﻿بسم اللہ الرحمن الرحیم 

کوئی اظہار مت کرنا




نقاش عابدی

تزئین و اہتمام: عابد احسان








انتساب 


شریکِ زندگی فاطمہ ابرار کے ان لازوال اور بے مثال جذبوں اور بے کراں چاہتوں کے نام جن سے میرا دامنِ احساس ہمیشہ معمور رہا، جنہوں نے دشوار گزار راہوں پر بھی مجھے بکھرنے سے محفوظ رکھا اور اپنے جگر گوشوں رضا ابرار اور علی ابرار کی بے پناہ محبتوں کے نام جن کو لفظوں کا پیرہن دینا قرطاس و قلم کے اختیار میں نہیں


فریاد میری ان کی سماعت پہ بوجھ تھی
اک حادثے کی مجھ کو خبر کر دیا گیا




’’کوئی اظہار مت کرنا‘‘


شاعری فنونِ لطیفہ کا سب سے خوبصورت، بھرپور اور موثر روپ ہے۔ یہ جہاں شاعر سے وسعتِ نظری، شدتِ احساس، قدرتِ بیان اور پختگیِ فن کا تقاضا کرتا ہے وہاں شاعر کے جذبات و احساسات افکار و نظریات، میلانِ طبع اور علمی استعداد کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ شاعر اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر صرف کائنات کی پیش نظر شکل کے خدوخال ہی نہیں بناتا بلکہ اس کی ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کائنات کیسی ہونی چاہیے۔ کیونکہ شاعری دنیا میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے لیے کی جاتی ہے اس لیے اس میں ان لاکھوں کروڑوں انسانوں کے وہ معاملات بھی مذکور ہونے چاہئیں جو ان میں مشترک ہوں۔ جس طرح جدید معاشرے میں امور زندگی کو بہ طریقِ احسن انجام دینے کے لیے ماحول اور وسائل کی اہمیت ہے اس طرح شاعری کے لیے اس طبع موزوں کی ضرورت ہے جو رب کائنات کی عطائے خاص ہے، جس کو بھی نصیب ہو جائے۔ 
نقاش عابدی کا اولین مجموعۂ غزل اہلِ علم و دانش اور صاحبانِ فہم و ادراک سے داد و تحسین سمیٹ چکا ہے۔ ’’خواب کی گود میں‘‘ کے بعد ان کا دوسراشعری مجموعہ پیش نظر ہے۔ نقاش عابدی کے مجموعہ ہائے کلام کا آغاز گو کہ نعت، سلام اور منقبت سے ہوتا ہے لیکن وہ بنیادی طور پر غزل ہی کے شاعر ہیں اور کائنات کی سب سے بڑی سچائی محبت ان کی شاعری کی اساس ہے۔ یہ محبت جب عزیز رشتوں کے احساس، ایثار اور تقدس کی محافظ ہو تو رومانی اور معاشرے کے حالات کی چکی میں پستے ہوئے اپنے حقوق اور شخصی آزادیوں کے لیے احتجاج کا پرچم اٹھائے ہوئے اور حالت بے بضاعتی میں بقا کی جنگ لڑتے ہوئے فاقہ مستوں کے لیے ہو تو ترقی پسند۔ گویا اس تصویر کا ہر پہلو لائق توجہ ہے۔ 
نقاش عابدی کی غزل رومانیت کے ملبوس میں تو ہے مگر وہ رومانیت جو ترقی پسندوں کے ہاں پائی جاتی ہے کیونکہ رومانیت محض عورتوں سے باتیں کرنے، حسن یار کی رعنائیوں، ہجر و فراق کی اذیتوں اور غم و آلام کی شکایتوں ہی سے عبارت نہیں بلکہ رومانیت کے مفاہیم میں ایک قابل قدر وسعت اور رجائیت داخل ہو چکی ہے جس نے شاعر کو خواب و خیال کے ماورائی جہانوں سے نیچے اتار کر جیتے جاگتے انسانوں کے  ہجوم میںلا کھڑا کیا ہے۔ نقاش عابدی ایسے ہی رومانی شاعر ہیں کہ رومانیت جن پر فدا اور ترقی پسندی جن پر نازاں ہے۔ 
نقاش عابدی اپنی غزل میں زبان و بیان کا بے حد خیال رکھتے ہیں اور الفاظ کی در و بست کا سلیقہ شعاری اور ہنر مندی سے اہتمام کرتے ہیں جس کے سبب ان کی غزل رومانی تو ہے، روایتی نہیں بلکہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ نقاش عابدی کی شاعری داخلی اور خارجی ہر دو کائنات کی تصویر کشی پر مبنی حسن و صداقت کی دلآویز پیش کش ہے۔ وہ اس تازہ مجموعۂ غزل ’’کوئی اظہار مت کرنا‘‘ کی اشاعت پر یقیناً داد و تحسین کے سزاوار ہیں۔ 
پہلے تو بے نیازِ خطر کر دیا گیا
نیزے کی سمت پھر مرا سر کر دیا گیا
فریاد میری ان کی سماعت پہ بوجھ تھی
اک حادثے کی مجھ کو خبر کر دیا گیا
آ پہنچا تیرا عکس نگاہوں کے سامنے
آنکھوں کو بے خودی میں جدھر کر دیا گیا
سرور ارمان 
0301-6360741
۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء


ہدیۂ نعت

تخلیق کا اپنے لیے معیار بنایا
اللہ نے جب احمدِ مختار بنایا
چاہت کا یہ کیا کم ہے نمونہ کہ خدا نے
محبوب فقط اپنا بس اک بار بنایا
تخلیق کیا سارا جہاں اس کے لیے پھر
مشکل میں ہر اک شے کا مددگار بنایا
جس دین پہ اللہ کو بھی ناز ہے اس کا
خود احمدِؐ مرسل کو ہی سردار بنایا
رب نے سبھی اوصافِ حمیدہ کو سجا کر
اک اسمِ محمدؐ دیا، کردار بنایا
حق کے لیے اک راہ نمائی کا وسیلہ
باطل کے لیے راہ کی دیوار بنایا
معراج کی شب خالقِ آفاق نے انؐ کی
کیا زیرِ نگیں عالمِ رفتار بنایا
٭٭٭


سلام

عین احکامِ الٰہی کی طبیعت ہے حسینؑ
اس لیے میری عقیدت ہے، محبت ہے حسینؑ
دین اللہ سے بخشش ہے بنی آدم کی
اور اللہ کے اس دیں کی ضرورت ہے حسینؑ
جس نے اسلام کو کربل میں جلا بخشی ہے
وہ مرے مولا علیؑ ہی کی سخاوت ہے حسینؑ
لٹ چکا سب تو کیا اپنے خدا کو سجدہ
ایسی حالت میں بھی بے تابِ عبادت ہے حسینؑ
ہر کڑے وقت میں جو حوصلہ ملتا ہے مجھے
اس لیے ہے کہ مری فکر کی عادت ہے حسینؑ
تو نہ ہوتا تو شریعت ہی بدل دی جاتی
’آج تک دینِ خدا تیری بدولت ہے حسینؑ،
ہے تو وہ قبضۂ قدرت میں خدا کے لیکن
خلد کہتے ہیں جسے تیری امانت ہے حسینؑ
٭٭٭



اسے کہنا مجھے اس خواب سے بیدار مت کرنا
فِراق و ہجر کے دن رات کو دشوار مت کرنا
اداسی شام کے زینے سے آنگن میں اتر آئے
تو اپنی چشمِ غربت سے کوئی اظہار مت کرنا
٭٭٭



ترتیب حسنِ یار کے یوں خدّوخال دے
رعنائیِ خیال کی ہر گل مثال دے
دیکھے تو اس طرح کہ ستارے دمک اٹھیں
مسکان وہ کہ چاند کا چہرہ اجال دے
کچھ یوں ہو ذکرِ وصل گلستاں لہک اٹھے
خوشبو چمن کی خود کو ہوا میں اچھال دے
مت چھیڑ ذکرِ وصل کہ پردیس ہے صنم
ایسا نہ ہو کہ درد یہ مشکل میں ڈال دے
جو خواب چھوڑ کر تری محفل میں آ گیا
ایسا نہ ہو کہ تو انہیں دل سے نکال دے
کوئی غمِ فراق ہی اپنا بیان کر
اس مفلسی میں کچھ تو مجھے حسبِ حال دے
باندھا ترے خیال کا رختِ سفر ہے آج
جوشِ جنوں کو میرے تصور میں ڈھال دے
٭٭٭




