﻿


کیا تم نے سوچا تھا



فاطمہ زہرا جبین

 
 

تمنا

ایک طویل مکالمہ … . جو ڈوبتی ہوئی شام کے آنچل سے اُبھرا تو اِک  ’’تمنا‘‘  کا سفر تمام ہوا
آج پھر اک دورِ شعور اُس کے  انگ انگ میں جاگ اُٹھا تھا … 
فضاؤں میں خموشی کسی طوفان کی آمد کی گھنٹیاں بجاتی تھی … 
اک بوند نمکیں اشک اُس کے لب کنارے آن ٹکا تھا … 
’ساحر! یہ تو بتاؤ  …   جینے کے لئے  کیا ضروری ہے ’۔ 
تمنا! اک وجود اور اک دلِ بے قرار کائنات و حیات کا مرکز ہیں ‘ … 
’اچھا‘ تمنا نے جیسے سسکی سی بھری۔ ۔ ۔ ساحر نے غبارِ خاطر کی وجہ جانی چاہی تو تمنا نے اُسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے   …   ساحر کی گہرائی ناپ رہی ہو … 
’ساحر   …   پھر  …   پھر یہ سب کیا ہے   …   میں جیسے اپنے آپ سے بچھڑ گئی ہوں   …   ’
’تمنا   …   میں تو سمندر سا ہوں   …   میرے سینے پر ازل سے طوفاں ہی مچلتے ہیں   …   گر میرے وجود کے اطراف لہریں نہ ہوں تو میں بے کار ہوں " … 
’تو …   …     تو"وہ ہچکچائی  …   تھمی  …    سہمی …  اور بولی  …    "تو پھر ساحر میں تو صرف ایک تمنا ہی ہوں   …    وقت ہوں   …    یا پھر اک ساکت و منجمد لمحہ   …   میرا  نام بھی تمنا اور کام بھی تمنا  …   "وہ ہوا کے باغی جھونکے کو جیسے سنبھال کر رکی.  "میں سوچتی ہوں   …   میں کھوجتی ہوں   …   میری روشنیاں   …   میری چوڑیاں۔ ۔ ۔ میرے گہنے   …   شاید میری بے قرار اُداسیاں   …   ساحر  …   ساحر  …   کہیں رُک سکے تو روک لو  …   کہیں   …   تمنا تمہاری لہروں کے بھنور میں نہ کھو جائے ‘ … 
  تمنا  …   "ساحر کے تجسس کی چنگاری کو جیسے تمنا کی باتوں نے شعلہ سا دیا  …   "تم کیا ہو  …   کیسی تمنا ہو۔ ۔ کس کی تمنا ہو  …   میں جیسے تمہیں سمجھ ہی نہ سکا۔ ۔ ۔ شاید صدیاں ویراں ہی لوٹ جائیں گی ‘ … 
’ساحر! میں حصارِ وقت میں  محصور اک احساس ہوں جس کی سچائی کی  اساس بیت  کمزور ہے   …   بے تاب ہوں   …   شتاب ہوں   …   کُرۂ ارض کے دائرے میں اک روشنی کا چھوٹا سا ہیولہ ہوں   …   جسے تم زندگی کہتے ہو  …   تمنا تو زندگی کا نام ہے۔ ۔ اور ساحر  …   سحرزدہ کر دینے کا اختیار ہے   …   تم بھی بے اختیار ہو  …  اور میں بھی۔ ۔ جدا جدا معنوں  کے ساتھ  …   جاننا چاہتے ہو  …   اُن  آرزوؤں کو جن میں تڑپ نہ رہی‘ … 
تمنا کی ادھُوری سسکیاں ماحول میں سوگواری پیدا کر رہی تھیں   …   ساحر کا کلیجہ منہ کو آ رہا۔ ۔ وہ  اُلجھ سا گیا  …   تڑپ سا گیا …  اور تڑخ سا گیا … 
’تمنا   …   تمنا کو  بس اک تمنا ہی رہنے دو‘ … 
’نہیں ساحر  …   تمہارے سحر نے شہر کو پتھروں میں بدل دیا ہے ‘ … 
تمنا حصارِ وقت سے نکلی تو احساس ہوا کہ   …   یہ زندگی۔ ۔ ہاں یہ زندگی  …   جِسے چاہنے کی چاہ میں ہم بے چاہ ہوئے   …   آسان نہ تھی … 
