﻿

مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُم

کفار سے مشابہت
ایک شرعی و تحقیقی جائزہ



تالیف : ناصر بن عبدالکریم العقل
اردو ترجمہ : ابو اسامہ محمد اشرف

 



بسم اﷲ الرحمن الرحیم
تقدیم

	اَلْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ،  وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی اَشْرَفِ الأَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ،  وَعَلٰی آلِہِ وَ صَحَبِہِ وَأَھْلِ طَاعَتِہِ أَجْمَعِیْنَ : وَبَعَدُ۔ 
	زیر نظر رسالہ بعنوان ’’مشابہت کفار کی شرعی حیثیت ‘‘ دراصل رسالہ (مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ) کا اردو ترجمہ ہے۔اصل عربی رسالہ معروف اسکالر ڈاکٹر ناصر عبدالکریم العقل کی تالیف ہے،  جبکہ اردو ترجمہ کی سعادت ہمارے فاضل بھائی محترم مولانا محمد طاہر آصف کے حصہ میں آئی۔ فجزاھم اﷲ خیر الجزاء واسعدھم فی الد رسیہ۔
	کتاب کی فہرست اور چیدہ چیدہ مقامات کے مطالعہ سے میں اس مختصر مگر انتہائی جامع رسالہ کی افادیت و    اہمیت کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکا۔ بلکہ آج کے اس پر فتن دور میں اس قسم کے موضوعات پر لکھنے کی اشد ضرورت ہے،  کیونکہ یہود و ہنود اپنی بھرپور منصوبہ بندی اور بے انتہاء وسائل کے ساتھ اپنی نجس اور انتہائی زہریلی ثقافت کے ذریعہ مسلمانوں پر عمومی یلغار کر چکے ہیں۔ اور مسلمان اسی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نظر آتے ہیں بلکہ اس ثقافت کو اپنا نے پر فخر محسوس کرتے ہیں (اِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ)
	ہندوستان کے بعض عیار سیاستدانوں نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ اب ہمیں پاکستا ن سے میدان جنگ میں لڑنے کی زحمت نہیں اٹھانی چاہیے اب تو ہم نے اپنی ثقافت پاکستان کے ہر گھر میں پہنچا دی ہے اور ایک ایک پاکستانی کے دل پر ہماری ثقافت حکمرانی کر رہی ہے۔ 
	ہندو کی یہ سوچ ہمارے لئے ایک المیہ اور لمحہ فکریہ ہے غیروں کی اقدار، تہذیب و ثقافت اور عقائد ورسوم ہمارے لیے دنیا و آخرت میں مہلک ثابت ہوں گے۔ ذرا تاریخ کے اوراق پلٹئے اور اپنے عروج و زوال کی داستانیں ملاحظہ کیجئے امیر المومنین عمر بن خطابؓ نے کیا خوب فرمایا تھا :
	نَحْنُ قَوْمٌ أَعَزَّنَا اﷲُ بِالاِسْلَامِ وَاِذَا طَلَبْنَاہُ فِی غَیْرِہِ أَذَلَّنَا اﷲُ 
	’’ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ نے اسلام کے ساتھ مربوط ومنسلک رہنے میں عزت عطا فرمائی ہے،  اگر ہم نیاسلام کے علاوہ کسی دین یا تحریک سے اپنی عزت کی راہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی تو اﷲ تعالیٰ ہمیں ذلیل کر دے گا۔‘‘ 
	ہم محترم محمد طاہر آصف کے تہہ دل سے ممنون ہیں کہ ایک بڑے مناسب وقت میں اس رسالہ کا ترجمہ کیا اور اسے قارئین تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ ہم اس مسئلہ کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اس رسالہ کے مطالعہ اور اسے مزید عام کرنے کا مشورہ دیں گے۔ اس مسئلہ کا عقیدہ کے ساتھ بھی گہرا ربط ہے۔ دیگر عادات و تقالید،  رہن سہن،  کر دار و گفتار،  اوڑھنا بچھونا،  اٹھنا بیٹھنا،  چلنا پھرنا،  کھانا پینا،  ہر مسئلہ میں استقامت کا راستہ سنت رسول ہی کا راستہ ہے۔ اغیار کی مشابہت میں کوئی خیر و برکت نہیں۔جبکہ اس کا انجام بھی انتہائی بھیانک ہے۔
	آج مسلمان کتاب وسنت کے ساتھ تعلق جوڑ لیں اور کفار کی تقلید و تشبیہ سے اپنے آپ کو بچالیں تو اﷲ تعالیٰ ان کے تمام معاملات کو سنوار دے گا۔ (وَمَا ذَلِکَ عَلَی اﷲِ بِعَزِیْز) اﷲ تعالیٰ الشیخ ناصر بن عبدالکریم العقل کو ا س عظیم تالیف پر اور مولانا محمد طاہر آصف صاحب کو انتہائی واضح اور سلیس ترجمہ پر جزائے خیر عطا فرمائے۔ ان کی یہ نیکی روز قیامت میزان حسنات کا ذخیرہ بن جائے،  اور اس سلسلہ کا نفع عام کر دے۔ اور اس سسکتی اور تڑپتی انسانیت کو تقالید کفر کے چنگل سے نکل کر وحی الٰہی کا مضبوط ومستحکم سہارا نصیب ہو جائے۔ 
  	فضیلۃ الاستاذ الشیخ عبد اﷲ ناصر رحمانی                      


																	
حدیث سندھ

	اِنَّ الْحَمْدَ ﷲِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ وَنَعُوْذُ بِہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا وَمَنْ یَھْدِہِ اﷲُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ھَادِی لَہُ وَاَشْھَدُ أَنَّ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ،  اَلْقَائِلُ فِی کِتَابِہِ الْکَرِیْمِ 
	{ وَلَن تَرْضَیٰ عَنْکَ الْیَہُودُ وَلَا النَّصَرَیٰ حَتَّیٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ }      (البقرۃ ( ۲/۱۲۰)
	’’یہ یہودی اور عیسائی اس وقت تک ہرگز آپ سے خوش نہ ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے طریقے پر نہ چلیں۔ ‘‘ 
لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوْا جُحَرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوھُمْ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی ؟ قَالَ فَمَنْ ؟۔  
(صحیح البخاری،  کتاب الاعتصام باب قول النبیؐ لتتبعن سنن ومن کان قبلکم حدیث : ۷۳۲۰،  صحیح مسلم،  کتاب العلم باب اتباع سنن الیھود  و النصاریٰ: ح ۲۶۶۹)
	’’تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طور و طریقوں کی اس طرح پیروی کرو گے جس طرح ایک بالشت دوسری کے برابر ہوتی ہے حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے تو تم اس میں بھی ان کے پیچھے لگو گے۔ ہم نے کہا،  یا رسول اﷲ کیا وہ یہودی اور عیسائی ہیں، آپؐ  نے فرمایا،  تو اور کون ہیں؟‘‘۔ 
	’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘‘    (أبو داؤد،  ح : ۴۰۳۱)
	’’جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ ‘‘ 
	برادران اسلام ! مشابہت کفار ایک ایسا اہم ترین موضوع ہے جس پر اسلام نے خاص توجہ دی ہے اور ہادی برحق علیہ السلام وہ ذات گرامی ہیں جنہوں نے امانت ورسالت کو لوگوں تک پہنچانے اور امت کی خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا آپؐ نے بھی اکثر مواقع پر مختصر طور پر اور کہیں مکمل تفصیل کے ساتھ کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے خبردار فرمایا۔اس امت کے مختلف گروہوں نے کفار کی مشابہت اختیار کی اور اسے اختیار کرنے میں یہ لوگ مختلف درجوں میں منقسم نظر آتے ہیں اس معاملے کی سنگینی اور اس سے درپیش خطرات مختلف زمانوں میں مختلف رہے ہیں یقیناً یہ مبالغہ آرائی نہ ہو گی اگر میں یہ کہوں کہ موجودہ دور میں اختیار کی جانے والی مشابہت گذشتہ ادوار سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس قدر اہم ہونے کے باوجود بھی یہ موضوع اب تک اہل علم کی خصوصی توجہ سے محروم رہا میرے خیال میں مشابہت کفار کو مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کرنا موجودہ دور کے مسلمانوں کی اہم ترین ضرورت ہے جسے پورا کرنا ہر طالب علم کی ذمہ داری ہے چونکہ یہ موضوع بہت وسیع ہے اس لیے میں اس کے چند اہم پہلوؤں کو ہی احاطۂ تحریر میں لاؤں گا۔
	پہلے ہمیں ان اصول و قواعد کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے جن کا جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ تاکہ عقائد و عبادات اور عادات و معاملات میں مشابہت سے بچا سکے۔ 
											 	دکتور ناصر بن عبدالکریم العقل	   ریاض،  سعودی عرب


												   	
مشابہت کا مفہوم 

	لغوی اعتبار سے لفظ ’’التشبہ‘‘ مشابہت سے ماخوذ ہے اور مشابہت نام ہے مماثلت،  نقل، تقلید اور پیروی کا۔ نیز مشابہت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آپس میں ملتی جلتی ہوں لہٰذا جب یہ کہا جائے کہ فلاں نے فلاں کی مشابہت اختیار کی تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی نقل اور پیروی اختیار کر کے اس جیسا ہو گیا۔ 
	ایسی مشابہت جس میں قرآن وسنت میں ممانعت آئی ہے۔ کفار کے عقائد و عبادات یا ان عادات و اطوار میں مشابہت جو ان کی پہچان ہیں کسی طرح جائز نہیں اسی طرح معاشرے میں غیر صالح افراد سے مشابہت بھی ناجائز ہے اگرچہ بظاہر وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔ جیسے بدکار،  فاسق و فاجر اور جہلاء وغیرہ اسی طرح وہ بد گنوار بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جن کے دلوں میں ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا ان کی تفصیل انشاء اﷲ آگے آئے گی۔ 
	مشابہت کے باب میں یہ قاعدہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ چیزیں مشابہت کے ضمن میں نہیں آتیں جن کا تعلق کفار کے عقائد،  عبادات یا عادات وغیرہ سے نہیں یا وہ چیزیں جو ان کی پہچان یا ان کے ساتھ خاص نہیں۔ وہ باتیں بھی جو کسی شرعی حکم کے خلاف نہیں اور نہ ان کے کرنے سے کسی فتنہ وفساد پھیلنے کا ڈر ہے۔

کفار کی مشابہت سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

	ابتدائی طور پر ہمیں اسلام کا یہ اصول سمجھ لینا چاہیے کہ دین کی بنیاد تسلیم و رضا اور اطاعت پر ہے یعنی اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت۔ اطاعت نام ہے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کا۔ اﷲ کے احکام کی بجا آوری اور منع کی گئی چیزوں سے اجتناب اور آپؐ  کی مکمل اتباع و پیروی کا جب یہ اصول ہم نے سمجھ لیا تو پھر ایک مسلمان کو چاہیے کہ :
x	 	ہر اس بات کے سامنے سرتسلیم خم کر دے جو رسول مقبولؐ کی طرف سے ہو۔
x		آپؐ  کی اطاعت اور احکام کی تعمیل کرے جن میں سے ایک مشابہت کفار سے اجتناب کا  حکم ہے۔
x		جب ایک مسلمان تسلیم و رضا کے مطمئن ہو جائے،  اﷲ تعالیٰ کی بیان کر دہ اور عطا کی ہوئی شریعت پر مکمل اعتماد اور کامل یقین کے ساتھ اطاعت بجا لائے تو پھر اس کے لیے جائز ہے کہ وہ شرعی احکام کی وجوہات،  اسباب اور حکمتیں تلاش کرے۔
	یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کفار کی مشابہت سے روکنے کے لیے بہت سارے اسباب ہیں اور ارباب عقل و دانش اور خوش فطرت لوگوں کو ان میں سے اکثر کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔
x		کفار کے تمام اعمال کی بنیاد گمراہی اور فساد پر ہے:کفار کے اعمال کے متعلق یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ ان کے اعمال آپ کو پسند آئیں یا آپ انہیں ناپسند کریں۔ وہ اعمال بظاہر فتنہ انگیز ہوں یا فساد ان کے باطن میں چھپا ہوا ہو۔ ان کے اعمال کی بنیاد بہرحال گمراہی،  انحراف اور فساد پر ہی ہے۔ ان کے عقائد ہوں یا عادات و عبادات عام طور اطوار ہوں یا جشن و تہوار۔ یہ سب خیرو بھلائی سے یکسر خالی ہیں۔ فرض کریں ان میں کوئی اچھی بات ہو بھی تو ان کے لیے سود مندنہیںہوسکتی کیونکہ وہ اس پر اجر و ثواب نہ پاسکیں گے۔ جیسا کہ فرمان ربانی ہے :
	{ وَقَدِ مْنَآ اِلَیٰ مَا عَمِلُواْ مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآئً مَّنْثُوْرًا }  (الفرقان : ۲۵/۲۳)
	’’اور ہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے جو انہوں نے کیے پس ہم انہیں اڑتی ہوئی خاک کی مانند بنا دیں گے۔‘‘ 
x		کفارسے مشابہت :یہ چیز اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ  کی نافرمانی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ اسے مسلمانوں کے صراط مستقیم سے ہٹا کر گمراہی کی طرف لے جاتی ہے جس کے متعلق شدید وعید آئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
	{وَمَنْ یُشَاقِقِ الْرَّسُوْلَ مِنم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الھُدَیٰ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیلِ الْمُوْمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَّلَّیٰ وَنُصْلِہِ جَھَنَّمَ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا}   (النساء :۴/۱۱۵)
	’’جو شخص رسول کی مخالفت کرے اور اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر کسی اور راہ چلے در آں حالیکہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی ہے۔ تو ہم اس کو اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘ 
x		مشابہت اختیار کرنے والا اور جس کی مشابہت اختیار کی جا رہی ہے دونوں کے مابین اسی مشابہت کی بنا پر ایک ظاہری مناسبت اور ارادت مندی پیدا ہو جاتی ہے پھر اس سے قلبی میلان اور موافقت کے ساتھ ساتھ قول و عمل کی ہم آہنگی بھی جنم لیتی ہے۔ جبکہ یہ بات ایمان کے منافی ہے جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔
x		اکثر اوقات یہی مشابہت،  کفار سے دلبستگی کا سامان پیدا کر کے دل میں ان کے لیے پسندیدگی کا جذبہ ابھارتی ہے اور یوں ان کا مذہب،  عادات و اطوار،  ان کی باطل پرستی اور شر انگیزی حتیٰ کہ ان کی ہر بری بات بھی بھلی لگنے لگتی ہے۔ 
	اس قلبی میلان اور پسندیدگی کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سنت مطہرہ کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور رشد و ہدایت جسے رسول مقبولؐ  لے کر آئے اور جسے سلف صالحین نے اپنا منہج بنایا،  تحقیر،  ناقدری اور بے توجہی کا شکار ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جس شخص نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی گویا اس نے ان سے موافقت کر لی اور ان کے طور و اطوار اور افعال اسے بھا گئے جبکہ عام حالات میں انسان کو اپنے مخالفین کی کوئی بات یا کام بھی اچھا نہیں لگتا۔
x		یہ مشابہت ہی ہے جو فریقین کے دل میں محبت و مودت،  قلبی لگاؤ اور یگانگت کا سبب بنتی ہے۔ایک مسلمان جب کسی کافر کی پیروی اور نقل کرتا ہے تو وہ یقیناً اپنے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے یوں ایک طرف اس کا دل غیر مسلموں کی محبت و الفت کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور دوسری جانب اس کے دل میں پرہیز گار، متقی اور شرعی احکام کے پابند مسلمانوں کے لیے شدید نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
	یہ ایک فطری بات ہے جسے ہر صاحب عقل اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ خاص طور پر جب مشابہت اختیار کرنے والا اجنبیت اور احساس کمتری کا شکار ہو تو یہ شخص جس کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے یقیناً اس کی عظمت کا قائل ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے محبت و الفت کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہو بلکہ صرف ظاہری شکل و صورت اور عادات و اطوار تک ہی مشابہت وہم آہنگی محدود ہو تب بھی یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ کیونکہ ظاہری شکل و صورت میں مشابہت باطنی موافقت کا سبب ضرور بنتی ہے۔ اس بات کو ہر وہ شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے جو اس قسم کے عادات و اطوار پر تھوڑا سا غور و فکر کر لے۔
	مثال سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ مشابہت اختیار کرنے والوں کے درمیان واقعتاً محبت و الفت اور مناسبت و موافقت پائی جاتی ہے۔ جیسے کوئی اجنبی شخص کسی دوسرے ملک میں اپنے ہم زبان اور ہم لباس کو دیکھے تو وہ ضرور اس وقت اس کے لیے اپنے دل میں محبت و الفت کے جذبات زیادہ محسوس کرے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ اسے اپنے ہی ملک میں دیکھتا۔ جب کوئی انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسرا شخص اس کی نقل کر رہا ہے تو ا س تقلید کرنے والے کے لیے اس کے دل میں خوشگوار جذبات جنم لیتے ہیں۔ یہ توہے عمومی صورت حال مگر اس وقت صورت کیا ہو گی جب کوئی مسلمان کسی کافر کو پسند کرنے کی بنا پر اس کی نقالی اور تقلید کر رہا ہو۔
	حاصل کلام یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی کافر کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے تحت الشعور میں رضا و رغبت اور پسندیدگی کے عوامل ہی کار فرما ہوتے ہیں۔ پھر یہی نقل و مشابہت مودت اور محبت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جس کا مشاہدہ ہم اکثر مغرب زدہ اور مغربیت پسند مسلمانوں میں کرتے ہیں۔
x			مشابہت سے ہمیں اس لیے بھی روکا گیا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی کافر کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو یہ مشابہت اسے ذلت وپستی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔ جہاں وہ احساس کمتری کے ساتھ ساتھ شکست خوردہ بھی دکھائی۔ اس ذلت میں آج اکثر وہ لوگ مبتلا نظر آتے ہیں جو کفار کی تقلید اور نقالی میں لگے ہوئے ہیں۔

بعض اہم اصولوں پر ایک نظر

	جن کی بنا پر ہم مذموم اور ممنوعہ مشابہت کا معیار سمجھ سکیں۔ 
	رسول اﷲؐ  نے اپنی پاکیزہ اور سچی ترین زبان سے پیشین گوئی فرمائی ہے جو بلاشبہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے آپؐ  نے فرمایا:
	’’لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِ رَاعٍ‘‘   
							(بخاری،  حدیث ۷۳۲۰،  مسلم حدیث ۲۶۶۹)
	’’تم ضرور اپنے پہلوں کی ہو بہو اس طرح پیروی کرو گے جیسے ایک بالشت دوسری بالشت کے اور ایک بازو دوسرے بازو کے برابر ہوتا ہے ‘‘۔ 
	اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس امت کے کچھ گروہ کفار کی مشابہت میں مبتلا ہو جائیں گے۔ حدیث پاک میں جو ’’سنن‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس میں کفار کے عقائد،  عبادات،  احکام و عادات،  طور و اطوار اور عیدیں اور تہوارسبھی شامل ہیں۔
	’’اَلَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِنَا‘‘ ہم سے پہلے لوگ۔ اس سے کون مراد ہیں۔
	اس سلسلے میں مختلف احادیث میں وضاحت آئی ہے۔ جن کا یہاں ذکر کرنا ضروری نہیں تاہم ان میں سے بعض کی تفصیل قارئین کی نذر کی جاتی ہے۔ 
	آپؐ  نے فرمایا ’’اَلَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِنَا‘‘ سے مراد اہل فارس اور اہل روم ہیں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں یعنی یہودی اور عیسائی۔ اسی طرح ان سے مراد عمومی کفار اور مشرکین بھی بیان فرمایا۔ یہ تمام تشریحات آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ اسی طرح آپf کے فرامین سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کفار کی مشابہت اختیار کرنے والے لوگ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہوں گے۔ 
	آپؐ  نے فرمایا :’’اس امت میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی جماعت موجود رہے گی جو حق پر جمے رہیں گے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت حاصل کرنے والے اور حمایت یافتہ لوگ ہوں گے۔ یہ برملا حق کا اظہار کرنے والے،  نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے والے ہوں گے ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لینے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچاسکیں گے۔ ‘‘ 
	یہی جماعت ’’الفرقۃ الناجیۃ‘‘ ہے۔ یعنی کامیاب و کامران جماعت۔ان کے کامیاب و کامران ہونے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ کفار کی مشابہت سے دور ہیں۔ سو آپؐ  کی پیش گوئی کہ یہ امت پچھلی ہلاک شدہ امتوں کی پیروی کرے گی،  اس سے مراد افتراق کا شکار امت کے ایسے مختلف گروہ ہیں جو اتباع سنت اختیار کرنے والی جماعت کی سیدھی راہ چھوڑ کر الگ ہو گئے۔
x		نبیؐ نے جہاں یہ خبر دی کہ یہ امت مشابہت کفا رمیں مبتلا ہو گی وہاں اس موذی مرض سے بچنے کی بھی سخت تلقین فرمائی۔ مثال کے طور پر:
آپؐ   کا مشابہت سے متعلق خبردار کر دینا ہی تنبیہ کے مترادف ہے۔
نبیؐ  نے کفار کی مشابہت سے بچنے کی جو تلقین فرمائی ہے وہ مختصر بھی ہے اور جامع بھی۔ آپؐ   نے فرمایا:
’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘‘   (ابو داؤد،  ح : ۴۰۳۱)
	’’جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ اسی طرح اس حدیث میں بھی ہے۔
’’لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلِکُمْ‘‘   (بخاری،  حدیث ۷۳۲۰ )
کہ تم اپنے سے پہلوں کی پیروی کرو گے۔ 
	تو یہ آپ نے خبردار کرنے کے لیے فرمایا کہ دیکھو مشابہت کا دور ہو گا تو تم بچ کر رہنا۔ اسی طرح اور بہت ساری احادیث مبارکہ ہیں۔ آپؐ   نے فرمایا :
	’’خَا لِفُوا المُشْرِکِیْنَ‘‘ 
	مشرکین کی مخالفت کرو۔‘‘ 
	پھر فرمایا:
	’’خَالِفُوا الْیَھُودَ‘‘ 
	یعنی ’’یہودیوں کی مخالفت کرو۔‘‘ 
	اور فرمایا:
	’’خَالِفُوا الْمَجُوْسَ‘‘ 
یعنی ’’مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘ 
	یہ سب ایسے واضح احکامات ہیں جن میں مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مشابہت سے متعلق آپؐ   نے وہ تفصیلی فرامین ان شاء اﷲ آٹھویں باب میں بیان کئے جائیں گے،  جن میں آپ علیہ السلام نے نمونے کے طور پر چند امور کے متعلق خبردار فرمایا دیا کہ بعض مسلمانوں سے کفار کی مشابہت کا ارتکاب ہو گا۔ رسول اﷲؐ   نے ہمیں اس خطرہ سے پیشگی متنبہ فرما دیا تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔ 
	رسول اﷲؐ   کا یہ فرمان بھی انتہائی اہم ہے کہ اس امت میں ایک جماعت حق پر کاربند رہے گی۔ جو ان سے دشمنی کریں گے یا ان کی حمایت و مدد سے ہاتھ کھینچیں گے وہ انہیں قیامت تک کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔ مشابہت کے مسائل پر نظر ڈالتے وقت ان اصول و قواعد کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اگر ہم ان احادیث کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں گے تو بعض لوگوں کو یقیناً یہ وہم ہو گا کہ شاید تمام مسلمان ہی مشابہت کا شکار ہو جائیں گے۔ حالانکہ یہ ناممکن ہے کیونکہ یہ بات دین حنیف کی حفاظت کے منافی ہے۔اور حفاظت اﷲ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لی ہے۔ اسی طرح یہ چیزیں نبیؐ  کے فرمان سے بھی متصادم ہے کہ آپؐ   نے فرمایا،  اس امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی۔ اگر صرف اس حدیث کو لے کر دوسری حدیث کو چھوڑ دیں جس میں آپ نے فرمایا کہ تم ضرور اپنے سے پہلوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے،  تو بعض لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ شاید یہ امت کفار کی مشابہت سے بالکل پاک ہے۔ حالانکہ بات دراصل یہ ہے کہ امت وسط یعنی اہل سنت کی جماعت ہمیشہ موجود رہے گی۔ یہ لوگ سنت مطہرہ پہ کاربند اور کفار کی مشابہت سے دور رہیں گے اور دوسرے گروہ جو اہل سنت کی راہ چھوڑ بیٹھے ہیں ان کا یہ افتراق و گمراہی اصل میں مشابہت کفار ہی کا شاخسانہ ہے۔ بلا شبہ اس امت میں موجود جتنے گروہ اور جماعتیں ہیں ان میں سے کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں کہ جس نے سنت مطہرہ سے دوری بھی اختیار کی ہو اور وہ پچھلی امتوں کے اطوار و عادات اپنانے سے محفوظ بھی رہے ہوں۔ جیسے آئندہ مثالوں سے ان شاء اﷲ یہ بات واضح ہو گی۔

جن امور میں کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے

	عامۃ الناس کو چار قسم کے امور میں کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے۔
	جو درج ذیل ہیں:
٭ اعتقادی امور:  مشابہت کے باقی ماندہ امور میں سے یہ معاملہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔عقائد میں مشابہت دراصل کفر اور شرک ہے۔ جیسے نیک لوگوں کو مقدس جان کر ان کی تعظیم میں مبالغہ آرائی کرنا۔ اسی طرح اقسام عبادت میں کسی کا رخ غیر اﷲ کی طرف پھیر دینا یا مخلوق میں سے کسی کو اﷲ کا بیٹا یا اﷲ کا باپ بنا دینا جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑ  اور یہودیوں نے حضرت عزیزؑ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔ دین میں فرقہ بندی 1یا قانون الٰہی کی بالادستی تسلیم کرنے کی بجائے کوئی دوسرا قانون اپنا لینا۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے کفر و شرک کے جو معاملات ہیں ان سب کا تعلق عقائد سے ہے۔
٭ جشن و تہوار:  
	عید و تہوار اگرچہ عبادات ہی میں داخل ہیں۔ لیکن بعض اوقات ان کا شمار عادات میں ہوتا ہے مگر شریعت نے نے مختلف دلائل اور قطعی احکام کے ذریعے انہیں خاص کر دیا ہے۔
	ان کی اہمیت کے پیش نظر خصوصی طور پر ان کے منانے میں کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے سال میں صرف دو تہوار یعنی دو عیدیں ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے تہوار یا جشن جیسے سالگر ہ منانا،  قومی دن کا انعقاد کرنا یا وہ باقاعدہ جشن جن کے لیے سال میں یا مہینے میں کوئی خاص دن مقرر ہو۔ اسی طرح کوئی دن یا ہفتہ جو تکرار سے منایا جائے اور لوگ اس کے منانے کا اہتمام کریں،  یہ مشابہت کی ایسی واضح باتیں ہیں جن کے متعلق شرعی نصوص موجود ہیں۔
٭ عبادات سے متعلق امور :  نبیؐ  نے اپنے بہت سے فرامین میں تفصیل کے ساتھ عبادات میں کفار کی  اختیار کرنے سے منع فرمایا اور ان باتوں کا بھی تذکرہ فرمایا جن میں مشابہت ممنوع ہے۔ جیسے
*اس سے مراد ہے حق اور اہل سنت کو چھوڑ دینا ورنہ اجتہادی مسائل میں اختلاف اس میں داخل نہیں کیونکہ یہ دین سے علیحدگی نہیں۔ 
* مغرب کی نماز میں تاخیر روزہ افطار کرنے میں دیر کرنا،  سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا اور اس طرح کی کچھ دوسری چیزیں جن کی تفصیل بعد میں آئے گی (انشاء اﷲ)
٭ عادات و اطوار اور اخلاق:  آخری قسم کا تعلق عادات و اطوار اور اخلاق سے ہے۔ جیسے لباس وغیرہ جسے ’’الھدی الظاھر‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ ’’الھدی الظاھر‘‘ سے آدمی کی ہیئت کذائی،  ظاہری شکل و صورت،  لباس،  طور و اطوار اور عادات و اخلاق وغیرہ مراد ہے۔ان باتوں میں بھی واضح طور پر کہیں مختصر اور کہیں تفصیل سے مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ 
	مثلاً ڈاڑھی منڈوانے سے روکا گیا ہے۔سونے کے برتن استعمال کرنا اور ایسا لباس پہننا جو کفار کا شعار و امتیاز ہو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے بے پردگی، مردوں اور عورتوں کا آزادانہ میل جول،  مردوں سے مشابہت اور عورتوں کی مردوں سے مشابہت اور اسی قسم کی دوسری عادات میں مشابہت سے منع کیا گیا ہے اختیار کرنے سے منع فرمایا اور ان باتوں کا بھی تذکرہ فرمایا جن میں مشابہت ممنوع ہے۔ جیسے مغرب کی نماز میں تاخیر روزہ افطار کرنے میں دیر کرنا،  سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا اور اس طرح کی کچھ دوسری چیزیں جن کی تفصیل بعد میں آئے گی (انشاء اﷲ)
٭٭٭



مشابہت کے احکام

	مشابہت کے تمام احکام کا مکمل تفصیل کے ساتھ احاطہ ممکن نہیں۔ کیونکہ مشابہت کی تمام صورتوں میں ہر ایک کا حکم جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اسے شرعی نصوص کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور اہل علم اور فقہاء دین کے بتائے ہوئے شرعی قواعد پر پیش کیا جائے۔ مگر یہاں بعض ایسے عمومی احکام ضرور ہیں جن کے ضمن میں مشابہت کی تقریباً تمام صورتیں آ جاتی ہیں جو درج کیے جا رہے ہیں:
٭:	مشابہت کی اقسام میں سے ایک قسم ایسی ہے جس کا اختیار کرنا شرک اور کفر ہے جیسے عقائد و عبادات میں مشابہت اختیار کرنا۔ اسی طرح یہودیوں،  عیسائیوں اور مجوسیوں سے ان باتوں میں مشابہت جو عقیدہ توحید سے متصادم ہیں۔ مثلاً تعطیل کا عقیدہ اختیار کرنا یعنی اﷲ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا انکار اور ان میں الحاد کی راہ اپنانا۔ اور اﷲ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں حلول کرنا اور اپنی مخلوق کے ساتھ اتحاد کا گستاخانہ عقیدہ رکھنا۔ اسی طرح انبیاء اور صالحین کی تقدیس و تعظیم کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت کرنا۔ اﷲ کے سوا ان کو پکارنا۔ وضعی قوانین،  انسان کے تخلیق کر دہ نظام اور ضابطوں کو ایسے قوانین سمجھ لینا جن کے مطابق فیصلے کئے جائیں،  ان سب باتوں کا ارتکاب شرک اور کفر ہے۔ 
٭:	مشابہت میں کچھ ایسی چیزیں ایسی ہیں جو کفر یا شرک تک تو نہیں پہنچتیں۔ تاہم وہ فسق و فجور  او رگناہ معصیت کے زمرے میں ضرور آتی ہیں۔ جیسے بعض عادات و اطوار میں کفار کی تقلید و پیروی۔ مثلاً بائیں ہاتھ سے کھانا پینا،  مردوں کا سونے کی انگوٹھی پہننا،  یا سونے کے دوسرے زیورات استعمال کرنا،  ڈاڑھی منڈوانا،  مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے مشابہت اختیار کرنا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں اس قسم میں شامل ہیں۔ 
b:	مشابہت کے باب میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا اختیار کرنا مکروہ ہے اور یہ وہ ہیں جن کا حکم واضح نہ ہونے کی بناء پر حرام اور مکروہ کے درمیان معلق ہے۔ اس سے مراد وہ دنیاوی چیزیں اور عام عادات و اطوار ہیں جن کی حرمت واضح نہیں اور وہ کراہت و اباحت کے مابین ہیں مگر مسلمانوں کو مشابہت سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کا اختیار کرنا مکروہ کے حکم میں آتا ہے۔ 
	یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کفار کے کچھ ایسے کام بھی ہیں جو ہمارے لیے مباح ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ کام مباح ہیں جو صرف کفار کے ساتھ خاص نہیں اور نہ ان کا طرہ امتیاز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے کرنے سے نہ تو وہ پرہیزگار اور صالح مسلمانوں سے ممتاز و منفرد نظر آتے ہوں اور نہ وہ ایسے کام ہوں جن کے کرنے سے مسلمانوں میں فتنہ وفساد پھوٹنے کا اندیشہ ہو،  یا ان کا کرنا مسلمانوں کے زوال اور کافروں کی ترقی کا سبب بنے۔ مباح کاموں میں سے ایک تو خالص مادی ترقی ہے یا وہ ایجادات وغیرہ ہیں جن میں ان کی پیروی مسلمانوں کے لیے نقصان دہ نہیں۔ اسی طرح وہ خالص دنیاوی علوم جو اسلامی عقائد  و اخلاقیات سے متصادم نہیں وہ بھی مباح ہی سمجھے جائیں یہی نہیں بلکہ بعض اوقات یہ خالص دنیاوی علوم جو کفار کے پاس ہیں ان سے فائدہ اٹھانا مسلمانوں پر واجب ہو جاتا ہے اور جب ہم خالص کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد ہے کہ ان میں کوئی ایسی بات نہ پائی جائے جو شرعی اصول و ضوابط یا نصوص سے متصادم ہو یا مسلمانوں کی ذلت و اہانت اور تحقیر کا سبب بنے۔لہٰذا جو علوم ان خطرات سے خالی ہوں گے۔ان کے حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں1۔مختصر یہ کہ عقائد و عبادات اور عید و تہوار منانے میں کفار کی مشابہت اختیار کرنا قطعی طور پر حرام ہے۔ اسی طرح وہ معاملات جن کا تعلق عادات و اطوار سے ہے اگر وہ صرف کفار کے ساتھ ہی خاص ہیں تو حرام ہیں ورنہ ان کا حکم حرام و مکروہ کے درمیان معلق ہو گا اور جن باتوں کا تعلق علوم و فنون یا خالص دنیاوی امور سے ہے جیسے صنعت و حرفت اور اسلحہ سازی وغیرہ تو یہ پہلے بیان کر دہ شروط کے ساتھ جائز ہوں گی۔ 
1:مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حتی الامکان کوشش کریں کہ وہ کفار کے دست نگر نہ رہیں۔ لیکن اس کوشش میں ایسا نہ ہو کہ بنیادی اور واجب احکام کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ جیسے جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر،  دعوت و  تبلیغ اور اقامت دین وغیرہ ان شرعی نصوص کو جمع کرنے سے ہم بہت سے لوگوں کی اقسام کو جان سکتے ہیں۔

ان لوگوں کی اقسام جن سے مشابہت منع ہے

پہلی قسم ----عام کفار:  مجموعی طور پر بلا تخصیص تمام کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے۔اس ممانعت میں مشرکین،  یہودی،  عیسائی،  مجوسی،  صابی، ملحد، بے دین اور دوسرے کفار سبھی شامل ہیں۔ عبادات،  عادات،  لباس اور اخلاق،  غرض ہمیں ہر اس چیز میں مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے جو کفار کے ساتھ خاص ہوں۔ رسول اﷲؐ  نے جب حضرت عبداﷲ بن عمر  کو دو زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس دیکھا تو فرمایا:
	( (  اِنَّ ھَذِہِ ثِیَابِ الْکُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْھَا))
	’’بیشک یہ کفار کا لباس ہے تم اسے مت پہنو‘‘۔ 
	یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو لباس کفار کے خصائص میں سے ہو اس کا پہننا جائز نہیں۔2
 چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے کوئی بھی مسلمان شرعی قواعد و ضوابط میں رہ کر کسی ملک یا قوم سے دنیاوی فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ جیسے عام ایجادات وغیرہ سے استفادہ کرنا۔رسول مقبولؐ  صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین کا یہی طریقہ رہا۔ صنعت و حرفت اور منفعت وغیرہ میں کفار سے استفادہ کرنے میں کوئی کوئی مضائقہ خیال نہ کرتے،  جب تک کہ یہ چیز مسلمانوں کی ذلت و کمتری کا باعث نہ بن رہی ہو۔ اور یہ کہنا سوائے مبالغہ آرائی کے اور کچھ نہیں کہ آج کے دور میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں میں سے اہم ترین کام فقط مادی ترقی ہی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان پہلے اقامت دین اور شرعی ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہوں اور پھر مادی برتری کے لئے کوشاں ہوں۔یہ ایک منطقی امر ہے کہ اقامت دین سے ہی یقینی طور پر دنیاوی ترقی اور برتری کی راہ ہموار ہو گی۔ واﷲ اعلم۔
2:آج کے دور میں جس لباس کو امتیازی حیثیت حاصل ہے اور اس کا شمار کفار کے خصائص میں ہوتا ہے وہ پتلون ہے۔ مسلم ممالک میں اس کا پہننا جائز نہیں۔ اگرچہ یہ مغرب زدہ لوگوں میں بہت مقبول ہے اور ایسے لوگوں کی مسلم ممالک میں کثرت ہے مگر معیار تو دین دار اور متقی لوگ ہوں گے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو پتلون وغیرہ نہیں پہنتے۔ ویسے بھی مروجہ پتلون میں انسانی وقار برقرار نہیں رہتا کیونکہ اس میں مکمل ستر پوشی نہیں ہوتی۔ اس طرح کچھ چیزیں کفار کے مختلف گروہوں میں سے ہر گروہ کی الگ سے علامت سمجھی جاتی ہے۔ جیسے یہودیوں کا ہیٹ ہے اور عیسائیوں کی صلیب۔واﷲ اعلم۔
دوسری قسم -----مشرکین:  مشرکین سے عبادات،  عید و تہوار اور افعال و اعمال میں مشابہت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اس طرح سیٹیاں بجانا،  تالیاں پیٹنا یا اﷲ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو دنیا میں اپنے لیے اﷲ کے ہاں سفارشی یا وسیلہ سمجھنا،  قبروں پر نذر و نیاز اتارنا،  چڑھاوے چڑھانا،  قربانی وغیرہ پیش کرنا اور بعض دوسرے مشرکانہ افعال ہیں جن میں مشرکوں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ مشرکین کا ایک طریقہ یہ تھا کہ حج میں میدان عرفات سے سورج غروب ہونے سے پہلے ہی لوٹ آتے۔ ایسا کرنا بھی ان سے مشابہت ہے۔ سلف صالحین مشرکوں کے اعمال و خصائص کو ناپسند کرتے تھے۔ 
	حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ  کا قول ہے :
	((  مَنْ بَنٰی بِبِلَادِ الْمُشْرِکِیْنَ وَ صَنَعَ نَیْرُوْزَھُمْ وَمَھْرَجَانَھُمْ حَتَّی یَمُوْتَ حُشِرَ مَعَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ))  
	(سنن البیہقی،  ۹/۲۳۴)
	’’جس نے مشرکین کے ملک میں گھر بنایا،  ان کے نوروز ومہرجان کے جشن منائے اور اسی حالت میں اس کی موت آ گئی تو وہ قیامت کے روز انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ‘‘ 
حضرت ابن عمر نے مساجد پر برج وغیرہ کی تعمیر کو ناپسند کیا اور کئی مرتبہ اس سے منع فرمایا کیونکہ وہ اسے مشرکین کے صنم کدوں اور ان کی عبادت گاہوں سے مشابہ خیال کرتے تھے۔
تیسری قسم ---اہل کتاب:  اہل کتاب سے مراد یہودی اورعیسائی ہیں۔ اور ہمیں ان تمام اعمال سے منع کیا گیا ہے جو ان کے خصائص اور شعائر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے یہود و نصاریٰ کے عقائد و عبادات،  عادات و اطوار،  ان کا لباس، عید و تہوار،  اسی طرح قبروں پر عمارتیں تعمیر کرنا پھر انہیں سجد ہ گاہ بنا لینا،  تصویریں لگانا،  عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی کرنا، سحری نہ کھانا،  بڑھاپے کے سفید بالوں کو نہ رنگنا،  صلیب اٹھانا،  ان کے تہوار خود منانا یا ان کے تہواروں میں شریک ہونا،  یہ تمام ایسے کام ہیں جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کی مشابہت ممنوع ہے۔ 
چوتھی قسم---مجوس:  مجوسیوں کی عادات و خصائص میں سے ایک آگ کی پرستش ہے۔اس کے علاوہ اپنے بادشاہوں اور بڑوں کو حد سے بڑھا کر مقدس جاننا،  سر کے پچھلی جانب سے بال منڈوا کر اگلے حصے کے بال چھوڑ دینا، ڈاڑھی منڈوانا اور مونچھیں بڑھانا،  سیٹیاں بجانا اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا، یہ سب مجوسیوں کے اعمال و اطوار ہیں جن کا اختیار کرنا ان کی مشابہت ہے جو ممنوع قرار دی گئی ہے۔ 
پانچویں قسم ---اہل فارس اور اہل روم:  روم اور فارس کے لوگ اگرچہ اہل کتاب کے ضمن ہی میں آتے ہیں تاہم علیحدہ سے بھی ایسی باتوں کے اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے جو ان کا امتیاز سمجھی جاتی ہیں۔ جیسا کہ عادات و عبادات اور تمام قسم کے مذہبی رسم و رواج مثلاً اپنے اکابر کی حد سے بڑھی ہوئی تعظیم وتقدیس نیز مذہبی پیشواؤں کی پیروی و اطاعت میں ایسی باتوں کو بھی شریعت سمجھ بیٹھنا جنہیں اﷲ تعالیٰ نے شریعت کا درجہ نہیں دیا اور اسی طرح دین میں غیر ضروری تشدد اختیار کرنا ان اقوام کے خصائص ہیں۔
چھٹی قسم---غیر مسلم:  غیر مسلم عجمیوں سے مشابہت بھی جائز نہیں اس کی بنیاد نبیؐ کا یہ فرمان ہے:
	((  نَھَی أَنْ یَجْعَلَ الرَّجْلُ فِی أَسْفَلِ ثِیَابِہِ حَرِیْرًا مِثْلَ الأعَاجِمِ أَوْ یَجْعَلَ عَلٰی مُنْکِبَیْہِ حَرِیْرًا مِثْلَ الأَعَاجِمِ ))
آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص عجمیوں کی طرح اپنے لبا س کے نیچے یا کندھوں پر ریشم کا کپڑا استعمال کرے‘‘ 
	آپؐ   نے کسی شخص کے لیے تعظیماً کھڑا ہونے سے بھی منع فرمایا۔ بلکہ آپؐ   نے اس بات سے بھی روک دیا اگر امام کسی وجہ سے نماز بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی پیچھے کھڑے ہوں،  اس احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ عام دیکھنے والے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ کھڑے ہونے والے مقتدی امام کی تعظیم میں کھڑے ہیں۔ حدیث پاک میں اس ممانعت کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ طریقہ تعظیم عجمیوں کے انداز سے مشابہت رکھتا ہے۔ چونکہ وہ اپنے اکابر،  روساء اور بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے تھے اسی لیے یہ عمل مشابہت کی بنا پر ممنوع ٹھہرا۔ حضرت عمر ؓ  عجمی اور مشرکین و کفار جیسا لباس پہننے سے سختی سے منع فرماتے۔ایسی بہت سی باتوں کی طرف سلف صالحین نے توجہ دلائی ہے۔
ساتویں قسم ---جاہلیت اور جہلا:  جاہلیت کے ا ن تمام اعمال سے عمومی طور پر منع کر دیا گیا ہے جیسے بے پردگی یعنی عورتوں کاحسن و زینت دکھائے پھرنا۔ اسی طرح جہلاء کی طرح احرام باندھنے کے بعد اپنے اوپر کسی چیز کا سایہ نہ پڑنے دینا،  جیسے آج کل روافض کرتے ہیں۔ جسم کی نمائش اور عریانی و فحاشی،  قومی عصبیت،  حسب ونسب پر فخر و غرور،  دوسرے نسب ناموں پر طعن و تشنیع ماتم کرنا اور ستاروں کے ذریعے بارش مانگنا۔ رسول مقبول ؓ  نے اسلام کے پیغام کے ساتھ ان تمام جاہلی احوال، افعال،  رسم و رواج،  آباؤ اجداد کی تقلید اور ان کے نقش قدم پر چلنا،  اور جاہلیت میں قائم ہونے والے بازار سب پر خط تنسیخ پھیر دیا۔ ان چیزوں میں بے پردگی،  اختلاط مرد و زن اور سود وغیرہ بھی شامل ہیں۔
آٹھویں قسم---شیطان:  شیطان کی مشابہت سے بھی روکا گیا ہے یعنی شیطانی کاموں سے۔ نبی علیہ السلام نے شیطان کے بعض کاموں کا تذکرہ فرمایا اور ان کے اختیار کرنے سے منع فرمایا۔آپؐ  نے فرمایا:
	(( لَا یَأْکُلّنَّ أَحَدُکُمْ بِشِمَالِہِ وَلَا یَشْرَبُ بِھَا فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْکُلُ بِشِمَالِہِ وَیَشْرَبُ بِھَا)) 	(صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب اداب الطعام والشراب وأحکامھا حدیث : ۵۳۶۷)
	’’تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے ہرگز نہ کھائے پیے۔بیشک شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے‘‘۔ 
	یہ ایک قابل افسوس امر ہے کہ اب یہ عادت اکثر مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کا سبب یا تو سستی،  تساہل اور بے توجہی یا پھر حق سے روگردانی،  تکبر اور شیطان کے دوستوں اور اﷲ کے نافرمانوں کی مشابہت اس کا محرک ہیں۔
نویں قسم ---عرب کے وہ گنوار بدو جن میں دین راسخ نہیں ہوا:  یہ گنوار لوگ بہت سی ایسی عادات اور رسم و رواج کو ایجاد و اختیار کرتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں عموماً یہ چیزیں جاہلیت کی میراث ہوتی ہیں۔ یہ بدو لوگ اپنی عادات،  رسم و رواج اور اصطلاحات کے معاملے میں بہت سخت ہوتے ہیں اگرچہ یہ چیزیں شریعت کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ جیسے جاہلی تعصب حسب ونسب پر فخر،  دوسروں کے نسب ناموں پر طعنہ زنی،  مغرب کو عشاء کہنا اور عشاء کی نماز کو عتمہ کے نام سے پکارنا۔ طلاق کی قسم اٹھانا یا کاموں کو طلاق سے مشروط کرنا۔ چچا کی بیٹی کو کسی دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا اور اسے اپنے چچا زاد ہی سے شادی کرنے پہ مجبور کرنا،  یہ تمام کام اور اس طرح کی دوسری جاہلی عادات وغیرہ۔


کفار کی تقلید اور مشابہت کے اسباب

سب سے پہلے ہمیں اچھی طرح یہ جان لینا چاہیے کہ جن باتوں کی خبر رسول اﷲؐ  نے دی ہے یا تو وہ واقع ہو چکی ہیں یا پھر یقینی طور پر واقع ہونے والی ہیں۔
  پہلے بیان کئے گئے قواعد و ضوابط کی روشنی میں ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جن لوگوں نے کفار کی مشابہت اختیار کی وہ حرص و ہوا کے بندے اہل افتراق ہیں نہ کہ اہل حق یعنی جماعت اہل سنت۔ اور کوئی فرقہ یا گروہ ایسا نہیں جو اہل سنت سے علیحدہ ہوا ہو اور ان میں کم یا زیادہ کفار سے مشابہت کی بیماری نہ پائی جاتی ہو۔

مشابہت کفار کے بعض اہم اسباب

پہلا سبب : اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کفار کا مکر و فریب:  ظہور اسلام کی ابتداء سے لے کر آج تک اسلام اور اہل اسلام کے خلاف کفار اپنا مکر و فریب جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اپنے عقائد و ادیان اور خواہشات و نظریات کے مختلف ہونے کے باوجود تمام کفار نے مشترکہ طور پر اسلام کے خلاف سازشوں سے کام لیا اور آج تک اسی میں مشغول ہیں۔ ان کی فریب کاری ہی کے نتیجے میں مسلمان عقائد و عبادات اور طور طریقوں میں ان کی مشابہت کا شکار ہوئے۔ آپس میں اختلاف اور امت کے افتراق و نا اتفاقی کا ایک بڑا سبب کفار کا پھیلایا ہوا دجل و فریب کا جال بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو گروہ بھی اس امت سے الگ ہوا اس کے پس منظر میں کفار ہی سرگرم نظر آئے۔ کفار نے افتراق و اختلاف کو پھیلانے کے لیے یا تو مسلمانوں کے مالدار اور ہوس پرست طبقے کو اپنا نشانہ بنایا ان متفرق گروہوں کے خود ہی لیڈر بن بیٹھے یا خود پیروکار ہونے کا ڈھونگ رچا کر ایسی جماعتوں کو فروغ دیا۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو مشابہت میں مبتلا کرنے والے بنیادی اسباب میں سے ایک بڑا سبب کفار کی شر انگیزی اور فریب کاری ہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں خود اس سے متنبہ فرمایا ہے :
	{ وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُودُ وَلَا النَّصَـٰـرَیٰ حَتَّیٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ }  (البقرۃ : ۲/۱۲۰)
	’’اور یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے طریقوں کو نہ اپنا لو‘‘۔ 
	اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے :
	{  لَا یَأْلُونَکُمْ خَبَالًا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ البَغْضَآئُ مِنْ أَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِی صُدُورُھُمْ أَکْبَرُ }(آل عمران:۳/۱۱۸)
	’’وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چونکتے۔ جس چیز سے تمہیں نقصان پہنچے وہی ان کو پسند ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔ ‘‘ 
دوسری جگہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
	{ مَا یَوَدُّ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ أَن یُنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ}	 (البقرۃ:۲/۱۰۵)
	’’اہل کتاب میں سے کفار اور مشرکین کو یہ بات پسند نہیں کہ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی نازل ہو‘‘۔ 
اور فرمایا:
	{  اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلَیٰٓ أَعْقَبِکُمْ }  (آل عمران : ۳/۱۴۹)
	’’اگر تم کفار کے اشارے پر چلو گے تو تم کو الٹا پھیر جائیں گے۔ ‘‘ 
اسی طرح فرمایا:
	{  اِنْ تُطِیعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِ یْنَ أُوْتُوا الْکِتَابَ یَرُدُّوکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ }   (آل عمران : ۳/۱۰۰)
	’’اگر تم نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔‘‘ 
	ان فرامین کی روشنی میں اس بات میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ کفار کی کل بھی یہ آرزو تھی اور آج بھی وہ اس بات کے شدید خواہشمند ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیر دیں۔ موجودہ دور میں وہ اس معاملے میں ماضی سے کہیں زیادہ فعال اور کوشاں نظر آتے ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کی اجتماعی حالت پر غور کرنے والا شخص یہ بات بخوبی محسوس کرسکتا ہے کہ آج کفار امت مسلمہ کے خلاف کس طرح صف آراء ہیں۔ وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اپنی عادات و اطوار،  اپنے نظام،  اپنی سیا ست اور طرز معاشرت کو مسلمانوں پر مسلط کر دیں۔ جس وسیع پیمانے پر آج کفار اپنے حاشیہ برداروں سے ساتھ مل کر مسلمانوں کو اپنی مشابہت کا شکار کرنے کے لیے ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
دوسرا سبب :  مسلمانوں کی جہالت اور دین سے دوری۔ دینی احکام، سلف صالحین کے طریقے اور منہج سے ناواقفیت :
تیسرا سبب :  مسلمانوں کا اقتصادی،  معنوی اور عسکری میدان میں کمزور ہونا ایک بڑا سبب ہے۔اس سے ان میں زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اپنی کمزوری اور کمتری کے ساتھ ساتھ کفار کی فوقیت و برتری کا احساس جڑ پکڑتا ہے۔
چوتھا سبب:منافقین کی فریب کاری:  منافقین مسلمانوں ہی کے درمیان بسنے والے ایسے لوگ ہیں جو اسلام کی ابتداء سے لے کر اب تک کفار کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ یہ ایک فعال اور مضبوط عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو مشابہت کفار کی طرف کھینچنے کے لیے مسلمانوں کے اندر ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔
منافقین سے مراد کئی قسم کے گروہ ہیں:
* منافقین کی ایک قسم کا تعلق کفار سے ہے جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے بظاہر مسلمان ہو گئے لیکن درحقیقت میں کافر ہی رہے۔
*  دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو دراصل تھے تومسلمان مگر بعد میں مرتد ہو کر اسلام سے منحرف ہو گئے 
*تیسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو فسق و فجور اور بد عملی کی طرف مائل ہیں۔ اگرچہ وہ مسلمان ہونے کے دعویدار بھی ہیں مگر اپنے دل کی بیماری کی وجہ سے مسلمانوں کو کفار کی مشابہت کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ اس کام میں بے دین سیکولر عناصر کا بھر پور ساتھ دیتے ہیں جن کی خواہش اور دلی آرزو ہے کہ مسلمانوں میں حرص وہوس،  طمع و لالچ،  فحاشی اور بدی عام ہو جائے۔بہرکیف جو صورت حال ہمارے سامنے ہے اس لحاظ سے مسلمانوں کے مشابہت کفار میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب ہیں۔ 

وہ باتیں جن سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا 

	نمونے کے طور پہ چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں جن میں رسول اﷲؐ  نے مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا:
٭:	وہ تمام باتیں جن سے شریعت نے بالکل واضح طور پر کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ان میں سب سے پہلے چیز ہے۔ 
دین میں فرقہ بندی:  یہ ممانعت قرآن وسنت میں بہت سی جگہوں پہ موجود ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
	{  اِنْ تُطِیعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِ یْنَ أُوْتُوا الْکِتَابَ یَرُدُّوکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ } 
															 (آل عمران : ۳/۱۰۰)
	’’اگر تم نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تویہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔‘‘ 
	{  وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِ یْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ }  (آل عمران:۳/۱۰۵)
	’’اور کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور واضح ہدایت پانے کے بعد پھر اختلاف میں مبتلا ہوئے ‘‘ 
اسی طرح نبیؐ  کا اس امت کے اختلاف اور افتراق کے متعلق خبر دینا آپؐ  نے فرمایا :
	(( اِفتَرَقَتِ الْیَھُودُ عَلٰی اِحْدٰی وَّ سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارٰی عَلٰی اثنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَہً،  وَ تَفْتَرِقُ ھٰذِہِ الأُمَّۃُ عَلٰی ثَـلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ فِرْقَہً ))    	(أبو داؤد،  کتاب شرح السنۃ،  باب افتراق ھذ ہ الأمۃ حدیث : ۲۶۴۰)
	’’یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور عیسائی نے بہتر فرقے بنائے جبکہ یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی رسول مقبولؐ  نے افتراق امت کے متعلق یہ خبر اس لیے دی کہ اس اختلاف سے بچا جائے۔ ‘‘ 
*  اونچی قبریں بنانا،  ان پر عمارتیں اور قبے وغیرہ بنا کر انہیں سجدہ گاہ بنا لینا۔ مجسمے بنانا اور تصاویر آویزاں کرنا۔ یہ امور بہت سی روایات میں مذکور ہیں۔ ان میں سے مختصر ترین روایات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
’’حضرت علی ؓ  سے روایت ہے:
	(( أَمَرْنِیْ رَسُوْلُ اﷲِ،ؐ   أَنْ لَا أَدْعَ قَبْرًا مُشْرِفًا اِلَّا سَوَّیْتَہُ،  وَلَا تِمثَالًا اِلَّا طَمِسْتَہُ))  (صحیح مسلم حدیث:۹۶۹)
	مجھے رسول اﷲؐ  نے حکم دیا کہ میں کسی اونچی قبر کو سطح زمین سے برابر کیے بغیر اور کسی مورتی کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں ‘‘ 
’’حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے:
	(( اِنَّ تَسْوِیَۃِ الْقُبُوْرِ مِنَ السُنَنِ،  وَقَدْ رَفَعَتِ الْیَھُودُ وَالنَّصَاریٰ فَـلَا تَتَشَبَّھُوْا بِھِم))  	(اقتضاء الصراط المستقیم:۱/۳۴۲)
	’’بیشک قبروں کا برابر کرنا سنت میں سے ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے قبریں اونچی بنا لیں تم ان سے مشابہت نہ کرو‘‘۔ 
	 یعنی قبروں پر عمارتیں بنانے میں ان کی مشابہت نہ کرو۔ قبر پر عمارت بنانا یا صرف قبر ہی کو اونچا بنانا یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس میں آج کل بہت سے مسلمان اپنے اپنے ممالک میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اور یہ چیز رسول اﷲؐ   کے اس فرمان کے مصداق ہے کہ آپ نے فرمایا:
	(( لَتَرْکَبُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلِکُمْ ))  (بخاری)
	’’تم ضرور اپنے سے پہلوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے‘‘۔ 
	انہی طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لینا۔ مطلب یہ ہے کہ ان قبروں پر مساجد بنانا اور وہاں نماز ادا کرنا اور پھر اس طرح کی تعمیر صالحین کی قبروں پہ کرنا ان بزرگوں کو مسجد میں دفنانا اگرچہ مسجد پہلے سے بنی ہوئی ہو یا بعد میں بنائی جائے،  ان سب باتوں سے منع فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح قبروں پہ اس لیے جانا کہ ان کے پاس جا کر دعا مانگی جائے یا ان قبر والوں کو اﷲ کے سوا پکارا جائے یا اﷲ کی قربت کے حصول کے لیے متعین کی گئیں راہیں اور وسائل ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں یہ سب کچھ یہودیوں اور عیسائیوں ہی کے افعال ہیں جن سے بچنے کی آپؐ   نے بڑی سختی سے تلقین فرمائی ہے۔
	آپؐ  نے اپنی وفات سے صرف پانچ روز قبل یہ ارشاد فرمایا :
	((  اِنِّیْ أَبْرَأُ اِلَی اﷲِ أَنْ یَکُوْنَ لِی ِمنْکُمْ  خَلِیْلٌ فَاِنَّ اﷲَ قَدِ اتَّخَذَنِی خَلِیْلًا،  کَمَا اتَّخَذَ اِبْرَاھِیمَ خَلِیْلًا،  وَلَوْ کُنْتُ مَتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِیْ خَلِیْلًا لاتَّخَذْتُ أَبَابَکْرٍ خَلِیْلًا،  أَلَا وَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِیَائِھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدَ،  أَلَا فَـلَا تَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ فَاِنِّی أَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰلِکَ ))   (صحیح مسلم،  الحدیث:۵۳۲)
	’’میں اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس بات سے بری الذمہ ہوں کہ کوئی میرا خلیل ہو بلاشبہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جیسے اس نے ابراہیمؑ کو اپنا خلیل بنایا اور اگر بالفرض میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو وہ ابوبکر ہوتے جنہیں میں اپنا خلیل بناتا۔ خبردار!تم میں سے پہلوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ خبردار! تم قبروں کو مساجد نہ بنانا میں تمہیں اس سے روکتا ہوں۔
ایک اور روایت میں آپؐ  نے فرمایا:
	(( أَنَّ النَّبِیؐ   قَالَ : قَاتَلَ اﷲُ الْیَھُوْدَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ )) (صحیح بخاری،  حدیث : ۴۳۷)
	’’اﷲ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘ 
دوسری روایت میں اس طرح ہے۔
	((  لَعَنَ اﷲُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوْا قُبُورَ أَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ )) (صحیح مسلم،  حدیث : ۵۳۰)
	’’اﷲ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘ 
	حضرت عائشہؓ اور ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ جب آپؐ  مرض الموت میں تھے تو آپؐ نے اپنے اوپر اوڑھی ہوئی چادر کو اپنے چہرہ مبارک سے ہٹاتے اور کبھی اس کو ڈھانپتے اس کیفیت میں آپf نے ارشاد فرمایا:
	((  لَعَنَ اﷲُ  عَلَی الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی، اتَّخَذُوْا قُبُورَ أَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِد، یُحَذِّرُ مَا صَنَعُوْا))  ( صحیح بخاری حدیث : ۴۳۵،۴۳۶۔ صحیح مسلم،  حدیث :۵۳۱)
	’’یہودیوں اور عیسائیوں پر اﷲ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ آپ ڈراتے تھے اس سے جو انہوں نے کیا۔‘‘ 
	حضرت ام سلمہr اور ام حبیبہr کے قصہ میں ہے کہ انہوں نے حبشہ میں ایک کلیسا دیکھا پھر اس کی خوبصورتی اور اس میں موجود تصاویر کے بارے میں رسول اﷲؐ سے تذکرہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا:
	(( أُولَئِکَ قَوْمٌ اِذَا مَاتَ الْعَبْدُ الصَالِحُ أَوِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلٰی قَبْرِہِ مَسْجِدًا وَ صَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرِ أَوْلٰئِکَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اﷲِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ))      (صحیح بخاری،  حدیث : ۴۳۶صحیح مسلم،  حدیث : ۵۲۸)
	’’یہ ایسی قوم ہیں کہ جن ان کا کوئی نیک آدمی وفات پا جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور پھر اس میں تصویریں وغیرہ بناتے یہ اﷲ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔‘‘ 
مندرجہ بالا امور ان بڑے کاموں میں شمار ہوتے ہیں جن میں آج کے مسلمان مشابہت کا شکار ہیں۔ 
*مشابہت میں ایک بڑی خطرناک صورت عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی ہے اور یہ کفار ہی کی عادت ہے۔ عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی کا مطلب ہے کہ انہیں چادر اور چار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنا دیا جائے۔ پردہ نام کی کوئی چیز باقی نہ رہے تاکہ مرد حضرات نسوانی فتنہ کا شکار ہوں اس کام کے لیے عورتوں ہی کو خاص کرنے کی چند وجوہات ہیں:
1  	کیونکہ عورتیں دنیا ی ظاہری چمک دمک اور جھوٹی شان و شوکت سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
2 		کیونکہ ان میں تقلید و نقل اور اس میں مبالغہ کا بہت زیادہ شوق ہوتا ہے۔
3   کیونکہ عورت کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ مرد کا دل لبھائے اور اس کے لیے زیب و زینت کرے۔ جب عورت نمائش کے لیے زیبائش کرتے ہوئے بے پردگی اختیار کرتی ہے اور عزت و وقار اور حجاب کو چھوڑ بیٹھتی ہے تو مرد اپنی فطری کمزوری کی بناء پر اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر اہل کتاب اور کفار کے عادات و اخلاق میں اور ان کے تہواروں میں عورتوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ پھر بچوں اور عام بیوقوف قسم کے لوگوں کو تاکہ ان پر وہ اپنے حسن کا رنگ جماسکیں۔ 
	قابل افسوس امر یہ ہے کہ عورتوں کے ذریعے فتنہ انگیزی کی اس کافرانہ خصلت میں آج بہت سے مسلمان مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ نبیؐ نے اس فتنہ سے ڈرایا اور خبردار فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا :
	((  فَاتَّقُوْا الدُّ نْیَا وَاتَّقُوْا فَاِنَّ أَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِی اِسْرَائِیْلَ کَانَتْ فِی النِسَاءِ ))     	(صحیح مسلم، حدیث : ۲۷۴۲)
	’’دنیا اور عورتوں کے فتنہ سے بچو بیشک بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں ہی کا تھا۔ ‘‘ 
	جب عورت خود مختار اور مکمل آزاد ہو جائے اور مرد اﷲ تعالیٰ کی مقرر کر دہ حدود کے معاملے میں عورتوں کے سامنے نر م پڑ جائیں،  عزت و حشمت،  شرم و حیا اور حجاب وغیرہ کی بنیادی صفات جاتی رہیں تو بس سمجھ لیجئے کہ یہی وہ راہ ہے جو فتنہ کی طرف لے جانے والی ہے۔ اور جب بھی امت مسلمہ اس قبیح عادت کا شکار ہو گی تو اسے دین اور دنیا دونوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور اس میں فتنے پھوٹ پڑیں گے۔
* جن کاموں سے آپؐ   نے کفار سے مشابہ ہونے کی بنا پر روکا ان میں سے ایک یہ ہے کہ بڑھاپے کے سفید بالوں کو یہود و نصاریٰ کی مشابہت میں بغیر رنگے ہوئے یونہی چھوڑ دیا جائے۔ 
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲؐ   نے فرمایا:
	((  اِنَّ الیَھُودَ وَالنَّصَارٰی لَا یَصْبَغُوْنَ فَخَالِفُوْھُمْ ))  ( صحیح بخاری،  حدیث ۳۴۶۲۔ صحیح مسلم،  حدیث:۲۱۰۳)
	’’یہودی اور عیسائی بالوں کو نہیں رنگتے پس تم ان کی مخالفت کرو۔ ‘‘ 
نوٹ :بالوں کو رنگنے میں یہ خیال ضرور رہے کہ انہیں سیاہ نہ کیا جائے جیسے یہ بات دوسری روایت سے ثابت ہے۔ 
*ڈاڑھی منڈوانے سے بھی منع کیا گیا ہے کیونکہ ڈاڑھی منڈوا کر مونچھیں کٹوانا مشرکین،  مجوسی،  یہودی اور عیسائی لوگوں سے مشابہت ہے۔ رسول اﷲﷺ کی بہت سی احادیث میں یہ بات ثابت ہے کہ ڈاڑھی کو معاف کر دیا جائے اور مونچھوں کو صاف کیا جائے اور اس کی علت میں آپ نے فرمایا کہ یہ مشرکین اورمجوس کی مخالفت ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
	(( خَالِفُوا ‎الْمُشْرِکِیْنَ،  أَخْفُوا الشَّواَرِبَ وَأَوْفُوا اللِّحٰی ))                                                                                                                                                 
*عورت کی عزت و احترام کا شریعت نے حکم دیا ہے لیکن اس کی عزت و احترام کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ اس کی خوشی کے لیے اﷲ کی نافرمانی کی جائے یا یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے مرد کو جو برتری دی ہے وہ اس صفت سے دستبردار ہو جائے۔
					 (صحیح بخاری،  حدیث : ۵۸۹۳۔ صحیح مسلم،  حدیث :۲۵۹)
’’ مشرکین کی مخالفت کرو۔ مونچھیں صاف کرو اور ڈاڑھیوں کو معاف کرو۔‘‘ 
	ایک روایت میں ہے :’’جزوالشوارب‘‘ یعنی مونچھیں کاٹو۔ ایک اور روایت میں ہے:
	((  جُزُّوْا الشَوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحٰی خَالِفُوا الْمَجُوْسَ ))   (صحیح مسلم،  حدیث ۲۶۰)
	’’مونچھیں کاٹو،  ڈاڑھی بڑھاؤ مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘ 
*جوتے پہن کر نماز پڑھنے کو ممنوع خیال کرنا۔ اس بات میں بھی کفار کی مشابہت سے روکا گیا ہے اور یہاں خاص طور پر یہودی مراد ہیں کیونکہ وہ جوتوں یا موزوں سمیت نماز نہیں پڑھتے۔ لہٰذا یہودیوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ جائز نہیں کہ آدمی مستقل طور پر جوتوں سمیت نماز پڑھنا چھوڑ دے یا ننگے پاؤں ہی نماز پڑھنا ضروری سمجھے یہ ایسی صورت میں ہے جبکہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔ 
اس کے متعلق فرمان رسول ہے :
((  خَالِفُوا الْیَھُوْدَ فَاِنَّھُمْ لَا یُصَلُّوْنَ فِی نِعَالِھِمْ وَلَا خِفَافِھِمْ ))  (أبو دأؤد : حدیث :۶۵۲)
	’’یہود کی مخالفت کرو بیشک وہ جوتوں اور موزوں وغیرہ میں نماز نہیں پڑھتے ‘‘۔ 
	یہودیوں کی مخالفت میں اس سنت کی اتباع اکثر جہلاء اور بدعتی لوگوں پر ناگوار گزرتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اہل علم جوتوں سمیت نماز ادا کرنے کو اس بات سے مشروط کرتے ہیں کہ یہ تکلیف و اذیت کا باعث نہ بنے۔ مثال کے طور پر مسجد کے اندر چٹائی یا قالین وغیرہ بچھا ہوا ہو اور مسجد سے باہر کی زمین جہاں سے نمازی چل کر آیا ہے صاف نہیں،  جیسے عموماً شہروں میں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں قالین یا چٹائی وغیرہ پر جوتوں سمیت نماز ادا کرنا درست نہیں۔ نبیؐ عام مٹی پر نماز ادا فرماتے کہ ان دنوں مسجد کی زمین پر کچھ بھی نہ بچھایا جاتا تھا۔
	لہٰذا ایک مسلمان کو سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کا مشتاق ہونے کے ناطے چاہیے کہ جب وہ مسجد کے بیرونی حصہ میں آئے جہاں کچھ بھی بچھا ہوا نہ ہو تو سنت پر عمل کرتے ہوئے کبھی کبھی وہاں جوتوں سمیت نماز ادا کرے مگر مستقل ایسا نہ کرے کہ اس طرح سلف صالحین سے ثابت نہیں۔
٭ کفار کی مشابہت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ حدود و تعزیرات،  عدل و انصاف،  جزا وسزا اور قوانین کے نفاذ میں کمزور و طاقتور اور ادنیٰ و اعلیٰ میں امتیاز روا رکھا جائے۔ یہ ناانصافی اور تفریق یہودیوں کا عمل ہے۔ 
	صحیحین میں حضرت اسامہ بن زیدؓ کی سفارش کا قصہ مذکور ہے جو انہوں نے ایک مخزومی عورت کو بچانے کے لیے کی جس نے چوری کی تھی۔ 
	آپؐ  نے فرمایا :
	((  یَا أُسَامَۃُ أَتَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اﷲِ اِنَّمَا ھَلَکَ بَنُو اِسْرَائِیْلَ أَنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِیْھِمْ الشَرِیْفُ تَرَکُوْہُ،  وِاِذَا سَرَقَ فِیْھِمْ الضَعِیْفُ أَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَ ھَا ))    (صحیح بخاری،  حدیث : ۳۴۷۵،  صحیح مسلم،  حدیث :۱۶۸۸)
	’’اے اسامہ تم اﷲ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق مجھ سے سفارش کرتے ہو۔بیشک بنی اسرائیل اسی لیے تباہ ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی بڑا عزت دار چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کا مرتکب ہوتا تو اس پر حد قائم کر دی جاتی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ‘‘۔ 
٭ نماز میں سد ل بھی کفار کی مشابہت ہے لہٰذا اس سے روکا گیا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص نماز میں اپنا منہ ڈھاٹا باندھ کر چھپائے رہے تو یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس طرح یہودی کرتے ہیں۔فرمان نبوی ہے :
((  أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِؐ  نَھٰی عَنِ السَّدْ لِ فِی الصَّلَاۃِ وَأَنْ یُغْطِیَ الرَّجُلُ فَاہُ ))  (أبو داؤد،  حدیث : ۱۴۲،  ترمذی،  حدیث :۳۷۸)
رسول اﷲؐ  نے سدل سے منع فرمایا اور یہ کہ آدمی اپنا منہ ڈھانپے۔‘‘ 
بعض صحابہ کرامؐ نے اس ممانعت کی وجہ یہودیوں کا فعل ہونا قرار دیا ہے۔
٭ عریانی،  بے پردگی اور عورتوں کا بلا ضرورت گھروں سے نکلنا،  یہ سب چیزیں جاہلیت اور کفار کی مشابہت ہی میں سے ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
	{وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرَّجَ الجَـٰھِللِیَّۃِ الْأُوْلٰیٰ }    (الاحزاب۳۳/۳۳)
	’’اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور گزشتہ دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔‘‘ 
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں :
	((  لَا تُبْدِ الْعَوْرَۃَ وَلَا بِسُتَّۃِ الْمُشْرِکِیْنَ ))  (اقتضاء الصراط المستقیم ۱/۳۴۰)
	’’اپنا ستر ظاہر نہ کرو اور مشرکین کے طریقے مت اپناؤ۔‘‘ 
٭ نماز میں اختصار ممنوع ہے۔ نماز میں اختصار کا مطلب ہے کہ ہاتھ پہلو پر رکھنا۔ حالانکہ نماز میں  سنت یہ ہے کہ نمازی اپنے ہاتھ سینے پر باندھے،  اس طرح سے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ہو۔ اختصاراس لیے ممنوع ہے کیونکہ یہ یہودیوں کے افعال میں سے ہے اور یہ ایک خلاف سنت عمل بھی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے ثابت ہے آپ اسے نماز میں ناپسند کرتیں۔ 
((  لَا تَشَبَّھُوْا بِالْیَھُوْدِ وَقَالَتْ : اِنَّ الْیَھُوْدَ تَفْعَلَہُ ))  
’’یہودی ایسا کرتے ہیں تم یہودیوں سے مشابہت نہ کرو‘‘ 
٭ عید و تہوار اور جشن و محافل وغیرہ۔شرعی طور پر صرف دو عیدیں معروف ہیں۔ یعنی عیدالفطر اور عید الاضحی ان کے علاوہ کوئی عید شریعت کے مطابق نہیں۔ بلاشبہ اہل کتاب،  کفار،  مشرکین،  مجوس اور اہل جاہلیت کے ہاں ہی عیدوں کی بھرمار اور کثرت نظر آتی ہے۔ جبکہ نبیؐ نے دوسے زیادہ عیدیں منانے سے منع فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ عباد الرحمن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
	{ وَالَّذِ یْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّورَ }  (الفرقان : ۲۵/۸۲)
	’’اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔‘‘ 
	سلف صالحین میں سے اکثر مفسرین نے الزور (جھوٹ)کا مطلب مشرکین و کفار کی عیدیں بتایا ہے۔ عیدیں عبادت کی حیثیت سے شریعت کا حصہ ہیں اور یہ توفیقی ہیں(ابن کثیر)
اور اگر کسی کے لیے جائز سمجھا جائے کہ وہ امت کے لیے ایک تیسری عید کا اضافہ کرے اس کی مناسبت اگرچہ کچھ بھی ہو تو یہ اﷲ کی شریعت کے مقابلے میں ایک دوسری شریعت کے قیام کے مترادف ہو گا۔جس طرح زیادتی جائز نہیں اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی مشروع عیدوں میں سے کسی کو ختم کر دے۔ ایسا کرنا شریعت میں دخل اندازی ہے جو صریحاً کفر ہے۔ رسول اﷲؐ  نے اہل مدینہ کو اپنے یادگار دن یا پرانے تہواروں کو زندہ کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ 
	رسول اﷲؐ  جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کے ہاں دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیلتے یا جشن مناتے۔ آپؐ   نے پوچھا یہ دو دن کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے جاہلیت کے دن ہیں جن میں ہم کھیلا کرتے تھے۔ آپؐ   نے فرمایا:
	((  اِنَّ اﷲَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِنْھُمَا : یَوْمَ الأَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ ))  (ابوداؤد،  حدیث : ۱۱۳۴)
	’’بلاشبہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو دن دے دئیے ہیں یعنی عید ا لفطر اور عید الاضحی کے دن۔ ‘‘ 
حضرت عمرؓ  فرمایا کرتے تھے :
	((  اِجْتَنِبُوْا أَعْدَا ءَ اﷲِ فِی أَعْیَادِھِمْ ))   (البھیقی للکبری،  ۹/۲۳۴)
	’’اﷲ کے دشمنوں سے ان کی عیدوں میں اجتناب کرو ‘‘۔ 
	لہٰذا عید کا ماخذ اور مبدا جب شریعت ہی ہے تو اس میں کسی قسم کی زیادتی یا کمی بالکل جائز نہیں۔ اہل علم کے نزدیک یہ معروف ہے کہ عید سے مراد ہر وہ موقع ومناسبت ہے جو بار بار آئے۔ وہ مہینہ وار ہو،  سالانہ ہو یا ہر سال،  دو سال پانچ سال،  پانچ یا دس سال کے وقفہ سے آئے۔ اس لیے ایک دن کا تعین کیا گیا ہو یا پورا ہفتہ اس کے لیے مخصوص ہو۔ مختصر یہ کہ ہر وہ موقع اور مناسبت جس کا امت خاص تواتر سے اہتمام کرے،  مخصوص و متعین کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاص انداز سے اس استقبال ہو وہ عید کے زمرے میں آئے گا اگرچہ وہ معروف عیدوں میں سے نہ ہی ہو۔ 
	اس طرح قومی دن،  جشن تاجپوشی یا تخت نشینی کی یاد اور دوسری مناسبات جیسے فتح وغیرہ کا جشن یا خاص موسم کی آمد کا جشن یہ سب بھی ممنوعہ عیدوں میں شامل ہیں۔
	اس کی ایک صورت ہفتوں کا منانا ہے۔ جیسے ہفتہ مساجد اور ہفتہ بہار۔ اگر ان کا بھی وقت بدلتا نہ رہے اور لوگوں میں مقررہ وقت ہی میں اس کا خصوصی اہتمام و التزام ہو تو یہ چیز بھی عید ہی کے ضمن میں آئے گی۔ 
	اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک بدعت کا بیج بونے کے مترادف ہے اگرچہ لوگ اسے شروع کرتے وقت شرعی قواعد و ضوابط کا خیال رکھیں اور اس ضمن میں ممنوعہ باتوں سے اجتناب بھی کریں مگر ان کے بعد آنے والے لوگ ان چیزوں کو سمجھ نہ پائیں گے۔وہ ان کاموں کے اس طرح وارث بنیں گے گویا کہ یہ امت کا لازمی حصہ ہیں جبکہ ہر وہ بات جسے شریعت نے لازمی قرار نہیں دیا اگر اسے لازم سمجھ لیا جائے تو گویا اسے شریعت کا درجہ دے دیا گیا۔ لہٰذا ہر ایسا کام جسے شریعت نے فرض نہیں کیا لوگ اسے اپنے آپ پر لازم کر لیں تو یہ ایک نئی شریعت سازی ہو گی۔ اب اس کا نام چاہے عید رکھ لیا جائے یا اسے کسی دن سے موسوم کیا جائے یا ہفتہ مہینہ سے۔ یا کسی جشن یا تہوار کے نام سے یاد کیا جائے۔ بہرحال نام کوئی بھی رکھ لینے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو گی۔ اہل علم کے نزدیک یہ تمام کام ممنوع ہیں اور ممنوعہ عیدوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
٭ سحری چھوڑنا۔ بغیر سحری کے روزہ رکھنا بھی کفار سے مشابہت ہے۔ جیسے یہودی اور دوسرے اہل کتاب کرتے ہیں کہ وہ سحری کا کھانا نہیں کھاتے۔ آپؐ   نے فرمایا:
	((  فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ أَھْلِ الکِتَابِ أَکْلَہُ السَحُوْرِ ))     (صحیح مسلم،  حدیث : ۱۰۹۶)
	’’اہل کتاب اور ہمارے روزوں میں فرق سحری کے کھانے کا ہے۔ ‘‘ 
	افسوسناک بات یہ ہے کہ آج کل اکثر مسلمان اس نافرمانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے افراد جو رات دیر گئے سوتے ہیں اور سونے سے پہلے کھانا کھا لیتے ہیں یا بسا اوقات نہیں بھی کھاتے۔ رات دیر تک جاگتے رہنے کی وجہ سے جب سحری کا وقت قریب آتا ہے تو نیند ان کو آ گھیرتی ہے لہٰذا سو جاتے ہیں اور سحری کا وقت نکل جاتا ہے۔ یہ لو گ بلاشبہ اپنے عمل سے جان بوجھ کر سحری چھوڑتے ہیں اور یہ جائز نہیں بلکہ کفار و یہود کا طریقہ ہے۔ اگر اس میں اور گناہ نہ بھی ہو پھر بھی پیارے پیغمبرؐ  کے حکم کی مخالفت ہی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
	{  فَلْیَحْذَرِ الَّذِ ینَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ}    (النور۲۴/۶۳)
	’’رسول اﷲؐ  کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب آ جائے‘‘ 
٭ افطار میں تاخیر کرنا :روزہ دار کے لیے افطار میں جلدی کرنا سنت ہے اس سے یہود و نصاری ٰ کی مخالفت ہوتی ہے۔ نبیؐ  نے فرمایا: 
	((  لَا یَزَالُ الدِّ یْنُ ظَاھِرًا مَا عَجَلَ النَّاسُ النَّاسُ الْفِطْرَ،  لأَنَّ الْیَھُودَ وَالنَّصَارٰی یُؤخَّرُوْنَہُ ))  (أبو داؤد، حدیث ۲۳۵۳،  ابن ماجہ،  حدیث : ۱۶۸۹)
	’’دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ اس میں تاخیر کرتے ہیں۔ ‘‘ 
	افطاری میں تاخیر کی عادت بھی بعض لوگوں میں پائی جاتی ہے خاص طور پر رافضی شیعہ بکثرت ایسا کرتے ہیں۔ یہ لوگ مغرب کی نماز دیر سے ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح افطار میں یہاں تک تاخیر کرتے ہیں کہ آسمان پر ستارے چمکنے لگتے ہیں۔ 
	کچھ لوگ بلاوجہ غیر ضروری احتیاط اور دین میں شدت پسندی کی بنا پر بھی اس کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ بسا اوقات موذن پربھی بھروسہ نہیں کرتے۔ بلکہ آنکھوں سے ڈوبتا ہوا سورج دیکھ کر بھی تسلی نہیں ہوتی۔ نتیجہ کے طور پر افطار کا صحیح وقت گنوا دیتے ہیں۔ اور افطار میں تاخیر کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے حالانکہ یہ سوائے شیطانی وسوسہ کے اور کچھ بھی نہیں کیونکہ اس وجہ سے ایک ممنوعہ فعل سرزد ہوا۔ جبکہ سنت نبوی تو یہ ہے کہ سحری تاخیر سے کی جائے اور افطار میں جلدی کی جائے۔ اور یہ بھی سنت مطہرہ سے ثابت ہے کہ یہود کے ہاں نماز مغرب اتنی تاخیر سے ادا کی جاتی ہے کہ آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ جگمگانے لگتے ہیں۔ رسول اﷲؐ  کا فرمان ہے :
((  لَا تَزَالُ أُمَّتِی عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤخَّرُوْا الْمَغْرِبَ اِلَی اشْتِبَاکِ النُّجُوْمِ ))    	(أبو داؤد،  حدیث : ۳۱۸،  و ابن ماجہ،  حدیث : ۶۷۹)
	’’میری امت فطرت پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز کو ستاروں کے چمکنے تک متاخر نہیں کریں گے۔ ‘‘ 
 اس کی وضاحت دوسری حدیث میں یوں آئی ہے کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مشابہت ہے۔
٭ حائضہ عورت کو کھانے پینے،  اٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے میں بالکل الگ کر دینا یہ بھی یہود کی عادات میں سے ہے۔ وہ حائضہ عورت کے ساتھ نہ کھاتے پیتے ہیں اور نہ اٹھتے بیٹھتے ہیں بلکہ اسے گھر میں بالکل الگ کر دیتے ہیں۔ آپؐ   نے اس سے منع فرمایا۔ جب مدینہ منورہ کے بعض مسلمانوں نے جو یہود کے ان افعال کو دیکھتے تھے،  آپؐ  سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپؐ   نے فرمایا :
	((  اِصْنَعُوْا کُلَّ شَی ئٍ اِلَّا النِّکَاحَ ))      (مسلم حدیث: ۳۰۲)
	’’جماع کے علاوہ ہر قسم کا میل ملاپ رکھو۔ ‘‘ 
%  	سورج کے طلوع  و غروب ہونے کے اوقات میں نماز سے ممانعت اس لیے ہے کہ کافر سورج کے طلوع و غروب کے وقت اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ رسول اﷲؐ  نے فرمایا:
	((  صَلِّ صَلَاۃَالصُّبْحِ ثُمَّ اقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمسُ حَتَّی تَرْتَفَعَ فَاِنَّھَا تَطْلُعُ حِیْنَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرنَی شَیْطَانٍ وَ حِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ ))    	(صحیح مسلم،  حدیث : ۸۳۲)
	’’صبح کی نماز پڑھ لو تو پھر ہر قسم کی نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج طلوع ہو کر بلند ہو جائے پس جب یہ طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اسے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ 
اور ایسا ہی آپؐ   نے اس کے غروب ہونے کے متعلق بھی فرمایا۔ 
٭ عظیماً کھڑے ہونے سے ممانعت خاص طور پر جب وہ شخص کہ جس کے لیے تعظیماً کھڑا ہوا جا رہا ہے کسی بلند مقام و مرتبہ کا مالک ہو یا بڑے لوگوں میں سے ہو تو اس کے لیے کھڑے ہونا جائز نہیں۔ بہت سی احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اس ضمن میں رسول اﷲؐ   کا وہ فرمان اپنے دامن میں بہت احتیاط لیے ہوئے ہے جس میں آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام بیٹھ کر نماز پڑھائے اور مقتدی پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔ جب امام کو کوئی ایسا عارضہ یا تکلیف ہو کہ اس کے لیے کھڑے ہونا ممکن نہ رہے تو آپؐ   نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ مقتدی بھی بیٹھ جائے۔ یہ اس لیے کہ ایسا نہ کرنے سے کہیں عجمیوں کی مشابہت اور نقل و تقلید لازم نہ آئے۔ آپؐ  نے فرمایا :
	((  اذا صلّی الاِمام جالسًا فصَّلُوا جُلوسًا،  واِذا صلَّی الاِمام  قائمًا فصلّوا قیامًا،  ولا تفعلوا کما یفعل أھل  فارس بعظمائھا ))     (أبوداؤد،  حدیث ۶۰۲،  وابن ماجہ،  حدیث : ۱۲۴۰)
	’’جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور امام کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور ا س طرح مت کرو جس طرح اہل فارس اپنے عظماء و اکابر کے ساتھ کرتے ہیں۔‘‘ 
ایک دوسری روایت میں آپ نے فرمایا :
	((  ولا تُعظّمونی کما تعظّم الأعاجم یعظّمُ بعضھا بعضًا ))    (أبو داؤد،  حدیث : ۵۲۳۰)
	’’میری تعظیم میں اس طرح مت کرنا جیسے اہل عجم آپس میں ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں‘‘ 
	اور آپؐ   نے صحابہ کرامؓ کو اس وقت متنبہ فرمایا جب کھڑے نہ ہو سکنے کی وجہ سے آپ بیٹھ کر نماز پڑھانے لگے اور صحابہؓ پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ نے فرمایا :
	((  ان کدتم آنفًا لتفعلون فعل فارس والرّوم یقومون علٰی ملوکھم وھم قعود ))   (صحیح مسلم، حدیث:۴۱۳)
	’’ابھی ابھی تم نے اہل فارس اور اہل روم جیسا کام کرنا چاہا کہ وہ اپنے بادشاہوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ملوک و بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں۔‘‘ 
      &میت پر نوحہ کناں ہونا اور مرنے والے پر چیخ و پکار کے ساتھ ماتم وغیرہ بپا کرنا جو جاہلیت کا خاصہ ہے۔ 
آپؐ  نے فرمایا :
	((  لیس منّا من ضرب الخدود،  وشقّ الجیوب ودعا بد عوی الجاھلیۃ ))   (صحیح بخاری،  حدیث : ۱۲۹۷)
	’’وہ ہم میں سے نہیں جو اپنے رخسار پیٹے،  گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی طرح پکارے ‘‘۔ 
بہت سے مسلمان آج اس عادت بد کا بھی شکار ہیں۔
٭ حسب ونسب پر فخر کرنا اور دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا،  ستاروں کے ذریعے بارش مانگنا یہ سب جاہلیت کے افعال شنیعہ ہیں جن سے نبیؐ   نے منع فرمایا۔ آپ نے فرمایا:
	((  أربع فی أمتی أمر الجاھلیۃ لا یترکونھنّ الفخر فی فی الأحساب، والطّعن فی الأنساب،  والاِستسقاء بالنّجوم،  والنیاحۃ  ))  (صحیح مسلم،  حدیث : ۹۳۵) 
	’’چار کام جاہلیت کے ایسے ہیں جو میری امت میں پائے جائیں گے اور وہ انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘ 
(۱) حسب ونسب پر فخر (۲)حسب ونسب میں طعن درازی(۳)ستاروں کے ذریعے بارش مانگنا(۴)نوحہ و ماتم کرنا 
٭ قوم،  مذہب،  وطن یا کسی علاقائی بنیاد پر جاہلی عصبیت کے شجر خبیثہ کی آبیاری کرنا۔ ہر وہ عصبیت اور نسبت جس کی اساس اسلام کے علاوہ فخر و غرور اور تعصب و تنگ نظری ہو وہ جاہلیت کے افعال میں شمار ہو گی۔ جیسے کہ نبیؐ   نے فرمایا:
	((  لیس منّا من دعا الٰی عصبیّۃ،  ولیس منّا من قاتل علٰی عصبیّۃ،  ولیس منّا من مات علٰی عصبیّۃٍ ))
’’وہ ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی۔ اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی خاطر لڑا، اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرا۔‘‘      (أبو داؤد، حدیث : ۵۱۲۱)
’’عصبیت ان بڑے امور میں سے ایک ہے جن سے رسول اﷲؐ  نے منع فرمایا۔ ماضی اور حال میںمسلمان کثرت سے اس کا شکار ہوئے۔ یہ عصبیت ہی کا بد تر بیج ہے جس کی کاشت سے آج مسلمان فتنوں کا شکار ہیں۔ اور اس کے وجود خبیث نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے انہیں ایک قوم سے مختلف قوموں میں بانٹ دیا جس کی بنا پر مسلمان دنیا میں مختلف ممالک کی تنگ سرحدوں میں  محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور اس نے اسلامی وحدت کو ختم کر کے امت مسلمہ کو مختلف گروہوں اور ٹولیوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔ آج کل کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جاہلی عصبیت کو بھڑکانے میں قومیتیں کس طرح اثر انداز ہوئیں ہیں۔صرف قومیت کی بنیاد پر ظالم کی مدد کی جاتی ہے جبکہ رسول اﷲؐ   اس سے منع فرما چکے ہیں۔
آپؐ  نے فرمایا :
	((   من نصر قومہ علٰی غیر الحقّ،  فھو کالبعیر الّذ ی ردّی فھو ینزع بذ نبہ))    	(أبو داؤد،  حدیث :۵۱۱۸)
	’’جس نے اپنی قوم کی بغیر حق کے مدد کی وہ اس بے کار اونٹ کے مانند ہے جسے اس کی دم سے پکڑ کر کھینچا جاتا ہو۔‘‘ 
٭ دسویں محرم یعنی صرف یوم عاشور کا روزہ رکھنا۔ کیونکہ یہود اس طرح کرتے ہیں۔آپؐ   نے فرمایا:
	((  صوموا یوم عاشوراء و خالفوا الیھود،  صوموا قبلہ یومًا أو بعدہ یومًا ))   	  (صحیح مسلم حدیث : ۱۱۳۳،ومسند احمد : ۱/۲۴۱)
	’’عاشور کے دن کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو یعنی عاشورہ سے ایک دن پہلے یا بعد میں بھی روزہ رکھو۔ ‘‘ 
٭ عورتوں کا اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانا یعنی اپنے بالوں کے علاوہ جو اﷲ نے دئیے ہیں ان کے ساتھ نقلی بال استعمال کرنا جیسے یہودی کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی مثال وگ وغیرہ کی صورت ہے کیونکہ یہ بالوں کے ساتھ ملانے ہی کی ایک شکل ہے جبکہ عورتیں اس سے اپنے طبعی بال بدل ڈالتی ہیں۔ ہاں اگر کسی عورت کے بالکل ہی بال نہ ہوں تو بعض اہل علم شوہر کے لیے بطور زینت وگ وغیرہ کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔
حضرت معاویہؓ  سے اس عورت کے قصہ کے ضمن میں جو کہ بال ملاتی ہے ایک حدیث منقول ہے:
	((  انّما ھلکت بنو اسرائیل حین اتّخذوا ھٰذہ نساؤھم ))    	  (صحیح مسلم،  حدیث : (۲۷۴۲)
	’’بیشک بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جب ان کی عورتوں نے مصنوعی بال لگانے کو اپنا وطیرہ بنایا۔ ‘‘ 
اور حضرت معاویہؓ  فرماتے ہیں۔
	((  ما کنت أری أن أحد یفعلہ الا الیھود ))     (اقتضاء الصراط المستقیم :۱/۲۵۳)
	’’میں نے سوائے یہود کے اور کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ‘‘ 
٭ دلوں کی قساوت اور سختی کا یہ حال ہو جائے کہ اﷲ تعالیٰ کی آیات اور ذکر پاک سے بھی دل میں خوف پیدا نہ ہو بلکہ دل خشوع و خضوع سے خالی رہے۔ یہ یہودیوں ہی کے خصائل ہیں جن سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ فرمان ربانی ہے:
	{ أَلَمْ  یَأنِ لِلَّذِ یْنَ ئَ امَنُوٓ ا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُھُمْ لِذِکْرِ اﷲِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا یَکُونُوْا کَالَّذِ یْنَ أُوتُواْ الکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمُ الأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ}   (الحدید ۵۷/۱۶)
	’’کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اﷲ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کر دہ حق کے آگے جھکیں اور ان کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی پھر اگر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔‘‘ 
مذکورہ آیت میں اہل کتاب کا تذکرہ کیا گیا ہے اور جن کو کتاب دی گئی تھی وہ یہودی اور عیسائی ہی ہیں۔
-		  رہبانیت اور دین میں تشدد عیسائیوں کے خصائل و عادات میں سے ایک بڑی عادت یہ رہی ہے کہ وہ دین میں غلو کرتے ہیں۔ اﷲ کی نازل کر دہ شریعت میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ وہ شرعی امور عبادات و عقائد سے متعلق ہوں یا ان کا تعلق احکامات سے ہو۔مثلاً تمام چیزوں سے قطع تعلقی کر کے اپنے آپ کو صرف عبادت میں لگا لینا،  حصول رزق کے لیے ہاتھ تک نہ ہلانا جہاد چھوڑ بیٹھنا،  سفر تک نہ کرنا،  حلال اور جائز چیزوں کا استعمال دینداری سمجھتے ہوئے ترک کر دینا  یا دین میں یوں تشدد اختیار کرنا کہ آدمی اعتدال کی راہ سے جو کہ خالص اسلام کی راہ ہے ہٹ جائے۔ اور رہبانیت جیسا کہ آپ جانتے ہیں عیسائیوں کے افعال میں سے ہے اور اﷲ اور اس کے رسول منع فرما چکے ہیں۔رسول اﷲؐ نے فرمایا

	((  لا تشّد دوا علٰی انفسکم فیشدد علیکم فانّ قومًا شدّدو علٰی انفسھم فشدّد اﷲ علیھم فتلک بقایاھم فی الصّوامع والدّ یار رھبانیّۃً ابتدعوھا ما کتبنا علیھم))    	(أبو داؤد،  حدیث :۴۹۰۴)
	’’اپنے آپ پر سختی مت کرو ورنہ اﷲ بھی تمہارے اوپر سختی کر دے گا۔ پس ایک قوم نے اپنے اوپر سختی کی تو اﷲ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کر دی۔ پس یہ گرجا گھر اور عبادت گاہیں ان کی باقیات ہیں انہوں نے رہبانیت کو اختیار کر لیا جو ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی۔ ‘‘
	برادران اسلام! مختصراً یہ کہ مشابہت کا موضوع اہم ترین اور نازک موضوعات میں سے ایک ہے جو مسلمانوں کے خصوصی اہتمام اور توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ آج کے دور میں بہت سے مسلمان مشابہت کی ان اقسام کا شکار ہیں جو دینی اعتبار سے انتہائی مذموم ہیں۔ بلکہ بعض گروہ تو اس مشابہت کی بنا پر بدعت و گمراہی اور کفر و شرک کی راہ پر چل نکلیں ہیں۔ اگرچہ یہ مشابہت کا مرض کوئی نیا تو نہیں مگر جس کثرت سے مسلمان آج کے دور میں اس مرض میں مبتلا ہوئے ہیں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔
	آج ہم مسلمانوں کو اکثر معاملات میں دوسروں کی تقلید کرتے ہوئے پاتے ہیں سوائے ان کے جنہیں اﷲ پاک اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ بہرحال یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ مسلمان اکثر معاملات میں کفار کے نقال اور پیروکار بنے ہوئے ہیں اور یہ پیروی جزوی طور پر عبادات کی کسی ایک قسم یا عادات وغیرہ میں سے کسی مخصوص عادت تک محدود نہیں بلکہ یہ تو ایسا زہر قاتل ہے جس نے پورے کارواں حیات کو مسموم کر کے رکھ دیا ہے۔ اندھی تقلید و پیروی کا یہ مرض زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔اس کا تعلق عقائد و شریعت سے بھی ہے اور عادات و اطوار سے بھی۔ یہ انداز فکر پر بھی حاوی ہے،  اس نے اخلاق و معاشرت کو بھی تباہ کیا ہے۔تعلیمی میدان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ اور معیشت وسیاست بھی اس کی زد میں ہیں۔ درآمد شدہ خود ساختہ قوانین اسی کا زہریلا پھل ہے۔
٭ رہبانیت کی بعض صورتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خوامخواہ جائز اور مباح چیزوں کو چھوڑنے پر اصرار کیا جائے اور اسے دینداری سمجھا جائے جیسے جوتے نہ پہننا،  سواری کے لیے کار وغیرہ استعمال نہ کرنا اور اس طرح کی دوسری مصنوعات جو جائز ہیں ان سے کنارہ کشی کرنا۔ 
	شرعی احکامات میں اﷲ کے دین سے بغاوت اور اس کی حاکمیت تسلیم کرنے سے فرار بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اسی وجہ سے اکثر مسلمان جماعتوں اور ممالک کا یہ حال ہے کہ جس طرح انہیں اپنے فیصلوں کے لیے اﷲ اور اس کے رسول کی رجوع کرنا چاہیے اس سے کہیں زیادہ وہ کافر ممالک اور تنظیموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ پھر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور عادات و اخلاق،  طور و اطوار،  طرز معاشرت،  رہن سہن اور لباس وغیرہ میں اپنے دین سے راہنمائی لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ بلکہ بعض مسلمان ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کافرانہ عادات و خصائل بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ جہاں سنت مطہرہ ایک اجنبی چیز ہو کر رہ گئی ہے جس پر عمل تو شاذونادر ہی نظر آئے گا اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تقریباً سبھی واقف ہیں۔ہم اس پا ک سرزمین یعنی مملکت سعودی عرب میں دیکھتے ہیں کہ الحمد ﷲ اکثر مسلمان ظاہری عادات و اطوار میں اسلام پر کاربند ہیں۔اسی طرح احکام و نظام اور اخلاق و عادات بھی بہت حد تک اسلام کے مطابق ہیں۔ یہ سب اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کی حفاظت اور شکر ہماری ذمہ داری ہے۔ 



آخری بات


	میں خود اپنے آپ کو اور اپنے بھائیوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کے ساتھ ساتھ یہ کہوں گا کہ مسلمانوں سے خیر خواہی کی جائے اور جس حالت میں وہ مبتلا ہو چکے ہیں اس سے انہیں نکالنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح عقیدہ توحید،  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قیام،  حدود پر عمل اور شریعت مطہرہ کا نفاذ جو کچھ ہمارے پاس اس ملک میں موجود ہے اس کی قدر کرتے ہوئے حفاظت کریں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی جانب مشابہت و تقلید کے اس بڑھتے ہوئے تباہ کن سیلاب کو روکنے کے لیے اسلامی طرز معاشرت کا مضبوط بند باندھیں۔ 
	اﷲ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ ہمیں ایمان کی زندگی عطا فرمائے اور ایمان پر ہی ہمارا خاتمہ ہو۔ ہمیں انبیاء،  صدیقین،  شہداء اور صالحین کے ساتھ اٹھائے۔ صراط مستقیم کی طرف ہماری رہنمائی فرما کر اپنے غضب کا شکار ہونے والوں اور گمراہوں کے راستہ سے بچائے۔ 
	 صلی اﷲ وسلم علٰی نبیّنا محمد  وّآلہ و اصحبہ واجمعین۔ 
٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