جب دن میں تری یاد کے دھارے نہیں رکتے
کیوں رات کے جانے سے ستارے نہیں رکتے
روکوں بھی تو خوابوں میں چلے آتے ہیں اکثر
جاناں لب و رخسار تمھارے نہیں رکتے
کرنا ہے انہیں کون سی منزل کا تعاقب
یہ خواب جو آنکھوں کے کنارے نہیں رکتے
اب کون کرے بھاؤ کی تکرار یہاں پر
دل والوں کی دنیا میں خسارے نہیں رکتے
چنچل سی ہوئی جاتی ہیں مخمور ہوائیں
گیسو ترے سو بار سنوارے نہیں رکتے
احساس کی دنیا میں بسا کر تیرا پیکر
پھر کوئی بھی تصویر پکارے، نہیں رکتے
کیا دو گے مری جان محبت کا سہارا
بہہ نکلیں تو جذبات کے دھارے نہیں رکتے
٭٭٭


اب اپنے پاؤں کے چھالے، نظر انداز کر ڈالو
ہماری یاد کے ہالے، نظر انداز کر ڈالو
سجا رکھّے تھے آنکھوں میں، لبوں نے جو اچھالے تھے
سبھی سپنے، سبھی نالے، نظر انداز کر ڈالو
میں اپنے دل میں بکھری کرچیوں کو بھول جاتا ہوں
تم اپنی آنکھ کے جالے، نظر انداز کر ڈالو
چلو ایسا کریں میں حسرتوں سے روٹھ جاتا ہوں
تم اپنے خواب متوالے، نظر انداز کر ڈالو
گزر جاتا ہوں میں منہ پھیر کر یادوں کے دوزخ سے
تو تم صدمات کے بھالے، نظر انداز کر ڈالو
کہیں ایسا نہ ہو میرا کلیجہ منہ کو آ جائے
مرے لب پر لگے تالے نظر انداز کر ڈالو
اندھیری رات میں ڈستے ہوئے لمحے جدائی کے
لپکتے ناگ سب کالے، نظر انداز کر ڈالو
نہ لو اب امتحاں ممکن نہیں زخموں کی جرّاحی
مرے احساس کے آلے، نظر انداز کر ڈالو
٭٭٭




چند قطرے شراب ہی تو ہے
اک ادھورا سا خواب ہی تو ہے
تیری آنکھوں میں تیرتا ہوں گر
خود ترا انتخاب ہی تو ہے
جس کا عنوان ہے نگاہوں میں
وہ ترے دل کا باب ہی تو ہے
بوجھ پلکوں کی جھالروں پر یہ
اک ذرا سا حجاب ہی تو ہے
ذہن اب کھو گیا کہاں میرا
تیرا جانا عذاب ہی تو ہے
دل کے ٹوٹے ہوئے ہیں دروازے
اور خانہ خراب ہی تو ہے
سارے منظر مرے مٹا دینا
میرا ہونا سراب ہی تو ہے
٭٭٭




آنکھ پھر ترستی ہے، پھر اسے جگانا ہے
محوِ نیند مستی ہے، پھر اسے جگانا ہے
اس کے پیار کی خوشبو، انگ انگ میں بھر کر
سو رہی جو ہستی ہے پھر اسے جگانا ہے
اک جھڑی سی یادوں کے آسمان سے شاید
اس لیے برستی ہے پھر اسے جگانا ہے
رات کی سیاہی میں خوشگوار یادوں کی
دلنواز بستی ہے پھر اسے جگانا ہے
سو گئی ہے جو خواہش جاگ جائے تو اپنی
موت کو ترستی ہے پھر اسے جگانا ہے
سب سے بے خبر رہنا، ایک ہی کا ہو رہنا
یہ تو بت پرستی ہے پھر اسے جگانا ہے
بے کلی نہیں جاتی، بے کلی میں سوچوں کو
جو نگاہ ڈستی ہے پھر اسے جگانا ہے
٭٭٭




وہ جسے کہ آنا تھا آج بھی نہیں آیا
خواب جو سہانا تھا آج بھی نہیں آیا
منتظر نگاہوں سے، دل کے آستانے تک
راستہ بنانا تھا، آج بھی نہیں آیا
جو مجھے جگانے ہیں، تیری آنکھ میں جگنو
جو مجھے بتانا تھا، آج بھی نہیں آیا
یاد ہی نہیں آئی، ایک بات یہ مجھ کو
آج مسکرانا تھا، آج بھی نہیں آیا
وہ جسے پہنچنے کو آگہی کی منزل تک
ساتھ ساتھ جانا تھا، آج بھی نہیں آیا
انتظار کے بدلے جس کو روٹھ جانا تھا
پھر جسے منانا تھا، آج بھی نہیں آیا
آرزو کے آنگن میں، دھڑکنوں کے سازوں پر
جس کو گنگنانا تھا، آج بھی نہیں آیا
٭٭٭




احساس کے دریا میں بھنور ناچ رہا ہے
یادوں کے ستاروں میں قمر ناچ رہا ہے
آتے ہی تری یاد کے ہلچل سی مچی ہے
کچھ دل کے اِدھر اور اُدھر ناچ رہا ہے
بس تیرا سرِ راہ گزر نام لیا تھا
ہر سو تری خوشبو کا نگر ناچ رہا ہے
جب بادِ صبا نے ترے آنے کی خبر دی
ہمراز ہمارا وہ شجر ناچ رہا ہے
دل ہے ترے آ جانے کے احساس سے مسرور
محسوس یہ ہوتا ہے کہ گھر ناچ رہا ہے
منزل تجھے پانے کی ابھی دور ہے لیکن
ماحول کہ تا حدِّ نظر ناچ رہا ہے
اُمیّد کا اس دل میں لگایا تھا جو پودا
اب اس پہ دعاؤں کا ثمر ناچ رہا ہے
٭٭٭




مانگ لینا تجھے دشوار نہیں ہے لیکن
دل ہی آمادۂ اظہار نہیں ہے لیکن
یوں تو صدیوں ہی سے سنسان پڑا ہے ویسے
دل کا خانہ کوئی مسمار نہیں ہے لیکن
مضمحل تو ہے مری آنکھ میں یادوں کا وجود
یہ ترے ہجر میں بیمار نہیں ہے لیکن
آنکھ میں آج بھی موجود ہے تیرا پیکر
دل سے اب برسرِ پیکار نہیں ہے لیکن
آج پھر بیچنے نکلا ہوں شکستہ دل کو
بن ترے کوئی خریدار نہیں ہے لیکن
گو کہ درپیش ہے صدیوں کی مسافت ہم کو
راستہ باعثِ آزار نہیں ہے لیکن
ہم لیے پھرتے ہیں بس ایک نظر کے بدلے
دل کوئی لینے کو تیّار نہیں ہے لیکن
٭٭٭




احترام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
اک سلام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
اب تلک دئیے ہیں جو، ان تمام سے ہٹ کر
ایک نام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
ایک بار بھیجا تھا، راہ سے پلٹنے کا
وہ پیام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
میں نے تیری یادوں کی محفلیں سجانے کا
انتظام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
پیار کا نشہ اپنے انگ انگ سے لے کر
وہ تمام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
خواب جو نگاہوں میں رات بھر تڑپتا ہے
آج شام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
ایک بار بس میری روح کو مہکنے دے
اور کام پھر تیری خوشبوؤں کو دینا ہے
٭٭٭




میری ہر رات میں اس رات کا منظر ہوتا
کاش پھر آج ملاقات کا منظر ہوتا
خوشبوئیں اور بکھر جاتے جوابات کے رنگ
پھول کلیوں سے سوالات کا منظر ہوتا
آگ سی گرمیِ جذبات نے دہکائی ہے
ہائے پھر آج وہ برسات کا منظر ہوتا
ہاتھ میں ہاتھ لیے محوِ سفر ہم ہوتے
راہ میں شدّتِ جذبات کا منظر ہوتا
چاندنی رات میں زلفوں کے گھنیرے سائے
تیری آنکھوں کے کمالات کا منظر ہوتا
تو کہیں سیج پہ چپ چاپ سی بیٹھی ہوتی
عہدِ ماضی کے اشارات کا منظر ہوتا
آج گلشن میں اگر تیری جوانی ہوتی
ہر طرف بارشِ نغمات کا منظر ہوتا 
٭٭٭


