﻿


کوئی آواز

(آپ بیتی  ’کینوس پر چہرے اور میں‘، اور تین افسانے)

قاسم خورشید










کوئی آواز

گہری خاموشی میں دیوار پر آویزاں گھڑی کی ٹِک ٹِک کو سنتے ہوئے کبھی کبھی نیند نہیں آتی ہے اور ایسے میں اگر رات کے پچھلے پہر لگاتار ٹیلیفون کی گھنٹی بجنے لگے تو خوف کا احساس ہونے لگتا ہے۔ آج میرے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔ میں سونے سے پہلے ٹیلی فون کو اس کمرے میں رکھ دیتا ہوں جہاں عموماً میرے علاوہ کسی کو جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ میری خاموشیاں اس کمرے میں بولتی ہیں۔ جہاں تک بیڈ روم کا سوال ہے تو اس کمرے میں میری بیوی ساتھ ہوا کرتی ہے۔ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ مجھے ڈائننگ ٹیبل پر سجاتی ہے اور پھر متعینہ وقت پر ٹیلی ویژن کے پروگراموں کو دیکھتی رہتی ہے۔ اس دوران آنے والے ٹیلی فون یا دستک دینے والے کسی بھی شخص کا سیدھے مجھ سے ہی مکالمہ ہوا کرتا ہے۔ بچے جوان ہو چکے ہیں۔ دارین انجینئر ہے اور امریکہ میں بس گیا ہے۔ میری پیاری بیٹی صائمہ اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب میں ہے۔ بہت خوش ہیں دونوں بچے۔ میرا کاروبار بھی پھل پھول رہا ہے۔ بچے میرے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں انہیں منع کر دیتا ہوں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میری بیوی عشاء کی نماز کے بعد فارغ ہو جاتی ہے۔ بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ بڑے شہر کے نوکروں پر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں شام سے پہلے ہی فری کر دیتی ہے۔ دراصل میری تنہائی کا سفر بھی یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔ بہرکیف!
رات کے پچھلے پہر لگاتار فون کی گھنٹی سے میں کچھ خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ موبائل کے دور میں بھی میں صرف لینڈ لائن پر ہی اکتفا کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہوں۔بچے ملک کے باہر رہتے ہیں اور ان کا بھی وقت طے ہے۔ انہوں نے ہندوستانی وقت کا بھی ہمیشہ خیال رکھا ہے۔ مگر انہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہے؟ سب خیریت تو ہے؟ کہیں صائمہ کی پرانی بیماری! نہیں نہیں، میں بھی کیا سوچنے لگا ہوں۔ اچھا جانے دو بہت ضروری کال ہو گا تو پھر آئے گا ٹیلی فون۔ مگر یہ گھنٹی بھی خوب ہے طے شدہ وقت سے زیادہ بج رہی ہے۔ اب تک تو بند ہو جانا چاہئے تھا اسے۔ مگر ایسانہیں ہوتا ہے۔ گھنٹی لگاتار بجتی جاتی ہے۔ اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ آواز مدھم نہیں ہے۔ کمرہ بند ہونے کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرے بیڈ روم سے ہی آواز آ رہی ہے۔ میں اندھیرے میں دھیرے دھیرے کمرے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بیوی آسانی سے نہیں جگ سکے گی یہ میں بھی جانتا ہوں مگر پڑوسیوں کی نیند تو خراب ہوہی سکتی ہے۔ گھنٹی بند نہیں ہو رہی ہے۔ میں اپنے بیڈ روم کا دروازہ کھولتا ہوں، اور پھر دوسرے کمرے کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنے لگتا ہوں۔ ٹیلی فون والے کمرے کا دروازہ کھولتا ہوں۔ گھنٹی اور تیز ہو گئی ہے۔ روشن دان سے کوئی ہلکی روشنی ابھر رہی ہے۔ میں کمرے میں روشنی پھیلانا نہیں چاہتا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کے لئے روشنی کی کیا ضرورت؟ نہ جانے کیوں آج میں، بہت سہما ہوا ہوں۔ مجھے لگ رہا ے یہ کوئی نارمل فون نہیں ہو سکتا۔ رات کے پچھلے پہراتنا اضطراب کیوں ؟پھر اپنے اندر ہمت سمیٹ کر ٹیلی فون اٹھاتا ہوں۔ گھنٹی چپ ہو جاتی ہے۔ مگر کوئی بے چین شخص میرے دھیرے سے ’ہیلو‘ کہنے پر ایک ہی سانس میں بولنے لگتا ہے۔
’عجیب آدمی ہیں آپ؟ میں مستقل آ پ کو ٹیلی فون کر رہا ہوں۔ دیر تک رِنگ ہونے کے باوجود آپ خاموش ہیں ؟ کیوں اتنے خوفزدہ تھے؟ میں کوئی چنگی مانگنے والا نہیں ہوں۔ نہ ہی آپ کو کوئی دھمکی دینے جا رہا ہوں۔ کوئی بری خبر بھی نہیں پہنچانے والا ہوں۔ آپ اتنے بزدل کیوں ہیں۔ بس رات کے پچھلے پہر آپ کو جگا دیا تو بے چین ہو گئے؟ شیم …شیم…!
’بھائی ایسی بات نہیں ہے!‘
’اگر ایسی بات نہیں ہے تو ٹیلی فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟ یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ آپ خود سے خوفزدہ ہیں۔‘
’میں پھر کہہ رہا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں کبھی خود سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ مگر یہ ٹیلی فون کرنے کا کوئی وقت ہے اور سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ آپ نے اب تک اپنا نام نہیں بتایا۔ مقصد نہیں بتایا۔ میرا خیال ہے کہ میں آپ کو جانتا تک نہیں اور یہ طے ہے کہ آپ بھی مجھے نہیں جانتے۔‘
’سنئے سنئے دھیان سے سنئے آپ کا ٹیلی فون نمبر ہے 2665948۔ آپ کا نام ہے جعفر امام۔ آپ کی بیٹی صائمہ اور بیٹا دارین ہے۔ صائمہ اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب میں ہے۔ دارین امریکہ میں مقیم ہے۔ صائمہ سے آپ بہت پیار کرتے ہیں اور پیار محض اس لئے نہیں کہ وہ آپ کی بیٹی ہے۔ بلکہ اس کے عالمِ وجود میں آتے ہی آپ کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا کنٹریکٹ ملا تھا۔ اسی کنٹریکٹ نے آپ کو آسمان کی بلندیاں عطا کر دیں۔ آپ ہر روز صائمہ کا چہرہ دیکھ کر ہی دن کا کام شروع کرتے تھے۔ اسے دمے کا مرض ہے۔ آپ نے بہت علاج کروایا لیکن کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا۔ دارین پر آپ کو ناز ہے۔ اس نے آپ کا نام روشن کیا ہے۔ ہمیشہ آپ کی مرضی کے مطابق ہی کام کیا ہے یہاں تک کہ اس نے آپ کی پسند کو ہی اہمیت دیتے ہوئے اپنی برسوں کی دوستی کو قربان کر دیا۔دارین کی بیوی ایک اچھی بہو ضرور ہے لیکن وہ کبھی اس کی محبوبہ نہیں بن پاتی۔ دراصل آپ رشتوں کا بھی کاروبار کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں جانتے، مگر یہ دعویٰ کیوں کئے بیٹھے ہیں کہ کوئی آپ کو نہیں جانتا؟‘
’مگر …مگر… میری بات بھی آپ سن لیں۔ یہ سچ ہے کہ میں آپ کو نہیں جانتا۔ کبھی آپ سے میری گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ آپ میرے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہیں۔ عجیب شخص ہیں آپ۔ تعارف تو دیجئے۔ میں اپنے سبھی دوستوں کو یاد کرنے کی کوشش کروں گا کہ شاید ان میں سے ہی ہوں آپ۔‘
’تو ٹھیک ہے۔ آپ اپنے سبھی دوستوں کو یاد کیجئے۔ آپ ذہن پر زور دیجئے کہ میں کون ہو سکتا ہوں۔ آپ کے بارے میں اتنا کچھ جاننے والا میں کون ہوں ؟ مگر آپ یہ جان لیجئے کہ میں اور بھی بہت کچھ جانتا ہوں آپ کے بارے میں، آپ کی بیوی کے بارے میں۔ آپ کی محبوبہ روبی کے بارے میں …‘
’شٹ اپ! شٹ اپ! اب تو حد ہو گئی۔ آپ کہیں مجھے بلیک میل تو نہیں کرنا چاہتے؟ اگر ایسی بات ہے تو …‘
’اوہ۔ سنو! میں تم جیسے آدمی کو بلیک میل کروں گا؟ تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ دھیان سے سنو…! تمہیں چوبیس گھنٹے کا وقت دیتا ہوں۔ مجھے پہچاننے کی کوشش کرو۔‘
’ہیلو… ہیلو…!‘
فون ڈسکنکٹ ہو جاتا ہے۔ سخت سردی کے باوجود میرا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا ہے۔ میں نے سگریٹ تلاش کی۔ کب وہ لب تک پہنچی مجھے اندازہ نہیں ہوا۔ میں نے کمرے کی ساری کھڑکیاں کھول دیں۔ چاند کی کرنیں اور سڑک کے لیمپ پوسٹ کی مدھم روشنیاں میرے کمرے میں آ گئیں۔ دریچے سے باہر سنسان سڑکوں پر کہیں کچھ نہیں تھا بس چاروں طرف خاموشیاں تیر رہی تھیں اور میں ان خاموشیوں میں ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ ذہن کے نہاں خانوں سے جھانکنے والے ماضی کے بے شمار چہروں کو دیکھنے اور انہیں پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ کوئی چہرہ واضح طور پر دھند سے ابھرتا دکھائی نہیں دیتا۔ گفتگو کا سلسلہ پھر بھی ختم نہیں ہوتا۔ آخر کون ہے وہ شخص؟ میری زندگی کی کتاب میں کہاں ہے اس کا نام؟ وہ مجھے اس حد تک کیسے جانتا ہے۔ اور اگر جانتا بھی ہے تو کریدنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟اچھا… اچھا… وہ فہیم ہو سکتا ہے! میرے بچپن کا دوست میرے دکھ سکھ کا ساتھی۔ ارے ہاں … میں بھی کیا آدمی ہوں۔ فہیم کو ہی بھول گیا؟ مگر اسے اتنی رات گئے فون کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ تو لگ بھگ ہر ہفتے مجھ سے ملتا ہے۔ ایک طرح سے ہماری فیملی ہی اس کے جینے کا مقصد ہے۔ اس نے بھی دولت اُگاہی تو بہت کر لی ہے مگر کوئی بھوگنے والا نہیں ہے۔ بس بیوی کیا گزر گئی اس کا قدرت سے وشواس ہی اٹھ گیا۔ ہم سبھوں نے بہت ضد کی کہ دوبارہ شادی کر لے لیکن ہمیشہ خوبصورتی سے ٹالتا رہا اور بعد میں تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس نے جینے کا بہانہ تلاش کر لیا ہے۔ اب اسے کسی ایسے سُکھ کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ چونکہ یہ اس کا نجی معاملہ ہے اس لئے زیادہ ٹوکنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ مگر …! ٹیلی فون پر وہ آواز تو فہیم کی نہیں ہو سکتی! اتنی خوبصورت آواز۔ اتنا با رعب لب و لہجہ۔ نپے تلے جملے۔ فہیم تو ہکلاتا ہے اور آواز پر تو گمان ہوتا ہے کہ کوئی خاتون اس کے اندر سے بول رہی ہے۔ نہیں وہ ٹیلی فون فہیم کا تو نہیں ہو سکتا۔ مگر میرے بارے میں کوئی اتنا جانتا بھی نہیں ہے۔ میں تو ہمیشہ سفر میں رہا ہوں۔ ادھر کچھ دنوں سے ایک دفتر کھول کر اس شہر میں مقیم ہوں۔ ہو سکتا ہے روبی نے فون کروایا ہو۔ روبی پھر میری زندگی میں آنے کی کوشش کر رہی ہو۔اس شخص نے میری محبوبہ روبی کا ذکر کیا تھا۔ اسے روبی کے بارے میں جانکاری کیسے ملی؟ میرے اور روبی کے علاوہ تو شاید اور کوئی اس رشتے کے بارے میں نہیں جانتا۔ میں نے شادی کے بعد اس کے سارے خطوط بھی جلا دئیے ہیں۔ کوئی ثبوت باقی نہیں رہنے دیا ہے۔ اور پھر اتنے برسوں بعد کوئی کیوں مجھے پریشان کرے گا؟ میں اپنی شادی کے بعد کبھی روبی سے ملا ہی نہیں۔ اس نے بھی ایسی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے گھر سے الگ ہو کر اس نے نوکری کر لی۔ وہ مجھے کیوں پریشان کرے گی؟ اور پھر اسے کمی کس بات کی ہو گی۔ روبی ایسا کر رہی نہیں سکتی۔ اگر وہ اس مزاج کی ہوتی تو میری شادی کے وقت ہی ہنگامہ کرسکتی تھی اب تو اس پر کوئی یقین بھی نہیں کرے گا۔ مگر وہ ہے کون…؟ میں دیر تک سوچتا رہتا ہوں اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پانے کی وجہ سے مجھے نیند بھی آجاتی ہے مگر پھر چونک جاتا ہوں اور صبح کے اُگنے تک  سو نہیں پاتا۔
اس روز دن بھر دفتر میں بھی بے چین رہا۔ شام ہونے کا انتظار ہی حاوی رہا۔ پھر دل بہلانے کے لئے کسی ہوٹل میں چلا گیا دیر تک کونے میں بیٹھ کر شغل کرتا رہا۔ جب رات زیادہ ہو گئی اور بار بند ہونے لگا تو مجبوراً مجھے سڑک پر آنا پڑا۔ سڑکیں تنہا ہونے لگی تھیں۔ میں نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ دھیرے دھیرے بلکہ بہت محتاط ہو کر گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا میں اپنے گھر پہنچا۔ بیوی انتظار کر رہی تھی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سمجھ گئی۔ کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔ نماز ادا کرنے والی عورت کے سامنے میں خود کو مجرم سمجھ رہا تھا اور یہی سوچ کر اپنے نجی کمرے میں یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ ’کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔‘
بیوی پہلے بھی یہ سب جھیل چکی تھی اس لئے وہ بیڈ روم میں جا کر سوگئی۔
رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میں اندھیرے میں بیٹھ کر دیر تک سگریٹ پیتا رہا۔ بار بار ٹیلی فون پر نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ پھر ذہن پر زور دیتا ہوں۔ نہ جانے کیوں روبی بار بار سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میری جدوجہد کے ساتھ لگاتار وہ بھی ہم سفر رہی تھی۔ یہ بھی طے ہے کہ اس نے میرے لئے ڈھیر ساری قربانیاں دیں یہاں تک کہ میرے کیریر کو خوبصورت بنانے کے لئے اپنی محبت کو بھی قربان کر دیا۔ میں بھی مصلحتاً خاموش رہا۔ مگر کچھ ایسے رشتے ہیں، جو وقت کی دھند میں ڈوبتے نہیں ہیں۔ روبی سے میرا رشتہ بھی کچھ ایساہی ہے۔ میں روح کی گہرائیوں سے ابھر کر برسوں جسم و جاں کے رشتے سے بھی شدت کے ساتھ وابستہ رہا اور ایسے میں روبی کو بھلایا جانا بھی مشکل تھا۔ مگر اب عمر کی جس دہلیز پر آ کر کھڑا ہو چکا ہوں اس جگہ ماضی کے ایسے قصے کو زندہ کرنے کا کیا حاصل؟ روبی ایسا نہیں کرسکتی؟ اسے اگر ضرورت ہو گی تو مجھے سیدھے کہہ دے گی۔ میں تو آج اس کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ وہ ایک بار صرف ایک بار خود مجھ سے آ کر مل لے یا ٹیلی فون پر بجائے دوسروں کے ذریعے مجھے دھمکانے کے، سیدھے اپنا مدعا بیان کرے۔عجیب المیہ ہے یہ بھی کہ کوئی اس حد تک پستی کا شکار ہو سکتا ہے؟ اگر اب ٹیلی فون آیا تو میں صاف صاف کہہ دوں گا کہ سیدھے روبی کو بات کرنے کو کہو۔ میں بیچ کے آدمی سے بات نہیں کروں گا۔ دیر تک اسی ادھیڑ بن میں رہا اور نہ جانے کب مجھے نیند آ گئی۔
آج کمرے کی کھڑکیاں پہلے سے ہی کھلی تھیں۔ رات کے پچھلے پہر پھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی ہے۔ میں چونک کر اٹھ جاتا ہوں۔ گھنٹی بج رہی ہے۔ باہر سے آنے والی روشنی بھی تیز ہو گئی ہے۔ میں اپنے آپ کو تیار کرنے کے بعد ٹیلی فون اٹھا لیتا ہوں۔ پھر وہی آواز۔ اس کے ہیلو کے جواب میں، میں بھی جب ہیلو کہتا ہوں تو وہ اپنے مخصوص با رعب لہجے میں پھر بولنے لگتا ہے۔
’تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمہیں بلیک میل کرنے کے لئے فون کر رہا ہوں۔ شرم آنی چاہئے تمہیں۔ اور روبی کے بارے میں تمہارا خیال اتنا گھٹیا اور فرسودہ ہو گیا ہے۔ یہ تم کس دنیا میں جی رہے ہو؟ تمہارے مستقبل کو تابناک بنانے والی روبی اگر چاہتی تو تمہیں شادی سے روک سکتی تھی۔ اس کے لکھے ہوئے خطوط تو تم نے جلا دئے لیکن تمہارے لکھے ہوئے خطوں اور گزارے ہوئے لمحوں کے ساتھ وہ جی رہی ہے۔ دراصل سفر تو وہ کر رہی ہے۔ کبھی اس شہر میں تو کبھی اس شہر میں۔ وہ تمہارے کاروباری وجود کو مردہ قرار دے چکی ہے۔ مگر اپنے اکلوتے بیٹے کو اس نے تمہارا نام دیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ روبی کا شوہر مر چکا ہے۔ اس نے اپنے بچے کو جوان کیا اور اب وہ اس کی شادی کر رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ تم ایک کمزور مرد کے مقابلے ایک تنہا عورت کی تپسیا کی جیتی جاگتی تصویر کو محسوس کرو۔ وہ چاہتی ہے کہ …‘
اور پھر دیر تک اس آواز کو سنتا رہتا ہوں۔ وہ شخص بولتا رہتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ میں اسے دھیان سے سُن رہا ہوں۔ سچ مچ اس کی آواز میں کھو جاتا ہوں۔ 
ٹیلیفون پر جس آواز کو اب تک نہیں پہچان پا رہا تھا دراصل وہ تو میری اپنی ہی آواز تھی۔ 
٭٭٭






پھانس

میں گہری نیند میں تھا۔ اچانک جگ گیا۔ شاید کوئی آہٹ تھی یا پھر کسی کی آواز۔ سنا کچھ بھی نہیں تھا۔ بس قیاس کے اندھے کنویں میں بھٹک رہا تھا۔ ممکن ہے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی آنکھوں پر کسی تیز روشنی کا حملہ ہوا ہو۔ روشنی ہی شب خون مارنا چاہتی ہو۔ مگر کچھ تو ہوا تھا۔ یوں ہی دن بھر کا تھکا ہوا کوئی شخص جاگ نہیں سکتا تھا۔ بلکہ دل کی دھڑکنیں بھی بہت تیز ہو گئی تھیں۔ انھیں سنبھال پانا بھی مشکل تھا۔ یہ بھی گمان ہوا کہ اچانک پھر کسی نے بے وقت دل پر دستک تو نہیں دی تھی۔ حالانکہ اُسے روز سونے سے پہلے یاد کرتا ہوں۔ پتہ نہیں کب سے یہ سلسلہ قائم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید کل کی ہی بات ہے۔
’اوہ! نو۔۔۔ وھاٹ آر یو  ڈوئنگ‘ ؟
’نتھنگ! اچھا بتاؤ کیا ہوا‘؟
’تم اپنے دل سے پوچھو۔۔۔‘
’دل سے ہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔‘
’یو آر ناٹی‘
’سو تو ہوں۔۔۔‘
’اچھا اب چھوڑو بھی۔۔۔‘
’کیوں ‘
’دیر ہو رہی ہے۔ آئی ایم سُولیٹ‘
’کمال ہے محض دو سال کی ملاقات ہے ابھی، اور ان دو برسوں میں تم نے مجھے صرف ۲۸۱ گھنٹے ۱۷ منٹ اور ہاں باون سکینڈ دیئے ہیں ‘۔
’اوہ۔۔۔ نو۔۔۔ تم اتنے کلکولیٹو ہو؟ میں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں۔ یعنی تم ہر لمحے کا حساب رکھتے ہو‘۔
’حساب نہیں، ان لمحوں میں اپنا احتساب کرتا ہوں کہ آخر میں ہوں کہاں ؟ تم نے میرے لیے کیا فیصلہ کیا ہے‘؟
’فیصلہ کیا۔۔۔؟ وہ سب کچھ تو ہو ہی چکا ہے جو رشتے کو یقین میں بدلنے کے لیے ضروری تھا۔۔۔‘۔
’تو پھر ہمیں کسی اور شئے کی تلاش کیوں رہتی ہے‘؟
’کس شئے کی‘؟
’کہہ نہیں سکتا۔۔۔‘
’ٹھیک ہے۔ سوچ لو آج ساری رات یہی کام کرنا۔ مجھے جانا ہے، پاپا اِز اَ لُون۔ وہ بہت جلد گھبرا جاتے ہیں۔ تم نہیں سمجھو گے‘۔
’او کے۔۔۔ جاؤ۔۔۔ مگر ہاں کل میں شہر سے باہر جا رہا ہوں ہفتے بھر کے لیے۔ ضروری میٹنگ ہے۔ فون پر شام میں ہی باتیں ہوں گی۔۔۔‘۔
’اوکے۔۔۔ ٹیک کیئر۔۔۔ وِش یو اے ہیپّی جرنی۔۔۔ بائی۔۔۔‘۔
وہ چلی گئی۔ میں بھی سفر کی تیاری کرنے لگا۔ امی جانتی تھیں کہ بیٹے کو ہفتے بھر کے لیے باہر جانا ہے شاید اسی لیے اپنی سطح پر انھوں نے ساری تیاریاں کر دی تھیں۔ مگر ہمیشہ کی طرح یہی کہا کہ اب مجھ سے یہ سب نہیں ہونے والا۔ اکیلی ہوں۔ تمھارے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔ گھر میں بہو آنی چاہیے۔ جو تجھے پسند ہو وہی آئے۔ میری طرف سے کوئی بندش نہیں ہے۔ میں مسکرا کر ٹال دیا کرتا۔ مگر سفر کے دوران اس مسئلے پر ضرور سوچتا۔ امی ٹھیک ہی کہتی ہیں۔ شادی تو کرنی ہی ہے تو پھر مزید دیر کیوں کی جائے؟
مسکان کو وہ اچھی طرح جانتی ہیں۔ انھیں پسند بھی ہے۔ وہ اسے بہو بنا کر گھر میں لانا بھی چاہیں گی۔ چلو اس سفر میں یہ طے کر ہی لیا جائے۔ مسکان سے پوچھ ہی لیتا ہوں کہ وہ شادی کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
کافی لمبی دوری طے کرنے کے بعد شہر پہنچا۔ میٹنگ کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔ پاور پرزنٹیشن تھا۔ اپنے لیپ ٹاپ پر سب سے پہلے مسکان سے ملاقات کی اس کی جیتی جاگتی ایک بھرپور تصویر سے۔ زیر لب مسکرایا۔ لیپ ٹاپ (laptop) پر فیدر ٹچ سے ہی مسکان غائب ہوئی پھر پاور پرزنٹیشن کے مواد پر نظر ثانی کرنے لگا۔ انگلیاں بھی عجیب تھیں۔ ابھی میں اپنی ساری توجہ دفتری امور پر مرکوز کرنا چاہتا تھا مگر مسکان بیچ اسکرین پر آ جاتی، اوہ نو۔۔۔ ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ اگر پیشکش کے دوران بھی ایسا ہو گیا تو بہت ہُوٹنگ ہو جائے گی۔ ہیڈ آفس تک یہ بات پہنچ جائے گی۔ نو۔۔۔ ! ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ مسکان۔۔۔ ! پلیز ایسا مت کرنا۔ اِٹ اِز ناٹ فیئر۔۔۔ لگتا ہے وہ مان گئی۔ وہ ہلکے سے اشارے کے بعد ہی ا سکرین سے غائب ہو گئی۔
شام سات بجے تھکا ہارا اپنے گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ موبائل آن کرتے ہی مسکان نے پکارا۔۔۔
’یہ تم موبائل کب سے آف کرنے لگے‘
’ارے نہیں یار۔۔۔ میٹنگ میں ڈِسٹرب ہو رہا تھا۔ بس ابھی لوٹا ہوں۔ تم سے بات کرنے کے لیے ہی اسے آن کیا تھا‘
’میٹنگ کیسی چل رہی ہے۔۔۔‘
’ ٹُو گڈ۔۔۔ ! صبح تم نے بہت ڈسٹرب کر دیا تھا‘
’میں۔۔۔ ! میں کہاں سے آ گئی۔۔۔‘
’تم گئی کہاں ہو۔۔۔‘
’او کے۔۔۔ ! کو نسنٹریشن رکھو۔۔۔ ورک فرسٹ‘
’اور تم پر۔۔۔‘
’میں نے کام پر توجہ دینے کے لیے کہا ہے، کسی بھی کام پر۔۔۔‘
’یو آر جینیس یار‘
’سو تو میں ہوں۔۔۔‘
’اب ہم سیریس ہو جائیں ‘
’کیوں، کیا ہوا؟۔۔۔وہاں کوئی اور ہے کیا۔۔۔؟‘
’یہیں پر دنیا کی ہر عورت ایک ہو جاتی ہے‘
’وھاٹ ڈَز اِٹ مٖین۔۔۔‘
’پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے اپنے پاپا سے بات کی۔۔۔ اِز ہی ریڈی‘؟
’میں ان سے کیا بات کروں اور کیسے؟ ذرا سوچو، ممی کے گزر جانے کے بعد وہ ایک دم تنہا ہو گئے ہیں۔ بھائی ڈاکٹر ہو گیا۔ بیوی بھی ڈاکٹر مل گئی۔ دونوں انگلینڈ میں سیٹلڈ ہو گئے۔ بس ہر مہینے بینک اکاؤنٹ میں روپے آ جاتے ہیں۔ پاپا کبھی کبھی ان سے ملنے جاتے ہیں مگر لوٹ کر اور بھی اُداس ہو جاتے ہیں۔ میں اُن سے کیسے کہوں کہ اب میں بھی آپ کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں۔ نو۔۔۔ یہ ہم سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔‘۔
’لِسن۔۔۔ پلیز سنو۔۔۔ میری ماں بھی اکیلی ہے۔ اسے بھی کوئی دیکھنے والا نہیں۔ اس نے تمام عمر ہمارے لیے بہت اسٹرگل کیا۔ اب میں انھیں تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ انھیں بھی تمھاری بہت ضرورت ہے۔ تم ان کی بیٹی بن کر رہو گی پلیز کچھ سوچو‘۔
’میں اپنے پاپا کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ کبھی انکار نہیں کریں گے۔ وہ صرف ہماری خوشی چاہتے ہیں۔ لیکن وہ تنہا ہو جائیں گے بلکہ مر جائیں گے‘۔
’کیا پاپا ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔۔۔‘؟
’وھاٹ نان سِنس یو آر ٹاکنگ؟ ہِی اِز ہائیلی سینسٹِو پرسن۔ بہت خوددار ہیں اور سوشل بھی‘۔
’مسکان۔۔۔ کوئی راستہ نکالو۔ میرے پرابلم کو بھی سمجھو۔۔۔‘
’میں اگر تمھیں  ایک ایڈوائس دوں تو تم مانو گے‘
’پہلے بتاؤ بھی کہ مشورہ کیا ہے‘؟
’سننے کے بعد ہی کہہ سکوں گا‘
’اگر ہمارا رشتہ مضبوط ہے تو پھر تم میرے مشورے پر عمل کرو گے‘۔
’اچھا۔۔۔ چلو۔۔۔ کہو۔۔۔ بولو بھی۔۔۔‘
’تم کہیں اور شادی کر لو۔ تمھاری امی کو ایک گھریلو بہو چاہیے، بس اس کا خیال رکھنا‘
’اوہ نو۔۔۔ تمھیں پتہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔‘؟
’آئی ایم ویری کُول۔ میں بہت سوچ سمجھ کر ایسا کہہ رہی ہوں۔ ہم اپنا ٹائم ویسٹ نہ کریں۔ تمھاری ماں کا بھی تم پر حق ہے جس طرح میرے پاپا کا مجھ پر ہے پلیز تم مان جاؤ۔۔۔ پلیز‘
’مسکان۔۔۔ یہ میری زندگی کا سوال ہے‘
’اسی لیے تو تمھیں فیصلہ کرنے کا حق ہے‘
’لیکن ہم تو بہت دور نکل چکے ہیں۔ شادی تو محض فارملٹی ہو گی‘
’تم کیوں گِلٹ فیل کر رہے ہو۔ تم جسے گناہ سمجھتے ہو وہ میرے وجود کا حصہ ہے۔ تم ڈار سے بچھڑ چکے ہو۔ میں کوئی دعویٰ پیش نہیں کرتی تو تم کیوں پریشان ہو‘۔
’تو یہ تمھارا آخری فیصلہ ہے۔۔۔ پلیز ٹھیک سے سوچ لو۔۔۔‘
’ارے یار۔۔۔ ! میں فیصلے پر یقین رکھتی ہوں سوچنے پر نہیں۔ یہ ہم دونوں کے لیے اچھا ہو گا۔ تم خیال مت کرنا۔۔۔ پلیز۔۔۔‘
اس سفر میں کئی بار مسکان سے باتیں ہوئیں۔ بہت خوشگوار ماحول میں، کبھی کبھی ہم سوگوار بھی ہوئے۔ وہ اپنے فیصلے سے بہت مطمئن تھی۔ بہت کوششوں کے بعد بھی اس نے ارادہ نہیں بدلا۔ میں سوچنے لگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ رشتوں میں اتنی شدت اور ایمانداری کے باوجود ہم الگ ہونے کے لیے نہ صرف یہ کہ راضی ہو گئے بلکہ اس نے میری امی کی پسند کی لڑکی روبینہ سے میری شادی بھی کروا دی۔ بہت پیش پیش رہی۔ امی کی نظر میں تو وہ اور بلند ہو گئی۔ میری شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ مسکان کے پاپا نے بھی بہت دلچسپی کا مظاہرہ کیا بلکہ اسی دوران میری امی سے کہا کہ ’آپ مسکان کو بھی شادی کے لیے راضی کیجئے۔ یہ جہاں چاہے رشتہ کر سکتی ہے۔ میرے بارے میں سوچتی رہتی ہے۔ میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ میں بہت دولتمند ہوں، کیئر ٹیکر کی کمی نہیں ہو گی۔ مگر اسے کون سمجھائے‘۔ اسی دوران مسکان نے آ کر ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
’پاپا آپ پھر شروع ہو گئے۔ نئے کپَل کو مبارک باد دیجئے اور گھر چلئے۔ دوا بھی لینی ہے آپ کو۔۔۔ پلیز۔۔۔‘
اس روز وہ میرا گھر بسا کر چلی گئی۔ کبھی کبھی فون بھی کرتی۔ پہلے پوچھتی کہ روبینہ  کہاں ہے۔ میں کہتا رسوئی میں ہے یا امی کی خدمت کر رہی ہے یا سو رہی ہے۔
اب ہم دنیا داری پر اُتر آئے تھے۔۔۔
’تم نے کون سا ٹی وی خریدا ہے۔۔۔‘
’وہ کوئی بِگ اسکرین والا ہے۔ دیوار پر آویزاں کر دیا ہے۔ ریموٹ سے ہی تصویریں بدل بدل کر دیکھتا رہتا ہوں ‘
’کار بھی تم نے اچھی خریدی ہے۔ مَیرون کلر ہے نا۔۔۔ میں نے ایک دن تمھیں اور روبینہ کو اس پر سوار ہو کر کہیں جاتے ہوئے دیکھا تھا‘
’ہاں بہت آرام ہے۔ اے۔ سی۔ بھی بہت اچھا ہے۔ کُول۔۔۔ ایک دم کُول۔۔۔ ذرا بھی سفوکیشن نہیں ہوتا‘
’ویل۔۔۔ او کے۔۔۔ بائی۔۔۔‘
مسکان میرے لیپ ٹاپ (laptop) سے دھیرے دھیرے غائب ہونے لگی۔ اب وہ شاید میموری میں بھی نہیں تھی۔ کسی آئی کون (Icon) میں اس کا نام و نشان باقی نہیں تھا۔ میری بیوی بہت خوش تھی۔ میں بھی اس کا پورا خیال رکھنے لگا تھا۔
مگر بظاہر سب کچھ نارمل ہونے کے بعد جب کچھ سال بیت گئے تو میرے ساتھ یہ کیا ہونے لگا۔ بھولنے کی بیماری۔ کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ گھر سے دفتر تک صرف پریشانی۔ کبھی چابی بھول گیا تو کبھی لیپ ٹاپ۔ کبھی پرس تو کبھی۔۔۔ ! کسی سے کیا گیا وعدہ تو روز ہی بھول جاتا ہوں۔ دیوار پر آویزاں ٹیلی ویژن ہو، اے۔ سی۔ کار یا پھر آسائش کے دوسرے سامان، کہیں دلچسپی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ بہت محنت اور عرق ریزی کے باوجود کوئی بھی کام معیاری نہیں ہوپا رہا تھا۔ نیشنل یا انٹرنیشنل میٹنگوں میں پہلے میں نمائندگی کیا کرتا تھا لیکن مستقل بے اثر ہونے کی وجہ سے اب دوسرے جونیر اسٹاف کو زیادہ ترجیح دی جانے لگی تھی۔ ذرا ذرا سی بات پر ناراضگی۔ زیادہ تر لوگوں سے تعلقات بھی دوریوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بے ترتیب پڑے ہوئے سامانوں سے لے کر گھر کے افراد تک میری زد میں آنے لگے تھے۔ ایک شور شرابہ۔ بے مقصد ہنگامہ۔ پڑوسیوں کے لیے میرا گھر تفریح کا مرکز بن چکا تھا۔ 
میرے بے ترتیب ہونے کا سلسلہ جب طویل ہونے لگا تو مجھے بہت تشویش ہوئی کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ گھر میں سب کے ہونے کے باوجود میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔ اپنا کمرہ بھی الگ کر لیا ہے۔ ڈِنر کے بعد اندر سے اسے مقفّل کر لیتا ہوں۔ پھر دیر رات تک کتابوں میں سر کھپاتا رہتا ہوں۔ کبھی کبھی جی چاہا تو کمپیوٹر پر بیٹھ گیا۔ روبینہ میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں رہ گئی تھی۔ سبھوں کے سو جانے کے بعد دیر تک ٹیرس پر ٹہلتا رہتا۔ نیند بھی بہت دیر سے آتی۔ کبھی کبھی تو تمام رات یوں ہی گزر جاتی۔ نیند کی گولیوں سے مستقل افاقے کا امکان بھی ختم ہونے لگا تھا۔ ذہنی کمزوری اور لگاتار بھولنے کے عمل سے میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ تب خیال آیا کہ یوگ کرنا چاہیے۔ سی۔ ڈی۔ لا کر یوگا اچاریہ کی نقل کرنے لگا۔ ہدایت کے مطابق آنکھیں بند کرنے کے بعد کہیں خلا میں کھو جانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس دوران بہت ساری دشواریاں درپیش آنے لگیں۔ کھونا کہاں ہے یہی واضح نہیں ہو پا رہا تھا …پھر بھی مصنوعی طور پر یہ سب کرتا رہا لیکن دیر تک طبیعت مائل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھی جی اُچاٹ ہو گیا۔ بات بات پر ناراض ہو جانے، خود کو لگاتار کمزور ہوتا ہوا محسوس کرنے یا زندگی کی اہم ضرورتوں کو بھی بھول جانے کے عمل سے دوچار ہونے کا سلسلہ اور طویل ہوتا گیا۔ کبھی کبھی تنہائی میں جی بھر کر رو لیتا تو تھوڑا سکون ضرور ملتا بلکہ اس وقت یہ تجسّس اُبھرتا کہ سب کچھ بھول گیا ہوں یا بھول جاتا ہوں تو پھر مسکان مجھے روز کیوں یاد آتی رہتی ہے۔ اسے بھی تو بھول جانا چاہیے تھا۔ اب تو بظاہر اس کا کوئی نقش باقی نہیں ہے۔ نہ موبائل میں، نہ ڈائری میں نہ لیپ ٹاپ یا کسی البم میں۔ پھر وہ کیوں مجھے جگا دیا کرتی ہے۔ میرے اندر کیوں رَچ بس گئی ہے۔ مجھے کیوں احساس دلاتی ہے کہ میرا جرم قابل معافی نہیں ہے۔ دوا لے کر بھی گہری نیند نہیں سو پاتا، اس کے آنے کی آہٹ یا کبھی کبھی چیخنے کی کوئی آواز مجھے جگا دیا کرتی ہے۔ 
مسکان۔۔۔! میں سچ مچ تم سے مُکتی چاہتا ہوں۔ میرے گناہوں کے ساتھ تم جینے کی کوشش مت کرو۔ پلیز مجھے جینے دو۔۔۔ پلیز۔     
٭٭٭




کِنّی کا راجکمار

 ہاں تو صاحبان… قدردان… مہربان
جگر تھام کر بیٹھ جائیے۔ جی چاہے تو اٹھ جائیے
اپنے مایوس چہروں پر ہنسی لائیے۔ دنیا سے تھوڑی غشی لائیے
بہت رو چکے۔ بے حسی لائیے
صاحبان… قدردان… میں کون ہوں۔ کیا ہوں۔ کیوں ہوں 
یہ سب آپ جانتے ہیں 
مجھے دل سے مانتے ہیں 
یہ آپ کی بستی ہے
جہاں جان سستی ہے
روز کوئی مرتا ہے
اور مرنے سے ڈرتا ہے
موت تو برحق ہے
اوپر بھی دوزخ ہے
میرے پاس جنت ہے۔ میرے پاس سپنے ہیں۔ آپ سبھی اپنے ہیں۔
یہ کون سی بستی ہے
جو ہمیشہ سسکتی ہے
چیخ ہے پکار ہے
غصہ ہے انگار ہے۔ کچھ ہونے کا انتظار ہے
یہاں سپنوں کا شاسن ہے
اور ہوا میں آسن ہے
جہاں سورج بیکار ہے
اندھیروں کا بیوپار ہے
میرے پاس تیج کا بھنڈا رہے
تو حاضرین! آپ کے سامنے سپنوں کا راجکمار ہے
میں جانتا ہوں۔ کنّی بھی بھوکی ہے۔ مہرالنساء بھی دکھی ہے
کنّی کو روٹی کا انتظار ہے۔ مہرالنساء شادی کے لئے بے قرار ہے۔ تو صاحبان۔ قدردان۔ آج میں مہر النساء کو لڑکا دوں گا اور کنّی کو روٹی۔ یہ رہی میرے سپنوں کی جھولی۔ دھیرے دھیرے سبھوں کو خوشی دوں گا۔ چلو کنّی چلو۔ میرے ساتھ چلو میری دنیا میں چلو۔ ارے گھبراؤ نہیں۔ کچھ پل کے لئے تو زندہ رہنے کی کوشش کرو۔ کنّی اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو مجھے دے دو۔ اپنی بڑی بہن مہرالنساء کو بھی سمجھاؤ کہ ابا اس کی شادی کر ہی نہیں سکتے۔ اب وہ چھتیس کی ہو گئی ہے۔ آنکھوں کے نیچے کالے دھبے آ گئے ہیں۔ ہڈیاں ہر طرف سے ابھرنے لگی ہیں۔ کنّی سمجھاؤ اسے کہ ابا نہیں لاسکتے اب دو وقت کی بھی روٹی۔ بھلا مہرالنساء کی شادی کہاں سے کریں گے۔ کنّی تم بھی پندرہ سال کی ہو گئی ہو اور اب تک روتی ہو روٹی کے لئے! تمہیں تو اور بھی رونا ہو گا۔ دیکھ لو مہرالنساء کی آنکھوں کے نیچے ابھرتے ہوئے کالے دھبے کو۔ تم نہیں ڈرتیں اس دھبے سے؟ تم نہیں ڈرتیں جگہ جگہ سے نکلنے والی ہڈیوں سے؟ کنّی…! میری اچھی کنّی۔ تم ابھی کام کی ہو۔ ہونٹوں کے لئے جام سی ہو۔روٹی کے لئے رونا چھوڑ دو۔ اپنے جیون کی نیاّ موڑ دو۔ اوہ! اب تم کیا سوچنے لگی۔ تم ایسی گمبھیرتا سے مت جیو۔ اس سے پہلے کہ کنّی سے قمرالنساء بن جاؤ۔ آؤ میرے ساتھ آؤ۔ میں لال پری بنا دوں گا۔ دیکھو میری جھولی میں رکھے ہیں، رنگ برنگ کے پریوں کے پر۔ تمہیں اپنے لئے جو اچھا لگے چن لو۔ ہاں ہاں آؤ میرے ساتھ آؤ۔ اب مت دیکھو مہرالنساء کی طرف۔ بڑھو۔ آگے بڑھو کنّی۔ مت منانے کی کوشش کرو مہرالنساء کو۔ وہ جانتی ہے اپنی حقیقت۔ وہ آنکھوں کے نیچے جمے کالے دھبے کو لے کر کہاں جائے گی؟ تھوڑا سفر اور طے کرنا ہے اسے۔ پھر راہ میں ہی مر جائے گی۔ کنّی! اگر تم نے سب کچھ پا لیا تو بدل جائیں گے حالات بھی۔ مہرالنساء کے دس سال کم کر دینے، اسے گوشت پوست میں تبدیل کرنے، صرف ایسا ہی نہیں، موت کے انتظار میں، جینے والے تمہارے ابا کو جینے کی چاہت دلانے کی بھی گارنٹی۔ کنّی کیا سوچ رہی ہو۔ تم خوبصورت ہو۔ زندہ ہو۔ پھر کاہے کا غم…! اچھا ایسا کرو آج کی رات سوچ لو۔ کل کا دن بھی تمہارا۔ چلو نیند آنے تک دوسری شب کی آدھی رات بھی تمہاری۔ میں پھر آؤں گا پچھلے پہر۔ اگر کھلی آنکھوں کا سپنا ہو تو میرے ساتھ چلنا۔ سونے دینا مہرالنساء اور ابا کو۔ا نہیں اب جگانے کی بھی ضرورت نہیں ہے لیکن تم جو اور آنے والی راتوں میں ان کے ساتھ سوئیں تو میں تمہاری بستی سے چلا جاؤں گا۔ کنّی تم میرے ساتھ نہیں آئیں تو کوئی خواب پورا نہیں ہو گا مہرالنساء اور تمہارے اباکا۔ میں رات کے پچھلے پہر آؤں گا۔ تم سوچ لینا۔ خوب سوچ لینا۔
سپنے لے کر آنے والا نوجوان اپنی چھڑی ہلاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ چونکہ ایک امید دے کر وہ رخصت ہوا تھا اس لئے کنّی نے روکا نہیں۔ اس کے جانے کے بعد مہرالنساء نے کنّی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ بوسیدہ کمرے میں لوٹ آئی۔
آج پہلی رات تھی۔
مہرالنساء کا یوں بھی برسوں سے نیند سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اپنی آنکھیں بند کیے سوچتی رہی۔ آج کنّی بھی اس کی بیداری میں شامل تھی۔ مہر النساء نے محسوس کیا کہ وہ بے چین ہے۔
’کیا ہوا کنّی… سو کیوں نہیں جاتی؟‘
’ہاں سو جاؤں گی…‘
’کنّی کیا سوچا ہے تم نے…‘
’کچھ بھی نہیں۔‘
’تو پھر کیوں جاگ رہی ہو؟‘
’اب تو حد ہو گئی۔ دو دنوں سے پیٹ میں کچھ بھی نہیں، تو پھر نیند کہاں سے آئے گی۔‘
’کنّی…! میں تیری بڑی بہن ہوں۔ برا تو نہیں چاہ سکتی۔ تو مجھ جیسا کیوں بننا چاہتی ہے۔ ابا کسی لائق نہیں رہے۔ اماں تھیں تو کس طرح گھر میں رونق تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ کیا گئیں۔ سب کچھ؟ ابا شرافت کے پردے میں رہ کو خود بھی ایک روز گزر جائیں گے۔ تو بھی مجھ جیسی ہو کر مت رہنا کنّی۔ ہم پردے کے باہر نہیں جا سکتے۔ صرف مل سکتے ہیں سپنوں کے راجکمار سے۔ میرا راجکمار تو بوڑھا ہو گیا ہے۔ وہ برسوں سے میرے پاس نہیں آتا۔ تیرا راجکمار ڈھیر ساری امنگوں کے ساتھ تیرے پاس آیا ہے۔ تو چلی جا اس کے ساتھ۔‘
’لیکن باجی …تم…!‘
’کنّی…! میں ؟ میں ہوں کہاں ؟ تجھے لگتا ہے کہ میں کہیں ہوں ؟ تو نے نہیں دیکھا راجکمار تجھے بلانے آیا تھا۔ تیرے لئے اس نے روپ بھی بدل لیا تھا۔ مجھے تو اس نے ایک پُل سمجھ رکھا تھا۔ مجھے چونکانے کے لئے پرانے زخم کرید رہا تھا۔‘
مہرالنساء بولتی رہی۔ بہت دیر تک بولتی رہی۔ پھر وہ بہک جاتی ہے۔ اندھیروں میں جا کر کچھ تلاش کرنے لگتی ہے۔ اپنی چکٹ سی پوٹلی سے نکالتی ہے بندیا۔ ٹوٹا ہوا آئینہ۔ اور چاہ کر بھی کوئی روشنی نہیں ملتی کہ وہ اپنے ماتھے پر اسے چمکتے ہوئے اس آئینے میں دیکھ سکے۔ تب وہ دیر تک رات کو سرکتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے۔ دیکھتی ہی جاتی ہے۔ وہ اپنے روایتی مگر بوڑھے راجکمار کے بارے میں پھر سے سوچنے لگتی ہے۔ 
گھریلو تعلیم مکمل کرنے کے بعد پورے خاندان میں صوم و صلوٰۃ کے پابند ہونے کی خوبیوں نے اس میں زبردست اعتماد بھر دیا تھا۔ اس قدر پُرخلوص کہ ہر کوئی پنے گھر کی بہو بنانے کے لئے بے چین۔ ڈگری یافتہ نہ ہونے کے باوجود اخباروں اور رسائل پر گہری نظر رکھتی تھی۔ آئی۔اے۔ ایس کی تیاری کرنے والے اپنے خالہ زاد بھائی میاں شبو سے وہ اکثر بحث کرتی تھی۔ چونکہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے اس لئے گھر والوں کے سامنے نفسیاتی سطح پر غیر محرم ہونے کا مسئلہ بھی نہیں اٹھ پایا تھا۔
جنرل نالج کے معاملے میں اکثر مہرالنساء شبو بھائی پر حاوی ہو جاتی تھی۔ شبو بھائی کہتے کہ یہ تیاری تمہیں کرنی چاہئے تھی تومہرالنساء کہہ دیتی کہ یہاں نالج سے زیادہ ڈگری کی اہمیت ہے۔ کیونکہ ہمارا ایجوکیشنل سسٹم ہی کچھ ایسا ہے کہ چاہے صلاحیتیں ہوں کہ نہ ہوں، لیکن ڈگریوں کا بوجھ بہت ضروری ہے۔ میرے ابا کی تو انگریزی اتنی اچھی ہے کہ ان کے ڈرافٹ پر نام نہاد ڈگری یافتہ چاہ کر بھی غلطی نہیں نکال سکے۔ لیکن…؟
شبو بھائی مہرالنساء کی ذہانت سے بخوبی واقف تھے۔ اسے بہت پسند بھی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ کی پابند لڑکی کو جسم و جان کی اہمیت سے واقف کروایا۔ اسے عشق مجازی کی تمام تر لذتوں سے گزارنے کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے زندگی بھر ساتھ رہنے کا اعتماد بھی دے ڈالا۔ مہر النساء خواب دیکھنے لگی۔ وہ دلہن کے روپ میں سجی سنوری۔ ڈھولک کی تھاپ، میراثن کی بے سُری آواز۔
بنّو تیرا مکھڑا لاکھ کا رے
بنّو تیرا بیسر لاکھ کا رے
بنّو تیری نتھیا ہے ہزاری
بنّو تیری انکھیاں سرمے دانی
پھر ایک گھر،ایک خوبصورت خاوند، بچے، دفتر، انتظار، نوک جھونک، راز کی باتیں، تفریح۔
لیکن شبو بھائی آئی۔ اے۔ ایس آفیسر نہیں ہو سکے۔ سخت ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہوئے۔ سارے خاندان میں، مورد الزام مہرالنساء کو ٹھہرایا گیا اور پھر بدنامیاں گھر سے گلی اور گلی سے بازار پہنچیں۔ شبو بھائی دو تین عشقیہ تجربوں کے بعد ایک تجربہ کار عورت نما لڑکی کی گرفت میں آ گئے۔ اور پھر بمشکل کلرک ہوئے اور چار بچیوں کے باپ بننے کے بعد داڑھی بڑھا لی۔ سخت مذہبی ہو گئے۔ مہرالنساء کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھنے لگے۔ لیکن بیچاری مہرالنساء کر بھی کیا سکتی تھی۔ اس نے جو نہیں کیا ان گناہوں کی سزا جھیل رہی تھی۔ اب تو زندہ رہنے کے لئے شبو بھائی کو راجکمار کے روپ میں دیکھنا اس کی مجبوری تھی۔ اور ایسے میں جب دور سے آتی ہے فجر کی اذان کی آواز تو وہ ابا کے لئے وضو کا پانی رکھ دیتی ہے اور خود مصلّیٰ بچھا کر بیٹھ جاتی ہے کہ اب اکثر اسے وضو کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتی، صرف جھک کر کچھ سوچتی رہتی ہے۔ چاہتی ہے آنکھوں میں آنسو آئے لیکن یہ دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔
اس روز کنّی کو اپنے ہاتھوں سے خوب سجایا سنوارا۔ اپنی بندیا اس کے ماتھے پر لگا دی۔ سورج کی کرنوں میں اس کا روپ اور بھی دمکنے لگا۔ ایسا لگا جیسے گھر کی کھوئی ہوئی رونق لوٹ آئی ہو۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کنّی اتنی خوبصورت بھی ہے۔ سپنوں کے راجکمار کی نگاہ پر مہرالنساء کو رشک ہونے لگا تھا۔ اس روز کنّی کو بھوک بھی نہیں لگی۔ وہ امیدوں کے ساگر میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی اور جب جب وہاں سے ابھرتی ہتھیلیاں موتیوں سے بھری ہوتیں۔ وہ کنارے پر کھڑی مہرالنساء کی طرف سب کچھ اچھالتی جاتی۔ مہرالنساء ساحل پر ہی مچلتی رہتی۔
شام سے ہی سپنوں کے راجکمار کا انتظار تھا۔ کنّی بار بار دریچے کی طرف دیکھتی اور پھر بے چینی کے عالم میں بوسیدہ کمرے میں ٹہلنے لگتی۔ مہرالنساء اس کی بے بسی میں جینے کی آرزوؤں کو محسوس کرتے ہوئے بہت خوش تھی۔ وہ جانتی تھی کہ راجکمار وعدے کے مطابق رات کے پچھلے پہر آئے گا لیکن انتظار فیصلے کو مستحکم بنانے کے لئے ضروری تھا۔ اس نے کنّی کو نہیں سمجھایا کہ راجکمار رات کے پچھلے پہر آئے گا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں کنّی سو نہ جائے کیونکہ وہ کھلی آنکھوں کی راجکماری کے لئے آنے والا تھا۔ نیند میں ڈوبی ہوئی کنّی کے لئے نہیں۔ کچھ اور رات گزرتی ہے۔ مہرالنساء جان بوجھ کر بستر پر جا کر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور وہ کنّی کی بے چینی کو محسوس کرتی رہتی ہے۔ کنّی اس دوران ابا کے کمرے میں بھی جاتی ہے۔ انہیں بھی روز کی طرح مضمحل پاتی ہے۔ سوچتی ہے کہ کیسے انہیں زندہ کیا جائے۔ وہ تو اب زور سے کھانس بھی نہیں سکتے۔ نہ جانے ایک ٹک کیا دیکھتے رہتے ہیں۔ کسی کو ٹھیک سے پہچانتے بھی نہیں۔ آہٹوں پر چونکنے کا سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے۔ کنّی کی آنکھوں میں تو آنسو ہیں۔ وہ اپنے تمام آنسوؤں کو آج اس گھر کی نذر کر دینا چاہتی ہے۔ باجی اسے نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔ ابا بھی اس قابل نہیں کہ اسے پہچان سکیں۔ وہ ماتم تو کر ہی سکتی ہے۔ راجکمار کے آنے سے پہلے وہ گھر کی دہلیز کی مفلسی کو آنسوؤں سے دھو دینا چاہتی ہے۔ مہر النساء اسے رونے دیتی ہے۔ اس کے من کے بھاری پن کو دور ہونے دیتی ہے۔ اور پھر ایسے میں رات کا پچھلا پہر شروع ہونے لگتا ہے۔
راجکمار کی آمد کے لئے وہ چہرے کو مسکان سے بھر دیتی ہے۔ آنکھیں ایک دم کھلی رکھتی ہے۔ نیند سے کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتی آج کی رات۔
اور ایسے میں آتا ہے راجکمار۔ وہ دھیرے دھیرے گھر کا دروازہ کھولتی ہے۔ راجکمار کے بڑھے ہوئے ہاتھوں میں خود کو سونپ دیتی ہے۔ اور پھر چاروں طرف اندھکار بکھیر کر وہاں سے غائب ہو جاتی ہے۔ مہرالنساء بند آنکھوں سے ہر منظر کو سرکتے ہوئے محسوس کرتی ہے اور پھر دروازہ بند کرنے کے بعد مصلیٰ پر بیٹھ جاتی ہے۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی ہے۔
راجکمار کنّی کو پریوں کے لباس میں شہر کی رونقوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ کنّی مختلف ہاتھوں سے گزرتے ہوئے لال پری بن جاتی ہے۔ کنّی سب کچھ جانتی تھی۔ اس نے کھلی آنکھوں سے فیصلہ کیا تھا۔ ایسانہیں کہ وہ خوش نہیں ہے کیونکہ راجکمار نے اپنا وعدہ پور اکر دیا ہے۔ مہرالنساء کی عمر دس سال کم ہو گئی ہے۔ اسے اب اپنا بوڑھا راجکمار بھی یاد نہیں آتا۔ ابا گھر میں رنگین ٹیلی ویژن پر فلمیں دیکھتے رہتے ہیں اور انہیں انتظار ہوتا ہے ڈاکیے کا، جو کنّی کے بھیجے ہوئے روپے لے کر آتا ہے۔ 
ہاں تو صاحبان… قدردان…
یہ کھلی آنکھوں کے سپنوں کو پورا کرنے والا راجکمار کون ہے۔ وہ اپنے وعدے بھی حقیقتوں کے رنگ میں ڈھالنا جانتا ہے۔ بس ضروری ہوتا ہے یہاں بیٹی کا جنم۔ آپ کی بوسیدہ بستیوں میں بیٹیاں ہوں تو چہرے پر ہنسی لائیے۔ بہت رو چکے۔ بے حسی لائیے۔
صاحبان… قدردان…!
٭٭٭





کینوس پر چہرے اور میں	
												-  


شروعِ سفر میں لگاتار حادثوں کے حصار میں رہا، سمجھ نہیں پارہا تھا کہ بچپن کب شروع ہوتا ہے، سن بلوغت کی کیا اہمیت ہے یا پھر والدین کے سائے میں کس طرح سکون کا احساس ہوتا ہے۔ دراصل کم عمری میں باپ کی شفقت سے محروم ہونے، زمینداری کے مٹتے ہوئے نقوش کے درمیان شرافت کے لبادے میں اوڑھی ہوئی مفلسی کو دیکھ کر عجیب کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ ہوا تیز تھی اور چراغوں کو بھی روشن رہنا تھا۔ زمین اور آسمان کے درمیان سوالوں کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ بار بار حضرت ابراہیم ؑ کی اس روایت پر ایمان لانے کی خواہش ہوئی کہ جب آسمان کی طرف نگاہ اٹھتی، سورج کو پہلی بار دیکھتا، اور اس کی روشنی سے سارے عالم کو منور ہوتا ہوا محسوس کرتا تو اُسے اپنا خدا مان لینے کی خواہش ہوتی۔ مگر یہ سلسلہ بھی دن کی روایت کے ساتھ ختم ہو جاتا۔ مایوسی، ڈوبتے ہوئے سورج اور گہری ہوتی ہوئی شام کے سائے میں ایک بار پھر ابھرتی اور چند لمحوں بعد پھر میں آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کو دیکھ کر اپنے خدا کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا۔ مگر یہ کیا! کہ لگاتار تیرہ دنوں کی تگ و دو کے بعد آسمان پر مکمل چاند نمودار ہو گیا، تو پھر اس میں ہی اپنے خالق کو، اپنے رہنما کو تلاش کرنے لگا۔ 
مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد کو قبر میں اُتار کر آخری دیدار کے لیے لوگوں کو بلایا گیا تھا تو کسی نے مجھے بھی گود میں اٹھا کر ان کا دیدار کروایا تھا۔ اس وقت قبر میں اُتارنے والے شخص نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ ’’دیکھ لو بابو! اب تمھارے ابّو کبھی نہیں آئیں گے‘‘۔ میری سمجھ میں اس وقت یہ بات نہیں آئی تھی اس لیے فرمانبردار بچے کی طرح حامی میں سر ہلا دیا تھا۔ مگر جب واقعی ابّو کئی مہینوں تک نہیں لوٹے اور شامِ غریباں طویل ہوتی رہی، ایسے میں لوگ غم سے نڈھال ہو کر سو جاتے تو ایک روز مَیں چپکے سے آنگن کی چھت کے نیچے اُولتی کی اُوٹ میں چھپ کر دیر تک آسمان کو دیکھتا رہا۔ پھر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میرا بچپن آسمان سے مخاطب ہو کر گڑگڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ اے اللہ! مجھے معلوم ہے، تُو آسمان پر رہتا ہے، میرے ابّو کو تو نے بلا لیا ہے۔ میرے گھر کے سب لوگ بہت غمگین ہیں، تُو انھیں بھیج دے۔ میری دعا سن لے۔ اور جب یہ دعا قبول نہیں ہوئی تو ایک روز پھر میں نے آسمان کے خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے ابّو کی تمھیں بہت زیادہ ضرورت ہے تو انھیں رکھ لے مگر مجھے جلدی سے بڑا کر دے تاکہ میں ا بّو کی طرح سارے گھر کا بوجھ اٹھا سکوں، سب کی آنکھوں میں خوشیاں بھر سکوں۔ مگر یہ دعا بھی قبول نہیں ہوئی بلکہ اذیتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ بچپن کھو گیا اور ہر لمحہ میلوں تک پھیل گیا۔ وقت کی لمبی اسیری اور پربت کاٹ کر راستے گڑھنے کا عمل شروع ہو گیا۔ حقیقتیں  بے اماں ہوتی رہیں۔سورج، چاند، ستارے ایک ایک کر کے سب میری رہنمائی سے قاصر ہوتے رہے۔ میرا تو حضرت ابراہیم ؑجیسا کوئی رہنما بھی نہیں تھا تو پھر تھک ہار کر اپنے اندر ہی کسی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ کہاں شفقتیں، کہاں محبتیں، کہاں کامیابیاں، کہاں خوشیاں، کہاں لوگوں کی توجہ کا مرکز، کہیں کچھ بھی تو نہیں تھا۔ مگر ایک جذبہ بار بار مجھے وسعتیں عطا کر رہا تھا اور وہ تھا تخلیقی کرب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ نہ جانے کیا کچھ میرے اندر ایک بیج سے پیڑ اور پھر پیڑ سے تناور درخت بننے کے عمل میں تھا اور اذیتوں کے درمیان ہی شاخیں ہری ہو رہی تھیں بلکہ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ انہیں کے سائے میں میری تخلیقی کائنات بتدریج وجود میں آرہی تھی۔ میں نقشِ فریادی اور شوخیِ تحریر کے معنیٰ کو سمجھنے کی کوششوں میں مشغول ہو چکا تھا۔ یہ تو عجیب دنیا تھی۔ اسے سمجھنے کے لئے ایک کیا ہزاروں زندگیاں بھی کم تھیں۔ میں نے اپنے جوان باپ کی موت دیکھی تو یہ احساس شدید رہا کہ ہمارے پاس بہرحال طبعی زندگی بہت کم ہے۔ اور جہاں تک روح کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی دسترس میں نہیں۔ مگر جو کچھ بھی ملا ہے، اسے کوئی معنیٰ ضرور عطا کرنا ہے۔ دورانِ سفر میرے ہاتھ میں ایک قلم آیا۔ پھر خود کو لکھ کر حرف حرف آشنا ہونے لگا۔ کبھی اندر کے اداکار نے دنیا کے اسٹیج سے اپنے ناظرین کو متوجہ کیا کبھی پینٹنگ کے ذریعہ اپنے جذبات کی ترجمانی میں لگ گیاتو کبھی خاموش رہ کر خواب بُنتا رہا۔ خیر! مجھے اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ واقعی یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا۔ بلکہ ہم جو راہیں بناتے ہیں اس کے دعویدار بھی لگاتار ہمارا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ کئی بار اپنی بنائی ہوئی زمین پر یزیدی لشکروں کو قبضہ کرتے ہوئے دیکھا۔ ایسا نہیں کہ میں ان سے کمزور تھا مگر اپنی وسعتوں یا نیاآسمان گڑھنے کی وجہ سے ہم نے اپنی زمینوں کو ان کے حوالے کر دیا۔ یوں تو دادی اماں سے سنی ہوئی کہانیوں میں اپنے کرداروں کو شامل کرتا رہا یا پھر ان کہانیوں کی تخلیقیت سے اپنی دنیا روشن کی۔ اور نہ جانے کب؟ شاید اس وقت جب محض اسکول سے فارغ ہوا تھا، میں نے پہلا افسانہ ’روک دو‘ تخلیق کیا۔ افسانہ شائع ہونے کے بعد جب بے حد پذیرائی ہوئی تو میرے اندر مزید اعتماد پیدا ہوا اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہاں، میں نے کبھی فورم کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی جتنی کہ تخلیقیت کو۔ یہی وجہ تھی کہ متن کے حوالے سے میں جس فارمیٹ میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتا، بہ آسانی ڈھل جاتا۔ اسی لئے جہاں افسانے لکھتا رہا وہیں ڈرامے، فیچر اور غزلیں، نظمیں بھی تخلیق کرتا رہا۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر لوگ صنف سے فنکار کا تعین کیوں کرتے ہیں ؟ غالب جیسے بڑے شاعر کے نثری کارناموں، یا شیکسپیئر کی نظموں اور ان کے ڈراموں یا پھر احمد ندیم قاسمی اور ایسے ہی دنیا کے بڑے تخلیق کاروں کو کیا کسی ایک صنف میں  طبع آزمائی کے لئے جانا پہچانا جاتا ہے؟ اصل میں یہ سوال ان کے لئے زیادہ اہم ہو سکتاہے جو اپنے متن کو ضرورت کے مطابق مختلف اصناف میں ڈھالنے کے اہل نہیں ہوتے ہیں۔ اس لئے میں خود کو محض افسانہ نگار یا شاعر یا ڈرامہ نگار کہلانے کے لئے تگ و دو کرنے سے قاصر رہا بلکہ اپنے متن یا Content کے حوالے سے ہی لوگوں کی توجہ کا طالب رہا۔ جن کا وژن وسعتوں پر مبنی ہے انہوں نے ہمارے اس جذبے کی بے حد پذیرائی کی بلکہ میرے اعتماد کو اصناف کے حوالے سے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں خود کو منوا لینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا ہے۔ خصوصی طور پر اردو ادب کے لئے یہ مشکل ترین مرحلہ تھا۔ مگر یہاں بھی بہرحال ذہانت کی کمی نہیں رہی ہے اسی لئے میں خاموشی سے جو کچھ بھی لکھتا، ہند و پاک کے بڑے رسائل کے حوالے کر دیا کرتا۔ میرے افسانے سب سے پہلے ہند و پاک کے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ بعد میں بہار نے مجھے قومی یا بین الاقوامی رسائل کے توسط سے ہی پہچانا۔ ممکن ہے اگر لوگ میری عمر یا ایک معمولی شخص کی سماجی حیثیت سے واقف ہو جاتے تو تخلیقی ادب میں وہ اہمیت نہیں ملتی۔ اس لئے تخلیق کاروں کے لئے سب سے ضروری ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو بہت اعتماد کے ساتھ زمانے کے سامنے پیش کریں۔ دنیا کی کوئی بھی بڑی لابی یا ادب کی سیاست انھیں دیر تک نہیں روک سکتی۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ بہت سارے تجربے ہیں، بہت ساری یادیں ہیں۔ شاید انہیں سمیٹ پانا میرے لئے ممکن بھی نہیں کیوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ بے ترتیب سوچ سے ابھری ہوئی کائنات ہے۔ ظاہر ہے مجھے بہتوں کا بے لوث پیار بھی ملا۔ پذیرائی بھی ملی اور خاطرخواہ ہمت افزائی بھی۔ میں یہاں یہ ذکر ناگزیر سمجھتاہوں کہ جب میں ترقی پسند ادبی تحریک سے فطری طور پر وابستہ ہوا تو ہمارے پیش نظر کارل مارکس، لینن، میکسم گورکی، نکولائی استرووسکی، پریم چند، ابراہیم جلیس، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری اور ایسی ہی بہت ساری محترم شخصیتوں کے فکری اور تخلیقی کارنامے تھے۔ گورکی، نکولائی استرووسکی، پریم چند، سردار جعفری اور فیض کو پڑھنے کے بعد ترقی پسندی کا ایک ایسا چہرہ میرے سامنے تھا جو بہرحال کسی بھی جینوئن اور حساّس شخص کو متحرّک کرنے کے لئے ناگزیر تھا۔ بس ایک جنون میرے ساتھ ہولیا۔ ساری دنیا کے حالات میرے پیش نظر تھے۔ اب تو ایک خواب تھا، ایک ایسا خواب جہاں واقعی حاشیے پر پڑی ہوئی آبادی، خوش حالی و کامرانی کے پرچم لے کر نئی دنیا کی تعمیر میں جٹی تھی۔ حالانکہ ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود کبھی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر نہیں رہا۔ اور یہ میرے لئے ضروری بھی نہیں تھا کیوں کہ ہمارے پاس ہماری زندگی کا سب سے بڑا صحیفہ قرآنی کلمات کی شکل میں موجود تھا۔ دراصل یہ وبا جو پھیلائی گئی تھی کہ مذہب افیون ہے، اس سے دور رہا جائے، تو اس کے پیچھے کچھ مقاصد تھے۔ اور شاید بعض تحریک کے چہرے کے مسخ ہونے کا خطرہ بھی تھا۔ چاہے وہ ترقی پسند تحریک ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ یہ تحریک ہمیں جو پیغام دینا چاہ رہی تھی۔ دراصل وہ پیغام تو بہت پہلے قرآن حکیم کے حوالے سے دیا جا چکا ہے۔ اگر کمیونزم مزدوروں کے فلاح کی بات کر رہی تھی یا امن کی بات کر رہی تھی یا انسانیت کی بقا کی کوشش کر رہی تھی یا ایک عالم کو خوشنما دیکھنا چاہتی تھی، تو یہ اور ایسے سارے پیغامات قرآنی صحیفے میں پہلے سے موجود ہی تھے۔ کیا یہ بات نہیں کہی گئی تھی کہ ’ مزدوروں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کی مزدوری ادا کر دی جائے۔‘ کیا کمیونزم کبھی اس کی مخالفت کرسکتا تھا؟ دراصل ایسے ہی صحیفوں سے فلسفے مستعار تھے، ان ہی وجوہات کی بنا پر اپنے چہرے کو کھوتا ہوا محسوس کرنے کی وجہ سے مذہب کو افیون کہا گیا۔ مگر یہ تو طے تھا کہ دنیا میں اپنی بہت ساری خامیوں کے باوجود ترقی پسند تحریک سے زیادہ کوئی تحریک انسانی زندگی کے فروغ میں معاون ثابت نہیں ہو سکی۔ میں بھی خود کو اس سے کیسے الگ کرسکتا تھا۔ میرے لئے تو معاملہ یہ بھی تھا کہ میں نے زمیندارانہ قدروں کا زوال دیکھا تھا۔ گھر اور گھر سے باہر پھیلی ہوئی مفلسی دیکھی تھی۔ نا انصافیوں کا لامتناہی سلسلہ دیکھا تھا۔ استحصال کی لمبی راتیں دیکھی تھیں۔ ظاہر ہے میرے لئے صرف یہی تحریک مشعلِ راہ ہو سکتی تھی۔ میں نے طالب علمی کے زمانے کی جدوجہد کے دوران پورے انہماک اور دیانتداری کے ساتھ زمینی سطح پر اس تحریک کے فروغ کے لئے ہر ممکن کاوش کی۔ تجربے، مشاہدے میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ میں نے بہار میں ’اِپٹا‘ (IPTA) کو دوبارہ متحرک کرنے کا شرف حاصل کیا۔ کالج، ٹیوشن اور عارضی جائے اماں کے درمیان صبح سے دیر رات تک سفر میں رہا۔ کبھی کبھی تو کئی راتیں کوئیلری کے مزدوروں کے درمیان گزارتا رہا۔ مجھے یاد ہے کہ غیر منقسم بہار کے جھریا، کتراس گڑھ، دھنباد کے علاقے میں مزدوروں کے بیچ نکّڑ ناٹک کیا کرتا تھا۔ انہیں متحرّک کرنے کی کوششوں میں مشغول رہا۔ وہاں زندگی کے کئی رنگ دیکھے۔ کئی کہانیاں بھی ملیں۔ کہانی ’اندر آگ ہے‘ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ وہاں یہ معلوم ہوا تھا کہ ہر مزدور اپنی جھونپڑی کے سامنے ایک پنجرے میں مینا کیوں پالتا ہے۔مینا ہی تو زمین کے اندر پھیلنے والی آگ کا پتہ دیا کرتی تھی۔ ہم نے اپنے احساس کو اس چڑیا سے جوڑ کر دیکھا۔ تحریک میرے اندر اور شدت سے اترتی گئی۔ کہاں آگ ہے، اس کی تلاش کرنے لگا۔ گاؤں کو سچ مچ ہماری ضرورت تھی۔ مزدوروں، کسانوں، بے بسوں کے بیچ خود کو پاکر ایسا محسوس ہوا کرتا تھا کہ اصل ہندوستان تو انہیں میں بسا ہے۔ ان کے درمیان میری شخصیت کی تعمیر بھی ہوئی۔ اور ملک کے بڑے ترقی پسندوں نے میری بڑی ہمت افزائی کی۔ ان میں محمد حسن، قمر رئیس، اے کے ہنگل، کیفی اعظمی، کنہیا جی اور ایسے ہی کئی مشاہیر تھے۔ میں جب کبھی دلی جاتا تو قمر رئیس سے ضرور ملتا۔ وہ ہمیں اس تحریک کے حوالے سے باخبر کرتے۔ ان کی شفقتوں سے میرا حوصلہ بڑھتا۔ اور میں خود کو مزید فعال بنانے میں لگ جاتا۔ افسانے لکھتا رہا۔ شاعری کرتا رہا۔ اردو ہندی کے مشاہیر کی سرپرستی بھی رہی۔ محمد حسن جیسے دیانت دار دانشور نے تو میرے افسانے ’پوسٹر‘ اور ’حربہ‘ کو عصری ادب میں نمایاں جگہ دی ساتھ ہی انہوں نے ایڈیٹوریل میں ان افسانوں پر خاطر خواہ گفتگو کی۔ یہ وہ دور تھا جب میرا تخلیقی سفر شروع ہوا تھا میں اسی اعتماد کے تحت رسائل کو تخلیقات بھیج دیا کرتا اور بہت اہتمام کے ساتھ لوگ انہیں شائع بھی کرتے تھے۔ شاید یہ ایک بڑی وجہ تھی کہ مجھے کبھی کسی نقّاد یا مشاہیر سے لکھوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے کبھی مخصوص مفاد کے تحت کسی لابی میں شامل ہونے کی ضرورت ہی درپیش نہیں آئی۔ ہاں، میں سبھوں کو ان کی اہلیت کے اعتبار سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ پڑھے لکھے اور پراعتماد دانشوروں نے بارہا اپنی سطح پر میری تخلیقات کے حوالے سے نہ صرف یہ کہ بہت کچھ لکھا بلکہ ذاتی گفتگو میں بھی بڑی ہمت افزائی کی۔
مجھ پر نام نہاد اردو سیاست کا اثر اس لئے نہیں پڑا کہ میں شروع سے ہی بتدریج اردو کے ساتھ ہندی رسائل میں بھی شائع ہوتا رہا۔ ظاہر ہے اس سے مجھے موضوعاتی اور فکری سطح پر بہت پھیلنے کا موقع ملتا ر ہا۔ اردو کے ساتھ ہندی کے عصری ادب میں بھی اسی اہتمام کے ساتھ تخلیقات شائع ہوتی رہیں۔ میں نے نقاد/مبصر کے حلقے کو کبھی زیادہ ترجیح نہیں دی کیوں کہ میرے لئے میرا قاری یا سامع ہی سب سے معتبر رہا ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ادب میں اپنے اثر و رسوخ یا لابی کی وجہ سے جن تخلیق کاروں نے جگہ بنائی ہے یا جن پر مشاہیر سے بہت کچھ لکھوایا گیا ہے وہ انعام و اکرام سے تو نوازے گئے یا مخصوص حلقے نے انہیں جانا بھی۔ مگر ان کے پاس گورکی، پریم چند، منٹو، کرشن چندر، بیدی یا پھر غالب، شیکسپیئر، اقبال، فیض، احمد فراز جیسے قارئین و سامعین کبھی نہیں ملے۔ اس بھرم کو دور کرنے کے لئے آج کے نام نہاد اثر ورسوخ رکھنے والے تخلیق کاروں کو چاہئے کہ وہ کسی مجمع میں جا کر دانشور قارئین سے ہی سہی اچانک پچھلی یا بیچ کی صف میں بیٹھے ہوئے کسی سامع کو اٹھا کر بھری محفل میں یہ سوال کریں کہ از راہِ کرم آپ یہ بتائیں کہ آپ نے میری کون سی تخلیق پڑھی ہے؟ اور اس تخلیق میں کچھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ اگر ان میں یہ حوصلہ ہو جائے تو ممکن ہے خوداحتسابی کا مقصد پورا ہو جائے۔ قمررئیس، احمد فراز، محمد حسن، انتظار حسین، جانکی ولبھ شاستری، ندا فاضلی، شہریار، بیکل اتساہی، نامور سنگھ، رویندر راج ہنس، وہاب اشرفی اور ایسے ہی بزرگوں سے اس موضوع پر میں نے بارہا گفتگو کی اور وہ مجھ سے متفق بھی ہوئے تھے کہ ہمارے پاس نقاد تو ہے، مبصر تو ہے، کتاب تو ہے، عہدہ تو ہے، اثر و رسوخ تو ہے مگر سچا قاری کہاں ہے؟ کہاں کھو گیا ہے ان کا قاری، کس بھرم میں کھو گئے ہیں وہ لوگ، کس بات کے لئے انہیں انعام و اکرام سے نوازا جا رہا ہے۔ وہ کس منہ سے ’ کعبہ‘ جانا چاہتے ہیں ؟ یہ حال صرف ادب کا نہیں ہے۔ تحریک کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ترقی پسند ادبی تحریک کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کے بعد جب دھول میں اَٹے ہوئے چہرے کیچڑ میں سَنے ہوئے پاؤں کے ساتھ میں قمررئیس کے دولت کدے پر پہنچا اور ان سے یہ سوال کیا کہ یہ جو لندن میں ترقی پسندوں کی ادبی کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس میں ہندوستان کے جو ترقی پسند شامل ہو رہے ہیں کیا ان میں بیشتر کا تعلق ترقی پسندی کی اصل روح سے کبھی رہا ہے؟ کیا گاؤں کی سوندھی مٹی یا مزدوروں کے پسینے سے ابھرنے والی کسی شخصیت کو اس کانفرنس میں جانے کی اجازت نہیں ہے؟ میں نے ان سے یہ بھی کہا تھا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ترقی پسند اصولوں کے تحت زمینی سطح پر اس تحریک کے لئے کام کر رہے ہیں کیا ہمیں لندن کی شفاّف دھرتی پر احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ قمر رئیس صاحب کے ساتھ لندن یا روس کے سفرمیں ہم جیسے لوگ کبھی نہیں رہے، ہو بھی نہیں سکتے تھے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں پروفیسروں کی ایک الگ لابی ہے جو ترقی پسندی، جدیدیت یا انتہا پسندی یا مابعد جدیدیت کے رومانی تصور کے ساتھ وابستہ رہی۔ ہم تو جذباتی استحصال کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور یہی وجہ بھی رہی ہے کہ ہمارے یہاں ایسی تحریکوں نے دھیرے دھیرے اپنا اثر کھو دیا۔ آج جو ترقی پسندی ہے وہ دراصل ہماری رگوں میں صرف اس لئے رچی بسی ہے کہ یہ نجی تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہے۔ ہم تو اپنی تحریروں، تقریروں کے حوالے سے اب بھی وہی کہتے ہیں جو دنیا کا کوئی بھی ترقی پسند شخص کہتا ہے یا کہہ سکتاہے۔ ہاں بزرگوں کے چہروں کو ہم نے جس طرح دیکھا تو اکثر یہ شعر بھی ذہن میں گونجتا رہا کہ 
چھوڑو تم انقلابِ زمانہ کا تذکرہ
وہ اور تھے جو حرفِ مقدر بدل گئے
مگر آج بھی کچھ ایسے دیوانے لوگ ہیں جن کی وجہ سے انسانیت کا احترام کیا جاتا ہے۔ جن کی وجہ سے محنت کو واقعی بلند مقام حاصل ہے۔ محمد حسن جیسے لوگ آج بھی زندہ ہیں۔ اور انہوں نے کبھی نام نہاد ترقی پسندوں سے بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں بھی حاشیے پر رہنے میں کسی نے کسر باقی نہ چھوڑی۔ 
ہم اگر چاہیں تو فرداً فرداً اپنے افسانے پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ لیکن میں اسے ضروری نہیں سمجھتا کیوں کہ قاری کو انھیں اپنی پسند ناپسند کے حوالے سے ہی دیکھنا چاہئے۔ میں خود کو خوش نصیب تصوّر کرتا ہوں کہ اگر کسی نے ایک بار پورے انہماک کے ساتھ مجھے پڑھ لیا تو اسے کہیں نہ کہیں ہماری تخلیقات میں اپنے ہونے کا احساس ضرور پیدا ہوتا رہا ہے۔ میں نے اب تک اپنے ہزاروں قارئین اور سامعین سے باتیں کی ہیں۔ انہیں غور سے سنا ہے۔ میں نے ان کو ہی اپنی تخلیقی زندگی کا بہترین اثاثہ تصور کیا ہے۔ میرے قارئین میں لفظ لفظ جوڑ کر پڑھنے والا قاری بھی ہے اور اپنے تخیلات سے، اپنے فکری مشمولات سے دنیا کو متاثر کرنے والا تخلیق کار و نقاد بھی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی مشاعرے میں جب میں نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین نے اس کی بے حد پذیرائی کی ساتھ ہی میڈیا نے بہت احترام کے ساتھ مجھے پیش کیا تو احمد فراز جیسا بین الاقوامی شاعر بھی اپنے جذبات نہیں روک سکا۔ انہوں نے مشاعرے کے بعد مجھ سے تفصیلی گفتگو کی تھی۔ میں ششدر تھا کہ احمد فراز نے بحیثیت افسانہ نگار ہند و پاک کے رسائل کے توسط سے مجھے پڑھا تھا اور پوسٹر، کِنّی کا راجکمار، اندر آگ ہے، سباّ رو نہیں سکتی، درد گزرا ہے دبے پاؤں اور آشرم جیسا افسانہ انہیں یاد تھا۔ ان افسانوں میں پیش کردہ کردار ان کے ذہن میں محفوظ تھے۔ احمد فراز نے بتایا تھا کہ تمہاری شاعری میں ایک واضح تصور ہے۔ بھرپور تخلیقیت ہے اور شاید تمہارے افسانوں کا نقطۂ عروج بھی تمہارے اشعار میں جا بجا موجود ہے۔ اس کے بعد بھی وہ بہت کچھ کہتے رہے مجھے یاد بھی نہیں۔ کیوں کہ ایک عالم گیر شخصیت مجھ جیسے ادنیٰ سے تخلیق کار کی پذیرائی کر رہی ہو تو پھر ماحول سحر زدہ ہو ہی جاتا ہے۔ پھر احمد فراز سے ادبی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ گفتگو ہوتی رہی۔ کیا معلوم تھا کہ احمد فراز جب آخری بار پٹنہ آئے تو انہوں نے یہ شعر سنایا تھا کہ
ہم اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں 
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں 
وہ لمبے سفر پر چلے تو گئے مگر مجھ جیسے معمولی سے تخلیق کار کو اعتماد کی وسیع تر زمینیں عطا کر گئے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ عہد ساز فکشن نگار انتظار حسین کو جب ہندوستان میں پریم چند فیلو شپ کے لئے منتخب کیا گیا تو وہ سفر کے دوران پٹنہ بھی تشریف لائے یہاں کے ہوٹل موریہ میں ٹھہرے۔ مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو میں خود کو بے حد خوش نصیب تصور کرنے لگا۔ ہوٹل کے کمرے میں ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے گفتگو کا ذکر مختلف اخبارات کے توسط سے کر بھی دیا ہے۔ عصری افسانے پر گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا تھا کہ پریم چند جیسے فکشن نگار کے پاس آج بھی اس کے قارئین کا بڑا حلقہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم جو لکھنے والے لوگ ہیں انہیں زندہ تو صرف ہمارے قارئین ہی رکھ سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سو سال سے زیادہ کا طویل وقفہ گزر چکا ہے اور پریم چند کی معنویت برقرار ہے۔ چونکہ پریم چند پر میں نے بہت کام کیا ہے۔ اس لئے انتظار حسین کے سامنے مؤدبانہ لہجے میں یہ موقف ظاہر کیا تھا کہ ہمارے یہاں تنقید کی صورت حال عجیب رہی ہے لوگ قاری سے نہیں بلکہ نقاد سے پوچھ کر اپنا موقف ظاہر کرتے ہیں۔ پریم چند نے یوں تو بہت ساری کہانیاں لکھیں۔ ’کفن‘ بھی ان کی عمدہ کہانی ہے۔ مگر میری نظر میں وہ ان کی سب سے خوبصورت کہانی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کا پہلو آفاقی نہیں ہے۔ بلکہ ’پوس کی رات‘ جیسی کہانی میں احساس اور متن کی سطح پر زیادہ آفاقیت ہے۔ انتظار حسین نے نہ صرف یہ کہ میری بات سے متفق تھے بلکہ انہوں نے بتایا کہ میں برسوں سے یہی سوچ رہا ہوں اور پورے دلائل اور حقائق کے ساتھ ’پوس کی رات‘ کو ہی پریم چند کی سب سے اعلیٰ تخلیق مانتا ہوں۔ یہاں میرا صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ ہم جیسے لوگوں کی فکر اگر مشاہیر سے ملتی ہے تبھی وہ فکر بڑی کیوں ہوتی ہے؟ انتظار حسین جیسا عظیم ترین تخلیق کار ایک ذمہ دار قاری کی حیثیت سے بھی تو سوچ سکتا ہے۔ یہاں یہ تصور واضح ہو جاتا ہے کہ اگر ہم اپنے وژن اور اپنی فکر کے ساتھ کسی بھی تخلیق پر سوچیں اور اپنا بے باک تبصرہ پیش کریں تو ممکن ہے کہ ہمارے دائرے کے وسیع ہونے کے اور بھی امکانات روشن ہو جائیں۔ 
احمد یوسف شریف النفس افسانہ نگار تھے۔ میرے افسانوی مجموعے ’پوسٹر‘ پر ایک شام کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی صدارت کرتے ہوئے احمد یوسف نے کہا تھا کہ ’پوسٹر جیسا افسانہ کبھی کبھی سرزد ہوتا ہے۔‘ معروف نقادپروفیسر محمد حسن نے عصری ادب کے ایڈیٹوریل میں بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ احمد یوسف صاحب سے میں نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ کیا افسانہ بھی کسی الہامی کیفیت کے تحت عمل میں آتا ہے؟ تخلیقی بیانیہ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہو سکتا ہے۔ لیکن افسانے پر اگر الہامی کیفیت طاری ہو جائے تو ممکن ہے کہ کہانی کہیں ڈوب جائے۔ میں تخلیقی بیانیہ کو بہت احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ کیوں کہ اگر کسی تخلیق کار کو یہ وصف حاصل ہو جاتا ہے تو پھر اسے کوئی بھی چاہ کر مٹا نہیں سکتا۔ اور اس کا یہ عمل اس کے فطری فنکار ہونے کی غمازی بھی کرتا ہے۔مگر کہانی کے لئے کچھ بڑی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اور وہ ہے قاری سے کہانی پن کی سطح پر رشتے کا استوار ہونا۔ ’پوسٹر ‘میرے لئے محض الہامی کیفیت کا نام نہیں ہے بلکہ زمین سے ابھری ہوئی حقیقتیں اس کہانی کا ماخذ ہیں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ اردو ہندی اور دوسری زبانوں کے عصری ادب میں اس کہانی کا شامل کیا جانا میرے لئے یقیناً باعث صد افتخار رہا ہے۔ لیکن اس کہانی سے ایک دلچسپ کہانی بھی وابستہ ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ جب ’پوسٹر‘ میری شناخت کے ساتھ جڑ گئی تو ایک نام نہاد لابی کو یہ سب کچھ ناگوار سا لگنے لگا۔ اس لابی نے ایک جونیئر کہانی کار کو کھڑا کیا اور اس سے ’پوسٹر‘ کے عنوان سے ہی ایک کہانی لکھوائی۔ عالمی عصری ادبیات سے میری کہانی کو انڈر ٹون کرنے کی غرض سے یہ عمل کیا گیا تھا اور بجائے میری اس کہانی کا ذکر کرنے کے اس نئے افسانہ نگار کی پوسٹر کا ذکر کچھ دنوں تک جاری رہا۔ مگر میری کہانی اتنی دور تک پھیل چکی ہے کہ وہ خود میری دسترس میں بھی نہیں رہ گئی ہے۔ اب ذرا سوچئے کہ جہاں ادب میں ایسا عامیانہ عمل کیا جاتا ہو وہاں قاری سے زیادہ نام نہاد تخلیق کاروں پر کس طرح بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ کچھ لوگ اپنے کمپلکس میں ہی تمام عمر گزار دیتے ہیں۔ مگر مجھے ندا فاضلی کا یہ شعر ہمیشہ رہنمائی کرتا رہا ہے کہ 
شائستہ محفلوں کی فضاؤں میں زہر تھا
زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم
ندا فاضلی سے قربت کی ایک بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ ان کے افکار نے بھی میری بڑی رہنمائی کی ہے۔ ہم نے کبھی صلے کی پرواہ نہیں کی۔ کبھی کسی سے کوئی توقع نہیں رکھی۔ کبھی اپنے احساس کے زخموں کو مندمل نہیں ہونے دیا۔کبھی خوش فہمیوں کے حصار میں نہیں رہا۔ کبھی کسی کی تعریف یا کسی کی سازش سے خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوا بلکہ دانستہ طور پر بھی نادانی اوڑھے رہا۔ ہمارے کچھ تخلیق کار میرے مضامین کی ہمیشہ پذیرائی کرتے رہے ہیں۔ خصوصی طور پر میرے تخلیقی بیانیہ کو با وقار تصور کرتے رہے۔ ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میں ان کی تخلیقات پر اظہار خیال کروں۔ میں نے ایسا کیا بھی۔ اور اتنا کچھ لکھا ہے کہ کم سے کم دو ضخیم مضامین کے مجموعے بھی شائع ہو سکتے ہیں۔ میرا ہمیشہ یہ ماننا رہا ہے کہ چاہے تیسرے درجے کی بھی تخلیق ہو وہ بہرحال احترام کی نگاہ سے دیکھی جانی چاہئے کیوں کہ اس سے بہتر یا مقدس کوئی عمل ہوہی نہیں سکتا ہے۔ لوگ تنقید کی زنگ آلودہ تلواروں سے ایسی تخلیقات پر ضرب لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے لوگوں سے یہ بتایا کہ نقاد ہونا بہت مشکل ہے او ر خصوصی طور پر تخلیق کا نقاد ہونا۔ کیوں کہ نقاد اگر تخلیق کار سے بہتر تخلیق پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پھر اسے حق حاصل ہے کہ وہ اس تخلیق پر منفی رائے بھی دے سکے۔ اگر اس کے اندر ایسی صلاحیت نہیں ہے تو پھر اس کی حالت اس وکیل سے زیادہ نہیں ہوتی جو قتل کے جھوٹے مقدمے میں اپنے دلائل اور حقائق سے قاتل کی جیت کے لئے راہیں ہموار کر دیتا ہے۔ آج ہماری تنقید اسی لئے بے اثر ہو گئی ہے کہ پہلے سے بنے بنائے ہوئے اصولوں پر ہم تنقید کی عمارت تعمیر کر رہے ہیں یا پھر کسی سے مرعوب ہو کر توصیفی کلمات سے نوازنے کے لئے مجبور ہیں۔ میں نے اشارہ کیا ہے کہ تیسرے درجے کی تخلیق بھی میرے لئے ہمیشہ محترم رہی ہے۔ میں نے پوری عرق ریزی کے ساتھ ان پر لکھا بھی ہے۔ لیکن یہ حوصلہ ان تخلیق کاروں میں کبھی نہیں رہا کہ وہ میری تخلیق کے حوالے سے کم از کم اپنی نجی گفتگو کو بھی قلم بند کرا دیں۔ ظاہر ہے اس میں مصلحت پسندی کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ تخلیق کار آزاد ہوتا ہے۔ نجی محفلوں میں اگر میرے لئے فضا ہموار ہے تو پھر وہ وہاں لبیک کہتا ہے یا ناہموار ہے تو وہ میرا بڑا ناقد بھی بن جاتا ہے۔ میرے لکھنے کا فائدہ تو بہتوں کو ہوا۔ چاہے انعام و اکرام کا معاملہ ہو یا اپنی ادبی دکان کو سجانے سنوارنے کا معاملہ ہو، میرے مضامین نے یقینا ان کے مقاصد کی تکمیل میں اہم رول ادا کیا لیکن میرا حال تو یہ ہوا کہ 
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
یہ جس آوارگی کا ذکر میں نے کیا ہے دراصل اس نے میری بڑی رہنمائی کی ہے۔ اور میں اسے اپنی زندگی کا موقف بھی مانتا ہوں۔ اسی لئے ادب یا زندگی میں اگر کوئی شخصیت بتدریج ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے بہت کم وقت میں سماجی یا ادبی سروکار کے بغیر کوئی مقام حاصل کر لیتی ہے اور وہ اپنی بلندیوں سے ہماری پستیوں کو دیکھ کر زیرِ لب مسکراتی ہے تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ کاش! ان کی سیڑھیاں ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہوتیں۔ کاش! میرا ذہن انہیں پستیوں کا پتہ دے پاتا۔ چونکہ ان کی بلندیاں بے حسی اور کم مائیگی پر ٹکی ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ ہماری دی ہوئی زمین کی خودمختاری کے بھرم جال میں بھی گرفتار رہتے ہیں۔
نئی نسل میں جو بیداری پیدا ہوئی ہے اگر اسے مستقبل میں بھی جائے اماں ملی تو میرا دعویٰ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی لابی غیر جینوئن افراد کو بے جا بلندیوں تک نہیں پہنچا سکے گی۔ میں اس سلسلے میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مسقط یونی ورسٹی سے انگریزی کے نئے نقاد پروفیسر افروز اشرفی نے عالمی ادبیات کے حوالے سے اردو فکشن پر کام شروع کیا۔ انہوں نے بہت سارے ترجمے کئے۔ اردو کے بھی اور دوسری زبانوں کے بھی۔ انہیں روایتی ڈھنگ سے مجبور کرنے کی کوشش کی گئی کہ اردو کے جو فکشن نگار نیوز میں ہیں اور بعض وجوہات کی بنا پر حوالوں میں ہیں۔ ان کی تخلیقات کے ہی تراجم کئے جائیں۔ پروفیسر افروز چونکہ عالمی ادبیات پر نظر رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے وژن کے ساتھ یہ کام شروع کیا۔ اسی دوران انہوں نے میری کہانی بھی پڑھی۔ انہیں ’اندر آگ ہے‘ کے علاوہ میری دوسری کئی کہانیاں پسند آئیں اور پھر ایساہوا کہ انہوں نے میری ساری کہانیاں پڑھ ڈالیں۔ ہندوستانی ادب کی کہانیوں سے ان کا تقابلی مطالعہ بھی کیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ قاسم خورشید کی پندرہ منتخب کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب انگریزی میں ترتیب دی جائے۔ ساری کہانیوں کے ترجمے انگریزی میں ہوئے اور پھر انہیں دنیا کے بڑے انگریزی پبلشر کے حوالے کر دیا تاکہ کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آ جائے۔ یہاں یہ ذکر اس لئے ناگزیر ہے کہ پروفیسر افروز اشرفی نے دراصل میری کہانیوں کا انتخاب اس لئے بھی کیا کہ وہ عصری عالمی فکشن کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ پیش کرسکیں۔ یہ کام بہرحال پرانا نقاد نہیں کرسکتا تھا۔ کیوں کہ وہ پرانی تحریروں کے حوالے سے ہی اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ہمارے ایسے نام نہاد نقاد کہتے ہیں کہ نئے تخلیق کاروں کو خود اپنا نقاد پیدا کرنا چاہئے یا خود اپنا نقاد ہو جانا چاہئے۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور یہ مشورہ دیتا ہوں کہ نیا فنکار تو اپنی دنیا خود تلاش کر ہی لے گا اب واقعی پرانی تحریروں کو روایتی انداز میں پڑھنے کی کسی کو فرصت بھی کہاں ہے؟
بعض ایسے نقاد ضرور ہیں جو وقت کی آہٹوں کو صاف طور پر سن رہے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ گزشتہ بیس پچیس برسوں میں دنیا میں خاصی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے ہمارا ادب بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کلاسیکی روایات کی زمین پر نئے ادب کی آبیاری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے موقف میں صحت مند تبدیلی لائی ہے۔ ان میں گوپی چند نارنگ، وہاب اشرفی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نارنگ اور وہاب اشرفی نے مابعد جدیدیت کے حوالے سے نئے ادب پر خاطر خواہ بحث کرتے ہوئے وہ اپنا واضح تصور پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادبیات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کماحقہ اردو والے واقف ہو رہے ہیں۔ چونکہ گوپی چند نارنگ نے ہر دور میں نئے ادب کو پیش نظر رکھ کر یہ کوشش کی ہے کہ اردو کی نئی عالمی بستیاں کس طرح آباد ہو سکتی ہیں۔ اس میں اپنے آپ کو وسعت دینے کی ضرورت تھی ساتھ ہی کسی خوش فہمی کے بغیر ادب گڑھنے پر زیادہ زور دینا تھا۔ نارنگ سے ہزار اختلافات کے باوجود لوگ اردو میں نئے میلانات پر ان کی آراء کو ہی معتبر تصور کرتے ہیں۔ وہاب اشرفی نے جب مابعد جدیدیت کے حوالے سے اردو ادب کے رجحانات پیش کرنے کی کوشش کی تو اس میں تخلیقات کا بڑا حصہ نئے ادب سے مستعار ہے۔ میری کہانی ’سائمن باسکی‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’قاسم خورشید کی ’سائمن باسکی‘ مجھے آج بھی گرویدہ کئے ہوئے ہے۔ پہلے میں نے اسے محض مزدوروں کے استحصال کی کہانی کے طور پر پڑھنے پر بس کیا تھا لیکن تاثر دیرپا تھا۔ اب جب کہ قاسم خورشید کا افسانوی سفر کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ اس کہانی کی سماجی اور تہذیبی معنویت مزید گہری ہو گئی ہے۔ یہ کہانی مزدوروں کی پسپائی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں شکستہ حالات میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ وہی روشنی کی کرن ہے جسے مابعدجدیدیت اپنانا چاہتی ہے‘‘۔ اسی طرح نامور تخلیق کار انور سدید نے جب میری کہانی ’کنی کا راجکمار‘ کا مطالعہ کیا تو انہیں شدّت سے یہ احساس ہوا کہ نئی کہانی اب موضوعات اور ہیئت کی سطح پر اپنی الگ کائنات گڑھ رہی ہے۔ اس کہانی میں حسّیت کو لے کر انور سدید نے نئے نکات پیش کئے۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ قاسم خورشید اس موضوع کو جس طرح برتنے کی کوشش کی ہے یہ ان کا ہی حصہ ہے۔ بظاہر جو موضوع عام طور پر ہماری دسترس میں نہیں ہوتا قاسم خورشید پوری فنی چابکدستی کے ساتھ نہایت موثر انداز میں اس پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مشاہیر کی آراء کا سلسلہ بھی خاصا طویل ہے۔بس جو کچھ یاد آیا اس کے ساتھ ہولیا۔
حالانکہ ہندوستان کی سلطنت سے بہت دور ایک چھوٹے سے گاؤں کاکو سے اپنا سفر شروع کرتے ہوئے پٹنہ پہنچا اور اسی خرابے میں رہ کر ساری دنیا میں اپنی تخلیقات کے حوالے سے جانا پہچانا گیا۔سچ ہے کہ میرے پاس میری تخلیق کے سوا کبھی کوئی سرمایہ نہیں رہا۔ اگر بڑے تخلیق کار کا خانوادہ ہوتا، دولت ہوتی، اوبلائز کرنے والا عہدہ ہوتا یا ہندوستان کی راجدھانی میں بسا ہوتا تو ممکن ہے ہماری تخلیقات کی جو پذیرائی عوامی سطح پر ہوئی اس کا خاطر خواہ صلہ بھی مل جاتا۔ دلّی تو ایسا شہر ہے جہاں ساری دنیا کے ادبائ، شعرائ، محقق، مدبّر سبھی تشریف لاتے ہیں اورلوگ ان سے خاطر خواہ استفادہ بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ مگر چھوٹے شہروں یا گاؤں کے ادیبوں و شاعروں کا المیہ رہا ہے کہ انہیں تب تک خواص میں قبولیت کا شرف عطا نہیں ہوتا جب تک وہ مکتوبی ادیب یا ترسیل کے دوسرے ذرائع سے ہمیشہ خواص کی توجہ اپنی طرف مبذول نہ کرواتے رہیں۔ ہمارے یہاں یوں تو بہت کچھ بہتر لکھا گیا ہے لیکن پروجکشن نہیں ہونے کی وجہ سے دوسرے اور تیسرے درجے کے ادب اور ادیبوں کا دور دورہ رہا ہے۔ مجھے اب بھی صلے کی پرواہ نہیں ہے لیکن ادب کے نام پر اگر واقعی منصفانہ فیصلے کئے جانے لگے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ بہتر ادب اور ادیبوں کو ان کا مناسب مقام مل سکے گا۔ یہ کام جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ کیوں کہ اب کسی کو یہ فرصت نہیں ہے کہ وہ جینوئن تخلیق کار کی تلاش میں سرگرداں ہو اور تمام مصلحتوں سے دور ہٹ کر ان کے صحیح مقام کا تعین کرسکے۔ اپنے قارئین کی لگاتار محبتوں کا میں اسیر رہا ہوں۔ اس لئے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا کہ ہماری تخلیقات ضائع ہوئی ہیں۔ اپنے پڑھنے والوں کے مشورے اور لگاتار کہانیوں پر گفتگو کے بعدیہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہواکہ موجودہ عہد اور مستقبل کے لئے ان کہانیوں کا انتخاب پیش کیا جائے جو موضوعات، پیش کش، ہیئت اور متن کی وجہ سے کافی مقبول رہی ہیں۔ میں اعتماد کے ساتھ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میری کہانیوں سے گزرنے کے بعد کوئی بھی حساس دل یقیناً مجھے اپنے دل کے کسی گوشے میں ضرور جگہ دے سکے گا۔ کہانیوں کی بڑی تعداد ہے۔ انتخاب بھی مشکل ہے۔ لیکن میرے لئے یہ کام یوں آسان ہو گیا کہ قارئین یا معتبر ناقدین نے جن کہانیوں کو نگاہ انتخاب میں رکھا میں نے ایسی ہی کہانیاں پیش کی ہیں۔ اب میں یہ نہیں کہتا کہ تمام تر کہانیاں اپنی مخصوص شدت کی وجہ سے ہر قاری کو متحرک کریں گی مگر یہ اعتماد ہے کہ میرا کوئی افسانہ ریڈیبلیٹی کی سطح پر کسی بھی قاری کو ضرور متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گا۔
اردو کہانیوں کے حوالے سے اکثر یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ یہاں موضوعات کا تنوّع نہیں ہے جبکہ انگریزی، ہندی، بنگلہ اور دوسری زبانوں میں جو کہانیوں لکھی جا رہی ہیں، ان کے موضوعات کا فلک بہت طویل ہے۔ میں بھی بہت حد تک یہ اعتراف کرتا ہوں کہ نہ جانے کیوں اردو کہانیوں میں نئے موضوعات کے برتنے میں وسعت قلبی سے کام نہیں لیا جاتا ہے ایسامعلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم نے روایت سے انحراف کیا تو ممکن ہے اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہو پائے۔ نفسیاتی سطح پر ایسا سوچنا اردو مزاج کے عین مطابق بھی ہے۔ بہتوں نے یہ ہمت دکھائی کہ انگریزی یا ہندی فکشن میں جس تنوع کے ساتھ تخلیقات پیش کی جارہی ہیں ان کی پیروی کی جائے۔ مگر اردو میں منتقل ہونے کے بعد ایسا ادب یا تو رپورٹ بن کر رہ گیا یا پھر محض فنتاسی سے تعبیر کیا گیا۔ 
دراصل تخلیقی ادب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے قاری یا سامع کو متحرک کرسکے۔ متحرک کرنا بھی بہت عرق ریزی کا کام ہے۔ اس لئے موضوعات کے برتنے میں نہایت دیانتداری کے ساتھ اس آنچ کا ہونا ضروری ہے جسے ہم فطری طور پر محسوس کرنے کے اہل ہوں۔ میں اپنی کہانیوں کے حوالے سے بھی کوئی دعویٰ پیش نہیں کرتا لیکن لگاتار ہندی اور اردو میں لکھتے اور پڑھتے رہنے سے کم از کم یہ ضرور ہوا کہ وسیع تر حلقہ ملا۔ بہت سی فرسودہ روایتیں خود بخود پیچھے چھوٹ گئیں۔ ترسیل کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔ چاہے کسی بھی مذہب فرقے یا مسلک سے تعلق رکھنے ولا قاری ہو، اسے کہیں نہ کہیں میری کہانیوں میں اپنے ہونے کا احساس زندہ ہوتا رہا ہے۔ پوسٹر، اندر آگ ہے، سائمن باسکی، وہ لڑکی، کِنّی کا راجکمار، کاہے راکھے سائیاں، آشرم، روگ، میاّ، سباّ رو نہیں سکتی، رات، پھانس، باگھ دادا، حربہ، کوئی ہاتھ، کشن پور کی مسجد یا ایسی دوسری تمام کہانیوں کا بغور مطالعہ کریں گے تو شاید مجھے بھی احساس ہو گا کہ میں نے پورے اعتماد کے ساتھ تخلیقی شدت کے پیش نظر ہی موضوعات کو برتنے کی کوشش کی ہے۔  اور کہیں ایسا نہیں معلوم ہو گا کہ خود کو دہرا رہا ہوں۔ میں ایسا اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ اب تک جو تاثرات ملے ہیں، مجموعی اعتبار سے ایسی ہی باتیں، کہی گئی ہیں۔ ان افسانوں کا انتخاب بھی میں نے نہیں کیا ہے بلکہ اس عمل میں دانشوروں اور انہماک سے مطالعہ کرنے والے قارئین کے فیصلے کا ہی دخل ہے، تخلیقی ادب کا کوئی خاص مقام کبھی متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کہ یہ تو لامتناہی سلسلہ ہے اور شاید بے منزل کی تلاش بھی ہے۔ زندگی کے کینوس پر کئی ایسی تصویریں ہیں جو میرے وجود کا حصہ ہیں۔ میں اپنی تنہائیوں میں انھیں جینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس عمل میں کوئی جستجو ہی مجھے حوصلہ عطا کرتی ہے۔ ہاں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ دوران سفر اوروں میں منتقل ہو جاؤں اور یہ گمان بھی باقی نہ رہے کہ   ؎
جستجو ہو تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے
یوں تو ہر موڑ پہ منزل کا گماں ہوتا ہے
٭٭٭

مصنف کے تشکر کے ساتھ
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
