﻿



کراچی




زینت حسام

جمع و ترتیب: اعجاز عبید










کراچی


	مجھے میٹھادر کے اس گھر کا صرف لکڑی کا وہ زینہ یاد ہے جس پر چلنے سے دھمک پیدا ہوتی تھی۔ ہم بچے اس پر کود کود کر چڑھتے اترتے اور وہ دھمک ایک گونج میں بدل جاتی۔ یا پھر پرانی وضع کے خوبصورت نمونے والے ٹائلوں سے بنا چمکدار فرش۔ میٹھادر کے بازار میں واقع اس چھوٹے سے چار منزلہ مکان کے نچلے حصے میں جوتوں کی دکان تھی اور ہر منزل پر دو کمروں پر مشتمل ایک فلیٹ۔ پہلی منزل پر دادا دادی اور دادا کی پہلی مرحوم بیوی کی اولاد، جنھیں سب بچے محمود بھائی کہتے تھے ، دوسری منزل پر بڑے ابا کا کنبہ، تیسری منزل پر امی ابا اور ہم بہن بھائی (اس وقت ہم دو بہنیں اور دو بھائی تھے ) اور چوتھی منزل پر چچا کا کنبہ۔ میں اسی گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ ۱۹۵۲ میں۔ کھارادر کے میٹرنٹی اسپتال میں کام کرنے والی ایک عیسائی نرس کی نگرانی میں۔
	ابا بیس سال کی عمر میں، ستمبر ۱۹۴۷ میں، کانپور سے کراچی آئے تھے ، امی اور ایک سالہ ضیاء (بھائی)، اور محمود بھائی کے ساتھ۔ پھر چچا اور تایا کا کنبہ آیا اور اس کے بعد دادا دادی کو بلایا گیا۔ چھوٹے تایا کانپور چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے اور نہ ہی کوئی پھوپھا۔ لہذا چاروں پھوپھیاں بھی اور ان گنت رشتے دار وہیں رہے۔ نانی نانا اور ماموں ممانی امی کی خاطر پاکستان آ گئے تھے۔ دادا، حاجی نظام الدین، کا شمار مسلمانوں کے محلے کرنل گنج کے معزز لوگوں میں ہوتا تھا۔ دادا کا کپڑوں کی چھپائی، بلاک پرنٹنگ، کا ایک چھوٹا سا کارخانہ تھا۔ دادا نمازی پرہیز گار تھے۔ اور بیٹوں کو بھی دین کی طرف راغب کیا۔ ایک مولوی بچوں کی تعلیم پر مامور تھے۔ بچے اسکول بھی جاتے لیکن زور دینی تعلیم پر رہا۔ مولوی صاحب مغربی تعلیم کے سخت خلاف تھے اور دادا کو، بقول ابا، بھڑکایا کرتے ، کہ بچوں کو اسکول بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ ابا باغی نکلے۔ مسجد سے بھاگتے۔ مولوی سے چڑتے۔ ابا کا کہنا ہے کہ ان خاندانی مولوی نے ابا کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے اتنا زچ کیا کہ ابا کا دل دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے بھی اچاٹ ہو گیا۔ چھٹی پاس کرنے کے بعد ابا نے اسکول کا دوبارہ رخ نہ کیا۔ کاروبار سے بھی ابا کو رغبت نہ تھی۔ ان کے مشغلے تھے : فلمیں دیکھنا، کتابیں پڑھنا دوستوں میں رہنا، گھومنا پھرنا، کباڑیوں کی دکانوں میں جانا، انوکھی چیزیں،خاص طور پہ پرانے کیمرے خریدنا اور تصویریں بنانا۔ تقسیم ہند سے پہلے ابا نے اپنی کھینچی ہوئی ایک تصویر السٹریڈڈ  ویکلی آف انڈیا، کے ایک انعامی مقابلے میں بھیجی تھی جس کو انعام بھی ملا تھا۔ابا کے پاؤں میں چکر تھا۔ دل میں جنوں۔ لڑکپن ہی میں ہندوستان کے کئی شہر گھوم چکے تھے۔ اکثر دادا سے جھگڑ کر گھر چھوڑ جاتے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جب جرمنی نے برما پر حملہ کیا تو آسام خالی ہونے لگا۔ ابا نے ٹرین پکڑی اور آسام روانہ ہو گئے۔ ابا بتاتے ہیں اس ٹرین میں واحد مسافر ابا تھے۔ لڑکپن میں عشق ہو گیا تھا۔ ابا نے دھمکی دی کہ اگر اس لڑکی سے ان کی شادی نہ ہوئی تو وہ زہر کھا لیں گے۔ لیکن دادا بھی ضد کے پکے تھے۔ ابا اس بات پر بھی گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ پھر ایک سال بعد امی سے ان کا بیاہ کر دیا گیا۔ امی دادا کی پسند تھیں۔
	کراچی میں میٹھادر کے قریب کاغذی بازار میں نظام سلک ہاؤس کے نام سے بنارسی ساریوں ،کمخواب، زربفت کا مشترکہ کاروبار شروع کیا گیا۔ دکان میں ایک دو چھتی ہوا کرتی تھی۔ ابا کو اب تک دکانداری سے دلچسپی نہ ہوئی تھی۔ انھوں نے دو چھتی پر دیوار سے لگے لکڑی کے کھانچوں پر اپنی جمع کی ہوئی کتابیں سلیقے سے جمائیں۔ جب ابا کراچی آئے تھے تو کتابوں سے بھرے کئی صندوق کانپور کی کسی لائبریری کو دے دیے تھے اور صرف تین چار صندوق ہی ساتھ لا سکے تھے۔ دو چھتی میں فرش اور چاندنی بچھائی گئی تھی اور گاؤ تکیے رکھے ہوے تھے۔ دکان کی یہ دوچھتی دوپہر کے کھانے اور قیلولے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ ابا یا تو دکان میں پائے ہی نہ جاتے۔ آتے بھی تو سب سے گپ شب کر کے دوچھتی میں بیٹھ کر کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ گھر چھوٹا تھا اس لیے وہاں دو چار کتابوں سے زیادہ نہ رکھتے تھے۔ کتابوں کا ذخیرہ اردو ادب اور شاعری کے نسخوں، دیوانوں، ادب لطیف، عالمگیر، ہمایوں، ساتھی اور دوسرے رسالوں کے انبار پر مشتمل تھا۔ پچاس کی دہائی میں پاکستان سے نکلنے والے تمام رسالے ، سویرا، نقوش، داستان گو، لیل و نہار، نصرت وغیرہ کے تمام شمارے ابا محنت سے سنبھال کر رکھتے تھے۔ اکثر رسالوں کی خود نیلے رنگ کی جلد بناتے اور اپنا نام emboss کرتے۔ یہ کام ابا کانپور میں بھی کرتے تھے۔ کتابوں کی دنیا سے میرا پہلا تعارف کاغذی بازار کی دکان کی اسی دوچھتی میں ہوا۔
	میں جب پانچ برس کی ہوئی تو یہ مشترکہ خاندان میٹھادر سے اٹھ کر پیر الہٰی بخش کالونی کے ایک دو منزلہ مکان میں منتقل ہو گیا تھا جس میں لگے امرود کے پیڑوں کی پھل دار شاخیں دوسری منزل کے کمرے کی کھڑکی اور جچھے تک آتی تھیں۔ ہم بچے چلچلاتی دوپہر کی خاموشی میں کچے امرود توڑ توڑ کر کھاتے اور پیر کالونی کی خاک آلود گلیوں میں کھیلا کرتے۔ ایک سال بعد پھر نقل مکانی ہوئی۔ دادا کا انتقال ہو چکا تھا۔ محمود بھائی اپنے کنبے کے ساتھ ملیر جا بسے تھے۔ اب ہم سب لوگ شہید ملت روڈ سے متصل پنجابی سوداگران ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع کرایے کے دو منزلہ مکان میں اٹھ آئے تھے جس میں چار فلیٹ تھے۔ ایک فلیٹ میں دہلی کا ایک مختصر سا خاندان تھا (والدین اور دو لڑکے ، مسعود، ہارون)۔ باق تین فلیٹوں میں بڑے ابا، چچا، اور ابا اپنے اپنے ڈھیر سارے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوئے۔ یہ ۱۹۵۹ کی بات ہے۔ 
	تب کراچی کی زمین ہم بچوں کے لیے ایک وسیع کائنات تھی۔ سوسائٹی میں اکا دکا مکانات تھے۔ ہماری گلی میں صرف تین مکان تھے۔ ہمارے مکان سے متصل مالک مکان، تقی صاحب، کا گھر، اور گلی کے سرے پر ایک اور مکان۔ باقی پلاٹ خالی تھے۔ دوسری گلیوں میں بھی یہی صورت حال تھی۔ ہر گھر کے احاطے میں، اور احاطے سے باہر مختلف طرح کے پیڑ پودے ہوتے تھے۔ امرود، آم، شریفے ، گلاب، چمبیلی، موتیا احاطے کے اندر۔ اور باہر بادام، جامن، املی، نیم، گل مہر، بوگن ولا۔ ہمارے گھر کے عین مقابل ایک کھنڈر نما تھا۔ غالباً کسی نے چار دیواری اٹھائی تھی پھر کسی وجہ سے دیواریں منہدم کر دی گئی تھیں۔ اینٹوں کے ملبے ، ٹوٹی ہوئی دیواروں اور خودرو جھاڑیوں میں چھپکلیاں اور گرگٹ رینگا کرتے۔ احتشام بھائی جان اور انعام بھائی (میرے تایا زاد بھائی) گنیں لیے ان گرگٹوں کا شکار کیا کرتے۔ مجھ سے چھ برس بڑے ضیاء بھائی کا وقت انعام بھائی کے ساتھ گزرتا۔ نور الصباح، عائشہ، احترام (تایا زاد)، صبیحہ (چچا زاد)، میں، عذرا اور ریاض، ہم بچوں کا غول زیادہ وقت باہر ہی منڈلاتا رہتا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو باہر گھومنے کی یکساں آزادی تھی۔ ہم گلیوں اور سڑکوں سے سگریٹوں کے خالی پیکٹ اکٹھا کر کے ان کے قلعے اور مینار بناتے ، جن کو بنانے سے زیادہ ڈھانے میں لطف آتا۔ کانچ کی چوڑیوں کے ٹکڑے چن کر انھیں آگ دکھا کر زنجیریں تیار کی جاتیں۔ تب کراچی میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نہ ہوتے تھے۔ پلاسٹک کی تھیلیوں کا رواج نہ تھا۔ کاغذ کی پڑیوں یا پھر سلے ہوئے کپڑوں کے تھیلوں میں سودا آتا۔ سڑکوں پر کاغذ، سگریٹوں کے ڈبے اور ٹوٹی پھوٹی چیزیں پڑی تو ہوتی تھیں، لیکن گیلا کچرا نہ ہوتا تھا۔
	کراچی میں تتلیاں بھی بے تحاشا ہوتی تھیں۔ خاص طور پر برسات کے بعد۔ ہم بچوں نے تتلیوں کو مختلف نام دیے ہوئے تھے۔ سبز اور سیاہ بادشاہ تتلی، نارنجی پروں پر سیاہ و سفید دھبے والی ملکہ تتلی، نقرئی جامنی شہزادی تتلی۔ انعام بھائی نے ایک چھوٹا سا جالی کا ڈبہ بھی بنایا تھا جس میں وہ تتلیوں کو پکڑ کر بند کرتے۔ مجھے اور نور الصباح کو تتلیاں چھونے کا بڑا شوق تھا۔ ہم منت سماجت کر کے ڈبے سے تتلی نکلواتے پھر فخر کے ساتھ انگلیوں پر یہ اترے رنگ ایک دوسرے کو دکھاتے۔ بارش کے بعد میدان میں بیر بہوٹیاں امنڈ آتیں اور سب بچے ماچس کی خالی ڈبیائیں لیے بیر بہوٹیوں کو پکڑنے میں شام کر دیتے۔ پھر اپنی اپنی ڈھونڈی ہوئی بیر بہوٹیاں گنی جاتیں اور پھیلی ہوئی ہتھیلیوں پر رکھی سرخ مخملی مخلوق پر انگلیاں پھیری جاتیں۔ آج ۱۹۹۵ میں یہ بات یاد کرتے ہوئے بھی عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی میں کبھی بچے تتلیاں اور بیر بہوٹیاں پکڑا کرتے تھے۔ یا یہ کہ کبھی یہاں قدم قدم پر بڑے بڑے سبز پتوں والے بادام کے پیڑ ہوتے تھے اور زمین پکے ہوئی سرخ باداموں سے پٹی رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ کراچی سے بادام، امرود، جامن، شریفے اور املی کے پیڑ غائب ہوتے گئے اور شہر سفیدے کی لپیٹ میں آ گیا۔
	ابا اور امی دونوں ہی کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ امی بتاتی ہیں جن دنوں مجھ سے دو سال چھوٹی بہن پیدا ہوئی، امی صالحہ عابد حسین کا ناول "عذرا" پڑھ رہی تھیں۔ میرے بڑے بھائی، میرا اور اس بہن کا نام مولانا احتشام الحق (جن سے دادا کے خاندانی مراسم تھے ) نے تجویز کیے تھے : ضیاء الدین، زینت النساء، طلعت النساء۔ طلعت ان دنوں تین چار ماہ کی ہو گی۔ نام ساتویں دن طلعت رکھ دیا گیا تھا۔ لیکن امی کو عذرا ناول اس قدر بھایا کہ انھوں نے طلعت کا نام بدل کر عذرا رکھ دیا! امی ہم بچوں کو کہانیاں پڑھ کر سنایا کرتیں۔ کتابیں خریدنے کا شوق ضیاء بھائی، مجھے اور عذرا کو بھی تھا۔ ہم لوگ جیب خرچ کا زیادہ حصہ کتابیں اور رسالے خریدنے میں صرف کرتے۔ اس زمانے میں بچوں کی (اردو) کہانیاں چار آٹھ آنے ، روپے دو روپے میں آتی تھیں۔ انگریزی کی Archie کامکس اور رنگین با تصویر، عمدہ نیوز پرنٹ پر چھپی Fairy tales ایک روپے میں ایک ملا کرتیں۔ یہ ۱۹۶۰ کی دہائی کی بات ہے۔ ہم بچوں کی کتابیں اور رسالے تو گھر ہی میں لڑھکتے پھرتے لیکن ابا اب تک اپنی کتابوں اور رسالوں کا ذخیرہ کاغذی بازار میں واقع نظام سلک ہاؤس کی دوچھتی ہی میں کر رہے تھے۔ دو کمروں کا تنگ فلیٹ تھا اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد۔ ابا صرف چند ایک کتابیں دیوار میں بنی الماری میں رکھا کرتے۔ جس کے پٹ ہمیشہ بند رہتے۔ رات کو سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر ابا مجھ سے الماری کھلواتے۔ جس کی کنڈی مجھے مونڈھے پر چڑھ کر کھولنی پڑھتی۔ پھر ایک کتاب نکلواتے مجھے صرف ایک کتاب یاد ہے ، ممتاز مفتی کی "علی پور کا ایلی"، یہ ایک بے حد ضخیم کتاب تھی۔ مجلد۔ اور سبز وخاکی ڈسٹ کور پر غالباً ٹڈے بنے ہوئے تھے۔ میں یہ کتاب مونڈھے پر چڑھ کر احتیاط سے نکال کر ابا کو دیتی۔ ٹڈے کی سرورق پر بنی تصویر دیکھ کر ایک دفعہ میں نے پوچھا "ابا، کیا یہ ٹڈے کی کہانی ہے ؟ اور ابا نے ہنس کر کہا تھا "ہاں،۔ ابا سے مجھے ایک شکایت تھی۔ وہ اس کتاب کے دوچار یا آٹھ دس صفحے پڑھ کر۔ نشان لگا کر مجھ سے واپس رکھوا دیتے۔ مجھے یہ بے صبری کہ آخر ابا اسے فوراً پوری کیوں نہیں پڑھ ڈالتے۔ 
	ابا کو گاڑی چلانے کا بڑا شوق تھا۔ ابا سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدتے اور ہر سال گاڑی تبدیل کرتے۔ کبھی آسٹن، کبھی ہل مین۔ فورڈ کی سفید اسٹیشن ویگن کی یاد بے حد واضع ہے۔ وہ ہم بچوں کو بہت پسند تھی۔ پچھلے حصے میں بیٹھ کر ڈکی کا دروازہ کھلا رکھا جاتا۔ خاندان کے تمام بچوں کو گاڑی میں بھر کر ابا سیر کرانے لے جاتے۔ کلفٹن میں کوٹھاری پریڈ ہم بچوں کی پسندیدہ جگہ تھی۔ ہم سب گنبد نما کھلی عمارت کے اطراف جودھ پوری  پتھر کی بنی چکنی ڈھلان پر چڑھ کر پھسلا کرتے۔ اتوار کے اتوار ہاکس بے ، سینڈز پٹ اور پیرا ڈائز پوائنٹ کا چکر لگتا۔ اکثر شام کو صدر میں واقع کیفے جارج میں ہم بچوں کو آئس کریم کھلانے لے جاتے۔ منگھو پیر بھی ایک دو دفعہ گئے۔ سٹی ریلوے اسٹیشن اور ایئر پورٹ بھی تفریح کی غرض سے جایا کرتے۔ ابا کے ایک دوست تھے ، M.F آئیس کریم فیکٹری کے مالک۔ ہم بچے اکثر ابا کے سر ہو جاتے کہ ہمیں ان کی فیکٹری کی سیر کرائیں۔ فیکٹری ملیر کے مضافات میں تھی اور آس پاس ان کے امرود کے باغات ہوا کرتے تھے۔ پہلے باغ جا کر جی بھر کر امرود کھائے جاتے۔ پھر فیکٹری کی سیر کرتے۔ آئس کریم کی لالچ میں۔ آئس کریم سے نہ صرف وہیں خاطر تواضع کی جاتی بلکہ M.F آئس کریم کے ڈبے تحفے میں ملتے۔ 
	سال میں ایک دفعہ ایک تفریح کا موقع بندر روڈ پر بھی ملتا۔ یہ دس محرم کو نکلنے والے تعزیے اور الم کے بڑے جلوسوں اور ماتم کے دیدار کا موقع ہوتا۔ یہاں ہم ماموں کے ساتھ جایا کرتے۔ نانا، نانی، ماموں اور ممانی اور میری ہم عمر خالہ ملیر میں رہتے تھے۔ یہ شیعہ محلہ تھا۔ آٹھ دس گھر سنیوں کے بھی تھے۔ ہم بچے آٹھ محرم سے نانی کے گھر رہنے آ جایا کرتے۔ محلے میں ہونے والی مجلسوں میں شریک ہوتے۔ چھریوں کا ماتم اور ذوالجناح دیکھنے کے چکر میں نو اور دس محرم کی راتوں کو جاگتے رہنے کی کوشش کرتے۔ جب نیند سے آنکھیں بوجھل ہونے لگتیں تو امی، نانی، یا ممانی کو تاکید کر کے کہ ہمیں جلوس کے وقت ضرور اٹھائیے گا، صحن میں بچھی چار پائیوں پر پڑ کر سو جاتے۔ واقعتاً ہمیں جلوس نکلنے پر جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا جاتا اور ہم بچے دروازے کھول کر دہلیزوں پر کھڑے ہو جاتے۔ تنگ گلیوں سے جب جلوس اور ذوالجناح گزرتے تو یہ سب اتنے قریب سے دیکھنے کی عجب خوشی ہوتی۔ بندر روڈ پر البتہ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ماتم دیکھا جاتا۔ اس زمانے میں لوگ گھروں کے دروازے کھلے ہی رکھتے تھے۔ اور بندر روڈ پر رہنے والے اتنے مہمان نواز ہوتے تھے کہ سب کو چھتوں اور منڈیروں پر ٹک کر جلوس دیکھنے کی بخوشی اجازت دے دی جاتی تھی۔ خاص طور پر بچوں کو۔
	اسی زمانے میں ابا نے سراج الدولہ روڈ کے اس پار دارالامان ہاؤسنگ سوسائٹی میں زمین خریدی۔ مکان کی تعمیر شروع ہوئی۔ اب ہم بچوں کی آوارہ گردی کا دائرہ وسیع تر ہو گیا۔ پلاٹ پر جانے کے بہانے ہم آس پاس کی گلیوں اور تھوڑے فاصلے پر واقع پہاڑی تک جانے لگے۔ یہ پہاڑی، جواب ہل پارک کہلاتی ہے ، بڑے بڑے پتھروں، جنگلی جھاڑیوں، خود رو پودوں اور گھاس پھوس سے ڈھکی ہوتی تھی۔ پہاڑی پر دو تین پگڈنڈیاں ہوتی تھیں جسے لوگ سوسائٹی کے دوسرے حصے تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے۔ لیکن پہاڑی پر ہم بچے کبھی اکیلے جانے کی ہمت نہ کر پائے۔ احتشام بھائی جان کے پیچھے پڑتے کہ پہاڑی پر چلیں۔ اور سب بچے ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے دوڑتے پہاڑی پر چڑھتے۔ 
٭٭٭



راچیواباپنا مکان پ امنُ                                                                                                        
کورنگی کی کہانی 

	صبح کے نو بجے ہیں۔وسط مارچ کے سورج کی  چمکیلی کرنیں فضا کو آہستہ آہستہ گرما رہی ہیں۔ میں پل سے ہوتی ہوئی کورنگی انڈسٹریل ایریا سے گزر رہی ہوں۔ دو رویہ چوڑی سڑک کے دونوں اطراف ملیں اور فیکٹریاں ہیں۔ کراچی کے سائٹ ایریا کے برخلاف، جہاں غیر ملکی کمپنیوں نے فیکٹریوں کے اردگرد پیڑ پودے ، گل بوٹے لگا کر علاقے کو سر سبز کر دیا ہے ، کورنگی انڈسٹریل ایریا بنجر اور خاک آلود ہے۔ یہاں دو چار ہی غیر ملکی کمپنیوں کے پلانٹ ہوں گے۔ اکثریت مقامی کارخانوں کی ہے۔ فیکٹریوں کے باہر کہیں کہیں گھاس کے قطعے ہیں اور پودوں کی دو چار قطاریں نظر آتی ہیں۔ گویا کسی نے بادل ناخواستہ کوشش کی ہو اس علاقہ کو خوشنما بنانے کی اور پھر پھولوں کی کیاریوں کو تنہا چھوڑ گیا ہو۔ 	
	واقعتاً کورنگی اب ویران اور تنہا رہ گیا ہے۔ 
	تنہا اور زخم خوردہ، خوف و دہشت اور نفرت و جنوں کے جال میں الجھا ہوا۔
	کراچی کے غیر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے لیے کورنگی، جو کبھی شہر کا ایک پھلتا پھولتا، پر امن علاقہ تھا، آج اخبار کی صرف ایک کالمی روزانہ سرخی میں سمٹ کر گم ہو گیا ہے : ُ گولیوں سے چھلنی ایک لاش کورنگی میں پائی گئی۔ 
	ٹریفک کم ہے۔ دور دور تک کوئی پیدل چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ ایک پیلی ٹیکسی سڑک کے کنارے رکتی ہے اور ایک مرد چشمہ لگائے ، پینٹ، ٹائی میں ملبوس، بریف کیس ہاتھ میں لیے ٹیکسی سے اترتا ہے ، اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا فیکٹری کے گیٹ کے اندر غائب ہو جاتا ہے۔ میں گاڑی روکتی ہوں اور ٹیکسی ڈرائیور سے راستہ پوچھتی ہوں۔ تیسرے چوراہے پر دائیں ہاتھ کو مڑیں۔ وہ ہی ڈھائی نمبر کورنگی ہے۔ میں گاڑی اسٹارٹ کرتی ہوں۔
 	یہ کورنگی کا رہائشی علاقہ ہے۔ سڑک پر جا بجا گڑھے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی فٹ پاتھ پر لوگ چل رہے ہیں۔ کہیں کہیں بس کے انتظار میں لوگ کھڑے ہیں۔ سڑک کے وسط میں بنی سبز بیلٹ کیچڑ اور کوڑے کرکٹ سے اٹی ہوئی ہے۔ بچے کھیل رہے ہیں۔ میں گاڑی آہستہ کرتی ہوں اور لوگوں سے پتہ پوچھتی ہوئی آگے بڑھتی ہوں۔ ایک مرد، ایک لڑکا اور دو برقعہ پوش عورتیں باری باری مجھے پتہ سمجھاتی ہیں۔ میں اب بائیں ہاتھ کی سڑک پکڑتی ہوں۔ سڑک کے ایک طرف کیکر کی جھاڑیاں ہیں اور دوسری طرف ٹریفک: ایک سائیکل، ایک گدھا گاڑی اور ایک ٹیکسی۔
	کورنگی ٹاؤن شپ کی بنیاد ۱۹۵۹ کے ایک سروے کے بعد ڈالی گئی تھی۔ یہ سروے ایوب خان  نے یونانی ماہرین سے کروایا تھا۔ اس وقت کراچی میں ایک لاکھ انیس ہزار بے گھر خاندان تھے جو شہر کے مرکز  میں جھونپڑیوں اور کچے گھروں میں رہ رہے تھے۔ ۱۹۶۰ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وسطی شہر کو جھگیوں سے صاف کیا جائے اور ان خاندانوں  کو شہر کے مرکز سے اٹھا کر پندرہ میل پرے کورنگی میں آباد کیا جائے۔ رہائشی کالونیوں کے ساتھ ساتھ کورنگی انڈسٹریئل ایریا کی بھی داغ بیل ڈالی گئی تاکہ کورنگی کے مکینوں کو روزگار کے لئے شہر نہ آنا پڑے۔ 
	یہ بستی پینتیس سال پرانی ہے۔ 
	میں شمشاد بھائی کا گھر تلاش کرتی ہوں۔ ان کا گھرانہ بیس سال سے کورنگی میں مقیم ہے۔ ان کی بیوی شکیلہ سے میں نے فون پر بات کی ہے اور انھوں نے مجھے کورنگی کے دو چار متاثرہ خاندانوں میں لے جانے کی حامی بھری ہے۔ یہ وہ خاندان ہیں جو کراچی کے حالیہ پر تشدد واقعات سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
	شمشاد بھائی کراچی کے مختلف علاقوں کے مکانوں میں رنگائی کا کام کرتے ہیں اور عام طور پر گھر رات کو ہی پہنچ پاتے ہیں۔ ان کے نو بچے ہیں۔ تین لڑکے اور چھ لڑکیاں۔ سب سے بڑا لڑکا ۲۳ سال کا ہے اور نیوی میں ملازمت کرتا ہے۔ انیس سالہ علی گھر کے قریب کرایہ پہ لی ہوئی کریانے کی دکان پہ بیٹھتا ہے۔ نویں جماعت کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑ دی ہے۔ 
	میں شکیلہ سے باتیں کرتی ہوں۔ ہم علی کے دوست نعمان کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمیں ایک خاتون کے پاس لے جانے والا ہے جس کا انیس سالہ بیٹا دہشت گردوں کے ہاتھوں بیس دن پہلے قتل ہوا ہے۔ 
	شکیلہ کی بیٹی نے دالان کی ابھی ابھی دھلائی کی ہے۔ دوسری بیٹی کمروں کے فرش پر پوچھا لگا رہی ہے۔ یہ تین کمروں والا ۸۰ مربع گز پر بنا مکان ہے۔ گیٹ کے چھوٹے دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے۔ 
	"دوسرے علاقے کے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم یہاں کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلسل خوف، فکر و اندیشے اور ذہنی تناؤ نے ہماری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے ،"  وہ کہ رہی ہیں۔ ان کی آٹھ سالہ بیٹی محاصرے کی رات کے بعد بخار میں ہفتوں پھنکتی رہی۔ "پلنگ سے لگ گئی تھی۔ جب ذرا طبیعت سنبھلی تو کانوں میں انگلیاں دیئے رہنے لگی۔ ذرا سی آواز پر پلنگ کے نیچے چھپ جاتی، ہر وقت میرا دامن پکڑے رہتی۔ ڈاکٹر کے پاس لے گئی تو اس نے کہا "بچی دہشت زدہ ہو گئی ہے۔ " 
	میں بچی کو دیکھتی ہوں۔ دبلی پتلی، آنکھوں کے گرد حلقے ، اور ہلکی سی سرخی۔ لگتا ہے بہت دنوں تک روتی رہی ہے۔ 
	"میرا بیٹا جو کریانے کی دکان پر بیٹھتا ہے ، خاموش رہنے لگا ہے۔ بہت خوش مزاج بچہ تھا۔ ہمیشہ چہکتا رہتا تھا۔ اب تو چپ لگ گئی ہے۔ لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میری بڑی بہن کا گھرانہ بے حد پریشان ہے۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا اسپتال میں نفسیاتی ڈاکٹر کے زیر علاج ہے۔ "
	شکیلہ کی بڑی بہن پڑوس میں رہتی ہیں۔ ہم ان کے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ چھوٹے سے دالان کو ابھی پانی سے دھویا گیا ہے۔ غالباً کورنگی میں پانی کی قلت نہیں ہے ، میں سوچتی ہوں اور خاتون خانہ سے ہاتھ ملاتی ہوں۔
	"ایک شام دیکھا ننگے پیر گھر چلا آ رہا ہے۔ پیر مٹی میں اٹے ہوئے ، خراشیں پڑی ہوئیں۔ پوچھا جوتے کہاں گئے۔ کہنے لگا ’امی، فقیر کو دے دیئے‘۔ دوسرے دن گھڑی اتار کر کسی کو دے آیا۔ اپنے کپڑے بانٹنے شروع کر دیے۔ کہتا تھا غریبوں کو دے رہا ہوں۔ سکون ملتا ہے مجھے۔ پھر گھر کی چیزیں اٹھا اٹھا کر دینے لگا۔ برتن بھانڈے ، ٹیپ ریکاڈر، بہن بھائیوں کے کپڑے ، جوتے۔ ۔۔" سراج کی ماں مجھے دھیمے لہجے میں بتا رہی تھیں۔ سفید و سرمئی بال ملگجے ململ کے ڈوپٹے سے ڈھکے ہوئے ، اندر کو دھنسی ہوئی بے رونق شربتی آنکھیں، جو گہرے حلقوں کے باعث گول اور مزید نمایاں ہو گئی تھیں۔ رخسار کی ہڈیاں دھنسی ہوئی، چہرے پر باریک باریک لکیروں کا جال بچھا ہوا۔ کرب اور دکھ اور گزرے ہوئے سالوں کا جال۔ ساٹھ برس کی ہوں گی لیکن ستر پچھتر کی لگ رہی تھیں۔
	"پہلے تو میں سمجھا شاید تکبر آگیا ہے لڑکے میں۔ انا پیدا ہو گئی ہے اس کے اندر۔ کیونکہ میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرتا تو میری بات کاٹ دیتا۔ زور زور سے بولنے لگا تھا،" سفید شلوار کرتے میں ملبوس، گھٹے ہوئے بالوں پر سفید ٹوپی اوڑھے ہوئے ، خشخشی ڈاڑھی والے بزرگ، سراج کے والد، کہہ رہے ہیں۔
	"تو کیا گھر میں توڑ پھوڑ بھی۔۔۔۔" میں نے پوچھنا چاہا۔ 
	"نہیں، ایسی بات نہ تھی۔ توڑ پھوڑ نہیں کی کبھی اس نے "، انھوں نے بتایا۔
	"آفس جانا تو چھوڑ دیا ہو گا" میں نے سوالیہ انداز میں کہا۔
	"آفس وہ برابر جاتا رہا۔ لیکن وہاں بھی یہی باتیں شروع کر دی تھیں۔۔۔ امن چاہیئے ، سکون چاہیئے۔ بس ایک رٹ لگ گئی تھی۔ امن چاہیئے ، امن چاہیئے ،" سراج کی اماں بتا رہی تھیں۔
	"دراصل لاشیں دیکھ دیکھ کر اسے کچھ ہو گیا تھا۔ ندی کے راستے اسکوٹر پر آفس آتا جاتا تھا نا۔ روز شام مجھے آ کر بتاتا ’’امی، آج ایک لاش پڑی ہوئی تھی۔ گولیوں سے چھلنی، چہرہ اڑا ہوا۔ کیسے تڑپ تڑپ کر جان دی ہو گی۔‘‘ اور پھر جب محاصرہ ہوا، علاقے کے تمام لڑکوں اور مردوں کو فوجی لے گئے۔ اس کو بھی لے گئے۔ حالانکہ اس نے اپنا PAF کا کارڈ دکھایا تھا۔ چھوڑ تو اسی دن دیا۔ لیکن اس کے بعد سے ہی اس نے الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کر دیں اور گھر کا سامان باہر لے جا کر بانٹنے لگا۔"
	"دس بارہ ہزار کا سامان بانٹ دیا۔ چھوٹا سا گھر بار ہے ہمارا۔ یہاں ہر چیز ضرورت ہی کی خریدی جاتی ہے۔ بے ضرورت چیزیں تو ہیں نہیں کہ بانٹنا شروع کر دیں اور کوئی فرق نہ پڑے۔ دس بارہ ہزار کا سامان بانٹ ڈالا اس نے۔ " بزرگ نے دہرایا۔ سراج کی اماں نے پہلو بدلا۔ شاید وہ سامان کی مالیت کے بارے میں کچھ سننا نہی چاہتیں۔
