﻿


لاشُعُور

غلام مرتضیٰ راہیؔ
کا
 ششم مجموعۂ کلام



 


لَا شُعُور

غلام مرتضیٰ راہیؔ
کی 
اکیسویں  صدی کی غزلیں 
                                 

ناشر:راہی پبلیکیشنز
راہی منزل، پنی، فتح پور (یو۔ پی۔ ) 212601
ٹیلیفون  :  (05180)-222323
   ترتیب و تزئین
رَئیس فاطمہ راہیؔ

٭
ترتیب سے  حسن ہے  جہاں  کا
اک چیز، اِدھر اُدھر نہیں  ہے 
٭


 



انتساب

اردو ادب میں  اضافہ کی حیثیت رکھنے  والی تخالیق
’’مثنویِ وقت‘‘
اور
’’مثنویِ رسولؐ‘‘
کے  دانشور شاعر
صفو ت علی صفوتؔ 
کے  نام
’’تو غنچہ ساختی اوراقِ باد بُردۂ من‘‘

 






اپنی قسمت کا بلندی پہ ستارہ دیکھوں 
ظلمتِ شب میں  یہی ایک نظارہ دیکھوں 

 



دَماغ والے  ! تجھے  کچھ خیال ہے  اُس کا
عروج  ایک  فقط لازوال ہے  اُس کا

کہا ں  تک اس کی مسیحائی کا شُمار کروں 
جہاں  ہے  زخم، وہیں  اندمال ہے  اُس کا

مِلا ہے  کس لئے  مخلوق پر شَرَف تجھ کو
جو میں  نے  خود سے  کیا ہے  سوال ہے  اُس کا

یہاں  تک آ گئی بینائی میری آنکھوں  میں 
جدھر بھی دیکھتا ہوں  احتمال ہے  اُس کا

ابھرتی جا رہی ہے  کائنات کی تصویر
میں  رنگ بھرتا ہوں  جس میں  خیال ہے  اُس کا

مُشاہدات سے  یہ صاف ہو گیا راہیؔ
کہ ذرّہ ذرّہ عدیم المثال ہے  اُس کا
**
 





ہزار دل، ہزار جان سے  ہمیں  قُبول وہ
بِنائے   خلقِ کائنات، آخری رسولؐ وہ

تضاد قول و فعل کا، محال اس کی ذات پر
وہ ضابطہ بہ ضابطہ، اُصول در اُصول وہ

بلند قامتی میں  وہ، پرے  مری نگاہ سے 
زمیں  پہ آسمان کا وسیلۂ نُزول وہ

نفاذِ کفر ہر طرف، وُرودِ جہل چار سُو
بلا کے  خارزار میں  بنا تھا کھِل کے  پھول وہ

مری خوشی بھی کیا اگر نہ رو پڑوں  یہ سوچ کر
مری خوشی کے  واسطے  رہا سدا ملول وہ
***
 



کم جو مجھے  حصّہ دے 
نادار کو پہنچا دے 

دنیا کی خوشی سب کو
مجھ کو غمِ دنیا دے 

سَر مِہر کا نیچا کر
دیوار کو سایا دے 

منظر میں  رہوں  ہر دم
وہ ذوقِ نظارہ دے 

مجھ سنگِ ملامت کو
بنیاد کا درجہ دے 

اربابِ بصیرت سے 
مٹی مری چھَنوا دے 

دے  راہ مجھے  سادہ
پا، نقش کُنندہ دے 

جتنی بھی ہو سچّائی
سب مجھ سے  اُگلوا دے 

مجھ کو کسی اچھے  سے  
انجام کو پہنچا دے 
***
 




پَل پَل کی میں  روداد رَقم کرتا چلا جاؤں 
صدیوں  کے  لئے  خود کو بہم کرتا چلا جاؤں 

اٹھ کر ترے  در سے  مجھے  جانا ہو جہاں  بھی
محسوس ترا لطف و کرم کرتا چلا جاؤں 

رکھے  مجھے  توفیق سُبک بار ہمیشہ
احسان کو احسان میں  ضم کرتا چلا جاؤں 

ٹھہروں  ترے  نزدیک مَیں  کردار کا غازی
پورے  میں  سبھی قول و قَسم کرتا چلا جاؤں 

دنیا سے  مرا فاصلہ بڑھتا رہے  چاہے 
تجھ سے  جو ہے  دُوری اُسے  کم کرتا چلا جاؤں 

ہر آن کوئی تازہ تڑپ، رختِ سفر ہو
جو زخم ملے  سینے  میں  دَم کرتا چلا جاؤں 

فرق آئے  نظر نشو و نما میں  مجھے  جن کی
ایسی سبھی شاخوں  کو قلم کرتا چلا جاؤں 

آج اُس کے  چلے  جانے  کے  افسوس میں  شامل
کل اپنے  نہ رہنے  کا بھی غم کرتا چلا جاؤں 

دریا کی خوشامد نہ کروں  پیاس کے  ہوتے 
ہونٹوں  پہ زباں  پھیر کے  نم کرتا چلا جاؤں 
***
 



رنگ جس پر وہ  جما دیتے  ہیں 
کیا سے  کیا اُس کو بنا دیتے  ہیں 

بعض خوشیاں  نہیں  جینے  دیتیں 
بعض غم عمر بڑھا دیتے  ہیں 

لے  کے  صیّاد سے  ہر قیمت پر
ہم پرندوں  کو اڑا دیتے  ہیں 

اب مئی جُون میں  پہلے  کی طرح
ہاتھ کے  پنکھے  ہوا دیتے  ہیں 

عمر وہ گاڑھی کمائی ہے  جسے 
ہم گھڑی بھر میں  گنوا دیتے  ہیں 

محو ہم سے  نہ ہوا اک لمحہ
لوگ صدیوں  کو بھُلا دیتے  ہیں 

ہمسری اُن سے  جو کرنا چاہے 
اُس کو سُولی پہ چڑھا دیتے  ہیں 

کچّی را ہوں  میں  بھٹکنے  والے 
دُور سے  اپنا پتا دیتے  ہیں 

کوہساروں  پہ کہاں  تک ہو یقیں 
جب یہ چوٹی سے  گرا دیتے  ہیں 

اُن کے  انصاف کا کہنا کیا ہے 
دیکھئے  کس کو سزا دیتے  ہیں 

پیش آتے  ہیں  وہ سب سے  یکساں 
سب کو مِٹّی میں  مِلا دیتے  ہیں 
***
 



لکھے  ہوئے   کا  اعادہ کب تک
ورق نہ چھوڑو گے  سادہ کب تک

سواریوں  سے  اَٹی ہیں  راہیں 
رُکا رہے  گا پیادہ کب تک

کب آئے  گی ناپ تَول اُس کو
مِلے  گا کم یا زیادہ کب تک

مری مدد میں  رہے  گا شامل
تمھارا عزم و ارادہ کب تک

درندے  اوڑھے  رہیں  گے  آخر
ہمارے  تن کا لبادہ کب تک

رَہی مَکینوں  کی آمد آمد
مکان رہتا کشادہ کب تک
***
 



بہت رات میں  شمع کیوں  جل رہی ہے 
اندھیرا  کرو    روشنی کَھل رہی ہے 

مری ساعتِ آخری، ابتدا سے 
بمشکل نفَس تا نفَس ٹل رہی ہے 

دیا ساتھ دونوں  نے  میرا، مگر اب
دوا رُک گئی ہے  دُعا چل رہی ہے 

شفق کا نظارہ جنھیں  دیکھنا ہو
ہماری سحر شام میں  ڈھل رہی ہے 

نہ ظاہر ہوئی گھپ اندھیرے  میں  جو شے 
بہت روشنی میں  بھی اوجھل رہی ہے 

کہیں  دن چڑھے  جا کے  ہشیار ہو گی
مری صبح آنکھیں  ابھی مَل رہی ہے 
***
 



کام  اب  بیٹھے   بٹھائے   مرا چلنے  کا نہیں 
جس کے  در پر ہوں  وہ اب گھر سے  نکلنے  کا نہیں 

تم کو ہے  سایۂ دیوار کی عجلت لوگو!
اتنی جلدی مرا سورج کبھی ڈھلنے  کا نہیں 

کیا کرو گے  جو بنا دو گے  مجھے  خاکستر
آگ میں  دوسروں  کی پھر کوئی جلنے  کا نہیں 

مِہر جب پشت پناہی پہ اتر آیا ہو
اپنے  سایے  سے  کوئی آگے  نکلنے  کا نہیں 

مرحلہ وہ بھی سفر کا ابھی طے  ہونا ہے 
کہ جہاں  پاؤں  پر اپنے  کوئی چلنے  کا نہیں 

مان جائے  یہ پٹاخوں  سے، طمنچوں  سے  بھلے 
طِفل، ناداں  ہے  کھلونوں  سے  بہلنے  کا نہیں 

اب کے  اک ایسی ہی ٹھوکر سے  مرا سامنا ہے 
جو سنبھالے  گا مجھے  وہ بھی سنبھلنے  کا نہیں 

فیصلہ میرا جو سنتا ہے، یہی کہتا ہے 
کہ اسے  اب کوئی ایسے  ہی بدلنے  کا نہیں 

پیکرِ شمع ہوں  میں، موم کی صورت راہیؔ
جب تلک وہ نہیں  جلتی میں  پگھلنے  کا نہیں 
***
 


رسولؐ  اپنی جگہ جبرئیل اپنی جگہ
مسافر آگے  رہا سنگِ میل اپنی جگہ

ضرور ہونی ہے  تصویر میری آویزاں 
وگرنہ چھوڑ چکی ہوتی کیل اپنی جگہ

نکالیں  اشک مرے  اُس کے  دل میں  گنجائش
نکل کے  آپ بناتی ہے  جھیل اپنی جگہ

کسی کسی جگہ محفوظ ہے  ابھی دہلیؔ
کہیں  کہیں  پہ کھڑی ہے  فصیل اپنی جگہ

وہ ایک ضرب لگا کر نکل گیا اُس پار
تڑپ کے  رہ گیا دریائے  نیل اپنی جگہ

***
 



ہماری شہرتوں  کا وقت بھی کہاں  ٹھہرا
ندی کا زور پہاڑوں  کے  درمیاں  ٹھہرا

گنوایا وقت عبث انتظار میں  ہم نے 
نہ میر کارواں  ٹھہرا، نہ کارواں  ٹھہرا

چلا تھا کون ملا کر مرے  قدم سے  قدم
وہیں  وہیں  وہ رکا میں  جہاں  جہاں  ٹھہرا

نہ کوئی رنج تھا جس میں، نہ کوئی راحت تھی
حیات کا وہی عرصہ مجھے  گراں  ٹھہرا

نکالا کانٹے  سے  کانٹا کبھی کبھی ہم نے 
چبھے  تو دونوں، مگر ایک مہرباں  ٹھہرا
***
 



یہ وقت کا التفات کتنا
مِلتا ہے  یہ تا حیات کتنا

پاؤ گے  نہ اُور  چھُور میرا
میں  ذرّۂ کائنات کتنا

اپنے  کو خدا سمجھ رہا ہے 
بندے  کا شعورِ ذات کتنا

ہر اک سے  مِلا مِلا کے  ہم نے 
مضبوط کیا ہے  ہات کتنا

کیجے  یہ مطالعہ کہاں  تک
لکّھا گیا واہیات کتنا

ہر چند گلے  گلے  تھا پانی
تھا خشک لبِ فرات کتنا

 جب تک نہ کسی کی نیند ٹوٹے 
میں  خواب، مجھے  ثبات کتنا

ہوتا نہیں  جب تلک نکلنا
بھر لو گے  دمِ حیات کتنا

اُس کے  لئے  تیرگی ہی اچھی
روشن تھا وہ چاند، رات کتنا
***
 



ایک ساعت جب سے  مہماں  ہو گئی میرے  یہاں 
کیسے  ماہ و سال اور کیسی  صدی  میرے  یہاں 

مستقل رہتی تھی امن و آشتی میرے  یہاں 
اب مگر رہنے  لگی ہے  عارضی میرے  یہاں 

مُندمل ہو جاتے  ہیں  گہرے  سے  گہرے  زخم بھی
دشمنی سے  بھی سوا ہے  دوستی میرے  یہاں 

رات کا کوئی تعین ہے، نہ دن کا ہے  شمار
وقت کی رفتار ہے  کچھ اور ہی میرے  یہاں 

اب فقط تحریر ہی تحریر ہونا ہے  اِسے 
اب معانی کھو چکی ہے  زندگی میرے  یہاں 

کیسے  یہ تسخیر کر لیتی ہے  تیری کائنات
ٹھوکریں  کھاتی ہے  آ کر آگہی میرے  یہاں 

میرا ہمسایہ جسے  اپنا شجر کہتا ہوا
اُس کی شاخیں  پھولتی پھلتی ہوئی میرے  یہاں 

راستے  کی گہری گہری کھائیاں  ہیں  برقرار
پُل بنا کر آ رہے  ہیں  آدمی میرے  یہاں 

آج بھی ہوتی ہے  ظاہر اپنے  اصلی روپ میں 
رات کی تاریکی، دن کی روشنی میرے  یہاں 

کھینچ لیتی ہے  مجھے  اُس کی کشش اپنی طرف
دور ہو پاتی نہیں  میری کمی میرے  یہاں 

ساتھ لایا کیجئے  اپنا کوئی مژدہ ضرور
دوسروں  کی ہی خوشی میں  ہے  خوشی میرے  یہاں 

***
 






بشر، حل زندگانی کا  معمّا  کیا کرے  گا
کہ جینے  کا یہ مقصد کر کے  پورا کیا کرے  گا

نہ ہو گی برف تو کوہِ ہمالہ کیا کرے  گا
گئی برسات تو دریائے  گنگا کیا کرے  گا

الگ سب سے  تری پہچان بنتی جا رہی ہے 
ہمارے  درمیاں  رہ کر اکیلا کیا کرے  گا

نہ میرے  پاس دولت ہے، نہ طاقت ہے  نہ رتبہ
کوئی اس حال میں  مجھ پر بھروسا کیا کرے  گا

پیادے  کو ہٹایا جا رہا ہے  راستے  سے 
کہ اس رفتار سے  منزل کا پیچھا کیا کرے  گا

کھڑے  ہیں  ہم تجھے  گھیرے  ہوئے  جب تک کھڑے  ہیں 
تماشائی نہ جب ہوں  گے  تماشا کیا کرے  گا

نہ ہو تو بھاؤ ہی بازار کا لیتا چلوں  میں 
کہ جس کی جیب خالی ہے  وہ سودا کیا کرے  گا

اسے  ہے  کام، رہنا ہے  یہاں  جس کو ہمیشہ
کوئی اس کے  سوا رہ کر ہمیشہ کیا کرے  گا

کبھی امید ہمدردی کی ایسے  سے  نہ رکھیں 
اَڑا ہے  بن کے  جو دیوار سایا کیا کرے  گا
***
 



دور سے  آئے  ہیں  قریب مرے 
دوست ٹھہرے  جو تھے  رقیب مرے 

کفر لگتی ہے  ان کی مایوسی
مجھ سے  مایوس ہیں  طبیب مرے 

ایک لاٹھی مرا سہارا تھی
کٹ گئے  راستے  مُہیب مرے 

میرے  گلشن کے  ترجُماں  بن کر
اُڑ گئے  سارے  عندلیب مرے 

یہ اندھیرا جو ہے  چراغ تلے 
کیسے  آئے  کوئی قریب مرے 

وقت پڑتا نہیں  جو کام آؤ
دوست نکلے  ہو تم عجیب مرے 
***
 


خَلوت میں  اپنی کھُل کے  مجھے  باریاب لکھ
اپنے  کو با مراد، مجھے  کامیاب لکھ

درخواست میں  تُو ہیچ مدانی مری نہ دیکھ
دو ٹوک لفظوں  میں  مجھے  عزّت مآب لکھ

نقد و نظر کے  نام پہ کیا کچھ نہیں  روا
عالم میں  ایک روز مجھے  انتخاب لکھ

یہ تیرے  رنگ و نور کے  ماخَذ کا ہے  سوال
اے  میرے  ماہتاب ! مجھے  آفتاب لکھ

طُوفان کا احاطہ کیا جاتا ہے  یوں  ہی
ڈوبے  نہیں  ہیں  جو ابھی اُن کو حباب لکھ

راہیؔ! قلم دوات کا، مصرف کچھ اور ہے 
کاغذ سیاہ کرنا ہو تو بے  حساب لکھ
***
 



ماضی! تجھ سے  ’’حال‘‘ مرا شرمندہ ہے 
مجھ سے   اچھا آج  مرا  کارندہ ہے 

کیسا انساں  ترس رہا ہے  جینے  کو
کیسے  خشکی پر اک مچھلی زندہ ہے 

جیسے  کوئی کاٹ رہا ہے  جال مرا
جیسے  اڑنے  والا کوئی پرندہ ہے 

اُس کے  پیچھے، اُس سے  بڑھ کر، اک انسان
آگے  آگے  اک خونخوار درندہ ہے 

ہار گلے  کا، نور کا ہالہ بنا ہوا 
حسن سے  اُس کے  ہر موتی تابندہ ہے 

نوعِ بشر کا وحشی پن جب یاد کرو
یہ مت بھولو جنگل کا باشندہ ہے 

ایسے  ہی آثار دکھائی دیتے  ہیں 
دیکھو کیا ہونے  والا آئندہ ہے 

بجھتے  بجھتے  دے  جاتا ہے  کوئی شہ
خاکستر سے  چنگاری شرمندہ ہے 

اردو جیسا اپنا بھی، بے  گانہ بھی
آخر راہیؔ بھارت کا باشندہ ہے 
***
 



تمازت چاند سے  دن بھر چھنی ہے 
شعاعِ مہر، شب میں  چاندنی ہے 

اگر ہو زخم کھانے  والا کوئی
قلم کی نوک، برچھی کی انی ہے 

کہیں  اچھی تری تصویر، تجھ سے 
اگر تھی دیدنی، تو دیدنی ہے 

کریں  دیوار میں  ہم رخنہ پیدا
اگر دروازہ اُس کا آہنی ہے 

کوئی جذبہ نہیں  صادق رہا اب
کہاں  وہ دوستی، وہ دشمنی ہے 

پڑے  ہیں  پاؤں  میں  چھالوں  پہ چھالے 
بڑی مشکل سے  پگڈنڈی بنی ہے 

کسی کے  ساتھ یہ نوبت نہ آئی
مجھی سے  میری بگڑی اور بنی ہے 

نظر آتی نہیں  ہے  راہ کوئی
یہاں  تک چھاؤں  زلفوں  کی گھنی ہے 

ستارے، چاند، سورج کہہ رہے  ہیں 
چلے  آؤ جہاں  تک روشنی ہے 
***
 



(نذرِ غالبؔ)
ٹکڑے  ہوئے  دلوں  کے  جگر چاک ہو گئے 
اُن  پر  شباب آیا تو  سفّاک ہو گئے 

اٹھ اٹھ کے  چوم لیتے  ہیں  سرتاقدم جنھیں 
ہم اُن کی راہ دیکھنے  میں  خاک ہو گئے 

شرمائے  رہتے  تھے  جو کبھی اپنے  آپ سے 
مجھ کو بنا کے  آئینہ، بے  باک ہو گئے 

آنکھوں  نے  اتنے  اشک ندامت کئے  بہم
سارے  گناہ دھل گئے  ہم پاک ہو گئے 

سنجیدگی سے  ہم نے  نہ سوچا کبھی کہ ہم
پانی میں  کھیل کھیل کے  تیراک ہو گئے 

ہم ہو چکے  تھے  ریڈیو سُن سُن کے  ہوشیار
وہ ٹی۔ وی۔ دیکھ دیکھ کے  چالاک ہو گئے 

جھوما کئے  بہار میں  سبزہ بنے  ہوئے 
آئی خزاں  تو ہم خس و خاشاک ہو گئے 

در در کی خاک چھاننے  سے  یہ ہوا کہ ہم
اہلِ جنوں  سے  صاحبِ ادراک ہو گئے 

راہیؔ کو راس آیا نہیں  مُڑ کے  دیکھنا
منظر جو خوشنما تھے  الم ناک ہو گئے 
***
 



راستوں  کی بے  بسی دیکھا کرو
مت یوں  ہی باہر قدم رکھا کرو

دستِ شفقت چاہئے  سر پر اگر
کچھ لچک، کچھ عاجزی پیدا کرو

محو ہو جاتے  ہو اپنی دید میں 
آئینے  کا دھیان بھی رکھا کرو

دیر سے  آنے  پہ تم ملتے  نہیں 
راہ میری دیکھ کر جایا کرو

بعض ’’آدم خور ‘‘ہوتے  ہیں  شجر
دیکھ سن کر چھاؤں  میں  بیٹھا کرو

جھیل ہو، تالاب ہو، یا ہو کنواں 
ڈوبنے  لائق انھیں  گہرا کرو

گوشہ گیری کے  بجائے  جا بجا
یکہ و تنہا نظر آیا کرو

میں  کہیں  آگے  ملوں  گا اب تمھیں 
اب جہاں  تک ہو مرا پیچھا کرو

کھُل کے  کو ئی بات اب کرتا نہیں 
تم اشاروں  کو مرے  سمجھا کرو
***
 



خیال و خواب میں  بارش کے  کھوئے  بیٹھے  ہیں 
کس اطمِنان ؂سے  ہم فصل بوئے  بیٹھے  ہیں 

وہ، جس کو دیکھنے  سے  تابِ دید جاتی رہی
نظر میں  ہم وہ تجلّی سموئے  بیٹھے  ہیں 

جو لگ رہی ہیں  تمھیں  آسمان چھوتی ہوئی
ہم اُن عمارتوں  کا بوجھ ڈھوئے  بیٹھے  ہیں 

ہمیں  نکالے  گا منجدھار سے  کھویّا کوئی
اِسی امید پہ نیّا ڈبوئے  بیٹھے  ہیں 
  
ذرا بھی اُس کی حقیقت کا ہم کو علم نہیں 
مگر اُسی کے  خیالوں  میں  کھوئے  بیٹھے  ہیں 

بچھڑ گئی تھی یہ ملنے  کے  بعد ہی ہم سے 
ہم اپنی زندگی کو روئے  دھوئے  بیٹھے  ہیں 

جبیں  پر اُن کی شکن تک ابھی نہیں  اُبھری
جو گہری سوچ میں  ہم کو ڈبوئے  بیٹھے  ہیں 

وہ اب ملا بھی تو پہچان کیسے  پائیں  گے 
اُسے  ہم ایک زمانے  سے  کھوئے  بیٹھے  ہیں 

ملا ہے  یہ کڑی محنت کا پھل ہمیں  راہیؔ
جو ہم پسینے  کے  موتی پروئے  بیٹھے  ہیں 


۱؂  اردو میں  یہ تلفّظ روا ہے ۔ 
***
 



صاف شفّاف آئینہ صحرا
کیا ہے  صحرا میں  ماسوا صحرا

ہر خطرناک تجربے  کے  لیے 
اک سمندر ہے، دوسرا صحرا

نام کو رہ گیا شریکِ سفر
اِدھر آیا اُدھر گیا صحرا

کچھ تعلق نہ رکھا دنیا سے 
خود میں  ایسا سمٹ گیا صحرا

کس کے  پیچھے  ہوا ہے  یہ پاگل
خاک اُڑاتا ہے  جا بجا صحرا

بیچ میں  آ گیا سراب ایسا
سامنے  پھر نہیں  پڑا صحرا

تیرے  دیوانے  اب کہاں  جائیں 
ہو رہا ہے  ہرا بھرا صحرا

جن کو رفتار پر نہیں  قابو
اُن کو ہے  ایک راستہ صحرا

بڑھتے  بڑھتے  حدِ تعیّن سے 
میری بستی میں  آ گیا صحرا

میں  نے  رکھا قدم تو آخر تک
آگے  پیچھے  مرے  رہا صحرا

ڈھونڈھتے  ڈھونڈھتے  مجھے  راہیؔ 
ہو گیا مجھ میں  لا پتا صحرا
***
 



کیا اس سے  سوا مجھ سے  بیاں  حالِ زبوں  ہو
جیسے   مری  بستی نہ ہو، صحرائے  جنوں  ہو

رنگت، مرے  ایثار سے  ہر گل کی فُزوں  ہو
مصرف کا چمن کے، مرا ہر قطرۂ خوں  ہو

اونچا میں  تمھیں  دیکھنا چا ہوں  گا ہمیشہ
تم میری عمارت کے  لئے  مثل ستوں  ہو

انسان کی آنکھوں  میں  نہ چھایا ہو اندھیرا
بجلی سی لپکتی ہو اگر سوزِ دُروں  ہو

ہم کو بھی خبر کرنا کہ بے  چین رہیں  گے 
دنیا میں  کہیں  بھی تمھیں  حاصل جو سکوں  ہو

اچھا ہے  نہ بہکے  مرے  دشمن کا نشانہ
کیوں  میرے  بجائے  کسی معصوم کا خوں  ہو

جس طرح میرے  خوابوں  میں  آتا ہے  تو اکثر
اک بار کہیں  واقعی آنا ترا یوں  ہو

مشکل میں  تمھیں  دیکھ کے  پڑ جاتا ہے  ایمان
قدرت کا کرشمہ ہو کہ ساحر کا فُسوں  ہو

جینا ہو مرا سارے  جہاں  کے  لئے  راہیؔ
ہر ملک کا پرچم مرے  مرنے  پہ نگوں  ہو
**
 



اُسے  پاؤ گے  سر بسر اَور ہی
وہ  نوعِ بشر ہے  مگر اَور ہی

کوئی شکل کرتا جو وہ اختیار
تو لگتا ہمیں  دیکھ کر اَور ہی

کسی شے  سے  اِس کا تعلق نہیں 
بسا ہے  مرے  دل میں  ڈر اَور ہی

ہمیشہ رہے  گی یہ انسان میں 
کہ چھوڑی ہے  اُس نے  کسر اَور ہی

مجھے  مڑکے  کب دیکھنے  دیتا ہے 
مرے  سامنے  ہے  سفر اَور ہی

نکلتے  ہیں  ذرّات بھی کچھ کے  کچھ
یہ دنیا ہے  المختصر اَور ہی

جڑوں  کو بھی جن کی نہ چھوڑا گیا 
یقیناً وہ ہوں  گے  شجر اَور ہی

اُسے  مل گئی پی کے  عمرِ دوام
کیا زہر نے  کچھ اثر اَور ہی

ذرائع ہیں  راہیؔ مرے  دوسرے 
مجھے  مِل رہی ہے  خبر اَور ہی
***
 



شام سے  صبح ہوئی جاتی ہے 
نیند آنے  سے  رہی جاتی ہے 

آپ کے  چیخنے  چلّانے  سے 
میری آواز دبی جاتی ہے 

دشت دیکھے  نہ سمندر دیکھے 
تشنگی بڑھتی چلی جاتی ہے 

سَوا نیزے  پہ اُتر آ سورج
جھیل کی جھیل جمی جاتی ہے 

سامنا اُس کا نہ ہو جائے  کہیں 
سب کی سب دھند چَھٹی جاتی ہے 

پاس سے  ریل کا ہوتا ہے  گزر
گھر کی بنیاد ہلی جاتی ہے 

اتنی رفتار بڑھا لی میں  نے 
کہ مری سانس رُکی جاتی ہے 

رہ گئی ہے  جو کھنڈر کی صورت
وہ نشانی بھی مٹی جاتی ہے 

سب سے  نزدیک اَجل ہے  راہیؔ
آنے  میں  کوئی گھڑی جاتی ہے 
***
 



کہیں  بھی سانس لیں  ہم ہوا ہر جا بہم ہے 
نہ پوچھو اُس کی قیمت جو بے  دام و دِرم ہے 

اَنی برچھی کی اُس کی، مری نوکِ قلم ہے 
اتر جائے  جو دل میں  وہی اُن میں  اہم ہے 

سخی کا لیکھا جوکھا جو رکھتا ہو وہ جانے 
مدد میں  دس لکھا ہے  صِلے  میں  سَو رقم ہے 

مسافر ہوں  خلا کا مجھے  اِس کی خبر کیا
مرے  قدموں  کے  نیچے  عرب ہے  یا عجم ہے 

جو رکھا تھا زمیں  پر مرا پہلا قدم تھا
پڑا ہے  چاند پر جو مرا اگلا قدم ہے 

مِلے  تلوؤں  کو ٹھنڈک جلن آنکھوں  کی جائے 
چلیں  ہم پا برہنہ جہاں  تک گھاس نم ہے 

مرا گھبرا کے  گھر سے  نکلنا بھی ہوا تو
نہ اب صحرا میں  وحشت، نہ آہو میں  وہ رَم ہے 

خوشی سے  بیچ دیں  گے  جگر کیا جان اپنی
بہت ایسے  ملیں  گے  جنھیں  جینے  کا غم ہے 

مرے  ہر پل کی اُس کو خبر رہتی ہے  راہیؔ
اگرچہ اُس کی جانب توجّہ میری کم ہے 
***
 



خود کو کبھی آئینے  میں  دیکھا بھی نہیں  تھا
جب دیکھنا چاہا تو  وہ  چہرہ بھی نہیں  تھا

سورج ابھی دیوار سے  اُترا بھی نہیں  تھا
بیٹھے  تو مُیسّر ہمیں  سایا بھی نہیں  تھا

تھا خطرۂ جاں  میرے  کمالات میں  شامل
دیکھا ہے  جو تم نے  وہ تماشا بھی نہیں  تھا

ملتا رہا لوگوں  کو مرے  گھر سے  برابر
کچھ میں  نے  چھپا کر کہیں  رکھا بھی نہیں  تھا

دیتے  ہو جہاں  تم مرے  ہونے  کی گواہی
موجود وہاں  تو مرا سایا بھی نہیں  تھا

گھر آ گئے  ہم نقطۂ سیری کو پہنچ کر
دنیا کو ابھی ٹھیک سے  دیکھا بھی نہیں  تھا

باندھے  ہوئے  پھرتا ہے  وہ اب فتح کا سہرا
جو آدمی میدان میں  اُترا بھی نہیں  تھا

بجھتی جو ذرا پیاس تو ہم کچھ تو سمجھتے 
سمجھے  تھے  سمندر جسے  قطرہ بھی نہیں  تھا

دریا کی صفائی نے  ڈبویا مجھے  راہیؔ
میرے  لئے  تنکے  کا سہارا بھی نہیں  تھا

***
 



جو دن کو چھپا لے  وہ اندھیرا نہیں  لگتا
بادل مجھے  کچھ خاص گھنیرا نہیں  لگتا

گل سخت زمینوں  میں  کھلانے  کا نتیجہ
بھنوروں  کا ادھر بھول کے  پھیرا نہیں  لگتا

تنہائی مری بانٹنے  آ جاتی تھیں  یادیں 
اب خانہ بدوشوں  کا بھی ڈیرا نہیں  لگتا

سونے  میں  نہ اب لطف نہ اُٹھنے  میں  مزہ ہے 
وہ شب نہیں  لگتی وہ سویرا نہیں  لگتا

جو تابِ بیاں  تجھ میں  نظر آتی ہے  اُس سے 
کچھ واقعہ دیکھا ہوا تیرا نہیں  لگتا

دیتا ہوں  اُسے  داد میں  اِس حسنِ عمل کی
لوٹا مجھے  ایسے  کہ لُٹیرا نہیں  لگتا

بن کر مرا، رگ رگ میں  ابھی دوڑنے  لگ جائے 
بہتا ہے  وہی خون تو میرا نہیں  لگتا

معمول مرا دیر تلک جاگنا سونا
دیکھوں  گا کسی شب کا سویرا نہیں  لگتا

فن آدمی کی ذات بتا سکتا ہے  راہیؔ
کچھ بِین سے  اپنی وہ سپیرا نہیں  لگتا
**
 



پتھروں  کا وہ پہاڑوں  سے  سرکتے  رہنا
میرا رک رک کے  وہ منھ راہ کا تکتے  رہنا

ہر طرف سے  وہ سمندر سے  گھری ہونے  پر
بیچ میں  آگ کا رہ رہ کے  بھڑکتے  رہنا

ایک اک بوند کا اب چاہئے  ساقی کو حساب
وہ مرے  جام کا بھر بھر کے  چھلکتے  رہنا

رائگانی وہ اُجالوں  کی مرے  ہاتھوں  سے 
میرا وہ شمع لئے  شب میں  بھٹکتے  رہنا

جاگنے  کے  لئے  آنکھوں  کو بہانہ ہو کوئی
جگنوؤ ! تم مری راتوں  میں  چمکتے  رہنا

بھیگنا وہ مرا بارش کے  نکل جانے  پر
قطرے  قطرے  کا وہ شاخوں  سے  ٹپکتے  رہنا

کھُلتے  جانا وہ مرے  عشق کے  اسرار تمام
جانے  کیا کیا وہ جنوں  میں  مرا بکتے  رہنا

بادلوں  سے  نہیں  برداشت ہوا اب کے  برس
فصل کا میری کڑی دھوپ میں  پکتے  رہنا

وہ ترا خاروں  کو مہمیز سمجھنا راہیؔ
اُن کا وہ ٹوٹ کے  تلوؤں  میں  کھٹکتے  رہنا
***
 



نیّت اب میری بھری رہتی ہے 
سامنے   چیز  دھری رہتی ہے 

کوئی موسم ہو تَری رہتی ہے 
شاخِ  اُمّید  ہری رہتی ہے 

کچھ چھپاتے  نہیں  بنتا اُس سے 
جامے  میں  جامہ دری رہتی ہے 

دنیا اب گھر میں  رہے  یا باہر
ذمّے  داری سے  بَری رہتی ہے 

دیکھنا ہو تو محلّے  میں  مرے 
دیو کے  ساتھ پری رہتی ہے 

گرنے  والی ہوئی جب سے  دیوار
اپنے  سائے  سے  ڈری رہتی ہے 

پودے  ہر فصل کے  ہیں  میرے  یہاں 
کیاری پھولوں  سے  بھری رہتی ہے 

ویسے  ہی رہئے  اٹل اپنی جگہ
جس طرح نیو دھری رہتی ہے 

جب زمیں  پر نہیں  چلتا راہیؔ
پاؤں  کے  نیچے  دری رہتی ہے 
***
 



وہی دیوار تھی میری، وہی در تھا میرا
ہر تغیّر میں  وہیں  کا وہیں  گھر تھا میرا

دوسرا کوئی تماشا نہ تھا ظالم کے  پاس
وہی تلوار تھی اُس کی، وہی سر تھا میرا

توڑ دیتے  تھے  جو لے  لے  کے  کھلونے  مجھ سے 
قائم اُن بچوں  کے  ہاتھوں  سے  ہنر تھا میرا

مجھ میں  ایسی کوئی صورت تھی خرابی کی ضرور
اُس کو کیا، اُس کے  فرشتوں  کو بھی ڈر تھا میرا

دور سے  آدمی پہچان لیا کرتے  تھے 
ساری بستی سے  نکلتا ہوا گھر تھا میرا

ٹوٹنے  کا وہ کہیں  نام لیا کرتا ہے 
وصل کی شب سے  جُڑا خوابِ سحر تھا میرا

تنگ دستی میں  کئی بار وہ موسم آیا
جس میں  پھل پھول پرائے  تھے، شجر تھا میرا

اتنی خشکی ہی کہاں  تھی مرے  پیروں  کے  تلے 
گھوم پھر کر وہی پانی میں  سفر تھا میرا

تیز کرتے  رہے  خنجر کو سب اپنے  راہیؔ
دوستوں  کے  لئے  پتھر کا جگر تھا میرا
***
 



آبجُو نکلے ، ورنہ چنگاری
ضربِ تیشہ ہو سنگ پر کاری

اُس کے  احساس سے  یہ ظاہر ہے 
ہو رہی ہے  مری نگہداری

در پئے  امن بھی رہیں  گے  ہم
جنگ کی بھی کریں  گے  تیّاری

رات بھی ویسی ہی مسلّط ہے 
رات پر جیسے  دن رہا طاری

کر دیا جس نے  مجھ خاکستر
مجھ میں  ہی دب گئی وہ چنگاری

مشرق و مغرب و شمال و جنوب
میری خاطر چہار دیواری

اُس کی حکمت کو ہم نے  موڑ دیا
روکا دریا کو،نہر کی جاری

ایک اک کے  بجائے  آخر میں 
سب کی اک ساتھ آئے  گی باری

نیند میں  پاؤ گے  ہمیں  اٹھ کر
صبح تک ہے  ہماری بیداری

مشق ہو سانس روکنے  کی جسے 
میرے  ہاں  دیکھ جائے  تہ داری

ایک خوشبو کے  واسطے  راہیؔ
ہم نے  چھوڑی نہ کوئی پھلواری
***
 



اپنی  قسمت کا بلندی پہ ستارہ دیکھوں 
ظلمتِ شب میں  یہی ایک نظارہ دیکھوں 

جیسے  چلتا ہوا آرا ہو وہ دھارا دیکھوں 
کٹ کے  گرتا ہوا دریا میں  کنارہ دیکھوں 

آپ ہی آپ جھٹک دیتا ہوں  دامن اپنا
اُف مرا خوف ! نہ جگنو نہ شرارہ دیکھوں 

لنگر انداز ہے  منجدھار میں  کشتی میری
کس طرف سے  مجھے  ملتا ہے  اشارہ دیکھوں 

اُس کی فطرت نے  دیا ہے  اُسے  موسم کا مزاج
کبھی چڑھتا کبھی گرتا ہوا پارہ دیکھوں 

اتنا موقع ہی نہیں  دیتی مجھے  خوئے  طلب
جو میسر ہے  اُسے  کر کے  گوارا دیکھوں 

اب وہی ڈوبنے  سے  مجھ کو بچا سکتا ہے 
آس سب چھوڑ کے  تنکے  کا سہارادیکھوں 

بار بار اس کا کہاں  ہوتا ہے  دیدار نصیب
یہ نہ حسرت رہے  باقی کہ دوبارہ دیکھوں 

یہ جہاں  ہے  وہیں  ہو گی تری منزل راہیؔ
روشنی کا میں  کہیں  کوئی مَنارہ دیکھوں 
***
 



چھت پہ بدلی جھکی سی رہتی ہے 
کب سے  بارش تھمی سی رہتی ہے 

کیسے  جی بھر کے  دیکھئے  اُس کو
دیکھنے  میں  کمی سی رہتی ہے 

کوئی اک ذائقہ نہیں  ملتا
غم میں  شامل خوشی سی رہتی ہے 

کوئی شب دھوپ کی سی کیفیّت
کوئی دن چاندنی سی رہتی ہے 

جب سے  مائل ہوئے  ہیں  میرے  قدم
راہ مجھ سے  کھنچی سی رہتی ہے 

ایک ہستی مری، عناصر چار
ہر طرف سے  گھری سی رہتی ہے 

اک نہ اک شغل چاہئے  اِس کو
مجھ میں  دیوانگی سی رہتی ہے 

شاخِ امید کو خزاں  نہ بہار
یہ تو سب دن ہری سی رہتی ہے 

ایک خِطّے  کے  بوجھ سے  راہیؔ
ساری دنیا دبی سی رہتی ہے 
***
 



دھجّیاں  دوسرے  اُڑایا کیے 
چاک ان کی قبا کے  ہم نے  سیے 

زندگی کے  اصول دیکھ لیے 
مرنے  والوں  کے  والدین جیے 

صاف اندھیرا نہ صاف اُجالا ہے 
بجھ رہے  ہیں  کہ جل رہے  ہیں  دیے 

ملنے  والا نہیں  جو دنیا میں 
سب مرے  جا رہے  ہیں  اُس کے  لیے 

ہم ہوئے  اک گناہ پر نادم
اُس نے  گِن گِن کے  سب معاف کیے 

آب و دانہ میں  جب ملاوٹ ہو
آدمی کیا نہ کھائے  کیا نہ پیے 
***
 



(رباعی کے  اوزان میں )
ڈوبے  ہوئے  سورج کی کرن دیکھتا ہوں 
جاگا ہوں   تو بستر کی  شکن دیکھتا ہوں 

سینے  میں  تڑپ ہے  تو مزہ جینے  کا
امواج میں  دریا کو مگن دیکھتا ہوں 

تو کون ہے ؟ کیا چاہتا ہے ؟ جلد بتا
سب نشّہ ترے  آگے  ہرن دیکھتا ہوں 

اشیا کی نگاہوں  سے  گرے  جاتے  ہیں 
کس حال میں  سکّوں  کا چلن دیکھتا ہوں 

کس وقت مری آنکھ کھلی ہے  راہیؔ
غفلت میں  پڑی صبحِ وطن دیکھتا ہوں 
***
 



ذرا  تیز  کوئی سواری ہوئی
کہ پوشاک پر گرد طاری ہوئی

اثر اور ہی اُس کی پرسش میں  تھا
لگا واقعی غم گساری ہوئی

کوئی علم کی حد بھی ہے  جو بتائیں 
کہاں  تک ہمیں  جانکاری ہوئی

نکلتی رہیں  لاکھ چنگاریاں 
بالآخر جوئے  شیر جاری ہوئی

جھکانا بہت میں  نے  چاہا اُسے 
جو گردن ہے  میری اتاری ہوئی

وہی تم سے  کاٹے  نہیں  کٹ رہیں 
جو راتیں  ہیں  میری گزاری ہوئی

ندی، جھیل، جھرنے  ٹھٹھرنے  لگے 
جو اس دفعہ کم برف باری ہوئی

پلٹنے  لگی دھار تلوار کی
یہاں  تک مری ضرب کاری ہوئی

اکیلا کہیں  تم کو پایا نہیں 
کہ یک لخت دنیا تمھاری ہوئی
***
 



تلوار  پر  جو خطرہ نظر آیا زنگ کا
کوئی بہانہ ڈھونڈھ لیا اُس نے  جنگ کا

کٹ کر گری تھی سرحدوں  کے  درمیان میں 
نکلا نہ کوئی لوٹنے  والا پتنگ کا

ٹھہرا نہ ایک پل کے  لئے  کاروانِ وقت
ہم نے  ہزار پیش کیا عذر لنگ کا

کوشش یہ دیکھنے  کے  لئے  کر رہا ہوں  میں 
کیسے  پہنچنا ہو سکا چوٹی پہ سنگ کا

طوفان میں  بھی میں  نے  کیا ہے  اُسے  عبور
دریا سے  کیا مقابلہ میری امنگ کا

ہوتا ہے  میرے  جیسا سپاہی کوئی کوئی
اپنے  خلاف تجربہ ہے  مجھ کو جنگ کا

ہر بوند سے  ملا ہے  وفا کا مری ثبوت
نکلا تمام خون مرا اپنے  رنگ کا

اب ہو رہا ہے  اس کا نکلنا جگہ جگہ
قلعے  تک آنا جانا تھا پہلے  سرنگ کا

آبادی اتنی بڑھنے  پہ راہیؔ یہ حال ہے 
ملتا نہیں  ہے  آدمی دنیا میں  ڈھنگ کا
***
 



گرا زمیں  پہ تو حیران کر گیا وہ بھی
جو آئینہ بھی نہیں  تھا بکھر گیا وہ بھی

یہ دَور ہے  جو تمھارا، رہے  گا یہ بھی نہیں 
کوئی زمانہ تھا میرا، گزر گیا وہ بھی

ٹلا نہ آ کے  مرا وقت، ایک پل کے  لیے 
جسے  قیام نہیں  تھا ٹھہر گیا وہ بھی

میں  تجھ پہ اے  مری پہچان ! خاک ڈالتا ہوں 
کہ آئینے  سے  ملا تو مکر گیا وہ بھی

سکوں  ہے  دائرۂ اختیار میں  راہیؔ
چڑھا ہو ا تھا جو دریا اُتر گیا وہ بھی
***
 


جب  ہوا  و ہوس میں  رہتا تھا
دل کہاں  میرے  بس میں  رہتا تھا

ایک دن ٹوٹنا ہی تھا اُس کو
زور تارِ نفس میں  رہتا تھا

اُس دریچے  کا کیا کھلے  نہ کھلے 
میں  اسی پیش و پس میں  رہتا تھا

اک زمانہ تھا وہ کہ مثل شرر
آدمی خار و خس میں  رہتا تھا

ٹھہرا رہتا تھا جیسے  وقت وہیں 
شور جب تک جرس میں  رہتا تھا
***
 




شکل  ایسی  نہ تھی کنارے  کی
لگ گئی کاٹ اُس کو دھارے  کی

کھل سکیں  کب غبار میں  آنکھیں 
منتظر ہی رہیں  نظارے  کی

اپنے  پیروں  پہ میں  کھڑا ہو جاؤں 
یوں  ضرورت پڑی سہارے  کی

دی ہوا آنکھ موند کر جس نے 
دیکھے  پرواز وہ شرارے  کی

اب سمجھدار ہو گئے  ہیں  ہم
دیر ہے  آپ کے  اشارے  کی

کیا تعجب جو اُس کے  دَر سے  ہی
راہ نکلے  مرے  گزارے  کی

کشتیاں  فکر مند رہتی ہیں 
ایک سے  دوسرے  کنارے  کی

اُن کا ہی کاروبارِ شوق چلا
جن کو برداشت تھی خسارے  کی

چاند پر رکھ چکا قدم راہیؔ
اب ہے  باری کسی ستارے  کی
***
 



قیام  میں  بھی  سفر  اختیار کرتے  ہوئے 
چلا میں  رات کو دن میں  شمار کرتے  ہوئے  

جو اُس طرف سے  اشارہ کیا کبھی اُس نے 
میں  ڈوب جاؤں  گا دریا کو پار کرتے  ہوئے 

سب اپنے  اپنے  عدم اعتماد سے  مجبور
سب ایک دوسرے  پر انحصار کرتے  ہوئے 

گمان کرتے  ہوئے  خود کو قطرۂ نیساں 
چلے  ہیں  بحر کو ہم درکنار کرتے  ہوئے  

کوئی بھی غم نہیں  ایسا کہ جو نہ جاتا ہو
اک اور غم سے  مجھے  ہمکنار کرتے  ہوئے 

کیا تھا اُس نے  جوانی میں  وصل کا وعدہ
بزرگ ہو گئے  ہم اعتبار کرتے  ہوئے 

لگا نہ تیر ہمارا کبھی نشانے  پر
ہمیشہ آنکھ بھر آئی شکار کرتے  ہوئے 

وہ مجھ سے  صَرفِ نظر کرتا چل رہا ہے ، یا
فرار آئینے  سے  اختیار کرتے  ہوئے 

وہ سانحہ ۱؂ جو پڑوسی کو کر گیا برباد
گزر گیا ہے  مجھے  ہوشیار کرتے  ہوئے 


 ۱؂  گجرات کا ۲۶ جنوری۰۰۱ ۲؁ء کا زلزلہ جو یو۔ پی۔ میں  بھی محسوس کیا گیا۔ 

 



اپنی تصویر کے  اک رخ کو نہاں  رکھتا ہے 
یہ چراغ اپنا دھواں  جانے  کہاں  رکھتا ہے 

وہ جو خاموش رہا نام پہ قاتل کے  مرے 
اُس سے  بلواؤ کہ وہ منھ میں  زباں  رکھتا ہے 

اب سنبھالے  سے  سنبھلتا نہیں  انسان کا بوجھ
اب کھسکتی ہے  زمیں  پاؤں  جہاں  رکھتا ہے 

لکڑیاں  جلتی تھیں ، روشن ہوا کرتے  تھے  چراغ
اب تو مشکل سے  کوئی گھر میں  دھواں  رکھتا ہے 

آدمی چاہتا ہے  اب جو خلا میں  رہنا
دیکھیں  بنیاد عمارت کی کہاں  رکھتا ہے 

ایک پَل کو بھی توجہ نہیں  ہٹتی میری
ایسا باندھے  ہوئے  وہ اپنا سماں  رکھتا ہے 

وہ جو آیا تھا کبھی نوکِ زباں  سے  اس کی
کب کا وہ زخم ابھی اپنا نشاں  رکھتا ہے 

پیش آیا نہ کرے  مجھ سے  وہ بیباکی سے 
حوصلہ کوئی بزرگ اب بھی جواں  رکھتا ہے 

آئینہ میرا مکدر نہیں  ہوتا راہیؔ
کوئی صورت ہو خرابی کی عیاں  رکھتا ہے 
***
 



جو میں  جلانے  بجھانے  میں  صبح و شام رہا
مرے   سپرد  چراغاں  کا انتظام رہا

رہا ہمیشہ ہمیں  ایک دوسرے  کا خیال
اُسے  زمیں  سے  مجھے  آسماں  سے  کام رہا

ابد سے  پہلے  کہاں  ختم ہونے  والا تھا
وہی ہوا کہ مرا قصہ ناتمام رہا

شناوری کے  اِس انجام سے  بھی خوش ہوں  میں 
ہُوا میں  غرق تو پانی میں  میرا نام رہا

کوئی بچھائے  رہا موڑ موڑ پر آنکھیں 
کہیں  سفر سے  زیادہ، مرا قیام رہا

یوں  ہی ذرا سی ہلائی تھیں  اُس نے  بنیادیں 
نہ پھر کسی بھی بلندی پہ کوئی بام رہا

پہنچنا ہو گیا دشوار خاص لوگوں  تک
کہ راستہ تھا وہی ایک جو نہ عام رہا

نہ ہے  وہ لہجہ کسی کا نہ وہ کسی کا سخن
وہ کوئی اور تھا جو مجھ سے  ہمکلام رہا

جو دیکھنے  میں  مجھے  اچھے  لگتے  ہیں  راہیؔ
ہمیشہ دور سے  اُن کو مرا سلام رہا
***
 



نہیں  ڈوبے  گا تنکے  کا سہارا چاہنے  والا
ندی کو پار کر لے  گا کنارہ چاہنے  والا

اگر وہ چاند ہے  تو آزما کر دیکھ لے  مجھ کو
سمندر سے  نہیں  کچھ کم اِشارہ چاہنے  والا

بنا کر آئینہ مجھ کو وہ اپنے  سامنے  رکھ لے 
کہاں  ہے  حسن اپنا آشکارا چاہنے  والا

یہی ہوتا ہے  جب انسان کا ہمسر نہیں  ہوتا
ہے  سب سے  اونچی چوٹی پر سہارا چاہنے  والا

کمانے  والے  نفع سب کے  سب مجھ سے  محبت میں 
میں  تنہا اس تجارت میں  خسارہ چاہنے  والا

سلامت اُن کے  سایے  سے  نکل آئے  ہیں  ہم راہیؔ
کوئی نیزہ نہ نکلا سر ہمارا چاہنے  والا
***
 



جو رہا ہونے  سے، اب ہو جائے  گا
دیکھنا  معدوم  سب ہو جائے  گا

ایسی ہی پرسش اگر ہوتی رہی
حال دنیا کا عجب ہو جائے  گا

میرے  جینے  کے  وسیلوں  میں  کوئی
موت کا میری سبب ہو جائے  گا

روزِ اوّل سے  ہمیں  معلوم ہے 
ختم آخر سب کا سب ہو جائے  گا

بجلیاں  اُس کے  بدن میں  ہیں  بھری
کوئی چھولے  تو غضب ہو جائے  گا

رکھئے  راہیؔ کام اپنے  کام سے 
نام ہونا ہو گا جب ہو جائے  گا
***
 




سجدے  کا مرا شوق ہر اک در سے  پرے  ہے 
کیسا ہے  یہ سودا جو مرے  سر سے  پرے  ہے 

کم زور پہ حملہ نہیں  کرتا کبھی میں  بھی
وہ باز ہے  میرا جو کبوتر سے  پرے  ہے 

خالی نہ وہ ہو گی نہ یہ ہو گا کبھی لبریز
ساقی! تری مینا مرے  ساغر سے  پرے  ہے 

بیٹھے  ہو نگاہوں  کو جمائے  ہوئے، ورنہ
نظّارہ کوئی اور ہی منظر سے  پرے  ہے 

سب فاصلہ اک جست میں  لہروں  ۱؂ نے  کیا طے 
تم کہتے  تھے  گھر میرا سمندر سے  پرے  ہے 

گھر اُس کا نشانے  پہ کسی کے  نہیں  آتا
ایسی جگہ واقع ہے  جو پتھر سے  پرے  ہے 

پروازِ تخیّل جو مری دیکھ رہے  ہو
کہسار سے، صحرا سے، سمندر سے  پرے  ہے 

مہمان نوازی میں  کمی رہ گئی جس کی
اُس جنس کا بازار مرے  گھر سے  پرے  ہے 

کم اس لیے  ہوتا ہے  نکلنا مرا راہیؔ
اندر سے  وہ نزدیک ہے  باہر سے  پرے  ہے 


  ۱؂  Tsunamiسے  مراد ہے ۔ 
***
 



کہیں  ٹھیک ہے  سب، کہیں  گڑبڑی ہے 
ہمیشہ  سے   دنیا  ادھوری  پڑی ہے 

بہت خون اِس میں  بہا خواہشوں  کا
وہ اک جنگ دل سے  جو میں  نے  لڑی ہے 

تعلق کی زنجیر پر زور مت دیں 
کڑی اس میں  نازک سے  نازک پڑی ہے 

میں  تصویر بن کر اُسے  دیکھتا ہوں 
جو دیوار میں  کیل خالی گڑی ہے 

مثال اُس کی شہرت کی ایسی ہے  جیسے 
مرے  قد سے  پرچھائیں  میری بڑی ہے 

مُیسّر تھا جس کو کبھی چھت کا آنچل
وہ دیوار اب سر برہنہ کھڑی ہے 

جو میں  آستیں میں  چھپائے  ہوئے  ہوں 
نہیں  اور کچھ، بیش قیمت گھڑی ہے 

تلاش و تجسس کے  دیوانو ! ہُشیار
مری خاک بھی چھاننے  کو پڑی ہے 

عدم سے  عدم کے  تعلق میں  راہیؔ
وجودِ بشر، درمیانی کڑی ہے 
***
 



بھنک کسی نہ کسی طرح پا گئے  پتھر
شجر میں  پھل نہیں  آیا کہ آ گئے  پتھر

پلٹ کے  آج مرے  گھر میں  آ گئے  پتھر
لگا کہ آئینہ مجھ کو دکھا گئے  پتھر

پتہ چلا کہ تصادُم میں  آگ ہوتی ہے 
رگڑ شدید جب آپس میں  کھا گئے  پتھر

رہے  ہمیشہ یہ تخریب کے  لیے  مخصوص
اگرچہ تاج محل تک بنا گئے  پتھر

لو اب یہ چاند ستاروں  میں  بھی نکل آئے 
یہ آئینوں  میں  کہاں  سے  سما گئے  پتھر

ہمیشہ کے  لیے  کہسار کی ہوئی تعمیر
سدا سدا کے  لیے  کام آ گئے  پتھر

چلن سب اِن کے  زمانے  کا میرے  دور میں  ہے 
یوں  ہی نہیں  مرے  ہاتھوں  میں  آ گئے  پتھر

جمے  ہوئے  ہیں  پہاڑوں  میں  اپنی اپنی جگہ
مگر ذرا جو کہیں  ڈگمگا گئے  پتھر

مجسمہ بنے  بیٹھے  ہیں  شان سے  راہیؔ
یہ مرتبہ مرے  ہاتھوں  سے  پا گئے  پتھر
***
 



میں  جس کی آڑ میں  اُس کو نہ دیکھ سکتا تھا
مری نظر میں  وہ سب سے  مہین پردہ تھا

جب آشیاں  پہ مرے  بجلیوں  کا پہرہ تھا
ہر ایک تنکا مرا روشنی میں  آتا تھا

اُسی کے  طول سے  نکلیں  گے  ماہ و سال مرے 
جیا ہوں  جس کو میں  لے  کر وہ ایک لمحہ تھا

جسے  وہ کھینچ کے  ’’کل‘‘ رکھ گیا تھا ایک طرف
ہمارے  ’’آج‘‘ کی تصویر کا وہ خاکہ تھا

کمال کرتے  گئے  جاں  پہ کھیل کھیل کے  ہم
جو دیکھتے  رہے  اُن کے  لیے  تماشا تھا

وہ جس کے  کھلنے  کا رہتا تھا انتظار مجھے 
رہا جو بند ہمیشہ، وہی دریچہ تھا

برادری نے  اُسے  پھر نہیں  قبول کیا
قفس سے  چھوٹ کے  آیا ہوا پرندہ تھا

رہا میں  نقطۂ پَرکار کی طرح تنہا
ہزار گِرد مرے  اک وسیع حلقہ تھا

گیا ہے  شہر سے  دیہات کی طرف راہیؔ
کہ راہ پر یہاں  چلنے  میں  اُس کو خطرہ تھا
***
 



جس امن کی آرزو بہت ہے 
اُس کے  لیے  گفتگو بہت ہے 

پہچان کو میری تو بہت ہے 
آئینہ رُو بہ رُو بہت ہے 

مایوس بھی اُس سے  کم نہ ہوں  گے 
جس کی ہمیں  جستجو بہت ہے 

کیوں  جاں  کا مری بنا ہے  دشمن
تھوڑا سا ترا لہو بہت ہے 

انصاف سے  گر اُٹھا ترازو
پلڑے  میں  ہمارے  تو بہت ہے 

کیا چیخ پکار کم تھی، اب جو
سناٹا کو بہ کُو بہت ہے 

دابے  سے  کہیں  دبا ہے  سبزہ
اِس میں  زورِ نمو بہت ہے 

جانے  کا ہے  احتمال ہر دم
رہ جائے  جو آبرو بہت ہے 

کیوں  بیش و کم نظر میں  رکھیے 
رہنا مرا ہو بہ ہو بہت ہے 
***
 



موجود گی  کا اُس کی  اثر ہونے  لگا ہے 
سب اُس کے  سوا، محوِ نظر ہونے  لگا ہے 

اَطراف مرے  خاک اُڑا کرتی ہے  اکثر
طے  اب مری جانب بھی سفر ہونے  لگا ہے 

پُرکھوں  سے  چلا آتا ہے  یہ نقل مکانی
اب مجھ سے  بھی خالی مرا گھر ہونے  لگا ہے 

اُس کے  لیے  آساں  نہ رہی ہو گی مری راہ
کم میری طرف سے  جو گزر ہونے  لگا ہے 

معلوم تھا اک عمر کی کوشش کا نتیجہ
پیدا مری دیوار میں  در ہونے  لگا ہے 

جلدی سے  میں  اب اس کی طرف رخ نہیں  کرتا
آئینہ مرا سینہ سِپر ہونے  لگا ہے 

ترتیب عناصر کی بگڑنے  لگی شاید
عالم مرا اب زیر و زبر ہونے  لگا ہے 

اب سنگ دلی اُس سے  چھپائے  نہیں  چھپتی
آنکھوں  سے  نمودار شرر ہونے  لگا ہے 

عرصہ کبھی درکار ہوا کرتا تھا راہیؔ
اب روز کوئی معرکہ، سر ہونے  لگا ہے 
***
 


اُس پتھر نے  جب سے  پگھلنا  چھوڑ دیا
آہ نے  میری دل سے  نکلنا چھوڑ دیا

اب غائب ہو جاتی ہے  تو لگتا ہے 
بجلی نے  تاروں  پر چلنا چھوڑ دیا

جنگل کے  جنگل پھنک جانے  کے  غم میں 
چولہوں  نے  لکڑی سے  جلنا چھوڑ دیا

اک دُوجے  کے  بیچ میں  حائل رہتے  تھے 
گھر سے  ہم نے  ساتھ نکلنا چھوڑ دیا

سردی میں  سورج کو عجلت رہتی تھی
گرمی ہے  تو جلدی ڈھلنا چھوڑ دیا

انسانوں  کے  وہ وہ رُوپ نظر آئے 
گرگٹ تک نے  رنگ بدلنا چھوڑ دیا
***
 



آگ کے  تیزی پکڑنے  سے  دھواں  مدّھم ہُوا
روشنی  پا کر  حقیقت  کی  گماں  مدّھم ہُوا

کچھ چمک پیدا ہوئی تھی،حرف و معنی میں  مرے 
اے  چراغِ زندگانی ! تو کہاں  مدّھم ہُوا

گرمیِ نظّارہ بھی ہے  بارِ خاطر حُسن کو
دن چڑھا تو رنگِ رُوئے  گلستاں  مدّھم ہُوا

پھر نہ ہم سوئے  کہ ہنگامِ سحر نزدیک تھا
آخرِ شب میں  کہیں  شورِ سَگاں  مدّھم ہُوا

گونج اُس کی سب کی سب راہیؔ مرے  کانوں  میں  ہے 
بجتے  بجتے، بجتے  بجتے، سازِ جاں  مدّھم ہُوا
***
 




میں   چلتے  چلتے  گم  ہوا  اپنے  غبار میں 
سب ڈھونڈھتے  پھرے  مجھے  راہِ فرار میں 

وہ گل کھلائے  اُس نے  مرے  دشت زار میں 
باغ و بہار بھی نہیں  آتے  شمار میں 

شہرت جو سُن کے  آئے  مری دور دور سے 
پوچھا کئے  مجھے  مرے  قرب و جوار میں 

دیکھا نہ آتے  جاتے  کسی نے  جنھیں  کبھی
اُن کے  بھی نقشِ پا ہیں  ترے  رہگزار میں  

کتنا ہی رنگ و نسل میں  رکھتے  ہوں  اختلاف
پھر بھی کھڑے  ہوئے  ہیں  شجر اک قطار میں 

منھ بند کرنے  والوں  نے  دیکھا نہ جھانک کر
اِس دور کا بھی آدمی رہتا ہے  غار میں 

کچھ ’’خشک چہرہ‘‘ پتّیاں، کچھ پھول ’’زرد رُو‘‘
شامل ہوئے  خزاں  کی طرف سے  بہار میں 

بیٹھا ہے  لَو لگائے  ہوئے  آسمان پر
کیا بات اُس نے  دیکھ لی مجھ خاکسار میں 

راہیؔ دَمِ وصال، وہ اُس کی سپردگی
وہ اُس کی کائنات مرے  اختیار میں 
***
 



مری ذات کا اس نے  عرفان رکھّا
خدائی  کا  اپنی  نگہبان رکھّا

جنوں  کے  لیے  کچھ نہ سامان رکھّا
کب اہلِ خرد نے  بیابان رکھّا

اَجل کے  فرشتے  نے  اک پل کی خاطر
مجھے  زندگی بھر پریشان رکھّا

روانہ کیا اُس نے  ایسے  سفر پر
مری واپسی کا نہ امکان رکھّا

فلک سے  جو دیکھا کہ خالی پڑی ہے 
زمیں  پر مجھے  اُس نے  مہمان رکھّا

رہا بوجھ سب کا اُٹھانے  کے  قابل
بہت میں  نے  کاندھوں  پہ احسان رکھّا

شناسائی ہونے  پہ نکلا یہ رخنہ
کہ دیوار نے  ہم کو انجان رکھّا

کہیں  کھیلے  کودے، کہیں  کی لڑائی
کوئی ہم نے  خالی نہ میدان رکھّا

بنائے  رہا کوئی دیوانہ مجھ کو
بہت چاک میں  نے  گریبان رکھّا

اب احساس ہونے  لگا ہو گا اُس کو
کہ سہواً مرا نام انسان رکھّا
***
 



سب کچھ تباہ ہونے  سے  پہلے  کہاں اُٹھا
بجھنے  کو آئی آگ تو گھر سے  دھواں اُٹھا

صدیاں  ضرور لگ گئیں  بیدار ہونے  میں 
تیرا غلام بن کے  مگر حکمراں  اُٹھا

اک رات چل کے  خواب میں  کیا دیکھتا ہوں  میں 
تعظیم کے  لیے  مری سارا جہاں  اُٹھا

دونوں  کا اختلاف اگر دور ہوتا ہو
دیوار، ایک دوسرے  کے  درمیاں  اُٹھا

احسان اپنا مجھ سے  جتایا کیے  سبھی
دل جانتا ہے  کیسے  یہ بارِ گراں  اُٹھا

ایسی کہاں  کسی کو بلندی ہوئی نصیب
لینے  کو اک بشر کے  قدم آسماں  اُٹھا
***
 


(صَفوت علی صَفوتؔ کی نذر)

میں  اپنے  آپ میں  کبھی تنہا نہیں  رہا
جلوہ تھا خوب، دیکھنے  والا نہیں  رہا

ہم نے  جہاں  بھی چاہا ذرا جَم کے  بیٹھنا
کچھ دیر بعد ہی وہاں  سایا نہیں  رہا

موسم کا یہ تقاضا کوئی آج کا نہیں 
ساحل کے  بس میں  پہلے  بھی دریا نہیں  رہا

انداز اُس کا اب بھی وہی دیکھنے  کا ہے 
اور لُطف یہ کہ اب میں  تماشا نہیں  رہا

جس کا ہے  یہ، وہ رکھے  نظر اِس کی چال پر
’’اب ۱؂ ہم کو اپنے  دل پہ بھروسا نہیں  رہا‘‘

  ۱؂  صفوتؔ صاحب نے  اپنے  دل کے  آپریشن کی خبر اپنے  اس مصرعے  سے  مجھے  بھیجی تھی۔ )
***
 


(گجرات ۲۰۰۲؁ء کے  نام)

قُصور فرد کا  ملّت  سے   انتقام کی چھُوٹ
کہاں  کہاں  نہ پڑی تیغِ بے  نیام کی چھُوٹ

کسی کی چھُوٹ سے  وہ کُو بہ کُو نظر آئے 
بہم نہ تھی جنھیں  صحرا میں  بھی خرام کی چھُوٹ

اے  آفتاب ! کہاں  سر چھپائے  اب کوئی
کہ سائبان میں  ہے  دھوپ کو قیام کی چھُوٹ

کسی کو طَور طریقہ سُجھانے  کی مُہلت
کسی کو ایذا رسانی کے  اہتمام کی چھُوٹ

ہوئے  نہ سرخ رُو آلاتِ حرب ایسے  کبھی
ملی بھی خوب اُنھیں  اپنے  اپنے  کام کی چھُوٹ

پھِرا  کِیا ہے  یوں  نمرودؔ آگ بھڑکاتا
کہیں  رہے  نہ براہیمؔ کو مقام کی چھُوٹ

ولیؔ کے  قبضے  میں  دو گز زمیں  تھی جس کے  لیے 
رَوا ہوئی گڑے  مردے  سے  انتقام کی چھُوٹ

مدافعت سے  کم اِتلاف جاں  کا ہوتا ہے 
محافظوں  نے  مگر دی نہ اُن کو نام کی چھُوٹ

یہی گھڑی ہے  کہ تاریخ خود کو دہرا لے 
مِلی ہے  مدّتوں  میں  جا کے  قتلِ عام کی چھُوٹ
***
 



توڑتے   بنتا  نہیں   تھا پھل کبھی
اس میں  ہو جاتے  تھے  بازو شل کبھی

زہر کب ہوتا تھا اِس میں  حل کبھی
پیاسے  کو امرت تھا گنگا جل کبھی

خاک اُڑانے  سے  ہُوا یہ فائدہ
ہم نہ منظر سے  ہُوئے  اوجھل کبھی

طاق پر رکھے  چراغوں  کا دھواں 
بن چکا ہے  آنکھ کا کاجل کبھی

رکھے  رہ جاتے  ہیں  اکثر ماہ و سال
کام آ جاتا ہے  کوئی پل کبھی

کھل کے  اُس کا ملنا مجھ کو یاد ہے 
ٹوٹ کر برسا نہ پھر بادل کبھی

اُڑ کے  تجھ کو یہ بتانے  آئے  ہیں 
چل کے  آ جاتے  تھے  ہم پیدل کبھی

چھوڑ کر اپنی جڑیں  چلتا بنا
ہم جہاں  ہیں، تھا وہاں  جنگل کبھی

اے  ہَوا سے  بات کرنے  والے  ! رُک
برق کی رفتار سے  بھی چل کبھی

کیجئے  کچھ ہوش کی راہیؔ دوا
اُس کے  پیچھے  ہم بھی تھے  پاگل کبھی
***
 



اے  قصرِ زیست! مجھ کو ترا نقشہ چاہئے 
جانے  کو سوئے  بام کوئی زینہ چاہئے 

یہ کون آ گیا ہے  مرے  اُس کے  درمیان
دیوار ہے  تو اِس میں  مجھے  رخنہ چاہئے 

تعمیر کے  لیے  مجھے  درکار ایک عمر
تخریب کے  لیے  مجھے  اِک لمحہ چاہئے 

کیا میری تابِ دید کو تم جانتے  نہیں 
صورت ہو چاہے  کچھ مجھے  آئینہ چاہئے 

یاروں  نے  میری راہ میں  دیوار کھینچ کر
مشہور کر دیا کہ مجھے  سایہ چاہئے 
***
 



درپردہ اب اُس کی صورت مجھ کو نظر آ رہی ہے 
آئے  گا وہ بھی، جب اُس کی گردِ سفر آ رہی ہے 

جب سے  پھلوں  سے  لدی ہے، دیکھے  کوئی بے  قراری
خود ہی مری دست رس میں  شاخِ شجر آ رہی ہے 

گُل سے  نکل کر کبھی یہ میری طرف رخ نہ کرتی
خوشبو، ہوائے  چمن کے  زیرِ اثر آ رہی ہے 

ہم نے  مفر کی طلب میں  مُڑ کر کبھی یہ نہ دیکھا
نقشِ قدم پر ہمارے  اِک رہ گزر آ رہی ہے 

جاگے  تھے  جس کے  لیے  ہم آئی نہ وہ صبح تو کیا
جاگیں  گے  اُس کے  لیے  بھی اب جو سحر آ رہی ہے 

معلوم تو ہو کہ آخر رہتا ہے  وہ کس ہوا میں 
چاروں  طرف سے  اُسی کی اُڑتی خبر آ رہی ہے 
***
 



مجھے  پھونک دینے  کی تدبیر کر لے 
اے  آتشِ بیاں  ! مجھ پہ تقریر کر لے 

وہ چاہے  تو بنیاد مجھ کو بنا کر
محل اپنے  خوابوں  کا تعمیر کر لے 

جنوں  میرا موقع نہ دے  تجھ کو شاید
مجھے  ہوش میں  پا بہ زنجیر کر لے 

پہنچنا ہے  انجام کو وقت پر جب
میں  جلدی کروں  یا وہ تاخیر کر لے 

یہ اک مُشتِ خاک اِس قدر ہے  کہ اِس کو
کوئی بھی اُڑا کر ہمہ گیر کر لے 

یہی اپنے  بارے  میں  کہنا ہے  مجھ کو
جو تو جانتا ہے  وہ تحریر کر لے 

رہے  داستاں  قتل کی میرے، رنگیں 
مرے  خون سے  اُس کو تحریر کر لے 

جو کہلائے  حاصل تری زندگی کا
کسی ایسے  لمحے  کو تسخیر کر لے 

بچھا ہے  یہاں  جال رستوں  کا راہیؔ
یہاں  سے  نکلنے  کی تدبیر کر لے 
***
 



برسوں   کی  ابتدا  کا  آج اختتام آیا
اے  دوست ! وقت پر تُو میرے  نہ کام آیا

سونے  کا جب قفس بھی اُس کے  نہ کام آیا
رہتا کہاں  وہ طائر جو زیرِ دام آیا

ہر بار اُس سے  مل کر میں  شاد کام آیا
ہر ماہ، ایک شب وہ ماہِ تمام آیا

یوں  ہم نے  زندگی کا پورا کیا ہے  چکّر
آغاز سامنے  تھا جب اختتام آیا

اُنّیس سال ۱؂ چھانی خاکِ رہِ علی گڈھ
دانست میں  ہماری ہر خاص و عام آیا

تکمیل کی نہ صورت نکلی مری کہیں  بھی
ہر آئینے  میں  رہ کر میں  ناتمام آیا

پوچھا کسی نے  مجھ سے  پیارا ہے  کون سب سے 
بے  ساختہ زباں  پر ظالم کا نام آیا

اوپر ہمارا کب تک وہ انتظار کرتا
سَو سیڑھیاں  چڑھے  ہم تب اُس کا بام آیا

گویا خیال بندی کی قدرِ مشترک سے 
غالبؔ کا بن کے  راہیؔ قائم مقام آیا
 
 
۱؂  قیامِ علی گڈھ (۱۹۷۱ء تا ۱۹۸۹ ء)
***
 



مجھ سے  اوجھل سایا اُس کا
کتنا  اُونچا  رُتبہ اُس کا

سارے  کے  سارے  نامحرم
دنیا بھر سے  پردہ اُس کا

گھوم گھوم کر دیکھ رہا ہوں 
چوٹی پر ہے  جلوہ اُس کا

تھاہ نہ ملتی تھی بارش کو
گہرا تھا جب دریا اُس کا

دُنیا میں  بھی، عقبیٰ میں  بھی
سارا جھگڑا میرا اُس کا

ہندو، مسلم، سِکھ، عیسائی
کون نہیں  دیوانہ اُس کا
***
 


گردش میں  چاکِ وقت کی بیشی کمی نہیں 
مِٹّی  میں   ہی  ہماری  ضروری  نمی نہیں 

گزرا تھا فرشِ راہ سمجھ کر میں  ایک بار
پانی میں  ویسی کائی دوبارہ جمی نہیں 

دنیا نے  میری گریہ و زاری نہ کی قبول
یہ دیکھ کر، لباس مرا ماتمی نہیں 

رہتا ہوں  میں  خلائے  تخیل میں  پھیل کر
بھرنے  کو مجھ کو خالی جگہ کی کمی نہیں 

چادر سے  کیوں  نکالتا ہے  راہیؔ اپنے  پاؤں 
شہرت ہے  ملک گیر تری عالمی نہیں 
***
 



چھُٹ کے  جو کارواں  سے  آئے  ہیں 
کیسے  آئے  ؟  کہاں  سے  آئے  ہیں 

چین سے  بیٹھنا نہ آیا ہمیں 
دھُوپ میں  سائباں  سے  آئے  ہیں 

آ گئی تھی صفِ عدو میں  شکن
ہم اگر درمیاں  سے  آئے  ہیں 

آج کے  جیتے  جاگتے  کردار
سب مری داستاں  سے  آئے  ہیں 

آ گیا، آتے  آتے  دَورِ بہار
برگ عہدِ خزاں  سے  آئے  ہیں 

وہ، وہاں  سے  بھی آ رہا تھا نظر
دیکھنے  ہم جہاں  سے  آئے  ہیں 

اِن کو پتھر نہیں، ستارے  کہو
ٹوٹ کر آسماں  سے  آئے  ہیں 

ہم فراری نہیں  ہیں، قیدی ہیں 
پوچھ کر پاسباں  سے  آئے  ہیں 

جا کے  مالی کو ہم نے  روکا ہے 
پھول تب گلستاں  سے  آئے  ہیں 

لاکھ میں  نے  نہیں  چلائے  مگر
تیر میری کماں  سے  آئے  ہیں 

رُکئے  راہیؔ کہ یہ بھی دیکھنا ہے 
ہم کہاں  ہیں ؟ کہاں  سے  آئے  ہیں 
***
 



اُڑان  میں  نے  وہ بھری کہ آسمان لے  اُڑا
وہ میں  ہی تھا جو سر سے  اپنے  سائبان لے  اُڑا

کسی کا فرد تو کسی کا خاندان لے  اُڑا
وہ سیل جو کوئی مکیں، کوئی مکان لے  اُڑا

پَلٹ کے  جب تلک میں  اُس پر اک نگاہ ڈالتا
ہوا کا زور میرے  پاؤں  کا نشان لے  اُڑا

سلونا اُس کا روپ تھا حسین اُس کی چال تھی
فرشتہ کوئی جسم سے  ہماری جان لے  اُڑا

پھرایا رُخ بدل بدل کے  بحرِ بے  کنار میں 
ہوا کی شہ پہ ناؤ میری بادبان لے  اُڑا

نہ بن پڑا کوئی جواب ہم سے  اُس کے  رو بہ رُو
ہمارا ہوش، عین وقت، امتحان لے  اُڑا
***
 


درد اک اور مجھ کو مل جائے 
زخم کا چاک  تاکہ سِل جائے 

تجربہ ہم کریں  گے  زیرِ زمیں 
چاہے  بنیاد گھر کی ہل جائے 

مفلسی میں  شباب کا آنا
جیسے  کانٹوں  میں  پھول کھل جائے 

کھینچتی ہو مری کشش بھی اُسے 
راستے  میں  کہیں  وہ مل جائے 

گویا وہ ہے  بہار، میں  ہوں  خزاں 
مل کے  مجھ سے  وہ مضمحل جائے 

استطاعت نہیں  تو اُس سے  کہو
مفت میں  لے  کے  میرا دل جائے 
***
 



ایسی شبوں  کا بھی مری رکھتے  ہیں  تجربہ چراغ
چاہ کے  بھی  نہ کر سکے  جن کا مشاہدہ چراغ

دن میں  جلانے  کا جَواز مجھ کو کبھی ملا نہیں 
یوں  مرا آفتاب کے  آگے  نہیں  جلا چراغ

موجِ ہوا نے  ایک دن بدلا ہے  اپنا رُخ ضرور
بامِ عروج پر کبھی جلتا نہیں  رہا چراغ

شب میں  نہ جب دکھائی دے  دن میں  نہ جب سجھائی دے 
کر دوں  جو روشن ایک بار پھر نہ ہو گل مرا چراغ

علم و ہنر کی روشنی پھیلتی ہے  اُسی طرح
جلتے  ہیں  اک چراغ سے  جیسے  ہزار ہا چراغ

گھر میں  ہمارے  آج تک باقی ہے  طاق کا بھرم
حلقے  میں  اِس کے  صبح تک کل بھی نہیں، بجھا چراغ

رکھتے  ہیں  یوں  تو سب قدم کر کے  مگر شمار ہم
لاکھوں  میں  کوئی نقشِ پا بنتا ہے  راہ کا چراغ

دَور میں  قمقموں  کے  اب کس لیے  جل رہے  ہیں  یہ
جلنے  کی اپنے  کر چکے  پہلے  ہی انتہا چراغ

یوں  ہی جلائے  جاؤں  میں  یوں  ہی بجھائے  جاؤں  میں 
شام و سحر مرے  لیے  مانگتے  ہیں  دُعا چراغ
***
 



کچھ کھوٹ ہے  دل میں  جو یہ قدرت نہیں  آئی
کثرت  میں   ہماری کبھی وحدت نہیں  آئی

پیش اس کی کہیں  مجھ کو ضرورت نہیں  آئی
یوں  میرے  فسانے  میں  حقیقت نہیں  آئی

مجھ کو اِسے  گلزار بنانے  کی پڑی ہے 
صحرا میں  بھی رہ کر مجھے  وحشت نہیں  آئی

پیہم وہ اشارے  سے  بلاتا ہے  مجھے  پاس
کہتا ہے  ابھی وصل کی ساعت نہیں  آئی

خوشیوں  میں  خلل ڈالا نہیں  آخری پل تک
انساں  پہ کبھی کہہ کے  مصیبت نہیں  آئی

وعدے  کو لیے  اُس کے  میں  یہ سوچ رہا ہوں 
کیا بیتے  گی مجھ پر جو قیامت نہیں  آئی

آئینے  میں  کیا رکھتا کسی اور کی اُمید
جب سامنے  خود میری حقیقت نہیں  آئی

ماں  باپ کے  رتبے  کو نہیں  پہنچے  کبھی ہم
قدموں  میں  ہمارے  کبھی جنّت نہیں  آئی

میں  اُس کی عدالت سے  بری ہو گیا راہیؔ
حیران ہیں  اعمال کہ شامت نہیں  آئی
***
 



جو مجھ پہ بند ہے  وہ باب دیکھ لیتے  ہیں 
مری کمی  مرے   احباب دیکھ لیتے  ہیں 

جو سنگ پھینک کے  گرداب دیکھ لیتے  ہیں 
وہ جھیل یا کوئی تالاب دیکھ لیتے  ہیں 

کہیں  نہ فرق روانی میں  آئے  کشتی کی
ندی نہ ہو کہیں  پایاب دیکھ لیتے  ہیں 

جب اُس کا وعظ توجہ طلب نہیں  ہوتا
ہم اُس کے  منبر و محراب دیکھ لیتے  ہیں 

کبھی اترتے  ہیں  جب بحرِ بے  کنار میں  ہم
تو اک جہاں  کو تہِ آب دیکھ لیتے  ہیں 

جو مانگتا ہے  حقیقت میں  ہم سے  قربانی
کبھی تو ایسا بھی ہم خواب دیکھ لیتے  ہیں 

گرج چمک کے  نکلتے  ہیں جب تلک بادل
ہم اپنی فصل کو شاداب دیکھ لیتے  ہیں 

بُلند بام ہیں  جن کے  وہ باڑھ آنے  پر
ندی میں  شہر کو غرقاب دیکھ لیتے  ہیں 

لگے  تڑپتا ہوا سا کوئی لبِ دریا
کبھی جو ماہیِ بے  آب دیکھ لیتے  ہیں 
***
 



یُگ یُگ سے  چھائے  ہیں  بادل آشاؤں  کے  نیل گگن میں 
یگ یگ سے  اک آگ لگی ہے  پیاسی دھرتی کے  تن من میں 

کوئی آہٹ کوئی سُن گُن رہ رہ کر ملتی رہتی تھی
آیا جایا کرتے  تھے  ہم اک دوجے  کے  سونے  پن میں 

میرے  گھر کو آگ لگ گئی یہ قسمت کا پھیر ہے  ورنہ
تاروں  کی برسات ہوئی تھی پچھلی رات مرے  آنگن میں 

پیڑ نہ ہونے  کی مجبوری سے  سمجھوتا کر لیتے  ہیں 
چھت میں  جھولے  ڈال لیا کرتے  ہیں  بچے  اب ساون میں 

میرے  لہو سے  جگ مگ جگ مگ اشکوں  سے  میرے  جھلمل جھلمل
آنے  والے  کل کا چہرہ دیکھ رہا ہوں، من درپن میں 
***
 


شہرت کا کوئی ایک ذریعہ نہیں  رکھتا
پہنچا جو لبِ بام  وہ زینہ نہیں  رکھتا

دوچار پل ایسے  کہ صدی جن پہ کرے  ناز
جینے  کی زیادہ میں  تمنّا نہیں  رکھتا

کیا لطف تھا ہلکی سی جھلک میں  کبھی اُس کی
اب مجھ سے، روا نام کو پردہ نہیں  رکھتا

اے  عمرِ دراز ! اِس میں  نہیں  شک کہ ابھی تک
اِک پل کا بھی تجھ پر میں  بھروسا نہیں  رکھتا

کچھ خانہ پری کرنے  کی عادت سی مجھے  ہے 
حل کرنے  کو میں  کوئی معمّا نہیں  رکھتا

جب جوش میں  آ جائے  تو کیا چیز ہے  کشتی
کچھ ہوش کناروں  کا بھی دریا نہیں  رکھتا
***
 



کیسے  یہ کہوں  اثر نہیں  ہے 
پتھر  کا مرا جگر نہیں  ہے 

ترتیب سے  حُسن ہے  جہاں  کا
اِک چیز اِدھر اُدھر نہیں  ہے 

کافی تھا جہاں  اِشارہ پہلے 
کہنے  کا بھی اب اثر نہیں  ہے 

سمجھو کہ قیام ہے  سفر میں 
دنیا ہے  سرائے، گھر نہیں  ہے 

رکھّے  وہ لحاظ فاصلے  کا
کمزور مری نظر نہیں  ہے 

اربابِ علم و آگہی کو
ہمسائے  کی کچھ خبر نہیں  ہے 

اک دار پہ ہے  تو ایک در پر
کاندھوں  پہ کوئی بھی سر نہیں  ہے 

لگتا نہیں  کیا اے  سطح بینو!
کچھ تہ کی تمھیں  خبر نہیں  ہے 

بس موم ہوا وہ اب کوئی دَم
اک آنچ کی بھی کسر نہیں  ہے 
***
 



بحر، فرطِ جوش میں  ہمکنار ہو گیا
اپنے   اک  اُبال  سے   لب مرے  بھگو گیا

پار اُتار کر مجھے  ناؤ وہ ڈبو گیا
واپسی کا راستہ غرقِ آب ہو گیا

کھوٹ کچھ لگا مجھے  اُس کے  التفات میں 
آڑ میں  وہ پھول کی خار سا چبھو گیا

میں  نہیں  سمجھ سکا کون سا زیاں  ہے  یہ
جو کبھی ملا نہیں  رنج ہے  کہ کھو گیا

آپ کے  گلے  میں  جو سوز اور گداز ہے 
واقعہ کچھ اُس سے  اور دردناک ہو گیا

کم نہیں  تھا بحر سے  گہرا اُس کا عشق بھی
جو گہر نکال کر ہار میں  پُرو گیا

خار و خس کی ذات کا علم تھا اُسے  ضرور
کاٹنا محال ہے  فصل ایسی بو گیا

نیند جب سوار ہو وقت کیا مقام کیا
چلتے  چلتے  میں  کہیں  راستے  میں  سو گیا

رکھ کے  اِس کو راہ میں  بیٹھنے  سے  یہ ہوا
ناتواں  سمجھ کے  وہ بوجھ میرا ڈھو گیا
***
 



پیدا لہو میں  برف کی تاثیر ہو گئی
برداشت اب مرے  لیے  تحقیر ہو گئی

چلنا پڑا ملا کے  قدم سے  قدم مجھے 
اِس واسطے  پہنچنے  میں  تاخیر ہو گئی

کر کے  چلے  تھے  جس کا تعین خیال میں 
منزل وہ راستے  میں  ہی تسخیر ہو گئی

فلموں  سے  اُس کے  جسم کے  اسرار کے  لیے 
درپردہ انکشاف کی تدبیر ہو گئی

ملاح بن کے  میں  نے  گزاری ہے  زندگی
پانی پہ داستاں  مری تحریر ہو گئی

کھنچنے  کے  ڈر سے  گھٹتا ہے  ہر وقت اُس کا دم
دشمن گلے  کی قیمتی زنجیر ہو گئی

یہ بھی ہوا کہ ضبط سے  جب لینا چاہا کام
باہر نیام سے  مری شمشیر ہو گئی

خاموش اِن میں  بیٹھنے  والا نہیں  کوئی
تخریب کے  جواب میں  تعمیر ہو گئی

سایے  سے  ہے  غرض یہاں، دیوار سے  نہیں 
آویز یہ کہاں  مری تصویر ہو گئی
***
 



قدم اپنے  ملا کر تیز پانی سے 
ہماری ناؤ چلتی ہے  روانی سے 

بھرا ہے  اختلافِ رنگ و بو اُن میں 
کھلے  جو گل تمھاری باغبانی سے 

ہوئی ناکام ہر کوشش دبانے  کی
اُٹھا وہ شور میری بے  زبانی سے 

حقیقت کو میں  پس منظر میں  رکھتا ہوں 
کہ دلچسپی ہے  دنیا کو کہانی سے 

نکالا کام اُس نے  ہم سے  ہنس ہنس کر
رہے  سختی میں  اُس کی مہربانی سے 

مہک رچ بس گئی ہے  میری سانسوں  میں 
تعلّق ہے  مرا پھولوں  کی رانی سے 

سمائی جا رہی ہے  کائنات اِس میں 
ہے  ذرہ تنگ اپنی بیکرانی سے 

رہے  کانٹے  بھی شامل خیر مقدم میں 
لیا وہ کام ہم نے  گل فشانی سے 

مرے  اَوجِ تخیّل سے  کوئی دیکھے 
ڈھکا ہوں  میں  ردائے  آسمانی سے 

تمھاری دوریاں  مٹنے  کو ہیں  راہیؔ
مصوّرؔ، زیبؔ، عِرفانؔ اور بانیؔ سے 
***
 



زمیں  کے  بعد ہم اب آسماں  نہ رکّھیں  گے 
خلا رہے  گا  قدم ہم  جہاں  نہ رکّھیں  گے 

کہیں  حَذَف تو اِضافہ کہیں، کہیں  ترمیم
کہیں  کی اب وہ مری داستاں  نہ رکّھیں  گے 

بتائے  دیتے  ہیں  احساں  جتانے  والوں  سے 
جو سر پہ بوجھ ہو وہ سائباں  نہ رکّھیں  گے 

نُمو کے  واسطے  کوشاں  ضرور ہیں ، لیکن
بڑے  ہوئے  تو ہم اِس کا گماں  نہ رکّھیں  گے 

جواب دینا پڑے  گا ہمیں  خموشی کا
سو طے  ہوا ہے  کہ منھ میں  زباں  نہ رکّھیں  گے 

تُلے  ہیں ، ہاتھ جو ورثے  پہ صاف کرنے  پر
کسی بھی دَور کا باقی نشاں  نہ رکّھیں  گے 

اگر ہو وجہِ تعلّق تو ہم سے  دُور رہو
کوئی بھی فاصلہ ہم درمیاں  نہ رکّھیں  گے 

کھلی وہ کون سی سرحد نہیں  ہے  اِن کے  لیے 
بِنائے  آشیاں  طائر کہاں  نہ رکّھیں  گے 

جب اپنے  گھر میں  ہی اپنی انا کو خطرہ ہے 
ہم اپنے  پاس یہ جنسِ گراں  نہ رکّھیں  گے 
***
 



بھر کے  جھولی میں  اپنے  ہیروں  کو
بھیج  دیتے   ہیں   ہم فقیروں  کو

کیا سمندر کو کم پڑا پانی
جو ابھرنے  دیا جزیروں  کو

ختم کروانے  پر تُلا ہے  کوئی
آنسوؤں  کے  مرے  ذخیروں  کو

آنے  والی کسی سواری نے 
روک رکھا ہے  راہ گیروں  کو

اُن کی کیا فکر، جن کو قید بھلی
چھوڑیئے  زُلف کے  اسیروں  کو

ہم فقیرانہ ملتے  رہتے  ہیں 
ہم نہ جانیں  گے  کیا امیروں  کو
***
 



ہر لمحۂ حیات کا دامن نچوڑیئے 
جب پیاس کا سوال ہو قطرہ نہ چھوڑیئے 

حُسنِ عمل میں  برکتیں  ہوتی ہیں  بے  شمار
پتھر بھی توڑیئے  تو سلیقے  سے  توڑیئے 

صدیوں  کی نیند پَل میں  اچٹنا محال ہے 
اُٹھ اُٹھ کے  غافلوں  کو برابر جھنجھوڑیئے 

جیسے  سفر میں  ملتے  بچھڑتے  ہیں  آدمی
خود سے  بھی ناتا اِس سے  زیادہ نہ جوڑیئے 

ہر ایک کام وقت کا مرہون ہوتا ہے 
جب سُرخ ہو سلاخ تبھی اُس کو موڑیئے 

مجھ کو اب اپنی اک نئی پہچان چاہئے 
ٹوٹا، میں  جس طرح مجھے  ویسے  نہ جوڑیئے 
***
 



بڑھا جب اُس کی توجّہ کا سلسلہ کچھ اور
خوشی سے  پھیل گیا غم کا دائرہ کچھ اور

قریب آ گئی تھی میری منزلِ مقصود
پَر، آگے  تھا مری تقدیر میں  لکھا کچھ اور

نتیجہ دیکھ کے  مانا مرے  مسیحا نے 
کچھ اور درد تھا میرا ہوئی دوا کچھ اور

میں  اپنے  آپ کو کس آئینے  میں  پہچانوں 
کہ ایک چہرہ مرا کچھ ہے  دوسرا کچھ اور

اگر کہیں  کوئی دیوار سامنے  آئی
بلند ہو گیا پانی کا حوصلہ کچھ اور

گزر محال نہ ہوتا کسی کا بستی میں 
اُٹھیں  نہ چھوڑ کے  دیواریں، راستہ کچھ اور

کچھ ایسے  دیکھتا ہے  مجھ کو وہ کہ لگتا ہے 
دکھا رہا ہے  مجھے  میرا آئینہ کچھ اور

نتیجہ دیکھنے  سننے  کے  بعد یہ نکلا
بیانِ واقعہ کچھ، امرِ واقعہ کچھ اور

مرے  بیان سے  باہر نہ جانئے  راہیؔ
جو لب پر آیا نہیں  تھا وہ مُدّعا کچھ اور
***
 


حدِّ فاصل  پہ  نظر رکھ لیجے 
قُرب میں  اُس کے  کسر رکھ لیجے 

ہاتھ ہو جائیں  تو ہو جائیں  قلم
کوئی ایسا ہی ہنر رکھ لیجے 

فتح کا حوصلہ رکھنا ہو گا
دِل میں  پَسپائی کا ڈر رکھ لیجے 

وقت پھر تنگ نہ ہو جائے  کہیں 
باندھ کر رختِ سفر رکھ لیجے 

فاصلہ کیجئے  قائم، لیکن
بیچ میں  راہ گزر رکھ لیجے 

دل ہے  تاریک تو پھر چاہے  آپ
انجم و شمس و قمر رکھ لیجے 
***
 


جاگزیں  دل میں  اُس کا نور رہا
اندر  اندر  مرے   ظہور رہا

اور اک جام کی رہی حسرت
ایک ہی کا مجھے  سرور رہا

کشش اُس کی نہیں  تھی سب کے  لیے 
کوئی نزدیک کوئی دُور رہا

مجھ پہ گزرا زمانہ پتھر کا
آئینہ تھا میں، چور چور رہا

میں  رکا تو نہیں  کسی کے  لیے 
مُڑ کے  ہاں  دیکھتا ضرور رہا
***
 




(اختتامی غزل۔ نسلِ نو کے  لئے )

جب  مصوّر  ہو تم  اپنے   تو  ہمہ گیر  بنو
جس میں  ہر رنگ اجاگر ہو وہ تصویر بنو

لَوحِ ہستی پہ تمھیں  یوں  ہی نہیں  ہونا رقم
جس کے  کچھ خاص معانی ہوں  وہ تحریر بنو 

رکّھو فولاد کی مانند لچک فطرت میں 
جس کے  جوہر کھُلیں  میداں  میں  وہ شمشیر بنو

رُعب طاقت کا، نہ دولت کا، نہ منصب کا پڑے 
میرا مطلب ہے  کہ ناقابلِ تسخیر بنو

تم کو جس خاک سے  تخلیق کیا قدرت نے 
وصف اُس خاک میں  یہ ہے  کہ تم اکسیر بنو

خواب دُنیا نے  خوش آئند، بہت دیکھ لیے 
بس کہ تم موجبِ شرمندۂ تعبیر بنو

کیوں  نہ کڑیوں  کی طرح مل کے  رہو آپس میں 
ٹوٹنا جس کا ہو دشوار، وہ زنجیر بنو

ساقیٔ وقت سے  ملتی نہیں  چھلکانے  کو
مئے  تدبیر سے  آسودۂ تقدیر بنو

تم کو شاعر ہی جو بننا ہے  تو پھر راہیؔ کیوں 
کوئی غالبؔ، کوئی اقبالؔ، کوئی میرؔ بنو
***


٭٭٭
شاعر کی اجازت  سےاور ان کے تشکر کے ساتھ
ان پیج سے تبدیلی اور تدوین: اعجاز عبید