﻿


کہوں کیا


خالد علیم

انتخاب اور ترتیب: نوید صادق اور اعجاز عبید





نعتیہ مثنوی

کیا ہماری یہ ہُنر مندی ہے
نعت توفیقِ خداوندی ہے

بات لفظوں ، نہ ریاضت کی ہے
آپ کے جذبۂ مدحت کی ہے

وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکْ کا جمال
جس سے روشن ہیں جہاں کے خد و خال

میری تحریر و بیاں میں آ جائے
ایک تاثیر زباں میں آ جائے

اُسی فردوس کے زینے کی طرف
دل نکل جائے مدینے کی طرف

فکر، توصیف پہ آمادہ ہے
عقل و دانش کا ورق سادہ ہے

لفظ شرمندہ، قلم شرمندہ
حرف کا دامنِ کم شرمندہ

رُوحِ شاعر سخن اعجاز سہی
شاعری، وصفِ پیمبر سے تہی

آگہی کی، نہ قلم کی ہے مجال
لکھ سکے سیرتِ اطہر کا جمال

خد و خالِ شہِ والا لکھے
کیا تخیل کا ہمالہ لکھے

دست بستہ ہے تخیل کا وجود
وسعتِ ذوقِ نظر ہے محدود
سرنگوں ہے لغتِ لفظ گری
سر پٹختی ہے یہاں دیدہ وری

بے حقیقت ہے یہاں ذوقِ بیاں
خواہشِ نعت ہے سرمایۂ جاں

ایک اِمکاں کہ سخن ہو جائے
کرمِ شاہِ زمن ہو جائے

مسلکِ گریہ گزاری آ جائے
ہنرِ نعت نگاری آ جائے

آنکھ پُرنم ہو، کرم ہو اُن کا
وصف، جذبوں سے رقم ہو اُن کا

حُسنِ امکاں کا یہ دَر کھل جائے
دامنِ دیدہ اگر کھل جائے

ہاں یہ سرنامۂ مدحت ہے کہ بس
اک یہی رنگِ عبادت ہے کہ بس

آنکھ کو رُوحِ عبادت مِل جائے
یہ سعادت ہے ، سعادت مِل جائے
٭٭٭


ایک آشوبیہ

(بارگاہِ خدا میں)


تجھ سے میرے خدا کہوں کیا
حالِ دلِ مبتلا کہوں کیا

جس حال میں ہوں ، تجھے خبر ہے 
بندہ ہوں میں ترا، کہوں کیا

میں ایک حصارِ عقل میں ہوں 
تو سوچ سے ماورا، کہوں کیا

آتی ہے صدا پرندگاں کی
دیتی ہے ترا پتا، کہوں کیا

میں عجز سرشت، سر بہ خم ہوں 
ہے عجز مری انا، کہوں کیا

تو لامتناہی و دوامی
زیبا ہے مجھے فنا، کہوں کیا

بے مایہ و کم نظر ہوں لیکن
تو جانتا ہے ، بھلا کہوں کیا!