یہ زندگی جس سے ہم آسماں کی بلندیوں اور سمندر کی گہرائیوں کی طرح پیار کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور بار بار  کہتے ہیں   …   کہ ’اے زندگی  …   اے روحِ وجود  …   ہم کہ ابنِ آدم تجھے بندشوں کے بغیر پیار کرتے ہیں   …   ہر روپ میں   …   ہر دور میں   …   ہم تیرے ہی وصل کے طلبگار تھے  …  اور طلبگار ہی رہ گئے  … 
یہ تشنہ لبی  …   جدائیوں کی طرح روح آسمانوں میں سفر کرتی ہے  … 
وہ آسماں   …   جو صحرا کی تپتی دھوپ میں انسان کے سر پر سایہ فگن ہو جائے۔ ۔ ۔ وہی نیلا  …  گہرا   …   وسیع آسماں۔ ۔ ۔ اُسی صحرا میں انساں کے لئے   …   تلاوتِ غم کے حصار میں ہجر کی داستانوں کو منتشر کرتا ہے  …  کہ   …   …   داستانِ ہجر کو زیبِ داستاں سے ہم کلام ہونے کا وسیلہ ہی نہ ملا … 
وہ بکھر رہی تھی …  اور ساحر مضمحل … 
"تمنا! تم اک اَن کہی گہرائی ہو‘ … 
’نہیں  ساحر   …  ایسا نہیں ہے  …  زندگی کو لکھنے کی تمنا میں  …  میں خود ہی زندگی کی کتاب میں گُم ہو گئ …  اور زندگی کے بازو  …   سرمئی بادلوں سے نکل کر صحرائے عرب  کی تپتی ریت پر اُبھرنے والے لمبے سایوں کی طرح دراز ہو گئے  …  اور پھر … . زندگی وہیں  کہیں ریت کے تپتے سُرخ پہاڑوں میں گم ہو کر  رہ گئی  … . ہم کچھ بھی نہ لکھ سکے  … . نہ بادباں سنبھال سکے اور  نہ شدتَ کرب سے اُبھرتی کراہیں یاد رہیں   …   نہ چراغوں کی لو کے مدھم ہونے کا احساس جاوداں  رہا  …   ‘
وہ گہرے سائے۔ ۔ اور وہ دوڑتا بھاگتا  وقت۔ ۔ ۔ جیسے  بے خودی میں  سر شام ہم آغوش ہوئے جاتے تھے۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ جدائیوں  کی دو جدا سمتوں سے گزرتے ہوے وقت اور سائے۔ ۔ ۔ دونوں خاموش تھے۔   …   پھر ساحر بولا
’تمنا   …   تم نے  سایوں کے درمیاں سے اُبھرتی ہوئی وہ سرگوشیاں سنیں ‘ … 
’ساحر   …   خاموش  …   کہ سناٹوں کی وسعت کو سرگوشیاں ڈستی ہیں   …   وہ دو گز قطعۂ ارض …  اور اُس کا تین فٹ گہرا اندھیرا  …   ‘
’تمنا   …   تمنا  …   تمنا  …   ‘
’ساحر   …   تمہارا سحر تمنا سے جدا ہوا  …   یوں جیسے زندگی سے جدا وجود  …   میری روح سے ناراض وجود۔ ۔ ۔  میری کس مپرسی و شکستہ حالی پر شاید ماتم کُناں وجود۔ ۔ ۔‘
’رُک جاؤ تمنا  …   ٹھہر جاؤ  …  مانا کہ ساحر سمندر ہے  …  پر اب اِس سمندر کا کشادہ سینہ بھی ساکن ہوا  … .‘
"نہیں  …  نہیں ساحر   …   وہ کاغذ کی چھوٹی سی کشتی پانی کا بوجھ نہ سہہ سکی  …   ڈوب گئی  …   سمندر کے کنارے ازل سے دو جدا سمتوں میں تھے   …   ناؤ کا پتہ ہی نہ چلا کہ کہاں رہ گئ  …   ساحر  …   زندگی  …   زندگی ہنگامے کے بعد ایک سناٹا ہے   …   ایک گہرا سناٹا   …   تم جانتے ہو  …   ہاں ساحر تم جانتے ہو زندگی کا سکہ ازل سے کھوٹا تھا اور کھوٹا ہی رہا  …   ‘
’تمنا   …   یہ دیکھو  …   سمندر رو رہا ہے ‘  …   دل ساحر کی دائیں ہاتھ کی  ہتھیلی تلے دھڑک رہا تھا … 
"ساحر   …   وہ دیکھو  …   پلٹ کر دیکھو  …   زمانہ  …   میری خستہ حالی پر …  اور بے اختیاری پر شاید دم سادھے کھڑا ہے   …   چند آخری لمحوں کے لئے ٹھہرا ہوا ہے   …   ہاں   …   میری آخری رسومات کے لئے   …   اُس کے بعد زمانے کو آگے بھی جانا ہے   …   وہ  …   دیکھو  …   اُنہیں جلدی ہے میری آخری رسومات کی۔ ۔ ۔  میری تدفین کی۔ ۔ کہ کہیں  رات نہ اُتر آئے  …  وہ دیکھو۔ ۔ ۔ چند منچلے بھی ہیں۔ ۔ جو اس جسد خاکی کو جلد از جلد تین فٹ کی آخری آرام گاہ کے سپرد کر کے لوٹنا چاہتے ہیں کہ اُن میں سے کسی کے دل میں کسی  مشہور ٹی وی ڈرامے کی آخری قسط دیکھنے کی آرزو بھی مچل رہی ہے   …   ‘
‘ تمنا‘  لفظ ساحر گلے میں اٹک گئے 
‘‘آہ‘‘ تمنا کی آخری سسکی ابھری اور اُس تین فٹ کے محل میں ڈوب گئی۔ ۔ 
آوازیں سناٹوں میں گُم ہونے کی تیاری میں مصروف تھیں  … 
ساحر  …   دم بخود تھا … 
تمنا تھم گئی تھی  … 
چند لمحوں کی سرد خاموشی  …   ایک مشتِ خاک  …   حرفِ غلط نہ تھی  …   کہ   …   ایک زندگی کی تکمیل کا معاملہ تھا … 
زندگی  … 
زندگی … 
  اے زندگی … 
ہم تری جستجو میں  … 
  تجھے لکھنے کے لئے  … 
اپنی ہی زندگی مشتِ خاک کہ نذر کر گئے  … 
تمنا کی ادھوری جستجو  … 
اپنی تلاش کا سفر تمام ہوا
ساحر کا سحر تو لازوال تھا … 
 اور  … 
 اُس ڈھلتی ہوئی  شام  کے سہارے لوحِ جہاں پر پھر اک نیا دیا جل اُٹھا … 
سمندر کا سینہ … آسماں کی وسعتیں  … دور دراز سے آتی ہوئی خنک ہوائیں  … 
اندھیرے کی طرف قدم بڑھاتی  …  ڈوبتی شام  … 
 اور   …   وہ سب جو آئے تھے  … 
دم بھر کو ساکت ہوئے  … 
 اور   …   زندگی پھر ایک سفر پر رواں ہوئی۔ 
٭٭٭

 

کیا تم نے سوچا تھا

میں اک چہرہ  … .اک خواب … .اک حقیقت … .اک کشش  یا بادلوں کا گھنا سایہ … . چلو جانم!  بات کرتے ہیں  … .چند لمحے دشت وقت کی نظر کرتے   … .ہاں  … .یہ تو بتاؤ  … .مجھ کو کھونے سے پہلے  … .اے جانِ جہاں  … .کیا تم نے سوچا تھا … .ہاں  … .کیا تم نے سوچا تھا … . شبستان دل کی  محروم گلیاں کہرام وفا میں مصروف … .اہل علم آسماں کی وسعتوں میں نئی جہتیں کھوجتے  … .شکستہ، نحیف آرزوؤں کے امیں  … .انتظار کی ادھوری بے تکان گھڑیاں۔ دل حزین کی ٹوٹتی ہوئی وحشتیں  … .آہ … .شب زنداں میں وارفتگیِ حیات کے حسابو کتاب۔ ۔ سب منزلیں اور اقرارو فراق کی چُنی ہوئی جدائیاں۔ ۔ وہ دل کے شناسا منظر … .سُر کی مدھم تال میں مدغم اک ادھورا ردہم۔ ۔ سمے کے صفا و مروہ کے درمیاں میری سعیِ حیات کا پس منظر۔ ۔ اک بوند۔ ۔ ۔ صرف ایک بوند آبِ حیات کو ترستا  ساحل … .اِس کم نصیب کی دسترس تو پہلے ہی سے محدود تھی … .نصیب … .ہاں  … .نصیب کے درمیاں فاصلوں کی  فصیل تھی … .تم ہی تو کہتے تھے کہ سمندر کا حسن اس کے دونوں ساحلوں کے درمیاں پنہاں ہے  … .پھر … .پھر تم نے سوچا کبھی … .کہ وہ سمندر کا حُسن کیوں، کب اور کیسے پامال ہوا … .حصارِ وارفتگی میں احساس کی ڈوبتی ہوئی سرگوشیاں کوہِ ویراں کے دامن میں کیسے گم ہوئیں  … .اے ہم نفس … .تم نے شاید زندگی کو … .ایک نوخیز دوشیزہ کے خطرناک حد تک حسین خدوخال کے زیر و  بم کی نگاہ سے دیکھا ہو … .شاید.. آہ.. آہ … .شاید تم کھو گئے  … . اور میری مستیِ  نگاہ کا افلاک زمیں بوس ہوا … .زندگی کے چاہِ زمزم کی جستجو اور دعاؤں سے گفتگو … .آرزوؤں  کے روبرو شام کے بہتے منظر … .امیدوں کا سہما ہوا  ہیولہ … . اور برف سے اُٹھتا ہوا سرد دھواں  … .خانہ بدوش الجھی ہوئی ہوائیں معصوم مسکراہٹ  چرا  کر لے گئیں   … .خواب زمیں دوز ہُوا … .اک راہ کو پانے کی چاہ میں سمندر بٹ گیا۔ ۔ زندگی کی آسان دلرُبائی مُشکل ترین تلخی میں ڈھل گئی  … .ہواؤں کے رخ بدل گئے  … .فضاؤں کو قید کرنے کی پروازِ جستجو نے  … .شام کے حُسن کو فرات کے کنارے دفن کر دیا تھا … .وہ فرات کا  بے رونق  کنارہ … .یا کوفہ کی لہو رنگ  گلیاں  … .سب کربلائے  من میں ایک ہی سا منظر رقم کرتی تھیں  … . اور وجدِ محبت کے بے کفن لاشے پر
ساکن  … .ماتم کا ڈھونگ رچاتی تھیں  … .وہ … .وہ حسین فرات کا کنارہ … .کوفۂ  حیات کا لہو رنگ منظر۔ ۔ اور  … .کربلائے حُسن سے دھتکارا ہوا … .اک شکستہ آنسو  … .وہ ادھورا … .شکستہ  اشکِ بے نام … .کہیں وہ میں تو نہیں  … .شاید … .نہیں نہیں  … .یقیناً  … .ہاں  … .وہ میں ہوں  … . اور وہ میں ہی ہوں  … . اے جانِ جہاں اک بار۔ ۔ ۔ صرف اک بار۔ ۔ ۔ پلٹ کر دیکھو، مجھ سے پوچھو تو میں یہ  بتاؤں کہ کراہوں پہ بکھرنا آسان نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ درونِ جاں کا قطر ہو ریزہ ہونا عالم برزخ سے کم نہیں  … . اور دشوار تھا آشنائے حیات کو غم حیات میں مدغم کرنا … .کچھ تو احساس کرو … .سرد پتوں سے پیوستہ برف کی پرت اور اس میں پھنسی تتلی کا بے حال وجود … .سوچتی  ہوں  یہاں صرف درد کو تقسیم ہونا تھا گھر کو نہیں  … .اے  ہم نفس گر تم رک جاؤ  ایک لمحے کے لیے  … . اور روح و جاں کی جدائی سے قبل یہ بتاتے جاؤ  … .بس  … .صرف اک آخری بار … .کہ مجھ کو کھونے سے پہلے  … .ایک بار … .ہاں صرف ایک بار  … .کیا تم نے سوچا تھا … 
٭٭٭
 


سرد ہواؤں کے موسم