	میں سوچتی ہوں: اس چھوٹے سے گھر کے مکینوں پر ان دنوں کیا بیتی ہو گی۔ گھر کے باہر قتل و غارت گری، دہشت گردی کی فضا، MQM الطاف گروپ ، حقیقی، پولیس اور رینجرز کے درمیان گولیوں کی بوچھاڑیں، پولیس اور نامعلوم دہشت گردوں کے آپس میں مسلحہ مقابلے ، گلیوں میں موت کے سائے۔ اور پھر محاصرے کی پیدا کردہ دہشت: گھروں کے اندر فوجیوں کا دندناتے ہوئے گھسنا، گھر کی چیزوں کو تہس نہس کرنا، الماریوں، صندوقوں کا سامان باہر پھینکنا ان ہتھیاروں کی تلاش میں جو کہ وہاں نہیں ہیں، مکینوں کی فکرو تشویش: اگر بیٹے کو اٹھا کر لے گئے تو کیا ہو گا؟ کیا کریں گے ؟ کس کے پاس فریاد لے کر جائیں گے ؟ کیسے یقین دلائیں گے کہ اس کا MQM سے کوئی تعلق نہیں؟ کیسے اس کی بے گناہی ثابت کریں گے ! نہ کسی صاحبِ اختیار کی سفارش ہے اور نہ جیب میں رقم۔ اگر لے گئے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ زندہ واپس آئے گا کہ نہیں! اور گھر میں سب سے بڑے کماؤ پوت کی بہکی بہکی باتیں، گھر کی اشیاء کو غریبوں میں تقسیم کرنا، باپ کی سرزنش، بیٹے کی اونچی ہوتی ہوئی آواز، چھوٹے بہن بھائیوں کا سہم کر دبکنا اور ماں کی سرگوشیاں "جانے دیں۔۔۔چھوڑیں بھی۔۔۔غریبوں ہی کو تو دے رہا ہے ، کوئی گناہ تو نہیں کر رہا۔۔۔"
	"دس بارہ دن بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں ہے۔ میں اسپتال لے گیا اسے۔ ایئر فورس کا اسپتال۔ ماری پور میں ہے۔ ڈاکٹر نے پوچھا،’کیا چاہتے ہو؟‘ اس نے کہا، ’  میں امن چاہتا ہوں۔ صرف امن‘ ڈاکٹر نے سوال کیا، ’امن کیسے قائم کیا جائے ؟ بندوق سے ؟ کلاشنکوف سے ؟‘ اس نے کہا، نہیں۔ صرف پیار محبت سے‘۔ ڈاکٹر نے کہا  "اسے داخل کرنا پڑے گا۔"
	سراج کو اسپتال میں داخل ہوئے ڈھائی ماہ ہو چکے ہیں۔ 
	سراج کی عمر ۲۵ سال ہے۔ گذشتہ سات سال سے پاکستان ایئر فورس میں ملازمت کر رہا ہے۔ "کاغذ پر اس کی نوکری انجن مکینک کی لکھی ہے ،" والد نے میرے دریافت کرنے پر بتایا، "لیکن وہ آفس میں کام کرتا ہے ،" انھوں نے آفس پر زور دے کر کہا۔
	"بی۔اے پارٹ ون کا امتحان پاس کر چکے ہیں۔ کمپیوٹر کورس بھی کیا ہوا ہے بھیا نے "، چار پائی پر ٹانگیں لٹکائے سولہ سالہ چھوٹی بہن بولی۔ چمکتی ہوئی شربتی آنکھیں، ناک میں لونگ، گالوں پر مہاسے ، سر پر قرمزی چنری۔ وہ ماں کے پہلو سے لگی چار پائی پر بیٹھی ہوئی ہے اور والد صوفے کے دوسرے کنارے پر۔ کمرے کی دیواریں سبز تھیں۔ فرج کونے پر رکھا ہے ، ٹی وی   سامنے اور ٹیلی فون تپائی پر دھرا ہے۔ 
	"بی اے کا امتحان کیا ملازمت کے دوران دیا؟ "میں پوچھتی ہوں۔ "ہاں، بڑا محنتی اور ذہین لڑکا ہے۔ PAF کے کچھ تکنیکی کورسز بھی کر چکا ہے "۔ والد کے چہرے پر ٹھیراؤ کی کیفیت ہے۔ لکیروں کا جال ابھی اتنا گہرا نہیں ہوا ہے۔ 
	سراج کے ماں باپ ۱۹۴۹ میں پاکستان آئے تھے۔ ابتدا میں کراچی ایئر پورٹ کے قریب جھگیوں میں رہے ، پھر ملیر اٹھ آئے۔ "۱۹۷۵ میں ہم نے ایک چھوٹا سا پلاٹ خریدا اور یہاں مکان بنوایا۔ اس زمانے میں کورنگی میں امن و امان تھا۔ ۱۹۸۵ کے بعد MQM یہاں بے حد مقبول ہو گئی۔ لیکن اس وقت بھی سکون تھا۔ لڑائی جھگڑے والی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔ یہ حال تو صرف MQM کے دو دھڑے بننے کے بعد ہوا، جب حقیقی بنی۔ ڈھائی تین سال پہلے کی بات ہے۔ عزیز آباد، نائن زیرو کے بعد MQM الطاف گروپ کا سب سے بڑا مرکز گورنگی ہے۔ MQM اور حقیقی دونوں کے لڑکے اتنے منجھے ہوئے ہیں کہ وہ کارروائی کے بعد فوراً غائب ہو جاتے ہیں اور بے گناہوں کی شامت آتی ہے ، پولیس اور رینجرز والوں کے ہاتھ،" وہ کہہ رہے ہیں۔
	"جب فوجی ہمارے گھر کی تلاشی لینے آئے تو میں نے کہا جو لینا ہو صندوق سے نکال لو۔ پھر میں نے پوچھا ’کب سے ڈیوٹی پر ہو؟ تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔ آرام کرو‘۔ چائے بنوا کے دی۔ ہمارے کچھ رشتہ دار پنڈی، ملتان، اور لاہور میں شروع سے آباد ہیں۔ پنجاب آتا جاتا رہتا ہوں اس لیے پنجابی آتی ہے۔ ایک فوجی نے پوچھا ’چچا، کہاں کے رہنے والے ہو، میں نے کہا لاہور کا رہنے والا ہوں۔ انھوں نے گھر کا کوئی سامان نہ چھوا اور خاموشی سے نکل گئے ،" سراج کے والد کی مسکراہٹ میں تلخی ہے۔ 
	سراج کی طبیعت اب سنبھل چلی ہے۔ وہ کراچی کے حالات سے باخبر رہتا ہے۔ اسپتال میں باقاعدگی سے اخبار پڑھتا ہے ، ٹی وی دیکھتا ہے۔ لیکن اب اس کی امن، امن کی رٹ ختم ہو چلی ہے۔ "اب وہ set ہو گیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں دوائیوں کا کورس پورا ہو جائے تب چھٹی ملی گی۔ عید پر آیا تھا پانچ دنوں کے لیے ،" والد بتا رہے ہیں۔
	ہم شکیلہ کے گھر واپس آتے ہیں۔ لڑکے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ نعمان اپنے ساتھ انور کو لے کر آیا ہے۔ انور کی عمر چھبیس ستائیس سال ہے لیکن وہ پینتیس کا نظر آتا ہے۔ سنولایا ہوا سنجیدہ چہرہ، سوچ میں ڈوبی آنکھیں۔ وہ خاموش ہے۔ انور MQM کا کارکن ہے۔ 
	"یہ اس لڑکے کا ماموں ہے جس کا قتل ہوا تھا۔ قاتل اس کی تلاش میں آئے تھے۔ اس وقت یہ وہاں نہ تھا۔ انھوں نے بھانجے کو مار دیا، "شکیلہ مجھے سرگوشی میں بتاتی ہیں۔ "یہ اپنی بہن کے گھر سوئم کے بعد سے نہیں گیا ہے۔ کہتا ہے ، آپا کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ روتا ہے کہ ’میں اس دن وہاں کیوں نہ ہوا۔ موجود ہوتا تو مجھے قتل کرتے ، بھانجا زندہ ہوتا‘۔
	میں گاڑی کھڑی کرتی ہوں۔ گھر کے سامنے میدان ہے۔ غالباً یہ چوڑی، دو رویہ سڑک کی جگہ ہے جواب معلوم نہیں کتنے برس بعد بنے گی۔ فی الوقت کورنگی میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے کوئی ترقیاتی کام ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ سڑک کے ایک کنارے کیکر کی گھنی جھاڑیاں ہیں اور دوسری جانب ساٹھ مربع گز پر بنے مکانات کی ایک سنسان قطار۔ گھروں کے دروازے بند ہیں۔ دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا گو کہ گیارہ بجے کے آس پاس کا وقت ہے۔ گھر کے تھوڑا آگے جھاڑیوں کو کاٹ کر میدان صاف کیا گیا ہے۔ اور ایک باڑا نظر آ رہا ہے۔ بھینسیں جگالی کر رہی ہیں اور فضا میں گوبر، چارہ اور دودھ کی ملی جلی مہک بسی ہوئی ہے۔ 
	انور اپنی بہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک بوڑھا آدمی دروازہ کھولتا ہے۔ میں اور شکیلہ اندر داخل ہوتے ہیں۔ لڑکے باہر ہی کھڑے ہیں۔
	ہم صوفے پر بیٹھے ہیں۔ کمرہ چھوٹا ہے اور فرش پر دری بچھی ہوئی ہے۔ مقتول لڑکے کی ماں ایک بھاری جسم کی عورت ہیں۔ چالیس کے پیٹے میں۔ ان کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی ہیں۔ وہ کمرے کا سامنے والا دروازہ، جس پر ایک موٹا سیاہ تالہ لٹکا ہوا ہے ، کھولتی ہیں۔ کمرہ سورج کی تیز چبھتی ہوئی روشنی سے اچانک بھر جاتا ہے۔ وہ میرے برابر آ بیٹھتی ہیں۔ "ایک وقت تھا ہم سب رات کو یہ دروازہ کھول کر اس کمرے میں سویا کرتے تھے۔ اتنا امن و امان تھا گورنگی میں۔ اب تو یہ موٹا تالہ اندر سے دن رات لگائے رہتی ہوں"۔ پھر وہ اس بھیانک صبح کا نقشہ کھینچتی ہے جس کی یاد زندگی بھر ان کو کچوکے دیتی رہے گی۔
	"صبح کے سات بجے ہوں گے جب کسی نے دستک دی۔ میں پراٹھوں کے لیے آٹا گوندھنے کے بعد ہاتھ دھو رہی تھی۔ میں نے پوچھا کون ہے ؟ آواز آئی ’انور ہے ؟‘ میں سمجھی انور کا کوئی دوست ہو گا۔ کبھی میرا بھائی میرے گھر ہی رات رہ جاتا ہے۔ اماں قریب ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس صبح انور نہیں تھا۔ ’اچھا، منو کو بھیج دو۔ کیسٹ کا پوچھنا ہے‘ ، آواز آئی۔ میرے بیٹے نے حال ہی میں وڈیو کیسٹ کی دکان set کی تھی۔"
	"اس صبح منو کی آنکھ آواز سے فوراً کھل گئی۔ عام طور پر وہ دیر تک سوتا تھا اور اٹھائے نہیں اٹھتا۔ اتنی گہری نیند ہوتی تھی اس کی۔ لیکن اس دن قضا جو آئے تھی۔ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ کھڑا۔ بنیان پہیے ہوئے تھا، قمیض اٹھائی اور باہر نکل آیا۔ ’اماں ابھی آتا ہوں۔‘ اس آدمی نے غالباً اس سے کچھ کہا اور منو اس کے پیچھے چلا گیا۔ اور پھر مجھے گولیاں کی باڑھ کی دل دہلانے والی آواز آئی۔ میں سمجھی دوبارہ محاصرہ ہو گیا ہے۔ میں باہر بھاگی کہ منو سے کہوں فوراً اندر آ جائے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان گولیوں کا نشانہ میرا بیٹا ہی بنا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو بچہ زمین پر پڑا ہوا تھا۔ گولیوں نے اس کے چہرے اور ٹانگوں کو چھلنی کر دیا تھا۔ آج تک محلے والوں نے میرے ناخن تک نہ دیکھے تھے لیکن اس وقت مجھے اپنا ہوش نہ تھا۔ بس اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور ختم۔"
	"اتنا معصوم تھا میرا بچہ۔ ہر ایک سے محبت کرنے والا۔ محلے والوں کے کام کرتا۔ سب کا لاڈلا تھا۔ خدا معلوم اسے کیوں مار ڈالا۔ تین سال پہلے اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ بڑا عرصہ بیمار رہے۔ منو اس وقت نویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ باپ کے مرنے پر مجھ سے کہتا تھا، اماں تم فکر نہ کرو بس اب میں گھر چلاؤں گا۔ پڑھائی چھوڑ دی اور ادھر ادھر چھوٹا موٹا کام کیا۔ جب مستقل روزگار نہ لگا تو بولا اماں میرا حصہ دے دو۔ چند سالوں میں تمہیں یہ روپیہ واپس لوٹا دوں گا۔ ان کے پرویڈنٹ فنڈ کے تیس ہزار پڑے تھے میرے پاس۔ اس نے ایک وڈیو کیسٹ کی دکان لگائی تھی ایک ماہ پہلے۔ "
	میں اٹھ کر منو کی سولہ سالہ بہن سے ملنے اندر جاتی ہوں۔ سر پر ڈوپٹہ، جذبات سے عاری، ساکت چہرہ۔ "اس کو سکتہ ہو گیا تھا بھائی کی موت پر۔ نویں میں پڑھ رہی تھی۔ اسکول چھوڑ دیا ہے۔ میرا چھوٹا بیٹا ساتویں میں پڑھ رہا تھا وہ بھی اسکول سے اٹھ گیا ہے۔ وڈیو کی دکان میں بیٹھتا ہے۔ کہتا ہے آگے نہیں پڑھے گا۔ ۱۵۰۰ روپے پینشن کے ملتے ہیں۔ میں نے والد صاحب کو گھر بلا لیا ہے تاکہ بچوں پر نظر رکھیں گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔"
	کورنگی جیسے علاقوں میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد شہر کے دوسرے علاقوں کی نسبت ویسے ہی زیادہ ہے۔ آٹھویں کے بعد والدین عام طور پر لڑکیوں کو اٹھا لیتے ہیں کیونکہ وہ تمام بچوں کے اسکول کے اخراجات کے محتمل نہیں ہو سکتے۔ بعض گھروں میں اس عمر میں لڑکوں کو روزگار پر بٹھانا لازمی ہو جاتا ہے یا پھر لڑکے پڑھائی میں عدم دلچسپی کی وجہ سے خود ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان علاقوں کے اسکول فائرنگ اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے آئے دن بند رہتے ہیں۔
	ہم گھر سے باہر آتے ہیں۔ لڑکے سرگوشیوں میں باتیں کر رہے ہیں۔ انور ہمیں خدا حافظ کر کے چلا جاتا ہے۔ شکیلہ کا بیٹا اور اس کا دوست ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہیں۔ "وہ لوگ سمجھ رہے تھے یہ جماعت اسلامی والوں کی گاڑی ہے کچھ عرصہ پہلے جماعت اسلامی کا آدمی آیا تھا۔ فیچر لکھنے۔ لیکن جب اس کا مضمون آیا تو صرف جماعت کی تعریفوں سے بھرا ہوا تھا۔ جماعت نے کورنگی میں یہ کیا، جماعت نے وہ کیا۔" وہ بڑبڑا رہا تھا۔ تو جماعت اسلامی بھی کورنگی میں موجود ہے۔ میرا خیال تھا یہ صرف اور صرف MQM کا علاقہ ہے۔ 
	ہم شکیلہ کے گھر واپس لوٹتے ہیں۔ "ہمیں پیغام ملا ہے کہ ہم آپ کو کسی اور گھر نہ لے جائیں۔ یہ پیغام کل رات سیکٹر یونٹ میں آگیا تھا لیکن مجھ تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ وہ کہتے ہیں آپ کو نائن زیرو سے اجازت لینی ہو گی"، نعمان کہہ رہا ہے۔ 
	میں اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں: میں نے آنے سے پہلے شکیلہ کو فون کیا تھا۔ شکیلہ نے اپنے بیٹے علی سے تذکرہ کیا ہوا ہو گا اور اس نے اپنے دوست نعمان کو بتایا ہو گا۔ نعمان ایم کیو ایم کا کارکن ہے۔ نعمان نے انور سے رابطہ کیا ہو گا جو MQM کا سرگرم کارکن ہے ، اور بتایا ہو گا کہ میں فیچر کے لیے آ  رہی ہوں، ان خاندانوں کے بارے میں جو دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔انور نے یونٹ انچارج سے بات کی ہو گی جس نے سیکٹر انچارج سے رابطہ کیا ہو گا اور وہاں سے نائن زیرو فون کیا گیا ہو گا اور نائن زیرو نے اجازت نہ دی ہو گی۔
	 لیکن یہ پیغام اس وقت پہنچا جب میں منو کی اماں سے باتیں کر رہی تھی۔
	"میں کوئی سیاسی نوعیت کا مضمون نہیں لکھ رہی ہوں۔ میں صرف متاثرہ خاندانوں کی عورتوں سے باتیں کرنا چاہ رہی تھی۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون کس پارٹی سے منسلک ہے "، میں اس لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔
	"تو کیا تم مجھے ان خاندانوں سے بھی ملنے نہ دو گے جن کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں؟" میں نے پوچھا۔
	"نہیں، میرا خیال یہ مشکل ہو گا،" وہ کچھ سوچتا ہے ، "اچھا، میں مقصود بھائی کو Page کرتا ہوں"۔ میں دوسرے کمرے میں شکیلہ کے بیٹیوں سے باتوں میں مصروف ہو جاتی ہوں اور نعمان فون کے پاس بیٹھ کر pager کے پیغام کا انتظار کرتا ہے۔ دن چڑھتا جا رہا ہے۔ اور میری بے صبری بڑھ رہی ہے۔ "آپ ٹھہریں، میں سیکٹر والوں سے بات کرتا ہوں"۔ وہ باہر جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد واپس آتا ہے۔ "ٹھیک ہے۔ آپ میرے ساتھ آئیں"۔ باہر ایک لڑکا کھڑا ہے۔ تیس کے لگ بھگ ہو گا۔ وہ میرا نام پوچھتا ہے میں "آج" کا ایک شمارہ اسے دیتی ہوں۔ وہ رسالہ ہاتھ میں لیتا ہے۔ دو چار ورق الٹا ہے اور مجھے واپس کر دیتا ہے۔ "میرے ساتھ آئیے "، وہ کہتا ہے۔ ہم تینوں چلتے ہیں۔ گلی کے اختتام پر ایک میدان ہے۔ میدان پار کرنے کے بعد ہم دائیں مڑتے ہیں اور پھر بائیں گلی کے کنارے پہنچتے ہیں۔ وہ آدمی کہتا "آپ یہیں رہیں۔ آفس میں لوگ ہیں۔ میں ابھی آتا ہوں۔ "یہ کہہ کہ وہ گلی سے نکل کر غائب ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک موٹا تازہ، چوڑا چکلا آدمی نمودار ہوتا ہے۔ یہ چالیس کے لگ بھگ ہو گا۔ میں اپنی کہانی دہراتی ہوں۔ "میں عزیز آباد بھی جانا چاہتی ہوں" میں ٹکڑا لگاتی ہوں۔ "آپ کو مرکز سے اجازت لینا ہو گی پھر آپ کو ہر گھر میں لے جایا جا سکتا ہے۔ کورنگی ہو یا عزیزآباد"۔ وہ رسالہ ہاتھ میں لیتا ہے اور   ایک نظر ڈال واپس کر دیتا ہے۔ پھر دونوں آدمی گلی سے نکل کر غائب ہو جاتے ہیں اور میں نعمان کے ساتھ واپس چل پڑتی ہوں۔ جس گھر کی دیوار کے ساتھ ہم لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے اس کا دروازہ کھلتا ہے اور دو عورتیں سر نکال کر باہر جھانکتی ہیں۔ میں انھیں دیکھ کر مسکراتی ہوں۔ جواب میں وہ بھی مسکراتی ہیں۔ شاید یہ دیوار سے لگی سب باتیں سن رہی تھیں، میں سوچتی ہوں۔
	گلی میں چلتے ہوئے مجھے لگتا ہے گھروں کے مکینوں کی آنکھیں دروازوں کی جھریوں، کھڑکیوں کی اوٹ سے مجھ پر اور نعمان پر لگی ہوئی ہیں۔ کوئی دروازہ کھول رہا ہے کوئی کھڑکی بند کر رہا ہے۔ ایک گھر کے چھت سے ایک بوڑھا آدمی ہم دونوں کو غور سے دیکھتا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں چھت پر ٹہلنا؟ شاید اس محلے کے لوگ عام حالات ایک دوسرے پر نظر رکھنے کے عادی ہیں اور آج کل تو کورنگی کے حالات بہت خراب ہیں۔ کوئی تعجب نہیں اگر وہ ہر ایک کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہو گئے ہوں۔
	 میں شکیلہ کے گھر واپس آتی ہوں۔ نعمان اب تک ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی  چھوٹی چھوٹی گہری آنکھیں ہوئی سرخ ہو رہی ہیں۔ اس کا چہرہ جذبات سے عاری ہے۔ خدا جانے اندر کتنے طوفان دفن ہیں، میں سوچتی ہوں۔ محاصرے کے دن نعمان کو رینجرز لے گئے تھے۔ اٹھارہ دن رکھا۔ اس نوجوان پر کیا گزری ہو گی۔
	’تم پڑھتے ہو؟‘ میں بات شروع کرتی  ہوں۔ "میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی،" وہ کہتا ہے ، "تین سال تک میں صدر میں ایک سنار کی دکان پر کام کرتا رہا۔ پھر ابا کی درزی کی دکان پر بیٹھنے لگا۔ لیکن ابا بیمار رہتے ہیں اور دکان آئے دن بند ہوتی ہے۔ مجھ سے اب وہاں نہیں بیٹھا جاتا ہے۔ " تو آج کل کیا کر رہے ہو؟ "سنار کی دکان پر دوبارہ جانے لگا ہوں"۔ ’آج نہیں گئے ؟‘وہ خاموش ہے۔ 
	نعمان کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ دو بڑے بھائی شادی شدہ ہیں اور بیوی بچوں کے ساتھ الگ رہتے ہیں۔ ایک بھائی امریکہ میں ہے اور ایک ایم کیو ایم میں۔  "یہ بھائی ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔" 
	فوجیوں نے اس کے ساتھ کیا کیا اٹھارہ دن تک؟ "انھوں نے ہماری آنکھوں پر اٹھارہ دنوں تک پٹی باندھے رکھی۔ جس کمرے میں مجھے رکھا گیا تھا وہاں ۳۲ لڑکے تھے۔ وہ ایک بے حد تنگ کمرہ تھا۔" میں تصور کرنے کی کوشش کرتی ہو۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں ۳۲ لڑکے جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ کیا وہ سب کے سب فرش پر بیٹھ سکتے تھے ؟ یا کھڑے تھے ؟ اور بنیادی ضروریات؟ 
	"دو دن میں انھوں نے انہوں نے ہمیں پاخانے تک آنا جانا سکھا دیا تھا۔ کھانے کو دیتے تھے۔ ہر تیسرے دن ہمیں بیان دہرانا ہوتا تھا۔ اگر ایک لفظ کا فرق ہو جاتا تو مارا جاتا۔ اٹھارویں دن مجھے پولیس اسٹیشن لایا گیا اور وہاں سے رہا کیا گیا"۔ نعمان نے مختصراً بتایا۔
	’تم MQM چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟‘ میں پوچھتی ہوں۔ "اب دلی لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ " وہ بچوں کی طرح مسکراتا ہے۔ 
	چار سال پہلے نعمان کے بھائی نے امریکہ کی ویزا لاٹری میں درخواست ڈالی تھی۔ اس کا نام نکل آیا۔ جب سے وہ وہیں ہے۔ تم امریکہ جانے کی نہیں سوچتے ؟‘ میں نے سوال کرتی ہوں۔ "مستقبل کی سوچ ختم ہو گئی ہے۔ خدا جانے ایک گھنٹے بعد کیا ہو جائے۔ ایسے میں کل کا سوچنا ناممکن ہے "، اب اس کی مسکراہٹ تھکی تھکی سی ہے۔ 
	میں اس نوجوان لڑکے کی اندر کی دنیا کے بارے میں سوچتی ہوں۔ کیسی دنیا ہو گی یہ؟ خوابوں کی دھنک، امید کی کرنوں اور جوان محبت کی آرزوؤں کے بغیر یہ دنیا کتنی تاریک ہو گی! فکر و اندیشہ، نفرت و انتقام، گولیاں اور خون، پولیس اور رینجرز اور نائن زیرو۔ تنگ دائروں کے درمیان گھومتی ہوئی دنیا۔ مجھے اپنے اندر ایک سنسسناہٹ دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ 
	نعمان اٹھارہ دن بعد گھر آیا تو شکیلہ اپنے بیٹے اور نعمان کو اس کے گھر والوں کی اجازت سے لاہور لے گئیں۔ "میں لاہور رشتہ داروں کے پاس رک گئی اور نعمان اور علی کو اسلام آباد اور مری بھیج دیا۔ نعمان کو تبدیلی کی شدید ضرورت تھی۔ اس کی اماں کا بھی خوف اور دکھ سے برا حال تھا کہ کہیں دوبارہ نہ اٹھا لے جائیں،" وہ بتاتی ہیں۔ 
	ان محلوں کے مکینوں کی زندگیاں آپس میں اس طرح گتھی ہوئی ہیں کہ ایک خارجی شخص کے لیے اس کو سمجھنا مشکل ہے۔’کیا آپ کو کبھی یہ ڈر نہیں لگتا کہ کہیں آپ کے بیٹے بھی ان چکروں میں نہ آ جائیں؟ میں شکیلہ سے سوال کرتی ہوں۔ آخر وہ MQM کے لڑکوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ "ہماری زندگی جہنم بن کے رہ گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے  میں خوف اور وسوسوں کی آگ میں جل کر خاکستر ہو جاؤں گی۔ ذہنی پریشانی اتنی شدید ہے کہ مجھے مستقل سر درد اور ہائی بلڈ پریشر رہنے لگا ہے۔ میں اور میرے شوہر اس کوشش میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں کہ ہمارے لڑکے سیاست سے دور رہیں۔ یقین جانو جتنی دیر میرا بیٹا دکان پر بیٹھتا ہے میں دروازے کی پٹی سے لگی گلی میں دیکھتی رہتی ہوں، دکان نظر آتی ہے یہاں سے ، کہ کس سے بات کر رہا ہے۔ کون آیا ہے دکان پر۔ اب تو اتنے برے حالات ہیں کہ لڑکے خود بھی MQM سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے قطع تعلق تو نہیں کر سکتے۔ انھیں گلیوں میں ساتھ ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے ہیں، ایک ہی اسکول میں پڑھے ہیں۔ کتنے دن کتنی شامیں اکھٹے گزاری ہیں۔ ہم اپنے بچوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم ان سے نہ ملو۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم چاہیں بھی تو اب یہ تعلقات ختم نہیں کر سکتے۔ ہمیں سب کے ساتھ ہنس بول کر رہنا ہے۔ یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سلام دعا رکھنی پڑتی ہے۔ ہر طرف مخبر لگے ہوئے ہیں۔ CIA کے ، FIB کے ، حقیقی کے ، MQM  کے "۔
	’کیا میں تمہاری اماں سے مل سکتی ہوں؟‘ کیوں نہیں۔ نعمان اٹھ پڑتا ہے۔ ہم دونوں اس کے گھر آتے ہیں۔ چھوٹا سا دو کمروں کا گھر ہے۔ ٹی وی۔ فرج، واشنگ مشین اور فون۔ اماں بوڑھی ہیں لیکن دبلی پتلی۔ جسم میں پارہ بھرا ہے۔ اور زبان زہر اگل رہی ہے۔ 	"جب جی چاہتا ہے چھلانگ مار کر آ جاتے ہیں۔ کمرے کے دروازوں کو لات مار کر کھولتے ہیں۔ ایسے ٹرک بھر بھر کر آتے ہیں جیسے انڈیا فتح کرنے جا رہے ہوں۔ پورے گھر میں چھا جاتے ہیں۔ اندھیرا کر دیتے ہیں۔ ہمارے گھر میں ۲۶ دفعہ چھاپا مار چکے ہیں۔ چھبیس دفعہ! سب کچھ تہس نہس کر دیتے ہیں۔ ذلیل کرتے ہیں۔ حقارت آمیز لہجے میں چیختے چنگھاڑتے ہیں۔ اس میں میرا کیا قصور ہے اگر میرا بیٹا MQM میں ہے ؟ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو؟"
	 نعمان کا بڑا بھائی ۲۳ سالہ سلمان، MQM کا سرگرم کارکن ہے۔ "وہ اس چھت کے نیچے ڈھائی سال سے نہیں سویا ہے۔ مجھے نہیں پتہ میرا بیٹا کیا کھاتا ہے ، کہاں سوتا ہے ، کیسے جیتا ہے۔ مجھے اس کی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ وہ سایہ کی طرح آتا ہے ہمیں پوچھنے ، اور دس پندرہ منٹ میں ہوا کے جھونکے کی طرح نکل جاتا ہے۔ میں چھاپوں کے خوف سے اور بیٹے کی ایک جھلک کی آس لیے راتوں کو سو نہیں پاتی ہوں۔ میرے دونوں بڑے بیٹے میرے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن آئے دن کے چھاپوں سے  میرے پوتے ، پوتیاں بیمار رہنے لگے تھے۔ اسکول بھی آئے دن بند رہتے ہیں یہاں۔ مجبور ہو کر میرے دونوں بیٹے شہر میں کرایے کے مکانوں میں اٹھ گئے ہیں"۔ 
	آپ اپنے بیٹے سے نہیں کہتی کہ MQM سے نکل جائے ؟ میں سوال کرتی ہوں۔
	 "وہ کہتا ہے ’میں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی ہے۔ میرے لیے ادھر بھی موت ہے ادھر بھی موت ہے‘ ۔ پارٹی چھوڑ دے گا تو کیا بچ جائے گا؟ 
	شروع میں آپ لوگوں نے منع کرنے کی کوشش کی تھی؟ میں جاننا چاہتی ہو ں۔
	"وہ ۱۹۸۵ میں MQM  میں شامل ہوا تھا۔ جب وہ تیرہ سال کا تھا اور آٹھویں میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے باپ درزی کی دکان کرتے ہیں۔ رات کو دیر سے لوٹتے تھے۔ مجھے گھر بار سے ہی فرصت نہ ملتی تھی۔ بس جب ہمیں پتہ چلا اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ ہماری سنتا ہی نہ تھا"۔
	نعمان کے والدین ۱۹۵۰ میں پاکستان آئے تھے۔ اس وقت دو بیٹے تھے ان کے۔ چھ بچے کراچی میں پیدا ہوئے۔ "کئی سال کینٹ اسٹیشن کے قریب جھگیوں میں رہے پھر پیسہ پیسہ جوڑ کر گورنگی میں چھوٹی سی زمین خریدی۔ اٹھارہ سال سے کورنگی میں ہیں"۔ 
	میں باہر نکل آتی ہوں۔ ایک چھ سالہ بچی ننگے پاؤں، ملگجی فراک پہنے خاک آلود گلی میں اپنے گھر کے باہر پودا لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خوشنما سبز رنگ کا پودا۔ غالباً سوسن کی شاخ ہے۔ بچی نے زمین میں گڑھا نہیں کھودا ہے۔ بلکہ شاخ کے نچلے سرے کو پتھریلی زمین پر رکھ کر مٹی سے ڈھانپ دیا ہے۔ وہ ننھے ننھے ہاتھوں سے مٹی کو جما رہی ہے اور پلاسٹک کے ایک پرانے مگ سے اس پر پانی انڈیلتی  جا رہی ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی  صرف ایک چھوٹی سی بنیان پہنے ، مٹی بھرے پاؤں لیے اس سارے عمل کو بغور دیکھ رہا ہے۔ 
	 دوپہر کی چبھنے والی دھوپ میں چمکیلی سبز شاخ، خاک آلود، بے رنگ گلی میں اتنی بے جوڑ لگ رہی ہے کہ تقریباً مضحکہ خیز نظر آ رہی ہے۔ اتنا لاحاصل، اتنا بے مصرف امر۔
 	ماحول ایک اداس کرنے والی کیفیت سے بوجھل ہے۔ بنجر زمین، نہ آگہی، نہ وسائل۔ صرف ایک موہوم سی آرزو۔ 
	میں آگے بڑھتی ہوں۔ گلی کے موڑ پر سوسن کی ایک اور شاخ زمین پر پڑی ہے۔  خاک و دھول سیے اٹی سبز پتیاں  دھوپ سے مرجھا چکی ہیں۔ 
٭٭٭



لیاقت آباد

	حسن اسکوائر سے آتے ہوئے ، غریب آباد سے گزر کر اگر آپ مین روڈ پر سیدھے چلتے ہوئے الکرم اسکوائر کی طرف آئیں تو آپ کو داہنی فٹ پاتھ پر جا بجا سرخ چھتوں والے اسٹال نظر آئیں گے۔ پہلی دفعہ ان پر میری نظر چند سال پہلے پڑی تھی اس رات مجھے یوں لگا جیسے یہ اسٹال لیاقت آباد۔ غریب کے تشدد آمیز لاوے سے اچانک نکل آئے ہوں۔ لکڑی کے چار پایوں کے اوپر سرخ چادر تنی ہوئی، ایک بڑا سا مٹکا منہ سفید کپڑے سے ڈھکا ہوا اور ہر چبوترے ایک کرتا پاجامہ میں ملبوس ٹوپی سر پر اوڑھے ، ڈاڑھی والا شخص۔ میں ستائشی نظروں سے ان قلفی والوں کو دیکھتی رہ گئی تھی مجھے ان کی ہمت، ان کے استقلال ان کے حوصلے ان کے طمطراق پر رشک آ رہا تھا۔ کراچی، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اتنے تباہ کن، پر تشدد حالات میں سلیقے سے روٹی کمانے کے فن پر حیرت ہو رہی تھی۔ دو چار گاہک، جو غالباً قریبی گلیوں کے مکین ہوں گے اسٹال کے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ اور ایک دو گاڑیاں فٹ پاتھ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ جو غریب آباد کی خاص دلبہار قلفی کے مزے لے رہے تھے۔ قلفی واقعی بے حد خوش ذائقہ تھی۔
	ایک اور دفعہ ہم ذیشان ساحل کو الکرم اسکوائر کے پیچھے ان کے گھر چھوڑنے کے لیے اس راستے سے گزرے تھے۔ اس شہر کے حالات بے حد خراب تھے۔ MQM کا ایک سرگرم کارکن مارا گیا تھا اور افواہوں کا زور تھا لیاقت آباد میں بسیں جلائی جا چکی تھی اور دوسرے دن ہڑتال کی تصدیق ہو چکی تھی۔ مغرب کے بعد کا وقت تھا۔ سڑک سنسان پڑی تھی، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ اور ایسے میں دلبہار قلفی والے اپنے اپنے چبوتروں پر خاموشی سے بیٹھے خالی سڑک کو تک رہے تھے۔ اسٹال کے پایوں سے بندھی ٹیوب لائٹوں کی نیلی دودھیا کرخت روشنی میں وہ پراسرار سے ، کسی دوسرے سیارے کی مخلوق معلوم دے رہے تھے۔ 
	آج نمبر کی ستائیس تاریخ ہے۔ سن ۱۹۹۵ اور صبح کا وقت اور میں اسی جگہ سے گاڑی چلا کر گزر رہی ہوں۔ وہ تمام اسٹال اس وقت اجڑے پڑے ہیں۔ سرخ چادروں والی چھتیں غائب ہیں۔ فٹ پاتھ کے ساتھ والی آٹو گیراج اور میکنیک کی دکانیں ابھی بند پڑی ہیں۔ میں سوچتی کیا آج کل بھی شام بھی قلفی والے اپنے تھڑے جما کر روزی کماتے ہیں؟ میں دس نمبر لیاقت آباد کے چوراہے سے بائیں طرف مڑتی ہوں۔ چوراہے پر رش ہے۔ منی بسیں، کوچ، سوزکی پک اپ، گاڑیاں، گدھا گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، پولیس موبائل رینجرز کی بکتر بند گاڑیاں اور پیدل چلنے والوں کی بھر مار۔ یہ لیاقت آباد ہے داہنی طرف لیاقت آباد کی سپر مارکیٹ ہے جس میں چھوٹی بڑی دکانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر سامان دستیاب ہے۔ جیسا کہ لیاقت آباد کے ایک مکین نے مجھے بتایا "بیٹی کا پورا جہیز یہاں سے خریدا جا سکتا ہے ، فرنیچر، بنارسی جوڑے ، سوتی کپڑے زیورات، برتن، الیکٹریک کا سامان، گھریلو اشیاء خشک میوہ سوئی، دھاگہ۔۔۔ لیاقت آباد سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔"
	اور واقعی لیاقت آباد، جو اب تک لالو کھیت کے نام سے مشہور ہے ، اور اس سے متصل علاقے ، ناظم آباد، پاپوش نگر، گولی مار، غریب آباد۔ شہر کے اندر ایک شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ پولیس کے چھاپوں، دہشت گردوں کی فائرنگ، رینجرز کے محاصروں، ڈاکوں، بھتوں، قانونی اہل کاروں کے ناجائز دباؤ اور رشوت خوری کے باوجود کاروباری سرگرمیوں سے بھرپور، خود پرور اور بظاہر حسب معمول۔
	لیکن اس سطح کے نیچے ، اگر آپ اس علاقے کے رہنے والوں سے بات کریں۔ تو آپ کو احساس ہو گا کہ ایک نظام ہے جو آہستہ آہستہ ڈھے رہا تھا۔ معیشت میں جمود، بکھرتا ہوا ثقافتی۔ سماجی سانچہ اور تنزل پذیر تعلیمی نظام۔
	"کاروبار تقریباً ٹھپ ہے۔ ہڑتال کے دنوں پوری مارکیٹ ہی مند ہوتی ہے۔ عام دنوں میں بھی اگر ذرا اس افواہ پھیل جائے کسی گڑ بڑ کی تو کوئی مارکیٹ میں قدم ہی نہیں دھرتا۔ دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔" عبدالقدوس کہہ رہے ہیں۔ وہ پچپن ساٹھ برس کے ہوں گے ، سرمئی و سفید بال، موٹی شیشوں کی عینک چڑھائے ، چہرے سے تھکن کے آثار۔ لیاقت سپر مارکیٹ میں عبدالقدوس کی ایک دکان ہے جس میں سلے سلائے ، کام دار، ریشمی جوڑے بکتے ہیں۔ عبدالقدوس اپنے بیٹوں اور کاریگروں کے ساتھ در دوزی، کام بناتے ہے اور سلائی بھی کرتے ہیں۔
	"پہلے تو دور دور سے لوگ لیاقت آباد خریداری کرنے آیا کرتے تھے ، کہاں کہاں سے گاہک آتے تھے ہمارے پاس، نارتھ ناظم آباد، کورنگی اورنگی، لانڈھی، لیاری، ملیر۔ لیکن اب تو قریبی علاقوں کے لوگ بھی آتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ خدا جانے کس وقت کیا ہو جائے۔ 
	قدوس احمد لیاقت آباد نمبر چھ میں ایک ایسی مربع گز کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے آٹھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔ دو لڑکے اور دو لڑکیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ "ہمارا علاقہ تو پھر بھی قدرے محفوظ ہے۔ وہ اس طرح کے ہماری گلی اور آس پاس کی گلیوں کے لڑکے ان چکروں میں نہیں ہیں۔ لیکن غریب آباد سے پیلی کوٹھی تک کے علاقے میں حقیقی والوں کا زور ہے۔ عبدالقدوس کی بیوی بچوں کو ناشتہ دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں۔ 
	قدرے محفوظ کا مطلب ہے کہ آپ کے گھر کے گیٹ پر پولیس مقابلے نہ ہوا ہو اور آپ کی گلی میں محاصرہ نہ ہوا ہو۔
	"ورنہ گولیوں کی آوازیں تو معمول کی بات ہیں۔ اگر کہیں دور بھی فائرنگ ہو رہی ہو تو لگتا ہے سر پر ہو رہی ہے "، ان کی ۲۸ سالہ صغرا اپنی دو سالہ بچے کو بہلاتے ہوئے ہنس کر بتا رہی ہے۔ صغرا کا شوہر مرچنٹ نیوی میں ملازم ہے اور عموماً جہاز پر ہوتا ہے۔ صغرا اپنا دو کمروں کے گھر میں تالہ ڈال کر زیادہ تر میکہ میں وقت گزارتی ہے۔ 
	"حالات اتنے خراب ہیں۔ اکیلے رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ رات بھی ادھر ہی سوتی ہوں،" وہ بتا رہی ہے۔ 
	"فائرنگ کے بعد یہاں کا دوسرا معمول ڈاکے ہیں۔ یہی لڑکے ڈاکہ ڈالتے ہیں سسرے سب بدمعاش ہیں۔ جس گھر میں گھس جائیں، سب کچھ لے جاتے ہیں، زندگی بھر کی جمع پونچی۔ چوبیس گھنٹے دروازہ بند رکھنا پڑتا ہے۔ ایک زمانہ تھا باہر سے کنڈی لگا کر میں پڑوس میں چلی جایا کرتی تھی"، ان کی بیوی پرانے وقتوں کو یاد کرتی ہیں۔ عبدالقدوس لالوکھیت میں چالیس سال سے رہائش پذیر ہیں۔ "پاکستان آئے تو ہیں ڈیرہ ڈالا تھا۔"
	"یہاں کا تیسرا معمول ہے رینجرز اور پولیس کی کارروائیاں"، عبدالقدوس استہزائیہ انداز میں کہہ رہے ہیں "جس کو چاہا پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ چھوٹتے ہی لاکھ دو لاکھ مانگتے ہیں اور دو پانچ ہزار لیے بغیر نہیں چھوڑتے "
	"اور اگر لڑکے کچھ کہنے کی کوشش کریں تو کاٹ مار کر پھینک دیتے ہیں اور کہتے ہیں MQM نے مارا۔ ابھی پچھلے دنوں سندھی ہوٹل کی طرف ایک بوری ملی تھی۔ لوگ کہنے لگے ہاتھ پاؤں ہل رہے ہیں۔ رینجرز آئے۔ بوری اٹھا کر لے گئے۔ کیا کیا ہو گا اس کے ساتھ؟ کیا پتہ۔ مار مور کر پھینک دیا ہو گا"، ان کی بیوی بولے جا رہی ہیں۔
	"اگر رینجرز سے آپ بچ نکلے تو علاقے کے لڑکے تو کہیں نہیں گئے۔ وہ تو بیٹھے ہیں آپ کے سینے میں مونگ دالنے کے لیے۔ پچھلے ہفتے میری دکان کے قریب ایک بڑی دکان ہے سوٹ کے کپڑوں کی۔ وہاں تین لڑکے مغرب کی وقت گاہک بن کر آ گئے۔ مارکیٹ کی دکانیں بند ہو رہی تھیں۔ ان لونڈوں نے کئی ہزار کے سوٹوں کے کپڑے خریدے۔ پیسے بھی نہیں دیے اور ساتھ میں دکان کی تجوری بھی لے گئے ، ہتھیار لہراتے ہوئے۔ کون چون چرا کر سکتا ہے ان حالات میں؟" چند دنوں پہلے تک یہ لڑکے تمام دکانداروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں لیکن اب عاجز آ گئے ہیں ان ہتھکنڈوں سے۔ گزارے بھر کے لیے ہی آمدنی ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ ایسے میں کون بھتہ دے ؟ اب دکاندار مزاحمت کرنے لگے ہیں ایک ماہ پہلے حیدری کی دکانیں چار دن تک بند رہیں۔ دکانداروں کے بھتہ دینے سے انکار کیا اور دکانیں بند کر کے بیٹھ گئے کہ جاؤ، کاروبار ہی نہیں کریں گے تو بھتہ کہاں سے لو گے۔ لیکن کتنے دن یہ معاملہ چل سکتا ہے ؟ اور پھر لڑکے بھی کوئی کم نہیں ہے۔ بھتہ نہ دو تو دن دھاڑے لوٹ کر لے جاتے ہیں۔
	عبدالقدوس کے تین بڑے بیٹے زر دوزی اور سلائی کا کام کرتے ہیں دو بیٹے ایک چھوٹی سی اسٹیشنری کی دکان چلاتے ہیں۔ چھوٹے بیٹے نے انٹر سائنس کا امتحان پاس کیا ہے B.S.C میں داخلہ نہیں مل سکا ہے۔ 
	"کالجوں میں پڑھائی کہاں ہوتی ہے اب؟" عبدالقدوس کی بیوی بولی۔ "آئے دن تو ہنگامے ہوتے رہتے ہیں۔ فائرنگ کے خوف والدین خود بھی زیادہ زور نہیں دیتے کہ کالج جاؤ۔ اب تو ٹیوشن سینٹروں کا راج ہے۔ یہ بھی جاتا ہے ٹیوشن سینٹر۔"
	سترہ سالہ عدنان اردو سائنس کالج کا طلب علم ہے۔ وہ کالج کی زندگی سے بیزار ہو چکا ہے۔ 
	"کالج میں گروپ بنے ہوئے ہیں۔ جمعیت، پنجابی پختون، MQM، حقیقی۔ آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جو پڑھنے والے ہیں وہ گھبرا جاتے ہیں۔ کل میں کالج گیا تھا۔ فائرنگ ہو گئی۔ لڑکوں نے آپس میں کی۔ کیا کرتا؟ الٹے قدموں گھر کو لوٹ آیا۔ کالج میں داخل ہو تو مختلف پارٹیوں کے لڑکے کونے میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں آؤ، ہمارے ساتھ بیٹھو۔ جو لڑکے ان چکروں میں نہیں ہیں اور پڑھائی کرنا چاہتے ہیں وہ کسی نہ کسی SOWRCE سے حاضری پوری لگوا لیتے ہیں اور گھر یا ٹیوشن سینٹر میں کورس پورا کرتے ہیں۔
	"اگر لڑکے پڑھنے کے لیے کالج آ بھی جائیں تو ٹیچر اکثر غائب رہتے ہیں۔ یا پھر جلدی چلے جاتے ہیں۔ کلاس میں لڑکے کم تعداد میں ہوں تو ٹیچر پورا پیرئڈ نہیں لیتے۔ "بہرحال۔ بات صرف اتنی ہے کہ پڑھنا تو آپ کو خود ہی ہے۔ اگر آپ بغیر ٹیوشن کے پڑھ سکتے ہیں تو خود ہی مغز کھپائیں ورنہ ماں باپ کے پیچھے پڑیں کہ ٹیوشن کے پیسے دو۔ آپ مجھے یہ بتائیں فرض کریں اگر مجھے B.SC میں داخلہ مل بھی جاتا تو کیا مجھے نوکر مل جاتی؟"
	وہ پوچھتا ہے۔ 
	عدنان  پاکستان امریکن کلچرل سینٹر میں داخلہ لے رہا ہے۔ آج کل کیا مشاغل ہیں؟" دوپہر میں اسٹیشنری کی دکان پر بیٹھتا ہوں۔ مال لینے بھی جاتا ہوں۔ گھر میں ہوتا ہوں تو رسالے وغیرہ پڑھتا ہوں اور میوزک سنتا ہوں۔ جمعے کو کرکٹ ہوتا ہے۔ محلے میں ٹیمیں بنی ہوئی ہیں۔ روز رات کو بیڈ منٹن کھیلی جاتی ہے۔ فلیش لائٹ محلہ کمیٹی نے لگائی ہے۔ ۸ سے دس بجے تک کھیلتے ہیں۔
	لیاقت آباد کے بچے اور نوجوان گھر میں مقید ہو کر رہ گئے۔ بچیوں کے تو باہر نکل کر گلی میں کھیلنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکے بھی باہر گلیوں میں نہ جائیں۔ "میرے کئی دوست لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ کوئی دس نمبر میں ہے تو کو چار نمبر میں۔ لیکن میں ان سے ملنے ان کے گھر نہیں جا سکتا۔ کیونکہ ان علاقوں میں زیادہ گڑ بڑ رہتی ہے۔ خدا معلوم کسی وقت کوئی گولی کہاں سے آ جائے اور آپ الله کو پیارے ہو جائیں۔ گولی کے علاوہ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ کہیں رینجرز آپ کو اٹھا نہ لے جائیں۔
	عدنان کا خیال ہے آج کل حالات قدرے بہتر ہیں کیونکہ آس پاس کی گلیوں سے بوریوں میں بند لاشیں ملنا کم ہو گئی ہیں، اور ہم دس بجے رات تک گھر کے سامنے کھیل سکتے ہیں، لیاقت آباد میں ایسا وقت بھی آ چکا ہے کہ آٹھ بجے گلیوں میں ہو کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔
	میں اب لیاقت آباد فرنیچر مارکیٹ سے گزرتی ہوئی، بڑا میدان اور ریلوے پھاٹک عبور کرتی ہوں۔ یہ پاپوش نگر کا آخری سرا ہے۔ بائیں جانب اورنگ آباد ہے۔ سڑک تنگ ہے اور دونوں طرف سے ٹریفک آ جا رہا ہے۔ سڑک کے اطراف چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں۔ حجام، حلوائی، اسٹیٹ ایجنسیاں، بیکری درزی، ویڈیو، ویلڈر، ہر بلاک کے بعد تنگ متوازی گلیاں ہیں تو رہائشی علاقے میں کھلتی ہیں۔ اورنگ کی گلیوں کے دونوں طرف ساٹھ مربع گز پر بنے ایک منزلہ/ دو منزلہ مکانات ہیں۔ گلیاں پکی ہیں۔ عقبی تنگ گلیاں بھی صاف ستھری ہیں گٹر کے ڈھکن بند ہیں اور کوڑا کرکٹ بھی نظر نہیں آتا۔ غالباً جب مختصر عرصے کے لیے MQM کی لوکل باڈیز میں حکومت رہی، یہاں کی حالت سدھری تھی۔ لوگ اب تک صفائی ستھرائی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
	لیکن ان چھوٹے چھوٹے گھروں کی پختہ دیواریں مکینوں کے ذہنی تناؤ اور خوف سے گونج رہی ہیں۔ اس علاقے میں کئی مرتبہ پولیس چھاپے مار چکی ہے۔ رینجرز محاصرہ بھی کر چکے ہیں۔
	چھوٹے قد اور گھٹے ہوئے جسم والی، نسیمہ پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ ان کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے ہیں، دانت پان سے سیاہ ہو چکے ہیں۔ وہ کبھی سرگوشیوں اور کبھی اچانک تیز ہوتی ہوئی آواز میں مجھے اپنی روداد سنا رہی ہیں: "رات کے گیارہ بجے آئے تھے۔ ذرا یہ چھوٹا سا گھر، اور دس موٹے تازے فوجی تلاشی لے رہی ہیں! چیزیں الٹ پلٹ کر دیں۔ الماریاں، درازیں، صندوق، سب کچھ کھلوا لیا۔ پھر ایک نے چلا کر پوچھا "لڑکے کدھر ہیں تمہارے ؟ میں نے کہا "صاحب، رات کی ڈیوٹی پر گئے ہوئے ہیں بچے " سلیمان کہاں ہے ؟ دوسرے نے غراّ کر پوچھا۔ میری جان نکل گئی۔ انھیں سلمان کا نام کیسے معلوم ہے ؟ نسیمہ کا بیٹا سلمان گذشتہ پانچ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہا ہے۔ " وہ ارسلان کو اٹھا کر لے گئے۔ ۲۳ سالہ ارسلان ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا ہے۔ نسیمہ کے شوہر تین سال سے بے روزگار ہیں اور بیمار رہتے ہیں۔ نسیمہ نے بڑے بیٹے کو اطلاع دی جو بیوی بچوں کے قریب ہی رہتا ہے۔ 
	"رات گزر گئی تھی اور ہم کچھ نہ کر سکتے تھے۔ میں نے اپنے حواس یکجا رکھے اور سلیمان کے کاغذات کی فائل بناتا رہا۔ اس کے بھیچے ہوئے ڈرافٹ کی نقلیں، سعودی عرب سے سات لائے ہوئے کیسٹ ریکاڈر اور دوسری چھوٹی موٹی چیزوں کی رسیدیں، اس کے خطوط اور لفافے ڈھونڈ ڈھانڈ کر اکٹھا کیے۔ اماں پوری رات بیٹھی روتی رہیں۔"
	صبح سویرے سبحان اماں کو موٹر سائیکل میں بٹھا کر ارسلان کی تلاش میں نکلا۔ "لے جاتے وقت بتاتے تھوڑا ہی ہے کہ کہاں لے جا رہے ہیں۔ ہم کراچی کے سولہ تھانوں میں گئے۔ زیادہ تر تھانوں کی پولیس بری طرح پیش آئی۔ کوئی ہماری کہانی سننے کو تیار ہی نہ تھا کہ سلیمان، جس کو رینجرز نے پوچھا، پانچ سال سے ملک سے باہر ہے۔ ارسلان جس کو لے گئے ، اس کا MQM سے کوئی تعلق نہیں۔
	"چند ایک تھانوں میں پولیس نے ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور بتایا کہ فلاں تھانے میں جاؤ۔ آخرکار صدر تھانے کے انچارج نے تفصیل سے ہماری کہانی سنی۔ اس نے سلیمان کے تمام کاغذات بغور دیکھے اور ہمیں یقین دلایا کہ "اگر تمہارے بھائی کا MQM سے کوئی تعلق نہیں ہے تو تمہیں تمہارا بھائی واپس مل جائے گا۔ سات بجے شام کو آنا۔"
	شام کو جب نسیمہ اور سبحان پولیس اسٹیشن پہنچے تو ارسلان کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ "انھوں نے ہم سے کچھ نہیں مانگا۔ گو کہ ہمیں بتایا کہ یہ کیس اتنا پیچیدہ تھا کہ انچارج کو CIA کے افسران کو کیس سمجھانے میں پورا ایک گھنٹے لگا۔ اور یہ کہ اس کیس کے ہم سے دو لاکھ روپے طلب کیے جا سکتے تھے "
	"فرشتہ تھا، فرشتہ، خدا اس کو زندگی دے۔ اس کو اپنی امان میں رکھے ،" کچھ تعجب نہیں کہ نسیمہ ہاتھ اٹھا کر اس کو دعائیں دیتی ہیں اب وہ شخص جو اپنی ڈیوٹی قانونی ضوابط کے تحت انجام دیتا ہے ، فرشتہ صفت اور اعلی اقدار والا ہے تھانے کے انچارج نے بتایا کہ سلمان کا نام اور ٹیلی فون نمبر ایک لڑکے کی جیب سے نکلا تھا جو پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ لہٰذا اب سلیمان کے نام کی فائل کھل گئی ہے اور رینجرز اس کو لینے آئے تھے۔ 
	"وہ لڑکا جس کی جیب سے سلمان کا نام اور ٹیلی فون نمبر نکلا۔ اس کی فیملی دس سال پہلے اورنگ آباد میں رہتی تھی۔ سلمان کی بچپن میں اس سے جان پہچان تھی۔ پھر وہ لوگ لیاقت آباد منتقل ہو گئے اور سلمان پانچ سال سے سعودی عرب میں ہے لہٰذا کوئی رابطہ بھی نہ رہا تھا"
	"ارسلان کی آنکھوں میں پٹی باندھے رکھی اور اسے بہت مارا۔ چوبیس گھنٹے اسے پانی پینے کو نہ دیا۔
	کس سے مارا تھا؟
	ہاتھوں سے کب مارتے ہیں؟" نسیمہ میرے احمقانہ سوال پر مسکراتی ہیں "لاتوں سے مارتے ہیں وہ"۔ جب ارسلان گھر آیا تو اس کی حالت غیر تھی۔ بولا نہیں جا رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے ، کپڑے میلے۔ پورے جسم میں درد اور نیل۔ ایک ہفت بخار میں پڑا رہا چار پائی سے اٹھنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ میں نے آج زبردستی اٹھا کر ڈیوٹی پر بھیجا ہے۔ جتنے دن نہیں جائے گا، پیسے کٹیں گے۔ "
	ارسلان کو پچیس سو ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ غیر حاضری پر تنخواہ کٹتی ہے اور جیسا کہ چھوٹے کارخانوں میں رواج ہے ، کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔
	نسیمہ کے دو لڑکے شادی شدہ ہیں لیکن وہ چھوٹے تین لڑکوں کی طرف سے بے حد پریشان رہتی ہیں اور ان کی صحت خراب رہنے لگی ہے۔ اکیس سالہ فرقان نے ساتویں کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ "پانچ سال میں طارق روڈ کے ایک گیراج میں میکنک کا کام کیا۔ لیکن وہ مجھے صرف گیارہ سو دیتے تھے اور نو بجے صبح سے رات نو بجے تک کام لیتے تھے۔ میں تنگ آ گیا تھا اس لیے کام چھوڑ دیا۔ کئی گیراجوں کا چکر لگا چکا ہوں لیکن اب کام نہیں ملتا۔ آج کل میں سائٹ ایریا کی ایک مل میں پارٹ ٹائم نوکری کر رہا ہوں۔"
	دبلا پتلا، شرمیلا فرقان مجھے رک رک کر بتا رہا ہے۔ 
	"میں بے زار آ گیا ہوں اماں نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ہر وقت باہر نہ نکلو، گھر میں بیٹھو، کی رٹ لگائے رکھتی ہیں۔ جب سے بھیا کو رینجرز لے گئے تھے تب سے میری اور بھی شامل آ گئی ہے۔ میں کیا کروں؟ اس کبوتر خانے میں چوبیس گھنٹے بند ہو کر گذاروں؟ میرا دم گھٹتا ہے۔ اور پھر میں جاتا ہی کہاں ہوں بھلا؟ تازہ ہوا کے لیے گلی ہی میں تو کھڑا ہوتا ہوں۔ اگر گھر میں رہ کر وی سی آر دیکھوں تو اس پر بھی اماں چیختی ہیں کہ فلمیں مت دیکھو۔
	ہاں میں نہیں چاہتی کہ میری بچے تمام وقت انڈین فلمیں دیکھتے رہیں۔ کبھی کبھار دیکھ لیا تو کوئی بات نہیں۔
	نسیمہ کا چھوٹا بیٹا تیرہ سال کا ہے اور اس نے بھی پڑھائی چھوڑ دی ہے۔ تمام وقت گلیوں میں آوارہ گردی کرتا ہے۔"
	میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔ ان کی وجہ سے مجھے بلڈ پریشر رہنے لگا ہے۔ میں تو چاہتی ہوں ارسلان کی جلد از جلد، شادی کر دوں اگر پکی نوکری لگ جائے اس کی۔ شادی کے بعد گھر تو بیٹھے بال بچوں کے ساتھ۔" لڑکیاں مسئلہ نہیں ہے۔ بڑی کی شادی ہو چکی ہے۔ ایک نویں میں پڑھ رہی ہے اور سب سے چھوٹی چھٹی جماعت میں۔ اسکول کے علاوہ وہ تمام دن گھر میں بند رہتی ہیں اور گھر کے کام کاج میں اماں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔
	"میں تو اس کا آج اسکول چھڑا دوں۔ وہ تو آج کل معلوم نہیں کیا ہو گا کہ جو بھی رشتہ آتا ہے پڑھی لکھی لڑکی مانگتا ہے۔ اس کی منگنی کر دی لیکن لڑکا کہتا ہے جب بی اے کر لے گی تب شادی کروں گا" نسیمہ کہہ رہی ہیں" دس سال پہلے کالج یونیورسٹی کی پڑھی لڑکی سے کوئی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔"
	پاپوش نگر میں بھی ڈاکے عام بات ہیں۔ "لڑکے چاہتے ہیں سب کچھ چھین کر لے جائیں لوگ ڈرتے بھی ہیں۔ ان سے۔ کیوں نہ ڈریں؟ بندوقیں جو ہوتی ہیں۔ لیکن اب تو ان کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ ڈنڈے اور پتھر ہی سے کام چلاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہماری گلی میں ڈھائی بجے رات ایک گھر میں لڑکا گھس آیا۔ وہ تو خیر ہوئی۔ خاتون خانہ کتھا پکا رہی تھیں۔ انھوں نے جو شور مچایا تو پتھر پھینک کر واپس چلا گیا۔ خیریت ہوئی کہ ان کے لگا نہیں۔"
	نسیمہ کے پاس ایسی لاتعداد کہانیاں ہیں۔
	ساجدہ بیوہ ہیں اور اپنے دو غیر شادی شدہ بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ پاپوش نگر میں گذشتہ ۲۵ سال سے رہ رہی ہیں۔ یہ مکانات ۸۰ مربع گز پر بنے ہوئے ہیں اور گلیاں نسبتاً چوڑی ہیں۔
	"دو سال پہلے یہاں حالات بہت خراب تھے۔ MQM اور حقیقی والے آپس میں لڑ مر رہے ہیں اور بیچ میں ہم لوگ تباہ ہو رہے تھے۔ کاؤنسلر کے آفس پر قبضے کی جنگ جاری تھی۔ پھر ایک دن رینجرز آئے۔ آفس خالی کروایا تالا ڈالا، لڑکوں کو اٹھایا اور چلے گئے۔ تب سے نسبتاً سکون ہے۔ 
	ساجدہ اڑتالیس کے قریب ہوں گی بال ان کے سارے سفید ہے وہ ایک نرم گو خاتون ہیں ٹھنڈے مزاج کی۔ زندگی کی دھوپ چھاؤں نے ان کو مضبوط بنا دیا ہے۔ 
	"ہم یہاں پچیس سال سے ہیں۔ دو سال کے اندر اندر کئی پرانے مکین گھروں کو بیچ کر چلے گئے۔ جن علاقوں میں زیادہ گڑ بڑ وہاں سے لوگ ادھر منتقل ہو گئے ہیں۔ اب اس محلے میں کسی کو کسی کا پتہ نہیں رہا"، وہ کہہ رہی ہیں۔
	پاپوش نگر کے وہ مکین جو اپنا برسوں پرانا گھر اونے پونے بیچ کر کہیں اور مکان خریدنے کی استعداد رکھتے ہیں، یہاں سے جا چکے ہیں۔ ان گھروں میں وہ لوگ منتقل ہو رہے ہیں جو گنجان علاقوں میں ۶۰ مربع گز کے مکانوں میں رہ رہے تھے۔ ۸۰ مربع گز کے رہنے والے ۱۲۰ مربع گز کے پلاٹوں میں منتقل ہو رہے۔ اس غیر معمولی اور جبری منتقلی سے محلوں کے سماجی ڈھانچے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ یگانگت، اپنائیت، پڑوسیوں کا ایک دوسرے کے وقت پر کام آنا، مل جل کر محلے کے مسائل کو حل کرنا۔ یہ ساری اقداریں ٹوٹ رہی ہیں اور ان کی جگہ بے حسی، لاتعلقی، خوف و اندیشوں اور بد اعتمادی نے لے لی ہے۔ 
	"چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ میں گھر میں بچیوں کے ساتھ اکیلی تھی۔ بڑا بیٹا کام پر گیا ہوا تھا اور چھوٹا نوکری کی تلاش میں نکلا تھا۔ گلی میں شور ہونے لگا۔ ہمارے گھر کے باہر کچھ لڑکے کھڑے تھے اور نعرے لگا رہے تھے "اس گھر کو آگ لگا دو"، میں نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا کیا بات ہے تو بولے آپ کے گھر کی چھت سے کسی نے ہم پر پتھر پھینکا ہے۔ " ساجدہ نے حواس جمع رکھتے ہوئے ، ضبط و تحمل کے ساتھ لڑکوں کو بتایا کہ چھت پر کوئی نہیں ہے سوائے ان کے بوڑھے بہنوئی کے۔ جو عرصے سے بیمار ہے اور چار پائی سے لگے ہوئے ہیں۔ وہ چھت پر بنے ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ وہ اٹھ ہی نہیں پاتے تو پتھر کیا پھنکیں گے۔ لڑکوں نے کہا وہ خود آ کر دیکھنا چاہتے ہیں "میں نے لڑکوں سے کہا انھیں ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دوں گی۔ جب میرا بیٹا کام سے آ جائے تو گھر آ کر تلاشی لے لینا۔ ابھی جاؤ یہاں سے۔ " غالباً ان کی آواز میں تحکم اور رعب سے لڑکے ڈھیلے پڑ گئے اور یوں معاملہ رفع رفع ہوا۔
	"اگر پرانے محلے والے ہوتے تو یہ واقعہ میرے ساتھ ہر گز نہ پیش آتا۔ لیکن اب سب نئے لوگ ہیں۔ سوائے دو چار خاندانوں کے۔ اور کوئی ایک دوسرے کو نہیں جانتا،" انھوں نے بتایا۔
	عبد الاسلام کا گھرانہ خوش قسمت ہے۔ وہ اس طرح کہ دو سال پہلے وہ اپنا تیس سال پرانا، مین روڈ پر واقع، چھوٹا سا مکان بیج کر سڑک کے اس پار ۱۲۰ گز کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔ "پرانے گھر میں زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔ آئے دن فائرنگ ہوتی۔ ہڑتال کے دن گھر سے ایک قدم باہر نہ نکال سکتے۔ "ہم اسکرین پرنٹنگ کا کام بھی گھر پر ہی کرتے تھے اور خریداروں نے مال لینے کے لیے آنا چھوڑ دیا تھا۔" ایک چنیوٹی خاندان اپنا مکان بیچنے کے لیے پریشان تھا۔ بے حد مناسب قیمت میں مل گیا ہمیں"۔ عبدالسلام کے موجودہ دو منزلہ گھر میں کافی گنجائش ہے۔ تیسری منزل پر ٹین کی چھت ڈال کر ہال میں اسکرین پرنٹنگ کے لیے میزیں قطار سے لگی ہیں۔ کیمرہ نچلی منزل کے کمرے میں set کیا ہے اور رنگ سازی علیحدہ حصے میں ہوتی ہے۔ اس علاقے میں گھر کے باہر آہنی گیٹ لگے ہوئے ہیں اور گلی کافی چوڑی ہے۔ "یہ بہتر علاقہ ہے۔ محفوظ بھی ہے۔ گو کہ ہیں تو اب بھی پاپوش نگر میں لہذا جب ہڑتال ہوتی ہے تو ان کا لڑکا جو کلفٹن میں واقع ایک غیر ملکی کمپنی میں کام کرتا ہے ، دو تین کے لیے گھر نہیں آتا۔ "کمپنی کی طرف شہر کے ہوٹل میں کمرہ بک کرا دیا جاتا ہے۔ فون پر رابطہ رہتا ہے " پچھلے دنوں ان کے علاقے کے تمام ٹیلی لائین ہفتوں خراب رہیں۔ لڑکوں کے ٹیلی فون کی تاریں کاٹ ڈالی تھیں۔ اب ٹیلی فون والوں زیر زمین تاریں بچھائی ہیں۔"
	کٹی ہوئی ٹیلی فون کے تاروں کی واردات کراچی میں معمول بن گئی ہے۔ لیاقت آباد کے کئی علاقے ، P.I.B کالونی F.C ایریا، شاہ فیصل کالونی اور نارتھ ناظم آباد میں ہفتوں اور مہینوں مکینوں کو ، لڑکوں، دہشت گردوں، "خدا جانے کون، کی کارستانی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ کراچی ڈسٹرکٹ سنٹرل کے باسیوں کے لیے زندگی دشوار تر ہوتی جا رہی ہے۔ کراچی کے حالات کی وجہ سے ان کو متفرق مسائل کا سامنا ہے۔ 
	"جب آپ کو ملازمت کے واسطے انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے آپ کہاں رہتے ہیں؟ جیسے ہی آپ کے منہ سے لیاقت آباد ناظم آباد پاپوش نگر کا نام نکلتا ہے تو آپ کو دروازہ دکھایا جاتا ہے ، معاف کیجئے گا ڈسٹرکٹ سنٹرل کے رہنے والوں کے لیے یہاں جگہ نہیں۔" ستائیس سالہ شمشاد بتا رہا ہے جب نوکری کی تلاش چار پانچ جگہ اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ "تو بالآخر مجھے جھوٹ بولنا پڑا۔ میں نے کہا میں pechs میں رہتا ہے۔ " pechs میں شمشاد کے رشتے دار رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب تین دن کی اسٹرائک ہوئی تھی الطاف حسین کے بھائی کے قتل کے رد عمل میں، تو شمشاد بڑی مشکلوں سے دفتر پہنچ سکا تھا۔ اب شمشاد کی زندگی میں یہ مشکل بھی شامل ہو گئی ہے۔ شمشاد اپنی بیوہ ماں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ناظم آباد کے ایک کمرے کے مکان میں رہتا ہے۔ 
	بہت سے خاندان، جن کے لڑکے سیاست سے کسی طور واسطہ نہیں ہیں، اپنے لڑکوں کی طرف سے فکر مند رہتے ہیں۔ اگر اتفاق سے "آپ کا لڑکا MQM میں کسی کو جانتا ہے ، گو کہ یہ واقفیت سرسری اور عارض نوعیت کی ہی نہ ہو، آپ کسی بھی مشکل سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ "ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب گلی میں چھاپہ پڑ جائے ، محاصرہ ہو جائے "، فاطمہ کہتی ہیں۔ فاطمہ بیوہ ہیں اور ان کے دو لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔ ان کے ساتھ دوسری نوعیت کا واقعہ پیش آیا۔ ایک دن محلے کے لڑکے ان کے گھر آ گئے۔ "کہنے لگے ، آپ کے دو بیٹے ہیں، ایک بیٹا الطاف بھائی کو دے دیجئے ، میرے ہوش اڑ گئے۔ پریشانی سے برا حال کہ کیا کروں۔"
	بدقت تمام فاطمہ نے بیٹے کے لیے ریل کے ٹکٹ کا بندوبست کیا اور اسے پنڈی کسی دور کے رشتہ دار کے پاس بھیج دیا۔
	سیکنڈ ایئر کا طالب علم، راشد چار ماہ کرب و اندیشوں میں گزار کر واپس چلا آیا۔" مجھ سے وہاں نہیں رہا جاتا۔ اور پھر کب تک چھپوں؟ رہنا تو ماں کے ساتھ ہی ہے "، راشد پریشان ہے کہ پڑھائی کا جو حرج ہوا ہے اس سے کس طرح نمٹے۔ 
	زندگی جاری و ساری ہے۔ لیاقت اور آس پاس۔
٭٭٭



ملیر کی گلیاں

	ملیر کی یادوں کے ساتھ ہرے بھرے پیڑ وابستہ ہیں: امرود، آم، انار، نیم، گلاب، چمبیلی، موتیا۔ 
	ہم بچے نانی کے گھر ہر ہفتے جایا کرتے۔ نانا اور ماموں کے کوارٹر ملے ہوئے تھے۔ ہر کوارٹر میں ایک کمرہ اور ایک بڑا سا آنگن تھا۔ نانا، نانی کے ساتھ خالہ رہتی تھیں اور ماموں، ممانی اور ان کے تین بیٹے ایک ساتھ۔ دونوں کوارٹروں کی درمیانی دیوار نہ تھی لہذا یہ ایک بڑا سا گھر نظر آتا۔ نانی کے آنگن میں امرود کے تین چار پیڑ قطار سے لگے ہوئے تھے اور ایک انار کا درخت تھا۔ ماموں کی طرف ایک بڑا سا نیم کا پیڑ اور موتیا، چمبیلی، اور گلاب کی جھاڑیاں تھیں۔ 
	چھٹیوں کی دوپہر ہم بچے درختوں پر چڑھتے ، امرود توڑ توڑ کر کھاتے ، آنکھ مچولی کھیلتے۔ شام کو سڑک کے اس پار ملیر ریلوے اسٹیشن کی سیر کو جاتے۔ اور اسٹیشن کے باہر ریل کی پٹریوں کے نیچے بنی پلیاؤں کے اندر بیٹھ کر اوپر سے جاتی ہوئی ٹرین کی آواز سنتے۔ رات کو نانی چار پائیوں پر صاف ستھرے بستر لگاتیں اور ہمیں کہانیاں سناتیں۔ اور ہم تاروں بھرے آسمان کو تکتے تکتے سو جاتے۔ یہ ۱۹۶۰ کی دہائی کی بات ہے۔ 
	تب ملیر کے ہر کوارٹر میں آنگن اور پیڑ ہوتے تھے اور گلیاں صاف ستھری۔ ہواؤں میں امرود کی مہک اور چمبیلی کی خوشبو  بسی ہوتی۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے پیڑوں کو کاٹ کر اضافی کمرے بنانے شروع کیے۔ کچے آنگن پکے ہوتے گئے۔ پیڑوں کی تعداد گھٹتی گئی۔ گلاب اور چمبیلی کی جھاڑیاں بھی بتدریج کم ہوتی گئیں۔ کمروں کے باہر ٹین کے شیڈ ڈال کر برآمدے بنائے گئے۔ یہ ۱۹۷۰ کے عشرے کا ذکر ہے۔ 
	آبادی بڑھتی رہی۔ ۸۰ مربع گز پر بنے ہوا دار اور روشن گھر گھٹے ہوئے چھوٹی چھوٹی کھڑکیوں والے تاریک، ایک منزلہ، دو منزلہ بدصورت مکانوں میں تبدیل ہو گئے۔ گلیوں کی چوڑائی کم ہو گئی کیونکہ لوگوں نے گھروں کے باہر ناجائز احاطے تعمیر کر لیے اور سیاہ آہنی گیٹ لگا لیے تھے۔ پیڑوں کی شاخوں کی جگہ اب ٹی وی اینٹینے ، سیاسی جماعتوں کے رنگ برنگے جھنڈوں اور ٹیلی فون کے بے ہنگم تاروں نے لے لی تھی۔ یہ ملیر کالونی تھی ۱۹۸۰ کی دہائی میں۔
	اور آج، اپریل ۱۹۹۵ کی ایک صبح، میں ملیر کی ایک پکی سڑک پر چلتے ہوئے اس حصے پر قدم رکھتی ہوں جو کلاشنکوف کی گولیوں کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے چھلنی اور ایک انسان کے خون سے سیاہ ہے۔ ۔۔ وہ انسان جسے آج سے پندرہ دن قبل سڑک کے اسی حصے پر سفاکی سے قتل کیا گیا۔ میں ان تبدیلیوں کو گرفت میں لانے کی کوشش کرتی ہوں جو گزشتہ تین دہائیوں میں اس زمین، اور اس زمین کے باسیوں کی روح میں در آئی ہیں۔ کتنی گمبھیر تبدیلیاں ہیں یہ۔ اور کتنا مسخ کر دیا ہے انھوں نے ، ملیر کو، جو کبھی ایک سرسبز اور پر امن وادی تھی، اور اس کے مکینوں کی روح کو، وہ سادہ لوح ، مہمان نواز مکیں جو پیڑوں، پھلوں، پھولوں، سبک ہواؤں اور زندگی سے محبت کرتے تھے۔ 
	اس منظر کا تصور میرے ذہن کے دریچے میں ثبت ہو کر رہ گیا ہے :  دوپہر کا وقت ہے۔ زندگی کا کاروبار جاری ہے۔ سڑک کے کنارے بنی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں گاہک کھڑے اشیاء صرف کی خریداری میں مصروف ہیں۔ بچے گلیوں میں کھیل رہے ہیں اور عورتیں گھروں کی دہلیز پر کھڑی ایک دوسرے سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک کار سڑک پر رکتی ہے۔ سامنے حلوائی اور ڈرائی کلینر کی دکانیں ہیں۔ گاڑی میں سے تین مسلح آدمی اترتے ہیں، ڈکی کھولتے ہیں۔ ایک ادھ موئے ، نیم جان، کمر تک ننگے آدمی کو نکالتے ہیں جس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں، اور اسے تپتی ہوئی تارکول کی سڑک پر پھینکتے ہیں، اس پر کلاشنکوف سے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں، پھر اس کے چہرے پر ٹھوکر مار کر یقین کرتے ہیں کہ وہ مر چکا ہے یا نہیں۔ اور جب اس کا خون آلود ساکت چہرہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے تو گاڑی کا دروازہ کھول کر اطمینان سے بیٹھتے ہیں اور گاڑی آہستہ خرامی سے سڑک پر چلتی ہوئی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ 
	لاش تین گھنٹے خون کے تالاب میں ڈوبی پڑی رہی۔ وہ ایک تنومند، گبرو جوان تھا۔ کوئی لاش کے قریب نہ پھٹکا۔ سڑک پر زندگی کا کاروبار جاری رہا۔ البتہ ایک وحشت ناک خاموشی پھیل چکی تھی۔ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ اپنے کام جلدی جلدی نمٹا رہے تھے اور لاش کو کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔ آخرکار تین گھنٹے بعد ایدھی کی ایمبولینس پہنچی اور لاش اٹھا کر لے کر گئی۔ "ہفتہ بھر وہ لاش مردہ خانے میں پڑی رہی۔ پھر کہیں جا کے اس کی شناخت ہوئی۔ پتہ چلا وہ فوجی تھا،" سفید بالوں اور جھریوں بھرے چہرے والی بزرگ خاتون موضوع سخن سے ہٹ چلی تھیں۔ میں ملیر کے اس گھر میں بیٹھی ان کے نوجوان بھتیجے کے بارے میں بات کرنا چاہ رہی ہوں جو چند ماہ پہلے  اس گھر کے اندر قتل ہوا۔
	"خدا رحم کرے ہم سب پر۔ ہمیں کیا ہو گیا؟ کیا ہمارے اندر شیطان حلول کر گیا ہے ؟" مقتول نوجوان کی پھوپھی، تسبیح ہلاتی ہوئی، تیز تیز بولے جا رہی تھیں۔ مقتول کی ماں کسی سوئم میں گئی ہوئی ہیں اور میں گھر کی عورتوں سے بات کر رہی ہوں۔
	"لوگوں اتنے بے درد، اتنے بے رحم ہو گئے ہیں۔ اس طرح ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں کہ بھیڑ بکریوں کو بھی ایسے ذبح نہیں کیا جاتا۔۔۔" مقتول کی چچی تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہہ رہی ہیں۔ "ساتواں روزہ تھا۔ میں ظہر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھی۔ ریحان دوسرے کمرے میں نماز پڑھ رہا تھا۔ ریحان کی ماں بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ دودھ والا دودھ دے کر پلٹا تھا اور میں دودھ کی تھیلی ہاتھ میں لیے باورچی خانے کی طرف مڑی ہی تھی کہ اتنے میں ایک سفید کار گھر کے گیٹ پر رکی، تین آدمی بڑی بڑی بندوقیں لیے دراتے ہوئے اندر آ گئے اور چلا کر پوچھا ’ریحان ہے ؟‘ انھوں نے جواب کا انتظار بھی نہ کیا اور سیدھے اندر چلے گئے۔ ہمارے گھر کے ساتھ والا مکان ریحان کا ہے اور اندر سے ایک چھوٹا سا راستہ جو دونوں گھروں کو ملاتا ہے۔ بس وہ سیدھے اس راستے سے ہوتے ہوئے اندر چلے گئے۔ ریحان ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا"، چچی ایک دم سے خاموشی ہو گئیں۔ پھوپھی، ماں اور چچی کی چیخوں اور بچوں کی خوف زدہ ہو کر رونے کی آوازوں کے درمیان قاتلوں نے کمرے میں داخل ہو کر گولیوں کی باڑھ ماری۔ "ریحان کے ہاتھ نماز کے لیے بندھے ہوئے تھے۔ سینے پہ بندھے ہاتھوں کے ساتھ کوئی آواز نکالے بغیر گر گیا۔ بائیس گولیاں نکلی تھیں جسم سے "، وہ مجھے بتا رہی ہیں۔
	"یہ سب کچھ منٹوں میں ہو گیا اور قاتل جس راستے سے آئے اسی راستے واپس ہو گئے۔ دو کے منہ پر ڈھاٹے بندھے ہوئے تھے اور ایک جو درمیانی راستہ پر جم کر کھڑا ہوا نقاب نہیں پہنے  تھا"، چچی نے بتایا۔ شاید آپ اسے پہچان سکیں؟ میں سوالیہ
	"میں؟ نہیں۔ نہیں۔" وہ گھبرا سی گئیں "مجھے اس کی شکل بالکل یاد نہیں۔ ہوش و حواس میں کہاں تھی تب۔"
	"اگر پہچان بھی لے تو کیا ریحان ہمیں واپس مل جائے گا؟ جانے والا تو گیا،" پھوپھی جلدی سے بولیں۔
	پھوپھی مجھے وہ کمرہ دکھانے لے جاتی ہیں جہاں وہ قتل ہوا۔ یہ ایک بہت تنگ سا کمرہ ہے۔ جس میں صرف ایک صوفہ سیٹ ہے جو تین دیواروں کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ صوفے کی وسطی میز کو چوتھی دیوار کے ساتھ لگا کر رکھا گیا ہے اور کمرے کے وسط میں دری بچھی ہوئی ہے جس پر جائے نماز بچھائی جا سکتی ہے۔ چاروں دیواریں، اور صوفہ سیٹ گولیوں سے چھلنی ہیں۔ میں صوفے پر بیٹھی ہوں۔ ریحان کی چچی ہمارے لیے چائے لے کر آتی ہیں۔
	ستائیس سالہ ریحان سات بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑا تھا۔ ریحان کے باپ تیرہ سال پہلے طویل بیماری کے بعد فوت ہوئے۔ ریحان اس وقت آٹھویں میں تھا۔ اس نے پڑھائی جاری رکھی اور لیاقت مارکیٹ میں اپنے ماموں کی دکان میں بطور سیلز مین کام شروع کیا۔ بی۔کام کرنے کے بعد اس نے ڈوپٹوں کی دکان لگائی۔ دو چھوٹے بھائی اس کی مدد سے جمعہ بازار میں اسٹال لگاتے۔ پورے گھر کی ذمہ دار اس پر تھی۔
	"ریحان کے قتل کے بعد سب کچھ ختم ہو گیا۔ بھائیوں نے تین ماہ سے جمعہ بازار میں اسٹال نہیں لگایا ہے۔ ایک چھوٹے بھائی کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔ عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔ پنڈی بھیج دیا تھا رشتے کے چچا کے پاس۔ لیکن کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ گھنٹوں چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے۔ خلا میں تکتا رہتا ہے۔ ہاتھ کھڑے کھڑے سینے پر باندھ لیتا ہے جیسے نماز پڑھ رہا ہو اور بڑبڑانے لگتا ہے :’میرا بھائی ستائیس سال کا تھا۔ اس کی شادی ہونے والی تھی‘۔ اور پتہ نہیں کیا کیا،" پھوپھی کہہ رہی ہیں۔
	کیا ریحان کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ تھا؟
	پھوپھی اور چچی خاموش ہو جاتی ہیں۔
	"ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ آپ اس کی ماں سے بات کریں آ کر۔ وہ بتائیں گی سب"۔
	ریحان کا تعلق MQM سے تھا۔ محلے کے لوگوں سے معلوم ہوا۔ تین سال پہلے ریحان کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اٹھارہ دن بعد واپس آیا۔ "ان دنوں اس نے ایک جگہ نوکری شروع کی تھی اغوا کے بعد اس نے ہمیں کبھی کچھ نہ بتایا۔ لیکن اس کے بعد سے مہینوں وہ دہشت زدہ رہا۔ ہفتوں کھانا نہ کھا سکا۔ نوالہ ہی نہیں نگلا جاتا تھا۔ ایسا خوف، ایسی دہشت تھی کہ ہم نے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ کی۔ ماں اور پھوپھی کے بیچ میں لیٹ کر سوتا۔ راتوں کو گھبرا کر اٹھ بیٹھتا۔ بس کچھ نہ پوچھو کیسا کڑا وقت تھا۔ لیکن ایک تسلی تھی، کہ زندہ سلامت تو ہے۔ اب تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ یاد ہی رہ گئی ہے۔ 
٭٭٭



ملیر : اے۔ ون ایریا

	دیواریں میں لکھے نعروں سے اندازہ ہوتا ہے یہاں MQM حقیقی کا راج ہے۔ ۱۹۷۰ کے عشرے تک یہ علاقہ ایک کھلے وسیع میدان پر مشتمل تھا جس کے کنارے بیرکوں کی صرف ایک قطار تھی۔ یہ بیرکیں شیڈ کے نام سے مشہور تھیں۔ شیڈ کے آس پاس کچھ جھگیاں تھیں اور بھینسوں کے باڑے۔ یہاں پنجابی، سندھی اور مہاجروں کی ملی جلی آبادی تھی۔ ۱۹۸۰ کی دہائی کے اوائل میں یہ علاقہ دلالوں کے ہاتھ میں آیا جو علاقے میں جلد ہونے والی قانونی پلاٹنگ کے منتظر تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کچے گھروں کی قطاریں کھڑی ہو گئیں۔ ۸۰ کے وسط میں ساٹھ مربع گز کے پلاٹوں کی حد بندی شروع ہوئی۔ شیڈوں کو منہدم کیا گیا  اور پرانے مکینوں کو نئے پلاٹ الاٹ ہوئے۔ لیکن ان گنت پلاٹ دلالوں کے ذریعے کراچی کے دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کے ہاتھوں فروخت کیے گئے اور یوں اے ون ایریا ۱۹۸۰ کی دہائی کے تین خطرناک عناصر ہتھیار، ہیروئن اور MQM کی پناہگاہ بن گیا۔ ۱۹۹۲ کے وسط میں ہونے والے واقعات۔۔۔آپریشن کلین اپ اور حقیقی کی پیدائش۔۔۔۔ نے بارود کا کام کیا۔
	"ہم ملیر میں ۳۵ سال سے ہیں لیکن ایسے حالات نہیں دیکھے۔ یہ MQM کی دھڑے بندی تھی جو ہم سب کی بربادی کا باعث بنی۔ لالوکھیت، کورنگی اور دوسرے علاقوں سے MQM کے لڑکے چھپنے کے لیے یہاں اٹھ آئے۔ چھپنے چھپانے والوں نے ہمارے علاقے کا ستیاناس کیا۔ اب یہ لڑکے بندوقیں لٹکائیں گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ڈاکے ڈالتے ہیں، بھتہ لیتے ہیں۔"
	"سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں انسانوں کی کوئی عزت نہیں رہی۔ ہماری گلی میں ایک بوڑھا، سفید کھچڑی بال، سبزی کا ٹھیلہ لگاتا ہے۔ اسے ان لڑکوں سے التجا کرنی پڑتی ہے۔ ہاتھ باندھ کے وہ ان اٹھارہ اٹھارہ برس کے لڑکوں سے کہتا ہے ،’سر جی، پھیری لگا لوں‘  ایک ہفتہ ہوا، ان لڑکوں نے پنساری کی دکان لوٹ لی۔ گلی کے بچوں میں لوٹی ہوئی ٹوفیاں اور دو دو روپے تقسیم کیے اور کہا، ’بولو، حقیقی زندہ باد‘  ہمارے دودھ والے نے میرے میاں کو بتایا کہ لڑکے اس سے دس ہزار مانگ رہے ہیں کہ اسلحہ خریدنا ہے۔ غریب دودھ والا دس ہزار کہاں سے لاتا۔ بیچارہ، یہ علاقہ چھوڑ گیا۔ خدا جانے اب کہاں دودھ بیچتا ہو گا۔
	"تو یہ حال ہے ہمارے علاقے کا۔ یہ غنڈے بدمعاش جن کے منہ سے ابھی دودھ کی بو آتی ہے ، نہ صرف یہ کہ بھتہ مانگتے ہیں بلکہ تمہارے منہ پر کہتے ہیں کہ اسلحہ ختم ہو گیا ہے ، بندوقیں لانی ہے ، گولیاں خریدنی ہیں،" سکینہ، عمر پچپن کے لگ بھگ، مادری زبان پنجابی، سانس لیے بغیر بول رہی ہیں۔ تین سال کے عرصے میں سکینہ نے اس علاقہ کا جو اخلاقی اور معاشرتی زوال دیکھا ہے ، اس نے ان کا سر چکرا دیا ہے۔ 
	میں ان کے گھر میں اپنی خالہ کے ساتھ ان کے بیٹے کا حال پوچھنے آئی ہوں جو گلی میں چلنی والی گولیوں سے شدید زخمی ہوا تھا۔ میری خالہ گورنمنٹ کے ایک ادارے سے وابستہ ہیں اور اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اس علاقے میں رہتی ہیں۔
	"اس دن بہت فائرنگ ہو رہی تھی۔ احمد نے ہم سب کو اندرونی کمرے میں جانے کو کہا اور برآمدے میں آیا کہ گیٹ بند کر لے۔ خدا جانے اس کے دل میں کیا سمائی کہ اس نے گیٹ ذرا سا کھول کر باہر جھانک لیا۔ ایک گولی اس کی دائیں آنکھ کے اوپر لگی اور وہ وہیں گر پڑا۔ باہر لڑکوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں،’احمد بھائی کے گولی لگ گئی، فائرنگ بند کرو، فائرنگ بند کرو‘ فائرنگ بند ہو گئی۔ چند لڑکے ہماری مدد کو آئے اور احمد کو جناح اسپتال پہنچایا گیا۔ دوسرے دن دو تین لڑکے میرے پاس آئے اور کہنے لگے ، ’خالہ معاف کرنا۔ لیکن یہ ہماری گولی نہیں تھی جو احمد بھائی کو لگی‘۔ ذرا دیکھو، ان کی ہمت۔ اور ہماری بے بسی! کیا کر سکتے تھے ہم۔ اگر وہ لڑکا بھی، جس کی بندوق سے چلی ہوئی گولی احمد کو لگی، ہمارے پاس آ جاتا تو ہم کیا بگاڑ سکتے تھے اس کا؟ کیسا زمانہ آگیا ہے۔ کوئی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ اور اٹھائے بھی کیسے ؟ کوئی دو لفظ بول دے تو جان سلامت نہیں،" سکینہ کہہ رہی ہیں، ، ہر حال میں جیئے جانے کی ہوس نے ہمیں کہیں کا نہ رکھا۔۔۔" وہ چپ ہو جاتی ہیں۔ 
	"جس دن میرے بھائی کو گولی لگی جی چاہتا تھا پورے اے ون ایریا کو جلا کر خاکستر کر دوں،" احمد کی چھوٹی بہن کی آواز غصے سے کپکپاتی ہے۔ وہ بی۔اے پاس ہے اور ایک دواؤں کی کمپنی میں کام کرتی ہے۔ اس کی دو چھوٹی بہنیں سامنے دری پر بیٹھی مٹر کی پھلیاں چھیل رہی ہیں۔
	یہ چھ بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ احمد سب سے بڑا ہے۔ دو بہنیں نوکری کرتی ہیں۔ باپ کبھی فوج میں سپاہی تھے اب معمولی پینشن ملتی ہے۔ احمد ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ پھر اسے فیکٹری سے نکال دیا گیا۔ فیکٹری نقصان میں جا رہی تھی لہذا تیس آدمیوں کی چھٹی ہوئی۔ "ایک دفعہ احمد نے باہر جانے کی کوشش کی۔ آٹھ ہزار مانگ تانگ کر کسی ایجنٹ کو دیئے۔ لیکن یونان والوں نے پکڑ کر واپس بھیج دیا۔" احمد دو سال سے بے روزگار ہے۔ 
	میں خالہ کے ساتھ ملیر کی گلیوں سے گزر رہی ہوں۔ "اس علاقے میں بہت اسلحہ ہے۔ چند ایک خالی گھر ہیں جہاں لڑکوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ گھر اسلحہ ڈپو بنے ہوئے ہیں۔ کبھی ان گھروں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور قطار سے لگی ہوئی بندوقیں، کلاشنکو فیں اور گولیوں کی پیٹیاں ہر آنے جانے والے کو صاف نظر آتی ہیں۔ بندوقیں لٹکائیں یہ لڑکے گولیوں کی پیٹیاں ادھر سے ادھر پہنچاتے رہتے ہیں۔ آج کل البتہ یہ لڑکے روپوش ہیں۔ جب سے دو امریکی مارے گئے ہیں، تب سے ذرا سکون ہے۔ 
	"یہاں دو بدنام ترین لڑکے ہیں حقیقی کے۔ ایک کو تو پولیس گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ محلے والوں نے سکون کا سانس لیا کہ چلو ایک تو کم ہوا۔ لیکن ایک ہفتے بعد وہ لڑکا واپس گلیوں میں گھوم رہا تھا اور فخریہ انداز میں لوگوں کو بتا رہا تھا، "دو لاکھ روپے دیئے ہیں"۔ ان لڑکوں نے کمسن بچوں کو تنخواہ پر رکھا ہوا ہے جو پولیس یا دوسرے گروپ کے لڑکوں کے آنے کی اطلاع انھیں وقت پر پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر کیا کر سکیں گے ؟ ہمارے محلے میں الطاف گروپ سے کسی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ لیکن حقیقی والے ان سے بھی بدتر ثابت ہوئے ہیں"۔
	ہم ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں جس کا سربراہ، ایک ادھیڑ عمر کا آدمی، پانچ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کا باپ، دو ماہ پہلے فائرنگ میں ہلاک ہوا ہے۔ بیوہ کسی کام سے باہر گئی ہوئی ہیں۔ میں لڑکیوں سے بات چیت کر رہی ہوں۔ سب سے بڑی لڑکی ۲۰ سال کی ہے۔ "اس دن ابا سہ پہر میں گلی کی نکڑ پر مکینک کی دکان سے اپنی اسکوٹر ٹھیک کروا رہے تھے کہ کچھ مسلحہ افراد گاڑی میں آئے اور گولیاں برسا کر چلے گئے۔ مکنیک تو اسی وقت ختم ہو گیا۔ ابا زخمی حالت میں سڑک پر پڑے رہے۔ کوئی اٹھانے نہیں آیا۔ اتفاق سے میرے بھائی نے اس دن فیکٹری سے چھٹی کی تھی۔ جب گولیاں چلنی بند ہوئی تو وہ باہر نکلا۔ دیکھا ابا سڑک پر پڑے ہوئے تھے۔ بہت خون بہہ گیا تھا۔ اسپتال جاتے وقت راستے میں ختم ہو گئے۔ 
	"میرے ابا اور بھائیوں کا کسی بھی پارٹی سے تعلق نہیں رہا لیکن ابا کی موت کے بعد MQM اور حقیقی دونوں تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ ابا ان کے پارٹی کے ہمدرد تھے۔ یہ جھوٹ تھا۔ بعد میں جب اخبار سے لوگ آئے تو بھائی نے کسی سے بات نہ کی۔ کیا فائدہ ان سب باتوں کا۔ الٹا نقصان ہی پہنچ سکتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا میں دستاویزی فلم بنا رہا ہوں۔ دنیا بھر میں دکھانے کے لیے کہ کتنا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ لیکن میرے بھائیوں نے منع کر دیا"۔
	ہم چار پائی پر بیٹھے ہیں اور بچے ہمارے گرد گھیرا ڈالے کھڑے خاموشی سے ہماری باتیں سن رہے ہیں۔
	"ابا موٹر سائیکل میں دکانوں کو مال سپلائی کیا کرتے تھے ،" وہ مجھے ب تا رہی ہے۔ اب گیارہ افراد پر مشتمل اس خاندان میں دو کمانے والے ہیں۔
	"جب بھی فائرنگ ہوتی تھی ابا کہتے دروازہ بند کر لو، باہر نہ نکلو۔ بہت ڈرتے تھے۔ ہنگاموں سے دور رہتے تھے۔ دو دن پہلے ہی کہا تھا کہ کھڑکیوں، دروازوں میں لوہے کی جالی لگوا لیں گے۔ بہت وارداتیں ہو رہی ہیں۔ کسی کو کیا معلوم تھا خود ہی واردات کا شکار ہو جائیں گے "۔
	کیا حکومت کی طرف سے کوئی معاوضہ وغیرہ ملا؟
	"ہمیں صرف FIR کی کاپی ملی جو پولیس نے خود درج کی تھی۔ اور ابا کی موت کا سرٹیفکٹ، جو اسپتال والوں نے دیا۔" 
	"لیاقت آباد میں بہت برا حال ہے۔ جہاں میں رہتی ہوں۔ لیکن یہاں کے حالات تو بہت ہی خراب ہیں،" ایک بوڑھی خاتون جو گھر میں مہمان آئی تھیں بتانے لگیں۔ "دو مہینے پہلے میں یہاں آئی تھی۔ بس سے اتر کر گلی میں داخل ہوئی۔ میری نظریں اتنی کمزور ہیں کہ میں صرف زمین کی جانب نظریں جمائے رکھتی ہوں کہ کسی پتھر سے ٹھوکر نہ کھاؤں۔ ادھر ادھر تو دیکھتی نہیں۔ ۔" انھوں نے موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ درست کیا، اور بولیں، "میں جب گلی میں داخل ہوئی اور نظر اٹھائی تو دیکھا تین لڑکے یہ لمبی لمبی بندوقیں کندھوں پر لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں وہیں بت بن گئی۔ مجھ سے اگلا قدم اٹھائے نہ اٹھے۔ خوف تھا کہ ہلی اور ان لڑکوں نے گولی چلائی۔ ایک لڑکے نے میرے سفید گال اور جھکی ہوئی کمر کو دیکھتے ہوئے کہا ’اماں ڈر گئیں؟‘ میں بولی ’بیٹا، ڈروں کیسے نہیں؟ بندوق جو اٹھائے ہوئے ہو‘۔ بولا ’اماں، تم تو خود مری ہوئی ہو۔ تمہیں کیا ماریں‘
	ہم تنگ گلیوں سے گزر کر خالہ کے گھر واپس لوٹتے ہیں۔ "یہاں منشیات کا مسئلہ بھی ہے ،" خالہ کہتی ہیں۔ ایک مکان کے باہر بنے ہوئے چبوترے پر ایک آدمی بیٹھا ہے۔ سرخ آنکھیں، گالوں کی ہڈیاں نکلی ہوئی، خالی الذہن، خلا میں گھورتا ہوا۔
	"کچھ لوگ کھلم کھلا بیچتے ہیں ہیروئن۔ ایک پکڑا بھی گیا تھا۔ لیکن چھوٹ کے آگیا۔ اس کا بھائی وکیل ہے۔ "
	میری خالہ کو حالات سے باخبر رہنا پڑتا ہے۔ ان کے بچے چھوٹے ہیں اور اسکول کالجوں میں پڑھ رہے ہیں۔ بڑی بیٹی کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ دو لڑکوں نے تکنیکی ڈپلومے لیے ہیں اور اب ٹیکسٹائل ڈیزائن کا کام شروع کیا ہے۔ خالہ کی زندگی جدوجہد کی داستان ہے۔ خالو کی مسلسل بیماری کی وجہ سے گھر بار کا پورا بوجھ ہمیشہ خالہ پر ہی رہا۔ 
	"اور اب میں سوچنے لگی تھی کہ چلو بچوں کی تعلیم ختم ہونے کو آ رہی ہے اور وہ برسر روز گار ہونے لگے ہیں۔ سکون سے بقیہ دن گزر سکیں گے۔ لیکن اب یہ گھر ہے ، اور ہم،" خالہ ہرے بھرے گملوں پر نظر ڈالتی ہیں۔ برآمدے میں سیمنٹ کی چادر ڈلوا کر لوہے کی جالی لگوائی ہے۔ سفید پینٹ تازہ ہے۔ "اور یہ محلہ۔۔۔ جو تیزی سے تباہی کے گڑھے میں گر رہا ہے۔ کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میں دلدل پہ چل رہی ہوں۔ بس ایک تسلی ہے ، اگر اسی تسلی کہہ لو،کہ میں تنہا نہیں ہوں۔ ہم سب ہی اس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ لیکن شاید آگے دلدل ختم ہو جائے اور زمین  مضبوط، کون جانے۔ ۔۔"، خالہ کے چہرے پہ ایک موہوم سی مسکراہٹ ہے۔ 
٭٭٭
ماخذ: ’آج‘، جریدے کے ایک  شمارے سے۔ 
http://pakdata.com/aaj/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
