﻿



کالی رات




عزیز احمد









گرینڈ ٹرنک ایکسپریس دس گھنٹے لیٹ تھی۔ سکندر آباد کے پلیٹ فارم پر انتظار کرنے والوں کا اضطراب بڑھتا جاتا تھا اور جب سگنل گرا تو دلوں کی دھڑکن کئی گنا تیز ہو گئی اور بالآخر قاضی پیٹھ سے وہ گاڑی آ ہی گئی۔ جس میں گرینڈ ایکسپریس کے دو ڈبے کٹ کر حیدر آباد تک آتے ہیں۔  وہ تینوں اس ڈبے کی طرف لپکے جس کے سفید تختے پر حیدرآباد لکھا ہوا تھا۔ ڈبے کی کھڑکیاں بند تھیں۔  ان تینوں کے دل ڈوب گئے کسی کا جھانکتا ہوا چہرہ کسی کھڑکی سے نظر نہیں آیا۔ گاڑی دھکا کھا کے ٹھہری ایک کمپارٹمنٹ کا دروازہ جو اچھی طرح بند نہیں تھا جھٹکے سے خودبخود کھل گیا۔ تینوں میں سے سب سے چھوٹے بھائی نے لپک کے کھلے ہوئے دروازہ کے اندر قدم رکھا۔ اوپر ایک ٹوٹی ہوئی ٹوکری رکھی تھی۔ اس کے سوا کسی قسم کا سامان نہ تھا۔ کوئی جاندار، کوئی آدمی اس ڈبے میں نہ تھا اور فرش پر نشستوں پر، لکڑی کی دیوار پر خون کے دھبے ہی دھبے، جمے ہوئے سیاہ خون کے، جس پر راستے بھر خاک اور غبار نے استرکاری کی تھی۔

اب باقی دونوں بھائی بھی اندر جھانک کر یہ منظر دیکھ چکے تھے۔ ناامیدی سے آخری مقابلے کے لئے اس امید کو برقرار رکھنے کے لئے کہ ممکن ہے وہ لوگ دلی سے روانہ ہی نہ ہوئے ہوں ، تینوں نے مسافروں کے نام پڑھنے شروع کئے دھول سے اٹے ہوئے کارڈوں پر نام صاف اور نمایاں تھے۔

مسٹر باقر علی خاں 
مسز باقر علی خاں 
مس باقر علی خاں 
مسٹر سکندر علی خاں 

اور قریب ہی فرسٹ کلاس کوپے پر جو کارڈ تھا۔ اس دلہا دلہن کا نام صاف صاف درج تھا۔ مسٹر، مسز تہور علی خاں۔  کوپے کا دروازہ کسی رحمدل گارڈ نے مقفل کر دیا تھا۔

گارڈ آیا اور اس نے بیان کیا کہ دہلی اور متھرا کے درمیان گرینڈ ٹرنک ایکسپریس پر حملہ ہوا تھا۔ تینوں بھائیوں کے دل ڈوب گئے۔ جب صدمہ ایسا شدید ہو تو نشتر کی تیزی اپنا اثر یکبارگی نہیں کرتی۔ پہلے تو معلوم ہوتا ہے کہ اعصاب اور دماغ کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ امید، ناامیدی کے یقین کے مقابل اپنا دھندلا چراغ جلتا رکھنا چاہتی ہے۔ ممکن ہے ان سب کے نام کے کارڈ لگ گئے ہوں۔  مگر یہ اس ٹرین سے روانہ نہ ہوئے ہوں ، دہلی میں تین چار دوستوں ، پاکستان ہائی کمشنر اور حکومت ہند کے ایک افسر کو جوابی تار دے کے تینوں بھائیوں نے یہ تصفیہ کیا کہ ان میں سے ایک سب سے چھوٹا غضنفر ہوائی جہاز سے دہلی جائے شاید کوئی سراغ ملے۔