سرد ہواؤں کے نڈھال موسم  … کوچہ جاناں کا قیامت خیز جھروکا   …  اور دلِ صد چاک کی مدھم سرگوشیاں  … کہیں سے سرمئی بادل وجود کی وسعتوں میں در آئے تھے  … روح کی مخملیں پرتیں جیسے کھلی جاتی تھیں  … ہم کہ محبتوں کے امیں  … فرقتوں کے حلیف   …  رفعتوں کے دعویدار  …  شدتوں  …  حدتوں اور کلفتوں  کے ہم سفر  … وقت کی سرحد پر کھڑے  … گزارشیں کرتے ہیں  …  چھٹیاں لکھتے ہیں  …  دوبارہ سے نمو پاتی ہوئی آرزوؤں کی کونپلوں کے حضور  …  اور پھر  … دلِ حسرت گزیدہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہیں  …  وہ دل جس کی مست و نرم کونپلیں   …  خود اپنی اُنگلیوں سے مسل دیتے ہیں   …   سوختہ جذبوں کی سوزش  … کائنات سے جدائی کا عمل  … 
حدتِ دل اب بھی کم سن  ہے   …  روح کی شدتیں تلاشتی ہیں   … وہ ایک خواب  … جس کو دیکھنے سے پہلے ہی نیند اڑ گئی ہو   … آنکھ کھل گئی ہو  … 
جاناں! کیا زندگی اب بھی سہاروں کو تلاشتی ہے  … 
وہ ہیرا صفت محبت  …  کیا اب بھی کچھ ڈھونڈتی ہے  … 
سہارے تو عارضی ہیں  …  خواب کی طرح  … 
حقیقت تلخ اور کٹھن  ہے  …  جواب کی طرح  … 
تو کہو نا!  کیا زندگی اب بھی سہاروں کو تلاشتی  ہے  … 
جفاؤں کے مزاروں میں وفا کے نئے دیئے جلانے کا عہد کرتی  ہے  …  اک سوال بنکر   …   اک ادا بنکر  …  جستجو کی صدہا پرتیں کھولتی  ہے  …  اور وہ محبتیں جو ردائے امانت میں محفوظ  تھیں  … کیا وہ امانتیں موسم بہار میں گھل مل جائیں گی  …  نہیں  …  نہیں  …  موسم بہار تو گزر گیا  …  گُل مہر تو خزاں گزیدہ ہوئے  …  اب تم ہی بتاؤ کیا لوٹنا آسان  ہے  … نہیں  …  نہیں  …  بس اب اتنا ہی کہنا ہے تم سے  … 
جاناں! پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا  … پتھر کے ہو جاؤ گے  …  اور میں تمہیں پتھر ہوتا دیکھ نہیں سکتی  … 
ادھوری سی چاندنی کا بے باک طلسم  … 
ندی کا سبک رواں آبِ شفاف  … 
حصارِ وجود کو توڑ کر گلے لگتا ہُوا ماضی کا خواب  … 
ملنا  …  بچھڑنا  …  اور پھر ملنے کی تمنا  … لیکن  …  ٹھہر اے دلِ ناداں  … ملنے سے پہلے  …  پھر وہی خوف  … رسوائیاں۔ ۔ تنہائیاں اور لمبی جدائیاں  …  بچھڑنے کا زلزلہ   …   یا پھر … حیرتوں سے گزر کر آئی ہوئی مسرتوں کے لازوال لمحوں کی تسکین  … ہاں  …  وہی  … حیرتوں کو چیر کر وجود میں سمائی  اک انہونی مسرت  …  ایک ادھورا خواب  …  اور ایک نیا   …   ان دیکھا خواب  … پھر میرے سامنے سراپا تصویر  ہے  … محبتوں کی تفسیر ہے۔ ۔ اور ہاتھ کی لکیر  ہے  …  جو داستان لکھ رہی  ہے  …  گویا کہ آنے والی تاریخ کی شہادت آج میں ڈھونڈی جا رہی  ہے کہ زندگی تحریک  ہے تضحیک نہیں  … 
لمبے سائے  …  چھوٹے عکس  …  مبہم دید اور اک نوید  …  
تمہارا نام  …  کربِ شدید  … اک احساس کا کھو جانا  …  
