ’وژن‘ کے ساتھ آزادانہ طور پر عمل کر رہا ہے اور اسے اپنے عہد کا عرفان حاصل ہو رہا ہے، اکثر نظمیں جو ’فینسی‘ اور خواب آلود تجربوں سے شروع ہوتی ہے، پراسرار طور پر حسّی اور جمالیاتی سطح پر سچائیوں کی جانب بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی ’تمثیل‘، یا ’فکشن‘ کو جنم دے دیتی ہیں مثلاً ان کی نظم ’شام‘ کا مطالعہ کیجئے:

اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے
کوئی اُجڑا ہوا، بے نور پرانا مندر
ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے
چاک ہر بام، ہر اک در کا دمِ آخر ہے
آسماں کوئی پروہت ہے ہر بام تلے
جسم پر راکھ ملے، ماتھے پر سیندور ملے
سر نگوں بیٹھا ہے، چپ چاپ نہ جانے کب سے
اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے
جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام
دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام
اب کبھی شام بجھے گی نہ اندھیرا ہوگا
اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہوگا
آسماں آس لیے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے
چپ کی زنجیر کٹے وقت کا دامن چھوٹے
دے کوئی سنکھ دہائی، کوئی پائل بولے
کوئی بت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے
(دست تہ سنگ)

اس نظم کی فضا مکمل رومانی ے، جمالیاتی تاثر گہرا ہے، حسّی تصویریں فنکار کی قوتِ تخلیق کا کرشمہ ہیں ۔ ہم تمثالِ حسی (Sensory Image)  سے المیہ رجحان تک جاتے ہیں اور درد کا ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے، حواس اور جذبے کی یہ شاعری آرزو مندی کو مرکزِ نگاہ بنا دیتی ہے۔
’مندر‘ ایک حسی پیکر ہے جو داخلی ہیجانات سے اُبھرا ہے، پیڑ زندگی کی علامت ہے، جو ’مندر‘ کے حسی پیکر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ’آسماں ‘ اور ’شاعر‘ کا تصادم جو ’سحر‘ اور اس کے درمیان اُبھرتا ہے جمالیاتی لذتوں سے آشنا کرتا ہوا پرانے مندر کے اس حسن کا غیر شعوری عرفان بھی عطا کر دیتا ہے کہ جس میں زندگی کے نہ جانے کتنے رنگ متحرک ہیں ۔ متحرک — اور عابد کی مانند چپ سادھے زندگی اپنے تمام تقدس کے ساتھ نظر آنے لگتی ہے۔ رقص، موسیقی، دیوتا، مخلوق، مسرت اور غم، فرد اور کائنات کے رشتے، عبادت، ربودگی، جنس، محبت، روح، جسم — سب کے احساس ملنے لگتے ہیں ۔ ’مندر‘ زندگی کی علامت بن جاتا ہے۔ ’ساحر‘ نے اس مندر کو بے نور کر دیا ہے اور ’آسماں ‘ یہ آس لیے ہوئے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے، سنکھ بجے، پائل بولے، بت جاگے، سانولی اپنا گھونگھٹ اُٹھائے!
زندگی کی اقدار کو جس نے منتشر کیا ہے، وہ ایک ساحر ہے ، سحر کا یہ دام ٹوٹے گا اور مندر کو اس کے جلوے واپس مل جائیں گے، یہی بنیادی آرزو ہے، ’’آسماں آس لیے ہے‘‘، اس نظم کا جمالیاتی مظہر ہے کہ جس کا رشتہ فنکار کی ’’ہیومنزم‘‘ اور اس کے مستقبل کے خوب صورت خواب سے قائم ہو۔
زندگی کے حسن کے طویل سفر کے عرفان ہی سے جدید عہد کے حسن کو بہتر طور پر متشکل کیا جاسکتا ہے اور مستقبل کے ’وژن‘ کو اس حسن کی ایک بڑی نعمت عطا کی جاسکتی ہے، اس عہد کی ویرانی کو شادمانی میں تبدیل کرنے اور اُداسی کو مسرت اور رقص آمیز تحریک میں جلوہ گر کرنے کی تمنا ان کے ذہن میں عہد رفتہ کے حسن کا ایک معیار قائم کرتی ہے ان کا جمالیاتی تخئیل ماضی سے رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ اور شعور کی نئی تبدیلی کو حسن کے تسلسل میں دیکھنا چاہتا ہے۔
یہ نظم جمالیاتی تخئیل کو اس طرح اُکساتی ہے کہ قاری کا ذہن ماضی کے حسن کے احساس کے ساتھ ’حال‘ کو دیکھنے لگتا ہے، ’نشان‘ اور ’آواز‘ سے آگے ذہن کو لے جاتی ہے، شاعر کا کرشمہ یہ ہے کہ لفظوں کا آہنگ اور پیکروں کی صورتیں اس کے شعور و احساس میں جذب ہیں ۔ فیضؔ کی ’ہیومنزم‘ صرف انسان اور اس کی زندگی اور اُس کے معاشرے کے تئیں جمالیاتی سطح پر بیدار ہی نہیں کرتی اس کے داخلی کرب اور آرزو مندی کا بھی جمالیاتی انکشاف کرتی ہے اور اس کے لیے کلاسیکی ادبیات سے تخلیقی رشتے کی وجہ سے شاعر کو ایسی جمالیاتی تکنیک حاصل ہوئی ہے، جو اس بیداری اور انکشاف کو جلوؤں کی صورتوں میں خلق کر دیتی ہے۔
اس نظم میں فیضؔ کا مرکزی المیہ کردار گہری اُداسی کا ایک جال سا بنتا ہے اور اپنے ’پیتھوس‘ (Pathos) کو ایک مظہر، ایک جلوہ بنا دیتا ہے، اس دلفریب رومانی جال میں ’وقت‘ کچھ اس طرح پھنس گیا ہے کہ اس کی سیّال کیفیت سے لمحوں کے پیکر خلق ہو گئے ہیں ۔ المیہ کردار کی آرزو اور اس کی حسرتِ تعمیر، آسمان کی آس میں پوشیدہ ہے، یہ المیہ کردار صرف ٹوٹتی اور سسکتی زندگی کا ماتم نہیں کرتا بلکہ اپنی آرزو کا بھی اظہار کرتا ہے اور مستقبل کا ایک دلفریب ’’الیوژن‘ بھی پیش کرتا ہے۔ ’ساحر‘ خارجی اقدار کا علامیہ ہے، اور ’آسمان‘ جذباتی آرزومندی کا استعارہ، دونوں کی کشمکش المیہ کا احساس دیتی ہے۔ ’دلفریب کل‘ ایک پیارا سا خواب ہی ہے، کسی نقش یا صورت کے بغیر، اس لیے صرف ایک دلکش، الیوژن ’’چپ کی زنجیر کٹے وقت کا دامن چھوٹے‘‘ اسی خواب یا ’الیوژن‘ تک پہنچنے کی تمنا ہے۔
یہ نظم ایک طلسماتی منظر ہے، خواب کے تاثرات کی اکائیاں تجرید کی دھند میں ایک وحدت بن جاتی ہیں ، پیکر، تجربے کی تجسیم کرتے ہوئے ’انکشاف‘ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ، ذاتی ردّ عمل سے جو کیفیت غالب ہوتی ہے وہ غنائی اور جمالیاتی احساس کے ساتھ خطوط اور آہنگ کی وحدت میں نمایاں ہوتی ہے۔ یہ فیضؔ کی حسن کاری، اور ’حسن آفرینی‘ کا عمدہ نمونہ ہے۔
’شام‘ ایک جمالیاتی تمثیلی یا ’فکشن‘ کی صورت یقیناً زندہ رہے گی۔
فیضؔ کی نظم ’’ملاقات‘‘ میں جمالیاتی تمثیل یا فکشن کی ایک نئی صورت ملتی ہے:

یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ ان کی شاخوں 
میں لاکھ مشعل بکف ستاروں 
کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں 
ہزاروں مہتاب اس کے سائے
میں اپنا سب نور کھو گئے ہیں 

یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
مگر اِسی رات کے شجر سے
یہ چند لمحوں کے زرد پتّے
گرے ہیں اور تیرے گیسوؤں میں 
الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں 
اسی کی شبنم سے خامشی کے
یہ چند قطرے تری جبیں پر!
برس کے ہیرے پرو گئے ہیں 


(۲)
بہت سیہ ہے یہ رات لیکن
اسی سیاہی میں رونما ہے
وہ نہرِ خوں جو مری صدا ہے
اسی کے سائے میں نور گر ہے
وہ موجِ زر جو تری نظر ہے

وہ غم جو اس وقت تری باہوں 
کے گلستاں میں سلگ رہا ہے
(وہ غم، جو اس رات کا ثمر ہے)
کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں 
کی آنچ میں تو یہی شرر ہے
یہ اک سیہ شاخ کی کماں سے
جگر میں ٹوٹے ہیں تیر کتنے
جگر سے نوچے ہیں اور ہر اک
کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے

(۳)
الم نصیبوں ، جگر فگاروں 
کی صبح، افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں 
سحر کا روشن اُفق یہیں ہے
یہیں پہ غم کے شرار کھل کر
شفق کا گلزار بن گئے ہیں 
یہیں پہ قاتل دُکھوں کے تیشے
قطار اندر قطار کرنوں 
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں 
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے
یقیں جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے

دونوں نظموں (شام اور ملاقات) کی جمالیاتی رومانی فضا مختلف ہے، شام میں ایک حسّی منظر، ایک حسّی تصویر، جمالیاتی فکر و نظر کے ساتھ اُبھرتی ہے، خارج اور باطن کا ایک پراسرار رشتہ قائم ہے، اس رشتے سے کینوس، پر تمثال خلق ہوئے ہیں اور ایک بڑی سچائی جمالیاتی سچائی بن کر اپنی کئی جہتوں کے ساتھ نمایاں ہوئی ہے۔ ملاقات میں منظر باطن کے اندر سے پھوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہر تصویرجیسے باطن سے نکل رہی ہو، شام میں داخلی خود کلامی کی کیفیت ہے، ملاقات میں دو کردار ہیں ، المیہ کردار، رات کی تاریکی اور سناٹے میں اپنے درد کو موضوع بنا رہا ہے، دوسرا کردار (محبوب/ زندگی) خاموش ہے لیکن اس کے باوجود محسوس ہوتا ہے، ایک تیسرے کردار کی پرچھائیں بھی ہے جو ایسے احساسات کے وجود کی ذمہ دار ہے۔ غم اور رات کو المیہ کردار کے وجود کا حصہ بنانے والا— جو خود رات کے پیکر میں جذب ہے) ’سحر‘ یا ’صبح‘ المیہ کے ’یقین‘ کے بطن میں جیسے کسمسا رہی ہو۔
فیضؔ کی غنائیت اور اُن کے لہجہ میں جو سحر انگیز قوت ہے وہی سب سے پہلے گرفت میں لیتی ہے، یہ لہجہ قاری کے احساس سے فوراً ہی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ غنائی شاعری کی ایسی تازگی اور نغمگی اور ایسے آہنگ کی شادابی، جدید اُردو شاعری میں کہیں اور نہیں ملتی، حقیقی زندگی اور شاعر کی تخلیقی شخصیت کا احساساتی باطنی رشتہ جب مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے، تو شعری تجربے، وقت کی نغماتی آہنگ کی صورت میں اُبھرنے لگتے ہیں ۔ اس نظم میں زندگی کی کہانی ارفع جمالیاتی تخئیلی احساسات کی سطحوں پر اُجاگر ہوتی ہے اور اپنی جہتوں کو عمومی بناتی ہے۔
زندگی محبوب ہے، محبوب کا تجربہ انسان کا تجربہ ہے، یہ تجربہ پھیل کر پوری زندگی کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمیں خود اپنی ذات اور اپنی فکر و نظر کے پھیلنے کا احساس ملتا رہتا ہے۔ نظم کی فضا رومانی ہے، تنہائی ہے اور اس تنہائی میں دو کردار ہیں ، ایک کردار فیضؔ کی شاعری کے المیہ پیکر کا ہے جو اُن کی شاعری کی جمالیات میں وسعت اور کشادگی کے ساتھ گہرائی اور تہہ داری پیدا کرتا ہے اور دوسرا کردار محبوب کا ہے جو پوری زندگی کی علامت ہے، پوری زندگی کا استعارہ بن کر محبوب کا کردار ماضی کے تجربوں اور تضادوں — اور کشمکش اور تصادم کے تئیں آہستہ آہستہ جمالیاتی اسرار کے سہارے بیدار کرتا جاتا ہے۔ المیہ حادثات اور واقعات، خوشیاں اور غم، حسن اور بدصورتی، جابرانہ عمل، انسان پر اُن کے اثرات— اور ردّ عمل اور مستبقل کے دھندلکوں سے اُبھرتی ہوئی ایک خوب صورت خواب کی تعبیر — سب کے تاثرات اُبھرتے ہیں ، اس نظم کے تمام استعارے حسّی سطح پر متحرک ہو کر ایک ایسے ’علامتی مکالمے‘ کا جوہر بن جاتے ہیں جو اس نظم کا بنیادی سانچہ ہے۔ غور فرمائیے تو محسوس ہوگا کہ اس المیہ کردار کی شخصیت کا آہنگ ہی ہے جو اس نظم کا ’میڈیم‘ بنا ہے، محبوب خاموش ہے اور اس کی خاموشی ’تجربہ‘ ہے۔
فیضؔ کی شاعری کا سب سے قابل توجہ کردار وہ المیہ کردار ہے جو غم کی عظمت کو بھی پہچانتا ہے اور ایک خوبصورت مستقبل کے ’یقین‘ کا پیکر بھی ہے۔ اس نظم میں بھی غم کی لہروں سے اس کا ’یقین‘ نور کی ایک لہر بن کر اُبھرتا ہے۔ زردؔ، سیاہؔ، روشنؔ، نورؔ، ہیراؔ اور لہو۔ احساسات اور تجربات کے ان رنگوں کے پیکر میں جن میں ’کینوس‘ جاذب نظر بنا ہے اور کچھ اس طرح کہ ان رنگوں کی گہرائیوں میں بے پناہ کشش محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ اپنے رنگ سے پہچانے جاتے ہیں ، ان میں چند ایسے ہیں جو ’ٹریجڈی‘ کا احساس گہرا کرتے ہیں اور چند ایسے جو ’نیچر‘ کے حسن کی علامیت کو لیے خوبصورت خواب کے اشارے بن گئے ہیں ، مثلاً درخت، پتّے، نور، افلاک اور سحر وغیرہ۔ ان میں اکثر بصری تمثال ہیں جنھیں ہم صرف دیکھتے ہی نہیں شاعر کے ڈکشن میں محسوس بھی کرتے ہیں ۔
اس نظم کی تذہیب کاری کا حسن یہ ہے کہ ’کمپوزیشن‘ میں مینا کاری خطی تناظر، رنگوں کا تضاد (Colour Contrast)  اور سایہ کاری (Shading)  سب جلوے بن گئے ہیں اور ان کی وحدت، تخلیق میں تعدیل(Symmetry)  پیدا کرتی ہے، معروضی حقیقت جس طرح مشاہدہ باطن سے جمالیاتی حقیقت یا سچائی بن گئی ہے اس سے فنکار کے الحاسنہ کے تحرک اور ’وژن‘ کی تخلیقی فعلیت اور شعور مدرکہ کا احساس ملتا ہے۔ تصویر بظاہر بہت واضح ہے، لیکن تمثال، بنیادی الفاظ کی محدود صفات سے علیحدہ ہو کر حسن کو محسوس  بناتے ہیں ۔
فیضؔ کی جمالیات میں المیہ کردار وہ مرکزی نقطہ ہے کہ جس کی مدد سے ایک جاذبِ نظر جمالیاتی دائرہ بنا ہے۔ یہی کردار اس جمالیات کا سرچشمہ ہے، اسی کی آواز کا آہنگ مختلف شعری تجربوں میں اپنے مختلف ارتعاشات کے ساتھ ملتا ہے، ہم اس کی اُداسی اور اس کے سوز و گداز کو ابتدائی تجربوں سے محسوس کر رہے ہیں ۔
وہ المیہ کردار ہی تھا جو چاندنی راتوں میں کیف و لذت کی یادیں لے کر آیا تھا اور بعض لمحوں میں اتنا اُداس تھا کہ یہ اُداسی ہر شے کی اداسی بن گئی تھی، اس کی آواز مدھم نالے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ اس نے یادوں کے دھندلکوں میں محبوب کے پیراہن کو دیکھا تو کچھ اس طرح کہ محبوب کا جسم اور اُس کے پیرہن کا سرخ رنگ دونوں ایک دوسرے میں جذب ہو کر ایک وحدت کی صورت اختیار کر گئے۔ اس کے تاثرات کبھی اس طرح سامنے آئے:

نیم شب، چاند، خود فراموشی
محفل ہست و بود ویراں ہے
پیکرِ التجا ہے خاموشی
بزمِ انجم فسردہ ساماں ہے
آبشارِ سکوت جاری ہے
چار سو بے خودی سی طاری ہے
زندگی جزوِ خواب ہے گویا
ساری دنیا سراب ہے گویا
سو رہی ہے گھنے درختوں پر
چاندنی کی تھکی تھکی آواز
کہکشاں نیم وا نگاہوں سے
کہہ رہی ہے حدیثِ شوقِ نیاز
سازِ دل کی خموش تاروں سے
چھن رہا ہے خمار کیف آگیں 
آرزو، خواب، تیرا روئے حسیں 
 اور کبھی اس طرح اُبھرے
بام و در خموشی کے بوجھ سے چور
چاند کا دُکھ بھرا افسانہ، نور
خواب گاہوں میں نیم تاریکی
مضمحل لے ربابِ ہستی کی
آسمانوں سے جوئے درد رواں 
شاہراہوں کی خاک میں غلطاں 
ہلکے ہلکے سروں میں نوحہ کناں !
داخلی خود کلامی کی ایسی کتنی مثالیں ہیں جن سے المیہ کردار کی باطنی کیفیتوں کو محسوس کرتے ہیں ، ایسے جانے کتنے تاثرات کے ساتھ ہم اس کی داخلی ویرانی، اس کے ہیجانات اور اضطراب سے قریب تر ہو جاتے ہیں ۔
ان کی نظم ’تنہائی‘ میں المیہ کردار کا درد سیّال بن کر ہر شعر میں جلوہ گر ہوا ہے۔ اور نظم کے ختم ہوتے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے پوری نظم درد کی صورت مجسم ہو گئی ہے، فضا کی معنوی کیفیت گرفت میں لے لیتی ہے، پورے عہد کا ذہنی، رویہ، لہجے کی غم ناکی یا ’پیتھوس‘ (Pathos)  میں جذب ہو گیا ہے۔ یہ داخلی ویرانی فرد کی بھی ہے اور معاشرے کی بھی، پہلے مصرع میں انتظار کے جانے کتنے لمحے سمٹ کر ایک جاوداں لمحے کا تصور بن گئے ہیں ، اُمید اور نا اُمیدی کا تصادم جمالیاتی لہروں کو اس طرح خلق کر دیتا ہے کہ باطن کی کسک سے ایک پراسرار رشتہ قائم ہو جاتا ہے، المیہ کردار رات کے ڈھلنے اور تاروں کے بکھرنے سے انتظار کے لمحوں کے ختم ہو جانے کا تاثر پیدا کرتا ہے اور خوابیدہ چراغ کے لڑکھڑانے، راستہ تک تک کر راہگزر کے سوجانے اور قدموں کے سراغ کے دھندلانے سے اس تاثر کو اور گہرا کرتا ہے، جب مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو باطن کا درد اس طرح نمایاں ہوتا ہے، یہ مہذب آرزو مندی کی شکست کی تصویر ہے، المیہ کردار کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیت کا تاثر ’’کوئی نہیں ، کوئی نہیں ‘‘ کی تکرار سے اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ نظم کے ختم ہونے کے باوجود اس کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے، پیتھوس (Pathos) کو خلق کرنا یقیناً بڑی بات ہے لیکن ’پیتھوس‘ کے حسن کو جلوہ بنانا اور اس حسن کو عرفان عطا کر دینا سب سے بڑی بات ہے۔ جدید اُردو شاعری میں اپنی نوعیت کی یہ واحد نظم ہے:

پھر کوئی آیا، دلِ زار، نہیں کوئی نہیں 
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گذر
اجنبی خاک نے دھندلا دے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں ، بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہیں آئے گا!