روح سے ذات سے الجھتے ہیں
لوگ ہر بات سے الجھتے ہیں
اپنے قبضے میں جب نہیں قسمت
کس لیے مات سے الجھتے ہیں
دن سے کیوں بدگمان رہتے ہیں
اور پھر رات سے الجھتے ہیں
روز ملتا ہے ایک حکم نیا
روز اوقات سے الجھتے ہیں
ہیں جوابات سب بہت سادہ
خود سوالات سے الجھتے ہیں
وہ ہمارا نصیب لکھتے ہیں
ہم خیالات سے الجھتے ہیں
ان کے فرمان سے نہیں الجھے
اپنے جذبات سے الجھتے ہیں
لمحۂ وصل ختم ہوتے ہی
ہم ملاقات سے الجھتے ہیں
٭٭٭




آنکھ کے کناروں کے آس پاس رہتی ہو
بخت کے ستاروں کے آس پاس رہتی ہو
ٹوٹ کر بکھرتی ہو، میری آنکھ سے لیکن
تم مرے سہاروں کے آس پاس رہتی ہو
تتلیاں پکڑنے کا یاد ہے ابھی منظر
آج بھی غباروں کے آس پاس رہتی ہو
سائے سے لرزتے ہیں رات بھر نگاہوں میں
یاد کے شراروں کے آس پاس رہتی ہو
خوب ہے تمھارا یوں خواب میں چلے آنا
کس قدر اشاروں کے آس پاس رہتی ہو
خال و خد جھلکتے ہیں آج بھی نگاہوں میں
دلنشیں نظاروں کے آس پاس رہتی ہو
تم دکھائی دیتی ہو ہر طرف خلاؤں میں
کتنی بے قراروں کے آس پاس رہتی ہو
٭٭٭




تمھاری سمت مرا طائرِ خیال ہوا
بس اس کے بعد مرا جیتنا محال ہوا
دل و نگاہ و زباں سب نے ایک بات کہی
تو روز و شب میں کہیں جا کے اعتدال ہوا
ابھی خیال نے پرواز بھی نہیں کی تھی
ذرا سے پر ہی اٹھائے کہ بس نڈھال ہوا
جڑی ہوئی ہے مری روح میں تری الفت
الگ یہ بات مرے جسم کو زوال ہوا
جو میں نے آئنہ دیکھا تو تم مقابل تھیں
بدل گیا تھا مرا آئنہ کمال ہوا
ملی ہے آج اسے جو پیام کی صورت
خبر سے بادِ صبا کو بہت ملال ہوا
صبا کو نام تمھارا سکھا دیا میں نے
چلو کہ یونہی مرا رابطہ بحال ہوا
٭٭٭




بکھرے ہوئے جذبوں کو در و بام پہ رکھ دو
خاموش سوالات کے آلام پہ رکھ دو
پژمردہ نگاہوں سے ٹھٹھرتے ہوئے سپنے
سب چن کے دہکتے ہوئے انجام پہ رکھ دو
ماضی کے خزینے سے ملاقات اٹھا کر
ملنے کو ترستے ہوئے ایّام پہ رکھ دو
الفت جو نہیں مجھ سے تو اک لفظِ ملامت
جو تم پہ لگا ہے اسی الزام پہ رکھ دو
تم ایسا کرو رات کے تاریک سفر میں
آنکھوں کو مری راہ میں ہر گام پہ رکھ دو
جس راہ کو میرے لیے تکتی ہیں نگاہیں
اس راہ کا اب نام مرے نام پہ رکھ دو
نمناک نگاہوں سے جو تحریر کیا ہے
اشکوں کو اسی آخری پیغام پہ رکھ دو
٭٭٭




گردشِ ماہ و سال سے نکلے
اک مسلسل وبال سے نکلے 
کتنے کومل ہیں آرزو کے جواب
جو تمھارے سوال سے نکلے
تلخیاں گھل گئی ہیں لہجوں میں
ہم نہیں اعتدال سے نکلے
تیرے ہونٹوں کو چھو کے گیت مرے
توڑ کر حد کمال سے نکلے
میرے خوابوں کا حسن بن جائے
شے جو تیرے کمال سے نکلے
موسمِ گُل، جمالِ ماہ رُخاں
سب ترے خدّوخال سے نکلے
گاؤں میں جب تجھے نہیں پایا
ہم بہت ہی نڈھال سے نکلے
٭٭٭




یوں تعلّق بحال رکھّا ہے
تجھ کو سانسوں میں ڈھال رکھّا ہے
گو کہ بینائی ہو گئی رخصت
تیرا پیکر سنبھال رکھّا ہے
ہم نے پوچھا تھا جو کبھی لب پر
آج تک وہ سوال رکھّا ہے
تیرے آنے کے بعد گلشن نے
خوشبوؤں کو اچھال رکھّا ہے
مضمحل ہے گلوں کی شادابی
ہر کلی پر ملال رکھّا ہے
عمر بھر میں نے عہدِ ماضی کا
دیکھ کتنا خیال رکھّا ہے
ڈھونڈ لاتا ہے تیری یادوں کو
ہجر میں کیا کمال رکھّا ہے 
٭٭٭




تم اپنی شکایات کا اظہار تو کرتے
دکھ درد نگاہوں سے نمودار تو کرتے
ہر سمت بکھر جاتا بہاروں کا تبسم
زندانِ محبت میں گرفتار تو کرتے
تم میری نگاہوں میں سجا کر نئی دنیا
خود کو مری چاہت کا سزاوار تو کرتے
دیکھا ہی نہیں ہم نے ترے دل میں اتر کر
اظہارِ تمنّا لب و رخسار تو کرتے
ہے ٹھیک مجھے لوٹ کے آنا تھا مگر تم
کچھ دیر کو رک جاؤ یہ اصرار تو کرتے
یہ سوچ کے ہم قریۂ جاناں سے نہ گزرے
پہچان ہماری در و دیوار تو کرتے
جس وقت کہ آنکھوں سے نمی جھانک رہی تھی
ہم اپنی تمنّاؤں سے تکرار تو کرتے
٭٭٭




امنگوں کو کسی منزل رسا کا حوصلہ دے دو
مرے احساس کو عہدِ وفا کا حوصلہ دے دو
نگاہوں میں تمھیں اپنی سجانا چاہتا ہوں میں
مرے دل کو ذرا اپنا بلا کا حوصلہ دے دو
مری نظریں لب و رخسار کو چھو کر گزر جائیں
ان آنکھوں کو ذرا ایسی خطا کا حوصلہ دے دو
جو تم چاہو خیال و خواب کی دنیا میں بس جاؤں
مری تاریک راتوں کو ضیاء کا حوصلہ دے دو
چلے جانا، ذرا کچھ دیر رک جاؤ دمِ رخصت
سنبھلنے کے لیے مشکل کشا کا حوصلہ دے دو
مری آنکھیں سمندر چاہتی ہیں سوز و گریہ کا
مرے دل کو کسی ماتم سرا کا حوصلہ دے دو
٭٭٭




اس قدر ٹوٹ کے بکھرا وہ نظر سے میری
نکلی سالم نہ کوئی چیز بھی گھر سے میری
کوئی پیغامِ تمنّا بھی نہیں ہے دل کا
اور اب جان بھی جاتی ہے سفر سے میری
جس جگہ سے بھی نگاہوں کا گزر ہوتا ہے
پہلے چھا جاتا ہے آسیب خبر سے میری
جانے کس وقت بپا کوئی قیامت ہو جائے
یوں پریشاں ہیں پریشانیاں ڈر سے میری
التجا تم سے یہی وقتِ سفر ہے جاناں
کاش یہ آنکھ نہ دیدار کو ترسے میری
پھول دینے کے لیے جب سے جگایا تم نے
روز ہوتی ہے ملاقات سحر سے میری
٭٭٭



تیری آنکھوں میں کوئی پیار کی تحریر نہیں
ایک موہوم سی لو ہے مری تصویر نہیں
جو ترے پاس تھے وہ کس پہ چلا ڈالے ہیں
آج کیوں تیری نگاہوں میں کوئی تیر نہیں
حسرتیں آنکھ کی دہلیز پہ رہنے دے مری
دل میں ارمان مچلنے دے اسے چیر نہیں
اور کچھ دیر مرے خواب میں ٹھہرے رہنا
تم نہ گھبراؤ کہ یہ خواب ہے تعبیر نہیں
ایک ہی خط ہے ترا جو کہ مرے پاس ہے بس
اور یہ خط بھی ترے پاؤں کی زنجیر نہیں
جا چکا چھوڑ کے مجھ کو تو مجھے یاد آیا
وہ فقط پیار تھا میرا کوئی جاگیر نہیں
زندگی بھر کے لیے ساتھ نبھانا میرا
التجا ہے یہ مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں
٭٭٭




