﻿



گورکی کے افسانے


ترجمہ
سعادت حسن منٹو












مقدمہ


1880ء سے لے کر1890ء تک کا درمیانی زمانہ جو در خصوص عقیم ہے، روس کی ادبی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے، دوستو ویسکی1881ء میں تشنگان ادب کو پیاسا چھوڑ گیا۔ تورگنیف1883ء میں راہی ملک عدم ہوا اور  طالسطائی کچھ عرصے کے لئے صناعانہ تصانیف سے روکش رہا۔ اور  جب اس نے اپنا قلم اٹھایا تو اینا کرے نینا اور ’’ جنگ و امن‘‘ کے مصنف نے بالکل جدا سپرٹ میں اپنے افکار کو پیش کیا۔اسی دوران میں روسی معاشرت کی تبدیلیاں نمایاں طور پر ظاہر ہو گئیں۔ 1863 میں غلاموں کی آزادی کے بعد ملک کی صاحب اقتدار جماعت نے رفتہ رفتہ معاشی اور  سیاسی اہمیت سے کنارہ کشی کر لی تھی، بیشتر پروپرائیٹر قریب قریب تباہ ہو چکے تھے، اور  ان کی جائیداد تاجروں کے ہاتھوں میں جا رہی تھی۔
الگزنڈر سوم (1881-94) کا عہد حکومت اور  نکولس دوم (1894-1917) کی حکمرانی کے پہلے چند سال، روس کے اندرونی سیاسیات کا بدترین زمانہ تھا، جذبہ اصلاح کا وہ جوش جو الگزنڈر دوم کے عہد میں روسی معاشرہ کی رگوں میں موجزن تھا اب سرد ہو چکا تھا مہذب روسی معاشری سوالات سے دور ہٹ کر، صرف ذاتی معاملوں پر غور کرتے تھے، دوسری طرف انیسویں صدی کے آخری سالوں میں مصنوعات نے بڑی ترقی کی اور  بیشتر کسانوں نے کارخانوں کی مزدوری اختیار کر لی، یہ کسان اپنا گھر بار چھوڑ کر شہروں میں آباد ہو گئے مگر پھر بھی ان کا اپنے دیہاتوں سے تعلق قائم رہا جہاں وہ ٹیکس ادا کرتے تھے۔ ملک میں خانہ بدوش مزدوروں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ مزدوروں کی یہ جدید جماعت مار کس کے اشتراکی پروپیگنڈے کے لئے بہت موزوں تھی جو بعد میں روسی انقلاب کی متحرک ہوئی۔
دو مصنف روس کے اس متغیر معاشری نظام کی تصویر کشی کرتے ہیں : یہ چیخوف اور گورکی ہیں۔
چیخوف کی وفات سے قبل یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس کی تصا نیف نے حقیقت نگاری کے سنہرے زمانے کا افتتاح کیا ہے، جس کا وہ انجام کار صرف پیش آہنگ تھا۔1895ء اور  1905ء کے درمیانی عرصے میں بہت سے نوجوان ادیب یکے بعد دیگرے روسی فضا میں ابھرے، ان ادبا نے مقامی شہرت حا صل کرنے کے علاوہ اکناف عالم میں اپنے نام کا ڈنکا بجوایا۔ دوستو ویسکی اور  تور گنیف سے کہیں بڑھ کر ان کو مقبولیت حاصل ہوئی، ان میں گورکی اور  ایندریف کا نام خاص مرتبہ رکھتا ہے۔ ہم اس عصر کے ادیبوں کی اجتماعی سرگرمیوں کو’’گور کی، ایندریف سکول‘‘ کہیں گے، اس لئے کہ وہ تمام انشا پرداز جو اس سکول میں شامل تھے، ایسی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں جو افسانہ نگاری کے قدیم’’ پری چیخوف سکول‘‘ سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں ہیں۔
جس سکول کا ہم ذکر کر رہے ہیں ،اس میں گورکی کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس لئے ہمیں اس سکول کے اکثر اراکین کی تحریروں پر اس کے افکار کا اثرجا بجا نظر آتا ہے،اس اثر کی تمام تر وجہ یہ ہے کہ گورکی ہی پہلا شخص تھا جس نے روسی حقیقت نگاری سے ’’ملائم‘‘ اور  ’’مطہر‘‘ عناصرکو یک قلم منسوخ کر د یا۔ 
روسی حقیقت نگاری، اخلاقیات کے معاملے میں ہمیشہ نرم و نازک رہی تھی روسی ادیب فرانسیسی ناولسٹوں کی خام اور  حد سے متجاوز صاف گوئی سے ہمیشہ پرہیز کرتے تھے، بھدا پن نجاست اور  صنفی رشتوں کا شہوانی پہلو روسی مصنفین کے لئے شجر ممنوع تھا۔
یہ’’ ادبی معاہدہ‘‘ طالسطائی نے منسوخ کیا، جس نے پہلی مرتبہ موت اور  بیماری کی جسمانی ہیبتوں کو اپنا موضوع قرار دے کر’’ ایوان الیچ کی موت‘‘ کے عنوان سے ایک تمثیل سپرد قلم کی اور  محبت کے شہوانی پہلو کی ’’کرو ترز رسو نتیا‘‘ کے اور اق میں نقاب کشائی کی۔ طالسطائی نے ان دو کتابوں کے تعارف سے فی الواقع انیسویں صدی کے ممنوعات اور  اعتقادات کی بنیادیں قطعی طور پر ہلا دیں ، وہ کام طالسطائی نے شروع کیا تھا، گورکی، ایندریف اور  آرتی بے شیف کے ہاتھوں تکمیل حاصل کرتا رہا، علاوہ بریں جدید آرٹ کا بانی ہونے کی حیثیت میں بھی طالسطائی کا اثر کافی و وافی تھا، افسانہ نگاری کے مافوق الطبعی اور  اخلاقی مسئلے نے جو اس کے زیر نظر تھا، ایندریف اور  آرتی بے شیف کے ہاتھوں خوب نشو و نما حاصل کی۔
ادب پر چیخوف کا اثر جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے ، ایک حد تک مختصر افسانہ نگاری کو روس میں مروج اور  مقبول کرنے کا سہرا اسی کے سر ہے، بیشتر نوجوان افسانہ نگاروں نے چیخوف کا چربہ اتارنے، یعنی اس کی صناعانہ ’’باریک روی‘‘ کو اپنانے کی کوشش کی، مگر اس فن میں اس کا کوئی مد مقابل نہ ٹھہر سکا۔ گو ہمیں ان نقال افسانہ نگاروں کی عبارت میں چیخوف کی دل پسند تراکیب اور  اظہار خیال کا مخصوص طرز ملتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی صنعت بیانی کو وہ لوگ ہر گز نہیں پہنچ سکے ہیں۔
1900ء اور 1910ء کے درمیانی عرصے میں روسی ادب دو بالکل مختلف حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اولاً گور کی ایندریف سکول’’ ثانیا‘‘ سمبولسٹ اور  ان کے متبعین۔
’’ گورکی، ایندریف، قنو طیت اور  منکریت کے علمبر دار تھے، اور سمبولسٹ ایسے نئے کلچر کے مبلغ تھے جس نے روسی اذہان کی خوب ربوبیت کی اور  طبقہ علمی کو بیک وقت یورپی اور  قومی بنا دیا۔
روسی ادب کی حیات تازہ میں میکسم گورکی کا نام بلند ترین مرتبہ رکھتا ہے۔ جدید انشا پردازوں میں صرف گور کی ہی ایسا ادیب ہے جو طالسطائی کی طرح اکناف عالم میں مشہور ہے، اس کی شہرت چیخوف کی مقبولیت نہیں جو دنیا کے مختلف ممالک کے صرف علمی طبقوں تک محدود ہے۔
گورکی کا کردار فی الحقیقت بہت حیرت افزا ہے، غریب گھرانے میں جنم لینے کے با وصف وہ صرف تیس سال کی عمر میں روسی ادب پر چھا گیا۔
طبقہ اسفل کا شاعر، بیسویں صدی کا بائرن، میکسم گورکی، زندگی کی تاریک ترین گہرائیوں کے بطن سے جو جرائم، مصائب اور  بدیوں کا مسکن ہے، پیدا ہوتا ہے، اس نے فقیروں کی طرح ہاتھ پھیلا کر روٹی کے ٹکڑے کے لئے التجا نہ کی، اور  نہ جواہری کی طرح اپنے بیش قیمت جواہرات کی نمائش سے لوگوں کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کرنا چاہی۔ نہیں ، ترہنی نو گورود کا یہ معمولی باشندہ اپنے حریت پسند افکار سے روسی ادب کی اندھی شمع کو تابانی بخشنے کا آرزو مند تھا مردہ، زرد اور  بے جان ڈھانچوں میں حیات نو کی تڑپ پیدا کرنا چاہتا تھا۔
وہ منشی گری چھوڑ کر روس کی سرحدوں میں آوارہ پھرے، قدرت کو یہ منظور نہ تھا کہ مستقبل قریب کا شاندار ادیب اتنے عرصے تک دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہے۔
خانہ بدوشی کی اس سیاحت کے زمانے میں گورکی نے اپنا قلم اٹھایا1892ء میں جبکہ وہ طفلس کے ایک ریلوے ورکشاپ میں ملازم تھا، اس کا پہلا افسانہMakar Cudra جو ایک نہایت دلچسپ رومانی داستان ہے، مقامی روزنامہ اخبار’’ کوکاز‘‘ میں شائع ہوا، اس افسانے میں اس نے خود کو اپنے قلمی نام گورکی سے متعارف کرایا جواب ہر فرد بشر کی زبان پر ہے (گورکی کے لفظی معنے کڑوا یا ملول ہے)
کچھ عرصے تک گور کی اپنے صوبے کے اخباروں میں مضامین چھپوانے کے بعد اس قابل ہو گیا کہ اپنی تحریروں سے روپیہ پیدا کر سکے، مگر وہ در حقیقت اس وقت اعلیٰ ادب، کے ایوان میں داخل ہوا جب اس نے دوبارہ نزہنی میں اقامت اختیار کی۔ کار لنکو (1) ان دنوں نزہنی میں تھا۔ اس نے گورکی کا افسانہ ’’چلکاش‘‘ اپنے اثر و رسوخ کے ایک موقر ماہانہ رسالے (Ruskoe Begatrtre) میں شائع کرایا، گو میکسم گورکی نے پراونشل پریس کی قلمی اعانت جاری رکھی، مگر اب پیٹرز برگ کے رسائل بھی اس کے مضامین کو شکریے کے ساتھ شائع کرنے لگے۔
1898ء میں اس کے افسانوں کا پہلا مجموعہ کتابی صورت میں شائع ہوا۔ ان افسانوں کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی، فی الحقیقت ایک روسی انشا پرداز کے لئے اس قسم کی شاندار کامیابی غیر مسبوق تھی، کہ کتاب کے تعارف کے ساتھ ہی گور کی غیر معروف جرنلسٹ سے ملک کا مشہور ترین ادیب بن گیا، اس کی شہرت’’ پہلے انقلاب‘‘ تک قابل رشک تھی، ملک کے تمام اخبار اس کی تصاویر اور  اس کے ذکر سے بھرے ہوتے تھے۔ ہر شخص اس کے سراپا کو ایک نظر دیکھنا اپنا فرض سمجھتا تھا بین الملکی شہرت بھی فوراً نوجوان مصنف کے قدم چومنے لگی۔ جرمنی بالخصوص، اس پر لٹو ہو گیا۔1903ء اور  1904ء کے درمیانی عرصے میں گورکی کی شاہکار تمثیل (NADNEبرلن کے ایک تھیٹر میں متواتر پانچ سو راتوں تک سٹیج ہوتی رہی۔
پیٹرز برگ میں گور کی کا وقت بیشتر’’ مارکسیوں ‘‘ (2) کی صحبت میں گزرا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود مارکسی،بن گیا اور  اس نے اپنی دو تصا نیفjhoc of thea اور  (FOMA) مارکسی مجلہ (zhizn) کے سپرد کر دیں۔ یہ دونوں کتابیں اس رسالے میں بالاقساط شائع ہوئیں۔ گورکی کی ایک نظم (Song of petrel) کی اشاعت کی وجہ سے یہ رسالہ حکومت نے ضبط کر لیا (petrel) کے معنے ’’ طوفان کا پیغام لانے والا‘‘ ہیں یہ گیت آنے والے انقلاب کی ایک بے نقاب تمثیل تھی۔
میکسم گورکی کا اصلی نام الیکسی میکسی مووچ پیشکوف ہے۔ اس کا باپ میکسم پیکوف ایک معمولی خوردہ فروش تھا، جو بعد ازاں اپنی علو ہمتی اور  محنت کشی سے استرا خان میں جہازوں کا ایجنٹ بن گیا۔ اس نے نزہنی نو و گورود کے ایک رنگ ساز وسیلی کیثرن کی لڑکی سے شادی کی، جس کے بطن سے میکسم گور کی14 مارچ1869کو پیدا ہوا، پیدائش کے فوراً بعد باپ اپنے بچے کو استراخان لے گیا۔ یہاں گورکی نے اپنی زندگی کی ابھی پانچ بہاریں دیکھی تھی، کہ باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا۔ اب گورکی کی ماں اسے استراخاں یعنی اس کے دادا کے گھر لے آئی۔
گورکی نے اپنے بچپن کے زمانے کی داستان اپنی ایک تصنیف میں بیان کی ہے۔ اس میں اس نے اپنے جابر دادا اور  رحمدل دادی کے کرداروں کی نہایت فنکاری سے تصور کشی کی ہے، جس کے نقوش قاری کے ذہن سے کبھی محو نہیں ہو سکتے۔
جوں جوں گورکی نے ہوش سنبھالا، اس کے گرد و پیش کا افلاس زدہ ماحول تاریک تر ہوتا گیا۔ اس کی ماں نے جیسا کہ گورکی لکھتا ہے’’ ایک نیم عاقل شخص سے شادی کر لی‘‘.... اس شخص کے متعلق گورکی کی کوئی اچھی رائے نہیں ہے تھوڑے عرصے کے بعد اس کی والدہ بھی اسے داغ مفارقت دے گئی اور  اس کے دادا نے اسے خود کمانے کے لئے گھر سے رخصت کر دیا۔ قریباً دس سال تک نوجوان گور کی روس کی سرحدوں پر فکر معاش میں مارا مارا پھرتا رہا۔ کشمکش کے اس زمانے میں اسے ذلیل سے ذلیل مشقت سے آشنا ہونا پڑا۔
لڑکپن میں اس نے ایک کفش دوز کی شاگردی اختیار کی۔ یہ چھوڑ کر وہ ایک عرصے تک دریائے رامگا کی ایک دخانی کشتی میں کھانا کھلانے پر نو کر رہا یہاں ایک بوڑھے سپاہی نے اسے چند ابتدائی کتابیں پڑھائیں اور  اس طرح اس کی ادبی زندگی کا سنگ بنیاد رکھا ان کتابوں میں سے جو گورکی نے تختہ جہاز پر اس بوڑھے سپاہی سے پڑھیں ایک کتاب"My Stroilo of uddps" تھی۔ ایک عرصے تک اس کے زیر مطالعہ صرف ایسی کتب رہیں جن کے اور اق کشت و خون اور  شجاعانہ رومانی داستانوں سے لبریز ہوا کرتے تھے۔ اس مطالعے کا اثر اس کی اوائلی تحریروں میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
پندرہ برس کی عمر میں گور کی نے قازان کے ایک سکول میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر جیسا کہ وہ خود کہتا ہے’’ ان دنوں مفت تعلیم دینے کا رواج نہیں تھا‘ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بلکہ اسے بھوکے مرنے سے بچاؤ حاصل کرنے کے لئے بسکٹوں کے ایک کار خانے میں کام کرنا پڑا۔ یہ وہی کار خانہ ہے، جس کی تصویر اس نے اپنے شاہکار افسانے’’ چھبیس مزدور اور  ایک دوشیزہ‘‘ میں بڑی وضاحت سے کھینچی ہے۔
قا زان میں ایسے طلبہ سے ملنے کا اتفاق ہوا جنہوں نے اس کے دماغ میں انقلابی خیالوں کی تخم ریزی کی، قازان کو خیر باد کہنے کے بعد وہ جنوب مشرقی اور  مشرقی روس کے میدان میں آوارہ پھرتا رہا۔ اس زمانے میں اس نے ہر نوعیت کی مشقت سے اپنا پیٹ پالا۔ اکثر اوقات اسے کئی کئی روز فاقے بھی کھینچے پڑے:۔
1890ء میں وہ نزہنی رنگروٹ بھرتی ہونے کے لئے آیا۔ خرابی صحت کی بنا پر اسے یہ ملازمت تو نہ مل سکی مگر وہ نزہنی کے ایک وکیل مسٹر ایم۔ اے لینن کے یہاں منشی کی حیثیت میں نو کر ہو گیا (گورکی اپنے محسن کا بہت احترام کرتا ہے چنانچہ اس کے افسانوں کا ایک مجموعہ مسٹر۔  ایم لینن سے معنون ہے) اس وکیل نے اس کی تعلیم کی طرف توجہ دی۔ تھوڑے عرصے کے بعد ہی گورکی کے ذہنی تلاطم نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ زندگی کے نئے پہلوؤں کی طرف توجہ کرے۔
میکسم گورکی اب روس کی جمہوریت پسند دنیا کی سب سے زیادہ اہم اور  مشہور معروف شخصیت تھی، مالی نقطہ نظر سے بھی اسے بہت اہمیت حاصل تھی،اس کی تصانیف کا پیدا کردہ روپے کا بیشتر حصہ انقلاب کی تحریک میں صرف ہوتا رہا۔ خرچ کا یہ سلسلہ1917ء کے اختتام تک جاری رہا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گورکی اپنی کتابوں کی مقبولیت اور  حیرت افزا فروخت کے باوجود اپنی محنت کے ثمر سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھا سکا۔
1900ء میں روس کی فضا سخت مضطرب تھی، اس وقت گرفتاریوں اور  سزاؤں کا بازار گرم تھا۔ چنانچہ گورکی گرفتار ہوا اور  اسے سینٹ پیٹرز برگ سے نکال کر نزہنی میں نظر بند کر دیا گیا۔
1902ء میں گورکی ’’امپیریل اکیڈمی آف سائنس‘‘ کا اعزازی رکن منتخب کیا گیا۔ مگر چونکہ نئی اکادمی پولیس کے زیر نگیں تھی اس لئے حکومت نے فوراً ہی اس انتخاب کو رد کر دیا۔ اس پر کار لنکو اور  چیخوف سخت مشتعل ہوئے اور  احتجاج کے طور پر اکادمی سے علیحدہ ہو گئے۔
پہلے انقلاب میں گورکی نے بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ جنوری1905 میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری نے تمام دنیا میں گورکی کے چاہنے والے پیدا کر دیئے۔ رہائی کے بعد گورکی نے ایک روزانہ اخبار جاری کیا۔ جس کے کالم بالشویک تحریک کی نشو وار تقا کے لئے مخصوص تھے۔ اس روزنامے میں گورکی نے بیسویں صدی کے تمام روسی ادبا کو بیہودہ قرار دیتے ہوئے مقالوں کا ایک تانتا باندھ دیا۔ ان انشا پردازوں میں جواس کے نزدیک فضول تھے،طالسطائی اور  دوستوویسکی بھی شامل تھے۔وہ انہیں (Potly Hourgous) کا نام دیتا ہے۔
اس زمانے میں روس کے غیر ملکی قرضوں کی بہت مخالفت ہو رہی تھی۔ گورکی نے اس تحریک میں بڑی گرمجوشی سے حصہ لیا اور  دسمبر میں ماسکو کی مسلح بغاوت کی ہر ممکن طریق سے مدد کی۔1906ء میں روس چھوڑ کر وہ امریکہ چلا گیا، فن لینڈ اور  سکینڈے نیو یا کا سفر ایک پر شکوہ اور  ظفر مند جلوس کی صورت میں تھا۔ امریکہ میں اس کا استقبال بڑے شاندار طریقے پر کیا گیا۔ مگر فوراً ہی وہاں کے لوگوں کو پتہ چل گیا کہ گورکی جس عورت کے ساتھ رہتا ہے۔ اور  اسے اپنی منکوحہ بتاتا ہے فی الحقیقت اس کی بیوی نہیں ، اس واقعہ نے امریکنوں کے دلوں میں اس کی نفرت پیدا کر دی، اسے ہوٹل چھوڑ دینے کے لئے کہا گیا۔ اور  ایک دعوت میں جو اس کے اعزاز میں دی جا رہی تھی مارک ٹوین (امریکہ کا مشہور مزاح نگار )نے صدارت سے انکار کر دیا۔ قدرتی طور پر گورکی کی اطہارت کے اس غیر متوقع جذبے سے سخت رنجیدہ ہوا جو ایک روسی کے لئے بالکل ناقابل فہم تھا۔ اس ذہنی تکدر نے اسے چند امریکی افسانے سپرد قلم کرنے پر مجبور کیا جو 1907ء میں (The city of yellow Devils) کے معنی خیز عنوان سے شائع ہوتے رہے۔
یورپ واپس آنے پر وہ کیپری میں سکونت پذیر ہوا۔ یہاں کے لوگوں میں اسے بہت ہر دلعزیزی نصیب ہوئی۔
 (Measina)کی ہولناک آفت کے بعد ریلیف کے کاموں میں حصہ لینے کی وجہ سے اطالیہ، گورکی کا گرویدہ ہو گیا۔اسی عرصے میں روس کی ادبی حلقوں میں اس کی شہرت کم ہونے لگی (NO DUA) کے بعد تصانیف کو وہ مقبولیت حاصل نہ ہوئی جو ہونا چاہئے تھی۔گو ادبی حلقوں میں اس کی شہرت کو اس طرح زوال پہنچا، مگر دوسری طرف اس کے افکار روسی مزدوروں کے دل و دماغ میں گھر کرنے لگے۔ روسی مزدوروں کی وہ ذہنیت جو ہمیں 1917ء تک نظر آتی ہے۔ دراصل گور کی کی تصاeتصا  اوراق کشف و خون اور شجا ز عبید                                                                                            نیف کی رہین منت ہے۔
روس واپس آنے پر اس نے ایک ماہانہ رسالہ (Letops) کے نام سے شائع کرنا شروع کیا مگر وہ مقبول نہ ہو سکا۔
جنگ عظیم چھڑنے پر گورکی نے بین الملکی پوزیشن اختیار کر لی اور  1917ء میں اپنے قدیم دوستوں یعنی بالشویکوں کی مدد کی مگر یہ امداد غیر مشروط نہ تھی،گو اس کا اثر لینن اور  اس کی پالیسی کے حق میں تھا مگر اس نے اس مرتبہ خود کو پارٹی کا طرف دار ظاہر نہ کیا۔ بلکہ غیر جانبدار اور  امن پسند بنے رہنے کی کوشش کی، اس کی یہ ثاقل برتری اور  مشفق مگر حرف گیر علیحدگی کافی موثر ثابت ہوئی۔
بالشویکوں نے اس رویے پر ضرورت سے زیادہ سرگرمی کا اظہار نہ کیا،لیکن ایک طرف گورکی کے بالشویک پارٹی کے سر کردہ لیڈروں سے ذاتی تعلقات اور  دوسری طرف اس کی بیرونی شہرت کی فرا وانی نے اسے ایک اعلیٰ حیثیت بخشی۔1918ء سے لے کر1921ء تک قطعی طور پر سوویت روس میں پبلک کی آواز قوت صرف گو رکی ہی تھا۔
اگرچہ، گورکی کے غیر جانبدار رویے کو قابل تحسین قرار نہ دیا جائے، مگر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس ہولناک زمانے میں اس کی سرگرمیاں قابل صد آفرین ہیں اگر وہ اس سے قبل امن پسند اور  تہذیب و تمدن کا حامی بننے کا جھوٹا دعویٰ کر رہا تھا، تو اس نے اس مرتبہ فی الواقع اپنے آپ کو ایسا ثابت کر دکھایا۔ روسی تمدن، در حقیقت گورکی کی اخلاص کیشانہ سرگرمیوں کا شرمندۂ احسان ہے۔1918ء اور 1921ء کے دوران میں ہر کوشش جو روسی انشا پردازوں اور  دیگر صحافیوں کو گرسنگی اور  فاقہ کشی سے بچانے کے لئے عمل میں لائی گئی، صرف گورکی کی توجہ کا نتیجہ تھی، اس نے اس غرض کے لئے اپنے سیاسی دوستوں کی مدد سے ایک ایسا مرکزی ادارہ قائم کیا جہاں روسی ادبا سے غیر ملکی زبانوں کے تراجم کرائے جاتے تھے اور  اس طرح انہیں پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو جاتا تھا۔
1922ء میں اس نے روسی کسانوں پر ایک زبر دست مقالہ لکھا جس میں اس نے جماعت کی غیر معمولی ترش لفظوں میں ملامت کرتے ہوئے اسے ہر برائی کا مسکن ٹھہرایا ہے۔ گور کی اس جماعت کے افراد کو اس لئے مورد الزام بتاتا ہے کہ انہوں نے قومی تہذیب کی تاسیس میں کوئی حصہ نہ لیا۔
اس سال کے آخر میں گورکی نے روس کو خیر باد کہہ کر جرمنی میں سکونت اختیار کر لی۔ اس کی صحت جو پہلے ہی سے بہت خراب تھی اب بالکل گر چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود اس نے قلم اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔
 (3) وہ ایک رسالے (Besada) کی ادارت کے فرائض بھی انجام دے رہا ہے جس کے ذریعے وہ سائنس کی جدید ترقی سے اپنے ملک کو روشناس کرانا چاہتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے گورکی کے پیش نظر یہی چیز ہے۔ اس لئے کہ وہ دیکھتا ہے کہ ابتدائی علم کی نشر و اشاعت ہی اس کے ملک کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
اخباری اور  محض سیاسی تحریروں کو شامل نہ کرتے ہوئے، ہم گورکی کی باقی تصانیف تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
-1 وہ مختصر افسانے جو1892ء اور 1899ء کے درمیانی عرصے میں سپرد قلم ہوئے اور  جن کی وجہ سے گورکی کو مقبولیت حاصل ہوئی۔
-2 اس کے معاشری ناول اور  ڈرامے جو1899ء اور 1912ء کے درمیانی برسوں میں لکھے گئے۔
-3 1913ء سے لے کراس وقت تک کی تمام تحریریں جو زیادہ تر سوانح حیات اور  تذکروں کی شکل میں ہیں۔
گورکی کی تصانیف کا پہلا اور  آخری دور درمیانی زمانے کی تحریروں کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان تحریروں میں ہم اس کی تخلیقی قوت ایک حد تک ضعیف دیکھتے ہیں۔
گورکی کی ابتدائی تصانیف کی’’ حقیقت نگاری‘‘ میں رومانیت بدرجہ اتم موجود ہے۔  رومانیت کا یہی عنصر اس کی مقبولیت کا محرک ہوا۔ اس کے برعکس غیر ممالک میں اس کی شہرت کا باعث اس کی حقیقت نگاری تھی۔ اس کے پہلے افسانوں کی تازگی روسی قاری کی نظر میں صرف اس کی جواں و بیباک نگاری تھی، لیکن غیر ملکی قاری اس خام اور  ستمکار انداز بیان میں تازگی محسوس کرتا تھا جس کے ذریعے اس نے اپنی دوزخ نما، دنیا کی تصویر کشی کی ہے۔
ان سطور سے ہمیں اوائلی گورکی کے متعلق روسی اور  غیر ملکی قاری کی پسندیدگی کے مقابل کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، اس تضاد کی وجہ فی الحقیقت’’ عقبی مناظر‘‘ کا تخالف ہے۔ روسیوں نے اس کے افکار کو چیخوف اور 1880ء کے دیگر انشاء پردازوں کے گرائے ہوئے مغموم و یاس آفریں پردے پر دیکھا اور  غیر ملکیوں نے عہد وکٹوریہ کی مروج پر سکون حقیقت نگاری کے پردہ پر گورکی کے شروع شروع کے افسانے بالکل رومانیت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں میں makar cudra اور The ddioomen izegd کے نام قابل ذکر ہیں۔
ان افسانوں کی رومانیت نمائشی اور  تھیٹریکل ہے۔ لیکن اسی رومانیت نے چیخوف سے اُچاٹ روسی قاری کی نظر میں گورکی کا رتبہ پیدا کیا۔ اس کی یہ رومانیت ایک ایسے فلسفے کی شکل اختیار کر گئی، جسے اس نے بڑے خام اور  سادہ انداز میں اپنے ایک افسانےThe siskin who led of the truth loving wood pecker میں بیان کیا ہے۔ اس کہانی کا مفاد یہ ہے کہ وہ دروغ جو روح کو سرفرازی بخشے، بہتر ہے اس سچائی سے جو ذلت اور  پستی میں دھکیلنے والی ہے۔
1895ء میں گورکی نے دفعتاً چوروں اور  جنگلی انسانوں کی داستانیں قلم بند کرنا چھوڑ کر نیا رخ بدلا۔ اب اس نے جو روش اختیار کی، حقیقت نگاری کی تشکیل اور  رومانی الہام کا اجتماع تھی، اس کا پہلا افسانہ، چلکاش، جو بڑے پریس، میں شائع ہوا بہت کامیاب ہے۔ اس داستان کا موضوع چلکاش نامی ایک ترش،رو اور  نڈر خفیہ فروش ہے اور  اس نوجوان طامع لڑکے کا تقابل ہے جسے چلکاش اپنے خطر ناک اور  مجرمانہ پیشے میں شریک بناتا ہے۔ چلکاش کا کردار قابل تعریف صفائی اور  تصا  پر تصا                                                                                                                    بہترین فن کاری سے پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کے دو اور  افسانے (maluaاورMY Fellor Travellers) ہیں اول الذکر افسانے میں مالوا عورت کے بھیس میں دوسرا چلکاش ہے۔ موخر الذکر داستان کردار نگاری کے نقطہ نظر سے غیر فانی حیثیت رکھتی ہے۔ مائی فیلوڈریولز میں پرنس شارکو (جس کے ہمراہ داستان گو، اوڈیسا سے طفلس تک پیدل سفر کرتا ہے) کردار فی الحقیقت گور کی کی ایک نادر تخلیق ہے.... شارکو کے کردار میں ’’مثالیت‘‘ شمہ بھر موجود نہیں گو یہ صاف ظاہر ہے کہ مصنف کی صناعانہ ہمدردی، صرف اسی کے حق میں ہے۔
ان خصوصیتوں میں سے جو گور کی کی شہرت کا باعث ہوئیں ایک اس کے نیچر کو بیان کرنے کا خاص انداز ہے۔ ہم یہاں مثال کے طور پر اس کے افسانوں میں سے چند جملے پیش کرتے ہیں :
’’ گودی کے گردو غبار میں جنوبی نیلگوں آسمان گدلا ہے تاباں سورج سبزی مائل سمندر کو دھندلی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ جیسے اس نے خاکستری نقاب اوڑھ رکھی ہے۔ سورج کا عکس سمندر کی سطح پر، چپوؤں کے تھپیڑوں اور  دخانی کشتیوں اور  جہازوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے نہیں پڑ رہا۔ جو بندر گاہ پر ہل چلا رہے ہیں یہاں سمندر کی آزاد موجیں سنگیں دیواروں میں قید اور  ان بھاری وزنوں کے نیچے دبی ہوئیں ، جو ان کے سینے کو کچلتے ہیں۔ جھاگ بن بن کر اپنی چھاتی کوٹتی ہیں .... شکایت کرتی ہیں .... (از: چلکاش)
’’ مائی فیلو ٹریولر‘‘ کا یہ ٹکڑا بھی اس قسم کی تحریر کا نمو نہ پیش کرتا ہے۔’’ ہم نے الاؤ روشن کیا اور  اس کے قریب لیٹ گئے۔ رات بہت شاندار تھی، گہرے سبز سمندر کی لہریں نیچے، چٹانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ ہمارے اوپر نیلگوں آسمان کی پر شکوہ خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور  گرد و پیش عطر بیز درخت اور  جھاڑیاں بڑی آہستگی سے جھوم رہی تھیں۔ چاند بلند ہو رہا تھا جس کے ساتھ درختوں کے نازک سایوں کا جھرمٹ پتھروں پر رینگ رہا تھا۔ قریب ہی کوئی خوش گلو پرندہ راگ الاپنے میں مصروف تھا۔ اس کی نقرئی آواز فضا میں جو لہروں کے تھپیڑوں کی دھیمی اور  دلنواز صدا سے معمور تھی، آہستہ آہستہ حل ہوتی معلوم ہو رہی تھی.... آگ تیزی سے جلنے لگی الاؤ کے شعلے سرخ و زرد پھولوں کا ایک گلدستہ نظر آتے تھے۔ کانپتے ہوئے سائے ہمارے آس پاس رقص کر رہے تھے۔
گورکی کے بیشتر افسانوں میں اس قسم کی تفصیلات عام ہیں۔ اس کی تحریروں میں لہروں اور  نیلگوں آسمان کی پر اسرار اور  پر شکوہ خاموشی کا ضرور ذکر ہوتا ہے۔ چیخوف گورکی کی عظمت و ذکاوت کا قائل تھا۔ مگر اس کی نظروں میں یہ اعادہ غیر صناعانہ تھا۔ چنانچہ وہ گور کی کو ایک خط میں لکھتا ہے:
’’.... معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے میرا صحیح مطلب نہیں سمجھا ہے۔ میں نے اپنے خط میں خامکاری کے متعلق ذکر کیا تھا، بلکہ میرے پیش نظر غیر روسی الفاظ کا نامناسب استعمال تھا، دوسرے ادیبوں کی تحریروں میں اس قسم کے غیر مانوس الفاظ نظر انداز ہو جاتے ہیں مگر چونکہ آپ کے ادبی پارے موسیقی اور  ہم آہنگی کا اجتماع ہوتے ہیں ، اس لئے ان میں آ کے قلم کی معمولی سے معمولی خام جنبش بھی پوری آواز میں چلا اٹھتی ہے۔
آپ کے افسانے اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ مکمل آرٹسٹ ہیں اور  حقیقی معنوں میں ایک متمدن صناع، کسی حد تک خامکاری، آپ کی خصوصیت ہے، آپ عاقل ہیں ، آپ کے احساسات نکتہ رس اور  لطیف ہیں ، آپ کی ذکاوت طبع ’’میدانوں میں ‘‘ اور ’’ تختہ جہاز پر‘‘ میں نمایاں طور پر جلوہ فگن ہے یہ دونوں افسانے فی الحقیقت صنعت کے بلند مرتبت شاہکار ہیں ، ان کے مطالعے سے یہ چیز روشن ہوتی ہے کہ آپ نے کسی اچھے تعلیم گاہ میں دن گذارے ہیں میرا خیال ہے کہ میں یہ کہتے وقت غلطی نہیں کر رہا ہوں۔ اگر آپ کی تصانیف میں کوئی نقص ہے تو فقدان ضبط اور  حسن لطافت کی کمی ہے۔
کسی خاص مقصد کے لئے کم سے کم نقوش کا استعمال.... یہ ہے’’ حسن لطافت‘‘ آپ کا اسراف ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ آپ کی نیچر سے متعلقہ تفصیلات صناعانہ ہیں۔ آپ فی الواقع لینڈ سکیپ پینٹر ہیں لیکن ان تفصیلات میں بے جان اشیا کو جاندار ظاہر کرنے والے استعارات کی فراوانی.... مثال کے طور پر سمندر۔ سانس لیتا ہے، آسمان دیکھتا ہے جنگل دل نوازی کرتا ہے، نیچر سرگوشیاں کرتی ہے۔ روتی ہے، بولتی ہے اور  علی ہذا القیاس۔ اس قسم کے فقرے تفصیلات میں یک آہنگی اور  تکرار پیدا کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ انہیں لطافت سے بھی عاری کر دیتے ہیں۔ نیچر کے بیانات میں رنگ اور  اظہار صرف سادگی، یعنی بارش گرنا شروع ہوئی، تاریکی چھا گئی، سورج غروب ہوا، ایسے سادہ فقروں سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
گورکی، واقعی بقدر کفایت، ضبط کام میں نہیں لاتا۔ وہ تھیٹر میں ایک ایسے تماشائی کے مترادف ہے جو اپنے وجد کا اس بے پروا انداز میں مظاہرہ کرتا ہے کہ نہ تو وہ خود سن سکتا ہے اور  نہ دوسروں کو سننے دیتا ہے، گو ضبط کا یہ فقدان ان کی گفتگوؤں میں مخل ہوتا ہے اور  نزاکت، عذوبت، طراوت اور  سرگوشیوں کا عام تذکرہ ہوتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاتا، کہ وہ آرٹسٹ ہے اور  نہایت ہوشمند انسان، وہ ہیئت گر ہے یعنی وہ جس چیز کو بیان کرتا ہے، اسے دیکھتا ہے اور  ہاتھوں سے چھوتا ہے.... یہ فن کاری ہے۔
’’ مالوا‘‘ کا افتتاحیہ جملہ جو صرف دو لفظوں (More rmuyales)یعنی ’’سمندر ہنس رہا تھا‘‘ پر مشتمل ہے، گورکی کے طرز بیان کی خاص مثال ہے۔
1897ء میں گور کی کی’’ حقیقت نگاری‘‘ اس کی’’ رومانیت‘ ‘ پر غالب آ گئی’’ جو کبھی انسان تھے‘‘ اس پر شاہد ہے۔
اس افسانے اور  ہر اس افسانے میں جو گور کی نے 1897ء کے بعد قلمبند کیا، ایک ایسی خصوصیت نمایاں طور پر ظاہر ہے جو اس کی ادبی شہرت کے زوال کا باعث ہوا: یہ خصوصیت فلسفیانہ گفتگوؤں سے حد سے زیادہ بڑھا ہوا پیار ہے، جب تک اس نے اس عنصر سے پرہیز کیا، وہ اپنی تعمیری قوت کا ثبوت دیتا رہا، جو دیگر روسی افسانہ نگاروں میں بہت کم ملتی ہے.... مگر گورکی کا’’ چھبیس مزدور اور  ایک دوشیزہ‘‘ ان تمام عیوب کو بھلا دیتا ہے۔‘‘
اس افسانے کا افتتاحی منظر بسکٹ بنانے کا ایک تنگ و تار کار خانہ ہے۔  جہاں چھبیس مزدور چودہ گھنٹے لگاتار مشقت کرتے ہیں۔ گورکی اس افسانے کو اپنے مخصوص انداز میں اس طرح شروع کرتا ہے:
’’ ہم تعداد میں چھبیس تھے،.... چھبیس متحرک مشینیں ایک متحرک کوٹھڑی میں مقید، جہاں ہم صبح سے لے کر شام تک بسکٹوں کے لئے میدہ تیار کرتے۔ ہماری زنداں نما کوٹھڑی کی کھڑکیاں ، جن کا نصف حصہ آہنی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ اور  شیشے گردو غبار سے اٹے ہوئے تھے، اینٹوں اور  کوڑے کرکٹ سے بھری ہوئی کھائی کی طرف کھلتی تھیں ، اس لئے سورج کی شعاعیں ہم تک نہ پہنچ سکتی تھیں۔
ہمارے آقا نے کھڑکیوں کا نصف حصہ اس لئے بند کرا دیا تھا کہ ہمارے ہاتھ اس کی روٹی سے لقمہ بھی غریبوں کے دینے کے لئے باہر نہ نکل سکیں ، یا ہم ان بھائیوں کی مدد نہ کر سکیں جو کام کی قلت کی وجہ سے فاقہ کشی کر رہے تھے۔
اس سنگین زندان کی چھت تلے جو دھوئیں کی سیاہی اور  مکڑی کے جالے سے اٹی ہوئی تھی، ہم نہایت تکلیف دہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس چار دیواری میں جو کیچڑ اور  میدے کے خمیر سے بھری ہوئی تھی، ہماری زندگی.... غم و فکر کی زندگی تھی۔‘‘
گورکی، اپنی بیشتر تصانیف میں مزدوروں اور  غربت زدہ کسانوں کو انسان کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ یہ چیز یورپی ذہن کے لئے جو خوشگوار ماحول کا عادی ہے نئی اور  عجیب حیثیت رکھتی ہو مگر ہندوستان جو روس کے اس زمانے کی فضا سے صد گونہ مماثلت رکھتا ہے، ان کرداروں کو ’’ جو کبھی انسان تھے‘‘ بخوبی سمجھتا ہے۔
جب گور کی’’ چھبیس متحرک مشینیں ‘‘ لکھتا ہے، تو ہمیں تعجب نہیں ہوتا۔ ہم فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ یہ لفظ نا کامی، حزن و ملال اور  تاریک زندگی کا مطالعہ پیش کر رہے ہیں۔
گورکی انسان کو اس شکل میں پیش نظر رکھتا ہے، جیسا وہ ہے، اس کے کردار بھوک کو ’’ معاشی دباؤ‘‘ نہیں کہتے ہیں۔ وہ امرا کو’’ سرمایہ دارانہ عناصر کا اجتماع‘‘ نہیں کہیں گے، وہ انہیں صرف امراء کا نام دیں گے۔ گورکی کی یہ سادہ بیانی اور  صاف گوئی اس کی تمام تصانیف میں موجود ہے۔’’ چھبیس متحرک مشینیں ‘ ‘ پڑھتے وقت ان مزدوروں کی لا متناہی محنت و مشقت اور  بے بسی کی ایک صاف تصویر کھنچ جاتی ہے۔
اس افسانے میں چھبیس زشت رو غلیظ مزدوروں کی ایک داستان بیان کی گئی ہے۔ یہ سب ایک حسین دوشیزہ کی محبت میں گرفتار ہیں۔ جو ہر روز ان سے بسکٹ لینے کے لئے آتی ہے، اس لڑکی کا معصوم حسن ہی ایک ایسی شعاع ہے جس سے ان کی تاریک زندگی آشنا ہے۔
ان لوگوں کو جو سب کے سب غلیظ اور  ان میں اکثر مریض ہیں ، صرف ایک چیز منسلک کئے ہوتی ہے.... ٹینیا سے ان کی جذباتی محبت گور کی بڑی وضاحت سے ان کی اس اجتماعی محبت کی تشریح کرتا ہے۔
’’.... گو زندان نے ہم سب کو وحشی درندوں سے بدتر بنا دیا تھا۔ مگر پھر بھی ہم انسان تھے۔ اور  بنی نوع انسان کی طرح ہم بھی کسی کی پرستش کئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ ہمارے لئے اس کی ذات سے بڑھ کر دنیا میں اور  کوئی شے نہ تھی۔ اس لئے کہ بیسیوں انسانوں میں سے جو اس عمارت میں رہتے ایک صرف وہی تھی جو ہماری پروا کیا کرتی تھی....
ہر روز اس کے لئے بسکٹ مہیا کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے تھے....یہ ایک نذرانہ ہوتا، جو ہم ہر روز اپنے دیوتا کی قربان گاہ پر پیش کیا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ رسم ایک مقدس فرض ہو گئی جس کے ساتھ ہمارا اور  اس کا رشتہ بھی باہم مضبوط ہو گیا۔ ہم ٹینیا کو نصیحتیں بھی کیا کرتے: یہی کہ وہ اس سردی میں گرم کپڑے استعمال کیا کرے اور  سیڑھیوں پر سے احتیاط کے ساتھ گذرا کرے....‘‘
مندرجہ بالا سطور سے مزدوروں کا بچپن نمایاں طور پر ظاہر ہے، اس بچپن سے گور کی کو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ چھبیس غیر تربیت یافتہ مزدور کس خیر معمولی اخلاص اور  سادگی سے ٹینیا کی محبت میں گرفتار تھے۔ دراصل ان مزدوروں کو اپنی تاریک زندگی میں صرف ایک ہی شعاع نظر آئی جس کا دامن انہوں نے پکڑ لیا۔ گو یہ لوگ، غلیظ، وحشی، جاہل، اور  غیر تربیت یافتہ ہیں ، لیکن اس کے با وصف ان کے کھردرے قلوب پر ٹینیا کا وجود پورا اثر کرتا ہے، وہ اسے حقیقی حسن کا سر چشمہ تصور کرتے ہیں۔
یہ جدا بات ہے کہ یہ لوگ اپنی غربت اور  پر از مصائب زندگی کے خود آپ ذمہ دار ہوں۔مگر ان کا قصور نہیں ہے کہ وہ مذہب یا آئیڈیل نہیں رکھتے اور  وہ امید وار خواہش زندگی سے نا آشنا ہیں۔’’ روسی معاشرہ میں آراء و افکار کی نا استواری کا وجود‘‘ جیسا کہ گورکی کو اپنی ایک تصنیف میں لکھتا ہے’’ مثالیت سے غفلت برتنے کا نتیجہ ہے۔‘‘
ٹینیا، چھبیس مزدوروں کی نظر میں ایک فرشتہ ہوتی ہے اس کی پاکیزگی اور  نیکی نہ صرف انکی گفتگوؤں کا موضوع ہوتی ہے بلکہ وہ مزدوروں کی زندگی کو نئے معانی بخشتی ہے۔
بڑے ڈرامائی اور  بے رحم، انداز میں گورکی اپنے پیش نظر مقصد کو رفتہ رفتہ آشکار کرتا ہے چھبیس مزدور اپنی دیوی کی عصمت کا امتحان لیتے ہیں ایک سپاہی جو اس کار خانے میں ان کی نسبت اچھے کام پر نو کر ہوتا ہے ان سے دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ٹینیا کو ہتھے چڑھا لے گا۔ مزدور سپاہی سے شرط تو لگا بیٹھتے ہیں مگر وہ ایک بےقراری مول لے لیتے ہیں۔
’’ اب ہمیں معلوم ہوا کہ ہم شیطان سے بازی لگا رہے ہیں۔ جب ہم نے کیک بنانے والے نانبائی سے یہ خبر سنی کہ سپاہی نے ٹینیا کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ہے، تو ہمیں سخت رنج پہنچا اور  ہم اس رنج کو مٹانے کے لئے اس قدر محو تھے کہ ہمیں یہ معلوم تک نہ ہوا کہ آقا نے ہماری بے چینی اور  اضطراب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میدے میں تیس سیر کا اضافہ کر دیا ہے۔‘‘
گو وہ حد درجہ مضطرب تھے اور  اس بات پر متاسف تھے کہ انہوں نے کیوں خواہ مخواہ ٹینیا کی عصمت کا امتحان کرنا چاہا مگر بایں ہمہ وہ اس روز کے منتظر تھے جب انہیں یہ معلوم ہو جانے والا تھا کہ وہ برتن جس میں وہ سب اپنے دل رکھے ہوئے تھے کتنا صاف اور  بے لوث ہے۔
یہ بد قسمتی سے ٹینیا  با عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ اور  وہ سپاہی کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔
یہ داستان خوشگوار نہیں ہے، لیکن گورکی کے قلم نے اسے اس غیر جانبدارانہ تفصیل سے بیان کیا ہے کہ یہ، ہولناک، حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ یہ افسانہ شعریت کی اس قدر زور دار رو سے لبریز ہے۔ اس میں آزادی اور  حسن کا اتنا معتدل ایمان و یقین ہے اس کے علاوہ یہ داستان اس قدر صحت فن کاری سے بیان کی گئی ہے کہ ہم اسے گور کی کا شاہکار تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے یہ افسانہ اسے بلا شک و شبہ روس کے بلند مرتبت کلاسکس کی صف اولیں میں جگہ دلواتا ہے۔
’’ اس کا محبوب‘‘ میں ’’ چھبیس مزدور اور  ایک دوشیزہ‘‘ کی روح کار فرما ہے۔ یہ ادب کا ایک درخشاں ٹکڑا ہے جو شعریت، موضوع کی رفعت تخیل اور  صفت صحیحہ کے نقطہ نظر سے اپنی قسم کا واحد اضافہ ہے۔ اس میں بد شکل لڑکی کے خیالی محبوب کی تخلیق واقعتاً نادر اور  شاندار ہے۔
گورکی اپنے افسانوں میں ارادتاً سوسائٹی کے بائیں طبقے کو زیر قلم رکھتا ہے اس کے کردار بالعموم اپنے مقاصد میں نا کامیاب رہتے ہیں۔ اس کی تمام تر وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں جب وہ ایک آوارہ زندگی بسر کر رہا تھا۔ اسے اسی قسم کے واقعات سے دو چار ہونا پڑا تھا۔
گورکی کے افسانوں کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں یہ چیز ہر گز فراموش نہ کرنی چاہئے کہ گورکی کی پرورش آغوش غربت میں ہوئی اور  یہ کہ اسے اپنا پیٹ پالنے کی خاطر ایک طویل عرصے تک ذلیل سے ذلیل مشقت کرنا پڑی۔ اب اس شخص کے بربط فکر سے جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک تاریک فضا اور  غیر تربیت یافتہ درشت مزدوروں میں بسر کیا اور  کس قسم کے نغمے بلند ہو سکتے ہیں ؟ گورکی ہمیں وہی کچھ پیش کرتا ہے جواس کے حساس دل نے محسوس کیا اور  جو اس کی چشم فکر نے مشاہدہ کیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کا انداز بیان بہت بے باک ہے۔
جس طرح بائرن کا ترنم، آتشیں اور  آزاد ہے، ٹھیک اسی طرح گورکی کی آواز بلند، دیوانہ وار اور  بے لگام ہوتی ہے۔ جب وہ برہنہ پاو گرسنہ شکم لوگوں کا گیت الاپتا ہے جو اپنی کاہلی پر نازاں ہیں ، جو مفلس تو ہیں مگر نڈر، جو اپنی پر از مصائب زندگی سے خوش ہیں اور  مسرت کے وقت مغموم۔ 
گورکی کی صدا، چیخوف کی شائستہ، نرم و نازک اور  منجھی ہوئی آواز نہیں ، نہ وہ معلم اخلاق طالسطائی کی کمزور زاہدانہ صدا ہے.... وہ چنگھاڑتے ہوئے شیر کی ایک گرج ہے۔ چمکتی ہوئی بجلی کی ایک کڑک، ابتدائی قوت میں یہ آواز کسی ایسے حساس انسان کے دل میں اتر جانے والی چیخ ہے جس نے زندگی کے مصائب و آلام سہ کر ہی دنیا کے منہ پر نہایت بے دردی سے قے کر دیئے ہوں۔
وہ دنیا، جو گورکی اپنے افسانوں میں پیش کرتا ہے، ہماری دیکھی بھالی نہیں اور  وہ کردار جو اس کے افسانوں کے محرک ہیں ہم ان سے نا آشنا ہیں ،مگر اس کے باوجود ہم اس سر زمین کے جغرافیائی حالات کے سوا اور  کچھ نہیں جانتے، گورکی ہمیں ان گہرائیوں تک لے جاتا ہے۔ اور  روسی زندگی کی ایسی قلمی تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے کھینچ دیتا ہے، جس سے عکسی تصاویر عاجز ہیں۔
گورکی کے افسانوں کے کردار عموماً کسان یا مزدور جماعت کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک روسی نقاد ان لوگوں کے متعلق لکھتا ہے:۔
’’ وہ ایسے نا کارہ انسان ہیں ، جو دنیا کی شاہراہوں پر بھٹک رہے ہوں ان کے ذہن غلاموں ایسے ذہن ہیں کسی آقا یا زندگی کے ایسے قانون کی تلاش ، جس کی وہ آنکھیں بند کئے اطاعت کر سکیں ان کا واحد مطمح نظر ہوتا ہے۔ ان میں تشخص اور  کیریکٹر کی استواری کا فقدان ہوتا ہے اگر ان میں الیالیونیف (4)ایسی ہوشمندی اور  ذہانت اور  اپنی کوششوں سے اپنی حالت کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تو انہیں نظام خودی کا عنصر بہت کم ہوتا ہے، جو انجام کار ان کی زندگی کو مغموم بنا دیتا ہے ان تمام امور کے ہوتے ہوئے ان کا خالق یعنی گورکی ان میں غیر معمولی اعتقاد رکھتا ہے۔‘‘
گورکی کے پروردہءِ غربت ہیرو، تشخص سے بیگانہ ہوں ، وہ زندگی کی شاہراہوں پر بھٹکے ہوئے ناکارہ انسان ہوں مگر ان میں ایک نمایاں خصوصیت ضرور ہے جس کی مثال روسی ادب میں اور  کہیں نہیں ملتی ہے.... اور  دوستوویسکی اور  تورگنیف کے پیش کردہ کرداروں کی طرح اپنی تیرہ بختی کا رونا روتے’’ روسی ہیرو‘‘ گورکی اپنے کسی افسانے میں لکھتا ہے:
’’ ہمیشہ جاہل اور  سادہ لوح ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ کسی ایسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وہ سمجھ نہیں رکھتا۔ وہ ہمیشہ ملول ہوتا ہے۔‘‘
گو ان لوگوں کی زندگی جہالت کا مرقع ہوتی ہے، اور  انہوں نے غلامی کی فضا میں پرورش پائی ہوتی ہے مگر وہ آزادی کی لذت بھی محسوس کرتے ہیں۔
’’ مجھے اپنی بے خانماں ، اور  آوارہ زندگی پسند ہے۔بیشتر اوقات سردی نے میری رگوں میں خون منجمد کیا ہے۔ میں نے فاقے کھینچے ہیں۔ لیکن آزادی عظیم الشان ہے۔‘‘
یہ ہیں وہ الفاظ جو گورکی کے ایک کردار کے منہ سے ادا ہوتے سنتے ہیں شہر کی پر سکون زندگی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔گورکی کے تقریباً تمام افسانوں میں ہم اس کے خانہ بدوش اور  حریت پسند کردار کسی آئیڈیل کا دامن تھامے دیکھتے ہیں۔ یہ خصوصیت بلا شک و شبہ گورکی کا اپنا عکس ہے۔ اس کے کردار عموماً سوسائٹی کے مصنوعی نظام سے رہائی حاصل کر کے، نیچر کے وسیع کارخانے میں بھاگ آتے ہیں ، جہاں انہیں سکون قلب اور  اطمینان خاطر نصیب ہوتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہم نیچر میں صوفیانہ قربت، گورکی کی ہر تصنیف میں بدرجہ اتم موجود ہے۔
گورکی کے ہیرو با اخلاص اور  بے ریا ہوتے ہیں۔ وہ زبان سے وہی کچھ نکالتے ہیں جو وہ اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔ ان میں تہذیب یافتہ افراد ایسی بناوٹ اور  مدانہت نہیں ہوتی۔ وہ زندگی کو اسی شکل میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جیسے وہ اصلاً ہوتی ہے۔
گورکی، جن مفلس، مصیبت زدہ اور  بد چلن روسیوں کا ہم سے تعارف کراتا ہے، ان کی فطرت، غربت اور  بری عادتوں کی زنجیروں میں ایسی بری طرح جکڑی ہوتی ہے، ان کے دلوں کو برے اعمال اور  ارادوں نے ایسا سیاہ کر رکھا ہے، ان کے ماحول میں راہ راست پر چلنے کی ترغیب دلانے والے اثرات، اتنے کم اور  کمزور ہیں کہ ہمیں ان کے انسان ہونے میں کیا، زندہ رہنے پر تعجب ہوتا ہے، لیکن انسانیت کی اس عبرت انگیز بربادی میں بھی ایک روشنی کبھی کبھی نظر آ جاتی ہے، جس پر اگر اپنی نظر قائم رکھ سکیں تو گورکی کے ویرانے آباد معلوم ہونے لگتے ہیں ، اس کے بیماروں میں صحت کے وہ آثار، مردوں میں زندگی کی وہ علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں ، جو ہم کو یقین دلاتی ہیں کہ انسانیت کا جوہر کبھی کم نہیں ہو سکتا اور  جب کبھی وہ نظر آئے گا، تو اس شان سے کہ ہم دوسروں کی نہیں بلکہ اپنی زندگی بھی اس سے روشن پائیں گے۔ گورکی نے انسانیت کا جو جوہر دریافت کیا ہے، وہ انسانی ہمدردی ہے، ایک جذبہ، جو پست حیوانی زندگی کی تاریکی کو اسی طرح ریزہ ریزہ کر دیتا ہے جیسے بجلی، کالی گھٹاؤں کے اندھیرے کو....‘‘


دیباچہ

سعادت حسن منٹو

1 ولادی میر کار لنکو،جنوبی روس میں 1853ء میں پیدا ہوا۔ روس کے دیگر ادبا کی طرح وہ حصول تعلیم میں سیاسی وجوہ کی بنا پر تشنہ رہا، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے اسے ماسکو کے زراعتی سکول کو خیر باد کہنا پڑی۔ اس نے چھ سال کا طویل عرصہ سائبیریا کے یخ بستہ میدانوں میں کاٹا۔ زمانہ اسیری کے بعد وہ موضع نزہنی میں اقامت پذیر ہوا۔ جہاں وہ عرصہ تک ایک رسالے کی ادارت کے فرائض انجام دیتا رہا اسی زمانے میں گورکی سے اس کی ملاقات ہوئی۔ کارلنکو روسی ادب میں خاصی شہرت رکھتا ہے۔
2 مشہور یہودی فلسفہ دان کارل مارکس کے پیرو۔
3 یہ مقالہ اس وقت لکھا گیا جب گورکی زندہ تھا۔
4 تھری مین کا ہیرو۔



میدانوں میں 


ہم نے پیری کوپ کو طبیعت کے انتہائی چڑچڑے پن اور  بد ترین صورت حال کے تحت یعنی جنگلی بھیڑیوں کی طرح گرسنہ اور  تمام دنیا سے متنفر خیر باد کہا تھا مکمل بارہ گھنٹے ہم نے اس کوشش میں صرف کر دیئے تھے کہ کسی نہ کسی طرح.... جائز یا نا جائز طریقے، چوری کے ذریعے یا خود کما کر پیٹ پوجا کا سامان کریں ، مگر جب ہمیں اس امر کا پورا یقین ہو گیا کہ ہم اپنے مقصد میں کسی طرح کامیاب نہیں ہو سکتے، تو ہم نے آگے بڑھنے کا قصد کیا.... کدھر؟.... بس ذرا آ گئے!
یہ فیصلہ اتفاق آراء سے منظور ہو گیا۔ اب ہم زندگی کی اس شاہراہ پر جس پر ہم ایک مدت سے گامزن تھے سفر کرنے کو تیار تھے۔ اس امر کا فیصلہ بالکل خاموشی میں ہوا۔اگر اس فیصلے کو کوئی چیز نمایاں طور پر ظاہر کرنے والی تھی تو ہماری گرسنہ آنکھوں کی خشم ناک چمک تھی۔
ہماری جماعت تین افراد پر مشتمل تھی۔ جن کی شناسائی کو ابھی بہت مدت نہ گذری تھی۔ ہماری دوستی دریائے نیپئر کے کنارے فر سون کی ایک سرائے میں واقع ہوئی تھی۔ ہم میں سے ایک ریلوے پولیس میں سپاہی رہا تھا اور  اس کے بعد پولیستان میں ایک مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا تھا یہ شخص بہت تنو مند اور  جسیم تھا اور  بال سرخ.... جرمن زبان بول سکتا تھا اور  قید خانے کی اندرونی زندگی سے بہت اچھی طرح واقف تھا۔
ہماری قسم کے لوگ اپنی زندگی کے گذشتہ حالات پر روشنی ڈالنے کے خیال کو بہت برا تصور کرتے ہیں ، بعض ناگزیر وجوہ کے باعث ہمیشہ خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں اس کا کامل یقین تھا کہ ہمارے ہر ساتھی کے ساتھ ایک نہ ایک تلخ حکایت ضرور وابستہ ہے مگر ہم نے ان سے اس داستان کے بارے میں کبھی استفسار نہ کیا تھا۔
جب ہمارے ایک ساتھی نے ہمیں بتایا کہ وہ ماسکو یونیورسٹی کا طالب علم رہ چکا ہے تو ہمیں اس کی بات کا یقین ہو گیا۔ دراصل ہمارے لئے یہ چیز کو ئی اہمیت نہ رکھتی تھی کہ وہ گذشتہ ایام میں چور تھا یا سپاہی۔ قابل ذکر بات تو یہ تھی کہ وہ جب ہم سے ملا، بالکل ہم جیسا تھا، اور  ہماری طرح پولیس اور  دیہات والوں میں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ اور  وہ جواب میں ان سب کو ایک تعاقب زدہ بھوکے درندے کی طرح افسردہ اور  نفرت کی نگاہوں سے دیکھتا تھا .... قصہ کو تاہ ان خیالات اور  موجودہ حالات کی رو سے وہ ہم میں سے ایک تھا۔
مشترکہ مصائب، متضاد طبائع میں اتحاد پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور  ہمیں اس کا پور یقین تھا کہ ہم مصیبت زدہ ہیں۔ تیسرا میں تھا.... اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے جو بچپن سے میری خصوصیت رہی ہے، میں اپنی صفات کا تذکرہ بے سود سمجھتا ہوں۔ میری عادات و خصائل پر روشنی ڈالنے کے لئے بس اتنا کہنا کافی ہو گا کہ میں اپنے آپ کو اور وں سے ہمیشہ اچھا اور  اعلیٰ سمجھتا رہا ہوں .... اور  آج بھی میرا یہی عقیدہ ہے۔
ان حالات کے تحت ہم پیری کوپ کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ رہے تھے ہمارا اولین مقصد کسی گڈرئیے کا دروازہ کھٹکھٹا کر روٹی مانگنا تھا۔ یہ لوگ عموماً کسی جہاں گرد سائل کو مایوس لوٹنے نہیں دیتے۔
میں اور  سپاہی پہلو بہ پہلو چل رہے تھے۔ طالب علم ہمارے پیچھے آ رہا تھا جس کے کاندھوں پر کوئی کپڑا سا لٹک رہا تھا، جس نے کبھی جیکٹ کا کام دیا ہو گا۔ ایک بوسیدہ اور  چوڑے کنارے والی ٹوپی اس کے بد وضع سر کی زینت ہو رہی تھی، پتلی ٹانگوں کو ایک پرانی پیوند زدہ پتلون چھپا رہی تھی اور  پاؤں میں کسی ٹوٹے ہوئے بوٹ کے تلوے، جو غالباً کسی سڑک پر سے اٹھائے تھے، ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے.... اس اختراع کو وہ چپلیوں کے نام سے پکارتا تھا۔وہ سڑک پر گرد اڑاتا اور  اپنی چھوٹی چھوٹی سبزی مائل آنکھیں جھپکاتا، خاموشی کے ساتھ چلا آ رہا تھا۔
سپاہی ایک سرخ قمیص پہنے ہوئے تھا جو بقول اس کے اس نے خود اپنی محنت کے پیسوں سے فرسون میں خریدی تھی۔ اس قمیض پر ایک گرم اور  نرم سی واسکٹ نظر آ رہی تھی۔ ٹانگوں پر ایک کھلا پاجامہ لپٹا ہوا تھا سر پر اس نے ایک فوجی ٹوپی ترچھے انداز میں پہن رکھی تھی۔ پاؤں میں بوٹ وغیرہ کچھ بھی نہیں تھے۔
میں نے کپڑے تو پہنے ہوئے تھے مگر ننگے پاؤں تھا۔
ہم چلتے رہے.... ہمارے چاروں طرف میدان تھا جس میں گھاس اگ رہی تھی ، وہ موسم گرما کے نیلگوں آسمان کے نیچے بڑھتے گئے.... کہیں کہیں کٹی ہوئی فصل کے نشانات بھی دکھائی دے رہے تھے، جو بعینہ سپاہی کے نہ منڈے ہوئے گالوں کے مانند تھے۔
وہ بھدی اور  کن سڑی آواز میں ایک مذہبی گیت گانے میں مصروف تھا۔ دوران ملازمت میں وہ کسی گرجے میں نو کر بھی رہ چکا تھا اس لئے لازمی طور پر اسے بے شمار مذہبی گیت زبانی یاد تھے۔ اور  ہم سے دوران گفتگو اکثر اس قسم کی معلومات کا بے  جا تذکرہ بھی کیا کرتا تھا۔
اب ہمارے سامنے افق پر دھندلی سی لکیریں نمودار ہو رہی تھیں جن کا رنگ بنفشی سے ہلکا زرد ہوتا چلا جا رہا تھا۔
’’ یہ کریمیا کی پہاڑیاں ہیں ‘‘ طالب علم نے اپنی پھٹی آواز میں کہا’ پہاڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔‘‘
سپاہی نے طنز یہ لہجے میں اس سے کہا’’ بہت تیز نظر ہے تمہاری، یہ تو بادل ہیں ، محض بادل! اور  بادل بھی کیسے، جیسے انناس کا مربہ دودھ میں بھیگ رہا ہے!‘‘
’’آہ، کاش یہ واقعی مربہ ہوتے!! اس تشبیہ نے میری بھوک پر تازیانے کا کام کیا۔‘‘
’’ خدا کی قسم‘‘! سپاہی نے جھلا کر کہا’’ کاش ہمیں کوئی انسان مل جائے!.... مگر یہاں تو کسی کا نام و نشان تک بھی نہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں بھی موسم سرما کے ریچھ کی طرح اپنے پنجے چوس کر گذارہ کرنا ہو گا!‘‘
’’ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمیں آبادی کا رخ کرنا چاہئے‘‘ طالب علم نے افسردہ لہجے میں کہا۔
’’ تم نے کہا تھا!.... یہ تمہارا ہی حصہ تھا، تعلیم یافتہ جو ٹھہرے تم!.... مگر کہاں ہیں وہ آباد مقامات جن کا تم ذکر کر رہے ہو‘‘ سپاہی طالب علم پر برس پڑا۔
طالب علم نے جواب میں اپنے ہونٹ چبانے شروع کر دیئے۔ اور  خاموش ہو گیا۔
سورج غروب ہو رہا تھا۔ بادل رنگا رنگ کے لباس بدل رہے تھے۔ شورے اور  مٹی کی خوشبو نے ہماری بھوک کو اور  بھی مشتعل کر دیا۔ انتڑیاں قل ہو اللہ پڑھ رہی تھیں۔  اور  ایک ناخوشگوار سی لہر بدن میں دوڑ رہی تھی۔ منہ اور  حلق خشک ہو گیا تھا دماغ سخت پریشانی میں گرفتار تھا۔ سر چکرانے لگا اور  عجیب قسم کے سیاہ دھبے آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگے۔ یہ دھبے کبھی گوشت کے بھنے ہوئے ٹکڑوں کی اور  کبھی روٹیوں کی شکل اختیار کر لیتے.... ذہن نے ان کی یاد تازہ کر دی اور  یہ اصل معلوم ہونے لگے، حتیٰ کہ ان کی خوشبو تک بھی آنے لگی۔ اور  ایسا محسوس ہونے لگا کہ کوئی پیٹ میں نو کیلا خنجر گھونپ رہا ہے۔ لیکن اب اس اذیت کے با وصف ہم بھیڑوں کے نشانات دیکھنے اور  کسی پھلوں سے لدے ہوئے چھکڑے کے پہیوں کی آواز سننے کے لئے ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے اور  کان کھولے چلتے رہے.... مگر میدان خاموش اور  سنسان تھا۔
اس پُر تکان سے پیشتر شام کو ہم سب نے صرف دو سیر کچی روٹی اور  پانچ تربوز کھائے تھے، ہمیں کوئی چالیس میل کے قریب چلنا پڑا تھا۔ خرچ آمدن کی نسبت زیادہ تھا۔ ہم مارکیٹ میں سو رہے تھے کہ ہمیں بھوک نے آ جگایا۔
طالب علم نے ہم سے کہا تھا کہ رات کو سونے کی بجائے کام کرنا چاہئے اور  رہی دوسری بات کہ کسی کی ملکیت پر ڈاکہ ڈالنا، سو وہ معاشرہ کے اصولوں کے خلاف ہے،اس لئے میں اس کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتا۔میری خواہش انصاف کرنے کی ہے۔ میں یا وہ کوئی نہیں کر سکتا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے اس مہذب زمانے میں لوگ بہت شائستہ اور  نرم دل ہوتے جا رہے ہیں حتیٰ کہ اگر کسی پڑوسی کا گلا بھی کاٹنا ہو تو موقع کی مصلحت دیکھ کر یہ کام بھی نہایت سلیقے سے کیا جاتا ہے۔ میرے اپنے گلے کے تجربے نے اخلاق اور  تہذیب کے اس ارتقا کو میرے سامنے واضح طور پر ظاہر کر دیا ہے۔ اور  میں قطعی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کی ہر شے رو بہ ترقی ہے.... شراب خانوں ، عصمت فروشی کی دوکانوں اور  زندانوں کی تعداد میں سالانہ اضافہ اس ترقی کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔
چنانچہ اس طرح ہم اپنا لعاب دہن نگلتے اور  آپس میں دوستانہ گفتگو کرتے ہوئے، تاکہ کسی حیلے ہمارے پیٹ کا درد کم ہو جائے اس سنسان میدان میں بڑھتے گئے۔ دل میں ایک موہوم امید لئے ہوئے سرخ شفق کی طرح چلتے گئے!
ہمارے سامنے سورج ان بادلوں کے پیچھے جن پر اس کی شعاعیں زر نگاری کا کام کر رہی تھیں ، غروب ہو رہا تھا۔ اب ہمارے سامنے چاروں طرف رات کی سیاہی افق کی وسعت کو تنگ کرتی ہوئی پھیل رہی تھی۔
’’ آ گ جلانے کے لئے کچھ ایندھن تو اکٹھا کرو‘‘ سپاہی نے دفعتاً زمین پر سے لکڑی کا ایک ٹکڑا اٹھاتے ہوئے کہا’’ ہمیں آج کی رات میدان ہی میں کاٹنا پڑے گی.... اوس خوب پڑے گی، خشک گوبر اور  درختوں کی ٹہنیاں الاؤ کے لئے ٹھیک رہیں گی؟‘‘
ہم سڑک کے دونوں طرف بکھر گئے اور  سوکھی گھاس اور  ہر چیز جو مل سکتی تھی اکٹھا کرنی شروع کر دی۔ ہر مرتبہ جب ہمیں زمین پر جھکنا پڑتا۔ ہمارے بدن میں ایک عجیب خواہش پیدا ہوتی کہ زمین پر گر پڑیں اور  مٹی کھانے کے لئے خاموش لیٹ جائیں .... سیاہ اور  چکنی مٹی کھاتے رہیں۔ حتیٰ کہ اور  کچھ نہ کھا سکیں اور  پھر اسی حالت میں سو جائیں خواہ یہ نیند ابدی نیند ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس سے پیشتر کچھ کھائیں ضرور.... کوئی سی غذا کو ئی گرم گرم کھانا حلق سے اتر کر تلملاتے ہوئے اور  بھوکے پیٹ میں پہنچ جائے.... اس معدے میں جو کسی چیز کو ہضم کرنے کی خواہش میں بیتاب ہوا جا رہا تھا۔
’’ کاش ہمیں کوئی جڑ ہی مل جاتی‘‘ سپاہی نے آہ بھر کر کہا’’ ایسی جڑیں بھی تو ہوتی ہیں جو غذا کا کام دے سکتی ہیں .... جن کو ہم کھا سکتے ہیں !‘‘
مگر اس سیاہ اور  ہل کی ہوئی زمین میں جڑوں کا نام و نشان تک نہ تھا.... اب جنوبی ممالک کی رات تیزی سے شفق پر غلبہ حاصل کر رہی تھی۔ سورج کی آخری شعاعیں ابھی غائب ہی ہوئی تھیں کہ تاریک اور  نیلگوں آسمان میں تارے چمکنے لگے۔ آہستہ آہستہ رات کی سیاہی میدان کی وسعت کو تنگ بتاتی ہوئی بڑھتی گئی۔
’’ بھائی، ہمارے بائیں طرف ایک آدمی لیٹا ہوا ہے!‘‘ طالب علم نے سپاہی سے آہستگی کے لہجے میں کہا۔
’’آدمی!‘‘ سپاہی نے حیرت زدہ ہو کر دریافت کیا۔’’ آخر وہ یہاں کیوں لیٹ رہا ہے؟
’’ جاؤ‘ اس سے خود دریافت کر لو.... اس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔جبھی تو اس طرح میدان میں پڑا ہے۔‘‘ طالب علم نے جواب دیا۔
سپاہی تھوکنے کے بعد ایک عزم سے بولا’’ تو چلو آؤ اس کے پاس چلیں ‘‘
صرف طالب علم کی تیز نگاہیں ہی تاریکی میں سڑک کی دوسری طرف کوئی سو گز کے فاصلے پر ایک آدمی کو جو سیاہ ڈھیر کی صورت میں پڑا تھا پہچان سکتی تھیں۔ ہم ہل کی ہوئی زمین میں مٹی کے ڈھیلوں پر تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔کھانا حاصل کرنے کی اس نئی امید نے ہماری بھوک کو اور  بھی زیادہ تیز کر دیا تھا۔ ہم اس کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ مگر وہ بے حرکت پڑا تھا۔
’’ شاید یہ انسان نہیں ہے‘‘ سپاہی نے ہم سب کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے مایوسانہ انداز میں کہا۔ مگر فوراً ہمارے اندیشے غلط ثابت ہو گئے کیونکہ اس ڈھیر میں جو زمین پر پڑا تھا ایک جنبش ہوئی اور  اس نے اٹھنا چاہا۔ اب ہم نے دیکھا کہ وہ واقعی انسان ہے جو گھٹنوں پر بیٹھا ہے اور  ہماری طرف ہاتھ بڑھا رہا ہے۔
’’ میرے نزدیک نہ آنا ورنہ میں گولی چلا دوں گا‘‘ ہم نے اسے بھدی اور  لرزاں آواز میں یہ کہتے سنا۔ اس کے ساتھ ہی فضا میں لبلبی اٹھنے کی تیز آواز گونجی۔
ہم یکایک ٹھہر گئے جیسے کسی نے حکم دیا ہے۔ کچھ عرصے تک ہم اس نا خوشگوار خیر مقدم سے حیرت زدہ ہو کر خاموش کھڑے رہے۔
’’ بدمعاش!‘‘ سپاہی نے معنی خیز انداز میں زیر لب کہا۔
’’ ہوں ‘ پستول لئے سفر کرتا ہے.... یہ تو منہ کا نوالہ معلوم نہیں ہوتا‘‘ طالب علم نے دانشمندانہ لہجے میں کہا۔
’’ او میاں !‘‘ .... ظاہر تھا کہ ہمارے رفیق سپاہی نے ضرور کوئی تدبیر سوچ لی ہے۔ اس شخص نے کروٹ نہ بدلی اور  پہلے کی طرح خاموش رہا۔
’’ اے میاں ، دیکھو ہم تم کو بالکل نقصان نہ پہنچائیں گے۔ بس ہمیں کچھ کھانے کے لئے دے دو۔ تمہارے پاس روٹی وغیرہ ضرور ہو گی، بھائی ہمیں کچھ کھانے کے لئے دے دو۔ تمہیں مسیح کاواسطہ ہے.... لعنت ہو تم پر .... شیطان!‘ ‘آخری الفاظ سپاہی نے اپنی ڈاڑھی کے اندر منہ ڈال کر آہستگی سے کہے.... وہ شخص خاموش رہا۔
’’ کیا سن بھی رہے ہو کہ نہیں ؟‘‘ سپاہی نے بیچارگی اور  غصے میں کانپتے ہوئے پھر التجا کی’’ ہمیں کچھ دو.... پھینک ہی دو، ہم تمہارے نزدیک نہ آئیں گے!‘‘
اگر اس نے ہمیں دلی خلوص سے’’ میرے عزیز بھائیو‘‘ کہہ کر پکارا ہوتا۔ اور  تین لفظوں میں جذبات کا تمام تقدس بھر دیا ہوتا۔تو وہ ہم پر اس قدر اثر انداز نہ ہوتے جتنا یہ غیر مہذبانہ، درشت اور  خشک’’ اچھا‘ اثر انداز ہوا۔
’’نیک آدمی، ہم سے خوف زدہ مت ہو‘‘ سپاہی نے اپنے چہرے کو متبسم کرتے ہوئے کہا۔ حالانکہ وہ شخص تاریکی میں پچاس قدم کے فاصلے پر بیٹھا ہوا اس کے اس تبسم کو نہ دیکھ سکتا تھا۔’’ ہم امن پسند لوگ ہیں۔ روس سے کیو بن جا رہے ہیں۔ ہمارا سب روپیہ راستے میں خرچ ہو گیا ہے۔ ہم سب کھا پی بیٹھے ہیں۔ اب ہمیں فاقے سے دوسرا دن گذر رہا ہے!‘‘
’’ لو، پکڑو‘‘ ہمارے محسن نے ہوا میں اپنا ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا۔ اور  ساتھ ہی ایک سیاہ سی چیز ہل کی ہوئی زمین پر ہمارے نزدیک ہی آ گری۔طالب علم اس کو پکڑنے کے لئے لپکا۔
’’ لو اور  پکڑو.... یہ رہی.... بس اب میرے پاس ختم ہو چکی ہے۔‘‘
جب طالب علم نے ان عجیب و غریب تحائف کو اکٹھا کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیاہ روٹی کے چند خشک ٹکڑے تھے۔ جن کا مجموعی وزن کوئی دو سیر کے قریب ہو گا۔ یہ مٹی سے لت پت ہو رہے تھے۔مگر یہ بات ہمارے لئے کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی.... خشک روٹی عموماً زیادہ تسکین دہ ہوا کرتی ہے۔ اس لئے اس میں تازہ روٹی کی نسبت نمی کم ہوتی ہے۔
’’ یہ لو تم اور  یہ لو تم اور  یہ میرے لئے‘‘ سپاہی نے بڑی احتیاط سے سب کو روٹی کا حصہ دیتے ہوئے کہا....’’ مگر ابھی حصے برابر نہیں ہوئے۔ اس لئے’’ پروفیسر صاحب‘‘ مجھے آپ کے ٹکڑے سے کچھ حصہ کاٹنا پڑے گا ورنہ یہ دوسرے کے حق میں سراسر نا انصافی ہو گی!‘‘
طالب علم کو مجبوراً اپنے حصے سے ایک ٹکڑا دینا پڑا۔ جو وزن میں ایک اونس کے دسویں حصے کے برابر تھا۔
میں نے اپنا ٹکڑا منہ میں ڈال لیا۔  اور  آہستہ آہستہ چبانا شروع کیا ساتھ ہی میں اپنے جبڑوں کی قدرتی حرکت روکنے کی بے سود سعی کر رہا تھا جو اس وقت پتھروں کو چبانے کے لئے تیار تھے، مجھے اپنے نرخرے میں ایک تشنجی حرکت کے احساس اور  ایسے چھوٹے چھوٹے لقموں سے آہستہ آہستہ رفع کرنے کی کوشش میں ایک عجیب قسم کی مسرت حاصل ہو رہی تھی۔ گرم اور  ناقابل بیان طور پر ذائقہ دار اور  شیریں ، اس روٹی کے ٹکڑے لقمہ بہ لقمہ حلق سے اتر کر جلتے ہوئے پیٹ میں پہونچتے ہی خون اور  گوشت میں تبدیل ہوتے معلوم ہوتے تھے۔
میرا دل ایک ایسی ناقابل بیان اور  حیات بخش مسرت سے معمور تھا جو اس روٹی کی نسبت کے لحاظ سے کہیں زیادہ تھی۔ میں فاقہ کشی کے تکلیف دہ ایام کو بالکل بھول گیا۔ اس کے علاوہ میرے ذہن سے اپنے دوستوں کی یاد بھی محو ہو گئی اس لئے کہ میں ان مسرت افزا خیالات میں غرق تھا جو اس وقت میرے دل میں پیدا ہو رہے تھے۔
لیکن جب میں نے اپنی ہتھیلی سے روٹی کا آخری ٹکڑا منہ میں ڈالا تو میں نے محسوس کیا کہ میری بھوک اور  بھی تیز ہو گئی ہے۔
’’ اس آدمی کے پاس اور  کچھ بھی ضرور ہو گا.... لعنت ہو اس پر!‘‘ سپاہی نے جو زمین پر بیٹھا اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر رہا تھا کہا
’’ ضرور ہو گا.... روٹی میں سے گوشت کی بو آ رہی تھی‘‘ طالب علم نے جواب دیا اور  پھر ساتھ ہی دبی زبان میں کہا’’ کاش اس کے پاس پستول نہ ہوتی ورنہ....‘‘
’’ مگر یہ ہے کون؟‘‘
’’ ظاہر ہے کہ ہم ایسا کوئی بھلا مانس ہو گا‘‘
’’ ناپاک کتا!‘‘ سپاہی نے فیصلہ کر دیا۔
ہم سب ایک دوسرے کے بالکل قریب بیٹھے اپنے محسن کی طرف ترچھی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، جو پستول ہاتھ میں لئے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی طرف سے کسی قسم کی آواز ہمیں سنائی نہ دے رہی تھی۔
رات کی تاریک قوتیں رہی سہی روشنی پر غالب آ گئیں۔ میدان پر قبر کی خاموشی طاری تھی۔ اس سکوت میں ہم ایک دوسرے کے سانس کی آواز بخوبی سن سکتے تھے۔ کبھی کبھی بجو کی درد میں ڈوبی ہوئی چیخ سنائی دیتی تھی۔ ستارے آسمان کے چمن کے زندہ پھول، ہمارے سروں کے اوپر چمک رہے تھے.... ہماری اس وقت صرف ایک خواہش تھی کہ کچھ کھائیں !
میں فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس شب میری حالت میرے اتفاقیہ رفیقوں سے نہ تو بری تھی اور  نہ اچھی۔ آخر کار میں نے یہ تجویز پیش کی : ہمیں اٹھ کر اس شخص کے پاس جانا چاہئے مگر بغیر کوئی نقصان پہنچائے اس سے کھانے کا سامان لے لینا چاہئے۔ اگر وہ فائر کرتا ہے تو کر لے! وہ زیادہ سے زیادہ ہم میں سے صرف ایک کو نشانہ بنا لے گا،جو چنداں ممکن نہیں اور  اگر بفرض محال اس کی گولی کسی ایک کو لگ بھی گئی تو عموماً پستول کا چھرہ مہلک زخم نہیں کرتا۔
’’ تو چلو پھر‘‘ سپاہی نے کود کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ طالب علم کوشش کے با وجود بڑی آہستگی سے اٹھا۔ ہم دوڑ کر اس شخص کی جانب بڑھے۔ طالب علم ہمارے پیچھے آ رہا تھا۔
’’ محترم رفیق‘‘ سپاہی نے طنزاً چلا کے پکارا
ہمارا استقبال ایک زیر لب گنگناہٹ سے ہوا۔ پھر ساتھ ہی.... لبلبی دبنے کی آواز گونجی اور  شعلہ بلند ہوا۔ اور  گولی ہمارے کانوں کے قریب سے سنسناتی ہوئی گذر گئی۔
’’ نشانہ خطا گیا‘‘ سپاہی فرط مسرت سے چلا اٹھا اور  ایک ہی جست میں سے اسے جا لیا۔’’ ٹھیر بے شیطان‘ اب چکھائے دیتا ہوں تجھے مزا....‘‘
طالب علم اس کے تھیلے کی طرف لپکا مگر وہ شیطان ایک دم پیٹھ کے بل زمین پر لوٹ گیا۔ اور  ہاتھ پھیلا کر ہانپنا شروع کر دیا۔
’’ ابے کیا ہو گیا تجھے؟ سپاہی نے حیران ہوتے ہوئے کہا‘‘ او....ابے .... کچھ سن رہا ہے کہ نہیں ؟.... کیا تو نے اپنے آپ کو گولی تو نہیں مار لی؟‘‘
’’ یہ رہا گوشت، ٹکیاں اور  روٹی.... کافی مقدار ہے بھائیو‘‘ طالب علم نے خوش ہو کر بلند آواز میں کہا۔
’’ تو جاؤ مرو، جہنم میں جاؤ، آؤ دوستو، ہم کھانا کھائیں ‘‘ سپاہی چلایا
میں نے اس شخص کے ہاتھ سے پستول لے لی۔ اب اس نے کراہنا بند کر دیا تھا۔ اور  خاموش پڑا تھا۔ پستول میں صرف ایک کار توس اور  باقی تھا۔
ہم اب پھر خاموشی سے کھانے میں مصروف تھے۔ اور  وہ شخص بے حس و حرکت پڑا تھا۔ اس وقت ہم اس کی موجودگی سے بالکل غافل تھے۔
’’ بھائیو، کیا تم نے یہ سب کچھ واقعی اس روٹی کے لئے کیا ہے؟‘‘ ایک لرزاں اور  پھٹی ہوئی بھدی آواز نے یک لخت ہم سے کہا۔ ہم چونک پڑے طالب علم کھانستا ہوا زمین کی طرف جھک گیا۔ سپاہی نے اپنے منہ کا لقمہ نگلتے ہوئے اس شخص کو بے طرح سنانی شروع کر دی:
’’ او کتے کی روح.... خدا کرے تیرا بدن خشک لکڑی کے چھلکے کی طرح پھوٹ پھوٹ پڑے۔ کیا تو یہ خیال کرتا تھا کہ ہم تیری کھال ادھیڑنا چاہتے ہیں ؟ تیری چمڑی ہمارے کس کام کی.... ملعون، پاجی، کمینے!.... پستول لئے لوگوں پر گولیاں چلاتا ہے.... شیطان کہیں کا!‘‘
سپاہی اس دوران میں ساتھ ساتھ کھاتا بھی جا رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی گالیوں کا پورا زور شور بہت حد تک دب گیا تھا،
’’ ٹھیر جا‘ ہم کھانا کھانے کے بعد تجھ سے نپٹ لیں گے!‘‘ طالب علم نے اسے دھمکایا۔
اس پر سسکیوں اور  آہ و زاری کی آواز رات کے سکوت میں پھیل گئی ہم ڈر گئے۔‘‘
’’ بھائیو، مجھے معلوم نہ تھا۔ میں ڈر گیا تھا۔ چنانچہ میں نے فائر کر دیا۔ میں نیو ایتھوس سے سمانسک جا رہا ہوں .... آہ میرے خدا! جو نہی آفتاب غروب ہونے لگتا ہے، مجھے بخار چڑھ جاتا ہے.... میری تیرہ بختی! اس بخار کے علاج کرانے کی خاطر ہی میں نے ایتھوس کو خیر باد کہا تھا.... میں وہاں بڑھئی کا کام کرتا تھا.... میں بڑھئی ہوں .... میری ایک بیوی اور  دو چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں۔ جن سے جدا ہوئے مجھے .... قریب قریب چار سال گذر چکے ہیں ....بھائیو، تم سب کچھ کھا لو....‘‘
’’ کوئی فکر نہ کر، ہم تیرے کہنے کے بغیر ہی سب کچھ کھا لیں گے‘‘ طالب علم نے اس سے کہا۔
’’ آہ‘ میرے پروردگار! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ امن پسند اور  رحمدل ہو تو میں کبھی گولی نہ چلاتا.... جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار یہ دشت نما میدان ہے اور  پھر تاریکی میں سوجھ کیا سکتا ہے.... مجھے معاف کر دو، بھائیو، میری خطا معاف کر دو!‘‘ وہ بول رہا تھا اور  ساتھ رو بھی رہا تھا۔ اس کی رونی آواز لرزاں اور  دہشت آفریں تھی۔
’’ بس بس اب چلاؤ نہیں ‘‘ سپاہی نے حقارت سے کہا
’’ اس کے پاس کچھ نقدی بھی ضروری ہو گی!‘‘ طالب علم نے قیافہ لگایا۔
سپاہی نے اپنی آنکھیں نیم بند کر لیں۔ طالب علم کی طرف دیکھا اور  مسکراتے ہوئے کہا‘‘ تم تو نجومی ہو.... چلو، اب آگ جلا کر سو رہیں !‘‘
’’ اور  اس کو یہیں پڑا رہنے دیں ؟ طالب علم نے سپاہی سے دریافت کیا۔
’’ جہنم میں جائے.... کیا ہم اسے بھون کھائیں ؟‘‘
’’ ہے تو اسی کا مستحق! طالب علم نے اپنا نو کیلا سر ہلا یا
ہم اپنا اکٹھا کیا ہوا ایندھن، جو بڑھئی کی دھمکی سے ہمارے ہاتھوں سے گر پڑا تھا۔ اٹھانے کے لئے روانہ ہوئے۔ منتشر لکڑیوں کو جمع کرنے کے فوراً بعد ہم آگ جلا کر اس کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے۔ آگ خاموش اور  پر سکون رات میں ہمارے آس پاس کی کچھ جگہ کو روشن کرتی ہوئی آہستہ آہستہ سلگ رہی تھی۔ ہم پر غنودگی طاری ہو رہی تھی۔ مگر اس کے باوجود ہم ایک دفعہ اور  کچھ کھانے کے لئے تیار تھے۔
’’بھائیو‘‘ بڑھئی نے کہا وہ ہم سے کوئی تین قدم کے فاصلے پر لیٹا تھا کبھی کبھی اس گنگناہٹ سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہا ہے۔
’’ کیوں ‘ کیا ہے؟‘‘ سپاہی نے درشت لہجے میں اس سے دریافت کیا۔
’’ کیا میں تمہارے پاس آگ تاپنے کے لئے آ سکتا ہوں ؟.... مجھے اپنی موت آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی.... میرے جوڑ جوڑ میں شدت کا درد ہے.... آہ، خدا! میں کبھی گھر نہ پہنچ سکوں گا!‘‘
’’ ادھر سرک آؤ‘‘ طالب علم نے اسے اجازت دے دی
بڑھئی آہستہ آہستہ رینگتا ہوا آگ کے پاس آ گیا وہ اس انداز سے اپنے بدن کو حرکت دے رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا: اسے اپنے اعضا کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے وہ دراز قد مگر بہت نحیف تھا۔ اس کا ہر عضو ارتعاش پذیر تھا۔ اور  اس کی دھندلی آنکھوں سے درد و کرب کے آثار مترشح تھے۔ جو اسے اندر ہی اندر ہلکان کر رہا تھا اس کا افلاس زدہ چہرہ ہمارے الاؤ کی روشنی میں لاش کا سایہ زرد، مٹیالا اور  ہیبت ناک نظر آتا تھا۔ اس کا تمام جسم کانپ رہا تھا۔ یہ ارتعاش ہمارے دل میں نفرت آمیز ہمدردی کے جذبات پیدا کر رہا تھا۔ استخوانی ہاتھوں کو آگ کی جانب بڑھا کر ان کو آپس میں رگڑتے وقت اس کی انگلیوں کے جوڑ چٹخ رہے تھے۔ قصہ مختصر اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا جا سکتا تھا۔
’’تم نے ایسی حالت میں پیدل سفر کیوں اختیار کیا....ہائے،کنجوسی!‘‘سپاہی نے اس سے دریافت کیا۔
’’ انہوں نے مجھے منع کیا تھا.... کہ سمندر کے راستے نہ جاؤ، صلاح دی تھی، کے خشکی کے راستے کریمیا ہوتا ہوا جاؤں .... مگر بھائیو، میں اپنا سفر اب جاری نہیں رکھ سکتا.... میں مر رہا ہوں .... میں اس میدان میں تن تنہا مر جاؤں گا پرندے میری نعش کو نوچ لیں گے.... کسی کو خبر تک نہ ہو گی.... میری بیوی اور  میری لڑکیاں میری منتظر ہوں گی.... میں انہیں خط لکھ چکا ہوں .... اس میدان میں بارش میری ہڈیاں بہا کر لے جائے گی.... آہ میرے پروردگار!.... میرے پروردگار!!‘‘
اس کی آواز کسی زخمی بھیڑئیے کی درد ناک چیخ یا پکار کے مانند تھی۔
’’ آہ، شیطان‘‘ سپاہی نے جست کر کے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔’’ یہ بک بک کس لئے لگا رکھی ہے تم نے۔ کیا تم ہمیں ایک لمحہ چین بھی لینے دو گے یا نہیں .... مرنا چاہتے ہو تو مر جاؤ مگر خدا کے لئے ذرا خاموش رہو.... تمہاری ضرورت بھی کس کو ہے؟.... اب خاموش ہی رہنا‘‘
’’ سر پر ایک دھول نہیں جما دیتے!‘‘ طالب علم نے سپاہی کو صلاح دیتے ہوئے کہا۔
’’ چلو اب سو جائیں ‘‘ میں نے کہا’’ اور  رہے تم! اگر آگ تاپنا چاہتے ہو تو خدا کے لئے زبان منہ میں ہی رکھنا۔‘‘
’’ سن رہے ہو؟‘‘ سپاہی نے بڑھئی سے غصے میں دریافت کیا’’ یہ خیال دماغ سے نکال دو کہ ہم تم پر ترس کھا کر تمہاری تیمار داری کریں گے۔ اس لئے کہ تم نے ہمیں روٹی کا ٹکڑا دیا تھا اور  ہم پر فائر کیا تھا۔ تم مکمل شیطان ہو....یہ کام کوئی اور  ہی کرے گا۔‘‘
سپاہی نے اور  کچھ نہ کہا اور  اپنے آپ کو زمین پر دراز کر دیا۔ طالب علم پہلے ہی سے لیٹا ہوا تھا۔ میں بھی لیٹ گیا۔ خوفزدہ بڑھئی جسم کو سکیڑتے ہوئے الاؤ کی طرف بڑھا۔  اور  آگ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ میں اس کے داہنے پہلو میں لیٹا اس کے دانتوں کی رگڑ کی آواز کو سن رہا تھا۔ طالب علم اس کے بائیں طرف سکڑا ہوا تھا اور  غالباً لیٹتے ہی سو گیا تھا،۔ سپاہی اپنے سر کو ہاتھوں کا سہارا دیئے آسمان کو تک رہا تھا۔
’’ کیسی سہانی رات ہے، کس قدر ستارے چمک رہے ہیں ‘‘ تھوڑے عرصے کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا’’ دیکھو ایک لحاف کی طرح معلوم ہوتا ہے.... جہاں نور دی کی اس زندگی کو میں واقعی پسند کرتا ہوں .... گو ایسی زندگی میں سردی کی شدت اور  فاقہ کشی برداشت کرنا پڑتی ہے۔  مگر آزادی تو ہے.... تمہارا کوئی آقا نہیں اپنے کارو کردار کے تم خود مالک ہو.... اگر اپنا سر بھی چاٹنا چاہو تو تمہیں کوئی روکنے والا نہیں .... یہ زندگی خوشگوار ہے!.... ایام فاقہ کشی نے میری طبیعت کو بگاڑ دیا تھا.... مگر اب میں یہاں لیٹا آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ ستارے جھلملا رہے ہیں۔ جیسا کہ وہ مجھ سے کہنا چاہتے ہیں ، لیکوتن، کچھ پروانہ کرو، جاؤ، سیاحت کرتے رہو مگر خیال رہے کسی کی غلامی قبول نہ کرنا.... دل کس قدر مسرور ہے!’’.... میاں بڑھئی کہو،تمہارا کیا حال ہے.... بھئی خفا مت ہونا ہم سے۔  اگر ہم نے تمہاری روٹی کھا لی ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟ تمہارے پاس کچھ کھانے کو تھا اور  ہم بھو کے تھے، چنانچہ ہم نے اسے کھا لیا.... مگر تم بہت خطر ناک آدمی ہو۔ تم نے ہم پر گولی چلائی تھی.... تمہاری اس حرکت نے مجھے سخت برانگیختہ کر دیا تھا اور  اگر تم خود بخود زمین پرنہ گر پڑتے تو میں تمہیں اس گستاخی کا مزا چکھا دیتا.... روٹی کا افسوس نہ کرو۔ پیری کوپ پہنچ کر تم کھانا خرید سکتے ہو.... مجھے معلوم ہے کہ تمہارے پاس نقدی ضرور موجود ہے.... کب سے بخار آ رہا ہے تمہیں ؟‘‘
ایک عرصے تک سپاہی کی بھدی اور  کرخت آواز ا ور بڑھئی کی لرزاں گنگناہٹ میرے کانوں میں گونجتی رہی۔ رات.... جواب کا جل کی طرح سیاہ تھی، زمین پر اپنی پوری تاریکیوں کے ساتھ نیچے اتر رہی تھی۔ میرے سینے کو فضا کی بھینی بھینی خوشبو فرحت بخش رہی تھی۔ آگ کی ہلکی روشنی اور  اس کی گرمی جان بخش تھی.... میری آنکھیں بند ہو گئیں۔
’’ اٹھو، جلدی کر.... چلو چلیں !‘‘
میں گھبرا کر اٹھا اور  سپاہی کی مدد سے جو مجھے آستین پکڑ کر زور زور سے جھنجھوڑ رہا تھا فوراً کھڑا ہوا۔
’’ چلو،اب تیزی سے قدم بڑھاؤ!‘‘
اس کے چہرے سے گھبراہٹ ہویدا تھی۔  میں نے اپنے گردو پیش نگاہ دوڑائی۔ سورج طلوع ہو رہا تھا اور  اس کی ایک گلابی کرن بڑھئی کے ساکت اور  مردہ چہرے پر پڑ رہی تھی.... اس کا منہ کھلا تھا، اس کی آنکھیں جو باہر کو ابھری ہوئی تھیں ایک بے نور اور  دہشت زدہ صورت میں آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں اس کا کرتہ چھاتی کے مقام سے پھٹا ہوا تھا۔ اور  وہ ایک غیر فطری انداز میں زمین پر اینٹھا پڑا تھا۔
’’ بہت دیکھ چکے، چلو اب، میں کہتا ہوں اب چلو!‘‘سپاہی نے میرا بازو کھینچ کر چلنے کو کہا۔
’ ’کیا یہ مر چکا ہے؟‘‘ میں نے صبح کی نا خوشگوار تازگی اور  سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’’ ہاں ، مر چکا ہے، اگر تمہارا گلا گھونٹ دیا جاتا تو یقیناً تم بھی مر جاتے‘‘
تو کیا، یہ.... یہ طالب علم نے تو نہیں کیا؟‘‘ میں چلا اٹھا۔
’’اس کے سوا اور  کون ہو سکتا ہے؟ کیا تم نے یا میں نے اس کو مارا ہے پھر؟....یہ ہے پڑھے لکھوں کا حال.... اس نے اس کو بڑی چالاکی سے ہلاک کر دیا ہے اور  اپنے دوستوں کو آفت میں پھنسا کر چلتا بنا ہے۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ ایسا غدار ثابت ہو گا۔ توکل ہی میں نے ایک ہی ضرب سے اس کا کام تمام کر دیا ہوتا.... کنپٹی پر ایک گھونسہ جماتا اور  دنیا سے ایک رذیل اور  بد کردار شخص ہمیشہ کے لئے کم ہو جاتا.... کیوں اب سمجھے کچھ کہ اس نے کیا کر دیا ہے؟ اب بہتر یہی ہے کہ یہاں سے بھاگ چلیں ، پیشتر اس کے کہ ہمیں کوئی اس میدان میں دیکھ لے.... سمجھے کچھ؟ بہت جلد انہیں بڑھئی کی لاش مل جائے گی، اور  وہ قاتل کے سراغ میں مصروف ہو جائیں گے۔ اور  ہم ایسے آوارہ گردوں کو پکڑ کر طرح طرح کے سوالات پوچھیں گے، گو میں اور  تم بالکل بے گناہ ہی ہیں .... یہ اور  مصیبت ہے کہ اس کی پستول میری جیب میں پڑی ہے۔‘‘
’’ پھینک دو اسے، پھینک دو!‘‘ میں نے اسے صلاح دی
’’ پھینک دوں ؟‘‘ سپاہی نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا‘‘ وہ کیوں ؟ یہ تو قیمتی چیز ہے۔ شاید ہم بیچ نکلیں ! نہیں میں تو اسے ہر گز نہ پھینکوں گا.... اس کی قیمت تین روبل کے قریب ہو گی.... یہ کون معلوم کر سکتا ہے کہ اس بے چارہ کے پاس کوئی ہتھیار بھی تھا یا نہیں .... اس میں ایک گولی بھی ہے.... آہ! میں گولی اپنے اس دغا باز دوست کے دماغ میں اتارنے کے لئے کس قدر بے قرار ہوں !.... خدا معلوم وہ اس بے چارے کا کتنا روپیہ لے بھاگا ہے؟.... لعنت ہو اس پر!!‘‘
اور بیچارے بڑھئی کی لڑکیوں کا کیا حشر ہو گا؟‘‘ میں نے سپاہی سے کہا۔
’’ لڑکیاں ؟.... کس کی لڑکیاں ؟ ہاں ، بڑھئی کی.... کیوں ، وہ جوان ہو جائیں گی۔  اور  ہم سے تو وہ شادی کرنے سے رہیں .... ہم ان کے متعلق کیوں فکر کریں چلو، بھائی، اب چلیں ....مگر جائیں کس طرف!‘‘
میں نے مڑ کر دیکھا۔ بہت دور ایک سیاہ پہاڑی کے اوپر سورج چمک رہا تھا۔
’’ کیا دیکھ رہے ہو کہ وہ زندہ تو نہیں ہو گیا۔؟ بے خوف رہو، اب وہ اٹھ کر ہمارا پیچھا نہ کرے.... یہ اپنے کام کا پورا ماہر معلوم ہوتا ہے، دیکھو تو اس نے اس غریب کو کس طرح سرد کیا ہے.... کیسا شاندار رفیق تھا! اس نے ہمارے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا ہے.... آہ! اب اخلاق روز بروز رو بہ تنزل ہے لوگ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ سپاہی نے غمگین لہجے میں کہا۔
خاموش اور  سنسان میدان سورج کی روشنی سے معمور تھا جو ہمارے گرد و پیش، افق پر آسمان کی نیلاہٹ کے ساتھ اس دلنواز انداز میں تحلیل ہو رہی تھی کہ اس وقت تمام سیاہ کاریاں اور  غیر منصفانہ کام میدان کی اس عظیم الشان سادگی اور  وسعت میں آسمان کے نیلے گنبد کے نیچے بالکل نا ممکن معلوم ہوتے تھے۔
’’ بھائی، مجھے تو سخت بھو ک لگ رہی ہے!‘‘ میرے ساتھی نے ہاتھ سے سگریٹ بناتے ہوئے کہا۔
’’ مگر سوال ہے کہ ہم کھائیں گے کیا اور  کہاں اور  کب کھائیں گے!‘‘
یہی حل طلب چیز تھی.... ایک معما!
یہاں تک پہنچ کر ہسپتال میں اس شخص نے میرے ساتھ والے جو بستر پر لیٹا ہوا تھا اپنا قصہ یوں ختم کر دیا۔ یہ داستان کا خاتمہ ہے.... میں اور  سپاہی گہرے دوست بن گئے۔ ہم دونوں نے کارس کے علاقے تک ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ وہ ایک رحمدل اور  تجربہ کار آدمی تھا۔ میری نظروں میں اس کی بڑی عزت تھی۔ ایشیائے کو چک پہنچ کر ہم ایک دوسرے کی نظروں سے او جھل ہو گئے۔
’’ کیا تمہیں وہ بڑھئی اب بھی یاد آتا ہے؟‘‘ میں نے اس سے دریافت کیا۔
’’ جی ہاں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آپ نے دیکھا ہے بلکہ جیسا آپ نے سنا ہے!‘‘
’’ اور  کچھ نہیں۔ کسی قسم کا احساس بھی نہیں ؟‘‘
اس پر وہ ہنسنے لگا۔
’’ مجھے اس واقعے کے متعلق کس طرح احساس ہو؟ بڑھئی پر جو کچھ گذرا، اس کا میں ذمہ دار نہیں اور  مجھ پر جو کچھ گذرا اس کے آپ ذمہ دار نہیں اور  سچ تو یہ ہے کسی چیز کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں .... اس لئے کہ ہم سب یکساں ہیں ، یعنی درندے!‘‘
٭٭٭



چھبیس مزدور اور  ایک دوشیزہ


ہم تعداد میں چھبیس تھے۔چھبیس متحرک مشینیں ایک مکان میں مقید۔  جہاں ہم صبح سے لے کر شام تک بسکٹوں کے لئے میدہ تیار کرتے۔
ہماری زندان نما کوٹھڑی کی کھڑکیاں اینٹوں اور  کوڑا کرکٹ سے بھری ہوئی کھائی کی طرف کھلتیں جن کا نصف حصہ آہنی چادر سے ڈھکا ہوا اور  شیشے گردو غبار سے اٹے ہوئے تھے اس لئے سورج کی شعاعیں ہم تک نہ پہنچ سکتیں۔
ہمارے آقا نے کھڑکی کا نصف حصہ اس لئے بند کروا دیا تھا کہ ہمارے ہاتھ اس کی روٹی میں سے ایک لقمہ بھی غریبوں کو دینے کے لئے باہر نہ نکل سکیں یا ہم ان بھائیوں کی مدد نہ کر سکیں جو کام کی قلت کی وجہ سے فاقہ کشی کر رہے تھے۔
ہمارا مالک’’ جیل کے غلاموں ‘‘ کے نام سے پکارتا اور  کھانے کے لئے گوشت کی بجائے انتڑیاں دیتا۔
اس سنگین زندان کی چھت تلے جو دھوئیں کی سیاہی اور  مکڑیوں کے جالے سے بھری پڑی تھی ہم نہایت تکلیف میں زندگی بسر کر رہے تھے۔
اس چار دیواری میں جو کیچڑ اور  میدہ کے خمیر سے اٹی ہوئی تھی۔ ہماری زندگی غم و فکر کی زندگی تھی.... پوری نیند اور  آرام کئے بغیر ہم ہر روز صبح پانچ بجے بیدار ہو کر نیم خوابی کی حالت میں ہی اس میدہ سے بسکٹ تیار کرنے لگ جاتے جو ہمارے سوتے وقت تیار کیا ہوتا۔اس طرح صبح سے لے کر رات کے دس بجے تک ہم میں سے کچھ تو بسکٹوں کے لئے خمیر تیار کرتے اور  کچھ میدہ گوندھتے۔اتنا عرصہ ہی ابلتے ہوئے پانی کی آواز بھٹی میں نانبائی کی سلاخ ڈالنے کا شور ہمارے کانوں میں گونجتا رہتا۔
صبح سے لے کر شام تک بھٹی آتش کدہ کی طرح دہکتی رہتی جس کی سرخ شعاعوں کا عکس دیوار پر اس طرح رقص کرتا معلوم ہوتا جیسے وہ ہم بد نصیبوں کو دیکھ کر خاموش ہنسی ہنس رہا ہو۔
وہ بڑی بھٹی کسی دیو کے بد وضع سر کے مشابہ تھی جو اپنے بڑے حلق سے آگ اگل رہا ہو۔ ہمارے ساتھ جہنم کی جھلسا دینے والی گرمی ایسے سانس لے رہا ہو اور  ہماری غیر مختتم کام کو اپنی پیشانی کے سیاہ و تاریک سوراخوں سے مطالعہ کر رہا ہو۔ یہ دو عمیق سوراخ آنکھوں کے مشابہ تھے.... آنکھیں جو کسی دیو کی آنکھوں کی طرح ہمدردی اور  رحمدلی کے جذبہ سے عاری ہوں۔  آنکھیں ہمیشہ تاریک نظر سے دیکھتیں ، جیسے وہ اپنے غلاموں کو دیکھتے دیکھتے تنگ آ گئی ہوں اور  اس بات کی توقع چھوڑ دی ہو کہ جنس آدم میں سے ہیں۔ ہم ہر روز نا قابل برداشت گردو غبار اور  جھلسا دینے والی بھاپ کے درمیان اپنی عرق آلود پیشانیوں سے میدہ گوندھتے اور  بسکٹ تیار کرتے۔ ہمیں اس کام سے سخت نفرت تھی اور  یہی وجہ تھی کہ ہم تیار کردہ بسکٹوں پر سیاہ اور  ریگ آلود روٹی کو ترجیح دیتے تھے۔
روزمرہ کے کام سے ہمارے اعصاب مشینوں کی طرح خود بخود کام کرنے کے عادی ہو گئے تھے اور  بسا اوقات ان کی حرکت دل و دماغ سے محو ہو جاتی تھی۔ کام کے دوران میں ہم ایک دوسرے سے بالکل ہمکلام نہ ہوتے کیونکہ ہمارے پاس گفتگو کے لئے کوئی موضوع ہی نہ تھا۔ اس لئے ہمارا تمام وقت خاموشی میں گزرتا، بشرطیکہ ہم میں سے کوئی کسی سے لڑ نہ پڑے۔ مگر جھگڑے کا بہت کم موقع آتا.... اور  آتا بھی کیسے؟.... جبکہ انسان نیم مردہ ہو.... ایک بت جس کی حسیات شب و روز کی متواتر محنت سے کند اور  مردہ کر دی گئی ہوں۔ خاموشی ان اشخاص کیلئے جو سب کچھ کہہ چکے ہوں اور  کچھ کہنے کے لئے باقی نہ رکھتے ہوں ، خوف اور  اذیت ہے.... مگر ان کیلئے جو ابھی اپنی آواز سے ہی نا آشنا ہوں خاموشی بجائے تکلیف دہ ہونے کے آسان و راحت رساں ہے۔
اس خاموشی کو کبھی کبھار ہمارا راگ توڑ دیتا....وہ راگ اس طرح ظہور میں آتا.... ہم میں سے ایک کبھی تھکے ہوئے گھوڑے کے ہنہنانے کی طرح کوئی ایسا راگ الاپنا شروع کر دیتا۔ جو عموماً ایسے موقعوں پر روح کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پہلے پہل تو اس اداس راگ میں کوئی شامل نہ ہوتا.... اور  وہ راگ ہماری زندان نما کوٹھڑی کی چھت کے نیچے شمع کی لو کی طرح لرزتا رہتا۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد اس گانے والے کے ساتھ ہم میں سے ایک اور  شامل ہو جاتا.... اب وہ غمگین وہم آہنگ آوازیں ہماری قبر نما کوٹھڑی کی کثیف فضا میں تیرتی نظر آتیں .... تھوڑی دیر کے بعد ہم سب اس راگ میں شامل ہو جاتے۔  اب بہت سی آوازیں جمع ہو کر سمندر کی موجوں کی طرح سنگین قفس کی سیاہ دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر گونجنا شروع کر دیتیں۔ اس طرح ہم سب اپنے آپ کو راگ الاپنے میں مصروف پاتے۔
ہمارے بلند راگ کے سر جو کوٹھڑی میں آزادانہ طور پر سما نہ سکتے تھے پتھر کی سیاہ دیواروں کے ساتھ ساتھ ٹکرا ٹکرا کر آہ وزاری، نالہ فریاد کرتے اور  ہمارے بے حس دلوں میں ایک ہیجان، ایک میٹھا سا درد پیدا کر دیتے جو اس کے مند مل زخموں کو پھر ہرا کر دیتا اور  اسے ایک نئے الم کے لئے بیدار کر دیتا۔
عام طور پر گانے والا سرد آہ بھرتے ہوئے اپنا گانا بند کر دیتا اور  آنکھیں بند کئے اپنے رفیقوں کے راگ کو خاموشی سے سنتا۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر ان کے ساتھ شامل ہو جاتا۔
اس کی نگاہوں میں راگ کی بڑھتی ہوئی لہر ایک دور افتادہ سڑک تھی۔ دور بہت دور ایک کشادہ سڑک سورج کی جاں پرور روشنی سے منور جس پر وہ گامزن ہے.... اسی دوران میں آگ کے شعلے، بھٹی میں سرخ زبانیں نکال رہے ہوتے۔ نانبائی کی آہنی سلاخ بھٹی کی زرد اینٹوں پر تیز آواز میں کھیل رہی ہوتی۔ ابلتے ہوئے پانی کا شور بدستور جاری رہتا اور  شعلوں کا عکس دیوار پر رقصاں خاموش ہنسی ہنس رہا ہوتا۔
اور ہم کسی غیر کے لفظوں میں ان انسانوں کا دکھ درد بیا ن کرنے میں مصروف ہوتے جن سے سورج کی روشنی چھین لی گئی ہو، جو غلام ہوں۔
یہ تھی ہماری زندگی.... چھبیس غلاموں کی زندگی اس قفس میں جس میں زندگی کے ایام اس قدر تلخ گذر رہے تھے کہ معلوم ہو رہا تھا کہ سنگین مکان کی تینوں منزلیں ہمارے کندھوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔
گانے کے علاوہ ہمارے پاس ایک اور  مشغلہ تھا جس کی ہماری نظروں میں ویسے ہی قدر و قیمت تھی جیسے سورج کی دلفریب شعاعوں کی۔
ہمارے مکان کی دوسری منزل میں زری کا کارخانہ تھا جس میں بہت لڑکیاں ملازم تھیں۔ ان لڑکیوں میں سولہ برس کی دوشیزہ  ٹینیا نامی تھی جو ہمارے سامنے والی دیوار کی چھوٹی کھڑکی کے پاس ہر روز آتی اور  سلاخوں کے ساتھ اپنا گلاب جیسا چہرہ لگا کر سریلی آواز میں پکارتی:
’’ مظلوم قیدیو! مجھے تھوڑے سے بسکٹ دو۔‘‘
اس آواز کو سنتے ہی ہم سب کھڑکی کے پاس دوڑے چلے جاتے اور  اس خوبصورت اور  معصوم چہرے کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھتے۔ اس کی آمد ہمارے لئے خوشگوار ہوتی۔ اس کی تیکھی ناک کو کھڑکی کے شیشے کے ساتھ چمٹے ہوئے اور  سپید دانتوں کو مسکراتے ہوئے سرخ ہونٹوں میں چمکتے ہوئے دیکھنے سے ہمارے دل کو راحت پہونچتی تھی اس کو کھڑکی کے پاس دیکھ کر ہم سب دروازے کی جانب بڑھتے اور  ایک دوسرے کو ریلتے ہوئے دروازہ کھول دیتے، دروازہ کھلنے پر وہ اندر آ جاتی۔ ہمیشہ اسی انداز کے ساتھ مسکراتی ہوئی، اپنے خوبصورت سر کو ایک طرف لٹکائے ہوئے جس سے بھورے بالوں کے خوبصورت گیسو عجب دلکش انداز میں اس کے شانوں پر لٹک رہے ہوتے۔
ہم غلیظ، زشت رو اور  بد وضع حسرت زدہ بھکاریوں کی طرح کھڑے اس کی شکل کی طرف دیکھا کرتے جو دروازے کی دہلیز پر کھڑی محو تبسم ہوتی۔ ہم سب اس کی خدمت میں صبح کا سلام عرض کرتے اور  اس کے ساتھ گفتگو کرتے وقت خاص الفاظ استعمال میں لاتے۔
وہ الفاظ ہماری زبان سے خاص اسی کے لئے نکلتے.... خاص اسی کے لئے
جب ہم اس سے ہم کلام ہوتے تو ہماری آواز خلاف معمول ملائم اور  نرم ہوتی اور  ہماری بد ذوقی اس وقت بالکل غائب ہو جاتی.... یہ آداب صرف اسی کے لئے مخصوص تھے۔نانبائی سرخ اور  خستہ بسکٹ نکال کر اس کی جھولی میں عجب چابک دستی سے پھینک دیا کرتا۔
’’ دیکھ! خیال رہے۔ کہیں آقا کے دام میں گرفتار نہ ہو جانا۔‘‘ ہم ہمیشہ اسے اس خطرہ سے آگاہ کرتے رہتے۔
اس پر وہ دلکش ہنسی ہنستی ہوئی یہ جواب دیتی’’ خدا حافظ میرے ننھے قیدیو!‘‘اور یہ کہتے ہی وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو جایا کرتی۔
اس کی روانگی کے بعد ہم دیر تک اس کے متعلق گفتگو کرتے .... ہمارے خیالات ہمیشہ ایک ہی ہوتے کیونکہ وہ ، ہم اور  ہمارے گرد و پیش کی اشیا ہمیشہ وہی ہوتیں غیر متبدل اس انسان کے لئے زندگی ایک عذاب ہے جس کا ماحول ثباتی ہو۔ جتنا عرصہ وہ اس ماحول میں بسر کرے گا، اسی قدر اس فضا کا سکون اس کے لئے نا قابل برداشت ہو تا جائے گا۔
ہم صنف نازک کے متعلق ایسے الفاظ میں گفتگو کیا کرتے کہ بعض اوقات وہ گفتگو نا گوار خاطر ہو جایا کرتی.... اس سے یہ نتیجہ نہ اخذ کر لیا جائے کہ ہمارے خیالات عورتوں کے متعلق اس قدر برے تھے۔ وہ صنف جس کے متعلق ہم اظہار خیالات کیا کرتے،عورت کہلائے جانے کی مستحق نہیں۔
ٹینیا کی شان میں ہمارے منہ سے کوئی گستاخ کلمہ نکلنے نہ پاتا.... شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ ہمارے پاس بہت کم عرصہ ٹھہرتی تھی.... وہ ہماری نظروں کے سامنے آسمان سے ٹوٹے ہوئے ستارے کی طرح روشنی دکھلا کر پھر اوجھل ہو جاتی۔
اوریا اس کی وجہ اس کا حسن ہو کیونکہ ہر حسین چیز انسان کے دل میں اپنی وقعت اور  عزت پیدا کر دیتی ہے.... خواہ وہ انسان غیر تربیت یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے علاوہ ایک اور  وجہ بھی تھی۔ گو زندان ایسی مشقت نے ہم سب کو وحشی درندوں سے بدتر بنا دیا تھا ، مگر ہم پھر بھی انسان تھے اور  بنی نوح انسان کی طرح ہم بھی بغیر کسی کی پرستش کئے زندہ نہ رہ سکتے تھے۔ ہمارے لئے اس کی ذات سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور  شے نہ تھی۔ اس لئے کہ بیسیوں انسانوں میں سے جو اس عمارت میں رہتے، ایک صرف وہی تھی جو ہماری پرواہ کیا کرتی تھی.... سب سے بڑی وجہ یہی تھی۔
ہر روز اس کے لئے بسکٹ مہیا کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے تھے۔
یہ نذرانہ ہوتا جو ہم ہر روز اپنے دیوتا کی قربان گاہ پر پیش کیا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ رسم ایک مقدس فرض میں تبدیل ہو گئی۔  ہمارا اور  اس کا رشتہ باہم مضبوط ہو گیا۔
بسکٹوں کے علاوہ ہم ٹینیا کو نصیحتیں بھی کیا کرتے، یہی کہ وہ اس سردی میں گرم کپڑے استعمال کیا کرے اور  سیڑھیوں پر آرام سے اترا کرے۔
ہماری ان نصیحتوں کو وہ مسکراتی ہوئی سنا کرتی اور  ان پر کبھی عمل نہ کرتی۔
اس کا یہ طرز عمل ہمیں کبھی نا گوار معلوم نہ ہوتا کیونکہ نصیحتوں کے پس پردہ ہماری صرف یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہ اس بات سے باخبر ہو جائے کہ ہم اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔
بعض اوقات وہ ہمیں کچھ کام کرنے کے لئے کہتی جسے ہم بصد خوشی نہیں بلکہ فخر کے ساتھ کیا کرتے۔ لیکن جب ایک دفعہ ہمارے رفیق نے اسے اپنی قمیض دے کر پیوند لگانے کو کہا تو اس نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے جواب دیا ’’کیا نگوڑا یہی کام رہ گیا ہے میرے لئے۔ مجھے اور  بہت سے کام کرنے ہیں۔‘‘
ہم اپنے بیوقوف ساتھی کی اس حرکت پر خوب ہنسے اور  پھر اسے کسی کے کرنے کو نہ کہا۔ ہمیں اس سے محبت تھی۔ اگر محبت کہا جائے تو سمجھ لیجئے کہ تمام جذبات اسی لفظ میں نہاں ہیں۔
انسان کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ وہ کسی کو اپنی محبت کا مرکز بنائے۔ خواہ اس کا محبوب اس کی محبت کے بوجھ تلے پس ہی کیوں نہ جائے۔ اسکی تمام تر وجہ یہ ہے کہ محبت کرتے وقت وہ اپنے محبوب کا احترام نہیں کرتا۔ ہم اگر ٹینیا کو محبت کرتے تھے تو مجبوری سے، اس لئے کہ ہمارے پاس کوئی اور  شے موجود نہ تھی جس سے ہم محبت کر سکیں۔ کبھی کبھی ہم میں سے ایک یہ سوچنے لگ جاتا کہ ہم سب اس لڑکی کے متعلق بے فائدہ سرگردانی کیوں کر رہے ہیں ؟ اس چھو کری کی محبت میں آخر ہمیں کیا ملے گا؟ اس شخص کی جو ٹینیا کی شان میں ایسے گستاخانہ کلمات کہنے کی جرات کرتا، بہت بری حالت کی جاتی۔ 
ہم چاہتے تھے کہ کسی سے محبت کریں اور  اب چونکہ ہمیں وہ چیز جس کے ہم متلاشی تھے مل گئی تھی اس لئے ہم اس سے الفت کرتے۔ اور  وہ چیز جسے ہم چھبیس اشخاص محبت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے، امر لازم تھا کہ دوسرے اس کا احترام کریں۔ اس لئے کہ وہ ہماری مقدس عبادت گاہ تھی اور  اگر کوئی شخص ہمارے نظریہ کے خلاف چلتا تو وہ ہمارا دشمن تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں ، لوگ اکثر اس چیز سے محبت کرتے ہیں جو حقیقت میں محبت کئے جانے کے قابل نہیں ہوتی.... مگر یہاں ہم چھبیس شخص ایک ہی کشتی میں سوار تھے۔ اس لئے ہم چاہتے تھے کہ اس چیز کو جسے ہم پیار کرتے ہیں ، دوسرے مقدس خیال کریں۔ بسکٹ کے کارخانہ کے علاوہ ہمارا آقا ایک کیک بنانے والی فیکٹری کا مالک تھا جو اسی مکان میں واقع تھی۔ ہماری قبر نما کوٹھڑی کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔اس فیکٹری کے ملازم اپنے کام کو ہمارے کام سے اعلیٰ و مصفا خیال کرتے۔  ہمیں نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے اور  یہی وجہ تھی کہ ہمارے ساتھ بہت کم ملنے کی زحمت گوارا کرتے بلکہ جب کبھی انہیں صحن میں ہمارے ساتھ دو چار ہونے کا اتفاق ہوتا تو وہ ہمیں دیکھ کر ہنسا کرتے تھے۔
ہمیں ان کے کارخانے میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی صرف اس لئے کہ ہمارے آقا کو شبہ تھا کہ ہم وہاں سے مکھن کے کیک چرا لیں گے۔
ہمیں بھی ان سے نفرت تھی، رشک تھا اس لئے کہ ان کا کام نسبتاً کم اور  مزدوری کہیں زیادہ تھی۔ ان کے لئے خورد و نوش کا سامان ہم سے نہایت اچھا تھا۔ ان کے کام کرنے کی جگہ روشن و صاف اور  وہ ہمارے برعکس تندرست اور  مصفا تھے۔ ان کے مقابلے میں ہم سب زرد اور  نحیف تھے۔ ہم میں سے تین دائم المرض اور  باقی تپ دق ایسے لرزہ خیز مرض میں مبتلا تھے۔ ہم میں سے ایک بیچارہ تو گنٹھیا کی وجہ سے قریب قریب اپاہج ہو رہا تھا۔
تعطیل کے دنوں میں وہ خوبصورت لباس اور  نئے روغن شدہ بوٹ پہن کر باغ میں چہل قدمی کے لئے نکلتے اور  ہم چیتھڑوں سے پھٹے ہوئے بوٹ پہنے ہوئے باغ کی جانب جاتے مگر پولیس ہمیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دیتی۔ ان حالات کی موجودگی میں یہ کب ممکن ہو سکتا تھا کہ ہم ان کیک بنانے والوں کو محبت کی نظروں سے دیکھتے؟
چند روز ہوئے ہم نے یہ افواہ سنی کہ ان کا منتظم شراب نوشی کی وجہ سے نکال دیا گیا ہے اور  اس کی جگہ ایک اور  شخص کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو کسی زمانے میں سپاہی تھا۔
اس سپاہی کے متعلق روایت تھی کہ وہ شوخ رنگ اور  واسکٹ پہنے ایک بڑی سی سنہری زنجیر لٹکائے صحن میں گھوما کرتا ہے۔
ہم اس نئے منتظم کو دیکھنے کے بہت شائق تھے اور  اس سے ملاقات کی امید میں ہم سب نے باری باری صحن میں چکر کاٹے مگر بے سود۔
ایک روز وہ خود ہی ہمارے کارخانے میں چلا آیا۔
بوٹ کی ٹھوکر سے دروازے کو کھول کر وہ دہلیز پر کھڑا ہو گیا اور  مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
’’ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ میرے بچو آداب عرض ہے۔‘‘
بھٹی کا دھواں سیاہ بادلوں کی طرح چکر لگا تا ہوا دروازے سے گزر رہا تھا۔ جہاں سپاہی عجب پُر رعب انداز میں کھڑا ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی موچھوں کو کمال صفائی سے تاؤ دے رکھا تھا جس میں سے زرد دانتوں کی لڑیاں ظاہر ہو رہی تھیں۔
وہ آج نیلے رنگ کی ایک بھڑکیلی کا مدار واسکٹ پہنے ہوئے تھا جس پر سنہری بٹن جا بجا چمک رہے تھے.... سونے کی وہ زنجیر جس کے متعلق ہم نے سنا تھا بلا شک و شبہ اپنی جگہ پر موجود تھی۔
یہ سپاہی مضبوط، دراز قد اور  خوبصورت تھا.... اس کی بڑی اور  روشن آنکھوں میں تندرستی کی جھلک نمایاں طور پر دیکھائی دے رہی تھی۔ ایک کلف شدہ ٹوپی اس کے سر کی زینت ہو رہی تھی اور  اس کے پاجامہ کے پائنچوں کے نیچے تازہ روغن شدہ بوٹ چمک رہے تھے۔
ہمارے نانبائی نے اس کی خدمت میں مودبانہ التجا کی کہ وہ دروازے بند کر دے۔ دروازے بند کرنے کے بعد اس نے آقا کے متعلق ہم سے طرح طرح کے سوالات کئے۔ ہم نے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے اسے بتلایا کہ ہمارا آقا چوسنے والے پسو، غلاموں کا تاجر، انسانی اجناس فروخت کرنے والا گماشتہ اور  ضرور رساں ہے.... ہم نے ان خیالات کا اظہار بھی کیا جو ہمیں اپنے آقا کے متعلق تھے، مگر ان کا صفحہ قرطاس پر لانا نا ممکن ہے۔
سپاہی اپنے سوالوں کا جواب بڑے غور سے سنتا رہا۔ مگر یک لخت جیسے وہ کسی گہرے خواب سے چونک پڑا ہو، کہنے لگا’’ تم لوگوں کے پاس چھوکریاں تو بہت ہوں گی۔‘‘
اس پر ہم میں سے بعض ہنس پڑے اور  بعض نے افسردہ منہ بنا لئے آخر کار ہم میں سے ایک نے سپاہی پر واضح کر دیا کہ ہماری گرد و نواح میں چھوکریاں ضرور موجود تھیں .... کوئی درجن ایک کے قریب!
اس پر سپاہی نے آنکھیں جھپکتے ہوئے پوچھا’’ کیا ان سے تفریح بھی ہوا کرتی ہے؟‘‘
ہم پھر ہنس پڑے.... ہم میں سے اکثر اس امر کے خواہش مند تھے کہ سپاہی پر واضح کر دیں کہ وہ چھوکریاں جن کے متعلق وہ اس قسم کی گفتگو کر رہا ہے بعینہ اسی کی مانند تیز و طرار ہیں .... مگر یہ بات کہنے کی ہم میں سے کسی کو جرات نہ تھی۔ پھر بھی ہم میں سے ایک نے دبی زبان میں یہ کہہ ہی دیا:
’’ اس حالت میں جس میں ہم ہیں ....!‘‘
’’ درست ہے! اس حالت میں اس قسم کی تفریح تمہارے لئے ناممکن ہے، دراصل تمہیں اپنی موجودہ حالت میں نہیں رہنا چاہیے۔ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ تمہاری قسمت بری ہے.... میرا مطلب سمجھتے ہونا؟.... اور  عورتیں ! تم جانتے ہو اس مرد کو پسند کرتی ہیں جو وضع دار ہو، جوان اور  خوبصورت ہو۔ اس کے علاوہ مرد میں طاقت اور  قوت کی بھی عزت کرتی ہیں .... اس بازو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے۔‘‘
سپاہی نے آستین چڑھا کر بازو کو کہنی تک ننگا کرتے ہوئے کہا بازو مضبوط اور  سپید رنگ کا تھا جس پر سنہری بال چمک رہے تھے۔
’’ ٹانگیں اور  چھاتی بھی اسی طرح مضبوط ہے.... گوشت سے بھری ہوئی....اب طاقت کے علاوہ مرد کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بہترین لباس زیب تن کرے....میری طرف دیکھو۔ تمام عورتیں مجھے سے محبت کرتی ہیں حالانکہ میں نے ان کے بارے میں کبھی کوشش کی ہی نہیں .... ایسی درجنوں ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ ایک ٹوکری پر بیٹھ گیا اور  ہمیں یہ سنانا شروع کیا ’’ کہ عورتیں اس کی محبت میں کس طرح گرفتار ہوتی ہیں اور  وہ ان کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتا ہے۔
اس کی روانگی کے بعد ہم عرصہ تک خاموش رہے اور  اس عرصہ میں اس کے عشق کے افسانوں کی بابت سوچتے رہے۔
اس خاموشی کے بعد دفعتاً ہم گفتگو میں مشغول ہو گئے جس میں اتفاق آراء سے سپاہی کو خوش خلق اور  ملنسار قرار دیا گیا۔
وہ بہت حلیم اور  خوش طبع تھا جبکہ اس نے ہمارے ساتھ اس طرح گفتگو کی جیسے وہ ہم ایسا ہو.... ہمارے پاس آج تک کوئی ایسا شخص نہ آیا تھا جس نے ہمارے ساتھ اس قسم کی دوستانہ گفتگو کی ہو۔
ہم عرصہ تک اس کی مستقبل قریب میں ان کامیابیوں کے متعلق اظہار خیالات کرتے رہے جو اسے فیکٹری میں لڑکیوں کی محبت جیتنے میں حاصل ہونی تھیں .... ان لڑکیوں کی محبت جو ہماری طرف دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیتیں جیسے انہیں ہم سے کوئی غرض ہی نہیں ، اور  یا جن کو ہم للچائی للچائی نظروں سے دیکھتے جبکہ وہ صحن میں مختلف قسم کے خوبصورت لباس پہن کر گزر رہی ہوتیں۔’’ ٹینیا کی نسبت تمہارا کیا خیال ہے! کہیں وہ سپاہی کی گرفت میں نہ آ جائے۔‘‘ نانبائی نے دفعتاً دل گیر آواز میں کہا۔
ان الفاظ نے ہم پر بہت اثر کیا۔ اس لئے ہم خاموش رہے۔
ٹینیا کا خیال ہمارے دماغوں سے تقریباً تقریباً محو ہو چکا تھا.... سپاہی کے خوبصورت اور  مضبوط جسم نے اسے ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا تھا۔ تھوڑ ے وقفہ کے بعد بحث شروع ہو گئی.... ہم میں سے بعض کو یقین تھا کہ ٹینیا ایک معمولی سپاہی کی خاطر اپنی عصمت کو ہر گز ہاتھ سے جانے نہ دے گی۔ مگر بعض کا یہ خیال تھا کہ وہ سپاہی کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔
ہم میں سے چند ایک نے رائے دی کہ اگر سپاہی اپنی خواہشات کو پایہ_¿ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرے تو اس کی پسلیاں کچل ڈالی جائیں۔
اس بحث کے اختتام پر یہ فیصلہ ہوا کہ ہم سب ٹینیا کی حفاظت کریں اور  اسے آنے والے خطرے سے آگاہ کر دیں۔
ایک ماہ گزر گیا۔
سپاہی حسب معمول اپنے کام میں مشغول رہا۔ اس دوران میں وہ ہمارے کار خانے میں کئی دفعہ آیا۔ مگر چھو کر یوں پر فتح پانے کے قصوں کی بابت ایک حرف تک زبان پر نہ لایا۔
ٹینیا بھی ہر روز صبح کو اپنے بسکٹوں کی خاطر آتی۔اس کا رویہ حسب دستور ویسا ہی دوستانہ تھا۔ ہم نے اسے سپاہی کے متعلق آگاہ کرنا چاہا، مگر ان ناموں سے جس سے وہ اسے پکارتی ہمیں یقین ہو گیا کہ وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکتی۔
ہمیں اپنی ننھی لڑکی ٹینیا پر ناز تھا جبکہ ہم ہر روز سپاہی کے ساتھ کوئی نہ کوئی لڑکی دیکھتے تھے۔ ٹینیا کے اس با وقار رویہ نے ہمارے حوصلوں کو بڑھا دیا اب ہم.... اس کی عصمت کے نگہبان، سپاہی کو حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ اس کے برعکس اس کی عظمت ہمارے دلوں میں دن بدن بڑھتی گئی۔
ایک روز سپاہی شراب میں مخمور، ہنستا ہوا ہمارے کمرہ میں داخل ہوا جب ہم نے اس کے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا۔’’ دو چھوکریاں مجھ پر آپس میں لڑ رہی ہیں .... انہوں نے کس طرح ایک دوسرے کو ذلیل کیا۔ ہاہاہا.... ایک دوسری کے بال پکڑ کر وہ زمین پر گر پڑیں .... ہاہاہا.... اور دیوانی بلیوں کی طرح نوچنا شروع کر دیا.... اور  میرا ہنسی کے مارے برا حال ہوا جا رہا تھا.... مجھے تعجب ہے کہ عورتیں صاف لڑائی نہیں لڑتیں .... نوچنے کا فائدہ؟‘‘
’’ میں اس معمہ کو حل کرنے سے قاصر ہوں .... خدا جانے عورتیں مجھ پر کیوں فریفتہ ہیں .... بس آنکھ جھپکنے کی دیر ہے اور ....‘‘ یہ کہتے ہوئے سپاہی اپنے سپید بازوؤں کو ہوا میں حرکت دے رہا تھا اور  ہماری طرف دوستانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
’’ ننھے پودوں کو اکھاڑ لینا کوئی جواں مردی نہیں ، مزا تو جب ہے کہ کسی مضبوط درخت کو گرایا جائے۔‘‘ ہمارے نانبائی نے غصہ کی وجہ سے آہنی سلاخ کو بھٹی میں تیزی سے حرکت دیتے ہوئے کہا:
’’ تو مجھ سے مخاطب ہو گیا؟‘‘ سپاہی نے دریافت کیا۔
’’ہاں ! تمہیں سے مخاطب ہوں۔‘‘
’’ اس سے تمہارا مطلب؟‘‘
’’ کچھ بھی نہیں .... کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’ ٹھہرو، ٹھہرو۔ وہ کونسا مضبوط درخت ہے جس کا تم ذکر کر رہے ہو۔‘‘
نانبائی نے اس کا جواب نہ دیا اور  بھٹی سے پکے ہوئے بسکٹ نکالنے میں مشغول رہا۔ اس سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ سپاہی اور اس کی گفتگو کو بالکل بھول چکا ہے مگر سپاہی بہت بے چین ہوا اور  اپنی جگہ سے اٹھ کر بھٹی کے قریب آیا اور  کہا:
’’ کہو تو!.... کس عورت کا ذکر کر رہے تھے؟....تم نے میری ہتک کی ہے۔ کوئی عورت مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔‘‘
اس کی گفتگو سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ نانبائی کی گفتگو سے سخت ناراض ہو گیا ہے۔ غالباً اس کو اس بات پر بہت فخر تھا کہ اس میں عورتوں کو مسخر کرنے کا وصف موجود ہے۔ ورنہ درحقیقت سوائے اس وصف کے اس شخص میں زندگی کے متعلق کوئی چیز بھی موجود نہ تھی۔ اسی ایک رہے سہے وصف کی رو سے وہ اپنے آپ کو زندہ انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا تھا۔
دنیا میں ایسے افراد موجود ہیں جو بیماری کو خواہ وہ روحانی ہو یا جسمانی زندگی کا ایک بیش قیمت جزو سمجھتے ہوئے اس کی تمام زندگی بھر پرورش کرتے رہتے ہیں اور اسی میں اپنی زندگی کا راز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایسی زندگی عموماً تکلیف دہ ہوتی ہے مگر وہ اس پر از مصائب زندگی کے متعلق دوسروں سے شکایت ضرور کرتے ہیں۔ صرف اس لئے کہ اپنے ہمسایہ انسانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا سکیں اور  اس طرح وہ انہیں ہمدردانہ نگاہوں سے دیکھیں۔ اگر ایسے افراد سے یہ بے چینی ، کرب اور تکلیف چھین لی جائے انکے درد کی دوا کر دی جائے تو وہ پہلے کی طرح شادماں نہ ہوں گے اس لئے کہ ان کی زندگی کا آخری سہارا ان سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ اب وہ کھوکھلے برتن کی مانند ہو گے۔ بعض اوقات ایک انسان کی زندگی اس قدر تنگ اور غربت زدہ ہوتی ہے کہ وہ بے قصد کسی معیوب چیز کو ہی محبت کرنے لگ جاتا ہے اور  اسی پر زندہ رہنا چاہتا ہے۔ صاف لفظوں میں اکثر لوگ صرف دماغی بیکاری کی وجہ سے گناہ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔
سپاہی سخت ناراض ہو گیا تھا۔ نانبائی کی طرف لپکا اور  درشت لہجہ میں بولا’’ میں جو بار بار کہہ رہا ہوں کہ بولو .... کس لڑکی کی بابت ذکر کر رہے ہو۔‘‘
’’ کہو پھر۔‘‘نانبائی نے سپاہی کی طرف اچانک مڑتے ہوئے کہا۔
’’ ہاں ، ہاں ‘‘
’’ کیا تم ٹینیا کو جانتے ہو۔‘‘
’’ کیوں ؟‘‘
’’ بس وہی لڑکی ہے.... قابو میں لانے کی کوشش کرو۔‘‘
’’ میں ؟‘‘
’’ ہاں ، ہاں ! تم۔ ‘‘
’’ یہ تو بالکل معمولی بات ہے۔‘‘
’’ ہم بھی دیکھیں کیسے؟‘‘
’’ تو پھر دیکھ لو گے....ہاہاہا!‘‘
’’ وہ تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے گی۔‘‘
’’صرف ایک ماہ کی مہلت چاہتا ہوں۔‘‘
’’ شیخ چلی مت بنو.... میاں سپاہی۔‘‘
’’ اچھا چودہ روز سہی.... اس کے بعد تم دیکھ لینا.... کیا نام لیا تھا تم نے ؟.... ٹینیا؟‘‘
’’ اب جاؤ.... تم کام میں حارج ہو رہے ہو۔‘‘
’’ بس چودہ روز.... اور  وہ میرے قابو میں ہو گی....تمہاری قسمت!!‘‘
’’ میں کہتا ہوں یہاں سے دور ہو جاؤ۔‘‘
یہ کہہ کر نانبائی وحشیوں کی طرح غضبناک ہو گیا۔یہ دیکھ کر سپاہی سخت حیران ہوا اور  خاموشی سے یہ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا’’ بہت اچھا۔‘‘
اس بحث کے دوران ہم سب خاموش رہے۔ اس لئے کہ ہم ان کی باہم گفتگو کو بہت غور سے سن رہے تھے لیکن جو نہی سپاہی رخصت ہوا ہمارے درمیان گفتگو کا ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ ہم میں سے ایک نے نانبائی کو چلاتے ہوئے کہا’’ تمہیں کیا شرارت سوجھی ہے۔‘‘
کام کئے جاؤ اپنا.... سنا ہے یا نہیں۔‘‘ نانبائی نے تندی سے جواب دیا۔
ہمیں دراصل اس امر کی فکر لا حق ہو رہی تھی کہ چونکہ سپاہی اپنے الفاظ کو پورا کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اس لئے ٹینیا کی عصمت خطرے میں ہے۔
مگر با وجود اس کے ہم اس بحث کا نتیجہ دیکھنے کے لئے سخت بے قرار تھے.... اس بحث کا نتیجہ جو کسی حالت میں بھی خوشگوار نہ تھا۔
’’ کیا ٹینیا سپاہی کے مقابلہ کی تاب لا سکے گی؟‘‘ اس سوال پر ہم بیک زبان چلا اٹھے۔ جیسے ہمیں ٹینیا پر پوری طرح بھروسا ہو۔
’’ ننھی ٹینیا ضرور ثابت قدم رہے گی۔‘‘
ہمیں اپنے ننھے دیوتا کی ثابت قدمی و استقلال کے امتحان لینے کی عرصہ سے خواہش تھی لیکن اب ہم نے آپس میں یہ ثابت کر دیا کہ ٹینیا اس امتحان میں ضرور سرخرو ہو گی۔ اس دن سے ہماری زندگی ایک عجب قسم کی زندگی ہو گی جس سے ہم بالکل نا آشنا تھے۔ ہم آپس میں پہروں بحث کرتے رہتے تھے، جیسے ہم پہلے نسبت زیادہ عقلمند و ذی فہم بن گئے ہوں اور  ہماری گفتگو کچھ معنی رکھتی ہو۔
اب ہمیں ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم شیطان سے بازی لگا رہے ہیں اور  ٹینیا کی عصمت ہماری طرف سے داؤ ہو۔
جب ہم نے کیک بنانے والے نانبائی سے یہ خبر سنی کہ سپاہی نے ٹینیا کا پیچھا کرنا شروع کر دیا، تو ہمیں سخت رنج پہنچا اور  ہم اس رنج کو مٹانے کے لئے اس قدر منہمک تھے کہ ہم کو یہ معلوم نہ ہوا کہ آقا نے ہماری بے چینی و اضطراب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میدہ میں تین سیر کا اضافہ کر دیا۔
اس اضطراب کے دوران میں کام کرتے ہوئے ٹینیا کا نام ہر وقت ہماری ورد زبان ہوتا اور  ہم ہر روز صبح کو اس کا انتظار کیا کرتے.... غیر معمولی بے صبری کے ساتھ۔
وہ ہر روز ہمارے پاس آتی۔ مگر ہم نے سپاہی والی تکرار کا اس کے ساتھ ذکر تک نہ کیا اور  نہ ہی اس سے کسی قسم کے سوالات کئے بلکہ حسب معمول جذبہ الفت سے ملتے رہے۔ مگر اس جذبہ الفت میں کسی نئی چیز کی جھلک تھی.... تیز تجسس کی جھلک.... خنجر کے پھل کی مانند تیز اور  سرد۔
’’دوستو! میعاد کا وقت آج کے روز پورا ہو جائے گا۔‘‘ نانبائی نے صبح کے وقت کام شروع کرتے ہوئے کہا۔
ہمیں مطلع کرنے سے پیشتر ہی اسے اس امر کا علم تھا۔ مگر پھر بھی یہ سن کر ہم سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔
’’ وہ ابھی ابھی آئے گی.... ذرا غور سے دیکھنا اسے۔‘‘ نانبائی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’ جیسے.... آنکھیں کچھ بتا سکیں گی۔‘‘ ہم میں سے ایک نے پر سوز لہجہ میں کہا۔ اس پر بحث چھڑ پڑی۔آج کے روز ہمیں معلوم ہو جانے والا تھا کہ وہ برتن جس میں ہم سب نے اپنے دل رکھے ہوئے ہیں ، کتنا صاف و بے لوث ہے۔ صرف آج کی صبح ہم کو ایسا معلوم ہونے لگا جیسے ہم کوئی بڑا کھیل کھیل رہے ہوں جس میں ہمیں اپنے معبود کے کھو جانے کا اندیشہ ہو۔
گذشتہ چند دنوں سے ہم سن رہے تھے کہ سپاہی حصول مقصد کے لئے ٹینیا کے پیچھے سایہ کی طرح لگا ہوا ہے۔ ٹینیا حسب معمول بسکٹوں کے لئے ہر روز آتی۔  مگر ہم اس سے سپاہی کے متعلق کسی قسم کا استفسار نہ کرتے۔
ہم خود متعجب تھے کہ کیوں ؟ آج کے روز بھی ہم نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا
’’ ننھے قیدیو‘‘.... میں آ گئی ہوں .... اس پر ہم سب آ گئے اور  جب وہ اندر آ گئی، تو ہم خلاف معمول اسے خاموشی سے ملے۔ گو  ہماری آنکھیں اس پر جمی ہوئی تھیں مگر ہمیں معلوم نہ تھا کہ سلسلہ کلام کیونکر شروع کریں .... ہم خاموش اور  حیرت کی تصویر بنے اس کے سامنے کھڑے تھے۔
اس انوکھے اور خلاف معمول استقبال کو دیکھ کر وہ سخت حیران ہو گئی.... اچانک اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔
بے چین و مضطرب دھیمی آواز میں کہنے لگی:
’’ تمہیں آج کیا ہو گیا ہے؟‘‘
’’ تم اپنی سناؤ۔‘‘ نانبائی نے درد انگیز لہجہ میں کہا۔
’’ اپنی؟....کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
’ ’ کچھ بھی نہیں .... کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’ تو چلو مجھے بسکٹ دو.... ذرا جلدی کرو۔‘‘
اس سے قبل اس نے آج تک اتنی پھرتی نہ دکھائی تھی۔
’’ تم جلدی کر رہی ہو۔‘‘ نانبائی نے ٹینیا سے آنکھیں جدا نہ کرتے ہوئے کہا۔ اس پر وہ دفعتاً مڑی اور  دروازے سے باہر بھاگ گئی۔
نانبائی نے اپنی سلاخ پکڑی اور  بھٹی کی طرف جاتے ہوئے دبی زبان میں کہنے لگا:
اس کا مطلب ہے.... کہ وہ اب اس کی ہے....آہ! یہ سپاہی .... حرامزادہ.... بد معاش۔‘‘
اس پر ہم بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح اپنے شانوں کو ہلاتے ہوئے میز کی طرف بڑھے اور  خاموشی سے کام کرنا شروع کر دیا۔
’’لیکن کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے....؟‘‘ ہم میں سے کسی نے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’ بس! بس.... بولنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ نانبائی نے چیختے ہوئے جواب دیا۔ ہمیں معلوم تھا کہ نانبائی عقلمند ہے۔
ہم سے کہیں زیادہ عقلمند۔ اس لئے اس کے چلانے سے ہم نے اندازہ لگا لیا کہ وہ سپاہی کی فتح و کامیابی کا اعتراف کر رہا ہے۔
یہ خیال کرتے ہوئے ہم اپنے آپ کو مصیبت زدہ اور  بے چین پاتے۔
بارہ بجے یعنی دوپہر کے کھانے کے وقت سپاہی آیا اور  حسب معمول خوش و خرم ہماری نظروں سے نظریں ملا کر دیکھنے لگا’’ معزز دوستو! اگر چاہتے ہو کہ میں تمہیں آج اپنی کامیابی کا نمونہ دکھلاؤں .... تو صحن کے ساتھ والے کمرہ میں جا کر کھڑکیوں میں سے جھانک کر دیکھو۔ سمجھ گئے۔‘‘ سپاہی نے پُر فخر لہجہ میں ہنستے ہوئے کہا۔
سپاہی کے کہنے پر ہم صحن کے ملحقہ کمرہ میں چلے گئے اور  اپنے چہرے کھڑکیوں کے روزنوں کے ساتھ جما دیئے۔ہمیں بہت عرصہ تک انتظار نہ کرنا پڑا کیونکہ جلد ٹینیا تیز قدم اٹھاتی ہوئی صحن کے چھپروں کے پاس سے جو کہ کیچڑ اور  برف سے بھرے ہوئے تھے گذری.... اس کے چند منٹ بعد سپاہی نمودار ہوا جس کا رخ ٹینیا کی طرف تھا۔ بڑے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے، سیٹی بجاتا ہوا وہ بھی ٹینیا کی طرح ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا.... اسی اثنا میں بارش شروع ہو گئی اور  ہم بارش کے قطروں کو جو چھپروں میں گر کر عجب شور پیدا کر رہے تھے، خاموشی سے دیکھنے لگے۔
بارش کی وجہ سے آج کا دن بہت اداس اور  مرطوب تھا۔ مکان کی چھتوں پر برف کی تہیں جمی ہوئی تھیں اور  زمین کیچڑ سے لت پت ہو رہی تھی۔ بارش سسکیاں بھرتی ہوئی زمین پر گر رہی تھی۔
گو ہمیں اس سردی میں اس طرح کھڑے رہنا ناگوار گزر رہا تھا۔ مگر چونکہ ہم ٹینیا کی بے وفائی پر سخت برانگیختہ تھے کہ اس نے ایک معمولی سپاہی کی خاطر ہم سب کو چھوڑ دیا۔ اس لئے ہم جلادوں کی سی ہولناک خوشی سے اس کا انتظار کرنے لگے۔
تھوڑے عرصے بعد ٹینیا واپس آئی.... اس کی آنکھیں .... ہاں اس کی آنکھیں کسی نا معلوم خوشی و انبساط سے چمک رہی تھیں .... اس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے۔وہ جھومتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔جیسے خواب ہو۔
ہم اس منظر کو خاموشی سے نہ دیکھ سکے۔ اس لئے دروازے سے نکل کر صحن کی طرف دیوانہ وار بھاگے ہوئے گئے اور  اس پر طعن و تشنیع کی بو چھاڑ کر دی۔ ہم کو اس حالت میں دیکھ کر وہ کانپی اور  ٹھیر گئی۔ جیسے وہ کیچڑ میں گر پڑی ہو۔ ہم سب اس کے گرد جمع ہو گئے اور  بغیر کچھ کہنے سنے جی بھر کے لعن طعن کی اور  شرمناک سے شرمناک گالیاں سنائیں۔ ہم نے ایسا کرتے وقت اپنی آوازوں کو شور میں نہ پڑنے دیا بلکہ اس موقع سے اچھی طرح فائدہ اٹھاتے رہے کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ ہمارے درمیان گھری ہوئی وہ کہیں نہیں جا سکتی اور  ہم جتنا عرصہ چاہیں اپنے دل کا بخار نکال سکتے ہیں۔ اگر حیرانی ہے تو اس بات کی کہ ہم نے اسے مار پیٹ کیوں نہ کی۔
وہ ہمارے درمیان گھری ہوئی گالیوں کو خاموشی سے سن رہی تھی.... اور  ہم گالیوں اور  طعنوں کے ذریعے اپنی آگ اُگل رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس کے چہرے کا رنگ اتر گیا.... اس کی نیلگوں آنکھیں جو کچھ عرصہ پہلے فرط مسرت سے چمک رہی تھیں ، اب پھٹی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ اس کی چھاتی بڑے زور سے متلاطم تھی اور  اس کے ہونٹ تھرتھرا رہے تھے.... اور  ہم اس کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنی انتقام کی آگ بجھا رہے تھے۔ اس لئے کہ اس نے ہمیں دھوکہ دیا تھا۔
وہ ہماری تھی چنانچہ ہم نے اس کی خدمت میں اپنے اپنے دل پیش کئے.... گو وہ بھکاری کے ٹکڑے سے زیادہ قیمتی نہ تھی، مگر اس نے چھبیس دلوں کو ایک سپاہی کی خاطر ٹھکرا دیا۔ ہم اسے برا بھلا کہہ رہے تھے اور  وہ خاموشی سے .... ایک تعاقب زدہ شکار کی پھٹی ہوئی آنکھوں سے ، سرتاپا ارتعاش ہماری طرف دیکھ رہی تھی۔
اس موقع پر اور  لوگ بھی جمع ہو گئے۔
ہم میں سے ایک نے ٹینیا کی آستین پکڑ کر کھینچ لی جس پر اس کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہو گئی اور  اپنے سر کو ذرا اوپر اٹھا کر بالوں کو سنوارتے اور  ہماری طرف گھورتے ہوئے دفعتاً بولی۔’’ اونہہ.... جیل کے ذلیل پرندے۔‘‘
یہ کہتی ہوئی وہ ہمارے پاس سے بغیر کسی جھجک کے گزر گئی، جیسے ہم اس کے راستہ میں حائل ہی نہ تھے.... اس کی اس دلیری نے ہمیں اس بات کی جرات نہ دی کہ ہم اسے روک لیں۔
ہماری پاس سے گزرتی ہوئی وہ حقارت آمیز لہجہ میں بولی’’ کمینہ اور  ناپاک انسان۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی اور  ہم صحن میں کیچڑ اور  برف کے تودوں کے درمیان، گرتی ہوئی بارش، سورج سے محروم آسمان تلے کھڑے رہے۔
تھوڑی دیر کے بعد ہم خاموشی سے اپنے سنگین قفس میں چلے آئے۔ جہاں سورج کی جاں بخش شعاعیں حسب معمول ہم تک کبھی نہ پہنچیں .... ٹینیا پھر کبھی نہ آئی۔ 
٭٭٭




خان اور  اس کا بیٹا


’’ ایک زمانے کا ذکر ہے کہ کریمیا میں ایک خان رہتا تھا، اس کا نام موسو لیما العصرب تھا۔ اس کا بیٹا تو لیک الگالا کے نام سے پکارا جاتا تھا۔‘‘
ان تمہیدی الفاظ سے اندھے تاتاری فقیر نے درخت کے خاکستری تنے سے پیٹھ لگا کر عہد رفتہ کی داستان سنانی شروع کی۔ اس داستان گو فقیر کے اردگرد تاتاریوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا۔ جو شوخ رنگ کے کپڑے اور  کامدار ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ حلقہ بنا کران بکھرے ہوئے پتھروں پر بیٹھ گئے جو کسی قدیم خان کے محل سے جدا ہو کر منتشر ہو رہے تھے۔ شام کا وقت تھا اور  سورج آہستہ آہستہ سمندر میں غروب ہو رہا تھا۔ اس کی عنابی کرنیں کھنڈرات کے آس پاس اُگے ہوئے درختوں کے سبز پتوں کو چیرتی ہوئی درخشاں دھبوں کی صورت میں کائی سے ڈھکے ہوئے پتھروں اور  بل کھاتی ہوئی ہری بیلوں پر پڑ رہی تھیں ہوا بوڑھے درختوں کی شاخوں میں ترنم ریزیاں کر رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پانی کی غیر مرئی ندیاں فضا میں بہہ رہی ہیں۔ اندھے فقیر کی آواز دھیمی اور لرزاں تھی، اس کے پتھرائے ہوئے چہرے کی جھریوں سے سوائے آسودگی کے اور  کچھ مترشح نہ تھا۔ لفظ جو اسے رٹے ہوئے تھے یکے بعد دیگرے بڑی روانی سے نکل رہے تھے۔ یہ سامعین کی آنکھوں کے سامنے ازمنہ رفتہ کی ایک تصویر کھینچ رہے تھے۔
’’خان گو ضعیف العمر تھا مگر اس کے حرم میں بے شمار عورتیں تھیں۔ یہ بوڑھے خان سے بہت محبت کرتی تھیں وہ اس لئے اس کی محبت میں گرفتار تھیں کہ اس کی رگوں میں شباب کی قوت ابھی برقرار تھی اور  اس کے بو سے اور  اس کی دلنوازیاں محبت کی تپش سے معمور ہوتی تھیں۔ عورتیں صرف اسی مرد سے الفت کریں گی جس کا تلطف قوی ہو، خواہ اس کے بال سپید ہی کیوں نہ ہو رہے ہوں۔ یا اس کا چہرہ جھریوں سے بد نما ہی کیوں نہ ہو رہا ہو.... حسن قوت میں مضمر ہے نہ کہ گداز جسم اور  گلاب آسا گالوں میں۔
یہ سب عورتیں خان سے محبت کرتی تھیں ، مگر اس کی منظور نظر صرف ایک قیدی لڑکی تھی جو نبیر کے ڈھلوانوں کی پلی ہوئی نازنین تھی۔ گو اس کے حرم میں مختلف ممالک کی تین سو عورتیں تھیں ، مگر وہ ان کی نسبت سے ایک وارفتگی کے ساتھ محبت کرتا تھا۔ اس کے حرم کی ہر ایک عورت بہار کے نکھرے ہوئے پھول کی طرح خوبصورت تھی۔ خان ان کے لئے بڑی بڑی دور سے بھنا ہوا گوشت اور  مٹھائیاں منگواتا اور  وہ اکثر اپنی منظور نظر کو سک لڑکی کو برج میں بلوایا کرتا، جہاں سے سمندر کا نظارہ ہو سکتا تھا۔ اس جگہ وہ اس کے لئے ایسے تمام سامان مہیا کرتا جو ایک عورت کی زندگی کو مسرور بنا سکتے ہیں۔ مختلف النوع مٹھائیاں ، رنگ برنگ کے ریشمی کپڑے، سونے کے زیور، ہر قسم کے جواہرات‘ موسیقی، درو دراز ملکوں سے منگوائے ہوئے نایاب پرندے.... اور  اس پر فریفتہ شدہ خان کی ولولہ خیز اور  پر جوش دلنوازیاں غرض کہ اس کی تفریح کے لئے ہر قسم کی چیز موجود تھی۔
اس برج میں خان دیگر سرگرمیوں سے علیحدہ ہو کر کئی کئی روز اپنی منظور نظر کے ساتھ مشغول عیش رہتا۔ وہ اس خیال سے مطمئن تھا کہ اس کا بیٹا اس کی اس زمانے کی حاصل کی ہوئی عظمت و شہرت کو بر قرار رکھے گا جب وہ روس کی ڈھلوانوں میں بھوکے بھیڑئیے کی طرح چھاپے مارا کرتا تھا۔ جب کہ وہ ہر چھاپے کے بعد ہمیشہ غنیمت کے بیش بہا مال و دولت،نئی عورتوں ، اور  نئی شان سے، اپنے پیچھے خون، جلی ہوئی راکھ،اور ہیبت کے نشانات چھوڑ کر ظفر مندانہ واپس لوٹا کرتا تھا۔
ایک دفعہ جب خان کا بیٹا الگالا روس میں چھاپہ مارنے کے بعد واپس آیا تو اس کے اعزاز میں بڑے جشن منعقد کئے گئے۔ اس جزیرے کے تمام مرزا اور  سب بیگ اس تقریب میں شریک ہوئے۔ قسم قسم کی کھیلیں کی گئیں ، طرح طرح کی دعوتیں اڑائی گئیں تیر اندازوں نے قیدیوں کی آنکھوں میں تیر گاڑ کر اپنے بازوؤں کی قوت کا مظاہرہ کیا۔ پھر الگالا کی صحت کے جام پی کر اس کی شجاعت کے گیت گائے گئے اور  اس کے حریفوں کی ہیبت کا تذکرہ کیا گیا۔
اپنے بیٹے کی شجاعت کا ذکر سن کر بوڑھے خان کو بہت خوشی حاصل ہوئی کیونکہ اب اس کی موت کے بعد اس کی حاصل کردہ عظمت مضبوط ہاتھوں کے سپرد ہونے والی تھی۔ وہ بہت مسرور تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے لڑکے سے اپنی محبت کی پختگی ظاہر کرنے کے لئے اس سے تمام مرزاؤں اور بیگوں کے سامنے جام ہاتھ میں لے کر کہا’’ میرے پیارے لڑکے!.... خدا بزرگ و برتر ہے اور  اس کا رسول با عظمت ہے۔‘‘
یہ سن کر تمام لوگوں نے بلند آواز میں ہم آہنگ ہو کر خدا اور  اس کے رسول کی حمد گائی۔ خان پھر گویا ہوا:۔
’’ خدا بزرگ و برتر ہے!.... یہ اس کی عنایت ہے کہ میری زندگی میں اس نے میرا شباب میرے لڑکے میں زندہ کر دیا ہے۔ میں اپنی ان نحیف آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ جب سورج کی شعاعیں ان سے اوجھل ہو جائیں گی اور  زمین میں مدفون میرے دل کو کیڑے چاٹ رہے ہوں گے، تو میں اپنے لڑکے کے قالب میں منتقل ہو کر نئے سرے سے زندگی بسر کروں گا۔ خدا بڑا ہے اور  محمد اس کا سچا رسول ہے!.... میرا لڑکا میری خواہش کے مطابق ہے، اس کے بازو مضبوط اور  قوی ہیں۔ اس کا دل جوان ہے، اس کا ضمیر صاف ہے.... تو لیک میرے لڑکے، بول، جس چیز کی تو خواہش کرے گا وہ تجھے فوراً مل جائے گی!‘‘
بوڑھے خان کی آواز کی گونج ابھی مدھم ہونے ہی پائی تھی کہ تو لیک الگالا اٹھا، اس کی آنکھیں سمندر کے نیم شبی نظارے کی طرح سیاہ اور  پہاڑوں کی چوٹیوں میں پلے ہوئے شاہین کی آنکھوں کی مانند شعلہ بار تھیں۔
’’ اے بادشاہ اور  باپ، مجھے وہ روسی لڑکی دے دے!‘‘ اس نے کہا
خان ایک لحظے کے لئے جو اس کے دل پر طاری شدہ لرزے کو دبانے کے لئے ضروری تھا، خاموش رہنے کے بعد بلند اور  مضبوط آواز میں بولا’’ جا اسے لے جا.... دعوت ختم ہونے پر تو اس کا مالک ہے۔‘‘
خطر پسند تو لیک الگالا کا چہرہ فرط مسرت سے سرخ ہو گیا، اس کی عقاب ایسی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اپنے قد کو پوری لمبائی تک بلند کرتے ہوئے اس نے اپنے باپ سے کہا’’ اے باپ! مجھے معلوم ہے کہ تو مجھے کیا دے رہا ہے.... مجھے معلوم ہے میں تیرا غلام ہوں .... میری رگوں میں خون کا ہر قطرہ تیری خاطر بہنے کے لئے تیار ہے.... اگر میری بیس زندگیاں ہوں تومیں بیس ہی دفعہ خود کو تجھ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہوں !‘‘
’’ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ‘‘ یہ کہتے ہوئے خان کا سپید بالوں والا سر جسے بڑے بڑے شجاعانہ کارناموں اور  کئی سالوں کی جمع شدہ حشمتوں نے بڑا وقار بخشا تھا، اس کی چھاتی پر جھک گیا۔ جشن ختم ہونے پر باپ بیٹا محل سے نکل کر حرم کی طرف روانہ ہوئے۔ دونوں ایک دوسرے کے پہلو میں بڑی خاموشی سے چل رہے تھے۔
رات اندھیری تھی، چاند اور  ستارے نظر آ رہے تھے۔ بادلوں نے آسمان پر موٹی چا در سی ڈال رکھی تھی۔
ایک عرصے تک وہ خاموش چلتے رہے، آخر کار خان نے مہر سکوت کو توڑا اور  اپنے لڑکے سے کہا:
’’ روز بروز میری زندگی ختم ہو رہی ہے.... میرے بوڑھے دل کی دھڑکن اب رفتہ رفتہ کم ہوتی جاتی ہے۔ میرے سینے میں اب وہ پہلی سی آگ نہیں سلگتی میری زندگی کی روشنی اور  حرارت اس کوسک لڑکی کی جوشیلی محبت تھی۔ تو لیک مجھے بتائ، مجھے بتاؤ ، کیا یہ لڑکی واقعی تمہارے لئے اشد ضروری ہے؟.... میری بیویوں میں سے ایک سو لے لو.... سب لے لو، مگر اس کو میرے پاس رہنے دو!‘‘
اس کا بیٹا آہ بھر کر خاموش رہا۔
’’ میری زندگی کے اور  کتنے دن باقی ہیں ؟ مجھے صرف چند گھڑیاں اس زمین پر اور  زندہ رہنا ہے۔ یہ روسی لڑکی میری زندگی کی واحد اور  آخری خوشی ہے۔ وہ مجھے اچھی طرح سمجھتی ہے، محبت کرتی ہے.... اگر وہ میرے پاس نہ ہوئی تو پھر مجھ بوڑھے سے اور  کون محبت کرے گا؟.... کون ہے جو محبت کرے گا؟.... ان میں ایسی کوئی بھی نہیں ، ایک بھی نہیں ، میرے پیارے بچے!‘‘
تولیک نے کچھ نہ کہا۔
میں یہ جانتے ہوئے کیونکر زندہ رہ سکوں گا، کہ تم اس کو اپنے بازوؤں میں لئے ہوئے ہو اور  وہ تمہیں چوم رہی ہے!....
ایک عورت کے معاملے میں ہم یقیناً باپ اور بیٹا نہیں ہیں ، ہم صرف مرد ہیں اور  بس!.... آہ، کاش کہ میرے جسم کے تمام زخموں کے منہ کھل جائیں اور  ان سے میرے خون کا آخری قطرہ بھی بہہ جائے.... کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں یہ سب کچھ دیکھنے اور  سہنے سے پہلے ہی مر گیا ہوتا!!‘‘
اس کا بیٹا خاموش رہا۔ حتیٰ کہ وہ حرم سرائے کے دروازے پر پہنچ گئے۔ یہاں وہ دونوں خاموشی میں ایک عرصے تک اپنے سر لٹکائے کھڑے رہے۔ ان کے گردو پیش تاریکی ہی تاریکی تھی۔ آسمان پر بادل ایک دوسرے کا تعاقب کر رہے تھے۔ ہوا درختوں کی ٹہنیوں کو جھولا جھلا رہی تھی۔ گویا وہ ان کو لوریاں دے رہی ہے۔
’’ ابا‘ میں ایک عرصے سے اس کی محبت میں گرفتار ہوں ‘‘ تولیک الگالا نے اپنے باپ سے کہا۔
’’ یہ مجھے معلوم ہے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ تجھ پر التفات نہیں کرتی‘‘ خان نے جواب دیا۔
’’ مگر میرا دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے، جب میں اس کا خیال کرتا ہوں ‘‘
’’ جانتے ہو میرا نحیف دل اس وقت کس جذبے سے معمور ہے؟‘‘
وہ کچھ عرصے کے لئے پھر خاموش ہو گئے۔ تولیک نے آہ بھری اور  کہا:
’’ عقلمند ملاں نے ٹھیک کہا تھا: عورت ہمیشہ مرد کی تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ اگر وہ حسین ہے، تو اس کا حسن دوسرے لوگوں کے دلوں میں اس کا اپنا بنا لینے کی ترغیب پیدا کرتا ہے۔ اس طرح اس کا خاوند رشک و حسد کی آگ میں جلتا ہے۔ اگر وہ بد شکل ہے ، تو اس کا شوہر دوسروں پر حسد کھاتا ہے۔ اگر یہ نہ حسین ہے اور  نہ بد شکل تو مرد اس کو خوبصورت تصور کرتا ہے۔ لیکن فوراً ہی یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اس کا یہ انداز غلط ہے۔ یہ مغموم ہو جاتا ہے.... یعنی ایک بار پھر یہی عورت اس کی اذیت کا باعث ہوتی ہے!‘‘
’’ میرے بچے، دانشمندی دل کے درد کی دوا نہیں ہے!‘‘ خان نے جواب دیا۔
’’ تو پھر آؤ، ہم اس کو قتل کر دیں ‘‘
یہ سن کر خان نے اپنا سر اونچا کیا۔ اور  غمگین آنکھوں سے اپنے لڑکے کی طرف دیکھا۔
’’ ہم اس کو کیوں نہ قتل ہی کریں ‘‘ تولیک نے اپنے الفاظ دہرائے۔
خان نے ایک لحظے کے لئے غور کیا، پھر گنگناتے ہوئے کہا:
’’ تو اس کی اور  میری نسبت خود سے زیادہ پیار رکھتا ہے!‘‘
’’ یہ درست ہے، مگر اے باپ، تو بھی ایسا ہی کرتا ہے۔‘‘
وہ پھر خاموش ہو گئے۔
’’ وہ واقعی میں خود سے زیادہ پیار رکھتا ہوں !‘‘ خان نے غمگین لہجے میں کہا۔ غم نے اسے بچہ بنا دیا تھا۔
’’ تو کیا وہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ قتل کر دی جائے گی؟‘‘
’’ اور  میں زیادہ دیر فرقت برداشت نہیں کر سکتا۔ یا وہ مجھے دے دو یا پھر میرے دل کو چیر کر باہر نکال پھینکو!‘‘
خان چپ رہا۔
’’ ہمیں چٹانوں پر سے اسے سمندر میں دھکیل دینا چاہئے‘‘
’’ ہمیں چٹانوں پر سے اسے سمندر میں دھکیل دینا چاہئے‘‘ خان نے اپنے بیٹے کے لفظ غیر ارادی طور پر دہرائے۔ گویا وہ ان کی ایک گونج تھے۔
یہ گفتگو کرنے کے بعد وہ دونوں حرم سرائے میں گئے۔ یہاں وہ کوسک لڑکی اپنے پُر تکلف قالین پر محو خواب تھی۔
وہ دونوں بڑھے اور  دیر تک خوابیدہ حسن پر نگاہیں جمائے کھڑے رہے خان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے جواس کی سپید داڑھی پر گر کر موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ اس کا بیٹا شعلہ نما آنکھوں سے لڑکی طرف دیکھتے ہوئے اپنے شباب کے مچلتے ہوئے جوش کو دانت پیسنے کے عمل سے دبانے کی کوشش کر رہا تھا.... وہ جاگی، اس کے نرم و نازک چہرے پر! جو طلوع آفتاب کے منظر کی طرح دلکش تھا، اس کی آنکھیں پھول کی طرح کھلیں۔ اس نے تولیک کو نہ دیکھا۔ اور  اپنے لعلیں ہونٹ، خان کی طرف بڑھا دیئے۔
’’ میرے شاہین، ان کو چومو!‘‘
’’ اٹھو،پیاری، اور ہمارے ساتھ چلو!‘‘ خان نے آہستگی کے لہجے میں کہا:
یہ سن کر اس نے تولیک کی طرف دیکھا، پھر فوراً خان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی کا مطلب اس پر واضح ہو گیا اور  وہ سب معاملہ سمجھ گئی۔
’’ میں چلنے کو تیار ہوں ‘‘ اس نے اپنی نقرئی آواز میں کہا‘‘ میں تیار ہوں ،.... کیا یہی فیصلہ ہوا ہے، تاکہ نہ میں تمہاری ہوں گی اور  نہ اس کی؟.... آہ اس فیصلے کے لئے کس قدر مضبوط دلوں کی ضرورت تھی.... میں تیار ہوں ، چلو!‘‘
لڑکی نازک جسم تھی۔ تھوڑی دور چل کر وہ تھک گئی، مگر یہ تھکاوٹ اس کے لئے باعث فخر تھی اور  وہ اسے ظاہر نہ کرنا چاہتی تھی۔
جب خان کے لڑکے نے دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہی ہے۔ تو اس نے اس سے کہا’’ کیا تم خائف ہو؟‘‘
یہ سن کر اس کے دل پر چوٹ لگی، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے مجبور اپنے زخمی پیر دکھا دیئے۔
’’آؤ ، میں تم کو اٹھا لوں‘‘ یہ کہتے ہوئے تولیک نے لڑکی کی طرف اپنے بازو پھیلائے مگر اس نے پہلو بدل کر اپنی بانہیں اپنے بوڑھے شاہین کی گردن میں حمائل کر دیں۔ خان نے اسے پرکی طرح اٹھا لیا اور  چلنے لگا۔ وہ اس کے بازوؤں میں لپٹی ہوئی درختوں کی ٹہنیوں اور  پتوں کو ہاتھ سے ہٹاتی جاتی تھی کہ کہیں وہ اسکے محبوب کی آنکھوں کو زخمی نہ کر دیں۔ وہ ایک عرصے تک چلتے رہے، آخر کار سمندر کی لہروں کی دھیمی آواز آنے لگی۔ اس وقت تولیک جو ان کے پیچھے آ رہا تھا۔ آگے بڑھا اور  اپنے باپ سے کہا:
مجھے آگے چلنے دو۔ ورنہ میری خواہش ہو گی کہ تیری گردن میں اپنا خنجر گھونپ دوں !‘‘
’’ چلو ،آگے بڑھ جاؤ.... تیسری خواہش کا پورا ہونا یہ نہ ہونا اللہ کے اختیار میں ہے وہ تجھے معاف کرے.... میں تجھے معاف کرتا ہوں اس لئے کہ مجھے معلوم ہے محبت کرنا کسے کہتے ہیں !‘‘
آخر کار سمندر ان کے سامنے تھا۔ چٹان جس پر کہ وہ کھڑے تھے اس کے نیچے، بہت دور گہرائیاں تھیں ، اتھاہ اور  تاریک! لہریں ، نیچے، چٹانوں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر دھیما راگ الاپ رہی تھیں .... نیچے، جہاں غضب کی تاریکی خوف اور  سردی تھی۔
خان نے اپنی محبوبہ کو آخری بار چوما اور  کہا’’ پیاری الوداع!‘‘
’’ الوداع‘‘ تولیک نے جھک کر کہا۔
لڑکی نے نیچے کی طرف دیکھا، جہاں موجیں گا رہی تھیں۔  اور  خوف کے مارے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کو ہٹ گئی۔
’’ مجھے نیچے گرا دو‘‘ اس نے باپ بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا۔
بیٹے نے اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اور  کچھ بڑبڑایا مگر خان نے آگے بڑھ کر اس کو اپنی چھاتی کے ساتھ زور سے بھینچا اور  اس کے لبوں کے بوسے لے کر اسے ہاتھوں پر اٹھا کر چٹان پر سے نیچے سمندر میں گرا دیا۔
نیچے موجیں پتھروں کے ساتھ ٹکر ا ٹکرا کر گا رہی تھیں۔ ان کا شور اس قدر بلند تھا کہ ان دونوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ ہوا کہ وہ کب پانی کی سطح پر گری، کسی قسم کی آواز یا چیخ ان کے کانوں تک نہ پہونچی۔
خان چٹان پر انتہائی غم کی حالت میں بیٹھ گیا اور  خاموشی سے نیچے گہرائیوں میں دیکھنا شروع کر دیا، دھندلے بالوں میں ملفوف تھا اور  لہروں کے تھپیڑوں کی آواز گونج رہی تھی، ہوا تیزی سے گذرتی ہوئی اس کی سپید داڑھی کے بالوں کو منتشر کر رہی تھی۔ تو لیک اس کے قریب خاموش، بے جان مجسمے کی طرح ہاتھوں سے اپنا منہ چھپائے کھڑا تھا، وقت گذرتا گیا، رفتہ رفتہ آسمان پر بادل چھاتے گئے، بادل کے یہ ٹکڑے بوڑھے خان کے خیالات کی طرح تاریک اور  وزنی تھے، جو چٹان کی چوٹی پر خاموش بیٹھا تھا۔
’’ ابا،آؤ چلیں !‘‘
’’ ذرا ٹھیرو!‘‘ خان نے بڑی دھیمی آواز میں کہا جیسے کہ وہ کچھ سن رہا ہے۔ اس طرح اور  وقت گذر گیا۔ لہریں نیچے پتھروں کے ساتھ ٹکراتی رہیں اور  ہوا چٹانوں اور  درختوں پر سے گذرتی ہوئی چلاتی رہی۔
’’ ابا، آؤ چلیں !‘‘
’’ ابھی ذرا ٹھیرو!‘‘
تولیک الگالا نے بہت مرتبہ اپنے باپ سے جانے کو کہا مگر وہ اس جگہ سے اٹھ کر جانا نہ چاہتا تھا،جہاں اس نے اپنے آخری ایام کی واحد مسرت کو کھو دیا تھا۔
مگر ہر چیز کی انتہا ہوتی ہے؟.... آخر کار وہ اٹھا۔ اب اس کے چہرے سے عزم و فخر کے آثار مترشح تھے۔ اس نے کھو کھلی آواز میں اپنے لڑکے سے کہا’’ چلو آؤ۔‘‘
انہوں نے گھر کا رخ کیا مگر چند قدموں کے فاصلے پر ہی خان ٹھیر گیا۔
’’ مگر میں کیوں جا رہا ہوں .... کدھر جا رہا ہوں ؟‘‘ اس نے اپنے لڑکے سے پوچھا’’ میں اب کیوں زندہ رہوں ، جب میری زندگی اس کی ذات سے وابستہ تھی؟.... میں عمر رسیدہ ہوں ، مجھ سے کوئی محبت نہ کرے گا.... اور جب کوئی محبت کرنے والا نہ ہو تو زندہ رہنا احمقانہ فعل ہے!‘‘
’’ ابا تیرے پاس دولت و ثروت ہے!‘‘
’’ مجھے اس کے لبوں کا صرف ایک بوسہ دے دو اور  یہ دولت و ثروت تم لے سکتے ہو۔ یہ چیزیں سب مردہ ہو چکی ہیں ، صرف عورت کی محبت ہی زندہ رہتی ہے۔ اگر کسی مرد کی زندگی عورت کی محبت سے خالی ہے، تو وہ زندگی ہی نہیں .... وہ مرد ایک فقیر ہے اور  رحم کے قابل ہے۔ الوداع، میرے لڑکے!خدا کی عنایات ہمیشہ تیرے شامل حال رہیں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے خان چٹان کی طرح واپس مڑا۔
’’ ابا، ابا،’’ تولیک چلاتا رہا مگر وہ اپنے باپ کو نہ روک سکا.... وہ شخص کچھ نہ سنے گا جس پر موت مسکرا رہی ہو۔ اس کے علاوہ زندگی کی گم کردہ مسرت کو کون سے لفظ واپس لا سکتے ہیں۔
’’ مجھے جانے دو!‘‘
’’ میرے اللہ!‘‘
’’ وہ سب کچھ جانتا ہے....‘‘
تیز قدم اٹھاتے ہوئے خان چٹان کے کنارے پر پہنچا اور  نیچے کود پڑا اس کا بیٹا اس کو روک نہ سکا کیوں کہ سب کچھ ایک لمحے ہی میں ہو گیا۔ اب کی بار پھر سمندر میں کسی قسم کی آواز نہ آئی.... صرف لہروں کے تھپیڑوں کی آواز اور  ہوا کے جنگلی گیتوں کی صدا آ رہی تھی۔
تولیک الگالا۔ ایک عرصے تک نیچے کی طرف دیکھتا رہا۔ آخرش اس نے بلند آواز میں کہا!
اسے اللہ مجھے بھی ایسا ہی مضبوط دل عطا کر!‘‘
یہ کہہ کر وہ رات کی تاریکی میں چلا گیا....
یہ ہے جس طرح خان مرا اور  اس کے بعد تو لیگ الگالا جانشین ہوا۔
٭٭٭


خزاں کی ایک رات


موسم خزاں کی ایک رات کا ذکر ہے، میں عجیب بے اطمینانی اور  بے چینی کی حالت میں تھا۔ جس قصبے میں میں ابھی ابھی وارد ہوا تھا اور  جہاں میں کسی متنفس سے بھی واقف نہ تھا، میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ میری جیب میں ایک پائی نہ تھی اور  رات بھر کا بسیرا میسر نہ تھا۔
پہلے چند روز میں میں نے اپنے لباس کا ہر وہ حصہ بیچ کھایا جس کے بغیر میں ادھر ادھر جا آ سکتا تھا۔ پھر شہر کو چھوڑ کر اس حصے میں چلا آیا جہاں دخانی جہازوں کے گھاٹ بنے ہوئے ہیں .... وہ حصہ جو جہاز رانی کے زمانے میں زندگی کی جدو جہد کا مرکز بنا رہتا ہے۔ لیکن جو اب خاموش اور سنسان تھا۔ کیونکہ یہ ماہ اکتوبر کے آخری دن تھے۔
گیلی گیلی ریت پر اپنے پاؤں کو گھسیٹتے ہوئے کہ شاید اس میں کسی قسم کی خوراک کا کوئی ٹکڑا دبا ہوا ہو، میں تن تنہا خالی مکانوں اور  گوداموں میں گھوم رہا تھا۔  اور  دل ہی دل میں یہ خیال کر رہا تھا کہ کیا اچھا ہو اگر پیٹ بھر کر کھانے کو کچھ مل جائے۔
موجودہ تہذیب و تمدن کو دیکھ کر ہمارا دل سیر ہو جاتا ہے، لیکن ہمارا جسم بھوکا ہی رہتا ہے بازاروں میں جاؤ، وہاں عالی شان عمارتوں میں گِھر جاؤ گے اور  ان کا نظارہ فن تعمیر، ترقی معاشرت اور  ایسے ہی بلند پروازی کے دوسرے موضوعات پر تمہارے خیالات کے لئے تقویت بخش ثابت ہو گا۔ تم کو عمدہ عمدہ گرم لباسوں میں لپٹے ہوئے لوگ ملیں گے.... بڑی نرمی سے بات کرنے والے، بڑی حکمت سے کنی کتر کے نکل جانے والے، تمہارے ننگ زمانہ وجود سے نا معلوم طریقے پر نظریں پھیر لینے والے ہاں ،ہاں۔ ایک بھوکے آدمی کا دل ہمیشہ اس شخص سے زیادہ تندرست اور توانا ہوتا ہے۔  جسے پیٹ بھر کر کھا نے کو ملتا ہو۔ اور  عسرت ہی وہ صورت حال ہے جس میں ہمیں ان لوگوں کی بہبود کا خیال آتا ہے، جس کا خیال آتا ہے، جن کا وقت فاقہ مستی میں کٹتا ہے۔
شام کا سایہ بڑھتا چلا آتا تھا۔ مینہ برس رہا تھا۔ اور  شمال کی تیز و تند ہوا چل رہی تھی۔ خالی بیٹھکوں اور  دوکانوں میں اس کے گزرنے سے چیخوں کی سی آواز پیدا ہوتی تھی،اور دریا کی لہریں ، جو شور مچاتی ہوئی ریتیلے ساحل سے ٹکرا رہی تھیں اس کے طمانچوں سے کف آلود ہو جاتی تھیں۔ اچھل اچھل کر گرتی پڑتی، ایک کے پیچھے ایک ہو کر دھندلی دوریوں کی طرف بھاگی جاتی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دریا جاڑے کی شکل دیکھتے ہی بے تحاشا بھاگ رہا ہے کہ کہیں شمال کی برفانی ہوا اپنی بیڑیاں آج ہی رات اس کے پاؤں میں نہ ڈال دے۔ آسمان بوجھل اور  تاریک ہو رہا تھا اور  اس پر سے مینہ کے باریک باریک قطرے لگاتار گر رہے تھے۔ نیچر کا غم انگیز ماتمی گیت بید مجنوں کے دو بد شکل درختوں اور  ایک اوندھی پڑی ہوئی اور  ان درختوں سے بندھی ہوئی کشتی کی موجودگی سے اور بھی موثر ہو گیا تھا۔
الٹی ہوئی کشتی کا پیندا ٹوٹا ہوا تھا اور  خراب و خستہ بوڑھے درخت جن کے برگ و ساز سرد ہوا لوٹ لے گئی تھی بلکہ ہر وہ چیز جو میرے ارد گرد پھیلی تھی مفلوک الحال، ابتر اور بے جان نظر آتی تھی اور  اس نظارے کو دیکھ دیکھ کر آسمان کے آنسو نہ تھمتے تھے.... ہر چیز تیر و تار ہو رہی تھی.... ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر چیز مر چکی ہے۔  اور  صرف میں اکیلا زندہ رہ گیا ہوں اور  میرے لئے بھی موت کا یہ زمہریر انتظار کر رہا ہے۔
اس وقت میری عمر اٹھارہ برس کی تھی.... کیا ہی زمانہ تھا؟
میں سرد گیلی ریت پر بہت دور تک چلا گیا۔ سردی اور بھوک کے اعزاز میں میرے دانت ایک ساز کی طرح بج رہے تھے۔ ایک جگہ خالی الماریوں کے پیچھے میں کوئی کھانے کی چیز تلاش کر رہا تھا کہ یکایک میری نظر ایک انسانی صورت پر پڑی۔ اس کا نسوانی لباس بارشوں کی وجہ سے تر بہ تر ہو کر اس کے جھکے ہوئے کندھوں میں پیوست ہو گیا تھا۔ میں چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہا کہ وہ کیا کرتی ہے، معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ریت میں کوئی خندق سی کھود رہی ہے۔
’’تم یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘ میں نے اس کے قریب جا کر کہا۔
ایک ہلکی سی چیخ اس کے منہ سے نکلی اور  وہ کھڑی ہو گئی۔ اب کہ خوف سے بھری ہوئی بڑی بڑی نیلی نیلی آنکھیں کھولے میرے سامنے کھڑی تھی میں نے دیکھا کہ وہ لڑکی ہے، میری ہی عمر کی، جس کے روشن چہرے کو تین بڑے بڑے نیلے داغوں نے گہنا رکھا ہے۔گو ان داغوں کی تقسیم اس کے چہرے پر نہایت موزونیت اور تناسب کے ساتھ ہوئی تھی۔ پھر بھی انہوں نے اس کے حسن کو چھپا دیا تھا۔ تینوں اپنی اپنی جگہ اکیلے اکیلے نمایاں تھے۔ سب جسامت میں تقریباً برابر تھے.... دو آنکھوں کے نیچے اور  ایک جو بڑا تھا پیشانی پر ناک کے عین اوپر بلا شبہ یہ کام تھا کسی اس حسن کار کا جو انسانی صورتوں کو بگاڑنے کا خو گر ہو۔
وہ میری طرف دیکھتی رہی اور  اس کی آنکھوں میں سے وحشت آہستہ آہستہ مفقود ہوتی گئی.... اس نے ہاتھوں پر سے ریت جھاڑی۔ سر کے سوتی رومال کو ترتیب سے باندھا، پھر ذرا جھکی اور  کہا:۔
’’ میں سمجھتی ہوں کہ تمہیں بھی کھانے کے لئے کچھ چاہئے، تو پھر اس جگہ کو کھودو، میرے ہاتھ تھک گئے ہیں .... یہاں !‘‘.... اس نے اپنے سر کی جنبش سے ایک دوکان کی طرف اشارہ کیا....’’ یہاں روٹی کامل جانا یقینی ہے.... اور سالن کا بھی.... یہ دوکان ان دنوں بھی کھلی ہے‘‘
میں زمین کھودنے لگا۔ کچھ دیر ٹھہر کر اور  میری طرف دیکھنے کے بعد وہ میرے قریب بیٹھ گئی اور  مجھے مدد دینے لگی۔
ہم خاموشی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ میں اب نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت جرم، قانون، ملکیت اور  ایسی ہی وہ تمام باتیں جن کے متعلق تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ زندگی کے ہر لمحے میں ملحوظ رہنی چاہئیں میرے خیال میں تھیں یا نہیں ، صداقت کے انتہائی قریب رہتے ہوئے میں اقرار کرتا رہوں کہ میں کھودنے میں اتنا منہمک تھا کہ اس ایک بات کے سوا کوئی دوسری بات میرے وہم و خیال میں بھی نہ آتی تھی کہ اس الماری کے اندر کیا ہو گا!
شام کا سایہ پھیلتا گیا، چاروں طرف کہر کی تاریکی چڑھتی گئی،موجوں کا شور بھاری ہوتا گیا اور  مینہ کے چھینٹے الماری کے تختوں پر پہلے سے بلند آواز کے ساتھ گرنے لگے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر پہرہ داروں کی آوازیں آنے لگیں۔
’’ اس کا کوئی پتہ بھی ہے؟‘‘ اس نے آہستہ سے پوچھا۔ میں نہ سمجھ سکا کہ اس نے کیا کہا۔ اس لئے میں خاموش رہا۔
’’ میں کہتی ہوں ، اس الماری کی کوئی تہہ بھی ہے؟.... کہیں یہ نہ ہو کہ ہم کھودتے کھودتے ایک خندق بنا دیں اور  یہ نتیجہ ہو کہ الماری کے نیچے بھی لکڑی کے مضبوط تختے لگے ہوں ، ایسی صورت میں ہم کیوں کر انہیں اکھاڑ سکیں گے؟ بہتر ہو کہ تالے توڑ ڈالیں .... اس ناکارہ تالے کو‘‘
عورتوں کو عمدہ خیالات شاذ و نادر ہی سوجھتے ہیں ، لیکن کبھی کبھی سوجھ ضرور جاتے ہیں۔ میں نے عمدہ خیالات کی ہمیشہ قدر کی ہے، اور  ہمیشہ جہاں تک ممکن ہو سکا ان سے مستفید ہونے کی کوشش کی ہے۔
میں نے تالے کو پکڑ کر اس زور سے مروڑا کہ وہ کنڈی سمیت اکھڑ آیا وہ جھپٹ کر آگے بڑھی اور  الماری کا جائزہ لیتی ہوئی مجھ سے یوں کہنے لگی’’ تم تو لوہا ہو لوہا!‘‘
آج کسی عورت کا ایک چھوٹا سا تعریفی فقرہ میرے لئے اس مرد کے بڑے سے بڑے قصیدے سے زیادہ قد رو قیمت رکھتا ہے، جس میں تمام قدیم اور  جدید لسانیات جمع ہوں ، لیکن اس وقت میرے مزاج میں اکھڑ پن تھا اور  اب اس کی اصلاح ہو چکی ہے، چنانچہ اس کی تحسین و تعریف پر کان نہ دھرتے ہوئے ، میں نے بے تابانہ اس سے سوال کیا:
’’ اس میں کچھ ہے بھی؟‘‘
وہ ایک بے کیف آواز کے ساتھ سب چیزوں کو گننے لگی۔
ٹوکری بھر بوتلیں .... پوستینیں .... ایک چھری.... لوہے کی ایک گڑوی‘‘،
ان میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی، میری تمام امیدیں مٹ گئیں .... لیکن یکا یک وہ شگفتہ خاطر ہو کر بولی۔
’’ آہا ، یہ لو!‘‘
’’ کیا؟‘‘
’’ روٹی....ایک روٹی.... صرف بھیگ رہی ہے.... یہ لو!‘‘
اس نے اسے میری طرف پھینک دیا اور  پھر خود بھی چلی آئی، اس کے آنے تک میں نے ایک بڑا سا لقمہ دانتوں سے توڑ کر اپنا منہ بھر لیا تھا۔اور اب اسے چبا رہا تھا....
’’ آؤ، اس میں سے تھوڑی سی مجھے دے دو.... اور  ہمیں یہاں ٹھیرنا نہیں چاہئے.... لیکن ہم کہاں جائیں وہ ہر طرف متفکرانہ نظروں سے دیکھنے لگی .... فضا میں تاریکی، نمی اور  شور تھا۔
’’ دیکھو، وہ ایک الٹی ہوئی کشتی پڑی ہے.... آؤ، وہاں چلیں ‘‘
’’ چلو‘‘
اور ہم چل پڑے.... اپنے مال غنیمت کے حصے بخرے کرتے ہوئے اور  اس کے بڑے ٹکڑوں سے اپنے کلوں کو بھرتے ہوئے.... بارش اور  تیز ہو گئی، دریا رعد کی طرح گرجنے لگا کہیں نہ کہیں ایک مسلسل مضحکہ اڑانے والی سیٹی بج رہی تھی.... بالکل اس طرح جیسے کوئی بالا و برتر ہستی، جسے کائنات میں کسی کا خوف نہ ہو.... تمام زمینی سر گرمیوں کی، خزاں کی، اس ہیبت ناک رات کی، اور  ہماری، جو اس طوفانی رات کے ہیرو ہیں ، ہنسی اڑا رہی ہے۔ اس ہنسی کو سن کر میرا دل پارہ پارہ ہو گیا۔ مگر اس کے باوجود اپنی روٹی حریصانہ کھاتا رہا۔ اور  یہ لڑکی جو میرے بائیں جانب ساتھ ساتھ چل رہی تھی مگر اس معاملے میں بھی میرے قدم بہ قدم جا رہی تھی۔
میں نے ابھی تک اس کا نام دریافت نہ کیا تھا۔اب میں نے کہا’’ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’ نتاشا‘‘ اس نے جھٹ جواب دیا۔
میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ میرے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی اور  پھر میں نے اپنی نظریں رات کی تاریکی کی طرف پھیر لیں اور  مجھے معلوم ہوا جیسے میری قسمت کی بد اندیش صورت میری طرف دیکھ دیکھ کر عجب پر اسرار اور  بے رحمانہ انداز سے مسکرا رہی ہے۔
مینہ کشتی کے تختوں پر تازیانوں کی طرح مسلسل پڑ رہا تھا۔ اس کی ہلکی ٹپ ٹپ غم و الم کے خیالات برانگیختہ کر رہی تھی، اور  ہوا جب کشتی کی ایک درز میں سے اس کے ٹوٹے ہوئے پیندے میں داخل ہوتی تھی تو اس میں سے ایک اضطراب انگیز اور  اداس آواز اٹھتی تھی۔ دریا کی لہریں آ آ کر ساحل سے ٹکراتی تھیں تو ان میں سے ایک بھیانک اور  مایوس کن صدا پیدا ہوتی تھی، اس طرح جیسے وہ کوئی رنج دہ اور  ناقابل برداشت کہانی سنا رہی ہیں ، جو خود ان کی ہمتوں کو توڑ توڑ کر رکھ دیتی ہے.... ایسی کہانی جس کو سنائے بغیر وہ بھاگ جانا چاہتی ہیں۔ لیکن جس کو سنانے پر مجبور ہیں۔ بارش کی آواز دریا کی آواز مل کر ایک آہ مسلسل بن جاتی تھی، جو اوندھی کشتی کے اوپر تیرتی ہوئی معلوم ہوتی تھی.... جفا کش، زخمی دل اور  خستہ و ماندہ زمین کی وہ بے اختتام آہ جو تاباں و درخشاں بہار میں سے نکل کر سرد، کہرہ آلود اور  تاریک خزاں کی منزل سے گذرتے وقت اس کے سینے سے نکلتی تھی۔ ہوا سنسان اور  کف انگیز دریا پر چل رہی تھی.... چل رہی تھی اور  اپنے المناک راگ گائے چلی جاتی تھی۔
کشتی کے اوٹ میں ہم بالکل بے آرامی کی حالت میں پڑے تھے۔ یہ تنگ تھی اور  بھیگ رہی تھی، ٹوٹے ہوئے پیندے میں سے بارش کے چھوٹے چھوٹے سرد قطرے ٹپکتے تھے اور  ہوا کے سرد جھونکے اندر داخل ہوتے تھے۔ ہم خاموش بیٹھے تھے اور  سرد ی سے کانپ رہے تھے۔ پھر مجھے نیند کا خیال آیا نتاشا کشتی سے سہارا لگائے گچھم گچھا ہو کر ایک چھوٹی سی گیند بنی بیٹھی تھی۔بانہوں کو گھٹنوں کے گرد لپیٹے اور ٹھوڑی کو گھٹنوں پر ٹکائے وہ اپنی کشادہ آنکھوں سے دریا کی طرف گھور رہی تھی ، اس کی آنکھیں اس کے زرد چہرے پر نیلے داغوں کی وجہ سے اور  بھی بڑی معلوم ہو رہی تھیں۔  وہ بالکل بے حرکت ہو رہی تھی۔ اور  میں محسوس کرنے لگا کہ یہ سکون و سکوت میرے اندر رفتہ رفتہ اس کی طرف سے خوف پیدا کر رہا ہے۔ میں اس سے گفتگو کرنا چاہتا تھا مگر کیوں کر شروع کروں۔
’’ زندگی کیسا دکھ ہے!‘‘ اس نے نہایت صفائی، محویت اور یقین کے لہجے میں کہا۔
لیکن یہ شکایت نہ تھی، ان الفاظ کو کچھ ایسی بے اعتنائی سے ادا کیا گیا تھا کہ ان میں شکایت کا شائبہ بھی معلوم نہ ہوتا تھا۔ اس سادہ اور  بے لوث روح نے زندگی پر اپنی سمجھ کے مطابق غور کیا تھا.... غور کیا تھا، اور  ایک نتیجے پر پہنچ کر اسے بلند آہنگی سے بیان کر دیا تھا۔ میں اس کی تردید نہ کر سکتا تھا کیونکہ میں ایسا کرتا تو یہ میری اپنی تردید ہوتی۔  اس لئے میں خاموش رہا۔ اور  وہ اسی طرح بے حرکت بیٹھی رہی۔
’’ کیا ہو گا.... اگر ہم زندگی کوبرا بھی کہہ دیں ؟‘‘ نتاشا نے پھر کہا۔
اس دفعہ بھی اس کے لہجے میں شکایت کا کوئی پہلو نہ تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ زندگی کے متعلق ان خیالات کے اظہار کے وقت اس کے پیش نظر اس کی اپنی ذات تھی اور  اسے یقین ہو چکا تھا کہ اپنے آپ کو زندگی کی تضحیک و استہزا سے بچانے کے لئے وہ اس کے سوا اور  کچھ نہیں کر سکتی کہ اس کی تحقیر کرے یہ سلسلہ خیالات میرے لئے نا قابل بیان طور پر غم انگیز اور  پُر درد تھا اور  میں نے محسوس کیا کہ اگر میں اب بھی خاموش رہا تو عجب نہیں کہ میں ظاہراً طور پر رونے لگوں .... اور  ایک عورت کے سامنے یہ حرکت کیسی شرمناک معلوم ہوتی، خصوصاً ایسی صورت میں کہ وہ خود رو نہ رہی تھی ، میں اس سے باتیں کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔
’’ اور  وہ کون تھا جس نے تمہیں پیٹا تھا؟‘‘ میں نے جھٹ کہہ دیا، کیوں کہ میں اس سے کسی زیادہ دقیق اور لطیف بات کے سوچنے کا انتظار کرنا چاہتا تھا۔
’’ یہ سب پاشکا کی مہربانی تھی!‘‘ اس نے سادہ لوحی سے کہا
’’ وہ کون ہے؟‘‘
’’ اسے مجھ سے محبت ہے.... وہ نانبائی کا کام کرتا ہے۔‘‘
’’ کیا وہ اکثر تمہیں مارتا ہے؟‘‘
’’ جب کبھی وہ شراب کے نشے میں ہوتا ہے، وہ مجھے مارتا ہے.... اکثر!‘‘
اب یکایک اس نے میری طر ف مڑ کر اپنے متعلق، پاشکا کے متعلق اور  اپنے باہمی تعلقات کی نسبت باتیں شروع کر دیں کہ وہ ایک نانبائی تھا۔ اس کی مونچھیں سرخ تھیں اور  وہ ستار بہت اچھی بجاتا تھا۔ وہ اکثر اس سے ملنے آتا تھا۔ اور  اسے اس سے مل کر بڑی خوشی ہوتی تھی۔ کیونکہ یہ خوش طبع چھو کرا عمدہ اور  نفیس لباس پہنتا تھا۔ اس کے پاس ایک واسکٹ تھی، جس پر اس کے پندرہ روبل خرچ آئے تھے اور  ایک خوبصورت مخملی بوٹ بھی تھا.... یہ تھیں وہ تمام باتیں جنہوں نے اس سیدھی سادھی لڑکی کا دل موہ لیا تھا۔ اور  اس کی نظروں میں اعتبار پیدا کر لیا تھا۔ اسی اعتبار پر وہ اس سے وہ تمام نقدی اڑا لے جاتا تھا جو اسے گھر سے ملتی تھی، لیکن اسکی وہ ذرہ برابر پرواہ نہ کرتی اگر وہ اس کی آنکھوں کے سامنے دوسری لڑکیوں کے پیچھے نہ بھاگتا پھرتا۔
’’ اب کیا یہ میری توہین نہ تھی؟.... میں دوسری لڑکیوں میں صورت شکل میں تو کم نہیں ، یقیناً اس کےیہی معنی تھے کہ وہ مجھ سے مذاق کرتا ہے، نابکار! کل کی بات ہے میں اپنی مالکہ سے تھوڑی دیر اجازت لے کر اس کے پاس گئی اور  وہاں میں نے دیکھا کہ و مکا شراب پی کر بد مست ہو رہی ہے اور  پاشکا کی عقل بھی سمندر پار پہنچی ہے۔ میں نے کہا’’ او ذلیل کمینے!‘‘.... اس پر اس نے مجھے خوب سزا دی۔ وہ مجھے لاتوں اور  مکوں سے مارتا رہا اور  بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا رہا۔ لیکن یہ سب اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو بعد میں ہوا۔ اس نے میرا سارا لباس اتار لیا اور  جب چھوڑا تو میں اس حالت میں تھی جو میری اب ہے!.... اب کیسے میں اپنی بیگم کے سامنے جا سکتی تھی؟ اس نے میری تمام چیزیں چھین لیں .... میرا جاکٹ بھی لے لیا۔ یہ ابھی بالکل نیا تھا، ابھی چند روز ہوئے میں نے اس پر ایک پنجہ خرچ کیا تھا.... اس نے میرے سر سے رومال بھی اتار لیا.... او میرے خدا، میرا اب کیا انجام ہو گا‘‘ وہ یکایک ایک آزردہ اور  درد مند آواز میں چلا اٹھی۔
ہوا چیخیں مارتے ہوئے چلنے لگی، اور  زیادہ سرد اور  نیم آلود ہو گئی.... میرے دانت پھر اچھل اچھل کر رقص کرنے لگے۔ وہ سردی سے بچنے کے لئے میری جانب چلی آئی اور  میرے جسم سے لگ کر مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ اندھیرے میں مجھے اس کی آنکھوں کی چمک نظر آنے لگی۔
’’ کیسے کم بخت ہو تم تمام مرد! میرا بس چلے تو تم سب کو بھٹی میں ڈال کر جلا دوں ، تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں ، اگر تم میں سے کوئی مر رہا ہو تو اس کے منہ میں تھوک دوں اور  اس کی پشتہ بھر بھی پروانہ کروں .... کمینے کتے!تم خوشامدیں اور  چاپلوسیاں کرتے ہو، کتوں کی طرح دمیں ہلا ہلا کر ہمارے طرف آتے ہو اور  ہم نادان اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دیتی ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہوتا کہ ہم اپنی ہستی کو کھو بیٹھتی ہیں ، پھر ذرا سی دیر بھی نہیں گذرتی کہ تم ہمیں اپنے پیروں تلے روندنا شروع کر دیتے ہو.... بد نصیبو، بدبختو!!‘‘
وہ ہمیں برا بھلا کہہ رہی تھی لیکن اس کے برا بھلا کہنے میں کوئی طاقت کوئی دشمنی، کوئی نفرت نہ تھی، اس کی گفتگو کا لہجہ کسی طرح بھی اس کے موضوع کا ہم آہنگ نہ تھا، کیونکہ اس میں کامل سکون تھا۔ اور  اس کی آواز خطر ناک حد تک دھیمی تھی۔
مگر ان سب باتوں نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ قنوطیت کی وہ فصیح ترین کتابیں اور تقریریں بھی نہ کر سکیں۔ جس کا معتدبہ حصہ میں پڑھ چکا تھا اور  جنہیں آج تک میں پڑھ رہا تھا۔ اور  یہ اس لئے کہ ایک مرتے ہوئے انسان کا دردو کرب اپنے اندر بہت زیادہ حقیقت اور  قوت رکھتا ہے، بہ نسبت موت کی اس تصویر کے جسے کسی نے اپنے الفاظ کے باریک قلم سے کھینچ کر رکھ دیا ہو۔
میں اپنی حالت میں ابتر محسوس کرنے لگا۔  نتاشا کی گفتگو سے متاثر ہو کر نہیں ، بلکہ سردی کی شدت کی وجہ سے کراہنے لگا اور  دانت پیسنے لگا۔
اسی وقت دو چھوٹے چھوٹے ہاتھ میری طرف بڑھے.... ایک میری گردن کے گرد حمائل ہو گیا اور  دوسرا میرے چہرے پر آ لگا.... اور  ساتھ ہی کسی نے فکر مند، نرم اور  شیریں اور  دوستانہ آواز میں پوچھا:
’’ تمہیں کیا چیز دکھ دے رہی ہے؟‘‘
میں یہ یقین کر لینے پر تیار تھا کہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا اس نتاشا کے سوا کوئی دوسرا بھی ہے، جس نے ابھی ابھی تمام مردوں کو بے حمیت ظاہر کیا تھا اور  ان کو تباہ و برباد کر دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن یہ وہی تھی اور  اب وہ جلد جلد اور تیزی سے بولنے لگی تھی:۔
’’ تمہیں کون سی چیز دکھ دے رہی ہے؟.... کیا تمہیں سردی لگ رہی ہے؟کیا تم ٹھٹھر رہے ہو؟.... آہ! تم یوں ایک ننھے الو کی طرح بیٹھے ہوئے کیسے عجیب معلوم ہو رہے ہو۔ تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا، کہ تمہیں سردی ستا رہی ہے.... آؤ.... یہاں لیٹ جاؤ اور  میں تمہارے ساتھ لیٹ جاؤں گی .... یہاں یونہی، اب اپنی بانہیں میرے گرد لپیٹ لو.... کس کر! اب بتاؤ؟ اب تم بہت جلد گرم ہو جاؤ گے.... پھر ہم ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے سو جائیں گے.... رات بہت جلد گذر جائے گی.... تم دیکھنا یہ کتنی جلد گذر جائے گی، میں کہتی ہوں کیا تم بھی شراب پیا کرتے تھے؟.... کیا تم سے بھی کام چھین لیا گیا ہے؟.... تم قطعاً پروانہ کرو؟‘‘
اس نے مجھے آرام پہنچایا.... میری ہمت بڑھائی۔
لعنت ہو، میری اس زندگی پر! میری اس ایک مصیبت میں مصائب کی ایک دنیا بستی تھی! ذرا تصور کرو، میں جو انسانیت کے انجام پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنے میں مصروف رہتا تھا، نظام تمدن کو از سر نو ترتیب دینے کی تجویزیں سوچا کرتا تھا، سیاسی انقلابات کے خیالات اپنے دماغ میں بسایا کرتا تھا، ان کتابوں کو پڑھا کرتا تھا، جنہیں شیطان صفت حکمت و فراست سے لکھا گیا تھا.... اور  ان کی ا تھاہ گہرائی تک خود مصنّفین کا دماغ بھی نہ پہنچ سکا ہو گا۔ میں ، جو اپنی تمام قوت سے کوشش کر رہا تھا کہ اپنے آپ کو ایک ذی اختیار عملی اشتراکی طاقت بناؤں ،بلکہ یہ محسوس کر رہا تھا کہ میں نے ایک حد تک اپنے مقصد کی تکمیل کر لی ہے، میں جو اپنے خیال میں اس مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں میں نے سمجھ رکھا تھا کہ مجھے زندہ رہنے کا ایک امتیازی حق حاصل ہے اور  مجھ میں وہ عظمت موجود ہے جو اس حق کو ثابت کرتی ہے۔ اور  میں دنیا کے عظیم الشان تاریخی کار ناموں میں ایک اور کارنامے کا اضافہ کرنے کے بالکل قابل ہوں .... یہاں پڑا تھا اور  ایک عورت مجھے اپنے جسم کی حرارت سے گرما رہی تھی،.... ایک مفلوک الحال، بے سر و سامان، ستائی ہوئی ہستی، جس کی عرصہ حیات میں کوئی قدرو قیمت نہ تھی اور  جس کی مدد کرنے کا مجھے خیال تک نہ آیا تھا۔ یہاں تک کہ خود اس نے میری مدد کی۔ اور  اگر مجھے مدد کا خیال آ بھی جاتا تو یقیناً میں یہ نہ جان سکتا کہ وہ کیوں کر ہو سکتی ہے۔
میں یہ مان لینے پر تیار تھا کہ یہ کوئی خواب ہے جو مجھ پر گذر رہا ہے.... ایک ناخوشگوار اور  اندوہ گیں خواب۔
لیکن آہ! میرے لئے یہ خیال کرنا ناممکن تھا کیونکہ بارش کے سرد سرد قطرے مجھ پر پڑ رہے تھے۔ وہ مجھے سردی سے بچا رہی تھی، اور  اس کی گرم گرم سانس میرے منہ سے چھو رہی تھی۔ بارش کے قطرے تیروں کی طرح کشتی پر پڑ رہے تھے لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں اور  ہم دونوں سردی سے اکڑے ہوئے اور  کانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ رہے تھے۔ اس ساری کیفیت پر مجاز کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا اور مجھے یقین ہے کہ آج تک کسی نے ایسا گراں بار اور  ہولناک خواب کبھی نہ دیکھا ہو گا، جیسی یہ حقیقت تھی۔
مگر نتاشا لگا تار ادھر ادھر کی باتیں کر رہی تھی.... ملاطفت اور  ہمدردی کی باتیں ، جیسی صرف عورتیں کر سکتی ہیں۔ اس کی آواز اور  الفاظ کے تاثرات ایک ہلکی سی آگ کی طرح میرے سینے میں سلگنے لگے اور  میرا دل پگھلنے لگا۔
پھر آنسو میری آنکھوں سے طوفان باراں کی طرح گذرنے لگے۔ جنہوں نے بہت سی بدیوں ، بہت سی حماقتوں اور  بہت سے غموں کی گرد کو میرے دل سے دھو ڈالا جو اس رات سے پہلے اس پر جم رہی تھی.... نتاشا مجھے تسلی دے رہی تھی۔
’’ بس ، بس ننھے میاں ، اب چپ ہو جاؤ، خدا تمہیں اور  موقع دے گا.... تم اپنی اصلاح کر لو گے اور  اپنے حقیقی مقام پر پھر کھڑے ہو گے.... اور  سب کام اچھے ہو جائیں گے....‘‘
اور وہ مجھے چومتی جاتی تھی، جس طرح ماں اپنے بچے کو چومتی ہے.... بے نفس اور بے غرض ہو کر۔
’’ بس اب چپ ہو جاؤ،.... مجھے تمہاری صورت دیکھ کر ہنسی آ رہی ہے صبح ہونے دو، میں تمہارے لئے آپ کوئی جگہ تلاش کروں گی، اگر تم نہیں کر سکے،‘‘ اس کی یہ پر سکون اور  ہمت افزا سرگوشیاں میرے کانوں میں اس طرح گونج رہی تھیں جیسے یہ کوئی خواب ہو، صبح ہونے تک ہم وہیں پڑے رہے....
اور جب صبح ہوئی، ہم کشتی کے پیچھے سے نکلے اور  شہر کو چلے گئے.... پھر ہم نے ایک دوسرے سے دوستانہ طریق پر رخصت حاصل کی اور  اس کے بعد کبھی نہ مل سکے، گو پورے چھ ماہ تک میں نے اس ہمدرد نتاشا کے لئے شہر کا کونہ کونہ چھان مارا، جس کے ساتھ میں نے خزاں کی یہ رات گزاری تھی۔
اگر وہ مر چکی ہے، تو اس کے لئے اچھا ہے اگر وہ مر چکی ہے.... تو وہ یہ ابدی نیند امن کے ساتھ سوئے گی۔ اور  اگر وہ زندہ ہے تو پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ اس کی روح پر سلام ہو اور  اس کی روح کو کبھی دنیا کی پستی کا احساس نہ ہو.... کیونکہ اگر زندہ رہنا ہے تو یہ احساس،زندگی کا ایک بے مصرف اور  بے حاصل دکھ ہے۔
٭٭٭

ماخوذ از ’باقیاتِ منٹو‘
ماخذ:
http://www.urdunagri.com/controller.php?action=Bookpage_List&nId=8
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
پروف ریڈنگ، تصحیحِ متن :۔ سید اویس قرنی (چھوٹا غالب)
