﻿


کراچی کی کہانی


پیر علی محمد راشدی




یادش بخیر

کراچی





	جو کراچی ہم نے آگے دیکھا تھا اُس کا اب نام و نشان باقی نہیں رہا ہے ، سوائے چند پرانی عمارتوں کے ، جن کی کھڑکیوں میں دھوئے ہوے گندے میلے کپڑے دھوپ میں سوکھنے کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔
	کیا حال سناؤں پرانے کراچی کا؟ لفظوں کے لباس میں اُس ماحول کو سامنے نہیں لا سکتا۔ وہ کراچی شہر نہ تھا، گلشن تھا، گلستان تھا۔ آبادی ڈھائی تین لاکھ کی تھی۔ صفائی میں پورے برصغیر میں پہلے نمبر پر۔ وہ تین لاکھ کی آبادی خوش حال، صاف ستھری اور عمدہ تھی جسے اپنے شہر کی شان کا پورا احساس تھا۔ لوگ سڑکوں پر نرمی سے قدم رکھتے تھے جیسے پیروں کے نیچے پھول بچھے ہوں۔ یعنی سڑکوں تک کا احترام ملحوظ رکھا جاتا تھا۔ بڑی بات یہ کہ نہ غنڈوں کا خوف تھا نہ چھُرا بازوں کا ، نہ لٹیروں کا نہ مسجدوں سے جوتیاں چُرانے والوں کا، نہ مکھیوں کا نہ مچھروں کا۔ اس قسم کے لوگوں یا کیڑے مکوڑوں کو جرأت ہی نہ ہوتی تھی کہ کراچی کا قصد کریں۔ پورے شہر میں دو سٹی میجسٹریٹ ہوتے تھے __ رچرڈسن اور تلاتھی پارسی __ جو زیادہ تر ٹریفک، سڑک کی رکاوٹوں یا جانوروں کے ساتھ بے رحمی کے متعلق معمولی مقدمے چلایا کرتے۔ جانوروں کا ذکر آیا ہے تو یہ بھی سن لیجیے کہ کراچی کے جانوروں کے حقوق کا بھی احترام کیا جاتا تھا۔ کسی گاڑی والے کی مجال نہ تھی کہ مقررہ تعداد سے زیادہ سواریاں بٹھائے یا بیمار یا زخمی جانور گاڑی میں جوتے۔ جانوروں کے ساتھ بے رحمی کے واقعات روکنے کے لیے باقاعدہ سوسائٹیاں ہوتی تھی اور ان کے عہدے دار اور آنریری میجسٹریٹ روز شہر میں گھومتے تھے۔ زخمی جانوروں کے علاج کے لیے ایک بڑا اسپتال تھا اور ان کی پیاس بجھانے کے لیے ہر چوک پر ایک فوّارہ بنوایا گیا تھا جس سے رات دن ٹھنڈا پانی نکلا کرتا۔ یہ فوّارے زیادہ تر مالدار پارسیوں نے اپنے مرحوم بزرگوں کی یاد قائم رکھنے کے لیے بنوائے تھے۔ ہندوؤں نے گئوشالا کھول رکھی تھی جس میں بیمار یا ریٹائرڈ گائیں، بیل اور بھینسیں رہتی، کھاتی پیتی اور زندگی کے باقی ماندہ دن پورے کرتی تھیں۔ دو واقعات کراچی والوں کی انسانیت اور رحم دلی کے مثال کے طور پر سناتا ہوں۔ مسٹر جمشید مہتا کراچی میونسپلٹی کے صدر تھے اور سالہا سال بلا مقابلہ اس عہدے پر منتخب ہوتے رہے۔ ۱۹۳۰ کے آس پاس مَیں بندر  روڈ سے گزر رہا تھا۔ دیکھا کہ جمشید مہتا پیدل ایک زخمی گدھے کو لے کر اسپتال کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کی موٹر ان کا ڈرائیور پیچھے پیچھے چلاتا آ رہا تھا۔ تماشا دیکھنے کے لیے میں بھی اسپتال کے برآمدے میں جا کھڑا ہوا۔ جمشید نے اپنے سامنے گدھے کی مرہم پٹّی کرائی اور ڈاکٹر سے بار بار کہتے رہے کہ زخم کو آہستہ صاف کرے تاکہ بے زبان کو ایذا نہ پہنچے۔ مرہم پٹی ختم ہوئی تو ڈاکٹر کو ہدایت کی کہ گدھے کو ان کے ذاتی خرچ پر اسپتال میں رکھا جائے ، اور دانے گھاس کے لیے کچھ رقم بھی اسپتال میں جمع کرا دی۔ دوسری طرف گدھے کے مالک سے بھی کہا کہ جب تک گدھے کا علاج پورا نہ ہو جائے اور وہ کام کرنے کے قابل نہ ہو جائے ، تب تک وہ اپنی مزدوری کا حساب اُن سے لے لیا کرے ، اور یہ کہتے ہوے کچھ نوٹ پیشگی ہی اسے دے دیے۔ 
	دوسری بار میں نے ایک اَور سربرآوردہ پارسی جہانگیر پنتھکی کو دیکھا کہ وہ الفنسٹن اسٹریٹ پر ایک کرائے کی وکٹوریا گاڑی کو پولیس کی مدد سے روکے کھڑے ہیں اور کوچوان سے بحث کر رہے ہیں۔ بحث کا موضوع یہ تھا کہ گھوڑا بہت لاغر اور بیمار ہے ، اس لیے مناسب ہے کہ گھوڑے کو گاڑی سے الگ کر کے دو چار دن اس کا علاج کرایا جائے اور دانہ گھاس کھلا کر اسے کام کے قابل بنایا جائے۔ 
	کوچوان کہیں باہر سے آیا ہوا تھا۔ اسے کراچی کا دستور معلوم نہ تھا، اس لیے وہ پنتھکی کی بات سمجھ نہ سکا، ان سے تکرار کرتا رہا اور آخر غصّے میں آ کر چابک مار کر گاڑی آگے بڑھانے لگا۔ پنتھکی فرسٹ کلاس میجسٹریٹ بھی تھے۔ انھوں نے پولیس سے کوچوان کو گرفتار کرا کے جیل بھجوایا، گھوڑے کو اسپتال بھیجا اور گاڑی کو دھکیلوا کر صدر پولیس تھانے کے احاطے میں کھڑا کرا دیا۔
	یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کراچی کے حیوانوں کی بھی عزت اور شان تھی ، ان کے بھی قانونی حقوق تھے جن کا احترام کیا جاتا تھا۔
	کراچی سے میرا تعارف پہلی بار شاید ۱۹۱۷ کے لگ بھگ ہوا تھا۔ پہلی عالمی جنگ جاری تھی، مگر ہمیں فقط اخباروں کے وسیلے سے خبر پہنچتی تھی کہ ایسی کوئی جنگ ہو رہی ہے ، ورنہ روزمرہ کی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں تھا، انگریز نے ایسا اچھا بندوبست کر رکھا تھا۔
	آج کل تو سواری کے تیز ذریعوں نے پوری دنیا کو سکیڑ دیا ہے ، مگر اُن دنوں کراچی کا سفر بھی بڑا سفر سمجھا جاتا تھا۔ لوگ بہت پہلے سے تیاریاں کرتے ، یار دوستوں کو اطلاع دیتے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے کراچی کے سفر کا قصد ہے۔ کراچی کو انگریزی داں "کراچی" کہتے تھے اور عام گنوار لوگ "کاراچی"، کراچی ابھی "کِرانچی" نہیں بنا تھا۔
	اس سفر کے لیے موزوں موسم مئی، جون، جولائی کا ہوتا تھا جب بالائی سندھ میں گرمیاں اور مچھر لوگوں کی جان عذاب میں کر دیتے تھے۔ روپوں کی ریل پیل تب چھوٹے موٹے زمینداروں کے پاس بھی نہ ہوتی تھی۔ اُس زمانے میں وڈیرے کراچی تبھی جا سکتے تھے جب ربیع کی فصل اترے ، جنس بکے اور بیوپاری دھوتی کے پلّو سے نوٹوں کی گڈی اور سکوں کی تھیلی برآمد کر کے رقم ان کے حوالے کرے۔ بیوپاری بھی اُستاد ہوتے تھے ، انھیں خبر تھی کہ جب سخت گھُٹن ہو گی اور مچھر وڈیرے کی نیند حرام کر دیں گے ، اُس وقت وڈیرا کراچی جانے کے لیے بے تاب ہو کر جنس اونے پونے داموں ٹھکانے لگا کر بھاگ جائے گا۔ ان دو تین ہفتوں میں وڈیرے اور بنیے کے درمیان دلچسپ کھینچا تانی چلتی رہتی۔ آخر وڈیرا تنگ آ کر سستے داموں انبار بیچ کر کراچی جانے کے لیے کمر کس لیتا۔
	صدر کے علاقے میں انگریز رہتے تھے ، اس لیے بے ادبی کے ڈر سے وہ صدر  [کینٹ ] اسٹیشن پر نہ اُترتا، سیدھا سٹی اسٹیشن پر جا کر سامان اتارتا۔ دو آنے قلی کو دے کر بستر بند میں لپٹی رَلی اور لوہے کا صندوق باہر نکلواتا اور آٹھ آنے کرائے پر وکٹوریا گاڑی کر کے بندر روڈ پر مولو (مولے ڈنا) مسافر خانے میں جا اترتا۔ وہاں خاص کمرہ لے تو آٹھ آنے کرایہ اور عام کمرہ لے تو نامِ مولا مفت! سخت گرمی سے نکل کر ٹھنڈی آب و ہوا میں آنے کی وجہ سے پہلے دوچار دن تو نزلے زکام میں الجھ کر وہیں پڑا رہتا۔ بہت ہمت کرتا تو مولانا حکیم فتح محمد سیوہانی مرحوم کے دوا  خانے تک چلا جاتا۔ وہاں زکام کی پھیکی گولیاں پہلے سے موجود ہوتیں۔ حکیم صاحب مٹھی بھر کر گولیاں دیتے اور ہدایت کرتے کہ جب تک زکام ختم نہ ہو جائے باہر نہ نکلے ، مبادا نمونیا ہو جائے۔ 
	غرض یہ تھا خاکہ اُن حالات کا جس کے تحت سندھ کے دیہات کے لوگ کراچی کی زیارت یا سیّاحت کے لیے آتے تھے۔ 
	خوش قسمتی سے ان حالات کا اطلاق ہمارے گھر پر نہ ہوتا تھا۔ کراچی کے بڑے بڑے بیوپاری اور مالدار میمن ہمارے بزرگوں کے مرید تھے۔ گرمیوں کا زمانہ آتا تو وہ خود پہلے سے سارا بندوبست کر لیا کرتے۔ فقط ہمارے پہنچنے کی دیر ہوتی۔ کراچی پہنچنے پر رہنے کے لیے محل ماڑیاں، سواری کے لیے دو گھوڑوں والی گاڑیاں (بعد میں موٹریں) اور کھانے پینے کے لیے ہر روز ہر کھانے پر سات غذائیں تیار۔ کھاؤ پیو، گھومو پھرو، خدا کا احسان مانو اور بڑوں کے کیے کمائے کے لیے ان پر صلواة و سلام بھیجو۔
	ہماری روانگی گاؤں کے ریلوے اسٹیشن نصرت سے شام کے وقت ہوتی۔ کراچی کے تصوّر میں دل اُچھلتا کہ ابھی جنگل کے جہنّم سے نکل کر کراچی کی جنّت میں پہنچے جاتے ہیں۔ بارہ گھنٹے کا سفر ہوتا تھا۔ سیکنڈ کلاس کے ڈبے اکثر ہمارے اسٹیشن سے خالی گزرتے تھے اور فقط لاڑکانے پہنچنے پر دوسرے مسافر ان میں سوار ہوتے۔ (فرسٹ کلاس میں سوار ہونے کا سوال ہی نہ تھا، کیوں کہ اس میں انگریز افسر سفر کرتے تھے اور ان کے ساتھ سفر کرنے میں بے ادبی کا پہلو پیدا ہوتا تھا۔)
	جھنگ شاہی سے آگے نکلتے تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جسم کو چومنا شروع کر دیتے۔ دابے جی پہنچنے تک جلد سے دانے ، خارش کے نشان اور مچھر کے کاٹے کی تمام شہادتیں مٹ چکی ہوتیں۔ بدن میں تازگی اور توانائی محسوس ہونے لگتی۔ پوری دنیا گھوم کر دیکھ لی، ایسی صاف، خوشبودار اور میٹھی ہوا سے پھر کہیں سابقہ نہ پڑا۔ پرانے کراچی کی یہ ٹھنڈی ہوا کیا تھی، اس کا اندازہ لگانا آج کل کے حالات میں ناممکن ہے۔ تمام ماحول موافق تھا، آسمان میں چھوٹے چھوٹے بادل، ہلکی ہلکی پھوار، بیچ میں کبھی کبھی بارش کا چھڑکاؤ، اور اس پر اس میٹھی ہوا کی سرسراہٹ! اس میں غیر صحت بخش اجزا کی ملاوٹ کا سوال ہی نہ تھا۔ پورا شہر صاف ستھرا تھا، نہ گندگی نہ کوڑا کرکٹ، نہ ننگے تالاب نہ گندے پانی کے جوہڑ، نہ کھلے ہوے گٹر نہ گٹروں کے ڈھکن چرائے ہوے ، نہ کچی بستیوں کا وجود نہ سڑکوں پر بول و براز کی آزادی، نہ موٹروں، بسوں اور رکشاؤں کا دھواں نہ پچاس لاکھ لوگوں کی تحلیلِ ریاح کا مسئلہ، نہ سڑکوں پر سگریٹ کے ٹکڑے نہ دیواروں پر پان کی پیکیں۔ پھر کراچی کی ہوا صاف کیوں نہ رہتی؟
	صدر ریلوے اسٹیشن کے قریب پہنچنے پر داہنے ہاتھ دور ہی سے وائرلیس کے کھمبے دکھائی دینے لگتے۔ اُس زمانے میں لوگوں کی سمجھ ہی میں نہ آتا تھا کہ بغیر تار کے پیغام کیوں کر آ جا سکتے ہیں۔ گاڑی پلیٹ فارم پر رکتی تو سیکنڈ کلاس کے ڈبوں میں قلی داخل ہو جاتے۔ وہ ایک آنہ مزدوری لے کر سامان باہر کھڑی وکٹوریا گاڑیوں میں رکھ دیتے۔ گاڑیاں زیادہ ہوتیں، مسافر کم۔ کسی دھکم پیل کے بغیر آرام سے گاڑی میں بیٹھ کر فریئر ہال کی سڑک سے صدر کی طرف جایا جاتا۔ پہلے کارلٹن ہوٹل آتا، جس کے کھنڈر آج بھی نظر آتے ہیں، مگر اُس زمانے میں وہ صرف انگریزوں کے رہنے کے لیے مخصوص تھا۔ بہت برس گزرنے کے بعد اس میں فیشن ایبل دیسیوں کو بھی رہنے کی اجازت ملی، یا جرأت ہوئی۔ کارلٹن کے سامنے والی سڑک کے بائیں ہاتھ پر ابھی مکانات نہیں بنے تھے ، خالی میدان پڑا تھا۔ صرف بیچ میں ایک چھوٹی سی مارکیٹ ہوتی تھی جہاں سے آس پاس کے بنگلوں میں رہنے والے سبزی ترکاری لیا کرتے۔ 
	آگے بڑھتے تو فریئر ہال کے پاس سے گزر ہوتا۔ چاروں طرف وسیع باغ، ملکہ اور بادشاہ کے بُت اور خود عمارت کا عجیب طرز دیکھ کر لوگ دانتوں میں انگلیاں داب لیتے۔ (آزادی کے بعد یہ مجسمے ہماری بُت شکنی کی نذر ہو گئے یا کہیں چھپا دیے گئے !) اس کے بعد فلیگ اسٹاف ہاؤس آتا جس میں فوج کا کمانڈنگ آفیسر رہتا تھا۔ دروازے کے باہر سڑک پر دو توپیں کھڑی تھیں۔ توپوں میں سے جان تو نکل چکی تھی، صرف نمائش کے لیے رکھی ہوئی تھیں، پھر بھی گاڑی والے کو ہدایت کی جاتی کہ توپوں سے ذرا ہٹ کر چلے ، کیا پتا!
	الفنسٹن اسٹریٹ کی "چھاپیں" (shops) دیکھ کر لوگوں میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا تھا۔ میمنوں کی دوچار دکانوں کے سوا باقی سب دکانیں انگریزوں، پارسیوں اور ہندو عاملوں کی تھیں، مگر صدر کی دکانوں کا مہندار تب بھی میمن حاجی ڈوسل ہوتا تھا۔ سب سے بڑی دکان، ہر قسم کا سامان، عمدہ دھاگے سے لے کر اعلیٰ درجے کی بندوقوں تک، اس ایک ہی دکان سے مل جاتا تھا۔ البتّہ دکان میں داخل ہونے سے پہلے بوٹ صاف کرائے جاتے ، کوٹ کے بٹن بند کیے جاتے اور داڑھی مونچھوں کو ہاتھ پھیر کر درست کیا جاتا، کیوں کہ اندیشہ ہوتا کہ اندر داخل ہونے پر کسی انگریز افسر سے سامنا نہ ہو جائے۔ سندھیوں کو اپنے سے اونچے لوگوں کے ادب کے تقاضے ہر وقت اور ہر جگہ یاد رہتے ہیں۔
	ڈوسل کی دکان ایک ادارہ تھی۔ سندھ کے تقریباً تمام وڈیرے ، میر اور پیر اس دکان کے مقروض ہوتے تھے اور فصل کٹنے پر سال بھر کی کمائی کا بڑا حصّہ انھیں ڈوسل کا اُدھار چکانے میں صرف کرنا پڑتا تھا۔ ان لوگوں کی مار بندوقوں، کارتوسوں، ولایتی بسکٹوں اور خوشبودار صابن پر ہوتی تھی، اور ان جنسوں کی ڈوسل کے پاس کوئی کمی نہ تھی۔ دکان میں رکھا ہوا دوسرا سامان اکثر ان کی سمجھ ہی میں نہ آتا تھا، اس لیے اس کے قریب نہ پھٹکتے۔ کچھ چنیدہ بڑے آدمی شام کے وقت ڈوسل کی دکان کے باہر چبوترے پر بید کی کرسیاں ڈال کر بیٹھ جاتے کہ کوئی افسر یا اس کی میم گزرے تو اٹھ کر اسے سلام کریں۔ ایک لحاظ سے ڈوسل کی دکان کے سامنے بیٹھنا خود عزت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔
	ہور نامی ایک انگریز درزی کی دکان، اسی الفنسٹن اسٹریٹ پر، نئے فیشن کے دلدادہ وڈیروں کی دل چسپی کا مرکز ہوتی تھی۔ سندھی پڑھے ہوے لوگ فقط قمیص میں بو ٹائی لگانے پر اکتفا کرتے ، انگریزی کے دوچار درجے پڑھے ہوے ہوتے تو ہور سے سوٹ سلوا کر پہنتے ، مگر انگریز اہلکاروں کے پاس اکثر سوٹ پہن کر نہ جاتے مبادا صاحب کو خیال گزرے کہ وڈیرا انگریزوں کی ہمسری کر رہا ہے۔ اس سے کچھ آگے جے بلِس کی دکان تھی جہاں انگریزی دواؤں کے علاوہ اعلیٰ ترین ولایتی سینٹ، صابن وغیرہ مل سکتے تھے۔ فیشن ایبل لوگ وہاں کا بھی چکر لگاتے۔ دکان کے باہر بڑے بڑے شیشے لگے ہوے تھے۔ زیادہ تر لوگ باہر کھڑے ہو کر شیشے میں سے اندر کا نظارہ کرتے اور کہتے : "واہ رے انگریز واہ!" دکان یوروپی طرز میں آراستہ کی گئی تھی۔ ایک بار سندھ کے ایک بزرگ کوئی چیز لینے اس دکان میں داخل ہوے۔ مریدوں کو معلوم ہوا تو وہ لاٹھیاں لے کر آ پہنچے اور بلِس کی دکان کے شیشے توڑ کر اس کے ٹکڑے تبرّک کے طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ بزرگ نے بلِس کو اس نقصان کا معاوضہ دیا (مبادا بلِس، جو انگریز تھا، سندھ کے کمشنر صاحب سے جا کر شکایت کر دے ) اور شاید یہ وعدہ بھی کیا کہ آئندہ اس دکان میں داخل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح کی ایک دکان اسپیچلی نامی انگریز کی بھی تھی۔ وہاں بھی دوائیں اور خوشبو کا سامان ملتا تھا۔
	اسپیچلی کے سامنے حاجی ابوبکر اینڈ سنز کی دکان تھی۔ یہ زنانہ اور مردانہ کپڑے کی سب سے بڑی دکان تھی جس میں میموں کی ضرورت کا تمام سامان ولایت سے منگایا ہوا فراہم رہتا تھا۔ دکان کے مالک مرحوم اسماعیل سیٹھ میمن تھے جو میرے مرحوم دادا کے دوست تھے۔ ہم اُنھیں کی دکان کی بالائی منزل کے ایک حصّے میں رہتے تھے۔ یہ لوگ مہمان نوازی کی حد کر دیتے تھے۔ کشادہ دل لوگ تھے ، ان کے دسترخوان پر ہر وقت آٹھ دس قسم کے طعام ہوتے تھے۔ کھانا خاص میمنی قسم کا تھا، میمنی کھانے کا ذائقہ نرالا ہوتا تھا، اور جو کچھ ہم آج کل کھاتے ہیں اس سے بالکل مختلف۔ ہمارے آج کل کے شہری یا ہوٹل کے پکے کھانوں میں زیادہ تر دہلی اور یوپی کا اثر ہے۔ "شامی کباب" کا نام میں نے پہلی بار ۱۹۲۴ میں پڑھا تھا، اور کھایا اس وقت تک نہیں جب تک دہلی جانے کا اتفاق نہ ہوا۔ ابوبکر کی دکان میں سارے دن انگریز مردوں اور عورتوں کی آرجار رہتی تھی۔ میں ایک کونے میں چھوٹی کرسی ڈال کر بیٹھا خاموشی سے یہ نظارہ دیکھا کرتا۔
	میمنوں کی دوسری مشہور دکان عدن والا کی تھی جس کا بورڈ آج تک لگا ہوا ہے۔ پتا نہیں اندر کون رہتا ہے ، میمن یا کوئی اَور۔ بہرحال عدن والا قسم قسم کے سگریٹ اور چرّٹ بیچتا تھا۔
	الفنسٹن اسٹریٹ کے کونے پر، سڑک کے دوسری طرف، جہاں اب گلزار ہوٹل ہے ، حاجی احمد کریم محمد میمن کی دکان تھی۔ وہ انگریزی گرم کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ مالک مرحوم عبدالستار سیٹھ دروازے کے باہر برآمدے میں کاٹھ کا پلنگ ڈالے اس پر بیٹھے رہتے اور آنے جانے والوں سے بات چیت کیا کرتے۔ 
	میمنوں کے علاوہ الفنسٹن اسٹریٹ میں پارسیوں کی بھی دکانیں تھیں، مثلاً جال بھائی فوٹوگرافر، اور سیٹھ نسروانجی مہتا۔ نسروانجی، جمشید مہتا کے والد تھے اور ان کا کاروبار ولایتی شراب کا تھا۔ آخری زمانے میں حیدرآباد کے کچھ عاملوں نے بھی آ کر کتابوں اور ولایتی پودوں کی دکانیں کھول لی تھیں۔
	۱۹۳۰ میں عالمگیر اقتصادی بحران آیا جس کے دوران میمنوں کو بیوپار میں اس قدر نقصان پہنچا کہ وہ قریب قریب برباد ہو گئے اور ان کی جگہیں ہندوؤں نے لے لیں۔ ایک عبد الله ہارون مرحوم اپنے پیروں پر کھڑے رہے۔ خود سیٹھ عبد الله نے مجھے ۱۹۳۹ میں میمنوں کی اس بربادی کا یہ سبب بتایا کہ پہلی عالمی جنگ کے موقعے پر میمنوں نے بہت نفع اندوزی کی تھی جس کی خدا نے انھیں یہ سزا دی۔ جب ۱۹۳۹ میں دوسری عالمی جنگ چھڑی تو سیٹھ عبد الله نے عجلت میں اپنا شکر کا کارخانہ، جو موتی پور صوبہ بہار میں تھا، اونے پونے بیچ کر اپنی جان چھڑائی۔ وجہ یہ بتائی کہ جنگ کے دوران شکر کی قلّت ہو جائے گی اور بلیک مارکیٹ کا رواج ہو گا۔ زندگی کا کچھ بھروسا نہیں، کیا پتا اس بیچ میں میں مر جاؤں اور میری اولاد لالچ میں آ کر شکر کی بلیک مارکیٹنگ کرے اور یوں خدا کی گرفت میں آ کر برباد ہو جائے۔ 
	صدر سے کیاماڑی تک ٹرام چلتی تھی۔ پورا سفر ایک ٹکے میں طے ہو جاتا۔ ٹرام بوہری بازار سے ایک طرف صدر ریلوے اسٹیشن کی سمت جاتی اور دوسری طرف بندر روڈ سے ہوتی ہوئی کیاماڑی تک۔ خلقت آرام سے سفر کرتی تھی، نہ ٹرام میں دھکم پیل اور نہ مسافروں کے گرنے کا مسئلہ۔ ٹرام کے علاوہ گھوڑا گاڑیاں بھی مروّج تھیں۔ موٹریں اور بسیں بالکل نہ تھیں۔ رکشائیں کسی نے دیکھی تھیں نہ سنی تھیں۔ مالدار لوگ سواری کے لیے گھر کی وکٹوریا گاڑیاں رکھتے تھے۔ پہلی موٹرکار ایک میمن سیٹھ عبدالرحیم صالح محمد نے منگوائی، جو ہمبر (Humber) تھی۔ اس کی چھت کھلی تھی۔ سڑک پر نکلتی تو لوگ با ادب ہو کر ایک کنارے پر کھڑے ہو جاتے۔ انگریز زیادہ تر گھوڑوں پر گھومتے تھے۔ شام کو ہوا خوری کے لیے کلفٹن تک جاتے۔ یہ سڑک ابھی پکّی نہیں ہوئی تھی۔ سر ہنری لارنس، کمشنر سندھ، کو میں نے تقریباً ہر شام اسی سڑک پر، میم کے ساتھ، گھوڑوں پر سوار کلفٹن جاتے دیکھا ہے۔ صرف میاں بیوی، نہ چوکیدار نہ باڈی گارڈ۔ ملک میں بے حد سلامتی اور امن امان تھا۔ کلفٹن پر سر جہانگیر کوٹھاری نے اپنے نام کی پریڈ (Parade) یا سیر گاہ بنوائی تھی۔
	اُدھر بندر روڈ بھی بسی ہوئی تھی۔ مولے ڈنو کا مسافر خانہ، غلام حسین خالق ڈنہ ہال، ڈینسو ہال، میری ویدر ٹاور، اسمال کازز کورٹ، کسٹم ہاؤس، پورٹ ٹرسٹ بلڈنگ اس سفر کے سنگِ میل تھے۔ ڈینسو ہال کے پاس داہنے اور بائیں ہاتھ سڑکیں نکلتی تھیں۔ بائیں ہاتھ والی سڑک "نئی چالی" محلّے سے (جہاں "الوحید" اخبار کا دفتر تھا) گزر کر میکلوڈ روڈ پر پہنچتی تھی۔ داہنے ہاتھ دو سڑکیں تھیں، ایک میریٹ روڈ جس پر کاروبار کی کھولیاں اور دکانیں تھیں، اور دوسری نیپیئر روڈ جس کے شروع میں میمن بیوپاریوں کے دفتر تھے (سر حاجی عبد الله ہارون کا دفتر اور بعد میں صوبائی مسلم لیگ کا دفتر اسی سڑک پر تھا)، اور اس سے آگے چکلا تھا۔ چکلے کے علاقے میں کسبیاں اور گانے والیاں تو رہتی ہی تھیں مگر جن لوگوں کا ان پیشوں سے تعلّق نہ تھا اور بڑے درجے کے صاحب تھے وہ بھی یہاں مکان بنا کر رہتے تھے۔ مثلاً سندھ کے کمشنر کا میر منشی بھی اسی محلّے میں رہتا تھا۔ شریف، پاکباز اور روزے نماز کا پابند شخص تھا، شام کو مکان کی گیلری میں کرسیاں ڈال کر بیٹھ جاتا اور آنے جانے والوں کو دیکھا کرتا۔ پیشہ ور طوائفوں کو اپنے پاس بلوا کر یا ساتھ لے جا کر گانا سننے میں کوئی قباحت نہ سمجھی جاتی تھی۔ اشرافوں اور پیشہ وروں کے درمیان حدِ فاصل واضح تھی۔ اچھے اور بُرے فن کو اپنی اپنی حد کے اندر رکھا جاتا تھا۔ معاشرے میں منافقت کا دور ابھی نہیں آیا تھا۔
	حکومت کی باگ ڈور سندھ کے کمشنر کے ہاتھ میں تھی۔ سندھ کا موجودہ علاقہ بمبئی صوبے میں شامل تھا۔ بمبئی کی گورنری سے سندھ کے فاصلے کے سبب مقامی انتظام چلانے کے تمام اختیارات کمشنر کے سپرد کر دیے گئے تھے۔ کمشنر بھی بڑے بڑے انگریز مقرر ہوتے تھے۔ مرد آدمی، منتظم، با اصول، بے داغ۔ یوں نہ ہوتا تھا کہ کمشنر دوسری طرف گردن پھیرے تو خلقِ خدا اس کے کردار پر نکتہ چینی شروع کر دے کہ فلاں معاملے میں نامراد اتنی رقم کھا گیا، اسمگلنگ کرنے والوں سے حصّہ وصول کرتا ہے ، اتنے بنگلے بنوا لیے ہیں، رشوت اور تعلّقات کی بنیاد پر نوکریاں اور ٹھیکے بانٹتا ہے ، اپنے ضمیر، ایمان اور انصاف کے اصولوں کو ترک کر کے اپنے بالا دستوں کے اشارے پر غلط کام کرتا ہے اور جھوٹی رپورٹیں بھیجتا ہے۔ کمشنر کی مدد کے لیے ایک گورا آئی سی ایس افسر بطور اسسٹنٹ کمشنر اور تین دیسی ڈپٹی کلکٹر مقرر ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک کو نیٹِو اسسٹنٹ کمشنر کہا جاتا تھا۔ اس کا رابطہ پبلک سے ہوتا تھا۔ کمشنر کے سائے میں رہنے کی بدولت اس کی بھی بڑی دھاک ہوتی تھی۔ زمیندار تو اس کے دروازے پر دھکّے کھایا کرتے تھے۔ خان بہادر نبی بخش محمد حسین مرحوم، جو بعد میں کئی اونچے عہدوں سے ہوتے ہوے آخر بہاولپور ریاست کے وزیرِ اعظم بنے ، نامور نیٹِو اسسٹنٹ کمشنر تھے۔ خلافت تحریک کے زمانے میں انھوں نے انگریزوں سے وفاداری کا ثبوت دیا اور اس کے نتیجے میں انگریز کمشنر کی ناک کا بال بن گئے۔ سندھ کے وڈیروں کے معاملے میں سفید و سیاہ کا اختیار انھیں کے پاس تھا۔ کسی کو کہل، کسی کو ڈمر، کسی کو خطاب دلواتے ، کسی کو کمشنر کے دربار میں کرسی مرحمت فرماتے۔ فریئر ہال کے پاس ان کا بنگلا تھا۔ وڈیروں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے رہا کرتے۔ ان کا رہن سہن اور طرزِ تعلّق انگریزی نمونے کا تھا اور کسی کو خواہ مخواہ اپنے سے بے تکلّف نہ ہونے دیتے۔ 
	کراچی کے کلکٹر بھی سینیئر آئی سی ایس انگریز ہوتے۔ کیا شان تھی، کیا آن بان تھی! سب سے پرے رہتے۔ جسے اچھا سمجھتے اس کی عزت کرتے ، مگر اس طریقے سے کہ وہ ان سے قربت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جاڑوں میں شہر سے نکل کر ضلعے کا گشت کرتے۔ سامان اونٹوں پر، صاحب خود گھوڑے پر، اپنا خرچ، اپنا کھانا پینا، نہ بک بک نہ جھک جھک۔ ان کے سرشتے دار، کارندے اور پٹّے والے البتّہ مختیار کاروں اور تپّے داروں سے رسائی (مہمانی) وصول کیا کرتے مگر اس کی مقدار ایسی "کمرتوڑ" نہ ہوتی تھی۔ دودھ، گھی، سیر دو سیر آٹا اور چاول، اور ایک آدھ مرغ وغیرہ۔ اگر صاحب کے باورچی خانے کے لیے کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو صاحب اس کا بِل اپنی جیب سے ادا کرتے۔ 
	سیاسی اعتبار سے کراچی میں سندھ کے بزرگوں کی بڑی تعداد تھی۔ ایک ہی وقت میں بڑے بڑے لوگ وہاں پیدا ہوتے رہے۔ سندھ کی سیاست کے تمام عروج و زوال وہیں پیش آتے۔ کس کس کا نام لیا جائے ؟ مسلمان، ہندو، پارسی لیڈر، سب با وقار، اعلیٰ اخلاق کے صاحبان اور اعلیٰ اصول رکھنے والے۔ سیٹھ ہرچند رائے وِشنداس، جمشید مہتا، سر حاجی عبدالله ہارون، غلام علی چھاگلا، سیٹھ غلام حسین قاسم، واجا فقیر محمد درا خاں، میر ایوب خاں، طیّب علی علوی، حاتم علوی، خان بہادر ماما، خان بہادر ولی محمد حسن علی، بابا میر محمد بلوچ، حکیم فتح محمد سیوھانی، مولانا محمد صادق کھڈّے والے ، مولانا عبدالکریم درس اور ان کے فرزند اور جانشین مولانا ظہور الحسن درس، شیخ عبد المجید سندھی، جہانگیر پنتھکی، سر جہانگیر کوٹھاری، سر کاوس جی جہانگیر، سر مونٹیگو ویب، اے ایل پرائس، خان صاحب بابو فضل الہی، محمد ہاشم گذدر، بی ٹی ٹھکّر، روپ چند بیلارام، موتی رام عیدن مل، قاضی خدا بخش، قاضی عبدالرحمن اور دوسرے۔ 
	۱۹۲۴ کے لگ بھگ سندھ کے دیہات کے کئی سربرآوردہ بزرگوں نے بھی کراچی میں بنگلے بنوا کر زیادہ تر وہیں رہنا شروع کر دیا، مثلاً سر شاہنواز خان بھٹّو، خان بہادر محمد ایوب کھوڑو اور جی ایم سیّد۔ ان کے کراچی میں رہنے کی بدولت سندھ کے مرکزی شہر کراچی اور سندھ کے دیہات کی سوچ بچار میں خاصی موافقت نظر آنے لگی۔
	جب تک اس پائے کے بزرگوں کے ہاتھ میں سندھ کی سیاست رہی، سندھ کی شان اور مان ہی کچھ اَور تھا۔ خود ان لوگوں کا ذاتی کلچر اور بزرگی کا انداز پدرانہ اور مشفقانہ تھا۔ وہ صوبے کے تمام ماحول پر اثرانداز رہے۔ کس کی مجال تھی کہ اخلاق سے گری ہوئی بات کرے یا سیاست میں بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے۔ غرض یہ لوگ سندھ کے جملہ معاشرے کے ستون تھے۔ میں یہ فرق بخوبی محسوس کر رہا ہوں۔ ان کی آنکھیں بند ہونے سے سندھ یتیم ہو گیا ہے ، نہ کوئی روکنے ٹوکنے والا رہا نہ ہمت کر کے حق بات کہنے والا۔ اندھے کی جورو، الله کی امان میں!
	کراچی کو اِنہیں لوگوں نے بنایا۔ سندھ کو اِنہیں لوگوں نے سنوارا۔ آج تک لاکھوں لوگ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان کے عملِ صالح کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اب ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں رہا۔
	کراچی دو تین اَور باتوں میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے __ یعنی سندھ کی اخباری دنیا اور تعلیمی معاملے میں۔
	اخبارات کم تھے مگر اخبارنویس لالچی اور بیوپاری مزاج رکھنے والے نہ تھے۔ اخبارات کچھ اصولوں پر کاربند رہتے تھے۔ مثلاً انگریزی اخباروں میں "نیو ٹائمز"، جو سادھو واسوانی کی نگرانی میں نکلتا تھا، ہندوستان کی آزادی اور انگریز کی مخالفت کے لیے وقف تھا۔ ۱۹۲۴ کے آس پاس سیاسی تحریک میں وقتی طور پر سکون آیا تو یہ اخبار بند ہو گیا۔ انگریز حکومت کا نقطۂ نگاہ پیش کرنے کے لیے "ڈیلی گزٹ" تھا جس کے نامور ایڈیٹر سر مونٹیگو ویب تھے۔ ہندوؤں کے مفاد کو آگے بڑھانے کے لیے "سندھ آبزرور" میدان میں آیا۔ اس کے ایڈیٹر، آخری زمانے میں، ایک کٹّر مدراسی ہندو کے پُنیا تھے۔ اس اخبار کا اصول تھا کہ انگریز کو نکال کر ملک میں ہندو راج مسلّط کیا جائے۔ 
	شروع میں مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی اخبار نہ تھا۔ سب سے پہلے روزنامہ "الوحید"، خلافت تحریک کے زمانے میں حاجی عبدالله ہارون کی ہمت افزائی اور شیخ عبد المجید سندھی اور ان کے چند سرفروش ساتھیوں کی محنت سے نکلا اور پورے انقلابی دور میں، یعنی ۱۹۱۹ سے ۱۹۵۴ تک، مسلمانوں کی وکالت کرتا رہا۔ شیخ صاحب کی بھی جوانی تھی اور سندھ کے مسلمانوں کی امیدوں کا آغاز۔ "الوحید" حکومت کا مخالف تھا، آمدنی کا ذریعہ صرف غریبوں کی جانب سے ملنے والا چندا، کبھی کبھی قیدوبند کی صعوبتیں، ضمانتیں، ضبطیاں، قرض کی قرقیاں تو روزمرہ کا معاملہ تھیں، کبھی کاغذ نہیں ہے تو کبھی ڈاک کے ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب سرکار نے "الوحید" کے ایڈیٹروں کو جیل بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا، ایک کے بعد ایک ایڈیٹر گرفتار ہو کر جیل جاتا رہا۔ آخر سرکار خود تھک گئی، لیکن "الوحید" کے ایڈیٹر ختم نہ ہوے۔ اس دور میں کتنے ہی بہادر لوگ میدان میں نکلے ، مثلاً مولانا دین محمد وفائی، میاں دین محمد علیگ، عبدالسلام، الله بخش ٹالپر، رئیس حاجی علی محمد مری، مولانا عبدالکریم چشتی، قاضی عبدالرحمٰن وغیرہ۔ یہ لوگ اصول پرستی، سرفروشی اور راست گوئی کا ایک بڑا ورثہ چھوڑ گئے جسے برباد کرنے میں بھی بعد والوں کو بیس سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔
	۱۹۲۴ کے لگ بھگ سندھ کے ہندوؤں میں تنگ دلی پیدا ہوئی۔ وہ آزادی کے بہانے سندھ کے مسلمانوں سے مخالف سمت میں قدم اٹھانے لگے۔ اس کام کے لیے انھوں نے متعدد اخبار سندھی زبان میں بھی نکالے۔ "ہندو"، "ماتربھومی"، "سنسارسماچار" وغیرہ۔ ان کی کوشش تھی کہ سندھ کی صحافتی زبان میں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کثرت سے شامل کر کے پہلے سندھ کی روایتی زبان پر اور پھر سندھ کے کلچر پر حاوی ہو جائیں۔ "الوحید" تنہا ان سب کا مقابلہ کرتا رہا۔
	تعلیم کے شعبے میں سندھی مسلمانوں کا ادارہ صرف سندھ مدرسة الاسلام تھا جہاں سے اپنے وقت کے اکابر پڑھ کر نکلے۔ قائد اعظم نے بھی شروع میں یہیں تعلیم پائی۔ مرحوم خان بہادر حسن علی آفندی نے یہ مدرسہ قائم کر کے سندھ کے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان کیا۔ اگر یہ مدرسہ نہ ہوتا تو سندھ کے مسلمانوں میں تعلیم نہ آتی، تعلیم نہ آتی تو ان میں سیاسی شعور پیدا نہ ہوتا، سیاسی شعور پیدا نہ ہوتا تو سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک نہ چلتی، اور سندھ بمبئی سے علیحدہ نہ ہوتا تو پاکستان بھی نہ بنتا۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ 
	مقابلتاً ہندوؤں کے تعلیمی ادارے البتّہ تعداد میں زیادہ اور مضبوط تھے۔ دیا رام جیٹھ مل کالج، این جے وی ہائی اسکول اور لا کالج، سندھ میں ہندو قوم کو بنانے اور آگے بڑھانے میں ان اداروں کا خاصا حصّہ رہا۔ ان کے پرنسپل میں اپنے دور کے بڑے بڑے استاد تھے۔ پرنسپل بٹانی، ڈاکٹر گربخشانی (جنھوں نے "شاہ جو رسالو" بڑی محنت سے مرتب کر کے تین جلدوں میں شائع کیا اور سندھ پر بڑا احسان کیا)، پرنسپل شاہانی، اور دوسرے کئی پروفیسر جن کی زندگی تعلیمی ماحول میں گزری اور وہ اس سے باہر نہ نکلے۔ 
	سندھ مدرسے کے پرنسپل بھی شروع میں تو غیرمسلم مقرر ہوتے رہے ، آخر میں شمس العلما ڈاکٹر داؤد پوٹو مرحوم آئے۔ 
	اس میں شک نہیں کہ اُس زمانے میں سندھ کی سیاست کا رخ آزادی کی طرف موڑنے میں ہندو عنصر کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ وہ تعلیم میں مسلمانوں سے آگے تھے۔ ان کی مڈل کلاس طاقتور تھی۔ بیرونی دنیا سے وہ زیادہ واقف تھے۔ کانگریس کی تحریک سے متاثر ہو چکے تھے۔ انگریز کا رعب اُن پر سے ختم ہو چکا تھا، کسی بھی چھوٹی بڑی بات پر مقابلہ کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ ستیہ گرہ، سول نافرمانی، عدم تعاون، لاٹھی چارج، آنسو گیس، گولیاں، جیل وغیرہ کی منزلیں طے کر آئے تھے۔ البتّہ مسلمانوں سے ان کی نہ بنتی تھی۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آخرکار ملک میں اپنا راج قائم کریں۔ مگر اس کے باوجود یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان کے نکل جانے کے بعد کسی حد تک سندھ کی صوبائی سیاست سے خود داری، آزاد خیالی اور قربانی کے اجزا گم ہو گئے۔ سندھ کے بمبئی سے الگ ہونے کے بعد (۱۹۳۷ میں) سندھ کے دیہات کے بعض ناخواندہ اور اہلکاروں کے سکھائے پڑھائے وڈیروں نے ، اپنی عددی برتری کی بنیاد پر اسمبلی میں داخل ہو کر، سیاست کو آلودہ کر دیا اور سندھ کی علیحدگی کے حقیقی مقصد کو نظرانداز کر کے خود انھیں ہندوؤں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے۔ اس صورتِ حال نے مجموعی صوبائی سیاست کو کتّوں کی قے بنا دیا۔ اس میں کچھ جان نہ رہی۔ صرف جوڑ توڑ، دروغ گوئی، ضمیر فروشی، بے اصولی اور ہر اُبھرتے سورج کی پوجا کرنے کی عادتیں اور قباحتیں رواج پا گئیں۔
	مگر اس کا مطلب یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس عام ماحول میں خود کراچی میں بھی قحط الرجال پیدا ہو گیا۔ وقتاً فوقتاً وہاں چند مسلمان قومی رہنما ایسے ضرور ابھرتے رہے جو سیاسی شعور، آزاد خیالی، عزتِ نفس، سختیاں اٹھانے کی اہلیت اور اصولوں پر جان دینے میں ہندوؤں سے کسی بھی طرح پیچھے نہ تھے۔ یہ لوگ کارکنوں کی پیروی کرنے والے نہ تھے۔ مثلاً شیخ عبدالمجید، مولانا محمد صادق کھڈے والے ، مولانا عبدالکریم درس، مولوی محمد صدیق، ماسٹر محمد خاں (جو اصل میں پنجاب کے تھے مگر کراچی میں آ بسے تھے )، بابا میر محمد بلوچ، محمد ہاشم گذدر، مولوی عبدالحئی حقانی، ظہورالحسن درس، حافظ شریف حسین، قاضی خدا بخش اور "الوحید" میں کام کرنے والے پورے گروپ نے سندھ کے مسلمانوں کی سیاست کے ترقی پسند اور انقلابی پہلو کو نمایاں رکھا۔ ان میں اکثر غریب لوگ تھے ، لیکن غربت میں انسانیت کا شرف برقرار رکھنا کوئی ان سے سیکھ سکتا تھا۔ مولانا عبدالکریم درس کی مثال لیجیے۔ خلافت تحریک کے ابتدائی دور کے آدمی تھے۔ جن لوگوں کے ان کو سنا ہے ان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ شعلہ بیاں مقرر تھے۔ جب پہلی عالمی جنگ ختم ہوئی (جس کے دوران مسلمانوں نے انگریزوں کی مدد کی تھی) اور انگریزوں نے جنگ سے جان چھڑا کر ترکی کی طرف تیر سیدھے کرنے شروع کیے اور خلافت ختم کرنے پر کمربستہ ہوے تو مولانا درس نے جونا مارکیٹ کے پاس ایک عام جلسے میں تقریر کرتے ہوے یہ شعر پڑھا:
سگت را خونِ دل دادم کہ با من آشنا گردد
زبختِ خود ندانستم کہ او دیوانہ خواہد شد
ایک اَور موقعے پر ہندوؤں کو مخاطب کر کے یہ بیت پڑھا:
روئے وفا نہ دید ز یارانِ ہم وطن
شاید کہ درس رو بہ دیارِ دگر کند
مولوی صاحب کو اس صاف گوئی کی پاداش میں کئی بار جیل میں بھی ڈالا گیا مگر وہ مرتے دم تک اپنے اصولوں سے نہ ہٹے۔ 
	اسی طرح مولانا عبد الحئی حقانی نے بھی مسلم لیگ کی تحریک کے دوران جواں مردی کے جوہر دکھائے۔ مسلم لیگ کا جب بھی جلسہ ہوتا تو ان سے نظم پڑھائی جاتی جو وہ بڑی خوش الحانی سے اور موثر انداز میں گا کر سناتے۔ نظم تھی:
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ
باطل پہ اڑے ہیں کانگرسی
کرتے نہیں حق کی داد رسی
کچھ اور ہے ان کے دل میں بسی
وغیرہ۔
	بابا میر محمد بلوچ تو آخر بلوچ تھے ، سرفروش، بے خوف، انگریزوں کے جانی دشمن، ہندوؤں سے بیزار۔ رات دن حکومت کے خلاف ہنگامہ اٹھائے رکھتے۔ بمبئی کاؤنسل کے ممبر منتخب ہوے۔ انگریزی نہ جانتے تھے ، مگر اِس سے اُس سے انگریزی میں سوال لکھوا کر کاؤنسل میں بھیجتے اور یوں حکومت کی خوب پردہ دری کرتے۔ جس سوال کو پوچھتے ہوے دوسرے ممبر کانپنے لرزنے لگتے (کہ مبادا حکومت خفا ہو جائے ) وہ سوال بابا میر محمد ڈنکے کی چوٹ پر پوچھ بیٹھتے۔ 
	پرانے کراچی کی کئی سوغاتیں ناقابلِ فراموش تھیں: چندو حلوائی کا "دھنداگیری" حلوا، سیفی ہوٹل (الفنسٹن اسٹریٹ) کی مکس پلیٹ، بوہری بازار کے سامنے بومن پارسی کی چائے ، جے بلِس کا سینٹ، اسپیچلی دوا خانے کا مکسچر، سکویرا فوٹوگرافر کے فوٹو، حسن علی کے کارخانے کا "سوڈا لملیٹ"، اسلامی ہوٹل کی بریانی، محمد صدیق کی دکان کے بوٹ، بابا میر محمد بلوچ کی دکان کی ترکی ٹوپیاں، بولٹن مارکیٹ کے سامنے ہندو نانبائی کی دکان کی پکی پلّا اور مچھلی، حکیم فتح محمد سیوہانی کی زکام کی گولیاں، حکیم علی محمد قادری کی "یاقوتی"، جونا مارکیٹ کے چوک پر عزیز کے ہوٹل کے نان پائے ، حاجی ڈوسل، سلیمان عمر اور حسین بھائی کی بندوقیں اور کارتوس، کیفے گرانڈ کے کیک اور پیسٹریاں۔
