﻿




کنواں  آدمی اور سمندر


(  افسانوی مجموعہ  )



عوض سعید

 


 


انتساب



 سراج محمود کے  نام۔۔۔ 

عالم میں  تجھ سے  لاکھ سہی تو مگر کہاں 

 


چند باتیں 



	افسانے  کا سفر پرانی داستانوں  سے  شروع ہوا تھا۔ آج وہ اُس جگہ پر آ پہنچا ہے  جہاں  اس میں  اور شاعری میں  فرق کم رہ گیا ہے۔ 

	میرا خیال ہے  افسانہ ابھی شاعری کے  زینے  تک نہیں  پہنچ پایا ہے۔ اس میں  افسانے  کی بڑائی یا سُبکی کی تلاش فضول ہے، لیکن افسانے  کا یہ طویل اور لمبا سفر کب تک جاری رہے  گا یہ کوئی نہیں  بتاسکتا۔ مجھے  تو کبھی کبھی گمان ہوتا ہے  کہ میرا سفر بھی ایک انجانا سفر ہے۔ میں  مدتوں  سیدھے  خطوط پر چلتا چلتا اب پچھلے  چند برسوں  سے  غیر محسوس طور پر غیر متوازی خطوط پر چل پڑا ہوں۔ 

	میں  جب کبھی کسی تجربے  کو گلے  لگاتا ہوں  تو وہ مجھے  ڈستا ہے، کبھی کبھی وہ میرے  وجود سے  چمٹ کر میری اپنی شخصیت کا جُزو بن جاتا ہے۔ افسانہ اور اس کے  اجزائے  ترکیبی ہمیشہ میرے  لیے  ایک معمّہ بنے  رہے۔ ممکن ہے  اس کا حل بعض نقادوں  کے  پاس ہو تو میرے  پاس نہیں۔ 

	وہ کردار جس نے  سعادت حسن منٹو سے  اچھی کہانیاں  لکھوائیں  اب ہم میں  نہیں  رہا  اور اب خود شناسی کے  ساتھ ساتھ اپنی ذات کی بازیافت کا مسئلہ بھی آ کھڑا ہو تو لازماً میں  کردار سے  آنکھ ملا کر بات کرنے  کا بھی اہل نہیں  رہا۔ افسانے  کے  منظر نامے  میں  کہیں  میرا نام ابھرتا بھی ہے  یا نہیں  مجھے  اس کی کوئی خاص فکر نہیں  ہے۔ ویسے  ہند و پاک کے  کئی با شعور ادیبوں اور نقادوں  نے  میری بیشتر کہانیوں  کو سراہا ضرور ہے۔ شاید اسی حوصلہ افزائی کے  سبب اب تک میری کہانیوں  کے  پانچ مجموعے  چھپ چکے  ہیں۔ 

	’’کنواں، آدمی اور سمندر‘‘ میرے  افسانوں  کا چھٹا مجموعہ ہے، جو آپ کی نذر ہے۔ ممکن ہو تو اُسے پڑھیے  اور اپنی گراں  مایہ رائے  مجھے  لکھ بھیجئے۔ 

٭٭٭
 
چھلاوے 

	پوسٹ مین کی مانوس آواز پر وہ اچانک اُٹھ کر دروازے  تک پہنچا اور ایک ثانیے  کے  لیے  خط کی پیشانی پر لکھے  ہوئے  پتے  پر نگاہ ڈالی۔ پتہ صحیح تھا مگر نام کچھ اور تھا۔ قبل اس کے  کہ پوسٹ مین کو آواز دیتا وہ خط پھینک کر سیڑھیاں  پھلانگتا ہوا نیچے  جا چکا تھا۔ 
	شام کو جب وہ باہر نکلا تو اُس نے  اس خط کو احتیاط سے  جیب میں  رکھا اور چورا ہے  پر کھڑے  ملگجے  پوسٹ بکس کے  منہ میں  اُسے  بڑی بیدردی کے  ساتھ پھینک دیا۔ 
	اب وہ جانے  کیوں  اپنے  آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا، لیکن دوسرے  ہی لمحے  اسے  احساس ہوا کہ اُس نے  خواہ مخواہ جلد بازی سے  کام لیا۔ ہو سکتا ہے  پھینکا ہوا وہ خط اُسی کا ہو۔ پتہ تو اُسی کا تھا۔ نام میں  بھلا کیا دھرا ہے۔ نہیں  نہیں۔۔ نام ہی شناخت کا زینہ ہے۔ اگر وہ اُسے  بھی کھو دے  تو باقی صرف اس کا چہرہ ہی رہ جاتا ہے، مگر شناخت تو چہرے  سے  ہی ہوتی ہے، نام تو اُس کے  پیچھے  ہاتھ باندھے  چلتا ہے۔ وہ ایک لمحے  کے  لیے  گڑبڑا گیا اور بے  ارادہ تارکول کی لمبی سڑک پر تیز تیز چلنے  لگا۔ 
	ارے  فہیم۔۔۔ یکبارگی ہجوم میں  سے  کسی نے  آواز لگائی۔ آواز کے  دوش پر اڑتا ہوا جب وہ اس کے  قریب پہنچا تو وہاں  دو اجنبی آپس میں  گلے  مل رہے  تھے  جیسے  برسوں  بعد وہ ایک دوسرے  سے  ملے  ہوں۔ یہ منظر اُسے  بڑا پیارا لگا۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اُس نے  خود آگے  بڑھ کر اس اجنبی کو گلے  لگا یا ہو۔ وہ بھی تو فہیم ہی ہے  مگر اُس کا چہرہ۔۔۔ 
	اب وہ کھویا کھویا سا راستہ طے  کرنے  لگا۔ وہ منظر جو تھوڑی دیر پہلے  اُس نے  دیکھا تھا اب وہ اپنی ذراسی جھلک دکھا کر غائب ہو چکا تھا۔ اب اس کی جگہ دو آدمی آپس میں  گتھم گتھا ہو رہے  تھے۔ دونوں  کے  جسم سے  خون کی سُرخ سُرخ بوندیں  ٹپک رہی تھیں  مگر لوگوں  کے  مشاغل میں  کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اپنا بھائی مر رہا ہے  ارے  کوئی اُسے  بچاؤ۔ ‘‘ مگر وہاں بچانے  والا کوئی نہ تھا۔ 
	ایسے  تماشے  اس نے  بہت دیکھے  تھے، ایک طرح سے  وہ خود ایک بہت بڑا تماش بین تھا۔ پھر لوگ ایک ایک کر کے  آہستہ آہستہ موت کے  کنویں  میں  چھلانگ لگا رہے  تھے،اپنی چوّن سالہ زندگی میں اس نے  اپنے  کئی عزیزوں  یاروں  کو قبر کے  منہ میں  پھینک آنے  کی اذیت دہ رسم ادا کی تھی۔ اس سے  بڑا ظلم اس کے  ساتھ اور کیا ہو سکتا تھا۔ اور تو اور مرنے  والوں  کی ایک لمبی فہرست اُس نے  اپنے  پاس رکھ چھوڑی تھی  جسے  وہ ہر برس یوں دیکھتا جیسے  وہ اپنی عمر کا حساب لگا رہا ہو۔ اکثر دفعہ تو اس نے  چپکے  سے  اپنے  نام کا اضافہ کر دیا تھا لیکن جب فہرست پر اس کی نگاہ جاتی تو ناموں  کے  جھرمٹ میں  اس کا اپنا نام کہیں  معدوم سا ہو کر رہ جاتا۔ تلاش بسیارکے  باوجود جب اُسے  فہرست میں  اپنا نام دکھائی نہ دیتا تو وہ چپکے  چپکے  سسکیاں  بھرنے  لگتا۔ آخر وہ کب تک زندگی کی اس بے  ہنگم سیڑھی سے  چمٹا رہے  گا۔ آخر کب تک؟ پھر ایک بار اُسے  لگا جیسے  سامنے  کے  ٹیڑھے  میڑھے  قبرستان میں  لوگ کسی اور آدمی کے  بجائے  اُسے  دفنا کر لوٹ رہے  ہوں۔ اُن کے  چہروں  پر کہیں  بھی اُداسی کی لکیریں  نہیں  تھیں۔ وہ چاہتا بھی یہی تھا کہ اُس کی موت کسی کے  لیے  بھی اُداسی کا سبب نہ بنے  مگر یہ خواب اچانک ٹوٹ پھوٹ کر کانچ کے  ذروں  کی طرح سڑک پر بکھر کر رہ گیا۔ 
	اب اُس کے  سامنے  اُس کی اپنی بیوی کھڑی تھی۔ 
	’’کیا تم بھی ان ہی لوگوں  میں  سے  تھیں۔ ‘‘
	’’ آپ کن لوگوں  کی بات کر رہے  ہیں۔ ‘‘
	’’ اُن ہی لوگوں  کی جو ابھی ابھی۔۔۔  ‘‘
	’’چلیے  یہ ناٹک بہت ہوا۔ گھر پر کچھ مہمان آپ کا انتظار کر رہے  ہیں۔ ‘‘
	بھری سڑک پر اس کی بیوی نے  جب اس کا ہاتھ تھاما تو اُسے  محسوس ہوا کہ اُس نے  دوبارہ جنم لیا ہے۔ گھر پر کچھ لوگ واقعی اس کا انتظار کر رہے  تھے۔ ان کے  چہرے  بھی کچھ عجیب سے  تھے۔ جیسے  وہ کسی انجانی دنیا کے  باشندے  ہوں۔ 
	اُسے  ڈرائنگ روم میں آتے  دیکھ کر سب احتراماً  اُٹھ کھڑے  ہو گئے  اور فرداً فرداً مصافحہ کے  لیے  ٹوٹ پڑے۔ اُسے  یہ سب کچھ عجیب سا لگا۔ 
	جب کافی دیر ہو گئی اور کسی نے  اپنی زبان کو جنبش نہ دی تو اسے  حیرانی ہوئی،اور یہ حیرانی لمحہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ 
	وہ لوگ ابھی تک احترام کا لبادہ اوڑھے  اس کے  سامنے  کھڑے  تھے  جیسے  اس کے  حکم کے  منتظر ہوں۔ پھر اس نے  اپنی بیوی کو آتے  دیکھا،جس کے  ہاتھ میں  چائے  کی ٹِرے  تھی۔ اس نے  اشارے  سے  اُسے  اندر بلایا۔ 
	’’وہ آپ سے  مسلسل باتیں  کر رہے  ہیں  اور آپ ہیں  کہ اُن کا کوئی جواب ہی نہیں  دیتے۔ ‘‘
	’’ کیا کہہ رہی ہو، ان لوگوں  نے  ابھی تک کوئی بات ہی نہیں  چھیڑی۔ تم مجھے  پاگل بنا دو گی۔ ‘‘
	جب وہ بیوی سے  دامن چھڑا کر ڈرائنگ روم میں  داخل ہوا تو سارے  لوگ چائے  پی کر رخصت ہو چکے  تھے۔ میز پر خالی دھری ہوئی پیالیاں  جیسے  اُس کا مُنہ تک رہی تھیں۔ 
	یہ آنے  والے  بھی عجیب لوگ تھے  جو آئے  اور چلے  بھی گئے، مگر وہ یہاں  آئے  کیوں تھے۔ کوئی سبب۔۔ کوئی وجہ۔۔ کوئی کام۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔ وہ جھنجھلاسا گیا۔ 
	’’ وہ کوئی عام لوگ معلوم نہیں  ہو تے  تھے۔ ‘‘کسی نے  سپاٹ لہجے  میں  کہا اور آگے  پڑھ کر ٹی وی کے  بٹن کو گھما دیا۔ اس نے  پلٹ کر دیکھا۔ یہ اُس کی بیوی کی آواز تھی جو سفید ساری میں  ملبوس ایک سوالیہ علامت بنی اس کے  سامنے  کھڑی تھی۔ 
	اب اسکرین پر وہی گھسی پٹی سیریل چل رہی تھی جس سے  بچنے  کے  لیے  وہ دنوں  سڑکیں  ناپتا رہا تھا۔ 
	جب اس کی بیوی نے  کرسی سنبھالی تو وہ دبے  پاؤں گھر سے  نکل پڑا۔ 
	سڑک انسانی قافلوں  سے  لدی ہوئی تھی۔ سائیکلیں۔ کاریں،رکشائیں اور اسکوٹروں  سے  بچتا بچاتا جب وہ سڑک کے  کنارے  آیا تو اس کی پیشانی پر پسینے  کی دو ایک بوندیں  چمک رہی تھیں۔ 
	اب وہ کھویا کھویا سا مریل ٹٹّو کی طرح سڑک پر چل رہا تھا۔ شام نے  اپنے  بادبان کھول رکھے  تھے  اور ہوائیں  سائیں  سائیں  کرتی ہوئی جیسے  چیخ رہی تھیں۔ پھر ایک بار اس کے  دماغ کے  پردے  پر کچھ آڑھی ترچھی تصویریں  ابھرتی چلی گئیں۔ ڈوبتے  ابھرتے  ان چہروں  کو جھٹکنے  کی اس نے  بہت کوشش کی لیکن بے  سود۔ 
	آخر وہ کون لوگ تھے۔ کیوں  اس سے  ملنے  آئے  تھے۔ اگر انہوں  نے  چپ کی چادر اوڑھ بھی رکھی تھی تو کم از کم وہ خود ہی پہل کر کے  پوچھ لیا ہوتا۔ کیا وہ ان ہی کاموں  کے  لیے  رہ گیا ہے ؟ یہ کام وہ خود بھی تو کر سکتے  تھے، مگر ساجدہ نے  یہ کیوں  کہہ دیا کہ ان لوگوں  نے  اس سے۔۔۔ کہیں  ایسا تو نہیں کہ وہ آئے  ہی نہ تھے  اور خواہ مخواہ۔۔ نہیں  نہیں وہ آئے  تھے  اُس سے  مصافحہ بھی کیا تھا اور چائے  بھی پی تھی۔ وہ پھر ایک بار گڑبڑا سا گیا اور چلتے  چلتے  ایک لمحے  کے  لیے  رُک گیا۔ اوپر آسمان کی چادر پھٹنے  سے  بادل پہلے  کی طرح گرج رہے  تھے۔ لگتا تھا جیسے  بہت بڑا طوفان آنے  والا ہو۔ ہلکی پھلکی بوندا باندی کے  بعد جب دفعتاً بارش نے  زور پکڑا اور بجلیوں  نے  بے  تحاشہ چمکنا شروع کر دیا تو وہ شیلٹر کی تلاش میں  ایک سائباں کے  نیچے  جا کھڑا ہو گیا جہاں  پہلے  ہی سے  کئی لوگ جمع تھے۔ وہ سامنے  والے  ہوٹل میں  داخل ہونا ہی چاہتا تھا کہ لائٹ آف ہو گئی اور ایک مہیب سا اندھیرا اس کے  اطراف منڈلانے  لگا۔ اُس نے  سوچا۔ اب وہ اندر جا کر کیا کرے  گا، مگر لائیٹ نہ سہی ہوٹل کے  منیجر نے  موم بتیاں  تو جلا رکھی ہوں  گی۔ 
	’’اندر چلے  آیئے  صاحب۔ لائٹ آ ہی جائے  گی۔ ‘‘ کسی نے  اسے  آتے  دیکھ کر کہا۔ 
	ہوٹل میں  چاروں  طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ میزوں  پر دھری چھوٹی چھوٹی کچھ موم بتیاں  اپنی آخری سانسیں  لے  رہے  تھیں  اور ادھر ادھر بکھرے  ہوے  لوگ اسے  ہیولوں  کی طرح دکھائی دے  رہے  تھے  کچھ عجیب پر اسرار فضا تھی۔ 
	’’ روشنی اگر زندگی کی علامت بن سکتی ہے  تو کیا تاریکی موت کا استعارہ نہیں  بن سکتی۔ ‘‘
	’’ کیوں  نہیں۔۔۔ کیوں  نہیں۔۔۔ پھر اس کے  بعد ایک لمبی سی چُپ۔ 
	اسے  محسوس ہوا کہ وہ غلط جگہ آ گیا ہے۔ اگر موسلادھار مینہ برسا نہ ہوتا تو وہ یہاں  کیوں  چلا آتا۔ کوئی اور جگہ ڈھونڈ لیتا۔ ایک گوشہ تنہائی پھر وہ اور صرف اُس کی ذات، اُس کا وجود۔ 
	مگر یہ لائٹ آخر کب آئے  گی۔ بارش کب ختم ہو گی۔ کوئی بھی تو نہیں  جو اُسے  یہ جھوٹا دلاسا ہی دے  سکے۔ مگر وہ اجنبی چہرے۔ وہ لوگ۔ 
	جب ٹیبل پر دھری بیمار موم بتی نے  آخری سانس لی تو کوئی اندھیرے  کی چادر میں  لپٹا چیخ اٹھا۔ 
	’’ ارے  بھائی یہاں  کوئی آئے۔ ‘‘
	پھر دفعتاً ایک زوردار گرج کے  ساتھ بادلوں  کے  قافلے  ایک دوسرے  سے  اس طرح ٹکرائے  کہ لہراتی ہوئی بجلی شیشوں  میں  چھُپے  چہروں  کو جیسے  ٹٹولنے  لگی۔ ایک لمحے  کے  لیے  جب اس کی نگاہ اُن عجیب و غریب چہروں  سے  ٹکرائی تو وہ یکبارگی بھونچکا سا ہو کر رہ گیا۔ 
	’’ ارے  یہ تو وہی لوگ ہیں  جو اُس کے  گھر۔۔۔ ‘‘
٭٭٭
 