ہے کوئی ضابطہ ایسا تو بتا دے مجھ کو
اور پھر جو بھی ہو جائز وہ سزا دے مجھ کو
جب کھٹکنے کے سوا کام نہیں ہے کوئی
حوصلہ کرکے نگاہوں سے گرا دے مجھ کو
میری آنکھوں سے جھلکتا ہی رہے حسن ترا
اپنے بے باک تبسم سے جگا دے مجھ کو
میری نسبت کو کبھی ختم نہ کر پائے گا
اپنی دہلیز سے سو بار اٹھا دے مجھ کو
بند آنکھوں میں جو تعظیم چھپا رکھّی ہے
کھول کر آنکھ وہ انعام بڑا دے مجھ کو
آ مجھے مجمعِ یاراں میں بھی تنہا کر دے
آ مرے خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو
اس قدر قلب و نظر کو نہ سزا دے اپنی
خود کو برباد نہ کر اور بھلا دے مجھ کو
٭٭٭




ذہن تو سلگتا ہے آہ بھی مچلتی ہے
یاس بھی تمنّا کے ساتھ ساتھ چلتی ہے
دل میں اک الاؤ ہے، اور آنکھ میں دریا
آگ بھی نہیں بجھتی، آنکھ بھی ابلتی ہے
کیفیت محبت کی بھی عجیب ہوتی ہے
جس قدر ستاتی ہے اس قدر ہی پھلتی ہے
رات بھر نگاہوں میں آس ٹوٹ جانے تک
ایک شمع مدھم سی کیوں دھواں اگلتی ہے
جس جگہ جلائے ہیں تیری یاد کے دیپک
تیری مسکراہٹ بھی اس جگہ اچھلتی ہے
ہو گئے نگاہوں میں سب نڈھال سے سپنے
کیا کریں کہ اب ان کی عمر بھی تو ڈھلتی ہے
لوٹ کر نہیں آتی، وہ خوشی کبھی پھر سے
ایک بار جو میرے ہاتھ سے نکلتی ہے 
٭٭٭




پہلے تو بے نیازِ خطر کر دیا گیا
نیزے کی سمت پھر مرا سر کر دیا گیا
غم کے پہاڑ کر کے کھڑے میرے سامنے
میری انا کو سینہ سِپر کر دیا گیا 
نکلا تھا ایک روز تمنّا کی راہ پر
پابندِ امتحانِ سفر کر دیا گیا
ہم نے تو ایک گھر کا تقاضا کیا تھا بس
برباد آرزو کا نگر کر دیا گیا
ممکن نہیں رہا ہے کہیں اس کو ڈھونڈنا
جو لمحۂ حیات بسر کر دیا گیا
فریاد میری اس کی سماعت پہ بوجھ تھی
اک حادثے کی مجھ کو خبر کر دیا گیا 
آ پہنچا تیرا عکس نگاہوں کے سامنے
آنکھوں کو بے خودی میں جدھر کر دیا گیا
٭٭٭




فکر کا انعکاس کرنا ہے
خوشبوؤں کو لباس کرنا ہے
دل سے آ کر تری نگاہوں میں
درج اک اقتباس کرنا ہے
لوٹ جانے کا تذکرہ نہ کرو
کیوں ابھی سے اداس کرنا ہے
تیری بے تاب آرزوؤں کو
اپنے دل کی اساس کرنا ہے
سو گیا ہے جو آنکھ میں سپنا
پھر اسے وقفِ آس کرنا ہے
آج ان کھوئی کھوئی آنکھوں کو
میں نے چہرہ شناس کرنا ہے
وقت بھی حیرتوں میں کھو جائے
خود کو یوں تیرے پاس کرنا ہے
٭٭٭




ہم اتنا ہی سمجھ پائے غمِ دل کی کہانی سے
بہت تکلیف پہنچی ہے سفر کی رایگانی سے
مقابل آئنے کے اپنی آنکھوں میں تمھیں پا کر
میں اکثر کھیل لیتا ہوں تمھاری اس نشانی سے
مری آنکھوں میں ماضی کے سبھی منظر جگا ڈالو
ملا دو بس ذرا اک بار تم میری جوانی سے
مرے دل کے چمن میں جو کھلے سب پھول مر جھائے
یہ بستی کس طرح اجڑی تمھاری بدگمانی سے
تمھاری آنکھ سے بہتے ہوئے یہ اشک کیسے ہیں
یہ کیسے لگ گئی ہے آج دل میں آگ، پانی سے
دمِ رخصت مری آنکھوں میں اپنے خواب رکھ دینا
الجھنا مت مری سانسوں کی پیچیدہ روانی سے
اٹھایا ہے جب اپنے ہاتھ میں پرچم بغاوت کا
نہیں کوئی گلہ اب راہ کی بے سائبانی سے
٭٭٭




کچھ اپنی آرزوئیں اور کچھ جذبات لائے ہیں
کہ تم پر وارنے کے واسطے صدقات لائے ہیں
لبوں پر لگ چکی ہے اب مرے اظہار کی بندش
نگاہوں میں تمھارے واسطے خدمات لائے ہیں
مرے دل کو کسی پل چین بھی لینے نہیں دیتے
تمھارے اشک جو میرے لیے صدمات لائے ہیں
تصوّر میں ذرا کچھ دیر تم دلہن بنی رہنا
تخیّل میں ہم اپنے ساتھ اک بارات لائے ہیں
نجانے سوگ میں ڈوبی ہوئی ساری فضا کیوں ہے
یہ سہمے سے پرندے کون سے شبہات لائے ہیں
سب اپنی حسرتیں، سب آرزوئیں، سب تمنّائیں
سمجھ لو زندگی کے ہم سبھی باغات لائے ہیں
چبھی ہے دردِ دل میں اک نئی سی پھانس یہ کیسی
یہ کیسا خوف میرے ذہن میں خدشات لائے ہیں
٭٭٭




دل کے جذبوں کی شان ہوتی ہے
آنکھ دل کی زبان ہوتی ہے
اس کا پیغام یوں ملا جیسے
زندگی مہربان ہوتی ہے
دل کے سب تار کیوں لرزتے ہیں
فکر کی جب اڑان ہوتی ہے
آ گیا ہوں نگاہ میں، جس کی
دسترس میں کمان ہوتی ہے
اصل پہچان فکر ہوتی ہے
ذات تو اک نشان ہوتی ہے
اس طرح کا مقام ملتا ہے
جس طرح کی اٹھان ہوتی ہے
زندگی آس توڑ دیتی ہے
آہ جب بے امان ہوتی ہے
٭٭٭


کھو گیا ہے بہار کا موسم
پنچھیوں کی پکار کا موسم
آنکھ میں رہ گئے فقط سپنے
یا ترے انتظار کا موسم
ہاں مجھے یاد ہیں سبھی منظر
یاد ہے تیرے پیار کا موسم
دردِ دل میں ہیں ہجر کے صدمے
چھن گیا ہے قرار کا موسم
کس کٹھن مرحلے پہ آیا ہے
حسرتوں کے شمار کا موسم
جب سے پیغامِ وصل آیا ہے
آ گیا ہے خمار کا موسم
کتنا مایوس کن تقاضا ہے
مفلسی میں نکھار کا موسم
کوئی اے کاش مجھ کو لوٹا دے
وہ ترے اعتبار کا موسم
٭٭٭




صبح و شام روتے ہیں اور رات روتی ہے
جب مری نگاہوں کی کائنات روتی ہے
اب فقط نگاہوں سے داستان کہنی ہے
حرف کانپ جاتے ہیں اور بات روتی ہے
کس قدر نمایاں ہے فرق دو مزاجوں کا
موت مسکراتی ہے جب حیات روتی ہے
موت کے لیے میری زندگی بلکتی تھی
موت آ گئی ہے تو اب وفات روتی ہے
سوچ لو کہ کیا ہوگا، اس کے ظرف کا عالم
جس کی پیاس پر اب تک خود فرات روتی ہے
جب تلک خلاؤں میں محو آس رہتا ہوں
روح بین کرتی ہے اور ذات روتی ہے
ایک سمت برپا ہے جشن جیت جانے کا
اک طرف نگاہوں میں ایک مات روتی ہے
٭٭٭




