﻿





کہانی

(شاعری)

ثناء اللہ ظہیر

 




کہانی







ثناء اللہ ظہیر



 


***


مری نظر کی پہنچ سے اگرچہ دور ہے تو
حدِ خیال سے آگے کہیں ضرور ہے تو

ترے ہی مان پہ سینہ پھُلا کے چلتا ہوں 
مری انا، مری طاقت، مرا غرور ہے تو

***`
 



***
تھی اُن کے در پہ لُٹانی، سنبھال کر رکھی
متاعِ اشک پرانی سنبھال کر رکھی

کہ ایک دن اسے آقا کی نعت ہونا تھا
غزل نے اپنی جوانی سنبھال کر رکھی

وہ نعت جس سے مہکتی ہے شب کی تنہائی
وہ نعت رات کی رانی سنبھال کر رکھی

حضور آپ کی مِدحت کے واسطے میں نے
یہ حرف حرف روانی سنبھال کر رکھی

ظہیرؔ ریشِ مبارک کا احترام کیا
حضور کی یہ نشانی سنبھال کر رکھی
 




دو خیمے

تو نے سوچا کبھی یزید کی فوج
جتنے آنسو بہے ہیں اس غم میں 
ان سے کتنے فرات بنتے ہیں ؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
ساحلِ چشم کی طرف موجیں 
اس لیے آنسوؤں کی بڑھتی ہیں 
نوکِ نیزہ پہ چاند پورا ہے
***
 

دو  پیڑ

٭
موت کے سامنے انکار سلامت ہے مرا
کہ ابھی دستِ دعا دار سلامت ہے مرا
دھوپ کی چھاؤں میں بے خوف نکل پڑتا ہوں 
اے خوشا !! سایۂ دیوار سلامت ہے مرا

٭٭

کڑکتی دھوپ میں حاصل ہے سائباں سرکو
ٹھٹھرتی شب میں میسر تو ہے مکاں اپنا
جہاں جہاں پہ ہے سبزہ۔ ۔ ۔  وہ سب زمیں اپنی
جہاں جہاں سے ہے نیلا۔ ۔ ۔  وہ آسماں اپنا

 

***
ذرا اشارہ ہوا آسماں کے اندر سے
دعا پہنچ بھی گئی خاکداں کے اندر سے
کہانی پھیل رہی ہے اُسی کے چاروں طرف
نکالنا تھا جسے داستاں کے اندر سے
مجھے پڑاؤ میں خطرہ سفر سے بڑھ کر ہے
کہ راہزن ہے مرے کارواں کے اندر سے
تو مجھ میں آ کے مکیں ہو گیا تو ہر آسیب
نکل گیا ہے مرے جسم و جاں کے اندر سے
میں صرف دیکھنے آیا ہوں رونقِ بازار
غرض نہیں ہے کسی بھی دکاں کے اندر سے
نئے سرے سے بنانا پڑا ہے اب خود کو
تلاش کر تے ہوئے رائگاں کے اندر سے
ترے خلاف گواہی جو بن گئے ہیں ، وہ لفظ
لیے گئے ہیں ترے ہی بیاں کے اندر سے
میں درمیاں ہوں الاؤ کے اور مری آواز
تو سن رہا ہے اسی درمیاں کے اندر سے
لگا رہا تو کسی دن کشید کر لوں گا
نئی زبان۔ ۔ ۔  پرانی زباں کے اندر سے
ابھی تو یہ در و دیوار جانتے ہیں مجھے
ابھی تو میں نہیں نکلا مکاں کے اندر سے
ظہیرؔ، پار اترنے کا فیصلہ جو کیا
کنارہ مل گیا آبِ رواں کے اندر سے
 


***

اپنی مستی، کہ ترے قرب کی سرشاری میں
اب میں کچھ اور بھی آسان ہوں دشواری میں 
کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں 
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں 
اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں 
وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں 
اے زمانے میں ترے اشک بھی رو لوں گا ، مگر
ابھی مصروف ہوں خود اپنی عزا داری میں 
اس کے کمرے سے اٹھا لایا ہوں یادیں اپنی
خود پڑا رہ گیا لیکن کسی الماری میں 
اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اک عمر گنوا دی مری مسماری میں 
ہم اگر اور نہ کچھ دیر ہوا دیں ، تو یہ آگ
سانس گھٹنے سے ہی مر جائے گی چنگاری میں 
تم بھی دنیا کے نکالے ہوئے لگتے ہو ظہیرؔ
میں بھی رہتا ہوں یہیں ، دل کی عملداری میں 
 

***
گراں ہے گرچہ زمیں پر جلال سورج کا
مگر یہ سبزہ و گل ہیں کمال سورج کا
مرے بدن پہ جمی برف توڑنے کے لیے
گزرتے وقت یہ تیشہ سنبھال سورج کا
خلا میں تیرتے پھرتے ہیں ہاتھ پکڑے ہوئے
زمیں کی ایک صدی، ایک سال سورج کا
کنارِ شام سے بازوئے شب میں جاتے ہوئے
کسی خیال سے چہرہ ہے لال سورج کا
کہا زمیں نے، مرا ایک ذرّہ ٹوٹتے ہی
اُلٹ گیا مرے کپڑوں پہ’’ تھال سورج کا،،
اسیر کر لیے صحرا کے واسطے بادل
کرن کرن گرا دریا پہ جال سورج کا
وہ اپنی آگ میں صدیوں سے جل رہا ہے مگر
کیا نہ اہلِ زمیں نے خیال سورج کا
وہ بے حِسی ہے کہ تازہ سحر بھی قتل ہوئی
مگر ہوا نہ کسی کو ملال سورج کا
ظہیرؔ پھر سے بڑھی جا رہی ہے تاریکی
پھر ایک بار اُٹھاؤ سوال سورج کا
 


***

آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکل آیا ہوں 
کسی ملزم کی طرح گھر سے نکل آیا ہوں 

دیکھ سکتا نہ تھا یاروں کی جبیں پر شکنیں !
سر جھکائے ہوئے منظر سے نکل آیا ہوں 

کھل رہے ہیں مری آنکھوں پہ کئی اور افلاک
میں کہ اب گردشِ محور سے نکل آیا ہوں 

تو ملا ہے، کہ گئی عمر پلٹ آئی ہے
کتنا لڑکا سا میں اندر سے نکل آیا ہوں !

لوگ دیکھیں گے ترے دل سے نکلنا میرا
دیوتا ہوکے میں پتھر سے نکل آیا ہوں 

تیرگی اوڑھ کے جب سو گئی ساری سڑ کیں 
میں ٹھٹھرتا ہوا دفتر سے نکل آیا ہوں 



***
دھوپ سے مصافحہ
روشن دان سے آتی دھوپ میں گرد کے ذرّے 
تاروں سے بڑھ کر روشن ہیں 
دھوپ کے ایک سرے پر میرا سر ہے
جو کچھ لمحے پہلے تک
خلا میں گھومتے برفیلے سیاروں جیسا تھا
اب روشن ہے
آنکھ کے سامنے پھیلی دھوپ میں اڑتے ذرے
لمحہ بہ لمحہ
 کائنات کے پھیلنے جیسا منظر باندھ رہے ہیں 
¬¬¬¬¬
بجھے ہوئے تاروں کا برادہ کمرے میں بھرتا ہے اور نکل جاتا ہے
خنکی گھٹتی جاتی ہے
ا ب برف بھی پگھلے گی
برف جو میرے سر پہ جمی ہے
برف جو میری سوچ پہ طاری ہے
برف جو میری آدھی عمر نگل کر آدھی عمر کی گھات میں ہے
¬¬¬¬
روشن دان سے آتی دھوپ
گرد کے گدلے ذروں کو روشن کر دینے والی دھوپ
تھوڑی دیر میں میرا اندر چمکائے گی
دھوپ کے ایک سرے پر میرا سر بھی ہے
***
 


تھلوں میں چشمۂ برفاب کی طرح ہوں میں 
خود اپنے واسطے اک خواب کی طرح ہوں میں 
نکل چکا ہوں میں تجھ سے مگر مرے دریا
اب ایک ماہیِ بے آب کی طرح ہوں میں 
مرے بغیر تشخص ترا بھی ہے مشکوک
تو لفظ ہے،  ترے اعراب کی طرح ہوں میں 
خوش آمدید بغیر امتیازِ نسل و زباں 
مزاجِ خطۂ پنجاب کی طرح ہوں میں 
کوئی بھی شکل ہو میں روشنی بکھیرتا ہوں 
کبھی دیے،کبھی محراب کی طرح ہوں میں 
مجھے گرفت میں رکھ مجھ کو چاہنے والے
تو جانتا ہے، کہ سیماب کی طرح ہوں میں 
رقیب پڑھ نہ سکے گا تری کتابِ حیات
کہ اس میں ایک حسیں باب کی طرح ہوں میں 
مجھے بھی یاد ہے بچپن کی رنجشوں کی طرح
وہ شخص جس کے لیے خواب کی طرح ہوں میں 
ظہیرؔ وہ مری اک لہر کو ترس رہے ہیں 
جنہیں گلہ تھا کہ سیلاب کی طرح ہوں میں 
 
***
زبانِ شہر پر تازہ کہانی چھوڑ جاتا ہے
بچھڑتے وقت وہ اپنی نشانی چھوڑ جاتا ہے

چلا جاتا ہے خود صحرا سے ملنے کے لیے لیکن
ہماری منتظر آنکھوں میں پانی چھوڑ جاتا ہے

در و دیوارِ جسم و جاں کھنڈر سے لگنے لگتے ہیں 
کوئی جب شہرِ دل کی حکمرانی چھوڑ جاتا ہے