اندھا کنواں 


	روز کی طرح آج بھی وہی اندھے  مہیب سائے  رینگ رہے  تھے۔ گو اس نے  گھر کے  سارے  کمروں  کی روشنی جلا رکھی تھی لیکن ہر بار اُسے  یہی احساس ہوتا تھا کہ یہ مہیب سائے  آناً فاناً میں  اس کے  اپنے  وجود کو کسی خونخوار اژدہے  کی طرح نگل جائیں گے  اور وہ چُپ چاپ ایک اندھے  اور بے  نام کنویں  میں  گر پڑے  گا، لیکن اس کا اپنا یہ گھر بھی تو ایک اندھا کنواں ہی ہے، جہاں  وہ روز ڈوبتا اور ابھرتا رہتا ہے۔ اُسے  احساس ہوا جیسے  کوئی دبے  پاؤں  اس کے  گھر کی چوکھٹ پر آ کر اُسے  آواز دے  رہا ہو۔ 
	اسے  کون آواز دے  گا۔ کوئی بھی تو نہیں، جو اُسے  اس کے  اپنے  نام سے  پکارے۔ نہ کوئی یار نہ غم گسار۔ 
	اس کے  اپنے  ہی بچے  جب ایک روشن مستقبل کا بہانہ بنا کر اُسے  تنہا چھوڑ جائیں  تو وہ کسی اور سے  کیا گلہ کرے  گا۔ یہی نا کہ تم بھی میرے  بچوں  کی طرح خود غرض ہو۔ 
	نہیں  نہیں۔۔ اس کے  سار ے  دوست تو ایسے  نہ تھے  کہ وہ ان پر لعنت بھیجے۔ وہ اس سے  ملنے  آئیں  تو وہ اٹھ کر دوسرے  کمرے  میں  چلا جائے، اور جب وہاں  بھی آ کر اسے  دبوچ لیں  تو وہ نڈھال سا ہو کر کسی زخمی پرندے  کی طرح پھڑپھڑانے  لگے  اور وہ۔۔۔ 
	پھر اُس نے  دیکھا اس کے  آنگن میں  ایک کالا کلوٹا کوّا مرا پڑا تھا، اور دیواروں  سے  چمٹے  ہوئے  ہزاروں  بدصورت کوّے  شور مچا رہے  تھے، ہو سکتا ہے  وہ بین کر رہے  ہوں، شکایت کر رہے  ہوں، یہ ایک طرح کا احتجاج بھی ہو سکتا ہے،مگر اس شکایت اور اس احتجاج سے  اُس کا کیا تعلق۔ کچھ بھی تو نہیں، مگر شور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ 
	بڑا جان لیوا شور۔۔ مگر یہ کیا ؟ وہ اسے  چونچ میں  دبائے  کہاں  اٹھا لے  گئے۔ 
	اب اس کے  آنگن میں  موت کی سی خاموشی طاری ہے۔ ایک عجیب سا سکوت، جیسے  ہوا چلتے  چلتے  اچانک رک گئی ہو، جیسے  شہر کے  سارے  راستے  مسدود ہو گئے  ہوں، مگر اس وقت اس کے  بیمار دروازے  کی چوکھٹ سے  چمٹا کون کھڑا ہے۔ 
	نہیں  نہیں۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔ یہ اس کا واہمہ ہے، مگر وہ تو اسے  دکھائی دے  رہا ہے۔ بلکہ اس کے  منجمد ہونٹ ہولے  ہولے  ہل بھی رہے  ہیں۔ جیسے  وہ ایک کرب اور آزمائش سے  گزر رہا ہو، مگر وہ چوکھٹ سے  چمٹا کیوں  کھڑا ہے۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اُسے  ان کالے  کلوٹے  بدصورت کووں  کا انتظار ہے  جو اُسے  اپنی نکیلی چونچ میں  دبائے  دُور بہت دُور۔۔۔ 
	نہیں  نہیں  یہ تو ایک۔۔۔۔ 
	کیا کسی نے  آواز دی۔ 
	آواز۔۔۔۔۔۔۔ ؟
	آواز کی چھتیں تو کب کی طوفان کی زد سے  گر چکیں،اب یہاں  ایک کھنڈر ہے۔ صرف ایک کھنڈر۔۔۔ ایک قبرستان مگر کھنڈر میں بھی لوگ پانی کی تلاش میں  آ نکلتے  ہیں۔ وہ لوگ کہاں  ہیں۔ میں  انہیں  ڈھونڈتا ڈھونڈتا تھک سا گیا ہوں۔ 
	جب میرے  بچے  خود میرے  لیے  عصائے  پیری نہ بن سکے،تو یہ لوگ۔۔۔۔ نہیں  نہیں۔۔ دراصل یہی لوگ، یہی جیالے  اس کے  بیٹے  ہیں، اس کے  بچے  ہیں   ورنہ اس ویرانے  میں  کون آتا ہے۔ کسی کو کیا پڑی ہے  کہ اس کے  گھر آ کر ایک نظر اسے  بھی دیکھ ڈالے، مگر روشنیوں  سے  بھرے  اس گھر میں  رینگتا ہوا یہ مہیب سنّاٹا، یہ تاریکی !
	مگر وہ کب تک اس طرح گھٹ گھٹ کر جیے  گا۔ آخر کب تک۔ 
	وہ آدمی کچھ بولتا بھی تو نہیں۔ اُسے  بولنے  سے  کس نے  منع کیا ہے۔ کسی نے  بھی تو نہیں، تو پھر اُس نے  یہ چُپ کی چادر کیوں  اوڑھ رکھی ہے۔ وہ اس گونگی چادر کو تار تار بھی تو کر سکتا ہے۔ وہ اس کے  سامنے  ننگا ہونا نہیں  چاہتا،وہ اپنا لباس،اپنی چادر کیوں  تار تار کرے۔ کوئی وجہ، کوئی سبب، کچھ بھی تو نہیں۔ 
	ایسا سوچنا ہی غلط ہے۔ پھر صحیح کیا چیز ہے، کوئی چیز صحیح نہیں  ہے۔ پھر بھی سب کچھ صحیح ہے۔ 
	مگر درمیان میں  کوئی تو چیز ہو گی۔ کوئی راستہ، کوئی منزل۔ 
	منزل کا کوئی راستہ نہیں  ہوتا، اور نہ راستے  کی کوئی منزل۔ 
	کیا کسی نے  مجھے  آواز دی۔ 
	نہیں۔۔۔۔  نہیں۔۔۔۔  نہیں۔۔۔۔ 
	پھر یہ آواز کہاں  سے  آ رہی ہے۔ 
	آواز۔۔۔۔۔۔ ؟
	کون سی آواز۔ 
	آواز کا کوئی نام نہیں  ہوتا۔ 
	رشتہ تو ہوتا ہو گا۔ 
	کہیں  ایسا تو نہیں کہ چوکھٹ پر کھڑے  کھڑے  ہی وہ چل بسا ہو۔ 
	مگر وہ اس ویرانے  میں  آ کر کیوں  مرنا پسند کرے  گا۔ کیا اس کے  لیے  اب ایسا کوئی سائبان نہیں  جہاں  جا کر وہ۔۔۔ 
	مگر یہ آواز۔۔۔ یہ شور۔۔۔۔ کہیں  اس کے  آنگن میں  پھر کوئی کالا کلوٹا بد صورت سا کوا  مرا پڑا نہ ہو۔ 
	پھر یہ کائیں  کائیں۔۔ یہ جان لیوا شور۔۔ یہ بکھرے  ہوئے  دانے۔۔ یہ نُچے  ہوئے  پَر۔ یہ سب کچھ کیا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں۔ 
	محض ایک واہمہ۔ ایک خواب۔ 
	کیا کوئی جاگتے  میں  بھی خواب دیکھ سکتا ہے۔ 
	ہاں۔۔ دیکھ سکتا ہے۔ ضرور دیکھ سکتا ہے۔ 
	ہیں  خواب میں  ہنوز کہ جاگے  ہیں  خواب میں۔ 
	مگر یہ بات کہنے  والا تو کبھی کا۔۔ 
	مجھے  کچھ بھی نہیں  معلوم۔۔۔ 
	پھر اسرار کا یہ پردہ کب ہٹے  گا۔ 
	کون سا اسرار۔۔۔ کون ساپردہ؟
	وہ جو ہمارے  درمیان ہے۔ 
	مگر میرے  گھر کے  سارے  زخمی پردوں  کے  درمیان صرف میں  ہوں   یا میرا وجود، تم ادھر کہاں بھٹک کر آ گئے  ۰۰۰۰۰۰سارے  راستے  تو بند ہیں۔ 
	راستے  تمھارے  لیے  بند ہو سکتے  ہیں، میرے  لیے  نہیں۔ 
	ویسے  بھٹکنا ہی شاید ہوش مندی کی علامت ہے۔ 
	شاید سے  تمھاری کیا مراد ہے۔ 
	اپنی ذات کی بازیافت جو تمھاری بھی ہو سکتی ہے۔ 
	میری؟
	ہاں  تمھاری؟ تم نے  تھوڑی دیر پہلے  یہی کہا تھا نا کہ تمہارے  گھر کے  دروازوں  کے  سارے  پردے  تو زخمی ہو چکے  ہیں۔۔ گھر کے  زخمی پردوں  کے  درمیان صرف تم ہو یا پھر تمھارا وجود۔ 
	ہاں  کہا تو تھا۔ مجھے۔ اس سے  کب انکار ہے۔ 
	انکار اقرار کے  آگے  ہاتھ جوڑتا ہے  یا اقرار انکار کے  آگے  ؟
	میں  الفاظ کے  ان گورکھ دھندوں  میں  پھنسنا نہیں  چاہتا، تم یہاں  آ کر مجھے  خواہ مخواہ کچوکے  لگا رہے  ہو۔ خدا کے  لیے  یہاں  سے  دفع ہو جاؤ۔ 
	کیوں  گھبرا گئے۔۔ وہ بھی اتنی جلد۔۔۔ ؟
	سچ کا کڑوا زہر جس نے  پی لیا ہو  وہ کسی سے  کیا گھبرائے  گا۔ 
	مگر میں  دیکھ رہا ہوں  تم مجھ سے  گھبرا رہے  ہو۔ 
	تم نے  شاید یہ زہر صرف ایک بار پیا ہے۔ 
	میں  سچ کے  اس کڑوے  زہر کو روزانہ چکھتا ہوں، بلکہ پیتا ہوں، کسی ٹھنڈے  مشروب کی طرح کبھی آہستہ۔۔ کبھی تیز۔۔۔ بہت تیز۔ 
	اِس پر بھی زندہ ہو۔۔۔ ؟
	دیکھ نہیں  رہے  ہو۔ میں  تمھارے  سامنے  ہی تو کھڑا ہوں،مجھے  ٹٹولو۔ مجھے  تلاش کرو۔ کنویں  میں  جب ڈول نہ گراؤ گے  تو پانی کس طرح پیو گے۔ 
	میں  تو پیاسا ہوں  جس کے  لیے  کنواں  خود روز چل کر آتا ہے، اور میری پیاس۔۔۔ مگر لگتا ہے  جیسے  تم پھر بھی پیاسے  ہو۔ جنم جنم کے  پیاسے۔ 
	کیا تم مجھے  یہاں  یہی جلی کٹی سنانے  کے  لیے  آئے  ہو۔ 
	ہاں  ہر نقاب کے  پیچھے  ایک حقیقت اور ہر حقیقت کے  پیچھے  ایک نقاب۔ 
	تم کہنا کیا چاہتے  ہو۔ 
	کچھ بھی نہیں۔۔ مجھے  جو کچھ کہنا تھا وہ میں  نے  کہہ دیا۔ اب میں  خود ایک کا سہ بکف ہوں   بالکل تمھاری طرح !
	مگر یہ کیا ؟ پھر وہی شور، وہی جان لیوا اور کریہہ آوازیں۔ 
	کائیں۔۔۔۔ کائیں۔۔۔۔ کائیں۔۔۔۔ کائیں۔ 
	اُسے  محسوس ہوا جیسے  ساری دنیا کے  بدصورت اور کالے  کلوٹے  کوّے  اس کے  وجود کے  سارے  ٹکڑوں  کو اپنی نوکیلی چونچ میں  دبائے  ایک نامعلوم سمت کی طرف پرواز کر رہے  ہوں !!
٭٭٭
 