اُداسی، مایوسی اور تنہائی کے ساتھ، انتظار کی آرزو اور اس کی ہلکی سی لگن ایک خوبصورت آنچ کی مانند مختلف تجربوں میں موجود رہتی ہے، حسن کا انتظار، ماضی کی یادوں سے زبردست تحرک پاتا ہے، اور نمو کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ماضی کا حسن، انتظار کے حسن کو متحرک کرتا ہے، ’یادیں ‘ تخلیقی قوت بن جاتی ہیں اور اِس المیہ کردار کے ایسے جمالیاتی تاثرات سے سامنے آ گئے لگتے ہیں :

دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں 
تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹ کے سراب
دشتِ تنہائی میں ، دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں ، ترے پہلو کے سمن اور گلاب
اُٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور اُفق پار، چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن، آ بھی گئی وصل کی رات!

یادوں میں اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ ’صبحِ فراق‘ وصل کی رات محسوس ہونے لگتی ہے۔ ’یادوں ‘ کے حسّی جمالیاتی تجربے بھی تخلیقی قوت کے تحرک کے ضامن ہیں :

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

تمھاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں 
کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں 

تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈھی ہیں پناہیں 
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دستِ صبا کو
ڈالی ہیں کبھی گردن مہتاب میں بانہیں 

مری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہے
ہر اک تارِ نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھی

’یادوں ‘ کے یہ تجربے اور یہ رومانیت، جمالیاتی حسّیت کے ساتھ اپنی اصابت، پختگی، ہم آہنگی اور شگفتگی کا بھی احساس دیتی ہے۔ یہ المیہ کردار کے غم اور اس کی یادوں کی مسرتوں کا کوئی ایسا علیحدہ مسلک نہیں ہے کہ جس تک ہماری پہنچ نہ ہو، حقیقت تو یہ ہے کہ تجربوں کی جمالیاتی اصابت، ہم آہنگی اور شگفتگی میں شریک کر لیتی ہے۔
فیضؔ کی جمالیات، کا المیہ کردار ایک بڑی سچائی ہے۔
معاشرے کی شکست و ریخت اور خوب صورت خوابوں کی سچائی!
یہ فرد کی صورت اُبھرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ پراسرار طور پر ایک اجتماعی قوت کی علامت بن جاتا ہے۔ فیضؔ کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ المیہ کردار شاعر کے تخلیقی وجدان اور اُس کے تخلیقی عمل کا تحرک بنتا جا رہا ہے، کبھی حد درجہ اُداس اور غمگین ہو جاتا ہے اور کبھی تخلیقی قوت بن کر اُبھرنے لگتا ہے، اسے اپنے خوبصورت اور البیلے خواب عزیز ہیں ، محبوب یا زندگی سے تحرک پاتا ہے اور اپنے خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ فنکار نے اس کردار کو خلق کیا ہے اور لیکن فن میں اس کردار کے اپنے تحرک کی تخلیقی اُٹھان زیادہ توجہ طلب بن جاتی ہے۔ وہ اجتماعی قوت کا ایسا استعارہ ہے کہ ہم اس کی شخصیت کو محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ اس کی جمالیاتی تخلیقی اُٹھان، روشنی اور سائے میں اس کی آواز کے ارتعاشات اور اس کی علامتی گفتگو سب توجہ کا مرکز بنتی ہیں ۔ ابتداء میں صرف اپنی آرزو اور تمنا کا پیکر رہتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ اپنی آرزو اور تمنا کے ساتھ ایک یقین، ایک اعتماد کا پیکر بن جاتا یہ۔ کارلؔ مارکس نے کہا تھا کہ انسان حسن کے اُصولوں کے مطابق تخلیق کرتا ہے، یہ المیہ کردار صرف اس عہد کے حسن کے اُصولوں کے مطابق خلق نہیں ہوا ہے بلکہ خود اس عہد کے حسن کے اُصولوں کا خالق بن گیا ہے، فنکار کی شخصیت میں جو سوز و گداز اور دلآویزی، انسان دوستی اور محبت اور کشادگی اور وسعت ہے یہ کردار اُن کا نمائندہ اور اشارہ بن گیا ہے۔ شخصیت کے آہنگ سے ایک ایسے متحرک ’’سلف پوٹریٹ‘‘ کی تخلیق جدید اُردو شاعری کا ایک مستقل عنوان ہے۔
اس المیہ کردار کے حسن کی پہچان قدروں کے تئیں اس کی بیداری اور اس کی ہوش مندی سے ہوتی ہے، یہ ’آئیڈیل‘ نہیں ہے، مجرد بھی نہیں ہے، حساس اور متحرک ہے۔ ہم سماجی- اقتصادی اور سماجی - سیاسی زندگی کے المیہ کے آہنگ کو اس کی آواز کے آہنگ میں محسوس کرتے ہیں ، یہ معاشرے کے درد کو حسن کی صورت جلوہ گر کرتا ہے۔ ’داغ داغ اُجالے‘ کا احساس ہو یا ’بے نور اُجڑے ہوئے مندر‘ کا حسبی پیکر، ان سے المیہ کردار کے زوال کا ہی نہیں معاشرے کے زوال کا بھی احساس ملتا ہے۔ اس کی اُداسی کی غم ناک کیفیت بھی المیہ تجربوں سے وابستہ کر دیتی ہے، فنکار کی فکر ان تجربوں کی گہرائیوں کا احساس دیتی ہے۔
فیضؔ کی رومانیت، حقیقت کے شعور کی دین ہے، آواز، رنگ اور حرکت میں رومانی ذہن معروضی حقیقی فکر و نظر لیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ المیہ کردار اپنی اُداسیوں کے باوجود نا اُمید نہیں ہوتا، اس کا اپنا وژن ہے، جس سے سچائی روشن ہوتی ہے، یہ وژن ہی حقیقت کو جلوہ بناتا ہے۔ ’ہیومنزم‘ نے ایسی قوتِ مدرکہ عطا کی ہے جو جدلیات پر یقین رکھتی ہے اور مستقبل سے مایوس نہیں ہوتی:

صبا نے پھر درِ زنداں پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے

یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے
یقیں جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے

رات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دو
یہی تاریکی تو ہے غازۂ رخسارِ سحر
صبح ہونے کو ہے اے دلِ بیتاب ٹھہر


ترا جمال نگاہوں میں لے کے اُٹھا ہوں 
نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی
نسیم تیرے شبستاں سے ہوکے آئی ہے
مری سحر سی مہک ہے ترے بدن کی سی


بزمِ خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی


دور آفاق پہ لہرائی کوئی نور کی لہر
خواب ہی خواب میں بیدار ہوا درد کا شہر
خواب ہی خواب میں بے تاب نظر ہونے لگی
عدم آباد جدائی میں سحر ہونے لگی

کاسۂ دل میں بھری اپنی صبوحی میں نے
گھول کر تلخیِ دیر و زمیں امروز کا زہر

دور آفاق پہ لہرائی کوئی نور کی لہر
آنکھ سے دور کسی صبح کی تمہید لئے
کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت
عدم آباد جدائی میں مسافر صورت
بے خبر گذری، پریشانیِ اُمید لئے
گھول کر تلخیِ دیر و زمیں امروز کا زہر
حسرتِ روزِ ملاقات رقم کی میں نے
دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام
حسنِ آفاق، جمالِ لب و رخسار کے نام


برصغیر کی تہذیب کی جمالیات اور خصوصاً کلاسیکی فارسی اور اُردو شاعری کے تغزل کی روایت نے محبوب کا جو تصور دیا ہے وہ فیضؔ کے پورے کلام میں ’’عورت‘‘ کے پیکر میں اپنی جمالیاتی جہتوں کے ساتھ جذب ہے، زندگی یا محبوب کی تصویر کشی ہو، شعور اور لاشعور میں عورت کا پیکر ہی متحرک رہتا ہے، ’شہرِ آرزو‘ اسی پیکر کا کرشمہ ہے کہ جسے المیہ کردار عزیز تر رکھتا ہے، احساس اور جذبے کے تمام رنگوں کا اسی سے رشتہ ہے، یہی پیکر المیہ کے درد کو نغمہ بناتا ہے، تمام عشقیہ تجربے، اسی پیکر سے شدید جذباتی رشتے کی دین ہیں ۔ ’ہیومنزم‘ نے اسی وجود کو ایک وسیع تناظر میں زندگی کا جمالیاتی استعارہ بنا دیا ہے، زندگی کے حسن سے عورت کے حسن کو علیحدہ نہیں کر سکتے، اس حسن کے احساس میں فنکار اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ صنم گری کے پورے عمل میں ایک ہی صورت اُبھرتی رہتی ہے، وہ ہر وقت اپنے محبوب ہی کا مجسمہ تراشتا ہے اور اپنی سلگتی ہوئی کیفیت، نفسیاتی ہیجان اور جذباتی ہم آہنگی کے ساتھ، اپنے احساس، جذبے اور تخئیل کے توازن کا احساس بخشتا رہتا ہے۔ فیضؔ نے جدید اُردو شاعری میں جو نیا رومانی جمالیاتی فینومینن  خلق کیا ہے، اس کے نئے پن اور اس کی تازگی اور شگفتگی کا انحصار ان ہی باتوں پر ہے:
ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں !
*
کسی کا درد ہو، کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے، ترے سبب سے ہے
*
کیا جانے کس کو کس سے ہے اب داد کی طلب
وہ غم جو مرے دل میں ہے، تیری نظر میں ہے!
*
وہ جفائے غم کا چارہ، وہ نجاتِ دل کا عالم
ترا حسن دستِ عیسیٰ، تری یاد روئے مریم!
*
صبا نے پھر درِ زنداں پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے، دل سے کہو نہ گھبرائے
*
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
*
ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں 
دل سنبھالے رہو زباں کی طرح
*
رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسمِ گل ہے، تمہارے بام پر آنے کا نام!
*
جانے کس رنگ میں تفسیر کریں اہلِ ہوس
مدح زلفِ و لب و رخسار کروں یا نہ کروں !
*
یار آشنا نہیں کوئی ٹکرائیں کس سے جام
کس دل ربا کے نام پر خالی سبو کریں !
*
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے!
*
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں 
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں 
*
نہ سوالِ وصل، نہ عرض غم، نہ حکایتیں نہ شکایتیں 
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے!
*

