﻿بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 
 
محامد محمدؐ

 
)مجموعۂ نعت سیدِؐ عالمیاں(


 خالد علیم 
 
  


انتساب
مدّاحِ پیغمبرؐ فردوس مقام حافظ افضل فقیر مرحوم کے نام

خالد علیم 

ہر حرف ہے مانندِ زمرُّد روشن
تشدید و زیر و زبر و مَد روشن
اوصاف و محامدِ محمدؐ سے ہوا
عالم عالم چراغِ اَبجد روشن
 
محامدِ محمد


 

کیا لکھوں حضورؐ کا قصیدہ:: ہر لفظ ہے پیرہن دریدہ

تاہم اب آخری صورت میں امید کا ایک پہلو ضرور ہے ،جو اِن پیرہن دریدہ لفظوں کے ایک ایک تار، ایک ایک حرف کو لائق اعتبار بنا دے۔ لیکن امید کا یہ پہلو بھی شاعر کے فکری خشوع و خضوع اور اس کی طبعی نیاز مندی کے بغیر ممکن نہیں۔ شرط یہ ہے کہ شاعر کی طبعی نیاز مندی جذبات کی وحدتِ تسلسل میں پیرایہ نعت میں ڈھل کر اپنی معنوی و فنی تب و تاب حاصل کر لے، کچھ اس سلیقے سے کہ وجودِ بے حضور    فکر و تخیل کا شہپر اوڑھ کر دربارِ اقدس کی فضائے تقدیس میں جا پہنچے اور مجسم نغمہ تقدیس بن جائے اور پھر روح کا ایک ایک تار اس نغمہ تقدیس کے لحنِ سرشار سے جھنجھنا اٹھے اور کیفیت یہ ہو کہ نگاہ سراپا عجز ہو، دل اس روضہ پُر سرور کی جالیوں میں سمٹ جائے اور وجود ، حضوری کی سرمدی اور نور پاش فضا میں تحلیل ہو جائے ۔ اگرچہ نعت کا حق پھر بھی ادا نہ ہوگا، البتہ اظہارِ عجز و محبت کی ایک صورت ضرور نکل آئے گی۔۔۔مجھے اس اظہارِ عجز و محبت سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس نارسائی کے باوجود اگر کوئی مصرع  یا ایک آدھ شعر نبی آخر الزماںؐ کی مدحت میں کوئی تاثر پیدا کر سکا ہو تو یہ محض عطائے خداوندی ہے۔  
اس احساس کے ساتھ اِس مجموعہ پر تقریظی کلمات کے سلسلے میں نہایت گرامی قدر حفیظ تائب صاحب ، ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب اور پروفیسر جعفر بلوچ صاحب کا انتہائی ممنون ہوں کہ انھوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے مجھے وقت دیا اور اپنی گراں قدر آراء سے مستفید فرمایا۔ جعفر بلوچ صاحب نے قدرے تفصیل سے میرے اور والد گرامی حضرت علیم ناصری کے حوالے سے ایک تعلقِ خاطر کے ساتھ جن خیالات کا اظہار فرمایا ، میں سمجھتا ہوں یہ ان کے خالصتاً مشفقانہ جذبات کا اظہار ہے۔میں ان کا ممنون ہوں۔ ۔۔ اور مجھے اس پر فخر ہے کہ شاعری کے آغازِ سفر ہی میں نعت کی طرف مائل ہونے اور با قاعدہ نعت کہنے کی کوشش میں والد گرامی کی تربیت و رہنمائی،ذوقِ خاص اور سب سے بڑھ کر پیغمبر آخرالزماں،     خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے اس فرض کی ادائی کا عملی پہلو ہے جو قرآنِ حکیم میں مذکور ہے  : اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَۃ‘ یُصَلُّوْنَ عَلیَ النَّبِی یٰاًیُّہَا الّٰذِینَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلّمِوْا تَسْلِیماً۔           (الاحزاب۔۵۶)
اپنی نعتیہ شاعری کے حوالے سے اُن دو تحریروں کے اقتباسات بھی اس مجموعہ میں شامل کر رہا ہوں جو کچھ سال پہلے شائع ہوئیں۔ صاحب فکر شاعر حامد یزدانی کا مضمون ماہنامہ ’’شام و سحر ‘‘ کے نعت نمبر۔۶ میں میری نعتیہ شاعری کے جائزے کے طور پر شائع ہوا تھا۔اس طرح منفرد سخنور اور بے مثال  طرزِ اظہار کے نعت گو شاعر جناب خالد احمد کی تحریر ان کے کالم ’’لمحہ لمحہ‘‘ کے حوالے سے روزنامہ ’’ امروز‘‘ میں میرے نعتیہ قصیدہ ’’محامد‘‘ کے متن کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ انھوں نے سترہ سال پہلے جس خاص رنگ و آہنگ اور اپنے مخصوص پیرایہ اظہار میں میرے نعتیہ قصیدہ پر اپنی رائے دی، میرے لیے بہرطور کسی اعزاز سے کم نہیں۔ مجموعے کا انتساب نہایت قابل احترام نعت گو شاعر حافظ محمد افضل فقیر مرحوم کے نام ہے۔    حافظ صاحب کی با کمال شخصیت ، اُن کی نعتیہ شاعری بالخصوص ان کی رباعی گوئی کے حوالے سے مجھے اُن سے ایک دلی تعلق رہا ہے۔  وہ عالمانہ بصیرت اور عربی، فارسی اور اردو زبان و ادب پر گہری نظر کے ساتھ  علمِ عروض پر جس قدر دسترس رکھتے تھے، اہل نظر اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔رباعی کی فنی نزاکتوں اور    طبعی لطافتوں سے جتنے وہ آشنا تھے، شاید ہی کوئی ہو۔ مجھے ان کی دلکش گفتگو، اور اُن کی شفیقانہ اور استادانہ رفاقت کے باعث کم عمری ہی میں رباعی کے فنی رموز اور اس صنف سخن کی لطافتوں سے جو آگاہی ملی، وہ شاید تمام عمر کے مطالعے اور تجربے سے بھی حاصل نہ ہو سکتی۔ بالخصوص اُن کے اس اندازِ نظر سے کہ: ’’رباعی ۔۔۔اپنے زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال کے باعث ملاءِ اعلیٰ سے قلب شاعر پر نازل ہونے والے ہر لطیفہ نور کو اس کی رعنائیوں سمیت اپنے اندر سمیٹ سکتی ہے‘‘  میں غیر محسوس انداز میں اِس کی لطافتوں کا اسیر ہوتا گیا اور تخلیقی لمحات میں دیگر اصناف شعر کے مقابل جتنی آسانی اِس صنف سخن نے مہیا کی، مجھے یہ اندازہ کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی کہ اس کے زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال میں فکر و فن کی کتنی لطافتیں پنہاں ہیں، اور اظہار و بیان میں کس قدر دلکشی پیدا ہونے کا سلیقہ موجود ہے۔  رباعی کے دو مصرعوں میں حافظ محمد افضل فقیر مرحوم کے نام انتساب کو بھی میں اُن کی لطافت فکر اور تربیت نگاہ کا عطیہ سمجھتا ہوں۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ زیر نظر نعتیہ مجموعہ کا بیشتر سرمایہ میری شاعری کے ابتدائی تخلیقی دور کا حصہ ہے ، جو ستر کی دہائی کے نصف آخر سے اسی کی دہائی کے نصف اول پر مشتمل ہے۔ یہ وہ دور ہے جب فروغ نعت کی تحریک اپنے پورے زور پر تھی اور نعتیہ شاعری کے افق پر نہایت تابناک ستارے اپنی تخلیقی آب و تاب سے جذبوں اور ذہنوں کو یقین و آگہی بخشنے کا ایمان افروز فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ ان شعراء کی فکری جہت سازی اور باقاعدہ نعت گوئی کے عمل نے اس دور کے ان غزل گو شاعروں کو بھی نعت کہنے کی تحریک بخشی جو ایک وقت میں نعت گوئی کو محض مذہبی ضرورت کی ایک علامت سمجھتے تھے اور اسے کوئی ادبی کاوش قرار دینے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ یہاں میری مراد ان نعت گو شاعروں سے ہے جنہوں نے نعت گوئی کو دینی و ادبی تقاضوں کے تحت اختیار کیا ، نعتیہ مشاعروں کی بنیاد رکھی ، نعت کے موضوع پر مذاکروں اور نعت نمبروں کی عظیم الشان روایت قائم کی۔ ان نعت گو شاعروں میں سر فہرست محترم حفیظ تائب اور خالد بزمی ۔اور قدرے بعد میں خالد شفیق (سابق مدیر ماہنامہ ’’شام و سحر‘‘) اور راجا رشید محمود(مدیر ماہنامہ ’’نعت‘‘)کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ میرے نزدیک یہ وہ قابل احترام شخصیتیں ہیں جن کی تحریک اور عملی کاوشوں کے  زیر اثر آج نعتیہ ادب پر باقاعدہ مجلات شائع ہو رہے ہیں اور اس موضوع پر تحقیقی کام کا سلسلہ مزید جاری ہے۔ ان شعرائے کرام کے علاوہ میں ان بزرگ نعت گو شعراء کو بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتا ، جن کے ساتھ میں اپنے ابتدائے نعت گوئی کے دور میں نعتیہ مشاعروں میں صرف شریک ہی نہیں رہا ، بلکہ ان کی عالمانہ مجلسوں اور ان کی باہمی علمی گفتگو سے ایک خاموش طالب علم کی طرح استفادہ بھی کیا۔ ان میں نظیر لدھیانوی ،عبدالعزیز خالد، عارف عبدالمتین، حافظ لدھیانوی، حافظ محمد افضل فقیر،  یزدانی جالندھری، انور فیروز پوری، راسخ عرفانی اور       راز کاشمیری کے مشفقانہ حسن نظر اور اُن کے رشحاتِ قلم نے مجھے باقاعدہ اسیر رکھا اور میرے تخلیقی جذبے نے ان کے جذبہ و فکر اور ایمان افروز نعت گوئی سے اعتبار حاصل کیا۔ اب ان بزرگ شخصیتوں میں سے عبدالعزیز خالد کا دم غنیمت ہے۔  
 آخر میں اپنے دوست مشہور شاعر سعد اللہ شاہ اور نوجوان شاعر آصف شفیع کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے جن کی خصوصی دلچسپی سے اس مجموعہ نعت کی اشاعت ممکن ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان کی نگاہِ التفات  نہ ہوتی تو نہ معلوم اس کی اشاعت ابھی کتنی مدت اور معرضِ التوا میں رہتی۔ میں اُن کا ممنون ہوں۔ 
 خالد علیم     ۱۷ جنوری ۲۰۰۴ء  


اِبتدا

تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے
مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے
تو نورِ مسجد و معبد، تو میرا ربِّ اَحد
مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے
جو لب پہ جاری ہو ُسبْحَانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ
تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے
میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری
میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے
میں تجھ سے چاہوں مدد نعت مصطفےٰ ؐ کے لیے
مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے
تری خبر مجھے دی ہے مرے پیمبرؐ نے
کہ تجھ سے ربط پیمبرؐ سے اِرتباط میں ہے
پیمبرؐ عربی قلب و جاں کا سرمایہ
اُسی سے خالد افسردہ اِنبساط میں ہے





فکرِ نعت


دانائیاں تمام ہوئی جب جہان سے
اُترا نبیؐ کا نطق جمیل آسمان سے
اِنساں کو دے گیا وہ عجب جاں گدازیاں
جو لفظ بھی اَدا ہوا اُنؐ کی زبان سے
جیسے مرے حضورؐ نے کیں پاسبانیاں
ممکن ہوئیں نہ اور کسی پاسبان سے
سچ ہے، خدا کے بعد مقامات میں عظیم
کوئی نہیں ہے میرے پیمبر کی شان سے
مدحت کی شاہراہ پہ کیسے رواں ہو فکر
موضوع یہ بلند ہے میرے بیان سے
لیکن یہ فکرِ نعت کا ہے معجزہ کہ میں
آیا یقیں کی راہ پہ، نکلا گمان سے
خالدؔ میں نعت گو کا پسر ہوں تو کیوں نہ ہو
ذکرِ رسولؐ ، اور مرے خاندان سے!
 




ذکرِ نعت



آنکھیں جھکیں جو بابِ رسالت پناہؐ پر
عُقدے کھلے جمال کے میری نگاہ پر
ہے نور کی فضا تو سُبُک سیر کیوں نہ ہوں
توصیف شاہؐ میں مرے لفظوں کے شاہ پر
مدحِ نبیؐ کا مجھ کو سلیقہ ، نہیں نہیں!!
اُسلوبِ کوہ بھی کبھی کھلتا ہے کاہ پر!
ذرّے کی کیا بساط کہ وہ تذکرہ لکھے
آفاقِ بے کنار کے خورشید و ماہ پر
یہ تو بس اک ذریعہ اِظہارِ شوق ہے
اس کا بھی اِنحصار ہے عجز نگاہ پر
کھل جائے اے خدا! سفر نعت کے لیے
منزل کی راہ، خالد گم کردہ راہ پر
قدموں میں رہ گزارِ پیمبرؐ ہو اور بس!
ہو لُطفِ خاص مجھ سے اسیر گناہ پر!
ہو خیر کا ضمیمہ مری سرنوشت میں!
سر نامہ کرم مرے حال تباہ پر!
میری یہی دُعا ہے کہ رکھوں نہ میں کبھی
اپنے عمل کی فکر کسی اِشتباہ پر
رہبر ہو میرا راہبرؐ جادہ یقیں
اور ہو سفر تمام فلاح و رِفاہ پر
 

عجز اِظہار

وہ شہنشاہؐ معظم، وہ رسولؐ اکرم
معدنِؐ علم و ادب، مخزنِؐ ایقان و حکم
آبروئےؐ حرمِ پاک، وقارِؐ عالم
آدمیت کا بھرم، عظمتِؐدینِمحکم
اُس کی توصیف مرے حیطہ دانش میں کہاں
لڑکھڑاتا ہے قلم اور لرزتی ہے زباں
قوتِ فن کی بدولت ہو بیاں نعتِ رسولؐ
اُلفتِ سیدِؐ عالم کو نہیں ہے یہ قبول
جذب اور کیف سے ہوتا ہے معانی کا نزول
حاصل سوزِ دروں ہی ہیں محبت کے اصول
آنکھ جب فرقتِ سرکارؐ میں نم ہوتی ہے
مدحت سرورِؐ کونین رَقم ہوتی ہے
نعت کے واسطے میں سوز دوامی چاہوں
جذبہ قدسی و بوصیری و جامی چاہوں
فکر سعدی و نظیری و نظامی چاہوں
لہجہ حضرت اقبال و گرامی چاہوں
ہو مرے فکر میں خالد وہ روانی پیدا
ایک اک شعر میں ہو حسن معانی پیدا
 



نعت رسول کریمؐ


نعت رسول کریمؐ سوز و گداز و سرور
نعت رسول کریمؐ کیف شراب طہور
نعت رسول کریمؐ جاں کو سرودِ نشاط
نعت رسول کریمؐ قلب و نظر کا حضور
نعت رسول کریمؐ عکس تمنائے ذات
نعت رسول کریمؐ چشم بصیرت کا نور
نعت رسول کریمؐ میری متاع حیات
نعت رسول کریمؐ دولت فہم و شعور
نعت رسول کریمؐ علم و خبر کا نزول
نعت رسول کریمؐ فکر و ہنر کا ظہور
نعت رسول کریمؐ گنج خلوص و یقیں
نعت رسول کریمؐ فقر و غنا کا وفور
نعت رسول کریمؐ رنگ صدائے حرم
نعت رسول کریمؐ موج ہوائے دبور
نعت رسول کریمؐ زمزمہ جاں فروز
نعت رسول کریمؐ کیف و کم صبح طور
نعت رسول کریمؐ ورد لب جبرئیل
نعت رسول کریمؐ لطف خدائے غفور
نعت رسول کریمؐ حصن بقائے دوام
نعت رسول کریمؐ سلطنت بے ثغور
نعت رسول کریمؐ سلسلہ صبح و شام
نعت رسول کریمؐ کار سنین و شہور
نعت مری آرزو نعت مری جستجو
نعت مری زندگی نعت مری آبرو
کیسے کروں نعت میں اُس کے محاسن بیاں
میرا بیاں بے اثر، میری زباں ناتواں
میں ہوں غریب و فقیر، بے بصر و کم سواد
وہ ہے حبیبؐ خدا، فخر زمان و مکاں
اُس کے مراتب کا ہے کون شریک و سہیم
اُس کے مقامات میں کون ہوا ہم عناں
کحل جواہر سے کم خاک مدینہ نہیں
دل کو حیات آفریں اُس کا درِ آستاں
وہ ہے مجسم عطا، وہ ہے سراپا کرم
پشت پناہ جہاں، چارہ گر بے کساں
تیرگی کفر میں بھٹکے ہوئے راہرو
اُس کے کرم سے ہوئے راہبران جہاں
ایک کلام خدا، ایک پیام رسولؐ
اِس کے سوا یہ نظر جا کے ٹھہرتی کہاں
مجھ کو ملے گا ضرور ساحل لطف و عطا
بحر محبت میں ہے میرا سفینہ رواں
اُس کے کرم سے مجھے وصف بیانی ملی
عقل کہاں راہبر، فکر کہاں پاسباں
مقتدر و محتشم ،کون و مکاں کا امیرؐ
خالد بے ننگ و نام اُس کی گلی کا فقیر

 

نعتیہ قصیدہ

(تمہیدی غزل)
دیتا ہوا رات کو درس فنا آفتاب
صبح جمال یقیں لے کے چلا آفتاب
شرق سے نکلا ادھر لے کے نوید سحر
محو طواف حرم شب کو رہا آفتاب
دیکھ اے چشم فلک وادی فاران سے
روشنیوں کے جلوس لے کے اٹھا آفتاب
تیرگی ذہن میں نور فشاں ہے سحر
دل کے دریچے سے ہے چہرہ کشا آفتاب
غم کے اندھیروں میں ہے جلوہ نما داغ عشق
چشم جہاں سے کبھی چھپ نہ سکا آفتاب
اُس کے اجالوں سے ہے شمس و قمر کو فروغ
اُس کی کرن ماہتاب اُس کی ضیا آفتاب
دل کے شبستاں میں ہے اُس کی ضیاؤں سے نور
سقف تمنا پہ ہے جلوہ نما آفتاب
خالد آشفتہ کر اُس کا قصیدہ رقم
نوکِ قلم سے تراش ایک نیا آفتاب


***

پردۂ آفاق میں ڈوب گیا آفتاب
ہونے لگا خیمہ زن شب کا طلسمِ حجاب
چلنے لگی دہر میں بادِ سمومِ فریب
پھیل گئی چارسو تیرگیِ اضطراب
بڑھنے لگی ہر طرف قہر و ہلاکت کی لہر
گرنے لگی جبر کی برق سراپا عتاب
گل کدۂ زیست تھا دشت سکوت ضمیر
خامش و بے صوت و رنگ مثل شبستانِ غاب
عقل و خرد پر محیط وہم و گماں کا فسوں
حسن نظر بھی سراب نور سحر بھی سراب
کبر و رعونت تمام قلب و نظر کے امام
ذہن بشر پر مدام مرگ خودی کا سحاب
بادیہ گردان دہر جن کے لیے صبح و شام
کذب و دغا ہم سفر جور و جفا ہم رکاب
جبر غلامی میں تھا ہر بشر ناتواں
اور ضعیفوں پہ تھا ظلم و ستم بے حساب
بندہ مجبور پر یہ ستم ناروا
ایک مسلسل سزا ایک سراپا عذاب
سینہ آدم میں تھی آتش ایمان سرد
نار جہنم کا تھا بولہبی التہاب
فتنہ گری سو بہ سو راہزنی کو بہ کو
وائے جہان خراب! وائے جہان خراب!
ظلمت اوہام میں قافلہ بے درا
ڈھونڈ رہا تھا ابھی خیمہ شب کی طناب
تیرگی کفر تھی تا بہ اُفق سرگراں
نور ہدایت ادھر کھانے لگا پیچ و تاب
ہونے لگی یک بیک شب کی ردا تار تار
بطن حرا سے اٹھی اک سحر انقلاب
ہونے لگا چارسو روشنیوں کا عمل
اور اُترنے لگا چہرۂ شب کا نقاب
تیرہ و تاریک رات ڈھلنے لگی نور میں
لیلی شب کا غرور ہونے لگا آب آب
فرش زمیں پر بچھی کاہکشاں کی بساط
خاک عرب بن گئی آئنہ ماہتاب
ہونے لگا ضو فشاں ذرہ ہر رہ گزر
محو طرب ہو گئے چرخ پہ نجم و شہاب
عرش ہوا نغمہ خواں جھکنے لگا آسماں
اور زمین حجاز ہو گئی گردوں رکاب
غنچے لہکنے لگے دشت مہکنے لگے
اور نکھرنے لگا رنگ قبائے گلاب
گنگ زبانوں سے بھی نغمے ابلنے لگے
اور مچلنے لگا مردہ رگوں میں شباب
کس کا ہوا ہے وردو کون ہوا جلوہ گر
اپنے جلو میں لیے مطلع صد آفتاب
دشت جہاں میں ہوا اُس کا قدم شب چراغ
جس کو خدا نے دیا ہر دو جہاں کا نصاب

***

ہاں وہ رسولؐ انام سرورؐ عالی جناب
بحر رسالت کا وہ اک گہر انتخاب
سائرؐ ہفت آسماں طائرؐ سدرہ مکاں
خاتم ؐ وحی و صحف ملہمؐ ام الکتاب
سیدؐ اہل حرم راہنمائے امم
تاجورؐ محترم خسروِ گردوں رکاب
خرد و کلاں کا ہے وہ ہم قدمِ بے مثال
گمشدگاں کا ہے وہ راہبر لاجواب
اُس کے خصائل بلند اُس کے شمائل عظیم
اُس کے مقامات ہیں بے بدل و بے حساب
روکش مہتاب شب اُس کی ردائے سیاہ
مطلع خورشید صبح اُس کا رُخِ مستطاب
اُس کا نفس مشکبو اُس کی نظر گل فشاں
اُس کا تکلم لطیف اُس کا تبسم گلاب
اُس کی ادا دلنشیں اُس کی ردا عنبریں
اُس کا دہن انگبیں اُس کا سخن مشک ناب
اُس کا بیاں جاں فروز اُس کی زباں دلنواز
اُس کا پیام الہدیٰ اُس کا کلام الکتاب
وہ ہے رفیع المقام وہ ہے بلیغ الکلام
وہ ہے فصیح البیاں، صاحب فصل الخطاب
وہ ہے لسان العرب وہ ہے بیان العجم
دانش و علم و حکم اُس سے کریں اکتساب
وہ شہؐ والا صفات جس کی قلمرو میں ہے
حلم سعادت نشاں علم فضیلت مآب
وہ نظر کیمیا جس سے زمانے میں ہے
صبح یقیں جاوداں شام توہم حباب
وہ نگہ التفات جس کی عطاؤں سے ہے
ایک جہاں مستفیض ایک جہاں فیضیاب
اُس کی سخا یم بہ یم اُس کا کرم جو بہ جو
موج مئے سلسبیل اُس کے دہن کا لعاب
مونسؐ افسردگاں ہمدمؐ آزردگاں
چارۂ غم خوردگاں شافعِ یوم الحسابؐ
چارہ گر و دردمند داد رسِؐ مستمند
گاہ انیسؐ یتیم گاہ جلیسؐ مصاب
گاہ رؤفؐ و رحیمؐ گاہ وسیمؐ و قسیمؐ
گاہ فہیمؐ و علیمؐ گاہ مجیبؐ و مجابؐ
گاہ حمودؐ و حمیدؐ گاہ سعودؐ و سعیدؐ
گاہ مزکیؐ لقب گاہ مطیبؐ خطاب
اُس کا خرام جمیل حسن سحر کی دلیل
بادِ بہار آفریں جس سے کرے انتساب
اُس کے قدم کا فروغ گردِ رہِ کہکشاں
اُس کے نقوشِ دوام جلوہ کونین تاب
جلوہ گہ قدسیاں اُس کا درِ آستاں
گل کدہ رنگ و نور شہر رسالت مآبؐ
جاہ و جلالِ حضورؐ جس کے مقابل حقیر
دبدبہ کیقباد سطوت افراسیاب
وارث اقلیم خلد اُس کے اطاعت گزار
تاجورانِ زماں اُس کے عبید و رقاب
کارگہِ زیست میں اُس کی رضا کے بغیر
کون ہوا سرخرو کون ہوا کامیاب
اُس نے مدوَن کیا ضابطہ زندگی
اہل جہاں کو دیا ایک مکمل نصاب
مردہ دلوں کو دیا درسِ حیات آفریں
بھٹکے ہوؤں کے لیے کھول دی راہ صواب
اُس کا ورودِ سعید کرنے لگا دہر میں
سلسلہ جور کو برہم و نا کامیاب
ضربت توحید سے گرنے لگے بت کدے
مٹنے لگا خاک میں لات و ہبل کا شباب
نور فشاں ہو گیا اُس کا ید مستنیر
تیرگی جبر و جور کھونے لگی آب و تاب
بن گئی ارضِ حجاز رشک سپہر کبود
ہونے لگی مشت خاک ہم نفس آفتاب
ٹوٹ گیا ہر طرف جبر و ستم کا فسوں
چھانے لگے چارسو لطف و کرم کے سحاب
کارگہِ دہر سے دورِ جہالت گیا
کھلنے لگے ہر طرف فکر و بصیرت کے باب
اُس کے کمالات کا کس سے ہوا ہے شمار
اُس کی فتوحات کا کون لگائے حساب
اُس کے مقامات کا کون احاطہ کرے
کس سے بیاں ہو سکے مدح رسالت مآبؐ
معترف عجز ہیں خامہ و قرطاس بھی
لا نہ سکے گا شعور اُس کے محاسن کی تاب
اُس کا فراق، اُس کی یاد، اُس کا غم جاں نواز
قلب و نظر کے لیے کیف و کم اضطراب
صاحب عذب البیاں جس کی عذوبت سے ہے
میری شراب سخن رشک لعاب ذباب
اُس کی محبت سے ہے معتبر و محترم
میرا وجود و عدم میرا حضور و غیاب
اُس کے کرم سے ہوئی میرے سخن کی نمود
میری نظر کو ملا اذن شکست حجاب
اُس کی ثنا سے ملی زندگی جاوداں
ورنہ فنا کے سوا کیا ہے وجود حباب
اُس کی عطا سے حکم میرے زبان و قلم
میری صدا دل فروز، میری نوا سینہ تاب
بارگہِ قدس میں اُس کی شفاعت سے ہو
میرا عمل مستحب، میری دعا مستجاب
 



نعت

تو سیدؐ عالی نسب و سرورؐ عالم 
بعثت میں موخر تو سیادت میں مقدم
ظلمت کدہ دہر میں تو مہر جہاں تاب
روشن ہے زمانہ ترے انوار سے پیہم
تکمیل کمالِ بشریت ہوئی تجھ سے
تجھ سے شرف افزا ہوئی ذُرّیتِ آدم
تو نے ہی کیا شرک کا عالم تہ و بالا
لہرا دیا عبدیت معبود کا پرچم
بت خانہ اوہام کو کر کے متزلزل
انسان کا ایمان سے رشتہ کیا محکم
عصبیت ہر رنگ و نسب تو نے مٹائی
تواَم تری نسبت سے ہیں اعرابی و اعجم
اے منبع انوار ترے نور یقیں سے
شیرازہ ظلمات توہم ہوا برہم
اے جان وجود و عدم، اے روح زمانہ
ہر دور کا تو قافلہ سالار معظم
رخشندہ ترے ذکر سے آفاق و سماوات
شرمندہ ترے حسن سے ہے ماہ متمم
دل ہے ترا انوار محبت کا خزینہ
سینہ ترا اسرارِ خداوند کا منجم
آہنگ ترا زیر و بم سازِ رگ جاں
آواز تری زمزمہ کوثر و زمزم
گنجینہ اوصاف حسن ہے تری سیرت
سرچشمہ ایماں ہے تری ذات مکرم
قاموسِ ذکاوت ہے ترا ہر سخن پاک
تنزیلِ صَفا ہے ترا ہر قولِ مسلم
ہر نطق و بیاں میں تو فصیح الفصحا ہے
سب اہل فصاحت ہیں ترے سامنے ابکم
سچائی نے آ کر ترے دامن میں پنہ لی
اے صادق و مصدوق و امیں، صدق مجسم!
ہر ذرہ ترے شہر کا ہے غیرت مہتاب
دریا تری رحمت کا طراوت گہ شبنم
ہر خاک نشیں تیرے سبب ہمسر قیصر
ہر ایک گدا ہے ترا ہم مرتبہ جم
ہر بندہ عاجز کا سہارا ہے تری ذات
اے مونس نادار، دل افگار کے محرم
آرام و سکوں بخش ہے تو دل زدگاں کو
اے ماحی بیداد و ستم، لطف مجسم
ہر ابیض و اسود پہ ہے یکساں ترا فیضان
الطاف و عنایات کے اے چشمہ زمزم!
ہر زہر الم کے لیے رحمت تری، تریاق
ہر زخم جگر کے لیے شفقت تری، مرہم
شاداب ترے لطف سے میرا دل محزوں
روشن ترے پرتو سے ہوا دیدہ پرنم


 

وہ حبیبؐ رب جلیل

رسولؐ عالمیاں، وہ حبیبؐ رب جلیل
سکون قلب پریشاں ہے جس کا ذکر جمیل
خدا کا پاک نبیؐ ، وہ محمدؐ عربی
کمال خلق و محبت کا نکتہ تکمیل
حبیبؐ رب تعالیٰ ، وہ سیدؐ والا
ہے جس کا رتبہ اعلیٰ ورائے عقل و دلیل
وہی معلم اعظم کہ جس سے تا بہ ابد
زمانہ کرتا رہے گا علوم کی تحصیل
وہ محتشم، وہ معظم، پیمبرؐ ملہم
خدا کے بعد نہیں جس کا ثانی تفضیل
نوید عیسی مریم ؑ ، دعائے ابراہیمؑ
وہ نازش بنی ہاشم، وہ فخر اسماعیل
صداقت بشری کا وہ مطلع تاباں
رسالت ابدی کا وہ مقطع تنزیل
تجلی جبل طور اُس کا پرتو نور
فروغ وادی فاراں ہے اُس کا نقش جمیل
وہ ایک امیؐ لقب ، سرورؐ عرب، جس کا
ازل سے تا بہ ابد کوئی ہو سکا نہ مثیل
وہ ایک راہبر منزل یقیں، جس نے
جنودِ بے خبراں کو دیا پیام رحیل
وہ جس کے فیض سے ظلمت گہ جہالت میں
نظر فروز ہے فہم و شعور کی قندیل
وہی ہے عاجز و درماندہ کا انیس و شفیق
وہی ہے بیکس و نادار کا وکیل و کفیل
ہر ایک روز ہے الطاف بے حساب کا روز
کہ اُس کے عہد کرم میں نہیں کوئی تعطیل
بیاں میں اُس کے طراوت ہے صورت شبنم
زباں میں اُس کی حلاوت ہے مثل شہد و نخیل
رفیق اُس کے دو عالم میں سربلند و عظیم
رقیب اُس کے دو عالم میں روسیاہ و ذلیل
اُسی سے زمزمہ جاں کو سوز و ساز ملا
ہے ختم جس کی زباں پر تکلم و ترتیل
دیارِ بعثت احمدؐ ہے مہبط انوار
ہوا پناہ گزیں جس میں کاروان خلیل
نفس نفس ہے جمال حضورؐ سے مخمور
کنارِ راوی و جہلم سے تا بہ ساحل نیل
ہزار گردِ تشکک سے ہو فضا آلود
اُسی کی ذات رہے میرا محورِ تخییل
اُسی کا ذکر مری کائناتِ فکر و خیال
وگرنہ کیا مرا اجمال، کیا مری تفصیل
میں پھر بھی اس کے محاسن بیان کر نہ سکوں
مثالِ خضر اگر مل بھی جائے عمر طویل
شہنشہؐ کرم آثار کے سبب خالد
شب سیاہ میں روشن ہو نور کی قندیل

 



نعت 


اُس نے انساں کو دیا درسِ ھُوَاللَّہُ اَحَد
عالم شرک پہ اک ضرب ہے جس کی آمد
اُس کے اوصاف کا ہوتا ہے وہاں سے آغاز
ختم ہوتی ہے جہاں میری نظر کی سرحد
کیا حقیقت کہ بہ جز نقطہ معدوم نہیں
اُس کے اِجمال پہ تفصیل کے سب حرف و عدد
اس کی دانش کے تفرد پہ تصدق، عالم
اس کی حکمت پہ جہالت کے تعدد کو حسد
ایک امیؐ کہ دو عالم کی حقیقت پہ نگاہ
ایک دانا کہ جو دانائی میں ہے خود ہی سند
اِنتظام اُس کا کہ نظم دوجہاں اُس کا اسیر
اِنصرام اُس کا کہ دشمن بھی پکارے، اَشہد!
کون ہے اُس کے سوا صدق و صفا میں یکتا
کون ہے اُس کے سوا لطف و عطا میں مفرد
اُس کا دستور ہے ہر ایک زمانے کے لیے
اُس کی نسبت سے ہوئے ایک ازل اور ابد
ہو فضیلت عربی کو عجمی پر کیسے
اُس کے منشور میں بس ایک ہیں ابیض اسود
ہم نوا طیبہ و بطحا سے رہے اُس کے سبب
یمن و بلخ و سمرقند و دمشق و مشہد
 

نعت شاہؐ رسل کروں مسطور


نعت شاہؐ رسل کروں مسطور
مجھ پہ ہو رحمت خدائے غفور
میرے فکر و خیال کا محور
شاہؐ کونین، سرورؐ جمہور
لب پہ آیا جو اُس کا ذکر جمیل
قلب مغموم ہو گیا مسرور
مہک اٹھا مشام جاں میرا
آئی خوشبوئے دلربائے دبور
باعث انبساط ذکر اُس کا
وجہِ کیف و نشاط نام حضورؐ
کس قدر میری خوش نصیبی ہے
اُس کی توصیف کا ملا ہے شعور
اُس کی مدحت میں زمزمہ پرداز
سعدی و عندلیب نیشاپور
اُس کے در کا فقیر عالمگیر
خوشہ چیں اُس کے بابر و تیمور
اُس کی سطوت سے ہے سر افگندہ
شان جمشید، شوکت فغفور
ہے تصور میں اُس کا حسن و جمال
ذہن میں ہے تجلیوں کا ظہور
اُس کی صورت منور و تاباں
اُس کی سیرت معنبر و پر نور 
تابش طلعت زمان و مکاں
ماحی ظلمت شب دیجور
جڑ برائی کی کاٹنے والا
دافع کبر و کذب و فسق و فجور
کر کے تفریق خیر و شر اُس نے
ہم کو بخشا ہے زندگی کا شعور
اُن کو ایماں کا ولولہ بخشا
تھے جو بے ہمت اور بے مقدور
وہ کہیں بھی پناہ لے نہ سکا
جو ہوا اُس کے دین سے مفرور
اُس کا دستور وجہ فوز و فلاح
اُس کا منشور امن کا منشور
ایک امیؐ لقب ، رسولؐ عرب
دانش و عقل و فہم کا گنجور
ہے اُسی ذات محترم کے سبب
علم و عرفان و آگہی کا وفور
اُس کی گفتار دلربا میں ہے
لفظ و معنی کا اک جہاں مستور
اُس کے اصحاب، اُس کے حلقہ بگوش
کلفت و رنج میں صبور و شکور
ہے ابوبکرؓ صدق سے صدیق
بولہب کذب سے ہوا مقہور
اُس کے دم سے ہے عطر بیز جہاں
اُس کی مے سے ہے زندگی مخمور
وہ ادب گاہ قدسیاں کہ جہاں
ہے شب و روز رحمت موفور
اُس کے الطاف کا حساب نہیں
اُس کے اکرام بھی ہیں لا محصور
اُس کی کشتی میں جو سوار ہوا
بحر آلام کر گیا وہ عبور
قلب ہے اُس کی یاد سے شاداں
روح جذب و سرور سے معمور
ناتوانوں کا حامی و ناصر
زور معذور، قوت مجبور
عاصیوں کی وہ آخری امید
رحمتؐ کل، شفیعؐ یوم نشور
مونس و چارہ ساز خستہ دلاں
تازگی بخش خاطر مہجور
غم نصیبوں کی غمگساری پر
اُس کو اللہ نے کیا مامور
جس پہ اُس کا کرم ہے سایہ فگن
وہ نہ غمناک ہے، نہ ہے رنجور
جس پہ اُس کی نگاہ لطف ہوئی
اُس کا ہر درد ہو گیا کافور
اللہ اللہ اُس کا خلق عظیم
دوست بھی شاد، غیر بھی مسرور
ہیں ہمیشہ سے خالی از تعطیل
اُس کی رحمت کے سب سنین و شہور
ذات پاک اُس کی ہے، مرا پندار
اُس کے دم سے ہوں میں جسور و غیور
آرزو ہے کہ میرے لب پہ رہے
دم آخر حضورؐ کا مذکور
 


نعتِ سرورِ دیںؐ

سرورِ دیںؐ سرآمدؐ ابرار
اہل ایماں کا قافلہ سالار
اُس کے مداح رومی و جامی
اُس کے وصاف سعدی و عطار
یہ کہاں تاب، یہ مجال کہاں
اُس کے اوصاف کا کروں میں شمار
فکر قاصر، شعور عاری ہے
شیشہ ذہن پر جما ہے غبار
کروں توصیف اُس کی گرچہ مجھے
اپنی بے مایگی کا ہے اقرار
وہ رسولؐ خدائے عز و جل
آسماں جاہ، وہ سپہر وقار
حق نفس، حق زبان، حق آگاہ
خوش نظر، خوش جمال، خوش کردار
صدق و ایمان کا منارہ نور
بحر توحید کا دُرِ شہوار
آدمیت کا مطلع تاباں
بشریت کی دولت بیدار
پاسبان تمدن و تہذیب
دین و ملت کا بانی و معمار
حسن تخلیق انفس و آفاق
زبدتہ الخلق، مبدء الآثار
تاجدارؐ رسالت ابدی
خالق کائنات کا شہکار
خیر و برکت کا منعم و قاسم
صدق و اخلاص کا علم بردار
آشنائے رموز پنہانی
مخزن علم، معدن اسرار
وہ پنہ گاہ دانش و بینش
شہر علم و یقیں کا حصن و حصار
وہ بلاغت کا منبع و منجم
اہل ادراک کا یمین و یسار
وہ فصاحت کا بحر بے پایاں
جس سے ہوتے ہیں مستفید احبار
فصحا کا ہر اک بیان سلیس
اُس کی ترتیل و خامشی پہ نثار
اُس کے نطق بلیغ نے کھولا
حرف و معنی کا عقدہ دشوار
وہ مجسم خلوص و مہر و وفا
وہ سراپا ثبات و صبر و قرار
ابر جود و سخا، سحاب کرم
لطف و رحمت کا آئینہ بردار
سب کو حفظ و اماں میں رکھتا ہے
اُس کا آئینِ عافیت آثار
درد مندوں کے درد کا درماں
غم نصیبوں کا مونس و غمخوار
تہی داماں کا وہ سر و ساماں
زور بازوئے بیکس و نادار
موج در موج ہے کرم اُس کا
لطف اُس کا کنار تا بہ کنار
کرم بے پناہ سے اُس کے
ہوئے ذرے بھی روکش کہسار
اُس کے ابر مطیر رحمت نے
ریگزاروں کو کر دیا گلزار
سارے عالم کو کر گیا سیراب
اُس کی رحمت کا ابر گوہر بار
ذرہ ذرہ ہے اُس کے کوچے کا
رشک مہتاب، آفتاب آثار
نور افشاں ہے مثل صبح ازل
اُس کی پر نور رہ گزر کا غبار
خاک اُس کے وطن کی ہے مجھ کو
مثل کحل الجواہر ابصار
وہ شہؐ بوریا نشیں، جس نے
دی فقیروں کو شاہی اعصار
اُس کے حلقہ بگوش میر و فقیر
اُس کے دریوزہ گر صغار و کبار
ہے قلم رو میں اُس کی، ہفت اقلیم
سارا عالم ہے اُس کا باج گزار
کر دیا ہے بلند دنیا میں
اُس نے انصاف و عدل کا معیار
آدمی کو دیا ہے رتبہ عجز
توڑ کر اُس نے ہر بت پندار
ہوا فخر و غرور کا سر خم
گرے لات و منات استکبار
قصر ایمان کی بنا ڈالی
کر کے ایوان کفر کو مسمار
تھرتھراتے ہیں اُس کی ہیبت سے
کاخ طاغوت کے در و دیوار
اُس کی عظمت کے سامنے لرزاں
کفر و باطل کا لشکر جرار
اُس کی اقلیم خلق میں مفقود
امتیاز اقارب و اغیار
کر دیا ان کو متحد اُس نے
تھے جو آپس میں برسر پیکار
اُس کے حسن نگاہ کا اعجاز
انطباق مہاجر و انصار
کرے قلب و نگاہ کی تطہیر
اُس کی سیرت کا گلشن بے خار
ذہن انساں کو کر گئی تسخیر
اُس کی عظمت کی تیغ جوہر دار
اُس کے خلق مبیں نے کر ڈالا
بت پرستوں کو عابد و دیندار
اُس کی خوشبوئے خلد پرور سے
عنبر افشاں ہوئی ہے موج بہار
اُس کی نکہت سے سرخوش و شاداب
چمنستان عالم افکار
تا بہ یوم النشور ہو خالد
میرا اُس کے ثنا گروں میں شمار
 




نعت

میں بھی لکھوں نعت رسولؐ کبیر
جس کا ثنا گو ہے خدائے قدیر
کرتا رہوں مدح و ثنائے حضورؐ
طائر سدرہ ہو مرا ہم صفیر
جب ہو رواں موج درود و سلام
زینت قرطاس ہو لحن صریر
خوش سخن و خوش دہن و خوش بیاں
خوش نظر و خوش خبر و خوش ضمیر
زلف سیہ اُس کی ہے عنبر فشاں
چہرہ زیبا سحر مستنیر
جسم مطہر سے ہو اُس کے خجل
پیرہن عنبر و مشک و عبیر
اُس کی ردا سے نہ ہو کیوں شرمسار
جامۂ کمخواب، لباس حریر
اہل نظر اُس کی نظر کے غلام
اہل سخن اُس کے سخن کے اسیر
سلطنت قیصری و خسروی
اُس کی غلامی کے مقابل حقیر
بادشہان زماں اُس کے غلام
تاجوران جہاں اُس کے اجیر
چارہ گروں کا ہے وہی چارہ گر
ہے تہی دستوں کا وہی دستگیر
راہبروں کا ہے وہی راہبر
گمشدگاں کا وہ رفیق و ظہیر
خستہ دلوں کا ہے وکیل و کفیل
بے بصروں کا ہے انیس و نصیر
کور نصیبوں کو ہے اُس کا کرم
تحفہ رود عسل و جوئے شیر
مہر و وفا میں ہے سحاب کرم
جود و سخا میں ہے وہ ابر مطیر
غم کے اندھیروں میں نوید سحر
تیرگی دہر میں مہر منیر
بندہ مومن کے لیے نرم خو
بد گہروں پر بھی نہیں سخت گیر
سیرت پاک اُس کی، مری راہبر
اُسوہ اُسی ذات کا، میرا مشیر
کون کرے اُس کے محاسن کا حصر
لائے کہاں سے کوئی اُس کی نظیر
میرے لیے راہنمائے حیات
خالد اُسی کا سخن دلپذیر
 



نعتِ نبیؐ مرسل


کیا لکھوں میں مدحت نبیؐ مرسل
وصاف ہے جن کا خود خداوند ازل
لیکن جب عجز کی ہو دل میں بنیاد
ہوتا ہے خود بخود ہر اک مسئلہ حل
جاری ہیں مری زباں پہ سبحان اللہ
اوصاف و محامد رسولؐ اکمل
اعرابی و اعجمی ہیں جن کے مداح
اُن کی توصیف ہے مرا حسن عمل
وہ سرورؐ سروراں، امیرؐ کونین
وہ سید مرسلاں، نبیؐ مرسل
سلطانؐ جہاں، معلمؐ پیر و جواں
سرخیلؐ شہاں، پیمبرؐ عز وَ جل
کونین پناہؐ و سرورؐ عالمیاں
اقوام و ملل کے تاجدارؐ اول
وہ امی لقبؐ ، وہ دفتر علم و ادب
وہ فاضل و افضل و جمیل و اجمل
کہسار حرا کی دلنشیں گھاٹی سے
لے کر اترے پیمبری کی مشعل
لرزاں ان سے جہان کفر و طغیاں
اُن کی تعظیم کو جھکے لات و ہبل
اُن کا جاہ و جلال اللہ اللہ!
قصر پرویز میں مچائے ہلچل
انوار ہدیٰ کو چارسو بکھرا کر
اقلیم ظلام کو کیا مستاصل
شیرازہ تیرگی کو کر کے برہم
شام ابدیت کو کیا صبح ازل
ظلمت گہ دہر میں ہوئی ہے اُن سے
روشن ایمان و آگہی کی مشعل
دے کر ایمان کا سبق انساں کو
پیدا کیے رحمتوں کے اسباب و علل
نفرت کے جھلستے ہوئے صحراؤں میں
اُن کے لطف و کرم کا برسا بادل
وہ منبع علم جن کی ہر ایک حدیث
قرطاس علوم کی طلائی جدول
جو آپ کا ہے سخن، وہ ہے مستحسن
جو قول ہے آپ کا، وہ قول فیصل
گفتار حضور ہے لسان معسول
ہر قول مسلم ان کا ہے مثل عسل
عشق احمدؐ سے دل اگر ہے خالی
کیا شرح بیان، کیا بیان مجمل
ڈالے جو حضورؐ پر نگاہ تشکیک
خالدؔ وہ آنکھ ہے یقیناً احول
 

حامد و احمد و حمود و محمود
کس طرح کروں میں تیری توصیف رقم
عاجز ہے مری زباں، شکستہ ہے قلم
تو حامد و احمد و حمود و محمود
تو کامل و اکمل و کریم و اکرم
کرتے ہیں تری گلی میں جاروب کشی
خاقان و فغفور ہوں یا خسرو و جم
تیرے خدام، تیرے نوکر چاکر
شاہانِ جہاں سے بڑھ کے ہیں اہل حشم
پندار کے بت ٹوٹ کے گر جاتے ہیں
لہرائے جہاں تیری عظمت کا علم
ہم پایہ آسماں ہے ارض بطحا
ہم دوش ثریا ہیں ترے نقش قدم
ہر سو تری رحمت کا سورج چمکا
وہ دشت عرب ہو یا ہو صحرائے عجم
ہے نام ترا سکون دل کا باعث
ہے ذکر ترا زخم جگر کا مرہم
یہ تیرے فراق کا نتیجہ نکلا
بہتا ہے مری آنکھ سے آب زمزم
 

نعت رسولؐ عربی

اُس کی الفت سے مزین ہے مرے دل کا ورق
وہ رسولؐ عربی، ہادیؐ دین برحق
میرے ایماں کا صحیفہ ہے مرتب اُس سے
جس میں ابہام ہے کوئی، نہ مضامین ادق
وہ بلاغت کا سمندر، وہ فصاحت کا جہاں
وہ کہ ہے کاشف مفہوم کلام مغلق
لب اظہار جو ہو اُس کی صداقت پہ گواہ
سن کے کفار بھی بے ساختہ کہہ دیں، صدق!،
نسب و رنگ کی تفریق مٹا کر اُس نے
بخشا مخلوق الٰہی کو مساوات کا حق
چارسو چھا گیا جب اُس کے کرم کا بادل
کھل اٹھے دشت و بیاباں میں گلاب و زنبق
اُس کی رحمت سے ہوئی عطر فشاں خاک حجاز
اُس کے دم سے چمن دہر میں آئی رونق
بس یہی ایک تمنا ہے، دم آخر تک
مدح سرکارؐ دو عالم میں رہوں مستغرق
یہ بھی ہے مدح پیمبرؐ کا کرشمہ خالد
میری پلکوں کے اُفق پر ہے ضیا ریز شفق
 


توصیف شہنشاہ زمنؐ

یوں نہ ہو میرا شبستان مقدر روشن
لکھنے بیٹھا ہوں میں توصیف شہنشاہؐ زمن
وہ شہنشاہؐ جہاں جس کے تبسم پہ نثار
لالہ و گل کی مہک ،سنبل و سوسن کی پھبن
مستند ہے فصحا کے لیے ہر قول اُس کا
گفتگو جس کی حکم، جس کا سخن مستحسن
ہے پنہ گاہ غریب الوطناں شہر اُس کا
اُس کا دربار ہے سب غم زدگاں کا مامن
برسا الطاف و عنایات کا جب ابر مطیر
نکہت و نور سے لبریز ہوئے برگ و سمن
دشمنوں پر بھی سحاب کرم اُس کا برسے
اُس کی رحمت ہے گنہگار پہ بھی سایہ فگن
اُس کے مہتاب کی کرنوں سے درخشاں ہو جہاں
ظلمت کفر کے وہ چاک کرے پیراہن
کر گئی ظلمت دنیا میں اجالا خالد
اُس کے خورشید جہاں تاب کی ایک ایک کرن


نعت

ترے فراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز
یہی ہے راہرو شوق کے لیے مہمیز
اِسی کے نم سے ہے باقی مری نگاہ کا نور
اِسی کے سوز سے ہے ساز دل نوا آمیز
اِسی کا جذب خوش آہنگ ہے نظر میں کہ آج
مرا کدو ہے مئے سلسبیل سے لبریز
یہی ہے نغمہ، دل افروز ساز جاں کے لیے
اِسی سرود سے پیدا ہے جوہر تبریز
اِسی کی ضرب سے تارِ ربابِ جاں میں سرور
اِسی کا لحن ہے دل کے لیے سکوں آمیز
مرے کلام میں تاثیر اِسی کے دم سے ہے
اِسی سے فکر کی بنجر زمین ہے زرخیز
یہ آرزو ہے بہشت حجاز میں پہنچے
یہی زمین ہے خالد کو خلد عنبر بیز

****
 

مرے کریم! کرم ہو کہ پھر زمانے میں
حریف ملت اسلام ہے جہان ستیز
ہو کوئی چارہ کہ غارت گری ہے شیوہ کفر
بپا ہے ارض کسووا میں فتنہ چنگیز
اُسی سے لرزہ بر اندام خاک بوسنیا
اُسی کے شر سے دل سرب ہے شرار انگیز
نظر فروز ہو آئینہ نگاہ ترا
کہ کھا گئی ہے بصارت کو دانش انگریز
جہان کفر اُسی کی عطا سے زندہ ہے
اُسی کے فیض سے اب تک ہے جام جم لبریز
اُدھر یہود و نصاریٰ کے بڑھ رہے ہیں قدم
اِدھر ہوئی تری امت کے دل کی دھڑکن تیز
یہ تیرے چاہنے والے، یہ تیرے اہل صفا
کریں گے اور کہاں تک جہاد حق سے گریز

 


نعت

سرورِؐ عالمیاں، فخرؐ سلاطین جہاں
جس کی امی لقبنی پر ہو بلاغت قرباں
جس کے ابلاغ نے بخشا ہے صداقت کا شعور
جس کے ادراک سے ہوتا ہے خدا کا عرفاں
جس کے انوار سے ظلمت کو ملے تابانی
جس کے افکار نے انساں کو دیا عزمِ جواں
ناطق وحی و بیاں ہے وہ رسولِ اکرمؐ
آسمانوں سے ہوا جس پہ نزول قرآں
اُس کی تنویر سے روشن ہے شبستان وجود
اُس کی خوشبو سے معطر ہیں قلوب و اذہاں
اُس نے منشور فلاح بشریت دے کر
دین و دنیا کے کیے سارے مراحل آساں
جاوداں ہیں شہؐ ابرار کی عظمت کے نقوش
مٹ گئے قیصر و فغفور کی سطوت کے نشاں
اُس کے اوصاف و شمائل، میں لکھوں کیا خالد
فکر انگشت بدنداں ہے، خرد بھی حیراں
 


نعت

جلوہ حسن کہ جو عالم افلاک میں ہے
اُس کا جوہر تو مدینے کی کف خاک میں ہے
نظر افروز ہے آئینہ سیرت اُسؐ کا
عالم کفر ابھی عقل کے پیچاک میں ہے
کس لیے پوچھتے ہو غیر سے منزل کے نشاں
اپنی منزل تو نقوش قدم پاک میں ہے
کجکلاہوں کی قباؤں میں کہاں ہے وہ جلال
اُس کے اصحابؓ کے جو پیرہن چاک میں ہے
اُس کو اللہ نے ہر دور کی سلطانی دی
راز پوشیدہ یہی نکتہ لولاک میں ہے
لکھ سکے اُس کے محاسن کا بیاں لفظوں میں
اتنی طاقت ہی کہاں خامہ ادراک میں ہے
آپؐ کی چشم کرم کا یہ اثر ہے خالد
نور ایمان مرے دیدہ نمناک میں ہے
 

نعت

نہ قصر شاہ، نہ دربار کجکلاہ میں ہے
قرارِ جاں مرے آقاؐ کی بارگاہ میں ہے
سرورِ دل وہ کسی اور انجمن میں کہاں
جو تاجدارؐ مدینہ کی جلوہ گاہ میں ہے
گل و سمن میں نہ مشک ختن میں وہ تاثیر
جو سرزمین مدینہ کی خاک راہ میں ہے
کہاں ملے گا کسی اور کی نظر سے مجھے
نشاطِ جاں کا جو سامان اُن کی چاہ میں ہے
روا نہیں ہے یہاں امتیازِ رنگ و نسب
ہر ایک خرد و کلاں آپؐ کی پناہ میں ہے
ہوا ہے وردِ زباں جب سے ذکر پیغمبرؐ
سرور و کیف کا عالم دل و نگاہ میں ہے
ہر ایک ذرہ یہاں رشک طور ہے خالد
وہ شان میرؐ اُمم کی خرام گاہ میں ہے
 





نعت رسول



وہ شہنشاہؐ معظم، وارثؐ تاج و سریر
سرنگوں ہے جس کے آگے سطوت میر و وزیر
اُس کی مدحت سے مرے دل کو توانائی ملی
اُس کی سیرت نے کیا زندہ مرا مردہ ضمیر
سادگی محبوب ہے جس کو رسولؐ اللہ کی
ہیچ ہے اُس کے لیے ملبوس کمخواب و حریر
رہبر گم کردہ راہاں، چارہ بے چارگاں
بے نواؤں کی نوا، وہ بے کسوں کا دستگیر
وہ سحاب رحمت خلاق اقلیم زماں
زندگی کی کشت ویراں کے لیے ابر مطیر
سیرت پاک اُس کی ہے قرآن کا ایک اک ورق
اُس کا ہر قول و عمل ہے بے مثال و بے نظیر
اُس کا دستور مکمل وجہ تکمیل حیات
اُس کے اقوال مطہر باعث خیر کثیر
شرک و بدعت کے لیے ہے ضرب حق اُس کا جلال
رشک ماہ و آفتاب اُس کا جمال دلپذیر
روشنی پھیلی اُسی سے چارسو آفاق میں
جس کے باعث آج تک غارِ حرا ہے مستنیر
 


نعت


کیا لکھوں حضورؐ کا قصیدہ
ہر لفظ ہے پیرہن دریدہ
وہ تاجورؐ پیمبراں ہے
اللہ کے بعد برگزیدہ
اُس خواجہؐ خواجگاں کی سیرت
آئین حیات کا جریدہ
وہ سرورؐ کائنات، جس کے
اوصاف ہیں سب کے سب حمیدہ
تائید نبیؐ ہے میرا ایماں
تقلید نبیؐ مرا عقیدہ
انوار حضورؐ کی بدولت
پر نور ہیں میرے قلب و دیدہ
پھل پھول رہا ہے گلشن نعت
خالد ہے شاخ نو دمیدہ
 





نعت شہ والا


ہر ایک سے رتبہ ترا بالا ، شہ والاؐ
اللہ کے بعد افضل و اعلیٰ ، شہ والاؐ
ہر لفظ نے پائی تری توصیف میں ڈھل کر
تابندگی لولوئے لالا ، شہ والاؐ
محکوم کا غمخوار ہے،مظلوم کا حامی
مخلوق کے دکھ بانٹنے والا ، شہ والاؐ
ہوتا ہے ترے دبدبہ صدق و یقیں سے
ہر قصر ضلالت تہ و بالا ، شہ والاؐ
اِس تیرگی جہل و جفا میں ترے باعث
پھیلا ہے محبت کا اجالا ، شہ والاؐ
ظلمت کدہ دل میں ترے دست کرم نے
پر نور سویروں کو اچھالا ، شہ والاؐ
سیراب کیا تو نے صفا کا چمنستاں
تجھ سے ہیں معطر گل و لالہ ، شہ والاؐ
دے کر بنی آدم کو سر افرازی توحید
تشکیک کی دلدل سے نکالا ، شہ والاؐ
ہر دور میں تیرا ہی پیام سبق آموز
انسان کو دیتا ہے سنبھالا ، شہ والاؐ
خالد پہ ہے تیرا کرم لامتناہی
یہ بھی ہے ترا چاہنے والا ، شہ والاؐ

 




نعت



اے سیدؐ و سالارِؐ حرم، رحمت عالمؐ
تو جملہ مکارم میں حکم، رحمت عالمؐ
توصیف تری حیطہ الفاظ میں لاؤں
بے بس ہے زباں اور قلم، رحمت عالمؐ!
چمکے گا یقینا مری قسمت کا ستارا
کر لوں جو تری نعت رقم، رحمت عالمؐ
سلطانی و میری ہے ترے در کی فقیری
اے صاحب اکلیل و علم، رحمت عالمؐ
صحرائے زمانہ تری رحمت سے ہے سیراب
تو بحر سخا، ابر کرم، رحمت عالمؐ
سرخیلؐ رسولان جہاں، سرورؐ دوراں
سرآمدؐ ارباب ہمم، رحمت عالمؐ
لاریب کہ ہے تیرے کف پا کی بدولت
انوار فشاں ارض حرم، رحمت عالمؐ
تیرا در رحمت ہے غریب الوطناں کو
رشک چمنستان اِرم، رحمت عالمؐ
ہم خستہ دلوں کو ہے فقط تیری محبت
تریاق سم درد و الم، رحمت عالمؐ
خالد کو ملا ہے تری رحمت کی بدولت
اظہار کا یہ کیف، یہ کم، رحمت عالمؐ
 


نعت

آپ کا ذکر مبارک لب بہ لب، شاہؐ عرب
آپ کی توصیف ہے وجہ طرب، شاہؐ عرب
عمر بھر کرتا رہوں میں آپ کی مدحت رقم
اسسے بڑھ کر کچھ نہیں میری طلب، شاہؐ عرب
آپ کی ذات مقدس محسن نوع بشر
آپ پر قرباں ہوں میرے جد و اَب، شاہؐ عرب
آفتاب دہر، قندیل شبستان وجود
شمع محفل، ماحی ظلمات شب، شاہؐ عرب
عقل و فہم و دانش و حکمت کا بحر بے کراں
مخزن علم و ادب، امی لقب، شاہؐ عرب
اُسعدؐ و مسعودؐ و محمودؐ و رسولؐ ہاشمی
فخر آدم، نور چشم مطلب، شاہؐ عرب
آپ کے منشور میں یکساں ہیں سلطان و فقیر
قاطع عصبیت رنگ و نسب، شاہؐ عرب
آپ کی سیرت ہے آقاؐ رہنمائے زندگی
آپ نے بخشا ہمیں جینے کا ڈھب، شاہؐ عرب
ارتداد و کفر کا سیلاب ہے پھر چارسو
آپ کی امت کی حالت ہے عجب، شاہؐ عرب
ہو گئی پھر سے دلوں میں آتش توحید سرد
اور سرکش ہے شرار بولہب، شاہؐ عرب
عصر حاضر کے مسلمانوں میں پیدا ہو گئے
پستی کردار کے آثار سب، شاہؐ عرب
ڈوبی ڈوبی سی ہے پھر نبض یقین و آگہی
عظمت انسانیت ہے جاں بلب، شاہؐ عرب
رہنما ہیں جادہ پیمائے فریب و مکر و فن
کارواں ہے مائل لہو و لعب، شاہؐ عرب
نوجوانوں میں نظر آنے لگی ہے خودسری
اٹھتا جاتا ہے بزرگوں کا ادب، شاہؐ عرب
ہو کوئی چشم تلطف خالد افسردہ پر
دور کیجئے دل سے سب رنج و تعب، شاہؐ عرب
 
 

یا رحمۃ للعالمیںؐ

تیرا کوئی ثانی نہیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
مہر سپہر ہفتمیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
اے معدن فکر و نظر، اے مخزن فضل و ہنر
اے علم کے حصن حصیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
تو سربراہ عارفاں، سرآمد دانشوراں
تو ہے امام المتقیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
تو سید والا گہر، خاکی ہیں تیرے ہمسفر
نوری ہیں تیرے ہم نشیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
افضل ترا دستور ہے، اکمل ترا منشور ہے
اے رہبر دنیا و دیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
تو ہی مرا ایمان ہے، تجھ سے مری پہچان ہے
گر تو نہیں تو کچھ نہیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
صد انبساط انگیز ہے، پر نور و عنبر بیز ہے
تیرے وطن کی سرزمیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
تو ہی دلوں کا نور ہے، مثل چراغ طور ہے
تیرا کلام دلنشیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
اے مونس افسردگاں، چارہ گر آزردگاں
اے دولت اندوہگیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
یا رحمت رب الفلق، یا باعث اکرام حق
پر نور و فرخندہ جبیں یا رحمۃ للعالمیںؐ
 

نعت

سلیقہ مجھ کو آ جائے اگر نعت محمدؐ کا
مرے ہر شعر میں موجود ہو مضمون آمد کا
جو اُن کی نعت لکھوں،دید کے قابل ہو نظارہ
خروشِ بحرِ فکرِ نارسا کے جزر اور مد کا
مجھے اہل کرم دنیا کے بے وقعت نظر آئیں
جو لکھوں تذکرہ میں آپ کے اوصاف بے حد کا
شکست و ریخت آزر کے صنم خانے کی یاد آئے
تو آ جائے زباں پر نام اُنؐ کے جد امجد کا
محمدؐ کی اطاعت سے ملے ایمان کی دولت
نہیں طالب میں خالد، عسجد و لعل و زمرد کا
 

نعت

میرا آئینہ افکار ہے مدحت تیری
ڈھل گئی شعر کے سانچے میں محبت تیری
دوست تو دوست ترے خون کے پیاسوں کو بھی
اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے شفقت تیری
آدمیت کے سب آداب سکھا دیتی ہے
روحِ قرآن کا اعجاز ہے سیرت تیری
تیرا ہر قول حکم ہے، تری ہر بات سند
نقش ہے صفحہ ہستی پہ صداقت تیری
تیری خوشبو سے معطر ہے مرا دشت خیال
میرا سرمایہ انفاس ہے نکہت تیری
میرے افکار کی دنیا تو ہے تجھ سے پر نور 
میرے کردار میں رخشندہ ہو سیرت تیری
عالم کفر کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو
لے گئی منزل وحدت پہ قیادت تیری
للہ الحمد کہ ہر بے سر و ساماں کے لیے
آخرت کا سر و ساماں ہے شفاعت تیری
آرزو ہے کہ ترے شہر کی گلیاں دیکھوں
مجھ کو لے جائے ترے در پہ عقیدت تیری
مجھ سے ہوگا نہ کبھی تیرے محاسن کا شمار
ماوریٰ ہے مرے ادراک سے عظمت تیری
کیوں نہ خالد ہو سلاطین جہاں سے بیزار
اُس کی دولت ہے فقط چشم عنایت تیری

 

نور و حضور


)مسجد نبویؐ میں(

نور و حضور کا یہ عجب اہتمام ہے
آنکھوں کے سامنے در عالیؐ مقام ہے
حاضر ہوں بارگاہ پیمبرؐ میں آج میں
ٹھہرا ہوا سا سلسلہ صبح و شام ہے
میں آ گیا ہوں روضہ اقدس کے سامنے
اے دل ذرا ٹھہر کہ ادب کا مقام ہے
دربار نور اور یہ مجھ سا گناہگار
حیراں ہے آنکھ، لب پہ درود و سلام ہے
آنکھوں سے چشمہ دل بیتاب ابل پڑا
تسنیم و سلسبیل کا طرز خرام ہے
دل پر ہے اُس کا جلوہ دربار نور پاش
ہاتھوں میں رخش وقت کی زرّیں زمام ہے
ہے اصل آرزو در اقدس کے صبح و شام
باقی جو ہے تمام، تمنائے خام ہے
یہ کیف و کم ،یہ نور و حضور اور یہ سوز و ساز
ہر لمحہ جمال کا حاصل دوام ہے
خالد! ریاض جنہ کی ہر ساعت جمیل
صحن دل و نگاہ میں محو خرام ہے
 


نعت

تو آسمان خلق کا ماہِ تمام ہے
تیرا وجود مطلع صبح دوام ہے
تیری مئے طہور کا ہر جرعہ صفا
آب زلال و چشمہ زمزم کا جام ہے
ہے آبروئے دل زدگاں تیرا شہر پاک
یعنی پناہ گاہ خواص و عوام ہے
یہ سر زمیں جو چرخ زبرجد سے کم نہیں
وجہ صد انبساط و نشاط اَنام ہے
یہ شہر جس میں کیف و سرور نظر ملے
آرام گاہ خسرو عالی مقام ہے
یہ شہر دلکش و نظر افروز و جاں فزا
ہر ذرہ جس کا پارہ سنگ رخام ہے
یہ شہر جس میں ہے متنفس مشام جاں
یہ شہر جو کہ روضہ دار السلام ہے
یہ خاک عطر بیز، یہی فرش زر فشاں
ہر نقش جس کا نقشہ ماہ تمام ہے
رتبے میں کیوں نہ لعل و گہر سے بلند ہو
یہ خاک ہمسر فلک نیل فام ہے
ہوتی ہے اُس پہ بارش انوار صبح و شام
جس کا مدینہ نبویؐ میں قیام ہے
خالد یہاں کوئی عربی ہو کہ اعجمی
سب پر مرے حضورؐ کا فیضان عام ہے
 



نعت

توصیفِ شہنشاہؐ دو عالم کا ہے اعجاز
پہنچی سر افلاک مرے فکر کی پرواز
ہر صاحب عرفاں ہے ثنا خوانِ پیمبرؐ
وہ قدسی لاہور ہو یا سعدی شیراز
جو مدح پیمبرؐ کی نہ لذت سے ہو آگاہ
ہے اُس کی صدائے قلم اک نغمہ بے ساز
کس شوق سے پہنچی ہے سر شہر محمدؐ
جذبوں کے بم و زیر میں ڈھل کر مری آواز
شاہانِ جہاں جس سے ہوئے لرزہ بر اندام
اُس در کی حضوری نے کیا مجھ کو سرافراز
کیا مجھ کو ڈرائیں گے زمانے کے حوادث
سلطانؐ مدینہ ہیں مرے مونس و دمساز
کرتا ہوں میں اُس محسنؐ کونین کی توصیف
خالد ! ہے مجھے اپنے مقدر پہ بہت ناز






نعت (مدینے کے سفر میں)

لے کے اٹھی نغمہ صفات محمدؐ
ظلمت شب میں حرا کی صبح مخلد
وادی فاراں کی تابناک سحر سے
نور فشاں ہے یہ آسمان زبر جد
اُس کو ملی سروری و خسروی دہر
اُس پہ اتاری گئی کتاب مجلد
عکس جبیں اُس کا عکس ماہ متمم
نقش نگیں اُس کا نقش لعل و زمرد
اُس نے دکھائی ہے مجھ کو راہ بصیرت
اُس نے سجائی ہے میرے فکر کی مسند
اُس نے بتایا مجھے ادب کا سلیقہ
اُس نے سکھایا ہے احترام اب و جد
اُس کا زمانے نے احترام کیا ہے
جس نے کیا دل سے احترام محمدؐ
 



نعت

وہ تاجورِؐ دیارِ طیبہ
میں ذرہ رہ گزار طیبہ
اشکوں کے گہر پرو رہا ہوں
آنکھیں ہیں بے قرارِ طیبہ
دیکھوں پلکوں کی چلمنوں سے
ہر سو پھیلی بہارِ طیبہ
جاں ہونے لگی فدائے بطحا
دل ہونے لگا نثارِ طیبہ
باقی ہے دل میں یادِ بطحا
سانسوں میں ہے خمارِ طیبہ
عکس رخِ سرورؐ جہاں سے
رخشندہ ہوا غبارِ طیبہ
آنکھوں میں اُتر رہا ہے خالد
صد جلوہ آشکارِ طیبہ
 



سورہ والضحیٰ کی شان نزول

بزرگ و برتر خدا نے جب
سرورؐ دو عالم محمد مصطفی ؐ کو پیغمبری کے انعام سے نوازا
تو شہر مکہ کی ہر گلی سے یہ شور اٹھا
اگرچہ یہ صادقؐ اور امیںؐ ہے
مگر ہم ایسے رسول ؐ کو مانتے نہیں ہیں
جو مال و دولت میں ہم سے کم ہے
نہ صاحب سیف ہے نہ یہ وارث قلم ہے
نہ سلطنت اس کے پاس کوئی، نہ کوئی لشکر
نہ مرتبے میں عظیم ہے یہ
اگر ہے کچھ تو یتیم ؐ ہے یہ
چلو یہ سب کچھ اگر نہیں ہے
نشست و برخاست اس کی، اس کا یہ رہنا سہنا
یہ کھانا پینا ،یہ چلنا پھرنا
یہ سب کچھ اس کا ہمارے جیسا ہے
اور اس کی یہ ساری صفتیں تو ہیں حقیقت میں 
اپنے قدموں پہ چلنے والے بشر کی صفتیں
یہ اپنے قدموں پہ چلنے والا
اندھیری راتوں میں چھوڑ کر شہر، دامن کوہسار کو یہ نکلنے والا
بجائے گھر کے، حرا میں جا کر یہ سونے والا
یہ اپنے ہاتھوں سے اپنے کپڑوں کو دھونے والا
یہ اپنی تنہائیوں میں آنسو بہانے والا
نہیں ہے کوئی بھی کام جس کا زمانے والا
یہ کہہ رہا ہے کہ میں نبیؐ ہوں
یہ اک بشر ہے
بشر بھی ایسا، جو ہے تہی دست اور مفلس
اگر بشر پر کتاب اترتی
تو شہر طائف کے رہنے والے پہ یا وہ مکہ کے ہی کسی ایک
معتبر شخص پر اترتی
وہ معتبر شخص جس کی قوت کا سارا عالم گواہ ٹھہرے
وہ جس کے آگے نہ کوئی بھی کجکلاہ ٹھہرے
زمیں سے اٹھے تو آسمانوں پہ جا کر اس کی نگاہ ٹھہرے
جو شان و شوکت میں ہو رفیع و عظیم، دولت میں سب سے بڑھ کر
***
یہ ساری باتیں جو کر رہے تھے
یہ نوفل و ہاشم و اسد اور سہم و مخزوم کے قبیلوں کے
معتبر لوگ کر رہے تھے
کوئی تھا ان میں ولید ابن مغیرہ یعنی قریش کا وہ رئیس اعظم
کوئی تھا عثمان ابن طلحہ
کلید بردار اور مجاور تھا وہ حرم کا
)کہ تین سو ساٹھ دیوتاؤں کا تھا پجاری(
تو کوئی تھا عاص ابن وائل
کوئی ابوجہل جو کہ خود کو ابو حکم جانتا تھا
ان میں کوئی تھا لات و منات اور بعل کا پجاری
ابولہب بھی تھا ان میں شامل
یہ شہر مکہ کے سب اکابر
صنم پرستی کے ترکشوں سے مخالفت کے تمام تیر آزما رہے تھے
***
خدا کے سچے رسولؐ اور اس کے برگزیدہ نبیؐ نے
سب کی یہ تلخ باتیں سنیں مگر 
چاند سے بھی بڑھ کر حسین و روشن جبیں پہ کوئی شکن نہ آئی
یہ ساری باتیں
مخالفت کے یہ سارے پتھر
بلند و بالا پہاڑ سے ولولے کو ہرگز نہ توڑ پائے
قریش کی اس مخالفت کا یہ تند سیلاب
اس کے کہسار جیسے عزم اور حوصلے کو نہ روک پایا
***
حضورؐ عالی مقام ہر چند رب عالم کے اور اس کے رسولؐ کے
دشمنوں سے خائف نہیں ہوئے تھے
مگر یہی تھا ملال دل میں
بہت دنوں سے اُدھر سے وحی خدائے برتر رکی ہوئی تھی
مخالفوں کے ہجوم میں جو خدائے قدوس کا سہارا تھا
وہ بھی اب ٹوٹتا سا محسوس ہو رہا تھا
مخالفوں کو مناقشت کے لیے نئی بات مل گئی تھی
کوئی یہ کہتا تھا
"اب محمدؐ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے"
جو چند فقرے تھے جوڑ رکھے ،سنا چکا ہے
جنوں تھا جو اس کا چند روزہ ، اتر گیا ہے
یہ ذکر کرتا تھا جس خدا کا
ہمیں بھی جس کے عذاب سے یہ ڈرا رہا تھا
وہ خود اب اس کو بھلا چکا ہے
کوئی یہ کہتا تھا 
"اب نبوت کا بھوت سر سے اتر گیا ہے’ (نعوذبااللہ)
یہ رسولؐ خدا کے بارے میں اہل مکہ کا طرز گفتار تھا کچھ ایسا کہ آسماں پر فرشتگانِ خدا بھی سنتے تو کانپ اٹھتے
مگر مشیت کا فیصلہ کوئی اور ہی تھا 
***
حضورؐ افسردہ و پریشاں جو گھر سے نکلے
گلی میں دیکھا
وہ زوجہ بولہب ، وہ ام جمیل، حمالۃ الحطب 
اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑی تھی
گلی کی کچھ عورتوں کو اپنی جلی کٹی سب سنا رہی تھی
حضور عالی مقامؐ پر جب نظر پڑی تو
گلی کی ان عورتوں سے بولی :
’’ہمارے اس لاڈلے بھتیجے کا حال دیکھو!
یہ جس خدا کے عذاب سے ہم کو۔۔ اور تم کو ڈرا رہا تھا
وہ اب اسے چھوڑ کر کہیں دور جا چکا ہے
کہ اس سے ناراض ہو گیا ہے’’
پھر آپؐ کی سمت اپنا رخ پھیر کر وہ بولی
’’مجھے یہ لگتا ہے، تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ ہی دیا ہے!’’
***
حضور عالی مقامؐ
پیغمبرؐ خدائے رحیم، سرخیلؐ مرسلاں
وہ رسولؐ رحمت
یہ زہر آلود طنز اور ملحدانہ فقروں کو سن کے خاموش ہی رہے
اور زبان اقدس پہ آپؐ کی کوئی بھی نہ حرف ملال آیا
مگر یہ دل میں خیال آیا
خدائے برتر کہ جس کی خاطر تمام لوگوں سے دشمنی لی
خبر نہیں ہے کہ میری کس لغزش اور خطا پر 
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے
نہ اب وہ راز و نیاز ہے اور نہ کوئی پیغام آ رہا ہے
اس انقطاعِ نزول وحی مبیں کے سب سوگوار لمحے
یہ عالم اضطراب کے بے قرار لمحے
یہ وحی کے انتظار میں دلفگار لمحے
حضور عالی مقامؐ کو کس قدر پریشان کر رہے تھے
***
یہ کرب تنہائی اور یہ انتظار وحی مبیں کی کیفیت مسلسل
نبی مرسلؐ کی ذات عالی مقام کے حزن و غم کا محور بنی ہوئی تھی
یہی شب و روز تھے
انہی مشکلات کا عالم گراں بار تھا 
کہ اک روز سورہ والضحیٰ کے پیرایۂ حسیں میں 
جناب جبریل لے کر آئے پیام الفت
نبی ؐ رحمت کے واسطے تھا یہ
نفرتوں کے مہیب جنگل میں جام الفت
حضور عالی مقامؐ اپنی زبان اقدس سے 
کس مسرت سے پڑھ رہے تھے کلام الفت
’’چمکتے دن کی قسم ہے
اور رات کی کہ جب وہ قرار پکڑے
کہ تیرے رب نے نہ تجھ کو چھوڑا، نہ تجھ سے بیزار ہی ہوا ہے
اور آخرت ہے ترے لیے اس جہاں سے بہتر
کہ تیرا پروردگار تجھ کو ضرور اتنا عطا کرے گا
ہو جس سے تجھ کو خوشی میسر
کہ ہم نے تجھ کو یتیم پا کر پناہ دی
اور بے خبر پا کے راستے کا پتہ بتایا
تجھے کثیر العیال اور تنگ دست پایا
تو ( اپنے فضل و کرم سے)تجھ کو غنی بنایا
سو، تو بھی (ہرگز) یتیم کے ساتھ (اب) نہ سختی سے پیش آنا
(کسی) سوالی کو مت جھڑکنا
اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بھی ذکر کرتے رہنا’’
***
رسول رحمتؐ
نبی امیؐ
جو خارزار حیات میں پیار کے مہکتے گلاب لایا
جو زندگی کے جھلستے صحرا میں رحمتوں کے سحاب لایا
حرا سے اترا تو درس اقراء کا باب لایا
جو سورہ والضحیٰ کی روشن دلیل لایا
نوید رب جلیل لایا
خدائے قدوس نے عطا کر کے جس کو کوثر
بنا دیا ابن وائل اور بولہب کو ابتر
وہ سیدؐ کاروان بطحا
وہ زینتؐ سرزمین طیبہ
وہ عظمتؐ آسمان بطحا
خدا کا پیغام لے کے صحن حرم میں آیا
اکابر شہر کو پکارا
اکابر شہر مکہ صحن حرم میں آئے
تو آپ نے رب وحدہٗ لاشریک کے اسم پاک سے
والضحیٰ کی آیات کی تلاوت کی ابتدا کی
***
اکابر شہر، شہر اعظم کے وہ امیرانِ کفر
بیت الحرم کے صحن عظیم میں اپنے تین سو ساٹھ
دیوتاؤں کے روبرو سر جھکائے،
رب عظیم کی عظمتوں سے غافل کھڑے تھے لیکن
جب آسمانی صحیفۂ آخریں کا ایک ایک حرف ان کی سماعتوں میں
ہدایتوں کا پیام بن کر اتر رہا تھا
تو ہر طرف اک خموش اور بے صدا فضا کا تقدس
ان کے دلوں میں ایمان کی حرارت جگا رہا تھا
نبیؐ اعظم کی صدق گفتار، حق بیاں، خوش نوا زباں سے 
نکلنے والا ہر ایک لفظ ان کے ذہن و دل کو نئے زمانوں میں
کھلنے والی حقیقتوں کا نیا ہی مژدہ سنا رہا تھا
حریم اقدس کے صحن کا وہ ہجوم خاموش تھا
سوائے خدا کے پیارے رسولؐ کی دلنشیں صدا کے،
کوئی صدا صحن بیت اعلیٰ میں اٹھ نہ پائی
کہ سب کے ہونٹوں پہ جیسے اک مہر خامشی تھی
کہ سب وہاں گوش بر صدا تھے
نبیؐ معبود سورہ والضحیٰ کی روشن صفات چند آیتوں کو پڑھ کر
اس آیت دلنشیں پہ پہنچے کہ:
’’ ہم نے تجھ کو یتیم پا کر پناہ دی 
اور بے خبر پا کے راستے کا پتہ بتایا’’
ہجوم میں ایک شخص کے ہونٹ تھرتھرائے
مگر رسول عظیمؐ کے دلنشیں لبوں پر
اس اگلی آیت کا ورد اترا :
’’تجھے کثیر العیال اور تنگ دست پایا تو (ہم نے)تجھ کو غنی بنایا’’
ہجوم میں سے اچانک اس شخص نے پکارا:
’’اے ابن عبداللہ! دیکھ تیرا خدا بھی کتنا عجیب ہے
وہ خدا کہ جس کی صفات تیری زباں سے اکثر سنیں
کہ وہ سب خداؤں کا بھی خدا ہے، سب سے بڑا ہے،
اس سا کوئی نہیں ہے، وہ اک خدا ہے، عظیم ہے،
کائنات اس نے بنائی ہے، 
سب کو اس نے پیدا کیا ہے،
سب کا وہ رب ہے، خالق ہے اور
احسان میں بھی سب سے عظیم تر ہے
وہی خدا اَب تجھی پہ احساں جتا رہا ہے
ذرا بتاؤ تو ، ابن عبداللہ !
کوئی صاحب صفات یا کوئی عام انساں 
کسی پہ احسان کر کے جتلائے گا؟
کہ تیرا خدا، جو تیرے بقول سب سے عظیم ہے، بے نیاز ہے،
اس نے مال و زر سے تجھے نوازا ہے،
گو ہمیں یہ خبر ہے، بس تیرے پاس اک بوریا ہے،
مٹی کا اک پیالہ ہے، 
اس سے بڑھ کر اگر ترے پاس کچھ ہے 
جو تیرے رب نے تجھ کو دیا ہے
وہ بار بار تجھ کو جتا رہا ہے؟
عجیب تیرا خدا ہے، احسان کر کے تجھ پر، جتانے والا‘‘
یہ سن کے سب کو زباں درازی کا حوصلہ مل گیا، 
سبھی یک زباں پکارے :
’’بتاؤ قاسم کے باپ! تیرا خدا یہی ہے؟
تری حقیقت، تری تہی دامنی کا احساس دینے والا خدا وہ تیرا
عظیم بھی، تنگ چشم بھی ہے‘‘
یہ لہجہ زہریلا اور چبھتا ہوا یہ طنز ایسا تھا
کہ ہر سو بس ایک ہی شور تھا
’’بتاؤ تو ابن عبداللہ، اے ابو قاسم !
اے امین ، اے خدائے واحد کے ماننے والے !
اب کہو، کیا یہی ہے اہل کرم کا شیوہ
کہ وہ کسی کی مدد کریں تو پھر اس پر احسان بھی جتائیں’’
نبیؐ حق نے ان اعتراضات کو سنا
اور اس سے پہلے کہ کوئی ان کو جواب دیں،
اک طرف ہٹے اور صحن کعبہ میں رب کعبہ کی
بارگاہ جلال میں اپنا سر جھکایا
پھر ایک سجدے، طویل سجدے کے بعد جب اپنا سر اٹھایا
تو آپؐ بولے:
تمہارے اس اعتراض پر مجھ پہ رب واحد کا شکر واجب تھا،
شکر ہے، صد ہزار شکر اُس خدا کا جو
میرے اور تمہارے دلوں کا سب حال جانتا ہے
مجھے یہ ہرگز خبر نہیں تھی کہ تم خدائے عظیم کی آیتوں پہ
یوں معترض بھی ہو گے !
سو، اب یہ سن لو !
مرا عظیم و جلیل مولا تمہارے اس اعتراض کو جانتا تھا
اس نے اسی لیے ان عظیم آیات میں
تمھیں یہ جواب پہلے ہی دے دیا ہے
سنو ! خدائے عظیم و جبار کا یہ فرمان بھی سنو، اس نے کیا کہا ہے
کہ ’’ تو بھی (ہرگز) یتیم کے ساتھ (اب) نہ سختی سے پیش آنا
(کسی) سوالی کو مت جھڑکنا
اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بھی ذکر کرتے رہنا’’
***
خدائے برتر کی ان عظیم و جمیل آیات کی تلاوت کو سن کے
سب اہل مکہ خاموش ہو گئے
ایک ایک لفظ، ایک ایک آیت کا سارا مفہوم و مدعا 
اُن پہ کھل گیا اور ربِ مناّن کی طرف سے کیے ہوئے 
ایک ایک احسان و لطف کا راز منکشف ہو گیا
انھیں یوں لگا کہ جیسے
عظیم فاراں کی چوٹیوں کے تمام پتھر
اب ان کے جسموں پہ گر چکے ہیں
اب ان میں اتنا بھی دم نہیں تھا کہ اپنے قدموں پہ چل کے 
صحن حرم سے باہر نکل سکیں وہ
***
خموش و بے حس ہجوم کو کاٹتے ہوئے
جب پیمبرؐ آخرالزماں صحن کعبہ سے باہر آ گئے تو
کسی نے پیچھے سے آپؐ کے شانہ مبارک پہ ہاتھ 
رکھتے ہوئے کہا:
’’ سچ ہے، آپ اللہ کے رسولؐ،
اس کے برگزیدہ نبیؐ آخر ہیں،
آپ پر جو کلام نازل ہوا ہے، اللہ نے کیا ہے
قبول مجھ کو خدا کے سچے رسولؐ کا دین اور اس کا پیام آخر’’
حضورؐ نے اس کی سمت دیکھا تو یہ وہی تھا
خموش و بے حس ہجوم میں اعتراض کا پہلا لفظ
جس کی زباں سے نکلا تو
سورہ والضحیٰ کا مفہوم و مدعا سب پہ کھل گیا تھا
 



میں ہوں نعت گو اُسی کا کہ ضیا سے جس کی خالد
ہے نظر نظر اجالا، ہے قدم قدم بہاراں









رباعیات


 

حمدیہ

تو عالم بے حصار، میں ایک سراب
تو قلزم بے کنار، میں ایک حباب
ہیں تیرے طلوع سے ازل اور ابد
ہے میرے غروب سے زمانوں کا حجاب

***

ہر ایک گل شگفتہ غماز ترا
غنچے کی چٹک میں نغمہ ساز ترا
واللیل اذا سجی ادا ہے تیری
والصبح اذا تنفس انداز ترا

***

عالم میں تمام دلکشائی ہے تری
ہر سمت محیط کبریائی ہے تری
جو دیکھ رہا ہوں، وہ تری حکمت ہے
جو دیکھ نہ پاؤں، وہ خدائی ہے تری

***

رخشندہ چراغ انجمن تو نے کیا
صحرا کو ہمسر چمن تو نے کیا
پانی کو کیا ہے تو نے آئینہ صفت
پتھر کو گوہر عدن تو نے کیا

***

پھولوں میں مہک بن کے اترتا ہے تو
ہر غنچہ و گل میں رنگ بھرتا ہے تو
ہر روز سمیٹ کر ردائے اسود
ہر صبح کرن کرن بکھرتا ہے تو

***

اندھوں کو بصارتیں عطا کرتا ہے
بہروں کو سماعتیں عطا کرتا ہے
دیتا ہے قوتیں تو معذوروں کو
نادانوں کو حکمتیں عطا کرتا ہے

***

سورج کو پئے غروب لے جاتا ہے
چادر تاریکیوں کی پھیلاتا ہے
بکھرا کے سحر کا نور گلشن گلشن
ہر پیکر گل میں جان دوڑاتا ہے

***

محروم کو دولت کرم دیتا ہے
محکوم کو قوت و حشم دیتا ہے
دینے جو لگے تو ایک قطرے کے عوض
تو بحر بہ بحر ،یم بہ یم دیتا ہے

***

حاصل ہے مجھے نشاط پیہم تجھ سے
پر نور ہے میری چشم پرنم تجھ سے
زندہ میں ترے بغیر کس طرح رہوں
رشتہ ہر سانس کا ہے محکم تجھ سے

***

مردوں کو لطف زندگانی بخشے
پیری کو دولت جوانی بخشے
قطرے کو جو چاہے تو سمندر کر دے
ٹھہرے ہوئے پانی کو روانی بخشے

***

راتوں کو دنوں میں ڈھالتا ہے کوئی
ظلمت سے مجھے نکالتا ہے کوئی
گرتا ہوں میں بار بار لیکن خالد
ہر بار مجھے سنبھالتا ہے کوئی

***

مل جائے مجھے حیات خضر و الیاس
ہو جاؤں میں لفظ لفظ کا نکتہ شناس
ہر نعمت مل جائے مجھ کو لیکن
خالد ہو کس طرح ادا حق سپاس
 

دعائیہ

اے رب ذوالجلال! روشن کر دے
مولائے لایزال! روشن کر دے
ہوں سر بہ سجود میں فقط تیرے حضور
مجھ پر اپنا جمال روشن کر دے

***

توصیف کے نغمہ مخلد کے لیے
مل جائے کلید، قفلِ اَبجد کے لیے
ہو مستند ایک ایک حرفِ محمِد
اِنشائے محامدِ محمدؐ کے لیے
نعتیہ

لکھوں سرخیلؐ مرسلاں کی توصیف
پیغمبرؐ آخرالزماں کی توصیف
اُس کے اوصاف کیا بیاں ہوں مجھ سے
اللہ نے جس کی خود بیاں کی توصیف

***

لب پر ہے مرے ذکر رسول مقبولؐ
توصیف احمدؐ ہے میرا معمول
مداح پیمبرؐ دو عالم ہوں میں
ہوتا ہے فلک سے مجھ پہ شعروں کا نزول

***

مل جائے مجھے جذبہ جامی آقاؐ
عرفی کی قادرالکلامی آقاؐ
لہجہ ہو مرے سخن میں بوصیری کا
ہو فکر میں ندرت گرامی آقاؐ

***

تنویر حرا، چراغ دارین ہے تو
قندیل مقام قاب قوسین ہے تو
روشن ترے حسن سے ہے عالم عالم
مصباحؐ تجلیات کونین ہے تو

***

سیرت قرآن کی مکمل تفسیر
صورت عرفان کی مکمل تفسیر
ذات پیغمبرؐ خداوند ازل
عدل و احسان کی مکمل تفسیر

***

تو سیدؐ و مسعودؐ و سعیدؐ و اَسعدؐ
محمودؐ و محمدؐ و حمودؐ و احمدؐ
تیرے اوصاف لکھتے لکھتے تھک جائیں
عرفان و شعور و حکمت و فہم و خرد

***

یہ عالم لطف و کیف و سرمستی و نور
جلووں کا ہجوم اور یہ جذبوں کا وفور
دوری کے باوجود یہ قرب و حضور
صہبائے محمدیؐ سے دل ہے مخمور

***

لکھوں سرکارؐ کا قصیدہ لکھوں
اُس خلق مجسم کا سراپا لکھوں
لکھنے کو ہیں بے شمار اُس کے اوصاف
محو حیرت ہوں میں کہ کیا کیا لکھوں

***

خوشبوئے گلاب ہے پسینہ تیرا
روشن ہے مثال طور سینہ تیرا
اے خاتم ؐ نور! ماحیؐ ظلمت کفر
انوار کا مصدر ہے مدینہ تیرا

***

فردوس بداماں ہے دیار محبوبؐ
نکہت افروز لالہ زار محبوبؐ
آئی جو شمیم مشکناب طیبہ
اُترا ہر سانس میں خمار محبوبؐ

***

اے ساجدؐ و اَسجدؐ و شہیدؐ و مشہودؐ
اے ماجدؐ و امجدؐ و مجیدؐ و موجودؐ
تیرے القاب میں کہاں تک لکھوں
اے شاہؐ امم! پیمبرؐ ربّ ودود

***

پیغامبرؐ خدائے قدوس ہے تو
تسکین نگاہ و قلب مایوس ہے تو
اے مونس و چارہ ساز ہر سوختہ جاں
ہر بے کس و نادار سے مانوس ہے تو

***

محبوبؐ خداوند تعالیٰ تو ہے
اوصاف میں سربلند و بالا تو ہے
تجھ سا کوئی نہ اِس جہاں میں آیا
بے مثل ہے، یکتا ہے، نرالا تو ہے

***

توصیف حبیبؐ کبریا لکھتا ہوں
نعت سردارؐ انبیا لکھتا ہوں
کیونکر نہ عطا ہو مجھ کو معراج سخن
سلطانِؐ دو عالم کی ثنا لکھتا ہوں

***

قرآں میں ہیں القاب شاہنشہؐ دیں
مزملؐ ، مدثرؐ ، طٰہٰؐ ، یٰسیںؐ
اللہ اللہ دل نشیں ہے کتنا
انداز توصیف قرآن مبیں

***

وہ پاک نگاہ، پاک دل، پاک لباس
روشن اخلاق اور روشن انفاس
سلطانؐ ادراک، شہؐ فکر و شعور
ہر وصف پیمبرؐ ہے ایماں کی اساس

***

روشن ہے ان کے ذکر سے ہر محفل
ہر دور کے سلطان وہی ہیں اے دل
سبحان اللہ سب زمانوں پہ محیط
پیغمبرؐ حال و ماضی و مستقبل

***

خود کو دربار قدس میں لاتے ہی
قدموں کو در نبیؐ پہ ٹھہراتے ہی
دل کا سب میل دھل گیا ہے خالد
سرکارؐ کی بارگاہ میں آتے ہی


******
مصنف کی اجازت سے
ان پیج سے تبدیلی، تدوین،  اور برقی کتاب کی تشکیل: اعجاز عبید