جیسا ہوں اور جس قدر ہوں 
خود کو خود سے سَوا کہوں کیا

ہو جاؤں نہ دھُول رہ گزر کی
کب سے ہوں شکستہ پا، کہوں کیا

ملتی ہی نہیں یقیں کی منزل
کیوں تنگ ہے راستہ، کہوں کیا


اس فکر میں ہوں کہ کھل نہ جائے 
دل کا بندِ قبا، کہوں کیا

سب ایک سے ، سب ہی ایک سے ہیں 
ناآشنا، آشنا کہوں کیا

ایک ایک کو دیکھتا ہوں لیکن
ایک ایک ہے آئنہ، کہوں کیا

جب سب کا مزاج سرد خو ہے 
کیوں سب ہیں خدا نما، کہوں کیا

سینوں میں وہی فشار دَم کا
سب کچھ ہے وہی، نیا کہوں کیا

جب میری نگاہ دیکھتی ہے 
پھر دوسروں سے سُنا کہوں کیا


سب لوگ ہیں اپنے حال میں گم
کس کاہے حال کیا؟ کہوں کیا

اس شہر میں کیا ہَوا چلی ہے 
اور سب کی ہے کیا ادا، کہوں کیا

اس شہر پہ کیا گزر گئی ہے 
اس شہر کا ماجرا کہوں کیا

یہ شہر اُجاڑ ہو گیا ہے 
جنگل ہے ہرا بھرا، کہوں کیا

پت جھڑ ہو، یا بہار کا دَور
خوشبو ہے گریز پا، کہوں کیا

ہر پھول ببول ہو گیا ہے 
یوں بھی یہ چمن کھِلا! کہوں کیا


کیوں چاک ہے دامنِ سحر گاہ
حیران ہے کیوں صبا، کہوں کیا

کم کم سی دِیوں میں جان کیوں ہے 
ویرانیِ شب سرا کہوں کیا

دل کی ہے یا جہان کی ہے 
کس کس کی ہے کیا خطا، کہوں کیا

گم کردۂ راہ پھر رہا ہے 
ہر کوئی جدا جدا، کہوں کیا

تارِ رگِ جاں کٹا ہوا ہے 
رشتوں میں نہیں وفا، کہوں کیا

آنکھوں سے اُتر کے دل تک آئے 
کون ایسا ہے دل ربا، کہوں کیا


کیوں دستِ دعا تہی رہا ہے 
کیا تھا مرا مُدّعا، کہوں کیا

یا دَم ہی نہیں سماعتوں میں 
یا ٹوٹ گئی صدا، کہوں کیا

اب بھی ہے ، جو غم تھا اس سے پہلے 
اب بھی ہے ، جو حال تھا، کہوں کیا

اب تک نہیں کھل سکا یہ عقدہ
میں کون ہوں اور کیا، کہوں کیا

اب تک نہیں ہو سکا ہوں آباد
آیا تھا لٹا پٹا، کہوں کیا

سَر پر نہیں آسمان اپنا
میں حال زمین کا کہوں کیا


پھیلا ہے کرن کرن اندھیرا
سورج ہے چراغ پا، کہوں کیا

اُترا ہے لہو لہو سویرا
قاتل ہے سحر نما، کہوں کیا

ہر صبح صباحتوں کی دشمن
ہر رات ہے رتجگا، کہوں کیا

دن بھر گئے تیرہ باطنوں سے 
احوالِ شبِ عزا کہوں کیا

اس شہر کے زادگانِ ظلمت
ہیں وقت کے ناخدا کہوں کیا

آماجگہِ فسادِ زر ہے 
دنیا کو بُرا بھلا کہوں کیا


دہشت سے بدن لرز رہا ہے 
انسان بہک گیا، کہوں کیا

خالی ہے ظرف مے کدے کا
ہے ساری زمیں خلا، کہوں کیا

کیا کچھ ہے عمل کی پوٹلی میں 
جب دل ہے گرہ کشا، کہوں کیا

ایماں تھا چراغ میرے گھر کا
یہ کس نے بجھا دیا، کہوں کیا

جو سچ کبھی نور تھا نظر کا
شاید کہیں کھو گیا، کہوں کیا

جاں رہن ہے زر کی جستجو میں 
احساس تو لٹ گیا، کہوں کیا


تیرے بندوں کو میرے مولا!
دی وقت نے کیا سزا؟ کہوں کیا

سچوں کی جاں لہو لہو ہے 
جھوٹوں پہ ہوئی عطا، کہوں کیا

ہیں وقت کے اہلِ جرم خوش حال
اب جرم کو ناروا، کہوں کیا

غارت گرِ قلب و جاں بہت ہے 
ہر ایک ستم ادا، کہوں کیا

شمشیر بدست ہے زمانہ
ہر ایک ہے سرپھرا، کہوں کیا

شہ زور کے ہاتھ میں ہے سب کچھ
کمزور کی میں خطا، کہوں کیا


افلاس ہے گیان دھیان میں گم
دولت ہے مہاتما، کہوں کیا

ناقوں پہ سوار جہلِ دُنیا
دانش ہے پیادہ پا، کہوں کیا

ماحول میں حبسِ دم ہے ایسا
جیسے دَم گھٹ گیا، کہوں کیا

رُخصت ہوئے بندگانِ عالی
تو ہے رَبُّ العلیٰ، کہوں کیا

آنکھیں ہیں گزشتگاں کی جانب
دل کی وحشت سرا، کہوں کیا

تحلیل ہَوا میں ہو گیا ہے 
کس کس کا غبارِ پا؟ کہوں کیا


ملتا نہیں مجھ سے بے خبر کو
اپنا ہی اَتا پتا، کہوں کیا

زندہ ہوں ، مثالِ مردگاں ہوں 
کب تک میں جی چکا، کہوں کیا

یہ زندگی جاں کو آ گئی ہے 
اچھا! میرے خدا! کہوں کیا

اے میرے خدا معاف کر دے 
جو کچھ بھی کہا، کہا کہوں کیا

ہر موڑ پہ بندشِ زباں ہے 
ہے سانحہ، سانحا کہوں کیا

خالد چپ، چپ ہے جانِ خالد
کب شور ہوا بپا، کہوں کیا
٭٭٭





میری وحشت کیلیے چشمِ تماشا کم ہے 
اور اگر دیکھنے لگ جائے تو دنیا کم ہے 

ٹھہر اے موجِ غمِ جاں رگِ جاں کے اندر
تیری پرسش کو مری آنکھ کا دریا کم ہے 

کس سے ہم جا کے کہیں قصۂ ویرائی دل
ہر کوئی کہتا زیادہ ہے تو سنتا کم ہے 

رہروِ عشق تو بس چلتا ہے دو چار قدم
اور یہ دو چار قدم بھی کوئی چلتا کم ہے 

کیسے تصویر کریں تیرے خد و خال کو ہم
تجھ کو سو چاہے زیادہ، تجھے دیکھا کم ہے 

دیکھنا، ہجر کے اس دشتِ بلا سے آگے 
اک سفر اور ہے ، ہر چند کہ رستا کم ہے 

کارِ دنیا ہی سے فرصت نہیں ملتی خالد
ورنہ یہ کارِ محبت بھی مجھے کیا کم ہے 
٭٭٭




اسے کیا خبر کہ پلک پلک روشِ ستارہ گری رہی
اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی

کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئنہ، اسے کیا خبر
کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی

میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل
سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب پہ مری نگاہ دھری رہی

سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا
مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی

وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے 
کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی

ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اڑا چکے 
وہی چاک پیرہنی رہا وہی خوئے دربدری رہی

وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں 
وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی
٭٭٭


نواحِ شام کی اے سرد خو ہوائے فراغ
جلا رہا ہوں میں اپنے لہو سے دل کا چراغ

اسیرِ حلقۂ مہتاب رہنا چاہتا ہوں
یہ رات ڈھونڈ نہ لائے مری سحر کا سراغ

ستارے آنکھ کے منظر پہ کم ٹھہرتے ہیں
ہمارے ہم سخنوں کا ہے آسماں پہ دماغ

کچھ اور ڈالیے ہم تشنگاں کو ضبط کی خو
درک نہ جائے صراحی، چھلک نہ جائے ایاغ

چمک اٹھے ہیں تماشائے صد وصال سے بھی
ہمارے دامنِ دل پر کسی کے ہجر کے داغ

نژادِ خاک سے ہوں، نقشِ آسماں تو نہیں
زمیں کے چاک سے تجھ کو ملے گا میرا سراغ
٭٭٭


حلقۂ دل سے نکل، وقت کی فرہنگ میں کھل
اے مرے خواب! کسی عکسِ صدا رنگ میں کھل

اے مرے رہروِ جاں! کس نے کہا تھا تجھ کو
آنکھ سے دل میں اُتر، درد کے آہنگ میں کھل

اے مری خامشیِ کرب نما خود سے نکل
تجھ کو کھلنا ہے تو دشمن کے دلِ تنگ میں کھل

اے لہو ہوتی ہوئی موجِ غمِ ہجر ذرا
خیمۂ خاک سے چل اور رگِ سنگ میں کھل

ایک لمحے کی پس و پیش بھی ہوتی ہے بہت
اب تو اے جذبہء صد رنگ ! کسی رنگ میں کھل
٭٭٭



ہیچ ہے

(مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین)

جس طرح اک صید، صیادوں کے آگے ہیچ ہے
شاعری میری سب اُستادوں کے آگے ہیچ ہے

جانتا ہوں میں کہ یہ میری دکانِ شیشہ گر
وقت کے آئینہ آبادوں کے آگے ہیچ ہے

یہ مرا فکرِ سخن آثار، اندازِ جدید
فکر و فن کی کہنہ بنیادوں کے آگے ہیچ ہے

سنگ زارِ فن پہ میرے لفظ کی تیشہ زنی
کوہسارِ فن کے فرہادوں کے آگے ہیچ ہے

جانتا ہوں، یہ مرا طرزِ ادا، رنگِ صدا
مانیوں کے اور بہزادوں کے آگے ہیچ ہے

جانتا ہوں یہ کہ میرے عشق کی اُفتاد بھی
عشق کی سب اگلی اُفتادوں کے آگے ہیچ ہے

شعر میں گریہ گزاری، نالہ پیمائی مری
میر کی دلدوز فریادوں کے آگے ہیچ ہے

میری ساری شاعری، آزاد کیا، پابند کیا!
غالب و آتش سے آزادوں کے آگے ہیچ ہے

پھر بھی شرح جاں ہے یہ فرمودۂ حالی مجھے
’’گو کہ حالی اگلے اُستادوں کے آگے ہیچ ہے

کاش ہوتے ملک میں ایسے ہی اب دوچار ہیچ‘‘
٭٭٭





ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے
وہ دشت بھی تھا، گریباں دریدہ ہم ہی نہ تھے

لُٹے پٹے ہوئے اُن راستوں سے آتے ہوئے
یہ سب زمین تھی، آفت رسیدہ ہم ہی نہ تھے

ہمارے ساتھ کِھلے، ہم پہ مسکرانے لگے
تھے تم بھی ایک گلِ نودمیدہ، ہم ہی نہ تھے

تم ایک خواب ہوئے اور بن گئے مہتاب
فلک کی آنکھ میں اشکِ چکیدہ ہم ہی نہ تھے

بجھی ہوئی تھیں فضائیں ، سُلگ رہا تھا دھواں
بہ رنگِ طائرِ رنگ پریدہ ہم ہی نہ تھے

جھکا ہوا تھا مقدر بھی پھوٹنے کے لیے
تری نگاہ میں شاخِ خمیدہ ہم ہی نہ تھے

وہ دستِ لُطف بھی خالد کھچا کھچا سا رہا
کچھ ایسے شہر میں دامن کشیدہ ہم ہی نہ تھے
٭٭٭






ایک مضمون تو کیا، نُطق و بیاں تک لے جائیں
کاٹ کر اہلِ سخن میری زباں تک لے جائیں

کبھی گزرا ہی نہ ہو جیسے گزرگاہ سے دل
لوگ آئیں، مرے قدموں کے نشاں تک لے جائیں

تجھ پہ کُھل جائے گا خوش خوابیِ جاں کا مفہوم
آ تجھے رہ گزرِ دل زدَگاں تک لے جائیں

ایک دریائے رواں آنکھ کے اُس پار بھی ہے
آ تجھے ہم اُسی دریائے رواں تک لے جائیں

آ کہ ہم موج کی لرزش میں بھرے بیٹھے ہیں
آ تجھے سینۂ قلزم کی اماں تک لے جائیں

دل اکیلا ہے سرِ انجمنِ آئینہ
عکس اُبھریں تو مری تاب و تواں تک لے جائیں

کسی تعبیر کے اِمکان سے پہلے خالد
کیا خبر ہے کہ مرے خواب کہاں تک لے جائیں
٭٭٭


کم سہی، ہاں مجھے جینے کا گماں تھا پہلے
اب جو دھڑ کا سا ہے دل کو، وہ کہاں تھا پہلے

سُنتے آئے ہیں کہ دیوار تھی دیوار کے ساتھ
ہر مکاں دُور تلک ایک مکاں تھا پہلے

ایک آواز تھی اور دل میں اُتر جاتی تھی
قریہ و کو میں کہاں شورِ اذاں تھا پہلے

ایک در کھلتا تھا، در کھلتے چلے جاتے تھے
کوئی ہم سایہ ہو، ہم سایۂ جاں تھا پہلے

اب سرِ شاخ جو یہ رنگِ نمو کی خو ہے
رنگ ایسا نہ یہاں تھا، نہ وہاں تھا پہلے

آج بے عشق فضا کا بھی وہی ہے احوال
جس قدر عشق میں امکانِ زیاں تھا پہلے

آج اُتنا بھی جو رہتا تو غنیمت تھا ہمیں
جس قدر شہر میں اندیشۂ جاں تھا پہلے

خامشی مرگِ سماعت کی طرح ہے خالد
سُنتے آئے ہیں کوئی شور یہاں تھا پہلے
٭٭٭


سُو بہ سو وحشتِ صحرا نہیں دیکھی جاتی
یہی دُنیا ہے تو دُنیا نہیں دیکھی جاتی

عشق ہوتا ہے بہرحال عجب حال میں گم
اس میں پیمائشِ فردا نہیں دیکھی جاتی

دیکھنا یہ ہے کہ اپنوں کا تقاضا کیا ہے
وسعتِ ظرفِ تقاضا نہیں دیکھی جاتی

جب سے دیکھا ہے تجھے آئنۂ دُنیا میں
صورتِ آئنہ تنہا نہیں دیکھی جاتی

حُسنِ کم فہم پہ جلدی سے لپکنے والی
کوئی بھی آنکھ ہو رُسوا، نہیں دیکھی جاتی

اس لیے سطح پہ آ نکلی ہے موجِ گزراں
حالتِ غم تہِ دریا نہیں دیکھی جاتی

دیکھ لی ہم نے بہت کج نظروں کی دُنیا
حسرتِ دیدۂ بینا نہیں دیکھی جاتی

ہو گئی اور ہی کچھ اپنے زمانے کی ہوا
اور اب اس سے زیادہ نہیں دیکھتی جاتی

دیکھنے والے تو بس دیکھ رہے ہیں خالد
کیا تمنا ہے ، تمنا نہیں دیکھتی جاتی
٭٭٭





زادہء ہجر پر ہزار دامنِ جاں کشادہ تھا
رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا

دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت
حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا

ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی
ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا

وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی
رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا

ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام
رخشِ ہَوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا

تیرا جمالِ کم نما آنکھ میں کیا اُتارتے
آئنہ بھی اداس تھا، چاند بھی ہجر زادہ تھا

کیا کبھی خالد اُس سے ہم کرتے بقدرِ دل سخن
اُتنے ہی کم سخن رہے ، جتنا ہنر زیادہ تھا
٭٭٭


’’صدائے گریۂ ہمسایگاں ‘‘ سُنی کم ہے
تو اصل یہ ہے کہ سینوں میں روشنی کم ہے

بلا کے تیز قدم تھے ہمارے ناقہ سوار
مگر ہماری ہی کچھ اس پہ آگہی کم ہے

سو یہ نہیں کہ ہمیں رفتگاں سے اُنس نہیں
سو بات یہ کہ ہماری بھی زندگی کم ہے

تمھارے پیشِ نظر ہم نہیں ، نہیں ممکن
ہمیں ہی وقت کی مہلت ملی ہوئی کم ہے

پہنچ سکے نہ ترے قریۂ نگاہ میں ہم
تو یہ سبب ہے کہ رستوں میں راستی کم ہے

یہ چاہتے ہوئے ہم تم ہوں ایک، ہو نہ سکے
تمھیں گلہ نہیں ، کیا یہ بھی بے بسی کم ہے ؟

ہماری گمشدگی کا بجا دو نقارہ
نئے جہاں کو بصارت ذرا ملی کم ہے

اَنا کی اندھی گلی سے گزرنے والوں کو
کہے یہ کون کہ اس میں سلامتی کم ہے

کسی کو رہ گزرِ عشق سے گزرنے پر
کہیں بھی کیا کہ کسی کی یہاں چلی کم ہے

ہوس کے دشت میں خالد مجھے نہ لے جاؤ
اس ایک سمت کو آمادگی مری کم ہے
٭٭٭


یادوں کی وادیوں میں نہ اتنا بھی رم کرو
خالد حسابِ دیدہ و دل کچھ تو کم کرو

ہر چند آبدیدہ سہی دل کا آئینہ
یہ تو نہیں ضروری کہ آنکھیں بھی نم کرو

یہ بھی نہیں ضروری کہ اب اپنی جان پر
جو کچھ گزر چکاہے، سپردِ قلم کرو

اب یہ بھی کیا ضروری ہے اے رہروانِ عشق
منزل پہ لے بھی جائیں، جنھیں ہمقدم کرو

اب یہ بھی کیا ستم اے کشتگانِ عشق
جو عمر بچ رہی ے اسے وقفِ سَم کرو

ہاں، تہ رکھو حکایتِ سود و زیانِ عشق
اندھی ہوا میں بجھتے دیے کا نہ غم کرو

کچھ اور تیز کارِ زمانہ کچھ اور تیز
کم کم کرو یہ کارِ جنوں اور کم کرو

خاکِ قدم سرشت ہے کیا آدمی کی خاک
آتا ہے سر کی سمت جسے محترم کرو
٭٭٭


باغ جناح کی شب ابتدا

    چاند نکلا ہے
    مگر چاند تو پہلے بھی نکلتا تھا
    یہ چاند، آج کا چاند
    روش سبزہ و گل پر ہی اتر آیا ہے
    مرمریں گھاس پہ جیسے کوئی آہستہ خرام
    دل کے افسردہ در و بام تک آ پہنچا ہو
    میری آنکھوں کے دریچوں میں اترتا ہوا چاند
    اب تو لگتا ہے رگ جاں میں اتر آیا ہے
    اور دل کے کسی اندوہ گزشتہ کی فسردہ لہریں
    سامنے باغ کے اُس قطعۂ تاریک کے ٹھہرے ہوئے پانی میں
    دھڑک اٹھی ہیں
    قمقمے باغ کے روشن ہیں ستاروں کی طرح
    اور مرے پاس کہیں
    ایک بے نام صدا گونج اٹھی ہے
    مری خاموش سماعت میں ترے پاؤں کی چاپ
    چاندنی رات کے خاموش تحیر کی طرح پھیل رہی ہے
    کوئی آوارہ و بے راہ تصور مرے سینے میں چمک اٹھا ہے
    طاق جاں میں کوئی شعلہ سا دہک اٹھا ہے
٭٭٭


وہی ایک منظر خواب ہے

وہی شہر ہے
وہی راستے
وہی راستوں کا ہے پیچ و خم
وہی دشت ہے
وہی دشت شام فراق ہے
وہی فرش خاک و سراب ہے مرے پاؤں میں
وہی دھوپ ہے، وہی آسمان کا روپ ہے
وہی عرصۂ غم رائگاں
کوئی سائباں ہے ، نہ خیمۂ گل مہرباں
وہی سنگلاخ زمین کشت گیاہ و گل کی لطافتوں سے ہے بے خبر
وہی قحط گل کے دیار میں تر و تازہ شاخ ببول ہے
کہ ہزار زرد رُتوں میں لپٹی ہوئی ہوائے سموم ہے
وہی شہر کم نظراں کا ہے
وہی درد ہم سفراں کا ہے
وہی قریہ ستم آشنا سے محبتوں کا خروج ہے
وہی چاہتوں کا زوال ہے وہی نفرتوں کا عروج ہے
وہی لمحہ لمحہ اداس شام، ملول صبح کے سلسلے
وہی گرد کوئے ملال ہے، وہی وصل و ہجر کے فاصلے
وہی رتجگوں کی مسافتوں کا عذاب ہے
وہی بام و در پہ چراغ ہجر جلا ہوا
وہی طاق مطلع فجر میں
رخ مہر اپنی تمام زرد شعاعوں میں ہے ڈھلا ہوا
وہی منظروں میں سراب وصل کی حدتیں ہیں
دیار دل میں ترے خیال کی وحشتیں ہیں
طلسم زار فراق میں تری آہٹوں کا گمان ہے
کہ سماعتوں کے نشیب میں وہی واہموں کا نزول ہے
وہی تیری دید کے آئنے پہ شکستہ لمحوں کی دھول ہے
وہی مرحلے ہیں سکون جاں کے زوال میں
وہی آتش دل بے قرار دہک رہی ہے خیال میں
وہی میں ہوں
اور مرے کاسۂ دل بے ہنر میں نشاط کا کوئی زر نہیں
وہی میں ہوں اور مرے چاروں اور سراب ہے
وہی ایک منظر خواب ہے
٭٭٭






اختتام سے پہلے




وہی کہانی، مگر ایک باب ختم ہوا
اب اگلے باب کا کردار
اس فسانۂ رنگیں میں تیرے نام کا ہے
مگر یہ ڈر ہے، کہیں اختتام سے پہلے
وہ ایک نام کہ جو تیرے نام سے پہلے
گلاب رُت میں کھلا تھا
تو میری آنکھ نے ایک ایک حرف
برگ ستارہ نما سمجھ کے پڑھا تھا
طلوع شام سے پہلے
کہانی پھر وہی کردار لے کے پھیلتی جائے
تو اس کے بعد مرا اضطراب ختم نہ ہو
کہیں یہ عمر رواں کی کتاب ختم نہ ہو
٭٭٭


انتخاب اور تدوین: نوید صادق اور اعجاز عبید
ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
