﻿



گلزَارِ نعت


غلام ربانی فداؔ
 



ناشر
آل انڈیا تحریک فکرِ نعت ہیرور






انتساب



جہانِ عشقِ رسولِ کریمﷺ میں ڈوب کر طلوع ہونے والے
درخشاں ستاروں کے نام

خادمِ نعت	
غلام ربانی فداؔ   	


 نذرانۂ  عقیدت

ان مقدس ہستیوں کے نام!
جن کی آنکھیں حسرتِ دیدارِ گنبدِ خضریٰ میں 
خاموش و پُر سکوں راتوں میں اشکوں کے
 گوہرِ نایاب لٹاتی ہیں 

خاکپائے عاشقانِ رسول کریمﷺ 


حمد ربِ جلیل


جل شانہٗ

 رات رو رو کے جو دعا مانگی 
رب سے تاثیرِ  برملا مانگی

تاج مانگا نہ تخت ہی مانگا
رب سے بس خیر کی دعا مانگی

رکّھی  ظالم سے کب امیدِ کرم
ربِّ رحمٰن  سے عطا مانگی

 مانگی اپنے خدا سے درویشی
میں نے کب مخملی قبا مانگی

شام غربت کی بھی نہیں چاہی
اور نہ بوسیدہ سی قبا  مانگی

خضر سی عمر بھی نہیں چاہی
 نہ کوئی مسندِ صفا  مانگی

چاہی بادِ صبا نہ رنگِ افق
 نہ کبھی باغ کی فضا مانگی

قبر میں روشنی بھی چاہی ہے
اور کعبے کی  نم  فضا مانگی

راز داں ہو خطا معاف میری
چیز کیا چاہئے تھی کیا مانگی

ہم نے بزمِ خیال سے اپنی
لذتِ یادِ مصطفی  مانگی

نعت حسان جیسی میں بھی کہوں 
رب سے رو رو کے یہ دعا مانگی
٭٭٭


جل شانہٗ

فروغِ علم کی یا رب کتاب کر دے عطا
سوال کا جو مکمل جواب کر دے عطا

کریم  ذات پہ تیری مجھے بھروسہ ہے
ہر اک گنہ سے مجھے اجتناب کر دے عطا

مرے جہاں کو جو سیرابِ آرزو کر دیں 
مجھے تو اپنے کرم کا سحاب کر دے عطا

حضور تیرے جو مشکل سوال میں رکھّوں 
نبی کے صدقے میں اس کا جواب کر دے عطا

ترے کرم پہ دل و جاں مرے فداؔ ہو جائیں 
مری نظر کو مرا انتخاب کر دے عطا
٭٭٭


جل جلالہٗ

دل کو میرے کر دے اب سیراب رب العلمیں 
میں تو مشتِ آب و گل ہوں اور تو نور آفریں 

خالق ارض و سما اے مالک فرشِ زمیں 
تیری قدرت پہ فدا دل، اور خم میری جبیں 

بندگی کا تو مری حاصل ہے اے معبود کل
زینتِ عرشِ بریں اے رونقِ فرشِ زمیں 

ملتجی ہوں میں ترے لطف و کرم کا اے کریم
لطف فرما مجھ پہ اے الطاف و رحمت کے امیں 

ہے نظر میں نور تیرا، رنگ تیرا اے خدا
اور یہ سچائی ہے توہے مرے دل کے قریں 

آرزوئے دل بھی تو اے مالکِ کل کائنات
آنکھ میں پردہ نشیں تو بر فلک جلوہ نشیں 

میں کیا جاؤں طلب ارضِ حرم پراے فداؔ
بہرِ سجدہ ہر نفس بیتاب ہے میری جبیں 
٭٭٭



مدحتیں 

بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی  لکھنے کا حق
جس قلم کی روشنائی میں ہو  شامل احتیاط
					(حضور شیخ الاسلام علامہ سید مدنی اخترؔ کچھوچھوی) 



ﷺ 

لب پر مرے درود ہو اور دم تمام ہو
یوں میری زندگی کی مدینے میں شام ہو

دل میں یہ آرزو لئے زندہ ہوں آج تک
سرکار میرے گھر میں ہوں ایسی بھی شام ہو

اللہ سے میں کرتا ہوں دن رات یہ دعا
وہ دن بھی آئے طیبہ میں حاضر غلام ہو

جب دم مرا اخیر ہو اے ربِّ کائنات
نظروں میں طیبہ لب پہ محمد کا نام ہو

چادر عطا ہو روضۂ  اطہر کی اے خدا
ایسا مرے کفن کے لئے انتظام ہو

یہ دل کی آرزو ہے کہ ہر ماہ بار بار
میلاد کا فداؔ کے بھی گھر اہتمام ہو
٭٭٭


ﷺ 

خوشبوؤں سے مہکنے لگی ہے فضا، لے کے اسلام خیرالوریٰ آ  گئے
بتکدے ہل گئے آ گیا زلزلہ،  رحمت  عالمیں مصطفی آ گئے

دے رہے ہیں شجر اور حجر یہ صدا، لے کے سرکار دینِ ہدیٰ آ گئے
رب نے مقبول کر لی خلیلی دعا  رحمت  عالمیں مصطفی آ گئے

بیکسوں، بے سہاروں کو حامی  ملا اور یتیموں  غریبوں کو والی ملا
اے مریضو! تمہیں چارہ گر مل گیا  رحمت  عالمیں مصطفی آ گئے

ذرّے ذرّے میں تابندگی آ گئی آفتاب و قمر جگمگانے لگے
کہہ رہے ہیں ستارے بھی صلِّ علیٰ  رحمت  عالمیں مصطفی آ گئے

اونٹنی جو تھی بیمار اچھی ہوئی دودھ اب وہ زیادہ جو دینے لگی
یہ حلیمہ نے خوش ہو کے سب سے کہا  رحمت  عالمیں مصطفی آ گئے

جس نے دیکھا انہیں دیکھتا رہ گیا پڑھ کے صلِّ علیٰ  یہ ہی کہتا رہا
کیوں نہ ہو نام پر ان کے شیدا فداؔ  رحمت  عالمیں مصطفی آ گئے
٭٭٭


ﷺ 

بزمِ نوری سے طیبہ کے جلوے لے کے  نعتِ نبی لکھ رہا ہوں 
دل سے اپنے عقیدت کے جذبے لے کے  نعتِ نبی لکھ رہا ہوں 

ہے نگاہوں میں طیبہ کا منظر دل میں پنہاں ہے بس یادِ سرور
جامِ عرفاں سے مستی کے قطرے لے کے  نعتِ نبی لکھ رہا ہوں 

ہند میں غم کا مارا ہوا ہوں اور بد بخت و بے آسرا بھی
سیرتِ پاک کے سارے قصّے لے کے  نعتِ نبی لکھ رہا ہوں 

زائرینِ حرم!جا کے کہنا کیفیت کو مری شاہِ دیں سے
آج آنکھوں میں اشکوں کے موتی لے کے  نعتِ نبی لکھ رہا ہوں 

کیوں نہ گھر گھر میں مقبول ہو یہ کیوں نہ تاثیر ہو اس کی سب پر
خاکِ اجمیر کے پاک ذرّے لے کے  نعتِ نبی لکھ رہا ہوں 
٭٭٭


ﷺ 

جو شمع یادِ نبی کی جلائی جاتی ہے
تو روشنی کی کرن دل پہ چھائی جاتی ہے

خیالِ مدنی میاں جب بھی مجھ کو آتا ہے
شبیہہ ان کی تصور میں چھائی جاتی ہے

مہک وہ جنتِ فردوس کے چمن میں کہاں 
مہک جو گیسوئے احمد سے آئی جاتی ہے

چلو  اے حاجیو مکے سے ہم مدینے چلیں 
درِ رسول پہ بگڑی بنائی جاتی ہے

مدینے اپنے فداؔ کو بھی اب بلا لجیے
کہ جھکنے آپ کے در پر خدائی جاتی ہے
٭٭٭


ﷺ 

مدینے کو مسافر جا رہے ہیں 
مقدر پہ بہت اترا رہے ہیں 

بیاں اشکوں سے حالِ دل ہے اپنا
مزہ ہم حاضری کا پا رہے ہیں 

خوشی میں چومتے ہیں سنگِ اسود
مقدر پہ بہت اترا رہے ہیں 

ملا ہے سرمۂ  خاکِ مدینہ
اسے آنکھوں میں ہم لگوا رہے ہیں 

فرشتے بزمِ نورانی میں آ کر
مزہ ذکرِ نبی کا پا رہے ہیں 

بچھا دیں راہ میں ہم ان کی پلکیں 
مدینے جا کے مومن آ رہے ہیں 

بنا کر آئینہ  ہم اپنے دل کو
فداؔ  جلوے نبی کے پا رہے ہیں 
٭٭٭



ﷺ 

آنکھ میں آنسو سجا کے ہم مدینے آئے ہیں 
بندگی کا شوق اور عشقِ نبی لے آئے ہیں 

اب نگاہوں کو کوئی منظر لبھاتا ہی نہیں 
روضۂ  سرکار کا دیدار کر کے آئے ہیں 

اب تو آ جائے یہاں پر موت ہم کو اے خدا
مار کے دنیا کو ٹھوکر ہم مدینے آئے ہیں 

اب تو بلوا لیجئے سرکار طیبہ میں ہمیں 
قافلے اشکوں کے راہِ غم پہ ہم لے آئے ہیں 

کیوں نہ ہو پھر  ناز ہم کو اے فداؔ تقدیر پر
جلوۂ  نورِ نبی دل میں بسائے آئے ہیں 
٭٭٭



ﷺ 

عرض یا رب قبول ہو جائے 
شاد قلبِ ملول ہو جائے

کاش جاؤں مدینے اور سر پہ
خاک پائے رسول ہو جائے

 اس میں حبِ نبی جو بس جائے
قلب شاداب پھول ہو جائے

جس سے روشن ہیں آفتاب و قمر
اس ضیا کا نزول ہو جائے

مثلِ حسّان اے فداؔ میری
نعتِ اقدس قبول ہو جائے
٭٭٭



ﷺ 

قلب وہ جس میں لگن آپ کی گھر کر جائے
آپ کا ہو کے وہ کیوں غیر کے در پر جائے

زندگانی میں کبھی تو میں مدینے پہنچوں 
کاش اتنی سی دعا میری اثر کر جائے

صرف ہو شوقِ عبادت نہ رہے زر کی ہوس
اور دل سے نہ کبھی الفتِ سرور جائے

در پہ سرکارِ دو عالم کے فداؔ حاضر ہو
آخرت کا اے خدا دل سے مرے ڈر جائے
٭٭٭





ﷺ 


نیچی نظریں کئے  دربار میں ہم آتے ہیں 
غم کے مارے ہیں لئے سینکڑوں غم آتے ہیں 

غمزدہ لوگ ہیں بادیدۂ  نم آتے ہیں 
لے کے ٹوٹے ہوئے دل ہی کو توہم آّتے ہیں 

ہم خطا کار ہیں اور آپ کا در ہے اقدس
شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے ہم آتے ہیں 

جب مصیبت میں کبھی گھرکے پکاروں ان کو
کان میں آئے یہ آواز کہ ہم آتے ہیں 

ہم کو سرکار بچا لیجے کہ ظالم انساں 
ہم پہ کرنے کے لئے مشقِ ستم آتے ہیں 

کچھ سلیقہ نہیں ہم کوہی طلب کا ورنہ
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں 

ایک دریا سا فداؔ  بہٍتا ہے چاروں جانب
جوش میں جب بھی کبھی دیدۂ  نم آتے ہیں 
٭٭٭


ﷺ 

بختِ حلیمہ جاگ گیا ہے ابر خوشی کے چھائے ہیں 
شاہِ دو عالم  نورِ مجسم اس کے مکاں پر آئے ہیں 
 
آج محمد پیدا ہوئے  تو نور جہاں میں چھایا ہے 
جھوم رہی ہیں ساری فضائیں اور فرشتے آئے ہیں 

جشنِ ولادت پیارے نبی کا کیوں نہ منائیں مستی میں 
کوچہ کوچہ گلشن گلشن سبز علم لہرائے ہیں 

پیدا ہوئے ہیں جب سے محمد نور کا دریا بہٍتا ہے
گونج رہے ہیں نوری نغمے ذرّے چمک پہ آئے ہیں 

ہم کو فداؔ اس شان پہ اپنی فخر بھی ہے اور راحت بھی
ان کے غلاموں میں ہم بھی ہیں ان کے ہی کہلائے ہیں 
٭٭٭



ﷺ 

پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں 
وہ حبیبِ کبریا ہے آمنہ کی گود میں 

ہے امامِ انبیا ء بھی انبیاء کا رہنما
اہلِ دل کا مقتدا ہے آمنہ کی گود میں 

اس کی تابانی سے چمکے گی یہ ساری کائنات
ایک گوہرِ بے بہا ہے آمنہ کی گود میں 

جو زمانے کے طبیبوں سے نہ اچھے ہو سکے
ان مریضوں کی دوا ہے آمنہ کی گود میں 

عرش پہ جس کو بلائے گا خدا معراج میں 
وہ ہی عالی مرتبہ ہے آمنہ کی گود میں 

اے فداؔ تیرا غم و آلام کیا کر پائیں گے
جب کہ تیرا پیشوا ہے آمنہ کی گود میں 
٭٭٭




ﷺ 

سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
بس ورد درودوں کا ہر شام و سحر رکھیئے

بخشش کا سبب ہو گا یہ آپ کا محشر میں 
بس یاد سے آقا کی اب آنکھ کو تر رکھئیے

تاریک جو راہیں ہیں ہو جائیں گی وہ روشن
سرکار کی یادوں کو ہم راہِ سفر  رکھئیے

ڈوبی ہوئی عصیاں میں دن رات یہ رہتی ہے
اتنی سی گزارش ہے امت کی خبر  رکھئیے

گر عشق کا دعویٰ ہے سرکارِ دو عالم سے
کرنے کوفداؔ ان پہ تیار جگر  رکھئیے
٭٭٭


ﷺ 

بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب  خدا دیکھا
آنکھوں نے کبھی ان کو رب سے نہ جدا دیکھا

اعجاز رسولوں نے دنیا میں دکھائے ہیں 
اعجاز مگر ان سا ہم نے نہ سنا دیکھا

کتنے ہی نبی آئے دنیا میں مگر یارو
ان سا تو کسی کا بھی رتبہ نہ بڑا دیکھا

وہ بدر کا غزوہ ہو کہ جنگِ احد یارو
ہر ایک صحابی کو آقا پہ فداؔ دیکھا

کیا ان کی بڑائی کا ہوذکر فداؔہم سے
بس بعدِ خدا ان کا رتبہ ہی بڑا دیکھا
٭٭٭



ﷺ 

عشقِ احمد سے قرینہ آ گیا
میری نظروں میں مدینہ آ گیا

خاکِ طیبہ ہاتھ جس کے آئی
ہاتھ دنیا کا خزینہ آ گیا

یاد میں جب بھی نبی کی رو پڑا 
اشک کی صورت نگینہ آ گیا

جا رہے ہیں سوئے کعبہ قافلے
لیجئے حج کا مہینہ آ گیا

ان کو طوفاں میں پکارا جب فداؔ
میرا ساحل پہ سفینہ آ گیا
٭٭٭



ﷺ 

مدینے کی ہوائیں آ رہی ہیں 
مہکنے پر فضائیں آ رہی ہیں 

جو ہم نے گنبد خضریٰ کو دیکھا
زبانوں پر دعائیں آ رہی ہیں 

طفیلِ مصطفی جو مانگتے ہیں 
انہیں رب کی عطائیں آ رہی ہیں 

درود اب پڑھ رہے ہیں ہم فدائی
بڑی شیریں صدائیں آ رہی ہیں 

فداؔ عشقِ  محمد کا ہے صدقہ
جو جنت کی ہوائیں آ رہی ہیں 
٭٭٭



ﷺ 

ان کا غلام ہوں میں یہ اعزاز کم نہیں ہے
آقا کا میرے مجھ پر کس دم کرم نہیں ہے

گلہائے رنگ و بو سے آراستہ ہے ایسا
طیبہ کا گلستاں بھی جنت سے کم نہیں ہے

بزمِ خیال میں بس وہ ہی بسے ہوئے ہیں 
کب یاد ان کی دل میں اب دمبدم نہیں ہے

یادِ نبی میں آنسو رہ رہ کے بہہ رہے ہیں 
کب دل حزیں نہیں ہے کب چشم نم نہیں ہے

کیوں ہو فداؔنہ شاداں بابِ نبی میں آ کر
کیا گلشنِ مدینہ باغِ ارم نہیں ہے
٭٭٭



ﷺ 

مقدر جب بلندی پر بفیضِ کبریا ہو گا
جبینِ شوق ہو گی اور درِ خیر الوریٰ ہو گا

یہی پہچان ہے بس عاشقِ سرکار کی، اس کے
لبوں پر ہر گھڑی صلِ علیٰ صلِ علیٰ  ہو گا

جنوں لے جائے گا جس دم اسے شہرِ مدینہ میں 
سنہری جالیوں کوتھامے دیوانہ کھڑا ہو گا

نظر کے سامنے جب گنبدِ خضریٰ رہے گا تو
زباں خاموش ہو گی اور یہ دل بولتا ہو گا

خبر کر دیجئے ہر اک مسافر کو یہ راہوں میں 
وہیں منزل چھپی ہو گی جہاں کہ نقشِ پا ہو گا

سرِ محشر ملے گا آسرا ان کی شفاعت کا
گناہوں سے پشیماں ہوکے جب دل ڈوبتا ہو گا

ندامت کے جو آنسو آج دنیا میں بہاٍتا ہے
وہ عصیاں کوش محشر میں بھی سجدے میں پڑا ہو گا

کرم ہو جائے گا جب مجھ پہ سلطانِ مدینہ کا
ملے گی غم سے آزادی خوشی کا گل کھلا ہو گا

مجھے حاضر کیا جائے گا جب میدانِ محشر میں 
زبان پر ہو گا نامِ مصطفیٰ دل میں خدا ہو گا

خدا لے جائے جو مجھ کو کبھی طیبہ کی گلیوں میں 
جمالِ گنبدِ خضریٰ پہ میرا دل فداؔ  ہو گا

دکھائیں گے جو اپنی موہنی صورت وہ محشرمیں 
دلِ دیوانہ ان کے روئے زیبا پر فداؔ ہو گا

یقیں ہے درگزر فرمائیں گے وہ میزباں بن کر
درِ سرور پہ حاضر جب فدائے پُر خطا ہو گا
٭٭٭


ﷺ 

باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
واقعہ یہ ہوا گزشتہ رات
سرورِ کائنات نے یارو
مجھ کو پروانۂ  نجات دیا
مجھ پہ رحمت کی یوں ہوئی برسات
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات 

لو وہ  منظر حسیں وہ آب و  تاب
سامنے تھے رسولِ عالی جناب
سب کو توحید کی پلائی  شراب
اور کوثر کا تھا رواں سیلاب
آئے بامِ عروج پہ جذبات
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات 

اس تمنّا میں ہے دلِ مضطر
جاؤں طیبہ میں سر کے بل چل کر
یہ کروں عرض جا کے پھر در پر
آپ ہیں دیں کے سرور و رہبر
مثلِ ذرہ ہے مجھ حقیر کی ذات
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات

گامزن قافلہ تھا طیبہ کو
مست تھے جس کے رہبر و رہرو
خواب میں دید روز ان کی ہو
یہ دعا کر رہے تھے سب رو رو
ہو مبارک ہر ایک ایسی رات 
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات 

پائی کوثر کی خواب میں جو سبیل
میں تھا عاصی نبی تھے میرے وکیل
اور موجود تھے خدا کے خلیل
بھیگی پلکیں لئے تھامیں بھی کفیل
مستقل پھر تو میں نے پائی حیات
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات 

روبروئے نظر مدینہ رہا
بن کے دیوانہ میں تو جھوما کیا
دے رہے تھے سلامی سب شیدا
میں ہوں خوش بخت با خدا اے فداؔ
جو موافق رہے میرے حالات
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات 

ہوکے مخمور قلبِ تشنہ کام
بھیجتا ہی رہا درود و سلام
تھا فداؔ ان کے در پہ ادنیٰ غلام
اس کی ہر سانس تھی نیا پیغام
نکلی سج دھج کے فکر کی بارات  
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات 
٭٭٭


ﷺ 

تیرا نادان آقا کوئی اور ہے 
میرا والی و مولا کوئی اور ہے 

اے طبیبو تمہیں کچھ خبر ہی نہیں 
جاؤ میرا مسیحا کوئی اور ہے
 
فکر دنیا کی ہے اور نہ عقبیٰ کی کچھ
مجھ کو زر دینے والا کوئی اور ہے 

میں فداؔئے نبی اور گدائے نبی
میرے غم کاتو نسخہ کوئی اور ہے 
٭٭٭



ﷺ 

فصلِ بہار آئی
میلادِ پاک لائی

آمد ہوئی نبی کی
رحمت خدا کی چھائی

یادِ نبی جو کی تو
یادِ خدا بھی آئی

رحمت بھی عاصیوں کا
کرنے شمار آئی

طیبہ میں روز رحمت 
ہونے نثار آئی

ہم توفداؔ نہیں کچھ
فکرِ شکستہ پائی
٭٭٭


ﷺ 

تاج کی  ہے طلب اور نہ زر چاہئے
یا نبی آپ کا مجھ کو در چاہئے

مجھ کو محلاتِ جنت کی خواہش نہیں 
شہرِ طیبہ میں بس ایک گھر چاہئے

جو فقط یادِ سرور میں بہتی رہے
مجھ کو تو صرف وہ چشمِ تر چاہئے

اور درکار کوئی سہارا نہیں 
مجھ کو لطفِ  شہِ بحر و بر چاہئے
٭٭٭





ﷺ 


ہم کو یوں عشقِ محمد کا صلہ ملتا ہے
بندگی کرتے ہوئے ہم کو خدا ملتا ہے

عشقِ احمد میں ہوئے گم تو حقیقت یہ ہے
نعت گوئی میں عجب ہم کو مزہ  ملتا ہے

پڑھتے رہتے ہیں عقیدت سے درود اور سلام
غنچۂ  حسرتو ارمان کھلا ملتا ہے

لعنت و قہرِ الہی کے سوا اے یارو
منکرِ عظمتِ سرکار کو کیا ملتا ہے

دور ہو جاٍتا  ہے گستاخِ محمد، حق سے
مصطفیٰ والوں کو بس قربِ خدا ملتا ہے

جس نے سرکارِ دو عالم کی اطاعت کی ہے
اس کو گلزارِ ارم پھولا پھلا ملتا ہے

دامنِ آلِ نبی تھام لیا ہے جب سے
اس  فداؔ کو بھی عقیدت کا صلہ ملتا ہے
٭٭٭


ﷺ 

جو بھی مانگو وہ دیا کرتے ہیں 
میرے آقا یہ عطا کرتے ہیں 

میرے سرکار سراپا رحمت
 حق میں دشمن کے دعا کرتے ہیں 

جوہیں ان کے وہ مصیبت میں سدا
یا محمد ہی رٹا کرتے ہیں 

چاہتے ہیں جو بصد عجز سدا
ان سے ہم مانگ لیا کرتے ہیں 

یہ بھی ہے لطف و کرم آقا کا
خواب میں درس دیا کرتے ہیں 

یہ ہے سچ سرور و سلطانِ جہاں 
میری فریاد سنا کرتے ہیں 

وہ قدم چومتا ہوں میں اے فداؔ
سوئے طیبہ جو بڑھا کرتے ہیں 
٭٭٭


ﷺ 

میں بھنور میں پھنسا یا رسولِ خدا
دیجئے آسرا یا رسولِ خدا

آپ کو جب پکارا ہے وقتِ خزاں 
گل خوشی کا کھلا یا رسولِ خدا

ہم کو دیدار ہو جائے ہے التجا
خواب میں آپ کا یا رسولِ خدا
٭٭٭



ﷺ 

آپ کا ذکر ہونٹوں پہ ہے دم بدم
آپ کی ذات ہے برتر و محتشم
ہم کو طیبہ بلا لیں براہِ کرم
اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم

ہم کو گھیرے ہوئے ہیں جہاں کے الم  
رحمت عالمیں افضل و محترم
غم کے مارے ہوئے ہیں پریشان ہم 
اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم

کب سے ہم ہیں طلب گارِ چشمِ کرم
ہو کرم ہم پہ اے قاطعِ رنج و غم
ٹوٹ جائے نہ ہم عاصیوں کا بھرم
اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم

ہم کو اب تو مدینہ بلا لیجئے
سبز گنبد کا جلوہ دکھا دیجئے
اس سے پہلے کہ ہم جائیں ملکِ عدم
اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم

آپ کی تو ہے توصیف قرآن میں
آپ کی یاد تو ہے دلو جان میں 
آج حاضر فداؔ بھی ہے با چشم نم
اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم
٭٭٭



ﷺ 


دکھا دیجے عاصی کو شہرِ مدینہ
نہیں آتا گو بندگی کا قرینہ

وسائل مہیا نہیں کم تریں کو
ہوں اسباب پیدا تو آؤں مدینہ

یہاں بھی کہیں خلد میں کہیں گے
مہکتا ہوا ہے نبی کا پسینہ

طلبگار جنت کا ہے شیخ تو ہو
میری آرزو تو ہے شہرِ مدینہ

کبھی وہ نہ دوزخ میں جائے گا زاہد
وہ جس نے کہ اک بار دیکھا مدینہ 

کسی اور جلوے کی چاہت نہیں ہے
نگاہوں میں پھرٍتا ہے شہرِ مدینہ

فداؔ منتظر ہوں اسی روز کا میں 
کہے کوئی آ کے کہ جاؤ مدینہ
٭٭٭


ﷺ 

عشق احمد کا قرینہ آ گیا
میری نظروں میں مدینہ آ گیا

جھک گئے ارض وسما بہرِ ادب
مرحبا لالِ امینہ آ گیا

جب بھی ان کو راہبر میں نے کیا
میرا ساحل پر سفینہ آ گیا

ہو مبارک آمنہ بی بی کے گھر
رحمتِ رب کا خزینہ آ گیا

اے فداؔ یادِ نبی کی شکل میں 
میرے دامن میں نگینہ آ گیا
٭٭٭



من عرف نفسہ فقدعرف ربہ

سکونِ جاں کے لیے، دل کی روشنی کے لئے
ہے تیرا جلوہ ہی سرمایہ بندگی کے لئے

تجلی طور کی موسیٰ کے ہوش کھو بیٹھی
تھا عرش پہ ترا جلوہ عیاں نبی کے لئے

تلاش کرتے ہیں دیر و حرم میں لوگ تجھے
نہاں ہے جلوہ ترا دل میں بندگی کے لئے

گداز قلب میں پیدا کرو فداؔ اپنے
نہ ڈھونڈو فرش تو مخمل کا بندگی کے لئے
٭٭٭



ﷺ 

اک نظر بر حالِ ما آقائے من پیارے نبی
ہوں غریب و بے نوا آقائے من پیارے نبی

پتھروں نے بند مٹھی میں بصد عجز و نیاز
آپ کا کلمہ پڑھا آقائے من پیارے نبی

مل نہ پایا اس جہاں میں آپ کے گستاخ کو
قعرِ ذلت کے سوا آقائے من پیارے نبی

اقتدار و دولت و زر مجھ غلامِ زار کو
آپ کے در سے ملا آقائے من پیارے نبی

سر ہیں خم جنو بشر کے اور ملائک کے یہاں 
پاک در ہے آپ کا آقائے من پیارے نبی

خلد میں بھی آپ کی قربت میسر ہو مجھے
آپ پر میں ہوں فداؔآقائے من پیارے نبی
٭٭٭



ﷺ 

ان کے پسینے کی خوشبو تو گلشن گلشن چھائی ہے
نام ہے پیارا جن کامحمد ان کا جہاں شیدائی ہے

میرے عقیدت کے اشکوں کو لوگ جواہر کہتے ہیں 
پھول کھلے ہیں نعتِ نبی جب لبوں پر آئی ہے

فرشِ زمیں پربکھرے دیکھے ہم نے موتی چمکیلے
یادِ سرور کی بدلی اشکوں کی بارش لائی ہے

اللہ اللہ جوبن پر ہیں خوب بہاریں طیبہ کی
گل تو گل ہیں خاروں میں بھی جنت کی رعنائی ہے

ان کے غلاموں میں ہے فداؔبھی جن کی نوازش کی خاطر
شاہوں نے شاہی کو چھوڑا ان کی غلامی پائی ہے
٭٭٭



ﷺ 

ہر لمحہ ہے رحمت کی  برسات مدینے میں 
کس درجہ منور ہیں دن رات مدینے میں 

پھیلائے ہی رہتے ہیں ہاتھوں کو بھکاری سب
ملتی ہے جو بخشش کی سوغات مدینے میں 

جب گنبدِ خضریٰ پر ڈالوں گا نظر پہلی
آئیں گے بلندی پر جذبات مدینے میں 

معراج کے نوشہ جو موجود یہاں پر ہیں 
آتی ہے فرشتوں کی بارات مدینے میں 

یہ میری عقیدت کا انعام ہے اے یارو
سورج کی شعاعیں ہیں ذراّت مدینے میں 

آٍتا ہے یہی دل میں مر جائیں یہیں اب تو
رہ رہ کے مچلتے ہیں جذبات مدینے میں 

کرتے ہیں فنا خود کو جو عشقِ محمد میں 
پاتے ہیں وہ جیون کے سوغات مدینے میں 

رہ رہ کے فرشتے بھی گاتے ہیں انہیں یارو
ہونٹوں پہ جو میرے ہیں نغمات مدینے میں 

تا عمر فداؔہم کو وہ یاد ہی آئیں گے
گزریں گے سکوں سے جو لمحات مدینے میں 
٭٭٭


ﷺ 

عرشِ علیٰ پہ جانے والے میرے آقا میرے حضور
قربت رب کی پانے والے میرے آقا میرے حضور

گرتوں کو اٹھوانے والے میرے آقا میرے حضور
روتوں کو ہنسوانے والے میرے آقا میرے حضور

اللہ اللہ ان کی رفعت  اللہ اللہ وہ سیرت
دشمن کو اپنانے والے میرے آقا میرے حضور

درسِ صداقت سب کو پڑھایا سیدھا رستہ دکھلایا
ہر الجھن سلجھانے والے میرے آقا میرے حضور

حکمِ خدا پر مکّہ چھوڑا تیز ہوا کا رخ  موڑا
سوئے طیبہ جانے والے میرے آقا میرے حضور

دونوں جہاں کے وہ قاسم ہیں پھر بھی چٹائی کا بستر 
فاقوں میں مسکانے والے میرے آقا میرے حضور

یاد سے ان کی دل شاداں ہیں ان پہ قرباں قلب و جاں 
قرآں کو پھیلانے والے میرے آقا میرے حضور
٭٭٭



ﷺ 

حسرت نکل رہی ہے سرکار کے نگر میں 
قسمت بدل رہی ہے سرکار کے نگر میں 

توحید و حق کی پھیلی دنیا میں روشنی جو
قندیل جل رہی ہے سرکار کے نگر میں 

آ جائے موت ہم کو اے کاش اب یہیں پر
خواہش مچل رہی ہے سرکار کے نگر میں 

ممنون ہر سحر ہے کہ ان کے حضور میں ہے
ہر شام ڈھل رہی ہے سرکار کے نگر میں 

وہ آنکھ خشک تھی جو مدت سے میری  یارو
موتی ابل رہی ہے سرکار کے نگر میں 

دیکھا فداؔ یہ ہم نے شیطان کی بھی فطرت
ہاتھوں کومل رہی ہے سرکار کے نگر میں 
٭٭٭



ﷺ 

پنہاں ہے جس کے قلب میں الفت رسول کی
 پائے گا وہ بہشت میں قربت رسول کی

دل میں رہے گی جس کے عقیدت رسول کی
اس کو عزیز کیوں نہ ہو سنت رسول کی

جن و بشر ملائکہ پاتے ہیں صبح و شام
جاری ہے ساری دنیا میں نعمت رسول کی

سوچا تھا قتل ہوں گے مگر درگزر کیا
حیراں تھا کفر دیکھ کے رحمت رسول کی

ناری سے نوری جہان ہوکے وہ خوش بخت ہو گیا
جس کو نصیب ہو گئی قربت رسول کی

اف تک نہ کی اگرچہ ڈسا سانپ نے انہیں 
صدیق کو عزیز تھی راحت رسول کی

محفوظ پردہ ڈال دیا جالا تان کر
انجام دی یوں مکڑی نے بھی خدمت رسول کی

انڈے تمام دے دیئے مکڑی کے جال پر
کی ہے کبوتروں نے بھی خدمت رسول کی

دوزخ میں کیسے جائے گا حقدارِ خلد وہ
دل میں سمائے جس کے محبت رسول کی

دید ان کی وقتِ نزع مجھے ہو گی اے فداؔ
ہے دل کے آئینے میں جو صورت رسول کی
٭٭٭


ﷺ 

یا رسول  خدا لیجئے اب خبر
آفتوں میں ہوا مبتلا ہر بشر

بس یہ فریاد کرتے ہیں شام و سحر
آئیں دربار میں دیجیے اذنِ سفر

میں یہ سمجھوں گا ہے بندگی عرش پر
آستاں ان کا چوما کرے یہ نظر

پل صراطی سفر سخت مشکل سفر
کیجئے اس کو آساں شہِ بحر و بر

اتنا تو ہو عقیدت میں میری اثر
میں کروں یاد تو ہو انہیں بھی خبر

ہے تمنا مدینے میں جب ہو گزر
آستانے پہ ان کے جمی ہو نظر

امتی ہم پریشان و بدحال ہیں 
دل ہے بے تاب اور مضطرب ہے نظر
٭٭٭


ﷺ 

ایسے ہے رواں میرا قلم نعتِ نبی میں 
خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں 

انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے
سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں 

اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری
اتنا تو اثر پیدا کرو نعتِ نبی میں 

نکہت ہے پسینے میں محمد کے جو یارو
لاریب نہیں ایسی کسی گل میں کلی میں 

گر خوبیِ قسمت سے  فداؔ طیبہ کو جائیں 
کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں 
٭٭٭



ﷺ 

ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے
جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے

ہر  شئے میں مصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے
انوارِ ایزدی کا سراپا دکھائی دے

آنکھوں کو میری وصف وہ کر دے عطا خدا
کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے

طیبہ میں دفن ہوں تو مجھے خلد میں فداؔ
ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے


رو روکے کر رہا ہے فداؔ بس یہی دعا
یا رب سفر مدینے کا ہوتا دکھائی دے
٭٭٭


ﷺ 

یہ آواز آتی ہے بیتِ حرم سے
مری آبرو ہے محمد کے دم سے

سنور جائیں دنیا و دیں دونوں اس کے
نبی دیکھ لیں جس کو چشمِ کرم سے

جو سرکار کا دیکھا روئے مبارک
تو پھیرا ہے رخ پتھروں کے صنم سے

مدینے کے گلزار کی رنگ و بو میں 
فضائیں تو آئی ہیں باغِ ارم سے

میں جب بیٹھتا ہوں فداؔنعت لکھنے
تو موتی سے جھڑتے ہیں نوکِ قلم سے
٭٭٭



ﷺ 

پُر خار زندگی کو پھر پُر  بہار کر دو
عرفاں کی مے کا طاری کیف و خمار کر دو

اپنے غلامِ درمیں مجھ کو شمار کر کے
دریائے گمرہی سے سرکار پار کر دو

آنے کو ہے قیامت عصیاں سے کر لو توبہ
جو بے خبر ہیں ان کو اب ہوشیار کر  دو
٭٭٭



ﷺ 

تھا ریگزار جس کو گلستاں بنا دیا
سرکار نے عرب کو بھی ذیشاں بنا دیا

شق القمر کا معجزہ دکھلا کے آپ نے
مکہ کے بدوؤں کو مسلماں بنا دیا

باطل پرست ہو گئے حق آشنا سبھی
جاہل تھے ان کو حاملِ قرآں بنا دیا

جو بکریاں چراتے تھے ان کو حضور نے
اسلام دینِ حق کا نگہباں بنا دیا

سرور نے دید خواب میں کروا کے اے فداؔ
ذرّے کو آفتابِ درخشاں بنا دیا
٭٭٭


ﷺ 

لب کو ذکرِ حضور ملٍتا ہے
چشم و دل کو سرور ملٍتا ہے

کملی والے کی نوری کملی سے
سب کو سایہ ضرور ملٍتا ہے

جس کو  ملٍتا ہے دامنِ احمد
اس کو ربِ غفور ملٍتا ہے

کہہ رہے ہیں فرشتے آقا سے 
چاند تاروں کو نور ملٍتا ہے

اے فداؔ سیرتِ نبی سے ہمیں 
زندگی کا شعور ملٍتا ہے
٭٭٭


ﷺ 

دعا ہے گلشنِ طیبہ میں روز جانے کی
وہاں رکھوں گا میں بنیاد آشیانے کی

مری طلب ہے کہ جا کے مدینہ بس جاؤں 
جگہ ذرا سی ملے مجھ کو سر چھپانے کی

بسالو دل میں محبت حضور کی یارو
جنہیں ہو آرزو جنت میں گھر بنانے کی

مدینے مجھ کو بھی لے کے چلو خدا کے لئے
پڑی ہوئی ہے مجھے حالِ دل سنانے کی

دیارِ طیبہ میں جا کر فداؔعقیدت سے
تمنا دل میں ہے نعتِ نبی سنانے کی
٭٭٭



ﷺ 

خوابوں کو حقیقت کی تعبیر  دکھا دینا
افکارِ عقیدت کی رفتار بڑھا دینا

عقبیٰ ہی کی بس مجھ کو اک فکرِ  رسا دینا
دنیا کی محبت کو اس دل سے مٹا دینا

ایمان کے جذبوں کا طوفان سا اٹھٍتا ہے
میں کیسے رقم کر لوں انداز سکھا دینا

پہلے تو مدینے میں کر لینا طلب مجھ کو
پھر گنبدِ خضریٰ کے والی کی ردا دینا

شاداب میں دیکھوں گااپنا میں چمن اک دن
گلزارِ مدینہ کی بس اس کو ہوا دینا

کیوں ڈھونڈوں میں دنیا کے ناکام طبیبوں کو
تم میرے مسیحا ہو تم مجھ کو دوا دینا

دربار میں بلوا کے اس چاک گریباں کو
سرکار فداؔکی بھی توقیر بڑھا دینا

چوکھٹ پہ بلا لینا یہ اس کی تمنا ہے
مضطر ہے فداؔاس کو افکارِ رسا دینا
٭٭٭



مناقب
منقبت در شانِ حضور امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ

سجدہ  حسین  نے جو سرِ کربلا  کیا
ایسا کسی بشر نے نہ جگ میں ادا کیا

دیں کی بقا کے واسطے خود کو فدا کیا
نانا سے جو کیا تھا وہ  وعدہ وفا کیا

تا حشر یاد رکھیں گے قربانیٔ حسین
حق تھا امام کا  جو انہوں نے ادا کیا

یہ کارنامہ حضرتِ شبیر ہی کاہے
سر سبز خوں سے گلشنِ مہر و وفا کیا

آقا نے اپنے خوں کی دے کر انہیں چمک
ذرّاتِ کربلا کو فداؔ بے بہا کیا
٭٭٭



منقبت در شانِ حضور غریب نواز خواجہ اجمیری

بھر دو داماں ہمارے آپ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں 
کہ ہاتھوں کو پسارے آپ کی چوکھٹ پہ لائے ہیں 

سفینہ ہے بھنور میں ناخدا بھی پست ہمت ہے
دکھا بھی دو کنارے غم بادل گھرکے آئے ہیں 

اسی در سے ملا ہے اور اسی در سے ملے گا بھی
سخاوت کے کرشمے  ہم کو خواجہ نے دکھائے ہیں 

مقدس آستانہ ہے  عطائے مصطفی  کا  یہ
مرادوں کے دیئے ہم نے یہاں آ کر جلائے ہیں 

فداؔ فرمائیں گے خواجہ کرم تجھ پر یقیں کر لے
ستارے اشکِ غم کے تو نے پلکوں پر سجائے ہیں 
٭٭٭

منقبت در شانِ اعلیٰ حضرت بیکس نواز مقبول احمد شاہ قادری ہانگل شریف

کرم سے ان کے چمن میں بہار آج بھی ہے 
کہ کل کی  طرح ہوا  مشکبار آج  بھی  ہے 

جو آپ کے ہیں ہمیں ان سے پیار آج بھی ہے 
جو  غیر  ہے  وہ  مخالف شمار آج  بھی ہے 

حیاتِ  حضرتِ  مقبول پُر  سخاوت  تھی
طلب  کے  واسطے  ان کا دیار آج بھی ہے 

غریب  سب  درِ  مقبول  کے  سوالی ہیں 
سخاوتیں  وہ کرم کی بہار  آج  بھی ہے 

انہیں کے نام کا بجٍتا ہے ہر طرف ڈنکا
کہ بچّہ بچّہ ہر اک جاں نثار آج بھی ہے 

شرابِ دیں پلائی تھی خواب میں  شہ نے
فداؔ کو  عشقِ  نبی  کا  خما ر آج  بھی ہے 
٭٭٭




منقبت در شانِ سرکار شفا نواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور


ہر شخص کو ملی ہے شفا اے شفا نواز
مایوس در سے کون گیا اے شفا نواز

اپنے کرم کا دریا بہا اے شفا نواز
جلوہ ہمیں بھی اپنا دکھا اے شفا نواز

ہیں آپ ہی سہارے مرے اور ناخدا
ڈوبے نہیں سفینہ میرا اے شفا نواز

تیری کرم نوازی کے صدقے جہاں میں 
میں مشکلوں سے بچتا رہا اے شفا نواز

دارالشفا ہے آپ کا در مجھ  مریض کو
ہے آپ کا سہارا بڑا اے شفا نواز

آقا مرے ہیں آپ تو خورشیدِ معرفت
دل میں ہیں جو اندھیرے مٹا اے شفا نواز

اجداد کو بھی تیری  غلامی پہ ناز تھا
حاضر ہے تیرے در پہ فداؔ اے شفا نواز
٭٭٭




منقبت در شانِ حضور شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی صاحب قبلہ مدظلہ


یہ مجھ کو ہے انعام مدنی میاں کا
ہوں خادم بلا دام مدنی میاں کا

سماعت جو کی تو ہوا قلب روشن
بیاں جیسے الہام مدنی میاں کا

مجھے بخش دے گا یہ کہہ کے مرا رب
ہے خادم بلا دام مدنی میاں کا

سبھی احترام فداؔکر رہے ہیں 
ملا ہے یہ انعام مدنی میاں کا
٭٭٭



منقبت در شانِ حضور شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی صاحب قبلہ مدظلہ


ہر شخص کی زباں پر آیا بیانِ مدنی
سایہ فگن سبھی پر ہے سائبانِ مدنی

طوفاں سے نکل کر پا جائے گی کنارا
کشتی پہ بندھ گیا ہے اب بادبانِ مدنی

گل اس میں عسکری و عربی کھلے ہوئے ہیں 
مہکا اسی سبب توہے گلستانِ مدنی

ہونٹوں تلک نہیں ہے محدود اس کی وسعت
ہر اک مشام جاں کا ہے مدح خوانِ مدنی

اللہ نے جو بخشی  ذاتِ مبارکہ کو
کیا کر سکیں بیاں ہم وہ عز و شانِ مدنی
٭٭٭



قطعات


بزم جب ان کی ہم سجاتے ہیں 
مدحتیں جھوم کر سناتے ہیں 
داد ہر اک شعر پر دینے
آسماں سے ملک بھی آتے ہیں 


کیا مجھ سے واعظ نے ذکرِ مدینہ
تڑپنے لگا صدق جذبوں سے سینہ
فداؔ پہ نوازش جو سرکارکر دیں 
کنارے پہ ہو زندگی کا سفینہ



 قسمت نے کسی دن جو پہنچایا مدینے میں 
ہر نعت  سناؤں گا  سرکار کو ر ورو کر
دکھلائیں گے جلووں کو وہ اپنے فداؔ ہر دم
آنکھوں میں سمیٹوں گا انوار کورو رو کر


سدا آنکھ یادِ نبی میں رہی نم
نہیں گوہروں سے یہ اشکِ مبیں کم
ہمیں ناز ہے سلسلے پہ ہمارے
الف  سے چلے ختمی پر ہوئے ہم


زندگانی کا یہ قرینہ ہو
پُر ضیاء قلب کا نگینہ ہو
اور کچھ بھی نہ ہو فداؔ اس میں 
دل میں یادِ شہِ مدینہ ہو




بن کے پنچھی میں کاش اڑا ہوتا 
اور طیبہ میں جا بسا ہوتا
 رشک  وہ جس پہ یہ جہاں کرتا
اس بلندی پہ مرتبہ ہوتا


یوں نہ بنایا قادرِ مطلق خالق نے ان کا سایہ
تاب زمیں کب لا سکتی تھی ان کا اگر پڑتا سایہ
 روئے زمیں پرپاؤں کہاں رکھ سکتے تھے دنیا والے
جانتے جب کہ اس جا پڑا  تھا آقا کا  یکتا سایہ


بھاگ جگے گا ہم بھی مدینے جائیں گے انشاء اللہ
ہم پہ کرم ہو گا آقا بلوائیں گے انشاء اللہ
 ان کے تصور میں بیٹھا ہوں اتنی تمناہے دل میں 
پھر سے اپنے خواب میں آقاآئیں گے انشاء اللہ 




اشرفی نسبتی جو ہوا خیر سے
رخ سے حالِ جنوں یوں عیاں ہو گیا
نقش دل پر ہوا میرے نامِ نبی
لب پر مدنی قصیدہ رواں ہو گیا
٭٭٭





سلام


ﷺ 


مدینے کے آقا  غلاموں کے سرور  درود و سلام اے نبی پیش تم پر
مکرم، مطہر، معطر، منور درود و سلام اے نبی پیش تم پر

یہی ہے گزارش مہینے میں حج کے  کرم ہم پہ ہو تو پہنچ جائیں در پہ
زباں پر یہ اشعار اپنے سجا کر  درود و سلام اے نبی پیش تم پر

مدینے کے آقا اے نبیوں کے سلطاں یہی آرزو ہے نکل جائے یہ جاں 
 تمہارے ہی در پر تمہارے ہی در پر  درود و سلام اے نبی پیش تم پر

زبوں حال ہے امتِ بے نوا کا  کرم کی نظر ہو کرم  میرے آقا
شفیعِ امم غم کے ماروں کے سرور  درود و سلام اے نبی پیش تم پر

یہ محشر میں کہنا کہ آؤ غلامو  مری پاک کملی کے سایے میں آؤ
سبھی کہہ رہے ہیں عقیدت سے مل کر  درود و سلام اے نبی پیش تم پر
  
مقدر مدینے میں لے جائے گا جب  کہے گا وہ ممنون اے رحمتِ رب
 فداؔخاک مل لے گا اپنی جبیں پر  درود و سلام اے نبی پیش تم پر
٭٭٭



یا نبی سلام علیک 
یا رسول سلام علیک
یاحبیب سلام علیک
صلوٰۃ اللہ علیک

آپ ہی سلطانِ دیں ہیں
بانیٔ دینِ مبیں ہیں 
مشعلِ راہِ یقیں ہیں
رونقِ فلک و زمیں ہیں 

آپ ہی محبوبِ رب ہیں
آپ ہی شاہِ عرب ہیں 
آپ ہی سب کی طلب ہیں 
آپ جینے کا سبب ہیں 

آپ ہی قرآن والے
آپ ہی ذیشان والے
جا بہ جا فیضان والے
دین کے ارکان والے 

ہو کرم محبوبِ داور 
آپ کے عاصی فداؔپر	
ہو عطا راہِ منور
کامراں اس پہ ہوں چل کر

رب سے جو مانگا ملا ہے 
غم کہاں کوئی رہا ہے	
یہ غلامی کا صلہ ہے
اشرفی شکر فداؔہے
٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید


	
