﻿





کفِ ملال






خورشید ربانی







انتساب

ایمن ,
تہمینہ, 
فارعہ, 
امتیاز حسن , 
راحیل حسن,
نعمان نواز,
شفقت اور 
لیاقت الٰہی کے نام



حرف تشکر

کفِ ملال کی اشاعت کے حوالے سے برادرم ا ختر رضا سلیمی، مشکور علی، نور خالق، شوکت زین،رمضان زیدی، اسماعیل آسی، نزاکت خان، طارق شاہد، خاص طور پر حامد محبوب اور بڑے بھائی ملک الٰہی بخش کا شکر گذار ہوں جن کی محبت سے یہ کتاب آپ تک پہنچی۔

خورشید ربانی



خواب و امید سے ایقان کی سرحد کی طرف
سب زمانے ہیں رواں عہدِ محمدؐ کی طرف

علم کے شہر پئے حرف و نوا ، اذن و عطا
بے نوا محو سفر ہیں درِ ابجد کی طرف

اُن ؐ کی عظمت کے ثنا خوانوں میں شامل ہو جاؤں
حرفِ تمہید سے میں آگیا مقصد کی طرف

زندگی غم کی تمازت سے بچانے کیلئے
سب روانہ ہیں ترے سایۂ  گنبد کی طرف

میں ہوں خورشید رواں گردشِ ایّام کے ساتھ
اک زمانے سے فقط کوئے محمدؐ کی طرف
٭٭


 

مرے حضور ﷺ کو اتنا حسیں بنایا گیا
جہاں میں اور کسی کو نہیں بنایا گیا

مرے حضورﷺ تری خاکِ پائے اَقدس سے
زَمیں کو ہمسرِ عرشِ بَریں بنایا گیا

تَوہمات کی تَاریکیاں مٹانے کو
مرے حضورﷺ کو ماہِ  مبیں بنایا گیا

مرے حضورﷺ ترے نام کے وسیلے سے
اَثر کو حَرفِ دُعا کا اَمیں بنایا گیا
٭٭


 


وفا و صبر و اطاعت کا باب چمکا ہے
مرے خدا کا عجب انتخاب چمکا ہے

فراتِ صبر کی موجیں گواہی دیتی ہیں
کہ دشت زار میں پیاسوں کا خواب چمکا ہے

میں ان شہیدوں کی خدمت میں ہوں سلام گزار
کہ جن سے صدق و صفا کا نصاب چمکا ہے

شبِ سیاہ کی خورشید تیز آندھی نے
بجھایا لاکھ مگر آفتاب چمکا ہے
٭٭


دیکھتا ہوں نصاب پتھر کے
آنکھ شیشے کی ، خواب پتھر کے

میرے آنگن میں پیڑ بیری کا
سہہ رہا ہے عذاب پتھر کے

کون رکھتا ہے روز رستے میں
میری خاطر گلاب پتھر کے

بتکدے کے سوال پر یارو
کون سنتا جواب پتھر کے

جانے کس کی تلاش میں گم ہیں
قافلے زیرِ آب پتھر کے
٭٭


 جب سے تو نے شجر کیا ہے مجھے
رنگ و نکہت نے گھر کیا ہے مجھے

میں تو بے مول ایک آنسو تھا
تیرے غم نے گہر کیا ہے مجھے

قافلوں کو تلاش ہے میری
تو نے یوں رہگذر کیا ہے مجھے

ایک پل ہوں محیط صدیوں پر
روز و شب نے بسر کیا ہے مجھے

دن مجھے شام کر گیا خورشید
اور شب نے سحر کیا ہے مجھے
٭٭





صحرا کی ویرانی بھرنے آئی تھی
اور کوئی دیوانی بھرنے آئی تھی

اک دن میری تنہائی کے زخموں کو
سرد ہوا مستانی بھرنے آئی تھی

میرے دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر
اک دوشیزہ پانی بھرنے آئی تھی

میری غزل کے بے معنی سے حرفوں میں
تیری یاد معانی بھرنے آئی تھی

تیرے بدن کی خوشبو میری سانسوں میں
کوئی شام سہانی بھرنے آئی تھی

میرے خوابوں کے دامن میں اے خورشید
خوشبو، رات کی رانی بھرنے آئی تھی
٭٭


چراغِ زخمِ تمنا کی لو بڑھائے ہوئے
فصیلِ غم میں ہے اک آس در بنائے ہوئے

اک آرزو کے سفر سے پلٹ رہا ہوں میں
دلِ و نگاہ کی محرومیاں اٹھائے ہوئے

کوئی نہیں جو مٹائے مری سیہ بختی
فلک پہ کتنے ستارے ہیں جگمگائے ہوئے

کوئی فرات کا دریا ہیں میری آنکھیں بھی
ہوائے درد ہے پہرے جہاں بٹھائے ہوئے

بہت دنوں سے ہے خورشید یہ خرابۂ  دل
مرے نصیب کی ویرانیاں بسائے ہوئے
٭٭






حسرتیں دل کی بڑھاتا ہی چلا جاتا ہے
خواب میں کوئی جب آتا ہی چلا جاتا ہے

کوئی ٹوٹا ہوا پتا، کوئی بکھرا ہوا خواب
درد کی جوت جگاتا ہی چلا جاتا ہے

اک بگولہ پئے تسکینِ تمنا کب سے
دشت میں خاک اڑاتا ہی چلا جاتا ہے

طاقِ اخلاص میں جلتا ہوا اک ایک چراغ
تیرگی دل کی مٹاتا ہی چلا جاتا ہے

ایک نقطہ سرِ قرطاسِ محبت دل میں
دائرے غم کے بناتا ہی چلا جاتا ہے

کوئی خورشید مرے دشتِ گماں میں آ کر
فکر کے پھول کھلاتا ہی چلا جاتا ہے
٭٭


مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے
سفر کے باب میں لیکن سہارا خواب کا ہے

ترے خیال کا صحرا عبور کرنے میں
ہے نفع درد کا لیکن خسارہ خواب کا ہے

جلے بجھے ہوئے خیمے کی راکھ میں جس کو
ستارے ڈھونڈتے ہیں وہ شرارہ خواب کا ہے

خدا کرے کہ کھلے ایک دن زمانے پر
مری کہانی میں جو استعارہ خواب کا ہے

برس رہا ہے زمین سخن پہ جو خورشید
کسی ملال کا یا ابر پارہ خواب کا ہے
٭٭




 

صلیبِ درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو
غمِ فراق سے مارا گیا تھا کیوں مجھ کو

کسی خیال ، کسی خواب کے جزیرے پر
تمام عمر گزارا گیا تھا کیوں مجھ کو

پلٹ رہا تھا درِ خواب سے جو خالی ہاتھ
تو بار بار پکارا گیا تھا کیوں مجھ کو

٫کفِ گماں سے جو گرِنا تھا عمر بھر کیلئے
تو ایک پل کو سہارا گیا تھا کیوں مجھ کو

اگر نہیں تھا یہاں کوئی منتظر میرا
تو پھر فلک سے اتارا گیا تھا کیوں مجھ کو

کسی نے میری طرف دیکھنا نہ تھا خورشید
تو بے سبب ہی سنوارا گیا تھا کیوں مجھ کو
٭٭



 


قریہ قریہ گھوما چاند
آوارہ آوارہ چاند

میری صورت جاگتا ہے
رات گئے تک تنہا چاند

جانے کس کی خاطر آج
جھیل کنارے اترا چاند

دل کے افق پر روشن ہے
یادوں کا رنجیدہ چاند

خوابوں کا رکھوالا ہے
خیمۂ  شب میں جلتا چاند

اپنے دل کے زخم چھپائے
صدیوں سے ہے چپ سا چاند

رات سمندر میں خورشید
اک خاموش جزیرہ چاند
٭٭


خیال اور خواب ہو گیا ہوں
میں خود پہ بھی عذاب ہو گیا ہوں

گھنے شجر کی شاخ سے بچھڑ کر
میں خانماں خراب ہو گیا ہوں

بکھرنے لگ گئے ہیں میرے کاغذ
قدیم تر کتاب ہو گیا ہوں

میں بن نہیں رہا کسی طرح بھی
کہ نقشِ سطح آب ہو گیا ہوں

سو بن گئی ہے رات میری دشمن
کہ میں اک آفتاب ہو گیا ہوں
٭٭



 

جب سے اس شہرِ بے مکان میں ہوں
میں ترے اِسم کی امان میں ہوں

گنبدِ شعر میں جو گونجتی ہے
میں اسی درد کی اذان میں ہوں

میں نے تنہائیوں کو پالنا ہے
اس لیے خواب ہی کے دھیان میں ہوں

تتلیاں رنگ چنتی رہتی ہیں
اور میں خوشبوؤں کی کان میں ہوں

وحشتیں ، عشق اور مجبوری
کیا کسی خاص امتحان میں ہوں

خواہشیں سایہ سایہ بکھری ہیں
اور میں دھوپ کے مکان میں ہوں

میں ہوں پیکانِ درد اے خورشید
اور اک یاد کی کمان میں ہوں
٭٭


ستاروں زائچوں میں کھو گیا تھا
میں کیسے واہموں میں کھو گیا تھا

میں تیری یاد کو آواز دے کر
دکھوں کے منظروں میں کھو گیا تھا

مجھے تصویر کے سو رخ دکھا کر
وہ شیشہ کرچیوں میں کھو گیا تھا

تمہارے خواب کی سرحد سے آگے
مرا دل رتجگوں میں کھو گیا تھا

ستارا بام پر خورشید چمکا
مگر پھر گھاٹیوں میں کھو گیا تھا
٭٭



 

سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا
ہر اک شے نے اپنا سایہ پہن لیا تھا

اپنا عُریاں جسم چھپانے کی کوشش میں
تیز ہوا نے پتا پتا پہن لیا تھا

ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے
اور فلک نے چاند ستارہ پہن لیا تھا

بم کے دھماکے سے زخمی تھی پھولوں والی
اور بازار نے ایک تماشا پہن لیا تھا

سارا شہر شریک ہوا تھا اس کے دکھ میں
جس دن اس نے غم کا لمحہ پہن لیا تھا

مایوسی کے عالم میں بھی اے خورشید
ہم نے اک امید کا رستہ پہن لیا تھا
٭٭


 


یہ کیا کہ درد کی پہنائیوں سے ڈرتے ہیں
ہم ایسے لوگ بھی سچائیوں سے ڈرتے ہیں

بتا کے حالِ دلِ زار اک زمانے کو
عجیب لوگ ہیں رسوائیوں سے ڈرتے ہیں

ہم اپنے دل میں چھپائے ہوئے تری خوشبو
ترے خیال کی پُروائیوں سے ڈرتے ہیں

کسی کے نام پہ خورشید کاٹ لیں گے حیات
بس ایک عمر کی تنہائیوں سے ڈرتے ہیں
٭٭





جب سے دربدر ہوں میں
بے گھری کے گھر ہوں میں

حرف حرف میں موجود
بات کا اثر ہوں میں

منزلوں چلوں گا ساتھ
ایک رہگذر ہوں میں

دھوپ کی عنایت ہے
سایۂ  شجر ہوں میں

پیڑ ہوں خیالوں کا
اور بے ثمر ہوں میں

ختم ہو نہیں سکتا
خواب کا سفر ہوں میں
٭٭


تری محبت کی راجدھانی کا کیا کروں میں
جو تُو نہیں ہے تو زندگانی کا کیا کروں میں

کئی زمانوں سے تیری جانب رواں ہوں لیکن
قدم قدم رنجِ رائیگانی کا کیا کروں میں

نہیں ہے کوئی بھی میرے ہمراہ جانے والا
تو موج در موج اس روانی کا کیا کروں میں

گر اِن اندھیروں کے زخم تو نے بھرے نہیں تو
افق افق تیری حکمرانی کا کیا کروں میں

چراغِ امید جل اٹھا ہے مگر مرے دل
سیاہ تر داغِ بدگمانی کا کیا کروں میں
٭٭



 

عکسِ گل ہوں کہ نقشِ حیرت ہوں
آئنے! میں تری ضرورت ہوں

گونجتا ہوں دلوں کے گنبد میں
ایک آوازۂ  محبت ہوں

نارسائی مرا مقدر ہے
زیرِ لب اک بیانِ حسرت ہوں

دلِ آسودہ ہے وطن میرا
میں تمنائے دشتِ غربت ہوں

میں ہوں اک پیکرِ خیال و خواب
اور کتنی بڑی حقیقت ہوں

گرچہ میں حرفِ خاک ہوں خورشید
پھر بھی زیبِ کتابِ فطرت ہوں
٭٭


جہاں پہ رازِ سخن آشکار کرنا ہے
سو ایک عمر ترے غم سے پیار کرنا ہے

اُجالنا ہیں مجھے تیرگی میں رستے بھی
شجر شجر بھی مجھے سایۂ  دار کرنا ہے

میں آفتاب ہوں لیکن مثال ماہ مجھے
شب سیہ کا سفر اختیار کرنا ہے

بکھر نہ جائے کہیں ریگزار فرقت میں
سو یہ خیال دلِ بے قرار کرنا ہے

میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں اے خورشید
مجھے خود اپنا ہی اب انتظار کرنا ہے
٭٭


فریبِ منزلِ یک آرزو ، قرار کے خواب
نظر نظر میں سلگتے ہیں اعتبار کے خواب

بریدہ شاخ نے پھر زخم زخم آنکھوں میں
سجا لیے ہیں کسی موجۂ  بہار کے خواب

کبھی کبھی میری آنکھوں میں جاگ اٹھتے ہیں
کسی خیال کی خوشبو سے وصلِ یار کے خواب

ہوا کے دل میں نجانے ہے کیا کہ مدت سے
بکھیرتی چلی جاتی ہے ریگزار کے خواب

٫کہانی اپنی مکمل نہ ہو سکی خورشید
کہ لٹ گئے کہیں رستے میں دُور پار کے خواب
٭٭


 


شام کنارے اترا میں
ہو گیا ریزہ ریزہ میں

جنگل کی ویرانی میں
خاموشی سے گونجا میں

تنہائی میں روشن ہوں
ایک دیا یادوں کا میں

سندھ کنارے ہوں خورشید
’’پیاس بھرا مشکیزہ‘‘ میں
٭٭



 
محبت ایک بوڑھا دیوتا ہے
جسے نروان کا غم کھا گیا ہے

ترا میرا یہی دکھ مشترک ہے
ہمیں انسان کا غم کھا گیا ہے
٭٭٭
ماخذ:
http://www.test.urduasnaf.com/Poetry/Kaf-e-Malal/Page-index.html
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
