﻿

کتھا نیلے پانی کی


ارشد معراج









ارشد معراج کی چند نظمیں  

’’ کہانی تیسری سمت الجھ جاتی ہے‘‘ یہ نظم روز مرّہ کی جانکاہ یکسانیوں  کی تمثیل نما کہانی ہے۔ جسے داخلی خود کلامی کی تکنیک میں  قلم بند کیا گیا ہے۔ کئی سطروں  میں  ڈھائی چال چلتے ہوئے خیال کے پیدا کردہ اچانک پن نے اس نظم کو خطِ مستقیم پر چلنے والی نظموں  سے بہت مختلف بنا دیا ہے۔
ارشد معراج علامت کو ایسی خوبی اور کفایت سے برتتا ہے کہ چند لفظوں  میں  کوئی طویل کہانی بیان ہو جاتی ہے،کوئی مسئلہ سامنے آ کھڑا  ہوتا ہے کہ مجھے حل کرو۔ مثلاً ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ ایک مختصر سی نظم ہے لیکن اس میں  قزاق نیلی آنکھیں  ، ٹھہرا بدن، جنتی کھجوریں ، اڑھائی فیصد خیرات میں  ملی ہوئی آنکھیں ایسے علامتی اور استعاراتی اشارے ہیں  جو ایک پورا معاشی اور معاشرتی منظر نامہ مرتب کر دیتے ہیں  ۔
’’بے خبری کی آغوش ‘‘شعریت میں  رچی ہوئی نظم ہے جس میں  خلقتوں کے نسل در نسل اٹھائے ہوئے دکھوں اور تاریخ کی بے رحمی کو موثر انداز میں  اجاگر کیا گیا ہے۔درمیان میں  پنجابی( گوندل بار لہجے) کا ایک چھینٹا نظم کو مزید گمبھیر کرتے ہوئے اس کے محلِ وقوع کا پتہ بھی دیتا ہے ۔
’’ خواب سے خالی پنجرے‘‘ میں  برتا جانے والا معروف پنجابی لوک گیت اتنا ہی پرانا ہے جتنا انسانوں  پر ڈھایا جانے والا جبر لیکن اس جبر سے بچ نکلنے کی کوئی صورت بھی نہیں  کیونکہ زمانے کا اسٹیم انجن بہت مدت سے لوکو شیڈ میں  ٹھہرا ہوا ہے۔
یہ اور ایسی کئی اور نظمیں  ارشد معراج کے تاریخی شعور اور انسانوں  سے گہری درد مندی کے رویّے کی نشاندہی کرتی ہیں ۔یہ رویّہ ترقی پسندی اور روشن خیالی سے عبارت ہے۔ جبکہ اپنی ہیئت میں  یہ نظمیں  تجزئے کی بجائے خارج و داخل اور شعور و جذبہ کو ایک مرکب میں  یکجا کرنے کی جدید تر ہنر وری کی حامل ہیں  ۔
ایک بڑی تعداد ایسی نظموں  کی بھی ہے جو زمانے کی بے مہری اور حبس زدہ موسموں  میں  خود سے بچھڑی ہوئی محبت کے نوحے ہیں  ۔ان تمام نظموں  کا مشترک عنصر وہ شعریت ہے جو اچھوتے اور غیر مانوس لفظوں  کو بھی قابلِ قبول بنا دیتی ہے اور ہم سب جانتے ہیں  کہ شعریت ہی شاعری کی شرطِ اوّل ہے۔
ارشد معراج نئے امکانات کا شاعر ہے لیکن اسے ایک بات دھیان میں  رکھنی ہو گی کہ مضامین کی تکرار سفر کے رستے کو مدوّر بنا دیتی ہے۔

آفتاب اقبال شمیم
    اسلام آباد
24جنوری، 2004ء


راستوں  کی اوک  ۱

یہودہ!
 سن!
    کپل وستو رگ و پے میں  اترتا ہے   
      تو پلکوں  پر جمی خوش فہمیوں کی گرد ہٹتی ہے  
                  زمانہ وردیاں  تبدیل کرتا ہے
 
             یہودہ!
    رات سر پر ہے جدائی کی
    وچھوڑا تیز ناخن سے
            ہماری سوچ تختی پر نئے وجدان کا چہرہ بناتا ہے
      پرانا زخم تازہ وار سہتا ہے
    تمناؤں  کے بستر پر بڑھاپا
   سانس سرمنڈل پہ کھانسی سے بھرے جب گیت گاتا ہے
  ہماری ریڑھ کی ہڈی میں  گودا جھرجھری لیتا ہے
سانسیں  پھول جاتی ہیں 
تماشا ہے
تماشے میں  نہ عیسیٰ ہے نہ موسیٰ ہے
                          نہ گوتم ہے نہ وشنو ہے
ہمارے چار سو لیکن سماعت سے مبرا کان
          جن سے ریت بہتی ہے
ہوائیں  سرسراتی ہیں 
تو ہم ایسے ہزاروں پا پیادہ قرب کے پیاسے
مقفل دائروں  میں  رقص کرتے ہیں  
        یہودہ !
سن!
ہمیں  ہر سانس کی قیمت چکانا ہے
سیہ چرمی کتابوں  میں  یہی لکھا ہوا ہے
٭٭٭



 کہانی تیسری سمت میں  الجھ جاتی ہے

کہانی کا مگر اپنا بہاؤ ہے
   مسلسل بہہ رہی ہے انت سے بے انت کی جانب
                 جہاں  کالے سمندر ہیں 

         ’’بہت ضدی ہو تم اور یہ سمجھتی ہو
کہ نازک سی کلائی کی بریسلٹ کو گھماؤ گی
     تو دنیا گھوم جائے گی۔۔۔‘‘

(زمانہ چپکے چپکے سوچ کی سیڑھی پہ چڑھتا ہے
گھڑی کی سوئیاں  اگلے مداروں  کو بڑھیں 
 تو بیل تھک جاتے ہیں  گاڑی کے)

         ’’ مرے موزے بہت گندے ہیں 
       ان کو واش کر دینا
میں گھرکو واپسی پر سبزیاں  اور دال لے آؤں ۔۔۔؟
                    تمہارے موڈ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘  

 یہاں  حجرے میں  جٹی عرض کرتی ہے
کہ سر کا سائیں  مر جائے تو بکرا پیر کا قربان کر ڈالوں 
 (یہ غیرت کا تقاضا تو نہیں  ہے یہ روانی ہے 
         ہوا کے ساتھ جینے اور مرنے کی کہانی ہے)

وہ ہٹی تھی کراڑوں  کی جہاں  شب بھر دیا جلتا ہی رہتا تھا
(نہیں ! یہ رات کا قصہ نہیں  ہے صبح دیکھیں  گے
           اندھیرے میں  سجھائی ہی نہیں  دیتا)

        ’’تمہاری سانس پھر سے جل رہی ہے
      جسم تپتا ہے
      دوا لی تھی۔۔؟‘‘

 (سلگتے ریگزاروں  کے سفر میں آبلے تو پڑ ہی جاتے ہیں 
ٍٍ بلوچوں  سے جو یاری ہو تو دکھ سہنا ہی پڑتا ہے)
٭٭٭




اندھا تصادم 

ترے معبدوں  کے مقدس
              ابھاروں میں  پھیلی ہوئی روشنی کی قسم
 آب اور خواب کی ظاہری صورتیں 
     سال ہا سال کی کشمکش کے نتیجے میں 
         تکمیل کے مرحلوں  سے گزرتی ہوئی
دھڑکنیں  بن گئی ہیں 

 وہاں ’ مچھلیاں ‘ ہیں 
  یہ صدیوں  کا عرصہ بہاؤ کی تکلیف سہتا رہا ہے
 
            جہاں  حیرتوں  کی گھڑی رک گئی تھی
            پرندے اڑے تھے 
  فقط اک پرندہ بلندی پہ پہنچا
    بلندی خلاؤں  کو تسخیر کرتی ہوئی
               اپنی پہچان میں  واپسی کے سفر کو چلی تھی
   
    درختوں  سے اترے ہوئے پاؤں  کے نقش نے 
                                     وصل کی راہ میں  بیضوی روپ دھارا
                                          تو گھڑیال نے ایک چکر لیا تھا 
                                                 کٹورا لبا لب بھرا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
وہ چھے دن نہیں  تھے
٭٭٭



رُت بدلنے کے بعد


دیکھنا اک دن برف پڑے گی
اور خوابوں  کی پلکوں  پر بیٹھی حیرانی
      ویرانی ہو جائے گی

نیلے پانی پر برفیلی سرد ہوائیں  جامد ہو کر
         کانچ کے آنسو بن جائیں  گی

شکلیں  چہرے اور زبانیں 
حرف سلوک ملوک مناظر
ایک کتھا بن جائے گی

یہ جو اندر ہول اُٹھتا ہے
ٹھنڈا ٹھار سا ہو جائے گا
تیرے میرے بیچ کی حدت
 آنکھوں  میں  جم جائے گی
٭٭٭




Guinea pigs
       

بادلوں  کو لپیٹے،بغل میں  دبائے
عقب کی گلی سے نکلتے گئے 
نیل گوں  شامیانوں  میں سوراخ اتنے ہوئے 
               دھوپ روکے سے رکتی نہیں 
 کھجوروں  سے چھتنار بنتا نہیں  
آکسیجن برادہ بھری نالیوں  سے گزرتی نہیں  
تجربہ گاہ میں  کتنا جاگیں  گے ہم
٭٭٭



منقسم سانسوں  کی بپتا


سیہ کاغذوں  پر پرندوں  کی قبریں  بناتے ہوئے
       تم نے دیکھا تو ہو گا
کہ سب اتروں ،دکھنوں ،پوربوں ،پچھموں  پھرنے والی ہوا
وصل کے گیت گاتے ہوئے
                                سب پرندوں  سے اٹھکیلیاں  کرنے والی ہوا
خوشبوؤں  کی کہانی سناتی مہکتی ،لہکتی ،مچلتی ہوا
مجرموں  کی طرح اک کٹہرے میں  سر کو جھکائے ہوئے   
                منہ بسورے کھڑی ہے
 
  ابھی جرم الزام کی حد میں  ہے
                     اور حد لگ گئی ہے
سوالی نگاہیں  لئے سب پرندے تڑپنے لگے
 اور کہنے لگے
’’جانے کس کی بھڑکتی ہوئی تند خواہش نے 
کیسے یکایک
 ہوا سے ہماری ہزاروں برس کی رفاقت کو توڑا
کہ اب نیند کے فرش پر
وصل کا خواب چلنے سے قاصر ہے
کرچوں  کے دُکھ جاگتے ہیں ‘‘
(سوچ کے ہر ورق پر جدائی کی لکھی ہوئی داستاں  تو سبھی جانتے ہیں )

         نصابوں  میں  لکھا گیا ہے
’’ہوا سازشی ہے
            پرندوں  سے اپنی رفاقت کو دولخت کرنا اسی کا کیا ہے‘‘

           مگر یہ ہوا مانتی ہی نہیں  ہے
٭٭٭




احساس کی منڈیر پر رکھی نظم


فرصت ہی نہیں  ملتی
   ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں
یادوں  کی کوئی کھڑکی
                         کھولیں  تو ہوا مہکے
سینے کا پرندہ بھی نظموں  میں  کہیں  چہکے

اور خواب کچھ ایسے ہیں  
ٹکتے ہی نہیں  پل بھر
               ٹک جائیں  تو نظمیں  ہوں 

           وہ صبح نہیں آئی
جب شوق کنارے پر 
ہم نور سے جل تھل ہوں 
  جو عمر ہتھیلی میں ان جبر لکیروں  سے 
آگے کہیں  لے جائے
      دفتر کی خباثت سے فرصت ہمیں  مل جائے
٭٭٭


ہم معذرت خواہ ہیں  

بارش رکی تو سامنے منظر وہی رہے
ہم خواب بیچنے کو چلے تھے کہ شہر میں 
شیشہ گروں  کے آئنہ خانے تڑخ گئے
پھیلی ہوئی تھی چارسُو سود و زیاں  کی دھند
آنکھوں  کے روزنوں  پہ تھا نروان کا غبار

سائے ڈھلے تو رات کی شکلیں  مہیب تھیں 
عمریں  گزار دیں  انہی کمروں  کی قید میں 
دھندلے دنوں  کے عکس تھے پھیلے ہوئے جہاں 
پوریں  پگھل رہی تھیں  بدن کیا تراشتے

کیا شہر تھے کہ جاگتی آنکھیں  نگل گئے
پتھر بنے ہوئے تھے سروں  پر دعا کے ساتھ
ہم ہنچ بیک کس طرح چلتے ہوا کے ساتھ
٭٭٭


سچ کے مرتبان میں  پلتی حقیقت


گلابی خواب کے بستر پہ لیٹی
            حاملہ خواہش سنہرا دن جنم دے گی 
             ہماری داستاں  لکھتے محرر کے قلم سے
                 پیار کی بیلیں  اگیں  گی
              جسم کی دیوار تک جو پھیل جائیں  گی
سہانے سبز موسم میں 
رہائی کی خبر اخبار کے ماتھے پہ ابھرے گی
مورخ خواب کی تعبیر لکھے گا

         ۔۔۔وجود و ذات کی دہلیز سے آگے کی دنیا میں 
زمانہ پاؤں  کے بل چل رہا ہے
اور ہوا کو جیب میں  رکھے
برستی بارشوں  کے ساتھ اڑتا ہے
خلا کو اوڑھتا ہے
آنکھ میں  دریا بساتا ہے
پروں  پر تیرتا ہے وقت کو للکارتا ہے
ایک سے دو اور دو سے چار کرتا ہے

فقط اک’’ پاز‘‘ آیا ہے
گلابی خواب کی خواہش ثمر آور ہوئی تو پھر۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
٭٭٭


فوڈ فیسٹیول

اپنے دیس کے پکھنو  اکثر اُڑ جاتے ہیں 
                سات سمندر پار
                     سندیسے کب آتے ہیں ۔۔۔۔

        آنکھیں  دیواروں  میں  چُن کر
      سانس کی رتھ کو کتنا کھینچیں 
       جیون کس پاتال میں  ڈھونڈیں 
         خود کو نئی نئی تدبیروں  سے آخر کتنا بہلائیں 
ہندسوں  کا یہ گورکھ دھندہ بھول بھلیاں 

دل کے لان میں 
  کاغذ کے پھولوں  کی خوشبو پھر بھی
                                 زندہ رہنے کو کہتی ہے

         ماں  کہتی ہے
              ’’  اُٹھ جا پُتر!

فجری ویلے سوہنا مالک روزی ونڈے
         توں  وی اپنا حصہ لے لے‘‘
وہ کیا جانے  
تخمینوں  کی خاک اُڑتی ہے
اسی فیصد گرد میں  اٹ کر کھانستے کھانستے مر جاتے ہیں 
دور دیس کو جانے والے واپس لوٹ کے کب آتے ہیں 
٭٭٭



انگوٹھا چوستی خواہش


محبت کاسنی رنگت
          جو دو رنگوں  میں  گھلتی ہے
          تو پھر برسات ہوتی ہے
بدن قوسِ قزح میں  اک نئی رنگت لئے
                جب سانس لیتا ہے
                      شگفتہ تازگی مہکار بنتی ہے

ہوائیں  گدگداتی ہیں 
پرندے رقص کرتے ہیں 

           نظر کے سامنے خلقت
خلاؤں  میں  بھری حیرت
بڑے دانش کدے، آدرش سب کچھ ہیچ ہوتا ہے
فقط کانوں  میں  امرت گھولتی کلکاریاں ’’غوں ،غوں ‘‘
              دعاؤں  کا ثمر بن کر مرے سینے میں اگتی ہیں 
          تو بوڑھے ہونٹ اجلے گال چھو کر اپنے ہونے کا سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں 

         گلابی مخملیں  پوریں 
             محبت کی کہانی کو نیا انداز دیتی ہیں 
ارادے میلے کپڑوں  کی طرح تبدیل ہوتے ہیں 
٭٭٭



پرومیتھیس نے خود کشی کر لی


اک دن میں  نے سورج کا تابوت بنا کر
           چاند ستارے اس میں  رکھے
وقت کے رتھ پر لاد کے اس کو
           دور سمندر میں  پھینک آیا
         گلیوں  کوچوں  بازاروں  میں 
           رات نے بھونکنے والے کتوں  کے سنگ مل کے شور مچایا
(میں  کیا کرتا
دور سمندر نے سورج کوپی کر
           ہونٹوں  اور گالوں  کو سرخ کیا تھا)
رات مسلسل بھونک رہی ہے
٭٭٭



بانجھ سمتوں  کا سفر


غلافوں  میں  بھرے ریشم پہ بیٹھے ہم
تمنا کے سمندر پار کرنے کی مشقت میں 
سفر کے استعارے ڈھونڈتے ہیں 
اور پرانی پوتھیوں  کے گمشدہ اوراق سے 
کوئی کہانی بُننے لگتے ہیں 
کبھی اُوپر بہت اوپر کی جانب دیکھ لیتے ہیں 
تو سوچیں  پھڑپھڑاتی ہیں 
زمیں  سے پکھنوؤں  کی ڈار اڑتی ہے
مگر واپس اسی دھرتی پہ آتی ہے
جہاں  ہم اپنے دن کا بیشتر حصہ مناجاتوں ،
زیاں  اور سُود کے کھاتوں ،ادھوری خواہشوں ، لکنت زدہ باتوں ،
دعاؤں  کی اسیری میں بِتاتے ہیں 
٭٭٭




ممکنات سے مکالمہ


اپنے رومال میں  روٹیاں  باندھ کر
             گاؤں  سے ہم چلے
راستے میں  کہیں  قافلے لٹ گئے
روڑیوں  پر پڑی رات رونے لگی
نیند پلکوں  پہ تھی سو وہیں  سو گئی
خواب قیدی نہ تھے آپ بہنے لگے
پاؤں  کیچڑ بنے

ہم مچلتے رہے اور دھنستے رہے
کتے بلے سبھی روٹیاں  لے گئے
راستے ہنس پڑے ،خواہشیں بجھ گئیں 

   جسم ایندھن بنے
           پھر بھی چاروں  طرف رات ہی رات ہے
  سارے مدہوش ہیں 
 کس کو آواز دیں ۔۔۔۔
٭٭٭



خواب سے خالی پنجرے


یہ تب کی بات ہے
جب دھان کی فصلوں  پہ رنگ آئے نہیں  تھے
اور میں  پہلی میں  پڑھتا تھا
مری نانی نے اپنی مخملیں پوروں  سے 
کچے ذہن پر میرے کہانی یوں  لکھی تھی
’’توتیا!من موتیا!
           توں اوس گلی نہ جاویں 
        اوس گلی دے جٹ نے بھیڑے
              لیندے پھائیاں  پا ‘‘

          اسی دن سے مری گردن میں  گانی ہے
 مری سانسوں  کی ڈوری ٹوٹتی ،جڑتی ،بکھرتی ہے
 مرے اطراف میں  پنجرے ہی پنجرے ہیں 
گھڑی کی سوئیاں  ازلی بہاؤ بھول بیٹھی ہیں 

 کیلنڈر سے لہو رسنے لگا ہے
            راستوں  میں  خواب آنکھوں  کے تڑخ جانے سے
      ہر سو کانچ بکھرا ہے
زمانے کا سٹیم انجن بہت مدت سے لوکو شیڈ میں ٹھہرا ہے
٭٭٭



پینٹ کی پھٹی جیب میں  ہاتھ


وہ کہتا ہے
’’ کینڈل لائٹ 
اس کی سنگت اور ڈنر
ایکسٹے سی ایکسٹے سی
پی سی،
بھاپ کا غسل،
سوئمنگ پول
واٹ اور شمپین،کونیک ،وہسکی............
اس نے جب اپنی چڑیا کے پر کھولے تھے
       دور بھرے آفاق پہ پھیلی دھند گلابی ہر ہر اور میں  برسی

        دودھیا رنگت
     تھل تھل تھل تھل

کتنی قوسیں  دھنک بنی تھیں 
روپ سروپ کے اجلے اجلے رنگ کھلے تھے‘‘

          ما ں  کہتی ہے
      ’’پیٹی میں  رکھے یہ زیور
               آڑے وقت میں  کام آئیں  گے
        سبز غلافوں  میں  لپٹی تحریریں 
                       آخر بول اٹھیں  گی‘‘  

        تیس برس تک بھیتر بھیگتا رہتا ہے
          اور مسلسل کیچڑ دلدل۔۔
               کیچڑ دلدل۔۔
٭٭٭



Hatcheriesخواب نہیں  جنتیں 


ابھی کچی عمروں  کے برتن پکے بھی نہیں  تھے
                         کہ لڑکوں  کی آنکھوں  میں  شہوت بھر آئی
بدن کے سرابوں  میں  الجھی ہوئی
              کمسنی کی دھنک پر قدم رکھ کے چلتی ہوئی
                                     لڑکیوں  کی چٹانیں  بھی
             جسموں  سے باہر ابلنے لگیں 
           زمانے تجھے کچھ خبر ہے ؟
           سبک کمسنی سنسنی بن کے شریان میں  دوڑتی ہے
(مگر ان کا آوا  دہکتا نہیں ہے)
کجاوے میں  رکھے ہوئے برتنوں  سے ٹپکتا ہے پانی
          یہاں  کھاد سے زود کرتے ہیں سوچوں کی ان بانجھ فصلوں  کو
   اگتے ہیں  نا پختہ عمروں  کے نا خواب جن سے
٭٭٭




 زمیں  کی کوکھ خالی ہے 


         مداری نے کہا تھا 
                 ’’پاؤں  کی مٹی نہ چھوڑو!
           سر جدا ہو جائے گا تن سے جمورے کا‘‘

           یہ کس نے پاؤں  کی مٹی کو چھوڑا ہے
کہ منظر میں  فقط لاشیں  ہی لاشیں  ہیں 
٭٭٭



گرین کارڈ ہوتی خواہشیں 

            بستروں  میں  پڑی 
            سرد ہوتی ہوئی خواہشیں  جل اٹھیں 
   سانس ہل چل مچانے لگی زندگی کے لئے۔۔۔۔

  دائروں  میں  بٹے ہیں  جہاں  در جہاں 
  اپنی اپنی سمیٹیں  سبھی کرچیاں 
سوچ پتھر بنی
منجمد مرتکز
جسم ایندھن میں  اتنی حرارت نہیں ہے
پگھل جائیں 
بہہ جائیں  آنکھوں  کے رستے
برسنے لگیں  ابر بن کر
زمیں  کو بھگوئیں 
تو ہریالی سینے پہ بالوں  کی صورت اُگے
فصل کاٹیں  محبت بھری داستانوں  کی 
            اڑتے پرندوں  کی ڈاریں ادھر سے اُدھر
موسموں  کے بدلنے کا پیغام لائیں 

مگر کیا کریں  
  ہجرتوں  کے ٹکٹ اپنی جیبوں  میں  رکھے ہوئے
                دور دیسوں  کو تیار بیٹھے پرندے 
                     کبھی واپسی کے سفر پر نہیں  آئیں  گے
منجمد مرتکز
  قطرہ قطرہ پگھلتی تو شاید۔۔۔
٭٭٭



 دھوئیں  میں  لپٹی دھوپ

کمال کرتے ہو تم بھی ارشدؔ
یہ دور ڈسپوزیبل ہے کب سے ۔۔۔۔۔!
جدائیوں  کا شمار کیسا
بکھرتے پتوں  کی آہٹوں  کا 
  دلوں  میں  رکھنا ملال کیسا
سلگتی دھیمی تمازتوں  کا خیال کیسا
کہ گیلے ایندھن کو پھونکنے سے 
فضا دھوئیں  سے اٹی ہوئی ہے
محبتوں  کی وہ ساعتیں  بھی 
ہتھیلیوں  پر رکی نہیں  ہیں 
کہ مارکیٹوں  کی روشنی جب سے دل کے آنگن ٹھہر گئی ہے
ہمارے ملبوس تیرگی سے اٹے ہوئے ہیں 

مگر یہ کیا ہے
تمام شب ہم نے روئی کاتی
      جسے سویرے سیانے تاجر
     مکاں  سے اگلے مکان کی سمت لے گئے ہیں 
     قلیل اجرت ہو ا کے رخ پہ بکھر گئی ہے

ہماری نیندوں  میں  کاربن کے سیاہ سپنے پگھل رہے ہیں  ۔
٭٭٭



دھواں  ہوتا جیون


         پرو میتھس !
زماں  جس کی حرارت سے پگھل کر پانیوں  کی گود میں  اترا
جسے تم نے چرایا تھا بقا کے واسطے لیکن 
                         فنا کا استعارہ بن رہی ہے

          پرندے چار سمتوں  کے پرندے شور کرتے ہیں 
جہاں  بھی ہڈیاں  جلتی ہیں  سڑتی ہیں 
دھواں  مشروم بنتا ہے

         خیالوں  کی پری نے یہ بتایا تھا
’’ابابیلیں  اُڑیں  گی ہاتھیوں  والے جہنم میں  جلیں  گے‘‘
مگر یہ کیا۔۔۔۔؟
کہ اب تو خواہشیں ،ننھی پری اور جل پری
                           سب جل رہے ہیں 

سلیماں !سر بہ زانو ہے
پکارے جا رہا ہے وہ
کوئی آواز سنتا ہے

         کنویں  کے تیل سے کب پیاس بجھتی ہے
٭٭٭




کینوس پر پھیلی اداسی


عجب یہ سوگواری ہے
   نہ شامیں  سرمئی رنگت ،نہ صبحیں  نور بنتی ہیں 
   نہ راتیں  نیند کے مشکیزے لاتی ہیں 
   (ہماری آنکھ صحرا ،خواب پیاسے ہیں )

نہ نٹ کھٹ بارشوں  کی رُت ہی باقی ہے
نہ ہاتھوں  کے کٹوروں  میں  دعا کے حرف باقی ہیں 
تھکن اعصاب پر طاری،
زباں  لکنت زدہ، ،باتیں  قنوطی،
         پھول پژمردہ، تعلق،دوستی،رشتے،
محبت ،آشتی،قصے 
  جو قصہ گو سناتے ہیں 

          اداسی خون خلیوں  میں  مسلسل رقص کرتی ہے
  ہماری نظم کی ہر سطر میں  تنہائی روتی ہے
٭٭٭


آتما سے مکالمہ

’’ میں  میرا ہوں  
مرے پگ گھنگھرو اوتاروں  کے
 میں  ناچوں  گی
میں  تیرے لئے سُکھ مانگوں  گی بھگوانوں  سے
            میں  سیتا ہوں 
ہو راون لاکھ برا لیکن 
مجھے اگنی پرکشا دینی ہے
           میں  چندر مکھی
           مجھے دیوداس کی داسی بن کر جینا تھا
پر جی نہیں  پائی
              مایا ہوں  ،گلزار ’’اجازت ‘‘ میں لایا
پر مار دیا کیا ظلم کیا
           اس ناٹک میں  ہر مایا کو بہہ جانا ہے
          من بھیتر ہی رہ جانا ہے
٭٭٭



 جیون راگ 


ہم خواب بنیں  ان آنکھوں  کے
         جو تارِ بدن کو چھو لیں  تو
         خواہش کی سیما سے آگے سُر سرگم کے دربار لگیں 
اور ’’درباری‘‘ کی لے اندر کچھ دھیمے سے کچھ اونچے سے 
جو گیت لبوں  پر پھول بنیں  وہ خوشبو خوشبو مہکائیں 

وہ آنکھیں  جب جب ہنس دیں  تو
         ’’ایمن ‘‘ کے راگ فضاؤں  میں  اک وصل خوشی کی آہٹ پر
        چوتھے اور پانچویں  ’’کالے‘‘ میں سنگت جو کریں  تو جھوم اٹھیں 
        سب روپ سروپ کی رادھائیں 
              چرنوں  کو چھونے آ جائیں 

وہ’’ دیپک ‘‘لمبی تانوں  کا پھیلے تو راتیں  روشن ہوں 
         پانی میں  آگ بھڑک اٹھے
   جسموں  کی تمازت جاگ اُٹھے

          جب خواب نگر کے تاروں  سے
           یہ گیان اور دھیان کریں  باتیں 
           تو ’’بھیرویں ‘‘ شانت بھرے من میں 
ہر تال پہ نور سرور بڑھے آشائیں  پروں  کو پھیلائیں 
        آفاق پہ آنکھیں  اُگ آئیں 

        جب دور سلگتے صحرا میں ’’پیلو‘‘ جو ہجر سمیٹے تو
میرا کے ترسے ہونٹوں  پر گیتوں  کی پپڑی جم جائے
حلقوم کا کانٹا ہو جائے آوازیں  بھاری ہو جائیں 

        ان آنکھوں  سے بارش برسے
            ’’ملہار ‘‘ کے پنچم کو چھیڑے
             تو اندر باہر دھُل جائے

       ’’باگیشری‘‘ برہا کے اندر ہلچل سی ایک بپا کر دے
ہو لمبی رات جدائی کی تاریک مناظر ہو جائیں 
     اور سمے کی نبضیں  تھم جائیں 

         جب تان ’’للت‘‘ کی ٹوٹے تو
        ان خواب سروں  کی راکھ اڑے
  آنکھیں  ننداسی ہو جائیں 
٭٭٭




تسلی کی گرد میں  لپٹی لا یعنیت


چلو بازو اٹھاؤ پھر سے گنتے ہیں 
کہ کتنے کام آئے اور کتنے اب بھی باقی ہیں 

چلو بازو اٹھاؤ آسماں  سے
                  تھیلیاں  خوراک کی اُتریں 
کھجوریں  تو بہت ہی دور کے ساحل پہ اُگتی ہیں 
وہاں  کی ریت پر خیمے لگانے کیلئے ویزے نہیں  ملتے

ہمیں  جلدی بہت ہے
           پُشت پر تاریخ لادو 
اور اندھیرے غار میں  چھپ کر
               کسی مکڑی کو عرضی پھر سے لکھو
                      جال بُن جائے
(مچانوں  میں  کمانیں  کب تلک کاندھوں  پہ رہتی ہیں )
 
         کلاشنکوف جب سے ٹوٹ بکھری ہے
اسی دن سے درندے دندناتے پھر رہے ہیں 
                        راج کرتے ہیں 
چلو ہم ورد کرتے ہیں 
ہرے ملبوس والے جلد اتریں 
اور ایٹم بم کو ہاتھوں  میں  مسل ڈالیں 
٭٭٭



’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘


محسوس کب کیا ہے پاؤں  کے آبلوں  کو
                  جو پھوٹ پھوٹ روئے
                              گرمیلے موسموں  میں 
          سر پر ’شکر‘ دوپہریں 
وہ وصل کے گھنیرے پیڑوں  کی ٹھنڈی چھاؤں 
لمبی سیاہ سڑکیں جن کو نگل گئی ہیں 

         اک خواب کا الاؤ 
         جس نے نیا وہ منظر احساس کا جنا تھا
کس چشمِ نم سے پگھلا
کس کینوس سے پھسلا
ہم جان ہی نہ پائے
قزاق نیلی آنکھیں 
نمکین پانیوں  سے وہ کھارے پانیوں  تک
        جس نے بگل بجائے
سوچوں  کے ہنس اس نے رکھے ہیں  رہن ایسے
                        پہچان ہی نہ پائے
ٹھہرے ہوئے بدن میں کنکر ہزار پھینکے
خلیوں  میں  خون دوڑا لیکن تہی ہے دامن
سو چھید چھلنیوں  سے ہیں  جسم و جاں  کے اندر
پانی وصال کا پھر کیسے وہاں  ٹھہرتا
کب جنّتی کھجوریں اتریں  ہماری خاطر؟
سانسیں  اڑھائی فیصد خیرات میں  ملی ہیں 
یہ زندگی نہیں  ہے
٭٭٭


شام ڈھلے دُکھ دُونا ہو جاتا ہے


رات کے سپنے چھلکے نین کٹوروں  سے
صبح نے چُن چُن گٹھڑی اُن کی باندھی ہے
بور نہیں آئے ہیں موسم بیت چلے
چمپا جانے کب کھلتی ہے شاخوں  پر
زینہ زینہ چڑھتے گئے مراسم کا
بھور سمے نے بھیتر رستہ چھوڑ دیا
کب تک کھینچیں  سانسوں  کی اس بگھی کو
دور دریچے سے آگے اس نیل گگن پر تارا ٹوٹا۔۔۔
ہم دونوں  نے خواہش کی تھی
 ریشم جیسے نرم ملائم ہاتھوں  کی
حدت کو یہ گا ل ترستے رہتے ہیں 
اس کے میرے تن کی ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے
ہم دونوں  پھر تنہا سوچتے رہتے ہیں 
٭٭٭




چینل بدلو!


گدھ اُترے ہیں 
سات سمندر پار سے دیکھو گدھ اُترے ہیں 
چڑیا گھر کو کچھ نہیں  ہو گا
آدم زاد کا ماس فقط مرغوب ہے ان کو
چینل بدلو!
دیکھو کیسا رقص بپا ہے
کتنا اچھا میچ ہے جاری
(ٹینشن سے ریلیز ،پلیز)
آگ لگی ہے،کھال بچاؤ
٭٭٭




سناٹا سبز ہونے لگا

اک دوپہر تو سر پہ کھڑی ہے
      اک دوپہر گزاری ہے
 آنے والی دوپہروں  کا دھڑکا کھائے جاتا ہے

         پانی ڈھونڈو،سائے ڈھونڈو
           بھاگو گرم ہواؤں  سے
اپنی گٹھڑی آپ اٹھاؤ
دھوپ کڑی ہے بدن بچاؤ
           راہ کی اود بلاؤں  سے

         دن تو دن بھر لوفر بن کر
             بازاروں  میں  پھرتا ہے
         دوپہروں  میں خام خیالی کے صحرا سے
             پیلی رُت کے مہمانوں کو گھر کے سناٹے میں  لا کر
               کھی کھی کرتا ہنستا ہے
                    دیکھو کیسا نٹ کھٹ ہے

         چھیل چھبیلی دوپہریں  تو خواب ہوئی ہیں  صدیوں  سے
         حبس، تپش اور تشنہ کامی دھڑ دھڑ چھت پر پھرتی ہیں 
ہُو کا عالم بھنگڑا ڈالے ننگ مننگا گلیوں  میں 
         تم کہتی ہو کل کیا ہو گا۔۔۔؟
میں  کہتا ہوں  آج کسی ڈھنگ آج ہی بیتے
آس کی نازک شاخ پہ بیٹھا
  کل کا نیلا پکھنو کیسے
                   دوپہروں  سے لڑ پائے گا
٭٭٭




دسمبر کیوں  ٹھٹھرتا ہے


دسمبر کی لرزتی کپکپاتی
             برف سی نیلی ہتھیلی پر لکھی
            آیت ابھی تم پڑھ نہیں  سکتیں 
یہ آیت جسم و جاں  کی وہ کہانی ہے
          دسمبر ابتدا جس کی
          جھلستے جون تک جو پھیل جاتی ہے

  فضا میں  دھند ہے
لیکن پروں  کو پھڑپھڑاتے
          اور ٹھٹھرتے ان گنت پکھنو
          ادھورے خواب آنکھوں  میں  لئے
              اب تک اسی کی راہ تکتے ہیں 
        دسمبر کیا بتائے
         جب وچھوڑے روگ برفیلی ہواؤں  کی طرح
                          اندر اتر آئیں 
        تو آتی جاتی سانسوں  کی حرارت سے
                     بدن دہکا نہیں  کرتے
جو پگھلیں  برف تودے تو
               یہ جیون جل میں  ڈھلتا ہے
کہانی آگے بڑھتی ہے

مگر ایسا نہیں  ہوتا۔۔۔۔۔۔
٭٭٭


دلدل میں  دھنستی آواز

فاحشہ عورتیں 
شہرِ بیمار کی فاحشہ عورتیں 
نان و نفقہ ہے جن کا لہو میں  نہائی ہوئی بستیاں 
جن کی مٹھی میں  ہیں 
          بادشہ، فیل ، گھوڑے،پیادے 
           فاحشہ عورتوں  کی مسیحا سے جب آشنائی بڑھی
نقرئی کاغذوں  پر سیاہی اگلنے لگی
اور بھری چھاتیاں  خشک ہونے لگیں 
            انگلیاں  بھی پگھلنے لگی ہیں 
            خدا تو زمیں  پہ اُترتا نہیں 
سو چلو کھوجتے ہیں طلب کے نئے سلسلوں  کو
جہاں  مہرباں  عورتیں 
پیار کے گیت بکھرا رہی ہوں 
٭٭٭


ماتھے سے چپکی سفید چمگادڑ

       ہم بھی کیا ہیں ؟
سوکھی روٹی گُڑ کی بھیلی جیب میں  رکھی
 اور صدیوں  کی گٹھڑی  سر پر
روز سویرے انگڑائی لے نام خدا کا جی اٹھتے ہیں 
   شام تلک مر جاتے ہیں 

نام نسب اور شجرہ کیا ہے؟ کس مٹی نے جنم دیا ہے؟
            کس کی خاطر اوکھت بھوگی
کس خواہش نے گھومتا چرخہ روک دیا ہے
کون طنابیں  کھینچ کے رتھ کو ڈھلوانوں  میں  لے آیا ہے
کال کلوٹے چپٹی ناکوں  والے ہم کیا جانیں ۔۔۔؟
موٹے بھدے ان ہونٹوں  سے
      بھد بھد کرتے حرف دعا کے گر جاتے ہیں 
            مر جاتے ہیں 
٭٭٭



ٹھہری آنکھ کا سپنا


پرندوں  کو گلابی انگلیوں  کی پور پر گننا
دھڑکتے خواب اور ہلچل مچاتی سانس پر قابو جمانا
پاؤں  کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں  تک مجسم آرزو بننا
مکانوں  سے پھسلتی دوپہر کی اوٹ سے 
لپٹی ہوئی سیلن کے دامن میں  
         چھپی کالی سیہ آنکھوں  کے خوابوں  میں  
 فلک کی کھڑکیوں سے جھانکتے رہنا

مگر یہ کیا 
کہ ہونے اور نہ ہونے کے کنوئیں  میں  
ایک مدت سے معلق ہوں 
جہاں  جالے اجالے روک رکھتے ہیں 
سنہرے منظروں  کی شال میں  لپٹا ہوا دن
          یاس کے جھولے میں  دبکا ہے

 مگر اب تک زمانے کی سلیٹوں  پر
          ہوا کی تیکھی رنگت نے 
ہمارے وصل کا قصہ نہیں  لکھا          

کہاں  ہوں  میں  ؟
کہاں  ہے انت سے بے انت کی جانب
      مچلتا، شور کرتا،
      گدگداتا،ہڈیوں  میں  سرسراتا ۔۔۔۔تو  ؟
٭٭٭



معبدوں  کی پھسلن


خرد نے آنکھ کھولی 
اور زباں  سے نطق تک کڑوا کسیلا ذائقہ اترا
ہمارے سوچ کے نیلے سمندر پر جمی تھی سبز گہری خامشی بھی کائی کی صورت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
پھر اگلے پاؤں  جب ہاتھوں  میں  بدلے
             تو اسی دھرتی کی چوکھٹ سے رہائی پا کے پہلے یہ کیا تھا
اس بدن میں  آتی جاتی سانس کو روحوں کی مسند پر بٹھایا تھا
     تو یہ اوروں  کے بازو بن گئی تھی
              اور مقبوضہ بدن پھر ان گنت صدیوں  سے
     ماتھے ٹیکنے کی رسم پر مجبور ٹھہرا تھا
(غلامی ہی کچھ ایسی تھی۔۔۔۔۔!
      اسی دن سے تعلق توڑ بیٹھے تھے محبت اور شراکت کا)
ہمیں  پھر وقت کے رتھ نے کچلنا تھا
کنواری خواہشوں  کی بھینٹ دینا تھی
   قدم چھونے تھے بھگوانوں  کے،
    داسی بن کے رہنا تھا
سنہرے گنبدوں کی کلغیاں  بننا
    اور اپنے آپ کو تقسیم کرنا تھا
کہیں  تلوار،گھوڑا،ریشمی پرچم۔۔۔
کہیں  پر ان گنت مینار انسانی سروں  کے تھے۔۔۔

مگر اے کاش!
ایسا پریم کا لمحہ کبھی مٹھی میں آ جاتا
                   تو ڈھلوانوں  کی پھسلن سے تو بچ جاتے
٭٭٭



اب کے مصلوب عیسیٰ نہیں 

ماس جلنے کی بو
میرے چاروں  طرف
’آبپارہ‘ دہکتی ہوئی آگ میں  ایسا بھڑکا
     کہ آہن گروں  کی سلگتی چٹختی ہوئی بھٹیاں  ہوں 
        (مگر ان کی حدت سے برفیلے موسم بدلتے نہیں )

          کیمرے ..........لوگ ...........آنکھیں 
 کوئی ہاتھ پتلون کی نرم جیبوں  سے نکلا نہیں      سب تماشائی تھے
        
         آج اخبار کی سرخیوں  میں  کہیں 
        راکھ ہوتی ہوئی زندگی جل بجھی

ماس کیسے جلا۔۔۔۔۔۔؟
 بابِ حیرت میں  یہ بھی لکھو۔۔۔!
  پر کہاں !
  کون لکھے گا یہ۔۔۔۔۔۔۔؟
  پیٹ کی آگ نے جسم کی آگ کو
کیسے آنکھوں  سے ٹپکی ہوئی بے بسی کے حوالے کیا
                                   جس سے آنسو نہیں  بھوک بہنے لگی

                          ایلیا ! ایلیا !  تو نے تنہا مجھے کس لیے کر دیا
                ایلیا !  تو نے تنہا مجھے کس لیے کر دیا
٭٭٭


بدگمانی کے اس طرف


کبھی اے کاش ایسا ہو
          کہ باہم مشورے سے ہم جدائی کے سفر پر چل پڑیں 
اور یہ۔۔۔
         کہانی ختم ہو جائے

مگر ایسا نہیں  ہوتا کہ یہ عمرِ رواں 
        اپنے بہاؤ کی مخالف سمت چل دے اور
       گلابی ،کاسنی یا سرمئی شامیں  پلٹ آئیں 
سفر بے سمت ہوں  تو پھر مسافر کو پنہ گاہیں  نہیں  ملتیں 
(کہ خواب اگتے نہیں ہیں  آنکھ کی اس تھور مٹی میں )
کبھی ایسا نہیں  ہوتا
           یقیں  سے وصل کا دعویٰ ہوا کے تن پہ لکھیں  اور
               صبا کے ہاتھ خوشبو کو کوئی پیغام ہی بھیجیں ۔۔۔!
٭٭٭




لال بتی


ردی کی اک ٹوکری اندر پھیلے لفظوں  کے انبار
ان میں  راتوں  کا آسیب
تنہائی کی بگڑی صورت
ہونٹوں  پر گالی کی بو

 سرد رتوں  کی بے کیفی
ایک ابلتی راکھ کا ڈھیر
            اس پہ پڑے سامان کی گٹھڑی
شنٹنگ کرتے ریل کے ڈبے میں ننھی گلسریا کا گھر
بے فیضی کے چشموں او پر گنگا جی کی ریت
ریت پہ اک آوارہ کتا اونگھ رہا ہے

منظر میں  بے ہوش ٹریفک
کھانسنے اور کھنکارنے والا اندھا دھند دھواں 
سگنل سبز نہیں  ہوتا
٭٭٭


مجاور کنٹوپ سے آگے نہیں  بڑھتے


اڑھائی دن گلی کوچے کمیلوں  میں  بدلتے ہیں 
تعفن شہر بھر میں  پھیل جاتا ہے
گلی میں اوجھڑی کی بُو
                    ہمارے راستے میں  آ کے کہتی ہے
          ’’مقدس ہوں  ۔۔۔۔
           ہمیشہ دیوتا کے نام پر پہلے مجھے ہی وار کر چکھا گیا ہے
          ناک پر رومال رکھ کر تم محبت، آشتی اور خوشبوؤں  اور خواب دنیاؤں  کی
               باتیں  ہی فقط کر سکتے ہو۔۔۔۔
        کر لو۔۔۔۔۔
                                 میں  ہمیشہ تھی۔۔۔۔۔
                                   رہوں  گی۔۔۔۔۔‘‘
اذیت میں  ہزاروں  سال بیتے ہیں 
ہماری ہڈیاں  بھی فاسفورس بنتی جاتی ہیں 
کبھی نروان کی سیڑھی سے لٹکے
اور کبھی وجدان کی کٹھ پتلیاں  بن کر تماشہ گہ میں  ناچے ہیں 
کبھی عرفان کی دلدل میں  دھنستے ہیں 
ہمارے تن کے برتن میں 
مقدس جل نہیں  کیچڑ بھرا ہے
محبت جلترنگ کیسے بجائے گی
٭٭٭



الجھاؤ راہ میں  حائل ہے


مرا مسئلہ کہاں  ہے؟
مرا خواب کس نگر کا ؟
نہ میں  سُرخ سُرخ جیسا
نہ میں  سبز سبز جیسا
مرا راستہ کہاں  ہے ؟

نہ خمار کی گھڑی ہے
نہ شمار کا زمانہ
جو غبار پشت پر ہے وہ ہے کون سے یُگوں  کا
مری آنکھ سے جو ٹپکا وہ لہو، لہو نہیں  ہے
٭٭٭



  اُٹھو رختِ سفر باندھو


مسافر ہو!
پڑاؤ تو کبھی منزل نہیں  ہوتے
گھنیرے پیڑ کی چھاؤں  فقط وقفہ ہے
قسمت میں  وہی صحرا کی تپتی ریت لکھی ہے

پرندے کتنے دانا ہیں ۔۔۔۔۔۔
بدلتے موسموں میں  آپ ہجرت اوڑھ لیتے ہیں 
مگر ایسے
اجازت کون دیتا ہے
          پرندوں  کی طرح جیون بتانے کی
            تماشا گھر میں  لازم ہے
کہ پُتلی دوسروں  کی انگلیوں  پر خود کو تھرکائے
٭٭٭




بے خبری کی آغوش


       انہیں  سردی نہیں  لگتی
انہیں  ذلت کی ساعت نے پرانے سیم نالوں  کے کناروں  پر گھسیٹا ہے
اور ان کے کالے ہونٹوں  پر لگی ہے مہر صدیوں  سے
یہ کلرتھور دھرتی میں  ہری خواہش کو بونے کی مشقت میں  لگے ہیں 

           یہاں  ’سابیریا‘ سے آئے پکھنو جب بھی کُوندر میں  مچلتے ہیں  
تو گارے سے بنیرے لیپ کرنے والیوں  کے چولہے چلتے ہیں 
کبھی چارے کی کُھرلی میں  پڑے شلجم۔۔۔۔
وگرنہ ساگ اور آدھی ادھوری روٹیاں 
                سوکھے بدن میں  سوچ بھی لکنت زدہ،سرگوشیاں ۔۔۔۔
 ’’چاچا!
خدا دا شُکر کر دے ہاں 
       جے اس ساڈے تے ایہہ ازمیش پائی ھیہ

          جو اوکر دا ہمیشہ ٹھیک ای کردا
پراے دسیں  جو نمبردار مرسی 
    وت اے اوکھت گھٹ نہ ویسی‘‘

        کبھی خوابوں  کی گھٹڑی کو اٹھانے سے سفر مشکل نہیں  ہوتا
مگر سورج تو روزانہ ہی مشرق سے نکلتا ہے
اور آنکھوں  کا حسیں  عدسہ سکڑتا ہے
زوال آئے تو مغرب میں  وہ چھپتا ہے
ہمیشہ چندر اور مایا کئی میلوں  پہ بستے ہیں 
انہیں  بستی میں  آنے کا کبھی رستہ نہیں  ملتا
ہمیشہ پوہ رہتا ہے
پرالی کے سلگنے سے کہاں  یہ ٹھنڈ جاتی ہے
٭٭٭



خزاں  میرا جنم دن ہے


پھر دسمبر نے اپنی چال چلی
پیلے پتوں  کا ماتمی بستر
            شام سے شام تک رہا پھیلا

         برف جیسی ہوا کی چالاکی
           لے کے معصوم پکھنوؤں  کو ساتھ
           تہہ بہ تہہ پھر زمیں  پہ اتری ہے
         کس نے روکی ہے؟
         کس سے رکتی ہے؟

خشک لہجوں  کی سرد باتوں  نے
               پیرہن سارے تار تار کیے 

         سبز آنکھوں  نے کینچلی بدلی
آٹھ پہروں  کے چار رنگوں  نے
               بھورے موسم کی شال اوڑھی ہے
          دور بیٹھا ہوا ٹھٹھرتا ہے
پھیکا پھیکا مزاج سورج کا
                     سا را دن دھند سے لپٹتا ہے
     اور میرے جنم پہ روتا ہے
٭٭٭



مسافت جبر ہوتی ہے


دئیے کی لو 
جو شب بھر کپکپاتا رقص کرتی ہے تو حیرت ٹمٹماتی صبح کے در پر
                                صدائیں  دینے لگتی ہے
مگر یہ تیرگی
یہ تیرگی پھر بھی نہیں  چھٹتی
(زمیں  اپنی نہ ہو جب تک
         خلاؤں  میں چہل قدمی نہیں  ہوتی
پرندے اجنبی موسم میں ہجرت اوڑھ لیتے ہیں )

ہمارے زرد چہروں  پر جمی یہ گرد کی تہہ کیوں  نہیں  دھلتی
ہمیں  یوں  پا برہنہ اجنبی رستوں  پہ
         کتنی دور جانا ہے!
٭٭٭


بچھڑ جانے کا موسم آگیا ہے

صدائیں  آ رہی ہیں  قافلوں  کے کوچ کرنے کی
کہیں  پہ خواب زاروں  کے اجڑنے کی
جبیں  کی ہر شکن میں اجنبیت کا وہی احساس آ بیٹھا
              کہ جس کے خوف سے وعدوں  کی چادر اوڑھ کر
                   صحرا نوردی کو چلے تو خود غبارِ رہگزر ٹھہرے

           تعلق کانچ کی گڑیا
کہ جس کو مدتوں  ہم آنکھ کی ویراں  گلی میں قید کرنے کے جتن کرتے رہے تھے

ستارہ آخرِ شب اس افق کے پار جا ڈوبا
یگوں  کا ساتھ چھُوٹا 
            اور تماشا ختم ہوتے ہی
                          بہت سی تالیاں  گونجیں 
٭٭٭




بھاگ ہمارے کیسے ہیں 


تمھارے جسم کی خوشبو سے ڈھانپا ہے بدن ہم نے
کھِلا ہے موتیا گم سم نگاہوں  میں  
ہوا گر چھو بھی جائے تو گزرتے ہیں  عذابوں  سے

           تجسس جو پرانا تھا رگ و پے میں سو اب بھی ہے
کہ سائن بورڈ کی صورت دلوں  کی شاہ راہوں  پر
  ملن ہو جائے تو شہروں  میں اپنی شہرتیں  پھیلیں 
           کبھی یہ شام کی رنگت بدن ہے کاسنی جس کا
  کہیں  سے کھینچ لاتی ہے اُداسی کے پرندوں  کو
  سماعت میں  Enigmaکی دھُنیں  جادو جگاتی ہیں 
   ہماری وحشتوں  کے سب دریچے کھلتے جاتے ہیں 

     خمار اترے تو یہ جانیں 
   تمھاری یاد نے باندھا
کہ جیسے مچھلیاں Aquariumکی قید میں  مچلیں 

            سنو!ہم نے تو مدت سے تعلق ہی نبھائے ہیں 
کسی بھی بات کے ڈر سے کبھی رستے نہیں  بدلے
کبھی سورج کی حدت سے ارادے بھی نہیں  پگھلے
ہتھیلی پر دھرے سائے مگر کیوں  تھرتھراتے ہیں ۔۔۔۔؟
٭٭٭



میں  پہلے پڑاؤ پہ ہارا ہوں 


میں  تیرے ملن کی آس لئے
                   گھر کی دہلیز سے نکلا ہوں 
رستے میں  صحرا بہتا ہے
اور آنکھ سراب کا دھوکا بھی
                    مجھ سادھو کی امیدوں  کا
                    وہ ریت گھروندہ بنتا ہے

میں  پیاسا ہوں ۔۔۔۔۔
مری گیلی آنکھ کے پانی سے مرا  اندر  درد سمندر ہے
میں آدھا ہوں ۔۔۔۔۔
تو ایک ندی کی صورت ہے
         تیکھی اور تیز ہوا جیسے
دریا دریا سے کھیلے ہے
میں  کیسے ناپوں  گہرائی

 یہ کیسا خواہش جنگل ہے
                     جس میں  پکھنو آوازوں  کے
کُرلاتے ہیں  تڑپاتے ہیں                   
میں  جسم مچان میں  چھپتا ہوں 
کانوں  میں  رُوئی بھرتا ہوں 
                تو یاد کا لمس بلاتا ہے
                 من مومی پگھلا جاتا ہے

          کیسے میں  ڈھاؤں  شہروں  کو
               جو پل کی دوری میں  یک دم 
                تیرے اور میرے بیچ اگے
٭٭٭



نوبت  بجنے والی ہے


آندھی ہو تو شہر پہ گرد کا خیمہ تن ہی جاتا ہے
            دستر خوان سمیٹو
ور نہ سالن میں  کنکر بھی کھانا پڑ سکتے ہیں  

ہوا اکھڑ جائے تو چہروں  پر لکھے
 روپ سروپ بکھر جاتے ہیں 
شہر کی گلیوں  میں  چلتی پھرتی آوازیں  کہتی ہیں  
’’اپنے اپنے حصے کی خوراک ذخیرہ کر لینا
سرد رتوں  سے پہلے 
چیونٹیاں  ایسا ہی تو کرتی ہے‘‘
٭٭٭


منظر کی اوٹ سے جھانکتا تعلق


         بہت سی تتلیاں ،جگنو،ستارے،چاند کی بڑھیا
        مرے بستے میں  رکھی ادھ کھلی خواہش کا جب چیونگم چباتی ہیں 
تو حیرت ریل کے ڈبے میں  چھپ کر بھاگ جاتی ہے

سفر میں  تشنگی اس پل مساموں  سے نکل کر نوچتی ہے
     اور زمیں  پاؤں  کے تلوے چاٹ لیتی ہے
    کوئی جب ہمسفر بن کر اچانک چھوڑ جاتا ہے
             بدن آدھا ہی رہتا ہے

  مرے مہتاب کا رتھ کھینچتے گھوڑے
            کہیں  اقرار اور انکار کے بادل سے مل کر    کھیلتے ہیں  کھیل جیون کا
   مجھے یہ سب نہیں آتا
  کہ میری سوچ وادی میں  فقط اس پاؤں  کی پازیب گونجے ہے
٭٭٭


مجھے انٹیک مت سمجھو


کبھی وہ دن تھے
کہ شوخ آنکھوں  کے سرخ ڈورے
  گلاس بھر بھر شرارتوں  کے انڈیلتے تھے
وہ اتنا ہنستے کھنک سے ان کی کہیں  سفیدی بھی پھوٹ پڑتی
           تو گفتگو کے اجالے تاریکیوں کا بستر لپیٹ دیتے
دھنک کے رنگوں  کو کینوس پر سمیٹ دیتے

          سفر کے آغاز میں  تو کتنے ہی کوہ قافوں  کی پریاں  اُتریں 

مگر یہ اب کن رُتوں  نے ڈیرے لگا لیے ہیں  
اُداسیاں  چار سُو اُگی ہیں 
          سو خواب گاہوں  میں  جھینگروں  کی صدائیں  چپ کو نگل رہی ہیں 
جبیں سے تنہائیاں  چپک کر گزرتے لمحوں  کی دھول آنکھوں  میں  بھر رہی ہیں 
٭٭٭




بے موسم مشروم


بڑی زرخیز کھیتی ہے
ہوا کے نرمگیں  جھولے
لچکتی شاخ جیسا تن
اور اس پر سرمئی سی شام کی رنگت
تو پھر یہ کیسے ممکن ہے
 کہ پوروں  میں  چھپی حدت نہ بھڑکے سانس کی پائل نہ چھنکے

 برہنہ آرزو کے رقص میں بھیگے بدن کی بُو
مساموں  میں  چھپی بیٹھی ازل کی تشنگی 
امکان کے در پر کوئی کونپل
ضرور اس حبس کے موسم میں بارش کھل کے برسی ہے

 ارادہ بے ارادہ اُگ رہی ہے
اجنبی مٹی میں  کوئی جاں 
ابھی جس کی ضرورت ہی نہیں  ہے
٭٭٭



خواب کی چتا پر ماتم کرتی تعبیر

ہم ایسے خوش فہمیوں  میں  ڈوبے
                یہ سوچتے تھے
                محبتوں  کی سنہری فصلیں  پکی ہوئی ہیں 
                گلابی پوروں  سے دانہ دانہ سمیٹ لیں  گے

مگر مری جاں ۔۔۔!
یہ واہمے تھے، گمان تھے سب
               حقیقتوں  کے کواڑ اب تک کھلے نہیں  ہیں 
پون کی میلی ہتھیلیوں  پہ
              جو گیت ہم نے لبوں  سے لکھے
وہ نوحہ بن کر بجھے پڑے ہیں 
 
      اور ایک ہم جو گلاب لہجے
               خزاں  کے موسم میں  ڈھونڈتے ہیں 

 نئی رتوں  میں  ہوا کے رخ پر بکھر گئے ہیں 

 تمہیں  یہ سب کچھ پتا ہے ارشد۔۔۔۔
               کہ پیلے پتوں  کے ناخنوں  پر               
      حنائیں  کب تک سفر کریں گی۔۔۔۔۔۔؟
٭٭٭



تو پھر اک نظم اگتی ہے


کوئی آوارہ جھونکا
موسموں  کے ہاتھ سے پھسلے
تو میں  اس کی صداؤں  کے تعاقب میں  نکلتا ہوں 

         اُسے میں  ڈھونڈتا ہوں 
         شاخ پر تنہا لرزتے آخری پتے کی ہچکی میں 
کبھی ویران مندر کے اکھڑتے پتھروں  سے
            جھانکتے پیپل کے پودے میں 
 کبوتر کے بکھرتے آہلنے میں اور
            کبھی مکڑی کے جالے میں 
کبھی دریا کنارے ڈار سے بچھڑی ہوئی
  کونجوں کے گیتوں  میں  جہاں  پر ہجر بہتا ہے

اُسے میں  ڈھونڈتا ہوں 
اپنے کمرے میں  پڑے بستر کی سلوٹ میں 
جہاں  پر جانے کتنے خواب بکھرے ہیں 
جہاں  پر ساتھ جینے ساتھ مرنے کی
             کئی قسمیں  کئی وعدے پڑے ہیں ،منہ چڑاتے ہیں ۔۔۔

 اسے میں  ڈھونڈتا ہوں 
شبنمی آنکھوں  کی جھلمل میں کبھی گالوں  کی سرخی میں 
پڑوسن کی کلائی میں  کھنکتی سرخ دھانی
                    چوڑیوں  کی کھنکھناہٹ میں 
                   ہر اک دستک کی آہٹ میں 

کسی دن پھر اچانک ہی دبے پاؤں  وہی جھونکا
                      مرے اندر اترتا ہے
تو خستہ تن مکانوں  کے کواڑوں  سے پھسلتی
                 خواہشیں  اُدّھم مچاتی ہیں 
ہتھیلی پر پڑا مہندی کا پتا رقص کرتا ہے
               سہانی رت مچلتی ہے 
                   گھنی کالی گھٹائیں  شور کرتی ہیں 
           زمینیں  بھیگ جاتی ہیں 
ہزاروں  رنگ اور لاکھوں  شگوفے کھلکھلاتے ہیں 
           مہکتی روشنی مہمیز بنتی ہے
٭٭٭

                      

شرارت رقص کرتی ہے
(عمران علوی کیلئے)

تقاضا کب کیا ہم نے
            کہ سورج،چاند،تارے
                     آسماں ،قوس قزح،جھیلیں 
                 ہمارے نام ہو جائیں 
تقاضا تو کہیں  امکاں  کی سرحد پر ہی ممکن ہے
جہاں  باہم تعلق کی چٹختی دودھیا رنگت فضا میں  پھیل جاتی ہے
تقاضا ہے تو بس اتنا
کہ دائیں  پاؤں  کی ایڑی پہ جب تم گھومتی ہو۔۔۔
  اور بائیں  پاؤں کو سہمے دھڑکتے فرش کے سینے پہ رکھتی ہو
        تو اس لمحے
مری سوچوں  کا دریا ساحلوں  کے کان میں 
     سرگوشیاں  کرتا یہ کہتا ہے
        ہمیں  اس گھومتی ایڑی کی سینے پر ضرورت ہے		٭٭٭



 اعتبار کرو

تیرے میرے تعلقات کے بیچ
                    جسم اور جان کیوں  معلق ہیں 
جب کہ میں  اعتبار کی سانسیں تیرے پلو سے باندھ بیٹھا ہوں 
زندگی کا نظام اس پر ہے
 روز و شب کے معاملات سبھی
بس اسی ڈور سے سلامت ہیں 
دیکھے ان دیکھے سارے نظاّرے
آسماں  اور زماں  اسی سے ہیں 
چاند تارے جہاں  اسی سے ہیں 
سرمئی دن سہانی سہ پہریں  اک اسی بات پر مچلتی ہیں 
               قرب کی خواہشیں  پنپتی ہیں 
عمر بچپن کی ہو کہ پچپن کی اعتباری کا بوجھ ڈھوتی ہے
بوجھ آخر تمہیں  بھی ڈھونا ہے
٭٭٭



تنہائی میں  لتھڑی خواہش

دسمبر کی طویل اور سرد راتوں  میں 
ٹھٹھر تی خواہشیں  اکثر لحافوں  میں  دبک کر بیٹھ جاتی ہیں 
کنارِ چشم اک چاہت سلگتے خواب بنتی ہے
کوئی کھڑکی نہیں  کھلتی،کوئی در وا نہیں  ہوتا
                  ہوا نظریں  چراتی ہے

 مرے کمرے میں  اس کے سانس کی خوشبو
گذشتہ وصل کی دھیمی تمازت رقص کرتی ہے
      دسمبر منہ چڑاتا ہے

سمندر میں  کوئی طوفان اٹھتا ہے
مرے ہاتھوں  کی ٹھنڈک جسم کی بنجر زمینوں  کو
                  کہاں  سیراب کرتی ہے
٭٭٭



خوشبو تنہا کر دیتی ہے 


جرس کی جب صدا گونجے تو سپنے گرد بنتے ہیں 
ادھوری بات سے ادراک کے در وا نہیں  ہوتے۔۔۔۔۔
تعلق کے بھنور میں  ذات کی تکمیل کیسے ہو
درونِ جان خوابوں  اور سرابوں  کے تسلسل میں 
             چھپی خواہش کبھی محرم نہیں  ہوتی
یہ کیسا زعم ہے جس نے بکھرتی رات کی وحشت
                مری جیبوں  میں  بھر دی ہے

 سنو لڑکی!
ہرن کی ناف کستوری اگلتی ہے
مہک جاتا ہے جس سے دشتِ امکاں  کا ہر اک ذرہ
ہرن تنہا ہی رہتا ہے
٭٭٭




وہ قادر ہے


اپاہج پھول
شرمندہ ہوا بوجھل
گلے کو چیرتی وسکی
سحر کی لو
صدائیں  معبدوں  میں 
نفع اور نقصان کے کھاتے

مسافت،گرد،تانگہ بان،سکے،ادھ موا گھوڑا
’’نہیں  بابا کرایہ بڑھ گیا ہے‘‘
اک سیہ میلی ہتھیلی اور صدا کاری کی فنکاری
’’خدا کے واسطے کچھ دے دو بابو جی......‘‘
(کہیں  پاتال میں  بیٹھی ہوئی
 خواہش کی بھوکی آنکھ میں  وحشت)
       ........مگر آنسو نہیں  ٹپکے

حویلی کی فصیلوں  سے ابھرتے جھومتے مایا لگے شملے

پگھلتی انگلیاں 
بغلیں  بجاتے جاگتی سوچوں  کے سپنے
ناچتی بوتل
اسی کی دین ہے 
٭٭٭

                  

گمشدہ آواز


تمہارے واسطے میں  ان گنت
     صدیوں  سے بھٹکا ہوں 
جہاں  لامنتہا کے پاؤں سے سورج نکلتا تھا
      فرشتے سجدہ کرتے تھے
تمہیں  میں  نے وہاں  سوچا
جہاں  جیون پنگھوڑے میں 
                      پڑے بچے کی صورت اونگھتا رہتا
    انگوٹھا چوستا رہتا

 تمہیں  میں  نے وہاں  ڈھونڈا
جہاں  شیشم کے پیڑوں  پر
پڑے جھولوں  پہ بیٹھی لڑکیاں 
 ہجرت بھرے نغمے سناتی تھیں       

تمہیں  میں  نے وہاں  چاہا

جہاں  چوپال میں  بیٹھے ہوئے بوڑھے
            کسی برگد کی آسودہ ،غنودہ چھاؤں  جیسے تھے            

تمہارے سرمئی تن پر 
کئی نظمیں  تراشیں  اور سمندر میں  بہائی تھیں 
دھنک کے سات رنگوں  اور
سُروں کی سات پوروں  پر
 کئی پیغام بھیجے تھے
تمہیں  مل تو گئے ہوں  گے
٭٭٭


محبت عمر کی دہلیز سے آگے
     ( رقاصہ زرّیں  پنّا کے لئے)

سراپا نور کا ہیولا
نگاہیں  گنگنائیں 
سانس کی خوشبو سے مہکائیں 
ہتھیلی پر دھرے وہ چودھویں  کا چاند
اتری مجلسِ روشن خیالاں  میں  
سبھی تھے دم بخود بے خود 
  دانشوری اور فلسفوں  سے ماورا

اس نے جو لب کھولے
تو نہریں  دودھ شیرینی بہے جاتیں 
    مجسم حیرتی کو ساتھ لے جاتیں 

زمانہ ملتمس تھا اس کے پاؤں  کی کھنک دیکھے
بصد اِصرار اس نے اپنے اسراروں  سے پردہ جو اٹھایا تو
قدم بوسی کو آئی تال جھک کر
’’دھا دھن دھن نا
     دھا دھن دھن نا‘‘
وہ حیرت ساٹھ تک جو گن چکی تھی
 جھوم اُٹھی
جھومنے کو آسماں  ،تارے،گھٹائیں  ساونی،پھاگن کی دوپہریں ،
سہانی شام چیترنی،
مغنی،شاعر و مطرب، رباب و جام و مینا،فلسفی تیار بیٹھے تھے

مگر جادو چلا تھا
کوئی پاؤں  کی مٹی چھوڑ نہ پایا
مکمل تشنگی تھی
اور دریا کے کناروں  پر بھٹکنا عمر ٹھہرا تھا
٭٭٭


راستوں  کی اوک  ۲


اور گھڑی کی چیخ پر بوجھل بدن ہلنے لگیں 
کھاٹ کی کھائی سے اٹھیں پھیپھڑوں  کو پھر بھریں 
سانس کی لمبی قطاریں  بل ادا کرتے ہوئے
صبح کی دہلیز سے پھسلیں  گریں  پاتال میں 

دفتروں  سے گھر کو واپس رینگتی بیگانگی
اپنے اپنے روزمرہ کے بھنور میں  ڈوبتی
ایک ٹھک ٹھک، گرد، میزیں ، فائلوں  کے دیو داس

شام کی شاخوں  سے لٹکے آرزوؤں  کے دئیے
قطرہ قطرہ جن سے بینائی پگھل کر بہہ گئی
کتنی صدیوں  کی مشقت ذائقہ ہے نطق کا 
کیوں  یہ کڑواہٹ گلے سے دور ہوتی ہی نہیں  
ٹانڈ پر رکھے ہوئے گڑ تک ہمارا ہاتھ جاتا ہی نہیں  

کلسری کی کُوک بنتی ہُوک ،سینے جل اٹھیں 
آسماں  لپٹا ہوا ہے اک دھوئیں  کی شال میں  
کتنے جسموں  کے مساموں  کا مقدس جل ہے یہ
کوئلہ بن کر بجھی ہے رات میں  جس دن کی بو

دل کی چوکھٹ پر اترتی خواہشوں کی اپسرا
گوپیوں  کے جھرمٹوں  میں  رقص کرتا نند لال
پر ہمارے پاؤں میں  چھالے پڑے ہیں  کس لیے؟
آنکھ بُنتے خواب کی گٹھڑی تھی کاندھوں  پر دھری
راستوں  کی اوک میں  جانے کہاں  گم ہو گئی
٭٭٭



ذرا سورج نکلنے دو!


وہ میری نیند کی گٹھڑی کہاں  ہے؟
مری بینائی کو کیا ہو گیا ہے؟
قلم ، کاغذ، کتابیں ، میز، ٹی وی اور الماری
کہاں  ہیں  سب۔۔۔؟
یہاں  کینڈل کے نیچے خواب رکھے تھے۔۔۔

( سنبھل اے دل! اندھیرے میں  کسی کی نیند پر پاؤں  نہ آ جائے)

بہت سردی ہے لگتا ہے
وہ سارے خط جلائے جا چکے ہیں 
ماسکو کی یخ ہواؤں  پر جو لکھے تھے
کہاں  ہیں  اپسرائیں آسماں  سے جو اترتی تھیں 
کہاں  ہے روشنی جو راہ بنتی تھی
کہاں  ہیں  وہ سلیماں  اور کرشنا اور سدھارتھ ، مارکس اوراینگلز

سنا تھا دل!
صحیفوں  میں  لکھے سب لفظ روشن ہیں  
اندھیرا اور ٹھنڈک
اُف خدایا.................
٭٭٭



تماشائی تماشے سے باہر نہیں  

 
تاش میں  ہار کر زندگی اٹھ گئے
ایک ادھا پیا
خواب پر تھوک کر پان میں  منہ میں  دھرا
ہم جو آوارہ گردی کیے رات بھر
ایک فٹ پاتھ پر سوئے رہگیر کو
ایک ٹھوکر لگائی،  گرے ،  ہنس دئیے
لڑکھڑاتے قدم بالا خانے گئے
خوب ناچے، نچائے اور ادھم کیا
ایک بھڑوے سے بس بھاؤ تاؤ میں  ہم 
ایسے الجھے کے پھر بیچ بازار میں  
سر برہنہ ہوئے 
پا برہنہ ہوئے

وہ جو معلوم تھا ،ہم کنارا کیے
جو نہیں  جانتے تھے ،وہ معلوم کرنے کی خواہش نہ کی
دور تک دیکھنے کی تمنا تھی سو 
پاس کی چیز کو مسترد کر دیا

جنس اغیار سے منڈیاں  اٹ گئیں 
مال بکنے لگا
وہ جو ’’پتی ‘‘ ملی 
ہم کو عزت ملی راہ روشن ہوئی
(سو ہمیں  اس سے کیا جو چراغوں  جلا
وہ لہو کس کا تھا)

ہم نے انسان کے مسئلے حل کیے
ایک ریموٹ میں  جامِ جم بھر دیا 
جب گھمایا تو سارا جہاں  گھوم کر،جھوم کر رہ گیا
ٹی وی اخبار کی ساری پریاں  ہمارے جلو میں  رہیں  
زیرِ جاموں  سے لے حاملہ خواب تک دسترس میں  ہوئے
اشتہارات کی مٹھیوں  میں  بھرے دل مچلتے رہے
پھر ہوا کے بدلتے ہوئے نرخ پر کھول دیں  مٹھیاں 
جو تماشائی تھے ان کے چاروں  طرف
ریت اڑنے لگی 
سانس رکنے لگی
٭٭٭



کتے بازی لے جاتے ہیں  


اپنا آپ جو ہاتھ سے پھسلے
تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے
راتیں  اندھی ہو جاتی ہیں  
سپنے جون بدل لیتے ہیں  
آنکھیں  اندر دھنس جاتی ہیں  
دن سازش پر اتراتا ہے
سورج ہاتھ پہ اُگ آتا ہے
رستے راہی کھا جاتے ہیں  
سرخ الاؤ
لوہاروں  کی بھٹی جیسا ہو جاتا ہے
تیل اور کنویں  جل جاتے ہیں  
٭٭٭



Parasite 


پانی پانی ہو جاتے ہیں  
قطرہ قطرہ باتیں  گرتی رہتی ہیں  
دل کے چاروں  سوراخوں  سے
دُکھ کا گاڑھا مادہ رستا رہتا ہے
شریانوں  میں  وائرس رینگتے رہتے ہیں  
ہڈی جوڑوں  میں  گھستی  ہے  
ہم بونے ہو جاتے ہیں  
پنجوں  کے بل اچھل اچھل کے
خود کو اونچا کرتے ہیں  
گٹھ مُٹھیے او گٹھ مُٹھیے !
آوازوں  کا شور سنائی دیتا ہے
جنسی باتیں ، فحش لطیفے
دوجوں  کو خوش کرتے ہیں  

آپ زمین میں  دھنستے ہیں  
آدھے اندر آدھے باہر
پاؤں  مٹی کھاتی ہے
سر پر سنگ برستے ہیں  
اشک لہو میں  ڈھلتے ہیں  
٭٭٭



حرف جلے


حرف سمندر نیل و نیل
باہر خشکا میل و میل

حرف نمانے 
کوئی نہ جانے
حرفوں  کی اپنی بپتا ہے

ورقہ ورقہ خون کے چھینٹے صدیاں  چاٹیں 
   نیل گنگن کے دھاگے کاٹیں 

صبح سنہرے رات کو کالے
کالے پھنیر شُوکے جائیں 
جنم ، جنم کے جنم جلے یہ
ڈبو  ریت میں  ڈوبے جائیں 

چاروں  اور صدائیں  گونجیں 
اندر باہر، باہر اندر
بنیں  تماشہ ، ایک بتاشہ
ان کے کاندھے، ان کا لاشہ
ایک جمائی ہے  یہ خدائی
حرفوں  کی سو کیا شنوائی
٭٭٭




تمہیں  خزاں کی خبر نہیں  ہے؟


جو سر اٹھانے سے قبل پامال ہو گئے ہو
تو مڑ کے دیکھو!
تمہارے بوڑھے شجر اکھڑ کر ہمارے قدموں  میں  آگرے تھے
انہیں  زماں  کی شہی ملی تھی
یہ تالیوں  کی صداؤں  میں  گم
تمہاری شاخیں 
تمہارے پتے
جو فاختاؤں  سے مل گئے ہیں  
سخن شناسی کے زُعم میں  یہ
خرد کی حد سے نکل گئے ہیں 

خرد ہمارے گھروں  میں  اُتری
ہمیں  تھے وہ جو دریچے کھولے 
فراستوں  کی ہوائے تازہ کی دلبری کو کھڑے ہوئے تھے

جو اس سے پہلے
اور اس سے پہلے کی داستاں  میں  لکھا ہوا ہے، وہ بھول جاؤ
     کہ صبح ہم سے ہے شام ہم سے
ورود ہم سے جمود ہم سے
ہمی بہاروں  کا شاخسانہ
اور اب خزاں  کے بھی دیوتا ہم

سو نرسری میں  پنپتے پودو
مجال کیا ہے؟
تمہیں  تو گروی رکھا گیا ہے
٭٭٭




آنکھیں  روشن دان ہوئی ہیں  


اندر سنگ سرکھنا سائیں 
 سائیَں سائیَں سائیَں سائیَں 

دائیں  بائیں  ، کائیَں  کائیَں 
خلقت اپنے اپنے اندر
خالی خالی

لوبھ کا دامن ہرا بھرا ہے
نیلا پانی ایک کتھا بن
اپنے آپ میں  اتر رہا ہے
باقی سُوکھا بول رہا ہے
٭٭٭




عکس دھندلاتا ہے


وقت کاندھوں پہ دھرے
دُکھ کی زنبیل لئے
شام سے شام تلک کیسے اسے ڈھویا ہے
پشت پر داغ چبھے خار صورت ابھرا
ہونٹ حیراں  ہیں زباں  گنگ ہوئی جاتی ہے
خواہشیں  ٹوٹتی ہیں ، ڈوبتی ہیں ، پھوٹتی ہیں 

کیسا چکر ہے میرے پاؤں  میں لمحہ لمحہ
ایک صحرا سے کسی دوسرے صحرا کی طرف
کھینچتا ہے سو چلا جاتا ہوں 
دم بدم ایک قدم ایک برس کوس کئی
چلتا جاتا ہوں  کنواں  اور شجر دور کہیں 
دور کہیں  ریت ہے
خوابوں  کی خرابوں  کی بجھی ریت کہیں 
اڑ رہی ہے جو اڑاتی ہے مجھے اور کہیں 

ریتلا جینا کٹھن ہے کہ ہوا نا خالص
سانس ہر سانس میں  پیوست ہوئی جاتی ہے
تن چٹختا ہے دراڑیں  سی پڑی جاتیں  ہیں 

کون اس نخل تلک ساتھ جئے ساتھ مرے
کون یہ جان سکے
میں  ہوں  کہیں  اور کہیں تو ہے کہیں  اور کہیں 

لحظہ ہر لحظہ اسی درد کے مشکیزے کو
بھرتے جانا ہے مجھے اور چلے جانا ہے
٭٭٭


ڈول ڈرمز کا شاعر


آپ ارشد معراج کو قنوطی ہونے کی گالی دینا چاہتے ہیں  نا۔۔۔۔
میں  بھی آپ کے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہوں ، وہ ایسا ہی ہے۔۔۔
لیکن اک ذرا توقف !
یہ منظر نامہ ایک بار پھر دیکھ لیں 
’’میزان کا ایک پلڑا زمین سے آ لگا ہے
درمیانی دنیا چاہِ غیاب میں  جا گری ہے
بے پناہ قوت کے سامنے روح تک لرزاں  ہے
انتشارِ جامد کے حیرت کدہ میں  
ہیبت کی فراوانی ہے
حیران ہونے کی مہلت بھی مفقود ،
چار سُو بے کیفی کا غبار،
امکان کا آکسیجن لمحہ لمحہ ہوا ہو رہا ہے
ادھ بیتی رات
بے بسی کی کھٹیا پر بیٹھ کر
دمہ کے ہونکتے مریض کی طرح سانس کھینچنا پڑ رہی ہے
روٹھتی سانسوں نے آنکھوں  کے شیشے Blurr کر دئیے ہیں 
کیفیتیں  اور منظر بے گانگی کے عفریت نظر پڑتے ہیں 
اکلاپے کے انجکشن
جبر کے انٹی بائیوٹکس رضا کے سیرپ
پڑھنے کے دوران متعدد ایسے الفاظ آپ کی نظر سے گذرتے ہوں گے جن کے معانی آپ نہیں  جانتے مگر ایک خوش سلیقہ تحریر آپ کو مفہوم عطا کر جاتی ہے اور آپ اکثر لغت سے رجوع کرنا بہت ضروری نہیں سمجھتے۔ ڈول ڈرمز بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے بہت پہلے کسی ناول میں  میری نظر سے گذرا تھا اور جیسا کہ میں  نے عرض کیا کہ تحریر کے سیاق اور سباق نے سمجھا دیا کہ بے یقینی کا اظہار ہو رہا ہے کچھ گومگوں  کی سی کیفیت ہے اس کے بعد جب جب یہ لفظ میری نظر سے گذرتا رہا میں  نے اس کے ان ہی معانی سے سمجھوتہ کیے رکھا۔ ارشد معراج کی نظمیں  پڑھتے ہوئے اسی لفظ نے پہلے مسلسل اپنی زد پر رکھا تب میں  نے چاہا کہ لغت سے استفادہ کروں ۔ دیکھا تو خاصا پر اسرار نکلا۔

’’ خطِ استوا کے نزدیک سمندر کے وہ حصے، جن میں  بکثرتِ سکون، چیختے چنگاڑتے طوفان اور ہلکی حواس  باختہ کر دینے والی ہوائیں  یکے  بعد  دیگرے  مشاہدے  میں آتے  ہیں ۔  منطقاتِ  سکون  و  ہوا،  اداسی ،  افسردگی ،  عدم فعلیت ‘‘
( قومی اردو لغت)
اب ان نظموں  کے دید بان سے خارج کو دیکھتا ہوں  تو لگتا ہے احوال و آثار پر یہ لفظ ہو بہو صادق آتا ہے۔ یک رخی دنیا،طاقت کا انتہا درجے اور بگڑا ہوا توازن اور وسائل پر قبضے کی بے پناہ ہوس نے ان عناصر نے پورے عالم انسان کو  DOL DRUMS میں  دھکیل رکھا ہے۔ طوفانوں  کی چنگھاڑیں  اور سرگوشیوں  میں  طاری کی جانے والی ہولناکیاں  حواس باختہ کیے دیتی ہیں ۔ باہر کی نا  محکمی کا زہر مساموں  سے ہوتا ہوا لہو میں  تحلیل ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے میں کون اپنے کو یہ دعویٰ کرنے کا اہل پاتا ہے کہ اس پراس کا کوئی اثر نہیں اگر کوئی یہ دعویٰ کرنے کی جرات کرے تو اپنے کو اس الزام سے بچا نہیں  پائے گا کہ وہ پتھر ہے ایک انتہائی قلیل استثنیٰ کے ساتھ اکثریت تو یوں  نہیں وہ اس الزام کو رد کرتی ہے اور پھر تخلیق کار ... میرا خیال ہے کہ تخلیق کار ذرا زیادہ ہی انسان ہوتا ہے۔اس کا State of Mind عام آدمی سے ’’ بہت ہی زیادہ‘‘ مختلف ہے۔ وہاں  ڈیزی کٹر اور ابابیلی کنکری ایک ہو جاتے ہیں ۔سوئی برابر مواد سے بھالا تیار ہو سکتا ہے۔ تخلیق کار صاحبِ دل نہیں  اہلِ دل ہوتا ہے۔ کسی کو اندھیرے میں  نہیں  رکھ سکتا کہ وہ سیاستدان نہیں  ہوتا۔صوفی کی طرح گھُنّا بھی نہیں  ہوتا۔خود گذشت کو بچوں  کی طرح ظاہر کرتا ہے۔ 
ارشد معراج بھی کہیں  اور کا باشندہ نہیں  ۔اسی آب کم آب و ہوائے بے باد میں  زندگی کی چوکور پہیوں  والی گاڑی دھکیل رہا ہے۔ایک سیدھا سادہ دیہاتی ہے اور شہری بننے کی کوشش کر رہا ہے اس پر طر ہ یہ کہ محبتوں کی علت میں  بھی مبتلا ہے۔ سو دُکھ پاتا ہے چونکہ اخفا کے ہنر سے آگاہ نہیں  لہذا پینڈوؤں  کی طرح اپنا کچا چٹھا جڑ دیتا ہے۔
آگہی کی Foreign body آنکھ میں  کچھ اس طرح رڑک رہی ہے ، ماں  نے گھر سے چلتے سمے گٹھریا میں  سہانے سپنوں  کا جو سُرمہ رکھ دیا تھا اکارت گیا ۔
؎
 ہم خواب بیچنے کو چلے تھے کہ شہر میں      شیشہ گروں  کے آئینے سارے تڑخ گئے
          کیا شہر تھے کے جاگتی آنکھوں  نگل گئے
اس پر قضا و قدر کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو                                                                                                                                 کہ بچپنے اور لڑکپنے کی محرومیو ں  نے ترقی پسندی کی چاٹ بھی ڈال دی۔اب آپ فرمائیے گا کہ کیا یہی ترقی پسندوں  کی شاعری کا نمونہ ہے تو اس پر بھی میں  اسے مردود قرار دینے کا آپ کا حق تسلیم کر لوں  گا لیکن اگر آپ کو جلدی نہ ہو تو ایک اقتباس پڑھتے چلئے۔ یہ بیسویں  صدی کے ایک بڑے انقلابی اور ترقی پسند ’’ بریخت‘‘ کے ان نوٹس میں  سے ہے جو اس نے اپنے مشہور ڈرامے ’’لائف آف گلیلیو‘‘ کے بارے میں  لکھے ہیں  ۔ اسے محترم شمس الرحمن فاروقی نے اپنے کسی مضمون میں  نقل کیا ہے ذرا پڑھئے تو:
’’.... بربریت....... ہمیں   تاریخ کی شاید سب سے زیادہ اور  بڑی جنگ کی طرف لے جا رہی ہے۔ایسا رویہ اختیار کرنا مشکل ہے جو نئے  اور زیادہ پُر مسرت عہد کے دروازے پر کھڑے ہوئے لوگوں  کا ہوتا ہے۔کیا  ہر چیز رات کی آمد کی اشارہ نہیں  کرتی جب کہ کوئی بھی چیز نئے زمانے کے طلوع ہونے کی امید نہیں  دلاتی۔ تو پھر کیوں  نہ ہم ان لوگوں کا رویہ اختیار کر لیں  جو رات کی طرف اندھا دھند بڑھے جا رہے ہیں  ..... دن او ر  رات کا یہ استعارے گمراہ کن ہیں  اچھے زمانے  اس طرح نہیں  آتے جس طرح رات کے بعد دن آتا ہے‘‘
اب فرمائیے! جس عہد میں  آپ زندگی کر رہے ہیں  اور جس خطے سے آپ کا تعلق ہے تو وہاں کیا ہر چیز رات کی آمد کا اشارہ نہیں  کر رہی ارشد بھی تو یہی کچھ کہہ رہا ہے۔
 یہ جو رات مسلط ہے تو یہ محض وہ رات نہیں  جو سورج ڈوبنے کے بعد طاری ہوئی ہے یہ تو وہ خوفناک سیاہ کتیا ہے جو شہر کے آوارہ کتوں  کے ہمراہ اجالے کی جستجو میں  چلتے راہیوں  کو بھٹکانے کیلئے ان پر مسلسل بھونک رہی ہے۔

گلیوں  کوچوں  بازاروں  میں  
........................ 
رات مسلسل بھونک رہی ہے
اور وہ مسافر جو امکانات کے سفر پر رواں  دواں  ہے بدک کر بانجھ سمتوں  میں  کے گرداب میں  پھنس چکا ہے۔
جہاں  ہم اپنے دن کا بیشتر حصہ 
مناجاتوں  زیاں  اور سود کے کھاتوں  
ادھوری خواہشوں  لکنت زدہ باتوں 
دعاؤں  کی اسیری میں بتاتے ہیں 

 جسم ایندھن بنے پھر بھی چاروں  طرف   رات ہی رات ہے
ارشد معراج کے ہاں  ایک کیفیت بڑی خصوصیت کی حامل ہے کہ وقت اپنے گذشتہ تسلسل میں  چلتا ہوا اس تک پہنچ تو جاتا ہے اور وہ بعض اوقات اس کی انگلی تھام کر اور بعض اوقات اس کے تعاقب میں  چل پڑتا ہے لیکن وہ ظالم کسی مقام پراس سے اپنی انگلی چھڑا لیتا ہے یا کسی موڑ پر اسے جُل دے کر آنکھوں  سے اوجھل ہو جاتا ہے اور اسے لاوقت کے لق و دق صحرا میں  ٹامک ٹوئیاں  مارنے کیلئے چھوڑ جاتا ہے۔ جہاں  نراشا کا گھمبیر اندھیرا اس کی بینائی  پر امکانات کے سارے دروازے بند کر دیتا ہے۔بے سمت ہو جانے کا یہ کرب اس کی اکثر نظموں  میں  ملتا ہے۔
تماشہ ہے 
تماشے میں  نہ عیسیٰ ہے نہ موسیٰ ہے
ہمارے چار سو لیکن سماعت سے مبرا کان
جن سے ریت بہتی ہے
ہوائیں  سرسراتی ہیں 
تو ہم ایسے ہزارو ں  پا پیادہ قرب کے پیاسے
مقبل دائروں  میں  رقص کرتے ہیں  
    ( راستوں  کی اوک)
کس خواہش  نے گھومتا چرخہ روک دیا ہے
کون طنابیں  کھینچ کہ رتھ کو ڈھلوانوں  پر لے آیا ہے
          (ماتھے سے چپکی سفید چمگادڑ)
کہاں  ہے انت سے بے انت کی جانب
مچلتا شور کرتا گدگداتا ہڈیوں  میں  سرسراتا تو.............. ؟
(ٹھہری آنکھ کا سپنا)

یہ جو اندر کھول اٹھتا ہے
ٹھنڈا ٹھار سا ہو جائے گا
تیرے میرے بیچ کی حدت 
آنکھ  میں  جم جائے گی
( رت بدلنے کے بعد)
ہم ہنچ بیک کیسے چلیں  اب ہوا کے ساتھ

یہ اور ایسی کتنی ہی نظمیں  ہیں  اس مجموعے میں  جن میں  چلتے چلتے کسی مقام پر آ کر رک جانے کا احساس ہوتا ہے۔آگے کی راہ معدوم ہوتی دکھائی پڑتی ہے۔
’’تاریخ کی موت‘‘ نئی بات نہیں  فرق بس اس قدر ہے کہ اگلوں نے دعوی ٰ نہیں  کیا تھا اب کی بار دعوی ٰ کیا گیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایسے دعوے کرنے والے خود تاریخ کا رزق ہو گئے ۔
اصل بات یہ ہے کہ طاقت بزدل ہو جائے تو چوری پر اتر آتی ہے اور مرگِ تاریخ کا دعویٰ بھی چوری پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے ۔ تاریخ اور وقت فی الحال مرنے والے نہیں  انہیں  چرایا گیا ہے۔شاعر کے ساتھ بھی یہ ہی سانحہ ہے وہ وقت کے ساتھ چلنے کی جدوجہد کرتا ہے اس کے ساتھ اس مستقبل کی تاریخ میں  داخل ہونا چاہتا ہے لیکن کچھ قدم چلنے کے بعد اسے چرا لیا جاتا ہے اور اس طرح تیسری دنیا کو بھٹکایا جاتا ہے تاکہ اتہاس کو اپنی منشاء کے مطابق تراشا جا سکے۔تاریخ کو چرا کر عالمی اداسی اور بے کیفی مسلط کی جاتی ہے۔عدم فعلیت کی صورت پید ا کی جاتی ہے۔ایسے صد راہوں  پر کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ اپنی سمت کے تعین کا امکان تاریک پڑ جاتا ہے۔حواس مختل ہو جاتے ہیں  ۔ آج کا انسان ڈول ڈرمز میں  کھڑا ہے۔سو کیا خیال ہے ۔۔؟ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم ارشد معراج کی بجائے قدرے سخت گالی اس نظام کو دیں ۔
       ( انوار فطرت)
زیڈ٣١/ ٥٤٤میلاد نگر،
        راولپنڈی
  29 مارچ، 2005 ء
٭٭٭

تشکر: سید زبیر جن کے توسط سے شاعر کی اجازت اور فائل کا حصول ہوا
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