اور جس وقت یہ تینوں بھائی اسٹیشن کے تار آفس سے تار دے رہے تھے۔ ایک سکھ ایک بابو سے پوچھ رہا تھا۔ بابو بنگلور کی گاڑی کس پلیٹ فارم سے جاتی ہے، بابو نے اسے جلدی سے کچھ جواب نہ دیا۔ اس سکھ کے کپڑے میلے تھے کیس اور پگڑی پر دھول جمی ہوئی تھی۔ صرف قمیض اور شلوار پہنے تھا۔ کمر کے گرد ایک پٹکا تھا۔ جس سے کرپان بندھی ہوئی تھی۔

وہ ٹہلتا ہوا دوسرے سکھ کے پاس آیا جس کا حلیہ اس سے ملتا جلتا تھا اور اس سے پنجابی میں کچھ کہنے لگا پھر دونوں نے گٹھڑیاں اٹھائیں اور دو جھکی ہوئی برقعہ پوش شکلیں جو ان کے ساتھ تھیں انہیں کہنیاں ماریں۔  دونوں شکلیں ان کے پیچھے پیچھے چلیں۔ 

خفیہ پولیس کے دو جوان دیر سے ان کی طرف تاک لگائے تھے، اب وہ ریلوے پولیس کے دو کانسٹیبلوں سمیت ان کے سامنے آ گئے۔

’’سردار جی! تم سکھ ہو نا! تمہارے ساتھ یہ برقعے والیاں کیسی؟‘‘

اکھڑ پنجابی میں ایک سکھ نے جواب دیا ’’ہماری عورتیں پردہ کرتی ہیں۔ ‘‘

خفیہ پولیس والوں کو تشفی نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنے انسپکٹر کو پہلے ہی اطلاع کر دی تھی۔ کانسٹیبلوں نے کہا۔ ’’ہم ان عورتوں سے پوچھنا چاہتے ہیں۔  یہ کون ہیں۔ ‘‘

اس مرتبہ سکھ نے اُردو میں جواب دیا۔ یہ عورتیں پنجابی جانتی ہیں اور اُردو نہیں جانتیں اس پر حجت ہونے لگی۔ خفیہ پولیس کا ایک نوجوان اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کو بلا لایا جو پنجابی تھا۔ اس نے پنجابی میں پوچھا مگر عورتوں نے جواب نہیں دیا اور اب دونوں سکھ ذرا ذرا بوکھلانے لگے۔

ریلوے پولیس کے انسپکٹر نے موقع پر پہنچ کر ان دونوں عورتوں کو زنانہ ویٹنگ روم میں بھجوایا، وہاں جب ان عورتوں کے برقعے اتارے گئے تو دو خوبصورت جوان لڑکیاں نکلیں جن کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور جن کے منہ کو رومالوں سے بند کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک تو وہیں بیہوش ہوکے گر پڑی۔ دوسری نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے زنانہ ویٹنگ روم کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’پانی!‘‘

اور پھر ان لڑکیوں نے اپنی بپتا سنائی۔ وہ فیروز پور کے ایک زمیندار گھڑانے کی لڑکیاں تھیں۔  شام تک افواہیں ہی افواہیں تھیں۔  رات کو ست سری اکال کے نعرے لگے، شور ہوا برچھے اور کرپان چمکے، باپ بھائی سب مارے گئے، یہ دونوں مال غنیمت بن گئیں اور اس کے بعد یہ دونوں سکھ انہیں شہر سے شہر لئے پھرتے تھے۔

پولیس کی سختی پر دونوں نے بھی اقبال جرم کیا۔ وہ چک لالہ کے قریب بڑھئی کا کام کرتے تھے، دونوں بھائی تھے، مسلمانوں سے ان کا یارانہ تھا۔ پھر کچھ گڑبڑ شروع ہوئی، وہی جو ان کے دوست تھے انہوں نے ان کا گھر لوٹا۔ ان کی عورتوں کو ان کے سامنے بے عزت کیا۔ ایک سکھ نے سسکیاں لے لے کر کہا کہ اس کے سامنے اس کی عورت کی چھاتی کاٹ ڈالی گئی اور اس کے بعد باقی ماندہ زخمی سکھوں کا سفر شروع ہوا۔ میلوں کا سفر، ہزاروں کا سفر، سفر جس میں بھوک تھی موت تھی طلب تھی۔ پھر آزاد پاکستان کی سرحد ختم ہوئی۔ آزاد ہندوستان کی سرحد شروع ہوئی۔ یہاں فیروز پور کے قریب لوٹ ہو رہی تھی۔ یہ بھی لوٹ میں شریک ہو گئے اور ان دو مسلمنیوں کو لوٹ کا مال بنا کے لے چلے، انہوں نے سنا تھا کہ بنگلور میں فرنیچر اچھا بنتا ہے اور وہ ادھر ہی کے ارادے سے نکلے تھے۔

تینوں بھائیوں نے رات کو کھانا نہیں کھایا، تینوں کو یا تو نیند نہیں آئی یا ایسی نیند آئی جس میں اور بیداری میں کوئی فرق نہیں۔  ہر چیز غیر یقینی اور مبہم تھی، ہندوستان کے اخبارات سے تو یہی معلوم ہوتا تھا کہ دہلی میں معمولی سا فساد ہے۔ پاکستان ریڈیو احتیاط برت رہا تھا۔ صرف بی بی سی سے دہشت ناک خبریں آتی تھیں اور ہندوستانی بھائی بی بی سی کی بدنیتی کا دکھڑا رو رہے تھے کہ دہلی کے اتنے معمولی سے واقعے کو افسانہ بنا دیا۔ یہ سب تھا مگر تینوں بھائی غیرجانبداری سے دہلی کے واقعات کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے، اس مرتبہ ان کی اپنی رگیں ، نبضیں ، اعصاب، خون کی گردش متاثر تھیں ، اس سے پہلے کلکتہ میں فساد رہا، بمبئی میں فساد رہا، وہ افسوس کرتے رہے غضنفر بمبئی تھا فساد ہوا۔ وہ سینما سے باہر نکلا تو چاروں طرف پتھر برس رہے تھے۔ ہندو پتھر مسلمان پتھر، بت پرستوں کے پتھر اور خدا پرستوں کے پتھر۔ اس نے یا علی مشکل کشا مدد کہہ کے ایکسیلیٹر دبایا۔ ایک پتھر ونڈاسکرین سے کوئی نصف انچ کے فاصلے سے نکل گیا۔ اس نے ایکسیلیٹر اور زور سے دبایا اور لالایانہ فارسی کا ایک فقرہ اس کے ذہن میں تھا۔ جس پر بچپن میں ہنسا کرتا تھا۔ ’’یک ڈھیلا سن سنات من منات رسید کردم کہ اگر گچیا نہ مٹکائے تولیت تو سرشکستہ بود‘‘ سوڈے کی بوتلوں اور تیزاب سے البتہ ڈر معلوم ہوتا تھا۔ مگر یا علی مشکل کشا مدد، بمبئی میں فساد ہوا تو کیا ہوا۔ یہی نا کہ بسوں نے راستہ بدل دیا۔ ’’ب‘‘ روڈ کی بسیں میرین ڈرائیور کے راستے چلیں۔  چلو سمندر کی ہوا کھاؤ گلیوں میں کہیں فساد ہو رہا ہو گا۔ ہونے دو۔

پھر پنجاب میں فساد ہوا۔ کیا مارا ہے کیا مارا ہے۔ اس وقت تک یہ تین بھائی نہیں تھے پانچ بھائی تھے۔ پانچوں خوش تھے کہ واہ وا مسلمانوں نے سکھوں کو کیا مارا ہے۔ ہندوؤں کو کیا مارا ہے، یہ سب پنجاب کے مسلم لیگ کا کارنامہ ہے، افتخار حسین خاں ممدوٹ، ان کا نہیں۔  اچھا تو پھر میاں افتخار الدین کا؟ اچھا وہ بھی نہیں تو پھر بیگم شاہنواز کا اور سرفیروز خاں نون کی انگریز بیگم، بھائی وہ تو غضب کی دلیر عورت نکلی، اچھا ان میں سے کسی کا نہیں ؟ تو پھر میجر خورشید انور کا کارنامہ ہے۔ بھئی ہم مانے لیتے ہیں۔  یہ پنجابی مسلمانوں کا کارنامہ ہے، اقبال کی وہ نظم ہے نا۔

