﻿ 


کچھ دینی مضامین





جمع و ترتیب: اعجاز عبید








کرب و بلا کے صحیح واقعات


تحریر ترجمہ و ترتیب : مولانا محمد عطاء اللہ حنیف محدث بھوجیانی رحمہ الل
ہر سال محرم جب بھی آتا ہے غالباً خاص سیاسی مقاصد کے لئے واقعاتِ کربلا کی رونے رُلانے والی بہت سی ایسی کہانیوں سے جلسوں تقریروں اور محافل کا رنگ جمایا جاتا ہے ۔ اوراقِ تاریخ پر جن کا ثبوت سخت مخدوش اور مشکوک ہے کیونکہ جس راوی کے ذریعے ہماری تاریخ میں یہ رواج پا گئی ہیں ۔ وہ ایک داستان گو ابو مخنف لوط بن یحییٰ (متوفی ۱۷۵ھ) تھا جو ایک کٹر قسم کا دروغ گو غالی شیعہ بتایا جاتا ہے جیسا کہ رجالِ حدیث اور بعض تاریخ کی کتابوں میں تفصیلاً موجود ہے۔
(میزان الاعتدال ص:۱۹، ج:۴طبع جدید ، لسان المیزان ، نیز دیکھئے الاصابہ ص:۱۷، ج:۲، والبدایہ والنہایہ ص:۲۰۲، ج:۸ وغیرہ )
اولاً تو اس موسم میں اس حادثے کا تذکرہ کوئی مفید نہیں ۔ ثانیاً اگر ناگزیر ہو تو اتنا ہی کافی ہے جتنا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت ابو جعفر محمد باقر رحمہ اللہ جو حضرت زین العابدین علی بن حسین کے فرزندِ ارجمند اور اثنا عشری شیعہ حضرات کے ایک ’’امام معصوم‘‘ ہیں کی زبانی تہذیب التہذیب آٹھویں صدی ہجری کے محدث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی تالیف میں مذکور ہے۔اگرچہ حضرت باقر رحمہ اللہ خود اس حادثے کے وقت موجود نہ تھے۔ مگر ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنے والد محترم سے سنا ہو گا جو اول سے آخر تک اس میں موجود رہے اور تمام صورتِ حالات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔
بڑی خصوصیت اس روایت کی یہ ہے کہ بہت حد تک جذباتی رنگ آمیزی سے پاک اور مؤرخانہ طرزِ بیان کی حامل ہے پھر یہ کہ ایسے شخص(جو خود اس کا راوی بھی ہے) کے اس سوال کے جواب میں ہے جو اہلِ بیت کی پارٹی کا ہے ۔ آپ مجھ سے واقعہ کربلا کو اس انداز سے بیان فرمائیے گویا کہ میں خود وہاں موجود ہوں ۔
بنا بریں یہ نہیں ہوسکتا کہ حضرت موصوف نے کوئی ضروری بات چھوڑ دی ہو یا عقیدت کیش راوی نے اس میں کتر بیونت کی ہو غالباً یہی بات ہے کہ ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں اس روایت کا انتخاب کیا گیا اور واقعہ یہ ہے کہ اس سے اس حادثہ کے خدوخال نمایاں طور پر واضح ہو جاتے ہیں ۔

روایت حضرت ابو جعفر باقر رحمہ اللہ

روایت کے راوی عمار دہنی نے کہا کہ میں نے محمد بن علی بن الحسین سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے واقعہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ ایسے انداز سے بیان فرمائیں کہ گویا میں خود وہاں موجود تھا اور یہ سامنے ہو رہا ہے اس پر حضرت محمد باقر رحمہ اللہ نے فرمایا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت ولید بن عتبہ بن ابی سفیان (سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھتیجا اور یزید کا چچیرا بھائی ) مدینہ منورہ کا گورنر تھا۔ ولید نے حسب دستور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا تاکہ ان سے نئے امیر یزید کے لئے بیعت لیں ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ سرِدست آپ سوچنے کی مہلت دیں اور اس بارے میں نرمی اختیار کریں ولید نے ان کو مہلت دے دی ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مہلت پا کر مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔
دریں اثنا جب کوفہ والوں کو اس کا پتہ چلا کہ حضرت تو مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے اپنے قاصد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ کوفہ تشریف لے آئیں ہم اب آپ ہی کے ہو گئے ہیں ۔ ہم لوگ یزید کی بیعت سے منحرف ہیں ۔ ہم نے گورنر کوفہ کے پیچھے جمعہ پڑھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت نعمان بن بشیر انصاری صیزید کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے جب اہلِ کوفہ کی طرف سے اس قسم کی درخواستیں آئیں تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل رحمہ اللہ علیہ کو کوفہ بھیجنے کا پروگرام بنایا تاکہ وہ کوفہ جائیں اور وہاں جا کر صورتِ حال کا اچھی طرح جائزہ لیں اگر اہلِ کوفہ کے بیانات صحیح ہوں تو خود بھی کوفہ پہنچ جائیں گے۔

حضرت مسلم رحمہ اللہ کی کوفہ کو روانگی

قرار داد کے مطابق حضرت مسلم رحمہ اللہ مکہ مکرمہ سے پہلے مدینہ منورہ پہنچے وہاں راستہ کی راہنمائی کے لئے دو آدمی ساتھ لیے اور کوفے کی طرف روانہ ہو گئے جس راستے سے وہ لے گئے اس میں ایک ایسا لق و دق میدان آ گیا جس میں پانی نہ ملنے کے سبب پیاس سے دو چار ہو گئے چنانچہ اسی جگہ ایک راہنما انتقال کر گیا۔ اس صورتِ حال کے پیش آنے پر حضرت مسلم رحمہ اللہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھ کر کوفہ جانے سے معذرت چاہی لیکن حضرت ممدوح نے معذرت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور لکھا کہ آپ ضرور کوفہ جائیں ۔ بنابریں حضرت مسلم رحمہ اللہ کوفہ کی طرف چل دیے۔ وہاں پہنچ کر ایک شخص عوسجہ نامی کے گھر قیام فرمایا۔ جب اہل کوفہ میں حضرت مسلم رحمہ اللہ کی تشریف آوری کا چرچا ہوا تو وہ خفیہ طور پر ان کے ہاں پہنچے اور ان کے ہاتھ پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت کرنے لگے چنانچہ بارہ ہزار اشخاص نے بیعت کر لی۔دریں اثناء یزید کے ایک کارندے عبد اللہ بن مسلم بن شعبہ حضرمی کو اس کا پتہ چلا تو اس نے ساری کاروائی کی اطلاع جناب نعمان بن بشیرؓ گورنر کوفہ کودے دی اور ساتھ ہی کہا یا تو آپ واقعۃً کمزور ہیں یا کوفہ والوں نے آپ کو کمزور سمجھ رکھا ہے۔دیکھتے نہیں کہ شہر کی صورت حال مخدوش ہو رہی ہے ؟ اس پر حضرت نعمان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ’’میری ایسی کمزوری جو بربنائے اطاعتِ الٰہی ہو وہ مجھے اس قوت و طاقت سے زیادہ پسند ہے جو اس کی معصیت میں ہو مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ جس امر پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈالے رکھا ہے۔ خواہ مخواہ اس پردے کو فاش کروں اس پر عبد اللہ مذکور نے یہ سارا ماجرا یزید کو لکھ کر بھیج دیا۔ یزید نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام سرحون نامی کے اس بارے میں مشورہ لیا اس نے کہا اگر آپ کے والد زندہ ہوتے اور آپ کو کوئی مشورہ دیتے تو اسے قبول کرتے ، یزید نے کہا ضرور سرحون نے کہا تو پھر مشورہ یہ ہے کہ آپ کوفہ کی گورنری عبید اللہ بن زیاد کے سپرد کر دیں ۔ ادھر صورتحال ایسی تھی کہ ان دنوں یزید عبید اللہ مذکور پر ناراض تھا اور بصرہ کی گورنری سے بھی اس کو معزول کرنا چاہتا تھا مگر سرحون کے مشورے پر اس نے اظہار پسندیدگی کرتے ہوئے بصرہ کے ساتھ کوفے کی گورنری پر بھی عبید اللہ بن زیاد کو نامزد کر دیا اور لکھ دیا کہ کوفہ پہنچ کر مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کو تلاش کرو اگر مل جائے تو اس کو قتل کر دو۔

ابنِ زیاد کوفے میں اور افشائے راز

اس حکم کی بنا پر عبید اللہ بصرہ کے چند سرکردہ لوگوں کے ہمراہ اس حالت میں کوفہ پہنچا کہ اس نے ڈھانٹا باندھ رکھا تھا تاکہ اسے کوئی پہچان نہ سکے وہ اہلِ کوفہ کی جس مجلس سے گزرتا اس پر سلام کہتا اور وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سمجھ کر وعلیک السلام یا ابن رسول اللہ (اے رسول اللہ  ﷺ کے بیٹے آپ پر بھی سلام) سے جواب دیتے اسی طرح سلام کہتا اور جواب لیتا ہوا وہ قصرِ امارت میں پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے ایک غلام کو تین ہزار درہم دئیے اور کہا تم جا کر اس شخص کا پتہ لگاؤ جو کوفے والوں سے بیعت لیتا ہے لیکن دیکھو تم خود کو ’’حمص‘‘ کا باشندہ ظاہر کرنا اور یہ کہنا کہ میں بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں اور یہ رقم بھی پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے مشن کی تکمیل میں اس کو صرف کریں چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور بہ لطائف الحیل اس شخص تک اس کی رسائی ہو گئی جو بیعت لینے کا اہتمام کرتا تھا اور اس نے اپنے آنے کی اور امدادی رقم پیش کرنے کی سب بات کہہ ڈالی۔ اس نے کہا مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ تمہیں ہدایت کا راستہ نصیب ہوا لیکن یہ محسوس کر کے دکھ بھی ہو رہا ہے کہ ہماری سکیم ابھی پختہ نہیں ہوئی تاہم وہ اس غلام کو حضرت مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کے ہاں لے گیا۔ حضرت مسلم رحمہ اللہ نے اس سے بیعت بھی لے لی اور رقم بھی اس سے قبول کر لی۔ اب وہ یہاں سے نکلا اور عبید اللہ بن زیاد کے پاس سیدھا پہنچا اور سب کچھ اس کو بتلا دیا۔ادھر حضرت مسلم رحمہ اللہ عبید اللہ کی کوفہ میں آمد کے بعد عوسجہ کا گھر چھوڑ کر ہانی بن عروہ مرادی کے مکان پر فروکش ہوئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجا کہ بارہ (۱۲) ہزار کی تعداد میں ہماری لوگوں نے بیعت کر لی ہے آپ کوفہ تشریف لے آئیں ۔
اور یہاں یہ ہوا کہ جب عبید اللہ کو پتہ چل گیا کہ مسلم رحمہ اللہ ہانی کے مکان پر ہیں ، تو اس نے کوفے کے سرکردہ لوگوں سے کہا کہ کیا بات ہے ہانی میرے پاس نہیں آئے ؟ اس پر حاضرین سے ایک شخص محمد بن اشعث چند ہمراہیوں کے ساتھ ہانی کے ہاں گئے تو وہ اپنے دروازے پر موجود تھے۔ اشعث نے کہا کہ گورنر صاحب آپ کو یاد فرماتے ہیں اور آپ کے اب تک نہ حاضر ہونے کو بہت محسوس کرتے ہیں لہذا آپ کو چلنا چاہیے چنانچہ ان کے زور دینے پر ہانی ان کے ساتھ ہولیے اور وہ عبید اللہ کے پاس پہنچے اور اتفاق سے اس وقت قاضی شریح بھی ابن زیادہ کے پاس موجود تھے۔ ان سے مخاطب ہو کر اس نے کہا دیکھو ہانی کی چال کھوٹ کی مظہر ہے پھر اتنے میں وہ اس کے پاس آ گیا تو کہا ہانی مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کہاں ہیں ؟ اس نے کہا مجھے علم نہیں اس پر عبید اللہ نے تین ہزار روپے والے غلام کو اس کے سامنے کر دیا۔ ہانی بالکل لاجواب ہو گئے البتہ اتنا کہا میں نے انہیں اپنے گھر بلایا نہیں وہ خودبخود میرے گھر آ کر ٹھہر گئے ہیں ۔ ابن زیاد نے کہا اچھا ان کو حاضر کرو۔ اس پر پس و  پیش کیا تو ابن زیاد نے اپنے قریب بلوا کر اس کے زور سے چھڑی ماری جس سے ان کی بھویں پھٹ گئیں اس پر ہانی نے اس کے ایک محافظ سپاہی سے تلوار چھین کر عبید اللہ پر وار کرنا چاہا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اس پر ابن زیاد نے یہ کہہ کر اب تمہارا خون حلال ہے۔ قصرِ امارت کے ایک حصے میں اس کوقید میں ڈال دیا۔
اس واقعے کی اطلاع ہانی کے قبیلے مذحج کو ہوئی تو انہوں نے قصرِ امارت پر یلغار بول دی ۔ عبید اللہ نے شور سنا اور پوچھا تو کہا گیا ہانی کا قبیلہ ان کو چھڑانے کے لئے چڑھ آیا ہے اس نے قاضی شریح کے ذریعے ان کو کہلایا کہ ہانی کو مسلم بن عقیل کا پتہ کرنے اور بعض باتوں کی تحقیق کے لیے روک لیا گیا ہے۔ خطرے کی کوئی بات نہیں لیکن ساتھ ہی قاضی شریح پر بھی ایک غلام کو لگا دیا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ لوگوں سے کیا کہتے ہیں قاضی شریح لوگوں کی طرف جاتے ہوئے ہانی کے پاس سے گزرے تو اس نے قاضی صاحب سے کہا کہ میرے بارے میں اللہ سے ڈرنا ابن زیاد میرے قتل کے درپے ہے تاہم قاضی شریح نے ہجوم کو ابن زیاد والی بات کہہ کر مطمئن کر دیا اور لوگ بھی یہ سمجھ کر مطمئن ہو گئے کہ ہانی کو کوئی خطرہ نہیں ۔
حضرت مسلم رحمہ اللہ کو جب ہنگامے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اپنے ذرائع ابلاغ سے کوفہ میں اعلان کرا دیا۔ جس کے نتیجہ میں چالیس ہزار لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے جس کو انہوں نے باقاعدہ ایک فوجی دستہ کی شکل دے دی جس کا مقدمۃ الجیش میمنہ اور میسرہ وغیرہ سبھی کچھ تھا۔ خود حضرت مسلم رحمہ اللہ اس کے قلب میں ہو گئے اس طرح چالیس ہزار کا یہ لشکرِ جرار قصرِ امارت کی طرف روانہ ہو گیا۔ عبید اللہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے اعیانِ کوفہ کو اپنے قصر میں بلایا جب یہ لشکر قصر امارت تک پہنچ گیا تو سردارانِ کوفہ نے اپنے اپنے قبیلے کو دیواروں کے اوپر سے گفتگو کر کے سمجھانا شروع کیا اب تو مسلم رحمہ اللہ کی فوج کے آدمی کھسکنے شروع ہوئے اور ہوتے ہوتے شام تک صرف پانچ سو رہ گئے حتی کہ رات کے اندھیرے تک وہ بھی اوجھل ہو گئے۔ جب مسلم رحمہ اللہ نے دیکھا کہ وہ تنہا رہ گئے ہیں تو وہ بھی وہاں سے چل پڑے راستہ میں ایک مکان کے دروازہ پر پہنچے تو ایک خاتون اندر سے آپ کی طرف نکلی تو آپ نے اس کو پانی پلانے کے لئے کہا تو اس نے پانی تو پلا دیا لیکن اندر واپس چلی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر باہر آئی تو آپ کو دروازے پر دیکھ کر اس نے کہا اے اللہ کے بندے! آپ کا اس طرح بیٹھنا مشکوک ہے یہاں سے چلے جائیں ۔ آپ نے کہا : میں مسلم بن عقیل ہوں کیا تم مجھے پناہ دو گی؟ اس نے کہا ہاں آ جائیے آپ اندر چلے گئے۔ لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس عورت کا لڑکا محمد بن اشعث کا آزاد کردہ غلام تھا جب اس کو پتہ چلا کہ یہ مسلم بن عقیل ہیں تو اس نے محمد بن اشعث مذکور کو اطلاع دے دی جس نے فوراً عبید اللہ تک خبر پہنچائی جس نے اس کے ہمراہ پولیس روانہ کر دی اور ان کو مسلم رحمہ اللہ کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ پولیس نے جا کر مکان کا محاصرہ کر لیا جبکہ مسلم کو خبر تک نہ ہوسکی تھی۔ اب خود کو انہوں نے محصور پایا تو تلوار سونت کر نکل آئے اور پولیس سے مقابلہ کی ٹھان لی۔ لیکن ابن اشعث نے ان کو روک کر کہا کہ میں ذمہ دار ہوں آپ محفوظ رہیں گے۔ پس وہ مسلم کو ابن زیاد کے پاس پکڑ کر لے گئے۔ چنانچہ ابن زیاد کے حکم سے قصرِ امارت کی چھت پر لے جا کر مسلم رحمہ اللہ کو قتل کر دیا گیا۔ (إنا للہ وإنا  إلیہ راجعون)
اور ان کی لاش بازار میں لوگوں کے سامنے پھینک دی گئی نیز اس کے حکم سے ہانی کو کوڑے کرکٹ کی جگہ تک گھسیٹتے ہوئے لے جا کر سولی دے دی گئی ادھر تو کوفہ میں یہ تک ہو گیا تھا اور۔۔۔۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کوفہ

