﻿


 گل دستے 
(ننھے مُنّے بچوں کے لیے دل چسپ نظمیں )




ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی











انتساب

شفقت و محبت کے ساتھ 

ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، نیاے ڈونگری، تعلقہ ناندگاؤں، ضلع ناشک 

کے میرے جملہ عزیز طلبہ و طالبات کے نام 

کہ جن کی تعلیم و تربیت کے وسیلے سے  یہ نظمیں منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئیں 






بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

پہلی بات 


	ضلع پریشد کی اردو پرائمری اسکول میں درس وتدریس کے فرائض ادا کرتے ہوئے مجھے شروع کے ایک ڈیڑھ سال چھوڑ کر تا دمِ تحریر جماعت اول کی ذمہ داری تفویض کی جاتی رہی ہے ۔ بچوں کو دورانِ تدریس گیتوں اور نظموں کے ذریعے اگر کوئی بات سمجھائی جاتی ہے تو وہ اسے بہ آسانی اور جلد فہم کر لیتے ہیں۔ مسرت بخش طریقۂ تعلیم اور طفلِ مرکوز طریقۂ تعلیم کی تکمیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ مختصر گیتوں اور نظموں کو ازبر کرانے سے طلبہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میں نے ادبِ اطفال سے متعلق جہاں دیگر شعرا کی نظمیں طلبہ کو پڑھائیں وہیں خود بھی بہت ساری نظمیں تحریر کیں۔ یہ نظمیں نصابِ تعلیم سے متعلق ہونے کے علاوہ سماج، معاشرے ، ماحول، اقدار اور اصلاح جیسے موضوعات کے گرد گردش کرتی ہیں۔ 
	ان نظموں میں سے چند کا انتخاب کر کے پیشِ نظر کتاب ’’ گل دستہ‘‘ ہدیۂ قارئین ہے ۔ تاکہ ان سے میری اسکول کے طلبہ کے ساتھ ساتھ دیگر طلبہ بھی مستفیض و محظوظ ہوں سکیں۔  جہاں تک بحور و  اوزان اور ردیف و قوافی وغیرہ فنی باریکیوں کا معاملہ ہے توممکن ہے ان نظموں میں اس لحاظ سے اَسقام ہوں لیکن یہ نظمیں بہ آسانی یاد کرائی جا سکتی ہیں اور ان کے ذریعہ زبان و بیان کے ساتھ اعلا اقدار کا فروغ بھی ممکن ہوسکتا ہے ۔ 
	میں محترم رحمانی سلیم احمد صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس کتاب کو اپنے ادارے سے شائع کیا۔اہل نقد و نظر سے امید ہے کہ راقم کی دیگر کاوشات کی طرح اسے بھی مستحسن نظروں سے دیکھتے ہوئے ضروری اصلاح سے نوازیں گے ۔ 
				(ڈاکٹر)محمد حسین مُشاہدؔ رضوی، مالیگاؤں 
						20/04/2011




حمد 

حمد ہے تجھ کو خدا 
تو ہے سب کا آسرا

یہ زمیں بھی تیری ہے 
وہ آسمان ہے ترا

چندا ستارے کہکشاں 
پاتے ہیں سب تجھ سے ضیا

انسان و جن ہر ایک شَے 
تُو نے ہی تو پیدا کیا

یہ پیڑ پودے پھول پھل
ہے باغ سب تجھ سے کھِلا

تسبیح تیری گاتے ہیں 
سارے پرندے یاخدا

علم و عمل کا شوق دے 
ہے تجھ سے ہم سب کی دعا
٭٭٭




حمد

خدایا! ہر اک جہاں ہے تیرا 
زمیں ہے تیری زماں ہے تیرا

کرم کی حد ہے نہ رحمتوں کی 
جو بحر ہے بے کراں ہے تیرا

ہے ذرّے ذرّے میں تیرا جلوہ
عیاں کیا نہاں ہے تیرا

گلوں کی نکہت ہے تیری نکہت 
نوائے بلبل بیاں تیرا 

وہ نورِ اوّل بِنائے عالم 
نبیِ آخر زماں ہے تیرا

تری ہی توفیق سے مُشاہدؔ
ہمیشہ رطب اللساں ہے تیرا
٭٭٭




دُعا


خدایا! تو سن لے ہماری دعائیں 
خطاکار کرتے ہیں یوں التجائیں 

بنیں نیک بچّے لگیں سب کو اچھے 
کبھی کبھی کسی کو نہ نا حق ستائیں 

بھلوں میں رہیں اور بُروں سے بچیں ہم
بدی کو جہاں سے خدایا! مٹائیں 

محبت کا جس میں رہے بول بالا
ترے فضل سے ایسی دُنیا بسائیں 

رہیں جھوٹ سے دپور مولا ہمیشہ 
دِیا ہم صداقت کا ہر سُو جلائیں 

خدایا! ہمیں علم سے دے وہ رغبت 
ہر اک لمحہ ہم علم سیکھیں سکھائیں 

تجھے واسطہ تیرے محبوب کا ہے 
مرے مولا! تُو بخش دینا خطائیں 
٭٭٭




نعت 


نبیوں کے سردار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 
دو جگ کے مختار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 

سب کو سیدھا رستہ چلایا، ایک بنایا نیک بنایا
عظمت کے مینار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 

وہ ہیں ہر انسا ں سے بہتر، کوئی نہیں ہے ان سے برتر
قدرت کے شہِ کار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 

عرشِ علا پر جانے والے ،راز خدا کا پانے والے 
محبوبِ غفار محمد صلی اللہ علیہ و سلم

بیواؤں کا درد مٹایا، مسکینوں کو گلے لگایا
امت کے غم خوار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 

ظلم و تشدد ختم کیا ہے ، امن کا جھنڈا لہرایا ہے 
امن کی ہیں مہکار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 

لب پہ مُشاہدؔ کے ہے دعا یہ، یارب حج کی سعادت دے دے 
دیکھیں ہم دربار محمد صلی اللہ علیہ و سلم 
٭٭٭




نعت 


گلشن گلشن، جلوہ جلوہ 
پتّہ پتّہ، بُوٹا بُوٹا

تارا تارا، روشن روشن
صدقہ صدقہ، اُن کا اُن کا

بُوئے زُلفِ شاہِ دنا سے 
کوچہ کوچہ، مہکا مہکا

دل سے ظلمت کوسوں بھاگی 
چہرہ چہرہ، اُجلا اُجلا

اُن کے تبسم کے صدقے سے 
غنچہ غنچہ، چٹکا چٹکا

ہے یہ قدومِ ناز کی برکت
صحرا صحرا، لالہ لالہ

فاراں سے توحید کا ہر سُو
نغمہ نغمہ، گونجا گونجا

ٹھہر مُشاہدؔ تیرا نصیبہ
چمکا چمکا چمکا چمکا
٭٭٭




 قرآن کی تلاوت

عادت بناؤ بچّو! قرآن کی تلاوت 
فرمان ہے نبی کا، افضل ہے یہ عبادت

اک حرف کے عوض میں دس نیکیاں ملیں گی
جنت کی کھڑکیاں بھی قرآن سے کھلیں گی

کیا چیز ہے جو ایسی قرآن میں نہیں ہے 
پیارے نبی کے سُن لو! فرمان میں نہیں ہے 

قرآن کو فقط تم طاقوں میں نہ سجاؤ
ایک ایک بات اُس کی اپنے عمل میں لاؤ

تم سرُخ رُو رہو گے تم کام راں رہو گے 
تم اس زمیں میں رہ کر اک آسماں رہو گے 

قرآن پہ عمل جو کرتے رہو گے بچّو! 
پستی کے رُخ پہ کوئی نہ ڈال پائے تم کو

اے میرے پیارے بچّو! سُن لو مری نصیحت
عادت بنا لو اپنی قرآن کی تلاوت
٭٭٭




ماں باپ 

ماں باپ دونوں ہیں اللہ کی نعمت 
دل سے کرو اِن دونوں کی خدمت 

جنت کے دروازہ ابو ہمارے 
اور ماں کے قدموں کے نیچے ہے جنت

ماں باپ کا جو بھی مانیں گے کہنا
اللہ دے گا جنت کی دولت

ماں باپ ناخوش جن سے بھی ہوں گے 
اللہ دے گا دوزخ کی کلفت ۱ ؎

بچو! کبھی بھی نا بھولنا تم
ماں باپ کی خدمت نا چھوڑنا تم

	۱؎  کلفت: پریشانی، مصیبت، تکلیف
٭٭٭




ماں کی ممتا

جیسی ماں کی ممتا ہے 
ویسا کوئی پیار نہیں 

پیڑوں کا سایا اچھا
چندا کی ٹھنڈک اچھی
پیارے پیارے تارے سارے 
جن سے جگ میں اجیارا ہے 
جیسی ماں کی ممتا ہے 
ویسا کوئی پیار نہیں 

رنگ رنگیلے خوش بو دار
بیلے جوہی چنبیلی ہیں 
گلابوں کے کیا کہنے ہیں 
خوش بو جن سے پاتے ہیں 
جیسی ماں کی ممتا ہے 
ویسا کوئی پیار نہیں 

سونے چاندی مل جاتے ہیں 
ہیرے موتی مل جاتے ہیں 
لیکن جن کی ماں نہیں ہے 
ان سے پوچھو ماں کا پیار
جیسی ماں کی ممتا ہے 
ویسا کوئی پیار نہیں 
٭٭٭





اذان 

اذان صبح جب ہوتی ہے 
امی فوراً اٹھتی ہے 

ہم سب کو بھی جگاتی ہے 
نہلاتی ہے دھلاتی ہے 

نماز خود بھی پڑھتی ہے 
اور ہم کو بھی پڑھاتی ہے 

ناشتہ کرتی ہے تیار 
روٹی گرم پکاتی ہے 

اچھے کپڑے پہنا کر 
اسکول لے کر آتی ہے 

علم و عمل ہم سیکھیں گے 
اچھے بچے بن جائیں گے 
٭٭٭





ابّو جب بازار سے آئے 

ابّو جب بازار سے آئے 
ادرک آلو ساتھ میں لائے 

بینگن لائے کریلے لائے 
بھنڈی لائے پپیتے لائے 

آم بھی پیلے پیلے لائے 
جامن نیلے نیلے لائے 

سیب بھی میٹھے میٹھے ہیں 
رس بیری بھی رسیلے ہیں 

کیلے گاجر انگور ہیں 
امرود اور کھجور ہیں 

پھل ہم خوب کھائیں گے 
اور انرجی پائیں گے 
٭٭٭



ورق 

بچو! آؤ، بچو ! آؤ
اپنی اپنی کتابیں لاؤ

اُس کا پھر ورق پلٹو
اچھی طرح سے سبق پڑھو

سبق پڑھو انسان بنو
امن کا پرچم لہراؤ

علم و عمل سے رکھیں رغبت 
ختم کریں دنیا سے جہالت

پڑھنا لکھنا کام رہے گا
جگ میں روشن نام رہے گا	٭٭٭



تارے 

وہ ننھے منّے تارے 
لگتے ہیں دل کو پیارے 

اُن کی چمک نِرالی
اُن کی دمک نِرالی

جی چاہتا ہے میرا
مَیں توڑ لاؤں تارا

اور اس کی روشنی سا
تعلیم کا اُجالا

ہر سمت مَیں بساؤں 
سارا وطن سجاؤں 	٭٭٭


باغ کی سیر

آؤ بچو! آؤ آؤ 
اپنا اپنا ڈِبّا لاؤ

باغ کی سیر کو جائیں گے 
آم اور کیلے کھائیں گے 

کھیلیں کودیں ناچیں گے 
گیت خوشی کے گائیں گے 

مل جل کر رہنا سیکھیں گے 
جھگڑا کبھی بھی ہم نہ کریں گے 

نفرت ختم کرائیں گے 
امن جہاں میں بسائیں گے 
٭٭٭



گلاب ہے پھولوں کا راجا


اسلم، اکرم، نازو، میٖنا
آؤ آؤ لیٖلا، سیٖتا

ساتھ میں مل کر باغ چلیں ہم
تم بھی چلونا! بھیّا آدم

باغ میں جا کر کھیلیں گے 
رنگیں پھول بھی دیکھیں گے 

گلاب کی بھینی بھینی مہک سے 
ہوا بھی ساری مہک رہی ہے 

کانٹے چبھ نہ جائیں بچو!
پھولوں کو نہ توڑیں بچو!

رنگ رنگیلے خوشبو دار
لال گلابی کانٹے دار

کچھ ہیں پیٖلے کچھ ہیں سفید
دیکھو آ کر مُنّا زَید

سب پھولوں میں سب سے اچھا
گلاب ہے پھولوں کا راجا
٭٭٭




میری اسکول


سب سے پیاری میری اسکول 
سب سے نیاری میری اسکول
سب سے بھلی ہے سب سے نیاری
میری اسکول میری اسکول 

اچھا اک میدان ہے 
کھیل کا سامان ہے 
سب سے نرالی شان ہے 
علم کی پہچان ہے 
سب سے بھلی ہے سب سے نیاری

میری اسکول میری اسکول 
ہم تو روز سویرے اٹھ کر
آتے ہیں مکتب کے اندر
محنت سے پڑھنے کی خاطر
دکھلا دیں آگے بڑھ کر
سب سے بھلی ہے سب سے نیاری
میری اسکول میری اسکول 

محنت سے ہم پڑھتے ہیں 
جھگڑا کبھی نہ کرتے ہیں 
گھر کا کام بھی کرتے ہیں 
آگے ہی آگے بڑھتے ہیں 
سب سے بھلی ہے سب سے نیاری
میری اسکول میری اسکول 
٭٭٭



 استاد

استاد کمرے میں آتے ہیں 
پیار سے ہم کو پڑھاتے ہیں 

علم ہمیں سکھاتے ہیں 
انسان ہمیں بناتے ہیں 

کتنے سادہ رہتے ہیں 
سادہ رہنا سکھاتے ہیں 

کتنے پابند رہتے ہیں 
پابندی ہمیں بھی سکھاتے ہیں 

علم و عمل کی دولت دے کر 
جہالتوں سے بچاتے ہیں 

اچھائی اور بُرائی کا 
فرق ہم کو بتاتے ہیں 

جتنے ہم سب بچے ہیں 
سب کو نیک بناتے ہیں 

پیار سے ہم سب بچوں کو
ایک رہنا سکھاتے ہیں 

اُن کی خاطر ہے یہ دُعا
خوش رکھے اللہ سدا
٭٭٭




برسات کے دن 

کیا خوب ہیں برسات کے دن

کیا خوب ہیں برسات کے دن
دل میں امنگیں جاگی ہیں 
پھولوں کے سنگ کھیلیں ہم
کھیتوں میں کھلیانوں میں 
کھیلیں کودیں ناچیں ہم
کیا خوب ہیں برسات کے دن

کیا خوب ہیں برسات کے دن
اکرم آؤ، انور آؤ 
کاغذ کی اک ناؤ بناؤ 
پانی میں تَیرا کر اس کو
اُچھلو ، کودو، دوڑ لگاؤ
کیا خوب ہیں برسات کے دن

کیا خوب ہیں برسات کے دن
بارش کے ان قطروں جیسا 
سب کی پیاس بجھانا ہے 
سارے جگ میں پیارے بچو! 
ہم کو پیار لُٹانا ہے 
کیا خوب ہیں برسات کے دن

کیا خوب ہیں برسات کے دن
٭٭٭





بادل راجا

جھام جھما جھم گھام گھما گھم
پانی برسا آج ذرا کم 
بادل راجا پانی دے جا

بھر جائیں گے تال تلَیّا 
پھر تَیرے گی میری نیّا
ہم گھومیں گے خوب گھما گھم
جھام جھما جھم گھام گھما گھم
پانی برسا آج ذرا کم 
بادل راجا پانی دے جا

ہری اُگے گی سبزی تازی
دہی چھاچھ کی مَوج اُڑے گی
ہم کھائیں گے خوب گھما گھم 
جھام جھما جھم گھام گھما گھم
پانی برسا آج ذرا کم 
بادل راجا پانی دے جا

کھِل جائیں گے پھول گھنیرے 
لال گلاب اور پیلے نیلے 
ہم مہکیں گے خوب گھما گھم
جھام جھما جھم گھام گھما گھم
پانی برسا آج ذرا کم 
بادل راجا پانی دے جا
٭٭٭




بارش کی جدائی 


بارش کی جدائی کاسائرن بجا
بھیڑ ہو گئی تتّر بتّر

بند ہو گئے دھوم دھڑاکے 
بند ہو گئی چمک دمک
بند ہو گئے کھیل تماشے 
بند ہو گئی تڑک دھڑک

جلدی سے بارش نے اپنے 
باندھ لیے ہیں بوریہ بستر

صاف ہو گئے چاند ستارے 
صاف ہو گئے نیل گگن
صاف ہو گئے کیچڑ دلدل
صاف ہو گئے گھر آنگن 

سردی اب آنے والی ہے 
اکرم اس کا ویل کم کر
٭٭٭



علم و عمل کے متوالے 

بیت گئے اب چھٹی کے دن 
پڑھنے کے دن آئے 
گرم ہوائیں بند ہوئیں اب 
آسماں میں بادل چھائے 

نت نئے کپڑوں میں سج کر
ہم بچے اسکول جاتے ہیں 
رنگ برنگی تتلی جیسے 
بچے سب کو بھاتے ہیں 

پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں ہم 
یہی ارادہ ٹھانا ہے 
علم و عمل کے متوالے 
سارے جگ کو بتانا ہے 		٭٭٭



عیٖد

عیٖد آئی عیٖد آئی 
ڈھیر ساری خوشیاں لائی

اُجلے اُجلے کپڑے پہنے 
بچیوں نے گہنے پہنے 

عیٖد گاہ میں ہم سب جا کر
گھر پر آئے نماز پڑھ کر

خوب گلے سے ملتے ہیں 
عیٖد مبارک کہتے ہیں 

شیٖر خرما، سوئیاں کھائے 
سب سے پھر تو عیٖدی پائے 

گیت خوشی کے گاتے ہیں 
رنج، مسرت   پاتے ہیں 

جس نے روزہ رکھّا ہے 
عیٖد تو اس کا حصہ ہے 
٭٭٭



پانی 

ندّی نالے ساگر میں ہوں 
چشمے حوض اور گاگر میں ہوں 
کنووں میں ہوں جھرنوں میں ہوں 
قوسِ قُزح کے رنگوں میں ہوں 

کہاں نہیں ہوں یہ پوچھو بس
میری تو ہے غضب کہانی
زندگی ہے مجھ سے قائم
لوگ مجھے کہتے ہیں پانی

چیز ہوں مَیں جانی پہچانی
کرنا مت مجھ سے من مانی
زندگی ہے مجھ سے قائم
لوگ مجھے کہتے ہیں پانی

روٗپ انوکھے رکھتا ہوں مَیں 
کیوں کرتے ہو تم حیرانی 
زندگی ہے مجھ سے قائم
لوگ مجھے کہتے ہیں پانی
٭٭٭





سویرا


چَم چَم چَم چَم چمکے چندا
کرتے ٹِم ٹِم تارے 
دَم دَم دَم دَم دمکے سورج 
لگتے ہم کو پیارے 

ٹَپ ٹَپ ٹَپ ٹَپ ٹپکے بوندیں 
بہتے جھر جھر جھرنے 
سَر سَر سَر سَر ہَوا چلے جب
کَل کَل دل لگے کرنے 

کَڑ کَڑ کَڑ کَڑ کَڑکے بجلی
گرجے گَڑ گَڑ بادل
بھر بھر جاتے چشمے کنویں 
مستی میں دل جاتا مچل 
٭٭٭




ہاتھی 

میں ہوں ہاتھی میں ہوں ہاتھی
بچوں کا اک پیارا ساتھی

ٹانگیں میری کھمبے جیسی 
آنکھیں میری منکے جیسی 

چال ہے میری مستانی 
سونڈ سے پیٖتا ہوں پانی 

گنّے شوق سے کھاتا ہوں 
سب کا دل بہلاتا ہوں 

دُم ہے میری چھوٹی سی
چمڑی میری موٹی سی 

کالا کالا میرا رنگ 
بچو! کھیلو میرے سنگ
٭٭٭




اتحاد میں برکت ہے 

اک بَن کی یہ کہانی ہے 
سنائی ہو گی نانی نے 
اک دن جنگل میں آ کر 
بیٹھا شکاری جال بچھا کر
دانے اُس پر ڈالے تھے 
کبوتروں نے جب دیکھے 
ٹوٹ پڑے وہ دانے پر
ایک کبوتر پاس آیا
اس نے سمجھایا، نہ کھاؤ
میرے بھائیو! بھولے بھالو
شکاری شہروں سے آتے ہیں 
جال بچھا کر رکھتے ہیں 
اچانک شکاری پاس آیا
فوراً اُس نے جال اُٹھایا
سارے کبوتر جال میں پھنس کر
چلّاتے تھے رو رو کر
ایک کبوتر نے یہ کہا
چلّانے سے کیا ہو گا؟
زور لگاؤ سب مِل کر
جال یہ ٹوٹے کا یک سَر
زور لگایا جب سب نے 
جال کے ہو گئے ٹکڑے ٹکڑے 
سارے کبوتر آزاد ہوئے 
خوش ہو کر یہ کہنے لگے 
اتحاد میں برکت ہے 
اتحاد میں برکت ہے 
٭٭٭




حروفِ تہجی کا گیت 


میری ننھی گڑیا تسنیم 
پیاری پیاری گڑیا تسنیم

باتیں اُس کی میٹھی میٹھی
رس میں ڈوبی جلیبی جیسی

’’الف‘‘ سے کہتی ہے وہ اللہ
’’بے ‘‘ سے کہتی ہے بسم اللہ

’’پے ‘‘ سے اُس نے پتنگ بنائی 
سعد بھائی نے خوب اُڑائی

’’تے ‘‘ سے ترازو لے کر آئی
’’ٹے ‘‘ سے ٹماٹر اُس نے کھائی

’’ثے ‘‘ سے ثمر ابّو نے لائے 
سب نے مِل کر اُن کو کھائے 

’’جیم‘‘ سے جہاز بناتی ہے 
’’چے ‘‘ سے چرخا کاتتی ہے 

’’حے ‘‘ سے حلوا پُوری کھائے 
ساتھ میں آپا کو بھی کھلائے 

’’خے ‘‘ سے جب خط میرا آئے 
لے کر فوراً پاس وہ آئے 

’’دال‘‘ سے دوات لے کر بیٹھے 
خوش خطی کا فن وہ سیکھے 

’’ڈے ‘‘ سے ڈمرو جب بجتا ہے 
اُس کو اچھا نہیں لگتا ہے 

’’ذے ‘‘ سے ذخیرہ لفظوں کو 
بڑھتا جائے یوں اُس کا

’’رے ‘‘ سے ریل میں بیٹھے گی
اجمیر بریلی جائے گی

’’ڑے ، زے ژے سین‘‘ اور’’ شین‘‘
پڑھتی ہے وہ اور ثمرین

’’صاد، ضاد، طا‘‘ اور ’’ظا‘‘
اُس نے آسانی سے سیکھا

’’عین، غین، فے ‘‘ اور ’’ قاف‘‘
خود کو ہر دم رکھے صاف

’’ک‘‘ اور ’’گ‘‘، لام‘‘ اور ’’میم‘‘
فر فر پڑھتی ہے تسنیم

’’نون، واو، ھے ‘‘ اور ’’یائے ‘‘
میری گڑیا سب کو سُنائے 

کے جی میں وہ جائے گی
پڑھنے میں دل لگائے گی 
٭٭٭




گنتی کا گیت 


ایک دو ایک دو
رب کا نام لے کر سو

تین چار تین چار 
ہر ایک سے کرنا پیار

پانچ چھ پانچ چھ
ہم بنیں گے بچے اچھے 

سات آٹھ سات آٹھ 
پڑھ کر حاصل ہوں گے ٹھاٹ

نو دس نو دس
بات بات پر نہ ہنس

گیارہ بارہ گیارہ بارہ
روز پڑھیں گے ہم سی پارہ

تیرہ چودہ تیرہ چودہ
خوب لگائیں مِل کے پودا

پندرہ سولہ پندرہ سولہ
پڑھتے رہنا صلِ علا

سترہ اٹھارہ سترہ اٹھارہ 
علم کا روشن کر دیں ستارا

انیس بیس انیس بیس 
پہنچے نہ ہم سے کسی کو ٹیٖس
٭٭٭


انگریزی حروفِ تہجی کا گیت 

اے بی سی ڈی اے بی سی 
ہم کو پڑھنا ہے انگریزی 

ای ایف جی ای ایف جی
ابّو بن جائیں گے ڈیڈی

ایچ آئے جے ایچ آئے جے 
کھیل کہلائے گا پلے 

کے ایل ایم کے ایل ایم
امّی کو ہم کہیں میم

این او پی این او پی
چائے کو بولیں گے ٹی

کیو آر ایس کیو آر ایس
چہرہ بن جائے گا فیس

ٹی یو وی ٹی یو وی
مُنّی کہلائے گی بے بی

ڈبلیو ایکس ڈبلیو ایکس
فون موبائل اور فیکس

وائے زیڈ وائے زیڈ
ہم پائیں گے اے گریڈ

شوق سے یوں ہی پڑھتے جائیں 
آگے آگے بڑھتے جائیں 
٭٭٭



دنوں کا گیٖت 


ہفتے کا پہلا دن ہے پیارے بچّو! پیٖر
دیکھو! پکائی امّی نے کیسی میٹھی کھیٖر؟

منگل بولا میرا نمبر ہفتے میں ہے دوسرا
بچّو! بڑا انوکھا ہے میرا بھی تو نخرا

تیسرا نمبر بدھ کا ہے بول رہا ہے برکت
بچّو! قائم رکھنا تم اپنی اپنی صحت

جمعرات کا چوتھا نمبر کہتی ہے یہ سارا
شوق سے ہر دن ہم پڑھیں گے مکتب جا کر پارا

جمعہ کا پانچواں دن آیا ہے سارے جگ کو مہکاتے 
نماز پڑھ کر ہم کھائیں گے مٹھائی اور بتاشے 

چھٹّا دن سنیچر آیا کھایا ہم نے بسکٹ
آدھا دن اسکول رہے گی پھر کھیلیں گے کرکٹ

اتوار کا دن لگتا ہے ہر اک دن سے پیارا
دن بھر ہم کرتے رہتے ہیں مل کر دھوم دھڑاکا
٭٭٭




درخت ہم کو لگانا ہے 

درخت جتنے لگائیں گے 
زرخیزی کو بچائیں گے 
درخت یوں ہی کاٹیں گے تو 
آگے ہم پچھتائیں گے 

آؤ مِل کر درخت لگائیں 
ساری دُنیا کو مہکائیں 
ویٖرانی چھائی ہے ہر سوٗ
ہریالی کو ہم پھیلائیں 

سوچیں ایسا کیوں ہوا ہے ؟
بارش بہنا روٹھی ہم سے 
درخت کاٹیں جتنا زیادہ
موسم میں سختی ہی پھیلے 

گر دُنیا کو بچانا ہے 
درخت ہم کو لگانا ہے
٭٭٭




صحت کا راز

چھوٹا ہوں پر صحت کا راز
میں سب کو بتلاتا ہوں 

پھل سبزی جی بھر کر روٹی 
دودھ دہی بھی کھاتا ہوں 

اُٹھ کر جلدی روز سویرے 
لمبی دوڑ لگاتا ہوں 

پانی خوب ہی زیادہ پیتا
انڈہ مچھلی کھاتا ہوں 

روز ہی ورزش کر کے مَیں 
صحت اپنی بناتا ہوں 	٭٭٭


مَینا کی سگائی 


مَینا کی آج ہوئی سگائی
سب نے مِل کر کھائی مٹھائی 

کوئل نے اک گیٖت سنایا
بندر اُچھلا کودا ناچا

طوطا ڈھولک لے کر آیا
ڈَھم ڈَھم ڈَھم اُس کو بجایا

چڑیا چوں چوں کرتی آئی
سب کے مَن کو خوب لبھائی

مور بھی چھَم چھَم کرتا آیا
آ کر اپنا ناچ دکھایا

سب نے مِل کر دی یہ بدھائی 
مَینا کی آج ہوئی سگائی 
٭٭٭




نیا سال 
 
بلّی نے اک گریٹنگ کارڈ 
چوہے جی کو بھجوایا
ہیپّی نیو ایَر کا نعرہ 
اس میں تھا لکھوایا

اب تک جو کچھ ہو چکا ہے 
بھائی اُس کو معاف کرو
ساری پچھلی غلطی میری 
رفع دفع اور صاف کرو

نئے سال کی پارٹی میں تم 
میرے گھر پر آ جانا
خوب موجیں اُڑائیں گے 
بھائی بھتیجوں کو بھی لانا

چوہے نے یوں جواب بھیجا
بلّی ہے یی تیری چال
کھانا ہم کو تُو چھوڑے گی؟ 
ابھی تو آیا نہیں نیا سال 
٭٭٭




موبائیل

جب سے گھر آیا موبائیل 
بدلا سب کا پھر اسٹائیل

جب بھی آئے کسی کا فون 
پاپا کہتے ہیلو! کون؟

ایسی اَن ہونی ہوتی ہے 
لندن بات بھی ہوتی ہے 

رچارج کا سُن کے ہُوا حیران
پیسہ کھائے یہ شیطان

دن بھر موبائل سے کھیلتے 
بھیّا پڑھائی کچھ نہ کرتے 

کتاب کا نہ پڑھتے پیسیج
لکھتے بس موبائل پہ میسیج

اکزام کے دن آئے پر بھی 
جٹے رہے موبائل پر ہی 

رزلٹ کا ہو گیا ستیا ناس
بھیّا ہو گئے اب کی ناپاس
٭٭٭




چھک چھک چھک ریل چلے 


دانش، ناظم، اکرم، روبی آؤ ریل چلائیں 
اک دوسرے کی شرٹ پکڑ کر آگے قدم بڑھائیں 
چھک چھک چھک ریل چلے چھک چھک چھک ریل

میں بن جاؤں انجن اور تم بن جاؤ ڈبے 
آگے بڑھتے جائیں ہم زور سے یہ ہی کہتے 
چھک چھک چھک ریل چلے چھک چھک چھک ریل

روبی منہ پر ہاتھ لگا کر چھک چھک کرتی جاؤ
دانش ہری جھنڈی لے کر اس کو تم لہراؤ
چھک چھک چھک ریل چلے چھک چھک چھک ریل

سیٹی زور سے بجنے لگی ہے اب اسٹیشن آیا
گارڈ نے لال جھنڈا لے کر ہاتھوں میں لہرایا
چھک چھک چھک ریل چلے چھک چھک چھک ریل

ریل کے جیسا علم کی خاطر آگے بڑھتے جائیں 
خوب لکھیں گے خوب پڑھیں گے کچھ نہ کچھ بن جائیں 
چھک چھک چھک ریل چلے چھک چھک چھک ریل
٭٭٭



کوے کا سیانا پن

دو کوے پیاسے تھے 
جنگل جنگل پھرتے تھے 

انھوں نے دیکھا اک مٹکا
جس میں پانی تھوڑا تھا

دونوں بھاگے اڑتے اڑتے 
شاید کوئی ترکیب سوجھے 

دونوں نے پھر یہ دیکھا
اک بازار میں اک بچہ

منہ میں لگا کر اک اَسٹرا
ناریل پانی پی رہا تھا

دو کووں میں اک کوا
پڑھا لکھا اور سیانا تھا

اَسٹرا اٹھا کر وہ بھاگا
جا کر اپنی پیاس بجھایا

دوسرا کوا بھولا تھا
کنکر اٹھا کر جب لایا 

پہلے کوے کو وہ دیکھا
اَسٹرا سے پانی پیتا

سوچا میں بھی اب پڑھوں گا
اُس کے جیسے آگے بڑھوں گا	٭٭٭




لالچی کتّا

ایک تھا کتّا 
کالا کالا کتا

روٹی کا ٹکرا 
اک دن پایا

منہ میں دبایا 
تیزی سے بھاگا

پُل پر پہنچا 
نیچے جو دیکھا

اُس نے پایا 
اپنا ہی سایا

سمجھا کہ دوسرا
نیچے ہے کتّا

لالچ کا پُتلا 
کالا کالا کتّا

جیسے ہی بھونکا 
اس کے ہی منہ کا

گر گیا نیچے 
روٹی کا ٹکڑا

منہ لٹکائے  
تیزی سے بھاگا

لالچ کا پُتلا
کالا کالا کتّا
٭٭٭




گڑیا ہماری 

چندا سی صورت گڑیا ہماری
اللہ کی نعمت گڑیا ہماری

ماں باپ دادا دادی کی پیاری
گھر بھر کی چاہت گڑیا ہماری

پھوپھی کی ہے یہ ننھا کھلونا
اماں کی راحت گڑیا ہماری

دیتے ہیں چاچا اس کو دعائیں 
ابّو کی دولت گڑیا ہماری

خاتونِ جنت کی میرے خدایا!
پا جائے سیرت گڑیا ہماری

علم و عمل اور نیکی کی ہر سو
پھیلائیں نکہت گڑیا ہماری
٭٭٭





محنت کرنا سیکھو تم  

محنت کرنا سیکھو تم
آگے بڑھنا سیکھو تم

محنت ہی سے عظمت ہے 
محنت ہی سے راحت ہے 

محنت ہی کام آئے گی
محنت شان بڑھائے گی

سچی خوشیاں اِس کے دم سے 
سکھ کی راہیں اِس کے قدم سے 

محنت ہی خوش حالی لائے 
صحرا میں ہریالی لائے 

جو بھی محنت کرتے ہیں 
جگ میں وہ ہی چمکتے ہیں 

محنت کو اپناؤ تم
جگ میں نام کماؤ تم
٭٭٭




چغلی 

چغلی کھانا عیب ہے بچو!
دور اِس سے تم رہنا سیکھو

ہم کو آپس میں یہ لڑائے 
طرح طرح کی آفت لائے 

اپنوں سے یہ کر دے دور
برائیوں میں کر دے چور

چغلی سے ناخوش ہو اللہ 
توڑو اس سے رشتہ ناطہ

جنت میں نہ جائے گا وہ
جس نے چغلی کھایا بچو!

پیارے نبی کا کہنا مانو
بد عادت ہے اس کو چھوڑو

تم کو گر پانا ہے جنت 
اپناؤ ہر اچھی عادت
٭٭٭





غیبت


غیبت بُری بَلا ہے 
بچنا تم اس سے بچو! 
سچ مانو اک سزا ہے 
غیبت بُری بَلا ہے 

جس میں ہو یہ برائی 
پائے نہ وہ بھلائی 
سُن لو بڑی خطا ہے 
غیبت بُری بَلا ہے 

جو بھی کرے گا غیبت
دور اُس سے ہو گی جنت
اِس میں نہ کچھ مزا ہے 
غیبت بُری بَلا ہے 

منہ سے وہ بد بو پھوٹے 
پاس آئیں نہ فرشتے 
اِک دردِ لادوا ہے 
غیبت بُری بَلا ہے 

عادت نہ یہ بنانا
مردار گوشت کھانا
اپنے ہی بھائی کا ہے 
غیبت بُری بَلا ہے 
٭٭٭




لالچی چیونٹی

اک تھی چیونٹی چھوٹی سی، رنگ تھا اُس کا کالا
کھانے کی شوقین بہت تھی، گھی شکّر کا نوالا

روزانہ وہ کھاتی تھی، شوق سے گھی اور شکّر
موٹی ہو گئی پیارے بچّو! خوب ہی زیادہ کھا کر

اِک دن اُس نے کچن میں دیکھا، گھی کی کھلی اک برنی
منہ میں پانی بھر آیا، پھُر سے برنی میں کودی

لالچ کی اُس پُڑیا کو، کھانے کا انداز نہ سمجھا
اِتنا کھایا اِتنا کھایا، پیٹ ہی اُس کا پھوٹ گیا
٭٭٭

٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
