﻿



کلیم احسان بٹ 
اور ’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘


مختلف ادباء










حیرت نامہ

     (مضمون کا بیشتر متن  ۱۹۹۹ میں ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے اجلاس میں اسلام آباد میں پڑھا گیا )


	بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی کئی صورتیں ہیں مگر ان میں بدترین آزادی اظہار (Freedom of Expression)  پر قدغن ہے۔ عام طور پر آزادی اظہار سے مراد الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی آزادی لیا جاتا ہے۔ فرد کی آزادی کا تصور اس میں زیادہ نمایاں نظر نہیں آتا۔ آزادی اظہار کے لیے بات کرنے والے خود بھی اس مسئلے کی مختلف اطراف اور پیچیدگیوں سے واقف نہیں۔
	ہم جس ماحول میں رہ رہے ہیں اس میں مختلف قسم کے دباؤ بیک وقت موجود ہیں۔ انسانیت اور نسل انسانی پر جو سب سے بڑا دباؤ ہے وہ مذہبی دباؤ ہے۔ مختلف پیغمبروں کو ان کے مذہبی نظریات کی بنیا د پر قتل کر دیا گیا۔ ان کے جسموں کو آروں سے چیر دیا گیا اور انھیں صلیبوں کی زیب و زینت بننا پڑا۔ پورپ میں پادریوں کے معافی ناموں سے لے کر ایشیا میں جنت کی بشارت تک ایک ہی کہانی ہے جو دہرائی جاتی رہی ہے۔ آج بھی مختلف مذاہب باہم بر سرِ پیکار ہیں اور پھر ایک ہی مذہب کے مختلف نظریات باہمی جنگ و جدل کا شکار ہیں۔ کسی کو اپنی مذہبی نظریے کی بنیاد پر اعلیٰ و ارفع اور ادنیٰ و کمتر قرار دیا جا سکتا ہے، خلعت و دستار 
ہرست
اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبیدساحل کمپیوٹرس، ناگپور                                                                       سے نوازا جا سکتا ہے۔ اظہار پر اس قسم کی پابندی اپنے نتائج کے اعتبار سے اتنی گھمبیر ہے کہ کوئی چرچ، کوئی فلاحی ادارہ، کوئی مسجد، کوئی امام بارگاہ اور کوئی مندر خون انسانی کے دھبوں سے خالی نہیں ہے۔
	اسی طرح حکومتی اور سیاسی دباؤ بھی بہت شدید ہوتے ہیں۔ اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم مختلف سیاسی نظریات کو کچلنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور اپنے سیاسی نظریے کے فروغ کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ سقراط کو زہر کا پیالا پینا پڑا، نیلسن منڈیلا اور امام خمینی کو جلا وطن ہونا پڑا، خود ہماری مختصر سیاسی تاریخ اس قسم کے انتشار سے بھری پڑی ہے۔ لیاقت علی خان قتل ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر چڑھا دیے گئے، نواز شریف کو جلا وطن ہونا پڑا اور بے نظیر بھٹو کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زیادہ تر مارشل لا کے زیر سایا سانس لینے پر مجبور ہیں۔ سٹیٹ اپنی طاقت ہم پر مسلط کرتی ہے۔ فوج کے خلاف بات کرنے والا غدار ہے۔ عدلیہ کے خلاف بات کرنے سے توہینِ عدالت کا قانون ہماری گرفت کے لیے تیار ہے۔ فلاں قسم کی بات سے ملکی مفادات کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور سب سے پہلے پاکستان۔ اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے اور مقاصد کے لیے فرد کی آزادی کو بار بار کچلا جاتا ہے۔
	ایک اور اہم دباؤ سماجی دباؤ ہے۔ ہم سماج کے بنائے ہوئے سانچے میں ڈھلنے پر مجبور ہیں اور اگر اس سانچے سے نکلنے کی کوشش کریں تو مردود و نا مقبول قرار پاتے ہیں۔ ذات پات، رسم و رواج، رہن سہن، ہر سماجی کارکردگی کے لیے لائحہ عمل موجود ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا معیوب قرار پاتا ہے۔ ان سانچوں کو توڑنے والا باغی اور سماجی غیظ و غضب کا حق دار قرار پاتا ہے۔ ونی اور کاری اور ستی کی رسمیں آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی نہ صرف زندہ ہیں بلکہ ان کی طرف داری کرنے والے حکومتی ایوانوں میں جانشین ہیں۔
	معاشی دباؤ بھی پوری نسل انسانی کو اپنے خوفناک جبڑوں میں دبائے ہماری خواہشات کے قتل عام میں پیش پیش ہے۔ یہ دباؤ فرد سے لے کر معاشروں اور قوموں تک کو پریشان اور خستہ حال کیے ہوئے ہے۔ ہماری وہ نسلیں جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئیں بین الاقوامی سودی اداروں کی مقروض ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان حائل خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے اور اس دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مختلف جرائم سے ہر کوئی پریشاں حال ہے۔ دنیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے چنگل میں گرفتار ہے۔ غریب ممالک میں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی حکمرانی ہے۔ ہم اپنا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ ایک ٹیلی فون کال پر خارجہ پالیسی کا پہیہ الٹا گھوم جاتا ہے۔ آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اپنے لوگوں کی شکست ریخت ہمارے مقتدر ادارے کرتے ہیں۔ فرد سے لے کر اقوام متحدہ تک اس معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اونٹوں کے گلے میں قاتلوں کے حق میں نعرے لکھ کر سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے۔
	ایک دباؤ ہماری اخلاقی اقدار کا بھی ہے۔ یہ دراصل ملغوبہ ہے ہماری سماجی اور مذہبی اقدار کا۔ ہماری خواہشات اخلاقی اقدار کے اس پہاڑ سے ٹکرا ٹکرا کر اپنا سر پھوڑ دیتی ہیں مگر اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
	 سب سے بڑھ کر خود اپنی ذات کا دباؤ جو بذات خود ہر قسم کے دباؤ کے نتیجے میں ظہور میں آتا ہے ہماری شخصیت پر ہر وقت منڈ لاتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے ہر طرف سے دباؤ کی موجودگی میں انسانی خواہشات ہمہ وقت سسک رہی ہیں اور ’’ بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے‘‘ کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ اتنے زیادہ ہمہ گیر دباؤ نے ہماری شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارا نظریہ کیا ہے؟  ہمارا فلسفہ کیا ہے؟  ہماری خواہشات کیا ہیں ؟  ہمیں خود معلوم نہیں۔
	اس صورت حال میں بات کو چھپا کر کرنا، بات کا ڈھنگ حاصل کرنا اور بات کو ذومعنی بنانا ہر ایسے فرد کی ضرورت بن جاتا ہے جسے دباؤ قبول کرنے سے انکار کرنا ہے اور جس کے پاس کہنے کے لیے کوئی بات ہے۔ شاعری ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جو اس جنگ میں ہمارے کام آ سکتا ہے اس لیے اگر ہمیں فرد کی خواہش کا احترام کرنے والا معاشرہ قائم کرنا ہے تو ہمیں شعر کے فروغ کے لیے بھرپور جدوجہد کرنا ہوگی۔
	قوت کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ ہونا ضروری ہے۔ لفظ تلوار کا کام کر سکتے ہیں۔ لوگ اسے فن کہہ سکتے ہیں۔ میری شاعری میں یہ فن کس مرحلے پر ہے اس کا اندازہ تو ناقدین ادب ہی کر سکتے ہیں۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ میں بھی اس رستے کا مسافر ہوں اور اگر میری سمت درست ہے تو ایک نہ ایک دن منزل بھی ضرور مل ہی جائے گی۔
					کلیم احسان بٹ
			                	03456882170




حیرت کا سفر 

	کلیم احسان بٹ ادبی و شعری تاریخ کا وہ ستارہ ہے جس نے جلالپور جٹاں کو اس کی پہچان دی۔ کلیم نے  ۵ دسمبر ۱۹۶۴ء کو اس عالم نا پائیدار میں آنکھ کھولی تھی کہ ننھیال اور دودھیال کو علمی و ادبی خزانے سے مالا مال پایا۔ ننھیال میں معروف روحانی شخصیت بابا قادر شاہ ؒ کے گدی نشین غلام محی الدین ؒ کلیم کی والدہ کے تایا تھے۔انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں۔ اپنے وقت کے معروف صاحب دیوان شاعر  عبدالطیف مضطر رشتے میں ان کے ماموں تھے۔دودھیال میں ’’گنہ گار‘‘  ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ شاعری کلیم کے خمیر میں موجود تھی۔ کلیم احسان بٹ نے ابتدائی تعلیم جلالپور جٹاں سے حاصل کی۔  پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ عملی زندگی کا آغاز مادرِ علمی گورنمنٹ زمیندار کالج میں بطور لیکچرر کیا۔ سال ہا سال کی خدمات کے بعد۲۰۱۰ سے راولپنڈی میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 	کلیم کی تدریسی شعبے سے وابستگی نے اسے وسیع المطالعہ بنا دیا جس سے اس کا مشاہدہ عمیق اور فکر میں گہرائی اور سوچ میں پختگی آتی گئی۔ مطالعہ، مشاہدہ اور فکر یہ تین چیزیں کسی بھی ہوشمند انسان کو شاعری سے دور نہیں رکھ سکتیں۔ تعلیمی و تدریسی عمل سے منسلک ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد تنقید و تحقیق کی جستجو نے کلیم احسان بٹ کو ’’گجرات میں اردو شاعری‘‘ جیسی لازوال کتاب کا مصنف بنا دیا۔ اس کا پہلا شعری مجموعہ ’’موسم گل حیران کھڑا ہے‘‘ کے نام سے منصہ شہود پر آیا۔ تھوڑے وقفے کے بعد دوسرا مجموعہ ’’چلو جگنو پکڑتے ہیں ‘‘منظر عام پر آگیا۔ تنقیدی و تحقیقی کتابیں ابرِ رحمت جلد اول ، جلد دوم اور تفہیم و تحسین اس کے علاوہ ہیں۔
	 ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘ اس کا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔ عنوان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حیرت کا جو سفر موسم گل سے شروع ہوا تھا وہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ اس کی شاعری معاشرتی ظلم، جبر اور نا انصافی کے خلاف ایک فکری اور فطری ردِ عمل ہے۔ وہ سنت حسین ؒ پر عمل پیرا ہے:

میں جانتا تھا مجھے پیاس مار ڈالے گی
میں بس حسینؓ کی سُنت میں جنگ کرتا رہا
	حمد و نعت میں غزل کی ہیئت استعمال کی ہے۔ اس نے حمد میں بھی جدت کا رنگ اختیار کیا ہے۔ 

سر مستوں کو تُو نے سر افراز کیا
سچّل بھیجنے والے تیرا نام ہے سچ

ہجر ، فراق ، وصال سے لذت یاب کیا
سانول بھیجنے والے تیرا نام ہے سچ

       کلیم احسان کے فن کی بنیاد غزل ہے۔ وہ حمد  و نعت اور سلام کو بھی غزل کی ہیئت میں پروتا چلا جاتا ہے۔ اسکی غزل میں روایت سے وابستگی ہے روایت کا اعادہ نہیں۔ پرانی اینٹیں اسے یاد تو آتی ہیں لیکن اس کی شاعر ی کی عمارت جدید طرزِ تعمیر پر استوار ہے۔ اس کی شاعری میں خیال آفرینی اور فکرِ تازہ ہے۔ وہ روایتی حسن و عشق اور عارض و گل کا شاعر نہیں حقیقی زندگی کا عکاس ہے۔اس نے اپنے مضامین حقیقی زندگی سے کشید کیے ہیں اور متنوع موضوعات کو شعری پیراہن عطا کیا ہے۔اس کے ہاں غزل کے روایتی حسن کے ساتھ فرحت بخش تازگی کا احساس ہوتا ہے جو شعر و ادب کا اولیں مقصد  ہے۔

تم فقط شخص مار سکتے ہو
کیا کرو گے مری علامت کا



مٹی کو مری چاک پہ رکھا تو گیا ہے
میں کیا ہوں کسی دستِ ہنر ور سے کھلے گا

میں دوستانہ مراسم بڑھانا چاہتا تھا
میں دشمنوں کی حمایت میں جنگ کرتا رہا

میں جانتا تھا مجھے پیاس مار ڈالے گی
میں بس حسینؓ کی سُنت میں جنگ کرتا رہا

میری آنکھوں میں چمکتا آنسو
کسی مسجد میں دیا ہے شاید

 	شعر فہمی اور زبان و بیان پر عبور نے اس کی شاعر ی کو زیادہ نکھار دیا ہے۔اس کا ہر شعر تاثیر سے بھر پور ہے۔اس کے ہاں عامیانہ پن نہیں ہے۔یہاں محسوسات اور جذبات کی دنیا ہی کچھ اور ہے۔ یہ اُن تجربات کی شاعری ہے جن کا تعلق وجدان  سے ہے۔ 

رقصاں ہے اس کے عشق میں ہر قافیہ، ردیف
یعنی مرے کمال کی دنیا ہی اور ہے 



ہمارا درد کا رشتہ تھا بھیرویں سے کلیمؔ
ہماری سُر سے نہ سرگم سے آشنائی تھی

کہاں تاثیر ہوتی ہے غزل میں 
دلِ صد چاک سے رس کھینچتا ہوں 

ایک رشتہ ہے درد مندی کا
آپ رویا، اسے رُلا آیا

	کلیم کی شاعری محض اپنی ذات کا اظہار نہیں بلکہ عوام و خواص کی زندگی کے متنوع پہلوؤں کی ترجمان ہے۔ اسے کسی خاص طبقہ یا فکر کا شاعر نہیں کہا جا سکتا۔وہ ہر قسم کے انسانی جذبات کو اپنی شاعر ی کا موضوع بناتا چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کا شعر معیار کی کسوٹی پرہی پورا نہیں اترتا ہے بلکہ اثر انگیز بھی ہوتا ہے۔

میری آنکھوں کو یہ سزا دی ہے
صرف دیدار کر نہیں سکتا

دربار میں کہا تھا ستارہ شناس نے 
ہارے گا وہ غلام خریدہ سے جنگ میں 

	کلیم کی شاعری میں تصوف کا رنگ بھی ہے اور یہی اس کی حیرت کا منبع بھی ہے۔ وہ تصوف کے روایتی مضامین بیان نہیں کرتا بلکہ اپنی اس وجدانی کیفیت اور حیرت کا اظہار کرتا ہے جو دید کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ 

حیرت کدے میں آنے سے پہلے میں کون تھا
پتھر سے پوچھتا تھا یہ پتھر پڑا ہوا

میری حیرت نہیں تھی میرے بس میں 
عجب منظر تھا میرے پیش و پس میں 

تیرا چہرہ ہے اور کچھ بھی نہیں 
میری آنکھوں میں دیکھتے کیا ہو 

	کلاسیکل اور جدید شعرا نے اپنی شاعری کی اساس کے متعلق مختلف دعوے کئے ہیں۔ کلیم نے بعض مقامات پر شاعرانہ تعلی سے کام لیا ہے۔ 

مجھے الہام ہوتے ہیں مضامیں 
کمایا ہے یہی اتنے برس میں 

اس عہد میں اب کوئی پیمبر نہیں ہوگا
عقدہ جو کھلے گا کسی شاعر سے کھلے گا



اس کو سخن میں کیوں نہ ہم استاد مانتے 
جو یوں ردیف باندھ کے لائے ہزار دست

ہوگی نہ مرے شعر کی تمثیل کسی روز 
اترے گا مرے نطق میں جبریل کسی روز

اک بنائے تازہ رکھی میں نے فن کے باب میں 
حرف و صوت و رنگ و حرکت سارے حیرت آشنا

ہم اپنے لفظوں سے لوگوں میں معتبر ٹھہرے 
وگرنہ اپنی تو کم کم سے آشنائی تھی

	کلیم احسان کی شاعری شہنشاہِ غزل میر تقی میر کی غزل اور زندگی سے کافی حد تک متاثر ہے اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کرتا ہے حالانکہ اس کے موضوعات اور اسلوب میر سے کافی حد تک جدا ہیں۔اس کی شاعری میں جہاں میر کا ذکر آیا ہے وہاں اس کا سر عقیدت سے جھک تو جاتا ہے مگر وہ سر جھکائے وہاں سے گزر جاتا ہے ٹھہرتا نہیں 

عشق پھر اختیار کرتے ہو
حال کیا میرؔ کا نہیں دیکھا


وہی استادِ سخن میرؔ کی نمناک سی لَے
حرف کو اشک بنانے کا ہنر جانتا ہے

میں بار بار پلٹتا ہوں میرؔ کی جانب
سخن میں رنگ نیا اختیار کرتے ہوئے

	دراصل وہ میر کا مقلد نہیں۔وہ سخن میں نیا رنگ اختیار کرتا ہے جو اس کو اپنی پہچان دیتا ہے مگر وہ بار بار میر کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہے اور میر کی سی سادگی اور تاثیر کو اپنا رول ماڈل سمجھتا رہتا ہے۔ غالب کی طرح کلیم نے بھی میر کی چھوٹی بحر کی غزلوں سے زیادہ اثر قبول کیا ہے۔ کلیم احسان کی غزل ، چھ سات اشعار اور چھوٹے چھوٹے مصرعوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اپنی افادیت ، گرفت اور تاثر قائم رکھنے میں زیادہ کامیاب رہی۔ کلیم نے اردو زبان و ادب کا استاد ہونے کے باوجود اپنی شاعری کو ’’استادی گروں ‘‘ سے دور رکھا ہے۔ اس نے سادہ الفاظ میں دل کی آواز کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔   
	میر اور کلیم کی شاعری میں ایک واضح فرق یہ بھی ہے کہ میر کے ہاں غم ہی غم ہے۔ لیکن کلیم کے کلام میں غالب کی شگفتگی اور مزاح کا عنصر بھی ہے۔ وہ زندگی کا مختلف مگر دلچسپ زاویے سے مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ زندگی کا ایسا رخ سامنے لاتا ہے جو ماحول میں گھٹن، جبر اور ظلم کے باوجود سادہ، شگفتہ ہے۔وہ زندگی میں کہیں پسپا نظر نہیں آتا بلکہ پامردی اور استقامت کے ساتھ ہر میدان میں تیغ زن ہے۔ 

یہ کیسا امتحان سخاوت ہے آ پڑا
در پر کھڑا ہے ایک گدائے ہزار دست

میں پھیر پھیر کر وہیں لاتا تھا گفتگو
اس کو بھی ٹالنے میں مہارت کمال تھی

ہم تو سمجھ رہے تھے ہمارے ہیں کان بند
معلوم یہ ہوا کہ ہے سب کی زبان بند

پھرتا ہے پھر نظر میں مری خارزار عشق 
وہ پیش کر رہا ہے مجھے مسکرا کے پھول

	کلیم کی شاعری تہذیبی اور سماجی شعور کی گہری چھاپ لیے ہوئے ہے۔انسان جس معاشرے میں جیتا ہے، سانس لیتا ہے اور زندگی گزارتا ہے۔وہاں اسے مختلف لوگوں اور رویوں سے واسطہ پڑتا ہے۔کہیں ان کا انداز مثبت ہوتا ہے اور کہیں منفی۔ان رویوں سے کہیں بے حسی جنم لیتی ہے تو کہیں نفسا نفسی، کہیں افراتفری تو کہیں اخلاقی اقدار کی پامالی۔کلیم احسان  اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر رکھتے ہوئے معاشرے کے ان سارے انسانی رویوں کا بغور تجزیہ کرتا ہے۔ان سے گہرا تاثر قبول کرتا ہے۔ اور انہیں اپنی زندگی کا تجربہ بناتے ہوئے اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔کلیم احسان نے منفی انسانی رویوں سے پیدا ہونے والے دکھ کا ذکر کرتے ہوئے تمثیلی انداز اپنایا ہے۔ 

شہر مُردوں سے بھر گیا ہے کلیمؔ
کوئی زندہ نہیں کہیں دیکھا

بچوں کو جب حلال کھلاتے تھے والدین
بستی کی لڑکیوں میں طہارت کمال تھی

مجبوریوں کے ہاتھ میں اولاد بیج دی
یہ شہر تھا عجیب، تجارت کمال تھی

	کلیم احسان نے اپنی شاعری میں خونی رشتوں ماں ، باپ، بہن بھائی کو خاص اہمیت دی ہے۔ان سے منسوب احساسات و جذبات کو گہرائی اور عقیدت سے پیش کیا ہے۔ کلیم خونی رشتوں کی خوشگوار مہک کو بخوبی محسوس کرتا ہے۔ خونی رشتے معاشرتی سطح پر اخلاقی اقدار کے امین ہیں۔ جہاں رشتوں کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں اخلاقی زوال پورے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے:

بارش کے ساتھ ٹھنڈی ہوا ، جنوری کے دن
اور ماں کی گرم گود سے کوسوں کی دوریاں 

تا دیر ساتھ چلتی ہیں یادوں کی خوشبوئیں 
آتا ہوں جب بھی اس کی لحد پر گرا کے پھول

	دکھ، درد اور غم اردو کلاسیکی شاعری سے جدید شاعری تک شاعروں کا خاص موضوع رہے ہیں۔کلیم احسان نے ان میں نمک کا اضافہ کر کے تڑپ کو دوچند کر دیا ہے۔ 

یہ درد ذرا دل کو مزا دیتا نہیں ہے
اس زخم کو ناخن سے ذرا چھیل کسی روز



وہ نمک کی دکان کرتا ہے
زخم سارے جسے دکھا آیا

نمک دینا ضروری ہو گیا ہے
تو زخموں کو ذرا سا چھیل کر دے
	آخر میں  مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ کلیم احسان ذاتی طور پر سادہ، پر خلوص، خلیق اور شگفتہ شخصیت کا مالک ہے۔ یہی جھلک اس کی شاعری میں دکھائی دیتی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس کا نیا مجموعہ کلام ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘ جدید اردو غزل میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔

محمد اشفاق ایاز
ایڈیٹر
وائس آف جلالپورجٹاں 
٭٭٭




کلیم کی شاعری
	               
	طویل انسانی تاریخ میں شاعری نے ایک لمبی مسافت کے دوران میں بے شمار خیالات کو الفاظ کے دامن میں سمیٹ کر قاری کی روحانی تسکین کا سامان کیا۔اب موضوعات کے تنوع اور ہیئت کے تجربات کے لحاظ سے اختراع کی گنجائش ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے مگر امکان کے در کبھی بند نہیں ہوتے، روایتی جمالیاتی اسالیب ا ور موضوعات کے ساتھ ساتھ اب بھی بڑی ٹھوس ، پر اثر اور فکر انگیز شاعری ہو رہی ہے۔کلیم احسان بٹ بھی شاعری کے لیے دستیاب تما م تر موضوعات کا بھر پور ادراک ،شعور اور احساس رکھنے کے ساتھ ساتھ تازہ موضوعات کو ماہر فن کار کی طرح اشعار میں ڈھالنے والا تخلیق کار ہے۔اس کی شاعری کا سفر نا پختگی سے پختگی کی طرف نہیں بلکہ پختگی سے کمال فن کی طرف ہے۔وہ شاعری کے میدان میں ایک پختہ ذہن لے کر اترا تھا۔’’موسم گل حیران کھڑا ہے‘‘ اور’’ چلو جگنو پکڑتے ہیں ‘‘ میں وہ اپنی پختگی کا احساس دلا چکا تھا ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے ‘‘ کا سفر اس سے آگے کا سفر ہے۔
	کلیم کی شاعری میں ماضی ،حال اور مستقبل ہر سہ زمانوں کا احساس بیک وقت موجود رہتا ہے۔کلیم کو ماضی سے محبت ہے، ماضی کی یاد سے وہ حال کے غم و اندوہ کے تاثر کو مزید گہرا کرتا ہے اور مستقبل میں اسے کبھی موہوم امید کے جگنو اور کبھی ناامیدی کے آسیب دکھائی دیتے ہیں۔کلیم کی شاعری کی مرکزیت انہی تین ستونوں پر استوار ہے۔شبنم ، تتلی ، پریاں ،پھول ، جگنو اور روشنی کلیم کا ماضی ہیں۔حال ان سے خالی اور مستقبل میں بھی ان کے امکانات موہوم ہیں۔وہ جگنو پکڑنے باغوں کو نکلتا ہے مگر وہاں 

اڑ گئیں سپنوں کی پریاں پیڑ سے
رہ گئے یادوں کے جالے شاخ پر

شاہزادے کو کسی حربے سے کالا کر دیا 
اس نے کانے دیو کو پریوں کا راجا کر دیا  

	ماضی اور حال کی صورت حال کا تقابل کلیم کا محبوب موضوع ہے۔مندرجہ ذیل پوری کی  غزل کلیم کی شاعری کی کلید قرار دی جا سکتی ہے۔ 

مری ہمدرد ہیں نم  دیدہ گلیاں 
پرانے شہر کی پیچیدہ گلیاں 

سبک  رو چاند چوبارے کے پیچھے 
غبارِ خاک میں خوابیدہ گلیاں 

وہ مٹی ہوتی جاتی سرخ اینٹیں 
بکھرتی ٹوٹتی بوسیدہ گلیاں 

گلی میں راہ گم کردہ مسافر 
گلی کے بطن میں پوشیدہ گلیاں 

درونِ ذات خواب آور خموشی
مگر باہر بڑی شوریدہ گلیاں 

تمھارے شہر میں نغموں کے جھرنے 
ہمارے شہر میں نالیدہ گلیاں 

	کلیم کھوئے ہوئے ماضی کی تلاش میں سفر کر رہا ہے۔مگر مستقبل میں ماضی کہاں مل سکے گا۔اس لیے کلیم بھی بے معنی رجائیت کا اظہار نہیں کرتا۔اسے اندیشہ ہے کہ سفر رائیگاں جائے گا اور ماضی کی طرف لوٹنا ممکن نہ ہو گا۔

تمام       عمر     یونہی     در بدر     پھروں     شاید
مگر   میں   لوٹ  کے   جاؤں  گا  گھر  نہیں  ممکن

	کلیم جس ماضی کو تلاش کر رہا ہے مستقبل میں اس کے نہ ہونے کے امکانات صاف نظر آتے ہیں۔بلکہ حالات میں گرمی آنے والی ہےـ:

اس   بستی   میں    دھوپ    اترنے   والی     ہے 
بوڑھا      برگد      ہم    کو    یہ    بتلاتا    ہے
ٍٍ
	حالات کی تبدیلی جن طبقات کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے وہ ان اہل سیاست سے بیزار ہے ان پر شدید حملے بھی کرتا ہے۔ کتاب کا بہت بڑا حصہ محروم معاشرے اور محرومی کو انگیخت کرنے پر تلے ہوئے نام نہاد رہبروں کا پردہ چاک کرتا ہے۔ کلیم کی یہی معروضیت موضوعاتی گہرائی کا باعث بنتی ہے۔اس کتاب کو بھر پور سیاسی تنقید مبنی ایک دستاویز کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔اس موضوع پر وہ بڑا بے باک ہے اور کسی قسم کی بزدلی اور مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں۔یہاں تک کہ وہ ان طبقات کے خلاف اعلان جنگ کر دیتا ہے اور انجام سے بے پرواہ اس جنگ کو اکیلے لڑنے سے بھی نہیں گھبراتا۔

تیغِ شکستہ ، تیرِ خمیدہ سے جنگ میں 
لڑتا ہے کون دستِ بریدہ سے جنگ میں 

میں جانتا تھا مجھے پیاس مار ڈالے گی 
میں بس حسین کی سنت میں جنگ کرتا رہا 

سو بار آزمایا گیا ہوں میں جنگ میں 
میرے لیے نہیں ہے کوئی معرکہ نیا 

    نکلا   ہوں   لے   کے   اب  کے  میں   میدان  میں  کلیمؔ
    شمشیر    آب     دار      و      دعائے     ہزار     دست

	کلیم احسان بٹ کا نیا شعری مجموعہ کلام ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘ فکری و فنی بلوغت کا شاندار تسلسل بھی ہے اور ارتقا بھی۔کلیم غزل کے حوالے سے اس مقام تک پہنچ چکا ہے۔جہاں اس کا لکھا ہر لفظ اس کی اہمیت کا احساس دلاتا چلا جاتا ہے۔اس کے شعر کی طاقت اس کے حوالہ بن جانے کی صلاحیت بھی ہے۔کلیم کے ان گنت اشعار سماجی ، اخلاقی ، سیاسی اور کئی دوسرے موضوعات پر گفتگو میں زوردار حوالہ بن سکتے ہیں۔


ہر چند کہ بارش کا بھی امکان کھلا رکھ
یوں دھوپ میں مت موم کا سامان کھلا رکھ 

تو عدل پہ آیا ہے تو انصاف یہی ہے 
ہر اک کے لیے موقع و میدان کھلا رکھ

بچوں کو جب حلال کھلاتے تھے والدین
بستی کی لڑکیوں میں طہارت کمال تھی

جس شخص کو سالار بنا رکھا تھا میں نے 
وہ شخص مرے سامنے لشکر میں کھڑا ہے

	کلیم جذبات دانش اور تمثال کو اس خوب صورتی سے ہم آہنگ کرتا ہے کہ ایک منفرد تخلیق معرض وجود میں آتی ہے۔جذبے ، خیال اور تمثال کا ملاپ قاری کو قلبی،فکری اور جمالیاتی تسکین کے انوکھے تجربے سے گزارتا ہے۔

گلاس خالی پڑا تھا یا جام رکھا تھا 
کہ اب بھی میز پہ دفتر کا کام رکھا تھا 



مری ہتھیلی پہ جیسے چراغ جلتے تھے 
کہ اس نے ہاتھ کو ہاتھوں میں تھام رکھا تھا 

گداز کا عنصر ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے ‘‘ کو ایک عجیب رنگ دیتا ہے۔بے ساختگی اور فکری گہرائی گداز کو انتہائی پر تاثیر بنا دیتے ہیں۔ کلیم اس میدان کا شاندار کھلاڑی ہے۔کلیم کے شعر کو پر اثر بنانے میں اس گداز نے بنیادی کردار اد ا کیا ہے۔

سب   اپنے   اپنے    کام     میں    مصروف    ہو    گئے
مٹنے   لگی    ہیں    یاد    کی    قبروں     سے     تختیاں 

بارش    کے    ساتھ    ٹھنڈی    ہوا    جنوری  کے    دن 
اور   ماں   کی   گرم   گود   سے   کوسوں   کی    دوریاں 

اس گداز کی خارجی سطح بھی کم اثر انگیز نہیں ہے۔

شہر      ویران     ہے    خبر    ہے    تمھیں 
کس   کا    نقصان   ہے   خبر   ہے   تمھیں 

اجاڑ   بستی   میں   بیٹھا    ہو ا   ہوں  مدت   سے 
نگار   خانہ    فن     ہے     نہ   وہ    قد   زیبا
محبت کے فرسودہ موضوع اور اس سے جڑی ہجر و وصال کی کیفیات کے اظہار میں بھی کلیم حیران کن تازگی سے اپنی انفرادیت کا لوہا منواتا ہے۔

بات   میں   تیرا   حوالہ    سا    نکل   آیا    ہے
دھند   میں    ایک    اجالا    سا  نکل   آیا    ہے

ابھی   تھا      ایک     ابھی    دوسرا    مزاج    ہوا
بچھڑ    کے   تجھ   سے   عجب   چڑچڑا مزاج  ہو ا

’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘ دراصل اردو غزل کے وقار میں اضافے کی کامیاب سعی ہے۔غزل کو اپنا وجود منوانے کے لیے جن اجزائے ترکیبی کی ضرورت ہے وہ تمام تر پوری رعنائی کے سا تھ اس مجموعے میں موجود ہیں۔

راشد اللہ بٹ
شعبہ انگریزی
گورنمنٹ زمیندار پوسٹ گریجویٹ کالج گجرات
٭٭٭

	         



’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘ ایک جائزہ

	غزل جب تک محبوب کے ہجر و وصال، شام و سحر، زلف و رُخ، قامت و پیکر، اشارات و کنایات اور جنبشِ ابرو کے محور پر گردش کرتی رہی اس کے دامن میں لطافت و نزاکت، استعارات و کنایات ، رموز و علائم اور اظہار و اخفاء کے پھول کھلتے رہے اور غزل نے ان کا بھرپور حق ادا کیا مگر آج کی غزل اپنی خلوت ناز کا پردہ اُلٹ کر ایک ایسی خارجی دنیا کے مشاہدے اور مطالعے میں مصروف ہے جہاں نئے نئے مسائل کی آویزش و کشمکش انسان کے ذہنی سکون کا شیرازہ منتشر کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہے۔ غیر یقینی سیاسی صورتحال، معاشی ابتری، سماجی ناہمواری، بے انصافی ، شور و شر،تصادم، آگ، لہو اور زخم کے موج در موج قافلے اس سے اظہار کے نئے نئے زاویے مانگ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس عالم میں غزل کیا سوچ رہی ہے۔ آیا وہ اس دنیا سے اپنا رشتہ توڑ کر آسمانی مخلوق بن جانے پر راضی ہے یا زمین پر رہ کر خاکی مخلوق کے دکھ درد میں شریک ہونے پر ؟ بلاشبہ آج کی غزل کے رویے سے اس حقیقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ زمین کے مسائل کا حل آسمان میں نہیں ، زمین میں ہی ڈھونڈنا چاہتی ہے۔ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی تناظر اور سیاسی اضطراب کا زبردست جھکاؤ(flex)نئی غزل کے منظر نامے پر نمودار ہوا ہے۔ نئے شعراء نے اپنی ذات کی از سرِ نو شناخت کی ہے۔ وہ موضوعیت سے معروضیت کے ٹھوس شعری تجربہ کی دنیا میں نکلے ہیں۔ ادراک کی محدود سرحدوں نے شعری تناظر کو سمیٹ کر رکھا تھا مگر نیا شاعر مسلسل سفر میں ہے اور اپنے عہد کی دستاویز مکمل کر رہا ہے۔ اس کا ایک واضح اظہار غزل کے توانا فکر شاعر پروفیسر کلیم احسان بٹ کے کلام میں ملتا ہے۔ کلیم احسان بٹ کے طبع شدہ مجموعہ ہائے کلام ’’موسم گل حیران کھڑا ہےــ‘‘(1999ء) اور ’’چلو جگنو پکڑتے ہیں ‘‘(2005ء )دونوں مجموعے قارئین و ناقدین سے دادو تحسین وصول کر چکے ہیں۔ ان مجموعہ ہائے کلام پر نظر ڈالنے سے عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کا مکمل شعور رکھتے ہیں اور یہ شعور اس عہد کے ٹھوس معروضی تجربات کا نتیجہ ہے، یہ معروضی تجربات مرکب معاشرتی عمل سے ملتے ہیں۔ اب ان کا تیسرا شعری مجموعہ ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے ‘‘آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ کلیم احسان بٹ کے سامنے انسانی آشوب کے مسائل کا سیلاب ہے اور انہیں اس کا بھرپور ادراک ہے اسی لیے اُنہوں نے نئے مجموعہ کلام میں کربناک صورتحال اور باطنی عذاب کے امتزاج کو اپنے شعری تجربہ میں منعکس کیا ہے۔ ’’چلو جگنو پکڑتے ہیں ‘‘ کے تعارفی مضمون میں مرحوم شریف کنجاہی نے لکھا تھا کہ ’’کلیم اپنی کسی داخلی کیفیت کے باعث باغ کے دائرہ سے نہیں نکل سکے۔ باغ آسودگی اور آسائش کا اشارہ لیے ہوئے ہے بایں فرق کے اس مجموعہ میں جگنو پکڑنے یعنی روشنی حاصل کرنے کی بات چلتی ہے۔اگرچہ سوچ کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جس میں جلتی یادوں کی روشنی کا اُجالا ملتا ہے‘‘۔ بلاشبہ موسم گل کے حیران ہونے کی وجہ ہمیں وسیع تناظر میں نظر آئی تھی۔اس منظر نامے میں کلیم احسان نے نئے لفظوں سے رنگ بھرے اور ہمیں پارہ پارہ تصویریں دکھائی تھیں اس کے باوجود رجائی مزاج کی بناء پر روشنی پکڑنے کا سفر شروع کیا مگر اس سفر میں ان کے تجربہ نے یوں شکل اختیار کی ہے کہ ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے ‘‘ اس مجموعہ کلام کا نام ، لفظی ساخت اور مفہوم اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپنے تخلیقی سفر میں شاعر کرب کے کتنے ادوار سے گذر کر اس مجموعہ غزل کی سطح پر نمودار ہوا ہے۔ اس مجموعہ کلام کے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ آج ہم قدروں کے انحطاط، معیاروں کے مزاج اور اُصولوں کی طوائف الملوکی میں زندہ ہیں۔ ہمارے عہد کے لخت لخت معاشرے اور ادھڑتی اُجڑتی تہذیبی تھکن نے اقدار کا نظام چٹخ دیا ہے۔ سچائی کا سبو چور چور ہے۔ تشدد اور تعصب کی مہیب کروٹوں نے تحفظ کی چادر تار تار کر دی ہے اور ہنگامہ من و تو میں زندگی مسائل کی صلیب پر لٹک کر جھول رہی ہے کلیمؔ سچ کہتے ہیں کہ 

بارود بھر گیا ہے کوئی ہر دکان میں 
ہوتا ہے روز شہر میں اک حادثہ نیا 

کہیں ہوا کاغذ کی دھجیوں کو لیے پھرتی ہے تو کہیں دھول اور دھواں آنکھوں سے بینائی چھین رہے ہیں۔ شہر ویران، عمارتیں مسمار اور سڑکیں حادثوں سے لدی پڑی ہیں۔ 

ہر طرف موت رقص کرتی تھی 
ایسے حالات میں پڑا جینا

کھیت بارش کو ترستے ہیں اور گاؤں کے لوگ تلاش رزق میں شہروں کا رُخ کرتے ہیں جہاں زندگی کرتے کرتے پگڈنڈیاں معدوم ہو جاتی ہیں۔ محنت کے کانٹے چبھتے ہیں ، مشقت کی تھوہر جھاڑیاں اُگتی ہیں۔ آج ہم مفاد پرست زاویوں ، طمع خیز طریقوں اور مصلحت آمیز رویوں کے ماحول میں جی رہے ہیں جہاں ہر سانس آری کی طرح زندگی کو کاٹ رہی ہے۔ ایسے میں ماضی کی محرومیاں ، حال کی شکر رنجیاں اور استقبال کے اندیشے ہمارا نصیب بن کر رہ گئے ہیں۔ عہد حاضر کا انسان مشینوں کے دام میں اس طرح پھڑ پھڑا رہا ہے کہ اس کے اندر کا خالص انسان اس سے بچھڑ گیا ہے۔ ان حالات میں کلیم احسان بٹ حالات کے دوراہے پر بیٹھ کر زندگی پر تبصرہ کرتے ہیں۔ سماجی ناہموار یوں کو موضوع بناتے ہیں اور مصائب کے دامن دل کو حریفانہ کھینچتے ہیں اس طرح ان کے شعروں میں مشاہدوں کے ریزے صورت پذیر ہیں 

مجبوریوں کے ہاتھ میں اولاد بیچ دی 
یہ شہر تھا عجیب ، تجارت کمال تھی

	جیون کی بساط پر انسان ایک مُہرا  بن چکا ہے، شجر، پتے ، پھول اور پرندے ماحول کے وحشی پن کا شکار ہیں۔ آنکھیں ویران ہیں ، بدن چٹخے ہوئے، بادباں ٹوٹے ہوئے ، سمندر بپھرے ہوئے اور گرداب منہ کھولے بیٹھے ہیں۔ آئنوں کو عکسوں سے بچھڑنے کا غم ہے۔ اپنی کمانوں میں اپنے ہی تیر ہمیں ہدف بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ طلسم ایسا کہ لوگ پتھرا گئے ہیں۔ غیر مرئی ہاتھ بچوں سے کھلونے چھین رہے ہیں ؛چشمے آگ اُگل رہے ہیں اور پیاسے ہونٹ سلگ رہے ہیں ؛ چوپالوں پر جھوٹ کا قبضہ ہے؛ شاہ اپنی مرضی کی تاریخ لکھوانے پر مصر ہیں ؛ سانپ خوابوں میں آ کے رینگتے ہیں ؛ہر گھر کی دہلیز کو کسی انجانے خوف کی دیمک چاٹ رہی ہے ؛ شہر پناہیں بے امان، کبوتر زخمی اور فاختہ سے زیتون کی ٹہنی چھین لی گئی ہے ؛ چڑیا اپنی چہکار اور کہکشائیں رستہ بھول چکی ہیں ؛رات منجمد اور روشنی سیاہ ہو چکی ہے؛ گفتگو خاموش ہے ؛سورج، چاند اور ستارے اپنی ہی کرنوں سے جنگ کر رہے ہیں ؛ شبنم سوکھی شاخوں کو ہرا کرنے سے قاصر ہے؛ جنگل جل رہے ہیں ؛ پر چھائیاں ڈرا رہی ہیں ؛ جگنو سہمے ہوئے ہیں ؛رنگ اور خوشبو خاک بسر ہیں۔ نہ کسی کو نغمۂ بلبل کا ہوش اور رنگینیِ گل کی کشش اور نہ خوشبو کا احساس۔۔۔آج کا انسان جمالیاتی قدروں ، حسن و جمال ، خلوص و پیار اور اخلاقی رویوں سے فرار حاصل کر چکا ہے۔ مادیت اور دولت کی جستجو میں جفا کش ،سنگدل اور بے راہ رو ہو کر اخلاق کش سمت میں بگ ٹٹ دوڑا جا رہا ہے۔ ہر طرف اندھیرا ہے اور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ایسے میں عام آدمی سخت مایوس ہے۔ 
 کلیم احسان کی شاعری لمحۂ موجود کے اسی کرب کو کشید کرتی ہے۔ ان کے مجموعے میں رت جگوں کی ساعتیں بھی ہیں اور امیدوں کے شہاب ثاقب بھی، جمالیاتی بے حسی کے دور میں کلیم احسان غم سہہ کر سچ کہنے والے شاعر ہے۔ 

دکھ درد کے عالم سے گزرتا ہوا میں ہوں 
اک گریہ پیہم سے گزرتا ہوا میں ہوں 

پھر پھول لگے کھلنے سر شاخ تمنا
پھر دید کے موسم سے گزرتا ہوا میں ہوں 

ان کے ہاں شب فراق کے افسانے بھی ہیں اور انتظار کے موسم کی وحشتیں بھی، وہ بانجھ اور بنجر ماحول میں بھی الفتوں کے حروف اُگاتے ہیں۔ کتاب زیست کے ادھورے گراف پر شباہتوں کے پھول کاڑھتے ہیں جس میں چاہتوں کے رنگ بھی ہیں اور دوستوں کی سرد مہری کے سنگ بھی



فراق و ہجر کے صدمے شمار کرتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں ترا انتظار کرتے ہوئے

اگرچہ اب کے بھی میں اعتبار کر لوں گا
میں ڈر رہا ہوں مگر اعتبار کرتے ہوئے

اپنی حیات کے خارزار میں سفر کرتے ہوئے اُنہوں نے جو دکھ جھیلے انہیں شعروں کی صورت دی ہے۔ کلیم احسان کی غزلوں کے جائزے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حیات انسانی کے مسائل کی تہہ در تہہ پیچیدگیوں کو نئے لہجے اور نئی سوچ کے ساتھ کس طرح تغزل کے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ 

اشک اشعار کی صورت ہی نکالے کوئی
درد اظہار کی صورت ہی نکالے کوئی

زخم کھاتا ہوں مسکراتا ہوں 
تم نے دیکھا نہیں مرا جینا

	کلیم احسان نے غزل کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے نہ صرف تنقیدی زاویوں سے پیش کیا ہے بلکہ اپنی رفتار کو متوازن رکھا ہے جو مشکل کام تھا مگر اُنہوں نے کر دکھایا اس ضمن میں موصوف انہدام روایت کی بجائے توسیع روایت کے صحت مند عمل میں مصروف ہیں۔ 
	کلیمؔ نے شعروں میں اپنی روح کی سوانح عمری رقم کی ہے، وہ جذبات کی کہانی کہتے اور احساس کی کتھا سناتے ہیں۔ کبھی کبھی تو اُداسی ان کے ہاں ٹھہری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جبر کے موسم میں تنہائی کے بیج بوتے اور اُداسی کی فصل کاٹتے ہیں یہ اُداسی فرد کا نوحہ بھی ہے اور سماج کا چلن بھی 

یوں تو کوئی اجنبی بستی نہیں لیکن کلیم 
ڈھونڈتا ہوں شہر بھر میں کوئی صورت آشنا 

یا یوں کہتے ہیں کہ 

اس  قدر گھر میں خامشی تھی کلیم 
سانس لیتا تو گونجتا کمرہ

تنہائی وہ جنس ہے جو زندگی کے بازار میں بے دام ملتی ہے یہاں ہر شخص یا توا پنے آپ میں گم ہے یا اپنا آپ گم کر چکا ہے۔ 
	کلیم احسان نے جدیدیت کا راز اپنے احساس اور تجربے کی منفرد صورت میں تلاش کیا ہے۔ وہ اپنے احساس کو صرف اپنی ذات کا کوئی خود مکتفی اور معاشرے سے آزاد عمل تصور نہیں کرتے بلکہ اپنے احساس کو اطراف کے حالات کی پیداوار جانتے ہیں اور پھر اپنے احساس کی موضوعیت کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے معروضیت کی کیف ساماں صورت دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے تخلیقی عمل کو آپ بیتی سے جگ بیتی اور جگ بیتی سے آپ بیتی کے مراحل سے گذارنے کے قائل نظر آتے ہیں وہ خیال کو احساس اور احساس کو خیال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال شعر کا غالب عنصر ہوتا ہے لیکن کوئی بھی خیال اپنی نوعیت میں شاعری نہیں ہوتا خیال کو شاعری بنانے کے لیے لازم ہے کہ شاعر خیال کو اپنے احساس میں سمو کر اسے جذبے کی صورت میں ڈھالے۔ زندگی محض مادی، معاشی اور وقتی سماجی موضوعات کی ہی حامل نہیں بلکہ فرد کی داخلی کشاکش اور زندگی سے تصادم کی صورت میں جنم لینے والے ذاتی تجربات اور احساسات سے بھی عبارت ہے اور ان تجربات اور احساسات کا آزادانہ اور فنکارانہ اظہار بھی شاعری ہے امریکی شاعرMary Oliverنے کہا تھا کہ 
ـ"Poetry is not a profession, its a way of life. Its an empty basket; you put your life into it and make something out of that"

نہ جبر کا نہ کوئی اختیار کا موسم 
مری نگاہ میں ہے بس شہر یار کا موسم

چلے بھی آؤ کہ گلشن خزاں رسید ہ ہے
چمن چمن ہے کسی انتظار کا موسم

کتنی آسان زندگی تھی کلیم 
کتنا دشوار ہو گیا جینا

ہماری زندگی آہوں اور ارمانوں سے لبریز ہے۔ حیاتِ کلیم کی ریزہ کاریاں ، نار سا ئی کی اذیت، کچھ کر گذرنے کا حوصلہ اور کچھ نہ کر سکنے کی حسرتیں ہی ان کی شاعری کو رنگ و روپ عطا کرتی ہیں۔ وہ صاف انداز اور فاش لہجے میں سچ بولتے ہیں۔ وہ تلخ حقیقتوں کا تذکرہ بھی بڑی بے باکی اور خوبصورتی سے کرتے ہیں 


اجداد سے ورثے میں ملی ہے یہ غلامی
یہ طوق گلو بار گراں ہے تو سہی ہے

اسی طرح حقیقت حال اور سچائی کے بیان کا یہ نمونہ عوامی قربانیوں سے حاصل ہونے والی ریاست کے طفیلی کردار کے حامل قومی محافظوں کے کردار کا پول کھولتا ہے 

کچھ ہے جو مری فوج کے سالار میں کم ہے
سب تیغ و تفنگ تیر و سناں ہے تو سہی ہے

وہ تمناؤں کے پیچھے چھپی تلخیوں اور خوشیوں کے اندر دوڑتے خوف کو خوب پہچانتے ہیں انہیں تڑپنے میں راحت اور مچلنے میں سکون ملتا ہے۔ کہتے ہیں 

ہر گلی سے نکل کے ملتا ہے
رنج رستے بدل کے ملتا ہے

ایک راحت سی ہے تڑپنے میں 
اک سکوں سا مچل کے ملتا ہے

کلیم احسان وصال کے لذیذ لمحوں میں جدائی کی کڑواہٹ چکھتے ہیں دوریاں اور مجبوریاں ان کے ہاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

تیرے آنے سے بھی سج سکتا ہے گھر کا آنگن 
یہ ضروری تو نہیں چاند اتارا جائے

میں اپنی ذات کے اک سانحے سے گزرا ہوں 
نظر ملاتا ہوا آئینے سے گزرا ہوں 

یہ عجب بات تھی میں جب بھی ہوا تیغ بکف 
جنگ میں اپنے ہی احباب مقابل آتے

میرے لشکر کے کماں دار مرے قاتل تھے 
مرے دشمن تو نہیں یار مرے قاتل تھے

کلیم کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک دھڑکتا ہوا دِل پہلو سے لگائے ہوئے ہیں اور یہ انہیں ہر آن متحرک اور مضطرب رکھتا ہے اسی لیے وہ اپنے شعروں میں خیال کی پرتیں کھولتے اور احساس کا ریشم بُنتے نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں جذبوں کی گھلاوٹ اور احساس کار چاؤ ان کے خوابوں اور خواہشوں کے ساتھ گوندھا ہوا ہے ان کے ہاں روایات کا حسن اور وضعداری ملتی ہے۔ احساس تنہائی، افسردگی اور خودآگاہی ان کے مزاج کی خصوصیت ہے۔لہجے کا دھیما پن ، نازک مزاج اور لطیف احساسات کے ساتھ ندرت فکر ان کی پہچان ہے۔
آج کل فتنہ سازی اور فتوی ٰ گری ہم رکاب چل رہے ہیں ذہنوں کا زبانوں سے کوئی رشتہ نہیں بچا۔ اس مہیب صورتحال میں لوگ روح کے سائبان سے ہونٹوں کی دہلیز تک سوچ کی کالی دلدل میں اندیشوں کے بیج بوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حوالے سے کلیمؔ کا یہ شعر شاعری کے اعلیٰ معیار پر ہر طور پورا اُترتا ہے کہ 

جو سب کو گنہگار کہا کرتا تھا اکثر
وہ طوق ندامت لیے محشر میں کھڑا ہے

کلیمؔ کی شاعری میں خیال کی عظمت ، جذبات کی شدت اور فکری پختگی دامن دل کو بار بار اپنی طرف کھینچتی ہے۔ کلیم احسان نے کئی مقامات پر اپنے ذہنی انتشار کو پوری مہارت سے سوال کا روپ دے دیا ہے۔

میرے اندر ہیں کبوتر کتنے
کوئی دربار بنا ہے شاید

پھر کہتے ہیں 

مری حیرت نہیں تھی میرے بس میں 
عجب منظر تھا میرے پیش و پس میں 

کلیم کی شاعری اکثر جگہوں پر سوالنامہ بن جاتی ہے اور کیوں نہ بنے؟ جس سماج میں گہرے مطالعے کی طویل شامیں ، اُداس راتوں کی بے رنگ تنہائی میں تحلیل ہو جاتی ہوں وہاں صرف سوالات باقی رہ جاتے ہیں۔ درحقیقت جب کوئی سماج تیز رفتار انحطاط کا شکار ہو اور اس تہذیب کے موہوم نظریات اور مسلمہ عقائد و تصورات تحلیل ہونے لگیں تو اس معاشرے کی ذہنی حالت حقیقت پسندانہ ، دلیل یا رائے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو پاتی اور نہ ہی وہ اپنے اردگرد کے حیرت انگیز منظر کے فہم کے لیے کسی منطق کو قبول کر پاتی ہے ایسے میں صرف حیرت ہی باقی رہ جاتی ہے۔ ہم آج ذہنی کشمکش کی معاشرت کا ہاتھ پکڑے زندگی کی امتحان گاہ میں استفسارات سے لبریز سوالنامے تھامے ایک دوسرے سے جواب کے منتظر ہیں۔ کلیم ؔ نے اپنے شعروں میں جگہ جگہ سوال اُٹھا کر اس حیرت انگیز منظر کو اپنے انداز میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ 

اب تو دوزخ میں جل رہے ہیں کلیم
بعد مرنے کہ دیکھئے کیا ہو 

یہ شعر ایک طرف ہمارے معاشرتی حالات کا ماتم کر رہا ہے تو دوسری طرف حیرت و پریشانی کا موجب ہے۔ اوراق تاریخ شاہد ہیں کہ اپنے عہد کے حیرت زدہ سوالات کا جواب دینے کے لیے جس دانش و صلاحیت اور قوت متحرکہ کی ضرورت ہوتی ہے جب تک وہ سماج میں موجود نہ ہو حیرت باقی رہ ہی جاتی ہے۔ آج ہمارے دانشور بھی اردگرد کے حیرت انگیز سوالات کے جواب دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اسی لیے کلیم احسان یہ اعلان کر کے نئے سوال اور نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں کہ 

اس عہد میں اب کوئی پیمبر نہیں ہو گا 
عقدہ جو کھلے گا کسی شاعر سے کھلے گا

 کلیم احسان بٹ بحیثیت انسان، بحیثیت استاد اور بحیثیت شاعر مہذب و متین شخصیت کے حامل ہیں ان کے کلام میں انسانیت کی قدر افروزی بھی ہے اور انسان کی خودی کا احترام بھی۔یہ عمل انکی نجی زندگی میں بھی جھلکتا ہے۔ان کا کلام جب بھی سننے اور پڑھنے کا موقع ملا تو کُھلا کہ وہ اپنی شاعری کو عمل خیر کے طور پر متواتر جاری رکھے ہوئے ہیں جو اس عہد خرابی میں مثال رخشندہ و تابندہ ہے۔ میں اپنے دوست کو تیسرے مجموعۂ کلام کی اشاعت پر دِل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں ہے کہ ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘ میں شاعر کے ذاتی تجربے فرد کی حدود سے آگے بڑھ کر سماج کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے جھیل میں کنکر پھینکیں تو دائرہ در دائرہ لہریں بنتی ، پھیلتی اور بے کنار ہوتی جاتی ہیں۔ اسی طرح کلیم کے شخصی تجربے، اجتماعی معاشرتی صداقتیں بن جاتے ہیں اور انکی شاعری ایک فرد کی سر گذشت سے ماحول کے مشاہدے، وسیب کے جھمیلے اور معاشرے کے منظر کا آئینہ بن کر قارئین اور ناقدین کو حیران کر دیتی ہے۔

اک بنائے تازہ رکھی میں نے فن کے باب میں 
حرف و صوت و رنگ و حرکت سارے حیرت آشنا 

شیخ عبدالرشید
ایڈیشنل رجسٹرار 
یونیورسٹی آف گجرات۔گجرات
٭٭٭




پروفیسر کلیم احسان بٹ … ایک فطری شاعر
					
	شاعری شاعر کے محسوسات، جذبات ، تخیلات، مشاہدات، تصورات، ذہنی کیفیات اور قلبی واردات کے اظہار کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا جوہر ہے جو قدرت ازل سے ہی شاعر کی فطرت اور جینز میں بھر دیتی ہے اور پھر یہ عطیۂ خداوندی اسے الفاظ کو موتیوں میں پرو کر بیان کرنے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔ اب یہ شاعر کی ریاضت اور محنت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اس جوہر کو کس قدر نکھارتا ہے اور شعر گوئی میں اپنا نام اور مقام بناتا ہے۔ مجھے پروفیسر کلیم احسان بٹ کی شاعری پڑھ کر ایسے محسوس ہوا کہ ان کے جینز میں بھی قدرت نے شعر گوئی کا ہنر بدرجہ اتم بھر کر انھیں اس لفظی وظیفے پر لگا دیا ہے اور وہ اس مصروف اور ہنگامہ خیز زندگی میں بھی شاعری کا وظیفہ کرنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں کہ یہ ان کی فطرت میں شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ 	؎

رقصاں ہے اس کے عشق میں ہر قافیہ ردیف
یعنی مرے کمال کی دنیا ہی اور ہے

یہ مری شاعری کا باعث ہے
تو مرے درد کی دوا نہ کر

مجھے الہام ہوتے ہیں مضامیں 
کمایا ہے یہی اتنے برس میں 

	پروفیسر کلیم احسان بٹ کو مضامین واقعی الہام ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جدت اور روایت کا ایک خوبصورت سنگم ہے جس میں جدت کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں حسن و عشق کی دل آویز یاں لب و رخسار کے افسانے اور ہجر و  وصال کے مضامین بہت کم نظر آتے ہے لیکن جہاں ان کا ذکر ہے وہاں ان کا اپنا انداز اور رنگ ہے۔ پروفیسر کلیم احسان بٹ اردو کے پروفیسر ہیں اور ادب سے انھیں قلبی اور فطری لگاؤ ہے۔ انھوں نے پرانے اساتذہ اور نئے شعرا کے کلام کا خوب مطالعہ کر رکھا ہے۔ وہ میر تقی میرؔ سے بہت متاثر ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔	

میں بار بار پلٹتا ہوں میرؔ کی جانب
سخن میں رنگ نیا اختیار کرتے ہوئے

	وہ میرؔ کے معتقد اور پیروکار ہونے کی وجہ سے روایت سے استفادہ ضرور کرتے ہیں مگر جو کچھ کہتے ہیں وہ اپنے مشاہدے اور مطالعے کی بنا پر جدید لہجے میں لکھتے ہیں۔ وہ روایت سے اپنے اشعار کو مہکارتے ضرور ہیں مگر اس میں بھی اپنی فنی مہارت سے انفرادیت بھر دیتے ہیں۔   

عشق کی راہ چل پڑے ہو تم
کتنی سنسان ہے، خبر ہے تمھیں 

جس کو سینے کے ساتھ رکھتے ہو
میرا دیوان ہے، خبر ہے تمھیں 

ہر کسی میں خدا کا جلوہ تھا
گو بظاہر خدا نہیں دیکھا

شہر روشن ترے جمال سے تھا
چاند سورج کے سامنے کیا ہو

میں تو اپنے ہی دھیان میں تھا مست
کون آیا گیا ، نہیں دیکھا

میں سخن دان ہو کے سمجھا ہوں 
اس کا چہرہ کتاب سا کیا ہے

	پروفیسر کلیم احسان بٹ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ وہ طبقہ ہے جو سفید پوش ہونے کی وجہ سے حالات کے جبر کا زیادہ شکار ہوتا ہے۔  پروفیسر کلیم احسان بٹ نے اس طبقے کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کو بھی اپنے اشعار کا موضوع بنایا ہے اور ان کو نہایت دردمندانہ انداز میں اشعار کا لبادہ پہنایا ہے۔ علاوہ ازیں زمانے کی بے رخی، دوستوں کی کج روی، لوگوں کے رویوں سے بیزاری، انسان کے دل میں بسا خوف، زندگی کی بے یقینی، دنیا کے مختلف طبقات میں سرد جنگ کی کیفیت، دنیا کے بگڑے ہوئے حالات کا احساس، دلوں کی بے چینی، انسان کی بے چارگی اور ایسے ہی دیگر مضامین کو اپنے اشعار میں احسن طریقے سے بیان کیا ہے اور ان کا یہ موضوعاتی تنوّع انھیں اپنے معاصرین میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے اور ان کے قاری کی اس تنوع کی وجہ سے کلام میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔	

تو جس الم سے ابھی ایک بار گزرا ہے
میں بار بار اسی غمکدے سے گزرا ہوں 

وہ مرا دوست نہ ہوتا مرا دشمن ہوتا
وار کرتا تو مرے سامنے آ کر کرتا

جس شخص کو سالار بنا رکھا ہے میں نے
وہ شخص مرے سامنے لشکر میں کھڑا ہے

یوں تو کوئی اجنبی بستی نہیں لیکن کلیمؔ
ڈھونڈتا ہوں شہر بھر میں کوئی صورت آشنا

نمک دینا ضروری ہو گیا ہے
تو زخموں کو ذرا سا چھیل کر دے

	پروفیسر کلیم احسان بٹ کو شعری ذوق و شوق چونکہ فطری طور پر نصیب ہوا ہے اور وہ شعر گوئی میں فنی پاسداری کرنے والے فطری شاعر ہیں ، وہ ایک صاحب بصیرت انسان ہیں اور شاعری کے تمام تقاضوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اس لیے زبان کے درست استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اشعار کی تلازمہ کاری، ترکیب سازی اور الفاظ کی نقش کاری پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ان کے اشعار اپنی جمالیاتی سطح پر قاری کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں اس کے حالات و واقعات نے انھیں کسی حد تک مزاحمتی لہجہ اختیار کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے مگر اس رنگ میں بھی وہ شاعرانہ جمال کا بدرجہ اتم خیال رکھتے ہیں۔
	 آج کے اس کربناک دور نے شعرا کو دکھ اور کرب کے اشعار لکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں ، وطن میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو بے وطن اور غیر محفوظ تصور کرتے ہیں ، وہ گھر میں رہ کر اپنے آپ کو غیر محفوظ خیال کرتے ہیں اور گھر سے نکل کر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ وہ خیریت سے گھر واپس آ سکیں گے۔ ایسے شعرا کو جب حالات کی کربناکی اور مستقبل کے اندھیروں سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو وہ اشعار میں ملائمت و نرمی، شگفتگی و شائستگی، خلوص و محبت کے مضامین لکھتے لکھتے خارجی حالات سے گتھم گتھا ہونے والے اشعار بھی تخلیق کرنے لگتے ہیں اور پروفیسر کلیم احسان بٹ بھی اس رو میں بہنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اس طبقاتی اور استحصالی معاشرے، سسکتی ہوئی انسانیت، قتل و غارت، خونریزی، بھوک ، افلاس اور دو و قت کی روٹی کے لیے ناکام ہو کر خود کشی کرنے والے انسانوں پر بھی اشعار لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ہر بار میں توڑوں گا ترے جبر کا دستور
ہر بار مرے واسطے زندان کھلا رکھ

ہم فقیروں کو کیا سناتے ہو
حکم تم بادشاہ سلامت کا

اب تو دوزخ میں جل رہے ہیں کلیمؔ
بعد مرنے کے دیکھئیے کیا ہو

پہلے ہوئی تھی شہر کی ہم پر زمین تنگ
پھر ہر طرف سے ہونے لگا آسمان بند

میں ابھی نکلا نہیں تھا پہلی حیرت سے کلیمؔ
کھل گیا ہے اور اک حیرت کدہ سا سامنے

جو خود میرے ہی اندر تھا کہیں پر
وہ ڈر تقسیم کرتا جا رہا ہوں 

اس عہد میں اب کوئی پیمبر نہیں ہوگا
عقدہ جو کھلے گا کسی شاعر سے کھلے گا

	مجھے امید ہے کہ پروفیسر کلیم احسان بٹ کا یہ مجموعہ کلام ہر خاص و عام میں مقبول ہوگا اور ان کے نام، کام اور مقام میں اضافہ کا باعث بنے گا۔
آئیں آپ کو ان کے کچھ اشعار سے مزید لطف اندوز ہونے کا شرف حاصل کروں۔

میرے اندر ہیں کبوتر کتنے
کوئی دربار بنا ہے شاید

دستک میں کسی اور کے دروازے پہ دوں گا
دروازہ کوئی اور برابر میں کھلے گا



کئی البم پڑے ہیں بستر پر
تیری یادوں سے بھر گیا کمرا

اک رات مجھ کو چین سے جینا نصیب ہو
میں زندگی گزار دوں خوابوں کے درمیان

ایسی بستی میں کہاں وقت گزارا جائے
جس میں ہر شخص کو تو کر کے پکارا جائے

ہم اپنے لفظوں سے لوگوں میں معتبر ٹھہرے
وگرنہ اپنی تو کم کم سے آشنائی تھی


ڈاکٹر سعید اقبال سعدی
گوجرانوالہ
٭٭٭





کلیم کی شعری سرگزشت

						
	یہ حقیقت ہے کہ ہر شاعر کسی نہ کسی انداز میں اپنی شعری تخلیقات کے پس منظر اور پیش منظر میں موجود ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ معنوی سطح پر شاعری اور بہت کچھ ہونے کے علاوہ شاعر کی اپنی زندگی کی ایک منظوم داستان بھی ہوتی ہے۔ اس داستان کے سارے کردار، فضا، تشبیہات، استعارات اور علامتیں زندگی کے نت نئے تفہیمی امکانات کا در کھولنے سے پہلے، ہمیں شاعری کی سرگزشت سناتے ہیں۔۔۔ کلیم کا نیا شعری مجموعہ ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘  جہاں ہمیں شاعرانہ مفاہیم کے نئے مناظر سے روشناس کرواتا ہے، وہاں اس کے اعتقادات، فراق و ہجر کے صدمات، خیال و خواب کے لمحات اور زندگی کی مسافرت کے دوران میں پیش آنے والے واقعات سے بھی باخبر کرتا ہے۔۔۔ بنیادی طور پر کلیمؔ کی اس شاعرانہ کہانی کا مرکز و محور اس کی اپنی ذات ہے۔۔۔ اور اسی ایک مرکزی حوالے سے دیگر شعری موضوعات اس کی شاعری میں جنم لیتے ہیں۔
	کلیم اپنی اس شعری سرگزشت کے آغاز میں کائنات کی اس ازلی و ابدی قوت کا اقرار کرتا ہے، جس نے بے آب زمینوں کو اپنی رحمت کی بارشوں سے جل تھل کیا اور کُن فَیَکُون کے اسم سے ویرانوں کو بستیوں میں تبدیل کر دیا۔ کلیم داستان کے ابتدائیے ہی میں اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ زمین و آسمان کی وسعتِ بے کنار کا اصل اختیار اُسی طاقت کے پاس ہے جو جسم کے اندر اور باہر سانسوں کو رواں رکھتی ہے۔ کلیم انسان کی اس ازلی بے بسی کا ادراک رکھنے کے باوجود اپنے ہونے کے احساس میں مست ہو کر پاؤں کی ٹھوکر سے راستہ کھولنے کا اعلان کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ کہتا ہے۔	

زندگی خار بپا، خار بسر دی کیوں تھی
مجھ کو اس عہد میں توفیقِ ہنر دی کیوں تھی

	کلیم یادوں ، خوابوں اور اشکوں کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والی، غم سے بے حال زندگی کے تناظر میں ہمیں بتاتا ہے کہ سفر اس کے نصیب میں لکھا ہے۔۔۔ ایک دشت کی حیرت ناک مسافت کے بعد ایک نئے سفر کا حیرت کدہ اس کے سامنے کھل جاتا ہے۔۔۔   ـ

مری حیرت نہیں تھی میرے بس میں 
عجب منظر تھا میرے پیش و پس میں 

	۔۔۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایک ایسے شہر کی تلاش میں آمادۂ سفر دکھائی دیتا ہے جو حدِ سفر سے باہر ہے۔۔۔ وہ کسی ایسی بستی میں نہیں ٹھہرنا چاہتا جہاں انسان کی توقیر نہ ہو اور اسے تُو کر کے پکارا جائے۔۔۔ جدید عہد کی تیرہ دستیاں بھی اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں ، اسی لیے وہ حال میں ماضی کے روشن لمحوں کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے  ’’جانے کدھر گیا ہے قبیلہ چراغ کا‘‘۔۔۔ کلیم سفر کے آغاز میں اپنے پرانے شہر کی ان بوسیدہ و پیچیدہ گلیوں سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتا ہے جن کی سرخ اینٹیں مٹی ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔ وہ گلیاں جو راہ گم کردہ مسافر اور اپنے حال پر نم دیدہ ہیں۔۔۔ یہ گلیاں کلیم کے بچپن اور جوانی کا ایک ایسا یادگار حوالہ ہیں جہاں ایک تنگ مکان میں نہ صرف اسے ماں کی گرم گود کی وسعتیں نصیب ہوئیں بلکہ چوبارے کے پیچھے کسی سبک رو چاند کے دیدار سے اس کے شباب کو لطیف جذبوں کی روشنی کا احساس بھی ملا۔ کلیم ان گلیوں کو اپنا ہمدرد سمجھتا ہے اور جادۂ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے کہتا ہے۔	

مری ہمدرد ہیں نم دیدہ گلیاں 
پرانے شہر کی پیچیدہ گلیاں 

وہ مٹی ہوتی جاتی سرخ اینٹیں 
بکھرتی ٹوٹتی بوسیدہ گلیاں 

سبک رو چاند چوبارے کے پیچھے
غبارِ خاک میں خوابیدہ گلیاں 

	سفر کے دوران میں کلیم کسی ایسے ’’صورت آشنا‘‘  کی تلاش میں بھی سرگرداں نظر آتا ہے جو زندگی کے راستے میں اس کی مانند ’’مسافت آشنا‘‘ ہو۔۔۔ لیکن چاند کو دیکھ کر اسے اپنا گزرا ہوا کل یاد آتا ہے۔۔۔		
چاند دیکھا تو مجھ کو یاد آیا
میں نے کب سے تجھے نہیں دیکھا

	۔۔۔ یہ وہ کل ہے جو اب تہِ خاک ہو چکا۔۔۔ لیکن وقتِ سفر اسی سے وابستہ کسی یاد کی گم گشتہ آواز اس کے سفر کو دشوار بناتی ہے اور اسے یوں لگتا ہے جیسے ایک ایک قدم کا فاصلہ صدیوں میں طے ہو رہا ہے۔ اسی مقام پر وہ کہتا ہے۔	

ایک حیرت کا ثانیہ تھا کلیمؔ
اُس کا آنا بھی، اُس کا جانا بھی

	کلیم کی شاعری کا یہی وہ مقام ہے جہاں وہ سفر کے ساتھ جُڑے الم رسیدہ لمحوں ، یادوں اور خوابوں کو باہم ملا کر رودادِ سفر کے استعاراتی مفاہیم کو ایک نیا رُخ دیتا ہے۔۔۔۔    

جو خواب ٹوٹا تو خوابِ نو تھا
قدم دم پہ سرابِ نو تھا

	۔۔۔ اسی طرح اس کے سفر کی استعاراتی معنویت محض زندگی کے خارجی دائروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ’’ درونِ ذات خواب آور خموشی‘‘ سے جنم لینے والی بے سکونی کا اشاریہ بھی بنتی ہے اور باہر کی شوریدہ گزر گاہوں میں اس کی مسافرت کے احوال کا حیرت ناک اظہاریہ بھی۔    

میں دم بخود کھڑا ہوں شبِ تار میں کہیں 
بکھرا ہوا ہے چار سو شیرازۂ سفر

	کلیم کی کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے ویسے ویسے ہمارے سامنے کچھ ایسے دشمن کردار نمودار ہوتے ہیں جو اسے دوست بن کر مارنا چاہتے ہیں۔۔۔	

ہم اسے دوست بن کے ماریں گے
دشمنوں میں ہوا ہے سمجھوتا

	۔۔۔ یہ وہ دشمن ہیں جو اپنی آستینوں میں خنجر چھپائے پشت پر وار کرنے کو تیار کھڑے ہیں۔ اُس کے لیے یہ بات حیرت کا باعث ہے کہ جس شخص کو خود اس نے سالار بنایا، وہ اس کے سامنے لشکر لیے کھڑا ہے۔ کلیم کو دشمنوں کا ڈر نہیں ، وہ اپنے خیل کی بقا کے لیے دشمن کے وجود کو ناگزیر سمجھتا ہے اور اپنی تکمیل کے لیے عدو کی موجودگی کو اہم۔۔۔ لیکن اس کے باوجود اُسے دوستوں کے وار کا دکھ ضرور ہے۔	

وہ مرا دوست نہ ہوتا مرا دشمن ہوتا
وار کرتا تو مرے سامنے آ کر کرتا

	ایسا لگتا ہے جیسے کلیم کا یہی آشوب اس کے اس شعری مجموعے کا بنیادی تخلیقی محرک ہے۔۔۔ لیکن وہ کسی نئے تخلیقی احساس کی جستجو میں شہرِ ستم گر سے ہجرت کا ارادہ کرتا ہے۔    

غم سے بے حال ہوا، راہ میں جیتا مرتا
میں ترے شہر میں آ بیٹھا ہوں ہجرت کرتا

	کلیم چاہتا ہے کہ کم از کم دوست نما دشمنوں کے درمیان اسے اپنے جیسا کوئی ’’مروت آشنا‘‘ ہی نظر آ جائے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ جہاں یہ المیہ ذرا کم ہوتا ہے، وہاں ایک نیا رنج ایک نئی صورت میں اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔	

ہر گلی سے نکل کے ملتا ہے
رنج رستے بدل کے ملتا ہے

	کلیم اپنے رنجوں پر گریۂ پیہم کے باوجود تیغ شکستہ، تیر خمیدہ اور دست بریدہ کے ساتھ زندگی کی جنگ آخری سانس تک لڑنے کا خواہش مند ہے۔ اسے اپنے خون کی حرارت پر ناز ہے اور وہ بزدلوں کی قیادت میں ہارے ہوئے لشکروں کا حصہ بننے کی بجائے اپنی جنگ اکیلے لڑنا چاہتا ہے۔ جنگ میں ہار جیت اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔     

سو بار آزمایا گیا ہوں میں جنگ میں 
میرے لیے نہیں ہے کوئی معرکہ نیا

	یہ کلیم کی شاعری کا وہ رُخ ہے جہاں وہ ایک جنگ جو شاعر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے۔	
میں اپنے خوں کی حرارت میں جنگ کرتا رہا
ہر ایک عہدِ خلافت میں جنگ کرتا رہا

	سوال یہ ہے کہ کلیم کی جنگ ہے کس سے؟۔۔۔ اُس شخص سے جسے خود اس نے سالار بنایا؟۔۔۔ اُس دوست سے جو آستین میں خنجر چھپائے ہوئے ہے؟۔۔۔ نئے مراسم بنانے کے لیے دشمنوں کی حمایت میں ؟۔۔۔ شہنشاہ سے؟۔۔۔ غاصبوں سے؟۔۔۔ دربار میں سچ نہ سننے والوں سے؟۔۔۔ شہ سوارِ تیغ بکف سے؟۔۔۔ یا اس سردار سے جو عزتوں کا سودا کرتا ہے؟۔۔۔ یا اس بونے سے جس کا سر دستار سے باہر ہے؟۔۔۔ یا فوج کے اس سالار سے جس کے پاس سامانِ جنگ تو ہے لیکن حوصلہ نہیں ؟۔۔۔ یا عفریتِ صد ہا پا، بلائے ہزار دست سے؟۔۔۔ یا اس جبری دستور کے خلاف جس نے انسان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے؟۔۔۔ یا اپنے لشکر کے ان کمانداروں اور سالاروں سے جنھوں نے اسے قتل کیا؟۔۔۔ یا تیغِ ستم کے سرور میں اپنے آپ سے۔۔۔ اور یا پھر حسینؑ کی سنت میں ؟۔۔۔ ان تمام سوالوں کا جواب ہمیں کلیم کے اس شعر سے ملتا ہے۔	



مقابلے میں کوئی عکس لڑ رہا تھا کلیمؔ
عجیب عالمِ وحشت میں جنگ کرتا رہا

	کلیم کا عالمِ وحشت میں کسی عکس کے ساتھ جنگ کرنا بڑ ی حد تک اس بات کا غماز ہے کہ وہ اپنی بقا اور تکمیل کی راہ میں حائل کسی داخلی ڈر، خوف اور گھبراہٹ سے دیوانہ وار جنگ کر رہا ہے۔۔۔ نہ صرف جنگ بلکہ سفر بھی۔۔۔
	بہرحال کلیم کے سفر اور جنگ کی حقیقت کچھ بھی ہو، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس کی سرگزشت لفظیاتی اکائیوں میں اتر کر ہمارے گرد و پیش کی زندگی میں برپا ان گنت سیاسی و سماجی معرکہ آرائیوں کا آئینہ کس قدر بنتی ہے اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ کلیم تخلیقی سطح پر لفظوں کے باہمی انسلاک سے، الفاظ کے متعین مطالب کو کس حد تک نئے آفاقی معنیاتی نظام سے منسلک کرتا ہے۔۔۔ کلیم کہتا ہے۔	

ایک امکان اور کچھ بھی نہیں 
میرا سامان اور کچھ بھی نہیں 

	یقیناً یہی وہ تخلیقی بالغ نظری ہے جو ہمیں یہ شعور فراہم کرتی ہے کہ فکر و فن کے ہر امکان پر نگاہ ضروری ہے۔۔۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ امکانات کے تمام مراحل کے آخر میں صرف ’’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘‘۔
سیّد وقار افضل شعبہ اردو 
گورنمنٹ زمیندار پوسٹ گریجویٹ
  کالج گجرات
٭٭٭


ماخوذ:’حیرت باقی رہ جاتی ہے‘ ۔ کلیم احسان بٹ
تشکر: کلیم احسان بٹ جنہوں نے فائل عطا کی۔
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