بہاؤ ہے تری جانب ہی دریائے محبت کا
ذرا سا رخ بدلتے ہیں ، روانی چھوڑ جاتا ہے


***
اتنی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے
نہیں ہے دوست فسانے کی ضرورت نہیں ہے

میں مسافر ہوں مجھے آپ ہی اٹھ جانا ہے
آپ کو خاک اڑانے کی ضرورت نہیں ہے

اب میں ہر سمت سے دشمن میں گھرا ہوں ،سو مجھے
دیکھ کر تیر چلانے کی ضرورت نہیں ہے

 



***
ہر ایک لفظ قلم سے جھکا کے سر نکلا
اس احترام سے امشب مرا ہنر نکلا

زہے نصیب وہ آقا کی نعت کہلایا
مرے لبوں سے اگر نغمۂ سحر نکلا

وہ جس نے ظلم کے ہونٹوں سے حکم چھین لیے
وہ آ گیا تو شکستہ دلوں کا ڈر نکلا

بہت ہی دور تجلی سے رہ گئے نوری
پہنچ گیا جو سرِ لا مکاں بشر نکلا

مرے بدن میں بسیرا گناہ کا تھا ظہیرؔ
اُبل اُبل کے جو آنکھوں سے رات بھر نکلا





 


***


مرحلہ کوئی ہم نے درد کا نہیں ہارا
زخم زخم ہیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا
دل کے ہار جانے پر ہو ملال کیوں ہم کو 
تیرے در پہ ہارے ہیں جا بجا نہیں ہارا
ایک ایک ٹکڑی پر عکس پہلے جیسا ہے
کرچیوں میں بٹ کر بھی آئینہ نہیں ہارا
اپنے خوں سے لکھی ہے داستاں اجالوں کی
ریزہ ریزہ جسموں نے معرکہ نہیں ہارا
اس نے میرے ہونٹوں سے لفظ نوچ پھینکے ہیں 
پر، لبوں کے ہلنے کا سلسلہ نہیں ہارا
اب بھی اتنی دوری پر روشنی کا مسکن ہے 
کائنات ہاری ہے فاصلہ نہیں ہارا
آندھیوں میں گھِر کر بھی حوصلہ ہے لوگوں کو 
اب تلک ظہیرؔ ان کا ناخدا نہیں ہارا
 



***
کچھ بھی ترے مزاج سے ہٹ کر نہیں کہا
بہتر کیا بھی تجھ سے تو بہتر نہیں کہا
ہم صرف تجھ کو سنتے ہیں ، مصرع اٹھاتے ہیں 
محفل میں تیری خود کو سخنور نہیں کہا
دیوار و در میں کیا نظر آیا کہ تم اسے؟
میرا مکان کہتے رہے، گھر نہیں کہا!!
ناراض ہو گیا مرا کوزہ بدست دوست
جب میں نے شکریے میں سمندر نہیں کہا
دینا تھا کوئی تجھ کو روایت سے ہٹ کے نام
سہہ کر ترے ستم بھی ستمگر نہیں کہا
مزدور تھے، بنا لیں مشینی علامتیں 
تشبیہ دی تو بادہ و ساغر نہیں کہا
دنیا ٹھہر گئی ترے انکار کی جگہ
اک دن تھا تو نے یونہی پلٹ کر ’’نہیں ،، کہا
ہم نے تو پھول جیسے لکھے ہیں تمام لفظ
ہم مانتے ہیں ایک بھی نشتر نہیں کہا

 
***


کہنے کو اس کے پاؤں ہے شہرت پڑی ہوئی
لیکن ہے رُخ پہ گردِ ملامت پڑی ہوئی

میں اس دکاں سے راہ بدل کر نکل گیا
جس میں تھی میرے گھر کی ضرورت پڑی ہوئی

یہ اشک ہیں زمیں پہ گراتے ہو کس لیے؟
سجتی نہیں زمیں پہ یہ دولت پڑی ہوئی

نیند آ رہی ہے رہ میں گھنی چھاؤں دیکھ کر
لیکن ابھی بہت ہے مسافت پڑی ہوئی

مجھ کو بھی اس سڑک سے گزرنا ضرور ہے
اس راہ کو بھی ہے مری عادت پڑی ہوئی

کس بات پر ہم اپنی انا بیچ دیں ظہیرؔ
ایسی بھی کون سی ہے مصیبت پڑی ہوئی









***
توڑ کر حلقۂ ایام نہیں آ سکتا
جا چکا وقت کسی کام نہیں آ سکتا
جلتی آنکھوں کی طلب اور ہی کچھ ہے صاحب
خواب سے خواب کو آرام نہیں آسکتا
میرا یہ دکھ کہ میں سکہ ہوں گئے وقتوں کا
تیرا ہو کر بھی ترے کام نہیں آسکتا
تیر لے آئے گا دشمن کو منا کر مجھ تک
جسے بھیجا ہے وہ ناکام نہیں آ سکتا
تیرے شملے کی جگہ سانپ کھڑا ہو جیسے
تیرے سر پر کوئی الزام نہیں آسکتا
فکر مت کر مری بدنام کہانی میں ظہیرؔ
میرے جیتے جی ترا نام نہیں آ سکتا
 


***
کھلا یہ بھید کہ اب تو بھی ہے جہان کے سا تھ
پڑاؤ ڈال چکے، جب ترے مکان کے سا تھ

دو منزلوں کی رفاقت کے بعد لوٹ گیا
وہ زور مارتا کب تک مری اُڑان کے سا تھ

اب انگلیوں سے نشاں فتح کا بناتے ہو
اب اپنے ہاتھ بھی کٹواؤ گے زبان کے سا تھ

جھپٹ رہا ہے شکاری کے ہاتھ پر طائر
لگاؤ موت سے اسکو ہے،  یا کمان کے سا تھ؟

ظہیرؔ کاش سمجھ جائیں یہ جہاں والے
مری اُڑان کے تیور، مری اُٹھان کے سا تھ
 

***
بند گلی سے واپسی

کمرہ گنجایش کی حد تک بھر چکا تھا
خوشنما آرائشی لڑیاں عقیدت سے جھکے سر ڈھانپتی چھت سے 
زمیں تک آ رہی تھیں 
چٹائی کی جگہ کرنیں بچھی تھیں 
روشنی مسند نشیں روحانیت سے لے کے دروازے میں بیٹھے 
شخص تک ہموار تھی

لیکن
گلی میں تیسرے زینے سے گر کر مر گئی تھی

اس سے آگے خستہ اینٹوں سے بنا وہ راستہ تھا
جس پہ تیزی سے سنورتی رات کی آنکھوں سے سرمہ گر گیا تھا
مؤدب خامشی اوڑھے ہوئے یہ فرش اگلے چوک تک پھیلا تھا 
جس میں تیرگی سے آنے والی ہر سواری رک رہی تھی

ذکر کی ضربوں سے دل معمول کی دھڑکن بھلا کر جسم کو خوں کی
بجائے روشنی پہنچا رہے تھے
ثنا خواں کے لبوں پر اُس کی مدحت کی چمک تھی
 جس نے انسانوں کو انساں کی غلامی سے نکالا 
تو 
جہاں بھر سے غنی کر کے نکالا

خاک میں لتھڑی ہوئی پیشانیوں کو آئنوں جیسی چمک دی 
(وقت جن میں اپنا چہرہ دیکھتا ہے)
ثنا خواں کے لبوں پر اس کی مدحت کی چمک تھی
جس کی صورت دل میں رکھی ہو تو آنکھوں میں کسی منظر کی 
گنجایش نہیں رہتی

سحر ٹوٹا
جب وہ دروازے میں لمحہ بھر رکا تو یوں لگا دنیا ابھی تک اس کی 
آہٹ سے نبھاتی آ رہی تھی
مگر کمرے میں یوں داخل ہوا
جیسے کسی رکتے ہوئے لمحے کی ٹکر نے اسے اندر اچھالا ہو
انا کی راکھ سے ہونٹوں کو آلودہ کیے اٹھا
تو اک بالشت جتنا رہ گیا تھا
اور حیرت آسماں کو چھو رہی تھی

ثنا خواں ۔۔!!جس کے ہونٹوں پر ابھی تک اس کی مدحت کی چمک تھی، جس کی صورت دل میں رکھی ہو تو آنکھوں میں کسی
 منظر کی گنجایش نہیں رہتی
وہ اس منظر میں اندھوں کی طرح شامل ہوا
 تو 
اس کی پیشانی چٹخنے کی صدا کمرے میں گونجی
(وقت جس میں اپنا چہرہ دیکھتا تھا)

سحر ٹوٹا
سحر جب ٹوٹا
تو آنکھوں میں وہی کمرہ تھا اور منظر نئے تھے
جہالت چھت سے جالے کی طرح لٹکی ہوئی سب کے گلے کا 
طوق تھی
چٹائی کی جگہ کالک بچھی تھی

تیرگی مسند نشیں فرعونیت سے لے کے دروازے میں بیٹھے شخص 
تک ہموار تھی
لیکن
گلی میں تیسرے زینے سے گر کر مر گئی تھی

اس سے آگے سرمئی سیلن زدہ اینٹوں کا فرش اس چوک تک
 پھیلا ہوا تھا
جس سے آگے روشنی تھی

 