دعا

	میں  نے  جس آدمی کو برسوں  دیکھا وہ ان دنوں  پتہ نہیں  کہاں  غائب ہے۔ آپ نے  بھی اگر اسے  کہیں  دیکھا ہو تو کم و بیش وہی خلِش اپنے  دل میں  محسوس کر رہے  ہوں  گے  جو میں  نے  محسوس کی ہے۔ ہو سکتا ہے  میرا خیال غلط ہو۔ آپ نے  اُسے  دیکھا ہی نہ ہو۔ اگر تھوڑی دیر کے  لیے  یہ مان بھی لیا جائے  کہ آپ نے  اُسے  دیکھا تھا، لیکن یہ کیا ضروری ہے  کہ اُس کی شخصیت کے  سارے  خد و خال آپ کے  ذہن کے  پردے  پر اسی طرح متحرک ہوں  جس طرح ابھی ابھی میں  نے  دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ ہر شخص کی ذہنی سطح یکساں تو نہیں  ہوتی کہ وہ بہتے  پانی کی طرح کسی سنگم میں  پہنچ کر اپنی عافیت سنبھالے۔ پھر بھی انیس بیس کا فرق رہے  گاہی۔ اِس فرق کو نہ آپ مٹاسکیں گے  اور نہ میں۔ تفریق کا یہ ناگ ازل سے  ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ 
	میں  آج جس آدمی کے  بارے  میں  لکھنے  جا رہا ہوں   کبھی میں  نے  بھی اس کا پیچھا کیا تھا۔ ان اسرار کو جاننے  کی کوشش کی تھی جو اس کی ذات کے  نہاں  خانے  کا ایک حصہ تھے، لیکن میری اس ساری کوشش کو وہ اپنے  پاؤں  تلے  یوں  دبا دیتاجیسے  وہ آدمی نہ ہو کوئی قلندر یا ولی ہو یا بہت بڑا ساحر ہو۔ بہر حال وہ کچھ نہ ہوتے  ہوئے  بھی بہت کچھ تھا اور بہت کچھ ہوتے  ہوئے  بھی کچھ نہ تھا۔ 
	میں  نے  پہلی بار اُسے  شاہ صاحب کے  تکیے  سے  لگے  ویران و خستہ حال قبرستان میں  دیکھا تھا۔ وہ لوگوں  کے  ہجوم میں  شامل ہوتے  ہوئے  بھی الگ سادکھائی دے  رہا تھا۔ 
	جنازے  کو قبر کے  منہ میں  پھینک آنے  کی رسم ادا کرنے  کے  بعد جب وہ لوگ پیچھے  ہٹنے  لگے  تو اس نے  آگے  بڑھ کر اپنے  دونوں  ہاتھ فاتحہ خوانی اور دعا کے  لیے  اٹھا دئیے۔ 
	اُس کے  ملگجے  ہونٹ آہستہ آہستہ یوں  پھڑک رہے  تھے  جیسے  وہ مرحوم کی بخشش کے  لیے  گڑگڑا کر دعا مانگ رہا ہو۔ 
	مرنے  والے  کو دفن کرنے  کے  بعد جو گروہ تیز تیز قدم ناپتا قریب کی ٹوٹی ہوئی منڈیر تک پہنچ چکا تھا  اُن میں  اس کے  سبھی بھائی بند تھے۔ ڈر اور خوف کی چادر اوڑھے  ہوئے  ایک انجان اور نامعلوم وسوسے  میں  گرفتار۔ 
	 ارے  بھئی ذرا رکنا۔۔ میری آواز قبرستان کے  سناٹے  میں  سرسراسی گئی لیکن وہ لوگ آگے  بڑھتے  ہی گئے۔ 
	میں  نے  پلٹ کر دیکھا۔ وہ آدمی ابھی تک فاتحہ خوانی میں  مشغول تھا۔ 
	اور اب اس گروہ کے  بیشتر لوگ قبرستان سے  لگے  ہوٹل میں  بیٹھے  چائے  کی چُسکیاں  لے  رہے  تھے   جیسے  وہ موت کے  پھندے  کو گلے  سے  نکال کر اسے  کہیں  دور پھینک آئے  ہوں۔ جس کھنڈر میں  جہاں  ابھی ابھی وہ بدیدۂ تر تھے، اب ان کے  ہونٹوں  پر زندگی کی مُسکان تھی۔ ہو سکتا ہے  جو میں نے  دیکھا ہے  وہ غلط ہو۔ لیکن تیسری آنکھ کبھی دھوکا  نہیں  کھاتی۔ 
	قبرستان میں  بچھی ہوئی یہ ٹیڑھی میڑھی قبریں، اس پر پھولوں کے  بجائے  جا بجا پرندوں  کی بیٹ۔ یہ بیمار اور خستہ دیواریں، صدیوں  پہلے  لگائے  ہوئے  یہ دوچار بوڑھے  درخت، یہ خود رو جھاڑیاں  اور اُس پر رینگتے  ہوئے  یہ عجیب و غریب کیڑے۔ 
	میں  نے  لوٹنے  سے  پہلے  پھر ایک بار پلٹ کر اُسے  دیکھا۔ وہ آدمی ابھی تک فاتحہ خوانی میں  مشغول تھا۔ میں  اس کے  چہرے  کو اس لیے  بھی دیکھ نہیں  سکتا تھا کہ اس کا چہرہ میری نگاہوں  سے  اوجھل تھا۔ صرف اس کی پیٹھ دکھائی دے  رہی تھی  اور دعا کے  لیے  اٹھے  ہوئے  اس کے  دو ہاتھ۔ 
	میں  نے  سوچا، آخر وہ کب تک اس طرح کھڑا رہے  گا۔ یہ دعا دے  رہا ہے  یا محض مرحوم سے  ہم کلام ہے۔ ایک لمحہ بعد ہی میں  نے  ایک سیاہ زہریلے  ناگ کو جھاڑیوں  میں سے  نکلتے  دیکھا۔ میں  وحشت سے  لڑکھڑا سا گیا۔ اب میرے  سامنے  ناگ کی شکل میں  موت کھڑی تھی۔ 
	دیکھ لیا نا۔۔ ویران قبرستان میں  جانے  کا انجام۔ اب بھگتو،ناگ کے  کاٹے  کا کہیں  علاج بھی ہے   ؟  جیسے  میرے  اندر کے  انسان نے  کہا۔ 
	’’  نہیں  نہیں۔۔۔ میں  ابھی مرنا نہیں  چاہتا۔ مجھے  بچا لو۔ مجھے  بچا لو۔ 
	میں  کب اس ویرانہ سے  واپس لوٹا مجھے  کچھ یاد نہیں۔ میں  نے  مُندی مُندی آنکھوں  سے  باہر دیکھا۔ وہ لوگ ابھی تک ہوٹل کی کرسیوں پر ڈٹے  ہوئے  تھے۔ 
	میں  جیسے  تیسے  ہوٹل میں  داخل ہوا۔ بیرے  نے  آگے  بڑھ کر میرا ہاتھ تھاما۔ 
	’’  بابو صاحب۔ چائے  یا کافی۔ ‘‘
	’’  چائے  اور کچھ سموسے  بھی۔ ‘‘
	’’  سموسے  تو ان سامنے  بیٹھے  ہوئے  لوگوں  نے  ختم کر دئیے۔ ‘‘
	’’  کچھ  بسکٹ تو ہوں گے  ہی۔ ‘‘
	’’  وہ بھی نہیں۔  ‘‘
	’’  کیا وہ  بسکٹ بھی وہی لوگ۔۔ ؟
	’’  خوب کھاتے  ہیں  صاحب۔ اسی لیے  تو زندہ ہیں۔ ؟
	دیکھو صاحب وہ لوگ اِدھر ہی دیکھ رہے  ہیں۔ 
	دیکھنے  دو۔ اس سے  کیا فرق پڑتا ہے۔ 
	بیرا۔۔۔  منیجر کی گرجدار آواز گونجی۔ 
	اس میز پر کھڑا کیا کر رہا ہے۔ دیکھ وہ کنارے  والا بابو کب سے  چائے  کے  لیے  پکار رہا ہے۔ بیرا جب بڑی شتابی سے  آگے  بڑھ گیا تو میں نے  دیکھا۔ وہ لوگ کپڑے  جھاڑ کر یوں  اٹھ کھڑے  ہوئے  جیسے  اچانک انھیں  کوئی اہم کام یاد آ گیا ہو۔ ایک ایک کر کے  جب وہ سب جا چکے  تو میں  نے  بھی باہر نکلنے  میں  نجات محسوس کی، مگر وہ سامنے  کے  پنواڑی سے  اپنے  اپنے  لیے  پان بنوا رہے  تھے۔ میرے  ہاں  سگریٹیں  ختم ہو چکی تھیں۔ ہوٹل کی کسیلی چائے  نے  جس انداز سے  منہ کا مزا  بگاڑا تھا، اس کے  لیے  سگریٹ کے  دوچار لمبے  کش لگانے  ضروری تھے،ایک پیکٹ فور اسکوائر۔ ‘‘
	ابھی دیا صاحب۔۔ پہلے  انھیں  پان دے  دوں۔ ارے  ہاں  فور اسکوائر تو نہیں  ہے  صاحب۔ ‘‘
	’’  تو پھر جانے  دو۔۔ آگے  کہیں دیکھ لیں  گے۔ ‘‘
	’’ ٹھہریے۔ اگر آپ برا نہ مانیں  تو میں  آپ کی خدمت میں  فور اسکوائرکا ایک سگریٹ پیش کر سکتا ہوں۔ اسی گروہ کے  ایک نوجوان نے  اخلاق کا مظاہرہ کرتے  ہوئے  کہا
	’’  جی نہیں۔ شکریہ۔ میں  مانگے  تانگے  کی سگریٹ نہیں  پیتا۔ ‘‘
	’’  یہ زندگی بھی تو اُدھار مانگی ہوئی ہے، جس کا قرض آج نہیں  تو کل ہمیں  چکانا ہے، یہ تو ایک معمولی سگریٹ ہے۔ خیر۔ ‘‘
	وہ جب آگے  بڑھ گیا تو میں  نے  اُسے  آواز دی۔ ذرا ٹھہریے۔ ‘‘
	وہ لپک کر میری طرف آیا۔ اس کے  سارے  ساتھی کچھ دور کھڑے  اس کا انتظار کر رہے  تھے۔ 
	’’  آخر آپ مان گئے۔ ‘‘
	’’  نہیں۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں  صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ آدمی کون تھا جو قبر کے  قریب کھڑا ہاتھ پھیلائے  فاتحہ خوانی میں  مشغول تھا۔ کہیں  مرنے  والے  سے  اس کا کوئی نازک رشتہ تو نہ تھا۔ ‘‘
	رشتہ وشتہ کچھ بھی نہیں، وہ ایک دوسرے  کے  لیے  محض اجنبی تھے،بالکل اجنبی۔ 
	ہاں  ہم سب اس کے  قریبی عزیز تھے،مگر یہ سب کچھ آپ کیوں  پوچھ رہے  ہیں۔ ‘‘
نہیں۔۔۔ وہ آدمی مجھے  بڑا بھلا لگا۔ میں  نے  اسے  ایک بار نہیں، کئی بار اُسے  اسی عالم میں  دیکھا۔ دعا کے  لیے  اوپر ہاتھ اٹھائے  ہوئے۔ ‘‘
	’’  ہاں  میں  نے  بھی کئی بار اُسے  اسی قبرستان میں  دیکھا اور اسی روپ میں۔ 
	وہ مجھے  کسی اور جگہ کبھی دکھائی نہ دیا۔ 
	’’  ارے  یار آتا بھی ہے  کہ نہیں۔ وہاں  کھڑا کھڑا کیا مغز پاشی کر رہا ہے۔ ‘‘
	’’  وہ لوگ مجھے  بلا رہے  ہیں۔ اب اجازت دیجیے۔ پھر کبھی ملاقات ہو گی۔ ‘‘
	’’  کیا قبرستان میں۔ ؟
	’’  یہ بھی ہو سکتا ہے۔ 
	’’  مگر ہماری شہادت کون دے  گا۔ ‘‘
	اوپر والا۔۔۔ ‘‘
	میری عجیب و غریب کھوکھلی مسکراہٹ پر وہ ہنس پڑا اور اپنے  ساتھیوں  کے  ساتھ آگے  بڑھ گیا۔ 
	میں  نے  اُسے  دور تک جاتے  دیکھا۔ جب وہ ہجوم میں  غائب ہو گیا تو میں  نے  بھی اپنے  گھر کی راہ لی۔ 
	  ً  ارے  نفیس یہ کیا۔۔ ؟ تم تو گھر کی چوکھٹ پر کھڑی ہو۔ کیا کوئی خاص بات۔ ؟
	آج بڑی دیر لگا دی آپ نے۔ مگر یہ آپ کے  چہرے  کو ہو کیا گیا ہے۔ بڑے  ملول لگ رہے  ہو۔ آخر کیا بات ہے۔ ‘‘
	باتیں  تو بعد میں  ہوں گی۔ پہلے  مجھے  سگریٹ چاہیے۔ کہیں  تم نے  چھپا کر رکھ دیا ہو تو فوراً لادو۔ ورنہ مجھے  دوبارہ باہر جا نہ پڑے  گا۔ ‘‘
	اسی طرح ٹھہرے  رہیے۔ میں  دیکھتی ہوں۔ ‘‘
	کیا سگریٹ کی ڈبیہ مل گئی۔ ‘‘
	دیکھ تو رہی ہوں۔ کچھ تو صبر کیجیے۔ ‘‘
	نہیں  نہیں۔ میں  ابھی آتا ہوں۔ ‘‘
	آنے  کی ضرورت نہیں۔ سگریٹ مل گئی۔ 
	سگریٹ مل گئی۔ چلو اچھا ہوا۔ نہیں  تو میں  مرگیا ہوتا۔ ‘‘
	لیجیے  سگریٹ۔ اب اتنے  لمبے  لمبے  کش لگائیے  کہ گھر کے  سارے  کمرے  دھوئیں  سے  اٹ جائیں۔ میں  نے  سگریٹ جھپٹ کر دو تین لمبے  کش لگائے  اور دھیمے  لہجے  میں  کہا۔ 
	آج میں  بہت پریشان ہوں نفیس۔ ایک نا معلوم سا خوف،ایک بے  نام سی اداسی میرے  ارد گرد گھوم رہی ہے   اور میں  ادھ مواسا ہوا جا رہا ہوں۔ ‘‘
	’’  وہ تو میں  دیکھ رہی ہوں۔ ‘‘
	صرف دیکھنے  سے  کیا ہوتا ہے۔ نفیس مجھے  تمھارا سہارا چاہیے۔ تمھارا سہارا۔ ‘‘
	یہ کیا کہہ رہے  ہیں  آپ۔ آج تک کبھی مجھ سے  کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ ؟‘‘
	نہیں  نفیس۔ یہ بات نہیں۔ تم نہیں  جانتیں۔ میں کن زہریلی را ہوں  سے  ہو کر آیا ہوں۔ 
	وہ سیاہ ناگ۔ وہ آدمی۔ ؟
	خدارا۔ اب آپ آرام کیجیے۔ دیکھیے  آپ کا بدن بھٹی کی طرح جل رہا ہے۔ ‘‘
	تم فکر نہ کرو۔ میں  ابھی نہیں  مروں گا۔ مجھے  وہ سب کچھ کہنے  دو  جو آج مجھ پر بیتی ہے۔ 
	کیا آج آفس کے  منیجر سے  پھر لڑائی مول لی۔ ‘‘  ؟
	نہیں۔۔ کاش میں  آفس ہی چلا گیا ہوتا۔ 
	میں  نے  گھر سے  نکلنے  کے  بعد راستے  میں  ایک جنازے  کو دیکھا۔ ڈولے  کو صرف چا رہی آدمی کندھے  پر اٹھائے  ہوئے  آہستہ آہستہ چل رہے  تھے۔ باقی ماندہ لوگ پیچھے  تھے۔ بہت پیچھے۔  ایک ایک کر کے  آہستہ آہستہ غائب ہو جانے  والوں  میں، میں  بھی ایک تھا،لیکن پتہ نہیں  جب میں  نے  اس آدمی کو دیکھا جو سفید دھاریوں  والا کالا کرتہ اور ہرک کا ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہنے  سڑک پر ننگے  پاؤں چل رہا تھا۔ اس نے  مجھے  کچھ اس انداز سے  دیکھا کہ میں  غائب ہونے  والی ٹولی کی صف سے  نکل کر جنازے  کے  آگے  پیچھے  چلنے  لگا۔ ایسا لگتا تھا جیسے  اُس نے  مجھ پر سحر کر دیا ہو۔ اب میں  اس اجنبی جنازے  کا ایک جزو تھا، جس سے  میرا کوئی خونی رشتہ نہ تھا اور لوگوں  کے  ساتھ جب میں  تکیہ والے  شاہ صاحب کے  قبرستان پہنچا تو گو رکن قبر کی تازہ مٹی کی خوشبو سونگھ رہا تھا۔ اس کے  عزیزوں  نے  جب ڈولا قبر کے  سینے  پر رکھا تو میں  احترام سے  ہاتھ باندھے  کھڑا ہو گیا۔ جنازے  کو قبر میں  اتارنے  کے  بعد جن لوگوں  نے  مٹی ڈالی اُن میں، میں  بھی شامل تھا۔ لوگ فاتحہ پڑھنے  کے  بعد ایک ایک کر کے  رخصت ہو رہے  تھے، لیکن وہ آدمی اپنے  دونوں  ہاتھ اٹھائے  ابھی تک قبر کے  پاس کھڑا تھا۔ 
	پھر ایک سرسراہٹ سی میں  نے  محسوس کی۔ کیا دیکھتا ہوں  کہ ایک سیاہ ناگ پھن پھیلائے  میری طرف بڑھ رہا ہے۔ مجھ پر اچانک بے  ہوشی سی طاری ہو گئی۔ جیسے  کسی نے  مجھے  پیتھوڈین [PETHEDIN]کا انجکشن دے  دیا ہو۔ مجھے  لگا جیسے  میں  موت کی دہلیز پر کھڑا ہوں،مگر وہ زہریلا ناگ مجھے  ڈسے  بغیر جھاڑیوں  میں  کہیں  غائب ہو گیا اور میں  موت کی دہلیز کو پھلانگتا ہوا باہر آ گیا۔ بتاؤ نفیس یہ سب کچھ کیا ہے۔ ؟
	ً  یہ محض تمھارا  واہمہ ہے۔ تم اس جنازے  میں  گئے  ہی نہیں اور نہ تم تدفین کے  وقت وہاں  تھے۔ ‘‘
	کیا کہہ رہی ہو۔  ؟
	آج تم معمول کے  مطابق آفس گئے  تھے   اور وہیں  سے  لوٹ رہے  ہو۔ یہ اور بات ہے  کہ تم نے  آج دیر زیادہ لگا دی۔ ‘‘
	’’  تمھیں  یقین نہ آئے  توآفس فون کر کے  پوچھ لو۔ وہاں  کوئی نہ کوئی او ور ٹائم [OVER TIME]کرنے  والا لالچی آدمی ضرور  ریسیور اٹھائے  گا اور کہے  گا۰۰۰۰۰  لو  فون کی گھنٹی بھی بجنا شروع ہو گئی۔ 
	ارے  اتنی رات گئے  کون بیوقوف فون کر رہا ہو گا۔ فون کی گھنٹی کی کرخت آواز مجھے  کچوکے  لگا رہی ہے۔ ذرا تم دیکھ لینا۔ ‘‘
	’’  ہیلو۔  جی۔ جی۔ نہیں  ایسی کوئی بات نہیں۔ آج ان کی طبیعت ناسازہونے  کے  سبب وہ آفس نہ آ سکے۔ کل ضرور آ جائیں  گے۔ اپنے  منیجر سے  کہنا کہ نفیس نے  خود بات کی تھی۔ ‘‘
	’’  تم تو حقیقت کو بھی واہمہ سمجھنے  لگی تھیں، اب ثبوت مل گیا نہ تمھیں۔ نفیس تم چُپ کیوں  ہو۔ کیا تمھیں  اب بھی یقین نہیں آ رہا ہے۔ ‘‘
	’’  پلیز۔ اب آپ سوجائیے۔ صبح ساری باتیں  ہوں گی۔ شب بخیر۔ ‘‘
۔۔۔ 
	سویرے  جب میری آنکھ کھلی تو میں  نے  دیکھا۔ نفیس تخت پر بے  سُدھ پڑی تھی۔ اُس کے  گالوں  پر آنسوؤں  کے  چند قطرے  جیسے  کانپ رہے  تھے۔ 
	میں  نے  آگے  بڑھ کر جب رومال سے  اس کے  گالوں  پر آئے  ہوئے  قطروں  کو جذب کرنے  کی کوشش کی تو وہ اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ ’’ ارے  دھوپ تو آنگن تک چلی آئی ہے، میں  آپ کے  لیے  پہلے  چائے  بنا لاتی ہوں۔ آج ناشتہ میں  شاید کچھ دیر ہو جائے۔ ‘‘
	میں  نے  حسبِ عادت پہلے  چائے  پی۔ بچے  کھچے  دو چار سگریٹ پھونک مارے، نفیس کی پیشانی کو چوما اور آفس کے  لیے  نکل پڑا، لیکن دِل وسوسوں  سے  بھرا تھا کہ کہیں  وہ آدمی پھر نظر نہ آ جائے۔ نظر بھی آ جائے  تو وہ میرا کیا بگاڑے  گا۔ میں  نے  دل کو ڈھارس دی۔ دراصل میں  خوف کے  خول میں  ابھی تک بند تھا۔ 
	پھر اچانک وہ مجھے  سامنے  سے  آتا دکھائی دیا۔ میرے  کنّی کاٹنے  سے  پہلے  وہ سڑک پر پھیلے  ہوئے  ہجوم میں  کہیں  غائب ہو گیا۔ 
	پھر میں  نے  اسے  کئی بار دیکھا۔ ہر بار اُسے  دیکھ کر چھپنے  کی کوشش کی اور اس میں  کامیاب بھی رہا۔ برسوں  یہ تماشا ہوتا رہا  لیکن میں  اندر ہی اندر جیسے  ٹوٹتا جا رہا تھا۔ 
	پھر ایک دن شاید اس کی تیسری آنکھ نے  مجھے  دیکھ لیا۔ ہو سکتا ہے  یہ میرا وہم ہو لیکن یہ میرا وہم نہیں  تھا۔ اس نے  سچ مچ مجھے  دیکھ لیا تھا۔ 
	آج بھی وہ ایک جنازے  کے  ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ جنازے  کو کاندھا دینے  والوں  کی تعداد انگلیوں  پر گنی جاسکتی تھی۔ لیکن لگتا تھا جیسے  یہ جنازہ کسی غریب یتیم اور یسیر کا ہو۔ 
	میں  ایک غیر مرئی طاقت کے  زیر اثر جنازے  کے  ساتھ اور لوگوں  کی طرح چلنے  لگا۔ کبھی آگے۔۔۔ کبھی پیچھے 
	لوگ جنازے  کو قبر کے  منہ میں  پھینک کر چلے  گئے    لیکن وہ آدمی بدستور قبر کے  قریب کھڑا ہاتھ پھیلائے  دُعا مانگ رہا تھا۔ 
	میں  نے  اضطراری کیفیت سے  اِدھر ادھر دیکھا اور دبے  پاؤں  اس کے  قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔ اب میرے  دونوں  ہاتھ آسمان کی اور اٹھے  ہوئے  تھے۔ غیر  ارادی طور پر جب اس کے  بازوؤں  سے  ٹکرا گیا تو اس نے  وحشت ناک نگاہوں  سے  مجھے  دیکھا۔ 
	’’ اتنی لمبی دعا مانگنے  کا حق تجھے  کس نے  دیا۔ بول۔ چپ کیوں  ہے۔ کیا تو مجھ سے  بازی لے  جانا چاہتا ہے۔ ‘‘
	ویران قبرستان کے  ذرّے  ذرّے  میں  اُس کی آواز یوں  گونج رہی تھی جیسے  وہ ملبے  کی چیخ ہو۔ 
	قبرستان کے  سینے  پر رینگنے  والے  سارے  کیڑے  مکوڑے  اُچھل اچھل کر گر رہے  تھے  یا مر رہے  تھے۔ آسمان پر کالے  کلوٹے  کوؤں  کی کائیں کائیں  سے  زمین پھٹی جا رہی تھی۔ وہ مسلسل چیخے  جا رہا تھا۔ اتنی لمبی دعا مانگنے  کا یہ حق تجھے  کس نے  دیا۔ بول۔۔ بولتا کیوں  نہیں۔ کیا زبان پر تالے  پڑ گئے  ہیں۔ سن نہیں  رہا ہے  مردود۔  ‘‘
	میں  خوف کے  مارے  تھر تھر کانپ رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے  وہ زہریلا ناگ میرے  جسم میں  آہستہ آہستہ زہر کی بوندیں  انڈیل رہا ہو۔ مجھ پر ایک غنودگی سی طاری تھی۔ ایک عجیب سی غنودگی۔ 
	پھر وہ اچانک مجھ پر جھپٹ پڑا۔ جیسے  وہ آدمی نہیں  جنگل کا کوئی خونخوار شیر ہو۔ 
	دفعتاً اُس نے  میرے  اوپر اٹھتے  ہوئے  ہاتھوں کو دیکھا۔ اس کے  سیاہ ملگجے  ہونٹوں  پر ایک عجیب سی مسکراہٹ رینگ گئی۔ 
	جا۔  میں  نے  تجھے  معاف کیا۔ پھر اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے  لگا اور اپنے  دونوں  ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا دئیے۔ جیسے  وہ خدا سے  پھر ایک بار کچھ مانگ رہا ہو۔ 
٭٭٭
 

ایک زہریلی کہانی

	اس  نے  ابھی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ اس کی بیوی نے  گھبراہٹ بھرے  لہجے  میں  کہا۔آج مُنا پھر گھر سے  غائب ہو گیا ہے۔ 
	اسے  یقین تھا کہ اس خبر کو سننے  کے  بعد اس کا شوہر اسے  کافی ڈانٹ پلائے  گا کم از کم الٹے  پاؤں ہی گھر سے  اسے  ڈھونڈنے  کے  لیے  نکل پڑے  گا۔ مگر خلاف توقع وہ بڑے  اطمینان سے  گھر میں  داخل ہوا۔ منہ ہاتھ دھونے  کے  بعد کپڑے  تبدیل کیے  اور اپنی بیوی سے  چائے  کی ایک پیالی کی فرمائش کی۔ اد دوران اس کی بیوی نے  جو کچھ کہا۔ وہ اسے  محض سنتا رہا۔ 
	اپنے  شوہر کو اطمینان سے  چائے  پیتا ہوا دیکھ کر اسے  حیرانی ہوئی۔ یہ حیرانی اس وقت اور بڑھ گئی جب اس نے  دیکھا کہ اس کا شوہر چائے  پینے  کے  بعد اخبار بینی میں  مصروف ہو گیا ہے۔ اسے  ایک ثانیہ کے  لئے  یہ سب کچھ عجیب سالگا۔ اسے  یقین نہیں  آ رہا تھا کہ یہ آدمی اس کا شوہر بھی ہو سکتا ہے۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اس خبر کو سننے  کے  بعد اس نے  اپنا ذہنی توازن کھو دیا ہو۔ یا وہ یہ بھی سمجھ رہا ہو کہ منا ادھر ادھر بھٹک کرکسی طرح گھر آ جائے  گا۔ وہ سوچ کی گہرائیوں  میں  ڈوبی اپنے  آپ کو ایک ایسی بے  بس عورت سمجھ رہی تھی جس کا آخری سہارابھی ٹوٹ چکا ہو۔ 
	اچانک کسی نے  اس کے  گھر پر دستک دی۔ 
	’’باہر کوئی آواز دے  رہا ہے۔ ‘‘اس کی بیوی نے  اپنے  شوہر سے  مخاطب ہو کر کہا۔ جو اخبار پڑھنے  میں  کچھ اتنا منہمک تھا کہ اسے  اپنی بیوی کی آواز بھی اب پرائی سی لگ رہی تھی۔ 
	’’ہو سکتا ہے  کوئی مُنے  کو لے  آیا ہو۔ یا خود منے  نے  گھر پر دستک دی ہو۔ ‘‘
	اپنے  گھر پر خود منادستک دے  کیا کہہ رہی ہو۔ منا اگر ہوتا تو دروازے  ہی میں  سے  چیخ اٹھتا۔ ’’دروازہ کھولئے۔ ‘‘
	اس نے  اطمینان سے  اٹھ کر دروازہ کھولا۔ 
	’’ارے  الطاف تم۔ ؟‘‘اس نے  خوشی سے  بوکھلاتے  ہوئے  کہا۔ 
	’’کب آئے۔ ‘‘
	’’آج ہی۔ ‘‘
	’’اندر آ جاؤ یار۔ ‘‘
	اس کی بیوی نے  دروازے  میں  سے  جھانک کر دیکھا۔ ’’اس کم بخت کو بھی آج ہی آنا تھا۔ اب پھر چائے  کا دور چلے  گا۔ اور ہوا بھی وہی۔اس نے  چائے  کے  لیے  ہانگ لگائی اس کی بیوی نے  چائے  کی کیتلی کو بڑی بیزاری سے  چولہے  پر رکھا۔ اور وہیں  سوچتی کھڑی ہو گئی۔ 
	چائے  کی پیالیوں  کی آواز سن کر اس کے  شوہر نے  اندر باورچی خانے  میں  آ کر کہا۔ رات کے  کھانے  پر میں  اسے  روک رہا ہوں۔ دو ایک ڈھنگ کے  سالن تیار کر لینا۔ 
	اس کی بیوی نے  زہر آلود نگاہوں  سے  اس کی طرف دیکھا۔ مگر وہ کچھ کہے  بغیر چائے  کی کشتی ہاتھ میں  تھامے  ڈرائنگ روم میں  آ کر اپنے  ساتھی سے  گپیں  ہانکنے  لگا۔ 
	بڑی عمدہ چائے  بنائی ہے  بھابی نے ۔اس کا ساتھی کہہ رہا تھا۔ 
	’’شاید نشانہ غلط لگ گیا۔ ورنہ ایک آنچ کسر ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ‘‘
	ایسالگتا ہے  کنٹین کی گاڑی اور بدمزہ چائے  پیتے  پیتے  تمہارے  منہ کا مزہ بدل گیا ہے۔ 
	وہ یہ سب باتیں  سن رہی تھی۔ اس کا سارادھیان منے  ہی کی طرف تھا۔ وہ سوچ رہی تھی اس کا شوہر کتنا بے  حس ہے۔ اپنے  ساتھی کو رات کے  کھانے  کی دعوت دے  رہا ہے۔ جب کہ مُنا۔
	وہ سسکیاں  بھر کر رونے  لگی۔ 
	’’میں  نے  ابھی ابھی کسی کے  رونے  کی آواز سنی۔ بھابی تو ٹھیک ہے  نا۔ ‘‘
	اس کا ساتھی کہہ رہا تھا۔ 
	’’بالکل ٹھیک ہے۔ ‘‘
	’’اور مُنا۔؟‘‘
	’’ہٹاؤ یار منے  کے  ذکر کو۔ بات چیت کے  لیے  کوئی اور موضوع نہیں ہے  تمہارے  پاس۔ 
	اسے  امید نہیں  تھی کہ اس کا ساتھی بے  اعتنائی کی اس سطح پر اتر آئے  گا۔ 
	اب اس کی باتوں  میں  وہ گرمی  نہ تھی۔ پھر بھی وہ ایسے  تیسے  باتیں  کیے  جا رہا تھا لیکن اس کا سارادھیان بٹا ہوا تھا۔ 
	بے  حس آدمی مرتا بھی تو نہیں ۔اندرسے  ایک غصیلی آواز ابھری۔ 
	وہ سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ دیگر ہے۔ وہ اپنے  ایک قریبی یار سے  کچھ چھُپا رہا ہے۔ یہ آواز بھابی کے  علاوہ کس کی ہو سکتی ہے۔ مگر وہ تواس کے  سامنے  بیٹھا باتیں  کر رہا ہے۔ 
	آخر یہ کس قماش کا آدمی ہے۔ نہ اسے  اپنی بیوی سے  پیار ہے  اور نہ بچے  سے۔ 
	وہ پہلے  تو ایسا نہ تھا۔کہیں  ایسا تو نہیں ۔آج اس نے  بیوی سے  لڑائی کی ہو۔ یا بچے  کو کافی پیٹا ہو۔ 
	تمہیں  آج را ت کا کھانا میرے  ساتھ کھانا ہو گا۔ ‘‘وہ اپنے  ساتھی سے  اس طرح کہہ رہا تھا جیسے  وہ کھائے  بغیر چلا جائے  گا تو وہ بھوکا رہ جائے  گا۔ 
	اس نے  حامی بھر لی تو وہ خوش ہو گیا۔ 
	مگر بھابی کو خواہ مخواہ تکلیف ہو گی۔ ‘‘
	عورت تکلیف اٹھانے  کے  لیے  ہی پیدا ہوئی ہے۔ ‘‘
	یہ جواب بھی اس کے  لیے  کچھ غیر متوقع تھا۔ 
	’’کیا یہ ممکن نہیں  کہ بھابی بھی ہمارے  ساتھ کھانے  میں  شریک ہوں ؟
	’’تمہاری بھابی نے  سب سے  ملنا جلنا ترک کر دیا ہے۔ وہ کھانے  پر نہیں  آئے  گی۔ 
	اب اسے  یقین ہو چلا تھا کہ وہ فرحت و طمانیت اٹھ چکی ہے  جو کبھی اس نے  اس گھر میں  دیکھی تھی۔ 
	دفعتااًندرسے  کسی نے  دروازہ کھٹکھٹایا۔ 
	’’شاید کھانا تیار ہو گیا ہو۔ یہ کھانے  کی تیاری کا ہی الارم ہو سکتا ہے۔ 
	وہ اندر چلا گیا۔ 
	کھانا تو میں  نے  تیار کر دیا ہے۔ مگر منے  کو بھی ضرور بلوا لینا۔ پتہ نہیں  وہ کہاں  بھوکا مر رہا ہو گا۔ یہ اس کی بیوی کی آواز تھی۔ 
	جب وہ کھانے  کی کشتی لے  کر اندر آیا تو وہ کچھ بجھا بجھا سا لگ رہا تھا۔ 
	ابھی اس نے  ٹیبل پر کھانا چنا ہی تھا کہ اس کے  کانوں  سے  پھر ایک بار آواز ٹکرائی۔ ’’بے  حس آدمی مرتا بھی تو نہیں۔ ‘‘
	کیا تم بتاسکتے  ہو وہ بے  حس آدمی کون ہے  جو مرتا بھی نہیں ۔کہیں وہ میں  تو نہیں ہوں۔ 
	’’مگر بھابی۔۔۔ !!‘‘
	ہاں  جب سے  مُنا مرا ہے  وہ اسی طرح باتیں  کرتی ہے۔ !
 

