﻿



لغت بورڈ کی کہانیاں


فہمیدہ ریاض







دفتر میں ایک دن



فدوی کی گذارش ہے کہ بوجوہ رمضان المبارک از بتاریخ رمضان بمطابق 12 فروری تا 27 رمضان المبارک قمری ہجری بمطابق تاریخ فلاں عیسوی فدوی کو رخصت مکسوبہ عطا فرما دی جائے۔
احقر العباد
فلاں

ٓاس مضمون کا ایک نامہ عورت کی میز پر پڑا تھا۔ اس نے حسب عادت پہلے تو اس میں جو کچھ لکھا تھا ، اس کو ایک نظر میں سمجھنے کی کوشش کی لیکن سچ یہی ہے کہ اسے دوبارہ پڑھنا پڑا۔
"یہ رخصت مکسوبہ کیا ہے؟" اس نے پوچھا۔
"جی Earned Leave " ملازم لغت بورڈ نے انکسار سے کہا۔
"یہ چھٹی کی درخواست ہے کہ نکاح نامہ؟" عورت نے کاغذ پر "منظور" لکھ کر دستخط جماتے ہوئے کہا۔ "بس مہر معجل کی کسر ہے۔" پھر ہنس کر اضافہ کیا، "ایک لمحے کو تو میں یہ بھی سمجھی تھی کہ گورنر سندھ جناب عشرت العباد نے کسی شادی کا دعوت نامہ بھیجا ہے۔" پھر اس نے حسرت سے پوچھا، "یہاں اسی زبان میں خط لکھے جاتے ہیں؟"
"جی! مدت سے"، جواب ملا۔ پھر مسکراتے ہوئے، "دراصل ہم دفتر میں انگریزی کا استعمال پسند نہیں کرتے۔ جیسا کہ آپ واقف ہی ہوں گی ، یہ ادارہ پاکستان میں نفاذ اردو کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اور گو سر سید رحمت اللہ علیہ و حالی مدظلہ کی یہ آرزو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچی لیکن اب۔۔۔(معنی خیز وقفے کے بعد) آپ کے یہاں تقرر کے بعد تو امید از سر نو بیدار ہو گئی ہے۔"
حالی اور سرسید سے فوری طور پر منسوب اس آرزو پر کہ پاکستان میں اردو نافذ کر دی جائے، عورت نے بمشکل ہنسی ضبط کرتے ہوئے اور آخری فرمائشی خوشامدانہ جملے کے جواب میں درخواست پر منظور کے ساتھ "بخوشی" کا اضافہ کر کے بدبداتے ہوئے کہا۔
"اس امید کو آپ محو خواب ہی رہنے دیں تو بہتر رہے گا۔"
"کیا فرمایا؟"
"کچھ نہیں۔"
"پھر بھی۔۔۔"
"میں کہہ رہی تھی کہ ماشاء اللہ آپ کی اردو کتنی اچھی ہے۔"
وہ کانوں تک مسکرائے اور میز پر سے کاغذ اٹھاتے ہوئے بولے۔
"اجی صاحب میں کیا اور میری بساط کیا؟" پھر انھوں نے اوپر دیکھ کر چھت میں لگے ہوئے پنکھے کی طرف انگشت شہادت سے اشارہ کر کے کہا۔
"یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔"
اتنا کہہ کر وہ غائب غلا ہوئے۔ پنکھا بہرحال فوراً بند ہو گیا ، کیوں کہ بجلی چلی گئی تھی۔ ایک نائب قاصد کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے تمام کھڑکیاں کھول دیں۔ گرم ہوا کے تیز جھونکوں نے میز پر رکھے کاغذ تتر بتر کر دیے۔ عورت نے دونوں ہاتھ باندھ کر گود میں رکھے، ٹوٹی ہوئی صدارتی کرسی پر احتیاط سے ٹیک لگائی اور پھر خیالوں میں اداسی سے غرق ہو گئی اور کھڑکی سے در آتی روشنی کی چوڑی پٹی میں ناچتے گرد و غبار کے ذروں پر نظریں جما دیں۔
"نفاذ اردو!" وہ سوچ رہی تھی۔ "بر وزن نفاذ مارشل لا یا نفاذ ختم نبوت"۔ اس پر پھر ہنسی کا دورہ پڑا۔ گذشتہ ہفتے وہ لاہور میں ایک قدیم مسجد ، مسجد وزیر خان دیکھ کر آئی تھی جس کے شکستہ حال Entrance پر جس کے با رعب نیلے اور زمردیں نقش و نگار بتاتے تھے کہ کبھی وہ کتنی جمیل و جلیل رہی ہو گی، بڑا سا بینر دیکھا تھا۔ "اجتماع برائے نفاذ ختم نبوت"۔بالکل یوں معلوم ہو رہا تھا کہ شہر کے کونوں کھدروں سے لاتعداد نبوت کے داعی نکل پڑے ہیں۔ ایک وبا سی پھیل گئی ہے جس کا فوری انسداد بے حد ضروری ہے۔
"یہ سب قادیانیوں کی منڈیا رگڑنے کے لیے۔۔۔" تب اس نے افسوس سے سوچا تھا۔ اور بچارے قادیانی کیا کہتے ہیں۔۔۔ایسا سننے کی کسی کو فرصت نہیں۔ کبھی اسکول کے زمانے میں ایک قادیانی لڑکی اس کی ہم جماعت تھی۔ وہ خوش بخت اس قدر روزہ نماز کی پابند تھی کہ اس سے کبھی دوستی نہیں ہوسکی تھی۔ وہ روزہ نماز سب بیکار۔ افسوس!
بہرحال اسے نفاذ اردو کا ذرہ برابر شوق نہ تھا۔ اس موضوع پر وہ اکثر خاموش ہی رہتی تھی یا کبھی کہہ بھی دیتی تھی، "انگریزی میں کیا ہرج ہے؟ کیوں بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالتے ہیں؟ پاکستان کی اپنی زبانیں بھی ہیں۔ اور ویسے تعلیم کے لیے اعلیٰ درجے کی کتابیں نہ اردو نہ سندھی، نہ پنجابی، پشتو، سرائیکی یا بلوچی میں ہیں۔ ایک میڈیکل ہی کو لیجیے۔ انگریزی کے سوا کون سی زبان میں ایم۔بی۔بی۔ ایس ہی کے درجے کی کتابیں پڑھائیں گے ہم؟ اس سے آگے اسپیشلائزیشن کی تو دور کی بات ہے۔ علم اچھا اور ضروری ہے ہمارے بچوں کے لیے، خواہ کسی بھی زبان میں ملے۔ خواہ مخواہ کی بغیر سوچے سمجھے نعرہ بازی۔ خوشامد اور حد درجہ مبالغہ۔ یہ سب بھی اردو کا حصہ سمجھا گیا ہے یہاں، جب کہ یہ سچ نہ تھا۔ اردو میں تو فیض احمد فیض تھے اور عصمت چغتائی۔۔۔ راشد اور میراجی۔۔۔ منٹو۔۔۔ اس زبان کا ادب باغیوں سے بھرا پڑا تھا۔ کم از کم عورت تو اسی کو اردو جانتی تھی۔ اردو میں "انقلاب زندہ باد" برصغیر کی بیش تر زبانوں میں رچ بس گیا تھا یا شاید خوشامد صرف اردو کا حصہ نہیں، قومی مزاج بن چکا ہو۔ اسے یاد آیا تھا، اسلام آباد میں فنانشل ایڈوائزر سے ملنے اس کے ساتھ سندھ مدرسہ کی پرنسپل بھی گئی تھیں۔ دونوں کی درخواست ایک ہی تھی کہ اداروں کے وجود کو تسلیم کرایا جائے جو 1986 سے مرکزی کھاتوں سے غائب ہیں۔ سندھ مدرسہ کی پرنسپل لیاری کی ایک مہذب اور تعلیم یافتہ خاتون تھیں جنھوں نے زندگی کے پچیس تیس برس اسی مدرسے میں تدریس کرتے ہوئے بتائے تھے لیکن فنانشل ایڈوائزر سے وہ کس طرح بات کر رہی تھیں! جب انھوں نے کہا، "جناب ہم آپ کے بال بچوں کو دعائیں دیں گے۔ اللہ سائیں آپ کا اقبال ہمیشہ بلند رکھے۔" تو عورت غم و غصے سے مبہوت ہو کر رہ گئی تھی۔ اپنے ادارے کے لیے اس کے منھ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل سکا تھا۔ افسوس اور شرمندگی کی طاقتور رو نے اس کے دل کو جکڑ لیا تھا۔ بار بار ایک ہی خیال ذہن میں گردش کر رہا تھا، "بھکاری بنا کر رکھ دیا ان کو۔"
"بھکاری!" کیا فنانشل مشیر کو یہ سن کر شرمندگی ہو رہی تھی؟ ایسا ان کے چہرے سے ظاہر نہ تھا۔ شاید انھیں یہ سب سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔
عورت نے کرسی پر پہلو بدلا تو کرسی ٹیڑھی ہو کر گرنے لگی۔ عورت نے سنبھل کر کرسی کا توازن ٹھیک کیا۔ یہ ٹوٹی ہوئی تھی، اسے بدل دیا جانا چاہیے تھا یا اس کی مرمت کی جانی چاہیے تھی۔ لیکن ایک تو عورت کو اس کی فرصت نہیں مل سکی تھی اور دوئم یہ کہ مرمت اور فرنیچر کی مد میں جو رقم تھی، اسے دوسری مدوں میں منتقل کرنی کی درخواست دے دی گئی تھی تاکہ ادارہ بجلی اور ٹیلی فون کا بل ادا کرسکے۔
ری ایپرو پری ایشن یعنی منتقلی رقوم کی فائل مہینے بھر پہلے فنانس کے ڈپٹی ایڈوائزر کو بھیجی جا چکی تھی لیکن ہنوز جواب نہیں آیا تھا۔ دفتر کے اسٹاف نے اس سے کہا تھا کہ یہ تو روٹین کا معاملہ ہے۔ گذشتہ برس اس میں دو ایک دن سے زیادہ نہیں لگے تھے۔ پچھلی بار جب وہ اسلام آباد گئی تھیں تو سیکشن افسر کے کہنے پر وہ ڈی ایف اے سے ملنے بھی گئی تھی۔
"ان سے ملنا بہت ضروری ہے۔ رقوم کی تمام فائلیں ان کے دستخطوںہی سے چلتی ہیں۔"
"لیکن ادھر آپ مجھ سے کہتے رہتے ہیں کہ میں اپنے سے ایک نمبر بھی نچلی گریڈ کے آفیسر کو خط تک نہ لکھوں۔ دفتر کے کسی دوسرے افسر سے لکھواؤں ورنہ میں وزارت کے پروٹوکول خراب کر رہی ہوں۔ اب آپ کہتے ہیں کہ ان سے ملوں۔"
"اوہو بھئی ان سے تو سب ملتے ہیں۔"خوش مزاج ہنس مکھ سیکشن افسر نے کہا۔ "خزانے کی چابی ان کے ہاتھ جو ہوئی۔ اور میڈم، انھیں کوئی تحفہ بھی دینا چاہیے۔ کوئی ڈائری، مٹھائی شٹھائی۔۔۔"
سو وہ وزارت کی راہداریوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتی ان کے دفتر تک جا پہنچی تھی۔ اتفاق سے افسر کمرے میں موجود مل گئے تھے۔ کسی "میٹنگ" میں نہیں گئے ہوئے تھے۔ (چائے پینا، گپ مارنا، کسی ذاتی کام سے باہر چلے جانا، ان سب کو وزارت کی اصطلاح میں "میٹنگ " ہی کہا جاتا ہے۔)تو افسرصاحب وہاں تھے۔ سانولے رنگ میں زردی کھنڈی تھی۔ پتہ مار کر برسوں کام کیا تھا تو پتے نے احتجاجاً سبز رنگ اختیار کر لیا تھا۔ اپنی اہمیت سے نہایت واقف، وہ تمکنت سے کرسی پر فروکش رہے اور دوسری فائلیں دیکھنے میں منہمک۔ دس منٹ گذرے۔۔۔پھر بیس منٹ۔
"ج ن ا ب۔۔۔" عورت نے گھبراہٹ میں خود کو "جناب والا" کہنے سے باز رکھا ، مبادا وہ اس نازک پروٹو کال کا ناس ہی نہ پیٹ دے جس کے بغیر یہ دفتری نظام نہیں چل سکتا، حالاں کہ صورت حال بالکل ایسی ہی تھی کہ ڈی ایف اے کے در پر وہ کسی سائل کی شکل میں ہی پہنچی تھی۔
"مسٹر فلاں"، اس نے پھر بھی ممکنہ حد تک متانت مجتمع کر کے کہا، "ہماری فائلیں۔۔۔"
"ہوں ہوں!" ڈی ایف نے اس کی بات کاٹی۔ "بڑا ارجنٹ میٹر ہے اس وقت میرے سامنے۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی کا ٹیلی فون آیا ہے۔ پرسوں انھوں نے کانفرنس کے لیے لاہور جانا ہے تو سارا انتظام تو مجھی کو کرنا ہوا ناں۔"
پھر وہ پے در پے متعدد فون کرنے لگا جن میں وہ مختلف شعبوں کو کچھ اور شعبوں سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کرنے اور پھر اسے اطلاع دینے کی ہدایات دے رہا تھا۔
اس کے بعد وہ کسی دوسری فائل کی ورق گردانی کرنے لگا۔
اب تک اس دفتر میں آئے عورت کو تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اس نے کہا۔