۔۔۔۔ادھر مسلم رحمہ اللہ چونکہ خط لکھ چکے تھے کہ بارہ ہزار اہل کوفہ نے بیعت کر لی ہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جلد از جلد تشریف لے آئیں ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے تاآنکہ آپ قادسیہ سے صرف تین میل کے فاصلے پر تھے کہ حُر بن یزید تمیمی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کو ملا اس نے کہا کہاں تشریف لے جا رہے ہو آپ نے فرمایا کوفہ اس نے کہا  وہاں توکسی خیر کی توقع نہیں ۔ آپ کو یہاں سے ہی واپس ہو جانا چاہیے پھر کوفیوں کی بے وفائی اور حضرت مسلم کے قتل کی پوری رُو داد آپ کو سنائی۔
سارا قصہ سن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تو واپسی کا ارادہ کر لیا لیکن مسلم رحمہ اللہ کے بھائیوں نے یہ کہہ کر واپس جانے سے انکار کر دیا کہ ہم مسلم رحمہ اللہ کا بدلہ لیں گے یا خود بھی مارے جائیں گے اس پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارے بغیر میں جی کر کیا کروں گا۔ اب وہ سب کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے جب آپ کو ابنِ زیاد کی فوج کا ہراول دستہ نظر آیا تو آپ نے ’’کربلا‘‘ کا رخ کر لیا اور وہاں جا کر ایسی جگہ پڑاؤ ڈالا جہاں ایک ہی طرف سے جنگ کی جا سکتی تھی چنانچہ خیمے نصب کر لیے۔ اس وقت آپ کے ساتھ پنتالیس سوار اور سو کے قریب پیدل تھے۔
دریں اثنا عبید اللہ نے عمر بن سعد کو جو کوفے کا گورنر تھا بلایا اور اس سے کہا اس شخص حسین رضی اللہ عنہ کے معاملے میں میری مدد کریں اس نے کہا مجھے تو معاف ہی رکھیے ۔ ابن زیاد نہ مانا۔ اس پر عمربن سعد نے کہا پھر ایک شب سوچنے کی مہلت تو دے دیجئے۔اس نے کہا ٹھیک ہے ، سوچ لو۔ ابن سعد نے رات بھر سوچنے کے بعد صبح کو آمادگی کی اطلاع دے دی۔
اب عمر بن سعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے اس کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ دیکھو تین باتوں میں سے ایک بات منظور کر لو یا تو مجھے کسی اسلامی سرحد پر چلے جانے دو یا مجھے موقع دو کہ میں براہِ راست یزید کے پاس پہنچ جاؤں اور یا پھر یہ کہ جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں ۔
ابنِ سعد نے یہ تجویز خود منظور کر کے ابن زیاد کو بھیج دی۔ اس نے لکھا ہمیں یہ منظور نہیں ۔ بس ایک ہی بات ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ (یزید کے لئے) میری بیعت کریں ۔ ابن سعد نے یہی بات سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچا دی انہوں نے فرمایا ایسا نہیں ہوسکتا، اس پر آپس میں لڑائی چھڑ گئی اور حضرت کے سب ساتھی (مظلومانہ) شہید ہو گئے جن میں دس سے کچھ اوپر نوجوان ان کے گھر کے تھے۔ اسی اثنا میں ایک تیر آیا جو حضرت کے چھوٹے بچے پر لگا جو گود میں تھا آپ رضی اللہ عنہ اس سے خون پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ اے اللہ ہمارے اور ایسے لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما جنہوں نے پہلے یہ لکھ کر ہمیں بلایا کہ ہم آپ کی مدد کریں گے پھر اب ہمیں قتل کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد خود تلوار ہاتھ میں لی مردانہ وار مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔رضی اللہ عنہ اور یہ شخص جس کے ہاتھ سے حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے قبیلہ مذحج کا آدمی تھا اگرچہ اس بارے میں دوسرے اقوال بھی متعلقہ تاریخوں میں مذکور ہیں ۔
مذحج ہانی کا وہی قبیلہ تھا جس نے قصرِ امارت پر چڑھائی کر دی یہ شخص حضرت کا سرتن سے جدا کر کے ابنِ زیاد کے پاس لے گیا اس نے اس شخص کو آپ کا سرمبارک دے کر یزید کے پاس بھیج دیا جہاں جا کر یزید کے سامنے رکھ دیا گیا ادھر ابن سعد بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو لیکر ابن زیاد کے پاس پہنچ گیا اور ان کا صرف ایک لڑکا بچارہ گیا تھا اور وہ بچہ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ تھے اور روایت کے راوی ابو جعفر الباقر کے والد تھے یہ عورتوں کے ساتھ اور بیمار تھے ابن زیاد نے حکم دیا اس بچے کو بھی قتل کر دیا جائے اس پر ان کی پھوپھی زینب بنت علی اس کے اوپر گر پڑیں اور فرمایا کہ جب تک میں قتل نہ ہو جاؤں گی اس بچے کو قتل نہ ہونے دوں گی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ابن زیاد نے اپنا یہ حکم واپس لے لیا اور بعدہ اسیرانِ جنگ کو یزید کے پاس بھیج دیا۔
جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بچے کھچے یہ افرادِ خانہ یزید کے دربار میں پہنچے تو چند درباریوں نے حسبِ دستور یزید کو تہنیتِ فتح پیش کی۔ ان میں سے ایک شخص نے یہاں تک جسارت کر ڈالی کہ ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہا امیر المؤمنین ! یہ مجھے دے دیجئے۔ یہ سن کر حضرت زینب بنت علی نے کہا بخدا ! یہ نہیں ہوسکتا۔ بجز اس صورت کے کہ یزید دینِ الٰہی سے نکل جائے پھر اس شخص نے دوبارہ کہا تو یزید نے اسے ڈانٹ دیا۔ اس کے بعد یزید نے ان سب کو محل سرا میں بھیج دیا پھر ان کو تیار کرا کے مدینہ روانہ کروا دیا۔ جب یہ لوگ مدینے پہنچے تو خاندان عبد المطلب کی ایک عورت سر پیٹتی اور روتی ان سے ملنے آئی اور اس کی زبان پر یہ اشعار تھے۔
ماذا تقولون ان قال النبی  ﷺ لکم
ماذا فعلتم وأنتم آخر الأمم
بعترتی وبأہلی بعد مفتقدی
منہم أُساریٰ وقتلی ضرجوا بدم
ماکان ہذا جزائی إذا نصحت لکم
ان تخلفونی بشر فی ذوی رحمی
جناب ابو جعفر باقر رحمہ اللہ کا بیان ختم ہو گیا ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ الاصابہ ص/۱۷،ج/۲۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں اس روایت کے بعد لکھتے ہیں ۔
وقد صنّف جماعۃ من القدماء فی مقتل الحسین تصانیف فیہا الغث والسمین والصحیح والسقیم وفی ہذہ القصۃ التی سقتہا غنی
یعنی چند تاریخ نویسوں نے مقتل حسین رضی اللہ عنہ کے بار ے میں مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں رطب ویابس، غلط صحیح سب کچھ بھر دیا گیا ہے لیکن جس قدریہ قصہ میں نے ذکر کیا ہے یہی کافی ہے۔
٭٭٭