یہ سب غزل کے خوبصورت اشعار ہیں جو فیضؔ کی جمالیات کے عمدہ ترین مظاہر کہے جاسکتے ہیں ، محبوب کا قدم ہو یا اس کا عطا کیا ہوا درد، عاشق کا گلہ ہو یا اس کا غم، محبوب کا غم ہو یا اس کی ادا، رنگِ پیراہن ہو یا زلف کی خوشبو، لب و رخسار ہوں یا جام میں ان کا عکس، سب ایک تخلیقی شخصیت کے آہنگ اور زندگی کے آہنگ کی وحدت کے حسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں ، کلاسیکی غزل یا تغزل کی نئی رومانیت کے ساتھ بڑی شدت سے آگے جانے کا تحرک ملتا ہے۔ فیضؔ کا کلام مجموعی طور پر ایک تمثیلی سفرنامہ ہے کہ جس میں کئی ننھے ننھے ٹکڑے بظاہر ایک دوسرے سے علیحدہ نظر آنے کے باوجود ایک دوسرے میں پیوست ہیں اور وحدت کے حسن کا احساس بخشتے ہیں ، یہ شعری تجربے ایک مضطرب روح کے تخئیل کے سانچے میں ڈھل کر اپنی ایمائیت اور تمثیلیت کے ساتھ آئے ہیں ۔ بعض تجربے ایسے ہیں جو اس قدر پگھل جاتے ہیں کہ صرف لہجے کا آہنگ اور لہجے کا کارس ہی متاثر کرتا ہے۔ احساساتی تجربے کی تازگی کا احساس اکثر اُس وقت ہوتا ہے جب شعری تجربہ نغمہ بن جاتا ہے، باطنی اضطراب کی کیفیت ایسی ہے کہ عشقیہ تجربوں میں فیضؔ کا المیہ کردار فنکار کی شخصیت سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کی پہچان استعاروں کی ہیئت اور اُن کی معنوی جہتوں سے ہوتی ہے جو روایتی ہیئت میں اُبھرتے ہوئے بھی اس کا قصہ بن کر نہیں رہ جاتیں ۔ عشقیہ تجربوں کی کشمکش کی شدت کے تحرک کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس سے فرد اور معاشرے کے شدید تصادم کو اُبھرنے کا موقع ملا ہے اور اس تصادم کے المیے نے آہستہ آہستہ ایک مربوط اور منظم استعارے کی صورت اختیار کر لی ہے۔
المیہ کردار کا محبوب پہلے اس طرح اپنے حسن کے ساتھ جلوہ گر ہوا تھا:

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں 
وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں 
ہزار فتنے تہ پاے ناز، خاک نشیں 
ہر اک نگاہ خمارِ شباب سے رنگیں !
شباب جس سے تخئیل پہ بجلیاں برسیں 
وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں 
ادائے لغزشِ پا پر قیامتیں قرباں 
بیاضِ رُخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں !

سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم
طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم
وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اترائے
زبانِ شعر کو تعریف کرتے شرم آئے
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش
گداز جسم، قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سرو سہی نماز کرے
غرض وہ حسن جو محتاج وصف و فام نہیں 
وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں 

عمدہ سراپا نگاری کی مثال ہے۔ محبوب کا پیکر اپنے تمام جلوؤں کے ساتھ مرکز نگاہ بنتا ہے لیکن رفتہ رفتہ کشمکش شروع ہو جاتی ہے اور ایک المیہ کردار اپنے مخصوص لہجے کے ساتھ اس طرح اُبھرتا ہے:

بہارِ حسن پابندی جفا کب تک؟
یہ آزمائشِ صبرِ گریز پا کب تک؟
قسم تمہاری بہت غم اُٹھا چکا ہوں میں 
غلط تھا دعوی صبر و شکیب آ جاؤ
قرارِ خاطرِ بیتاب تھک گیا ہوں میں !
(انتظار)

ا ور اس طرح کہانی کا ایک پہلو اس طرح پیش ہوتا ہے:
خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تم
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے
تری مسرتِ پیہم تمام ہو جائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے
غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
(خدا وقت نہ لائے)

یہ عام جان پہچانا المیہ کردار رفتہ رفتہ ایک استعارہ بن جاتا ہے۔ زندگی کی المناکی کا احساس جب گہرا ہو جاتا ہے تو محبوب کا ہی پیکر وجود کا ایک ناقابل تقسیم حصہ بن کر زندگی کی علامت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور پوری زندگی کا استعارہ بن کر زمانے اور عہد کی کشمکش اور تصادم کے تئیں آہستہ آہستہ جمالیاتی اسرار کے سہارے بیدار کرتا ہے۔ المیہ کردار اور محبوب دونوں المیہ پیکر بن جاتے ہیں ، استعاروں کی صورتیں اختیار کر لیتے ہیں اور المیہ کا حسن توجہ کا مرکز بن جاتا ہے:

کیا جانے کس کو کس سے ہے اب داد کی طلب
وہ غم جو مرے دل میں ہے تیری نظر میں ہے

کہتا ہوا المیہ کردار اس طرح سرگوشیاں کرتا ہے:
بہت سیہ ہے یہ رات لیکن
اسی سیاہی میں رونما ہے
وہ نہر خوں جو مری صدا ہے
اسی کے سائے میں نور گر ہے
وہ موجِ زر جو تری نظر ہے!
وہ غم جو اس وقت تیری باہوں 
کے گلستاں میں سلگ رہا ہے
(وہ غم جو اس رات کا ثمر ہے)
کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں 
کی آنچ میں تو یہی شرر ہے
ہر اک سیہ شاخ کی کماں سے
جگر میں ٹوٹے ہیں تیر جتنے
جگر سے نوچے ہیں اور ہر اک
کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے

زندگی، محبوب سے اس طرح عبارت ہو گئی ہے:
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے!
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی!
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلے آئے، لائے جہاں تک قدم!