مری محبت فراق کا غم مرے مقدّر میں جڑ گئی ہے
یہ کیسا انعام مل گیا ہے کہ میری قسمت بگڑ گئی ہے
نہیں ہو تم تو نہیں ہے قائم کوئی نئی چیز یا پرانی
ہر ایک حسرت، ہر اک تمنا، ہر ایک خواہش اُجڑ گئی ہے
یہ میری تنہائی مجھ سے اکثر سوال کرتی ہے بے خودی میں
بتاؤ آخر یہ کیا ہوا ہے تمام دنیا سکڑ گئی ہے
تلاش میں تیری یوں بھی مجھ کو سفر نہیں ناگوار گزرا
مجھے خلا میں ترے تعاقب کی ایک عادت سی پڑ گئی ہے 
مری نگاہوں میں قید کر کے ملن کے سارے حسین منظر
وہ اپنی تصویر میری آنکھوں کی روشنی سے جکڑ گئی ہے 
اداس آنکھوں کی تیرگی میں حسین منظر کہاں سے لاؤں
تری رفاقت ہی جب مری آرزو کی دنیا سے لڑ گئی ہے
نجانے کتنے وصال کے گیت ساتھ لے کر چلا تھا لیکن
تمھاری بے اعتنائی میرے سفر کے رستے میں اڑ گئی ہے 
٭٭٭




مت روک آج ہجر کا لاوا ابال دے
یہ دل کا زہر آنکھ کے رستے نکال دے
کھینچی ہے اپنی آنکھ سے تصویر جو مری
اب اس کو اپنے دل کے خزانے میں ڈال دے
آ کر ذرا سی دیر نگاہوں کے سامنے
آنکھوں سے انتظار کا آشوب ٹال دے
میرے گلے میں ہاتھ کی زنجیر ڈال کر
اپنے ہنر کو آج غضب کا کمال دے
تصویرِ انبساط بنانے کے واسطے
اپنی ادائے ناز کا کوئی خیال دے
وقتِ جدائی ایک ہو انعام یہ عطا
میرے سُروں کو اپنے ترنّم میں ڈھال دے
کب سے کھڑا ہوا ہوں تری بارگاہ میں
تو ہے خدا تو اپنی عنایت اچھال دے
٭٭٭





آنکھوں میں آس، دل میں ہے بیمار آرزو
اب بن گئی ہے جان کا آزار آرزو
حسرت ہے تیرے گیت سماعت سے مس کریں
تیرا پیام اور ہے دیدار آرزو
راتوں کو خواب اپنے کھٹکتے ہیں آنکھ میں
دن بھر ستائے رکھتی ہے بیدار آرزو
آنکھوں میں حسرتوں کا جنازہ لیے ہوئے
کتنی شکستہ پا ہے یہ نادار آرزو
اس کے بدن کی ایک مہک ہے فضاؤں میں
رکھ اپنے شوق دید کو تیّار آرزو
آنکھوں سے نور، دید کے منظر جدا ہوئے
بکھرے ہوئے ہیں دل کے سبھی تار آرزو
ہے چاند رات کوئی تو تحفہ خرید لیں
شاید کہیں ہوں عید کے آثار آرزو
ہو کر رہے گا جنگ کا اک روز فیصلہ
پہنچا کے ہی رہے گی سرِدار آرزو
پھرتی ہے ہو کے آئنہ بردار شہر میں
ٹھہرے گی پتھروں کی سزاوار آرزو
٭٭٭




آرزو کو بدن نہیں ملتا
روح کو پیرہن نہیں ملتا
جان جس پر نثار کر ڈالی
اب اسی سے کفن نہیں ملتا
آرزو کو مہک نہیں ملتی
حسرتوں کو چمن نہیں ملتا
تو نہیں تو کسی بھی پیکر میں
تجھ سا وہ بانکپن نہیں ملتا
اب تو آ جاؤ بات کرنے کو
کوئی اہلِ سخن نہیں ملتا
ایک لمحہ مجھے قرار کہیں
بن ترے جانِ من نہیں ملتا
وہ ترے خال و خد نہیں ملتے
مسکرانے کا فن نہیں ملتا
٭٭٭




بیچارگی میں کوئی سہارا نہیں دیا
افسوس میں نے حق بھی تمھارا نہیں دیا
آنکھوں میں انتظار کے لمحے اتار کر
پھر ساتھ جب بھی تم نے پکارا نہیں دیا
رکھّا ہے تیری ذات کا صدقہ اتار کر
دینا نہیں کسی کو گوارا، نہیں دیا
اس نے اٹھا کے میرے خدوخال رکھ لیے
میں نے بھی اس کا نقش اتارا، نہیں دیا
میں نے کہا کہ آنکھ کا سپنا عطا کرو
مجھ کو نظر میں اپنی ابھارا، نہیں دیا
بچپن سے لے کے آج کی تلخیص بھیج دی
بستے کی جیب سے وہ غبارہ نہیں دیا
٭٭٭


آنکھ میں دیپ جلانا بھی نہیں ہے تجھ کو
کوئی طوفان اٹھانا بھی نہیں ہے تجھ کو
کوئی اترا ہے تری آنکھ کی بینائی میں
دل میں یہ بات بٹھانا بھی نہیں ہے تجھ کو
آتشِ دل میں سلگتے ہوئے ارماں بھی نہیں
فکر کا زخم دکھانا بھی نہیں ہے تجھ کو
تجھ کو لوٹانا ہے بس تیری محبت کا گلاب
یاد کچھ اور دلانا بھی نہیں ہے تجھ کو
ڈوبنا چاہا اگر فکر کی گہرائی میں
شدتِ غم سے بچانا بھی نہیں ہے تجھ کو
خال و خد اپنے یہ بے رنگ دکھانے ہیں تجھے
کوئی احسان جتانا بھی نہیں ہے تجھ کو
میری خواہش ہے نگاہوں سے درِ دل چھُو لے
اور یہ بات بتانا بھی نہیں ہے تجھ کو
خواب کوئی، کوئی سپنا، کوئی ارماں، کوئی گیت
میں نے اے جان سنانا بھی نہیں ہے تجھ کو
٭٭٭




میں ابھی جاگ رہا ہوں کہ کوئی بات کرو
میری خاموش تمنا سے سوالات کرو
تم کبھی آ کے مری رات کی تنہائی میں
میرے احساس کی دنیا سے ملاقات کرو
دیپ کوئی تو جلاؤ درِ امکاں کے قریب
منتظر آنکھ میں انوار کی برسات کرو
میری آنکھوں میں اتر آئے ستاروں کا ہجوم
آج کچھ اپنی نگاہوں سے کمالات کرو
نام ہی میرا نہ ہونٹوں سے نکل جائے کہیں
تم خموشی سے عطا مجھ کو جوابات کرو
میری آنکھوں سے سبھی خواب چرا کر میرے
آج تم خود کو ذرا دیر مری ذات کرو
جانے کیا کچھ ہے جو لوٹا نہیں سکتے دونوں
اے مری جان نہ اب پچھلے حسابات کرو
٭٭٭




الگ یہ بات ضرورت مجھے بھی ڈھال کی تھی
مگر نگاہ تمھاری بہت کمال کی تھی
کچھ اس لیے مجھے دینا جواب لازم تھا
مری نظر میں بہت اہمیت سوال کی تھی
میں جس کے ساتھ مروّت میں بات کرتا ہوں
گئے دنوں میں مری دوستی مثال کی تھی 
لٹا کے سب وہ حسیں خواب جا چکا لیکن
جو اس کے ساتھ گئی شکل وہ ملال کی تھی
ملی ہے آج بہت دیر بعد جو صورت
بہت دنوں سے ضرورت مرے خیال کی تھی
اداس چہرے گلوں کے بتا رہے ہیں مجھے
کہ ان کو آج ضرورت ترے جمال کی تھی
کیا ہے دفن جسے وہ نگاہ کی حسرت
نجانے کتنی پرانی تھی، کتنے سال کی تھی
٭٭٭




آنکھوں میں بسا کر مجھے بیزار نہیں تھا
میں اس کے لیے باعثِ آزار نہیں تھا
یہ ایک الگ بات کہ رسوائی کا ڈر ہے
ملنے کا کوئی راستہ دشوار نہیں تھا
جب آنکھ تری دید کے رستے میں کھڑی تھی
بن تیرے کوئی بھی سرِ بازار نہیں تھا
میں اس کی نگاہوں میں سماتا بھی تو کیسے 
میں اس کی امنگوں میں گرفتار نہیں تھا
چھلکا جو تری آنکھ سے جذبوں کا سمندر
ساحل سے نکل جانے کو تیار نہیں تھا
جو بھی مری تنہائی میں چپ چاپ کھڑا تھا
لمحہ وہ کوئی رات کا بیکار نہیں تھا
اظہارِ طلب کیوں تری آنکھوں کا تھا محتاج
جب حرف تری راہ کی دیوار نہیں تھا
٭٭٭





آج دُکھتی رگوں کو چھیڑ دیا
کیوں مری حسرتوں کو چھیڑ دیا
سو چکے تھے تمام خواب مرے
کیوں سلگتی شبوں کو چھیڑ دیا
نیند پہلے ہی روٹھ بیٹھی تھی
کیوں مرے رتجگوں کو چھیڑ دیا
گل کھلے ہوں چمن میں یا ہو خزاں
موسموں نے دلوں کو چھیڑ دیا
میری آنکھوں میں جب خوشی دیکھی
اس نے میرے دکھوں کو چھیڑ دیا
پھر دبے پاؤں اس نے پاس آ کر
آج پھر چوڑیوں کو چھیڑ دیا
سطحِ دریا سکوت میں تھی مگر
اس نے گہرائیوں کو چھیڑ دیا
میں نے سوچا تھا ایک دن اس کو
دل نے شہنائیوں کو چھیڑ دیا
اس کی یادوں نے آج پھر آ کر
میری تنہائیوں کو چھیڑ دیا
٭٭٭




ملنا نہ ہو اگر تو سفر ساتھ ساتھ ہو
قسمت نہ دے جو ساتھ تو گھر ساتھ ساتھ ہو
بیٹھیں اگر سفر کی تھکن کو اتارنے
سایہ اگر الگ ہو شجر ساتھ ساتھ ہو
دونوں طرف لکھی ہو نگاہوں میں آرزو
دونوں طرف دلوں پہ اثر ساتھ ساتھ ہو
شب بھر سجاؤ تم بھی ستاروں کی محفلیں
میں بھی سجاؤں اور قمر ساتھ ساتھ ہو
ساری بدل چکی ہوں فرشتوں کی عادتیں
ہمراہ جو کہیں یہ بشر ساتھ ساتھ ہو
مل جائے میرے خواب کی تعبیر آج ہی
اس کا نصیب میرے اگر ساتھ ساتھ ہو
دشتِ فراق خود ہی بناتا ہے راستے
منزل اگر ہو ایک، نظر ساتھ ساتھ ہو
٭٭٭




اب نگاہوں میں کسی اور نے آنا بھی نہیں
اور آنکھوں میں کوئی خواب پرانا بھی نہیں
کیوں پلٹ جاتی ہیں اس سمت نگاہیں میری
جب مجھے لوٹ کے اس راہ پہ جانا بھی نہیں
کتنا مشکل ہے بھلانا بھی نہیں ہے اس کو
اور اس کو کسی تحریر میں لانا بھی نہیں
ہجر میں آس کی دہلیز پر بیٹھے رہنا
اور یہ بات کہیں اور بتانا بھی نہیں
روٹھ بیٹھے ہو اگر مجھ سے کنارا کر لو
مجھ سے اب بزمِ تصور کو سجانا بھی نہیں
تو مرا کعبۂ احساس ہے بے شک لیکن
تیری دہلیز پہ اس سر کو جھکانا بھی نہیں
وحدتِ فکر کی تقسیم بھی ہے ناممکن
صحنِ دل میں کوئی دیوار اٹھانا بھی نہیں
٭٭٭


حادثے یوں بھی ملاقات میں ہو جاتے ہیں
جو اثر اپنا نگاہوں میں ڈبو جاتے ہیں
سوچتے ہیں تجھے ہم یاد کی چادر لے کر
اور پھر ہم تری تصویر میں کھو جاتے ہیں
جب بھی ملتا ہے ترا خواب میں آنے کا پیام
ہم بھی کیا ہیں کہ سرِ شام ہی سو جاتے ہیں
میرے ماضی کے خزینے میں دمکتے لمحے
کچھ نگینے سے کہانی میں پرو جاتے ہیں
جانے کیوں میرے خیالوں کے مہکتے جھونکے
تیری خوشبو مرے احساس میں بو جاتے ہیں
ضبط کرتے ہیں مگر پھر بھی کئی غم تیرے
تیرتے ہیں تو نگاہوں کو بھگو جاتے ہیں
اس طرح سے وہ مری آنکھ میں کھویا آ کر
لوگ آتے ہیں مرے سامنے رو جاتے ہیں
میں نے آنکھوں کے اشارے سے کہا جانے کو
آخری سانس میں بولے کہ چلو جاتے ہیں
٭٭٭




ٹوٹ کر کرچیوں میں بٹتا ہے
پھر نگاہوں میں آ سمٹتا ہے
میری تنہائیوں کا ہر لمحہ
بزم آرائیوں میں کٹتا ہے
یوں ملو آج جیسے پروانہ
شمعِ امید سے لپٹتا ہے
پھیل جاتی ہے تن پہ عریانی
ضبط کا پیرہن جو پھٹتا ہے
آج بھی تیری یاد کا آسیب
مجھ پہ ہر رات آ جھپٹتا ہے
مجھ کو فکرِ معاش کرنے دے
دھیان بے ساختہ رپٹتا ہے
جب ہوں صادق حیات کے جذبے
خوف خود راستے سے ہٹتا ہے
٭٭٭




دل میں کوئی طوفان اٹھایا تو نہیں ہے
سیلاب کوئی آنکھ میں آیا تو نہیں ہے
جو وعدۂ دیدار ابھی قرض ہے تجھ پر
وہ قرض ابھی تو نے چکایا تو نہیں ہے
وہ گیت جسے میں نے ترے نام لکھا تھا
تو نے کبھی ہونٹوں پہ سجایا تو نہیں ہے
ناراض ہواؤں نے جو پیغام دیا ہے
صدمہ وہ کہیں دل پہ لگایا تو نہیں ہے
خود اپنے بھروسے نے مجھے زخم دیا ہے
یہ تیر کسی اور سے کھایا تو نہیں ہے
جو خواب تری آنکھ کی جھولی میں تھا رکھّا
اس نے کوئی جادو سا جگایا تو نہیں ہے
ہر پھول میں خوشبو ہے تمھارے ہی بدن کی
گلشن مری یادوں میں پرایا تو نہیں ہے
٭٭٭




محنت کا اثر میرے پسینے میں نہیں تھا
یا میری طلب کے ہی قرینے میں نہیں تھا
کیسے میرے ارمان کی دنیا کو سمجھتا
احساس ہی میرا ترے سینے میں نہیں تھا
جو اس رخِ تاباں سے چمک جھانک رہی تھی 
جوہر وہ کسی اور نگینے میں نہیں تھا
پہلو میں ترے ساتھ جو برسات میں پایا
یہ لطف کسی اور مہینے میں نہیں تھا
میں کیسے بھلا دل کے سمندر میں اترتا
جب اس کی نگاہوں کے سفینے میں نہیں تھا
دیکھا ہے تجھے آج تو احساس ہوا ہے
یہ لطف تو جاناں کبھی پینے میں نہیں تھا
جس وقت مرا ربط نہیں تھا کوئی تجھ سے
اس وقت تو احساس بھی جینے میں نہیں تھا
٭٭٭




جو بات ہے دل کی نہیں آثار پہ لکھنا
تم نام مرا مت در و دیوار پہ لکھنا
ہم تم کو بتائیں گے پلٹنے کا سلیقہ
پیغام کبھی تم رہِ دشوار پہ لکھنا
احوال تو اپنا مجھے تحریر کرو تم
اے جان مگر وقت کی رفتار پہ لکھنا
یہ بھی تو مری جیت ہی ہوگی مرے ساتھی
تم جیت گئے ہو تو مجھے ہار پہ لکھنا
پلکوں پہ نہیں اشکِ غمِ ہجر سجانا
پھولوں کے تبسم کو نہیں خار پہ لکھنا
کام آ گیا انگلی پہ شفا پھونک کے تیرا
اک لفظ کا پیشانیِ بیمار پہ لکھنا
دن بھر ہے یہی کام لکھوں وصل کے نغمے
راتوں کو ترے ہجر کے آزار پہ لکھنا
٭٭٭




زر ہی نہیں وقار بھی لُوٹا گیا یہاں
جینے کا انحصار بھی لُوٹا گیا یہاں
راہِ طلب کی ہم کو مسافت میں ڈال کر
راہوں سے اعتبار بھی لُوٹا گیا یہاں
نالے تو خیر میرے لبوں کے اسیر تھے
خوشیوں کا انتظار بھی لُوٹا گیا یہاں
رائے، اصول، اور ضوابط کو روند کر
ایوانِ اقتدار بھی لُوٹا گیا یہاں
امید کے چراغ بجھا کر نگاہ سے
آہوں کا اختیار بھی لُوٹا گیا یہاں
ہم کو لسانیات کے جھگڑے میں ڈال کر
ہم سے ہمارا پیار بھی لُوٹا گیا یہاں
آنکھوں کی شوخیوں کو بھی چھوڑا نہیں گیا
ہر دیدہ اشکبار بھی لُوٹا گیا یہاں
٭٭٭




بتاؤ تو سہی تم کو کمی محسوس ہوتی ہے
مری تصویر آنکھوں میں تھمی محسوس ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چاہت روٹھ جاتی ہو
کبھی دل میں تمھارے برہمی محسوس ہوتی ہے
مری تصویر کو جب دیکھتی ہو تو کبھی تم کو
کوئی خواہش نگاہوں میں جمی محسوس ہوتی ہے
کبھی جب بے ارادہ میں تخیّل میں چلا آؤں
تو تنہائی حیاتِ باہمی محسوس ہوتی ہے
کبھی پلکوں کے سائے میں تپش محسوس ہوتی ہو
کبھی پھر اس تپش میں اک نمی محسوس ہوتی ہے
پرندہ بین کرتا ہے کبھی جو خشک ڈالی پر
تو اس کی آنکھ تم کو شبنمی محسوس ہوتی ہے
کبھی جو ٹوٹ کر بادل برستے ہیں شبِ غم میں
تمھیں آواز چھت پر ماتمی محسوس ہوتی ہے
٭٭٭




شل ہوئے جاتے ہیں یوں سوچ کے تانے بانے
تھک چکے ہوں کسی مزدور کے جیسے شانے
آسرا یوں مرے الفاظ کو نقطوں نے دیا
جس طرح بھوک کو ہو جائیں میسر دانے
اُس کے بچّے کی ضرورت نے اسے بیچ دیا
جو گیا میری اذیت کی گواہی لانے
تم کو چلنا ہے مقدر کے سہارے پہ چلو
میں تو تدبیر کے رستے پہ چلا ہوں جانے
میرے ہونٹوں پہ ضرورت کی کہانی ہے فقط
چھوڑ بیٹھا ہوں محبت کے ترانے گانے
وہ مری آس کی دہلیز پہ بیٹھے کب تک
وہ مری بات کو اب اور کہاں تک مانے
جرمِ آزادیِ اظہار کیا ہے میں نے
ایک زنجیر مری سمت لگی ہے آنے
٭٭٭




تلخی میں حسن ایک عجب تھا جواب کا
کانٹے کی رگ میں جیسے لہو ہو گلاب کا
اس نے تو اپنا حسن چھپایا بہت مگر
اب کیا کرے علاج دمکتے نقاب کا
چھائی ہے اس کے لب پہ اداسی کچھ اس طرح
جیسے کہ تار ٹوٹ گیا ہو رباب کا
مدت کے بعد اس سے ملاقات جب ہوئی
پیری سے عکس جھانک رہا تھا شباب کا
تعبیر اس کی آنکھ سے جھلکی تھی اس گھڑی
جس وقت میری آنکھ میں منظر تھا خواب کا
جی چاہتا تھا اس کا سرِ بزم دید ہو
لیکن ستا رہا تھا تقاضا حجاب کا
جب ساری عمر اس نے تعاقب میں کاٹ دی
تب اس نے مجھ کو نام دیا ہے سراب کا
٭٭٭




ٹلتا رہے گا وقت بہانوں پہ کب تلک
بیٹھے رہو گے آس کے شانوں پہ کب تلک
بہتر ہے زندگی کی کہانی کو بھانپ لیں
آخر کٹے گی عمر گمانوں پہ کب تلک
جن کے ہر ایک لفظ میں پنہاں فریب ہے
ناچو گے اور ایسے ترانوں پہ کب تلک
کب تک حقیقتوں سے چراؤ گے تم نظر
تالے پڑے رہیں گے زبانوں پہ کب تلک
قدموں کو جن کے خود ہی توازن نہیں نصیب
چلتے رہو گے ان کے نشانوں پہ کب تلک
بن کر مرے عوام کی تقدیر، بجلیاں
گرتی رہیں گی اور مکانوں پہ کب تلک
جسموں کے خول ٹوٹ کے گرنے ہیں ایک دن 
جھیلیں گے ظلم اور یہ جانوں پہ کب تلک
٭٭٭




ہم ہیں طوفاں کے سفر کاٹ کے آنے والے
تند لہروں پہ بھنور کاٹ کے آنے والے
بین کرنے چلے آئیں گے فضا میں پنچھی
بھول بیٹھے تھے شجر کاٹ کے آنے والے
راہ میں آج کفن پوش کھڑے ہیں ان کی
اور حیرت میں ہیں سر کاٹ کے آنے والے
یاد کرتے ہیں فضاؤں میں بھٹک کر مجھ کو
میری پرواز کے پر کاٹ کے آنے والے 
پھر طلب کرتے ہیں وہ میرے ہی فن سے رستہ
وہ مرا دستِ ہنر کاٹ کے آنے والے 
راہِ پر خار میں اب کون سنے گا صدمے
اے بہاروں کا جگر کاٹ کے آنے والے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں بس ایک نگاہِ الفت
ہم مسائل کے بھنور کاٹ کے آنے والے
٭٭٭




ایسا نہیں کہ ظلمتِ دوراں سے ڈر گئی
بجلی کی تیغ سینۂ شب میں اتر گئی
پہنچی فراز پر تو فضا جھومنے لگے
سبزہ لہک رہا تھا جدھر بھی نظر گئی
لے کر مرے خیال میں وہ موتیوں کی آب
دروازۂ نگاہ پہ آ کر بکھر گئی
بھنوروں کو راگنی کے سلیقے عطا کیے
پھولوں پہ ایک لمس کی مہکار دھر گئی
کوئل کی کوک میں غمِ ہجراں اتار کر
کیسا ریاضتوں کا وہ سامان کر گئی
مسکان سے ملا تھا ترنم کو حوصلہ
انگڑائی لی تو لَے کی بھی قسمت سنور گئی
دیکھا فلک پہ جب تو ستارے دمک اٹھے
پہنچی نظر تو چاند کی صورت نکھر گئی
٭٭٭




خواب تعبیر سے محروم رہے
اپنی جاگیر سے محروم رہے
عمر افلاس کی دلدل میں کٹی
راہِ تدبیر سے محروم رہے
آرزو تشنۂ تکمیل رہی
لفظ تاثیر سے محروم رہے
آئینے کے بھی مقابل ہو کر
عکسِ تصویر سے محروم رہے
تیرگی سے جو لڑے تھے شب بھر
وہ ہی تنویر سے محروم رہے
ظلم بڑھتا ہے وہاں پر کہ جہاں
عدل توقیر سے محروم رہے
ہم نے سینچا تھا لہو سے گلشن
ہم ہی تشہیر سے محروم رہے
٭٭٭




روح کی کیفیت عجیب سی ہے
جان بھی آج تو رقیب سی ہے
زندگی سانس لے رہی ہے مگر
کس قدر موت کے قریب سی ہے
صحنِ گلشن کی آج حالت کیوں
ایک بگڑے ہوئے نصیب سی ہے
جو بھی رستہ ہے بچ نکلنے کا
اس ہی رستے پہ اک صلیب سی ہے
کیوں درختوں سے حسن روٹھ گیا
کیوں ہر اک شاخ ہی غریب سی ہے
ساتھ ہے میرے آج تنہائی
اور پھر راہ بھی مہیب سی ہے
یہ جو اجڑا ہوا کھڑا ہے شجر
اس پہ فریاد عندلیب سی ہے
٭٭٭




اس طرح کر کے مجھے برسرِپیکار گیا
اپنی ہی ذات سے لڑتے ہوئے میں ہار گیا
میں تو سمجھا تھا مسیحائی کرے گا میری
وہ تو نمناک نگاہوں سے مجھے مار گیا
اس کے نالے میں کوئی روح چھپی تھی شاید
لب کھلے اس کے ادھر جان سے بیمار گیا
وہ اکیلا ہی مرے گھر سے ہوا تھا رخصت
یوں لگا میری تمناؤں کا انبار گیا
ہوش بھی لے گیا جاتے ہوئے اچھا ہی کیا
غم گیا، درد گیا، روح کا آزار گیا
چشمِ افلاس بہت روئی تھی اس روز مری
اپنے سب گیت میں جب بیچنے بازار گیا
مختصر، جرمِ بغاوت کی سزا تھی میری
ایک انکار سے فوراً میں سرِدار گیا
٭٭٭





اس خموشی میں مری ہار بھی ہو سکتی ہے
یہ خموشی تیرا اقرار بھی ہو سکتی ہے
میری آنکھوں سے تیرے دل میں جو اتری ہے کرن
یہ ترے حُسن کا معیار بھی ہو سکتی ہے
اب نظر کو میرے چہرے سے ہٹا لو ورنہ
یہ مرے ہجر میں بیمار بھی ہو سکتی ہے
اے بہاروں کی ہواؤ! ذرا آہستہ چلو
کوئی حسرت مری بیدار بھی ہو سکتی ہے
یہ تبسم ترا انکار بھی ہو سکتا ہے
یہ ہنسی حسن کا پندار بھی ہو سکتی ہے
دل تلک آنکھ سے تصویر پہنچ سکتی ہے
اور پھر آنکھ سے گفتار بھی ہو سکتی ہے
اس قدر وعدۂ فردا پہ نہ ٹالو ورنہ
تشنگی آنکھ سے بیزار بھی ہو سکتی ہے
میرے جذبوں کو وہ مسمار بھی کر سکتی ہے
وہ مرے پیار کی معمار بھی ہو سکتی ہے
پردۂ  راز سے نکلے تو محبت کی اساس
ایک دن زینتِ اخبار بھی ہو سکتی ہے
زندگی موت پہ الزام بھی دھر سکتی ہے
زندگی راہ کی دیوار بھی ہو سکتی ہے
با حیا اپنا تقدس بھی بچا سکتی ہے
بے حیا رونقِ بازار بھی ہو سکتی ہے
توڑ کر نیند کو بیدار اگر ہو جائے
مفلسی برسرِ پیکار بھی ہو سکتی ہے 
٭٭٭



اسے کہنا مجھے اس خواب سے بیدار مت کرنا
فراق و ہجر کے دن رات کو دشوار مت کرنا
بچھڑنا اور ملنا اور پھر مل کر بچھڑ جانا
یہ سب اس خانۂ دل کے لیے آزار مت کرنا
مرے ہر اک تصور سے نگاہیں پھیر سی لینا
تم ان کے راستے میں کوئی بھی دیوار مت کرنا
اداسی شام کے زینے سے آنگن میں اتر آئے
تو اپنی چشمِ غربت سے کوئی اظہار مت کرنا
اگر تاریک راتوں میں کوئی جگنو نظر آئے
مری منزل کے رستے کے لیے تیار مت کرنا
میں آ تو جاؤں گا آخر مجھے واپس پلٹنا ہے
محبت کا مری قائم کوئی معیار مت کرنا
زمانہ تو زمانہ ہے زمانے سے گلہ کیسا
زمانہ آنکھ میں رکھنا، حدوں کو پار مت کرنا
٭٭٭




بن ترے رات کی ترتیب بگڑ جائے گی
شہرِ لمحات کی ترتیب بگڑ جائے گی
سامنے ہو تو تسلسل سے ابھرتے ہیں خیال
پھر سوالات کی ترتیب بگڑ جائے گی
ہجر کے بعد خیالوں میں رہو گے لیکن
میرے حالات کی ترتیب بگڑ جائے گی
شبِ فرقت ترے ہونے کا گماں تو ہوگا
ہاں مگر بات کی ترتیب بگڑ جائے گی
نہ سنا مجھ کو غمِ ہجر شجر سے بلبل
میرے صدمات کی ترتیب بگڑ جائے گی
میں نے قصداً جو تجھے آج بھلانا چاہا
پھر مری ذات کی ترتیب بگڑ جائے گی
ہجر کی رات میں جب وصل کا آئے گا خیال
سب ہی نغمات کی ترتیب بگڑ جائے گی
٭٭٭




کسی کے حسنِ نظر کی تلاش جاری ہے
بہت دنوں سے ہی گھر کی تلاش جاری ہے
پہنچ گیا ہوں پناہوں کے آستانے تک
نگاہِ ناز کے در کی تلاش جاری ہے
نکل کے بھیڑ سے رستے تک آ گیا ہوں میں
تو رہنمائے سفر کی تلاش جاری ہے
تری وفا کو کروں گا عطا لہو کا خراج
ابھی خود اپنے جگر کی تلاش جاری ہے
تمھارے حسن کا صدقہ اتارنے کے لیے 
خمیرِ نورِ قمر کی تلاش جاری ہے
یہ اس کی آنکھ کے گرداب کہہ رہے ہیں مجھے
مزاجِ موجِ ظفر کی تلاش جاری ہے
وہ ایک لفظ جو اک بار اس کو زیر کرے
بس ایک ایسے زبر کی تلاش جاری ہے
٭٭٭




ہم نے جہاں جہاں سے گزاری ہے زندگی
ان راستوں پہ آج بھی جاری ہے زندگی
دے ہی دیا ہے آج بغاوت نے راستہ
دار و رسن سے آج پکاری ہے زندگی
ہر شخص ہے کہ کاسۂ خواہش لیے ہوئے
میرے خدا کہاں پہ اتاری ہے زندگی
ہنستی ہے مجھ پہ آج مصیبت میں موت بھی
لگتا ہے آج موت پہ طاری ہے زندگی
قربت میں بھی تمھاری اداؤں کی تھی اسیر
تنہائی میں بھی آج تمھاری ہے زندگی
اس کی نظر اٹھی تھی مسیحائی کے لیے
ہائے یہ کس مقام پہ ہاری ہے زندگی
سمجھا تھا جس کو جان وہی منحرف ہوا
اب تیرے انحراف کی باری ہے زندگی
٭٭٭





کس قدر تھا ملال آنکھوں میں
وقتِ رخصت نڈھال آنکھوں میں
لفظ تھے حسرتوں کے دامن میں
حسرتوں کا زوال آنکھوں میں
جو لبوں سے نہ ہو سکے تھے ادا
وہ سبھی تھے سوال آنکھوں میں
رکھ دئیے اس جمالِ یکتا نے
اپنے سب خدوخال آنکھوں میں
آج اس کے پیام نے اس کو
کر دیا ہے بحال آنکھوں میں
کون رہتا ہے خانۂ دل میں
کوئی تصویر ڈھال آنکھوں میں
دل ضیائے شبِ برات میں تھا
روشنی کا کمال آنکھوں میں
اشک مت روک ان کو بہنے دے
یہ جواہر سنبھال آنکھوں میں
پھر نجانے کبھی ملیں نہ ملیں
کیوں ہے یہ احتمال آنکھوں میں
اس کے آتے ہی کوئی بھی منظر
روکنا تھا محال آنکھوں میں
کون دل کے قریب آیا ہے
ہے یہ کس کا جمال آنکھوں میں
کرب کر دے نہ راستے کو کٹھن
اب یہ آنکھیں نہ ڈال آنکھوں میں
اب تو نقاشؔ عمرِ رفتہ کے
رہ گئے ماہ و سال آنکھوں میں
٭٭٭




اپنے احساس کی آغوش میں لا کر دیکھو
مجھ کو اس وادیِ خاموش میں لا کر دیکھو
آرزوؤں کو نگاہوں میں جگا کر اپنی
اپنے ارمان سبھی ہوش میں لا کر دیکھو
میری آنکھوں سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی
دل کے جذبوں کو ذرا جوش میں لا کر دیکھو
مجھ کو تم آج بھی موجود وہیں پاؤ گے
خود کو اک عہدِ فراموش میں لا کر دیکھو
جگمگاتی ہوئی راتوں کے نجوم و مہتاب
تم مرے شہرِ سیہ پوش میں لا کر دیکھو
٭٭٭


تشکر: عمران شناور جنہوں نے ان پیج فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