اور اپریل میں جب غضنفر لاہور گیا تھا تو کیا دھاک تھی، مگر ہندو اور سکھ جوابی حملے کی تیاری کر رہے تھے، وہ سروپ شوری کا اسٹوڈیو دیکھنے ملتان روڈ لاہور سے سات میل دور گیا۔ اسٹوڈیو وغیرہ سے دلچسپی کسے تھی، ان دنوں وہ کلجیت کور کے چکر میں تھا جس نے منورما کی سنبھالی تھی۔ بچارے شوری نے ایک اسٹوڈیو جلنے کے بعد دوسرا بنایا تھا اس کی ہمت کی داد دینی ضروری تھی۔ کیا اب بھی اس کی جو رو ایکٹرسوں سے اتنا ہی جلتی تھی اور پھر سروپ شور نے اسے دوسرے دن کھانے پر بلایا۔ مال پر اس چھوٹے ریستوران میں ، کیا نام تھا اس کمبخت ریستوران کا وہاں وہ عجیب و غریب جوڑا تھا۔ سعید جس نے اس سکھ لڑکی شیلا سے پندرہ برس ہوئے شادی کی تھی۔

اور شیلا کاہسٹریا۔ گرٹن کی تعلیم کو، کیمبرج کی قلعی کو، بین الفرقہ جاتی شادی اور متاہل زندگی کو صرف چند ہفتوں کی اس لڑائی نے ملیامیٹ کر دیا تھا۔ جس میں اس کے ماں باپ کے فرقے پر اس کے شوہر کے فرقے نے عارضی طور پر فتح پائی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ غضنفر کم سے کم نام کی حد تک مسلمان ہو گا۔ پھر بھی اس نے پورک پر اسرار کیا۔ اس نے غضنفر سے پوچھا۔ وہ کس قسم کا مسلمان ہے۔ گرومان (اعتقاد والا) یا پراتیکاں (عمل والا) اس نے کہا اس مرتبہ وہ گولر وادی جائے گی۔ جہاں ’’تھینک ہیون ایک بورڈنگ ہاؤس کا اشتہار آیا ہے کہ صرف اعلی درجے کے ہندو اور سکھ خاندان رہ سکتے ہیں۔ ‘‘ اس نے کہا۔ ’’کبھی کبھی مجھے شبہ ہوتا ہے کہ سعید بھی مسلم لیگر ہے۔ حالانکہ آپ کو معلوم ہے۔ ہم دونوں کا کوئی مذہب نہیں ، ہماری سول میرج ہوئی ہے۔ ہم انسان ہیں۔ ‘‘ پھر ایک مشہور مسلمان لڑکی کا ذکر آیا تو وہ کہنے لگی۔ جانتے ہو وہ سعید سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ مگر میں مضامین پیپلز ایج میں آئے ہیں۔  وہ بمبئی والے رومیش چندر ہیں .... مگر میں بھی پارٹی کا رکن ہوں ، پارٹی آفس آئے.... روپ کہہ رہی تھی۔ ’’بھائی نان وایولنس آپ کا کیا خیال ہے۔ ایک پارٹی اگر وایولنس کرے یا نان وایولنس....‘‘ بچارے روپ کی بچاری جلتی بھنتی ہوئی۔ ایکٹرسوں کی بازاری کشش کی دائمی رقیب گریجویٹ بیوی سے باتیں کرتے کرتے رومیش چندر نے غضنفر سے کہا۔ ’’آج میرے پاس بھی کچھ لوگ آئے تھے کہہ رہے تھے مسلمانوں سے بدلہ لینا ہے۔ چار ہی آنے چندہ دے دو۔ میں نے پہلے تو انہیں سمجھایا۔ جب انہوں نے کسی طرح نہیں مانا تو میں نے کہا۔ ’’مجھے تیس روپیہ تو تنخواہ ملتی ہے۔ اس میں سے تمہیں کیا دوں۔ ‘‘

پھر باتوں باتوں میں کسی نے کہا۔ ’’نہنگ‘‘

غضنفر نے پوچھا ’’نہنگ کیا؟‘‘

رومیش نے جواب دیا ’’جی یہ ذرا سر پھرے سکھ ہوتے ہیں ، معلوم ہے امرتسر کے ہنگامے کے متعلق یہ کیا کہتے ہیں ، جب مسلمانوں نے حملہ کیا یہ لوگ کسی میلے میں گئے تھے ورنہ مزا چکھا دیتے۔‘‘ اور پھر رومیش پورے ہندوستان کی مجموعی حماقت پر ہنسا۔

’’اور سکھا۔‘‘ مسز سعید نے کہا۔ ’’اور اب یہ دعوی ان کانوں پر سننا پڑتا ہے کہ مسلمان بھی بہادر ہوسکتے ہیں۔ ‘‘

’’وایولنس، نان وایولنس۔‘‘

’’پروتماداس گپتا۔‘‘

’’میں نے اپنے کانوں سے پاکستان ٹائمز کے دفتر سردار شوکت حیات خاں کو میاں افتخار الدین سے یہ کہتے سنا کہ سکھوں نے بارہ لاکھ کی جیپ اور لاریاں خریدی ہیں۔ ‘‘

’’پٹیالہ‘‘

’’بہاولپور۔‘‘

’’ہم لوگوں نے یہ طے کیا تھا کہ تانگوں ہی پر نہ بیٹھو پیدل چلو، لاہور کے سالے سب تانگے والے مسلمان ہیں۔ ‘‘

’’کلجیت کور۔‘‘

’’نہیں کافی، کچھ نہیں ....‘‘

اور ٹرین پر جب وہ ایک فرضی نام ڈی ڈی سلوا بتا کر شملہ جا رہا تھا تو وہ لالہ کس مزے سے تیاریوں کا ذکر کر رہے تھے۔ ’’لاہور میں ہم صرف دفاعی لڑائی لڑیں گے۔ لیکن امرتسر سے لے کر دہلی تک ایسا مزہ چکھائیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔‘‘

شملہ میں غضنفر کا اصل نام سب کو معلوم تھا لالہ جی اسے آخر تک ڈی سلوا ہی کہتے رہے، خیریت ہوئی ورنہ بیچاروں کو کیسا صدمہ ہوتا کہ دشمن سے سارا کچا چٹھا کہہ دیا تھا۔

رات کو غضنفر کو باقی دونوں بھائیوں کی طرح نیند آئی، کس قدر واہیات نے سعید کو چھین لیا اور جانتے ہو سکھ چاہتے نہیں لے کے رہتے ہیں ‘‘ اور اس پارٹی میں اومیش چندر سے.... جی میں وہ اومیش چندر نہیں جس کے بے معنی مہمل سی بات تھی کہ شام کو گرینڈ ٹرنک ایکسپریس کا ڈبہ اس کے ماں باپ بھائیوں کے خون سے رنگا ہوا تھا اور وہ سروپ شوری کی پارٹی اور پنجاب کے ہنگاموں کی دوسری قسط کی تیاری کے قصے یاد کر رہا تھا۔ لیکن نشتر چبھتا رہا اور دماغ کو بے معنی مہمل چیزوں کی یاد آتی رہی اور اگست کی آخری تاریخوں میں امجد.... اپنے آپ کو آزاد مسلمان کہتا ہے نیشنلسٹ۔ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ یہ آزاد مسلم کیا ہوتے ہیں۔  میں نے کہا مادر پدر آزاد.... امجد نے کہا دیکھو اب مشرقی پنجاب میں تمہارے مسلمان پٹ رہے ہیں ، اب دیکھو ہندو اور سکھ کیسی مار مار رہے ہیں۔ 

امجد پر اس کا خون کھولنے لگا اور نشتر پھر جگر کے آر پار ہو گیا۔ ماں باپ، بھائی بہن ریل کے ڈبے میں خون کے چھینٹے، خون کے چھینٹوں پر گرد، کارڈوں پر نام، ناموں پر گرد۔

ہندوستان کی تمام ریل گاڑیوں میں کوئی گرینڈ ٹرنک ایکسپریس سے زیادہ نامعقول نہیں۔  جس طرح ترکی یورپ کا مرد بیمار تھا۔ یہ گریٹ انڈین پے نن سلا چزیل ریل گاڑیوں کی زن بیمار ہے، کوئی سیاسی بحران ہو کوئی ہنگامہ، سب سے زیادہ اثر اس پر ہوتا ہے۔ اس کے وجود کی ذمہ داری اور کئی حماقتوں کی طرح مرحوم سر اکبر حیدر پر ہے جنہوں نے قاضی پیٹھ اور بلہار شاہ کے درمیان لائن بنوائی۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک تو یہ ایکسپریس منگلور سے مدراس ہوتی ہوئی پشاور تک سسکتے ہوئے سانپ کی طرح رینگ جاتی تھی، پھر انتہائی شمال اور انتہائی جنوب کی کمپنیاں اس کے رینگنے اس کی مکوڑا چال سے عاجز آ گئے۔ یہ صرف مدراس سے دہلی تک لنگڑاتی ہوئی چلتی رہی مگر ہر قدم پر بیمار، کوئی اور ٹرین گزرنے والی ہو یہ بچاری چھوٹے موٹے اسٹیشن پر بھکاریوں کی طرح کھڑی ہے۔ 1942ءکے ہنگاموں میں تو اس کا حال ہی نہ پوچھو۔ چوبیس چوبیس گھنٹے لیٹ ہو جاتی تھی۔ بھلا کہیں یہ ممکن تھا کہ بھارت ماتا کو آزادی کا سرسام ہو جائے اور گرینڈ ٹرنک ایکسپریس اس سے متاثر نہ ہو۔

پرانی دلی کے اسٹیشن پر میر باقر علی خاں اور ان کے اہل و عیال کی جان میں ذرا جان آئی کہ اب دلی سے نکلے اور جان بچنے کی امید بندھی۔ پلیٹ فارم نمبر 9پر ان کے وطن جانے والی گاڑی کھڑی تھی۔ شہر میں جو ہنگامہ تھا اسٹیشن بھی اس سے متاثر تھا۔ مگر اتنا زیادہ نہیں ،پولیس بہت تھی اور اسے دیکھ کر ڈھارس بندھتی تھی۔ وہیلر کے بک اسٹال پر سستے رسالے اور ان سے زیادہ سستے ناول اسی طرح پڑے تھے، قلی اسی طرح ٹھیلے دھکیل رہے تھے۔ مدراسی رجمنٹ کے سپاہی پتوں میں دال چاول کھا رہے تھے پلیٹ فارم پر اسی طرح تھوک، قے اور ہر طرح کی مرکب غلاظت کا لیپ تھا۔ ای۔آئی۔آر کے ہر ڈبے اور بی بی اینڈ سی آئی کے ایئر کنڈیشنڈ ڈبوں کو دیکھ دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ یہاں بھی تمدن دم توڑ رہا ہو گا، ان سب کی نشستیں محفوظ تھیں ، وہ دو دن کے بھوکے پیاسے تھے۔مگر اسٹیشن پر انہیں کچھ کھانے کو تو ملا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ سکھ اور کچھ غنڈے جو غالباً راشٹریہ سیوک سنگھ کے ہوں گے ڈبوں کے اطراف چکر مار رہے تھے، مگر اب وہ ان کا کیا بگاڑ سکتے تھے، کوئی دم میں ریل چلے گی اور ان غنڈوں کے دسترس سے باہر ہو جائیں گے۔

وہ خود بچ گئے تھے۔ یہ ایک معجزہ تھا۔ ان دنوں میں انہوں نے کیا کیا دیکھا اور کیا کیا سنا تھا، ان میں سے ہر ایک کو ایک خاص واقعے سے دلچسپی، عبرت اور وحشت تھی۔ ان میں سے ہر ایک نے ایک ہولناک واقعے کو اس پورے خواب پریشاں کی انتہا سمجھ کے چن لیا تھا۔

بلوچ رجمنٹ کے سپاہی جو انہیں موت کے منہ سے نکال لائے تھے۔ انہیں کیسے کیسے واقعات سنائے گئے تھے۔ سکینہ کا دل لرز اٹھا۔ وہ ریل کے ڈبے کے کارڈ کی مس باقر علی خاں تھی۔ بیس سال مثنویوں اور غزلوں کی معشوقہ سے چھ سال بڑی۔ اس چھ سال کے عرصہ میں اس نے بی اے کر لیا تھا اور بی ٹی کی تیاری کر رہی تھی۔ ان فسادات کے زمانے میں وہ اکثر سوچتی رہتی کہ ابسن کی ہلڈا کی طرح کیا سچ مچ اٹھا کے لے جائے جانے میں لطف آتا ہو گا۔ پھر اسے مزید تفصیلات کا علم ہوا اور یہ لطف ختم ہو گیا۔ مثلاً ایک بلوچی سپاہی نے اس کی موجودگی میں اس کے باپ کو یہ قصہ سنایا کہ اکثر عورتوں کو خراب کرنے کے بعد ان کی چھاتیاں کاٹ ڈالی جاتی ہیں یا کرپان سے ان کے شکم کو چیرا جاتا ہے یا کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت کے سامنے اس کے مرد یا باپ کو مارا جاتا ہے اور ان کے اعضاءاس کے منہ میں گھسیڑے جاتے ہیں۔  ابسن کی ہلڈا کے رامکنگ بہت شریف تھے، وہ عورتوں کو اٹھا کے چھوٹی چھوٹی طاؤس نما کشتیوں میں امریکہ کی سیر کرانے لے جاتے تھے جہاں سے ابھی تک ہالی ووڈ کی فلم، آتشک کے جراثیم اور امریکی سیاح پرانی دنیا نہیں آئے تھے۔

سکندر پر ایک اور خاص واقعے کا اثر تھا۔ میرا داد روڈ پر ایک چھوٹے سے مکان میں دو بہنیں اکیلی رہ گئیں ، دروازے ہی پر عابدہ کا شوہر مارا گیا۔ عابدہ حمل سے تھی، وہ کہیں بھاگ نہ سکی۔ لیکن زاہدہ کوٹھے پر چڑھ کے منڈیر سے دبک گئی اور نیچے تماشا دیکھتی رہی، کچھ لوگ سامان نکالتے اور لوٹتے رہے، چبوترے پر عابدہ ننگی کی گئی۔ اس کے اطراف آٹھ وحشیوں کا ہجوم تھا، جن کی داڑھیاں اور پگڑیاں ان کی خباثت کا جزو معلوم ہوتی تھیں۔  عابدہ حمل سے تھی۔ ایک ایک کر کے انہوں نے عابدہ کو خراب کیا یہاں تک کہ اس کی چیخیں گھٹ گئیں ، سسکیاں بند ہو گئیں۔  آنکھیں ساکت ہو گئیں۔  وہ بے حس و حرکت ہو گئی۔ زاہدہ سے دیکھا نہیں گیا مگر وہ دیکھتی وہیں اوپر سے منڈیر کی آڑ سے اور جب وہ ساتواں آٹھواں اپنا منہ کالا کر چکے تو دو تین تو ہائیں ہائیں کرتے رہے مگر ان میں سے ایک نے کرپان کھینچ کے شرمگاہ سے حلق تک عابدہ کا جسم چاک کر دیا۔ زاہدہ کی نگاہوں کے نیچے دنیا گھوم گئی۔ یہ زمین یہ دھرتی ماتا چکر کھانے لگی اور چکر ذرا تھما تو اس نے ایک ہی لحظہ کے اندر طے کر لیا کہ تھمے کیوں ، مگر وہ گرے تو اس طرح گرے کہ کسی کے ہاتھ نہ آئے، مثلاً خون میں لت پت ہونے کی وجہ سے عابدہ کتنی کراہت بھری معلوم ہو رہی تھی.... اس کی سگی بہن سہی.... عابدہ، میری آپا۔ چشم زدن زاہدہ نے پھر طے کر لیا۔ چبوترہ پتھر کا تھا اگر وہ سر کے بل کودے تو کلیجہ پاش پاش ہو جائے گا۔ ان حیوانوں میں سے کوئی اسے ہاتھ نہ لگائے گا۔ چشم زدن میں اس کا بھیجا پاش پاش ہو گیا۔ ایک فاتحہ نے دوسرے سے ’’سوہنی کڑی‘‘ کے متعلق کچھ کہا، دوسرے نے اسے جواب میں ماں کی گالی دی کہ اس کی صورت تو پہچانی نہیں جاتی تجھے کیا معلوم سوہنی تھی یا کیسی تھی، جب بلوچ سپاہی تخلیہ کرانے پہنچے تو بہت دیر ہو چکی تھی اور سکندر نے ان دو نامعلوم بہنوں کے نام عابدہ، زاہدہ رکھے، یہ نہ سہی اور نام سہی۔ اصغری، اکبری، جمال آراء، حسن آراء، ناہید جہاں ، خورشید.... کوئی نام سہی.... ان کا انسانی حافظہ میں زندہ جاوید ہونا ضروری ہے۔

دہلی اور متھرا کے درمیان ریل گاڑی رکی۔ روک لی گئی، اس سے پہلے بھی ریل گاڑیاں رکی ہیں۔  ہزاروں مرتبہ۔ سگنل نہیں گرا، بھینسیں گزر رہی ہیں۔  کسی نے زنجیر کھینچ لی، کیا ہوا۔ ہوا یہ کہ سینکڑوں راہزن تھے۔ چمکتی ہوئی کرپانوں کا میلہ لگا ہوا تھا راشٹریہ سیوک سنگھ والے اسٹاف کا کام کر رہے تھے۔ اہم ترین کام یہ تھا کہ مسلمانوں کو ریل سے اتار لیا جائے۔ معلوم ہوتا تھا چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں سے ہزاروں بارو سفر اتارنے والے کیڑے ابل آئے اور انہوں نے انسانوں کی ہیبت اختیار کر لی۔ جے ہند ’’ست سری اکال‘‘ ’’جے بلی دیو‘‘ شور پکار۔ شکار کا شور۔ قصابوں کا نعرہ، بکروں کی آوازیں ، جو اتر نہیں رہے تھے۔ ان پر ویسے ہی کرپانوں اور تلواروں کے وار ہو رہے تھے۔

تہور نے اپنے کوپے کو اندر سے مقفل کر لیا تھا۔ کھٹ کھٹ اور گالیاں اس کی نئی نویلی دلہن جو ہفتہ بھر پہلے بیاہ کے آئی تھی اس سے چمٹ گئی۔ معرکہ کربلا میں شادی کا سماں تھا، ہزاروں انیس اور دبیر مرثیے پڑھ رہے تھے، مرثیے، نوحے، سوز کربلا ہی کربلا۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ مگر اس وقت زندگی کے کوئی آثار نہ تھے، کوئی اُمید نہ تھی، چھن سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا۔ دلہن جس کے مانگ افشاں پر پسینہ کے بڑے بڑے قطرے ابھر آئے تھے جیسے تارے غرقاب ہو جائیں تھر تھر کانپ رہی تھی۔ اب تہور اور اس کی دلہن اور ان باہر کے وحشیوں کے درمیان صرف دینے شین کھڑکی حائل تھی۔
٭٭٭





٭٭٭
ماخذ:
http://www.urdunagri.com/controller.php?action=Bookpage_List&nId=79
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