***
دیکھا ہے جو نظر نے وہی کہہ رہا ہوں میں 
مجھ پر نہ یوں بگڑ، کہ ترا آئنہ ہوں میں 

محتاج اب نہیں ہوں کسی موجِ تیز کا
صحرا کی ریت پرہی بہے جا رہا ہوں میں 

دیمک غموں کی چاٹ رہی ہے درونِ جسم
باہر سے دیکھنے میں تو اچھا بھلا ہوں میں 

اچھے دنوں میں سب ہی مرے ساتھ تھے ظہیرؔ
یادوں کے اس محاذ پہ تنہا کھڑا ہوں میں 

***
سہمی ہوئی ہر چشمِ تماشا ہے سڑک پر
کس خواب کا بِکھرا ہوا ملبہ ہے سڑک پر؟
لہروں کی طرح شور سا اُٹھتا ہے سرِ شام
انساں ہیں ، کہ بپھرا ہوا دریا ہے سڑک پر
رستے کی رکاوٹ تو نہیں ہے مرا ہونا
میں خود تو نہیں ہوں ، مرا  سایہ ہے سڑک پر
 

***

اک قبا سارے زمانے سے جدا پہنی ہے
کہکشاں آپ کے قدموں سے اُٹھا پہنی ہے

اک ترا حکم سنا اور ترے دیوانوں نے
خرقۂ زیست  اُتارا ہے قضا پہنی ہے

کتنا خُوش بخت ہے بچّہ یہ کسی بدّو کا
تیری گلیوں میں پھِرا، تیری فضا پہنی ہے

نطقِ بیمار کو صحت ہے درودوں سے ملی
لفظ نے نعت کے صدقے میں شفا پہنی ہے

کی دعا ختم، تو پھر صلِّ علیٰ پڑھتے ہوئے
ہاتھ یوں جِسم پہ پھیرے کہ زرہ پہنی ہے

کر دیا بدر سے کشمیر کا رشتہ قائم
موت جس رنگ میں تم نے شُہَدَا پہنی ہے

آخرِ شب کی مناجات میں لگتا ہے ظہیرؔ
میری خلوت نے وہی آب و ہوا پہنی ہے
 


***
ماورا سے بھی مطمئن نہ ہوا
دل، دعا سے بھی مطمئن نہ ہوا

مجھ کو احساسِ جرم اتنا تھا
میں سزا سے بھی مطمئن نہ ہوا

دل نے چاہت میں انتہا کر دی
انتہا سے بھی مطمئن نہ ہوا

ایسا بھٹکا، کہ پھر خود اپنے ہی
نقشِ پا سے بھی مطمئن نہ ہوا

غار کی زندگی بھی مشکل تھی
ارتقا سے بھی مطمئن نہ ہوا

***
اس نے پرائے خواب کی تکمیل کے لیے
تعبیر کا دیا بھی مرے غار سے لیا
 

***
رغبت مجھے اس واسطے بازار سے کم ہے
موجود مری جیب میں درکار سے کم ہے

برگد کے گھنے پیڑ تلے رُک تو گئے ہیں 
سایہ مگر اس کا تری دیوار سے کم ہے

یہ سوچ کے زنجیر ہلائی نہیں میں نے
دکھ میرا ابھی تک ترے معیار سے کم ہے

اظہار میں جذبے کی صداقت نہیں اتری
لفظوں میں نمی چشمِ عزا دار سے کم ہے

فن میں تو بلند اُس سے بہت ہے مرا قامت
توقیر مگر صاحبِ دستار سے کم ہے



***
’’مصلحت کا یہی تقاضہ ہے،،
میں تمہیں با وفا سمجھتا رہوں 
تم مجھے با وفا سمجھتے رہو



***

یوں تیرگی کا ہاتھ بٹاتی ہوئی ملی
موجِ ہوا چراغ بجھاتی ہوئی ملی

سایہ ملا، تو حبس بڑھاتا ہوا ملا
بارش ملی تو آگ لگاتی ہوئی ملی

کس قتل گاہِ حسِ سماعت میں آ گئے
اک ایک چیز شور مچاتی ہوئی ملی

ماحول نے لبادۂ صر صر پہن لیا
بادِ صبا بھی گرد اڑاتی ہوئی ملی

ہم روشنی کو درد سنانے گئے ظہیرؔ
وہ اپنی داستان سناتی ہوئی ملی
 


***
زمیں کے ساتھ بھی رہتا تھا رابطہ میرا
یہ اور بات کہ محور رہا جدا میرا

کسی حسین شرارت کی اوٹ میں رک کر
مجھے پکارنے لگتا ہے بچپنا میرا

میں بہرہ ور ہوا خود آگہی کی دولت سے
کہ میری سمت ہی رہتا تھا آئنہ میرا

تو مجھ سے بھاگ کہ رسّی دراز ہے تیری
کھنچا ہوا ہے جہانوں پہ دائرہ میرا

مرے عدو ذرا ہشیار ہو کے روک مجھے
کہ تیری جاں سے گزرتا ہے راستہ میرا

بھنور میں چھوڑ دیا گرچہ نا خدا نے ظہیرؔ
نہ دیکھ پائے گا لیکن وہ ڈوبنا میرا









***
نہ کسی در سے لپٹتا، نہ چمٹ جاتا ہوں 
سرد مہری ذرا دیکھوں تو پلٹ جاتا ہوں 
شاعری ساتھ چلی آتی ہے دروازے تک
آ کے دفتر میں ہر اک چیز سے کٹ جاتا ہوں 
بعض اوقات زمیں تنگ سی لگتی ہے مجھے
بعض اوقات کسی دل میں سمٹ جاتا ہوں 
ایسا بادل ہوں ، کہ اک پل میں اندھیرا کر دوں 
اتنا ہلکا ہوں ، کہ اک سانس سے چھٹ جاتا ہوں 
اس نے شو کیس کے اوپر مجھے رکھا ہوا ہے
آنے والوں کی عنایات سے اٹ جاتا ہوں 
اے زمیں !!  لوگ فلک بوس مجھے جانتے ہیں 
جب تری حد سے نکلتا ہوں تو گھٹ جاتا ہوں 
ماں کے سینے کی طرح اب مجھے تنہائی ہے
کوئی آہٹ بھی سنوں ، اس سے چمٹ جاتا ہوں 
زندگی میری ہے۔ اور میری حفاظت میں ہے
آپ کہتے ہیں تو میں راہ سے ہٹ جاتا ہوں 
اسی مشکل میں ظہیرؔ اب مجھے آسانی ہے
میں ہمیشہ سے زمانے کے الٹ جاتا ہوں 


***

تبدیلی

عمارتوں پہ لگی تختیاں بدل لی ہیں 
وہ خود تو بدلے نہیں ، وردیاں بدل لی ہیں 

معززین میں پھر بھی شمار ہو نہ سکے
بھکاریوں نے کئی جھولیاں بدل لی ہیں 

بدلنا اتنے سروں کا تو غیر ممکن تھا
کہیں وِگیں تو کہیں ٹوپیاں بدل لی ہیں 

تپِش بڑھی ہے تو کوفی مزاج لوگوں نے
کلاشِنوں کے عوض چھتریاں بدل لی ہیں 

مزاجِ حلقۂ احباب کے بدلتے ہی
ظہیرؔ تم نے بھی دلچسپیاں بدل لی ہیں ؟

 



***
مری آنکھوں میں جو اترا ہے وہ سپنا کسی کا ہے
فصیلِ ذہن پر جیسے مری پہرہ کسی کا ہے
کوئی لفظوں کو اصلی شکل میں رہنے نہیں دیتا
صدا تو میری اپنی ہے مگر لہجہ کسی کا ہے
مرے حصے بھیانک سلسلے آئے چٹانوں کے 
جہاں پریاں اترتی ہیں وہی دریا کسی کا ہے
وفا تبدیل کرنے میں کوئی صدیاں نہیں لگتیں 
جسے میں کل تلک کہتا رہا اپنا، کسی کا ہے

***
وہ بوجھ ہے کہ زمیں سے لگا ہوا ہوں میں 
نحیف ہیں مری شاخیں ، ثمر زیادہ ہے

مری اڑان کے شایاں یہ آسماں بھی نہیں 
قفس ہے تنگ مرا زورِ پر زیادہ ہے

ہمیں زمین کی جانب بھی لوٹنا ہے ظہیرؔ
ترے سفر سے ہمارا سفر زیادہ ہے
 


***
یہاں پہ رہتے ہوئے اس زمیں سے نسبت ہے
ذرا سی خاک ہوں عرشِ بریں سے نسبت ہے
مری جبین کو ہر  اُس جبیں سے نسبت ہے
جسے بھی روشنیِ اوّلیں سے نسبت ہے
خدا کو میں نے کبھی آنکھ سے نہیں دیکھا
خدا کے ساتھ بھی تیرے یقیں سے نسبت ہے
الٹ رہا ہوں ورق سیرتِ صحابہؓ کے
ترے سبب ترے ہر ہم نشیں سے نسبت ہے
زمانہ سازوں سے اپنی ٹھنی رہے گی ظہیرؔ
انہیں بہت سے، ہمیں بہتریں سے نسبت ہے

***
یہ ہوائیں ہیں شہرِ طیبہ کی
ان ہواؤں میں جل رہے ہیں دیے

سب کتابوں میں بات ان کی ہے
ان کی بخشش پہ پل رہے ہیں دیے

چل رہا ہوں میں ٹھیک رستے پر
میرے ہمراہ چل رہے ہیں دیے
 


***
کچھ اس لیے بھی مجھے آئنہ پسند نہیں 
میں صاف گوئی میں بھی انتہا پسند نہیں 

ہم اُس سے خیر کی امید کیا رکھیں جس کو
دیے سے ربط نہیں اور ہوا پسند نہیں 

تمام عمر پڑاؤ پہ کاٹنا ہوگی
سفر کا شوق ہے اور راستہ پسند نہیں 

مرا خلوص کہ اس کی جگہ پہ کٹ رہا ہوں 
وہ شاخ جس کو مرا گھونسلا پسند نہیں 

تمہارے سامنے سچ بولنے سے رک گئے ہیں 
ہمیں بتاؤ تمہیں اور کیا پسند نہیں 

یہ اور بات کہ دل میں جگہ نہ دیں گے اسے
مگر وہ شخص ہمیں اب بھی ناپسند نہیں 

ظہیرؔ اس کو بچانا ہے ڈوبنے سے مجھے
وہ دوست جس کو مرا تیرنا پسند نہیں 
 


***
تری شکست کا اعلان تو نہیں کریں گے
جو تیرا کام ہے دربان تو نہیں کریں گے

سیاہ رات کے آنگن میں کود کر ہم لوگ
دیے جلائیں گے نقصان تو نہیں کریں گے

میں اپنی ذات کی حیرت سرا سے گزرا ہوں 
یہ تجربے مجھے حیران تو نہیں کریں گے

یہ ٹھیک ہے۔ کہ ضروری ہے کارِ گریہ بھی!
اسے بھی ہجر کے دوران تو نہیں کریں گے

یہ سوچنا تھا تمہیں دائرے بناتے ہوئے
یہ پیچ تم کو پریشان تو نہیں کریں گے

ظہیرؔ اس کی رگوں کو لہو پلا کر ہم
زمین پر کوئی احسان تو نہیں کریں گے




***


انا نے کاٹ دئے اس پہ انحصار کے پاؤں 
تو اپنے پاؤں لگے مجھ کو کوہسار کے پاؤں 

ترے مکاں کا تقدس عزیز تھا اتنا
میں آ رہا ہوں گلی سے پرے اتار کے پاؤں 

ابھی سے خشک نہ ہو آبشارِ چشمِ فراق
ابھی تو ہم کو دھلانا ہیں اپنے یار کے پاؤں 

بلندیوں پہ چٹانوں کو روندتا پانی
ندی میں گر کے پکڑ لے گا کوہسار کے پاؤں 

یہ سوچ کر، کہ نہ قرطاس سے اتر جائے
ادھورے چھوڑ دئے میں نے شاہکار کے پاؤں 


 


***
وہ تو صرف اپنے گھرانے کے لیے سوچتے ہیں 
جن کو دعویٰ ہے زمانے کے لیے سوچتے ہیں 
تیری بستی سے نکل کر یہ ترے خانہ بدوش
اب کسی اور ٹھکانے کے لیے سوچتے ہیں 
آتشِ عشق میں اب کون جلے گا، کہ سبھی
پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سوچتے ہیں 
اے مرے قائدِ اعظمؒ ترے چاروں بیٹے
گھر میں دیوار اٹھانے کے لیے سوچتے ہیں 
گھر کو جاتے ہوئے ہر روز بہانہ کوئی
تیرے گھر کی طرف آنے کے لیے سوچتے ہیں 
سارے اشعار ظہیرؔ اس کی امانت ہیں ، کہ ہم
ہر غزل اس کو سنانے کے لیے سوچتے ہیں 
 

***
مری تو عمر ہی پتھر ہٹاتے گزری ہے
تمہاری راہ کی دیوار کوئی دوسرا ہے

وہ یوں مریض کے مرنے کا بات کر رہا تھا
کہ جیسے میں نہیں بیمار کوئی دوسرا ہے

***
تاریک مکانوں میں اُجالا نہ کرے گا
ممکن تو ہے ایسا، مگر ایسا نہ کرے گا

وہ شخص منافق ہے، ترے درد کی ہر سو
تشہیر تو کر دے گا، مداوا نہ کرے گا

مظلوم کے جبڑوں میں سجائے گا زبانیں 
ظالم کے مگر ہاتھ کو روکا نہ کرے گا

وہ جس نے مجھے پچھلے سمے کاٹ دیا تھا
کیا اب وہ مری روح کا سودا نہ کرے گا

بانٹے وہ ظہیرؔ امن کی ہر سمت ہوائیں 
یہ کام کبھی اُس نے کیا تھا، نہ کرے گا
 

ادھورا  اندمال
ذہن میں اب بھی سلگتا ہے وہ لمحہ
 جب میں 
قصرِ پرویز میں چھوڑ آیا تھا شیریں اپنی

کان پر روز قلم رکھ کے نکلتا تھا 
(کہ تیشہ ہے مرا)
روز اک دودھیا الفاظ کی نہر
قصرِ پرویز تلک جاتی تھی
صرف شیریں کو پتہ چلتا تھا

کوہِ قرطاس کو سرمے میں بدل ڈالا ہے
روز کی تیشہ زنی نے
قصرِ پرویز کی تختی ہی بدل ڈالی ہے
وقت نے
(جو مرا مرہم بھی ہے)

وقت کی راکھ نے ہر چیز کو ڈھانپا تو ہوا ہے 
لیکن
آج بھی تہہ میں سلگتا ہے وہ لمحہ
			  مرا لمحہ

 

***
کسی کا عکس بھی ٹھہرا نہ بہتے پانی پر
بس ایک خواب ہی تیرا مری روانی پر

ملال تک نہ کیا اپنی رائگانی پر
کہ ُاس سے اپنا تعلق تھا خوش گمانی پر

فگار کر گئی سینہ مبارزت طلبی
ترس بھی آیا بہت اس کی نوجوانی پر

اگرچہ اس میں تضادات بھی بہت سے تھے
یقین کر لیا پھر بھی تری کہانی پر

***
ویسے تو آسماں پہ ستارے بہت سے ہیں 
میری طرف رہا ہے جھکاؤ زمین کا

سورج کی شعلہ بار نگاہوں کو آج تک
روشن رکھے ہوئے ہے لگاؤ زمین کا

بھیجو کسی کو اور کسی کائنات میں 
پودا اک اُس طرف بھی لگاؤ زمین کا
 

***
قبائے شاہی نہیں ، سر پہ کوئی تاج نہیں 
پر ایسی کون سی دنیا ہے جس پہ راج نہیں ؟

مریضِ ہجر ہوں قدموں میں لے چلو اُن کے
سوائے شہرِ مدینہ مرا علاج نہیں 

نبی کے در پہ بہت مطمئن کھڑے ہیں فقیر
یہاں صدا بھی لگانے کی احتیاج نہیں 

یہ کس کے ہاتھ خزانے لٹا رہے ہیں مگر
یہ کس کا گھر ہے جہاں پاؤ بھر اناج نہیں 

قریبِ روضہ یہ مجھ سے دھڑکتے دل نے کہا
بہ اشتیاق ہوں بسمِل بہ اختلاج نہیں 

ظہیرؔ آئے ہیں ہم کاسۂ یقیں لے کر
درِ حضور پہ اِنکار کا رواج نہیں 






 

***
اس کے ہونٹوں سے ادا ہونے لگا ہوں اب میں 
ٹھہر اے زیست ، دعا ہونے لگا ہوں اب میں 

خود سے لپٹا لے مجھے، چوم لے ماتھا میرا
اے زمیں تجھ سے جدا ہونے لگا ہوں اب میں 

آنے والے ہیں مرے سر پہ کئی اور الزام
یعنی کچھ اور بڑا ہونے لگا ہوں اب میں 

اب تجھے اور کہیں کا نہیں رہنے دوں گا
اے مرے دوست ترا ہونے لگا ہوں اب میں 

اس جگہ پر بھی مہک پھیل گئی ہے میری
اس جگہ سے بھی ہوا ہونے لگا ہوں اب میں 

تیرے کہنے پہ ہدف خود کو کیا تھا میں نے
تیری خواہش پہ خطا ہونے لگا ہوں اب میں 

شاید اب ہجرِ مسلسل مری قسمت ٹھہرے
اک محبت میں کھرا ہونے لگا ہوں اب میں 





***

اپنی ظلمت میں دیا ہونے لگا ہوں اب میں 
آپ ہی اپنی دوا ہونے لگا ہوں اب میں 

معتبر ہونے لگے ہیں مرے بے جان حروف
لفظ سے تیرا کہا ہونے لگا ہوں اب میں 

کس کی آمد پہ مری روح کے جالے اترے
کس کے اعزاز میں وا ہونے لگا ہوں اب میں 

کس کے تلوے مجھے پامال کیے جاتے ہیں 
خاک سے خاکِ شفا ہونے لگا ہوں اب میں 

یہ جو ہر موڑ پہ تو روک رہا ہے مجھ کو
کچھ نہ کچھ تجھ سے ورا ہونے لگا ہوں اب میں 

یہاں چہروں پہ نشاں تک نہیں کانوں کے ظہیرؔ
اور یہاں نغمہ سرا ہونے لگا ہوں اب میں 






***
چڑھتے سورج کو پشت پر رکھ کر
دیکھتا ہے وہ اپنے سائے کو
اور قامت پہ ناز کرتا ہے

***
دل کہ ویراں تھا اسے اور بھی ویران کیا
یوں ترے ہجر کی تکمیل کا سامان کیا

روشنی دیکھ کے بے وقت، پرندے جاگے
پھر پرندوں نے مرے خواب کا نقصان کیا

شہر کی آگ ہوئی سرد، تو میں نے اپنی
راکھ سے اٹھ کے نئی جنگ کا اعلان کیا

گرد اس شہر کی روشن مرے ماتھے پہ ہوئی
اور مرے عکس نے آئینے کو حیران کیا

موت کے پار اترنا بڑا مشکل تھا ظہیرؔ
میرے دشمن نے مرا راستہ آسان کیا



***
وہ اپنی بات پر ہی اڑا رہ نہیں سکا
سو، میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہ نہیں سکا

اک ایک اینٹ میری اُٹھا لے گئے ہیں لوگ
در کیا گرا کہ میں بھی کھڑا رہ نہیں سکا

اس بار پہلا تیر نہ آیا مری طرف
یعنی میں صف میں سب سے بڑا رہ نہیں سکا

آخر ہوا سے چھین کے مٹی نے کھا لیا
پتہ شجر سے جو بھی جھڑا، رہ نہیں سکا

تو مجھ کو سنگِ میل سمجھ کر گزر نہ جائے
یہ سوچ کر زمیں میں گڑا رہ نہیں سکا

میں تو چھپا ہوا تھا زمانے کی آنکھ سے
چپ چاپ تو ہی مجھ میں پڑا رہ نہیں سکا

اک بار اس کا چہرہ دکھایا اُسے ظہیرؔ
پھر اُس کے پیرہن میں جڑا رہ نہیں سکا

 





***

ہے آج کل مرا وجدان صوفیوں کی طرح
اور اس پہ ہے مجھے ایمان صوفیوں کی طرح

بنا لیا ہے جو اک دوست کو خدا تو نے
کر اس خدا کا بھی اعلان صوفیوں کی طرح

بچھڑ رہا ہوں مگر مضطرب نہیں ہوں میں 
نکل رہی ہے مری جان صوفیوں کی طرح

فلاسفہ کی طرح مت الجھ مباحث میں 
جو ماننا ہے اسے مان صوفیوں کی طرح

الجھ کے کارِ جہاں میں بھی تجھ سے دور نہیں 
کیا ہوا ہے ترا دھیان صوفیوں کی طرح


 


ننھی بچی ناچ رہی ہے

ننھی بچی ناچ رہی ہے
ماں کے ڈریسنگ ٹیبل کے نزدیکی بیڈ پر
ننھی بچی ناچ رہی ہے

اپنے پیارے پیارے بازو پھیلاتی ہے
			   کچھ گاتی ہے
اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ رہی ہے
ننھی بچی ناچ رہی ہے

بچی کو معلوم نہیں ہے
ناچتے ناچتے لہرانے کا مطلب کیا ہے؟
کمر مروڑا کھاتی ہے تو کس الجھن کے بل کھلتے ہیں ؟
(آگے وہ سطریں ہیں جن کی یہاں اشاعت ٹھیک نہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس معصوم کو یہ بھی علم نہیں ہے
جس رقاصہ کی یہ نقل کیے جاتی ہے
وہ اس کام کا کیا لیتی ہے

ننھی بچی ناچ رہی ہے


***
اک عمر تیری آگ میں جلنے کے بعد بھی
پتھر ہی لگ رہا ہوں ، پگھلنے کے بعد بھی

دل۔ ۔ ۔ طاقِ انتظار میں رکھا ہوا چراغ
روشن ہے آفتاب نکلنے کے بعد بھی

مجھ کو گرا نہ دے مرے اندر کی توڑ پھوڑ
دھڑکا لگا ہوا ہے سنبھلنے کے بعد بھی

بوڑھی تھی روح خود کو توانا نہیں لگا
اپنا تمام جسم بدلنے کے بعد بھی



 



***
درِ حرم پہ مؤدب کھڑی ہوئی تھی ہوا
کہا مدینہ چلیں ، اور چل پڑی تھی ہوا

حضور آئیں تو چھو کر قدم سلام کرے
اِس انتظار میں ہر رات جاگتی تھی ہوا

درخت ہاتھ ہلاتے تھے، خیر مقدم کو
اُتر کے شاخ سے قدموں کو چومتی تھی ہوا

حضور آپ کے ہونے سے نکہت اسکو ملی
اگرچہ پہلے زمانوں میں بھی یہی  تھی ہوا

ظہیرؔ، یہ مجھے مصرع بتا دیا کس نے؟
سروشِ نعت تھا، یا گُنگُنا رہی تھی ہوا







 


***
اس کا چرچا مسجد و مینار کے اندر بھی ہے
لامکاں شاید در و دیوار کے اندر بھی ہے

زخم مرہم میں بھی ہے، تلوار کے اندر بھی ہے
دھوپ کا رستہ گھنے اشجار کے اندر بھی ہے

میں ہی اک دنیا پہ بیتا جا رہا ہوں ان دنوں 
جو مرے اندر ہے وہ اخبار کے اندر بھی ہے

شہر کی رونق پہ خود کو منکشف کرتا ہوں میں 
میرا آدھا جسم اب تک غار کے اندر بھی ہے

میں جسے دل میں لیے پھرتا رہا اب تک ظہیرؔ
وہ بہت سا درہم و دینار کے اندر بھی ہے

 

***
ہوتے ہوتے مرے دمساز بھی ہو سکتے ہیں 
میرے دشمن مری آواز بھی ہو سکتے ہیں 

آپ اپنے لیے گنجائشِ در رکھ لیجے
ہم تو دیوار کے ہمراز بھی ہو سکتے ہیں 

تیری دنیا کی ہمیں بھی سمجھ آ سکتی ہے
یہ کبوتر کبھی شہباز بھی ہو سکتے ہیں 

اپنی جانب، مری یکسوئی سے اکتائیے مت!
آپ یکسر نظر انداز بھی ہو سکتے ہیں 

تیرے آنسو، مری آنکھوں سے نکل سکتے ہیں 
اور میں چاہوں تو یہ باز بھی ہو سکتے ہیں 

یہ محبت مرے حصے میں لکھی جانے سے
آپ اس شہر میں ممتاز بھی ہو سکتے ہیں 








***
مجھ تہی دست کو یوں ہی بے آسرا چھوڑ دے
میری منزل نہیں تُو، مرا راستہ چھوڑ دے

تجھ کو ساحل کی خواہش ہے،  تُو کر سہارا تلاش
مجھ کو بے رحم دھاروں پہ بہتا ہوا چھوڑ دے

صفحۂ زیست پر لکھ نئے پیار کی داستاں 
اور مرے ذکر کو اک ذرا حاشیہ چھوڑ دے

میں ترے قرب کی آرزو کے بھی لائق نہیں 
اے مرے دوست، میرے لیے سوچنا چھوڑ دے

اُس نے چھوڑا ہے یوں ایک دو دن  رفاقت کے بعد
جیسے شاعر غزل میں بُرا قافیہ چھوڑ دے

شوقِ آوارگی ختم ہونے پہ لوٹ آؤں گا
اے ظہیرؔ اپنے دل کا دریچہ کھُلا چھوڑ دے
 


***
اگرچہ گریۂ بے چہرگاں سے اٹھے ہیں 
مگر یہ شعلے ہماری ہی جاں سے اٹھے ہیں 

ہے ان کے پاؤں سے نسبت کہ سرفراز ہیں ہم
غبارِ رہ ہیں مگر آسماں سے اٹھے ہیں 

ہمیں نہ راکھ ہی جان اے ستارۂ روشن
دمک رہی ہے زمیں ہم جہاں سے اٹھے ہیں 


***
گنوا نہ یوں سرِ بازار اعتبار اپنا
نہ موج موج مجھے چشمِ معتبر میں اُتار

کبھی اُتر مری آنکھوں میں روشنی بن کر
یہ رونقیں سی مری ذات کے کھنڈر میں اُتار

اُتارنا ہے اگر چاند اداس لوگوں میں 
مری گلی، مری دہلیز، میرے گھر میں اُتار



 

***
اس تنزل سے میں انساں ہوا، اچھا ہی ہوا
میرا یہ رخ بھی نمایاں ہوا، اچھا ہی ہوا

ورنہ اس عمر میں رسوائی گوارا تھی کسے
تجھ سے پورا نہیں پیماں ہوا، اچھا ہی ہوا

اس تعلق کی وضاحت بڑی مشکل تھی مجھے
آپ تو مجھ سے گریزاں ہوا، اچھا ہی ہوا

آج کل اپنے لیے بھی نہیں فرصت مجھ کو
تو کسی اور کا مہماں ہوا، اچھا ہی ہوا

اس نے جاتے ہوئے اپنایا جفا کا انداز
یوں بچھڑنا مجھے آساں ہوا، اچھا ہی ہوا

لوٹ آئے تری تصویر کے پرزے کر کے
چاک ہم سے نہ گریباں ہوا، اچھا ہی ہوا






***
مجھے تو تیرے علاوہ پتہ کسی کا نہیں 
تو جانتا ہے، میں تیرا ہوں ، یا، کسی کا نہیں 

بھنور میں آن پھنسے ہیں تو چیختے کیوں ہو
کہا نہیں تھا تمہیں ناخدا کسی کا نہیں 

اتار لیتا ہے سب کہ نقوش سینے میں 
یہ اور بات کہ یہ آئنہ کسی کا نہیں 

دئیے بھی پاس ہیں لیکن شکستِ شب کے لیے
محاذ کھول دے، یہ حوصلہ کسی کا نہیں 

اگر ملے تھے تو اک دن جدا بھی ہونا تھا
قصور اس میں ترا ، یا، مرا کسی کا نہیں 

ظہیرؔ ہم ہی چلاتے تھے روشنی کے تیر
ہمارے بعد تو یہ مشغلہ کسی کا نہیں ؟


 




ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں 



میری تنہائی جسے تم نے کیا تھا آباد
پہلے جیسی نہیں ہے
اور وہ منظر جسے ترتیب دیا تھا ہم نے
اس کی ترتیب بھی ویسی نہیں ہے

تھک چکا ہوں 
تھک چکا ہوں میں ہر آتے ہوئے مہماں کو جگہ دیتے ہوئے
خیر مقدم کے لیے اٹھتے ہوئے

چند بے جان سے رسمی جملے
خود ادا کرتے ہوئے
 دوسروں سے سنتے ہوئے
تھک چکا ہوں 
تھک چکا ہوں میں سرکتے ہوئے در کی جانب

کیا یہ ممکن ہے کہ دہلیز پہ بیٹھے ہوئے میں 
گفتگو تم سے کروں اور اسے تم ہی سنو؟ 
صرف تم ہی سنو!!
یہ بھی ممکن ہے یہاں سے میں پکاروں تم کو
اور تم اس کا جواب اور کسی کو دے دو

ہو اجازت تو ذرا دیر میں باہر جا کر
اپنی بچھڑی ہوئی تنہائی سے باتیں کر لوں 
سن رہے ہو تو اجازت دے دو !!!
 


***
اپنی کوزہ گری دکھائیں تجھے
تو کہے تو زمیں پہ لائیں تجھے
پہلی حیرت کا بوجھ سر سے اتار
دوسری بات ہم بتائیں تجھے
خود کو مسمار کر رہا ہے تو
آ ترے وار سے بچائیں تجھے
تو ہمیں یاد آ نہیں سکتا
ہم اگر بھولنے پہ آئیں تجھے


***
آنکھ کھلتے ہی نکالے گئے ہیں 
خواب سے خواب کی تعبیر میں ہم

تیرا آنا بھی گراں گزرا ہے
محو تھے یوں تری تصویر میں ہم

کتنی صدیوں سے گزر کر بھی ظہیرؔ
ہیں ابھی سلطنتِ میرؔ میں ہم

 

***
ظاہر و مخفی جہانوں کو دکھایا ہوا ہے
اک زمیں زاد ہے اور عرش پہ آیا ہوا ہے

طائر اس شہر سے آتے ہیں یہاں بیٹھتے ہیں 
دل نہیں پیڑ محبت کا لگایا ہوا ہے

بے خودی میں کہے جاتا ہوں کہانی اپنی
تیرے عشاق نے ماحول بنایا ہوا ہے

یہ زمیں صرف ترے رنگ میں رنگیں ہوئی ہے
تیرا موسم در و دیوار پہ چھایا ہوا ہے

اب میں بے خوف بڑھے جاتا ہوں منزل کی طرف
کیوں کہ رستہ مرے آقا نے بتایا ہوا ہے

روندے جانے کے میں قابل تھا مگر تیرے سبب
دوستوں نے مجھے کاندھوں پہ بٹھایا ہوا ہے

صبح دم دیکھا ابھرتا ہوا سورج تو لگا
آسماں تیرے تبسّم میں نہایا ہوا ہے

تہہ و بالا کیے جاتا ہے نگاہوں کے حجاب
دل کہ مجذوب ہے اور موج میں آیا ہوا ہے

کام سب چھوڑ کے طیبہ میں چلے آئے ہیں 
کیا بتائیں کہ ہمیں کس نے بلایا ہوا ہے

موڑ لیں مجھ کو شہا اپنی غلامی کی طرف
اب یہ افسانہ کسی موڑ پہ آیا ہوا ہے

ذکر تیرا ہے منور تری سب باتیں ہیں 
اس لیے ہم نے چراغوں کو بجھایا ہوا ہے

کاش میں اس کی صفائی پہ ہی مامور رہوں 
تیری مسجد میں جو قالین بچھایا ہوا ہے
 




***
آسماں سے تو کچھ ہے بہتر ہی
رک رہا ہوں میں اس زمیں پر ہی
ہو نہ ہو مستقل ٹھہر جائے
کوئی پھینکے ہوا میں کنکر ہی
اے مجھے رزق بھیجنے والے
کھا رہا ہوں میں اپنا پتھر ہی
میں ترے ساتھ اڑ تو سکتا تھا
لے اڑا تو مگر مرے پر ہی
میزبانی نہ کر سکو گے مری
چھوڑ آؤ مجھے مرے گھر ہی
اس لیے ہی تو وہ بھی ساکت تھا
ہم تھے رفتار میں برابر ہی
اب ترے ہاتھ پر پھڑکتا ہے
دل دھڑکتا تھا میرے اندر ہی
تم بھی میدان میں نہیں نکلے
تم بھی نکلے ’’نرے سخنور،، ہی
تم بہت تیز چل رہے ہو ظہیرؔ
بات سننا پڑے گی رک کر ہی
 


***
ہے دھواں ہی دھوئیں کے اندر بھی
دل کو دیکھا الٹ پلٹ کر بھی

کٹ رہا ہے وہیں مرا سر بھی
کٹ چکے ہیں جہاں بہتر بھی

امن کی بات کرنے آیا ہے
ساتھ لایا ہے اپنا لشکر بھی

یعنی پاگل نہیں ہوا تھا میں 
ورنہ تجھ پر برستے پتھر بھی

ایک ہی تار کے بندھے ہوئے ہیں 
مجھ سا عاصی بھی، شیخِ اکبر بھی

جب ترے راستے سے ہٹ گیا میں 
ہٹ گیا ’’راستی کا پتھر‘‘ بھی

ایک گھر اور بن چکا ہے مرا
اک طرح سے ہوا ہوں بے گھر بھی


کیا کوئی امتحان باقی ہے
یہ نیا امتحان دے کر بھی

میرا تن ڈھانپنے سے قاصر ہیں 
رات بھی، آسماں کی چادر بھی

زندگی کا ثبوت دے رہا ہوں 
بات کی ہے کسی نے مر کر بھی؟

میں تمہیں رہنما سمجھ لیتا
تم جو ہوتے مرے برابر بھی

ڈاکیا بھی ادھر نہیں آتا
مر گیا ہے کہیں کبوتر بھی

وہ مجھے کیوں زباں نہیں دے گا
بات کرتے ہیں جس سے کنکر بھی

موم رہتے ہیں مومنین کے دل
لاکھ ہو جائیں صاحبِ زر بھی
 

***
جب تری دھوپ میرے سر پر تھی
تو مجھے چھاؤں بھی میسر تھی

اب ترے راستے میں حائل ہے
وہ جو دیوار تیرے اندر تھی

جو کہانی سنا رہے ہو ہمیں 
یہ کہانی ہمیں بھی ازبر تھی

اب   غمی  اور  خوشی  برابر  ہیں 
تب  خوشی  اور  غمی   برابر  تھی

اس کی قربت میں یوں جیا ہوں میں 
سانس شیشہ زبان پتھر تھی

بیچ دی قہقہوں کی قیمت پر؟
وہ اداسی جو اپنا زیور تھی!!

اس کی قربت میں بھی ثناؔ صاحب
اتنی تنہائی کب میسر تھی
 


***
برف کے لوگ ناؤ پتھر کی
اور مسافت ہے اک سمندر کی
میں ہی کروٹ بدلنے لگتا ہوں 
آنکھ لگتی ہے جونہی بستر کی
اٹھ رہی ہیں وہیں پہ دیواریں 
تھی ضرورت جہاں جہاں در کی
حیف صد حیف میرے شیشہ بدن
تجھ کو دیکھے گی آنکھ پتھر کی
اور بھی کچھ بگڑ گیا ہے جہاں 
ہم نے کوشش تو کی تھی بہتر کی
کون محشر کا انتظار کرے
بات ہے لمحۂ میسر کی
تم مرے دوستوں کو لے آتے
چوٹ ہوتی کوئی برابر کی
کیوں سناتے ہو اس طرح کی خبر
کیوں اڑاتے ہو آپ بے پر کی
اب بھی اس کا بدن سنہرا ہے
جبکہ بارش بھی تھم چکی زر کی
آپ تو اس طرف سے آئے ہیں 
کچھ سنائیں ہمارے مخبر کی
کس روانی میں کہہ رہا ہوں غزل
کیا سہولت ہے مصرعِ تر کی
اب اسے ڈھونڈنے کہاں جاؤں 
یہ تو کنجی ہے آٹھویں در کی
گھر میں آرام کرنے آئے ہو
گھر میں باتیں کرو نہ دفتر کی
کوئی بچھڑے تو یاد آتی ہے
رات انیس سو اکہتر کی
خوف دل سے نکال کر بھی ظہیرؔ
کوئی کھڑکی کھلی رہی ڈر کی

***
یہ دل کا روگ ہے، شریانیں بند ہونے کا
کسی کے جسم پہ کوئی نشاں نہیں ہوتا

کوئی شجر، کوئی بادل تو مل ہی جاتا ہے
کسی کے سر پہ اگر سائباں نہیں ہوتا

پرانے زخم دلوں میں چھُپا کے رکھتے ہیں 
وگرنہ کس کو غمِ رفتگاں نہیں ہوتا؟

 

***
یہ گھر یہ دیار عارضی ہے
اپنا یہ مدار عارضی ہے

بھائی۔۔ مرا بھائی ہی رہے گا
گھر میں دیوار عارضی ہے

آئینہ ہوں اور جانتا ہوں 
چہروں پہ غبار عارضی ہے

میدان میں لوٹ آؤں گا میں 
میداں سے فرار عارضی ہے

آگے کوئی اور ہے کہانی
اپنا کردار عارضی ہے

میں کون سا مستقل مرا ہوں 
اے دل، یہ مزار عارضی ہے

معیار بنا رہا ہوں خود کو
یہ بھی معیار عارضی ہے

ساحل پہ ظہیرؔ سو نہ جانا
دریا کا اتار عارضی ہے
 




اپنے تیز رو کے لیے ایک نظم



قافلہ دور نکل جائے گا
اے ۔۔۔۔!!
تری برق خرامی کی قسم ہے تجھ کو
قافلہ دور نکل جائے گا

اے۔۔۔۔!!
 مری چھاؤں میں آرام کی خواہش ہے تجھے
میں شجر ہوں 
 مری شاخوں پہ ثمر آنے پر
صرف پھل ہی نہیں پتھر بھی گریں گے تجھ پر

یہ بھی سچ ہے ،اسی وقفے میں ترا
قافلہ دور نکل جائے گا

مجھکو تسلیم کہ اک بوجھ ہوں میں 
ایک بے کار سی شے
ایک پتھر
 جسے ٹھوکر ہی بھلی لگتی ہے
تو مجھے سر پہ اٹھائے ہوئے کس شہر میں لے جائے گا؟
کون سا جوہری لے گا مجھ کو؟

تیز رو۔۔۔!!
دیکھ ۔۔۔ ترے پاؤں میں کانٹا ہوں میں 
میں رہا تو تری رفتار کو کم کر دوں گا
(بلکہ چلنے ہی نہ دوں گا تجھ کو)
میری مان ۔۔اور مجھے صحرا کے حوالے کر دے

دردِ الفت تو نہیں ہے مری بے کار سی ٹیس
صرف دو گام ترے ساتھ چلے گی
 اور پھر
کہیں رستے ہی میں گر جائے گی
سرِ منزل ترے تلوے پہ نشاں تک نہ ملے گا میرا

تیرے ہر سمت ہوں موجود!
 مگر 
خود کیا ہوں ؟
تیرے ہمراہ اڑوں گا کب تک؟
تیز رو۔۔۔
میں ہوں غبار ،  اور تو مجھے سایہ سمجھ بیٹھا ہے؟
صرف دو گام ترے ساتھ اڑوں گا اور پھر
کہیں رستے ہی میں گر جاؤں گا

آندھیاں اور بھی آئیں گی
 کہ صحرا کی طرح ہے مرا دل
قافلے اور بھی گزریں گے
 کہ رستے میں پڑا ہوں سب کے
ہاں مگر تجھ سے مرا وعدہ ہے
گرد اور گردشِ دنیا سے
تیرے قدموں کے نشانات بچا رکھوں گا

اے ۔۔۔۔!!
تری برق خرامی کی قسم ہے تجھ کو







 


***

گھر نہ ہوتا مکان ہی ہوتا
اپنا کوئی نشان ہی ہوتا

خود کو یکسر بدل تو سکتا میں 
میں کسی کی زبان ہی ہوتا

اے، ترا دوست ہونا مشکل تھا
میں ترا میزبان ہی ہوتا

کم سے کم ہم اڑان بھر لیتے
کم سے کم آسمان ہی ہوتا

 

***
وہ دور نظر کی سرحدوں پر
کرنوں میں بدل رہا ہے پانی
یہ کون کنارے پر کھڑا ہے
حیرت سے اچھل رہا ہے پانی
سورج میں بدن نہا رہے ہیں 
اور دیکھ کے جل رہا ہے پانی

***
ہو جائے وقف میرا قلم یوں برائے نعت
لکھوں میں کوئی لفظ بھی پڑھنے میں آئے ’’نعت،،

میری طرف بھی چشمِ کرم اے خدائے نعت
ہے انتہائے شوق فقط ابتدائے نعت 

بے مائیگی بھی کیا ہے، کہ شاہوں سے بڑھ کے ہیں 
کچھ بھی نہیں ہے پاس ہمارے سوائے نعت

گلیوں میں گھومے گنبدِ خضریٰ کے آس پاس 
لکھ لے تو جالیوں سے لپٹ کر سنائے نعت

لب پر یہی ظہیرؔ دعا ہے کہ حشر میں 
سر پر تنی ہوئی ہو ہمارے ردائے نعت


***
وہ بہرحال بخشوا لیں گے
پر جہنم کے خوف سے بڑھ کر
مجھ کو آقا سے شرم آتی ہے


***
جو مہرباں ہے ستم گر بھی رہ چکا ہے کبھی
یہی جو موم ہے پتھر بھی رہ چکا ہے کبھی

میں آسمان پہ اڑنے کے خواب دیکھتا ہوں 
کہ اک خلا مرے اندر بھی رہ چکا ہے کبھی

اسی لیے اسے ملتا ہوں احترام کے ساتھ
مرا عدو مرا ہمسر بھی رہ چکا ہے کبھی

یہیں شجر تھے، پرندوں کے آشیانے تھے
اسی زمیں پہ مرا گھر بھی رہ چکا ہے کبھی

یہ اور بات کہ اب یاد بھی نہیں ہیں اسے
وہ شخص ہم کو میسر بھی رہ چکا ہے کبھی



 



***
جبر کا دائرہ نہیں چلے گا
نہیں یہ سلسلہ نہیں چلے گا

گھر میں رہنا ہے کوئی دن اس کو 
کوئی دن راستہ نہیں چلے گا

آج وہ مجھ میں آنے والا ہے
آج سے تخلیہ نہیں چلے گا

آپ سے دوستی نہیں چلے گی
آپ سا آئنہ نہیں چلے گا

یوں تری زندگی سے نکلوں گا میں 
خود مجھے بھی پتا نہیں چلے گا

یہ ہے بازارِ دل، میاں اس میں 
کوئی سکہ نیا نہیں چلے گا



 


***
تشنگی بھی ہے یہی اور یہی پانی بھی
مار دیتی ہے محبت کی فراوانی بھی

اتنا کھل کر بھی مرے راز نہاں ہیں مجھ سے
سات پردوں کی طرح ہے مجھے عریانی بھی

چھوڑ کر تجھ کو، تری یاد کو اپنانا ہے
اس لیے چہرے پہ رونق بھی ہے ویرانی بھی

عکس آئینے سے باہر پڑا رہ جاتا ہے
چھوڑ جاتی ہے کسی موڑ پہ حیرانی بھی

دل، مرے دل، غمِ دنیا سے نپٹ لے، کہ ابھی
تجھے کرنی ہے نئے زخم کی مہمانی بھی

زندگی تجھ کو بسر کرنا بہت مشکل ہے
کر رہے ہیں کہ ملے گی کبھی آسانی بھی


 




***
اس امتحان سے خود کو گزارتے کب تک
تری خوشی کے لیے تجھ کو ہارتے کب تک

خود اپنی جاں کا اجالا فلک پہ ٹانک دیا
سحر بدست رتوں کو پکارتے کب تک

ہمیں پلٹنا پڑا زیست کی طرف آخر
ترے جمال کی نظریں اتارتے کب تک

تو ہم نے قافلۂ دل بڑھا لیا آگے
غرورِ حسن تجھے ’اِنتظارتے‘ کب تک

ذرا سی دیر میں مائل بہ معذرت تھا ظہیرؔ
وہ مر چکا تھا، اسے اور مارتے کب تک

 

***
انا کا تنگ لبادہ اتار کر تو بھی
ہماری وسعتِ دل اختیار کر تو بھی

اِدھر بھی آ کہ اِدھر بھی تو لوگ زندہ ہیں 
مری گلی سے گزر خود کو مار کر تو بھی

تمام عمر ترے اِنتظار میں رہا ہوں 
دو چار سال مرا انتظار کر تو بھی

کبھی تو مل، مرے سورج ، مری زمین کے ساتھ
اس آسمان سے خود کو اُتار کر تو بھی

ترے لیے میں فراغت کا ایک لمحہ تھا؟
چلا گیا مجھے یوں ہی گزار کر تو بھی!

ظہیرؔ اسے کبھی تنہائی میں یہ کہنا ہے
میں چاہتا ہوں تجھے، مجھ سے پیا ر کر تو بھی
 


***
ان زمینوں میں خود کو بو رہا ہوں 
جن کی تسخیر کا ارادہ نہیں 

اتنا آسان بھی سمجھ نہ ہمیں 
اتنا سادہ بھی حرفِ سادہ نہیں 

میں ترے آس پاس ہی رہوں گا
صرف تیرا رہوں یہ وعدہ نہیں 

؂
دکھ کی سانجھ

اس نے راہ سے کانٹے چن کر
ننگے پاؤں پہ جوتے کاڑھے
دھوپ کو کچلا
تپتی ریت کو روندا
اپنے چھلنی پیروں سے
نومولود سڑک کو خون کی گھٹی دی

پرس ٹٹولا
اس میں آخری شوہر کے کچھ وعدے کھنک رہے تھے
ان کو گنا
پھر چھنکایا
تلی پہ رکھ کر تولا
اور دریا میں پھینک دیا

خالی پیٹ پہ نظریں گاڑ کے وہ آواز سنی
جو کوئی بانجھ ہی سن سکتی ہے
پھر ویران گلی کے ویراں تر حصے میں 
اُگے ہوئے بوسیدہ لیٹر بکس تک آئی
جس کی کھڑکی
پوسٹ مین کے لمس کو ترس چکی تھی
اس نے اپنے نیلے لبوں سے لیٹر بکس کو چوما

لیٹر بکس نے جھرجھری لے کر آنکھیں کھولیں 
اپنے گردو پیش کو دیکھا
گلی کی خاموشی کا پلّو پھاڑا
اپنے زنگ کا سارا سونا اس کو دان کیا

دونوں نے دیوار سے لگ کر
اپنے چہرے دھوئے
گلے سڑے خط خوب ہنسے
پھر ان سے مل کر روئے
 



***
اے زمانے کو طرفدار بنانے والے
اب کہاں ہیں تجھے معیار بنانے والے؟

ان کے شایاں مرے اعصاب کو قوت بھی ملے
پر ملے ہیں مجھے رفتار بنانے والے

ہم کو اس موڑ پہ لے آئے ہو تم ہی ورنہ
ہم کہاں اور کہاں ہتھیار بنانے والے

جن کے ہاتھوں میں ہے پروانہ گرفتاری کا
یہ تو خود ہیں مجھے غدار بنانے والے






 

متفرقات

***
یہ جو سکون کی نعمت ملی ہوئی ہے مجھے
کسی سفر کی بدولت ملی ہوئی ہے مجھے

میں آبِ نعت سے اپنے گناہ دھو ڈالوں 
یہ زندگی نہیں مہلت ملی ہوئی ہے مجھے
***
دیکھنے میں کوئی خطرہ نہیں طغیانی کا
کچھ بھروسہ بھی نہیں بہتے ہوئے پانی کا
***
ایک ہی محبت پر انحصار کرنا بھی
سیکھنے سے آتا ہے انتظار کرنا بھی
نرغے سے مجھ کو لشکرِ شب کے نکال دے
کرنوں کی تیغ دے، مجھے سورج کی ڈھال دے

یا مجھ سے چھین لے مرے لفظوں کے آئنے
یا ان کو انعکاسِ اذانِ بلالؓ دے

***
عمر اے گزری ہوئی عمر مرا بوجھ اٹھا
میں نے اک عمر ترا بوجھ اٹھایا ہوا ہے

****
شاید پیٹ ہی پہلا تقاضہ ہے فطرت کا
بچہ جو بھی چیز اٹھائے منہ میں ڈالے
***

بچھڑ کے خوش تو ہیں پھر بھی ملال سا کہیں ہے
کہ تیرے بعد بھی تیرا خیال سا کہیں ہے

مرے فرار سے اتنا بھی بے خبر نہیں وہ
مرے پروں میں یقیناً وہ جال سا کہیں ہے
***
تجسیم ہوئی ہے جب سے تیری
خوشبو کو لباس مل گیا ہے

***
تمام نوعِ بشر پر ہیں ایک سے انعام
میں سوچتا ہوں کہ پروردگار کس کا ہے

غزل کا شعر ہے، یا ہے کوئی پری پیکر
یہ اتنی رات گئے انتظار کس کا ہے

***
اسی لیے تری یادیں بھی نوچ پھینکی ہیں 
کہ تیرے بعد مجھے اعتبار کس کا ہے؟
***
اُسے بھی مجھ سے شکایت ہے کج کلامی کی
ہر اک سوال پہ جس کا جواب ادھورا ہے

سبھی لبوں پہ ہیں جس انقلاب کے نعرے
یہ واقعہ ہے کہ وہ انقلاب ادھورا ہے


***
لفظ مجھے دے کے اثر رکھ لیا
اس نے مرا اصل ہنر رکھ لیا

مانگ تھی جس دن مری بازار میں 
وقت نے اس دن مجھے گھر رکھ لیا

***
بڑھا لو قدر، ظہیرؔ اپنے گونگے لفظوں کی
نصابِ عشقِ رسالت مآب میں رکھ کر

***

گھر سے نکلتے وقت کھلا، جو پیار تھا گھر کے ساتھ
لپٹ لپٹ کر روئے ہم دیوار و در کے ساتھ
 

***
مشعلیں لے کے درودوں کی بڑھے جاتے ہیں 
ظلمتِ دہر میں ہم لوگ حفاظت سے ہے

***
یہ عشق اس لیے تجھ پر عیاں نہیں ہوتا
جب آگ تیز ہو، اُس کا دھواں نہیں ہوتا

***
کہیں رہتی نہ دنیا میں ستم گر کی کہانی تک
رسائی حق کی ہو جاتی اگر اک بار پانی تک

ہمارے واسطے جس شخص کو تقریر کرنا تھی
رہا محدود اپنی خواہشوں کی ترجمانی تک

***
قدم قدم پہ لہو کے دیے جلاتا ہوں 
بشر ہوں اور ’’خداؤں ،، کے کام آتا ہوں 

تعلقات نئے سے نئے بناتا ہوں 
پھر اپنی پہلی محبت پہ مسکراتا ہوں 

خود آگہی کا نشہ ہی عجیب ہے مرے دوست
کبھی کبھی تو میں تم کو بھی بھول جاتا ہوں 
***
ہر شہر ترا شہر ہے پر شاہِ دو عالم
آنکھوں کی یہ حسرت ہے مدینہ نہیں دیکھا

***
شرف ملا ہے گزشتہ صدی کو مدحت کا
سب آتی صدیوں کا آغاز نعت سے کریں گے

***
اپنے دل کی بات لکھیں دیواروں پر
اہلِ زر کا قبضہ ہے اخباروں پر

ڈوبتے سورج کی کرنوں سے وار دیا
سارا سونا مسجد کے میناروں پر

***
ترا چہرہ روزانہ دیکھتا ہوں 
مری آنکھوں کا خرچہ چل رہا ہے

تمہارے وصف کاتے جا رہے ہیں 
مرے جذبوں کا چرخہ چل رہا ہے

***
سڑک پر نعرہ زن ہوتے ہوئے لاکھوں کی طاقت تھا
بدی سے جنگ کی خاطر نکلتے وقت تنہا ہوں 

اتر آئی ہے زردی منتظر مٹی کی آنکھوں میں 
جہاں انساں نہیں پہنچے میں اک ایسا جزیرہ ہوں 

***
یہ کس کی یاد کا سورج مری نگاہ میں ہے
کہ روشنی کا تحرک شبِ سیاہ میں ہے

کوئی تو ہے کہ جو آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے
کسی کا عکس تو آخر غبارِ راہ میں ہے

***
اگر دیکھو تو ذرہ، اور سمجھو تو ہمالہ ہوں 
مجھے تم جتنا اونچا سوچتے ہو اتنا اونچا ہوں 

مری طاقت نہ چھینو باندھ کر مجھ کو کناروں میں 
بلندی سے گِروں تو میں چٹانیں کاٹ سکتا ہوں 

***
مگر مجھے یہ مرا خواب داں تو واپس کر
اسے تو بیٹھ گیا کس حساب میں رکھ کر

مرے علاوہ کوئی کیا سمجھ سکے گا یہ دکھ
کرو گے کیا مری غزلیں نصاب میں رکھ کر

***
اتنی اونچی نہ دے اڑان کہ میں 
گر پڑوں آسماں سے ٹکرا کر

اک نئی کائنات بنتی ہے
کہکشاں کہکشاں سے ٹکرا کر

 

 اختتامیہ


ہر کہانی کار اپنی کہانی میں اپنے کردار کو highlight کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ اور اپنے آپ کو کہانی کا مرکزی کردار گردانتے ہوئے دوسرے کرداروں سے افضل و اعلیٰ نظر آنے کا تمنائی ہوتا ہے۔کیا ثنااللہ ظہیرؔ کی کہانی میں بھی ایسا ہی ہے؟۔۔ نہیں ۔۔۔۔ میری عملی زندگی میں بھی اس کے ساتھ یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو under estimate کیوں کرتا ہے؟۔ 
اس ’’کہانی‘‘ میں بھی اپنے آپ کو اہمیت دئے بغیر اس نے بہت خوبصورت شاعری تخلیق کی ہے۔ 
میرا یہ دکھ کہ میں سکہ ہوں گئے وقتوں کا
تیرا ہو کر بھی ترے کام نہیں آ سکتا
حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔وہ جدید دور کا جدید ترین شاعر ہے۔ اس کے یہی خالص احساسات جب تخلیقیت کے کڑے اور پر پیچ راستوں سے گزر کر شعر کی شکل اختیار کرتے ہیں ، تو اس کے پڑھنے والے اس کی شاعری اور اس کی شخصیت دونوں میں ایک مکمل پن کی تصویر دیکھتے ہیں ۔ 
ثنا اللہ ظہیرؔ کی ’’کہانی،، ایک لمبے سفر کی داستان ہے۔اس میں گئے دنوں کا خسارہ بھی ہے۔ اور فنی ارتقا کے بے شمار موڑ بھی آئے ہیں ۔ مگر وہ اس محاذ پر اپنے قافلے کا تنہا مسافر اور راہبر ہے۔ اس کا قافلہ صرف اسی پر مشتمل ہے۔ کیوں کہ اس جیسا شفاف آدمی ہمارے اس دور میں ممکن ہی نہیں ۔ مجھ سے زیادہ اس بات کو دوسرا کوئی دوست نہیں جانتا۔
وہ اپنے فن سے جدید غزل کو تو ثروت مند کر ہی رہا ہے۔ نعت اس کی دوسری بڑی پہچان ہے۔ اسی وجہ سے اس کی کنیت ابو حسان ہے۔ وہ نعت کو وسیلۂ بخشش ضرور سمجھتا ہے۔ مگر نعت کو صنف سخن کے طور پر ترقی دینے کے لیے بھی دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ نعت کے شعرا میں بھی وہ میرا پسندیدہ ترین شاعر ہے۔ ’’کہانی،، میں اس نے اپنی نعتیہ شاعری کے لیے کوئی علاحدہ گوشہ مخصوص نہیں کیا بلکہ اپنی غزلوں کے درمیان ہی کہیں کہیں اپنی نعتیں بھی رکھ دی ہیں ۔ اس کا یہ عمل ان ناقدین کو اپنے موقف پر نظر ثانی کی دعوت ضرور دے گا جو ابھی تک نعت کو محض عقیدتی شاعری قرار دے رہے ہیں ۔اور صنفِ سخن کے طور پر نعت کو اس کا جائز مقام دینے میں بخل سے کام لے رہے ہیں ۔
جہاں تک نظم کا تعلق ہے۔ یہ خزانہ اس نے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ ’’کہانی،، کی اشاعت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے ہمارے دوستوں کو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ثنااللہ ظہیر نعت اور غزل کے علاوہ اعلیٰ درجے کا نظم گو شاعر بھی ہے۔
چھوٹا ہونے کی وجہ سے میں اسے بزرگانہ قسم کی آشیرباد تو نہیں دے سکتا۔ مگر اپنے اس سینئر دوست کی مزید ترقی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ضرور کر سکتا ہوں ۔ اور وہ میں کر ہی رہا ہوں ۔
ثنااللہ ظہیر کے لیے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ۔

احمد سلیم رفی
۴ فروری ۲۰۰۸، فیصل آباد

***

شاعر کی اجازت اور تشکر کے ساتھ
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید 