﻿



مآل غنچہ و گل


(قرۃ العین حیدر کا گوشہ)

ترتیب: مدیر اثبات

اشعر نجمی




ابتدائیہ - مآل غنچہ و گل

قرۃ العین حیدر کے انتقال کے بعد ان پر کئی رسائل میں گوشے شائع ہوئے جن میں ان کی شخصیت اور فن کے تقریباً تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہو چکی ہے ، جنھیں اتنے کم عرصے میں دہرانا لاحاصل ہے۔لیکن زیر نظر گوشے میں ان پر کچھ ایسے انگریزی مضامین شامل اشاعت کیے گئے ہیں جن کے متعلق مجھے شبہ ہے کہ ان سے اردو قارئین کی اکثریت روشناس ہو گی۔ میں نے یہ تمام مضامین محمد عمر میمن کے موقر جریدہ "The Annual of Urdu Studies" سے منتخب کیے ہیں جس کے لیے میں انھیں ہدیۂ تشکر پیش کرتا ہوں۔
میری فرمائش پران تمام انگریزی مضامین کا ترجمہ جس دلچسپی سے مترجمین نے کیا ہے، اس کے لیے بھی میں ان تمام احباب کا شکر گذار ہوں۔ میں ہر بنس سنگھ تصور کے لیے بھی سراپا سپاس ہوں کہ ان کی قابل قدر تصنیف "قاف تا قاف" سے استفادہ کر کے میں نے'نقش خود رنگ ' کو حسب استعداد مرتب کرنے کی کوشش کی۔ مدیر



قرۃ العین حیدر کے لیے

ذی شان ساحل


وہ آواز جو نصف صدی سے
وہم و گماں پر طاری ہے
اب اک خاموشی کی صورت
جان اور دل پر چھائی ہے
یہ خاموشی لمحہ لمحہ
اپنے جادو گھر کی جانب
کھینچ رہی ہے
آئینہ خانے کے اندر
نغمہ لے کر جائے کون
بیتنے والے لمحوں کی
زندہ تصویر بنائے کون
سارے گم گشتہ خوابوں کو
ایک سریلا گیت بنا کر
دھیرے سے دہرائے کون
جو کچھ دل پر بیت رہا ہے
جو کچھ بیتنے والا ہے
وہ ہم کو بتلائے کون
دھرتی سے آکاش کو جاتے
ہر رستے کے دونوں جانب
پانی میں کھل اٹھنے والے
پھول سارے لائے کون
٭٭٭



قرۃ العین حیدر : ادب کی خاتون اول

 فیاض رفعت


ذکر 80 کی دہائی کا ہے جب ایک مرتبہ قرۃ العین حیدر نے مجھ سے کہا"وقت کیا ہے، یہ میں آپ کو سمجھاتی ہوں۔۔۔اچھا یہ بتائیے کہ آپ 60 کی دہائی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟" میں نے جواب دیا "جیسے کل کی بات ہو"۔ انھوں نے کہا"60 کی دہائی کو 25 سال کا وقفہ گذر چکا ہے۔ چلیے اب اور پچیس سال پیچھے چلیں۔" مجھے بڑا تعجب ہوا کہ ہم 1935 میں تھے۔ اسی طرح مزید پچیس سال پیچھے آئے تو 1910 میں پہنچ گئے جہاں پہلی جنگ عظیم کو شروع ہونے میں اب بھی چار سال باقی تھے۔ "یہی وقت ہے اور یہ اسی طرح چلتا رہتا ہے" انھوں نے رسان سے کہا۔
اسی وقت کو اساس بنا کر انھوں نے ایک عظیم ناول "آگ کا دریا" لکھا جو یقیناً بیسویں صدی کے عظیم ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ 1970 کی بات ہے جب شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گذرا ہو گا جب میری آنکھوں سے ہندوستانی ادیبوں کے برطانیہ اور امریکا میں چھپے نہایت معمولی ، فراموش کر دیے جانے والے انگریزی ناول نہ گذرے ہوں مگر قرۃ العین حیدر کا خود اپنا ترجمہ کردہ ناول "آگ کا دریا" انگریزی ناولوں کی فہرست میں اپنی جگہ نہ بنا سکا۔
1982 میں انھوں نے مجھے لکھا"یہ بتائیے کہ ولایت میں اپنی کتابیں کیسے شائع کرائیں۔۔۔اس 'لڑکے' نے اتنا ضخیم ناول بیک وقت لندن اور نیویارک سے کیسے شائع کروایا؟" (اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے انھیں کس دیسی ادیب کا انگریزی میں لکھا ہوا کون سا ناول بھجوایا تھا)۔ "یہ باتیں مجھے ہمیشہ ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہیں کہ آخر ہندوستانی نژاد انگریزی ناول نگار یورپ اور امریکا میں ہاتھوں ہاتھ کیوں لیے جاتے ہیں۔ یہی بات پاکستانی نژاد انگریزی کے مصنفوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔میرے رشتے کے بھائی خالد حسین شاہ اور ان کی امریکی بیوی لنڈا نے ہمارے خاندان کے پاکستان ہجرت کیے جانے کے موضوع پر ایک ضخیم ناول 'رفیوجی' لکھا تھا اور اسے نیویارک میں شائع کرایا تھا۔ امریکی پریس نے اسے بے حد سراہا۔ اس پر خاصے تبصرے بھی شائع ہوئے۔"
اسی سال ایک اور خط میں انھوں نے لکھا (یہ خط اردو میں تھا اور ان کے مخصوص طرز تحریر میں) "مغرب کی انٹ شنٹ کتابوں کے مطالعے کے بعد میں نے اپنی کہانیوں کا مجموعہ آپ کو بھیجا تھا۔ (ان کی خوب صورت انگریزی میں ترجمہ شدہ لاجواب کہانیاں)۔ آپ کی جانب سے جواب ندارد۔۔۔میں نے اپنی کتاب "آخر شب کے ہم سفر" کا تقریباً دو تہائی حصہ خود ترجمہ کر لیا ہے۔ یہ مغرب میں کیسے شائع ہو؟ کوشش کریں۔"اس وقت تک ان کا یہ غیر معمولی ناول انگریزی میں شائع نہ ہوسکا تھا۔ بعد میں Fireflies in the Mist کے نام سے شائع ہوا۔
میں نے پہلی بار عینی کو 61۔1960 میں کراچی میں دیکھا تھا۔ وہاں وکٹوریہ روڈ اور الفنسٹن اسٹریٹ کو ایک سڑک جوڑتی ہے (میں نے وہی پرانے ناموں کا استعمال کیا ہے)۔ اس سڑک پر ایک کیپٹل سنیما (Capital Cinema) تھا جہاں ایک اچھا سا ریستوران 'فلیمنگو' (Flamingo)ہوا کرتا تھا۔ ہلکی روشنی والے اس ریستوران میں کالے اسٹیل کا فرنیچر اور رنگ برنگے کُشن (Cushion) ہوا کرتے تھے۔ یہ نہایت پرسکون اور پر فضا جگہ تھی۔ قرۃ العین اپنی ایک دوست خاتون کے ہمراہ چائے کی چسکیاں لے رہی تھیں اور مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں ان سے جا کر بات کرتا۔ مگر ان کی جوگیا زعفرانی ساڑھی اور زردی مائل ہرے رنگ کا بلاؤز جو وہ پہنے ہوئے تھیں، میں آج تک نہیں بھولا۔ اکیس سال بیت گئے، دوسری ملاقات ہونے تک! کیوں؟ اس لیے کہ ہر چیز کے لیے وقت مقرر ہے۔ 1980 میں جب میں بمبئی میں تھا اور اس وقت میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ میں اپنے پسندیدہ فلم اسٹاروں سے ملنے کے بجائے قرۃ العین حیدر سے ملوں گا۔ میں نے وہی کیا۔ اس دن سے ہمارے تعلقات استوار ہوئے اور اس کے بعد سے ہم خط و کتابت کے ذریعہ ایک دوسرے سے وابستہ رہے۔ یہ سلسلہ 1997 تک جاری رہا۔ اس کے بعد سے ایک دورے(Stroke) کی بنا پر اس کا سیدھے ہاتھ سے لکھنا بند ہو گیا تھا۔ لیکن انھوں نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کر لی۔ انھوں نے الٹے ہاتھ سے لکھا اپنا مسودہ مجھے بھیجا اور کہا۔۔۔"بائیں ہاتھ کا کھیل!" ایک اور کتاب ان کی کہانیوں کا مجموعہ "اسٹریٹ سنگرز آف لکھنؤ " جسے انھوں نے بائیں ہاتھ سے لکھا تھا، بچوں جیسی لکھاوٹ میں مجھے بھیجی تھی۔
لوگ ان کی عزت کرتے تھے، مگر ان سے قدرے ڈرتے بھی تھے کیوں کہ وہ منھ پر ہی احمقانہ باتوں کا جواب دے دیا کرتی تھیں۔ میرے دوستوں کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ میں آخر ان سے اتنا بے تکلف کیسے ہوں۔ جو لوگ ان سے عمر میں کم تھے، انھیں "عینی آپا" کہہ کر مخاطب کرتے تھے لیکن میں انھیں عینی کہہ کر بلاتا تھا اور انھیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تھا۔
جب انھوں نے مجھ سے "گردش رنگ چمن" کے بارے میں رائے پوچھی تو میں نے انھیں بتایا کہ مجھے وہ ناول اچھا نہیں لگا اور ساتھ ہی وجہ بتائی۔ مجھے بخش دیا گیا لیکن مجھ سے کہا گیا کہ "ضروری نہیں آپ سب کچھ سمجھتے ہوں۔" انھوں نے مجھے اتر پردیش میں بولی جانے والی علاقائی بولیوں کے بارے میں بتلایا جو پاکستان میں شاید بہت کم لوگوں نے سنی ہوں۔
میری کمزوریوں کو وہ درگذر کر دیتی تھیں۔ تعلقات کے اس طویل عرصے کے دوران انھوں نے کم از کم تین موقعوں پر ، جن کا میں ذکر کروں گا، انھوں نے میری غلطیوں سے صرف نظر کیا اور میں ان کے غصے اور عتاب کا شکار نہ بنا۔ 1981 میں انھوں نے مجھے لکھا کہ" مشہور شاعرہ فہمیدہ ریاض (دریدہ بدن) اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ یہاں خیمہ زن ہیں اور واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ وہ کام کی تلاش میں تھیں اور ان کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں گڑھی جا رہی تھیں۔ یہاں کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے وہ اس ملک (پاکستان) کے خلاف بے تکے بیان دے رہی تھیں ، مثال کے طور پر دجال کا ذکر قرآن سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ (دلّی کے اسلامیات کے ایک پروفیسر نے مزید حاشیہ آرائی کی کہ قرآن میں دجال کا ذکر ہی نہیں ہے)۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ ان کے ساتھ ان کی بہن بھی ہیں جو نہایت بڑ بولی اور خشک خاتون ہیں۔ دو سال قبل جب وہ یہاں قیام پذیر تھیں تو مجھ خاکسار سے ملیں۔ ان کے سیاسی جذبات و احساسات کی پر جوشی لائق دید تھی بالکل ہمارے جیسی جب ہم کالج میں تھے۔ سر زمین کنفیوشش کے باسی انھیں ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے۔ "
کچھ عرصے بعد میں نے اپنے دوست اور ہم جماعت مرحوم اختر کو ایک خط لکھا (کلیم اختر نے آزادیِ کشمیر کے بارے میں بہت کچھ لکھا جس کا ہند و پاک سرکاروں پر کوئی اثر نہ ہوا)جس میں ، میں نے فہمیدہ ریاض کے بارے میں عینی کے قلم بند مشاہدات کا ذکر کر دیا۔ ان دنوں کلیم اختر "نوائے وقت" میں باقاعدہ کالم لکھ رہے تھے۔ انھوں نے وہ تمام باتیں من و عن میرا نام لیے بغیر اپنے کالم میں لکھ دیں۔ یہ سب باتیں ایسی تھیں جو "نوائے وقت" میں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں۔ پاکستان کے خلاف اسلام کے خلاف اور انڈو۔ سوویت لابی سے پاکستان مخالف بیانات پاکستانی قارئین کو برانگیختہ کرتے تھے، اسی لیے ان کی اشاعت "نوائے وقت" کے عین مزاج کے مطابق تھی۔ میں نے تو یوں ہی روا روی میں کلیم کو لکھ دیا تھا اور میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ میرے ذاتی خط کو کالم کا موضوع بنا لیں گے اور یہ کہ عینی کے مشاہدات کو اخبار کی سرخی میں تبدیل کر دیں گے۔
23 دسمبر 1981 کو مجھے عینی کا ایک انگریزی میں خط ملا جو انھوں نے علی گڈھ سے بھیجا تھا جس میں انھوں نے تحریر کیا تھا کہ "الہٰ آباد میں فہمیدہ ریاض مجھ سے ملنے آئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انھوں نے بتلایا کہ 'نوائے وقت، کراچی' میں "قرۃ العین حیدر کا ایک خط" عنوان سے کالم شائع ہوا ہے۔۔۔وہ اپنی بہن کے ساتھ آئی ہوئی ہیں اور یہاں کے لوگوں کا اعتماد حاصل کر نے کے لیے۔۔۔ان کے بیانات وغیرہ وغیرہ۔ یہ خط قرۃ العین حیدر نے اپنے دوست کو لکھا تھا جن کا قیام مغرب میں ہے۔ خالد ! یہ سخت مایوس کن بات ہے۔ کیا تم اس غیر اخلاقی حرکت پر روشنی ڈال سکتے ہو؟ از راہ کرم واپسی ڈاک سے فوراً جواب دو۔ " اس خط کی آخری تین سطریں اردو میں لکھی ہوئی تھیں اور پھر انھوں نے انگریزی میں لکھا تھا "میں اس سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتی۔"
میں ان کا خط پڑھ کر نہایت شرمندہ ہوا اور ان سے معذرت اور معافی کا طلب گار ہوا۔ بس یوں سمجھیے کہ میں ان کے قدموں میں گر پڑا تھا۔ میں انھیں ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا۔ امن اور صلح جوئی کی خاطر میں نے انھیں "اوپیم" نام کی خوشبو بھیجی۔ دس فروری کا تحریر کردہ ان کا اردو میں ایک خط آیا۔۔۔"آج کل امیتابھ بچن کی نئی فلم کا ایک گانا بہت مقبول ہو رہا ہے۔ 'کوئی فرق نہیں البتہ۔۔۔کوئی فرق نہیں البتہ'۔ یہ واقعہ پرانا ہو چکا، اسے قصۂ پارینہ سمجھ کر بھول جاؤ۔ لیکن عمل جراحی لازم تھا۔ ہوتا کیا ہے کہ جو لوگ سمندر کے اس پار رہتے ہیں وہ بے صبری سے اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے ایسے خطوط کے منتظر رہتے ہیں جو ہونٹوں سے نکلی، کوٹھوں چڑھی خبر بن جائیں۔انسان خطاؤں کا پتلا ہے۔ مجھ سے واقعی غلطی ہوئی کہ میں نے تمھیں اپنی دانست میں 'گپ' لکھ بھیجا جو تمھاری حماقت کی وجہ سے خبر بن گئی۔ مجھے اب یاد آتا ہے کہ خاتون نے الہٰ آباد میں مجھ پر انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی حضرت کلیم اختر ہیں جنھوں نے میرا خط اخبار کو دے دیا۔ میرا خیال ہے شاید ایسا ہی کوئی نام تھا۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ میں اس نام کے کسی شخص کو نہیں جانتی۔ اس حد تک میں سچائی پر تھی لیکن جب میں نے کہا کہ خط قطعی طور سے جعل سازی کا کمال ہے (جس کا انھوں نے بالکل اعتبار نہیں کیا جیسا کہ ان کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر تھا۔ ان کے برعکس میں خود کو چور تصور کر رہی تھی) یہ خیال میرے لیے بے حد اذیت ناک تھا، نہایت تکلیف دہ۔ میں خود کو خاصہ ایمان دار سمجھتی ہوں اور بڑی حد تک میرے ملنے جلنے والوں کا بھی یہی خیال ہے۔ انھیں اس کی توقع نہ ہو گی کہ میں ایسی رکیک حرکت کرسکتی ہوں۔ بدقسمتی سے دلّی اور ممبئی میں موصوفہ کا اور میرا حلقۂ احباب مشترک ہے اور اب ہر شخص اس کہانی سے واقف ہے جو انتہائی شرم ناک ہے جیسا کہ اخبار نے میرے اپنے دوست کا حوالہ دیا تھا جو مغرب میں اقامت پذیر ہے۔ اس وقت مجھے الہٰ آباد سے علی گڈھ کے سفر کے دوران بالکل یقین نہیں ہوا تھا کہ تم ایسی قبیح اور غیر ذمہ دارانہ حرکت کے مرتکب ہوسکتے ہو۔ ممکن ہے کہ تمھیں دسمبر میں لکھنے کے بعد میں نے محمد عمر میمن کو لکھا ہو۔ میں نے ان سے دریافت کیا،آیا میں نے ان خاتون کے تعلق سے کچھ لکھا تھا اور کیا یہ ممکن ہے کہ میرا خط درمیان سے کسی نے ہائی جیک کر کے لاہور بھیج دیا ہو؟ میں یہاں محمد عمر میمن کا جواب منسلک کر رہی ہوں۔ میں دنیا کی کوئی عظیم ترین خطوط نویس نہیں ہوں۔ سالوں ہو جاتے ہیں، میں خطوں کے جواب نہیں دے پاتی کہ یہ میرے لیے خاصہ مشکل کام ہوتا ہے بلکہ خود کو عذاب میں ڈالنے کے مترادف۔ نہایت ضروری معاملات کی صورت میں خط و کتابت کی نوبت آتی ہے۔ میں محض قریبی رشتہ داروں اور دوستو ِختر نے آزادئؤکا گوشہ)                                                                                                        ں کو خط لکھتی ہوں جن کو لکھنے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں یا پھر جن کو لکھنا از بس ضروری اور لازم ہوتا ہے۔ تم دوستوں کی فہرست میں شامل ہو۔" آخری جملہ اس بات کا واضح اشاریہ تھا کہ انھوں نے اعلیٰ ظرفی اور کشادہ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے معاف کر دیا تھا۔۔۔اس کے بعد انھوں نے اس معاملے کا کبھی ذکر نہیں کیا ۔
ایک بار اور میں نے لکشمن ریکھا پھلانگنے کی غلطی کی تھی جسے کشادہ دل عینی نے لائق تعزیر نہ جانتے ہوئے مجھے معاف کر دیا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ میں نے اور فاروق حسین نے پاکستانی کہانی کاروں کا ایک انتخاب انگریزی میں کیا تھا۔ میں نے اس انتخاب میں عینی کی مشہور کہانی "فوٹو گرافر" اپنے ترجمے اور تعارف کے ساتھ شامل کی تھی۔ تعارف کے ضمن میں ، میں نے فیض احمد فیض سے بھی مشورہ کیا ۔ خصوصی طور پر ترقی پسند ادیبوں کی انجمن کے ظہور و قیام کے تعلق سے۔ میں نے عینی کی منظوری کے لیے تعارف نامہ ان کی خدمت میں بھیج دیا جس میں انھیں دو پیرگراف محل نظر لگے۔ وہ اس طرح تھے:
"حالاں کہ قرۃ العین حیدر چھٹی دہائی کے عشرے میں پاکستان سے ہجرت کر کے ہندوستان چلی گئیں۔ اس لیے تکنیکی اعتبار سے اب ہم انھیں پاکستانی ادیب نہیں کہہ سکتے لیکن ان کی بیشتر کہانیاں پاکستان میں اشاعت پذیر ہوئیں جہاں ان کی مقبولیت اور شہرت سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ پاکستانی قارئین کا ایک بڑا حلقہ ان کا گرویدہ ہے۔ ان کے بیشتر ادبی صحائف پاکستان کی دین ہیں اور ان کے قیام پاکستان کے دوران وجود میں آئے۔ وہ پاکستان میں رہ رہی تھیں اور یہاں کی شہری تھیں۔"
دوسرا پیراگراف جس پر انھوں نے گرفت کی ، ذیل میں مندرج ہے:
"ان کی کہانی' فوٹوگرافر'آفاقی زیادہ ہے کہ یہ گم شدہ ماضی کی تلاش کا استعارۂ بلیغ ہے۔ یہ کہانی بعض اعتبار سے شاید سوانحی ہے۔ قرۃ العین حیدر اپنی نو خیزی اور جوانی کے ہندوستان لوٹ گئیں اور ان پر منکشف ہوا کہ وقت کسی پر رحم نہیں کرتا۔ [وقت کے "دوران" اور وقت کی سفاکی کا اظہار قرۃ العین کی تحریروں کا نکتۂ ارتکاز ہے]لوگ گزراں وقت کے ساتھ بوڑھے ہو جاتے ہیں اور ان میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ سیاسی، سماجی رجحانات کے ساتھ ساتھ نہ صرف لوگ بلکہ کلچر میں بھی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں اور جو گذر جاتا ہے، اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔"
عینی نے مجھے یہ لکھنے پر آڑے ہاتھوں لیا کہ "ان کا بیشتر ادبی سرمایہ قیام پاکستان کے دوران وجود میں آیا جب وہ یہاں کی شہری تھیں"۔ انھوں نے مجھے اردو میں لکھا تھا"ظاہر ہے تمھارا جذبۂ حب الوطنی ابال پر ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتی کہ میں نے کبھی بھی اور کہیں بھی غیر معمولی ادب پیدا کیا ہے لیکن ہندوستان آنے کے بعد کیا میں نے محض گھاس کھودی ہے اور کچھ بھی اچھا نہیں لکھا؟"
"میں بہت ادب کے ساتھ التماس کرتی ہوں کہ مجھے پاکستانی ، ہندوستانی جھمیلے میں مت گھسیٹیے۔ میں شکر گذار ہوں گی ، اگر آپ اس مجموعہ میں صرف پاکستانی ادیبوں کو شامل کریں اور مجھے بخش دیں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری شمولیت سے غیر ضروری تنازعہ پیدا ہو۔ آپ ولایت میں رہتے ہیں اور آپ نہیں جانتے کہ پریم چند اور کرشن چندر کے بارے میں پاکستانی نقطۂ نظر کیا ہے۔ یہ سب کچھ نہایت نا خوشگوار ہے۔ اور بمبئی کی باسی ہوتے ہوئے میں نہیں چاہتی کہ کسی لفڑے میں پڑوں۔ براہ کرم مجھے بخش دیں۔ بس بہت ہو چکا! میں مزید شکر گذار ہوں گی ، اگر آپ محض پاکستانی کہانی کاروں کو انتخاب میں شامل کریں۔ میں خاصے خلفشار میں مبتلا ہو گئی ہوں۔ بعض لکھنے والے اس طرح کے تنازعات سے خوش ہوتے ہیں تاکہ وہ موضوع گفتگو بنے رہیں اور ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بات ہوتی رہے۔ مجھے اس طرح کی چیزوں سے سخت الرجی ہے اور مجھے عجب سا خوف محسوس ہوتا ہے۔اس لیے میں آپ سے درخواست کروں گی کہ انتخاب سے میری کہانی نکال دیں اور میرا تعارف بھی۔ اگر آپ اس کے بجائے کچھ اور لکھیں تو شاید میں اس پر غور کروں۔ لیکن جانتی ہوں آپ مضطرب ہوں گے اور 'بور' بھی۔"
انھوں نے شرافت اور نرمی کے ساتھ میری خبر لیتے ہوئے وضاحت کی کہ' 'فوٹو گرافر' سوانحی کہانی ہوسکتی ہے مگر اس کا جائے وقوع (Back Drop) سری لنکا ہے، ہندوستان نہیں۔ کینڈی گیسٹ ہاؤس میں ایک ہندوستانی رقاصہ اپنے سازندوں کے ساتھ اقامت پذیر تھی۔ کہانی کی یہی بنیاد تھی اور وجہِ تسمیہ بھی۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اپنی ہر کہانی اور ناول پر وضاحتی مضمون بھی لکھنا چاہیے تاکہ ان کے وجودی پیکروں کی تشریح اور توضیح کی جا سکے۔ "
اسی طویل خط کے آخر میں فیض کی یادداشتوں کے بارے میں انھوں نے مجھے خوب صورت لفظوں سے نوازا تھا جو میں نے انگریزی میں لکھی تھیں۔ (انھوں نے میری کاوش کو اردو میں بھی منتقل کیا تھا اور یہ میرے لیے بے حد باعث توقیر تھا۔ یہ اتنا بڑا اعزاز تھا کہ میں اس پر اپنی تمام تر حصولیابیوں کو قربان کرتا ہوں۔)آخر میں انھوں نے تحریر کیا تھا کہ" میں نے خط میں جو بھی کہا ہے اگر اس سے تمھارے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو مجھے معاف کر دو اور میری کہی باتوں کو درگذر کر دو۔"
میں جب جب دلّی گیا ، ایک شام ہمیشہ عینی کے ساتھ گذاری۔ مجھے اس بات کا ملال ہے کہ محض تین چار بار ایسا ممکن ہوسکا۔ وہ ہمیشہ کھانے پر اصرار کرتیں اور انواع اقسام کے کھانے ضد کر کے کھلاتیں۔ وہ اوکھلا سے نوئیڈا منتقل ہو گئی تھیں جو غازی آباد میں جمنا کے اس پار واقع ہے اور یہ ہر اعتبار سے ایک نئی بستی ہے۔ نوئیڈا میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی تو ان کی گرتی ہوئی صحت کا احساس ہوا مگر ان کی حس مزاح، جذبۂ سخاوت اور زندگی سے شدید محبت کبھی کم نہ ہوئی۔ ان کی آنکھوں کی تکلیف بڑھ گئی تھی اور آخر آخر میں تو وہ محدب شیشے کی مدد سے بس تھوڑا بہت پڑھ سکتی تھیں جیسا کہ اس خط میں مذکور ہے جو انھوں نے مجھے 1996 میں لکھا تھا"میرا نمبر مائنس 18۔مائنس 19 ہے۔ خدا رحم فرمائے۔ لیٹر ہیڈ پر (میں نے ان کے نام اور پتے سے مزین کچھ لیٹر ہیڈ بھجوائے تھے) نام اور پتہ نہایت خوب صورت چھپا ہے مگر میں محض اپنا نام پڑھ سکتی ہوں۔ یہ خط بھی میں نے تمھیں محدب شیشے کی مدد سے لکھا ہے۔" یہ پڑھ کر میں سخت شکستہ دل ہوا۔
آخری بار جب میں نے ایک شام ان کے ساتھ گذاری تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ "مجھے سننے کے لیے خاصے بے ڈھب آلۂ سماعت کا سہارا لینا پڑتا ہے لیکن خدا کے لیے اب اس بات کی تشہیر مت کرتے پھرنا کہ عینی بہری ہو گئی ۔" میں نے جواب میں کہا"آپ مجھے جانتی ہیں۔ کیا میں اتنا احمق ہوں؟"
اگر شمار کیا جائے تو پاکستان میں راجا تجمل حسین، ڈاکٹر جاوید اقبال، مرحوم اعجاز بٹالوی اور ضیا محی الدین ان کے اچھے نزدیکی دوستوں میں شامل تھے۔یوں وہ سبھی کو جانتی تھیں، اور ان کی اس پر نظر رہتی تھی کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے خصوصی طور پر پاکستان کے ادبی منظر نامے پر۔ ساتھ ہی ساتھ سیاسی محاذ کے بارے میں ان کا مشاہدہ اور مطالعہ غیر معمولی تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو انھیں سخت دکھ ہوا۔ انھوں نے مجھے بتلایا تھا کہ ایک غریب عورت میری پاس آئی اور اس نے کہا "بی بی یہ پاکستانی کیسے لوگ ہیں؟ اپنے راجا کو مار دیا۔"
عینی نرگس کی بہت بڑی دوست تھیں ، ان کی موت کے بعد عینی نے مجھے لکھا"ہاں یہ سچ ہے نرگس کی موت سے ہم سب کو سخت دھچکا لگا۔ وہ ہماری اس وقت سے رفیق تھیں جب ہم بڑے ہو رہے تھے۔ وہ بھی کیا سحر انگیز دن تھے جو دیومالائی کہانیوں کی طرح وقت کی دھند میں کھو گئے (جیسے پنکج ملک کے گیت) ۔ آج جب ہم ان پر انی فلموں کو ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی قدامت کا احساس ہوتا ہے مگر ان دنوں وہ کس قدر جادوئی اثر رکھتی تھیں۔ لیکن نرگس نہایت ذی وقار اور ذی احتشام طریقے سے موت سے ہم کنار ہوئیں۔ وہ اپنی زندگی میں ایک بڑی شخصیت ہو چکی تھیں۔ ان کا شمار معزز ترین ہستیوں میں ہوتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایک روایتی مسلمان کی طرح وہ خدا کی قسم کھانا نہیں بھولتی تھیں۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک عجیب و غریب تضاد تھا۔ ایک بار انھوں نے مجھے بتلایا کہ خاصے عمر رسیدہ لوگ آ کر انھیں باور کراتے ہیں کہ وہ بچپن سے ان کی فلمیں دیکھ رہے ہیں (بالکل اسی طرح سفید داڑھیوں والے آ کر مجھ پر انکشاف کرتے ہیں کہ وہ بہت چھوٹی عمر سے میری کہانیاں پڑھتے آ رہے ہیں) مگر نرگس کی بات ہی اور تھی، وہ ایک کرشماتی خاتون تھیں۔"
1998میں جب میرا قیام اسلام آباد میں تھا(جہاں مجھے ایسو سی ایٹیڈ پریس آف پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل شپ سونپے جانے کے وعدے پر بلایا گیا تھا اور جسے میں حتی المقدور ایک عظیم الشان اخباری ایجنسی میں بد ل دینے کا عزم لے کر گیا تھا مگر اس کے برعکس مجھ سے کہا گیا کہ شالیمار ٹیلی ویژن کمپنی کی سربراہی کے فرائض انجام دوں اور مذاق یہ تھا کہ اس کمپنی نے کبھی کوئی ٹیلی ویژن پروگرام پروڈیوس نہیں کیا تھا) ،عینی اپنی عم زاد حمیرا سید کے ساتھ قیام پذیر تھیں۔۔۔مرحوم جری احمد سید کی رفیقۂ حیات اور مشاہد حسین کی خوشدامن !میں یہ اطلاع پا کر انتہائی خوش تھا۔ سید خاندان کے افراد خانہ کے ساتھ میری رسم و راہ 1960 سے تھی۔ ان دنوں میں بطور پروبیشنری افسر محکمہ انکم ٹیکس ، کشمیر ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا (اب یہ ہوٹل مسمار کر دیا گیا ہے) ۔ میرے ہوٹل کے بالکل آگے جری احمد کی قیام گاہ تھی۔ یہ کنٹرولر آف ملٹری اکاؤنٹس تھے۔ میں نے اور کشور نے طے کیا کہ عینی کے اعزاز میں شاندار ادبی تقریب کا اہتمام کیا جائے اور ایک شام ان کے نام وقف کی جائے۔ پارک ٹاورز ، سیکٹر ایف 10 میں واقع کشور ناہید کے اس غیر معمولی فلیٹ میں ہم لوگ جمع ہوئے۔ (اکتوبر 2005 میں زلزلے کے زبردست جھٹکوں کے باوجود محفوظ و مامون رہا تھا جب کہ اس کے برابر کی ہائی رائز بلڈنگ مسمار ہو گئی تھی) ہم نے اپنے قریبی دوستوں اور عینی کے پرستاروں کو اکٹھا کر لیا تھا۔ محمد منشا یاد، راجا انور، بیگم سرفراز اقبال، آفتاب اقبال شمیم اور بہت سے ممتاز لوگ اس یادگار شام کا حصہ تھے۔ (اس شام کی یادگار تصویریں میرے پاس محفوظ ہیں لیکن میں نے عینی کے انتقال کے بعد انھیں دیکھا نہیں، میں سوگوار نہیں ہونا چاہتا تھا)تقریباً سبھی لوگ ان کے قدموں میں بیٹھے تھے۔ وہ بہت خوش تھیں اور سبھی کی باتیں توجہ اور خوش دلی سے سن رہی تھیں۔ انھوں نے خود بھی بہت اچھی باتیں کیں۔ لوگوں کے کام کو سراہا اور بات چیت کے دوران برابر مسکراتی رہیں۔ اس شام کی وہ ہر اعتبار سے مکمل خاتون تھیں اور ایک ایسی غیر معمولی بے مثال رائٹر جن کی بہت لوگوں نے نقل کی مگر ان کی گرد کو بھی نہ پاسکے۔ ان جیسی ذکاوت و ذہانت، ان جیسی حس مزاح، ان جیسا جذبۂ صادق، رحم دلی اور وسیع النظری کہاں سے لائیں۔ ان جیسا تاریخی شعور ، ان جیسی عمرانیات پر عمیق نگاہ بھلا کسے نصیب ہوتی ہے۔ وہ غیر معمولی عہد ساز تخلیق کار تھیں مگر انھیں اس کا بالکل گمان نہیں تھا۔ انھیں اپنی عظمت کا ذرا بھی احساس نہیں تھا۔ غیر معمولی ادبی فتوحات اور ممتاز مرتبے کے لیے نہ صرف اردو میں بلکہ دنیا کے ادب میں انھیں ہمیشہ ادب اور احترام کی نظر سے دیکھا جائے گا۔
جب وہ جا رہی تھیں، میں کار تک انھیں چھوڑنے گیا اور میں نے کہا"عینی! آئی لَو یو!"
انھوں نے نرگس کو زندگی سے بھری ہوئی غیر معمولی خاتون قرار دیا تھا مگر وہ خود اپنے فن کی یکتائی اور شخصیت کے انفراد کی بنا پر ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ میرے دوست 'وینا' کے سید فیضی کے الفاظ میں،" قرۃ العین حیدر اردو فکشن کی حاضر امام تھیں۔"
سایۂ رحمت میں ابدی نیند سونے والی خاتون الوداع! الوداع کہ اب ہم تم جیسی غیر معمولی شخصیت سے ملنے کا شرف کبھی حاصل نہ کرسکیں گے، کبھی نہیں۔

1۔ "قرۃ العین حیدر نے مجھے لکھ کر پوچھا تھا کہ آیا انھوں نے فہمیدہ ریاض کے تعلق سے اس طرح کی باتیں میڈیسن (Madison)میں اپنے قیام کے دوران کہی تھیں؟ غالباً یہ 1979 کی بات ہے جب وہ ہمارے گھر ٹھہری تھیں۔ میں انھیں جواباً لکھا تھا کہ مجھے خیال نہیں آتا کہ انھوں نے مجھ سے فہمیدہ ریاض کے تعلق سے ایسی کوئی بات کی تھی۔ میں نے مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر انھوں نے ایسا کچھ کہا بھی ہوتا تو میں ہرگز ہرگز اسے دوسروں کے سامنے نہ دہراتا۔"
محمد عمر میمن (ایڈیٹر، "دی اینول آف اردو اسٹڈیز")
٭٭٭



قرۃ العین حیدر : چند مختصر ناولوں پر ایک نظر

احمد محفوظ


قرۃ العین حیدر کے فکشن پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس میں اسٹیج ڈرامے کی اس کیفیت کا احساس ہوتا ہے جس میں مناظر ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورت حال اس لینڈ سکیپ کی طرح ہوتی ہے جس میں مقامات اور افراد کی جھلک دکھاتے ہوئے دھندلے مناظر غائب ہو ہو کر پھر سے نظر آتے رہتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیج پر کوئی ڈراما ہو رہا ہے اور ہم اسے الگ الگ ٹکڑوں کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کیفیت میں ہماری دلچسپی کو قائم رکھنے کی قوت تو ضرور ہوتی ہے لیکن وہ ربط و تنظیم ہرگز نہیں ہوتی جو اس کے اصل معنی و مفہوم کو واضح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ایک طرح سے دیکھیے تو یہ عدم وضاحت بذات خود زندگی کے توافق کے مستحکم شعور و احساس کو ظاہر کرتی ہے، کیوں کہ وسیع تر معنوں میں سچ پوچھیے توہم وجود کی پر اسراریت کو گہرائی سے سمجھ ہی نہیں سکتے، خواہ اس کا تعلق خود ہمارے اپنے وجود سے ہو یا دوسرے کے وجود سے۔ اس عمل میں ہمارا سامنا الجھن اور پریشانی ہی سے ہوتا ہے۔ ہم جتنے زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں ، اتنا ہی کم انھیں سمجھ پاتے ہیں۔ اس پر تصادم دنیا کے بیچ ہم خود کو بھٹکا ہوا اور بے ٹھکانہ محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح یا تو ہم نئی پریشانیوں میں پھنسنے کی خاطر کہیں دور نکل جاتے ہیں یا اپنے پرانے اور جانے پہچانے دکھوں کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔
"چائے کے باغ" کی ایک کردار کہتی ہے،" کہانی شروع ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی ، بی بی۔ اور نہ اس کے خاتمے کی کوئی ایک وجہ ہے۔" پھر تھوڑی ہی دیر بعد، گویا اپنی قوت برداشت کی انتہا پر پہنچ کر وہ کہتی ہے:
"بی بی۔ ایک سوال مجھے عرصے سے پریشان کر رہا ہے۔"
"فرماؤ۔۔۔"
"خدا نے یہ دنیا کیوں بنائی؟"
"ایں۔۔۔؟"
"ہاں۔۔۔کیوں۔۔۔آخر کیوں۔۔۔؟ مجھے اس کی کوئی ایک وجہ بتاؤ؟"
اور یہ ناولٹ بالآخر اس جملے پر ختم ہوتا ہے: " دنیا میری سمجھ میں نہیں آئی۔ "
قرۃ العین حیدر کے یہ چاروں ناولٹ التباس ' شکست التباس 'مصنوعی شناختوں ، حقیقت پسندی اور طنز کے عجیب و غریب جھمیلوں سے بھرے ہوئے ہیں' تاہم ان میں سے کم از کم ایک ناولٹ "چائے کے باغ"مخصوص شناخت کے نمایاں احساس کا حامل ہے۔ اس سب سے بڑھ کر یہ بھی کہ یہاں ہمیں مصنف کی حاکمانہ موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ یعنی مصنف یقیناً ایک طرح کا ہدایت کنندہ( (Pointer ہی توہے کہ آخر تھیٹر اور فلموں میں سارے اداکار خواہ وہ اعلیٰ یا اوسط درجے کے ہوں، ہمیشہ اپنے اپنے حصے کے محض کردار ہی ادا کرتے ہیں۔ ہاں، "سیتا ہرن" کی سیتا ممکنہ استثنائی حیثیت ضرور رکھتی ہے۔ جس دوران اس کے قریبی ساتھی تھیٹر سے متعلق مصروفیات میں منہمک رہتے ہیں، اس وقت سیتا آواروں کی طرح ایک مرد سے دوسرے مرد اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف اس طرح بھاگتی پھرتی ہے کہ اسے اپنے آپ پر یا اپنے جذباتی جبر پر بالکل قابو نہیں رہتا ۔ وہ تھیٹر کی دنیا کے چھوٹے اور تنگ اسٹیج سے باہر ایک بڑے میدان میں اپنے رول کی تلاش میں بار بار کامیابیوں اور محرومیوں سے گذرتے ہوئے آخر کار تنہا رہ جاتی ہے۔ ایک کم اعتماد شخص کی طرح وہ ہمہ وقت مردوں کو پا لینے کے لیے سرگرداں رہتی ہے اور ہر بار اسے اپنے شوہر اور چاہنے والوں سے دھوکا ہی کھانا پڑتا ہے۔ اس مجموعے کے سب سے طویل ناولٹ "سیتا ہرن" میں سارے مرد واضح طور پر برے لوگ ہیں یا ہمیں ایسا لگتا ہے۔ اس ضمن میں ناولٹ کے بغور مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صورت حال کے لیے سیتا برابر کی ذمہ دار ہے۔ وہ حد درجہ من موجی اور شاید جنسی طور پر غیر مطمئن اور ناآسودہ عورت ہے۔ چونکہ قرۃ العین حیدر کے فکشن میں جنسی معاملات کا بیان تقریباً ٹاٹ باہر ہے، اس لیے یہاں سیتا کے جنسی رجحانات اور اضطراب کی توضیح کرنا ممکن نہیں ہے۔ بہر حال اس پر جنس پرست عورت کا لیبل لگانا بالکل بے تکی بات ہو گی۔ تاہم اتنا تو ضرور ہے کہ اپنی پسند کے مردوں کی طرف آسانی سے راغب ہو جانا اس کے مزاج کا خاصہ ہے۔ وہ اتنی سی بات نہیں سمجھ پاتی کہ اس کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ شاید اسے اس کی پرواہ بھی نہیں ہے۔ وہ نشے کی عادی ہے، اس لیے محکومی کی طرف اس کا رجحان بدیہی ہے، لیکن یہی رجحان اسے اس راہ پر لے جاتا ہے جہاں اس کی زندگی ٹوٹے ہوئے رشتوں کے ایک سلسلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ عرفان جو سیتا کے عاشقوں میں ہے اور جو آخر میں اسے اس لیے چھوڑ دیتا ہے، کیوں کہ اس نے انیس سالہ نارمنڈی ملکۂ حسن سے تعلق قائم کر لیا ہے، سیتا سے زیادہ دنیا دار شخص ہے ۔ جیسا کہ وہ بیان کرتی ہے، عرفان اسے بتاتا ہے کہ اس کی شادی کیوں کر ناکام ہوئی:
"دیکھو سیتا" عرفان نے رسان سے کہا۔ "تم جو کہتی ہو کہ ہر بات مختلف اور اوریجنل اور انوکھی اور گہری ہونی چاہیے۔ سیتا! ساری زندگی ہزاروں لاکھوں بار دہرائی ہوئی داستان ہے۔ ایسا ہمیشہ ہوا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ لوگ اسی طرح محبت میں گرفتار ہوں گے۔ ایک دوسرے سے مایوس ہوں گے، اسی طرح طرح دل ٹوٹیں گے۔ اسی طرح دکھ اٹھائے جائیں گے۔ تم یا جمیل یا قمر انوکھی عجوبۂ روزگار ہستیاں نہیں ہو۔۔۔ایسی باتیں تم لوگوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے تھیں، کیوں کہ تم ،جمیل اور قمر بڑے غیر معمولی دل و دماغ کے لوگ تھے ۔ مگر زندگی کی چکی میں سب ایک ساتھ پستے ہیں۔ اس میں انٹلکچوئیل اور غیر انٹلکچوئیل کی کوئی تفریق نہیں۔"
بادی النظر میں یہ ایک عام اور معمولی سوچ کا اظہار ہے۔ لیکن فکشن میں زندگی کی طرح جو لوگ عام سوجھ بوجھ ہی کی پیروی کرتے ہیں، بسا اوقات ان کی زندگی غیر دلچسپ اور بے لطف ہو کر رہ جاتی ہے۔ سیتا ایک سراب کا تعاقب کر رہی ہے۔ تمام ہاری ہوئی عورتوں کی طرح اس کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ گھر میں نیک سیرت بن کر اپنے شوہر اور بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے۔ اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا تو اس کی بڑھاپے کی زندگی مفلسی اور ذلت آمیز محکومی کا ایک اندوہناک مرکب بن کر رہ جائے گی۔ سیتا صرف یہی نہیں چاہتی کہ اس کا اپنا گھر بچا رہے بلکہ وہ اپنی در بدری کا خاتمہ بھی چاہتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ عرفان جو پاکستانی شہری ہے، اس سے شادی کر کے وہ اپنے وطن عزیز سندھ واپس جا سکتی ہے جسے تقسیم ہند کے وقت اپنے والدین کے ساتھ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کی امیدیں اس وقت خاک میں مل جاتی ہیں جب وہ واپس پیرس جا کر عرفان سے شادی کرنے کو تیار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے عام اور معمولی سوجھ بوجھ یہاں پھر غالب آتی ہے اور کسی کی زندگی کا سار ا کام بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ بظاہر "سیتا ہرن" میں یوں نظر آتا ہے کہ مردوں کو سادیت پسندانہ سانچے میں ڈھالا گیا ہے جو ہمیشہ عورت ذات سے، اس کی جبلتوں کو بے سمجھے بوجھے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ لیکن سیتا کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو عموماً بے سوچے سمجھے اپنے غیر محفوظ ہونے کا خود ہی راستہ ہموار کرتی رہتی ہے۔ قرۃ العین حیدر اپنی متضاد جذباتی کیفیات کے تئیں عموماً محتاط رویہ رکھتی ہیں، حالاں کہ اس کیفیت پر اس وقت وہ قابو نہیں رکھ پاتیں جب "سیتا ہرن" کے بیانیہ میں اقبال کی مشہور نظم "مسجد قرطبہ" کا ایک شعر بے ضرورت در آتا ہے۔ یہ شعر اچانک سیتا کے ذہن میں نہیں آ سکتا تھا۔ شاعری کوئی ایسی چیز نہیں کہ کسی بڑی تباہی یا مصیبت کے سامنے آنے پر فوراً ذہن میں آ جائے۔ یہاں شاید اسے مصنف کی بے جا مداخلت ہی کہا جاسکتا ہے۔
یہ بات کچھ عجیب لگتی ہے یا شاید اسے غیر معمولی کہا جائے کہ قرۃ العین حیدر نے کبھی فیچر فلموں کی ہدایت کاری نہ خود کی اور نہ اس کے لیے ان سے کہا گیا۔ ان کے فکشن کا وافر حصہ ڈرامائیت کے لیے خوش گوار اور موزوں صفات کا حامل ہے۔ کسی ڈرامے میں اداکاری کرنا دراصل اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کا ہی عمل ہوتا ہے۔ اس عمل میں اداکار تھوڑی دیر کے لیے خود کو اپنے سے الگ کوئی اور شخص سمجھ لیتا ہے۔ پھر اسٹیج کا یہی غیر حقیقی اور فرضی کردار حقیقی زندگی میں آ نکلتا ہے۔ قرۃ العین حیدر کے فکشن کے بہت سے افراد اور ان میں بھی بیشتر عورتیں فرضی اور اوڑھی ہوئی شناختوں کی تہذیب کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ صورت اتنی بار پیش آتی ہے گویا ان کے لیے بقا کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کی حاکمیت ہو، وہاں عورتیں اپنے اوپر عائد کردہ محکومی سے بچ نکلنے کے لیے فریب کاری کا سہارا لیتی ہیں۔ سماج کے نہایت پاک صاف اور جامد دائرے سے باہر نکل پانا ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ متوسط طبقے کے اپنے آداب زیست سے متعلق کچھ عقائد اور تصورات ہوتے ہیں جن سے وہ طبقہ اس طرح چمٹا رہتا ہے، گویا یہ اس کی موت اور زندگی کا معاملہ ہو۔
گذشتہ زمانے میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک مسلم عورت گھر سے بھاگنے کی صورت میں پیش آنے والے خطرات اور اندیشوں سے اچھی طرح باخبر رہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اپنی حد میں رہتے ہوئے اس کا گھر واپس لوٹنا ناممکنات میں سے ہے۔ اگر اس کی قسمت ساتھ دیتی تو وہ کسی امیر کی منظور نظر بن جاتی تھی، بصورت دیگر اگر قسمت ساتھ چھوڑ دیتی تو کسبی طوائف بن کر در در بھٹکنا اور ناقابل برداشت غربت اور افلاس کی طرف بڑھتے جانا اس کا مقدر ہوتا تھا۔ جس زمانے میں قرۃ العین حیدر نے فکشن کے ذریعے اپنے آس پاس کی دنیا کو بیان کرنے کی ابتدا کی، اس وقت تک طوائفوں کے ادارے کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ البتہ تھیٹر، فلم اور نشریاتی اسٹیشنوں کا آغاز ہونے لگا تھا جو مسائل حیات کے حل تلاش کرنے کے نئے راستوں کی صورت میں سامنے آئے تھے۔ وہاں کچھ عورتوں کے لیے معمولی لیکن غیر رسمی آزادی کے یقینی حصول کے وسائل کا ہاتھ آنا بہت آسان تھا۔ ایک ادیب کی حیثیت سے قرۃ العین حیدر کی ہمدردیاں عورتوں کے ساتھ ہونا بلاشبہ قابل فہم ہے، حالاں کہ وہ اس خیال کی حد درجہ قائل ہیں کہ جنسی تخصیص ( Gender ) کی وسیع معنوں میں کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے تمام کردار خواہ مرد ہوں یا عورتیں، خرابی اور بگاڑ سے عاری نہیں ہیں۔ ان کے فکشن میں بہت سی عورتیں آپ اپنے سہارے زندگی بسر کرنے کی خاطر بے کیف گھریلو زندگی سے نجات پانے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ ان کی ان کوششوں کی تعبیر وجودی اختیار کی حیثیت سے کی جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ دنیا ایسی تشکیل ہے جس کی بنیاد حق و انصاف پر نہیں بلکہ جبری قوت پر ہے۔
شخصی نام سے منسوب "دلربا" اور "اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو" متضاد مطالعات کے حامل ناولٹ ہیں۔ "دلربا" میں قرۃ العین حیدر کی حس مزاح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ پھر بھی یہاں ایسے لوگوں کے تئیں رحم اور ہمدردی بالکل نہیں دکھائی دیتی جن کا رویہ خود پسندانہ اور بزعم خود پاکباز ظاہر کرنے کا ہوتا ہے۔یہاں اشرافیہ اور اعلیٰ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان لڑکے ڈراموں اور اداکار مردوں اور عورتوں کے حد درجہ شائق ہو کر ڈراما کمپنی کے خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔مگر جلد ہی ان کے کچھ بڑے بزرگ جو اداکار عورتوں اور مردوں کے گروہ کو مخرب اخلاق سمجھتے ہیں، ان چاروں نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ سخت اور مانع تدابیر اختیار کر کے یہ بزرگ افراد سمجھ لیتے ہیں کہ انھوں نے اپنی نوجوان نسل کو بے حد قابل اعتراض راستوں پر جانے سے بچا لیا ہے۔ البتہ جیسے ہی چند سال گذرتے ہیں اور یہ دولت مند خاندان بد حال ہو کر نمائشی نفاست کی حامل مفلسی سے دوچار ہوتا ہے، اسی دوران مرکزی کردار کی نواسی بھاگ کر ممبئی جاتی ہے اور وہاں فلم اسٹار بن جاتی ہے۔ پھر دنیا بدل جاتی ہے اور نچلے بد حال طبقے کی عزت اور شان کے کمزور معیار کسی شمار میں نہیں رہتے۔ یہاں راوی کے بیان کی صورت میں پیش کردہ قرۃ العین حیدر کے اس ذہانت آمیز تبصرے کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا جس میں وہ کہتی ہیں کہ ہندوستانی فلم انڈسٹری دراصل گذشتہ عہد کے اس اردو تھیٹر کا زمانی لحاظ سے غلط طور پر منسوب تسلسل ہے جس کی مالی امداد پارسی کمپنیاں کیا کرتی تھیں۔
"اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو" واضح طور پر اس مجموعے کا بہترین صورت میں ڈھالا ہوا ناولٹ ہے۔ یہ دو بہنوں کی کہانی ہے ، جن میں ایک اپاہج ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسی ٹولی سے ہے جس میں چند مفلس اور نادار لوگ گانے بجانے کے مشغلے کے ذریعے اپنا پیٹ پالتے ہیں اور مگن رہتے ہیں۔ پھر قسمت کی یاوری کے نتیجے میں ان مشقتوں سے انھیں تھوڑی دیر کے لیے راحت ملتی ہے۔ یہ کہانی اسی طرح ہموار صورت میں چلتی رہتی ہے اور پھر متوقع طور پر ایک تلخ اور ناخوشگوار انجام پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔
بڑی بہن رشک قمر کھری، قبول صورت اور مسحور کن آواز کی مالک لڑکی ہے۔ کچھ مردوں سے اس کی جان پہچان ہوتی ہے جو اس سے از راہ تعلق ہمدردی رکھتے ہیں (حالاں کہ قرۃ العین حیدر کے فکشن کی دنیا میں یہ بات کچھ غیر معمولی سی ہے) ، انھیں کی مدد سے وہ ایک خوش گلو شاعر کے طور پر ابھرتی ہے اور اس طرح اسے کچھ سکون میسر آتا ہے۔ وہ اصل معنی میں شاعر نہیں ہے بلکہ کوئی اور اسے غزلیں لکھ کر دیتا ہے جنھیں وہ اپنے کلام کے طور پر مشاعروں میں پیش کرتی ہے۔ اسی دوران ایک دولت مند اور حسین ایرانی مرد اسے اپنے گھر کی مالکہ بنا لیتا ہے ' اور رشک قمر ایک بچی کو جنم دیتی ہے۔ یہاں ایرانی مرد اس سے شادی کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر اچانک اس کی زندگی سے اس طرح دور چلا جاتا ہے کہ پھر کبھی واپس نہیں آتا۔ وہ غلطی سے یہ سمجھ کر ہندوستان سے کراچی چلی جاتی ہے کہ شاید اس کا ایرانی عاشق وہاں اسے مل جائے گا۔ اسی بیچ اس کی خوب صورت بیٹی اسے چھوڑ کر اعلیٰ درجے کی طوائف بن جاتی ہے۔ اعلیٰ قسم کے خوشنما ہوٹلوں میں اس کی آمد و رفت ہوتی ہے اور بڑے دولت مند جرائم پیشہ افراد سے اس کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ پھر ایک دن وہ کراچی کے ساحل پر مردہ حالت میں پائی جاتی ہے۔ بعد ازاں رشک قمر واپس اپنے وطن لکھنؤ آتی ہے اور اسے پتہ چلتا ہے کہ اسی عرصے میں اس کی اپاہج بہن اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اب وہ اپنے سابقہ ملنے والوں کو تلاش کرتی ہے۔ پہلے تو وہ لوگ اسے مشاعرے میں لے جانے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن پھر ایسا کرنے سے پہلو تہی کر لیتے ہیں۔ اب اسے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اپنے گذر بسر کی خاطر اسے بھی وہی سلائی کڑھائی کا کام کرنا ہو گا جو اس کی معذور بہن کیا کرتی تھی۔ اس طرح کہانی جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں پھر آ جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالباً کسی وجہ سے ایک بھرپور ناول کو گھٹا کر مختصر ناول کی شکل دے دی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، اس ناولٹ کے نصف آخر کے حصے میں واقعات بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور چیزوں کو باہم ملا کر بیانیہ کو مختصر بنایا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ناولٹ کے آخری سین کو سامنے لانے کے لیے غیر ضروری عجلت دکھائی گئی ہے۔ یہ آخری سین واپس گھر لوٹنے کا ہے، مگر کسی شاہ خرچ آدمی کے لٹ لٹا کر گھر لوٹنے کا نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کے واپس گھر لوٹنے کا ہے جو پوری طرح مایوس و محروم ہو چکی ہے۔
"چائے کے باغ" کی ہوا التباس ، فریب اور بے گھری کی صورتوں سے معمور ہے۔ یہاں غیر یقینی کی کیفیت اس صنف کے فطری کردار پر بھی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔ آیا یہ فکشن ہے یا اچھا خاصا کوئی رپورتاژ؟ ناولٹ واحد متکلم راوی کے صیغے میں لکھا گیا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جو اس ناولٹ کی غیر واضح صورت کو قوت بہم پہنچاتی ہے۔
مغربی پاکستان کی ایک خاتون فلم ڈائریکٹر مشرقی پاکستان کے سلہٹ کے چائے کے باغات میں ایک دستاویزی فلم کی شوٹنگ کی غرض سے آتی ہے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا نامناسب نہ ہو گا کہ جس زمانے میں قرۃ العین حیدر پاکستان میں قیام پذیر تھیں، انھوں نے بذات خود کچھ سرکاری دستاویزی فلمیں بنائی تھیں۔
بہرحال وہ خاتون وہاں ایک دور افتادہ ریلوے اسٹیشن پر اترتی ہے اور اسے ایک بزرگ صورت اور باریش سرکاری عہدے دار اپنی گاڑی میں بٹھا کر ڈاک بنگلے تک پہنچاتے ہیں۔ وہ خاتون جیسے ہی ان کے سامنے اپنی پہچان ظاہر کرتی ہے، وہ باریش بزرگ کہتے ہیں، "مجھے اردو ادب سے اب دلچسپی نہیں رہی کہ وہ روز بہ روز مزید غیر اسلامی ہوتا جا رہا ہے۔ مگر میری اہلیہ آپ کے افسانے بڑے شوق سے پڑھتی ہے۔"
یہاں یہ سوال ضرور پوچھنے کا ہے کہ راوی یہ اقرار کیوں کرتی ہے کہ وہ فکشن نگار ہے؟ اس کی پہچان کا ظاہر ہونا کہانی کے پلاٹ سے قطعاً غیر متعلق ہے اور اسے بڑی آسانی سے ہٹایا جاسکتا تھا۔ کیا بیانیہ جزوی طور پر ہی سہی، ان امور سے مشروط ہوتا ہے جنھیں مصنف نے واقعتاً خود دیکھا یا سنا ہو؟ شاید یہاں سارے واقعات یا کم از کم ان میں سے کچھ ضرور حقیقی ہیں تاہم ان میں کرداروں کے نام بدل دیے گئے ہیں۔ بہرحال، اس سلسلے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔
چائے کے باغات میں ایک شخص ایسا نہیں جو مقامی طور پر اس علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ وہاں تمام بڑے عہدے ان لوگوں کے پاس ہیں جو کہیں اور سے آئے ہیں مثلاً انگلستان، اسکاٹ لینڈ یا ہندوستان اور پاکستان کے دیگر صوبوں سے۔ یہاں تک کہ چائے کے باغ میں کام کرنے والے مزدور بھی مشرقی اتر پردیش سے جبراً وہاں لائے گئے ہیں۔ یہ علاقہ بے ٹھکانہ لوگوں کے لیے ایک قید خانہ ہے۔ جو لوگ قابض اور حاوی ہوتے ہیں، وہ اپنے آپ میں مگن رہ کر آسودگی کی زندگی گذارتے ہیں۔ تاہم یہ لوگ نہایت خوب صورت اور لا پرواہ قسم کی تین بہنوں کی ایک بھونڈی کہانی کے لیے پس منظر کا کام کرتے ہیں۔ یہ کہانی راوی کی کزن بیان کرتی ہے جو پہلے تو عورتوں کی ڈاکٹر (Gynecologist) تھی لیکن اب اپنے شوہر کے ساتھ جو چائے کے باغات کا انتظام دیکھتا ہے، بڑی شان کے ساتھ زندگی گذارتی ہے۔ یہ کزن قدیم یونانی المیوں میں گانے والوں کی طرح حرکت کرتی ہے۔ بہت سے واقعات یہاں اسٹیج سے الگ وقوع پذیر ہوئے ہیں اور انھیں فلیش بیک کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اخلاق سے عاری یہ بہنیں دوسری عورتوں کی شادیوں کو ختم کرا دیتی ہیں اور انھیں ذرا بھی ندامت اور پچھتاوے کا احساس نہیں ہوتا۔ ایک ذرا سا عذر کر کے وہ اپنے عاشقوں کو چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ بری بات یہ ہے کہ وہ انتہا درجے کی فریبی اور مکار ہیں۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں ایک گلیمر کی فضا ضرور ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ راوی اور اس کی کزن دونوں کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ خانہ بدوش قبائلی چیف کی بیٹیاں (اولاد) ہیں اور کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ دراصل یہ وہ بیان ہے جس کا یہ بہنیں دعویٰ کرتی ہیں۔ یہاں یہ بھی ہے کہ خانہ بدوشی کے تصور سے پرکھا روگی وحشی پن، آوارہ گردی، بھونڈے پن اور فطرت کے ساتھ میل جول کے پیکر ذہن میں ابھرتے ہیں۔
تمام ظاہری صورتیں فریب نظر اور دعوے کھوکھلے ہوسکتے ہیں، جیسے ہی اتفاقیہ طور پر راوی کو یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ آخر کار ڈاکومنٹری کی شوٹنگ روک دی جاتی ہے، کیوں کہ چائے کے باغات جہاں راوی قیام پذیر ہے ، وہاں کے سارے مزدور ہندو ہیں۔ ڈاکومنٹری کو ذرا بھی اسلامی رنگ دینا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ متعلقہ ارباب اختیار کی طرف سے اس پروجیکٹ کو ترک کرنے کے لیے اس سے کہا جاتا، وہ خاتون راوی کچھ Field Work کر چکی تھی۔ چنانچہ جس وقت پہاڑی دیہی علاقے میں وہ شوٹنگ کے مناسب مقامات کی تلاش میں مزے سے گھوم پھر رہی ہوتی ہے، اسی وقت اتفاقاً اسے ایک خط مل جاتا ہے، جس سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ان بہنوں کا کوئٹہ اور خانہ بدوشی کی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں، بلکہ وہ تو ہندوستان کے مدھیہ پردیش صوبے کے چھوٹے سے شہر کے ایک تنگ دست مولوی کی بیٹیاں ہیں۔ اس طرح ان کا وہ راز کھل جاتا ہے۔ راوی اس سچائی کے معلوم ہونے سے لرز اٹھتی ہے اور اس کا اسے نہایت رنج ہوتا ہے۔ وہ اپنی ہمدردی کے جذبے سے خود کو باز رکھ کر ایک بار پھر مصنف کے بے محل بیان کی صورت میں کہتی ہے، " تم کو اس پیہم خودفریبی ، اس فرار مسلسل سے کیا حاصل ہوا؟" اس سوال کے معنی تبھی سمجھ میں آتے ہیں جب ہم ان بہنوں کے انداز و اطوار کو متوسط طبقے کی اخلاقیات کی روشنی میں زیر غور لاتے ہیں۔ دنیاداری کے سیاق میں دیکھا جائے تو بد اخلاقی سے مملو ان کی زندگیاں پر خطر صورت حالات میں منفعت بخش بقا کی بھر پور مثالیں نظر آتی ہیں۔
کل ملا کر "چائے کے باغ" میں غم ناک بیزاری اور کوفت کی ایسی فضا چھائی ہوئی ہے گویا اس دنیا کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں اور انسانوں کے محرکات اور میلانات کا بغور اندازہ لگانا ہرگز ممکن نہیں۔ پھر بھی یہ میلانات وہ ہیں جو اگرچہ ناقابل گذر اور ہماری پہنچ سے بہت دور ہیں لیکن یہی ہمیں انسان بناتے ہیں اور انھیں کے ذریعے ہم قابل تسلیم اور پسندیدہ بنتے ہیں۔
قرۃ العین حیدر کے کرداروں میں لچک کا معاملہ ایسا ہے جس پر غور کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ان چاروں ناولٹ میں ایک بھی کردار، خواہ اس کی حالت اور کیفیت کچھ بھی ہو، ایسا نہیں ہے جو کبھی خودکشی کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکے۔ ایک طرح سے اپنی تمام تر ابہام اور مایوسی کی کیفیات کے باوجود قرۃ العین حیدر کا فکشن اس بات کا اظہار کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی خواہ پر خطر ہی کیوں نہ ہو، یہ ہمارے لیے ایک تحفہ ہے اور ہمیں اسے انجام تک ضرور پہنچانا چاہیے۔
٭٭٭



قرۃ العین حیدر کے تعاقب میں

کرسٹنا اوسٹر ہیلڈ 
                                             انگریزی سے ترجمہ : ظہیر انصاری



جنوری 1983 میں،قرۃالعین حیدر کے ناول " میرے بھی صنم خانے" ، " آگ کا دریا" اور" آخری شب کے ہم سفر" کے مواد اور معلومات حاصل کرنے کی غرض سے میں دہلی آئی ۔" آخری شب کے ہم سفر"تو انگریزی میں Fire flies in the mistکے نام سے چھپا بھی تھا ۔ آنے سے پہلے مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بطور وزٹنگ پروفیسر پڑھا رہی ہیں لیکن جب میں وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ وہ علی گڑھ پڑھانے کے ہی سلسلے میں جا چکی ہیں ۔تا ہم جب میں نے 21مارچ 1983 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میر تقی میر پر ایک سیمی نار میں شرکت کی تو سیمی نار کے ایک شریک کار نے مجھے یہ بتایا کہ وہ ان دنوں علی گڑھ میں نہیں ہیں۔ 18اپریل کو میری ہندوستان سے واپسی طے تھی اس لیے میں 5اپریل کو علی گڈھ پہنچ گئی تاکہ انھیں پا سکوں ۔ ریلوے اسٹیشن سے میں سیدھے علی گڈھ یونیورسٹی گئی اور وہاں میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ثریا حسین اور ان کے دوسرے شریک منصب (Colleagues)سے ملی ۔ کسی کو بھی قرۃ العین حیدر کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں پتہ نہیں تھا ۔ لیکن سب کو یہ توقع تھی کہ وہ کسی بھی دن علی گڈھ آسکتی ہیں ۔ اس لیے انھوں نے میری رہائش کا انتظام گرلس ہوسٹل میں کرا دیا ۔ گرلس ہوسٹل میں جس طالبہ کے ساتھ میں نے کمرہ شیئر کیا تھا وہ قرۃ العین حیدر کے ناولٹ پر مقالہ لکھ رہی تھی ۔ میں نے وہ دوپہر اور دوسری صبح لائبریری میں مواد کی تلاش میں گذار دی اور مختلف لوگوں سے گفتگو بھی کی ۔دوسرے روز دوپہر میں ڈاکٹر ثریا صولت حسین نے مجھے چائے پر بلایا اور یہ بتایا کہ گذشتہ رات ایک سماجی جلسے میں ایک مہمان کے زبانی انھوں نے یہ سنا کہ کسی نے قرۃ العین حیدر کو رام پور میں دیکھا ہے ۔ انھوں نے مجھے فوراً رام پور جانے کے لیے زور دیا اور ایک ریسرچ اسکالر شاہدہ جو رام پور کی تھی ،کے نام ایک خط لکھ کر دیا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رام پور لے جائے ۔ شاہدہ اس شر ط پر تیار ہوئی کہ اس کے بس کا بھاڑہ میں برداشت کروں جس کے لیے میں جلد ہی تیار ہو گئی ۔
دوسری صبح 30:7بجے ہم بس اسٹاپ پر ملے ۔ بس 8بجے آنے والی تھی لیکن پونے دس بجے تک بس نہیں آئی ۔ بس میں اتنی بھیڑ تھی کہ میں زیادہ تر ایک ہی پیر پر کھڑی رہی ۔ بس ایک ڈھابے پر رکی اور ہم نے سادہ اور اچھا کھانا کھایا ۔ ہمیں مراد آباد میں بس بدلنا پڑی ۔ وہاں میری رفیق ،خواتین کے لیے مختص ایک کمرے میں گئی اور جب باہر آئی تو وہ ایک برقعے میں ملبوس تھی ۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ وہ علی گڈھ میں رہتی ہے تو شلوار قمیص میں گھوم پھر سکتی ہے لیکن جب وہ اپنے شہر رام پور میں داخل ہوتی ہے تو اسے لازماً برقعہ پہننا پڑتا ہے کیوں کہ رام پور میں کوئی پڑوسی ، رشتہ دار یا شناسا اسے پہچان نہ لے۔
شہر رام پور میرے لیے ایک حیرت انگیز انکشاف تھا ۔ تقریباً 95فیصدی عورتیں حجاب میں دکھائی دیں،خواہ وہ برقعے میں ہوں یا ساری کے پلو کو اپنے سر یا چہرے پر رکھ لیا ہو۔ شاہدہ کے گھر والوں نے مجھے خوش آمدید کہا ۔ اور میں نے بقیہ دن ان کے ساتھ ٹیلی ویژن دیکھنے ، گپ شپ کرنے اور اپنے گندے کپڑے دھونے میں گذار دیے ۔
دوسرے دن صبح ( 8اپریل ) کو شاہدہ کی ماں ہمیں رضا لائبریری کے لائبریرین سے ملوانے لے گئیں تاکہ محترمہ حیدر کے بارے میں کچھ پتہ چل سکے ۔ انھیں محترمہ کے بارے میں کہ وہ کہاں ہیں، کچھ پتہ نہیں تھا، البتہ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے مارچ کے شروع میں انھیں آخری بار دیکھا تھا۔ میرا دل بیٹھ گیا۔ میری امیدیں متزلزل ہو گئیں ۔ لیکن تبھی انھیں یاد آیا کہ وہ ایک فیملی کو جانتے ہیں جس کا محترمہ حیدر سے کسی نہ کسی طرح کی رشتہ داری ہے اور ہمیں اس فیملی کا پتہ دیا ۔پھر ہم رکشہ میں سوار ہوئے اور اس جگہ گئے جہاں انھوں نے بتایا تھا۔ وہاں پر ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جس نے پختہ یقین کے ساتھ بتایا کہ وہ رام پور ہی میں ہیں اور غالباً کچھی مسجد کے پڑوس میں فاروق حیدر کے یہاں ٹھہری ہیں ۔ وہ ہمیں وہاں جلد ہی لے گیا ۔ کچھ دیر بعد ہی ہم فاروق حیدر کے گھر پہنچ گئے ۔ محترمہ حیدر ہمارے سامنے خوشی خوشی آئیں ۔
اب تک ان کی لکھی ہوئی تمام تحریریں پڑھنے کے بعد میں ان کے اتھاہ اور وسیع معلومات اور متنوع اسلوبات سے بے حد متاثر تھی ۔ یہ تمام چیزیں خود مجھ کو غیر اہم محسوس کرنے پر مجبور کر رہی تھیں ۔ میں غیر تخلیقی صلاحیت کی حامل ، کیسے اتنے بڑے تخلیق کار کا سامنا کر پاؤں گی ۔ اور تو اور میں نے ان کے تنک مزاجی کے بارے میں کئی کہانیاں سن رکھی تھی اور یہ بھی سن رکھا تھا کہ چھوٹے ادیبوں کا وہ کیسا مذاق بناتی ہیں ۔ اس لیے میں نروس محسوس کر رہی تھی اور مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ اس ملاقات کا انجام کیا ہو گا ۔۔۔یہ میری خوش نصیبی تھی کہ یہ ملاقات خوش گوار اور دل پذیر رہی جس کے کئی عوامل تھے ۔ محترمہ حیدر صریحاً خوش گوار موڈ میں تھیں کیوں کہ ان کے اگلے ناول " گردش رنگ چمن " پر کام آگے بڑھ رہا تھا جو بالآخر 1987 میں شائع ہوا ۔ وہ اس حقیقت سے خوش تھیں کہ کوئی ان سے ملنے اتنی دور سے آیا ہے۔ لیکن بلا شبہہ جو بات تھی وہ یہ کہ میری جستجوئے تلاش پر پیچ سے وہ بے حد متاثر تھیں۔ میری اس جرأت سے بھی وہ حد درجہ خوش تھیں اور اس جستجو کے پیچ و خم کو یاد کر کے وہ بار بار ہنسنا شروع کر دیتیں۔ اس لیے پہلی بات جو میں نے ان میں محسوس کی وہ ان کی مزاح کی سوجھ بوجھ اور دلچسپ کہانی کے لیے ان کی رغبت تھی ۔
پہلی ملاقات میں انھوں نے اپنے اس ناول کے بارے میں بتایا جسے وہ جلد ہی مکمل کرنے والی تھیں اور اس کتاب کے بارے میں بھی بتایا جو اپنی والدہ ، مصنفہ محترمہ نظر سجاد حیدر پر لکھنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں ۔ میں حتمی طور یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ کتاب شائع ہوئی یا نہیں جس کے مشمولات ان کی ایک ڈائری میں "گذشتہ برسوں کی برف، نظر سجاد حیدر کا روز نامچہ۔۔۔ایام گذشتہ " کے عنوان سے درج تھے جو ان دنوں پریس میں ہے۔( اختر 2007،20) ۔ ہم نے ساتھ میں چائے پی اور انھوں نے مجھے دوسرے روز وہیں بلایا ۔ دوسرے دن ہم نے فاروق حیدر ہی کے گھر پر دوپہر کا کھانا کھایا ۔ ان کی تحریروں کے بارے میں اور مختلف دوسرے عنوانات کے تحت دوسری باتیں کرتے ہوئے ہم نے وہ دوپہر گذار دیا ۔ انھوں نے انیسویں صدی کے اخیر اور بیسویں صدی کے پہلے عشرے کے جرنلوں کی وہ فائلیں دکھائیں جو انھوں نے رضا لائبریری ،رام پور سے مستعار لی تھیں تاکہ اس زمانے کی طوائفوں کے بارے میں تحقیق کر سکیں ۔ میں ان سے حد درجہ متاثر ہو گئی کہ لکھنے سے پہلے وہ کس قدر متعلقہ ماخذات کا مطالعہ کیا کرتی تھیں ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے مواد سے بھی بہت پر جوش رہتی تھیں ۔ آپ اس کیفیت کو " گردش رنگ چمن" کے متعلقہ سباق پڑھنے کے دوران محسوس کر سکتے ہیں ۔ رسوا کے امراؤ جان ادا (1899) کے بعد غالباً یہ پہلا ناول ہے جو شمالی ہندوستان کی طوائفوں کی تہذیبی زندگی بالخصوص رقص، گائیکی اور شاعری کے رول کو جامع طور پر پیش کرتا ہے ۔ محترمہ حیدر نے ان طوائفوں کے فن کارانہ جوہر،معاشی طاقت اور ان کی آزادی کو واقعی محظوظ کیا ہے۔ اس پہلو (Subject)پر ان کے ناول کی اشاعت کے بعد بھی بہت کچھ لکھا گیا اور بہت سارے مواد ان رقاصاؤں اور مغنیہ کے بارے میں جو جدید تفریحی انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور یہ انڈسٹری بیسویں صدی ہی میں شروع ہوئی ہے جو آج انٹرنیٹ پر بہ آسانی موجود ہے ۔ سارا کریڈٹ محترمہ حیدر کو جاتا ہے جب کہ انھوں نے اس کہانی میں اس سیاہ حصے کو یعنی وہ سماجی کلنک جس سے پیشہ ور (Professionals) جوجھ رہے تھے ، بہت ہی حساس اور قائل کرنے والے انداز میں پیش کیا ہے ۔ سعادت حسن منٹو کی محتاج طوائفیں معاشرے کے نچلی سطح سے تعلق رکھتی تھیں جو غیر تعلیم یافتہ اور فن کارانہ مہارت سے عاری تھیں جب کہ اس کے بر عکس ، محترمہ حیدر کے ناول میں ہم اس ٹریجڈی کو دیکھتے ہیں کہ کیسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جدید خاتون ڈاکٹر صرف اس وجہ سے شادی کے بندھن میں بندھنے سے محروم ہو جاتی ہے کہ اس کی ماں کبھی ایک رقاصہ تھی اور اس کا پس منظر کچھ ٹھیک نہیں تھا ۔ اور تب ماں شرابی ہو جاتی ہے اور بیٹی دماغی شکستگی سے دوچار۔ جب کہ یہ اس پیچیدہ ناول کی صرف ایک کہانی ہے جس نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔
پھر ہم رام پور کی طرف واپس آتے ہیں ! شام کو وہاں کے ایک مقامی سنیما ہال میں ہم " دلہا بکتا ہے " فلم دیکھنے گئے ۔ رکشہ میں بیٹھتے وقت قرۃ العین حیدر نے احتیاط سے اپنے سر کو ساری کے پلو سے ڈھک لیا اور مجھ سے کہا کہ اپنی پوری زندگی میں انھوں نے برقعہ یا چادر نہیں اوڑھا ہے لیکن رام پور میں ماحول کچھ ایسا ہے کہ انھیں سر کو ڈھکنا ہی پڑتا ہے ۔ میں مغربی طرز کا پینٹ اور بلاؤز پہنی تھی اور ایک موٹے اونی شال کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں تھا کہ آدمیوں کی مجھ پر جمتی ہوئی نظروں سے خود کو بچا سکوں ۔ مجھے بغیر پردے کے عجیب لگ رہا تھا ۔ میں نے اسی شال سے گرمی کا موسم ہوتے ہوئے اور کافی پسینہ بہتے ہوئے بھی خود کو ڈھکا ۔ تب میں کم بے پردہ محسوس کر رہی تھی ۔ بعد میں جب ہم نے فلم پر تبادلۂ خیال کیا تو محترمہ حیدر اس فلم میں جہیز کے خلاف والے پیغام سے بہت خو ش تھیں جب کہ ( میری سمجھ میں ) میں اس کے غیر خوش کن اختتام سے مطمئن نہیں تھی ۔ لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی مشن کی سوجھ بوجھ کے امتزاج کو آسان تفریح اور سامعین کی توقعات کا خیال رکھتے ہوئے ، پیغام کی ترسیل بہترین ذریعہ ہے ۔ اس فلم کے تعلق سے ان کا رد عمل میرے لیے قطعی متعجب تھا کیوں کہ ا ن کے اعلیٰ جمالیاتی معیار کو میں جانتی تھی اور ان کے غصے کو بھی جب کوئی چھوٹے مصنفوں کے ساتھ ان کا نام لیتا تھا ۔ جب کہ دوسری طرف پاپولر کلچر کی طرف ان کا رویہ بالخصوص لوک تہذیب ، بہت ہی مفاہمت پسندانہ تھا اور انھوں نے اپنی تحریروں میں کئی لوک گیت ، پاپولر رسم و رواج اور تقریبات کی رپورٹوں کی جگہ دی ہیں جب کہ ایسی مستعار چیزیں ان کی ہندوستانی تہذیب کے ان پہلوؤں میں بے پناہ دلچسپیوں کو درشاتی ہیں جو مشترکہ ہند - مسلم کلچر میں ان کے یقین کو پختہ کرتی ہیں اور اپنی تحریروں میں ان کا بیان کرنے سے وہ کبھی تھکتی نہیں۔
محترمہ حیدر کو اس فلم سے محظوظ ہونے کی دوسری وجہ ان کی عورتوں کے(خراب) حالات سے دلچسپی ہے ۔ معاشرے میں لڑکیوں اور عورتوں کی بد حالی ان کا مرکزی موضوع رہا ہے اور اس لیے اس فلم کا جہیز مخالف پیغام ان کے دل کے بے حد قریب تھا ۔
ہم نے ان کے پہلے کی تحریروں اور آنے والی کتابوں پر زیادہ بات نہیں کی لیکن مجھے یہ یاد ہے کہ انھیں اپنے قارئین اور نقادوں سے " آگ کا دریا" (1959)کے تعلق سے شکایت رہی ۔ وہ در حقیقت ناراض تھیں کہ ان کے بعد کے کاموں پر تقابلی توجہ نہیں دی گئی اور یہ آج تک قائم ہے ۔ ان کی بعد کی تحریروں پر کچھ تجزیے اور مضامین اردو اور انگریزی میں شائع ہوئے ۔ بہت کم انگریزی میں شائع ہوئے ۔ جب کہ زیادہ تر قارئین جب ان کا نام لیتے ہیں تو " آگ کا دریا" کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ اس رویے کا کوئی جواز نہیں ۔
صرف ایک ناول کا مصنفہ ہونے سے بہت آگے ،قرۃ العین حیدر نے " آگ کا دریا " کے بعد اپنے کینوس اور تکنیک کو وسعت دی ہے ۔ انھوں نے مختلف النوع موضوعات ، معاشرتی ماحول اور تاریخی و جغرافیائی چیزوں کو اپنی تحریروں میں بیان کیا ہے ۔ شاید اردو کے کسی دوسرے ادیب نے اتنی کامیابی سے ایسا تجربہ نہیں کیا ہے ۔کیا ہمیں ان کے افسانوں میں سائنس کے فکشن اور فنطاسیہ کے میدان میں سیاحت پر مباحثہ نہیں کرنا چاہیے جس میں جنسی نا برابری کے تعلق سے بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے ؟ کیا ہمیں اس طنزیہ کہانی " فقیروں کی پہاڑی"پر گہری نظر نہیں ڈالنی چاہیے تاکہ وہ ویسے ہی قبول کی جائے جس کی وہ حق دار ہے ؟
قرۃ العین حیدر کا شاہ کار " آگ کا دریا" ایک استثنائی ناول ہے ۔ اس کی حیثیت کچھ حد تک تاریخی ہو گئی ہے ۔ انھوں نے آدرش واد (مثالی) اور سماجی ایکٹی وزم سے جلد ہی خود کو دور کر لیا جسے انھوں نے اپنے ناول میں رچا تھا ۔" آخری شب کے ہم سفر "(1979)ہئیتی اعتبار سے بہترین ناول ہے جو ان کے رویے کی تبدیلی کا وافر ثبوت ہے ،جب کہ ہم یہاں بھی اس اشتیاق ِ نا مکمل کو پاتے ہیں جو مثالی بھی ہے اور یو ٹیپیائی بھی ۔یہ ناول دغا و فریب اور مصلحت کی ایک مہیب تصویر پیش کرتا ہے جس میں انفرادی اور مجموعی ناکامیاں بھی ہیں اور سیاسی خلفشار بھی ۔ اگر کچھ بھی نہیں ہوتا تو ناول کے اختتام پر جو سورج طلوع ہوتا ہے اس میں امید کی ایک جھلک ہے جو اپنے رمز کے بغیر  نہیں ۔" گردش رنگ چمن" میں اس واحد امید کی کرن کو عیار تاش باز دل شاد علی خان کے روپ میں پیش کیا گیا ہے جو ایک جدید پیر صاحب کے زیر اثر بے پروا ، سنگ دل خبطی سے ایک خدا پرست انسان میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ وگرنہ یہاں بھی ہم ویسی ہی کہانیوں سے گذرتے ہیں جن میں نقصان، ناکامی، لالچ ، دغا اور نا خوش گوار اظہاریہ ہیں۔ صرف اصلاحی شخصیت ، اس پر اسرا ر پیر کی معلوم پڑتی ہے ۔ یہ ناول قرۃ العین حیدر کی طاقت اور کمیوں کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔ ایم اسدالدین لکھتے ہیں :
" حیدر کی کہانی کہنے کی شائستگی اگر چہ بہت ہی عمدہ اور اہم ہوتی ہے لیکن اس (اہمیت) میں بھی کمی آتی ہے ۔ ایسا ان کے دوسرے ناولوں میں بھی ہوا ہے ۔ قدرتاً جتنی صاف ستھری ، سنجیدگی اور نفسیاتی گہرائی پر وہ قادر ہیں اتنی ہی وہ پر مذاق اور ہنگامہ خیز مہمل گفتگو پر بھی قادر ہیں (31،2000)۔تعجب خیز طور پر،یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ادیبہ / مصنفہ کو " آگ کا دریا " کی وجہ سے ایک مشکل اور انتہائی دانشور مانا گیا ۔ اکثر و بیشتر معروف و مشہور انداز اپناتے ہوئے بھی انھیں دیکھا  گیا ۔ معمولی کامیڈی اور میلو ڈرامہ کے مناظر سے بھرے ان کے ناولوں " گردش رنگ چمن" اور " چاندنی بیگم" (1990)کو بھی پایا گیا ۔ یہ تحریک برتر دانشوری اور کامیڈی و ہنگامہ خیز محسوسات کے بیچ مصنفہ کے مزاج کو بہتر طور پر درشاتی ہے ۔"جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ، کبھی کبھی ان کے امارت پرستانہ برتاؤ کے باوجود قرۃ العین حیدر مختلف پاپولر کلچر سے اچھی طرح واقف تھیں اور انھوں نے ان کا پوری طرح لطف لیا ۔
ایک اور کشمکش ہے جو کبھی کبھی ان کے رویے میں دیکھا گیا ہے ۔ وہ سماجی نا انصافی کا شدید شعور اور ایک طرف سماج کے اعلیٰ طبقے کی تنقید ، دونوں مل کر اور کبھی یکے بعد دیگرے اور کبھی کبھی یکساں ، درمیانی طبقہ کے لیے شدید حقارت اور اشرافیہ کے ساتھ بہت ہی واضح گرویدگی ، ان کی کشمکش کا بیانیہ ہیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حیدر کی بطور قدامت پسند شہری کے ملامت کی جائے ۔ جیسا کہ کچھ ترقی پسندوں نے انھیں پکارا۔ ان کی (حیدر کی )بے ہودہ صارفیت اور لالچ کی تحقیر اچھی طرح واضح ہے ، اور وہ نئے مواقع سے اچھی طرح واقف ہیں جو 1947کے بعد سماجی تبدیلیوں کے زیر اثر، خاص طور پر مسلم لڑکیوں کے لیے کھلی ہیں ۔ اس لیے ان کی پرانی چیزوں کے لیے نا سٹلجیائی کیفیت اور اس کے رئیسانہ نمائندگی کو کچھ حد تک متوازن کیا ہے۔ ان کی اس سماجی ترقی سے ہندوستانی مسلمانوں کا ادنیٰ اور درمیانی طبقہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ ہم ان کے کچھ نامعقول دلیلوں پر معترض ہو سکتے ہیں لیکن وہ ہمیں ایک بہترین تحفے کے ساتھ لے چلتی ہیں،کہانی سنانے والی کی طرح اور ایک بے سرحد تصورات کے ساتھ بھی (ہمیں لے چلتی ہیں) ۔ ان کی عبارت کے پر تکلف ہونے پر ہم جھلّا بھی سکتے ہیں لیکن دوسرے ہی لمحے ہمیں وہ اپنے مسرت آگیں طعن خود سے مالا مال کرتی ہیں۔ کل ملا کر، کیا ان کی تحریروں کا ابہام انسانی فطرت کا ابہام نہیں ہے ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرۃ العین حیدر بیسویں صدی کی ایک بہت بڑی ہندوستانی ادیبہ ہیں۔ ان کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انھیں اعلیٰ کرسی پر بٹھایا جائے یا ان کی پرستش کی جائے ۔ ہم ان کی خدمت یوں کر سکتے ہیں کہ نوجوان نسل کو ان کی کتابیں پڑھنے پر اکسائیں ، ان کی کتابوں کا ہندوستان کی مختلف زبانوں اور دنیا کی دوسری زبانوں میں ترجمہ پیش کریں اور ان پر اچھی تحقیق اور ان کے تمام مجموعوں پر تنقیدی ریسرچ کر کے ہم انھیں بہترین خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں۔
٭٭٭



نقش خود رنگ

اشعر نجمی


پیدائش کا مقدمہ

جمیل اختر: آپ کی تاریخ پیدائش کے سلسلے میں کافی اختلاف ہے۔ خود آپ نے بھی اس اختلاف کو کافی الجھا دیا ہے۔ اب تک جو تاریخ پیدائش آپ سے منسوب کی جاتی ہے یعنی 20 جنوری 1927 ۔۔۔لیکن یہ تاریخ بھی بقول آپ کے صحیح نہیں ہے تو آخر صحیح کیا ہے؟
قرۃ العین حیدر: (زور دے کر) صاحب اس کا کیا مطلب ہے؟ تاریخ پیدائش کا جو مقدمہ چل رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ فرق کیا پڑتا ہے۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔20 جنوری ہے، 26 ہے یا 27 ہے یا 28 ہے یا سولہ ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ Doesn't Matter۔۔۔ویسے میں پیدا 1927 میں ہوئی ہوں۔
("انداز بیاں اور"، صفحہ: 198)

خود کاشت

میں نے ملکوں ملکوں گھوم کر بہترین کتابیں جمع کیں اور ملکوں ملکوں انواع اقسام کے کام کیے جن کا تعلق میڈیا اور لکھنے سے تھا۔ کراچی اور لندن میں سرکاری افسر اور جرنلسٹ اور دستاویزی فلم بنائے۔
انگریزی میں اخباروں میں لکھنا کالج چھوڑنے کے کچھ عرصے بعد شروع کیا۔ بہ فرمائش فیض صاحب، سب سے پہلے "پاکستان ٹائمز" میں جارج برنارڈ شاہ کے انتقال پر اس استاد بزرگ کے متعلق مضمون لکھا۔ پروفیسر وقار عظیم نے اسے فوراً اردو میں ترجمہ کر کے شاید "نقوش" میں شائع کیا۔
میں اپنی مرحومہ والدہ کی طرح ایک نہایت Gregarious اور قبائلی خاتون ہوں اور ان ہی کے مانند رشتے داروں اور دوستوں کے سلسلے میں بے حد خوش نصیب۔
اپنی تحریروں کا مجھے کوئی Obsession نہیں ہے۔
("فن اور شخصیت" کا آپ بیتی نمبر، ممبئی،
جلد اول، ستمبر 1978، اشاعت: مارچ 1980)

تخلیقی محرکات و توضیحات

ذاتی طور پر میرا بیشتر ادب پروستین A la Recherche Du Temps Perduگم شدہ زمانوں کی تلاش پر مبنی ہے۔
("فن اور فنکار"، ممبئی، جون 1977)
٭
ایک افسانہ بعنوان "ارادے" اپنے نام سے "ادیب کو بھیجا۔ اس پر مبلغ بیس روپے کا انعام ملا۔ (زاہدی صاحب) نے کہا، بس اب تم باقاعدہ افسانہ نگار بن گئیں۔
("کار جہاں دراز ہے"، اول، صفحہ: 447)
٭
میں نے پہلی بار جو یتھارتھ وادی انداز کی کہانی لکھی ، وہ چیلنج کے طور پر لکھی۔ شاید 1957 کی بات ہے ، مجھ سے ایک صاحب نے کہا کہ تم منٹو کی طرح realistic کہانی نہیں لکھ سکتیں۔ میں نے کہا میں لکھ کر دکھاؤں گی۔ مطلب منٹو کی طرح تو نہیں، لیکن میں نے "پت جھڑ کی آواز" لکھی۔ سیدھے سادے بیانیہ اسٹائل میں۔ بالکل realistic۔
("یہ داغ داغ اجالا"، ہندی، صفحہ: 187)
٭
۔۔۔سرکس آیا تھا۔ اس وقت میں امپرنٹ میں لکھتی تھی۔ ہر ماہ میرا ایک کالم ہوتا تھا تو اس کے لیے بھی میں سرکس دیکھنے گئی۔
۔۔۔ایک لڑکی جو تھی ان میں، وہ اینگلو انڈین تھی، وہ بڑی شارپ، بڑی فلسفیانہ باتیں کرنے لگی۔ کہنے لگی کہ میں اپنے لباس پر زرد رنگ کی تتلیاں چپکا رہی تھی کٹ آؤٹ کے کام کی۔ تو مجھے ایسا لگا کہ یہ They are frozen sadness ، "منجمد اداسی" ۔ میں نے سوچا کہ یہ لڑکی جو تار پر چل رہی ہے، باتیں بڑی شاعرانہ کر رہی ہے تو وہ لڑکی جو اینگلو انڈین تھی، مجھے بڑا Fascinate کیا۔۔۔ ہمیشہ سرکس میں کام کرنے والی نے۔ یہ لڑکی جو تار پر چلتی ہیں، قلابازیاں کھاتی ہیں، کتنی مشکل کی کتنی محنت کی روٹی ہے اس کی۔ اس نے مجھے بڑا متاثر کیا۔ وہی پس منظر تھا میرے ذہن میں۔ جس سے افسانے("تار پر چلنے والی لڑکی") کی تخلیق ہوئی۔
("نوائے سروش"، مرتب: جمیل اختر، صفحہ: 109)
٭
۔۔۔ہم گئے تھے ایک آیا کی تلاش میں کلکتے ۔۔۔پہنچ گئے ایک جگہ سونا گاچی۔۔۔وہاں کا ایک بہت بدنام علاقہ ہے طوائفوں کا۔۔۔وہاں دہلیز پر ایک لڑکی بیٹھی سرخ رنگ کی ساڑی پہنے سفید رنگ اس کا، بہت پیاری شکل اس کی۔۔۔وہ ہم لوگوں کو دیکھ کے بار بار نہایت ادب سے نمسکار کر رہی تھی۔ وہ لڑکی مجھے کبھی نہیں بھولی کہ کہاں سے آئی تھی ، کہاں بیٹھی تھی۔ یاد نہیں۔ تو اس پر یہ افسانہ "تلاش "لکھا تھا۔
("نوائے سروش"، صفحہ:109)
٭
مجھے اپنا افسانہ "جلا وطن" بہت پسند ہے جو میرے مجموعہ "شیشے کا گھر" میں ہے۔ میں نے اس کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا ہے جو The Exiles کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس افسانے میں ایک بڑا بھاری پرابلم پیش کیا ہے۔ ذہنی جلاوطنی اس کا موضوع ہے۔
("نوائے سروش"، صفحہ: 120)
٭
میرے خیال میں میرا جو سب سے اچھا ناولٹ ہے، وہ ہے "اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو" ، اور وہ چھپا ہے "بیسویں صدی" میں چار قسطوں میں۔
("شاعر"، ممبئی، جولائی 1978)
٭
"آہ اے دوست" میں نے اس طرح لکھی تھی کہ کالج کے برآمدے میں ایک پروگرام کے لیے ہم لوگ ریہرسل کر رہے تھے۔ کچھ لڑکیاں ڈانس کر رہی تھیں۔ کچھ ایک سکٹ کی پریکٹس میں جٹی تھیں۔ وہیں پر جو باتیں میرے دماغ میں آئیں، لکھیں۔ یہ ایک کہانی سی بن گئی۔ وہ میں نے پرسدھ ماسک پتریکا "ساقی" میں بھیجی اور چھپ گئی۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ میں نیا ٹرینڈ شروع کر رہی ہوں۔
("یہ داغ داغ اجالا"، ہندی ،انٹرویو، صفحہ:188)
٭
۔۔۔ایک اور جرمن میری طرف آیا اور مجھ سے کہنے لگا "میں وہ جرمن آرٹسٹ ہوں جو بمبئی میں چند روز آپ کے یہاں مہمان رہا تھا۔ انڈیا سے جا کر میں نے آپ کو ویتنام سے خط بھی لکھا تھا"۔ "ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے لیکن میں نے تو تم کو ویتنام میں وہ خط لکھنے کے بعد اتفاقیہ گولی کا نشانہ بنا کر مار دیا تھا اپنے ایک افسانے میں۔"
("شاہراہ حریر"، صفحہ: 130)
٭
تقریباً ۔۔۔"سفینۂ غم دل" ، "میرے بھی صنم خانے" کا Extension ہے ۔ (ہنستے ہوئے) کسی نے پاکستان میں لکھا تھا کہ تاش کے پتے پھینک کر پھر دوبارہ وہی پتے نکال لیے ہیں۔
("انداز بیاں اور"، صفحہ: 181)
٭
"فوٹو گرافر" کا جائے وقوع ہندوستان نہیں سری لنکا ہے۔ کینڈی کے ایک گیسٹ ہاؤس میں ایک ساؤتھ انڈین ڈانسر مقیم تھی مع اپنے سازندوں وغیرہ کے۔ اس کو بنیاد بنا کر یہ افسانہ لکھا تھا۔
("قرۃ العین حیدر کے خطوط۔۔۔"، صفحہ: 31)
٭
میری ایک کہانی ہے "کیکٹس لینڈ"۔ بنیادی سطح پر آپ اسے Realistic Symbolistic کہانی کہہ سکتے ہیں۔ یہ میں نے 1949 میں لکھی تھی۔ یا "یہ داغ داغ اجالا"شاید 1950 میں لکھی تھی ۔ یہ بالکل راج نیتک Symbolistic کہانی ہے۔ "کیکٹس لینڈ" کی طرح "یہ داغ داغ اجالا" کو بھی لوگ نہیں سمجھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرگتی شیل آندولن نے کافی برین واشنگ (Brain Washing) کر رکھی تھی پڑھنے والوں کی۔
("یہ داغ داغ اجالا"، ہندی، صفحہ: 186)
٭
میں نے "ایلس ان ونڈر لینڈ" کا ترجمہ کیا جو Serialize ہوا "پھول" میں۔ یہ غالباً 1939 کی بات ہو گی۔ اس کو میں نے مختصر کر کے لکھا۔ میں اس وقت تیرہ یا چودہ سال کی ہوں گی۔
("داستان عہد گل"، صفحہ:314)
٭
میں 1974میں سوویت جارجیہ گئی تھی۔ جارجیہ ، آذر بائیجان اور آرمینیہ۔۔۔میں وہاں ایک چرچ میں گئی۔ وہاں تہہ خانوں میں پتھر کے تابوت تھے۔ سنیاسنوں اور سنیاسیوں کی ہڈیاں ، کھوپڑیاں اور پنجر تھے ان میں۔ روسی گائیڈ نے بتایا کہ یہ آٹھویں صدی عیسوی کے تابوت ہیں۔ وہیں گیارہویں صدی کے ایک چرچ کے اندر مزار تھے۔ اس میں ایک مزار عباسی شہزادے کا موجود تھا۔ بہرحال میں نے یہ کہانی ("سینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات") لکھی کہ تہہ خانے کے دو پنجروں میں جان پڑ جاتی ہے اور آج کی دنیا میں ان کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
جب یہ دونوں پنجر سوویت جارجیہ سے بھاگتے ہیں تو ایک زندہ آدمی ان کے پیچھے دوڑتا ہے اور وہ بھی ویسٹرن یورپ پہنچ جاتا ہے۔۔۔شاید یہ وہی رائٹر تھا جو کچھ روز بعد کرشن ساگر میں کود کر دوسری طرف نکل گیا۔
(قرۃ العین حیدر سے ایک انٹرویو،
"یہ داغ داغ اجالا" ہندی، از ڈاکٹر صادق)
٭
میں نے روسی ناولوں کے ترجمے کیے انگریزی سے۔ مکتبہ جامعہ نے مجھ سے بہت سے ترجمے کروائے روسی کتابوں کے اور بچوں کے لیے بہت ترجمے کیے۔ "شیر کے بچے"، "لومڑی کے بچے"، "بہادر گھوڑا" یہ اور یہ (ہنسی) بے شمار کیے ہیں۔ مجھے پسند تھے۔ مجھے ترجمہ کرنا اچھا لگتا ہے۔
(قرۃ العین حیدر سے گفتگو/داستان عہد گل، صفحہ: 315)
٭
چند سال قبل مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی نے چند روسی ناولوں میخائل شولوخوف وغیرہ کے انگریزی ترجمے بھیجے تھے کہ ان کو اردو میں منتقل کر دیجیے۔ کر دیے۔ اچانک ایک روز ماسکو سے اطلاع ملی کہ آپ کو سوویٹ لینڈ نہرو ایوارڈ دیا جائے گا برائے تراجم اور اس کے ساتھ روس کی سیر۔
("کوہ دماوند"، گل گشت، صفحہ: 163)
٭
میں نے ہنری جیمز کے ناول A Portrait of a Lady کا ترجمہ فرینکلن نیویارک کے لیے بعنوان "ہمیں چراغ ہمیں پروانے" کیا تھا جو مکتبہ جدید، لاہور نے 1958 میں شائع کیا۔
حال ہی میں یہ ترجمہ بطور ڈرامہ لاہور ٹیلی ویژن پر بغیر میری اجازت کے حسینہ معین نے اپنے نام سے نشر کیا۔ فلم ایکٹر شام اور تاجی کی لڑکی سائرہ کاظمی اس کی ہیروئن تھی۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ: 246)


آگ کا دریا

جب میں نے "آگ کا دریا" لکھنا شروع کیا، آخری عہد کی چمپا باجی کی تخلیق کرتے ہوئے اجّو باجی کی اس شخصیت کو سامنے رکھا۔ اور پیرس میں ایک ہندوستانی لڑکی ملی جس کے پیچیدہ کردار نے "سیتا ہرن" کی ہیروئن کی تخلیق میں اعانت کی۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ:93)
٭
تلمیحات اور علامتوں سے عمومی بے نیازی کی وجہ سے مختلف رسالوں میں مزید عجیب و غریب تاویلیں کی گئیں۔ مصنفہ نظریۂ تناسخ کی قائل ہیں۔ مصنفہ بدھسٹ ہیں۔ ہندو ہیں۔ اسرائیل پرست ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دوسری روایت ہندوستان میں یہ تیار ہوئی کہ مصنفہ کو اس ناول کی اشاعت کے بعد پاکستان میں بے حد پرسیکیوٹ کیا گیا۔ ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا اور بے چاری کو وہاں سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لینی پڑی اور ہندوستان میں یہ اب تک مشہور ہے کہ پاکستان میں یہ ناول بین کر دیا گیا تھا۔
دوسری متھ یہ تیار ہوئی کہ اس کتاب کی رائلٹی نے دونوں ملکوں میں مصنفہ کو مالا مال کر دیا۔ جدید اردو ادب کی تاریخ میں یہ پہلا کثیر الاشاعت ناول ہے جس کی رائلٹی کا ایک پیسہ مصنف کو آج تک نہیں ملا۔
یہ زمانہ چور ناشروں کی دھاندلی اور بے ایمانی اور چوری اور سینہ زوری اور بدتمیزی کا ہے۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ: 74، 273)
٭
لوگوں نے یہاں تک کہا کہ میں نے Orlando پڑھ کر "آگ کا دریا" لکھا ہے یعنی اس سے زیادہ حماقت کی بات ہو ہی نہیں سکتی۔
("شاعر"، ممبئی، جولائی 1978)
٭
اس ناول ("آگ کا دریا") کے متعلق افسانہ طرازی اور افواہوں کا سلسلہ اس قدر مستحکم ہو چکا ہے کہ اس کی تردید اب میرے بس کی بات نہیں رہی۔ حال ہی میں قدرت اللہ شہاب مرحوم کا "شہاب نامہ" شائع ہوا۔۔۔اس کتاب میں ایک جگہ وہ فرماتے ہیں۔۔۔"مارشل لا لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے ہاں آئی۔ بال بکھرے ہوئے، آنکھیں پریشاں۔ آتے ہی بولی اب کیا ہو گا۔۔۔تو گویا اب بھونکنے پر پابندی عائد ہے۔ عینی نے بڑے کرب سے پوچھا۔۔۔۔آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ آنسو چھپانے کے لیے اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے کہا ، ارے بھائی روز روز بھونکنا کون چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی بھی تو عجیب نعمت ہے۔۔۔میرا اندازہ ہے کہ۔۔۔سنسر شپ کے تخیل ہی سے اس کے ذہن کو بڑا شدید جھٹکا لگا۔ کچھ عجب نہیں اسی جھٹکے کے رد عمل نے اس کے قلم کی باگ "آگ کا دریا" کی طرف موڑ دی ہو۔" شہاب صاحب بے حد نیک اور شریف انسان تھے۔ غلط بیانی کا الزام نہیں لگایا جاسکتا لیکن ان کے حافظے نے یقیناً ان کو دھوکا دیا ، کیوں کہ یہ ساری ڈرامائی منظر نگاری افسانہ ہے۔ پہلی بات یہ کہ میں بال بکھرا کر آنکھ میں آنسو بھر کر سرد آہیں نہیں کھینچتی۔ 'بھونکنا' وغیرہ میرا طرز گفتگو نہیں۔ دوسری بات کہ "آگ کا دریا" میں 1956 میں شروع کیا تھا اور 57 میں ختم ہوا۔ مارشل لا اکتوبر 1958 میں نافذ ہوا۔۔۔دسمبر 59 میں مکتبہ جدید نے اسے شائع کیا۔۔۔لہٰذا سنسر شپ کے ذہنی جھٹکے نے میرا قلم "آگ کا دریا" کی طرف نہیں موڑا۔
دسمبر 1959 میں اس ناول کی اشاعت کے چند روز بعد ن۔م۔راشد نے اس پر ریڈیو تبصرہ کیا ۔ ("آہنگ"، کراچی)
دوسرا طویل مضمون ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کا تھا جو ساقی (اپریل 1960) میں چھپا۔۔۔پورا مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے کیوں کہ انھی مرحوم نے اسی ماہ جنگ میں سراج رضوی کا "آگ کا دریا" کے خلاف مضمون چھپنے کے بعد سے اپنے مضمون میں صاحبزادی کی خوب خوب تنقیص کی اور "آگ کا دریا" کے جواب میں ایک ناول بھی تصنیف کیا جس کا نام "سنگم" تھا۔
ناول سنسر کیے جانے کی افواہ غالباً اس وجہ سے پھیلی کہ کتابت کی تصحیح کرتے وقت میں نے کئی جملے اور پیراگراف حذف کر دیے تھے جو پروف ریڈنگ کا عام قاعدہ ہے۔
عجلت میں وہ صفحات اسی طرح پریس میں بھیج دیے ۔ ایک باب میں محض "ہندوستان 1947 لکھا تھا۔ اس کی نہایت احمقانہ تاویل یہ کی گئی کہ باقی عبارت سنسر کی نذر ہو چکی ہے۔
(عرض مصنف، "آگ کا دریا"، پہلا ہندوستانی قانونی ایڈیشن، 1989، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی)
٭
یہ بھی ہوا کہ میرے ناول "آگ کا دریا" کے ایک باب کو کتاب سے الگ کر کے ایک علیحدہ ناول کے طور پر شائع کر دیا گیا اور اس کا عنوان رکھا گیا ہے "فصل گل آئی یا اجل آئی"۔
("بیسویں صدی"، دہلی، اکتوبر 1991)

چاندنی بیگم

"چاندنی بیگم" کا ethos اب پاکستانیوں کے لیے اجنبی اور ناقابل فہم ہے۔ بیلا کا خاندان ، ماں، باپ ، پری زادہ گلاب سب خاصے typical ہیں ، بلکہ بیلا کا ہے ہی ایک بالکل نمونہ۔ اب تمھارے ہاں لکھنؤ کی امام باندی کجّن کے نام سے مشہور ٹی وی اسٹار ہیں۔ ان کی بیٹی لندن میں رہتی ہیں اور وہیں گاتی ہیں۔ قنبر علی اور بھی بہت typicalتھے۔ وکی میاں میرے ایک رشتہ دار کا نمونہ ہیں۔
اب "چاندنی بیگم " ، اس کے ریویو پاکستان میں اچھے نہیں ہوں گے کیوں کہ اس میں typicalپاکستانی خاندان بھی پیش کیا ہے (پدرم سلطان) اور پاکستانی اپنی تنقید برداشت نہیں کرسکتے۔ Well-meaning بھی نہیں کرسکتے، اور مظفر علی سید ایک بور، sense of humor سے عاری ، solid بقراط ہیں۔
میں نے لکھنؤ کے بارے میں پچھلے برس دو ناول لکھے ہیں جن میں سے ایک ناول "گردش رنگ چمن" ہے۔۔۔میں نے دوسرے ناول "چاندنی بیگم " میں لکھنؤ کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظر کو پیش کیا ہے۔
("داستان عہد گل"، شہر آرزو، صفحہ: 86، 87)

تنقیدی شعور

اردو میں ناول کی اپنی کوئی روایت نہیں ہے ۔جس نے جی میں جو اور جیسا آیا لکھ مارا۔
("گل صد برگ"، صفحہ: 23)
٭
اردو افسانے میں طرز بیاں، برجستگی، شوخی اور بانکپن محمد علی اپنے ساتھ لائے۔ وہ اتنا انوکھا اور منفر د ہے کہ کوشش کر کے بھی اس طرح کی دو سطریں نہیں لکھی جاسکتیں۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ:100)
٭
رپورتاژ اور سیدھے سادے سفر نامے میں محض انداز بیاں کا فرق ہے۔ رپورتاژ افسانے کی زبان میں لکھا جاتا ہے۔ اس میں زیب داستاں بھی اس حد تک ہوتی ہے کہ اس سے حقائق کی پردہ پوشی نہ ہو یا واقعات کو غلط رنگ میں نہ پیش کیا جائے۔
(دیباچہ، "ستمبر کا چاند"، 15 نومبر 1998)
٭
ہمارے یہاں سوشل ہسٹری پر کم توجہ دی گئی ہے اور اس لحاظ سے ترقی پسند تحریک کا ایک رول بہت ہی منفی رہا کہ انھوں نے ماضی قریب کی ہر چیز کو فیوڈل، بورژوا اور رجعت پسند کہہ کر مسترد کر دیا۔
("فانوس عصر")
٭
میرے نزدیک ادب برائے زندگی کا نظریہ بہتر ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ ادب محض پروپگینڈا بن کر رہ جائے۔
*میں جمالیات کو حقیقت پسندی کے منافی اور داخلیت پرستی پر مبنی نہیں سمجھتی۔ افادیت اور جمالیات کی زندگی سے ہم آہنگی ہی صحیح ترقی پسندی ہے۔
*عصمت، ممتاز مفتی اور منٹو کے بغیر ہمارے جدید ادب کا کینوس مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
*۔۔۔میرا خیال ہے کہ میں ناول کامیابی سے کبھی نہ لکھ سکوں گی۔
*کرشن چندر میرا پسندیدہ فن کار ہے۔
*اپنا موجودہ طرز نگارش اپنانے میں، میں نے ارادتاً قطعی کوئی کوشش نہیں کی۔
*مجھے انگریزی میں لکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔
*ناول لکھنے کا اب تک تو کوئی ارادہ نہیں ہوا۔
["نقوش لطیف" لاہور میں شامل سوال نامے کے جوابات غالباً قرۃ العین حیدر کی پہلی باضابطہ تنقیدی رائے ہیں۔ "نقوش لطیف" کے نام سے احمد ندیم قاسمی نے ایک مجموعہ میں اس دور کی 17 اہم خواتین افسانہ نگاروں کے نمائندہ افسانوں کے ساتھ ساتھ ادبی نظریات پر ان کی رائے ایک سوال نامے کی صورت میں شامل کی گئی ہے۔۔۔۔۔"نقوش لطیف" کچھ عرصہ قبل لاہور سے از سر نو شائع ہوئی ہے۔۔۔۔قرۃ العین حیدر کے جوابات "میرے خیال میں"کے عنوان سے ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کے مرتب کردہ مجموعہ مقالات "قرۃ العین حیدر: ایک مطالعہ" میں بھی شامل ہے۔ ہربنس سنگھ تصور]
٭
*عادت پڑ گئی ہے نقادوں کو ادب میں حکمرانی کی۔(گفتگو/ڈاکٹر جمیل اختر)
*ہمارے ادیبوں کے سامنے کوئی واضح مقصد نہیں۔(گفتگو/شفیع عقیل)
*میرے افسانوں میں بہت ویرائٹی ہے۔(گفتگو/افتخار امام صدیقی)
*کچھ ناقدوں کو زعم ہے کہ وہ ادب میں کنگ میکر ہیں۔(گفتگو/شمس الرحمن فاروقی)
*میں بنیادی طور پر رومانٹک ہوں۔(گفتگو/ابوالکلام قاسمی)
*نقادوں نے فکشن کو سراسر نظر انداز کیا ہے۔(گفتگو/سکریتا پال)
*سرسید بڑے زبردست قسم کے ریفارمسٹ تھے۔(گفتگو/سہیل احمد خان)
*پاکستان ایک مقدمہ تھا جو قائد اعظم نے جیت لیا۔(گفتگو/حسن رضوی)
*ہندوستان میں اردو سیاست کا شکار ہو گئی۔(گفتگو/انیس الحق)
*ہمارے اکثر ناقدین لکیر کے فقیر ہیں۔(گفتگو/شمیم حنفی)
*نقادوں نے خاتون لکھنے والوں کو اگنور کیا ہے۔(گفتگو/آصف فرخی)
*بیشتر نقادوں کو فکشن کی سمجھ نہیں۔(گفتگو/زبیر رضوی)
*اردو میں متوازن تنقید بہت کم لکھی گئی ہے۔(گفتگو/شہزاد منظر)
*عام آدمی میرا موضوع کبھی نہیں رہا۔(گفتگو/پرویز احمد)
*ہندوستان میں اردو کو پاکستان کے قیام کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔(گفتگو/الکا سنگھ)
*اردو ہندوستانی تہذیب کی عکاس ہے۔(گفتگو/نمائندہ فانا)
*تاریخ ایک بنیادی حقیقت ہے۔(گفتگو/جاوید ناصر)
 [کتاب میں شامل تقریباً تمام انٹرویو ہندو پاک کے اہم ادبی رسالے یا اخبار میں شائع ہو چکے ہیں۔ صرف ایک شفیع عقیل کا انٹرویو ایسا ہے جو کہیں نہیں شائع ہوا ۔ پرویز احمد کا انٹرویو ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ میں نے تمام انٹرویوز کے عنوانات کی بنیاد قرۃ العین حیدر کے چبھتے ہوئے جملوں کو بنایا ہے۔ جمیل اختر
"نوائے سروش" (قرۃ العین حیدر سے بات چیت)، مرتب: ڈاکٹر جمیل اختر، انٹرنیشنل اردو فاؤنڈیشن، دہلی، پہلی بار، نومبر 2001]
٭
1898 میں لاہور سے "تہذیب نسواں" کا اجرا ہو چکا تھا۔ اس زمانے میں مولوی محبوب عالم کا "شریف بی بی" بھی نکلنا شروع ہوا۔ اس طرح عورتوں کی جرنلزم کی بنیاد پڑی۔ 1908 میں رسالہ "عصمت" جاری ہوا۔ "عصمت" ہمارے ملک کی سماجی تاریخ میں ایک بے حد اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ زنانہ صحافت کا موثر اور زبردست انسٹیوشن "عصمت" اور "تہذیب نسواں" جیسے رسالوں کا مرہون منت ہے۔
("داستان عہد گل"، مآخذ، صفحہ:342)
٭
میں ادب میں "لیڈیز کمپارٹمنٹ" اور "صرف عورتوں اور بچوں کے لیے" کی قسم کی تخصیص کی ہمیشہ سے مخالف ہوں لیکن اس "غزل نمبر" میں ایک زنانہ ڈبہ بھی شامل ہے۔کیوں کہ پیشتر تذکروں میں پرانی شاعرات کو نظر انداز کیا گیا ہے یا ان کے اکا دکا شعر شامل کیے جاتے تھے۔
("فن اور شخصیت"، ممبئی، غزل نمبر،
جلد۔4، شمارہ۔6، مارچ 1978)
٭
مصلحتی تنقید ۔۔۔اردو میں کافی رائج ہے۔ اس نوجوان ادیب اور شاعر کا حالیہ واقعہ عبرت پکڑنے کے لیے کافی ہے کہ جب وہ مالی لحاظ سے صفر تھا تو اس کی تخلیقات پر کسی نے کچھ نہ لکھا مگر جب وہ کروڑ پتی وغیرہ بنا تو اسے الیٹ اور حافظ اور مولانا روم سے بھی برتر ثابت کیا گیا۔
("داستان عہد گل"، صفحہ:221)


آزردگی

یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ "اداس نسلیں" کے متعدد ابواب میں "میرے بھی صنم خانے"، "سفینۂ غم دل"، "آگ کا دریا" اور "شیشے کا گھر" کے چند افسانوں کے اسٹائل کا گہرا چربہ اتارا گیا ہے۔ خفیف سے رد و بدل کے ساتھ پورے پورے جملے اور پیراگراف تک وہی ہیں۔ لیکن آج تک سوائے پاکستانی طنز نگار محمد خالد اختر کے کسی ایک پاکستانی یا ہندوستانی نقاد کی نظر اس طرف نہیں گئی، نہ کسی نے اشارتاً بھی اس کا ذکر کیا۔ کیا یہ Male Chauvinismنہیں ہے؟
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ: 274)
٭
اب مجھے اتنے طویل عرصے بعد معلوم ہوا کہ "پوم پوم ڈارلنگ" عصمت چغتائی کے نام سے چھپا تھا لیکن اسے چند ترقی پسند ادبی نیتاؤں کی سنڈیکیٹ نے مل کر لکھا تھا۔
("چاندنی بیگم کی واپسی"، ایوان اردو، دہلی، اکتوبر 1991)
٭
تبصرہ کرنے سے پہلے ادب عالیہ کی بو باس سے واقفیت بھی ضروری ہے۔۔۔"کار جہاں دراز ہے" (جلد اول) پڑھ کر بڑا تعجب اور افسوس ہوا۔۔۔۔"کار جہاں دراز ہے" قسم کی تصنیف میں ایک وسیع تاریخی اور عمرانی اور ادبی کینوس پیش کرتے ہوئے بڑے سے بڑا مورخ اور ریسرچ اسکالر چند غلطیاں ضرور کرسکتا ہے۔
("بلٹز"، ہفتہ وار، ممبئی، سنیچر 25 مارچ 1978)

معاصرین

ان (ن۔م۔راشد) کے تازہ ترین مجموعۂ کلام "لا مساوی انسان" کی کچھ نظمیں ایران میں، میں نے ان کے ساتھ بیٹھ کر با آواز بلند پڑھیں اور نتیجہ نکالا کہ Poetry is a condition of musicوالی بات ان کی نظموں کے سلسلے میں صحیح ہے۔
(ن۔م۔راشد/قرۃ العین حیدر، "گفتگو"11، 14 ستمبر 1975)
٭
جاں نثار اختر کی مارکسٹ، روحانی، آدرش وادی، غنائیہ شاعری کے متعلق اس شمارے میں اردو کے چند نقادوں ، شاعروں اور ادیبوں کے مضامین شامل ہیں۔ لہٰذا مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں لیکن "خاک دل" میں مجھے "آشا کے منوہر پھول کھلے"، "ہردے کا کنول مسکایا"، (گاندھی جناح ملاقات) "مزدور کے سادہ ماتھے پر گلرنگ شفق لہرانے لگی" جیسے افسوس ناک اشعار کے ساتھ ساتھ اچانک "چاند سے جب بادل گذرا"، "دل سے گذرا عکس تمھارا" اور "ریاست" جیسی نظم بھی ملی۔
("فن اور شخصیت"، ممبئی، جاں نثار اختر نمبر)
٭
ہر عہد اپنے ایک شاعر کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ یہ فیض صاحب کا دور ہے اور یہ دور "نقش فریادی" کی اشاعت کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ فیض صاحب کی کمیونزم، روسی دوستی، بھارت نوازی، پنجابیت، بے پناہ مقبولیت، یہ تمام چیزیں آپ کو کتنی ہی کھلتی ہوں، آپ ان کے متعلق کچھ نہیں کرسکتے۔
موصوف رفتہ رفتہ ایک Cult Figure میں تبدیل ہوتے گئے اور اب ایک نوع کے sagaبن چکے ہیں۔ 1977 میں ایک کتاب لاہور سے چھپی "ہم کہ ٹھہرے اجنبی" جس کا عنوان دراصل "ملفوظات حضرت فیض شاہ جہان دوست" ہونا چاہیے۔
("فن اور شخصیت"، ممبئی، فیض احمد فیض نمبر )
٭
کچھ دیر بعد فیض صاحب نے کافی کی پیالی میز پر رکھ کر سگریٹ سلگایا۔۔۔میں نے ان کو اطلاع دی ،" ہم نے نیا ناول لکھنا شروع کر دیا ہے۔ آپ جلدی سے کوئی نظم کہیے تاکہ ہم اس میں سے عنوان نکالیں۔'داغ داغ اجالا'تو ہم نے کر لیا۔"
"آ گیا۔۔۔آ گیا۔۔۔" میں نے یکلخت اچھل کر کہا، "سفینۂ غم دل، ہو گیا عنوان"۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ:73)
٭
ظ ۔ انصاری سے میری ملاقات غالباً 1963 میں ۔۔۔اور آخری بار غالباً 1980 میں۔ ایک بار مجھ سے الیٹ پر مضمون لکھنے کی فرمائش کی۔۔۔ہوا یہ کہ سردار جعفری نے اپنے کسی مضمون میں الیٹ کو رجعت پسند بتایا تھا۔ اس سلسلے میں "آئینہ" میں ایک بحث شروع ہو گئی اور انصاری صاحب اس کو ہوا دیتے رہے۔
("آجکل"، نئی دہلی، اپریل 1991)
٭
جب سردار کا انتقال ہوا ، میں لندن گئی ہوئی تھی اور وہیں اردو مرکز میں ان کے لیے تعزیتی جلسہ منعقد ہوا اور میں نے اس میں پڑھنے کے لیے ایک مضمون لکھا "مسرت کے جواں ملاح"۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس جلسے کے بعد میں نے وہ مضمون وہیں کہیں رکھ دیا اور ہال سے باہر آ گئی اور اس کے بعد وہ مضمون کھو گیا۔
("گل صد برگ"، ہماری سلطانہ آپا)
٭
اب مجھے کسی ہم قلم بزرگ ، ساتھی یا دوست کی یاد میں لکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ منٹو، مجاز، محمود نظامی، صدیق احمد صدیقی، شوکت تھانوی، شاہد احمد دہلوی، ڈاکٹر محمد اشرف، مہیندر ناتھ، ن۔م۔راشد اور اب کرشن چندر۔ کیوں کہ Obit Writing ایک ناخوشگوار فریضہ ہے۔
("ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے"/گل صد برگ)
٭٭٭



خط گلزار

قرۃ العین حیدر


محمد عمر میمن کے نام

22 اکتوبر 81ء
بمبئی

جناب ممد عمر میمن صاحب!
(عمر بھائی وزکانسن والا)۔پہلے بج نس کی بات۔دیکھو عمر بھائی ہمارے کو مالوم نہیں نکّاد لوگ ہمارے لیے جو لکھتا ہے وہ ہمارے پاس موجود نہیں۔جیادہ تر نکّاد لوگ ہمارے کو ایک دم کنڈم بات بولتا ہے۔ اور ہم نے آج تک اپنے بارے میں تعریف اور تنقید کے آرٹیکل کا لسٹ بنا کر نہیں رکھا تو تم کو کیا بھیجیں گا؟ اپنا سر؟ ادھر سیٹھ گوپی چند نے جو چوپڑی چھاپا اس میں ہماری بابت کچھ آرٹیکل ہے، وہ بانچ لو۔ اور کچھ اپنی عقل کام میں لاؤ۔ تم کو دوسروں کے آرٹیکل کی کیا جرورت ہے ، اپنی عقل سے لکھو۔
دوسری بات یہ کہ کارلو کو ہم اپنے افسانوں کا پلندہ بھیج چکا ہے جو ہم نے خود ترجمہ کر کے ویکلی میں چھاپا تھا۔ وہ سب اشٹوری کارلو کے پاس ہے۔ اس کو فون مارو کہ سب کی Xerox جیروکس بنوا کر تم کو بھیج دے، اس میں سے تم ایک دو اپنی مرضی کی چھانٹ لو۔
تمھارا آرٹیکل سیٹھ گوپی چند نے کیوں نہیں چھاپا، اس میں کھراب بات کیا تھا؟ ہمارے کو یاد نہیں۔ باقر مہدی نے اس کی کیا وجہ لکھی ہے ہمارے کو بتاؤ۔
"آگ کا دریا میں(؟) وجودیت" ایک مضمون وحید اختر نے لکھا تھا۔ ایک مضمون اسی ناول پر بے حد طویل ڈاکٹر راہی معصوم رضا نے لکھا تھا۔ علی گڈھ کے رسالے" اردو ادب" میں شمارہ 3، 1965 ۔ اتفاق سے اس کا تراشہ اس وقت مل گیا۔ صابر دت کا ہے۔ ایک مضمون احمد ندیم قاسمی نے عرصہ گذرا، "میرے بھی صنم خانے "پر لکھا تھا۔ باقی یاد نہیں۔
اپنا میم صاحب اور بابا لوگ کو ہمارا دعا پیار دینا مانگتا۔ اب لیٹر خلاص۔
فقط۔عینی
٭٭٭
ماخذ:
http://esbaatpublications.com/esbaatmag/2011/02/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
