﻿


گیت بُنتا رہوں



اسحق ساجد


انتخاب: اعجاز عبید







حمد

خزاں رسیدہ ہُوں موجِ بہار دے مولا
میری حیات کی زُلفیں سنوار دے مولا

بھنور ہے موج ہے طُوفان ہیں حوادث ہیں
 تُو پار میرا سفینہ  اُتار دے مولا

ہیں گہرے خار چٹانوں میں سانپ کے بِل ہیں
یہاں سے مجھ کو سلامت گُزار دے مولا

لہُو کے رنگ میں جو بات ہے گُلوں میں کہاں
سفر میں تُو مرے تلووں کو خار دے مولا

میں زیر ِ آب ہُوں مدّت سے بحرِ عصیاں میں
مجھے تُو سطح سے اُوپر اُبھار دے مولا

لکھوں ہمیشہ تیری حمد اور قصیدے ترے
تُو میرا ذوق مرا فن نکھِار دے مولا

قرار ہی نہیں ملتا ہے بے قرار ہُوں میں
کسی طر ح مرے دِل کو قرار دے مولا
٭٭٭




نعت



تم نے جس کو پکارا مدینے میں ہے
بے کسو ! وہ سہارا مدینے میں ہے

ہم تھے دریائے عصیاں میں ڈوبے ہوئے
جس نے ہم کو اُبھارا مدینے میں ہے

کیوں نہ بارش ہو رحمت کی ہر دم یہاں
رحمتِ حق کا دھارا مدینے میں ہے

ان فضاؤں میں بس پیار ہی پیار ہے
رہے کعبہ کا پیارا مدینے میں ہے

ایسا لگتا ہے ذرّے نہیں اے فلک
تیرا ایک ایک تارا مدینے میں ہے

کاش! ساجد سے کوئی یہ جا کر کہے
تیری قسمت کا تارا مدینے میں ہے
٭٭٭



  عید پردیس کی


عید آئی ہے مگر تحفہ غم لائی ہے
پھر ہی یادِ وطن ہے وہی تنہائی ہے

پار ہے سات سمندر کے میری جانِ وفا
جس سے آسودگی پاتا تھا میرا ذوق جمال
رات دن جو میری خدمت میں مگن رہتی تھی
میری چاہت تھی جسے میرا ہی ہر دم تھا خیال

رزق و روزی کے لیے جب مجھے آنا تھا یہاں
چھوڑنے وہ مجھے طیارے تک آئی تھی
وقت رخصت وہ گلے لگ کے سسکنا اُس کا
کرب سے اُس کے میری رُوح بھی تھرائی تھی

یہاں آ کر بھی تو یونہی نہیں بدلی قسمت
وہی حالات رہے بے سرو سامانی کے
بعد مدت ہی ہوئے عیش کے ساماں حاصل
ہو گئے دُور جو عفریت تھے ویرانی کے

پا کے دولت بھی مگر میں ہوں خوشی سے محروم
قید تنہائی میں کوئی نہیں پر ساں میرا
اجنبی غیروں سے کیونکر ہو وفا کی اُمید
کس کو فرصت جو سنے حالِ پریشاں میرا

لے کے دولت میں وطن جاؤں گا جب اگلے برس
ہو گی مجھ کو میرے بچھڑے ہوئے محبوب کی دید
روح کو چین تو اس دِل کو قرار آئے گا
عید ہو یا کہ نہ ہو  ہو گی میری اپنی عید
٭٭٭




نرم الفاظ کے پھُول چُنتا رہوں


مجھ کو پاگل زمانہ کہے تو کہے
میں تیری یاد میں گیت بُنتا رہوں

چاہے پھُولوں کے دامن میں شبنم نہ ہو
آپ کی آنکھ میرے لیے نم نہ ہو
اور دِل کے بھی لُٹنے کا ماتم نہ ہو
اپنے گیتوں پہ میں سر کو دھُنتا رہوں
گیت بُنتا رہوں، گیت بُنتا رہوں

کوئی اپنا نہ ہو، کوئی سپنا نہ ہو
چلتے رہنا ہی جیون ہو، تھمنا نہ ہو
راہ میں باغ پھُولوں کے آئیں مگر
صرف کانٹے ہی دامن میں چُنتا رہوں
گیت بُنتا رہوں، گیت بُنتا رہوں

بجلیاں سر پہ چمکیں کہ طوفان ہو
راہ بھی چاہے ویراں ہو، سنسان ہو
ریت کے بہتے دریا میں ڈُوبوں اگر
راگنی بارشوں کی بھی سُنتا رہوں
گیت بُنتا رہوں، گیت بُنتا رہوں

کوئی پیچھے بُرائی کرے، روک دو
کوئی ناداں خطائیں کرے، ٹوک دوں
کوئی کانٹے چُبھائے مجھے پھر بھی میں
نرم الفاظ کے پھُول چُنتا رہوں
گیت بُنتا رہوں، گیت بُنتا رہوں
٭٭٭



مشورہ

میرے محبوب اب مجھ سے نہ ملنا
یہی بہتر ہے اب حق میں تمہارے
کہیں قدموں میں آ جائے نہ لغزش
نہ پھر سے جاگ اُٹھیں ارماں ہمارے

پُرانے ہو چکے ماضی کے قصّے
کہ جب تھے ایک ہی مرکز پہ تم ہم
میں دِل کا ساز تھا آواز تھیں تم
عجب ہی تھا محبت کا وہ عالم

محبت کی ہے کچھ ا یسی ہی قسمت
 محبت کیا اگر دِل کو نہ دے غم
رضائے حق کا بھی ہے ہاتھ ا س میں
کیا جس نے ملاقاتوں کو برہم

غرض قسمت کا لکھا مان ہی لو
یہی شاید خُدا کی مصلحت تھی
 خُدا کی تھی امانت اس نے لے لی
محبت کب ہماری مملکت تھی

بندھی ہو جس سے اس کو دِل سے چاہو
جیو ہنس ہنس کے اُس کے ہی سہارے
بھرم رکھنا ہے ہم کو فاصلے کا
کہ اب د ریا کے ہم ہیں دو کنارے

میرے محبوب اب مجھ سے نہ ملنا
یہی بہتر ہے اب حق میں تمہارے
٭٭٭



گیت

جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو
محبت کی دُنیا کو خو د ہی مٹا دو
جلا دو وہ سپنے جو دیکھے تھے میں نے
بھُلا دو وہ وعدے کئے تھے جو تم نے
نئی اپنی دُنیا بسانے کی خاطر
میری زندگی کا دیا ہی بجھا دو
 جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو

نئے رنگ میں آج دیکھا ہے تم کو
ڈھلی شام تو ہوش آیا ہے مجھ کو
اچانک ہی آکاش سے گِر پڑا ہوں
میرے حال پر قہقہہ ہی لگا دو
جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو

خود ا پنی خطا پر پشیمان ہوں میں
ہوئی بھول مجھ سے کہ ا نسان ہوں میں
سزا عمر بھر کی جو کافی نہیں ہے
تم ا یسا کرو اور ٹھوکر لگا دو
جلا دو میرے دِل کا گلشن جلا دو

کوئی بھول کر پیار کرنے نہ پائے
وفا شرم سے ا پنا دامن بچائے
اگر کوئی آنکھوں میں سپنے سجائے
تو تم اس کی آنکھوں کی جیوتی بجھا دو
جلا د و میرے دِل کا گلشن جلا دو
٭٭٭


گیت

بدرا چھائے چاند ستارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا

بجلی چمکے سُو نے آنگن میگھا برسے
پیا سے نینا تیرے درشن کو تر سے
رنگ محل میں رُوپ تمہارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا

دھِیرے دھِیرے رُوپ کھِلا پھر کلیوں کا
بھول گئے ہیں رستہ تیری گلیوں کا
میرے دِ ل کا کوئی سہار ا سُوجھے نا
رات اندھیری ا ور کنارا سوجھے نا

یادوں کا سنسار سجا  تنہائی میں
شاید اب وہ آن بسا انگنائی میں
دِل کو میرے کچھ بھی یارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا

بادل گرجے طوفاں کوئی زور کرے
مورکھ منوا ! کا ہے کو تُو شور کرے
کس جانب لے جائے دھارا سوجھے نا
رات اندھیری اور کنارا سوجھے نا
بدرا  چھائے  چاند ستارا سوجھے نا
٭٭٭



غزل

ہم پہ پھینکے گئے ہر سمت سے پتھر کتنے
ہم سے پہلے بھی یہاں زخمی ہوئے سر کتنے

خُون میں ڈُوبے ہیں اس راہ میں آ کر کتنے
جل گئے آتشِ بارود میں پیکر کتنے

وہی ذلت ہے وہی کُفر وہی وحشی پن
دے گئے درسِ عمل یُوں تو پیمبر کتنے

تھے فقط دِل کی جگہ سینوں میں پتھر جن کے
ان درِندوں نے اُجاڑے ہیں بھرے گھر کتنے

کیا عجب گھر سے میں نکلوں تو نہ واپس آؤں
بھر دیئے دِل میں دھماکوں نے میرے ڈر کتنے

چاندنی جن کا تبسم تھا بدن جن کے گلاب
خاک میں مل گئے یاں حُسن کے پیکر کتنے

لعل و گوہر کی تمناّ میں گئی ہیں جانیں
قلزمِ غم میں ہوئے غرق شناور کتنے

تشنگی بجھ نہ سکی پھر بھی ہماری سا جد
ریگِ صحرا میں کہنے کو سمندر کتنے
٭٭٭




محبتوں کی لافانی یادگار تاج محل 
  

یہ لب جمنا منور سنگ ِ مرمر کا جمال
جیسے مرمر میں ڈھلا ہو حسن عاشق کا خیال
تاج کہئے اس کو یا دو پیاسی رُوحوں کا محل
یاد گارِ عشق ہے یہ لازوال و بے مثال

دیکھ کر تعمیر اس کی عقل ہو جاتی ہے دنگ
اس کے طاق و در سے بھی مظہر ہیں فنکاری کے رنگ
آنکھیں ہو جاتی ہیں خیرہ اس کے جلوے دیکھ کر
اس کے نظارے سے جاگ اُٹھتی دِلوں میں ہے اُمنگ

ایسا لگتا ہے یہیں پر ہے کہیں ممتاز بھی
جس کے لب پر ہے تبسّم شوخ شوخ انداز بھی
ہوتا ہے محسوس ہے نزدیک ہی شاہجہاں
جو مجسم عشق ہے ا ور حسن کا ہمراز بھی

کیا محبت تھی کہ بش ممتا ز کا ہو کر جیا
تاج کا وعدہ کیا تھا وہ بھی پُورا ہو گیا
کر کے قائم اس نے دُنیا میں محبت کی نظیر
تاج کی صورت جہاں کو پیار کا تحفہ دیا

یہ محبت کی حسیں دُنیا یہ اُلفت کا جہاں
پیار کی دِلکش یہ جنت عاشقی کا آسماں
اس کے سائے میں دِلوں کو ملتا ہے کیف و سرور
چاہتا ہے دِل کہ ہم آتے رہیں ہر دِن یہاں

اے میری محبوب اب تو چاہتا ہے یہ بھی دِل
تاج کی جنت کے گلزاروں میں آ کے مجھ سے مل
شاہ اور ممتاز دیں گے ہم کو اُلفت کی دُعا
گل تمنّاؤں کے اپنے بھی یہاں جائیں گے کھِل
٭٭٭


گیت

برسوں کے ہیں ہم تم بچھڑے کب آ ؤ گے تم پردیسی
مجھ برہن پر کیا کیا بیتے کب آؤ گے تم پردیسی
   من کا موجی کھیلتا بچپن
   ہنستا بستا گھر کا آنگن
   لڑتے جھگڑتے سنگی ساتھی
   بجھتے تارے  جلتی باقی
تم تو جا کر سب کو بھولے کب آؤ گے تم پردیسی
مجھ برہن پر کیا کیا بیتے کب آؤ گے تم پردیسی 

   رنگ نہ بھائے رُوپ نہ بھائے
   چھاؤں نہ بھائے دھوپ نہ بھائے
   راتیں کاٹوں تارے گِن گِن
   دُکھ ہی دُکھ ہیں سب کچھ تم بِن !
کاٹتی ہوں دن آ ہیں بھرتے کب آؤ گے تم پردیسی
مجھ برہن پر کیا کیا بیتے کب آؤ گے تم پردیسی

   ہر آہٹ پر اُٹھ کر دیکھوں
   دائیں بائیں مُڑ کر دیکھوں
   کون ہے پوچھوں کھول کے کھڑکی
    آس لگی ہے تم سے دِل کی
پاگل منوا تم سے پوچھے ! کب آؤ گے تم پردیسی
مجھ برہن پر کیا کیا بیتے کب آؤ گے تم پردیسی

برسوں کے ہیں ہم تم بچھڑے کب آؤ گے تم پردیسی
مجھ برہن پر کیا کیا بیتے  کب آؤ گے تم پردیسی
٭٭٭



سر کش یادیں 
  
کبھی نہیں چاہتا کہ گھیریں
مجھے میری تنہا زندگی کے
اکیلے بن میں
کسی کی یادیں
مگر کسی کی یہ یادیں سرکش
لپیٹ لیتی ہیں
مجھ کو بانہوں میں
جب بھی آ کر
میں موم کا پگھلا بن کے دریا
پھلانگ چاہتا ہوں
اپنی حد کو
میرے انوکھے سفر کی منزل
ہیں وہ مناظر
جہاں محبت کی بزم چھاؤں
میں مسکراتی تھی زندگانی
کسی کو پا کر بہت ہی خوش تھی
میری جوانی
کیا تھا باہم یہ ہم نے وعدہ
خفا تو ہوں گے
مگر کبھی ہم جدا نہ ہوں گے
مگر جو طوفان گھر کے آیا
بکھر گیا پیار کا نشیمن
بنا دیا وقت نے امانت
اسے کسی کی
میں آج بھی جی رہا ہوں تنہا
کہ یادیں سرکش
کسی کی اب بھی
کرید کر زخم میرے دِل کے
تماشہ دیکھیں
میری تڑپ کا
٭٭٭



نوحۂ خموشی 
 

دودھیا رنگ کا
تن پہ اوڑھے کفن
لاش خاموش ہے
رات خاموش ہے
چاند خاموش ہے
گھر کے دیوار و در
طاق و محراب
خاموش ہیں
سر جھکائے ہوئے
رشتے ناتے نبھانے کو آئے ہوئے
سوگواران مرحوم
خاموش ہیں
جیسے خود بھی کفن میں ہوں لپٹے ہوئے
لاش سے قبل ہی
جیسے وہ اپنی لاشیں اُٹھائے ہوئے
قبر میں آن پہنچے ہوں خاموش ہوں
بین کوئی نہیں کوئی ماتم نہیں
کوئی نوحہ نہیں
مرنے والے کا نوحہ ہے بس خامشی
خامشی اعلی تہذیب کی ترجمان
انگنت فائدے خامشی میں نہاں
اشک ریزی ہے صحت پہ بار گراں
سارے ہی غم زدہ
مصلحت آشنا
موت پر مرنے والے کی خاموش ہیں
دودھیا رنگ کا
تن پہ اوڑھے کفن
لاش خاموش ہے
رات خاموش ہے
چاند خاموش ہے!!
٭٭٭



جنگ

 
حامی ا من بچیں جنگ سے
لیکن کیسے ؟
جنگ ہے روز ازل کی تاریخ
جنگ شیطان کی
اللہ کے ساتھ
جنگ ہابیل کی قابیل کے ساتھ
فیل کے ساتھ ابابیل کی جنگ
تشنہ لب کرب و بلا کے رنگ میں
مارکہ آر ا باطل کے خلاف
جنگ چنگیز و ہلاکو کی
مسولینی کی
مشرقی وسطیٰ میں اعرابیوں
سہون کی جنگ
حق و ناحق کے ہی مابین
ہر اک جنگ ہوئی
دُشمنِ حق ہی کبھی
حق پہ اگر آ جائیں
پھر کوئی جنگ نہ ہو
چین سے سب رہ پائیں
٭٭٭



ماں باپ 

سکونِ قلب تھا تھی دِل کو راحت
میرے ماں باپ تھے جب تک سلامت

گھنا سایہ تھا سر پہ اُن کے دم سے
میں واقف ہی نہ تھا رنج و الم سے

میں ان کا خواب تھا ارمان تھا میں
میں اُن کا دِل تھا اُن کی جان تھا میں

سہے خو د غم مگر مجھ کو خوشی دی
مجھے تعلیم دی او ر آگہی دی

دُعائیں میرے حق میں مانگتے تھے
بڑا افسر بنوں وہ  چاہتے تھے

مصیبت آئی بھی تو خود ہی جھیلی
بڑے نازوں سے میری پرورش کی

نہ سوچا وہ بچھڑ جائیں گے اک دن
مجھے غم دے کے تڑپائیں گے اک دن

ہوئے آخر جدا ماں باپ میرے
مجھے اب ڈس رہے ہیں پاپ میرے

یہ حسرت ہے کہ ان کے بوجھ کو خود بھی اُٹھانا
سنہرے دن جوانی کے حسیں دن

اندھیری رات میں ماں باپ کے بن
مجھے یاد آتے ہیں ابّا او ر امّاں

تڑپتی ہے میری سہمی ہوئی جاں
میں ہوں ا ب رنج و غم کی اک کہانی
مصیبت  بن گئی ہے زند گانی

کھُلی آنکھیں تو اب دیکھا ہے میں نے
وہ کیا شے تھے یہ اب سمجھا ہے میں نے

مجھے ماں باپ کا غم کم نہیں ہے
کوئی ا ن جیسا اب ہمدم نہیں ہے
٭٭٭



شہر آشوب 
 


تمہارے شہر میں آؤں تو کس طرح آؤں
تمہارے شہر میں جب زندگی نہیں محفوظ

تمہارے شہر کا بے حد خراب موسم ہے
تمہارے شہر میں ا نسانیت ہے نوحہ خواں
تمہارے شہر میں بیتے ہیں خوں کے گنگ و جمن
تمہارے شہر میں گھر گھر سے اُٹھ رہا ہے دھُواں

فرشتے شہر کے کس طرح بن گئے شیطاں
جنہوں نے عصمتیں لوٹیں لہو کئے حلقوم
قتال کرتے ہوئے بوڑھوں اور بچوں کو
نہ سوچا ان کی خطا کیا ہے وہ تو تھے معصوم

یہ شہر ہے کہ ہے شہر خموشاں کی تصویر
ہیں گلیاں سونی تو ویراں ہیں کہ چہ و بازار
عجیب خوف میں لپٹے ہوئے ہیں سنّاٹے
نہ کوئی چہر ا نہ آہٹ نہ کو ئی چیخ پکار

صلاح ہے کہ بلاؤ نہ اپنے شہر مجھے
کہ میرے شہر چلی آؤ ا ور یہیں بس جاؤ
تمہارے دم سے ہے وابستہ زندگی میری
میرا خیال کر و مجھ پہ مت ستم ڈھاؤ

تمھارے شہر میں آؤں تو کس طرح آؤں
تمھارے شہر میں جب زندگی نہیں محفوظ
٭٭٭




غزل


اپنا نصیبِ غم تھا سو بار بار روئے
اپنوں کو یاد کر کے ہم بیقرار روئے

پانی کا ساتھ پا کر آنسو تڑپ کے نکلے
بارش کو دیکھ کر ہم زار و قطار روئے

تنہائیوں میں اپنی کوئی نہ پاس آیا
خود سے لپٹ لپٹ کر ہم بار بار روئے

رسوائیوں کے ڈر سے جن کا کیا نہ چرچا
ہم نام ان کا سن کو بے اختیار روئے

پھر ضبط نے بھی اپنا دنیا میں ساتھ چھوڑا
آخر تڑپ تڑپ کر ہم زار زار روئے

آیا خیال اپنی بربادیوں کا ساجد
چھپ کر سبھی سے گھر میں دیوانہ وار روئے
٭٭٭


غزل

ہمارے ساتھ یہ کیسی انوکھی بات ہوتی ہے
ہمارے بند کمرے میں بھی اب برسات ہوتی ہے

یہی اب سوچ کر خوش ہو لیا کرتے ہیں دیوانے
کہاں سب کے مقدر میں اندھیری رات ہوتی ہے

کسی کا دل دکھانا ہم فقیروں کو نہیں آتا
کوئی بھی کھیل ہم کھیلیں ہمیں ہی مات ہوتی ہے

جہاں جائیں جدھر جائیں وہیں ہے جان کا خطرہ
یہاں تو موت اب ہر پل لگائے گھات ہوتی ہے

اسے بھی ساتھ لے جاؤ گے تو کیسے جئیں گے ہم
تمہاری یاد ہی تو اب ہمارے ساتھ ہوتی ہے

محبت سے ہمیں ہے پیش آنا سب سے دنیا میں
کہ عزت اور ذلت آدمی کے ہاتھ ہوتی ہے

کسی کی آنکھ میں آنسو چلے آتے ہیں کیوں ساجد
یہاں جب بھی مری بربادیوں کی بات ہوتی ہے
٭٭٭


گیت

غم نے نہ خوشی نے مارا
ہم کو تو زندگی نے مارا
 
اُٹھی تو جھک گئی نظر
پاس آ کے کھو گئی ڈگر
سپنوں کے جل گئے ہیں پر
یادیں بھی اب نہ لیں خبری
کیسا یہ بےکسی نے مارا
ہم کو تو زندگی نے مارا
 
خوشبو نہ کلیاں نہ پھول
ہم کو تو کانٹے قبول
دیکھے نہ سورج نہ چاند
آنکھوں پہ چھائی ہے دھول
 
اس دل کی تیرگی نے مارا
ہم کو تو زندگی نے مارا
 
روگ تھا بیمار کا
دلبر کے دیدار کا
اتنے میں نے ندا  آ گئی
دیکھا نہ رُخ یار کا
 
آنکھوں کی روشنی نے مارا
ہم کو تو زندگی نے مارا
٭٭٭




گیت


لب گلابی بدن سنہرا ہے
ہائے کتنا حسین چہرا ہے

کالی راتوں میں جس طرح تنہا
مسکراتی ہو پیار کی قندیل
چاند بھی دیکھ لے تو شرمائے
یہ ترا حسن اور یہ شکلِ جمیل
زلف کالی بدن اکہرا ہے
ہائے! کتنا حسین چہرا ہے

تیر ی ان جھیل جیسی آنکھوں میں
کتنے معصوم خواب پلتے ہیں
تو جو بالوں کو اپنے بکھرا دے
دیوتاؤں کے دل مچلتے ہیں
ترے رُخ پر لٹوں کا پہرا ہے
ہائے کتنا حسیں چہرا ہے

مسکراہٹ کی شوخ سی تتلی
ترے ہونٹوں کا رس چراتی ہے
تری سانسوں میں گھل کے مست ہو ا
گنگناتی ہے مسکراتی ہے
حسن تیرا گلوں پہ ٹھہرا ہے
ہائے کتنا حسین چہرا ہے

تیری آواز پُر ترنم پر
پتھروں کا بھی دل پگھل جائے
تو جو انگڑائی لے، ستاروں کا
پاؤں آکاش سے پھسل جائے
تیرے سر زندگی کا سہرا ہے
ہائے کتنا حسین چہرا ہے

حسن والے مرے قریب آ کر
میر ی سانسوں میں زندگی بھر دے
میر ی بانہوں میں دے  کے بانہوں کو
میر ی نس نس میں تازگی بھر دے
دل میں حسرت کا داغ گہرا ہے
ہائے کتنا حسین چہرا ہے
٭٭٭


 

غزل


لوگ کہتے ہیں محبت کا پیمبر مجھ کو
مار ڈالیں نہ کسی روز ستم گر مجھ کو

خود ہی پسپا ہوا اور دیتا ہے مجھ کو الزام
اب سزا دے گا یہ باغی مرا لشکر مجھ کو

ہاتھ پہ اُس کے فقط پھول رکھا تھا میں نے
کر گیا زخمی اُسی ہاتھ کا پتھر مجھ کو

دیکھتا ہے وہ مجھے قہر بھری نظروں سے
جو محبت کا لگا تھا کبھی پیکر مجھ کو

بعد مدت جو ملا اُس سے تو دل بھر آیا
وہ بھی رونے لگا سینے سے لگا کر مجھ کو

بے وفائی سے زمانے کی ہے نالاں ساجد
جس نے ماری تھی کبھی پیار میں ٹھوکر مجھ کو
٭٭٭


غزل


پاسباں ہوتے ہوئے اور مہرباں ہوتے ہوئے
ہم نے دیکھا ہے مکاں اپنا دھواں ہوتے ہوئے

چل پڑا تنہا میں اک گمنام منزل کی طرف
اپنے ساتھی، راہبر اور کارواں ہوتے ہوئے

میری بربادی کا منظر کس طرح دیکھا گیا
میرے مالک تجھ سے زیرِ آسماں ہوتے ہوئے

بے گھری کی ٹھوکریں کھانے پہ ہے مجبور باپ
صاحبِ ثروت کئی بیٹے جواں ہوتے ہوئے

کون دیکھے ماہ و مریخ و ثریا کی طرف
اپنی پلکوں پر درخشاں کہکشاں ہوتے ہوئے

کیا ستم ہے مسکرانے کے لئے مجبور ہوں
دل میں آہیں اور ہونٹوں پر فغاں ہوتے ہوئے

آ رہے ہیں یاد کیوں ساجد مجھے بچپن کے دن
آج اس دار الفنا سے بے نشاں ہوتے ہوئے
٭٭٭


گیت
 
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے
 ہم نہ ہوں گے تو رویا کرو گے
 چاند ،تاروں میں ڈھونڈا کرو گے

یاد آئیں گی گذر ی جو باتیں
ڈوب جائیں گی اشکوں میں راتیں
اور بھی یاد آیا کریں گی
جتنا ہم کو بھلایا کرو گے
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے

مسکرائے گی زخموں کی خوشبو
رہ نہ پائے گا خود پہ بھی قابو
ہونٹ بھی جب نہ کھولے کھلیں گے
بوجھ تم کیسے ہلکا کرو گے
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے

ایک سایہ سا پیچھا کرے گا
دل بھی رہ رہ کے چونکا کرے گا
سوکھے پتوں کی آہٹ پہ اکثر
پیچھے مڑ مڑ کے دیکھا کرو گے
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے

جب بہاریں ہنسایا کریں گی
بلبلیں گیت گایا کریں گی
تم مگر سونی راہوں پہ تنہا
اُٹھ کے راتوں کو بھٹکا کرو گے
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے

گھٹ سی جائیں گی سینے میں سا نسیں
 ہل نہ پائیں گی پتھر سی آنکھیں
چاند تارے نکلا کریں گے
تم اُنھیں بھی نہ دیکھا کرو گے
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے

بدلیاں غم کی گھِر آئیں گی جب
آرزوئیں بکھر جائیں گی جب
غم نہ چھوڑیں گے دامن تمہارا
تم خوشی کو پکارا کرو گے
چاند تاروں میں ڈھونڈا کرو گے
٭٭٭



طوائف


کہا جاتا ہے دنیا کو اشاروں پر نچاتی ہوں
طوائف ہوں میں لوگوں کے دکھوں پر مسکرا تی ہوں

مگر یہ سچ نہیں ہے
حقیقت یہ نہیں ہے
حقیقت تو یہ ہے اس جرم میں تم سب بھی شامل ہو
تمہیں شہوت کے بھوکے بھیڑیے ہو ننگِ محفل ہو
برہنہ جسم عورت کو نچایا کس نے تم سب نے
یہ ماں بہنو ں کو چکلوں پر بٹھایا کس نے تم سب نے
تو کیا یہ سچ نہیں ہے
کہو کیا سچ نہیں ہے
جو سمجھو تم تو یہ پھٹکار ہے طبلے کی دھن دھن میں
لٹی ممتاؤں کی فریاد ہے گھنگھرو کی چھن چھن میں
یہ سارنگی کے سر میں دیش کی تہذیب روتی ہے
طوائف کے بدن میں بھی مقدس روح ہوتی ہے
مگر تم نے نہ سوچا
کبھی تم نے نہ جانا
امیری کا غریبی سے عجب بیوپار کرتے ہو
گلوں کا دل دکھا کر خود کو تم سرشار کرتے ہو
تمھاری روح گندی ہے تمھارے دل بھی میلے ہیں
تمھاری ہی ہوس کے دامنِ عصمت پہ چھینٹے ہیں
یوں بنتے پارسا ہو
زمانے کے خدا ہو
کسی بھی دھرم میں جائز نہیں تحقیر عورت کی
سرِ بازار پھر کیوں بیچ دی تقدیر عورت کی
ارے اے نفس کے بندو ذرا کچھ ہوش میں آؤ
ہوس اور عیش تج کر اب بھی انسان بن جاؤ
 
اُسے تم اس کی عصمت کے تحفظ کا یقیں دے دو
خدارا اب طوائف کو بھی ماں بیٹی بہن کہہ دو
٭٭٭



گیت

      
دور چلا چل اے میرے دل آوارہ
اب نہیں آنا اس بستی میں دوبارہ

دل کا کہا نہ مانا دیکھ لیا انجام
ہنسی ہنسی میں ہو گیا دل کا کام تمام
پیار تو کیا جیون کی بھی بازی ہارا
دور چلا چل اے میرے دل آوارہ

پردیسی کو کب کس نے اپنا جانا
جل گیا مورکھ آپ ہی بن کر پروانہ
کبھی رکے نہ اِک منزل پر بنجارا
دور چلا چل اے میرے دل آوارہ

پیچھے مڑ مڑ کر کیا دیکھے بڑھتا چل
اپنے دکھ کا حال ندی سے کہتا چل
چھٹ جائے گا کبھی تو غم کا اندھیارا
دور چلا چل اے میرے دل آوارہ

کبھی ہنسائے کبھی رلائے پریت یہی
آنسو پی کر جی لے جگ کی ریت یہی
تو ہی نہیں جگ میں پگلے اِک دکھیارا
دور چلا چل اے میرے دل آوارہ
٭٭٭


غزل


میر صاحب کا اعتبار کریں
مذہبِ عشق اختیار کریں

اس کو اک روز آ ہی جانا ہے
کس لئے دل کو بےقرار کریں

کوئی دشمن نہیں رہا باقی
دوستوں میں کسے شمار کریں

آج تاخیر سے میں جاؤں گا
آج وہ میرا انتظار کریں

تیرے بارے میں پوچھتے ہیں سب
خامشی کیسے اختیار کریں

ہم سا ناداں کوئی کیا ہوگا
دشمنِ جاں ہی جاں نثار کریں

پیار کرنا گناہ ہے ساجد
یہ گنہ آپ بار بار کریں
٭٭٭



گیت


 پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
 ہر طرف اندھیرا ہے
 نفرتوں کا پہرا ہے 
 ظلم کی سیاست میں 
 قاتلوں کا ڈیرا ہے 
 پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں

 بغض ہے اداؤں میں
 زہر ہے فضاؤں میں 
 جل رہے ہیں شہر اور گاؤں 
 آگ ہے ہواؤں میں 
 پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں

 جسم سوکھے سوکھے ہیں 
 کتنے پیٹ بھوکے ہیں 
 سوچتے نہیں اس پر 
 لوگ کتنے روکھے ہیں 
 پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں

 رنگ ہی تجارت کے
 کاروبار عصمت کے 
 خوش ہیں بے ضمیری میں 
 بھوکے لوگ دولت کے 
 پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں

 دور ہے یہ وحشت کا 
 ہے عروج رشوت کا 
 اُٹھ گیا جنازہ اب 
 پیار اور محبت کا 
 پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
 ٭٭٭



ہم پردیسی تم پردیسی 

ہم پردیسی تم پردیسی 
اس دنیا میں رہنے والا کوئی نہیں ہے کوئی نہیں 
دکھ بھی اپنا سکھ بھی اپنا 
سب اپنے ہیں یار پرایا کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
ہم پردیسی تم پردیسی 

آبادی سی ویرانی ہے ویرانے سی اک محفل 
نام ہے کیا اس نئی گلی کا پوچھ رہا ہے بیکل دل 
سوچ رہا ہے تو کیا مورکھ 
کس کے ساتھ نہیں پرچھائیں 
خالی گھر میں اپنے تنہا کوئی نہیں ہے کوئی نہیں 
ہم پردیسی تم پردیسی 

جانے جانے کیسا ریلا آیا سنگی ساتھی چھوٹ گئے 
سپنوں کے چکر میں اپنے سارے کھلونے ٹوٹ گئے 
کیا رونا ہے، کیا گھبرانا 
لوٹ کے جس کو گھر نہیں جانا
اس میلے میں یارو ایسا کوئی نہیں ہے کوئی نہیں 
ہم پردیسی تم پردیسی 

اس دنیا میں رہنے والا کوئی نہیں ہے کوئی نہیں 
ہم پردیسی تم پردیسی 
٭٭٭


پُرانا مکان نیا مکین



دیواروں پر کائی جمی ہے
سُوکھی بیلیں لٹک رہی ہیں
رنگ و روغن سے محروم 
اِس کہنہ خاموش حویلی کے کمروں میں
کیسے ٹھاٹ سے 
کیسی بے فکری سے 
رہتی ہے اب
اِک ویرانی۔
٭٭٭



گیت

بجلی جیسی شوخیاں ناگن جیسی چال 
ڈولیں تیری چال پر امبر اور پاتال 

چنچل نینوں نے ترے لوٹا من کا چین 
گوری تو نے من مرا کر ڈالا بے چین 
اب تو تیری یاد میں کٹتے ہیں دن رین 
تیرے کارن ہو گیا حال سے میں بے حال 
بجلی جیسی شوخیاں ناگن جیسی چال 

ماتھے پر بندیا مکھ پر لٹ بکھرائے 
دیکھے مکھڑا جو تیرا چندا بھی شرمائے 
تیرا سراپا دیکھ کر ہر ایک کوئی للچائے 
کرتا جلوہ ہے تیرا سب کے دل پامال
بجلی جیسی شوخیاں ناگن جیسی چال 

چلتی جب ہے راہ میں ناگن سی لہرائے 
رس چھلکے سنگیت کا جب پائل چھنکائے 
جھلکی تیرے روپ کی سب کا دل تڑپائے 
تجھ کو جو بھی دیکھ لے ہو جائے بدحال 
بجلی جیسی شوخیاں ناگن جیسی چال 
٭٭٭



گیت

ساگر میں طوفان اٹھا ہے کریں ہوائیں شور 
دیکھ بھال کے چل او مانجھی لہریں ہیں منہ زور 
ہوش کو کام میں لاؤ
مانجھی نیا پار لگاؤ

ابھی ہے دور کنار تجھ سے دور تری منزل 
رات نے آ گھیرا تو مانجھی ہوگی بڑی مشکل 
موجوں نے کیا ہے گھراؤ
مانجھی نیا پار لگاؤ

گرج رہا ہے ساگر موجیں لپکیں تیری اور 
بادل برسے بجلی تڑکے کریں ہوائیں شور
پھر بھی دل میں خوف نہ لاؤ
مانجھی نیا پار لگاؤ

موج موج زہریلی ناگن خطرے میں ہے جان 
ہمت سے ہی ہوگی تیری ہر مشکل آسان 
چپو تیز چلاؤ
مانجھی نیا پار لگاؤ

بھنور جال کے ناگ نے مانجھی دیا ہے جبڑا کھول 
دیکھ بھنور میں پھنس کر نیا جائے نہ تیری ڈول 
جل کا ہے تیز بہاؤ
مانجھی نیا پار لگاؤ
٭٭٭


دعویٰ عشق 


 پشیماں ہو گی پچھتاؤ گی اک دن 
کئے پر اپنے شرماؤ گی اک دن 

 یہ ظالم وقت بدلے گا نگاہیں 
جھلک اٹھیں گی سہمی سہمی آنکھیں 
لبوں پر کانپ اٹھیں گی کراہیں 
مجھے تم ڈھونڈنے آؤ گی اک دن 
 پشیماں ہو گی پچھتاؤ گی اک دن 

تمہارے لب پہ میرا نام ہو گا 
یقیناً صبح ہو گا شام ہو گا 
تمہیں رونے سے ہی بس کام ہو گا 
خوشی کو تم ترس جاؤ گی اک دن 
 پشیماں ہو گی پچھتاؤ گی اک دن 

تمہیں یاد آئیں گی گزری جو باتیں 
ڈسیں گی تم کو یہ ناگن سی راتیں 
سنائی دیں گی آہوں کی براتیں
غموں کے گیت تم گاؤ گی اک دن 
 پشیماں ہو گی پچھتاؤ گی اک دن 

 نظر کے دھندلے پڑ جائیں گے تارے
چبھیں گے خار کی صورت نظارے 
دغا دیں گے سبھی جھوٹے سہارے 
گلے میرے لپٹ جاؤ گی اک دن 
پشیماں ہو گی پچھتاؤ گی اک دن 
٭٭٭


گیت

میں آپ سے الفت کی ہر رسم نبھاؤں گا 
مر کر بھی محبت میں ،میں آپ کو چاہوں گا
ہر رات جلاؤں گا 
دیپک تیری راہوں میں 
آنسو کی طرح تجھ کو
رکھوں گا نگاہوں میں
میں تجھ کو جھلاؤں گا
ان پیار کی بانہوں میں
جو دل ترا تڑپا دے وہ گیت میں گاؤں گا 
مر کر بھی محبت میں ،میں آپ کو چاہوں گا

جب یاد ستائے گی 
دو اشک بہاؤں گا
بہلانے کو دل کوئی 
میں گیت بھی گاؤں گا 
تصویر بھی میں تیری
سینے سے لگاؤں گا
دستور محبت کا ہنس ہنس کے نبھاؤں گا 
مر کر بھی محبت میں ،میں آپ کو چاہوں گا
ہو چاہے نہ ہو مجھ پر 
پل بھر کو کرم تیرا 
آندھی میں بھی اکھڑے گا
ہر گز نہ مرا ڈیرا 
مٹ مٹ کے محبت کی تقدیر بناؤں گا 
مر کر بھی محبت میں ،میں آپ کو چاہوں گا
٭٭٭


دوہا گیت

دیکھا ہے جب سے تجھے بڑا برا ہے حال
بھولے سے ہی اک نظر کبھی تو ہم پر ڈال 

 تو ہی سر کا تاج ہی، تو ہی مری جاگیر 
تو مل جائے تو ملی، خوابوں کی تعبیر 
تیرے غم میں رات دن ،رہتا ہوں دل گیر 
بنا کبھی تو پیار سی، تُو میری تقدیر 

دکھ ساگر سے تو مجھے، آ کر کبھی نکال 
دیکھا ہے جب سے تجھے بڑا برا ہے حال

تجھ بن میں بیتاب ہوں ،نہیں ہے من کو دھیر 
ہر دم تیری یاد کی، چھیدیں دل کو تیر 
میرے پاؤں میں پڑی، ہے غم کی زنجیر 
کیوں دیتا غم ہی غم ،او  جلمی بے پیر 

ڈال میرے کشکول میں، پیار کے موتی ڈال 
دیکھا ہے جب سے تجھے بڑا برا ہے حال

اب جو میرے ہاتھ میں، نہیں ہے تیرا ہاتھ 
جیون ساتھی بن گئی ،درد کی یہ سوغات 
ہر دم تیری یاد کی، ناگ ڈسیں دن رات 
بھسم نہ کر دیں تن بدن، آگ بنے جذبات 

 آئے گا کس دن تجھے جلمی مرا خیال 
دیکھا ہے جب سے تجھے بڑا برا ہے حال
 ٭٭٭

ماخذ:
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=ishaaqsaajid
تدوین ا ور  ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