لب پہ حرفِ غزل، دل میں قندیل غم
اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی
دیکھو قائم رہے اس گواہی پہ ہم
جو تاریک راہوں میں مارے گئے

 اور پھر المیہ کردار ’یقین‘ اور ’اعتماد‘ کا استعارہ بن جاتا ہے:
جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں 
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم جانیں 

یہ المیہ کردار زندگی، عمل اور بدنصیبی— اور مسرتوں کے لمحوں کے جمالیاتی نقوش اُبھارتا ہے، عہد اور معاشرے کے المیے کے حسن سے وابستہ ہو کر اپنے خوابوں کے حسن کی تلاش میں مصروف رہتا ہے۔ جب اُبھرتا ہے تو پورے عہد سے وابستہ ہو جاتا ہے۔
یہ کردار، ایک جمالیاتی، آئیکن (aesthetic icon)  بن کر فیضؔ کی شاعری کے ’فینونیا‘ کو سمجھنے کا کلیدی ذریعہ بنتا ہے۔ جمالیاتی، ’آئیکن‘ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ زندگی کے حسن کے اظہار کا ایسا ذریعہ ہوتا ہے کہ ہم اظہار کے جلوؤں کے ساتھ اس کی زرخیزی اور اس کے تحرک آمیز وسیلے کو بھی پہچان لیتے ہیں ، اس کی زرخیزی کا انحصار سچائیوں کے عرفان پر ہے، وہ سچائیاں جو بیک وقت فرد اور زمانے کی سچائیاں ہوتی ہیں ، ’جمالیاتی آئیکن‘ فکر کو متحرک کر کے ذہن کو مختلف حقیقتوں کے جوہر سے آشنا کرتا رہتا ہے، اپنی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے اپنی جہتوں سے سچائیوں کو سجھا دیتا ہے، بنیادی طور پر یہ ’اصل‘ کا جمالیاتی تمثال ہوتا ہے جو شعور کے تحرک کا ضامن ہے۔ ’سائیکی، یا حسّی فکر کا یہ تمثال اپنے طور پر مستحکم ہوتا ہے اور ارتعاشات پیدا کرتا رہتا ہے، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ المیہ کردار ایسا حسّی پیکر ہے جو مادیت سے گہرے طور پر پیوست ہو کر جمالیاتی آئیکن کی بہتر خصوصیات کا احساس عطا کرتا ہے۔ حقیقی شے یا مادی حقیقت کا وہ حسّی استعارہ ہے جس کے نفسیاتی ارتعاشات فن میں جلوہ بنتے ہیں ، حسرتِ تعمیر اس کا سب سے بڑا درد ہے، اسی درد کو لیے وہ جدوجہد کرتا ہے اور ذہنی اور جذباتی کشمکش کا شکار ہوتا ہے۔ اپنی ذات پر اُسے سب سے زیادہ بھروسہ ہے، لہٰذا شکست کے بعد بھی اپنے یقین کے ساتھ اُبھرتا ہے جیسے اس نے اُس شکست کو قبول ہی نہ کیا ہو، آپ اپنا ہمدرد بن جاتا ہے، زخموں کی ٹیس اُسے لذت بخشتی ہے، اس کے تمام تجربے کشمکش اور تصادم کی اذیتوں سے حاصل ہوئے ہیں ۔
یہ المیہ کردار، فیضؔ کی جمالیات کا محور ہے، فنکار کے جمالیاتی تجربوں کی معنویت کی توسیع کرتا ہے، المیہ احساس کے ساتھ، اپنے وجود اور کیف سے پہچانا جاتا ہے، تمام جمالیاتی تجربوں کا نقطۂ ماسکہ (Focus)  ہے لیکن ساتھ ہی تمام جمالیاتی تجربوں کے ارتعاشات کا مرکز بھی ہے۔

یہ کردار فیضؔ کی گہری سماجی، سیاسی بصیرت کا پیکر ہے۔ ایک مربوط اور منظم استعارہ ہے۔ اسے علیحدہ کر کے فیضؔ کی جمالیات کو سمجھا نہیں جاسکتا، اسی ’امیج‘ کے گرد فیضؔ کے تمام جمالیاتی تجربوں کا رس زیادہ انبساط عطا کرتا ہے۔ یہ جہاں برصغیر کے انسان کا پیکر ہے وہاں پورے عہد کے کرب کی علامت بھی ہے۔
٭٭٭


مصنف کی اجازت اور تشکر کے ساتھ
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭ پہچاج شکا  م                                                                                                                