	کراچی کا پھیلاؤ اُن دنوں اتنا زیادہ نہیں ہوا تھا۔ جیل کے اردگرد جنگل میں میں نے تیتروں کا شکار کیا ہے۔ ٹریڈنگ اسٹیٹ کے علاقے میں گیدڑوں سے ملاقات ہوتی جو منگھو پیر کی سمت سے شہر کی سیر کو آتے۔ لیاری کے کچھ حصوں میں کھڑے پانی کے تالاب تھے جہاں بطخوں کا شکار ہوتا تھا۔ پی ای سی ایچ کے جنگل تو باقاعدہ شکارگاہ تھے۔ 
	سنجیدگی، شائستگی، پر وقار صورت، گفتگو کی شیرینی، زندگی کے اصولوں کی پاس داری، ضمیر کی آزادی، خود داری، حکیم فتح محمد سیوہانی ان سب اور بے شمار دوسری خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ وہ سیوہن سے اُبھرے ، کراچی کے افق پر چمکے اور سالہا سال سندھ کی ثقافتی، علمی اور ادبی محفلوں کو منوّر کرتے رہے۔ انھیں دیکھ کر اور سن کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ماضی کے سندھ کے  شرفا اور خاندانوں کے سلسلے کی تقریباً آخری کڑی تھے۔ جب مجھے ان سے واقفیت کا شرف حاصل ہوا، تب وہ گاڑی کھاتے میں، کچہری روڈ پر رہتے تھے۔ دو منزلہ مکان تھا، نیچے مطب اور محفل گاہ، اوپر کی منزل پر مہمان خانہ۔ ہر وقت ملاقاتیوں میں گھرے رہتے۔ سندھ سے آئے ہوے میر، پیر، بڑے زمیندار اور جاگیردار تو انھیں نبض دکھا کر اور پوشیدہ امراض خصوصاً کم طاقتی کی شکایات بیان کر کے گولیاں، معجونیں، لیپ اور کشتے لیتے اور رخصت ہو جاتے ، مگر غریب قومی ورکر یا "بے ثمر" ادیب تمام دن انھیں چمٹے رہتے۔ ان کا علاج مفت ہوتا تھا۔ وقت آنے پر کھانا بھی کھلایا جاتا، رات پڑنے پر بستر دے کر سلایا بھی جاتا۔ اکثر واپسی کا کرایہ بھی دے کر، پیشانی پر بل ڈالے بغیر، ہنستے مسکراتے رخصت کیا جاتا۔ دہلی کے حکیم اجمل خاں کا دم بھرتے تھے۔ واقعی سندھ کے اجمل خاں تھے۔ جیسے طبیب تھے ویسے ہی ادیب، جیسے سیاست کے ماہر ویسے شاعر۔ میلان کانگریس کی طرف تھا۔ سیوہن کی فضا میں ابتدائی تربیت ہوئی تھی جہاں ہندو مسلمان میں کوئی تفریق نہ تھی۔ فرقہ وارانہ بھید بھاؤ ان کی سمجھ ہی میں نہ آتے تھے۔ میروں کی حکومت پر خاص تحقیق کی تھی اور اپنے راج کی خوبیوں کی خبر پا چکے تھے اس لیے انگریز "صاحب لوگوں" کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ کچہری روڈ پر پر رہتے ہوے بھی کبھی کچہری (کلکٹر کے دفتر) کا منھ نہ دیکھا۔ عربی فارسی کے عالم تھے ، مگر علم یا مذہب کو کبھی آمدنی کا ذریعہ نہ بنایا۔ نہ مذہب کو انسانی خون بہانے کے لیے استعمال کیا نہ علم کو فتنہ جوئی اور شر انگیزی کے لیے۔ 
	کراچی کی آب و ہوا میں مجھے اکثر انفلوئنزا ہو جاتا تھا۔ حکیم صاحب کے پاس اس مرض کی زود اثر گولیاں تھیں۔ گولیوں کی ڈبیا میری جیب میں ڈال کر ہدایت کرتے کہ جب یہ ختم ہو جائے تو دوسری ڈبیا لے جانا۔ میں نہ جا پاتا تو خود گھر آ کر دے جاتے۔ ۱۹۳۹ کے شروع میں مجھے پیٹ کی بیماری ہو گئی۔ انھوں نے حکم دیا کہ ملیر میں جا کر رہوں جہاں کی آب و ہوا نسبتاً خشک ہے۔ میں نے کہا، "وہاں رہ کر آپ سے کیوں کر علاج کراؤں گا؟" فرمایا، "میں خود روز ملیر آ کر دیکھ جایا کروں گا،" اور یہی کرتے رہے۔ 
	حکیم صمصام کا پورا اور درست نام تو خدا جانے کیا تھا، مگر یہاں اسی نام سے مشہور تھے۔ کراچی کے میمن سیٹھوں نے انھیں دہلی یا لکھنؤ سے بلوا کر اپنے پاس رکھا تھا۔ اُس زمانے میں میمن سیٹھوں کو کم طاقتی کی خاص شکایت ہوتی تھی۔ بہت بیٹھے رہنے کی وجہ سے مٹاپے کی بیماریاں ہو جاتیں جن کی علامات چھپائے نہ چھپتیں۔ بازار کے اتار چڑھاؤ کے باعث کسی قدر مالیخولیا بھی شاملِ حال رہتا۔ سندھ کے طبیب سستے تھے اس لیے بے کار سمجھے جاتے تھے۔ چناں چہ علاج کے لیے باہر سے مہنگے حکیم بلوائے جاتے۔ مگر حکیم صمصام ان میں سے نہ تھے۔ بے حد سادہ تھے ، لمبا کوٹ، سادی قمیص، نیچے علی گڑھی پاجامہ، سر پر کھال کی ٹوپی۔ ہمیشہ پیدل گھومتے تھے۔ کسی سے بات چیت نہ کرتے۔ کوئی کچھ پوچھتا تو دو لفظوں میں جواب دے کر خاموش ہو جاتے۔ کسی سے ایک پیسا نہ لیتے۔ مریض علاج کرانے پر مصر ہو جاتا تو کاغذ کے پرزے پر نسخہ لکھ دیتے۔ کھانے کے لیے کوئی مقرر جگہ نہ تھی، جہاں بھی مل جائے کھا لیتے ، نہ ملے تو نہ سہی۔ عجب لا اُبالی اور بے پروا طبیعت کے انسان تھے۔ مجلس میں موجود رہتے مگر گفتگو میں حصہ نہ لیتے۔ بحث مباحثہ زور پکڑ جاتا تو اٹھ کر چلے جاتے۔ یاری دوستی سے دور رہتے۔ نہ خود کسی کے قریب جاتے نہ کسی کو قریب آنے دیتے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی کمال سیر نفسی اُنھیں میں دیکھی۔ عمر کے آخری حصّے میں کراچی آئے تھے اور انتقال بھی شاید وہیں ہوا۔ سیٹھ لوگ سمجھتے تھے کہ اتنا بے پروا شخص ضرور کیمیا گر ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بات ان کے خیال میں نہ آتی تھی کہ جس شخص نے زندگی کی بے ثباتی کو محسوس کر کے اپنے حاجتوں کو محدود کر لیا ہو اس جیسا کیمیا گر کوئی اَور نہیں ہو سکتا۔
	سندھی کے دو ماسٹر تھے جو یاجوج ماجوج کہلاتے تھے۔ جوبلی کوارٹر کے ایک سندھی اسکول میں سندھی اور حساب پڑھاتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا، دوسرے کا نام ذہن سے اتر گیا ہے۔ پڑھائی میں کافی نام پیدا کیا، لیکن اسکول سے باہر پاگل پنے کی حرکتیں کیا کرتے تھے۔ بلیوں سے خاص دوستی تھی۔ پوری تنخواہ انھیں چھیچھڑے کھلانے میں صرف کر دیا کرتے۔ بلیوں نے اپنے محسنوں کو پہچان لیا تھا، گلیوں میں گھومتے تو آگے آگے خود، پیچھے بلیاں میاؤں میاؤں کرتی چلتیں۔
	دنیا جہاں کے ہر مسئلے پر لوگوں کی رہبری کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے ، چناں چہ ہر سمت میں تاروں اور خطوں کی جھڑی لگائے رکھتے۔ ۱۹۳۷ کے آس پاس ہٹلر نے جنگ پر کمر باندھی تو اسے تار بھیجا کہ یورپ میں خون بہانے کے بجائے ہندوستان آ کر انگریزوں سے جنگ کرو، ورنہ شکست کھاؤ گے۔ یہ تار سنسر ہو گیا اور سی آئی ڈی دونوں ماسٹروں کو کتنے ہی دن کھینچے پھری۔ آخر انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں پاگل ہیں۔ دماغ خراب ہے ، مگر نیت خراب نہیں۔ الله نے بلیوں کی دعائیں سنیں اور ان کی جان چھوٹی۔
	ایک پرانے دوست نے ان کے بارے میں ایک قصّہ سنایا۔ کہنے لگا: "ایک بار انھوں نے برطانیہ کے شاہی گھرانے سے بھی ناتا جوڑ لیا تھا۔ ایک شہزادی (احتراماً نام نہیں لکھتا) کی منگنی کا چرچا ہوا اور اخباروں میں اس کی تصویریں نکلیں تو بڑے ماسٹر کا دل آ گیا۔ فوراً شہزادی کے والد کو ارجنٹ تار بھیجا کہ اپنی دختر کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیجیے۔ میری علمی لیاقتیں یہ ہیں، سیاست میں وہ پوزیشن ہے کہ گاندھی جی بھی میرے مشوروں پر چلتے ہیں۔ ہمارے اس رشتے سے ہندوستان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور برطانیہ کے سر کا درد ختم ہو گا۔ لندن سے اس تار کی رسید آ گئی۔ محلّات کے سیکرٹری نے عام دستور کے مطابق چھپے ہوے کاغذ پر رسید بھیج دی۔ رسید کا مضمون وہی تھا جو ہر مراسلے کے جواب میں استعمال کیا جاتا تھا، یعنی آپ کا مراسلہ پہنچا، اس پر غور کیا جائے گا۔ شاید کسی کلرک نے تار پڑھے بغیر یہ فارم بھر کر بھیج دیا تھا۔
	"بہرحال، رسید ملتے ہی ماسٹر صاحب کو دولھا کی ذمے داریوں کا احساس ہونے لگا۔ کئی مسائل اٹھ کھڑے ہوے : مثلاً، مذہبی قضیے کو کیوں کر طے کیا جائے ؟ آپ مسلمان اور شہزادی عیسائی، شہزادی کے مشرف بہ اسلام ہونے کی منزل نکاح سے پہلے آئے گی یا بعد میں؟ نکاح لندن میں ہو گا یا کراچی میں؟ جہیز اور بَری کے سلسلے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟
	"مجھ پر ان کی خاص مہربانی تھی، راز داری کی باتیں اکثر مجھی سے آ کر کرتے تھے۔ ایک دن میرے گھر آ پہنچے۔ آگے آگے بڑے ماسٹر صاحب، پیچھے پیچھے ان کا بھائی۔ بڑے ماسٹر کے گلے میں پھولوں کا ہار۔ ہنستے مسکراتے نمودار ہوے۔ چھوٹے بھائی نے مسکراتے ہوے بتایا کہ ادا سائیں کو مبارک باد دیجیے ، برطانیہ کی فلاں شہزادی سے ان کی شادی ہو رہی ہے۔ یہ کہا اور لندن سے آئی ہوئی تار کی رسید جیب سے نکال کر دکھائی۔
	"میں نے مشورہ دیا کہ مذہبی معاملات پر شہر کے قاضی صاحب سے صلاح کریں، مگر اس سے پہلے ضروری ہے کہ کمشنر صاحب سے جا کر ملیں، چوں کہ یہ مراسلت ضرور کمشنر صاحب کے پاس آئی ہو گی۔ اگر انھوں نے سفارش نہ کی تو شاید شادی میں خلل پڑے ، اس لیے پہلے ہی ان سے مل کر انھیں اس رشتے کے فوائد سے آگاہ کریں اور اپنی طرف مائل کریں تاکہ وہ اوپر اچھی رپورٹ بھیجیں۔ میں نے یہ بھی صلاح دی کہ چوں کہ برطانیہ کے خاندان کتوں بلّیوں کے شوقین ہوتے ہیں، اس لیے ماسٹر صاحب اپنی بلّیوں کی تصویریں اتروا کر کمشنر صاحب کو دیں تاکہ انھیں بھی خط و کتابت کا حصّہ بنایا جائے۔ 
	"سندھ کے کمشنر اُس زمانے میں گبسن صاحب تھے ، جو خود بھی ہنسی مذاق اور کھلنڈرے پن میں خاصے مشہور تھے۔ ماسٹر صاحبان بلیوں کے فوٹو اتروا کر ان کے پاس پہنچے۔ کمشنر صاحب کو لندن سے آئی ہوئی تار کی رسید دکھا کر عرض کی کہ اس رشتے کی سفارش فرمائیں۔ گبسن صاحب انھیں پہچانتے تھے۔ ذرا دیر میں معاملے کی تہہ کو پہنچ گئے۔ کہنے لگے : اچھا کیا جو پہلے ہی سے میرے پاس چلے آئے۔ یہ خط و کتابت واقعی میرے پاس آئی ہوئی ہے اور میں رپورٹ بھیجنے سے پہلے انکوائری کر رہا ہوں۔ مگر ایک رکاوٹ شاید پیدا ہو۔ دولھا کی عمر پچاس سے زیادہ ہے اور دُلہن کی مشکل سے بیس سال۔ یہ بیل شاید منڈھے نہ چڑھے۔ لہذا گبسن صاحب نے ماسٹر صاحبان کے آگے ایک متبادل تجویز رکھی۔ بولے : اگر شہزادی والا معاملہ عمر کے فرق کے سبب کامیاب نہ ہو سکے تو اُسی گھرانے کی ایک دوسری شہزادی آج کل میرے پاس مہمان ہے۔ وہ آپ کی ہم عمر ہے ، بلیوں کی شوقین ہے اور خاصی دولت مند بھی۔ اگر آپ قبول کریں تو یہ کام فوراً ہو سکتا ہے۔ یہ کہہ کر گبسن صاحب نے ایک گوری عورت نہ جانے کہاں سے بلوا کر انھیں دکھلائی۔ معلوم نہیں ان کی اپنی بیوی تھی یا کیفے گرانڈ کی مالکہ۔ (کیفے گرانڈ کی مالکہ اُن دنوں ایک بوڑھی فرنچ عورت تھی جسے لوگ میڈم صاحب پکارتے تھے۔ )
	"ماسٹر صاحبان اس پروپوزل پر غور کرنے کے لیے مہلت لے کر میرے پاس پہنچے۔ میں نے کہا: جلدی کرنا مناسب نہیں۔ جب نوجوان شہزادی مل سکتی ہے تو اس بڑھیا سے شادی کرنے کا کیا فائدہ؟ جلدی کا کام شیطان کا۔ کچھ دن بعد لندن میں شہزادی کی شادی ہو گئی اور ماسٹر صاحب کی امیدوں کا سوتا سوکھ گیا۔"
	کراچی کا ہر چھوٹا بڑا اُنھیں پہچانتا تھا۔ ہر ایک کو معلوم تھا کہ جب بھی کوئی آئینی مسئلہ ہندوستان میں، یا وزارتوں کے بننے یا گرنے کا معاملہ سندھ میں، پیدا ہوتا ہے تو ماسٹر صاحبان حسبِ دستور اپنے مشوروں سے ، تاروں اور خطوں کے ذریعے ، ہر متعلقہ فریق کو مستفید کرتے ہیں اور اس مراسلت کی نقلیں ہمیشہ اپنی جیبوں میں رکھتے ہیں۔
	سندھ کے وزیروں سے ملنے اور ان کی رہبری کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے۔ میں وزیر بنا تو مجھے بھی اپنی ملاقاتوں سے نوازنے لگے۔ ایک دفعہ دفتر میں پٹّے والے نے ان کا ملاقاتی کارڈ لا کر دیا۔ چھپے ہوے کارڈ پر ان دونوں کے ناموں کے نیچے ان کی تعریف یوں لکھی ہوئی تھی:
	"میکرز آف پاکستان، میکرز آف بندے علی منسٹری، پیٹرنز آف الله بخش منسٹری، اینیمیز آف ہٹلر، آرکیٹکٹس آف انڈیا پاکستان فریڈم، ویل وِشرز آف جمشید مہتا پریزیڈنٹ کراچی میونسپلٹی، کینڈیڈیٹس آف پریزیڈنٹ شِپ آف پاکستان، کنٹرولرز آف سندھ منسٹریز، کلوز ٹو رائل ہاؤس آف بریٹن، کنگز آف گاؤلز اینڈ گوبلِنز" وغیرہ۔
	میں ان کی تعریف پہلے ہی سن چکا تھا۔ کرسی سے اٹھا اور دروازے کے باہر جا کر ان کا استقبال کیا اور اندر لا کر اپنے پاس بٹھایا۔ وہ ہمارے وزیرِاعلیٰ پیرزادہ عبدالستار سے بے حد ناراض تھے ، کیوں کہ انھوں نے ان کی قدر نہیں پہچانی تھی اور ملاقات کے وقت گرمجوشی سے استقبال نہ کیا تھا۔ فرمایا: "ہم پیرزادہ کو ہٹا کر تمھیں وزیرِ اعلیٰ بنانے آئے ہیں۔" میں نے پوچھا یہ کیوں کر ہو گا۔ بولے : "سیدھی بات ہے۔ جب پیر موجود ہے تو زندگان کی کیا ضرورت۔ منطق پڑھے ہو؟ یہ منطق کا مسئلہ ہے۔ "
	مجھے بھی مذاق سوجھا۔ میں نے کہا، "پیرزادہ صاحب کو اسمبلی سے بے دخل کریں تب بات ہے۔ " بولے : "ہم تیار ہیں۔ خود جا کر پیرزادہ صاحب کی کرسی پر قبضہ کر لیں گے۔ " اتنا کہہ کر میرے پاس سے اٹھے اور اسمبلی ہال میں، وزیروں کی آمدورفت کے درمیان، کسی طرح اندر گھس کر وزیرِ اعلیٰ کی بنچ پر جا بیٹھے۔ پیرزادہ صاحب اور میں اسمبلی میں داخل ہوے۔ ہم دونوں ایک ہی بنچ پر بیٹھتے تھے۔ پیرزادہ صاحب شگفتہ طبیعت کے انسان تھے ، ماسٹر صاحبان کو اپنی بنچ پر بیٹھا دیکھ کر ہنسنے لگے۔ مجھ سے پوچھا، "یہ کیا ہے ؟" میں نے کہا: "ان کا دعویٰ ہے کہ یہ میکرز آف پاکستان ہیں، جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ جلد یا بدیر انھیں کو آنا ہے۔ اچھا ہوا کہ پہلے ہی اپنی جگہیں حاصل کر لیں، ہمارے آپ کے سر کا درد ٹلا۔" پیرزادہ صاحب نے آگے بڑھ کر انھیں اٹھانے کی کوشش کی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا۔ بولے : "ہم پاکستان کے بانی ہیں، اور آج ہم نے تمھیں ڈس مس کر کے وزارتِ اعلیٰ پر قبضہ کر لیا ہے۔ " اسمبلی کی گھنٹی بجنے لگی۔ جب انھوں نے شام کو دفتر میں آ کر ملنے اور اس مسئلے پر غور کرنے کی بھی پیش کش قبول نہ کی تو ان دونوں کو اسمبلی کے عملے کے ذریعے زبردستی باہر نکلوایا گیا۔ جاتے جاتے انھوں نے پیرزادہ صاحب کی شان میں کچھ گستاخانہ فقرے بھی کہے اور یہ دھمکی بھی دی کہ "ہم ابھی جا کر ملکہ برطانیہ کو تار کے ذریعے رپورٹ وزیرِ اعلی سندھ کی غیر آئینی روش کی بھیجتے ہیں۔" (پاکستان اّن دنوں برٹش ڈومینین تھا، ری پبلک نہیں بنا تھا۔)
	ماسٹر صاحبان کا نام یاجوج ماجوج کیوں کر پڑا، اس کے بارے میں فقط اتنا معلوم ہو سکا کہ ان کا اٹھنا بیٹھنا بیشتر گاڑی کھاتے کے محلّے میں تھا۔ جب کوئی بلّی بیمار ہو جاتی تو ماسٹر اسے گاڑی کھاتے کی مسجد میں دھکیل کر بیرونی دروازہ بند کر جاتے۔ مسجد کے امام صاحب زیادہ تر گھر پر رہتے تھے اور صرف نماز کے وقت مسجد میں آتے تھے ، اس لیے انھوں نے مسجد کو محفوظ جگہ خیال کر کے وہاں بلیوں کو ٹھہرانے کا بندوبست کر لیا تھا۔ امام صاحب سے پوچھا گیا کہ مسجد میں بیمار بلّیاں کیوں رکھی جاتی ہیں، تو انھوں نے فرمایا کہ یہ بلیاں یاجوج ماجوج مسجد میں چھوڑ جاتے ہیں۔ اس دن سے ماسٹر صاحبان کا نام یاجوج ماجوج پڑ گیا۔ والله اعلم باالصواب۔
	خان بہادر الله بخش گبول کراچی کے کلبوں اور سیاسی اور سوشل محفلوں کی رونق تھے۔ قدم رکھتے تھے تو محفل کا موڈ باغ و بہار ہو جاتا تھا۔ قد آور، بڑے ڈیل ڈول کے آدمی، رنگ ضرورت سے کچھ کم صاف، پیٹ ضرورت سے کچھ زیادہ برکت بھرا۔ انگریزی تراش کا سوٹ، سر پر پھندنے والی ترکی ٹوپی۔ خوش پوش، خوش نوش، خوش مزاج، خوش مذاق، زندگی کا سفر ہنسی خوشی پورا کیا، کسی غم کو کبھی پاس نہ پھٹکنے دیا۔ انگریزوں کے پیارے ، دیسی دوستوں کے سہارے تھے۔ سر غلام حسین سے خاص محبّت اور سر عبد الله ہارون سے خاص رقابت تھی۔ ۱۹۳۷ کے انتخابات میں لیاری کے حلقے سے سر عبدالله ہارون کو شکست دے کر سندھ اسمبلی کے ممبر بنے۔ اسمبلی میں کم بولتے تھے ، مگر جو کچھ بولتے تھے وہ سننے والوں کے غم بھلا دیتا تھا۔ اُن دنوں ممبر ہر وقت پارٹیاں بدل بدل کر عہدے حاصل کیا کرتے تھے۔ گبول مرحوم اس الٹ پھیر کا جواز یوں پیش کرتے کہ "سندھی دریائے سندھ کا پانی پیتے ہیں، اس لیے جیسا اتار چڑھاؤ  دریائے سندھ میں ہے ویسا ہی سندھ کی سیاست میں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔" ان کا یہ جملہ کلاسک بن گیا اور سندھ کی سیاست کی تعبیر کے لیے برسوں کوٹ کیا جاتا رہا۔
	ایک وقت آیا جب سر غلام حسین کا انتقال ہو گیا اور کچھ دوسرے حالات کے سبب سے سندھ کی سیاست اُجاڑ ہو گئی۔ گبول مرحوم نے اس کے بعد دوسروں کی طرح ملک کے اندر دھکے کھانا مناسب نہ سمجھا۔ ہوا کا رخ سمجھ لیا۔ سیاست چھوڑ کر سیّاحت کرنے لگے۔ زیادہ وقت یوروپ میں رہے۔ 
	ایک بار میں نے انھیں جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں تالاب کے کنارے بیٹھے دیکھا۔ ان کے اردگرد یوروپین خواتین کا حلقہ تھا۔ خود بھی ہنس رہے تھے اور انھیں بھی ہنسا رہے تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اگلے زمانے کی طرح کراچی کلب میں بیٹھے ہیں اور ان کی باغ و بہار باتیں سننے کے لیے لوگوں کے ٹھٹ لگے ہیں۔
	وہ سندھ کے واحد سیاست داں تھے جو اپنی مرضی سے سیاسی کھیل کے میدان سے نکل گئے اور پھیکے گنّے چوسنے سے احتراز کیا۔
کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد
ہر چہ گیرید مختصر گیرید
	رئیس غلام محمد بھرگڑی مرحوم اور سرگباشی سیٹھ ہرچند رائے وشنداس کو میں نے ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا، مگر دل کی آنکھوں سے ان کا دیدار کیا ہے۔ اپنے دور میں سندھ کی سیاست کے آفتاب اور ماہتاب تھے۔ تھے دونوں پیدائشی وڈیرے ، بلکہ وڈ وڈیرے۔ (رئیس غلام محمد میرپور خاص ضلعے کے بڑے زمیندار اور امیر کبیر تھے اور سیٹھ ہرچند رائے مانجھو ضلع دادو والے سیٹھ وِشنداس کے فرزند)، مگر سندھ کے وڈیروں کو راستا دکھا گئے کہ وڈیرا ہوتے ہوے بھی آدمی کیوں کر عزت اور آزادی، شرافت اور انسانیت کی زندگی گزار سکتا ہے اور خلق کی خدمت کر کے سندھ کا حق ادا کر سکتا ہے۔ ان کا دور وہ تھا جب وڈیرے صاحب لوگوں کو سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتے تو صاحب کا چپراسی دروازے کے باہر ان کی جوتیاں اتروا کر انھیں ننگے پیر اندر لے جاتا تھا۔ لیوکس صاحب کمشنر انھیں خفیف کرنے کے لیے پوچھتا تھا کہ "بدمعاش ہو یا نہیں؟" (کچھ اور کھردرے لفظوں کی بھی آمیزش ہوتی تھی مگر انھیں لکھا نہیں جا سکتا)۔ وڈیرے جواب دیتے تھے : "قبلہ و کعبہ! باپ دادا کے وقت سے سرکار کے بدمعاش ہیں۔" اندیشہ ہوتا تھا کہ انکار کیا تو مبادا صاحب غصے میں آ کر سچ مچ بدمعاشی کی کارروائی نہ شروع کر دے۔ 
	رئیس غلام محمد اور سیٹھ ہرچند رائے پہلے سربرآوردہ سندھی تھے جنھوں نے گوری یا گندمی نوکر شاہی کے سامنے نعرہ لگایا کہ سندھ کی شہریت ایک شان دار شے ہے نہ کہ آبرو باختگی کی نشانی۔ انھوں نے ہر دم اور ہر قدم حکومت سے مقابلہ کیا۔ آزادی کی ہر تحریک میں پیش پیش رہے۔ جب بھی کاؤنسل یا اسمبلی میں منتخب ہوے تو سرکار کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ سیٹھ ہرچند رائے موت کے کنارے پر تھے ، چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے سے معذور، اس کے باوجود خود کو کھٹولے پر اٹھوا کر دہلی اسمبلی میں حاضر ہوے اور سرکار کے خلاف ووٹ دیا۔ رئیس غلام محمد پر نوکر شاہی کا پہلا حملہ ہوا تو وہ لندن جا کر بیرسٹری پاس کر آئے اور پہلے سے زیادہ زورآور ہو گئے۔ دوسرا حملہ ہوا تو وہ اور سیٹھ ہرچند رائے لندن پہنچے اور سیکرٹری ہند کی جان عذاب میں کر آئے۔ دونوں حملوں میں نوکر شاہی کو لینے کے دینے پڑ گئے اور سندھیوں کو بھی سبق مل گیا کہ عزت دار سندھی مقابلہ بھی کر سکتے ہیں، محض گائیں بھینسیں نہیں ہیں کہ کوئی بھی گیدڑ ان پر حملہ کر سکے۔ 
	سندھ کو اٹھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور بمبئی سے الگ کرنے کی تحریک کی شروعات بھی انھیں بزرگوں نے کی۔ تمام فرقوں کے نمائندوں کو جمع کر کے "سندھ پیکٹ" پر دستخط کرائے جس کے تحت متفقہ مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کی الگ شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور اسے بمبئی سے علیحدہ کیا جائے۔ ان کے ہوتے ہوے پورا سندھ اکٹھا تھا، ہندو مسلم نفاق کا بیج نہ پڑا تھا۔ وہ زہریلی ہوا جس نے سندھ کو کاٹ کر رکھ دیا، ابھی چلنی شروع نہ ہوئی تھی۔ اس ہوا کا پہلا جھونکا ۱۹۲۵ میں آیا، مگر اس وقت یہ بزرگ رخصت ہو چکے تھے اور سندھ بے یار و  مددگار رہ گیا تھا۔ ان کی نشانی ان کے تربیت یافتہ دوچار ورکر رہ گئے تھے ، مثلاً شیخ عبد المجید سندھی، جے رام داس دولت رام اور دو ایک اَور، جنھیں ہم نے بھی دیکھا۔
	ڈاکٹر بٹانی ڈی جے سندھ کالج کے پرنسپل تھے اور ڈاکٹر گربخشانی اسی کالج میں مشرقی علوم کے پروفیسر۔ ایک سیوھانی عامل، دوسرا حیدرآبادی عامل۔ عملی زندگی میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رہے۔ ڈاکٹر بٹانی صوفیوں کے طالب تھے اور خود انھیں بھی فقیری کا کوئی انگ مل گیا تھا، ان کا چہرہ شانتی اور قلبی اطمینان کا آئینہ تھا، آنکھوں میں ایسی چمک کہ میں نے شاید ہی کسی اَور کی آنکھوں میں دیکھی ہو۔ بہت کم بولتے تھے ، دھیمی آواز اور رازدارانہ لہجے میں۔ میں نے اُن کی زبان سے کسی شخص کی برائی کبھی نہ سنی۔ تعلیم کے معاملے میں سندھیوں کی پوری ایک پیڑھی کو فیض پہنچایا۔ ان کی کوئی تصنیف میری نظر سے نہیں گزری، شاید ساری توجہ روحانی معاملوں اور تعلیم کی جانب ہی رکھی۔ ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو وہ بمبئی چلے گئے ، لیکن بعد میں بھی کبھی کبھار اپنے مرشدوں کی زیارت کے لیے آ نکلتے تھے۔ ایک بات مجھے اچھی طرح یاد ہے : ان کی موجودگی میں ہر اہلِ دل سکون محسوس کرتا تھا۔ حلیہ یہ تھا کہ چھریرا بدن، لمبا قد، کلین شیو، بند گلے کا چھوٹا کوٹ اور پتلون، دونوں سادہ کھدّر کے ، سر ننگا، بالوں میں کنگھی کبھی نہ کی، مگر تیل اکثر لگا ہوتا۔
	مقابلتاً ڈاکٹر گربخشانی ظاہری علم میں بہت آگے ، دنیاوی معاملات میں زیادہ تیز، گفتار میں جان دار، لباس میں شان دار، چہرے پر اکثر مسکراہٹ، گفتگو سننے کے لائق، کلین شیو، اگر رنگ کا مسئلہ نہ ہوتا تو انگریز لگتے۔ پی ایچ ڈی تھے۔ فارسی اور انگریزی شاعروں کے ہزاروں بول یاد تھے۔ ہر شخص سے اس کے مذاق کے مطابق گفتگو کرتے۔ کسی پڑھے لکھے آدمی سے بات چیت ہوتی تو حافظ، سعدی، قاآنی، خاقانی، خیّام، ملٹن، ورڈزورتھ، ٹینی سن کو لا موجود کرتے اور مزے لے لے کر ان کا کلام سنایا اور معنی بیان کیا کرتے۔ ان کے بزرگ جھوک شریف کے طالب رہ چکے تھے۔ خود عملی طور پر صوفی تھے یا نہیں، اس کی تو مجھے خبر نہیں، البتّہ تصوف کی تاریخ اور اصولوں کی ایسی واقفیت رکھتے تھے کہ اس معاملے میں ان جیسا کوئی مجھے تو نظر نہ آیا۔
	پرنسپل بٹانی سے ان کی نہیں بنتی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ڈی جے کالج کا پرنسپل بننا ان کا حق تھا اور انھیں کو ملنا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے عامل سیوھن کے عاملوں کو اپنے آگے کچھ نہ سمجھتے تھے اور ان میں آپس میں رقابت رہتی تھی۔ عالم لوگوں پر بشریت غالب رہتی ہے ، اپنا ثانی کسی کو نہیں سمجھتے ، اپنے علم پر ناز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر گربخشانی عالم تھے مگر مہذّب۔ لیکن اپنے رقیب بٹانی کے بارے میں کبھی کبھی اُبل پڑتے تھے۔ 
	سندھی زبان اور ادب پر ان کا اتنا بڑا احسان ہے کہ سندھ کے لوگ اس کا بار کبھی اتار نہیں سکتے۔ انھوں نے شاہ عبد اللطیف کے رسالے کو چار جلدوں میں مرتّب کیا جن میں سے تین جلدیں ان کی زندگی میں شائع ہوئیں۔ چوتھی جلد نہ چھپ سکی اور غائب ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کی اشاعت سے پہلے کا زمانہ مجھے یاد ہے۔ یوں تو بھٹائی کی شہرت عام تھی، مگر پڑھے لکھے لوگوں میں ان کے کلام کی مقبولیت ایسی نہ تھی جیسی ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ہوئی۔ شاہ کا کلام گایا تو ضرور جاتا تھا مگر اس کی گہرائی اور شرح سے واقفیت بہت کم لوگوں کو تھی۔ اکثر مجلسوں میں حافظ، جامی اور سعدی کے کلام کا تذکرہ رہتا تھا۔ فارسی کو تب تک علمی زبان سمجھا جاتا تھا، اور خط و کتابت میں بھی فارسی ہی استعمال ہوتی تھی۔ ناقدری کا حال یہ تھا کہ ڈاکٹر گربخشانی کا مرتب کردہ رسالہ شائع ہوا تو اسے خریدنے والا کوئی نہ ملا۔ ڈاکٹر صاحب نے کتاب کی تیاری اور چھپائی پر اپنی گرہ سے خاصا خرچ کیا تھا، نفع تو دور کی بات، یہ خرچ بھی گلے میں پڑ گیا۔ مجبور ہو کر انھوں نے اپنی کتابوں کے نسخے اُن ذاتی دوستوں اور شاگردوں کو بھیجے جو اب سرکاری عہدوں پر تھے ، کہ وہ زبردستی انھیں سندھ کے زمینداروں کے سر مڑھیں اور ان سے قیمت وصول کریں۔ قیمت بھی کچھ ایسی زیادہ نہ تھی، مگر خوشی سے لینے والا کوئی نہ ملا۔ مختیار کاروں اور ڈپٹی کلکٹروں کا زور پڑا تو بہت سے وڈیروں نے کتاب خریدی مگر گھر پہنچتے ہی اسے ایک طرف ڈال دیا۔ کئی زمینداروں کی اوطاقوں میں میں نے اس کتاب لاجواب پر پرندوں کو بیٹ کرتے دیکھا۔ (شاید انھیں مالی مشکلات کے باعث ڈاکٹر صاحب رسالے کی چوتھی جلد شائع نہ کر سکے۔ )
	مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا، اس کتاب کی برکت سے شاہ صاحب کے کلام اور شخصیت سے سندھیوں کی دل چسپی بڑھتی گئی۔ ۱۹۳۰ کے بعد تو یوں محسوس ہونے لگا گویا سندھیوں کو کوئی چھپا ہوا خزانہ دوبارہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ 
	اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے سندھی زبان پر (بطور زبان  بھی) بہت احسان کیا۔ انھوں نے سندھی تحریر کو ایک نئی طرز عطا کی۔ جو سندھی پہلے لکھی جاتی تھی وہ زیادہ تر بے نمک اور روکھی پھیکی ہوتی تھی، اس میں کوئی رنگ تھا نہ رس، نہ تندی نہ تیزی، نہ تازگی نہ شگفتگی، نہ شوکتِ الفاظ نہ رنگینیِ عبارت۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ کوئی مردہ، زمانۂ قدیم کی زبان ہے جسے لوگ زبردستی زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ سندھ کے پڑھے لکھے لوگ سندھی کو نوکروں باورچیوں کی زبان سمجھ کر گھروں میں بند رکھتے اور باہر کا سب کاروبار اور نوشت و خواند فارسی میں چلاتے تھے۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے رسالے کا مقدمہ اور اندر کچھ عشقیہ قصّے اپنی نئی طرز میں لکھ کر ایک انقلاب برپا کیا اور ثابت کر دیا کہ سندھی ایک مکمل، زندہ، بے حد وسیع اور زوردار زبان ہے جو ہر ضرورت کو پورا کر سکتی ہے۔ 
	آخر آخر کی سیاسی صورتِ حال اور علمی ماحول نے انھیں بد دل اور ناامید کر دیا تھا۔ انھوں نے دوستوں سے ملنا جلنا بہت کم کر دیا اور لکھنے پڑھنے سے بھی کنارہ کر کے ایک طرف بیٹھ گئے تھے۔ اسی ذہنی کوفت میں دل کی حرکت بند ہونے سے ۱۱  فروری ۱۹۴۷ کو انتقال کر گئے۔ 
	دین محمد علیگ مرحوم شکار پور کے قریب لکھی کے مردم خیز گاؤں میں پیدا ہوے ، مگر زندگی کا بیشتر حصّہ کراچی میں رہ کر سندھ کی خدمت میں صرف کیا۔ وہ "الوحید" اخبار اور پریس کے مینیجر تھے۔ بھوک میں، دکھ تکلیف میں پورے تینتیس برس یہ چرخہ چلایا کیے۔ ہمیشہ پس پردہ رہے ، نہ دکھاوے کے قائل نہ مال و زر کی طرف مائل۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد "الوحید" کو زندہ رکھنا تھا اور اسی مقصد کی پاس داری میں انھوں نے اپنی عمر کا خزانہ لٹا دیا۔
	"الوحید" کی مینیجری بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔ نہ کسی سرمایہ دار کی سرپرستی، نہ سرکاری یا کاروباری اشتہاروں کی آمدنی، نہ پریس کی چھپائی کی کمائی۔ پرچے کی قیمت ایک آنہ تھی، اور اس آنے کے آدھار پر کراچی جیسے مہنگے شہر میں مسلمانوں کا روزانہ اخبار چلانا، اور وہ بھی پورے تینتیس برس تک، اور اس حالت میں چلانا کہ خواہ سرکار ہزاروں کی ضمانتیں طلب کرے یا ایڈیٹروں کو ایک کے بعد ایک جیل میں ڈالے ، نہ اخبار بند ہو گا نہ اخبار کی پالیسی بدلے گی __ یہ میاں دین  محمد علیگ ہی کا کمال تھا۔
	بظاہر میاں جی کا چہرہ دیکھ کر یوں لگتا جیسے پوری دنیا سے ناراض بیٹھے ہیں یا دو تین دن سے کھانا نہیں ملا، مگر اس صورت کے پیچھے ایک دل آویز سیرت تھی جو ہر ملنے والے کو چند منٹوں میں مسحور کر لیتی تھی۔ میں نے انھیں مسکراتے صرف ایک بار دیکھا۔ کمپازیٹروں کو تنخواہ نہیں دی جا سکی تھی، کمپازیٹر اور پریس مین صبح صبح کام چھوڑ کر پریس کے دروازے پر بھیڑ لگائے کھڑے تھے۔ اس گھڑی میاں دین محمد پریس میں نمودار ہوے ، اِدھر اُدھر نظر گھمائی، مسکراتے چہرے کے ساتھ کارکنوں سے پوچھا: "ارے ، تم لوگ کھڑے کیوں ہو؟" ان میں سے ایک بپھر کر بولا: "صبح کے چائے پانی کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔" دین محمد ہنس کر بولے : "بدمعاشی چھوڑو اور جا کر کام کرو۔" کارکنوں نے ایک دوسرے کا منھ دیکھا اور اپنے اپنے کام پر لوٹ گئے۔ 
	کارکنوں کو ان پر بھروسا تھا۔ انھیں یقین تھا کہ جہاں تک بس چلے گا، دین محمد انھیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔ اس وقت لاچار ہو گئے ہوں گے۔ دس بجے ڈاکیے نے آ کر انھیں منی آرڈر کی رقم دی جو انھوں نے فوراً کارکنوں کو بلوا کر ان میں تقسیم کرا دی۔ اپنے پاس فقط دو آنے رکھے جس سے دو پیالی چائے منگوائی۔ ایک میرے سامنے رکھی اور دوسری خود پی۔ اُس زمانے میں چائے والے کیتلیاں اٹھائے سڑک پر گھوما کرتے تھے اور ایک آنے میں ایک پیالی چائے پلاتے تھے۔ غرض دین محمد کی پوری جوانی اسی قلندری کی کیفیت میں گزری۔
	نسیم تلوی مرحوم لیاری  محلّے کے بلوچ اور پیدائشی پہلوان تھے۔ سدا جوان، سدا بہار، آخر تک چہرے سے عمر کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ سیاست کے ڈنک کا شکار تھے۔ صحافت کا پیشہ اختیار کیا، مگر اسے پیشے کے طور پر استعمال نہ کیا۔ اخبار کا نام تھا "بلوچستانِ جدید"۔ آزادی کے عاشق تھے اور عزتِ نفس کے بغیر جینے کو جنجال سمجھتے تھے۔ غریب تھے مگر غیرت مند۔ سندھ اور بلوچستان کی آزادی اور سربلندی کے راستے میں جو کوئی حائل ہوتا، اسے میدان سے بھگانے کی کوشش کرتے۔ 
	اپنے سیاست اور صحافت دونوں کو انھوں نے بلوچیت کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا۔ بلوچستان اور سندھ کا ہر دشمن ان کا ذاتی دشمن تھا، اور دشمن کا دروازہ تکنا، اس سے ہنس کر ملنا، بات کرنا، اس کا نمک کھانا حرام۔ اس کا احسان اٹھانا، مثلاً رہائشی پلاٹ لینا، رعایتی سفر کی سہولتیں حاصل کرنا، کاغذ کے پرمٹ پانا، اس کے خرچ پر بیرونی ملکوں کی سیر کرنا بالکل گویا لحمِ خنزیر۔ یہاں تک کہ اخبار کے لیے حکومت کے اشتہارات بھی قبول نہ کرتے۔ گرہ میں پیسے ہوتے تو پرچہ نکلتا ورنہ ناغہ، مگر ناغے کے بعد جب پرچہ آتا تو جیسے موالیوں کے سامنے دو آتشہ آ گئی ہو۔ آگے پیچھے کی سب کسر نکل جاتی۔ اگلے شمارے تک موذیوں کے گھروں میں کہرام مچا رہتا۔
	نسیم تلوی مرحوم قلم رانی کے علاوہ دوسرے بھی فن جانتے تھے ، مثلاً خردم چلانا اور ٹکر مارنا۔ ہاتھ میں قلم، کمر میں خردم۔ آدمی پر کیا پتا کب وار ہو جائے ، اس لیے پیشگی دفاعی بندوبست رکھتے تھے۔ ٹکر مارنے کا مطلب تھا سر سے سر ٹکرا کر مخالف کی پیشانی کی ہڈّی توڑ دینا، ورنہ کم سے کم ماتھے کی کھال کو پھاڑ کر لہولہان کر دینا۔ جاپان کے جوڈو کراٹے کا یہ سندھی بلوچی نعم البدل تھا۔ دفعہ ۱۴۴ لگی ہوئی ہو اور لاٹھی وغیرہ لے کر چلنے کی ممانعت ہو تب بھی آدمی اپنا بچاؤ کر سکے۔ کتنے ہی ایڈیٹروں، اہلکاروں اور حریف کارکنوں پر اشتعال کے موقعوں پر تجربہ بھی کر چکے تھے۔ 
	تقسیم سے پہلے ان کی تمنا تھی کہ موقعہ ملے تو "سندھ آبزرور" کے متعصّب مہاسبھائی ایڈیٹر آں جہانی کوٹمراج پُنیا کا سر پھاڑ دیں۔ پنیا کو سر عبد الله ہارون "منھ کا کالا دل کا کالا کوبرا" کہہ چکے تھے۔ رنگ روپ آں جہانی کا واقعی ایسا ہی تھا، قلم بھی کالے ناگ کی طرح زہر اگلا کرتا۔ پنیا کو نسیم کی نیت کی خبر ہو چکی تھی۔ اس کے سائے سے بھی بچا کرتا۔ کراچی میونسپلٹی کے میئر کی پارٹی تھی۔ میں گیٹ سے اندر داخل ہو رہا تھا کہ پنیا تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے باہر نکل رہا تھا۔ پارٹی شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں سے رخصت ہونے کا سبب بتاتے ہوے بولا: "نسیم نامراد پارٹی میں آیا ہوا ہے۔ آنکھیں لال ہیں اور میری طرف دیکھ دیکھ کر دانت پیس رہا ہے۔ ممکن ہے میرے ساتھ کوئی حرکت کر بیٹھے اس لیے جا رہا ہوں۔ تمھارا سندھی بھائی ہے ، تم اسے سمجھاؤ کہ صحافی کو تشدد پسند نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکے تو ہمارے درمیان صلح کرا دو۔" مگر میں اس معاملے میں کوئی سرجوشی دکھاتا، اس سے پہلے ہی پنیا خود چوری چھپے بمبئی بھاگ گیا۔ تقسیم ہو جانے کے بعد اس کے قلم کا کھیل ختم ہو گیا تھا۔
	تقسیم کے بعد نسیم کے ذہن پر پنیا کے بجائے ایک نووارد دوسرے ایڈیٹر کی صورت مسلط ہو گئی۔ یہ صاحب مسلمان تھے ، اور سوائے رنگ روپ کے ان کی کوئی مشابہت یا مناسبت پنیا سے نہ تھی۔ مگر نسیم کا خیال تھا کہ وہ سندھ اور سندھیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بلوچستان میں آئینی اصلاحات کے خلاف ہیں کیوں کہ نئی حکومت میں ان کی بہت چلتی ہے۔ ایک دن باتوں باتوں میں نسیم نے کہا کہ اس ایڈیٹر سے اثر، قلم یا زبان میں تو مقابلہ مشکل ہے ، ارادہ ہے کہ کسی محفل میں اس سے توتو میں میں کر کے اس پر اپنا مخصوص ٹکر والا نسخہ استعمال کیا جائے۔ 
	میں نے نسیم کو بہت ڈرایا۔ سمجھایا کہ اس ایڈیٹر کے سر پر حکومت کا ہاتھ ہے ، اگر اس کے ساتھ کوئی گڑبڑ کی تو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ مگر نسیم بے خوف تھے۔ بولے کہ ہتھیار کوئی بھی استعمال نہیں ہو گا، کورٹ انسان کے سر کو ہتھیار یا اوزار ہرگز قرار نہیں دے سکتی، اس لیے جیل جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
	خوش قسمتی یہ ہوئی کہ دوسرے فریق، یعنی اُن ایڈیٹر صاحب، سے بھی میرے اچھے تعلّقات تھے۔ میں نے انھیں پیشگی خبردار کر دیا کہ نسیم کس قسم کا آدمی ہے اور انھیں اس کی جانب سے ضرر پہنچنے کے کیا کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ نسیم کی خوب خوشامد کرنے لگے۔ جہاں کہیں نسیم پر نظر پڑتی، خود دوڑ کر آتے ، گلے ملتے اور "ہیلو مائی ڈیئر مسٹر محمد نسیم خاں صاحب" کے القاب استعمال کر کے بلاوجہ کھیسیں نکالا کرتے۔ 
	بدقسمتی سے چند سال بعد ایک ایسا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا جس پر میرے اور ان ایڈیٹر صاحب کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ میرے نقطۂ نظر کے خلاف تقریر کرنے کے لیے مخالف فریق نے ان ایڈیٹر صاحب کو تیار کیا اور دھوم دھام سے میٹنگ میں بھیجا۔ میٹنگ کی صدارت مجھی کو کرنی تھی۔ میں نے انتظام ایسا کیا کہ پہلی قطار میں جس صوفے پر ان ایڈیٹر صاحب کو بیٹھنا تھا اسی صوفے پر نسیم کے لیے بھی نشست رکھی گئی۔ ایڈیٹر صاحب نسیم کو اپنے برابر میں بیٹھا دیکھ کر حوصلہ ہار بیٹھے۔ انھیں یقین ہو گیا کہ منھ سے ایک لفظ بھی نکلا تو نسیم اسے ٹکر رسید کریں گے۔ جب انھیں تقریر کی دعوت دی گئی تو وہ دو تین بار "صدر صاحب، حضورِ والا"  کہہ کر دوبارہ کرسی پر ڈھیر ہو گئے۔ یہ دو لفظ بولتے ہوے بھی ان کی نگاہیں نسیم پر جمی رہیں۔ آخر ہیبت کے مارے بے حال ہو گئے اور تقریر نہ کر سکے۔ جن بزرگوں نے انھیں اتنے اہتمام سے میدان میں اتارا تھا ان کا مقصد خاک میں مل گیا۔
	اب نسیم صاحب اور وہ ایڈیٹر صاحب اس جہاں سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان کے حق میں فقط دعائے مغفرت ہی کی جا سکتی ہے۔ دونوں تاریخ ساز تھے ، دونوں لاجواب تھے۔ 
	کراچی میں انگریز عملداروں کے علاوہ بیوپاری انگریز بھی رہتے تھے جن کی بڑی بڑی کوٹھیاں تھیں۔ مگر انگریز آپس میں ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوتے تھے کہ فرق کرنا مشکل تھا کہ کون سرکاری عملدار ہے اور کون عام آدمی۔ جن نامور غیر عملدار انگریزوں کو میں نے کراچی میں دیکھا ان میں سے ایک سر مونٹیگو ویب تھے۔ دیکھنے میں نہایت شان دار شخصیت تھے۔ فاربس فاربس کیمبل یا میکینن میکنزی کمپنی کے مقامی مینیجر تھے۔ سیاست میں حصّہ لیتے تھے۔ انگریزی روزنامہ "ڈیلی گزٹ" کے پہلے چیئرمین اور بعد میں خود ہی ایڈیٹر بھی بنے۔ انگریز قوم اور حکومت کا موقف بیان کیا کرتے تھے۔ بمبئی کاؤنسل کے بھی سرکاری نامزد ممبر تھے۔ 
	ایک اَور انگریز اے ایل پرائس تھے ، انھیں بھی حکومتِ وقت کی پشت پناہی حاصل رہتی تھی۔ سندھ کی علیحدگی کے بارے میں جو سرکاری تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی رہیں، ان میں بھی شامل کیے جاتے تھے۔ انھیں اقتصادیات کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ البتّہ خبطی قسم کے آدمی تھے۔ ایک بے حد پرانی فورڈ موٹر تھی جس کے دروازے نکلو ا دیے تھے کیوں کہ ان کے خیال میں دروازہ کھولنے میں بھی خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا تھا۔
	ڈبلیو رچرڈسن برسوں کراچی کے سٹی میجسٹریٹ رہے۔ علی برادران والے تاریخی مقدمے کی سماعت سے سرکار کے حکم کے باوجود اس لیے انکار کر دیا کہ ان کے خیال میں یہ سیاسی مقدمہ تھا جسے بنانے میں سرکاری اہلکاروں نے ضرور ہاتھ کی صفائی دکھائی ہو گی جس سے چشم پوشی کرنے کو وہ تیار نہ تھے۔ بعد میں یہ مقدمہ ایک دیسی ایڈیشنل سٹی میجسٹریٹ ایس ایم تلاتھی کو چلانے کے لیے دینا پڑا۔
	سندھ کے ہندو عاملوں میں ایک خراب رسم پڑ گئی تھی جسے "دیتی لیتی" [لین دین] کہا جاتا تھا۔ ان رسم کے تحت لڑکی والوں کو شادی کے وقت بڑی رقم اور قیمتی جہیز دینا پڑتا تھا۔ اس لین دین کی شرح مقرر تھی، یعنی لڑکا جس قدر زیادہ تعلیم یافتہ اور خوش حال ہو، اتنی ہی زیادہ رقم دینی پڑتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کتنے ہی والدین اپنی شادی کے قابل لڑکیوں کو رخصت نہ کر پاتے کیوں کہ ان کے پاس اتنی دولت نہ ہوتی تھی کہ وہ لین دین کی رسم پوری کر سکیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بڑی تعداد میں شادی کے قابل لڑکیاں کنوار پنے ہی میں زندگی گزارنے لگیں۔ ہندوؤں نے کوشش کر کے اس رسم کو بند کرانے کے لیے قانون بھی پاس کرائے مگر کچھ فرق نہ پڑا۔
	دادا لیکھراج خود حیدرآباد کے ہندو عامل تھے۔ انھیں کنیاؤں کی اس حالتِ زار پر ترس آیا۔ انھوں نے "اوم منڈلی" کے نام سے ایک ادارہ کھولا جس میں لین دین کی رسم کی ستائی ہوئی اور شادی سے ناامید لڑکیوں کو پناہ دے کر انھیں باقی عمر گیان دھیان اور گھریلو ہنروں میں مشغول رکھنے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ کم از کم ظاہری طور پر تو منڈلی کے اصول یہی بیان کیے جاتے تھے۔ 
	منلی کچھ ہی دنوں میں عورتوں میں بہت مقبول ہو گئی۔ عاملوں کی غیر شادی شدہ عورتیں اپنے گھروں سے بھاگ بھاگ کر وہاں آ رہنے لگیں۔ عاملوں کے معاشرے میں بڑی ہاہاکار مچی۔ ماحول کچھ ایسا بن گیا کہ کسی بھی لڑکی پر ماں باپ کو اعتبار نہ رہا۔ جو اب تک نہیں بھاگ سکی تھیں، ان کے بارے میں بھی یہی سمجھا جاتا کہ وہ آج نہیں تو کل ضرور بھاگ کر اوم منڈلی میں پناہ لیں گی اور گھر والوں کی بدنامی کا سبب بنیں گی۔
	حیدرآباد کے عامل بڑی چیز ہوتے تھے ، علم کے لحاظ سے ، اقبال کے لحاظ سے ، سیاسی اثر اور بیداری کے لحاظ سے۔ انھوں نے اس خجالت سے جان چھڑانے کے لیے لیکھراج اور ان کی منڈلی کے خلاف بڑا طوفان برپا کیا۔
	جیسا کہ دستور تھا، پہلے ہندو اخبار (جو بیشتر عاملوں کے قبضے میں تھے ) میدان میں آئے۔ انھوں نے طرح طرح کے الزام لیکھراج پر لگائے : کہ وہ راجا اِندر بن بیٹھا ہے ، اندر سبھا بنا رکھی ہے ، مُرلی کے بل پر گوپیوں کو جمع کرتا ہے ، بنگلے کے اندر تالاب بنا رکھا ہے جس میں گوپیوں کو لباس کے بوجھ سے آزاد کر کے اپنے ساتھ تیراتا ہے ، سنیاسیوں سے طاقت کے کشتے لیتا ہے ، و علیٰ ہذالقیاس۔
	دوسرے ، انھوں نے انگریز سرکار پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ اس ادارے کے خلاف قانون بنا کر اسے بند کر دے ، مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ انگریز کے اپنے اصول ہوتے تھے۔ سنی سنائی باتوں یا اخباری پروپیگنڈے کی بنیاد پر وہ کسی شہری کی چاردیواری کا احترام مجروح کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔ جب تک کمشنری راج تھا اور سندھ بمبئی سے الگ نہ ہوا تھا، سرکاری طور پر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔ دادا لیکھراج پھن کاڑھے بیٹھے رہے۔ 
	تنگ آ کر عاملوں نے "ڈائرکٹ ایکشن" کرنے کا فیصلہ کیا۔
	کسرت شالاؤں کا رواج پڑ چکا تھا۔ نوجوان ہندو صبح سویرے وہاں جا کر تیل کی مالش کراتے اور اپنے بدن کو بلوان بنانے کی کوشش کرتے۔ وہ لاٹھیوں اور بلّموں کے استعمال کی تربیت بھی حاصل کرتے۔ طے ہوا کہ وہ برادری کی خاطر اوم منڈلی پر حملہ کریں اور اس چنڈال چوکڑی کو زبردستی بند کرائیں۔
	یہ خبر منڈلی والوں تک بھی جا پہنچی کہ حملے کی تیاری ہو رہی ہے۔ انھوں نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی پہلے ہی سے سوچ لی جو کچھ یوں تھی: دادا صاحب، فوجی جرنیل کی طرح، اپنا کیمپ میدانِ جنگ سے دور کسی بند کمرے میں بنا کر وہاں سے رہنمائی کریں گے۔ میدانِ جنگ میں منڈلی میں رہنے والی عورتیں خود جا کر حملہ آوروں کا مقابلہ کریں گی۔ ہتھیار منڈلی میں پہلے ہی سے موجود تھے ، یعنی جھاڑوئیں، کوڑے سے بھرے چھاج، بوتلوں میں بند بدبو دار پانی، کاغذی پُڑوں میں بھرا ہوا کچرا، مختلف رنگوں سے بھری پچکاریاں، رسوئی کے چمچے اور دوسرے برتن، پرانی جوتیوں کے تلے وغیرہ۔
	شکر ہوا کہ انسان کا خون ابھی مہنگا تھا، چھرے اور چاقو مقبول نہ ہوے تھے۔ قانون سخت تھا، عدالتوں کی عصمت قائم تھی۔ مجبوراً عدم تشدد کے اصول کو ملحوظ رکھنا ضروری تھا۔
	حملے کا دن آیا۔ حملہ ہوا۔ سو پچاس والنٹیئر، جن کے ساتھ چار پانچ اخباری نمائندے بھی تھے ، اوم منڈلی کے گیٹ پر پہنچ کر گیٹ کو دھکیلنے اور چیخ پکار کرنے لگے۔ اندر عورتیں بھی اپنے ہتھیاروں سے لیس گیٹ کی طرف رخ کیے بیٹھی تھیں۔ معاملہ شروع ہوا۔ والنٹیئروں نے مکّے دکھائے ، عورتوں نے جھاڑوئیں لہرائیں، اُنھوں نے لیکھراج کے حق میں زبانی غلاظت اچھالی، اِنھوں نے حقیقی غلاظت ان پر پھینکی، اُنھوں نے دھمکیاں دیں، اِنہوں نے بجّے دکھلائے ، اُنھوں نے مہاسبھائی لیڈر "ویر ساورکر کی جے " کے نعرے مارے ، اِنھوں نے "دادا لیکھراج کی جے " کے آوازے بلند کیے۔ گھڑی سوا گھڑی یہ ہنگامہ چلا۔ اصل خرابی کچرے سے بھرے کاغذی پُڑوں نے پیدا کی۔ پُڑا آ کر لگا، چہرے یا چھاتی سے شُدھ کھادی کے کپڑوں پر غلاظت گری اور جوان بھاگا۔ گیٹ آخر تک نہ کھلا۔ ابھی بوتلوں میں بھرے ہوے مال کی باری بھی نہ آئی تھی کہ والنٹیئر پسپا ہونے لگے۔ حملہ کامیاب نہ ہوا۔ اصل بات یہ تھی کہ اُس زمانے کے غنڈے ابھی اتنے ترقی یافتہ نہ ہوے تھے ، عدم تشدد پر وشواس تھا، زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرتے تھے۔ 
	دوسری بار "راست اقدام" اس افواہ کے باعث نہ کیا جا سکا کہ منڈلی کی عورتوں نے پہلے سے بھی زیادہ بھاری بندوبست کر لیا ہے ، مثلاً کپڑے کی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں رؤڑ اور کپاس بھر رکھی ہے جسے مقابلے کے وقت گھاسلیٹ میں بھگو کر، تیلی دکھا کر حملہ آوروں پر پھینکا جائے گا۔ جس والنٹیئر پر یہ جلتی ہوئی گٹھری گرے گی اس کو آگ پکڑ لے گی۔ بڑے جوکھم کا کام تھا۔
	آخر پنچوں نے فیصلہ کیا رات کے وقت منڈلی پر پتھروں اور اینٹوں کی برسات کی جائے تاکہ اندر رہنے والوں اور رہنے والیوں کا کچومر نکل جائے۔ منڈلی والوں نے ہندو پوربیے چوکیدار رکھے۔ مگر اتفاقاً کسی نوجوان پوربیے چوکیدار سے کوئی نیچ حرکت ہو گئی، جس کے باعث آئندہ کے لیے دادا لیکھراج کو مرد ذات پر اعتبار نہ رہا۔
	تنگ آ کر انھوں نے منڈلی کو حیدرآباد سے کراچی منتقل کر دیا۔ کلفٹن کی طرف ایک بنگلہ حاصل کر کے اس کے چاروں طرف اونچی دیواریں بنوائیں۔ حیدرآباد کی بلا کراچی کے سر آئی۔ کراچی کے ہندوؤں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔ اخباروں نے خاندانوں کو خبردار کیا کہ گھر والوں پر کڑی نظر رکھیں اور مکانوں پر بھاری قفل لگائیں، پاپی لیکھراج آ پہنچا ہے۔ 
	جب تک انگریز اپنی اصل حالت میں رہا، لیکھراج کا بال بیکا نہ ہوا۔ مگر ۱۹۳۷ میں سندھ بمبئی سے الگ ہو گیا۔ ۱۹۳۸ میں الله بخش مرحوم کی وزارت بنی جس کا دارومدار ہندو ووٹوں پر تھا۔ ہندوؤں نے ان پر زور دیا کہ اوم منڈلی کو خلافِ قانون قرار دے کر حکماً بند کیا جائے۔ گورنر تب بھی انگریز تھا، اس نے ایسی قانونی دادا گیری کی اجازت نہ دی۔ وزارت سے کہا کہ پہلے ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرا کر اس کی رائے لے ، پھر مناسب قدم اٹھائے۔ 
	ہائی کورٹ کا جج بطور ٹربیونل مقرر ہوا۔ اس نے کیا رپورٹ دی، اس کی تو کسی کو کچھ خبر نہ ہوئی، البتّہ منڈلی کو بند کرنے کا حکم جاری ہو گیا۔
	ہندوؤں کے سر سے بلا ٹلی۔ لیکھراج کا اس کے بعد کیا لیکھا رہا، اس کی خبر خالق کو۔
	مائی جیٹھی سپاہیملانی حیدرآباد کے ایک معزز عامل گھرانے میں پیدا ہوئیں مگر ان کی سیاسی زندگی کراچی میں گزری۔ سندھ کے الگ ہوتے ہی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں اور کچھ عرصے بعد ڈپٹی اسپیکر بنیں۔ پڑھی لکھی، ہوشیار اور مہذب، چتر اور چالاک، گویا کھدّر کی سفید ساڑھی میں سرتاپا کانگریسی سیاست کا مرمریں مجسمہ تھیں۔ ذاتی اور صفاتی کیرکٹر کے لحاظ سے بالکل بے داغ رہیں۔ نسوانی فطرت کی کشش کو مسکراہٹوں اور میٹھی باتوں تک محدود رکھا۔ سیاست میں کانگریس کی قائل تھیں، مسلم لیگ کے لیے عذاب تھیں۔ اسمبلی میں کانگریس کے نمائندوں کو نکیل ڈال کر کھینچے پھرتیں۔ بڑی "نیشنلسٹ" تھیں۔ سندھ کے کلچر اور پرانے قصوں پر بڑا فخر کرتیں، اور ان کی روشنی میں، موقع ملنے پر، زبانی حجت اور تکرار کرنے سے ذرا نہ گھبراتیں۔
	ایک بار میری شامت آ گئی۔ اکتوبر ۱۹۳۸ کے دن تھے۔ ہم سندھ کے کچھ سیاسی ذہن رکھنے والے نوجوان کانگریسیوں سے ناامید اور اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ خان بہادر الله بخش سے ناراض ہو کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے تھے۔ کراچی کے عیدگاہ میدان میں مسلم لیگ کی کانفرنس بلائی گئی جس کی صدارت کے لیے قائد اعظم  تشریف لائے۔ میں اس کانفرنس کی استقبالیہ کمیٹی کا جنرل سیکرٹری تھا۔ میں نے قائد اعظم کو ایک ایسے جلوس میں لانے کا بندوبست کیا تھا کہ ویسا جلوس کراچی نے نہ اس سے پہلے دیکھا کہ نہ اس کے بعد۔
	جلوس ختم ہونے کے بعد میں واپس آ کر اپنے دفتر میں بیٹھا ہی تھا کہ مائی جیٹھی گرتی پڑتی اندر داخل ہوئیں۔ نہایت غصے میں تھیں، آنکھیں لال، منھ اترا ہوا۔ لگتا تھا کہ کچھ آنسو بھی بہا چکی ہیں۔ انھیں دیکھ کر میں سمجھا کہ ہمارے کسی والنٹیئر نے ان سے کچھ بدسلوکی کی ہے جس کی شکایت لے کر میرے پاس آئی ہیں۔ اُن دنوں ہمارے والنٹیئروں کے انبوہ بندر روڈ پر گھوما کرتے تھے کیوں کہ افواہ تھی کہ مہاسبھائی ہندوؤں نے مسلم لیگ کے پنڈال میں آگ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ 
	میں نے مائی کا استقبال کیا، شربت پانی کو پوچھا، کرسی کھینچ کر پاس بٹھایا۔ وہ کرسی پر بیٹھ تو گئیں لیکن دیر تک زبان سے کچھ نہ کہا۔ غالباً بولنے سے پہلے اپنی غصہ دھیما کرنا چاہتی تھیں۔ آخر بولیں:
	"مسٹر راشدی، تم ڈینگیں مارتے پھرتے ہو کہ تم سندھی بھی ہو اور سندھ کی تاریخ سے بھی واقف ہو۔"
	میں نے کہا، "حکم کیجیے۔ "
	بولیں: "حکم بھاڑ میں گیا۔ میں تمھیں کچھ بتانے آئی ہوں۔"
	اتنے میں پنڈال کے پاس لگے میرے دفتر کے تنبو کے باہر نعرے لگنے لگے : "جیٹی زندہ باد!"، "مسلم لیگ زندہ باد!"، "قائد اعظم زندہ باد!"، "جیٹی زندہ باد!" یہ نعرے سرحد سے آئے ہوے پٹھان والنٹیئر لگا رہے تھے۔ یہ بیچارے سندھ کے حالات اور لوگوں سے ناواقف تھے۔ جو بھی شخص میرے تنبو میں آتا اسے باہر بیٹھے بیٹھے "زندہ باد" کی تھپکی دیا کرتے۔ کسی مقامی شریر نے انھیں بتا دیا تھا کہ جیٹھی اسمبلی ممبر بھی مسلم لیگ میں شامل ہونے کے لیے آ پہنچی ہے۔ انھیں نام سے ہندو مسلمان کا تو کچھ اندازہ نہ ہوا، ان کا کام تھا نعرے لگانا، سو "زندہ باد" کے نعرے لگانے لگے۔ 
	مائی جیٹھی خفا ہو کر بولیں کہ ان "بلھوشوں" کو چپ کراؤ تاکہ میں تم سے دو لفظ کہہ کر رخصت ہوں۔ میں نے باہر جا کر والنٹیئروں کو نعرے لگانے سے روکا اور واپس آ گیا۔
	مائی جیٹھی کی تقریر شروع ہوئی۔ گھنٹا بھر بولتی رہیں۔ بیچ میں ایک لفظ کہنے کا موقع نہ دیا۔ چھُٹی امرانی، دودو چنیسر، فیروز سمّا، عیسی ترخان، عندالنبی کلھوڑو، الیگزنڈر برنس اور دوسروں کے بے شمار قصّے سنا ڈالے۔ ان میں سے کچھ مجھے بروقت سمجھ میں آئے ، کچھ بعد میں تفصیلی تاریخ پڑھنے پر معلوم ہوے۔ انھوں نے مجھ سے جواب لینے کی زحمت نہ کی اور اپنی بات پوری کر کے اٹھ کھڑی ہوئیں، ہینڈ بیگ اٹھایا اور تیز تیز قدم رکھتی باہر نکل گئیں۔ اس قدر غصے میں تھیں کہ جاتے ہوے الوداع تک نہ کہی۔
	اس کے بعد سندھ میں مسلم لیگ کی تحریک زور پکڑتی گئی۔ کانگریسیوں، خصوصاً مائی جیٹھی، کے رویّے میں کوئی نرمی نہ آئی، نہ ہم نے پیر پیچھے ہٹایا۔ ضدیں بڑھتی گئیں۔ ۱۹۳۸ سے ۱۹۴۷ تک کشمکش تیز ہوتی گئی، اسمبلی میں گھمسان ہوا، ہندو مسلم فسادات ہوے ، مقدمے چلے ، ٹربیونل بیٹھے ، آخر ہندوستان ٹوٹا، پاکستان بنا۔ دوسرے کانگریسیوں کی طرح مائی جیٹھی بھی سامان اٹھا بمبئی چلی گئیں۔
	جن دو تین مسلمان قومی کارکنوں سے اُن کی بالکل نہ بنتی تھی ان میں ایک میں بھی تھا۔ ہم تمام وقت متصادم سیاسی کیمپوں میں رہے ، مگر بیس برس کی واقفیت تھی۔ وضع داری کا تقاضا نبھاتے ہوے میں انھیں خدا حافظ کہنے گیا۔ انھوں نے فقط تین لفظ کہے ، جو اب تک حافظے میں محفوظ ہیں۔
	جیسے اُس زمانے کے ہندوستانی راجاؤں میں مہاراجا بیکانیر، ویسے سندھ کے سربرآوردہ مسلمانوں میں میر ایوب خاں مرحوم۔ بلند قامت، بھرا بھرا جسم، گوری رنگت، رعب دار شہپر، داڑھی صاف، سر پر سُرخ ترکی ٹوپی، سوٹ پہنے ہوں یا شلوار، بو ٹائی ضرور لگی ہوتی۔ لس بیلے کے جاموں میں سے تھے ، صورت اور سیرت بھی ویسی ہی۔ انھیں دیکھ کر تسلّی ہوتی کہ کراچی میں بھی کچھ معزز لوگ رہتے ہیں۔
	ولایت سے بیرسٹری پاس کرنے کے بعد آ کر کراچی میں رہنے لگے تھے ، مگر پریکٹس نہیں کی۔ انگریزوں میں مردم شناسی تھی اور آدمی کی قدر، انھوں نے میر صاحب کو اول درجے کا آنریری میجسٹریٹ مقرر کیا اور اس عہدے پر وہ آخر تک فائز رہے۔ 
	وقتاً فوقتاً مرحوم نے سیاسی چہل پہل میں بھی حصّہ لیا، مگر سندھ محمڈن ایسوسی ایشن، محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس، اوائلی مسلم لیگ، سندھ مدرسة الاسلام، کراچی میونسپلٹی، کوئی چھوٹا موٹا ڈپیوٹیشن __ اس سے اوپر نہ پرواز کی نہ پرواز کی خواہش رکھی۔ نہ طائرِلاہوتی ہونے کا دعویٰ کیا نہ شاہیں بچہ بننے کا عزم۔ نیم نان صحتِ جان۔
	سندھ کے خاندانی کلچر کا دلکش نمونہ تھے جس میں مغربی تہذیب اور علمِ جدید کی آمیزش کی بھی خاصی گلکاری تھی۔ وقت کے انگریز ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔ لیڈی لارنس نے اپنی کتاب Indian Embers میں ان کی بہت تعریف کی ہے۔ 
	اردو اور فارسی ادب سے دل چسپی رکھتے تھے۔ کراچی میں انجمن ترقی اردو کی پہلی شاخ انھوں نے کھلوائی۔ کسی زمانے میں شعر و شاعری کا بھی شغل کرتے تھے۔ مخلوقِ خدا انھیں اچھا انسان سمجھتی تھی۔ مقدور بھر سب کو فائدہ پہنچاتے ، دشمنی کسی سے نہ کی۔ سب کی عزت کرتے ، سب سے عزت کراتے۔ انھوں نے دنیا سے رحلت کی تو گویا کراچی کی ٹوپی کا پھول گر پڑا۔ ان کی کمی کوئی شخص پوری نہ کر سکا۔ شہر کی آبرو چند افراد ہی ہوتے ہیں، ورنہ مکھی مچھر، کیڑے مکوڑے تو ہر شہر میں رہتے ہیں۔
	محمد ہاشم گذدر، نام محمد ہاشم، سلاوٹی قوم کا گذدر قبیلہ۔ پیشہ انجنیئری۔ صاف رنگ، درمیانہ قد، بھاری بدن، خوش پوش، خوش ذوق، خوش لباس، خوش خُلق۔ جوانی ہی میں نوکری چھوڑ کر سیاست سنبھالی۔ مرحوم بابا میر محمد بلوچ کے صحیح جانشین، سندھ کا مان اور کراچی کی شان بنے۔ 
	ابھی سندھ بمبئی سے الگ نہ ہوا تھا کہ بابا مرحوم کی وفات کے بعد بمبئی کاؤنسل کے ممبر منتخب ہوے۔ سندھ کی علیحدگی کے بعد متعدد سیاسی عہدوں پر رہے : کراچی کے میئر، سندھ اسمبلی کے ممبر، سندھ کے وزیر، مرکزی اسمبلی کے ممبر اور آئین ساز مجلس کے نائب صدر۔
	گذدر کی سیاست گز کی طرح سیدھی تھی۔ شروع زندگی سے آخر تک عشق سندھ کے مسلمانوں سے رہا۔ منھ سے کوئی دوسرا بول نہ نکلا۔ سردی ہو یا گرمی، دکھ ہو یا سکھ، آگے بڑھتے رہے۔ ببر شیر کی طرح دہاڑتے رہے ، کسی سے نہ دبے ، کسی کے آگے نہ کانپے۔ 
	میں ان سے کہا کرتا کہ سیاست میں تم کام  پہلے کر ڈالتے ہو، سوچتے بعد میں ہو۔ یہ اندازہ درست تھا۔ کوئی جھگڑا ہونے کی دیر تھی، گذدر ناچتے کودتے اس میں کود پڑتے اور بعد میں پوچھتے کہ جھگڑا کیا تھا۔
	کراچی کی سیاسی اور مسلم لیگی زندگی پر سالہا سال چھائے رہے۔ گذدر نہ ہوتے تو کراچی میں، جہاں ہندوؤں کا زور تھا، نہ ۱۹۳۸ کی مسلم لیگ کانفرنس کامیاب ہوتی، نہ ۱۹۴۳ کا آل انڈیا سیشن اور نہ پاکستان کی تحریک۔ سندھ اسمبلی میں تو کانگریسیوں کے حق میں قہر تھے۔ کسی کو چڑانے یا کسی کے ہوش حواس گم کرنے کی ضرورت ہوتی تو گذدر کو آگے کر دیا جاتا۔ ایک دفعہ اسمبلی میں بحث کے دوران گرما گرمی ہو گئی۔ کانگریس پارٹی کے اکیلے مسلمان ممبر، محمد امین کھوسو بحالتِ جذب و استغراق بیٹھے تھے۔ اِنھوں نے اُنھیں ٹائی سے پکڑا اور تھپڑوں پر تھپڑ رسید کرنے شروع کر دیے۔ ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اسپیکر "آرڈر آرڈر" پکارتا رہا مگر یہ حضرت اپنے کام میں لگے رہے۔ کانگریس کے ممبر، جن کا تشدد میں وشواس نہ تھا، بھاگنے کے لیے دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ مائی جیٹھی سپاہیملانی (ڈپٹی اسپیکر) کو یہ بات نہ بھائی۔ اپنی نفرت کو نسوانی انداز میں ناک سکیڑ کر نوکدار بنائے ، منھ ہی منھ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہیں، زور سے بولنے اور پارلیمانی آداب یاد دلانے کے لیے ماحول سازگار نہ تھا۔
	سکھر کی مسجد منزل گاہ کے سلسلے میں مسلم لیگ کی تحریک جاری تھی۔ پولیس اور ستیہ گرہی مسلمانوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا۔ پولیس (محکمۂ داخلہ) کے وزیر سر غلام حسین تھے۔ میں نے سکھر سے گذدر کو پیغام بھیجا کہ سر صاحب کے بنگلے کا گھیراؤ کر لو۔ گذدر نے لوگوں کو جمع کیا اور جلوس کی صورت میں جا کر بنگلے کا گھیراؤ کر لیا۔ سر صاحب کو پہلے ہی بھنک پڑ گئی تھی، اس لیے بنگلے سے کھسک گئے تھے۔ انھوں نے نعرے لگا لگا کر گھر والوں کا جینا دوبھر کر دیا۔ گذدر خود اور ان کے والنٹیئر دھرنا دیے بیٹھے رہے۔ بعد دوپہر خبر پہنچی کہ حکومت نے منزل گاہ سے پولیس ہٹا لی ہے ، تب سر صاحب کے دولت خانے سے محاصرہ ہٹا۔
	مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کے اس قدر شیدائی تھے کہ سندھ بلکہ ہندوستان کے کسی گوشے میں کوئی میٹنگ یا کانفرنس ہوتی یا کوئی جلوس نکلتا تو گذدر ضرور شامل ہوتے۔ مارچ ۱۹۴۰ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہو رہا تھا۔ گذدر صاحب پہلے ہی سے آ پہنچے۔ لاہور کے اجلاس کا بندوبست کرنے کے لیے میں کئی ماہ سے وہاں موجود تھا۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے گذدر نے مجھ سے کہا کہ ان کے بیٹھنے کا کچھ ایسا بندوبست کروں کہ وہ قائد اعظم کے قریب رہیں اور خدانخواستہ ان پر کوئی حملہ ہو تو وہ خود کو سامنے کر کے قائد کا کچھ بچاو کر سکیں۔ انھیں خبر ملی تھی کہ اس قسم کے حملے کا امکان ہے۔ مگر خدا نے خیر کی اور کوئی حملہ نہ ہوا۔
	۱۹۵۴ میں گورنرجنرل غلام محمد نے وزیرِ اعظم محمد علی بوگرا پر دباؤ ڈال کر آئین ساز اسمبلی کو توڑ دیا تھا۔ گذدر مرحوم اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تھے۔ خوف کے مارے اسمبلی کے دوسرے ممبر اور عہدے دار تو بھاگ گئے ، مگر گذدر صاحب صبح کو حسبِ دستور بن سنور کر، عمدہ سوٹ پہن، کوٹ میں گلاب کا پھول لگا اسمبلی ہال کے باہر پہنچے اور پولیس کا پہرہ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ پولیس کا ہاتھ سنگین لگی بندوقوں پر اور گذدر کا ہاتھ دروازے میں لگے تالے پر۔ کافی دیر کشمکش ہوتی رہی۔ گذدر کو قانونی طور پر Cause of Action کا مقدمہ دائر کرنے کا جواز پیدا کرنا تھا جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ میں حکومت کے خلاف رٹ داخل کی جا سکے۔ رٹ داخل ہوئی جسے قانون کی تاریخ میں "مولوی تمیز الدین خاں کیس" کی حیثیت حاصل ہوئی۔ مولوی صاحب اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ اس واقعے کے ذریعے "جمہوریت" کا جلوہ دیکھ کر اپنے گھر جا بیٹھے۔ مرتے مر گئے مگر پھر اِدھر کا رخ نہ کیا۔
	ایوب خاں کا دور آیا۔ اس دور میں اِنھیں ہاشم گذدر پر الزام لگا کہ پاکستان کی سالمیت کو ان سے خطرہ ہے۔ کچھ پوچھے گچھے بغیر انھیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ پاکستان کے لیے گذدر کی برسوں کی قربانیاں اور خدمتیں ایک پل میں رائیگاں ہو گئیں۔ جب ایوب خاں سیاستداں بنے تو انھوں نے کنونشن مسلم لیگ قائم کی۔ کراچی شہر سے گذدر جیسے مسلم لیگ کے پرانے پہلوان کو شامل کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ یک دم پاکستان کی سالمیت کو درپیش خطرہ ٹل گیا، گذدر رہا ہو گئے۔ امید کی گئی کہ گذدر جیل کا سبق سیکھنے کے بعد سیدھے سرکاری مسلم لیگ کا رخ کریں گے۔ مگر گذدر جیسے بیٹے بھی دوسری ماؤں نے کیا جنے ہوں گے ، جان جائے پر آن نہ جائے۔ 
	جہانگیر پارک میں عام جلسہ ہوا۔ گذدر وہاں پہنچ گئے۔ تقریر ایسی کی کہ سالمیت پھر خطرے میں پڑ گئی۔ انھیں دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس دفعہ ان کا جرم اَور سنگین تھا، اس لیے بغاوت کا مقدمہ بھی قائم کر دیا گیا۔ بہت عرصہ قید کاٹی۔ جب رہا ہوے تو صحت برباد ہو چکی تھی۔ اچانک دل کا دورہ پڑا اور سندھ کے دوسرے شہیدوں سے جا ملے۔ اب کراچی کے کسی گمنام گوشے میں ابدی آرام کر رہے ہیں۔ ان کے آرام کے خیال سے نہ وہاں میلا لگتا ہے ، نہ بچوں کی خواہش مند عورتیں وہاں آ کر ان کے سرہانے ہنگامہ کرتی ہیں، نہ نمائشی سیاست داں قبر کے پاس کھڑے ہو کر فوٹو کھنچواتے ہیں (ہاتھ اٹھے ہوے ، نظریں فوٹوگرافر پر)۔
	بوڑھے پوربیے کی پیدائش بھارت کے پوربی حصّے میں ہوئی تھی، مگر مزدوری کیاماڑی بندر پر کرتا تھا۔ پیٹھ ننگی، جہازوں میں سے بوریاں اٹھا اٹھا کر نیچے اتارتا اور ریل کے ڈبوں سے سامان اٹھا کر جہاز میں لادتا۔ مزدوری ایک روپیا روز، عمر ستّر سے اوپر۔ دھرم ہندو۔ لمبا قد مگر بدن دبلا۔ سینے تک لمبی داڑھی۔ نیچے لنگوٹی، اوپر کا بدن اکثر ننگا۔ نام اب مجھے یاد نہیں رہا۔
	شام کے وقت سڑک کے کنارے ایک میدان میں چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا اور جو غریب لوگ ٹوٹے ہاتھ پیروں کا علاج اسپتالوں میں کرانے کی سکت نہ رکھتے ، یا اسپتالوں سے ناامید ہو چکے ہوتے ، اس کے پاس آیا کرتے۔ وہ ان کی ہڈیاں بھی جوڑتا اور تیل کی مالش کر کے پٹیاں بھی باندھتا۔ کسی سے ایک پیسا نہ لیتا تھا۔ تیل اور پٹّیوں کا خرچ بھی خود اٹھاتا۔ اپنے فن کا استاد تھا۔ شہرت ایسی تھی کہ جن مریضوں کو اسپتال سے جواب مل جاتا وہ بھی اس کے پاس آتے۔ آخر آخر تو مالدار مریض بھی اسپتالوں کو چھوڑ کر اس سے علاج کرانے آنے لگے۔ مقررہ وقت پر بہت سے مریض جمع ہو جاتے۔ وہ ہر ایک کو باری سے دیکھتا تھا، امیر ہو یا غریب۔
	سرگباشی رائے بہادر ہوت چند نواب شاہ کے بڑے زمیندار، بعد میں سندھ اسمبلی کے اہم ممبر، میرے پرانے دوست تھے۔ کسی حادثے میں ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا اور ٹانگ مڑ گئی تھی۔ پیسے کی کمی نہ تھی۔ کراچی کے بڑے بڑے انگریز سرجنوں سے علاج کرایا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ ایکسرے سے معلوم ہوا کہ ہڈیاں ٹوٹنے کے بعد جہاں کی تہاں رکھی ہیں، نہ سیدھی ہوئی ہیں نہ جڑی ہیں۔ انھوں نے کسی کی زبانی کیاماڑی کے بوڑھے پوربیے کا ذکر سنا۔ ایک شام مجھے ساتھ لے کر کیاماڑی پہنچے۔ زمین پر پرانی چٹائیاں بچھی تھیں۔ سو کے قریب مریض سامنے قطاریں بنائے بیٹھے تھے۔ ان میں غریب بھی تھے امیر بھی __ پارسی سیٹھ، میمن، بوہری، ہندو، مسلمان، کرسٹان اور دو ایک یوروپی، بیش تر مرد، کچھ عورتیں بھی۔ باری باری ایک ایک کو بلاتا، سامنے بٹھا کر دیکھتا، معائنہ کرتا، ہڈی جوڑتا، پٹی باندھتا اور "پرماتما بھلی کرے گا" کہہ کر رخصت کر دیتا۔ رائے بہادر اور میں آخری صف میں بیٹھے تھے۔ آگے کی قطاریں ختم ہوئیں تو رائے بہادر کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں انھیں سہارا دے کر آہستہ آہستہ اس کے پاس لے گیا۔ اس نے رائے بہادر کے بازو اور ٹانگ کی ہڈیاں جوڑ کر پٹّی باندھی اور آٹھ دن بعد آنے کا کہہ کر فارغ کر دیا۔
	پھر میری طرف دیکھ کر کچھ مسکرایا اور پوچھا: "پُتر، کیا ہووت ہے ؟"
	میں نے کہا، "ہمارا من ٹوٹت ہے۔ " اس سے زیادہ پوربی مجھے نہیں آتی تھی۔
	جب سب مریض جا چکے تو رائے بہادر اور میں باقی رہ گئے۔ وہ خود بھی فارغ ہو چکا تھا اس لیے خوش گوار موڈ میں تھا۔ پیار بھری باتیں کرنے لگا۔ بہت سی باتیں کیں جن کا خاتمہ ان جملوں پر ہوا: "پُتر، سکھی رہو گے اگر یاد رکھو گے کہ جیون جل میں پترا (کاغذ) ہے۔ گلنے والی چیز ہے۔ آج نہیں تو کل گل جائے۔ "
	رائے بہادر اس کے بعد تین مرتبہ اس کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ جا کر درویش کے درشن کرتا رہا۔ رائے بہادر کا بازو اور ٹانگ جڑ کر بالکل ٹھیک ہو گئی۔ پھر جانے کا اتفاق نہ ہوا، زمانے کے اتار چڑھاؤ میں غرق رہا۔ رائے بہادر نے بھی سندھ کو الوداع کہہ کر بمبئی میں بقیہ زندگی بسر کی۔ مگر پوربیے فقیر کی صورت آج بھی آنکھوں کے آگے پھرتی ہے۔ غیر معمولی انسان تھا، چند لفظوں میں زندگی کی ماہیت اور معنی سمجھا گیا۔ سائیں سب میں بستا ہے ، اُس کے مہر کا مینھ باغوں بیابانوں پر ایک جیسا برستا ہے۔ 
	سندھ میں سخت پردہ ہوتا تھا۔ عورتوں کو شادی بیاہ پر برادری میں جانا پڑتا تو برقع اوڑھ کر پردے لگی گاڑی میں سوار ہوتیں، وہ بھی رات کے وقت۔ راستا چلتے لوگ ایسی گاڑیاں دیکھ کر راستا چھوڑ، گاڑی کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ بڑے گھرانوں کی مستورات کو فاصلے کے سبب ریل کے ذریعے لے جایا جاتا تو اس طرح کہ پورا ڈبّا بک کرایا جاتا اور کھڑکیاں دروازے بند رکھنے کے علاوہ خود ڈبّے کو بھی چادروں سے ڈھانپ دیا جاتا کہ کہیں غیروں کی نظر نہ پڑ جائے۔ اُن دونوں تمام کراچی شہر میں بھی کوئی بے پردہ عورت، جوان یا بوڑھی، ہندو یا مسلمان، دیکھنے میں نہ آتی تھی۔ مختلف قومیں یہاں رہتی تھیں، مذہب مختلف تھے ، ریتیں رسمیں جدا جدا تھیں، مگر کم سے کم ۱۹۳۰ تک پردے کے معاملے میں سب ہم خیال تھے۔ پارسی البتّہ کسی قدر آزاد تھے ، مگر اُن کی عورتیں بھی منھ ننگا کیے گلیوں میں گھومتی نہ پھرتی تھیں، کبھی کبھی سورج غروب ہونے کے وقت اپنے مردوں اور بچوں کے ساتھ وکٹوریا گاڑی میں سوار ہو کر ہوابندر یا اُدھر جانے والی سڑک کے کنارے پر گاڑی رکوا کر ٹھنڈی ہوا کھا آتیں، الله الله خی رسلّا۔
	۱۹۳۰ تک میں نے دیکھا کہ کراچی میں صرف ایک ایسی پارسی خاتون تھی جو سینٹ لیونڈر لگا کر، رنگین ساڑھی باندھ کر، ہار سنگھار کر کے شام کو ہوابندر پر آتی اور وہاں بے حجابانہ چہل قدمی کرتی تھی۔ تھی تو اشراف، اوباش بالکل نہ تھی۔ صدر کے ایک مشہور ڈاکٹر کی بیوی تھی۔ اکثر اپنے شوہر کو بھی ساتھ لے آتی۔ ہوابندر پر اس کی آمد بلا ناغہ ہوتی تھی۔ اتفاق سے اگر کسی روز شوہر کو فرصت نہ ہوتی تو اکیلی چلی آتی، مگر آتی ضرور تھی۔
	خود کراچی کے رہنے والے اس خاتون کا کوئی نوٹس نہ لیتے ، البتّہ دیہات سے آنے والے مالدار لوگوں کے لیے ایک حسین عورت کا یوں بے پردہ اور بے حجابانہ گھومنا نرالی بات تھی۔ وہ بگھیاں کرائے پر لے کر شام کو ہوابندر آتے اور یہ نظارہ ضرور دیکھتے۔ پرومینیڈ (سیر گاہ) کے دونوں طرف چھتوں اور دیواروں پر چڑھے بیٹھے رہتے۔ جن کی داڑھیاں تھیں وہ ان میں چوٹیاں گوندھ لیتے ، جن کی مردانگی کی نشانی فقط مونچھیں تھیں وہ بیٹھے انھیں کو بل دیا کرتے۔ مگر وہ عورت نہ داڑھی کی چوٹیوں سے متاثر ہوتی نہ مونچھوں پر کی گئی محنت کی قدر کرتی۔ اپنی آنکھیں سامنے جمائے چہل قدمی میں مصروف رہتی اور اپنے متوالوں کے سینوں پر مونگ دلا کرتی، نہ اِدھر دیکھتی نہ اُدھر نظر ڈالتی۔ اس کی اس بے توجہی سے بیزار ہو کر کچھ نوجوانوں نے عین اُسی وقت پرومینیڈ پر ٹہلنے کا وطیرہ اختیار کیا، اور اس طرح کہ ہر پھیرے میں اس کے پاس سے گزرتے ، مگر اس کی طرف سے بے نیازی کا رویّہ قائم رہا۔ اسی زمانے میں دیہات کے وڈیروں نے موٹریں خریدنی شروع کی تھیں۔ ستائیس سو میں شیورلیٹ اور دو ہزار میں فورڈ کار بکتی تھی۔ کراچی آ کر موٹر خریدنے کے بعد یہ لازم ہوتا کہ موٹر کو ہوابندر لے جا کر ایسے رخ سے کھڑا کیا جائے کہ جب خاتون سے آمنا سامنا ہو تو اس کی نظر گاڑی اور اس میں بیٹھے لوگوں پر پڑے۔ جب اس پر بھی چشمِ نیم وا کی نوازش نہ ہوئی تو موٹروں کے ہارن بلاوجہ بجائے جانے لگے۔ ہارن ربڑ کی گیند کی طرح کے ہوتے تھے اور ان سے نکلنے والی آواز گویا نر گدھے کی رینک! کچھ دن میں یہ تجربہ بھی نا کامیاب ثابت ہوا۔
	آخری طریقہ یہ رہ گیا کہ کراچی پہنچتے ہی بیمار پڑ جایا جائے اور اُسی ڈاکٹر سے علاج کرایا جائے جس کی یہ بیوی تھی۔ بیماریاں کیا ہوتی تھیں، اس کی تو خبر نہ لگی، مگر اتنا ظاہر تھا کہ سندھ کے شوقین وڈیرے یا نوجوان لیڈر اس ڈاکٹر کے مطب کے خوب چکر لگایا کرتے۔ قربت حاصل کرنے کی غرض سے وہ اکثر اپنے ساتھ میوے ، مٹھائیاں اور سندھ سے شکار کیے ہوے پرندوں کی ڈالیاں بھی لاتے تھے۔ ان کا یہ "ورک" کتنا کامیاب رہا، یہ خدا پاک کو خبر۔ جہاں تک میں دیکھ پایا وہ یہ تھا کہ ایسے مریض لال اور ہرے مکسچروں کی بوتلیں ہاتھ میں لیے باہر نکلتے۔ گھر جا کر انھیں پیتے تھے یا گٹر میں لنڈھا دیتے تھے اس کا دارومدار لازماً ان کے مرض کے سچے یا جھوٹے ہونے پر ہوتا۔ البتّہ جو مریض ڈالیوں سے "مسلّح" ہو کر آتے ان کے چہرے کبھی کبھی سرخ ہوا کرتے ، گمان ہوتا تھا کہ شاید شربتِ دیدار کا گھونٹ بروقت میسّر آ گیا۔ فوری علاج یہی ہو سکتا تھا!
	گوٹھ واپس جانے کے بعد جب کراچی میں حاصل کی ہوئی فتوحات کا ذکر محفلوں میں ہوتا تو گفتگو کا ایک اہم موضوع اِس محاذ کی خبریں بھی ہوا کرتیں۔
	کراچی کی "مینڈموں" سے ہمارے وڈیروں کی روح فنا ہوتی تھی، حالاں کہ دیدارِ عام یہی ہوتا تھا۔ میڈمیں خاصی تعداد میں ہوتیں۔ صبح شام صدر کی دکانوں کی سیر کیا کرتیں۔ ان کی خاص مار الفنسٹن اسٹریٹ ہر ہوتی تھی، جہاں ان کی ضرورت کی چیزوں کی دکانیں تھیں۔ دیہات سے آئے ہوے وڈیرے ان سے بہت خوف کھاتے تھے۔ مبادا کسی میم صاحب سے اچانک سامنا ہو جائے ، اس ڈر سے بہت سے تو صدر کا رخ ہی نہ کرتے۔ ان کی سرگرمیاں مولو مسافر خانے ، زمیندار ہوٹل، سندھ اسلامیہ ہوٹل، جونا مارکیٹ، نیپیئر روڈ، کیاماڑی اور زیادہ سے زیادہ ہوابندر تک محدود رہتیں۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ الفنسٹن اسٹریٹ پر جال بھائی پارسی فوٹوگرافر کی دکان میں جیکب آباد کی طرف کے دو تین طرّوں والے وڈیرے اپنے آدھ درجن نوکروں سمیت گھُسے کھڑے ہیں۔ خوف سے نیم جاں، منھ اترے ہوے ، آنکھیں وحشت ناک، بال بکھرے ہوے ، ہونٹ خشک، زبانیں تالو سے لگی ہوئی __ جیسے بکریوں کے گلّے نے بھیڑیے کی بُو سونگھ لی ہو۔
	وہ میرے واقف تھے ، فوٹوگرافی کے شوق کے باعث میں بھی جال بھائی کی دکان پر اکثر جایا کرتا تھا۔ مجھے گمان ہوا کہ شاید اپنا گروپ فوٹو کھنچوانے آئے ہیں۔ مگر اسٹوڈیو کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ان میں سے کوئی نہ کوئی ذرا ذرا دیر بعد دروازے میں سے باہر منھ نکال کر سڑک پر دونوں سمت نظر ڈالتا اور جلدی سے لوٹ آتا۔ یہ روش مجھے کچھ عجیب معلوم ہوئی۔ میں نے جال بھائی کے بیٹے سے پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ان بیچاروں نے پاس کی دکانوں میں چند مینڈموں کو چڑھتے دیکھ لیا ہے جن سے ڈر کر یہاں آ چھپے ہیں۔ میں نے آگے بڑھ کر بڑے وڈیرے سے پوچھا: "فوٹو کھنچوانے میں اتنی دیر کیوں لگا رہے ہیں؟"
	بولے : "فوٹو جائے جہنم میں، ہماری جان پر بنی ہوئی ہے۔ "
	میں  نے کہا: "خیر تو ہے ؟"
	کہنے لگے : "خیر کہاں؟ بازار آئے تھے ، چمڑے کے صندوق، بیگ اور بستر بند خریدنے تھے۔ اچانک دیکھا کہ مینڈمیں چلی آ رہی ہیں۔ ان کے ڈر سے اس دکان میں آ کر پناہ لی ہے۔ یہ مینڈمیں رخصت ہوں تو ہم یہاں سے نکلیں۔"
	"مگر میڈموں سے آپ کو کیا ڈر ہے ؟ وہ آپ کو کیا کہیں گی؟"
	"شاہ صاحب، خبر نہیں کس جورپی (یورپی) ہفیسر (آفیسر) کے گھر کی عورتیں ہیں۔ سنا ہے کمشنر، کلٹّر، کمانی اور دوسرے بڑے ہفیسروں کے بنگلے پاس کے علاقے میں ہیں۔ اگر ہمارا یوں ٹولی بنا کر گھومنا کسی مینڈم صاحب کو نہ بھایا تو ہمیں بندھوا کر زیل (جیل) بھجوا سکتی ہیں۔ کاراچی گھومنے کے شوق میں خواہ مخواہ قید کاٹنی پڑے ، اس لیے شیروں اور بھیڑیوں سے دور رہنا ہی بھلا۔"
	یہ بات مئی ۱۹۲۴ کی ہے۔ مہینے بھر بعد نئے خطابوں کا اعلان ہوا۔ اس وڈیرے کو "خان بہادر" کا خطاب ملا۔
	لکھنے والے بڑے لوگوں کی بابت لکھتے ہیں۔ ان کے افعال کیسے بھی ہوں، دنیا کو سکھ دیا ہو یا اس پر تباہی لائے ہوں، محض بڑا آدمی ہونا شرط ہے ، آدمیت میں نہ سہی، مال و زر میں سہی! چھوٹے لوگوں، نچلے طبقے کے غریبوں کو کوئی یاد نہیں کرتا، جیسے ان کی زندگی رائیگاں ہی گزری ہو۔ حالاں کہ اس دنیا کا چرخہ غریبوں اور محنت کشوں کے پسینے ہی سے چل رہا ہے۔ 
	بوستان خاں معمولی پٹّے والا تھا، مگر "کمشنر صاحب بہادر مالکِ ممالکِ سندھ" کا پٹے والا تھا، چناں چہ اسے "چوبدار" کہا جاتا تھا۔ ہزارے کی طرف کا رہنے والا تھا۔ ساڑھے چھ فٹ قد، گول چہرہ، گورا رنگ، موزوں بدن، بازو کھول کر چلتا جیسے پرندہ اڑنے کو پر تولتا ہو۔
	کراچی کے اُن دنوں کے گورنمنٹ ہاؤس میں کمشنر صاحب کے دروازے پر غالیچہ بچھائے بیٹھا ہوتا تھا۔ ملاقاتیوں کا استقبال کرنا اور رپورٹ کر کے انھیں کمشنر کے سامنے پیش کرنا اس کے فرائض میں داخل تھا۔ عام طور پر دیکھا جاتا تھا کہ افسروں کے اکثر پٹے والے بدتمیز ہوتے تھے ، منھ بنائے بیٹھے رہتے ، ملاقاتی سلام کرتے تو بیٹھے بیٹھے سر ہلا دیتے۔ صاحب کو رپورٹ کرنے کو کہا جاتا تو یوں لگتا جیسے کسی نے تھپڑ مار دیا ہو۔ بہت ستانے اور سہمانے کے بعد ہی ملاقاتی کے نام کا پُرزہ اندر لے جاتے۔ ملاقات ہو جانے کے بعد البتّہ ان کا مزاج یک دم بدل جاتا تھا۔ ملاقاتی سے بخشش لینے کے لیے بھوکے گلر کی طرح باہر تک اس کا پیچھا کرتے۔ جب تک دو تین روپے نہ مل جاتے ، تب تک کھیسیں نکالتے اور ملاقاتی کے گھربار، کتّوں اور مرغیوں کی خیر عافیت پوچھا کرتے۔ 
	بوستان خاں ہر لحاظ سے ان پٹے والوں سے مختلف تھا۔ ملاقاتیوں پر گورنمنٹ ہاؤس میں پیر رکھتے ہی رعب چھا جاتا تھا مگر دور ہی سے برآمدے میں بیٹھے بوستان خاں کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ان کی جان میں جان آتی۔ چھوٹا آدمی ہو یا بڑا، بوستان خاں اسے فوراً آگے بڑھ کر مرحبا کہتا، دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتا، خاندان کا حال احوال پوچھتا، نام کی پرچی لے کر جلد سے جلد صاحب سے ملوا کر انھیں گاڑی تک پہنچانے آتا۔ موقعے پر کوئی بخشش نہ لیتا، ملاقاتی اسے دعوت دیتا کہ فرصت کے وقت اس سے گھر آ کر ملے۔ نوکری کا وقت پورا ہونے پر جب فرصت ملتی اور مرضی ہوتی تو اس کے پاس چلا جاتا ورنہ خیر۔ لیکن اگر اتفاقاً کسی کی دہلیز پار کرتا تو لوگ آنکھیں بچھا کر اس کا آدر کرتے۔ سچ یہ ہے کہ سندھ کے لوگ کمشنر سے بڑھ  کر بوستان خاں کا احترام کرتے تھے۔ (سردی کے موسم میں جب کمشنر صاحب سندھ کے گشت پر نکلتے تو سندھ کے معززین بوستان خاں کے اعزاز میں الگ دعوتوں کا انتظام کرتے۔ ) محبّت کا جواب محبّت سے دیتے۔ کمشنر کا معاملہ زور زبردستی کا تھا، بوستان سے دل کا رشتہ تھا۔ تھا تو معمولی پٹے والا ہی، مگر آدمیت مقام اور مکان کی محتاج نہیں ہوتی۔
	سندھ بمبئی سے الگ ہوا تو بوستان بھی پنشن لے کر غائب ہو گیا۔ بوستان خاں کو رخصت کرتے ہوے مناسب ہے کہ پرانے گورنمنٹ ہاؤس پر بھی آخری نگاہ ڈال لی جائے۔ 
	یہ گورنمنٹ ہاؤس سر چارلس نیپیئر کے زمانے میں بنا اور بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کے وقت تک قائم رہا۔ سادہ عمارت تھی۔ بیچ کے کمروں کے اوپر فقط تین کمرے بنے ہوے تھے ، ورنہ پوری عمارت یک منزلہ، پانچ چھ فٹ اونچے چبوترے پر بنی ہوئی تھی۔ کمرے بڑے بڑے ، چھتیں اونچی، فرش ٹائلوں والا۔ ملاقاتیوں کے بیٹھنے کے لیے برآمدہ تھا، تین طرف سے کھلا ہوا، بہت ہوادار، بیٹھے بیٹھے نیند آ جایا کرتی۔ اس برآمدے کے بعد کمرے تھے۔ پہلے (انگریز) اسسٹنٹ کمشنر کا کمرہ، اس سے آگے کمشنر کے دفتر کا بڑا کمرہ، اس کے بعد گھر کے کمرے۔ سامنے میدان میں پھول دار پودے۔ برآمدے میں بیٹھ کر کیاماڑی دکھائی دیتا تھا۔ بیچ میں کوئی اونچی عمارت نہ تھی۔ کل تین چار افراد گورنمنٹ ہاؤس میں بیٹھے نظر آتے۔ کمشنر خود، اسسٹنٹ کمشنر، اور دو تین پٹّے والے __ سکون  چھایا رہتا۔ اطمینان سے تمام کاروبار چلا کرتا۔ بالکل محسوس نہ ہوتا کہ پورے سندھ پر اس پُر سکون مختصر سے بنگلے سے راج کیا جاتا ہے۔ نہ افسروں کی ریل پیل، نہ دروازے کھلنے بند ہونے کی آوازیں، نہ لوگوں کا ہجوم، نہ باتیں نہ کونوں کھدروں میں بیٹھ کر لوگوں یا ملک کو ڈھانے اور اٹھانے کی سازشیں۔ ماحول سادہ، صاف، پُر سکون، مگر رعب دار۔ برآمدے میں کٹہرے سے لگی سفید بید کی بنی ہوئی کرسیاں اور بنچیں رکھی ہوتیں۔ سامنے ایک بڑی میز پر لکھنے پڑھنے کا سامان اور ملاقاتیوں کی کتاب رکھی ہوتی۔ اس زمانے میں فاؤنٹین پین ابھی عام نہیں ہوے تھے ، لوگ روشنائی کی دوات میں قلم ڈبو کر ملاقاتیوں کی کتاب میں اپنے نام لکھتے۔ دوات چینی کی بنی ہوتی جس پر گلابی رنگ کے پھول ہوتے۔ ایسی خوب صورت دوات میں نے پھر کبھی نہ دیکھی۔ پیرس، روم اور لندن میں بھی ڈھونڈی مگر کہیں نہ ملی۔
	بڑے بڑے انگریز کمشنر اس گورنمنٹ ہاؤس میں رہ چکے تھے جس نے اسّی برس تک سندھ کی تاریخ رقم کی۔ سر بارٹل فریئر ۱۸۵۱ سے ۱۸۵۹ تک کمشنر رہے۔ ان کے دنوں میں انگریزوں کے زمانے کے سندھ کی تعمیر ہوئی، پل، سڑکیں، ریل، تار، ڈاک، اسپتال، اسکول، کالج، تھانے ، ضلعوں اور تعلّقوں میں سرکاری عمارتیں، سروے ، لا اینڈ آرڈر وغیرہ اُن کے زمانے کی نشانیاں ہیں جن میں سے کئی اب تک ڈھے نہ سکیں (مثلاً صدر کا فریئر ہال)۔ انسانوں کے ہمدرد تھے۔ لیاری میں رہنے والے ایک مسکین میربحر (ملّاح) سے کہیں ان کی واقفیت ہو گئی تھی جس نے آگے چل کر دوستی کا رنگ اختیار کر لیا۔ اس غریب کو نہ صرف برسوں اپنی جیب سے گزر اوقات کے لیے پیسے دیتے رہے ، بلکہ اگر وہ یا اس کے گھر کا کوئی فرد بیمار ہو جاتا تو مزاج پُرسی کے لیے کمشنر صاحب خود اکیلے اس کی جھونپڑی میں جایا کرتے۔ انھوں نے اپنی ہم دردی، عدل، انصاف اور حسنِ انتظام کے ذریعے سندھ میں انگریزی راج کے قدم پختہ کر دیے۔ سندھ اور سندھ کے ادب سے گہرا لگاؤ تھا، اپنی بیٹی کے مطالعے کے لیے شاہ عبداللطیف کی سوانح عمری سندھی میں لکھوا کر اس کا انگریزی میں ترجمہ کرایا۔
	دوسرے مشہور کمشنر سر اِیونس جیمز تھے۔ سندھ کی تاریخ اور ادب سے بڑی واقفیت رکھتے تھے۔ انتظام اور انصاف کے معاملے میں ہاری اور جاگیردار میں کوئی فرق روا نہ رکھتے۔ کسی آبرو والے کی پگ خواہ مخواہ نہ اترواتے مگر کسی وڈیرے یا پیر کو من مانی کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ اسی طرح کمشنر لیوکس نے بھی بڑی شہرت پائی، سندھ میں حد درجہ امن و امان قائم کیا اور اپنی دھاک بٹھائی۔
	نامور کمشنروں میں سے آخری سر ہنری لارنس تھے جنھوں نے نئی اٹھنے والی تحریکوں (کانگریس، خلافت، ہجرت وغیرہ) سے متاثر ہو کر کوشش کی کہ سندھ کے مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں میں کھپا کر انھیں آزادی کی تحریکوں سے الگ رکھیں۔ اس کوشش میں انھیں کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی، مگر اس دوران سیاسی بیداری میں اضافہ ہوتا رہا جس کا جواب انھوں نے سختی سے دینا چاہا۔ یہ وہ  زمانہ تھا کہ سندھ کے عمومی مسئلوں کے متعلّق سندھ کے بزرگ، ہندو اور مسلمان، مل جل کر قدم اٹھاتے تھے۔ چناں چہ سندھ کے دو ممتاز نمائندے ، رئیس غلام محمد بھرگڑی اور سیٹھ ہرچند رائے وِشنداس، کمشنر لارنس کی کارروائیوں کے خلاف شکایت بمبئی کے گورنر کے پاس لے گئے۔ انھیں سندھ سے چوری چھپے نکلنا پڑا کیوں کہ لارنس نے ان کی گرفتاری کے احکام جاری کر دیے تھے۔ بمبئی کے گورنر نے ان کی شکایت پر کان نہ دھرے تو وہاں سے ناامید ہو کر دونوں بمبئی ہی سے جہاز میں سوار ہو کر لندن پہنچے۔ وہاں انھوں نے سیکرٹری ہند سے ملاقات کی اور وہاں سے حکم جاری کرایا کہ لارنس کو، جو ان دنوں مختصر رخصت پر لندن میں تھے ، ہندوستان لوٹنے پر سندھ کا کمشنر کے عہدے پر نہ رکھا جائے۔ لیڈی لارنس نے Indian Embers نامی کتاب میں یہ پورا قصہ بیان کیا ہے اور اس کے علاوہ سندھ کے بارے میں بہت سے دل چسپ حالات لکھے ہیں۔
	لارنس کے بعد سندھ کی کمشنری پر معمولی قسم کے انگریز آنے لگے ، کوئی ہٹیلا، کوئی مسخرہ، کوئی کام چور، کوئی چوروں کے اوپر مور۔ دنیا کا دستور ہے کہ رعیت سرکاری اہلکار کا چہرہ دیکھ کر سرکار کے بارے میں رائے قائم کرتی ہے۔ سندھ کے آخری کمشنروں کے چہرے دیکھ کر سندھ کے سست باشندوں بھی یہ رائے ہو گئی کہ سندھ کو بمبئی سے جدا کرا کے کمشنری راج سے جان چھڑائی جائے ، اور ہوا بھی یہی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ٹامس جیسے بد خو اور گبسن جیسے ہلکی طبیعت کے لوگ کمشنر ہو کر نہ آتے تو شاید سندھ کی علیحدگی کی تحریک اتنا زور نہ پکڑ پاتی۔
	سندھ علیحدہ ہوا۔ کمشنر اِن سندھ، مالک ممالک سندھ، کا انجام بخیر ہوا۔ پرانا تاریخی گورنمنٹ ہاؤس بھی ڈھے گیا۔ اس کی جگہ پر قافلہ سرائے کے نمونے پر گورنر ہاؤس کے نام سے ایک نئی گزرگاہ تعمیر ہوئی جس میں اب تک پندرہ مسافر سستا کر رخصت ہو چکے ہیں۔
	سندھ ۱۹۳۷ میں بمبئی سے الگ ہو کر صوبہ بنا۔ ۱۹۳۷ سے ۱۹۴۷ تک اس کی نئی قومی زندگی کی بنیادیں پڑیں، مگر غلط اصولوں پر، جنھوں نے غلط قدروں کو جنم دیا اور آخر خود صوبے ہی کو پامال کر دیا۔
	الگ ہونے کے بعد سندھ کے وڈیرا صاحبان اور پیر صاحبان، اپنی دولت، حاکمانہ اثر اور پیری مریدی کے زور پر، سندھ کی سیاسی زندگی پر فوراً چھا گئے۔ انھوں نے نہ کوئی مستقل سیاسی پارٹی بننے دی نہ سیاست کا مدار کسی قسم کے مفید اخلاقی اصولوں پر رکھنے کی اجازت دی۔
	جن "اصولوں" پر الگ ہونے کے بعد سندھ کا کاروبار چلنے لگا، وہ مختصراً یہ ہیں:
	(۱) وزیر ہر حال میں بننا ہے ، اور وزیر بننے کے بعد ہر حال میں بطور وزیر قائم رہنا ہے ، خواہ اس مقصد کے حصول کے لیے کتنی ہی پارٹیاں کیوں نہ بدلنی پڑیں اور اپنے وعدوں، قولوں اور اصولوں سے کتنی ہی بار کیوں نہ پھِرنا پڑے۔ 
	(۲) جتنے عرصے وزیر رہو، محض خود کو نوازنے اور مضبوط کرنے میں مصروف رہو۔
	(۳) سندھ کے عوام کی بھلائی کا کوئی سوال ہی نہ تھا کیوں کہ جس شے کو سیاسی اصطلاح میں "عوام" کہا جاتا ہے ، اس شے کے وجود ہی کو تسلیم نہ کیا جاتا تھا۔ ان کے خیال میں سندھ کے لوگ تین حصوں میں منقسم تھے : (الف) پیر اور وڈیرے ، جن کا پیدائشی حق تھا وزارت اور حکومت کرنا، (ب) سرکاری اہلکار، جن کا ورثہ تھا مسلمانوں کے ٹکٹ پر نوکریاں حاصل کرنا، اور نوکریاں حاصل کرنے کے بعد ایک طرف مزید ترقی کی سعی کرنا اور دوسری طرف اپنے پیٹ کی خدمت کرنا، اور (ج) دیہات کے لاکھوں ننگے بھوکے گنوار، جن کے لیے یہی سعادت کافی تھی کہ ان کے سر پر وڈیروں اور پیروں کا سایہ دائم و قائم رہے۔ 
	(۴) سیاسی پارٹی ہرگز نہ بننے دی جائے ، کیوں کہ سیاسی پارٹی بنے گی تو اس کا رخ ہو گا عام لوگوں کی طرف، اور عام لوگوں نے سیاست میں حصّہ لینا شروع کر دیا تو وڈیروں کی اجارہ داری کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اس لیے ایسی زہریلی بُوٹی کو اُگنے ہی نہ دیا جائے۔ 
	(۵) ان اصولوں پر قائم رہتے ہوے ، اور وقتی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے ، وقتاً فوقتاً جو طاقت غلبہ حاصل کرے اُس کی پاٹھ پوجا شروع کرنے میں دیر نہ کی جائے ، خواہ یہ طاقت ہندوؤں کی کانگریس ہو یا مسلم لیگ، یا کسی خاص شخص کی وقتی مرکزی حیثیت۔ مطلب یہ کہ ہر موقعے کا فائدہ اٹھایا جائے اور جس چشمے میں سیاسی پانی کا کچھ ذخیرہ دکھائی دے اسی میں ہاتھ ڈال دیے جائیں۔
	حقیقت یہ ہے کہ سندھ کا ہندو ۱۹۲۰ سے پہلے باقی برصغیر کے ہندوؤں سے بہت سی باتوں میں مختلف تھا۔ وہ صوفی منش تھا، مسلمان پیروں فقیروں کا معتقد تھا، فارسی میں اسلامی لٹریچر سے متاثر تھا، قرآن شریف کا اس قدر احترام کرتا کہ اس پر ہاتھ رکھ کر کبھی جھوٹ نہ بولتا۔ بعض ہندو تو باقاعدہ کلام مجید کی تلاوت بھی کیا کرتے۔ بیرانی کے ایک ہندو سیٹھ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے تین ہزار صحیح حدیثیں یاد تھیں۔ جہاں ابھی اسکول نہ کھلے تھے وہاں ہندو بچے ملّاؤں کے مکتبوں میں (جو اکثر مسجدوں میں ہوتے تھے ) تعلیم پاتے تھے۔ رات کو مسجدوں میں دیے ہندو عورتیں جلا کر رکھتیں۔ شاہ عبد اللطیف کے کلام پر سب سے اہم تحقیق ایک ہندو عالم ڈاکٹر گربخشانی نے کی تھی۔ بہت سے ایسے ہندو تھے جو کسی فرق کے بغیر مسلمانوں کی خدمت اور حاجت روائی کیا کرتے ، بیوہ عورتوں کو گزر اوقات کے لیے مالی امداد اور یتیم مسلمان بچوں میں تعلیم کے لیے وظیفے تقسیم کیا کرتے۔ آنکھوں کے اسپتال شکارپور کے ہندو سیٹھ اپنے خرچ سے کھلواتے۔ سرکاری کالج کھلنے سے پہلے ہندو اپنے پرائیویٹ کالج قائم کر چکے تھے جن سے مسلمان بھی فائدہ اٹھاتے۔ تھرپارکر ضلعے کے ہندو اپنی لڑکیاں مسلمان خاندانوں میں بیاہ دیتے۔ بینک قائم ہونے سے پہلے سندھ کے مسلمانوں کی تمام کمائی ہندو ساہوکاروں کے پاس امانت کے طور پر رکھی رہا کرتی۔ پوری تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی ہندو ساہوکار نے مسلمانوں کی امانت میں خیانت کی ہو۔ سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی کی ہندو اکثریت سے الگ کر کے الگ صوبہ بنانے کی تحریک سب سے پہلے سیٹھ ہرچند رائے وشنداس نے شروع کی اور اُس زمانے کے دوسرے ہندو بزرگوں نے اس تحریک کی حمایت کی، ان میں سے کسی نے مخالفت میں دو لفظ بھی نہ کہے۔ عام رہن سہن کی حالت یہ تھی کہ ہندو بزرگ داڑھیاں رکھا کرتے ، نیچے شلوار پہنتے اور سر پر بڑی پگڑی باندھتے۔ راگ ہندوؤں کی مذہبی زندگی کا ایک اہم جزو ہے ، اور سندھ کے ہندوؤں کے راگ سو فیصد مسلمانی طرز کے ہوتے تھے۔ مسلمان بزرگوں کے کلام کے سوا کچھ نہ گاتے یا سنتے۔ سندھ کے ہندوؤں کی نصف سے زیادہ تعداد مسلمان صوفی بزرگوں کی درگاہوں کی مرید تھی۔ قلندر لعل شہباز پر جتنا اعتقاد مسلمانوں کو تھا اُتنا ہی ہندوؤں کو بھی تھا۔ درگاہ شریف کی بعض رسوم صرف ہندو بجا لاتے تھے ، مثلاً مہندی کی رسم۔ سندھی زبان کی بھی ہندوؤں نے بڑی خدمت کی۔ سندھی کے بہت سے چوٹی کے اہلِ قلم ہندو تھے۔ سندھ کے واحد آرٹس کالج میں فارسی کا پروفیسر ہندو تھا۔ سندھ کی قدیم تاریخ کی تحقیق پہلے پہل ہندوؤں نے شروع کی۔ سندھ کے ہندو سؤر کے گوشت کو چھوتے بھی نہ تھے ، بکرے کا گوشت بھی جب تک مسلمانوں کا حلال کیا ہوا نہ ہو، نہیں لیتے تھے۔ ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوے سندھ میں کھلے عام گاؤ کشی کبھی نہ ہوتی تھی۔ اونچے طبقے کے مسلمان تو ساری عمر بڑے گوشت کے پاس تک نہ پھٹکتے۔ شادی یا غمی میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہوتے جیسے ایک ہی قوم کے افراد، بلکہ آپس میں عزیز ہوں۔ مسلمانوں کی بڑی زمینداریوں، جاگیروں کو گھریلو آمدنی اور خرچ کا انتظام ہندو کارداروں اور منیموں کے سپرد ہوتا تھا۔ وہ دیہی زندگی کا مرکز تھے۔ بعض بڑے مسلمان گھرانوں میں تو عمر رسیدہ عورتیں اپنے ہندو کارکنوں سے پردہ بھی نہ کرتیں حالاں کہ عام طور پر وہ پردے کی سخت پابند ہوتیں۔ دیہی زندگی میں کوئی بھی اہم فیصلہ اس وقت تک نہ ہوتا جب تک گاؤں کا مُکھی بیچ میں بیٹھ کر دو معزز افراد کی بات نہ سن لیتا۔
	غرض سندھ کی سماجی زندگی باقی برصغیر کی سماجی زندگی سے بالکل مختلف تھی اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ یہاں ایک مشترک اور متوازن متحدہ کلچر یا معاشرہ اُبھر رہا تھا جس میں باہمی مذہبی اور معاشرتی تضادات سے زیادہ تصورات، معتقدات اور اقدار کا پہلو نمایاں تھا۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ سندھ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان یہ نفاق کیوں پیدا ہوا اور کب پیدا ہونا شروع ہوا۔
	جواب آسان ہے۔ 
	۱۹۲۰ میں آئینی اصلاحات نافذ ہوئیں اور تب سے ملک کی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ اسمبلیوں، میونسپلٹیوں، لوکل بورڈوں اور اسکول بورڈوں کی رکنیت کھلی اور جداگانہ انتخابات کا طریقہ رائج ہوا، ہندو ہندوؤں کو چنتے اور مسلمان مسلمانوں کو۔ ہر چلتے پھرتے آدمی میں اقتدار کی بُو پر نئی نئی ہوئیں اور امنگیں پیدا ہوئیں جنھوں نے کشمکش کا روپ لے لیا۔ مثلاً مسئلہ پیدا ہوا کہ ایک امیدوار کیوں کر خود کو دوسرے امیدوار کے مقابلے میں اپنی قوم میں مقبول بنا کر الیکشن جیتے اور اپنی ہوس کی تسکین کرے۔ سندھ میں نہ کوئی مستقل سیاسی پارٹی تھی نہ کوئی اقتصادی پروگرام جس کی بنیاد پر امیدوار ووٹروں سے اپیل کر کے ان سے فیصلہ حاصل کرتے۔ لوگوں کا ذاتی اثر و رسوخ بھی زیادہ دور تک نہ جاتا تھا، بہت سے ایسے شہری ہندو امیدوار میدان میں آ گئے تھے جنھیں دیہات میں کوئی پہچانتا بھی نہ تھا، اور ووٹ بیشتر دیہات میں تھے۔ اس لیے انھیں ضرورت محسوس ہوئی کہ ملک میں کوئی ایسا ہنگامہ مچایا جائے اور مسئلہ کھڑا کیا جائے جس کی بنیاد پر سیاست کے میدان میں اترنے والے شوریدہ سر نئے ہندو آسانی سے ووٹ حاصل کرنے کے حقدار بن جائیں۔ بدقسمتی سے ۱۹۲۰ کی اصلاحات کے بعد باقی ہندوستان کے ہندوؤں کو بھی اسی قسم کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی جس کے باعث انھوں نے تین چار تحریکیں یکدم شروع کر دی تھیں: شُدھی اور سنگٹھن، آریہ سماج اور ہندو مہاسبھا۔ ان سب کی سرتاج وہی پرانی کانگریس تھی جو بظاہر تو ہندوؤں اور مسلمانوں کی متحدہ پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی تھی مگر حقیقت میں اس کا مقصد بھی (اگرچہ ذرا بالواسطہ طور پر) ہندوؤں کی بالا دستی قائم کرنے کا تھا۔ چالاکی یہ تھی کہ جو ہندو ابھی پرانے حجاب کا پردہ اتار کر کٹر ہندو جماعتوں میں شامل ہونے کو تیار نہ تھے ، انھیں اس درمیانے پلیٹ فارم پر جمع کر کے اور اپنے ساتھ ملا کر آگے بڑھا جائے۔ سندھ کے ہندوؤں کا وہ گروپ جو ۱۹۲۰ کی اصلاحات کے بعد نئے سرے سے سیاست پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، ہندوستان کی ان تحریکوں میں سے ایک نہ ایک میں شامل ہو گیا۔ یہ سب پڑھے لکھے لوگ تھے ، دنیا کی مختلف تحریکوں کی تاریخ پڑھ چکے تھے۔ انھیں نظر آیا کہ کسی تحریک کو لوگوں میں تیزی سے پھیلانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی فریق سے دشمنی پیدا کی جائے جن کے بھوت سے اپنے لوگوں کو ڈرا کر، اور نفرت کی بنیاد پر انھیں منظم کر کے ، مقابلے کے میدان میں اتارا جائے اور ان کی رہنمائی اپنے ہاتھ میں لے لی جائے۔ 
	چناں چہ سندھی ہندو گروپ نے اس نسخے پر عمل کرتے ہوے بھوت کے طور پر مسلمانوں کو پیش کیا اور ہندوؤں میں ان کے خلاف نفرت کے بیج بونے شروع کیے۔ اس خرابی کے مرکز پہلے لاڑکانہ اور سکھر بنے ، جہاں سے پیش قدمی شروع ہوئی اور اس کی تائید کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص سے نکلنے والے ہندو اخبارات کرنے لگے اور باقی سندھ کے ہندوؤں میں زہر پھیلانے لگے۔ 
	لازم تھا کہ ہندوؤں کی سیاست کا یہ نیا رخ دیکھ کر مسلمانوں کے بھی کان کھڑے ہوں۔ اُن میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ ہندوؤں کے اس ایجی ٹیشن کے نتیجے میں ان کے حقوق پر حملہ ہو گا، مثلاً انھیں سرکاری نوکریوں میں پورا حصّہ نہ ملے گا اور اقتصادی اور معاشی نظام میں ایسی تبدیلیاں کرائی جائیں گی کہ سندھ کی تجارت تو پہلے ہی تمام کی تمام ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے ، اب مسلمانوں کی زمینیں بھی ہندو سود خوروں کے قبضے میں چلی جائیں گی۔ (اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہو گا کہ مسلمانوں کی چالیس فیصد زمینیں پہلے ہی ہندوؤں کے قبضے میں جا چکی تھیں، اور اس کے علاوہ بیس سے چالیس فیصد تک ان کے پاس گروی رکھی تھیں اور سندھ کے زرعی پیشے سے منسلک مسلمانوں کو بہ قانونی بچاؤ بھی حاصل نہ تھا جو پنجاب کے زراعت پیشہ لوگوں کو پہلے ہی حاصل ہو چکے تھے۔ ) اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہندوؤں میں بہت غرور پیدا ہو گیا تھا اور وہ مسلمانوں کو وحشی اور ذلیل سمجھنے لگے تھے۔ عام طور پر ہندوؤں نے خود کو باقی سندھ کے معاشرے سے کاٹ کر ایک علیحدہ اور نسبتاً اعلیٰ و ارفع سوسائٹی کے طور پر رہنا اور آگے بڑھنا شروع کر دیا تھا اور اس نئے رجحان نے سندھ کے بہترین روادار مسلمانوں کو بھی سخت دکھ پہنچایا۔ اس خرابی میں اگر اب بھی کچھ کسر رہ گئی تھی تو اسے ہندو اخباروں، ہندو سرکاری اہلکاروں اور ہندو لکھنے والوں نے پورا کیا۔
	میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ تمام کارروائی ہندوؤں کی نئی ہوسناک سیاسی پود کی تھی اور اس میں پرانی معاشرت کے ہندو بزرگوں کا کچھ قصور نہ تھا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بزرگ نیا زمانہ دیکھ کر سامنے سے ہٹ گئے اور پورا میدان ان  نا تجربہ کار، کوتاہ اندیش، فسادی اور کٹر فرقہ پرست لوگوں کے حوالے کر کے خود عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ وہ ان نئے لوگوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور سندھ کو، اپنے خاندانوں کو، بلکہ اپنی پوری برادری کو مصیبت میں ڈال دیا۔
	ہندو مسلم فسادات کی ابتدا لاڑکانے سے ہوئی، مارچ ۱۹۲۷ کی ۲۹ تاریخ کو، اور ایک مسلمان عورت کے معاملے پر۔ یہ کریماں نام کی عورت دیہات کے ایک مسلمان کی بیوی تھی جس کے اس سے چار بچے بھی تھے۔ کریماں ایک ہندو کے ساتھ بد راہ ہو کر لاڑکانہ بھاگ گئی اور بچوں سمیت ہندو آریہ سماجیوں کے ہاتھ پر (جنھوں نے شُدھی کی تحریک شروع کر رکھی تھی) مرتد ہو گئی، یعنی بچوں سمیت ہندو دھرم میں داخل ہو گئی۔ شہر کے مسلمانوں نے بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے کورٹ سے رجوع کیا لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ ہندوؤں نے اس بیچ کریماں اور اس کے بچوں کو اپنے پاس چھپا لیا تھا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں سے مل کر مایوس لوٹتے ہوے وفد کے کچھ مسلمان لڑکوں نے ہندوؤں کے چند سگریٹ کے کھوکھوں کو لوٹ لیا اور ہندو لڑکوں کو پتھر مارے۔ اس کے بعد شہر میں مزید چار پانچ ہندو دکانیں اس فساد سے متاثر ہوئیں۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مذہبی معاملے پر اشتعال پیدا ہونے کے باوجود ہندوؤں کا کوئی جانی نقصان نہ ہوا، نہ کوئی ہندو مارا گیا اور نہ شدید زخمی ہوا۔ ہندوؤں نے اس مختصر اور وقتی حادثے کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو پست کرنے کے لیے زوردار مہم  چلائی۔ ان پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے اور ۸۰ سے زیادہ مسلمان جیل میں ڈال دیے گئے۔ لاڑکانے کے نمایاں مسلمان قومی کارکنوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ خود خان بہادر محمد ایوب خاں کھوڑو کو، جو اس وقت بمبئی کاؤنسل میں مسلمانوں کے منتخب نمائندے تھے ، جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی جبکہ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ مسلمانوں کے ہمدرد تھے اور نئے نئے سیاست میں اُبھر رہے تھے۔ مسلمان ان جھوٹے مقدموں سے بری تو ہو گئے مگر جس مسلمان عورت اور اس کے بچوں کے مرتد ہونے سے یہ قضیہ شروع ہوا تھا وہ ہندوؤں ہی کے قبضے میں رہے۔ 
	جو بھی مسلمان رہنما ہندوؤں کو چلتا پھرتا دکھائی دیا، اُس پر انھوں نے ایک عدد فوجداری مقدمہ داخل کر دیا۔ مقصد یہ نہ تھا کہ انصاف ہو یا جن مسلمانوں نے واقعی جرم کیے ہیں اُنھیں سزا ملے ، حقیقی مطلب یہ تھا کہ لاڑکانے کے مسلمان قومی ورکروں کو موقعے کا فائدہ اٹھا کر فوجداری مقدموں کے ذریعے اس قدر بے حال کر دیا جائے کہ ان میں کسی کو پھر ہندوؤں کے مقابلے میں کسی بھی سلسلے میں آواز اٹھانے کی جرأت نہ ہو اور لاڑکانے شہر پر عملاً ہندوؤں کا راج قائم ہو جائے۔ اس طرح انھوں نے ایک ایسے چین ری ایکشن (chain reaction) کی بنیاد ڈال دی جس نے آگے چل کر نہ صرف ہندوؤں کو سندھ بدر کر دیا بلکہ سندھ کی قسمت بھی طوفانی لہروں کی زد میں آ گئی۔
	لاڑکانے کے فساد کے بعد فسادات کا سلسلہ ہندوؤں نے روہڑی ڈویژن اور سکھر شہر میں شروع کر دیا۔ یہ فسادات لاڑکانے کے مقدمات ختم ہونے کے تھوڑے وقفے بعد شروع ہوے اور ۱۹۳۱ تک جاری رہے۔ ان فسادات کے سلسلے میں ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف جو مقدمات قائم کیے وہ دو تین برس چلتے رہے اور مسلمان پامال ہوتے رہے۔ اس مصیبت سے جان چھڑانے کے لیے مسلمانوں نے سندھ کو بمبئی سے الگ کرا لیا۔ (سندھ کی علیحدگی کی سندھ کے ہندوؤں نے سخت مخالفت کی کیوں کہ بمبئی پریزیڈنسی میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔) ۱۹۳۶ میں سندھ الگ ہوا مگر ہندوؤں نے اس کا ثمر مسلمانوں کو پہنچنے نہ دیا۔ جیسا کہ الله بخش وزارت کے سلسلے میں دیکھنے میں آیا، وہ مسلمان اراکینِ اسمبلی اور امیدوارانِ وزارت کو آپس میں لڑا کر ایک نہ ایک فریق کو اپنے اثر میں رکھتے تھے۔ 
	۱۹۳۹ میں سکھر کی مسجد منزل گاہ کے سلسلے میں فسادات ہوے جو اسی عمومی ہندو مسلم کشمکش کے سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ 
	اس چین ری ایکشن کی مختلف کڑیاں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوتی رہیں، ملاحظے اور غور کے قابل ہیں:
	(۱) لاڑکانے کے فسادات اور مقدموں کے بعد پورے سندھ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تلخی بڑھتی گئی۔
	(۲) طرفین کے اخباروں نے اس تلخی کو بڑھانے کی کوشش کی۔
	(۳) سندھ کے دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح کے فسادات ہونے لگے۔ 
	(۴) مسلمانوں کو خوف ہونے لگا کہ ہندو انھیں برباد کر کے پورے سندھ پر اپنا سیاسی اور اقتصادی قبضہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
	(۵) مسلمانوں نے یہ بھی دیکھا کہ سندھ کے بمبئی پریزیڈنسی سے وابستہ ہونے کے سبب، پریزیڈنسی کی ہندو اکثریت کا فائدہ سندھ کے ہندو بھی اٹھا رہے ہیں، اور اس وابستگی کے باعث، اگرچہ سندھ میں مسلمان اکثریت میں ہیں، مگر عملی طور پر انھیں اکثریت کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
	(۶) اس وجہ سے مسلمانوں کی جانب سے سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کی تحریک شروع کی گئی جس کی ہندوؤں نے شدّت سے مخالفت کی، اور جس تناسب سے انھوں نے سندھ کی علیحدگی کی مخالفت کی اُسی تناسب سے مسلمانوں کو یقین ہوتا گیا کہ بمبئی سے تعلّق خود اُن کے حق میں واقعی نقصان دہ ہے اور ان کی نجات کا راز اسی میں مضمر ہے کہ سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے صوبہ بنایا جائے۔ اس تحریک کی رہنمائی خان بہادر محمد ایوب کھوڑو نے کی۔
	(۷) آگے چل کر سندھ آخر بمبئی سے الگ ہوا۔
	(۸) سندھ کے علیحدہ ہونے کے بعد ہندوؤں کی طرف سے یہی کوشش جاری رہی کہ مسلمان اکثریت کو اس علیحدگی کا فائدہ اٹھانے سے روکا جائے۔ 
	(۹) اس مقصد سے ہندوؤں نے ، اسمبلی میں مسلمان اکثریت کو توڑنے کی خاطر، متحد ہو کر یہ کوشش شروع کر دی کہ مسلمان گروپوں کو کبھی آپس میں مل کر کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے اور ان میں سے ہمیشہ کسی ایسے گروپ کو اقتدار میں رکھا جائے جس کا انحصار زیادہ تر مسلمان ووٹوں پر نہیں بلکہ ہندوؤں کے ووٹوں پر ہو۔
	(۱۰) ۱۹۳۷ میں "الگ یا آزاد سندھ" کے پہلے انتخابات ہوے۔ کامیاب مسلمان ممبروں کی اکثریت اگرچہ یونائیٹڈ پارٹی میں تھی اور سر غلام حسین کی مسلم پارٹی کو فقط چھ ممبروں کی پشت پناہی حاصل تھی، مگر اس کے باوجود جب گورنر سر لانسلاٹ گراہم نے وزارتِ عظمیٰ پر سر غلام حسین کو مقرر کیا تو ہندوؤں نے اسی چھ ممبروں والے گروپ کی حمایت کی۔ مقصد یہ تھا کہ چوں کہ سر غلام حسین کو مسلمان ممبروں کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے ، اس لیے انھیں بطور وزیرِ اعظم ہر وقت ہندوؤں کا محتاج رہنا پڑے گا۔
	(۱۱) اگلے سال، یعنی ۱۹۳۸ میں، ہندو سر غلام حسین سے بھی ناراض ہو گئے ، اس لیے انھوں نے ان کی حکومت کو ڈھا کر خان بہادر الله بخش کی وزارت قائم کرائی۔ کچھ مہینوں بعد خان بہادر الله بخش اور ان کے مسلمان حمایتیوں کے درمیان آبیانے کے معاملے پر اختلاف پیدا ہو گیا اور مسلمان ممبروں کی اکثریت ان سے الگ ہو گئی۔
	(۱۲) مسلمان ممبروں کی اکثریت نے الگ ہونے کے بعد ہندوؤں سے تقاضا کیا کہ چوں کہ الله بخش وزارت قائم کرتے وقت ان کا (یعنی ہندوؤں کا) معاہدہ ذاتی طور پر الله بخش سے نہیں بلکہ پوری پارٹی سے تھا اور یہ پارٹی الله بخش کی حمایت سے دست کش ہو گئی ہے ، اس لیے ہندو ممبروں کو بھی اکثریتی پارٹی سے اپنا تعلّق برقرار رکھتے ہوے الله بخش کا ساتھ چھوڑ دینا چاہیے۔ مگر ہندوؤں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے الله بخش کو اقلّیت، کمزوری اور محتاجی کی حالت میں دیکھ کر انھیں فوراً اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ان سے کچھ ایسے کام کرائے جن کے باعث مسلمانوں کو پہلے سے بھی بڑھ کر یقین ہو گیا کہ ہندوؤں کی نیت محض یہ ہے کہ سندھ پر ہمیشہ ایسی وزارت کو قائم رکھا جائے جس کی زندگی کا دارومدار ان کے ووٹوں پر ہو۔
	(۱۳) اس اسٹیج پر تمام ہندو ممبر، کانگریسی اور غیر کانگریسی دونوں قسم کے ، مل کر ایک ہو گئے اور پورے زور شور سے الله بخش کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ آل انڈیا کانگریس سے اپیلیں کی جانے لگیں، سردار پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد اور آچاریہ کرپالانی دہلی سے کراچی پہنچے۔ انھوں نے طرفین کا نقطۂ نظر سنا مگر فیصلہ وہی قائم رہا کہ مسلم اکثریت کی مخالفت کے باوجود الله بخش کی وزارت کو قائم رکھا جائے۔ 
	(۱۴) ہندوؤں اور کانگریسیوں سے حتمی طور پر ناامید ہو کر متعلّقہ مسلمان کارکنوں نے ، جن کے رہنما جی ایم سیّد صاحب تھے ، پہلی بار مسلم لیگ کی طرف رخ کیا۔ اس وقت تک سندھ میں مسلم لیگ کا نام و نشان بھی نہ تھا، حالاں کہ ہندوستان کے دوسرے حصّوں میں اس سے پہلے ہی، ۱۹۳۵ سے ، اس تحریک کا نیا اور آخری دور شروع ہو چکا تھا۔
	(۱۵) ۱۹۳۸ کے آخر میں سندھ کی سرزمین پر پہلی بار کراچی شہر میں قائد اعظم کی صدارت میں مسلم لیگ کی کانفرنس منعقد ہوئی جس کے سلسلے میں ہندوستان کے مختلف صوبوں کے مسلم لیگ کے رہنما سندھ میں آئے۔ کانفرنس بلانے کا فوری مقصد محض یہ تھا کہ الله بخش کی وزارت کے خلاف آواز اٹھائی جائے ، مگر ایک سیاسی سیلاب کو بند توڑ کر اپنی طرف رخ کرا لینے کے بعد کون روک سکتا تھا! کانفرنس کے نتیجے میں ہندوؤں نے پہلے سے بھی بڑھ کر الله بخش کی پشت پناہی شروع کر دی اور کانگریس کے نام پر خود بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے۔ 
	(۱۶) یہ کانفرنس اتنے عظیم پیمانے پر ہو رہی تھی کہ اسے دیکھ کر ہندوؤں کو فوراً ہوا کے رخ کا اندازہ کر کے محسوس کر لینا چاہیے تھا کہ ان کی شروع کی ہوئی پالیسی ہندو اقلیت اور مسلمان اکثریت کو مستقلاً ایک دوسرے سے جدا کر رہی ہے اور صوبے کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے جس کا نتیجہ جلد یا بدیر اقلیت ہی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ مگر ہندوؤں نے تدبر اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے زیادہ شوخی اور ضد کا راستا اختیار کیا۔
	(۱۷) آخر اسی کانفرنس میں، سندھ کے ہندوؤں سے ناامید مسلمان ورکروں کی تجویز پر، پاکستان سے متعلّق پہلی بار قرارداد منظور کی گئی۔ سندھ مسلم لیگ کانفرنس نے آل انڈیا مسلم  لیگ سے استدعا کی کہ چوں کہ ہندو یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں میں بھی مسلمانوں کو کوئی فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے ، اس لیے اب آل انڈیا مسلم لیگ کو کوئی ایسی اسکیم تیار کرنی چاہیے جس کے تحت مسلم اکثریت کے صوبے ہندوستان  سے الگ ہو کر اپنے طور پر ایک علیحدہ فیڈریشن قائم کر سکیں، جس کی بنیاد پر آگے چل کر پاکستان کا پورا نقشہ تیار کیا گیا۔
	(۱۸) اس کے بعد بھی ہندوؤں کو عقل نہ آئی۔ سکھر کے مسلمانوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ بندر پر ویران حالت میں پڑی منزل گاہ کی عمارتیں چوں کہ اولاً مسجد کے طور پر تعمیر اور استعمال کی گئی تھیں، اس لیے ان کا قبضہ واپس مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔ ہندوؤں نے حسبِ دستور اس مطالبے کو بھی ایک سیاسی اِشو بنا کر اس مطالبے کی مخالفت شروع کر دی۔ انھوں نے الله بخش پر دباؤ ڈالا کہ کسی بھی صورت میں مسلمانوں کی خواہش پوری نہ ہونے دیں۔ چناں چہ الله بخش نے انکار کر دیا اور مسلمانوں نے ستیہ گرہ شروع کر دی۔ الله بخش نے سختی دکھائی تو ستیہ گرہ نے خوں ریزی کی شکل اختیار کر لی۔ سیکڑوں ہندو مارے گئے ، ہزاروں مسلمان گرفتار ہوے۔ آخر میں مجبور ہو کر ہندوؤں کو الله بخش کی وزارت ختم کر کے خود اپنے ووٹوں سے مسلم لیگیوں کو وزارت کی مسند پر بٹھانا پڑا۔ اس دوران میں سرگباشی بھگت کنور رام بھی، ریل کے سفر کے دوران، رک اسٹیشن پر خواہ مخواہ قتل ہو گیا۔
	(۱۹) مگر جب منزل گاہ کا مسئلہ ختم ہوا اور صوبے میں سکون ہونے لگا تو ہندوؤں کو دوبارہ الله بخش کی یاد ستانے لگی۔ انھوں نے فوراً لیگ وزارت کو ڈھا کر الله بخش کو دوبارہ اقتدار میں پہنچا دیا۔
	(۲۰) سندھ کے مسلمان پہلے سے بھی زیادہ جوش سے پاکستان تحریک میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے نہ صرف بلکہ پورے ہندوستان میں، اپنے صوبے کی مثال سامنے رکھ کر، پاکستان کے حق میں کام کرنا شروع کر دیا۔ پورے ہندوستان میں سندھ کی اسمبلی پہلا قانون ساز ادارہ تھا جس نے پاکستان کے حق میں باقاعدہ قرارداد منظور کی تھی۔
	(۲۱) آخر ۱۹۴۷ میں پاکستان قائم ہو گیا اور سندھ کے ہندوؤں کو اپنا وطن چھوڑ کر ہندوستان جانا پڑا۔
	(۲۲) ۱۹۴۸ میں کراچی کو سندھ سے الگ کر دیا گیا۔
	(۲۳) ۱۹۵۵ میں سندھ بطور ایک علیحدہ صوبے کے ختم ہو کر مغربی پاکستان کا حصّہ بن گیا۔
٭٭٭



کراچی

زینت حسام

کراچی

	مجھے میٹھادر کے اس گھر کا صرف لکڑی کا وہ زینہ یاد ہے جس پر چلنے سے دھمک پیدا ہوتی تھی۔ ہم بچے اس پر کود کود کر چڑھتے اترتے اور وہ دھمک ایک گونج میں بدل جاتی۔ یا پھر پرانی وضع کے خوبصورت نمونے والے ٹائلوں سے بنا چمکدار فرش۔ میٹھادر کے بازار میں واقع اس چھوٹے سے چار منزلہ مکان کے نچلے حصے میں جوتوں کی دکان تھی اور ہر منزل پر دو کمروں پر مشتمل ایک فلیٹ۔ پہلی منزل پر دادا دادی اور دادا کی پہلی مرحوم بیوی کی اولاد، جنھیں سب بچے محمود بھائی کہتے تھے ، دوسری منزل پر بڑے ابا کا کنبہ، تیسری منزل پر امی ابا اور ہم بہن بھائی (اس وقت ہم دو بہنیں اور دو بھائی تھے ) اور چوتھی منزل پر چچا کا کنبہ۔ میں اسی گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ ۱۹۵۲ میں۔ کھارادر کے میٹرنٹی اسپتال میں کام کرنے والی ایک عیسائی نرس کی نگرانی میں۔
	ابا بیس سال کی عمر میں، ستمبر ۱۹۴۷ میں، کانپور سے کراچی آئے تھے ، امی اور ایک سالہ ضیاء (بھائی)، اور محمود بھائی کے ساتھ۔ پھر چچا اور تایا کا کنبہ آیا اور اس کے بعد دادا دادی کو بلایا گیا۔ چھوٹے تایا کانپور چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے اور نہ ہی کوئی پھوپھا۔ لہذا چاروں پھوپھیاں بھی اور ان گنت رشتے دار وہیں رہے۔ نانی نانا اور ماموں ممانی امی کی خاطر پاکستان آ گئے تھے۔ دادا، حاجی نظام الدین، کا شمار مسلمانوں کے محلے کرنل گنج کے معزز لوگوں میں ہوتا تھا۔ دادا کا کپڑوں کی چھپائی، بلاک پرنٹنگ، کا ایک چھوٹا سا کارخانہ تھا۔ دادا نمازی پرہیز گار تھے۔ اور بیٹوں کو بھی دین کی طرف راغب کیا۔ ایک مولوی بچوں کی تعلیم پر مامور تھے۔ بچے اسکول بھی جاتے لیکن زور دینی تعلیم پر رہا۔ مولوی صاحب مغربی تعلیم کے سخت خلاف تھے اور دادا کو، بقول ابا، بھڑکایا کرتے ، کہ بچوں کو اسکول بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ ابا باغی نکلے۔ مسجد سے بھاگتے۔ مولوی سے چڑتے۔ ابا کا کہنا ہے کہ ان خاندانی مولوی نے ابا کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے اتنا زچ کیا کہ ابا کا دل دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے بھی اچاٹ ہو گیا۔ چھٹی پاس کرنے کے بعد ابا نے اسکول کا دوبارہ رخ نہ کیا۔ کاروبار سے بھی ابا کو رغبت نہ تھی۔ ان کے مشغلے تھے : فلمیں دیکھنا، کتابیں پڑھنا دوستوں میں رہنا، گھومنا پھرنا، کباڑیوں کی دکانوں میں جانا، انوکھی چیزیں،خاص طور پہ پرانے کیمرے خریدنا اور تصویریں بنانا۔ تقسیم ہند سے پہلے ابا نے اپنی کھینچی ہوئی ایک تصویر الُلسٹریڈڈ  ویکلی آف انڈیا، کے ایک انعامی مقابلے میں بھیجی تھی جس کو انعام بھی ملا تھا۔ابا کے پاؤں میں چکر تھا۔ دل میں جنوں۔ لڑکپن ہی میں ہندوستان کے کئی شہر گھوم چکے تھے۔ اکثر دادا سے جھگڑ کر گھر چھوڑ جاتے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جب جرمنی نے برما پر حملہ کیا تو آسام خالی ہونے لگا۔ ابا نے ٹرین پکڑی اور آسام روانہ ہو گئے۔ ابا بتاتے ہیں اس ٹرین میں واحد مسافر ابا تھے۔ لڑکپن میں عشق ہو گیا تھا۔ ابا نے دھمکی دی کہ اگر اس لڑکی سے ان کی شادی نہ ہوئی تو وہ زہر کھا لیں گے۔ لیکن دادا بھی ضد کے پکے تھے۔ ابا اس بات پر بھی گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ پھر ایک سال بعد امی سے ان کا بیاہ کر دیا گیا۔ امی دادا کی پسند تھیں۔
	کراچی میں میٹھادر کے قریب کاغذی بازار میں نظام سلک ہاؤس کے نام سے بنارسی ساریوں ،کمخواب، زربفت کا مشترکہ کاروبار شروع کیا گیا۔ دکان میں ایک دو چھتی ہوا کرتی تھی۔ ابا کو اب تک دکانداری سے دلچسپی نہ ہوئی تھی۔ انھوں نے دو چھتی پر دیوار سے لگے لکڑی کے کھانچوں پر اپنی جمع کی ہوئی کتابیں سلیقے سے جمائیں۔ جب ابا کراچی آئے تھے تو کتابوں سے بھرے کئی صندوق کانپور کی کسی لائبریری کو دے دیے تھے اور صرف تین چار صندوق ہی ساتھ لا سکے تھے۔ دو چھتی میں فرش اور چاندنی بچھائی گئی تھی اور گاؤ تکیے رکھے ہوے تھے۔ دکان کی یہ دوچھتی دوپہر کے کھانے اور قیلولے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ ابا یا تو دکان میں پائے ہی نہ جاتے۔ آتے بھی تو سب سے گپ شب کر کے دوچھتی میں بیٹھ کر کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ گھر چھوٹا تھا اس لیے وہاں دو چار کتابوں سے زیادہ نہ رکھتے تھے۔ کتابوں کا ذخیرہ اردو ادب اور شاعری کے نسخوں، دیوانوں، ادب لطیف، عالمگیر، ہمایوں، ساتھی اور دوسرے رسالوں کے انبار پر مشتمل تھا۔ پچاس کی دہائی میں پاکستان سے نکلنے والے تمام رسالے ، سویرا، نقوش، داستان گو، لیل و نہار، نصرت وغیرہ کے تمام شمارے ابا محنت سے سنبھال کر رکھتے تھے۔ اکثر رسالوں کی خود نیلے رنگ کی جلد بناتے اور اپنا نام emboss کرتے۔ یہ کام ابا کانپور میں بھی کرتے تھے۔ کتابوں کی دنیا سے میرا پہلا تعارف کاغذی بازار کی دکان کی اسی دوچھتی میں ہوا۔
	میں جب پانچ برس کی ہوئی تو یہ مشترکہ خاندان میٹھادر سے اٹھ کر پیر الہٰی بخش کالونی کے ایک دو منزلہ مکان میں منتقل ہو گیا تھا جس میں لگے امرود کے پیڑوں کی پھل دار شاخیں دوسری منزل کے کمرے کی کھڑکی اور جچھے تک آتی تھیں۔ ہم بچے چلچلاتی دوپہر کی خاموشی میں کچے امرود توڑ توڑ کر کھاتے اور پیر کالونی کی خاک آلود گلیوں میں کھیلا کرتے۔ ایک سال بعد پھر نقل مکانی ہوئی۔ دادا کا انتقال ہو چکا تھا۔ محمود بھائی اپنے کنبے کے ساتھ ملیر جا بسے تھے۔ اب ہم سب لوگ شہید ملت روڈ سے متصل پنجابی سوداگران ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع کرایے کے دو منزلہ مکان میں اٹھ آئے تھے جس میں چار فلیٹ تھے۔ ایک فلیٹ میں دہلی کا ایک مختصر سا خاندان تھا (والدین اور دو لڑکے ، مسعود، ہارون)۔ باق تین فلیٹوں میں بڑے ابا، چچا، اور ابا اپنے اپنے ڈھیر سارے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوئے۔ یہ ۱۹۵۹ کی بات ہے۔ 
	تب کراچی کی زمین ہم بچوں کے لیے ایک وسیع کائنات تھی۔ سوسائٹی میں اکا دکا مکانات تھے۔ ہماری گلی میں صرف تین مکان تھے۔ ہمارے مکان سے متصل مالک مکان، تقی صاحب، کا گھر، اور گلی کے سرے پر ایک اور مکان۔ باقی پلاٹ خالی تھے۔ دوسری گلیوں میں بھی یہی صورت حال تھی۔ ہر گھر کے احاطے میں، اور احاطے سے باہر مختلف طرح کے پیڑ پودے ہوتے تھے۔ امرود، آم، شریفے ، گلاب، چمبیلی، موتیا احاطے کے اندر۔ اور باہر بادام، جامن، املی، نیم، گل مہر، بوگن ولا۔ ہمارے گھر کے عین مقابل ایک کھنڈر نما تھا۔ غالباً کسی نے چار دیواری اٹھائی تھی پھر کسی وجہ سے دیواریں منہدم کر دی گئی تھیں۔ اینٹوں کے ملبے ، ٹوٹی ہوئی دیواروں اور خودرو جھاڑیوں میں چھپکلیاں اور گرگٹ رینگا کرتے۔ احتشام بھائی جان اور انعام بھائی (میرے تایا زاد بھائی) گنیں لیے ان گرگٹوں کا شکار کیا کرتے۔ مجھ سے چھ برس بڑے ضیاء بھائی کا وقت انعام بھائی کے ساتھ گزرتا۔ نور الصباح، عائشہ، احترام (تایا زاد)، صبیحہ (چچا زاد)، میں، عذرا اور ریاض، ہم بچوں کا غول زیادہ وقت باہر ہی منڈلاتا رہتا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو باہر گھومنے کی یکساں آزادی تھی۔ ہم گلیوں اور سڑکوں سے سگریٹوں کے خالی پیکٹ اکٹھا کر کے ان کے قلعے اور مینار بناتے ، جن کو بنانے سے زیادہ ڈھانے میں لطف آتا۔ کانچ کی چوڑیوں کے ٹکڑے چن کر انھیں آگ دکھا کر زنجیریں تیار کی جاتیں۔ تب کراچی میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نہ ہوتے تھے۔ پلاسٹک کی تھیلیوں کا رواج نہ تھا۔ کاغذ کی پڑیوں یا پھر سلے ہوئے کپڑوں کے تھیلوں میں سودا آتا۔ سڑکوں پر کاغذ، سگریٹوں کے ڈبے اور ٹوٹی پھوٹی چیزیں پڑی تو ہوتی تھیں، لیکن گیلا کچرا نہ ہوتا تھا۔
	کراچی میں تتلیاں بھی بے تحاشا ہوتی تھیں۔ خاص طور پر برسات کے بعد۔ ہم بچوں نے تتلیوں کو مختلف نام دیے ہوئے تھے۔ سبز اور سیاہ بادشاہ تتلی، نارنجی پروں پر سیاہ و سفید دھبے والی ملکہ تتلی، نقرئی جامنی شہزادی تتلی۔ انعام بھائی نے ایک چھوٹا سا جالی کا ڈبہ بھی بنایا تھا جس میں وہ تتلیوں کو پکڑ کر بند کرتے۔ مجھے اور نور الصباح کو تتلیاں چھونے کا بڑا شوق تھا۔ ہم منت سماجت کر کے ڈبے سے تتلی نکلواتے پھر فخر کے ساتھ انگلیوں پر یہ اترے رنگ ایک دوسرے کو دکھاتے۔ بارش کے بعد میدان میں بیر بہوٹیاں امنڈ آتیں اور سب بچے ماچس کی خالی ڈبیائیں لیے بیر بہوٹیوں کو پکڑنے میں شام کر دیتے۔ پھر اپنی اپنی ڈھونڈی ہوئی بیر بہوٹیاں گنی جاتیں اور پھیلی ہوئی ہتھیلیوں پر رکھی سرخ مخملی مخلوق پر انگلیاں پھیری جاتیں۔ آج ۱۹۹۵ میں یہ بات یاد کرتے ہوئے بھی عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی میں کبھی بچے تتلیاں اور بیر بہوٹیاں پکڑا کرتے تھے۔ یا یہ کہ کبھی یہاں قدم قدم پر بڑے بڑے سبز پتوں والے بادام کے پیڑ ہوتے تھے اور زمین پکے ہوئی سرخ باداموں سے پٹی رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ کراچی سے بادام، امرود، جامن، شریفے اور املی کے پیڑ غائب ہوتے گئے اور شہر سفیدے کی لپیٹ میں آ گیا۔
	ابا اور امی دونوں ہی کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ امی بتاتی ہیں جن دنوں مجھ سے دو سال چھوٹی بہن پیدا ہوئی، امی صالحہ عابد حسین کا ناول "عذرا" پڑھ رہی تھیں۔ میرے بڑے بھائی، میرا اور اس بہن کا نام مولانا احتشام الحق (جن سے دادا کے خاندانی مراسم تھے ) نے تجویز کیے تھے : ضیاء الدین، زینت النساء، طلعت النساء۔ طلعت ان دنوں تین چار ماہ کی ہو گی۔ نام ساتویں دن طلعت رکھ دیا گیا تھا۔ لیکن امی کو عذرا ناول اس قدر بھایا کہ انھوں نے طلعت کا نام بدل کر عذرا رکھ دیا! امی ہم بچوں کو کہانیاں پڑھ کر سنایا کرتیں۔ کتابیں خریدنے کا شوق ضیاء بھائی، مجھے اور عذرا کو بھی تھا۔ ہم لوگ جیب خرچ کا زیادہ حصہ کتابیں اور رسالے خریدنے میں صرف کرتے۔ اس زمانے میں بچوں کی (اردو) کہانیاں چار آٹھ آنے ، روپے دو روپے میں آتی تھیں۔ انگریزی کی Archie کامکس اور رنگین با تصویر، عمدہ نیوز پرنٹ پر چھپی Fairy tales ایک روپے میں ایک ملا کرتیں۔ یہ ۱۹۶۰ کی دہائی کی بات ہے۔ ہم بچوں کی کتابیں اور رسالے تو گھر ہی میں لڑھکتے پھرتے لیکن ابا اب تک اپنی کتابوں اور رسالوں کا ذخیرہ کاغذی بازار میں واقع نظام سلک ہاؤس کی دوچھتی ہی میں کر رہے تھے۔ دو کمروں کا تنگ فلیٹ تھا اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد۔ ابا صرف چند ایک کتابیں دیوار میں بنی الماری میں رکھا کرتے۔ جس کے پٹ ہمیشہ بند رہتے۔ رات کو سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر ابا مجھ سے الماری کھلواتے۔ جس کی کنڈی مجھے مونڈھے پر چڑھ کر کھولنی پڑھتی۔ پھر ایک کتاب نکلواتے مجھے صرف ایک کتاب یاد ہے ، ممتاز مفتی کی "علی پور کا ایلی"، یہ ایک بے حد ضخیم کتاب تھی۔ مجلد۔ اور سبز وخاکی ڈسٹ کور پر غالباً ٹڈے بنے ہوئے تھے۔ میں یہ کتاب مونڈھے پر چڑھ کر احتیاط سے نکال کر ابا کو دیتی۔ ٹڈے کی سرورق پر بنی تصویر دیکھ کر ایک دفعہ میں نے پوچھا "ابا، کیا یہ ٹڈے کی کہانی ہے ؟ اور ابا نے ہنس کر کہا تھا "ہاں،۔ ابا سے مجھے ایک شکایت تھی۔ وہ اس کتاب کے دوچار یا آٹھ دس صفحے پڑھ کر۔ نشان لگا کر مجھ سے واپس رکھوا دیتے۔ مجھے یہ بے صبری کہ آخر ابا اسے فوراً پوری کیوں نہیں پڑھ ڈالتے۔ 
	ابا کو گاڑی چلانے کا بڑا شوق تھا۔ ابا سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدتے اور ہر سال گاڑی تبدیل کرتے۔ کبھی آسٹن، کبھی ہل مین۔ فورڈ کی سفید اسٹیشن ویگن کی یاد بے حد واضع ہے۔ وہ ہم بچوں کو بہت پسند تھی۔ پچھلے حصے میں بیٹھ کر ڈکی کا دروازہ کھلا رکھا جاتا۔ خاندان کے تمام بچوں کو گاڑی میں بھر کر ابا سیر کرانے لے جاتے۔ کلفٹن میں کوٹھاری پریڈ ہم بچوں کی پسندیدہ جگہ تھی۔ ہم سب گنبد نما کھلی عمارت کے اطراف جودھ پوری  پتھر کی بنی چکنی ڈھلان پر چڑھ کر پھسلا کرتے۔ اتوار کے اتوار ہاکس بے ، سینڈز پٹ اور پیرا ڈائز پوائنٹ کا چکر لگتا۔ اکثر شام کو صدر میں واقع کیفے جارج میں ہم بچوں کو آئس کریم کھلانے لے جاتے۔ منگھو پیر بھی ایک دو دفعہ گئے۔ سٹی ریلوے اسٹیشن اور ایئر پورٹ بھی تفریح کی غرض سے جایا کرتے۔ ابا کے ایک دوست تھے ، M.F آئیس کریم فیکٹری کے مالک۔ ہم بچے اکثر ابا کے سر ہو جاتے کہ ہمیں ان کی فیکٹری کی سیر کرائیں۔ فیکٹری ملیر کے مضافات میں تھی اور آس پاس ان کے امرود کے باغات ہوا کرتے تھے۔ پہلے باغ جا کر جی بھر کر امرود کھائے جاتے۔ پھر فیکٹری کی سیر کرتے۔ آئس کریم کی لالچ میں۔ آئس کریم سے نہ صرف وہیں خاطر تواضع کی جاتی بلکہ M.F آئس کریم کے ڈبے تحفے میں ملتے۔ 
	سال میں ایک دفعہ ایک تفریح کا موقع بندر روڈ پر بھی ملتا۔ یہ دس محرم کو نکلنے والے تعزیے اور الم کے بڑے جلوسوں اور ماتم کے دیدار کا موقع ہوتا۔ یہاں ہم ماموں کے ساتھ جایا کرتے۔ نانا، نانی، ماموں اور ممانی اور میری ہم عمر خالہ ملیر میں رہتے تھے۔ یہ شیعہ محلہ تھا۔ آٹھ دس گھر سنیوں کے بھی تھے۔ ہم بچے آٹھ محرم سے نانی کے گھر رہنے آ جایا کرتے۔ محلے میں ہونے والی مجلسوں میں شریک ہوتے۔ چھریوں کا ماتم اور ذوالجناح دیکھنے کے چکر میں نو اور دس محرم کی راتوں کو جاگتے رہنے کی کوشش کرتے۔ جب نیند سے آنکھیں بوجھل ہونے لگتیں تو امی، نانی، یا ممانی کو تاکید کر کے کہ ہمیں جلوس کے وقت ضرور اٹھائیے گا، صحن میں بچھی چار پائیوں پر پڑ کر سو جاتے۔ واقعتاً ہمیں جلوس نکلنے پر جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا جاتا اور ہم بچے دروازے کھول کر دہلیزوں پر کھڑے ہو جاتے۔ تنگ گلیوں سے جب جلوس اور ذوالجناح گزرتے تو یہ سب اتنے قریب سے دیکھنے کی عجب خوشی ہوتی۔ بندر روڈ پر البتہ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ماتم دیکھا جاتا۔ اس زمانے میں لوگ گھروں کے دروازے کھلے ہی رکھتے تھے۔ اور بندر روڈ پر رہنے والے اتنے مہمان نواز ہوتے تھے کہ سب کو چھتوں اور منڈیروں پر ٹک کر جلوس دیکھنے کی بخوشی اجازت دے دی جاتی تھی۔ خاص طور پر بچوں کو۔
	اسی زمانے میں ابا نے سراج الدولہ روڈ کے اس پار دارالامان ہاؤسنگ سوسائٹی میں زمین خریدی۔ مکان کی تعمیر شروع ہوئی۔ اب ہم بچوں کی آوارہ گردی کا دائرہ وسیع تر ہو گیا۔ پلاٹ پر جانے کے بہانے ہم آس پاس کی گلیوں اور تھوڑے فاصلے پر واقع پہاڑی تک جانے لگے۔ یہ پہاڑی، جواب ہل پارک کہلاتی ہے ، بڑے بڑے پتھروں، جنگلی جھاڑیوں، خود رو پودوں اور گھاس پھوس سے ڈھکی ہوتی تھی۔ پہاڑی پر دو تین پگڈنڈیاں ہوتی تھیں جسے لوگ سوسائٹی کے دوسرے حصے تک پہچنے کے لیے استعمال کرتے۔ لیکن پہاڑی پر ہم بچے کبھی اکیلے جانے کی ہمت نہ کر پائے۔ احتشام بھائی جان کے پیچھے پڑتے کہ پہاڑی پر چلیں۔ اور سب بچے ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے دوڑتے پہاڑی پر چڑھتے۔ 
٭٭٭


راچیواباپنا مکان پ امنُ                                                                                                        
کورنگی کی کہانی 

	صبح کے نو بجے ہیں۔وسط مارچ کے سورج کی  چمکیلی کرنیں فضا کو آہستہ آہستہ گرما رہی ہیں۔ میں پل سے ہوتی ہوئی کورنگی انڈسٹریل ایریا سے گزر رہی ہوں۔ دو رویہ چوڑی سڑک کے دونوں اطراف ملیں اور فیکٹریاں ہیں۔ کراچی کے سائٹ ایریا کے برخلاف، جہاں غیر ملکی کمپنیوں نے فیکٹریوں کے اردگرد پیڑ پودے ، گل بوٹے لگا کر علاقے کو سر سبز کر دیا ہے ، کورنگی انڈسٹریل ایریا بنجر اور خاک آلود ہے۔ یہاں دو چار ہی غیر ملکی کمپنیوں کے پلانٹ ہوں گے۔ اکثریت مقامی کارخانوں کی ہے۔ فیکٹریوں کے باہر کہیں کہیں گھاس کے قطعے ہیں اور پودوں کی دو چار قطاریں نظر آتی ہیں۔ گویا کسی نے بادل ناخواستہ کوشش کی ہو اس علاقہ کو خوشنما بنانے کی اور پھر پھولوں کی کیاریوں کو تنہا چھوڑ گیا ہو۔ 	
	واقعتاً کورنگی اب ویران اور تنہا رہ گیا ہے۔ 
	تنہا اور زخم خوردہ، خوف و دہشت اور نفرت و جنوں کے جال میں الجھا ہوا۔
	کراچی کے غیر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے لیے کورنگی، جو کبھی شہر کا ایک پھلتا پھولتا، پر امن علاقہ تھا، آج اخبار کی صرف ایک کالمی روزانہ سرخی میں سمٹ کر گم ہو گیا ہے : ُ گولیوں سے چھلنی ایک لاش کورنگی میں پائی گئی۔ 
	ٹریفک کم ہے۔ دور دور تک کوئی پیدل چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ ایک پیلی ٹیکسی سڑک کے کنارے رکتی ہے اور ایک مرد چشمہ لگائے ، پینٹ، ٹائی میں ملبوس، بریف کیس ہاتھ میں لیے ٹیکسی سے اترتا ہے ، اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا فیکٹری کے گیٹ کے اندر غائب ہو جاتا ہے۔ میں گاڑی روکتی ہوں اور ٹیکسی ڈرائیور سے راستہ پوچھتی ہوں۔ تیسرے چوراہے پر دائیں ہاتھ کو مڑیں۔ وہ ہی ڈھائی نمبر کورنگی ہے۔ میں گاڑی اسٹارٹ کرتی ہوں۔
 	یہ کورنگی کا رہائشی علاقہ ہے۔ سڑک پر جا بجا گڑھے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی فٹ پاتھ پر لوگ چل رہے ہیں۔ کہیں کہیں بس کے انتظار میں لوگ کھڑے ہیں۔ سڑک کے وسط میں بنی سبز بیلٹ کیچڑ اور کوڑے کرکٹ سے اٹی ہوئی ہے۔ بچے کھیل رہے ہیں۔ میں گاڑی آہستہ کرتی ہوں اور لوگوں سے پتہ پوچھتی ہوئی آگے بڑھتی ہوں۔ ایک مرد، ایک لڑکا اور دو برقعہ پوش عورتیں باری باری مجھے پتہ سمجھاتی ہیں۔ میں اب بائیں ہاتھ کی سڑک پکڑتی ہوں۔ سڑک کے ایک طرف کیکر کی جھاڑیاں ہیں اور دوسری طرف ٹریفک: ایک سائیکل، ایک گدھا گاڑی اور ایک ٹیکسی۔
	کورنگی ٹاؤن شپ کی بنیاد ۱۹۵۹ کے ایک سروے کے بعد ڈالی گئی تھی۔ یہ سروے ایوب خان  نے یونانی ماہرین سے کروایا تھا۔ اس وقت کراچی میں ایک لاکھ انیس ہزار بے گھر خاندان تھے جو شہر کے مرکز  میں جھونپڑیوں اور کچے گھروں میں رہ رہے تھے۔ ۱۹۶۰ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وسطی شہر کو جھگیوں سے صاف کیا جائے اور ان خاندانوں  کو شہر کے مرکز سے اٹھا کر پندرہ میل پرے کورنگی میں آباد کیا جائے۔ رہائشی کالونیوں کے ساتھ ساتھ کورنگی انڈسٹریئل ایریا کی بھی داغ بیل ڈالی گئی تاکہ کورنگی کے مکینوں کو روزگار کے لئے شہر نہ آنا پڑے۔ 
	یہ بستی پینتیس سال پرانی ہے۔ 
	میں شمشاد بھائی کا گھر تلاش کرتی ہوں۔ ان کا گھرانہ بیس سال سے کورنگی میں مقیم ہے۔ ان کی بیوی شکیلہ سے میں نے فون پر بات کی ہے اور انھوں نے مجھے کورنگی کے دو چار متاثرہ خاندانوں میں لے جانے کی حامی بھری ہے۔ یہ وہ خاندان ہیں جو کراچی کے حالیہ پر تشدد واقعات سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
	شمشاد بھائی کراچی کے مختلف علاقوں کے مکانوں میں رنگائی کا کام کرتے ہیں اور عام طور پر گھر رات کو ہی پہنچ پاتے ہیں۔ ان کے نو بچے ہیں۔ تین لڑکے اور چھ لڑکیاں۔ سب سے بڑا لڑکا ۲۳ سال کا ہے اور نیوی میں ملازمت کرتا ہے۔ انیس سالہ علی گھر کے قریب کرایہ پہ لی ہوئی کریانے کی دکان پہ بیٹھتا ہے۔ نویں جماعت کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑ دی ہے۔ 
	میں شکیلہ سے باتیں کرتی ہوں۔ ہم علی کے دوست نعمان کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمیں ایک خاتون کے پاس لے جانے والا ہے جس کا انیس سالہ بیٹا دہشت گردوں کے ہاتھوں بیس دن پہلے قتل ہوا ہے۔ 
	شکیلہ کی بیٹی نے دالان کی ابھی ابھی دھلائی کی ہے۔ دوسری بیٹی کمروں کے فرش پر پوچھا لگا رہی ہے۔ یہ تین کمروں والا ۸۰ مربع گز پر بنا مکان ہے۔ گیٹ کے چھوٹے دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے۔ 
	"دوسرے علاقے کے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم یہاں کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلسل خوف، فکر و اندیشے اور ذہنی تناؤ نے ہماری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے ،"  وہ کہ رہی ہیں۔ ان کی آٹھ سالہ بیٹی محاصرے کی رات کے بعد بخار میں ہفتوں پھنکتی رہی۔ "پلنگ سے لگ گئی تھی۔ جب ذرا طبیعت سنبھلی تو کانوں میں انگلیاں دیئے رہنے لگی۔ ذرا سی آواز پر پلنگ کے نیچے چھپ جاتی، ہر وقت میرا دامن پکڑے رہتی۔ ڈاکٹر کے پاس لے گئی تو اس نے کہا "بچی دہشت زدہ ہو گئی ہے۔ " 
	میں بچی کو دیکھتی ہوں۔ دبلی پتلی، آنکھوں کے گرد حلقے ، اور ہلکی سی سرخی۔ لگتا ہے بہت دنوں تک روتی رہی ہے۔ 
	"میرا بیٹا جو کریانے کی دکان پر بیٹھتا ہے ، خاموش رہنے لگا ہے۔ بہت خوش مزاج بچہ تھا۔ ہمیشہ چہکتا رہتا تھا۔ اب تو چپ لگ گئی ہے۔ لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میری بڑی بہن کا گھرانہ بے حد پریشان ہے۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا اسپتال میں نفسیاتی ڈاکٹر کے زیر علاج ہے۔ "
	شکیلہ کی بڑی بہن پڑوس میں رہتی ہیں۔ ہم ان کے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ چھوٹے سے دالان کو ابھی پانی سے دھویا گیا ہے۔ غالباً کورنگی میں پانی کی قلت نہیں ہے ، میں سوچتی ہوں اور خاتون خانہ سے ہاتھ ملاتی ہوں۔
	"ایک شام دیکھا ننگے پیر گھر چلا آ رہا ہے۔ پیر مٹی میں اٹے ہوئے ، خراشیں پڑی ہوئیں۔ پوچھا جوتے کہاں گئے۔ کہنے لگا ’امی، فقیر کو دے دیئے‘۔ دوسرے دن گھڑی اتار کر کسی کو دے آیا۔ اپنے کپڑے بانٹنے شروع کر دیے۔ کہتا تھا غریبوں کو دے رہا ہوں۔ سکون ملتا ہے مجھے۔ پھر گھر کی چیزیں اٹھا اٹھا کر دینے لگا۔ برتن بھانڈے ، ٹیپ ریکاڈر، بہن بھائیوں کے کپڑے ، جوتے۔ ۔۔" سراج کی ماں مجھے دھیمے لہجے میں بتا رہی تھیں۔ سفید و سرمئی بال ملگجے ململ کے ڈوپٹے سے ڈھکے ہوئے ، اندر کو دھنسی ہوئی بے رونق شربتی آنکھیں، جو گہرے حلقوں کے باعث گول اور مزید نمایاں ہو گئی تھیں۔ رخسار کی ہڈیاں دھنسی ہوئی، چہرے پر باریک باریک لکیروں کا جال بچھا ہوا۔ کرب اور دکھ اور گزرے ہوئے سالوں کا جال۔ ساٹھ برس کی ہوں گی لیکن ستر پچھتر کی لگ رہی تھیں۔
	"پہلے تو میں سمجھا شاید تکبر آگیا ہے لڑکے میں۔ انا پیدا ہو گئی ہے اس کے اندر۔ کیونکہ میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرتا تو میری بات کاٹ دیتا۔ زور زور سے بولنے لگا تھا،" سفید شلوار کرتے میں ملبوس، گھٹے ہوئے بالوں پر سفید ٹوپی اوڑھے ہوئے ، خشخشی ڈاڑھی والے بزرگ، سراج کے والد، کہہ رہے ہیں۔
	"تو کیا گھر میں توڑ پھوڑ بھی۔۔۔۔" میں نے پوچھنا چاہا۔ 
	"نہیں، ایسی بات نہ تھی۔ توڑ پھوڑ نہیں کی کبھی اس نے "، انھوں نے بتایا۔
	"آفس جانا تو چھوڑ دیا ہو گا" میں نے سوالیہ انداز میں کہا۔
	"آفس وہ برابر جاتا رہا۔ لیکن وہاں بھی یہی باتیں شروع کر دی تھیں۔۔۔ امن چاہیئے ، سکون چاہیئے۔ بس ایک رٹ لگ گئی تھی۔ امن چاہیئے ، امن چاہیئے ،" سراج کی اماں بتا رہی تھیں۔
	"دراصل لاشیں دیکھ دیکھ کر اسے کچھ ہو گیا تھا۔ ندی کے راستے اسکوٹر پر آفس آتا جاتا تھا نا۔ روز شام مجھے آ کر بتاتا ’’امی، آج ایک لاش پڑی ہوئی تھی۔ گولیوں سے چھلنی، چہرہ اڑا ہوا۔ کیسے تڑپ تڑپ کر جان دی ہو گی۔‘‘ اور پھر جب محاصرہ ہوا، علاقے کے تمام لڑکوں اور مردوں کو فوجی لے گئے۔ اس کو بھی لے گئے۔ حالانکہ اس نے اپنا PAF کا کارڈ دکھایا تھا۔ چھوڑ تو اسی دن دیا۔ لیکن اس کے بعد سے ہی اس نے الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کر دیں اور گھر کا سامان باہر لے جا کر بانٹنے لگا۔"
	"دس بارہ ہزار کا سامان بانٹ دیا۔ چھوٹا سا گھر بار ہے ہمارا۔ یہاں ہر چیز ضرورت ہی کی خریدی جاتی ہے۔ بے ضرورت چیزیں تو ہیں نہیں کہ بانٹنا شروع کر دیں اور کوئی فرق نہ پڑے۔ دس بارہ ہزار کا سامان بانٹ ڈالا اس نے۔ " بزرگ نے دہرایا۔ سراج کی اماں نے پہلو بدلا۔ شاید وہ سامان کی مالیت کے بارے میں کچھ سننا نہی چاہتیں۔
	میں سوچتی ہوں: اس چھوٹے سے گھر کے مکینوں پر ان دنوں کیا بیتی ہو گی۔ گھر کے باہر قتل و غارت گری، دہشت گردی کی فضا، MQM الطاف گروپ ، حقیقی، پولیس اور رینجرز کے درمیان گولیوں کی بوچھاڑیں، پولیس اور نامعلوم دہشت گردوں کے آپس میں مسلحہ مقابلے ، گلیوں میں موت کے سائے۔ اور پھر محاصرے کی پیدا کردہ دہشت: گھروں کے اندر فوجیوں کا دندناتے ہوئے گھسنا، گھر کی چیزوں کو تہس نہس کرنا، الماریوں، صندوقوں کا سامان باہر پھینکنا ان ہتھیاروں کی تلاش میں جو کہ وہاں نہیں ہیں، مکینوں کی فکرو تشویش: اگر بیٹے کو اٹھا کر لے گئے تو کیا ہو گا؟ کیا کریں گے ؟ کس کے پاس فریاد لے کر جائیں گے ؟ کیسے یقین دلائیں گے کہ اس کا MQM سے کوئی تعلق نہیں؟ کیسے اس کی بے گناہی ثابت کریں گے ! نہ کسی صاحبِ اختیار کی سفارش ہے اور نہ جیب میں رقم۔ اگر لے گئے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ زندہ واپس آئے گا کہ نہیں! اور گھر میں سب سے بڑے کماؤ پوت کی بہکی بہکی باتیں، گھر کی اشیاء کو غریبوں میں تقسیم کرنا، باپ کی سرزنش، بیٹے کی اونچی ہوتی ہوئی آواز، چھوٹے بہن بھائیوں کا سہم کر دبکنا اور ماں کی سرگوشیاں "جانے دیں۔۔۔چھوڑیں بھی۔۔۔غریبوں ہی کو تو دے رہا ہے ، کوئی گناہ تو نہیں کر رہا۔۔۔"
	"دس بارہ دن بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں ہے۔ میں اسپتال لے گیا اسے۔ ایئر فورس کا اسپتال۔ ماری پور میں ہے۔ ڈاکٹر نے پوچھا،’کیا چاہتے ہو؟‘ اس نے کہا، ’  میں امن چاہتا ہوں۔ صرف امن‘ ڈاکٹر نے سوال کیا، ’امن کیسے قائم کیا جائے ؟ بندوق سے ؟ کلاشنکوف سے ؟‘ اس نے کہا، نہیں۔ صرف پیار محبت سے‘۔ ڈاکٹر نے کہا  "اسے داخل کرنا پڑے گا۔"
	سراج کو اسپتال میں داخل ہوئے ڈھائی ماہ ہو چکے ہیں۔ 
	سراج کی عمر ۲۵ سال ہے۔ گذشتہ سات سال سے پاکستان ایئر فورس میں ملازمت کر رہا ہے۔ "کاغذ پر اس کی نوکری انجن مکینک کی لکھی ہے ،" والد نے میرے دریافت کرنے پر بتایا، "لیکن وہ آفس میں کام کرتا ہے ،" انھوں نے آفس پر زور دے کر کہا۔
	"بی۔اے پارٹ ون کا امتحان پاس کر چکے ہیں۔ کمپیوٹر کورس بھی کیا ہوا ہے بھیا نے "، چار پائی پر ٹانگیں لٹکائے سولہ سالہ چھوٹی بہن بولی۔ چمکتی ہوئی شربتی آنکھیں، ناک میں لونگ، گالوں پر مہاسے ، سر پر قرمزی چنری۔ وہ ماں کے پہلو سے لگی چار پائی پر بیٹھی ہوئی ہے اور والد صوفے کے دوسرے کنارے پر۔ کمرے کی دیواریں سبز تھیں۔ فرج کونے پر رکھا ہے ، ٹی وی   سامنے اور ٹیلی فون تپائی پر دھرا ہے۔ 
	"بی اے کا امتحان کیا ملازمت کے دوران دیا؟ "میں پوچھتی ہوں۔ "ہاں، بڑا محنتی اور ذہین لڑکا ہے۔ PAF کے کچھ تکنیکی کورسز بھی کر چکا ہے "۔ والد کے چہرے پر ٹھیراؤ کی کیفیت ہے۔ لکیروں کا جال ابھی اتنا گہرا نہیں ہوا ہے۔ 
	سراج کے ماں باپ ۱۹۴۹ میں پاکستان آئے تھے۔ ابتدا میں کراچی ایئر پورٹ کے قریب جھگیوں میں رہے ، پھر ملیر اٹھ آئے۔ "۱۹۷۵ میں ہم نے ایک چھوٹا سا پلاٹ خریدا اور یہاں مکان بنوایا۔ اس زمانے میں کورنگی میں امن و امان تھا۔ ۱۹۸۵ کے بعد MQM یہاں بے حد مقبول ہو گئی۔ لیکن اس وقت بھی سکون تھا۔ لڑائی جھگڑے والی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔ یہ حال تو صرف MQM کے دو دھڑے بننے کے بعد ہوا، جب حقیقی بنی۔ ڈھائی تین سال پہلے کی بات ہے۔ عزیز آباد، نائن زیرو کے بعد MQM الطاف گروپ کا سب سے بڑا مرکز گورنگی ہے۔ MQM اور حقیقی دونوں کے لڑکے اتنے منجھے ہوئے ہیں کہ وہ کارروائی کے بعد فوراً غائب ہو جاتے ہیں اور بے گناہوں کی شامت آتی ہے ، پولیس اور رینجرز والوں کے ہاتھ،" وہ کہہ رہے ہیں۔
	"جب فوجی ہمارے گھر کی تلاشی لینے آئے تو میں نے کہا جو لینا ہو صندوق سے نکال لو۔ پھر میں نے پوچھا ’کب سے ڈیوٹی پر ہو؟ تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔ آرام کرو‘۔ چائے بنوا کے دی۔ ہمارے کچھ رشتہ دار پنڈی، ملتان، اور لاہور میں شروع سے آباد ہیں۔ پنجاب آتا جاتا رہتا ہوں اس لیے پنجابی آتی ہے۔ ایک فوجی نے پوچھا ’چچا، کہاں کے رہنے والے ہو، میں نے کہا لاہور کا رہنے والا ہوں۔ انھوں نے گھر کا کوئی سامان نہ چھوا اور خاموشی سے نکل گئے ،" سراج کے والد کی مسکراہٹ میں تلخی ہے۔ 
	سراج کی طبیعت اب سنبھل چلی ہے۔ وہ کراچی کے حالات سے باخبر رہتا ہے۔ اسپتال میں باقاعدگی سے اخبار پڑھتا ہے ، ٹی وی دیکھتا ہے۔ لیکن اب اس کی امن، امن کی رٹ ختم ہو چلی ہے۔ "اب وہ set ہو گیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں دوائیوں کا کورس پورا ہو جائے تب چھٹی ملی گی۔ عید پر آیا تھا پانچ دنوں کے لیے ،" والد بتا رہے ہیں۔
	ہم شکیلہ کے گھر واپس آتے ہیں۔ لڑکے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ نعمان اپنے ساتھ انور کو لے کر آیا ہے۔ انور کی عمر چھبیس ستائیس سال ہے لیکن وہ پینتیس کا نظر آتا ہے۔ سنولایا ہوا سنجیدہ چہرہ، سوچ میں ڈوبی آنکھیں۔ وہ خاموش ہے۔ انور MQM کا کارکن ہے۔ 
	"یہ اس لڑکے کا ماموں ہے جس کا قتل ہوا تھا۔ قاتل اس کی تلاش میں آئے تھے۔ اس وقت یہ وہاں نہ تھا۔ انھوں نے بھانجے کو مار دیا، "شکیلہ مجھے سرگوشی میں بتاتی ہیں۔ "یہ اپنی بہن کے گھر سوئم کے بعد سے نہیں گیا ہے۔ کہتا ہے ، آپا کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ روتا ہے کہ ’میں اس دن وہاں کیوں نہ ہوا۔ موجود ہوتا تو مجھے قتل کرتے ، بھانجا زندہ ہوتا‘۔
	میں گاڑی کھڑی کرتی ہوں۔ گھر کے سامنے میدان ہے۔ غالباً یہ چوڑی، دو رویہ سڑک کی جگہ ہے جواب معلوم نہیں کتنے برس بعد بنے گی۔ فی الوقت کورنگی میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے کوئی ترقیاتی کام ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ سڑک کے ایک کنارے کیکر کی گھنی جھاڑیاں ہیں اور دوسری جانب ساٹھ مربع گز پر بنے مکانات کی ایک سنسان قطار۔ گھروں کے دروازے بند ہیں۔ دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا گو کہ گیارہ بجے کے آس پاس کا وقت ہے۔ گھر کے تھوڑا آگے جھاڑیوں کو کاٹ کر میدان صاف کیا گیا ہے۔ اور ایک باڑا نظر آ رہا ہے۔ بھینسیں جگالی کر رہی ہیں اور فضا میں گوبر، چارہ اور دودھ کی ملی جلی مہک بسی ہوئی ہے۔ 
	انور اپنی بہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک بوڑھا آدمی دروازہ کھولتا ہے۔ میں اور شکیلہ اندر داخل ہوتے ہیں۔ لڑکے باہر ہی کھڑے ہیں۔
	ہم صوفے پر بیٹھے ہیں۔ کمرہ چھوٹا ہے اور فرش پر دری بچھی ہوئی ہے۔ مقتول لڑکے کی ماں ایک بھاری جسم کی عورت ہیں۔ چالیس کے پیٹے میں۔ ان کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی ہیں۔ وہ کمرے کا سامنے والا دروازہ، جس پر ایک موٹا سیاہ تالہ لٹکا ہوا ہے ، کھولتی ہیں۔ کمرہ سورج کی تیز چبھتی ہوئی روشنی سے اچانک بھر جاتا ہے۔ وہ میرے برابر آ بیٹھتی ہیں۔ "ایک وقت تھا ہم سب رات کو یہ دروازہ کھول کر اس کمرے میں سویا کرتے تھے۔ اتنا امن و امان تھا گورنگی میں۔ اب تو یہ موٹا تالہ اندر سے دن رات لگائے رہتی ہوں"۔ پھر وہ اس بھیانک صبح کا نقشہ کھینچتی ہے جس کی یاد زندگی بھر ان کو کچوکے دیتی رہے گی۔
	"صبح کے سات بجے ہوں گے جب کسی نے دستک دی۔ میں پراٹھوں کے لیے آٹا گوندھنے کے بعد ہاتھ دھو رہی تھی۔ میں نے پوچھا کون ہے ؟ آواز آئی ’انور ہے ؟‘ میں سمجھی انور کا کوئی دوست ہو گا۔ کبھی میرا بھائی میرے گھر ہی رات رہ جاتا ہے۔ اماں قریب ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس صبح انور نہیں تھا۔ ’اچھا، منو کو بھیج دو۔ کیسٹ کا پوچھنا ہے‘ ، آواز آئی۔ میرے بیٹے نے حال ہی میں وڈیو کیسٹ کی دکان set کی تھی۔"
	"اس صبح منو کی آنکھ آواز سے فوراً کھل گئی۔ عام طور پر وہ دیر تک سوتا تھا اور اٹھائے نہیں اٹھتا۔ اتنی گہری نیند ہوتی تھی اس کی۔ لیکن اس دن قضا جو آئے تھی۔ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ کھڑا۔ بنیان پہیے ہوئے تھا، قمیض اٹھائی اور باہر نکل آیا۔ ’اماں ابھی آتا ہوں۔‘ اس آدمی نے غالباً اس سے کچھ کہا اور منو اس کے پیچھے چلا گیا۔ اور پھر مجھے گولیاں کی باڑھ کی دل دہلانے والی آواز آئی۔ میں سمجھی دوبارہ محاصرہ ہو گیا ہے۔ میں باہر بھاگی کہ منو سے کہوں فوراً اندر آ جائے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان گولیوں کا نشانہ میرا بیٹا ہی بنا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو بچہ زمین پر پڑا ہوا تھا۔ گولیوں نے اس کے چہرے اور ٹانگوں کو چھلنی کر دیا تھا۔ آج تک محلے والوں نے میرے ناخن تک نہ دیکھے تھے لیکن اس وقت مجھے اپنا ہوش نہ تھا۔ بس اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور ختم۔"
	"اتنا معصوم تھا میرا بچہ۔ ہر ایک سے محبت کرنے والا۔ محلے والوں کے کام کرتا۔ سب کا لاڈلا تھا۔ خدا معلوم اسے کیوں مار ڈالا۔ تین سال پہلے اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ بڑا عرصہ بیمار رہے۔ منو اس وقت نویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ باپ کے مرنے پر مجھ سے کہتا تھا، اماں تم فکر نہ کرو بس اب میں گھر چلاؤں گا۔ پڑھائی چھوڑ دی اور ادھر ادھر چھوٹا موٹا کام کیا۔ جب مستقل روزگار نہ لگا تو بولا اماں میرا حصہ دے دو۔ چند سالوں میں تمہیں یہ روپیہ واپس لوٹا دوں گا۔ ان کے پرویڈنٹ فنڈ کے تیس ہزار پڑے تھے میرے پاس۔ اس نے ایک وڈیو کیسٹ کی دکان لگائی تھی ایک ماہ پہلے۔ "
	میں اٹھ کر منو کی سولہ سالہ بہن سے ملنے اندر جاتی ہوں۔ سر پر ڈوپٹہ، جذبات سے عاری، ساکت چہرہ۔ "اس کو سکتہ ہو گیا تھا بھائی کی موت پر۔ نویں میں پڑھ رہی تھی۔ اسکول چھوڑ دیا ہے۔ میرا چھوٹا بیٹا ساتویں میں پڑھ رہا تھا وہ بھی اسکول سے اٹھ گیا ہے۔ وڈیو کی دکان میں بیٹھتا ہے۔ کہتا ہے آگے نہیں پڑھے گا۔ ۱۵۰۰ روپے پینشن کے ملتے ہیں۔ میں نے والد صاحب کو گھر بلا لیا ہے تاکہ بچوں پر نظر رکھیں گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔"
	کورنگی جیسے علاقوں میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد شہر کے دوسرے علاقوں کی نسبت ویسے ہی زیادہ ہے۔ آٹھویں کے بعد والدین عام طور پر لڑکیوں کو اٹھا لیتے ہیں کیونکہ وہ تمام بچوں کے اسکول کے اخراجات کے محتمل نہیں ہو سکتے۔ بعض گھروں میں اس عمر میں لڑکوں کو روزگار پر بٹھانا لازمی ہو جاتا ہے یا پھر لڑکے پڑھائی میں عدم دلچسپی کی وجہ سے خود ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان علاقوں کے اسکول فائرنگ اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے آئے دن بند رہتے ہیں۔
	ہم گھر سے باہر آتے ہیں۔ لڑکے سرگوشیوں میں باتیں کر رہے ہیں۔ انور ہمیں خدا حافظ کر کے چلا جاتا ہے۔ شکیلہ کا بیٹا اور اس کا دوست ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہیں۔ "وہ لوگ سمجھ رہے تھے یہ جماعت اسلامی والوں کی گاڑی ہے کچھ عرصہ پہلے جماعت اسلامی کا آدمی آیا تھا۔ فیچر لکھنے۔ لیکن جب اس کا مضمون آیا تو صرف جماعت کی تعریفوں سے بھرا ہوا تھا۔ جماعت نے کورنگی میں یہ کیا، جماعت نے وہ کیا۔" وہ بڑبڑا رہا تھا۔ تو جماعت اسلامی بھی کورنگی میں موجود ہے۔ میرا خیال تھا یہ صرف اور صرف MQM کا علاقہ ہے۔ 
	ہم شکیلہ کے گھر واپس لوٹتے ہیں۔ "ہمیں پیغام ملا ہے کہ ہم آپ کو کسی اور گھر نہ لے جائیں۔ یہ پیغام کل رات سیکٹر یونٹ میں آگیا تھا لیکن مجھ تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ وہ کہتے ہیں آپ کو نائن زیرو سے اجازت لینی ہو گی"، نعمان کہہ رہا ہے۔ 
	میں اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں: میں نے آنے سے پہلے شکیلہ کو فون کیا تھا۔ شکیلہ نے اپنے بیٹے علی سے تذکرہ کیا ہوا ہو گا اور اس نے اپنے دوست نعمان کو بتایا ہو گا۔ نعمان ایم کیو ایم کا کارکن ہے۔ نعمان نے انور سے رابطہ کیا ہو گا جو MQM کا سرگرم کارکن ہے ، اور بتایا ہو گا کہ میں فیچر کے لیے آ  رہی ہوں، ان خاندانوں کے بارے میں جو دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔انور نے یونٹ انچارج سے بات کی ہو گی جس نے سیکٹر انچارج سے رابطہ کیا ہو گا اور وہاں سے نائن زیرو فون کیا گیا ہو گا اور نائن زیرو نے اجازت نہ دی ہو گی۔
	 لیکن یہ پیغام اس وقت پہنچا جب میں منو کی اماں سے باتیں کر رہی تھی۔
	"میں کوئی سیاسی نوعیت کا مضمون نہیں لکھ رہی ہوں۔ میں صرف متاثرہ خاندانوں کی عورتوں سے باتیں کرنا چاہ رہی تھی۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون کس پارٹی سے منسلک ہے "، میں اس لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔
	"تو کیا تم مجھے ان خاندانوں سے بھی ملنے نہ دو گے جن کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں؟" میں نے پوچھا۔
	"نہیں، میرا خیال یہ مشکل ہو گا،" وہ کچھ سوچتا ہے ، "اچھا، میں مقصود بھائی کو Page کرتا ہوں"۔ میں دوسرے کمرے میں شکیلہ کے بیٹیوں سے باتوں میں مصروف ہو جاتی ہوں اور نعمان فون کے پاس بیٹھ کر pager کے پیغام کا انتظار کرتا ہے۔ دن چڑھتا جا رہا ہے۔ اور میری بے صبری بڑھ رہی ہے۔ "آپ ٹھہریں، میں سیکٹر والوں سے بات کرتا ہوں"۔ وہ باہر جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد واپس آتا ہے۔ "ٹھیک ہے۔ آپ میرے ساتھ آئیں"۔ باہر ایک لڑکا کھڑا ہے۔ تیس کے لگ بھگ ہو گا۔ وہ میرا نام پوچھتا ہے میں "آج" کا ایک شمارہ اسے دیتی ہوں۔ وہ رسالہ ہاتھ میں لیتا ہے۔ دو چار ورق الٹا ہے اور مجھے واپس کر دیتا ہے۔ "میرے ساتھ آئیے "، وہ کہتا ہے۔ ہم تینوں چلتے ہیں۔ گلی کے اختتام پر ایک میدان ہے۔ میدان پار کرنے کے بعد ہم دائیں مڑتے ہیں اور پھر بائیں گلی کے کنارے پہنچتے ہیں۔ وہ آدمی کہتا "آپ یہیں رہیں۔ آفس میں لوگ ہیں۔ میں ابھی آتا ہوں۔ "یہ کہہ کہ وہ گلی سے نکل کر غائب ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک موٹا تازہ، چوڑا چکلا آدمی نمودار ہوتا ہے۔ یہ چالیس کے لگ بھگ ہو گا۔ میں اپنی کہانی دہراتی ہوں۔ "میں عزیز آباد بھی جانا چاہتی ہوں" میں ٹکڑا لگاتی ہوں۔ "آپ کو مرکز سے اجازت لینا ہو گی پھر آپ کو ہر گھر میں لے جایا جا سکتا ہے۔ کورنگی ہو یا عزیزآباد"۔ وہ رسالہ ہاتھ میں لیتا ہے اور   ایک نظر ڈال واپس کر دیتا ہے۔ پھر دونوں آدمی گلی سے نکل کر غائب ہو جاتے ہیں اور میں نعمان کے ساتھ واپس چل پڑتی ہوں۔ جس گھر کی دیوار کے ساتھ ہم لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے اس کا دروازہ کھلتا ہے اور دو عورتیں سر نکال کر باہر جھانکتی ہیں۔ میں انھیں دیکھ کر مسکراتی ہوں۔ جواب میں وہ بھی مسکراتی ہیں۔ شاید یہ دیوار سے لگی سب باتیں سن رہی تھیں، میں سوچتی ہوں۔
	گلی میں چلتے ہوئے مجھے لگتا ہے گھروں کے مکینوں کی آنکھیں دروازوں کی جھریوں، کھڑکیوں کی اوٹ سے مجھ پر اور نعمان پر لگی ہوئی ہیں۔ کوئی دروازہ کھول رہا ہے کوئی کھڑکی بند کر رہا ہے۔ ایک گھر کے چھت سے ایک بوڑھا آدمی ہم دونوں کو غور سے دیکھتا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں چھت پر ٹہلنا؟ شاید اس محلے کے لوگ عام حالات ایک دوسرے پر نظر رکھنے کے عادی ہیں اور آج کل تو کورنگی کے حالات بہت خراب ہیں۔ کوئی تعجب نہیں اگر وہ ہر ایک کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہو گئے ہوں۔
	 میں شکیلہ کے گھر واپس آتی ہوں۔ نعمان اب تک ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی  چھوٹی چھوٹی گہری آنکھیں ہوئی سرخ ہو رہی ہیں۔ اس کا چہرہ جذبات سے عاری ہے۔ خدا جانے اندر کتنے طوفان دفن ہیں، میں سوچتی ہوں۔ محاصرے کے دن نعمان کو رینجرز لے گئے تھے۔ اٹھارہ دن رکھا۔ اس نوجوان پر کیا گزری ہو گی۔
	’تم پڑھتے ہو؟‘ میں بات شروع کرتی  ہوں۔ "میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی،" وہ کہتا ہے ، "تین سال تک میں صدر میں ایک سنار کی دکان پر کام کرتا رہا۔ پھر ابا کی درزی کی دکان پر بیٹھنے لگا۔ لیکن ابا بیمار رہتے ہیں اور دکان آئے دن بند ہوتی ہے۔ مجھ سے اب وہاں نہیں بیٹھا جاتا ہے۔ " تو آج کل کیا کر رہے ہو؟ "سنار کی دکان پر دوبارہ جانے لگا ہوں"۔ ’آج نہیں گئے ؟‘وہ خاموش ہے۔ 
	نعمان کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ دو بڑے بھائی شادی شدہ ہیں اور بیوی بچوں کے ساتھ الگ رہتے ہیں۔ ایک بھائی امریکہ میں ہے اور ایک ایم کیو ایم میں۔  "یہ بھائی ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔" 
	فوجیوں نے اس کے ساتھ کیا کیا اٹھارہ دن تک؟ "انھوں نے ہماری آنکھوں پر اٹھارہ دنوں تک پٹی باندھے رکھی۔ جس کمرے میں مجھے رکھا گیا تھا وہاں ۳۲ لڑکے تھے۔ وہ ایک بے حد تنگ کمرہ تھا۔" میں تصور کرنے کی کوشش کرتی ہو۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں ۳۲ لڑکے جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ کیا وہ سب کے سب فرش پر بیٹھ سکتے تھے ؟ یا کھڑے تھے ؟ اور بنیادی ضروریات؟ 
	"دو دن میں انھوں نے انہوں نے ہمیں پاخانے تک آنا جانا سکھا دیا تھا۔ کھانے کو دیتے تھے۔ ہر تیسرے دن ہمیں بیان دہرانا ہوتا تھا۔ اگر ایک لفظ کا فرق ہو جاتا تو مارا جاتا۔ اٹھارویں دن مجھے پولیس اسٹیشن لایا گیا اور وہاں سے رہا کیا گیا"۔ نعمان نے مختصراً بتایا۔
	’تم MQM چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟‘ میں پوچھتی ہوں۔ "اب دلی لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ " وہ بچوں کی طرح مسکراتا ہے۔ 
	چار سال پہلے نعمان کے بھائی نے امریکہ کی ویزا لاٹری میں درخواست ڈالی تھی۔ اس کا نام نکل آیا۔ جب سے وہ وہیں ہے۔ تم امریکہ جانے کی نہیں سوچتے ؟‘ میں نے سوال کرتی ہوں۔ "مستقبل کی سوچ ختم ہو گئی ہے۔ خدا جانے ایک گھنٹے بعد کیا ہو جائے۔ ایسے میں کل کا سوچنا ناممکن ہے "، اب اس کی مسکراہٹ تھکی تھکی سی ہے۔ 
	میں اس نوجوان لڑکے کی اندر کی دنیا کے بارے میں سوچتی ہوں۔ کیسی دنیا ہو گی یہ؟ خوابوں کی دھنک، امید کی کرنوں اور جوان محبت کی آرزوؤں کے بغیر یہ دنیا کتنی تاریک ہو گی! فکر و اندیشہ، نفرت و انتقام، گولیاں اور خون، پولیس اور رینجرز اور نائن زیرو۔ تنگ دائروں کے درمیان گھومتی ہوئی دنیا۔ مجھے اپنے اندر ایک سنسسناہٹ دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ 
	نعمان اٹھارہ دن بعد گھر آیا تو شکیلہ اپنے بیٹے اور نعمان کو اس کے گھر والوں کی اجازت سے لاہور لے گئیں۔ "میں لاہور رشتہ داروں کے پاس رک گئی اور نعمان اور علی کو اسلام آباد اور مری بھیج دیا۔ نعمان کو تبدیلی کی شدید ضرورت تھی۔ اس کی اماں کا بھی خوف اور دکھ سے برا حال تھا کہ کہیں دوبارہ نہ اٹھا لے جائیں،" وہ بتاتی ہیں۔ 
	ان محلوں کے مکینوں کی زندگیاں آپس میں اس طرح گتھی ہوئی ہیں کہ ایک خارجی شخص کے لیے اس کو سمجھنا مشکل ہے۔’کیا آپ کو کبھی یہ ڈر نہیں لگتا کہ کہیں آپ کے بیٹے بھی ان چکروں میں نہ آ جائیں؟ میں شکیلہ سے سوال کرتی ہوں۔ آخر وہ MQM کے لڑکوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ "ہماری زندگی جہنم بن کے رہ گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے  میں خوف اور وسوسوں کی آگ میں جل کر خاکستر ہو جاؤں گی۔ ذہنی پریشانی اتنی شدید ہے کہ مجھے مستقل سر درد اور ہائی بلڈ پریشر رہنے لگا ہے۔ میں اور میرے شوہر اس کوشش میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں کہ ہمارے لڑکے سیاست سے دور رہیں۔ یقین جانو جتنی دیر میرا بیٹا دکان پر بیٹھتا ہے میں دروازے کی پٹی سے لگی گلی میں دیکھتی رہتی ہوں، دکان نظر آتی ہے یہاں سے ، کہ کس سے بات کر رہا ہے۔ کون آیا ہے دکان پر۔ اب تو اتنے برے حالات ہیں کہ لڑکے خود بھی MQM سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے قطع تعلق تو نہیں کر سکتے۔ انھیں گلیوں میں ساتھ ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے ہیں، ایک ہی اسکول میں پڑھے ہیں۔ کتنے دن کتنی شامیں اکھٹے گزاری ہیں۔ ہم اپنے بچوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم ان سے نہ ملو۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم چاہیں بھی تو اب یہ تعلقات ختم نہیں کر سکتے۔ ہمیں سب کے ساتھ ہنس بول کر رہنا ہے۔ یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سلام دعا رکھنی پڑتی ہے۔ ہر طرف مخبر لگے ہوئے ہیں۔ CIA کے ، FIB کے ، حقیقی کے ، MQM  کے "۔
	’کیا میں تمہاری اماں سے مل سکتی ہوں؟‘ کیوں نہیں۔ نعمان اٹھ پڑتا ہے۔ ہم دونوں اس کے گھر آتے ہیں۔ چھوٹا سا دو کمروں کا گھر ہے۔ ٹی وی۔ فرج، واشنگ مشین اور فون۔ اماں بوڑھی ہیں لیکن دبلی پتلی۔ جسم میں پارہ بھرا ہے۔ اور زبان زہر اگل رہی ہے۔ 	"جب جی چاہتا ہے چھلانگ مار کر آ جاتے ہیں۔ کمرے کے دروازوں کو لات مار کر کھولتے ہیں۔ ایسے ٹرک بھر بھر کر آتے ہیں جیسے انڈیا فتح کرنے جا رہے ہوں۔ پورے گھر میں چھا جاتے ہیں۔ اندھیرا کر دیتے ہیں۔ ہمارے گھر میں ۲۶ دفعہ چھاپا مار چکے ہیں۔ چھبیس دفعہ! سب کچھ تہس نہس کر دیتے ہیں۔ ذلیل کرتے ہیں۔ حقارت آمیز لہجے میں چیختے چنگھاڑتے ہیں۔ اس میں میرا کیا قصور ہے اگر میرا بیٹا MQM میں ہے ؟ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو؟"
	 نعمان کا بڑا بھائی ۲۳ سالہ سلمان، MQM کا سرگرم کارکن ہے۔ "وہ اس چھت کے نیچے ڈھائی سال سے نہیں سویا ہے۔ مجھے نہیں پتہ میرا بیٹا کیا کھاتا ہے ، کہاں سوتا ہے ، کیسے جیتا ہے۔ مجھے اس کی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ وہ سایہ کی طرح آتا ہے ہمیں پوچھنے ، اور دس پندرہ منٹ میں ہوا کے جھونکے کی طرح نکل جاتا ہے۔ میں چھاپوں کے خوف سے اور بیٹے کی ایک جھلک کی آس لیے راتوں کو سو نہیں پاتی ہوں۔ میرے دونوں بڑے بیٹے میرے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن آئے دن کے چھاپوں سے  میرے پوتے ، پوتیاں بیمار رہنے لگے تھے۔ اسکول بھی آئے دن بند رہتے ہیں یہاں۔ مجبور ہو کر میرے دونوں بیٹے شہر میں کرایے کے مکانوں میں اٹھ گئے ہیں"۔ 
	آپ اپنے بیٹے سے نہیں کہتی کہ MQM سے نکل جائے ؟ میں سوال کرتی ہوں۔
	 "وہ کہتا ہے ’میں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی ہے۔ میرے لیے ادھر بھی موت ہے ادھر بھی موت ہے‘ ۔ پارٹی چھوڑ دے گا تو کیا بچ جائے گا؟ 
	شروع میں آپ لوگوں نے منع کرنے کی کوشش کی تھی؟ میں جاننا چاہتی ہو ں۔
	"وہ ۱۹۸۵ میں MQM  میں شامل ہوا تھا۔ جب وہ تیرہ سال کا تھا اور آٹھویں میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے باپ درزی کی دکان کرتے ہیں۔ رات کو دیر سے لوٹتے تھے۔ مجھے گھر بار سے ہی فرصت نہ ملتی تھی۔ بس جب ہمیں پتہ چلا اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ ہماری سنتا ہی نہ تھا"۔
	نعمان کے والدین ۱۹۵۰ میں پاکستان آئے تھے۔ اس وقت دو بیٹے تھے ان کے۔ چھ بچے کراچی میں پیدا ہوئے۔ "کئی سال کینٹ اسٹیشن کے قریب جھگیوں میں رہے پھر پیسہ پیسہ جوڑ کر گورنگی میں چھوٹی سی زمین خریدی۔ اٹھارہ سال سے کورنگی میں ہیں"۔ 
	میں باہر نکل آتی ہوں۔ ایک چھ سالہ بچی ننگے پاؤں، ملگجی فراک پہنے خاک آلود گلی میں اپنے گھر کے باہر پودا لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خوشنما سبز رنگ کا پودا۔ غالباً سوسن کی شاخ ہے۔ بچی نے زمین میں گڑھا نہیں کھودا ہے۔ بلکہ شاخ کے نچلے سرے کو پتھریلی زمین پر رکھ کر مٹی سے ڈھانپ دیا ہے۔ وہ ننھے ننھے ہاتھوں سے مٹی کو جما رہی ہے اور پلاسٹک کے ایک پرانے مگ سے اس پر پانی انڈیلتی  جا رہی ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی  صرف ایک چھوٹی سی بنیان پہنے ، مٹی بھرے پاؤں لیے اس سارے عمل کو بغور دیکھ رہا ہے۔ 
	 دوپہر کی چبھنے والی دھوپ میں چمکیلی سبز شاخ، خاک آلود، بے رنگ گلی میں اتنی بے جوڑ لگ رہی ہے کہ تقریباً مضحکہ خیز نظر آ رہی ہے۔ اتنا لاحاصل، اتنا بے مصرف امر۔
 	ماحول ایک اداس کرنے والی کیفیت سے بوجھل ہے۔ بنجر زمین، نہ آگہی، نہ وسائل۔ صرف ایک موہوم سی آرزو۔ 
	میں آگے بڑھتی ہوں۔ گلی کے موڑ پر سوسن کی ایک اور شاخ زمین پر پڑی ہے۔  خاک و دھول سیے اٹی سبز پتیاں  دھوپ سے مرجھا چکی ہیں۔ 
٭٭٭



لیاقت آباد

	حسن اسکوائر سے آتے ہوئے ، غریب آباد سے گزر کر اگر آپ مین روڈ پر سیدھے چلتے ہوئے الکرم اسکوائر کی طرف آئیں تو آپ کو داہنی فٹ پاتھ پر جا بجا سرخ چھتوں والے اسٹال نظر آئیں گے۔ پہلی دفعہ ان پر میری نظر چند سال پہلے پڑی تھی اس رات مجھے یوں لگا جیسے یہ اسٹال لیاقت آباد۔ غریب کے تشدد آمیز لاوے سے اچانک نکل آئے ہوں۔ لکڑی کے چار پایوں کے اوپر سرخ چادر تنی ہوئی، ایک بڑا سا مٹکا منہ سفید کپڑے سے ڈھکا ہوا اور ہر چبوترے ایک کرتا پاجامہ میں ملبوس ٹوپی سر پر اوڑھے ، ڈاڑھی والا شخص۔ میں ستائشی نظروں سے ان قلفی والوں کو دیکھتی رہ گئی تھی مجھے ان کی ہمت، ان کے استقلال ان کے حوصلے ان کے طمطراق پر رشک آ رہا تھا۔ کراچی، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اتنے تباہ کن، پر تشدد حالات میں سلیقے سے روٹی کمانے کے فن پر حیرت ہو رہی تھی۔ دو چار گاہک، جو غالباً قریبی گلیوں کے مکین ہوں گے اسٹال کے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ اور ایک دو گاڑیاں فٹ پاتھ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ جو غریب آباد کی خاص دلبہار قلفی کے مزے لے رہے تھے۔ قلفی واقعی بے حد خوش ذائقہ تھی۔
	ایک اور دفعہ ہم ذیشان ساحل کو الکرم اسکوائر کے پیچھے ان کے گھر چھوڑنے کے لیے اس راستے سے گزرے تھے۔ اس شہر کے حالات بے حد خراب تھے۔ MQM کا ایک سرگرم کارکن مارا گیا تھا اور افواہوں کا زور تھا لیاقت آباد میں بسیں جلائی جا چکی تھی اور دوسرے دن ہڑتال کی تصدیق ہو چکی تھی۔ مغرب کے بعد کا وقت تھا۔ سڑک سنسان پڑی تھی، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ اور ایسے میں دلبہار قلفی والے اپنے اپنے چبوتروں پر خاموشی سے بیٹھے خالی سڑک کو تک رہے تھے۔ اسٹال کے پایوں سے بندھی ٹیوب لائٹوں کی نیلی دودھیا کرخت روشنی میں وہ پراسرار سے ، کسی دوسرے سیارے کی مخلوق معلوم دے رہے تھے۔ 
	آج نمبر کی ستائیس تاریخ ہے۔ سن ۱۹۹۵ اور صبح کا وقت اور میں اسی جگہ سے گاڑی چلا کر گزر رہی ہوں۔ وہ تمام اسٹال اس وقت اجڑے پڑے ہیں۔ سرخ چادروں والی چھتیں غائب ہیں۔ فٹ پاتھ کے ساتھ والی آٹو گیراج اور میکنیک کی دکانیں ابھی بند پڑی ہیں۔ میں سوچتی کیا آج کل بھی شام بھی قلفی والے اپنے تھڑے جما کر روزی کماتے ہیں؟ میں دس نمبر لیاقت آباد کے چوراہے سے بائیں طرف مڑتی ہوں۔ چوراہے پر رش ہے۔ منی بسیں، کوچ، سوزکی پک اپ، گاڑیاں، گدھا گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، پولیس موبائل رینجرز کی بکتر بند گاڑیاں اور پیدل چلنے والوں کی بھر مار۔ یہ لیاقت آباد ہے داہنی طرف لیاقت آباد کی سپر مارکیٹ ہے جس میں چھوٹی بڑی دکانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر سامان دستیاب ہے۔ جیسا کہ لیاقت آباد کے ایک مکین نے مجھے بتایا "بیٹی کا پورا جہیز یہاں سے خریدا جا سکتا ہے ، فرنیچر، بنارسی جوڑے ، سوتی کپڑے زیورات، برتن، الیکٹریک کا سامان، گھریلو اشیاء خشک میوہ سوئی، دھاگہ۔۔۔ لیاقت آباد سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔"
	اور واقعی لیاقت آباد، جو اب تک لالو کھیت کے نام سے مشہور ہے ، اور اس سے متصل علاقے ، ناظم آباد، پاپوش نگر، گولی مار، غریب آباد۔ شہر کے اندر ایک شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ پولیس کے چھاپوں، دہشت گردوں کی فائرنگ، رینجرز کے محاصروں، ڈاکوں، بھتوں، قانونی اہل کاروں کے ناجائز دباؤ اور رشوت خوری کے باوجود کاروباری سرگرمیوں سے بھرپور، خود پرور اور بظاہر حسب معمول۔
	لیکن اس سطح کے نیچے ، اگر آپ اس علاقے کے رہنے والوں سے بات کریں۔ تو آپ کو احساس ہو گا کہ ایک نظام ہے جو آہستہ آہستہ ڈھے رہا تھا۔ معیشت میں جمود، بکھرتا ہوا ثقافتی۔ سماجی سانچہ اور تنزل پذیر تعلیمی نظام۔
	"کاروبار تقریباً ٹھپ ہے۔ ہڑتال کے دنوں پوری مارکیٹ ہی مند ہوتی ہے۔ عام دنوں میں بھی اگر ذرا اس افواہ پھیل جائے کسی گڑ بڑ کی تو کوئی مارکیٹ میں قدم ہی نہیں دھرتا۔ دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔" عبدالقدوس کہہ رہے ہیں۔ وہ پچپن ساٹھ برس کے ہوں گے ، سرمئی و سفید بال، موٹی شیشوں کی عینک چڑھائے ، چہرے سے تھکن کے آثار۔ لیاقت سپر مارکیٹ میں عبدالقدوس کی ایک دکان ہے جس میں سلے سلائے ، کام دار، ریشمی جوڑے بکتے ہیں۔ عبدالقدوس اپنے بیٹوں اور کاریگروں کے ساتھ در دوزی، کام بناتے ہے اور سلائی بھی کرتے ہیں۔
	"پہلے تو دور دور سے لوگ لیاقت آباد خریداری کرنے آیا کرتے تھے ، کہاں کہاں سے گاہک آتے تھے ہمارے پاس، نارتھ ناظم آباد، کورنگی اورنگی، لانڈھی، لیاری، ملیر۔ لیکن اب تو قریبی علاقوں کے لوگ بھی آتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ خدا جانے کس وقت کیا ہو جائے۔ 
	قدوس احمد لیاقت آباد نمبر چھ میں ایک ایسی مربع گز کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے آٹھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔ دو لڑکے اور دو لڑکیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ "ہمارا علاقہ تو پھر بھی قدرے محفوظ ہے۔ وہ اس طرح کے ہماری گلی اور آس پاس کی گلیوں کے لڑکے ان چکروں میں نہیں ہیں۔ لیکن غریب آباد سے پیلی کوٹھی تک کے علاقے میں حقیقی والوں کا زور ہے۔ عبدالقدوس کی بیوی بچوں کو ناشتہ دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں۔ 
	قدرے محفوظ کا مطلب ہے کہ آپ کے گھر کے گیٹ پر پولیس مقابلے نہ ہوا ہو اور آپ کی گلی میں محاصرہ نہ ہوا ہو۔
	"ورنہ گولیوں کی آوازیں تو معمول کی بات ہیں۔ اگر کہیں دور بھی فائرنگ ہو رہی ہو تو لگتا ہے سر پر ہو رہی ہے "، ان کی ۲۸ سالہ صغرا اپنی دو سالہ بچے کو بہلاتے ہوئے ہنس کر بتا رہی ہے۔ صغرا کا شوہر مرچنٹ نیوی میں ملازم ہے اور عموماً جہاز پر ہوتا ہے۔ صغرا اپنا دو کمروں کے گھر میں تالہ ڈال کر زیادہ تر میکہ میں وقت گزارتی ہے۔ 
	"حالات اتنے خراب ہیں۔ اکیلے رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ رات بھی ادھر ہی سوتی ہوں،" وہ بتا رہی ہے۔ 
	"فائرنگ کے بعد یہاں کا دوسرا معمول ڈاکے ہیں۔ یہی لڑکے ڈاکہ ڈالتے ہیں سسرے سب بدمعاش ہیں۔ جس گھر میں گھس جائیں، سب کچھ لے جاتے ہیں، زندگی بھر کی جمع پونچی۔ چوبیس گھنٹے دروازہ بند رکھنا پڑتا ہے۔ ایک زمانہ تھا باہر سے کنڈی لگا کر میں پڑوس میں چلی جایا کرتی تھی"، ان کی بیوی پرانے وقتوں کو یاد کرتی ہیں۔ عبدالقدوس لالوکھیت میں چالیس سال سے رہائش پذیر ہیں۔ "پاکستان آئے تو ہیں ڈیرہ ڈالا تھا۔"
	"یہاں کا تیسرا معمول ہے رینجرز اور پولیس کی کارروائیاں"، عبدالقدوس استہزائیہ انداز میں کہہ رہے ہیں "جس کو چاہا پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ چھوٹتے ہی لاکھ دو لاکھ مانگتے ہیں اور دو پانچ ہزار لیے بغیر نہیں چھوڑتے "
	"اور اگر لڑکے کچھ کہنے کی کوشش کریں تو کاٹ مار کر پھینک دیتے ہیں اور کہتے ہیں MQM نے مارا۔ ابھی پچھلے دنوں سندھی ہوٹل کی طرف ایک بوری ملی تھی۔ لوگ کہنے لگے ہاتھ پاؤں ہل رہے ہیں۔ رینجرز آئے۔ بوری اٹھا کر لے گئے۔ کیا کیا ہو گا اس کے ساتھ؟ کیا پتہ۔ مار مور کر پھینک دیا ہو گا"، ان کی بیوی بولے جا رہی ہیں۔
	"اگر رینجرز سے آپ بچ نکلے تو علاقے کے لڑکے تو کہیں نہیں گئے۔ وہ تو بیٹھے ہیں آپ کے سینے میں مونگ دالنے کے لیے۔ پچھلے ہفتے میری دکان کے قریب ایک بڑی دکان ہے سوٹ کے کپڑوں کی۔ وہاں تین لڑکے مغرب کی وقت گاہک بن کر آ گئے۔ مارکیٹ کی دکانیں بند ہو رہی تھیں۔ ان لونڈوں نے کئی ہزار کے سوٹوں کے کپڑے خریدے۔ پیسے بھی نہیں دیے اور ساتھ میں دکان کی تجوری بھی لے گئے ، ہتھیار لہراتے ہوئے۔ کون چون چرا کر سکتا ہے ان حالات میں؟" چند دنوں پہلے تک یہ لڑکے تمام دکانداروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں لیکن اب عاجز آ گئے ہیں ان ہتھکنڈوں سے۔ گزارے بھر کے لیے ہی آمدنی ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ ایسے میں کون بھتہ دے ؟ اب دکاندار مزاحمت کرنے لگے ہیں ایک ماہ پہلے حیدری کی دکانیں چار دن تک بند رہیں۔ دکانداروں کے بھتہ دینے سے انکار کیا اور دکانیں بند کر کے بیٹھ گئے کہ جاؤ، کاروبار ہی نہیں کریں گے تو بھتہ کہاں سے لو گے۔ لیکن کتنے دن یہ معاملہ چل سکتا ہے ؟ اور پھر لڑکے بھی کوئی کم نہیں ہے۔ بھتہ نہ دو تو دن دھاڑے لوٹ کر لے جاتے ہیں۔
	عبدالقدوس کے تین بڑے بیٹے زر دوزی اور سلائی کا کام کرتے ہیں دو بیٹے ایک چھوٹی سی اسٹیشنری کی دکان چلاتے ہیں۔ چھوٹے بیٹے نے انٹر سائنس کا امتحان پاس کیا ہے B.S.C میں داخلہ نہیں مل سکا ہے۔ 
	"کالجوں میں پڑھائی کہاں ہوتی ہے اب؟" عبدالقدوس کی بیوی بولی۔ "آئے دن تو ہنگامے ہوتے رہتے ہیں۔ فائرنگ کے خوف والدین خود بھی زیادہ زور نہیں دیتے کہ کالج جاؤ۔ اب تو ٹیوشن سینٹروں کا راج ہے۔ یہ بھی جاتا ہے ٹیوشن سینٹر۔"
	سترہ سالہ عدنان اردو سائنس کالج کا طلب علم ہے۔ وہ کالج کی زندگی سے بیزار ہو چکا ہے۔ 
	"کالج میں گروپ بنے ہوئے ہیں۔ جمعیت، پنجابی پختون، MQM، حقیقی۔ آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جو پڑھنے والے ہیں وہ گھبرا جاتے ہیں۔ کل میں کالج گیا تھا۔ فائرنگ ہو گئی۔ لڑکوں نے آپس میں کی۔ کیا کرتا؟ الٹے قدموں گھر کو لوٹ آیا۔ کالج میں داخل ہو تو مختلف پارٹیوں کے لڑکے کونے میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں آؤ، ہمارے ساتھ بیٹھو۔ جو لڑکے ان چکروں میں نہیں ہیں اور پڑھائی کرنا چاہتے ہیں وہ کسی نہ کسی SOWRCE سے حاضری پوری لگوا لیتے ہیں اور گھر یا ٹیوشن سینٹر میں کورس پورا کرتے ہیں۔
	"اگر لڑکے پڑھنے کے لیے کالج آ بھی جائیں تو ٹیچر اکثر غائب رہتے ہیں۔ یا پھر جلدی چلے جاتے ہیں۔ کلاس میں لڑکے کم تعداد میں ہوں تو ٹیچر پورا پیرئڈ نہیں لیتے۔ "بہرحال۔ بات صرف اتنی ہے کہ پڑھنا تو آپ کو خود ہی ہے۔ اگر آپ بغیر ٹیوشن کے پڑھ سکتے ہیں تو خود ہی مغز کھپائیں ورنہ ماں باپ کے پیچھے پڑیں کہ ٹیوشن کے پیسے دو۔ آپ مجھے یہ بتائیں فرض کریں اگر مجھے B.SC میں داخلہ مل بھی جاتا تو کیا مجھے نوکر مل جاتی؟"
	وہ پوچھتا ہے۔ 
	عدنان  پاکستان امریکن کلچرل سینٹر میں داخلہ لے رہا ہے۔ آج کل کیا مشاغل ہیں؟" دوپہر میں اسٹیشنری کی دکان پر بیٹھتا ہوں۔ مال لینے بھی جاتا ہوں۔ گھر میں ہوتا ہوں تو رسالے وغیرہ پڑھتا ہوں اور میوزک سنتا ہوں۔ جمعے کو کرکٹ ہوتا ہے۔ محلے میں ٹیمیں بنی ہوئی ہیں۔ روز رات کو بیڈ منٹن کھیلی جاتی ہے۔ فلیش لائٹ محلہ کمیٹی نے لگائی ہے۔ ۸ سے دس بجے تک کھیلتے ہیں۔
	لیاقت آباد کے بچے اور نوجوان گھر میں مقید ہو کر رہ گئے۔ بچیوں کے تو باہر نکل کر گلی میں کھیلنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکے بھی باہر گلیوں میں نہ جائیں۔ "میرے کئی دوست لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ کوئی دس نمبر میں ہے تو کو چار نمبر میں۔ لیکن میں ان سے ملنے ان کے گھر نہیں جا سکتا۔ کیونکہ ان علاقوں میں زیادہ گڑ بڑ رہتی ہے۔ خدا معلوم کسی وقت کوئی گولی کہاں سے آ جائے اور آپ الله کو پیارے ہو جائیں۔ گولی کے علاوہ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ کہیں رینجرز آپ کو اٹھا نہ لے جائیں۔
	عدنان کا خیال ہے آج کل حالات قدرے بہتر ہیں کیونکہ آس پاس کی گلیوں سے بوریوں میں بند لاشیں ملنا کم ہو گئی ہیں، اور ہم دس بجے رات تک گھر کے سامنے کھیل سکتے ہیں، لیاقت آباد میں ایسا وقت بھی آ چکا ہے کہ آٹھ بجے گلیوں میں ہو کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔
	میں اب لیاقت آباد فرنیچر مارکیٹ سے گزرتی ہوئی، بڑا میدان اور ریلوے پھاٹک عبور کرتی ہوں۔ یہ پاپوش نگر کا آخری سرا ہے۔ بائیں جانب اورنگ آباد ہے۔ سڑک تنگ ہے اور دونوں طرف سے ٹریفک آ جا رہا ہے۔ سڑک کے اطراف چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں۔ حجام، حلوائی، اسٹیٹ ایجنسیاں، بیکری درزی، ویڈیو، ویلڈر، ہر بلاک کے بعد تنگ متوازی گلیاں ہیں تو رہائشی علاقے میں کھلتی ہیں۔ اورنگ کی گلیوں کے دونوں طرف ساٹھ مربع گز پر بنے ایک منزلہ/ دو منزلہ مکانات ہیں۔ گلیاں پکی ہیں۔ عقبی تنگ گلیاں بھی صاف ستھری ہیں گٹر کے ڈھکن بند ہیں اور کوڑا کرکٹ بھی نظر نہیں آتا۔ غالباً جب مختصر عرصے کے لیے MQM کی لوکل باڈیز میں حکومت رہی، یہاں کی حالت سدھری تھی۔ لوگ اب تک صفائی ستھرائی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
	لیکن ان چھوٹے چھوٹے گھروں کی پختہ دیواریں مکینوں کے ذہنی تناؤ اور خوف سے گونج رہی ہیں۔ اس علاقے میں کئی مرتبہ پولیس چھاپے مار چکی ہے۔ رینجرز محاصرہ بھی کر چکے ہیں۔
	چھوٹے قد اور گھٹے ہوئے جسم والی، نسیمہ پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ ان کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے ہیں، دانت پان سے سیاہ ہو چکے ہیں۔ وہ کبھی سرگوشیوں اور کبھی اچانک تیز ہوتی ہوئی آواز میں مجھے اپنی روداد سنا رہی ہیں: "رات کے گیارہ بجے آئے تھے۔ ذرا یہ چھوٹا سا گھر، اور دس موٹے تازے فوجی تلاشی لے رہی ہیں! چیزیں الٹ پلٹ کر دیں۔ الماریاں، درازیں، صندوق، سب کچھ کھلوا لیا۔ پھر ایک نے چلا کر پوچھا "لڑکے کدھر ہیں تمہارے ؟ میں نے کہا "صاحب، رات کی ڈیوٹی پر گئے ہوئے ہیں بچے " سلیمان کہاں ہے ؟ دوسرے نے غراّ کر پوچھا۔ میری جان نکل گئی۔ انھیں سلمان کا نام کیسے معلوم ہے ؟ نسیمہ کا بیٹا سلمان گذشتہ پانچ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہا ہے۔ " وہ ارسلان کو اٹھا کر لے گئے۔ ۲۳ سالہ ارسلان ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا ہے۔ نسیمہ کے شوہر تین سال سے بے روزگار ہیں اور بیمار رہتے ہیں۔ نسیمہ نے بڑے بیٹے کو اطلاع دی جو بیوی بچوں کے قریب ہی رہتا ہے۔ 
	"رات گزر گئی تھی اور ہم کچھ نہ کر سکتے تھے۔ میں نے اپنے حواس یکجا رکھے اور سلیمان کے کاغذات کی فائل بناتا رہا۔ اس کے بھیچے ہوئے ڈرافٹ کی نقلیں، سعودی عرب سے سات لائے ہوئے کیسٹ ریکاڈر اور دوسری چھوٹی موٹی چیزوں کی رسیدیں، اس کے خطوط اور لفافے ڈھونڈ ڈھانڈ کر اکٹھا کیے۔ اماں پوری رات بیٹھی روتی رہیں۔"
	صبح سویرے سبحان اماں کو موٹر سائیکل میں بٹھا کر ارسلان کی تلاش میں نکلا۔ "لے جاتے وقت بتاتے تھوڑا ہی ہے کہ کہاں لے جا رہے ہیں۔ ہم کراچی کے سولہ تھانوں میں گئے۔ زیادہ تر تھانوں کی پولیس بری طرح پیش آئی۔ کوئی ہماری کہانی سننے کو تیار ہی نہ تھا کہ سلیمان، جس کو رینجرز نے پوچھا، پانچ سال سے ملک سے باہر ہے۔ ارسلان جس کو لے گئے ، اس کا MQM سے کوئی تعلق نہیں۔
	"چند ایک تھانوں میں پولیس نے ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور بتایا کہ فلاں تھانے میں جاؤ۔ آخرکار صدر تھانے کے انچارج نے تفصیل سے ہماری کہانی سنی۔ اس نے سلیمان کے تمام کاغذات بغور دیکھے اور ہمیں یقین دلایا کہ "اگر تمہارے بھائی کا MQM سے کوئی تعلق نہیں ہے تو تمہیں تمہارا بھائی واپس مل جائے گا۔ سات بجے شام کو آنا۔"
	شام کو جب نسیمہ اور سبحان پولیس اسٹیشن پہنچے تو ارسلان کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ "انھوں نے ہم سے کچھ نہیں مانگا۔ گو کہ ہمیں بتایا کہ یہ کیس اتنا پیچیدہ تھا کہ انچارج کو CIA کے افسران کو کیس سمجھانے میں پورا ایک گھنٹے لگا۔ اور یہ کہ اس کیس کے ہم سے دو لاکھ روپے طلب کیے جا سکتے تھے "
	"فرشتہ تھا، فرشتہ، خدا اس کو زندگی دے۔ اس کو اپنی امان میں رکھے ،" کچھ تعجب نہیں کہ نسیمہ ہاتھ اٹھا کر اس کو دعائیں دیتی ہیں اب وہ شخص جو اپنی ڈیوٹی قانونی ضوابط کے تحت انجام دیتا ہے ، فرشتہ صفت اور اعلی اقدار والا ہے تھانے کے انچارج نے بتایا کہ سلمان کا نام اور ٹیلی فون نمبر ایک لڑکے کی جیب سے نکلا تھا جو پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ لہٰذا اب سلیمان کے نام کی فائل کھل گئی ہے اور رینجرز اس کو لینے آئے تھے۔ 
	"وہ لڑکا جس کی جیب سے سلمان کا نام اور ٹیلی فون نمبر نکلا۔ اس کی فیملی دس سال پہلے اورنگ آباد میں رہتی تھی۔ سلمان کی بچپن میں اس سے جان پہچان تھی۔ پھر وہ لوگ لیاقت آباد منتقل ہو گئے اور سلمان پانچ سال سے سعودی عرب میں ہے لہٰذا کوئی رابطہ بھی نہ رہا تھا"
	"ارسلان کی آنکھوں میں پٹی باندھے رکھی اور اسے بہت مارا۔ چوبیس گھنٹے اسے پانی پینے کو نہ دیا۔
	کس سے مارا تھا؟
	ہاتھوں سے کب مارتے ہیں؟" نسیمہ میرے احمقانہ سوال پر مسکراتی ہیں "لاتوں سے مارتے ہیں وہ"۔ جب ارسلان گھر آیا تو اس کی حالت غیر تھی۔ بولا نہیں جا رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے ، کپڑے میلے۔ پورے جسم میں درد اور نیل۔ ایک ہفت بخار میں پڑا رہا چار پائی سے اٹھنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ میں نے آج زبردستی اٹھا کر ڈیوٹی پر بھیجا ہے۔ جتنے دن نہیں جائے گا، پیسے کٹیں گے۔ "
	ارسلان کو پچیس سو ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ غیر حاضری پر تنخواہ کٹتی ہے اور جیسا کہ چھوٹے کارخانوں میں رواج ہے ، کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔
	نسیمہ کے دو لڑکے شادی شدہ ہیں لیکن وہ چھوٹے تین لڑکوں کی طرف سے بے حد پریشان رہتی ہیں اور ان کی صحت خراب رہنے لگی ہے۔ اکیس سالہ فرقان نے ساتویں کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ "پانچ سال میں طارق روڈ کے ایک گیراج میں میکنک کا کام کیا۔ لیکن وہ مجھے صرف گیارہ سو دیتے تھے اور نو بجے صبح سے رات نو بجے تک کام لیتے تھے۔ میں تنگ آ گیا تھا اس لیے کام چھوڑ دیا۔ کئی گیراجوں کا چکر لگا چکا ہوں لیکن اب کام نہیں ملتا۔ آج کل میں سائٹ ایریا کی ایک مل میں پارٹ ٹائم نوکری کر رہا ہوں۔"
	دبلا پتلا، شرمیلا فرقان مجھے رک رک کر بتا رہا ہے۔ 
	"میں بے زار آ گیا ہوں اماں نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ہر وقت باہر نہ نکلو، گھر میں بیٹھو، کی رٹ لگائے رکھتی ہیں۔ جب سے بھیا کو رینجرز لے گئے تھے تب سے میری اور بھی شامل آ گئی ہے۔ میں کیا کروں؟ اس کبوتر خانے میں چوبیس گھنٹے بند ہو کر گذاروں؟ میرا دم گھٹتا ہے۔ اور پھر میں جاتا ہی کہاں ہوں بھلا؟ تازہ ہوا کے لیے گلی ہی میں تو کھڑا ہوتا ہوں۔ اگر گھر میں رہ کر وی سی آر دیکھوں تو اس پر بھی اماں چیختی ہیں کہ فلمیں مت دیکھو۔
	ہاں میں نہیں چاہتی کہ میری بچے تمام وقت انڈین فلمیں دیکھتے رہیں۔ کبھی کبھار دیکھ لیا تو کوئی بات نہیں۔
	نسیمہ کا چھوٹا بیٹا تیرہ سال کا ہے اور اس نے بھی پڑھائی چھوڑ دی ہے۔ تمام وقت گلیوں میں آوارہ گردی کرتا ہے۔"
	میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔ ان کی وجہ سے مجھے بلڈ پریشر رہنے لگا ہے۔ میں تو چاہتی ہوں ارسلان کی جلد از جلد، شادی کر دوں اگر پکی نوکری لگ جائے اس کی۔ شادی کے بعد گھر تو بیٹھے بال بچوں کے ساتھ۔" لڑکیاں مسئلہ نہیں ہے۔ بڑی کی شادی ہو چکی ہے۔ ایک نویں میں پڑھ رہی ہے اور سب سے چھوٹی چھٹی جماعت میں۔ اسکول کے علاوہ وہ تمام دن گھر میں بند رہتی ہیں اور گھر کے کام کاج میں اماں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔
	"میں تو اس کا آج اسکول چھڑا دوں۔ وہ تو آج کل معلوم نہیں کیا ہو گا کہ جو بھی رشتہ آتا ہے پڑھی لکھی لڑکی مانگتا ہے۔ اس کی منگنی کر دی لیکن لڑکا کہتا ہے جب بی اے کر لے گی تب شادی کروں گا" نسیمہ کہہ رہی ہیں" دس سال پہلے کالج یونیورسٹی کی پڑھی لڑکی سے کوئی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔"
	پاپوش نگر میں بھی ڈاکے عام بات ہیں۔ "لڑکے چاہتے ہیں سب کچھ چھین کر لے جائیں لوگ ڈرتے بھی ہیں۔ ان سے۔ کیوں نہ ڈریں؟ بندوقیں جو ہوتی ہیں۔ لیکن اب تو ان کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ ڈنڈے اور پتھر ہی سے کام چلاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہماری گلی میں ڈھائی بجے رات ایک گھر میں لڑکا گھس آیا۔ وہ تو خیر ہوئی۔ خاتون خانہ کتھا پکا رہی تھیں۔ انھوں نے جو شور مچایا تو پتھر پھینک کر واپس چلا گیا۔ خیریت ہوئی کہ ان کے لگا نہیں۔"
	نسیمہ کے پاس ایسی لاتعداد کہانیاں ہیں۔
	ساجدہ بیوہ ہیں اور اپنے دو غیر شادی شدہ بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ پاپوش نگر میں گذشتہ ۲۵ سال سے رہ رہی ہیں۔ یہ مکانات ۸۰ مربع گز پر بنے ہوئے ہیں اور گلیاں نسبتاً چوڑی ہیں۔
	"دو سال پہلے یہاں حالات بہت خراب تھے۔ MQM اور حقیقی والے آپس میں لڑ مر رہے ہیں اور بیچ میں ہم لوگ تباہ ہو رہے تھے۔ کاؤنسلر کے آفس پر قبضے کی جنگ جاری تھی۔ پھر ایک دن رینجرز آئے۔ آفس خالی کروایا تالا ڈالا، لڑکوں کو اٹھایا اور چلے گئے۔ تب سے نسبتاً سکون ہے۔ 
	ساجدہ اڑتالیس کے قریب ہوں گی بال ان کے سارے سفید ہے وہ ایک نرم گو خاتون ہیں ٹھنڈے مزاج کی۔ زندگی کی دھوپ چھاؤں نے ان کو مضبوط بنا دیا ہے۔ 
	"ہم یہاں پچیس سال سے ہیں۔ دو سال کے اندر اندر کئی پرانے مکین گھروں کو بیچ کر چلے گئے۔ جن علاقوں میں زیادہ گڑ بڑ وہاں سے لوگ ادھر منتقل ہو گئے ہیں۔ اب اس محلے میں کسی کو کسی کا پتہ نہیں رہا"، وہ کہہ رہی ہیں۔
	پاپوش نگر کے وہ مکین جو اپنا برسوں پرانا گھر اونے پونے بیچ کر کہیں اور مکان خریدنے کی استعداد رکھتے ہیں، یہاں سے جا چکے ہیں۔ ان گھروں میں وہ لوگ منتقل ہو رہے ہیں جو گنجان علاقوں میں ۶۰ مربع گز کے مکانوں میں رہ رہے تھے۔ ۸۰ مربع گز کے رہنے والے ۱۲۰ مربع گز کے پلاٹوں میں منتقل ہو رہے۔ اس غیر معمولی اور جبری منتقلی سے محلوں کے سماجی ڈھانچے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ یگانگت، اپنائیت، پڑوسیوں کا ایک دوسرے کے وقت پر کام آنا، مل جل کر محلے کے مسائل کو حل کرنا۔ یہ ساری اقداریں ٹوٹ رہی ہیں اور ان کی جگہ بے حسی، لاتعلقی، خوف و اندیشوں اور بد اعتمادی نے لے لی ہے۔ 
	"چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ میں گھر میں بچیوں کے ساتھ اکیلی تھی۔ بڑا بیٹا کام پر گیا ہوا تھا اور چھوٹا نوکری کی تلاش میں نکلا تھا۔ گلی میں شور ہونے لگا۔ ہمارے گھر کے باہر کچھ لڑکے کھڑے تھے اور نعرے لگا رہے تھے "اس گھر کو آگ لگا دو"، میں نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا کیا بات ہے تو بولے آپ کے گھر کی چھت سے کسی نے ہم پر پتھر پھینکا ہے۔ " ساجدہ نے حواس جمع رکھتے ہوئے ، ضبط و تحمل کے ساتھ لڑکوں کو بتایا کہ چھت پر کوئی نہیں ہے سوائے ان کے بوڑھے بہنوئی کے۔ جو عرصے سے بیمار ہے اور چار پائی سے لگے ہوئے ہیں۔ وہ چھت پر بنے ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ وہ اٹھ ہی نہیں پاتے تو پتھر کیا پھنکیں گے۔ لڑکوں نے کہا وہ خود آ کر دیکھنا چاہتے ہیں "میں نے لڑکوں سے کہا انھیں ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دوں گی۔ جب میرا بیٹا کام سے آ جائے تو گھر آ کر تلاشی لے لینا۔ ابھی جاؤ یہاں سے۔ " غالباً ان کی آواز میں تحکم اور رعب سے لڑکے ڈھیلے پڑ گئے اور یوں معاملہ رفع رفع ہوا۔
	"اگر پرانے محلے والے ہوتے تو یہ واقعہ میرے ساتھ ہر گز نہ پیش آتا۔ لیکن اب سب نئے لوگ ہیں۔ سوائے دو چار خاندانوں کے۔ اور کوئی ایک دوسرے کو نہیں جانتا،" انھوں نے بتایا۔
	عبد الاسلام کا گھرانہ خوش قسمت ہے۔ وہ اس طرح کہ دو سال پہلے وہ اپنا تیس سال پرانا، مین روڈ پر واقع، چھوٹا سا مکان بیج کر سڑک کے اس پار ۱۲۰ گز کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔ "پرانے گھر میں زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔ آئے دن فائرنگ ہوتی۔ ہڑتال کے دن گھر سے ایک قدم باہر نہ نکال سکتے۔ "ہم اسکرین پرنٹنگ کا کام بھی گھر پر ہی کرتے تھے اور خریداروں نے مال لینے کے لیے آنا چھوڑ دیا تھا۔" ایک چنیوٹی خاندان اپنا مکان بیچنے کے لیے پریشان تھا۔ بے حد مناسب قیمت میں مل گیا ہمیں"۔ عبدالسلام کے موجودہ دو منزلہ گھر میں کافی گنجائش ہے۔ تیسری منزل پر ٹین کی چھت ڈال کر ہال میں اسکرین پرنٹنگ کے لیے میزیں قطار سے لگی ہیں۔ کیمرہ نچلی منزل کے کمرے میں set کیا ہے اور رنگ سازی علیحدہ حصے میں ہوتی ہے۔ اس علاقے میں گھر کے باہر آہنی گیٹ لگے ہوئے ہیں اور گلی کافی چوڑی ہے۔ "یہ بہتر علاقہ ہے۔ محفوظ بھی ہے۔ گو کہ ہیں تو اب بھی پاپوش نگر میں لہذا جب ہڑتال ہوتی ہے تو ان کا لڑکا جو کلفٹن میں واقع ایک غیر ملکی کمپنی میں کام کرتا ہے ، دو تین کے لیے گھر نہیں آتا۔ "کمپنی کی طرف شہر کے ہوٹل میں کمرہ بک کرا دیا جاتا ہے۔ فون پر رابطہ رہتا ہے " پچھلے دنوں ان کے علاقے کے تمام ٹیلی لائین ہفتوں خراب رہیں۔ لڑکوں کے ٹیلی فون کی تاریں کاٹ ڈالی تھیں۔ اب ٹیلی فون والوں زیر زمین تاریں بچھائی ہیں۔"
	کٹی ہوئی ٹیلی فون کے تاروں کی واردات کراچی میں معمول بن گئی ہے۔ لیاقت آباد کے کئی علاقے ، P.I.B کالونی F.C ایریا، شاہ فیصل کالونی اور نارتھ ناظم آباد میں ہفتوں اور مہینوں مکینوں کو ، لڑکوں، دہشت گردوں، "خدا جانے کون، کی کارستانی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ کراچی ڈسٹرکٹ سنٹرل کے باسیوں کے لیے زندگی دشوار تر ہوتی جا رہی ہے۔ کراچی کے حالات کی وجہ سے ان کو متفرق مسائل کا سامنا ہے۔ 
	"جب آپ کو ملازمت کے واسطے انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے آپ کہاں رہتے ہیں؟ جیسے ہی آپ کے منہ سے لیاقت آباد ناظم آباد پاپوش نگر کا نام نکلتا ہے تو آپ کو دروازہ دکھایا جاتا ہے ، معاف کیجئے گا ڈسٹرکٹ سنٹرل کے رہنے والوں کے لیے یہاں جگہ نہیں۔" ستائیس سالہ شمشاد بتا رہا ہے جب نوکری کی تلاش چار پانچ جگہ اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ "تو بالآخر مجھے جھوٹ بولنا پڑا۔ میں نے کہا میں pechs میں رہتا ہے۔ " pechs میں شمشاد کے رشتے دار رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب تین دن کی اسٹرائک ہوئی تھی الطاف حسین کے بھائی کے قتل کے رد عمل میں، تو شمشاد بڑی مشکلوں سے دفتر پہنچ سکا تھا۔ اب شمشاد کی زندگی میں یہ مشکل بھی شامل ہو گئی ہے۔ شمشاد اپنی بیوہ ماں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ناظم آباد کے ایک کمرے کے مکان میں رہتا ہے۔ 
	بہت سے خاندان، جن کے لڑکے سیاست سے کسی طور واسطہ نہیں ہیں، اپنے لڑکوں کی طرف سے فکر مند رہتے ہیں۔ اگر اتفاق سے "آپ کا لڑکا MQM میں کسی کو جانتا ہے ، گو کہ یہ واقفیت سرسری اور عارض نوعیت کی ہی نہ ہو، آپ کسی بھی مشکل سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ "ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب گلی میں چھاپہ پڑ جائے ، محاصرہ ہو جائے "، فاطمہ کہتی ہیں۔ فاطمہ بیوہ ہیں اور ان کے دو لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔ ان کے ساتھ دوسری نوعیت کا واقعہ پیش آیا۔ ایک دن محلے کے لڑکے ان کے گھر آ گئے۔ "کہنے لگے ، آپ کے دو بیٹے ہیں، ایک بیٹا الطاف بھائی کو دے دیجئے ، میرے ہوش اڑ گئے۔ پریشانی سے برا حال کہ کیا کروں۔"
	بدقت تمام فاطمہ نے بیٹے کے لیے ریل کے ٹکٹ کا بندوبست کیا اور اسے پنڈی کسی دور کے رشتہ دار کے پاس بھیج دیا۔
	سیکنڈ ایئر کا طالب علم، راشد چار ماہ کرب و اندیشوں میں گزار کر واپس چلا آیا۔" مجھ سے وہاں نہیں رہا جاتا۔ اور پھر کب تک چھپوں؟ رہنا تو ماں کے ساتھ ہی ہے "، راشد پریشان ہے کہ پڑھائی کا جو حرج ہوا ہے اس سے کس طرح نمٹے۔ 
	زندگی جاری و ساری ہے۔ لیاقت اور آس پاس۔
٭٭٭


ملیر کی گلیاں

	ملیر کی یادوں کے ساتھ ہرے بھرے پیڑ وابستہ ہیں: امرود، آم، انار، نیم، گلاب، چمبیلی، موتیا۔ 
	ہم بچے نانی کے گھر ہر ہفتے جایا کرتے۔ نانا اور ماموں کے کوارٹر ملے ہوئے تھے۔ ہر کوارٹر میں ایک کمرہ اور ایک بڑا سا آنگن تھا۔ نانا، نانی کے ساتھ خالہ رہتی تھیں اور ماموں، ممانی اور ان کے تین بیٹے ایک ساتھ۔ دونوں کوارٹروں کی درمیانی دیوار نہ تھی لہذا یہ ایک بڑا سا گھر نظر آتا۔ نانی کے آنگن میں امرود کے تین چار پیڑ قطار سے لگے ہوئے تھے اور ایک انار کا درخت تھا۔ ماموں کی طرف ایک بڑا سا نیم کا پیڑ اور موتیا، چمبیلی، اور گلاب کی جھاڑیاں تھیں۔ 
	چھٹیوں کی دوپہر ہم بچے درختوں پر چڑھتے ، امرود توڑ توڑ کر کھاتے ، آنکھ مچولی کھیلتے۔ شام کو سڑک کے اس پار ملیر ریلوے اسٹیشن کی سیر کو جاتے۔ اور اسٹیشن کے باہر ریل کی پٹریوں کے نیچے بنی پلیاؤں کے اندر بیٹھ کر اوپر سے جاتی ہوئی ٹرین کی آواز سنتے۔ رات کو نانی چار پائیوں پر صاف ستھرے بستر لگاتیں اور ہمیں کہانیاں سناتیں۔ اور ہم تاروں بھرے آسمان کو تکتے تکتے سوجاتے۔ یہ ۱۹۶۰ کی دہائی کی بات ہے۔ 
	تب ملیر کے ہر کوارٹر میں آنگن اور پیڑ ہوتے تھے اور گلیاں صاف ستھری۔ ہواؤں میں امرود کی مہک اور چمبیلی کی خوشبو  بسی ہوتی۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے پیڑوں کو کاٹ کر اضافی کمرے بنانے شروع کیے۔ کچے آنگن پکے ہوتے گئے۔ پیڑوں کی تعداد گھٹتی گئی۔ گلاب اور چمبیلی کی جھاڑیاں بھی بتدریج کم ہوتی گئیں۔ کمروں کے باہر ٹین کے شیڈ ڈال کر برآمدے بنائے گئے۔ یہ ۱۹۷۰ کے عشرے کا ذکر ہے۔ 
	آبادی بڑھتی رہی۔ ۸۰ مربع گز پر بنے ہوا دار اور روشن گھر گھٹے ہوئے چھوٹی چھوٹی کھڑکیوں والے تاریک، ایک منزلہ، دو منزلہ بدصورت مکانوں میں تبدیل ہو گئے۔ گلیوں کی چوڑائی کم ہو گئی کیونکہ لوگوں نے گھروں کے باہر ناجائز احاطے تعمیر کر لیے اور سیاہ آہنی گیٹ لگا لیے تھے۔ پیڑوں کی شاخوں کی جگہ اب ٹی وی اینٹینے ، سیاسی جماعتوں کے رنگ برنگے جھنڈوں اور ٹیلی فون کے بے ہنگم تاروں نے لے لی تھی۔ یہ ملیر کالونی تھی ۱۹۸۰ کی دہائی میں۔
	اور آج، اپریل ۱۹۹۵ کی ایک صبح، میں ملیر کی ایک پکی سڑک پر چلتے ہوئے اس حصے پر قدم رکھتی ہوں جو کلاشنکوف کی گولیوں کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے چھلنی اور ایک انسان کے خون سے سیاہ ہے۔ ۔۔ وہ انسان جسے آج سے پندرہ دن قبل سڑک کے اسی حصے پر سفاکی سے قتل کیا گیا۔ میں ان تبدیلیوں کو گرفت میں لانے کی کوشش کرتی ہوں جو گزشتہ تین دہائیوں میں اس زمین، اور اس زمین کے باسیوں کی روح میں در آئی ہیں۔ کتنی گمھبیر تبدیلیاں ہیں یہ۔ اور کتنا مسخ کردیا ہے انھو ں نے ، ملیر کو، جو کبھی ایک سرسبز اور پر امن وادی تھی، اور اس کے مکینوں کی روح کو، وہ سادہ لوح ، مہمان نواز مکیں جو پیڑوں، پھلوں، پھولوں، سبک ہواؤں اور ز ندگی سے محبت کرتے تھے۔ 
	اس منظر کا تصور میرے ذہن کے دریچے میں ثبت ہو کر رہ گیا ہے :  دوپہر کا وقت ہے۔ زندگی کا کاروبار جاری ہے۔ سڑک کے کنارے بنی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں گاہک کھڑے اشیاء صرف کی خریداری میں مصروف ہیں۔ بچے گلیوں میں کھیل رہے ہیں اور عورتیں گھروں کی دہلیز پر کھڑی ایک دوسرے سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک کار سڑک پر رکتی ہے۔ سامنے حلوائی اور ڈرائی کلینر کی دکانیں ہیں۔ گاڑی میں سے تین مسلح آدمی اترتے ہیں، ڈکی کھولتے ہیں۔ ایک ادھ موئے ، نیم جان، کمر تک ننگے آدمی کو نکالتے ہیں جس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں، اور اسے تپتی ہوئی تارکول کی سڑک پر پھینکتے ہیں، اس پر کلاشنکوف سے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں، پھر اس کے چہرے پر ٹھوکر مار کر یقین کرتے ہیں کہ وہ مر چکا ہے یا نہیں۔ اور جب اس کا خون آلود ساکت چہرہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے تو گاڑی کا دروازہ کھول کر اطمینان سے بیٹھتے ہیں اور گاڑی آہستہ خرامی سے سڑک پر چلتی ہوئی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ 
	لاش تین گھنٹے خون کے تالاب میں ڈوبی پڑی رہی۔ وہ ایک تنومند، گبرو جوان تھا۔ کوئی لاش کے قریب نہ پھٹکا۔ سڑک پر زندگی کا کاروبار جاری رہا۔ البتہ ایک وحشت ناک خاموشی پھیل چکی تھی۔ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ اپنے کام جلدی جلدی نمٹا رہے تھے اور لاش کو کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔ آخرکار تین گھنٹے بعد ایدھی کی ایمبولینس پہنچی اور لاش اٹھا کر لے کر گئی۔ "ہفتہ بھر وہ لاش مردہ خانے میں پڑی رہی۔ پھر کہیں جا کے اس کی شناخت ہوئی۔ پتہ چلا وہ فوجی تھا،" سفید بالوں اور جھریوں بھرے چہرے والی بزرگ خاتون موضوع سخن سے ہٹ چلی تھیں۔ میں ملیر کے اس گھر میں بیٹھی ان کے نوجوان بھتیجے کے بارے میں بات کرنا چاہ رہی ہوں جو چند ماہ پہلے  اس گھر کے اندر قتل ہوا۔
	"خدا رحم کرے ہم سب پر۔ ہمیں کیا ہو گیا؟ کیا ہمارے اندر شیطان حلول کر گیا ہے ؟" مقتول نوجوان کی پھوپھی، تسبیح ہلاتی ہوئی، تیز تیز بولے جا رہی تھیں۔ مقتول کی ماں کسی سوئم میں گئی ہوئی ہیں اور میں گھر کی عورتوں سے بات کر رہی ہوں۔
	"لوگوں اتنے بے درد، اتنے بے رحم ہو گئے ہیں۔ اس طرح ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں کہ بھیڑ بکریوں کو بھی ایسے ذبح نہیں کیا جاتا۔۔۔" مقتول کی چچی تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہہ رہی ہیں۔ "ساتواں روزہ تھا۔ میں ظہر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھی۔ ریحان دوسرے کمرے میں نماز پڑھ رہا تھا۔ ریحان کی ماں بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ دودھ والا دودھ دے کر پلٹا تھا اور میں دودھ کی تھیلی ہاتھ میں لیے باورچی خانے کی طرف مڑی ہی تھی کہ اتنے میں ایک سفید کار گھر کے گیٹ پر رکی، تین آدمی بڑی بڑی بندوقیں لیے دراتے ہوئے اندر آ گئے اور چلا کر پوچھا ’ریحان ہے ؟‘ انھوں نے جواب کا انتظار بھی نہ کیا اور سیدھے اندر چلے گئے۔ ہمارے گھر کے ساتھ والا مکان ریحان کا ہے اور اندر سے ایک چھوٹا سا راستہ جو دونوں گھروں کو ملاتا ہے۔ بس وہ سیدھے اس راستے سے ہوتے ہوئے اندر چلے گئے۔ ریحان ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا"، چچی ایک دم سے خاموشی ہو گئیں۔ پھوپھی، ماں اور چچی کی چیخوں اور بچوں کی خوف زدہ ہو کر رونے کی آوازوں کے درمیان قاتلوں نے کمرے میں داخل ہو کر گولیوں کی باڑھ ماری۔ "ریحان کے ہاتھ نماز کے لیے بندھے ہوئے تھے۔ سینے پہ بندھے ہاتھوں کے ساتھ کوئی آواز نکالے بغیر گر گیا۔ بائیس گولیاں نکلی تھیں جسم سے "، وہ مجھے بتا رہی ہیں۔
	"یہ سب کچھ منٹوں میں ہو گیا اور قاتل جس راستے سے آئے اسی راستے واپس ہو گئے۔ دو کے منہ پر ڈھاٹے بندھے ہوئے تھے اور ایک جو درمیانی راستہ پر جم کر کھڑا ہوا نقاب نہیں پہنے  تھا"، چچی نے بتایا۔ شاید آپ اسے پہچان سکیں؟ میں سوالیہ
	"میں؟ نہیں۔ نہیں۔" وہ گھبرا سی گئیں "مجھے اس کی شکل بالکل یاد نہیں۔ ہوش و حواس میں کہاں تھی تب۔"
	"اگر پہچان بھی لے تو کیا ریحان ہمیں واپس مل جائے گا؟ جانے والا تو گیا،" پھوپھی جلدی سے بولیں۔
	پھوپھی مجھے وہ کمرہ دکھانے لے جاتی ہیں جہاں وہ قتل ہوا۔ یہ ایک بہت تنگ سا کمرہ ہے۔ جس میں صرف ایک صوفہ سیٹ ہے جو تین دیواروں کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ صوفے کی وسطی میز کو چوتھی دیوار کے ساتھ لگا کر رکھا گیا ہے اور کمرے کے وسط میں دری بچھی ہوئی ہے جس پر جائے نماز بچھائی جا سکتی ہے۔ چاروں دیواریں، اور صوفہ سیٹ گولیوں سے چھلنی ہیں۔ میں صوفے پر بیٹھی ہوں۔ ریحان کی چچی ہمارے لیے چائے لے کر آتی ہیں۔
	ستائیس سالہ ریحان سات بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑا تھا۔ ریحان کے باپ تیرہ سال پہلے طویل بیماری کے بعد فوت ہوئے۔ ریحان اس وقت آٹھویں میں تھا۔ اس نے پڑھائی جاری رکھی اور لیاقت مارکیٹ میں اپنے ماموں کی دکان میں بطور سیلز مین کام شروع کیا۔ بی۔کام کرنے کے بعد اس نے ڈوپٹوں کی دکان لگائی۔ دو چھوٹے بھائی اس کی مدد سے جمعہ بازار میں اسٹال لگاتے۔ پورے گھر کی ذمہ دار اس پر تھی۔
	"ریحان کے قتل کے بعد سب کچھ ختم ہو گیا۔ بھائیوں نے تین ماہ سے جمعہ بازار میں اسٹال نہیں لگایا ہے۔ ایک چھوٹے بھائی کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔ عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔ پنڈی بھیج دیا تھا رشتے کے چچا کے پاس۔ لیکن کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ گھنٹوں چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے۔ خلا میں تکتا رہتا ہے۔ ہاتھ کھڑے کھڑے سینے پر باندھ لیتا ہے جیسے نماز پڑھ رہا ہو اور بڑبڑانے لگتا ہے :’میرا بھائی ستائیس سال کا تھا۔ اس کی شادی ہونے والی تھی‘۔ اور پتہ نہیں کیا کیا،" پھوپھی کہہ رہی ہیں۔
	کیا ریحان کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ تھا؟
	پھوپھی اور چچی خاموش ہو جاتی ہیں۔
	"ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ آپ اس کی ماں سے بات کریں آ کر۔ وہ بتائیں گی سب"۔
	ریحان کا تعلق MQM سے تھا۔ محلے کے لوگوں سے معلوم ہوا۔ تین سال پہلے ریحان کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اٹھارہ دن بعد واپس آیا۔ "ان دنوں اس نے ایک جگہ نوکری شروع کی تھی اغوا کے بعد اس نے ہمیں کبھی کچھ نہ بتایا۔ لیکن اس کے بعد سے مہینوں وہ دہشت زدہ رہا۔ ہفتوں کھانا نہ کھا سکا۔ نوالہ ہی نہیں نگلا جاتا تھا۔ ایسا خوف، ایسی دہشت تھی کہ ہم نے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ کی۔ ماں اور پھوپھی کے بیچ میں لیٹ کر سوتا۔ راتوں کو گھبرا کر اٹھ بیٹھتا۔ بس کچھ نہ پوچھو کیسا کڑا وقت تھا۔ لیکن ایک تسلی تھی، کہ زندہ سلامت تو ہے۔ اب تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ یاد ہی رہ گئی ہے۔ 
٭٭٭


ملیر : اے۔ ون ایریا

	دیواریں میں لکھے نعروں سے اندازہ ہوتا ہے یہاں MQM حقیقی کا راج ہے۔ ۱۹۷۰ کے عشرے تک یہ علاقہ ایک کھلے وسیع میدان پر مشتمل تھا جس کے کنارے بیرکوں کی صرف ایک قطار تھی۔ یہ بیرکیں شیڈ کے نام سے مشہور تھیں۔ شیڈ کے آس پاس کچھ جھگیاں تھیں اور بھینسوں کے باڑے۔ یہاں پنجابی، سندھی اور مہاجروں کی ملی جلی آبادی تھی۔ ۱۹۸۰ کی دہائی کے اوائل میں یہ علاقہ دلالوں کے ہاتھ میں آیا جو علاقے میں جلد ہونے والی قانونی پلاٹنگ کے منتظر تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کچے گھروں کی قطاریں کھڑی ہو گئیں۔ ۸۰ کے وسط میں ساٹھ مربع گز کے پلاٹوں کی حد بندی شروع ہوئی۔ شیڈوں کو منہدم کیا گیا  اور پرانے مکینوں کو نئے پلاٹ الاٹ ہوئے۔ لیکن ان گنت پلاٹ دلالوں کے ذریعے کراچی کے دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کے ہاتھوں فروخت کیے گئے اور یوں اے ون ایریا ۱۹۸۰ کی دہائی کے تین خطرناک عناصر ہتھیار، ہیروئن اور MQM کی پناہگاہ بن گیا۔ ۱۹۹۲ کے وسط میں ہونے والے واقعات۔۔۔آپریشن کلین اپ اور حقیقی کی پیدائش۔۔۔۔ نے بارود کا کام کیا۔
	"ہم ملیر میں ۳۵ سال سے ہیں لیکن ایسے حالات نہیں دیکھے۔ یہ MQM کی دھڑے بندی تھی جو ہم سب کی بربادی کا باعث بنی۔ لالوکھیت، کورنگی اور دوسرے علاقوں سے MQM کے لڑکے چھپنے کے لیے یہاں اٹھ آئے۔ چھپنے چھپانے والوں نے ہمارے علاقے کا ستیاناس کیا۔ اب یہ لڑکے بندوقیں لٹکائیں گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ڈاکے ڈالتے ہیں، بھتہ لیتے ہیں۔"
	"سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں انسانوں کی کوئی عزت نہیں رہی۔ ہماری گلی میں ایک بوڑھا، سفید کھچڑی بال، سبزی کا ٹھیلہ لگاتا ہے۔ اسے ان لڑکوں سے التجا کرنی پڑتی ہے۔ ہاتھ باندھ کے وہ ان اٹھارہ اٹھارہ برس کے لڑکوں سے کہتا ہے ،’سر جی، پھیری لگا لوں‘  ایک ہفتہ ہوا، ان لڑکوں نے پنساری کی دکان لوٹ لی۔ گلی کے بچوں میں لوٹی ہوئی ٹوفیاں اور دو دو روپے تقسیم کیے اور کہا، ’بولو، حقیقی زندہ باد‘  ہمارے دودھ والے نے میرے میاں کو بتایا کہ لڑکے اس سے دس ہزار مانگ رہے ہیں کہ اسلحہ خریدنا ہے۔ غریب دودھ والا دس ہزار کہاں سے لاتا۔ بیچارہ، یہ علاقہ چھوڑ گیا۔ خدا جانے اب کہاں دودھ بیچتا ہو گا۔
	"تو یہ حال ہے ہمارے علاقے کا۔ یہ غنڈے بدمعاش جن کے منہ سے ابھی دودھ کی بو آتی ہے ، نہ صرف یہ کہ بھتہ مانگتے ہیں بلکہ تمہارے منہ پر کہتے ہیں کہ اسلحہ ختم ہو گیا ہے ، بندوقیں لانی ہے ، گولیاں خریدنی ہیں،" سکینہ، عمر پچپن کے لگ بھگ، مادری زبان پنجابی، سانس لیے بغیر بول رہی ہیں۔ تین سال کے عرصے میں سکینہ نے اس علاقہ کا جو اخلاقی اور معاشرتی زوال دیکھا ہے ، اس نے ان کا سر چکرا دیا ہے۔ 
	میں ان کے گھر میں اپنی خالہ کے ساتھ ان کے بیٹے کا حال پوچھنے آئی ہوں جو گلی میں چلنی والی گولیوں سے شدید زخمی ہوا تھا۔ میری خالہ گورنمنٹ کے ایک ادارے سے وابستہ ہیں اور اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اس علاقے میں رہتی ہیں۔
	"اس دن بہت فائرنگ ہو رہی تھی۔ احمد نے ہم سب کو اندرونی کمرے میں جانے کو کہا اور برآمدے میں آیا کہ گیٹ بند کر لے۔ خدا جانے اس کے دل میں کیا سمائی کہ اس نے گیٹ ذرا سا کھول کر باہر جھانک لیا۔ ایک گولی اس کی دائیں آنکھ کے اوپر لگی اور وہ وہیں گر پڑا۔ باہر لڑکوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں،’احمد بھائی کے گولی لگ گئی، فائرنگ بند کرو، فائرنگ بند کرو‘ فائرنگ بند ہو گئی۔ چند لڑکے ہماری مدد کو آئے اور احمد کو جناح اسپتال پہنچایا گیا۔ دوسرے دن دو تین لڑکے میرے پاس آئے اور کہنے لگے ، ’خالہ معاف کرنا۔ لیکن یہ ہماری گولی نہیں تھی جو احمد بھائی کو لگی‘۔ ذرا دیکھو، ان کی ہمت۔ اور ہماری بے بسی! کیا کر سکتے تھے ہم۔ اگر وہ لڑکا بھی، جس کی بندوق سے چلی ہوئی گولی احمد کو لگی، ہمارے پاس آ جاتا تو ہم کیا بگاڑ سکتے تھے اس کا؟ کیسا زمانہ آگیا ہے۔ کوئی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ اور اٹھائے بھی کیسے ؟ کوئی دو لفظ بول دے تو جان سلامت نہیں،" سکینہ کہ رہی ہیں، ، ہر حال میں جیئے جانے کی ہوس نے ہمیں کہیں کا نہ رکھا۔۔۔" وہ چپ ہو جاتی ہیں۔ 
	"جس دن میرے بھائی کو گولی لگی جی چاہتا تھا پورے اے ون ایریا کو جلا کر خاکستر کر دوں،" احمد کی چھوٹی بہن کی آواز غصے سے کپکپاتی ہے۔ وہ بی۔اے پاس ہے اور ایک دواؤں کی کمپنی میں کام کرتی ہے۔ اس کی دو چھوٹی بہنیں سامنے دری پر بیٹھی مٹر کی پھلیاں چھیل رہی ہیں۔
	یہ چھ بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ احمد سب سے بڑا ہے۔ دو بہنیں نوکری کرتی ہیں۔ باپ کبھی فوج میں سپاہی تھے اب معمولی پینشن ملتی ہے۔ احمد ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ پھر اسے فیکٹری سے نکال دیا گیا۔ فیکٹری نقصان میں جا رہی تھی لہذا تیس آدمیوں کی چھٹی ہوئی۔ "ایک دفعہ احمد نے باہر جانے کی کوشش کی۔ آٹھ ہزار مانگ تانگ کر کسی ایجنٹ کو دیئے۔ لیکن یونان والوں نے پکڑ کر واپس بھیج دیا۔" احمد دو سال سے بے روزگار ہے۔ 
	میں خالہ کے ساتھ ملیر کی گلیوں سے گزر رہی ہوں۔ "اس علاقے میں بہت اسلحہ ہے۔ چند ایک خالی گھر ہیں جہاں لڑکوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ گھر اسلحہ ڈپو بنے ہوئے ہیں۔ کبھی ان گھروں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور قطار سے لگی ہوئی بندوقیں، کلاشنکو فیں اور گولیوں کی پیٹیاں ہر آنے جانے والے کو صاف نظر آتی ہیں۔ بندوقیں لٹکائیں یہ لڑکے گولیوں کی پیٹیاں ادھر سے ادھر پہنچاتے رہتے ہیں۔ آج کل البتہ یہ لڑکے روپوش ہیں۔ جب سے دو امریکی مارے گئے ہیں، تب سے زرا سکون ہے۔ 
	"یہاں دو بدنام ترین لڑکے ہیں حقیقی کے۔ ایک کو تو پولیس گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ محلے والوں نے سکون کا سانس لیا کہ چلو ایک تو کم ہوا۔ لیکن ایک ہفتے بعد وہ لڑکا واپس گلیوں میں گھوم رہا تھا اور فخریہ انداز میں لوگوں کو بتا رہا تھا، "دو لاکھ روپے دیئے ہیں"۔ ان لڑکوں نے کمسن بچوں کو تنخواہ پر رکھا ہوا ہے جو پولیس یا دوسرے گروپ کے لڑکوں کے آنے کی اطلاع انھیں وقت پر پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر کیا کر سکیں گے ؟ ہمارے محلے میں الطاف گروپ سے کسی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ لیکن حقیقی والے ان سے بھی بدتر ثابت ہوئے ہیں"۔
	ہم ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں جس کا سربراہ، ایک ادھیڑ عمر کا آدمی، پانچ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کا باپ، دو ماہ پہلے فائرنگ میں ہلاک ہوا ہے۔ بیوہ کسی کام سے باہر گئی ہوئی ہیں۔ میں لڑکیوں سے بات چیت کر رہی ہوں۔ سب سے بڑی لڑکی ۲۰ سال کی ہے۔ "اس دن ابا سہ پہر میں گلی کی نکڑ پر مکینک کی دکان سے اپنی اسکوٹر ٹھیک کروا رہے تھے کہ کچھ مسلحہ افراد گاڑی میں آئے اور گولیاں برسا کر چلے گئے۔ مکنیک تو اسی وقت ختم ہو گیا۔ ابا زخمی حالت میں سڑک پر پڑے رہے۔ کوئی اٹھانے نہیں آیا۔ اتفاق سے میرے بھائی نے اس دن فیکٹری سے چھٹی کی تھی۔ جب گولیاں چلنی بند ہوئی تو وہ باہر نکلا۔ دیکھا ابا سڑک پر پڑے ہوئے تھے۔ بہت خون بہہ گیا تھا۔ اسپتال جاتے وقت راستے میں ختم ہو گئے۔ 
	"میرے ابا اور بھائیوں کا کسی بھی پارٹی سے تعلق نہیں رہا لیکن ابا کی موت کے بعد MQM اور حقیقی دونوں تنظیموں نے دعوہ کیا کہ ابا ان کے پارٹی کے ہمدرد تھے۔ یہ جھوٹ تھا۔ بعد میں جب اخبار سے لوگ آئے تو بھائی نے کسی سے بات نہ کی۔ کیا فائدہ ان سب باتوں کا۔ الٹا نقصان ہی پہنچ سکتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا میں دستاویزی فلم بنا رہا ہوں۔ دنیا بھر میں دکھانے کے لیے کہ کتنا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ لیکن میرے بھائیوں نے منع کر دیا"۔
	ہم چار پائی پر بیٹھے ہیں اور بچے ہمارے گرد گھیرا ڈالے کھڑے خاموشی سے ہماری باتیں سن رہے ہیں۔
	"ابا موٹر سائیکل میں دکانوں کو مال سپلائی کیا کرتے تھے ،" وہ مجھے ب تا رہی ہے۔ اب گیارہ افراد پر مشتمل اس خاندان میں دو کمانے والے ہیں۔
	"جب بھی فائرنگ ہوتی تھی ابا کہتے دروازہ بند کر لو، باہر نہ نکلو۔ بہت ڈرتے تھے۔ ہنگاموں سے دور رہتے تھے۔ دو دن پہلے ہی کہا تھا کہ کھڑکیوں، دروازوں میں لوہے کی جالی لگوا لیں گے۔ بہت وارداتیں ہو رہی ہیں۔ کسی کو کیا معلوم تھا خود ہی واردات کا شکار ہو جائیں گے "۔
	کیا حکومت کی طرف سے کوئی معاوضہ وغیرہ ملا؟
	"ہمیں صرف FIR کی کاپی ملی جو پولیس نے خود درج کی تھی۔ اور ابا کی موت کا سرٹیفکٹ، جو اسپتال والوں نے دیا۔" 
	"لیاقت آباد میں بہت برا حال ہے۔ جہاں میں رہتی ہوں۔ لیکن یہاں کے حالات تو بہت ہی خراب ہیں،" ایک بوڑھی خاتون جو گھر میں مہمان آئی تھیں بتانے لگیں۔ "دو مہینے پہلے میں یہاں آئی تھی۔ بس سے اتر کر گلی میں داخل ہوئی۔ میری نظریں اتنی کمزور ہیں کہ میں صرف زمین کی جانب نظریں جمائے رکھتی ہوں کہ کسی پتھر سے ٹھوکر نہ کھاؤں۔ ادھر ادھر تو دیکھتی نہیں۔ ۔" انھوں نے موٹے موٹے شیشوں والا چشمہ درست کیا، اور بولیں، "میں جب گلی میں داخل ہوئی اور نظر اٹھائی تو دیکھا تین لڑکے یہ لمبی لمبی بندوقیں کندھوں پر لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں وہیں بت بن گئی۔ مجھ سے اگلا قدم اٹھائے نہ اٹھے۔ خوف تھا کہ ہلی اور ان لڑکوں نے گولی چلائی۔ ایک لڑکے نے میرے سفید گال اور جھکی ہوئی کمر کو دیکھتے ہوئے کہا ’اماں ڈر گئیں؟‘ میں بول ’ُبیٹا، ڈروں کیسے نہیں؟ بندوق جو اٹھائے ہوئے ہوُ۔ بولا ’اماں، تم تو خود مری ہوئی ہو۔ تمہیں کیا ماریں‘
	ہم تنگ گلیوں سے گزر کر خالہ کے گھر واپس لوٹتے ہیں۔ "یہاں منشیات کا مسئلہ بھی ہے ،" خالہ کہتی ہیں۔ ایک مکان کے باہر بنے ہوئے چبوترے پر ایک آدمی بیٹھا ہے۔ سرخ آنکھیں، گالوں کی ہڈیاں نکلی ہوئی، خالی الذہن، خلا میں گھورتا ہوا۔
	"کچھ لوگ کھلم کھلا بیچتے ہیں ہیروئن۔ ایک پکڑا بھی گیا تھا۔ لیکن چھوٹ کے آگیا۔ اس کا بھائی وکیل ہے۔ "
	میری خالہ کو حالات سے باخبر رہنا پڑتا ہے۔ ان کے بچے چھوٹے ہیں اور اسکول کالجوں میں پڑھ رہے ہیں۔ بڑی بیٹی کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ دو لڑکوں نے تکنیکی ڈپلومے لیے ہیں اور اب ٹیکسٹائل ڈیزائن کا کام شروع کیا ہے۔ خالہ کی زندگی جدوجہد کی داستان ہے۔ خالو کی مسلسل بیماری کی وجہ سے گھر بار کا پورا بوجھ ہمیشہ خالہ پر ہی رہا۔ 
	"اور اب میں سوچنے لگی تھی کہ چلو بچوں کی تعلیم ختم ہونے کو آ رہی ہے اور وہ برسر روز گار ہونے لگے ہیں۔ سکون سے بقیہ دن گزر سکیں گے۔ لیکن اب یہ گھر ہے ، اور ہم،" خالہ ہرے بھرے گملوں پر نظر ڈالتی ہیں۔ برآمدے میں سیمنٹ کی چادر ڈلوا کر لوہے کی جالی لگوائی ہے۔ سفید پینٹ تازہ ہے۔ "اور یہ محلہ۔۔۔ جو تیزی سے تباہی کے گڑھے میں گر رہا ہے۔ کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میں دلدل پہ چل رہی ہوں۔ بس ایک تسلی ہے ، اگر اسی تسلی کہہ لو،کہ میں تنہا نہیں ہوں۔ ہم سب ہی اس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ لیکن شاید آگے دلدل ختم ہو جائے اور زمین  مضبوط، کون جانے۔ ۔۔"، خالہ کے چہرے پہ ایک موہوم سی مسکراہٹ ہے۔ 
٭٭٭


٭٭٭
ماخذ: ’آج‘، جریدے کے ایک  شمارے سے۔ 
http://pakdata.com/aaj/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
