﻿


کچھ نثری تحریریں




حیدر قریشی

جمع و ترتیب: اعجاز عبید









’’حاصلِ مطالعہ’‘ کے ’’ابتدائیہ’‘ کا اقتباس 



 میں بنیادی طور پر تخلیق کار ہوں۔ تنقید کو ہمارے ہاں سکہ بند نقادوں کا فریضہ بنا کر نقاد کو ادب میں کسی مذہبی پیشوا سے ملتی جلتی حیثیت دے دی گئی ہے۔ رہی سہی کسر ان مابعد جدید شارحین / سارقین نے پوری کر دی جنہوں نے مختلف حیلوں سے مصنف اور متن دونوں کو بے وقعت قرار دے کر اپنی تشریحات اور سرقوں ہی کو ادبِ عالیہ قرار دلوانا چاہا۔ میں یہاں کسی لمبی چوڑی بحث میں گئے بغیر مختصراَ َاتنا عرض کروں گا کہ میرے نزدیک تنقید، تخلیقی عمل کا ایک جزوی حصہ ہے۔ کسی فن پارے کی تخلیق کے دوران جب تخلیق کار اپنے فن پارے کے اظہار کے ساتھ اس کے الفاظ کے استعمال اور ان کی پیشکش کے انداز کو دیکھتا ہے تو در اصل ایسا دیکھنا، اس کی تنقیدی نگاہ بھی ہوتی ہے۔ تخلیق کار کی یہ تنقیدی نظر اپنی تخلیق کے اظہار کے دوران اس کے حسن و قبح کا جائزہ لیتی ہے، تاکہ اسے خوب سے خوب تر صورت میں پیش کیا جا سکے۔ اپنے فن پارے کو خوب سے خوب تر صورت میں پیش کرنے والی نظر ہی کسی تخلیق کار کی تنقیدی نظر ہوتی ہے، اور اسی کے نتیجہ میں کسی تخلیق کار کا فن پارہ معرضِ وجود میں آتا ہے۔ یوں تنقید، تخلیق سے ہٹ کر کوئی الگ چیز نہیں رہتی۔ کوئی تخلیق کار، تخلیقی طور پر جتنا اچھا ہو گا، اس کی تنقیدی سوجھ بوجھ یا تنقیدی بصیرت بھی اسی طرح لازماً عمدہ ہو گی، کیونکہ اسی کی بنا پر وہ اپنے تخلیقی تجربے کو بہتر طور پر اظہار کی صورت دے رہا ہے۔ 
ایک تخلیق کار کی یہی تنقیدی نگاہ دوسرے تخلیق کاروں کے فن پاروں کو بھی اسی انداز سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہر چند دوسروں کی تخلیقات کے مطالعہ کے دوران اتنی وابستگی تو نہیں ہوتی جتنی اپنے تخلیقی عمل کے دوران اپنی تخلیق کے ساتھ ہوتی ہے۔ تاہم وہ سوجھ بوجھ کسی نہ کسی طور دوسروں کے مطالعہ میں بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ سو اس زاویے سے آپ میرے ان مضامین کو تنقیدی مضامین کہہ سکتے ہیں۔ میں نے زندگی بھر جو کتابیں پڑھیں، ان سب پر رائے دینا تو ممکن نہ تھا۔ تاہم جن کے بارے میں رائے لکھنے کا موقعہ ملا وہ مضامین /تبصرے اس حاصلِ مطالعہ میں پیش ہیں۔ 
٭٭٭



کھٹی میٹھی یادیں 

حیدر قریشی

لبّیک الہمّ لبّیک
 قل ان کانت لکم الدّارالآٓخرۃ عنداللہ خالصۃ من دون الناس فتمنو الموت ان کنتم صادقینO ولن یتمنوہ ابداً بما قدمت ایدیھم ط واللہ علیم بالظٰٰلمینO (سورۃ البقرۃ۔ آیت ۹۴۔ ۹۵)
(ترجمہ:تو ان سے کہہ اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر (باقی) لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے ہے، تو اگر تم [اس دعویٰ میں ] سچے ہو تو موت کی خواہش کرو۔ (یاد رکھو کہ) جو کچھ ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، اس کے سبب سے وہ کبھی بھی (موت کی)تمنا نہیں کریں گے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

 مجھے جنوری ۲۰۰۹ء میں ایک خواب کے ذریعے واضح طور پر بتایا گیا کہ ۳؍دسمبر کو میری وفات ہو گی۔ میں یہ تحریر نومبر کے آخری عشرہ میں لکھ رہا ہوں اور قارئین تک تب پہنچے گی جب ۳؍دسمبر ۲۰۰۹ء گزر ہو چکا ہو گا۔ 
 زندگی کے معاملہ میں دو جمع دو چار کی طرح کوئی دو ٹوک اور حتمی بات کہہ کر گزر جانا ممکن نہیں۔ ہر انسان کی زندگی اس کے اپنے ڈھب سے ہوتی ہے۔ زندگی نے اس کے ساتھ کیا کیا اور اس نے زندگی کے ساتھ کیا کیا؟ دونوں معاملات ہی ہر انسان کی ذات اور اس کی اپنی کائنات کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ میری چھوٹی سی کائنات خاندانی سطح پر میرے والدین، بہن بھائیوں، بیوی، بچوں اور ان سب سے منسلک رشتہ در رشتہ کہکشاں پر مشتمل ہے۔ ان سارے رشتوں کا ذکر اذکار میرے، خاکوں اور یادوں میں نمایاں طور پر اور دوسری اصناف میں بھی کسی نہ کسی رنگ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 
 اب کہ عمر کے اس حصے میں ہوں جب بندہ اِس دنیا سے آگے کی دنیا میں جانے کے لیے بوریا بستر باندھنے میں لگا ہوتا ہے، میں نے بھی کچھ عرصہ سے اپنا بوریا بستر باندھنا شروع کر رکھا ہے۔ اگلی دنیا میں جانے کی تیاری کے ساتھ اِس دنیا سے لذت کشید کرنے کا عمل بھی میں نے کم نہیں ہونے دیا۔ میری اہلیہ مبارکہ ان معاملات میں ایک حد تک میرے ساتھ ہے اور ایک حد تک مزاحمت کر رہی ہے۔ اس دنیا کے معاملات میں تو نہ صرف اس نے مزاحمت نہیں کی بلکہ بڑی حد تک پردہ پوشی بھی کی ہے۔ البتہ اگلی دنیا کے معاملہ میں اس نے شدید مزاحمت کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے جو تازہ ترین صورتحال ہے اسے بعد میں بیان کروں گا پہلے گزرے دنوں کا کچھ ذکر ضروری ہے۔ 
 ۱۹۹۶ء میں مبارکہ کوRheumatism کی بیماری کی ابتدا ہوئی تھی۔ پہلے تو بیماری کی نوعیت سمجھ میں نہیں آئی۔ پتہ نہیں یہ’‘ روئے ماٹ ازم’‘ کونسی اللہ ماری ولایتی بیماری لا حق ہو گئی ہے۔ ہم نے تو سوشلزم، کمیونزم، کیپٹل ازم کے نام ہی سن رکھے تھے اور مبارکہ کو ان میں سے کسی سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ بہر حال بیماری کی نوعیت کا جب کچھ کچھ اندازہ ہوا تو اس کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے میں نے ۱۹۹۶ء ہی میں ایک غزل میں کہا تھا:
دیکھو مجھے اس حال میں مت چھوڑ کے جانا دل پر ابھی میں نے کوئی پتھر نہیں رکھا
 پھر مبارکہ نہ صرف اس بیماری کی عادی ہو گئی بلکہ Rheuma نے بھی اس کے ساتھ دوستانہ برتاؤ شروع کر دیا۔ بارہ تیرہ برس علاج معالجہ کے ساتھ آرام سے گزر گئے۔ مبارکہ کی علالت اور اپنے شروع میں بیان کردہ خواب کا مزید ذکر ذرا آگے چل کر۔ ۔ ۔ ۔ یہاں یادوں کے اس نئے باب کے تناظر میں اپنی پرانی تحریروں کا تھوڑا سا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ 
 بیسویں صدی کے آخری سرے پر لکھی گئی میری یادوں کے باب ‘’دعائیں اور قسمت’‘ کا اختتام ان دعائیہ الفاظ پر ہوتا ہے۔ 
 ‘’اب یہی دعا ہے کہ ایسی ہی دافع البلیّات دعاؤں کے سائے میں زندگی کا یہ سفر آسانی کے ساتھ، حفاظت کے ساتھ، اور بے حد آرام و سکون اور اطمینان کے ساتھ مجھے اگلی دنیا میں لے جائے۔ موت میرے لئے دُکھ کا مُوجب نہیں راحت کا مُوجب بنے۔ ہجر کا احساس نہیں بلکہ وصل کا پیغام ہو اور وصل کا راحت بھرا پیغام تو جب بھی آئے، عشّاق کی خوش نصیبی ہوتا ہے۔ ’‘
 یہ کوئی دنیا کو جتانے یا بتانے کا رویہ نہیں ہے بلکہ زندگی کے مقابلہ میں موت کے تئیں میرا یہ رویہ میری ابتدائی شاعری سے اب تک کسی کسی نہ رنگ میں آتا چلا گیا ہے۔ زندگی اور موت کے معاملہ میں میرا رویہ میرے مزاج کی ترجمانی کرتا ہے۔ مثلاً میرے شعری مجموعوں کی بالکل ابتدائی غزلوں سے لے کر اب تک کی شاعری کے یہ اشعار دیکھیں۔ 
موت سے پہلے جہاں میں چند سانسوں کا عذاب
زندگی! جو قرض تیرا تھا ادا کر آئے ہیں 
دیکھا خلوص موت کا تو یا د آ گیا
کتنے فریب دیتی رہی زندگی مجھے
چلو پھر آنکھیں کرو چار موت سے حیدرؔ
پھر آج موت کی آنکھوں میں زندگی بھر دو
زندگی! دیکھ بجھتے ہوئے لوگ ہم
بزمِ جاں میں چمکتے رہے رات بھر
ابھی ممکن ہی نہیں قرض چکانا تیرا
زندگی! قرض ترا ہو گا ادا میرے بعد
موت کی بھی حقیقت انہیں سے کھلی
زندگی کے جو دل میں دھڑکتے رہے
موت کو چھو کے دیکھنا ہے ذرا
زندگی، اپنی دیکھی بھالی ہے
گزشتہ برس میری دو غزلوں میں اس حوالے سے زیادہ کھلا اظہار سامنے آیا:
کفن مرے لیے دامانِ یار ٹھہرے گا
چلوں گا کوچۂ دلدار میں لحد کے لیے
تمام خواہشیں حیدرؔ کبھی کی چھوڑ چکے
کہو تو خود سے بھی اب ہم کنارا کرتے ہیں 
 ایسے اشعار کے زمانی تسلسل کے درمیان میں کہیں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا جب موت مجھے کچھ دیر تک دیکھتی رہی۔ ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا، زندگی کے ساتھ کچھ دیر کے لیے الجھی، مگر پھر خاموشی سے واپس چلی گئی۔ اُس وقت کی کیفیات میری تب کی ایک غزل میں موجود ہیں۔ 
موت آئی ہوئی ہے مجھے لینے کے لیے اور
یہ زندگی پاس اپنے ہی رکھنے پہ اڑی ہے
ہے زندگی و موت میں اک معرکہ برپا
جیتے کوئی، ہم پر یہی اک رات کڑی ہے
دیکھو ہمیں ہم ہنستے ہوئے جانے لگے ہیں
کچھ جان پہ گزری ہے نہ نزع کی تڑی ہے
 ہمبرگ کے خالد ملک ساحل صاحب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مجھے اپنی بالکل ابتدائی شاعری کے دو شعر یاد آ گئے۔ یہ غزل ہفت روزہ مدینہ بھاولپور میں ۱۹۷۵ء سے ۱۹۷۷ء کے درمیانی عرصہ میں کہیں چھپی تھی، میرے کسی مجموعہ میں شامل نہیں ہے۔ لیکن اس کے ان دو اشعار سے موت کے تئیں میرے رویہ اور بالخصوص ابتدائی رویہ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ 
کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی
موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی
شور سنتے تھے بہت لیکن حقیقت اور ہے
ایک ہی تو سانس پر اٹکی ہوئی ہے زندگی
 ۲۶جنوری ۲۰۰۹ء کو میں نے صبح چار بجے کے لگ بھگ ایک خواب دیکھا۔ اس میں مجھے تاریخِ وفات ۳؍دسمبر بتائی گئی۔ خواب میں سَن نہیں بتایا گیا لیکن بیداری پر مجھے اس کی جو تفہیم ہوئی اس کے مطابق سال ۲۰۰۹ء ہی میں وفات ہو گی۔ اس تفہیم کے ساتھ ایک بار پھر غنودگی کی کیفیت ہوئی اور اس میں یہ قرآنی الفاظ میرے ہونٹوں پر جاری ہوئے: انی متوفیک۔ یعنی بے شک میں تجھے وفات دوں گا۔ 
 میں نے اسی روز صبح پانچ بجے سبز رنگ کی جلد والی اپنی نوٹ بک کے بائیں جانب اندر کے پہلے صفحہ پر وہ خواب، اوراس کی تعبیر و تفہیم درج کر دی، اپنے دستخط بھی کر دئیے۔ اسی روز اپنے چھوٹے بیٹے طارق کو وہ نوٹ بک دکھا کر بتا دیا کہ دسمبر۲۰۰۹ء میں اگر کچھ رونما ہو جائے تو اس تحریر کو خود بھی پڑھ لینا اور بہن بھائیوں کو بھی پڑھا دینا۔ ساتھ ہی اسے کچھ اور ہدایات بھی دیں۔ لیکن ہوا یہ کہ طارق نے دو چار دن تک تو صبر سے کام لیا لیکن پھر گھبرا کر اپنی ماں کو اس بارے میں بتا دیا۔ مبارکہ کو خواب کی کچھ حقیقت کا اندازہ ہوا تو وہ خود بیمار پڑ گئی۔ یہاں تک کہ ۶ فروری کو ایمبولینس بلانا پڑ گئی۔ ہفتہ بھر صورتحال اتنی زیادہ نازک رہی کہ ڈاکٹرز نے صاف کہہ دیا کہ ہم اپنی طرف سے بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ بچ جانے کے چانسز ہیں تو سہی لیکن بہت کم۔ کیونکہ قوتِ مدافعت کمزور ہوتے ہی Rheuma نے تقریباً تمام مرکزی اعضا پر حملہ کر دیا ہے۔ ان آرگنز کو بچانے کے لیے جن دواؤں کو دیا جا سکتا ہے وہ موجودہ صورت میں جتنی مفید رہیں گی، سائڈ ایفیکٹ میں اس سے زیادہ نقصان دہ ہوں گی۔ عجیب مشکل اور پیچیدہ صورتحال تھی۔ بہر حال دعا اور دوا دونوں کے نتیجہ میں مبارکہ نے ایک مہینہ کے لگ بھگ عرصہ میں بیماری کو کچھ کوَر کر لیا۔ شیمو تھراپی جو کینسر کے مریضوں کے لیے ہوتی ہے، اس کا پانچ فیصد چھ مہینوں میں آزمانے کا طے ہو گیا۔ پانچ مہینوں میں مبارکہ اس حد تک صحت یاب ہو گئی کہ مجھے باقاعدہ ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگی۔ کامیاب شوہر بخوبی جانتے ہیں کہ بیوی جب شوہر کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ پوری طرح سے صحت یاب ہو چکی ہے۔ وگرنہ ناکام و نامراد شوہر تو بیوی سے سرِ عام جوتے یا دھکے کھا کر بھی کچھ نہیں سمجھ اور سیکھ پاتا، البتہ اس کے انجام سے لوگ سبق ضرور سیکھ لیتے ہیں۔ 

 مبارکہ کی حالت سنبھلنے تک ۲۰۰۸ء کے آخر میں دی گئی، میری بائیں آنکھ کے موتیا کے آپریشن کی تاریخ آ گئی۔ اطہر خان جیدی جو پاکستانی مزاحیہ ڈرامہ کا ایک معروف نام ہیں، ان کا ایک شعر حسبِ حال ہو گیا۔ 
ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیا
 ۲؍مارچ کو آپریشن ہوا اور اسی دن مجھے چھٹی بھی مل گئی۔ دو تین دن احتیاط سے کام لیا اور پھر اپنی معمول کی ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسری آنکھ کے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی۔ چند مہینوں کے بعد جب اس کی نوبت آئی، دائیں آنکھ کے کنارے پر نیچے کی جانب ایک چھوٹا سا دانہ نکل آیا۔ بس اس دانے کے ختم ہونے تک آپریشن موخر کر دیا گیا۔ جو تا حال موخر چلا آ رہا ہے۔ لیکن یہ تاخیر تو بعد کی بات ہے۔ فی الحال بات ہو رہی تھی مبارکہ کی اپنی سنگین بیماری کے وارسے بچ کر گھر واپس آ جانے کی۔ 
 مبارکہ کا بہتر حالت میں گھر واپس آنا خدا کا بہت ہی خاص فضل تھا۔ گردوں کی کارکردگی متاثر ہو نے کے باعث اس کے پورے جسم سے پانی رِستا تھا۔ خوشی سے بھیگنا اور غم میں آنسوؤں سے بھیگ جانا تو ہماری دنیا میں ہوتا ہے لیکن بیماری سے اس طرح بھیگنا ہمارے ہاں پہلا تجربہ تھا۔ جسم بھی کسی حد تک پھول گیا تھا، تاہم تھراپی کرانے کے نتیجہ میں حالت تدریجاً بہتر ہوتی جا رہی تھی۔ اس دوران مبارکہ کو نہانے کے لیے تو مدد کی ضرورت نہ ہوتی لیکن نہانے کے بعد کھڑا کرنے اور ٹب میں سے باہر نکالنے میں مجھے بہت زیادہ ہیلپ کرنا پڑتی۔ 
اپنے افسانہ’‘گھٹن کا احساس’‘ میں ایک بار اپنی بیوی کے ساتھ ہوئی بات کو میں نے یوں لکھا ہوا ہے۔ 
 ‘’ نہاتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنی پوری کمر پر نہیں پھِرسکتاتھا۔ ماں کا کمر پر صابن مَلنا یادآتاتواس کا جی چاہتا کاش ماں زندہ ہوتی اور اب بھی میری کمر پر صابن مَل دیتی۔ ایسے ہی خیالوں کے دوران ایک بار اُس نے اپنی بیوی کو عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ اس کی بیوی نہ صرف اس کی ماں کی بھتیجی تھی بلکہ بڑی حد تک اس کی ماں کی ہم شکل بھی تھی۔ اس نے اپنی بیوی سے اس خواہش کا اظہار کر دیا کہ وہ نہاتے وقت اس کی کمر پر صابن مَل دیا کرے۔ اس کی بیوی تھوڑا ساشرمائی پھر کہنے لگی:
‘’مجھ سے یہ فلموں والے باتھ روم کے سین نہیں ہوسکتے’‘
 وہ بیوی کے جملے پر مسکرایااور سوچایہ پگلی کہاں جا پہنچی۔ یوں بھی باتھ روم میں اتنی جگہ ہی کہا ں ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ سما سکتی۔ ’‘
 اور اب صورتحال یہاں تک آ پہنچی تھی کہ ہم انڈین فلموں کے باتھ روم سے بڑھ کر انگریزی فلموں کے باتھ روم والے سین جیسی صورتحال سے گزر رہے تھے۔ مبارکہ کا وزن بہت بڑھ گیا تھا اس لیے اس سین کا مزہ تو کیا لیا جاتا، میرا سانس ہی پھولنے لگتا۔ یہ سانس پھولنے کا سلسلہ بڑھا تو ڈاکٹر سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر نے ای سی جی تک کے اپنے سارے ٹیسٹ کرنے کے بعد مجھے ہسپتال ریفر کر دیا۔ ہسپتال والوں نے ٹیسٹ کے کئی مراحل سے گزارنے کے بعد بتایا کہ دل کا کوئی وال (شریان)بند ہے۔ انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی دونوں کام ایک ساتھ کر دئیے جائیں گے۔ اس کے لیے یکم اکتوبر کی تاریخ دے دی گئی۔ 
 انہیں دنوں میں ایک نئی غزل ہوئی، جس کے یہ اشعار جیسے ۳؍دسمبر کے لیے ذہنی تیاری کی غمازی کر رہے تھے۔ 
دردِ دل کی ہمیں اب کے وہ دوائی دی ہے
اپنے دربار تلک سیدھی رسائی دی ہے
اک جھماکا سا ہوا روح کے اندر ایسے
نوری برسوں کی سی رفتار دکھائی دی ہے
کیسے زنجیر کا دل ٹوٹا یہ اُس نے نہ سُنا
وقت نے قیدی کو بس فوری رہائی دی ہے
اک نئی لمبی مسافت کا زمیں زاد کو حکم
اور اس بار مسافت بھی خلائی دی ہے
جب بھی جانا ہے پلٹ کر نہیں دیکھیں گے کہیں
اپنے اندر سے یہ آواز سنائی دی ہے
 اکیس ستمبر کو عید الفطر تھی، عید بہت اچھی گزری۔ سارے بچے گھر پر جمع ہوئے۔ پانچ بیٹے بیٹیاں، پانچ بہوئیں اور داماد، دس پوتے، پوتیاں اور نواسے۔ ۔ گھر پر اتنی رونق تھی کہ ہم دونوں تھک گئے۔ بائیس ستمبر کو میں ڈٹسن باخ میں خانپور کے زمانے کے ایک دوست وزیر احمد صاحب کو ملنے چلا گیا۔ شام کو گھر آیا تو مبارکہ کی طبیعت خراب تھی، بخار ہو گیا تھا۔ رات گئے تک بخار میں شدت آ گئی اور صبح تک حالت اتنی بگڑ گئی کہ اس کی لیڈی ڈاکٹر فراؤ ہے نگ، (Frau Hennig) کو گھر پر بلانا پڑا۔ ڈاکٹر نے مبارکہ کی حالت دیکھتے ہی ایمبولینس منگا لی۔ جاتے وقت مبارکہ پر غشی سی طاری تھی۔ اسے قریبی شہر ہوف ہائم کے ہسپتال میں لے جایا گیا۔ ۲۴ تاریخ تک حالت اتنی بگڑ گئی کہ اسے صوبائی صدر مقام ویز بادن کے اس ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں پہلے سے اس کا ‘’روئے ما ‘‘کا علاج چل رہا تھا۔ انتہائی نگہداشت والے کمرہ میں جب ہم دیکھنے کے لیے پہنچے تو دل دھک سے رہ گیا۔ وہاں کے ڈاکٹر ز نے کہا کہ ہم بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن اس طرح کے کیسز میں بچنے کا صرف ایک فی صد چانس ہوتا ہے۔ جو بچہ اندر آتا اور رونے لگتا میں اسے باہر بھیج دیتا۔ رفتہ رفتہ بچوں نے اپنے آنسوؤں پر قابو پانا شروع کیا۔ 
 میں تو مستقل طور پر مبارکہ کے سرہانے کھڑا ہوا تھا، بچوں کو دو سے زیادہ تعداد میں آنے کی اجازت نہ تھی۔ 
جب بھی کوئی بچہ آتا۔ میں پوچھتا یہ کون ہے؟ آواز نہیں آتی تھی لیکن مبارکہ کے ہونٹ اس طرح ہلتے جس سے بچے کا نام ادا ہوتا ہوا پورا سمجھ میں آتا۔ حالت تو غیر ہی تھی لیکن تیسرے دن دو دلچسپ باتیں ہوئیں جس سے مجھے کچھ تسلی ہونے لگی۔ میں نئے کپڑے پہن کر ہسپتال پہنچا۔ مبارکہ نے آنکھ کھولی تو مجھے دیکھ کر کہنے لگی۔ ‘‘کتھے چلے او’‘ (آپ کہاں جا رہے ہیں ؟)۔ جب بیوی بے ہوشی اور بے خبری کی حالت میں بھی نگرانی کی اس حد تک آ جائے تو اسے کون بے ہوش یا بے خبر کہے گا۔ 
 جب سارے بچے باری باری آ کر ماں سے مل چکے تو مبارکہ نے دوسری طرف پڑی ہوئی کرسی کی طرف آنکھ سے اشارہ کر کے کہا آپ اب وہاں بیٹھ جائیں۔ مجھے ان دونوں باتوں سے کافی تسلی ہو گئی۔ لیکن کمال یہ ہے کہ جب مبارکہ بالکل صحت یاب ہو گئی تو اسے ان باتوں میں سے کچھ بھی یاد نہ تھا۔ صرف اتنا یاد تھا کہ بچوں کی پرچھائیاں سی دکھائی دیتی تھیں اور بس۔ 
 مجھے اندازہ ہے کہ اصلاً مبارکہ کو اندر سے یہ خوف ہے کہ میں دنیا سے کوچ کرنے والا ہوں۔ فروری والی بیماری کے دوران میں نے اسے بڑے رسان سے کہا تھا کہ مبارکہ بیگم!آپ زیادہ فکر مت کریں، میں پہلے چلا گیا تو جاتے ہی آپ کو بلوا لوں گا۔ آپ پہلے چلی گئیں تو میں بھی زیادہ دیر یہاں نہیں رہوں گا، آپ کے پیچھے پیچھے ہی چلا آؤں گا۔ لیکن شاید ہم دونوں کے درمیان اہلِ لکھنؤ کے ‘’پہلے آپ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے آپ’‘ کے برعکس ’‘پہلے میں۔ ۔ ۔ پہلے میں ‘‘ کا مقابلہ چلا ہوا ہے۔ اس چکر میں شاید موت کا فرشتہ بھی کنفیوز ہو رہا ہے کہ ان دونوں میاں بیوی نے مجھے کس چکر میں ڈال دیا ہے۔ پہلے کسے لے جاؤں ؟
 ۲۹؍ستمبر ۲۰۰۹ء کو مبارکہ ابھی انتہائی نگہداشت والے روم میں تھی، گردن میں، ہاتھ پر، سینے پر، بازو پر مختلف کنکشنز لگے ہوئے تھے۔ ایک بازو اور ہاتھ کے الٹی طرف ڈرپیں لگانے کے لیے، ایک بازو پر بوقتِ ضرورت ٹیسٹ کرنے کی غرض سے خون لینے کے لیے، گردن اور سینے پرکہیں ڈائلسز کے لیے، کہیں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے لیے اور کہیں پتہ نہیں مزید کن کن مقاصد کے لیے کنکشن کی تاریں ہی تاریں لگی ہوئی تھیں۔ مبارکہ کیا تھی، اچھی بھلی روبوٹ دکھائی دے رہی تھی۔ جیسے روبوٹ کو بالکل انسان جیسا دکھائی دینے کا تجربہ کر لیا گیا ہو۔ ہم سارے گھر والے اسے دیکھ کر واپس گھر پہنچے۔ چائے بنانے کے لیے کہا، چائے بن کر ٹرے میں ہی چائے کے کپ رکھ کر لائی جا رہی تھی کہ اچانک میری چھ سالہ پوتی ماہ نور کمرے سے باہر کی طرف دوڑ کر گئی اور اپنی چچی کی اٹھائی ہوئی چائے کی ٹرے سے ٹکرا گئی۔ یہ حادثہ ایسے ہوا کہ ساری چائے ماہ نور پر آن گری۔ فوراً ایمبولینس کو بلایا۔ ایمبولینس پہنچی تو انہوں نے حادثہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ایک اور ایمبولینس بلا لی۔ ہم سمجھے ابھی فرسٹ ایڈ دے رہے ہیں، بعد میں پتہ چلا کہ گھر پر ہی اصل علاج شروع کر دیا گیا تھا۔ معاملہ کی سنگینی کا تب احساس ہوا جب انہوں نے ہیلی کاپٹر بھی منگا لیا۔ ماہ نور اور ا س کی امی تسنیم دونوں ہیلی کاپٹر سے من ہائم کے یونیورسٹی کلینک روانہ ہوئے۔ یہ شہر ہمارے شہر سے ایک گھنٹہ کی ڈرائیو پر ہے۔ بچوں کے اس طرح کے جلنے کے علاج کے سلسلہ میں اسے خصوصیت حاصل ہے۔ شعیب اور میں، ہم دونوں کار کے ذریعے من ہائم روانہ ہو گئے۔ من ہائم اور ویزبادن کے دونوں ہسپتال بالکل مختلف سمتوں میں واقع ہیں۔ بہر حال ابھی پہلے بحران سے نکلے نہ تھے کہ دوسرا بحران آ گیا۔ اور تیسرا بحران یکم اکتوبر کو میرے دل کا وال (شریان) کھولنے کی صورت میں پہلے سے طے کیا جا چکا تھا۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ان سارے بحرانوں میں گھرا ہوا تھا اور تب ہی میری گیارہ کتابوں کی کتاب ‘’عمرِ لاحاصل کا حاصل’‘ کا لائبریری ایڈیشن اور جدید ادب کا جنوری ۲۰۰۹ء کا شمارہ ریلیز ہو چکا تھا۔ اسی دورانیہ کے اندر میں نے ارشد خالد کے عکاس انٹرنیشنل کے نارنگ نمبر کے لیے بنیادی نوعیت کا کام بھی نمٹایا۔ اسی دوران ہی میں نے نہ صرف اپنی کتاب ‘’ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور مابعد جدیدیت’‘ کی بیک وقت ہندوستان اور پاکستان سے اشاعت کو ممکن بنایا بلکہ جنوری ۲۰۱۰ء کا جدید ادب کا شمارہ بھی انہیں ایام میں مکمل کر کے اشاعت کے لیے بھیج دیا۔ اور اب جبکہ نومبر کے آخری عشرہ کے شروع میں یادوں کا یہ باب لکھ رہا ہوں تو جدید ادب کا اگلے سال جنوری ۲۰۱۰ء کا شمارہ جدید ادب کی ویب سائٹ پر ریلیز کیا جا چکا ہے اور کتابی صورت میں چھپ جانے کی اطلاع بھی آ گئی ہے۔ اور انشاء اللہ نومبر کے مہینے کے اندر ہی کتابی صورت میں ریلیز بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی اثناء میں غزلیں، نظمیں بھی تخلیق ہوئیں، ایک نیا افسانہ بھی لکھا گیا، اور اب یادوں کا یہ نیا باب بھی مکمل کر رہا ہوں۔ انہیں ایام کے دوران ہی خدا نے مجھے چوتھا پوتا شیراز حیدر بھی عطا کر دیا۔ یہ شعیب کا دوسرا بیٹا ہے۔ فالحمدللہ علی ذالک!