یا پھر  …  اک احساس کا مل جانا  …  جو لمحے کھو گئے وقت کا شکار ہو گئے   …  انہیں کھوجنے کا حاصل کچھ نہیں  … اُن کا اعتبار بھی نہیں  … وہ لمحے  …  وہ حسین موسم   …   جو میرے نہیں تھے  …  اور میرے نہیں ہونگے   …  جو میں پیچھے چھوڑ آئی ہوں  …  
برسات میں بھیگے ہوئے  گلاب لمحے۔ جدائیوں کے رستے جو بڑی دور تک گئے تھے  …  وہ اب بھی بہت دور ہیں  … ساحلوں کے دو حسیں کناروں کی طرح  …  ہم مل نہیں سکتے  …  اور اب ہم بچھڑ بھی نہیں سکتے  …  زندگی اک دوسرے ہی راستے پر گامزن ہے  … 
تکمیلِ حدیثِ دل ہو ہی چکی   …
  اے حقیقتِ دل فگار آئینے ہمارے ہی  ہیں اور یہاں اب معاملہ قاری کے سپرد ہے  …  سنو! اب ان آخری حسن نگار گھڑیوں میں تجدید وفا کا موقع نہیں جاناں  …  … 
٭٭٭
 

ہیپی مدرز ڈے 


ماں! جب میں چھوٹی سی بچی تھی تو اک بار میں نے جب تمہیں ہیپی مدرز ڈے کہا تو تم نے ٹوک دیا تھا کہ یہ غیر اسلامی ہے  … .. لیکن آج عمر کے اس پختہ دوراہے پر پہنچ کر  … .. جب میرے اپنے پاس وقت بہت کم رہ گیا  ہے  … .. تم سے ملاقات کو ربع صدی گزری … .. تو آج اس  ربع صدی کا سفر طے کرنے کے بعد پھر اُسی مچلتی ہوئی خواہش نے جنم لیا ہے  … .. اک دن تمہارے قدموں میں بسر کرنے کی آرزو اور جستجو  … ..  سو آج  کا دن ماں   … .. میری ماں  تمہارے نام … .. ہیپی مدرز ڈے 
 ماں! دنیا ہے پر تم نہیں ہو … .. کہیں بھی نہیں ہو … .. صرف احساس  ہے جو وجود کے ساتھ ساتھ چلتا ہے  … ..  ماں  … .. تم جانتی ہو کہ میں نے تمہیں آنکھ کھول کر دیکھنے سے پہلے تمہارے شکم کی گرمی میں تمہیں اور تمہاری لازوال چاہت کو جانچا تھا … .. مجھے کہنے دو … .. آج مدرز ڈے ہے  … .. زندگی کا تھکا ہوا جلسہ … .. وہ قطرہِ زمزم جسکی ایوانِ حیات کے چہار کونوں میں جستجو کی گئی تھی … .. اُس کی سعی نامکمل رہ گی.
محبتیں بے زبان ہوتی ہیں ماں کی مامتا کی طرح … .. جو نہ کبھی محبتوں سے انکار کرتی ہے اور نہ نفرتوں کا اقرار … .. وہ میرا بچپنا … .. اُس سے الجھنا … .. کبھی کبھار روٹھنا۔ ۔ کھانا چھوڑ دینا … .. اور اچانک اُس کی ڈانٹ پر ٹوٹ جانا … .. اُسی کی طرف لپکنا اور پگھلتی ہوئی برف کی مانند اس کے فراغ سینے میں دوڑ کر  منہ چھپا کر اس کے حسین لمس کی گلاب پتیاں سمیٹ لینا کتنا حسینو قیامت خیز تھا … .. وہ منظر … .. وہ منظر  آج بھی میری آنکھ کی پتلی میں منجمد و مقید ہے  … .. میں جتنا سوچتی ہوں  … .. کھوجتی ہوں  … ..  اُس سے کہیں زیادہ کھو دیتی  ہوں .. ماں تم سے لازوال عشق کے بعد اب نظر میں کچھ نہیں سماتا … .. تم صدیوں کا   ورثہ ہو … .. مگر آج وقت کی  دہلیز پر جب میں تنِ تنہا کھڑی ہوں  … . جہاں وجود اور روح دونوں ہی میں سناٹا ہے۔ ۔ ۔ تو میری عظیم ماں تم یہ تو بتاؤ میں تمہارا ورثہ کیوں نہ بن سکی … ..