"میں کافی دیر سے یہاں بیٹھی ہوں اور کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ میں اب چلی جاؤں گی۔"
افسر ہذا نے پورے اطمینان سے فائل سے سر اٹھا کر کہا۔
"محترمہ! آپ جب چاہیں یہاں تشریف لا سکتی ہیں، یو آر موسٹ ویلکم۔"
"ہماری فائلیں۔۔۔" عورت نے کہنا شروع کیا۔
"ایک نئی افسر آئی ہیں۔ سنا ہے بڑی سخت ہیں۔ آپ ان سے بھی مل لیجیے۔"
اب عورت کے صبر کا پیمانہ بالآخر لبریز ہو ہی گیا، اس نے کہا۔
"میں یہاں مختلف کمروں میں بھٹکنے کے لیے نہیں آئی ہوں۔ آپ نے مجھے فائلوں کے بارے میں ایک بات بھی نہیں کی ہے جو میں کوئی وضاحت کرسکتی۔"
ڈی ایف اے نے گھڑی دیکھی اور کھڑا ہو گیا۔
"اب مجھے ایک میٹنگ میں جانا ہے۔" اس نے کہا اور اسے کرسی پر بیٹھا چھوڑ کر اپنے دفتر سے باہر جانے لگا۔ عورت ہونقوں کی طرح اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اسے مٹھائی کا ڈبہ لے کر آنا چاہیے تھا۔ لیکن وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ مٹھائی کا مطلب واقعی مٹھائی ہی تھا یا کچھ اور۔۔۔"
"وزارت تعلیم کے لوگ خود تو کچھ کام کرتے نہیں،" ڈی ایف نے جاتے جاتے کہا "ادھوری فائلیں بھیجتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ان کا کام بھی ہم کریں۔ کچھ آتا جاتا تو انھیں ہے نہیں۔" اتنا کہہ کر وہ چلا گیا۔
راستہ ڈھونڈتی عورت اس عمارت سے باہر نکلی تھی۔ اس ساری کد و کاوش کا نتیجہ یہی نکلا تھا کہ رقوم کی منتقلی کی فائل ہنوز ڈی ایف اے کے قبضۂ قدرت میں تھی ۔ رقم ادارے کے پاس موجود تھی لیکن صحیح مد میں نہ ہونے کے باعث نکالی نہیں جاسکتی تھی۔
"میں ڈی ایف اے کو خوش نہیں کرسکی۔" عورت نے پچھتاوے سے سوچا۔ "میری وجہ سے ادارے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ بل ادا نہ کرنے کے باعث ٹیلی فون کٹ چکا ہے۔ گاڑی کے لیے پیٹرول کی بوند نہیں۔۔۔بجلی بھی کٹ سکتی ہے۔ یہ سب۔۔۔میرا قصور ہے۔" عورت جانتی تھی کہ گو اس نے کہا کچھ بھی نہ ہو لیکن ڈی ایف اے کے دفتر میں اس کے چہرے پر لکھا ہو گا، "مجھے پریشان نہ کیجیے۔ اپنا فرض وقت پر انجام دیجیے۔" یہ بات ڈی ایف اے کو کیسے پسند آسکتی تھی۔
دفتر کے کچھ لوگ اس کے پاس پہنچے۔
"میڈم، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ کہیں یوں تو نہیں کہ۔۔۔"
"کیا؟" اس نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔
"کہ سازش اسی دفتر سے شروع ہوئی ہو۔"
عورت غور سے سننے لگی۔
"آپ سے پہلے جو صاحبہ قائم مقام تھیں، وہ اکثر اسلام آباد فون کرتی رہتی ہیں۔"
"ہوں۔" عورت نے کہا۔ اس کی تقرری سے ظاہر ہے کہ قائم مقام کو نقصان پہنچا تھا۔ اگر وہ کچھ نہ کرتی تو تعجب کی بات تھی ۔ جو بات اس سے کہی جا رہی تھی ، وہ ناممکن نہیں تھی۔
"کیا یہ اتنے اثر و رسوخ رکھتی ہے؟" عورت نے کہا۔
"خیر اثر و رسوخ تو کوئی کیا رکھے گا اسلام آباد میں۔۔۔" ایک نے کہا، "لیکن ایک رشتہ تو ان میں اور ڈی ایف اے میں ہے نا۔۔۔وہی۔۔۔بھئی دونوں اہل تشیع ہیں۔"
عورت کے دماغ میں گھنٹی سی بجی۔ اس کی آنکھیں اور بھی پھٹ گئیں۔
" یہ لوگ ایک دوسرے سے ہمدردی رکھتے ہیں، مدد کرتے ہیں ایک دوسرے کی۔" دوسرے نے خاموشی سے کہا۔
عورت سن سی بیٹھی رہی۔ کیا یہ ممکن تھا؟
اس کا پہلا خیال یہی تھا کہ یہ ناممکن نہیں تھا۔
"پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟" اس نے بالآخر کہا۔
اس کے ذہن میں آیا ،وہ شکایتی خط جو وہ اس نازیبا تاخیر پر لکھنے والی تھی، اس میں ایک پیراگراف کا اضافہ۔
"دیگر یہ کہ یہاں کی پرانی قائم مقام خاتون نے ڈی ایف اے کے ساتھ مل کر سازش کی ہے، ان کے کہنے پر ڈی ایف اے میرے تقرر کو ناکام بنا نا چاہتے ہیں ۔ وہ سابق قائم مقام کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ دونوں شیعہ ہیں۔ اس طرح اہل تشیع نے ہم سنیوں کے خلاف محاذ بنا لیا ہے۔
دہائی ہے دہائی۔۔۔یا اہل سنت! آئیے مدد کو آئیے۔ ایک سنی عورت مصیبت میں مبتلا ہے۔"
یہ سوچتے سوچتے عورت دائیں ہاتھ کی چار انگلیوں کو بے خیالی میں اپنے منھ میں ٹھونس چکی تھی اور انھیں چبا رہی تھی۔ اس کی چشم تصور نے دیکھا کہ اس کی پکار سن کر سمندروں پر جہازوں نے بادبان کھول دیے ہیں اور ایک فوج اس کی مدد کو روانہ ہو گئی ہے۔ جہازوں سے غلغلہ بلند ہو رہا ہے۔ "لبیک ، لبیک، اللھم لبیک۔۔۔ ہم پہنچے کہ پہنچے۔۔۔اے امت کی دختر نیک اختر!"
بجلی پھر چلی گئی۔ اس کے ہمدرد رخصت ہوئے۔ نائب قاصد نے پھر دروازے اور کھڑکیاں کھول دیں۔ کھلے دروازے سے ایک اور ہمدرد کارکن اندر آیا اور میز کے پاس کھڑا ہو گیا۔
"جی؟" عورت نے منھ سے انگلیاں نکال کر پوچھا۔
"تو ڈکشنری بالآخر ختم ہو گئی ہے۔" ہمدرد نے پریشان حالی سے کہا۔
"ہاں۔ یہ تو اتنی خوشی کی بات ہے۔ پانچ چھ عشروں کی محنت سوارتھ ہوئی۔"
"تو اس کی اطلاع اخباروں میں بھیجیں؟"
"کیوں نہیں!" عورت نے کہا۔ "گڈ آئیڈیا۔ آپ پریس ریلیز بنائیے۔"
"وہ تو میں بنا کر ہی لایا ہوں۔" کارکن نے کہا، "بس آپ دستخط کر دیں ، لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ کل کے اخباروں میں دھماکہ ہو جائے گا۔ سب دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں گے۔ آپ ان سب کو روند کر پھینک دیجیے۔"
عورت نے کچھ مسکرانا شروع کیا۔ "کن کو روند کر پھینک دوں؟" اس نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
"اپنے سب مخالفین کو۔" کارکن نے کچھ چکرا کر کہا۔
"وہ کون ہیں؟" عورت نے پوچھا۔
ہمدرد کارکن کافی مایوس ہوا۔ پھر بھی اس نے کہا۔
"یہیں۔۔۔اسی دفتر میں۔۔۔اور باہر بھی۔ لوگ بے حد جل رہے ہیں۔ ان کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں۔"
"ہوں!" عورت نے خود کو کچھ محفوظ ہوتا ہوا پایا۔ بے خیالی میں وہ میز سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر کمرے سے نکلی اور سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔ وہ سانپ لوٹنے پر غور کر رہی تھی۔ کیا سانپ لوٹنے سے بھی کچھ نقصان ہوتا ہے؟ زہر تو سانپ کے پھن میں ہوتا ہے۔ جب سانپ ڈس لے ، نقصان درد یا جلن تو تب ہی ہوتی ہے۔ اس نے خود ایک مصرعے میں کبھی باندھا تھا۔
"ایک سیاہ سانپ سا، دل پہ تمام شب پھرا"
پھر یہ سانپ والا محاورہ کیسے بنا؟ سانپ لوٹ رہا ہے، سانپ پھر رہا ہے، دل پر سانپ سا پھرنا۔ شاید یہ محاورہ نہیں، محض ایک محاورے کی شاعرانہ ترمیم ہے۔ مگر سانپ لوٹنے سے جو ڈر، جو گھبراہٹ پیدا ہوسکتی ہے کہ اب یہ ڈس لے گا، غالباً محاورہ کا جواز یہ خوف ہی ہو لیکن یہ وضاحت اسے کچھ جچی نہیں۔ اس نے سوچا کہ محاورے کی وضاحت غالباً کچھ بھی نہیں ہے، لیکن یہ نہایت پر تاثیر محاورہ ہے اور بس اسی لیے وجود میں آیا اور باقی ہے۔
دفتر کی کار اسے گھر کی طرف لے جا رہی تھی۔ اس نے ہینڈ بیگ کے اندر جھانکا۔ ہمیشہ کی طرح وہ کئی چیزیں دفتر کی میز پر ہی بھول آئی تھی۔ اس کا سیل فون، ٹیلیفون ڈائریکٹری ، چشمہ۔۔۔
ایک لمبی سانس کھینچ کر اس نے سوچا ، "خیر ، کل صبح یہ سب کچھ وہیں رکھا مل جائے گا۔" پھر اپنی دور اندیشی کی داد دی کہ گھر پر اس نے ایک اور چشمہ رکھ چھوڑا ہے۔
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے عورت کو خیال آیا کہ شیعہ گردی، سنی گردی، مہاجر گردی، سندھی گردی اور جانے کتنی ہی گردیوں کے اجزائے ترکیبی کو اس نے غالباً تھوڑا بہت سمجھنا شروع کیا ہے۔ اسے ان کی حیرت خیز طاقت اور ترغیب پر شرمندگی بھرا تعجب ہوا۔ اسے سانولے ڈی ایف کا خیال آیا جو غالباً اس ادارے کی فائلوں پر بقول محاورۂ وزارت "انگریزی لکھ لکھ کر" وزارت تعلیم کے افسران کے بادشاہوں پر اکے مار رہا ہے، ان کی ایسی کی تیسی کر رہا ہے، انھیں روند کر پھینک رہا اور شاید سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس تفریح سے دور کہیں کراچی میں ایک ادھورا سدھورا ادارہ کتنی مصیبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ یا شاید ایسا نہ ہو، وہ سچ مچ صرف عورت کو ہی دق کر رہا ہوں کیوں نے عورت نے اس کی انا کی تسکین کی اور نہ ہی مٹھائی پیش کی۔
حقیقت کیا تھی؟ عورت کا دل چاہا کہ فٹ پاتھ پھر بیٹھے عامل منجم کے طوطے سے کارڈ منتخب کرا کے معلوم کر لے۔ اس وقت سچ تو یہ تھا کہ وہ اس ادارے سے کہیں بہت دور چلی جانا چاہتی تھی۔ دور۔۔۔بہت دور مگر اسے ایک موہوم سا شبہ تھا کہ کوئی بھی جگہ ادارے یا وزارت سے بہت دور نہیں ہے۔
٭٭٭



طیراً ابابیل



نئے ہفتے کا پہلا دن سب سے مشکل تھا۔ دفتر میں چھ افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم اس کی منتظر تھی۔ نئی ڈکشنری کا پراجیکٹ شروع ہو چکا تھا۔ افسر خاتون سے فرمائش کی گئی تھی کہ پہلے وہ نئی ڈکشنری کے "اصولیات تالیف" بتائے۔
"اصولیات تالیف، یا خدا!" اس نے دل ہی دل میں سر پیٹ کر کہا تھا۔ "میرے فرشتوں کو بھی کسی نئی، یا پرانی ڈکشنری کے اصولیات تالیف کا بھلا کیا پتہ؟"
"پرانی ڈکشنریوں کے اصولیات پڑھ لیجیے۔" اس نے کہا تھا۔
"لیکن یہ تو نئی ڈکشنری ہے۔ یہ مختلف ہو گی، یہی تو ہمارا دعویٰ تھا، اسی پر تو پراجیکٹ ملا ہے۔"


عورت نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا جو بہرحال قمیص سے ڈھکا ہوا تھا۔ "یا پیٹ!" اس نے سوچا۔ "تیری خاطر میں نے ڈکشنری بنانے کی ملازمت کر لی۔" یہ ملازمت اسے ایک اچھی انگریزی میں لکھی ہوئی درخواست کی بنا پر دی گئی تھی، بلکہ دے ڈالی گئی تھی۔ اس احتمال کے ساتھ کہ اردو تو اسے خوب آتی ہی ہو گی۔ پیٹ پوجا کے چکر میں اس نے کبھی ایک بائی لنگوئل ڈکشنری پر تھوڑا سا کام بھی کیا تھا۔ لیکن اردو کی ڈکشنری! یا اللہ! یہ تو ایک بالکل دوسری دنیا تھی۔
"ہم جو دعویٰ کیا ہے، یعنی دعوے کی جو تفصیل ہے، اسے پڑھ کر اس کے مطابق بنانا شروع کر دیجیے۔ دس بارہ صفحات کے بعد دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کیا ہے۔ وہی ہمارے اصولیات ہوں گے۔ پھر وہ ہم لکھ لیں گے۔" اس کے دماغ نے تیزی سے کام کرتے ہوئے اسے سجھایا تھا۔ یہی بات اس نے ٹیم کو بتا دی تھی۔ انھوں نے سو پچاس صفحات پر کام کر کے نئی ڈکشنری کے چار صفحے بنا ڈالے تھے۔ اور آج۔۔۔آج اسے ان پر بات چیت کرنی تھی۔ ڈسکشن۔۔۔جو دراصل بحث نہیں ہوتا۔ بحث کا کیا سوال؟ تبادلۂ خیالات؟ ایک بنائی ہوئی ترکیب جو دراصل اس کے کلچر میں نہیں ہوتا۔ مخالفت ہوتی ہے، جو بحث بنتی ہے اور پھر اس کے بعد ہوتی ہے لڑائی۔ ہا ہا ہا۔ عورت نے سوچا تھا۔
چہرے کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے چائے کی پیالی کا پہلا گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔ اگر میں آج نہ آتی؟ شہر میں ہر طرف قتل کی وارداتیں ہو رہی تھیں۔ جانے کب سے چل رہا تھا یہ سلسلہ؟عاشورہ کے روز خودکش دھماکوں سے تعزیتی جلوس میں چالیس سے زیادہ مرد عورتیں بچے جاں بحق ہوئے، یہ کوئی مہینہ بھر پہلے کی بات تھی۔ اس کے بعد ہر روز منتخب افراد کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ رات اس کے ایک دوست نے فون پر کہا تھا کہ شہر میں افواہ گردش کر رہی ہے کہ کل وارداتیں پوری شدت سے ہوں گی اور یہ کہ وہ احتیاط کرے۔ صبح عورت احتیاطاً تھوڑی دیر بستر میں لیٹی رہی تھی، پھر عاجز آ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ خودکش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ تو ختم ہونے والا نظر آتا نہیں تو پھر کیا ہاتھ پیر توڑ کر گھر بیٹھ جایا جائے؟
باہر سے پھیری والے کی آواز آ رہی تھی، "لے لو آلو ، مٹر، ٹماٹر، گاجر"۔ آخر یہ کیوں نہ ڈرا؟ اس نے سوچا تھا۔ سبزی منڈی سے ٹھیلہ بھر کر آیا ہو گا۔ کراچی کے شہری سرعت سے ناگہانی موت کے امکان کے عادی ہو گئے تھے اور اپنے اپنے کام سے لگے رہے تھے۔ پس وہ بھی منھ پر چھپکا مار کر دفتر آ گئی۔
تو ایسے بسم اللہ! اس نے ٹیم کے ارکان سے کہا جو اس کے دفتر میں آ چکے تھے۔ ان کے چہروں پر ہمیشہ ایک دھند سی چھائی رہتی تھی جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہے ہوں۔ صرف کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں ایک چمک کا شرارہ نظر آتا تھا۔ ان میں زیادہ تر باریش تھے۔ عورت کے سامنے سیاہ اور کھچڑی، گھنی اور پتلی داڑھیوں کا ایک جال سا پھیلا ہوا تھا۔ ڈسکشن کرنے کے لیے وہ گویا اپنے زمین دوز تہہ خانے سے نکل کر آئے تھے۔
"تو چلیے، بسم اللہ۔ الف مقصورہ" اس نے بہ آواز بلند کہا اور سوچا کہ اس الف سے کوئی قصور ہوا ہو گا۔ جب کہ الف ممدوحہ نے بڑے اچھے کام کیے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا ہوتی ہے۔ اس کامیاب خیال پر وہ بے حد خوش ہوئی تھی۔ تب ٹیم کے ایک ممبر نے کہا، "ممدوحہ نہیں ممدودہ۔ حائے حطی نہیں اس لفظ میں۔"
"نہیں ہو گی۔۔۔" اس نے شرمندہ ہو کر کہا۔ سب سے پہلے وہ "اب" تک پہنچے۔
"ماخذ لکھ رہے ہیں نا؟" اس نے پوچھا۔
"جی ہاں۔ سب سے پہلے لکھ رہے ہیں۔"
اب کے آگے درج تھا، "قدیم آریائی۔"
"قدیم آریائی؟ یعنی سنسکرت سے بھی پرانا؟" عورت نے حیرت سے کہا۔
کمرے میں موجود سب لوگ مبہوت ہو کر' اب' کو دیکھتے رہے۔ اس کا اولین تلفظ "او" سامنے لکھا تھا۔ ہزاروں برس سے یہ ہندوستانیوں ، اور اب پاکستانیوں کے ساتھ لگا چلا آ رہا تھا۔ حیرت انگیز 'اب'! ماضی کے سارے ملبے کو چیرتا پھاڑتا، طوفانوں، زلزلوں ، آتش زنی سے بچ نکلتا۔ جب کہ پہاڑ ڈھے گئے تھے اور "اب" باقی تھا۔ کسی قدیم، دھندلائے ہوئے، مدفون ماضی کی یادگار ۔۔۔"میں تھا۔۔۔میں ہوں" کہتا ہوا ۔ کون کہتا ہے پتھر آدمی سے زیادہ دیر پا ہیں؟ انھوں نے سوچا تھا۔ پتھر ٹوٹ گئے ہیں، آدمی کے نطق سے بنا لفظ باقی ہے۔ یہ کہاں تک ہمارے ساتھ چلے گا، کون کہہ سکتا ہے؟ تہذیبیں مٹ جائیں گی ، خاک ہو جائیں گی۔ ہوسکتا ہے "اب' 'کپڑے جھاڑ کر نئے آنے والوں ، نئے لوگوں کی زبانوں پر دوبارہ دوڑتا پھرے، شاید وہ شکل بدل لے۔
"اب"!جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ دن میں سیکڑوں بار تو اسے کہتے ہوں گے۔ اس قدر قدیم "اب' 'کی خاطر وہ انجانے میں احتراماً چند لمحے خاموش رہے، پھر عربی کے "ابّ' 'اور "ابّ و جد' 'کو جھک جھک کر آداب و تسلیمات کرتے آگے بڑھے۔
"ابتہاج آپ نے نہ ڈالا؟" افسر عورت نے پوچھا۔
"نہیں۔" انھوں نے کہا۔
"گڈ" عورت نے کہا۔ "یہ لفظ اب اردو میں کوئی استعمال نہیں کرتا، لیکن پھر ابتسام کیوں شامل کر لیا؟
داڑھیاں مسکرائیں، مگر خاموش رہیں۔
"میرے خیال میں اس کی ضرورت نہ تھی۔" ایک نے کہا۔
"تھی! تھی؟" دوسرے نے کہا۔ "دیکھیے جب لوگ بچے کا نام رکھنے کے لیے ڈکشنری دیکھیں گے تو۔۔۔یہ الفاظ تو ہونے چاہئیں۔"
"بچے کا نام رکھنے کے لیے وہ ہماری بڑی والی ڈکشنری دیکھ لیں۔" عورت نے خیال آرائی کی۔ اب اسے لگ رہا تھا کہ ابتہاج اور ابتسام دو چھوٹے چھوٹے بھائی ہیں۔ دو ننھے منے کھلنڈرے بچے جو کسی گیند کے پیچھے لڑکھڑاتے ہوئے دوڑ رہے ہیں اور اس نئی ڈکشنری میں داخل ہو گئے ہیں۔
اپنے بے قابو تصور کو لگام ڈال کر عورت نے کہا۔
"دیکھیے، رول آف دی تھمب یہی رکھیں کہ جو الفاظ 1901 سے اور اس کے بعد چھپی ہوئی کتابوں میں موجود ہیں، بس وہی رکھیں گے۔"
بات یہ تھی کہ یہ ادارہ باوا آدم کے زمانے سے اردو میں استعمال ہونے والے الفاظ کی ایک بائیس جلدوں والی ڈکشنری پہلے ہی بنا چکا تھا۔ اب منصوبہ یہ تھا کہ ایک مختصر ڈکشنری بنائی جائے جو محققوں کے علاوہ دوسروں کے بھی کام آسکے۔ منصوبہ ایک جلد کی ڈکشنری کا تھا، لہٰذا کثیر تعداد میں تراکیب اور الفاظ تو چھوڑنے ہی تھے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ڈکشنری کو بالکل جدید طرز پر بنایا جائے گا۔ یعنی جیسے انگریزی، فرانسیسی وغیرہ کی جدید ڈکشنریاں ہوتی ہیں۔ دعوے میں "یوزر فرینڈلی" قسم کے الفاظ بھی لکھے گئے تھے۔
جب اس نے یہ تجویز رکھی تھی کہ یہ جنرل آئیڈیا لینے کے لیے کسی قسم کے الفاظ کو چھوڑا جا سکتا ہے، ٹیم کے سب ممبران (اور وہ خود) انگریزی کی قدیم ترین اور جدید ترین ڈکشنری کے دس بارہ صفحات کا تقابلی مطالعہ کریں تو ان میں سے ایک نے لال پیلا ہوتے ہوئے اور اکبر کی طرح غیرت قومی سے زمین میں گڑتے ہوئے کہا تھا۔
"گویا ہم ان کی نقل کریں؟ مکھی پر مکھی ماریں؟"
"تو پھر آپ کوئی راستہ بتائیں؟" عورت نے کہا تھا۔
چھ کارکنوں نے چھ راستے بتائے تھے۔ حاصل ان کا یہی تھا کہ کوئی لفظ چھوڑا نہیں جاسکتا۔ انھیں تمام الفاظ سے شدید جذباتی لگاؤ ہو چکا تھا۔ گفتگو کا حاصل یہی تھا کہ پرانی ڈکشنری کو پورے کا پورا دوبارہ لکھ ڈالا جائے۔
تو یہ خاتون ان سے کچھ کم جذباتی نہ تھیں، لیکن پریکٹیکل ہونا بھی تو کوئی چیز ہے دنیا میں۔ "ہم نقل نہیں کر رہے ہوں گے، لیکن سیکھنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنا بھی تو پڑتا ہے۔" اس نے بیچارگی سے کہا تھا۔ پھر اسے ایک کارگر مثال یاد آئی تھی۔ "آپ ہمارے ایٹم بم ہی کو دیکھ لیجیے۔ کیا اس کا نسخہ ہالینڈ سے نقل کر کے ایک کاغذ کا کارتوس بنا کر پاکستان اسمگل نہیں کیا گیا تھا؟ اور اب دیکھیے کہ اس نقل کے باعث ہم کیا سے کیا ہو گئے ہیں۔ مجال ہے کہ دشمن میلی آنکھ سے اب ہمیں دیکھے۔"
"وہ اور بات تھی اور یہ اور بات ہے۔" انھوں نے کہا۔
اس بات سے وہ انکار نہیں کرسکی تھی۔ بات تو واقعی وہ اور تھی، یہ اور ہے۔
"ہندوستانیوں کو ہی لیجیے۔" اس نے انھیں راضی کرنے کی کوشش جاری رکھتے ہوئے کہا تھا۔ "مار روسیوں کے ٹینکوں وغیرہ کو نقل کر کر کے دھڑا دھڑ ٹینک بنا رہے ہیں۔ بنا رہے ہیں کہ نہیں؟"
اس مثال سے وہ زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ جو کچھ دشمن کرتا ہے ، وہ کرنا مباح بلکہ عین شریعت ہے کہ اصول کے مطابق وہ انگریزی ڈکشنریاں پڑھنے پر آمادہ ہو گئے تھے اور پھر تو کام تیزی سے چل نکلا تھا۔
اچانک انھیں ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ سب کے سب چونک پڑے۔ "یہ۔۔۔یہ کیا ہوا؟" چند لحظوں بعد عورت نے کہا۔
"کچھ نہیں۔" دروازے پر کھڑے نائب قاصد نے بتایا۔ "ایک دروازہ ذرا زور سے بند ہو گیا۔"
"افوہ!" انھوں نے کہا۔ ان کی جان میں جان آئی۔ وہ خوب ہنسے۔ انھوں نے پانی پیا، جب ان کے بلیوں اچھلتے دل قرار پر آئے تو عورت نے سب کے لیے چائے منگوائی۔ اب وہ آگے چلے۔
"ابابیل" سے وہ سرسری گذر رہے تھے کہ عورت کو اچانک خیال آیا۔ نہ جانے کب سے اس کے ذہن میں ایک خلش سی تھی جو اس نےکہہ ڈالی۔
"دیکھیے انگریزی ڈکشنری میں ہر پرندے، پھول، درخت وغیرہ کے ساتھ لاطینی میں اس کی اصل نسل وغیرہ درج ہوتی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم بھی ڈکشنری استعمال کرنے والے کو کسی بھی لفظ کی بہترین معلومات دیں گے۔ کیا ہم یہ سائنسی توضیح ان ناموں کے ساتھ شامل نہیں کرسکتے؟"
"سائنسی توضیح کہاں سے لائیں؟" انھوں نے کہا۔
"پلاٹس میں دیکھیے۔" کسی نے مشورہ دیا۔ پلاٹس میں "ابابیل" کا چھوٹا سا مطلب Swallow لکھا تھا ۔ اس کی سائنسی توضیح جدید انگریزی ڈکشنری میں موجود تھی، کوئی لاطینی نام تھا۔
عورت سوچ میں ڈوبی بیٹھی تھی۔ اس نے کہا، "بھائیو! یہ کوئی انگریزی چڑیا ہے۔ زمین کے مختلف حصوں میں ایک سے چرند پرند نہیں ہوتے۔ ہندوستانی ابابیل وہ نہیں ہوسکتی جو انگلستان کے مرغزاروں میں اڑتی پھرتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ان کا کوا کچھ اور ہے اور ہمارا کوا کچھ اور۔۔۔میں نے خود دیکھا ہے۔"
"تو نسل میں جو فرق ہے، جغرافیائی۔۔۔وہ ہمیں بتانا چاہیے نا۔"اس نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔
وہ "ابابیل" کے مختلف اندراجات غور سے دیکھنے لگی، یہ دیکھ کر اسے خوشی ہوئی کہ توضیحات میں قرآنی آیت کا ذکر تھا کہ اردو میں ابابیل کی تقریباً مقدس حیثیت ہے کہ کنکریوں کی بارش سے اس نے ابرہہ کے لشکر کو مجروح کر دیا تھا جو خانۂ کعبہ پر یورش کرنے کے ارادے سے نکلا تھا۔ "ابابیل" کا ماخذ عربی درج تھا۔
"گڈ" اس نے کہا۔ "یہ اہم توضیحات ہیں، انھیں ضرور شامل ہونا چاہیے۔"
وہ سب داڑھیوں میں مسکرائے۔ انگریزی میں Swallow کے ساتھ ضرب المثال لکھی تھی۔ "ون سوالو ڈز ناٹ میک سپرنگ"۔ یہ پڑھ کر انھوں نے کہا۔ گویا بہار کے آغاز میں یہ پرند آتے ہوں گے۔ یوں سمجھیے کہ سردیوں کے اختتام پر۔۔۔دیکھیے یہ ہم نے بھی لکھا ہے۔ اس کا نام "ابابیل کوچی" ہوتا ہے، یعنی جو آتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے۔
عورت نے "ابابیل کوچی" کے معنی دیکھے۔ "سیاہ پرند، جس کے پر دولخت ہوتے ہیں اور گردن پر سرخ ڈوری ہوتی ہے۔ یہ سردیوں کے آغاز پر شہروں میں آتا ہے۔"
"لیکن انگریزی پرندہ سردیوں کے آغاز میں نہیں، گرمیوں کے آغاز پر آتا ہے۔"
عورت نے غور کرتے ہوئے کہا۔ یہ دو مختلف پرندے معلوم ہو رہے ہیں۔ ان کے عادات و خصائل جدا ہیں۔ "سیر الطیور میں کوئی نسل نہیں دی گئی۔" ان میں سے ایک نے کہا۔
"وہ جو دس بارہ برس پہلے ایک انگریز نے کتاب لکھی تھی، 'پاکستانی پرندے'، وہ ہے لائبریری میں؟"
"وہ تو نہیں ہے۔"
"تو فوراً منگوا لیجیے۔ مفید معلومات ملیں گی، بلکہ درختوں ، پھولوں کے بارے میں جو نئی کتابیں شائع ہوئی ہیں، وہ سب بھی منگوا لیجیے۔" پھر اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا۔ "سب انگریز کم بختوں نے لکھی ہوں گی وہ بھی۔" پھر اسے یاد آیا، "وہ جو ایک برڈ واچر ہیں انڈیا میں ۔۔۔کافی مشہور۔۔۔تو انھوں نے کوئی کتاب لکھی ہو تو منگوا لیں۔"
انڈین کے نام سے ان کے چہروں پر تذبذب پھیلنے لگا۔
"بھئی وہ مسلمان ہیں۔" عورت نے تسلی دی جس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔
"ویسے نام ان صاحب کا کیا تھا؟ خیر نیٹ سے نکال کر بتا دوں گی۔" عورت نے سوچتے ہوئے کہا۔ اس کے نیٹ کے استعمال پر یہ ٹیم مرعوب رہتی تھی۔ اس بات سے عورت کو بہ یک وقت اطمینان، افسوس اور شرمندگی ہوتی رہتی تھی۔
ابابیل کے ضمن میں آگے" ابا بیلیہ" بھی تھا۔ ایک ایسا کبوتر جس کے پر اور دم ابابیل سے مشابہ اور ہم رنگ ہوتے ہیں۔
"ہم م م م۔۔۔" عورت نے کہا۔ "بہت خوب!" لیکن اب اس کے دماغ میں مزید جغرافیائی الجھنیں آ چکی تھیں۔ اس نے کہا، "ہندوستانی پاکستانی پرندے۔۔۔ضروری نہیں کہ عرب سر زمینوں پر بھی ہوں یا بلکہ نہیں ہوتے۔ یہ ہمارے جنگلات کے باسی ہیں۔ اچھا دیکھتے ہیں عربی ڈکشنری میں ابابیل کے لیے کیا لکھا ہے؟"
عربی ڈکشنریاں لائبریری سے فوراً منگوائی گئیں۔ دس پندرہ منٹ کی ورق گردانی کے بعد بھی کمرے میں سناٹا تھا۔ لغت نویسوں کے چہروں پر عجب پریشانی طاری ہو چکی تھی۔
"کیوں؟ کیا لکھا ہوا ہے؟" عورت نے پوچھا۔
"لفظ تو ہے۔ یہ "بیل" کی جمع ہے۔ اور "بیل کا مطلب ہے گروہ یا جھنڈ، پرندوں، چو پایوں کا۔"
"اور وہ جو قرآن شریف میں ہے کہ۔۔۔" عورت نے ہکلاتے ہوئے آیت یاد کی۔
"وہی۔۔۔طیراً ابابیل۔"
"جی ہاں!" ایک عربی داں لغت نویس نے کہا۔ "یعنی پرندوں کا جھنڈ۔"
"اور قرآن میں یہ نہیں ہے کہ وہ کون سے پرندے تھے؟" عورت نے مزید حیران ہو کر پوچھا۔
"جی نہیں۔۔۔یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ عربی لغات کی روشنی میں تو بات واضح ہے۔"
چند منٹ کمرے میں خاموشی رہی۔ لغت نویس اور ان کی افسر عورت ساکت و صامت، حیرت اور کچھ مایوسی میں غرق تھے۔ آخر افسر عورت نے گہری سانس بھرکر کہا۔
"اور میں۔۔۔ساری عمر سمجھتی رہی کہ وہ ابابیلوں کا لشکر تھا جس نے ابرہہ کی فوج پر کنکریاں برسائیں۔"
"صر ف آپ ہی نہیں، آپ کے ابّ وجد اور ان کے ابّ وجد نے بھی ایسا ہی سمجھا۔" کسی نے چپکے سے اس کے کان میں کہا، "جب غیر عربوں نے قرآن کریم پڑھا تو ابابیل کو ایک چڑیا سمجھا۔ تیرہ چودہ برس پہلے پھر انھوں نے ایک خوش نما سیاہ پرند کو یہ نام دے دیا اور یقین کر لیا کہ کنکریاں برسانے والا پرند یہی تھا۔ وہ پرند۔۔۔جو نہ صرف عرب میں نہیں، بلکہ کہیں بھی نہیں تھا۔ اس طرح ایک چڑیا کو یہ نام ملا اور وہ چڑیا ابابیل بن گئی جس نے کنکریاں برسائی تھیں۔"
عورت کو یاد آیا۔ اس نے تو ایک عرب مصنف کی انگریزی میں لکھی کتاب میں یہ بھی پڑھا تھا کہ ابرہہ کا لشکر دراصل چیچک کا شکار ہو گیا تھا۔
مکہ کے باسیوں نے ہاتھیوں کی طرح چیچک کو بھی پہلے نہ دیکھا تھا۔ وہ اس موذی مرض سے ناواقف تھے۔ انھیں بالکل ایسا نظر آیا تھا جیسے لشکر کے سپاہیوں کے جسموں پر ننھی ننھی کنکریوں نے زخم ڈال دیے ہوں۔ عربوں کے شاعرانہ تخیل نے اس بیماری کے اثرات کے لیے یہی تشبیہ تراشی تھی۔
ذہن میں تیرتی کتاب کی اس یاد کو اس نے پرے دھکیل دیا، وہ باریش لغت نویسوں کے سامنے یہ کفر کے کلمات نہ کہنا چاہتی تھی۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ انسانی تخیل کس قدر اہم ہوتا ہے اور کتنا طاقت ور تخلیق کار! مثال تو سامنے تھی۔ یہ تخیل ہی تو تھا جس کے باعث ابابیل ایک جیتا جاگتا پرند بن گیا جس کا رنگ سیاہ، دم اور پر دولخت ہیں اور جو ہندوستان اور پاکستان اور ترکی اور ایران میں رہتا ہے۔ وہی پرندہ، جس نے ابرہہ کے لشکر پر کنکریاں برسائی تھیں۔
"میں کچھ نہیں کہوں گی۔" اس نے سوچا، " نہ نہ بابا، میری توبہ! میرے باپ دادا کی توبہ۔"اس نے دل میں کہا اور سوچا کہ تو بہ ہمیشہ باپ دادا کی کی جاتی ہے، ابّ وجد کی نہیں ۔ نہ جانے کیوں؟ معنی تو دونوں کے بالکل ایک ہیں۔ شاید ایک ترکیب دوسری ترکیب کا لفظی ترجمہ ہو۔ اس کے باوجود۔۔۔اس کے باوجود کسی قدر باریک پھر بھی کتنا واضح فرق موجود تھا۔ باپ دادا سے ہم زیادہ بے تکلف ہیں۔ اس کی توبہ بلاتے رہتے ہیں۔
"چونکہ لفظ عربی ہے، لہٰذا ماخذ عربی ہی رہے گا۔" ان میں سے ایک نے کہا۔
"درست" عورت نے کہا۔
"لیکن ابابیل کوچی کا ماخذ کیا ہو گا؟ فارسی ترکیب ہے۔"
"ماخذ فارسی لکھ دیجیے۔ تراکیب کا ماخذ اگر اصل لفظ سے مختلف ہے تو وہ لکھا جائے گا، لکھ لیجیے اصولیات تالیف میں۔۔۔"
وہ جلد ہی چار صفحوں کے اختتام تک پہنچ گئے۔ افسر عورت ان کے کام پر بے حد مسرور تھی۔ سو پچاس صفحات کو دو تین صفحوں میں اس طرح سمیٹنا کہ ہر ضروری لفظ شامل رہے، کوئی معمولی کارنامہ نہ تھا۔ انگریزی اور اردو انگریزی جدید لغات میں الفاظ کو دیکھتے رہنے کا فائدہ ہوا تھا۔ مثلاً اُبال میں وہ حرارت کے ایک خاص درجے کا ذکر شامل کرسکے تھے، جیسا کہ انگریزی ڈکشنری میں بوایل کے معنوں میں درج تھا جب کہ اردو کی پرانی ڈکشنریوں میں نہیں تھا۔ کہیں کہیں فونٹ کو گاڑھا کر کے، مختلف بریکٹوں کا استعمال کر کے، کوما اور سیمی کولن کا ہر لفظ کے معانی میں یکساں استعمال کر کے، انھوں نے معنی تخلیق کیے تھے جو صرف اسی ڈکشنری سے مخصوص تھے۔ (یہ ایک شان دار معنی آفرینی ہے، عورت نے سوچا تھا۔)
وہ پرانی ڈکشنری میں ادھر اُدھر بکھرے محاورات ، ضرب الامثال اور تراکیب کو کھینچ لائے تھے اور ہیڈ ورڈ کے تحت درست ترتیب میں انھیں جما دیا تھا۔ عورت کی ترکیب کامیاب رہی تھی کیوں کہ تکنیکی اصولیات کیے ہوئے کام سے نکل رہے تھے۔ اس کامیابی پر عورت کو تعجب بھری خوشی ہو رہی تھی۔ ٹھیک ہی تو کہتے تھے چچا کارل مارکس ، پیٹ بھرنے کے لیے کام کرنے سے انسان نے علم حاصل کیا۔ اس نے دل ہی دل میں مارکس کی تصویر کو پیار بھری نظروں سے دیکھا، جو اس کے دل ہی میں تھی۔ نوجوانی میں، اسے یاد آ رہا تھا ، وہ مارکس اور اینجلز کی تصویریں اپنی امی کو دکھا کر کہا کرتی تھی "دیکھیے یہ بھی صوفیا کرام ہیں۔ ذرا ان کی نورانی داڑھیاں دیکھیے۔" امی ہنس کر اس سے کہتی تھیں، "بکو مت۔ یہ اور قسم کے لوگ ہیں۔"
اس کا بے چارگی سے ٹیم سے یہ کہنا، "کون سا لفظ لینا ہے اور کون سا نہیں، بالآخر یہ فیصلہ آپ کو ہی کرنا پڑے گا"، سود مند ثابت ہوا تھا۔ اب وہ ہر لفظ میں گہری دلچسپی لے رہے تھے اور سچ تو یہی تھا کہ اس کے سوا اور چارہ بھی کیا تھا؟ لفظوں کے بارے میں اگر حتمی فیصلہ افلاطون بھی آ کر صادر کرتا تو اسے بھی چیلنج کیا جاسکتا تھا ، جب کہ افسر عورت کو افلاطونیت کا دعویٰ بھی نہ تھا۔ (یہ دعویٰ کرنے سے وہ بال برابر ہچکچاتی تھی۔)
عورت کو اپنی ٹیم پر بے حد پیار آ رہا تھا۔ کتنے ذہین ، محنتی اور من موہنے ہیں یہ لوگ!
اس نے ڈکشنریاں اور کاغذات اپنی بڑی سی میز پر رکھنے کے لیے میز پر کھلے ہوئے اخبار کو تہہ کر کے ایک طرف رکھا جو سارا ٹارگٹ کلنگ خبروں سے بھرا پڑا تھا۔ دو تین دن سے میڈیا کے ذریعے یہ بھید نہیں کھل رہا تھا کہ کون کس کو مار رہا ہے۔ آیا شیعہ سنیوں کو یا سنی شیعوں کو قتل کر رہے ہیں یا مہاجر پٹھانوں کو یا سندھیوں کو یا سندھی یا پٹھان مہاجروں کو قتل کر رہے ہیں۔ یا یہ سب ایک دوسرے کو ہر قتل کے انتقام کے لیے گولی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تیسری صورت یہ بھی ممکن تھی یہ کہ قتال خود ایجنسیوں کا کھیلا ہوا ایک تماشا تھا جو کسی خاص مقصد بر آری کے لیے منعقد کیا جا رہا تھا۔ چوتھی صورت حال یہ بھی تھی کہ اس کے پیچھے کوئی غیر ملکی ہاتھ ہے۔ شاید یہ باہر والوں کو یہ باتیں بہت مضحکہ خیز لگیں لیکن انھیں کیا پتہ بھئی، کسی کو کیا خبر۔ یہاں کے حالات تو مدت سے بس ایسے ہی ہیں۔
کتابیں میز پر اوپر تلے رکھ کر، تشکر سے پر لہجے میں عورت نے کہنا شروع کیا۔
"سمجھ میں نہیں آتا، میں آپ لوگوں کی کیسے تعریف کروں۔ پہلے مجھے فکر تھی کہ پتہ نہیں جو ذمہ داری ہم نے لی ہے، جدید طرز کی ڈکشنری بنانے کی، آپ اسے پورا بھی کرسکیں گے یا نہیں؟" پھر وہ جوش مسرت میں ان سے مذاق کرنے لگی، "مثلاً میں تو آپ لوگوں کے حلیے سے خوف زدہ رہتی تھی۔ ڈرتی تھی کہ کہیں کوئی خود کش بمبار تو آپ میں نہیں؟"
وہ مسکرائے۔ انھوں نے کہا، "وہی تو ہیں ہم لوگ۔" اور اپنی کرسیوں پر جنبش کی۔
پھر نہ وہ کمرہ تھا اور نہ کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگ۔ صرف ایک زور دار دھماکہ تھا جو شہر میں گونج رہا تھا۔ ڈکشنریوں کے پرخچے دور دور تک اڑ رہے تھے۔ تنہا ابتہاج اور اس کا چھوٹا بھائی ابتسام فضا میں اچھال دیے گئے تھے۔ ان کے ننھے منے کپڑوں پر بنے ہاتھی گھوڑوں کی تصویریں بھڑکتے ہوئے شعلوں خاکستر ہو چکی تھیں۔
ابّ وجد کے ہاتھ پاؤں جسم سے علیحدہ بکھرے پڑے تھے۔ ایک تصور سے حقیقت بن جانے والی ابابیلیں جھلس کر مر گئی تھیں۔ قدیم آریائی گھڑ سوار 'اب' کا حال ابتر تھا۔ اس کا اشو یا اسپ الف ہو کر ہنہنا رہا تھا۔ بھڑکتے شعلوں سے اس کی آنکھیں خوف زدہ ہو کر پھیل گئی تھیں۔ اب کے قدیم بلم بھالے لٹوؤں کی طرح چکراتے دور دور تک منتشر ہو چکے تھے۔ اس کا حلق خوف سے خشک ہو گیا تھا۔ وہ بیٹھی ہوئی آواز میں مسلسل چلا رہا تھا۔
"اب کیا ہو گا؟ اب کیا ہو گا؟"
ایک اور زوردار دھماکہ۔۔۔اور اب کی بار وہ بھی اپنے رہوار سمیت بھک سے اڑ گیا۔
٭٭٭



فعل متعدی


ٹھیک دس بج کر تیرہ منٹ پر میں نے یہ آواز سنی۔
"تو اے عورت! اب کیا ہونا چاہیے اور اس کے لیے کیا کرنا لازم ہے۔"
جیسا کہ آپ نے پہلے ہی بخوبی اندازہ لگا لیا کہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ اسی شے کی تھی جسے راجندر سنگھ بیدی نے اپنے ایک افسانے میں انتر آتما کا نام دیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ آواز غیرنسوانی تھی۔ وہ مجھے "اے عورت" بھی محض عادتاً کہہ رہی تھی۔ تو کیا عورت کی آتما، جس میں کہ انتر آتما ہوتی ہے، عورت نہیں ہوتی ؟ میں نے اسی لمحے کچھ حیرت سے سوچا۔ ایسا ناچیز کا خیال نہیں۔ ناچیز کا خیال تو یہ ہے کہ عورت کی آتما بالکل عورت ہی کی شکل و صورت کی ہوتی ہے۔ یعنی اگر آپ اِسے شکل و صورت دے سکیں تو وہ عورت ہی جیسی بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں تو معاملہ انتر آتما کا تھا۔
تو یہ کوئی" سیکس لیس" سی شے تھی۔ اس موضوع پر غور کرنا چھوڑ کر میں نے اس کے پوچھے ہوئے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔
میں اردو ڈکشنری بورڈ کے بڑے کمرے میں ایک بڑی میز کے سامنے بڑی کرسی پر بیٹھی تھی۔ مجھے اِس کا مدیر اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر عرض گذاری تھی کہ اردو ڈکشنری بنانا میرے بس کی بات کیوں کر ہوسکتی ہے، جب کہ مجھے تو یہ علم بھی نہیں کہ فعل متعدی کیا بلا ہے۔ میرے علم کے مطابق تو صرف بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جو شامل فعل نہیں ہوتیں۔
میرے ایک ذہین و ہونہار جواں سال دوست نے ماتھے پر علامہ اقبال کی طرح انگلی رکھ کر سوچتے ہوئے کہا تھا۔
"جو فعل متعدد بار کیا جائے وہ فعل متعدی ہوسکتا ہے۔"
"نہیں" میں نے اسے درست کیا تھا۔ "وہ فعل متعددی ہو گا۔"
"یا تو پھر فعل بد یا فعل قبیح ہوتا ہے" اس نے کہا۔
"شش !" میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا۔ "یہ سرکاری دفتر ہے۔ یہاں واہیات باتیں نہ کرو۔"
"اچھا ! باہر نکل کر کریں گے۔"
"شش !" میں نے اسے پھر چپ کرایا۔
"امید ہے کہ ڈکشنری میں اس قسم کے فعلوں کا ہر گز کوئی تذکرہ نہ ہو گا۔" میں نے کہا۔
وہ تو چائے پی کر اور کراچی کی نم ہواؤں سے بھورے پانی میں تبدیل ہو جانے والے بسکٹ کھا پی کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے تسلی کے لیے ڈکشنری کی جلدیں کھول کھول کر افعال قبیح کو چیک کیا۔ تمام کے تمام اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ موجود تھے بلکہ اسناد کے طور پر اردو کی قدیم ترین کتابوں سے لیے ہوئے اشعار بھی درج تھے۔
جس پر "اے عورت" نے پرمسرت قہقہہ لگایا۔ہنس کر، ٹشو پیپر سے چہرہ پونچھ کر اور ایک گلاس پانی پی کر میں ڈکشنریوں کی ورق گردانی کرنے لگی۔ کسی دوسرے دفتر میں ایک مضمون لکھنے کے سلسلے میں اس کی ایک آدھ جلد کو میں نے دیکھا تھا۔ لیکن اس وقت یہ پوری کی پوری اکیس جلدیں میرے سامنے تھیں اور میں جستہ جستہ ان کے اوراق پڑھ رہی تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں "اے عورت" کی انتر آتما متحرک ہو گئی۔ سکتے کے سے عالم میں بیٹھی تھی میں وہاں، کیسا عجیب اتفاق! ریوڑیوں کی طرح عہدے بانٹنے کی اندھا دھندی کہیے، ادھر میری ملازمت حاصل کرنے کی ضرورت کی مجبوری ، لیکن تقدیر کے کسی پھیر نے مجھے مولوی عبدالحق کی کرسی پر لا بٹھایا تھا اور میرے سامنے تھیں ان کی آغاز کردہ ڈکشنری کی اکیس جلدیں۔ وہ ڈکشنری جو قدیم گریٹر آکسفورڈ ڈکشنری کے تاریخی یا لسانی اصولوں کے تحت بنائی گئی تھی، جس کے مطابق زبان کے تمام یا تقریباً تمام الفاظ اپنے آغاز اور بدلتے ہوئے یا وسعت پذیر معنوں کے ساتھ، اس طرح درج تھے کہ مختلف ادوار کی کتابوں اور مخطوطات ، غرض ہر دستیاب تحریر سے لفظ کے استعمال اور معنی کی اسناد بھی مندرجات میں شامل تھیں۔
"اے اللہ پاک !" میں نے کہا۔ (ایسے موقعوں پہ یہ ملحد و مشرک کافر عورت اس نوعیت کے کلمات لب پر لاتی ہے۔) کبھی کسی نے ایک شاندار کارنامہ کرنے کی ٹھانی تھی۔ ایک شاندار خواب دیکھا تھا اور وہ پورا ہو رہا ہے! ایک مسلسل ناکام ہوتی ہوئی ریاست میں۔۔۔جس کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی، جس سے کسی خیر کی توقع بھی کوئی اب نہیں کرتا۔۔۔ وہاں یہ کام ہوتا رہا اور ہوتا رہا، اور اب تکمیل پانے والا ہے۔ اس کو کسی چھوٹے ہوئے معجزے کا نام دیا جا سکتا ہے۔
پل کی پل میں وہ مضحکہ خیز طور پر بڑا کمرہ، اس کے گرد آلود پیلے پردے، بدرنگ قالین، مضحکہ خیز طور پر بڑی جسامت کی میز اور اس پر رکھا ہواسستا، واہیات دفتری سامان، سب کچھ غائب ہو گئے۔ اب یہاں بیتی ہوئے زمانوں کی خوشبو تھی۔ گم گشتہ صدیوں کی روح تھی۔ چلے جانے والوں کی ارواح اس کمرے میں گردش کر رہی تھیں اور بہت قدیم کتابوں کے زرد مسکتے کاغذوں کی مہک!
"اس ڈکشنری کی جلدوں میں" چار دن بعد وزارت سے آنے والے بندے سے میں نے کہا۔
"ہندوستان کا ہزار سالہ تمدن اور تہذیب محفوظ ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ…!"
یہ صاحب جو وزارت سے آئے تھے، انہیں وزارت کی اصطلاح میں اب "بندہ" کہا جاتا ہے۔ یہ پنجابی کا لفظ ہے۔ شاید علامہ اقبال نے پہلی بار اردو میں استعمال کیا تھا۔ تعجب ہے کہ اب تک ہمارے کراچوی کانوں کو عجیب سا لگتا ہے۔ شروع میں تو سمجھے بھی نہیں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب لڑکپن میں، میں نے اقبال کا یہ شعر پڑھا تھا۔
جمہوریت اِک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
تو میرے ذہن میں "بندوں" کا مطلب یہی بیٹھا تھا کہ علامہ اللہ کے بندوں کا ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ ہماری طرف کی اردو میں تو بندے صرف اللہ ہی کے ہوتے ہیں۔ "ارے بھئی، اللہ کے بندے! میری بات تو سنو۔ "اس طرح کہا جاتا ہے، لیکن یہ صاحب یا شخص تو کچھ کچھ بندے جیسے لگ بھی رہے تھے۔ یعنی وہ بندہ جو پنجابی میں ہوتا ہے جسے اس طرح کہتے "ہمارا ایک بندہ آئے گا۔" بغیر استری کے عوامی سوٹ میں ملبوس اور چہرے پر ایسا دیہاتی تاثر جسے کلوز شیو کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن پھر بھی میری مدد کرنے آئے تھے اس لیے میرا کراچوی دل انہیں بندہ کہنے پر آمادہ نہیں تھا۔
ان صاحب نے ہزار سالہ تاریخ کے الفاظ سن کر کہا۔ "اتنی پرانی تو خیر اردو نہیں۔"
"جی ہاں، مگر جو کچھ لکھا گیا، جب سے لکھا گیا، وہ تو پرانے زمانوں کے نہ صرف بارے میں تھا بلکہ پرانے زمانے میں وہ چیزیں بھی موجود تھیں۔ داستانوں ہی کو لیجیے۔ اب شہزادی نے کردھنی پہن رکھی ہے۔ تو کیا کردھنی ہزار برس پہلے نہ تھی؟"
پھر کچھ مورتیاں یاد کرتے ہوئے میں نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا۔
"بالکل موجود تھی۔ ٹیکسلا کے فریسکوز میں بعض عورتوں نے کردھنی پہن رکھی ہے۔"
مولوی عبدالحق اردو کے شیدائی تھے۔ ڈکشنری کی ورق گردانی کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ بعض جگہوں پر خالص ہندوستانی الفاظ کو دیوناگری رسم الخط میں لکھا گیا تھا تاکہ پڑھنے والا بالکل صحیح تلفظ سے واقف ہوسکے۔ دیوناگری میں!! پور ڈیئر اولڈ سول! ان کو کیا پتہ، بھولے بھالے انسان کو، اردو سے عشق کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے کہ آگے چل کر اس رسم الخط کو قابل نفرت قرار دیا جا سکتا ہے جو اسلام اور نظریۂ پاکستان کے حق میں زہر قاتل مانا جائے۔
ایسا کچھ میں سوچ رہی تھی۔ تب عورت نے اضافہ کیا۔
"جس طرح ہندوستان میں اردو کے رسم الخط کو ہندو دھرم اور ہندوستان کی اکھنڈ ایکتا کے خلاف سمجھا گیا جس سے کہ پوتر ہندو دھرم فی الفور بھرشٹ ہو جائے!تو انسان اتنے تنگ دل ہیں۔ اتنے کم ظرف ہیں۔ تعصب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ دل کو کشادہ نہیں کرتے۔ دل کو کشادہ!"
مجھے یاد آ رہا تھا۔ چند برس پہلے اسلام آباد میں ہونے والی کئی روزہ اردو کانفرنس میں اس قسم کی قرارداد پیش کی جا رہی تھی۔اردو میں پاکستان کی دوسری قومی زبانوں، مثلاً پنجابی، پشتو وغیرہ کی شمولیت کی ہمت افزائی کی جائے۔ یہ سن کر مجھے کتنی سخت کوفت ہوئی تھی۔ ہمت افزائی کرنا کیا معنی! بھئی جو الفاظ آ جائیں گے سو آ جائیں گے۔ میں سوچ رہی تھی۔ بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ قرارداد میں یہ شق بھی شامل کر دی جائے کہ ٹکسالی زبان درست لہجے میں بولنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
مگر میں کچھ بولی نہیں تھی۔ بس چپ بیٹھی رہی تھی۔ تو کیا میں دل کو کشادہ نہیں کر رہی تھی۔ واہ یہ بھی بھلی چلائی۔ دل کو کشادہ کرنے کے لیے ہم ہی رہ گئے ہیں؟ ہونہہ، پھر دل ہی دل میں تحریک پاکستان چلانے والے یو پی، سی پی، بہار کے جلوسوں کا منھ بھی چڑایا تھا (ب) اور بنایئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان! بقول پنجابی محاورہ "ہور چوپو!" اب بنوایئے اردو کی درگت! یہاں پھول کو پول کہیں گے اور بھائی کو پائی یا بائی، اور کہنے پر کیا مقدور ہے، کچھ دنوں میں یہی لکھا بھی جانے لگے گا۔ اِسی اردو کو بچانے کے لیے بنوایا تھا پاکستان؟ یہاں تو کوئی سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ عظیم الشان ملک کی قومی زبان جائے بھاڑ میں، اس آبادی میں اب کوئی کروڑ بھر لوگوں کی مادری زبان بھی تو ہے اردو۔۔۔
اس وقت تو یہی خیالات دماغ میں آئے تھے۔
عین ان گھڑیوں میں شاید تمام زبانوں کے ان گنت الفاظ اپنی بولیوں سے نکل نکل کر دوسری بولیوں میں کھٹا کھٹ داخل ہو رہے تھے۔ انھیں نہ قرارداد کی ضرورت تھی اور نہ کسی پروانۂ راہداری کی حاجت۔ آدمی بول رہے تھے۔ گلیوں اور بازاروں میں رُلتے کھلتے آدمی، گھروں میں ملازماؤں سے بتیاتی عورتیں، ڈانٹتی پھٹکارتی، دلار کرتی۔ انسانوں کی جہد ، ہمیشہ کی طرح سماجی عمل سے بے نیاز اور مخالف!
"ہم جو چاہتے ہیں تو بے نیاز ہوتے ہیں کہ ہم اس کے اُلٹ ہی عمل کرتے ہیں۔" عورت نے مشاہداتی بیان جاری کیا۔
اور پھر اردو ! اجی صاحب کیا بات ہے اردو کی۔۔۔
عورت نے سنجیدگی بھر تخفیف تبسم سے یاد کیا۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
تو لکھوا دیا جائے یہ شعر اس عمارت کے ماتھے پر ؟ پھر سوچا، نہیں اوچھا پن لگے گا۔ اردو اور دوسری زبانوں کے لسانی پہلوان رانوں پر ہاتھ مارتے اکھاڑے میں اتر آئیں گے اور دھر دھر کے پٹخیں گے ایک دوسرے کو۔ یہ تصور کر کے عورت ہنسنے لگی۔
وزارت سے آنے والے صاحب حیران ہوئے کہ یہ جو بیٹھی ہیں تو کردھنی پر کیوں ہنس رہی ہیں۔
"کر ۔۔۔ دھنی۔" انہوں نے تذبذب سے کہا۔
"جی ہاں ۔۔۔ ایک بار میں نے بھی خریدی تھی۔"
"چاندی کی تھی۔۔۔" اسے یاد آ رہا تھا، یہ تقریباً پچھلے جنم کی بات تھی۔ مگر کتنی خوبصورت !
"پھر کیا ہوا ؟" ان صاحب نے پوچھا۔
"ہونا کیا تھا ۔۔۔کچھ دنوں تک پہنی۔"
وہ پھر اپنے خیالوں میں گم۔
" ارے بھئی ریختہ میں شاعری کرنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ اپنے فارسی دارسی میں کہہ کہا لیجیے۔"
کیا غالب نے کسی نا لایق شاگرد کو مشورہ دیا تھا؟ ریختہ کے تمھیں استاد نہیں ہو غالب ، تو گویا اردو میں کوئی خاص بات تھی؟ بہت ہی خاص بات! محاورے کا مزہ۔ کہنے کا خاص انداز۔ جی ہے کہ اُمڈا آتا ہے۔۔۔ کھائیں گے تو گھی سے نہیں تو جائیں گے جی سے۔ کیسا جی ہو رہا ہے؟ جی نہیں چاہتا۔
اچھا ؟ تو گویا نہایت ہی گنگا جمنی تھی اردو۔۔۔ (پھر وہی گنگا پھر وہی جمنا۔) یعنی ہندوستانی بوٹا جس میں فارسی شاخوں کی پیوندکاری کی گئی۔ تو اس نہایت ہندوانہ لفاظی کو صرف مسلمانوں کے ملک کی قومی زبان بنانے کی کیا تک تھی؟
اس نے سوچا۔پھر خود ہی جواب دیا۔ "تک تھی رسم الخط۔ جو فارسی تھا۔ یعنی عربی کی ایک شکل اور عربی قرآن شریف کی زبان ہے۔"
اب تک وہ صاحب جو کہ وزارت سے آئے تھے نہ جانے کیا کچھ سوچ کر اداس ہو چکے تھے اور زیرلب کہہ رہے تھے، " اب پنجابی زبان کو دیکھیے، ہمارے ہاں ایک لفظ ہے "ون" انھوں نے نون کی آواز میں ڑے کو گھول کر کہا۔" اب اسے ہم کیسے لکھیں گے؟"
عورت نے کاغذ پر سندھی کا رونڑ بنایا اور کہا۔
"سندھی میں اس طرح لکھتے ہیں۔ نون کے پیٹ میں طوے بنا دیتے ہیں۔"
"اور ایک لفظ ہے "جنا" (پھر ڑے کی آواز نون میں شامل تھی) جس کا مطلب ہے کوئی پچیس سے تیس تک کا بڑا تگڑا جوان۔ اس کا تو کوئی متبادل ہی نہیں اردو میں۔ اور اردو اسکرپٹ میں تو اسے لکھا ہی نہیں جا سکتا۔"
"آپ لوگوں کو۔۔۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے یعنی۔۔۔ آپ سندھی رسم الخط اپنا سکتے ہیں۔"
پھر اضافہ کیا۔" اردو سے یہ آوازیں نکل گئیں۔۔۔یہ ایک شہری زبان ہے دراصل۔۔۔"
پھر یہ سوچ کر کچھ گھبرائی اور کچھ شرمندہ ہوئی کہ اس کی کہی ہوئی بات سے ایک عجب قسم کا احساس برتری اور سرپرستانہ تفاخر تو نہیں جھلک رہا، جلدی سے ان صاحب کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اتنے حساس نہ تھے۔ یوں نہیں لگ رہا تھا جیسے انھوں نے برا منایا ہو۔ وہ کچھ متفکر لگ رہے تھے۔ مگر وہ اس کی مہمانداری پر خوش تھے اور اسے پسند کر رہے تھے۔ عورت بے حد مشکور ہوئی۔ کیسا پیارا سا آدمی تو بیٹھا تھا اس کے سامنے۔ ساری جوانی، وزارت میں بتا کر اس نے پبلک ایڈمنسٹریشن کے ان گنت قوانین یاد کیے تھے۔ وہ اس کی مدد کرنے آیا تھا۔ عورت کی درخواست پر اس نے بہت ہمدردی اور فخر سے اس کے لیے اس ڈکشنری بورڈ کا نیا آرگینو گرام بنا دیا تھا۔ عورت کو تو نہیں پتہ تھا نا کہ کون سے عہدے کو کس بی ایس گریڈ میں ہونا چاہیے۔ پھر پروموشن کے لیے کون سے دوسرے عہدے ہونے چاہئیں۔ کتنے فیصد باہر سے لیے جائیں اور کتنے پروموشن کے ذریعہ بھریں، وغیرہ۔
پنڈی گھیب میں کہیں ان کا گاؤں تھا، نہیں، پوٹھوہار نہیں۔۔۔ یہ مرکزی خاص الخاص پنجاب ہے۔ اس نے بتایا تھا۔ کوئی گاؤں، جس میں وہ درخت ہوں گے جن کا نام وہ لے رہا تھا، اور جہاں گبھرو جوان رہتے ہیں۔ جیسا وہ خود کبھی رہا ہو گا۔ اس نے وزارت کی راہداریوں اور دم گھونٹ دینے والے ایئرکنڈیشنڈ کمروں کو یاد کیا، جن کو اس نے کبھی دیکھا تھا۔ یہ ایسے کیوں ہو گئے ہیں؟ کیا یہ ہر ملک میں ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ جیسے کافکا کے تخیل نے وہاں انسانوں کو کیچوا بنتے دیکھا؟
وہ وزارت کے صاحب کو چھوڑنے ایئرپورٹ تک آئی، تھینک یو … تھینک یو… تھینک یو سو مچ !!


تو اس طرح میں اس چیستان میں داخل ہوئی۔ کیوں اور کیسے؟ جاننا چاہیں تو آگے پڑھ لیجیے۔
قسمت کے اس عجیب و غریب چکر نے مجھے اس کرسی پر لا بٹھایا اور ایسے دروازے کھولے اور اس دنیا میں جھانکنے کے سوا کوئی راستہ نہ چھوڑا جو میرے خواب و خیال میں بھی کبھی نہیں تھا۔ میں نے تو سوچا تھا کہ ملازمت مل گئی تو کچھ دن سکون کے گذاروں گی اور پھر وہ کام کروں گی جو میں کرنا چاہتی ہوں کبیر! مگر یہ کیا! یہ تو کچھ اور ہی دنیا نکلی۔ ماسوا اس عجیب اتفاق کے، کہ عبدالحق اس ڈکشنری کا نام "لغت کبیر" رکھنا چاہتے تھے۔ جیسے رومی کے دیوان شمس تبریز کو دیوان کبیر کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ پڑھ کر آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ پورا صفحہ بھیگ گیا کبیر، پھر مجھے لگا جیسے ہوا کے جھونکے کی طرح تم کمرے میں آ گئے ہو اور ہنس رہے ہو، اور کہہ رہے ہو،" سی مام ! آئی ایم وِد یو۔"
اچھا تو کبیر ، یوں ہی سہی، تو اب سنو۔
مولوی عبدالحق نے ڈکشنری پر کام تو بہت پہلے شروع کر دیا تھا، پاکستان بننے سے بھی پہلے لیکن بعد میں جب وہ پاکستان آ گئے تو کچھ عرصہ انجمن ترقی اردو کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر 8591 میں اردو ڈیولپمنٹ بورڈ بنا اور ڈکشنری کا کام باقاعدہ شروع ہوا۔ اس کی لائبریری میں جو قدیم کتابیں اور مخطوطات ہیں وہ غالباً مولوی صاحب نے ہی جمع کی تھیں۔ اپنی کتابوں کا ذخیرہ وہ ہندوستان سے ساتھ لے آئے تھے۔
پھر ایوب خاں کا دور شروع ہوا اور پاکستان کا دارالخلافہ نو تعمیر شہر (یا چھاؤنی) اسلام آباد لے آیا گیا۔ کراچی میں رہ جانے والا یہ ادارہ اس کے بعد عجیب کس مپرسی کا شکار رہا۔ عشرہ بعد عشرہ اس کے عہدے ختم کیے جاتے رہے۔ اردو کے متعدد عالم بہرحال اس سے چمٹے رہے، رفتہ رفتہ ان میں کئی دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ڈکشنری کا کام آہستہ آہستہ جاری رہا۔ گو اسلام آباد میں وزارت تعلیم کو اس سے چنداں دلچسپی نہیں رہی تھی۔ وہ اسے ایک خواہ مخواہ کا ادارہ سمجھنے لگے، اپنے بجٹ پر ایک فضول بوجھ! یہاں اب جو لوگ آ چکے تھے وہ اکتا کر پوچھتے تھے کہ آخر ڈکشنری ختم کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا یہ بڈھے جان بوجھ کر کام کو لمبا نہیں کیے جا رہے؟ سوچتے ہوں گے ڈکشنری ختم ہو گی تو ان کی نوکریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔
رفتہ رفتہ اس ادارے کا تمام تر انتظامی ڈھانچہ ختم کر دیا گیا، حتیٰ کہ یہاں کسی اکاؤنٹینٹ تک کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، مالی، نائب قاصدوں اور لوئر ڈویژن کلرک کے علاوہ اب یہاں صرف لغت نویس تھے۔ چند ڈسٹری بیوٹر اور کمپوزیٹر تھے جو اس زمانے میں رکھے گئے تھے جب ابھی دھات کے حروف سے چھپائی ہوتی تھی۔
کئی برس تک لغت نویس اکاؤنٹینسی کرتے رہے اور ملازمین کی چھٹیوں کا حساب رکھتے رہے۔
تب عورت نے کچھ کارکنوں کو طلب کیا۔ وہ سہمے ہوئے داخل ہوئے۔
" اے وہ شخص، جس نے کل مجھے بجٹ دکھایا تھا، سچ بچ بتاؤ ، تم کون ہو؟"
" میں کمپیوٹر آپریٹر ہوں حضور۔" نوجوان نے ادب سے جواب دیا۔
" یعنی کمپیوٹر پر کمپوز کرتے ہو؟"
" نہیں تو۔۔۔!" اس نے کہا۔
" پھر کیا کرتے ہو؟۔"
" اے جی پی آر میں ہر مہینہ اخراجات کی برابری کرتا ہوں۔ بجٹ بناتا ہوں، یعنی اکاؤنٹینسی کا تمام کام کرتا ہوں۔"
" اور تم؟" عورت نے ایک لغت نویسہ سے پوچھا۔
" جی میں۔۔۔ ایسا ہے کہ میں انتظامیہ کے دیگر امور نمٹاتی ہوں، منسٹری سے خط و کتابت بھی تو کرنی پڑتی ہے۔"
" وہ انگریزی میں ہوتی ہے ناں؟ لیکن تمہیں تو انگریزی ٹھیک سے نہیں آتی۔"
" باہر سے لکھوا لیتی ہوں محترمہ۔۔۔" لغت نویسہ نے رو کر کہا۔
" تم بھی باہر سے کام کرواتے ہو؟" عورت نے کمپیوٹر آپریٹر سے پوچھا۔
" نہیں۔۔۔" اس نے کہا۔ " میں تو سیکھ ہی گیا سب کام، جب سرپر پڑتی ہے تو کرنا ہی پڑتا ہے۔"
عورت نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایک اچھی شخصیت کا نوجوان تھا۔ ہنس مکھ، توانائیوں سے مملو، آگے بڑھنے کا مشتاق۔
تب اس نے ایک لمبا سانس بھر کر کہا۔ " اب آپ جا سکتے ہیں۔"
گویا "تخلیہ" کہہ کر تالی بجائی۔
پھر اس نے مولوی صاحب کو جادو سے بلایا۔
" میں فعل متعدی سے ناواقف ہوں۔" اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔ " لیکن جو میں کرسکتی ہوں وہ اب کرنے جا رہی ہوں۔"
اتنا کہہ کر وہ وزارت تعلیم کے سیکرٹری کو خط لکھنے بیٹھ گئی۔
"یہ بات ناقابل یقین ہے کہ سالہا سال سے ایک ادارے کی یہ درگت بنا دی گئی ہے کہ اس کے انتظامی ڈھانچے کو بالکل ختم کر کے رکھ دیا گیا۔ فوری طور پر۔۔۔ بالکل فوری طور پر اس کو ری اسٹرکچر کیا جائے۔۔۔ ورنہ !"
تب انہوں نے فون کیا تھا " ہمارا ایک بندہ آ رہا ہے۔"
اور یہ لغت نویسہ تھی کہ جب سے میں آئی تھی روئے چلی جا رہی تھی۔ میرے آنے سے پہلے وہ قائم مقام مدیر اعلیٰ تھی۔ اسے امید دلائی گئی ہو گی کہ بالآخر وہ سچ مچ ترقی دے کر مدیر اعلیٰ بنا ہی دی جائے گی کہ اچانک مجھے اس پر نازل کر دیا گیا۔ لہٰذا وہ اپنی پرانی کرسی پر بیٹھی روئے جا رہی تھی۔
عورت نے دوسری عورت کو ڈانٹا۔ " اب بند کرو یہ رونا دھونا۔ تمہارے کوئی بھی اختیارات ختم نہیں کیے جا رہے۔ تمہاری پہلی حیثیت برقرار ہے۔ اب روئیں تو اے سی آر خراب کر دوں گی۔"
" میں نے بتیس برس یہاں کام کیا ہے۔"لغت نویسہ نے سہم کر کہا۔
" بتیس برس!" عورت نے مرعوب ہو کر دہرایا۔
" تو میں تمہاری پروموشن کرواتی ہوں۔ اس کے لیے اِس ادارے میں نئی پوسٹ بنانی پڑے گی۔"
دوسری عورت خاموشی سے باہر چلی گئی اور نئی آنے والی کے خلاف خاموش سازشوں میں سے مصروف ہو گئی۔
" شاباش ! کچھ تو کرو۔" میں نے کہا۔ " اِٹ اِز اونلی نیچرل !"
اس کے آگے گلیاں تھیں اور گلیارے۔۔۔اور ہر گلی ایک بند گلی تھی، جن میں گاڑھا کہرا اتر رہا تھا۔
" یہاں کچھ پروموشنز کیے جائیں۔ نئی پوسٹیں دیجیے۔"
" مگر یہ پرانے سروس رُولز میں نہیں آتے۔"
" تو نئے سروس رولز بنا لیتے ہیں۔"
" آپ بنائیں گی ؟"
" ہاں ! آپ کی مدد سے۔"
" تو یہ کاغذات لے جایئے۔ پھر ہمیں خط لکھیے گا۔"
" پھر آپ مجھے خط لکھیں گے۔ پھر میں آپ کو خط لکھوں گی۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ تب تک یہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ میں خط و کتابت کی شوقین نہیں۔ سروس رولز اسی دفتر میں، آپ کی موجودگی میں بنا لیتے ہیں۔"
سیکشن آفیسر سخت گھبرایا۔
" نہیں جی۔ یہ یہاں نہیں بن سکیں گے۔"
" تو کہیں اور چلتے ہیں۔"
اس پر پاس کھڑا نائب قاصد، یعنی کبوتر ہنس پڑا۔
سیکشن آفیسر خوب شرمایا، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ عورت کے ساتھ بیٹھ کر نئے سروس رولز بنانے پر تیار ہو گیا۔
چار پانچ دن میں سروس رولز بن گئے۔
عورت انہیں لے کر خوشی خوشی سیکرٹری ایجوکیشن کے پاس پہنچی۔ سیکرٹری ایجوکیشن ایک نازک ڈیل ڈول کے انسان تھے۔ ان کے نقوش بھی نازک اور دلچسپ تھے۔ گھنے ابرو اور پلکیں، چمکتی آنکھیں ، خوب فراخ دہانہ، لمبی سی ستواں ناک جو اوپر کی طرف مڑی ہوئی تھی۔ گویا ان کا ایک "ولندیزی" قسم کا چہرہ تھا۔ عورت کو یہ بات دلچسپ لگتی تھی۔ اس نے پنجاب میں چند ایسے دوسرے چہرے بھی دیکھے تھے۔ پنجاب میں نسلیں کسی درجہ مخلوط ہیں۔ اس نے سوچا اور سروس رولز ان کی طرف بڑھائے۔ سیکرٹری ایک خوش مزاج بھلے مانس تھے۔ وہ عورت سے شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے ہمدردی سے کاغذات پر نظر ڈالی اور کہا۔
" آپ نئے عہدے مانگ رہی ہیں۔ پرانے عہدوں کی ہی خیریت نہیں۔"
پھر انھوں نے کہا۔
" آپ فنانس اور اسٹیبلشمنٹ سے ملیے۔"
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا مینجمنٹ اور سروسز پر، یعنی وِنگ۔ ہر وزارت کئی پروں سے اڑتی ہے۔
جوائنٹ سیکرٹری ایک مائل بہ فربہی، چالیس کے پہئے میں، ایک اداس اور کچھ فلسفیانہ خو بو کی شخصیت نکلے۔
انہوں نے اداسی سے مجھے دیکھا۔
" کیا آپ اس ادارے کی پنشنوں کی ادائیگی کے لیے آئی ہیں؟"
" نہیں۔۔۔لیکن وہ بھی ہو جائے تو کیا ہرج ہے۔ وہ فائل بھی لائی ہوں۔"
" لیکن محترمہ ۔۔۔ یہ ادارہ تو بائیس برس سے ہمارے نزدیک ۔۔۔وجود نہیں رکھتا۔"
" وجود نہیں رکھتا ؟ مگر یہ تو ہے۔"
" کیا ثبوت ہے۔"
" بھئی یہ باقاعدہ ہے۔ کوئی پچپن لوگ کام کر رہے ہیں یہاں۔"
" یہ وجود کا ثبوت نہیں۔"
" تو پھر کیا ہے؟"
" بائیس برس پہلے، یعنی 1986میں وزارت تعلیم نے اس کے کارکنوں کے وجود کے تسلسل کے لیے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔"
"اور تب سے اب تک نہیں کیا؟"
" نہیں ۔۔۔ لہٰذا جہاں تک ہمارا تعلق ہے، مالی سے لے کر لغت نویسوں تک ، کوئی عہدہ وجود نہیں رکھتا۔"
" نہیں رکھتا …! لیکن انھیں ہر سال بجٹ مل جاتا ہے۔ اس میں سب کی تنخواہیں ہوتی ہیں۔"
" اس کے لیے وزارت معیشت سے پوچھیے۔" جوائنٹ سیکرٹری نے اضمحلال سے کہا۔
مشیر وزارت معیشت گہرے سانولے چہرے پر تھکن کے آثار۔۔۔ چہرے کے موزوں نقوش پر قبل از وقت بڑھاپے کی پرچھائیں۔ کمرے کے در و دیوار سے فائلیں گویا اُگ رہی تھیں۔ ہر گوشے میں اور تمام میزوں پر فائلوں کے انبار تھے۔ ان کا ایک نیم دیہاتی پختون اسسٹنٹ ایک قدیم صوفے پر براجمان۔
" میں ذرا وضو کرنے جا رہا ہوں۔"
عورت نے سینے پر ہاتھ رکھ کر آمنّا اور صدقّنا کہا۔
انتظار طویل نکلا۔۔۔ دراصل وہ نماز پڑھنے گئے تھے، کہتے ہوئے ہچکچائے۔ اس ہچکچاہٹ کی عورت نے دل سے قدر کی۔ بالآخر وہ واپس پہنچے۔
" مینجمنٹ اور سروسز ونگ سے کاغذات ہمارے پاس آتے ہیں، چونکہ وہاں نہیں پہنچے، اس لیے ہمارے نزدیک بھی بائیس برس سے اس ادارے کا وجود نہیں ہے۔"
" لیکن آپ ہر سال انہیں تنخواہیں دیتے ہیں۔"
"ہمارے پاس کسی کمپیٹنٹ اتھارٹی نے یہ ہدایات نہیں بھیجی ہیں کہ بجٹ دینا بند کر دیا جائے۔ اس لیے بجٹ جاری کرتے رہتے ہیں۔"
عورت چکرا کر انہیں دیکھتی رہی۔
"مگر تنخواہوں میں اضافہ یا پروموشن۔۔۔ یا نئے عہدے۔۔۔ اس کے لیے وجود کا ثبوت درکار ہے۔" انھوں نے کہا۔
عورت مبہوت ہو کر جوائنٹ سیکرٹری کو تکتی رہی۔ پھر اسے شدید غصہ آیا۔ یقیناً یہ تو اردو سے دشمنی تھی۔"اردو سے یہ بہ اکھیای" اس کے دماغ نے سوچا جس میں سندھی بھری تھی۔ تب ہی جوائنٹ سیکرٹری نے کہا۔
" ہمارے پاس ایسا ہی ایک دوسرا کیس ہے۔"
" کون سا کیس ؟"
" سندھ مدرسہ۔"
سندھ مدرسہ! عورت مبہوت ہو کر رہ گئی۔ مسٹر جناح کا اسکول! تو یہ اردو دشمنی نہیں تھی۔ یہ تو کوئی دیگر چیستان تھا !
" جی ہاں۔ بائیس برس سے ہمارے نزدیک اس کا بھی وجود نہیں ہے لہٰذا کوئی پروموشن یا تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا"
یا اللہ! عورت نے ایک لمبی سانس بھری۔ یہ جناح کا اسکول تھا؟ اس کی یہ درگت !! اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حالانکہ اس نے پہلے کبھی مسٹر جناح کے بارے میں کبھی نہ سوچا تھا۔ لیکن اس گھڑی، برنس روڈ کے1947 سے بنتے ہوئے میرٹھی پایوں اور لکھنوی کبابوں کے دکانوں سے گھرے، سنگ خارا کی اس خوبصورت پر تمکین عمارت کی محرابیں اور ستون اس کی نظر میں گھوم رہے تھے جہاں محمد علی نامی ایک دبلا پتلا پڑھاکو لڑکا گھومتا پھرتا ہو گا، اور جس نے اس بے پناہ برصغیر میں مسلمانوں کی بے چینی اور بے قراری کو ایک راستہ دیا تھا۔
" قائد اعظم کے اسکول کے ساتھ یہ سلوک کرتے آپ کو شرم نہ آئی۔۔۔ کس قدر تو مختلف حکومتیں قائد اعظم کے نام پر بک بک کرتی ہیں! جبکہ حقیقت یہ ہے؟۔"
یہ زوردار ڈانٹ وہ پلانا چاہتی تھی، لیکن ایسا کچھ بھی اس نے نہ کیا۔ اس کا فائدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ خاموش بیٹھی دانت پیستی رہی۔
" بہرحال ہم آپ کی کوشش کی قدر کرتے ہیں اور آپ کو خط لکھیں گے۔"
قصہ ختم اور پیسہ ہضم ! بقول محاورہ۔ عورت ٹکٹکاتی ہوئی واپس آ گئی۔
چیزوں کا ہونا یا نہ ہونا۔۔۔ کسی ثبوت پر منحصر ہے کہ کس نے ان کو کیا۔ کسی نے تو کیا ہو گا۔ اپنے آپ سے تو نہیں ہو گیا ہو گا! لیکن ایسا ریکارڈ میں نہیں ہے۔
کیوں نہیں ہے؟
کوئی افسر کاغذ فائل کرنا بھول گیا اور اس طرح وجود غیر قانونی ہو گیا۔
بائیس برس پہلے ۔۔۔اب بائیس برس پہلے کیوں کر پہنچا جا سکتا ہے۔
بائیس برس کی فائلوں کی چھان بین کا آغاز۔
وزارت فنانس کے سوال
(1)کون سی کمپیٹنٹ اتھارٹی نے اسے کب بنایا
(2)اس کا ثبوت کیا ہے؟
(3)وہ خط کہاں ہے جس سے اس کا ہونا ثابت ہو؟ ہمارے پاس تو نہیں
اب دیکھیے! اپنی سی تو کوشش میں کر ہی رہی ہوں،مولوی عبدالحق صاحب !
مولوی عبدالحق! وہ بچارے مولوی کسی طرح اور کسی طرف سے بھی نہیں تھے۔ یہ تو مشرقی مدرسوں کی ایک ڈگری ہوتی تھی جیسے ادیب فاضل ہوتا تھا۔ میری آپا نے شادی کے بعد اور ایک بچے کی پیدائش کے بعد ادیب فاضل کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ شام کی کلاسیں ہوتی تھیں اور پچاس کے عشرے میں، حیدرآباد میں ایک زنانہ باغ میں کھولی گئی تھیں۔ تقسیم سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا پارک تھا جسے لیڈیز پارک کہا جاتا تھا۔ پھر شام کو یہاں آنے والی ہندو خواتین چلی گئیں۔ یہ جگہ دن کے وقت ایک اسکول کو دے دی گئی اور شام کو یہاں ادیب اور ادیب فاضل کی کلاسیں ہونے لگیں۔ مجھے یاد ہے کیونکہ ایک برس تک جب میری آپا ریشمی کالا برقعہ اوڑھے ، اپنے گل گوتھنے بچے کو گود میں لیے ان کلاسوں میں جاتی تھیں تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی تا کہ وہ راستے میں اکیلی نہ ہوں۔ پھر یہ کلاسیں اور یہ طرز تعلیم رفتہ رفتہ ختم ہو گیا۔ مولوی ، جس کا مطلب حضرت آقا، آقائے نامدار ہوتا ہو گا، لوگوں کی یادداشت سے محو ہو گیا اور شاید بعد میں لوگوں نے عبدالحق صاحب کو مسجد کا مولوی ہی سمجھا چونکہ یہ تو اب ان کے نام کا حصہ ہو گیا تھا۔
عبدالحق جیسا کہ میں اب پڑھ رہی تھی، علی گڑھ یونیورسٹی کے اثر میں سرسید کی طرح تقریباً "نیچری" تھے۔ رہائش گاہ کی کھڑکی کھول کر جھومتے تھے جیسے پیے ہوئے ہوں۔ ہاں وہ اردو کے دل و جان سے دلدادہ تھے۔ اردو ۔۔۔ جیسا کہ عبدالحق اسے جانتے تھے۔ اردو سے ان کے عشق کی جڑیں تیس اور چالیس کے عشرے میں یو پی سی پی میں ہونے والے اردو ہندی تنازع میں تھیں۔ پاکستان میں نہیں تھیں۔ عبدالحق کے اجداد عرب یا ترک یا ایرانی مہاجر نہیں تھے۔ وہ خالص برہمن تھے اور مغلوں کے دور سے قانون گوئی ان کا موروثی پیشہ بن گیا تھا۔ تب ہی ان میں سے چند مسلمان ہوئے، شاہجہاں، یا شاید جہانگیر کے زمانے میں۔ شاید یہی برہمن اور نو مسلم دھیرے دھیرے اردو کی تشکیل کر رہے تھے۔ بیتی صدیوں میں کیا ہوا اور کیسے ہوا، اس کے بارے میں مکمل یقین سے کیا دعویٰ کیا جا سکتا ہے، پھر بھی یہ لگاؤ مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی معلوم ہوتا ہے۔
میری عبدالحق سے پرانی بچپن کی پہچان تھی۔ جب میں اسکول میں پڑھتی تھی تو ہماری اردو کی نصابی کتاب میں ان کا ایک مضمون یا قلمی خاکہ "نام دیومالی" بھی تھا۔ یہ ایسے مالی کی کہانی تھی جو اپنے کام میں دل و جان سے غرق رہتا تھا۔ ایک دن شہد کی مکھیوں کا ایک جھنڈ کا جھنڈ اس پر حملہ آور ہوا۔ نام دیو پودوں کی دیکھ بھال میں ایسا ڈوبا ہوا تھا کہ اسے شہد کی مکھیوں کے آنے کی خبر بھی نہ ہوئی۔ مکھیوں نے اسے اس بری طرح کاٹا کہ نام دیو سخت بیمار ہو گیا اور پھر جانبر نہ ہوسکا۔ مولوی عبدالحق نے اس کہانی میں لکھا تھا۔ "میری نظر میں نام دیو ایک شہید ہے۔"
یہ کہانی مجھے اتنی اچھی لگی تھی کہ آج تک یاد ہے۔ اس کہانی کی سادہ اور دل نشیں زبان نام دیو مالی کا چمن، اس کی موتیا چنبلی اور موگرے کی جھاڑیاں اور کیاریوں پر جھکا ، کھرپی سنبھالے نام دیو مالی۔۔۔ سب کچھ جیسے زندہ معلوم ہوتے ہیں۔ پھر زندگی بھر میں نے ان کی کوئی دوسری تحریر نہیں پڑھی اور اب ۔۔۔جب خود میری زندگی ختم ہو رہی ہے، یا اب ایسا ہونا چاہیے، کتنی عجیب بات کہ میں ان کو سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
 

وزارت کے نام ڈکشنری بورڈ کا خط ۔۔۔
محترم سیکرٹری صاحب
آداب !

میں 22؍ جولائی2009 کو اسلام آباد سے کراچی پہنچی۔ اسلام آباد میں آپ سے مشاورت کے ساتھ میں نے وزارت تعلیم کے افسران اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکرٹری ، منسٹری آف فنانس اور فنانشل ایڈوائزر سے اردو ڈکشنری بورڈ کے بارے میں بات چیت کی۔
آپ سب نے جس خلوص اور خندہ پیشانی سے میرے ساتھ تعاون کیا اس کا تہہ دل سے شکریہ قبول کیجیے۔ آپ لوگوں کی رہنمائی میں، میں ادارے کے لیے نئے سروس رولز بنا سکی۔ اس کے لیے میں خصوصاً محکمے کے دیگر افسران کی ممنون ہوں۔
لیکن اب یہ نیا الجھاؤ سامنے آیا ہے کہ ماضی کی کسی کوتاہی کے باعث، پروموشن اور نئے عہدے تو برطرف، اس ادارے کے موجودہ عہدوں کے تسلسل کا بھی کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں ہے گویا ؎
مت کیجیو اعتبار ہستی
ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے
اس صورت میں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ پھر اتنے برس اسے بجٹ کیونکر دیا جاتا رہا اور "غیر موجود" عہدوں کو تنخواہیں کیسے دی جاتی رہیں ؟لیکن سوال اٹھانے سے حاصل ہی کیا، بقول غالبؔ
پرستش برق کی کرتا ہوں اورافسوس حاصل کا
اس ضمن میں جو دستاویزی ثبوت فنانس کو درکار ہیں اس کے لیے میں نے ادارے کے پچاس سالہ ریکارڈ کی چھان بین کی، جو کچھ مجھے مل سکا وہ حسب ذیل ہے۔
1۔ جناب شان الحق حقی نے 21نومبر1959میں ادارے کے عہدوں کی تخلیق کے لیے ایک خط ڈپٹی سیکرٹری،منسٹری آف فنانس کو لکھا تھا۔ اس خط کا جواب ادارے کے ریکارڈ میں نہیں، شاید فنانس کے ریکارڈ میں ہو؟ لیکن اس کے بعد تمام عہدوں کی تنخواہیں ملنا شروع ہو گئیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب۔
ب۔ ادارے کے سلسلے میں جو آخری قرارداد1986 میں منظور کی گئی تھی اس کے بعد اِدارے کے مختلف عہدوں کے لیے وزارت تعلیم سے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
NOTIFICATION NO۔F۔508/84, LB1, DATED 17 February 1985ج۔ 8 مئی 1990میں وزارت تعلیم نے جناب فرمان فتح پوری کو ایک اتھارٹی لیٹر بھیجا تھا کہ وہ اردو ڈکشنری بورڈ میں مناسب عہدے تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
No۔F۔3-12/89-LBI
اس سے زیادہ ادارے کے ریکارڈ میں کچھ نہیں ہے۔ اب آپ سے گزارش یہ ہے کہ اردو ڈکشنری بورڈ پاکستان کے قدیم ترین اِداروں میں سے ہے۔ اس کا وقار، استحکام اور فعالی میری ذاتی جاگیر نہیں۔ آپ سب پاکستان کے قابل تعظیم شہری ہیں اور یہ آپ کی اپنی ذمہ داری بھی ہے لہٰذا اب یہ معاملہ میں آپ کی اپنی صوابدید پر چھوڑتی ہوں۔
میرا ناچیز مشورہ یہ ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں پر تین حرف بھیجے جائیں۔ ادارے میں موجود عہدوں کے مسلسل تنخواہ دینے کو ان عہدوں کے وجود کا ثبوت تسلیم کر لیا جائے اور اس بنیاد پر ملازمین کی ترقی اور انتظامی نئے عہدوں کی تشکیل پر غور کیا جائے۔ اس طرح ہم سرخ فیتے کے اس جال سے باہر نکل آئیں گے جس کے الجھاؤ میں اس ادارے کا نہ صرف مستقبل نہایت تاریک ہو جاتا ہے بلکہ اس کے وجود ہی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
بصد احترام و خلوص
فہمیدہ ریاض
مدیراعلیٰ، اردو ڈکشنری بورڈ، کراچی
میں ان کے مزار پر جا پہنچی۔ یوں تو یہ اردو ڈکشنری بورڈ کا ایک فرض منصبی تھا لیکن اب میرے دل میں اشتیاق پیدا ہو گیا تھا۔
پرانے کراچی کے ایک گجراتی پاڑے میں۔۔۔ پہلے یہ عمارت ایک مندر تھی۔
تقسیم کے بعد، جب مہاجرین نے یہاں پڑاؤ ڈالا تو اسے انجمن ترقی اردو کو دے دیا گیا۔ یہیں مولوی عبدالحق کی رہائش گاہ تھی۔ عجیب انسان تھے۔ لوٹ کھسوٹ کے اس زمانے میں بھی ان پر ہر طرف رواں ذہنیت کا اثر نہ ہوا۔ انہوں نے زندگی بھر اپنے لیے کوئی ذاتی جائداد نہیں بنائی اور نہ دولت جمع کی۔ وہ جن لوگوں کو انجمن میں لائے انہوں نے خود عبدالحق کو انجمن سے بے دردی سے بے دخل کر دیا۔
انجمن کے کارکنوں کو ان سے ملنے کی ممانعت، یہیں اسی عمارت کی اوپر والی منزل میں وہ ایک طرح محصور کر دیے گئے تھے۔ بجلی کا کنکشن منقطع، پانی کا کنکشن بند۔۔۔ پڑھتے پڑھتے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یا اللہ پاک۔۔۔ عبدالحق اس سلوک کے تو مستحق نہ تھے۔ کیا انھیں اورنگ آباد کی وہ کوٹھی یاد آتی ہو گی جہاں وہ ہر نوٹوں کی کلیلیں کرتے دیکھتے تھے۔۔۔ کیا کسی لمحے ؟ یہ ان کے ساتھ کیا ہوا!
اور جناح ؟ ایئرپورٹ پر انھیں لینے ایک شکستہ گاڑی۔۔۔ راستے میں گاڑی کا بریک ڈاؤن۔۔۔ اور ان کی خیر خبر لینے والا کوئی بھی نہ تھا؟
کیوں؟
آخر کیوں؟
میں مزار کے گرد و نواح پر نظر ڈالتی ہوں۔
پرانا کراچی ۔۔۔ یہیں کہیں برنس روڈ کے پاس بندر روڈ پر قرۃ العین حیدر اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ ٹھہری تھیں۔
وہ میری نسل کے بچپن کا زمانہ تھا۔
" آگ کا دریا" میں قرۃ العین نے لکھا تھا، " جب تاریخ نے مسلمانوں کو اپنی تقدیر آپ بنانے کا موقع دیا تو انہوں نے اس قدر گھٹیا پن کا مظاہرہ کیوں کیا۔۔۔"
اس کا جواب بھی انھوں نے دیا۔
" وہ باہر سے آنے والے تھے۔ وہ مقامی لوگوں کے لیے اجنبی تھے۔"
شاید میں ان سے اتنی متفق نہ ہوسکوں۔ میں پوچھوں کہ مقامی لوگوں نے اپنے لیے، اپنے لوگوں کے لیے کیا کیا؟
مولوی صاحب کی برسی کا مختصر اجلاس اچانک درہم برہم ہو گیا۔ اردو یونیورسٹی کے کچھ اراکین آ پہنچے۔ وہ مہمان خصوصی کو ایک سیمینار میں لے جانا چاہتے تھے۔ اب مزید کارروائی نہیں ہو گی۔ سب نے جلدی جلدی اپنے لائے ہوئے ہار پھول مولوی عبدالحق کی قبر پر چڑھائے ۔۔۔ ایک بھونڈی جلد بازی کے ساتھ۔
" آپ بھی چلیے۔" ایک صاحب نے مجھ سے کہا۔ پھر اضافہ۔ "میں نے تو آپ پر تھیسس لکھا تھا۔"
نہ جانے جھوٹ بول رہے تھے کہ سچ… مگر میں نہ گئی۔ واپس گھر آ گئی۔ طبیعت اداس تھی۔
انجمن ترقی اردو کا اردو کے بہترین ادیبوں سے اس قدر فاصلہ کیوں رہا؟ اور آج بھی کیوں ہے؟ کیا فیض، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، مسعود اشعر، حسن منظر، آصف فرخی۔۔۔ اجمل کمال اردو کے لیے کام نہیں کر رہے؟
انجمن کے ایک سینئر کارکن بولے۔ " ہم آپ کو بلائیں گے۔"
میں کیوں آؤں گی؟ اس نئے عجیب و غریب عہدے کے باعث ؟
یہ ایک ترقی پسند تحریک کے متوازی تحریک تھی۔۔۔ جس نے اپنی داغ بیل ڈالنے والے کی ایسی دُرگت بنائی کہ الامان و الحفیظ !! اور انھیں اس حالت سے نجات کس سے دلائی؟
قدرت اللہ شہاب اور ابن انشا نے ۔۔۔ ایوب خان کے دور میں۔۔۔
لیکن پھر عبدالحق صاحب نے ترقی اردو بورڈ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے کام میں بہت زیادہ دخل اندازی کی جا رہی تھی۔
چلے گئے عبدالحق ، بالآخر۔۔۔
انجمن اب بھی ہے۔ اسے کچھ فنڈز ملتے ہیں۔ (تو) جو ایک شمع ہیں، جس کے گرد کچھ پروانے منڈلاتے رہتے ہیں، کہیں آس پاس پھل پھول رہا ہے ڈیکیڈینس اور ڈی جنریشن۔۔۔ ہاں ہاں! اب میں اس کے عین وسط میں ہوں۔ لوٹ لگا رہی ہوں اس میں جیسے بھینس کیچڑ میں لوٹ لگاتی ہے۔
میں کیچڑ کو سمجھنا چاہتی ہوں۔ عبدالحق صاحب آپ کیچڑ نہ تھے۔ آپ اپنے ماضی کو بڑے بڑے صندوقوں میں بند کر کے یہاں لے آئے تھے۔ آپ اردو ہندی کے تناظر میں سوچتے تھے۔ اردو سندھی ٹکراؤ پر شاید حیران رہ جاتے۔ او ہو بھئی! مسلمانوں کی تو اتنی تو زیادہ، زبانیں ہیں، اس برصغیر میں! کہا گیا ہے کہ عبدالحق صاحب نے بنگالی کے خلاف بھی تحریک چلائی۔
پھر بھی اگر وہ اپنی زبان سے پیار کرتے تھے، اس کی ترقی کے لیے کوشاں تھے، تو اس میں ان کی ذاتی برائی نہ تھی۔ جس طرح اگر کسی بنگالی یا سندھی یا پنجابی کو اپنی زبان سے پیار ہو، اور وہ اس کی ترویج و ترقی کے لیے دل و جان سے اپنی ساری زندگی وقف کر دیں، تو ہم دل سے ان کی عزت کریں گے۔۔۔ کریں گے یا نہیں؟
ہماری سیاسی تاریخ پیچیدہ ہے، بہت کچھ ایسا ہے جو منطق کے اصولوں پر نہیں بیٹھتا۔ پاکستان کی تحریک ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں میں جس جوش و خروش سے چلائی گئی تھی، اور وہ جن نکات پر مشتمل تھیں جس کا اردو ایک اہم حصہ تھا، جغرافیائی پاکستان کی طبیعی حقیقت سے ایک حد تک ناآشنا تھی۔ بعد میں اسی لیے بنگال میں اردو کا بنگالی سے ٹکراؤ ہوا اور سندھ میں اردو کے خلاف تنفر پھیل گیا۔
ہندوستان کے مختلف صوبوں، خصوصاً جنوبی ہند میں ہندی کو اسی تضاد کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں سرکاری حد تک انگریزی رائج ہو گئی۔ لیکن یو پی، سی پی میں زیریں سطح پر پرانا ماضی اب تک سانس لے رہا ہے۔ ہمارے ہندوستانی پولیس افسر دوست ہنس کر بتا رہے تھے۔ "الٰہ آباد" کے تھانے میں رپورٹ اب بھی اس طرح لکھی جاتی ہے، "چور نے عقب سے نقب لگائی" تو اردو بھی ہندوستان میں عقب سے نقب لگائے بیٹھی ہے۔
یہ انگریز تھا جس نے انتظامی سہولت کے لیے پورے ہندوستان میں اردو رائج کرنے کی کوشش کی تھی۔کراچی کے تھانوں میں بھی ایف آئی آر انگریز کے زمانے کی زبان میں کٹتی ہے۔
کیا انگریز نے اچھا کام کیا تھا؟ واللہ اعلم! ساتھ ہی اس نے اردو کو ہندی سے جدا بھی کیا، اور دوسری زبانوں کی ترقی کے لیے (مثلاً سندھی کے لیے) عرق ریزی سے کام کیا اور کروایا۔
اکثر سمجھا جاتا ہے کہ یہ سب انگریز کی سازش تھی۔ شاید ایسا نہیں تھا! شاید وہ ان کاوشوں سے مستقبل میں ابھرنے والے تضاد اور تصادم کا انداز ہ بھی نہ کرسکتے ہوں!
بنیادیں، بہرحال بیتی ہوئی کتنی صدیوں نے ڈالی ہیں، جس کے باعث اردو بچے کھچے پاکستان کی قومی زبان ہے ، رابطے کی زبان اور اسے پڑھنے والے لوگ چاروں صوبوں میں موجود ہیں۔ یہ اردو ڈکشنری بورڈ اور عبدالحق کی "لغت کبیر" اس کا ہی ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ جس میں ایک پوری تہذیب لفظ بہ لفظ محفوظ کر دی گئی ہے۔اس کی بقا اور تسلسل کے لیے بیورو کریسی کی دیوار سے سر ٹکرانا یہاں تک کہ کوئی راستہ پیدا ہو جائے، سو ہمارے لیے بدا ہے۔
فعل متعدی ایسا فعل ہے جس کے لیے مفعول کی ضرورت ہوتی ہے جو فاعل سے گذر کر مفعول تک پہنچے، جیسے بلانا، دینا۔۔۔یا اس ادارے کے وجود کو منظور کرنا! چند اور لوگوں کو بھی سیکھنا چاہیے ۔ کم از کم ان اداروں کو چلانے کے قابل افرادی قوت تو میسر ہو سکے۔ اردو کے شاعروں اور افسانہ نگاروں کی تو بے شک کمی نہیں ہے لیکن اس زبان کے عالم، اسکالر، اب ڈھونڈے نہیں ملتے۔۔۔وہ اب ختم ہو چکے ہیں، چند بوڑھوں کے علاوہ (تعداد میں چار یا پانچ) نئی نسل سے اردو کے جامع اسکالر غائب ہیں، وقت کا یہ کتنا سنگین مذاق ہے!

http://esbaatpublications.com/esbaatmag/2011/11