استری

	آپ نے  دیکھا ہو گا کہ بعض لوگ ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے  ہی کو دوستی کا پہلا زینہ سمجھتے  ہیں۔ وہ آخری زینے  تک پہنچ بھی پاتے  ہیں  یا نہیں  یہ کوئی نہیں  جانتا۔ 
	دستگیر اِن ہی لوگوں  میں  سے  ایک تھے۔ فراخ ما تھا، چھوٹی چھوٹی کرنجی آنکھیں  سانولا سلونا رنگ۔ آنکھوں  پر چڑھا ہوا کالا سیاہ چشمہ۔ وہ اس وضع قطع سے  کوئی اور ہی ملک کے  باشندے  لگتے۔ سارے  محلے  کے  لگ انھیں  دستگیر چچا کہتے  تھے۔ جب بوڑھے  لوگوں  نے  بھی انھیں  چچا کہنا شروع کر دیا تو انھوں  نے  اپنی داڑھی بڑھا لی۔ 
	اُن کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا۔ وہ الکٹریکل سامان کے  واحد تاجر تھے، جنھیں  محلے  کا ہر چھوٹا بڑا آدمی جانتا تھا۔ 
	مجھے  استری خریدنی تھی لیکن کسی نہ کسی طرح بات ٹلتی جا رہی تھی۔ 
	ایک دن راستے  میں  ان سے  مڈبھیڑ ہو گئی۔ سلام کے  لیے  ہاتھ تو ان کا پہلے  ہی اٹھ چکا تھا اب صرف مسکراہٹ بکھیرنا باقی رہ گیا تھا۔ 
	’’ کوئی خاص بات ضرور ہے  جو تم مجھ سے  ملنے  آئے  ہو۔۔۔ ؟‘‘
	’’ راستے  میں  اگر اچانک یوں  مڈبھیڑ ہو جائے  تو کیا اسے  ملنا کہیں  گے۔ ‘‘
	’’یہ تو اپنی سوچ اور سمجھ کی بات ہے۔ تاہم پھر بھی۔۔۔ ‘‘
	بات یہ ہے  کہ مجھے  ایک استری خریدنی ہے  وہ دو ڈھائی سو روپے  تک۔ تم نے  استری کو اتنا سستا سمجھ لیا ہے   اور اس کی قیمت بھی لگا دی۔ 
	خیر اگلے  نکڑ پر میری دوکان ہے  وہ تمھیں  وہاں  مل جائے  گی۔ 
	جب اگلے  نکڑ پر پہنچ کر انھوں  نے   اپنی دوکان کھولی تو وہاں  میں  نے  دیکھا کہ بھانت بھانت کے  چھوٹے  موٹے  سامان کا ایک ڈھیر تھا۔ اسی ڈھیر  میں  مجھے  استری بھی نظر آئی۔ 
	’’ دیکھو بھئی یہ رہی اپنی دوکان، اور یہ رہی تمھاری استری۔ ‘‘
	میں  نے  الٹ پلٹ کر استری دیکھی۔ وہ مجھے  بیک نظر پسند آ گئی۔ 
	سوچ رہا تھا کہ مول تول کروں  تو بات بن بھی سکتی ہے  اور بگڑ بھی سکتی ہے۔ اس لیے  میں  نے  قیمت اُن ہی پر چھوڑ دی۔ 
	’’ لے  لیجیے۔۔۔ آپ سے  کیا مول تول۔۔۔ ‘‘
	’’ پھر بھی۔۔۔ ‘‘
	کیا چھوٹی چھوٹی باتوں  کو یاد رکھتے  ہو یار،پہلے  یہ بتاؤ کیا تم نے  سارنگ پور ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘
	ایسا تو نہیں  مگر بمبئی کی مہانگری میں  ٹامک ٹویسے  ضرور مار رہا ہوں۔ 
	اشرف تم نے  سارنگ پور چھوڑ کر بڑی غلطی کی ایک تو خاصی بھلی نوکری جاتی رہی۔ دوسرے  وہاں  قدم قدم پرایکسپلائیٹیشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔ ’’ایکسپلائیٹیشن کہاں  نہیں  ہے۔ ہر جگہ ہے۔۔۔ ‘‘
	کم از کم تم اپنی ماں  کی خاطر بمبئی چھوڑ کر سارنگ پور آ جاؤ تو زیادہ بہتر ہے۔ 
	’’ ماں  کی خاطر۔۔۔ ؟  کیا تمھیں  نہیں  معلوم کہ وہ میرے  جانے  کے  بعد ہی اچانک چل بسیں۔ اب مجھے  پرُسہ نہ دو۔ مجھے  ہمدردی جتانے  والوں  سے  ایک گھن سی آتی ہے۔ تم میرے  ایک اچھے  دوست ہو۔ یقین ہے  تم میری اس بات کا بڑا نہیں  مانو گے۔ جنید تمھیں  یاد ہے  میرا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔ آج کل وہ دبئی  میں  ہے۔ اس کمینے  نے  ہمیں  یک لخت بھلا دیا۔ 
	میں  نے  اسے  ماں  کی علالت کی اطلاع دی تو پتہ ہے  اس نے  کیا کہا۔ 
	’’ بیماری بوڑھوں  کا مقدر ہے۔ ‘‘
	پھر جب میں  نے  ماں  کی موت کا اُسے  ٹیلی گرام بھیجا تو اس نے  دو سطر ہی میں  مجھے  تڑخا دیا۔ 
	’’ موت برحق ہے۔ ویسے  میں  نے  یہاں  فاتحہ خوانی کا انتظام کروا دیا ہے۔ براہ کرم خط محبت کا پیمانہ نہ بنائیے۔ میں  ہمیشہ یہاں  مصروف رہتا ہوں۔ ‘‘
	اس کے  بعد نہ میں  نے  اسے  خط لکھا اور نہ اس نے۔ اب میں  نے  اُس کمینے  کو بالکل ہی بھلا دیا ہے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے  سن کر کیا کرو گے۔ سوچ رہا ہوں  ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایک چھوٹی سی دوکان کھول لوں۔ بھنڈی بازار میں  ایک جگہ بھی دیکھ لی ہے  ورنہ فٹ پاتھ تو ہے  ہی۔ اس ذلیل نے  اگر چاہا ہوتا تو میں  یہاں  یوں  دھکے  نہ کھاتا۔ خیر اللہ بڑا کارساز ہے۔ کچھ نہ کچھ تو سبیل نکل ہی آئے  گی۔ اب سناؤ تمھارا کیا حال  ہے۔ کیا اب وہی ایکسپورٹ اور امپورٹ والا چکر۔۔۔ ‘‘
	جب بھیڑ چھٹی تو پتہ چلا کہ چینا بازار میں  جو بم دھماکے  ہوئے  وہ دو مخصوص میاں  بھائیوں  کا کارنامہ تھا۔ انھوں  نے  اپنی ماؤں  بہنوں  کا بدلہ چکایا تھا۔ 
	بہر حال جتنے  منہ اتنی باتیں۔ 
	مگر صدیق بھائی کو کیوں  گولی ماردی گئی۔ اُسی گولی سے  وہ شنکر کو بھی مارسکتے  تھے، جو سماج دشمن آدمی ہے۔ 
	شنکر کو گولی مارنے  کا مطلب تم سمجھتے  ہو ؟
	ہاں  سمجھتا ہوں۔ 
	ایک بڑا فرقہ وارانہ فساد۔ 
	کیا تم یہی چاہتے  ہو ؟
	کون  فساد چاہتا ہے۔ عام لوگ تو صرف امن چاہتے  ہیں۔ 
	پھر شنکر کو گولی نہ مارو۔ 
	’’اس کا مطلب ہے  کہ وہ بلا ضرورت گولیاں  چلاتا رہے  اور ہم لوگ تماشا دیکھتے  رہیں۔ ‘‘
	ہاں  ضرورت پڑنے  پر چوڑیاں  بھی پہن لیں۔ 
	’’صدیق بھائی کی میت میں  وہاں  نہیں  چلو گے۔ ‘‘
	’’ نہیں  وہاں  کرفیو ہے۔ وہاں  جانے  کی اجازت ان ہی لوگوں  کو مل سکتی ہے  جو ان کے  قریبی عزیز ہوں۔ پھر یہ جھوٹی گواہی کون دے  گا کہ ہم ان کے  قریبی عزیز ہیں۔ پھر یوں  بھی میرا ان سے  کیا تعلق ؟  روز کوئی نہ کوئی صدیق بھائی مرتا ہی ہے۔ گو کہ گڑبڑ ختم ہو چکی ہے  مگر نہ جانے  یہ احساس مجھے  کیوں  ہو رہا ہے۔ جیسے   گڑبڑ پھر شروع ہو جائے  گی۔ 
	’’ بہتر یہی ہے  کہ تم یہ استری یہیں  رکھ دو۔ حالات ٹھیک ہونے  پر لے  جانا۔ 
	لیکن میں  نے  دستگیر صاحب کی بات نہیں  مانی۔ 
	پھر راستے  میں  یہ افواہ پھیل گئی کہ کرفیو اب لگنے  ہی والا ہے۔ ’’لوگ اپنے  اپنے  گھروں  کو واپس ہو جائیں۔ ‘‘
	لوگ دھڑا دھڑسہمے  سہمے  مختلف راستوں  سے  گزر رہے  تھے۔ تنگ راستوں  اور گلیوں  سے  گزرنے   والوں  کے  چہرے  عجیب تھے۔ 
	جب میں  نے  گلی سے  مڑ کر شاہ پر پہنچا تو ایک پولیس والے  نے  مجھے  آگے  جانے  سے  روک دیا۔ میں  نے  جب اس  سے  احتجاج کیا تو اس نے  گرجدار آواز میں  پوچھا  یہ ہاتھ میں  کیا ہے ؟
	’’ استری۔۔۔ جو ابھی ابھی میں  نے  دوسو روپے  میں  خریدی ہے۔ ‘‘
	ظاہر ہے  استری میں وائر بھی ہوں  گے۔ 
	ہاں  ایک دو تو رہتے  ہی ہیں۔ 
	وائر موٹے  ہیں  یا پتلے  ؟	
	دونوں۔ 
	پھر تو معاملہ اور بھی سنگین ہے۔ تمھیں  تھانے  چلنا ہو گا۔ 
	کس جرم میں۔۔۔ ؟
	’’ یہ وہیں  پتہ چلے  گا۔ ‘‘
	چھٹکارے  کا کوئی راستہ  ؟
	ایک ہی۔ تم یہ استری میرے  حق میں  چھوڑ دو۔ یہ استری میں  نے  دستگیر بھائی کے  پاس دیکھی تھی۔ 
	کیا تم دستگیر بھائی کو جانتے  ہو ؟
	ہاں  دستگیر بھائی کو بھی اور گرجا شنکر کو بھی۔ 
	یہ گرجا شنکر اچانک کہاں  سے  آ دھمکا۔۔۔ تم اُسے  کیوں  گرفتار نہیں  کرتے۔ 
	وہ اپنے  پیچھے  کوئی ثبوت نہیں  چھوڑتا۔۔۔ اس لیے  ہر بار بڑی صفائی سے  بچ نکلتا ہے۔ تم بھی وہی تکنیک استعمال کر سکتے  ہو۔ 
	میں  نے  اس سے  چھٹکارا حاصل کرنے  کے  لیے  اپنی جیب سے  ہاتھ ڈالا اور دس کے  دو نوٹ اس کے  ہاتھ میں  تھما دئیے۔ 
	اس نے  اپنے  ہاتھ کو جھٹکا دے  کر یوں  ہٹا لیا جیسے  وہ نوٹ نہ ہوں  کوئی خطرناک بچھو ہوں۔ 
	مجھے  پیسے  نہیں  استری چاہیے۔ 
	مگر یہ استری ہی کیوں ؟ تم کوئی دوسری استری بھی تو لے  سکتے  ہو۔ 
	لے  تو سکتا ہوں۔ مگر۔۔۔ اس پر وہ لکھا نہ ہو گا۔ 
	اس پر تو کچھ بھی لکھا نہیں  ہے۔ 
	غور سے  دیکھو ہے۔ باریک حروف میں  اوم۔۔۔ سیدھی جانب۔ 
	میں  نے  دوبارہ استری کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ کہیں  بھی اوم کے  شبد نہیں  تھے۔ 
	عجیب بات ہے، تم لوگ اپنے  خدا کو تو دیکھ لیتے  ہو مگر تمھیں  دوسروں  کا بھگوان دکھائی نہیں  دیتا۔ شاید آج کے  جھگڑے  کی یہی وجہ ہو۔ 
	میں  نے  مزید کچھ سوچے  بغیر اُسے  استری دے  دی۔ 
	اس نے  مجھے  کیا دیا یہ نہ پوچھیے  !  اور کل کا اخبار ضرور دیکھیے  کیا پتہ یہ استری کل کون سا روپ دھار لے۔۔۔ ! !
٭٭٭
 