جب شیراز کی پیدائش ہوئی مبارکہ ہسپتال میں تھی۔ ہسپتال سے چھٹی ملتے ہی سب سے پہلے اس ہسپتال میں گئی جہاں شیراز کی پیدائش ہوئی تھی، وہاں پوتے کو دیکھا، چوما، دعا کی اور پھر گھرواپس آئی۔ اپنے دو نواسوں اور ایک پوتے کے ختم قرآن کا ذکر یادوں کے ایک باب میں کر چکا ہوں۔ اس عرصہ میں مزید پیش رفت یہ ہوئی کہ گزشتہ برس عثمان کے بیٹے اور میرے دوسرے پوتے جہاں زیب نے فروری میں ساڑھے پانچ برس کی عمر میں قرآن شریف ختم کر لیا۔ اس برس جولائی میں جہانزیب کی بہن علیشا نے پونے پانچ سال کی عمر میں قرآن شریف ختم کر لیا۔ ماہ نور بھی بیس پارے پڑھ چکی ہے اور اگلے دو تین ماہ تک اس کے ختم شریف کی بھی امید ہے۔ سو اپنی ذاتی زندگی کی اس سال کی اچھی خبروں میں ان خبروں کو بھی شمار کرتا ہوں۔ ایک بار پھر شکر الحمدللہ!
 یہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ویسے تو سارے بچے بہت فرمانبردار اور خیال رکھنے والے ہیں۔ ہمارے عمرہ اور حج کی توفیق میں ان کا بھرپور ساتھ شامل رہا ہے۔ جب مجھے کسی ذاتی کام کے لیے رقم کی ضرورت پیش آئی اور میں نے تینوں بیٹوں کے ذمہ کچھ رقم لگائی، سب نے وہ رقم فراہم کر دی۔ عام حالات کے مطابق میرے کہے بغیر بھی طارق نے دو تین اہم مواقع پر از خود میری ضرورت کا احساس کرتے ہوئے مجھے خاصی معقول رقم فراہم کی ہے۔ تاہم مجھے پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ بڑا بیٹا شعیب ایک عرصہ سے ہر سال ایک معقول رقم خاموشی کے ساتھ ماں کو دے رہا ہے۔ مجھے کئی برس کے بعد اب علم ہواتو میں نے دونوں ماں بیٹے کو نصیحت کی کہ مجھے اس کا علم ہونا چاہیے تھا تاکہ میں تحدیث نعمت کے طور کہیں اس کا ذکر کر دیتا۔ خدا کا شکر ہے کہ اب مجھے اس کا ذکر کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ 
 یکم اکتوبر کو میری انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی ہوئی۔ ایک سائڈ پر سکرین پر سارا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ 
سمندروں ڈوہنگے دل دریا کی گہرائیوں میں تو کئی بار غوطہ زن ہوا ہوں، لیکن اس کی مواجی کا منظر ایک اور طرح سے دیکھ رہا تھا۔ دائیں ران سے سوراخ کر کے تار وہاں سے گزارا گیا جو بائیں جانب مقیم دل تک پہنچنا تھی۔ تو جناب یہ دل بائیں جانب ہی کیوں ہوتا ہے اور دائیں جانب سے چل کر ہی بائیں جانب والے دل کا علاج کیوں کیا جاتا ہے۔ ادب میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے مکاتب فکر کی کہانی بھی شاید ران اور دل کے رشتے کی کہانی ہے۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ۔ 
 میں ادب میں دائیں بازو، بائیں بازو والوں کی کارگزاری کے ساتھ مشینوں کی انسان دوستی کا منظر بھی دیکھ رہا ہوں۔ علامہ اقبال نے اپنے حساب سے کہہ دیا تھا ؎
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
 لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ مشینیں دل کے لیے موت کا نہیں بلکہ حیات کا پیغام بن رہی ہیں۔ پیس میکر کی صورت میں دل کا محافظ تو متعارف ہو چکا ہے، حال ہی میں جاپان کے سائنس دانوں نے پلاسٹک کا ایسا دل تیار کیا ہے جو کارکردگی کے لیے لحاظ سے اب تک کے سارے متبادل ذرائع سے زیادہ موثر اور مفید ثابت ہو گا۔ 
 علامہ اقبال کی بعض باتیں آج بھی درست ثابت ہو رہی ہیں، لیکن مشینوں کو دل کے لیے موت قرار دینے کی طرح ان کی بعض باتیں درست ثابت نہیں ہوئیں۔ انہوں نے مغربی تہذیب کو للکارتے ہوئے کہا تھا۔ 
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، نا پائیدار ہو گا
 مغربی تہذیب نے تب سے اب تک خود کشی نہیں کی، البتہ عالمِ اسلام کے کئی خطوں سے چلتی ہوئی خود کش حملوں کی وبا اب پاکستان کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ میں یہاں کسی موازنۂ مشرق و مغرب میں نہیں پڑ رہا۔ بس اتنا سا اشارہ ہی کافی ہے۔ بات ہو رہی تھی، جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان کو ملنے والی سہولتوں کی۔ میرے لیے آپریشن کا سارا مرحلہ خیر و خوبی کے ساتھ مکمل ہو گیا تھا۔ کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد شدید تکلیف اور اضطراب کا سامنا کرنا پڑا۔ دائیں ٹانگ کو پٹیوں سے جکڑ دیا گیا تھا اور اگلے چھ گھنٹے تک اس ٹانگ کو ہلاناسختی کے ساتھ منع تھا۔ چھ گھنٹے تک ٹانگ کو نہ ہلانے کا احساس اتنا جان لیوا ثابت ہوا کہ میں اس کرب کو بیان ہی نہیں کر سکتا۔ رات مجھے ہسپتال ہی میں گزارنا تھی۔ رات کو ساڑھے دس بجے کے قریب دائیں ٹانگ کو جکڑ بندی سے نجات ملی تو میں نے فوراً ہسپتال کی جانب سے پہنایا گیا ملنگوں جیسا چولا اتارا، اپنا لباس پہنا اور چہل قدمی کرتا ہوا ہسپتال سے باہر نکل آیا۔ سردی کے باوجود کھلی فضا میں بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔ باری باری سارے بچوں کو فون کیا۔ سب کو اپنی خیریت سے آگاہ کیا، ان سب کی خیریت دریافت کی۔ مبارکہ اور ماہ نور کا حال پوچھا۔ گھنٹہ بھر باہر گھومنے کے بعد ہسپتال میں واپس آ گیا۔ اگلے دن دوپہر کے بعد مجھے گھر جانے کی اجازت مل گئی۔ اسی دن شام کو مبارکہ سے ملنے گیا۔ وہ انتہائی نگہداشت والے روم سے اب درمیانی نگہداشت والے روم میں منتقل ہو گئی تھی۔ ہوش میں آ گئی تھی لیکن کوئی جنبش از خود نہیں کر سکتی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ میں خود اپنے دل کے معاملے سے نمٹ کر آ رہا ہوں۔ ابھی اسے اپنے بارے میں یا ماہ نور کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ جیسے جیسے مبارکہ رو بصحت ہو رہی تھی ویسے ویسے ماہ نور کی حالت بھی بہتر ہو رہی تھی۔ اس کا چہرہ تو خدا نے اپنے فضل سے محفوظ کر دیا تھا۔ سینے کے بیشتر داغ بھی کم ہو رہے تھے اور ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بچی بہت چھوٹی ہے اس لیے ایک سے دو سال تک یہ داغ بھی دور ہو جائیں گے۔ 
 مبارکہ کو جب مختلف کنکشنز سے آزاد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو جہاں جہاں سے سوئی وغیرہ کو ہٹاتے، وہاں گہرے سرخ داغ نمایاں ہو جاتے۔ تن ہمہ داغ داغ شد والا منظر تھا۔ پنبہ کجا کجا نہم کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ ایک دن کے بعد یہ گہرے سرخ داغ جیسے نیلے سے رنگ میں ڈھلنے لگے اور مجھے پنجابی کا ‘’تن من نیل و نیل’‘ یاد دلانے لگے۔ (ویسے کمال ہے کہ ایک مہینہ کے اندر ہی وہ گہرے داغ ایسے ختم ہو گئے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں )۔ 
 ۲۳؍اکتوبر کو مبارکہ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی لیکن اس خبر کے ساتھ کہ ہفتہ میں تین بار ڈائلسز ہوا کرے گا۔ سرکاری طور پرہی سارا انتظام کیا گیا ہے۔ مقررہ وقت پر ٹیکسی آتی ہے اور گھر سے ہسپتال لے جاتی ہے، چار سے پانچ گھنٹے کے درمیان ڈائلسز کا عمل مکمل ہوتا ہے تو ٹیکسی گھر چھوڑ جاتی ہے۔ مبارکہ کی بیماری، اپنی پوتی ماہ نور کے حادثہ اور اپنے دل کے علاج تک تین چار ہسپتالوں سے واسطہ رہا۔ کہیں بھی امیر یا غریب، جرمن یا غیر جرمن کا فرق دکھائی نہیں دیا، کہیں بھی ہسپتال کے عملہ میں دیکھ بھال کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ جو مسیحا نہ مقام تھا ہر جگہ دکھائی دیا۔ انسانی خدمت کا ایسا اعلیٰ معیار کہ سوچنے بیٹھیں تو آنکھیں شکر گزاری سے بھیگ جائیں۔ ہمارے معاشرے کے لوگ اپنی ذہنیت کے مطابق ان کے بارے کیا کچھ باور کرتے ہیں لیکن میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اپنی خدمتِ انسانی کے اعلیٰ ترین معیار کے باعث ان لوگوں نے سچ مچ اپنی جنت کمالی ہے۔ 
 اپنی اس علالت کے نتیجہ میں مبارکہ کا وزن پچاس کلو کے لگ بھگ رہ گیا۔ بیشتر کپڑوں کی نئی فٹنگ کرانی پڑی، چھوٹی بیٹی کا شادی سے پہلے کا ایک کوٹ پورا آ گیا۔ اب بہو بیٹیوں میں حسرت کے ساتھ مبارکہ کو دیکھا جاتا ہے کہ ہائے امی! آپ اتنی سمارٹ ہو گئی ہیں۔ 
 میرے دل کا وال(شریان) ٹھیک کر دیا گیا تھا لیکن سانس پھولنے کی کیفیت نہیں جا رہی تھی۔ ڈاکٹر اور ہسپتال کے دو معائنوں کے بعدفرینکفرٹ کے یونیورسٹی کلینک کے ریڈیالوجی نیوکلیر میڈیسن کے شعبہ میں چیک اپ کے لیے بھیج دیا گیا۔ یہ چار گھنٹے طویل دورانیے کا چیک اپ تھا۔ پہلے مرحلہ میں جب مجھے انجکشن لگا کر سائیکلنگ کرائی جا رہی تھی تو ڈاکٹر بار بار پوچھتی تھی کہ دل میں کوئی گھبراہٹ تو نہیں ہو رہی؟میں مزے سے سائیکل چلائے جا رہا تھا اور ہر بار بتا رہا تھا کہ دل کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہو رہی، البتہ سائیکل چلاتے ہوئے ٹانگوں میں درد ہو رہا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں جب مجھے لٹا کر اوپر ایک مشین لائی جانے لگی تو شدید گھبراہٹ ہونے لگی۔ میرے دونوں ہاتھ اس طرح سے میرے سر کے نیچے تہہ کر دئیے گئے تھے کہ میں اُٹھ بھی نہ سکتا تھا۔ میں نے کہا میں اپنے جوتے اتارنا چاہتا ہوں، جواب ملا آپ اسی طرح پڑے رہو، ہم خود جوتے اتار دیتے ہیں۔ پندرہ منٹ تک کسی جنبش کے بغیر پڑے رہنا تھا، یہ بھی ٹانگ سیدھی رکھنے جیسا ہی کربناک تجربہ تھا۔ کھجلی جو ویسے کبھی نہ ہوتی تھی اب ہر جگہ ہوئی جا رہی تھی لیکن کہیں بھی کھجانے کی اجازت نہ تھی۔ بہر حال پندرہ منٹ کے بعد اس مشکل سے نجات ملی۔ ایک وقفہ کے بعد جب ایک بار پھر یہی معائنہ دہرایا گیا تو پھر میں نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پا لیا تھا۔ دوسری بار یہ معائنہ بخیر و خوبی مکمل ہو گیا۔ سارے چیک اپ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مزید دو وال بند پائے گئے۔ اور اب ایک بار پھر آپریشنل پراسیس سے گزرنا ہو گا۔ گھر آ کر میں نے مبارکہ سے پنجابی میں کہا کہ ‘’سِرتے اک وال نئیں ریہا،تے اے ہن دل دے والاں دے دوالے ہو گئے نیں ‘‘۔ بہر حال ۳ نومبر کو ایک بار پھر دل کی انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی ہونا قرار پائی۔ 
 میں اپنے دوست احباب کو بتا رہا تھا کہ زندگی بھر جنہیں دل کھول کر دکھانے کی حسرت رہی وہ تو پوری نہیں ہوئی، لیکن یہ لوگ نہ صرف دل میں جھانکتے رہتے ہیں بلکہ جب جی چاہتا ہے اسے کھول کر دیکھ بھی لیتے ہیں، بلکہ بار بار دیکھتے جا رہے ہیں۔ بہر حال ۳ نومبر کو یہ مرحلہ بھی خیرو خوبی سے گزر گیا۔ رات کو چھ گھنٹے سیدھے لیٹے رہنے اور دائیں ٹانگ کو بالکل نہ ہلانے کی ہدایت پر عمل کے لیے میں اس بار ذہنی طور پر تیار تھا۔ میں نے نیند کی گولی کی خواہش ظاہر کی۔ ڈاکٹر نے ڈرپ میں ہی ہلکی سی مقدار میں دوا دے دی۔ اس سے نہ تو گہری نیند آئی اور نہ ہی بے چینی والی بیداری رہی۔ نیم خوابی کی سی کیفیت تھی۔ سو اس بار زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ جب پٹی کھولی گئی تو میں اطمینان اور آرام کے ساتھ اُٹھا۔ ہسپتال والوں کا ملنگوں والا چولا اتارا، اپنالباس پہنا اور اس بار اپنے وارڈ کے باہر لان میں کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ ہسپتال سے باہر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ 
 دوسرے دن معمول کے مطابق چھٹی مل جانی تھی لیکن ایک مہینے میں دوسری بار اس مرحلہ سے گزرنے کے باعث مجھے احتیاطاً ایک دن کے لیے مزید روک لیا گیا۔ ۵؍ نومبر کو چھٹی دی گئی اور میں مزے مزے سے گھر پہنچ گیا۔ 
 پہلی بار آپریشن وارڈ سے جنرل وارڈ تک پہنچا تھا تو طارق، نازیہ اور شایان فوراً ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ اب دوسری بار جنرل وارڈ میں پہنچا تو مبارکہ، طارق، نازیہ اور شایان کے ساتھ پہنچ گئی تھی۔ دوسرے دن جب چھٹی نہیں ملی تو مبارکہ، شعیب اور عثمان ایک ساتھ ملنے آ گئے۔ اب عمر کے اس حصے میں اور بیماریوں کی اس یلغار میں مبارکہ اور میں ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔ بعض عزیز اور دوست احباب ہم دونوں کی خیریت دریافت کرنے لگے تو میں نے کہا ہم دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی دیکھ ریکھ کرتے رہتے ہیں ۔ مثلاً میں مبارکہ سے کہتا ہوں آپ آرام سے بیٹھیں، میں چائے تیار کر کے لاتا ہوں۔ مبارکہ جواباً کہتی ہے نہیں آپ آرام سے بیٹھیں میں چائے تیار کر کے لاتی ہوں۔ ہم دونوں کا جذبہ دیکھ کر چائے کہتی ہے آپ دونوں آرام سے بیٹھیں میں خود ہی تیار ہو کر آ جاتی ہوں۔ 
 ۱۹؍ نومبر۲۰۰۹ء کو ڈاکٹر کو میں نے بتایا کہ سانس پھولنے کا مسئلہ جوں کا توں ہے، تو اس نے کہا کہ ایک بار پھر انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی کے مراحل سے گزرنا ہو گا۔ میں نے کہا ۳؍دسمبر کے بعد کی کوئی تاریخ طے کر لیں۔ تب تک خواب کی تعبیر نہ آئی تو پھر جیسے چاہیے ہمارے دل پر مشقِ ناز فرمائیے۔ 
 جب میرے ۳ ؍دسمبر والے خواب کی بات گھر کے تقریباً سارے افراد تک پہنچ گئی تو میں نے مناسب سمجھا کہ خوابوں اور ان کی تعبیروں سے دلچسپی رکھنے والے بعض خاص دوستوں کو بھی خواب بتا دیا جائے۔ اس سلسلہ میں ہالینڈ سے جمیل الرحمن، انگلینڈ سے نصیر حبیب اور جرمنی سے خالد ملک ساحل تین دوستوں کا بطور خاص حوالہ دوں گا۔ خالد ملک ساحل صاحب اتنے رقیق القلب نکلے کہ مجھے لگا میری فوتگی پر وہ جس طرح رونے لگیں گے، انہیں دلاسہ دینے کے لیے شاید مجھے خود ہی اٹھ کر انہیں چپ کرانا پڑے گا۔ تاہم انہوں نے تعبیر یہ کی کہ ۳؍دسمبر سے آپ کی زندگی میں ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گا، جس میں روحانی پہلو زیادہ ہو گا۔ لگ بھگ اسی انداز کی بات نصیر حبیب صاحب نے ہنستے ہنستے اور بعض رنگین اشارے دے کر کر دی۔ جمیل الرحمن سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ۳ دسمبر کی تاریخ کو ایک طرف رکھیں۔ اور انّی متوفّیک کے اعداد نکالیں۔ اعداد نکالے تو ۹ نکلے۔ میں نے کہا اب تو بات واضح ہو گئی کہ ۲۰۰۰ کی صدی میں ۲۰۰۹ ایک بار ہی آنا ہے۔ اس کی دوسری تاویل کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ۲۰۰۹ء سے اگلے نو برس تک زندگی رہے گی اور ۲۰۱۸ء میں وفات ہو گی۔ اس پر جمیل الرحمن نے کہا کہ میرے حساب سے ۲۰۱۶ء کا سال نکلتا ہے۔ کیونکہ ۲۰۱۶ کے اعداد نو نکلتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں یہ بھی قرینِ قیاس ہے۔ جب مبارکہ کو اس حساب کتاب کا علم ہوا تو کہنے لگی کہ ۲۰۲۵ ء اور ۲۰۳۴ء کے اعداد بھی تو نو ہی نکلتے ہیں۔ میں نے کہا کہ صرف ۲۰۳۴ تک ہی کیوں پھر ۲۰۵۲ء کر لیں۔ اس کا عدد بھی ۹ نکلتا ہے اور میری زندگی کی سنچری بھی پوری ہوتی ہے۔ ۹ کے پھیر میں جمیل الرحمن نے ڈال دیا ہے ورنہ خواب سیدھا سادہ ۳؍دسمبر۲۰۰۹ء سے متعلق ہے۔ پورا ہو گیا تو بھی ٹھیک اور پورا نہ ہوا تو بھی خیر۔ ۔ ۔ لیکن نو کے عدد سے تاویل و تعبیر کا ایک طویل تر سلسلہ بنتا جا رہا ہے۔ 
 اتنی تعبیریں یکجا ہوتی گئیں تو میرا بے چارہ خواب اپنی موت آپ مر جائے گا۔ شاید دوستوں نے مجھے بچانے کے لیے یہی ترکیب نکالی ہو کہ اتنی تعبیریں اور تاویلیں جمع کر دو کہ سب کچھ خلط ملط ہو جائے۔ کثرتِ تعبیر کے ہاتھوں خواب کے انجام سے مابعد جدید والوں کا ڈھکوسلہ بھی مزید سمجھ میں آتا ہے۔ لیجیے صاحب معنی کو ہمہ وقت ملتوی کراتے رہیے، موت سے جان بچاتے رہیے، لیکن تا بہ کے! 
 میں نے اپنی یادوں کے باب ’‘دعائیں اور قسمت’‘میں بڑی وضاحت سے لکھا تھا: 
 ‘’چند قرآنی اور مسنون دعائیں مجھے بچپن میں رٹا دی گئی تھیں۔ ان کی بھی ایک اہمیت ہے لیکن میں جب کسی دُکھ کی حالت میں ہوتا ہمیشہ اپنی زبان میں خدا سے دعا کرتا۔ بہت بار ایسا تجربہ ہوا کہ میں نے دعا کی اور اسی حالت میں مجھے دعا کی قبولیت کا یقین بھی ہو گیا۔ جب بارہا ایسا ہوا تو میں نے اپنے بعض قریبی عزیزوں کو اس بارے میں بتایا۔ اس بتانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو دعا بظاہر قبول ہو چکی تھی، ایک لمبے وقفہ تک معلّق ہو گئی۔ دو تین بار ایسے جھٹکے لگنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ قبولیت دعا کا نشان تو خدا کے مامورین اور اولیاء کے لئے مخصوص ہے۔ میری کسی بھی دعا کا قبول ہونا میرا انفرادی معاملہ ہے۔ اگر میں اسے دوسروں کو بتاؤں گا تو مقامِ ولایت پر قدم رکھنے جیسی جسارت کروں گا، جس کا میں اہل ہی نہیں۔ سو اسی لئے وہ دعائیں جن کی قبولیت کے بارہ میں دوسروں کو بتا دیتا ہوں، لمبے عرصہ کے لئے ردّ و قبول کے درمیان معلّق ہو جاتی ہیں اور یہی میرے افشاء کی سزا ہوتی ہے۔ 
عجب سزا ہے کہ میرے دعاؤں والے حروف 
نہ مسترد ہوئے اب تک نہ مستجاب ہوئے ‘‘ 
 اپنے خواب اور غنودگی کی حالت میں قرآنی الفاظ کے زبان پر جاری ہونے کے تجربہ کو قبولیت دعا سے ملتا جلتا یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تو میں نے جو اسے مقررہ وقت آنے سے پہلے اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں میں اتنا زیادہ بتا دیا ہے تو کہیں لا شعوری طور پر میں نے یہی تو نہیں چاہا کہ تین دسمبر کا سن سچ مچ معلق ہو جائے۔ اور چاہے پھر بعد میں تاریخ بھی ادل بدل ہو جائے۔ بظاہر ایسا نہیں ہے لیکن انسانی لا شعور کا کیا کہا جا سکتا ہے۔ یوں بھی دل دریا سمندروں ڈوہنگے۔ مجھے موت کے سلسلہ میں صرف ایک خواہش شدت کے ساتھ رہی ہے کہ جب بھی آئے بہت آرام سے آئے۔ جیسے ہلکی سی اونگھ میں گہری اور میٹھی اونگھ آ جائے اور میں اسی میٹھی اونگھ میں آگے نکل جاؤں۔ روح اور جسم کے حوالے سے میں اپنی بساط کے مطابق کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔ یہاں اپنی سوچ میں ہوئی پیش رفت کا ہلکا سا ذکر بھی کر دوں۔ جسم اور روح لازم و ملزوم ہیں۔ جسم کے اندر ہی کہیں کوئی مین سوئچ ہے (جسے ابھی جدید سائنس دریافت نہیں کر پائی)۔ وہ مین سوئچ آف کر دیا جاتا ہے تو ہم مر جاتے ہیں۔ جسم سے گہرے اور مستقل ربط کے باوجود مجھے روح کی ایک حد تک الگ حیثیت کا بھی پرچھائیں جیسا ادراک ہوتا ہے۔ اس سے جسم کی نفی نہیں ہوتی لیکن روح جسم کے ساتھ اس سے سوا بھی ہے۔ مثال کوئی بہت واضح نہیں ہے لیکن اسے کسی حد تک اور محض مثال کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ سیٹلائٹ سے جو پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں، وہ اپنے اظہار کے لیے ٹی وی سیٹ کے محتاج ہیں۔ ٹی وی کے بغیر وہ خود کو ظاہر نہیں کر سکتے، یوں ٹی وی اور سیٹلائٹ سے آنے والے پروگرام میں گہرا ربط ہے۔ تاہم ٹی وی کے بغیر بے شک وہ پروگرام خود کو ظاہر نہ کر پائے لیکن وہ یہیں کہیں موجود تو ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر میرے لیے بہت سا مزید غور و فکر کا سامان موجود ہے۔ تاہم اس سے روح اور جسم کے لازم و ملزوم ہونے کے اس تصور کی نفی نہیں ہوتی جو میں اپنی یادوں کے باب ‘’روح اور جسم’‘ میں بیان کر چکا ہوں۔ یہ نئی سوچ در اصل اسی سوچ کی محض توسیع اور اسی کے اندر ایک نئے زاویے کی دریافت کا احساس دلاتی ہے۔ 
 بہر حال دوستوں کی تعبیروں کو بھی ایک حد تک مد نظر رکھا جائے تواب تین امکانات ہیں، اسی سال ۲۰۰۹ء کے ۳ دسمبرکو مجھے بارگاہِ الٰہی سے بلاوا آ جائے۔ یا پھر ۲۰۱۶ء یا ۲۰۱۸ء تک اسے موخر سمجھا جائے۔ ذاتی طور پر میرے دامن میں حبّ رسولؐ کے طور پر کچھ بھی خاص نہیں ہے۔ ایک ہلکا سا احساس اور بس۔ میں نے ایک عرصہ پہلے سے یہ خواہش کر رکھی ہے کہ میرے پاس نذر گزارنے کو اور کچھ بھی نہیں ہے سو اپنی عمر کا نذرانہ بارگاہِ رسالت میں پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ میری عمر ۶۳ برس سے تجاوز نہ کرے، اس کے اندر ہی اندر کہیں بھی مکمل ہو جائے۔ 
 بلاشبہ زندگی خدا کا عطا کردہ بہت بڑا انعام ہے، اس کے لیے خدا کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ موت بھی بر حق ہے، خدا جب چاہے بلا لے، میں اس کے لیے بھی ہمیشہ اس کی رضا پر راضی اور کوچ کے لیے کمربستہ ہوں۔ بس اپنی عمر کے ۶۳ برس سے تجاوز نہ کرنے کی خواہش کے پیش نظر مجھے ۲۰۱۶ء یا ۲۰۱۸ء کے مقابلہ میں ۲۰۰۹ء کا سال ہی زیادہ مناسب لگ رہا ہے۔ آگے جو اس کی مرضی!
 ۳دسمبر ۲۰۰۹ء والی تعبیر سچ ثابت ہو گئی تواس لیے بھی خوشی ہو گی کہ یادوں کا یہ باب چھپتے وقت پورا باب بزبانِ حال کہہ رہا ہو گا۔ 
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
خواب کی تعبیر کچھ اور ہوئی یا سارا خواب ہی غلط ہو گیا تو پھر ۴؍دسمبر کو ایک دو سطروں کا اضافہ کر کے یہ باب مکمل کر لوں گا۔ وماتوفیقی الا باللہ! 
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
 (یہ تحریر میں نے ۲۳؍ نومبر ۲۰۰۹ء کو مکمل کر لی تھی۔ آج۲۶؍ نومبر تک اس میں ہلکے پھلکے اضافے کیے اور آج ہی ان احباب کو ای میل سے یہ فائل بھیج رہا ہوں :شمس الرحمن فاروقی(الٰہ آباد)، محمد عمر میمن(امریکہ)، شمیم حنفی (دہلی )، ڈاکٹر علی جاوید(دہلی)، منشا یاد(اسلام آباد)، ایوب خاور(کراچی)ڈاکٹر صغریٰ صدف(لاہور)، جمیل الرحمن (ہالینڈ)، خورشید اقبال (۲۴ پرگنہ)، خالد ملک ساحل (جرمنی)، شبانہ یوسف(انگلینڈ )، ارشد خالد(اسلام آباد)، احمد حسین مجاہد(ایبٹ آباد)، سلیمان جاذب(دبئی)۔ ۔ ۔ ح۔ ق)
۲۸نومبر کو یہ فائل سلطان جمیل نسیم (کینیڈا)، عبداللہ جاوید اور شہناز خانم عابدی(کینیڈا)کو بھی بھیج دی گئی۔ 
٭٭


۴؍دسمبر کو لکھا جانے والا اضافی نوٹ: اس وقت جرمنی کے وقت کے مطابق رات کے بارہ بج کر سات منٹ ہو چکے ہیں، ۳؍دسمبر۲۰۰۹ء گزر چکا ہے، ۴؍دسمبر کا دن شروع ہو چکا ہے۔ ویسا کچھ نہیں ہوا جیسا میں سمجھ رہا تھا۔ لیکن منشا یاد کے افسانہ ‘’بیک مرر’‘ کے اختتام کے مطابق ایسا ہو تو سکتا تھا۔ (ح۔ ق)
٭٭٭
ہرمن ہیسے کا ناول’’سدھارتھ’‘ 

حیدر قریشی (جرمنی)


’’سدھارتھ’‘ پر بات کرنے سے پہلے ہرمن ہیسے کے بارے میں چندمعروف باتیں دہرانا ضروری ہے۔ تاکہ جو قارئین ان سے واقف نہیں انہیں بھی اس کا علم رہے۔ ہرمن ہیسے کی پیدائش۲؍ جولائی ۱۸۷۷ء میں جرمنی کے شہرCalw/Württemberg میں ہوئی۔ خاندانی طور پر وہ ایک راسخ العقیدہ مسیحی پس منظر کا حامل تھا۔ تاہم اپنے مذہبی سسٹم کے جبر کے سامنے اسے مختلف صورتوں میں بغاوت کرنا پڑی۔ ۱۸۹۱ء میں وہ مذہبی تعلیم دینے والے اسکول سے بھاگ گیا۔ ایک موقعہ پر اس نے خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی۔ اس کے ابتدائی ناولوں میں ایسی بے چینی ملتی ہے جو کسی جستجو میں بھٹکنے جیسی ہے۔ اس کا مذہبی سسٹم، اور اس کی سوسائٹی اس جستجو میں مزاحم ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ ۱۹۱۱ء میں ہرمن ہیسے نے سیلون، سنگا پور، سماٹرا اور انڈیا کا سفر کیا۔ ۱۹۱۲ء میں اس نے جرمنی کو خیر باد کہا۔ ۱۹۱۴ء کی پہلی جنگ عظیم کے وقت وہ جرمنی کی فوج میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوا۔ نظر کی کمزوری کے باعث اسے محاذ جنگ پر بھیجنے کی بجائے جنگی قیدیوں کی نگرانی کی ڈیوٹی دی گئی۔ وہیں اسے جنگی قیدیوں کے ذریعے جنگ کے دوسرے رُخ کو دیکھنے کا موقعہ ملا، اسے جنگ سے نفرت ہو گئی اور اس نے رزمیہ شاعری کے خلاف لکھا۔ اس پر دائیں بازو کے متعصب قلم کاروں نے اسے غدار قرار دے کر اس کے خلاف مہم شروع کی، وہ پھر سوئٹزر لینڈ چلا گیا۔ اس نے تین شادیاں کیں۔ ازدواجی زندگی خوشگوار نہ تھی۔ شروع میں ایک بار ایک عالم نے اس کا روحانی علاج کرنا چاہا تھا۔ بعد میں ایک بار اس نے خود ژونگ سے اپنا نفسیاتی تجزیہ کرایا۔ یہ ۱۹۱۶ء کی بات ہے۔ در اصل اسی برس ہیسے کے والد کی وفات ہوئی، اس کا بیٹا ایک شدید بیماری کا شکار ہوا اور اس کی بیوی پاگل ہو گئی۔ اسی برس اسے ہم عصر دانشوروں کی بے حسی نے بھی گہرے بحران میں مبتلا کیا۔ ۱۹۱۹ء میں اس نے اپنی تحریروں اور جوابی خطوط کے ذریعے جرمن نوجوانوں کی ذہنی و روحانی جلا کے لیے کاوش کی۔ ۱۹۲۲ء میں اس کا ناول’’سدھارتھ’‘ شائع ہوا۔ ۱۹۲۳ء میں ہیسے کو سوئس نیشنلٹی مل گئی۔ ۱۹۴۶ء میں ہرمن ہیسے کو ادب کا نوبل پرائز دیا گیا۔ اس کے بعد سے اپنی وفات ۹؍ اگست۱۹۶۲ء تک اس نے اکا دکا دوسری تحریریں تو پیش کیں لیکن پھر کوئی نیا ناول نہیں لکھا۔ ہیسے کی تحریروں میں نازیوں کے خلاف کھلی سیاست تو نہیں ملتی لیکن اس کی تحریریں بین السطور ایسا تاثر قائم کرتی ہیں۔ اب ’’سدھارتھ’‘ کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے :
 سدھارتھ نامی ایک نوجوان برہمن گھرانے کا فرد ہے۔ اپنی مذہبی روایات سے اکتاہٹ اور بیزاری محسوس کرتے ہوئے اور اپنے اندر جنم لینے والے سوالات کے جواب کی تلاش میں وہ اپنے گھر کو خیر باد کہہ کر سادھوؤں کے ایک گروہ کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ اس کا بچپن کا دوست گووند بھی اس کے ساتھ نکل آتا ہے۔ سادھوؤں کے ساتھ تین برس تک سدھارتھ نے بہت ریاضتیں کیں اور ان کے ثمرات کے طور پر بہت کچھ حاصل کیا۔ تین برس کے بعد اس نے گوتم بدھ کے بارے میں کچھ سنا اور پھر وہ گووند کے ساتھ گوتم بدھ سے ملنے کے لیے سادھوؤں سے الگ ہو جاتا ہے۔ گوتم بدھ سے ملاقات کافی ایمان افروز ہوتی ہے۔ گووند توگوتم بدھ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو جاتا ہے لیکن سدھارتھ گوتم کی عظمت اور روحانیت کو تسلیم کرنے کے باوجود اپنی جستجو کو خود مکمل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ گوتم بدھ سے رخصت ہو کر ایک نئے سفر پر نکلتا ہے۔ ایک ملاح واسو دیو اسے دریا کے دوسرے کنارے پہنچاتا ہے لیکن یہ اس سے معذرت کرتا ہے کہ میرے پاس تمہیں معاوضہ دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ دریا کے دوسرے کنارے سے وہ ایک شہر میں داخل ہوتا ہے۔ وہاں ایک طوائف کملاسے عشق کرتا ہے اور اس سے کام رس کی جانکاری حاصل کرتا ہے۔ اسی کے توسط سے ایک کاروبای شخص کے ہاں ملازم ہو جاتا ہے اور پھر خود ایک بڑے کاروبار اور باغ کا مالک بن جاتا ہے۔ جنسی لذت آفرینی اور دنیاوی دولت حاصل کرنے کے بعد ایک دن کسی کو بتائے بغیر سب کچھ تیاگ کے شہر سے نکل جاتا ہے۔ جنگل میں اپنے بچپن کے دوست گووند سے ملاقات ہوتی ہے۔ گووند اسے پہچان نہیں پاتا۔ جنگل سے سدھارتھ پھر اسی دریا کے کنارے پہنچتا ہے اور وہی ملاح واسو دیو اسے ملتا ہے۔ اس بار بھی اسے ملاح کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تعارف ہونے پر واسو دیو اسے اپنی جھونپڑی میں رہنے کی پیش کش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ وہیں رہ پڑتا ہے۔ یہاں وہ واسو دیو کے ذریعے دریا کو سننے کے تجربہ میں پختگی حاصل کرتا ہے۔ سدھارتھ کے تیاگ کی خبر پا کر کملا اپنا پیشہ چھوڑ دیتی ہے اور گوتم بدھ کی چیلی بن کر اپنا باغ اور ساری دولت گوتم بدھ کے مشن کو سونپ دیتی ہے۔ جب گوتم بدھ کے وقت آخر کی خبر پھیلتی ہے تو ہندوستان بھر سے ان کے شاگرد اور عقیدتمند ان کی آخری زیارت کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کملا بھی اسی مقصد کے تحت شہر سے نکلتی ہے۔ اس کا گیارہ سالہ بیٹا (جو در اصل سدھارتھ سے تھا) بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ واسو دیو کی ناؤ کے قریب کملا کو ایک سانپ ڈس لیتا ہے۔ واسو اور سدھارتھ اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران سدھارتھ اور کملا کے درمیان زندگی کی الوداعی اور محبت کی یاد تازہ کرنے والی ملاقات ہوتی ہے اور سدھارتھ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ جو بچہ ہے وہ اسی کا بیٹا ہے۔ کملا کی موت کے بعد سدھارتھ کا بیٹا اس سے باغی ہوتا ہے اور وہاں سے فرار ہو جاتا ہے۔ سدھارتھ اس کی تلاش میں دریا کے دوسرے کنارے سے پھر اسی شہر تک چلا جاتا ہے جہاں کملا سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ بیٹا نہیں ملتا اور واسو دیو اسے جھونپڑی میں واپس لے آتا ہے۔ دریا کنارے پر ایک بار پھر سدھارتھ کی گووند سے ملاقات ہوتی ہے اور اس بار بھی گووند اسے پہچان نہیں پاتا۔ گووند سدھارتھ کے وقتِ آخر میں سدھارتھ کے چہرے پر گیان کی روشنی دیکھتا ہے جو اس کی مسکراہٹ سے پھوٹ رہی تھی اور جس میں زندگی کے سارے رنگ یکجا ہوئے جا رہے تھے۔ 
ہرمن ہیسے نے اس ناول میں گوتم بدھ اور سدھارتھ کو دو الگ شخصیات کے طور پر پیش کیا ہے۔ سدھارتھ کو جب گیان نصیب ہوا تھا تو وہ عظیم گوتم بدھ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ ہرمن ہیسے نے سدھارتھ کے نام کو اپنے ہیرو کے طور پر کیوں پیش کیا اور اسے گوتم بدھ سے الگ کیوں ظاہر کیا؟یہ سوال مسلسل میرے سامنے رہا۔ مجھے ایسا لگا کہ ہرمن ہیسے نے ہندوستان کے سفر کے دوران گوتم بدھ کا جو احوال سنا اُس کی روشنی میں اپنی زندگی کو دیکھنے کی کاوش کی۔ اس کاوش میں ہرمن ہیسے کو یہ احساس ہوا کہ وہ اپنے چند ازلی سوالوں کے ساتھ حقیقتِ عظمیٰ کی جستجو اور تلاش کا سفر تو کر رہا ہے لیکن اسے گوتم بدھ جیسے گیان کی منزل نصیب نہیں ہو سکتی۔ سو اس نے خود کو گیان کی روشنی سے پہلے والے سدھارتا کے مقام پر رکھا اور اسی نام کے ساتھ اپنی جستجو کا سفر شروع کیا جو ظاہر ہے ایک نا مختتم سفر ہونے کے باعث کبھی مکمل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ تاہم اس سفر میں جو کچھ پیش آیا وہ سب بجائے خوداس کی زندگی کی روحانی واردات کا حصہ شمار کیا جا سکتا ہے۔ 
 سدھارتھ نے ایک راسخ العقیدہ مذہبی گھرانہ میں آنکھ کھولی۔ وہاں کی ابتدائی تربیت تو آخر دَم تک اس کے مزاج میں شامل رہی لیکن اپنے مذہبی ماحول کی سخت گیر برہمنیت سے یا خشک ملائیت سے اسے بیزاری سی محسوس ہوئی۔ چنانچہ وہ اپنے برہمن باپ سے اپنی جستجو کے سفر پر روانہ ہونے کی اجازت مانگتا ہے۔ باپ شروع میں سختی کے ساتھ منع کرتا ہے لیکن پھر اس کی ضد دیکھ کر اسے اجازت دے دیتا ہے۔ اپنے باپ کے جذبات و احساسات اُسے تب یاد آتے ہیں جب ایک عمر کے بعد کملا سے اس کا بیٹا، اس کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیتا ہے اور بدتمیزی کر کے اس کے پاس سے بھاگ جاتا ہے، تاہم سدھارتھ کی ضد میں باپ کا احترام شامل تھا کہ جانا بھی ہے اور اجازت لے کر جانا ہے۔ جبکہ اس کا بیٹا انتہائی گستاخی اور بد تمیزی کے ساتھ پیش آنے کے بعد خود ہی بھاگ جاتا ہے۔ اور اس کی تمام تر تلاش کے باوجود اسے نہیں ملتا۔ جیسے وہ خود پھر اپنے باپ کو نہیں ملا تھا۔ 
اپنی ابتدائی تربیت اور بعد کی ریاضتوں سے سدھارتھ تین بنیادی کام سیکھتا ہے۔ اس کے اپنے بقول:
میں سوچ سکتا ہوں۔ میں انتظار کر سکتا ہوں اور میں فاقہ کر سکتا ہوں۔ بظاہر یہ ایسے کام ہیں جن کا دنیا داری کے معاملات سے کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن حقیقتاً یہ ریاضتیں دنیا داری میں بھی اس کے کام آتی ہیں۔ سوچنا محض سوچنا نہیں ہے بلکہ سوچ کا وہ مخصوص صوفیانہ انداز ہے جس میں باقی سارے خیالات اور ہر سوچ کو جھٹک کر صرف کسی ایک سوچ پر پوری توجہ مرتکز کر دی جاتی ہے۔ ارتکاز کی صلاحیت سے پوری طرح کام لینا بلاشبہ بڑی ریاضت چاہتا ہے۔ انتظار کرنا بھی ایک بڑی خوبی ہے کہ جس کام کی تکمیل کے لیے ایک معین وقت درکار ہے، اس کے لیے انتظار کرنا لازم ہے، ورنہ بے صبری سے بنا بنایا کام بھی خراب ہو جاتا ہے۔ فاقہ کرنا، انتظار کے عرصہ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ خالی جیب انسان فاقہ کر سکے تو دستِ سوال دراز کرنے سے بچ سکتا ہے۔ لیکن سدھارتھ نے تو بھیک مانگنے کا کام بھی سیکھا ہوا تھا، یہ بھیک مانگنے کا کام نفس کشی کے مراحل میں اس کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ گناہ سے نجات کے دو طریقے اس ناول میں سامنے آتے ہیں۔ ایک تو سادھوؤں والا معروف تیاگ اورتجرد پسندی والا طریق ہے۔ دوسرا سدھارتھ کا کملا سے عشق والا طریق۔ مجھے اس پر اپنے ایک بزرگ کا فرمان یاد آیاکہ گناہ کو بیزار کی طرح ہو کر ترک کرو۔ میں اس کا سادہ سا مفہوم یہ سمجھتا ہوں کہ ایک بار میں اتنا گناہ کر لو کہ خود ہی اس سے بیزار ہو جاؤ۔ سدھارتھ نے کملا کے عشق میں کچھ ایسا ہی کیا۔ 
 اس ناول میں متعدد فکری سوالات اور شبہات بھی سامنے آتے ہیں اور فلسفہ و روحانی جستجو کے ایسے اشارے بھی ملتے ہیں جو پنڈتوں، پادریوں اور مولویوں کی طویل تقریروں پر بھاری ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں :
۱۔ ’’کیا ضرورت تھی کہ وہ جس پر کوئی الزام نہ تھا اپنے پاپ دھوئے جائے اور روزانہ نئے سرے سے اپنے آپ کو پوتر بنانے کی کوشش کرے؟کیا آتما خود اس میں نہیں رہتی تھی؟ کیا وہ ماخذ خود اس میں نہیں تھا؟ خود اپنے اندر اس ماخذ کو ڈھونڈنا چاہیے، اسے حاصل کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ باقی سب کچھ سراب کے پیچھے بھاگنا ہے۔ ’‘ 
۲۔ ’’گیان کیا ہے؟آتم تیاگ کیا ہے؟برت کیا ہیں ؟دَم سادھ لینا کیا ہے؟یہ سب ذات سے فرار ہے۔ ’‘ 
 ۳۔ ’’ہر شے کے جوہر میں ایسی چیز ہے جسے ہم علم نہیں کہہ سکتے۔ میرے دوست علم صرف ایک ہے جو ہر جگہ ہے، جو آتما ہے، جو مجھ میں اور تم میں اور ہر شے میں ہے، اور مجھے یقین ہوچلا ہے کہ اس علم کاسب سے بڑا دشمن نام نہاد عالم ہے’‘ 
۴۔ ’’میں ساری مذہبی تعلیمات پر شبہ کرنے لگا ہوں اور مجھے ان الفاظ پر کم ہی یقین ہے جومذہبی استادوں کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ ’‘ 
۵۔ ’’یہ بھی میں نے دریا سے سیکھا ہے، ہر چیز لَوٹ کے آتی ہے۔ ’‘ 
۶۔ ’’اس نے دریا سے ایک ہی بھید پایا ہے، ایسا بھید جس نے اس کی آتما کو جا پکڑا۔ اس نے دیکھا کہ پانی بہتا ہے اور بہے جاتا ہے اور پھر بھی ہمیشہ وہیں رہتا ہے۔ پانی ہمیشہ ایک سا رہتا ہے اور پھر بھی ہر لمحے نیا ہوتا ہے۔ ’‘ 
۷۔ ’’کیا اس بات سے تمہارا مطلب یہ ہے کہ دریا ایک ہی وقت میں ہر جگہ ہوتا ہے، اپنے منبع پر اور اپنے دہانے پر، جھرنے اور گھاٹ پر، بھنور میں اور سمندر میں، پہاڑوں پر۔ ۔ ہر جگہ اور اس کے لیے صرف لمحۂ موجود ہوتا ہے۔ نہ گزشتہ کا سایہ، نہ آئندہ کا سایہ۔ ’‘ 
اپنے مخصوص مذہبی سسٹم کے جبرسے بیزار ہو کر سادھوؤں کے ساتھ ترکِ دنیا کرنے والا سدھارتھ، سادھوؤں اور گوتم بدھ سے جدا ہونے کے بعد براہ راست دنیا داری میں آ جاتا ہے لیکن اس دنیا داری میں بھی ایک دن سب کچھ چھوڑ کر پھر سے تیاگ کی طرف نکل جاتا ہے۔ خود کما کر دنیا بنانے کے بعد تیاگ کے عمل سے گزرتے ہوئے سدھارتھ نے ملاح واسو دیوکے ہاں بسیرا کر لیا تھا۔ ملاح کی دوستی نے سدھارتھ کو دریا سے قریب کر دیا۔ وہ دریا کی آوازیں سننے لگا اور دریا کے ذریعے ہی اس نے اپنی توفیق کا گیان حاصل کیا۔ یوں واسو دیو عام زندگی کا ایک ایسا کردار ہے جو کوئی عالم نہ ہوتے ہوئے جنگل اور دریا کے کناروں پر فطرت سے براہِ راست فیض یاب ہو کراس کے بھیدوں سے آشنا ہوتا ہے۔ واسودیو کا کردار خاموش طبع ہونے کے باوجود دریائی صفات سے لبریز دکھائی دیتا ہے۔ واسو دیو کی موت کے بعد سدھارتھ گووند کونروان کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے، اس کے بارے میں کچھ یوں بتاتا ہے:
 ’’نروان خیال بھی ہو سکتا ہے مگر میرے دوست! مجھے اعتراف ہے کہ میں خیالات اور الفاظ میں زیادہ فرق نہیں کرتا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خیالات کو بھی زیادہ اہم نہیں سمجھتا۔ مثلاً ناؤ پر ایک آدمی ہوا کرتا تھا جو میراپیش رو اور میراگروتھا۔ وہ ایسا مُنی تھا جو بہت برسوں تک دریا کو دھرم سمجھتا رہا اور دریا کے سوا کسی کی بھگتی نہیں کی۔ اس نے دیکھا کہ دریاکی آواز اس سے کچھ کہتی ہے۔ اُس نے اِس سے سیکھا۔ اس کی آواز نے اسے پڑھایا، اسے سکھشا دی۔ دریا اسے دیوتا سمان معلوم ہوتا اور بہت برسوں تک اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ ہوا کا ہر جھونکا، ہر بادل، ہر چڑیا، ہر کیڑا بھی اتنا ہی الوہی ہوتا ہے اور اتنا ہی جانتا ہے اور سکھا سکتا ہے۔ مگر جب وہ جنگل میں لَوٹ گیا تو اسے سب معلوم تھا۔ اسے مجھ سے اور تم سے زیادہ معلوم تھا، بغیر کسی گُرو کے، بغیر کتابوں کے، کیونکہ وہ دریا کو دھرم سمجھتا تھا’‘ 
سدھارتھ کا بچپن کا دوست گووند گوتم بدھ کا چیلا بن جاتا ہے تاہم سدھارتھ کو دوبار راستوں میں ملتا ہے۔ ایک بار جب وہ اپنی دولت اور کملا کو تیاگ کر جنگل میں جا نکلتا ہے اور دوسری بار جب گووند دریا پار کرنے کے لیے سدھارتھ کی ناؤ میں بیٹھتا ہے لیکن دونوں بار ہی وہ سدھارتھ کو پہچان نہیں پاتاکہ پہلی بار وہ ایک مالدار کے روپ میں تھا اور دوسری بار ایک ملاح کے روپ میں۔ ۔ تاہم آخری ملاقات میں گووندکو سدھارتھ کے چہرے پر گیان کی مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے، وہی مسکراہٹ جو اس نے ہمیشہ گوتم بدھ کے پر نور چہرے پر دیکھی تھی۔ یہ مکاشفہ نما تجربہ اپنی جگہ ایک مکمل روحانی واردات بن جاتا ہے۔ 
گووند نے سدھارتھ کے چہرے کو دیکھا تو وہاں لاتعداد چہروں کی فلم سی چل رہی تھی۔ اس نے ایک مچھلی کا تکلیف سے کھلا ہوا منہ دیکھا اور پھر اسے مرتے ہوئے دیکھا، ایک نوزائیدہ بچے کا چہرہ دیکھا جس پر بڑھاپے کی جھریاں پڑی ہوئی تھیں، پھر اس نے ایک قاتل کو دیکھا جوکسی کو چھُرے سے قتل کر رہا تھا اور اسی لمحہ میں اس قاتل کو سزائے موت پاتے دیکھا۔ اس نے مردوں اور عورتوں کو ننگ دھڑنگ سرورو مستی کی حالت میں لپٹے ہوئے اور عشق کے مراحل طے کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے ایسی ہزاروں، بلکہ ان گنت شکلیں دیکھیں جو ایک دوسرے سے محبت اور نفرت کے رشتوں میں بندھی ہوئی تھیں۔ وہ ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کو تباہ اور ہلاک بھی کرر ہی تھیں اور پھر اسی وقت نیا جنم بھی لے رہی تھیں۔ یہ سب فانی شکلیں تھیں لیکن پھر بھی ایک نئی شکل کے ساتھ دوبارہ سامنے آ جاتیں ان سارے رشتوں میں ایک ٹھہراؤ بھی تھا اور ایک بہاؤبھی تھا۔ اس طور کہ وہ ایک دوسرے کو تباہ کرتے ہوئے ایک دوسرے میں ضم ہو رہی تھیں۔ یہ سب کچھ گووند کو سدھارتھ کے چہرے کی مسکراہٹ میں دکھائی دے رہا تھا۔ یہ مسکراہٹ ہی اس کے نصیب کے گیان کی روشنی تھی۔ اس ناول کا اختتام اسی روحانی تجربہ پر ہو جاتا ہے۔ 
 سدھارتھ کی مجموعی شخصیت کو دیکھیں تو یہ ایک ایسی مضطرب روح ہے جو علم کی بجائے دانائی کی کھوج میں ہے۔ جو ترکِ دنیا کر کے بھی دنیا سے دور نہیں جا پاتی اور دنیا کے اندر اتر کر بھی اپنے اندر کے تیاگی سے نجات نہیں پا سکتی۔ یہی اس کی اصل کشمکش ہے۔ سدھارتھ کی روح در حقیقت ہرمن ہیسے کی روح ہے اور ہرمن ہیسے نے دانش مشرق سے استفادہ کرتے ہوئے، گوتم بدھ سے اکتساب و اختلاف کرتے ہوئے اسی کے نام کا سہارا لے کر ’’سدھارتھ ‘‘ میں اپنے اندر کے اضطراب اور بے چینی کو فنکارانہ طریق سے پیش کر دیا ہے۔ مجھے اس ناول کے مطالعہ نے قلبی و روحانی مسرت سے ہمکنار کیا ہے۔ 
٭٭٭



حیدر قریشی کے تبصرے، تاثرات

تمنا بے تاب (یاد نگاری)
 
 رشید امجد جدید اردو افسانے کا ایک اہم اور معتبر نام ہیں۔ ’’تمنا بے تاب’‘ ان کی خود نوشت سوانح ہے لیکن کتاب کے آغاز میں انہوں نے یہ وضاحت کر دی ہے۔ ۔ ۔ 
’’معروف معنوں میں یہ خود نوشت نہیں بلکہ یادیں، خیالات، تجزیے اور مختلف اشیاء کے بارے میں میرے نقطہ ہائے نظر ہیں جن میں میری نجی زندگی اور میرا عہد دونوں شامل ہیں …اس میں زمانی ترتیب نہیں جس طرح کوئی ذکر آیا ہے اور بات میں سے بات نکلی ہے، میں نے اسے اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ خود میری زندگی ایک تمنائے بے تاب ہے، عاشقی کے لیے جو صبر طلبی چاہیے وہ مجھ میں نہیں …ان یادداشتوں میں ذاتی احوال کے ساتھ ساتھ بعض ایسی بحثیں بھی شامل ہیں جو کسی حد تک مضمون بن گئی ہیں۔ اسی طرح بعض تجزیے خاصے پھیل گئے ہیں لیکن یہ سب میری زندگی کا حصہ ہیں۔ میں ان سب میں کسی نہ کسی حوالے سے موجود ہوں ’‘ 
 رشید امجد کی یہ وضاحتیں اس خود نوشت کو پڑھتے ہوئے بہت سے سطحی اور مدرسانہ نوعیت کے اعتراضات سے نجات دلا دیتی ہیں۔ بلا شبہ اس خود نوشت کی حدیں کہیں خود نوشت کی مقرر و معین حدود سے باہر تک جاتی ہیں اور کئی مقامات پر معین حدود سے بھی کہیں اندر تک سمٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ ایک عام سے ادیب کی خود نوشت ہوتی۔ رشید امجد جیسے مجتہد جدید افسانہ نگار کی خود نوشت نہ ہوتی۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ایک طرف رشید امجد کی ذاتی زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوتی ہے تو دوسری طرف راولپنڈی، اسلام آباد کے ادیبوں کے مختلف النوع احوال بھی معلوم ہوتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی بیورو کریسی اور سیاستدانوں کے اندر خانوں کے حالات معلوم ہوتے ہیں تو دوسری طرف وقفے وقفے سے جمہوریت کا گلا گھونٹنے والے فوجی حکمرانوں کے کارنامے بھی سامنے آتے ہیں۔ دنیا داروں کی باتیں ملتی ہیں تو ساتھ ہی تصوف کی پرا سرار روحانی لہروں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ 
 رشید امجد کو پاکستان میں نو ترقی پسند لکھنے والوں کا قافلہ سالار کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ان کے بارے میں میں نیم دہریہ یا مذہب بیزاری کا فتویٰ آسانی سے دیا جا سکتا ہے۔ نجی زندگی میں عام گفتگو میں وہ کچھ ایسے ہی رہے ہیں لیکن جب اس کتاب میں رشید امجد کے نفس سے اوپر اٹھ کر صوفیانہ قسم کے تجربات سامنے آتے ہیں تو بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ رشید امجد بھی غالبؔ کی طرح ؎ ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
بحیثیت ادیب رشید امجد کی داستان ان لفظوں میں سمٹ آتی ہے۔ ’’کہتے ہیں کوئی درویش ہمیشہ یہ دعا مانگتا تھا کہ ’’اے خدا مجھے مضطرب رکھ ‘‘۔ 
 کسی نے کہا ’’تو عجب شخص ہے، لوگ خدا سے اطمینان مانگتے ہیں اور تو اضطراب کا طالب ہے ‘‘۔ درویش بولا ’’یہ اضطراب ہی تو میرے ہونے کی دلیل ہے’‘ سو میں بھی ہمیشہ اضطراب کی دعا مانگتا ہوں کہ میرا بے چین ہونا، میری تحریروں کی زندگی ہے۔ میرے عہد کے جو لکھنے والے بے چینی کی دولت سے عاری ہیں، وہ قصیدے لکھ رہے ہیں، لطیفے سنا رہے ہیں اور تالیاں پٹوار ہے ہیں۔ ان میں اور شو بزنس کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان کی زندگی سٹیج پر پردہ گرنے تک محدود ہے۔ اس لئے ہر لکھنے والے کو انتخاب کرنا پڑتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ ویسے انتخاب کا مرحلہ تو ہر لمحے موجود ہوتا ہے۔ ’‘ 
 رشید امجد نے چونکہ اپنی یادوں کو آزادانہ طور پر بیان کیا ہے اس لئے کہیں کہیں بلا ارادہ ان سے واقعات کے بیان میں سہو بھی سرزد ہوئے ہیں۔ مثلاً اسلام آباد کی جس اہلِ قلم کانفرنس میں جنرل ضیاع الحق نے نام لئے بغیر بعض ادیبوں کے خلاف تقریر کی تھی۔ اس کے احوال میں انہوں نے کچھ ایسا لکھا ہے کہ اس کانفرنس کے بعد ہم دونوں (رشید امجد اور میں )بدمزگی کے ساتھ پنڈی واپس آرہے تھے…وغیرہ۔ 
 اس حوالے سے وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ کانفرنس میں مدعو کئے جانے کے باوجود میں نے شرکت نہیں کی تھی(البتہ اس سے ایک سال پہلے والی کانفرنس میں شرکت کر چکا تھا۔ تب رشید امجد کے ایماء پر میں نے ایک ’’خاص قرار داد’‘ پیش کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن جیسے ہی ڈاکٹر وزیر آغا کو اس کے بارے میں علم ہو ا انہوں نے مجھے سختی سے اس ’’جرات رندانہ’‘ سے باز رہنے کی تاکید کر دی)اس لئے وہاں سے واپسی پر ہم دونوں کے بہائی سینٹر جانے کی بات درست نہیں ہے۔ البتہ ایک اور موقعہ پر بعینہ وہ ساری باتیں ہوئی تھیں جو رشید امجد نے لکھی ہیں۔ بس اپنے زمانی اعتبار سے دو الگ الگ قصے گڈمڈ ہو گئے ہیں تاہم ان سے مذکورہ واقعات کی روح اپنی جگہ قائم رہتی ہے ایک عرصہ کے بعد لکھتے ہوئے کبھی کبھی ایسا سہو یا زبانی مغالطہ ہو جاتا ہے۔ 
پاکستانی قوم کو اس کے حکمرانوں اور بیورو کریسی نے مل کر کس کس طریقے سے لوٹا ہے اس کی ایک جھلک بھی رشید امجد کی کتاب ’’تمنا بے تاب’‘ سے دیکھ لیں۔ رشید امجد لکھتے ہیں۔ 
’’گزشتہ دنوں میں ذکریا یونیورسٹی ملتان میں گیا تو ایک شام ملک ظفر نے ایک حیرت انگیز بلکہ نا قابلِ یقین واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے ایک گورنر کو جو صاحبان عالیشان میں سے تھا، بہاول پور کے علاقہ میں مربعے الاٹ ہوئے۔ ایک دن گورنر نے کمشنر بہاول پور سے فون پر پوچھا کہ ان مربعوں کی مالیت کیا ہو گی؟کمشنر نے یونہی نمبر بنانے کے لیے کہہ دیا’’سر!تقریباً ایک کروڑ’‘ 
 گورنر نے کہا ’’تو ایک ہفتہ میں مربعے بیچ کر کروڑ روپے انہیں بھجوا دئیے جائیں۔ ’‘ 
کمشنر کو مصیبت پڑ گئی۔ وہ تواس نے یونہی نمبر بنانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ مربعے چند لاکھ سے زیادہ کے نہ تھے۔ انہوں نے اپنے ماتحتوں کو بلایا کہ اب کیا کریں ؟۔ میٹنگ میں ایک ایس پی بھی تھے۔ انہوں نے کہا’’سر!آپ اجازت دیں تو میں ایک راستہ بتاتا ہوں۔ ’‘ ……کمشنر نے کہا ’’وہ کیا؟’‘ 
اس نے کہا ’’مقامی نیشنل بنک کی شاخ میں تین چار کروڑ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ آپ اجازت دیں تو آج رات اس پر ڈاکہ پڑوا دیتے ہیں۔ ’‘۔ ۔ رات کو بنک پر ڈاکا پڑا اور دو کروڑ لوٹے گئے۔ ایک کروڑ تو گورنر کو بھیج دیئے گئے اور ایک کروڑ متعلقہ انتظامیہ میں بٹ گئے۔ صبح چوری کا پرچہ درج ہو گیا۔ کچھ عرصہ ذکر اذکار ہوا پھر داخل دفتر۔ ’‘ 
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رشید امجد کی اس خود نوشت کا کینوس کتنا وسیع ہے اور اس میں کیسی کیسی تلخ سچائیاں بھری ہوئی ہیں۔ اصل کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ادیبوں کی سوانح نگاریوں میں یہ کتاب اپنی ایک الگ پہچان رکھے گی۔ 
٭٭

نئے تنقیدی مسائل اور امکانات(تنقیدی مضامین) 

 کرامت علی کرامت سینیئر لکھنے والے ہیں۔ تخلیق کے ساتھ تنقید کے میدان میں بھی ان کے فکری جو ہر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ’’نئے تنقیدی مسائل اور امکانات’‘ کے مضامین سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ادبی منظر نامہ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ادب کی تفہیم کے لیے ان کے سامنے کیا معیارات ہیں۔ ہماری تنقید میں جو عمومی انداز اختیار کیا جاتا ہے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو کرامت علی کرامت کے مضامین زیادہ بہتر انداز سے سامنے آتے ہیں۔ تاہم مجھے لگا کہ وہ بعض امور میں کسی بہتر نتیجہ تک پہنچنے کی بجائے کہیں آس پاس ہی رہ جاتے ہیں۔ صرف دو مثالوں پر اکتفا کروں گا۔ ’’تحقیق و تنقید بحیثیت تخلیقی ادب’‘ میں انہوں نے تحقیق و تنقید کو بھی تخلیقی ادب کے دائرے میں شمار کیا ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت دور تک گھوم آنے کے بعد بھی اصل بات تک پہنچے نہیں بس اس کے آس پاس رہ گئے۔ کوئی بھی تخلیق کار جب کسی تخلیقی عمل سے گزرتا ہے تو اس کی معلومات(تحقیق)پہلے سے اس کے شعور و لاشعور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب وہ اپنے تخلیقی عمل سے گزرتے ہوئے اسے خوب سے خوب تر پیش کرنا چاہتا ہے تو یہ در اصل اس کا تنقیدی عمل ہوتا ہے۔ یوں تحقیق و تنقید اصلاً تخلیقی ادب کا حصہ نہیں بلکہ جزوی حصہ ہیں۔ کرامت صاحب اس نتیجہ تک نہیں پہنچے، البتہ اس کے قریب سے گزرتے گئے۔ ایک اور مضمون ’’اسلام اور صنفِ شاعری ‘‘ میں انہوں نے از روئے قرآن شاعری کی ممانعت کے پہلو کو سمجھا ہے اور پھر بعض احادیث اور تاریخی روایات سے شاعری کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جن احادیث اور روایات سے انہوں نے یہ جواز دئیے ہیں مستحسن ہیں۔ مثالی ریاست سے شاعروں کو بے دخل کر دینے کے باوجود اچھی شاعری کے لیے یونانیوں نے بھی گنجائش رکھی ہوئی تھی۔ ایسی شاعری جو دیوی، دیوتاؤں کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو احادیث اور دوسری روایات سے پیش کیا گیا جواز بڑی حد تک یونانیوں کے نظریہ ہی سے مماثلت رکھتا ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ قرآن کا شاعری کا تصور بہت واضح ہے۔ 
’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کن کن وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ باتیں کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے’‘ 
اس سے شاعری کا جو قرآنی تصور میری سمجھ میں آتا ہے، یہ ہے کہ شاعر کے ظاہر اور باطن میں ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ اس کی شاعری اس کے باطن کی داستان بیان کرے، نہ کہ محض فرضی محبوب اور فرضی تصورات پر مبنی ہو۔ جب باطن کے ساتھ ہم آہنگی ہو گی تو کوئی شاعر پر اعتراض نہ کرے گا۔ یوں قرآن کے اس فرمان سے مجھے محسوس ہوا کہ ایسے نظریاتی شاعروں کے بر عکس جو ائیر کنڈیشنڈ ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر مزدوروں، کسانوں، غریبوں کی زندگی سنوارنے کی شاعری کرتے ہیں وہ شاعر زیادہ بہتر ہیں جو کارزارِ حیات سے گزرتے ہوئے اپنے تجربات کو بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح داخلی و نفسیاتی معاملات کا اظہار بھی داخل و خارج میں ہم آہنگی کو ظاہر کرے گا اور از روئے قرآن شاعر جو کچھ کہہ رہا ہو گا دراصل وہی اس کا طرزِ زندگی بھی ہو گا۔ یوں میرے نزدیک قرآن شریف شاعری کی ممانعت نہیں کرتا بلکہ ایک واضح تصورِ شاعری بیان کرتا ہے۔ اور اپنے داخل کے بر عکس شاعری کرنے والوں کی مذمت کرتا ہے۔ کرامت صاحب مذکورہ آیت درج کرنے کے باوجوداس پر اس زاویے سے زیادہ غور نہ کر سکے۔ تاہم ان کے اس مضمون کو پڑھتے ہوئے مجھے اس تفہیم تک رسائی کا موقعہ مل گیا، جس کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔ شاید اسی کو چراغ سے چراغ جلانا کہا جاتا ہے۔ کرامت علی کرامت صاحب نے ساختیات کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، اس پر اب مزید کیا عرض کیا جائے کہ اس عرصہ میں نہ صرف پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ گیا ہے بلکہ کئی پُل اور ڈیم بھی بہہ گئے ہیں۔ کرامت علی کرامت کی تنقید وہاں اپنی خوبیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے جہاں وہ زیادہ سے زیادہ ادب کی تفہیم پر توجہ دیتے ہیں۔ ادب کی تفہیم کے لیے ان کا رویہ سمجھانے سے زیادہ سمجھنے کا ہوتا ہے۔ فن پارے کے باطن تک رسائی کے لیے اپنی پوری سوجھ بوجھ کو بروئے کار لاتے ہیں۔ 
 اس مجموعہ میں ۳۶ مضامین شامل ہیں، ان میں نظری مباحث بھی ہلکے پھلکے انداز میں آ گئے ہیں۔ بعض اصناف اور بعض شاعروں ادیبوں کے حوالے سے انفرادی نوعیت کے مضامین بھی شامل ہیں اور اپنی مقامی زبانوں کے شعرو ادب کے ساتھ اردو کے میل ملاپ کا منظر بھی ہے۔ مجموعی طور پر کرامت علی کرامت ان سکہ بند نقادوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو سرا پکڑے بغیر تنقید کی ڈور کوسلجھانے میں الجھے ہوئے ہیں۔ کرامت علی کرامت اس لیے بھی بہتر نقاد ہیں کہ وہ بنیادی طور پر تخلیق کار ہیں۔ 
٭٭

اسطوری فکر و فلسفہ (اردو شاعری میں ) 


 ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط نے اس کتاب میں اردو شاعری میں بیان ہونے والے اسطوری فکر و فلسفہ کا کچھ احاطہ کرنے کی کاوش ہے۔ اساطیر کے انتخاب میں انہوں نے ہندو، سکھ، بدھ، مسیحی، اسلامی اور یہودی مذاہب کی روایات سے استفادہ کیا ہے۔ یوں ان کی کتاب فکر و فلسفہ کی بجائے مذہبی فکر اور شاعری کی سطح پر رہتی ہے۔ فلسفہ کا اس میں عمل دخل بہت کم ہو جاتا ہے۔ قدیم مذہبی اساطیر کی بازیافت میں یحییٰ نشیط نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور کئی عمدہ اور خوبصورت روایات کو نہ صرف سامنے لائے ہیں بلکہ اردو شاعری میں ان کے ذکر کی نوعیت کو بھی عمدگی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ ہندو دیومالا تو ویسے بھی اپنے ایسے سرمائے کے لحاظ سے بے حد زرخیز ہے۔ سکھ اور بدھ مت کی اساطیر بھی کافی دلچسپی کی حامل ہیں۔ 

 مسیحی، یہودی اور اسلامی روایات کا اصل منبع(ابراہیمی) چونکہ ایک ہی ہے اس لیے یہاں بہت کچھ جانا پہچانا ہی ہے۔ کہیں کہیں بعض تسامحات بھی راہ پا گئے ہیں۔ مثلاً یحییٰ نشیط نے ایک جگہ ’کوہِ طُور ‘کو عیسائیوں کے نزدیک مقدس پہاڑ قرار دیا ہے(ص ۹)۔ جبکہ اسطوری سطح پر بھی اور کتبِ مقدسہ کے حوالے سے بھی کوہِ طُور یہودی، مسیحی اور اسلامی تینوں مذاہب کے لیے مقدس پہاڑ کے طَور پر مذکور ہے۔ 
یحییٰ نشیط نے فلسفے کی آزادہ روی کو اختیار کرنے کی بجائے مذہبی فکر کی پناہوں میں اپنا علمی سفر طے کیا ہے، اسی لیے وہ اساطیر میں مذہب ہی کی کارفرمائی دیکھتے ہیں۔ افراد کے اجتماعی حافظے سے بات ماقبل تاریخ تک لے جائی جا سکتی ہے، تاہم مذہب الارواح میں بھی مذہبی احساس تو بہر حال کارفرما رہا تھا۔ مجھے سمیری دیومالا کی ایک بلا ’’تیامت’‘ یاد آ رہی ہے۔ یہ بلا جب نازل ہوتی ہے تو جہاں سے گزرتی ہے وہاں تباہی مچا دیتی ہے۔ اپنی ہولناکی کے ساتھ وہ اپنا احترام بھی جبراً کرواتی ہے۔ ہمارے ہاں ’’قیامت’‘ کا جو عقیدہ ہے اس میں بھی مکمل تباہی کے ساتھ ’’قیامت’‘ پر ایمان(احترام)بھی لازمی ہے۔ اب خدا جانے اجتماعی حافظے کے سفر کے دوران یہ محض تؔ اور قؔ کا فرق ہے، یا سمیری دیومالا کے عقب میں بھی کہیں کوئی مذہبی عقیدہ موجود تھا۔ مجھے اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں یاد آئی ہیں لیکن ان کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ 
 بعض سیدھی سادی مذہبی روایات اور عقائد کے اردو شاعری میں ذکر کو بھی یحییٰ نشیط نے اسطوری رنگ میں پیش کیا ہے۔ جبکہ شاعری میں بھی سیدھے سبھاؤ ذکر والی مثالیں پیش کی ہیں۔ چونکہ ان کے پیش نظر ایسا ہی تھا سو انہوں نے اس حوالے سے اچھی محنت کی ہے۔ تاہم اس کتاب کے مطالعہ کے بعد احساس ہو رہا ہے کہ یحییٰ نشیط صاحب کو اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق دے تو وہ اساطیرکی تہذیبی و ثقافتی سطح تک رہتے ہوئے اور اردو شاعری میں (بلکہ اردو کی تخلیقی نثر میں بھی) علامتی اور استعاراتی رنگ میں مذکور اساطیر کو دریافت کریں۔ ایک وسیع میدان اُن کا منتظر ہے!
٭٭

ایک آواز (نثری نظمیں )


میری ادبی زندگی کی دو اہم شخصیات ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انورسدیدکی اگلی نسل کے حوالے سے مجھے دو انوکھے تجربے ہوئے۔ انور سدید کے صاحبزادے مسعود انور سے جب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا تو پتہ چلا وہ ادب میں ترقی پسند تخلیق کاروں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وزیر آغا کے صاحبزادے سلیم آغا کی نثری نظم میں گہری دلچسپی کو بھی میں اسی تجربہ کے طور پر دیکھتا ہوں۔ اس سے دونوں بڑی شخصیات کے گھروں میں آزادیِ اظہار کا مثبت رویہ دیکھا جا سکتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب سلیم آغا قزلباش کی نثری نظموں کا تیسرا مجموعہ ہے۔ اب لوگ باگ نثری نظم کے تخلیقی امکانات کی بات زیادہ کرتے ہیں۔ جب ڈاکٹر وزیر آغا شعری مواد اور شاعری کے فرق کو واضح کر کے، نثری نظم کے شعری مواد کا اعتراف کر کے اسے شاعری تسلیم نہیں کرتے تھے، میں تب بھی ان کے خیالات سے متفق تھا اور اب بھی اُسی بات کا قائل ہوں۔ کتاب کے نام ’’ایک آواز’‘ پر مبنی ایک نثری نظم مجموعہ کے آخر میں شامل ہے۔ اس میں والدہ کی وفات پر دلی جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ لیکن مجھے یہ نثری نظم پڑھتے ہی وزیر آغا کی والدہ مرحومہ کی وفات پر لکھی ہوئی دونوں نظمیں شدت کے ساتھ یاد آئیں۔ ان کے ساتھ ’’آدھی صدی کے بعد’‘ کے وہ خوبصورت حصے یاد آئے جس میں ماں بیٹے کی یادوں کا خزانہ بھرا ہوا ہے۔ 
 اس مجموعہ کا پیش لفظ ناصر عباس نیر نے لکھا ہے۔ اس میں سلیم آغا کی نثری نظم ’’نیا شہر’‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مابعد جدید کلچر کے حوالے سے اور ’’بُت شکن’‘ کا ذکر کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ اکانومی کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، وہ سب پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ ان کی باتوں کا نچوڑ اس اعتراف میں آ جاتا ہے:

 ’’کرۂ ارض کی واحد عالمی طاقت نے اکیسویں صدی میں کمزور ملکوں پر ڈسکورس ہی کی بنیاد پر جنگیں مسلط کی ہیں :پہلے اُن ملکوں سے متعلق ڈسکورس تشکیل دیے، اُنہیں میڈیا کے ذریعے پھیلایا اور باور کرایا، اور پھر ہر کھڑی عمارت اور ثابت و سالم شے کو اکھاڑ پچھاڑ دیا۔ اس ڈسکورس میں کہیں نہ کہیں، مذہبی عُنصُر ضرور شامل رہا’‘ 
(ایک آواز:ص ۱۱) 
جدید ادب جرمنی کے شمارہ اول کے اداریہ کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے شمارہ دو میں وزیر آغا، ناصر عباس نیر اور میرے درمیان ایک مکالمہ ہوا تھا۔ مجھے ناصر عباس نیر کے مذکورہ نتائج اخذ کرنے میں اُسی مکالمہ کی توسیع دکھائی دی ہے، اسی لیے مجھے اس سے دلی خوشی ہوئی ہے اور پہلے سے زیادہ ان کی علم و ادب سے وابستگی کا معترف ہو گیا ہوں۔ نثری نظم اور آزاد نظم کی بحث میں اپنا واضح موقف رکھنے کے باعث نثری نظم کے تئیں میرے تحفظات بہت واضح ہیں، تاہم اس صنف کے امکانات کو آزمالینے میں کوئی حرج نہیں۔ نثری نظم کے جو مجموعے ان امکانات پر گفتگو کی گنجائش پیدا کریں گے، ان میں ’’ایک آواز’‘ بھی شامل رہے گا۔ کیونکہ’’ایک آواز ‘‘ کی نثری نظمیں اپنے شعری مواد کے لحاظ سے قابلِ توصیف ہیں۔ 
٭٭

کسک (ناول)

 محترمہ آر کے نیازی گورنمنٹ کالج برائے خواتین میانوالی میں اردو پڑھاتی ہیں۔ تاہم اردو سے ان کی وابستگی محض پروفیشنل سطح تک نہیں ہے۔ انہوں نے اردو کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ ’’کسک’‘ ان کے تخلیقی اظہار کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ 

 عنیزہ کا کردار پختون علاقہ کی بے شمار مجبور لڑکیوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی کہانی دراصل کئی ایسی لڑکیوں کی کہانی ہے جو اپنے ماحول کی گھٹن میں سانس لینے پر مجبور ہیں اور جب گھٹن بہت بڑھ جاتی ہے تو ان کا دَم گھٹ جاتا ہے۔ عنیزہ ایک طرف اپنے قبیلے کی شان کا بھرم رکھتی ہے، دوسری طرف اپنی محبت کو اپنے دل میں زندہ رکھتی ہے اور تیسری طرف اپنے پیار کرنے والے شوہر اور گھر کی عزت کو مجروح نہیں ہونے دیتی۔ لیکن ان سارے تضادات سے لڑتے لڑتے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔ حقیقتاً وہ کسی ریاکاری کا ارتکاب نہیں کرتی۔ اپنے قبیلے، خاندان اور ماحول کے جبر کو اپنے دنیاوی احترام کے ساتھ قبول کرتی ہے، لیکن اپنے اندر کی کشمکش کے باعث خود ہی اس احساس سے دوچار ہو جاتی ہے کہ جیسے اس نے ریاکاری کی ہے۔ اور پھر اس الزام کے جواب میں خود کلامی کی صورت میں عنیزہ کے یہ دلائل اپنی جگہ ایک تلخ سماجی حقیقت کے سامنے آئنہ بن جاتے ہیں۔ 
 ’’ میری ریاکاری کے اسباب معلوم ہیں تمہیں ؟؟؟؟میں بتاتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ کہیں مفتیوں کے فتوے، کہیں خانوں کی پگیں، کہیں ملکوں کی شان، کہیں سیدوں کی سیادت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں جبر، کہیں تشدد، کہیں موت کا خوف اور کہیں رشتوں کی کھلے عام بلیک میلنگ، ساری عمر کے لئے ناطہ توڑ لینے کی دھمکیاں۔ ۔ ۔ ۔ میری ریاکاری تو تمہیں نظر آ رہی ہے۔ میری دیوانگی کا تو تم ہنس ہنس کا مذاق اڑا رہے ہو۔ لیکن اس دیوانگی کے اسباب پر کبھی غور کیا ہے؟اس کے سدباب کے لئے کچھ سوچا؟کچھ کیا؟’‘ 
اس ناول میں آر کے نیازی صاحبہ نے دو مردوں میں بٹی ہوئی محبت کے کچے جذبوں کو پختہ زبان میں بیان کیا ہے۔ جذبات کے کچے پن، اور الفاظ کی پختگی نے اس ناول کو ایک دلچسپ انداز عطا کر دیا ہے۔ سماجی جبر کے سامنے عورت کی مظلومیت کی المناک داستان ہونے کے باعث اسے خانہ داری کے امور میں بہت زیادہ مصروف گھریلو خواتین اور کالج کے طلبہ تودلچسپی کے ساتھ پڑھیں گے ہی، تاہم اس ناول کو سنجیدہ اور پختہ عمر کے لوگ بھی یکساں دلچسپی کے ساتھ پڑھیں گے۔ محبت کی داستان اتنی پرانی ہے جتنی آدم اور حوا کی داستان، اور یہ قصہ اتنا ہی تازہ ہے جتنا آج کی کسی بھی سچی محبت کا کوئی قصہ تازہ ہو سکتا ہے۔ در اصل ہر داستان میں اپنی مقامیت کے باعث اور اپنی اپنی نفسیات کے باعث ایک انفرادیت پیدا ہو جاتی ہے جو اس اجتماعی روداد کے اجتماعی کردار کے باوجود اس میں ایک انفرادی اور نفسی واردات پیدا کر دیتی ہے۔ آر کے نیازی نے اپنے معاشرے کے گھٹے ہوئے ماحول میں محبت کی ایسی ہی نئی داستان اس ناول میں پیش کی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار عنیزہ کی داستان مکمل ہونے پر قاری اس کے لیے گہری ہمدردی اور محبت کے جذبات محسوس کرنے لگتا ہے۔ ( پیش لفظ کے طور پر درج تاثرات)
٭٭

رختِ ہُنر (شاعری) 

 غالب احمد شاعروں اور ادیبوں کی اس سینئر صف سے تعلق رکھتے ہیں جس میں ناصر کاظمی، احمد مشتاق، انتظار حسین، حنیف رامے، مظفر علی سید، شہزاد احمد وغیرہ کے اسماء شامل ہیں۔ تاہم تخلیقی لحاظ سے متحرک ان تخلیق کاروں کے مقابلہ میں غالب احمد کے تخلیقی سفر کی رفتار کافی دھیمی رہی۔ ۱۹۵۰ء سے ادبی رسائل میں مسلسل چھپنے کے باوجود ابھی تک ان کا صرف ایک ہی شعری مجموعہ ’’راحتِ گمنام’‘ شائع ہوا تھا، اب ان کا دوسرا مجموعہ شائع ہوا ہے جوان کی شاعرانہ قدر و قیمت کے تعین میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ غالب احمد کی غزل میں ایک انوکھی نوعیت کا فکری تغزل ملتا ہے۔ چند اشعار سے اس فکری تغزل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ 
منظرِ ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے
جا رہا ہے یہ مسافر تو اُدھر جانے دے
زنجیر میں ہیں دیرو حرم، کون و مکاں بھی
ہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھی
کیوں وقت کی لہریں مجھے لے جائیں کسی اور
دائم دل دریا ہوں میں موجوں میں رواں بھی 
ابر برسا سُراب کی صورت
چار سُو عکسِ آب کی صورت
خواب کی کیا کوئی حقیقت ہے
ہے حقیقت تو خواب کی صورت
 غالب احمد کی نظمیں ان کی زندگی کے مختلف النوع تجربات سے گزرتے ہوئے ادوار کی ترجمانی کرتی ہیں۔ ان میں ایک خاص نوع کی روحانی بالیدگی اور ترفع بھی ملتا ہے۔ ’’نظمِ نَو’‘ ان کے نظمیہ ارتقاء کو واضح کرنے کے ساتھ نظم نگاری میں ان کے مقام کے تعین میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ نظم کی اختتامی سطروں سے اس طویل نظم کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور غالب احمد کی نظم نگاری کے تیور بھی سمجھے جا سکتے ہیں :
’’وہ دیکھو کہ پھر رحمِ مادر سے نکلا ہوا طفلِ نوزائیدہ، وقتِ نو کہہ رہا ہے
زمیں سے ضمانت نہ مانگو
رگِ جسم و جاں سے شہادت نہ مانگو
کہ ضامن ہو تم اس زمیں کے
زمانے کے تم خود امیں ہو
جہانِ ہنر میں نئی زندگی کی طلب کے
نئے آشیانے بساؤ، نیا گھر بناؤ
کہ یہ نفس کا نقطۂ آسماں ہے
کنارِ یقیں ہے، نئی سرزمیں ہے
زمانے کو آواز دو، ابنِ آدم بلاؤ
کہو سب کو آؤ
نیا گھر ہمارا کھلا ہے
یہ وقتِ دعا ہے
نئی نظم کی ابتدا ہے!’‘ 
٭٭٭

ماخذ: عکاس، کتاب دس،گیارہ۔  مدیر: ارشد خالد
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
