﻿



کچھ دن گلوبل  گاؤں میں 


فریاد آزر








	
٭
آزما کر عالمِ ابلیس کے حربے جدید 
ہو گئے قابض مری صدیوں پہ کچھ لمحے جدید 
دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِ قدیم 
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِ جدید 
ننھا کمپیوٹر! قلم، کاپی، کتابوں کی جگہ 
اِس قدر سوچا نہ تھا ہو جائیں گے بستے جدید 
ہو گیا محروم بینائی سے بھی اب آخرش 
دیکھتا تھا رات دن وہ آدمی سپنے جدید 
کیوں نہیں لے جاتی اب وحشت بھی صحرا کی طرف
بن گیا کیوں شہر از خود آج صحرائے جدید

دادی اور نانی کے قصوں میں مزہ آتا نہیں 
اب سناتے ہیں مرے بچے  انھیں  قصے    جدید  
سب سنائی دیتا ہے آزر ؔ اذانوں کے سوا 
محوِ حیرت ہیں کہ ہم بھی ہو گئے کتنے جدید 

نوٹ:-	غالباً اس طرح کے صوتی قافیوں کا تجربہ غزل میں پہلی بار کیا جا رہا ہے

٭
اُس قبیلے کے لہو میں ذائقہ اتنا لگا 
جس کو بھی دیکھا اُسی کے خون کا پیاسا لگا 
قہقہوں سے ایک عرصہ تک اذاں سہمی رہی 
اور پھر اُس گھر میں عبرت ناک سناٹا لگا
نیکیوں کی فصل ساری کاٹنا چاہے ابھی
 دوسرے  موسم  سے   دل   اِس   درجہ   لا   پروا  لگا                                                                    
ننھے بچپن میں بزرگوں سا تھا جس کا رکھ رکھاؤ
زندگی کی دوڑ میں وہ آدمی بچہ لگا 
یاد تھے اس کو کتابِ زندگی کے سب حقوق
اپنی ذمہ داریوں سے جو سدا بچتا لگا
مدتوں کے کھوئے بھائی کو وطن میں دیکھ کر
میرے خوابوں کو اچانک زور کا جھٹکا لگا
اس کو اپنے غم سے بھی اتنی پریشانی نہ تھی
میری خوشیاں دیکھ کر جتنا اسے صدمہ لگا
جس کو اپنی ذات میں اک انجمن کہتے ہیں لوگ
غور سے دیکھا تو آزرؔ بے کراں تنہا لگا




٭
تشنگی ایسے لبوں کی کیا بجھا پاتا فرات
مدتوں سے خود تھا جن کی دید کا پیاسا فرات
تشنگی کو آپ اپنا امتحاں مقصود تھا
ورنہ پاکیزہ لبوں تک خود ہی آ جاتا فرات
پھر وہی منظر نظر کے سامنے کیوں آگیا
کربلا، خوں ریزی، کوفہ، تشنگی، صحرا، فرات
اب بھی ہیں صحرا کی آنکھوں سے یونہی آنسو رواں 
نام ان کو دے دیے ہیں وقت نے دجلہ فرات
سر پہ آکر رک گیا ہے آفتابِ مغربی
پی نہ جائے یہ کہیں اب سارے کا سارا فرات
شہروں میں اک شہر تھا بغداد کہتے تھے جسے
اور دریاؤں میں آزرؔ ایک تھا دریا فرات

٭

دہر میں زندہ ابھی نمرود کا ہمزاد ہے
امتحاں میں اب بھی ابراہیم ؑ کی اولا د ہے 
سب حقائق مجھ سے بھی پہلے کہیں موجود تھے 
میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ مری ایجاد ہے 
آج بھی مرہونِ منت ہے "سہاروں " کا ادیب
کیا عجوبہ ہے کہ خالق سے بڑا نقاد ہے 
ابتداءً دل کی گہرائی میں اترا تھا کبھی
اب زبان و لب  پہ ہی اسلام زندہ باد ہے
اور کچھ بتلاتے ہیں اعمال ہم سب کے مگر
عظمتِ رفتہ کا ہم سب کو ترانہ یاد ہے

ایسا لگتا ہے کہ شاید ہو گیا قیدی فرار
اب تو رمضانوں میں بھی ابلیسیت آزاد ہے

٭

اس نے میرا نام شوریدہ سروں میں لکھ دیا 
اور خود کو امن کے پیغمبروں میں لکھ دیا 
جب ملا تبدیلیِ تاریخ کا موقع اُسے 
نام خود اپنا سنہرے اکشروں میں لکھ دیا 
شاہی محلوں سے مٹا کر مجھ کو بے حس وقت نے 
جا بہ جا سہمے شکستہ مقبروں میں لکھ دیا 
جب کتابوں کے لگے انبار تو میں نے بھی پھر 
ایک سا مضمون سارے تبصروں میں لکھ دیا 
میں نے اُس کو ناقدِ اعظم کہا کچھ سوچ کر 
اُس نے مجھ کو عصر کے دیدہ وروں میں لکھ دیا 

میں نے یوں ہی نام آزرؔ رکھ لیا تھا بے سبب 
اُس نے بھی میرا مقدر پتھروں میں لکھ دیا 


٭     
صحرا سے العطش کی صدا آ رہی ہے پھر 
تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے پھر 
پھر بیعتِ یزید سے منکر ہوئے حسین 
اور ظالموں کی فوج ستم ڈھا رہی ہے پھر 
دوبارہ چکھ لیا نہ ہو ممنوعہ پھل کہیں 
وہ  بے  لباسیوں  میں  گھری  جا رہی ہے  پھر 
ہیں لوگ اپنے اپنے ہی خیموں کی فکر میں 
اور سازشوں میں قوم بٹی جا رہی ہے پھر 
اس نے تو جڑ سے کاٹ دیا تھا روایتاً 
یہ سبز گھاس ہے کہ اُگی آ رہی ہے پھر 


٭

وہ سبز ہاتھوں میں لے کر کتاب اترے گا 
اب اِس زمیں پہ حسیں انقلاب اترے گا 
وہ بے دریغ کئے جا رہا تھا قتل مرا 
میں منتظر تھا کہ اُس پر عذاب اترے گا
ہم اس بھرم میں سیاہ و سفید سے بھی گئے
کہ سونی آنکھوں میں رنگین خواب  اترے گا
نہ ٹوٹ جائے کہیں خوبصورتی کا بھرم
سنا ہے چہرے سے اس کے نقاب اترے گا
بلا سے نقرئی کالج میں داخلہ نہ ملے
نہ بچیوں کے سروں سے حجاب اترے گا

بہا رہا ہے زمیں پر وہ خون بے پایاں 
تو کیا فلک سے بھی کوئی جواب اترے گا؟


٭
ہاں ابھی مجھ کو نہ تسلیم کرے گا وہ بھی
وقت آئے گا تو تعظیم کرے گا وہ بھی
خود کو میں جمع کروں گا یونہی ریزہ ریزہ
روز مجھ کو یونہی تقسیم کرے گا وہ بھی
میں بھی موسم کو محبت کی ضمانت دوں گا
ختم نفرت کے جراثیم کرے گا وہ بھی
ایک پر ذات تو دوجے پہ لکھے گا آفاق
شخصیت کو مری دو نیم کرے گا وہ بھی
میں بھی تبدیل کروں گا ذرا اندازِ نظر
کچھ نہ کچھ حسن میں ترمیم کرے گا وہ بھی

جن کو صدیوں نے بکھرتے ہوئے دیکھا آزرؔ
اب انہیں خوابوں کی تنظیم کرے گا وہ بھی


٭
وقت کے ٹھکرائے کو گردانتا کو ئی نہیں 
جانتے سب ہیں مجھے، پہچانتا کو ئی نہیں 
جب سے میں نے گفتگو میں جھوٹ شامل کر لیا 
میری  باتوں  کا  برا  پھر  مانتا  کو ئی  نہیں 
آج  کل  ہر  خواب  کی  تعبیر ممکن ہے مگر 
یہ  سنہرا  عز م  دل  میں  ٹھانتا  کو ئی  نہیں 
کچھ تو ہو گا حال سے ماضی میں ہجرت کا سبب 
یوں ہی بس یادوں کی چادر تانتا کو ئی نہیں 
اپنے اپنے زعم میں ہے مبتلا ہر آدمی 
ایک دوجے کو یہاں گر دانتا کو ئی نہیں 

میں نے جو کچھ بھی کہا ، سچ کے سوا کچھ بھی نہ تھا 
پھر بھی آزرؔ بات میری مانتا کو ئی نہیں 


٭
بے کراں شہرِ طلسمات سے آزادی دے
مجھ کو خوابوں کی حوالات سے آزادی دے
ورنہ ہم سانس بھی لینے کو ترس جائیں گے
سطحِ "اوزون" کو فضلات سے آزادی دے 
تھک گیا ہوں تری شطرنج کی بازی سے بہت 
زندگی مجھ کو شہ و مات سے آزادی دے 
یہ بدل دیں نہ جہنم میں زمیں کی جنت 
اس پرستان کو جنّات سے آزادی دے 
ایک    مدت   ہوئی   محبوب   وطن    سے    نکلے      
اب سکندر کو فتوحات سے آزادی دے 
میں بھی کچھ زینتِ آفاق بڑھاؤں شاید 
تو اگر مجھ کو غمِ ذات سے آزادی دے 
اِس گھٹا ٹوپ اندھیرے کی سیاہی کو ہٹا 
دن دکھا مجھ کو بھی اب رات سے آزادی دے 

وقت سے پہلے نہ آ جائے قیامت آزرؔ
"گرین ہاؤس "کو بخارات سے آزادی دے 
   




٭
یہاں تاریخ کہلاتی ہے فرسودہ حکایت بھی 
اور اس کے سامنے آنکھیں چراتی ہے حقیقت بھی 
اب اپنی اپنی قسمت کس میں کب تک کون رہتا ہے 
یہ دنیا ایک تمثیلی جہنم بھی ہے، جنت بھی 
اُدھر احباب مجھ سے زندگی جینے کو کہتے ہیں 
اِدھر یہ مسئلے دیتے نہیں مرنے کی فرصت بھی 
بلائیں کیوں چمٹ جاتی ہیں بھولے بھالے لوگوں سے 
نہیں آتا ہے کیوں اب ظالموں پر عکسِ آفت بھی 
خدا محفوظ رکھے آپکے دامِ شرافت سے 
ہمیں معلوم ہے شامل ہے اِس میں شر بھی، آفت بھی 


 ٭
گھٹ گھٹ کے مرگیا مرے اندر کا آدمی  
پھر آ کے بس گیا کوئی پتھر کا آدمی 
کس کو خبر تھی خلد سے آ کر زمین پر 
فتنے بپا کرے گا یہ گز بھر کا آدمی 
آتا تھا دیر رات کو جاتا علی الصباح 
بچے اُسے سمجھتے تھے دفتر کا آدمی 
میں وقت پر وہاں بھی نہ پہنچا تھا عادتاً
کب سے پکارتا تھا مقدر کا آدمی 
وہ شخص موقع ملتے ہی بن بیٹھا راکشس 
گھر والے مانتے تھے جسے گھر کا آدمی 

آزرؔ سے مل کے مجھ کو بھی ایسا ہی کچھ لگا 
صدیوں پہ ہے محیط گھڑی بھر کا آدمی  



٭
صدیوں سے بھی عظیم تھی لمحے کی زندگی
جب جی گیا تھا میں بھی مدینے کی زندگی
بدلے میں اُس کی موت مرا میں تمام عمر
وہ شخص جی گیا مرے حصے کی زندگی
ہم نے گزار دی جسے چھاؤں میں بیٹھ کر
وہ زندگی تھی دھوپ سے لڑنے کی زندگی
وہ آدمی جوان رہے گا تمام عمر
بچپن میں جی چکا ہے وہ بوڑھے کی زندگی
ظالم حقیقتوں نے مجھے پھر جگا دیا
کتنی حسین تھی مرے سپنے کی زندگی 
یوں بے نیازیوں میں کٹی ہے تمام عمر 
ہم جیسے جی رہے تھے کرائے کی زندگی
اُس سادہ دل سے مل کے مجھے بھی یہی لگا  
اب تک میں جی رہا تھا دکھاوے کی زندگی

آزر ؔ   کی   زندگی   بھی   لطیفے   سے   کم   نہ   تھی         
تھی کتنی کرب ناک لطیفے کی زندگی
    


٭
ہر آن سازشِ نو میں پھنسانا چاہتا ہے 
میں سر اٹھا ہی نہ پاؤں زمانا چاہتا ہے 
جہاں کہیں بھی میں طاقت کی شکل میں ابھروں 
کسی بہانے وہ مجھ کو دبانا چاہتا ہے 
مرے وجود سے اِس درجہ خوف ہے اُس کو  
کہ میرا نام و نشاں ہی مٹانا چاہتا ہے 
یہ کس چراغ کا جن ہے جو سارے عالم سے
چراغ امن و اماں کے بجھانا چاہتا ہے 
میں اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کا مگر 
وہ اپنے آگے مرا سر جھکا نا چاہتا ہے 

میں معترض بھی نہیں اُس کے قہقہوں پہ مگر 
مجھے رُلا کے ہی وہ مسکرانا چاہتا ہے 



  ٭
تخیلات میں پھر تاج و تخت اُگنے لگے 
زمیں ہٹی تو خلا میں درخت اُگنے لگے 
جہاں فساد میں اعضائے جسم کٹ کے گرے 
اُسی زمین سے ہم لخت لخت اُگنے لگے 
پھر انتخاب کا موسم گزر گیا شاید  
پھر اُس کے ہونٹوں پہ لہجے کرخت اُگنے لگے 
کچھ اِس طرح انھیں بے رحمیوں سے کاٹا گیا 
نحیف پودوں کے پتے بھی سخت اُگنے لگے 
خزاں نصیبی کا بوڑھا شجر بھی خوش ہے بہت 
کہ برگ شاخوں پہ کچھ نیک بخت اُگنے لگے 

تو کیا ہمیں بھی سفر کا پیا م آنے کو ہے 
خیال و خواب میں کیوں سبز رخت اُگنے لگے
      


٭
شبِ سیاہ سے اگتی ہوئی سحر دیکھیں 
چلو اندھیرے میں اک تیر مار کر دیکھیں 
ملے تو پہلے زمیں کی کشش سے آزادی 
کہاں تک اڑتے ہیں پھر اپنے بال و پر دیکھیں 
بس اک جگہ پہ زیادہ ٹھہرنا ٹھیک نہیں 
کہو بلاؤں سے اب اور کوئی گھر دیکھیں 
جو مل سکا نہ ہمیں آسمان سے اب تک 
چلو زمین سے ہی اب کے مانگ کر دیکھیں 

سنا ہے پیار عبادت سے کم نہیں آزرؔ 
یہ بات سچ ہے تو ہم بھی کسی پہ مر دیکھیں 



٭
یہ اور بات کہ لمحوں میں ڈھل گئیں صدیاں 
حصارِ وقت سے باہر نکل گئیں صدیاں 
چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا 
رکے تو پاؤں سے آگے نکل گئیں صدیاں 
وہ الفیوں سے بھی برتر ہے تھی خبر کس کو 
سو جزوِ خاک کی عظمت سے جل گئیں صدیاں  
وہ لمحہ سرورِ عالم کو جب ملی معراج 
اُسی کے صدقۂ جاں سے سنبھل گئیں صدیاں 
کبھی کبھی ہوئے تخلیق پل بہ پل دیوان 
کبھی کبھی تو مری بے غزل گئیں صدیاں 

حقیر قصبوں کو دے دے کے رنگ عظمت کا 
عظیم شہروں کا نقشہ بدل گئیں صدیاں 


٭
مطلع برائے مطلع غزل کا ضرور تھا
لیکن پھر اُس کے بعد قلم بے قصور تھا
سرحد پہ میرے مدِ مقابل تھا جو بھی شخص
وہ بھی نہ جانے کتنے دلوں کا سرور تھا
اُس نے مجھے بکھیر رکھا تھا اِدھر اُدھر
لیکن مجھے بھی نظمِ غزل کا شعور تھا
وہ ہو گیا قلم تو ملا بے کراں سکوں 
کس درجہ  بار ہم پہ سرِ پُر غرور تھا
سب خوش ہیں آج اُس کو اندھیروں میں پھینک کر
جو اپنے آپ میں کبھی مینارِ نور تھا

اب اُس کو پا کے میں بھی بہت غم سے چور ہوں 
وہ مجھ سے دور رہ کے کبھی غم سے چور تھا


٭
اک بلا سر سے اترنے بھی نہیں پاتی ہے 
دوسری آ کے رگِ جا ں سے چمٹ جا تی ہے 
چھین لینے کو ہے بیتاب مرے سارے حقوق 
کیا سیاست ہے مساوات سے گھبراتی ہے 
اُس نے بچپن میں اڑایا تھا درختوں کا مذاق 
آج سایے کو جوانی اُسے ترساتی ہے 
اور کون آئے گا اِس وقت گزیدہ کے قریب 
اک تری یاد ہے آتی ہے، چلی جا تی ہے 
فرق انسانوں ، مشینوں میں سمجھنا مشکل 
زندگی شہر کی اِس درجہ طلسماتی ہے 

یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں بھول چکا ہے آزرؔ 
اب  ہمیں  بھی  کہاں  اُس  شخص  کی  یا د آتی ہے                                      
  


٭
ذلیل خود کو، اُسے با وقار کر نا پڑا 
یہ اہتمام مجھے بار بار کر نا پڑا 
وہ میری جان ہی لینے پہ تُل گیا تو پھر 
اُسی کے تیر سے اُس کا شکار کر نا پڑا 
وہ کام جس کو میں ادنا سمجھ رہا تھا بہت 
وہ کام مجھ کو بصد افتخار کر نا پڑا 
ہوا کی بات شرافت سے جب سنی نہ گئی 
اُسے بھی لہجہ نیا اختیار کر نا پڑا 
وہ جرم  میں نے جسے ایک بار بھی نہ کیا 
قبول اُس کو مجھے بار بار کر نا پڑا 

اسے زمین بہت تنگ آ رہی تھی نظر
اسے ہواؤں کے رتھ پر سوار کرنا پڑا


٭
کسی بھی حال میں مر نا پڑے گا اُس کو بھی
وہ وقت ہے تو گزر نا پڑے گا اُس کو بھی
عظیم ہے تو اُسے عظمتوں کا پاس رہے 
رذیل ہے تو سدھرنا پڑے گا اُس کو بھی
میں اپنا اسلحہ سارا تباہ کر دوں مگر 
اسی عمل سے گزرنا پڑے گا اُس کو بھی
وہ آسمانوں پہ کب تک اڑے گا آخرکار 
اِسی زمیں پہ اُترنا پڑے گا اُس کو بھی
نگاہِ نقد رکھے دوسروں پہ خوب مگر 
اب  اپنا  تجزیہ  کرنا  پڑے  گا  اُس  کو  بھی

اکیلے میں ہی اِسے ختم کیوں کروں آزر ؔ
اب  اِس  خلیج  کو  بھرنا  پڑے  گا  اُس  کو  بھی


٭
مجھے بھی کرنا پڑا تھا بسر جہنم میں 
مرا مکان تھا جنت میں ، گھر جہنم میں 
فضائے آتشِ گجرات سے جو بچ نکلے 
پرندے پھر نہ گئے لوٹ کر جہنم میں 
ملی تھی جب اسے جنت تو خو ش نہ تھا اتنا
وہ جتنا خوش ہے مجھے دیکھ کر جہنم میں 
وہ شخص آج بھی ماضی سے ایسا الجھا ہے 
کہ اُس کے پانو ہیں جنت میں ، سر جہنم میں 
فرشتے بولے جو چاہے جہاں چلا جائے 
وہ شخص کود پڑا بے خطر جہنم میں 
کہ جن کو دیکھ کے ذرے بھی محوِ حیرت تھے 
بڑے بڑے ملے شمس و قمر جہنم میں 
اُسے بشارتِ جنت ہوئی تو حیرت کیا 
گزارے اُس نے تھے شام و سحر جہنم میں 

بچانا چاہ رہا ہوں اُسے جہنم سے  
وہ جانا چاہ رہا ہے مگر جہنم میں 




٭
خلاؤں میں بھی شر پھیلا رہا ہے
پرندہ  کتنا  پر  پھیلا رہا ہے
جہاں رستہ ہے ملکِ آخرت کا
سفر میں کیوں یہ گھر پھیلا رہا ہے
فضائے شہر آلودہ بنا کر
وہ گاؤں پر نظر پھیلا رہا ہے
وہ امن و آشتی کا نام لے کر
جہاں میں اپنا ڈر پھیلا رہا ہے
اتارا تھا زمیں پر تو نے جس کو
فلک تک پھر اثر پھیلا رہا ہے

جو تیرے در سے کتراتا تھا آزرؔ
وہ دامن در بدر پھیلا رہا ہے


٭
مدتوں کا مسئلہ لمحوں میں حل ہو جائے گا
صفحۂ تاریخ میں ردّ و بدل ہو جائے گا
جس کی باتوں میں عجب پیغمبرانہ شان تھی
کیا خبر تھی وہ بھی اتنا بے عمل ہو جائے گا
نذر ہو جائے گا ماضی کی یہ قتلِ عام بھی
رفتہ رفتہ درد بالکل نارمل ہو جائے گا
مسئلوں سے لڑکے ہی نکھرے گا حسنِ شخصیت
جو بھی اس کیچڑ سے ابھرے گا کنول ہو جائے گا
میں نے تھوڑی سی جگہ دی تھی جسے دل میں ، وہ درد
کیا خبر تھی زندگی کا ماحصل ہو جائے گا

سانپ گر حالات کے ڈستے رہے آزرؔ تو پھر
اور ہی کچھ اپنا اندازِ غزل ہو گائے گا


٭
ارادہ کب تھا اس کا خود کو دریا میں ڈبونے کا 
اسے بس شوق تھا بہتی ندی میں ہاتھ دھونے کا  
 سروں  کی  فصل  کٹتے   دیکھنا  اس  کی  سیاست  ہے            
ہے اس کا مشغلہ صحنِ فضا میں زہر بونے کا 
یہ تیرا ہی کرم ہے ورنہ کب یارا ہی تھا  یا رب!
مری نازک مزاجی کو غموں کے بار ڈھونے کا
ہوا کیا گر نگاہِ خامۂ تنقید ہے بے حس 
مجھے خود بھی نہیں احساس اب کچھ اپنے ہونے کا 
مجھے کب تلخیِ حالات نے موقع دیا جانم
سنہرے نرم رو الفاظ میں تجھ کو پرونے کا

جنابِ میرؔ بھی میری طرح مغموم تھے لیکن 
مجھے موقع ہی کب ملتا ہے آزرؔ  رونے دھونے کا 


٭
شکستہ آج کو کل سے جدا نہ کر پایا 
میں مقبرے کو محل سے جدا نہ کر پایا 
اُسے بھی خود پہ بڑا اعتماد تھا لیکن 
وہ مشتری کو زحل سے جدا نہ کر پایا  
میں خواہشوں کو قناعت پہ کر چکا راضی 
نگاہِ صبر کو پھل سے جدا نہ کر پایا 
ہزار چاہا کوئی اور صنف اپناؤں 
میں شاعری کو غزل سے جدا نہ کر پایا
ہزار چاہا کہ دونوں میں رابطہ نہ رہے 
پہ کیچڑوں کو کنول سے جدا نہ کر پایا 

رواج شہر کے اپنا چکا مگر آزرؔ 
مزاج دشت و جبل سے جدا نہ کر پایا 


  ٭
واقعیت کہیں کھل جائے نہ، گھبراتے ہیں 
ہم وہ اکثر نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں 
ہم ہیں پروردہ ہی کچھ ایسے مواسم کے ،کہ اب 
دھوپ کیا سایۂ  دیوار سے جل جاتے ہیں 
ظلم کا سر نہ کچل پائے تھے اجداد، سو ہم 
آج نا کردہ گناہوں کی سزا پاتے ہیں 
جس کو دیکھا ہی نہیں دیدۂ بینا نے کبھی 
ہم اُسی خواب کی تعبیر سے گھبراتے ہیں 
ہم جو لڑ پڑتے ہیں گھر میں کبھی بچوں کی طرح
پھر ہمیں بچے بڑوں کی طرح سمجھاتے ہیں 

حق نمازوں کا ادا ہو نہ ہو آزرؔ لیکن 
ہم بھی مسجد میں چلے جاتے ہیں ہو آتے ہیں 



٭
علم اتنا تھا کہ آئی ہے گزر جائے گی رات 
کیا خبر تھی میرے ہی گھر پر ٹھہر جائے گی رات 
کیا خبر تھی بیکراں تاریکیوں کے باوجود 
ایک جگنو کی ضیا باری سے ڈر جائے گی رات
متحد ہو کر نہ سورج کی طرح چمکے تو پھر
رفتہ رفتہ جگنوؤں کے پر کتر جائیگی رات
جب لگے گا اُس کو خود اپنی ہی تاریکی سے خوف
آسماں کی مانگ پھر تاروں سے بھر جائے گی رات
ہونے ہی والا ہے مشرق سے اجالے کا ظہور
خود ہی مغرب کے اندھیروں میں اتر جائے گی رات

آخرش کب تک یوں ہی ٹھہرا رہے گا وقت بھی 
غم نہ کر آزرؔ کسی صورت گزر جائے گی رات



٭
حویلیوں سے بھی چھپر عظیم ہوتے ہیں 
کہیں مکان، کہیں گھر عظیم ہو تے ہیں 
عظیم وہ نہیں لڑ کر جو ملک فتح کرے 
عظیم خود سے ہی لڑ کر عظیم ہوتے ہیں 
غرور کیجے نہ دستار کی بلندی پر 
کہیں کلاہ، کہیں سر عظیم ہوتے ہیں 
انہیں کو وقت بناتا ہے محترم اکثر
جو اس کی ٹھوکریں کھا کر عظیم ہوتے ہیں 
زبانِ اردو ہے کتنی عظیم مت پوچھو
کہ جس کے سارے سخن ور عظیم ہوتے ہیں 

جنہیں کہیں بھی کوئی پوچھتا نہیں آزر ؔ
وہ میری رائے میں اکثر عظیم ہوتے ہیں 


٭
ظلم سے یکسر زمیں کو پاک ہونا چاہئے
ظالموں کو اب سپردِ خاک ہونا چاہئے
اس نے بھی نہریں بہائی ہیں ابلتے خون کی 
خاتمہ اس کا بھی عبرت ناک ہونا چاہئے
کچھ بھی کہہ دیتا ہے وہ گزرے دنوں کے نام پر
آج ماضی کا بھی سینہ چاک ہونا چاہئے
انؐ ۔کو اپنے جیسا کہنے والے جاہل شخص کو
کچھ خیالِ آیتِ لولاک ہونا چاہئے
جس کو بھی دیکھو بنا جاتا ہے اکثر بے وقوف
اب شریفوں کو بھی کچھ چالاک ہونا چاہئے

موت سے ملتے ہوئے بالکل ہی گھبراہٹ نہ ہو
زندگی کو اس قدر بے باک ہونا چاہئے


٭
سب سمجھتے ہیں کہ ہے کتنی گرانی پھر بھی
خون کی طرح بہا دیتے ہیں پانی پھر بھی
میں گلا گھونٹے ہی رکھتا ہوں ہمیشہ اس کا
چیخ پڑتا ہے مرا دردِ نہانی پھر بھی
مشورے عقل کے اس سے تو کہیں بہتر تھے
حضرتِ دل نے کوئی بات نہ مانی پھر بھی
پوچھتا رہتا ہے اوروں سے سدا چھپ چھپ کر
مجھ سے سنتا ہی نہیں میری کہانی پھر بھی
مجھ کو جنت کی بھی عظمت سے نہیں کچھ انکار
خوب صورت سا لگا عالمِ فانی پھر بھی

ایک اک لفظ سے سچائی کی بو آتی ہے
کتنی دلچسپ ہے آزرؔ کی کہانی پھر بھی


٭
خود اپنی گود میں ہی اس نے خود کو پالا تھا
خود اپنی موت پہ آنسو بہانے والا تھا
بس اک امید کا دامن بچا تھا میرے لیے
اسے بھی تلخ حقائق نے پھاڑ ڈالا تھا
نہ جانے کیسے جیا ہو گا وہ کہ اس کے پاس
بس ایک دل ہی تھا اور وہ بھی چھننے والا تھا
وہ شخص پھر بھی نہ پہنچا سحر کی سرحد تک
اندھیری شب میں بھی امید کا اجالا تھا
پڑی ہوئی تھی کوئی بددعا مرے پیچھے
میں ورنہ کب تری باتوں میں آنے والا تھا

بس ایک شہرِ غزل راس آیا تھا آزرؔ
وہاں بھی حضرتِ غالبؔ کا بول بالا تھا


٭
اس نے کیا مذاق مری زندگی کے ساتھ
بویا کسی کے ساتھ تو کاٹا کسی کے ساتھ
بچوں پہ ایسا جادو چلا ہے نصاب کا
اکبر کا نام لینے لگے غزنوی کے ساتھ
اچھا ہوا کہ لوگ بیاں سے مکر گئے
بھُن جاتے ورنہ وہ بھی کسی "بیکری" کے ساتھ
سب اشتہار بازی میں مصروف تھے مگر 
اک شخص کام کرتا رہا خامشی کے ساتھ
یہ اور بات ہے کہ خدا نے بچا لیا
میں جنگ لڑ رہا تھا بڑی بزدلی کے ساتھ

خود سے رہا تھا  دست و گریباں کچھ اِس قدر
وہ شخص زندگی میں نہ الجھا کسی کے ساتھ 


٭
بے فکریوں کی عمر تو لمحوں میں کٹ گئی
پھر جونک مسئلوں کی صدی سے لپٹ گئی
ہندو کوئی تو کوئی مسلمان بن گیا
انسانیت بھی مذہبی خانوں میں بٹ گئی
بے ربط ہو چلے ہیں مواسم کے سلسلے
شاید زمین اَبلقِ محور سے ہٹ گئی
اک سال تیری عمر بڑھی ہے مبارکاں !
اک سال زندگی بھی مگر اور گھٹ گئی
جو آسمان چوم رہی تھی روایتاً
وہ آخری پتنگ امیدوں کی کٹ گئی

تھا مسئلوں کا ذہن میں کچھ شور  اِس قدر
پھر زندگی میں نیند نہ آئی اچٹ گئی


٭
میری خواہش کے مطابق سامنے دریا رہا
میری قسمت کے مطابق میں سدا پیا سا رہا 
اُس نے والد کی نہ مانی تھی فقط اک بات اور 
زندگی میں دیر تک پھر قہر سا برپا رہا 
کیسے کیسے حادثے گزرے تھے ماضی میں ،کہ میں 
اپنے ہی اشعار پڑھ کر دیر تک روتا رہا 
بد دعا سورج کو اک ذرے کی ایسی لگ گئی 
آسماں پر مدّتوں پھر ابر سا چھایا رہا 
اُس کی ہر کوشش یہی تھی میرا سورج ڈوب جائے 
پر مرا انجام جیسا بھی رہا اچھا رہا 

آج کوئی بھی اُسے پہچاننے والا نہیں 
اتنے چہرے بدلے تھے اُس نے کہ بے چہرہ رہا 


٭
وقت کا احترام کر نے لگے 
شیر سرکس میں کام کر نے لگے 
جب سے شاہی چھنی ہے جنگل کی 
نیند گیدڑ حرام کرنے لگے 
آج کے بھیڑیوں کا کہنا ہے 
میمنے قتل عام کر نے لگے 
جب سے ملنے لگے خواص سے ہم 
احترامِ عوام کر نے لگے 

اب بڑھاپا قریب آ پہنچا 
ہم بھی کچھ نیک کام کر نے لگے 



٭
میں جب ہوا کے ارادوں کو جان لیتا ہوں 
لڑے بغیر ہی پھر ہار مان لیتا ہوں 
گرو کی یاد انگوٹھے سے آنے لگتی ہے
میں جب بھی ہاتھ میں تیرو کمان لیتا ہوں 
فضائے شہر سے آتی ہوئی ہواؤں کو
میں سانس لینے سے پہلے ہی چھان لیتا ہوں 
بڑے سکون سے اکثر زمیں کے بستر پر
اب آسمان کی چادر بھی تان لیتا ہوں 
یہ اور بات کہ پورا کوئی نہیں ہوتا
ہمیشہ عزم کوئی دل میں ٹھان لیتا ہوں 

یہ واقعہ ہے کہ ناکام رہتا ہوں اکثر
میں جب بھی اپنا کوئی امتحان لیتا ہوں 



٭
سارے درد نظر آئیں گے گھر سے باہر
جس دن میں نکلوں گا پس منظر سے باہر
لاکھ سمیٹے رکھوں پر جانے انجانے
ہو جاتے ہیں پانو مرے چادر سے باہر
کب سے ہیں انکھیاں تیرے درشن کی پیاسی
درش دکھا دے آ بھی جا پتھر سے باہر
پہلے جس کی آنکھ نشانے پر تھی میرے
اب وہ چڑیا بھی ہے حدِ نظر سے باہر
آج بھی میں کھل کر سچ بول نہیں سکتا ہوں 
اب بھی نہیں ہوں اس کے حصارِ شر سے باہر

جس کو میں نے صدی کا روپ دیا تھا آزرؔ
اب وہ لمحہ بھی ہے میرے اثر سے باہر


٭
یہ اور بات کہ آسودگی بہت کم ہے 
ذہین شہر میں اب مفلسی بہت کم ہے 
عجیب دور ہے یہ شہرِ میرؔ و غالبؔ کا 
سخن سرا ہیں بہت، شاعری  بہت کم ہے 
خصوصیات کچھ اُس میں فرشتوں جیسی ہیں 
یہ اور بات ہے، وہ آدمی  بہت کم ہے 
مزاج رکھتے ہیں سب لوگ اب سمندر کا 
نئے شعور میں دریا دلی بہت کم ہے 
چلو مرے ہوئے لوگو ں کو ہی صدائیں دیں 
کہ زندہ لوگوں میں اب زندگی  بہت کم ہے 

عجیب شہر ہے یہ چھانو بھی ہے کم لیکن 
ضرورتوں کی یہاں دھوپ بھی  بہت کم ہے 



٭
خزاں رسیدہ قیادت میں کیوں نہیں آتے
اب اچھے لوگ سیاست میں کیوں نہیں آتے
جدا جدا رگِ، ظالم پہ وار کرتے ہیں 
ستم زدہ کبھی وحدت میں کیوں نہیں آتے
ہجومِ یاس کے آتے ہی دیتے ہیں دستک
یہ دل کے درد بھی فرصت میں کیوں نہیں آتے
تجھے جو صفحۂ ہستی پہ جاوداں کر دیں 
وہ لفظ میری عبارت میں کیوں نہیں آتے
حکایتوں کے نگر کے عظیم شہزادے
کبھی بھی شہرِ حقیقت میں کیوں نہیں آتے

میں آنسوؤں کی نگاہوں سے چومتا تھا تجھے
اب ایسے لمحے عبادت میں کیوں نہیں آتے


٭
خدا کے سامنے جھکتی ہوئی جبین لگے 
ہوا چلی تو مناظر بڑے حسین لگے 
کہیں مکینوں سے بہتر مکاں ملے مجھ کو
کہیں مکانوں سے بہتر مجھے مکین لگے 
کہیں بھی قتل ہو کیسی عجیب سازش ہے 
لہو میں ڈوبی ہوئی میری آستین لگے 
یہ اور بات یہاں بھی نہیں سکون مگر 
مجھے یہی مرے خوابوں کی سر زمین لگے
 نہ جانے کون سے پل سب دھواں دھواں ہو جائے 
خود اپنے بیٹوں سے سہمی ہوئی زمین لگے 

ہر ایک شہر ہے شہرِ طلسمِ نو آزرؔ
جسے بھی دیکھو وہی آدمی مشین لگے 
    


٭
خود اپنا بارِ غم ڈھونا پڑے گا
مگر ہر لحظہ خوش ہونا پڑے گا
وہ اتنا ہنس چکا ہے زندگی میں 
کہ شاید عمر بھر رونا پڑے گا
اگر تم خود کو پانا چاہتے ہو
تو اپنے آپ کو کھونا پڑے گا
وہ شاید خواب میں دوبارہ آئے
مجھے اک بار پھر سونا پڑے گا
نکھر جائے گی پھر صورت تمہاری
مگر اشکوں سے منہ دھونا پڑے گا

پڑے گا دشمنوں کا ساتھ دینا
خلاف اپنے اسے ہونا پڑے گا



٭
اسی امید پر آزرؔ کہ شاید اب بہار آئے
سنہری زندگی دورِ خزاں میں ہی گزار آئے
پیمبر تو نہیں تھے پھر بھی قدرت کے اشارے پر
نہفتہ معجزے ہم بھی خلاؤں سے اتار آئے
ہمارا حال ماضی کا پتہ دیتا نہیں یکسر
ہماری عظمتِ رفتہ پہ کس کو اعتبار آئے
بڑے ہونے پہ یہ دنیا کبھی جینے نہیں دیتی
سو ہم بھی زندگی جی بھر کے بچپن میں گزار آئے

کہاں فرصت کہ میں اس دل کی ہر خواہش کروں پوری
یہ پاگل چاہتا ہے پھر سے دورِ انتظار آئے



٭
کچھ اِس طرح سے عبادت خفا ہوئی ہم سے 
نمازِ عشق بہت کم ادا ہوئی ہم سے 
غریب آنکھوں میں آنسو بھی اب نہیں آتے 
الٰہی رحم کہ پھر کیا خطا ہوئی ہم سے 
ہم ابتدا ہی کہاں نیکیوں کی تھے یا رب 
تو پھر گناہوں کی کیوں انتہا ہوئی ہم سے 
یہ بدنصیبی ہماری ہے، کم ہوا ایسا 
کہ دشمنوں کے بھی حق میں دعا ہوئی ہم سے  
سلوک موت کا ہم سے نہ جانے کیسا ہو 
یہ زندگی تو بہت بے مزہ ہوئی ہم سے 

کہاں چھپائیں گے محشر میں خود کو ہم آزرؔ
کہاں اطاعتِ خیرالوریٰ ہوئی ہم سے



٭
عجیب انداز کی یہ زندگی محسوس ہوتی ہے
بھلی معلوم ہوتی ہے بُری محسوس ہوتی ہے
تنفّس اک مسلسل خود کُشی کا نام ہے شاید
میں جتنا جیتا ہوں اتنی نفی محسوس ہوتی ہے
وہ ہو موجود تو اس پر توجہ بھی نہیں جاتی
نہ ہو موجود تو کتنی کمی محسوس ہوتی ہے
فضاؤں تک ہی گر محدود رہتی تو بھی چل جاتا
خلاؤں میں بھی اب آلودگی محسوس ہوتی ہے
عجیب انساں ہے اب بھی زندگی کے گیت گاتا ہے
مجھے ہر سانس اس کی آخری محسوس ہوتی ہے

کبھی آیا تھا میری زندگی میں زلزلہ آزرؔ
مجھے اب تک زمیں ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے


٭
بے رحم سچ نے اتنا ڈرایا تمام عمر
دیکھا نہ ہم نے خواب کا چہرہ تمام عمر
نبیوں کا سلسلہ بھی اسے روکنا پڑا 
لپٹی رہی گناہ سے دنیا تمام عمر
بچپن میں اپنے ساتھ رہا، میں جہاں رہا
پھر میں بھی خود کو ڈھونڈ نہ پایا تمام عمر
مجبوریوں کا نام رکھا زندگی نے صبر
پھر اُس کے بعد پھل کی تمنا تمام عمر
اک گھر کا خواب آنکھوں نے دیکھا زمین پر
بنتا رہا خیالوں میں نقشہ تمام عمر

ورنہ تو کتنے لوگ ملاقاتیوں میں تھے
مجھ سے وہی ملا جو نہ بچھڑا تمام عمر







طنز و مزاح






٭
(روحِ غالبؔ سے معذرت کے ساتھ)


نہا کر کولڈ واٹر سے جو کل کالج کو ہم نکلے
یہی تھی آرزو دل کی کہ یا رب جلد دم نکلے
حقیقت دوستوں کی چھ مہینے بعد کھل پائی
سمجھتا تھا جنہیں چاندی وہ سب المونیم نکلے
نشیمن کو جلانے کا نیا انداز تو دیکھو
پکڑ کر بجلیوں کی جب تلاشی لی تو بم نکلے
تیرے ڈیڈی سے مل کر کل رقیبوں نے ہمیں پیٹا
’’بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘‘
ق
پچھتر کا ہوا آغاز تو منّے کی ماں بولیں 
’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘‘

مگر وہ سالِ نسواں ختم ہونے پر لگیں کہنے
’’بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے‘‘
نہیں رک سکتے تیری دید کی خاطر کبھی گھنٹوں 
بجی چھٹی کی گھنٹی بس پکڑ کر گھر کو ہم نکلے 
فضا گڑ بڑ ہوئی جب شہر کی تو گولیاں لے کر
ادھر اہلِ حرم نکلے ادھر اہلِ دھرم نکلے
جو پیروڈی سنی تو روحِ غالبؔ نے کہا مجھ سے
’’خدا کی مار ہو تجھ پر ترا بھی جلد دم نکلے‘‘





٭
نہیں مقام بنا اردو شاعری میں بھی 
رگڑ چکا ہوں بہت ناک ناگری میں بھی
تری تلاش میں آیا ہوں جامعہ کی طرف
رہا ہوں ڈیڑھ مہینے فتح پوری میں بھی
نہیں ہے عشق فقط کالجوں تک محدود
ہیں اس کے چرچے تو ہائر سکینڈری میں بھی
غلط ہے یہ کہ ہے سرداروں کا اثر مجھ پر
مرا ہی عکس ہے سردار جعفری میں بھی
نئے زمانے کا غالبؔ سمجھتا ہوں خود کو
مزا بلا کا ہے احساسِ برتری میں بھی
پتی تو بن نہ سکا لکھ پتی میں کیا بنتا
کئی ہزار گنوا ڈالا لاٹری میں بھی


٭
خود اپنا پرچہ نکالا مدیر ہو بیٹھے
مہینے بھر میں مکمل فقیر ہو بیٹھے
بہانہ اچھا ملا قافیوں سے بچنے کا
سخن طراز ترقی پذیر ہو بیٹھے
کناٹ پلیس پہ دیکھا جو حسن کا منظر
جنابِ شیخ کے ارماں شریر ہو بیٹھے
نئے زمانے کے فیشن کا یوں لگا تھپڑ
کہ خود بخود ہی سبھی رانجھے ہیر ہو بیٹھے
جنابِ شیخ کی شیخی بھی دیکھئے تو ذرا
مرید کر کے حسینوں کے پیر ہو بیٹھے
غموں کے لاد دیئے اس نے کئی سو بنڈل
مجھے ہے ڈر کہ نہ آزرؔ بھی  میرؔ ہو بیٹھے

قطعات/متفرقات

٭
ادائے مغربی تم میں نہیں اے جانِ فریادی
اگر چاہوں تمہارے ناز کو مٹی میں ملوا دوں 
بکھر جائیں تمہارے حسن کے پرزے ابھی فوراً
کلیم الدین احمد سے اگر تنقید لکھوا دوں 
٭
چند سکوں کا مت ملال کرو 
مرتبے کا مرے خیال کرو
پیر ہوں تم مرید ہو میرے
ایک مرغی ہی تو حلال کرو
٭
شیخ جی آپ بھی مسرور ہوا کرتے ہیں 
مئے انگور سے مخمور ہوا کرتے ہیں 
آپ کہتے ہیں کہ پیتا نہیں شراب مگر
روح افزا میں بھی انگور ہوا کرتے ہیں 


٭
اگر دل میں جگہ اس وقت مجھ کو دے نہیں سکتے
تو ویٹنگ لسٹ ہی میں نام میرا درج کر لیجے
٭
دوسروں کے مال و دولت سے ہمیشہ پیار ہے
دل مرے محبوب کا برطانیہ سرکار ہے
٭
میں رحم کھا کہ جو سائل سے بات کرنے لگا
وہ دور ہٹ کے موبائل سے بات کرنے لگا
٭
دھواں اٹھتا ہے تو کچھ بات بھی ہو گی ضرور اے دل
یقیناً مجھ سے چھپ کر تو بہت سگریٹ پیتا ہے
٭
اگر یونیورسٹی والوں کا رشتہ دار ہو جاتا
کم از کم لکچرر شپ کا تو میں حقدار ہو جاتا





بچوں کا مشاعرہ


سردی آئی
سورج نے بھی اوڑھی رضائی
سردی آئی! سردی آئی!
سب لوگوں میں مچی دہائی
سردی آئی! سردی آئی!
کوّا بولا کائیں کائیں 
بلّی بولی میاؤں ، میاؤں 
چوہا بولا دھوپ نہیں ہے
دھوپ آئے تو باہر جاؤں 
سویٹر پہنے ہوئے گلہری
کونے میں چھپ کر بیٹھی ہے

اور بندریا کمبل اوڑھے
صوفے پر کیسی اینٹھی ہے
تھر تھر تھر تھر کانپ رہا ہے
گیدڑ بھی سردی کے مارے
مرغا بولا گرمی کے دن 
ہم کو لگتے سب سے پیارے
جب آئی اسکول میں چڑیا
چپکے سے وہ بھی چلائی
شور مچانے لگے سبھی پھر
سردی آئی! سردی آئی!



ا رے باپ رے گرمی آئی

سورج نے پھر ڈھائی قیامت
سب لوگوں پر آئی آفت
اُلّو تک کو آیا پسینہ
سر پر آیا جون مہینہ
برف پہ لیٹی چوہیا تائی
ارے باپ رے گرمی آئی
سَو سَو بار گلہری رانی
پیتی رہتی فِرج کا پانی
ہفتہ ہو، اتوار کہ منگل
گیدڑ پیتا ٹھنڈی بوتل

بھالو کے گھر فَین نہیں ہے
اس کو بالکل چین نہیں ہے
کچھوے کی اچھی پوزیشن
اس کا گھر ایئر کنڈیشن
دھوپ میں ننھی چھتری لے کر
بندر جی جاتے ہیں دفتر
بھوک نہیں ، ہاں پیاس کا مارا
ہانپتا ہے کتنا بے چارا
چپ سادھے ہیں مینڈک بھائی
ارے باپ رے گرمی آئی!

***
ان پیج سے تبدیلی،  تصحیح کتابت اور ای بک،  اعجاز عبید
مصنف کی اجازت اور تشکر کے ساتھ