ماں! تم میری جنت تھیں۔ ۔ میری بساطِ حیات تمہارے نام سے بچھی تھی … .. میری عزتیں، میری راحتیں تم سے  تھیں اور تم ہی میں تھیں  … .. تم تو جانتی ہو اٹھارہ کے سن میں میرے وجود کا پہلا حصہ کھیل نہ تھا خوف تھا … .. عجیب سفر تھا … .. سمندروں کا۔ ۔ جزیروں کا … .. محبتوں سے بے اعتنائیوں تک کا۔ ۔ اک
لامتناہی سفر۔ ۔ جو اب اختتام پذیر ہے تو ایک عجیب سا احساس در آیا ہے   …   اک جستجو سی جاگ اُٹھی ہے   …   اک اور منزل آسمانوں سے پُکارتی ہے   …   کہ  …   اچانک ہی زمیں شق ہو جائے  …  آسماں دو حصوں میں منقسم ہو جائے اور کہیں تم مجھے مل جاؤ۔ ۔ اور وہ مامتا کی نوری بوندیں  … .. وہ اشک کا سنہرا ساگر … .. وہ میری ماں کی چمکتی آنکھیں  … .. جنہیں اب بھی میں اپنے سلگتے لبوں سے چوم لیتی ہوں  … .. ماں  … ..میری ماں تم جو جنت مکیں ہو کیا میرے سرد وجود میں پنہاں آخری گرم آرزو کو دیکھتی ہو  … . کیا عرش پہ تم میرے لبوں کی گرمی کو محسوس کرتی ہو  … ..
ماں! اب تم  سنو میرا احوال غم … .. تم بھی ماں اور میں بھی … .. پھر ہماری تقدیریں اتنی جدا جدا کیوں  … .. ماں جنت ہے  … .. ماں کائنات  ہے  … .. پھر میرے اور تمہارے درمیاں اتنا فرق کیوں  … .. کیا اسے نصیوں کا فاصلہ کہتے ہیں یا دور جدید کی ایجاد … .. میں جانتی ہوں یہ وسیلوں کا سفر  ہے جو صدیوں کی رہگزروں سے گزرتا ہے تو تکمیلِ عشق ہوتی  ہے  … .. جہاں رویوں کے تن اور درخت سایہ دیتے ہیں  … .. ہم کہ جو صدیوں کے کرب سے گزر کر یہاں پہنچے تو جلد ہی اِس احساس نے مار دیا کہ ہم سا تنہا کون ہو گا جو اپنی ماں کی مہد سے تو بچھڑ ہی گیا تھا اور اُسے اب اپنی ہی لحد کی فکر بھی ہے  … .. اور کیوں نہ ہو چار کندھا دینے والوں کی موجودگی کے باوجود اک خوف رگوں سے گزرتا ہے کہ کیسے گھر سے لہد کے سفر کی تکمیل ہو گی … .. یہ زندگی اب صرف درد، آہوں اور کراہوں میں گم ہے  … .. درد کا رشتہ … .. کربِ شکستہ جو  ہے  ذات سے پیوستہ … .. ماں کیسے میں بکھری  ہوئی ریت کی مانند صحرا ہو گئی اور زندگی سوالوں میں کیوں گھِر رہ گئی … .. اور کب تک گھری رہوں گی  … .. ہاں۔ یہ عہدِ جدید ہے  … ..  ایجادوں کی صدی … .. جس میں اِس ماں کا   اپنا اعزازِ ہی  کھو گیا … .. ایسا کیوں۔ ۔ آج … .. ایجادوں کے اِس عہد ساز دور میں ماں کیلے ایک پوری صدی کیوں نہیں مختص کی جاتی … .. کیا ماں صدیوں کی امیں نہیں بن سکتی … .. کوئی  کیوں نہیں سوچتا … ..