گریباں  گیر

	برسوں  بعد میں  نے  اسے  شہر کے  ایک معمولی ہوٹل میں  داخل ہوتے  ہوئے  دیکھا۔ سوچا کہ دو گھڑی اسے  روک کر بات کر لوں  اور پوچھوں  ارے  یار ان بارہ برسوں  میں  تم نے  کہاں  کہاں  کی خاک چھانی۔ شادی بھی کی یا  ابھی تک لنڈورے  ہی رہے۔ اگر شادی کی تو آبادی میں  کس حد تک اضافہ کیا۔ ضروری اور غیر ضروری سب ہی باتیں، لیکن جذبے  میں  کوئی ایسی شدت نہ تھی کہ اس سے  کم از کم اس کی خیریت ہی پوچھ بیٹھتا۔ یوں  بھی سڑک کی دھکم پیل سے  طبیعت اوب سی گئی تھی۔ جس بس سے  اسے  گھر لوٹنا تھا، اس کے  آنے   میں  ابھی کافی دیر تھی  اس لیے  اس نے  آٹو رکشا کو ترجیح دی اور دیکھتے  ہی دیکھتے  وہ گھر پہنچ گیا۔ گھر کا دروازہ خلافِ معمول کھلا تھا، اس نے  دہلیز پر پہلا ہی قدم رکھا تھا کہ اس کے  کانوں  سے  ایک آواز ٹکرائی۔ اتنے  دنوں  بعد آپ آئے  ہیں  تو بغیر کھانا کھائے  میں  آپ کو جانے  نہ دوں  گی۔ ایک آدھ گھنٹہ مزید آپ انتظار کر لیں  تو وہ آ ہی جائیں  گے۔ لیجیے  وہ آ گئے۔ 
	تسلیمات۔ جیتے  رہو۔ اور خوش رہو۔ 
	آپ نے  اپنے  آنے  کی کوئی خبر نہیں  دی ورنہ اسٹیشن ضرور آتا۔ 
	تم تو جانتے  ہی ہو کہ خط لکھنا مجھے  کتنا فضول سا فعل لگتا ہے۔ شاید اسی سبب میرے  احباب مجھ سے  ہمیشہ شاکی رہے  اور ایک ایک کر کے  جدا بھی ہو گئے۔ اچھا آصف میاں  چھوڑو ان باتوں  کو۔ تمھاری صحت تو ٹھیک ٹھاک ہے  نا۔ 
	ٹھیک ہی سمجھ لیجیے۔ 
	تمھارے  اس جملے  ہی سے  ظاہر ہو رہا ہے  کہ بیماری سے  تم نے  ابھی تک  چھٹکارا حاصل نہیں  کیا۔ مجھے  دیکھو قریب قریب ساٹھ کے  پیٹے  میں پہنچ چکا ہوں۔ کیا مجال کہ کوئی بیماری میرے  قریب آئے۔ ‘‘
	اس کے  خسر نے  اپنی صحت کے  بارے  میں  ابھی ابھی جو بات کہی تھی وہ کچھ غلط نہ تھی۔ لیکن پتہ نہیں  اُسے  یہ کیوں  احساس ہو رہا تھا جیسے  باتوں  ہی باتوں  میں  انھوں  نے  اس کی صحت کی تضحیک کر دی ہو۔ تندرستی ہزار نعمت سہی لیکن بڑے  میاں  کو یہ حق کس  نے  دیا کہ وہ نوجوانوں  کی توہین کرے۔ نہیں  نہیں  یہ محض اس کی بدگمانی ہے  وہ تو ایک بڑے  شریف آدمی ہیں۔ 
	اسی دوران چائے  کی دو پیالیاں  لیے  اس کی بیوی نے  قریب آ کر کہا۔ ’’لیجیے  آپ بہت تھکے  ماندے  لگ رہے  ہیں۔ گرم گرم چائے  پی لیجیے۔ اس سے  تھکن دور ہو جائے  گی۔ ‘‘
	جب اس کے  اباّ نے  تیزی سے  چائے  پی لی تو اس نے  کہا۔ کیا اباّ جی ایک اور کپ لادوں۔ ’’میں  بیک وقت دو سے  زیادہ کپ چائے  نہیں پیتا۔ اچھا اب اجازت دو بیٹا۔ لالہ رام بھی میرے  ساتھ ہی لوٹیں  گے۔ 
	ان کے  ہاں  کار جو ہے۔ ‘‘
	چلیے  سفر اچھا گزرے  گا۔ ہم سفر جو اچھا ٹھہرا۔ 
	پھر خدا حافظ کی آواز دور تک گونجتی رہی۔ 
	جب وہ چلے  گئے  تو اس کی بیوی نے  کہا۔ پتہ نہیں  اباّ جی آپ کی صحت کے  بارے  میں   اتنے  مشکوک کیوں  ہو گئے۔ حالانکہ کوئی خاص بات تو نہیں  ہے۔ ارے  ہاں  میں  یہ کہنا ہی بھول گئی کہ آج حسن دوپہر میں  آیا تھا۔ حالت اتنی بری بھی نہ تھی تاہم وہ تمھیں  نہ پا کر مایوس سا لگ رہا تھا۔ 
	مگر حسن کو تم کیسے  جانتی ہو۔ 
	جاننے  کی بھی خوب رہی۔ اس نے  جو نام بتایا وہ میں  نے  آپ سے  کہہ دیا۔ پتہ نہیں  اس سے  آپ کا کیا رشتہ ہے۔ ‘‘
	رشتہ تو بڑا نازک ہے۔ وہ میرادوست ہے  بلکہ کبھی تھا۔ وہ آج ہی دکھائی دیا، لیکن۔۔۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ 
	اس کی اس خاموشی کو اُس کی بیوی نے  شاید بھانپ لیا۔ کم از کم اس سے  مل لیا ہوتا۔ اس سے  ملنا ایسا ہی ہوتا جیسے  کوئی اپنے  آپ سے  ملے   اور میں  اپنے  آپ سے  مل کر رسوا ہونا نہیں چاہتا۔ 
	’’میں  آپ کا مطلب نہیں  سمجھی ؟‘‘
	سمجھ کہ بھی کیا کرو گی۔ یہ ایک لمبی داستان ہے۔ ’’بس تم یہ بات دھیان میں  رکھو، جب بھی وہ یہاں  آئے  اُس سے  کہہ دینا کہ میں  گھر پر نہیں  ہوں۔ ‘‘
	’’اس سے  اتنا گھبرانے  کی کیا ضرورت ہے۔ ‘‘
	مگر مجھے  غریبی سے  نفرت ہے۔ 
	’’نفرت کا یہ حق کس نے  آپ کو دیا۔ وہ آپ سے  کچھ مانگنے  تو نہیں  آیا تھا۔ کیا عجب کہ وہ کسی اور کام سے  آیا ہو۔ ‘‘
	پھر ایک دن ضرور آئے  گا۔ میں  اس کا سامنا کرنے  کا شاید اہل نہیں  ہوں۔۔۔ میں نے  اب تک جو کچھ بھی پونجی جمع کی ہے    وہ ہمارے  لیے  ہے  اُس کے  لیے  نہیں۔ قبل اس کے  وہ کچھ اور کہتا  گھر کی دہلیز پر وہ مسکراتا کھڑا تھا۔ اُس کے  ہونٹوں  پر طنز کی کاٹ تھی جیسے  اس نے  ہماری سب باتیں  سن لی ہوں۔ 
	’’جب گھر کی دہلیز پر قدم رکھ ہی چکے  ہو تو اندر ہی آ جاؤ۔ ‘‘
	وہ ایک شانِ بے  نیازی کے  ساتھ کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ مجھے  سردست کل کا اخبار چاہیے۔ 
	آج کا کیوں  نہیں۔ 
	کیونکہ میری زندگی کا کل آج سے  میل نہیں  کھاتا۔ 
	لگتا ہے  کچھ پریشان سے  ہو۔ 
	’’ نہیں۔۔۔ میں  دکھی ضرور ہوں  لیکن پریشان نہیں۔ ‘‘
	’’بات ہیر پھیر کر وہیں  پہنچتی ہے  جس سے  تم گریزاں  ہو۔ ‘‘
	میں  نے  کل ہی  (ENDO SCOPY)  کروائی ہے۔ بڑا خراب ٹسٹ ہوتا ہے  یہ۔ اللہ کا کرم ہے  کہ کوئی  گروتھ (Growth)  نہیں ہے۔ لیکن مرض سی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ علاج کرانے  کی سکت نہیں  ہے۔ لوگوں  نے  مجھے  مشورہ دیا کہ میں  کسی خیراتی اسپتال میں  اڈمٹ ہو جاؤں۔ تمھارا کیا مشورہ ہے  ؟‘‘
	میں  نے  آج تک کسی کو کوئی مشورہ نہیں  دیا۔ دراصل کسی بھلے  مانس نے  بھی مجھ سے  مشورہ مانگنے  کی زحمت نہیں  کی۔ ‘‘
	تو گویا تم اب اتنے  گئے  گزرے  ہو گئے  ہو۔ 
	گئے  گزرے  تو تم ہو۔ میں  نہیں۔ اس کا ثبوت تمھارا یہ چہرہ ہے۔ خیر یہ بتاؤ برسوں  بعد اچانک تمھیں  میری یاد کیسے  آ گئی۔ ‘‘
	وہ اس طرح کہ تم میرے  مقروض ہو۔ چاہتا ہوں  کہ تم سے  کچھ لے  کر ہی اٹھوں۔ میں  اور تمھارا مقروض۔۔۔ ؟ کیا پاگل ہو گئے  ہو ؟ ‘‘
	اس کمنٹ  پر بجائے  وہ شرمندہ ہونے  کے  واقعی کسی پاگل کی طرح قہقہہ لگا تا رہا۔ جی چاہ رہا تھا کہ اس کا گلا گھونٹ دوں، لیکن اب وہ بید کی طرح کانپ رہا تھا۔ 
	تم تو بے  طرح کانپ رہے  ہو۔ تھوڑی دیر سکون سے  بیٹھو۔ چائے  پیو اور چلتے  بنو۔ 
	کہاں  جاؤں۔ کوئی منزل، کوئی ٹھکانہ،کوئی شیلٹر۔ میرا تو کوئی گھر نہیں  ہے  جہاں  پاؤں  پھیلائے، جب جی چاہا سوجاؤں۔ 
	تو پھر مسلسل سڑک پر چلتے  رہو۔ نیند جب غلبہ پالے  گی تو تم کہیں نہ کہیں  سر کے  بل گر جاؤ گے۔ لوگوں  کی ہمدردی حاصل کرنے  کے  لیے  اس سے  بہتر کوئی اور حربہ نہیں۔ کم از کم اس بہانے  دوا خانہ پہنچا دئیے  جاؤ گے۔ تمھارے  السر کا علاج شاید وہیں  ہو جائے۔ یہاں  تمھیں  چائے  کے  علاوہ کچھ نہ ملے  گا۔ ‘‘
	’’ سردست چائے  ہی سہی۔ ‘‘
	اُسے  حیرانی ہوئی کہ وہ بڑی ڈھٹائی کے  ساتھ اب چائے  کا مطالبہ کر رہا تھا۔ یہ سودا اس کے  لیے  مہنگا نہ تھا اس لیے  اس نے  بیوی کو آواز دے  کر دو کپ چائے  کی فرمائش کی۔ 
	اُس کی بیوی چائے  کی دو پیالیاں  تھامے  اب سامنے  کھڑی تھی۔ 
	بھابی آپ کا بھی جواب نہیں،مگر میں  چائے  نہیں  پیوں  گا۔ کہاں  دو ہزار روپے،کہاں  یہ حقیر سی چائے۔ ‘‘
	’’کوئی ثبوت ہے  آپ کے  پاس ؟‘‘
	کل ثبوت ہی کے  ساتھ آؤں  گا۔ یہ کہہ کر وہ لمبے  لمبے  ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے  باہر نکل گیا۔ 
	’’حسن نے  جو کچھ کہا۔ کیا وہ سچ ہے  ؟ ‘‘
	’’ کیا اس کے  ساتھ تم بھی پاگل ہو گئی ہو۔ وہ جھوٹا ہے  ایک دم جھوٹا۔ ‘‘
	’’ مگر اس نے  جو کل آنے  کی دھمکی دی ہے    اس کا کیا کرو گے۔ ‘‘
	’’ میرے  پاس اس کا بھی علاج ہے۔ تم دیکھ لینا وہ کل نہیں  آئے  گا۔ ‘‘
	’’ کل نہ سہی کچھ دن بعد بھی تو آ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے  کہ آفس ہی میں  آ دھمکے۔ ‘‘
	’’ تم اطمینان رکھو وہ آفس بھی نہیں  آئے  گا۔ اب تم جھٹ پٹ میرے  لیے  چائے  بناؤ سر پھٹا جا رہا ہے۔ ‘‘
	’’ابھی تو آپ نے  پی ہے۔ ‘‘
	’’ میں  نے۔۔۔ ؟‘‘
	’’ہاں  آپ نے۔۔۔ یہ پیالی گواہ ہے۔ ‘‘
	’’تم بھی ثبوت اور گواہی کی باتیں  کرنے  لگیں۔ خیر اخبار ہی لادو۔ صبح میں  نے  صرف سرخیاں  ہی دیکھی تھیں۔ ‘‘
	’’ کیا متن کا زہر پی سکو گے۔۔۔ ؟‘‘
	’’ کیا بک رہی ہو ؟ ‘‘
	’’لگتا ہے   تم نے  وہ نظم نہیں  پڑھی۔ ‘‘
	’’ کون سی نظم۔۔۔ ‘‘
	’’ وہی جس کا کوئی عنوان نہ تھا۔ ‘‘
	سرخیاں  اخبار کی پڑھ لو۔ 
	آج۔ 
	اتنا ہی کافی ہے۔ 
	کون متن کا زہر پیے  گا۔ 
	کس کو اتنی فرصت ہے۔ 
	یہ تو روز کا رونا ٹھہرا۔ 
	ارے  یہ دروازے  کی زنجیر کون پیٹ رہا ہے۔ کہیں  وہ پھٹیچر آدمی پھر نہ آ دھمکا ہو۔ ‘‘
	’’اُس نے  تو کل آنے  کی دھمکی دی ہے۔ ‘‘
	کل اور آج دونوں  اس کے  لیے  برا بر ہیں، مگر یہ کوئی اور خبیث ہے۔ 
	اس نے  باہر آ کر دیکھا۔ دور دور تک کوئی نہیں  تھا۔ 
	دوسرے  دن آفس سے  لوٹتے  ہوئے  جب اس نے  پہلا قدم دہلیز پر رکھا تو سب سے  پہلا سوال اس نے  یہی کیا۔ کیا وہ خبیث آیا تھا ؟
	نہیں۔ 
	میں  نے  تم سے  کہا تھا نہ کہ اب وہ یہاں  نہیں  آئے  گا۔ کسی کھڈ یا خیراتی اسپتال میں  پڑا سسک رہا ہو گا۔ چھوٹے  لوگوں  کا یہی حال ہوتا ہے۔ 
	تیسرے  دن بھی اُس نے  یہی سوال کیا۔ 
	۔۔۔ 
	’’کیا وہ آج آیا تھا۔۔۔ ؟‘‘
	نہیں۔۔۔ 
	کیا وہ آج۔۔۔ ؟
	نہیں۔۔۔ نہیں  نہیں۔ 
	سر پک گیا نہیں  کہتے  کہتے۔۔۔ ‘‘
	کیا تم جانتی ہو وہ آنے  والا کون تھا۔۔۔ ؟
	’’ ہاں  جانتی ہوں۔ ‘
	’’کیسے۔۔۔ ؟ ‘‘
	جس طرح تم جانتے  ہو۔۔۔ !  !
٭٭٭
 
