﻿


گلدستۂ تحریر



کَنگ فُو زِی
(کنفیوشس)

ترجمہ یونس خان


تشکر: فیوچرسٹک ای۔بک پبلشرز

The Analects Translation Written by Confucius




تتلی اور تارڑ کے نام


تتلی: جو میں بھی ہو سکتا ہوں اور آپ بھی
تارڑ:جناب مستنصر حسین تارڑ







پہلا باب


"ہزاؤ آر"
تعلیم کے متعلق۔۔۔ متفرق اقوال

  ۱-۱ آقا نے فرمایا
 ’’ مستقل مزاجی سے علم حاصل کیا جائے او ر پھراس پر عمل بھی کیا جائے،کیا یہ خوش کن نہیں ہے؟
دور دراز سے دوست ملنے آئیں ،کیا یہ مسرت بخش نہیں ہے؟ 
 لوگ اُس کی قدر کریں یا نہ   کریں وہ بےچینی محسوس نہ کرے ، کیا وہ اعلیٰ انسان  نہیں ہے ؟ ‘‘

 ۱-۲ آقا کے شاگرد یو تزوؔ نے کہا
 ’’ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کسی شخص میں برخوردارانہ تابعداری بھی ہو اور برادرانہ محبت بھی اور وہ حکمرانوں کو ٹھیس پہنچانے کی طرف بھی مائل ہو۔
ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حکمران بغاوت کر دیں اور وہ مخالفت نہ کرے۔
اعلیٰ انسان بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔ جب بنیادیں مضبوط ہو جاتی ہیں تو پھر راستہ قائم ہوتا ہے۔
کیا بڑوں سے برخوردارانہ تابعداری اور برادرانہ محبت ،خیر خواہی کی بنیادیں نہیں ہیں؟‘‘

 ۱-۳  آقا نے فرمایا
’’ چالاکی اور پُر تصنع انداز میں کی گئی گفتگو کبھی ہی خیر خواہ کے لئے موزوں ہوتی ہے۔‘‘

۱-۴  آقا کے شاگرد تسینگ تزوؔ  نے کہا
’’ میں ہر روز تین نقاط پر اپنی پڑتال کرتا ہوں۔
• جن کے لئے میں کام کرتا ہوں، کیا میں ان کے لئے وفادار ہوں یا نہیں۔
• کیا اپنے برتاؤ میں ،مَیں اپنے دوستوں کے لئے قابلِ اعتبار ہوں یا نہیں۔
• گرو نے جو مجھے عطا کیا ہے ،کیا اس پر میں عمل کرتا ہوں یا نہیں۔‘‘

 ۱-۵  آقا نے فرمایا
’’ ایک ہزار رَتھوں کے ملک پر حکومت کرنے کے لئے عہدے کا پاس کریں اور قابل اعتماد بنیں۔
لوگوں سے محبت کریں اور وسائل کا استعمال کفایت سے کریں۔
لوگوں کو بروقت روزگار مہیا کریں۔‘‘

 ۱-۶ آقا نے فرمایا
’’ جوانوں کو گھر میں بزرگوں کا ادب فرزندانہ طریقے سے اور گھر سے باہر بڑوں کا احترام برادرانہ طریقے سے کرنا چاہے۔
 انھیں قابلِ اعتبار اور زیرک ہو نا چاہے۔ 
انھیں سب کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہے اور خیر خواہوں کے قریب ہو نا چاہے۔
اس کے بعد اُنہیں بقیہ توانائی کو ادبی علوم سیکھنے میں صرف کرنا چاہے۔‘‘

 ۱-۷ آقا کے شاگرد تزو ہسیہؔ نے کہا
 ’’ اگر کوئی شخص خوبصورتی کی بجائے خوبی کی تعظیم کرتا ہے ،
وہ تمام طاقت کو والدین کی خدمت کے لئے وقف کرتا ہے ،
 بادشاہ کی خدمت کرتے ہوئے جان دینے کا خواہاں رہتا ہے ، 
دوستوں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے خیر خواہی سے بات کرتا ہے ؛
اگر چہ لوگ اسے بے علم ہی کیوں نہ کہیں  میں تو اسے علم والا ہی کہوں گا۔‘‘

۱-۸ آقا نے فرمایا
’’ وفاداری کے بغیر، نہ زی وقار عزت کا مستحق ہو گا اور نہ ہی اس کی علمیت قابلِ اعتماد ہو گی۔
 وفاداری اور قابلِ اعتبار ہونے کی وکالت کرنے میں اس کا کوئی ایسادوست نہیں ہونا چاہے جو اس کے برابر نہ ہو۔ 
اپنی غلطی کی تصحیح کرنے میں بالکل ہچکچاہٹ محسوس نہ کرنا چاہئے ۔‘‘

۱-۹ تسینگ تزو نے کہا
 ’’ سوگ میں ہوش مند رہنے اور جو پہلے وفات پا چکے ہیں ان کو یاد کرنے سے لوگ اپنی نیکی میں اضافہ کرتے ہیں۔‘‘

۱۰-۱ آقا کے شاگردتزو چِنؔ  نے تزو کنگؔ ( کنفیوشس) سے پوچھا
 ’’ جب ہمارے آقا (کنفیوشس) دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں  تو وہاں کی حکومت کے متعلق تمام باتیں جاننے میں ناکام نہیں ہوتے۔  کیا یہ تمام معلومات آپ پوچھ کر حاصل کرتے ہیں یا آپ کو مہیا کی جاتی ہیں؟‘‘
تزوکنگؔ  نے کہا 
’’ تمہارے آقا نرمی سے، ہمدردی سے ، خوش خلقی سے، انکساری سے اور بڑوں کا ادب کرنے سے سیکھتے ہیں۔تمہارے آقا کی چھان بین دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔‘‘

 ۱-۱۱ آقا نے فرمایا
’’ یہ دیکھیں کہ کسی بھی شخص کا باپ جب زندہ تھا تو اس کی خواہشیں کیا تھیں اور جب اس کا باپ وفات پا گیا تو اس کا رویہ کیسا تھا۔  اگر اس نے تین سال بعد بھی اپنے باپ کے نقشِ قدم کو نہیں چھوڑا تو اسے فرزندانہ تابعداری سمجھا جائے گا۔‘‘

۱-۱۲ آقا کے شاگرد  ےیو تزوؔ نے کہا 
’’ دستوری طریقوں پر عمل کرنے کی قیمت ہم آہنگی ہے۔ 
پچھلے دور کے حکمرانوں کے مرتب کردہ ضابطوں پر عمل کر کے چھوٹے اور بڑے معاملات کو حل کرنا ہی ایک اچھی خوبی ہے۔ لیکن ہر وقت ایسا کرنا درست نہیں ۔ 
جب آسانی کی خاطر ، روایات کے خلاف، ایسا کیا جائے تو یہ قابلِ قبول نہیں ۔‘‘

۱-۱۳ آقا کے شاگرد یو تزوؔ نے کہا 
’’ جب قابل اعتبار ہونا ، پارسائی کی تکمیل کرے تو جو کہا جاتا ہے اس پر عمل ہوتا ہے ۔ 
جب شائستگی روایت کی تکمیل کرتی ہے تو پھر شرم ساری اور بے عزتی دور رہتی ہے۔
جو شخص ان اصولوں سے ہم آہنگ رہتا ہے اور اپنے باپ کے راستے کو نہیں چھوڑتا وہی صحیح طور پر عزت کا حقدار ہوتا ہے۔‘‘
۱-۱۴  آقا نے فرمایا 
’’اچھے انسان کو اپنی بھوک مٹانے کے لئے سیر ہو کر کھانا نہیں کھانا چاہیے۔
 اپنے مسکن میں آسائشیں مہیا نہیں کرنی چاہیں ۔
لین دین میں جلدی کرنی چاہے اور اپنی گفتگو میں محتاط رہنا چاہے۔
 جو شخص اپنا زیادہ تر وقت با اصول لوگوں کی رفاقت میں گزارتا ہے اور وہاں وہ اپنی غلطیوں کو درست کرتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی علم حاصل کرنے کے لیئے وقف کر دی ہے۔‘‘

۱-۱۵ آقا کے شاگرد تزو کنگؔ  نے آقا سےپوچھا
’’ آپ اس شخص کے متعلق کیا رائے دیں گے جو غربت کے باوجود خوشامد کر کے جھانسا نہیں دیتا ۔
 اس امیر آدمی کے متعلق کیا کہیں گے جو ابھی تک متکبر نہیں ہوا؟‘‘
 آقا نے فرمایا
’’ یہ کافی ہے لیکن وہ ان کے برابر نہیں ہے ،جو غریب ہونے کے باوجود خوش ہے اور وہ جو امیر ہے لیکن ابھی ضابطوں سے جڑا ہوا ہے۔
 تزو کنگؔ  نے کہا
’’ ’ شاعری کی کتاب‘، شی جِنگؔ ،میں لکھا ہے 
"جیسے آپ ہڈی کاٹتے ہو، جیسے آپ سینگ چمکاتے ہو،جیسے آپ نیلم کو تراشتے ہو،جیسے آپ پتھر کو سان پر چڑھاتے ہو۔"
کیا آپ کا یہ مطلب ہے ؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ تو سُوؔ  اب میں تمہارے ساتھ’شاعری کی کتاب‘   پر بات کرتا ہوں۔جو کچھ میں نے کہا ہے وہ  ‘شاعری کی کتاب‘ سے لیا  گیا ہے۔تم اس سے اخذ کر سکتے ہو کہ کیا آنے والا ہے۔‘‘

۱-۱۶ آقا نے فرمایا
’’ اُن کی فکر مت کرو جو آپ کی قدر نہیں کرتے، اُن کی فکر کرو جو دوسروں کی قدر نہیں کرتے۔‘‘
٭٭


دُوسرا باب


‘وؤئی چانگ‘
اچھی حکمرانی۔۔۔برخوردارانہ تابعداری۔۔۔اعلیٰ انسان

  ۲-۱ آقا نے فرمایا
 ’’ جو شخص اپنی پارسائی کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت کرتا ہے، اس کا موازنہ قطبی ستارے سے کیا جا سکتا ہے، 
جو خود تو اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے ، جب کہ ستارے اس کے گرد تعظیماً طواف کرتے رہتے ہیں۔‘‘

۲۔۲ آقا نے فرمایا
’’ شاعری کی بیاض کے تین سو شعروں کو ایک فقرے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے ،
’لُو سنگ، چِی اَنگ‘،
 برائی کا مت سوچو۔‘‘

۲-۳  آقا نے فرمایا
’’ راہنمائی کرو ضابطوں کے مطابق ، نظم و ضبط قائم کرو سزا کے ساتھ۔ لوگ حد میں رہیں گے لیکن انھیں شرم کا احساس نہیں ہو گا۔
 راہنمائی کرو نیکی کے ساتھ، نظم و ضبط قائم کرو دستور کے ساتھ۔دیانتدارانہ اصلاح بھی ہو گی اور شرم کا احساس بھی رہے گا۔‘‘

۲-۴  آقا نے فرمایا
’’ پندرہ سال کی عمر میں، علم حاصل کرنا میری آرزو تھی۔  پچاس سال کی عمر میں،مَیں اپنا مقدر جانتا تھا۔
ساٹھ سال کی عمر میں، میرا کان فرماں برداری سے سچائی سننے کے لئے تیار تھا۔  ستر سال کی عمر میں، میں دل کی آواز پر،بغیر غلطی کئے، عمل کر سکتا تھا۔‘‘

۲-۵ سرکاری عہدہ دار مینگ یی تزوؔ نے’ برخوردارانہ ادب ‘ کے متعلق پوچھا 
آقا نے فرمایا
’’کبھی نافرمانی نہ کرو۔‘‘
منگ یی تزوؔ  نے کہا
’’ جیسے فان چی آہیؔ آقا کی گاڑی چلاتا ہے۔‘‘
آقا نے فرمایا
’’ مینگ سَنؔ نے  برخوردارانہ ادب کے متعلق پوچھا اور میں نے کہا  ’نافرمانی کیئے بغیر‘۔‘‘
  فان چی آہیؔ نے پوچھا
’’آپ کا کیا مطلب ہے؟‘‘ آقا نے فرمایا
’’ والدین کی زندگی میں ،ان کی خدمت کرو ،دستور کے مطابق۔جب وہ وفات پا جائیں ، انھیں دفن کرو ،ریت کے مطابق اور ان کے لئے خیرات کرو معقولیت کے ساتھ۔‘‘

۲-۶ حکومتی کارندے مینگ وُو پَوؔ نے ’برخوردارانہ ادب‘ کے متعلق پوچھا
 آقا نے فرمایا
’’ جب بچے بیمار ہو جاتے ہیں تو والدین پریشان ہوتے ہیں۔‘‘

 ۲-۷ آقا کے شاگرد تزو یوؔ نے ’برخوردارانہ ادب ‘کے متعلق پوچھا 
آقا نے فرمایا
’’ آج کل برخوردارانہ ادب کا مطلب ہے والدین کے لیئے خوراک کا بندوبست کرنا۔لیکن ایسا تو ہر شخص اپنے کتوں اور گھوڑوں کے لئے بھی کرتا ہے ۔ بغیر احترام کے اگر ایسا کیا جائے تو پھر کیا فرق رہ جاتا ہے ؟‘‘

 ۲-۸ تزو ہسیہؔ نے بھی وہی سوال دہرایا تو آقا نے فرمایا
’’بہ نظرِ استحسا ن دیکھنا ہی ناقابلِ بیان ہے۔  بچوں کو کام کا بوجھ برداشت کرنا چاہیے۔
 بڑوں کا ،کھانے اور پینے سے لطف اندوز ہونا ہی ،پہلا چناؤ ہونا چاہیے۔کیا اسے برخوردارانہ ادب کہا جا سکتا ہے ؟‘‘

 ۲-۹ آقا نے فرمایا
’’میں نے تمام دن ہوئیؔ سے بات چیت کی۔
وہ اتنا کم عقل ہے کہ اس نے کہیں بھی میرے ساتھ اختلاف نہیں کیا۔  جب میں نے اپنی رفاقت ختم کی تو اس کے طرز عمل پر میرا بہت زیادہ اثر تھا۔ میں نے اُسے بہت زیادہ پر جوش پایا۔  ہوئی ؔ   کم عقل بالکل بھی نہیں ہے۔‘‘

 ۲-۱۰ آقا نے فرمایا
’’ اس کے مقاصد پر غور کریں،جن باتوں پر وہ انحصار کرتا ہے اس کی تفتیش کریں،غور کریں کہ وہ کس حد تک آسانی میں ہے۔ کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح چھپاسکتا ہے ، کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح چھپاسکتا ہے!‘‘

۲-۱۱ آقا نے فرمایا
’’ اگر کوئی شخص اپنے پرانے علم کی کھوج اور نئے علم کی تلاش جاری رکھے تو ایسے شخص کو دوسروں کا استاد ہونا چاہیے۔ ‘‘

۲-۱۲ آقا نے فرمایا
’’’اعلیٰ انسان‘ برتن نہیں ہوتا‘‘

۲-۱۳ آقا کے شاگرد تزو کنگؔ نے ’اعلیٰ انسان ‘ کے متعلق دریافت کیا تو آقا نے فرمایا
’’اعلیٰ انسان لفاظی کی بجائے ،عمل میں سبقت رکھتا ہے ۔‘‘

۲-۱۴ آقا نے فرمایا
’’ ’اعلیٰ انسان‘ ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے اور وہ جانب دار نہیں ہوتا۔ ادنیٰ انسان جانب دار ہوتا ہے اور وہ ہر چیز کا احاطہ نہیں کرتا۔‘‘

 ۲-۱۵آقا نے فرمایا
’’فِکر کے بغیر علم ،بےکار مشقت ، علم کے بغیر فِکر دشتِ ویراں۔‘‘

۲-۱۶  آقا نے فرمایا
’’ بدیسی عقائد کی تعلیم یقیناً ضرر رساں ہوتی ہے۔‘‘

۲-۱۷  آقا نے فرمایا
’’ یوُؔ، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ علم کیا ہوتا ہے ؟
جب آپ کسی چیز کے متعلق جانتے ہیں تو آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ جانتے ہیں،  جب آپ کسی چیز کے متعلق نہیں جانتے تو آپ کو تسلیم کرنا چاہیے کہ آپ نہیں جانتے؛ یہی علم ہے۔‘‘

۲-۱۷ آقا کا شاگرد تزو چانگؔ جاننا چاہتا تھا کہ وہ حکومتی کارندے کے طور پر کیا مشاہرہ حاصل کرے
آقا نے فرمایا
’’ کشادگی سے سنیں اور شکوک کو ترک کر دیں۔باقی معاملات میں ہوشیاری سے بات کریں ، کم سے کم الزامات لگیں گے۔ مشاہدہ فراوانی سے کریں اور تنہائی کو ایک طرف چھوڑ دیں۔ باقی معاملات میں کام چوکسی سے کریں، ندامت کم ہوگی۔  جو  کہا جائے گا، ا س کے متعلق کم از کم الزامات لگیں گے۔ اور جو کیا جائے گا،اس کے متعلق کم از کم ندامت ہو گی۔ یہی ایک سرکاری کارندے کا مشاہرہ ہے۔‘‘

۲-۱۹ نواب آئیؔ  نے پوچھا
’’ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟‘‘
آقا نے فرمایا 
’’بے ایمان لوگوں پر ایماندار شخص کو لگا دیں، لوگ آپ کی حمایت کریں گے۔ ایماندار لوگوں پر بے ایمان لگا دیں، لوگ آپ کی حمایت نہیں کریں گے۔‘‘

۲-۲۰ سرکاری کارندے چی کانگ تزوؔ نے پوچھا
’’ لوگوں کو کیسے مائل کیا جائے کہ وہ بادشاہ کا احترام کریں،اس کے وفادار رہیں اور ہر وقت نیکی کرنے کے طرف مائل رہیں۔‘‘

۲-۲۱  کسی نے آقا سے پوچھا 
’’ آپ کے پاس کوئی سرکاری عہدہ کیوں نہیں ہے ؟‘‘
آقا نے فرمایا 
’’ ’تاریخ کی کتاب‘ میں لکھا ہے ’برخوردارانہ ادب‘ اہم ہے اور’ تمام بھائی دوست ہیں‘۔ اس چیز کا احساس ہونا ہی سرکاری عہدے پر ہونا ہے۔
 تو پھرسرکاری عہدہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ اگر وہ متانت سے سربراہی کرے گا تو لوگ اس کی عزت کریں گے ۔ اگر وہ سب کے ساتھ برخوردارانہ احترام اور رحم دلی سے پیش آئے گا تو لوگ اس کے وفادار رہیں گے۔جو نااہل ہیں انہیں اہل بنا دو اور جو اہل ہیں انہیں ترقی دے دو، لوگ نیکو کار رہیں گے۔‘‘

۲-۲۲ آقا نے فرمایا
’’ میں نہیں  جانتا کہ اگر کوئی شخص قابل اعتبار نہیں ہے تو وہ کیا حاصل کر سکتا ہے۔ ایک چھکڑا ،چھوٹا ہو یا بڑا، جوئے کی رسی کے بغیر کیسے حرکت کر سکتا ہے؟‘‘ 

 ۲-۲۳ آقا کے شاگرد تزو چانگؔ نے پوچھا
’’ کیا یہ جانا جا سکتا ہے کہ دس نسلوں کے بعد کیا ہو گا؟‘‘
آقا نے فرمایا 
’’شاہ ینؔ  کو ہسیؔہ کا دستور وراثت میں ملا۔یہ جانا جا سکتا ہے کہ اُس میں سے کیا لیا گیا اور اُس میں کیا اضافہ کیا گیا ۔
 چُوؔ  کو یِؔن کا دستور وراثت میں ملا۔اُس میں کیا کمی یا کیا اضافہ کیا گیا، یہ بھی جانا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ آنے والی سو نسلوں کے بعد بھی جانا جا سکتا ہے کہ کسی دوسرے نے کس حد تک چو ُؔ کے اصولوں کو اپنایا ہے۔‘‘

۲-۲۴ آقا نے فرمایا
’’ اگر وہ ایسی قربانی کی رسمیں کرتا ہے جس کا اس کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو یہ ایسی خوشامد ہے جو بے قدر کرتی ہے ۔ یہ جاننے کے لئے کہ کیا صحیح ہے اور کیا نہیں کرنا چاہیے اس کے لئے دلیری چاہیے۔‘‘
٭٭٭


تیسرا باب


’’پایہ‘‘
رسموں اور موسیقی کا ناموزوں استعمال


۳-۱ آقا نے ، سرکاری کارندے، چِیؔ ، سے پوچھا  کہ جہاں بادشاہ کے آبائی مزار میں ، استحقاق کے مطابق، خاموشی سے اشاروں میں رقص کرنے والے، آٹھ آٹھ رقاصوں کی آٹھ قطاریں تھیں:’’ اگر اسے مان لیا جائے تو پھر کیا ہے جسے نہ مانا جائے!‘‘ 

۳-۲ اشرافیہ کے ،تینوں خاندان،بادشاہ کا قصیدہ ، ’ینگ‘ ، پڑھ رہے تھے اور قربانی کی رسموں کے ختم ہو نے کے بعد برتن اٹھائے جا رہے تھے 
آقا نے فرمایا 
’’ قربانی کی رسمیں مذہبی جوش و خروش سے ادا کی  گئیں جس  میں سرداروں ، نوابوں اور نسلِ عالمِ قدوس (بادشاہ) نے شرکت کی۔ تین خاندانوں کے آبائی آستانے پر ادا کی گئی اس کاوش سے کیا اخذ کیا جا سکتا ہے؟‘‘

۳-۳ آقا نے فرمایا 
’’ اگر کسی شخص میں انسانوں کے لئے خیر خواہی نہیں ہے تو پھر ان رسموں کا فائدہ؟
ا گر کسی شخص میں انسانوں کے لئے خیر خواہی نہیں ہے تو پھر رسموں کے دوران بجائی جانے والی اس موسیقی کا فائدہ؟‘‘

 ۳-۴ آقا کے ایک مبینہ شاگرد لِنگ فینگؔ نے پوچھا
’’ وہ کون سی چیز ہے کہ جس پر (مذہبی) رسموں کے دوران سب سے پہلے توجہ د ی جانی چاہیے۔‘‘
 آقا نے فرمایا
’’ یقیناً ایک بہت اچھا سوال ہے۔ جہاں تک رسموں کا تعلق ہے خوشی کے موقع پر فضول خرچی کی بجائے میانہ روی اختیار کرنی چاہیے،سوگ کے موقع پر رونے کی بجائے رسموں کی طرف توجہ د ی جانی چاہیے۔"

۳-۵ آقا نے فرمایا
’’ شمال اور مشرق کی غیر متمدن ریاستوں’یِی‘ اور ’ٹِی‘، کے سردارہیں جبکہ ہماری عظیم دھرتی،’ ہسیؔہ‘، میں کوئی سردار نہیں ہے۔‘‘

۳-۶ چائیؔ  خاندان کا سربراہ مقدس پہاڑ ،’ تائی شان‘، کی یاترا کر رہا تھا
آقا نے زان یُوؔ سے کہا 
’’ آپ انھیں اس مشقت سے روک نہیں سکتے!‘‘ 
اُس نے جواب دیا  ’’نہیں‘‘
 آقا نے افسوس سے کہا
’’کیا مقدس پہاڑ،’تائی شان‘، کو پہاڑ کے دیوتا، ’لنگ فینگ‘، کے برابر قیاس نہیں کیا جا سکتا؟‘‘

۳-۷  آقا نے فرمایا 
’’ اعلیٰ انسان کو ماسوا تیر اندازی کے کوئی مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ تیر اندازوں کو دونوں ہاتھ باندھ کر ایک دوسرے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔مقابلے کے بعد انہیں ایک دوسرے کو مشروب پیش کرنا چاہیے۔ مقابلہ شرافت کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘‘

۳-۸ تزو ہسیہؔ نے پوچھا
’خوبصورت مسکراہٹ گال پر گڑھا ڈالتی ہے،دلکش آنکھیں دمکتی ہیں، ہموار زمین سے رنگ پھوٹتے ہیں‘
 کا کیا مطلب ہے   ‘‘
آقا نے فرمایا 
’’تصویر بنانے سے پہلے سطح ہموار کی جاتی ہے پھر رنگ بھرا جاتا ہے۔‘‘
تزو ہسیہؔ نے کہا 
’’ جیسے رسمیں بعد میں آتی ہیں۔۔۔‘‘
آقا نے فرمایا
’’ ’شانگ‘، مجھے ترغیب مل رہی ہے کہ تمہارے ساتھ میں ’شاعری کی کتاب‘ پر بات کروں۔‘‘

۳-۹ آقا نے فرمایا
’’میں ہسیہؔ خاندان ( ۱۶۰۰ تا ۲۱۰۰ ق م )کے متعلق گفتگو کرنا چاہتا ہوں،
لیکن چائیؔ  خاندان (۱۱۰۰ تا ۲۲۱ ق م ) اتنا اہم نہیں ہے کہ اس کا حوالہ دیا جائے۔ 
میں یِنؔ خاندان ( ۱۶۰۰ تا ۱۱۰۰ ق م )کے متعلق گفتگو کرنا چاہوں گا، لیکن شنگؔ خاندان اتنا اہم نہیں ہے کہ اس کے متعلق بات کی جائے۔ 
چائیؔ  اور سنگؔ  خاندان کے دانشور اور اس دور کی تاریخ اس قابل نہیں ہے کہ ان کاذکر کیا جائے۔اگر وہ اس قابل ہیں کہ ان کا ذکر کیا جائے تو میں ان کا حوالہ ضرور دوں گا۔"

۳-۱۰ آقا نے فر مایا 
میں نہیں دیکھنا چاہتا کہ عظیم قربانی ، ٹِی ،کی رسوم کی ادائیگی کے موقع پر،خاص شراب، کوآنؔ کے بعد کیا آتا ہے۔‘‘

۳-۱۱  کسی نے عظیم قربانی ، ٹِی ، کی ادائیگی کے موقع پر آقا کی دی گئی رائے کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ 
آقا نے فرمایا
’’ میں نہیں جانتا۔ لیکن آسمان کے نیچے بہت سارے لوگ اس کے معنی جانتے ہیں۔
 اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا
’’جو اس کے معنی جانتے ہیں ان کے لئے حکومت کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ ہاتھ کی ہتھیلی کی طرف دیکھنا۔‘‘

۳-۱۲  آقا نے فرمایا
’’مرحومین کے لئے کی گئی قربانی کا مطلب ہے کہ یہ محسوس کیا جائے کہ وہ یہاں موجود ہیں۔ دیوتاؤں کے لئے کی گئی مذہبی قربانی کا مطلب ہے کہ یہ محسوس کیا جائے وہ یہاں موجود ہیں۔‘‘
آقا نے فرمایا
’’ اگر میں نے اُن کی موجودگی کو محسوس نہیں کیا تو یہ ایسے ہی ہے کہ میں نے قربانی نہیں دی ۔‘‘

۳-۱۳ ریاست ووئیؔ کے نمائندے وانگ سن چیاؔ  نے آقا سے پوچھا 
’’ اس کا کیا مطلب ہے کہ اندھیرے گوشے کی بجائے باورچی خانے کے دیوتا کی تواضع کی جائے؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ یہ اس طرح نہیں ہے۔ عالم قدوس کی دلگیری کرنے کے بعد کہیں بھی عبادت نہیں کی جا سکتی۔‘‘

 ۳-۱۴ آقا نے فرمایا
’’ چُو خاندان (۱۱۰۰تا ۲۲۱ ق م )کے وارث دو خاندان، ہسیہؔ اور یِن شانگؔ ، ہیں۔چُوؔ  کے ضابطے کتنے مکمل اور کتنے خوشنما ہیں۔میں ان کی اتباع کرتا ہوں۔‘‘

۳-۱۵ عظیم معبد میں داخل ہوتے ہوئے آقا نے معبد میں ادا کی جانے والی رسموں کے متعلق بتایا
کسی نے پوچھا’’ کون کہتا ہے کہ تزو ؔ کا یہ جوان آدمی ( کنفیوشس) رسموں کو نہیں جانتا ؟ 
 وہ عظیم معبد میں داخل ہوئے اور انہوں نے تمام تفصیلات بیان کیں۔‘‘
یہ سننے کے بعد آقا نے فرمایا
’’ یہی معبد کے ضابطے ہیں۔‘‘

۳-۱۶ آقا نے فرمایا 
’’ چونکہ تیر اندازوں کی طاقت ایک جیسی نہیں ہوتی اس لئے فنِ تیر اندازی میں، چمڑے میں لگائے گئے نشانے سے،پیداہونے والے سوراخ کا بغور مطالعہ نہیں کیا جاتا۔ یہی پرانا اصول ہے۔‘‘

۳-۱۷ آقا کے شاگرد تزو چنگؔ کی ہر قمری مہینے کے آغاز پر ایک زندہ بھیڑ کی قربانی دینے کی خواہش پر آقا نے فرمایا 
’’ تزوؔ  تمہارے نزدیک بھیڑ اہم ہے جب کہ میرے نزدیک قربانی اہم ہے۔‘‘

۳-۱۸  آقا نے فرمایا 
’’ بادشاہ کی خدمت کرتے ہوئے رسموں کے ساتھ مکمل طور پر جڑے رہنا چاہیے اگرچہ لوگ اسے خوشامد ہی کیوں نہ سمجھیں۔‘‘

۳-۱۹ سردار ٹنگؔ  نے پوچھا
’’ بادشاہ کو اپنے وزیروں کا چناؤ کیسے کرنا چاہیے اور وزیروں کو اپنے بادشاہ کی خدمت کیسے کرنی چاہیے؟‘‘ 
آقا نے جواب دیا 
’’ بادشاہ کو اپنے وزیروں کا چناؤ ضابطوں کے مطابق کرنا چاہیے اور وزیروں کو وفاداری کے ساتھ بادشاہ کی خدمت کرنی چاہیے۔‘‘

۳-۲۰ آقا نے فرمایا
’’ کوَان سوئیؔ  ( قصیدے کا ایک بند)، خوشی کا اظہار کرو لیکن عیاشی نہ کرو ،غم مناؤ لیکن بہت زیادہ دکھی نہ ہوں۔‘‘

۳-۲۱ سردار آئیؔ  نے آقا کے شاگرد تزائی وُوؔ  سے، رب الارض ، ’شِی‘ کی قربان گاہ کے متعلق پوچھا
تزائی وُوؔ  نے جواب دیا
’’ ہسیہؔ  ،نے صنوبر کی لکڑی استعمال کی، یِنؔ  ،نے شمشاد کی لکڑی استعمال کی اورچُو ؔ ، نے شاہ بلوط کی لکڑی استعمال کی، جب کہ شاہ بلوط کا مطلب یہ بھی ہے کہ دل میں قطرہ قطرہ خوف بیٹھے۔‘‘
یہ سننے کے بعد آقا نے فرمایا
’’ جو ہو چکا ، اس کے متعلق بات کرنا فضول ؛ جو جاری ہے، اس پر احتجاج کرنا فضول ؛ جو گزر گیا ،اس کی ملامت کرنا فضول ۔"

 ۳-۲۲ آقا نے فرمایا 
’’ عہدہ دارکوَان چنگؔ  چھوٹے ذہن کا مالک تھا۔‘‘
کسی نے پوچھا 
’’ کیا کوَان چنگ کفایت شعار نہیں تھا ؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ کوَان کے تین گھر تھے۔جن کے لئے مختلف خدمت گاروں کو مختلف ذمہ داریاں تفویض کی گئی تھیں۔‘‘
’’کیا اس کو کفایت شعاری کہا جا سکتا ہے؟‘‘
’’ کیا کوَان چنگ ضابطوں کو نہیں جانتا تھا؟‘‘
آقا نے فرمایا 
’’ بادشاہوں کے دروازوں پر لکڑی کے پردے ہوتے تھے ۔ کوَوانؔ کے دروازے پر بھی لکڑی کے پردے تھے۔خیر سگالی کی محفلوں میں بادشاہوں کے سامنے جام اوندھے رکھنے کے لئے اڈا ہو تا تھا کوانؔ کے سامنے بھی جام اوندھے رکھنے کے لئے اڈا تھا۔ اگر کوان ضابطے جانتا تھا تو پھر کون ہے جو ضابطے نہیں جانتا؟‘‘

۳-۲۳ ریاست لُوؔ  کی موسیقی کے ایک بڑے استاد سے موسیقی پر بات کرتے ہوئے آقا نے فرمایا 
’’ موسیقی کی قدر کی جانی چاہیے۔ موسیقی کے آغاز پر تمام آلات کو اکھٹے ملا کر جنبش دی جانی چاہیے۔ جیسے جیسے موسیقی آگے بڑھے، اسے واضع اور ہم آہنگ ہونا چاہیے اور اختتام تک اس کا تسلسل نہیں  ٹوٹنا چاہیے ۔‘‘

۳-۲۴ سرحدی علاقے کے داروغہ نے آقا سے تعارف کی درخواست کرتے ہوئے کہا 
’’ میں اس راستے سے گزرے والے ہر ’اعلیٰ انسان‘ سے ملاقات کرنا نہیں بھولتا۔‘‘
آقا کے ایک  شاگرد نے آپ کا تعارف کرایا اور کہا 
’’ آقا کا عہدہ ختم ہونے پر تم کیوں اداس ہو ؟ ریاست تو بہت عرصے سے سچائی اور اصول کے ضابطوں سے دور ہے۔
 بہت جلد قدرت آقا کا  بِگل لکڑی کی زبان سے بجائے گی۔‘‘

۳-۲۵  آقا نے بادشاہ شَنؔ   کے دور میں بجائی جانے والی موسیقی، شاؤ، کے متعلق فرمایا
’’ یہ بہت اچھی اور بہت خوبصورت ہے۔‘‘
 بادشاہ وؤؔ  کے دور میں بجائی جانے والی موسیقی ، وؤ، کے متعلق فرمایا
’’ یہ بہت اچھی تو ہے لیکن یہ بہت خوبصورت نہیں۔‘‘

۳-۲۶  آقا نے فرمایا
’’ جب آپ رتبے میں بلند ہوں، لیکن آپ میں برداشت نہ ہو؛
جب آپ رسموں کو ادا کر رہیں ہوں، لیکن آپ میں احترام نہ ہو؛
جب آپ ماتم کر رہے ہوں، لیکن آپ کو دکھ نہ ہو۔
 ان اطوار کے متعلق میں کیا کہوں ؟‘‘
٭٭٭


چوتھا باب


’’لِی جِن‘‘
نیکی ۔۔۔اعلیٰ اور ادنیٰ انسان

۴-۱ آقا نے فرمایا
 ’’خیر خواہ پڑوسیوں کے درمیان رہنا بہت اچھا ہے۔ اگر کوئی یہ چناؤ کرتا ہے کہ وہ خیرخواہ پڑوسیوں کے درمیان نہیں رہنا چاہتا۔۔۔ تو اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘

۴-۲ آقا نے فرمایا
’’وہ جو نیکی کے بغیر ہے وہ تا دیر انتظار نہیں کرسکتا،نہ تو غربت اور دشواری میں اور نہ ہی خوشی کے لمحوں میں ۔ 
نیکوکار نیکی پر کاربند رہتا ہے، دانا نیکی کی خواہش کرتا ہے۔‘‘

۴-۳ آقا نے فرمایا
’’ صرف  ’خیر خواہ‘  ہی دوسروں سے یا تو محبت کرتا ہے یا پھر نفرت۔‘‘

۴-۴ آقا نے فرمایا
’’ سنجیدگی کے ساتھ خیرخواہی کی تمنا کرنے سے بد عملی قابلِ عمل نہیں رہتی۔‘‘

۴-۵ آقا نے فرمایا
’’ مال و متاع اور عزت و توقیر ہی ایک انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ 
انہیں اگر مناسب طریقے سے حاصل نہ کیا جائے تو یہ قائم نہیں رہتیں ۔
 غربت اور کمینگی ایسی چیزیں ہیں کہ جنہیں انسان پسند نہیں کرتا۔ جب تک مناسب طریقے سے ان سے احتراز نہ کیا جائے انہیں رَد نہیں کیا جا سکتا۔
 اگر ایک ‘ اعلیٰ انسان‘  نیکی سے دست بردار ہو جائے تو وہ اپنی نیک نامی کو  کیسے قائم رکھ سکتا ہے؟ اعلیٰ انسان نیکی سے انحراف نہیں کر سکتا،
نہ کھانے کے اوقات میں،نہ مصروفیت کے لمحوں میں،نہ محرومی کے دور میں۔‘‘

۴-۶ آقا نے فرمایا
’’ میں نے ابھی اُس شخص سے ملنا ہے جو خیر خواہی سے محبت کرتا ہے او ر جو بد خواہی سے نفرت کرتا ہے۔ 
ہر وہ شخص جو نیکی سے محبت کرتا ہے اس کے نزدیک نیکی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔  ہر وہ شخص جو بد خواہی سے نفرت کرتا ہے ، بذات خود نیک ہے کیونکہ وہ ہر اس چیز کو روکتا ہے
جس کا تعلق اس کی ذات کے ساتھ ہے اور وہ نیکی نہیں ہے۔ اگر چہ کوئی شخص ایک دن کے لئے ہی کیوں نہ نیکی کرے وہ اس میں طاقت محسوس کرتا ہے۔ میں اس شخص سے ملنا چاہتا ہوں جس میں نیکی کرنے کی ہمت نہیں ہے۔  اگر کوئی ایسا شخص موجود ہے تو میں اس سے ابھی تک نہیں ملا۔‘‘

 ۴-۷ آقا نے فرمایا
’’ ہر طبقے میں مخصوص خامیاں ہوتی ہیں جن کا مشاہدہ کر کے ان سے متعلق لوگوں کی خامیوں کو جانا جا سکتا ہے۔‘‘

۴-۸ آقا نے فرمایا
’’ اگر کوئی شخص صبح کے وقت صراط ِ مستقیم کے متعلق جان جائے تو وہ شام کے وقت بغیر کسی افسوس کے موت قبول کر سکتا ہے۔‘‘

۴-۹ آقا نے فرمایا
’’ وہ متعلم جو سیدھے راستے کی تمنا کرتا ہے لیکن بُرے کپڑوں اور بُری خوراک پر شرمندہ ہے، اس کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔‘‘

۴-۱۰ آقا نے فرمایا 
’’ اس آسمان کے نیچے ’اعلیٰ انسان‘ کے لئے کچھ بھی ایسا نہیں ہے  جومطلقاً مثبت ہو اور نہ ہی کچھ ایسا ہے جو مطلقاً منفی ہو، نیکو کاری ہی اس کا پیمانہ ہے۔‘‘

۴-۱۱ آقا نے فرمایا 
’’ اعلیٰ انسان نیکی کے متعلق سوچتا ہے اور ادنیٰ انسان اپنی آسائش کے متعلق۔اعلیٰ انسان قاعدے کی بات کرتا ہے اور ادنیٰ انسان ذاتی فائدے کی ۔‘‘

۴-۱۲ آقا نے فرمایا
’’ اپنے مفاد کو مدِ نظر رکھ کر کیا جانے والا کام بہت ساری شکایات لاتا ہے۔‘‘

۴-۱۳ آقا نے فرمایا
’’ اگرکسی ریاست پر تعظیم اور ضابطے کے مطابق حکومت کی جائے تواس پر کیا اعتراض کیا جا سکتا ہے ؟ 
اگر کسی ریاست کو تعظیم اور ضابطے کے مطابق نہیں چلایا جاتا تو پھر ان ضابطوں کا کیا فائدہ ؟"

۴-۱۴ آقا نے فرمایا 
’’ اگر آپ کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے تواس پر متاسف نہ ہو ں بلکہ اس کی فکر کریں کہ اپ کا موقف کیا ہے۔ 
اگر آپ کی توصیف نہیں کی جاتی تواس پر متاسف نہ ہو ں بلکہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ قابلِ تعریف کیا ہے۔‘‘

۴-۱۵  آقا نے فرمایا
’’ تزانگؔ ،جس راستے پر میں چلتا ہوں اس کا ایک متحد کر دینے والا اصول ہے۔‘‘
آقا کے جانے کے بعد آقا کے ایک شاگرد نے پوچھا 
’’ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘
تزانگؔ  نے کہا
’’ آقا کا راستہ ہے مطلق معاف کرنا اور وفادار رہنا‘‘

۴-۱۶ آقا نے فرمایا
’’ اعلیٰ انسان سچائی کو مدِ نظر رکھتا ہے اور ادنیٰ انسان اپنے مفاد کو۔‘‘

۴-۱۷ آقا نے فرمایا
’’ نیک آدمی سے ملو تو سوچو کہ اس کی برابری کیسے کی جا سکتی ہے ۔  برے آدمی سے ملو تو اپنا موازنہ اس سے کرو۔‘‘

۴-۱۸ آقا نے فرمایا 
’’والدین کی خدمت میں، ایک بیٹا احتجاج کر سکتا ہے ،لیکن دھیمے لہجے میں، اگر وہ اسکی رائے کی طرف مائل نہ ہوں تو پھر بھی ان کا احترام کریں ،  سرکشی اختیار نہ کریں،  ان کا بوجھ اٹھائیں اور شکایت نہ کریں۔‘‘

۴-۱۹  آقا نے فرمایا
’’ والدین کی زندگی میں دور کاسفر نہ کریں ، اگر سفر کرنا پڑے تو پھر والد ین کو منزل کا پتہ ہونا چاہیے۔‘‘

۴-۲۰ آقا نے فرمایا
’’اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کی وفات کے تین سال بعد بھی اپنے والدین کے راستے کو نہیں چھوڑتا تو اسے تابعدار فرزند سمجھا جائے گا۔‘‘

 ۴-۲۱ آقا نے فرمایا 
’’ خوشی اور خوف میں والدین کے دَور کو یاد رکھیں۔‘‘

۴-۲۲ آقا نے فرمایا
 ’’قدیم وقتوں میں لوگ اپنی بات کرنے سے کیوں ہچکچاتے تھے؟
 کیا وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ ناکامی کی صورت میں شرمندہ نہ ہونا پڑے!‘‘

۴-۲۳ آقا نے فرمایا
’’ دور اندیش کم ہی غلطی کرتا ہے۔‘‘

۴-۲۴ آقا نے فرمایا 
’’ ‘اعلیٰ انسان’ اظہار میں دھیما اور عمل میں جلد باز ہوتا ہے‘‘

 ۴-۲۵ آقا نے فرمایا 
’’ نیکی کرنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا ،اس کے بے شمار رفیق ہوتے ہیں۔‘‘

 ۴-۲۶ آقا کے شاگرد تزو یوؔ  نے کہا
’’ بادشاہ کی خدمت کرتے ہوئے بار بار احتجاج کرنا شرم کی بات ہے۔  دوستوں کے درمیان بار بار کی لعن طعن سے فاصلہ بڑھتا ہے۔‘‘
٭٭٭


پانچواں باب

’’کَنگ یِی چَنگ‘‘
ایک شاگرد کے لیئے سنہری اصول۔۔۔متفرقات


۵-۱ آقا نے کَنگ یی چانگؔ کے متعلق فرمایا
’’ وہ یقیناً  شادی کے قابل ہے! حالانکہ وہ سیاہ رسی سے بندھا ہوا ہے،یہ اس کا جرم نہیں ہے۔‘‘
اس نے اپنی بیٹی کی شادی کنگ یِی چانگؔ سے کر دی ۔آقا نے نان جَنگؔ کے متعلق کہا
’’ اگر ریاست اپنے راستے پر چلے تو تنہا نہیں ہوتی۔ اگر ریاست اپنے راستے پر نہ چلے تو وہ ایذارسانی اور سزا دینے میں آزاد ہوتی ہے۔‘‘ 
اس نے اپنی بھتیجی کو نان جنگؔ  کے عقد میں دے دیا ۔"

۵-۲ آقا نے اپنے شاگرد تزو چائینؔ کے متعلق فرمایا
’’ یہ ایک ایسااعلیٰ انسان ہے کہ اگر ریاست لُوؔ   کے پاس کوئی اعلیٰ انسان نہ ہوتا،تو یہ بھی اعلیٰ انسان نہ بنتا۔‘‘

۵-۳ آقا کے شاگرد تزو کنگؔ نے آقا سے پوچھا 
’’ آپ تزو کنگؔ  کے متعلق کیا فرمائیں گے ؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’تم ایک برتن کی طرح ہو‘‘
تزو کنگؔ نے پوچھا 
’’ کیسا برتن ؟‘‘
آقا نے فرمایا 
’’ جواہرات سے جڑا قربانی کا برتن۔‘‘

 ۵-۴ کسی نے کہا
’’ ینگ خیرخواہ ہے اور وہ پر تصنع گفتگو کرنے کا ماہر نہیں ہے۔‘‘
آقا نے فرمایا
’’پر تصنع گفتگو کرنے کا کیا فائدہ؟ اپنے دفاع میں کی گئی ایسی گفتگو اکثر دوسروں میں نفرت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ خیر خواہ ہے کہ نہیں، لیکن پر تصنع گفتگو کرنے کا فائدہ؟‘‘

۵-۵ آقا نے چائی تِیاؤ کائیؔ  کو سرکاری عہدہ سنبھالنے کے لیئے کہا تو اس نے کہا 
’’میں ابھی اس ذمہ داری کو سنبھالنے کا اہل نہیں ہوں۔‘‘
یہ سن کر آقا خوش ہوئے۔‘‘

۵-۶ آقا نے فرمایا
’’میری تعلیم دنیاوی ترقی کا کوئی راستہ نہیں دکھاتی،میں تو ٹھاٹھ پر بیٹھ کر سمندر کے دھارے کے ساتھ بہہ جاؤں گا  اور یوؔ  میرا ساتھی ہو گا۔‘‘ 
یہ سن کر تزو لوؔ (یُو) بہت خوش ہوا۔
آقا نے فرمایا
 یُوؔ مجھ سے زیادہ حوصلہ مند ہے لیکن ٹھاٹھ بنانے کے لئے سامان کہاں سے آئے گا؟‘‘

 ۵-۷ عہدہ دار مینگ وُو پوؔ  نے پوچھا
’’کیا تزو لُوؔ   ’خیرخواہ ‘ہے؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ میں نہیں جانتا‘‘
جب یہی سوال دہرایا گیا تو آقا نے فرمایا
 ’’ایک ہزار رتھوں کی ریاست میں یُوؔ     کو فوج کا انتظامی سربراہ بنایا جا سکتا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ ’خیرخواہ ‘ہے  یا نہیں ؟‘‘
’’ چی اُوؔ  کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟‘‘
’’ آقا نے فرمایا 
’’چی اُوؔ کو ہزار گھروں پر مشتمل قبیلے کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے یا پھر اشرافیہ کے سو رتھوں کا انتظامی سربراہ ،لیکن  میں نہیں  جانتا کہ وہ ’خیرخواہ‘ ہے یا نہیں ؟"
’’آپ چی اِہؔ  کے متعلق کیا فرمائیں گے ؟ ‘‘
آقانے فرمایا
’’ اس کا پٹکا کسا ہوا ہے اور وہ عدالت میں کھڑا ہے۔  چی اِہؔ  کو اہم مہمانوں سے گفتگو کرنے کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے، لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ ’خیرخواہ‘ ہے یا نہیں ؟‘‘

 ۵-۸ آقا نے تزو کَنگؔ سے کہا 
’’ تم میں سے کون بہتر ہے ہوئی یا تم ؟‘‘ 
تزو کنگؔ نے کہا
’’تزوؔ  کیسے اپنا موازنہ ہوئیؔ  سے کرنے کی جرات کر سکتا ہے ؟  جب ہوئیؔ  کوئی ایک بات سنتا ہے تو وہ دس نتیجے اخذ کر سکتا ہے۔  جبکہ میں صرف دو نتائج اخذ کر سکتا ہوں۔‘‘
آقا نے فرمایا 
’’ تم اس کے برابر نہیں ہو۔ہم میں سے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہے۔‘‘

۵-۹  تزائی یُوؔ دن کے وقت اونگھ گیا
آقا نے فرمایا
’’خراب لکڑی پر کندہ کاری نہیں کی جاتی نہ ہی خشک اُپلوں والی دیوار پر کھرپہ لگایا جا تا ہے۔ میں یُوؔ  کی کیسے سرزنش کر سکتا ہوں۔‘‘
آقا نے فرمایا
’’ میں تو ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ کس نے کیا کہا ہے اور یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس پر عمل بھی کرے گا۔
اب میں ان کے الفاظ کو سنتا ہوں اور ان کے اعمال کو دیکھتا ہوں۔ یہ تبدیلی یُوؔ کی وجہ سے آئی ہے۔‘‘

۵-۱۰ آقانے فرمایا
’’میں نے ابھی اس شخص سے ملنا ہے جو با عزم ہے۔‘‘کسی نے کہا 
’’ شین چینگؔ کے متعلق کیا خیال ہے؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ شین جذباتی ہے وہ با عزم کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘

۵-۱۱ تزو کَنگؔ  نے کہا
’’میں پسند نہیں کرتا کہ دوسروں کو مرعوب کیا جائے  نہ ہی میں یہ پسندکرتاہوں کہ دوسروں سے مرعوب ہوا جائے ۔‘‘

۵-۱۲ تزو کنگؔ نے کہا 
’’آقا کی علمی جستجوکوجاننا چاہیے لیکن آپ کے کائنات اور عالم بالا کے متعلق کہے گئے الفاظ کو نہ جانا جائے۔‘‘

۵-۱۳ تزو لُوؔ نے کہا
’’ وہ ڈرتا ہے کہ ا س نے جو سنا ہے اس سے پہلے کہ وہ اس پر عمل کرے ،کچھ اور نیا نہ آ جائے۔‘‘

۵-۱۴ تزو کَنگؔ نے پوچھا 
’’ تزو ؔ کے کنگ ویَنؔ  کو وَین یعنی مدبر کیوں کہا جاتا ہے ؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ وہ فطری طور پر مستعد اور علم کے لئے قربان ہو جانے والا شخص ہے،  جو ادنیٰ لوگوں سے سیکھنے اور جاننے میں شرم محسوس نہیں کرتا۔  اسی لئے اسے وَین کہا جاتا ہے۔‘‘

۵-۱۵ آقا نے ریاست چائی اَینؔ کے ایک عہدے دار کے متعلق بات کرتے ہوئے فرمایا
’’ اس میں ’اعلیٰ انسان‘ کی چار صفات ہیں۔ 
وہ ذاتی طور پر متحمل مزاج ہے۔ 
وہ اپنے سے برتر لوگوں کا تابعدار ہے۔
وہ لوگوں کے ساتھ فیاضی سے پیش آتا ہے۔
وہ لوگوں کو ملازمت دیتے ہوئے انصاف سے کام لیتا ہے۔‘‘

۵-۱۶ آقا نے فرمایا 
’’ ریاست چِیؔ  کے کارندے، یِن پِنگ چنگ ؔ ، کا رویہ لوگوں کے ساتھ بہت اچھا تھا۔اس لئے اس کی آج بھی پہلے جیسی ہی عزت ہے۔‘‘

۵-۱۷ آقا نے فرمایا 
’’ تسانگ وَین چَنگؔ  نے مقدس کچھوے کو ایک گھر میں رکھا ہے جس کے محرابی دروازوں سے قدرتی مناظر فراوانی سے نظر آتے ہیں اس گھرکے چھتیر سمندری پودوں جیسے ہیں۔اُس کی دانائی کے کیا کہنے!‘‘

 ۵-۱۸ تزو کنگؔ نے پوچھا
’’ تین مواقع ایسے تھے جب تزو وَینؔ نے بڑاسرکاری عہدہ سنبھالا لیکن اس نے کبھی بھی عہدہ سنبھالنے پر خوشی کا اظہار نہیں کیا۔
ہر دفعہ وہ اس عہدے سے خود دست بردار ہوا لیکن اس نے کسی بھی موقع پر اضطراب کا اظہار نہیں کیا۔
اس نے ہمیشہ اپنے جانشین کو اپنی حکمت عملی کے اصول تفصیل سے بیان کئے۔آپ اس کے متعلق کیا کہیں گے؟‘‘
آقا نے فرمایا 
’’یقیناً وفاداری!‘‘
تزو کنگؔ نے پوچھا
’’ کیا یہ ’خیر خواہی‘  ہے ؟‘‘
آقانے فرمایا 
’’ میں نہیں جانتا کہ یہ  ’خیر خواہی‘ ہے؟‘‘
تزو کنگؔ نے پوچھا
’’جب تزو تزوئیؔ نے ریاست چائیؔ کے والی کو دھوکے سے قتل کر دیاتو چَین وَین تزوؔ   کہ جس کے پاس چالیس گھوڑے تھے، اپنا عہدہ چھوڑ کر ملک سے باہر چلا گیا۔وہ کسی دوسری ریاست میں پہنچا۔وہاں اس نے کہا
’’یہاں کے لوگ بھی تزو تزوئیؔ کی طرح کے ہی ہیں ‘‘اس نے وہ ملک چھوڑ دیا۔ 
وہ ایک تیسری ریاست میں پہنچا ۔
وہاں اس نے کہا
’’ یہاں کے لوگ بھی تزو تزوئیؔ کی طرح کے ہی ہیں ‘‘  اس نے یہ ریاست بھی چھوڑ دی۔
اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’بالکل واضح ہے!‘‘
تزو کنگؔ نے کہا 
’’ کیا یہ ’خیر خواہی‘ ہے؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ میں نہیں جانتا کہ یہ ’خیر خواہی‘ ہے!‘‘

۵-۱۹ چائی وَین تزوؔ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے تین دفعہ سوچتا تھا
یہ سن کر آقا نے فرمایا
’’دو دفع سوچنا بھی کافی ہے۔‘‘

۵-۲۰ آقا نے فرمایا 
"ریاست وُوئیؔ کا عہدہ دارنِنگ وُئی تزوؔ ،عقل مندہے ؛ اگر ملک میں اچھے ضابطے فروغ پا رہے ہوں۔
 بےوقوف ہے؛ اگر ملک میں برے ضابطے فروغ پا رہے ہوں۔
دوسرے لوگ فہم وفراست میں اُس کے برابر ہو سکتے ہیں ،لیکن بےوقوفی میں اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔"

۵-۲۱ جب آقا ریاست چَائی اینؔ میں تھے تو آپ نے فرمایا
"آؤ واپس چلیں۔آؤ واپس چلیں۔ہمارے پانچ سو لوگوں کے ٹانگ یعنی محلے میں جوان لوگ، نہ توشائستہ ہیں اور نہ ہی انھیں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یقیناً یہ لوگ با وصف تو ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کو کمال تک کیسے پہنچایا جائے۔"

۵-۲۲ آقا نے فرمایا
" پُو یِی اور شُو چائی ،دو شہزادے تھے جنہوں نے بادشاہت چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی ؛چونکہ وہ کینہ نہ رکھتے تھے اس لئے ان کے خلاف شکایات بھی کم تھیں۔"

۵-۲۳ آقا نے فرمایا 
" کون کہتا ہے کہ ریاست لُو کا باشندہ وُوئی شینگ کاؤؔ ایماندار شخص ہے؟ جب کوئی شخص اس سے سرکہ مانگتا ہے تو، وہ اپنے ہمسائے سے سرکہ مانگ کر، اُسے ایسے دیتا ہے کہ جیسے یہ اس نے اپنے پاس سے دیا ہے۔"

۵-۲۴ آقا نے فرمایا 
" عمدہ الفاظ، نمائشی اور خوش خلقی سے مرصع طرز بیان اور بے تحاشا احترام سے تزو چِین مِنگ بہت شرمندہ تھا۔
اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے آقا نے فرمایا
" چِی یُو ،بھی اسے شرم ناک سمجھتا ہے۔کسی کے خلاف دل میں شکایت رکھنااوراسے بظاہر محبت سے ملنے کو تزو چِین مِنگ شرمناک سمجھتا ہے۔ چِی ےیُو بھی اسے شرمناک سمجھتا ہے۔"

۵-۲۵ یین یو این اور چِی لو کی موجودگی میں آقا نے فرمایا 
"میرے ساتھ اپنی تمناؤں کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟"
تزو لُوؔ نے کہا
" میں اپنے گھوڑے اور رتھ،کپڑے اور پوستین اپنے دوستوں کے ساتھ شریک کرنا چاہوں گا ؛ان کے خراب ہونے پر مجھے افسوس بھی نہیں ہو گا۔"
یین یوؔ نے کہا
" میں اپنی اچھائیوں پر کبھی بھی شیخیاں نہیں  بگھارتا اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ یہ سب کچھ میرے لئے جاری رکھیں۔"
تزو لوؔ نے کہا 
" میں یہ سننا چاہوں گا کہ آقا کی کیا خواہش ہے !"
آقا نے فرمایا 
"بزرگوں کا خیال رکھیں، دوستوں کے خیرخواہ رہیں،  بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔"

۵-۲۶ آقا نے فرمایا
" سب کچھ ختم ہو گیا! میں نے ابھی اس شخص سے ملنا ہے،جو اپنی غلطیوں پر نظر رکھے اور اپنی ملامت کر سکے!‘‘

۵-۲۷ آقا نے فرمایا
"دس گھروں کی جاگیر میں لوگوں کو ایسا ہی وفادار اور با اعتماد ہونا چاہیے جتنا کہ چِی ےیُو، لیکن علم حاصل کرنے کے معاملے میں ،ان میں کوئی بھی اُس جتنا پر جوش نہیں ہو سکتا۔"
٭٭٭


چھٹا باب

’’ینگ یہ‘‘
مزید اوصاف۔۔۔دانائی۔۔۔خیرخواہی

۶-۱ آقا نے فرمایا
" یَنگ کو وہ نشست سنبھال لینی چاہیے ، جس کا رخ جنوب کی طرف ہے ۔ اسے وَالی کی نشست سنبھالنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرنی چاہیے ۔"
چَنگ کنگؔ نے تزو سَنگ پَو تزوؔ کے متعلق آقا سے پوچھا
آقا نے فرمایا 
" راہنمائی کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے وہ بھی بادشاہ کی کرسی سنبھال سکتا ہے" 
چَنگ کنگؔ نے کہا 
"کیا تب اس کے لئے یہ قابل قبول نہیں ہو گا کہ وہ اپنی حکمت عملیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے، اپنی اس راہنمائی کرنے کی صلاحیت کے سا تھ، لوگوں کی سربراہی کرے ،
اگرچہ وہ اپنی عملی زندگی میں بزرگوں کا کتنا ہی لحاظ رکھنے والا کیوں نہ ہو۔ اگر عملی زندگی میں با ادب رہا جا سکتا ہے اور، اپنی حکمت عملی پر عمل درآمد کرنے کے لئے،  دوسروں کا لحاظ رکھا جا سکتا ہے،  تو کیا یہاں اس سے زیادہ لحاظ نہیں رکھا جا سکتا!"
آقا نے فرمایا
" آپ نے جو کہا وہ درست ہے۔"

۶-۲ سردار آئی ؔ نے کہا 
"وہ کون سا شاگرد ہے کہ جس نے علم حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے؟"
آقا نے فرمایا
"یین ہوئیؔ   تھا کہ جس نے اپنے آپ کو علم حاصل کرنے کے لئے وقف کر رکھا تھا۔وہ نہ تو اپنے غصے کا اظہار دوسروں پر کرتا  تھا اور نہ ہی ایک غلطی کو دوہراتا تھا۔ بدقسمتی سے اس کی عمر مختصر رہی وہ بہت جلد وفات پا گیا۔
اب کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے کہ جس کے متعلق کہا جا سکے کہ اس نے اپنے آپ کو علم حاصل کرنے کے لئے وقف کر رکھا ہے،کم از کم میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا ۔"

 ۶-۳ تزوہوآؔ ریاست چائی میں ایک سفارتی وفد کے ساتھ گیا
جب چائی خاندان کے کارندے سے جَن تزو نے چِی آہی (تزو ہوآ) کی والدہ کے لئے اناج کی فرمائش کی 
 آقا نے فرمایا
"اسے ایک فُو( بیس کلو گرام سے زائد) غلہ دے دو۔"
جَن تزو نے کچھ زیادہ کا مطالبہ کیا تو آقا نے کہا
" اسے ایک یُو (اکیاون کلو گرام سے زائد) دے دو۔"
جَن تزو نے تزو ہوآکواس کی والدہ کے لئے پانچ، پِنگ ( پانچ سو گیارہ کلوگرام سے زائد) غلہ دے دیا۔
آقا نے فرمایا
"چی آہی سمور کے کپڑے پہن کر جس گاڑی میں چائی آیا تھااسے صحت مند اور مضبوط گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ میں نے سنا ہے کہ ’اعلیٰ انسان ‘ کو امیر آدمی کا خزانہ بھرنے کی بجائے ضرورت مند کی مدد کرنی چاہیے۔"
جب آقا کے شاگرد یُواَ ن سزوؔ کو آقا کے گاؤں کا سربراہ بنا یا گیا تو اسے غلے کی ایک بہت بڑی مقدار دی گئی۔ جسے اس نے ٹھکرا دیا۔
آقا نے فرمایا
" اسے مت ٹھکراؤ۔ اسے اپنے اوس پڑوس کے ہمسایوں ، قریبی گاؤوں،قصبوں اور بستیوں کے رہائشیوں میں بانٹ دینا۔"

۶-۴ آقا نے اپنے شاگرد چَنگ کَنگؔ سے کہا 
" اگر چتکبری گائے بڑے سینگوں والاسرخ رنگ کا بچھڑا دے اور لوگ اس کی قربانی کرنا چاہیں تو کیا پہاڑوں اور دریاؤں کا خدا اس قربانی کو رَد کر دے گا ؟"

 ۶-۵  آقا نے فرمایا
" ہوئی ایسا انسان ہے کہ جس کے ذہن میں تین مہینے تک نیکی کے علاوہ کوئی اور خیال نہیں آتا ۔جبکہ کسی دوسرے کے ذہن میں یہ خیال، چند دن یا پھر مہینہ بھر سے زیادہ رہتا نہیں ہے۔"

 ۶-۶ ریاست لُو کے کارندے چائی کانگ تزو نے پوچھا
"’’کیا چَنگ یوؔ سرکاری عہدے کے لئے اہل ہے؟"
آقا نے فرمایا
" یُو میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اسے سرکاری عہدہ دینے میں کیا مضائقہ ہے؟"
چائی کانگ تزوؔ نے دوبارہ پوچھا
"کیا چَنگ یو سرکاری عہدے کے لئے اہل ہے؟"
آقا نے فرمایا
" تزو صاحبِ ادراک ہے۔ اسے سرکاری عہدہ دینے میں کیا مضائقہ ہے؟"
چائی کانگ تزوؔ نے پھر پوچھا
"چیوؔ کے متعلق کیا خیال ہے؟"
آقا نے فرمایا 
" چیوؔ آزمودہ کار ہے۔اسے سرکاری عہدہ دینے میں کیا مضائقہ ہے؟"

۶-۷ ریاست لُو کے کارندے چائی نے مِن تزو چائی این کو صوبہ پائی کا صوبہ دار بننے کی پیش کش کی مِن تزو چائی این نے کہا
" میری طرف سے اس پیشکش کو شائستگی سے رَد کر دو۔ اگر یہی پیشکش مجھے دوبارہ کی گئی تو آپ مجھے دریائے وَین کے کنارے پر پاؤ گے۔"

۶-۸ آقا کا شاگرد پو نی یُو شدید بیمار تھاآقا اس کی تیمار داری کرنے گئے۔آقا نے ،روایت کے برخلاف جنوب کی بجائے شمال کی طرف سے ،کھڑکی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا 
’’ یہ مر رہا ہے۔ یہ بہشت میں جائے گا۔
کیا ایسے آدمی کو ایسا شدید بیمار ہونا چاہے!۔ کیاایسے آدمی کو ایسا شدید بیمار ہونا چاہے !‘‘

۶-۹ آقا نے فرمایا 
’’ ہوئی ہی دراصل نکو کار ہے!  بانس کی ایک تھالی چاول، ایک تونبا پانی  اور ایک چھدرے راستے پر اپنا ٹھکانا۔ اس کے باوجود کہ اتنی تنگی کوئی دوسرا برداشت نہیں کر سکتا ،ہوئی کی خوشی میں کوئی کمی نہیں آئی۔دراصل ہوئی ہی نکو کار ہے!‘‘ 

 ۶-۱۰ جِن چی یُو نے کہا
’’ایسا نہیں ہے کہ میں آقا کے راستے سے ناخوش ہوں ،بلکہ میں ہی کم ہمت ہوں ۔‘‘ 
آقا نے فرمایا
 ’’ جب آپ راستے کو بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں تو آپ کی ہمت کم ہو جاتی ہے۔تم قیاس کر لیتے ہو کہ تمہاری ہمت کم ہے۔‘‘

۶-۱۱ آقا نے تزو ہسیہ سے کہا
 ’’ آپ کو ’اعلیٰ انسان ‘ کے جیسا عالم ہونا چاہے۔ نہ کہ ادنیٰ انسان کے جیسا۔‘‘ مینگ چی فنؔ نے کہا

۶-۱۲ جب تزو یُو کوریاست لُو کے صوبہ وُو چینگ کا صوبہ دار بنا یا تو آقا نے فرمایا 
’’کیا  تم نے اپنے نائب کے لئے کسی قابل آدمی کا چناؤ کر لیا ہے؟‘‘
تزو یُوؔ نے کہا 
’’ تان تائی مہس مِنگؔ ہے ۔ وہ کبھی بیچ کے راستوں پر سفر نہیں کرتا ۔وہ میری خدمت میں کبھی ذاتی کام کے لئے حاضر نہیں ہوا۔‘‘

۶-۱۳ آقا نے فرمایا
 ’’ ریاست لوؔ کا کارندہ مےنگ چی فنؔ  کبھی شیخی نہیں بگھارتا۔پسپائی میں وہ سب سے پیچھے  ہوتا ہے ، وہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے سب سے آخر میں دروازے میں داخل ہوتا ہے۔ 
منگا چی فنؔ نے کہا
" آخر میں رہنا بہادری نہیں ہے۔ دراصل میرا گھوڑا پیش قدمی نہیں کرتا۔"

۶-۱۴ آقا نے،وقت کی بے ثباتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا 
" ریاست وُو کے کارندے چُوطوؔ  کی ماہرانہ گفتگو اورریاست سنگؔ  کے شہزادے سنگ چاؤ ؔ  کی وجاہت کے باوجود، زمانے کی کلفتوں سے بچنا مشکل ہے۔"

۶-۱۵ آقا نے فرمایا
"اگر دروازے کو استعمال کیے بغیر باہر نہیں جا یا جا سکتا تو، پھر راستے کا اتباع کیوں نہ کیا جائے ؟"

۶-۱۶ آقا نے فرمایا 
"اگر کسی شخص کی خوبیاں نفاست پر غالب آ جائیں تو وہ معمولی آدمی ہے ۔ اگر کسی شخص کی نفاست پسندی خوبیوں پر غالب آ جائے تو وہ محض منشی ہے۔ اگر کسی شخص کی خوبیوں اور نفاست پسندی میں توازن ہو تو، وہ ’اعلیٰ انسان‘ ہے۔"

۶-۱۷ آقا نے فرمایا
" انسان دیانتدار پیدا ہوتا ہے۔  اگر وہ دیانتداری چھوڑ دینے کے باوجود زندہ ہے تو،وہ محض خوش قسمتی کی وجہ سے ہے ۔"

 ۶-۱۸ آقا نے فرمایا
"سچائی جاننا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اس سے محبت کرنا۔سچائی سے محبت کرنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اس سے مسرور ہونا۔"

۶-۱۹  آقا نے فرمایا
"اوسط ذہنی سطح سے تھوڑی زیادہ صلاحیت رکھنے والے شخص سے بلند پائے کے موضوعات پر گفتگو کرنا ممکن ہے،  اوسط ذہنی سطح سے کم صلاحیت رکھنے والے شخص سے  بلند پائے کے موضوعات پر گفتگو نہیں کی جا سکتی ۔"

۶-۲۰ فَن چی اِہؔ نے آقا سے فراست کے متعلق پوچھا 
آقا نے فرمایا 
"ٗ لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرنے اور دیوتاؤں سے دور ہونے کے باوجود،  ان کا احترام کرنے کو فراست کہا جا سکتا ہے۔"
فَن چی اِہ نے خیر خواہی کے متعلق پوچھا ۔
آقا نے فرمایا 
"قربانی دینے میں سب سے آگے اور فائدہ اٹھانے میں سب سے پیچھے رہ جانے والوں کو ’خیر خواہ ‘کہا جا سکتا ہے۔"

 ۶-۲۱ آقا نے فرمایا 
"دانا شخص پانی پسند کرتا ہے ۔۔۔خیرخواہ پہاڑ۔ دانا محنتی ہوتا ہے۔۔۔خیرخواہ آسودہ۔ دانا مسرت پاتا ہے ۔۔۔خیرخواہ طویل العمری۔"

  ۶-۲۲ آقا نے فرمایا 
" دولت مندریاست چائی سیاست میں بہتری لا کر ،فلاحی ریاست لُو کے ہم پلہ ہو سکتی ہے ۔ ریاست لُو تعلیم میں بہتری لا کر ایک ایسی ریاست بن سکتی ہے کہ جس میں کھرے اصولوں کی حکمرانی ہو۔"

۶-۲۳ آقا نے فرمایا
"مذہبی رسموں میں استعمال ہونے والا کوزہ ،کُو، اب کوزہ نہیں رہا۔ کیسا ہے یہ کوزہ ! کیسا ہے یہ کوزہ !"

۶-۲۴ آقا کے شاگرد تزائی وُو نے آقا سے پوچھا 
اگر ایک ’خیرخواہ ‘ شخص کو کہا جائے کہ ایک آدمی کنویں میں ہے تو کیا اُسے کنوئیں میں اترنا چاہیے؟"
آقا نے پوچھا 
" اسے کیوں اترنا چاہیے؟ ایک اعلیٰ انسان کو کنویں تک ضرور جانا چاہیے لیکن اسے کنویں میں نیچے اترنے کی ضرورت نہیں۔آپ اسے فریب دینے کی کوشش توکرسکتے ہیں لیکن اسے دھوکا نہیں دے سکتے۔"

 ۶-۲۵ آقا نے فرمایا
"  ‘اعلیٰ انسان‘ بہت زیادہ علم حاصل کرتا ہے اور اپنے آپ کو ضابطوں کا پابند بناتا ہے ۔
اس کا صحیح راستے سے بھٹک جانا ناممکن ہے۔"

۶-۲۶ آقا ریاست وُوئی کے نواب لِنگ کی بیوی نَن تزو سے ملے
آقا کا شاگرد تزو لُو اس ملاقات سے خوش نہیں تھا۔
آقا نے تاکیدی طور پر کہا 
" اگر میں نے کچھ نامناسب کیا ہے تو عالم بالا مجھے رَد کر دے۔عالم بالا مجھے رَد کر دے۔"

 ۶-۲۷ آقا نے فرمایا
" میانہ روی یقیناً عظیم نیکی ہے۔ ایک لمبے عرصے تک لوگ اس پر خال خال ہی عمل کرتے ہیں۔"

۶-۲۸  آقا کے شاگرد تزوکَنگ نے پوچھا
" وہ بادشاہ جو لوگوں کو فراوانی سے فائدہ پہنچائے اور لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اُس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ کیا اسے ’خیرخواہی‘ کہا جا سکتا ہے؟"
آقا نے فرمایا
"اس کا خیر خواہی سے کیا تعلق ؟وہ یقیناً ایک زیرک شخص ہو گا ؟ قدیم دور کے بادشاہ یاؤ اور شَن نے بھی اسے بڑی جانفشانی سے حاصل کیا ہو گا۔یہاں تک ایک ’خیرخواہ ‘ شخص کا تعلق ہے تو وہ دوسروں کے لئے بھی وہی چاہتا ہے جو وہ خود اپنے لئے چاہتا ہے،دوسروں کو بھی وہیں دیکھنا چاہتا ہے جہاں وہ خود جانا چاہتا ہے۔
 دوسروں کے احساسات سے راہنمائی حاصل کرنے کی صلاحیت کو  ’خیر خواہی‘ کا فن کہا جا سکتا ہے۔"
٭٭٭


ساتواں باب

"شُوآر"

کَنگ فُو زِی کے اوصاف۔۔۔ایک ضمنی بات

۷-۱ آقا نے فرمایا 
" اصل مفکر میں نہیں ہوں میں تو محض ایک پیامبر ہوں۔میں قدیم  تعلیمات سے متاثر ہوں اور ان سے خوشی حاصل کرتا ہوں۔ میں قدیم دور کے نیکوکار شخص لاؤ پینگؔ  سے موازنے کے جسارت چاہتا ہوں۔"

۷-۲ آقا نے فرمایا 
"خاموشی سے علم حاصل کرنا،دلچسپی ختم کیے بغیر غور و فکر کرنا،ان تھک تعلیم دینا؛ ان میں میرے لئے کیا مشکل ہے؟"

۷-۳ آقا نے فرمایا 
"نیکی کو جاننا اور اسے بڑھاوا نہ دینا، علم حاصل کرنا اور اس کی چھان بین نہ کرنا، خیرخواہی کے متعلق جاننا اور اس پر عمل نہ کرنا،جو نادرست ہو اس کو درست کرنے کا اہل نہ ہونا؛  یہ سب کچھ مجھے بے آرام کرتا ہے۔"

۷-۴
فرصت کے لمحات میں آقا آسودہ اور پرسکون ہوتے اور مسرور نظر آتے۔

۷-۵ آقا نے فرمایا 
" میں کتنا کمزور ہو گیا ہوں! میں نے ایک لمبے عرصے سے چاؤ کے نواب کو خواب میں نہیں دیکھا۔"

۷-۶ آقا نے فرمایا
" فرض کے راستے کی تمنا کریں، نیکی کو تھام لیں،خیرخواہی پر بھروسہ کریں، فنون کے مطالعہ سے دل بھلائیں۔"
  
  ۷-۷ آقا نے فرمایا
"میں نے کبھی بھی کسی کو تعلیم دینے سے انکار نہیں کیا ،حتیٰ کہ اس کو بھی جو نذرانے کے لئے خشک گوشت کا ٹکڑا ہی کیوں نہ لایا ہو۔"

 ۷-۸ آقا نے فرمایا 
" جو تعلیم حاصل کرنے کا متمنی نہ ہو میں اس کو تعلیم نہیں دیتا،جو سچ جاننے کے لئے جدوجہد نہیں کرتا اس پر انکشافات نہیں ہوتے۔میں بحث کا ایک کونا کھول دیتا ہوں ،اگر وہ باقی کے تینوں کونوں تک رسائی حاصل نہیں کرتا، میں اسے مزید تعلیم نہیں دیتا۔"

۷-۹
جب آقا کسی ایسے شخص کے پاس جاتے جو سوگ میں ہوتا تو آقا کھانا کم کھاتے۔اگر کسی دن آقا رو پڑتے تو پھر آقا نوحہ نہیں پڑھتے۔"

۷-۱۰ آقا نے اپنے شاگرد ین یوآنؔ کو کہا 
"ضرورت کے وقت کام کرنا، جب ضرورت نہ ہو کنارہ کش ہو جانا۔ یہ صرف میں اور تم ہی کر سکتے ہیں!"
تزو لوؔ نے پوچھا 
"آقا اگر آپ کو ایک بڑی فوج کی قیادت سونپ دی جائے تو آپ کی مدد کے لئے آپ کے ساتھ کون ہو گا؟"
آقا نے فرمایا 
" میں کسی ایسے شخص کا انتخاب نہیں کروں گا جو بغیر ہتھیار کے شیر پر حملہ آور ہو جائے یا بغیر کشتی کے دریا کو عبور کرے اور بغیر کسی ندامت کے مارا جائے بلکہ میں ایسے شخص کا انتخاب کروں گا جو مکمل سوچ بچار کے بعد ایک خوف کے ساتھ اپنی چال چلے اور اپنی تدابیر کو دل جمعی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے۔"

۷-۱۱ آقا نے فرمایا
" اس کے باوجود کہ مال و متاع حاصل ہونا یقینی ہو، اگر میرے ہاتھ میں کوڑا تھما کر شاہی محل کا داروغہ بنا دیا جائے،  میں خوش  دلی سے یہ ذمہ داری نبھاؤں گا۔ چونکہ مال و متاع حاصل ہونا یقینی نہیں ہے، اس لئے میں تو وہی کروں گا جس سے میں محبت کرتا ہوں۔"

۷-۱۲
بھوک ، جنگ اور بیماری ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے آقا نے ہمیشہ بچنے کے ترغیب دی ہے۔

۷-۱۳
ریاست چائی میں جب آقا نے شاہی موسیقی شاؤؔ  سنی تو پھر آقا نے تین مہینوں تک گوشت نہیں چکھا۔
آقا نے فرمایا 
"میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس سے اچھی موسیقی بھی ہو سکتی ہے۔"

۷-۱۴ آقا کے شاگرد ین یوؔ  نے تزو کنگؔ سے پوچھا
" کیا آقا ریاست ووئیؔ کے والی کے حق میں ہیں؟"
 تزو کنگؔ نے کہا
"میں آقا سے پوچھوں گا "
وہ آقا کے پاس گیا اور آقاسے پوچھا 
"پو یِی اور شو چائی کیسے لوگ تھے؟"
آقانے فرمایا 
" پرانے وقتوں کے صالح لوگ تھے"
تزو کنگؔ نے پوچھا 
" کیا وہ شکایت کرتے تھے ؟"
آقا نے فرمایا 
" اگر آپ ’خیرخواہ‘ بننا چاہتے ہیں اور بن جاتے ہیں 
تو پھر کون سی شکایت باقی رہ جاتی ہے؟"
تزو کنگؔ واپس ہوا اور اس نے کہا 
"آقا اُس کے ساتھ نہیں ہیں۔"

۷-۱۵ آقا نے فرمایا 
"سادہ کھانا،پینے کے لئے پانی اور بازو کا تکیہ ،میرے خوش رہنے کے لئے کافی ہیں۔ناانصافی سے حاصل کی گئی عزت اور دولت میرے نزدیک اڑتے بادل کی مانند ہے۔"

۷-۱۶ آقا نے فرمایا
" اگر میری زندگی میں کچھ مزیدسالوں کا اضافہ ہو جائے تو، میں اگلے پچاس سال ’تبدیلیوں کی کتاب‘ ، ’آئی چنگ ‘،
پڑھنے میں صرف کروں گا اور میں امید کرتا ہوں کہ میں بہت حد تک غلطیوں سے پاک ہو جاؤں گا۔"

۷-۱۷ حسب معمول آقا جن موضوعات پر گفتگو کرنا پسندکرتے ،وہ ہیں ’شاعری کی کتاب‘، ’تاریخ کی کتاب‘ اور ’رسموں کی کتاب‘ ۔ آقا ہمیشہ ان کتابوں کی تعریف کرتے اور کہتے ’یا‘ ۔

۷-۱۸ ریاست ییؔ کے نواب نے تزو لوؔ سے آقا کے متعلق پوچھا 
 تزو لوؔ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
آقا نے کہا
" تم نے کیوں نہیں کہا: وہ ایسا انسان ہے جو علم حاصل کرنے کی جستجومیں اس حد تک مگن ہے کہ کھانا کھانا بھول جاتا ہے۔جس کی خوشیوں نے اس کی پریشانیوں کو بھلا دیا ہے وہ بھول گیا ہے کہ بڑھاپا اس پر طاری ہو رہا ہے۔"

۷-۱۹ آقا نے کہا
"میں دانا پیدا نہیں ہوا تھا۔ میں قدیم تعلیمات کا دلدادہ ہوں۔میں علم حاصل کرنے میں جلدی کرتا ہوں۔"

۷-۲۰
آقا محیرالعقول واقعات،طاقت کے کرتب،بے ترتیبی اور روحوں کے متعلق باتیں نہیں کرتے تھے۔

۷-۲۱ آقا نے فرمایا 
" جب ہم تین لوگ اکٹھے سفر کرتے ہیں تو ،میں ان سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہوں۔ میں ان کی بُری باتیں چھوڑ کر اچھی باتیں چُن لیتا ہوں اور ان پر عمل کرتا ہوں۔"

۷-۲۲ آقا نے فرمایا
"عالم قدس نے میرے اندر پارسائی پیدا کی ہے۔میری جان کے درپے،ہوآن توئیؔ  کیا کرے گا؟"

۷-۲۳ آقا نے فرمایا
"میرے شاگردو !کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے آپ سے کچھ چھپایا ہے؟میں نے کبھی بھی کسی سے کچھ نہیں چھپایا۔میں نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے آپ نہ جانتے ہوں۔یہی میرا راستہ ہے۔"

۷-۲۴ آقا نے چار چیزوں کا سبق دیا : ادبیات، اخلاقیات ،وفاداری اورحسن ظن۔

 ۷-۲۵آقا نے فرمایا 
’’ میں ابھی تک کسی دانا شخص سے نہیں ملا۔میں یقیناً ایک ’اعلیٰ انسان‘ سے ملنا پسند کروں گا۔میں ابھی تک کسی فیاض شخص سے نہیں ملا۔میں یقیناً ایک ثابت قدم شخص سے ملنا پسند کروں گا۔کچھ نہ رکھتے ہوئے بھی ایسا اظہار کرنا کہ جیسے آپ کے پاس بہت کچھ ہے،خالی ہونا اور اظہار بھرے ہونے کا کرنا،تنگ ہونا لیکن اظہار آسانی کا کرنا،ان خصوصیات کے ساتھ ثابت قدم رہنا یقیناً مشکل ہے۔‘‘

۷-۲۶
مچھلی پکڑتے ہوئے آقا نے کبھی جال استعمال نہیں کیا۔پرندوں کا شکار کرتے ہوئے آقا نے کبھی پرندوں کے رَین بسیرے پر شست نہیں لی۔

۷-۲۷ آ قا نے فرمایا
 ’’یہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نہ جانتے ہوئے بھی تخلیقی  کام کر سکتے ہیں۔میں ایسا نہیں کر سکتا ۔کشادگی سے سننا، درست الفاظ کا چناؤ کرنا اور اس پر عمل کرنا۔ زیادہ دیکھنا اوراسے حافظے میں محفوظ رکھنا؛ یہ  دوسرے درجے کی دانائی ہے۔‘‘

۷-۲۸
ہو ہزانگؔ  کے لوگوں سے بات کرنا مشکل ہے ، جب ان کا ایک نوجوان آقا سے ملا توآقا کے شاگرد نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کریں؟
آقا نے فرمایا
 ’’میں اس کی پسپائی نہیں سرفرازی چاہتا ہوں۔میں لوگوں سے یہ جانے بغیر ملتا ہوں کہ وہ جانے کے بعد میرے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔اگر کوئی شخص ذہن صاف کر کے آپ سے ملتا ہے تو اس کے ماضی کو بھلا کر آپ اس سے کشادہ دلی سے ملیں۔‘‘

۷-۲۹ آقا نے فرمایا
 ’’ کیا خیر خواہی بہت دور ہے؟ میں خیر خواہی کی تمنا کرتا ہوں اور اسے پا لیتا ہوں!‘‘

۷-۳۰ چائی اینؔ  کے قاضی نے پوچھا
’’کیا نواب چاؤ ؔ    رسموں کو جانتا ہے ؟‘‘
آقا نے فرمایا
’’ وہ رسموں کو جانتا ہے‘‘
آقا کے جانے کے بعد قاضی نے شہزادے وُوما چائی ؔ کو جھک کر سلام کیا اور کہا
’’میں نے سنا ہے کہ ’اعلیٰ انسان‘ طرفدار نہیں ہوتا ۔کیا اعلیٰ انسان کو طرفدار ہونا چاہیے؟
شہزادے نے ریاست وُوؔ  کی ایک خاتون سے شادی کی ہے ،جس کی عرفیت بھی وہی ہے جو آپ کی ہے، جس کا تعلق وُو کے اعلیٰ خاندان سے بتایا جاتا ہے۔اگر شہزادہ رسوم کو جانتا ہے تو پھر کون ہے جو رسوم کو نہیں جانتا؟‘‘
وُوماچائی نے ان سب باتوں کا ذکر آقا سے کیا تو آقا نے فرمایا
’’میں خوش قسمت ہوں۔اگر میں غلطی کرتا ہوں تو لوگ اسے جان جاتے ہیں۔‘‘

۷-۳۱ 
جب آقا کسی ایسے شخص کی رفاقت میں ہوتے جو گانا گا رہا ہوتا۔اگر وہ اچھا گاتا تو آقا اسے دوبارہ گانے کا کہتے اور گانے میں اس کا ساتھ دیتے۔

۷-۳۲ آقا نے کہا
 ’’ علم کے معاملے میں میرا موازنہ دوسروں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اعلیٰ انسان‘ کے کردار کا تعلق ہے تو اسے ابھی میں نے حاصل کرنا ہے۔‘‘

۷-۳۳ آقا نے فرمایا
’’ میں ایک عارف یا خیرخواہ شخص سے اپنا موازنہ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔لیکن مایوس ہوئے بغیر جانفشانی سے اس درجے کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا اور تھکے بغیر تعلیم دیتا رہوں گا۔‘‘
آقا کے شاگرد کنگ ہزی ہوآؔ  نے کہا
’’یہی وہ سب کچھ ہے جس کی ہم تمام شاگرد  تقلید نہیں کر سکتے۔‘‘

۷-۳۴
آقا بہت بیمار تھے۔ تزولو ؔنے دعا کے لئے کہا۔
آقا نے پوچھا
’’کیا ایسا ہوا ہے؟‘‘
تزولوؔ نے جواب دیا
’’ہاں۔قدیم دور سے دعا کی جاتی ہے،’تو عالم بالا اور عالم زیریں کی روحوں کے لئے دعا کر‘۔‘‘	
آقا نے فرمایا
’’تو پھر میں تو بہت عرصے سے یہ دعا کر رہا ہوں۔‘‘

۷-۳۵ آقا نے فرمایا
’’اسراف کے ساتھ عاجزی نہیں۔کفایت شاعری کے ساتھ کنجوسی نہیں۔ بہترہے کہ عاجزی کے بغیر کنجوسوں کی طرح رہا جائے۔‘‘

۷-۳۶ آقا نے فرمایا
 ’’اعلیٰ انسان ہمیشہ مطمئن رہتا ہے اور ادنیٰ ہمیشہ پریشان۔

۷-۳۷
آقا سخت گیرہونے کے باوجودنجیب تھے۔پرجلال ہونے کے باوجودنرم خو تھے۔ قابل احترام ہونے کے باوجودخوش خلق تھے۔
٭٭٭

تشکر مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