اتباعِ سنت کی اہمیت اور جشن میلاد


تحریر شیخ عبد الرحمن السدیس
.
مسجد الحرام مین تاریخی خطبة جمعہ

پہلا خطبہ

حمد و صلوٰۃ کے بعد !
مسلمان بھائیو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو کہ اُس نے تم ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو تم پر اُس کی آیات تلاوت کرتا، تمہیں پاک صاف کرتا اور تمہیں کتاب و حکمت اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو عملی جامہ پہناؤ کہ نبی مکرم رسولِ معظم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی اتباع بجا لاؤ، ان کے بتائے ہوئے طریقے پر چلو، ان کی لائی ہوئی شریعت پر گامزن رہو اور خواہشات و نفسیات کے مارے ہوئے لوگوں نے جو بدعات و منکرات ایجاد کر  رکھی ہیں ، ان سے کنارہ کشی اختیار کرو۔
برادرانِ اسلام ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و تابعداری اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو مضبوطی سے تھام لینے کے بارے میں احکامات کثرت سے قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں ، یہ سب کے سب صریح اور واضح نصوص ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور بلا چوں و چراں سرآفندگی و سپردگی پہ دلالت کرتی ہیں اور کسی طرح بھی ان سے سرموانحراف کی گنجائش نہیں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُونَ } (الانفال :۲۰)
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سن رہے ہو۔‘‘
نیز فرمایا:
{وَأَطِیعُوا اللَّہَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ } (آل عمران :۱۳۲)
’’اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
نیز فرمایا:
{وَمَا اٰ تَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہٗ فَانْتَھُوْا} (الحشر :۷)
’’اور تمہیں جو کچھ رسول دے ،لے لو اور جس سے روکے رُک جاؤ‘‘
نیز ارشاد فرمایا:
{قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ } (آل عمران:۳۱)
’’کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بد ظنی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ عقیدت میں گستاخی کی ناعاقبت اندیشی سے ڈراتے ہیں ، خواہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں سرزد ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کے دائرۂ سنت میں اس طرح کہ آپ کی سنت کو پس پشت ڈال کر کسی اور طریقہ کو اوّلیت و فوقیت دی جائے یا کسی سنتِ مطہرہ کی مخالفت کی جائے یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات کے مقابلہ میں عناد و تعصب برتا جائے، دین میں بدعات کا دروازہ کھولا جائے اور اس کے فروغ کی کاوشیں کی جائیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ   o   یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُکُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ}
’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے، اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ اس سے اونچی آواز میں بات کرو، جیسے ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اِکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘(الحجرات :۱،۲)
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کے بُرے انجام سے آگاہ کر دیا ہے۔ فرمایا:
{ وَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِہِ أنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ أوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ } (النور :۶۳)
’’سنو! جو لوگ حکم رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں کوئی دُکھ کی مار نہ پڑے۔ ‘‘
اسی طرح رسول معظم صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و اتباع کی خلاف ورزی خواہ زندگی میں ایک بار ہی کیوں نہ ہو، کو کھلی گمراہی اور دین میں انحراف کے مترادف قرار دیا ہے جو بلا شبہ نعمتِ ایمان کے فقدان اور اس کے زوال کا موجب ہے۔ فرمایا:
{وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ أَمْرِہِمْ وَمَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِینًا} (الاحزاب:۳۶)
’’اور کسی مسلمان مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے بعد کسی امر کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے، وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔‘‘
نیز فرمایا:
{فَلَا وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حتیّٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ أَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} ( النساء :۶۵)
’’سو قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیں ہوسکتے جب تک آپس کے تمام اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں ۔ پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں ، اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ۔‘‘
نیز فرمایا:
{فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہٗ إِلَی ﷲِ وَالرَّسُوْلِ إنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الٰاخِرِ} (النساء :۵۹)
’’اگرکسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔‘‘
احادیثِ  مبارکہ کے بیش بہا ذخیرے بھی ان دلائل و احکامات سے بھرے پڑے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث کا ٹکڑا ملاحظہ فرمائیے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فمن رغب عن سنتی فلیس منی (صحیح بخاری:۱۸۲۸)
’’جس نے میری سنت سے اعراض و پہلو تہی برتی، وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘
نیز سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
إنہ من یعش منکم فسیرٰی اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیھا بالنواجد وإیاکم و محدثات الأمور فان کل بدعۃ ضلالۃ (سنن ابوداؤد :۴۶۰۷ وجامع ترمذی:۲۶۷۶)
’’تم میں جو شخص زندہ رہا تو وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنے دانتوں سے اس پر اپنی گرفت مضبوط کر لو اور دین میں نت نئی باتیں ایجاد کرنے سے بچو کیونکہ ہر بدعت (من گھڑت کام) گمراہی ہے۔‘‘
برادرانِ اسلام! کتاب و سنت کے ان مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کو سنتِ نبوی سے وابستہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور دین میں نئی نئی باتیں ، جن کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں ، کو اختیار و ایجاد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم برابر اپنے خطبوں میں سنت پر گامزن رہنے اور بدعات سے پرہیز کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:
أما بعد فإن خیر الحدیث کتاب ﷲ وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ و سلم  وشر الأمور محدثا تھا وکل بدعۃ ضلالۃ (صحیح مسلم:۸۶۷)
’’سب سے بہتر بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ اور سب سے بدترین کام نئی نئی چیزوں کی اختراع ہے اور ہر نئی بات گمراہی ہے۔‘‘
نیز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھورد (صحیح بخاری:۲۶۹۷ )
’’جس نے ہمارے اس دین میں نئی بات پیدا کی جس کا اس سے تعلق نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘
اس سلسلہ میں سلف صالحین کے ایسے نقوشِ پا موجود ہیں جو قرونِ اولیٰ کے بہترین طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے ہر زبان و مکان میں بہترین کردار اور اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ انہی سے اپنے دوشِ زندگی اور اپنے کردار و خیالات کی راہ متعین کریں ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’اتباع و تابعداری کرتے رہو اور نئی نئی باتیں مت گڑھو، یہی تمہارے لئے کافی ہے۔‘‘
نیز آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ’’سنتِ رسول پہ اکتفا کر لینا کہیں بہتر ہے اس سے کہ بدعات کی ترویج کے لئے آدمی کوشاں ہو۔‘‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
’’لوگوں پہ کوئی سال ایسا نہ گزرے گا جس میں وہ کوئی بدعت ایجاد نہ کریں گے اور کسی سنت کو مردہ کر چکے ہوں گے۔ یہاں تک کہ بدعتیں زندہ و پائندہ ہوتی رہیں گی اور سنتیں مردہ ہوتی چلی جائیں گی۔‘‘ (المعجم الکبیراز امام طبرانی :۱۰؍۳۱۹)
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ہر نئی بات گمراہی ہے خواہ لوگ اسے حسنات میں شمار کیوں نہ کریں ۔‘‘
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کرام رضی اللہ عنہم نے سنت پہ ثابت قدم رہ کر بتلا دیا کہ اس کی پابندی درحقیقت قرآنِ مجید کی تصدیق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دینِ متین کو تقویت پہنچانا ہے۔ جو اس پر عمل پیرا ہو، وہ راہ یاب ہے، جس نے اس سے مدد چاہی وہ فائز المرام ہے اور جو اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا، اس نے مؤمنین، صالحین و کاملین سے بغاوت کی راہ اختیار کی، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو منہ کی کھلائے گا اور جہنم رسید کرے گا۔‘‘
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’اس امت کے متاخرین کی اصلاح و کامیابی صرف اس طریقہ پر ہو گی جس پر چل کر قرونِ اولیٰ کے مسلمان کامیاب و راہ یاب ہوئے۔‘‘ (الاعتصام از امام شاطبی:۱؍۴۹)
بعض بزرگوں سے یہ قول منقول ہے کہ ’’اللہ کی مخلوق کے لئے تمام راستے بند ہیں ، صرف ایک ہی راستہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نقشِ قدم کی پیروی کی جائے۔‘‘



دوسرا خطبہ

میرے دینی بھائیو! جب دین و مذہب پر غربت و اجنبیت طاری ہے، جب اس کے اعوان و انصار کی قلت ہو گئی، جب دشمنانِ دین کی تعداد فزوں تر ہو گئی، جب اہل ایمان و یقین تہی دامن و تہی دست ہو گئے اور دین سے بیزار ہو کر گریز کی راہ اپنالی، جب داعیانِ سوء اور اربابِ بدعات و خرافات کی کثرت ہو گئی تو حالات میں ایک تغیر رونما ہو گیا۔ معروف نے منکر کا روپ دھار لیا اور سنت کو بدعت اور بدعت کو سنت کا نام دے دیا گیا۔ پھر تو بدعات لوگوں میں رواج پذیر ہو گئیں ، ان کے دل و دماغ اور ان کے قلوب و اذہان میں سرایت کر گئیں ، جیسے جسم میں خون کی آمیزش ہو جاتی ہے۔
برادرانِ اسلام! آج دین میں نئی نئی باتوں کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، جن سے لوگوں کے خیالات و افکار متاثر ہو رہے ہیں ، اور یہ خیالات دل و دماغ میں راسخ و پیوست ہوتے جا رہے ہیں ۔ جن پر بلا شبہ معروف وحسنات کا لبادہ ڈال دیا گیا ہے۔ یہ وہ اعمال ہیں جنہیں وہ ربیع الاوّل کے مہینے میں انجام دیتے ہیں ، جلسے جلوس اور محفلیں منعقد کرتے ہیں ، جن کے جواز کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں کوئی دلیل نہیں ۔ ان جلسے، جلوسوں اور محفلوں کو وہ ’میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے تعبیر کرتے ہیں ۔ بعض نے تو حد کر دی کہ وہ اس مہینہ میں خاص طور پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا بالقصد رختِ سفر باندھتے ہیں کہ وہ جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تقرب حاصل کریں ۔ یہ حضرات بڑے زعم و فریب میں مبتلا ہیں جب کہ ان کے پاس افعال و اعمال کے لئے کوئی سند و دلیل نہیں ۔یہ وہ تخصیص ہے جس کے لئے وہ کوئی ثبوت و شہادت نہیں پیش کرسکتے:
{قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ إنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ} (البقرۃ:۱۱۱)
’’آپ ان سے کہئے: کہ اگر اس دعویٰ میں سچے ہو تو کوئی دلیل پیش کرو۔‘‘
ربیع الاول کے اس مہینہ یا اس کے بعض دنوں کو مجالس و محافل کے لئے خصوصیت سے اپنا لینا مندرجہ ذیل امور کی بنا پر شرعاً صحیح نہیں ہے:
اوّلاً:یہ دین میں ایک نئی ایجاد ہے، اس لئے کہ یہ نہ تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل ہے، نہ ہی خلفائے راشدین، دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تبع تابعین اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں سے کسی نے ایسا کیا۔ حالانکہ یہ حضرات سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سب سے زیادہ پابند و شناسا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت میں سب سے زیادہ سرشار اور آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت کے سب سے زیادہ تابعدار و فرمانبردار تھے۔ لہٰذا ہم بعد کے مسلمانوں کے لئے بھی اتنی ہی کی گنجائش ہے جس قدر گنجائش اُنہوں نے روا رکھی، اگر یہ طرزِ عمل خیر کا باعث ہوتا تو وہ یقیناً اس میں ہم سے پہل کر چکے ہوتے۔
ثانیاً: مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ  شریفہ کی روشنی میں یہ بات ظاہرو باہر ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت واجب، آپ کی سنت کی پیروی ضروری اور ابتداع فی الدین سے پرہیز و اجتناب لازم ہے۔
ثالثاً : اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین کی تکمیل فرما دی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے من و عن اللہ کا پیغام واضح انداز میں لوگوں تک پہنچا دیا۔ اب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے دین میں اختراع گویا اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معاذ اللہ دین کی تکمیل نہیں فرمائی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پیغامِ الٰہی کی تبلیغ میں کوتاہی برتی تاآنکہ چھٹی صدی ہجری میں متاخرین اور ان کے بعد کچھ دوسرے لوگ پیدا ہوئے اور اُنہوں نے شریعتِ الٰہی میں اپنی طرف سے کچھ نئی چیزیں شامل کر لیں ۔ حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی ثبوت، اور نہ ہی احکامِ الٰہی کو ان کی بدعات سے کوئی واسطہ، بالائے ستم یہ کہ وہ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ یہ محافل تقرب الیٰ اللہ کا ذریعہ ہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ کی شان میں بے باکانہ اعتراض کی یہ جرات لاحاصل اور تبلیغ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کی ان تھک کوششوں کے آگے مجنونانہ گستاخی نہیں ؟
رابعاً: اس طرح کی محفلوں اور اجتماعات کا انعقاد جادۂ حق سے بغاوت کی علامت اور یہود و نصاریٰ کے اعیاد و مراسم کی نقل ہے، حالانکہ ہمیں اہل کتاب سے مشابہت اور ان کے طریقوں کی نقل کرنےسے روکا گیا ہے۔
خامساً : شریعت کے اُصول و قواعد اور دین کے اغراض و مقاصد اور مزاج و طبیعت ان بدعات و خرافات کا قلع و قمع کرتے ہیں ۔ پھر جملہ اسلامی عبادات محض توقیفی ہیں ، یعنی وہ اللہ کی طرف سے رہنمائی و ہدایت پر ہی موقوف ہیں ، اب کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ شریعت سازی کرنے کی جرات کرنے لگے۔ شریعت اور حق وہی ہے جو اللہ ربّ العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ہمیں ملا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
{أَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْ بِہِ اللَّہُ } (الشوریٰ:۲۱)
’’کیا ان لوگوں کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین میں شریعت مقرر کی ہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔‘‘
نیز شریعت کا یہ ثابت شدہ و مسلمہ قاعدہ ہے کہ باہم متنازع فیہ اُمور میں قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہم نے اس بابت جب دونوں مآخذ کی طرف رجوع کیا تو یہی معلوم ہوا کہ اس طرح کے اعمال سے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
نیز سدّ ذرائع اور ازالۂ ضرر کا مسلمہ قاعدہ بھی اپنی جگہ اٹل ہے، اور ضرر فی الدین سے بڑھ کر اور کیا ضرر ہوسکتا ہے؟
یہ معاملہ یہیں پر آ کر نہیں رُک جاتا بلکہ ان محفلوں میں منکرات تک کا ارتکاب ہوتا ہے اور شرک باللہ سے بڑھ کر اور کوئی منکر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دعائیں مانگی جاتیں اور ان سے حاجت روائی کی جاتی ہے۔ مشکل کشائی کی دہائی دی جاتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ عقیدت میں ایسے نعتیہ مدحیہ قصائد پیش کئے جاتے ہیں جن کے ڈانڈے شرک و غلو سے جا ملتے ہیں ۔ ان میں اختلاط کی گرم بازاری بھی ہوتی ہے، مال و دولت کا بے جا اسراف ہوتا ہے، ایک ہنگامہ شور و غوغا برپا ہوتا ہے اور جھوٹے راگ الاپے جاتے ہیں ۔باوجود یہ کہ ربیع الاوّل کے جس مہینے میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہوئے، بعینہٖ اسی مہینے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات بھی ہوئی تو پھر حزن و ملال کو بالائے طاق رکھ کر مسرت و شادمانیوں کے نغمے الاپنا کہاں سے افضل و اولیٰ قرار پا گئے؟
الغرض ربیع الاوّل کی بعض راتوں کو ان محفلوں اور مجالس کے لئے مخصوص کرنا، کوتاہ اندیشی اور مؤرخین کے مختلف فیہ اقوال کے ہوتے ہوئے ہویٰ پرستی کے مترادف ہے۔
اب جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جشن میلاد النبی منانے کے لئے کسی ایک دن کا تعین کیا تو وہ ذمہ دار ہے کہ دلیل پیش کرے حالانکہ دلیل نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں ۔ دوسری طرف علمائے اسلام جو اتباعِ سنتِ رسول میں مشہور و معروف ہیں ، ان کی تالیفات کا بیش بہا خزانہ اور ان کے اقوال کا گراں مایہ سرمایہ موجود ہے جو ان محفلوں کے رد میں دلیل قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’کسی بھی ایسے تہوار کو اپنانا جو شریعت کے مقرر کردہ اعیاد و مراسم کے علاوہ ہے، جیسے ربیع الاوّل کی بعض راتوں کو اس غرض کے لئے مخصوص کر لینا کہ یہی میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رات ہے تو یہ بدعت ہے، جسے سلف صالحین نے پسند نہیں فرمایا، نہ ہی عملاً کبھی برتا۔ ‘‘
نیز فرماتے ہیں :
’’میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جشن و خوشی کے طور پر منانے کا رواج سلف صالحین میں مقتضائے حال اور عدمِ مانع کے باوجود نہیں رہا۔ اگر یہ خیر محض ہوتا یا راجح مسئلہ ہی ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس دعوت پر لبیک کہتے، کیونکہ وہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہم سے کہیں زیادہ پیش پیش اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعظیم و احترام کے ہم سے کہیں زیادہ دل دادہ اور خیرو بھلائی کے کاموں میں ہم سے کہیں زیادہ خواہش مند تھے۔‘‘
آگے چل کر فرماتے ہیں :
’’رہا مسئلہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محافل، اس کی نشستوں اور کارروائیوں میں شرکت، اور رقص وسرود، گانے بجانے کی مجلسوں میں شمولیت اور عبادات کی طرح دلچسپی سے ان کو اختیار کرنے کا تو ان کے منکرات ہونے میں صاحبِ علم و ایمان کو قطعاً شک و شبہ نہ ہو گا۔ یہ تو وہ منکرات و بدعات ہیں جن سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اب کوئی جاہل مطلق اور زندیق و فاسق ہی اُنہیں خیر کی نگاہ سے دیکھے گا۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ:۱۰؍۳۷۰،۳۷۱)
برادرانِ اسلام! تین قسم کے لوگ ہیں جو اس طرح کے گمراہ کن اعمال میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں :
(۱) جاہل و ناداں اور تقلید کے متوالے جو زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو ایسا کرتے دیکھا ہے لہٰذا ہم بھی ان کے نقشِ پا کے راہی ہیں ۔ ان کی مثال اس فرمانِ الٰہی کے موجب ہے
{إنَّا وَجَدْنَا اٰبٰاءَ نَا عَلٰی اُمَّۃٍ فَاِنَّا عَلیٰ اٰ ثـَارِھِمْ مُھْتَدُوْنَ} (الزخرف:۲۲)
’’ہم نے اپنے آباء کو اسی طریقہ پر پایا لہٰذا ہم ان ہی کے نقوش کے پیروکار ہیں ۔‘‘
(۲) زر خرید، گھروں کے خادم، اور فساق و فجار جو ان قسم کے جشنوں کے پس پردہ اکل و شرب، لہو ولعب اور اختلاط و اجتماع کے ذریعے اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں ۔
(۳) ضلالت و گمراہی کے پرستاران مبلغین اور کینہ پرور دشمنانِ اسلام جو دین کے خلاف دسیسہ کاریوں میں مشغول ہیں اور لو گوں کو جادۂ سنت سے ہٹا کر بدعات و خرافات کی راہ پر لگا دینا چاہتے ہیں ۔ بدعت کے ان بہی خواہوں کے ذہنوں میں شیطان نے کچھ شبہات پیدا کر دیے ہیں ۔ اس نے بدعات کو آراستہ و پیراستہ کر کے انکے سامنے پیش کیا، اب وہ اِتراتے پھرتے ہیں کہ اس لبادہ کو عوام پر ڈال دیں ۔ حالانکہ یہ شبہات مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ نازک و کمزور ہیں کیونکہ یہ سراسر قرآن و حدیث کی نصوصِ صریحہ کے خلاف ہیں ۔
ان کی کم عقلی و خام خیالی کا ایک بین ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ جشن محبت ’ عقیدتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اظہار کا ذریعہ ہیں ۔ میلاد النبی کی یاد مسرتوں کی سوغات ہے اور جو اس سے گریزاں ہے وہ محبتِ رسول کا پاسدار نہیں ، حالانکہ یہ دیوانگی اور بے بنیاد دلیل ہے۔ اس طرح کے دعویدار ظن و تخمین کے پرستار اور نفس کے غلام ہیں ، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ہماری محبت کا معیار آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت کی اتباع اور آپ کی سنت کی پابندی میں ہے، نہ کہ گمراہ کن محفلوں کے سجانے اور روشنیوں کی دنیا بسا کر نئے تماشے دکھانے میں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ } (آلِ عمران :۳۱)
’’آپ کہئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘
ان کا ایک باطل خیال یہ بھی ہے کہ یہ مجالس و محافل بدعتِ حسنہ ہیں اور ہر بدعت کو گمراہی سے تعبیر کرنا غلط ہے۔لیکن قرآن و سنت میں ایسی دلیل کہاں ہے جس سے اسلام میں بدعتِ حسنہ کی تقسیم نکلتی ہو؟ ان کی خام خیالی یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں : لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے آئے ہیں اور ایسی محفلوں کو بغیر کسی اعتراض و نکیر کے بجا لاتے آئے ہیں ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہم لوگوں کے اعمال و کردار کی پرستش نہیں کرتے، ہم تو صرف قرآن و سنت سے ثابت شدہ حقیقت کو اٹل سمجھ کر مانتے ہیں ۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ شیطان نے منکرات کو ان کے سامنے مزین کر کے پیش کیا، اب وہ اُلجھ گئے ہیں اور اس میں بے جا دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ایسی محفلوں میں شرکت کے لئے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں ، عصبیت کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں ، ان کی طرف سے مدافعت کرتے ہیں اور ان کے خلاف آواز اُٹھانے والوں پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں ۔ حالانکہ ان میں بیشتر ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے نہ جانے کتنے شرعی فرائض و واجبات کو پس پشت ڈال رکھا ہوا ہے، بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے پامال کیا ہے۔ اس راہ میں ان کی زبان نہیں کھلتی، ان کا سر نہیں اُٹھتا، بلا شبہ ان کا یہ رویہ دین میں بصیرت و فراست کی کمی اور واضح جہالت کا نتیجہ ہے۔
بعض لوگ اس خیال و فریب کے شکار ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی اس محفل بدعات و خرافات میں جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صلوٰۃ و سلام کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خوش آمدید کہتے ہیں حالانکہ یہ باطل و جہالت آمیز خیال ہے۔
مسلمانانِ گرامی! ان روشن دلائل و کھلے حقائق اور ان واضح تردیدات کی روشنی میں بدعات کی بے حقیقت پسندیاں کھل کر سامنے آ گئیں ۔ ان کی قلعی کھل گئی، ان کے دعووں کی بنیادیں زمین بوس ہو گئیں ، ان کی غلطیاں فاش ہو گئیں ۔ محبتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور حق پرستی کا جھوٹا دعویٰ ظاہر ہو گیا۔ اب ہم مسلمانوں اور خصوصاً بدعات میں ملوث ان لوگوں کو بڑے درد و کسک کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ وہ عذابِ آخرت کا خیال کریں ، جب وہ بارگاہِ ربّ العالمین کے حضور تہی داماں کھڑے ہوں گے۔
ہم اُنہیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ بدعات و خرافات کی جڑیں اُکھاڑ پھینکیں کہ یہ اللہ تعالیٰ سے دوری پیدا کرنے والی چیزیں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے اعراض وگریز کا انداز سکھاتی ہیں ۔
ہم ان سے کہتے ہیں کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل پیرا ہو جائیں اور ان محافل و مظاہر سے اجتناب کریں کہ ان سے اسلام کے رُخِ زیبا کی شکل بگڑ رہی ہے، اس کے جمالِ جہاں آرا کو نظر لگ رہی ہے، اس کے حسن و جلال و کمال، اس کی قوت و شوکت اور اس کی ہمہ گیر اسپرٹ پر آنچ آ رہی ہے۔ اگر یہ اب بھی اس دعوت و پکار پر لبیک نہیں کہتے تو یہ سمجھ لیجئے کہ یہ خواہشاتِ نفس کے بندے اور ہوس کے مارے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
{ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوَاہُ بِغَیْرِ ہُدًى مِنَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ }(القصص:۵۰)
’’اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو، بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
فرزندانِ اسلام! کب تک ان باطل پرستوں اور اندھیروں میں بھٹکتے پھرو گے؟ کب تک ان خرافات کے جال میں پھنسے رہو گے؟ عقیدۂ توحید پہ تمہاری غیرتوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے عملی وابستگی کی تمہاری خواہش و تڑپ ختم ہو گئی ہے؟ انا ﷲ وانا الیہ راجعون
صحیح فرمایا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے
 بدأ الإسلام غریبا وسیعود کما بدأ غریبا فطوبی للغرباء
’’اسلام اجنبیت کی حالت میں اُبھرا، پھر وہ اجنبیت کی راہ پر واپس آ جائے گا تو مبارک ہیں اجنبی لوگ۔‘‘   (صحیح مسلم:۲۳۲)
اے مولائے کریم! ہم مسلمانوں کے احوال کی درستگی فرما، ہمیں معاصی اور دین میں بدعات پیدا کرنے سے دور رکھ اور ہمیں سنت سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔
٭٭٭





میلاد النبیﷺ پر ابو لہب کا لونڈی آزاد کرنا (حقیقت کیا ہے؟)


عبد الوکیل ناصر 

میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عید کا سامان کرنے والے اور جلوس نکالنے والے کہتے ہیں کہ ابولہب جیسے لوگوں نے میلاد النبی ﷺ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لونڈی آزاد کی تھی اور اس کی وجہ سے اس کے عذاب میں ہر پیر کو کمی کی جاتی ہے اور اسے پیاس بجھانے کے لئے پانی بھی دیا جاتا ہے اور یہ بات صحیح بخاری شریف میں بیان ہوئی ہے ۔
جبکہ حقیقت حال اس سے مختلف ہے، جس کی تفصیل بیان کر دینا مقصود ہے تاکہ ’’لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحی من حی عن بینۃ‘‘ کا مصداق ہو جائے۔ مگر تفصیل سے قبل اس روایت کو بیان کر دینا ضروری ہے جس سے استدلال کرتے ہوئے ’’عید میلاد النبی ﷺ ‘‘ پر جلوس و جشن کا اہتمام ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت آشکار کرنا ضروری ہے کہ بخاری میں آنے والی یہ روایت کس انداز سے روایت کی گئی ہے۔ کیا یہ وہی ’’صحیح‘‘ ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا؟
روایت یہ ہے (طوالت سے بچنے کے لئے صرف ترجمہ پیش خدمت ہے)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنھا بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن ابو سفیان کی لڑکی سے نکاح کر لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اسے پسند کرو گی(کہ تمہاری بہن ہی تمہاری سوکن بنے؟) (وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا کہ ہاں میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پھر پسند نہ کرتی، اگر میرے ساتھ میری بہن بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی(غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا:وہ میرے لیئے حلال نہیں ہے۔‘‘ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ! لوگ کہتے ہیں آپ ابو سلمہ کی بیٹی جو ام سلمہ کے بطن سے ہے ، نکاح کرنے والے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی( یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) تب بھی میرے لئے حلال نہ ہوتی، وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابو سلمہ کو (یعنی اس لڑکی کے باپ کو) ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو ایسا مت کرو اپنی اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لئے نہ کہو۔
عروہ رحمہ اللہ(راوی) نے کہا کہ ثوبیہ ابو لہب کی لونڈی تھی، ابو لہب نے اسے آزاد کر دیا تھا پھر اس نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا تھا، جب ابو لہب مرگیا تو اس کے کسی عزیز نے اس کو خواب میں دیکھا( برے حال میں ) تو پوچھا کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی پلایا گیا تھا بمقدار اس کے (یعنی اس نے اشارہ کیا اس گڑھے کی طرف جو انگلی اور انگوٹھے کے درمیان ہوتا ہے) اور یہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے تھا۔ (صحیح بخاری ، کتاب النکاح)
یہ حدیث کہیں مختصر اور کہیں مطولاً کتاب النکاح کے علاوہ بھی وارد ہوئی ہے ، رقم احادیث اس طرح ہے ۔ 5106،5107،5133 اور 5372۔
اب پچھلے دعاویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حدیث پر غور کریں !
٭ کیا اس میں یہ ہے کہ ابو لہب نے لونڈی (ثوبیہ) کو میلاد النبی ﷺ کے دن آزاد کیا تھا اور اس کی وجہ میلاد النبی کی خوشی تھی؟
٭ کیا اس میں یہ ہے کہ اس نے پیر کے دن لونڈی (ثوبیہ) کو آزاد کیا تھا؟
٭ کیا اس میں یہ ہے کہ جو پانی اسے پلایا گیا تھا اس سے اس کے عذاب میں تخفیف (کمی) آئی تھی؟
٭ کیا اس میں یہ ہے کہ ہر سوموار (پیر) کو پانی پلایا جاتا ہے؟
یقیناً اس میں سے کسی سوال کا جواب بھی ’’ہاں ‘‘ میں نہیں ہوسکتا۔ تو پھر ہمیں ماننا ہو گا کہ اقارب اور اجانب کی زبان زد عام دعوے بلا دلیل ہیں ۔صحیح بخاری شریف میں ان کے دعووں کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
اجانب کو تو جانے دیں حیرت تو ان ’’اقارب‘‘ پر ہے جو بلا دلیل بات نہ کرنے نہ سننے اور نہ ہی ماننے کے دعوے دار ہیں ۔ وہ بھی ابو لہب اور اس کی لونڈی کے بارے میں ایسا ہی کچھ بیان کرتے ہیں ۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون
’’تم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے‘‘
احباب علم و دانش کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ذمہ دار اسٹیجوں سے آج غیر ذمہ دارانہ بیانات بڑھتے جا رہے ہیں ؟
اب آئیے اس روایت کی حقیقت کی طرف، مگر اس سے قبل یہ سمجھ لیجئے کہ ائمہ محدثین و دیگر اہل علم و فضل نے صحیح بخاری شریف کی مرفوع متصل روایتوں کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے ، نہ کہ معلقات ومرسلات اور منقطع روایات کو ’کما لا یخفی علی اھل العلم والمعرقۃ‘
یہ روایت مرسل ہے جیسا کہ اس کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے ۔ قال عروۃ … کے الفاظ پر غور کیجئے۔
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے : ’’مرسل أرسلہ عروۃ ولم یذکر من حدثہ بہ‘‘ (فتح الباری)
یعنی یہ خبر مرسل ہے عروہ رحمہ اللہ نے اسے مرسل بیان کیا ہے اور یہ بیان نہیں کیا کہ ان سے کس نے اس(خبر) کو بیان کیا ہے۔
٭ شیخ ابو بکر الجزائری حفظہ اللہ لکھتے ہیں : یہ خبر مرسل ہے اور مرسل سے نہ احتجاج کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی عقیدہ و عبادت ثابت ہوتی ہے۔ (الانصاف فیما قیل فی المولد من الغلو والاجحاف)
٭ ڈاکٹر طاہر القادری بھی لکھتے ہیں : یہ روایت اگرچہ مرسل ہے لیکن مقبول ہے۔ (میلاد النبی ص/۲۹۳)
یاد رہے ’’فقہ حنفی‘‘ میں رد و قبول کے پیمانے بھی جناب کی طرح ’’شوخ‘ ‘ ہوسکتے ہیں وہاں آیات کو اپنے اصحاب کے نظرئیے میں دیکھ کر منسوخ قرار دے دیا جاتا ہے۔ (اصول کرخی ۔دیکھیے)
تنبیہ: یہ جو مرسل کی بات ہو رہی ہے تو اس سے مراد صرف وہ ٹکڑا ہے جو ’’قال عروہ‘‘ سے شروع ہو کر آخر تک چلا جاتا ہے، پوری روایت نہیں کہ وہ تو متصل ہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ خبر متصل بھی ہوتی تو دلیل نہی بن سکتی تھی کیونکہ یہ ایک خواب کا معاملہ ہے۔ یہ بات بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھ رکھی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں ’’ائمہ نے تصریح کی ہے کہ خواب کے ذریعہ شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے۔‘‘
چند سطورکے بعد لکھتے ہیں :’’اگر سویا ہوا آدمی خواب میں دیکھے کہ نبی علیہ السلام اسے کسی چیز کا حکم دے رہے ہیں تو کیا اس کی تعمیل ہے یا یہ ضروری ہے کہ اسے ظاہری شرع پر پیش کیا جائے؟ فرماتے ہیں ، دوسری بات قابل اعتماد ہے۔ (فتح الباری)
غور کیجئے کہ حالت خواب میں دیا جانے والا حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود ظاہر شرع پر پیش کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ خواب کا حجت شرعیہ نہ ہونا خود مکتب بریلی کے ہاں بھی مسلمہ ہے ۔ (دیکھئے میلاد النبی ﷺ از سعید احمد کاظمی)
آج بہت سے اہل بدعت نے اپنے معتقدات کی دلیل خوابوں کو ہی بنا رکھا ہے ۔ ایسے ہی لوگوں کی خدمت میں ایک خواب عرض کیا جاتا ہے۔ جو سنداً تو صحیح ثابت ہے ۔دیکھتے ہیں یہ خواب ان کے ہاں کیا حیثیت رکھتا ہے۔
مشہور ثقہ امام قاضی ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول بن حسان بن سنان التنوخی البغدادی رحمہ اللہ(متوفی 318ھ) نے کہا کہ: میں عراقیوں کے مذہب پر تھا تو میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا، آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ پہلی تکبیر میں اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔ (سنن دار قطنی حدیث 1112)
حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :وسندہ صحیح ، اس کی سند صحیح ہے)
(مؤطا امام مالک بروایۃ ابن القاسم تحت حدیث 121 صفحہ:209)
اب ظاہر ہے کہ حنفی کہلوانے والے حضرات اس سچے اور نیک آدمی کے خواب کو کبھی بھی صحیح باور نہیں کریں گے تو معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کسی امتی کا خواب حجت نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لینے کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس ’’مرسل خبر ‘‘ میں ظاہری الفاظ سے یہ معنی لیا جا سکتا ہے کہ ابو لہب کا لونڈی آزاد کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے کے عمل سے قبل تھا مگر یہ بات اہل سیر کی بیان کردہ حقیقت کے منافی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابو لہب کے لونڈی آزاد کرنے میں اور نبی علیہ السلام کے دودھ پلانے کی مدت میں ایک طویل عرصہ حائل ہے۔ (یہ بات بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھی ہے )
اس بات کی وضاحت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’الإصابۃ‘‘ میں اس طرح کی ہے :
’’ابن سعد کہتے ہیں کہ ہمیں واقدی نے ایک سے زیادہ اہل علم سے یہ خبر نقل کی ہے کہ وہ کہتے تھے۔ ثوبیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضعہ تھیں اور آپ ﷺ مکے میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ صلہ رحمی فرمایا کرتے تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی ثوبیہ کا اکرام کیا کرتی تھیں تا حال کہ وہ (ابھی) ابو لہب کی ملکیت ہی میں تھیں ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابو لہب سے کہا کہ اسے(یعنی ثوبیہ کو) مجھے بیچ دو تو ابو لہب نے اس بات سے انکار کر دیا۔ جب نبی کریم ﷺ نے (مدینہ) ہجرت فرمائی (اس وقت) ابو لہب نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا… (الإصابۃ جزء ۴)
طبقات ابن سعد کا مطالعہ کرنے سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بیان کی تائید ہوتی ہے۔
حافظ ابن عبد البر اور امام ابن جوزی رحمہما اللہ کے کلام سے اس قول( یعنی اہل سیر کے قول) کی تائید ہوتی ہے۔
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’الاستیعاب فی أسماء الأصحاب‘‘ میں لکھا ہے:
’’ثوبیہ نے رسول کریم ﷺ ،حمزہ بن عبدالمطلب اور ابو سلمہ بن عبد الاسد کو دودھ پلایا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ ثوبیہ کا اکرام فرماتے۔ ثوبیہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس آیا جایا کرتی تھیں جبکہ نبی علیہ السلام سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما چکے تھے۔سیدہ خدیجہ بھی ان کا اکرام و احترام ملحوظ خاطر رکھتیں ۔ جب نبی مکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو (اس وقت ) ابو لہب نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا… (ملخصاً الاستیعاب)
امام المحب الطبری نے ’’ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربیٰ‘‘ میں اس کلام کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے ’’الوفا فی احوال المصطفی‘‘ میں لکھا ہے : سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کو ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا (چند دن) پھر حلیمہ سعدیہ تشریف لائیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ثوبیہ نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا کرتی تھیں آپ ﷺ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ثوبیہ کا اکرام فرماتے اور وہ (ثوبیہ) اس وقت(بھی) ابو لہب کی لونڈی ہی تھیں ، پھر (اس کے بعد) ابو لہب نے انہیں آزاد کر دیا۔
ان تمام دلائل و براہین سے بالکل واضح ہے کہ ابولہب کا لونڈی کو میلاد النبی ﷺ کے دن (خوشی میں ) آزاد کرنا ثابت ہی نہیں بلکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد ہجرت مدینہ سے بھی بعد میں کسی وقت ابولہب نے بغیر کسی خوشی اور غمی کے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔
اس کے برعکس اگر کسی نے اس (ثوبیہ) کی آزادی کو ولادت نبی مکرم ﷺ کے دن کے ساتھ خاص مانا ہے اسے شدید مغالطہ لگا ہے، یا پھر انہوں نے دیدہ دانستہ ’’حقیقت‘‘ کو ’’پردہ‘‘ میں چھپا دیا ہے۔ واللہ أعلم بالصواب
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ازدواجی زندگی کا آغاز آپ ﷺ کی عمر کے پچیس سال مکمل ہونے کے بعد ہوا۔ اور اس وقت تک ثوبیہ ابو لہب کی ملکیت میں تھیں ، آزاد نہ تھیں ۔ کما مر آنفاً
چوتھی بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ اس ’’مرسل خبر‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کو اس کا عمل صالح (مرنے کے بعد) نفع دیتا ہے۔ (یعنی کبھی کبھی) ۔ مگر یہ بات تو نصوص قرآنیہ کے بالکل خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے {وقدمنا إلی ما عملو من عمل فجعلناہ ھباء منثوراً} (فرقان:۲۳)
’’ اور جو عمل ان(کافروں نے) کئے ہوں گے، ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو ان کو اڑتی ہوئی خاک بنا دیں گے۔‘‘
اور ابو لہب کے مال کا اس کو نفع نہ دینا تو قرآن سے ہی ثابت ہے۔ {تبت یدا أبی لھب وتب ، ما أغنی عنہ مالہ وما کسب} (اللہب:۱۔۲)
’’ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و برباد ہو جائے نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ ہی اس کا عمل۔‘‘
قرآن مجید نے صراحت کر دی ہے کہ ابو لہب کو اس کے مال و عمل نے کوئی نفع نہیں پہنچایا لہذا اس صراحت کو’’مرسل خبر عورہ‘‘ سے ہر گز ہر گز رد نہیں کیا جا سکتا۔ اور تمام اہل علم جانتے ہیں کہ ’’لونڈی‘‘ بھی مال کی ایک شکل ہے اگر خوشی میں آزاد بھی کی ہوتی تو اسے مرنے کے بعد نفع نہ دیتی اور آزاد کرنا(اس موقع خاص پر) تو ثابت بھی نہیں ہے۔ جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
قرآن کے ظاہر سے ٹکرا کر صحیح روایات کو رد کر دینے والے کس طرح مرسل خبر کو حجت قرار دیتے ہیں ۔
پانچویں بات یہ ہے کہ ابو لہب کا لونڈی آزاد کرنا اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کا یہ عمل ایک طبعی خوشی کے نتیجے میں تھا کہ آپﷺ اس کے بھتیجے تھے نہ کہ اس نے آپﷺ کی نبوت ورسالت کو تسلیم کرتے ہوئے اس خوشی کا اظہار کیا تھا۔ فقط ذات رسول ﷺ سے محبت کا دعویٰ اور بات رسول ﷺ سے انکار و عداوت ہی ابو لہب کی تباہی کا سبب بنی تھی۔ اور آج جو لوگ اس خبر مرسل کو دلیل و جواز بنا کر فقط ایک مخصوص دن عید و جشن کا اظہار کرتے ہیں کیا وہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی فقط ذات رسول ﷺ سے محبت کے دعوے دار ہیں ؟
ویسے ان کا عمل بھی اسی کی عکاسی و غمازی کرتا ہے، کیونکہ بات رسول ﷺ میں تو اس طرح کے جشن وجلوس اور خود ساختہ ’’تیسری عید‘‘ پر کوئی دلیل نہیں ملتی؟
اور اس جلوس و جشن کا ’’عید شرعی ‘‘ نہ ہونا تو خود طاہر القادری صاحب ’’شوخ الاسلام‘‘ کو بھی تسلیم ہے۔ (دیکھئے : میلاد النبیﷺ از طاہر القادری )
’’طاہر القادری صاحب‘‘ کا اسے ’’عید فرحت‘‘ قرار دینا بھی ’’خود ساختہ‘‘ شریعت سازی ہے کیونکہ اسلام میں جو دو عیدیں بتائی گئی ہیں ، وہ ’’عید نفرت و عداوت‘‘ یا ’’عید رنج و الم‘‘ نہیں ہیں بلکہ جہاں وہ عبادت کا درجہ رکھتی ہیں وہاں وہ فرحت وسرور کا باعث بھی ہیں ۔
چھٹی بات یہ ہے کہ جہاں تک ابو لہب کے عذاب میں تخفیف و کمی آ جانے کا معاملہ ہے ۔تو یہ بات کہیں ہے ہی نہیں ، حتی کہ ’’ اس خبر مرسل ‘‘ میں بھی نہیں جسے لوگ دلیل کا درجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اس ’’روایت کے الفاظ‘‘ یہ ہیں کہ ’’غیرانی سقیت…‘‘ ’’مجھے (فقط) پانی پلایا گیا ہے۔‘‘
نہ ہر سوموار کا ذکر ہے اور نہ ہی اس پانی کی بدولت عذاب میں کمی کا کوئی ذکر ؟
یہ تخفیف ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ ابو لہب تو سیصلی ناراً ذات لھب کے بمصداق نار جہنم میں ہے اور وہاں تو پانی بھی ایسا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ {وأن یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل یشوی الوجوہ ، بئس الشراب }(الکہف۲۹)
اور اگر وہ (جہنم میں ) فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی داد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہو گا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا بہت برا یہ (پینے کا) پانی ہو گا۔
اور مزید فرمایا گیا ’’تسقیٰ من عین آنیۃ‘‘ (الغاشیۃ)
’’ ایک کھولتے ہوئے چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا۔ ‘‘
{وسقوا مائً حمیماً} (محمد)
’’ اور وہ کھولتا ہوا پانی پلائے جائیں گے۔‘‘
اس سے واضح ہوا کہ ’’خبر مرسل‘‘ سے لفظ ’’پانی‘‘ کو لے کر عذاب کی تخفیف کا دعویٰ نصوص قرآنی سے متصادم ہے لہذا سراسر باطل ہے۔ اور پھر مرسل میں تو ’’تخفیف‘‘ کا بیان ہی نہیں ۔ 
’’جہنم‘‘ میں ’’جنت‘‘ کا پانی نہیں ملے گا جو کہ پیاس بجھانے والا اور سیراب کرنے والا ہو گا۔
’’اور دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا  جو رزق اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو)۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے۔ (سورۃ الأعراف۵۰)
قارئین کرام !یہ اس واقعہ کی حقیقت تھی جو بفضل اللہ تعالیٰ بیان کر دی ہے کسی بھی ’’واعظ‘‘ و خطیب سے مذکورہ واقعہ کوسنیں اور اس تفصیل کے برعکس ہو تو ضرور بالضرور اسے اس کی حقیقت سے آگاہ کریں ۔ جزاکم اللہ خیراً
تفصیل کے لئے دیکھئے : (رسائل فی حکم الاحتفال بالمولد النبوی ۔ جزء الثانی طبع رئاسۃ ادارۃ البحوث العلمیۃ والإفتاء الریاض ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ)
٭٭٭




جھوٹ کی اقسام اور اس کی قباحت


محمد الطاف خیروا

جھوٹ ایک ایسی عادت رزیلہ ہے جو کہ خود بولنے والے کے لئے آخر کار شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ معاشرہ انسانوں سے تشکیل پاتا ہے اور انسان اپنے اعمال اور عادات و اخلاق سے جانے جاتے ہیں اعمال و اخلاق عقیدے کی بناء پر وجود میں آتے ہیں ،عقیدہ شریعت دیتی ہے جو جتنا شریعت کے قریب ہو گا اس کے اعمال و اخلاق اتنے ہی بلند ہوں گے۔ اور جو اس سے جتنا دور ہو گا اس کے عادات و اخلاق اتنے ہی رزیل اور تکلیف دہ ہوں گے۔ ان تکلیف دہ اعمال میں ایک عمل جھوٹ ہے جو کہ خود بولنے والے کے لئے آخر کار شرمندگی کا باعث ہوتا ہے اور جس پر بولا جائے اس کے لئے وقتی پریشانی کا سبب تو ضرور بنتا ہے مگر آخری فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ کسی بھی معاشرہ کی ترقی اور سکون کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو ایک دوسرے پر اعتماد ہو، وہ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہوں اور انہیں ایک دوسرے کی باتوں پر یقین ہو یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے کہ جب وہاں جھوٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو۔
جھوٹ ایک ایسی لعنت ہے کہ جو بھی اسے اختیار کر لے وہ ملعون اور لعنتی ہو گا ۔ ارشاد خداوندی ہے{لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ}
’’جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘
جھوٹ کا زمانہ جاہلیت میں معیوب سمجھا جانا:
جھوٹ کی برائی اور قباحت کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اسے معیوب سمجھتے تھے۔ ان میں سے کوئی معزز شخص اپنی طرف جھوٹ کی نسبت گوارا نہ کرتا تھا۔ یہ حقیقت اس قصہ میں نمایاں ہے کہ جس کو امام بخاری اور مسلم رحمہما اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتلایا، کہ جب نبی کریم ﷺ کا مکتوب گرامی موصول ہونے پر شاہ روم نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو اپنے ہاں طلب کیا، اور اپنے ترجمان کی وساطت سے ان سے دریافت کیا کہ ’’نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کے ساتھ نسب سے قریبی رشتہ داری کس کی ہے؟ یہاں اس بات کا جاننا بہت ضروری ہے کہ جب ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو شاہ روم نے طلب کیا تب ابو سفیان اور ان کے ساتھی مسلمان نہ تھے۔ ابو سفیان بیان کرتے ہیں :’’میں نے کہا :میں رشتہ داری میں اس کا سب سے قریبی ہوں ‘‘ اس (شاہ روم) نے کہا : ’’ادنوہ منی وقربوا أصحابہ فاجعلوھم عند ظہرہ‘‘
’’اس کو میرے قریب کرو، اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کرو، اور انہیں اس کے پس پشت بٹھا دو ‘‘
پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا ’’ ان سے کہو: انی سائل عن ہذا الرجل فان کذبنی فکذبوہ‘‘
’’میں اس شخص سے سوال کرنے لگا ہوں ، اگر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا ، تو تم اس کی تکذیب کر دینا‘‘۔
ابو سفیان بیان کرتے ہیں : فواللہ ! لولا الحیاء من أن یأثروا علی کذبا لکذبت علیہ‘‘
اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کی حیا نہ ہوتی ، کہ مجھ سے جھوٹ نقل کیا جائے گا ، تو میں ضرور اس (نبی کریم ﷺ ) کے خلاف جھوٹ بولتا۔تو ان (نبی کریمﷺ ) کے خلاف شدید بغض و عداوت رکھنے کے باوجود ابو سفیان آپ ﷺ کے متعلق کوئی جھوٹی بات نہ کہہ سکے۔ ایسا کرنے میں رکاوٹ صرف یہ تھی کہ انہیں یہ گوارا نہ تھا، کہ لوگ ان کے بارے میں کہیں کہ ابو سفیان نے معزز سردار ہونے کے باوجود جھوٹ بولا۔ یہ واقعہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی نگاہوں میں بھی جھوٹ کی خرابی اور قباحت کو سمجھنے کے لئے بہت کافی ہے۔
علامہ عینیؒ نے تحریر کیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر مجھے اس بات کی حیا نہ ہوتی کہ میرے ساتھی وطن پلٹنے پر میرے متعلق بتلائیں گے کہ میں نے جھوٹ بولا اور مجھے اس بناء پر نشانہ طعن بننا پڑے گا۔ تو میں جھوٹ بول دیتا۔ کیونکہ جھوٹ تو قبیح ہی ہے ، خواہ وہ دشمن کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

جھوٹ کا ایمان کے منافی ہونا

جھوٹ کی خرابی کو آشکارا کرنے والی ایک بات یہ ہے کہ وہ ایمان کے منافی ہے۔ اس حقیقت پر دلالت کناں نصوص اور اقوال میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :
۱۔ ارشاد رب العالمین ہے {اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاُولٰیِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ}(النحل:۱۰۵)
’’جھوت تو وہ ہی باندھتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں ۔‘‘
علامہ قاسمی ؒاس آیت کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں :
’’ جھوٹ تو انہی کو زیبا ہے، جو ایمان نہیں لاتے، کیونکہ انہیں سزاکاڈر نہیں ہوتا، جو انہیں جھوٹ سے روک سکے۔‘‘
لیکن جو لوگ آیات پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں بیان کردہ عذاب سے ڈرتے ہیں ، ان سے جھوٹ نہیں بولا جا سکتا۔
شیخ ابو بکر الجزائری نے آیت کریمہ سے حاصل شدہ ہدایت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’’سچائی کے ثواب، اور جھوٹ کی سزا پر ایمان کے سبب اہل ایمان جھوٹ نہیں بولتے، لیکن کافر تو جھوٹ ہی بولتے ہیں کیونکہ اس سے روکنے کے لیے ، ان کے ہاں نہ تو ثواب کی امید ہوتی ہے اور نہ ہی سزا کا خوف۔
جھوٹ کی خرابی کو آشکارا کرنے کے لیے یہ آیت کریمہ بہت کافی ہے۔
۲۔ ائمہ حضرات امام وکیع ،سیدنا احمد اور ابن ابی الدنیاؓ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’یا أیھا الناس ! ایاکم والکذب فان الکذب مجانب للایمان‘‘
’’اے لوگو! جھوٹ سے بچ جاؤ، کیونکہ بلاشبہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے۔‘‘
۳۔ حضرات ائمہ امام ابن ابی شیبہ، امام ہناد، امام ابن ابی الدنیا اور امام طبرانی نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: علی کل یطوی المؤمن الا الخیانۃ والکذب فلا تجد المؤمن خائناً ولا کاذبا‘‘
’’خیانت اور جھوٹ کے سوا مومن کی تخلیق ہر خصلت پر کی جاتی ہے تم کسی مومن کو خائن یا جھوٹا نہ دیکھو گے۔‘‘
۴۔ امام عبد الرزاقؒ نے امام شعبیؒ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ’’ کل خلق یطوی علیہ المؤمن الا الخیانۃ والکذب‘‘
’مومن کی جبلت میں خیانت اور جھوٹ کے سوا ہر خصلت ہوتی ہے۔‘‘
خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے اللہ کریم ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے جھوٹ سے محفوظ رکھیں ۔ آمین یا حی یا قیوم

جھوٹ اور شرک کا باہمی تعلق

جھوٹ کی قباحت پر دلالت کرنے والی باتوں میں ایک یہ ہے کہ بعض آیات اور احادیث میں جھوٹ اور شرک دونوں سے ایک ہی مقام پر منع کیا گیا ہے، یا دونوں کی برائی کو ایک ہی جگہ واضح کیا گیا ہے۔ ایسی تین نصوص ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔
۱۔ اللہ عزوجل نے فرمایا {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَولَ الزُّوْرِ}
’’بتوں کی گندگی سے بچو اور قول زور سے بچو۔‘‘
زور سے مراد: جیسا کہ علامہ قرطبی نے بیان کیا ہے باطل اور جھوٹ ہے اور اس کو (زور) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حق سے ہٹا ہوتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں علامہ شنقیطی ؒ رقم طراز ہیں :
’’ اس آیت کریمہ میں (اللہ تعالیٰ نے) (قول زور) سے اجتناب کا حکم دیا ہے، اور وہ جھوٹ اور باطل ہے۔‘‘
اس آیت کریمہ میں یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کی پرستش کی ممانعت کے ساتھ ہی جھوٹ سے منع فرمایا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے: ’’یہاں (من) جنس کے بیان کے لیے ہے ، یعنی نجاست سے اجتناب کرو اور وہ (نجاست) بت ہیں ۔
سیدنا ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جھوٹی گواہی ’’اشراک باللہ‘‘ کے برابر ہوئی پھر انہوں نے اس آیت کو (بطور دلیل)پڑھا۔
۲۔امام بخاری اور امام مسلم ;نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : ’ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟‘‘ ’’کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ؟‘‘
قلنا : بلی یا رسول اللہ ! ہم نے عرض کی کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ!
قال : الاشراک باللہ وعقوق الوالدین وکان متکئا فجلس فقال: ألا وقول الزور وشہادۃ الزور، ألا وقول الزور وشہادۃ الزور فما زال یقولہا : حتی قلت : لا یسکت‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی ، اس وقت آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ ﷺسیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا : خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ۔
آپﷺ اس کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں ) کہا ’’آپ ﷺ خاموش نہ ہوں گے۔‘‘
امام مسلم ؒکی روایت میں ہے : کنا عند النبی ﷺ فقال : ألا أنبئکم بأکبر الکبائر ثلاثاً
ہم نبی ﷺ کے پاس تھے اور آپ (تین مرتبہ) نے فرمایا : کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ۔
اس حدیث شریف میں جھوٹ سمیت مذکورہ گناہوں کی سنگینی کو اجاگر کرنے والی متعدد باتیں ہیں۔
ان میں سے چار درج ذیل ہیں :

۱۔ آپ ﷺ کا اپنے فرمان ’’کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ‘‘ کو تین مرتبہ دہرانا۔ علامہ عینی نے تحریر کیا ہے : آپ ﷺ نے سامع کو اچھی طرح تنبیہ کرنے کی غرض سے اس کو تین مرتبہ دہرایا تاکہ وہ بتلائی جانے والی بات کے لیے اپنے قلب و فہم کو حاضر کر لے۔

۲۔ آپ ﷺ ’’خبردار… اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ‘‘ فرماتے وقت ٹیک چھوڑ کر سیدھے تشریف فرما ہو گئے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے : اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کا اس قدر اہتمام کیا کہ اس کو بیان کرتے وقت ٹیک چھوڑ کر بیٹھ گے۔ اور یہ (طرز عمل) اس (گناہ) کی شدید حرمت اور برائی کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔

۳۔ آپ ﷺ کا (جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی) کا ذکر فرماتے وقت ، لفظ(خبردار) استعمال فرمانا۔
علامہ عینی ؒ کے بیان کے مطابق یہ لفظ کہی گئی بات کی طرف توجہ کرنے اور اس کو کما حقہ سمجھنے کی تنبیہ اور تاکید کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

۴۔آپ ﷺ کا (خبردار اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی (کے الفاظ) کو اتنی مرتبہ دہرانا کہ راوی اپنے دل میں کہنے لگا(آپ ﷺ خاموش نہ ہوں گے)اس قدر تکرار کے پس منظر میں آپ ﷺ کا مقصود یہ تھا کہ جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی کی سنگینی سامعین کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے۔
۳۔ امام مسلم اور امام ترمذی نے سیدنا انس ؓ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا کبائر کے بارے میں ارشاد نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :
’’الاشراک باللہ وعقوق الوالدین وقتل النفس وقول الزور۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی، قتل نفس اور جھوٹی بات۔‘‘
اس حدیث شریف میں بھی آپ ﷺ نے جھوٹی بات کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے، والدین کی نافرمانی کرنے اور قتل نفس کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔

جھوٹ کا منافقوں کی خصلتوں میں سے ہونا

جھوٹ کی شدید خرابی اور قباحت پر دلالت کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ منافقوں کی خصلتوں میں سے ایک خصلت ہے اور ان کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ امام بخاری اور امام مسلمؒ نے سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت نقل کی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ‘‘
(رواہ البخاری فی کتاب الایمان ، ومسلم أیضا فی کتاب الایمان )
منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب ( اس کے ہاں ) امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
امام مسلم ؒ کی روایت میں ہے :
وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ أَنَّہُ مُسْلِمٌ
’’اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے۔‘‘
ملا علی قاری نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے : ’’اذا حدّث کذب ‘‘ وہ (یعنی جھوٹ بولنا) تینوں میں سے بدترین (خصلت ) ہے۔
علامہ غزالی نے ان تین علامات کے ذکر کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے صرف انہی تین علامتوں کے ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ یہ دیگر(بری خصلتوں ) کی نشان دہی کرتی ہیں کیونکہ دین کی اساس تین چیزوں پر ہے : قول ،عمل اور نیت۔
آپﷺ نے جھوٹ کے ذریعے قول کی خرابی، خیانت کے ذریعے عمل کی خرابی اور وعدہ کی خلاف ورزی کے ذریعے نیت کی خرابی کی نشاندہی فرمائی ہے۔
اسی بات کی ایک اور حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ طیبی ؒ رقم طراز ہیں :
’’آپ ﷺ نے صرف ان تینوں خصلتوں کا خصوصی طور پر ذکر اس لیے فرمایا ہے، کہ جس اختلاف پر نفاق کی بنیاد ہے ، یہ تینوں اس کو سموئے ہوئے ہیں : (اور وہ ہے )ظاہر وباطن کا اختلاف ، تو جھوٹ حقیقت کے خلاف خبر دینا ہے ، امانت کا حق یہ ہے کہ حق والوں کو ادا کی جائے ، لیکن خیانت اس کی الٹ ہے اور وعدہ خلافی کا معاملہ تو واضح ہے ۔
امام نووی ؒ نے حدیث شریف کے معنی بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے : اس کا صحیح معنی یہ ہے کہ یہ خصلتیں منافقوں کی خصلتیں ہیں اور ان کا حامل ان خصلتوں کے اعتبار سے منافقین کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اور ان کے اخلاق کے ساتھ متصف ہے۔
کیونکہ نفاق باطن کے برعکس (ظاہر کرنا)ہے اور ان خصلتوں کے حامل شخص میں یہ معنی موجود ہے۔ علاوہ ازیں بعض علمائے امت نے بیان کیا ہے کہ نفاق کی اساس اور بنیاد جھوٹ ہے۔ سیدنا حسن ؒ فرماتے ہیں : کہا جاتا تھا:’’ ظاہر و باطن ، قول و عمل اور داخلی اور خارجی صورت حال کا باہمی اختلاف نفاق سے ہے ، اور وہ اساس جس پر نفاق کی عمارت قائم ہے ،وہ جھوٹ ہے۔‘‘

جھوٹ کا باعث قلق و اضطراب ہونا

جھوٹ کی خرابی اور قباحت کو اجاگر کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والا قلق اور اضطراب میں مبتلا رہتا ہے۔ حضرات ائمہ ابوداؤد الطیالسی ، احمد ، ترمذی ابو یعلی اور القضاعی sنے ابو الحوراء ؒ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسن بن علی ؓ سے پوچھا: ’’ما حفظت من رسول اللہ ﷺ ‘‘
’’ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کونسی باتیں سیکھیں ۔‘‘
انہوں نے فرمایا : حفظتُ منہ : الصدق طمانینۃ ، والکذب ریبۃ ‘‘
’’ میں نے آپ ﷺ سے (یہ بات) حاصل کی ’’سچ( دل کے لیے باعث) اطمینان اور جھوٹ (دل کے لیے سبب) قلق ہے۔‘‘
اس حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے جھوٹ کو (ریبۃ) قرار دیا ہے، اور اس سے مراد جیسا کہ ملا علی قاری نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ وہ نفس کے لیے قلق اور بے چینی کا سبب ہے۔
روز مرہ زندگی میں جھوٹے شخص کا اضطراب اور بے چینی حدیث شریف میں بیان کردہ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ بدنصیب اپنے ایک جھوٹ کی پردہ پوشی یا اصلاح کی خاطر کتنے جھوٹ بولتا ہے۔ لیکن کیا تھوڑی مقدار میں گندگی سے پیدا ہونے والی بدبو کو زیادہ مقدار میں نجاست دور کرسکتی ہے؟
جھوٹ کا راہ ہدایت میں رکاوٹ ہونا:
کتاب وسنت میں راہ ہدایت کی رکاوٹوں کو بیان کیا گیا ہے۔انہی میں سے ایک رکاوٹ جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان اللہ لا یھدی من ھو کاذب کفار‘‘
بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت نہیں دیتے، جو جھوٹا کافر ہو ۔
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ جھوٹا کافر توفیق ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے اس حقیقت کو خوب اجاگر کیا ہے۔
ذیل میں ان میں سے تین کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔
۱۔ قاضی بیضاویؒ نے تحریر کیا ہے : جھوٹے اور کافر کو اللہ تعالیٰ حق کی طرف ہدایت پانے کی توفیق نہیں دیتے کیونکہ ان دونوں میں بصیرت مفقود ہوتی ہے۔
۲۔ علامہ الوسیؒ رقم طراز ہیں : یعنی اللہ تعالیٰ توفیق ہدایت جو کہ مکروہ سے نجات پانے اور مقصود حاصل کرنے کی راہ ہے، جھوٹے کافر کو عطا نہیں فرماتے، کیونکہ وہ ہدایت پانے کے قابل ہی نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ تو ہر ایک شخص کو اس کی صلاحیت اور قابلیت کے بقدر ہی عطا فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے :
{وَمَاظَلَمْنٰھُمْ وَلَکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ}
’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ تو خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘
۳۔ شیخ سعدی ؒ لکھتے ہیں : جس کا وصف جھوٹ یا کفر ہو، اللہ تعالیٰ اس کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت نہیں دیتے۔ مواعظ اور نشانیاں آنے کے باوجود اس کے (دونوں برے) اوصاف دور نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ اس کو نشانیاں دکھائیں ، اور وہ ان کا انکار کرے اور ان کے ساتھ کفر کرے، تو ایسے شخص کو ہدایت کیوں کر نصیب ہوسکتی ہے؟ اس نے تو خود اپنے لیے ہدایت کا دروازہ بند کر رکھا ہے۔
اس کے بدلے میں اس کو یہ سزادی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر ثبت فرما دی، سو وہ ایمان نہیں لاتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جھوٹ اور کفر سے محفوظ رکھے اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرمائے۔ انہ سمیع مجیب

جھوٹ کا تاجروں کا فاجر بنانے والی چیزوں میں سے ہونا

جھوٹ کی قباحت اس حقیقت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ وہ تاجر حضرات کو فاجر لوگوں میں شامل کرنے کے اسباب و عوامل میں سے ایک ہے۔
امام احمد اور امام حاکم ; نے سیدنا عبد الرحمن بن شبل انصاری ؓ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان التجار ھم الفجار‘‘
’’بلاشبہ تاجر ہی تو فاجر ہیں ۔‘‘
قال رجلٌ : یا رسول اللہ ﷺ ألم یحل اللہ البیعَ؟
’’ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں فرمایا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’فانھم یقولون فیکذبون و ویحلقون ویاثمون‘‘
’’در حقیقت وہ بات کرتے ہیں ، تو جھوٹ بولتے ہیں ، قسمیں کھاتے ہیں اور گناہ گار ہوتے ہیں ۔‘‘
اس حدیث شریف میں آپ ﷺ نے اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ، کہ گفتگو میں جھوٹ تاجر حضرات کو فاجر لوگوں میں شامل کر دیتا ہے۔
علاوہ ازیں نبی کریم ﷺ نے امت کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا ہے کہ سچ تاجر حضرات کو فاجر لوگوں کے گروہ سے نکال دیتا ہے۔
حضرات ائمہ امام عبد الرزاق،امام ترمذی، امام ابن ماجہ ،امام دارمی، امام ابن حبان اور امام حاکم s نے سیدنا رفاعہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقیع کی جانب روانہ ہوئے (راستے میں ) لوگ خرید و فروخت کر رہے تھے، توآپ ﷺ نے آواز دی: ’’یا  معشر التجار!اے تاجروں کی جماعت ! وہ آپ ﷺ کی جانب متوجہ ہوئے اور اپنی نگاہوں کو آپ کی جانب اٹھایا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ان التجار یبعثون یوم القیامۃ فجّاراً الا من اتقی وبرّ وصدق‘‘
’’بلاشبہ تاجر روز قیامت فاجر(کی حیثیت سے) اٹھائے جائیں گے، مگر(ان میں سے) تقوی کی راہ اختیار کرنے والے، نیکی کرنے والے اور سچ بولنے والے۔‘‘
شرح حدیث میں علامہ طیبی ؒ نے لکھا ہے : ’’جس نے اپنی تجارت میں محنت اور کوشش سے سچ اور امانت کو اختیار کیا، وہ انبیاء اور صدیقوں کے نیکو کار گروہ میں ہو گا، اور جس نے ان کے برعکس روش پسند کی ، وہ فاسقوں اور نافرمانوں کی صحبت میں ہو گا۔‘‘
اے اللہ ! ہمیں جھوٹ سے بچانا اور اپنی رحمت بے پایاں سے نیک لوگوں میں شامل فرمانا، فاجروں میں داخل نہ فرمانا۔آمین یا ذا الجلال والاکرام
نوٹ:(اس مضمون کی تیاری میں ۔پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کی کتاب ’’جھوٹ کی سنگینی اور اقسام سے استفادہ کیا گیا ہے)
٭٭٭






حرمین شریفین کی بقا اور استحکام کے اسباب

فضیلۃ الشیخ صالح بن عبداللہ بن حمید تر جمہ: خالد حسین گورایہ

اما بعد، اے لوگوں ، میں اپنے نفس کو اور آپ کو تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ آپ پر رحم کرے گا۔ جب اپنے رب کو پہچان لیا ہے تو اس کا حق ادا کرو۔ اس نے تم پر اپنی نعمتوں کی بہتات کر دی ہے۔ اس کا شکر ادا کرو۔ جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے محبت کا دعویٰ کیا ہے تو اس کی سنت کو لازم پکڑو۔ اپنے رب کی کتاب پڑھی ہے تو اس پر عمل کرو۔ جو جنت کا امیدوار ہوتا ہے، وہ اس کے لئے تیاری کرتا ہے اور جو آگ سے ڈرتا ہے وہ اس سے بھاگنے اور بچنے کے راستے تلاش کرتا ہے۔ جو شیطان کو اپنا دشمن سمجھتا ہے، وہ اس کی راہ سے اجتناب اور دوری اختیار کرتا ہے۔ جو یہ جانتا ہے کہ موت حق ہے، وہ اس کے لئے تیاری کرتا ہے۔ سعادت مند وہ ہے جو دوسروں کی حالت دیکھ کر عبرت پکڑے۔
امام حسنرحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ہمیں تعجب و حیرت ہے اس قوم پر جنہیں توشہ جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور سفر کے آغاز کی منادی کر دی گئی ہے۔ قافلے کا پہلا فرد آخری کی وجہ سے رکا ہوا ہے اور وہ لوگ بیٹھے کھیل کود میں مصروف ہیں ۔ بے خبری اور غفلت میں بھول پن کا شکار ہیں ۔ افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لاترجعونO (المومنون۱۱۵)
’’کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے فائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے۔‘‘
اے مسلمانو!        واقعات سے نمٹنا اور ان سے درس عبرت و نصیحت حاصل کرنا دور اندیشی عقل اور احتیاط سے ممکن ہوتا ہے۔ لہذا نت نئے رونما ہونے والے واقعات، اور مسلسل اتار چڑھاؤں اور انقلابات میں حکمت مومن کا کھویا ہوا زیور ہوتا ہے۔ نہ تو تقرب ملکوں کا معین و مددگار ہے اور نہ ہی بے چینی امت کی مصلح ہو سکتی ہے۔ محض تنقید سے کوئی بھی پروجیکٹ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا، اور نہ ہی ری ایکشن کوئی اچھا راہنما ثابت ہو سکتا ہے، اور ہمارے شہر بلد حرمین شریفین دیار مملکت عربیہ سعودیہ کی یہ مبارک سر زمین پر جو اپنے صحراؤں ، نرم نرم زمینوں ، پہاڑوں وادیوں اور سمندروں سے مالا مال ہے، اسی سرزمین پر اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے مقرر کیا گیا ہے موجود ہے۔ اسی سر زمین پر مبعوث ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رسولوں کی رسالت کا خاتمہ ہوا۔ اور سب سے آخری آسمانی کتاب بھی انہی شہروں میں نازل ہوئی۔ ہماری اہمیت ہمارے محل وقوع سے ظاہر ہوتی ہے، ہماری سر زمین کی خصوصیت یہاں سے بھی نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے لئے مکان نزول وحی، اپنے رسول کی جائے پیدائش، اور آپ کی جائے بعثت اور جائے ہجرت، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی جائے وفات کو ہمارے لیئے منتخب فرمایا۔
ہمارے شہر مسلمانوں کا قبلہ ہیں ، ان سے ان کے جذبات اور نشانیاں مربوط ہیں ، ہماری اس سرزمین سے صرف ہمارے ہی جذبات و احساسات مربوط نہیں ، بلکہ اس سے ہر مسلمان کا تعلق ہے۔ ہمارے علاقوں کا امن تمام مسلمانوں کا امن اور ہمارا استحکام تمام مسلمانوں کا استحکام ہے۔ {جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ}
’’اللہ تعالی نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لئے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘ (المائدہ:۹۷)
اللہ تعالی کے حکم کے ساتھ ہماری سر زمین نے ہی تاریخ ایجاد کی، بلکہ دنیاوی تاریخ کا سب سے اہم ترین واقعہ اسی سرزمین پر رونما ہوا، ایسا واقعہ جس سے امتوں اور مملکتوں کے رخ بدل گئے، یہ ملک اپنے نئے دور میں اسی عظیم تاریخی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اور اسے ہمیشہ کے لئے مبعوث رسالت سے تعلق، شریعت مطہرہ کے نفاذ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا مظہر ہے۔
ہماری مملکت کی تاریخ ایک ایسی دینی اور اصولی تاریخ ہے۔ جس پر تمام لوگ متفق ہوتے ہیں ، اسے ہر ایک قبول کرتا ا اور باعث فخر سمجھتا ہے، تمام لوگ اس کی پیروی کے لئے تیار ہیں ۔ ہماری تاریخ کسی قسم کی عصبیت، علاقائیت اور مذہبیت پر قائم نہیں ۔ جن افراد نے اس معاشرے کو کھڑا کیا ہے وہ کسی قبیلے یا قوم اور نہ کسی جماعت کے لئے تعصب کرتے ہیں ۔
یہ تاریخ دین و ملک اور خاندان و وطن کی تاریخ ہے۔ اس کی بنیاد اسلامی بنیادوں سے جا کر ملتی ہے، اس کی شاخیں سر سبز، پھل آور، اور خوشبودار اور (اس کا درخت) تن آور ہے، اپنے ماحول میں رہنے والی، اور اپنی ہی آب و ہوا اور پنپنانے والی سر زمین ہے۔ (جیسے پاکیزہ درخت) جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں ہیں ۔
ہمارے اور آپ کے شہر میں کبھی د ین و دنیا کے مابین معرکہ برپا نہیں ہوا، یہاں استحکام، امن، یگانگت، یکجہتی، نیکی اور اصلاح ہی ہے۔ اللہ تعالی کی تعریف، اس کا شکر اور اسی کا احسان عظیم ہے۔
محترم بھائیو!
ملکوں کا قیام سیاست اور معاشرے کا ایسا ہم ترین مظہر ہیں جسے تاریخ کے صفحات تحریر کرتے ہیں ۔ پھر محققین سر جوڑ کر اس کے مختلف عوامل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں ، اور جو ملک بھی اپنی نشات کے حالات و ماحول میں متمیز اور ممتاز اور اپنے قیام کے عناصر میں منفرد نظر آئے تو وہ اپنی طبیعت، جوہر اور بناوٹی عناصر کے حوالے سے بحث و تحقیق کے زیادہ لائق ہوتا ہے۔
جب معاملہ ایسا ہے تو ہم یہاں اپنے ملک کے چند بڑے بڑے بعض عناصر و عوامل پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں جو کہ اس مملکت کی امتیازات اور اس کے نمایاں جوہر کا حصہ ہیں ۔
محترم احباب!
ہمارا ہدف اور مقصد اور غرض و غایت جو کہ ہمارے پرچم سے بھی عیاں ہوتی ہے وہ ہے۔ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘، ہمارے ملک نے توحید کے شعار، اللہ تعالی کی حاکمیت، امت واحدہ، اور اخوت ایمانی، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دوستی ولی امر کی اطاعت، کتاب اللہ اور سنت رسول پر بیعت، اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے شعار اور پرچم کو بلند کیا۔ اسلام اس ملک کا منھج، اور کتاب و سنت اس سرزمین کا دستور ہے۔ دین اور حکومت ہمارے ملک میں دو بھائیوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ نہ یہ ملک اقتصادی میدان میں کمزور اور سست ہوا، نہ ہی سیاسی اصولوں میں ، نہ معاشرتی معاہدات میں ، بلکہ یہ ملک ایسے منہج پر قائم ہے جہاں دین و دنیا کی سیاست میں ہر چیز کی ترتیب و تنظیم موجود ہے۔
ہمارا ملک اس وقت بلند ہوا جب اس نے دین، علم توحید اور نعرہ وحدت کو بلند کیا۔ اسی بنا پر اللہ تعالی نے اپنے فضل و احسان کے ذریعے ہمارے دین کی حفاظت فرمائی، ہمارے اختلافات کو ختم کیا، غربت اور تنگدستی کے بعد ہمیں فراوانی بخشی، خوف و بدامنی کے بعد ہمیں امن دیا، جہالت کے بعد ہمیں علم سے بہرہ ور کیا، ہمیں صحت و عافیت کے لباس زیب تن کیا، ہر قسم کے فضل کو بڑھایا اور ہمیں اس سے بڑھ کر نصیب فرمایا۔
ہمارا ملک غالب اور با عزت شان و شوکت سے قائم ہے، اللہ تعالی کی مدد اور اس کی توفیق سے   مخالفین کی توقعات اور امیدوں کے برعکس اس نے تاریخی عظمت کے تسلسل کو برقرار رکھا۔
اسلام کا نفاذ ہمارے نزدیک محض ایک پیشہ یا چند اہم سر گرمیوں میں سے کوئی سر گرمی نہیں ہے، بلکہ یہ تو ہماری روح، زندگی اور غرض و غایت اور ہدف ہے، اسلام اس ملک کی شناخت ہے، اور یہی اس کی دوستی اور تعلقات کا معیار ہے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: 
قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَO لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج O
’’(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ (الانعام: ۱۶۲،۱۶۳)
اس شناخت بنیاد اور اسباب کی حفاظت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور سستی اور غفلت اور لاپرواہی برتنا گراوٹ اور تنزلی کی طرف پیش قدمی ہو گی۔ ایسی کوتاہی اور لاپرواہی کا پھر نتیجہ نوعیت اور مقدار کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔ لہذا یہاں ڈھانچہ اور نظام و دستور میں تفریق ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ یہ دونوں دین بھی ہیں اور مملکت بھی۔ وطن بھی اور قوم بھی۔
ہماری مملکت اسلام سے جڑی ہوئی عربی مملکت ہے۔ اور ایسے اسلام کی پابند ہے جو عربیت میں سمٹا ہوا دین ہے۔ ہمارا دین سلطنت و مملکت، دعوت و ارشاد، اصلاح اور باہمی تعامل، بات چیت، انسانی تجربات کے ساتھ مثبت تعامل والا دین ہے۔ نیز یہ دین تاریخی اسباق سے درسِ و عبرت حاصل کرنے والا دین ہے۔ اس میں یہ حاکم کے نزدیک قرب محکومیت کی قیمت پر ہوتا ہے اور نہ ہی لوگوں سے رکھ رکھاؤ حق و عدل کی قیمت پر ہوتا ہے۔
مسلمان بھائیو!
ہماری اس امتیازی مملکت کے بنیادی عناصر میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا) شامل ہے، یہ عنصر اس مملکت کے تینوں ادوار کے اہم ستون میں سے ایک بنیادی ستون کی حیثیت سے رائج رہا ہے۔ اور مملکت کے بنیادی نظام میں صراحت سے مذکور ہے، اور انتظامی ترتیبات میں ایک کلیدی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس جزو نے ہمارے ملک کو اور ہمارے معاشرے کو معاشرتی امن و امان، ضابطہ اخلاق، نصیحت و ارشاد و رہنمائی کا منہج اور احتیاطی و حفاظتی تدابیر کے لحاظ سے ایک امتیازی حیثیت سے متعارف کرایا ہے، یہ معاشرہ میں حسی اور معنوی لحاظ سے باہمی تعاون، اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ جس کا اثر ملکی اور غیر ملکی دونوں پر برابر کا پڑتا ہے۔ یہ طرز عمل اللہ تعالی کے حکم سے تمام افراد کو انتہائی پسندہے، اور لوگوں کو سیدھی راہ سے منحرف کرنے والی فکر سے بچاتا ہے۔
{کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ}
’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران :۱۱۰)
{وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ}
’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں ۔‘‘ (آل عمران :۱۰۴)
عزیزان گرامی:
ہمارے ملک کی چند مزید خصوصیات میں اس سرزمین کے علماء اور شرعی پاسبان لوگ ہیں ۔ جن کا ہمارے معاشرے میں ایک مکان و منزلت اور مرتبہ ہے۔ یہ لوگ علم ، دعوت اور احتساب کے پاسبان ہیں ، یہ بات ملک کی ایک طویل تاریخ میں واضح طور پر سامنے آ چکی ہے ۔ حاکم ملک ان سے نصیحت کا طلبگار ہوتا ہے اور اسے سنتا اور قبول کرتا ہے۔ عالم اور دین کے محافظین انہیں نصیحت کرتے اور حاکم و محکوم کا احتساب کرتے ہیں ۔ بلکہ اس ملک میں کسی طالب علم سے اس معاملے میں کوتاہی کا تصور بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ احتساب، نصیحت اور امر بالمعروف والنھی عن المنکر کو ملکی اور عوامی لیول پر بجا آوری میں کوتاہی کرے۔
اگر اس خاصیت کو مزید نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ خلافت راشدہ اور قرون مفضلہ کے بعد کے دور پر غور کریں کہ آپ کے سامنے عیاں ہو گا کہ اس دورانیہ میں عالم کے علم اور عوامی احتسابی عمل میں بظاہر کوئی ارتباط و تعلق نظر نہیں آتا۔ اس دور کے طلباء و علماء کی اکثریت علم و تعلیم، درس و تدریس، اور افتاء و قضاء اور تصنیف و تالیف تک محدود تھی۔ ان کے ہاں عوام اور حکمرانوں کا احتساب ایک لحاظ سے تقریباً ناپید تھا۔ بس چند ایک افراد اس فریضے کو ادا کرتے تھے جن کی سیرت اور تراجم میں یہ چیز ملتی ہے۔ اللہ تعالی ان تمام لوگوں کو اجر عظیم سے نوازے ان کی مغفرت کرے، اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے پیش کردہ خدمات کا انہیں بہتر اجر اور اچھا بدلہ نصیب فرمائے۔
اے مسلمان بھائیو!
مملکت سعودی عربیہ بلاد حرمین شریفین یہ ہمارا ملک، ہمارا علاقہ، ہمارا گھر اور ہمارا ٹھکانہ ہیں ۔ ہماری دوستی اور لگاؤ دین اسلام کے بعد اس مملکت کے ساتھ ہے۔ وطن اور سر زمین کا امن اور استحکام تمام خواہشات اور مطالبات سے بڑھ کر ہے۔ چاہے یہ امن حاکم سے متعلق ہو یا محکوم سے۔ اور انقلابات اور سختیوں کے وقت یہی وہ سب سے اہم چیز ہے جس کی جانب توجہ کی ضرورت ہے، ان شہروں کی نگہداشت، ان کی حفاظت اور ان سے تعلق اس صورت حال میں مزید پختہ ہونا چاہئے۔ ہمارا باہم کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، ہمارے مطالبات ایک دوسرے سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں ۔ اور ہماری جائز خواہشات اور امیدیں کتنی ہی ایک دوسرے سے الگ کیوں نہ ہوں ۔ مگر ضروری ہے کہ ہم اپنے ملکی معاملات میں بالکل بیدار رہیں ۔ کتنے لوگ ہمارے شہروں کو توڑنے، ہماری طاقت و قوت کا شیرازہ بکھیرنے، ہماری وحدت کو پارہ پارہ کرنے، ہمارے ڈھانچہ کو زائل کرنے کے منتظر ہیں ۔ بیشک سعادت مند تو وہ شخص ہے جو دوسرے سے نصیحت حاصل کرے۔
اسلام کی عزت اور دین کی حفاظت کے بعد امن اور قومی یکجہتی، معاشرتی اتفاق و یگانگت اور مقدسات کی حفاظت سب سے بڑھ کر اور سب سے قیمتی چیز ہے جس کے ہم مالک ہیں ۔ یہ امن جس میں ہم پنپ رہے ہیں ، یہ ہمیں اللہ تعالی کے فضل و کرم کے بعد ہمیں اپنے آباء و اجداد کی کاوشوں سے ملا ہے۔ جو انہوں نے مبارک قائد بادشاہ ملک عبدالعزیز کی قیادت میں سر انجام دیں ، اور اس کے بعد ان کے بادشاہ بیٹوں نے اس کی حفاظت کی۔ اسی کی حفاظت کے لئے ملکی پولیس اور فوج تمام شعبوں اور مختلف رتبوں میں بر سر پیکار ہیں اور اسی کے لئے تمام قوم بیدار ہے۔ وطن کے بیٹوں میں سے یہ لوگ ہمارے امن، ہماری مقدسات، ہماری سعادت، ہمارے مالوں ، جانوں ، اور ہمارے خاندانوں کے محافظ ہیں ۔
یہ میدان سچے اور مخلص لوگوں کا میدان ہے۔ ملکی تعلق سب سے قیمتی ہوتا ہے اور کسی بھی قائم عدل، صحیح آزادی میں اجتماعی شعور اجاگر ہونا چاہئے تاکہ ہم وطن، املاک اور اپنی آمدن کی حفاظت کر سکیں ۔
اور شرعی امارت کے گرد جمع ہو کر، ہر فتنہ، یا مسلک، یا دعوت جو وطن اور اس کی اکائیوں اور معاشرہ کی راہ میں رکاوٹ بنے اسے چیلنج کرے اس کا تعاقب کریں اور خطرے کا باعث بننے والے ہر عنصر کی تاک میں رہیں ۔ ہم مل کر اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اس ملک کی ہر ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والے کے آگے رکاوٹ اور ہر طرح کے دشمن کو رسوا کر دیں ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
وبعد:
اللہ تعالی کی حمد و تعریف ہے جو کہ اس نے ہم پر احسانات کئے، اور جو ہم پر انعامات کئے، اور ہم پر نعمتوں اور انعامات کی بہتات کی۔ اس ملک نے اپنے واضح منہج و مسلک، کتاب و سنت اور طریق سلف صالح کو اپنا اصول اور نظریہ بنایا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط ہیں جس پر ناقدین کی باتیں اثر انداز نہیں ہو سکتیں ۔ اور نہ ہی افترا پردازوں کی افترا پردازی اس کو مکدر کر سکتی ہے۔ نہ ہی بہتان والوں کی بہتان بازی کی اس مقبولیت میں کوئی کمی کر سکتی ہے۔ مملکت کے نظام میں شریعت کے نفاذ کی تنصیص اور صراحت موجود ہے، اور اعمال و احکام میں بھی شریعت نافذ العمل ہے۔ وطن میں یکجہتی، اتحاد، اور عصبیت اور تفرقہ بازی سے بیزاری کی فضا قائم ہے۔
وَلَیَنصُرَنَّ اللَّہُ مَن یَنصُرُہُ إِنَّ اللَّہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌO الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِO
’’جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا، بیشک اللہ تعالی بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘ (الحج: ۴۰،۴۱)

دوسرا خطبہ

اللہ تعالی کی حمد و تعریف ہے کہ جس نے اہل ایمان کے دل حق و ہدایت کے لئے کشادہ کر دئے۔ {مَن یَہْدِ اللَّہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِ وَمَن یُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَہُ وَلِیّاً مُّرْشِدا}
’’اللہ تعالی جس کی رہبری فرمائے وہ راہ راست پر ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے ناممکن ہے کہ آپ اس کا کوئی کارساز اور رہنما پا سکیں ۔‘‘ (الکھف۱۸)
اسی پروردگار کی حمد ہے ان بے شمار نعمتوں پر، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ ازل سے ابد تک احد فرد اور صمدیت سے متصف ہے۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ان کے رب نے انہیں رسالت کے لئے منتخب کیا، تمام انسانیت میں سے آپ کو چنا۔ رحیم نے انہیں اپنا محبوب بنایا، صلی اللہ وسلم وبارک علیہ، وعلی آلہ واصحابہ انوار الداجی و مصابیح الھدی، والتابعین ومن تبعھم باحسان، وسلم تسلیما کثیرا سرمدا ابدا۔
اما بعد:
اے مسلمانوں ! ہمیں ان نعمتوں کا انکار نہیں جو اس پروردگار نے ہم پر اور ہمارے ملک اور شہروں پر کی ہیں ، اس میں مالک کی نعمتوں کی بہتات، خیر و بھلائی کی کثرت، آسودہ حالی، جس کی آمد سے ہماری رہائش کا انداز اور زندگی کی طرح بدل گئی ہے۔ اور ہمارے ملک کا تعلق بیرونی دنیا سے جڑا۔ جہاں کی تہذیب کی مثبت اور منفی اثرات سے ہمیں متاثر ہونا پڑا۔
مگر مملکت سعودی عرب نے اپنے مقام و منزلت اور اپنے دینی اعزاز کو برقرار رکھا۔ اس کا دین سے تعلق مستحکم رہا۔ اور اللہ تعالی کی حمد تعریف اور شکر ہے کہ وہ ابھی تک اپنے اصولوں پر مبادی پر قائم ہے، اپنے منہج کی پابندی ہے۔ اور آج بھی اپنی اسی بنیادوں کی پابندیوں پر کھڑی ہوئی ہے جن پر قائم ہوئی تھی۔ اس دینی لگاؤ میں مملکت کے حکاّم اور عوام برابر ہیں ۔ اسی دینی نہج پر اس مملکت کے دیگر ادارے، ملکی سیاست اور تعلیمی مناہج، اداری ترتیبات اور معاشرتی رسم و رواج قائم ہیں ۔
اس تمام خیر و بھلائی جس میں ہم پنپ رہے ہیں اور جن فراوانیوں اور نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں ، ہمیں یقینی علم ہونا چاہئے کہ کمال سب سے عزیز چیز ہے۔ ہاں نقص، کمی، کمزوری اور غلطی نفس بشری کا لازمہ ہے اور کام کرنے والوں کا حصہ ہے۔ یہ بھی یقینی علم ہونا چاہئے کہ سفر لمبا ہے اور راستہ کھٹن بھی ہے کیونکہ امتوں کی تحریک اور نسلوں کی تبدیلی عقل حکمت اور بردباری کی متقاضی ہے۔ اور ایسے منصوبوں پر عمل جاری رکھنے کی متقاضی ہے جس میں وقفہ نہ آنے پائے۔ یہ کام حکمت بیداری اور ایسے شعور کا متقاضی ہے جو موجودہ اور پیش آمدہ حالات میں تمیز کرسکے۔ باہوش عقل، فراخ عدل، منظم لشکر، عادلانہ فیصلے، با حکمت سیاست، پاک طینت افراد، ترقی کے لئے مضبوط منصوبہ بندی، اور اس کے ساتھ رحمت شفقت اور احسان کا متقاضی ہے۔
Author of this article: خطاب فضیلۃ الشیخ صالح بن عبداللہ بن حمید تر جمہ: خالد حسین گورایہ
٭٭٭
ماخذ: جریدہ ’الواقعہ‘ اور ’اسوۂ حسنہ‘
http://alwaqiamagzine.wordpress.com
http://uswah.org
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