دو گز زمین

	صبح ہی بستر سے  اُٹھ کر اُس نے  مُندی مُندی آنکھوں  سے  اپنے  کمرے  کا جائزہ لیا۔ ڈراؤنے  خواب کے  ریزے  اس کی آنکھوں  کے  حلقے  پر ابھی تک نیزے  کی طرح دھنسے  ہوئے  تھے۔ اچانک اس کی نگاہ سامنے  کھڑی ہوئی چوبی الماری سے  لگے  اس پرانے  شیشے  پر گئی جہاں  ایک بھیانک سایہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ اس کے  چہرے  پر سفید کبوتر کے  پروں  کا ایک گھونسلا لٹک رہا تھا اور ہونٹوں  سے  ذرا اوپر کالی مونچھوں  کا ایک لچھّا۔ نہیں۔۔ ‘‘ اس کے  حلق سے  ایک بھیانک چیخ نکل گئی۔ گھر کی بیمار اور کمان کی طرح جھکی ہوئی دیواریں  جیسے  کانپ کانپ گئیں   اور سامنے  درخت کی جھولتی ہوئی شاخوں  پر بیٹھے  ہوئے  پرندے  ہڑبڑا کر آسمان کی پنہائیوں میں  ڈوب گئے۔ 
	اس کی بیوی وحشت کا لبادہ اوڑھے، حیرت سے  اس طرح اُسے  دیکھ رہی تھی جیسے  وہ اُس کا شوہر نہیں  کوئی اور آدمی ہو۔ 
	وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا برآمدے  میں  آیا اور آپ ہی آپ بڑبڑاتا ہوا یکبارگی گھر سے  نکل پڑا۔ 
	’’اب وہ آدمی زمین کا یہ ٹکڑا تمھیں  کسی قیمت پر نہیں  دے  گا۔ بیوی کی تھر تھراتی ہوئی آواز بھی اب اسے  بھاری پتھر کی طرح ضرب لگاتی محسوس ہوئی اُس کے  قدم اور تیز ہو گئے۔ تیس برس کی طویل مسافت۔۔۔ ٹیڑھی میڑھی بے  ڈھنگی سڑکیں۔۔ بھاگ دوڑ، چیخ و پکار۔۔ گھٹن، بے  چارگی۔ 
	کیا تم سمجھتے  ہو وہ آدمی زمین کا یہ ٹکڑا ہمیں  دے  دے  گا۔ اب تو اس کی قیمت بھی آسمان کو چھو  رہی ہے۔ ‘‘  یہ اس کی بیوی کی آواز تھی جو اس کا مسلسل تعاقب کر رہی تھی۔ 
	اچانک اس نے  پیچھے  مڑ کر دیکھا۔ اب وہ یادوں  کی عمیق کھائی میں  اوندھے  منہ گرا پڑا تھا۔ سویرے  کا ملگجا  اجالا  سڑک پر پھیلے  ہوئے  مکانوں  کی چھتوں  پر آہستہ آہستہ اتر رہا تھا اور اسے  بہت دور جانا تھا۔ میلوں  دور شہر کی ساری دکانیں  سوئی ہوئی تھیں  اور ان کے  منہ میں  دھنسے  ہوئے  کالے  بے  ڈھنگے  سے  تالے  ایک عجیب طرح کی ویرانی کا احساس دلا رہے  تھے۔ ٹیکسی اسٹینڈ پر موت کا سا سکوت تھا اور ڈرائیور حلقہ بنائے  چپ چاپ کھڑے  تھے۔ ’’ ٹیکسی ‘‘اس نے  آواز دی۔ اور ٹیکسی کی آواز کے  ساتھی ہی سامنے  کھڑے  ہوئے  ڈرائیوروں  میں  سے  کسی منچلے  نے  کہا۔ ٹیکسی بات نہیں  کرتی اور ڈرائیور کہتا ہے  کہ آج ہڑتال ہے۔ 
	’’  اور وہ اسکوٹر والے۔  ؟ ‘‘
	’’  وہ بھی ہڑتال پر ہیں۔ ‘‘
	’’  رکشا والے۔  ‘‘
	’’  وہ بھی۔۔۔۔ ‘‘
	اب اس کے  لیے  صرف ایک ہی راستہ تھا کہ وہ پیدل چلے،اور وہ سڑک پر چلتا رہا،چلتا رہا۔ درمیان میں  اسے  دو ایک ٹیکسی کاریں  سڑک پر دوڑتی ہوئی دکھائی دیں، لیکن اس میں  ڈرائیور بیٹھے  ہوئے  تھے۔ مانگیں۔ مکمل اور ادھوری۔۔ مضبوط اور توانا۔  لاٹھی چارج۔ آنسو گیس۔ گولی۔  دنگافساد۔  آگ اور پھر پانی۔ بچپن سے  اس نے  یہی سب کچھ دیکھا تھا۔ راستہ چلتے  چلتے  وہ ایک عجیب حادثے  سے  دوچار ہو گیا۔ وہ جس آدمی سے  زمین کے  اس ٹکڑے  کو خریدنے  جا رہا تھا اس کا نام اس کے  ذہن سے  معاً محو ہو گیا تھا۔ ذہن پر بار ڈالنے  کے  باوجود اسے  اب اس کا نام یاد نہیں  آ رہا تھا۔ اس نے  ’الف‘ سے  لے  کر ’ی‘ تک کی گردانیں  کر ڈالیں لیکن اُس کا نام کسی بھی حرف سے  شروع ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ 
	مگر اچانک وہ راستے  ہی میں  اسے  نظر آ گیا۔ اُس کے  ساتھ دو اور آدمی بھی تھے  جو اس کے  آگے  پیچھے  اس طرح چل رہے  تھے  جیسے  وہ اس کے  باڈی گارڈ ہوں۔ 
	اُس کا جی چاہا کہ اسے  پکارے، مگر کس نام سے۔ وہ کوفت اور غصے  سے  آپ ہی آپ بلبلا اٹھا۔ لیکن اس آدمی نے  چلتے  چلتے  اچانک پلٹ کر اسے  دیکھ ہی لیا  اور اس کے  ساتھ والے  دونوں  آدمی بھی اس کے  تتبع میں  وہیں  اس کے  برابر ہی ٹھہر گئے۔ 
	’’   ارے  تم۔  صبح ہی صبح کدھر نکل گئے۔  ‘‘
	’’  تمھارے  ہی ہاں  جا رہا تھا۔ 
	’’  کہو کوئی خاص بات۔ ‘‘
	’’  وہ زمین  ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۔۔ 
	’’   وہ اب تمھیں  نہیں  ملے  گی۔ ‘‘
	آخر کیوں۔ ؟  ‘‘
	تم نے  بہت دیر کر دی۔ اس کا وقت گزر چُکا۔ 
	مگر تم نے  تو وعدہ کیا تھا۔ ‘‘
	’’  وعدہ۔۔۔ ؟ اگر ہر آدمی وعدہ جیسے  بے  معنی لفظ کاپاس رکھے  تو اس بھاگتی ہوئی دنیا کا کوئی اور نام رکھنا ہو گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ تم خوابوں  کی دنیا میں  رہتے  ہو۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ آگے  بڑھ گیا۔ اس کے  ساتھ والے  دونوں  آدمیوں  نے  جاتے  جاتے  اسے  اس طرح دیکھا جیسے  کہہ رہے  ہوں۔ سُن لیا ہے  نا جواب۔ 
	وہ اس کے  اس ظالمانہ برتاؤ سے  پگھل کر رہ گیا تھا۔ بدمعاش۔  کمینہ۔ سفلا۔ اب راستہ چلتے  ہوئے  اسے  احساس ہو رہا تھا جیسے  وہ اپنی متاعِ عزیز کو کہیں  دور دفن کر آیا ہو۔ 
	وہ لڑکھڑاتے  قدموں  سے  آگے  بڑھتا گیا۔ سڑک سے  لگے  قبرستان سے  اچانک ایک آواز اس کے  کانوں  سے  ٹکرائی اور آگے  چل کر یہی آواز چند ملی جلی آوازوں  میں  تبدیل ہو گئی۔ 
	اسحاق ذرا کدال زور سے  چلانا یار۔ دیکھ نہیں  رہا ہے  لاش زمین پر کب سے  ہمارے  رحم و کرم پر پڑی ہوئی ہے۔ اسے  جلدی زمین کے  منہ میں  ٹھونس دے۔ ‘‘  نعش بھاری نہیں  ہے۔ یہ ٹکڑا ہی اس کے  لیے  کافی ہے۔ اس نے  پیشانی پر آئے  ہوئے  پسینے  کے  قطروں  کو اپنی قمیض سے  پونچھتے  ہوئے  کہا۔ 
	’’  دیکھ کوئی قبرستان میں  داخل ہو رہا ہے۔ کون ہو گا وہ۔۔۔۔ ‘‘
	’’  کوئی بھی ہو گا سالا۔۔ اپنے  کو اس سے  کیا لینا دینا۔ ‘‘
	’’  مگر وہ تو اسی طرف آ رہا ہے۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ وہ اخبار کا رپورٹر ہو۔ 
	’’  یہ نعش کس کی ہے۔ ؟ ‘‘
	’’  تمھیں  اس سے  کیا۔ ‘‘
	’’  کیا نام تھا مرنے  والے  کا۔ 
	نعش کا کوئی نام نہیں  ہوتا۔ نعش بے  نام ہوتی ہے۔ نام زندگی ہی تک چلتا ہے۔ جب سانس اکھڑ جاتی ہے  تو سانس کے  ساتھ ہی نام بھی دفن ہو جاتا ہے  اور نعش لا وارث ہو جاتی ہے۔ ‘‘
	’’  مگر نعش پر تو کفن بھی لپٹا ہوا نہیں  ہے۔ یہ نعش کی بے  حرمتی ہے۔ ‘‘
	’’  ہم نے  جتنی بھی آج تک نعشیں  دفن کی ہیں  وہ بے  کفن ہی تھیں۔ ‘‘
	’’  بڑے  ماڈرن گورکن معلوم ہوتے  ہو۔ ‘‘  اس کے  لہجے  میں  طنز تھا۔ 
	مگر یہ سب کچھ تو اوپر والے  ہی کے  حکم سے  ہوتا ہے، ہم تو سب تابعدار ہیں۔ ‘‘
	وہ یکبارگی قبرستان سے  نکل کر سڑک پر آ گیا۔ اُسے  یہ دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی کہ اس کے  سامنے  سے  اب جو بھی لوگ گزر رہے  تھے  اُن کے  چہروں  پر سفید پروں  والے  کبوتروں  کے  گھونسلے  لٹکے  ہوئے  تھے  اور ہونٹوں  سے  ذرا پرے  کالی اور سیاہ مونچھوں  کے  کئی لچھے۔ 
	اس کے  حلق سے  ایک بھیانک چیخ نکل گئی اور درختوں  کی جھولتی ہوئی شاخوں  پر بیٹھے  ہوئے  پرندے  پھر ایک بار آسمان کی پہنائیوں  میں  ڈوب ڈوب گئے۔ 
٭٭٭
 