یہ سرد اُجالے میری محبت کی حدت کو کیوں نہیں پہچانتے  … .. کیوں نہیں مانتے  … .. یہ رخسار جو اب آنسو سنبھالتے ہیں  … .. یہ لب جو اب سسکیاں جذب کرتے ہیں  … .. ان میں اب امیدوں کے  روشن چراغ کیوں نہیں جلتے  …  اور یہاں یہی سوال میں اِس صدی کے سینے پر چھوڑتی  ہوں  … .. وہ لمحہ جب جنت میرے قدموں سے بے نشاں کی جا رہی تھی اُس   وقت ایک نسل جو جوانی کے خود سر گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ  رہی تھی اُس نسل نے پلٹ کر آنے والے دور کے خطرے کو کیوں نہیں جانچا … . اگر میرے وجود کا وہ انمول حصہ خود آگہی رکھتا تو میری آنکھوں کے جگنو دمک رہے  ہوتے  …  اور ساحل پُر سکوں ہوتا … .. لیکن ایسا نہ ہوا … .. اور ماں  … .. میری ماں  میں پھر تنہا ہوں  … .. میں جانتی  ہوں ماں کہ تم سے بچھڑ کر بھی آج تک نہ بچھڑ سکی … .. لیکن میرے لعلوں نے مجھ سے بچھڑنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہ سوچا … .. ایسا کیوں  ہوا۔ ۔ ماں میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گی  کہ  میرا سر ماؤف ہوا جاتا ہے۔ ۔ ۔ اُس اسٹور میں جہاں میں  کھڑی دیکھ رہی ہوں  … .. جہاں لوگ  اپنی اپنی  ماؤں کیلئے پھولوں کے گلدستے خرید رہے تھے  …  میں اداس کونے میں کھڑی وہ لمحے اپنی آنکھوں میں جذب کر رہی تھی.. کہ ایک بچی دوڑتی ہوئی میرے نزدیک آئی اور گلاب کی اک شاخ میری جانب بڑھائی …  اور بولی … 
 "ہیپی مدرز ڈے  …  تم کیوں اداس ہو … ..‘ میرے لب بھی  میری روح کی طرح ساکت ہو گئے تھے . وہ پھول اور اس بچی کا امڈتا ہوا بے لوث پیار اور میری ممتا کی روٹھی ہوئی پکار … .. آنکھیں اشکبار.. دلِ سوگوار …  سوچتی تھی کہ آج کہاں کھڑی ہوں  …  میں تو وہاں بھی نہیں کھڑی جہاں سے ہجرت کا قصد کیا تھا … .. اور وہاں بھی نہیں ‌جہاں سے آغازِ حیات ہوا تھا … .. اور شاید وہ جگہ بھی کہیں کھو گئی جہاں کی مٹی اک مزار کی امیں تھی …  میں جو بے نشاں رہ گئی تھی  … .. زندگی کے حین منظر دیدۂ تر میں محفوظ کر کے آرزوؤں کو وقت کی گٹھری میں باندھ کر … .. میں چلی.. اپنی سرد ہتھیلیوں میں دُعاؤں کے خزانے لئے .. اپنے آقا کے حضور … .. کہ الٰہی.. تو اُن کو محفوظ رکھنا جنہیں میں نے اپنی کوکھ میں نو ماہ تک تیری رضا سے محفوظ رکھا … .. یہ بچے تیری دنیا میں میری امانت ہیں .. اور اُنہیں وہ دن کبھی  تصور میں بھی نہ دکھانا جو مجھ سے میری جنت چھین کر لے  گیا … .. کہ اب میرے پیروں تلے صرف زمیں رہ گئی ہے  …  چند انچ زمیں  …  جنت … .. ڈھل گئی …  کھو گئی.. یا پھر میرا مقدر ہی نہ تھی … .. بس زندگی ایک جوا تھا .. کھیل ہی کھیل میں   … .. میں ہر طرح سے ہار گئی..میرے بچو لوٹ آؤ اس سے قبل کہ میں لوٹ جاؤں۔ ۔ ٓ
ماں  … .. میری ماں  … .. آج  پھر مدرز ڈے پر تم سے ملنے کی آرزوئیں احتجاج کرتی ہیں کہ ماں لوٹ آؤ … .. گر تم نہ آ سکیں تو مجھے  تم سے ملنے کے لیے آسمانوں میں سفر کرنا  ہو گا اور میرے لعلوں کو اُس اداس بستی تک … .. آنکھیں سوکھ گئی ہیں  … .. خواب روٹھ رہے ہیں  … .. ماں اگر میں تمہیں کہیں بھی نہ مل سکوں تو تم مجھے اپنے قدموں میں تلاش لینا کہ وہیں ملوں گی تمہیں  ہیپی مدرز ڈے کہنے  … ..
٭٭٭
ماخذ:
http://fatimazehrajabeen.com/category/fiction/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید