﻿

گڑیا گھر
اور دوسرے افسانے



ممتاز مفتی

جمع و ترتیب: اعجاز عبید







دودھیا سویرا

شہر سے دور گرینڈ ٹریفک روڈ کے کنارے پر درختوں کے جھنڈ کے نیچے وہ ایک مختصر سا قبرستان تھا۔ اس میں صرف بیس پچیس قبریں تھیں ۔ جن میں بیشتر کچی تھیں ۔ پختہ قبروں میں صرف دو یا تین نئی معلوم ہوتی تھیں اور ان میں سے ایک سفید ٹائیلوں کی بنی ہوئی تھی۔ اس مختصر قبرستان کے غربی کنارے پر ایک مسجد تھی۔ جس کے باہر چبوترا سا بنا ہوا تھا۔ مشرقی کنارے کے سڑک کے پاس بس سٹینڈ کا بورڈ آویزاں تھا۔ جس کے پاس ایک کچے کمرے میں چائے کا سٹال تھا۔ 
قبروں پر درختوں کے سوکھے پتے بکھرے پڑے تھے۔ آسمان پر بادل جمع ہو رہے تھے اور قریب ہی پہاڑی نالہ جو جانی کے نام سے مشہور تھا، شور مچاتا ہوا بہہ رہا تھا۔ ان ٹنڈ منڈ درختوں تلے قبرستان میں وہ دوچار اپنے اپنے خیال میں کھوئے ہوئے تھے۔ 
پتلا دبلا نوجوان منہ میں پائپ دبائے پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ٹھونسے اضطراب بھرے انداز سے سوکھے پتوں پر ٹہل رہا تھا۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ رک جاتا اور ایک نظر غور سے قبرستان کی طرف دیکھتا۔ اس کا ہونٹ ڈھلک جاتا۔ پائپ اور کوٹ کی اوپر والی جیب پر جھانکتا۔ پھر وہ آنکھیں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتا اور ایک لمبی آہ بھر کر پھر سے اضطراب بھرے انداز سے ٹہلنے لگتا۔ 
مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا شخص درخت سے ٹیک لگائے آسمان پر تیرتے ہوئے بادلوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی جاذب نظر آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں ۔ اس کے ہونٹ یوں بند تھے جیسے ڈرتا ہو کہ انہیں کھولا تو اس کا راز فاش ہو جائے گا۔ اس کے ماتھے پر کرب بھری تیوری چڑھی ہوئی تھی جیسے بند ہونٹوں کی وجہ سے دل کا تمام تر دکھ سمٹ کر پیشانی پر آ گیا ہو۔ ہر چار پانچ منٹ کے بعد شدت جذبات سے جھرجھری سی لیتا اور پھر چونک کر مڑتا اور غور سے قبروں کی طرف حسرت سے دیکھتا اور اس کے گالوں پر ایک آنسو ڈھلک آتا جسے چھپانے کے لئے وہ پھر سے آسمان کی طرف دیکھنے لگتا۔ 
گھٹے ہوئے جسم کا نوجوان کھدر کے کرتے اور پاجامے میں ملبوس تھا اور ایک بڑے سے پتھر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا سر منڈا ہوا تھا۔ آنکھیں گویا انگاروں کی طرح روشن تھیں ۔ چھاتی تنی ہوئی جیسے اسے سانس لینے میں بھی لذت محسوس ہو رہی ہو۔ اس کے انداز میں ایک عجیب بے نیازی تھی۔ ایک بے نام سی انبساط اور چپ چاپ گویا بے تعلقی سے قبروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سی آ جاتی اور اس کے چہرے پر دودھیا سویرا پھیل جاتا۔ 
مسجد کے چبوترے پر اچکن میں ملبوس ایک پاکیزہ صورت معمر آدمی دو زانو بیٹھا زیر لب خشوع سے کچھ پڑھ رہا تھا۔ 
قبرستان کے پیچھے شمال میں دور ٹیلے پر ایک گاؤں کے چند مکانات شام کے دھندلکے میں لپٹے ہوئے تھے اور اس سے پرے شہر کے مینار اور فلک بوس عمارتوں کا ایک ڈھیر سا لگا ہوا تھا۔ 
دفعتاً سارے آسمان پر بدلیاں چھا گئیں اور بوندیں پڑنے لگیں اور وہ چاروں قبرستان سے بس سٹینڈ کے مختصر سے چائے خانے کی طرف بھاگے۔ چائے خانے کا کمرہ بہت چھوٹا تھا۔ جس میں صرف ایک لمبا سا بینچ، ایک کرسی اور ایک لمبی میز پڑی ہوئی تھی۔ وہاں پہنچ کر وہ سب دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ مونچھ والے نے کوئی بات کرنے کی غرض سے پتلے دبلے نوجوان سے کہا۔ ’’معلوم ہوتا ہے آپ کو بہت صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ کتنے مضطرب ہیں آپ بھائی صاحب۔ ‘‘
’’مضطرب‘‘ پتلے دبلے نوجوان نے دہرایا۔ ’’نہیں ، نہیں ۔ ‘‘ وہ اضطراب بھرے انداز میں چلایا۔ ’’میں مضطرب تو نہیں ۔ میری روئداد سن کر کیا کریں گے آپ؟‘‘ وہ بولا اور پھر جواب کا انتظار کئے بغیر ہی اپنی کتھا سنانے لگا۔ 
’’مجھے اس بات کا دکھ ضرور ہے کہ وہ جوان مرگی کا شکار ہو گئی اور آج اس قبرستان میں مٹی کے ڈھیر تلے بے بس پڑی ہے۔ مگر جہاں تک میرا تعلق ہے، میں خوش ہوں ، مجھے تو یہ خوشی ہے کہ میں اس سحر سے نکل آیا ہوں ۔ اف کس قیامت کا سحر تھا۔ جیسے کسی نے جادو کر رکھا ہو۔ ہاں وہ جادوگرنی تھی۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا اور ان جانے میں بجھے ہوئے پائپ کے لمبے لمبے کش لینے لگا۔ 
کھدر پوش نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور زیر لب بولا۔ ’’آپ کو اس سے محبت ہو گی؟‘‘
’’محبت!‘‘ پتلا دبلا نوجوان چلایا۔ ’’مجھے معلوم نہیں لیکن محبت ایسی تو نہیں ہوتی۔ نہیں نہیں ، وہ تو ایک مثبت جذبہ ہے جو اطمینان اور تسکین کا باعث ہوتا ہے۔ ‘‘ پھر وہ یوں بولنے لگا جیسے دیر سے منتظر تھا کہ کوئی اسے چھیڑے۔ ’’اور یہ.... تو ایک بیماری تھی۔ ہاں بیماری۔ ایک ایسی بیماری جس کے تحت مریض خود چاہتا ہے کہ وہ شفا یاب نہ ہو اور ایسے حالات پیدا کر لیتا ہے کہ مرض بڑھتا جائے، دوا کرنے کے باوجود بڑھتا جائے۔ ‘‘
’’عجیب بات ہے۔ ‘‘ اچکن پوش بزرگ نے سر اٹھا کر پہلی مرتبہ دبلے پتلے مضطرب نوجوان کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ 
بس سٹینڈ کے اس مختصر سے چائے خانے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر ہوا درختوں کے اس جھنڈ میں کراہ رہی تھی۔ چیخ رہی تھی۔ 
’’ہاں !‘‘ وہ دبلا پتلا نوجوان لمبی آہ بھر کر آپ ہی آپ یوں بڑبڑانے لگا جیسے اپنے آپ سے کہہ رہا ہو۔ جیسے اسے دوسرے اصحاب کی موجودگی کا احساس ہی نہ رہا ہو۔ ’’ہاں عجیب۔ کتنی عجیب عورت تھی وہ کس قدر جاذبیت تھی اس میں ۔ توبہ ہے۔ ‘‘ اس نے جھرجھری لی۔ ’’اس میں نمائش نہیں تھی، نخرا  نہیں تھا، آج کل کی لڑکیوں کی طرح اس کے ہونٹ بٹوے کی طرح کھلتے ملتے نہیں تھے۔ اس کی آنکھیں ڈولتی نہیں تھیں ۔ اس کی بھوئیں تنتی سمٹتی نہیں تھیں ۔ اس کی آنکھوں میں متبسم اشارے نہیں جھلکتے تھے۔ اسے دیکھ کر پیار کرنے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ جی چاہتا تھا کہ اس کے قدموں میں گر کر روپڑیں ۔ وہ لڑکی نہیں تھی، مٹیار عورت تھی.... مٹیار عورت۔ اس پر لڑکی پن کبھی نہیں آیا تھا، کبھی نہیں ۔ وہ پیدائشی مٹیار تھی۔ اس میں ایک عجیب سی آن تھی۔ عجیب سی تمکنت.... ایک ایسا احساس جیسے کہ وہ تمام کائنات کا محور ہو، مرکز ہو، اف....!‘‘ پتلے دبلے نوجوان نے یوں لمبی سانس لی جیسے اس کے اندر شعلے بھڑک رہے ہوں ۔ ’’اس کے روبرو اپنی شخصیت شل ہو جاتی تھی۔ اپنی آرزوئیں گویا مفقود ہو جاتی تھیں ۔ جی چاہتا تھا، وہی کریں جو وہ چاہتی ہے۔ جی چاہتا تھا، وہ احکام جاری کرے اور ہم تعمیل کریں ۔ عجیب عورت تھی وہ.... عجیب۔ ‘‘ وہ پھر اپنے خیالات میں کھو کر چپ ہو گیا۔ 
باہر درختوں کی ٹہنیوں میں گرتی ہوئی بوندیاں یوں سنائی دے رہی تھیں جیسے کوئی ہچکیاں لے رہا ہو۔ دور جاتی ندی بین کر رہی تھی۔ کمرے میں اچکن پوش سر جھکائے بیٹھا تھا۔ کھدر پوش غور سے میز کی طرف گھو ر رہا تھا اور مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا شخص ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے کمرے کی دیوار کے پار نہ جانے کیا دیکھ رہا تھا۔ 
’’ہاں جادو!‘‘ دبلا پتلا نوجوان بولا۔ ’’اس نے مجھ پر بچپن سے ہی جادو کر رکھا تھا اور.... اور جب میں نے ہوش سنبھالا، میں اس کے پیچھے پیچھے گود کے کتے کی طرح پھرتا رہتا تھا۔ جہاں بھی وہ جاتی، میں اس کے پیچھے جاتا۔ وہ کسی سے ملنے کے لئے گھر کے اندر چلی جاتی تو میں دہلیز پر بیٹھ جاتا اور انتظار کیا کرتا کہ کب وہ باہر نکلے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل سکوں ۔ وہ چوبارے میں بیٹھ کر سویٹر بنتی تو میں اس کے سامنے چوکی یا پتھر پر بیٹھ رہتا۔ وہ ہنڈیا پکانے میں مصروف ہوتی تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو رہتا۔ وہ سکول جاتی تو میں سکول کے دروازے تک اس کے پیچھے پیچھے جاتا۔ پھر سکول میں داخل ہوتے وقت وہ مڑ کر میری طرف دیکھتی اور اس کی آنکھوں میں ایک شریر مسکراہٹ چمکتی اور مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کی شرارت میں میں اس کے ساتھ شریک ہوں ۔ سویٹر بنتے ہوئے، تاگا توڑتے وقت یا سلائی پر دھاگے سمیٹتے وقت مجھے وہاں بیٹھے دیکھ کر وہ مسکراتی۔ وہی مسکراہٹ جیسے ہم دونوں کسی پوشیدہ شرارت میں اکٹھے شریک ہوں ۔ بس وہی مسکراہٹ مجھے اس بات پر اکساتی تھی کہ میں گود کے کتے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے پھروں ۔ 
گھر کے سب لوگ اسے اس بات پر چھیڑا کرتے تھے۔ میری ماں بھی ہنس کر اس سے پوچھا کرتی تھی۔ ’’اے ہے تم نے تو لڑکے پر جادو کر رکھا ہے کیا۔ ‘‘ کوئی کہتا۔ ’’یہ لڑکا تو اپنی ماں کے ہاتھوں سے بھی نکل گیا۔ ‘‘ لیکن ان دنوں میں ابھی بچہ ہی تھا۔ اس لئے لوگ بات کر کے ہنس پڑتے اور بس۔ وہ خود بھی ہنسا کرتی اور کبھی کبھی میرے قریب آ کر میرے منہ پر ہلکا سا تھپڑ مار کر کہتی۔ ’’کیوں رے تجھے میرے پیچھے پھرنے میں مزہ آتا ہے کیا؟‘‘ اور پھر ایک عجیب سے نگاہ میری طرف ڈال کر دہراتی۔ ’’مزہ آتا ہے؟‘‘ اس کے کہنے کا اندازہ ایسا ہوتا کہ میں ایک مزے بھری جھرجھری محسوس کرتا اور اس کی نگاہ کی شرارت کی چمک کی وجہ سے میں محسوس کرتا جیسے وہ کہہ رہی ہو، اونہوں کسی کو بتانا نہیں کہ اس مزے بھری شرارت میں ہم دونوں برابر کے شریک ہیں ۔ برابر کے.... چپ۔ ‘‘
دبلے پتلے نوجوان نے ایک شدید جھرجھری لی اور پھر جیبوں کو ٹٹول کر دیا سلائی نکالی اور ماچس جلا کر پائپ کے لمبے لمبے کش لینے شرو کر دیئے۔ اچکن پوش بزرگ اپنا درد بھول چکے تھے اور منہ کھولے دبلے پتلے نوجوان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا مرد ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔ کھدر پوش ہاتھوں کے پیالے میں ٹھوڑی رکھے گہری سوچ میں پڑا تھا۔ باہر ٹین کی چھت پر بوندیاں گویا یوں جلترنگ بجا رہی تھیں جیسے کوئی مغنی مزے میں آیا ہو۔ 
’’اس مزے کی وجہ سے میں اپنی عمر سے پہلے ہی جوان ہو گیا۔ ‘‘ پتلا دبلا نوجوان بولا۔ ’’میرا مطلب ہے، بچپن ہی میں جوانی شرارت گویا مجھ پر مسلط ہو گئی۔ اسے اس حقیقت کا احساس تھا اور وہ اس بات پر ہنسا کرتی تھی۔ اس کی ہنسی میں طنز نہیں ہوتی تھی۔ اونہوں ، جیسے مصور اپنے نقش کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ وہ عمر میں مجھ سے تقریباً پانچ سال بڑی تھی۔ لیکن اس کی اس رازدارانہ مسکراہٹ نے گویا مجھ میں بلوغت کا خمیر پیدا کر دیا تھا اور میں اپنے آپ کو اس کا ہم عمر سمجھنے لگا تھا۔ ‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ پھر بولا۔ ’’پھر اس کی مسکراہٹ کا وہ رازدارانہ رنگ گویا اس کی آنکھوں سے رس رس کر بہنے لگا۔ حتیٰ کہ اس کی ہر حرکت اسی رنگ میں شرابور ہو گئی اور....اور میری نظر میں اس کے جسم کے پیچ و خم یوں عریاں دکھائی دینے لگے جیسے وہ ہولی کھیل کر آئی ہو اور ہر نگاہ کے ساتھ جو میں اس کے اوپر ڈالتا، میری آنکھوں میں اسی رنگ کی پھوار پڑتی اور میرے جسم میں ایک ہوائی سی چل جاتی.... توبہ ہے۔ ‘‘ اس نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے یوں بھیگے بھیگے انداز سے کہا جیسے وہ رنگ میں شرابور ہو گیا ہو۔ پھر دفعتاً سر اٹھا کر بولا۔ ’’پھر اس نے وہ شرارت سازش میں بدل دی اور.... اور ایک معصوم لڑکے کو جس نے عنفوان شباب کے عالم میں ابھی قدم رکھا ہی تھا، گناہ کے احساس سے آشنا سا کر دیا۔ توبہ ہے۔ ‘‘ وہ پھر چلایا۔ ’’جو گناہ سے آشنا نہ تھا۔ جس نے گناہ کی آرزو تک نہ کی تھی۔ اسے گناہ کے احساس سے شناسا کر دیا اور شناسا ہی نہیں بلکہ شرابور کر کے بھیگے کبوتر کی طرح اس کی قوت پرواز ختم کر دی اور یہ سب ایک جملے، ایک کنایہ سے.... ’’چپ کوئی آ رہا ہے۔ ‘‘ کس قدر معصوم جملہ ہے۔ لیکن ایک خوبصورت مٹیار کے منہ سے رازدارانہ انداز سے نکلے تو.... توبہ ہے۔ ‘‘ ایک ساعت کے لئے وہ خاموش ہو گیا۔ پھر آپ ہی آپ کہنے لگا۔ ’’ہم دونوں ایک دوسرے سے دور بیٹھے ہوتے۔ وہ اپنے کام کاج میں منہمک ہوتی اور میں چپ چاپ نگاہوں سے اس کے پاؤں کی انگلیوں سے کھیل رہا ہوتا۔ پاؤں کی چاپ سن کر دفعتاً وہ میری طرف دیکھتی اور خاموشی سے اشارہ کرتی۔ ’’چپ، کوئی آ رہا ہے۔ ‘‘ اور میرا دل اچھلتا اور میں اپنے آپ کو یوں سنبھالتا جیسے کوئی پکڑا گیا ہو اور پھر میں محسوس کرتا، جیسے آنے والا ہمارے راز سے واقف ہے۔ ‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ ’’عجیب بات تھی، راز کی نوعیت جانے بغیر میں اس کے کھل جانے سے ڈرتا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ راز کے کھلنے کا ڈر پیدا کر کے دراصل وہ مجھے راز کی نوعیت کی عملی تحقیق کرنے پر اکسا رہی تھی۔ 
پھر ایک روز شام کے وقت جب ہم دونوں کمرے میں اکیلے اگرچہ دور دور بیٹھے تھے تو اس کے والد صاحب کی کھنکھار سنائی دی۔ وہ دیوانہ وار اٹھی اور میرا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر کمرے کے کونے میں لے گئی اور مجھے الماری کے پیچھے ٹھونس دیا۔ وہ پہلا دن تھا جب اس معصوم شرارت پر سازش کی سر لگ گئی۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا اور دروازے کے بارے گرتی ہوئی بوندیوں کو غور سے دیکھنے میں کھو گیا۔ 
کچھ دیر کمرے میں خاموشی طاری رہی۔ اچکن پوش بزرگ پھر سے سر جھکا کر ورد کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا مرد اضطراب بھرے انداز میں ہونٹوں پر زبان پھیرنے میں مصروف ہو جاتا۔ آخر وہ بے اختیار ہو کر بولا۔ ’’پھر....پھر کیا ہوا؟‘‘
’’پھر....‘‘ پتلا دبلا نوجوان چونکا۔ ’’پھر....‘‘ اس وقت اسے احساس ہوا کہ وہ اپنا قصہ بیان کر رہا تھا۔ ’’اوہ.... ہاں !‘‘ وہ چلایا۔ ’’پھر کیا ہونا تھا، وہی ہونا تھا جو وہ چاہتی تھی اور کیا ہو سکتا تھا اور میں .... میرا عزم تو یوں شل ہو چکا تھا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا تھا۔ پھر اسی روز اس نے مجھ سے کہہ دیا۔ کہنے لگی۔ ’’اب تم نہ آیا کرو میاں ۔ جب تک میں خود نہ بلاؤں ۔ ‘‘ پھر دفعتاً نہ جانے کیا سمجھ کر اس نے میری جانب دیکھا۔ وہی سازشی نگاہ، وہی چپ کا سا انداز۔ ’’ میں بلایا کروں گی۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’ہاں !‘‘ اس ہاں نے وہ منفی احساس جو اس کے منع کرنے کی وجہ سے مجھ پر مسلط ہو گیا تھا، قطعی طور پر رفع کر دیا اور میں نے پہلی مرتبہ اس کی ہاں کا مثبت اثر محسوس کیا۔ اس وقت گویا ساری کائنات سمٹ کر میری جھولی میں آگری۔ آتش دان پر شانت آسن میں بیٹھا ہوا دیوتا میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور پھر اس نے میرے سامنے سر جھکا دیا اور آتش دان پر بچھے ہوئے کپڑے پر کاڑھے ہوئے پھولوں میں سے خوشبو کا ایک ریلا آیا اور سارا کمرے خوشبو سے بھر گیا۔ ‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ ’’عجیب عمر تھی وہ بھی۔ کاش کہ میں اس جادوگرنی کے سحر میں نہ آتا۔ ‘‘ اس کی ہنسی زہر خند میں تبدیل ہو گئی۔ وہ اٹھ بیٹھا اور دروازے میں کھڑے ہو کر درختوں کے جھنڈ تلے بکھری ہوئی قبروں کی طرف دیکھنے لگا۔ 
’’ عجیب واقعہ ہے۔ ‘‘ اچکن پوش بزرگ نے زیر لب کہہ کر آہ بھری۔ ’’تو کیا اس نے تمہیں بلایا؟‘‘ مونچھوں والے ادھیڑ عمر کے مرد نے پوچھا۔ 
’’ہاں !‘‘ وہ بولا۔ ’’کئی بار....لیکن بے کار۔ ہر بار جب بھی بلاتی تو کوئی نہ کوئی آ جاتا اور مجھے پردے یا الماری کے پیچھے چھپا دیا جاتا۔ جہاں میرا دل دھک دھک کرتا۔ میرے جسم کا بند بند سمٹتا پھیلتا۔ میرا حلق بند ہو جاتا اور چاروں طرف سے ایک ان جانا بوجھ مجھ پر پڑ جاتا۔ توبہ ہے۔ ‘‘ وہ چلایا۔ ’’جیسے جیسے ڈر اور خوف مجھے انڈے کی طرح پھینٹ کر رکھ دیتے، لیکن اس کے باوجود میں انتظار کرتا رہتا کہ کب وہ بلائے اور میں جاؤں .... پھر۔ ‘‘ وہ آہ بھر کر بولا۔ ’’پھر اس کی شادی ہو گئی۔ اور.... اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مجھے اس پر دکھ نہ ہوا کہ وہ کسی اور کی ہو رہی ہے۔ بلکہ صرف اس بات پر کہ اس سے چوری چھپے ملنے کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔ حالانکہ ہمارے ملنے کی صورت کبھی پیدا نہ ہوئی تھی۔ عجیب بات ہے نا۔ ‘‘ وہ پائپ کا کش لیتے ہوئے بولا۔ ’’اور جب وہ رخصت ہونے لگی تو اکیلے میں مجھ سے کہنے لگی۔ ’’تم فکر نہ کرنا، میں تمہیں بلاؤں گی۔ میں بلاؤں تو آنا ضرور، ضرور آنا۔ ‘‘ اس کی اتنی سی بات پر مجھے اطمینان سا ہو گیا اور میری تمام شکایات یوں ختم ہو گئیں جیسے پیدا ہی نہ ہوئی ہوں اور ایک بار پھر میں انتظار کی لذت میں کھو گیا۔ ‘‘
’’چھ مہینے گزر گئے۔ ‘‘ اس نے مختصر سے وقفے کے بعد کہا۔ ’’لیکن مجھے اس کا بلاوا نہ آیا۔ اس کے رنگین وعدے کا سحر ٹوٹنے لگا اور.... اور....‘‘ وہ زہر خند مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ’’ایک روز میں ایک ریل گاڑی میں بیٹھ کر وہاں جا پہنچا جہاں وہ رہتی تھی اور ایک رات جب اس کا خاوند گھر پر نہ تھا، میں ناگہاں اس کے روبرو جا کھڑا ہوا۔ 
مجھے دیکھ کر پہلے وہ گھبرا گئی لیکن جلد ہی سنبھل کر بولی۔ ’’شکر ہے تم آ گئے، آؤ آؤ لیکن ادھر اس کونے میں ۔ کوئی نوکر نہ دیکھ لے۔ ‘‘ اس نے مجھے اسی نگاہ سے دیکھا۔ وہی سازش، وہی شوخی، وہی نیم مدہوشی، مجھے وہاں بٹھا کر کام کاج میں مصروف ہو گئی اور رنگین تتلی کی طرح ادھر ادھر گھومنے لگی۔ ہرچند منٹ کے بعد چپکے سے وہ اس کونے میں آ جاتی، جہاں میں بیٹھا تھا اور پھر وہی نگاہ، وہی تبسم.... کام کاج سے فارغ ہو کر جب ہم اکٹھے ہوئے تو وہی بات وقوع میں آئی جو ایسے موقع پر ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔ بیٹھے بٹھائے آہٹ کی آواز سن کر وہ زیر لب چلائی۔ ’’وہ.... وہ آ گئے۔ ‘‘ اور پھر اپنی بانہوں میں تھام کر گھسیٹے ہوئے وہ مجھے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں لے گئی اور مجھے وہاں بٹھا دیا۔ ’’چپ‘‘ وہ بولی اور دروازے کا پٹ بند کر کے خود باہر نکل گئی اور میں اس تنگ و تاریک کمرے میں اکیلا تنہا رہ گیا۔ توبہ ہے، اس رات میرا کیا حال ہوا۔ توبہ ہے۔ ‘‘ پتلے دبلے نوجوان نے لمبی آہ بھر کر کہا۔ ’’خوف کا آرا تھا جو مجھے کاٹ رہا تھا۔ وہی بوجھ، وہی گھٹن، وہی تناؤ.... توبہ ہے۔ 
دو گھنٹے وہاں دبک کر بیٹھنے کے بعد میرے لئے وہ تکلیف ناقابل برداشت ہو گئی اور خطرے سے بے پرواہ ہو کر میں نے باہر نکل بھاگنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب میں دبے پاؤں نکلا تو کیا دیکھتا ہوں ۔ توبہ ہے۔ ’’وہ چلایا، توبہ ہے....!‘‘
’’کیا....؟‘‘ مونچھوں والا بولا۔ 
’’وہ اکیلی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ ایک بازو سر تلے دبایا ہوا تھا اور اس کے چہرے پر اتنی مسرت اور شگفتگی چھائی ہوئی تھی جیسے خوشی سے سرشار ہو اور سارے گھر میں اس کے اور اس کی نوکرانی کے سوا کوئی نہ تھا۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ اس کی تمام تر خوشی اسی بات پر موقوف تھی کہ کسی کو الماری یا پردے کے پیچھے چھپا دے۔ جہاں وہ تڑپ تڑپ کر اپنا آپ اس کے لئے ہلکان کرتا رہے اور خود اطمینان سے سو جائے۔ غصے سے میں نے اس کے منہ پر تھوک دیا اور پھر پیشتر اس کے کہ وہ مجھے پکڑ لیتی، میں ہمیشہ کے لئے اس کے سحر سے نکل آیا، بھاگ آیا۔ 
گھر آتے ہی میں نے اماں سے کہا، اماں میری شادی کر دو، چاہے کسی سے کر دو، اماں کر دو.... اور جب میری شادی ہو گئی اور میری حسین و جمیل بیوی میرے پاس آ گئی تو....‘‘ وہ رک گیا۔ ’’توبہ ہے۔ ‘‘ وہ بولا، ’’حد ہو گئی حد....‘‘
’’جب میں اپنی نئی دلہن کے پاس بیٹھا تھا تو دفعتاً میرا جی چاہنے لگا کہ کوئی آ جائے اور میری بیوی مجھے گھسیٹ کر لے جائے اور کہیں چھپاتے ہوئے.... وہ آ گئے۔ چپ.... کہے۔ میری اپنی بیوی۔ ‘‘ وہ دیوانہ وار ہنسنے لگا۔ ’’اور آج تک، آج تک میری یہی حالت ہے۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’مگر کوئی نہیں آتا اور اگر کوئی آ بھی جائے تو وہ ایسا نہیں کرتی، یہ نہیں کہتی، وہ آ گئے.... وہ.... توبہ ہے، توبہ ہے....‘‘ وہ چلایا۔ ’’میں کتنا کمینہ ہوں ۔ کتنا کمینہ ہوں میں .... مگر یہ سب کچھ اس کے سحر کا نتیجہ ہے۔ ہاں اسی کا اور آج ابھی جب میں اس کی قبر کے پاس بیٹھا تھا۔ تو خدا کی قسم میں منتظر تھا کہ وہ باہر نکل کر کہے، وہ آ گئے.... وہ۔ ‘‘ وہ دیوانہ وار ہنسنے لگا۔ 
باہر ہوا درختوں کی ٹہنیوں میں رو رہی تھی۔ جانی ندی بین کر رہی تھی۔ بوندیاں چھم چھم کر رہی تھیں اور اس کی دیوانگی بھری ہنسی کس قدر خوفناک تھی۔ پھر دفعتاً اس کی ہنسی ایک کراہ کے ساتھ ختم ہو گئی اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر میز پر کہنیاں ٹیک کر بیٹھ گیا اور کمرے میں کربناک خاموشی چھا گئی۔ 
’’چائے بابو جی۔ ‘‘ چھوٹا لڑکا ٹرے پر چائے کے چار پیالے رکھے ہوئے داخل ہوا اور ایک ایک پیالہ ان کے سامنے رکھ کر باہر نکل گیا۔ 
چائے آ جانے سے کمرے کے ماحول میں کچھ تبدیلی سی پیدا ہو گئی۔ ’’زندگی کس قدر عجیب ہے۔ ‘‘ کھدر پوش نے کہا۔ ’’ان دکھوں اور غموں کے باوجود جو ہمیں برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ ‘‘ اچکن پوش نے لمبی آہ بھری۔ ’’بجا ہے۔ ‘‘ وہ بولے۔ ’’لیکن صاحب انجام کار سب نے یہیں آ جانا ہے۔ ‘‘ کھدر پوش نے مونچھوں والے ادھیڑ عمر کی طرف دیکھا۔ ’’معلوم ہوتا ہے آپ بڑے دکھی ہیں ۔ ‘‘ وہ بولا، کوئی عزیز داغ مفارقت دے گئے ہیں کیا؟‘‘
’’میرے عزیز!‘‘ مونچھوں والے نے سر اٹھایا۔ ’’َہیں عزازت نہیں اس کی مجھ سے رشتہ داری نہ تھی۔ ‘‘ تو....؟ کھدر پوش مسکرایا۔ ’’محبت!‘‘ وہ فقرہ مکمل کئے بغیر چپ ہو گیا۔ 
’’محبت....؟‘‘ مونچھوں والے نے آہ بھر کر دہرایا۔ میں اس کی محبت کی قدر کرتا، میں نے قدر نہ کی۔ ‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔ ’’وہ میری محسن تھی، صاحب....محسن۔ ‘‘
’’محسن تھی؟‘‘ اچکن والے بزرگ نے ’’تھی‘‘ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ 
’’ہاں !‘‘ مونچھوں والا بولا۔ ’’وہ بھی عورت تھی۔ اب تم سے کیا چھپانا بھائی صاحب۔ ‘‘ اس نے کہا۔ ’’اس بات کو تو سب ہی جانتے ہیں ۔ ہمارے گھر میں اللہ کا فضل رہا ہمیشہ۔ اپنا کاروبار ہے، کام کرنے کے لئے کارندے ہیں ۔ مجھے صرف دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور باقی سارا وقت اپنے شغلوں میں صرف ہو جاتا ہے۔ بے فکری ہے۔ پیسہ عام ہے، ساری عمر اپنی کھانے پینے اور عیش کرنے میں صرف ہوئی ہے، جو چاہا مل گیا، جس کی آرزو کی، وہ حاصل ہو گئی۔ محبت کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ البتہ کبھی کبھار کسی پر طبیعت آ گئی اور طبیعت اپنی ایسی کم بخت ہے کہ جب کسی پر آ جائے تو....‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ ’’میں اندھا ہو جاتا ہوں ۔ تمہاری قسم پھر کچھ نہیں سوجھتا، جی چاہتا ہے، چاہے ساری دولت ہی کیوں نہ لٹانی پڑے، اسے حاصل کر لوں اور پھر جب حاصل ہو جائے تو چند ایک روز میں چاؤ اتر جاتا ہے اور پھر اپنی توجہ کسی اور طرف لگ جاتی ہے۔ اللہ کا فضل ہے۔ آج تک کبھی ناکامی نہیں ہوئی۔ جو چاہا ملا، جسے چاہا حاصل کر کے چھوڑا۔ ‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ 
’’کوئی پانچ سال ہوئے ہوں گے۔ جب اتفاق سے اپنی نظر ایک کالج کی لڑکی پر پڑ گئی تھی اور کیا بتاؤں تمہیں ایسی بری طرح مچل گئی طبیعت کہ میں پاگل ہوں گیا۔ بس بھائی صاحب ہر جتن کر کے دیکھ لیا۔ اس کی منتیں کیں ۔ لالچ دیا، کہلوا بھیجا میں دولت لنڈھا دوں گا۔ صرف ایک بار مجھ سے مل جا۔ بیسیوں کٹنیوں اور دلالوں کو بیچ میں ڈالا، مگر اس اللہ کی بندی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر اٹھا لے جانے کی دھمکیاں دیں ۔ سب بے کار اور جوں جوں مجھ میں ناکامی کا احساس بڑھتا، توں توں میرا جنون اور بڑھتا۔ حتیٰ کہ یہ حالت ہو گئی کہ مجھے وہ عیش و عشرت کھٹکنے لگا جس کا میں عادی تھا۔ 
ان دنوں اس محلے میں جہاں وہ رہتی تھی، عین اس کے گھر کے سامنے ایک مکان جو خالی ہوا تو میں نے جھٹ اسے سرے سے خرید ہی لیا اور اس مکان کو اپنی بیٹھک بنا لیا کہ دیکھو.... شاید داؤ چل ہی جائے۔ لیکن میری کوئی پیش نہ گئی۔ وہ لڑکی نہ جانے کیا نام تھا اس کا، عجیب سا نام تھا لیکن ہم چار یاری میں اسے شہزادی کہا کرتے تھے۔ وہ بالکل قابو میں نہ آئی۔ 
اسی محلے میں ہمارے ساتھ والے مکان میں یہ عورت رہا کرتی تھی جس کی قبر پر میں آج یہاں آیا ہوں ۔ 
اس نے دو چار بار اپنی نوکرانی کے ہاتھ بلوا بھیجا۔ عجیب عجیب بہانوں سے بلایا کرتی تھی۔ پہلی مرتبہ نوکرانی نے کہا۔ ’’ذرا ادھر آؤ، بی بی بلا رہی ہیں ۔ ان سے بات کر لیجئے، ڈیوڑھی کے دروازے کے پیچھے کھڑی ہیں ۔ ‘‘ دوسری بار تھوڑی سی برانڈی منگوا بھیجی۔ اسی طرح چار پانچ مرتبہ مجھے ملنے پر اکسایا گیا۔ لیکن اپنی طبیعت تو ان دنوں شہزادی پر مائل تھی اور سچ پوچھو تو بیاہی عورت سے اپنے کو کبھی دلچسپی نہیں ہوئی، طبیعت ہی ایسی ہے۔ 
پھر ایک روز جب رات کے ساڑھے آٹھ بجے تھے تو اس کی نوکرانی پرچی لے کر آ گئی۔ لکھا تھا۔ ’’شہزادی سے ملنا ہو تو رات کے ایک بجے آؤ۔ ‘‘ میں اسے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ ڈر تھا کہ انتقام لینے کے لئے چال نہ چلی گئی ہو۔ جس عورت کو آپ دھتکاریں ۔ ‘‘ وہ کھدر پوش سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ ’’وہ انتقام لینے پر آمادہ ہو جایا کرتی ہے۔ بہرصورت چار یاری میں آپس میں مشورہ کرنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو، ہمیں آزمانا ضرور چاہئے۔ تو بھائی صاحب ہم نے حفاظتی تدابیر سوچ لیں اور میرے چاروں یار گھر کے چاروں طرف چوکنے بیٹھے رہے کہ کوئی چال ہو تو مکان پر دھاوا بول دیں اور میں مکان کے اندر چلا گیا۔ اس رات پہلی مرتبہ میں نے اسے دیکھا۔ وہ بے حد خوبصورت تھی۔ شہزادی سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔ لیکن خوب صورتی کیا چیز ہے بھائی صاحب۔ سارا کھیل تو طبیعت کا ہے، وہ صرف دو ایک منٹ میرے پاس ٹھہری اور پھر شہزادی کو میرے حوالے کر کے آپ چلی گئی اور بھائی صاحب اس عورت نے کیا جادو کر دیا تھا اس لڑکی پر، وہ تو بالکل رام ہو چکی تھی رام۔ ہم پھر اکثر وہاں ملنے لگے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہمیں ملانے کے بعد وہ اپنا تقاضہ شروع کر دے گی۔ لیکن میرے شک بالکل ختم ہو گئے۔ اس کی نگاہوں اور انداز میں بلا کی آن تھی۔ آن اور بے تعلقی۔ وہ میرے پاس صرف دو ایک منٹ کے لئے ٹھہرتی تھی لیکن جب میں وہاں جاتا اور جب وہاں سے لوٹتا تو وہ آتی ضرور اور ہنس کر مجھ سے کہتی، تم آ گئے.... تم جا رہے ہو۔ پھر کب آؤ گے؟ وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتی تھی۔ عجیب عورت تھی وہ۔ ہاں بھائی صاحب....!‘‘ وہ آہ بھر کر بولا۔ ’’چار ایک ماہ تک ہم ملتے رہے۔ لیکن پھر اپنی طبیعت اکتا گئی۔ جیسے ہمیشہ اپنا طریقہ ہے۔ ‘‘ وہ ہنسا۔ ’’اور پھر وہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ ‘‘
کوئی چھ ماہ کے بعد ایک روز جب اپنی اسی بیٹھک میں ، میں ایک نئی لڑکی پھنسا کر لایا ہوا تھا تو نہ جانے کس نے مرا بھید فاش کر دیا اور لڑکی کے رشتہ دار پولیس لے کر وہاں آ گئے۔ اب وہ آدھی رات کے وقت نیچے میرا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں اور اوپر میں سخت گھبرایا ہوا ہوں ۔ بدنامی اور رسوائی کے ڈر سے لڑکی کو ادھر ادھر نہیں کر سکتا تھا۔ سارے محلے دار اپنے دشمن تھے۔ کرتا کیا.... عجیب مصیبت میں گرفتار تھا کہ دھم سے وہ کوٹھا پھاند کر میرے گھر میں اتر آئی اور آتے ہی بولی۔ تم چلے جاؤ جی۔ وہاں اس کمرے میں .... میں سنبھال لوں گی۔ اس وقت ا سنے عجیب سی پوشاک پہن رکھی تھی۔ ساری اور بنڈی اور نہ جانے کیا کیا۔ حالانکہ وہ ساری نہیں باندھتی تھی۔ بال بھی عجیب سے بنا رکھے تھے۔ پہچانی ہی نہیں جاتی۔ غالباً وہ جان بوجھ کر بھیس بدل کر آئی تھی۔ ’’اف....‘‘ اس نے آہ بھری۔ ’’بڑی دلیر عورت تھی وہ دلیری سے اس نے باہر کا صدر دروازہ کھولا اور سب کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ’’کیا ہے؟‘‘ وہ بولی۔ میرے میاں خود گھر پر نہیں ہیں ۔ میں ان کی بیگم ہوں ۔ ‘‘ اسے یوں کھڑا دیکھ کر پولیس والے اور ان کے ساتھی چوہوں کی طرح دبک کر چلے گئے اور میں صاف بچ گیا.... صاف۔ 
اسی روز جب وہ مجھ سے اکیلے میں ملی تو اس کے لئے میرے دل میں شدید جذبہ تھا۔ میں نے اس سے کہا، اگر تمہارے خاوند کو معلوم ہو گیا تو.... بڑی دلیری کی ہے تم نے۔ ’’تم میری فکر نہ کرو۔ ‘‘ وہ بڑی آن سے بولی۔ ’’اپنی بات کرو تم۔ ‘‘ اس وقت مجھے نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔ میرے دل میں اس کے لئے محبت کا ایک طوفان سا چل رہا تھا۔ میں نے پہلی مرتبہ لپک کر اسے بازوؤں سے تھام لیا۔ لیکن وہ تڑپ کر باہر نکل گئی۔ ’’میرا احسان اتار رہے ہو؟‘‘ وہ بولی۔ ’’اونہوں .... میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا، وہ ہماری ملاقات تھی۔ ‘‘
پھر میں نے اس بیٹھک میں اپنا قیام چھوڑ دیا اور پھر جب میں نے کل ناگاہ سنا کہ وہ انتقال کر گئی ہے تو میں غم سے پاگل ہو گیا اور آج اس قبر پر بیٹھے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ میری واحد محبوب تھی اور جیسے وہ قبر سے نکل کر کہے گی۔ ’’تم.... تم میرا فکر نہ کرو، جاؤ گھر۔ ‘‘ اس نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنی آنکھیں پونچھنے لگا۔ 
دیر تک کمرے میں طویل خاموشی چھائی رہی۔ پتلا دبلا نوجوان ویسے ہی ٹھوڑی ہاتھوں میں رکھ کر پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ کھدر پوش میز کو انگلی سے بجا رہا تھا اور اچکن پوش معمر آدمی زیر لب کچھ پڑھ رہا تھا۔ ’’اور.... اور آپ؟‘‘ دبلا پتلا نوجوان چونک کر بولا۔ ’’آپ کیسے آئے ہیں ؟ یہاں آپ کا کون عزیز فوت ہو گیا ہے؟‘‘ وہ اچکن پوش اور کھدر پوش دونوں اصحاب میں سے نہ جانے کس سے مخاطب تھا۔ 
کھدر پوش مسکرایا۔ ’’میرا گرو۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’میرا پیر سمجھ لو، میرا سبھی کچھ، وہ اس قبرستان میں دفن ہے۔ اس نے مجھے وہ دولت بخشی ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اگر میں اس سے نہ ملتا تو آج میں بھی عام نوجوانوں کی طرح سرخ ہونٹوں ، سیاہ بالوں ، متبسم آنکھوں اور سنہرے بدن کی ان بوتلوں میں کھویا ہوتا جو آج کل سڑکوں اور بازاروں میں آزادی سے گھومتی پھرتی ہیں ۔ شاید آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ عورت کا وجود کتنا دبیز پردہ ہے جو ہماری عقل پر پڑا ہے اور آج کی تہذیب اسے اور رنگین اور دبیز بنانے میں شدت سے مصروف کار ہے۔ اسے جیتے جاگتے رنگین بھنور کا صرف ایک مقصد ہے کہ وہ مرد کو لے ڈوبے اور اس کی کائناتی نگاہ کو ناکارہ کر دے۔ اسے زندگی سے بے گانہ کر دے۔ اف کتنا عظیم پردہ ہے۔ ‘‘ وہ شان ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’ایسا پردہ جسے ہم بخوشی اپنی عقل پر ڈالنے کے مشتاق ہیں ۔ کتنی بڑی رکاوٹ ہے، اگر میری اس سے ملاقات نہ ہوتی تو آج میری حسیات پر بھی وہی پردہ پڑا ہوتا۔ میرے بھی پر کٹے ہوتے تمہاری طرح۔ ‘‘
اچکن پوش معمر نے سر اٹھا کر غور سے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ مونچھوں والا ادھیڑ عمر مرد حیرانی سے منہ کھولے بیٹھا تھا اور دبلے پتلے نوجوان پر مایوسی سی چھائے جا رہی تھی۔ 
’’ہاں ۔ ‘‘ کھدر پوش بولا۔ ’’یقین کیجئے۔ یہ سب اس کی دین ہے.... اسی کی، حالانکہ مجھے صرف ایک مرتبہ ملی تھی۔ صرف ایک مرتبہ۔ ‘‘
’’ملی تھی۔ ‘‘ اچکن پوش کی دونوں آنکھیں گویا باہر نکل آئیں ۔ مونچھوں والے کے کھلے ہونٹوں پر تبسم دوڑ گیا۔ دبلے پتلے نوجوان نے دفعتاً اضطراب سے پائپ کے کش لینے شروع کر دیئے۔ 
کھدر پوش مسکرایا۔ ’’ہاں !‘‘ وہ بولا۔ ’’میری گرو بھی ایک عورت تھی بلکہ حسین عورت، ایک رنگین ترین بھنور، ایک ایسی ناگن جس کے کاٹے کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ باہر درختوں میں گویا بھوتنیاں ناچ رہی تھیں ۔ دور جاتی ندی سر ٹپک ٹپک کر رو رہی تھی۔ درختوں کی ٹہنیاں سائیں سائیں کر رہی تھیں اور چولہے پر رکھی ہوئی چائے کی کیتلی ایک غم ناک دھن بجا رہی تھی۔ 
’’میں ایک زمیندار کا بیٹا ہوں ۔ ‘‘ کھدر پوش بولا۔ ’’ہمارا گاؤں پہاڑ پر واقع ہے۔ سمجھ لو کوئی چھ ہزار فٹ کی بلندی پر۔ بچپنے سے ہی ہم پہاڑوں پر چڑھنے کے شوقین تھے اور اکثر بہت دور اونچے نکل جایا کرتے تھے۔ ہمارے گاؤں سے اوپر کوئی چار ہزار فٹ یا شاید ایک غار ہے جسے قدرت نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اس کا منہ تنگ ہے مگر اندر سے کافی وسیع و عریض ہے۔ اس کی چھت بہت اونچی ہے اور فرش بہت صاف۔ جس کے ایک طرف سے چشمہ نکلتا ہے اور وہیں تالاب سا بن جاتا ہے اور اس غار سے منظر اس قدر خوبصورت دکھائی دیتا ہے کہ ہم دیکھ کر دم بخود رہ جایا کرتے تھے۔ پھر موسم سرما میں جب چاروں طرف برف پڑ جاتی تو اس غار سے ایک عجیب نظارہ دکھائی دیتا۔ عجیب....‘‘ اس نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن موسم سرما میں راستے بند ہو جایا کرتے تھے اور وہاں پہنچنا محال ہو جاتا۔ پھر بھی پہلی بار برف پڑتی تو ہم وہاں ضرور پہنچتے اور وہاں سے بہت عجیب نظارہ نظر آتا جیسے وہ کوئی اور ہی دنیا ہو اور ہی جہان ہو۔ 
جب میں جوان ہوا تو نہ جانے کیوں میرے دل میں صرف ایک ہی خواہش تھی کہ کوئی فیشن کی حسین عورت ہو اور ہم دونوں موسم سرما میں اکیلے اس غار میں رہیں ۔ اکیلے نہ جانے یہ خواہش میرے دل میں کیسے پیدا ہوئی.... مجھے معلوم نہیں لیکن وہ بڑھتے بڑھتے جنون کی صورت اختیار کر گئی۔ ویسے پہاڑ کی عورتیں تھیں ۔ مگر مجھے ان سے نفرت تھی۔ میری نگاہ میں وہ عورتیں ہی نہیں تھیں ۔ 
پھر والد کے انتقال کے بعد میں نے اسے عملی جامہ پہنانے کی کوششیں شروع کر دیں ۔ بات بڑی مشکل تھی۔ ایسی عورت کو ڈھونڈنا بے حد مشکل تھا۔ تو قصہ مختصر میں اکثر شہر جانے لگا۔ کیونکہ شہر میں بہت سے لوگ میدانوں سے آتے تھے اور ان کے ساتھ وہ بیر بہوٹیاں ہوتی تھیں جن کے ساتھ غار میں رہنے کا مجھے خبط تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے شہر کے دلالوں سے راہ رسم بڑھائی لیکن میری بات سن کر وہ ہنس دیئے۔ ’’جی ایک دو دن بات کرو۔ اکٹھا ایک ہفتہ اور وہ بھی برف کے دنوں میں اور پھر جناب.... اتنی دور غار میں جانے کو کون تیار ہو گی۔ ‘‘
پھر ایک دن جب میں شہر ہی میں تھا اور ابھی پہلی ہی برف پڑی تھی ایک دلالہ بھاگی بھاگی آئی۔ ’’کام بن گیا۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’لیکن پیسہ بہت خرچ ہو گا۔ نہ جانے کون ہے وہ۔ یہاں اکیلی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہے۔ برف دیکھنے آئی ہے۔ ساتھ نوکرانی ہے۔ کوئی ایسی ویسی نہیں ۔ بڑے گھرانے کی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس کی نوکرانی کی جھولی بھر دو تو وہ کہتی ہے کہ میں منالوں گی اسے۔ ‘‘
اس کی بات سن کر میں اچھل پڑا۔ روپے کی تو مجھے پرواہی نہیں تھی۔ میں نے کہا، غار میں جائے گی؟ ’’ہاں !‘‘ وہ بولی۔ اس کی نوکرانی کہتی ہے۔ میں لے چلوں گی۔ پر یہی دو تین دن کے لئے، زیادہ نہیں ۔ تو خیر صاحب بات پکی ہو گئی اور ہم وہاں پہنچ گئے۔ غار میں پہنچ کر جب اس نے برقعہ اتارا تو میں اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اس کی بھنویں چڑھی ہوئی تھیں ۔ اس کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں اور اس کے ہونٹ بے نیازی سے بھیگے ہوئے تھے۔ جیسے اسے جسم سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ جیسے وہ زمین سے نہیں ، آکاش سے اتری ہوئی ہو۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ پتلا دبلا نوجوان منہ کھولے بیٹھا تھا۔ اچکن پوش کی آنکھیں ابلی ہوئی معلوم ہوتی تھیں اور مونچھوں والے کا چہرہ یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے اس پر ایک سفید لمبی داڑھی اگ آئی ہو۔ ہوٹل کا لڑکا جو برتن اٹھانے آیا تھا، چپ چاپ دروازے کے پٹ کے ساتھ چپکا کھڑا تھا۔ جیسے کھو گیا ہو۔ 
’’تین دن ہم وہاں اکٹھے رہے۔ تین دن‘‘ کھدر پوش نے بات شروع کی۔ ’’وہ غار نہیں رہا تھا۔ اس کی آمد کے بعد گویا وہ ایک مندر میں بدل چکا تھا۔ وہ عورت نہیں تھی۔ وہ ایک دیوی تھی اور میں ہوس کار نہیں تھا۔ وہ مجھ سے بہت قریب.... بہت قریب.... لیکن نہیں وہ مجھ سے قریب نہیں تھی۔ دور۔ بہت دور۔ میں اس کے پاؤں پر سر رکھے پڑا تھا۔ میرے ہاتھ اس کی پنڈلیوں سے چھو رہے تھے۔ لیکن وہ گوشت پوست کی پنڈلیاں نہیں تھیں ۔ وہ نور کی بنی ہوئی تھیں ۔ اسی نور کی جو غار سے باہر چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ چاروں طرف اور پھر نیچے سے اوپر تک چوٹیوں سے اوپر، بادلوں سے اوپر، نیلے بادلوں سے اوپر، نیلے آسمان سے اوپر۔ ‘‘ ایک ساعت کے لئے وہ خاموش ہو گیا۔ پھر بولا۔ ’’ان تین دنوں میں میں نے اس کے جسم کے ایک ایک حصے پر سجدے کئے۔ اس کے بند بند پر آنکھیں ملیں ۔ اس کے روبرو بیٹھ کر بھجن گائے۔ سب کچھ کیا، لیکن جانے کیوں میری خواہشات میں ہوس کا عنصر نہیں تھا۔ ہمارے جسم گویا فنا ہو چکے تھے۔ ہماری آرزوئیں اس پھیلی ہوئی سفیدی میں گویا دھل چکی تھیں ۔ اس لطیف فضا میں محبت ور تحیر کے سوا کچھ نہ تھا۔ بے غرض محبت، بے نام تحیر لیکن آپ نہیں جانتے۔ آپ نہیں سمجھ سکتے۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’آپ کبھی دس ہزار فٹ سے اوپر نہیں گئے ہوں گے۔ آپ نہیں جانتے کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔  کیسے جان سکتے ہیں آپ؟‘‘ ایک ساعت کے لئے وہ خاموش ہو گیا۔ 
’’تیسرے دن جدائی کے خیال سے میری گھگھی بندھ گئی۔ میں اس کی محبت میں دیوانہ ہو چکا تھا۔ میں ہمیشہ کے لئے اسے دیوی بنا کر اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ میں نے منتیں کیں ، ہاتھ جوڑے، سبھی جتن کئے، لیکن جواب میں وہ خاموش رہی، بالکل خاموش جیسے گونگی ہو۔ 
’’عمر بھر کے لئے ہونا منظور نہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا۔ ’’تو صرف ایک بار پھر صرف ایک بار، ایک مہینہ، ایک ہفتہ، ایک دن۔ ‘‘
آخر میری مسلسل منتوں کا یہ اثر ہوا کہ اس نے ایک بار پھر ملنے کا وعدہ کر لیا۔ ہم نے ایک تاریخ مقرر کر لی اور پھر وہ چلی گئی۔ 
اب میں آپ کیا بتاؤں کہ وہ ایک سال میں نے کیسا گزارا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ مقررہ دن میرے نزدیک اتنا ہم تھا جتنا کہ قتل کے ملزم کے لئے فیصلے کا دن ہوتا ہے۔ میرے لئے زندگی اور موت کا سوال تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ آئے گی۔ ضرور آئے گی۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ چاہے وہ ایک دن کے لئے آئے یا ایک ہفتہ کے لئے، میں اسے واپس نہیں جانے دوں گا اور ہم موسم سرما وہیں گزاریں گے۔ اسی خیال کے تحت میں نے چار مہینے کی جملہ ضروریات کی چیزیں اس غار میں پہلے ہی سے پہنچا دیں تھیں اور بالاخر اپنی دیوی کے انتظار میں بیٹھ گیا تھا۔ ‘‘
مونچھوں والے نے ڈھیلے ڈھالے ہونٹ سے کہا۔ ’’پھر؟‘‘
’’لیکن وہ نہ آئی۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’نہ آئی حتیٰ کہ راستے مسدود ہو گئے اور میں نے محسوس کیا کہ میں اتنے مہینوں کے لئے اس برف خانے میں دفن کر دیا گیا ہوں ۔ پہلے وہ تین دن تو میں غار کے اندر اس خیالی مجسمے کے سامنے کتے کی طرح پڑا روتا رہا۔ پھر جب دیوانگی دور ہوئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ وہیں کھڑی تھی جہاں وہ پچھلے سال کھڑی ہوا کرتی تھی۔ اس کی بھنویں اٹھی ہوئی تھیں اس کی آنکھیں باہر اوپر کی طرف دیکھ رہی تھیں اور وہ مسکرا رہی تھی جیسے مجھے بھی باہر اوپر کی طرف دیکھنے کی ترغیب دے رہی ہو۔ میں نے پہلی مرتبہ اطمینان اور سکون سے باہر دیکھا۔ لیکن آپ۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’آپ اس منظر کو ذہن میں نہیں لا سکتے۔ آپ دس ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر نہیں گئے کبھی۔ ‘‘
دس ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر....‘‘ اس نے پھر سلسلہ کلام جاری کرتے ہوئے کہا۔ ’’فضا اس قدر لطیف ہوتی ہے اور عالم اس قدر نورانی ہوتا ہے جیسے صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے یہاں دودھیا ں سویرا پھیلا ہوتا ہے۔ اس بلندی پر یہاں صبح صادق کے دودھیا سویرے کو قیام اور دوام مل جاتا ہے۔ اس دودھیا سویرے میں نگاہیں ہمیشہ اوپر کو اٹھتی ہیں اور انسان محسوس کرتا ہے جیسے وہ اڑ رہا ہو۔ انسانی کثافت کا بوجھ گویا اس کے پیٹھ سے اتر گیا ہو۔ اس کی آرزوؤں میں شدت کی وہ دھار نہیں رہتی۔ اس کے دکھوں اور حسرتوں میں تکلیف کا عنصر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بغض، دشمنیاں ، نفرتیں سب یوں اپنی کثافت کھو بیٹھتی ہیں جیسے مشین سے دبی ہوئی روئی کی گٹھڑی کو دھنک کر صاف کر دیا گیا ہو۔ وہاں روح سے بوجھ اتر جاتا ہے۔ وہاں کوئی ہوس کاری کا شکار نہیں ہو سکتا۔ وہاں کوئی جرم سرزد نہیں ہو سکتا۔ وہاں کوئی گناہ سے آلودہ نہیں ہو سکتا۔ جیسے یہاں صبح صادق کے وقت کوئی جرم نہیں کر سکتا۔ عیش و نشاط کی محفلیں چار بجے سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں ۔ حتیٰ کہ اس وقت محبوبہ کے لئے برہا کا راگ بھی گایا نہیں جا سکتا۔ صرف حمد و ثناء، صرف کائناتی جذبہ ہی اس وقت قیام حاصل کر سکتا ہے۔ اس دودھیا سویرے میں وہاں عشق جسم کے بندھن سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اپنی انا، اپنی ذات سے نکل کر کائنات کے ذرے ذرے پر بکھر جاتی ہے۔ وہ بلندی اور پھر وہ پاکیزہ نورانی برف، وہ چاروں طرف پھیلا ہوا نور اور وہ سکوت۔ گہرا بے اتھاہ سکوت۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ کمرے پر گویا دودھیا سویرا چھا گیا۔ 
’’تین مہینے کی اس نور سے بھیگی ہوئی تنہائی نے مجھے اپنی انا سے نکال کر ساری کائنات پر مسلط کر دیا۔ ’’اس نے سلسلہ کلام از سرنو جاری کیا۔ ’’اور وہ وجدان جو مجھ پر طاری رہا۔ اس کی وجہ سے تین مہینے میں میری کایا پلٹ گئی۔ پھر جب میں نیچے اترا تو ایک مرتبہ پھر مجھ پر وہی جنون طاری ہوا۔ اس کا جنون، میں نے جگہ جگہ خاک چھانی کہ اسے ڈھونڈ نکالوں ۔ لیکن بے سود، وہ نہ ملی، اس کا پتہ بھی نہ مل سکا۔ ‘‘
پھر جب موسم سرما آیا تو مجھ پر ایک نئی وحشت سوار ہو گئی۔ وہ نورانی غار مجھے اپنی طرف بلانے لگا۔ مجھ ہر وقت اسی منظر کا خیال رہنے لگا۔ وہی نور کی چادر، وہی اطمینان، وہی گہری خاموشی۔ یہ وحشت اس حد تک میرے سر پر سوار ہو گئی کہ میں پھر موسم سرما کاٹنے وہاں پہنچا اور اب میں ہر سال موسم وہیں گزارتا ہوں ۔ ‘‘
’’اور وہ وہ؟‘‘ دبلا پتلا نوجوان چلایا۔ ’’وہ پھر نہ ملی؟‘‘
’’وہ....‘‘ کھدر پوش ہنسنے لگا۔ ’’اس نورانی سویرے نے مجھے نکھار نکھار کر بذات خود دیوتا بنا دیا اور دیوی کے نقوش میرے دل سے دھو ڈالے اور چھ سال میں ، میں ے اس راز کو پا لیا کہ عورت مرد کی راہ میں محض ایک رکاوٹ ہے۔ ایک پردہ ہے، ایک ایسا پردہ ہے جسے ہٹائے بغیر ہم کہیں پہنچ نہیں سکتے۔ میں نے شدت سے محسوس کیا کہ زندگی رکاوٹوں کو عبور کرنے کا نام ہے۔ آرزوؤں کا غلام بننے کا نہیں ۔ میری طرف دیکھئے۔ ‘‘ وہ چلایا۔ ’’سردی ہو یا گرمی، میں صرف کھدر کے کرتے میں رہتا ہوں اور یقین جانو میرے بدن میں اس قدر قوت دفاع پیدا ہو چکی ہے کہ میں سانس لیتا ہوں تو مجھے لذت محسوس ہوتی ہے۔ ایسی لذت جو عورت کے رنگین قرب سے بھی میسر نہیں ہو سکتی۔ ‘‘
’’لیکن وہ....؟‘‘ پتلے دبلے نوجوان نے پھر اس کی توجہ اپنی طرف منعطف کرنے کی کوشش کی۔ 
وہ مسکرایا۔ ’’جب میں اس کے سحر سے آزاد ہو چکا تھا تو ایک روز شہر میں اتفاقاً وہ مجھے مل گئی۔ اس کے ساتھ وہی نوکرانی تھی۔ ‘‘
’’مل گئی۔ ‘‘ مونچھوں والے نے بیٹھے ہوئے گلے سے دہرایا۔ ’’واقعی....؟‘‘
’’ہاں !‘‘ وہ بولا۔ ’’اس نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے ہنس کر کہا۔ دیوی تم پھر نہ آئیں ۔ اس نے جھرجھری لی اور بولی اس مندر میں دیوی کی جگہ نہیں ہے۔ میں نے از راہ شرارت سے کہا کہ پھر پجاری کو بلا لیا ہوتا۔ وہ پھر ہنسی لیکن جلد ہی گویا کسی اثر سے بھیگ کر کہنے لگی۔ اس مندر کا پجاری کسی کے بلائے سے نہیں آتا۔ میں خود ابھی تک اسی مندر کی پجارن ہوں ۔ اس کی آنکھیں اوپر کی طرف اٹھ گئیں اور ان میں اس وقت وہی دودھیا اجالا چمک رہا تھا۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ پھر کچھ دیر بعد آپ ہی آپ کہنے لگا۔ ’’ہاں وہ میری گرو تھی۔ میرا پیر تھی۔ میرا سبھی کچھ تھی اور جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ وفات پاگئی ہے تو میں یہاں آئے بغیر نہ رہ سکا۔ لیکن....‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔ ’’اب کی سردیوں میں وہ وہاں ضرور آئے گی۔ اب وہ پردہ نہیں رہا، پردے سے نکل چکی ہے، وہ یقیناً ابھی تک اسی مندر کی پجارن ہے۔ ابھی تک۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ 
دفعتاً ہوٹل کا لڑکا چلایا۔ ’’بابو جی بادل چھٹ گئے ہیں اور بس آنے میں صرف چند منٹ باقی ہیں ۔ ‘‘
’’اور‘‘ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے مونچھوں والے نے اچکن پوش بزرگ کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’اور صاحب آپ کا کون عزیز فوت ہوا ہے؟‘‘ اور سب کی نگاہیں اچکن پوش کی طرف اٹھ گئیں ۔ 
وہ گھبرا گیا، پھر اچکن جھاڑتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’میں تو کسی عورت کے لئے یہاں نہیں آیا۔ میں تو تقریباً ہر روز ہی آتا ہوں یہاں ۔ جب سے میری بیوی فوت ہوئی ہے۔ روز فاتحہ کے لئے آتا ہوں ۔ ‘‘
’’بیوی؟‘‘ دبلے پتلے نوجوان نے دہرایا۔ 
’’اتنی وفادار اور خدمت گزار بیوی شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’حالانکہ میں بوڑھا تھا اور وہ نوجوان تھی۔ لیکن سبحان اللہ۔ وہ گویا صرف میری خدمت کے لئے جیتی تھی۔ ‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ’’جنتی روح تھی.... جنتی۔ ‘‘ بھرائی ہوئی آواز میں اس نے کہا اور خاموش ہو گیا اور وہ چاروں ملحقہ قبرستان کی طرف چل پڑے۔ 
بادل واقعی چھٹ گئے تھے۔ سورج مغرب میں تانپ کی تھال کی طرح ٹنگا ہوا تھا۔ اس کی سنہری شعاعوں میں بدلیاں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں ۔ 
’’وقت بہت کم ہے۔ ‘‘ کھدر پوش بولا۔ ’’شہر کے لئے یہ آخری بس ہے۔ ‘‘
پتلے دبلے نوجوان نے کہا۔ ’’لیکن قبر پر دیا تو جلانا چاہئے کم از کم۔ ‘‘
’’ہاں ، ہاں !‘‘ مونچھ والا بولا اور وہ تینوں قبر کی طرف لپکے اور جب تینوں نے بیک وقت ایک تربت کے طاق کی طرف ہاتھ بڑھائے تو تینوں کے سر آپس میں ٹکرا گئے۔ 
’’ہاں ....!‘‘ وہ تینوں بہ یک وقت چلائے اور انہوں نے ایک نئے مفہوم سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ لیکن پیشتر اس کے کہ وہ کچھ کہتے۔ اچکن پوش بزرگ کی آواز سنائی تھی۔ ’’میاں تم کدھر آ نکلے ہو؟‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’مجھے اپنی بیوی کے مزار کا دیا تو جلا لینے دو۔ ‘‘
وہ سب تعجب سے بوڑھے کی طرف دیکھنے لگے۔ پتلے دبلے اضطرابی نوجوان نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن کھدر پوش نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر زیر لب کہا۔ ’’اونہوں .... دوسروں کو ننگا نہ کرو۔ ہمیں پردہ اپنی عقل سے اٹھانا ہے۔ اپنی عقل سے۔‘‘
’’کتنا رنگین پردہ ہے۔ ‘‘ مونچھوں والے نے آہ بھری۔ 
’’کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔ ‘‘ کھدر پوش نے کہا۔ 
اچکن پوش انہماک سے دیا جلانے میں مصروف تھا۔ اس کے گال آنسوؤں سے تر تھے۔ سورج کی آخر شعاعوں نے بادلوں سے چھن کر فضا کی دھاریاں سی بنا دی تھیں ۔ جیسے نور کا ایک مینار کھڑا ہو اور چاروں طرف دودھیا سویرا پھیلا تھا۔ 
٭٭٭





چکٹ گاڑی، ہونکتا موٹر اور موم بتی



لاحول ولا قوة۔ کتنی بے معنی خبر ہے۔ میں نے غصے میں اخبار اٹھا کر پرے پھینک دیا۔ بھلا ماننے کی بات ہے کیا کہ کہانی اس قدر پر اثر ہو کہ سننے والوں کو فساد پر آمادہ کر دے۔ میں نہیں مانتا، میں نے چلا کر کہا۔ 
ایسے ہی من گھڑت خبریں چھاپ رہے ہیں ۔ بھئی خود کہانیاں لکھتا ہوں ۔ ساری زندگی اسی دھندے میں گزری ہے۔ ادبی انجمنیں شاہد ہیں کہ میری کوئی کہانی کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکی ایمان سے۔ لوگ سنتے ہیں ، اوئے اوئے کر کے خاموش ہو جاتے ہیں ۔ کبھی کبھار انجانے میں واہ بھی کر دیتے ہیں ۔ لیکن جلد ہی ہوش میں آ کر تنقید کی چمٹیاں ، قینچیاں ، چھریاں نکال لیتے ہیں اور پھر چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ کہانی کو کم، لکھنے والے کو زیادہ۔ 
اس روز صبح سویرے سے میں اخبار لئے بیٹھا تھا۔ سب سے پہلے یہی خبر نظر آئی تھی کہ مزدور شل میں کسی بڑے میاں نے ایک کہانی سنائی جسے سن کر بھی مشتعل ہو گئے۔ فساد پر برپا ہو گیا۔ دو مارے گئے، پانچ زخمی ہو گئے۔ آپ کہیں گے اتنی غیر اہم خبر میری نگاہ پر کیسے چڑھی۔ آپ سے کہہ دوں تو کیا حرج ہے کہ میں غیر اہم خبریں پڑھا کرتا ہوں ۔ اخبار پڑھنا بھی ’’مفتی، سچی اور عوامی خبریں پڑھنا چاہتے ہو تو غیر اہم خبریں پڑھو۔ اس لئے اخبار کو الٹی طرف سے کھولو۔ جہاں غیر اہم خبریں ہوتی ہیں ۔ اہم خبریں کبھی سچی نہیں ہوتیں ۔ جن مسائل سے بڑوں کی غرض و غایت وابستہ ہو، نہ سچی ہو سکتی ہیں نہ عوامی۔ لہٰذا عوام سے متعلق خبریں پڑھو جو اخبار میں غیر اہم صفحات پر ڈھیر کر دی جاتی ہیں ۔ مثلاً فلاں خاتون کے گھر دو سروں والا بچہ پیدا ہوا۔ فلاں گھر میں جنات کی خشت باری ابھی تک جاری ہے۔ راہ چلتے نوجوان نے خاتون کو آنکھ ماری اور پکڑا گیا۔ ایسی خبریں ۔ ‘‘
اس روز اخبار میں پڑھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ ممکن ہے یہ درست ہو۔ بھلا غیر سیاسی خبر میں جھوٹ ملانے کی کیا ضرورت تھی۔ جوں جوں میں سوچتا گیا، توں توں شکوک پیدا ہوتے گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کہانی اس قدر پر اثر ہو کہ فساد پر آمادہ کر دے۔ 
پھر خیال آتا۔ آخر ادبی محفل میں بھی تو کہانی سننے والے آستین چڑھا کر بات کرتے ہیں اور میز پر مکے مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس لحاظ سے تو خبر درست ہو سکتی ہے۔ پھر خیال آتا ہے۔ نہیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ ادبی محفل میں تو پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں ۔ ہر کسی نے تنقید پر کوئی نہ کوئی کتاب پڑھ رکھی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنے علم کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور علم کا مظاہرہ دوسرے کی بات رد کرنے میں ہی ہوتا ہے۔ سپورٹ کرنے میں نہیں ۔ پھر یہ بھی ہے کہ ادبی محفل کا ہال واحد جگہ ہے جہاں ادیب کو کھل کر بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ باہر سیاستئے بولنے نہیں دیتے۔ گھر میں بیوی اور پھر یہ بھی تو ہے کہ معترض کا مقصد کہانی پر بات کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی ادبی صلاحیتیں چھانٹنا ہوتا ہے۔ مزدور نقاد تھوڑا ہی ہوتے ہیں ۔ وہ ایک معصوم سی کہانی پر کیسے مشتعل ہو سکتے ہیں ۔ 
’’خبر من گھڑت ہے۔ ‘‘ میں نے چیخ کر کہا اور غصے میں اخبار کو پھینک دیا۔ عین اس وقت سجاد آ گیا۔ سجاد میرا دوست ہے۔ یقیناً آپ اسے جانتے ہوں گے۔ بھئی مشہور جرنلسٹ ہے۔ وہ آتے ہی بولا۔ ’’کون سی خبر من گھڑت ہے؟‘‘
’’خبر ہے کہ چلتی گاڑی میں ایک مزدور نے کہانی سنائی جسے سن کر لوگ اس قدر مشتعل ہو گئے کہ فساد برپا ہو گیا۔ دو مارے گئے، پانچ زخمی ہو گئے۔ لیکن میں نہیں مانتا کہ کوئی کہانی اس قدر پر اثر ہو سکتی ہے۔ ‘‘
’’کیوں نہیں ہو سکتی؟‘‘ وہ بولا۔ 
’’بھئی۔ میں خود افسانہ نویس ہوں میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
’’کیوں نہیں ہو سکتا؟‘‘ سجاد تن کر کھڑا ہو گیا۔ 
’’بھئی ایک کہانی کی وجہ سے اتنا بڑا فساد ہو جائے۔ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ البتہ ایک صورت ہے۔ اگر کہانی ذاتی نوعیت کی ہو تو پھر ہو سکتا ہے کہ سننے والے کو غصہ آ گیا ہو۔ ‘‘
سجاد نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ’’بولا۔ ’’یہ کہانی ذاتی نوعیت کی نہیں تھی۔ ‘‘
’’تمہیں پتا ہے کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’ہاں ! پتا ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔ 
’’کیسی کہانی تھی وہ؟‘‘ میں نے اسے کریدا۔ 
’’عام سی تھی جیسے فیبلز ہوتی ہیں ۔ مثلاً چڑی کاں کی کہانی۔ ‘‘
’’نہیں یار۔ مذاق نہ کر۔ ‘‘ میں ہنس پڑا۔ ’’اوّل تو کہانی میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ فساد برپا ہو سکے۔ پھر چڑی کاں جیسے کہانی۔ اونہوں ! یہ خبر سرے سے ہی غلط معلوم پڑتی ہے۔ ‘‘
’’خبر تو بھئی سولہ آنے مصدقہ ہے۔ ‘‘ سجاد نے تن کر کہا۔ 
’’تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ مصدقہ....؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’بھئی میں خود وہاں موجود تھا۔ ‘‘ سجاد نے جواب دیا۔ 
’’موقع پر؟‘‘
’’ہاں ! موقع پر۔ ‘‘
’’تم نے وہ کہانی خود سنی تھی کیا؟‘‘
’’بالکل بھئی۔ میں کہانی سنانے والے کے قریب کھڑا تھا۔ ‘‘
’’تو یار۔ مجھے سناؤ وہ کہانی۔ ‘‘ میں نے پینترا بدلا۔ 
’’بھئی، وہ ایک عام سی کہانی تھی۔ جیسے ہوتی ہے پرانی کہانیاں اور سنانے والا ایک عام سا آدمی تھا۔ ایک معمر مزدور اور کہانی سنانے سے اس کا کوئی خاص مقصد نہ تھا۔ ‘‘
’’تو پھر اس نے کہانی سنائی کیوں ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’یار بڑے بوڑھوں کی عادت ہوتی ہے کہ جاں بیٹھتے ہیں ، کوئی اصلاحی بات یا نصیحت چھیڑ دیتے ہیں اور پھر اس کی سپورٹ میں کوئی فوک وزڈم کی کہانی سنا دیتے ہیں یا سعدی کی یا مولانا روم کی کوئی حکایت۔ بہرحال وہ اپنی نوعت کی کہانی تھی۔ ‘‘ سجاد نے کہا۔ 
’’تم سناؤ تو سہی۔ ‘‘ میں نے سجاد کی منت کی۔ 
سجاد کرسی پر بیٹھ گیا۔ جیب سے سگریٹ نکالا، سلگایا۔ ایک لمبا کش لے کر دھواں چھوڑا۔ پھر جیسے کہانی سنانے کے لئے تیار ہو کر بیٹھ گیا۔ لیکن جلد ہی پھر ہچکچا کر بولا۔ ’’اس وقت کہانی، پھس پھسی لگے۔ دراصل کہانی کا ماحول سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ‘‘
’’تو ماحول بھی بیان کر دو۔ اس میں کیا مشکل ہے؟‘‘ میں نے کہا۔ 
کچھ دیر کے لئے سوچتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’تم فیکٹری شٹل کو جانتے ہو کیا؟ جس میں یہ حادثہ وقوع پذیر ہوا؟‘‘
’’بھئی ظاہر ہے، وہ کوئی گاڑی ہو گی۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔ 
’’گاڑی تو ہے۔ ‘‘ سجاد بولا۔ ’’لیکن ایک خصوصی گاڑی ہے۔ یہ دراصل روز صبح شہر سے مزدوروں کو لاد کر تارپین آئل فیکٹری تک پہنچاتی ہے اور شام کو فیکٹری سے انہیں لاد کر شہر لے آتی ہے۔ یہ فاصلہ تقریباً چالیں میل کا ہے۔ اس لائن کو کوئی سٹیشن نہیں ۔ صرف فلیگ سٹاپ ہیں ۔ جب یہ شٹل شہر پہنچتی ہے تو اسے باقاعدہ پلیٹ فارم پر نہیں لاتے بلکہ سٹیشن سے باہر سائیڈنگ پر کھڑا کر دیتے ہیں ۔ 
’’وہ کیوں ؟ میں نے پوچھا۔ 
’’بھئی اس لئے کہ یہ گاڑی اس قابل نہیں کہ اسے منظر عام پر لایا جائے۔ ‘‘ سجاد نے کہا ’’دراصل یہ گاڑی نہیں ، تیلی کی دکان ہے۔ کل کوئی چھ بوریاں ہوں گی۔ سب تیل سے چکٹ۔ سیٹیں ، فرش، پہئے، پائیدان، سب کالے دھت۔ نہ تو بوگیوں میں دروازوں کے پٹ ہیں ۔ نہ کھڑکیوں کے شٹر۔ سامان رکھنے کے تختے بھی اکھاڑ لئے گئے ہیں ۔ کھڑکیوں کو بند کرنے والے شیشے اور تختے ٹوٹ چکے ہیں ۔ باتھ روم کے دروازے بھی غائب ہیں ۔ ان بوگیوں میں نہ بتیاں ہیں ، نہ پنکھے۔ صرف یہی نہیں ، بوگیوں کا ہر پیچ ڈھیلا ہے۔ پہئے چلنے کے ساتھ جھولتے جھومتے بھی ہیں ۔ ایک گاڑی کو دوسری گاڑی سے جوڑنے والے کنڈے تو ہیں مگر بفرز کے شاک آبزاربرز کب کے دم توڑ چکے ہیں ۔ چ لتے ہوئے دھکے لگتے ہیں اور ساتھ عجیب و غریب قسم کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں ۔ یوں جیسے پراسرار فلم میں بیک گراؤنڈ میوزک چل رہی ہو۔ ‘‘ سجاد ہنسنے لگا۔ ’’وہ گاڑی نہیں ، اونٹ ہے۔ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ۔ البتہ ایک ہوٹر ہے جو بہت جاندار ہے۔ نہایت بھدی اور ڈراؤنی آواز میں گونجتا ہے اور تقریباً سارا رستہ بجتا ہی رہتا ہے۔ ‘‘ کچھ دیر کے لئے وہ رک گیا۔ 
’’ہوا یوں کہ چار دن پہلے تارپین آئل فیکٹری کے متعلق ایک خبر چھپتی تھی کہ بیروزہ کے پھوک سے ہم ایک ایسی چیز بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو عوام کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرے گی۔ ‘‘ وہ پھر رک گیا۔ 
’’اخبار کے ایڈیٹر نے مجھ سے کہا۔ بھئی یہ کیا چیز ہے جو عوام کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرے گی؟ اس کی تفصیلات کا پتہ لگاؤ اور اگر واقعی یہ چیز اہم ہے تو اس پر ایک فیچر لکھ دو۔ اس پر میں نے فیکٹری کے پی آر کو فون کر کے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ وہ بولا۔ وہ چیز بتانے کی نہیں ، دیکھنے کی ہے۔ یہاں آ جاؤ۔ اسی وجہ سے مجھے کل تارپین آئل فیکٹری جانا پڑا۔ وہاں دن بھر ریسرچ میں مصروف رہا۔ پھر شام کو اسی گاڑی سے لوٹا جس میں یہ حادثہ پیش آیا۔ ‘‘ سجاد خاموش ہو گیا۔ پھر بولا۔ ’’چائے پلاؤ گے؟‘‘
میں نے چڑ کر کہا۔ ’’پہلے ساری بات بتا مجھے، پھر پلاؤں گا۔ 
وہ ہنسنے لگا۔ سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا۔ بولا ’’واپسی پر جب سٹاپ پر پہنچا تو گاڑی حرکت میں آچکی تھی، خیر۔ میں دوڑ کر سوار ہو گیا۔ اس وقت سورج غروب ہو رہا تھا۔ اندھیرا پھیل رہا تھا۔ گاڑی مزدوروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ دراصل اس روز ان کا پے ڈے تھا۔ اس لئے حاضری فل تھی۔ گاڑی میں تیل، پسینے اور فکر مندی کی بو کے بھبھکے اٹھ رہے تھے۔ وہ سب گردنیں جھکائے بیٹھے تھے۔ ہر کوئی اپنی ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ ایک دوسرے سے کوسوں دور، نہ جانے کہاں ۔ ‘‘
’’تو تو کہتا ہے، وہ پے ڈے تھا۔ ‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ 
’’بالکل پے ڈے تھا۔ ‘‘ سجاد نے جواب دیا۔ 
’’مزدور تو پے ڈے پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا۔ 
’’یہ غلط فہمی ہے۔ ‘‘ سجاد بولا۔ ’’مہینے بھر مزدور لوگ پے حاصل کرنے کی امید رچائے رکھتے ہیں ۔ خواب دیکھتے ہیں ۔ پے ڈے کو انہیں احساس ہوتا ہے کہ حصول کتنا عبث ہے۔ کتنا بے معنی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے۔ ‘‘ سجاد مسکرایا۔ ’’ کہ زندگی کا المیہ حاصل نہ ہونے میں نہیں بلکہ حاصل ہو جانے کے بعد اس احساس میں ہے کہ کیا اسی کے لئے اتنی شورا شوری تھی۔ نٹشے کہتا ہے کہ ہماری زندگی کا عظیم ترین لمحہ وہ ہے جب ہماری بڑی سے بڑی آرزو، بڑی سے بڑی کامیابی ہماری نگاہ میں ہیچ نظر آتی ہے۔ ‘‘
ہٹا یار۔ ‘‘ میں نے چڑ کر کہا۔ ’’نٹشے بازی چھوڑ۔ مجھے وہ کہانی سنا۔ ‘‘
وہ میری بے قراری پر ہنسنے لگا۔ ’’ایک معمولی سی کہانی کے لئے تم خود کو رسی کی طرح بل دے رہے ہو۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور بات شروع کی، بولا۔ ’’اتفاق سے مجھے کھڑے ہونے کے لئے وہیں جگہ ملی وہ بڈھا مزدور داستان گو بیٹھا تھا۔ ایک دبلا پتلا مزدور میرے پاس کھڑا تھا۔ بولا: میاں جی۔ آپ کہانی سنانے لگے تھے۔ ہاں ، ہاں ، وہ بڈھا بولا۔ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب غلام رکھنے کی رسم عام تھی۔ بازار میں ہر اٹھوارے منڈی لگا کرتی تھی جس میں غلام کھلم کھلا بکتے تھے۔ سوداگر بکنے والے کو تھڑے پر کھڑا کر کے اس کی خوبیاں گنواتے کہ دیکھ لو۔ مضبوط آدمی ہے۔ جوان ہے، طاقت ور ہے۔ کام کر سکتا ہے۔ بے داغ ہے، جس طرح گھوڑے کو بیچتے وقت اس کے دانت دکھاتے ہیں ۔ پھر بولی شروع ہو جاتی۔ جو سب سے اونچی بولی دیتا، غلام ہمیشہ کے لئے اس کی ملکیت ہو جاتا اور مالک اس سے زندگی بھر جو کام چاہتا، لیتا۔ 
گاڑی چیختی، چلاتی، کراہتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔ گرد و پیش کا ویران علاقہ دھندلا ہو چکا تھا۔ رات کا اندھیرا ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ گاڑی کے اندر فکر مندی اور اداسی کے انبار لگے ہوئے تھے۔ مزدوروں کی شکلیں دھندلائے جا رہی تھیں ۔ ہوٹر اپنی بھدی آواز میں کراہ رہا تھا۔ 
کچھ دیر بعد میاں جی بولے: پھر جو بندے کو غلام بنانے کے خلاف آوازے لگنے لگے تو ملک کے قانون میں بدلی کر دی گئی۔ ملک میں ڈھنڈورا پیٹ کر اعلان کر دیا گیا کہ جس طرح مالک کو حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے، اپنے غلام کو منڈی میں لا کر بیچ سکتا ہے۔ اس طرح آئندہ سے غلام کو بھی حق حاصل ہو گا۔ وہ جب چاہے، خود کو بکنے کے لئے پیش کر دے۔ مطلب یہ کہ جس غلام کو اپنا آقا پسند نہ ہو، وہ شہر کے قاضی کے پاس جائے۔ اگر قاضی اسے بکنے کی اجازت دے دے تو منڈی میں خود کو بکنے کے لئے پیش کر دے۔ بولی میں جو قیمت ملے، وہ اپنے پہلے مالک کو دے دے اور خود کو نئے مالک کے حوالے کر دے۔ میاں جی پھر خاموش ہو گئے۔ 
گاڑی میں بیٹھے ہوئے مزدور جوں کے توں چپ چاپ بیٹھے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی کہانی سن نہیں رہا تھا۔ ہر کوئی اپنی ہی سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ صرف وہی دبلا پتلا مزدور ہنکارا بھر رہا تھا۔ جی میاں جی پھر....؟
میاں جی نے سر اٹھایا۔ ایک لمبی آہ بھری اور بولے: شہر میں ایک غلام تھا زبیر۔ نوجوانی کا عالم تھا۔ مسیں بھیگ رہی تھیں ۔ جسم میں جان تھی۔ ناک نقشے میں جاذبیت تھی۔ وہ ہر چوتھے دن شور مچا دیتا۔ میں بکوں گا۔ میں اس مالک کے پاس نہیں رہوں گا۔ اس مالک میں کیا عیب ہے جو تو اس کے پاس نہیں رہے گا؟ قاضی نے پوچھا۔ زبیر بولا: یہ مالک مجھ سے اچھا برتاؤ نہیں کرتا۔ میں سارا دن اس کے کاموں میں جتا رہتا ہوں لیکن یہ خود تو تازی روٹی کھاتا ہے اور مجھے کھانے کو باسی دیتا ہے۔ قاضی نے زبیر کو بہت سمجھایا بجھایا کہ اتنی سی بات کو دل پر نہیں لگاتے لیکن زبیر نہ مانا۔ قاضی نے اسے بکنے کی اجازت دے دی اور وہ پھر سے بک گیا۔ 
اپنے نئے مالک کے گھر چند ہی روز رہنے کے بعد زبیر نے پھر شور مچا دیا۔ میں بکوں گا۔ میں بکوں گا۔ میں اس مالک کے پاس نہیں رہوں گا۔ اس لئے کہ یہ خود گیہوں کی کھاتا ہے اور مجھے جو کی دیتا ہے۔ قاضی نے پھر اسے بہت سمجھایا بجھایا مگر وہ نہ مانا اور پھر بک گیا۔ 
تیسرے مالک کے گھر پہنچتے ہی زبیر نے پھر چیخ پکار شروع کر دی۔ اس سے بہتر تو میرا پہلا مالک ہی تھا جو اگرچہ جو کی دیتا تھا لیکن دو وقت دیتا تھا۔ یہ تو صرف ایک وقت روٹی دیتا ہے اور وہ بھی روٹی نہیں بلکہ پانی میں بھگوئے ہوئے سوکھے ٹکڑے۔ یہ مجھے انسان نہیں ، جانور سمجھتا ہے۔ میں اس کے پاس نہیں رہوں گا۔ قاضی بولا: زبیر میں نے تجھے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ مالک ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ اب میں تجھے کیا سمجھاؤں ۔ 
گاڑی کے ہوٹر نے زور سے لمبی چیخ ماری۔ بوڑھا رک گیا۔ 
گاڑی ہونک رہی تھی۔ یوں جیسے سسکیاں بھر رہی ہو۔ کل پرزے کڑکڑا رہے تھے۔ انجن یوں چیخ رہا تھا جیسے چلا چلا کر کہہ رہا ہو۔ بکوں گا، میں بکوں گا، گاڑی کے اندر خاموشی کا تنبو تنا ہوا تھا۔ گھپ اندھیرے میں سے دبی دبی آہوں کراہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں ۔ 
پھر میاں جی؟ دبلے پتلے واحد سامع کی آواز سنائی دی۔ پھر کیا ہوا؟ میاں جی بولے۔ زبیر کی آوازیں آتی رہیں ۔ آتی رہیں ۔ میں بکوں گا۔ میں بکوں گا۔ پہلے ان آوازوں میں غصے کا رنگ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ان میں دکھ کا پہلو ابھرتا گیا۔ پکاریں کراہوں میں بدلتی گئیں اور وہ بکتا گیا۔ بکتا گیا۔ پھر دفعتاً اس کی آواز خاموش ہو گی۔ زبیر چپ ہو گیا۔ زبیر کو چپ دیکھ کر لوگ چونکے۔ یہ کیا ہوا؟ زبیر چپ کیوں ہو گیا؟
سارے مزدوروں اور غلاموں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں ۔ ایک بولا۔ زبیر کو آخرکار آقا مل گیا ہے۔ وہ خوشی کی وجہ سے چپ ہو گیا ہے۔ دوسرے نے کہا۔ چلو مان لیا کہ وہ خوش ہے۔ پھر وہ خوش دکھتا کیوں نہیں ؟ پہلے اس کا چہرہ کتنا صاف تھا۔ اس پر بشاشت کی جھلک تھی۔ مگر اب ماتھے پر تیوری چڑھ بیٹھی ہے۔ آنکھیں اندر دھنس گئی ہیں ۔ 
ایک بوڑھے غلام سے کہا: وہ اس لئے چپ ہو گیا ہے کہ اب وہ جان گیا ہے۔ 
ااس کے بعد جب زبیر بازار میں نکلتا تو لوگوں کی نگاہیں اس پر مرکوز ہو جاتیں ۔ دیکھو دیکھو۔ وہ قاضی کی طرف جا رہا ہے۔ ضرور وہ بکنا چاہتا ہے، لیکن جب وہ دیکھتے کہ اس کا رخ کسی اور طرف ہے تو وہ مایوس ہو جاتے۔ پھر وہ آوازے کستے۔ زبیر تو قاضی کے پاس کیوں نہیں جاتا؟ کیا تو بکنا نہیں چاہتا؟ کیا تو خوش ہے؟ لیکن زبیر ان آوازوں کو ان سنی کر کے گردن جھکائے چلا جاتا۔ 
لوگوں کی آپس میں شرطیں بندھ گئیں ۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ زبیر خوش ہے۔ کچھ کہتے تھے، وہ خوش نہیں ۔ شرط پر فیصلہ سننے کے لئے لوگوں نے اپنے آوازے تیز تر کر دیئے۔ آخر ایک روز ان آوازوں سے اکتا کر زبیر رک گیا۔ اس نے منہ موڑ کر آواز لگانے والے کی طرف دیکھا اور تلا کر کہا۔ میں نہیں بکوں گا۔ میں نہیں بکوں گا۔ میں خوش ہوں ، بہت خوش، آوازے ل گانے والوں پر خاموشی طاری ہو گئی۔ ابھی زبیر نے جانے کے لئے رخ بدلا ہی تھا کہ مجمعے سے ایک آواز آئی۔ تو کیوں نہیں بکے گا.... وجہ؟
زبیر پھر رک گیا.... بولا: میرا آقا علم کا رسیا ہے۔ مطالعے کا شوقین ہے مگر اتنا کنجوس ہے کہ چراغ دان نہیں خریدتا۔ رات کو جب مطالعہ کرتا ہے تو چراغ میری ہتھیلی پر رکھ دیتا ہے۔ یوں میں آدھی آدھی رات تک چراغ اٹھائے رہتا ہوں ۔ نہیں ۔ میں نہیں بکوں گا۔ وہ چیخ کر بولا۔ میں ڈرتا ہوں کہ میرا اگلا مالک مجھے تیل پلا دے گا اور میرے منہ سے بتسی نکال کر مجھے دیا بنا لے گا۔ میں نہیں بکوں گا۔ میں نہیں بکوں گا۔ 
بڈھا خاموش ہو گیا۔ گاڑی پر سکوت طاری ہو گیا۔ اندھیرا اس قدر گاڑھا تھا کہ محسوس ہوا جیسے کسی نے ہمیں کنوئیں میں دھکا دے دیا ہو۔ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ یونہی صدیاں بیت گئیں ۔ پھر دفعتاً گاڑی کا ہوٹر کراہنے لگا۔ میں نہیں بکوں گا۔ میں نہیں بکوں گا۔ اس پر گاڑی میں ایک حرکت پیدا ہوئی۔ ایک آواز آئی۔ میاں جی، تو مجھے طعنہ دے رہا ہے۔ عبداللہ میرا مذاق اڑا رہا ہے۔ میرا مزدور کھڑا ہو گیا۔ بولا: یہ تجھے طعنے نہیں دے رہا۔ عبداللہ میرا مذاق اڑا رہا ہے۔ مجھے پتا ہے۔ ‘‘ اس کی آواز میں تشدد تھا۔ 
نہیں ، نہیں ، دبلا پتلا مزدور۔ میاں جی تو کہانی سنا رہے تھے۔ ٹھہر جا تو۔ تشدد بھری آواز پھر آئی۔ اس بڈھے کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔ میں اس کو سمجھ لوں گا۔ 
پھر اس ہنگامے سے ایک دھونس سنائی دی اور ایک اونچا لمبا آدمی چھلانگ لگا کر کونے سے باہر نکل آیا۔ تو رہنے دے۔ لمبا تڑنگا بولا۔ اس بڈھے نے تجھے نہیں مجھے چھیڑا ہے۔ مجھے میرا نام زبیر ہے۔ میں اسے بتاؤں گا کہ میں کیوں بکنا نہیں چاہتا۔ ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ، جس نے اس کی حمایت کی، اس سے میں سمجھ لوں گا۔ 
پھر بوگی میں چاروں طرف سے تشدد بھری آوازیں آنے لگیں ۔ ‘‘ سجاد نے کہا۔ ’’یہ عالم دیکھ کر میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا اور وہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ گاڑی کے پہئے ہونک رہے تھے۔ بفر ٹکرا ٹکرا کر دھکے دے رہے تھے۔ ہوٹر چلا رہا تھا۔ میں نہیں بکوں گا۔ میں نہیں بکوں گا۔ ‘‘
سجاد خاموش ہو گیا.... دیر تک خاموش بیٹھا رہا جیسے گہری سوچ میں پڑا ہو۔ پھر اس نے ایک لمبی آہ بھری۔ ’’سچی بات یہ ہے مفتی۔ ‘‘ فہ بولا۔ ’’میرا جی چاہتا تھا بڑھ کر اس بڈھے کی ناک پر گھونسا مار دوں ۔ ‘‘
’’وہ کیوں ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’پتا نہیں ۔ ‘‘ سجاد ہنسا۔ ’’مجھے ایسا لگا جیسے اس بڈھے نے میرا راز مجھ پر کھول دیا ہو۔ پہلی مرتبہ میں نے محسوس کیا جیسے میرے ایڈیٹر مجھے موم بتی بنا کر دونوں سروں پر جلا رکھا ہو تاکہ اس کا اپنا نام روشن رہے۔ ‘‘
٭٭٭



سمے کا بندھن



آپی کہا کرتی تھی: ’’سنہرے سمے کی بات ہوتی ہے۔ ہر سمے کا اپنا رنگ ہوتا ہے، اپنا اثر ہوتا ہے۔ اپنا سمے پہچان۔ سنہرے اپنے سمے سے باہر نہ نکل۔ جو نکلی تو بھٹک جائے گی۔ ‘‘
اب سمجھ میں آئی آپی کی بات۔ جب سمجھ لیتی تو رستے سے نہ بھٹکتی۔ آلنے سے نہ گرتی۔ سمجھ تو گئی پر کتنی قیمت دینی پڑی سمجھنے کی۔ آپ مجھے سنہرے کہہ کر بلایا کرتی تھی۔ کہتی تھی ’’تیرے پنڈے کی جھال سنہری ہے۔ جب رس آئے گا تو سونا بن جائے گی۔ کٹھالی میں پڑے رہنا۔ پھر یہ جھال کپڑوں سے نکل نکل کر جھانکے گی۔ ‘‘
پتا نہ میرا نام کیا تھا۔ پتا نہیں میں کس کی تھی۔ کہاں سے آئی تھی۔ کوئی لایا تھا۔ بال پن ہی میں آپی کے ہاتھ بیچ گیا تھا۔ اسی کو گود میں پلی۔ اسی کی سر تال بھری بیٹھک کے جھولنے میں جھول جھول کر جوان ہوئی۔ پھر سنہرا امڈ امڈ آیا چھپائے نہ چھپتا۔ آپی بولی ’’نہ دھے۔ چھپا نہ، جو چھپائے نہ چھپے اسے کیا چھپانا۔ ‘‘
کبھی کھڑکی سے جھانکتی تو آپی ٹوکتی ’’یہ کیا کر رہی ہے بیٹی؟ سیانے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے۔ تیرا کام دیکھنا ہے۔ تو نظر نہ بن، منظر بن اور جو دیکھے بھی تو، تو دکھنے کا گھونگھٹ نکال کر اس کی اوٹ سے دیکھ۔ پھر سمے دیکھ۔ سنہرے ابھی تو شام ہے، یہ سمے تو اداسی کا سمے ہے۔ دکھ کا سمے ہے، شام بھئی گھنشام نہ آئے۔ ‘‘ آپی گنگنانے لگی۔ ’’یاد ہے نا یہ بول؟ شام تو نہ آنے کا سمے ہے۔ تیرا آنے کا سمے ہے۔ پگلی ذرا رک جا، اندھیرا گاڑھا ہونے دے، پھر تیرا ہی سمے ہو گا پچھلے پہر تک۔ ‘‘
ایک دن آپی کا جی اچھا نہ تھا۔ مجھے بلایا، گئی، لیٹی ہوئی تھی۔ سرہانے تپائی پر سوڈے کی بوتل دھری تھی۔ ساتھ نمک دانی تھی، یہ ان دنوں کی بات ہے جب سوڈے کی بوتل کے گلے میں شیشے کا گولا پھنسا ہوتا تھا، ٹھاکر کے کھلتا تھا۔ 
بولی، ’’سنہرے۔ بوتل کھول، گلاس میں ڈال چٹکی بھر نمک گھول کر مجھے پلا دے۔ ‘‘میں نے نمک ڈالا تو جھاگ اٹھا۔ بلبلے ہی بلبلے۔ آپی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ بولی ’’دیکھ لڑکی۔ یہ ہمارا سمے ہے۔ ہمارا سمے وہ ہے جب جھاگ اٹھے۔ ہم میں نہیں ، دوجے میں اٹھے۔ دوجے میں جھاگ اٹھانا، یہی ہمارا کام ہے۔ خود شانت، دو چار  بلبلے ہی بلبلے۔ جب تک جھاگ اٹھتا رہے، ہمارا سمے۔ جب دوجا شانت ہو جائے، لے۔ ہمارا سمے بیت گیا اور جب سمے بیت جائے تو دھیرج پاؤں ٹھمک نہ کرنا۔ ٹھمک کا سمے گیا۔ چمک نہ مارنا۔ چمک کا سمے گیا۔ پائل نہ جھنکارنا۔ پائل جھنکار بیرن بھئی۔ ‘‘
پھر وہ لیٹ گئی۔ بولی ’’سنہرے۔  میری باتیں پھینک نہ دینا۔ دل میں رکھنا، یہ بھیتر کی باتیں ہیں ، اوپر کی نہیں ۔ سنی سنائی نہیں ۔ پڑھی پڑھائی نہیں ۔ وہ سب چھلکے ہوتی ہیں ۔ بادام نہیں ہوتیں ۔ جان لے بیٹی بات وہ جو بھیتر کی ہو، گرمی ہو، چھلکا نہ ہو۔ جو بیتی ہو، جگ بیتی نہیں ۔ آپ بیتی ہو، ہڈ بیتی نہیں باقی سب جھوٹ، دکھلاوا، بہلاوا۔ ‘‘
آج مجھے باتیں یاد آ رہی ہیں ۔ بیتی باتیں ، سانپ گزر گئے، لکیریں رہ گئیں ۔ پتا نہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لکیروں نے مجھے چھلنی کر رکھا ہے۔ چلتی ہیں ، چلے جاتی ہیں ۔ جیسے دھار چلتی ہے۔ ایک ختم ہوتی ہے، دوجی شروع ہو جاتی ہے۔ 
آپی کی بیٹھک میں ہم تین تھیں ۔ پیلی، روپی اور میں ۔ پیلی بڑی، روپہ منجھلی اور میں چھوٹی۔ پیلی میں بڑی آن تھی پر مان نہ تھا۔ اس آن میں چھب تھی۔ سندرتا بھرا ٹھہراؤ تھا۔ یوں رعب سے بھری رہتی جیسے مٹیار رس سے بھری رہتی ہے۔ گردن اٹھی رہتی مورتی سمان۔ 
روپہ سر ہی سر تھی۔ شدھ سر تاروں سے بنی تھی۔ اس کے بند بند میں تار لگے تھے۔ سمرتیاں سمرتیاں اور وہ گونجے مدھم میں گونجتے اور پھر سننے والوں کے دلوں کو جھلا دیتے۔ تیجی میں ہے۔ دوجے کو بھی ڈبو دیتی ہے۔ پگلی دوجے کو ڈبویا کر، خود نہ ڈوبا کر۔ مجھے تجھ سے ڈر آتا ہے۔ سنہرے، کسی دن تو ہم سب کو نہ لے ڈوبے۔ ‘‘
آپی کی بیٹھک کوئی عام بیٹھک نہ تھی کہ جس کا جی چاہا، منہ اٹھایا چلا آیا۔ بیٹھک پر دھن دولت کا زور تو چلتا ہی ہے۔ وہ تو چلے گا ہی ہر بیٹھک پر۔ پر آپی نے برتاؤ کا ایسا رنگ چلا رکھا تھا کہ خالی دھن دولت کا زور نہ چلتا تھا۔ نو دولتے آتے تھے پر ایسے بد مزا ہو کر جاتے کہ پھر رخ نہ کرتے۔ آپی کی بیٹھک میں نگاہیں نہیں چلتی تھیں ۔ اس نے ہمیں سمجھا رکھا تھا کہ لوگ نگاہوں پر اچھالیں گے تو پڑے اچھالیں ۔ لڑکیو نہ اچھلنا۔ جو نگاہوں پر اچھل جاتی ہیں ، وہ منہ کے بل گرتی ہیں اور جو گر گئی۔ وہ سمجھ لو، نظروں سے گر گئی۔ پھر نہ اپنے جوگی رہی نہ دوسروں جوگی۔ ‘‘
آپی کی بیٹھک میں جسم نہیں چلتے تھے، آواز چلتی تھی۔ دل دھڑکتے تھے۔ وہاں ملاپ کا رنگ نہ ہوتا تھا۔ رنگ رلیاں نہیں ہوتی تھیں ، نہ تماشا ہوتا نہ تماش بین۔ 
مجھے دو دن یاد آتے ہیں جب وہاں ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تھی۔ دو مہینے میں ایک بار ضرور لگتی تھی۔ ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تو کوئی دوجا نہیں آ سکتا تھا۔ صرف ٹھاکر کے سنگی ساتھی۔ 
ٹھاکر بھی تو عجیب تھا، اوپر سے دیکھو تو ریچھ۔ طاقت سے بھرا ہوا اور جھانکو تو بچہ۔ نرم نرم، گرم گرم، ویسے تھا آن بھرا۔ مان بھرا، سنگیت کا رسیا، یوں لگتا جیسے بھیتر کوئی لگن لگی ہو، دھونی رمی ہو، آرتی سجی ہو۔ 
ٹھاکر کی ہمارے ہاں بڑی قدر تھی۔ آپی عزت کرتی تھی۔ بھروسا کرتی تھی۔ ٹھاکر نے بھی کبھی نظر اچھالی نہ تھی۔ جھکائے رکھا، پیتا ضرور تھا۔ پر ایسی کہ جوں جوں پیتا جاتا، الٹا مدھم پڑتا جاتا۔ آنکھ کی چمک گل ہو جاتا۔ آواز کی کڑک بھیگ جاتی۔ اس کا نشہ ہی انوکھا تھا۔ جیسے بوتل کا منہ ہو، بھیتر کا ہو۔ بوتل اک بہانہ ہو۔ بوتل چابی ہو بھیتر کے پٹ کھولنے کی۔ 
’’ڈرو سکھیو ڈرو۔ بھیتر کے نشے سے ڈرو۔ بھیتر کے نشے کے سامنے بوتل کا نشہ ہاتھ جوڑے کھڑا ہے جیسے راجا کے رو برو بنچ کھڑا ہو۔ بوتل کا تو خالی سر چکراتا ہے۔ بھیتر کا من کا جھولنا جھلا دیتا ہے۔ بھیتر کا کسی جوگا نہیں چھوڑتا۔ خود جوگا بھی نہیں ۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ ٹھاکر کے نشے کا ریلا مجھے بھی لے ڈوبے گا۔ ‘‘
ہاں تو اس روز ٹھاکر کی بیٹھک ہو رہی تھی۔ بول تھے۔ ’’گانٹھری میں کون جتن کر کھولوں ۔ مورے پیا کے جیا میں پڑی رہی۔ ‘‘ گیت نے کچھ ایسا سماں باندھ رکھا تھا کہ ٹھاکر جھوم جھوم جا رہا تھا۔ ’’پھر بولو۔ ‘‘ کا جاپ کئے جا رہا تھا۔ نہ جانے کس گرہ کو کھولن کی آرزو جاگی تھی۔ اپنے من و محبوب کے من کے سمے بیتا جا رہا تھا۔ سمے کی سدھ بدھ نہ رہی تھی۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ سمے جیون سے نکل جاتا کہ کون ہیں ، کہاں ہیں کیا کر رہے ہیں ، کسی بات کی سدھ بدھ نہیں رہتی۔ اسی روز وہ ایسا ہی سمے تھا۔ 
دفعتاً گھڑی نے تین بجائے۔ آپی ہاتھ جوڑے اٹھ بیٹھی۔ بولی۔ ’’شما کرو ٹھاکر جی۔ معافی مانگتی ہوں ، ہمارا سمے بیت گیا، اب بیٹھک ختم کرو۔ ‘‘
ٹھاکر پہلے تو چونکا پھر مسکایا۔ ’’نہ آپی۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’ابھی تو رات بھیگی ہے۔ ‘‘ آپی بولی۔ ’’ٹھاکر ہم سوکھے پروں والے پنچھی ہیں ۔ جب رات بھیگ جاتی ہے تو ہمارا سمے بیت جاتا ہے۔ جو ہمارے پر بھیگ گئے، تو اڈاری نہ رہے گی۔ فنکار میں اڈاری نہ رہے تو باقی کیا رہا؟‘‘ ٹھاکر نے بڑی منتیں کیں ۔ آپی نہ مانی۔ 
محفل ٹوٹ گئی تو ہم تینوں آپی کے گرد ہو گئیں ۔ ’’آپی یہ سمے کا گورکھ دھندہ کیا ہے؟‘‘
آپی بولی۔ ’’لڑکیو! سمے بڑی چیز ہے۔ ہر کام کا الگ سمے بنا ہے۔ رات کو گاؤ بجاؤ، پیو پلاؤ، ملو ملاؤ، موج اڑاؤ۔ تین بجے تک پھر بھور سمے اس کا سمے ہے۔ اس کا نام چپو۔ اسے پکارو، فریاد کرو، دعائیں مانگو، سجدے کرو، اس سمے میں تم عیش نہیں کر سکتے۔ گناہ نہیں کر سکتے، قتل نہیں کر سکتے۔ یہ دھندا جو ہمارا ہے، اس کے سمے میں نہیں چل سکتا۔ اس کے سمے میں پاؤں نہ دھرنا، اس نے برا مانا تو ماری جاؤ گی۔ جو اچھا جانا تو بھی ماری جاؤ گی اور دیکھو۔ اس کے سمے کے نیڑے نیڑے بھی ایسا گیت نہ گانا جو اسے پکارے۔ بھجن نہ چھیڑنا۔ ڈرتے رہنا۔ کہیں وہ تمہاری پکار سن کر ہنکارا نہ بھر دے۔ ‘‘
پھر وہ دن آ گیا جب میں نے ان جانے میں سمے کا بندھن توڑ دیا۔ اس روز ٹھاکر آئے۔ آپی سے بولی۔ ’’بائی کل خواجہ کا دن ہے۔ خواجہ کی نیاز سارے گاؤں کو کھلاؤں گا۔ آج رات خواجہ کی محفل ہو گی۔ ادھر حویلی میں صرف اپنے ہوں گے گھر کے لوگ۔ تجھے لینے آیا ہوں ۔ چل میرے ساتھ میرے گاؤں ۔ ‘‘
آپی سوچ میں پڑ گئی۔ ’’روپہ ماندی ہے، وہ تو نہیں جا سکے گی۔ کسی اور دن رکھ لینا نذر نیاز۔ ‘‘
’’خواجہ کا دن میں کیسے بدلوں ؟‘‘ وہ بولا۔ 
’’تو کسی اور کی منڈلی کو لے جا۔ ‘‘
’’اونہوں ۔ ‘‘ ٹھاکر نہ منہ بنا لیا۔ ’’خواجہ کی بات نہ ہوتی تو لے جاتا، ان کا نام لینے کے لائق مکھ تو ہو۔ ‘‘
’’میں کس لائق ہوں جو ان کا منہ پر لاؤ۔ ‘‘
’’بس اک تیری بیٹھک ہے جہاں پوترتا ہے۔ جسم کا نہیں ، من کا ٹھکانا ہے۔ ‘‘
آپی مجبور ہو گئی۔ اس نے روپہ کا دھیان رکھنے کے لئے پیلی کو وہاں چھوڑا اور مجھے لے کر ٹھاکر کے گاؤں چلی گئی۔ 
رات بھر حویلی میں خواجہ کی محفل لگی۔ وہ تو گھریلو محفل تھی۔ ٹھاکر کی بہنیں ، بہویں ، بیٹیاں ، ٹھاکرانی سب بیٹھے تھے۔ وہ تو سمجھ لو، بھجن منڈلی تھی۔ ’’خواجہ میں تو آن کھڑی تورے دوار۔ ‘‘ سے شروع ہوئی تھی۔ 
آدھی رات کے سمے محفل اتنی بھیگی کہ سب کی آنکھیں بھر آئیں ۔ دل ڈولے۔ آپی کا ڈوب ہی گیا۔ ٹھاکر اسے محفل سے اٹھا کر اندر لے گیا۔ شربت شیرا پلانے کو، پھر وہیں لٹا دیا۔ 
پھر خواجہ کے گیت چلے تو میں بھی بھیگ گئی۔ آنکھیں پھر بھر آویں ۔ میں حیران، میں تو کچھ مانگ نہیں رہی۔ میں تو التجا نہیں کر رہی۔ میں تو اک تاجر ہوں ۔ پیسہ کمانے کے لئے آئی ہوں ۔ میری آنکھیں بھر بھر آتی رہیں ۔ دل کو کچھ کچھ ہوتا رہا۔ پر میں بھیگ بھیگ کر گاتی گئی۔ سمے بیت گیا اور مجھے دھیان ہی نہ آیا کہ میں اس کے سمے میں پاؤں دھر چکی ہوں ، آپی تھی نہیں جو مجھے ٹوکتی۔ 
اور پھر مجھے کیا پتہ کا خواجہ کون ہے۔ میں نے صرف نام سن رکھا تھا۔ اس کے گیت یاد کر رکھے تھے۔ میں تو صرف یہ جانتی تھی کہ وہ غریب نواز ہے۔ میں تو غریب نہ تھی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ مجھے بھی نواز دے گا۔ خواہ مخواہ، زبردستی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ اس میں اتنی بھی سدھ بدھ نہیں کہ کون پکار رہا ہ، کون گا رہا ہ، کون منگتا ہے، کون خالی جھولی پھیلا رہا ہے۔ کون بھری جھولی سمیٹ رہا ہے۔ میں تو یہی سنتی آئی تھی کہ دکھی لوگ پکار پکار کر ہار جاتے ہیں ۔ پر کوئی سنتا نہیں ۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ اتنا دیالو ہے۔ اتنا نیڑے ہے۔ اتنے کان کھڑے رکھتا ہے۔ 
پھر ٹھاکر بولا۔ ’’سنہرے بائی۔ بس اک آخری فرمائش، خواجہ پیار میری رنگ دے چنریا، ایسی بھی رنگ دے رنگ نہ چھوٹے، دھوبیا دھوئے جائے ساری عمریا۔ ‘‘
گھر پہنچی تو گویا میں میں نہ تھی۔ دل رویا رویا۔ دھیان کھویا کھویا۔ کسی بات میں چت نہ لگتا۔ بے گانہ دکھتی۔ ساز میں طرف نہ رہا۔ سارنگی روئے جاتی۔ استاد نکو خان بجاتے پر وہ روئے جاتی۔ طبلہ پیٹتا۔ گھنگھرو پاؤں میں ڈال اور بن کو نکل جا۔ وہاں اس کا جھومر ناچ جو پتے ڈال ڈال سے جھانک رہا ہے۔ 
روز دن میں تین چار بار ایسی رقت طاری ہوتی کہ کہہ بھیں بھیں کر کے روتی۔ پھر حال کھیلنے لگتی۔ پیلی حیران، روپہ کا منہ کھلا۔ آپی چپ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جب آٹھ دن یہی حالت رہی بلکہ اور بگڑ گئی تو آپی بولی۔ ’’بس پتر۔ تیرا اس بیٹھک سے بندھن ٹوٹ گیا۔ دانا پانی کھتم ہو گیا۔ تو نے اس کے سمے میں پاؤں دھر دیا۔ اس نے تجھے رنگ دیا۔ اب تو اس دھندے جوگی نہیں رہی۔ ‘‘
’’پر کہاں جاؤں آپی؟ اس بیٹھک سے باہر پاؤں دھرنے کی کوئی جگہ بھی ہو میرے لئے۔ ‘‘
’’جس نے بلایا ہے اس کے دربار میں جا۔ ‘‘ روپہ بولی۔ 
’’اس بھیڑ میں جائے۔ ‘‘ آپی بولی۔ ’’یہ لڑکی جائے جس کا سنہری پنڈا کپڑوں سے باہر جھانکتا ہے۔ نہیں ، یہ کہیں نہیں جائے گی۔ اسی کوٹھڑی میں رہے گی۔ بیٹھک میں پاؤں نہیں دھرے گی۔ ‘‘
پھر پتا نہیں کیا ہوا۔ رقت ختم ہو گئی۔ دل میں ایک جنون اٹھا کہ کسی کی ہو جاؤں ۔ کسی ایک کی تن من دھن سے اسی کی ہو جاؤں ۔ ہو رہوں ۔ وہ آئے تو اس کے جوتے اتاروں ۔ پنکھا کروں ۔ پاؤں دابوں ۔ سر میں تل مالش کروں ۔ اس کے لئے پکاروں ۔ میز لگاؤں ۔ برتن رکھوں ۔ اس کی بنیانیں دھوؤں ۔ کپڑے استری کرو۔ آر سی کا کول بناؤں ۔ پھر سرہانے کھڑی ہوں کہ کب جاگے۔ کب پانی مانگے۔ 
ایک دن آپی بولی ’’اب کیا حال ہے دھئیے؟‘‘ میں نے رو رو کے ساری بات کہہ دی کہ کہتے ہیں کسی ایک کی ہو جا۔ 
’’بولی۔ ’’وہ کون ہے؟ کوئی نظر میں ہے کیا؟‘‘
’’انہوں ، کوئی نظر میں نہیں ۔ ‘‘
’’ناک نقشہ دکھتا ہے کبھی؟‘‘
’’نہیں آپی!‘‘
’’کوئی بات نہیں ۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’جو کھونٹی پر لٹکانا مقصود ہے تو آپ کھونٹی بھیجے گا۔ ‘‘
دس ایک دن کے بعد جب بیٹھک راگ رنگ سے بھری ہوئی تھی تو میری کوٹھڑی کا دروازہ بجا۔ آپی داخل ہوئی۔ بولی ’’خواجہ نے کھونٹی بھیج دی۔ اب بول کیا کہتی ہے؟‘‘
’’کون ہے؟‘‘
’’کوئی زمیندار ہے۔ ادھیڑ عمر کا ہے۔ کہتا ہے بس ایک بار بیٹھک میں آیا تھا۔ سنہری بائی کو سنا تھا۔ جب سے اب تک اس کی آواز کانوں میں گونجتی ہے۔ دل کو بہت سمجھایا۔ توجہ ہٹانے کے بہت جتن کئے۔ کوئی پیش نہیں گئی۔ اب ہار کے تیرے در پر آیا ہوں ۔ بول کیا کہتی ہے۔ منہ مانگا دوں گا۔ چاہے ایک مہینے کے لئے دے دے۔ ایک سال کے لئے یا ہمیشہ کے لئے بخش دے۔ جیسے تیری مرضی۔ ‘‘ آپی ہنسنے لگی۔ بولی۔ ’’چل بیٹھک میں اسے دیکھ لے ایک نظر۔ ‘‘
’’اونہوں ۔ ‘‘ میں نے سر ہلا دیا۔ ’’َہیں آپی انہوں نے بھیجا ہے تو ٹھیک ہے۔ دیکھنے کا مطلب؟‘‘
’’کتنی دیر کے لئے مانوں ؟‘‘
’’جیون بھر کے لئے۔ ‘‘
’’سوچ لے، جو اوباش نکلا تو؟‘‘
’’پڑا نکلے، کیسا بھی ہے، جیسا بھی نکلے۔ ‘‘
اگلے دن بیٹھک میں ہمارا نکاح ہو گیا۔ زمیندار نے پیسے کا ڈھیر لگا دیا۔ آپی نے رد کر دیا۔ بولی۔ ’’سودا نہیں کر رہی۔ دھی وداع کر رہی ہوں اور یاد رکھ یہ خواجہ کی امانت ہے۔ سنبھال کر رکھیو۔ ‘‘
حویلی یوں اجڑی اجڑی تھی جیسے دیو پھر گیا ہو۔ 
ویسے تو سبھی کچھ تھا۔ سازو سامان تھا۔ آرائش تھی۔ قالین بچھے ہوئے تھے۔ صوفے لگے ہوئے تھے۔ قد آدم آئینے، جھاڑ فانوس، سبھی کچھ۔ پھر بھی حویلی بھائیں بھائیں کر رہی تھی۔ 
برآمدے میں آرام کرسی پر چھوٹی چودھرانی بیٹھی ہوئی تھی۔ سامنے تپائی پر چائے کے برتن پڑے تھے مگر اسے خبر ہی نہ تھی کہ چائے ٹھنڈی ہو چکی ہے۔ اسے تو خود کی سدھ بدھ نہ تھی کہ کون ہے، کہاں ہے، کیوں ہے۔ ‘‘
اوپر سے شام آ رہی تھی۔ سمے کو سمے سے ٹکراتی۔ اداسیوں کے جھنڈ گاڑتی۔ یادوں کے دیئے جلاتی۔ بیتی باتوں کے الاپ گنگناتی۔ دبے پاؤں ، مدھم یوں جیسے پائل کی جھنکار بیرنیا ہو۔ 
دور اس کوارٹر کے باہر کھاٹ پر بیٹھے ہوئے چوکیدار کی نظریں چھوڑی چودھرانی پر جمی ہوئی تھیں ۔ حقے کا سونٹا لگاتا اور پھر سے چھوٹی چودھرانی کو دیکھنے لگتا یوں جیسے اسے دیکھ دیکھ کر دکھی ہوا جا رہا ہو۔ ‘‘
دوسری جانب گھاس کے پلاٹ کے کونے پر بوڑھا مالی پودوں کی تراش خراش میں لگا ہوا تھا۔ ہر دو گھڑی کے بعد سر اٹھاتا اور چھوٹی چودھرانی کی طرف ٹکٹی باندھ کر بیٹھ جاتا پھر چونک کر لمبی ٹھنڈی سانس بھرتا اور پھر سے کاٹ چھانٹ میں لگ جاتا۔ 
جنت بی بی، چودھرانی کا کھانا پکاتی تھی، دو تین بار برآمدے کے پرے کنارے پر کھڑی ہو کر اسے دیکھ گئی تھی۔ جب دیکھتی تو اس کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتی تھیں ۔ پلو سے پونچھتی پھر لوٹ جاتی۔ 
سارے نوکر کمیں چھوٹے چودھرانی پر جان چھڑکتے تھے۔ اس کے غم میں گھلے جا رہے تھے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس پر سخت ناراض بھی تھے۔ اس نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی کیو ں ماری تھی؟ کیوں خود کو دوجوں کا محتاج بنا لیا تھا؟ اپنی اولاد ہوتی تو پھر بھی سہارا ہوتا۔ اپنی اولاد تو تھی نہیں ۔ 
جب چودھری مرنے سے قبل بقائمی ہوش و حواس اپنی آدھی غیر منقولہ جائیداد چھوٹی چودھرانی کے نام گفٹ کر گیا تھا تو اسے کیا حق تھا کہ اپنا تمام تر حصہ بڑی چودھرانی کے دونوں بیٹوں میں تقسیم کر دے۔ اگر ایک دن بڑی چودھرانی نے اسے حویلی سے نکال باہر کیا تو وہ کیا کرے گی؟ کس کا در دیکھے گی۔ 
ایک طرف تو اتنی بے نیازی کہ اتنی جائیداد اپنے ہاتھ سے بانٹ دی اور دوسری طرف یوں سوچوں میں گم تصویر بن کر بیٹھی رہتی ہے۔ سارے ہی نوکر حیران تھے کہ چھوٹی چودھرانی کس سوچ میں کھوئی رہتی ہے۔ چودھری کو مرے ہوئے تین مہینے ہو گئے تھے۔ جب سے یونہی حواس گم قیاس گم بیٹھی رہتی ہے اور پھر ٹوٹتی رات سمے اس کے کمرے میں گنگنانے کی آواز کیوں آتی ہے؟ کس خواجہ پیا کو بلاتی ہے؟ خواجہ پیا موری لیجو  خبریا، کون خبر لے؟ کیسی خبر لے؟ چھوٹی چودھرانی پر انہیں پیار ضرور آتا تھا۔ پر اس کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں ۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ کس سوچ میں پڑی رہتی ہے۔ 
چھوٹی چودھرانی کو صرف ایک سوچ لگی تھی۔ اندر سے ایک آواز اٹھتی۔ بول تیرا جیون کس کام آیا؟ وہ سوچ سوچ ہار جاتی۔ پر اس سوال کا جواب ذہن میں نہ آتا۔ الجھے الجھے خیال الجھاتے۔ مجھے چمن سے اکھیڑا۔ بیل بنا کر اک درخت کے گرد گھما دیا اور اس درخت کو اکھیڑ پھینکا۔ بیل مٹی میں مجل گئی۔ اب یہ کس کے گرد گھومے؟ بول میرا جیون کس کام آیا؟
دفعتاً اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کے روبرو کھڑا ہے۔ سر اٹھایا سامنے گاؤں کا پٹواری کھڑا تھا۔ 
’’کیا ہے؟‘‘ وہ بولا۔ 
’’میں ہوں ، پٹواری۔ چودھرانی جی۔ ‘‘
’’تو جا.... جا کر بڑی چودھرانی سے مل۔ مجھ سے تیرا کیا کام؟‘‘
’’آپ ہی سے کام ہے۔ ‘‘ وہ بولا۔ 
’’تو بول، کیا کہتا ہے؟‘‘
’’گاؤں میں دو درویش آئے ہیں ۔ گاؤں والے چاہتے ہیں انہیں چند دن یہاں روکا جائے۔ جو آپ اجازت دیں تو آپ کے مہمان خانے پر ٹھہرا دیں ۔ ‘‘
’’ٹھہرا دو۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’نوکر چاکر بندوبست....‘‘ وہ رک گیا۔ 
’’سب ہو جائے گا۔ ‘‘
پٹواری سلام کر کے جانے لگا تو پتا نہیں کیوں اس نے سرسری طور پر پوچھا۔ ’’کہاں سے آئے ہیں ؟‘‘
پٹواری بولا۔ ’’اجمیر شریف سے آئے ہیں ۔ خواجہ غریب نواز کے فقیر ہیں ۔ ‘‘ اک دھماکہ ہوا۔ چھوٹی چودھرانی کی بوٹیا ہوا میں اچھلیں ۔ 
اگلی شام چھوٹی چودھرانی نے جنت بی بی سے پوچھا۔ ’’جنت! یہ جو درویش ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ یہاں ان کے پاس گاؤں والے آتے ہیں کیا؟‘‘
جنت بولی۔ ’’لو چھوٹی چودھرانی، وہاں تو سارا دن لوگوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔ بڑے پہنچے ہوئے ہیں ۔ جو منہ سے کہتے ہیں ، ہو جاتا ہے۔ ‘‘
’’تو تیار ہو جنت، ہم بھی جائیں گے، تو اور میں ۔ ‘‘
’’چودھرانی جی وہ مغرب کے بعد کسی سے ملتے نہیں ۔ ‘‘
’’تو چل تو سہی۔ ‘‘ چودھرانی نے خود کو چادر میں لپیٹتے ہوئے کہا۔ ’’اور دیکھ وہاں مجھے چودھرانی کہہ کر نہ بلانا۔ خبردار....!‘‘
جب وہ مہمان خانے پہنچیں تو دروازہ بند تھا۔ جنت نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ’’کون ہے؟‘‘ اندر سے آواز آئی۔ جنت نے پھر دستک دی۔ سفید ریش بوڑھے خادم نے دروازہ کھولا۔ جنت زبردستی اندر داخل ہو گئی۔ پیچھے پیچھے چودھرانی تھی۔ سفید ریش گھبرا گیا۔ بولا ’’سائیں بادشاہ مغرب کے بعد کسی سے نہیں ملتے۔ وہ اس کمرے میں مشغول ہیں ۔ ‘‘
’’ہم سائیں بادشاہ سے ملنے نہیں آئے۔ ‘‘ چوٹی چودھرانی بولی۔ 
’’تو پھر؟‘‘ سفید ریش گھبرا گیا۔ 
’’ایک سوال پوچھنا ہے۔ ‘‘ چودھرانی نے کہا۔ 
’’سائیں با با اس سمے سوال کاجواب نہیں دیں گے۔ ‘‘
’’سائیں با با نے جواب نہیں دینا، انہوں نے پوچھنا ہے۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’کس سے پوچھنا ہے؟‘‘ خادم بولا۔ 
’’اس سے پوچھنا ہے جس کے وہ بالکے ہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر سفید ریش خادم سن کر کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ 
’’ان سے پوچھو۔ ‘‘ چھوٹی چودھرانی نے کہا۔ ’’ایک عورت تیرے دوار پر کھڑی پوچھ رہی ہے۔ اے غریب نواز بتا کہ میرا جیون کس کام آیا؟‘‘
کمرے پر منوں بوجھل خاموشی طاری ہو گئی۔ 
چھوٹی چودھرانی بولا۔ ’’کہو وہ عورت پوچھتی ہے: تو نے بیٹھک کے گملے سے اک بوٹا اکھیڑا۔ اسے بیل بنا کر درخت کے گرد لپیٹ دیا کہ جا اس پر نثار ہوتی رہ۔ ‘‘ وہ رک گئی۔ کمرے کی خاموشی اور گہری ہو گئی۔ ’’اب تو نے اس درخت کو اکھیڑ پھینکا ہے۔ بیل مٹی میں رل گئی۔ وہ بیل پوچھتی ہے۔ بول میرا جیون کس کام آیا؟‘‘ یہ کہہ کر وہ چپ ہو گئی۔ 
’’تیری جیون کس کام آیا۔ تیرا جیون کس کام آیا۔ ‘‘ سفید ریش خادم کے ہونٹ لرزنے لگے۔ ’’تو پوچھتی ہے تیرا جیون کس کام آیا؟‘‘ وہ رک گیا۔ کمرے کی خاموشی اتنی بوجھل ہو گئی کہ سہاری نہیں جاتی تھی۔ 
’’میری طرف دیکھ۔ ‘‘ سفید خاتم نے کہا ’’سنہری بائی۔ میری طرف دیکھ کہ تیرا جیون کس کام آیا۔ مجھے نہیں پہچانتی؟ میں تیرا سارنگی نواز تھا۔ میں کیا تھا، کیا ہو گیا۔ ‘‘
چھوٹی چودھرانی کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ ’’استاد جی۔ آپ....؟‘‘ وہ استاد کے چرن چھونے کے لئے آگے بڑھی۔ 
عین اس وقت ملحقہ کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک بھاری بھرکم نورانی چہرہ برآمد ہوا۔ 
’’سنہری بی بی۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’مجھ سے پوچھ، تیرا جیون کس کام آیا۔ ‘‘
چھوٹی چودھرانی نے مڑ کر دیکھا۔ ’’ٹھاکر....‘‘ وہ چلائی۔ 
ٹھاکر بولا۔ ’’اب ہمیں پتہ چلا کہ سرکار نے ہمیں ادھر آنے کا حکم کیوں دیا تھا۔ ‘‘ اس نے سنہری بی بی کے سامنے اپنا سر جھکا دیا۔ بولا ’’بی بی! ہمیں آشیرباد دے۔ ‘‘
٭٭٭



چوہا

اس بنے سجے آرام دہ کمرے میں ہم دو تھے۔ لیکن دونوں ہی اکیلے، تنہا۔ اگر ہم دونوں اکیلے اکیلے ہوتے تو یقیناً اس قدر اکیلے نہ ہوتے۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے۔ بہت دور۔ وہ مجھ سے بیزار تھی، میں اس سے بیزار تھا۔ چالیس سال سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے تھے۔ 
چالیس سال پہلے ہمیں ایک دوسرے سے محبت تھی، عشق تھا۔ ایک دوسرے کے بغیر دم نکلتا تھا۔ مجھے فکر دامن گیر تھی۔ اگر وہ مجھے نہ ملی تو میں کیا کروں گا۔ اسے ایک غم تھا۔ اگر ٹاپ نہ ہوا تو زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ خوش قسمتی سے بات بن گئی۔ ہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ ایک پھلجھڑی سی چل گئی۔ پھر کئی سال ہم محبت میں لت پت رہے۔ لت پت، وہ میرے لئے جیتی تھی، میں اس کے لئے جیتا تھا۔ 
پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ آہستہ آہستہ اسے پتہ چلتا گیا کہ میں وہ نہیں ہوں جو وہ سمجھتی تھی کہ ہوں ۔ آہستہ آہستہ مجھ پر انکشاف ہوتا رہا کہ اس کی کچھ عادتیں ناقابل برداشت ہیں ۔ پھر جھگڑے شروع ہو گئے۔ کئی ایک سال ہم ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ لڑتے جھگڑتے رہے۔ یہ صورت حال اس قدر بڑھ گئی کہ لڑنے جھگڑنے کے سوا ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کوئی سروکار نہ رہا۔ 
اور اب! اب ہم بوڑھے ہو چکے ہیں ۔ لڑ لڑ، جھگڑ جھگڑ کر تھک گئے ہیں ۔ اب اتنا تعلق بھی نہیں رہا کہ ایک دوسرے سے لڑیں جھگڑیں ۔ اب ہم ایک دوسرے کو برداشت کر رہے ہیں ۔ وہ مجھے گوارا کر رہی ہے۔ مجبوراً میں اسے گوارا کر رہا ہوں ۔ مجبوراً وہ کہتی ہے۔ اس کا تو دماغ خراب ہے۔ یہ سمجھے گا، میں کہتا ہوں ۔ اس کا تو دماغ سر سے ہے ہی نہیں ۔ سمجھانے کی کوشش عبث ہے۔ 
یوں ہم ایک دوسرے کے ساتھ لیکن ایک دوسرے سے دور گاؤں کی حویلی میں بڑے سکون سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ 
میرے پاس اسے کہنے کے لئے کوئی بات نہ تھی۔ وہ مجھ سے بات کرنے کی روادار نہ تھی۔ ان میں دو ایک بار بات کرنے کی ضرورت پڑ جاتی۔ وہ آلو چھیلتے ہوئے چاقو سے مخاطب ہو کر کہتی۔ ’’آلو میں بینگن ڈال لوں ۔ ‘‘ میں شیو کرتے ہوئے استرے سے کہتا۔ ’’ڈال۔ ‘‘ اکثر بولنے کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔ بات اشاروں کی مدد سے ہو جاتی۔ وہ بن بولے سمجھا دیتی۔ میں بن کہے سمجھا دیتا۔ 
اب جب سے ہم دونوں کراچی اپنے بیٹے سکندر کے گھر آئے ہیں ، ایک دوسرے سے بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ وہ چپ چاپ اپنے بستر پر بیٹھ کر کھڑکی کو گھورتی رہتی ہے۔ میں کرسی میں بیٹھ کر نیچے سڑک پر چلنے والی ٹریفک کو دیکھتا رہتا ہوں ۔ کتنا سکون ہے، کتنا اطمینان ہے، کسے رابا کسے کارے نہ باشد۔ 
پہلے ہم گاؤں میں رہتے تھے۔ تھی تو حویلی لیکن سال ہا سال سے مرمت نہیں ہوئی تھی۔ ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔ سکندر سے کئی بار مرمت کے لئے کہا۔ اس نے پروا نہ کی۔ بات ٹال دی۔ سکندر ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ گاؤں میں زیادہ دیر نہیں رہا۔ پہلے شہر میں پڑھنے کے لئے بورڈنگ میں رہا۔ پھر بڑا افسر بن گیا۔ بیوی بھی شہر کی ملی۔ اس نے ہم سے پوچھے بنا خود ڈھونڈ لی جیسے میں نے ڈھونڈ لی تھی اور اب اس کی محبت میں لت پت ہو رہا تھا۔ جس طرح میں ہوا تھا۔ سکندر اور اس کی بیوی دونوں کراچی میں صاحبوں کی طرح ٹھاٹھ سے رہتے ہیں ۔ بال بچہ ہے نہیں ، بس ایک دوسرے میں ہی ڈوبے رہتے ہیں ۔ 
گاؤں کی حویلی کے مغربی حصے کے تین کمرے ٹھیک ٹھاک ہیں ۔ وہاں ہم دونوں رہتے تھے۔ گاؤں سے ذرا فاصلے پر، شور شرابے سے دور حویلی سے سو پچاس قدم پر سائیں دروٹ کا مزار تھا۔ ہماری کھڑکیوں سے صاف نظر آتا تھا۔ انہیں سائیں چپ شاہ بھی کہتے ہیں ۔ 
مشہور ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کسی سے بات نہیں کی تھی۔ بس اشاروں سے ہی بات کہہ دیتے تھے۔ میں پیروں فقیروں کی نہیں مانتا لیکن دو ایک بار اتا پتا لگانے کے لئے مزار پر گیا تھا۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ سائیں جی کا اصل نام دڑ۔ وٹ تھا۔ جو غلط العام ہو کر دروٹ بن گیا۔ سائیں جی نے عمر بھر دڑ۔ وٹی رکھی تھی۔ یہ جان کر مجھے سائیں جی سے دلچسپی ہو گئی۔ اس لئے کہ ہم بھی سائیں جی کی طرح دڑ۔ وٹی زندگی بسر کر رہے تھے۔ 
مزار پر ایک شخص باقاعدہ حاضری دیتا تھا اور جھاڑ پونچھ میں لگا رہتا تھا۔ اس کا نام فضلا تھا۔ شہر میں رہتا تھا مگر جب بھی چھٹی ملتی، مزار کی طرف چل پڑتا۔ مجھے فضلے پر بڑا ترس آتا ہے۔ بے چارہ احمق خواہ مخواہ سائیں کی لگن لگائے بیٹھا ہے۔ 
پھر ہم دونوں ، میں اور میری بیوی میں چوہے کی بات چل نکلی۔ ایسی چلی، ایسی چلی کہ سب الٹ پلٹ ہو گیا۔ پتہ نہیں ۔ نہ وہ وہ رہی، نہ میں میں رہا۔ چوہے کی بات ابھی چل ہی رہی تھی کہ سکندر آ گیا اور ہمیں زبردستی کراچی لے آیا۔ 
کراچی میں تین چار ہفتے تو ہم جگہیں دیکھنے میں مصروف رہے۔ ہوا بندر، منگھو پیر، کیماڑی اور پتہ نہیں کیا کیا۔ لیکن آخر جگہیں ختم ہو گئیں اور ہم اس بنی سجی انڈے کی طرح چمکتی ہوئی فلیٹ میں اکیلے رہ گئے۔ 
سکندر اور اس کی بیگم صبح اپنے اپنے دفتر چلے جاتے۔ شام کو کوئی پارٹی یا ڈنر ہوتا، گھر میں صرف ہم ہوتے یا نوکر ہوتے۔ 
پھر وہ بنی سجی تنہائی کھلنے لگی۔ وہ کمرے کی سجاوٹ، وہ آرام زدہ صبح و شام، وہ تکلف، وہ رکھ رکھاؤ۔ وہ سب کچھ اک بوجھ بن جاتا۔ دم گھٹنے لگتا۔ گاؤں میں یہ بات نہ تھی۔ وہاں تنہائی تو تھی پر دم نہیں گھٹتا تھا۔ وہاں ہم دونوں اس قدر اکیلے نہ تھے بے زاری اتنی گاڑھی نہ تھی۔ 
گاؤں میں وہ میرے لئے چائے بناتی تھی۔ کھانا پکاتی تھی۔ میں کبھی کبھار بازار سے سودا لے آتا۔ کراچی میں نہ کھانا پکانے کی بات تھی نہ سودا لانے کی۔ اس لئے ہم ایک دوسرے سے بالکل بے نیاز ہو گئے تھے۔ میں سارا دن برآمدے میں بیٹھ کر نیچے چلتی ہوئی شاہراہ کا نظارہ کرتا رہتا۔ وہ پتہ نہیں ، اندر بیٹھی کیا کرتی رہتی۔ 
ایک دن جب سڑک کا نظارہ کر رہا تھا تو اس کی آواز سنائی دی۔ بولی۔ ’’شہروں میں چوہے نہیں ہوتے کیا؟‘‘ میں نے حیرت سے مڑ کر دیکھا، وہ ٹائیلوں کے فرش پر نگاہیں گاڑھے بیٹھی تھی جیسے مجھ سے نہیں بلکہ ان سے پوچھ رہی ہو۔ 
چوہے کی بات سن کر میرا دل ڈوب گیا۔ ’’لو یہاں بھی چوہا آ پہنچا۔ کتنی مشکل سے گاؤں میں اس سے جان چھڑائی تھی۔ ‘‘
’’ہوتے ہوں گے۔ ‘‘ میں نے سڑک سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔ 
دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ پھر اس کی آواز آئی۔ ’’یہاں تو چوہا نہیں آیا کوئی۔ ‘‘
’’یہاں نہیں آیا تو میں کیا کرو۔ یہ میرا قصور ہے؟‘‘ مجھے غصہ آ گیا، مڑ کر دیکھا، عابدہ گملے پر جھکی ہوئی تھی۔ یوں جیسے یہ سوال اس نے گملے سے کیا ہو۔ 
میں نے اپنے سلیپر کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’چوہا یہاں ٹائیلوں میں بل کیسے بنائے۔ ‘‘
کمرے میں دیر تک خاموشی طاری رہی۔ 
پھر وہ چھت سے مخاطب ہو کر بولی۔ ’’بے شک بل نہ بنائے پر آئے تو سہی۔ ‘‘
اس پر مجھے بہت غصہ آیا۔ اس عورت کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ جب گاؤں میں تھی تو کہتی تھی۔ ’’چوہا کیوں آتا ہے؟ اب کہہ رہی ہے چوہا کیوں نہیں آتا؟‘‘
گاؤں میں چوہے کی بات اچانک چل پڑی تھی۔ ہوا یوں کہ گاؤں میں ایک رات میں جاگا تو دیکھا کہ عابدہ چارپائی پر گٹھڑی بن کر بیٹھی ہے۔ میں نے سوچا چلو بیٹھی ہے تو بیٹھی رہے۔ اپنا کیا جاتا ہے۔ پھر جو میں نے غور سے دیکھا تو وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔ 
’’کیا ہوا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
خوف زدہ آواز میں بولی۔ ’’چوہا ہے۔ ‘‘
اس پر مجھے غصہ آ گیا۔ ’’چوہا ہے تو پڑا ہو۔ گاؤں میں چوہا تو ہو گا۔ ‘‘ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ رضائی لی اور پھر سے سو گیا۔ 
’’سوتی کیوں نہیں ؟‘‘ میں نے کہا۔ 
’’نیند نہیں آتی۔ ‘‘
’’کیوں نہیں آتی؟‘‘
’’ڈر لگتا ہے۔ ‘‘
’’ڈر کیسا؟‘‘
’’چوہا جو ہے۔ ‘‘
’’کیا کرے گا؟‘‘
’’کاٹ لے گا۔ ‘‘
’’لاحول ولا قوة۔ یہ محترمہ سمجھتی ہے کہ اس کا گوشت اس قدر لذیذ ہے کہ چوہا اسے کاٹنے کے لئے اتنی دور سے چل کر آیا ہے۔ ‘‘
اگلے روز اس نے مجھے ایک سوراخ دکھایا۔ کہنے لگی۔ ’’چوہا یہاں سے آتا ہے۔ ‘‘ میں نے اس سوراخ کے مطابق ایک پتھر تلاش کیا اور ہتھوڑے سے پتھر کو اس سوراخ میں ٹھونک دیا۔ ’’لو!‘‘ میں نے اسے مخاطب کئے بغیر کہا۔ ’’اب چوہا نہیں آئے گا۔ ‘‘
رات کو اس نے مجھے جگا دیا۔ بولی۔ ’’چوہا تو آیا ہوا ہے، ذرا سنو تو۔ ‘‘
میں نے سنا۔ واقعی ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی۔ 
اگلے دن اس نے اس کا سوراخ ڈھونڈ لیا۔ بولی۔ ’’یہاں سے آتا ہے۔ ‘‘ آٹھ دس دن ہم سوراخ ڈھونڈتے اور بند کرتے رہے۔ اس کے باوجود چوہا آتا رہا۔ 
پھر میں نے ایک ترکیب سوچی۔ میں نے کہا۔ ’’دیکھ چوہا تجھے کاٹنے کے لئے نہیں آتا۔ بلکہ کچھ کھانے کے لئے آتا ہے۔ اگر ڈیوڑھی میں کھانے کے لئے کوئی چیز رکھ دی جائے تو وہ نہ تو باورچی خانے میں جائے گا، نہ ہمارے کمرے میں آئے گا۔ ‘‘
اس نے میری بات مان لی۔ دو تین دن وہ سارے گھر میں بڑ بڑ کرتی پھری۔ چوہا کون سی چیز خوشی سے کھاتا ہے۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ چوہا کیا کھاتا ہے۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ تیسرے دن پتہ نہیں ، وہ کہاں سے سن آئی کہ چوہا پنیر بڑے شوق سے کھاتا ہے۔ روز وہ رومال میں دہی باندھ کر لٹکا دیتی تاکہ شام تک پنیر تیار ہو جائے۔ 
اگلے روز صبح سویرے وہ دوڑی دوڑی آئی۔ بولی ’’چوہے نے سارا پنیر کھا لیا ہے۔ ‘‘ اس کے بعد جب بھی میں باہر نکلتا تو ڈیوڑھی میں چوہے کی تھالی غور سے دیکھتا کہ چوہے نے کچھ کھایا ہے یا نہیں ۔ رات کو آنکھ کھلتی تو کان لگا کر آواز سنتا رہتا کہ چوہا ٹک ٹک کر رہا ہے یا نہیں ۔ 
دس پندرہ دنوں کے بعد عابدہ منہ لٹکائے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔ بولی۔ ’’چوہا نہیں آیا۔ ‘‘
’’چوہا نہیں آیا؟‘‘ میرے منہ سے نکل گیا۔ ’’کیوں نہیں آیا؟‘‘
’’دیکھ تو۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’روٹی اور پنیر ویسے ہی پڑے ہیں تھالی میں ۔ ‘‘
میں اٹھ کر ڈیوڑھی میں گیا۔ دیکھا تو چوہے کی تھالی پر ایک چڑیا بیٹھی ٹھونگے مار رہی ہے۔ میں نے عابدہ کو آواز دی۔ ’’یہ دیکھو چوہے کا پنیر چڑیا کھا رہی ہے۔ ‘‘
وہ دروازے میں آ کھڑی ہوئی۔ بولی۔ ’’کھانے دو، بے چاری بھوکی ہے۔ ‘‘
اس کے بعد روز صبح عابدہ مجھے آواز دیتی۔ ’’چوہا آج بھی نہیں آیا۔ ‘‘ انہی دنوں سکندر آ گیا اور زبردستی کراچی لے آیا۔ 
کراچی میں آنے کے بعد چوہے کو بالکل بھول چکا تھا۔ اس روز اچانک اس نے چوہے کی بات چھیڑ کر مجھے پریشان کر دیا۔ دراصل میں اس بات پر شرمندگی محسوس کر رہا تھا کہ گاؤں میں اس نے چوہے کی بات چلا کر مجھے احمق بنایا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ چوہے کی بات کا جواب نہیں دوں گا۔ 
دو روز وہ کسی نہ کسی بہانے چوہے کی بات کرتی رہی مگر میں نے جواب نہ دیا۔ تیسرے دن وہ واپس گاؤں جانے کے لئے تیار ہو گئی۔ سکندر نے بڑی کوشش کی کہ وہ رک جائے۔ لیکن وہ نہ مانی۔ اگلے روز ہم گاڑی میں سوار ہو گئے۔ 
راستے میں وہ بار بار اپنے آپ سے کہتی رہی۔ ’’چوہا ہماری راہ دیکھ رہا ہو گا۔ ‘‘ لیکن میں نے جواب نہ دیا۔ 
اگلے روز ہم ریل گاڑی سے سٹیشن پر اترے جہاں سے تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں جانا تھا تو وہاں فضلا مل گیا-
میں نے کہا۔ ’’فضلے تو کہاں سے آ رہا ہے؟‘‘
وہ بولا۔ ’’شہر سے آیا ہوں ۔ سائیں جی کی حاضری دینے گاؤں جا رہا ہوں ۔ ‘‘
میں نے کہا۔ ’’فضلے تو سائیں دروٹ کو مانتا ہے کیا؟‘‘
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ بولا۔ ’’میں نے سائیں کو دیکھا ہی نہیں تو ماننا کیسا؟‘‘
’’تو پھر مزار پر حاضر کیوں دیتا ہے باقاعدہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’اس میں ایک بھید ہے۔ ‘‘ وہ بولا۔ 
’’کیا بھید ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’بس اتنا سا بھید ہے۔ ‘‘ فضلے کو کہا۔ ’’کہ دھیان خود سے ہٹا کر دوجے پر لگا دو، چاہے وہ پیر ہو، فقیر ہو یا چوہا ہو۔ ‘‘
’’چوہا ہو۔ ‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ 
’’ہاں !‘‘ وہ بولا۔ ’’چاہے چوہا ہو۔ ‘‘ اور پھر معنی خیز مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا۔ بولا۔ ’’آپ چلیں چودھری جی، میں نذر نیاز لے کر گاؤں پہنچ جاؤں گا۔ ‘‘
تانگہ چلنے لگا تو میں نے صوبہ تانگا والے سے کہا۔ ’’ذرا رک جا۔ ‘‘ اور پھر بے سوچے سمجھے بولا۔ ’’عابدہ۔ ‘‘
عابدہ نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ پتہ نہیں کتنے سالوں بعد میں نے نام لے کر اسے بلایا تھا۔ میں نے کہا۔ ’’عابدہ، اس کے لئے کچھ لے جائیں یہاں سے۔ ‘‘
اس کی آنکھوں میں تبسم کی ایک لہر جھلکی۔ بولی۔ ’’میں لے آئی ہوں ۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے تھیلے سے ولایتی پنیر کا ایک ڈبہ نکالا اور فکر مند آواز سے بولی۔ ’’سکندر کے ابا۔ وہ ولایتی پنیر کھا لے گا کیا؟‘‘
٭٭٭



گھور اندھیرا


امر سنگھ نے آنکھیں کھول دیں ۔ چاروں طرف گاڑھا اندھیرا چھا رہا تھا۔ اندھیرے کے تہ در تہ انباروں تلے اسے سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ وہ اپنے جسم کو اٹھا نہیں سکتا جیسے اسے اپنے جسم پر قدرت نہ رہی ہو۔ اس نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں ۔ 
نہ دیکھنے کے باوجود محسوس کرنے لگا کہ بوجھل اندھیرے کے بادل اس کے اِرد گرد جمع ہو رہے تھے۔ اندھیرے کے بڑے بڑے بھیانک ٹکڑے چمگادڑوں کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے نیچے اتر رہے تھے اور گدھوں کی طرح اس کے ارد گرد اکٹھے ہو تے جا رہے تھے۔ گھبرا کر اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ 
تاریک اندھیرے کا ایک کلہاڑا اس کی طرف بڑھا۔ پیٹ کے دائیں پہلو میں ایک ٹھیس لگی۔ درد سے وہ بلبلایا اور گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ 
ہائیں .... وہ حیران رہ گیا۔ بوجھ کے اس بے نام سے احساس کے باوجود یوں اٹھ کر بیٹھ گیا جیسے اسے سپرنگ لگے ہوں ۔ اس نے اپنے جسم کا جائزہ لیا۔ اس پھیلے ہوئے اندھیرے میں وہ خود بھی سیاہ بادل کے ٹکڑے کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ سیال متحرک ٹکڑا۔ یہ بات اس کے لئے حیران کن تھی۔ اس کا نچلا دھڑ  یوں لہرا رہا تھا جیسے الگنی پر لٹکا ہوا کپڑا ہوا میں پھڑپھڑاتا ہے۔ امر سنگھ نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ اندھیرا دھندلا ہوا جا رہا تھا۔ اس دھندلکے میں سیاہ فرش کی ایک لکیر دور تک جا رہی تھی۔ جس پر یہاں وہاں سیاہ ستون سے کھڑے تھے۔ جن کے سرے پر زور سے گولے ٹنگے ہوئے تھے۔ جن سے زرد زرد سا دھواں نکل رہا تھا۔ ستونوں کے پیچھے دھندلے دھندلے پر لٹک رہے تھے جن پر مکانات کے مبہم نقوش دکھائی دے رہے تھے۔ 
اسے محسوس ہوا کہ وہ جگہ مانوس تھی۔ لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کون سی جگہ ہے اور وہ اس جگہ کیوں پڑا ہے۔ دفعتاً اس کی توجہ اپنی طرف مبذول ہو گئی لیکن میں ؟ میں کون ہوں ....؟ وہ سوچنے لگا۔ اسے خیال نہیں پڑتا تھا کہ وہ کون ہے۔ عجیب بات تھی کہ اسے اپنی ذات کے متعلق واضح طور پر کچھ معلوم نہ تھا۔ 
پاوم.... پاوم.... دور موٹر کے ہارن کی آواز سنائی دی۔ 
پاوم.... وہ پھر اٹھ بیٹھا۔ اس نے محسوس کیا جیسے وہ آواز مانوس تھی۔ دفعتاً اس کے ذہن میں حرکت ہوئی۔ ریڈیو.... ہاں ، ہاں وہ خوشی سے چلایا۔ وہ ریڈیو کا سیٹ ٹھیک کر رہا تھا اور اس روز جلد ہی گھر سے آ گیا تھا۔ ٹفن کیرئیر میں اس کا کھانا تھا۔ ہائیں .... وہ دایاں ہاتھ دیکھ کر بولا۔ روٹی کا ڈبہ کہا گیا۔ وہ لپک کر اٹھ بیٹھا اور آپ ہی آپ بغیر کوشش کئے یوں تیرنے لگا جیسے اندھیرے کے سمندر میں وہ ایک ناؤ ہے۔ 
دور تک ٹفن کیرئیر کا نشان نہ تھا۔ 
گھوں گھوں .... دور سے کوئی چیز چیختی ہوئی آ رہی تھی۔ سیاہ ڈراؤنی چیز۔ 
’’اوہ ملٹری کی لاری۔ ‘‘ سمجھے بغیر وہ ڈر کر درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ 
موٹر میں بندوقیں تانے ہوئے سپاہی دیکھ کر اسے یاد آیا کہ وہ فسادات کے دن تھے اور اسے محتاط رہنا چاہئے۔ اس احساس پر چاروں طرف سے سیاہ سائے اس کی طرف لپکنے لگے۔ اس نے بایاں پہلو ٹٹولا۔ کرپان....؟ اس کی کرپان کہاں تھی۔ روٹی کا ڈبہ اور کرپان۔ اب وہ کرپان کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا۔ 
دفعتاً وہ رکا۔ سامنے سرخ توپ زمین پر گڑی تھی۔ اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔ ’’اوہ! یہ تو پٹرول پمپ ہے۔ ‘‘ وہ اس کی طرف غور سے دیکھ کر گنگنایا۔ نہ جانے کیا ہو گیا ہے۔ کچھ بھی یاد نہ پڑتا تھا۔ چیزیں نئی نئی دکھ رہی تھیں اور وہ محسوس کر رہا تھا جیسے اسے ان چیزوں سے دور کا تعلق نہ ہو۔ 
اس پٹرول پمپ سے تو میں روز گزرا کرتا تھا۔ روز....کھانے کا ڈبہ اور کرپان اٹھائے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ کیا ہوا تھا....؟ہاں وہ سب دکانیں بند کر رہے تھے۔ بھاگ رہے تھے اور چھاپے خانے کا وہ مزدور کھڑا تھا۔ کھڑا گھور رہا تھا۔ میرا جی چاہتا تھا، میں مزدور سے پوچھوں ۔ اس کی طبیعت کیسی ہے۔ لیکن اس کے ماتھے پر تیوری کیوں تھی؟ دفعتاً وہ سب مجھے گھورنے لگے اور پھر ایک سیاہ ڈراؤنی شکل لپکی اور.... میرے پہلو میں بجلی سی چمکی۔ معاً اس نے پہلو میں دردناک ٹیس محسوس کی۔ 
’’پھر کیا ہوا؟‘‘ اس نے بصد مشکل سوچنے کی کوشش کی۔ دھندلکا.... دھندلکا۔ اندھیرا.... وہ سب دور بھاگ رہے تھے۔ جیسے میں بھوت بن گیا تھا۔ بھوت.... اور میں انہیں پاس بلانا چاہتا تھا۔ مجھے اکیلے میں ڈر لگ رہا تھا اور چاروں طرف سے بوجھل اندھیرا گرد جمع ہوا جا رہا تھا۔ 
وہ چھاپے خانے کا مزدور مجھ سے دور کیوں بھاگ رہا تھا۔ حالانکہ اس روز جب چھاپے خانے پر بم پڑا تھا تو میں نے مزدوروں سے کس طرح ہمدردی محسوس کی تھی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ جا کر ان سے خیریت پوچھوں ۔ پھر.... میں ڈر کیوں گیا تھا....؟ شاید وہ بھی مجھ سے ڈر گیا ہو۔ میری کرپان سے ڈر گیا ہو۔ لیکن وہ تو میرے مزدور بھائی تھے۔ پھر ڈر کیسا۔ کیوں .... اور کرپان.... وہ تو میں نے اپنے بچاؤ کے لئے پکڑ رکھی تھی۔ کرتار سنگھ کی بات میرے جی لگی تھی۔ جب میں نے پوچھا، کرتار تم کرپان کیوں نہیں رکھتے تو وہ بولا۔ مجھے شرم آتی ہے۔ نہتے لوگوں میں کرپان لئے پھرتے شرم آتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ڈر مجھ پر حاوی ہو۔ اس کے بعد مجھے شرم آنے لگی۔ لیکن میں کرپان اٹھا لیا کرتا تھا۔ محض عادت کے طور پر۔ 
نہیں نہیں ۔ وہ میری کرپان سے نہیں ڈرا تھا۔ پھر اس نے وہ بجلی سی کیو ں گرائی تھی اور وہ ٹیس.... اور پھر سارے جسم میں بند بند میں درد ہو رہا تھا۔ 
ایک بار امر سنگھ نے پہلو میں ٹیس محسوس کی اور درد کی شدت سے وہ ایک تاریک ستون تلے گر کر ڈھیر ہو گیا۔ چاروں طرف سے بوجھل اندھیرے کے انبار تہ در تہ اس کے ارد گرد اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔ بڑی بڑی چمگادڑیں پھڑپھڑاتی ہوئی اترنے لگیں ۔ گدھ....
نہ جانے کب تک وہ یونہی پڑا رہا۔ 
گھنگھرو کی آواز سن کر وہ چونکا۔ سامنے سے ایک تانگہ آ رہا تھا۔ تانگہ....؟ اس وقت....؟ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور پھر نہ جانے کس خیال پر اس نے جست بھری اور پھسل کر تانگے کی پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا۔ 
’’نہیں ، نہیں ....‘‘ کوچوان نے لپکتا ہوا سایہ دیکھ کر چلانا شروع کر دیا۔ ’’نہیں نہیں ، میں مسلمان نہیں ہوں ۔ میں تو کوچوان ہوں ۔ کوچوان۔ ‘‘
’’کوچوان؟‘‘ امر سنگھ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’پھر؟‘‘
’’پھر....‘‘ کوچوان بولا۔ ’’پھر کیا، میں تو کہہ رہا ہوں ۔ میں .... میں تو کچھ بھی نہیں ۔ کچھ بھی نہیں ۔ ‘‘
’’کچھ بھی نہیں ۔ اوہ!‘‘ امر سنگھ کھو سا گیا۔ ’’اور میں ، میں ....‘‘
’’تم۔ تم....‘‘ اس نے اس کے کیسوں کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر دفعتاً گھبرا کر چلانے لگا۔ ’’نہیں ، نہیں ۔ میں کرشن نگر نہیں جاؤں گا۔ اس دن بھی میں وہاں جانے کے لئے تیار نہ تھا۔ ‘‘ کوچوان نے یوں بیان کرنا شروع کر دیا جیسے وہ دبی دبی ہچکیاں لے رہا ہو۔ ’’تیار نہیں تھا۔ حالانکہ وہ دس دس روپے دینے کو تیار تھے۔ لیکن روپے کا کیا جی۔ چلتی پھرتی چھاؤں ۔ میں وہاں کبھی نہ جاتا، مگر وہ بڑھیا.... اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مجھے ماں یاد آ گئی۔ ’’ماں ‘‘ امر سنگھ کے ہاتھ پر نہ جانے کہاں سے پانی کے قطرے گرے۔ ’’انہوں نے اسے امرتسر میں ....‘‘
’’پھر؟‘‘ امر سنگھ نے اپنے گیلے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ 
’’پھر؟‘‘ کوچوان چونکا۔ ’’پھر کچھ بھی نہیں ۔ کچھ بھی نہیں ۔ یہ بڑی بڑی دکانیں ، اونچے محل، کچھ بھی نہیں ۔ ‘‘
’’لیکن ماں ....‘‘ امر سنگھ گنگنایا۔ 
’’ماں .... وہ بڑھیا۔ آنسوؤں والی بڑھیا۔ میں نے کہا، میں لئے چلتا ہوں تمہیں ماں اور وہ مجھے دعائیں دینے لگی جس طرح میری ماں دعائیں دیا کرتی تھی۔ ‘‘
’’پھر؟‘‘ امر سنگھ نے آہ بھری۔ 
’’پھر پھر.... وہ بہت سے تھے، بہت سے۔ انہوں نے مجھے گھیر لیا، وہ بڑھیا انہیں کوس رہی تھی۔ پھر وہ ان کی منتیں کرنے لگی اور آخر رونے لگی- لیکن ان پر اثر نہ ہوا۔ ان پر اثر کیوں نہ ہوا؟ لیکن مجھ پر اس کے آنسوؤں کا اثر کیوں ہوا تھا؟ کیوں ....؟ کیا وہ ان کی ماں نہ تھی۔ بولو، تم کرشن نگر کے ہو۔ بولو۔ ‘‘
’’میں ....‘‘ امر سنگھ چونکا۔ ’’میں ....‘‘ اس کے گلے میں گویا آنسو ٹپک رہے تھے۔ 
’’انہوں نے گھسیٹ کر بڑھیا کو اتار لیا اور وہ میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔ ‘‘ کوچوان نے آہ بھری اور گھوڑا رک گیا۔ اس نے مظلوم نگاہوں سے کوچوان کی طرف دیکھا اور پھر ایک لمبی چیخ ماری۔ ’’مجھے مار دیتے تو کوئی حرج نہ تھا۔ ‘‘ کوچوان بڑبڑایا۔ ’’لیکن موتی.... بے زبان موتی پر ہاتھ اٹھانا۔ ‘‘ اس نے گھوڑے کی طرف پرنم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’موتی تو مسلمان نہ تھا۔ ‘‘
موتی نے ایک چیخ ماری۔ ڈراؤنی لمبی چیخ اور پھر بدک کر چل پڑا۔ 
’’وہ سب۔ ‘‘ کوچوان اپنی ہی دھن میں بولتا گیا۔ ’’وہ سب جیو ہتیہ کے نام پر کانوں پر ہاتھ رکھا کرتے تھے۔ میں جانتا ہوں ، عمر بھر کرشن نگر کے اڈے پر رہا ہوں ۔ پھر انہوں نے موتی پر بھالے، کرپان.... دفعتاً وہ چپ ہو گیا۔ 
چاروں طرف فضا سے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں ۔ موتی کراہتا ہوا دوڑ رہا تھا۔ امر سنگھ آہیں بھر رہا تھا اور کوچوان دور افق کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جیسے افق میں کھو گیا ہو۔ دفعتاً اس نے اپنے ہی آپ گنگنانا شروع کر دیا۔ ’’پھر.... اندھیرا۔ چارو ں طرف سے اندھیرا، گھپ اندھیرا۔ 
’’ٹھہرو۔ ‘‘ سڑک پر کھڑا ہوا سپاہی چلایا۔ ’’ٹھہرو۔ ‘‘
کوچوان نے چونک کر لگام ڈھونڈنی شروع کر دی۔ لیکن تانگہ رکنے سے پہلے ہی سپاہی اوپر چڑھ آیا۔ 
’’تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘ سپاہی نے تحکمانہ انداز سے پوچھا۔ 
’’میں !‘‘ کوچوان بولا۔ ’’میں کہاں جا رہا ہوں .... کیوں بابو جی؟ اس نے امر سنگھ سے پوچھا۔ 
امر سنگھ کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا جواب دے۔ ’’میں ، میں یعنی ہم....‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ 
’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘
’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘ سپاہی آپ ہی گنگنانے لگا۔ ’’لیکن مجھے ضرور وہاں پہنچنا چاہئے ورنہ وہ سب بھوک سے مر جائیں گے.... اوہ!‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’مجھے جانا ہے، مجھے انہیں بچانا ہے مگر.... کہاں جانا ہے۔ کہاں جانا ہے مجھے؟‘‘ تھانے جانا ہو گا۔ ‘‘ کوچوان بولا۔ 
’’نہیں نہیں ۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’وہاں سے تو میں آ رہا ہوں ۔ ‘‘
’’ہاں ہاں ۔ ‘‘ امر سنگھ خوامخواہ بول پڑا۔ 
’’مجھے کہاں جانا ہے؟ سنتری نے امر سنگھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ ‘‘بولو ورنہ وہ سب بھوک سے مر جائیں گے۔ ‘‘
’’کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ کوچوان نے آہ بھری۔ ’’کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’نہیں نہیں ۔ ‘‘ سنتری چلایا۔ ’’بکو نہیں ، وہاں گیہوں نہیں ہے۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں ۔ ‘‘
’’میں تھانے میں رپورٹ کرنے آ رہا تھا۔ ادھر سے نہ جاؤ، وہ بولے۔ وہ تمہیں مار دیں گے۔ بے وقوف مجھے رپورٹ کرنی تھی۔ ورنہ وہ سب بھوک سے مر جاتے۔ ‘‘
’’پھر؟‘‘ امرسنگھ بولا-
’’پھر چھتوں سے پتھروں کی بارش ہونے لگی اور پھر اندھیرا۔ گھپ اندھیرا اور وہ ہنس رہے تھے۔ بے وقوف انہیں معلوم نہ تھا کہ مجھے ضروری طور پر جانا ہے۔ مجھے اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ میں ان کو سمجھوں گا۔ مل لیں ، بغیر وارنٹ کے ہتھکڑی نہ لگائی تو میرا نام.... لیکن میرا نام کیا ہے، میرا نام.... بتاؤ.... بولو....؟ کہاں جانا ہے مجھے.... اور میرا نام.... کیا نام ہے میرا۔ کون ہوں میں ؟ بولو.... نہیں بتاتے۔ اچھا میں تمہارا چالان کروں گا۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ تانگے سے اتر گیا اور چلانے لگا۔ ’’ٹھہرو، ٹھہرو۔ ‘‘
موتی نے ایک چیخ ماری اور بدک کر بھاگا۔ 
’’نہیں نہیں ۔ ‘‘ کوچوان چلایا۔ ’’ہم کرشن نگر نہیں جائیں گے بیٹے۔ ہم تو شاہ عالمی جا رہے ہیں .... شاہ عالمی۔ ‘‘
’’شاہ عالمی نہ جانا۔ شاہ عالمی نہ جانا۔ ‘‘ کسی نے بڑھ کر گھوڑے کی لگام تھام لی۔ 
’’شاہ عالمی۔ ‘‘ نوجوان پر ایک کیفیت طاری ہو گئی۔ ’’اف.... آگ، آگ۔ ‘‘
’’آگ۔ ‘‘ امر سنگھ چلایا۔ 
’’بھگوان۔ ‘‘ نوجوان غصے سے بولا۔ ’’نہیں نہیں بھگوان تو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ اب تو یہاں شیطان بستے ہیں .... شیطان۔ بھگوان کی دنیا میں اینٹوں سے شعلے نہیں نکلتے۔ ‘‘
’’ہاں !‘‘ امر سنگھ گنگنایا۔ ’’یہ شیطان کی دنیا ہے۔ بھاگ چلو، بھاگ چلو۔ ‘‘
نوجوان قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔ حتیٰ کہ اس کی آنکھوں میں آنسو جھلک آئے۔ رام لال بھاگا تھا۔ وہ بھاگ کر کھڑکی سے اترنے لگا۔ اف گولیوں کی بوچھاڑ۔ پٹاخ پٹاخ اور ننھا مادھو۔ اسے کیا معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ آتش بازی چل رہی ہے اور پھر وہ خود انار کی طرح چلنے لگا۔ دھڑا.... دھڑ۔ بھگوان۔ 
’’پھر؟‘‘ کوچوان نے کہا۔ 
’’پھر....‘‘ وہ چونکا۔ ’’پھر دیواریں مل گئیں ۔ آسمان گر گیا۔ زمین.... زمین۔ اندھیرا، گھپ اندھیرا۔ ٹھہرو ٹھہرو۔ ‘‘ دفعتاً وہ چلایا۔ ’’دینا مجھے دینے کو بچانا ہے۔ دینا۔ دینا۔ ‘‘ وہ چلاتا ہوا چلا گیا۔ دور سے اس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ’’دینا۔ دینا۔ ‘‘
کوچوان ہاتھ میں باگ پکڑے بالکل چپ چاپ بیٹھا تھا۔ امر سنگھ ہونٹوں میں کچھ گنگنا رہا تھا۔ موتی منہ اٹھائے افق کی طرف گھور رہا تھا۔ وہ سب یوں ساکت تھے جیسے کپڑے پر تصویر کھینچی ہو۔ 
’’وینو....‘‘ کسی نے وینو کو پکارا۔ ایک بڑھیا نہ جانے کہاں سے آ گئی۔ 
’’کہاں ہے میرا وینو؟‘‘ وہ ٹانگے کے پاس آ کر رک گئی اور پھر امر سنگھ سے مخاطب ہو کر بولی۔ ’’تمہیں نے وینو کو مارا ہے۔ تم اس کے قاتل ہو۔ تم، مارو، مجھے بھی مارو۔ ‘‘ وہ تن کر کھڑی ہو گئی۔ 
’’نہیں نہیں ۔ ‘‘ امر سنگھ گنگنانے لگا۔ 
’’پکڑ لو۔ ‘‘ وہ کوچوان کی طرف لپکی۔ ’’پکڑ لو، یہ قاتل ہے۔ ‘‘
کوچوان چپ چاپ بیٹھا اس کا منہ تکتا رہا۔ 
’’کوئی نہیں سنتا۔ کوئی نہیں ۔ ‘‘ وہ چلانے لگی۔ ’’انہوں نے بھی کچھ نہیں سنا تھا.... ان کی لمبی لمبی داڑھیاں تھیں ۔ خاکی وردیاں ۔ انہوں نے پولیس کے بھیس میں ہمیں گھیر لیا اور وہ سب اللہ دتہ، غفورا، رحیم.... سبھی گئے کہ ان کے پاس شکایت کریں ۔ میرے اللہ اور.... وہ سب بھون دیئے گئے جیسے مکئی کے دانے ہوں ۔ پھر وہ سب ہمارے پاس آ گئے اور ہمیں گھیر لیا۔ ‘‘
’’....اور دینا مجھے بھی مارو۔ ‘‘ وہ پھر چلائی۔ ’’دینے کے بغیر میں جی کر کیا کروں گی؟ مجھے بھی مارو۔ ‘‘ دفعتاً اس نے اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ ’’ہائے....‘‘ وہ چلائی۔ ’’میرا سر۔ اف۔ ‘‘ وہ بیٹھ گئی۔ ’’میرا سر، میرا سر۔ ‘‘
موتی نے مڑ کر کوچوان کی طرف دیکھا۔ اس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ کوچوان نے آسمان کی طرف دیکھ کر لمبی آہ بھری۔ امر سنگھ مدھم آواز میں کراہنے لگا۔ فضا میں اس کی کراہ گونجی۔ گرد و پیش سے آہوں اور کراہوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ 
’’دینا۔ دینا۔ ‘‘ دور بہت دور سے آواز آئی۔ 
’’دینا۔ ‘‘ بہت دور سے پھر آواز آئی۔ 
’’آئی۔ ‘‘ بڑھیا چلائی۔ ’’میں آ رہی ہوں ۔ آ رہی ہوں ۔ ‘‘ اور وہ دیوانہ وار اندھیرے میں کود کر نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ 
دفعتاً موتی نے چیخ ماری اور اٹھ بھاگا۔ 
ارد گرد امڈتا ہوا۔ بل کھاتا ہوا بوجھل اندھیرا گویا کراہ رہا تھا۔ ستونوں کے اوپر لٹکی ہوئی بتیاں دم توڑ رہی تھیں ۔ نیچے سیاہ سڑک سسکیاں بھر رہی تھی۔ 
’’اسے رکھ لو۔ ‘‘ بڈھا گڑگڑا رہا تھا۔ ’’اسے رکھ لو۔ بھگوان کے لئے مجھے چھوڑ دو۔ میری جان بخش دو۔ میں تو بوڑھا ہوں ۔ مجھے مار کر کیا لو گے؟‘‘ اس کی حسین پتری حیرانی سے بوڑھے باپ کی باتیں سن رہی تھی۔ 
’’نہیں ، نہیں ۔ یہ میرا بچہ نہیں ۔ ‘‘ بڑھیا چلائی۔ ’’نہیں بہن میں سچ کہتی ہوں ، یہ بچہ میرا نہیں ۔ ‘‘
’’میں ، میں اسے کہاں تک اٹھائے پھروں گی۔ میں تو اس کی دیکھ بھال کرتے ہار گئی۔ ‘‘
بچہ حیرانی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ماں .... اس کے ہونٹ یوں کھلے جیسے ’’ماں ‘‘ کہنے کی کوشش کر رہا ہو۔ 
’’سردار جی یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ نہیں ، نہیں ۔ میرا نام تو کوشلیا ہے۔ یہ دیکھ لو۔ یہ کلائی پر ہندی میں نام۔ کوشلیا۔ ‘‘
’’ہاہاہاہاہا....‘‘مرد ہنسا۔ ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سردار جی کا منہ ہوس سے سوجا ہوا تھا۔ اس کے جونک سے ہونٹ خون چوسنے کے لئے کوشلیا کی طرف بڑھے۔ 
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ نہیں نہیں ۔ ‘‘ کوشلیا نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی۔ 
’’میں سکھ نہیں ۔ ‘‘ وہ ہنسا۔ ’’مسلمان ہوں ۔ یہ کیس تو دھوکا ہیں ۔ ‘‘
’’میں انہیں بتاؤں گا۔ مجھے اپنوں نے....‘‘ اس کی آواز مدھم ہو گئی۔ دب گئی جیسے کسی نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ہو اور ایک سیاہ فام برہنہ جسم نے اسے اپنے چنگل میں لے لیا۔ 
تانگہ رک گیا۔ 
سامنے مٹیالے اندھیرے میں ایک بہت بڑا پنجرہ رکھا ہوا تھا جس میں سائے متحرک تھے۔ پاس ہی چند قلی بیٹھے تھے۔ دفعتاً ایک ریڑھی والا آ نکلا اور بے تکلف قلیوں کی طرف بڑھا۔ ہائیں .... امر سنگھ نے کلیجہ تھام لیا۔ ’’وہ سب کچلے جائیں گے۔ ‘‘ لیکن ریڑھی گزر گئی اور وہ قلی جوں کے توں بیٹھے تھے۔ امر سنگھ حیران رہ گیا۔ نہ جانے کیا بات تھی۔ کتے بلا تکلف دیوار میں سے پھاند کر ادھر سے ادھر نکل آتے۔ کوے اڑتے اڑتے موتی کے پیٹ میں سے نکل جاتے جیسے وہاں کوئی کھڑکی کھلتی ہو۔ عجیب بات تھی۔ وہ سوچنے لگا۔ 
سوچتا سوچتا وہ قلیوں کے پاس جا کھڑا ہوا۔ 
اسے دیکھ کر بڈھا قلی چلایا۔ ’’نہیں بھئی۔ تم جانو۔ تمہارا کام۔ ہم سامان نہیں اٹھائیں گے۔ ‘‘
وہ بھی میری منتیں کرتی تھی۔ منتیں اور مجھے اس پر ترس آ گیا اور وہ صندوق کتنا بھاری تھا۔ وہ صندوق.... وہ میرے کندھے سے پھسل گیا۔ پھر.... نہ جانے کیا ہوا۔ بادل کڑکا اور بجلی پھر....‘‘ قلی کا چہرہ بھیانک ہو گیا اور پھر وہ ہوا میں ٹکڑے سے اڑا اور جیسے سب ہوائی جہاز بن گئے ہوں ۔ سبھی.... چاروں طرف ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور مدھم آوازیں ۔ نہیں ۔ نہیں ۔ نہیں ۔ نہیں ۔ اور پھر، پھر اندھیرا اندھیرا۔ ‘‘
کو....کوکو۔ گاڑی کے وسل کی آواز سنائی دی۔ 
’’میں جاؤں گا۔ میں جاؤں گا۔ ‘‘ امر سنگھ چلایا۔ ’’میں یہاں نہیں رہوں گا۔ ‘‘ وہ ہوا میں تیرنے لگا اور آہنی پل کے درمیان سے گزرتا ہوا گاڑی کے پاس جا پہنچا۔ ’’امرتسر امرتسر۔ ‘‘ وہ خوشی سے چلایا۔ 
’’امرتسر۔ ‘‘ ایک بھاری اور بھیانک آواز آئی۔ ’’امرتسر....‘‘
امر سنگھ نے گھبرا کر دیکھا۔ گاڑی کے پائیدان کے پاس پڑا کٹا ہوا سر دانت نکال رہا تھا۔ 
امر سنگھ گھبرا گیا۔ 
گاڑی سے ایک عورت نے سر نکالا۔ اس کی چھاتیاں کٹی ہوئی تھیں ۔ جس سے ایک بچہ لٹکا ہوا تھا۔ عورت نے اپنی چھاتیو کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’امرتسر....‘‘
امر سنگھ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور پھر گھبرا کر بولا۔ ’’امرتسر۔ ‘‘ اور پھر ڈر کر ایک ڈبے میں گھس گیا۔ 
ڈبے کی دیواریں سرخ چھینٹوں سے بھری ہوئی تھیں ۔ نیچے لہو کی چھپڑیوں میں گوشت کی گٹھڑیاں رکھی تھیں ۔ امر سنگھ سہم کر ایک طرف ہو گیا۔ 
سیٹ پر پڑے کٹے ہوئے سر نے آنکھیں کھول دیں ۔ امر سنگھ کو کھڑا دیکھ کر اس کی آنکھیں اور بھی ابل آئیں ۔ ’’نہیں ، نہیں ۔ میں مسلمان نہیں ۔ رسول اللہﷺ کی قسم۔ ‘‘
سیٹ پر لڑھکتا ہوا وہ نیچے گرا اور پائیدان سے پلیٹ فارم پر جا پڑا۔ 
’’الحمدللہ‘‘ بائیں طرف کے ڈھیر سے ایک بزرگانہ آواز آئی۔ ’’الحمد للہ۔ اشہد ان لا....‘‘
دفعتاً ایک شور بلند ہوا۔ گوشت کی گٹھڑیاں حرکت کرنے لگیں ۔ اعضاء میں جنبش ہوئی۔ ’’میری ٹانگ۔ میری ٹانگ۔ ‘‘
’’خدا کے لئے مجھے مار دو۔ مجھے مار دو۔ ‘‘
’’پاکستان....!‘‘
’’پاکستان۔ ‘‘ باہر پلیٹ فارم سے آواز گونجی۔ امر سنگھ سہم کر باہر کی طرف بھاگا۔ 
پلیٹ فارم پر انسانی اعضاء رینگ رہے تھے۔ کٹے ہوئے سر ربڑ کے گیندوں کی طرح لڑھک رہے تھے۔ 
٭٭٭




بھور سمے



پیاری انو....
دیکھ تو بھور سمے آ رہا ہے۔ دبے پاؤں ۔ پگ پگ، مدھم مدھم، پتہ نہیں کون گوری پائل کی جھنکار کے بغیر، کس پیتم سے ملنے آ رہی ہے۔ دیکھو تو کیا مدھ بھری چال ہے۔ کیا چھب ہے۔ 
یہ بھور سمے بھی کیا ہے انو۔ مہک میں رچا بسا ہوا۔ تازگی شگفتگی کی پھوار اُڑاتا ہوا۔ مدھم دھڑکنوں سے بھرپور۔ بے نام سکون، بکھیرتا ہوا دودھیا سویرا جیسے ماں کی گود کھل کھل کر دھرتی پر چھائے جا رہی ہو۔ جیسے اجابت دعا کے لئے اپنے مندر کے دوار کھول رہی ہو۔ جیسے اللہ میاں آکاش سے نیچے اتر آئے ہوں ۔ زیر لبی میں کہہ رہے ہوں ۔ ’’بندے! مجھ سے باتیں کر۔ ‘‘
کاش کہ تو یہاں ہوتی انو اور میرے پاس بیٹھ کر دیکھتی۔ ہم ہاتھ میں ہاتھ دیئے اکٹھی دیکھتیں ۔ 
صبح کے چار بجے ہیں انو اور میں گھر کے باہر باغیچے میں بیٹھی تجھے خط لکھ رہی ہوں ۔ 
گھر والے گہری نیند سوئے ہوئے ہیں ۔ رفیق پہل پہرئیے ہیں ۔ رات دیر تک جاگتے ہیں ۔ جوں جوں رات بھیگتی ہے، ان کی حسیات جاگتی ہیں ۔ پھر دو بجے کے قریب گویا غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ صبح دیر تک بے خبر پڑے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کبھی بھور سمے نہیں دیکھا۔ 
میں پچھلی پہری ہوں ۔ جب پو پھٹتی ہے تو مجھے جگا دیتی ہے اٹھ صبو اٹھ۔ دیکھو۔ 
میں کیا کیا دیکھوں انو۔ ہر طرف سے زیر لبی اٹھتی ہے۔ ادھر دیکھ ادھر دیکھ۔ دیکھ دیکھ کر میں بوند بوند بھر جاتی ہوں ۔ پھر جی چاہتا ہے کوئی ہو جسے میں دکھاؤں اور ہم دونوں ہاتھ میں ہاتھ دیئے اکٹھے دیکھتے رہیں ۔ دیکھتے رہیں ۔ 
وہ دیکھ انو۔ پھول انگڑائیاں لے کر جاگ اٹھے۔ سہمی سمٹی ہوئی پتیوں نے سبز چنیاں اوڑھ لیں ۔ آنے والے سمے کے سواگت کے لئے دیکھ انو۔ کھگوں نے بوہے کھول دیئے، لکھاں نکل آئیں پھولوں نے سفید لباس اوڑھ لئے کہ مکھیاں دیکھ لیں ۔ مکھیوں کا پریم سندیس بن کر اپنی سونا بھری کٹوریوں کے سر پوش اتار دیئے۔ 
لو ہوا جھولنے اٹھائے آ گئی کہ بھور سمے کو جھولن سمے بنا دیا۔ انو ایک ایسا ہی بھور سمے میرے اندر چھایا ہوا ہے۔ دل کے انگ انگ میں رچا بسا ہوا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کوئی اندر جھانکے۔ دیکھے، جانے، اس آرزو نے مجھے اکیلی کر دیا ہے انو، اکیلی، تنہا۔ اک میں ہی نہیں ، انو! تو بھی اکیلی ہے۔ ہم سب اکیلیاں ہیں ۔ کوئی جان لیتی ہے کہ اکیلی ہوں ، کوئی نہیں جانتی۔ کوئی سمجھ لیتی ہے کہ یہی ہمارا مقدر ہے، کوئی نہیں سمجھتی۔ کیوں سمجھے، کیوں خود کو دکھی کرے۔ پر سمجھنے نہ سمجھنے سے مقدر نہیں بدلتے۔ 
انو....!
پتا نہیں یہ بھور سمے دیکھن کب دبے پاؤں میرے اندر آ بسا۔ جیسے دریا نیچے ہی نیچے سے آتا ہے اور پھر ’’سیما‘‘ بن کر باہر نکل آتا ہے۔ اس ’’سیما‘‘ نے مجھے بھگو دیا ہے، ڈبو دیا۔ اب میں نے جانا ہے انو کہ یہ دیکھن باہر سے نہیں آیا۔ اندر سے پھوٹا ہے۔ اب میں نے جانا ہے کہ یہ دیکھن عورت کا نصیبا ہے۔ پہلے دبا دبا بیٹھ رہتا ہے۔ پھر ہولے ہولے نکلتا ہے۔ چھا جاتا ہے۔ 
جب میں جوان ہوئی تھی تو ایک دم مجھ پر دکھن کا جنون طاری ہوا تھا۔ میں دِکھوں ، روشنیوں میں دِکھوں ، اندھیروں میں دِکھوں ، بیٹھی ہوئی دِکھوں ، چلوں تو دِکھوں ، بولوں تو دِکھوں ، جھرمٹ میں دِکھوں ، اکیلے میں دِکھوں ، ایسی دِکھوں کہ دوجا چونک جائے۔ انو میں دِکھنے کی اتنی دیوانی ہوئی کہ بار بار دیکھتی، کیسی دِکھتی ہوں ۔ 
میں سمجھی، عورت کے جیون کا مقصد صرف دِکھنا ہے۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ دیکھنا تو پہل جوانی کا ایک پڑاؤ ہے، منزل نہیں ، چار سال میں دِکھتی رہی۔ 
توبہ ایسی جوانی آئی کہ جو سامنے آتا، جوتوں میں کھڑا حیرت سے دیکھتا۔ جو گزر جاتا، مڑ مڑ کر دیکھتا۔ جو بات کرنے کے لئے آتا، بات بھول بھول جاتا۔ انو تو تو جانتی ہے کہ نگاہوں کی گود میں ایک جھولن ہوتا ہے۔ میں اس جھولنے پر ایسی چڑھی کہ سدھ بدھ کھو بیٹھی۔ چار سال ہلاروں میں جیتی رہی۔ 
پھر رفیق آ گئے۔ رفیق میرے کزن تھے۔ ولایت پڑھنے گئے تھے۔ مجھے دیکھ کر بھونچکے رہ گئے۔ کئی دن بے پتوار کی ناؤ کی طرح ڈولتے رہے۔ ڈگمگاتے رہے۔ پھر انہوں نے نگاہوں کا ایسا تار باندھ دیا کہ میں ان جانے میں پروئی گئی۔ جھولن میں ایسی لے آ گئی کہ رنگ پیدا ہو گیا۔ اس کی بوندیوں کی پھوار پڑنے لگی۔ مجھے بھگو دیا۔ میں سمجھی، یہی محبت ہے۔ 
پھر شادی ہو گئی....
شادی ہو گئی تو پتا نہیں کیا ہوا۔ کچھ ہو گیا۔ آناً فاناً ہو گیا جیسے بھڑ پروانہ بن جائے۔ ساری دنیا ہی بدل گئی۔ دکھن دیکھن میں بدل گیا۔ انہیں دیکھ دیکھ کر جینے لگی۔ انہیں بت بنا لیا، خود بھینٹ چڑھ گئی۔ ہر وقت آرتی اٹھائے رکھتی، پھول برساتی رہتی۔ 
پھر آہستہ آہستہ وہ بت پھیل کر گرد و پیش پر چھا گیا۔ ہر چیز میں انہیں دکھن لگی۔ پھولوں میں ، پتیوں میں ، بادلوں میں ، ہوا کے جھونکوں میں ، ہر جگہ اور انو وہ میرے بند بند میں سما گئے اور میرے اندر بھور سمے پیدا ہو گیا۔ 
میری ساری سہیلیاں کہتی ہیں ۔ صبو تو بڑی خوش نصیب ہے۔ تجھے ان کی محبت حاصل ہے۔ دو سال میں بھی یہی سمجھتی رہی۔ پھر جیسے میری آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا۔ نہیں یہ تو محبت نہیں ۔ 
ہماری شادی کو تین سال ہو چکے ہیں ۔ اب ان کی نگاہوں کا تار ٹوٹ چکا ہے۔ میں انہیں وقفوں سے دکھتی ہوں ۔ لیکن جب دیکھتے ہیں آنکھوں میں اٹھا لیتے ہیں ۔ پھر ایک شرارہ اڑتا ہے۔ بھس میں آگ لگ جاتی ہے۔ ایک بھانبڑ ابھرتا ہے۔ جوالا مکھی جاگتا ہے۔ ان کی آغوش میں میرے اندر پھلجھڑیاں چلتی ہیں ۔ گھنٹیاں بجتی ہیں ۔ رنگ رس پچکاریاں چھوٹتی ہیں ۔ پھر ایک ہوائی شوں کر کے چل جاتی ہے۔ وہ دھم سے زمین پر آ گرتے ہیں ۔ یوں آنکھ کھل جاتی ہے جیسے خواب سے بیدار ہوتے ہیں ۔ پھر میں انہیں دکھتی ہوں ۔ ان کی وہ نگاہ سوئچ آف ہو جاتی ہے۔ میں پیش منظر سے پس منظر میں چلی جاتی ہوں لیکن میری نگاہ میں وہ کبھی پس منظر میں نہیں جاتے۔ سدا پیش منظر میں رہتے ہیں ۔ 
اب میں نے جانا ہے انو، یہ آگ اگن تو محبت نہیں ۔ یہ تو لگن کی شدت کو ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ خود کو دوجے سے الگ کرنے، محظوظ کر لینے کی اک چال ہے۔ 
مرد کے دل میں محبت بھور سمے پیدا نہیں ہوتا۔ انو وہ تو جلا دیتا ہے۔ محبت تو بناتی ہے، بگاڑتی نہیں ۔ یہ تو کپا  لندھا دینے والی بات ہے۔ محبت تو پلی پلی جوڑن کا نام ہے۔ انگ انگ میں دیب جلائے رکھنے کا نام ہے۔ ایسے دیب جو ان بجھ ہوں ۔ ہلکی ہلکی لہروں کا نام ہے جو بند بند میں رواں دواں رہیں ۔ جوار بھاٹے کا نام نہیں ۔ 
اب مجھے یاد آتا ہے انو، باجی کہا کرتی تھی، صبو عورت سے دھوکہ ہوا ہے، مرد کا پریم تو جیون پیالی رکھنے کے لئے قدرت کی ایک چال ہے۔ 
اب میں نے جانا انو باجی سچ کہتی تھی۔ اب مجھے پتہ چلا ہے کہ محبت کی دین تو صرف عورت کو ملی ہے۔ مرد تو خالی جوار بھاٹا ہے۔ سکندر ہے، آتا ہے، فتح کرتا ہے، چلا جاتا ہے۔ مرد تو انو مداری کا طوطا ہے۔ توپ چلاتا ہے اور پھر آرام سے بے تعلق جھولنے پر جا بیٹھتا ہے اور عورت اپنے بند بند میں ممتا کے دیپ جلائے بیٹھی رہتی ہے۔ بیٹھی رہتی ہے۔ 
نہیں انو! میں قدرت کی چال کے جال میں پھنسنے والا پنچھی نہیں بنوں گی۔ مجھے تو اک ساتھی چاہئے جس کے انگ انگ میں محبت کی بھیگ رچی بسی ہو۔ تار بندھا رہے۔ مدھم لہریں رواں دواں رہیں ۔ بند بند میں دیپ جلتے رہیں ۔ محبت بھرے دیپ جیسے بھور سمے میں جلتے ہیں ۔ 
مجھے ایسا لگتا ہے انو جیسے یہ بھور سمے چاروں اور چھایا ہوا بھور سمے، سمے بنانے والے کا، اپنے بندوں کے نام محبت بھرا پیغام ہے۔ اسے سو کے مت گنوا۔ اٹھ، اٹھ کر میرے ساتھ باتیں کر، محبت بھری باتیں ۔ 
انو میرا جی چاہتا ہے، کوئی ہو۔ جو میرے ساتھ بھور سمے کو دیکھے، اس کے پیغام کو سنے، اسے بیتے اور ہم دونوں ہاتھ میں ہاتھ دیئے دیکھتے رہیں ، دیکھتے رہیں ۔ 
٭٭٭




کہانی کی تلاش


تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ تھک کر چور ہو گیا تو میں رک گیا، وہ بھی رک گیا۔ سڑک کنارے ایک تھڑے پر بیٹھ گیا، وہ بھی بیٹھ گیا۔ 
مجھے اس کا ساتھ پسند نہیں ، بڑا نکتہ چین ہے، بات بات پر ٹوکتا ہے۔ لیکن وہ میری مجبوری ہے، میں اس سے پیچھا چھڑا نہیں سکتا۔ 
میں نے گرد و پیش پر نگاہ ڈالی۔ پاکستان کا حسین ترین شہر اسلام آباد میرے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ کیوں نا اسلام آباد پر ایک کہانی لکھوں ، دفعتاً مجھے خیال آیا۔ 
’’اونہوں !‘‘ وہ بولا۔ ’’یہ ہمارا شہر نہیں ہے۔ ‘‘
’’کیوں ؟‘‘ میں نے غصے سے اسے دیکھا۔ 
’’اس میں اپنوں کا رنگ نہیں ہے، بیگانہ ہے۔ ‘‘
’’اسلامی مملکت کا دارالخلافہ ہے بھئی۔ ‘‘
’’صرف نام کا اسلامی ہے۔ مساوات کا بیری ہے۔ ‘‘
’’ذات پات کا شوقین ہے۔ اونچ نیچ کا مارا ہوا۔ ‘‘
’’کون سی ذات پات؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
’’عہدوں کی، گریڈوں کی، تم اس پر کہانی نہیں لکھ سکتے۔ ‘‘
’’کہانی تو اپنوں کی ہوتی ہے۔ بے گانوں کی نہیں ۔ ‘‘
میں نے اس کی بات کا جواب نہ دیا۔ 
دیر تک ہم دونوں چپ چاپ بیٹھے رہے۔ 
میری مشکل یہ ہے کہ جب تک مرکزی خیال نہ ہو، میں کہانی نہیں لکھ سکتا۔ اگر کہانی کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تو کیا فائدہ۔ گونگی کہانی کو کوئی کیا کرے۔ پھر یہ بھی ہے کہ کہانی چیخ کر نہ بولے، لب نہ کھولے، آنکھ سے بولے، اکھ نال گل کر گئی۔ 
کئی ایک دن سے میں کہانی کی تلاش میں تھا۔ کیا لکھوں ، کس موضوع پر لکھوں ، ایسی بین بجاؤں کہ سانپ نکل آئے۔ 
’’وہ ہنسا بولا۔ ’’بغل میں کٹورہ۔ ‘‘
’’کہاں ہے کٹورہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔ 
اس نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’تم اس موضوع پر کیوں نہیں لکھتے؟ سارے لکھاری اس پر لکھتے ہیں ۔ آج کے دور کامن بھاتا موضوع ہے۔ آج کے بوٹے پر لگا ہوا پھل ہے۔ ‘‘
میں نے مڑ کر دیکھا، درختوں کے پیچھے کچی آباد تھی۔ انتظامیہ نے اسے درختوں اور دیواروں کے پیچھے چھپا رکھا تھا تاکہ دودھ میں مکھی کوئی نہ دیکھ لے۔ 
میں سڑک کے نیچے اتر گیا۔ درختوں کے جھنڈ سے دیکھا۔ وہاں بیس تیس جھونپڑے تھے۔ دو رویہ مکانوں کے درمیان میں کھلا میدان تھا۔ میدان میں یہاں وہاں چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ تو لوگ بیٹھے تھے۔ حقے چل رہے تھے، بچے چارپائیوں کے ارد گرد دوڑ رہے تھے، چیخ رہے تھے، چلا رہے تھے۔ عورتیں اوپن ایئر باورچی خانوں میں چولہوں پر ہانڈیاں چڑھائے بیٹھی تھیں ۔ ہاتھ چل رہے تھے، چوڑیاں چھنک رہی تھیں ، باتیں ہو رہی تھیں ۔ 
’’ارے باؤ جی!‘‘ قریب ہی سے آواز آئی، دیکھا تو پاس ہی ایک بڈھا بیٹھا جوتے گانٹھ رہا تھا۔ 
’’کس سے ملنا ہے؟‘‘ مجھے اس نے پوچھا۔ 
’’کسی سے بھی نہیں ۔ ‘‘
’’پھر کیا دیکھ رہا ہے تو؟‘‘
’’دیکھ رہا ہوں ، کتنی غربت ہے، کتنا دکھ ہے۔ ‘‘
’’کہاں ہے دکھ؟‘‘ وہ بولا۔ ’’یہاں تو میلہ لگا ہوا ہے، بابو جا، سارے اسلام آباد کا چکر لگا، گھوم پھر کر دیکھ، کہیں بھی ایسا ملہ نہیں لگا ہو گا۔ سب کمروں میں بند ہیں ، نہ بول نہ بلارا، بوہے بندے، ہونٹ بند، دل بند۔ 
اور بابو یہ کچی آبادی جو تو دیکھ رہا ہے۔ یہ آبادی نہیں ہے، یہ تو ایک کنبہ ہے، ایک کو پیڑ ہووے ہے تو دوجا درد سے ہائے ہائے کرے ہے۔ ایک کا چولہا نہیں جلے ہے تو دوجا ہانڈی میں ایک مٹھ اور دال ڈال لے ہے۔ تو غربت کو کیا سمجھے ہے بابو۔ غربت میں لوگ ایک دوجے کے نیڑے ہو جاویں ہیں ۔ امارت میں دور ہٹ جاویں ہیں ۔ 
اور تجھے پتہ ہے بابو۔ پاکستان پر کیا بپتا پڑی ہوئی ہے۔ ہمیں جنے کی ضرورت تھی۔ اس سے زیادہ مل گیا، زیادہ مل جائے تو شر جاگ اٹھتے ہیں ۔ فساد کے بلبلے پیدا ہو جاویں ہیں ۔ 
’’تو مسلمان ہے کیا؟‘‘ بڈھے نے پوچھا۔ 
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ 
’’پھر تو اس کو جانتا ہے؟‘‘
’’کس کو؟‘‘
’’وہ جو سب سے بڑا بندہ تھا۔ جو اللہ کا پیارا تھا۔ اللہ نے کہا میرے پیارے بندے، بول تو کیا چاہتا ہے، تو جو مانگے گا، ملے گا۔ جو چاہے گا، ہو گا۔ بتا امارت میں رہنا چاہے گا یا غربت میں ۔ اس نے غربت مانگ لی، غربت میں کوئی صفت ہو گی تو اس نے غربت مانگی۔ ‘‘
مایوس ہو کر میں پھر چل پڑا۔ 
کہانی ڈھونڈ میرے سر پر جنون بن کر سوار تھی۔ 
چلتے چلتے میں رک گیا، وہ بھی رک گیا۔ 
میرے سامنے وہ کھڑی تھی۔ 
گلاب کا ایک بوٹا، اوپر ایک ڈوڈی۔ ادھ کھلی، ادھ بند، ادھ گلابی، ادھر ہری۔ 
ہونٹ بند تھے۔ آنکھیں باتیں کر رہی تھیں ۔ 
انگلیوں سے میگنیٹک لہریں نکل رہی تھیں ۔ 
’’آؤ!‘‘ وہ بولی، ’’میں ہوں وہ کہانی جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔ ‘‘
’’اونہوں ! مت جاؤ، مت جاؤ۔ ‘‘ میرے ساتھ زیر لبی میں بولا۔ ’’اس کی کہانی تو تم سالہا سال سے لکھ رہے ہو۔ ‘‘
’’میری کہانی۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’سبھی لکھ رہے ہیں ، نہ جانے کب سے لکھ رہے ہیں ، لیکن کوئی لکھ نہیں پایا۔ ‘‘
اور میری کہانی لکھی جاتی تو آج میں صرف آرائش و زیبائش نہ سمجھی جاتی۔ میری حیثیت دیکھن دکھن تک محدود نہ ہوتی۔ تیرے بھائی بند مجھے خوش وقتی نہ سمجھتے۔ ‘‘
اس نے ایک سرد آہ بھری۔ مجھے سب باہر سے دیکھتے ہیں ۔ کسی نے میرے اندر جھانک کر نہیں دیکھا۔ کسی نے مجھے نہیں جانا۔ ‘‘ وہ خاموش ہو گئی، دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ دفعتاً اس نے سر اٹھایا اور میرے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی۔ 
’’میں تجھے جانتی ہوں ۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’تو ایلی ہے نا۔ میں ایلن ہوں ۔ سنا تونے، میں ایلن ہوں ۔ ‘‘
اس نے ایک پوز بنایا اور یوں کھڑی ہو گئی جیسے مٹھاس کی اک پھوار ہو۔ 
مجھے ایسا لگا جیسے ورق میں لپٹی ہوئی مصری کی ڈلی ہو۔ جی میں آیا کہ منہ میں ڈال کر چوس جاؤں ۔ ‘‘
دفعتاً میرا ساتھی بولا۔ ’’ہوش کر، میرا تو منہ ہی نہیں ۔ جب تھا، تب جرات نہ تھی۔ اب خالی جرات کا جھنجھنا بجانے سے فائدہ؟‘‘
’’دیکھا!‘‘ وہ بولی۔ ’’مجھ میں دونوں روپ ہیں ۔ دیوی بھی ہوں ، ناری بھی ہوں ، انگاروں سے بھسم بھی کر سکتی ہوں ۔ سوکھے کو ہرا بھرا بھی کر سکتی ہوں ۔ میں تیری کہانی ہوں ۔ 
میرے ہوتے ہوئے تو کسی اور پر کہانی نہیں لکھ سکتا۔ ‘‘
’’میں لکھوں گا تجھ پر کہانی۔ ‘‘ میں نے کہا۔ 
’’رک جا!‘‘ میرا ساتھی بولا، اس نے میرا بازو تھام لیا۔ 
’’بے شک، یہ رنگ رس بھری کہانی ہے لیکن یہ ایسی کہانی ہے جسے صرف بیتا جاسکتا ہے، لکھا نہیں جاسکتا۔ تو بیتنے میں کھو جائے گا، لکھنے کا ہوش نہیں رہے گا۔ ‘‘
شام پڑ چکی تھی، پتہ نہیں شام اتنی اداس کیوں ہوتی ہے، مدھم اداسی، میٹھی اداسی۔ ایسے لگتا ہے جیسے شام نے بال کھیر رکھے ہوں ۔ چہرہ سستا ہوا ہو۔ انتظار، مایوسی بھرا انتظار۔ 
راگ ودھیا والوں نے شام کے راگ میں آگ لگا رکھی ہے۔ پتہ نہیں کیوں ، وہ تو بڑے سیانے ہیں ، پر مجھے لگتا ہے جیسے شام آگ نہیں ، سلگن ہے۔ مدھم سلگن جیسے دیئے میں تیل نہ رہا۔ سوکھی بتی سلگ رہی ہو۔ 
دکان میں اندھیرا گاڑھا ہوتا جا رہا تھا۔ ایک بتی سلگ رہی تھی۔ وہ تجوری کھولے بیٹھا گن رہا تھا۔ 
میرا ساتھی بولا۔ ’’رک جاؤ۔ اس سیٹھ کو دیکھ رہے ہو نا۔ ‘‘
’’دیکھ رہا ہوں ۔ ‘‘ میں نے کہا۔ 
’’تم نے اس پر کبھی کہانی نہیں لکھی۔ ‘‘
’’اس کی کوئی کہانی ہو تو لکھوں ۔ ‘‘
’’سبھی لکھتے ہیں ۔ ‘‘
’’ہاں بالکل لکھتے ہیں پر وہ کہانی نہیں ہوتی۔ غم و غصے کا اظہار کہانی نہیں ہوتی۔ کہانی نعرے نہیں لگاتی، اودھم نہیں مچاتی، اشتعال پر نہیں ابھارتی، مزاحمت کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتی۔ کہانی تو اک چھوٹا سا چشمہ ہوتی ہے۔ جو دھرتی سے ابلتا نہیں ، رستا ہے، بوند بوند رستا ہے۔ ہمدردی کا چشمہ دکھ بھرے لگاؤ کا چشمہ۔ بھیگ ہی بھیگ۔ 
’’جھوٹ بولتے ہو۔ ‘‘ اس نے مجھے ڈانٹا۔ ’’تمہاری کسی کہانی میں بھیگ نہیں ہوتی۔ سوکھی کاٹھ۔ ‘‘
’’سچ کہتے ہو۔ میں اپنی کسی کہانی میں بھیگ پیدا نہ کر سکا۔ قاری کو بھگو نہ سکا۔ لاکھ کوششیں کیں پر بات نہ بنی۔ بیسیوں لکھیں پر کہانی نہ لکھ سکا۔ ‘‘
’’جھک مارتے رہے۔ ‘‘ وہ بولا۔ 
نہیں جھک نہیں مارا۔ ‘‘
’’تو پھر....‘‘
’’چمکیلی باتیں کرتا رہا۔ دکھاوے کی باتیں ۔ توجہ طلبی کی باتیں ، پھلجھڑیاں چلاتا رہا، دیکھو میری طرف دیکھو۔ ‘‘
’’اپنی ڈگڈگی بجاتا رہا نا، کہانی اپنی بات نہیں ہوتی۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’دوجوں کی بات ہوتی ہے۔ کیا تم اپنی بات کرنے سے کبھی نہیں اکتائے؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے غصے سے پوچھا۔ 
’’اب بھی تو کہانی کے پردے میں تم اپنی بات کر رہے ہو۔ سیٹھ کی بات کیوں نہیں کرتے۔ ‘‘
’’کیوں کہتے ہو کہ اس میں کوئی کہانی نہیں ہے۔ ‘‘
’’یہ تو دولت کا قیدی ہے۔ دولت نے اسے ہائی جیک کر رکھا ہے۔ اس بے چارے میں تو میں بھی نہیں رہی۔ دل کی جگہ پیسہ ٹک ٹک کر رہا ہے۔ دنیا سے بھی گیا، خود بھی گیا، بے چارہ مظلوم۔ ‘‘
’’اس کی مظلومیت پر کہانی لکھو۔ ‘‘
’’نہ نہ نہ نہ۔ ‘‘
’’کیوں ، کیا لکھ نہیں سکتے؟‘‘
’’لکھ سکتا ہوں ۔ ‘‘
’’پھر لکھتے کیوں نہیں ؟‘‘
’’کس سے ڈرتے ہو؟‘‘
’’ان سے ڈرتا ہوں جو اسے ظالم سمجھے ہیں ۔ ‘‘
کھڑاک سے دکان کا دروازہ بند ہو گیا۔ 
’’وہ دیکھ، وہ....‘‘ وہ چلایا۔ ’’تیرا موضوع۔ ‘‘
میں نے سر اٹھایا۔ سامنے دربار جھلمل جھلمل کر رہا تھا۔ 
’’نہیں !‘‘ میں نے زیر لب کہا۔ ’’یہ میرا موضوع نہیں ہے، یہ داتا لوگ ہیں ۔ بزرگ ہیں ، اللہ والے ہیں ، یہ چوتھی سمت میں جیتے ہیں ۔ زیادہ دیکھتے ہیں ، زیادہ سنتے ہیں ، زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ زماں اور مکاں سے بے نیاز ہیں ۔ ان کا میں احترام کرتا ہوں لیکن میں ان کو سمجھ نہیں سکتا۔ ان کے بارے میں میں منہ کھولوں ، نہ نہ نہ بھائی۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ ‘‘
’’تم داتا کو کیوں دیکھتے ہو؟ بزرگ کو کیوں دیکھتے ہو؟‘‘ وہ بولا۔ ’’کرامتوں کو کیوں دیکھتے ہو؟ معجزوں کو کیوں دیکھتے ہو۔ 
تم اس بندے کو کیوں نہیں دیکھتے جو داتا کی اوٹ میں بیٹھا تھا۔ جو اتنا عظیم تھا کہ ا س نے داتا کا مرتبہ پا لیا۔ 
’’سب داتاؤں کی باتیں کرتے ہیں ۔ سرکار قبلاؤں کی باتیں کرتے ہیں ۔ باباؤں کی باتیں کرتے ہیں ۔ کرامتوں کے چھنکنے چھنکاتے ہیں ۔ اس عظیم بندے کی بات تو کوئی نہیں کرتا جس نے انہیں بابا بنا دیا۔ سرکار قبلہ بنا دیا۔ سلطان الہند بنا دیا، داتا بنا دیا، تو اس بندے کی بات کیوں نہیں کرتا؟‘‘ اس کی آواز میں غصہ کھول رہا تھا۔ 
ہم دونوں درگاہ میں داخل ہو چکے تھے۔ 
ہمیں دیکھ کر درگاہ کا متولی بوڑھا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ ’’وہ بندہ تو ایک ہی ہے، ایک ہی ہے جسے دو جہانوں کا مالک بنا دیا گیا۔ پر وہ بندہ بن کر جیا۔ صرف بندہ بن کر، نہ بابا بنا نہ سرکار قبلہ بنا، نہ داتا بنا نہ کر امتیہ بنا، نہ معجزاتی بنا۔ صرف بندہ۔ ’’ صرف بندہ، صرف بندہ، صرف بندہ۔ ‘‘ گنبد چلایا۔ 
’’صرف بندہ، صرف بندہ۔ ‘‘ باہر سے آواز آئی جیسے آسمانوں میں گنبد کی آواز کی گونج تھرتھرا رہی ہے۔ 
ساری کائنات اس گونج سے بھری ہوئی تھی۔ ’’صرف بندہ، صرف بندہ۔ ‘‘
٭٭٭



راں ڑیاں 


’’ہائیں ....!‘‘ پھول دار لہنگے والے نے مونچھیں مروڑتے ہوئے کہا۔ ’’سچ؟‘‘
’’ہاں !‘‘ بڈھے نے داڑھی جھاڑ کر کہا۔ ’’سب کا رکھ رکھاؤ اکیلی کرے ہے وہ بدراں ۔ ‘‘
’’گھر میں کوئی نہیں کیا؟‘‘
’’سبھی کھیت پر رہیں ہیں ۔ بھائی، باپو چا چا.... ساری بستی میں چار ایک مرد ہوں گے۔ ویسے تو آتے جاتے رہتے ہیں ہفتے میں ایک بار۔ ‘‘
’’اچھا!‘‘ نوجوان ہنسا.... ’’مالو ہوتا ہے انہیں کوئی ملا نہیں ۔ ‘‘
بڈھا قہقہہ مار کر ہنسا۔ ’’میاں یہ راں ڑیاں ہے.... راں ڑیاں سمجھے....؟ وہ پھر ہنسنے لگا۔ اپنے چودھری کا گھر سونے سے بھرا ہے۔ پر یوں سمجھو جیسے مندر میں مورتی۔ کسی کی کیا مجال ہے کہ آنکھ اٹھا کر دیکھے۔ لو وہ ریا کنواں ۔ درختوں کے اس جھنڈ میں ہے۔ پی لو پانی جا کر اس جھنڈ میں اللہ بیلی۔ یہ کہہ کر بڈھا ڈنڈی پر اتر گیا۔ 
’’بدراں ....!‘‘ نوجوان مسکرا دیا۔ لہنگا سنوار کر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے زیر لب بولا۔ ’’راں ڑیاں کی بدراں ۔ ‘‘
’’راں ڑیاں ۔ ہو اور راں ڑیاں ۔ آں آں ۔ ‘‘
دور کہیں سے پہاڑی کی تان سنائی دی۔ 
’’جس جاں ڑیاں ، اوس نہ ماں ڑیاں ۔ جس ماں ڑیاں ، ان جانڑیاں ۔ ‘‘
’’راں ڑیاں ۔ ہو اور اں ڑیاں ۔ آں آں ۔ ‘‘
چناب کے شمال مغرب میں چلے جاؤ تو پتن وال سے آگے درختوں کی تعداد کم ہو جاتی اور قد چھوٹا۔ درختوں کے جھنڈ اور گاؤں سرک سرک کے دور ہٹتے جاتے ہیں ۔ زمین پتھریلی ہوتی جاتی ہے اور مٹی کا رنگ لاکھا۔ یہ علاقہ پچھی کا ہے جس کے عین وسط میں راں ڑیاں کا گاؤں آباد ہے۔ 
گاؤں کے ارد گرد خود دو گلابڑی کی جھاڑیاں دیکھ کر یقین نہیں پڑتا کہ اس زمین میں کاشت کرنے کے لئے اس قدر مشقت کی ضرورت پڑتی ہو گی، لیکن وہاں کے مردوں کو دیکھ کر اجنبی راہ گیر ایک ساعت کے لئے رک جاتے ہیں ۔ اونچا لمبا قد، ابھری چھاتی، فراخ شانے، پٹھوں میں موروثی جدوجہد کا تناؤ، آنکھ میں رد عمل کی جھلک.... شاید کامیابی اور عورتوں کو دیکھ کر سبھی دیکھتے انہیں ۔ چونکہ وہ پردہ وردہ نہیں جانتیں ، لیکن وہی تناؤ قد و قامت، شاہانہ چال، نڈر آنکھیں جو شرما کر کسی کو دعوت دینے کے فن سے بیگانہ ہیں اور بھرا بھرا مٹیار جسم گھبرا کر یا سمٹ کر راہ گیر کی توجہ اکسانے سے بے نیاز ہے ان کی آنکھ چھلکی ہوئی ہونے کے باوجود چھلکتی نہیں ۔ سرخ ہونے کے باوجود گال شرم سے تمتماتے نہیں ۔ شاید راں ڑیاں کے مردوں نے ان کے نسوانی پہلو کو عریاں دیکھا ہو۔ لیکن اجنبی.... اجنبی کو تو وہ یوں دیکھتی ہیں جیسے سڑک پر گڑا ہوا کھمبا۔ شاید اسی لئے اس علاقے کی عورتوں کو راں ڑیاں کہتے ہیں ۔ بہرحال پلچھی کی عورتیں واقعی راں ڑیاں ہیں اور راں ڑیاں کی ہر عورت ملکہ۔ 
وہ سرمہ، سیندور اور اخروٹ کے چھلکے کی شوقین ہیں ۔ رنگ دار کپڑوں کی دلدادہ اور خوشبو.... خوشبو سے تو انہیں عشق ہے عشق۔ حتیٰ کہ لونگ ابالے پانی بغیر نہاتی نہیں ۔ شاید اسی لئے انہیں راں ڑیاں کہا جاتا ہے۔ لیکن اس نفیس مزاجی کے باوجود ان کے انداز میں نسائی نمائش نہیں ، دعوت نہیں ۔ جیسے مندر ہو، مورتی ہو، پوجا کا سامان ہو، سیس نوانے کی آ گیانہ ہو۔ 
شاید ان کا ’’عورت‘‘ کو چھپائے رکھنا تلاش پر مائل کرنے کا انوکھا انداز ہو۔ لیکن راں ڑیاں کے مرد متلاشی دکھائی نہیں دیتے۔ ان میں جستجو کی بے تابی نہیں بلکہ پالینے کا نشہ ہے۔ وہ عموماً اپنی زمین پر رہتی ہیں ۔ انہیں اس پتھریلی زمین کو تسخیر کرنے کا شوق ہے اور اپنی رنگین مگر سنگین راں ڑیاں پر بھروسہ ہے۔ 
قاسو پہلی مرتبہ اس علاقہ میں آیا تھا۔ ویسے تو بیلی پر سوار ہو کر رات رات میں سو سو میل کا سفر کرنا اس کا شغل تھا، لیکن عموماً پو پھوٹنے سے پہلے اپنے گاؤں میں واپس پہنچ جایا کرتا تھا۔ جاکھڑیاں کے گرد و نواح میں کون تھا جو قاسو اور بیلی کو نہ جانتا تھا۔ لیکن وہ سب اس کے متعلق اظہار خیال کرنے سے گریز کرتے تھے۔ بہرحال ہر کوئی کوشش کرتا کہ قاسو کے بارے لاعلمی ظاہر کرے۔ آدھی رات کو لوگ بیلی کا ہنہانا سنتے، ٹھٹھک جاتے اور پھر معاً بات ٹالنے کے لئے کوئی موضوع چھیڑ دیتے۔ پو پھٹتے وقت ہل چلاتے ہوئے کسان قاسو کی تان سن پاتے تو دوسری جانب منہ موڑ کر شدت سے کام میں مصروف ہو جاتے۔ ’’تاتا.... تتاتا‘‘ چلتے ہوئے بیلوں کو ہانکنا شروع کر دیتے۔ عورتیں معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسری کی طرف دیکھتی ڈر کر دونوں ہاتھوں سے سینہ تھام لیتیں اور بالآخر مسکرا کر دہی بلوہنے میں مصروف ہو جاتیں ۔ 
اس روز قاسو اور بیلی نوسار کی جانب آئے۔ بھیلی پورہ کے پاس جہاں سے نوسار کوڈندی نکل جاتی ہے، قاسو نے بیلی کو موڑنے کے لئے لگام کھینچی لیکن خلاف معمول بیلی اڑ کر کھڑا ہو گیا۔ قاسو نے دوسری مرتبہ اسے موڑا تو وہ بدک کر رک گیا۔ قاسو نے غصے میں ایڑ لگائی۔ تو بھی اپنی جگہ سے نہ سرکا۔ پھر نہ جانے کیا خیال آیا۔ قاسو نے اسے گردن پر تھپکی دی اور بولا۔ ’’اچھا بیلیا۔ تیری مرضی نہیں تو نہ سہی۔ آج قاسو بیلی کی مرضی پر چلے گا۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے لگام ہاتھ سے پھینک دی اور بیلی ہوا ہو گیا۔ اندھیرے میں قاسو کو معلوم نہ تھا کہ وہ کدھر جا رہا ہے۔ لیکن اسے یقین تھا کہ بیلی اسے واپس لے آئے گا۔ اس لئے وہ بے پروائی سے بیٹھا رہا۔ حتیٰ کہ وہ راں ڑیاں آ پہنچے۔ بیلی رک گیا اور قاسو نے پگڑی سر تلے رکھی اور سو گیا۔ شام کو وہ جاگا تو اسے بڑی شدت کی پیاس لگی تھی۔ پانی پینے کے لئے خشک درختوں کے اس ویران جھنڈ سے باہر نکلا تو اس بڈھے سے ملاقات ہو گئی۔ 
’’راں ڑیاں .... ہو راں ڑیاں ۔ ‘‘
’’کن جاں ڑیاں نے کن ماں ڑیاں ۔ ‘‘
پانی پینے کے بعد مونچھ مروڑتا ہوا وہ گاؤں کی طرف چل دیا۔ 
قاسو ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا ایک کھلے صحن میں پہنچا۔ ’’چودھری۔ ‘‘ اس نے آواز دی۔ ’’کون ہے؟‘‘ بدراں نے سرسری طور پر آواز دی اور چرخہ کاتنے میں لگی رہی۔ قاسو نے سر اٹھا کر دیکھا۔ سفید سفید بھرے ہوئے ہاتھ میں تاگا اور حرکت میں بے نام سی لچک.... نسائیت کا پتہ دے رہے تھے۔ سر اٹھائے بغیر بدراں نے دوپٹے کو سرکا کر ماتھا ڈھانپ لیا اور بولی۔ ’’کون ہے؟‘‘
’’پیاس لگی ہے۔ ‘‘ قاسو دروازے میں کھڑا ہو گیا۔ 
وہ اٹھ بیٹھی۔ ’’لسی پیو گے یا دودھ؟‘‘
’’لسی‘‘ قاسو نے ہاتھ کی چوڑیوں کو گھورتے ہوئے کہا۔ 
’’بیٹھ جاؤ ویر۔ ‘‘ بدراں نے اس کی طرف دیکھے بغیر پیڑھی ادھر سرکا دی اور گڑوا اٹھا چاٹی کے قریب جا بیٹھی۔ اس نے اتنی بڑی چاٹی کو یوں اٹھا لیا گویا وہ تنکوں کی بنی ہو۔ ’’میٹھا گراؤں یا نمک۔ کیوں ویر؟‘‘ نہیں نہیں ۔ نمک نہیں ۔ ‘‘ وہ چونک کر بولا۔ اجنبی کی آواز میں اضطراب کی جھلک پاکر اس نے آنکھ اٹھا کر پہلی مرتبہ غور سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس بات پر بدراں کے ماتھے پر تیوری پڑ گئی۔ ’’میٹھا ڈال دوں ؟‘‘ وہ منہ موڑ کر بولی۔ ’’نہیں !‘‘ قاسو نے جواب دیا۔ ’’ایسے ہی دے دے۔ ‘‘ بدراں نے منہ موڑے بغیر گڑوا ادھر بڑھا دیا۔ دو ایک ساعت وہ یونہی گڑوا لئے کھڑی رہی۔ لیکن اجنبی نے گڑوا نہ پکڑا۔ بدراں نے مڑ کر دیکھا، وہ حریص نگاہوں سے اس کے کڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ مسکرا دی۔ ماتھے کی تیوری اتر گئی۔ ’’لے ویر لسی۔ ‘‘ وہ بولی، گڑوا دے کر وہ اپنی جگہ پر آ بیٹھی اور آنکھ بچا کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ گڑوے کے کنارے کی اوٹ لے کر مکان کا جائزہ لے رہا تھا۔ 
’’پردیسی ہو ویر؟‘‘ بدراں نے سرسری طور پر پوچھا۔ 
’’کہیں دور جانا ہے؟‘‘
’’نہیں ، نہیں ۔ ادھر ہی کام تھا۔ ‘‘
’’راں ڑیاں میں ۔ ‘‘
’’ہاں ہاں ۔ یہاں پاس ہی ادھر۔ ‘‘
’’اب روٹی کھا کر ہی جانا ویر۔ ‘‘
’’روٹی.... نہیں نہیں ، مجھے جلدی ہے۔ ‘‘ غٹاغٹ لسی پی کر وہ کھڑا ہو گیا۔ ’’یہ لو۔ اس نے گڑوا بڑھایا۔ وہ بیٹھی رہی۔ غالباً وہ اسے دعوت دے رہی تھی کہ گڑوا زمین پر رکھ دے لیکن اسے منتظر دیکھ کر بدراں کو اٹھنا ہی پڑا۔ 
گڑوا پکڑتے ہوئے اس نے آخری مرتبہ اس کے کڑوں پر نگاہ ڈالی۔ 
’’پسند ہیں ویر؟‘‘ وہ خشک لہجے میں بولی۔ 
’’کیا؟‘‘ وہ چونکا۔ 
وہ کڑے اتارنے لگی۔ ’’یہ کڑے.... میری طرف سے اپنی گھر والی کو دے دینا۔ میری بھابھی کو۔ ‘‘
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ ’’تکلیف نہ کرو، کڑوں کی کیا کمی ہے۔ گھر والی بھی ہو۔ ‘‘
’’کمی نہیں ویر تو اس کام کا فائدہ؟‘‘
’’کون سا کام؟‘‘
’’میری مانو تو یہ کام چھوڑ دو۔ ‘‘
وہ پھر ہنسا۔ ’’ہم باکھڑاں والے دن نہیں لیتے۔ ہاتھ کا کمایا کھاتے ہیں ۔ ‘‘ اس نے بازو دکھاتے ہوئے کہا۔ 
’’اسے ہاتھ کا کمایا نہیں کہتے ویر۔ ‘‘
’’اپنا اپنا کام ہے۔ اپنی اپنی بولی۔ تجھے زیادہ فکر ہے تو لا پلا دے نمک والی لسی۔ ‘‘ اس نے معنی خیز انداز سے کہا۔ ’’پھر تو تسلی ہو جائے گی۔ ‘‘
بدراں کی آنکھیں انگارہ ہو گئیں ۔ ’’میں راں ڑیاں ہوں ویر۔ ہم تسلی نہیں چاہتے، تسلی دیتے ہیں ہم۔ میں نے تجھے ویر کہا ہے، میں پھر بھی لحاظ کروں گی تیرا راں ڑیاں میں اور کسی نے تجھے ویر نہیں کہا۔ ٹھہر ذرا.... ادھر آ۔ ‘‘ اس نے قاسو کو للکارا۔ وہ ایک بچے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ بدرا ں نے صندوق کھولا۔ ’’یہ دیکھ.... یہ چوڑیاں ۔ چوک، ہنسلی تعویذ۔ ‘‘ اور اس نے کڑے اور ہار اتار کر وہیں ڈھیر کر دیئے۔ پھر جلدی جلدی قفل لگا چابی طاقچہ میں رکھ کر بولی۔ ’’یہاں ہو گی چابی۔ اندر والے صندوق سب کھلے ہیں ۔ دروازے کھلے ہوں گے۔ میں وہاں سوتی ہوں ۔ اس پلنگ پر.... اکیلی جب تیرا جی چاہے۔ آ جائیو ویر۔ صرف جاتے ہوئے مجھے جگا دینا۔ پھر اگر تو گٹھڑی باہر لے جائے تو تیری اور اگر تو یہاں آنے سے پہلے کسی اور جگہ یہ کام کرے تو اپنے باپ کا نہ ہو گا۔ سنا تو نے؟‘‘
’’عورت کے ساتھ شرط باندھوں ۔ ‘‘ وہ ہنسا۔ 
’’عورت....‘‘ وہ ہنسی۔ ’’یہ راں ڑیاں ہے ویر۔ راں ڑیاں ۔ ‘‘
’’راں ڑیاں .... ہو راں ڑیاں ۔ ‘‘
دور کسی کے گانے کی آواز آئی۔ وہ چونکا، جیسے کسی نے اس کی مردانگی کو للکارا ہو۔ 
بدراں نے سر اٹھایا اور یوں تن کر کھڑی ہو گئی جیسے لڑائی کا ڈھول سن کر کوئی سورما۔ ’’جب تیرا جی چاہے آ جائیو۔ ‘‘
دیوار پھاندنے سے پہلے اسے خیال آیا۔ بھلا آزماؤں تو سہی۔ کیا وہ سچ کہتی تھی۔ کیا واقعی دروازہ کھلا ہے اور وہ دروازے کی طرف چلا۔ 
اف کس قدر اندھیری ہے یہ رات۔ اس نے سوچا۔ آخر عورت ہے نا۔ مسکرا کر اس نے پٹ پر انگلی کا دباؤ دیا۔ دروازہ کھلا تھا۔ ہوں .... کیا ہو گا۔ کتا....! وہ پھر مسکرایا اور اندر داخل ہو گیا۔ آہٹ کرنے کے باوجود کوئی آواز نہ آئی۔ اونہوں .... اس نے سر ہلایا۔ طاقچہ پر دیا ٹمٹما رہا تھا۔ پلنگ پر چادر لپیٹے وہ سو رہی تھی۔ اس کے علاوہ مکان خالی پڑا تھا۔ دیئے کے پاس صندوق کی چابی دیکھ کر اسے حیرانی ہوئی۔ 
گٹھڑی باندھ کر وہ بدراں کے سرہانے آ کھڑا ہوا۔ فضول بے آرام کرنا.... اس نے سوچا۔ جگا بھی دو تو کیا فرق پڑ جائے گا۔ معاً اسے خیال آیا کہ وہ کس قدر نڈر تھی، ورنہ یوں بے فکر گہری نیند میں پڑے رہنا آسان کام نہیں ۔ 
’’قاسو نے بدراں کی بائیں کلائی پکڑ کر اسے ہلایا۔ بدراں نے کروٹ بدلی لیکن اس کی آنکھ نہ کھلی۔ دوبارہ قاسو کے جھنجھوڑنے پر اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ ایک ساعت کے لئے جوں کی توں پڑی رہی۔ پھر اس نے لپک کر دائیں ہاتھ سے قاسو کی کلائی پکڑ لی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ بولی ’’اب اگر تو کلائی چھڑوا لے تو وہ گٹھڑی تیری ہے۔ ‘‘
وہ ہنس پڑا اور بے پرواہی سے ہاتھ چھڑانے کے لئے جھٹکا دیا۔ لیکن بدراں کی گرفت اور بھی آہنی ہو گئی۔ ابھی وہ دوسرا جھٹکا دینے کی سوچ ہی رہا تھا کہ بدراں نے کلائی مروڑ کر اسے چارپائی پر گرا لیا۔ ’’آرام سے بیٹھ کر ویر۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’لے اب چھڑا۔ ‘‘ اس نے دونوں ہاتھوں سے کلائی پکڑ کر کہا۔ 
قاسو غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔ لیکن بدراں کی گرفت بلا کی تھی۔ 
ایک بار پھر وہ چلائی۔ قاسو نے دوسرے ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی اس بات پر وہ بھوکی شیرنی کی طرح اٹھ بیٹھی۔ ’’افسوس ہے کہ میں نے تجھے ویر کہا ہے ورنہ....‘‘ اس نے قاسو کو دھکا دیا اور وہ لڑکھڑا کر دیوار سے جا ٹکرایا۔ 
کچھ دیر کے لئے وہ خاموش کھڑا رہا۔ 
’’میں تو تجھے آزما رہا تھا۔ ‘‘ قاسو نے اپنا انداز بدلا۔ 
’’تو آزما دیکھا۔ ‘‘ وہ اکڑ کر بولی۔ 
’’تو نے مجھے ویر کہا ہے۔ ‘‘ وہ مسکرایا۔ 
’’ہاں !‘‘ وہ بولی۔ ’’ورنہ....‘‘
بیلی کے ہنہنانے کی آواز سن کر وہ چونکا۔ ’’اچھا میں جاتا ہوں ۔ ‘‘
’’قول دے پہلے۔ ‘‘ وہ مسکرائی۔ 
’’اونہوں ....‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’مجھ سے نبھایا نہ جائے گا۔ ‘‘
’’اچھا!‘‘ وہ سوچ کر بولی۔ ’’نہ سہی۔ ‘‘
’’ادھر نہ آؤں گا کبھی راں ڑیاں کو۔ ‘‘
’’تو دودھ پی کر جا۔ ‘‘
’’ضروری ہے کیا؟‘‘
’’ہاں !‘‘ وہ بولی۔ ’’یا قول دے یا دودھ پی کر جا۔ یہاں کی ریت ہے۔ ‘‘
’’اچھا!‘‘ وہ بیٹھ گیا۔ ’’لا دودھ۔ ‘‘
بدراں اٹھ کر کاڑھنی کی طرف چلی۔ ڈول میں دودھ ڈالا۔ پھر اندر جا کر شکر تلاش کرنے لگی۔ شکر کے علاوہ دودھ میں سبز سا سفوف گھول کر لے آئی۔ 
قاسو نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ 
’’اونہوں ۔ زہر نہیں ۔ ’’وہ بولی!‘‘ ویر کو زہر نہیں دیتے۔ ‘‘
’’اچھا راں ڑای۔ ‘‘‘ وہ بولا۔ ’’جو چاہے دے دے، اب کیا ہے اور غٹا غٹ پی گیا اور پھر۔ 
’’اللہ بیلی۔ ‘‘ کہہ کر وہ صحن کے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ 
جاکھڑاں کے لوگ چند دن تو خاموش رہے۔ پھر دبی دبی باتیں شروع ہو گئیں ۔ کسی نے کہا۔ ’’میں کہتی ہوں تم نے سنا کچھ؟ اب تو بیلی ساری ساری رات گلیوں میں ہنہناتا رہتا ہے۔ ‘‘ کوئی بولی۔ ’’اچھا نہ ہو گا۔ اللہ مارا۔ ‘‘ تیسری نے کہا۔ ’’اوں .... اچھا نہ ہو گا۔ بھلا چنگا پھرتا ہے۔ ‘‘
رات کے وقت ہر آہٹ پر کسانوں کے کان کھڑے ہو جاتے۔ پھر کوئی بول اٹھتا۔ ’’اوہ.... یہ تو پگلی چلا رہی ہے۔ صبح سویرے پو پھوٹنے کے وقت وہ متوقع نظروں سے دیکھتے اور پھر دارے میں جا کر چہ میگوئیاں کرتے۔ ’’چھوڑ دیا اپنا کام، بھئی اللہ ہی جانے۔ کہتے ہیں رات بھر پیر جیلانی کے روضہ پر سویا تھا۔ ‘‘ ’’بس یہ تو پتے کی کہی تو نے۔ اجی بڑی کرامت والے ہیں وہ۔ 
ہر جگہ قاسو کی بات چھڑ جاتی۔ اس ہر بات میں قاسو کی اس تبدیلی کا ذکر چل نکلتا۔ قاسو کے متعلق پہلے جس قدر چپ رہتے تھے، وہ اب اسی قدر زیادہ باتیں کرنے لگے۔ 
قاسو کا بھائی ماجو آپ حیران تھا۔ اگرچہ قاسو کے دھندے کے حق میں نہ تھا مگر اب اس کے اسے چھوڑ دینے پر یوں چڑ گیا جیسے اسے قاسو کی وہ تبدیلی اچھی نہ لگی ہو یا شاید اسے یہ شکایت تھی کہ قاسو نے اپنے بھائی سے ساری حقیقت کہہ دی۔ 
’’لیکن آخر تھا کیا اس دودھ میں ؟‘‘ ماجو نے پوچھا۔ 
’’معلوم نہیں ۔ ‘‘ قاسو نے آہ بھر کر کہا۔ ’’جب سے بدن میں جان نہیں ، ہمت نہیں رہی۔ 
’’ہمت نہیں رہی؟‘‘
’’ہاں جیسے چوڑیاں پہن لی ہوں میں نے۔ ‘‘ وہ زہر خند ہنسی ہنسا۔ 
’’کیوں عورت بن گئے ہو کیا؟‘‘
’’اس سے بھی بدتر۔ ‘‘ قاسو نے شرم سے سر جھکا لیا۔ 
’’قاسو....؟‘‘ ماجو حقیقت حال جان کر چلایا۔ 
’’ہاں ماجو۔ ‘‘ قاسو یوں خاموش ہو گیا جیسے کسی جرم کا اقبال کر لیا ہو۔ 
’’لیکن....لیکن.... کیا تم نے اس پر ہاتھ....‘‘
’’اونہوں !‘‘ وہ بولا۔ ’’میں نے اپنی ہار تک مان لی، میں نے اسے بہن کہا۔ ‘‘
’’پر کیوں ؟‘‘
’’پتہ نہیں ۔ ‘‘
’’تعجب ہے، تمہیں ایسا بنا دینے سے اسے کیا ملا۔ حرام زادی.... میں ....میں ۔ ‘‘ دفعتاً وہ رک گیا اور خاموش رہا۔ 
اس وقت ماجو کے دل میں ایک خاموش جذبہ پرورش پانے لگا۔ کوئی ارادہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ 
رات بھر وہ سو نہ سکا۔ دن بھر کھیت پر کچھ کام نہ کر سکا۔ پھر وہ مادو قصائی کے پاس جا بیٹھا اور تفریحاً ایک چھری تیز کرنے لگا اور گھر آتے ہوئے ان جانے میں وہ چھری ہاتھ میں لئے چلا آیا۔ ‘‘ اونہوں ....‘‘ وہ آپ ہی بڑبڑایا۔ ’’یہ چھری!‘‘ اس نے چھری کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’یہ چھری کام نہ آئے گی اور وہ مادو کی طرف لوٹا، چھری لوٹانے گیا تو مادو سے پوچھنے لگا۔ ’’مادو کوئی ایسی چیز ہے کیا جو کسی کو بے ہوش کر دے۔ ‘‘
’’کیوں ؟‘‘ مادو نے پوچھا۔ 
’’ویسے ہی پوچھ رہا ہوں ۔ ‘‘
’’صمدو کے پاس ہے۔ صمدو نائی کے پاس۔ ‘‘ مادو بولا۔ ’’فوراً بے ہوش ہو جائے، بس سونگھنے کی دیر ہے۔ ‘‘ کیا چیز ہے؟ اس نے پوچھا۔ ’’پتہ نہیں ۔ ‘‘ مادو نے کہا۔ ’’سرکاری چیز ہے کوئی۔ دوا خانے کی ڈبیا میں بند کر کے رکھتا ہے صمدو۔ ‘‘
رات کو چارپائی پر پڑے پڑے نہ جانے وہ کیا کیا سوچتا رہا اور پھر خواب میں ایک اونچی لمبی عورت بے ہوش پڑی تھی اور وہ غصے میں اپنے بھائی قاسو سے کہہ رہا تھا۔ ’’یہی ہے نا وہ؟‘‘
اور قاسو منہ کھولے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ جاگ اٹھا۔ ’’جاؤں گا.... ضرور جاؤں گا۔ ‘‘
اندھیرے میں دبے پاؤں سرک سرک کر وہ بدراں کے مکان کے دالان تک جا پہنچا۔ سامنے پلنگ پر کوئی سویا ہوا تھا۔ اس نے ایک بڑی سی ڈبیا لہنگے کے پلہ سے نکالی۔ اسے مضبوطی سے تھام کر وہ پھر چوپائے کی طرح چلنے لگا۔ چارپائی کے پاس پہنچا تو بدراں نے کروٹ لی۔ ماجو چارپائی تلے چھپ گیا۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد اس نے سر باہر نکالا۔ بدراں دائیں پہلو پر یوں لیٹی تھی کہ اس کی ناک چارپائی کے سرے کے قریب تھی۔ وہ سرک کر قریب ہو بیٹھا اور ڈبیہ کھولنے لگا۔ بیشتر اس کے کہ وہ ڈھکنا کھولتا۔ اس کے دونوں ہاتھ بدراں کی گرفت میں تھے۔ 
’’ہوں ....‘‘ وہ اٹھ بیٹھی۔ ’’مجھے معلوم تھا تو آئے گا۔ ‘‘ لیکن ماجو کے چہرے کی طرف دیکھ کر ٹھٹھکی۔ ’’تو....تو کون ہے؟‘‘ وہ بولی۔ ’’اونہوں ....‘‘ اسے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئی دیکھ کر وہ گنگنائی۔ ’’چوری کرنے آیا تھا کیا، کر لے چوری۔ کس لئے آیا تھا تو؟‘‘ بدراں نے پوچھا۔ ماجو کو جوش آ گیا۔ بولا ’’تیرے لئے۔ ‘‘
’’میرے لئے؟‘‘ وہ حیران ہو گئی۔ 
’’ہاں تجھے لینے کے لئے۔ ‘‘ اس نے دانت پیسے۔ 
’’تو!‘‘ بدراں نے نفرت سے ہونٹ نکالے۔ ’’اپنی جان کی خیر نہیں کیا؟‘‘
’’اونہوں !‘‘ ماجو نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ’’ایک روز مرنا تو ہے ہی۔ ‘‘
’’حرام موت!‘‘
’’نہیں حرام کیوں ، نہ چلے گی میرے ساتھ تو تجھے مار ڈالوں گا۔ آپ مر جاؤں گا۔ ‘‘
’’بڑا بہادر ہے تو، پر یہ ڈبیا کیا ہے.... ہوں ۔ 
’’کچھ ہے ہی نا۔ ‘‘
’’زہر ہے کیا۔ ‘‘ ’’زہر....؟‘‘ وہ مسکرایا۔ 
’’تو پھر!‘‘ وہ بولی۔ 
دوائی ہے اور کیا۔ ‘‘
’’دوائی؟‘‘
’’ہاں تجھے بے ہوش کرنے کو.... تو سونگھ لیتی تو میں کب سے تجھے اٹھا کر چل دیتا۔ ‘‘
’’اچھا! مجھے بے ہوش کر کے لے جانا تھا تو نے، بڑا بہادر مرد ہے۔ ‘‘ بدراں نے اسے دیوار پر دے پٹخا۔ ماجو کھسیانا ہو کر اٹھ بیٹھا۔ 
’’بس یہی ہمت ہے تیری۔ گھر سے راں ڑی لینے آیا تھا۔ ہمت بھی ہے تجھ میں ۔ ‘‘
’’نہ سہی!‘‘ وہ بولا۔ ’’خواہش تو ہے۔ ‘‘
’’تیرے جیسے تو ہمارے کمین ہیں کمین۔ ‘‘ وہ غرائی۔ 
’’چل دفعہ ہو۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’دور ہو جا یہاں سے، جاتا ہے یا نہیں ۔ ‘‘ بدراں نے اسے پھر دھکا دیا اور وہ دہلیز پر گر پڑا۔ منہ پر خراش آئی لیکن جلد ہی سنبھل کر اٹھ بیٹھا۔ 
’’جائے گا یا نہیں ؟‘‘ وہ پھر غرائی۔ 
’’اچھا!‘‘ وہ کھڑا ہو گیا۔ ’’پھر سہی۔ ‘‘
’’تو....‘‘ وہ غصہ سے چلائی اور اسے پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔ 
’’کون ہے؟‘‘ پڑوس سے دتا بھاگتا ہوا اندر آیا۔ ’’کون ہے بدراں ؟‘‘
’’کون ہے یہ؟‘‘ دتے نے ماجو کو دیکھ کر بدراں سے پوچھا۔ 
’’پتہ نہیں ۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’چور ہے؟‘‘ دتے نے پوچھا۔ 
’’پوچھو اس سے۔ کہتا ہے تجھے لینے آیا ہوں ۔ ‘‘ وہ ہنسی۔ 
’’تجھے!‘‘
’’ہاں !‘‘
’’حرام خور....‘‘ دتے نے اس کی گردن پر ایک دی اور وہ چکرا کر بدراں کے پاؤں میں آ گرا۔ 
’’پاگل ہے کوئی۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’خون پی لوں گا اس کا.... میں ۔ ‘‘ دتا ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا۔ 
ماجو بدراں کی اوٹ لے کر بیٹھ گیا اور یوں اس کا دامن کھینچنے لگا گویا بچہ ماں سے پناہ مانگ رہا ہو۔ ’’دتے!‘‘ بدراں چلائی۔ ’’تو کچھ نہ کہہ اسے، میں کر لوں گی ٹھیک.... دتے۔ ‘‘ وہ پھر چیخی لیکن دتے نے ایک اور لگائی اسے اور وہ چیخا۔ ’’راں ڑی۔ ‘‘ ماجو نے اعلانیہ اس سے پناہ مانگی۔ ’’رہنے دے بہادری تو۔ ‘‘ وہ دتے کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔ ’’تو جا!‘‘ اس نے دتے کو دروازے کی طرف دھکیلا اور خود رسی لے کر ماجو کو باندھنے لگی۔ 
یہ دیکھ کر دتا ہنسا، بولا۔ ’’اچھا جیسے تیری خوشی۔ 
’’کہتی جو ہوں پاگل ہے کوئی.... سر پھرا۔ ‘‘
دتا ہنسا اور باہر نکل گیا۔ 
اسے بندھا ہوا دیکھ کر بدراں کی ہنسی نکل گئی۔ ’’مجھے لے جانے کا خبط نہیں گیا۔ ‘‘
’’اب تو باندھ دیا ہے مجھے تو نے۔ ‘‘ ماجو بولا ’’بندھے ہوئے کو باندھنے میں بڑی بہادری ہے۔ ‘‘ اس نے دکھلاوے کی محبت جتائی۔ 
’’اوہ!‘‘ وہ ہنسی اور اسے کھولنے لگی۔ ’’اچھا! اگر میں سونگھ لیتی اسے تو کیا ہوتا؟ اس نے ڈبیہ کی طرف اشارہ کیا۔ 
’’بے ہوش ہو جاتی تو۔ ‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر میں گھوڑے پر بٹھا کر لے جاتا تجھے۔ ‘‘
’’سچ!‘‘ وہ بولی۔ ’’پھر؟‘‘
’’پھر....‘‘ وہ گھبرا گیا۔ ’’بس!‘‘ لیکن عین اس وقت اسے سوجھی۔ ’’تو نے میرے بھائی کو نہ جانے کیا پلا دیا ہے۔ اس میں ہمت نہیں رہی۔ اب سارا گاؤں دشمن ہے۔ ہم کیا کریں ۔ ‘‘
’’اچھا!‘‘ وہ بولی۔ ’’تو اس کا بھائی ہے۔ ‘‘
’’ہاں !‘‘ وہ بولا۔ ’’جب سے قاسو نے کام چھوڑا ہے۔ سبھی دشمن ہو رہے ہیں ۔ ‘‘
’’میں وہاں چلی جاتی.... پھر کیا ہوتا؟‘‘ وہ بولی۔ 
’’پھر.... پھر ہمیں کیا پروا تھی۔ ‘‘ وہ جوش میں اٹھ بیٹھا۔ ’’تو چلی جاتی تو کسی کو ہم پر ہنسنے کی جرات نہ ہوتی۔ ‘‘
’’اچھا!‘‘ وہ مسکرائی ’’کیا اس ڈبیہ کو سونگھ لیتی تو واقعی بے ہوش ہو جاتی۔ ‘‘ اس نے ڈبیہ سے کھیلتے ہوئے کہا اور کھیل ہی کھیل میں اسے کھول کر ناک کے قریب لا کر بولی۔ ’’دیکھوں .... ہائے میں نہیں دیکھتی۔ ‘‘ وہ رک گئی۔ ’’ہائے بے ہوش ہو گئی تو تم لے جاؤ گے.... لے جاؤ گے نا؟ وہ ہنسی، ماجو خاموش بیٹھا رہا۔ 
’’تلخ سی بو ہے۔ ‘‘ اس نے ڈبیہ کو ناک کے قریب لاتے ہوئے کہا۔ ’’اوئی!‘‘ ایک چیخ سی سنائی اور بدراں دھڑام سے ماجو کے پاؤں پر بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ 
ماجو حیران کھڑا دیکھ رہا تھا۔ 
دور....دور....کہیں کوئی گار رہا تھا۔ 
’’راں ڑیاں .... ہو راں ڑیاں ۔ ‘‘
’’کن جاں ڑیاں تے کن ماں ڑیاں ۔ ‘‘
’’راں ڑیاں !‘‘
٭٭٭



الصدف



خط پڑھ کر میں نے محسوس کیا گویا کسی نے میرے کلیجے میں چھری بھونک دی ہو۔ میرے دل میں بیگم کے متعلق شکوک رینگنے لگے۔ اسد کے ان چار لفظوں نے اک قیامت برپا کر دی تھی۔ کس قدر مختصر خط تھا۔ ’’فوراً واپس چلے آؤ۔ ‘‘ اس کو بھلا میری واپسی کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے گھر سے دورے پر آئے ہوئے ابھی چار دن ہی ہوئے تھے۔ اگر گھر میں کوئی ایسی ویسی بات ہوئی ہوتی تو کیا وہ مجھے مفصل خط نہ لکھ سکتا تھا۔ ضرور اس نے مجھے بیگم کے متعلق بلایا ہے۔ 
بیگم کا بے پناہ حسن میرے لئے کبھی سکون کا باعث نہ ہوا۔ اس کا حسن ایسا نہ تھا جسے دیکھ کر دل میں راحت یا خوشی پیدا ہو یا یہ احساس ہو کہ میں جی رہا ہوں ۔ جینا چاہتا ہوں ۔ اس کے برعکس اسے دیکھ کر یوں محسوس کرتا گویا کسی رنگین بے قراری نے ڈس لیا ہو۔ سمجھ میں نہ آتا کہ کیا کروں ۔ میں دیوانہ وار ادھر ادھر گھومنے لگتا۔ ’’اب میں کیا کروں ؟ کیا کروں میں ؟‘‘
اس کی نیم وا نوکیلی آنکھیں درپردہ مسکرایا کرتیں ۔ بھنچے ہوئے خم دار پتلے ہونٹ زیر لب کچھ کہتے ہوئے محسوس ہوتے۔ کمان سے ابرو اشارے کرتے رہتے۔ رخساروں میں نیم رضا مندی کی سلوٹ نمایاں رہتی۔ اف وہ دھار کی طرح چبھ جانے والا حسن.... سریلی چیخ کی طرح چونکا دینے والا۔ 
ہماری شادی ہوئے پورے دو سال ہو چکے تھے۔ مجھے بیگم سے عشق تھا.... عشق۔ 
میرے دل میں ایک بھٹی سلگتی رہتی تھی۔ اسے دیکھ کر رگ رگ میں تڑپ اٹھتی اور یوں دیوانہ وار جھومتی جیسے کوئی موت کا ناچ ناچ رہا ہو۔ 
ہر مرتبہ جب میں بیگم سے ملتا تو مجھے محسوس ہوتا گویا ہم پہلی مرتبہ مل رہے ہیں ۔ اس کے انداز میں کچھ ایسا نیا پن تھا جو اکثر بیگانگی یا بے نیازی میں بدل جاتا تھا۔ لیکن وہ اسے خوب پھبتا تھا۔ جب وہ معصومیت سے گردن موڑ کر کہتی۔ ’’کہئے آئیے، آگے آپ۔ ‘‘ اس وقت اسے یہ قطعی احساس نہ ہوتا کہ قریب ہی کوئی تڑپ رہا ہے اور نہیں جانتا کہ کیا کرے۔ 
ہمارے نوجوان پڑوسی نواب ظفر علی کے آنے پر تو اس کی آنکھیں اور بھی مترنم اور ہونٹ اور بھی متکلم ہو جاتے....بھنوئیں رمز سے تن جاتیں ۔ گالوں کی نیم رضا سلوٹ اور بھی واضح ہو جاتی۔ اس وقت محسوس کرتا کہ وہ دور بیٹھ کر بھی بن بولے باتیں کر رہے ہیں ۔ مجھ پر ہنس رہے ہیں ۔ نواب کی مست آنکھیں اور بیگم کی بے نیازی میرے شکوک کو ابھارتے اور میں تڑپتا۔ ضرور وہ ملتے ہوں گے۔ ان کی نگاہوں میں شوق اور بے تکلفی جھلکتی ہے۔ ان کے انداز میں گذشتہ ملاقاتوں کے متعلق اشارات نمایاں ہیں ۔ اس وقت میرا جی چاہتا کہ نوکری سے استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جاؤں ۔ مہینے میں بیس دن باہر دورے پر رہنا.... اف کیا مصیبت تھی....!
انہی دنوں میرا پرانا دوست اسد مجھ سے ملنے کے لئے آ گیا۔ دو ایک دن خوب کٹے۔ لیکن وہ فوراً تاڑ گیا کہ میرے دل میں گھن لگا ہوا ہے۔ اس کے اصرار پر مجھے اپنے شکوک کا قصہ سنانا ہی پڑا۔ ’’واہ.... یہ بھی کوئی بڑی بات ہے۔ ‘‘ وہ ہنس کر بولا۔ 
’’بڑی بات!‘‘ میں نے آہ بھر کر کہا۔ ’’اس بات پر میری زندگی کا دارومدار ہے۔ اسد میں صرف جاننا چاہتا ہوں ، حقیقت جاننا چاہتا ہوں ۔ ‘‘
’’لیکن....‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا۔ 
میں سمجھتا ہوں ، میں بڑی سے بڑی بات برداشت کر سکتا ہوں لیکن شبہات مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتے۔ ‘‘
’’ہوں !‘‘ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ ’’اچھا تم دورے پر چلے جاؤ۔ میں یہاں رہوں گا۔ جلد ہی سب بھید معلوم ہو جائے گا۔ حقیقت کا انکشاف ہو گیا تو تمہیں بلا لوں گا۔ تم فوراً آ جانا۔ دیر نہ کرنا، ممکن ہے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو۔ میں کوشش کروں گا۔ ‘‘
نہ جانے اسد مجھے کیا دکھانا چاہتا تھا، بس اور کیا ہو گا۔ وہی جس کا مجھے ڈر تھا وہ میرے نہیں ۔ وہ کسی کی بھی نہیں ۔ اف....! میرا دل عجیب خدشات سے بھرا تھا۔ 
نوکروں نے جب سنا کہ میں اکیلا جا رہا ہوں تو حیران رہ گئے۔ مجھے نوکروں کو دیکھ کر وحشت ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا تھا وہ سارے اس بھید سے واقف ہیں ۔ ان کا زیر لب تبسم مجھے کس قدر دیکھتا تھا۔ 
’’ہاں ....‘‘ میں نے چلا کر کہا۔ ’’گھوڑا تیار کرو۔ ‘‘
’’گھور گھاٹ میں چل کر میں نے رات کے دس بجے تک پچاس میل کا سفر طے کر لیا اور پھورپور کے ریسٹ ہاؤس میں آدھ گھنٹا سستا کر آگے چل پڑا۔ اس رات میرے نصیب میں آرام کہاں تھا، دل میں الجھن لگی ہوئی تھی، کوئی کلیجہ مل رہا تھا۔ 
بھور مندر سے کاش گڑھ کو دو راستے جاتے ہیں ۔ سڑک سے جاؤں تو کاش گڑھ پینتیس میل سے کم نہیں ۔ مگر پگڈنڈی کے راستے بیس میل ہو گا۔ میرا ارادہ تھا کہ آدھی رات تک گھر پہنچ جاؤں گا۔ اس لئے میں نے گھوڑے کو پگڈنڈی کی طرف موڑ دیا۔ 
یہ پگڈنڈی ایک جھاڑی دار جنگل میں سے نکل گئی ہے۔ اگرچہ راستہ قطعی سنسان ہے۔ لیکن یہاں وہاں کہیں کہیں کسانوں یا سلیٹ کوئری کے مزدوروں کے جھونپڑے ہیں ۔ جنگل میں درندے کثرت سے ہیں لیکن اس روز درندوں کا خوف میرے دل میں نام کو نہ تھا۔ دل میں بس یہی لگن تھی، نہ جانے آج مجھے کیا دیکھنا ہے؟
رات کس قدر اندھیری تھی۔ آسمان پر ستارے بھی یوں ٹمٹما رہے تھے گویا کاڑھے ہوئے اندھیرے میں دم توڑ رہے ہوں ۔ ہوا جھاڑیوں میں کراہ رہی تھی.... وہ جھاڑیوں کا رکھ گویا زندگی سے بھرپور تھا۔ پگڈنڈی یوں بل کھا رہی، لہرا رہی تھی جیسے کوئی مہیب اژدہا رینگ رہا ہو۔ چاروں طرف سے عجیب و غریب آوازیں آ رہی تھیں ۔ کوئی قہقہہ مار رہا تھا، کوئی بڑھیا چیخ رہی تھی، بچہ رو رہا تھا، کوئی گھنگھرو پہنے ناچ رہی تھی۔ عجیب سی بے معنی آوازیں یہاں وہاں ، کوئی دیا جھلملاتا۔ پھر وہ شعلہ بن جاتا اور لپک کر ٹہنیوں پر جا بیٹھتا۔ دفعتاً آج روشن ہو جاتی اور اس کے گرد سائے ناچتے۔ جنگل نہ جانے چیخوں یا قہقہوں سے گونج اٹھتا۔ لیکن میں ایک ہی دھن میں چلا جا رہا تھا۔ گویا گھوڑے پر خود ایک بھوت سوار ہو جس پر کسی ڈائن کا سایہ ہو، میری بغل میں ٹارچ تھی۔ بایاں ہاتھ لگام تھامے اور دایاں ہاتھ پستول پر جو میری پیٹی سے لٹک رہا تھا۔ 
میں یونہی دو تین گھنٹے چلتا رہا۔ دفعتاً پگڈنڈی پر روشنی نمودار ہوئی۔ سامنے ایک بڈھا وردی پہنے لالٹین لئے کھڑا تھا۔ گویا میرا ہی انتظار کر رہا ہو۔ گھوڑا آپ ہی رک گیا۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آ پھنسا۔ اس ویران پگڈنڈی پر آدھی رات کے وقت ایک بڈھا۔ کچھ دیر تک میرے منہ سے بات تک نہ نکل سکی۔ پھر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ 
’’جمعدار یہاں سے کاش گڑھ کتنی دور ہے؟‘‘ میں نے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے بات کی۔ 
بڈھے نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اس کے منہ پر اس قدر جھریاں تھیں جیسے مکڑی نے جالا تن رکھا ہو۔ دو بلوریں آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ 
بڈھے نے نفی میں سر ہلا دیا اور پھر لالٹین کی طرف دیکھنے لگا۔ ’’ہائیں یہ راستہ کاش گڑھ کو نہیں جاتا؟‘‘ بڈھے نے پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ 
عین اس وقت زبردست گرج کی آواز سنائی دی اور ہوا زور سے چلنے لگی۔ 
’’راستہ بھول گئے.... راستہ بھول گئے۔ راستہ بھول گئے۔ ‘‘ ہر جھاڑی میں اس کی بات گونجنے لگی۔ ’’بھول گئے۔ ‘‘بادل گرجا۔ 
بڈھے نے گھوڑے کی لگام پکڑ لی، پھر انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے ادھر آنکھ اٹھائی۔ دیکھتا ہوں کہ پگڈنڈی سے ذرا ہٹ کر ایک قطعہ نما مکان کھڑا ہے۔ مکان کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ کیونکہ کاش گڑھ کے راستے میں کوئی ایسا مکان نہ تھا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ واقعی میں راستہ بھول چکا ہوں ۔ 
میں گھوڑے سے اترا اور بڈھے کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ وہ مکان ایک وسیع و عریض مگر ویران نانک چندی قلعہ ہے۔ دروازہ پر پتھر میں ’’الصدف‘‘ کندہ تھا۔ 
’’تمہارے آقا ناراض تو نہ ہوں گے؟‘‘ میں نے بڈھے سے پوچھا۔ 
’’نہیں ۔ ‘‘ اس نے سر ہلا کر کہا۔ ’’خوش۔ ‘‘
’’پھر وہ گھوڑا لے کر چلا گیا اور میں تن تنہا وہاں کھڑا رہ گیا۔ عین اسی وقت بالائی منزل میں ایک کھڑکی کھلی اور ایک بتی روشن ہو گئی۔ کھڑکی میں دبلی پتلی اداس حسینہ آ کھڑی ہوئی گویا کسی کا انتظار کر رہی ہو۔ 
’’آئیے!‘‘ بڈھے نے واپس آ کر مجھے چونکا دیا۔ میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ 
اب میرے تمام شبہات مٹ چکے تھے۔ بلکہ میں خوش تھا کہ رات کاٹنے کے لئے ایک محفوظ جگہ مل گئی۔ دو ایک اندھیرے کمروں کے بعد زینے سے ہوتے ہوئے ہم دونوں اس کمرے میں پہنچ گئے جہاں میں نے حسینہ کو دیکھا تھا۔ وہ ایک وسیع کمرہ تھا جس کا ایک حصہ باریک پردے سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ بڈھا مجھے اس پردے کے پیچھے لے گیا اور پلنگ کی طرف اشارہ کیا۔ کمرے کے بڑے حصے میں ایک مدھم سی بتی جل رہی تھی۔ پلنگ اور پلنگ پوش دونوں پرانی وضع کے تھے مگر تھے دونوں ہی قیمتی۔ بچھونے پر گرد و غبار کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی، بڈھے کا آقا مہمان نواز تھا لیکن اسے رکھ رکھاؤ کا طریقہ مطلقاً نہ آتا تھا۔ اس غبار آلود پلنگ پر سونا میرے لئے ناممکن تھا۔ میں نے کچھ کہنے کے لئے مڑ کر بڈھے کی طرف دیکھا لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ بڈھے کی اس عجلت پر مجھے حیرانی ہوئی۔ مایوس ہو کر پھر کمرے کا جائزہ لیا، تمام کمرہ گرد آلود تھا۔ گویا برسوں سے کسی نے جھاڑا نہ ہو۔ بستر کے علاوہ کمرے کا سارا فرنیچر بے حد پرانا تھا اگرچہ تھا قیمتی۔ فرش پر کشمیری قالین بچھے ہوئے تھے۔ دو ایک چوکیاں جو یہاں وہاں رکھی تھیں ۔ بہت بھاری اور بھدی تھیں پرلے کونے میں لکڑی کا جالی دار پردہ کھڑا تھا۔ جس کے پاس ہی دیوار پر ایک عجیب سی شکل کا کلاک ٹنگا ہوا تھا۔ جس کے پنڈولم کی رفتار اس قدر سست تھی کہ اس کے چلنے کی آواز تک سنائی نہ دیتی تھی۔ شمع دان پر ایک بڑا گتہ رکھا ہوا تھا جس پر جلی اور خوش خط قلم سے ’’بیگم آصف الدولہ‘‘ لکھا تھا۔ پاس ہی ایک کیلنڈر ٹنگا ہوا تھا جس پر دسمبر کی تاریخ لگی ہوئی تھی۔ دسمبر! میں نے حیرانی سے اسے دوبارہ دیکھا۔ اس دن تو جون کی گیارہ تھی۔ 
بائیں میں نے دیکھا۔ وہی حسینہ چپ چاپ چوکی پر بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر میں 31دسمبر کو قطعی بھول گیا۔ حسینہ اٹھ بیٹھی۔ اس کے ہونٹ ہلے، کمرے میں مدھم آہ تیرنے لگی۔ 
اس کی آنکھیں موٹی تھیں اور جسم لچکدار۔ اگرچہ لباس پرانی وضع کا تھا لیکن اس لباس میں وہ کس قدر پیاری لگتی تھی۔ نہ جانے بے چاری کو کیا دکھ تھا کہ اس قدر اداس تھی۔ 
باہر دروازے پر مدھم دستک سنائی دی۔ ’’سعیدہ!‘‘
حسینہ نے اپنا سر اٹھایا۔ ’’اسفند۔ ‘‘ اس کا چہرہ خوشی سے چمکا۔ 
ایک خوش رو جوان کمرہ میں داخل ہوا۔ سعیدہ اور وہ دونوں آپس میں لپٹ گئے۔ 
’’تم آ گئے اسفند۔ ‘‘
’’ہاں میں آ گیا۔ ‘‘
’’میں جانتی تھی کہ تم آؤ گے۔ ‘‘
’’تمہارے میاں ؟‘‘
’’اونہہ!‘‘ وہ گنگنائی۔ 
’’کیوں ؟‘‘
’’چلے گئے۔ ‘‘
’’اوہ! جوان مسکرایا۔ 
’’دونوں چوکی پر بیٹھ گئے۔ جوان نے اپنی مرصع پگڑی اتار کر رکھ دی۔ 
’’سعیدہ!‘‘ جوان نے آہ بھری۔ 
’’اسفند۔ ‘‘
’’اوہ سعیدہ....‘‘
’’کمرہ میں دو مبہم آہیں تیرنے لگیں ۔ ‘‘
’’اگر وہ آ گئے تو؟‘‘
’’ایسا نہ کہو۔ ‘‘ سعیدہ نے اس کے منہ پر انگلی رکھ دی۔ جوان نے اس کو چوم لیا۔ 
’’تم میری ہو؟‘‘
’’ہاں !‘‘ ایک بار پھر وہ لپٹ گئے۔ 
’’میں حیران بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ وہ پردہ جو ہمارے درمیان حائل تھا۔ اس قدر باریک تھا کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔ ان کی معمولی سی جنبش بھی پورے طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ اگر انہوں نے مجھے دیکھ پایا تو.... اس خیال سے گھبرا گیا۔ نہ جانے وہ سڑی بڈھا مجھے وہاں کیوں بٹھا گیا تھا۔ پھر دفعتاً میرا خیال اپنی بیگم کی طرف چلا گیا۔ نہ جانے اس وقت کس سے مل رہی ہو گی۔ اف میرا راستہ بھول جانا کس قدر قیامت کی غلطی تھی۔ 
پھر سیڑھیوں کی طرف سے آوازیں سنائی دیں ۔ مدھم آوازیں اور میرا سلسلہ خیال منقطع ہو گیا۔ 
’’بیگم کہاں ہیں ؟‘‘ ایک با رعب مگر مدھم آواز آئی۔ 
’’بڑے کمرے میں حضور۔ ‘‘
’’اس وقت؟‘‘
’’جی!‘‘
’’اچھا تم جاؤ۔ ‘‘
پھر ایک مدھم مگر گہری آہ کی آواز آئی جو کافی دیر تک میرے اِرد گرد منڈلاتی رہی۔ پھر کوئی بڑبڑانے لگا۔ 
’’وہ بے آرام ہو گی۔ کل ہو جائے گی اطلاع ہمارے آنے کی۔ لیکن.... اوہ....! اس سے دور رہنا کتنا مشکل ہے۔ ‘‘
پھر بڑے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی، وہ دونوں چونک پڑے۔ ’’کون ہے؟‘‘ وہ بولی۔ 
’’بیگم....‘‘
’’اوہ!‘‘ کمرہ میں آہ تیرنے لگی۔ دونوں خوف سے بھوت بن گئے۔ سعیدہ نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ پھر مسکرا کر جالی دار پردے کی طرف اشارہ کیا اور پردے کے پیچھے جا کر چھپ گیا۔ 
’’بیگم ہم ہیں ۔ ‘‘ پھر دستک ہوئی۔ 
سعیدہ نے جا کر دروازہ کھول دیا۔ ’’آپ....؟ اس وقت....؟‘‘
’’ہاں اس وقت، آرام کر رہی تھیں کیا؟‘‘
’’آپ آ گئے۔ ‘‘
’’ہاں تم سے دور رہنا کس قدر مشکل ہو جاتا ہے بیگم۔ ‘‘
’’اوہ!‘‘ کمرہ میں دو آہیں گونجیں ، مدھم اداس آہیں ۔ 
’’یہ پگڑی؟‘‘ آصف الدولہ نے چوکی سے نوجوان کی پگڑی اٹھا کر حیرانی سے کہا۔ 
’’بیگم بے پرواہی سے کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی۔ ‘‘
’’بیگم....‘‘
’’بیگم.... کوئی آیا تھا؟‘‘
’’نہیں تو‘‘ وہ وہیں سے بولی۔ 
’’اوہ....!‘‘
’’آصف الدولہ نے کمرہ میں چاروں طرف دیکھا۔ اس کی نگاہیں لکڑی کے پردے پر جم گئیں ۔ کمرہ کے ہر کونہ سے آہیں سنائی دینے لگیں ۔ ‘‘
’’آپ کو شک ہے کیا؟‘‘ بیگم نے چتون چڑھا کر پوچھا۔ 
’’نہیں تو‘‘
’’پھر....؟‘‘
آصف الدولہ پردہ کی طرف بڑھا۔ بیگم نے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’اگر وہاں کوئی نہ ہوا تو....‘‘
’’تو؟‘‘ وہ رک گیا۔ 
بیگم شمع دان سے وہ گتہ اٹھا لائی جس پر بیگم آصف الدولہ لکھا ہوا تھا اور اسے یوں پھاڑ دیا کہ بیگم اور آصف الدولہ الگ الگ ہو گئے۔ ‘‘ تو کہہ کر اس نے وہ ٹکڑے الگ الگ میاں کو دکھا دیئے اور پھر آپ نہایت متانت سے باہر نکل گئی اور باہر دروازہ کی اوٹ میں کھڑی ہو کر دیکھنے لگی۔ 
’’اوہ....!‘‘
’’ہوں ‘‘ کمرے میں اداس سی آہیں گونجنے لگیں ۔ آصف الدولہ بے تابانہ ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔ اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا۔ 
’’آؤ!‘‘ بیگم نے آہستہ سے پکارا۔ 
’’ہوں ‘‘ وہ چونک پڑا اور پھر اس کی چوکی پر بیٹھ گیا جو اس کونے میں اندھیرے میں پڑی تھی۔ اس کے بعد ایک عرصے تک خاموشی چھائی رہی۔ 
پھر وہ بیٹھا بیٹھا بڑبڑانے لگا۔ ’’اگر وہاں کوئی نہ ہوا تو....؟‘‘
’’اگر وہاں کوئی نہ ہوا تو....؟‘‘ وہ کمرہ میں ہلکی ہلکی مدھم آوازیں سنائی دیں ۔ گویا وہ تانیں اور کلاک باری باری اسے دھرا رہے تھے۔ 
’’اگر وہاں کوئی نہ ہوا تو....‘‘ اس کا چہرہ ایک ساعت کے لئے نہ جانے خوف یا غصہ سے چمکا۔ وہ اٹھ بیٹھا لیکن پھر کچھ سوچ کر چپ چاپ آہستہ سے بیٹھ گیا۔ 
’’ہوں ....‘‘ وہ بڑبڑایا جیسے کوئی خوف ناک فیصلہ کر چکا ہو۔ 
’’اب آ بھی جاؤ۔ ‘‘ بیگم باہر سے بولی۔ ’’آؤ بھی نا۔ ‘‘
نوجوان لڑکا پردے سے باہر نکل آیا۔ بیگم نے اسے دیکھا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا۔ 
آصف الدولہ نے کنکھیوں سے اسے دیکھا۔ لیکن سر جھکائے رکھا۔ پھر وہ بڑبڑایا۔ 
’’کوئی ہے.... خدمت گار ہے، خدمت گار۔ جاؤ ہمارے لئے حمام تیار کرو اور بیگم کو یہاں بھیج دو۔ ‘‘ ان لفظوں کو کہتے ہوئے آصف الدولہ کے ماتھے پر کرب کی ایک لہر پیدا ہوئی اور اس کی روح میں ڈوب گئی۔ ایک ساعت کے لئے اس کا چہرہ اذیت سے بھیانک ہو گیا۔ 
نوجوان پہلے تو ڈرا اور حیرانی سے ٹھٹھکا لیکن پھر جلدی سے باہر نکل گیا۔ دروازہ میں پہنچ کر اس نے بیگم کی طرف پر معنی نگاہ ڈالی لیکن سعیدہ نے منہ موڑ لیا اور اندر آ گئی۔ 
کمرہ میں عرصہ تک خاموشی چھائی رہی۔ کراہ زدہ خاموشی۔ 
’’تم آ گئیں سعیدہ۔ ‘‘ آصف شوق سے اٹھ بیٹھا۔ 
بیگم کی آواز میں شرمساری کی جھلک تھی۔ 
’’مغموم کیوں ہو، آؤ یہاں ۔ ‘‘آصف بولا۔ ’’بیگم تم خاموش کیوں ہو گئیں ؟‘‘
’’میں ....میں ....‘‘ پریشانی کی وجہ سے بیگم کے منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔ 
کمرہ میں ایک قہقہہ گونجا۔ ’’یہ میں ....میں ....‘‘ کیا ہوا۔ کیا مذاق کر رہی ہو سعیدہ؟‘‘
’’مجھے افسوس ہے۔ ‘‘ سعیدہ گنگنائی۔ 
’’الٹا ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے تم پر شک کیا۔ ہمیں معاف کر دو۔ ‘‘ اور وہ دونوں آپس میں لپٹ گئے۔ 
انہیں تخلئے میں دیکھنا مجھے گوارا نہ تھا۔ میں نے جھٹ آنکھیں نیچی کر لیں ۔ لیکن رہ رہ کر مجھے خیال آتا کہ وہ عورت کس قدر چالاک تھی اور وہ مرد سب کچھ جاننے کے باوجود.... سارا قصہ ہی عجیب تھا۔ 
میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ کمرے میں کوئی نہ تھا۔ انگیٹھی پر ایک کی بجائے دو دیئے جل رہے تھے۔ دونوں شعلے ابھر رہے تھے۔ دیکھتے دیکھتے وہ شعلے بہت بلند ہو گئے اور اوپر جا کر یوں خم کھا کر مل گئے کہ ایک محراب بن گئی۔ 
ڈر کے مارے میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ لیکن حلق میں آواز نہ تھی۔ میں بھاگا اور نہ جانے کیسے ٹھوکریں کھاتا ہوا سیڑھیوں میں جا پہنچا۔ وہاں وہی بڈھا لالٹین اٹھائے سڑک کی طرف چل دیا۔ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ دروازہ پر میرا گھوڑا کھڑا تھا۔ 
’’چلئے!‘‘ اس نے مجھے گھوڑا پکڑاتے ہوئے کہا اور ہم دونوں چپ چاپ پگڈنڈی کی طرف چل دیئے۔ 
میرے دائیں بائیں چاروں طرف سے مدھم اور مبہم آوازیں آ رہی تھیں ۔ 
’’اب ہم آزاد ہیں ۔ بیگم آزاد ہیں .... ہم چاہتے ہیں کہ سب کو آزاد کرا دیں ۔ سب قیدیوں کو آزاد کرا دو۔ قیدیوں کو آزاد کر دو۔ ‘‘
’’پگڈنڈی پر آصف الدولہ کھڑا گنگنا رہا تھا۔ ‘‘ سب قیدیوں کو آزاد کر دو۔ قیدیوں کو، تم آزاد ہو.... آزاد۔ ‘‘ خوف کے مارے میری چیخ نکل گئی۔ ’’بھوت۔ ‘‘
’’بھوت۔ ‘‘ بڈھا چلایا اور اپنی بلوریں آنکھیں میری طرف اٹھائیں ۔ اس کا چہرہ ڈر سے بھیانک ہو گیا اور وہ کانپ کانپ کر گر پڑا۔ لالٹین گل ہو گئی۔ 
’’میں نے فوراً ٹارچ جلائی۔ پگڈنڈی ویران تھی۔ وہاں نہ بڈھا تھا اور نہ اس کی لالٹین۔ میں نے ٹارچ کی روشنی اپنے گرد چاروں طرف پھینکی۔ اِردگرد کسی مکان کا نام و نشان نہ تھا۔ جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی، جھاڑیوں کا ایک وسیع پھیلاؤ دکھائی دے رہا تھا۔ 
سامنے دور دو ایک میل پر کاش گڑھ کی مسجد کے گنبد صبح کے دھندلکے میں جھلملا رہے تھے۔ 
’’آزاد....‘‘ کوئی موذن مینار پر کھڑا چلا رہا تھا۔ ’’آزاد۔ ‘‘
نہ جانے کیا ہوا مجھے۔ دفعتاً میرے دل کا ڈر دور ہو گیا۔ اطمینان سا پیدا ہو گیا۔ ایسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ تمام زنجیریں کٹ گئی ہوں جو مجھے جکڑے ہوئے تھیں ۔ 
میں نے محسوس کیا کہ کاش گڑھ کو جانا بے کار ہے۔ نہ جانے کیوں ، حقیقت حال جاننے کی ضرورت ہی نہ رہی تھی۔ میں نے گھوڑے کا منہ واپس بھور گھاٹ کی طرف موڑ دیا اور اسے ایڑ لگا دی۔ 
کئی ایک سال کے بعد مجھے پہلی مرتبہ کشمیر جانا پڑا۔ پہاڑیوں میں پھرتے پھراتے ایک دن میں جھن وادی کی طرف جا نکلا۔ راہ میں ایک ویران سے دروازے پر جو نظر پڑی تو میں ٹھٹھکا۔ دروازے کے پتھر پر ’’الصدف‘‘ کندہ تھا۔ 
میں نے مکان کی طرف دیکھا۔ ’’اف.... میری آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی۔ نکٹائی گویا گلے میں پھندہ بن گئی۔ بالکل وہی، وہی الصدف جہاں میں نے وہ رات بسر کی تھی۔ وہی سیڑھیاں ، وہی دروازہ اور چوبارہ۔ وہی ’’الصدف‘‘ جو اس رات بھور مندر سے کاش گڑھ جانے والی ویران پگڈنڈی پر آ گیا تھا۔ 
وہ قلعہ نما مکان ویران پڑا تھا۔ صرف چار دیواری کھڑی تھی۔ چھتیں بوسیدہ ہو کر گر گئی تھیں ۔ 
’’یہ مکان کس کا ہے؟‘‘ میں نے ایک بیرے سے پوچھا جو ملحقہ کوارٹر میں رہتا تھا۔ 
’’معلوم نہیں جناب۔ ‘‘ وہ بولا۔ ’’یہ تو برسوں سے یونہی ویران پڑا ہے۔ ‘‘
عین اس وقت وہ بڈھا عیسائی وہاں آ گیا جو پڑوس میں رہتا تھا۔ 
’’یہ مکان؟‘‘ اس نے کھانستے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھ میں چمک لہرائی۔ 
’’یہاں یہی۔ ‘‘
’’یہ مکان کسی نواب صاحب کا تھا۔ ‘‘
’’اب کیا اس کا کوئی وارث نہیں ؟‘‘
’’اونہوں !‘‘ اس نے سر ہلا کر کہا۔ ’’مکان پر بجلی کوندی اور سب مر گئے۔ ایک قیامت بپا ہو گئی تھی یہاں اس روز۔ کوئی ساٹھ سال ہوئے ہوں گے۔ صاحب ساٹھ سال، میرا مکان پاس ہی ہے وہاں ۔ ہاں وہ رات 31دسمبر کی رات تھی۔ ہم نئے سال کی خوشی میں لگے ہوئے تھے کہ نواب صاحب کا سارا کنبہ تباہ ہو گیا۔ ‘‘
’’تباہ ہو گیا۔ ‘‘ میں نے دہرایا۔ 
’’ہاں ! جب سے یہ محل نما مکان ویران پڑا ہے۔ ‘‘
صاحب ساری رات نہ جانے کیا کیا چیخ پکار سنائی دیتی ہے۔ کبھی کوئی آزاد آزاد چیختا ہے۔ کبھی بیگم بیگم اور کبھی قیدیوں کو آزاد کر دو۔ ‘‘ بیرا بولا۔ 
’’اس نواب کا کیا نام تھا؟ بڑے میاں تمہیں یاد ہے کیا؟‘‘ میں نے شوق سے مبہوت ہو کر پوچھا۔ 
ایک منٹ کے لئے بڈھا خاموش رہا۔ 
’’ہاں ایسا ہی تھا کچھ۔ نواب دولا.... آصف دولا۔ ‘‘
’’آصف الدولہ!‘‘ حیرانی سے میری چیخ نکل گئی۔ 
’’آزاد کر دو۔ ‘‘ مکان سے کوئی چمگادڑ چیختی ہوئی اڑی.... ’’آزاد کر دو۔ ‘‘
٭٭٭




میاں کی مرضی



’’توبہ....اس گھر میں کوئی کسی کی سنے بھی۔ یہاں تو بس انہیں کی چلتی ہے۔ چاہے کوئی چیخ چیخ کر مر جائے۔ انہیں اپنی مرضی سے کام۔ ‘‘ سعیدہ باورچی خانے میں داخل ہوتے ہوئی چلائی اور پھر حشمت کی مستفسرانہ نگاہ کو دیکھ کر بولی۔ ’’کہتے ہیں فرنی ضروری ہو گی کل کھانے پر اور ٹکڑے۔ ٹکڑے تو آخر ٹکڑے ہی ہیں ۔ چاہے ڈبل روٹی کے ہی ہوں ۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ نہ سنیں گے کسی کی۔ بس لے لیا مزہ پوچھنے کا....؟ میں تو اس گھر کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔ مجھ سے کیا چھپا ہے.... ابھی تو کل ہی ان کی منہ چڑھی کا رونا ختم ہوا اور آج دعوت کا جھگڑا لا کھڑا کیا۔ اب کوئی کیا کرے اور وہ چڑیل.... توبہ.... گھر میں کہرام مچا رکھا تھا اس نے۔ گئی ہے تو آرام کا سانس لیا ہے۔ دن بھر کبھی نیچے، کبھی اوپر، گھر کی دیواریں بھی کانپ اٹھی تھیں .... اب ایک مہینہ تو آرام سے کٹے گا۔ ‘‘
سعیدہ نے اپنا دوپٹہ اتار کر دروازے پر لٹکا دیا اور ہنڈیا کی چپنی اتار کر بولی۔ ’’حشمت ذرا سا پانی تو دے۔ دیکھ تو بالکل ہی سوکھ گئی ہے۔ نہ جانے کہاں سے گوشت لے آتا ہے یہ رحیما۔ اللہ مارا گلنے میں نہیں آتا۔ ‘‘ پانی کا گلاس لے کر اسے ہنڈیا میں چار ایک چھینٹے دیئے اور چمچہ ہلانے لگی۔ 
’’ایک مہینے کے لئے گئی ہے کیا؟‘‘ حشمت نے کہہ کر اسے از سر نو چھیڑ دیا۔ 
’’کیوں ....؟‘‘ سعیدہ چونکی۔  ’’ایک مہینہ زیادہ ہے کیا....؟ ایمان سے کہنا حشمت۔ ایسے لچھن تو نے دیکھے ہیں کسی کے۔ آخر ہمارے زمانے میں بھی پڑھا کرتی تھی لڑکیاں ۔ میں نے بھی پوری ساعت جماعتیں کی ہیں ۔ پر ہم کو تو باتیں بنانا نہ آیا۔ کہیں آئینہ دیکھا جا رہا ہے۔ اب بال بنائے جا رہے ہیں ۔ اب کس کھڑکی میں سے لٹک رہی ہے۔ پھر اس منڈیر سے جھانکا جا رہا ہے۔ دوپٹہ ٹکتا نہیں سر پر۔ کبھی اوپر کبھی نیچے۔ ادھر مٹک، ادھر مٹک۔ توبہ ہے۔ 
’’توبہ بی بی آج کل کی لڑکیاں ۔ ‘‘ حشمت نے داد طلب نگاہ سے دیکھا۔ 
’’آج کل کی لڑکیاں ....؟ میری بہن ہے۔ خدا کے فضل سے نویں جماعت میں ہوئی ہے۔ کیا مجال ہے کبھی آنکھ اوپر اٹھائے۔ سکول سے آئی ہو، گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کر پڑھ لیا۔ پھر گھر کے کام میں لگ گئی.... اماں کو تو بیٹھے کھانا ملتا ہے.... بھئی حشمت ایمان سے کہتی ہوں ، ان کی لاڈلی خالدہ سی لڑکی میری نظر سے تو نہیں گزری.... ہوں گی، اللہ میاں نے ہر رنگ پیدا کیا ہے لیکن حشمت اللہ پناہ میں رکھے۔ میری اپنی بیٹی ہو تو کھال ادھیڑ دوں ۔ ‘‘
’’لو بی بی اب تو بہت بدل گئی ہے وہ تمہاری نصیحتیں سن کر۔ ‘‘
’’کیوں .... میں کیوں نصیحت کرنے لگی۔ میں تو ہوئی سوتیلی.... میری تو وہی بات ہے، نیکی برباد گناہ لازم۔ لڑکی کی عادتیں بگاڑیں اس کی ماں نے۔ پر لوگ تو یہیں کہیں گے کہ سوتیلی تھی۔ لڑکی کو سلیقہ کیا سکھاتی اور اگر کچھ کہوں تو اور تو اور.... اس کے ابا ہی جتا دیں گے۔ ‘‘
’’ہاں یہی تو بات ہے بی بی۔ ‘‘ حشمت نے جھک کر کہا۔ ورنہ لڑکی تو دو دن میں سدھر جائے۔ میں تو سچی کہوں گی۔ چاہے تو برا ہی مانو بی بی۔ ‘‘
’’برا ماننے کی کیا بات ہے اس میں ۔ میں تو آپ منہ پر کہہ دینے والی ہوں .... ہاں !‘‘ سعیدہ سرک کر حشمت کے قریب ہو بیٹھی اور رازدارانہ انداز سے بولی۔ 
’’تمہیں کیا معلوم، باپ پر تو اس لڑکی نے جادو کر رکھا ہے۔ جادو.... وہ تو جان دیتے ہیں ۔ بھیگی بلی جو بنی رہتی ہے ان کے سامنے۔ گویا منہ میں زبان نہ ہو.... پر چھوٹی سے چھوٹی بات ان سے جا لگاتی ہے۔ میں کیا نہیں جانتی.... توبہ....! اللہ بچائے....! ہم نے تو کسی جوان لڑکی کو یوں باپ کے کندھوں پر چڑھتے نہیں دیکھا۔ کیا زمانہ آیا ہے۔ ایمان سے حشمت، جب میں چودہ سال کی ہوئی تو یکلخت ابا کے پاس جانا بند کر دیا۔ توبہ مجھے شرم آتی تھی۔ بس دور ہی سے جو کہنا ہوا کہہ دیا۔ لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے۔ شرم نہیں آتی اسے ابا کے سامنے سینہ چھلکاتے ہوئے۔ ہائے ری کیا زمانہ ہے.... وہ تو اپنے آپ کو دودھ پیتی بچہ سمجھتی ہے.... توبہ ہے۔ ‘‘
’’بچی....!‘‘ حشمت چلائی۔ ’’کوئی ناواقف دیکھ پائے تو یہی سمجھے کہ گود میں بچہ ہے۔ ہاں .... پر میں پوچھوں ہوں بی بی کیا یونہی گھر بٹھا رکھیں گے اسے۔ ‘‘
’’ہائے ری یہی تو میں کہہ رہی ہوں ۔ ‘‘ وہ اٹھ کر حشمت کے قریب تر ہو بیٹھی۔ ’’تو ہی بتا حشمت، ایمان سے کہیو۔ جوان لڑکی کا یوں جھانکتے رہنا.... میں تو ڈرتی ہوں کہ کوئی بات نہ نکل آئے۔ میں کیا دیکھتی نہیں ۔ سبھی کچھ دیکھتی ہوں ۔ پھر چپ کیوں ہوں میں ؟ بس حشمت چھوڑ اس بات کو تو۔ چپ ہی بھلی۔ ایک چپ میں سو سکھ۔ ‘‘
حشمت بھی گرم ہو گئی۔ ’’آخر کب تک رہو گی چپ، جب کسی کے ساتھ....‘‘
’’اے ہے، تو نے تو وہی کہہ دی میرے دل کی بات۔ اسی ڈر سے تو میں مری جا رہی ہوں ۔ لوگ تو یہ کہیں گے، سوتیلی ماں تھی۔ بے چاری تنگ آ کر نکل گئی اور تو اور خود ہی سارا الزام مجھ پر دیں گے۔ اے ہے۔ اپنی بچی کو کون برا کہتا ہے۔ اس گھر میں بس ایک میں پرائی ہوں نا؟ سچ بتا تو.... تجھے میری جان کی قسم۔ ‘‘
’’پر میں پوچھتی ہوں ، اس کا رشتہ کیوں نہیں کر دیتے۔ ایک بار اپنا گھر جا کر بسائے تو پھر تمہاری بلا سے۔ ‘‘
’’یہی تو کہتی ہوں میں حشمت، میری طرف سے کل کا ہوتا آج ہو جائے۔ میری کوئی سنے بھی۔ میں تو اس روز شاہ سلیمان کے مزار پر گھی کا دیا جلاؤں گی.... گھی کا۔ ‘‘ سعیدہ نے پر معنی انداز سے دیکھا اور پھر اس کے کان میں منہ دے کر بولی۔ 
’’لڑکی کی پھوپھی، وہ کالے منہ والی چڑیل.... اس کا بڑا بیٹا اسلم ہے نا۔ ‘‘
’’اسلم....؟‘‘ حشمت بڑبڑائی۔ ’’اسے تو جواب دے دیا ہے بابو جی نے۔ ‘‘
’’جواب دے دیا ہے.... کب؟‘‘
’’یہی سات آٹھ دن ہوئے ہوں گے۔ اس روز کی بات ہے جب تم ادھر گئی ہوئی تھی۔ بی بی نہ جانے کیا کہتے ہیں .... انہیں ڈفٹی صاحب کہ کیا....؟ لڑکی کی پھوپھی آپ آئی تھیں ۔ بھائی بہن اندر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ‘‘
’’کیا کرتے رہے باتیں ....؟‘‘
’’اسلم کے لئے کہہ رہی تھی۔ کہتی تھی خالدہ اللہ رکھے جوان ہو گئی ہے اب۔ اس کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟‘‘
’’پھر انہوں نے کیا کہا؟‘‘
’’بس حیلے حوالے کر کے ٹال دیا اور کیا کہتے۔ کہنے لگے، ابھی بچی ہے۔ بڑی ہو جائے گی تو دیکھا جائے گا۔ ‘‘
’’ہونہہ بچی....!‘‘
’’پھر بولے، ہم تو اسے بیا کرائیں گے۔ نہ جانے کیا ہوتا ہے وہ.... مجھے کیا معلوم۔ ‘‘ ہوں بی یے کرائیں گے.... آخر لڑکے کے بارے میں بھی کچھ کہا ہو گا۔ ‘‘
’’بس یہی کہہ رہے تھے کہ لڑکا صرف دس جماعتیں پاس ہے۔ اس سے کیا بنتا ہے آج کل۔ ‘‘
’’کیوں بنتا کیوں نہیں ۔ آپ بھی تو دس ہی جماعتیں پاس تھیں ۔ اب خان صاحب کے بغیر کوئی بلاتا نہیں ۔ یہ تو نصیب کی بات ہے اور کیا بولے؟‘‘
’’بس اور کیا کہنا تھا۔ بات بات پر بچی بچی کر رہے تھے۔ ‘‘
’’ہائے ری حشمت باپ تو آپ اندھا ہو رہا ہے۔ اب کوئی کیا کرے اور وہ چھوکری، توبہ کس قدر پکی ہے۔ بال پن آیا ہی نہیں کبھی۔ میں تو دو سال سے یہی حالت دیکھ رہی ہوں ۔ تمہیں یاد ہے پچھلے سال جب اس نے کہیں سے سن پایا تھا کہ اسلم کی بات ہو رہی ہے۔ توبہ....! لڑکی نے پورا ہفتہ منہ سجائے رکھا اور میرے منہ پر تو صاف جتا دیا، میں دیکھوں گی۔ میرے متعلق کون ایسی ویسی باتیں کرتا ہے۔ دو کوڑی کا آدمی میرے لئے رہ گیا ہے کیا؟ پر انشاءاللہ دو کوڑی کا ہی ملے گا۔ ‘‘
’’میں کہتی ہوں اسلم نہیں تو اور سہی، رشتوں کا کیا کال ہے۔ بی بی.... وہ ڈپٹی صاحب کا لڑکا جو ہے۔ ‘‘ حشمت بات سمجھے بغیر بڑبڑائی۔ 
’’کیوں اسلم کو کیا ہے۔ کوئی لولا لنجا ہے کیا۔ اللہ رکھے پڑھا لکھا ہے اور پھر ہوا بھی اپنا قریبی۔ اس کے لئے اس سے بہتر رشتہ ملے گا کہاں ....؟ اور وہ ڈپٹی صاحب۔ انہوں نے کئی بار مجھ سے کہا ہے۔ اللہ رکھے لڑکا ایم اے میں ہے۔ پر تو جانتی ہے نا....‘‘ سعیدہ نے ایک معنی خیز نگاہ سے دیکھا اور پھر ہاتھ چلا کر بولی۔ ‘‘ ہائے ری.... تیری سمجھ کو کیا ہوا....؟ ایمان سے کہیو۔ یہ لڑکی گھر بسائے گی کیا۔ تو میں کیوں آؤں اس بات میں ۔ مجھے اپنی ناک چوٹی کی لاج نہیں کیا.... ہیں ؟‘‘
’’نہ نہ بی بی۔ تجھے کیا پڑی ہے، تیری بلا سے، پر مصیبت تو یہ ہے کہ ایک بار انکار کرنے کے بعد وہ کب اسلم کی بات ماننے لگے۔ ‘‘
’’اللہ تیرا بھلا کرے، یہی تو مصیبت ہے۔ ‘‘
’’پھر ہو گا کیا؟‘‘
’’ہونا کیا ہے، بس وہی ہو گا جو ہوا کرتا ہے اس گھر میں ، ان کی مرضی اور کیا، یہاں کون سنتا ہے کسی کی؟‘‘
’’آخر کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہئے تمہیں ۔ تم کیا برا چاہو گی اس کا، تم تو بلکہ لڑکی کی بھلائی ہی سوچتی ہو نا۔ ‘‘
’’ہائے حشمت میرا تو جی ہی ایسا برا ہے کہ کسی کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔ اپنے دل کو کیا کروں ، کسی دشمن کو بھی نہ دے ایسا دل۔ نہ جانے لوگ کسی کی برائی کیسے کرتے ہیں ، ہم سے تو نہ ہو سکی یہ بات۔ ‘‘
’’پر بی بی یوں نہ بنے گی بات، تم ان سے بات تو کرو۔ ‘‘
’’اچھا تو جو کہتی ہے تو کہہ دیکھوں گی میں ....‘‘
’’نہ میں مجبور نہیں کرتی بی بی، تیری اپنی مرضی ہے۔ نہیں مانتے تو تیری بلا سے، دفع کر۔ ‘‘
’’اچھا تو دیکھ تو سہی۔ ‘‘ سعیدہ بولی اور پھر چولہے کی طرف منہ پھیر کر مسکراہٹ بھینچنے لگی۔ لیکن کوئی ان جانا تبسم خواہ مخواہ اس پر چھائے جا رہا تھا۔ گوشت بھونتے ہوئے اس نے محسوس کیا جیسے اس کی بغل میں کچھ پھڑپھڑا رہا ہو۔ قمیض تنگ ہوئی جا رہی تھی اور بدن پر چیونٹیاں چل رہی تھیں ۔ نہ جانے وہ راز کیا تھا جو یوں اس کے بدن میں لہریں لینے لگا تھا جسے وہ اپنی راز دان حشمت سے تو کیا اپنے آپ سے بھی چھپانا چاہتی تھی۔ 
پکانے سے فارغ ہو کر اس نے ہاتھ منہ دھویا، بال بنائے، غازہ مل کر کاجل کی دھار لگائی اور پھر نیا چنا ہوا دوپٹہ شانوں پر ڈال کر انتظار کرنے بیٹھ گئی۔ 
میاں کے سامنے کھانا چن کر سعیدہ اس کے پاس بیٹھ گئی۔ 
’’بہت دیر ہو گئی آج۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’ہیں ....؟‘‘ خان صاحب چونک کر بولے۔ ’’ہاں کچھ کام تھا۔ ‘‘ انہوں نے نوالہ چباتے ہوئے کہا۔ 
’’کچھ اچھی بنی ہے کچنار؟‘‘ سعیدہ خواہ مخواہ مسکرائی۔ 
’’ہوں .... اچھی ہے۔ ‘‘
’’آج کل تو ملتی ہی نہیں ، میں نے حشمت کو سبزی منڈی بھیج کر منگوائی ہے۔ میں نے کہا، وہ ایک دفعہ تو پکا لوں ۔ آپ کو پسند جو ہوئی۔ ‘‘
’’ہوں .... ہاں ۔ ‘‘ انہوں نے ہڈی چباتے ہوئے جواب دیا۔ ’’پانی۔ ‘‘
’’توبہ دو دن سے گھر ویران پڑا ہے۔ ‘‘ سعیدہ نے پانی دیتے ہوئے گویا اپنے آپ سے کہا۔ 
’’ہوں ....!‘‘ ان کے ماتھے پر تیوری بن گئی۔ 
’’خالدہ جو چلی گئی ہے۔ توبہ اکیلا بھی کوئی نہ ہو۔ ‘‘
’’ہاں ! اس کی نانی اصرار کر رہی تھی نا۔ یہ عورتیں .... ہونہہ....!‘‘
’’اللہ رکھے اس سال دسویں کرے گی۔ اب تو جوان ہو گئی ہے۔ آپ کو فکر بھی ہے اس کی۔ ‘‘
’’ابھی بچہ ہے، دیکھا جائے گا۔ ‘‘ وہ بھرے ہوئے منہ سے مشکل سے بولے۔ 
’’واہ میں کیا یہ کہتی ہوں کہ ابھی کر دو شادی۔ ‘‘ سعیدہ نے لاڈ سے کہا۔ ’’پر نامزد تو کر دینا چاہئے۔ کوئی کھاتا پیتا شریف خاندان ہو۔ آج کل لائق لڑکا تو ملتا نہیں ۔ لوگ پہلے ہی سے بات چیت طے کر لیتے ہیں ۔ ورنہ شادی کی جلدی ہی کیا ہے۔ ‘‘
’’ہوں ....‘‘ وہ بولے۔ ’’پھر ہے کوئی لڑکا نگاہ میں ؟‘‘
سعیدہ سوچ میں پڑ گئی۔ ابرو تن گئے، پلکیں جھپکیں ، آنکھوں میں اک بے تعلق چمک لہرائی، اسے دیکھ کر وہ رک گئے اور بولے، کیا کہتی ہے؟‘‘
’’مجھے تو کوئی ایسا لڑکا نظر نہیں آتا۔ سعیدہ نے مزید معصومیت سے کہا۔ ’’وہ صدیق تھا اس کا تو نکاح بھی ہو چکا اور انور، وہ تو مدتوں سے منسوب ہے اور کوئی لڑکا تو ہے نہیں ۔ البتہ اسلم....‘‘
’’ڈپٹی صاحب کا لڑکا جو ہے۔ تمہارا تو بہت آنا جانا ہے۔ ‘‘
’’ہاں ہے تو سہی، لائق بھی ہے لیکن....‘‘
’’لیکن کیا؟‘‘ وہ بولے۔ 
’’بس کیا بتاؤں ، کل ہی اس کی ماں رو رہی تھی، سعیدہ رازدارانہ انداز میں ان کی طرف جھکی اور متبسم آنکھوں سے بولی۔ کہتی تھی، کالج کی کسی کرنٹی سے۔ ‘‘ اس کی آنکھیں چمکیں اور پھر پلکیں جھپکیں ۔ گویا کسی راز پر پردہ ڈال رہی ہو۔ پھر وہ از سر نو مسکرانے لگی۔ 
ایک ساعت کے لئے خان صاحب کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔ لیکن پھر اسی خشک لہجے میں بولے۔ ’’جوانی میں لڑکے کیا کیا نہیں کرتے، بڑا ہو کر آپ سدھر جائے گا۔ ‘‘
’’پر معاملہ تو حد تک پہنچ چکا ہے۔ ‘‘ اس نے دوبارہ جھک کر کہا۔ ’’سنا ہے دونوں نے چوری چوری بیاہ بھی کر لیا ہے، جبھی تو ماں اندر ہی اندر گھل کر کانٹا ہوتی جا رہی ہے۔ ‘‘
’’اوہ....‘‘ وہ کھانسنے لگے۔ ’’ہاں وہ تمہاری ہمشیرہ کا لڑکا منور جو ہے۔ ‘‘
سعیدہ نے برا سا منہ بنا لیا۔ ’’اب آپ سے کیا چھپانا ہے۔ ‘‘ وہ بات کاٹ کر بولی اور پھر رک گئی۔ 
’’لیکن کیا؟‘‘
وہ آبدیدہ ہو گئی۔ ’’کیا بتاؤں ، اللہ کی مرضی ہے، ہم تو ہر طرف سے دکھی ہیں ۔ نہ جانے یہ سب کس گناہ کی سزا ہے۔ ‘‘ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔ 
’’آخر بات کیا ہے؟‘‘ انہوں نے نرمی سے پوچھا۔ 
’’بے چارہ منور....‘‘ اس نے اک آہ بھری۔ ’’لے دے کر یہی ایک لڑکا تھا لیکن نہ جانے کیا ہوا۔ آج تین سال ہونے کو آئے ہیں ، لڑکے کی چھاتی سے خون آتا ہے۔ ‘‘
’’ہیں .... تم نے مجھ سے تو نہیں کہا کبھی۔ ‘‘
’’کہنے والی بات بھی ہو۔ ‘‘ وہ روئی روئی آواز میں بولی۔ ’’وہ تو سب یہ بات چھپائے بیٹھے ہیں ۔ بہن کو تو اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا گئی یہ بات۔ ‘‘ سعیدہ از سرنو آبدیدہ ہو گئی۔ 
’’تم کیوں مفت میں اپنا دل دکھاتی ہو.... تمہارا دل بہت نرم ہے۔ ‘‘ وہ مسکرائے۔ 
’’اے ہے کل اسلم کی ماں آئی تھی۔ اس وقت سے دل بھرا بھرا ہے۔ جی چاہتا ہے رو دوں ۔ ‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’بس خیال آ گیا، اسلم کیسا اچھا لڑکا ہے، اتنا فرماں بردار، کتنی عزت کرتا ہے وہ آپ کی....‘‘
’’میری عزت۔ ‘‘ وہ چونکے۔ 
’’پھر منور کا خیال آیا۔ بس کلیجے میں چھری لگی، نہ کرتا ایسے کام تو ایسی بیماری نہ لگتی۔ ‘‘
’’کیسے کام....؟‘‘
’’نہ جانے کیا کیا گل کھلاتے ہیں کالج میں ، یہ بیماری ایسے نہیں لگتی۔ کل اسلم کی ماں سے مل کر جی خوش ہو گیا۔ اپنے بیٹے کی طرف سے کتنی سکھی ہے۔ اللہ ایسی اولاد سب کو دے۔ ‘‘
’’کس لئے آئی تھی وہ؟‘‘ وہ خشمگیں انداز میں بولے۔ 
’’کچھ نہیں ، وہ خالدہ کے بارے میں کہنے آئی تھی۔ ‘‘
’’ہونہہ.... وہ تو پاگل ہے۔ ‘‘ انہوں نے کھانا ختم کر کے کہا۔ ’’ہم نے اسے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ یہ خیال چھوڑ دے۔ اگر ایسا ہی خیال تھا تو لڑکے کو بی۔ اے تو کرایا ہوتا۔ دسویں کو تو آج کل....
’’ہاں ، ہاں .... میں نے تو اسے صاف کہ دیا۔ ‘‘ سعیدہ بات کاٹ کر بولی۔ ’’یہ رہا حقہ بھرا ہوا ہے۔ ‘‘
’’ہوں !‘‘ انہوں نے حقے کا کش لے کر کہا۔ ’’کیا کہا تھا؟‘‘
’’کہنے لگی، بہن ہم بے چارے غریب ٹھہرے، میں نے کہا، بہن یہ نہ کہو، ویسے رشتے کے متعلق تم جانو اور تمہارے بھائی۔ وہ آپ سمجھ دار ہیں ۔ میں بے چاری کس شمار میں ہوں ۔ ‘‘
’’نہیں ، نہیں .... تم اس سے کہیں زیادہ سمجھ دار ہو۔ ‘‘
’’آپ کے سامنے میری حیثیت ہی کیا ہے۔ ‘‘
’’خیر، خیر....پھر کیا بولی وہ؟‘‘
’’اس نے کیا کہنا تھا، میں نے ہی کہا۔ بہن ان کے دل میں اونچ نیچ نہیں ہے حالانکہ اللہ رکھے برادری میں ان کے برابر کون ہے، لیکن ان کی طبیعت میں امیری کی بو نہیں ۔ اونچ نیچ کا خیال نہیں ۔ ‘‘
’’ہوں .... ٹھیک ہے۔ ہمارے دل میں یہ خیال تو کبھی نہیں آیا کہ وہ چھوٹے ہیں ۔ یہ پڑوس میں رمضان کی اماں رہتی ہے۔ بے چاری کتنی غریب ہے، وہ سارا سارا دن آ کر بیٹھ رہتی ہے لیکن ہمارے دل میں کبھی خیال نہیں آیا۔ ‘‘
’’اور پھر اسلم.... میں نے کہا، اسلم کو تو وہ اپنا بیٹا سمجھتے ہیں اور مردوں کے دل میں ایسی ویسی باتیں ہوں گی لیکن ان کے دل میں نہیں ۔ ‘‘
’’میں نے کہا، بہن تم اسلم کی نوکری کی فکر نہ کرو۔ وہ چاہیں تو آج کروا دیں اسے نوکر، ان کا رسوخ کیا کم ہے۔ بڑے بڑے افسر آپ سے ملنے آتے ہیں ، میں نے کہا، ابھی کل ہی رمضان کو نوکر کروایا ہے۔ فی الحال بیس لے گا پھر بائیس ہوں گے، پھر تیس۔ اسی طرح اک دن مرتبے والا ہو جائے گا اور میں نے کہا، صرف آٹھ جماعتیں پاس ہے وہ۔ تمہارا بیٹا تو اللہ رکھے دس پاس ہے۔ افسر نہ بنوا دیں تو کہنا۔ ان کی بات کون ٹال سکتا ہے بہن.... ہاں ۔ ‘‘
’’ہی ہی ہی۔ ‘‘ وہ ہنسے۔ ’’بے چارے بڑی اچھی طرح پیش آتے ہیں ۔ ابھی کل ہی مسٹر صدیقی کہہ رہے تھے، بھئی کوئی کام بتایا کرو، ریلوے کے افسر ہیں وہ۔ سب ریلیں انہیں کے حکم سے چلتی ہیں ۔ مالک ہوئے ریلوں کے، رمضان کا کام بھی تو انہوں نے کیا تھا۔ میں نے ویسے سرسری بات کی تھی۔ سارے ہی لحاظ کرتے ہیں ۔ ‘‘ وہ حقہ پینے لگے۔ 
’’ہر روز دیکھتی جو ہوں ، بڑے بڑے افسر گھر پر آتے ہیں ۔ اکٹھا کھانا پینا، ہنسی مذاق۔ ‘‘
’’ہاں ہاں ، بڑے اچھے ہیں بے چارے.... اور اسلم کو نوکر کروانا کیا مشکل ہے۔ ‘‘
’’میں نے کہا، بہن تم جو چاہو سو کہو، جو چاہو سمجھو۔ پر میں نے جیسا بھائی نہیں دیکھا۔ میرا اپنا بھائی ہے، کبھی بھول کر بھی یاد نہیں کیا اس نے۔ پر تمہارے بھائی کو اٹھتے بیٹھتے ہر وقت تمہارا خیال رہتا ہے۔ ‘‘
’’ہاں ....‘‘ وہ حقے کا کش لے کر بولے۔ ’’آخر بہن ہے لیکن بہت بے وقوف ہے۔ ہاں .... پھر کیا بولی؟‘‘
’’کہنے لگی بھائی تو چاہتا ہے۔ پر بے چارے کا بس بھی چلے۔ ‘‘
’’ہیں ....؟‘‘ وہ چونکے۔ ’’بس کیسا؟‘‘
’’میرے متعلق کہہ رہی تھی۔ ‘‘ وہ ایک رسیلی مسکراہٹ سے بولی۔ ’’ان کا خیال ہے کہ میری وجہ سے آپ نے رشتے سے انکار کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لڑکی کا رشتہ میں اپنے رشتہ داروں کو دینا چاہتی ہوں بلکہ یہ بات تو وہ کئی بار میرے منہ پر جتا چکی ہے۔ یہ خیال تو آنا ہی ہوا انہیں ۔ قدرتی بات ہے، ایمان سے مجھے کوئی گلہ نہیں ۔ ‘‘ اس کے دانت سرخ ہونٹوں تلے چمکے۔ 
’’لاحول ولا قوة۔ کیا بے ہودہ خیال ہے۔ پاگل ہے پاگل۔ ‘‘
’’میں نے تو صاف کہہ دیا، میں نے کہا، بہن مجھے جو جی میں آئے کہہ دو لیکن ان پر جھوٹا الزام نہ دھرو۔ وہ کوئی زَن مرید نہیں ، اللہ رکھے اپنی عقل کے مالک ہیں ۔ بڑے بڑے افسر ان کی صلاح لئے بغیر قدم نہیں اٹھاتے۔ ہاں وہ بھلا عورت کے پیچھے بھیڑ کیوں بنیں ۔ ان کی ایسی عادت نہیں ۔ ‘‘
’’ہاں سچ کہہ رہی تھی وہ، اپنے میاں کی بات کر رہی تھی نا، میں جانتا ہوں ۔ خدا جانے مرد عورتوں کی باتوں میں آ کر اپنے آپ کو بے وقوف کیوں بناتے ہیں ؟‘‘
’’بس یہی بات ہے، وہ سمجھتی ہے جیسے اس کا مرد ہے، ویسے ہی دوسرے بھی ہوں گے۔ ‘‘
’’لاحول ولا قوة.... تمہارے متعلق تو اس کا خیال بالکل غلط ہے۔ تم تو الٹا ہمیں آپس میں مل بیٹھنے کی ترغیب دیتی رہتی ہو۔ ‘‘
’’ان سے نہ ملیں تو ہم کس سے ملیں ۔ ان سے زیادہ عزیز کون ہے ہمیں ۔ آپ ہی بتائیں ۔ ویسے میرا آپ کی باتوں میں دخل ہی کیا ہو سکتا ہے، توبہ میں کیا آپ کی عقل تک پہنچ سکتی ہوں ؟‘‘
’’نہیں ، نہیں ، تم بڑی سمجھدار ہو۔ بے وقوف تو وہ ہے، پاگل ہے.... پاگل ہے۔ ‘‘
’’میں نے بھی اسے لاجواب کر دیا تھا، میں نے کہا، بہن خالدہ کے لئے تم سے بہتر ساس کون ہو گی۔ ویسے تو انہیں ہزاروں رشتے ملتے ہیں ۔ ان کے دوست کوئی چھوٹے موٹے آدمی نہیں ۔ ابھی تو ڈپٹی صاحب کی بیوی کل ہی رشتے کے لئے کہہ رہی تھی اور پھر وہ ریلوں کے مالک نہ جانے کیا نام ہے ان کا، لڑکا ولایت پاس ہے۔ آخر انہیں اپنے عزیزو ں کا خیال ہی تھا نا کہ لڑکی منسوب نہ کی، ورنہ آج تک....‘‘
’’ہاں ، ہاں وہ تو اب بھی....‘‘
’’یہی تو میں نے بتایا اسے، میں نے کہا بہن سچ کہنا۔ آخر وہ کیوں نہیں کر دیتے رشتہ، ایمان سے کہنا، کیا تم نے ان سے کبھی بات بھی کی ہے۔ مجھے ہی کہتی ہو نا۔ میں ان سے ایسی باتیں کیسے کروں ، میری تو جرات نہیں ۔ ‘‘ اس نے لجا کر آنکھیں نیچے کر لیں ۔ ’’تم خود کہو ان سے، میں نے کہا، تمہاری بات کیوں رد کرنے لگے وہ۔ ‘‘
’’نہیں ، اس نے کہا تھا مجھ سے....‘‘
’’تو آپ نے کون سا توڑ کر جواب دے دیا تھا۔ بس اتنا ہی کہا تھا کہ لڑکی تعلیم سے فارغ ہولے اور لڑکا صرف دس پاس ہے۔ ‘‘
’’ہاں ہاں ! یہی کہا تھا ہم نے اور....‘‘
’’اور میں نے کہا۔ یہ کیا جھوٹی بات ہے، سچ کہتے ہیں وہ۔ ‘‘
’’پھر کیا بولی؟‘‘
’’میں نے ہی کہا، میں نے کہا، بہن وہ خالدہ کو اس لئے تو نہیں پڑھا رہے کہ اللہ نہ کرے اس سے نوکری کروانی ہے۔ توبہ کرو، بہن وہ تو آپ پڑھی لکھی استانی لڑکی کے لئے نوکر رکھ سکتے ہیں ۔ بھلا خالدہ سے نوکری کیوں کروانے لگے وہ۔ ‘‘
’’اونہوں ، یہ کس نے کہہ دیا ان سے، ہمارا تو قطعی ارادہ نہیں .... پاگل ہے۔ ‘‘
’’میں نے کہا۔ بہن لڑکی جو پڑھا رہے ہیں تو صرف اس لئے کہ پڑھ کر اچھی بیوی بنے، اس میں تو تمہاری ہی بھلائی ہے، پڑھی لکھی بہو ہو گی اور ماشاءاللہ وہ پہلے ہی ایسی اچھی لڑکی ہے کیوں نہ ہو، وہ آپ بیٹی کی تربیت کا خیال رکھتے ہیں ۔ ‘‘
’’ہوں .... پھر کیا بولی؟‘‘
’’پھر کیا بولتی، لگی بغلیں جھانکنے اور پھر آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، بولی! آخر مجھے بھی تو اپنے بھائی ہی سے امیدیں ہیں ۔ اسی پر ناز ہے مجھے اور میرا ہے ہی کون۔ اک بھائی ہے نا جس کے آسرے پر جیتی ہوں ، چاہے اٹھا لے یا ٹھکرا دے، اس کی مرضی۔ ‘‘
’’خان حقے کا کش لینا بھول گیا، بولا۔ ’’پاگل ہے، پاگل....‘‘
’’میں نے کہا، وہ بھائی ایسا نہیں جو ٹھکرا دے گا، تم نے تو اسے سمجھا ہی نہیں ۔ ‘‘
’’ہاں ہاں ، وہ بے چاری کیا سمجھے گی۔ ‘‘
’’اور میں نے کہا، یہ نہ سمجھنا کہ وہ اسی بات پر اڑے رہیں گے کہ اسلم بی۔ اے کر لے۔ اونہوں ۔ ‘‘
’’کیا جواب دیا اس نے؟‘‘ پھر وہ چمک کر بولے۔ 
’’میں نے کہا وہ ایسی نوکری دلوا سکتے ہیں اسے جو بی۔ اے کو بھی نصیب نہ ہو۔ میں نے کہا، بہن آج کل جماعتوں کو کون پوچھتا ہے۔ کئی بی۔ اے دھکے کھا رہے ہیں ۔ بیس روپے کی نوکری کو ترستے پھرتے ہیں ۔ اللہ نے چاہا تو ان کی سفارش پر سو روپے کی نوکری نہ ملی تو کہنا۔ تو نے سمجھا کیا ہے؟‘‘
’’ہاں بی۔ اے کو کون پوچھتا ہے آج کل۔ ‘‘
’’یہی تو میں نے کہا تھا۔ ‘‘
’’پھر کیا بولی؟‘‘
’’بولی۔ میں تو بھائی کے قدموں پر جاگروں گی۔ ایمان سے....‘‘
’’اوہ.... پاگل ہے پاگل۔ ‘‘
’’یہ تو خیر آپ ہی جانیں ، پر جس قدر اسے پیار ہے آپ سے، میں جانوں ، شاید ہی کسی بہن کو ہو گا۔ بس وہ آپ کو سمجھی نہیں ۔ ‘‘
’’ہاں بے وقوف جو ہوئی۔ ‘‘
’’اتنی عقل لائے بھی کہاں سے۔ وہ تو ظاہر کو دیکھ کر اصل سمجھ لیتی ہے۔ جبھی تو کہتی ہے کہ بھائی ملتے بھی ہیں تو کس رکھائی سے۔ اسے کیا معلوم کہ روکھی نگاہوں کے نیچے یہ دال کس قدر گرم....‘‘ اس نے ہاتھ سے ان کا سینہ تھپکا اور پھر اک دلنواز طریقے سے مسکرا دی۔ ‘‘
’’سعیدہ!‘‘ ان کی آنکھ چمکی۔ ’’ہی ہی ہی۔ تم بات تاڑ جاتے ہو.... حد ہو ادھر آنا ذرا۔ میری طرف دیکھو تو۔ ‘‘
’’چلو ہٹو!‘‘ وہ لاڈ سے بولی۔ ’’خواہ مخواہ میرا نام بدنام کر رہے ہیں ، وہ سمجھتی ہے میں ہی ورغلا رہی ہوں جیسے کوئی ورغلا سکتا ہے آپ کو۔ ‘‘
’’خدا کی قسم بڑی شریر ہو تم، اچھا میری بات تو سنو۔ ‘‘
’’میں جانتی ہوں ۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’سعیدہ!‘‘انہوں نے سنجیدگی سے للکارا۔ ایک ساعت کے لئے وہ سہم گئی۔ پھر منہ موڑ کر ان کے روبرو ہو بیٹھی۔ ’’بات تو سنو تم۔ ‘‘ وہ بولے۔ ’’میرا مطلب ہے تم ٹھیک کہتی ہو، لیکن اسلم اچھا لڑکا ثابت نہ ہوا تو....‘‘
’’نہ ہو تو۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’منگنی چھڑانے میں کیا دیر لگتی ہے۔ ‘‘
’’ہاں ہاں ، یہی ہمارا خیال ہے۔ ‘‘ اچھا تو تم کل اسے بلا کر بات کر لینا۔ ‘‘
’’واہ! میں کون ہوں ایسی بات کرنے والی۔ آپ کے ہوتے ہوئے میرا بات کرنا....‘‘
’’لیکن مجھے اتنی فرصت کہاں ہو گی؟‘‘
’’تو نہ سہی، اتنی جلدی بھی کیا ہے، پھر ہو جائے گی بات کبھی۔ ‘‘
’’سعیدہ! وہ بگڑے۔ ’’تم نہیں سمجھتی ان باتوں کو۔ ‘‘
’’مجھے کیا پتہ۔ ‘‘ وہ بولی.... ’’لیکن اگر آپ نے اسلم کو نوکر کروا دیا تو شاید وہ جلدی نکاح کے لئے زور دیں ۔ ‘‘
’’اس کی نوکری کے لئے تو میں آج ہی بہادر سے کہہ دوں گا۔ آخر لڑکی کو عمر بھر بٹھا نہیں رکھنا ہم نے اور بیاہ سے ہمیں عذر ہی کیا ہو سکتا ہے۔ ہم نے لڑکی سے نوکری تو کروانی نہیں ۔ بی۔ اے نہ ہوئی تو کیا ہوا۔ ‘‘
’’جیسے آپ کی مرضی۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’آپ کی خوشی میں ، میں بھلا کیا عذر کروں گی.... لیکن آپ اپنی زبان سے کہہ دیتے بہن کو تو بہتر ہوتا۔ ویسے میں بھلا انکار کر سکتی ہوں کیا؟‘‘
’’میں چاہتا ہوں کہ یہ بات تمہارے ذریعے ہو۔ سمجھی.... ان کو تمہارے متعلق غلط فہمی نہ رہے۔ ‘‘
’’میرا کیا ہے، لیکن....‘‘
’’ہم جو کہہ رہے ہیں ۔ ‘‘
’’بہت اچھا، مگر آپ....‘‘
’’بس سعیدہ تمہیں ہی کہنا ہو گا۔ سنا تم نے؟‘‘
’’میں کہتی ہوں کسی کی سنیں گے بھی آپ یا اپنی ہی کریں گے۔ ‘‘
’’بس ہماری مرضی۔ ‘‘
’’اچھا بابا تمہاری مرضی ہی سہی۔ ‘‘ وہ مسکرائی۔ دو بڑی بڑی بانہوں نے اسے گھیر لیا۔ ’’بڑی گستاخ ہوتی جاتی ہے۔ ‘‘ وہ مسکرائے۔ ’’ہونہہ گستاخ۔ ‘‘ وہ بڑبڑانے لگی۔ ’’اتنی فرماں بردار تو ہوں ۔ ‘‘ اس نے اپنا آپ حوالے کرتے ہوئے کہا۔ 
٭٭٭





دوراہا



’’یہ سراسر مینجمنٹ کا قصور ہے۔ ناحق پیسنجرز کو تکلیف ہوتی ہے۔ ‘‘ بیگم غصے میں چلائی۔ 
سٹیشن ماسٹر نے بغور اس کی طرف دیکھا اور دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ڈال کر بولا۔ ’’لیکن میڈم! کیا آپ وہی صاحبہ ہیں جو اس روز غلطی سے پریم نگر کیری اور ہو گئی تھیں ؟‘‘
’’نان سینس۔ ‘‘ وہ چلائی۔ ’’آپ کا مطلب ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں کیا؟‘‘ یہ صریحاً انسلٹنگ ہے۔ میں سپرنٹنڈنٹ کو لکھوں گی۔ ‘‘ اور وہ ہاتھ کا بٹوا جھلاتی ہوئی باہر نکل گئی۔ 
’’ڈیش اٹ۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر نے بجھے ہوئے سگار کے کش لینے شروع کر دیئے۔ 
’’جی ہاں جی ہاں ۔ ‘‘ نہا لچند نے اپنی عینک کو ناک کی چونچ پر رکھ کر اوپر سے دیکھا۔ 
’’کہہ ریا ہوں ....‘‘
’’لاحول ولا قوة۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر داڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا۔ 
’’جی ہاں ۔ ‘‘ نہا لچند بڑبڑایا۔ ’’کہہ ریا ہوں کوئی ثبوت نہیں کہ یہ وہی شریمتی تھیں ۔ 
’’اوہ مسٹر نہا لچند۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر بولا۔ 
’’جی ہاں ۔ وہ شریمتی تو.... تو یقینی جوان تھی اور یہ دیوی....‘‘
’’لیکن پریم نگر کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے میں نے سنا ہے۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر گھبرا گیا۔ ’’میں نے سنا ہے کوئی تعجب نہیں کہ یہ وہی بیگم ہو۔ بلکہ مجھے یقین ہے یہ وہی بیگم تھیں ۔ ‘‘
’’آب و ہوا۔ ‘‘ کیبن میں ہنسا۔ ’’ٹیشن ماسٹر آپ جانیں ہیں ۔ وہاں کی آب و ہوا عورتوں کو راس آئے ہے۔ جیادہ تر عورتیں لوٹیں ہی نہیں ہیں واں سے۔ ‘‘
’’زیٹ ازاٹ۔ ‘‘ گارڈ نے سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے کہا۔ ’’وہاں کا کلائی میٹ لیڈیز کو سوٹ کرتا ہے۔ جبھی وہاں کا آبادی نوے پرسنٹ زمانہ ہے۔ ‘‘
’’او ڈیش اٹ آل۔ ہمیں وہاں کا جغرافیہ نہیں لکھنا۔ ‘‘سٹیشن ماسٹر نے سگار پھینک کر دل ٹھنڈا کیا۔ 
’’جی ہاں ، جی ہاں ۔ وہاں کی آب و ہوا دل کے لئے اچھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ان کے منہ پر جھریاں کیوں پڑ جاتی ہیں ؟‘‘
’’مسٹر نہا لچند.... جینٹل مین بات یہ ہے کہ یہ ایک انپارٹنٹ جنکشن ہے۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر چلایا۔ 
’’جی ہاں ، جی ہاں ۔ ارجنٹ ٹرمینل۔ ‘‘ نہا لچند مسکرا کر بولا۔ 
’’ٹرمینل....؟ ہاں ہاں ٹرمینل بھی۔ ‘‘
’’دیٹ از دی ٹربل۔ ‘‘ گارڈ بولا۔ ’’بوتھ ٹرمینل اینڈ جنکشن۔ ‘‘
’’رائیٹ۔ ٹرمینل بھی ہے اور جنکشن بھی۔ ‘‘
’’جی ہاں ۔ یہی میں کہہ ریا ہوں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
’’اینی ہاؤ۔ ‘‘ گارڈ بڑبڑایا.... ’’یہ ہے ضرور۔ ‘‘
’’ہاؤ ایور۔ کرانتی پور سے بھی۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر نے بات جاری رکھنے کی کوشش کی۔ 
’’جی ہاں اور پریم نگر سے بھی۔ سبھی۔ ‘‘
’’بالکل۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر بڑبڑایا۔ خیر خیر۔ کرانتی سے گاڑی ای نمبر پر آتی ہے اور پھر وہ سائڈنگ میں لگا دی جاتی ہے۔ پھر وہ نمبر 3سے پریم نگر کو چلتی ہے۔ ‘‘ نہا لچند بڑبڑایا۔ 
جی ہاں ، جی ہاں ۔ نمبر 3 سے پریم نگر کو چلتی ہے۔ نہالچند بڑبڑایا۔ 
’’اونو۔ نمبر چار سے چلتا ہے شٹل تھری اپ۔ ‘‘ گارڈ چلایا۔ ’’جی ہاں ۔ یہی کہہ ریا تھا میں شٹل تھری اَپ۔ ‘‘ نہالچند نے معذرت بھری نگاہ سے دیکھا۔ 
’’لاحول ولا قوة۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر نے منہ بنا کر کہا۔ 
’’صرف گڑبڑیشن اور کیا۔ ٹیشن ماسٹر صاحب ایک بات ہے کہ کبھی وہ آتی ہے دو پر اور کبھی چار پر۔ ‘‘ کیبن مین نے وضاحت کی۔ 
’’نو نو۔ ‘‘ گارڈ اٹھ بیٹھا۔ ’’کون سچن یہ ہے کہ لوگ بھول کڑ پریم نگر ہی کیڑڈاؤر ہوتے ہیں ۔ عقیل پوڑ نہیں ۔ ‘‘
’’خدا آپ کا بھلا کرے۔ یہی تو ثبوت ہے کہ ناظم صاحب کا کوئی قصور نہیں ، لوگوں کا ہے.... لوگوں کا۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر مسکرا دیا۔ 
’’ویٹ از اٹ پریم نگر کا پہاڑی علاقہ گرین ہے۔ کھوبصوڑت اور عقیل پوڑ ریت ہی ریت۔ ‘‘
’’لیکن حضرات سوال یہ ہے کہ جو گاڑی کرانتی سے آتی ہے، وہ سیدھی عقیل پور کیوں نہ چلی جائے۔ رن تھرو.... اس طرح غلطی کا سوال ہی پیدا نہ ہو گا۔ ‘‘
’’جی ہاں ، جی ہاں ۔ ‘‘ نہالچند بڑبڑایا اور پھر چونک کر بولا۔ ’’لیکن میں کہہ ریا ہوں ....‘‘
’’سلی۔ ‘‘ لیڈی ٹکٹ چیکر اندر داخل ہوتے ہوئے بولی۔ ’’یہ بات نہیں چلے گی۔ مینجمنٹ کے لئے صرف ایک راستہ ہے۔ صرف ایک۔ ‘‘
’’لیکن.... لیکن راستے تو دو ہیں ۔ ‘‘ نہالچند بڑبڑایا۔ ’’دو راہا دو راستے جی۔ ‘‘
’’نان سنس۔ ‘‘ وہ بولی۔ ’’آئی مین کرانتی سے گاڑی پہلے یہاں آئے۔ پھر وہی گاڑی پریم نگر چلی جائے۔ پریم نگر سے لوپ لائن عقیل پور کو چلی جائے اور یہاں سے عقیل پور کی کارڈ لائن اکھیڑ دی جائے۔ اس طرح غلطی کا سوال ہی نہ رہے گا۔ ‘‘
’’لیکن محترمہ.... یوں ہو جائے تو پھر پریم نگر جائے گا کون؟‘‘ مسٹر امجد داخل ہوتے ہوئے بولے۔ 
’’واٹ....؟‘‘ سٹیشن ماسٹر چلایا۔ 
’’غلطی سے جانا اس نگر کو اور بھی دلچسپ بنا دیتا ہے سٹیشن ماسٹر صاحب۔ ‘‘ امجد مسکرایا۔ 
’’اونہوں ۔ ‘‘ اس بات سے ہمیں کوئی کنسرن نہیں مسٹر امجد۔ مطلب ہے کہ ہم مینجمنٹ چاہتا ہے، مینجمنٹ۔ 
’’لیکن صاحب سوال یہ ہے کہ جو مسافر نگر میں جانا نہیں چاہتے۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر بولا۔ 
’’جی ہاں ، یہی کہہ ریا تھا میں ۔ ‘‘ نہاں لچند نے اپنی عینک سنواری۔ 
’’وہ وہاں نہ اتریں ۔ سرکار کا راج ہے مہاراج۔ جبردستی نہیں ۔ ‘‘ کیبن مین بولا۔ 
’’لاحول ولا قوة۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر کا منہ لال ہو گیا۔ 
’’نہیں ہو سکتا رول نمبر92کے مطابق وہ بریک جرنی کر سکتے ہیں ۔ گڈ ایوننگ جینٹل مین میں ذرا چائے پی آؤں ۔ ‘‘ لیڈی ٹکٹ چیکر مسٹر امجد کو ساتھ لے کر باہر نکل گئی۔ 
’’استغفراللہ۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر نے داڑھی جھاڑ کر کہا۔ ’’کیا حماقت ہے۔ ‘‘
’’جی ہاں !‘‘ نہا لچند بڑبڑایا۔ ’’رول نمبر -29اون۔ ‘‘
’’حضرت آپ کو لیڈی ٹکٹ چیکر کو متنبہ کرنا چاہئے۔ ریلوے بینڈ ہو کر وہ مسافروں کو گمراہ کرتی ہے۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر نے کہا۔ 
’’گمراہ کرتی ہے؟‘‘ سٹیشن ماسٹر نے سر کھجلا کر دہرایا۔ 
’’جی ہاں جیسے آپ کو کمپلین کرنے والی بیگم نے کہا تھا۔ ایل۔ ٹی۔ سی نے اسے غلط اطلاع دے کر بہکایا ورنہ وہ کبھی پریم نگر کیرڈاؤر نہ ہوتی۔ ‘‘
’’لیکن.... اس سے کیا ہو گا؟‘‘ نہالچند نے عینک سنوار کر کہا۔ 
’’ہمارے پاس ایسے بیسیوں ثبوت ہیں ۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر با معنی انداز سے مسکرانے لگا۔ 
’’اس بات پر ایل۔ ٹی۔ سی کو انعام ملنا چاہئے اور کیا....؟‘‘ کیبن مین بولا۔ 
’’جی ہاں ۔ ‘‘ نہالچند بولا۔ ’’لیکن انعام....؟‘‘
’’لاحول ولا قوة۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر نے شانے ہلاتے ہوئے کہا۔ 
’’اس لئے کہ وہ ریلوے کی انکم جیادہ کرتی ہے۔ ‘‘ کیبن مین چلایا۔ 
’’انکم کا کیا سوال ہے یہاں ؟‘‘
’’آئی۔ سی۔ ‘‘ گارڈ بولا۔ ’’ہی از رائٹ۔ ‘‘ فرض کرو ایک پیسنجر غلطی سے پریم نگر جاتا ہے۔ وہا ں اسے چاڑج کڑے گا۔ تین ڑوپیہ پھڑ وہ واپس دوڑاہا کو آئے گا۔ ڈیڑھ روپیہ۔ اب اسے پھڑ نیا ٹکٹ خریدنا پڑے گا۔ ‘‘ دو ڑاہا ٹو عقیل پوڑ، پڑانا ٹکٹ نہیں چلے گا۔ زیٹ ازکل۔ چھ روپیہ اکس فیڑ ڈے گا۔ پیوڑانکم۔ ‘‘
’’انکم نہیں ، یہ دھوکا ہے۔ مسافروں کے ساتھ دھوکا۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر چلایا۔ 
’’جی ہاں ، روپیہ روپیہ ہے مہاراج۔ دھن ہے مہاراج دھن۔ ‘‘ نہالچند متاثر ہو کر بڑبڑانے لگا۔ 
’’لیکن پبلک کو لوٹنا....‘‘
’’پرسوال اے ہے کہ ہم پبلک بینڈ ہیں یا ریلوے۔ ‘‘
’’دیٹ از اٹ۔ دیٹ از اٹ۔ ‘‘ گارڈ چلایا۔ ’’ریلوے نے صاف بول دیا ہے۔ ٹریول لائٹ۔ ‘‘
’’نان سینس۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر غصے سے چلایا۔ ’’یہاں ہلکا بھاری کا سوال نہیں ، انکم اور خرچ کا سوال ہے۔ ہمارا ریپوٹیشن خراب ہو رہا ہے۔ چاہے پیسنجر غلطی سے پریم نگر کیرڈاور ہو جائیں یا عقیل پور۔ ہمارا کنسرن نہیں ۔ لیکن ہمارا ریپوٹیشن خراب نہ ہو۔ اتنے بڑے جنکشن کا ریپوٹیشن خراب نہیں ہونا چاہئے۔ آج کل سب سے بڑی کوالیفیکیشن گڈ ریپوٹیشن ہے۔ 
’’یہی میں کہہ رہا تھا حضرت لیڈی ٹکٹ چیکر کی ریپوٹیشن اچھی نہیں ۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر نے جھرجھری لی۔ 
’’اوڈیم اٹ.... جینٹل مین ہمیں روز شکایتیں موصول ہوتی ہیں ۔ اس کو بند ہونا چاہئے، جو پیسنجر اپنی غلطی سے پریم نگر کیرڈاور ہو جاتا ہے، وہ واپس آ کر ہمارا قصور بتاتا ہے۔ ہمیں ڈانٹتا ہے۔ دس از بیڈ۔ ‘‘
’’جی ہاں ، ویری ویری۔ ‘‘
’’یہ تو قدرتی بات ہے حضرت۔ لوگ اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں ۔ اس میں ناظم صاحب کا کیا قصور ہے؟‘‘
’’لیکن سپرنٹنڈنٹ خود موقع پر کیوں نہیں آتا؟ ہم نے بار بار لکھا ہے۔ کوئی جواب نہیں ، کوئی جواب نہیں ۔ ‘‘
’’ٹرررن.... ٹرررن۔ ‘‘ گھنٹی بجی۔ ’’اوہ!‘‘ سٹیشن ماسٹر نے چونک کر گھڑی دیکھی۔ ’’یہ کس گاڑی کی گھنٹی ہے؟‘‘
’’جی ہاں ! یہاں سوچ رہا ہوں ۔ ‘‘ نہالچند بڑبڑایا۔ 
’’ول۔ ‘‘ گارڈ اٹھ بیٹھا۔ ’’یہ ٹیلی فون کال ہے۔ ‘‘
’’او ڈیش اٹ۔ ‘‘ پھر کوئی کمپلینٹ۔ ہمارے کان پک گئے۔ ’’سٹیشن ماسٹر نے ٹیلی فون اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’ہیلو.... سٹیشن ماسٹر دوراہا۔ کون نہیں پہنچے۔ عقیل پور.... آپ کے ہسبنڈ۔ ہاں شاید غلطی سے کیرڈاور ہو گئے ہوں ۔ نہیں پریم نگر سے ان کا کوئی تار نہیں آیا۔ کیا نام بتایا آپ نے؟ مسٹر رے؟ نہیں کوئی تار نہیں ۔ ‘‘ انہوں نے فون رکھ دیا۔ 
’’جی ہاں !‘‘ نہالچند نے ایک کاغذ پڑھتے ہوئے کہا۔ ’’بالکل ٹھیک ہے۔ مسٹر رے کا تار یہ رہا۔ پریم نگر سے آیا تھا۔ ‘‘
’’اوہ!‘‘ سٹیشن ماسٹر گنگنانے لگا۔ ’’اچھا تو تم ان مسافروں کی لسٹ رکھتے ہو جو غلطی سے پریم نگر کیرڈاور ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘
’’لسٹ....؟‘‘ نہالچند نے سر کھجلایا۔ ’’لسٹ....لیکن....‘‘
’’امپاسیبل۔ ‘‘ گارڈ نے کش لگا کر کہا۔ ’’اتنی لمبی لسٹ۔ ‘‘
’’جی ہاں ! یہی کہہ ریا تھا میں ۔ اس کے لئے ایک الگ دفتر ہونا چاہئے۔ ‘‘
’’دیٹ از اٹ....‘‘
’’سب گڑبڑیشن ہے۔ ‘‘ کیبن مین چلایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ 
’’لاحول ولا قوة۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر بڑبڑایا اور اٹھ کر چل پڑا۔ 
’’ڈیش اٹ آل۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر بولا۔ 
عین اس وقت پروفیسر نجمی داخل ہوئے۔ ’’اے صاحب! یعنی یعنی مسجرامٹڈ کہاں ملیں گے؟‘‘
’’مسجرامٹڈ؟‘‘ نہالچند نے سر کھجاتے ہوئے غور سے پروفیسر کی طرف دیکھا۔ 
’’سلی۔ ‘‘ پروفیسر چلائے اور باہر جاتے جاتے رک گئے۔ ’’آپ سٹیشن ماسٹر ہی؟ میرا مطلب ہے پریم نگر سے گاڑی کب آئے گی۔ یعنی مسٹر ایس۔ ایم مطلب یہ ہے کہ فرض کرو میں غلطی سے کل عقیل پور کی بجائے پریم نگر چلا گیا تھا....‘‘
’’اوہ....‘‘ نہالچند نے سر کھجایا۔ ’’جی ہاں ، جی ہاں ۔ آپ چلے گئے تھے۔ ‘‘
پروفیسر نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تو مطلب ہے آج میں کون سی گاڑی سے واپس آ سکوں گا؟‘‘
گارڈ مسکرایا۔ ’’لیکن شاید آپ ریٹرن کڑنا پسند نہ کڑیں ۔ ‘‘
’’میں .... کیوں نہ کروں ؟‘‘ پروفیسر چڑ گیا۔ 
’’جی ہاں ۔ ضرور آئیں گے آپ۔ ضرور.... آپ مرد جو ہوئے۔ ‘‘
’’مرد....!‘‘ پروفیسر چلایا۔ ’’اور فرض کرو میں عورت ہوں ۔ ‘‘
’’گڈنس۔ ‘‘ گارڈ بولا۔ ’’پھر تو مشکل ہے۔ ‘‘
’’نان سنس۔ وہ ضرور آئے گی۔ اسے آنا ہی پڑے گا۔ ‘‘ پروفیسر غصے میں چیخا۔ 
’’سوال یہ ہے کہ آپ وہ ہیں یا وہ آپ ہیں ؟‘‘ نہالچند نے سر کھجلا کر اپنے آپ سے پوچھا۔ 
’’پریم نگر کے معاملہ میں جندڑ جانے کے بغیر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ‘‘
’’جندڑ....‘‘ پروفیسر نے دہرایا۔ ’’نان سینس۔ ‘‘
’’اوہ.... یعنی نان سنٹیکل جندڑ۔ ‘‘ نہالچند بڑبڑایا۔ ’’پھر تو واقعی کچھ نہیں کہا جا سکتا آپ کے بارے میں ۔ ‘‘
’’مسٹر نہالچند۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر نے گھور کر نہالچند کو چپ کرا دیا اور پھر پروفیسر سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ ’’جینٹل مین.... آپ آدھ گھنٹے میں یہاں پہنچ جائیں گے۔ بشرطیکہ آپ رات وہاں بسر کرنا نہ چاہیں ۔ ‘‘
’’میں پریم نگر میں ....؟‘‘ پروفیسر غصے میں بڑبڑایا۔ ’’لاحول ولاقوة۔ ‘‘
’’آخاہ پروفیسر نجمی۔ ‘‘ مسٹرامجد مسکراتا ہوا داخل ہوا اور ان کا تعارف کروانے لگا۔ ’’آپ ہمارے ایس۔ ایم ہیں ۔ یہ مسٹر ڈیوڈ گارڈ اور یہ ہیں نہالچند اور یہ صاحبان میرے عزیز دوست پروفیسر نجمی عقیل پور کالج میں نفسیات کے پروفیسر۔ ‘‘
’’گلیڈ ٹومیٹ یو پروفیسر۔ لیکن پروفیسر یہاں اکثر ایسے کیسز ہو جاتے ہیں ۔ پیسنجر غلطی سے پریم نگر....‘‘
’’دیٹ از اٹ۔ ‘‘ گارڈ ہنسا۔ ’’چیئراپ جینٹل مین۔ ‘‘ اور وہ باہر چلا گیا۔ 
’’غلطی!‘‘ پروفیسر چلایا۔ ’’غلطی بہانہ ہے بہانہ۔ ایسی ویسی خواہشات پر ڈھکنا اور جو گاڑی پر اتنا بڑا بورڈ ٹنگا ہوتا ہے.... اس کا فائدہ؟ ہوں ....‘‘
’’جی ہاں ، بورڈ باقاعدہ لگا دیا جاتا ہے، جی ہاں ۔ ‘‘ نہالچند چلانے لگا۔ 
’’ہم ان باریکیوں کو نہیں سمجھتے۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر بولا اور پھر اچھا جینٹل مین خدا حافظ کہہ کر باہر نکل گیا۔ 
’’باریکیاں !‘‘ پروفیسر نے امجد کو گھور کر کہا۔ ’’میں کہتا ہوں ، اس سے موٹی بات اور کیا ہو گی۔ جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیں اور عقیل پور کی بجائے پریم نگر پہنچ کر وہاں سے تار دے دیا۔ غلطی سے یہاں آ گئی ہوں ۔ اونہہ.... میں کیا سمجھتا نہیں۔‘‘
’’تار....‘‘ نہالچند بڑبڑایا اور سٹیشن ماسٹر کے پیچھے پیچھے باہر نکل گیا۔ 
’’میں نے تو تار نہیں دیا تھا۔ ‘‘ امجد بولا۔ ’’پچھلی اتوار کو تمہارے پاس آ رہا تھا میں لیکن....‘‘
’’جی ہاں !‘‘ پروفیسر نے طنزاً کہا۔ ’’غلطی سے پریم نگر چلے گئے۔ ‘‘
’’پھر میں مسٹر امین کے یہاں ٹھہر گیا۔ ‘‘ کیا امجد اپنے ہی دھیان میں کہے گیا۔ 
’’مسٹر امین....‘‘پروفیسر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ 
تم جانتے ہو اسے۔ وہی گورا چٹا نوجوان۔ ‘‘
’’نہیں نہیں ، مس امین کے بارے میں ایسا نہ کہو۔ میرے دل میں اس کی بے حد عزت ہے۔ امجد نے متاثر ہو کر کہا۔ ‘‘
’’مس امین؟ مس امین کس نے کہا.... ہائیں ۔ ‘‘ دفعتاً اسے بات سمجھ میں آ گئی۔ ’’اوہ! یہ بات ہے۔ ‘‘ پروفیسر مسکرانے لگا۔ ’’عزت۔ ‘‘ پروفیسر غصے میں بولا۔ پہلے جذبات کی ہنڈیا پر عزت کا ڈھکنا رکھ دیا تاکہ اندر کھچڑی پکتی رہے اور اوپر عزت ہی عزت نظر آئے۔ اونہوں .... عزت۔ نان سینس.... وہ بھی یونہی کہا کرتی تھی....‘‘ پروفیسر نقل اتارتے ہوئے بولا۔ ’’میرے دل میں مسٹر امین کی بڑی عزت ہے اور اب جا کر وہاں سے تار دے دیا.... غلطی.... نان سینس۔ ‘‘
’’کس نے تار دے دیا۔ کس کی بات کر رہے ہو؟‘‘ امجد جھلا اٹھا۔ 
’’فیروزہ.... اپنی بیوی کی اور کس کی۔ ‘‘ پروفیسر گھورنے لگا۔ 
امجد نے اطمینان کا سانس لیا۔ ’’میں سمجھا نہ جانے کیا ہو گیا ہے۔ ‘‘
’’ایک دم احمق....‘‘ پروفیسر چلایا۔ ’’اگر ایک جینٹل مین کی بیوی جو میٹریکولیٹ ہو اور جس کی آنکھوں پر اتنے بڑے بڑے شیشوں کی رولڈ گولڈ عینک ہو، وہ گاڑی پر لکھے ہوئے دو راہا ٹو پریم نگر کو عقیل پور پڑھ کر اس نگر میں جا پہنچے جہاں تمہارا گورا چٹا دوست رہتا ہے۔ جس کے لئے بیگم کے دل میں بے حد عزت ہے تو تمہارے خیال میں کچھ ہوا ہی نہیں ۔ ایڈیٹ.... تم سمجھتے ہو، یہ دنیا سیدھی سادی چیز ہے۔ سرخ جھنڈی دکھا دی تو گاڑی ٹھہر گئی۔ سبز.... چل پڑی، یہ گاڑی نہیں بیوی کا معاملہ ہے۔ بیوی کا.... یہ گاڑی کیا جانتی ہے جھنڈیوں کو، کیا سمجھے؟ ہیں ....‘‘
’’لاحول ولاقوة۔ یعنی اب تم مجھے گھور کر دل ٹھنڈا کر رہے ہو۔ لیکن اس سے کیا ہو گا۔ بیگم کا وہاں جانا امر واقعہ ہو چکا۔ بلکہ اس کا واپس آ جانا تو بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں گئی تھی۔ ‘‘
’’یعنی اسے آنے سے روک دوں ۔ نان سینس۔ مسجرا مٹڈ تم قطعی طور پر شادی نہ کرنا۔ تم عورت کو نہیں سمجھتے۔ ‘‘
’’میں کیا اسے سمجھنے کے لئے بیاہوں گا۔ میں تو اسی سے جرابیں دھلواؤں گا۔ کھانا پکواؤں گا اور....‘‘
’’اور اگر وہ اس نگر میں چلی گئی، جہاں تمہارا گورا چٹا دوست رہتا ہے؟‘‘
’’تو سمجھوں گا کہ وہ لوٹ آنے کو گئی ہے۔ اوہ! پروفیسر تم پریشان ہو کر اس نگر کو اور بھی اہمیت دے رہے ہو۔ ‘‘
’’بالکل ریل کا اثر، حرکت۔ موومنٹ۔ بوہیمین بنا دیتی ہے۔ مثلاً ٹانگہ والا۔ کوئی ٹانگہ والا دیکھ لو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پکنک پر آیا ہو۔ ریل میں تو مسافر کی ذہنیت بھی بدل جاتی ہے۔ غریب آدمی بھی آنے کی گنڈیریاں چوستا ہے اور چار بیویوں والے لیڈیز کمپارٹمنٹ کے سامنے کھڑے ہو کر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہیں ۔ سلی.... اور.... اور ایک میٹریکولیٹ پریم نگر....‘‘
’’تم تو وہمی ہو پروفیسر۔ یہی بات ہے تو بیگم کو پردہ میں ڈال دو۔ ‘‘
’’پردہ میں ؟ اوہیونز۔ جوانی میں وہ ننگے منہ پھرتی رہی اور اب برقعہ میں چھپا کر از سرنو خوب صورت بنا دوں ....؟‘‘ تم برقعہ کو پردہ سمجھتے ہو کیا؟‘‘
’’پردہ ہی تو ہے اور کیا؟‘‘ امجد چڑ گیا۔ 
’’بس ریل ہی ہانکنی آتی ہے۔ یہ رنگ دار برقعے، پردہ ہیں کیا نان سینس۔ جیسے رنگ دار بوتلیں پھر رہی ہوں ۔ ہر کوئی دور سے بتا سکتا ہے یہاں ابھار ہے، یہاں ڈھلان ہے۔ ہونہہ.... پردہ۔ مسجرامٹڈ بس شادی نہ کرنا۔ بڑے سکھی رہو گے۔ ‘‘
’’لیکن نجمی تمہیں کیوں نہ سوجھی یہ بات، آج سے پانچ سال پہلے۔ ‘‘
’’اپنی کمزوریاں ہر کسی کو پیاری ہوتی ہیں نا۔ ‘‘
’’فیروزہ میری کمزوری ہے۔ ‘‘
’’پانچ سال پہلے تو وہ تمہارا پریم نگر تھی اور اب جب سے وہ پریم نگر گئی ہے اور بھی پیاری ہو گئی ہے۔ اس کمرے میں یوں سرگرداں پھر رہے ہو جیسے بہ صحرا ہو۔ ‘‘
’’کیا کہا؟‘‘ پروفیسر رک گیا اور دھم سے آرام کرسی میں بیٹھ گیا۔ 
’’نان سینس، یعنی تمہارے نزدیک ٹہلنا محبت کی دلیل ہے.... ڈیش اٹ....‘‘ وہ جھنجھلایا۔ ’’کیا بے معنی کرسی ہے۔ ‘‘
’’آرام کرسی جو ہوئی۔ ‘‘ امجد مسکرایا۔ 
’’ہائیں ؟‘‘ پروفیسر جھلا کر بولا۔ 
’’میرا مطلب ہے کہ کرسی صرف اس لئے با معنی ہے جو آرام کرنا چاہتا ہو۔ ‘‘
ٹرررن.... ٹرررن۔ گھنٹی بجی، پروفیسر گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ ’’یہ کیسی گھنٹی ہے؟‘‘
’’گھبرائیے نہیں ۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر داخل ہوتے ہوئے بولا اور پھر گھڑی دیکھ کر کہنے لگا۔ ’’دو منٹ میں آپ یہاں پہنچ جائیں گے۔ ‘‘
’’اوہ!‘‘ پروفیسر چونکا۔ ’’تو میں ریسیور کر آؤں ۔ امجد تم چائے منگوا لو۔ اتنی دور سے آ رہی ہے، اتنی دور سے۔ ‘‘
’’جی ہاں .... ہیں ؟‘‘ نہالچند رک گیا۔ ’’یعنی اپنے آپ کو ریسیو کرنے جا رہے ہیں ۔ ‘‘
’’نان سینس۔ ‘‘ وہ گھورنے لگا۔ ’’بیگم کو.... بیگم کو۔ ‘‘
’’اوہ!‘‘ نہا لچند نے آہ بھری۔ 
’’سوری کیٹ از آؤٹ آف دی بیگ۔ ‘‘ گارڈ دروازے سے چلایا۔ ’’صاحب وفاداڑ بیوی سے عمڑ بشر کڑنا مشکل ہو جاٹا ہے۔ ‘‘
’’کیوں ....؟‘‘ امجد نے پوچھا۔ 
’’وہ خود بھی بیٹھ رہتا ہے۔ کھاؤنڈ کو بھی بٹھا رکھٹا ہے۔ کبھی اس کی ویٹنگ ڑوم میں انتظار کڑتا تازگی دیتا ہے تازگی۔ ‘‘ وہ ہنسا۔ 
’’آپ کا مطلب ہے پروفیسر یہاں بیٹھے تازگی پیدا کر رہے تھے۔ ان کی تازگی نے تو گھنٹہ بھر سے مجھے باسی بنا رکھا ہے۔ ‘‘ امجد نے شانے ہلائے۔ 
’’تازگی اور جوش ایک ہی بات ہے۔ پانی کھڑا رہے تو گندا ہو جاتا ہے۔ ‘‘
بوائے کو چائے اور پیسٹری لاتے دیکھ کر سٹیشن ماسٹر بولا۔ 
’’اور یہ دعوت....؟ یہ کیا پریم نگر سے آنے کی رشوت ہے۔ ‘‘
’’پروفیسر صاحب نے آرڈر دیا ہے جناب۔ ‘‘ کینٹین کا لڑکا بولا۔ 
’’پرہیپس وہاں جانے کا ایوارڈ۔ ‘‘ گارڈ ہنسا۔ 
’’جی ہاں !‘‘ نہا لچند چلایا۔ ’’نہ جاتی تو آتی کیسے؟‘‘
’’اف، پروفیسر نے کیا پاکھنڈ مچا رکھا ہے۔ ایک معمولی شہر کو خواہ مخواہ اہم بنا رکھا ہے۔ میز پر رکھ دو بوائے۔ ‘‘
’’گھبراگئے مسٹر امجد۔ ‘‘ اچھا تو آؤ چلیں ۔ وہ ابھی یہاں آئیں گے بے چارے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بہت دیر کے بعد لڑائی جھگڑے کی دلچسپی نصیب ہوئی ہے۔ ‘‘
’’ویٹ از اٹ۔ ‘‘ گارڈ ہنسا۔ ’’میں پرپوز  کڑتا ہوں کہ ایوری ناؤ اینڈون، ہر وائف کو نگر کا ایک ٹرپ ضڑوڑ لگانا چاہئے۔ آئی مین، بائی میسٹیک کیرڈاور ہو جانا چاہئے۔ لٹ اس موو آن۔ ‘‘
ان کے جانے کے بعد جلد ہی پروفیسر اور فیروزہ داخل ہوئے۔ 
’’اوہ!‘‘ پروفیسر چلایا۔ ’’سب چلے گئے.... مگر یہ چائے۔ ‘‘
’’میرا تو پیاس کے مارے دم نکل رہا ہے۔ ‘‘ فیروزہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ 
’’ہوں .... کسی ہوٹل میں ٹھہری تھی کیا؟‘‘ پروفیسر نے پیالہ بناتے ہوئے پوچھا۔ 
’’آپ جانتے ہیں مجھے ہوٹل بازی سے نفرت ہے۔ مسٹر امین کی بیوی....‘‘
’’اوہ! تو مسٹر امین بازی کرتی آئی ہیں آپ؟‘‘
’’میں تو پہلے ہی کوفت سے چور ہوں لیکن آپ....‘‘
’’کوفت؟ تم تو بنگلہ میں آرام کرتی رہیں ۔ مصیبت تو میرے لئے تھی جو دوراہے کا پلیٹ فارم ناپتا رہا۔ ‘‘
’’بس جی یہ آپ کی کتابی نفسیات نہیں چلے گی۔ ‘‘، ’’بس کتاب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور نام کو آپ ہیں .... فیروزہ میٹریکولیٹ۔ ‘‘
’’مجھے میٹریکولیٹ نہ کہا کریں آپ۔ ‘‘ وہ غصے میں چلائی۔ 
’’تو اور کیا گریجویٹ کہوں ؟‘‘
’’میں آپ کا لکچر روم نہیں ہوں ۔ خواہ مخواہ گھوڑے کے آگے گاڑی جوتا....‘‘
’’آج کل کی گاڑیاں تو آپ چلنے کے لئے بے تاب ہیں ۔ دیکھ لیجئے گاڑی تو پریم نگر جا پہنچی اور بے چارہ گھوڑا دو راہا ناپتا رہا۔ ‘‘
’’تو یہ قصور کس کا ہے؟‘‘ وہ مسکرائی۔ 
’’گھوڑے کا اور کس کا۔ دوسرا پیالہ بناؤں ؟‘‘
’’بس جی آپ کی قلعی کھل چکی ہے اب....‘‘ اس نے ترچھی نظر سے گھور کر لاڈ سے کہا۔ 
’’کیا.... میری قلعی؟‘‘
’’جی ہاں ! بہت بنا کرتے تھے، میں .... میں مس امین کو نہیں جانتا۔ ‘‘ وہ نقل اتارتے ہوئے بولی۔ 
’’نہیں نہیں ، میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں ۔ ‘‘ پروفیسر پریشانی سے بولا۔ 
’’جی ہاں اندھیرے میں ملی ہو گی نا۔ ‘‘ وہ اور بھی سنجیدہ ہو گئی۔ 
’’لاحول ولا قوة۔ آخر بات کیا ہے؟‘‘
’’بات کیا ہونی تھی۔ بس وہی ایک بات، بات بات پر پوچھتی تھی۔ مسٹر نجمی کو کیوں نہ لائیں آپ۔ مسٹر نجمی کو ضرور لائیے گا آپ۔ میں ان کے افسانوں کو بہت اڈمائیر کرتی ہوں ۔ ہونہہ.... بڑی ایڈمائیرر۔ ‘‘
’’لاحول ولا قوة۔ ‘‘ پروفیسر نے مسکراہٹ بھینچ کر کہا۔ 
’’اونہوں .... یہ شیطان لاحول پڑھنے سے نہ جائے گا۔ ‘‘ وہ بولی۔ 
’’لیکن فیروزہ....‘‘
’’اور پھر.... آپ بڑی خوش قسمت ہیں مسز نجمی۔ آپ ایسے قابل رائٹر کی بیوی ہیں .... سر کھا لیا میرا چڑیل نے۔ ‘‘
’’اوہ!‘‘ پروفیسر مسکرائے۔ ‘‘ عجیب معاملہ ہے۔ ‘‘
کمرے میں چار آدمی آ گئے اور وہ دونوں چپ ہو گئے۔ 
’’کیا مصیبت ہے۔ ‘‘ پگڑی والے پٹھان نے دستانے اتارتے ہوئے کہا۔ ’’پریم نگر، خاک نگر، وہاں تو دھول اڑتی ہے دھول۔ ‘‘
’’آپ پریم نگر سے آئے ہیں ۔ ‘‘ نوجوان نے پوچھا۔ 
’’جانا تو نہیں تھا لیکن جا پہنچا۔ پھر وہیں ٹائیں ٹائیں فش۔ سنا تھا بڑا اچھا شہر ہے لیکن خاک۔ بس عورتیں ہی عورتیں ہیں ۔ ‘‘
’’اچھا جی۔ ‘‘ نوجوان نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ ’’عورتیں !‘‘
’’اور مرد.... اکا دکا مرد۔ بوکھلایا ہوا۔ جیسے شیش محل میں جاٹ۔ ‘‘
’’اچھا جی!‘‘ نوجوان نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ ’’سب عورتیں ۔ ‘‘
تیسری میز پر بیٹھا ہوا سردار بولا۔ ’’بس جی پریم نگر کو جانے والی گاڑی کی صرف ایک پہچان ہے، صرف ایک۔ ‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ بنگالی بابو نے بیڑی کو سلگاتے ہوئے شوق سے پوچھا۔ 
’’آپ پریم نگر نہیں جانا چاہتے نا؟‘‘
’’اونہوں ۔ ‘‘ بنگالی نے سر ہلایا۔ ’’بالکل نہیں ۔ آپ اطمینان رکھیں ، بالکل نہیں ۔ ‘‘
’’تو صاحب اس گاڑی پر نہ بیٹھیں جس کے ساتھ دو انجن لگے ہوں ۔ ایک آگے، ایک پیچھے۔ ‘‘
’’دو انجن، ایک آگے ایک پیچھے۔ ‘‘ بنگالی نے یوں دہرایا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہو۔ 
’’پہاڑی علاقہ ہے نا۔ ایک انجن سے کام نہیں چلتا۔ ‘‘سردار بولا۔ 
’’پہاڑی علاقہ۔ ‘‘ بنگالی بابو نے دہرایا۔ ’’ہلز....‘‘
’’کان کھول کر سن لو بیگم۔ ‘‘ پروفیسر نے جھک کر فیروزہ کے کان میں کہا۔ ’’دو انجن، آخر تمہیں کتنی بار کرانتی سے عقیل پور آنا ہو گا۔ ‘‘
ٹرررن....ٹرررن۔ گھنٹی کی آواز آئی اور وہ سب اٹھ بیٹھے اور جلدی جلدی باہر نکل گئے۔ 
’’بس ایک پیالہ اور.... تھینک یو۔ ‘‘ فیروزہ بولی۔ 
’’لیکن گاڑی۔ ‘‘ پروفیسر بڑبڑایا۔ 
’’ابھی بہت وقت ہے۔ پانچ منٹ رکے گی یہاں ۔ ‘‘ وہ کراہی۔ 
’’سٹیشن ماسٹر صاحب.... سٹیشن ماسٹر صاحب۔ ‘‘ نہالچند گھبرایا ہوا داخل ہوا۔ ’’وہ یہاں نہیں ہیں ۔ ‘‘
’’وٹ از دی ٹربل؟‘‘ گارڈ دروازے میں کھڑا ہو کر غور سے نہالچند کو دیکھنے لگا۔ 
’’سپرنٹنڈنٹ.... سپرنٹنڈنٹ۔ ‘‘ نہا لچند چلایا۔ ’’جی ہاں .... وہ آئے ہیں ۔ ‘‘
’’کیا کہا؟‘‘ سٹیشن ماسٹر نے داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ 
’’جی ہاں ! وہ آئے ہیں ۔ ڈاؤن میں ....سپرنٹنڈنٹ۔ ‘‘
’’گڈ لارڈ۔ ‘‘
’’میں ان سے ملوں گا۔ ‘‘ پروفیسر اٹھ بیٹھا۔ ’’میں انہیں یقین دلاؤں گا کہ انتظام میں خرابی ہے اور پیسنجر کو خواہ مخواہ کوفت ہوتی ہے۔ ‘‘
’’اونہوں .... وہ نہ مل سکیں گے۔ اونہوں .... بہت گڑبڑیشن ہے۔ ‘‘ کیبن مین نے داخل ہو کر کہا۔ ’’سیلون کا دروازہ بند ہے۔ ‘‘
’’نان سینس۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر چلایا۔ 
’’جی ہاں ، جی ہاں !‘‘ نہا لچند بڑبڑایا۔ ’’وہی نان سینس۔ ‘‘
’’یہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر بھاگا بھاگا آیا۔ ’’ضرور کوئی غلط فہمی ہے۔ ‘‘
’’ڈیش اٹ.... بات کیا ہے؟‘‘ سٹیشن ماسٹر غصے میں بولا۔ 
’’حضرت آرڈر یہ ہے کہ ان کی سیلون عقیل پور کی جانے والی گاڑی سے لگا دی جائے۔ ‘‘
’’جی ہاں !‘‘ نہالچند بولا۔ ’’وہ عقیل پور کا دورہ کر کے یہاں آئیں گے۔ ‘‘
’’آپ نے سنا۔ ‘‘ امجد نے داخل ہو کر کہا۔ ’’لیڈی ٹکٹ چیکر کو پریم نگر کا سٹیشن ماسٹر بنا دیا گیا ہے۔ ‘‘
’’نان سینس۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر چلایا۔ 
’’ابھی سپرنٹنڈنٹ صاحب کا حکم ملا ہے ابھی۔ ایل۔ ٹی سی ابھی بوگی میں ہے۔ ‘‘ ٹکٹ کلکٹر چلایا۔ 
’’کون سی بوگی میں ؟‘‘ سٹیشن ماسٹر نے پوچھا۔ 
’’جی ہاں !‘‘ نہالچند بولا۔ ’’سپرنٹنڈنٹ کی بوگی میں ۔ ‘‘
’’ہیونز۔ ‘‘ پروفیسر چلایا۔ ’’بیگم تم چلو، میں ابھی آیا، مسٹر امجد فیروزہ کو لے چلئے۔ ‘‘
’’شوق سے۔ ‘‘ امجد فیروزہ کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے بولا۔ ’’جلدی آنا پروفیسر، گاڑی چلنے والی ہے۔ ‘‘
’’دیٹ از آل ویری سٹرینج۔ ‘‘ گارڈ ہنسا۔ 
’’ول ول۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر بولا۔ ’’مسٹر کیبن مین ان کی بوگی عقیل پور سے لگانے کا انتظام کرو۔ اچھا تو گڈ بائی پروفیسر۔ ‘‘ وہ پروفیسر سے مخاطب ہوا۔ 
’’رائٹ!‘‘ پروفیسر نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’سو لانگ جینٹل مین.... سولانگ۔ ‘‘ اور وہ دو انجن دو انجن بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا۔ 
’’پروفیسر کہاں ہے سٹیشن ماسٹر صاحب؟‘‘ امجد دوڑتا ہوا آیا۔ ’’وہاں گاڑی چلنے والی ہے اور ان کا پتہ نہیں ۔ ‘‘
’’پروفیسر تو چلا گیا۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر نے جواب دیا۔ 
’’جی ہاں ! میں نے خود یکھا ہے.... خود۔ ‘‘
’’کہاں ؟‘‘ امجد چلایا۔ ’’لو عقیل پور کی گاڑی تو چل بھی دی۔ ‘‘ امجد نے کوک سن کر کہا۔ 
’’پریم نگر کی گاڑی میں .... جی ہاں ۔ دو انجن.... دو انجن کہتے ہوئے وہ اندر جا بیٹھے تھے۔ ‘‘
’’لاحول ولا قوة کیا مصیبت ہے۔ اب بیگم عقیل پور جا پہنچے گی اور میاں پریم نگر۔ ‘‘ امجد ہنسنے لگا۔ 
’’ڈیش اٹ آل۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر بڑبڑایا۔ 
’’بالکل گڑبڑیشن ہے ٹیشن ماسٹر صاحب....‘‘ کیبن مین بھاگتا ہوا آیا۔ ’’وہ بوگی....‘‘
’’خدا خیر کسی نے غلط کانٹا موڑ دیا اور....اور....‘‘
’’وہ بوگی پریم نگر والی تھری اپ سے لگ گئی۔ ‘‘
’’گڈ لارڈ۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر چلایا۔ ’’اب کیا ہو گا؟‘‘
’’اب....جی۔ ‘‘ نہالچند بڑبڑانے لگا۔ ’’یعنی میں کہہ رہا ہوں ۔ اگر وہ مرد ہے تو واپس یہاں آ جائے گا اور اگر عورت ہے تو....‘‘
’’وہ کون؟‘‘ امجد نے پوچھا۔ 
’’سپرنٹنڈنٹ.... جی ہاں سپرنٹنڈنٹ۔ ‘‘ نہالچند بولا۔ 
’’شٹ اپ۔ ‘‘ سٹیشن ماسٹر چیخ کر بولا۔ ’’نان سینس۔ ‘‘
’’جی ہاں .... یہی کہہ ریا تھا میں .... نان سینس ہے پھر تو شٹ اَپ۔ مطلب ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا!‘‘
٭٭٭




پُل



آپ پل کو نہیں جانتے۔ بھلا جانیں بھی کیسے جب کہ نہ تو وہاں کوئی شہر آباد ہے اور نہ ہی کوئی گاؤں ۔ بس دریا پر ایک عام سا پل بندھا ہے۔ جس پر ریل کی لائن بچھی ہے جو سرحدی پہاڑیوں کی طرف نکل گئی ہے۔ وہ ایک عام سا پل ہے۔ ایک ایسے غیر معروف سے دریا پر جو دیکھنے میں نالا نظر آتا ہے۔ البتہ اگر غور سے دیکھیں تو پانی کا بہاؤ اتھاہ گہرائی کا غماز ہے لیکن غور سے دیکھنے کی فرصت بھی ہو۔ جب تک آپ گاڑی کی کھڑکی سے سر نکالتے ہیں ، گاڑی پل کے پار جاچکی ہوتی ہے۔ 
اول تو کوئی پل کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا۔ دیکھ بھی پائے تو یہ راز کھلتا کہ پل ایک ریلوے سٹیشن ہے۔ سٹیشن کے آثار ہی غائب ہیں ۔ نہ آہنی جنگلا نہ پلیٹ فارم، نہ وہاں سے کوئی مسافر سوار ہوتا ہے اور نہ کوئی اترتا ہے۔ باتوں کے باوجود ایک اہم سٹیشن ہے۔ یہ اہمیت سیاسی نوعیت کی ہے۔ وہ دو حدوں کا ’’سنگم‘‘ ہے۔ گاڑی رکتی ضرور ہے، چاہے رکتے ہی چل دے۔ گاڑی وہاں یوں کھڑی ہوتی ہے کہ آپ محسوس نہیں کرتے بفرض محال آپ محسوس بھی کر لیں تو آپ سمجھیں گے گاڑی محض رک گئی ہے، کھڑی نہیں ہوئی۔ نہ جانے کیوں .... کوئی بات ہو گئی ہے اور پھر آپ زیادہ ضروری امور کے متعلق سوچنے لگتے ہیں ۔ میرا مطلب ہے، وہ امور جنہیں آپ زیادہ ضروری سمجھتے ہیں ۔ 
مصیبت یہ ہے کہ سٹیشن ایک بڑے جنکشن کے قریب ہے۔ اس قدر قریب کہ آپ کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ ایک سٹیشن دوسرے سٹیشن کے اس قدر قریب ہو سکتا ہے جنکشن کی افراتفری کے بعد جب گاڑی چلتی ہے تو آپ اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور جگہ بنانے یا نہ جانے کب تک کھڑے رہنے کا تہیہ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ پل آتا ہے، گزر جاتا ہے اور آپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ایک اہم سٹیشن گزر رہا ہے یا گزر چکا ہے اور آپ غیر علاقہ میں داخل ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں ۔ 
پل سے دو فرلانگ پرے دو مختصر کوارٹر گال سے گال جوڑے بیٹھے ہیں ۔ جیسے تیز جھکڑ میں مرغیاں بیٹھ جایا کرتی ہیں ۔ لیکن جنکشن کی گذشتہ افراتفری کے اثرات کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ آپ کو ان کوارٹروں کو دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔ دیکھ بھی لیں تو انہیں کوارٹر نہیں سمجھتے آپ اور سمجھ بھی لیں تو آپ کو شبہ تک نہیں ہوتا کہ وہ آباد ہیں اور پل سے متعلق ہیں ۔ 
ان کوارٹروں میں سٹیشن کے ماسٹر اور نائب رہتے ہیں ۔ موجودہ سٹیشن ماسٹر اقبال کو وہاں رہتے ہوئے چار سال ہو چکے ہیں ۔ لیکن نائب کو صرف مہینہ گزرا ہو گا۔ اسی طرح چار سال پہلے اقبال نائب ہو کر آیا تھا۔ ان دنوں بس ایک وہ خود اور ایک اس کی نئی بیاہتا بیوی برجیس تھی۔ برجیس اس ویرانے میں آ کر کس قدر ڈر گئی تھی۔ کہاں سکول کی رونق اور پھر بیاہ پر مکمل سکھیوں کا سنگ اور کہاں یہ ویرانہ۔ لیکن آہستہ آہستہ جی لگ ہی گیا۔ چونکہ پڑوس کا کوارٹر بچوں سے یوں بھرا پڑا تھا جیسے مٹر کی پھلیاں دانوں سے۔ پھر ان کی ماں بڑی ملنسار تھی۔ اس کے علاوہ دونوں کوارٹروں کے درمیان ایک کھڑکی تھی جس کی وجہ سے دونوں کنبے ایک گھر نظر آتے تھے۔ چونکہ کھڑکی زمین سے اونچی تھی، اس لئے بچوں کی خاطر دونوں طرف سیمنٹ کی سیڑھیاں بنی تھیں اور کھڑکی کا نچلا حصہ سیمنٹ کی محراب سی بن گیا تھا۔ سب از راہ مذاق اس کھڑکی کو پل کہا کرتے اور یہ بات تھی بھی ٹھیک کیونکہ وہ کھڑکی دونوں گھروں کے درمیان پل کا کام دیتی تھی۔ 
پڑوسیوں کی تبدیلی پر برجیس نے پریشان تو ہونا ہی تھا لیکن اس کی پریشانی ایسی شدید نہ تھی۔ ایک تو اب اس مقام سے مانوس ہو چکی تھی اور دوسرے اب ان کے دو ننھے منے بچے تھے.... سعیدہ اور انور۔ 
چق کی اوٹ میں نئے نائب کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی۔ ریل کا بابو تو وہ دکھتا ہی نہ تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کالج کا کوئی لڑکا ہو۔ بھرا ہوا جسم، سانولا رنگ، کنڈل والے بال اور شرابی آنکھیں ۔ جو دور.... نہ جانے کہاں دیکھ رہی تھیں ۔ خواب آلود آنکھیں .... جیسے کسی اور دنیا میں رہتی ہوں ۔ نہ جانے برجیس کو کیا ہوا۔ بڑھ کر چق کا کونا سرکا لیا اور شگاف بنا کر دیکھنے لگی۔ 
اس روز سلائی کا کام کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلتی رہی۔ لٹ کھسک کر ماتھے پر آ پڑی۔ دوپٹہ سر سے سرک گیا۔ کان کا آویزہ یوں لرزاں رہا گویا پل کے نیچے گہرے دریا میں کشتی ڈول رہی ہو۔ مشین کی آواز میں ایک نغمہ رقصاں تھا۔ شاید اس لئے کہ نائب اور اس کی نئی نویلی بیوی کو دیکھ کر اسے وہ دن یاد آ گئے جب وہ آپ نئی نئی پل پر آئی تھی۔ وہ بھی کیا دن تھے۔ 
اقبال گاڑی پارک کر کے جلدی جلدی گھر آتا۔ اسے یوں کھوئی ہوئی دیکھ کر اس کے پاس آ بیٹھتا۔ ’’کہاں ہو؟‘‘ وہ پوچھتا۔ ’’کہیں بھی نہیں ۔ ‘‘ وہ مسکراتی۔ ’’اونہوں ....‘‘ وہ قریب تر سرک آتا۔ ’’کہیں دور.... دور.... برج۔ ‘‘ وہ اپنا بازو اس کی گردن میں ڈال کر اسے قریب تر کھینچ لیتا۔ ’’تم تو یوں کھوئی رہتی ہو جیسے کوئی اکیلا جزیرہ۔ کھلے سمندر میں ۔ ‘‘ ’’تو پھر میں کیا کروں ؟‘‘ وہ شرما سی جاتی۔ ’’اچھا!‘‘ وہ ہنس کر کہتا۔ ’’تو مجھے ہی کرنا پڑے گا۔ ‘‘ ’’کیا؟‘‘ وہ بھولی بن کر پوچھتی۔ ’’اس اکیلے جزیرے کو کھینچ کر کنارے لگانا پڑے گا اور کیا۔ چھوڑو بھی نا اب یہ کام۔ ‘‘ وہ اس کے ہاتھ سے کپڑا یا سویٹر چھین کر پرے پھینک دیتا۔ کھویا کے بے تکلف ہاتھ پتوار بن جاتے اور ناؤ ڈولنے لگتی۔ ڈولتی ڈولتی ناؤ نہ جانے کس کنارے کی طرف بہہ نکلتی.... ’’زن....!‘‘ گاڑی پل سے گزر جاتی اور مسافروں کو شبہ تک نہ ہوتا کہ دو سرحدیں مل رہی ہیں ۔ 
’’تو یہ ہے نیا نائب۔ ‘‘ برج نے اقبال سے کہا۔ 
’’تم نے دیکھا ہے اسے؟‘‘ اقبال نے پوچھا۔ 
’’معلوم نہیں ۔ ‘‘ وہ مشین چلاتے ہوئے بولی۔ ’’سٹیشن کی طرف سے آ رہا تھا۔ ریل کا بابو تو دکھتا ہی نہیں ۔ کنڈیالے بال، سانولا رنگ، کھوئی کھوئی نگاہیں ۔ ‘‘ ’’ہاں !‘‘ اقبال مسکرایا۔ ’’وہی شاعر سا، نیا نیا ہے نا۔ آپ ہی بن جائے گا بابو۔ بابو بنتے دیر نہیں لگتی ہے کیا؟‘‘
’’عجیب سی جوڑی ہے۔ ‘‘ وہ مسکرائی۔ 
’’کیوں ....؟‘‘
’’اس کی بیوی کی بات کر رہی ہوں ۔ ‘‘
’’اونہوں ابھی تو بچی ہے۔ بنے گی کیا، بالکل لڑکی ہے وہ تو۔ ‘‘
’’تو اس میں عجیب بات کیا ہوئی؟‘‘
’’عجیب تو کچھ نہیں ، ویسے بات کر رہی ہوں ۔ لڑکی کو دیکھو تو گلابی پنڈے کی چوکی بھری ہے اور میاں .... جیسے دور نہ جانے کون سی نگری میں بھٹک رہا ہو.... کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا.... بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ ‘‘
وہ ہنسنے لگا۔ ’’تمہاری تو عادت ہے برج، تمہیں کوئی جوڑی، جوڑی معلوم ہی نہیں دیتی۔ یاد ہے مجھے کہا کرتی تھی تم.... آپ کو تو ہر وقت کنارے لگانے کی ہی فکر رہتی ہے۔ کبھی جزیرے کو اپنی جگہ ڈولنے بھی دیا کیجئے۔ پگلی اس کو شادی کہتے ہیں ۔ شادی پل ہے پل۔ دو مختلف علاقے جوڑنے والا پل۔ جیسے تم....‘‘
’’میں .... وہ شرما گئی۔ ‘‘
’’ہاں ! تم بھی تو برج.... میرے دل کے زخموں کو جوڑ دیتی ہونا۔ ‘‘
’’لگے بھرمانے....‘‘ وہ ہنسی۔ 
’’شادی اور ہے ہی کیا۔ ایک دوسرے کا ساتھ دینا۔ ایک دوسرے کو بھرمانا۔ اسی بندھن کا نام....‘‘
’’اچھا بندھن ہے۔ ‘‘ وہ ہونٹ نکال کر بولی۔ ’’کہیں میاں حاضر اور بیوی کو اس کا پتہ نہیں ۔ کہیں بیوی حاضر پر میاں نہ جانے کہاں ۔ ‘‘
’’پگلی۔ ‘‘ وہ قریب تر ہو بیٹھا۔ ’’اگر دونوں غیر حاضر ہوں تو بات کیسے چلے۔ ‘‘ اس نے بات چلاتے ہوئے کہا۔ 
’’کوئی ایک بھی حاضر نہ ہو تو.... چھوڑو بھی۔ ‘‘ وہ اپنا آپ چھڑا کر بولی۔ 
’’اونہو، حاضر ہونا ہی پڑے گا۔ ‘‘ وہ از سر نو پاس ہو بیٹھا۔ 
’’ہائے میرے اللہ۔ ایسی حاضری سے تو غیر حاضری ہی بھلی۔ ‘‘
’’برج‘‘ وہ اس کے کان سے منہ لگا کر بولی۔ ’’تم میری زندگی کے دکھی پانیوں پر ایک پل ہو۔ نہ جانے کہاں رہتی ہو تم۔ پاس ہوتے ہوئے بھی اتنی دور.... دور۔ ‘‘
’’دور رہنے والوں کو آپ کیا جانیں ۔ ‘‘ اس نے اپنا آپ حوالے کرتے ہوئے کہا۔ 
’’تمہیں قریب لینے کے لئے مجھے اتنی دور سے آنا پڑتا ہے۔ ‘‘ وہ ہونٹ قریب تر لاتے ہوئے کہنے لگا۔ 
’’کون آتا ہے۔ ‘‘ وہ دبی زبان سے گویا اپنے آپ سے بولی۔ 
’’میں جو آتا ہوں ۔ ‘‘ اس کے ہونٹ بھینچ گئے۔ 
’’خود آنے کے لئے نہیں ، دوجے کو صرف اپنے پاس بلانے کے لئے۔ ‘‘ وہ پیچھے سرک کر گنگنائی۔ 
لیکن اس کی آواز گاڑی کے شور میں دب گئی۔ جو نہ جانے کسے لانے کے لئے آ رہی تھی۔ جا رہی تھی۔ پل ریل گاڑی کے پہیوں تلے جھول رہا تھا۔ نیچے دکھی پانی کا گہرا بھاؤ جھوم رہا تھا۔ 
اس واقعہ کے بعد ان کے گھر میں نئے پڑوسیوں کی بات چل نکلتی۔ جب کبھی وہ اٹھتے بیٹھتے اور کوئی بات شروع ہوتی تو پتہ نہیں کیسے بات ہی بات میں نائب یا اس کی بیوی کا تذکرہ چھڑ جاتا۔ مثلاً اسی روز شام کو برجیس بولی۔ ’’آپ نے سنا؟‘‘ اور مسکرا دی۔ 
’’کیا....؟‘‘
’’اس کا نام نظر ہے نظر۔ ویسے کہتے ہیں نظراں ۔ 
’’کس کا؟‘‘ وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔ 
’’اپنے نائب کی بیوی کا اور کس کا۔ وہی بات ہے آنکھوں کی اندھی نام۔ ‘‘
’’کیوں بے چاری کو....‘‘ وہ بات کو کاٹ کر بولا۔ 
’’ایمان سے بالکل بے چاری ہے۔ ‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’سبھی باتیں ہیں ، اس میں بس ایک نظر نہیں ۔ ‘‘
’’اور جانتی ہو میاں کا کیا نام ہے؟ شاعر ہے نا....‘‘
’’کیا نام ہے؟‘‘
’’عجیب سا نام ہے۔ نہاں رومانی۔ ‘‘
’’نہاں !‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔ ’’بی بی نظر، میاں نہاں ۔ سبحان اللہ کیا جوڑی ہے۔ ‘‘
’’کیوں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑی ہو؟‘‘
’’خدا کی قسم مذاق نہیں ۔ آئیے نا ذرا۔ دکھاؤں آپ کو۔ ‘‘ برج نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کہا۔ 
’’میں دیکھوں ؟‘‘ لاحول ولا قوة۔ 
’’لاحول کی کیا بات ہے۔ ویسی نظروں سے دیکھنا بس۔ ‘‘
’’وہ دیکھئے چولہے کے سامنے چوکی پر۔ ‘‘ برج نے کھڑکی کی درز سے لگ کر کہا۔ 
’’ہے نام مجسم انتظار۔ منتظر بیٹھی ہے۔ توبہ.... خالص گوشت پوست ہے۔ جیسے قدرت نے عورت کو تنگ کر دیا ہو۔ ‘‘
’’ہاں !‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’اب چھوڑو بھی۔ ‘‘ اور وہ واپس کمرے میں آ گئے۔ ’’ہاں واقعی عجیب جوڑا ہے۔ ‘‘ اقبال ہنسا۔ 
’’یہ بے چاری راہ تکنے کے سوا کچھ جانتی ہی نہ ہو اور وہ جیسے راہ کھو کر سرگرداں ہو۔ ‘‘
’’ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے میاں کسی اور سے لو لگائے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘ اقبال مسکرایا۔ 
’’خواہ مخواہ کسی پر الزام دھرنا.... آپ تو....‘‘ وہ چڑ کر بولی۔ 
’’شاید یہی بات ہو۔ ‘‘
’’ہاں شاید.... لیکن بی بی تو علانیہ بیٹھی ہے۔ ‘‘
’’ہاں میاں کی منتظر ....‘‘ وہ مسکرایا۔ 
’’ہوں میاں کی؟‘‘ اس نے بات کاٹ کر کہا۔ ’’کسی کی بھی کیوں نہیں ؟‘‘
’’بھئی پھر کیا کرے؟ میاں کسی اور جگہ لو لگا لیں تو بیوی کو بھی حق حاصل ہے کہ کسی کے انتظار میں بیٹھ جائے۔ ‘‘
’’واہ!‘‘ وہ تڑپ کر بولی۔ ’’شادی نہ ہوئی مذاق ہوا۔ ‘‘
’’میرا یہ مطلب نہیں کہ ضرور لو لگا لے کسی سے لیکن لگا لینے کا جواز تو مل جاتا ہے۔ اخلاقی طور پر۔ ‘‘
’’سچ....؟‘‘
’’ہاں ہاں انصاف تو یہ ہے۔ ‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔ 
’’بڑے منصف تو دیکھو۔ اپنے آپ پر بیتے تو....‘‘
’’اللہ نہ کرے، میں کسی سے لو لگاؤں ۔ ‘‘ وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ 
’’بڑے بگلا بھگت.... نہ جانے کس کس سے لگائی ہو گی۔ ‘‘ اس نے ہونٹ نکال کر کہا۔ 
’’نہیں برج۔ صرف تم ہو، صرف تم۔ ‘‘ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ 
’’اچھا، مان لیا لیکن کل کی تو بات کون جانتا ہے۔ ‘‘
’’ہاں کل کی تو کہہ نہیں سکتا لیکن آج تک ایک تم ہو۔ تم‘‘ وہ پیار سے بولا۔ 
’’اچھا۔ وہ مسکرائی۔ آپ کو یقین ہے کیا....؟‘‘
’’کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ 
’’کہ میاں لگا لے تو بیوی....‘‘
’’ہاں ۔ ہاں ‘‘ وہ بولا۔ ’’انصاف کی بات تو یہی ہے۔ ‘‘
’’مردوں کے انصاف کو۔ ‘‘ وہ ہنسی۔ ’’کون نہیں جانتا۔ مردوں کے انصاف کو؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔ ٹھیس تو لگتی ہے لیکن....‘‘ وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔ 
’’چلو چھوڑئیے اس قصے کو۔ کیا واہیات بات ہے۔ ہمیں کیا غرض۔ وہی جانیں بی بی نظراں اور بابو نہاں ۔ ‘‘ وہ ہنسنے لگی۔ 
پہلے چند روز اقبال حیران رہا۔ بات ہی ایسی تھی کیونکہ اس سے پہلے برجیس کا برتاؤ قطعی طور پر مختلف تھا۔ اگر اقبال کسی پڑوسن میں دلچسپی ظاہر کرتا تو وہ پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جاتی۔ ’’خیر تو ہے، بہت چمک رہیں ہیں آپ؟‘‘ اگر کسی غیر عورت کی بات چھڑ جاتی تو اسے اجازت نہ تھی کہ اس کے متعلق دلچسپی کا اظہار کرے۔ گھر میں کوئی آ جاتی تو اسے باہر جا کر ٹہلنا پڑتا۔ صحن میں جانے کی تو بالکل اجازت نہ تھی اسے۔ کیونکہ صحن میں کھڑکی کھلتی تھی اور پڑوسیوں کی بے پردگی کا احتمال رہتا تھا لیکن اب وہی برجیس اکثر آپ دعوت دیتی کہ وہ درز میں سے نظر کو دیکھے۔ دوڑی دوڑی پاس آتی۔ ’’آئیے آپ کو کچھ دکھاؤں ۔ ‘‘ اور اس کا بازو پکڑ کر لے جاتی۔ ’’آج تو حد ہو گئی۔ آپ کی قسم۔ ‘‘ اگر وہ عذر پیش کرتا تو طنزاً چلاتی۔ ’’بس اتنی ہمت ہے، اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کیا۔ ایک آنکھ دیکھ کر چھلک جاتے ہیں یہ مرد۔ ہم بھی تو پردے میں سے مردوں کو دیکھتی ہیں ۔ پر مجال ہے جو پاؤں ڈگمگائیں ۔ 
’’اوہ! میں سمجھی.... فکر نہ کریں آپ۔ ’’فکر کیسا؟‘‘ وہ پوچھتا۔ ’’بس‘‘ وہ جواب دیتی۔ ’’آخر کوئی ہو گا ہی نا۔ ‘‘ حتیٰ کہ وہ ساتھ چلنے پر مجبور ہو جاتا۔ پھر وہ درز سے لگے کھڑے رہتے۔ اس دوران برج زبان کی بجائے کہنی سے باتیں کرتی۔ پھر ایک دن جب وہ برج کے کہنے پر کھڑکی سے جھانکنے کے لئے گیا اور درز میں سے دیکھا تو بوکھلا سا گیا۔ ’’حد ہو گئی۔ ‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ چونکہ سامنے نظر صحن میں نہا رہی تھی۔ شربتی پنڈا جو چٹا سفید ہونے کے علاوہ جوانی سے بھرا ہوا تھا۔ بوٹا سا قد۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہٹا لیکن دیکھا تو برج وہاں تھی ہی نہیں ۔ ایک ساعت کے لئے وہ ٹھٹھکا، پھر ارد گرد دیکھ کر از سر نو نشست باندھ کر کھڑا ہو گیا اور دیر تک دیکھتا رہا۔ 
پھر وہ آپ ہی آپ موقعہ کی تلاش میں رہنے لگا۔ جب کبھی موقعہ ملتا، چپکے سے درز سے لگ کر نظر کو دیکھتا رہا۔ ایسی دلچسپی ہو گئی اسے۔ بلکہ کئی مرتبہ وہ بھاگا بھاگا برج کے پاس جاتا۔ ’’آؤ برج تمہیں کچھ دکھاؤں ۔ ‘‘ ایک ساعت کے لئے برج کی آنکھ میں چمک لہراتی۔ ’’آؤ بھی۔ ‘‘ وہ چلاتا۔ ’’دیکھو تو چولہے کے سامنے بیٹھی ہونٹوں پر سرخی لگا رہی ہے۔ ایک وہ ہے کہ بے چاری کو کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں اور ایک تم ہو.... آؤ بھی نا۔ ‘‘
’’آپ ہی دیکھئے۔ ‘‘ وہ لاپروائی سے کہتی۔ وہ چلاتا۔ ’’اونہوں .... سرخی لگانے سے کیا بنتا ہے۔ ‘‘ وہ مشین چلاتے ہوئے اپنی دھن میں بولے جاتی۔ ’’جسم کا جال روح کو کیا پھنسائے گا؟‘‘
’’بہت جانتی ہو تم اس کی روح کو۔ ‘‘ وہ طنزاً کہتا۔ 
’’جانتی تو نہیں پر سمجھتی ضرور ہوں ۔ ‘‘
’’بہت روحانی طاقت ہے تم میں ۔ ‘‘
’’آپ کیا جانیں ؟‘‘ وہ ہنستی۔ 
’’اب اٹھو بھی نا۔ ‘‘ وہ کھسیا ہو کر کہتا۔ 
’’میں تو روز دیکھتی ہوں ۔ آپ ہی دیکھئے جا کر۔ ‘‘
’’نہیں برج۔ ‘‘
اوسان کھونے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ایک دن لاپروائی سے طنزاً بولی۔ ایسا شوق ہے تو ملا دوں دونوں کو۔ ‘‘
’’تم!‘‘ وہ چلایا۔ ’’تم اور ایسی بات۔ پہلے تو.... کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’پہلے تو تم ایسی بات پر غصے سے بھوت بن جایا کرتی تھیں ۔ یاد ہے رحمت کی ماں کے متعلق کتنا پاکھنڈ مچایا تھا تم نے۔ ‘‘
وہ مسکرا دی۔ 
’’اب بھی مذاق کر رہی ہو۔ میں جانتا ہوں لیکن پہلے تو ایسا مذاق سہا نہ جاتا تھا تم سے۔ ‘‘
’’ہاں ! وہ ہنسی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ جسم کے میل سے کیا ہوتا ہے؟‘‘ اس کی ہنسی میں مایوسی اور طنز کی جھلک تھی۔ 
’’لیکن اس کی عزت کا خیال نہیں کیا۔ ‘‘ وہ نظراں کے گھر کی طرف ہاتھ چلا کر بولا۔ 
’’آپ ہی تو کہتے تھے۔ میاں کسی اور سے لو لگائیں تو بیوی....‘‘ وہ رک گئی۔ 
’’اچھا تو اب تم ہی دونوں میں پل بنو گی۔ ‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ 
’’میں کیوں بنوں ۔ پل تو وہ ہے۔ آپ کی نظراں ۔ ‘‘
’’ہوں تو تمہارے حساب سے میں گاڑی ہوا۔ مگر پل اور گاڑی ملائے گی کسے، دو علاقے بھی تو ہوں ۔ ‘‘ اس نے مذاق سے کہا۔ 
’’بے چاری۔ ‘‘ وہ اپنی دھن میں بولی۔ ’’سارا سارا دن انتظار میں بیٹھتی ہے۔ کب گاڑی آئے اور اوپر سے گزرے۔ 
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ پھر قریب ہو بیٹھا۔ ’’برج۔ ‘‘ اس نے پیار بھری آواز میں کہا۔ ’’برج۔ ‘‘ اس کے بے تکلف ہاتھ کسی پل نما ابھار کو ناپنے لگے۔ 
’’اونہوں ....‘‘ وہ چلائی۔ ’’نہ جانے آپ پر تو ہر سمے....‘‘
اقبال نے دور سے آتی ہوئی گاڑی کی آواز سنی۔ وہ آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ کنپٹیوں میں تھرکنے لگی۔ 
’’برج۔ ‘‘ وہ چلایا۔ وہ جھجھک کر اٹھ بیٹھی....‘‘ کیا کرتے ہیں ۔ ‘‘ وہ اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی اور سامنے کھڑی گاڑی کو کھوئی کھوئی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ ’’دیکھئے نا۔ ‘‘ اس نے اقبال سے کہا۔ ’’سب مسافر اپنی اپنی دھن میں لگے ہیں ، کسی کو احساس نہیں کہ گاڑی رک گئی ہے۔ ‘‘
’’ہاں !‘‘ وہ ہنسا۔ ’’لیکن اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ان کا مطلب تو پہنچنے سے ہے۔ آخر پہنچ ہی جائیں گے۔ ‘‘
’’کون جانتا ہے؟‘‘ وہ ایک آہ بھر کر بولی۔ 
’’پگلی۔ ‘‘ وہ ہنسا۔ ’’جو چل پڑے وہ پہنچ ہی جاتا ہے کبھی نہ کبھی۔ ‘‘
’’سچ؟‘‘ وہ کھوئی کھوئی بولی۔ 
’’ہاں !‘‘ وہ پاس آ کھڑا ہوا۔ اس کے بے تکلف ہاتھ پہنچنے کی کوشش میں لگ گئے۔ 
وہ تڑپ کر پیچھے ہٹی اور اس کی پہنچ سے دور ہو کر بولی۔ ’’اونہوں ۔ ادھر۔ ‘‘ اس نے نظر کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ 
باہر سیٹی کی آواز سن کر وہ چونکی اور کھڑکی میں دیکھ کر مسکرا دی۔ 
’’کون.... نائب ہے۔ ‘‘ اس نے پوچھا۔ 
’’ہاں ! سیٹی کی آواز سنی آپ نے۔ دور دیس کا رہنے والا بجا رہا تھا۔ ‘‘
’’بے چارہ پرائے دیس گیا ہے نا۔ ‘‘
’’ہاں !‘‘ وہ ہنسی اور پھر اقبال کی بات دہرانے لگی۔ ’’جو چل پڑے، آخر پہنچ ہی جاتا ہے نا۔ ‘‘
کہاں تو دن رات وہ دونوں نظر اور نہاں باتیں کیا کرتے۔ روزبروز اقبال کا شوق بڑھتا جاتا اور وہ درز میں سے نظر کو دیکھتا رہا۔ ادھر نظر میں یہ احساس بڑھتا گیا کہ کوئی اسے چوری چوری دیکھتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اسے احساس تنہائی اور انتظام کم ہوتا گیا۔ روزبروز برجیس کی نگاہیں اور بھی پرے ہٹتی گئیں .... دور....دور....!
پھر نظر نے ان کے ہاں آنا جانا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ وہ سارا سارا دن برج کے پاس رہنے لگی۔ اقبال کے ذکر پر نظر کی آنکھ میں چمک لہراتی۔ برج منہ موڑ کر مسکراتی اور پھر نظر کی طرف ایسے معصوم انداز سے دیکھتی جیسے کچھ جانتی ہی نہ ہو۔ نہاں کی بات ہوتی تو برج انہماک سے کام میں مصروف ہو جاتی۔ یا نہ جانے کیوں عین اس وقت مشین کی سوئی میں سے تاگا نکل جاتا اور اسے جھک کر تاگا پرونا پڑتا۔ اگرچہ یوں کرنے سے اس کے کا نظر کے منہ کے قریب ہو جاتے۔ پھر دوپٹہ سر سے ڈھلک کر نیچے گر جاتا اور نیلا آویزہ ڈولتا۔ جیسے بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی ڈول رہی ہو۔ 
اکثر جب ایسے سمے اقبال آ جاتا تو نظر مسکرا کر منہ موڑ لیتی اور اپنا آپ چھپانے کی کوشش میں لگ جاتی۔ ’’لاحول ولا قوة‘‘ اقبال کے منہ سے بے ساختہ، بہرحال وہ مسکرا کر باہر نکل جاتا۔ پھر نظر دل پر ہاتھ رکھ کر کہتی۔ ’’توبہ باتوں میں پتہ ہی نہ چلا ان کے آنے کا۔ نہ جانے مجھے یوں بیٹھے دیکھ کر کیا کہتے ہوں گے دل میں ۔ ‘‘ اور برج مسکراہٹ بھینچ کر کہتی۔ ’’واہ اس میں کیا برائی ہے۔ انہوں نے دیکھ لیا تو کیا یوں گھبرانے لگیں تم، گزارہ کیسے ہو گا۔ ‘‘ ایک دن وہ چڑ کر بولی۔ ’’تو کیا سامنے آ جایا کروں ان کے، پھر تم کیوں پردہ کرتی ہو ان سے؟‘‘
’’کہاں کرتی ہوں میں ؟‘‘ وہ مشین میں تاگا پروتے ہوئے بولی اور مسکرائی۔ 
’’لیکن وہ تو کبھی آئے ہی نہیں تمہارے سامنے۔ ‘‘ نظر آپ ہی آپ بولی۔ 
’’تو یہ میرا قصور ہے کیا؟‘‘ برج ہنسی۔ 
’’وہ آ بھی جائیں تو نہ آنے کے برابر۔ ‘‘نظر ہنستے ہوئے بولی۔ 
’’کیوں ....؟‘‘
’’ان کی عادت ہی ایسی ہے۔ کھوئے کھوئے سے رہتے ہیں ۔ نہ جانے کیا ہے انہیں ؟‘‘ وہ منہ بنا کر گویا اپنے آپ سے گنگنائی اور پھر کسی گہرے خیال میں ڈوب گئی۔ 
اس روز شام کو برج اداس بیٹھی کچھ سی رہی تھی۔ پاس سعیدہ کھیل رہی تھی۔ اقبال ابھی سٹیشن پر ہی تھا کہ نظر آئی اور بولی۔ ’’ذرا سی شکر ہو گی۔ ‘‘ برج کام کرتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’اندر باورچی خانے میں ہے۔ سبز سا ٹین ہے۔ خود ہی جا کر لے لو۔ ‘‘ اس کے جاتے ہی اقبال آ گیا۔ پیٹی ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ آتے ہی پوچھنے لگا۔ ’’میری دھوتی کہا ں ہے؟ عین اس وقت سوئی میں سے تاگا نکل گیا۔ برج جھک کر تاگا ڈالنے لگی۔ اس کا ہاتھ کانپا، لٹ منہ پر گر پڑی۔ کان میں نیلا آویزہ لرزنے لگا۔ بولی۔ ’’اندر باورچی خانے میں کھونٹی پر ہو گی۔ ‘‘ ’’اچھا!‘‘ کہہ کر وہ باہر صحن میں نکل گیا۔ 
برج نے منہ اٹھایا تو آنکھیں بھیگی سی تھیں ۔ منہ پر سرخی کی جھلک تھی۔ 
’’اماں !‘‘ سعیدہ چلائی۔ ’’روتی ہو تم؟‘‘
’’اوں ہوں ۔ ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔ 
’’پھر یہ آنچھوں ۔ ‘‘ سعیدہ نے اس کی گال پر انگلی رکھ کر کہا۔ 
برج نے پیار سے سعیدہ کی انگلی چوم لی۔ 
’’نہیں ، نہیں ....‘‘
’’نظر....‘‘
اندر سے آوازیں سنائی دیں ۔ برج کے کان میں نیلا آویزہ اور بھی لرزنے لگا۔ 
’’اوں آنچھو ہیں ۔ ‘‘ سعیدہ تتلا کر بولی۔ 
’’کہاں ہیں ؟‘‘
’’گھوشی کے ہیں ؟‘‘ سعیدہ نے پوچھا۔ 
برج سر ہلا کر مسکرا دی۔ 
’’آہا.... گاڑی۔ ‘‘ سعیدہ گاڑی کو آتا دیکھ کر چلائی۔ 
برج نے اسے اٹھا لیا اور دروازہ میں جا کر کھڑی ہوئی۔ اس وقت اسے قطعی طور پر احساس نہ تھا کہ دروازہ کی چک لپٹی ہوئی ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں .... اور نجانے کہاں دیکھ رہی تھیں ۔ دور....
’’امی.... بابو۔ ‘‘ سعیدہ نائب کو آتے دیکھ کر چلائی۔ لیکن برج نے اس کی بات نہ سنی۔ 
گاڑی میں مسافر منزل کے خیال میں کھوئے ہوئے تھے۔ کسی کو احساس نہ تھا کہ پل ایک سٹیشن ہے۔ ایک اہم سٹیشن جو دو سرحدوں کو ملاتا ہے۔ بلکہ وہ سٹیشن کے وجود ہی سے منکر تھے اور انہیں پتہ نہ تھا کہ ایک اہم ریل گزر رہی ہے۔ گزر چکی ہے یا وہ غیر علاقہ میں داخل ہونے والے ہیں ۔ 
البتہ نائب کھڑا حیرانی سے برجیس کو دیکھ رہا تھا۔ 
’’ہائے میرے اللہ۔ ‘‘ وہ دفعتاً نائب کو دیکھ کر چلائی اور پیچھے ہٹی۔ 
’’ہائے میرے اللہ۔ ‘‘ باورچی خانے سے مدھم سی آواز سنائی دی۔ 
’’ہائے میرے اللہ.... ہائے میرے اللہ۔ ‘‘ گاڑی شور مچاتی ہوئی غیر علاقہ میں داخل ہو گئی۔ 
٭٭٭




گڑیا گھر


سفید بنگلے پر ہو کا عالم طاری ہے۔ بنگلے کے نفیس ساز و سامان میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوا۔ ریشمیں پردے جوں کے توں لٹکے ہوئے ہیں ۔ غالیچے ویسے ہی شوخ رنگ ہیں ۔ بنگلے کے افراد حسب معمول اس شوکیس میں کلدار گڑیوں کی طرح چلتے پھرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی حرکات میں وہ روانی نہیں رہی۔ ان کی مسکراہٹوں میں وہ نمائشی چمک نہیں رہی۔ ان کے جملے تو وہی ہیں ، وہی چمک دار جملے۔ لیکن ان میں وہ شوخی نہیں رہی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی افتاد آ پڑی ہو۔ جیسے سفید بنگلہ شیش محل کے محرابوں سے لڑھک کر غلام گردش میں آ گرا ہو۔ 
شام ہوتے ہی سفید بنگلے کے مکینوں پر تشویش کا عالم چھا جاتا ہے۔ رات کو وہ ہر آہٹ پر گھبرا کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور ان کے دل دھڑکنے لگتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ ان میں سے کسی سے پوچھئے تو وہ حیرانی سے آپ کی طرف دیکھے گا اور بس۔ 
فوضیہ سے پوچھئے تو اس کی آنکھیں دھندلا جائیں گی اور وہ دیوانوں کی طرح آپ کی طرف دیکھنے لگے گی۔ فوضیہ بے چاری بتائے بھی کیا۔ اسے کچھ معلوم بھی ہو۔ اگر اسے معلوم ہوتا تو نوبت اس حد تک نہ پہنچتی۔ اسے تو ابتدا ہی سے ایسے ریشمیں ماحول میں پالا گیا تھا جہاں بات معلوم ہی نہیں ہو سکتی۔ اس سے کیا پوچھنا اور پھر وہ بے چاری تو بستر پر پڑی رہتی ہے۔ نقاہت کی وجہ سے رنگ زرد ہو چکا ہے۔ ہونٹ نیلے پڑ گئے ہیں اور گویا وہ اپنے آپ سے جاچکی ہے۔ 
نوازش سے پوچھئے تو وہ مونچھ مروڑنے لگے گا۔ اس کی آنکھ میں میلی سی چمک لہرائے گی۔ دفعتاً اپنی حیثیت بھول کر اسے اپنی اہمیت کا احساس ہونے لگے گا لیکن اس کے باوجود وہ آپ کی بات کا جواب نہیں دے گا اور جواب میں کچھ کہے گا بھی تو اسے اصل بات سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ وہ مسکرائے گا۔ ’’رات کو جاگنا پڑتا ہے تو کیا ہوا۔ اپنے لوے کچھ مشکل نہیں ۔ ہم نے تو راتیں آنکھوں میں گزار دی ہیں ۔ ہاں کیا پوچھتے ہو اپنی بات۔ یہ بھی کوئی بات ہے۔ ہونہہ۔ ‘‘
فوضیہ کی ماں بڑی بیگم سے پوچھئے تو وہ یوں اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرے گی جیسے کوئی گرا ہوا شخص فوراً اٹھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ پائے۔ ’’بات کیا ہے؟‘‘ بڑی بیگم درشتی سے کہے گی۔ ’’شکر ہے اس کی جان بچ گئی۔ ‘‘
ڈاکٹر سے پوچھئے تو وہ جواب دے گا۔ ’’ول ول....شی اِز آل رائٹ۔ معمولی شاک کا کیس ہے۔ ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘ اور سفید بنگلے نوکروں سے پوچھئے۔ مگر ان سے کیا پوچھنا۔ وہ تو نوکر ٹھہرے۔ بے چارے خواہ مخواہ سہمے ہوئے ہیں ۔ 
خواہ مخواہ....!
آدھی رات کے و قت سفید بنگلے کا وہ پر وقار سکوت ٹوٹ جاتا ہے اور بیگم کی خواب گاہ سے چیخوں کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں ۔ ننگی چیخیں جیسے ریشم میں ملبوس گڑیا کپڑے پھاڑ کر مخملی کیس سے باہر نکل آئی ہو۔ اول تو شریف گھرانے کی بیگم کی خواہ گاہ سے آدھی رات کے وقت چیخوں کا سنائی دینا اور پھر بیگم کا نوازش پکارنا۔ نوازش موٹر ڈرائیور۔ نوازش.... بیگم کی آوازبنگلے میں یوں گونجتی ہے جیسے وہ پکار رہی ہو، منتیں کر رہی ہو۔ 
فوضیہ کی چیخیں سن کر بڑی بیگم جاگ پڑی ہے۔ آج پھر اس کے ہونٹ ہلتے ہیں اور دل ڈوب جاتا ہے اور وہ محسوس کرتی ہے جیسے نوازش کھڑا مونچھ مروڑ رہا ہو۔ نوازش ایک معمولی خد مت گزار اس کے روبرو کھڑا ہو کر مونچھ مروڑے۔ اف آپا کی چیخوں کی آواز سن کر آسیہ کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ گھبرا کر پھر سے آنکھیں بند کر کے پڑ جاتی ہے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ جیسے کوئی چیخ ہی نہ رہا ہو۔ 
نرس بیگم کی چیخ سن کر ایک نظر اس کی طرف دیکھتی ہے اور پھر اختیار سے کاغذ کی سلپ کی نشانی رکھ کر ناول بند کر دیتی ہے۔ پھر پنجوں کے بل چل کر خواب گاہ کے دروازے کی چٹخنی کھول کر واپس کرسی پر آ بیٹھتی ہے اور یوں مطمئن ہو کر بیٹھ جاتی ہے جیسے بیگم کی چیخ بھری پکار ایک معمولی سی بات ہو۔ 
بیگم کی چیخوں کی آواز سن کر نوازش پہلے تو گھبرا کر جاگ پڑتا ہے۔ پھر آنکھیں ملے بغیر مسکرانا شروع کر دیتا ہے۔ پھر وہ اپنا اوور کوٹ کھونٹی سے اتار کر چوڑے شانوں پر ڈال لیتا ہے اور مونچھ مروڑتا ہوا بیگم کی خواب گاہ کی طرف لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا چل پڑتا ہے۔ 
خواہ گاہ میں داخل ہو کر وہ شان استغنا سے بیگم کی چارپائی کے قریب کھڑا ہو کر کھرج آواز میں کہتا ہے۔ ’’بیگم صاحبہ کچھ فکر نہ کرو۔ نوازش تمہارے پاس ہے۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ مونچھ مروڑنے لگتا ہے اور اس کی آنکھوں میں دو دیئے روشن ہو جاتے ہیں ۔ نوازش کی آواز سن کر بیگم کی چیخیں بند ہو جاتی ہیں ۔ آواز بیٹھ جاتی ہے اور وہ زیر لب کہتی ہے۔ ’’نوازش وہ آ رہے ہیں ۔ وہ نوازش.... وہ....‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ’’پڑی رہو بیگم۔ پڑی رہو۔ ‘‘ نوازش تحکمانہ انداز سے کہتا ہے۔ ’’جب نوازش یہاں موجود ہے تو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ‘‘ ’’نوازش.... نوازش۔ ‘‘ بیگم کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے جیسے کوئی پرائیویٹ بات کہہ رہی ہو۔ اس کے ہونٹ ہلتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور سفید بنگلے پر ایک بار پھر سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ 
نوازش ایک نظر بیگم کی طرف دیکھتا ہے۔ اس وقت اس کی آنکھوں میں دو شعلے روشن ہوتے ہیں ۔ پھر وہ پر وقار انداز سے کمرے سے باہر نکل جاتا ہے اور نرس چٹخنی بند کر کے پھر سے ’’فار ایور  ایمبر‘‘ کے مطالعے میں کھو جاتی ہے۔ 
ساتھ والے کمرے میں آسیہ زور سے آنکھیں بند کر لیتی ہے اور پہلو بدلنے لگتی ہے اور بڑی بیگم ایک لمبی آہ بھر کر نہ جانے کس سوچ میں پڑ جاتی ہے اور دور کتے رونے لگتے ہیں جیسے وہ واقعہ کی اہمیت سے واقف ہوں اور نوازش اپنے کمرے میں پہنچ کر لحاف میں بیٹھ کر سگریٹ سلگا لیتا ہے اور اسے مٹھی دبا کر حقے کی طرح کش بھرنے لگتا ہے۔ بار بار چٹکی بجا کر راکھ جھاڑتے ہوئے ان جانے میں گنگناتا ہے۔ ’’اب کون تجھے سمجھائے۔ ‘‘
نوازش نے کبھی نہیں سوچا کہ بیگم صاحبہ رات کو ڈر کر چیخیں کیوں مارتی ہیں اور خاص طور پر اس کا نام لے کر کیوں پکارتی ہیں اور پھر جب وہ بیگم صاحبہ کی خواب گاہ میں جا کر اسے تسلی دیتا ہے تو اس کی آواز سن کر کیوں مطمئن ہو کر سو جاتی ہے۔ وہ اس واقعہ کو خصوصی اہمیت نہیں دیتا بلکہ اب تو وہ اسے ایک دلچسپ کھیل سمجھنے لگا ہے۔ اگرچہ اس کھیل میں وہ اپنے پارٹ کو بے حد اہم سمجھتا ہے۔ اہم تو سمجھنا ہی ہوا کیونکہ بیگم صاحب پر کسی اور کی آواز کا اثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی دیوانگی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ البتہ جب پہلی مرتبہ رات کو بیگم نے چیخیں ماری تھیں تو وہ گھبرا گیا تھا اور یوں بے تحاشہ خواب گاہ کی طرف بھاگا تھا جیسے نہ جانے کیا ہو گیا ہو۔ لیکن اب اسے معلوم ہے کہ اس کی آواز سن کر بیگم کا ڈر دور ہو جائے گا۔ جبھی تو بیگم کے سامنے جا کر اس کی آواز میں تحکمانہ لہجہ پیدا ہو جاتا ہے اور خواہ گاہ میں داخل ہوتے ہی وہ ان جانے میں مونچھ مروڑنے لگتا ہے۔ 
اس بات کے متعلق سفید بنگلے کے کسی فرد نے بھی نہیں سوچا۔ وہ سب تو گھبرائے ہوئے ہیں ۔ البتہ ڈاکٹر نے اس بات پر بہت غور کیا تھا اور غور و خوض کرنے کے بعد اعلان کر دیا تھا کہ اس سانحہ سے بیگم کے ذہن کو جھٹکا لگا ہے اور ابھی وہ شاک کی حالت میں ہے۔ آپ جانتے ہیں ، ایک بار ڈاکٹر سوچ لے تو اس کے لئے مزید سوچنا ممکن ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب روزانہ آ کر مریضہ کو دیکھتے ہیں ۔ اس کی نبض ٹٹولتے ہیں ۔ زبان کا رنگ دیکھتے ہیں ۔ ٹونٹیاں لگاتے ہیں ۔ دو ایک سوال پوچھتے ہیں اور پھر ٹیکہ لگا کر نرس کو ہدایت دینے کے بعد اپنا بکس اٹھا کر باہر نکل جاتے ہیں ۔ 
باہر برآمدے میں بڑی بیگم، آسیہ اور امجد ان کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ’’ڈاکٹر صاحب....‘‘ بڑی بیگم انہیں دیکھ کر کہتی ہیں ۔ ’’آج پھر ڈاکٹر صاحب۔ ‘‘ اور آسیہ خوف سے آنکھیں جھپکنے لگتی ہے۔ 
’’ہوں ....‘‘ ڈاکٹر صاحب یوں سوچ میں پڑ جاتے ہیں جیسے اس واقعہ کا پھر سے جائزہ لے رہے ہوں ۔ ایک ساعت کے بعد وہ سر اٹھاتے ہیں ۔ ’’ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹھیک ہو جائے گا۔ گھبرائیے نہیں ۔ ابھی شاک کا اثر نہیں گیا۔ میں کل پھر آؤں گا۔ خدا حافظ۔ ‘‘
صرف تین کردار اس واقعہ سے متعلق اہم تھے۔ پاؤڈر سے تھپی ہوئی ایک معصوم گڑیا، ایک بے جان کلدار گڑیا اور بالآخر ایک جیتا جاگتا نوکیل مونچھ والا میلا ڈرائیور۔ 
گڑیا بالکل ویسی ہی تھی جیسے مال روڈ پر چلتی پھرتی ہوئی پائی جاتی ہیں ۔ وہ پاؤڈر سے اس حد تک تھپی ہوئی تھی جیسے مال روڈ کی گڑیا ہوتی ہیں ۔ اس کے ہونٹوں پر بھی سرخی کی ایک تہہ چڑھی رہتی تاکہ آتے جاتے لوگ انہیں نظر انداز نہ کر سکیں ۔ اس نے کبھی سوچا تھا کہ ہونٹوں کو سرخ کرنے سے اس کا مقصد کیا ہے اور راہ چلتے لوگ کیوں اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں ۔ وہ چپ چاپ موٹر سے باہر نکلتی۔ ایک وقار بھرے انداز سے ادھر ادھر دیکھتی۔ راہ چلتوں کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے اس کی ناک نفرت سے سکڑتی اور پھر چپ چاپ شاپنگ میں مصروف ہو جاتی۔ اسے کبھی خیال بھی نہ آیا تھا کہ سفید چہرے کے پس منظر اس کے ہونٹ خطرے کا نشان بنے ہوئے ہیں اور راہ گیروں کو عورت اور خطرہ دونوں سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ سوچتی بھی کیوں ۔ سوچنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ شوہر صاحب جائیداد تھے۔ بنگلہ تھا، ساز و سامان تھا۔ موٹر تھی، میز پر کھانا خودبخود لگ جاتا تھا۔ پرس یوں روپے اگلتا جیسے الہ دین کا جن تابع فرمان ہو۔ اسے تو صرف یہی تکلیف تھی کہ راہ چلتے لوگ اور وہ بھی عام سے لوگ اس کی طرف ایسی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ پاؤڈر تو وہ صرف اس لئے لگاتی تھی کہ جلد نرم رہے۔ کاجل کی دھار اس لئے کھینچتی تھی کہ بینائی تیز ہو اور ہونٹوں پر سرخی....لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات کی وجہ بیان کی جائے۔ چاہے کسی وجہ سے لگاتی تھی۔ بس لگاتی تھی۔ یہ اس کا ذاتی معاملہ تھا۔ جس میں دوسروں کو دخل دینے کا حق نہ تھا۔ مال روڈ کی اس گڑیا کے دل میں کسی کے خلاف بغض یا نفرت نہیں تھی۔ الٹا اسے تو ان پر ترس آتا تھا اور بازاروں میں گھومنے والے عوام کی حالت پر اسے سچے دل سے افسوس ہوتا تھا کہ دیکھنے کے علاوہ انہیں بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ۔ کپڑے پہننے کا ڈھنگ نہیں اور چلنے پھرنے میں ان کی حرکات کس قدر بھدی ہوتی ہیں ۔ 
سماجی گڑیا ہونے کے علاوہ فطری طور پر بھی ایک گڑیا تھی۔ سماجی زندگی نے تو اس پر صرف رنگ و روغن کیا تھا اور جیتے جاگتے میلے عوام سے محفوظ رکھا تھا۔ وہ خوبصورت تھی جیسے کہ فطری گڑیاں ہوتی ہیں ۔ مگر وہ خوبصورتی صرف دیکھنے تک ہی محدود تھی۔ گڑیا خانے نے اس کی جذبات منجمد کر رکھے تھے اور اسے ایسی حسین ساکت جھیل بنا دیا تھا جس میں سطحی لہروں کے علاوہ کوئی مدد جزر پیدا نہیں ہوتا۔ 
وہ ایک ایسے شریف گھرانے میں پیدا ہوئی تھی جہاں بہت سی گڑیاں مخملی کیسوں میں رہتی تھیں ۔ وہ سب مقررہ وقت پر چلتی پھرتیں ۔ مقررہ وقت پر موزوں باتیں کرتیں ۔ مقررہ وقت پر باہر جاتیں اور مقررہ وقت پر اپنے اپنے کیسوں میں پڑ کر سو جاتی تھیں ۔ ان کی ہر بات مناسب طور پر عمل میں آتی تھی۔ مناسب اور موزوں فقرے انہیں ازبر کرا دیئے جاتے تھے اور مناسب اور موزوں حالت میں وہ انہیں دہرا دیتی تھیں ۔ 
اس گڑیا سے چند قدموں کے فاصلے پر جیتے جاگتے انسان بھی رہتے تھے۔ مگر اصول کے مطابق ان کی طرف غور سے دیکھنا مناسب نہ تھا۔ بیرا لوگ.... چوکیدار اور خدمت گار کیا اس قابل ہوتے ہیں کہ انہیں غور سے دیکھا جائے۔ ان سے تو صرف خدمت کروائی جاسکتی ہے۔ نوکروں کو چھوڑئیے، یہاں تو عزیز و اقارب کو بھی غور سے دیکھنا گناہ تھا۔ غور سے دیکھنا تو ایک غیر مہذبانہ فعل ہے جو دخل در معقولات کے مترادف ہے۔ گڑیا گھر میں دیکھنے کی بجائے دکھائی دینے کو زیادہ اہمیت حاصل تھی اور وہ سب اس کوشش میں لگے رہتے کہ اچھے اور پیارے نظر آئیں ۔ 
بچپن ہی سے فوضیہ کو گڑیا گھر کے اصولوں کی پوری تعلیم دی گئی تھی۔ صبح سویرے اسے نہلایا دہلایا جاتا اور اس کے بال بنا کر ربن لگا کر منہ پر پاؤڈر سرخی جما کر تیار کر دیا جاتا۔ پھر وہ اپنے جیسی ایک گلابی گڑیا بغل میں دبا کر باغ میں جا بیٹھتی۔ زمین پر نہیں ، بچہ گاڑی میں ۔ یا بید کی اس کرسی پر جو اس کے لئے بنائی گئی تھی زمین پر تو خدمت گاروں کے بچے کھیلا کرتے تھے۔ پھر اس زمین پر وہ کیسے بیٹھ سکتی تھی۔ البتہ تیتری کی طرح وہ باغ میں ادھر ادھر دوڑ سکتی تھی یا مہمانوں کے آنے پر ڈرائنگ روم میں مور کی طرح چل پھر سکتی تھی۔ 
ڈرائنگ روم کے لئے اسے چند ایک خوبصورت جملے سکھا دیئے گئے تھے۔ مزاج اچھے ہیں ۔ تھینک یو۔ آپ کو نظم سناؤں ۔ کیسے اچھے ہیں آپ ڈیڈی، ممی اور شب بخیر.... جیسے خوبصورت جملے۔ ڈرائنگ روم پر ہی کیا موقف تھا۔ ان کا تو سارا گھر ایک ڈرائنگ روم تھا۔ سارا دن وہ ڈرائنگ روم میں رہتی اور پھر رات پڑتی تو وہیں ایک کونے میں اسے ایک ریشمیں کیس میں احتیاط سے رکھ دیا جاتا۔ 
پھر وہ جوان ہو گئی۔ لیکن اس کی زندگی میں کچھ زیادہ فرق پیدا نہ ہوا۔ اگرچہ جسم میں عجیب و غریب قسم کے اضافے ہو گئے۔ سیدھے خطوط گھوم کر گولائیاں اختیار کر گئے۔ اعضاء پھول گئے۔ گندمی رنگ پر سفیدی نے یورش کر دی اور سفید میں سرخی کی جھلک پیدا ہو گئی۔ بال بنانے کا سٹائل بدل گیا۔ کپڑوں کی وضع قطع بالکل تبدیل ہو گئی۔ ان سکہ بند جملوں میں اضافہ ہو گیا جو گفتگو میں استعمال کئے جاتے تھے۔ وہ ڈرائنگ روم بہت وسیع ہو گیا اور اس میں بہت سے اور گھرانے بھی شامل ہو گئے اور بہت سے نئے اجلے گدے اس کے حلقے میں داخل ہو گئے۔ اس کی مسکراہٹوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ اس کی حرکات میں لے پیدا ہو گئی۔ لیکن ان تمام فروغی باتوں کے باوجود اس کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی واقعہ نہ ہوئی۔ خوش نما کنول کے پھولوں کے علاوہ جو اس نیلی جھیل میں اگ آئے تھے۔ اس کی زندگی وہی ساکن جھیل ہی رہی۔ گویا وہ کسی رنگ دار کیلنڈر پر چھپی ہوئی تصویر ہو۔ 
پھر جلد ہی ایک نیا کلدار گڈا ان کے ڈرائنگ روم میں آ پہنچا اور عجیب سی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کی نگاہوں سے فوضیہ کو ڈر لگتا تھا لیکن ساتھ ہی عجیب سی لذت بھی محسوس ہوتی۔ پھر اس گڈے نے تنہائی میں اس سے عجیب باتیں کرنی شروع کیں ۔ ایسے جملے فوضیہ نے ڈرائنگ روم میں کبھی نہ سنے تھے اور اس نے محسوس کیا جیسے اس کلدار گڈے کے آنے سے ایک نئی انوکھی کھڑکی کھل گئی ہو جس سے ایک انوکھی دنیا کی جھلکیاں دکھائی دیتی تھیں ۔ 
اگرچہ چند منہ کے اندر اندر فوضیہ کی فرخ سے شادی نہ ہو جاتی اور اسے مزید کلدار  گڈوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ نہ تو فرخ کی باتوں میں کوئی انوکھی خصوصیت تھی اور نہ اس کی نگاہوں میں کوئی انفرادیت۔ اس کے وہ جملے بظاہر نئے ہونے کے باوجود بے حد پرانے اور سکہ بند تھے اور اس کی نگاہیں بھی صرف دکھانے کی تھیں ، دیکھنے کی نہیں جنہیں فرخ نے مسلسل عشق سے اپنا رکھا تھا۔ لیکن فوضیہ کو ان تفصیلات کے متعلق کچھ معلوم نہ ہوا۔ اسے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ انوکھے پن کا وہ سراب درحقیقت اس لئے تھا کہ اس کی اپنی زندگی میں نئی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ لہروں کی سی وہ حرکت جو وہ محسوس کرنے لگی تھی، محض سطحی تھی۔ اگر فرخ کی جگہ کوئی اور گڈ ان دنوں اس سے آ ملتا تو بھی فوضیہ کے احساسات وہی ہوتے۔ 
شادی کے بعد بھی فوضیہ کی زندگی میں کوئی فرق پیدا نہ ہوا کیونکہ وہ ایک گڑیا گھر سے نکل کر دوسرے میں چلی گئی۔ جہاں ویسے ہی ریشمیں پردے لٹک رہے تھے۔ ویسے ہی شوکیس رکھے ہوئے تھے۔ ویسا ہی باغیچہ اور ویسے ہی لوگ تھے بلکہ شادی کے بعد تو وہ بالکل گڑیا بن کر رہ گئی۔ اس کے رکھوالوں میں فرض کا اضافہ ہو گیا جو صبح شام اس کے لئے دروازے کھولتا۔ کرسیاں کھنچتا، جگہ بناتا، کوٹ پہناتا.... اس کا پرس اٹھاتا اور مسکرا کر ڈارلنگ کہنے کے لئے ہر وقت تیار کرتا۔ اس کے علاوہ اب یہ بیگم فوضیہ بن گئی تھی۔ گو فرخ اسے فزی کہا کرتا تھا اور وہ اپنی فزی کو یوں رکھتا جیسے وہ کانچ کی بنی ہوئی ہو اور اگر احتیاط نہ کی تو ٹوٹ جائے گی۔ اسے معلوم نہ تھا کہ زیادہ احتیاط سے ٹوٹنے کی صلاحیت اور بڑھ جاتی ہے۔ 
فرخ کے گھر میں پہلی مرتبہ فوضیہ نے نوازش کو دیکھا۔ لیکن اس کے لئے تو وہ محض شوفر تھا، نوازش نہیں ۔ اس نے کبھی اسے دیکھا ہی نہ تھا اور اسے اس بات کا علم نہ ہوا تھا کہ وہ جسم کا دبلا پتلا ہے۔ اس کا قد بے حد موزوں ہے۔ چھاتی چوڑی ہے اور اس کی نوکیلی مونچھیں اور متبسم آنکھیں بے حد شریر ہیں ۔ 
عام طور پر فوضیہ کو نوازش سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی تھی۔ کیونکہ ہر وقت فرخ خود وہاں موجود ہوتا تھا۔ البتہ جب کبھی اسے جائیداد کے انتظامات کے سلسلے میں کراچی جانا پڑتا اور فوضیہ سفید بنگلے میں اکیلی رہ جاتی تو وہ اسے نوازش کو بلانا پڑتا تھا۔ باہر پورچ میں پنجوں کے بل کھڑے اسے چلاتے دیکھ کر ایسے معلوم ہوتا جیسے کوئی پالتو کوئل تو ہو، تو ہو کی رٹ لگا رہی ہے۔ 
نوازش اس کی آواز سن کر اطمینان سے سگریٹ کے چند آخری کش لگاتا اور پھر اوور کوٹ شانوں پر ڈال کر سیٹی بجاتا ہوا بیگم صاحبہ کی طرف دیکھے بغیر سیدھا گیراج کی طرف چل دیتا۔ اس نے کبھی بیگم سے پوچھنے کی تکلیف نہ کی تھی۔ ’’کیا حکم ہے حضور؟‘‘ نہ ہی کبھی اس نے اسے حضور کہا تھا۔ گیراج سے گاڑی نکال کر وہ پورچ میں لا کھرا کرتا اور پھر چپ چاپ سگریٹ پیتے ہوئے انتظار کرتا۔ 
نوازش فطری طور پر موٹر ڈرائیور تھا۔ اس کے کردار میں استغنا کا عنصر حاوی تھا۔ چلتا یوں تھا جیسے بادلوں کا دیوتا زمین پر آ گیا ہو۔ یوں موٹر چلاتا تھا جیسے وہ اس کے ہاتھوں کا ایک کھلونا ہے۔ حرکت اور رفتار کے سلسلے میں اس کی ذہنیت خانہ بدوش کی سی تھی۔ اس نے کبھی محسوس نہ کیا تھا کہ وہ بیگم یا صاحب کا ڈرائیور ہے۔ اس کے برعکس وہ سمجھتا تھا کہ وہ موٹر کا ڈرائیور ہے جو اس کے اشاروں پر چلتی ہے۔ 
جبھی تو نوازش کی شخصیت میں ’’جی حضور‘‘ کی جھلک تک نہ تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت چمک لہراتی۔ ہونٹوں پر ایک فلمی دھن کھیلتی اور گردن کے زاویے سے لاپرواہی نمایاں رہتی۔ اس نے کبھی بیگم کو غور سے نہ دیکھا تھا اور نہ اسے اہمیت دی تھی۔ اس کے نزدیک وہ عورت نہیں بلکہ صرف صاحبہ تھی۔ اس کی طرف دیکھ کر اس کی آنکھوں میں کبھی وہ مسکراہٹ نہ چمکی تھی جو عورتوں کو دیکھ کر آپ ہی آپ اس کی آنکھوں میں جھلک آتی تھی۔ 
ممکن ہے فوضیہ نے دل میں شعوری طور پر اس کا اعتراف کئے بغیر نوازش کی بے پروائی کو محسوس کیا ہو مگر اس نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا تھا۔ ایک نوکر کے متعلق سوچنا اس کے نزدیک مناسب نہ تھا۔ صرف ایک بار اس نے نوازش کے خلاف غصہ محسوس کی تھی۔ اس روز اس کے احساسات مجروح ہو گئے تھے۔ اس کی توہین ہو گئی ہو اور وہ آدھ گھنٹے تک بل کھاتی رہی تھی۔ 
ان دنوں فوضیہ نے موٹر چلانے کی مشق شروع کر رکھی تھی۔ اس روز ایک ویران سڑک پر خود موٹر چلا رہی تھی۔ ساتھ والی سیٹ پر نوازش بیٹھا اپنی ہی دھن میں مونچھ مروڑ رہا تھا۔ موڑ پر ایک تانگے کے آ جانے سے دفعتاً فوضیہ کے ہاتھ کانپے۔ موٹر نے جھٹکا کھایا۔ فوراً دو بھدے بھدے بازو اس کے گرد حائل ہو گئے اور اس کے بازوؤں اور ہاتھوں پر اور نوازش کے بازوؤں کا بوجھ پڑ گیا اور اس کا جسم گرفت میں آ گیا۔ ’’بیگم صاحبہ‘‘ نوازش نے اسے ڈانٹا اور دھکا دے کر فوضیہ کو پرے دروازے میں دھکیل دیا اور خود اس کی جگہ لے لی اور بات کئے بغیر موٹر چلانا شروع کر دیا۔ پھر یہی نہیں ، وہ یوں بے پروائی سے ایک فلمی دھن گنگنانے لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے اس کے ساتھ والی سیٹ پر کوئی بیٹھا ہی نہ ہو۔ 
وہ پہلا روز تھا جب فوضیہ نے محسوس کیا کہ وہ بیگم صاحبہ نہ تھی بلکہ گڑیا تھی جسے ایک بدتمیز نوکر نے زمین پر پھینک دیا تھا۔ 
اس کے بعد فوضیہ نے پہلی مرتبہ غور سے نوازش کی طرف دیکھا تھا اور محسوس کیا تھا کہ وہ نوازش تھا، شوفر نہیں ۔ ’’کتنا بد تہذیب ہے۔ ‘‘ اس نے دل میں کہا تھا۔ اس کے بعد فوضیہ اس واقعہ کو بھولنے کی کوشش میں کھو گئی تھی۔ 
انہیں دنوں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے۔ ہجوم جلوس کی صورت میں سڑکو ں پر گشت لگاتا تھا اور ایک مخصوص فرقے کے خلاف نعرے لگائے جاتے تھے۔ رات کے وقت شور و غل بلند ہوتا۔ اشتعال انگیز نعروں کی آوازیں آتیں اور پھر پکڑ لو، پکڑ لو ہنگامہ برپا ہو جاتا۔ اگرچہ نہ تو فرخ اس مخصوص فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور نہ فوضیہ اور انہیں اس سلسلے میں کوئی خدشہ نہ تھا۔ پھر بھی ان دونوں کو عوام کی اس بدتمیزی پر غصہ آتا تھا۔ فرخ شور و غل سن کر غصے سے بھوت بن جاتا۔ ’’جنگلی‘‘ وہ دانت بھینچ کر کہتا۔ ’’انہیں گولی سے ختم کر دینا چاہئے۔ بدتمیز دیوانے....!‘‘ لیکن رات کے وقت جب کبھی آوازیں بہت قریب آ جاتیں تو وہ غصے کا اظہار کرنا بھول جاتا اور خوف سے کانپنے لگتا۔ ’’یہ کیا حماقت ہے۔ فزی ادھر آ جاؤ اور ادھر دیکھو۔ اگر یہ لوگ بنگلے کی طرف آ جائیں تو ہم ادھر سے نوکروں کے کوارٹرز کی طرف چلے جائیں گے۔ وہ جگہ محفوظ ہے سمجھیں بیگم۔ ان فسادیوں کا کوئی اعتبار نہیں ۔ ان کا مطلب تو لوٹنا ہے لوٹنا۔ مذہب تو محض دکھلاوا ہے۔ کمینے۔ ‘‘ وہ زیر لب کہتا کہ کوئی سن نہ لے۔ فوضیہ حیران ہوتی تھی کہ صبح کے وقت فرخ اس قدر غصہ دکھاتا ہے لیکن رات کو چھپنے کے لئے کونے تلاش کرتا ہے۔ بہرحال وہ معمولی سی حیرانی محسوس کرتی اور اسے بھول جاتی۔ کیونکہ اسے خود فسادیوں کے خلاف غصہ آتا تھا۔ اس لئے کہ وہ ان اصولوں سے منحرف ہو رہے تھے جن کے تحت فوضیہ کو تربیت دی گئی تھی۔ 
پھر وہ فرخ کو کراچی سے ایک ضروری بلاوا آ گیا۔ جانے سے پہلے اس نے فوضیہ کو ہدایات دیں ۔ ’’فزی ان شر پسندوں کی قطعی پروا نہ کرنا۔ یہ ذلیل لوگ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ سمجھیں .... اگر ضرورت پڑے تو پولیس کو فون کر دینا اور اگر بنگلے میں آداخل ہوں ۔ اوّل تو ان کی جرا ¿ت نہیں ہو سکتی، لیکن ایسا ہو ہی جائے تو تم نوکروں کے کوارٹروں میں چلی جانا۔ میں انہیں ہدایات دے جاؤں گا اور چوکیدار اور شوفر یہیں بنگلے میں کونے والے کمرے میں سوئیں گے۔ سمجھیں ڈارلنگ۔ ‘‘
فرخ کے جانے کے بعد اسی رات ہجوم کا شور غوغا سن کر فوضیہ جاگ پڑی اور گھبرا کر اس نے چلانا شروع کر دیا۔ ’’چوکیدار، چوکیدار۔ ‘‘ ہجوم کا شور قریب آتا گیا۔ وہ گھبرا گئی، اس حد تک گھبرا گئی کہ وہ تمام اصول بھول گئی۔ ’’نوازش.... نوازش۔ ‘‘ اس نے پہلی مرتبہ اس کا نام پکارا۔ 
شانوں پر بے پروائی سے کوٹ ڈالے نوازش ایک شان استغنا سے اس کی خواب گاہ میں داخل ہوا۔ ’’نوازش.... نوازش۔ ‘‘ وہ چلانے لگی۔ ’’وہ.... وہ وہ آ رہے ہیں ۔ وہ‘‘ ’’چلاؤ نہیں بیگم صاحبہ۔ ‘‘ اس نے درشتی سے ڈانٹا۔ ’’اگر انہوں نے آواز سن لی تو....‘‘ اس کی ڈانٹ سے وہ بوکھلا گئی۔ لیکن ہجوم کا شور قریب تر آ چکا تھا۔ اس لئے اس کا غصہ ڈر میں تبدیل ہو گیا۔ ’’وہ آ رہے ہیں ۔ وہ آ رہے ہیں ۔ ‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ ’’میں پولیس کو فون کرتی ہوں ۔ ‘‘ وہ ٹیلی فون کی طرف بھاگی۔ نوازس اس ک ا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ ’’چپ کرو بیگم صاحبہ وہ سن لیں گے۔ ‘‘ وہ غرایا۔ اس ساکن نیلی جھیل میں پہلی مرتبہ ایک طوفان ابل آیا۔ گویا ایک بہت بڑی بلونی ساکن نیلے پانی کو بلونے لگی تھی۔ 
غصے میں اس نے جھٹک کر اپنے ہاتھ چھڑا لئے اور ساتھ والی کرسی پر جا بیٹھی۔ نوازش نے ایک شان استغنا سے سگریٹ سلگایا۔ اسے مٹھی میں تھام کر حقے کی طرح دو کش لگائے اور پھر کھلے دروازے میں جا کر کھڑا ہوا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ 
ہجوم سفید بنگلے میں داخل ہو گیا۔ ان کے نعروں سے خواب گاہ میں رکھی ہوئی چیزیں لرزنے لگیں ۔ نوازش کو دروازے میں بے خبری سے دیکھ کر بیگم نے ایک جست عقبی دروازے کی طرف بھری۔ ’’میں نوکروں کے کوارٹروں میں ۔ ‘‘ ابھی اس کے منہ سے پورا جملہ نہ نکلا تھا کہ نوازش نے لپک کر اسے بچے کی طرح اٹھا لیا اور بستر پر دے مارا۔ ’’چپکے سے پڑی رہو بیگم۔ ‘‘ وہ غصے سے بولا....جو ہے کہ جب تک نوازش موجود ہے، کسی میں جرات نہیں ہے کہ....‘‘
نوازش کی اس گرفت نے نہ جانے کیا کر دیا۔ کسی انجانے شعلے سے بھڑک کر انگارے ارے اور پھر سون کر کے پانی میں جا گرے۔ 
بستر پر گرتے ہی وہ نقاہت محسوس کرنے لگی۔ جیسے صدیوں کی بیمار ہو۔ نیلی جھیل کا وہ طوفان ختم ہو چکا تھا۔ اور گویا ایک لاش کنارے پر آ لگی تھی۔ اب اسے خوف و خطر کا کوئی احساس نہیں رہا تھا۔ باہر ہجوم چلا رہا تھا۔ لیکن وہ نوازش کی طرف غور سے دیکھ رہی تھی جیسے وہ ہجوم سینما کے پردے کا ہجوم ہو۔ نوازش اطمینان سے کھڑا سگریٹ پی رہا تھا۔ پھر دفعتاً وہ چلایا۔ ’’ابے او بنگلے سے باہر نکل جاؤ۔ میں کہتا ہوں ، نکل جاؤ۔ کوئی نہیں ہے یہاں ۔ جاؤ۔ ‘‘
ہجوم باہر نکل گیا۔ بنگلے پر موت کی سی خاموشی چھا گئی۔ نوازش نے ایک نیا سگریٹ سلگایا اور پھر فوضیہ کی طرف دیکھے بغیر بولا۔ ’’تم سے جو کہا ہے بیگم کہ جب تک میں یہاں ہوں ، کوئی تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ بے فکر ہو کر سو جاؤ۔ ضرورت ہو تو مجھے بلا لینا۔ کنڈی لگا لو۔ ‘‘ اس کی آواز میں تحکم تھا۔ انداز میں استغنا تھا۔ فوضیہ اس کی بات سن کر یوں کنڈی لگانے کے لئے اٹھی جیسے دفعتاً بیگم سے باندی بن گئی ہو۔ پھر دیر تک وہ چارپائی پر پڑی رہی جیسے پتوار کے بغیر ناؤ ساکن سمندر پر بہے جا رہی ہو۔ 
صبح سویرے جب وہ بے دار ہوئی تو اس کے ارد گرد ایک عجیب لٹا پٹا جہان بکھرا پڑا تھا۔ نیلی جھیل میں ادھر ادھر گڑیا گھر کے ٹکڑے بہہ رہے تھے۔ اصولوں اور قاعدوں کے بت بے جان پڑے تھے۔ تہذیب و تمدن کے دیوتا اوندھے منہ پڑے تھے۔ دیر تک وہ اس ویرانی کو دیکھتی محسوس کرتی رہی۔ پھر دفعتاً اسے یاد آیا کہ وہ فوضیہ ہے اور ایک تہذیب یافتہ سوسائٹی سے تعلق رکھتی ہے۔ خوف ناک عزم سے وہ اٹھ بیٹھی۔ ایک شدید کوشش سے اس نے اپنے ذہن سے اس ویرانے کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا اور شب کے واقعات کو اپنے ذہن کی گہرائیوں میں دفن کر کے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور معاً وہی گڑیا گھر اس کے ارد گرد معلق ہو گیا۔ اصولوں کے بت پھر سے قائم ہو گئے۔ تہذیب و تمدن کے دیوتا مسکرانے لگے۔ 
فرخ کی واپسی پر فوضیہ کو یاد بھی نہ تھا کہ اس شب کیا واقعہ ہوا تھا۔ اس لئے فرخ کو بتانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ باقی رہا نوازش.... لیکن وہ کسی نوازش کو نہیں جانتی تھی۔ البتہ وہ شوفر.... مگر اب اسے موٹر میں بیٹھنے سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ پھر شوفر کون.... کیسا شوفر....؟
چھ ماہ گزر گئے۔ اصول اور قاعدوں کے بت اپنی اپنی جگہوں پر براجمان رہے جیسے کبھی گرے ہی نہ ہوں ۔ تمدن کے دیوتا کی روغنی مسکراہٹیں اور بھی دل آویز ہو گئیں ۔ جیسے وہ کبھی دھندلی پڑی ہی نہ ہوں ۔ کلدار گڈا دروازے کھولتا رہا، معصوم گڑیا خوب صورت اور ساکن نیلی جھیل میں رنگ دار مچھلی کی طرح تیرتی رہی۔ چھ ماہ گزر گئے۔ 
پھر ایک روز فرخ نے آ کر فوضیہ سے کہا۔ ’’ہم کراچی جا رہے ہیں ۔ تم ساتھ چلو گی ڈارلنگ۔ ہم کل میل میں روانہ ہوں گے۔ شوفر کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ ‘‘ فرخ کا آخری جملہ فوضیہ نے سنا۔ وہ اسے سننا چاہتی نہ تھی۔ 
اگلے روز وہ اس میل میں سوار ہو گئے جسے جھمپر پر اس تباہ کن حادثے سے دوچار ہونا تھا۔ سیکنڈ کلاس کے چھوٹے ڈبے میں سارا دن کلدار گڈے کی نگاہیں گڑیا کے گرد گھومتی رہیں اور روغنی گڑیا کا تبسم چلتا رہا۔ پھر وہ لیٹ گئے۔ سیکنڈ کلاس کے سپرنگ انہیں تھپکنے لگے۔ دفعتاً ایک خوفناک دھماکہ ہوا۔ وہ جاگ پڑی۔ سامنے سرخ شعلے لپک رہے تھے۔ ان شعلوں نے فرخ کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس کا چہرہ موت کی گرفت میں بھیانک ہو رہا تھا۔ فوضیہ نے کوشش کی کہ وہ چیخ مار کر جاگ پڑے۔ وہ اسے خوب سمجھتی تھی۔ مگر اس کے حلق میں گویا آواز نہ تھی۔ شعلے تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پھر دفعتاً دھڑام سے گاڑی کا دروازہ کھل گیا اور نوازش اس کی طرف لپکا۔ ’’نوازش....‘‘ اس نے چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئی۔ 
چھ ماہ بعد وہ پہلا دن تھا جب اس نے نوازش کو دیکھا تھا۔ نوازش نے اسے اٹھا لیا اور دیوانہ وار بھاگا۔ جب اسے ہوش آیا تو نوازش مونچھ مروڑتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔ ’’تم فکر نہ کرو بیگم۔ جب تک میں تمہارے پاس ہوں ....‘‘ وہ پھر بے ہوش ہو گئی۔ دوسری دفعہ جب اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی اور نوازش دروازے میں نرس کے پاس کھڑا مونچھ مروڑ رہا تھا۔ 
ماں ، بھائی، بہن اور نرس کی موجودگی کے باوجود اب وہ اکیلی اس سفید بنگلے میں سارا دن بستر پر پڑی رہتی ہے۔ سارا دن وہ گڑیا گھر اس کے گرد قائم رہتا ہے۔ اصولوں اور قاعدوں کے بت بے بسی سے اس کی طرف یوں دیکھتے ہیں ، گویا منتیں کر رہے ہوں ۔ تہذیب و تمدن کے دیوتا انگلیاں اٹھائے اسے خبردار کرتے رہتے ہیں ۔ مگر جب رات پڑتی ہے تو وہ چیخ کر بھاگ اٹھتی ہے۔ اس کی نگاہوں تلے ایک لٹا پٹا جہان بکھرا ہوتا ہے۔ گڑیا گھر کے ٹکڑے نیلی جھیل کے خوفناک طوفان میں ایک دوسرے سے ٹکرا کر بجتے ہیں ۔ اصولوں اور قاعدوں کے بت اوندھے پڑے ہوتے ہیں اور تہذیب و تمدن کے دیوتا شرم سے منہ ڈھانپ لیتے ہیں اور وہ چیخ مار کر پکارتی ہے۔ ’’نوازش....نوازش۔ ‘‘ اس کی پکار سن کر بڑی بیگم کا دل ڈوب جاتا ہے اور وہ محسوس کرتی ہے جیسے سفید بنگلہ محل کے محرابوں سے گر کر غلام گردش میں آ پڑا ہو اور آسیہ گھبرا کر آنکھ بند کر لیتی ہے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے گڑیا گھر جوں کا توں قائم ہو۔ 
٭٭٭


٭٭٭
اردو نگری اور دوسری ویب سائٹس سے ماخوذ
http://www.urdunagri.com/controller.php?action=Auther_List&nId=3
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
