﻿

گل گفتار

(غزلوں کا مجموعہ)




کرشن کمار طُورؔ




ترتیب و انتخاب: شیخ خالد کرار
www.khalidkarrar.com


اُردو الائیو پبلی کیشنز
www.urdualive.com
urdualive@gmail.com






سوانحی اشارے/کوائف


	نام	:	کرشن کمار طُورؔ
	ولدیت	:	شری ہیرا لال۔شریمتی گلاب دیوی مرحومین
	تاریخ پیدائش:	11اکتوبر1933؁ء
	مقام	:	لاہور(پاکستان)
	تعلیم	:	ایم۔ اے، ڈپلوما ان جرنلزم، سرٹی فکیٹ اِن ٹورزم
			سرٹی فکیٹ اِن ہوٹل منیج منٹ اینڈ کیٹرنگ ٹیکنالوجی
	ہجرت	:	لاہور کے بعد پہلے انبالہ بعد میں پٹیالہ اور آخر میں دھرمشالہ
	پتہ	:	134/Eکھنیارا روڈ، دھرم شالہ176215ہماچل پردیش
مطبوعات	:	دریافت،ترتیب( ہماچل پردیش کے شعرا پر تالیفات)سیر سبزہ (آزاد غزلوں کا انتخاب)۔
غزلوں کے مجموعے: شعر شگفت(1982)عالم عین(1988) مشک منور(1995)رفتہ رمز(2002) سرنامۂ گماں نظری(2005)غرفۂ غیب(2010) گل گفتار(2012 زیر نظر)کشش کاف کلام
			(اب تک کی شاعری پر مشتمل کلیات زیر ترتیب)چشمۂ چشم(2012)
		(حمد ، نعت اور سلام پر مشتمل انتخاب)۔’سرسبز، شعرا ور نقد شعر پہ سہ ماہی رسالہ 			کی گزشتہ بیس برسوں سے ادارت۔
اعزاز و انعام:	کتابوں پر بہار اردو اکادمی، اترپردیش اردو اکادمی اور ہماچل پردیش اکادمی سے انعامات۔کتابوں کی اشاعت کے لئے پنجاب اور ہماچل پردیش حکومتوں اور ہریانہ اردو اکادمی سے مالی معاونت
			امریکن بائیو گرافیکل انسٹی چیوٹ سے مین آف دی ائیر کا انتخاب2002
			 انجمن ترقی اردو(ہند) کی جمشید پور شاخ سے قومی امیر خسرو ایوارڈ2006
ہماچل پردیش حکومت سے صوبائی اردو شاعر کا انتخاب و اعزاز و اکرام،ساہتیہ اکادمی دہلی، غالب اکادمی،دہلی اور دیگر انجمنوں کے سیمیناروں اور مشاعروں میں شرکت وغیرہ۔
			---ترتیب و انتخاب: خالد کراّر---




ہوا میں زور ہوا کچھ نظر نہیں آتا
نہ ہو جو صدق و صفا کچھ نظر نہیں آتا

طلوع مہر ،نشان نفس، وصال یار
ہماری آنکھ کو کیا کچھ نظر نہیں آتا

یہ گم رہی کی ہے منزل کہ ہے خودی کا وفور
خدا بہ نامِ خدا کچھ نظر نہیں آتا

ہے جب سے ڈالا ان آنکھوں میں عشق کا سرمہ
مجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

یہ بخت کے ہیں وسیلے زمیں سے حدِ فلک
ہما کہ بالِ ہما کچھ نظر نہیں آتا

وصالِ غیر ہو یا ہو دعائے خیر کی بات
میان ترکِ وفا کچھ نظر نہیں آتا

دلیل ہونے نہ ہونے کی بے اثر ہے طورؔ
نہ آنکھ ہو تو سدا کچھ نظر نہیں آتا
٭٭٭





دلوں میں نوکِ سناں ہے بہت بہ خاک انداز
مرے لئے تو جہاں ہے بہت بہ خاک انداز

یہ عشق اب بھی قضا کا بنا ہوا ہے ہدف
یہ دہر اب بھی جواں ہے بہت بہ خاک انداز

نہ طنطنہ ہے لہو کا نہ روشنی کا ہے ذکر
چراغ بزمِ جہاں ہے بہت بہ خاک انداز

جسے کہ کرنی تھی سرسبز فصل عشق صفت
وہ میرے بعد یہاں ہے بہت بہ خاک انداز

اب اس کا بندِ قبا کھول کر بھی کیا حاصل
یہ ایک کارِ زیاں ہے بہت بہ خاک انداز

نہ اس سے خوش ہے زمیں اور نہ شاد ہفت افلاک
وہ شخص خود پہ گراں ہے بہت بہ خاک انداز

یہاں پہ کچھ بھی نہیں ہے سوائے درد کے طورؔ
یہ میرے دل کی دکاں ہے بہت بہ خاک انداز
٭٭٭




اس لمحۂ وارد میں نہ میں اور نہ تو تھا
آفاق میں جو کچھ بھی تھا آوازۂ ہو تھا

سرکار کہیں رہتا بھی ہے اک سازمانہ
جس دہر پہ نازاں ہو وہ میرا بھی کبھو تھا

یہ بات بہت خوف میں کرتی ہے اضافہ
باہر تھا بھلا کون جو تصویر میں تو تھا

یہ کم ہے کوئی میرے مقابل یہاں نکلا
تھا داد کا حق دار مرا جو بھی عدو تھا

ظاہر ہے ترے بعد کوئی بھایا نہ مجھ کو
میں دیکھتا بھی کس کو مری آنکھوں میں تو تھا

یہ سچ جو کہیں بھی تو کہیں کس سے یہاں پر
مسمار مجھے کرتا مرا جوشِ نمو تھا

اے طورؔ میں اس بات پہ حیراں ہوں ابھی تک
کل سامنے جو آیا وہ میرا ہی لہو تھا
٭٭٭





بن کے اک شئے نفس میں اترا
مقصود جو تھا وہ نس میں اترا

کیا داغ ہوا جبیں پہ روشن
کیا شعلہ تھا جو قفس میں اترا

اک روشنی کربلا میں چمکی
اک شخص مرے نفس میں اترا

تھی جس پہ ختم منزلِ شوق
وہ آوازِ جرس میں اترا

کیا عشق، کہاں کا واردِ شعر
سب کچھ تو قئے مگس میں اترا

دل میں گرہیں سی پڑ رہی ہیں
ہے کون کہ جو نفس میں اترا

اک تم پہ نہیں ہے طورؔ موقوف
ہر شخص غزل کے رس میں اترا
٭٭٭




یہ زہر عشق ہے اس کو پیا کروں گا 
کسی نے جو نہ کیا ہو،کیا کروں گا 

مثال کرنی ہے قائم اگر، تو اس کی
میں اپنی کھال سے جوتی سیا کروں گا 

چمک پڑوں گا میں خورشید سا ہر اک صبح
میں اپنی جان ہر اک شب لیا کروں گا

تمام صورتِ امکاں نظر میں رکھ کر
اگر ہے جینا ضروری جیا کروں گا 

میں بازگشت بنوں گا بھرے جہان کی
ملے گا جو مجھے واپس کیا کروں گا 

سلوک عشق سے تاکہ رہوں خبردار
ہر ایک شخص کو میں دل دیا کروں گا

مجھے وہ چاہے ہو مرغوب یا نہ ہو طورؔ
دوا جو اس نے لکھی ہے پیا کروں گا
٭٭٭




اک اپنی کشتی سرِآب دیکھتے ہیں بہت
یہ کیسے لوگ ہیں یہ خواب دیکھتے ہیں بہت

نہ ہوں تو عالمِ اسباب دیکھتے ہیں بہت
یہاں جو منبر و محراب دیکھتے ہیں بہت

ہم اپنی چھت پہ کھڑے ہو کے اس کے گھر کی طرف
سیاہ راتوں میں مہتاب دیکھتے ہیں بہت

انہیں خبر ہی نہیں جان جا بھی سکتی ہے
جو خود کو عشق میں شاداب دیکھتے ہیں بہت

وفا کے پھول کہاں اب دلوں میں کھلتے ہیں
یہ نسخہ دہر میں کمیاب دیکھتے ہیں بہت

عذاب خوردہ ہوئی جاتی ہے محبت بھی
اس آبجو کو بھی خونناب دیکھتے ہیں بہت

فقط تمہیں ہی نہیں ہو یہاں پہ طور ؔعزیز
ہمیں ہمارے بھی احباب دیکھتے ہیں بہت
٭٭٭





کچھ ایسے مرا سفر گزرتا 
جانا تھا جدھر،ادھر گزرتا 

لے جاتا اپنے ساتھ یہ جان
جو وصل تھا مختصر گزرتا 

یہ بھی مری اک مثال ہوتی
جو کرنا تھا میں کر گزرتا

ہوتی قدموں تلے ہری گھاس
صحرا سے میں اگر گزرتا

یہ ساری ہی زمیں فلک تھی
جاتا میں کہاں کدھر گزرتا

ہوتا وہ اگر مری بغل میں
آسان مرا سفر گزرتا

کیا حشر تھا جو کہ طورؔ ہم نے
دیکھا ہے خاک پر گزرتا
٭٭٭





بس اک غمِ گزراں ہے بہت بہ طرز دگر
سفر میں دل کا جہاں ہے بہت بہ طرز دگر

پگھلنا شمع کی مانند ہے مقدر میں
یہ میرا ہجر جواں ہے بہت بہ طرز دگر

ہوا کو دیتا ہوں رونق گلوں کی خوشبو سے
یہی تو حسن بیاں ہے بہت بہ طرز دگر

میں اپنے آپ کو رکھتا ہوں دہر میں موجود
پسند یہ بھی مکاں ہے بہت بہ طرز دگر

میں آدمی کو سمجھتا ہوں عشق کی مخلوق
قصور جو ہے یہاں ہے بہت بہ طرز دگر

وجود اپنے کو تحلیل خاک رکھتا ہوں
کوئی تو نام و نشاں ہے بہت بہ طرز دگر

اب اس میں کاٹ یہ تلوار سی کہاں سے آئی
تمہاری طورؔ زباں ہے بہت بہ طرز دگر
٭٭٭




سمندر میں کوئی صحرا اتر آیا
سفر کے واسطے رستا اتر آیا

اسے کب معجزہ سے کم سمجھتا ہوں
جو اس دل میں کوئی اپنا اتر آیا

یہ جی میں تھا کریں گے گفتگو تجھ سے
مگر آنکھوں میں اک دریا اتر آیا

تھی یہ امید ہو گا اور ہی چہرہ
مگر شیشے میں اک مجھ سا اتر آیا

بہت اچھے شجر لگتے تھے جنگل میں
یہ کیا سوچا تھا ہم نے کیا اتر آیا

یہی انجام تھا اس دیدۂ تر کا
ہوا جو خشک تو صحرا اتر آیا

کہاں ان منظروں کو طورؔ رکھو گے
جو ان آنکھوں میں اک پردا اتر آیا
٭٭٭








اے عشق نشہ گزار سوبار
مجھ پر ہے اختیار سو بار

تحریر دلوں پہ نقش کر دے
اک جنبشِ لب بہار سوبار

شامل ہوں میں اپنی موت میں کیا
احساس ہے بار بار سو بار

ناقدری کا غم کیا ہے ظاہر
میرے پروردگار سو بار

ہے کھیل یہ دشت کا تو کب سے
اٹھتا ہے اٹھے غبار سو بار

دنیا سے ہوں میں کشیدہ دامن
پہلو میں رہی یہ نار سوبار

وعدہ تو کرے وہ وصل کا طورؔ
میں کر لوں اعتبار سو بار
٭٭٭





جو نہیں ہے اسی منظر میں بہت ہوتا ہے
یہ سنا ہے تو مرے گھر میں بہت ہوتا ہے

ہارنا میرا مقدر ہے یہ سب جانتے ہیں
شور پھر کیوں مرے لشکر میں بہت ہوتا ہے

ایسے ہی آتی نہیں عشق میں سجدہ صفتی
خون کا زور قلندر میں بہت ہوتا ہے

وقت سے دہر کی ہر چیز پہ ہوتا ہے اثر
کم جو دکھتا ہے مقدر میں بہت ہوتا ہے

پیاس بجھتی ہے کہاں تشنہ لبوں کی اس سے
پانی کہنے کو سمندر میں بہت ہوتا ہے

؂کچھ کرشمہ بھی دکھاتی ہے لہو کی خوشبو
کچھ مزا بھی ہوس زر میں بہت ہوتا ہے

طورؔ وہ چاہے تو سرسبز مجھے بھی کر دے
معجزہ دست ہنر ور میں بہت ہوتا ہے
٭٭٭




جنوں کو سرمیں بھرا دل سے دوستانہ کیا
جو کام ہم نے کیا سارا عاشقانہ کیا

خبر بیم آئی نہ ہم کو ہمارے ہونے کی
وہ کیا سفر تھا کہ جس پر ہمیں روانہ کیا

سمیٹیں دست تمنا یہ حکم تھا ہم کو
ذرا سی بات تھی ہم نے جسے فسانہ کیا

نمود موسم گل میں ہے اور کتنی دیر
خزاں نے زرد زمیں میں بہت خزانہ کیا

اب اپنی ذات پہ ہوتا نہیں گمان وجود
نشاط عشق نے کاسں ہمیں دوانہ کیا

ہوا نہ لگنے دی دنیا کو اپنے ہونے کی
یہ کام آپ نے بھی خوب شاطرانہ کیا

خدا ہی جانے کہاں آپ جا چھپے ہیں طورؔ
خدا ہی جانے کہاں آپ نے ٹھکانہ کیا
٭٭٭





بہت شگفتہ جبیں ہے سفینۂ زر تاب
لگا کہ ماہ مبیں ہے سفینۂ زر تاب

اشاریہ ہے کہیں یہ وصال لمحوں کا
کہیں پہ کچھ بھی نہیں ہے سفینۂ زر تاب

اس آنکھ تک بھی تو آئے بس ایک لمحۂ لطف
ہمیں خبر ہو کہیں ہے سفینۂ زر تاب

نشاں نہ رکھے مگر ہونے کی نشانی تو دے
کہ اس قدر بھی نہیں ہے سفینۂ زر تاب

اس آسماں پہ بھی اس کی نظر کبھی تو رہے
یہ مانا خاک نشیں ہے سفینۂ زر تاب

ہے میرے دل کی طراوٹ اسی کے ہونے سے
مرے سکوں کا امیں ہے سفینۂ زر تاب

بھلا میں کس کا طلبگار ہوں جہاں میں طورؔ
یہاں تو زیرِ زمیں ہے سفینۂ زر تاب
٭٭٭




کب بھلا ہے یہ معتبر دنیا
مل بھی جائے مجھے اگر دنیا

میرے زخموں پہ انگلی رکھتی ہے
کتنی ہے صاحب نظر دنیا

راہ دشوار میں قدم تو دھریں
جو بنایا کئے ہیں گھر دنیا

جب گزرتا ہے لمحۂ موجود
خود سے ہوتی ہے بے خبر دنیا

ہم کو جینے کی لاج رکھنی ہے
تو نے مرنا اگر ہے مر دنیا

ہیں مرے نقش آسماں سے پرے
میں تو موجود ہوں مگر دنیا

لوٹتے کب ہیں جانے والے طورؔ
روتی رہتی ہے عمر بھر دنیا
٭٭٭





ہمیں اس بات کا بھی غم زیادہ ہے
ہماری ذات سے عالم زیادہ ہے

خسارہ عشق میں جو ہے تو اک جاں کا
ہماری آنکھ یونہی نم زیادہ ہے

تعجب کیا، یہ دنیا ہے یہاں لوگو
ہنسی کم ہے مگر ماتم زیادہ ہے

جو خود اس کا یہاں ہے چاہنے والا
مرے دل کا وہی محرم زیادہ ہے

ہمیں سر سبز اسی اک بات نے رکھا
یہاں جو دیکھتے ہیں کم زیادہ ہے

خوشی کی بھی ہے رونق جا بجا لیکن
مرے اطراف میں کچھ غم زیادہ ہے

کوئی بھی بات شعروں میں نہیں لیکن
جہاں میں طور ؔ کچھ عالم زیادہ ہے
٭٭٭





دن کو لگتی ہے بہت شام کی چیز
ہم کہاں پھینکتے ہیں کام کی چیز

خوش نصیبی اسے بس جانئے گا
مفت ہاتھ آئے اگر دام کی چیز

سب پہ رحمت کا ہوں میں خواہش مند
میرا ایمان ہے اسلام کی چیز

ہر رگِ جاں میں بسا رہتا ہے
درد کہتے ہیں کہ ہے کام کی چیز

ہے ضروری کہ ہو سب پر ظاہر
یہ محبت ہے بہت بام کی چیز

خود پہ بن جائے تو ہوتی ہے خبر
ہے وفا ویسے فقط نام کی چیز

صرف وعدہ پہ ہی کیوں خوش ہو طورؔ
جب میسرنہیں انعام کی چیز
٭٭٭




اپنے مر مٹنے کے اسباب بہت دیکھتا ہوں
عشق والا ہوں ترے خواب بہت دیکھتا ہوں

یہ بھی ہے ایک سبب اس مری تنہائی کا
اپنے چاروں طرف احباب بہت دیکھتا ہوں

اور تو اور تری یاد سے بھی ہوں غافل
میں یہاں خود کو ظفر یاب بہت دیکھتا ہوں

کچھ تو اس حسن میں رکھی ہے خدا نے تاثیر
اور کچھ لوگوں کو بیتاب بہت دیکھتا ہوں

عرصۂ دہر تو ہے میری نگاہوں کا طلسم
جب بھی میں دیکھتا ہوں خواب بہت دیکھتا ہوں

ان دنوں اپنے کو رکھتا ہوں بہت خود کے قریب
ان دنوں دہر کو خونناب بہت دیکھتا ہوں

مجھ کو مرنا ہے کسی جھیل سی آنکھوں میں طورؔ
ہے یہی وجہ کہ مہتاب بہت دیکھتا ہوں
٭٭٭




یہ مٹی ہوتا خزانہ سدا نہیں رہتا
کسی کا دہر ٹھکانہ سدا نہیں رہتا

علیحدہ ہوں میں جو خود سے تو اس میں حیرت کاز
دوانہ بھی تو دوانہ سدا نہیں رہتا

محبتوں کے شجر پھلتے پھولتے بھی ہیں
خزاں کا ان پہ نشانہ سدا نہیں رہتا

سمٹ بھی جاتا ہے اک دن یہ کاروبارِ  شوق
دلوں میں غم کا خزانہ سدا نہیں رہتا

دکان شیشہ گراں سنگ ہو بھی جاتی ہے
یہ خوشبوؤں کا گھرانہ سدا نہیں رہتا

نظر تو حد نظر تک ہی ہوتی ہے  محدود
فسون رنگ فسانہ سدا نہیں رہتا


یہاں پہ بننا بگڑنا ہے لازمی اے طورؔ
کہ ایک جیسا زمانہ سدا نہیں رہتا
٭٭٭





فخر زادوں کے یہ حوالے ہیں
لب ہیں اور زہر کے پیالے ہیں

چاہے جنت ہو چاہے کوچۂ  عشق
ہم کہاں سے نہیں نکالے ہیں

ان سے امدہ وصل کیا معنی
یہ حسیں کب کے دیکھے بھالے ہیں

تو جو چاہے سلوک ہم سے کرے
ہم تری ذات کے حوالے ہیں

ہے اسی سے یہاں پہ ہم سخنی
جس کے ہونٹوں پہ چپ کے تالے ہیں

کام یہ توہے غیر معمولی
ہم ترے عشق کو سنبھالے ہیں

طورؔ کہتے ہیں جس کو خلد آباد
ہم وہیں کے تو رہنے والے ہیں
٭٭٭





کسی بھی خاتمے پر یہ سفر نہیں آتا
میں کب سے ڈھونڈتا پھرتا ہوں گھر نہیں آتا

کمال عشق فقط دل پہ ہوتا ہے ظاہر
جو آنکھ رکھتے ہیں ان کو نظر نہیں آتا

خدا ہی جانے تعلق ہے کیسا دونوں میں
پکارے کشتی نہ جب تک بھنور نہیں آتا

کیوں آسماں سے اترتا نہیں صحیفہ کوئی
عیاں یہ راز ہو ایسا نظر نہیں آتا

خدا کی دین ہے اب جس کو جیسے مل جائے
یقیں نہ ہو تو دعا میں اثر نہیں آتا

الٹ بھی جاتی ہے دل کی بساط پل بھر میں
یہ واقعہ یہاں زیر خبر نہیں آتا

ہم اس کے ہجر میں اے طور بے کنار ہوئے
یہی وہ لمحہ ہے جو مختصر نہیں آتا
٭٭٭





سمجھا نہ رموزِ جاں میں جانا
اس جسم کو امتحاں میں جانا

تھا اس کا بدن بس آخری حد
مخفی تھا جسے عیاں میں جانا

پوشیدہ تھے دل میں راز کتنے
سچ پوچھو تو یہ کہاں میں جانا

ہر رمز ہے تیری جان لیوا
جانا تجھے جان جاں میں جانا

ہوں خول میں اپنے بند جب سے
آشفتہ سری کہاں میں جانا

کس کو ہے اعتبار دل کا
یہ راز کب آسماں میں جانا

اتنا بھی نہ سادہ لوح ہو طورؔ
چپی تھی جسے بیاں میں جانا
٭٭٭




کمال دشتِ اَنا سے گزارتا ہے کون
میں کیا کہو ں مجھے آخر پکارتا ہے کون

بنے ہوئے یہاں کس کے ہاتھ کی مٹی
چڑھاتا چاک پہ ہے کون اتارتا ہے کون

میں کیسے کہہ دوں کہ اس کو مری خبر ہی نہیں
بس اک نگاہ سے دل کو سنوارتا ہے کون

جلے ہوئے ہیں شبِ ہجر اک دئیے کی طرح
یہ بازی عشق کی ہے اس کو ہارتا ہے کون

اگاتا کون ہے پتھر پہ نیلے پیلے پھول
ان آنسوؤں کو یہاں بے کنارتا ہے کون

ہے اس کا لمس جو میرے بدن سے ظاہر ہے
رہوں خموش تو مجھ کو پکارتا ہے کون

یہ کھیل کس کا ہے جس کو میں کھیلتا ہوں طورؔ
ہے زندہ رکھتا یہاں کون مارتا ہے کون
٭٭٭




کچھ ہم پہ ہے دل کا بار بہت
دکھ دیتے ہیں کچھ سرکار بہت

اب ایسے ذکر کا فائدہ کیا
اپنے بھی یہاں تھے یار بہت

کچھ اس کی نظر کا قصور بھی تھا
کچھ ہم بھی تھے خودمختار بہت

کیا اس کے عشق کی بات کریں
یہ درخت تو ہے پھل دار بہت

جو عہدِ جوانی خواب ہوا
تھے اس کے بھی کردار بہت

کس چیز کا سودا کرنا ہے
ہے تیز کچھ اب بازار بہت

ہونا تھا ہوئے ہم رسوا طورؔ
گرنی تھی گری دیوار بہت
٭٭٭




کچھ ہم پہ ہے دل کا بار بہت
دکھ دیتے ہیں کچھ سرکار بہت

اب ایسے ذکر کا فائدہ کیا
اپنے بھی یہاں تھے یار بہت

کچھ اس کی نظر کا قصور بھی تھا
کچھ ہم بھی تھے خودمختار بہت

کیا اس کے عشق کی بات کریں
یہ درخت تو ہے پھل دار بہت

جو عہدِ جوانی خواب ہوا
تھے اس کے بھی کردار بہت

کس چیز کا سودا کرنا ہے
ہے تیز کچھ اب بازار بہت

ہونا تھا ہوئے ہم رسوا طورؔ
گرنی تھی گری دیوار بہت
٭٭٭





خدا کو جیسے کہ شرکِ خدا نہیں منظور
ہمیں بھی تیرا یہ رنگِ انَا نہیں منظور

ہمارا خاک سے رشتہ ہے خاک ہونا ہے
ہمیں کچھ اور اب اس کے سوا نہیں منظور

ہے کب گوارا جہاں ہو بھلا جنوں کے بغیر
لہو سے خالی ہو دشتِ وفا نہیں منظور

فریب ملنا ہے تو پھر ملے یقین کے ساتھ
ہر آشنا ہو مرا آشنا نہیں منظور

ہے ایک لمحۂ موجود سب کے ہونے سے
ہو میرے دل سے تری ابتدا نہیں منظور

مرے بدن پہ بھی لکھ اپنے نام کی تحریر
ہوا کے پیش نظر ہو ہوا نہیں منظور

ہے طورؔ گرد سفر خود سفر کی اک نعمت
مسافروں کے ہو لب پر دعا نہیں منظور
٭٭٭




لمس باد  سحری  میں  بھی  نہ تھا
اب کسی خوش خبری میں بھی نہ تھا

نقش اک اپنے ہی ہونے کا یہاں
کیا کسی در بدری میں بھی نہ تھا

دھرم شالہ میں جو موجود نہیں
یہ حقیقت ہے مری میں بھی نہ تھا

کیسا اعجاز، کہاں کی حرمت
شعلہ سا دیدہ وری میں بھی نہ تھا

کتنا تاراج ہے یہ باغِ ہوس
لطف کچھ وصل پری میں بھی نہ تھا

جو ہوا اس پہ ہے سب کچھ ظاہر
آدمی بے خبری میں بھی نہ تھا

ہم بھی پیوست تھے کچھ خاک سے طورؔ
کچھ کرشمہ سا دری میں بھی نہ تھا
٭٭٭





جب اصل بات ہی اس اپنی گفتگو میں نہیں
ہے میرے میں سے جو ظاہر وہ تیرے تو میں نہیں

جو مٹی ہم کو لے آغوش میں ندارد ہے
جو رنگ چاہیے ہونا وہی لہو میں نہیں

یہی نہ اسم انا کا ہو اپنے سر نامہ
دلوں کے چاک میں جو ہے وہ اب رفو میں نہیں

یہ تیری آنکھ کی رونق گواہ ہے اس کی
مزا ذرا سا بھی اب شرح آرزو میں نہیں

سکھادیا ہے زمانے نے ہم کو آخر کار
جو لفظ دوست میں ہے طنز وہ عدو میں نہیں

پکارتا ہے نہ کوئی جواب دیتا ہے
سکون جیسا ہے خود میں وہ دشت ہو میں نہیں

عجیب ہوتی ہے رونق بھرے ہوئے کی طورؔ
ذرا سی آگ بھی اب تو تہی سبو میں نہیں
٭٭٭





جیسے ہم سے وہ آشنا ہی نہ ہو
دیکھتے ہیں کہیں خدا ہی نہ ہو

ہم پہ جاری رہے ملامتِ شہر
آج کل سے کبھی جدا ہی نہ ہو

میرا سارا سفر ہے جس کے لئے
اس کی نظروں میں یہ خطا ہی نہ ہو

جان ہلکان کر رہے ہیں کیوں
بے رخی اس کی اک ادا ہی نہ ہو

بارہا یہ گماں بھی گزرا ہے
تھا جو کہنا اسے کہا ہی نہ ہو

اس طرح گزرے تیرے کوچے سے
تجھ سے اب جیسے واسطہ ہی نہ ہو

جس کو سنتا ہوں بار بار یہاں
وہ کہیں اب مری صدا ہی نہ ہو

طورؔ سوچیں اب اس نظریے سے
درد دل کی کہیں دوا ہی نہ ہو
٭٭٭




ہے خشک زمیں تری ندارد
موجود ہیں جن، پری ندارد

یکتا ہے اگر وہ اس جہاں میں
اپنی بھی ہم سری ندارد

جس سے ہیں زیست کے حوالے
وہ آشفتہ سری ندارد

ہے اپنے آپ کا ظہور اب
تھی جو پیغمبری ندارد

اب آنکھ سی بند ہو گئی ہے
اب ہے دیدہ وری ندارد

اس کی نسبت سے اب ہیں زندہ
اپنی خانہ بری ندارد

اک اسمِ انَا کے سامنے طورؔ
سب کی بازی گری ندارد
٭٭٭




یہی تو ہے اثر دیر زود کی خاطر
یہاں وہاں سے نکلنا حسود کی خاطر

بس ایک سنگِ اَنا الحق کی اب ضرورت ہے
مرے وجود سے تیرے وجود کی خاطر

ذرا سی بات پہ اپنا ضمیر بیچ دیا
یہ رنگ رکھ لیا آنکھوں میں سود کی خاطر

زمین رکھتی ہے اس پر یہاں عبث امید
جو بہنا چاہتا ہے آب رود کی خاطر

یہاں پہ عشق ہے بے معنی حسن کے دل میں
یہاں پہ دیر ضروری ہے زود کی خاطر

نہ جانے کب یہ سمندر سراب سے نکلے
یہ آگ اسلئے زندہ ہے دود کی خاطر

تم اپنی جان دئیے جا رہے ہو کیوں اے طورؔ
بس ایک لمحہ کے نام و نمود کی خاطر
٭٭٭




مقابلہ تو دیے سے ہوا نے کرنا ہے
جو اس کے بعد ہے کرنا خدا نے کرنا ہے

وہی سلوک مرا یار کرتا ہے مجھ سے
جو ابتدا سے کسی انتہا نے کرنا ہے

ہمارے ماتھے پہ روشن رہے ستارۂ نور
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا نے کرنا ہے

ہمیں خبر ہے ہمارے دلوں کی سرحد پر
جو خوں خرابہ تجھے اے زمانے کرنا ہے

اذان دینی ہے دنیا کے بہرے کانوں میں
یہی تو ہے جو ہماری صدا نے کرنا ہے

سلانا خاک میں ہے پیار کرنے والوں کو
یہ قتل عام بھی اس کی ادا نے کرنا ہے

ہمارے خوں نے کیا ہے یہاں جو کام اے طورؔ
وہ اس کے ہاتھوں پہ شاید حنا نے کرنا ہے
٭٭٭




کوئی کب تک یہاں جیئے صاحب
کچھ تو کہیے مرے لیئے صاحب

تنگ کرتے نہیں فقیروں کو
اک ذرا دھوپ چھوڑئیے صاحب

جانے کب ہاتھ کس کا جا پہنچے
اپنی پگڑی سنبھالیے صاحب

داغ اس سے لگے نہ سورج کو
یہ جو روشن ہیں کچھ دئیے صاحب

بات اپنی کہوں کہ دنیا کی
شعر لکھوں کہ مرثیے صاحب

یہ مزے دار کوئی بات نہیں
کس طرح زخمِ دل سیئے صاحب

ہو گئی ختم یہ کہانی بھی
مر گیا طورؔ جانیئے صاحب
٭٭٭




خود اپنی ذات کے صحرا میں پاؤں دھرنا ہے
یہ لمحہ جو بھی ہے جیسا بھی ہے گزرنا ہے

یہ کیسا دریا ہے ترتیب ہی نہیں پاتا
یہ کیسی ناؤ ہے جس سے کہ پار اترنا ہے

ہوں چاہے کتنے ہی سینے کے زخم پر نازاں
کسی کے عشق میں آخر ہمیں مکرنا ہے

اسی گماں میں جیئے جا رہے ہیں زیست اپنی
یہاں سے ہم کو گزرنا نہیں ٹھہرنا ہے

تجھے بتائیں تو کیسے اب اے دلِ سادہ
جو کام کرنا نہیں ہے اسے ہی کرنا ہے

ہے اپنے آپ کو رکھنا کسی کمی میں بہت
جو اپنے آپ میں ہم کو یہاں بکھرنا ہے

اسی سے عشق کی نخوت سدا رہے گی طورؔ
وصالِ یار میں جینا نہیں ہے مرنا ہے
٭٭٭





روشن ہے چاند بھی فضا بھی
آنا ہے اگر تجھے تو آ بھی

توفیق فقط ہے اپنی اپنی
الفت ہے تحفہ بھی سزا بھی

تھک ہار کے رہ گئے ہیں آخر
جامہ یہ درد کا سیا بھی

یہ سوچنے پر ہوا ہوں مجبور
جاتی ہے وہاں مری دعا بھی

کس کس سے فاش ہو رہا ہوں
پوشیدہ ہے بات برملا بھی

اس سے بڑھ کر نہ ہو گی نیکی
روتے ہوؤں کو کبھی ہنسا بھی

ہے دل کا بھی زیاں مگر طورؔ
آتا ہے عشق میں مزا بھی
٭٭٭





ہمارا عشق، ترا اعتبار ایک طرف
ہے نشہ دوسری جانب، خمار ایک طرف

بھلا برا ہمیں دنیا کو کہتے آئے ہیں
ہمیں ہی اس پہ ہے اب انحصار ایک طرف

گلہ کروں بھی تو کیسے بے التفاتی کا
غلام حسن کو رکھتے ہیں یار ایک طرف

تہی زباں کے سوا اب مری یہ بے سخنی
سکوتِ جاں پہ گزرتی ہے بار ایک طرف

تمام خلقتِ شہر آ گئی ہے رستے پر
ہوا ہے ربط میں شاید یہ یار ایک طرف

جو گل ملال میں ہوں ان سے آخری حد تک
خزاں کو رکھتی ہے کتنی بہار ایک طرف

کدھر کو جاؤں کہاں اپنا سر جھکاؤں طورؔ
یہ بت ہیں ایک طرف کردگار ایک طرف
٭٭٭





تمام عالمِ امکاں پہ ہے نظر تیری
جو دل سے گزرے وہی تو ہے رہگذر تیری

تو کس لئے انہیں افلاک سے گزارتا ہے
مجھے خبر ہے دعائیں ہیں بے اثر تیری

کہیں ہوئے بھی ہیں مردوں میں جینے کے آثار
ہے کس گمان میں یہ خاک رہگذر تیری

سجائے پھرتا ہے جس کو تو اپنے سینے پر
نہ چمکی حسبِ ضرورت وہی سحر تیری

یہی تو دیکھنا ہے اب یہی تو جاننا ہے
اسیر کرتی ہے کس کو یہ چشمِ تر تیری

یہ کس امید پہ مجھ سے بچھڑ رہا ہے تو
متاعِ عشق یہاں لٹ گئی اگر تیری

ہے رابطوں کے نہ ہونے سے طورؔ کیوں غمگیں
تھی جیسی چاہیئے اب ہے گزر بسر تیری
٭٭٭





میں اپنے آپ کی ایسے ہوا بناتا ہوں
بتوں کو توڑتا ہوں اور خدا بناتا ہوں

یہ دیکھنا ہے کہاں جا کے کھڑکی کھلتی ہے
یہاں میں خود سے کوئی رابطا بناتا ہوں

میں ابتدا ہی سے کرتا ہوں اپنی ہر کوشش
جو حدِ زیست ہو وہ انتہا بناتا ہوں

کہاں سے آئی ہے مجھ میں بھلا فضیلت کن
جسے مٹاتا ہوں اس سے نیا بناتا ہوں

میں اس کے قرب کو رکھتا ہوں دور اپنے سے
اس اپنے عشق کو یوں بے مزا بناتا ہوں

جو اپنے آپ میں رکھتی ہے اک نئی تاثیر
میں دل کے درد کی ایسی دوا بناتا ہوں

یہ دل اک ایسا کھلونا مجھے ملا ہے طورؔ
سدا ہوں توڑتا جس کو سدا بناتا ہوں
٭٭٭





سخنوری میں میسر بس اک عبارت ہے
جو آب  عشق سے ہے تر بس اک عبارت ہے

اگر پڑھو تو اسے ہجر کے حوالے سے
مرا وجود سراسر بس اک عبارت ہے

کہیں پہ رکھتا ہے تازہ اک اپنے لمس سے وہ
یہ اس کا وصل کہیں پر بس اک عبارت ہے

یہاں پہ ہوتا ہے آسودہ کون ہونے سے
جسے سمجھتے ہیں سب گھر بس اک عبارت ہے

کہیں نہ کوئی تعقل،نہ اب کوئی منطق
یہ زندگی کہ ترا در بس اک عبارت ہے

صراحت اس کی تو دنیا میں اب ہے ناممکن
سجی ہوئی ہے جو اندر بس اک عبارت ہے

اسے سمجھنا نہ تقدیر کا نوشتہ  طورؔ
لکھی ہوئی ہے جو در پر بس اک عبارت ہے
٭٭٭





خود سے بھی خبردار کچھ ایسی تو نہیں تھی
یہ وادی ٔ انکار کچھ ایسی تو نہیں تھی

اس کو ہی فقط دیکھتے ہر کام کو تج کے
اس شوخ کی رفتار کچھ ایسی تو نہیں تھی

دل لٹنے پہ جو آتے تو بس لٹتے ہی جاتے
یہ گرمیِ  بازار کچھ ایسی تو نہیں تھی

آنکھیں نہ ملاتی کبھی افسردہ دلوں سے
وہ صورتِ دیوار کچھ ایسی تو نہیں تھی

مجھ پر ہی نہ اتری مرے یاروں کی صداقت
منزل مری دشوار کچھ ایسی تو نہیں تھی

تا عمر رہیں دونوں ہی نفرت کے گماں میں
اس سے مری تکرار کچھ ایسی تو نہیں تھی

ہے زیست میں کچھ اور بھی اے طور ؔ ضروری
وہ خواہشِ اقرار کچھ ایسی تو نہیں تھی
٭٭٭





شاید کہ بہے لہو زیادہ
اس کی ہے آرزو زیادہ

کس چاند سے دوستی ہوئی ہے
کیوں عشق ہے زرد رو زیادہ

مر کے بھی رہے گا نام اگرچہ
مجھ سے ہے مرا عدو زیادہ

کیا وصل ہوا ہے عین ممکن
روشن ہیں چہار سو زیادہ

رکھتا ہے یوں فصل عشق سرسبز
ہوتا ہے وہ روبرو زیادہ

مٹی ہو دل کی جتنی زرخیز
اگتی ہے فصل ہو زیادہ

کچھ کم نہیں طورؔ شعر تیرا
اس میں ہے اگر نمو زیادہ
٭٭٭




جہاں جہانوں کے دل باز کرنا چاہتا ہوں
جو حکم ہو سخن آغاز کرنا چاہتا ہوں

یہی تو وصل رتوں کی ہے جادو سامانی
بنا پروں کے میں پرواز کرنا چاہتا ہوں

میں چاہتا ہوں کہ جاں دے دوں اس کی الفت میں
میں اس زمیں کو سرافراز کرنا چاہتا ہوں

کچھ اپنے دل کو میں رکھتا ہوں خاکساری میں
کچھ اس کے غم کو پس انداز کرنا چاہتا ہوں

عیاں ہو چہرے سے اب جس قدر تعلق ہے
میں خود کو دہر کا غماز کرنا چاہتا ہوں

سخن سکوت گزرتا ہے بار کانوں پر
رواں یہ چشمۂ آواز کرنا چاہتا ہوں

مجھے ہے علم کہ چڑھنا پڑے گا سولی پر
کہ طورؔ فاش بہت راز کرنا چاہتا ہوں
٭٭٭





خشک و تر گرم و سرد اس کا ہے
عکس سبزہ میں زرد اس کا ہے

بات ٹھہری ہے ایک نقطے پر
ہم سا دنیا نورد اس کا ہے

سرسوں پھولی ہوئی ہے کایا میں
پیار میں رنگ زرد اس کا ہے

دل سمجھتا ہے یہ زمانہ جسے
وہ گل لاجورد اس کا ہے

کس سے ہو بات کس سے آنکھ ملے
دہر میں فرد فرد اس کا ہے

یہ زمیں پوچھتی ہے ہم سے یہاں
ہے کہ جو باد گرد اس کا ہے

ہے عجب بات عشق میں اے طورؔ
دل تو میرا ہے درد اس کا ہے
٭٭٭





واسطہ غرفۂ سما کے بیچ
اس نے رکھا ہے کیا دعا کے بیچ

عشق، دنیا کہ لازوال سکوت
کچھ تو ہے میرے اور خدا کے بیچ

شاہ رگ سے بھی کچھ قریب تھا وہ
ہم نے دیکھا اسے صدا کے بیچ

فاصلہ اور کتنا بڑھنا ہے
ناسزا اور اک سزا کے بیچ

یہ بدن خود بڑی رکاوٹ ہے
اک مرے اور مری ہوا کے بیچ

اب ہے آغاز نقطۂ انجام
صفر ہے صفر انتہا کے بیچ

دل ناپائیدار دہر میں طورؔ
ایک تنکا ہے بس ہوا کے بیچ
٭٭٭





روشن ہو صدا کبھی تو آخر
کھل باب دعا کبھی تو آخر

تجھ کو دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
ہم کو بھی ہنسا کبھی تو آخر

تاریک ہے دہر، روشنی دے
اے میرے خدا کبھی تو آخر

جس نے دل لے لیا ہمارا
وہ چہرہ دکھا کبھی تو آخر

مانا کہ بہت ہے وقت نازک
آنا ہے تو آ کبھی تو آخر

ہم بھی ہیں محرمِ سماعت
بس ایک صدا کبھی تو آخر

دروازۂ دل کو طورؔ چپ چاپ
چھیڑے گی ہوا کبھی تو آخر
٭٭٭




تجدیدِ انا بھی ہے کوئی شئے
دنیا میں وفا بھی ہے کوئی شئے

چلتا ہے کہیں نظامِ دنیا
سوچیں تو خدا بھی ہے کوئی شئے

ہوتا ہے وا یہ غرفۂ غیب
آخر کو صدا بھی ہے کوئی شئے

ہے دل کو عزیز قدرِ رفتہ
لیکن یہ نیا بھی ہے کوئی شئے

رونق تو ہے بھرے ہوئے کی
خالی کی ہوا بھی ہے کوئی شئے

کیوں موت سے دہر ہے پریشاں
کیا کربِ فنا بھی ہے کوئی شئے

تاثیر دعا جو ہو سو ہو طورؔ
توقیر دعا بھی ہے کوئی شئے
٭٭٭




کھلنا تھا کھلا صندوق اے دل
چلنی تھی چلی بندوق اے دل

وہ یار ہوا حاصل تب ہی
جب پار کئے خندوق اے دل

دریا میں بہا ہی دیا ہم نے
زیور سے بھرا صندوق اے دل

اس نے مجھ کو بھلانا ہی تھا
ہر ربط تھا کچھ اندوق اے دل

ڈھونڈوں میں کہاں عمرِ رفتہ
کھودوں میں کب تک خندوق اے دل

اس عشرت وصل کو جان کہ ہے
پہلو سے لگی بندوق اے دل

طورؔ کے ہجر و وصل کی باتیں
آخر کو ہوئیں زندوق اے دل
٭٭٭





مارے سینے میں روشن کتاب سے ہوئی تھی
ہر ایک صبح کسی آفتاب سے ہوئی تھی

میں سر جھکاتا رہا کس کے آستانے پر
مری نماز بھلا کس حساب سے ہوئی تھی

اگرچہ مجھ کو اَنا کا لحاظ تھا لیکن
یہ روشنی تو اک اس کے جواب سے ہوئی تھی

پھر اس کے بعد کسی میں کسی کا دم نہ رہا
نویدِ وصل تو اک اضطراب سی ہوئی تھی

مجھے تھا علم یہاں دل ضرور ٹوٹے گا
مری شکست ترے انتخاب سے ہوئی تھی

اک ایسا وقت بھی تھا اپنی دسترس میں بہت
جہاں پہ روشنی بس ایک خواب سے ہوئی تھی

ہے نام آپ کا بھی اب تو سرفروشوں میں طورؔ
یہاں ہوئی تھی جو گنتی جناب سے ہوئی تھی
٭٭٭


یہ بھی خیرات جان پڑتی ہے
جو دعا درمیان پڑتی ہے

وعدۂ وصل ہے کہ خنجر نیست
ایک آواز کان پڑتی ہے

میرے ہونے پہ ہے خطِ  تنسیخ
یہ زمیں آسمان پڑتی ہے

وہ اگر آنکھ کھول کر دیکھے
سارے منظر میں جان پڑتی ہے

کچھ خبر ہے کہ دوسری جانب
کیا تہہِ آسمان پڑتی ہے

میں ہی اپنا ہدف ہوں طورؔ یہاں
بات کچھ ایسی دھیان پڑتی ہے	٭٭٭





میں کسی کے وصل میں کیا سے کیا نہیں کر رہا
ہے یہی وہ بات جو برملا نہیں کر رہا

میں یہ جانتا ہوں کہ میرے جیسا بشر ہے وہ
میں اسی لئے تو اسے خدا نہیں کر رہا

ہیں سبھی کسی نہ کسی عذاب کے روبرو
ہے یہاں پہ کون کہ جو دعا نہیں کر رہا

کئی اور بت بھی ہیں دستیاب جہان میں
فقط اس سے عشق کی ابتدا نہیں کر رہا

کسی روشنی کا نہیں مدار چراغ پر
کوئی خواب آنکھ سے اب جدا نہیں کر رہا

ہیں مری نظر میں نئے سراغ وصال کے
کسی نقشِ پا کو بیا نقشِ پا نہیں کر رہا

میں وفورِ عشق سے بھر رہا ہوں دلوں کو طورؔ
میں جو سچ کہوں یہاں کچھ نیا نہیں کرر ہا
٭٭٭




تمام رات پڑی تھی کہ دن نکل آیا
ابھی تو آنکھ لگی تھی کہ دن نکل آیا

یقیں ہو پختہ تو پھر شب بدل بھی سکتی ہے
یہ بات اس نے کہی تھی کہ دن نکل آیا

یہ معجزہ بھی ہمیں پر تمام ہونا تھا
وہ بس ذرا سا ہنسی تھی کہ دن نکل آیا

میں دن نکلنے کا ویسے بھی منتظر تھا بہت
یہ جان خواب ہوئی تھی کہ دن نکل آیا

سحر سے پہلے بھلا دن کہاں نکلتا ہے
ذرا سی بات بنی تھی کہ دن نکل آیا

ذرا سا درد ہوا تھا کہ دل چمک اٹھا
ذرا سی صبح ہوئی تھی کہ دن نکل آیا

کریں جو غور یہی ہے نظام قدرت طورؔ
یہ رات ختم ہوئی تھی کہ دن نکل آیا
٭٭٭




زمینِ خشک پہ آبِ رواں نظر تو آئے
میں انتظار میں ہوں وہ جہاں نظر تو آئے

امید وصل ہوئی جاتی ہے نتیجہ نفی
کبھی وہ شوخ مرے درمیاں نظر تو آئے

زمین عشق کروں چرخ زہر عشق کروں
اک آدمی کا ذرا سا گماں نظر تو آئے

بس ایک ثانیہ درکار خاک بننے میں ہے
خود اپنے ہونے کا کارِ زیاں نظر تو آئے

وہ روشنی ہے کہ کھلتی نہیں ہے آنکھ مری
ہے کون ساتھ مرے اب یہاں نظر تو آئے

میں اعتبار زمانے پہ کرنا چاہتا ہوں
مجھے یہاں کوئی اب مہرباں نظر تو آئے

لگائے بیٹھا ہوں کشتی کنار دریا طورؔ
ذرا سی دیر یہ آب رواں نظر تو آئے
٭٭٭




اس اپنے دل پہ مجھے اختیار ہو چکا ہے
تھا جتنا ہونا وہ اب انتظار ہو چکا ہے

بس ایک موجِ رواں سے ہے واسطہ اپنا
کنار دریا تو دریا کنار ہو چکا ہے

یہ کیا مقام ہے، یہ کیسی بے خودی ہے کہ اب
مجھے خبر ہی نہیں وصل یار ہو چکا ہے

بھلا تغیر دنیا کی بات کتنی کریں
کہ یہ سخن تو یہاں بے شمار ہو چکا ہے

نہ ہم ہیں دست بریدہ نہ ہم علمبردار
مگر یہ آبِ فرات اپنا یار ہو چکا ہے

ہو بات کوئی بھی کٹتا ہے میرا جسم یہاں
زمانہ جیسا بھی ہو مجھ پہ بار ہو چکا ہے

جہاں پہ برق تھی گرنی وہ گر چکی ہے طورؔ
جہاں تھا ہونا نمایاں وہ یار ہو چکا ہے
٭٭٭




میں کیا بتاؤں مرا اس سے کیسا واسطا ہے
وہ آدمی جو مجھے آنکھ بھرکے دیکھتا ہے

ہوں اپنے عشق کے میں کون سے مراحل میں
جو سوچنا ہے اسے تو اسے ہی سوچنا ہے

کہیں بھی جاؤں میں کچھ بھی کروں زمانے میں
یہ سحر عشق تو اپنی طرف ہی کھینچتا ہے

اسے تو چاہیے اپنی طرح کا اور ہی جسم
وہ چاند میرے بدن میں کہاں چمکتا ہے

نویدِ وصل بنی ہے یہاں پہ صورتِ ہجر
مرے لئے تو یہاں جینا ایک مرحلہ ہے

مجھے ہے کرنا تعاقب خود اپنے سائے کا
مجھے تو مڑ کے بہت اپنے پیچھے دیکھنا ہے

سبھی کو فکر پڑی ہے میں کیا ہوں کیسا ہوں
کسی کے بارے میں اے طورؔ کون سوچتا ہے
٭٭٭




اس دہر میں رب بنا ہوا ہے
انسان عجب بنا ہوا ہے

جو پھول کھلے ہوئے ہیں دل میں
یہ قرب سبب بنا ہوا ہے

اعجازِ عشق کیا دکھائیں
وہ دعوتِ لب بنا ہوا ہے

ہے خاک نصیب میں بالآخر
ہرچند وہ رب بنا ہوا ہے

امید تھی جس سے روشنی کی
وہ گردشِ شب بنا ہوا ہے

مہتاب بدن ہے اس کا سارا
وہ مٹی سے کب بنا ہوا ہے

اس طورؔ سے کیا سنیں سنائیں
یہ شخص کڈھب بنا ہوا ہے
٭٭٭




اس نے جو درد کا انبار لگایا ہوا ہے
ہم نے بھی دل سرِ بازار لگایا ہوا ہے

ایک آفت کی طرح ہم نے اب اس سینے سے
تھا لگانا جسے سرکار لگایا ہوا ہے

پیار کی تازہ ہوا آئے کہاں سے، ہم نے
خود کو اک صورتِ دیوار لگایا ہوا ہے

کیا کسی بت کی محبت میں گرفتار ہوئے
کیوں بھلا سینے سے زنار لگایا ہوا ہے

ایک لمحے کو بھی موجود نہیں ہے راحت
گھر میں کیا حلقۂ اغیار لگایا ہوا ہے

اپنے سے دور بھی رکھا ہے بہت تو نے ہمیں
ایک تسمہ سا بھی اے یار لگایا ہوا ہے

تاکہ تفریق دلوں میں نہ رہے ہرگز طورؔ
ہم نے اس پار کو اس پار لگایا ہوا ہے
٭٭٭





نہ ہی وہ آنکھ نہ وہ پیرہن ہوا سرسبز
کہیں کہیں پہ ہی میرا سخن ہوا سرسبز

ہے شعلہ ریز کہیں کچھ چراغ امکاں سے
اسے جو دیکھا ہمارا یہ من ہوا سرسبز

پلٹ دی جتنی بھی کایا تھی ایک وصل نے بس
ہوائے عشق سے سارا بدن ہوا سرسبز

یہ اک ہمیں تھے کہ جاں دے دی اس کے قدموں میں
بس اک ہمیں سے وفا کا چلن ہوا سرسبز

ادھر بدن سے پسینے کی بوندیں کیا ٹپکیں
ادھر خزانۂ مشکِ ختن ہوا سرسبز

تھی جتنی روشنی وہ ساری ثبت کی خود پر
اک اس کے چہرے سے ماہ عدن ہوا سرسبز

جسے بھی دیکھو اٹھاتا ہے طورؔ آنکھوں سے
ہمارے شعروں سے سارا دکن ہوا سرسبز
٭٭٭




کوئی کہیں پہ تو کوئی کہیں پہ رہ گیا ہے
یہ آسمان ضرور اس زمیں پہ رہ گیا ہے

یہی تو خاک نشینوں کی بس نشانی ہے
یہ ایک داغ جو میری جبیں پہ رہ گیا ہے

ذلیل کرتا ہے مجھ کو خود اپنی نظروں میں
یہ غم کا دھبہ جو دل کے نگیں پہ رہ گیا ہے

یہی بہت ہے کہ قائم ہے نام کی تختی
مکاں کا کوئی تو احساں مکیں پہ رہ گیا ہے

ابھر رہی ہے کوئی آنکھ گردش غم سے
نشاطِ دل ترے جیسے حسیں پہ رہ گیا ہے

چھپا رہے ہیں زمانے سے اپنی حالت کو
کہ ہاں کا شائبہ اب تو نہیں پہ رہ گیا ہے

میں دل دھڑکنے کی آواز سن رہا ہوں طورؔ
یہی یقین تو قرب قریں پہ رہ گیا ہے
٭٭٭




جو کر رہوں وہ باعث پندار کر رہوں
دنیا کو میں بھی صورتِ دیوار کر رہوں

سر پر رکھوں جلا کے کوئی درد کا دیا
آسودگیِ  عشق  خبردار  کر  رہوں

تکمیل گفتگو کے لئے یہ عبث نہیں
جو دل میں ہے اب اس کا ہی اظہار کر رہوں

رکھ دوں ہر ایک لب پہ محبت کا حرف سبز
اپنے لہو کو وقت کا معیار کر رہوں

جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ سب پرانا ہے
جی چاہتا ہے خود کو افق پار کر رہوں

یہ آرزو خلافِ توقع بھی اب نہیں
دنیا کو ایک باغِ ثمر دار کر رہوں

اے طورؔ ہو چکی ہے بہت خود سپردگی
اس جنس کو اب رونقِ بازار کر رہوں
٭٭٭





ہوتا ہے بھلا مطلعِ دل صاف کہاں تک
کیا دیکھیں کہ اب کھلتے ہیں اطراف کہاں تک

ہر چیز یہاں قحط کے اب زیرِ اثر ہے
ظاہر بھی اگر ہوں تو یہ اصناف کہاں تک

جب دہر کا ہی دہر ٹھکانے سے لگا ہو
اک دل پہ کرے وہ بھلا اوقاف کہاں تک

ہر چیز میں ہر بات میں بس دل کا زیاں ہے
سینے سے لگائیں ترے اوصاف کہاں تک

کیا جانئے خاکستر جاں اڑ بھی سکے گی
یہ راہ ترے عشق کی ہے صاف کہاں تک

یہ کارِ زیاں ہم پہ ہی موقوف نہ ٹھہرے
گنتے رہیں جاں پر ترے الطاف کہاں تک

کچھ کام کی ہو بات تو دل یاد بھی رکھے
اے طورؔ سنیں تیری یہ اب لاف کہاں تک
٭٭٭





درد کی کچھ ہوا چلی ایسی
ہے صف آرا گلی گلی ایسی

لطفِ تکمیلِ عشق کی خاطر
خاک چہرے پہ کچھ ملی ایسی

چپ رہوں تو لہو ہے سرخیِ درد
میرے دل میں ہے کھلبلی ایسی

جس سے گزری نہ ہو یہ خلقتِ شہر
ہے یہاں کیا کوئی گلی ایسی

ہیں نظر سے چہار سمت اوجھل
یہ مری شام کچھ ڈھلی ایسی

سارا منظر ہوا ہے ہجر صفت
چال اس دہر نے چلی ایسی

دل سے اتری نہیں ابھی تک طورؔ
ایک صورت تھی کچھ بھلی ایسی
٭٭٭





مجھ میں موجود ہے جو چاک نہیں کھلتا کچھ
یہ مرا دیدۂ نمناک نہیں کھلتا کچھ

نقش ابھرے گا کوئی یا کہ نہیں ابھرے گا
کیا ہے پوشیدہ تہہِ خاک نہیں کھلتا کچھ

یہ تو طے ہے کہ اب اس دل کا زیاں لازم ہے
وہ ہے معصوم کہ چالاک نہیں کھلتا کچھ

منتظر کون سے میں عالمِ اسباب کا ہوں
کیا ہے اب قسمتِ خاشاک نہیں کھلتا کچھ

کیوں بھلا اس کی نشانی نہیں ملتی مجھ کو
کیوں بھلا غرفۂ ادراک نہیں کھلتا کچھ

اب یہ کیا ہے مرے اطراف نہیں آتا سمجھ
اور یہ مطلعِ پیچاک نہیں کھلتا کچھ

بند کیوں اشک نہ ہوں طبعِ رواں سے اے طورؔ
وہ بھی تو صورتِ افلاک نہیں کھلتا کچھ
٭٭٭





ہے آسمان نفس جاں زمیں کہیں بھی نہیں
مکاں نمود  نشاں اور مکیں کہیں بھی نہیں

میں خود طلسم میں اپنے گرفت ہوتا ہوں
وگرنہ شب میں تو ماہِ مبیں کہیں بھی نہیں

جدھر بھی جائیں مقدر ہمارا ہجرت ہے
ہمارے حصے کی شاید زمیں کہیں بھی نہیں

کھڑا ہوں ہونے نہ ہونے کے اب دوراہے پر
اس آستاں پہ جھکے جو جبیں کہیں بھی نہیں

یہ زہرِ عشق ہے رگ رگ سے اس طرح پیوست
کہیں کہیں ہے نمایاں کہیں کہیں  بھی نہیں

زوال اس کو ہی کہتے ہیں حق پرستوں کا
گماں کا نقش سراسر یقیں کہیں بھی نہیں

میں کر رہا ہوں یہاں خوں میں زہر آمیزی
ہیں طورؔ سانپ ہی سانپ آستیں کہیں بھی نہیں
٭٭٭





کبھی کبھی مجھ سے دل نے یہ کہا ہے
یہ زندگی کسی جرم کی سزا ہے

کسے سنائیں اس غم کا ماجرا اب
یہاں جو ہونا تھا اب وہی ہوا ہے

ہے کفر لیکن یہ کہنا ہی پڑے گا
کہ مجھ سے بے پرواہ اب مرا خدا ہے

یہ کیوں میں خود میں سرسبز ہو رہا ہوں
جدا نہیں جو مجھ سے وہی جدا ہے

قریب تر تھا جو میری شاہ رگ سے
قیامتوں کا اب اس سے فاصلہ ہے

سنو نہ مجھ سے احوال عاشقی کا
یہ میرے کاندھوں پہ پیر تسمہ پا ہے

پڑھیں گے ہم بھی اے طورؔ اسم اعظم
ہمارا اس سے بھی ایک واسطا ہے
٭٭٭




نمودِ صبح ذرا سی نظر تو آئی ہے
وہ آنکھ میرے خدا سی نظر تو آئی ہے

یہ انکشاف مجھے دم نہ لینے دے گا کہیں
کہ حبسِ دم کو ہوا سی نظر تو آئی ہے

گرفت جو نہیں ہوتی ہمارے خون سے اب
وہ رات نقش انا سی نظر تو آئی ہے

تمام رشتے ہیں دنیا میں میرے ہونے تک
بساط زیست ذرا سی نظر تو آئی ہے

چٹک رہے ہیں یہ غنچے اب اپنی مستی میں
اسی بہانے صدا سی نظر تو آئی ہے

یہاں پہ سنتا ہوں میں اپنے ہونے کی آواز
یہاں پہ سانس جدا سی نظر تو آئی ہے

وصالِ یار میں اے طورؔ یہ مری ہستی
ہے شکر مجھ سے خفا سی نظر تو آئی ہے
٭٭٭




کچھ اور بھی زیر پا نکالی
یہ گردِ زمیں بھی کیا نکالی

ہر لطف نظر ہوا ہے دونا
یہ آپ نے خوب ادا نکالی

خارج کیا اس کو زندگی سے
دل سے یہ انی سدا نکالی

روشن ہیں یہاں پہ اب سب اطراف
آنکھوں سے نیند کیا نکالی

جتنی بے چہرگی یہاں تھی
ساری اپنے سوا نکالی

رخصت کی یہاں پہ کثرت شوق
اس زندگی سے بلا نکالی

اک عشق کے زخم بننے پر طورؔ
دل نے کیا کیا دعا نکالی
٭٭٭





بہت گھر کے در و دیوار دیکھیں
نظر اٹھے تو کچھ سرکار دیکھیں

جو بکنا تھا وہ کب کا بک چکا ہے
بھلا اب کیا سر بازار دیکھیں

ہوئی ہے بس بہت بے التفاتی
ہمیں بھی تو ہمارے یار دیکھیں

وہی غم ہے وہی بے چارگی ہے
اور اب کیا آپ کے بیمار دیکھیں

محبت دو کناروں کی طرح ہے
اگر اس پار سے اس پار دیکھیں

بھرم کچھ تو رہے اپنی انا کا
کہاں ہیں اب صلیب و دار دیکھیں

یہی حاصل ہے اپنی زیست کاطورؔ
ہمیں اس آنکھ کا بیمار دیکھیں
٭٭٭




جہاں میں عشق کی بنیاد تھے ہم
وہ دن بھی تھے کہ کتنے شاد تھے ہم

ہمیں اندیشۂ جاں بھی بہت تھا
عبث کیا تھا کہ خود ایجاد تھے ہم

پکڑنی تھی جسے عبرت پکڑتا
فصیلِ وقت پر اک یاد تھے ہم

ہمیں تحریر کرنا کیا ہے مشکل
ہر اک انسان کی روداد تھے ہم

یہ زہرِ عشق بھی کیا پر اثر ہے
ادھر دیکھا اِدھر برباد تھے ہم

بس اک کرتے رہے خود کو منور
کہ اس فن میں بہت استاد تھے ہم

دلِ سادہ کو اپنے بس میں رکھا
تبھی اے طورؔ اتنے شاد تھے ہم
٭٭٭





کوئی بھی زاویہ ہم سا کبھی نہیں دیکھا
یہ دہر ہم نے تو اپنا کبھی نہیں دیکھا

وفا کے اور نکلنے تھے راستے دل میں
یہ لفظ جتنا تھا عنقا کبھی نہیں دیکھا

ہزار کوششیں کی ہیں دعا کو باندھنے کی
اس آنکھ میں غمِ دنیا کبھی نہیں دیکھا

وہ یار نرم نگاہی سے جو سلوک کرے
دلوں کے زخم کو بھرتا کبھی نہیں دیکھا

وفا ہے ہجر مقدر ہے اس کی ساری خبر
چمک پہ جو ہو ستارا کبھی نہیں دیکھا

ہماری خاک نہ سیماب ہو سکی ہر گز
ہمیں زمانے نے اچھا کبھی نہیں دیکھا

تمہاری جیسی انا بھی کہیں نہ دیکھی طورؔ
تمہارے جیسا بھی تنہا کبھی نہیں دیکھا
٭٭٭




جو کام کرنا تھا ا س کام پر لگائے رکھا
یہ دہر ہم نے تو انعام پر لگائے رکھا

کسی طرح نہ بجھی پیاس اپنے ہونے کی
گو اک زمانہ ترے نام پر لگائے رکھا

فروغِ صبح کی ہم ہی مثال تھے لیکن
ہمیں ہی کیوں فلکِ شام پر لگائے رکھا

میں کیسے چاک پہ اس دہر میں ہوں آویزاں
یہ کیسی گردشِ ناکام پر لگائے رکھا

کیا ہے ہم نے ہی خود کو یہاں نظر انداز
غبار عشق تہہ تام پر لگائے رکھا

زمانے کو بھی نوید اس نے دی قرابت کی
ہمیں بھی پرچۂ انعام پر لگائے رکھا

جسے کہ رکھنا تھا پوشیدہ دل میں رکھا طورؔ
عیاں تھا کرنا جسے بام پر لگائے رکھا
٭٭٭





متاعِ چشم تر اب اس قدر ہے
یہاں خوف و خطر اب اس قدر ہے

وظیفہ روشنی کا پڑھ رہا ہوں
شگفتہ یہ سحر اب اس قدر ہے

سمجھتا ہوں میں اپنے آپ کو صفر
محبت میں ضرر اب اس قدر ہے

فقط اک اینٹ سے ہے رونمائی
بقایا میرا گھر اب اس قدر ہے

ہمارے دیدۂ حیران میں بھی
سفر رشکِ سفر اب اس قدر ہے

دعائیں مانگتا ہوں التوا کی
ہے جو کچھ بھی ادھر اب اس قدر ہے

ہوئے جاتے ہیں طورؔ الفاظ پانی
ترا زور ہنر اب اس قدر ہے
٭٭٭





لہو ہے زیب بدن ساعت وصال میں کچھ
عذاب ایسا کہ میرے رہے خیال میں کچھ

نیا جو ہے اسے آخر پرانا ہونا ہے
یہ ہے جو گردشِ ماضی ہے نقش حال میں کچھ

مجھے تھا علم جو اس کے جواب میں ہو گا
تھی خوش گمانی سی رکھی ہوئی سوال میں کچھ

یہی تضاد تو سرنامہ میری زیست کا ہے
یہاں عروج میں کچھ ہے یہاں زوال میں کچھ

گماں گزرتا ہے ہونے کا اب نہ ہونے پر
ہے عکس رکھا ہوا صاحب جمال میں کچھ

اک اس کی چشم عنایت کا سارا کھیل ہے یہ
میں جانتا ہوں نہیں ہے مرے کمال میں کچھ

جو سرخرو تجھے ہونا ہے عشق غیر میں طورؔ
تو سرکٹا کہ نہیں باقی قیل و قال میں کچھ
٭٭٭




خود کو اپنا خدا بنایا کئے
اپنی بھی اک ہوا بنایا کئے

شغل رکھا ہے بس یہی دن رات
خاک کو کیمیا بنایا کئے

جو سنائی نہ دے کسی کو کبھی
درد میں وہ صدا بنایا کئے

مٹی کرتے رہے ہر اک امید
عشق میں کیا سے کیا بنایا کئے

عمر اس کارِ خیر میں گزری
جو برا تھا بھلا بنایا کئے

جس کو رکھنا تھا بہتے پانی پر
عکس ایسا سدا بنایا کئے

جو بناتی رہی ہے دنیا طورؔ
اس سے ہم کچھ جدا بنایا کئے
٭٭٭





کیا وہ دل باندھے بس ہوا خالی
عشق رکھے جسے سدا خالی

ربط تجھ سے جو تھا رہا خالی
اب نکلتی نہیں دعا خالی

پار اس سے کوئی اترتا نہیں
کچا رہتا ہے جو گھڑا خالی

جن کے دل پر نہ عشق حکم کرے
دہر میں رہتے ہیں سدا خالی

سانس در سانس کھینچتے ہیں آہ
ہوتا رہتا ہے دل بھرا خالی

موت کرتی ہے زیست کی تکمیل
وقت کرتا ہے ابتدا خالی

سب گرفتار عشق صفر مراد
کوئی ہے کب یہاں بھلا خالی

طورؔ لائے کبھی تو مشک یار
بہتی رہتی ہے کیا ہوا خالی
٭٭٭




چراغ عشق کی خاطر سربتاں ہیں سبھی
نہیں تھا ہونا جنہیں اب وہی عیاں ہیں سبھی

یہ اور بات ہے دل پڑھ رہا ہے نسخۂ  فرق
ہمارے قصۂ  غم  میں تو ہم زباں ہیں سبھی

بھلا یہ صورتِ اظہار اب دکھائیں کسے 
جنہیں سمجھتے رہے اپنا وہ کہاں ہیں سبھی

وہ گرد ہے نہیں پہچانتا کسی کو کوئی
بس ایک منزلِ معدوم کو رواں ہیں سبھی

دلوں کی بات وہ سمجھیں نہ سمجھیں کیا معلوم
اگرچہ درد کی دنیا میں ہم زباں ہیں سبھی

بس ایک پل میں ہوئے جاتے ہیں یہ قصۂ خاک
بس ایک لمحہ گزرتا ہے داستاں ہیں سبھی

زمین تنگ ہو یا آسماں ہو یا دل طورؔ
مرے لئے تو یہاں صورتِ زیاں ہیں سبھی
٭٭٭




نمود لمحۂ فریاد بھی رہا اکثر
یہ دہر عشق کی روداد بھی رہا اکثر

ہے جشن جس کی تباہی کا میرے چاروں طرف
یہ دل سنا ہے کہ آباد بھی رہا اکثر

سکون ملتا ہے جس چہرے کی نمائش سے
وہ میرے درد کی بنیاد بھی رہا اکثر

وہی کہ جو کسی امکان میں نہیں موجود
وہی تو شامل امداد بھی رہا اکثر

عذاب کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ جاں لے لے
یہ اک خرابہ تو دل شاد بھی رہا اکثر

کشید کرتی رہے عشق سے سکوں دنیا
یہ لفظ باعث فریاد بھی رہا اکثر

اگرچہ بھول گئے سارے رشتے ناطے طورؔ
ہمیں جنوں میں کوئی یاد بھی رہا اکثر
٭٭٭


کیسی منزل ہے کہاں ختم سفر کچھ تو کہو
کیوں دعا اپنی ہے محروم اثر کچھ تو کہو

اے پرندو، اے مرے نامہ برو اس تک لفظ
ساعتِ وصل ہے کیوں ساعت در کچھ تو کہو

داغ ماتھے کا نمایاں ہے کہ روشن ہے چراغ
یہ اثر ہے بھی کہیں زود اثر کچھ تو کہو

تم کہ جو اس خس و خاشاک کا اک حصہ ہو
آنکھ میں رکھتے بھی ہو حسنِ نظر کچھ تو کہو

کہیں ایسا بھی ہو ا ہے وہ مقابل ہو بہت
زرد شاخوں پہ رہے تازہ ثمر کچھ تو کہو

کسی اندیشۂ فردا کی تو تصویر نہیں
اس قدر سہما ہوا کیوں ہے بشر کچھ تو کہو

اس کے ہونے میں تمہیں طورؔ کچھ آتا ہے مزا
زندگی بھر جسے سمجھا کئے گھر کچھ تو کہو	٭٭٭




وصال لمس کف کوزہ گر کیا گویا
تمام عمر بس اک ہی سفر کیا گویا

بہت سنبھال کے جاں رکھ دی اس کے قدموں میں
جو اپنے پاس تھا اس کی نظر کیا گویا

کوئی بھی وسعتِآفاق تھی نہ عکس نفس
ہمیں بھی دل نے بہت در بدر کیا گویا

ہو جیسے بہتے ہوئے پانی پر چراغ کی لو
کچھ ایسے زیست کو ہم نے بسر کیا گویا

بس اس کی ایک جھلک سے سجائے عشق اطراف
اس اپنی آنکھ کو یوں معتبر کیا گویا

ہر اک یقین پہ رکھا ہے اعتبار گماں
دل ایسے دشت کو ہم نے بھی گھر کیا گویا

میں خوش ہوں اپنے کو سرسبز جان کر اے طورؔ
یہ مرحلہ بھی بہت ہم نے سر کیا گویا
٭٭٭




بسے کہ اجڑے وہ بازار ہر طرف تو کیا
اگر ہمیں ہیں سردار ہر طرف تو کیا

مزا تو تب ہے کہ جانیں وہ میرے دل کا حال
ہوئے ہیں جمع اگر یار ہر طرف تو کیا

ہماری آنکھ تک آئے کوئی تو لمحۂ لطف
محبتیں ہیں ثمر بار ہر طرف تو کیا

یقیں بھی ہے تجھے وہ سر انا کے قابل ہیں
کلف سے اونچی ہے دستار ہر طرف تو کیا

ہے کوئی ایسا بھی دیکھے جو دیدۂ تر سے
بہت ہیں گنتی میں زر دار ہر طرف تو کیا

ہر ایک پہلو سے خم ہیں ہمارے سر بھی یہاں
جو سونت رکھی ہے تلوار ہر طرف تو کیا

اگر ہے دھوپ تو کچھ اپنے لوگ بھی ہیں طورؔ
نہیں ہے سایۂ دیوار ہر طرف تو کیا
٭٭٭




یہی تو کرتے ہیں سب کچھ نہ کرنے والے بھی
گزر کے رہتے ہیں آخر گزرنے والے بھی

یہ انکشاف ہوا ہم پہ ایک عمر کے بعد
الگ الگ تھے یہاں خود پہ مرنے والے بھی

کچھ اور دیر لگے گی اسے بھلانے میں
یہ زخم اتنی نہیں جلدی بھرنے والے بھی

وہ آنکھ رکھتی بھی کب تک انہیں نظر انداز
سمٹ ہی جاتے ہیں اک دن بکھرنے والے بھی

ہمیں تو درد کا ہی ایک آسرا ہے بہت
ترے قریب ہیں کب یہ ٹھہرنے والے ہیں

یہی تو اس کی محبت کا بس کرشمہ ہے
ہیں بیچ دریا میں یہ پار اترنے والے بھی

اب ایسی صورتِ حالات کو کہیں کیا طورؔ
ڈرا رہے ہیں ہمیں ہم سے ڈرنے والے بھی
٭٭٭




جو کرنا تھا اسی اک کام پر رکھا ہوا ہے
یہ کیا ہم نے تمہارے نام پر رکھا ہوا ہے

یقین بے یقینی روبرو بھی ہے ہمارے
بھروسہ بھی اگرچہ جام پر رکھا ہوا ہے

اترتی ہی نہیں دل میں یہ کیسی روشنی ہے
یہ کیسا چاند ہے جو بام پر رکھا ہوا ہے

پرونا ہے جہاں بھر کے دلوں کو اک لڑی میں
یہی کار زیاں اسلام پر رکھا ہوا ہے

سکھا دی ہے اسے بھی ہم نے سب سے سردمہری
اسے بھی ہم نے اس اک کام پر رکھا ہوا ہے

بہت مصروف ہیں اپنے ہنر کو بیچنے میں
جو تھا کچھ خاص اسے اب عام پر رکھا ہوا ہے

وفا ہو یا نہ ہو وعدہ مگر اس شوخ نے طورؔ
یہاں سب کو کسی انعام پر رکھا ہوا ہے
٭٭٭




منظر جو تھے بدل رہے ہیں
بارش میں بھی لوگ جل رہے ہیں

گر گر کے بھی سنبھل رہے ہیں
ہم آئینوں سے نکل رہے ہیں

تخفیف سزا میں کیا ہوئی ہے
زنجیر یہ کیوں بدل رہے ہیں

رکنا تھا جنہیں رکے ہوئے ہیں
چلنا تھا ہمیں سو چل رہے ہیں

شاید ہے وقت کا تقاضا
جو نظم دل بدل رہے ہیں

جیسی ہے دنیا دیکھنی ہے
جیسا ہے سانچا ڈھل رہے ہیں

مستقبل کی خبر نہیں طورؔ
ہیں آج وہی جو کل رہے ہیں
٭٭٭




بتوں کو سامنے رکھ اور خدا غنیمت جان
وہ حبس ہے کہ ذرا سی ہوا غنیمت جان

یہی بہت ہے وہ موجود ہے کہیں نہ کہیں
علاوہ بندِ قبا کے قبا غنیمت جان

وہ بے نیاز کبھی تو پڑھے گا عرضی ٔ وصل
اثر سے خالی سہی یہ دعا غنیمت جان

تمام ہونے کو ہے اب یہ کار سود و زیاں
ہوا سے نکلے جو رنگِ ہوا غنیمت جان

نکل رہی ہے ہمارے لہو کی گنجائش
جو پھول کھلتے ہیں یہ جا بجا غنیمت جان

جو ہونے والا تھا اب وہ نہ جانے کب ہو گا
جو ہو رہا ہے اسے ہی سدا غنیمت جان

تمام شہر کو دشمن بنائے رکھا ہے طورؔ
اگر کہیں ہے کوئی آشنا غنیمت جان
٭٭٭




اپنے ہونے سے محبت کا نہ ہونا ہے یہاں
کیا کہیں ہم کو اسی بات کا رونا ہے یہاں

کھل ہی جائے گی کسی روز یہ اپنی اوقات
کاٹنا ہو گا وہی ہم کو جو بونا ہے یہاں

ہے یہ وہ خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں
ساتھ اس شوخ کے اک دن ہمیں سونا ہے یہاں

جتنی بچگانہ ہو لیکن یہ ہماری ضد ہے
اپنی کشتی بنا پانی کے ڈبونا ہے یہاں

احتساب اپنا کرے یا کہ زمانے کا کرے
آدمی وقت کے ہاتھوں میں کھلونا ہے یہاں

ایک اخلاص پہ رکھنی ہے محبت کی بساط
ایک جینے کی ادا کو تو سمونا ہے یہاں

میل کرنی ہے الگ اب وہ کہیں بھی ہو طورؔ
صرف کپڑے ہی نہیں دل کو بھی دھونا ہے یہاں
٭٭٭





لطف کچھ بھی تو کہانی میں نہیں لگتا ہے
دل مرا میرے ہی جانی میں نہیں لگتا ہے

خون آنکھوں سے ہوا جاری تو معلوم پڑا
زخم کب گہرا جوانی میں نہیں لگتا ہے

اک سی ہوتی ہے محبت میں وفا کی روداد
فرق کچھ اوّل و ثانی میں نہیں لگتا ہے

مجھ سے ہوتی نہیں اس بت کی خوشامد، یعنی
جی مرا یاددہانی میں نہیں لگتا ہے

کب کہاں رہتا ہے اس عشق میں اک واصل عشق
کچھ بھی تو ختم زمانی میں نہیں لگتا ہے

دل کو مخصوص نہ کر اس کی تمنا کے لئے
یہ نگینہ تو نشانی میں نہیں لگتا ہے

طورؔ ہوتی نہیں لفظوں میں نوادر کی کمی
طورؔ کچھ جادو بیانی میں نہیں لگتا ہے
٭٭٭


زمانے سے الٹ کوئی سفر ہی کر لیا جائے
جدھر ہے یار اپنا رخ ادھر ہی کر لیا جائے

تمہاری بات اے دیدہ ورو ہم مان لیتے ہیں
مگر یہ کیا کسی کے دل میں گھر ہی کر لیا جائے

یہ کوئی بات بنتی ہے کہ اک ترک تعلق پر
کسی کی یاد میں ہر پل بسر ہی کر لیا جائے

نظر آتی نہیں کچھ روشنی ربط تعلق کی
چلو اس شخص کو اب بے خبر ہی کر لیا جائے

خوشی یا نا خوشی سے،دہر میں دونوں برابر ہیں
گزر کرنا اگر ٹھہرا گزر ہی کر لیا جائے

بہت اے طور زندہ رہنے کا بھی فائدہ کیا ہے
اب اس عمر رواں کو مختصر ہی کر لیا جائے		٭٭٭





دل کو اپنا میر کہاں کر پائے ہم
یہ وحشی زنجیر کہاں کر پائے ہم

سب اجڑا ہے،سب سنسان ہے سب بے سود
اس دل کو کشمیر کہاں کر پائے ہم

اک امید تھی اپنے آپ جو روشن تھی
کوئی بھی تدبیر کہاں کر پائے ہم

جس میں آنکھ نئی ہو نئے مناظر ہوں
وہ لمحہ تحریر کہاں کر پائے ہم

وہ جو نہیں کرتا اب نیا ستم ایجاد
خود کو بھی شبیر کہاں کر پائے ہم

اپنی آنکھیں اس کی منڈیر پہ رکھنے کی
یہ حسرت تعمیر کہاں کر پائے ہم

قسمت تھی اے طور ؔ کہ اس پر آنکھ پڑی
خوابوں کی تفسیر کہاں کر پائے ہم
٭٭٭




کبھی کبھی ہی سہی ہے زیاں نشاط مقام
مرے لئے تو یہ سارا جہاں نشاط مقام

اگر ہیں سر تو انا بھی بہت ضروری ہے
نہیں تو پھر نہیں یہ آستاں نشاط مقام

ہے کم نگاہی کہ سیرابی ٔ ہوس کہ کچھ اور
کہاں کا رکھا ہے ہم نے کہاں نشاط مقام

اک اس کی آنکھ میں ہے دیکھنا ہوس حیرت
اک اس کے دل پہ ہے رکھنا نشاں نشاط مقام

یقین رکھتا ہوں کس کس کی لایقینی پر
زمیں ہے کرب زدہ،آسماں نشاط مقام

کہاں کسی سے ہوا ہے ہجوم کرب کشید
یہ ہجر رکھتا ہے سارا جہاں نشاط مقام

کہاں پہ رکھتا ہے اے طورؔ اپنی تلخی ٔ جاں
ہمیشہ رہتا ہے تیرا بیاں نشاط مقام
٭٭٭





محبتوں میں کہاں در کناری لگتی ہے
یہ آنکھ جو ہے فقط اس کو ماری لگتی ہے

نظر میں رکھتا ہوں اس کو میں دشمنوں کی طرح
کس انتہا پہ مری اس سے یاری لگتی ہے

اگرچہ اس کی محبت سے بہرہ یاب نہیں
یہ دنیا جیسی بھی ہو پھر بھی ہماری لگتی ہے

ہم اپنے آپ میں تنہا ضرور ہیں لیکن
ہماری ایک زمانے سے یاری لگتی ہے

اگرچہ خوشبو طبیعت ہیں اس کے آگے مگر
ذرا جھکیں تو بہت خاکساری لگتی ہے

یہ ایک پل کا تعلق ہے کم غنیمت کیا
کہاں کسی سے بہت دیر یاری لگتی ہے

برہنگی ہی کماتی ہے نیک نامی طورؔ
لباس ہو تو یہاں کتنی خواری لگتی ہے
٭٭٭




ہر وقت بہر طور گزرنے کے لئے تھا
دریا جو چڑھا تھا وہ اترنے کے لئے تھا

دیکھی ہی نہیں جاتی تھی اس دل کی تراوٹ
معلوم ہمیں کب تھا یہ مرنے کے لئے تھا

جو چیز تھی اس دہر کی وہ ختم لئے تھی
جو قہر تھا نازل وہ ٹھہرنے کے لئے تھا

ہم ہیں کہ لئے پھرتے ہیں تلوار سی دل پر
وہ شخص محبت میں مکرنے کے لئے تھا

رکھا ہے بہت جان کے اس بت کا تغافل
وہ کام کیا ہم نے جو کرنے کے لئے تھا

یہ بات بہت عام ہے سیلاب وفا میں
ڈوبا ہے وہی جو کہ ابھرنے کے لئے تھا

اے طورؔ اس اک شوقِ فسوں کاری کے باعث
ہر رنگ زمانے میں بکھرنے کے لئے تھا
٭٭٭




زیادہ ہو کہ نہ ہو مختصر ضروری ہے
سفر کے واسطے رخت سفر ضروری ہے

یہی تو دیکھنا ہے دہر میں یہ صورت عشق
کہاں ضروری نہیں اور کدھر ضروری ہے

سماتا نظروں میں کوئی کہاں ہے پہلے پہل
اس ایک بار کو بار دگر ضروری ہے

کہیں نکلتا ہے دل سے یہ ایک رشتۂ لطف
یہ ہو بہو ہی نہیں سربسر ضروری ہے

وہ یاد آئے تو ہوتا ہے اور جی کا زیاں
کہ ایسے نفع میں کوئی ضرر ضروری ہے

اس آرزو کو بھی پورا کریں کسی صورت
اسے بھی دیکھ ہی لیں یہ اگر ضروری ہے

جو آنکھ روتی ہے روتی رہے لہو اے طورؔ
ہمارے عیب میں لمس ہنر ضروری ہے
٭٭٭




آواز بہت گنبد و محراب سے نکلی
تعبیر کہاں خواب کی اک خواب سے نکلی

جینے کی ہوس اور ہی کچھ رنگ دکھاتی
کیا شکل تھی جو ماہی ٔ بے آب سے نکلی

تھی پیاس تو کچھ اور ہی شئے سامنے میرے
پانی کی جگہ دامنِ  گرداب سے نکلی

جو دیکھنا خود کو تو فقط دیکھنا خود کو
یہ رسم جہاں میں مرے احباب سے نکلی

کچھ ایسے ہوا ختم جہاں میں سفرِ جاں
تھی اوس کی اک بوند جو تیزاب سے نکلی

جو کچھ بھی ہوا اس کے اشارے پہ ہوا ہے
نکلی جو خبر دیدۂ خونناب سے نکلی

اک اشک تھا جو طورؔ گرا آنکھ سے اپنی
اک آہ تھی جو اس دل بیتاب سے نکلی
٭٭٭




مری حیرانیوں سے آگے بھی ہے
سمندر پانیوں سے آگے بھی ہے

فقط سجدوں سے کچھ حاصل نہ ہو گا
خدا پیشانیوں سے آگے بھی ہے

وہ اک بچہ جو ہے موجود مجھ میں
سبھی نادانیوں سے آگے بھی ہے

شہادت مسئلہ ہے اک انا کا
یہ گھر قربانیوں سے آگے بھی ہے

ہمارے شوق کے صدقے، وہ بت اب
بڑی آسانیوں سے آگے بھی ہے

بدن لطف بدن سے اب ہے ظاہر
یہ غم ارزانیوں سے آگے بھی ہے

کھڑا ہوں سر اٹھائے طورؔ اکیلا
فلک ویرانیوں سے آگے بھی ہے
٭٭٭




جو خواب نہیں تو خواب سا دے
زنجیر اگر ہے کم، بڑھا دے

مقدور کہاں مجھے ترا عشق
یہ وہ شئے ہے جسے خدا دے

اک یاد سے رکھ فقط دل آباد
ہے رات بہت،دیا جلا دے

پہچان کی ہو کوئی تو صورت
جو دینا ہے یہاں پہ، لادے

اس کاروبارِ عاشقی میں
ہوں حرف غلط اگر مٹا دے

ایمان سے سچ میں کہہ رہا ہوں
جو ہو سکے تجھ سے تو دعا دے

روکھا پھیکا کلام کیا طورؔ
ہے شعر وہی کہ جو مزا دے
٭٭٭




اڑائی کس نے ہے جھوٹی خبر بس اک پل میں
جہاں ہے ہونے کو زیر و زبر بس اک پل میں

کھرا نہ اترے گا کچھ بھی اس آزمائش پر
کہ ہونے والی ہے شبنم شرر بس اک پل میں

نہ آدمی ہی یہاں اور نہ رشتے قائم ہیں
سفر میں لٹتا ہے زادِ سفر بس اک پل میں

سنبھل بھی جاتے ہیں کچھ لوگ لڑکھڑا کے یہاں
اجڑ بھی جاتا ہے دل کا نگر بس اک پل میں

ہے سارا عالمِ اسباب عالمِ اعدا
ہر ایک شئے ہوئی رنگ دگر بس اک پل میں

اسے بھی سننا ہے طول طویل عرض ہوس
ہمیں بھی کہنا ہے کچھ مختصر بس اک پل میں

ہوا ہی چاہتا ہے ختم یہ تماشا طورؔ
تمام ہونے کو ہے یہ سفر بس اک پل میں
٭٭٭





سیکھے ہیں کہیں ستم زیادہ
کرتا ہے وہ ہم سے رم زیادہ

دو رخ ہیں فقط یہ زندگی کے
خاطر میں خوشی نہ غم زیادہ

ایسا بھی سلوک اس کا کب ہے
یونہی ہے یہ آنکھ نم زیادہ

امید جو ہے تو بس یہی ہے
نکلے گا کبھی تو دم زیادہ

یہ مرحلہ کیسے طے بھلا ہو
ایمان ہے کم،حرم زیادہ

دونوں مل کر رہیں تو بہتر
دنیا میں نہ تم نہ ہم زیادہ

ہے طورؔ یہی تو فضل ربی
دیکھا ہے ہم نے کم زیادہ
٭٭٭





دل کو لگائے بیٹھا ہوں بیکار ہی کچھ اور
جس پر مدار رکھا وہ تھا خار ہی کچھ اور

پہلی سی وہ ہوس ہے نہ پہلی سی وہ ہوا
سچ پوچھئے اب اپنے ہیں آثار ہی کچھ اور

ظاہر اگر نہیں ہوں تو پوشیدہ بھی نہیں
اس داستاں میں میرا ہے کردار ہی کچھ اور

ممکن کہاں ہے اچھا کوئی مال بک سکے
ہے ان دنوں یہ گردشِ بازار ہی کچھ اور

کس کی مجال ہے کہ کوئی انگلی رکھ سکے
اس شوخ کی ہے ان دنوں رفتار ہی کچھ اور

تھا دیکھنا ہمیں یہاں ایسا بھی ایک وقت
دشوار بنتا جاتا ہے دشوار ہی کچھ اور

یہ دوست تجھ کو لائیں گے خاطر میں کس طرح
ہیں طوؔر ان کے آجکل اطوار ہی کچھ اور
٭٭٭




اک حقیقت کو گماں تھا موجود
جب بھی دیکھا ہے جہاں تھا موجود

بند آنکھوں کے کرشمے ہیں سب
وہ نہیں تھا تو کہاں تھا موجود

تنگیِ  دل تو ہے ظاہر لیکن
اس کے رکنے کو مکاں تھا موجود

کاش لے جاتے اسے جنت میں
جو یہاں آبِ رواں تھا موجود

عشق میں  اس کو کہاں رکھتے ہم
یہ جو اک سود و زیاں تھا موجود

یہ الگ بات ہے وہ گم ہے اب
اس کے ہونے کا نشاں تھا موجود

دہر کے اجنبی بازار میں طورؔ
ہم سا اک مال گراں تھا موجود
٭٭٭





ہوئیں شرمندہ نادانی سمجھ کر
یہ آنکھیں ریت کو پانی سمجھ کر

لگایا ہے گلے سے ہم نے اکثر
زمانے کو ترا ثانی سمجھ کر

نکلتی ہیں دعائیں بے تحاشا
اسے اس درد کا بانی سمجھ کر

مزا دے گی یہ وارفتہ مزاجی
زمین خشک بارانی سمجھ کر

فلک سے رابطہ رکھا ہوا ہے
زمیں پر غم کی ارزانی سمجھ کر

جہاں کے باغ میں ہم اکثر اوقات
رہے خود کو بیابانی سمجھ کر

ہوئے ہیں مبتلا اس میں بہت طورؔ
انا کو غیر امکانی سمجھ کر
٭٭٭




تری گرفت سے جب جب بھی میں علیحدہ ہوا
نہ تھا تماشے کے قابل مگر تماشا ہوا

یہ دیکھنا ہے پس وصل باقی رہتا ہے کیا
اک آدمی کو بدن پر تو ہے سجایا ہوا

اب اس کو کون سے انداز کی ہوا جانیں
جو دیکھنے میں ہے آیا وہ سب ہے دیکھا ہوا

تھا اس کو وقت کی ہر پیش رفت کا احساس
یہ ایک لمحہ جو امید پر ہے ٹھہرا ہوا

تھے اس کی نظروں میں سارے ہمارے عیب و ہنر
اسے بتانے سے باز آئے یہ بھی اچھا ہوا

یہی تو کشف سے آگے کی چیز ہے شاید
جو اس نے لکھا تھا دل پر ہے کب کا لکھا ہوا

عجیب ہونے نہ ہونے کے دائرے میں ہیں طورؔ
جو سوچتے ہیں وہ لگتا ہے کب کا سوچا ہوا
٭٭٭




کیا تو ہم نے یہی کار عارفانہ کیا
بس ایک آدمی کے ساتھ دل روانہ کیا

یہ دہر رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اگر
تمہیں کہو کہ یہاں تم نے کیوں ٹھکانہ کیا

ان آرزوؤں کو رکھا ہے ہم نے خاک بسر
ان آنسوؤں کو برنگ انار دانہ کیا

سجا ہے کس کے لہو سے کہو یہ مقتلِ جاں
اس آدمی کے عقب میں کسے روانہ کیا

یہ کس توقع پہ رکھا ہے خود کو خاک وجود
یہ کس امید پہ خود کو سگ زمانہ کیا

اس اپنی جان سے گزرے وفا کے دشت میں خوب
اک آدمی کی محبت میں ہم نے کیا نہ کیا

ہے ایک اور بھی دنیا اب انتظار میں طورؔ
چلو چلیں کہ جہاں میں بہت ٹھکانہ کیا
٭٭٭




میان میں مری شمشیر کرنا چاہتا ہے
وہ آدمی مجھے تسخیر کرنا چاہتا ہے

میں ریگزار ہوں اس پر ہنر کے نقش سے وہ
گماں کا آئینہ تعمیر کرنا چاہتا ہے

ہمیں وہ رکھتا ہے اول نفس شماری میں
ہمارے درد کی تشہیر کرنا چاہتا ہے

یہ دیکھنا ہے کہ آخر ہمارے دل پہ ستم
وہ کون ہے کہ جو تحریر کرنا چاہتا ہے

پرانی شئے کو ہے رکھتا نئے طریقے سے
کوئی تو خوابوں کی تعبیر کرنا چاہتا ہے

سلوکِ درد سے وہ اس حیاتِ گزراں میں
چراغِ عشق کو تصویر کرنا چاہتا ہے

چمک رہا ہے جو لمحہ وہی تو اک دن طورؔ
گزرتی رت میں ہمیں میر کرنا چاہتا ہے
٭٭٭





جو دشمنوں میں کوئی دوست جا نکلتا ہے
ہمارے دل سے بھی کانٹا ذرا نکلتا ہے

یہیں کہیں پہ چھپا ہے اب اس کے گھر کا سراغ
یہیں کہیں سے کوئی راستا نکلتا ہے

میں کس کو پوجوں کسے روشنی ٔ عین کروں
ہر آدمی یہاں خود میں خدا نکلتا ہے

کوئی کہاں بھلا ہوتا ہے دل سے شہر بدر
کوئی کہاں بھلا تجھ سے سوا نکلتا ہے

ہماری آنکھ وہ ہے دیکھتی جو دیکھا نہ تھا
ہمارے دل پہ بھی نقش حرا نکلتا ہے

اک اشک بھی ہے اشارہ کسی سمندر کا
اک آہ سے بھی سراغ ہوا نکلتا ہے

بیاں کروں بھی تو کیسے اب اس زیاں کو طورؔ
میں کیا سمجھتا ہوں اور دہر کیا نکلتا ہے
٭٭٭




یہ  در یہ طاق یہ چوکھٹ یہ گھر ملال کا ہے
سفر میں جتنا ہے زادِ سفر ملال کا ہے

میں کیسی ساعتِ بد بخت میں مقید ہوں
دعا خوشی کی ہے ظاہر اثر ملال کا ہے

رکی ہوئی ہے حیات اک عجب دوراہے پر
ادھر ہنسی کا اجارہ ادھر ملال کا ہے

سجائے رکھا ہے ہم کو انا کی سولی پر
کوئی اگر ہے تو بس یہ ہنر ملال کا ہے

سنبھال رکھا ہے اب جس قدر ہے سرمایہ
زیادہ کچھ نہیں بس ایک گھر ملال کا ہے

رواں ہوں میں اسی جانب جدھر ہے وہ بستی 
مرے لئے تو یہ سارا سفر ملال کا ہے

لگائے رکھیں گے سینے سے اس کو ہم اے طورؔ
حیات میں کوئی ٹکڑا اگر ملال کا ہے
٭٭٭




سبھی دکھوں کی دوا ہے مگر زیادہ نہیں
وہ آدمی بھی خدا ہے مگر زیادہ نہیں

یہ دل بھی برتا ہے ہم نے ذرا طریقے سے
اسے بھی دیکھا ہوا ہے مگر زیادہ نہیں

ہے میرے ماتھے پہ روشن کسی حوالے سے
عجب نشانِ دعا ہے مگر زیادہ نہیں

کچھ اب کے اور ارادے ہیں جینے مرنے کے
کچھ اب کے اور فضا ہے مگر زیادہ نہیں

محبتوں میں یہ مانا ہمارے اس دل نے
ہمیں خراب کیا ہے مگر زیادہ نہیں

ہماری مٹی کو سرسبز ہونا ہے اک دن
یہی تو زور دعا ہے مگر زیادہ نہیں

ہوا ہوں میں بھی گرفتار اس کے عشق میں طورؔ
وہ میرے گھر میں رہا ہے مگر زیادہ نہیں
٭٭٭




ظاہر میں فقط بیاں ہوئے ہیں
کہرام رقم کہاں ہوئے ہیں

کچھ ہم بھی کٹے ہیں اب زمیں سے
کچھ وہ بھی آسماں ہوئے ہیں

دل والوں کی نہیں ہے اب خر 
پیچیدہ آسماں ہوئے ہیں

ہونا تھا جنہیں یہاں پہ پہلے
وہ لوگ بھی بعد ازاں ہوئے ہیں

منظر موجود ہی نہیں ہے
کس چیز کا پھر نشاں ہوئے ہیں

کرنا تھا جنہیں خود اپنا سودا
معلوم نہیں کہاں ہوئے ہیں

ہے جن سے وقار دہر اے طورؔ
ہر عہد میں بے اماں ہوئے ہیں
٭٭٭




کہاں کے خواب کہاں لذتیں ہیں سونے میں
تمام عمر ہی گزری ہماری رونے میں

نہ جانے کب یہ دیا جل کے بجھنے والا ہے
نہ جانے دیر ہے کتنی تمام ہونے میں

بس ایک بار اسے دیکھا تھا ، پھر اس کے بعد
یہ ساری عمر کٹی اپنی رونے دھونے میں

میں کیسے نکلوں بھلا دست برد دنیا سے
کہ رزق مٹی کا شامل ہے چاندی سونے میں

نہ کوئی آتا نہ اب دل کا حال پوچھتا ہے
پڑے ہوئے ہیں کچھ اس طرح ایک کونے میں

بھرے جہان میں ایسے ہیں کچھ نمایاں ہم
مٹھائی رکھی ہو جیسے کہ ایک دونے میں

یہ صرف غیب کا منشا نہیں تھا طور ؔ یہاں
ہے ان کا ہاتھ بھی شامل ہمارے ہونے میں 
٭٭٭




وہ چاند یوں تو مرے بام پر زیادہ ہے
یہ لمحہ دیکھنے میں مختصر زیادہ ہے

ٹنگے ہوئے ہیں انا کی صلیب پر کب سے
ہے بات کم مگر اس میں ہنر زیادہ ہے

نظر کچھ آتا نہیں ہے بدن کہ عکس بدن
ہوس کی روشنی کچھ اس قدر زیادہ ہے

ہم اس کی یاد کو رکھتے ہیں دل کی دنیا میں
مکیں تو خود ہے پریشاں کہ گھر زیادہ ہے

نہ پہلا آدمی ہے وہ،نہ پہلا عشق مرا
اس ایک شوق میں حسن نظر زیادہ ہے

ہے کاروبارِ محبت سے زندگی کا گماں
کیوں اس کو کم نہ کریں یہ اگر زیادہ ہے

اگرچہ طورؔ کا ہے شعر بے بظاعت سا
مگر یہ شخص یہاں معتبر زیادہ ہے
٭٭٭




ہوا ہے زیر زمیں آسماں عجیب سا کچھ
میں جس میں رہتا ہوں وہ ہے مکاں عجیب سا کچھ

فلک سے آتا ہے رقعہ ہمارے ہونے کا
ہے اپنے ماتھے پہ روشن نشاں عجیب سا کچھ

کہاں کا وصل بھلا اور کہاں کی حسرت وصل
ہر ایک لمحہ ہوا بے اماں عجیب سا کچھ

انا کی جس سے تھی امید وہ ہے ننگ انا
جسے تھا ہونا وہی ہے یہاں عجیب سا کچھ

کہاں میں ہوتا ہوں آمادہ کہنے سننے پر
لہو ہے میری رگوں میں رواں عجیب سا کچھ

میں جبر اپنی طبیعت پہ جب بھی کرتا ہوں
دکھائی دیتا ہے مجھ کو جہاں عجیب سا کچھ

ہے تیرے شعروں میں کچھ ایسی خوش گمانی طورؔ
بیان حسن ہے حسن بیاں عجیب سا کچھ
٭٭٭





خود کو وقف خدا کریں گے
روشن حرف دعا کریں گے

ہو دہر میں غم کی حکمرانی
اس بات کا حوصلا کریں گے

دیکھیں گے دور سے تجھے ہم
اور صبر کی انتہا کریں گے

سب کچھ ہو گلاب فصل والا
اتنی سی فقط دعا کریں گے

یہ عشق ہماری زندگی پر
ہے قرض تو پھر ادا کریں گے

وہ وقت خدا کبھی نہ لائے
اوروں کو جب آئینہ کریں گے

اک جادو بیانی سے رقم طورؔ
اس شوخ کی ہر ادا کریں گے
٭٭٭





ہے نقش رنج فلک گردش زمیں کے بعد
اس آستاں میں بچا کیا مری جبیں کے بعد

نہ دل دھڑکتا ہے اب اور نہ سانس آتی ہے
ہے صفر سارا جہاں اس کی اک نہیں کے بعد

کہیں تو آہ مری جا کے رنگ لائے گی
ہے آسمان نشانے پر اس زمیں کے بعد

میں خود کواس سے کہیں بھی الگ نہیں پاتا
کوئی جچا نہیں آنکھوں کو اس حسیں کے بعد

یہ ایک طرفہ نشانی ہے اس کے ہونے کی
کہیں پہ رکھا نہ اس نے مجھے کہیں کے بعد

ہوا ہے نقطۂ انجام، نقطۂ آغاز
یہ آسماں ہے بہت کم مری زمیں کے بعد

نہ کوئی آنکھ ہی روئی لہو کچھ ایسے طورؔ
نہ کوئی رنگ جچا رنگِ آستیں کے بعد
٭٭٭





پس اعجاز انا کچھ نہ ہوا
کام کچھ اپنا ہوا کچھ نہ ہوا

غم نہیں ہم ہیں اگر رو بہ زوال
دہر میں بھی تو سدا کچھ نہ ہوا

پہلی ہی بات ہے اب آخری بات
اپنا دنیا میں بھلا کچھ نہ ہوا

یہی نظارہ تھا مرغوب یہاں
کچھ نہ ہونے کے سوا کچھ نہ ہوا

کام کوئی بھی نہ نکلا آخر
حبس میں زور ہوا کچھ نہ ہوا

مطمئن ایسے ہیں اس سے مل کر
جیسے دنیا میں خدا کچھ نہ ہوا

یہ ہوا، اس کی گلی سے اے طورؔ
لوٹ آنے کے سوا کچھ نہ ہوا
٭٭٭





کام کرنے کا نہ کر جانا کسی اور کا ہے
اس طرف ہو کے ادھر جانا کسی اور کا ہے

اپنے حاسد پہ نظر پیار کی رکھتا ہوں بہت
میرے مرنے سے تو مر جانا کسی اور کا ہے

ہم وہیں ہیں وہ جہاں چھوڑ گیا تھا ہم کو
پار دریا کے اتر جانا کسی اور کا ہے

جان دے کے بھی ہیں ہم قول نبھانے والے
اپنے وعدوں سے مکر جانا کسی اور کا ہے

ایسے لوگوں سے محبت میں پڑا تھا پالا
زندگی میں یہ سفر جانا کسی اور کا ہے

درد کیسا بھی ہو اک روز ٹھہر جائے گا
زخم کیسا بھی ہو بھر جانا کسی اور کا ہے

ہم نہیں اٹھے جہاں سے ہے اٹھا اور ہی طورؔ
ہم نہیں گزرے گزر جانا کسی اور کا ہے
٭٭٭





پہنچے کہ نہ پہنچے کسی رفتار سے آگے
خود قافلہ ہے قافلہ سالار سے آگے

جو جشن تھا برپا وہ فقط اپنی طرف تھا
رونق تھی کہاں حلقۂ  دیوار سے آگے

ویسے تو نظر آئی ہے کچھ اور ہی دنیا
اس عشق میں اک زخم نمک دار سے آگے

اک روز یہاں خاک بسر ہونا ہے ہم کو
کرنی ہے تو اب خود پہ نظر یار سے آگے

ان سے بھی جو سچ پوچھو تو رونق ہے سفر میں
دو چار جو ہیں بعد میں دو چار سے آگے

ہے ہجر کی اک شکل ترے وصل کے پیچھے
ہے برگِ خزاں شاخ ثمر دار سے آگے

خواہش ہے کسے خود سے الجھنے کی یہاں طورؔ
ہم زندہ ہیں کچھ اپنے ہی آثار سے آگے
٭٭٭





اسرار نمود خواب کی طرح
ہیں دہر میں ہم حباب کی طرح

کب تک یہ خموشیِ  لب آخر
ہے زندگی اک عذاب کی طرح

یہ نشہ ہے اور قسم ہی کا
اترے گا کہاں شراب کی طرح

کچھ دھیان میں رکھا نفع اس نے
کچھ برتا ہمیں حساب کی طرح

ہے ٹھور کوئی نہ اب ٹھکانہ
ہوں بہتے ہوئے اک آب کی طرح

دیکھا ہے بس آیتوں کی مانند
پوجا ہے اسے کتاب کی طرح

اے طورؔ ہجوم شاعراں میں
ہے بھی کوئی جناب کی طرح
٭٭٭





آلودہ  ہے تصویر ادھر اور ادھر کی
ہوتی نہیں تفسیر ادھر اور ادھر کی

رہتی ہے پراگندہ مقدر سی ہمارے
وہ کاکل شب گیر ادھر اور ادھر کی

کس موڑ پہ لے آئی ہمیں صورت حالات
دل ہے جہاں توقیر ادھر اور ادھر کی

اس کار گہہِ عشق میں کچھ کام نہ آئی
ہر صورت تدبیر ادھر اور ادھر کی

رستہ کوئی نکلے کہ نہ نکلے یہ الگ ہے
پکڑے تو ہیں شمشی ادھر اور ادھر کی

زنداں میں بہت رکھتی ہیں اوروں سے نمایاں
قیدی کو یہ زنجیر ادھر اور ادھر کی

جو بات اسے کہنی تھی وہ کہہ نہ سکا طورؔ
دل کرتا ہے تقریر ادھر اور ادھر کی
٭٭٭





یہ چرخ ہوا زمیں سے پیوست
ہے روشنی آستیں سے پیوست

کار دارد ہے کار دارد
قشقہ جیسے جبیں سے پیوست

اب فرق کوئی کہاں ہے ممکن
ہیں وہم و گماں یقیں سے پیوست

اڑنا تھا جنہیں ہیں سر بریدہ
پرواز پر  پریں سے پیوست

دنیا تو ہے اک سرائے فانی
کب ہے یہ مکاں مکیں سے پیوست

ملتا ہے کہاں سراغ اپنا
ہاں ہوتی ہے کب نہیں سے پیوست

ہونا ہے ہمیں بھی طورؔ اک دن
اس جسم شرمگیں سے پیوست
٭٭٭




جس کو دیکھا نہیں وہ دیکھا ہوا لگتا ہے
وقت اک نقطے پہ اب ٹھہرا ہوا لگتا ہے

کوئی احساسِ زیاں ہے نہ کوئی رت کی ہے فکر
دل کا پنچھی تو مجھے اڑتا ہوا لگتا ہے

روکنا جس کو تھا وہ بہتا ہوا پانی تھا
سوچنا جس کو ہے وہ سوچا ہوا لگتا ہے

مصلحت اس میں چھپی ہو گی یقیناً کوئی
مرنے والا اگر اب مرتا ہوا لگتا ہے

لذت عشق عبارت ہے لہو سے اپنے
وصل ہوتا ہے کہاں ہوتا ہوا لگتا ہے

ہو گماں کوئی بھی ہوتا ہے یقیں سے واصل
راز اب کوئی بھی ہو جانا ہوا لگتا ہے

معجزہ اس کو ہی کہتے ہیں جہاں میں اے طورؔ
جو یہاں ہوتا نہیں ہوتا ہوا لگتا ہے
٭٭٭




دلوں پہ نقش نگینہ کہیں دکھائی دیا
گلاب ہوتا پسینہ کہیں دکھائی دیا

کبھی کسی کے لبوں پر بھی آیا ذکر وصال
پیا ملن کا مہینہ کہیں دکھائی دیا

سلوک یار نے رکھا ہے کیا ترازو پر
نشان آہ شبینہ کہیں دکھائی دیا

کسی کے عشق میں تازہ ہوئے ہو اندر سے
نفس نفیس قرینہ کہیں دکھائی دیا

ہوئے ہیں فاش بھلا راز بھی سمندر کے
جو گم ہوا تھا سفینہ کہیں دکھائی دیا

تجھے ملا بھی یہاں پر جو تیرا حصہ تھا
پر ہوائے پرینہ کہیں دکھائی دیا

نظر بھی آیا کوئی آدمی یہاں پر طورؔ
محبتوں کا دفینہ کہںں دکھائی دیا
٭٭٭




ہوا کے بعد بھی زور ہوا باقی رہے گا
یہ دنیا ہے یہاں اچھا برا باقی رہے گا

کہاں ممکن ہے ہم کو یاد رکھے گا زمانہ
بہت مشکل ہے پانی پر لکھا باقی رہے گا

اگرچہ ختم ہو جائیں گے یہ دل کے نشاںسب
جہاں میں جو ہوا ہے تجربا باقی رہے گا

اندھیروں میں کہیں کوئی کرن موجود ہو گی
فنا ہو جائے گی دنیا خدا باقی رہے گا

ہمیں سے تیری محفل کا ہر اک منظر ہے روشن
یہاں جب ہم نہیں ہوں گے تو کیا باقی رہے گا

محبت کے جواہر ڈھونڈنے نکلے گی دنیا
کہیں کوئی تو امکان وفا باقی رہے گا

اتر جائیں گے اب اے طورؔ کچے رنگ سارے
سدا رہنا ہے جس کو وہ سدا باقی رہے گا
٭٭٭




ریت میں ہو کے بھی پانی میں گرفتار ہوں میں
اک تری یاد دہانی میں گرفتار ہوں میں

پار ہونا ہے تو پھر اس کی کوئی صورت ہو
موجۂ اول و ثانی میں گرفتار ہوں میں

بات جو کرتا ہوں وہ دل پہ اثر کرتی نہیں
جانے کس کذب بیانی میں گرفتار ہوں میں

ترا دامن بھی مرے ہاتھوں میں اب آتا نہیں
کیا کہوں کتنی گرانی میں گرفتار ہوں میں

اک زمانہ سا زمانہ ہے مرے دم کے طفیل
اک نشانی سی نشانی میں گرفتار ہوں میں

کوئی صورت بھی نکلنے کی نظر آتی نہیں
دیر سے ہستی ٔ فانی میں گرفتار ہوں میں

حسب منشا تو یہاں کچھ بھی نہیں ہوتا طورؔ
کیسی محدود بیانی میں گرفتار ہوں میں
٭٭٭





یہ راز تو ہے راز مگر راز کس قدر
اس راہ عشق میں ہے تگ و تاز کس قدر

کتنا طلب میں زور ہماری ہے کیا کہیں
اس کی سپردگی میں ہے اعجاز کس قدر

جو عمر ہم نے کرنی تھی وہ کتنی ہو چکی
اس شوخ کا ہے دیکھیں کہ در باز کس قدر

اب بھی بدن پہ پڑتا ہے جرم وفا کا سنگ
یہ قفل اب بھی کرتا ہے آواز کس قدر

اڑتا نہیں ہوں پھر بھی اڑے جاتا ہوں یہاں
پرواز خود ہے طاقتِ پرواز کس قدر

جو لفظ بھی ہے جاتا ہے اب سوئے آسماں 
روشن ہے اپنا خیمۂ آواز کس قدر

دیکھیں جنوں کے نقش نکھرتے ہیں کتنے طورؔ
دنیا ہماری ہوتی ہے ہم راز کس قدر
٭٭٭




فقط مٹی میں موتی رولتے ہیں
جنہیں ہو بولنا کب بولتے ہیں

نہیں کچھ اور کرنے کو جنوں میں
ترا بندِ قبا ہی کھولتے ہیں

اشارہ اس سے ملنے کا ہے شاید
یہ جو پردے ہوا میں ڈولتے ہیں

جنہیں ہوتا ہے دل پر نام لکھنا
وہی اپنے دریچے کھولتے ہیں

عجب کیا ہے الٹ جائے تماشہ
سنو یہ اہل دل کچھ بولتے ہیں

ہیں بے وقعت جنہیں یہ ہیرے موتی
وہی خاشاک کو اب تولتے ہیں

ہیں خوش رفتہ جو خود رفتہ نہیں طورؔ
یہ اک اسم انا اب کھولتے ہیں
٭٭٭




مزا کیا صورتِ مبہم میں
محبت میں خوشی میں غم میں

اسے اعجاز میرا سمجھو
زیادہ دیکھتا ہوں کم میں

ہوا ہے دل گداز اس کا بھی
ہے کیا تاثیر چشم نم میں

یہی کاریگری ہے اس کی
وہ خود کو دیکھتا ہے ہم میں

تھی اس کے وصل ہی میں کچھ بات
میں زندہ ہو گیا ہوں دم میں

وہ ظاہر ہے بظاہر پنہاں
مری سانسوں کے زیرو بم میں

ٹھہرتا ہی نہیں دل طورؔ اب
اسے دیکھا ہے کس عالم میں
٭٭٭





جو یاد آنا ہے اس کو تو یاد آنے لگے
کسی طرح تو یہ مٹی مری ٹھکانے لگے

بس ایک بار ہی اس دل میں وہ سمایا تھا
پھر اس کو دیکھنے میں تو ہمیں  زمانے لگے

یہ بات رسم جہاں کے جو ہے خلاف تو ہو
ہم اپنے آپ کو خود سے بھی اب چھپانے لگے

وہی ہے جھیلنا جاں پر جو لازمی ہے یہاں
وہی ہے دیکھنا جو آسماں دکھانے لگے

ابھی تو عشق میں دل بار بار ٹوٹے گا
ابھی سے پلکوں پہ تم تو دئیے سجانے لگے

تھی ایسی کون سی پرچھائیں جس کا سامنا تھا
تھا ایسا کیا جسے لکھ لکھ کے وہ مٹانے لگے

بس ایک لمحہ تھا درکار ترک عشق کو طورؔ
اسے بھلانے میں ہم کو مگر زمانے لگے
٭٭٭




تھا آدمی مگر اس کو خدا بناتے بنی
ہمیں بھی عشق میں اپنی ہوا بناتے بنی

اتر رہی ہے رگ و پے میں ایک محرومی
ہے یہ وہ آگ جو خود میں سدا بناتے بنی

یہاں پہ رکھی ہے اک گمرہی تعلق کی
یہاں ضمیر کو اک آئنا بناتے بنی

دئیے جلائے ہیں پلکوں پہ تیری یادوں کے
یہ رات کیسے بھی ہو خوشنما بناتے بنی

ہمیں بھی ہونا تھا سو اب ہیں نقش بر دیوار
اسے بھی ہونٹوں پہ لوح دعا بناتے بنی

نظام دل ہو کہ رسم جنوں کہ گردشِ وقت
ہمیں تو دہر میں سب کچھ نیا بناتے بنی

محبتوں میں اسی سے تھی کچھ فضیلت طورؔ
لہو کی روشنی رنگ حنا بناتے بنی
٭٭٭




پروں کے ساتھ بھی پرواز کر نہیں سکتا
ترے سلوک پہ اغماز کر نہیں سکتا

جنہیں نہ واسطہ دل سے نہ وصلِ یار کی چاٹ
میں ایسے لوگوں پہ اب ناز کر نہیں سکتا

یہی وہ عمر ہے جو ختم پر نہیں آتی
یہی وہ در ہے جسے باز کر نہیں سکتا

نظر ملاتا نہیں ہوں پرائے لوگوں سے
میں اس زمانے کو دم ساز کر نہیں سکتا

تھا کس کے کہنے پہ لا حاصلی کا سارا سفر
ہو کچھ بھی عام میں یہ راز کر نہیں سکتا

تو اس کے ساتھ کھڑا ہو نہ ہو اب اس سے کیا
ترا غلام تگ و تاز کر نہیں سکتا

تمہارے شعر کی لو ہی ہے طورؔ کچھ ایسی
کوئی تمہیں نظر انداز کر نہیں سکتا
٭٭٭




یہ اور بات ہوئی زیست رائیگاں ورنہ
رہے ہیں ہم بھی بہت زیب داستاں ورنہ

بس ایک ہم ہیں ستاروں سے جو چمکتے ہیں
یہ کائنات تھی خود میں دھواں دھواں ورنہ

اک اس کے قرب نے جھولی بھری جواہر سے
مرا سفر بھی یہاں رہتا رائیگاں ورنہ

اگر یہ ہے تو ہے کاریگری محبت کی
وہ شخص میرے مقدر میں تھا کہاں ورنہ

یہ اور بات کہ سب خام کار نکلے ہیں
میں اس پہ رکھتا ہوں یوں تو کئی گماں ورنہ

ترے سلوک نے طرزِ خوشی سے آنکھ بھری
تھی غم وجود یہ میری نواح جاں ورنہ

ہمیں ہوئے ہیں گرفتار جان بوجھ کے طورؔ
تھا اس کے عشق میں اندازۂ زیاں ورنہ
٭٭٭





خاص اچھے نہ اب ہے عام اچھا
ممکن ہے کہاں تمام اچھا

وہ حسن بندھا رہے نفس سے
یہ عشق تو بے لگام اچھا

دونوں سے ہے اعتبار طائر
دانہ کے سبب ہے دام اچھا

توفیق اگر نہیں جہاں میں
کیا دیکھنا انتظام اچھا

ہے کتنی ضروری خواہش وصل
ہوں کتنا میں شاد کام اچھا

یہ قول ہمیشہ یاد رکھنا
سب اچھا جو اختتام اچھا

ہو طورؔ تجھے فراغت جاں
دیکھا ہے تیرا کام اچھا
٭٭٭





بھرے جہاں میں فقط ایک تو ہے کیوں اب تک
یہ دیکھنا ہے تری آرزو ہے کیوں اب تک

کوئی علاقہ اگر تجھ کو میرے دل سے نہیں
تو ہی بتا تو مرے چار سو ہے کیوں اب تک

میں دیکھتا ہوں بھلا کیوں ہر ایک شئے میں تجھے
یہ سانس سانس تری جستجو ہے کیوں اب تک

وہ چیز کیا تھی جسے چھو کے میں ہوا سرسبز
مرا بدن، بدن رنگ و بو ہے کیوں اب تک

کوئی تو راز ہے کھلتا نہیں جو کھلنے سے
یہ اک زمانہ مرے دوبدو ہے کیوں اب تک

ضرور اس میں تری آنکھ کا اشارہ ہے
نشان وصل مرے چار سو ہے کیوں اب تک

امید کیوں ہے جہاں سے سلوک خوب کی طورؔ
کنار ریگ کوئی آب جو ہے کیوں اب تک
٭٭٭







گمان جس پہ تھا اب بات ہی نہیں رہی وہ
جو دیکھیں صورتِ حالات ہی نہیں رہی وہ

میں خود کو کرتا ہوں تقسیم اپنی ہستی سے
غرض کہ پہلی سی بہتات ہی نہیں رہی وہ

بلند شعلۂ گل ہو اگر تو کیسے ہو
کہ اب تو تیزیِ  خدشات ہی نہیں  رہی وہ

یہاں پہ سنتا نہیں ہے خدا مری فریاد
یہاں پہ صورت حاجات ہی نہیں رہی وہ

کچھ اور ڈھنگ سے کرنا ہے اس بدن کا شکار
ہو وصل جس میں کوئی رات ہی نہیں رہی وہ

لگائے بیٹھا ہوں پھر بھی میں اس کو سینے سے
اگرچہ پہلی سی اب بات ہی نہیں رہی وہ

جو کہہ چکے ہیں اسی پر کریں قناعت طورؔ
کچھ اور کہنے کی اوقات ہی نہیں رہی وہ
٭٭٭




ہے عکس گلاب خوش نما کا
وہ شخص جواں ہوا بلا کا

مشہور جہاں میں ہو گئے ہیں
کیا رنگ جما ہے اس انا کا

تکمیل جنوں بھی ہے ضروری
رخ بھی دیکھو ذرا ہوا کا

منظور تھی خود کی رونمائی
چلمن سے اس نے خوب تاکا

جاری ہے سلوک عرفۂ غیب
ہے مجھ پہ کرم مرے خدا کا

زنجیر اسے کریں تو کیسے
وہ تو جھونکا ہے اک ہوا کا

آپ اس کو کبھی نہ کم سمجھنا
یہ طورؔ ہے آدمی بلا کا
٭٭٭




سلوک عشق سے ہے چشم تر بند
بہت خوش ہوں ہے یہ نا معتبر بند

جہاں میں کون زندہ ہے، مرا کون
اگر ہو بس میں تو رکھیں خبر بند

انا نے رنگ یہ کیسا دکھایا
جہاں ہے آج میرے نام پر بند

میں کیسے خود پرستی ترک کر دوں
ہیں مجھ میں تو کئی آشفتہ سر بند

مبادا دور ہو جائے نہ دنیا
اسے رکھا ہے اس خاطر نظر بند

کہاں کھلتا نہیں وہ شوخ ہم پر
محبت کب نہیں ہوتی اثر بند

ان آنکھوں سے لہو جاری ہے کیوں طورؔ
ہے کیوں ہم پر سمندر کا سفر بند
٭٭٭





ہے موسم دشت عشق خوامخواہی
احقاف رم نگاہ، کم نگاہی

کیا منظر دہر، کیا سماعت وقت
تبدیل ہوا سارا ماجرا ہی

ایسے ہی رہا خراب حال تو پھر
حافظ ہے جہاں کا فقط خدا ہی

تعبیر خواب، خواب سے علیحدہ
سامانِ سفر سے بے خبر ہے راہی

انکار وجود شام ہجر حیرت
تاثیر بدوش آہ صبح گاہی

ہے روشنی اور کچھ رواں لہو سے
دیتی ہے مزا کچھ اور لا الٰہی

بنیاد ہے عشق لازوال کی طورؔ
ماتھے پہ چمک رہی ہے جو سیاہی
٭٭٭





زمیں ہے دیکھی ہوئی آسماں ہے دیکھا ہوا
نظر جو آتا ہے سب کچھ یہاں ہے دیکھا ہوا

کسے سناؤں بھلا یہ فسانۂ  غم دل
ہر آدمی کو مری جاں یہاں ہے دیکھا ہوا

تری طلب میں کیا ہے تمام عرصۂ دہر
ہمارے ایماں نے حسنِ بتاں ہے دیکھا ہوا

گزر گیا وہ زمانہ جسے گزرنا تھا
جو وقت سامنے ہے وہ کہاں ہے دیکھا ہوا

ہمارے قدموں میں پھر سے ہے منزل مقصود
ہمارے سامنے جو ہے نشاں ہے دیکھا ہوا

ذرا سی بھی تو میسر نہیں ہے مہلتِ جاں
چلو چلیں کہ یہ شہرِ زیاں ہے دیکھا ہوا

کہیں سے کوئی بھی صورت نہیں ہے روشن طورؔ
تمہارے شعروں میں رنگ بیاں ہے دیکھا ہوا
٭٭٭





یہ حسن گماں نہیں گماں سے
ہے روشنی کچھ تو میری جاں سے 

آج اس سے کہا سنی ہوئی ہے
آج اس کو اتارا آسماں سے

خاطر بھی کریں گے اس کی، پہلے
یہ تیر نکل چکے کماں سے

تعمیر وہیں سے تو ہے ممکن
اک اور جہاں ہے گم جہاں سے

ظاہر ہے کہیں تو کوئی بنیاد
ہم خوش ہیں دل کے اس زیاں سے

ہرسانس وہی ہے جاری ساری
نکلا ہے کوئی کہاں مکاں سے

کیوں بے وفا اس کو کہہ دیا طورؔ
نادم ہوں میں اپنے اس بیاں سے
٭٭٭





ان آنکھوں کو برابر دیکھتا ہوں
ہوں میں صحرا سمندر دیکھتا ہوں

زمانہ جس کو باہر ڈھونڈتا ہے
میں اس کو اپنے اندر دیکھتا ہوں

وہی ہے دسترس میں جو نہیں ہے
وہی ہے جس کو اکثر دیکھتا ہوں

یہی کار گہہ شیشہ گراں ہے
کہ میں دیوار میں در دیکھتا ہوں

ہے کیسی خود سے یہ پرخاش مجھ کو
وہ کیا ہے جس کو شب بھر دیکھتا ہوں

جنہیں تھا دیکھنے کا دل کو چسکا
وہی اب سارے منظر دیکھتا ہوں

ہوس کی کرتا ہوں تکمیل اے طورؔ
اسے اک روز چھو کر دیکھتا ہوں
٭٭٭





نئے ہی موسموں کا سلسلا ہے
یہ دل بھی کیا کوئی دشتِ وفا ہے

جدھر دیکھیں بس اک منظر ہے روشن
محبت جا بجا تھی ، جا بجا ہے

میں کھلتا جا رہا ہوں خود بخود اب
یہ کیسا نشۂ آب و ہوا ہے

بھلا کیوں یہ جہاں اس میں ہو شامل
محبت تیرا میرا ماجرا ہے

میں خود ہی سنتا ہوں آواز اپنی
عجب یہ منظر صوت و صدا ہے

فراواں ہے بہت تاثیر اس کی
جنوں کا لفظ اگرچہ اک ذرا ہے

کہاں ملتی ہے دیکھیں طورؔ منزل
وہی ہم ہیں وہی راہِ خدا ہے
٭٭٭




تفصیل طلب ہے مری سرکار کئی بار
اپنا تو یہ پیرایۂ اظہار کئی بار

ہم نے بھی اسے رکھا نگاہوں کے مقابل
ہم سے بھی پڑا اس کو سروکار کئی بار

تھا اس کا سبب دہر کہ اب اس کا تغافل
جی اٹھا ہے مر مر کے یہ بیمار کئی بار

کچھ بھی نہ تھا بکنے کو یہاں میرے علاوہ
کہنے کو ہوا گرم یہ بازار کئی بار

ہم پر بھی ہوا حسن ستم ریز کا حملہ
ہم پر بھی گری عشق کی تلوار کئی بار

سورج میں بہت دفعہ نکل آتے ہیں سورج
دیوار پہ ہے سایۂ دیوار کئی بار

معلوم ہمیں طورؔ ہے اس دل کی حقیقت
ہے عکس گراں بار غم یار کئی بار
٭٭٭




میں کس سے کرتا یہاں گفتگو کوئی بھی نہ تھا
نہیں تھا میرے مقابل جو تو کوئی بھی نہ تھا

یہ عجز ذات تھا یا ارتفاع حسن نظر
کبھی کبھی تو مرے چار سو کوئی بھی نہ تھا

عجیب اس کی ہے محفل، کہ اس کی محفل میں
پر امتیاز تھے سب، سرخرو کوئی بھی نہ تھا

میں کیا بتاؤں کہ اس خاک سے ہوں وابستہ
زمین دل میں جہاں نم نمو کوئی بھی نہ تھا

یہ کیسی بستی ہے وارد کہاں ہوا ہوں، جہاں
نظیر سلسلۂ ہاؤ ہو کوئی بھی نہ تھا

چلو چلیں کہ یقین و گماں کی دنیا میں
نفس نفیس سبھی، دل لہو کوئی بھی نہ تھا

میں خود ہی اپنے برابر کھڑا ہوا تھا طورؔ
بھرے جہان میں میرا عدو کوئی بھی نہ تھا
٭٭٭




جسے نکلنا تھا لازم شتاب سے نکلا
وہ ایک منظر جو خونناب خواب سے نکلا

لہو سے لال ہوئے باغ میں تمام گلاب
سراغ رنگ زمیں انقلاب سے نکلا

پڑا نہ ہو کہیں اس پر ترے بدن کا عکس
یہ چاند آج بڑی آب و تاب سے نکلا

فریب زندگی، کار نفس،شکست ذات
تھا جو بھی مسئلہ اس کی جناب سے نکلا

یہ کیا ضمیر ہے جو ہے خلاف دنیا کے
بھلا یہ کیسا سمندر سراب سے نکلا

تھی جو بھی صورت وصلت وہ آنکھ سے اتری
جو حرف مطلب دل تھا کتاب سے نکلا

کسی نگاہ میں ہم ہلکے ہو گئے ہیں طورؔ
کسی کا غم دلِ خانہ خراب سے نکلا
٭٭٭





وہ کر رہا ہے دلوں کا حساب اور ہی کچھ
ہمارے حصے میں ہیں اضطراب اور ہی کچھ

طلسم زعم انا کب ہوا ہے چارۂ درد
فقیر چاہتے ہیں اب جواب اور ہی کچھ

جو دسترس میں ہے وہ تو ہے اس کا عشر عشیر
متاع رکھتی ہے شاید کتاب اور ہی کچھ

کہیں نہ سایہ پڑا ہو تمہاری آنکھوں کا
ہے سرخرو مرے دل کا گلاب اور ہی کچھ

برون دل بھی ہیں روشن درون دل بھی مرے
ٹھہرتے جاتے ہیں اس کے عذاب اور ہی کچھ

جنہیں تھا دیکھنا وہ تو نظر نہیں آتے
جو دیکھتے ہیں یہاں وہ ہیں خواب اور ہی کچھ

لہو رگوں میں اگرچہ بہت رواں ہے طورؔ
شراب رکھتی ہے عکس شراب اور ہی کچھ
٭٭٭





یہ اک وظیفۂ سادہ دلوں میں جپنا ہے
کسی کا دکھ ہو ہماری نظر میں اپنا ہے

ترے سلوک کی کیسی یہ ہم پہ برق گری
تمام عمر محبت میں اب تڑپنا ہے

نہ کہہ سکے گا کوئی اور نہ سن سکے گا کوئی
یہ زندگی کسی گونگے کا ایک سپنا ہے

اگر ہے عشق ہلاہل تو اس کو پینا ہے
اگر ہے عشق مصیبت تو اس میں کھپنا ہے

یہ دہر ہے یہاں الٹا ہے سارا کاروبار
یہاں جو اپنا نہیں ہے وہی تو اپنا ہے

اک اس کا عشق ہے رہنا ہے جس میں اب مشغول
اک اس کا نام ہے جو ساری عمر جپنا ہے

جو سچ کہیں ہمیں اس بات کی خبر ہے طورؔ
یہاں پہ کون پرایا ہے کون اپنا ہے
٭٭٭






حسب نسب تو بس اک پردہ ہیں زمانے میں
ہے فائدہ خس و خاشاک کے ہٹانے میں

تہی طلب بھی تو ہونا تھا ایک روز ہمیں
تمام عمر گنوا دی اسے بلانے میں

یہ بار غم ہمیں مہلت ذرا نہیں دیتا
شجر گرا دئیے ہم نے ثمر اٹھانے میں

اگر نہیں ہے کوئی دہر میں جواب اس کا
تو پھر ہمارا بھی ثانی نہیں زمانے میں

بھرم تھا ان سے جو دستِ ہنر سے ہیں محروم
بگڑ بھی جاتا ہے اب کچھ نہ کچھ بنانے میں

بس ایک لذت تسخیر تھی کہ ہاتھ آئی
مزا کچھ اور کہاں تھا اسے منانے میں

یہ سنتے آئے ہیں اے طورؔ ہم تو بچپن سے
کمی کوئی نہیں قدرت کے کارخانے میں
٭٭٭
ماخذ:
القلم لائبریری
http://www.library.alqlm.info/english/download_file.php?id=340
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