کنواں، آدمی اور سمندر

	میں  نے  دروازے  کی کُنڈی لگائی،تالا گھمانے  کی کوشش کی تو لگا جیسے  تالے  میں  کوئی اچانک خرابی پیدا ہو گئی ہو۔ غور کیا تو یہ بات سمجھ میں  آ گئی کہ میں  نے  جو چابی استعمال کی ہے  وہ دراصل دوسرے  تالے  کی ساجھیدار ہے۔ اُس کا اس تالے  سے  کوئی تعلق نہیں  ہے۔ میں  نے  لوٹتے  قدموں  سے  اندر جا کر دیکھا۔ چابی میز پر دھری تھی۔ اس بار تالے  میں  چابی گھمائی تو ایک لمحہ بعد ہی تالے  کا منہ بند ہو گیا  اور میں  سیڑھیاں  پھلانگتا ہوا نیچے  آ گیا۔ 
	سڑک پر کافی گہما گہمی تھی، گو ابھی شام ہونے  میں  دیر تھی لیکن بعض منچلے  دکانداروں  نے  مرکیوری ٹیوب کے  علاوہ طرح طرح کی خوبصورت لائیٹس جلا رکھی تھیں  اس کے  باوجود ان دکانوں  میں  خال خال ہی گاہک تھے، البتہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانوں  میں  لوگوں  کا کافی ہجوم تھا۔ 
	کاریں  پارک لائن میں  آڑھی ترچھی قطاریں  بنائے  کھڑی تھیں،کچھ ڈرائیور تازہ ہوا کھانے  کے  لیے  اپنی اپنی کاروں  کے  باہر یوں  کھڑے  تھے  جیسے  وہ ڈرائیور نہ ہوں  مالک ہوں۔ قریب ہی کیمسٹ کی ایک دکان تھی جہاں  اشرف کھڑا بوڑھے  کیمسٹ سے  مسلسل باتیں  کیے  جا رہا تھا۔ 
	’’  ارے  اشرف تم یہاں۔  ؟  ‘‘
	ہاں  یہ بہرام دارو والا میرا یار ہے۔ یہ دکان اُسی کی ہے۔ آؤ باہر چل کر باتیں  کریں۔ 
	تمہیں  یاد ہے  نا۔  ہماری آخری ملاقات میٹرو میں  ہوئی تھی۔ شاید یہی کوئی دو برس قبل۔ ’’  ہاں  یاد ہے  جنید۔ یہ بھی یاد ہے  کہ میرے  منع کرنے  کے  باوجود تم نے  سارا بل ادا کر دیا تھا۔ 
	کیا چھوٹی چھوٹی باتوں  کو یاد رکھتے  ہو یار۔ پہلے  یہ بتاؤ کیا تم نے  سارنگ پور ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  چھوڑ دیا۔ 
	ایسا تو نہیں  مگر بمبئی کی مہا نگری میں  ٹامک ٹوئیاں  ضرور مار رہا ہوں۔ 
	اشرف تم نے  سارنگ پور چھوڑ کر بڑی غلطی کی۔ ایک تو خاصی بھلی نوکری جاتی رہی۔ دوسرے  وہاں  تمھیں  قدم قدم تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔ 
	تکلیف کہاں  نہیں  ہے۔ ہر جگہ ہے۔ 
	کم از کم تم اپنی والدہ کی خاطر بمبئی چھوڑ کر سارنگ پور آ جاؤ تو زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘
	والدہ کی خاطر۔ ؟ کیا تمھیں  نہیں  معلوم کہ وہ میرے  جانے  کے  بعد ہی اچانک چل بسیں  اب مجھے  پرسہ نہ دو۔ مجھے  ہمدردی جتانے  والوں  سے  ایک گھِن سی آتی ہے۔ تم میرے  ایک اچھے  دوست ہو۔ یقین ہے  تم میری اس بات کا بُرا نہیں  مانو گے۔ جنید تمھیں  یاد ہے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔ آج کل وہ دوبئی میں  ہے۔ اس کمینے  نے  ہمیں  یک لخت بھلا دیا۔ میں  نے  اُسے  ماں  کی علالت کی خبر دی تو پتہ ہے  اس نے  کیا کہا۔ 
	بیماری بوڑھوں  کا مقدر ہے۔ ‘‘
	پھر جب میں  نے  ماں  کی موت کا اسے  ٹیلی گرام بھیجا تو اس نے  دو سطر ہی میں  مجھے  ٹرخا دیا۔ موت برحق ہے۔ ویسے  میں  نے  یہاں  فاتحہ خوانی کا انتظام کروا دیا ہے۔ براہ کرم خط کو محبت کا پیمانہ نہ بنائے۔ میں  یہاں  ہمیشہ مصروف رہتا ہوں۔ ‘‘
	اِس کے  بعد نہ میں  نے  اسے  خط لکھا اور نہ اس نے۔ اب میں  نے  اس کمینے  کو بالکل ہی بھلا دیا ہے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے  سن کر کیا کرو گے۔ سوچ رہا ہوں  ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایک چھوٹی سی دکان کھول لوں۔ بھنڈی بازار میں  ایک جگہ بھی دیکھ لی ہے۔ ورنہ فٹ پاتھ تو ہے  ہی۔ اُس ذلیل نے  اگر چاہا ہوتا تو میں  یہاں  یوں  دھکے  نہ کھاتا۔ خیر اللہ بڑا کار ساز ہے۔ کچھ نہ کچھ سبیل نکل ہی آئے  گی۔ اب سناؤ تمھارا کیا حال ہے، کیا اب بھی وہی امپورٹ اور ایکسپورٹ والا چکر۔ ‘‘
	ہاں  اس کے  علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں۔ ‘‘
	ہزار دو ہزار تو ماہانہ کسی طرح مل ہی جاتے  ہوں گے۔ ‘‘
	ہاں  گزر ہو جاتی ہے۔ میں  نے  گول مٹول سا جواب دیا۔ حالانکہ میری ماہانہ آمدنی پانچ چھ ہزار سے  کچھ زیادہ ہی تھی۔ 
	آؤ سامنے  والا ہوٹل کچھ سونا سونا سا لگ رہا ہے۔ سکون اور گپ بازی کے  لیے  یہ جگہ مناسب ہے۔ ہوٹل پہنچتے  ہی بوڑھے  بیرے  نے  اُسے  اس طرح سلام کیا جیسے  وہ بے  تاج کا بادشاہ ہو۔ کافی یا چائے   یا کچھ اور۔ بیرے  نے  مودبانہ انداز میں  کہا۔ 
	دونوں  مگر وقفہ وقفہ سے۔ یہ میرا یار جنید ہے  نا۔ ایک زمانہ بعد مجھے  ملا ہے۔ اگر اس نے  بل PAYکرنے  کی کوشش کی تو تم ہر گز نہ لینا ورنہ مجھ سے  بُرا کوئی نہ ہو گا۔ ‘‘
	بھلا میں  آپ کی بات ٹال سکتا ہوں۔ ‘‘
	تھوڑی دیر بعد مجھے  بوڑھا بیرا ٹرے  میں  کافی کے  دو پیالے  ہاتھ میں  تھامے  قریب آتا دکھائی دیا۔ جنید دیکھا یہاں  کی سروس۔ اگر کسی بڑھیا ریستوراں  میں  گئے  ہوتے  تو مینو دیکھنے  ہی میں  آدھا گھنٹہ بیت جاتا  اور آرڈر کی تکمیل تک کم و بیش دو گھنٹے۔ کبھی کبھی تو بڑھا پا بھی دستک دے  جاتا ہے۔ ‘‘
	’’  بڑی عمدہ چائے  ہے  اشرف۔ تم نے  اچھے  ہوٹل کا انتخاب کیا۔۔۔ 
	’’  چلو چائے  تو تمھیں  پسند آ گئی۔ اب جب کافی آئے  تو اس کا بھی مزہ چکھ لینا۔‘‘
	نہیں  یار مجھے  کافی بالکل پسند نہیں۔ جب کبھی میں  نے  اسے  حلق میں  اتارنے  کی کوشش کی، مجھے  محسوس ہوا جیسے  سارے  زمانے  کی تلخیاں  میرے  گلے  میں  تیزاب بھر رہی ہوں۔ ‘‘	
	’’  تو پھر آرڈر کینسل کروا دیتے  ہیں۔ ‘‘
	’’  نہیں  نہیں۔ میں  اگر نہ پیوں  تو اس کا یہ مطلب نہیں  کہ تم بھی نہ پیو۔ ‘‘
	’’  نہیں  آج تمھارا ساتھ دینے  میں  ہی میری عافیت ہے۔ ‘‘
	’’  تو ٹھیک ہے  دو چائے  اور منگوا لیں  گے  اور کچھ  بسکٹ بھی۔ ‘‘
	بسکٹ میں  کیا دھرا ہے۔ کوئی سادہ سا کھانا ہی منگا لیں یا دو پلیٹ بریانی۔ یہ ہوٹل بریانی کے  لیے  بھی اپنا ایک خاص معیار رکھتا ہے،مگر میں  تمھیں  مجبور نہیں  کروں گا۔ ویسے  سات بج چکے  ہیں۔ رات میں  جلد کھانے  سے  نیند بھی اچھی آتی ہے۔ میری اس لکچر بازی سے  کہیں  تم بور تو نہیں  ہو رہے  ہو۔ 
	بور ہونے  کی بھی خوب رہی۔ تم جو چاہو یہاں  سے  منگوا سکتے  ہو۔ ‘‘
	پھر میز پر ایک ایک کر کے  وقفے  وقفے  سے  وہ سب چیزیں  آ گئیں۔ 
	اب وہ تیزی سے  کھانے  لگا۔ جیسے  اُسے  کوئی اہم اپائنمنٹ یاد آ گیا ہو۔ 
	میں  نے  اس سے  کچھ کہنا مناسب نہیں  سمجھا اور اس کے  تتبع میں  میرا بھی ہاتھ تیزی سے  چلنے  لگا۔ جتنی اس نے  یہاں  کی بریانی کی تعریف کی تھی گو وہ ویسی نہ ہوتے  ہوئے  بھی کچھ بُری بھی نہ تھی۔ بیرے  نے  جوں  ہی میز پر بل رکھا۔ میں  نے  ا چک کر اسے  ہاتھ میں  تھام لیا۔ صرف چالیس روپے۔ ؟
	’’  نہیں  تیس ہی روپے  ہونا چاہیے۔ شاید ان لوگوں  نے  کچھ دام بڑھا دئیے  ہوں، مگر یہ بل تم کسی صورت بھی  PAY نہیں  کر سکتے۔ کیوں  بوڑھے  بیرے  کو میرے  ہاتھوں  مروانا چاہتے  ہو۔ 
	میں  نے  دیکھا اب وہ اپنی جیبیں تلاش کر رہا تھا۔ 
	کہے  دیتا ہوں  یار۔ ایسا کبھی نہ ہو گا۔ تم یہ بل مجھے  دے  دو۔ ‘‘
	لیکن میری مٹھی میں  کاغذ کا وہ پرزہ بند تھا۔ میں  نے  ٹپ (TIP) کی شکل میں پانچ کا ایک نوٹ بھی شامل کر دیا تھا۔ 
	آخر تم ہی نے  یہ بازی جیت لی جنید۔ یہ جُرأت تمھارے  علاوہ کسی اور نے  کی ہوتی تو میں نے   اس کا دماغ سیدھا کر دیا ہوتا۔ اچھا اب اجازت دو۔ ہو سکے  تو بمبئی جانے  سے  پہلے  ضرور ملوں گا۔ یہ ملاقات کل بھی ہو سکتی ہے  اور ہفتے  بعد بھی۔ 
	وہ جب چلا گیا تو میں  نے  سکون کا سانس لیا، لیکن میرے  اس سکون میں  بھی ایک عجیب طرح کا اضطراب تھا۔ کیا وہ بل اسے  دینا چاہیے  تھا یا مجھے۔ بیرے  نے  یہ بل اس کے  سامنے  رکھنے  کے  بجائے  میرے  قریب کیوں  رکھا۔ کیا بیرے  کو اس نے  پہلے  ہی سے  یہ ہدایت دے  رکھی تھی۔ توبہ توبہ۔ ان چھوٹی چھوٹی غیر اہم باتوں  نے  آج مجھے  کیوں  اسیر کر رکھا ہے۔ 
	بھلا چالیس روپے  کا بل بھی کوئی بل ہے  ؟ جب کہ میں  جیسے  تیسے  ماہانہ پانچ ہزار کما لیتا ہوں۔ ابھی تو وہاں  اس کے  پیر بھی نہیں  جمے  ہیں۔ ذہن کے  افق پر اجاگر ہونے  والے  ان سارے  ٹیڑھے  میڑھے  خیالات کو روندتا ہوا میں  آگے  بڑھ گیا۔ 
	اب میں  اپنے  آپ کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا، مگر رخصت ہونے  سے  پہلے  جو اس نے  دوبارہ ملنے  کا وعدہ کیا تھا۔ کیا عجب کہ اس کی تہ میں  کوئی نہ کوئی مصلحت چھُپی ہو۔ نہیں  نہیں  وہ تو اس وقت شرمندگی کے  بوجھ تلے  کاموں  میں  لگا رہا۔ 
	پھر اچانک ایک دن سارنگ پور کی بڑی چھاؤنی کے  راستے  پر وہ مجھ سے  ٹکرا گیا۔ یہ حادثہ بھی میری نادانی سے  ہوا۔ اس کی حالت بڑی خستہ تھی۔ لگتا تھا جیسے  ناگہانی آفتوں  نے  اس کی صحت کا کچومر نکال دیا ہو۔ وقتی طور پر ہمدردی کی ایک لہر دل میں  جاگ اٹھی، لیکن ہمدردی کے  اس جذبے  کا میں  نے  فوراً ہی گلا گھونٹ دیا۔ 
	کیا تم پھر سارنگ پور آ گئے۔ ؟ ‘‘
	تم تو یہی چاہتے  تھے  نا۔ اس کے  لہجے  میں  بھی تلخی تھی۔ 
	لیکن اس حال میں  نہیں۔ ‘‘
	تو پھر کس حال میں۔ ‘‘
	یہ بھی کوئی پوچھنے  یا بتانے  کی کوئی بات ہے۔ 	
	’’تمھیں  میری فکر کرنے  کی چنداں  ضرورت نہیں۔ تم خواہ مخواہ مجھ سے  ٹکرا گئے۔ بڑی چھاؤنی کے  راستے  میں  ایک اندھا کنواں  بھی پڑتا ہے۔ ذرا سنبھل کر جانا۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ آگے  بڑھ گیا۔ اندھا کنواں۔۔۔ ؟  یہاں  تو میں  نے  آج تک کوئی اندھا کنواں  نہیں  دیکھا۔ تو پھر اس نے  مجھ سے  اندھے  کنویں  کی بات کیوں  کی۔ میں  ایک لمحے  کے  لیے  گڑبڑا سا گیا۔ پھر  راستہ چلتے  چلتے  میں  نے  قریب جاتے  ہوئے  راہرو سے  پوچھا۔ بھئی یہاں  کوئی اندھا کنواں  بھی ہے۔ ؟
	اندھا کنواں۔۔۔ ؟ کیا کہہ رہے  ہیں  آپ۔ 
	نہیں  نہیں  کچھ نہیں۔ بس یونہی پوچھ لیا۔ 
	کیا یہ نہیں  ہو سکتا کہ ہماری زندگی ایک اندھا کنواں  ہو؟
	یہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آج لوگوں  نے  اپنی اپنی آنکھوں  پر پٹیاں  باندھ رکھی ہیں۔ 
	میں  اس وقت جلدی میں  ہوں۔ ممکن ہے  سارنگ پور کی تاریخ کے  اوراق میں  اسی اندھے  کنویں  کا کہیں  نہ کہیں  کوئی ذکر ہو۔ 
	اس طرح کئی برس بیت گئے۔ نہ مجھے  اندھا کنواں ہی دکھائی دیا  اور  نہ اشرف۔ 
	لیکن ایک دن دفعتاً میں  نے  ایک مقامی اخبار میں  ایک اشتہار دیکھا۔ 
	’’  دنیا کی پہلی اور آخری تجرباتی فلم  ’اندھا کنواں‘   جو کل سے  بیک وقت دو تھیٹروں  میں  ریلیز ہو رہی ہے۔ رنگ محل اور داستان میں۔ 
	اس اشتہار کو پڑھ کر مجھے  ایک عجیب سا احساس ہوا اور میں  آنے  والے  کل کا ابھی سے  انتظار کرنے  لگا،اور وہ کل بھی آ گیا جس کا مجھے  انتظار تھا۔ شام سے  پہلے  ہی میں  نے  رنگ محل کا رخ کیا۔ 
	فلم شروع ہونے  میں  ابھی چند ہی منٹ باقی تھے، لیکن دور دور تک کہیں  بھی لوگ دکھائی نہیں  دے  رہے  تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں  کہ تھیٹر بھر چکا ہو اور کوئی بھی سیٹ خالی نہ ہو، لیکن ہاؤس فل کا بورڈ تو لگا رہنا چاہیے۔ میں  ایک لمحے  کے  لیے  ڈگمگا سا گیا۔ دفعتاً میری نگاہ بکنگ ونڈو پر گئی جہاں  ایک ادھیڑ عمر کا آدمی کھڑکی کے  سوراخ سے  یوں  جھانک رہا تھا جیسے  وہ کسی ذہنی عذاب میں  مبتلا ہو۔ 
	میں  نے  پانچ کا نوٹ تھماتے  ہوئے  اس سے  پوچھا۔ کیا پکچر شروع ہو گئی۔ ؟
	بس اب شروع ہونے  کو ہے۔ ‘‘
	مگر ٹکٹ پر سیٹ نمبر درج نہیں  ہے۔ ‘‘
	کوئی بات نہیں  ہے  صاحب۔ آپ جہاں  اور جس جگہ چاہیں  بیٹھ سکتے  ہیں۔ پورا ہال۔۔۔  ابھی اس نے  اپنا جملہ پورا کیا ہی نہ تھا کہ میں  تیزی سے  سینما ہال میں  داخل ہو گیا۔ فلم ابھی ابھی شروع ہوئی تھی۔ میں  نے  دیکھا سینما ہال کی مدھم روشنی میں، میرے  علاوہ صرف ایک آدمی تھا جس کی آنکھیں  ایک عجیب و غریب سیاہ چشمے  سے  ڈھکی ہوئی تھیں۔ یکبارگی مجھے  لگا وہ اپنی شخصیت کے  ہر بنِ مو کو مجھ سے  چھپانا چاہتا ہو۔ 
	پھر جب پکچر ختم ہوئی وہ آدمی سینما ہال سے  نکل کر دھیرے  دھیرے  چلنے  لگا۔ جیسے  وہ اپنے  ہی قدموں  کی مدھم چاپ سے  گھبرا رہا ہو  یا اسے  اس بات کا ڈر ہو کہ کہیں  کوئی اچانک اس سے  ٹکرا نہ جائے۔ 
	مجھے  شبہ سا ہوا کہ میں  نے  اسے  کہیں  دیکھا ہے۔ کہاں۔ ؟ کچھ بھی تو یاد نہیں۔ 
	دنیا کی پہلی اور آخری تجرباتی فلم جو ابھی ابھی میں  نے  دیکھی تھی اس کا تاثر ہولے  ہولے  میرے  ذہن پر ضربیں  لگا رہا تھا۔ 
	مگر یہ کیا۔ کچھ لوگ آنکھوں  پر سیاہ پٹیاں  باندھے  اس کی طرف کیوں  بڑھ رہے  ہیں۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اندھے  کنویں  کے  سحر نے  ان کے  پاؤں  میں  پھر ایک بار بیڑیاں  ڈال دی ہوں۔  ‘‘
٭٭٭


اجازت اور فائل کے حصول کے لئے تشکر: ڈاکٹر اوصاف احمد
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید 