﻿
مخدوم


ترتیب : پروفیسر رحمت یوسف زئی


مخدوم صدی سیمنار کا ساونیر







سید سجاد ظہیر

مخدوم کی یاد میں 



	کیسے یقین آئے کہ مخدوم اب ہم میں نہیں ! دوست احباب رفیق سب مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں کچھ کہوں، کچھ کہوں اور میں سوچتا ہوں کہاں سے شروع کروں، کیا کہوں، کیا کیا کہوں۔ ان کے بارے میں کہوں یا اپنے بارے میں کہوں، اس ہولناک خلا کے بارے میں جو اپنی روح اور نفس میں بلکہ ساری زندگی میں مخدوم کے چلے جانے کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن میں نے غلط کہا:۔خلا میں تو کچھ نہیں ہوتا اور یہاں تو حیرت ناک طور پر دلکش اور دل گیر انجمن سجی ہے کانوں میں ہی نہیں، رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کے قطرے میں مخدوم کی آواز، ان کا ترنم گونج رہا ہے اور دل کے پردے پر بار بار ان کی مسکراہٹ اور ہنسی کے نقش چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، کبھی ان کو تیس برس پہلے سیاہ شیروانی میں، مخصوص حیدرآبادی طرز کی، اونچا کالر، سب بٹن بند، لمبی سرخ ٹوپی پہنے حیدرآبادی مزدوروں کے جلسے میں پُر جوش تقریر کرتے سن رہا ہوں۔ جلسہ جس کی میں صدارت کر رہا ہوں۔ یہ شاید پچیس تیس برس کی بات ہے، کبھی ان کو ممبئی میں ’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر میں دیکھتا ہوں، جہاں بالکل تنگ جگہ میں سردار جعفری، سبط حسن، کیفی اعظمی اور میں اپنی اپنی میزوں سے لگے بیٹھے ہیں اور مخدوم۔’’ صف اعدا کے مقابل ہے ہمارا رہبر‘‘ سنا رہے ہیں اور پھر اس کے بعد ہم ان سے دوسری نظموں کی فرمائش کرتے ہیں، اس زمانے میں مجھے ان کی نظموں میں سب سے زیادہ ’’اندھیرا‘‘ اچھی لگتی تھی،
 رات کے ہاتھ میں ایک کاسۂ دریوزہ گری 
ہر لحاظ سے یہ ایک بڑی ’’انقلابی‘‘ نظم تھی، اس کے استعارے وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ، وہ تہذیب کے زخم۔۔۔ اور چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا۔۔۔ آزردہ ستاروں کا ہجوم اور پھر آخری مصرعہ: رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔ یہ نظم نہیں ایک ترشا ہوا فنی نگینہ تھی، نئی کیف آور، چونکا دینے والی، ایک مکمل تعمیر: جتنی خوب صورت اتنی ہی پر معنی، جتنی جدید اتنی ہی ہماری بہترین روایات میں پیوست، انقلابی شعور و حرکت عالمی افق کے سرخ سویرے کا رنگ لیے ہوئے اس کے ساتھ ہم آہنگ!
	مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے مخدوم سے پوچھا تھا ’’مخدوم بتاؤ یہ نظم تم نے کب اور کیسے اور کن حالات میں لکھی‘‘ اور مخدوم نے جواب دیا جو مجھے اچھی طرح یاد ہے اس لیے شاید کہ نظم کی طرح ان کا جواب بھی چونکا دینے والا تھا۔ انھوں نے کہا ’’بنے بھائی آپ کو شاید یقین نہ آئے، میں کلاس میں سبق دے رہا تھا۔ لڑکوں کو پڑھا رہا تھا کہ اسی دوران یہ ذہن میں آنے لگی اور پھر میں نے اپنا سبق روک دیا اور وہیں کلاس میں بیٹھ کر یہ پوری نظم تھوڑی دیر میں لکھ ڈالی۔ مشکل سے آدھ گھنٹہ لگا ہو گا بلکہ اور بھی کم۔ بعد کو ادھر ادھر سے کچھ تراش خراش ضرور کی، لیکن دراصل پورا ڈھانچہ اسی وقت مکمل ہو گیا تھا‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’پھر تو یہ وحی کی طرح نازل ہوئی تم پر مخدوم! ’’مخدوم نے اس وقت بھی اور پھر بعد کو یہ بات مجھ سے اکثر کہی کہ شعر کہنے کے لیے انھیں سکون، تنہائی، دوسرے کاموں سے فرصت درکار نہیں۔ نظم تو بالکل غیر متوقع طور پر چلتے پھرتے، سفر کے دوران، بات یا تقریر کے دوران، ٹریڈ یونین کا کام کرتے وقت، دوستوں کی نجی صحبتوں میں ہنسی مذاق کے دوران، ان کے ذہن میں لال پری کی طرح ناچتی ہوئی جلوہ گر ہو جاتی تھی اور پھر مخدوم کا کام صرف اسے گرفتار کر لینا ہوتا تھا، لیکن کوئی نوآموز شاعر اور ادیب اس بات پہ یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شاعری محض الہامی چیز ہوتی ہے۔ ہوتی تو ہے وہ الہامی کبھی کبھی اپنی بلند ترین کیفیتوں میں، لیکن فن کار کی ذہنی اور روحانی کد و کاوش اور تعمیر و حسن کاری کی صلاحیت روح عصر کو سمجھنے اور جذب کرنے کی قوت اور اس کی ہمت اور حوصلہ اور نظر ان سب کے بغیر الہام ہوتا بھی تو نہیں۔
	مخدوم کی اچانک وفات یقینی ہماری انقلابی اشتراکی تحریک اور اردو شعر و ادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اور ہم جو ان کے دیرینہ ساتھی ہیں گو کہ اپنی تحریک کی کامیابی اور ظفر مندی پر یقین کامل رکھتے ہیں اور اردو والے ہونے کی حیثیت سے یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ادب کے دماغ میں کبھی خزاں نہیں آئے گی اور خود دکن میں جہاں قلی قطب شاہ، وجہی، سراج اور ولی جیسے لوگ اٹھے اور جہاں کے ادبی آسمان پر مخدوم جیسا ستارہ اتنی آب و تاب سے چمکا، فن و ادب کا آسمان اپنی رفعت اور درخشندگی برقرار رکھے گا، ایک ایسے انمول موتی کو کھو دیا جو اپنی مثال خود تھا۔
	اس کی شخصیت کے بارے میں جتنا بھی سوچتا ہوں یہی محسوس کرتا ہوں اور یہی ایک بات بار بار دل و دماغ میں جاگزیں ہوتی ہے کہ اس شخص نے اپنے تیس چالیس سال کی انقلابی زندگی میں اپنے کو اپنے آرام و آسائش اور اپنی ذات کی تمام خواہشوں اور امنگوں کو کس قدر مٹایا اور دبایا تاکہ اس کی قوم کے مظلوم اور محنت کش عوام جن سے اسے بے پناہ محبت تھی دکھ اور رنج اور تکلیف اور جبر اور سختی کے چکر سے نکل کر، نئی مسرت مہذب اور متمدن زندگی کے روشن میدانوں میں سر بلند و سرخرو داخل ہو سکیں۔ اس کی کھولتی ہوئی نفرت اور اس کا آتشیں غصہ ان طاقتوں، ان طبقوں، ان گروہوں اور ان افراد کے لیے تھا اور ان حالات کے لیے جن میں وہ محنت کش عوام کے انقلابی راستے میں مخل اور حائل دیکھتا تھا اور جن رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے وہ ساری عمر اپنے رفیقوں اور اپنی پارٹی کے ساتھ جدوجہد کرتا رہا اور کوئی نہیں جانتا کہ اگر مخدوم کی اچانک اور قبل از وقت وفات ہوئی تو اس کا سبب یہی ہے کہ مخدوم نے اپنے جسم اور اپنی ذات کو ان کا وہ تھوڑا سا حق بھی دینے سے انکار کیا، جو صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس، اب انھیں کیسے سمجھائیں اور اگر کوئی مخدوم کو سمجھا سکتا تب پھر شاید وہ یہ سوال اٹھا دیتے کہ زندگی کو اس کی کمیت سے نہیں بلکہ کیفیت سے ناپنا چاہیے۔ کیا ہوا اگر موت نے انھیں ایک دن گھیر لیا۔وہ تو ہماری اجتماعی زندگی کو اپنے کارہائے نمایاں سے اتنا مالا مال کر چکے تھے کہ جب بھی جی چاہتا ہمیں خدا حافظ کہہ کر چلے جاتے۔ ہمارے پاس اپنی محبت، اپنے لاجواب فن اور سب سے بڑھ کر اپنی بے بہا انقلابی زندگی کی مثال کے اتنے بھرے خزانے چھوڑ جاتے کہ ہم اس لازوال دولت کے ہوتے ہوئے ان سے شکایت کی کوئی معقول وجہ نہ رکھتے اور یہ خزانے ایسے ہیں جو کبھی خالی نہیں ہوں گے۔
	میں کبھی کبھی مستقبل کے بارے میں سوچتا ہوں، ایک صدی یا دو صدی بعد کے بارے میں اس سے بھی زیادہ دور مستقبل کے متعلق۔ آج جن لوگوں کے بڑے طمطراق ہیں جن کے دروازوں پر حاجت مندوں اور خوشامدیوں کی بھیڑیں لگتی رہتی ہیں، یا جو اپنے دولت کے نشے میں مگن ہیں کہ خدا کی باقی مخلوق انھیں چیونٹیوں کی طرح حقیر نظر آتی ہے، سو سال بعد یا پچاس سال بعد کو ئی ان خوش نصیبوں کو یاد رکھے گا۔ دہلی میں عہد مغلیہ کی آخری بڑی عمارت صفدر جنگ کا مقبرہ ہے لیکن یہ صفدر جنگ تھے کون، مجھے بھی تاریخ ہند دیکھنا پڑی۔ ان کا اتا پتہ درست کرنے کے لیے اور دہلی کے معمولی رہنے والے تو موصوف سے قطعی ناواقف ہیں، لیکن غالب کے بارے میں کسی سے بھی پوچھ لیجیے، کچھ نہ کچھ آپ کو معلوم ہی ہو جائے گا اور شاید دو چار شعر بھی آپ غالب کے سن لیں گے، ممکن ہے کہ ناموزوں سنائے جائیں۔ لیکن آخر لوگوں کے دل میں جگہ تو غالب کے لیے ہی ہے۔زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ غالب کی یاد دھندلی نہیں ہوتی، اس کی شہرت بڑھتی جاتی ہے۔ یہ دنیا کا دستور ہے۔ کھوٹے اور کھرے کی پرکھ کے معاملے میں انسان خود اپنے زمانے اور اپنی زندگی کے دور میں تو دھوکہ کھا سکتے ہیں اور دھوکہ کھاتے بھی ہیں، اس لیے کہ طرح طرح کی خود غرضیاں اور تعصبات لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتے ہیں، لیکن امتداد زمانہ اور ایام سیمیائی پردوں کو چاک کر کے حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں۔ مخدوم خوش قسمت ہیں کہ ان کی شاعری کو ان کی زندگی میں ہی غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، گو کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اتنی نہیں ہوئی جس کے وہ اہل تھے۔ اس کا ایک سبب ان حلقوں کا بغض جو مخدوم کی جانب تھا اور ہے۔ اس کی ایک ادنی مثال، مخدوم کی وفات کے بعد بھی، یہ ہے کہ چند ہفتے پہلے جب دہلی سے اردو مجلس کے پروگرام میں شاذ تمکنت نے مخدوم پر اپنی الم ناک اور بے حد خوب صورت اور پُر اثر نظم نشر کی تب اناؤنسر نے نہ ان کے شروع اور نہ بعد میں ہی یہ کہنے کی زحمت گوارا فرمائی کہ وہ نظم مخدوم کے متعلق ہے۔ گو کہ نظم کے ایک ایک مصرعے سے یہ بات واضح تھی۔ آخر مخدوم کا نام لیتے ہوئے آل انڈیا ریڈیو کو تکلیف کیوں ہوتی ہے۔ جب کہ ہر قسم کے ٹکے دو ٹکے کے شاعروں اور ادیبوں کا تعارف کرواتے وقت ’’اے، آئی،آر‘‘ کو کوئی تکلف نہیں ہوتا؟ حد تو یہ ہے کہ ’’بی بی سی لندن‘‘ تک کو اس معاملہ میں ذرا بھی تامل یا تکلف نہیں ہوتا اور انھوں نے لندن میں مجھ سے مخدوم پر چند منٹ کے لیے گفتگو کرنے کو کہا تھا۔
	ایک دوسری بات کا بھی ذکر یہاں پر ضروری ہے۔ مخدوم کی وفات کے بعد، قدرتی طور پر بڑے وسیع پیمانے پر ان کا سوگ منایا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایک شاعر کی حیثیت سے مخدوم ان حلقوں میں بھی مقبول ہیں جو ان کی ادبی حیثیت اور وقار کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کی سیاست سے یا تو اختلاف رکھتے ہیں یا اسے اہمیت نہیں دیتے۔ یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے اور اس کی ہمیں کسی سے کوئی شکایت نہ ہونا چاہیے۔ لیکن بعض ایسے بد دیانت افراد اور حلقے ہیں جو مخدوم کی وفات کے بعد یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں، اشارتاً یا بہ راہِ راست کہ مخدوم کی شاعرانہ خوبی اور برتری کا کوئی تعلق ان کی ترقی پسندی یا انقلابی زندگی سے نہیں تھا، حالاں کہ یہ لوگ بہ خوبی جانتے ہیں یا ان کو جاننا چاہیے کہ مخدوم کی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ ایک وحدت تھی اور ان کی شاعری کو ان کی پوری شعوری زندگی کے اس اشتراکی نصب العین سے الگ کر کے دیکھا ہی نہیں جا سکتا جس کے لیے وہ زندہ رہے اور جس کے لیے انھوں نے اپنے تمام ذہنی، روحانی اور جسمانی صلاحیتیں وقف کر دیں تھیں۔ مخدوم کی شاعری ان کے نفس اور ان کی روح کا لطیف ترین جوہر ہے اور یہ نفس اور یہ روح ایک بے مثال اشتراکی مجاہد کے ہیں۔ ترقی پسندی اور اشتراکی انقلاب کے دشمنوں اور برا چاہنے والوں کو مخدوم کی عظمت کو غلط رنگ میں پیش کرنے سے ہم کیسے روک سکتے ہیں، آخر وہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں، ہم جو مخدوم کے بعد زندہ ہیں اور وہ بھی جو آنے والے زمانے میں مخدوم کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدمی اور جرات کے ساتھ چلیں گے، تا وقت یہ کہ ہم اس منزل پہ پہنچ نہ جائیں جو مخدوم کی بھی منزل تھی، لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ابھی اور بھی سخت اور دشوار مرحلوں سے گزرنا ہو گا، مخدوم کے اس پیغام کو یاد رکھنا ہو گا۔
٭٭٭


خواجہ احمد عباس

ایک انقلابی، ایک شاعر، ایک انسان

یہ مخدوم محی الدین تھا!


	کچھ اندھوں نے ہاتھی کو ٹٹول کر ’’دیکھا‘‘۔ ایک اندھے نے ہاتھی کی موٹی ٹانگ کو ہاتھ لگا کر کہا یہ تو کوئی ستون جیسی چیز ہے۔ دوسرے اندھے نے ہاتھی کے پھڑپھڑاتے ہوئے کان کو ہاتھ لگایا ’’یہ تو ہاتھ کے پنکھے کی طرح ہے ‘‘۔ تیسرے اندھے نے ہاتھی کی دم کو ہاتھ میں لے کر کہا ’’یہ تو ایک رستی ہے ‘‘۔ چوتھے نے ہاتھی کے پیٹ کو ٹٹولتے ہوئے کہا ’’یہ بڑا ڈھول ہے ‘‘۔ پانچویں نے ہاتھی کی سونڈ کو چھو کر کہا ’’ارے یہ تو کوئی اژدہا ہے ‘‘۔ چھٹے نے کہا وہ کون تھا؟ کیا تھا؟ جب مخدوم محی الدین کی اچانک موت کی خبر آئی تو مختلف لوگوں نے کہا۔
	افسوس ایک انقلابی شاعر مر گیا جس کی سیاسی نظموں اور جوشیلے ترانوں نے ملک کے نوجوان دلوں میں آگ لگا دی تھی مثال کے طور پر:
یہ جنگ ہے جنگ آزادی 
آزادی کے پرچم کے تلے 
	افسوس ایک رومانی شاعر مر گیا، جس کی خوب صورت غزلیں اور گیت نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتے تھے۔ مثال کے طور پر:
’’اک چنبیلی کے منڈو سے تلے 
دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے ‘‘
	تلنگانہ کے غریب کسانوں کی ایسی انقلابی تنظیم کی تھی کہ برسوں تک وہ پولیس اور فوج سے ٹکر لیتے رہے۔ افسوس ایک ممتاز اور ہر دل عزیز حیدرآبادی مرگیا جس کے اشارے پر شہر کے ہزاروں آدمی اکٹھے ہو جاتے تھے۔ افسوس آندھرا لجسلیٹیو کونسل اپوزیشن لیڈر مر گیا جس کی تقریریں مخالفوں کے دلوں پر بھی اثر کر تی تھیں۔ افسوس مزدور تحریک کا ایک رہنما مرگیا جس نے اپنی زندگی میں سو سے زیادہ ٹریڈ یونینیں قائم کی تھی۔ افسوس ہمارا ایک مخلص دوست مرگیا جس کے آنے سے ہر محفل میں رونق ہو جاتی تھی۔ افسوس ہمارا استاد مرگیا جس نے ادب سے لے کر انقلاب تک بہت کچھ سکھایا تھا۔ افسوس ایک اداکار مرگیا جوا پنی نوجوانی کے دنوں میں خود اپنے لکھے ہوئے ڈراموں میں کام کیا کرتا تھا جس کی اداکاری کی تعریف گرودیو ٹیگور تک نے کی تھی اور جو گیتوں اور نظموں میں بھی ڈرامائی کیفیت پیدا کر دیتا تھا۔
ہر رنگ ہر خوش بو!
	دراصل بات یہ ہے کہ افسوس اس لیے ہے کہ ایک انسان مرگیا ایک مکمل انسان جس کی شخصیت میں زندگی کا ہر ایک رنگ تھا، ہر ایک کیف تھا، ہر ایک خوش بو تھی، انسانیت کا ہر ایک جذبہ تھا، سنگیت کا ہر سر تھا، ہر لئے تھا، آہنگ تھا جو شعلہ بھی تھا، شبنم تھا انقلاب کی للکار بھی تھا، پائل کی جھنکار بھی۔علم بھی تھا، عمل بھی تھا، عقل بھی تھا،انقلابی چھاپہ مار کی رائفل بھی تھا، سنگیت کار کا ستار بھی،بارود کی بو بھی تھا،چنبیلی کی خوش بو بھی تھا۔
	ان سب سے مل کر انسان بنتا ہے۔ یہ سب چیزیں ایک انسان میں ہونی چاہئیں مگر کتنے انسانوں میں ہوتی ہیں ؟ تب ہی تو مخدوم محی الدین کی موت سے محفل سونی ہو گئی ہے۔

٭٭٭


 پروفیسر قمر رئیس
 

آزاد نظم اور مخدوم کی شاعری



	عصر حاضر کی نظمیہ اردو شاعری میں آزاد نظم کا فارم سب سے زیادہ پسندیدہ اور مقبول شعری ہیئت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس کے مقابلے میں روایتی اصناف اور مقفیٰ یا پابند شاعری کا رواج تیزی سے رو بہ زوال ہے۔ یہ صورتِ حال کچھ حیرت ناک ضرور ہے کہ عرصے تک اردو شاعری میں رواج پانے والی فارسی کی اصناف شعری کو پیچھے چھوڑ کر، یورپ کی ایک شعری ہیئت کیوں کر ایسی ہمہ گیر مقبولیت حاصل کر سکی؟ اکّا دُکّا بعض ہیئتی تجربات یا جاپان اور ہندی کی بعض شعری ہیئتوں مثلاً ہائیکو اور دوہا میں طبع آزمائی معمول کے تخلیقی رویّوں کا ایک حصّہ ہیں۔ اس کے مقابلے میں آزاد نظم کا چلن اردو میں ایک مستحکم ہیئتی رجحان بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی سچائی ہے کہ ابتدا میں مغرب کی دوسری شعری اصناف کے مقابلے میں آزاد نظم (Free Verse)کی مخالفت زیادہ شدومد سے ہوتی رہی ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب شرر نے ایک منظوم ڈرامے میں نظم غیر مقفیٰ کا استعمال کیا اور اس کی وکالت کی تو نظم طباطبائی جیسے ایک دو معاصرین کے علاوہ کسی نے اس تجربے کی حمایت نہیں کی۔ حالاں کہ یہ آزاد نظم نہیں، قافیہ سے عاری (Blank Verse)نظم معّرا تھی۔ طویل عرصہ گزرنے کے بعد جب 1939ء میں حلقۂ ارباب ذوق کی تحریک شروع ہوئی تو اس سے وابستہ بعض شعرا مثلاً میرا جی اور ن۔م۔راشد نے اجتہادی طور پر آزاد نظم میں طبع آزمائی شروع کی۔ تصدق حسین خالد نے 1925ء میں آزاد نظم لکھنے اور متعارف کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ الغرض حلقۂ ارباب ذوق کے شعرا کے ہاتھوں آزاد نظم خاصی مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔
	یہی وہ زمانہ ہے جب اردو میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعرا ایک نئی احتسابی فکر اور رومانوی حسّیت کو نظموں میں ادا کر رہے تھے۔ ان کا حلقۂ اثر وسیع تر ہوتا جا رہا تھا۔ اسرار الحق مجاز، معین احسن جذبی، فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی جیسے سرکش ادیب اپنی تخلیقی ذہانت کے ساتھ سامنے آ رہے تھے۔ وہ ایسے غایتی اور حقیقت پسندانہ ادب کے داعی تھے جو عوامی زندگی میں تبدیلیاں لائے،ذہن کو بدلے اور طبقاتی کشمکش کی ترجمانی کرے اور اس کے لیے وہ اردو شاعری کے مواد اور اسالیب میں نئے تجربات کرنے کی طرح ڈال رہے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ چوتھی دہائی میں نوجوان قلم کاروں کے ہاتھوں جو ادب تخلیق ہو رہا تھا اس میں کسی تحریک یا حلقے کے حوالے سے کوئی فرق و امتیاز نہیں تھا۔ اس کے باوجود ترقی پسند ادیب یہ دیکھ رہے تھے کہ حلقہ ارباب ذوق کے شعرا کی سعی و کاوش سے آزاد نظم زیادہ مقبول ہو رہی تھی۔ 1932ء میں میرا جی کی شاعری کا مجموعہ ’’میرا جی کی نظمیں ‘‘ اور 1945ء میں ن۔م۔راشد کی نظموں کا مجموعہ ’’ماورا‘‘ شائع ہو کر مقبول ہوئے تھے۔ لیکن ترقی پسند شعرا اپنی باغیانہ روش کے باوجود آزاد نظم کے فارم کو اپنانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کی نظموں میں نئی امیجری اور روایتی شاعری کے مقابلے میں نئے استعاراتی تلازمات جیسے سحر، رات، اندھیرا، سورج، محل، حویلی استعمال ہو رہے تھے۔ غیر مقفیٰ یا معرا نظم کو بھی وہ کامیابی سے برت رہے تھے لیکن آزاد نظم سے منحرف یا دور تھے۔ مثال کے طور پر اسی زمانے یعنی 1944ء میں مخدوم محی الدین کا مجموعہ ’’سرخ سویرا‘‘ شائع ہوا۔ اسرار الحق مجاز کا مجموعہ ’’آہنگ‘‘ 1938ء میں، فیض احمد فیض کا’’ نقش فریادی‘‘ 1941ء اور سردار جعفری کا پہلا مجموعہ ’’پرواز‘‘ 1943ء میں شائع ہوئے۔ ’سرخ سویرا‘ کی نظموں میں صرف ایک نظم ’’اندھیرا‘‘ آزاد نظم کے فارم میں ملتی ہے۔ ڈاکٹر عقیل احمد صدیقی نے اپنی تصنیف ’’جدید اردو نظم نظریہ اور عمل‘‘ میں لکھا ہے کہ فیض کی نظمیں ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘اور ’’ایک منظر‘‘ آزاد نظم کے فارم میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’نقش فریادی‘‘ کی کوئی بھی نظم آزاد نظم کی ہیئت میں نہیں ہے۔ یہ دونوں مذکورہ نظمیں بھی معریٰ فارم میں ہیں۔ اسی طرح مجاز اور سردار جعفری کے مجموعوں میں بھی کوئی نظم آزاد نظم کی ہیئت میں نہیں ہے۔ فیض کے دوسرے اہم مجموعے ’’دستِ صبا‘‘ میں بھی صرف ایک نظم ’’ایرانی طلبا کے نام‘‘ آزاد نظم کے فارم میں ہے۔ باقی تمام نظمیں پابند یا معرا ہیئت میں ہی شائع ہوئی ہیں۔
	سچ تو یہ ہے کہ اس زمانے میں ترقی پسند تحریک کے نظریہ ساز نقاد علی سردار جعفری نے ایک مضمون میں آزاد نظم کے فارم کو برتنے کی مخالفت کی تھی۔ جب بعض قدامت پسند ادیبوں نے آزاد اور معرا نظم کو گمراہی کہہ کر اسے ترقی پسندوں سے منسوب کیا تو ڈاکٹر عبد العلیم جیسے متوازن ذہن کے نقاد نے بھی ان نئے اسالیب شعری کو استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی۔ لکھتے ہیں۔
	’’ترقی پسند ادیبوں کے نزدیک اسلوب اور طرزِ ادا کے سوال کی لازمی طور پر ثانوی حیثیت ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک مقدم سوال موضوع کاہے۔ اگر وہ اپنے خیالات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا نا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ ادب کے مسلّمہ اصولوں کو اُس وقت تک ترک نہ کریں جب تک وہ بالکل ناموزوں ثابت نہ ہو جائیں۔ نت نئے اسلوبوں کی تلاش درحقیقت ایک طرح کی خود پرستی اور انفرادیت پسندی ہے جس سے ترقی پسند ادب کو احتراز لازم ہے۔ اس لیے کہ اُس کے لیے ادب مقصود بالذات نہیں بلکہ سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک آلہ ہے۔
		(ص 72، جدید اردو نظم نظریہ و عمل،عقیل احمد صدیقی)
	شاعری میں نئے اسالیب اظہار سے گریز کرنے کی ڈاکٹر عبد العلیم کی یہ ہدایت بھی آزاد نظم کے حوالے سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزاد نظم کے بارے میں ممتاز ترقی پسند ادیبوں کی یہ عصبیت آمیز رائے ان کے آزادانہ غور و فکر کا نتیجہ تھی یا اس کے پیچھے مارکسی ادبی نظریات کی کارفرمائی تھی۔
	حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں سوویٹ یونین کی طرح ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں بھی مارکسی نظریات کے اطلاق میں شدت اور کٹرپن کا مظاہرہ ہو رہا تھا۔ اس عہد میں ہندوستان کے ترقی پسند حلقوں میں کرسٹوفر کاڈویل اور رالف فاکس دو مارکسی نقاد بے حد مقبول تھے۔ روسی ناقدین کی طرح وہ آزاد نظم یا شاعری میں اس نوع کے دوسری ہیئتیں پسندیدہ اس لیے سمجھتے تھے کہ ان کے خیال میں ملارمے اور بادلیر جیسے فرانسیسی شاعر آزاد نظم کے فارم میں داخلی دنیا کے تجربات کی عکاسی کر رہے تھے۔ وہ فرائڈ کے نفسیاتی نظریات اور تحت الشعور کی تہہ داریوں کو سمو کر یوروپ کی سرمایہ دارانہ تہذیب کے ترجمان تھے۔ ترقی پسندوں کا خیال تھا کہ ان کی نظموں کی استعاراتی زبان، خود کلامی اور داخلی تہہ داری بورژوا سماج کے بڑھتے آشوب کو سامنے لاتی تھی۔ سوویٹ یونین میں بھی مختلف زبانوں کے ادب سے وابستہ نقادوں پر بھی آرٹ اور ادب کے حوالے سے پارٹی کی پالیسی کا پورا تسلط تھا۔ شعرا کو اس کی آزادی نہیں تھی کہ وہ اپنی تخلیقی ضرورت کے مطابق فارم یا ہیئت کے تجربات کریں۔ اس لیے بیش تر زبانوں میں شاعری کے روایتی فارم ہی رائج رہے۔
	کرسٹوفر کاڈویل نے اپنی کتاب Illusion and Reality میں آزاد نظم کے حوالے سے لکھا ہے :
	’’آزاد نظم کی تحریک نراج کی طرف جھکاؤ رکھنے والے سرمایہ دار طبقے کی ذہنی الجھن کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طبقے کی جو تمام اقدار کی بے سوچے سمجھے نفی کرتے ہوئے سبھی سماجی روابط کو توڑنے کے درپے ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں کے خیال میں انسان اپنے سماجی تعلقات پر قابو رکھنے کی صلاحیت سے کلیتہً محروم ہو چکا ہے۔‘‘
		  ( بحوالہ ص 157، مخدوم محی الدین)
	مخدوم محی الدین کے ایک روسی نقاد الکسی سخا چیف کا ڈویل کے اس نظریے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
	’’کرسٹوفر کا ڈویل آزاد نظم کے بنیادی طرف دار، انگریز اور امریکی Imagistشاعروں کی تخلیقات کی زوال پذیر ماہیت کی بالکل صحیح نشاندہی کرتے ہیں لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ آزاد نظم کے جمہوری شاعری میں استعمال کے امکان کو بھی مسترد کر دیتے ہیں۔‘‘(ص157)
	سخا چیف کے بیان کا آخری حصّہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہ بھی دوسرے مارکسی نقادوں کی طرح داخلی تجربات کے اظہار کے لیے آزاد نظم کے فارم کے استعمال کو صحیح نہیں سمجھتے۔ لیکن اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ جمہوری شاعری یعنی عوامی زندگی کی ترجمانی کرنے والی شاعری میں آزاد نظم کا استعمال کیا جانا معیوب نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسا انھوں نے سردار جعفری اور مخدوم کی کامیاب آزاد نظموں کے مطالعے کے بعد ہی سوچا اور لکھا ہے۔ اس لیے کہ اس بیان کے بعد ہی وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ 
’’اردو شاعری میں آزاد نظم کے روشن امکانات سے فائدہ اٹھانے والے ترقی پسند شاعروں میں اولیت علی سردار جعفری اور مخدوم محی الدین کو حاصل ہے۔‘‘
	علی سردار جعفری، جو ابتدائی دور میں آزاد نظم کو اپنانے کے حامی نہیں تھے بعد کے زمانے میں انھوں نے اس فارم کو نہ صرف اپنایا بلکہ اپنی جمہور دوستی اور انقلابی فکر کے تحت بعض موضوعات کو آزاد نظم میں کامیابی سے برتا۔ مثال کے طور پر طویل تمثیلی نظم نئی دنیا کو سلام، خواب، فریب، سیلاب چیں،امن کا ستارہ، ایشیا جاگ اٹھا، بھوکی ماں، بھوکا بچہ، اودھ کی خاک حسیں اور دوسری کئی نظمیں۔ جعفری کی بیش تر آزاد نظموں میں محرک اور موضوع سیاسی ہے۔ ان کے بیانیہ اسلوب میں بلند آہنگی ضرور ہے لیکن نظموں میں جس امیجری سے شاعر نے کام لیا ہے اس میں تازگی اور دلکشی ہے۔ اس کے علاوہ نظم کی فطری روانی اور آہنگ میں بھی کمی محسوس نہیں ہوتی۔
	مخدوم کی آزاد نظموں میں بھی جہاں سیاسی حوالے روشن ہیں، بلند آہنگی کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نظموں میں رواں دواں شعری تمثالوں سے جس طرح کی شیرینی اور خوش آہنگی پیدا ہوتی ہے وہ قاری کو شاعر کے تجربے کا ہم سفر بنا لیتی ہے۔ مثلاً ان کی پہلی آزاد نظم ’’قید‘‘ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔
قید ہے، قید کی میعاد نہیں 
جو رہے، جور کی فریاد نہیں، داد نہیں 
رات ہے، رات کی خاموشی ہے، تنہائی ہے 
دور محبس کی فصیلوں سے بہت دور کہیں 
سینۂ شہر کی گہرائی سے گھنٹوں کی صدا آتی ہے 
جھلملا جاتی ہے انفاس کی لو
جاگ اٹھتی ہے مری شمعِ شبستانِ خیال
	اس کے بعد شمعِ شبستانِ خیال کے سہارے شاعر کو جبرِ سیاست سے نڈھال اور مجبور ساتھیوں کی یاد آتی ہے۔ یہاں نظم کا آہنگ Rhythmاُس کے خیال اور جذبے کی دھیمی آنچ اور بہاؤ کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے جو نظم کے آخر میں ایک دیر پا تاثر قاری کو دیتا ہے۔
	آزاد نظم کی ہیئت کسی خاص وضع Structureکی پابند نہیں ہوتی۔ وہ عروض و قوافی کے روایتی اصولوں سے بھی آزاد ہوتی ہے۔ نظم طویل ہو تو شاعر ایک نہیں کئی اوزان سے کام لے سکتا ہے۔وہ مصرعوں میں ارکان کی تعداد کا پابند بھی نہیں ہوتا۔ اس فارم کو برتنے میں بنیادی چیز داخلی مواد اور داخلی لحن ہے۔ یعنی شاعر صرف اپنے تخلیقی تجربے کا پابند ہوتا ہے۔ یہ تجربہ ہی آزاد نظم کے فارم کو طے کرتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو مخدوم کی آزاد نظموں کو مواد اور موضوع کے لحاظ سے تین متصل دائروں میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک ان کی سیاسی اور انقلابی فکر کا دائرہ ہے۔ جس کے تحت ان کا معنوی وجود د بے کچلے انسانوں یا محکوم قوموں کی جدوجہد سے گہرائی کے ساتھ جڑا نظر آتا ہے۔ ان نظموں میں انقلابی جذبہ و احساس تہہ نشیں ضرور ہے لیکن وہ جوشیلا آہنگ نہیں ہے جو کیفی اعظمی، نیاز حیدر یا سردار جعفری کی سیاسی نظموں میں ملتا ہے۔ دوسری اہم بات ہے کہ یہاں بھی ان کے شعری اسلوب میں استعاراتی اظہار نمایاں رہتا ہے۔ مثلاً اندھیرا، وادیِ فردا، چپ نہ رہو، چاند تاروں کا بن اور درّۂ موت۔ دوسرے دائرہ کی نظموں میں عشق اور رومان کی فضا غالب ہے۔ فیض احمد فیض کی طرح مخدوم کی داخلی واردات اور جذبہ و احساس کی بساط بھی دولخت سی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف کسی سیم بر حسینہ کے لیے ان کا دل دھڑکتا ہے لیکن اسی شدت سے یہ دل دنیا کے کچلے ہوئے اور زمین کی چھاتی پر بوجھ بنے دکھی انسانوں کے پیار میں بھی تڑپتا ہے۔ مخدوم کی عشقیہ نظموں میں چارہ گر، سناٹا، وصال اور جز تری آنکھوں کے۔۔۔۔۔ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ ان واضح دائروں کے علاوہ مخدوم کی تخلیقی فکر ایک زیادہ تہہ دار اور نازک دائرے میں متحرک دکھائی دیتی ہے۔ یہاں صرف رومان اور انقلاب ہی نہیں بلکہ زندگی کے گوناگوں تجربات سے افسردہ ایک حکیمانہ شعور بھی گلے ملتا ہے۔ یہاں شاعر کے انفرادی غور و فکر کی شعاعیں نظم کی تخئیلی فضا میں ایک پر اسرار روشنی کی خبر دیتی ہیں۔ جو نظم کو تہہ دار Complexبنا کر اس کی تمثالوں اور علامتوں میں ہلکا سا ابہام پیدا کر دیتی ہیں۔ فنی اور معنوی اعتبار سے یہ وسیع کینوس اور کثیر جہات کی تخلیقات ہیں۔ ایسی نظموں میں بلور، وقت بے درد مسیحا، آج کی رات نہ جا، خواہشیں، ملاقات اور رُت جیسی شاہکار نظمیں شامل ہیں۔ ان میں بیش تر نظمیں ایسی ہیں جو مخدوم کی زندگی کے آخری دور کی یادگار ہیں۔ یہ نظمیں شاعر کی پابند نظموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرا اور دیر پا تاثر قاری کو دیتی ہیں۔
	آئیے اب اِن تین دائروں کی آزاد نظموں کو ذرا قریب سے دیکھیں۔ پہلے دائرے کی ایک نظم ہے ’چپ نہ رہو‘
	’چپ نہ رہو‘ سامراجی طاقتوں کی سازش سے، ہر دل عزیز افریقی رہنما لوممبا کے وحشیانہ قتل پر لکھی ہوئی ایک ماتمی نظم ہے۔ بظاہر ایک ہنگامی سا موضوع ہے۔ لیکن شاعر نے اس سانحے پر اپنے اور انسانیت کے بے کراں دُکھ کو اپنے شعور و فکر کے گلقند میں اس طرح تیار کر کے پیش کیا ہے کہ نظم کی استعاراتی ساخت میں بہا لے جانے والا آہنگ اور وفور پیدا ہو گیا ہے۔
	یہ ابتدائی بند دیکھیے :
شب کی تاریکی میں، اک اور ستارہ ٹوٹا
طوق توڑے گئے ٹوٹی زنجیر
جگمگانے لگا ترشے ہوئے ہیرے کی طرح
آدمیت کا ضمیر
پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکا
شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے 
صبح دم جب مرے دروازے سے گزری ہے صبا
اپنے چہرے پہ ملے خونِ سحر گزری ہے 
	وہی مانوس علامتیں ہیں۔ رات، سحر، طوق و زنجیر، صبا، خونِ سحر جو دوسرے ترقی پسند شعرا نے بھی برتی ہیں۔ لیکن مخدوم کے تجربے میں جو نادیدہ شدت اور وسعت تھی اس نے ان مانوس علامتوں اور تمثالوں میں ایک حیران کن اور تازہ کار حسن پیدا کر دیا۔ لوممبا کے قتل پر آدمیت کے ضمیر کا ایک ترشے ہوئے ہیرے کی طرح جگمگا اٹھنا، رات کے سناٹے میں خنجر کا چمکنا اور پھر خون کے بہتے ہوئے دریا کی چمک۔۔۔۔۔۔ اور پھر بادِ صبا بھی صبح دم جب شاعر کے دروازے سے گزرتی ہے تو اس کا چہرہ بھی خون سے لت پت دکھائی دیتا ہے۔ یہ سارے لہو لہو امیج اُس آفاق گیر المیے کی شدت کو سامنے لاتے ہیں جو اس عہد کی کچلی ہوئی انسانیت کے ہیرو لو ممبا کے قتل کی صورت میں سامنے آیا تھا اور جس نے سچ مچ عالمی سطح پر انسانی ضمیر کو بیدار کر دیا تھا۔
	اسی طرح’ وادیِ فردا‘ اور ’درّۂ موت‘ جیسی نظموں میں بھی شاعر کا سیاسی شعور اس کے آفاق گیر انسانی ویژن کے ہمدوش ہوکر نظم کو فن پارہ میں ڈھال دیتا ہے۔
	دوسرے دائرے کی نظمیں اجتماعی فکر سے انحراف اور شاعر کی عشقیہ واردات کے لمحات کی روداد ہیں۔ اس لیے ان تخلیقات میں آزاد نظم کی بندش زیادہ غنائی اور رومان پرور ہو گئی ہے۔ لہجہ نرم اور نظم کا ارتقا زیادہ حسیاتی کیفیت اور روانی سے معمور نظر آتا ہے۔ مخدوم اس حقیقت سے آشنا تھے کہ نظم کا آہنگ یا Rhythmایک چیز ہے اور اس کی غنائیت یا موسیقی دوسری چیز۔ پھر یہ کہ غنائیت ایک طرف نظم کے موضوع اور مواد کے خمیر کا حصہ ہوتی ہے دوسری جانب یہ نظم کی ٹیکنک، امیجری اور تعمیر کے عمل میں بھی کار فرما رہتی ہے۔ اور اکثر جب نظم کی داخلی موسیقی اور ہیئتی اظہار میں گہرا تال میل پیدا ہو جاتا ہے تو نظم کے تاثر میں ایک دیرپا جادوئی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔
	چارہ گر، سناٹا، وصال اور جز تری آنکھوں کے مخدوم کی ایسی ہی سدا بہار تخلیقات ہیں۔ ان کی غنائیت نے ان کے آہنگ میں کسی نرم رو شفاف دریا کے بہاؤ کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ آزاد نظم کے نمائندہ فرانسیسی شاعر آرتھر ریمبو کے برطانوی نقاد Heuripyreنے اس کی نظموں کی ابہام زدہ امیجری کے علاوہ دو خصوصیات پر خاص زور دیا ہے۔ وہ ہیں ان کا Concreteاور Sonorousہونا۔ یعنی پوری نظم کا اسٹرکچر ایک وحدت میں ڈھلا ہو اور صوتی آہنگ رکھتا ہو یا جیسے ہم اپنے محاورے میں کہیں گے کہ مترنم ہو۔ مخدوم کی وہ نظمیں جو عشقِ بلا خیز کا ترانہ بن گئی ہیں۔ جیسے چارہ گر، وصال اور احساس کی رات ایسے ہی اوصاف سے متصف ہیں۔ ان کے اوزان مختلف ہیں، اشاراتی زبان کی فضا بھی منفرد ہے۔ لیکن ان کا ترنم قاری کو بہا لے جاتا ہے۔ وہ علامتوں کے دامن میں چھپی ان سماجی قوتوں کو بھی سمجھتا ہے جو روزِ ازل سے عشق کی دیوانہ گر لذتوں کی حریف رہی ہیں۔ آزاد فارم کے باوجود چارہ گر جیسی نظم تو بڑی دلکش دھن میں گائی گئی ہے۔
دونوں نظموں کو ذرا قریب سے دیکھیے۔
	دونوں نظموں کی علامات منفرد ہونے کے باوجود ایسی نہیں ہیں جو قاری کے ذوقِ شعری کو آزمائیں اور بھٹکائیں۔ چنبیلی کا منڈوا، میکدے سے کچھ دور دو جلتے بدن یہ سارے الفاظ بلیغ علامتوں کی صورت نظم کی تعمیر اور فضا آفرینی میں مدد کرتے ہیں اور پھر مذہب و اخلاق جو اس بے کنار انسانی جذبے کے حریف رہے ہیں وہ دور سے دیکھتے رہ جاتے ہیں اس لیے کہ پیار انسانی رشتوں کا جوہر ہے وہ امر ہے۔
	آخری دائرے کی نظمیں حقیقت میں مخدوم کی شاعری کی نئی کروٹوں کے نقوش دکھاتی ہیں۔ علامتی اظہار تو ان کی دوسری نظموں میں بھی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے لیکن تیسرے امتزاجی اسلوب کی نظمیں زیادہ پہلو دار، دلچسپ اور کثیر المعنی نظر آتی ہیں۔ نظم میں محبوب کے مرمریں جسم کی دلکشی اور مرمریں صبح کے ہاتھوں، رات کے ٹوٹنے اور اجالوں کے پیام کی بشارت ایک دوسرے میں ضم ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس لیے کہ شاعر کے مسلک میں زندگی لطف و نشاط بھی ہے اور زنجیر کی جھنکار بھی اور یہ دونوں زندگی کے معنی تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
	چند شفاف نظموں کے مقابلے میں مخدوم نے آخری دور میں ایسی آزاد نظمیں بھی لکھی ہیں جن کا علامتی کر دار زیادہ تہہ داریوں کا حامل ہے۔ مثلاً ’بلور‘، ’ملاقات‘، ’بے درد مسیحا‘ اور ’خواہشیں ‘ جیسی دلکش تراشی ہوئی نظمیں ہیں۔ ان نظموں میں مخدوم کی فکر کے دائرے، طبقاتی جنگ اور استحصال کے مانوس تصورات سے آگے زیادہ بڑے کینوس پر پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان نظموں میں بھی جن کا علامتی نظام اجنبی اور امیجز گریز پا ہیں ان میں محبوب کے دل نواز حسن کی پرچھائیاں دیکھی جا سکتی ہیں جیسے ’ملاقات‘، لیکن دوسری نظموں مثلاً ’خواہشیں ‘ میں علامتی اظہار شاعر کی باطنی دنیا کے نہاں خانوں کا سراغ دیتا ہے۔
	یہاں شاعر کی آرزو مندیاں اور محرومیاں اندر سبھا کی پریوں کے زرکار حریری لباس میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ’خواہشیں ‘ کا یہ بند دیکھیے :
خواہشیں، لال پیلی ہری چادریں اوڑھ کر
تھرتھراتی تھرکتی ہوئی جاگ اٹھیں 
جاگ اُٹھی دل کی اندر سبھا
دل کی نیلم پری جاگ اُٹھی
دل کی پکھراج لیتی ہے انگڑائیاں جام میں 
جام میں تیرے ماتھے کا سایہ گرا
گھل گیا۔
	نظم کی امیجری میں اندر سبھا کے رقص و نغمہ کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ مخدوم کی آخری دور کی ایک نظم ہے ’’وقت بے درد مسیحا‘‘۔ نظم میں نور سحر، رات درد کی کہکشاں صلیبوں کی برات، بے درد مسیحا اور دوسرے امیجز کو شاعر نے نئے فکری اور تخئیلی سیاق و سباق میں استعمال کیا ہے۔ لیکن پوری نظم کے آہنگ میں غنائیت کی شیرینی کا احساس قائم رہتا ہے۔ نظم کی کلیدی علامات وقت اور رات ہیں۔ نظم کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔
درد کی رات ہے 
چپ چاپ گزر جانے دو
درد کو مرہم نہ بناؤ
دل کو آواز نہ دو
نورِ سحر کو نہ جگاؤ
زخم سوتے ہیں تو سو رہنے دو

اس کے بعد ہی یہ بند آتا ہے 

وقت بے درد مسیحا ہے 
بہ اک حکم جگا دیتا ہے جلا دیتا ہے 
قبر سے اٹھ کے نکل آئی ملاقات کی شام
ہلکا ہلکا سا وہ اڑتا ہوا گالوں کا گلال
بھینی بھینی سی وہ خوشبو کسی پیراہن کی
	آخر زمانے کی دوسری نظموں کی طرح مخدوم کی اس نظم میں بھی داخلی کرب، اضمحلال اور بیزاری کی ایک لہر رینگتی دکھائی دیتی ہے۔ نظم میں آگے بھی شاعر رات کو درد کی کاہکشاں اور مصیبتوں کی برات کہتا ہے اور گوشۂ دل کے سناٹے میں لیٹی ہوئی حسرتوں اور تشنہ کام خواہشوں کو گنتا ہے۔ لیکن نظم کے آخر میں وہ وقت سے التماس کرتا ہے کہ رات کی نبض میں نشتر رکھ دے تا کہ رات کا سارا خون اس کی شریانوں سے بہہ جائے۔ اس طرح نظم میں رات ایک بار پھر گہرے زخموں، اذیتوں اور ظلم کی علامت بن جاتی ہے اور رومانوی تمثالوں کے باوجود شاعر کی انقلابی فکر کے سلسلوں سے مل جاتی ہے۔
	فیض کی آخری دور کی شاعری میں بھی آزاد نظمیں زیادہ ملتی ہیں۔ جیسے ’یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے۔‘ ’تم ہی کہو کیا کرنا ہے ‘ یا ’تم اپنی کرنی کر گزرو۔‘ فیض کی اختراعی فکر بھی نئی علامتیں تراشتی ہے۔ اسلوب و اظہار میں رومانوی آہنگ ان کی نظموں میں بھی حاوی رہتا ہے۔ اس کے برعکس ن۔م۔راشد کا استعاراتی اظہار کنایاتی ہوتا ہے اور بڑی حد تک رومانوی تخیل کی رنگینی سے خالی، استعارے کم ہوتے ہیں لیکن نظم کے آہنگ میں پختگی کا احساس ہوتا ہے۔ 
	مخدوم کی آزاد نظموں کا رنگ و آہنگ فیض کی نظموں سے قریب تر ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ رومانوی فکر کی رنگینی ان کی نظموں میں زیادہ نمایاں رہتی ہے اور اسی وصف میں ان کی انفرادیت کا حسن پنہاں ہے۔
٭٭٭


 پروفیسر امیر عارفی



مخدوم محی الدین سے انٹرویو

	میری بہت دنوں سے خواہش تھی کہ مخدوم صاحب سے بھی شعر و ادب کے مسائل پر بات کروں اور اس گفتگو کو انٹرویو کی صورت میں پیش کروں۔ اس سے پہلے میں نے فراق گورکھپوری، کرشن چندر، پروفیسر احتشام حسین کے انٹرویو کیے جو ’’صبا‘‘ میں شائع ہو چکے تھے۔ اردو ادب کی جو اہم اور قد آور شخصیتیں ہیں ان میں مخدوم کا نام بہت اہم ہے۔ میرے خیال میں ۱۹۳۶ء کی نسل میں فیض اور مخدوم دو ایسے شاعر ہیں جنھوں نے متواتر Contribute کیا ہے ورنہ کسی نے فلم میں پناہ لے لی ہے اور کوئی اس سوچ میں گم ہے کہ اب کیا کہیں ؟ کوئی اپنی شہرت کی گرتی ہوئی دیواروں کو سنبھالنے میں مصروف ہے تو کئی ایسے ہیں جنھوں نے چپ سادھ لی ہے۔
	اس انٹرویو کا خیال مخدوم کی ان نظموں اور غزلوں کو پڑھ کر ہوا جو زندگی پر بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مخدوم کی دو شخصیتیں ہیں۔ ایک سیاسی دوسری ادبی، مخدوم صرف شاعر ہی نہیں بلکہ وہ ہندستان کے سیکڑوں محنت کرنے والے جفا کش عوام کے محبوب لیڈر اور آندھراپردیش قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔
	مخدوم کی زندگی جس نشیب و فراز سے گزر رہی ہے۔ ہند و پاک کا اگر کوئی دوسرا شاعر اس طرح کی زندگی بسر کرتا تو وہ یا تو سیاسی زندگی ترک کر دیتا یا پھر شاعری لیکن مخدوم ایک ایسا البیلا شاعر ہے جس نے دونوں کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ یہ انٹرویو میں نے پچیس سال پہلے لیا تھا جو ’’صبا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ اس انٹرویو سے قبل دس بارہ سال سے لیڈر مخدوم سے بہ خوبی واقف تھا۔ لیکن انٹرویو کے بعد مجھے شاعر مخدوم کو سمجھنے میں مدد ملی کہ کس طرح لیڈر مخدوم نے شاعر مخدوم کو سنبھال کر رکھا ہے۔
	مخدوم کی شخصیت کا ایک اور پہلو اس وقت ہمارے سامنے آیا جب فلم والوں نے مخدوم سے بمبئی میں رہ کر گانے لکھنے کی خواہش کی اور مخدوم نے ان کی اس پیش کش کو رد کر دیا۔ ورنہ ایسے کتنے شاعر ہیں جو فلم میں گانے لکھنے کے لیے سب کچھ داؤں پر لگا دیتے ہیں۔
	میں چھٹیوں میں علی گڑھ سے ۲۳/ دسمبر ۱۹۶۳ء کو حیدرآباد پہنچا اور یہ میرے لیے اچھا موقع تھا کہ میں اپنے محبوب شاعر مخدوم سے انٹرویو کی دیرینہ خواہش کو پورا کروں۔ چناں چہ ۴/ جنوری ۱۹۶۴ء کو میں اور مخدوم ایک پُر سکون کیفے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ چائے پینے کے دوران ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اور میرے سوالات کے لیے ماحول سازگار ہوتا گیا اور میں نے سوالات کا آغاز کیا۔

امیر عارفی	:	مخدوم صاحب آپ نے کب اور کس ماحول میں شاعری کا آغاز کیا؟
مخدوم محی الدین	:	میری شاعری کا آغاز ۱۹۳۳ء سے ہوا جب کہ میں کالج کا طالبِ علم تھا۔ میری ابتدائی تعلیم عربی، فارسی اور تلگو میں ہوئی۔ پندرہ سال کی عمر میں میں نے سکندر نامہ، دیوانِ حافظ، دیوانِ صائب، اخلاق محسنی، مثنوی مولانا روم کا کچھ حصہ اور سعدی کی گلستان، بوستان ختم کر لی تھی۔ یہ بہت بڑا Impact تھا۔ ادب سے دلچسپی ۱۹۲۸ء میں پیدا ہو چکی تھی۔ اس دور کے مشہور رسالے ’’نگار‘‘ اور ’’ایوان‘‘ میں دلچسپی سے پڑھتا تھا۔ کالج کے ابتدائی دور ہی میں مجھے کلاسیکل ادب پڑھنے کا موقع ملا، لیکن کبھی شعر کہنے کی خواہش نہیں ہوئی حالاں کہ میرے دو چچا زاد بھائی ایک صبا اور دوسرے ادیب شاعر ہو چکے تھے اور خود میرے دادا شاعر تھے جو فطرت تخلص کرتے تھے، وہ عشق میں پاگل ہو کر مر گئے، میرا گھریلو ماحول مذہبی تھا اور ہمارا خاندان درس و تدریس کے لیے مشہور تھا۔ ہمارے خاندان میں پیراکی، قرات اور خطاطی کے ماہرین گزرے ہیں۔ تجوید میں نے نہیں پڑھی، لیکن گھر میں لوگ قرآن شریف تجوید سے پڑھتے تھے، البتہ ہم سے خطاطی ضرور کرائی گئی۔ میری ابتدائی تعلیم گھر پر عربی فارسی میں ہوئی اور تلگو گاؤں کے مکتب میں پڑھی۔ مجھے وہ مندر اور پیپل کا درخت اب تک یاد ہے جس کے نیچے بیٹھ کر ہم ’’سرسوتی‘‘ لکھا کرتے تھے۔
				میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ میرا گھریلو ماحول بڑا مذہبی تھا۔ میں نے مولسری کے بیجوں پر ختم خواجگان، مولود شریف پڑھنے سے لے کر مسجد کی جاروب کشی اور اذان تک دی ہے۔ مسجد میں نمازیوں کے لیے کنویں سے پانی نکالنا، ہر جمعہ کو سر منڈوانا، سخت گرم پانی سے نہانا اور روزانہ کے معمول میں فرض سنت اور نوافل کے علاوہ اشراق اور چاشت کی نمازیں پڑھنا اس قسم کے مذہبی ڈسپلن سے میری طبیعت اکتا جاتی تھی۔ لیکن گاؤں میں میں نے گھر والوں کی چوری سے شرر کے ناولوں کا پورا سٹ پڑھ لیا تھا۔ کالج کے ابتدائی سالوں میں جب کہ میں شعر نہیں کہتا تھا میری آواز بہت اچھی تھی اور اچھا خاصا گا لیتا تھا۔کھیل کود اور شکار کا زیادہ شوق تھا، میں سو گز کی دوڑ، ہائی جمپ، لانگ جمپ اور فٹ بال میں کئی انعامات لے چکا ہوں۔ فٹ بال میرا پسندیدہ کھیل رہا ہے۔
				۱۹۳۳ء میں میں نے اتفاقیہ طور پر جو نظم کہی وہ ’’پیلا دوشالہ‘‘ تھی جو مزاحیہ ہے۔’’انھیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی‘‘ ’’تلنگن‘‘ اور ’’ساگر کے کنارے ‘‘ بھی اسی دور کی یادگار ہیں۔
امیر عارفی	:	مخدوم صاحب ابھی تک ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کا آپ کی زندگی میں کوئی دخل نہیں تھا تو پھر آپ سیاست میں کیسے آئے ؟
مخدوم محی الدین	:	میرا گھریلو ماحول مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ قوم پرستانہ بھی تھا اور میں گھر پر گاندھی جی، مولانا محمد علی اور ’’بی اماں ‘‘ کے قصے سنتا تھا، گھر میں چرخا کاتا جاتا تھا، چچا کھادی کی بڑی تعریف فرماتے خود بھی کھادی پہنتے اور مجھے بھی پہناتے لیکن مجھے وہ کلف سے اکڑی ہوئی کھادی مطلق پسند نہ تھی۔
		خلافت تحریک کے زمانے میں میری عمر گیارہ، بارہ سال کی تھی۔ میرے چچا خلافت تحریک کے سرگرم موئد تھے۔ وہ مجھے سمجھایا کرتے تھے کہ دنیا میں ایک ملک روس ہے جہاں بادشاہ کو ہٹا کر غریبوں نے حکومت قائم کر لی ہے۔ اب وہاں امیر غریب سب ایک دسترخوان پر ساتھ ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور پھر نیاز کی تحریروں نے مجھے متاثر کیا۔ مارکسسٹ ادب سے میں ۱۹۳۴ء میں واقف ہوا اور کمیونسٹ پارٹی کا ۱۹۴۰ء میں ممبر ہوا۔ گو میرا تعلق ۱۹۳۴ء سے کمیونسٹ پارٹی سے رہا ہے، لیکن ۱۹۴۰ء سے ممبر اس لیے ہوا کہ حیدرآباد میں پارٹی ۱۹۴۰ء میں قائم ہوئی۔ اس وقت پارٹی غیر قانونی تھی۔ جواہر لال نہرو کی قیادت میں ۱۹۳۴ء میں فاشزم کے خلاف ہندستانی قومی تحریک زوروں پر تھی۔ ہم لوگ جنگ اسپین سے بہت متاثر تھے۔ میری پہلی سیاسی نظم ’’جنگ‘‘ ہے۔
				حیدرآباد میں سبط حسن، اختر رائے پوری، ڈاکٹر جے۔سوریا نائیڈو، ایم نرسنگ راؤ (سابق مدیر رعیت) اور چند لوگوں نے مل کر جن میں میں بھی تھا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد ڈالی۔ ہمارے جلسے سروجنی نائیڈو کے مکان پر ہوا کرتے تھے۔ اسی دور میں ہماری مقبولیت اور مخالفت شروع ہو گئی تھی، مقبولیت کی بنیاد یہ تھی کہ ہماری شاعری زندگی اور عوام کے قریب تھی اور غزل کے روایتی انداز سے ہٹی ہوئی تھی اور ہماری مخالفت محض سیاسی مفادات اور رجعت پسندی کی بنا پر ہوتی تھی۔
امیر عارفی	:	کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے حیدرآباد کے ادبی ماحول کو متاثر کیا ہے ؟
مخدوم محی الدین	:	میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ ہم نے روایت کی دیواریں توڑ دی تھیں اور ادب کو زندگی کا رفیق بنا چکے تھے۔ ادب میں ہمارا نقطۂ نظر ہی بدلا ہوا تھا۔ اس طرح نئی نسل کا اس ادب سے متاثر ہونا ضروری تھا۔ چناں چہ نظر حیدرآبادی، سلیمان اریب، میکش، دہقانی، ظہیر بابر، لطیف ساجد، تحسین سروری، عزیز قیسی وغیرہ بھی اس سے متاثر ہوئے۔
امیر عارفی	:	ترقی پسند تحریک سے متاثر ہو کر تو آپ نے انقلابی شاعری کی، آج کل کس ’’انسپریشن‘‘ کی بنا پر شعر کہہ رہے ہیں۔
مخدوم محی الدین	:	شروع سے میں ترقی پسندی کے ’’انسپریشن‘‘ کے تحت شعر کہہ رہا ہوں۔ اس دور میں جب کہ سامراج کے خلاف آزادی کی جدوجہد، طبقاتی جدوجہد، ہماری نجی زندگی، عشق، عشق کی محرومیاں سب کچھ شامل ہیں۔ ترقی پسندی کے مفہوم میں آفاقیت آ گئی تھی۔ جنگ اور امن کو موضوع بنایا، اردو شعر کو تنگنائے غزل سے نکال کر دھرتی پر کھڑا کر دیا۔ غزل سے بندھے ٹکے الفاظ نکال کر اس کو نئی تلمیحیں، تشبیہیں اور استعارے دیے، نیا جمال و جلال دیا۔
		موجودہ شاعری میں ہماری زندگی ہی انسپریشن ہے۔ آج کی دنیا وہ نہیں ہے جو ۱۹۴۵ء سے پہلے تھی۔ آج امن عالم کے تحت قومی آزادی کی تحریک اور سوشلسٹ نظام کا دنیا میں فیصلہ کن مقام حاصل کرنا، سامراج کا کمزور ہونا، امن اور جمہوریت پسند طاقتوں کا وسیع ہونا، غلام ملکوں کا آزاد ہونا، فکر، احساس اور عمل کا بلندیوں پر پہنچنا، یہ ماحول دوسری جنگ سے پہلے نہ تھا۔ پہلے تاریخ سوشلزم بناتی تھی۔ اب سوشلزم تاریخ بنا رہا ہے۔ ’’اس زمینِ موت پروردہ کو ڈھایا جائے گا‘‘ قسم کی شاعری اب ہم دوسرے ڈھنگ سے کرتے ہیں کیوں کہ آج ایک نئی دنیا اور نیا آدم پیدا ہو چکا ہے۔ آج ہم ایک غلام ملک کی نہیں بلکہ صدیوں کی دبی ہوئی امنگوں، لذتوں اور لطافتوں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔
امیر عارفی	:	مخدوم صاحب آپ کے پہلے مجموعے ’’سرخ سویرا‘‘ میں سیکس کا دور دور تک پتہ نہیں لیکن آج کل آپ کے پاس اس کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اس کی کوئی وجہ آپ بتا سکتے ہیں ؟
مخدوم محی الدین	:	دراصل آج ہم اپنے احساسات کا بقایا چکا رہے ہیں، پہلے ترقی پسند کا مضمون محدود تھا، لیکن آج دنیا بدلی ہوئی ہے۔ آج ہمیں داخلی مسائل بھی متاثر کرتے ہیں۔ سیکس انسانی فطرت کا ایک اہم جز ہے دنیا کے شعر و ادب کا (۹۰) فی صد حصہ سیکس پر مبنی ہے، لیکن اس میں نکتہ یہ ہے کہ آپ کس زاویہ سے اس کو محسوس کرتے اور پیش کرتے ہیں، کیوں کہ شعر کا کام انسانی جبلتوں کو تہذیب عطا کرنا ہے۔ نظموں میں سیکس صاف اس لیے نظر آ جاتا ہے کہ نظم کی زبان غزل کی زبان نہیں ہے۔ غزل میں تو سیکس عریانی کی حد تک پہنچ گیا ہے، لیکن غزل موردِ الزام اس لیے نہیں ٹھہرتی کہ اس میں سیکس ڈھکے چھپے انداز میں آتا ہے۔
امیر عارفی	:	سرخ سویرا کے بعد آپ کی طویل خاموشی ’’قید‘‘، ’’چارہ گر‘‘ اور ’’چاند تاروں کا بن‘‘ جیسی خوب صورت نظموں کے ذریعہ ٹوٹی۔ پھر آپ آج کل غزل کیوں کہہ رہے ہیں، اس کی کوئی خاص وجہ تو نہیں ہے۔
مخدوم محی الدین	:غزل کہنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ داخلی محرکات جمع ہوتے ہوے ایک دن غزل کی صورت میں بہہ 	نکلے :کھٹ کھٹا جاتا ہے زنجیر درِ مے خانہ کوئی،دیوانہ کوئی،آبلہ پا آخر شب 
		اس غزل کی تمام علامتیں سیاسی ہیں۔ اس کی ساری فضا کیرالا الیکشن کی ہے۔ دراصل انقلابی شاعری میں بھی میرے پاس جمالیاتی عنصر زیادہ ہے مثلاً ’’گزر بھی جا کہ تیرا انتظار کب سے ہے ‘‘ والی نظم میں گو انقلاب کو دعوت دی جا رہی ہے، لیکن اس میں رومانیت اور جمالیاتی عنصر پیدا ہو گیا ہے جس کو آپ Lyrical بھی کہہ سکتے ہیں۔
		’’سرخ سویرا‘‘ کی اور نظموں مثلاً موت کا گیت، انتظار، طور او ر آتش کدہ میں بھی آپ کو جلال اور جمال یعنی انقلاب اور حسن دونوں کی جھلکیاں نظر آئیں گی۔ اس دور میں میں نے ایک نظم ’’حویلی‘‘ لکھی لیکن اس سے کچھ تسکین نہیں ہوئی تو دوسری نظم:
وہ خمِ گردن وہ دستِ ناز وہ ان کا سلام
ابروؤں کا وہ تکلم وہ نگاہوں کا پیام
		لکھی اور اب حالیہ نظموں میں ’’چارہ گر‘‘، ’’رقص‘‘ وغیرہ کو دیکھیے کہ کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں۔ آج عشق اور انقلاب ایک دوسرے میں سموئے ہوئے ہیں۔
امیر عارفی	:	آپ نے طویل خاموشی کیوں اختیار کی، کیا بڑی شاعری کے لیے وقفہ ضروری ہے ؟
مخدوم محی الدین	:	میں نہیں جانتا کہ میری شاعری بڑی ہے یا نہیں، لیکن اس وقت تحریک کے سامنے جو مسائل درپیش تھے۔ اس کی وجہ سے میرے نزدیک شاعری اہم نہیں تھی۔ ایک آرٹسٹ کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ تحریک کے تقاضے اور آئندہ آنے والے زمانے کے مسائل کیا ہیں، جو شخص کسی تحریک میں عملی طور پر شامل نہیں ہے۔ اس پر بھی ایسا دور آتا ہے۔ اقبال بھی فکری کشمکش میں برسوں مبتلا رہے۔
امیر عارفی	:	مخدوم صاحب کیا کسی ادیب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کا ممبر ہو۔ کیا بغیر ممبر بنے وہ اچھا ادب پیش نہیں کر سکتا؟
مخدوم محی الدین	:	کسی ادیب کی تخلیقات میں آفاقیت، ہمہ گیری، انسانی دل کی تہہ در تہہ جانکاری اور زندگی کا جتنا وسیع تجربہ اور مطالعہ ہو گا وہ اتنا ہی اچھا ادب پیش کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی سیاسی پارٹی کا ممبر ہونا ضروری نہیں۔ یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی ممبری قبول کر لے۔
امیر عارفی	:	آپ کی نظم’’ وصال‘‘ کیا ان مصرعوں کے بغیر:
		’’دولت خاں کی ڈیوڑھی کے کھنڈروں میں 
		بڈھا ناگ کھڑا روتا ہے ‘‘
		مکمل نہیں ہو سکتی؟
مخدوم محی الدین	:	ہاں ٹھیک ہے میری نظم وصال دو مصرعوں کے بغیر بھی مکمل ہے لیکن سوچیے کہ ان دو مصرعوں کی وجہ سے بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ایک مرد اور عورت کے وصال میں آج بھی کتنی سماجی رکاوٹیں ہیں۔ آخر کیوں ؟ یہ سوال بہت اہم ہے اور یہ رکاوٹیں، روپیہ جائیداد، طبقہ ذات پات، مذہب، رنگ و نسل کی ہیں۔ ایک نیگرو کسی گوری عورت سے شادی نہیں کر سکتا۔ خواہ وہ ایک دوسرے سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرتے ہوں۔ یہاں اگر ادیب با شعور ہو گا تو بات ڈھنگ کی کرے گا ورنہ گوری چمڑی والوں کے خلاف نسلی منافرت کا اظہار کر کے حساب برابر کر دے گا۔ نظم وصال میں ’’دولت خاں کی ڈیوڑھی‘‘ وہ مردہ روایتیں ہیں جو جوان روحوں کے آپس میں ملنے پر آج ڈس نہیں سکتیں، بلکہ صرف آنسو بہا سکتی ہیں کیوں کہ زمانے نے ان کی قوتِ جبر کو روند دیا ہے۔
امیر عارفی 	: 	شاعری میں نئے تجربوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ میرے نزدیک شاعری اور نظم دو علاحدہ چیزیں ہیں اور ضروری نہیں کہ ہم میٹر ہی میں شاعری کریں۔
مخدوم محی الدین 	: 	میں نئے تجربوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ بہ شرط یہ کہ اس میں شعریت اور شعور کی کارفرمائی موجود ہو۔ جی ہاں نظم میں میٹر ضروری نہیں، صرف وزن ہوتا ہے۔ چناں چہ آزاد نظم کے متعلق لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ شاعری نہیں ہے۔ لیکن آج یہی نظمیں مقبول ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا کہ ان نظموں کی مقبولیت کے اسباب کیا ہیں۔ مثلاً ’’چارہ گر‘‘ اور ’’چاند تاروں کا بن‘‘ آزاد نظمیں ہوتے ہوئے بھی گائی جاتی ہیں۔ دراصل اس کی وجہ جو میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ آزاد نظم کو زیادہ سے زیادہ مترنم ہونا چاہیے۔ آج کی نظم اپنا مرکزی خیال، اپنے الفاظ، اپنی موسیقی، اپنا پیکر، اپنا پیرہن اور اپنی لٹک لے کر پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس کا حلقۂ اثر بڑھتا جا رہا ہے۔
امیر عارفی :	 	پچھلے دنوں غالباً ’’سویرا‘‘ اور ’’سوغات‘‘ میں بغیر وزن کی کچھ نظمیں شائع ہوئی تھیں اور ادھر بنے بھائی بغیر وزن کی یعنی Speech  Rhythm میں نظمیں لکھ رہے ہیں۔ اس نئے تجربے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟
مخدوم محی الدین 	: 	میں نے ’’سویرا‘‘ او ر ’’سوغات‘‘ میں شائع ہونے والی وہ نظمیں تو نہیں پڑھیں، لیکن انگریزی میں ایسی شاعری کا رواج ہے۔ تلگو کا مہا کوی سری سری بھی بلا میٹر اور بلا وزن کی نظمیں لکھتا ہے۔ لیکن میں بلا وزن کی نظمیں نہیں کہہ سکتا کیوں کہ میرے شعروں کی تخلیق موسیقی سے ہوتی ہے اور دل کی دھڑکن ہی میرے میٹر کا وزن بن جاتی ہے۔میں نے بنے بھائی کی نظمیں سنی اور پڑھی ہیں۔ میں ان سے لطف لیتا ہوں، لیکن ہمیں نیا تجربہ کرتے وقت اس بات کی احتیاط برتنی چاہیے کہ ماضی کے گھسے پٹے پیمانوں کو ترک کرتے ہوئے ان کی جگہ کون سے نئے پیمانے پیش کریں تاکہ ہمارے سننے اور پڑھنے والے عوام ’’نئی چیز‘‘ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔
امیر عارفی 	: 	دکنی زبان کی عوامی شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
مخدوم محی الدین 	: 	عوامی دکنی شاعری کی زندہ مثال سرور ڈنڈا کی شاعری ہے۔ ڈنڈا کی شاعری کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کی زبان اور فارم، دوسرے اس کی نظموں کا خیال۔ جہاں تک اس کی زبان اور فارم کا سوال ہے، وہ قدیم دکنی کے ساتھ آج کی مروجہ زبان اور لوک گیتوں کی بحروں کے ساتھ دکنی اور تلگو گیتوں کی بحریں بھی آزادی کے ساتھ استعمال کرتا ہے اور جہاں تک اس کی نظموں کے خیال کا یعنی اس کے سیاسی اور سماجی شعور کا تعلق ہے وہ معاشرہ میں بنیادی تبدیلی ضرور چاہتا ہے، لیکن اس تبدیلی کو نظر انداز کر دیتا ہے جو آج تیزی سے رونما ہو رہی ہے۔ ڈنڈا کے پاس ظلم و جبر کے خلاف ایک شدید جذبہ ملتا ہے۔ وہ سامراج اور مطلق العنانیت کا دشمن ہے۔ وہ عوام کی سیاسی لڑائیوں میں بھی شریک ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ’’انقلاب‘‘ کا اس کا اپنا ایک تصور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جمہوریت کا قائل بھی ہے اور اس سے ناخوش بھی اور یہیں وہ تنگ نظری کا شکار ہو جاتا ہے۔ دراصل ڈنڈا جہاں سیاسی حیثیت سے با شعور ہے وہاں سماجی حیثیت سے کچھ قدامت پرست بھی ہے۔ چناں چہ لڑکیوں کی وضع قطع میں ذرا سی تبدیلیوں کو بھی وہ برا سمجھتا ہے اور یہاں تک کہ عورتوں کی آزادی کا مخالف بن جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود ڈنڈا سوشلزم میں یقین رکھتا ہے اور اس کی زبان اور شاعری کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی شاعری کے ساتھ البتہ یہ ظلم ضرور ہے کہ یہ صرف سننے تک محدود ہے۔ جب یہ لکھی جائے تو پڑھنے میں تکلف ہوتا ہے۔
امیر عارفی 	: 	مخدوم صاحب ہمارے ادب میں Frustration کیوں بار پا رہا ہے جب کہ ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے۔ اس کا کیا سبب ہو سکتا ہے ؟
مخدوم محی الدین 	: 	دراصل بات یہ ہے کہ جب شاعر کا نقطۂ نظر زندگی کے متعلق سائینٹفک نہ ہو گا تو وہ Frustration کا شکار ہو جائے گا۔
 ہمارے شاعروں کا ایک گروہ ایسا ہے جس نے داخلی طور پر انقلاب کا ایک تصور قائم کر لیا تھا اور چوں کہ ان کے لیے وہ لمحہ نہیں آیا جس کا انھیں انتظار ہے اور وہ صبح نہیں آئی جس کی انھوں نے تمنا کی تھی اس لیے وہ جس فضا میں سانس لے رہے ہیں اور جس صبح سے گزر رہے ہیں اس سے مایوس ہیں۔ اس قسم کے شاعر یا تو ۱۹۴۵ء کے زمانے کی شاعری کر رہے ہیں یا پھر کسی خیالی وادی میں گم ہو گئے ہیں۔
     شاعروں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو عالمی تغیرات کے اثرات اور زندگی کا کوئی شعور نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ سے ان کی نجی زندگی میں سخت گھٹن آ گئی ہے اور ان کے اعصاب میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اس کی ذہنی گھٹن کے خول کو توڑ کر باہر آ سکیں لہذا ایسے شاعروں کی فکر میں قنوطیت اور تشکیک راہ پا جاتی ہے یا پھر وہ Sex کے دلدل میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔
ٍ		ہمارے شاعروں اور ادیبوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے قریب رہیں۔ ان کے دل کی دھڑکنیں سنیں۔ ان کے دکھ درد اور ان کی خوشیوں کا پاس کریں۔ بہ الفاظ دیگر وہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ زندگی کیا ہے تو پھر ان کا غم اور خوشی شبنم بن جاتی ہے :
زندگی موتیوں کی ڈھلکتی لڑی 
زندگی رنگِ گل کا بیاں دوستو
گاہ ہنستی ہوئی گاہ روتی ہوئی 
میری آنکھیں ہیں افسانہ خواں دوستو
٭٭٭



فکر تونسوی

وہ مر نہیں سکتا


	اچانک میرے ریڈیو سیٹ سے اناؤنسر کی آواز سنائی دی ’’ہندستان کے مشہور انقلابی شاعر اور محبوب عوامی رہنما مخدوم محی الدین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘
	اس سے چند منٹ پہلے ریڈیو سے ایک مسرت انگیز خبر سنائی گئی تھی کہ ہندستان کے مشہور عوام دشمن سنڈیکیٹ اور غیر محبوب رہنماؤں نے اندرا گاندھی کی سوشلسٹ پالیسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔
	ایک خبر اتنی اندوہناک دوسری خبر اتنی خوش کن؟ اور دونوں خبروں کے درمیان صرف منٹ کا فاصلہ؟ اور میں سوچنے لگا۔ کیا موت اور زندگی اتنے قریب قریب رہتے ہیں۔ ایک لمحے سوشلزم کا متوالا دنیا سے چل بسا۔ دوسرے لمحے سوشلزم فاتح و کامران ہو کر نکلا۔ یہ کیسی دنیا ہے ؟ جس میں خوب و ناخوب دونوں حقائق بہ یک وقت ٹکراتے رہتے ہیں۔ سچ مانئے مجھے اس بات پر اعتبار تو آ گیا کہ سنڈیکیٹ سوشلزم کے طوفان کی ریلے کی تاب نہ لا کر ضرور پیچھے ہٹ گیا ہو گا لیکن اس خبر پر مجھے پہروں یقین نہ آیا کہ مخدوم محی الدین چل بسا۔ وہ جو عمر بھر سوشلزم کی خاطر لڑتا رہا۔ جوں ہی سوشلزم کے درخت پر بور آنے لگا وہ درخت سے ہی پیٹھ موڑ کر چلا گیا۔
	اور کیا پرائمری کے قاعدے کے اس بوڑھے کا یہ کہنا واقع صحیح ہے۔ جسے پیڑ لگا تے دیکھ کر کسی نے پوچھا تھا ’’بابا تم یہ پیڑ کاہے کو لگا رہے ہو، جب تک اس پر پھل لگیں گے اس وقت تک تم اس دنیا سے کوچ کر چکے ہو گے ؟ اور بوڑھے بابا نے جواب دیا تھا ’’بیٹا‘‘ میں یہ پیڑ اپنے لیے نہیں آنے والی نسلوں کے لیے لگا رہا ہوں ‘‘ ہاں مخدوم میں شاید اسی بوڑھے بابا کی روح تھی۔ اس نے زندگی بھر سوشلزم کے بوٹے کو سینچا! اسے پانی دیا! اسے حرارت پہنچائی اسے رجعت پسندوں کی زہریلی ہواؤں سے محفوظ رکھا۔ اکسٹھ سال تک وہ اس پیڑ پر پھل لانے کے لیے کڑے سے کڑے مصائب سہتا رہا۔ اس کے لیے قید و بند کے دکھ جھیلے، اس نے غریب محنت کش عوام کے لیے سوشلزم لانے کے لیے اپنی جوانی، اپنی تمناؤں، اپنے علم اور اپنے خلوص کا لہو دیا۔
	اور پھر جب پیڑ کی کونپلیں پھوٹنے لگیں دیش بھر میں سوشلسٹ طاقتوں کے پھریرے لہرانے لگے اور قریب تھا کہ عوام کا صبر اور جدوجہد پھل لاتی۔ نہ جانے مخدوم کے جی میں کیا آئی کہ اس پھل کو سرمایہ داروں کی بجائے عوام کی جھولیوں میں گرتے ہوئے نہ دیکھ سکا اور اس وقت سے پہلے چلا گیا جب اسے جانا نہیں چاہیے تھا، یہ شاید صحیح ہو کہ بہ قول غالب موت کا ایک دن معین ہے۔ لیکن میں حیران ہوں کہ ایسے لوگوں کے لیے موت کا دن کیوں معین کر دیا جاتا ہے۔ جو روشنی کی مشعل لے کر آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ میں شاید یہ کہہ کر زیادتی نہیں کر رہا ہوں کہ میرے قارئین نے مخدوم محی الدین کا نام کم سنا ہو گا۔ لیکن یہ کہنا بھی مبالغہ ہرگز نہیں ہے کہ آندھراپردیش میں مخدوم کی پوجا کی جاتی تھی۔ گزشتہ سال جب میں حیدرآباد گیا تھا تو حیدرآباد کے رکشا پلر سے لے کر یونی ورسٹی کے اسٹوڈنٹس سے ہوتے ہوئے بڑے بڑے وزیر تک جب مخدوم کا نام لیتے تھے تو احترام و عقیدت سے ان کے سر جھک جاتے تھے۔ کیوں کہ وہ بہ یک وقت مزدور لیڈر بھی تھا، شاعر بھی تھا اور سیاسی لیڈر بھی تھا۔ ہلکے سیاہ رنگ کا، فکر تونسوی کی طرح دبلا پتلا، محبت اور خلوص کا مجسمہ، جس سے بھی بات کرتا تھا اس کا دل بھی موہ لیتا تھا طبیعت میں، لباس میں، بول چال میں نہایت پُر کشش سادگی، حیدرآباد کی کوئی محفل مخدوم کے بغیر نمائندہ محفل نہیں سمجھی جاتی تھی۔
	میں نے بڑے بڑے امیر زادوں کو مخدوم کے سامنے سر عقیدت جھکاتے دیکھا ہے حالاں کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیں ہلانے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ مگر اس کے باوجود مخدوم کی شخصیت میں ایک طلسم تھا کہ محنت کش طبقہ اس کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا تھا۔ مگر سرمایہ دار طبقہ اس کی سچی اسپرٹ اور عزم صمیم کا احترام کرتا تھا۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظام سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، کیوں کہ اس کے مزاج میں اس کی روح میں وہ تڑپ تھی، جو تیز تر ہو جائے تو سوشلسٹ انقلاب کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے۔
	اور آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں میرے دماغ میں متواتر کشمکش ہو رہی ہے کہ مخدوم کے انتقال کی خبر جھوٹی ہے یا سچی وہ مر ہی نہیں سکتا تھا، اسے مرنا چاہیے بھی نہیں تھا۔ کیا مرنے کے لیے صرف مخدوم ایسے خادم عشق باقی رہ گئے ہیں ؟ کیا موت نے اسے اٹھانے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ مخدوم ایسے لوگ مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتے، کیا موت کا انتخاب انتہائی غلط نہیں تھا؟
	میں مخدوم سے کئی بار ملا ہوں اور وہ ہمیشہ مجھے پیارا لگا ہے میں اسے گزشتہ پچیس سال سے جانتا ہوں سب سے پہلے اس سے میرا تعارف ایک شاعر کے طور پر ہوتا تھا۔ جب ہم سب شاعر اور ادیب لوگ انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے مخدوم کا شاعرانہ قلم ہم سب سے پیش پیش تھا۔ اس کی شاعری کا ایک ایک بول عوام کی رگوں میں ہمت اور طاقت کا لہو دوڑا دیتا تھا۔ وہ غلامی کے اندھیرے میں شاعری کی روشن مشعل لے کر آگے بڑھا تھا اور اس وقت کا مجھے اس کی نظم کا ایک مصرعہ جو زبانِ زدِ عام ہو چکا تھا، کبھی نہیں بھولتا کہ:
دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
٭٭٭



 رفعت سروش

انقلاب کا مغنی۔۔۔۔۔۔ مخدوم محی الدین

 
کچھ قوسِ قزح سے رنگت لی، کچھ نور چرایا تاروں سے 
بجلی سے تڑپ کو مانگ لیا، کچھ کیف اڑایا بہاروں سے 
پھولوں سے مہک، شاخوں سے لچک اور منڈوؤں سے ٹھنڈا سایہ
جنگل کی کنواری کلیوں نے دے ڈالا اپنا سرمایہ
بدمست جوانی سے چھینی کچھ بے فکری، کچھ الہڑ پن
پھر حسنِ جنوں پرور نے دی آشفتہ سری، دل کی دھڑکن
بکھری ہوئی رنگیں کرنوں کو آنکھوں سے چن کر لاتا ہوں 
فطرت کے پریشاں نغموں سے اک اپنا گیت بناتا ہوں 
فردوسِ خیالی میں بیٹھا اک بت کو تراشا کرتا ہوں 
پھر اپنے دل کی دھڑکن کو پتھر کے دل میں بھرتا ہوں 
	یہ ہے اس بانکے شخص اور غنائیت سے بھر پورا س کی شاعری کا تعارف جو خود شاعر نے اپنے سحر آگیں الفاظ میں کرایا ہے۔ بہت سی لازوال نظموں کے اس بت تراش کا نام ہے۔۔۔ مخدوم محی الدین۔۔۔ جس کی ایک تصویر خاکہ نگار زینت ساجدہ نے ان الفاظ میں سے بنائی کہ :
’مخدوم کو اپنے بلیو بلیک حسن پر ناز ہے۔ اب جو بنے بھائی نے اسے اجنتا کی مورتی قرار دیا ہے تو خدا جانے اور کیا مزاج دکھائے۔ پہلے ہی وہ اپنے آپ کو دکن کی سنگلاخ چٹانوں سے تراشا ہوا صنم سمجھتا ہے ‘‘۔	(بساطِ رقص، ص: ۱۹۰)
	مخدوم محی الدین کی تاریخ پیدائش ۳  فروری ۱۹۰۸ء ہے اور پہلی جنگِ عظیم کے انتشار کے دوران جن ادیبوں اور شاعروں کے لڑکپن نے انگڑائی لی اور جن کے شعور کی مسیں بھیگنی شروع ہوئیں، ان میں ایک اہم نام مخدوم محی الدین کاہے۔ یہ وہ دور ہے جب ہندستان ہی نہیں دنیا میں انقلابی تبدیلیوں کا دور تھا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ماسکو سے ’سرخ سویرا‘ طلوع ہو رہا تھا اور سرخ غبار فضاؤں میں چھانے لگا تھا۔ ہندستان کے کاندھے پر غلامی کے جوئے کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا تھا اور ہماری جنگِ آزادی میں شدت آتی جا رہی تھی۔ خلافت تحریک نے دانش مند مسلمانوں کو جھنجھوڑ دیا تھا اور مولانا محمد علی جوہر اس تحریک کے سب سے بڑے ہیرو بن کر ابھرے تھے۔ گاندھی جی کی ’’سودیشی تحریک‘‘ مقبول ہوتی جا رہی تھی اور گھر گھر میں ان تبدیلیوں کو محسوس کیا جا رہا تھا۔
	مخدوم محی الدین کے والد کا ان کے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا اور ان کی تربیت ان کے چچا بشیر الدین صاحب نے کی۔ اگرچہ وہ ایک قصبے میں رہتے تھے، مگر سیاسی بیداری اور روشن خیالی اس قصبے تک پہنچ چکی تھی۔ بشیر الدین صاحب مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے مداحوں میں تھے اور گاندھی جی کی ’’سودیشی تحریک‘‘ کے زیر اثر کھدر پہنتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ کھانے کے بعد ان کا ’دسترخوان معلومات‘ بھی کھلتا تھا اور وہ اپنے اہلِ خانہ کو ملک کے حالات سے واقف کراتے تھے۔۔۔ مخدوم بڑی توجہ سے چچا کی باتیں سنتے تھے۔ گویا جد و جہدِ آزادی اور حب الوطنی کے جوہر بچپن میں ہی ان کے ذہن میں پیوست ہو گئے تھے۔ ادبی رسائل پڑھنے کا شوق تھا اور تلنگانہ تحریک سے بھی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔۔۔ ادب میں یہ دور ٹیگور اور اقبال کا دور تھا، مخدوم ٹیگور سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کی پہلی کتاب ہی ٹیگور کی شاعری کے بارے میں آئی ہے اور ٹیگور کے پُر وقار اور متوازن لہجے کی مخدوم پر چھاپ ہے۔۔۔ ایک اور دلچسپ بات۔۔۔ کسی نواب صاحب کو ایک اینگلو انڈین لڑکی سے عشق ہو گیا اور اس نے اپنی محبوبہ کو انگریزی میں عشقیہ خطوط لکھنے کے لیے مخدوم کا انتخاب کیا۔ اس طرح انھیں بیکاری میں اچھا رنگین شغل مل گیا۔ گویا ’حدیثِ دیگراں ‘ بیان کرنے میں مخدوم نے اپنا رومانی قلم صیقل کیا۔۔۔ ظاہر ہے انگریزی میں عشقیہ خطوط لکھنے کے لیے مخدوم نے انگریزی شاعری کا ہی سہارا لیا ہو گا اور وہ عالمی ادب کی اعلیٰ قدروں سے بھی اسی بہانے روشناس ہو گئے۔
	اب رہی مخدوم کی شاعری کی بات، تو ان کی پہلی نظم کے شانِ نزول کے بارے میں ان کے جگری دوست ڈاکٹر راج بہادر گوڑ کے بیان سے روشنی پڑتی ہے :
’’وہ ضلع میدک کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے اور یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے انھوں نے پہلے پہل دل دھڑکنے کی صدا سنی۔ گاؤں کی ناآشنائے سیم و زر ’دختر پاکیزگی‘ سے آنکھیں چار ہوئیں ‘‘۔ 		(بساطِ رقص: ص: ب)
	چناں چہ ’بساطِ رقص‘ کی پہلی نظم ’طور‘ ہے جس کا ٹیپ کا مصرعہ ہے :
’’یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے، یاد ہے اب بھی‘‘
	ان کی یہی نظم ’ایوان‘ میں چھپی تھی جسے علی گڑھ میں پڑھ کر سبط حسن اور مجاز غائبانہ طور پر مخدوم سے واقف ہوئے تھے 
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے 
یہیں کی جراتِ اظہارِ حرفِ مدعا میں نے 
یہیں دیکھے تھے عشوے ناز و انداز و حیا میں نے 
یہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نے 
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے، یاد ہے اب بھی
	چھ بندوں پر مشتمل یہ نظم مخدوم کی شاعری کا نقشِ اول ہے اور اس کے بعد ان کا رومانی لہجہ تجربات و احساسات کی آنچ میں دہکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ تلنگن اور کئی اور نظموں کے بعد انھوں نے اپنی وہ مشہور رومانی نظم کہی ’انتظار‘ جو ہماری عشقیہ شاعری کی ناقابلِ فراموش نظم ہے۔
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے 
سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے 
خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا
اپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گا
نظریں نیچی کیے شرمائے ہوئے آئے گا
کاکلیں چہرے پر بکھرائے ہوئے آئے گا
آ گئی تھی دلِ مضطر میں شکیبائی سی
بج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی سی
پتیاں کھڑکیں تو سمجھا کہ لو آپ آ بھی گئے 
سجدے مسرور کہ مسجود کو ہم پا بھی گئے 
شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی
آپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگی
صبح نے سیچ سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائی
اور صبا تو بھی جو آئی تو اکیلی آئی
میرے محبوب مری نیند اڑانے والے 
میرے مسجود مری روح پہ چھانے والے 
آ بھی جا، تاکہ مرے سجدوں کا ارماں نکلے 
آ بھی جا تا ترے قدموں پہ مری جاں نکلے 
	اس نظم میں احساسات کی گہرائی، جذبات کی جولانی، غنائیت روانی اور بھرپور تغزل ہے۔ ایک ایک مصرعہ خیال کی ارتقائی منزلیں طے کرتا ہوا قاری کو والہانہ وارفتگی تک لے جاتا ہے۔ یہ نظم شدتِ تاثر کے اعتبار سے عدیم المثال ہے۔ میں نے یہ نظم حیدرآباد کی کئی حسیناؤں سے مخدوم کے ترنم میں سنی ہیں۔ گویا یہ نظم جوان نسلوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔
	کامریڈ ڈانگے نے غلط نہیں کہا:
’’مخدوم شاعر انقلاب ہے، مگر وہ رومانی شاعری سے بھی دامن نہیں بچاتا بلکہ اس نے زندگی کی ان دونوں حقیقتوں کو اس طرح یک جا کر دیا ہے کہ انسانیت کے لیے بے پایاں محبت کو انقلاب کے مورچوں پر ڈٹ جانے کا حوصلہ ملتا ہے ‘‘۔	(بساطِ رقص، ص: ۷)
خود راج بہادر گوڑ نے لکھا ہے :
’’مخدوم کا ہنر ہی یہ ہے کہ وہ قلم کو تلوار میں اور تلوار کو قلم میں تبدیل کر سکتے ہیں ‘‘۔(بساطِ رقص، ص: ب)
	مخدوم محی الدین کی پہلی سیاسی نظم کے شان نزول کا سراغ سبط حسن کے اس مراسلے نما مضمون سے ملتا ہے جو انھوں نے ۲۵  دسمبر ۱۹۴۳ء کو انھیں بمبئی سے لکھا تھا:
’’جب فاشزم کی امن شکن اور تہذیب سوز آندھیوں چلنے لگیں تو تم نے بہتوں سے بہت پہلے اس آنے والے خطرے کو محسوس کر لیا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب حبشہ پر مسولینی کے حملے کے بعد تم بڑے جوش میں آئے تھے اور اپنی نظم ’جنگ‘ مجھے سنائی تھی:
نکلے دہانِ توپ سے بربادیوں کے راگ
باغِ جہاں میں پھیل گئی دوزخوں کی آگ
غالباً یہ تمھاری پہلی سیاسی نظم تھی اور فاشزم کے خلاف اردو شاعری کی پہلی صدائے احتجاج‘‘۔	(بساطِ رقص، ص:۱۱)
	مخدوم نے اپنی اس نظم میں جنگ کی ہولناکی کو غلغلہ اور گھن گرج کے ساتھ نہیں، بلکہ بے حد غنائیہ انداز میں لیکن دل سوزی کے ساتھ بیان کیا ہے :
خود اپنی زندگی یہ پشیماں ہے زندگی
قربان گاہِ موت پہ رقصاں ہے زندگی
اور اس کے بعد اپنی دوسری نظم ’مشرق‘ میں مشرقی اقوام کی بدحالی اور بے بسی کا ذکر بھی اسی انداز میں کیا ہے :
	جھڑ چکے ہیں دست و بازو جس کے اس مشرق کو دیکھ
	کھیلتی ہے سانس سینے میں، مریضِ دق کو دیکھ
	اور اس نظم کا اختتام ایک نہایت بلیغ شعر پر ہوتا ہے :
	اس زمینِ موت پروردہ کو ڈھایا جائے گا
	اک نئی دنیا، نیا آدم بنایا جائے گا
	ان نظموں کا بیان اثر انگیز سہی، مگر سیدھا اور سپاٹ ہے اور وہ ایک حسن جو ابہام میں ہوتا ہے، اس سے یہ نظمیں عاری ہیں۔ Symbolic شاعری میں جو تہہ در تہہ معنویت ہوتی ہے اس کی خوب صورت مثال ہے مخدوم کی نظم ’اندھیرا‘۔ یہ نظم اس تمام ماحول کا احاطہ کرتی ہے جو دوسری جنگِ عظیم نے پوری دنیا پر طاری کر دیا تھا اور یہ نظم اس ماحول پر بھی صادق آتی ہے جب جنگ اور دہشت انگیزی انسانی معاشرے کا مزاج بن جائے۔ اس میں وقت اور زمانے کی قید نہیں۔ جہاں موت رقصِ بہیمانہ کر رہی ہو، انسانی جسم کٹی پھٹی لاشوں میں تبدیل ہو رہے ہوں، جہاں مظلوموں کی آہ و بکا اور نالہ و فریاد کی گرم بازاری ہو، وہاں یہ نظم ایک دردمند انسان کے دل کی چیخ کی طرح گونجتی ہے :
 رات کے ہات میں اک کاسۂ دریوزہ گری
یہ چمکتے ہوئے تارے، یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوس عروسی ہے، یہی ان کا کفن
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ
کرۂ ارض پر یہ رات صدیوں سے طاری ہے اور انسان اس رات سے نبرد آزما اس روزِ روشن کے انتظار میں ہے جو تاخیر سے ہی، طلوع ضرور ہو گا۔اس یقین نے مخدوم سے یہ شعر کہلایا:
	رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
	صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے 
	رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
	مگر انسان کے پاس کل طلوع ہونے والے سورج کا تصور تو ہے۔مخدوم کی یہ نظم ان کی ہی نہیں اپنے دور کی اہم نظموں میں سے ایک ہے۔ مخدوم کے یہاں رجائیت ہے، غنائیت ہے اور اس غنائیت نے اسے انقلاب کا ڈھنڈورچی نہیں بننے دیا، ان کے مصرعے ان کی نظموں میں کل کل کرتے دریاؤں اور جھرنوں کی طرح بہتے ہیں، چاہے نظم پابند ہو یا آزاد اور اس اچھوتے پن نے انھیں اپنے دور کے شاعروں میں منفرد کر دیا ہے۔ جو دور مخدوم کو ملا اس میں بیش تر انقلابی شعر یا تو اقبال کے فلسفیانہ لہجے کی بھونڈی نقل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں یا جوش کی طرح اپنی نظموں میں گھن گرج پیدا کرنے اور دھواں دھار الفاظ مجتمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مخدوم کی انقلابی نظموں میں ایک لے ہے اور ان کا غنائیہ اہتمام ان کے سوز دروں اور ان کی عملی جدوجہد سے ہم آہنگ ہو کر سحر انگیز ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر ان کی نظم ’’جنگِ آزادی‘‘ کو لیجیے :
		یہ جنگ ہے جنگِ آزادی
		آزادی کے پرچم کے تلے 
		ہم ہند کے رہنے والوں کی
		محکوموں کی مجبوروں کی
		آزادی کے متوالوں کی
		دہقانوں کی مزدوروں کی
		یہ جنگ ہے جنگِ آزادی
		آزادی کے پرچم کے تلے 
	اور یہ نظم اپنے کلائمکس تک آتے آتے نغمے کا سیل رواں بن جاتی ہے :
	لو سرخ سویرا آتا ہے 
	آزادی کا آزادی کا
	گلنار ترانہ گاتا ہے 
	آزادی کا آزادی کا
	دیکھو پرچم لہراتا ہے 
	آزادی کا آزادی کا
	یہ جنگ ہے جنگِ آزادی
	آزادی کے پرچم کے تلے 

محسوس ہوتا ہے کہ در و دیوار گا رہے ہیں، ہوائیں گا رہی ہیں، فضائیں گا رہی ہیں۔
	انقلاب مخدوم کا نصب العین تھا۔ انقلاب ان کا محبوب تھا اس لیے انھوں نے انقلاب کی آمد کو محبوب کے قدموں کی آہٹ کی طرح محسوس کیا اور اسے بڑے پیار سے پکارا ہے :
اے جانِ نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے 
ترے لیے یہ زمیں بے قرار کب سے ہے 
ہجومِ شوق سر رہ گزار کب سے ہے 
گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
حیات بخش ترانے اسیر ہیں کب سے 
گلوئے زہرہ میں پیوست تیر ہیں کب سے 
قفس میں بند ترے ہم صفیر ہیں کب سے 
گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
	مخدوم کے الفاظ میں ہی نہیں آواز میں بھی جادو تھا اور جب وہ یہ نظم لحن داؤدی میں پڑھتے تھے تو سامعین انقلاب کی آمد کی دھمک محسوس کر سکتے تھے۔ ان کی غنائیت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی آزاد نظمیں بھی بے پناہ ترنم کے ساتھ ہزاروں کے مجمعے میں پڑھتے تھے۔ ’’اسٹالن‘‘ جیسی نظم، آزاد نظم، طویل نظم جب وہ پڑھتے تھے تو اسٹالن کی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور اس کے آہنی عزائم کا تصور مخدوم کی آواز میں مجسم ہو جاتا تھا:
برق پا وہ مر ارہوار کہاں ہے لانا
تشنۂ خوں مری تلوار کہاں ہے لانا
بہ قول زینت ساجدہ:
’’اصل میں اس کی آواز میں جادو ہے، گہری طرح داری، خراد پر چڑھی ہوئی آواز، جب غزل چھیڑتا ہے تو آپ ساز بن جاتے ہیں اور اماوس کی رات میں گویا دیپک سا جل اٹھتا ہے ‘‘۔	(بساطِ رقص، ص: ۱۶)
	مخدوم کی انقلابی نظمیں ’آزادی وطن‘ ہو یا ’جہانِ نو‘، ’سپاہی‘ ہو یا ’تلنگانہ‘ سب اس کے غنائی لہجے میں ڈھل کر معانی کی نئی رفعتوں تک پہنچ جاتی تھیں۔ ’’سیاست‘‘ کے ایڈیٹر عابد علی خاں نے بجا طور پر لکھا ہے :
’’بساطِ رقص مخدوم کا کلام بھی ہے اور حیدرآباد کے اس سیاسی شعور کا آئینہ بھی ہے جو جاگیر دارانہ دور سے لے کر آزادی کے بعد سوشلسٹ سماج کی جدوجہد کے مقصد و تاریخی روپ کو پیش کرتا ہے ‘‘۔	(بساطِ رقص، ص: ۱۱۰)
	ترقی پسند تحریک کے حوالے سے حیدرآباد اور مخدوم ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ مخدوم سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۵ء میں ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس میں حیدرآباد میں ہوئی۔ وہ اس کانفرنس کے محرکوں میں شامل تھے۔ ایک سانولا شخص، بیضاوی چہرہ، چھریرا بدن، خوش اخلاق و خوش مزاج۔۔۔ ان دنوں ترقی پسند شاعروں کے لمبے لمبے بال ہوتے تھے، مگر مخدوم اپنی وضع قطع سے نام نہاد و انقلابی نظر نہیں آتے تھے۔ ہاں جب انھوں نے اپنی نظم پڑھی تو محسوس ہوتا تھا کہ پورا ماحول انقلابی رنگ میں رنگ گیا ہے۔۔۔ حیدرآباد میں ان کی مقبولیت کا کچھ اندازہ زینت ساجدہ کے اس بیان سے ہوتا ہے جو انھوں نے بڑے چٹپٹے انداز میں لکھا ہے :
’’مغل پورہ کے نوابوں سے لے کر چکڑ پلی کے مزدوروں تک جس کو دیکھیے فیشن سا بنا لیا ہے کہ مخدوم کی محبت میں مرے جا رہے ہیں۔ سال بھر میں وہ ایک ہی غزل کیوں نہ کہے، سارا شہر اسے منھ زبانی پکا پانی یاد کر لیتا ہے ‘‘۔	(بساطِ رقص، ص: ۱۴۰)
	مخدوم کی شہرت اس وقت عروج پر تھی جب تلنگانہ کی تحریک نے شدت اختیار کر لی تھی۔ مخدوم جد و جہدِ آزادی اور اولوالعزمی کا استعارہ تھا۔ خود میں نے ۲۵  اپریل ۱۹۵۰ء کو ایک نظم کہی تھی، جو ’چراغ‘ حیدرآباد میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا ایک اقتباس ہے :

	حیدرآباد کی سرکش ندیو!
	توڑ کر اپنے کنارے۔۔۔۔۔۔۔
	اور سیراب کرو کوہ بیابانِ دکن
	بڑھ کے آواز تلنگانہ کی مدراس کے ساحل کو سناؤ
	قصر سرمایہ پر مزدور کی یلغار ہے آج
	امن کے ہاتھ میں کاسہ نہیں تلوار ہے آج
	آج ہر مورچۂ امن پہ مخدوم نظر آئے گا
	دائمی امن مسلط کرنے 
	محشرِ جنگ تو کیا، موت کے سینے پہ بھی در آئے گا (شہر در شہر منادی کرا دو)۔
	مخدوم جب پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو پورے حیدرآباد میں جیسے کہرام مچ گیا۔ سنٹرل جیل حیدرآباد میں اس نے جو نظم ’قید‘ کہی اس میں اس کا کرب سمٹ آیا ہے :
	سالہا سال کی افسردہ مجبور جوانی کی امنگ
	طوق و زنجیر سے لپٹی ہوئی سو جاتی ہے 
	کروٹیں لینے میں زنجیر کی جھنکار کا شور
	خواب میں زیست کی شورش کا پتہ دیتا ہے 
	مجھے غم ہے کہ مرا گنجِ گراں مایۂ عمر
	نذرِ زندان ہوا
	نذرِ آزادی زندانِ وطن کیوں نہ ہوا
	(بساطِ رقص، ص: ۱۲۹)
	مخدوم کے یہاں انفرادیت نہیں، اجتماعیت ہے اور ان کا یہ شعر نہ جانے زندگی کے کتنے کارواں گائیں گے :
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
	اور مخدوم کا یہ پیغام:
	ہمدمو! ہاتھ میں ہاتھ دو
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	منزلیں دلدار کی
	کوئے دلدار کی منزلیں 
	دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
	(چاند تاروں کا بن)
	اب میں ایک دلچسپ حقیقت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ مخدوم کے پہلے مجموعۂ کلام ’’سرخ سویرا‘‘ میں ایک بھی غزل نہیں جب کہ ’’سرخ سویرا‘‘ کی بعد کی شاعری جو ’’گل تر‘‘ کے نام سے چھپی ہے، اس میں اکیس غزلیں ہیں اور ان غزلوں کے علاوہ ’’چارہ گر‘‘ (اک چنبیلی کے منڈوے تلے )، ’آج رات نہ جا‘، ’رقص‘، ’جان غزل‘، ’پیار کی چاندنی‘، ’احساس کی رات‘، ’خواہشیں ‘، ’وصال‘، ’بلور‘ اور ’جز تری آنکھوں کے ‘ جیسی رومانی نظمیں۔گویا مخدوم محی الدین کی شاعری نے نئی کروٹ بدلی اور ان کا رنگ سخن بدلتا چلا گیا۔ اب اس سلسلے میں چند اہم جملے جو مخدوم محی الدین کے قلم سے نکلے ہیں :
’’شاعر بہ حیثیت فرد معاشرہ حقیقتوں سے متصادم اور متاثر ہوتا رہتا ہے۔ پھر وہ دل کی جذباتی دنیا کی خلوتوں میں چلا جاتا ہے اور روحانی کرب و اضطراب کی بھٹی میں تپتا ہے ‘‘۔ (بساطِ رقص، ص: ۱۹)
	اب ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب عصری تنقید کو دینا ہے کہ کیا یہ تبدیلی ترقی پسند تحریک کے زوال کی اور بتدریج شاعر کے جدیدیت کی طرف رجحان کی علامت تو نہیں !!
	بہر حال جدھر اشارہ کیا ہے اسی روحانی کرب و اضطراب کا اظہار مخدوم کی غزلوں میں ہے جن کے مطالعے کے بغیر مخدوم کی تفہیم مشکل ہے۔ چناں چہ ان کی غزلوں کے چند اشعار بغیر کسی تبصرے کے نقل کرتا ہوں :
اسی چمن میں چلیں، جشنِ یادِ یار کریں 
دلوں کو چاک، گریباں کو تار تار کریں 
پھر بلا بھیجا ہے پھولوں نے گلستانوں سے 
تم بھی آ جاؤ کہ باتیں کریں پیمانوں سے 
سیماب وشی، تشنہ لبی، بے خبری ہے 
اس دشت میں گر رختِ سفر ہے تو یہی ہے 
	اس شعلۂ جوالہ نے کل (۶۱ ) برس کی عمر پائی دہلی میں ایک مشاعرے میں مدعو کیے گئے تھے۔ رات بھر محفلِ رقص و نغمہ رہی۔ صبح دم مخدوم کے قلب پر حملہ ہوا اور ۲۵  اگست ۱۹۶۹ء آٹھ بج کر پانچ منٹ پر ان کی روح جسدِ خاکی سے پرواز کر گئی۔یہ الہامی اشعار انھوں نے پہلے ہی کہہ دیے تھے۔
	یہ تمنا ہے کہ اڑتی ہوئی منزل کا غبار
	صبح کے پردے میں یا آ گئی شام آہستہ
	خود مخدوم کے ہی الفاظ ہیں :
	ازل کے ہاتھ سے چھوٹا ہوا حیات کا تیر
	وہ شش جہت کا اسیر نکل گیا ہے بہت دور جستجو بن کر

٭٭٭



اقبال متین


شعور کی شخصیت مخدوم


	جیتا شاہ ولی کا عرس ہے۔ درگاہ کے گنبد روشن روشن سے ہیں۔ جھل مل کرتے دیے گنبد کے اطراف منڈیروں پر سجے ہوئے اپنی نورانی پلکیں جھپکا رہے ہیں۔ درگاہ کے وسیع احاطے میں کئی چوبی شہتیر ادھر ادھر گڑے ہیں۔ جن پر پٹرومکس ٹنگے ہیں۔ سارا ماحول بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ چیتاپور کی اندھیری راتوں نے اس سے پہلے ایسی روشنیاں کبھی نہیں دیکھیں۔
	درگاہ کے کلس تک اس طرح چمک رہے ہیں جیسے ان پر آسمان سے دھوپ نچھاور کرنے والا سورج اب زمین سے دھوپ اچھال رہا ہو۔
	مشاعرہ شروع ہونے میں ابھی دیر ہے۔ میرے چچا تمکین سرمست شعرا کو مدعو کرنے کے لیے حیدرآباد گئے ہوئے ہیں۔ تار کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ مخدوم آ رہے ہیں۔ ٹرین کا وقت قریب آ رہا ہے۔ دو روز پہلے ہی سے درگاہ کے احاطے میں خیمے تان دیے گئے ہیں۔ ابا کو بس ایک ہی فکر ہے۔ شاعروں کے آرام کے خیال میں وہ بے آرام ہوئے جا رہے ہیں۔ ایسے بڑے بڑے شاعر چیتاپور کی تاریخ میں پہلی بار مشاعرے میں شرکت کر رہے ہیں۔ مشاعروں کے لیے جو خیمے مختص کیے گئے ہیں ان کا معائنہ ابا نے دن کو ہی کر لیا۔
	پرال کی گھاس پر شطرنجیاں، شطرنجیوں پر توشکیں اور گدیلے، ان پر بھک سفید چاندنیاں۔۔۔۔۔یہ ہوا خیموں کا اندرونی کروفر۔۔۔۔۔ برآمدوں میں کرسیاں بکھری ہوئیں۔۔۔۔۔ اندر باہر پٹرومکس جل رہے ہیں۔ ابا کچھ مطمئن سے ہیں۔۔۔۔۔ لیجیے سارے ماحول میں بے چینی سی پھیل گئی ہے۔ ابا پذیرائی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔۔میں، لطیف، ساجد، حسینی شاہد، کچھ فاصلے پر پیچھے پیچھے ہیں۔۔۔۔۔ بڑے لوگوں کو دیکھنے کا اشتیاق اب اضطراب بن گیا ہے۔
	حضرت تمکین سرمست ابا سے تعارف کروا رہے ہیں۔۔۔۔۔
	علی صائب میاں، نذیر دہقانی، صمد رضوی ساز، صاحبزادہ میکش، مخدوم محی الدین، شعیب حزیں۔۔۔۔۔ابا رکھ رکھاؤ کے آدمی ہیں۔ ابا سب سے گرم جوشی اور خلوص سے مصافحہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن مخدوم سے ملے ہیں تو اپنی وضع داری بھول گئے ہیں۔ مصافحے کی جگہ معانقے نے لے لی ہے کہہ رہے ہیں۔
	تمکین کے خط سے مجھے آپ سب کے آنے کی اطلاع مل گئی تھی۔ لیکن صرف آپ کی مصروفیتوں نے مجھے مایوس کر دیا تھا۔ آج تار ملا کہ آپ بھی آ رہے ہیں۔۔۔۔۔ دو نوجوان سہمے سہمے مخدوم کے پیچھے سے کچھ اس طرح برآمد ہوئے جیسے کہ ان کی پناہ میں تھے۔۔۔۔۔ ایک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ جیسی کوئی شے تھی دوسرے کے ہونٹوں پر کچھ بھی نہ تھا البتہ آنکھوں میں کچھ حیرانی سی تھی۔ مجھ سے زیادہ شاہد اور ساجد کے جانے پہچانے تھے۔ ساجد سے تو وہ زیادہ ہی قریب لگتے تھے۔ چچا صاحب نے تعارف کرایا۔ ابا نے مصافحہ کر کے پیٹھ پر شفقت سے ہاتھ رکھا نظر حیدرآبادی، سلیمان اریب۔
	میں امی کے پاس بھاگا کہ ساری خواتین سے مخدوم کا تعارف کروانے کا سہرا اپنے سر باندھ لوں۔۔۔۔۔ مخدوم کون سے ہیں۔ کہاں ہیں مخدوم؟ مجھے اپنی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔ امی، چچی ماں، پھوپی جان اور جانے کون کون خواتین جمع ہیں۔ سبھی سے، میں ذرا اپنی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہتا ہوں۔
	ارے بابا میں آیا ہی اس لیے ہوں کہ آپ لوگوں کو بتلا دوں۔ مخدوم کون ہیں۔
	چلمنیں، مہین پردے اب کچھ اس طرح ہلنے لگے ہیں، جیسے ہوا کے جھکڑ چل رہے ہوں۔۔۔۔۔۔ شاہی سے مخدوم کی پنجہ آزمائی نے اپنی اولین کشاکش میں انھیں ہیرو بنا دیا ہے۔ چچا صاحب نے یہ راز کی باتیں اپنے حسن بیان کی داستان زیبی کے سہارے خواتین کے کانوں میں کچھ اس طرح پھونکی ہیں کہ انھوں نے اپنی کانوں سنی آنکھوں کو سونپ دی ہے۔ شعرا اپنے خیمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔۔وہ رہے مخدوم۔۔۔۔۔وہ وہ رہے۔۔۔۔۔ابھی جنھوں نے اپنے بال برابر کیے ہیں۔ ہاں ہاں وہی۔۔۔۔۔ لمبے لمبے بالوں والے نہیں جی بال اتنے لمبے بھی کہاں۔۔۔۔۔ کیا پہن رکھا ہے ؟۔۔۔۔۔پہن رکھا ہے پہن رکھا ہے۔ کسی نے دیکھا کسی نے نہیں دیکھا۔ میں اپنی اہمیت جتلا چکا تھا۔۔۔۔۔ اب مجھے کیا کسی نے نہ بھی دیکھا ہو۔ پھر میں شعرا کے کیمپ میں چلا آیا۔
	کتنی اہمیت تھی میری خواتین کے کیمپ میں۔۔۔۔۔ اس خیمے میں آ کر مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں کچھ ہوں ہی نہیں۔۔۔۔۔ ہر ایک کا منھ تکتا ہوں پھر ذہن میں ان کے ناموں کا ورد کرتا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ہر پھر کر نظر مخدوم محی الدین پر ہی ٹک جاتی ہے۔ چہرے مہرے میں ایسی کوئی خاص بات نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آنکھیں ان کو دیکھنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہیں۔ سارے شاعر ہنس بول رہے ہیں۔ لیکن مخدوم کچھ مطمئن نظر نہیں آتے جانے کس چیز کی کمی ہے۔ وہ کچھ سوچ رہے ہیں۔ احباب کے لیے کچھ ہنس بھی لیتے ہیں۔ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اندر سے کچھ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ہاتھ میں کامریڈ رندیوے کی کوئی کتاب ہے دونوں پاؤں فرش میں دھنس رہے ہیں۔
	تمکین سے سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں۔
	اتنا آرام کہ جی گھبرانے لگے۔
	تمکین صاحب مخدوم کے مداحوں میں ہیں۔۔۔۔۔ ان کو مشاعرے میں مدعو کرنے سے پہلے ہی انھوں نے گھر بھر میں مخدوم کی بہت سی باتیں کی ہیں۔ انھوں نے بہت رفیقانہ پوچھا۔
	’’کیوں ؟۔۔۔۔۔کچھ مطمئن نہیں ہو۔‘‘
	کہا۔۔۔۔۔ہاں زیادہ آرام کی بے آرامی سے غیر مطمئن ہوں۔
	تمکین صاحب بات کی تہہ تک پہنچ نہ سکے۔۔۔۔۔کہا
	’’کچھ دیر آرام کرنا چاہو تو پلنگ لگوا دوں۔‘‘
	مخدوم مسکرائے۔۔۔۔۔کہنے لگے۔۔۔۔۔ میں مزید کچھ منگوانے کی بات نہیں کر رہا ہوں، جو ہے اس کو اٹھوانے کی بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ آپ لوگوں نے تو یہ احساس ہی چھین لیا کہ ہمارے پیر زمین پر ہیں۔۔۔۔۔ شاعروں کو ہمیشہ اپنے پیر زمین پر رکھنے چاہئیں۔‘‘
	مجھے مخدوم، سب سے مختلف، کچھ نرالے سے لگے۔۔۔۔۔ میں کونے میں کھڑا انھیں تکتا اور سوچتا رہا کہ یہ عجیب فقیر منش آدمی ہے۔۔۔۔۔ ایسی بھی کیا قلندری کہ آدمی اپنی راہ سے پھول ہٹا کر کانٹے بچھانے کا مطالبہ کرے۔۔۔۔۔
	مشاعرہ شروع ہونے والا ہے۔ سامعین اور مقامی شعرا حیدرآباد کے بڑے شاعروں کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔ مگر وہ ابھی مشاعرہ گاہ کی طرف چلنے کے لیے مائل نہیں ہیں۔۔۔۔۔ شغل جام و مینا شباب پر ہے۔۔۔۔۔ مشاعرہ شروع کروا دیجیے، تمکین صاحب، بس ہم آتے ہی ہیں۔۔۔۔۔ کسی نے کہا۔
	مخدوم اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔کہنے لگے۔۔۔۔۔
	نہیں نہیں یہ بری بات ہے۔۔۔ وہاں بھی بہت سے شاعر ہیں جو ہمارے منتظر ہیں۔۔۔۔۔ ہم سے سننا اور ہم کو سنانا چاہتے ہیں ‘‘۔۔۔۔۔ مخدوم کا اٹھنا تھا کہ محفل کی حیات و کائنات ساتھ ہوئی۔
	لطیف ساجد نے مجھے ٹھوکا دیا۔۔۔۔۔حسینی شاہد یوں مسکرایا جیسے کامریڈ زندہ باد کا نعرہ لگا رہا ہو۔۔۔۔۔ کوئی احترام، کوئی بے نام سی عظمت سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہی تھی۔
	مشاعرہ شروع ہوا۔ مقامی شعرا کے بعد مہمان شعرا نے نظمیں اور غزلیں سنائیں۔ خوب خوب داد حاصل کی۔۔۔۔۔نظر حیدرآبادی، صاحب زادہ میکش اور شعیب حزیں نے سماں باندھ دیا۔۔۔۔۔ اس مشاعرے کے سب سے نو عمر شاعر لطیف ساجد تھے۔ چناں چہ مہمان شعرا میں ان کا نام سب سے پہلے پکارا گیا۔

٭٭٭


 
مجتبیٰ حسین


مخدوم محی الدین


	بیس پچیس برس پرانی بات ہے جب قاضی سلیم رکن پارلیمنٹ تھے تو انھوں نے اورنگ آباد میں سراج اورنگ آبادی کی تین سو سالہ تقاریب کے انعقاد کا اہتمام کیا تھا۔ یہ ایک شاندار اور یادگار تقریب تھی۔ اس موقع پر ایک تفریحی پروگرام بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں حیدرآباد کی فائن آرٹس اکیڈمی کے فن کاروں حمایت اللہ، محمد سلیمان اور مصطفی علی بیگ کو مدعو کرنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ اتفاق سے ان دنوں محمد سلیمان کی طبیعت کچھ ناساز تھی لہذا بیگم سلیمان اس بات کے لیے آمادہ نہیں تھیں کہ محمد سلیمان اس تقریب میں شرکت کریں۔ اس خصوص میں حمایت اللہ محمد سلیمان کے گھر گئے تو محمد سلیمان نے اپنی بیگم سے کہا ’’میرا اورنگ آباد جانا نہایت ضروری ہے کیوں کہ وہاں سراج اورنگ آبادی کی تین سو سالہ تقاریب منعقد ہو رہی ہیں۔‘‘ اس پر بیگم سلیمان نے انھیں ٹالنے کی غرض سے رواداری میں کہہ دیا اب اگر میں نے تمھیں اجازت دے دی تو تین سو برس بعد پھر تم ایسی ہی کسی تقریب میں جانے کی مجھ سے اجازت طلب کرو گے۔‘‘ (افسوس کہ پچھلے برس محمد سلیمان کسی اجازت کے بغیر اس دنیا ہی سے چلے گئے۔)
	ہمیں یہ بھولی بسری بات اس لیے یاد آ گئی کہ پچھلے ایک مہینہ سے ہم مخدوم محی الدین کی صد سالہ تقاریب میں شرکت کی غرض سے یہاں وہاں آنے جانے میں بہت مصروف ہیں حالاں کہ مخدوم محی الدین ہمارے لیے ایسی ہستی نہیں ہیں کہ جنھیں سو سال میں ایک مرتبہ ذرا دل جمعی کے ساتھ یاد کر کے اپنے فرائض غیر منصبی سے سبک دوش ہو جائیں۔ خود مخدوم محی الدین کو اس دنیا سے گزرے ہوئے لگ بھگ چالیس برسوں سے ہر روز ہی مخدوم کی صد سالہ تقاریب مناتے چلے آ رہے ہیں۔ اپنی محبوب اور دل نواز ہستیوں اور یارانِ غم گسار کو یاد کرنے کے لیے ہم کسی صد سالہ تقریب، سمینار، سمپوزیم، مباحثے یا مذاکرے وغیرہ کے محتاج نہیں ہیں۔ جب جی چاہا انھیں یاد کر لیا:
دل کے آئینہ میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
	تاہم جب لوگ گھڑی اور کیلنڈر کو سامنے رکھ کر اور نیت باندھ کر اپنے اسلاف کو یاد کرنے کی خاطر تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں تو ہم ان میں اس خیال سے ضرور جاتے ہیں کہ ذرا دیکھیں تو سہی کہ یہ کس طرح اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہیں۔ فروری کے پہلے ہفتہ میں جب مخدوم کا پہلا صد سالہ یومِ پیدائش آیا تو مخدوم کا پہلا صد سالہ یوم پیدائش آیا تو جس پہلے سمینار میں ہم نے شرکت کی وہ عالم خوندمیری فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام حیدرآباد کے مخدوم بھون میں منعقد ہوا تھا۔ پروفیسر جاوید عالم اور ان کی شریکِ حیات جینتی عالم اس کے کرتا دھرتا تھے۔ اس سمینار کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ ’’انگلش میڈیم‘‘ میں تھا یعنی اس میں جتنے مقالے پڑھے گئے اور جو تقریریں کی گئیں وہ سب کی سب انگریزی میں تھیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم نے زندگی میں پہلی بار اردو کے ممتاز محقق، ناقد، شاعر اور استاد  مکرم پروفیسر مغنی تبسم کو انگریزی میں مقالہ پڑھتے ہوئے نہ صرف دیکھا بلکہ سنا بھی۔ بہ خدا ان کی انگریزی بھی کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی نظر آئی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ انگریزی زبان کے ادیب اپنی زبان کو کہاں دھلواتے ہیں۔ دھلواتے بھی ہیں یا ڈرائی کلیننگ سے کام چلاتے ہیں۔ تاہم ہمیں کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان ہی اچھی لگتی ہے۔ بہ ہر حال پروفیسر مغنی تبسم کو انگریزی زبان پر جو گہرا عبور اور دست رس حاصل ہے اس سے ان کے تبحر لسانی کا ہمیں اس دن پہلی بار اندازہ ہوا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ انگریزی میں مقالہ پڑھتے ہوئے انھوں نے تلفظ کی ایک بھی غلطی نہیں کی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے انگریزی کا کوئی جید اہل زبان مخدوم کی شان میں رطب اللسان ہے۔ انگریزی تلفظ کے تحفظ کی اتنی پاس داری کی کہ مقالے میں جہاں جہاں مخدوم کا نام آتا تھا وہاں وہاں وہ اسے ادا کرتے تھے تو لگتا تھا مخدوم ’’میک ڈوم‘‘ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پروفیسر جاوید عالم اور جینتی عالم قابلِ مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اس سمینار کا انعقاد انگریزی میں کیا تاکہ مخدوم کے نظریات اور ان کی شاعری کو غیر اردو حضرات میں عام کیا جائے۔ اب آپ سے کیا چھپائیں کہ مخدوم کی شاعری کے بعض نکتہ ہائے دقیق جو ہمیں اردو میں اب تک سمجھ میں نہیں آئے تھے وہ اس انگریزی سمینار میں شرکت کے بعد ہی ہمارے پلے پڑے۔ اس سمینار کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہمارے کرم فرما ڈاکٹر عابد حسین، سابق سفیر ہند برائے امریکہ نے اس سمینار کا افتتاح فرمایا اور مخدوم سے اپنی شخصی وابستگی کو دلچسپ انداز میں بیان کیا۔ پروفیسر سی ایچ، ہمنت راؤ، بی نرسنگ راؤ، پروفیسر انور معظم، پروفیسر زاہدہ زیدی (علی گڑھ)، عزیز پاشا رکن پارلیمنٹ، علی ظہیر، مظہر مہدی وغیرہ نے بھی انگریزی میں ہی مخاطب کیا۔ مخدوم کے پرستاروں کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ عالم خوندمیری فاونڈیشن کی جانب سے مخدوم کے بارے میں جلد ہی ایک ضخیم کتاب انگریزی زبان میں شائع ہو رہی ہے جس کی مرتب جینتی عالم ہیں۔ اطلاعاً عرض ہے کہ اس میں مخدوم کے بارے میں ہمارا خاکہ بھی شامل رہے گا جسے پروفیسر خالد قادری نے انگریزی قالب میں ڈھالا ہے۔ اگرچہ ہم سے بھی خواہش کی گئی تھی کہ ہم اس انگریزی خاکہ کو سمینار میں پڑھیں لیکن مخدوم سے ہمیں جو گہری عقیدت رہی ہے اس کی بنا پر ہم میں مخدوم کو ’’میک ڈوم‘‘ بنانے کا حوصلہ نہیں تھا۔
	سمینار کے دوسرے دن ہی ہمیں علی الصبح مخدوم ہی کے سمینار میں شرکت کے لیے دہلی جانا پڑا جس کا اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کیا تھا۔ دہلی کے انڈیا اسلامک سنٹر کے خوب صورت آڈیٹوریم میں منعقدہ یہ سمینار ہر اعتبار سے شایان شان، معتبر اور کامیاب سمینار تھا جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے مندوبین نے اپنے اپنے انداز سے مخدوم کی شخصیت اور شاعری کا بھرپور جائزہ لیا۔ حیدرآباد سے جناب پی شیو شنکر، جناب وینکٹ سوامی، بی نرسنگ راؤ، پروفیسر بیگ احساس، علی ظہیر، اودھیش رانی، یوسف غوری اور مخدوم محی الدین کے دونوں فرزندوں نصرت محی الدین اور ظفر محی الدین نے شرکت کی۔ اس تین روزہ سمینار میں جن ممتاز دانش وروں اور اہلِ قلم نے اظہارِ خیال کیا ان میں حبیب تنویر، شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر قمر رئیس، شاہد مہدی، رفعت سروش، زبیر رضوی، کمال احمد صدیقی، رضا امام، پروفیسر لطف الرحمن (بھاگلپور)، پروفیسر علی احمد فاطمی (الہ آباد)، پروفیسر انیس اشفاق (لکھنو)، پروفیسر شارب ردولوی (لکھنو)، پروفیسر شہاب ملک (سری نگر)، پروفیسر اسلم آزاد (پٹنہ)، کشمیری لال ذاکر (چندی گڑھ)، سکندر احمد (پٹنہ)، ڈاکٹر ارجمند آرا، ڈاکٹر انور پاشا، فرحت رضوی، کے علاوہ ہندی کے ممتاز اہلِ قلم سدیب بنرجی، ڈاکٹر کملا پرساد اور ڈاکٹر کھگیندر ٹھاکر وغیرہ نے حصہ لیا۔ ڈاکٹر علی جاوید ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ کارروائی چلائی۔ تین دنوں تک اس سمینار میں شرکا نے جس گرم جوشی اور خلوص دل کے ساتھ حصہ لیا اس سے مخدوم کے تئیں ان کی گہری عقیدت کا اندازہ بہ آسانی لگایا جا سکتا تھا۔ سمینار کا افتتاح مرکزی وزیر انسانی وسائل جناب ارجن سنگھ کو کرنا تھا مگر وہ اپنی خرابی صحت کی بنا پر نہ آ سکے۔ ہندستانی ڈرامہ کی مایہ ناز شخصیت حبیب تنویر افتتاحی اجلاس کے صدر تھے۔ اگرچہ اب وہ اسی برس کے پیٹے میں ہیں لیکن ان کی آواز میں جو گھن گرج اور رعب و دبدبہ ہے وہ قابل رشک ہے۔ مخدوم محی الدین سے وابستہ اپنی یادوں کو انھوں نے کچھ ایسے متاثر کن انداز میں پیش کیا کہ سامعین دم بہ خود رہ گئے۔ آخر میں انھوں نے مخدوم کا کلام خود بہ خود کے ترنم میں سنا کر سماں باندھ دیا۔ افتتاحی اجلاس میں ممتاز رہنما اور قانون داں جناب پی شیو شنکر نے نہایت فصیح و بلیغ اردو میں حیدرآباد کے پس منظر میں مخدوم کی شخصیت اور شاعری کا بھرپور انداز میں جائزہ لیا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ کانگریس کے سنیر لیڈر اور لوک سبھا کے ڈپٹی لیڈر جی وینکٹ سوامی نے حیدرآباد میں ٹریڈ یونین تحریک کے فروغ کے لیے مخدوم کی خدمات کو بھرپور خراج تحسین ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ سابق ریاست حیدرآباد میں کوئی ٹریڈ یونین ایکٹ موجود نہیں تھا۔ لہذا مخدوم نے پہلی ٹریڈ یونین سکندر آباد میں رجسٹر کرائی جہاں انگریزوں کی عمل داری تھی۔ اس طرح مخدوم حیدرآباد میں ٹریڈ یونین تحریک کے پہلے بانی قرار پاتے ہیں۔ انھوں نے مخدوم سے اپنی گہری وابستگی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انھیں اپنا گرو اور رہنما قرار دیا۔ شستہ اور سلیس اردو میں ان کی تقریر کا ہر جملہ دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ ہندستانی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری اے بی بردھن نے مخدوم کو مزدوروں کا مسیحا قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مخدوم کی شاعری اور ان کی نظریاتی فکر کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے۔ یہاں ہم خصوصیت کے ساتھ جناب بی نرسنگ راؤ کے اس انگریزی مضمون کا ذکر کرنا چاہیں گے جسے انھوں نے سمینار کے اختتامی اجلاس میں پڑھا تھا۔ بی نرسنگ راؤ تلنگانہ کی مسلح جدوجہد کے دوران اسٹوڈنٹ لیڈر کی حیثیت سے مخدوم سے بہت قریب تھے۔ ان کے مقالے میں آزادی سے پہلے حیدرآباد کے سیاسی منظر نامہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس پس منظر میں انھوں نے جس طرح مخدوم کی شخصیت اور شاعری کا جائزہ لیا اسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔
	شمالی ہند کے ایک نقاد نے جو ہمارے بہت پرانے اور عزیز دوست بھی ہیں، غالباً یہ سوچ کر کہ مخدوم کی شخصیت اور شاعری پر بہت اظہار خیال ہو چکا، کیوں نہ ذرا ان کی رنگین مزاجی، عاشقانہ روش پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ لہذا انھوں نے بعض حوالوں سے کہیں اشارتاً اور کہیں کھلم کھلا کہہ دیا کہ مخدوم محبوب کی مہندی بھی جایا کرتے تھے، مخصوص طوائفوں کا گانا سنتے تھے اور جام و مینا کی محفلوں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ جیسے ہی ان کا مقالہ ختم ہوا ہم نے مجلس صدارت سے اجازت حاصل کیے بغیر سامعین میں سے اٹھ کر اپنے دوست سے کہا ’’جناب اس محفل میں مخدوم کے دونوں فرزند نصرت محی الدین اور ظفر محی الدین بھی موجود ہیں، جن کی عمریں اگرچہ اب ساٹھ پینسٹھ برس کی ہو چکی ہیں، لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں اپنے والد بزرگوار کی رنگین مزاجی کا حال جان کر ان کے عادات و اطوار بھی خراب نہ ہو جائیں۔ مخدوم سے عقیدت اور قربت کے باوجود ہم مخدوم کے اس پہلو سے ذرا کم ہی واقف ہیں۔ تاہم ان کے ایک معاشقے کا ذکر ضرور سنا ہے لیکن ہم اسے بھی ’’ضرورت شعری‘‘ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں کیوں کہ یہیں سے مخدوم کی شاعری میں ایک نیا مور آیا تھا۔‘‘ ہمارے اعتراض کو سن کر صدر مجلس پروفیسر انیس اشفاق (لکھنو) نے ہماری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا زندوں کو تو چھوڑ دیجیے ان دنوں گزرے ہوئے بزرگوں کی بھی کر دار کشی کی جانے لگی ہے۔ مجلس صدارت کے دوسرے رکن زبیر رضوی نے بھی اس مریضانہ اور مجرمانہ رجحان کی مذمت کی۔ ہم نے کہا کہ بعض اہلِ قلم، بزرگوں کے جیتے جی تو کچھ بھی نہیں لکھتے البتہ جب وہ گزر جاتے ہیں تو ان کے بارے میں ایسی من گھڑت، فرضی، بے بنیاد اور بے سروپا باتیں لکھ جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ بزرگ نہیں بلکہ ان کے لنگوٹیا یار تھے۔
	سمینار کے دوسرے دن ہمارے پرانے دوست اور مشہور مورخ پروفیسر ارجن دیو، سابق جوائنٹ ڈائریکٹر این سی ای آر ,ی نے ہمیں اور بی نرسنگ راؤ کو انڈیا انٹرنیشنل میں رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ انڈیا انٹرنیشنل سنٹر ہماری محبوب جگہ ہے اور یہاں گزری ہوئی بے شمار شاموں کی یاد ہمارے ذہن میں تازہ ہے۔ یہاں ہم گئے تو کئی پرانے دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔ ڈائننگ ہال میں پہنچے تو مشہور فلم ساز شیام بنیگل بھی موجود تھے۔ بڑی محبت سے ملے۔ وہ بی نرسنگ راؤ کے پرانے مداح ہونے کے علاوہ انھیں اپنا گرو بھی مانتے ہیں۔ شیام بنیگل نے بتایا کہ تین دن بعد وہ بھی حیدرآباد آ رہے ہیں جہاں انھیں روی نارائن ریڈی میموریل کمیٹی کی جانب سے ایوارڈ دیا جائے گا اور وہ اس موقع پر تلنگانہ مسلح جدوجہد کے تین اہم کمیونسٹ رہنماؤں روی نارائن ریڈی، مخدوم محی الدین اور بدم بال ریڈی کے بارے میں توسیعی لکچر دیں گے۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ ان تینوں رہنماؤں کی صد سالہ تقاریب اسی سال منائی جا رہی ہیں۔ چناں چہ دہلی سے واپس ہوتے ہی ہم پھر مخدوم کو یاد کرنے اور شیام بنیگل کا لیکچر سننے چلے گئے۔ شیام بنیگل نظام کالج کے پرانے طالبِ علم رہے ہیں اور انھوں نے باتوں باتوں میں اپنے پرانے ہم جماعت مصطفی علی خان (مصطفی شہاب) کو یاد کیا۔ پتہ چلا کہ کڑکی کے زمانے میں چائے کی ایک ہی پیالی میں تین تین دوست چائے پی لیتے تھے۔ مصطفی شہاب ان دنوں لندن میں رہتے ہیں۔ ہمیں پتہ تھا کہ وہ ان ہی تاریخوں میں حیدرآباد آنے والے ہیں، جس دن ہم حیدرآباد واپس آئے اس دن مصطفی شہاب ہمیں مل گئے۔ ان دونوں دوستوں کی جذباتی ملاقات کا سہرا بھی مخدوم کی یاد کے سر جاتا ہے۔

٭٭٭


ڈاکٹر راج بہادر گوڑ


محنت اور محبت کا شاعر



	مخدوم اچھے اور بڑے شاعر تھے۔ اس بات پر تو سب ہی متفق ہیں۔ لیکن کیوں اچھے اور بڑے شاعر تھے۔ اس پر ہر شخص اپنی بساط کے مطابق رائے دیتا ہے۔ شاعر کو کسی ایک پہلو سے دیکھنا، دیکھنے والے کا قصور نہ ہو، لیکن شاعر کے ساتھ انصاف نہیں۔ غور و فکر داخلی فعل ضرور ہے لیکن موضوعی حقیقتوں سے آنکھ بند کر کے جو فکری عمل ہو گا وہ بہ ہر حال بانجھ ہی ہو گا، تخلیقی نہیں ہو سکتا۔ مخدوم کو خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ مخدوم کی کلی حیثیت کو نظر انداز کر کے ان کے کسی ایک جز سے ان تک پہنچنے کی کوشش کرنا اگر حماقت نہیں تو تضیع اوقات ضرور ہے۔
	کون کہہ سکتا ہے کہ فلاں مقام پر سیاست داں مخدوم ختم ہو جاتا ہے اور فلاں منزل سے شاعر مخدوم شروع ہوتا ہے۔ مخدوم کی کمیونسٹ حیثیت کس جگہ ختم ہوتی ہے اور ادبی شخصیت کہاں سے ابھرنے لگتی ہے ؟
	اصل میں یہ فتنہ پرور اندازِ فکر چیف منسٹر برہمانند ریڈی کے توسن ذہن کی جولانیوں کا نتیجہ ہے۔ جشن مخدوم میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے ہی تو کہا تھا کہ مخدوم بہ حیثیت دوست اور شاعر کے بہت اچھا ہے اور اس لحاظ سے کمیونسٹ صفوں میں فٹ نہیں ہوتا۔ وہیں پر مخدوم نے مسکت جواب بھی دے دیا تھا کہ انسان کی تقسیم ممکن نہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ برہمانند ریڈی صاحب بھی اچھے آدمی ہیں لیکن کانگریس میں کیوں ہیں تو کوئی معقول بات نہیں بنتی۔
	آج مخدوم کی موت کے بعد کچھ کرم فرماؤں کی مستقل کوشش ہے کہ مخدوم کو تقسیم کر دیں۔ شاعر مخدوم کو تو تسلیم کریں (اور اس سے مفر بھی تو ممکن نہیں ) اور کمیونسٹ اور انقلابی مخدوم کو مسترد کر دیں۔ مخدوم کے ساتھ تو یہ انصافی ہے ہی لیکن ادب کے ساتھ بھی یہ سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔
	اچھے شعر کو پہچاننے کے لیے تحقیق و جاں فشانی کی ضرورت نہیں۔ اچھا شعر وہی ہے جو سیدھے دل میں اتر جاتا ہے اور وہی شعر دل میں اترتا ہے جو متاثر کرتا ہے، وہی شعر متاثر کرتا ہے جس میں روحِ عصر اتر آتی ہے، جس کے اندر شاعر کی شخصیت ڈھلتی ہے۔ شخصیت کی ترکیب و تعمیر ایک سخت پیچیدہ عمل ہے۔ مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ سبھی شاعر کے حساس ذہن پر ارتسامات چھوڑتے ہیں۔ شاعر سخت کرب و کشمکش سے گزرتا ہے، تب کہیں چل کر شعر نازل ہوتے ہیں۔ مخدوم نے خود ہی گلِ تر کے دیباچے میں اس عمل کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ شاعر ایک زندگی میں کئی زندگیاں گزارتا ہے۔ عوام سے حاصل کرنا اور پھر عوام ہی کو لوٹا دیا۔ باہمہ اور بے ہمہ کا یہ تسلسل جاری رہتا ہے۔
	مخدوم کی شخصیت کی تعمیر میں کئی عوامل و عناصر کا حصہ ہے۔ ان کا تعلق خود ایک غریب خاندان سے تھا۔ وہ دیہات میں پیدا ہوئے اور دیہی زندگی کی سادگی اور سختی دونوں ہی سے وہ خوب آشنا تھے۔ بچپن کی معصومیت سے جوانی کی آگہی کی منزلوں میں داخل ہوئے تو سامراجی اور جاگیر شاہی شکنجوں کی داب کا کرب محسوس ہونے لگا اور ساتھ ہی ہمالیہ کے اس پار سے نئے سوشلسٹ سماج نے ایک خوش آئند مستقبل کی بشارت بھی دی۔ ایک طرف موجود سے سخت نا آسودگی تھی اور دوسری طرف ممکن الحصول کی شدید خواہش۔ یہی وہ عصری آویزش تھی جس نے مخدوم کو سیاست اور شاعری دونوں ہی میدانوں میں انقلاب کی سمت گامزن کر دیا۔ یہی وہ کشمکش تھی جس نے مخدوم کے اندر خفتہ انسان کو جگایا اور اسے اپنے ہم عصر باغیوں کی صفوں میں کھڑا کر دیا۔
	مجنوں گورکھپوری نے موجود سے نا آسودگی اور ممکن الحصول کی خواہش کے درمیان آویزش کو فن کا خالق بتایا تھا، لیکن یہی وہ آویزش ہے جو انسان کو سرگرم عمل اور سماج کو مائل بہ ارتقا رکھتی ہے۔ گویا انسانی جدوجہد، سماجی ارتقا، فنی تخلیق سبھی کا مشترکہ سرچشمہ یہی موجود سے نا آسودگی اور ممکن الحصول کی خواہش کے درمیان آویزش ہے۔
	اگر محض موجود سے نا آسودگی ہی دل و دماغ پر محیط و مسلط رہے تو انسان غم و قنوطیت کا شکار رہے اور زندہ رہنے کی آرزو ہی ختم ہو جائے۔ ممکن الحصول کی خواہش اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے جدوجہد ہی انسان کو زندہ رکھتی ہے اور زندگی سے پیار کرنا سکھاتی ہے۔ جہاں امید نہیں وہاں مستقبل کے خواب بھی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی سے فرار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
	فرانس کے شہرۂ آفاق مصور پکاسو کی تصویر ’’گورنیکا‘‘ دیکھیے اور پھر مخدوم کی نظم ’’اندھیرا‘‘ پڑھیے۔ تصویر میں آپ دیکھیں گے تباہی، بربادی، افراتفری، کہیں گھوڑے کی ٹانگ ہے، کہیں انسان کا ہاتھ ہے، کہیں کتاب اوندھی پڑی ہے، لیکن اس تباہی کے بھیانک کینوس میں آپ کو امید کی ایک ’’شمع‘‘ بھی نظر آتی ہے اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ تباہی ہی سب کچھ نہیں۔ مستقبل تاریک نہیں ہے، پھر مخدوم کی نظم ’’اندھیرا‘‘ پڑھیے :
	خندقیں 
	باڑھ کے تار
	باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوئے انسانوں کے جسم
	اور انسانوں کے جسموں پہ وہ بیٹھے ہوئے گدھ
	وہ تڑختے ہوئے سر
	میتیں ہاتھ کٹی پاؤں کٹی
	لاش کے ڈھانچے کے اِس پار سے اُس پار تلک
	سرد ہوا
	نوحہ و نالہ و فریاد کناں 
؎اور پھر نظم ختم ہوتی ہے : 
	رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
	صرف خورشیدِ د رخشاں کے نکلنے تک ہے
یوں لگتا ہے کہ پکاسو کی تصویر کو مخدوم نے نظم کیا ہے یا پکاسو نے مخدوم کی نظم کو رنگوں اور خطوط میں منتقل کر دیا ہے۔ اصل میں دونوں کا موضوع ایک ہی ہے، فاشزم۔ دونوں ہی نے فاشزم کی تباہ کاریوں کو پوری شدت سے محسوس کیا ہے، پیش بھی کیا ہے۔ دونوں ہی کو امید ہے کہ یہ ’’غم کی شام‘‘ شام ہے کتنی ہی لمبی اور کرب ناک کیوں نہ ہو ’’شام‘‘ ہی تو ہے۔
	یہی امید ہے جو فن کے ان دونوں شاہ کاروں کو زندگی بھی بخشتی ہے اور دوام بھی۔ کیوں کہ دوام اگر حاصل ہے تو ممکن الحصول کی خواہش ہی کو۔ثبات اگر میسر ہے تو تغیر ہی کو۔
	فانی کے ہاں یہ امید نہیں، وہ سراپا غم ہیں۔ قنوطیت ان کا سارا اثاثہ ہے۔ اسی لیے مایوسیوں نے ہلہ بول دیا ہو تو آپ کو ایسے موڈ میں فانی یاد بھی آ جائیں گے اور ایک آدھ ان کا شعر بھی :
فصل گل آئی، یا اجل آئی، کیوں در زنداں کھلتا ہے 
کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا، یا کوئی قیدی چھوٹ گیا
	آپ کے دماغ کے نہاں خانوں میں رینگنے لگے گا۔ فانی ایک موڈ کی ترجمانی کر سکتے ہیں وہ زندگی کی بشارت نہیں دیتے :
زندگی دید بھی ہے، حسرت دیدار بھی ہے 
زندگی دار بھی ہے، زندگی دلدار بھی ہے 
					 (مخدوم)
	بڑا فن کار وہی تو ہے جو اپنے فن میں روحِ عصر کی عکاسی ہی نہیں ترجمانی بھی کرتا ہے۔ ڈاکٹر راج کشور پانڈے نے مخدوم سے کہا تھا کہ کالی داس کا میگھ دوت وہ کیوں پڑھتے ہیں۔ وہ آخرکار سامنتی دور کا ادب ہے۔ مخدوم نے ان سے کہا تھا کہ میگھ دوت میں یہی تو نہیں ہے۔فطرت کی عکاسی، منظر کشی اور ساتھ ہی بارش، کھیتی اور بھرپور زندگی کی جھلک بھی تو ہے۔ اس کے علاوہ میگھ دوت میں اور بھی ہے۔
	کالی داس کے ڈراموں میں روحِ عصر کی تلاش میں کملا رتنم نے دیکھا کہ اس عظیم فن کار نے اپنے ڈراموں میں اپنے دور کی عورت اور اس کی انا کو بڑے سلیقے اور فن کارانہ چابک دستی سے پیش کیا ہے۔ دشنیت نے صحرا نوردی کے دوران شکنتلا کو پایا اور اپنی ہوس کی آگ بجھائی۔ حاملہ شکنتلا جب دشینت کے دربار میں پہنچتی ہے تو مغرور راجہ اسے پہچاننے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ شکنتلا کی انا مجروح ہوتی ہے۔ اس کے اندر باغی عورت جاگ اٹھتی ہے۔ وہ جنگل کو لوٹ آتی ہے، لڑکے کو جنم دیتی ہے، پال پوس کر بڑا ہی نہیں کرتی بلکہ اسے ہر طرح کی تعلیم بھی دیتی ہے۔ چناں چہ جب دشینت کو اپنے ہی لڑکے کے ہاتھوں شکست ہوتی ہے تو اس کا غرور بھی چکناچور ہوتا ہے اور پھر وہ اپنی بیوی اور بچے کو پہچانتا ہے۔
	اسی طرح ’’وکرم اروسی‘‘ میں جب راج کماری اس بات پر اتراتی ہے کہ راج کمار ان سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کی بہت عزت کرتے ہیں تو ان کی جہاں دیدہ ملازمہ بول اٹھتی ہے۔
	’’راج کماری جی! اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو بہت ہی عزت کرنے لگے تو سمجھیے کہ ضرور کہیں اور دل لگایا جا رہا ہے۔‘‘
	کالی داس کا مرد کم زور ہے۔ چھپ چھپ کر گناہ کرتا ہے۔ سچائی سے گھبراتا ہے۔ لیکن عورت مضبوط ہے۔ اس کی انا بیدار ہے، وہ پیار بھی کرتی ہے اور پیار کی توہین ہو تو انتقام لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
	یہ کالی داس کے مشاہدے کی گہرائی اور اس کے فن کی گہرائی ہے کہ وہ اپنے ادب میں اپنے زمانے کی عکاسی ہی نہیں ترجمانی بھی کر سکا۔ اسی لیے کالی داس عظیم فن کار تھا اور ہر زمانے میں عظیم رہے گا۔
	مخدوم کے دور میں محنت سرمایے سے اور محبت نفرت سے برسر پیکار ہے۔ یہی پیکار اور یہی آویزش مخدوم کو کمیونزم کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ زلزلوں، آندھیوں، طوفانوں کو آواز دیتے ہیں کہ آئیں اور اس کرۂ ناپاک کو بھسم کر ڈالیں لیکن مقصد یہ ہے کہ ’’کاسۂ دہر کو معمور کرم کر ڈالیں ‘‘ اور پھر مخدوم کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ جاتے ہیں :
الہٰی یہ بساطِ رقص اور بھی بسیط ہو
صدائے تیشہ کامراں ہو، کوہکن کی جیت ہو
	مخدوم نے محنت اور محبت دونوں ہی کو محروم اور مجبور دیکھا ہے۔ دونوں ہی کو مصروفِ جہاد دیکھا ہے۔ اس لیے وہ دونوں ہی کی جیت اور کامرانی کی دعا کرتے ہیں۔ یہی مخدوم کی شاعری کا مرکزی خیال ہے۔ مخدوم کے ہاں پرچمِ عشق اور علمِ بغاوت ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ وہ قلم کو تلوار اور تلوار کو قلم میں تبدیل کر دینے کے ہنر سے واقف ہیں۔ اسی لیے ان کے ہاں انقلابی مزدور تحریک کی مصروفیتیں اور شعری تخلیق کی خلوتیں ایک دوسرے سے ستیزہ کار نہیں بلکہ ایک دوسرے کی شریک کار ہیں۔
	مخدوم بہت بڑا فن کار ہے۔ وہ بہت بڑا حسن کار ہے۔ جو کمیونزم میدانِ سیاست میں یا مزدور تحریک کے میدانِ عمل میں مخدوم کو ایک جنگجو اور ایک مجاہد کے روپ میں ڈھالتا تھا، وہی کمیونزم بزم شعر و سخن میں مخدوم سے زندگی اور انسان دوستی کے گیت گواتا تھا۔ مخدوم کی تقریر میں سیاست کی گرم بازاری تھی تو مخدوم کے شعر میں زندگی کی حسن کاری تھی، لیکن سرچشمہ دونوں کا ایک ہی ہے، محنت و محبت کی کامرانی کی شدید خواہش اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے سخت جدوجہد۔
	سیاست پھر سیاست ہے اور ادب کو بہ ہر حال ادب ہی ہونا چاہیے۔ ادب کے فنی حسن اور تفریحی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر وہ ادب کہاں رہ جائے گا۔ شعر پھر شعر ہے وہ کوئی سیاسی دستاویز نہیں ہے، نہ کسی اخبار کا اداریہ ہے، نہ واعظ کی نصیحت ہے اور نہ کسی عدالت کا فیصلہ ہے۔ مخدوم کو ادب اور سیاست کے اس ’’تفاوت‘‘ کا شدید احساس بھی تھا۔ چناں چہ ایک واقعہ سنیے۔
	۱۹۴۹ء کی برسات کا زمانہ تھا۔ ہم لوگ روپوش تھے۔ کسی مسئلہ پر تبادلۂ خیال کے لیے مخدوم، جواد رضوی اور میں ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے۔ سیاسی اور تنظیمی مسائل پر بات چیت ختم ہو چکی تھی اور شعر و سخن کی بات چل رہی تھی۔ جواد رضوی نے مخدوم کو چھیڑا۔
جواد	:مخدوم صاحب، یہ آپ نے کیا کہا؟
اور کیا ہو گی کسی کی کائناتِ سال و سن
عشق کی دو چار راتیں، حسن کے دو چار دن
		کیا ان دو چار دن رات کے لیے ہی ساری عمر بتانی ہے ؟ یہ انقلاب کی ساری تیاریاں، سوشلزم پر دل و جان سے نچھاور ہو جانے کے یہ سارے ارمان، کیا محض چار دن کے پیار کے لیے ہیں ؟
		مخدوم کچھ سوچ رہے تھے اور میں جواد سے الجھ پڑا۔
میں 	:	جواد صاحب آپ نے شعر کو صرف پڑھا ہے، محسوس نہیں کیا۔ آپ اس کے  الفاظ میں الجھ گئے ہیں۔ معنوی حسن کو نہیں دیکھا۔ شدتِ تاثیر کا اندازہ کیجیے۔ آخر مبالغہ شعر کا حسن ہے اور بیان کو وہ انداز ہے جس سے تاثیر میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ ظفر کا شعر یاد ہے 
		عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
		دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں 
	’’عمر دراز‘‘ پر غور کیجیے، کیسا کس کر طنز کیا ہے۔ چار دن کی سوچیے، محرومی کی شدت محسوس ہوتی ہے۔ ظفر کو طوائف اور ڈومنیاں تو بہت مل گئی تھیں لیکن شاہانہ اقتدار سے محروم تھے اور اس محرومی کا کس شدت سے اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح مخدوم مبالغہ سے کام لے کر احساس کی شدت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
	مخدوم کا سکوت ٹوٹا اور وہ بول پڑے۔ راج یہ شبلی نعمانی کی تعلیمات رہنے دو۔ شعر کے حسن کی بات چھوڑو۔ پھر جواد سے مخاطب ہو کر بولنے لگے۔ جناب دو چار راتوں کی بات الگ رکھیے۔ ایک رات ہی عشق کی اور ایک دن ہی حسن کا دلوا دیجیے۔ اگر یہ بھی میسر ہو جائے تو سوشلزم غنیمت ہے اور اس کے لیے جان دے دوں، بھائی صاحب یہ حسن و عشق کی بات ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی کوئی دستاویز نہیں ہے۔ اس ایک مکالمہ سے شاعر و حسن کار مخدوم کی فن کارانہ عظمت کا پتا چل جاتا ہے۔
	وہ کمیونزم کا حیات افروز زاویۂ نگاہ ہی تھا جس نے مخدوم کو میدانِ سیاست میں مردِ آہن بنایا تو بزمِ سخن میں موم بنا دیا۔ اس نے نکبت و افلاس سے نفرت بھی کی ہے اور اس کے خلاف جہاد بھی کیا ہے۔ اسی لیے وہ بھی جو مخدوم کے سیاسی مسلک سے اتفاق نہیں کرتے مخدوم کے سیاسی خلوص، انقلابی دیانت داری اور عوام دوستی کے قائل ہیں اور اسی بنا پر مخدوم سے شدید پیار بھی کرتے ہیں۔
	پھر شاعر مخدوم کو کمیونسٹ مخدوم سے الگ کر کے دیکھنے کی اتنی کوشش بھی کیوں ؟ کیا کوئی انکار کر سکتا ہے کہ اقبال کو اقبال بنانے میں اسلامی تعلیمات کی خمیر میں شوپنہار اور نطشے کے تصورات کی آمیزش کو بڑا دخل ہے۔ کیا اقبال کا ’’مرد مومن‘‘ نطشے کے ’’فوق البشر‘‘ سے مشابہت نہیں رکھتا؟ اقبال کے فلسفۂ خودی میں کیا شوپنہار کے خیالات کی پرچھائیاں نہیں ملتیں جو اپنی جگہ اپنشدوں سے فیض حاصل کرتا معلوم ہوتا ہے ؟ اقبال کو روحِ اقبال سے علاحدہ کر دینے سے کیا رہ جائے گا؟ اسی طرح مخدوم سے روحِ مخدوم کو نچوڑ کر الگ کر دو تو کیا بچے گا؟
	مخدوم کو تنہائی یویناً عزیز تھی اور اچھی بھی لگتی تھی لیکن کب؟ اور کس غرض کے لیے ؟ مخدوم سینکڑوں، کروڑوں عوام کے مصروف قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چلتے تھے، زندگی اور جدوجہد کے چشمے سے جی بھر کر پیتے تھے، پھر وہ لوٹ کر فن کار کی دنیا میں آ جاتے تھے۔ یہاں تنہائی میں آرزوؤں اور ارمانوں کے بت تراشا کرتے تھے۔ یہ ان کی اپنی دنیا ہوتی ہے۔ یہاں کسی کو دخل نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہ تنہائی فن کار کی تنہائی ہے، جو فنی تخلیق کے لیے ضروری ہے۔ یہ سائنس داں کی تنہائی ہے جو وہ تجربہ خانہ میں تحقیق و تخلیق کے لیے گزارتا ہے۔ یہ زندگی سے گھبرا کر اپنی ہی انا کے خول میں گھس جانا نہیں ہے۔ یہ تنہائی فرار کی تنہائی نہیں جو جہد و عمل کی طرف نہیں، خود کشی کی سمت لے جاتی ہے۔ یہ مجتہد کی تنہائی ہے جو اجتہاد کے نقشے بناتا ہے۔ بزدل و غدار کی نہیں جو خود اپنے ہی ضمیر کی پھٹکار سے بچنے کے لیے تنہائی میں ڈوب جانا چاہتا ہے۔
	مخدوم کے ہاں شراب اور عورت زندگی کی علامتیں ہیں، عیش کوشی اور ہوس کی نہیں۔ مخدوم کو شراب اس لیے عزیز نہیں کہ وہ ہجوم آلام سے گھبرا گئے ہیں ’’اک گونہ بے خودی‘‘ چاہتے ہیں۔ وہ شراب سے سرور اور تازگی حاصل کرتے ہیں۔ شراب زندگی کا سرمایہ بھی ہے اور زندگی کی علامت بھی۔
	مخدوم کے ہاں عورت کا وہ تصور نہیں جو داغ کے ہاں ملتا ہے۔
مٹی کی بھی ملے تو روا ہے شباب میں 
مخدوم کے ہاں عورت مرد کی شریکِ بزم حیات ہی نہیں شریک رزم حیات بھی ہے۔ عشق ان کے ہاں اپنے سارے حیات افروز پہلوؤں کے ساتھ جلوہ گر ہے اور زندگی کی عین علامت ہے۔ ان کے ہاں رقیب کا شکوہ اور ہجر کی شکایت نہیں ملتی۔ کبھی کبھی محبوب کی دوری کا احساس ہوتا بھی ہے تو وہ اپنی محفل یادوں سے سنوار لیتے ہیں۔ یادوں کے چاند ان کے دل میں اترنے لگتے ہیں اور اندھیرا اجالے سے بدل جاتا ہے۔
	بہ ہر حال مخدوم محنت، محبت اور زندگی کے شاعر ہیں۔ زندگی بھر انھوں نے انہی کی کامرانی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ طبقاتی کشمکش اور کمیونزم اگر ان کی سیاست کی بنیاد ہے تو انقلابی انسانیت پسندی (Revolutionary Humanism) ان کے شعر کی جان ہے۔

٭٭٭


پروفیسر مغنی تبسم


مخدوم محی الدین کی معنویت اور عصرِ حاضر


	مخدوم محی الدین ہمارے عہد کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری عصرِ حاضر کی عکاس اور نقاد تھی۔ یہ ضرور ہے کہ ان کی وفات کے بعد ملکی اور بین الاقوامی حالات میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ تبدیلیاں تو خود ان کی زندگی کے دوران میں وقوع پذیر ہوتی رہیں۔ جب انھوں نے شعر کہنا شروع کیا ہندستان غلام تھا۔ عوام افلاس، جہالت اور توہمات کے اسیر تھے۔ تہذیبی اقدار پامال ہو چکی تھیں۔ اپنی نظم ’’حویلی‘‘ میں مخدوم نے اس دور کے ہندستان کی تصویر کھینچ دی:
	ا
ہےق
)ا
بافگن بیدت پہِ                                                                                                          ک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج
	لے رہی ہے نزع کے عالم میں مردوں سے خراج
	ایک مسلسل کرب میں ڈوبے ہوئے سب بام و در
	جس طرف دیکھو اندھیرا، جس طرف دیکھو کھنڈر
	رہزنوں کا قصرِ شوریٰ، قاتلوں کی خواب گاہ
	کھلکھلاتے ہیں جرائم، جگمگاتے ہیں گناہ
	جس جگہ کٹتا ہے سر انصاف کا، ایمان کا
	روز و شب نیلام ہوتا ہے جہاں انسان کا
	مخدوم محی الدین کی نظم ’’ایشیا‘‘ ہندستان، پاکستان اور ایشیا کے دوسرے ملکوں پر آج بھی صادق آتی ہے۔ جہاں غربت اور افلاس کا دور دورہ ہے، کسان فاقہ کشی کا شکار ہیں، اکثریت تعلیم سے محروم ہے، توہم پرستی عام ہے۔ اپنی اس نظم میں مخدوم نے مشرق کو ایک بے گور و کفن ٹھٹھری ہوئی ننگی نعش سے تشبیہہ دی تھی جو مغربی جیلوں کا لقمہ بنی ہوئی ہے۔ ایشیا کے نوآبادیاتی ملکوں کی آزادی کے بعد بھی حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ ہندستان میں انگریز سامراج کی جگہ سرمایہ داروں نے لے لی ہے اور سرمایہ داروں نے اپنی حکومتیں قائم کر لی ہیں لیکن اب وہ امریکی سامراج کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے استیصال کے نام پر امریکہ نے افغانستان اور عراق میں اپنے قدم جما لیے ہیں اور اب وہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ملکوں پر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ کے قتل پر مخدوم کی نظم کے یہ مصرعے امریکی سامراج کی سفاکی کو طشت از 
 سمحقق، ناقد، شاعر اور استاد محبید                                                                                             بام کرتے ہیں :
وہ ہاتھ آج بھی موجود و کارفرما ہے 
وہ ہاتھ جس نے پلایا کسی کو زہر کا جام
وہ ہاتھ جس نے چڑھایا کسی کو سولی پر
وہ ہاتھ وادی سینا میں ویت نام میں ہے 
	اور ویت نام کے پس منظر میں لکھی گئی نظم ’’درۂ موت‘‘ بوسنیا، افغانستان اور عراق کی بھی یاد دلاتی ہے :
	اس تباہی کی گزرگاہ سے چل
	یہ کوئی رستہ ہے جس رستے میں 
	نہ کوئی پھول نہ پتا
	نہ کوئی پیڑ نہ پھل
	اک ہیولائے سیہ
	حدِ نظر
	جس طرف دیکھو کھنڈر
	دشتِ خاموشی سے جب گزرو گے 
	کئی امیدوں کی لاشوں سے گزرنا ہو گا
	مخدوم کی نظمیں ’’جنگ‘‘، ’’زلف چلیپا‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ آج بھی اپنی معنویت رکھتی ہیں اور 	دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ یہ اقتباسات ملاحظہ کیجیے :
	نکلے دہانِ توپ سے بربادیوں کے راگ
	باغِ جہاں میں پھیل گئی دوزخوں کی آگ
	اب دلہنوں سے چھین لیا جائے گا سہاگ
	اب اپنے آنسوؤں سے بجھائیں وہ دل کی آگ
	خود اپنی زندگی پہ پشیماں ہے زندگی
	قربانِ گاہ موت پہ رقصاں ہے زندگی
	(جنگ)
	آفریں ہے تجھ پہ اے سرمایہ داری کے نظام
	اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا اتنا اہتمام
	کتنی ماؤں کی سہانی گودیاں ویراں ہیں آج
	 فرقِ گیتی پر نظر آتا ہے پھر کانٹوں کا تاج
	۔۔۔۔۔۔۔۔۔
	زر گری کا رقص ہے سود و زیاں کا رقص ہے 
	ہر گلی کوچے میں مرگِ ناگہاں کا رقص ہے 
	اب کسی سینے میں روحِ شادماں گاتی نہیں 
	زندگی کی اب کہیں ہلچل نظر آتی نہیں 	
	(زلف چلیپا)
	مخدوم نے جس انقلاب کا خواب دیکھا تھا اور جس کا زندگی بھر انتظار کیا تھا وہ کہیں ٹھہر گیا ہے اور آج بھی انسانیت اس کی منتظر ہے۔ مخدوم کے الفاظ میں :
	حرم کے دوش پہ عقبیٰ کا دام ہے اب تک
	سروں میں دین کا سودائے خام ہے اب تک
	توہمات کا آدم غلام ہے اب تک
	گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
	مخدوم کی چند نظموں کا موضوع جنگ ہے۔ اس سلسلے کی پہلی نظم کا عنوان ہی ’’جنگ‘‘ ہے۔ اس نظم میں جنگ کی تباہ کاریوں کی پُر اثر تصویر کھینچی گئی ہے۔ اسے پڑھ کر جنگ سے نفرت ہو جاتی ہے :
	نکلے دہانِ توپ سے بربادیوں کے راگ
	باغِ جہاں میں پھیل گئی دوزخوں کی آگ
	امن و اماں کی نبض چھٹی جا رہی ہے کیوں 
	بالینِ زیست آج اجل گا رہی ہے کیوں 
	اب دلہنوں سے چھین لیا جائے گا سہاگ
	اب اپنے آنسوؤں سے بجھائیں وہ دل کی آگ
	انفرادی انسانی سطح پر جنگ کا الم ناک اور اندوہ گیں رخ مخدوم نے اپنی نظم ’’سپاہی‘‘ میں پیش کیا ہے :
	کون دکھیا ہے جو گا رہی ہے 		بھوکے بچوں کو بہلا رہی ہے 
	لاش جلنے کی بو آ رہی ہے 		زندگی ہے کہ چلا رہی ہے 
	جانے والے سپاہی سے پوچھو	وہ کہاں جا رہا ہے 
	آگے چل کر دوسری جنگِ عظیم کو مخدوم نے سیاسی سطح پر جنگِ آزادی سے تعبیر کیا ہے۔ ایک طرف دوسری عالمی جنگ میں فاشزم کے خلاف جمہوری اور سوشلسٹ قوتیں صف آرا تھیں اور ادھر ہندستان میں آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔ برطانوی سامراج فاشزم کے خلاف لڑ رہا تھا۔ اس لیے جنگ میں اس کا ساتھ دینا ایک سیاسی مصلحت تھی اور اس کا مقصد سوشلزم کی حمایت کرنا تھا۔ اس پس منظر میں مخدوم کی نظم جنگِ آزادی اپنا جواز رکھتی ہے :
	یہ جنگ ہے جنگِ آزادی		آزادی کے پرچم کے تلے 
	ہم ہند کے رہنے والوں کی		محکوموں کی مجبوروں کی
	آزادی کے متوالوں کی		دہقانوں کی مزدوروں کی
	آج عالمی صورتِ حال بہت کچھ بدل چکی ہے۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد طاقت کا توازن برقرار نہیں رہا۔ اب امریکی اور برطانوی سامراج میں گٹھ جوڑ ہو گئی ہے۔ امریکہ ساری دنیا پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ کسی نہ کسی بہانے کمزور ملکوں پر اقتدار جمانے کی فکر میں ہے۔ افغانستان اور عراق پر عملاً قابض ہو چکا ہے۔ اس کی نظریں خاص طور پر ان ملکوں پر ہے جہاں تیل کے ذخائر ہیں۔ اس کے علاوہ عالمیانے کے نام پر صارفیت کو بڑھا وا دے رہا ہے اور تیسری دنیا کے نو آزاد اور سابق نوآبادیاتی ملکوں کو معاشی طور پر اپنا غلام بنا رہا ہے۔ اب جنگیں یک طرفہ ہو گئی ہیں۔ جنگ سے مراد امریکہ کی جارحانہ کارروائی ہے۔ اس سب کے باوجود جنگ بہ ہر حال جنگ ہے اور جنگ کی تباہ کاریوں کی دلوں کو ہلا دینے والی جو تصویر مخدوم نے کھینچی ہے وہ آج بھی بدلی نہیں ہے۔
	ہندستان کی آزادی سے قبل آزادی کی جدوجہد کے دوران مستقبل کے جو خواب دیکھے گئے تھے۔ اس کی جھلک مخدوم کی نظم ’’مستقبل‘‘ میں نظر آتی ہے :
	نہ سلطانی تیرگی ہے نہ زاری
	نہ تخت سلیماں نہ سرمایہ داری
	غریبوں کی چیخیں نہ شاہی سواری
	چلا آ رہا ہے چلا آ رہا ہے 
	سفینہ مساوات کا کھے رہا ہے 
	جوانوں سے قربانیاں لے رہا ہے 
	غلاموں کو آزادیاں دے رہا ہے 
	چلا آ رہا ہے، چلا آ رہا ہے 
	مستقبل کا یہ خواب آج تک بے تعبیر ہے۔ آزادی کے بعد ہندستان میں سرمایہ داروں اور پاکستان میں جاگیرداروں کے مفادات کی نگہبان سیاسی جماعتیں برسرِ اقتدار آ گئیں۔ فیض احمد فیض نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ:
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں 
	مخدوم نے اپنی نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘ میں آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کے حالات کا تقابل کیا ہے۔ آزادی سے پہلے :
	تشنگی تھی مگر
	تشنگی میں بھی سرشار تھے ہم
	پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے 
	منتظر مرد و زن
لیکن آزادی کے بعد:
	رات کے جگمگاتے بدن
	صبح دم ایک دیوارِ غم بن گئے 
	خارزارِ الم بن گئے 
اس صورتِ حال سے وہ مایوس نہیں ہیں کیوں کہ:
	رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے 
	صبح کا کچھ اجالا، اجالا بھی ہے 
اور وہ عوام کو یہ پیغام دیتے ہیں :
	ہم دمو ہاتھ میں ہاتھ دو
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	منزلیں دار کی
	لیکن ہندستان میں جمہوریت اور سوشلزم کی طاقتیں کمزور پڑتی گئیں جس کی وجہ سے مخدوم اداس اور محزوں ہو جاتے ہیں۔ اس کیفیت کا اظہار ان کی نظموں ’’سناٹا‘‘ اور ’’وادیِ فردا‘‘ میں ہوا ہے :
	ایسے سناٹے میں اک آدھ تو پتا کھڑکے 
	کوئی پگھلا ہوا موتی
	کوئی آنسو
	کوئی دل
	کچھ بھی نہیں 
	کتنی سنسان ہے یہ راہ گزر	(سناٹا)
	 رات ہی رات ہے سناٹا ہی سناٹا ہے 
	کوئی ساحل بھی نہیں 
	کوئی کنارہ بھی نہیں 
	کوئی جگنو بھی نہیں 
	کوئی ستارہ بھی نہیں 
	 میری اس وادیِ فردا کے او خوش پر طائر
	 یہ اندھیرا ہی تری راہ گزر
	اس فضا میں کوئی دروازہ نہ دہلیز نہ در
	تری پرواز ہی بن جاتی ہے سامانِ سفر
	(وادیِ فردا)
	تقسیمِ ہند کے بعد ہندستان اور پاکستان میں جو بھیانک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے مخدوم کی شاعری ان کے ذکر سے خالی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ ایک عارضی Phase تھا۔ ہندستان کی سکیولر سرمایہ دارانہ حکومت نے اس پر قابو پا لیا تھا۔ لیکن بعد میں اندرا گاندھی نے فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دی جس کی وجہ سے کانگریس کا سکیولر کر دار مسخ ہو گیا۔ بی جے پی برسرِ اقتدار آئی تو ہندوتوا نے زور پکڑا۔ ہندستان کا سکیولر کر دار اور بھی مسخ ہو گیا۔ گجرات کے شرم ناک فسادات اور اقلیتوں پر بہیمانہ مظالم نے ساری دنیا میں ہندستان کا سر جھکا دیا۔ مخدوم آج حیات ہوتے تو ان کا رد عمل یویناً شدید ہوتا۔
	مخدوم محی الدین ایک روایت شکن انقلابی فن کار تھے۔ انھوں نے عصری اسالیب کو اپنا کر ان میں نئی اختراعیں کیں۔ اظہار کے نئے پیرایوں سے اردو شاعری کو روشناس کیا۔
	مخدوم نے شعر گوئی کا آغاز پابند نظم نگاری سے کیا اور نظم کے لیے قصیدہ، مثنوی، مخمس، ترکیب بند اور ترجیع بند کے قدیم سانچے استعمال کیے اور گیت کے سانچے سے بھی استفادہ کیا بلکہ نئے انداز کے اور گیت لکھے۔
	حلقۂ اربابِ ذوق کے شعرا ن۔م۔راشد اور میرا جی نے اردو میں نظمِ آزاد کو رواج دیا تھا۔ ترقی پسند شعرا نے ابتداً اس فارم کی طرف توجہ نہیں دی۔ مخدوم نے اس ہیئت میں اپنی معرکۃ  الآرا نظم ’’اندھیرا‘‘ تخلیق کی جس میں علامت نگاری اور بہ راہِ راست اظہارِ حقیقت کو بڑی خوبی کے ساتھ ہم آمیز کیا گیا ہے۔ سرخ سویرا میں شامل دوسری آزاد نظم ’’استالین‘‘ ہے۔ یہ نظم تاتاری شاعر جمبول جابر کی نظم کا آزاد ترجمہ ہے۔ جمبول جابر نے جب یہ نظم لکھی استالین روسی عوام کا نہیں بلکہ عالمی کمیونسٹ سماج کا ہیرو اور رہنما تھا۔ مخدوم نے بڑے خلوص اور جذبۂ عقیدت کے ساتھ اس نظم کا ترجمہ کیا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے پس منظر میں یہ نظم ایک پُر اثر رجز کا انداز رکھتی ہے۔ اس نظم کی کئی سطریں نہایت اثر انگیز ہیں :
	کیا میں اس رزم کا خاموش تماشائی بنوں 
	کیا میں جنت کو جہنم کے حوالے کر دوں 
	۔۔۔۔۔۔۔
	برق پا وہ مرا رہوار کہاں ہے لانا
	تشنۂ خوں مری تلوار کہاں ہے لانا
	میرے نغمے تو وہاں گونجیں گے 
	ہے مرا قافلہ سالار جہاں استالین
	مخدوم محی الدین نے اپنی آزاد نظموں میں اظہار کے جو تجربے کیے ہیں ان کی وجہ سے ہر نظم اپنی جداگانہ شان رکھتی ہے۔ قید، چارہ گر، چاند تاروں کا بن، فاصلے، احساس کی رات، چپ نہ رہو، ہم دونوں، وادیِ فردا، وقت بے درد مسیحا، درۂ موت، رات کے بارہ بجے اور ’’رت‘‘ ان میں سے ہر نظم کا اپنا ایک منفرد انداز ہے۔
	مخدوم محی الدین نے اردو کی غزلیہ شاعری کو بھی نیا رخ دیا۔ مخدوم کی غزل روایتی غزل کی رسمیات سے مبرا ہے اور جدید غزلیہ شاعری سے بھی اس کے تیور مختلف ہیں۔ اکثر غزلیں مسلسل ہیں۔ ان میں جذبہ اور خیال یک جا ہو گئے ہیں۔ غمِ جاناں اور غم دوراں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ خالص عشقیہ اشعار کے ساتھ ان غزلوں میں ایسے فکر انگیز اور تہہ دار اشعار بھی ملتے ہیں جیسے 
سیماب وشی، تشنہ لبی، باخبری ہے 
اس دشت میں گر رختِ سفر ہے تو یہی ہے 
سناتی پھرتی ہیں آنکھیں کہانیاں کیا کیا
اب اور کیا کہیں کس کس کو سوگوار کریں 
دلوں کی تشنگی جتنی، دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسنِ یار کی بات
دیپ ملتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے 
اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے 
سب وسوسے ہیں گردِ رہِ کارواں کے ساتھ
آگے ہے مشعلوں کا دھواں دیکھتے چلیں 
منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے 
اور چمکا ترا نقشِ کفِ پا آخر شب
	مخدوم محی الدین کی نظموں اور غزلوں کے اس جائزے سے اندازہ ہو گا کہ ان کی شاعری نہ صرف عصرِ حاضر کی ترجمان ہے بلکہ مستقبل کی نقیب بھی ہے اور اس کی گونج آنے والے زمانوں میں بھی سنائی دیتی رہے گی۔

٭٭٭



اندرادھن راجگیرجی
ترجمہ: احسن علی مرزا

عکاسِ حسن و شاعر حیات

	مخدوم کی شاعری خالصتاً جذبات و احساسات کی نمائندگی کرتی ہے۔ انھوں نے اعلیٰ اور شریفانہ اقدار کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا تھا۔ لطیف احساسات کو ان کے اصلی روپ رنگ میں دیکھنے اور انھیں شعور و ادراک کی گرفت میں لانے کی صلاحیت نے مخدوم کے اندازِ فکر کو منفرد بنا دیا تھا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فوراً سامع کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے اور اس کے دل میں ان کی نظم کے موضوع کے تعلق سے بڑا ہی نرم گوشہ پیدا کر دیتی ہے اور پھر وہ اپنے آپ کو شاعر کے احساس و ادراک اور زندگی کے متعلق اس کے نقطہ نظر سے قریب تر محسوس کرنے لگتا ہے۔
	ان کی شاعری انفرادی لیکن تعمیری تصورات کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس کی بنیاد پر انھوں نے صداقت کا نظر نواز محل تعمیر کیا۔ مخدوم زندگی کو بار آور بنانے والے ایک پُر سکون جذبہ کا سرچشمہ تھے جسے ان کی نظموں میں موجزن لہر گاہے بگاہے متلاطم کر دیتی تھی، لیکن ایسے مرحلوں پر بھی ان کا شعور لطافت و نزاکت کی دلآویزی سے محروم نہ ہونے پاتا۔ شعر کے قالب میں اپنے ما فی الضمیر کے محتاط اور حسین انداز میں اظہار کا یہ پیرایہ مخدوم کو کسی حد تک مطالعہ باطن کی راہ پر ڈال دیا کرتا تھا۔
	’’بساطِ رقص‘‘ کی تکمیل کے بعد اپنی زندگی کے آخری دور میں ان کے تخیلات نے زیادہ واضح اور زیادہ متحرک شکل اختیار کی اور وہ جذباتی علائم کو زیادہ آزادی سے استعمال کرنے لگے۔ انھوں نے اپنے وجود کی شبنم دے کر شاعری کو زیادہ لطیف اور حسین بنایا تاکہ وہ ان کی روح کی پاکیزگی کا ساتھ دے سکے۔ اپنے بطن کی آنکھ سے وہ سچائی کو جس رنگ میں دیکھتے ایک داخلی عمل کے تحت وہی رنگ ان کے فی البدیہہ شعر کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا اور اسے وہ خارجی دنیا کو عطا کرتے۔ بھانت بھانت کے لوگوں سے بھری پری اس دنیا کا مرکز محبت بن جانا مخدوم کی سب سے بڑی تمنا تھی۔۔۔!!
	اسی تمنا نے انھیں کمیونزم کے علاوہ مختلف ذریعوں سے عوام تک پہنچنے کے راستے دکھائے۔ وہ اپنے ہم عصر شعرا کا بڑا احترام کرتے اور ان کی تخلیقات کر پڑھ کر انھیں ویسی ہی مسرت ہوتی جیسے ایک بچے کو اپنے من پسند کھلونے سے ہوتی ہے۔ فیض احمد فیض کا نام سن کر ان کی آنکھوں میں بڑی دل نواز چمک پیدا ہو جاتی، ناظم، بورکا اور خلیل جبران سے انھیں بے اندازہ محبت تھی اور حافظ شیرازی تو ان کی خلوت و جلوت دونوں ہی کے ساتھی تھے۔ تنہائی میں حافظ ان سے ہم کلام ہوتے انھیں متنبہ کرتے، بہت سی باتیں سناتے اور اکثر ان کے اشعار سن کر داد بھی دیا کرتے۔ حافظ سے ان کی یہ عجیب و غریب وابستگی بہت پرانی تھی۔ ان ہی کے الفاظ میں ’’حافظ نے مجھ سے کہا ہے کہ میں وہ پیام تم تک پہنچا دوں کہ ’’جو تازہ گلاب تم نے مجھے دیا‘‘ خدا اسے اپنے ہی باغ خیال کی نظر بد سے محفوظ رکھے ‘‘۔ حافظ نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ وصل یار کے لیے دل کی سعی ضروری ہوتی ہے اور مخدوم نے بھی اپنے ایک شعر میں بھی یہی بات کہی ہے :
دلوں کی تشنگی جتنی، دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسنِ یار کی بات!
	ان کی نظموں کے قاری کو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ان کا شعور کس طرح اندھیرے کا دل چیر دیتا ہے اور وہ کس طرح ایسے مرحلوں پر بھی جب کہ کسی بات کو کہنے کے لیے سو فی صد منطق و استدلال کی ضرورت ہوتی ہے، کاغذ میں دل کی دھڑکنوں کو جذب کر کے الفاظ کو سرگوشی کی طاقت عطا کر دیتے ہیں۔ سیاسی نظریات کو بھی وہ کچھ ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ پھر وہ ہمارے لطیف جذبات کی صدائے بازگشت محسوس ہونے لگیں :
شفق کی پیٹھ کے پیچھے سے آ رہا ہے قمر
زمیں پہ نور کی چادر بچھا رہا ہے قمر
حیاتِ نو مجھے آواز دے رہی ہے سنو
دبی زبان میں کچھ گنگنا رہا ہے قمر
فلک پہ ابر کے اڑتے ہوئے جزیروں میں 
زمیں کے درد کو اوپر بلا رہا ہے قمر
اداس رات ہے افلاس ہے غلامی ہے 
کفن سے منھ کو نکالے ڈرا رہا ہے قمر
	یہ اشعار بھی ان کے ذہنِ رسا کی ترجمانی کرتے ہیں :
رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے 
دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے 
مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہو جام آئے گا
رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آئے گا
آج کی رات نہ جا۔۔۔
	اپنے ایک دوست کے نام ۱۸/ دسمبر ۱۹۵۹ء کو اپنے تحریر کردہ ایک مکتوب میں مخدوم لکھتے ہیں ’’غم جانان اور غم دوراں دونوں ہی نے مل کر میرے دل پر یورش کر دی ہے اور میں ایک مسلسل کرب و اضطراب کے دور سے گزر رہا ہوں۔‘‘
	۳۱/ دسمبر ۱۹۵۹ء کو انھوں نے اپنے ایک دوست کو لکھا:
	’’سب سے بڑی کاوش یہ ہے کہ میں نے اس جانِ غزل کو ڈھونڈ نکالا ہے جو انسانی دل کو اعلیٰ ترین قدروں سے منور اور ہمارے کر دار و شعر کو حسن کی دولت سے مالا مال کرتی ہے۔ ‘‘ اس امر کا اظہار بے محل نہ ہو گا کہ مخدوم کا تصورِ حیات بہت وسیع تھا، لیکن ایک خاص لمحہ اور ایک خاص مسئلہ کو وہ اپنی شاعری کے بہت بڑے کینوس پر کچھ اس طرح اجاگر کرتے تھے کہ وہ کل کا ایک جزو ہوتے ہوئے بھی سننے والے کی خصوصی توجہ کا مرکز بن جاتا تھا۔ ان کی تمام نظمیں ایک دردِ بے کراں کی حامل ہیں اگرچہ کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے تھے۔ درد و غم پر مخدوم کو اظہارِ خیال کے لیے آمادہ کرنا ذرا مشکل تھا۔ اگر آپ عمداً درد و غم کی بات چھیڑ بھی دیں تو وہ موضوعِ سخن بدل دیتے اور ایسا محسوس ہوتا کہ وہ شعوری طور پر اظہار خیال سے بچنا چاہتے ہیں۔۔۔ مخدوم کہتے :
’’آپ مسرت کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں، غم تو ہر جگہ ہے پھر اس کا ذکر کیوں کیجیے ؟‘‘
	مخدوم اپنے ملک کے تعلق سے رجائیت اور قنوطیت کے ملے جلے جذبات کی نمائندگی کیا کرتے تھے۔ اپنے اکثر دوستوں کے اس خیال کی وہ بالواسطہ تائید کر دیتے کہ حال بڑا تکلیف دہ اور مایوس کن ہے لیکن فوراً ہی کہہ اٹھتے :
’’۔۔۔ لیکن مستقبل۔۔۔ وہ تو ستارہ کی طرح تابناک اور درخشاں ہے۔‘‘
اسی چمن میں چلیں جشنِ یادِ یار کریں 
	مخدوم شاعری میں تقلید کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ جو بھی لکھتے اس میں ان کی انفرادیت نمایاں ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے اندر کا شاعر دوسروں سے بالکل مختلف اور جداگانہ نوعیت کا تھا۔ ان کی آواز واضح طور پر ان کی اپنی ہوتی۔ مے خانہ شعر کے پرانے مے خواروں کی تلچھٹ سے مخدوم نے اپنے منھ کا مزہ ضرور بدلا تھا لیکن کسی مے خوار کے جام کو چرا لینے کا گناہ ان سے کبھی سرزد نہیں ہوا۔ وہ بڑی خوشی سے اپنے کسی دوست کو اپنی پسند کا کوئی شعر سنا دیتے۔ مخدوم کو اگر کسی کا حوالہ دینا ہوتا تو وہ کسی ایک لفظ کے تلازم سے پوری بات کرنے کی کوشش کرتے اور پھر کہتے :
	’’ہاں سنیے۔۔۔ کچھ یاد آیا۔۔۔‘‘ دوسروں کی اچھی بات سناتے ہوئے وہ خود اس کی دل بھر کر داد دیتے تاکہ پاس بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ بھی اس کے حسن سے لطف اندوز ہوں اور اس کی تعریف کریں۔ مخدوم دوسروں کی صلاحیتوں کے اعتراف میں بڑے فراخ دل واقع ہوئے تھے۔ با صلاحیت دوستوں کی حوصلہ افزائی ان کا شعار تھی۔ انھوں نے ۲۸/ ستمبر ۱۹۶۸ء کے ایک مکتوب میں جو ماسکو سے بھیجا گیا تھا مجھے لکھا:
	’’تمھارے نام تمھارے ذکر سے آج کی شام شروع ہوئی۔ ملک راج آنند اور سجاد ظہیر میرے کمرے میں بیٹھے تھے تمھاری نظموں کے ٹکڑے ادھر ادھر سے پڑھے اور تعریف کی۔ ان کا بھی خیال تھا کہ اپنی زبان میں لکھا جائے۔ سجاد ظہیر نے کہا ایک ہندستانی لڑکی انگریزی میں لکھتی ہے تو کیوں نہ لکھے پھر مایا کے فلسفہ پر بات چلی جو تمھاری ان نظموں میں جھلکتا ہے۔ میں نے تمھاری دو اور لمبی نظموں کا ذکر کیا جو چھپ رہی ہیں اور ’’گلال‘‘ کا بھی۔۔۔ جو ہندی میں ہے۔ کھانے کے بعد میں اور آنند ماسکو ندی کے کنارے ٹہلنے کے لیے نکلے تو واپس آنے تک تمھارا ہی ذکر رہا۔ آنند کا کہنا ہے کہ ایک رائٹر کو آپ بیتی لکھنا چاہیے۔ ایمان داری کے ساتھ۔۔۔ میں نے کہا کہ اندرا بھی اسی بات پر زور دیتی رہتی ہیں۔ کمرہ میں آ کر میں نے ’’دی اپسٹل‘‘ پڑھا۔
	’’میں تمھیں اپنی کشش ثقل کے حلقہ سے باہر نکلنے دوں گی۔‘‘
	’’تاکہ دوامی طور پر ہم دونوں پرواز کرتے رہیں۔‘‘
	’’اس وقت میں تمھارے لیے سورج بن جاؤں گی۔‘‘
	’’اور پھر محبت کی قوت و طاقت کی حامل بن کر تم مجھے نغمۂ الفت سنا سکو گے۔‘‘
	اور میں تمھیں سندیسے بھجواؤں گی۔ سندیسے اور ان کے جواب۔
	’’تم نے کہا ہے میں سورج بن جاؤں گی۔۔۔‘‘
	اور اپنے خط کے آخر میں لکھتے ہیں ’’مگر کیا بات کہی ہے۔‘‘ بساط رقص، کی مخدوم کی اکثر نظموں میں ’’رات‘‘ کا ذکر ملتا ہے جو سو رنگوں میں چپکے سے رینگتی ہوئی ان کے نغموں اور غزلوں میں داخل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد مخدوم نے رات کے بجائے ’’سورج‘‘ کا تذکرہ شروع کر دیا اور وہ اس نئی علامت سے حد متاثر ہونے لگے۔ رات کا سمبل مخدوم بے صبح سے پہلے کے دھندلکے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس علامت کا انتخاب ان کی داخلی بے بسی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کی شب وصال میں بھی رات کے سناٹے کی جھلک نظر آتی ہے اور وہ وقت سے گلہ کرتے ہیں کہ اس نے تکمیل محبت کی مہلت نہیں دی۔ تکمیل محبت کے اس لمحہ کے حصول کے لیے انھیں رات کے سناٹے میں چپکے سے مر جانا بھی گوارا ہے۔ مخدوم کے لیے تکمیل محبت۔۔۔ آبِ حیات بن گئی تھی جسے وہ قطرہ قطرہ پیتے رہے اپنی شاعری کو بھی انھوں نے قطرہ ہائے آبِ حیات کی لذت سے واقف کرایا ہے۔۔۔
رات کی تلچھٹیں ہیں، اندھیرا بھی ہے 
صبح کا کچھ اجالا اجالا بھی ہے 
منزلیں پیار کی الگ لائیں منزلیں دار کی
	مخدوم کا یہ بند اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ کتنے حساس واقع ہوئے تھے اور اپنے ارد گرد کے حالات کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کی شاعری کا کینوس ساری دنیا کی وسعتوں کا حامل تھا۔ اس پر وہ ایک با کمال پینٹر کی طرح الفاظ کے ذریعہ اپنے ما فی الضمیر کی تصویر بنایا کرتے تھے ’’لوممبا‘‘ مارٹن لوتھر کنگ، نہرو اور اسٹالن پر ان کی نظموں سے ان کے شعور و ادراک کی سرحدوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ عالمی شہری تھے۔ انھوں نے ایک دن بڑے دکھ کے ساتھ مجھ سے کہا تھا۔۔۔
	’’کیا تم نے ویت نام کی جنگ کے خلاف امریکی طلبا کے ایجی ٹیشن کے بارے میں کچھ پڑھا ہے ؟ سنگ مرمر کی صاف و شفاف سیڑھیوں پر خون کے چھینٹوں کی داستان۔۔۔‘‘ مخدوم کے پاکیزہ اور معصوم دل پر ان واقعات کا گہرا اثر پڑا۔ وہ تو اس دنیا کو اپنی خوب صورت نظم کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ حسن اور خوب صورتی ہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اگر زندگی حسن سے محروم ہو جائے تو کتنے ہی لوگ خود کشی کر لیں۔ مخدوم کے لیے تو خودکشی کی اصطلاحوں میں سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔ وہ زندگی پر کامل اعتماد رکھتے تھے۔ ان کا ایقان یہ تھا کہ زندہ رہنا اور دوسروں کو زندگی کا حوصلہ عطا کرنا ہی سب سے بڑا اور اہم مشن ہے۔ کام ان کے لیے ایک ذریعہ تھا اور زندگی کا ایک عطیہ! جوش و خروش سے ابلتی ہوئی حیات ہی ان کی وہ بہشت تھی جسے دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں بے چین رہتیں۔ ان کا فلسفہ حیات یہ تھا کہ زندہ رہو، زندگی سے پوری طرح لطف اٹھاؤ اور دوسروں کو بھی اسی طرح زندہ رہنے دو۔ مخدوم جن باتوں کو پسند کرتے بڑی شدت سے پسند کرتے اور جن باتوں کو ناپسند کرتے انھیں بڑی شدت سے ناپسند کرتے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید شدید نوعیت کی ہوتی۔ ان کو ناقابلِ قبول استدلال سے سخت نفرت تھی اور کسی نامانوس حلقہ میں بیٹھ جانا انھیں بے حد ناپسند تھا۔ وہ کسی بھی ناگوار شے سے دور رہنے کی شعوری کوشش کرتے تاکہ ان کی روح کی بلندی کی راہ میں ناگواری حائل نہ ہو اور اپنی تازہ نظم کے لیے نئے تصورات کی یک جائی میں انھیں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
	جب ان کا ذہن سپاٹ ہوتا وہ بڑے غم گین بن جاتے اور اس بات پر جھنجھلاتے کہ وہ شعری حسن سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض مرتبہ وہ کہتے کہ حالات لکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ خوب صورت تصورات کو جنم دینے کے لیے تو پارٹی کے کام میں سستی پیدا کرنی پڑتی ہے۔ ہمہ وقتی شاعر بننے کے لیے سیاسی تحریکوں کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کرنا ہوتا ہے۔ اپنے ایک مکتوب میں انھوں نے خود اپنے متعلق تحریر کیا ہے :
’’میں اب بھی تعطل و جمود کے دور سے گزر رہا ہوں، کچھ لکھنے کی رغبت بھی نہیں ہوتی، میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا اور بالخصوص ہمارا ملک کدھر جارہا ہے ؟‘‘
	جب بھی وہ دن بھر کی ستیہ گرہ اور سیاسی سرگرمیوں سے تھکے ہارے نظر آتے ان کے دوست احباب اور بہی خواہ، پارٹی کے کام میں سستی پیدا کرنے کی یاد دلاتے۔ کچھ عرصہ پہلے شہر میں وزیر اعظم کی آمد کے موقعہ پر کالی جھنڈیوں کے مظاہرہ کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وزیر اعظم کی خیر و خوبی سے روانگی تک انھیں زیر حراست رکھا گیا اور پھر شام کے ساڑھے چار بجے انھیں رہا کیا گیا اور سات بجے شام وہ آنند نارائن ملا کے اعزاز میں ترتیب دیے ہوئے ڈنر میں شرکت کی غرض سے ہمارے مکان پہنچ گئے پھر سبھوں نے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بشمول ملا صاحب نے شعرا کا کلام سنا۔ اس موقعہ پر مخدوم نے میری ایک انگریزی نظم کا اردو ترجمہ ’’فاصلے ‘‘ بہ اصرار سنایا۔ ایک دفعہ وہ کل ہند مشاعرہ یا کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے کسی کنوینشن میں شرکت کی غرض سے بمبئی آئے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ ان کے اس دورہ کی غرض و غایت کیا تھی۔ اکثر کوئی تصویر بناتے ہوئے ایک اور تصویر بھی ہمارے افقِ ذہن پر تھرکنے لگتی ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے کسی خاص واقعہ کو یاد کرتے ہوئے مجھے اس کی جزوی باتوں کو یاد کرتے ہوئے اسی قسم کے امتزاج تلازمات سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور اسی بنا پر مجھے یاد نہیں آ رہا ہے کہ مخدوم صاحب کل ہند مشاعرہ میں شرکت کی غرض سے آئے تھے یا کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے کسی کنوینشن میں شرکت کی غرض سے مختصر یہ کہ ہم نے اپنے بمبئی کے گھر میں ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا تھا اس میں مخدوم کے علاوہ ساحر، سردار، وجد، کیفی اور ہمارے متعدد دوستوں نے شرکت کی۔ جب مخدوم کی باری آئی تو انھوں نے ’’گل تر‘‘ کھول کر نظم ’’فاصلے ‘‘ شروع کر دی اور اس کے بعد نظم ’’ہم دونوں ‘‘ سنانے لگے۔ جب دوسرے شاعر اور سخن شناس داد دینے لگے تو مخدوم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’داد انھیں دیجیے کیوں کہ یہ دونوں نظمیں ان کی ہی ہیں۔ ان دونوں موقعوں پر تو مخدوم نے میری نظموں کا ترجمہ میرے منھ پر سنایا۔ اب ایک اور واقعہ بھی سن لیجیے اور اندازہ کیجیے کہ مخدوم کی ’’سیماب و شی‘‘ کا کیا عالم تھا۔ یہ واقعہ مکرم الدولہ کی ڈیوڑھی میں منعقدہ یوتھ کانفرنس میں پیش آیا جس کی صدارت کے لیے مخدوم کے لڑکے نصرت نے مجھے کسی نہ کسی طرح آمادہ کر لیا تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر مخدوم کی صدارت میں ایک مشاعرہ بھی ہونے والا تھا۔ کانفرنس کے اختتام سے کچھ پہلے ہی مخدوم غائب ہو گئے اور کم و بیش ایک گھنٹہ تک ہم سبھوں کو اپنا منتظر رکھ کر غائب رہے اور پھر ایک نئے صاحب کے ساتھ نمودار ہوئے۔ شہ نشین پر مسند صدارت سنبھالتے ہی ان کا لب و لہجہ بدل گیا۔ ان کی بات چیت ویسی نہیں تھی جیسی کہ وہ عام جلسوں میں کیا کرتے تھے۔ جب ان کی باری آئی تو شرارتاً کسی نے ’’فاصلے ‘‘ کی فرمائش کی اور بہت سی آوازیں اس کی تائید میں بلند ہوئیں۔
	انھوں نے حاضرین محفل پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور کہا ’’مجھے یاد نہیں ہے، لیکن فرمائش کرنے والوں نے اس دفعہ پہلے سے بھی زیادہ زور و شور کے ساتھ ’’فاصلے ‘‘ کی فرمائش کی تو مخدوم بولے ’’میں نے ابھی آپ سے کہا ہے کہ فاصلے مجھے یاد نہیں اور کتاب میرے ساتھ نہیں ہے۔‘‘ حاضرین نے بھی جیسے وہی نظم سننے کی ٹھان رکھی تھی۔ چناں چہ کسی منچلے نے ’’گل تر‘‘ پیش کر دی، اب تو مخدوم قدرے مشتعل ہو گئے اور بول پڑے ’’اگر آپ میری پسند کی غزل یا نظم سننا پسند کریں تو میں سناؤ ں گا ورنہ مشاعرہ کی برخاستگی کا اعلان کر دوں گا۔‘‘ بعد میں میں نے ان سے اس کا سبب پوچھا اور یہ بھی کہا کہ ’’میرا بھی جی چاہ رہا تھا کہ میں بھی آپ کے رویہ کے خلاف شور مچاؤں۔‘‘ مخدوم نے کہا ’’پھر تم نے ایسا کیوں نہیں کیا، تم مائیک پر آتیں تو میں تم ہی سے کہتا کہ فاصلے سنا دو کیوں کہ یہ نظم تو تمھاری ہے میں اسے اپنی نظم نہیں کہہ سکتا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ شاعر میں کچھ ایسی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ بچے کی طرح ہر شے کو ایک شعبدہ اور کرتب کی شکل میں دیکھ سکے۔ مخدوم میں یہ وصف موجود تھا۔ وہ اپنے ذہن کو دنیا والوں کے سامنے بے نقاب کرنے سے پہلے تجربہ کے دور سے گزرتے اور تجربہ انھیں ایک نیا نقطۂ نظر عطا کرتا۔ مخدوم ایک شعبدہ باز ہی تو تھے۔ ان کے شاعرانہ تخیل کی ہر جست ایک نئی دنیا رنگ و بو کے دروازے کھول دیتی۔ وہ ایک منفرد اور بے مثال شاعر تھے اور ان کی یہ انفرادیت کسی بھی صورت میں گھٹتی نظر نہیں آتی تھی کسی آدمی کے لیے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ ہمیشہ عوام سے بلند ہو کر کسی چوٹی پر کھڑا رہے۔ ادیب اور شاعر بھی ہمیشہ عوام کی سطح سے اونچے نہیں رہ سکتے۔ کشش ثقل انھیں نیچے کھینچ لاتی ہے اور وہ بھی ؟؟؟؟؟


٭٭٭


شمیم حنفی


مخدوم محی الدین : نعرے سے نغمے تک

	

	اچھی شاعری کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی دائرے کی قیدی نہیں ہوتی اور عام تعصبات کو کبھی خاطر میں نہیں لاتی۔ مخدوم کے انتقال پر لکھے جانے والے ایک مضمون کا خاتمہ میں نے مایا کافسکی کے ایک بیان پر کیا تھا کہ نظم لکھتے وقت، شاعر کسی بیرونی ہدایت نامے کا پابند نہیں ہوتا۔ اس واقعے پر اب تین دہائیوں سے زیادہ مدت کی گرد جم چکی ہے لیکن مایا کافسکی کی کہی ہوئی بات آج بھی اتنی ہی درست ہے جتنی کہ مایا کافسکی کی زندگی میں تھی۔ فیض کے معاصر نظم گویوں میں فیض کے بعد مخدوم انقلاب کے سب سے بڑے مغنی تھے۔ ان کے انسانی سروکار اور دردمندی کا سیاق اور پس منظر بہت وسیع تھا اور ان کی تخلیقی زندگی، ان کی عام اور روزمرہ زندگی سے ایک گہرا باطنی ربط رکھتی تھی۔ مخدوم چھوٹے چھوٹے خانوں میں بٹے ہوئے انسان نہیں تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ، یہ واقعہ بھی اہم ہے کہ انھوں نے زندگی اور شاعری کی حدیں کچھ اس طرح ملائی تھیں کہ دونوں میں ایک سچا، کھرا اور کثیر الجہات رشتہ قائم ہو گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ کامرانی کی اس منزل تک ان کے ہم عصروں میں گنتی کے چند لوگوں ہی پہنچ سکے تھے۔ یہاں میں سجاد ظہیر کے ایک اقتباس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ:
’’شاعر کا پہلا کام شاعری ہے وعظ دینا نہیں۔ اشتراکیت و انقلاب کے اصول سمجھانا نہیں۔ اصول سمجھنے کے لیے کتابیں موجود ہیں، اس کے لیے ہم کو نظمیں نہیں چاہئیں ‘‘۔
(بہ حوالہ خلیل الرحمن اعظمی، اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، ص: ۳۶۳)
	فیض اور مخدوم نے تخلیقیت کا یہ رمز اپنے حلقے کے دوسرے نظم گویوں سے پہلے اور شاید بہتر طریقے سے سمجھ لیا تھا۔ غنائیت کا عنصر اسی لیے دونوں کے یہاں ایک بنیادی شعری قدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ استعارے، تمثیل، شبیہ سازی، پیکر تراشی اور خوش آہنگی کے عناصر پر توجہ ان دونوں کے یہاں اپنے معاصرین کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔ خلیق ابراہیم خلیق نے جو اپنی ترقی پسندی اور عام انسانوں کی زندگی کے مسائل سے گہری وابستگی کے علاوہ آرٹ اور ادب کا بھی بہت رچا ہوا شعور رکھتے تھے، اپنی تاریخی کتاب ’’منزلیں گرد کے مانند‘‘ میں سردار جعفری کے ایک خطبے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے :
 ’’بھیمڑی کانفرنس نے ثقافتی رویوں کے سلسلے میں جو بنیادی غلطی کی، اس کی طرف علی سردار جعفری نے توجہ دلائی ہے۔ اکتوبر ۱۹۸۴ء میں انھوں نے ترقی پسند تحریک کی نصف صدی کے موضوع پر دہلی یونی ورسٹی میں توسیعی خطبہ دیتے ہوئے، فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کی مارچ ۱۹۶۶ء کی ایک تجویز کا حوالہ دیا جس میں اینگلز کے ایک ’’انتباہ‘‘ کا ذکر ہے۔ اینگلز ہمیں یہ حق نہیں دیتا کہ ثقافت کے میدان میں ہر چیز کو قاعدے قانون میں لانے کے ٹھیکے دار بن جائیں۔ وہ ایک ایسی دنیا میں جو کبھی مکمل و اکمل (Perfect) نہیں ہو سکتی، ثقافت اور تعلیم کے کسی ایسے تصور کے خلاف بھی متنبہ کرتا ہے جس نے عقیدے کی شکل اختیار کر لی ہو۔ جعفری نے کہا کہ بھیمڑی کانفرنس میں یہی غلطی کی گئی‘‘(ص: ۷۰۱)
یہاں اس واقعے کی طرف اشارہ میں نے بس ایک گزرے ہوئے واقعے کے طور پر کیا ہے اور اس کے مضمرات پر گفتگو یہاں میرے لیے دور از کار ہو گی۔ عرض صرف یہ کرنا تھا کہ اس صورتِ حال نے ہمارے ادبی معاشرے کے لیے ایک عجیب و غریب مسئلہ کھڑا کر دیا تھا۔ اس کی وجہ سے اچھی اور بری شاعری کا فرق تو مٹا ہی، ہمارے ترقی پسند شاعروں میں بھی خاصے سطحی قسم کے اختلافات رونما ہونے لگے۔ مقصدیت، افادیت، وابستگی، بیان اور اظہار کی وضاحت اور کسی طرح کی تجربہ پسندی سے گریز پر اتنا زور صرف کیا گیا کہ نعرے بازی شاعری کا بدل قرار پائی۔ وامق جونپوری نے وعدہ کیا کہ چوں کہ انھوں نے عوامی طرزِ احساس کے ساتھ ساتھ عوامی زبان اور اسلوب کو برتنے میں سب سے زیادہ سرگرمی دکھائی ہے اس لیے ترقی پسند شاعری کے سب سے بڑے ترجمان بھی وہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس دلیل کی جمالیاتی منطق کمزور اور اس وعدے کی دلیلیں ناقص تھیں اس لیے انھیں قبولیت بھی نہیں مل سکی۔ یہیں سے ہمارے بزرگ شاعروں میں اپنے رویے پر نظر ثانی کی ضرورت کا احساس جاگا۔ دھیرے دھیرے موضوعات کی پرستش کا زور کم ہوا اور سماجی حقیقت نگاری کے تصویر نیز ترقی پسند شعریات کو نسبتاً زیادہ لوچ دار اور وسیع تر سطح پر پیش کرنے کی روش عام ہوئی۔ مخدوم، جذبی، جاں نثار اختر، مجاز، مجروح، ساحر، کیفی، نیاز حیدر اور سردار جعفری کے سلسلے میں اب پہلے سے زیادہ حقیقت پسندانہ اور ہم دردانہ زاویۂ نظر اختیار کیا گیا۔ فراق، جو ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور میں ترقی پسند سمجھے جاتے تھے، اس حلقے کے فکری انتشار کے باعث زیادہ دور تک ساتھ نہ جا سکے اور رفتہ رفتہ تحریک سے تقریباً لاتعلق ہوتے گئے۔ لیکن اس واقعے میں شک کی گنجائش نہیں کہ جیسے جیسے ترجیحات اور تصورات کی گرد چھٹتی گئی، ترقی پسند شاعری کا مطلع بھی صاف ہوتا گیا۔ اب اس مطلع پر سب سے روشن چہرے وہی تھے جنھیں تخلیقی اپج، فنکارانہ استعداد اور بصیرت کی تائید حاصل تھی۔ فیض تو خیر اب غیر متنازعہ حیثیت حاصل کر چکے تھے اور خود ان کے ایسے رفیقوں نے جن کا انداز فیض کی طرف اب تک حریفانہ تھا، اب انھیں تسلیم کرنے لگے تھے۔ مخدوم، مجاز، جذبی، مجروح اور جاں نثار اختر کے شعری طریق کار اور ادبی شعور پر چھائی ہوئی دھند بھی اب چھٹنے لگی تھی۔ اس پورے سلسلے پر نظر ڈالی جائے تو یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ ترقی پسند شاعری کے معماروں میں اب بھی وہی نام سب سے پہلے سامنے آتے ہیں جو پچاس پچپن برس پہلے ہمارے شعری افق پر جگمگائے تھے۔ ظاہر ہے کہ تحریکیں صرف منشور پر زندہ نہیں رہتیں۔ انھیں حرارت اور زندگی ملتی ہے ان توانائیوں سے جن کا مخزن اور منبع کسی روایت کا تسلسل ہوتا ہے۔ اس تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ وقت اور ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترقی پسندی کی تعبیر کے نئے راستے تلاش کیے جاتے اور تخلیقی اعتبار سے اپنی روایت کو فعال اور سرگرم رکھا جاتا۔ کوئی بھی روایت صرف ماضی کی کامرانیوں کے سہارے باقی نہیں رہ سکتی۔
	مخدوم نے اپنے شعری اظہار کے لیے نہ صرف یہ کہ ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا، انھوں نے اپنے تخلیقی سفرکو کامیابی کی ایک منزل سے ہم کنار بھی کیا، اس طرح کہ ان کی جذباتی اور ذہنی وابستگی پر بھی حرف نہ آیا اور انھوں نے شاعری کے معارف بھی ادا کر دیے۔ اس سلسلے میں انھیں سب سے زیادہ مدد اپنے لہجے کی غنائیت، اپنے مخصوص آہنگ اور اپنے لسانی شعور سے ملی۔ تقسیم اور آزادی کے سائے میں رونما ہونے والے قتل و غارت گری کے ماحول میں بھی مخدوم نے اپنے شاعرانہ احساسات کا نظم و ضبط برقرار رکھا۔ یہ ایک مستحکم اور توانا تخلیقی شخصیت کا کرشمہ تھا اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مخدوم نے علمی سیاست سے بھی ایک دیانت دارانہ سروکار باقی رکھا اور اس سروکار کی قیمت بھی ادا کرتے رہے تو ان کی شاعری کا تخلیقی تناظر ہمیں ان کی قسم کے دوسرے اردو شاعروں سے زیادہ وسیع اور پرکشش دکھائی دیتا ہے۔ نعرے کو نغمہ بنانا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہ تھی۔ مخدوم نے ’’یہ جنگ ہے جنگِ آزادی‘‘ سے لے کر ’’چاند تاروں کا بن‘‘ تک ایک دشوار گزار راستہ طے کیا ہے اور اپنے نصب العین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہر دور کی اچھی شاعری کی طرح ترقی پسند ’’شاعری‘‘ پر تقاضہ بھی اپنے پیروکاروں سے یہی تھا۔ ’’نئی نظم کا سفر‘‘ کے مقدمے میں خلیل الرحمن اعظمی نے اس واقعے کی نشاندہی حسبِ ذیل طریقے سے کی ہے۔ لکھتے ہیں :
’’۱۹۵۵ء سے مخدوم کی نظم نگاری ایک نئے دور میں داخل ہوئی ہے۔ یہ نظمیں داخلیت اور خارجیت، وضاحت اور ابہام کے انوکھے امتزاج سے پیدا ہوئی ہیں، اس لیے ان میں سے اکثر نظمیں فنی تکمیل کا بھی احساس دلاتی ہیں اور ان میں مخدوم کا انفرادی اسلوب نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مخدوم اور جعفری کے علاوہ دوسرے شعرا اپنی انفرادی طرز کو کبھی نہ پا سکے اور ان کی بیش تر نظمیں نئی نظم کے دائرے سے خارج ہو جاتی ہیں ‘‘۔
	فیض کی طرح ہندستان کے ترقی پسند شاعروں میں سردار جعفری اور مخدوم کا یہ امتیاز ہمیشہ تسلیم کیا جائے گا کہ انھوں نے اجتماعی تجربے اور انفرادی تخلیق کے مابین ایک صبر آزما جدلیاتی توازن اور ایک نازک رشتے کے قیام کی جستجو سے اپنی کامیاب نظموں میں کبھی غفلت نہ برتی۔ اس کے لیے انھوں نے ان تمام مطلوبہ وسیلوں پر توجہ قائم رکھی جو ذہنی واردات کو تخلیقی واردات کی سطح تک لے جاتے ہیں۔ وہ جو ایک بات پابلونرودا کے بارے میں محسوس کی جاتی ہے کہ وہ اپنے جادوئی تخلیقی لمس سے پتھر کو بھی سونا بنا دیتا تھا، مخدوم پر بھی صادق آتی ہے۔ مایاکافسکی نے اپنی گہری سماجی وابستگی کے باوجود تخلیقی آزادی کو ہر حال میں بچائے رکھنے پر جو زور دیا تھا تو اسی لیے کہ اسے شعری عمل اور سماجی عمل کے فرق و امتیاز کا ہمیشہ لحاظ رہا اور اس نے اپنی مختصر عمر کے آخری دنوں میں لینن پر جو طویل اور تابناک نظم کہی تھی اس میں شخصیت پرستی کا شائبہ تک نہیں۔ اسٹالن پر مخدوم کی یادگار نظم بھی ہمیں اسی تاثر تک لے جاتی ہے اور اسٹالن ازم کی شکست کے بعد بھی اس نظم کی قدر و قیمت میں کمی نہیں آئی ہے۔ یہ خوبی اپنے فکری مقاصد اور اپنی فن کارانہ سرگرمی، دونوں کے ساتھ یکساں خلوص کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اس سچائی کا اندازہ اپنی ادبی تاریخ کے سیاق میں سب سے زیادہ واضح طور پر ایک پامال موضوعاتی پس منظر میں فیض اور مخدوم کی دو سب سے مختلف اور معروف نظموں کے واسطے سے ہوتا ہے۔ فیض کی صبح آزادی ’’یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘ کے بعد اس موضوع پر دوسری سب سے اچھی نظم مخدوم کی ’’چاند تاروں کا بن‘‘ ہے۔ فیض کی نظم کے اختتامیے کے ساتھ مخدوم کی نظم کے ان مصرعوں پر نظر ڈالی جائے تو دونوں کے داخلی ربط کا صاف پتہ چلتا ہے۔ فیض نے کہا تھا:
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
اور مخدوم کہتے ہیں :
موم کی طرح جلتے رہے، ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن
اور پھر یہ کہ:
کچھ امامانِ صد مکر و فن
ان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھی
ان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواں 
اک کمیں گاہ سے 
پھینک کر اپنی نوکِ زباں 
خونِ نور سحر پی گئے 
رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے 
صبح کا کچھ اجالا اجالا بھی ہے 
	اس نظم کا بنیادی خیال ایک محرک کا رول ادا کرتا ہے اور پھر شاعر اپنے مطلوبہ سفر پر نکل جاتا ہے، آزاد، تنہا اور خود مختار اور ہر چند کہ اس خوب صورت نظم کا خاتمہ ہم دموں سے خطاب پر ہوتا ہے، لیکن مخدوم کے لہجے کی اپنائیت اور مجموعی تجربے کا آہنگ اس خطاب کہ ’خطابت‘ کا عیب اور عامیانہ پن سے بہ ہر حال محفوظ رکھتا ہے۔ یہ مصرعے دیکھیے :
ہمدمو!
ہاتھ میں ہاتھ دو
سوئے منزل چلو
منزلیں پیار کی
منزلیں دار کی
کوئے دلدار کی منزلیں 
دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
	یہ ایک محبت بھری دعوت، ایک سرگوشی کا آہنگ ہے۔ یہاں مجھے مخدوم کی ایک اور نظم کا خیال آتا ہے ’’اندھیرا‘‘۔۔۔۔۔۔ جس کی لفظی کائنات، لہجہ، اسلوب اور ترکیبی عناصر میں کچھ فرق ہے، پھر بھی حسیت کی سطح پر مخدوم کے امتیازی اوصاف کی نشان دہی اس نظم سے بھی ہوتی ہے۔ اس نظم کے جمالیاتی نظام کو ایک دہشت خیز حسن یا A Terrible Beauty کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایک تیرہ و تار شدت پسندی، کھردرے، کراہت آمیز اور ہولناک لفظوں اور لسانی سانچوں نے اس نظم کو ’’چاند تاروں کا بن‘‘ کے مقابلے میں ایک الگ اور مختلف تخلیقی ذائقے کا حامل بنا دیا ہے لیکن نظم کے مجموعی آہنگ میں ذرا بھی ابتری یا انتشار کا نشان نہیں ملتا۔ اس نظم میں مخدوم نے محرک تجربے کے ارتقائی مدارج اس خوب صورتی کے ساتھ طے کیے ہیں کہ ایک مصرعہ بھی زائد یا غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا۔ نظم اس طرح ہے :
رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ گری
یہ چمکتے ہوئے تارے، یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں، مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوس عروسی ہے، یہی ان کا کفن
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ
وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ
وہ تہذیب کے زخم
خندقیں،
باڑھ کے تار
باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوئے انسانوں کے جسم
اور انسانوں کے جسموں پہ وہ بیٹھے ہوئے گدھ
وہ تڑختے ہوئے سر
میتیں ہاتھ کٹی، پاؤں کٹی
لاش کے ڈھانچے کے اس پار سے پار تلک
سرد ہوا
نوحہ و نالہ و فریاد کناں 
شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچوں کی، کبھی ماؤں کی
چاند کے، تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشیدِ درخشاں کے نکلنے تک ہے 
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
	یہاں پوری نظم نقل کرنی پڑی۔ اس کی ہیئت اتنی مربوط و منظم اور بنت ایسی گتھی ہوئی ہے کہ تجربے کو اظہار سے، لفظ کو لفظ سے اور کسی مصرعے کو نظم سے الگ کرتا گویا کہ گوشت کو ناخن سے جدا کرنے کے مترادف ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ مخدوم کی حسیت پر یہ نظم ایک ساتھ تمام و کمال وارد ہوئی تھی۔ یہ نظم تعمیر کی ہوئی یا رچنا  نہیں ہے بلکہ ایک تخلیق ہے جو مخدوم کی حسیت کی تہہ سے نمودار ہوئی ہے۔ ہر بڑا تخلیقی تجربے پہلے شاعر کے باطن میں جنم لیتا ہے، پھر اچھی طرح پک پکا کر اپنے آپ کو ایک کشف کی صورت میں سامنے لاتا ہے۔
	مخدوم مہیب انسانی مسائل اور گہرے تجربوں کے شاعر تھے۔ ترقی پسند تحریک کا ظہور انسانی روح کے عظیم مطالبات اور سوالوں کی زمین سے ہوا تھا اور یہ پر جلال سچائی اپنے ترجمانوں سے اس امر کی طالب تھی، کہ ان سوالوں کو اسی عمیق اور شائستہ متانت کے ساتھ تخلیقی تجربے کا حصہ بنایا جائے جو شاعر کے سروکاروں سے مناسبت رکھتی ہو۔ مخدوم نے ایک بے لوث اور سچی اور ثروت مند ذہنی زندگی گزاری۔ ان کے تجربے اور تصورات مستعار یا مروجہ فیشن کی دین نہیں تھے۔ اسی لیے ان کی آواز میں، ان کی روح کے نغمہ و رقص کی جھنکار بھی صاف سنائی دیتی ہے۔ جو والہانہ پن مخدوم کے پر نور لہجے میں تھا، وہ دراصل ان کی متین اور مقصد آگاہ زندگی اور ایک کھرے انسانی وجود کی گواہی دیتا ہے۔ بالعموم بے معنی زندگی سے بامعنی تجربے نہیں پیدا ہوتے۔

٭٭٭




پروفیسر سیدہ جعفر


عصری حسیت اور شعری صناعی کا شاعر
	

	بیسویں صدی کے نصف آخر میں حیدرآباد کے جن تخلیق کاروں نے اردو شاعری کی سمت و رفتار متعین کی ان میں سکندر علی وجد، شاہد صدیقی، سلیمان اریب اور مخدوم محی الدین کے نام نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ مخدوم نے محنت اور محبت کے شاعر کی حیثیت سے اپنے فن کو نئی آب و تاب، نئی معنویت اور نئی جہت عطا کی۔ تخلیقی انفرادیت اور لب و لہجے کا شخصی آہنگ شاعری میں مخدوم کی شناخت بن چکا ہے۔
	کروچے نے جمالیات کے سلسلے میں نظریۂ اظہاریت سے بحث کرتے ہوئے لکھا تھا کہ حسن یا فن دراصل فرد کا اظہار ہے فن کار اپنی شخصیت کے اظہارات کے تجسیم خواہ عنوان کے وسیلے سے کرے یا اصوات کی صورت میں اس کا مقصد اپنے وجدان کو دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے اور خارجی تمثیلات میں فن کار کی ذات کی جلوہ گری اور اس کی شخصیت کی مہک موجود ہوتی ہے۔ تجسیم و تشکیل کا یہ عمل محض اتفاقی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بہت سے محرکات کام کرتے رہتے ہیں۔ تخلیق کے پیچیدہ عمل میں مختلف تاثرات فن کار کی انا کو مہمیز کرتے رہتے ہیں اور چوں کہ ہر شخصیت ایک علاحدہ نفسیاتی اکائی ہوتی ہے اس لیے اظہار کے پیکروں میں تنوع اور بوقلمونی پیدا ہو جاتی ہے اور اس سے فن کار کی انفرادیت کا تعین ہو سکتا ہے۔ مخدوم کی شاعری اپنے انفرادی رنگ و آہنگ کی وجہ سے اردو نظم نگاری میں ایک مخصوص آہنگ کی حامل ہے۔
	۱۹۳۵ء کی ترقی پسند تحریک کے ساتھ جن شاعروں نے اپنے فن کو وابستہ کیا تھا ان میں سے بعض شاعروں نے اس لیے ہمارے ذہن پر ان مٹ نقش نہیں چھوڑا کہ وہ ادب اور نعرے بازی میں حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ حقیقی فن کار کی نظر ہر وقت وقتی سوال میں ایک ابدی جواب کی جھلک دیکھتی اور دکھا سکتی ہے۔ مخدوم عصری مسائل کی روح کو سدا بہار ابدیت کے آئینے میں جلوہ گر دیکھتے ہیں، اس لیے ان کی شاعری اپنی ساری مقصدیت، اجتماعیت اور سماجی حقیقت پسندی کے باوجود اپنے اندر ایک ایسی کسک رکھتی ہے جو ہر دور میں محسوس کی جائے گی۔ مخدوم کی رومانی شاعری کے پیچھے جو سماجی احساس کارفرما ہے وہ بڑا ہی متحرک اور فعال ہے اور اسی فعالیت نے مخدوم کی رومانی شاعری کو بے جان تخیل پرستی اور خواب ناکی نہیں، ایک بے داری بخشی ہے اس لیے ان کے کلام میں زندگی کے حسن اور اس کی بد ہیئتی اور حیات کے جلال و جمال دونوں کا احساس موجود ہے :
زندگی، لطف بھی ہے زندگی آزاد بھی ہے 
ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے 
زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے 
زہر بھی آبِ حیات لب و رخسار بھی ہے 
زندگی دار بھی ہے زندگی دلدار بھی ہے 
	مخدوم کی شاعری میں بعض ارتقائی منزلیں نظر آتی ہیں اور ارتقا کا یہ عمل شعور کی پختگی اور ادراک کی تیزی کا آئینہ دار ہے۔ اس زمانے میں بھی جب وہ ’’تلنگن‘‘، ’’طور‘‘ اور ’’ساگر کے کنارے ‘‘ جیسی ہلکی پھلکی رومانی نظموں کی تخلیق کر رہے تھے ان کی انفرادیت مروجہ، فنی اقدار سے سمجھوتہ کر لینے کے باوجود نئی راہوں کا پتہ دے رہی تھی۔ ٹیگور نے اپنے کلام میں کائنات اور انسان کے باہمی ربط اور فطرت کے سربستہ رازوں کو وجدان کی رہنمائی میں سمجھنے کی کوشش کی تھی اور اس سے ہندستان کی مختلف زبانوں کے فن کار متاثر ہوئے تھے۔ مخدوم کا بھی اس سے اثرپذیر ہونا کوئی غیر فطری بات نہیں تھی۔ ٹیگور سے اثر پذیری نے ان کی محاکات نگاری، علائم اور ان کی امیجری کو ایک خاص زاویے سے متاثر کیا تھا۔ مخدوم نے مظاہر قدرت اور مناظر فطرت سے پس منظر کا کام لے کرا پنی رومانی نظموں کو ایک خاص معنویت اور ایمائیت عطا کی ہے۔ یہ سبک، رسیلی اور ترنم ریز نظمیں ایک ایسی رومانیت سے سرشار ہیں جن میں مادی پس منظر اور ارضی زندگی کے جیتے جاگتے حقائق کا احساس موجود ہے۔ ارضیت کا یہ عنصر مخدوم کی اس ابتدائی شاعری کو جو بہ ظاہر محض حسن کے نغموں کی شاعری ہے، واقعیت عطا کرتا ہے۔ ان نظموں میں بار بار اس کا احساس ہوتا ہے کہ شاعر نئی بات کہنے کے ’’درپے ‘‘ نہیں بلکہ اس کی انفرادیت ایک نئے لب و لہجے کی تشکیل پر اکسا رہی ہے۔ مخدوم کی عصری حسیت نے ان کی رومانیت کو گہرائی اور وسعت عطا کی ہے۔ ’’اوس میں بھیگتے ‘‘ اور ’’چاندنی میں نہاتے ہوئے ‘‘، ’’دو بدن‘‘ اس لیے ان کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں کہ ’’پیار حرف وفا‘‘ ہے۔ مخدوم محبت کی زندگی کی ایک بلیغ علامت کے روپ میں تہذیبی رشتوں اور سماجی بنیادوں کے چوکھٹے میں دیکھتے ہیں اس لیے ان کی رومانی نظموں کی تان اس تصور پر ٹوٹتی ہے :
یہ بتا چارہ گر
تیری زنبیل میں 
نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے 
کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے 
	شعرائے حیدرآباد تک آزادی اور انقلاب کی وہ روشنی پہنچ رہی تھی جس کا سلسلہ ۱۸۵۷ء کی جدوجہد سے ہوتا ہوا تلنگانہ تحریک تک پہنچتا تھا۔ یہاں تک کہ آصف جاہی سلسلے میں درویش شاہ نظام الدین کی عطا کی ہوئی ساتویں روٹی بھی معدوم ہونے لگی۔ حیدرآباد کے حساس اور با شعور فن کار اس فضا میں گھٹن محسوس کر رہے تھے۔ انھیں نئے انقلابی تصورات کے متلاطم سمندر میں شخصی حکومت کا سفینہ غرق ہوتا نظر آ رہا تھا مخدوم نے کہا تھا:
لرز لرز کے گرے سقف و بام زر داری
ہے پاش پاش نظام ہلاکو و زاری
پڑی ہے فرق مبارک پہ ضربت کاری
حضور آصفِ سابع پہ ہے غشی طاری
	مخدوم کا سماجی عقیدہ یہ تھا کہ ’’وہ جنگ ہی کیا وہ امن ہی کیا دشمن جس میں تاراج نہ ہو اس لیے اپنی ایک نظم ’’موت کا گیت‘‘ میں وہ کہتے ہیں 
پھونک دو قصر کو گر کن کا تماشا ہے یہی
زندگی چھین لو دنیا سے جو دنیا ہے یہی
بجلیو آؤ گرج دار گھٹاؤ آؤ
آندھیو آؤ جہنم کی ہواؤ آؤ
				آؤ یہ کرۂ ناپاک بھسم کر ڈالیں 
				کاسۂ دہر کو معمورِ کرم کر ڈالیں 
	سامراجیت کے خلاف عمل جدوجہد اور اشتراکی مقصد کے حصول کے لیے تخریبی رویے کی پذیرائی کی جھلک اس دور کے ادب میں دیکھی جا سکتی ہے۔ محنت و محبت کے شاعر مخدوم کی نظم ’’کہو ہندوستاں کی جئے ‘‘ پرستاران وطن کا نعرہ بن گئی تھی۔ یہ پوری نظم برطانوی سامراج سے ٹکر لینے اور ’’کنجشک فرومایہ‘‘ کو ’’شاہین‘‘ سے لڑا دینے کے آہنی عزم و اعتماد کی غماز ہے۔ ۱۹۴۶ء کے بعد کا زمانہ ریاستِ حیدرآباد میں مزدور تحریک کے عروج کا دور ہے۔ تلنگانہ میں کسان تحریک کا آغاز، قول داروں کی بے دخلی اور زمینات پر قبضوں کے رد عمل کے طور پر ہوا تھا۔ حکومتِ حیدرآباد نے اکتوبر ۱۹۴۶ء میں اس تحریک کے دور رس نتائج کے پیش نظر اشتراکی طرزِ فکر اور حریت دوستی کے اظہار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ چناں چہ مخدوم روپوش ہو گئے۔ نظام کے ممالک محروسہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں پرٹیلا تھا یہاں روپوش حریت پسندوں نے قبضہ کر لیا اور بہ قول راج بہادر گوڑ مخدوم محی الدین کے ہاتھوں ’’جمہوریہ پرٹیلا‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس سیاسی تناظر کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ اسی فضا میں تحریکِ آزادی کی شمعیں فروزاں رہیں۔ کرشن چندر نے اپنی کتاب ’’جب کھیت جاگے ‘‘ میں اس تلنگانہ تحریک کے پس منظر کو اجاگر کیا ہے۔ مخدوم اپنی نظم ’’بھاگ متی‘‘ میں دکن کو انقلاب کی سرزمین سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
دشت کی رات میں بارات یہیں سے نکلی
رات کی، رنگ کی برسات یہیں سے نکلی
انقلابات کی ہر بات یہیں سے نکلی
گنگناتی ہوئی ہر رات یہیں سے نکلی
اس وقت تلنگانہ انقلابی سرگرمیوں کا ایک زبردست محاذ بن گیا تھا اور پورے ہندستان کے حریت پسندوں کے لیے مینارِ نور بنا ہوا تھا۔ جنوب سے طلوع ہونے والے اس سورج کی کرنیں ہندستان کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی تھیں اس لیے مخدوم نے تلنگانہ کو ’’امام تشنہ لباں ‘‘ اندھیری رات کے سینے میں ’’مشعلوں کی برات‘‘، ’’مہر بغاوت‘‘ اور ’’ماہِ نجات‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
	’’سرخ سویرا‘‘ کے بعد شاعری کے لہجے، مزاج اور آہنگ کا تفاوت مخدوم کے الفاظ میں ایک نیا پن ہے جو عمر، تجربہ اور خود عہد حاضر کی نوعیت کے اپنے ما سبق سے مختلف ہونے کا نتیجہ ہے۔ عملی سیاست سے مخدوم کی سرگرم وابستگی سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وہ زندگی کا مطالعہ محض سیاسی نقطۂ نظر سے کر سکتے ہیں، درست نہیں۔ مخدوم کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ ان کی شاعری میں خاصا توازن اور سنبھلی ہوئی کیفیت ملتی ہے۔ مخدوم کی شاعری میں ایک منزل اس وقت آتی ہے جب بہ قول اسٹیفن اسپنڈر انقلابی غور و فکر کے نتیجے کے طور پر سماج کی نئی طاقتیں اپنے آبا و اجداد کے پرانے مکانوں کو ڈھا کر باہر نکلنے کی ترغیب دے رہی تھیں۔ اس وقت ہندستان ہی نہیں ساری دنیا کی فضا میں ہر طرف بارود کی بو آ رہی تھی اور جنگ کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس وقت کے عالمی ادب میں ذہنی کرب، انتشار، اداسی اور خوف و ہراس کا احساس ملتا ہے۔ آڈن کی ’’ایج آف انگزائٹی‘‘ (Age of Anxiety)، ’’میل ڈی لیوس‘‘ کی پُر اثر نظموں، ہیمنگ وے اور اردون شا کی تخلیقات میں خلفشار اور بے چینی کا بیکراں احساس ملتا ہے۔ مخدوم نے نا آسودگی، تشکیک اور عالمی کساد بازاری کے اس پُر آزمائش دور میں انسانیت کے لیے خطرہ ضرور محسوس کیا لیکن بہتر ہیئت اجتماعی کی تمنا نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ’’حویلی‘‘، ’’جہانِ نو‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’انقلاب‘‘، ’’ستارے ‘‘ اور ’’سپاہی‘‘ میں ایک ایسی رجائیت ہے جو مستقبل کے یقین اور کامیاب مقصد حیات سے وابستگی کا احساس پیدا کرتی ہے۔
	رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
	صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے 

	مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آئے گا
	رات ٹوٹے گی ستاروں کا پیام آئے گا

اس زمینِ موت پروردہ کو ڈھایا جائے گا
اک نئی دنیا نیا آدم بنایا جائے گا

	مخدوم کی شاعری میں ایک مخصوص نقطۂ نظر سے والہانہ وابستگی کا جذبہ، محبوب کے پیکر میں ڈھل گیا ہے اور ان کی انسان دوستی کو غم دوراں نے غم جاناں بنا دیا ہے۔ خارجی زندگی کا یہ مظہر داخلی دنیا کا جز بن کر ان کی پوری شاعری پر چھا گیا ہے :
آج تو تلخی دوراں بھی بہت ہلکی ہے 
گھول دو ہجر کی راتوں کو بھی پیمانوں میں 

اے جانِ نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے 
ترے لیے یہ زمیں بے قرار کب سے ہے 
ہجوم شوق سرِ رہ گزار کب سے ہے 
گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
تیرے دیوانے تری چشم و نظر سے پہلے 
دار سے گزرے تری راہ گزر سے پہلے 
کسی خیال کی خوش بو کسی بدن کی مہلک
درِ قفس پہ کھڑی ہے صبا پیام لیے 
	 ’’یارِ مسیحا نفس‘‘، ’’ساقی گل رو‘‘، ’’ہم سفر بہار‘‘، ’’زلف چلیپا‘‘، ’’مرا ثبات مری کائنات میری حیات‘‘ اور ’’یار غم گسار‘‘ اظہار کے ایسے بھرپور پیکر ہیں کہ ’’انداز قد‘‘ کی پہچان مشکل معلوم ہوتی ہے۔ مخدوم نے ۱۹۴۳ء سے ۱۹۵۱ء تک سوائے ’’تلنگانہ‘‘ کے کوئی اور نظم تخلیق نہیں کی۔ اس زمانے میں وہ ’’دیارِ ہند کی محبوب ارض چین‘‘ میں ’’تلنگانہ جدوجہد‘‘ سے عملی طور پر وابستہ تھے۔ تاریخ اور سیاست کے اس اہم موڑ پر ’’مخدوم‘‘، ’’خاموش تماشائی‘‘ نہیں بن سکتے تھے وہ مشاہدے کو مجاہدے کی منزل میں دیکھنا چاہتے تھے۔ بعد کے دور میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مخدوم سماجی اور سیاسی زندگی کے تجربے کو شعری تجربے سے ہم آہنگ بنانے میں پوری طرح کامیاب ہو گئے ہیں چناں چہ ان کی نظم ’’تلنگانہ‘‘ میں خلوص اور جذبے کی شدت کا اظہار ایک پُر اثر شعری تجربہ بن کر ہمارے سامنے آتا ہے :
امامِ تشنہ لباں ، خضرِ راہِ آبِ حیات
اندھیری رات کے سینے میں مشعلوں کی برات
مرا شباب مری کائنات میری حیات
سلام مہر بغاوت سلام ماہِ نجات
	مارچ ۱۹۵۱ء میں مخدوم گرفتار ہوئے اور انھیں سنٹرل جیل، حیدرآباد بھیج دیا گیا۔ جیل کی تنہائی میں جدوجہد کی بے اثری کے غم، عوام سے دوری کے احساس اور ’’زندگانی کی اک ایک بات کی یاد‘‘ ان سب عوامل نے مل کر شعری تخلیق کو اکسایا اور شعری تاثرات کی باز تعمیر کی جس کے نتیجے میں اردو شاعری کو ’’قید‘‘ جیسی خوب صورت نظم ملی۔ قید کئی اعتبارات سے مخدوم کی شاہ کار نظموں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس نظم میں خیال کی رفتار جذبات کی نرم روی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ رابن اسکالٹن اپنی کتاب ’’دی پوئٹک پیٹرن‘‘ (The Poetic Pattern) میں کہتا ہے کہ اچھی نظم میں ڈرامائی کیفیت کے ساتھ ساتھ معنوی ارتقا اور آواز کا زیر و بم بھی ضروری ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے مخدوم کی یہ نظم ایک مکمل شعری اکائی کے روپ میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ اشاراتی نظم مخدوم کی فن کارانہ صلاحیتوں کا ایک کامیاب اظہار ہے۔ تکنیک کے اعتبار سے بھی ’’قید‘‘ مخدوم کی آزاد نظموں میں ایک منفرد آواز محسوس ہوتی ہے۔ خیال کے آغاز، پھیلاؤ اور نقطۂ اختتام کو شاعر نے جمالیاتی تاثر کے سہارے پروان چڑھایا ہے۔ مخدوم کی آواز میں ایک گمبھیر کیفیت کا احساس ہوتا ہے اور وہ معروضی ربط باہم جسے ٹی۔ایس۔الیٹ نے ’’Objective Correlation‘‘ سے تعبیر کیا ہے پوری طرح شاعر کی گرفت میں محسوس ہوتا ہے نظم ’’قید‘ کا یہ حصہ جو مخدوم کی شعری صناعی کا ایک اچھا نمونہ ہے ملاحظہ ہو:
		رات ہے رات کی تاریکی ہے تنہائی ہے 
		دور محبس کی فصیلوں سے بہت دور کہیں 
		سینۂ شہر کی گہرائی سے گھنٹوں کی صدا آتی ہے 
		چونک جاتا ہے دماغ
		جھلملا جاتی ہے انفاس کی رو
		جاگ اٹھتی ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
		زندگانی کی اک اک بات کی یاد آتی ہے 
	مخدوم کی شاعری میں حسیاتی محاکات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے یہاں پیکر تراشی یا امیجری زیادہ تر سماعی ہے لیکن مخدوم کے شاہ کار امیجز وہ ہیں جو سماعی اور بصری ادراک کا حسین امتزاج نظر آتے ہیں ان امیجز کی خوبی یہ ہے کہ جذبے اور الفاظ کے ترنم میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ ہم آہنگی شعر کی معنویت میں اضافہ کرتی ہے۔ مخدوم کی ایک کامیاب نظم ’’چاند ستاروں کا بن‘‘ جو اردو نظم نگاری کی تاریخ میں ایک خوب صورت اضافہ ہے ہماری نسل کی پچھلی بیس پچیس سال کی ذہنی اور جذباتی کشمکش، سیاسی جدوجہد، ہمارے سنہرے خوابوں اور ان کی بھیانک تعبیروں اور ہماری اجتماعی تمناؤں کی ایک مکمل اور جذباتی تصویر ہے جس میں حقیقت کا احساس بھی ہے اور جمالیاتی رچاؤ بھی۔ آزادی کے بعد اس موضوع پر لکھی ہوئی اور بہت سی نظمیں مل جاتی ہیں لیکن مخدوم کے ایمائی انداز ان کی ’’انقلابی رمزیت‘‘ اور فن کارانہ بصیرت نے اس نظم کو ایک حسین اور وقیع تخلیق بنا دیا ہے۔ ہر نظم اپنے طور پر ایک مکمل شعری وحدت ہوتی ہے جس میں فنی تقاضوں کے احساس کے علاوہ لفظوں کے مزاج کی پرکھ اور اظہار کے آہنگ کو بھی پیش نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں ۱۹۳۶ء کے بعد سے علامات و اشارات کی اہمیت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔ اس عہد کی نظم نگاری میں اٹلی کے فیوچرازم کے رجحان، بلجیم کے مصوروں کی پوسٹ امپریشنسٹ تحریک (Post Impressionist Movement) اور فرانسیسی تمثیل نگاروں کی سمبالزم (Symbolism) کی تحریک کے اثرات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ان تحریکوں میں انداز نظر کے تفاوت کے باوجود ایک مشترکہ عنصر ’’اشاراتی انداز‘‘ کاہے۔ اس اشاراتی انداز کو مخدوم نے ’’چاند تاروں کا بن‘‘ میں سلیقے اور دیدہ وری کے ساتھ برتا ہے۔ طویل نظموں کی ایک دشواری یہ بھی ہے کہ ایک خاص موڑ اور لب و لہجے کو بہت دیر اور بہت دور تک بنانا پڑتا ہے اور جذباتی کشاکش اور تناؤ کو ایک خاص سطح اور درجے پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مخدوم کی نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘ اس لیے بھی صناعی کا ایک اچھا نمونہ بن گئی ہے کہ اس میں فن کا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس نظم میں ہماری قومی زندگی کے تین لمحات ماضی، حال اور مستقبل کو ایک صداقت کے تین پہلوؤں کی طرح برتا گیا ہے۔ نظم کا پہلا حصہ نہ صرف ہندستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر اس قوم کی داستان معلوم ہوتا ہے جو جدوجہد اور کشمکش کے ذریعے سے اپنے نصب العین تک پہنچی ہے۔ شاعری میں آپ بیتی اور جگ بیتی اور خصوص و عموم کے درمیان نقطۂ اتصال کے تلاش کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں :
موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی تھی مگر
	مخدوم نے اپنی نظموں میں قومیت کے تصور کو بین الاقوامی وسعت سے آشنا کیا ہے۔ یہاں تاریخی رفتار اور آفاقیت کا اظہار ایک وحدت کی شکل میں ہوا ہے۔ مخدوم کی انسان دوستی ابتدا ہی سے قومیت کی تحدیدوں کو توڑ دینا چاہتی تھی کیوں کہ جغرافیائی حد بندیوں سے قطع نظر ساری دنیا میں انسان کے بنیادی مسائل تقریباً یکساں ہیں۔ ’’چاند تاروں کا بن‘‘ میں آفاقیت کے عناصر جاری و ساری ہیں۔ اس نظم میں آگے چل کر شاعر خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ یہ بھی تاریخ کا ایک جبر تھا کہ ’’پیار کی منزلیں ‘‘، ’’دار کی منزلیں ‘‘ بن گئیں اور وہ سویرا جس کا انتظار تھا ’’شب گزیدہ‘‘ ثابت ہوا:
کچھ امامان صد مکر و فن
ان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھی
ان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواں 
اک کمیں گاہ سے 
پھینک کر اپنی نوک زباں 
خونِ نور سحر پی گئے 
	نظم نگاری اظہارِ خیال کا ایک مخصوص فن ہے جس کی تشکیل اور ترتیب میں کئی ابعاد کا یک جا ہونا ضروری ہے۔ ان کے ناقص تناسب یا غلط ترتیب سے تخلیق اپنے ادبی حسن سے محروم ہو جاتی ہے۔ مخدوم کی شاعری جدید و قدیم ادب کی صالح اور صحت مند روایات کی پذیرائی کا بہترین نمونہ ہے۔ انھوں نے شاعری کے روایتی اظہارات کو بڑے سلیقے کے ساتھ نئے اندازِ فکر اور جدید طرز ترسیل کے لیے استعمال کیا ہے۔ مخدوم کی ترقی پسند شاعری کا خمیر اردو شاعری کی بہترین روایات سے اٹھا ہے اس لیے طرز ادا کی تعمیر و تشکیل اور صورت گری میں یہ دونوں عناصر کارفرما نظر آتے ہیں ’’گلوئے زہرہ‘‘، ’’خضر راہ آبِ حیات‘‘، ’’امامان تشنہ لباں ‘‘ اور ’’ادائے زلیخائی‘‘ جیسے ابلاغ کے پیکر محض شعر کی سجاوٹ کے لیے نہیں لائے گئے ہیں۔ وہ قدیم ادب پاروں کے بلیغ اشارات سے ایک خاص فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مخدوم کی شاعری اپنے ادبی خلوص، اظہار پر قدرت اور موضوع و طرزِ ادا کی صوتی ہم آہنگی کی وجہ سے بھی ایک منفرد آواز معلوم ہوتی ہے۔

٭٭٭



شارب ردولوی


مخدوم کی نظموں کا آہنگ


	مخدوم نے صرف ۲۱ یا ۲۲ غزلیں کہی ہیں لیکن ان کی پوری بساطِ شاعری پر غزل کا لب و لہجہ اور غزل کی جمالیات کا اثر نمایاں ہے۔ میری رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن میری نگاہ میں ان کی شاعری میں تغزل کی فراوانی سے ان کے ادبی و شعری مرتبے میں کوئی کمی نہیں آتی، بلکہ سیاسی اثرات اور انقلاب کی بلند آہنگی کے اس عہد میں یہ مخدوم کی خصوصیت انفرادیت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی نظموں میں، سرخ پرچم، مزدور، تلنگانہ، بنگال، نئی صبح، آزادی یا انقلاب کی آواز بلند نہ کی ہو۔ ان کے یہاں بھی واضح الفاظ میں بعض نظموں میں اس کا ذکر ہے اور زیریں لہر کی شکل میں تو بیش تر نظموں بلکہ پوری شاعری میں انہی خیالات کی کارفرمائی ملے گی۔ ان کے سیاسی کمٹ منٹ، ٹریڈ یونین اور کمیونسٹ پارٹی سے ان کے تعلق اور تحریکِ آزادی کے ایک فعال رکن ہونے کی وجہ سے ان کے کلام میں بلند آہنگی کا پایا جانا ایک فطری بات ہے لیکن توجہ کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود ان کی بیش تر نظموں میں کی شناخت ان کا جمالیاتی کیف اور احساسِ جمال ہے۔
	مخدوم کی شاعری کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی رومانی اور انقلابی شاعری۔ یہ تقسیم اس عہد کے بیش تر شعرا کے کلام میں نظر آئے گی۔ وہ عہد ہی دو طرح کے افکار کا سنگم تھا۔ ایک طرف عاشقانہ شاعری تھی جس کی ایک بڑی اور توانا روایت تھی، اس میں سطحی عاشقانہ جذبات کا اظہار بھی تھا اور فکری گہرائی بھی تھی، جس کا ایک سرا تصوف اور فلسفے سے جاملتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی و تاریخی اثرات اپنی جگہ بنا رہے تھے اور ظاہر ہے کہ بدلتے ہوئے حالات، سرمایہ داری کی لائی ہوئی لعنتیں، غلامی، غربت، افلاس، قحط، جنگِ عظیم کے رد عمل سے ایک احساس اور بیدار ذہن کیوں کر بے نیاز رہ سکتا تھا۔ اس لیے شاعری میں انحراف اور بغاوت کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ ترقی پسند تحریک کے اثرات اور مقبولیت نے اس کی رفتار کو کچھ اور تیز کر دیا تھا۔ ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی تحریکِ آزادی میں عملی شمولیت اور سماجی برابری کے خوش آئند تصور نے ایسے بے شمار نئے موضوعات شعرا کو فراہم کر دیے تھے جن سے اس سے پہلے کان ناآشنا تھے۔ وہ شعرا جن کی شاعری کی ابتدا جمال یار کے قصیدوں سے ہوئی تھی۔ وہ بھی گیسوئے زمانہ کے اسیر نظر آنے لگے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے ہر انقلابی شاعر کے یہاں ایسی نظمیں بھی ہیں جن میں محبوب کے حسن اور اس کے زلف و عارض کا ذکر بڑے والہانہ انداز میں کیا گیا ہے اور ایسی نظمیں بھی ہیں جن میں انقلاب اور بغاوت کی بات بھی اسی شدت جذبات کے ساتھ کی گئی ہے۔ حالاں کہ ایک تبدیلی ان عاشقانہ نظمیوں میں بھی نظر آئے گی۔ ایک زمانے تک محبوب کا تصور ماورائی تھا۔ لیکن ادنیٰ یا کمتر چیزوں میں بھی حسن کی کارفرمائی ہو سکتی ہے، عام طور پر نگاہیں اس حسن کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھتی تھیں۔ اس تحریک نے محبوب کا تصور بدل دیا۔ اب محنت کش عوام، سڑک پر پتھر توڑنے والی مزدور عورت یا تلنگن بھی نظموں کا موضوع بن گئی اس لیے ایک ایسے عہد میں ان دونوں رویوں میں کسی کو ارفع قرار دینا یا رومانیت کی اصطلاح کو الزام کی شکل میں استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ شاید ذہنوں میں یہ بات نہیں رہتی کہ رومانیت خود بغاوت کا نام ہے اور یہ اصطلاح اپنی ابتدا میں انحراف اور بغاوت کے لیے ہی استعمال کی گئی تھی جو صرف عاشقانہ شاعری تک محدود ہو گئی۔
	مخدوم کا پہلا مجموعۂ کلام ’’سرخ سویرا‘‘ ۱۹۴۴ء میں شائع ہوا۔ جب آزادی ملک کی تحریک اپنے خواب کی تعبیر کے قریب ہونے کے باوجود غیر واضح خدشات کا شکار تھی۔ کمیونسٹ پارٹی اسے دوسرے زاویۂ نظر سے دیکھ رہی تھی۔ کانگریس کا زاویۂ نظر کچھ اور تھا، مسلم لیگ کچھ اور چاہتی تھی۔ اس سیاسی شوریدگی کے عالم میں کوئی بھی شخص حالات سے الگ کیوں کر رہ سکتا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی سرخ پرچم کے تلے ایک نئی صبح کے انتظار میں تھی۔ مخدوم اور ان جیسے بیش تر ادیب و شاعر اور ان سے وابستہ نوجوانوں کو یقین تھا کہ سرخ انقلاب بس ایک رات کے فاصلے پر ہے، آنے والی صبح دکھوں کا مداوا لے کر نمودار ہونے والی ہے۔ کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ سیاہ رات اردو شاعری کے عاشق کی شب ہجر ہے جس کی صبح کبھی نہیں ہوتی۔ مخدوم کی ’’سرخ سویرا‘‘ کی شاعری ایک ایسے نوجوان دل کی پکار ہے جس کے دل میں صرف تلنگن ہی کی محبت نہیں، تلنگانہ کی محبت بھی ہے اور ملک کی محبت بھی۔ بنگال میں بھوک بلکتے مردوں، عورتوں کی بھی محبت ہے جو اس غربت، افلاس اور بھوک کا علاج ملک کی آزادی اور سوشلسٹ نظام میں دیکھتا ہے۔ اس لیے یہ تمام نظمیں انہی جذبات سے لبریز ہیں۔ ’’سرخ سویرا‘‘ کی نظموں میں ایک کمزوری بھی ہے۔ اس میں شامل ۵۱ نظموں میں کئی ایسی نظمیں ہیں جن میں فکری و فنی پختگی کی کمی ہے۔ ان نظموں میں ان کے کہے جانے کے زمانے کی نشاندہی ہوتی تو ان کی بالکل ابتدائی نظموں کا تجزیہ آسان ہو جاتا۔ مجموعے کی ترتیب میں سنہ تخلیق درج نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ لیکن جس بات کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ ان کی شعری جمالیات ہے یعنی ان کی چند نظموں کو چھوڑ کر ان کی بیشتر نظمیں خواہ وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی ان کا لہجہ اور لفظیات نرم سبک اور شاعرانہ ہے۔ ’’سرخ سویرا‘‘ کی چوتھی نظم ایک سیاسی نظم ہے جس کا عنوان ’’باغی‘‘ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس مجموعے کی تمام نظمیں آزادی سے پہلے کی ہیں۔ جس وقت تحریک آزادی اپنے عروج پر تھی اور ہر محب وطن کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا اور وہ بغاوت تھا۔ سرمایہ داری، غلامی اور افلاس کے خلاف بغاوت۔ اس لیے مخدوم کے یہاں بھی یہ آواز زیادہ بلند سنائی دیتی ہے جس کا سبب جوش کی باغیانہ گھن گرج بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت ان کی آواز میں آواز ملانے کی ہر شخص کوشش کر رہا تھا۔ دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب جنگ سر پر ہو، دہانِ توپ بربادیوں کے راگ الاپ رہی ہو اور باغ جہاں میں دوزخ کی آگ پھیل گئی ہو، خاموش رہنا یا احتجاج کی آواز بلند کرنا بھی ایک جرم ہے۔
	میر سے منسوب ایک مصرع ہے معلوم نہیں کس شاعر کاہے :
شاعر ہو مت چپکے رہو چپ میں جانیں جاتی ہیں 
	پھر مخدوم انسان کے خون کی ارزانی دیکھ کر کس طرح خاموش رہ سکتے تھے :
بربط نوازِ بزم الوہی ادھر تو آ
دعوت دہِ پیامِ عبودی ادھر تو آ
انسانیت کے خون کی ارزانیاں تو دیکھ
اس آسمان والے کی بیدادیاں تو دیکھ
خود اپنی زندگی پہ پشیماں ہے زندگی
قربان گاہ موت پہ رقصاں ہے زندگی
انسان رہ سکے کوئی ایسا جہاں بھی ہے 
اس فتنہ زا زمیں کا کوئی پاسباں بھی ہے 
					(جنگ)
	ابتدا میں انقلاب کا تصور بہت واضح نہیں تھا۔ شاعر سیاست میں آنے کے باوجود سیاسی کم اور شاعر زیادہ تھا اس لیے کہ اس کا ذریعۂ اظہار شاعری تھا۔ وہ اسی کے ذریعے اپنے غصے، غم اور نفرت کا اظہار کرتا تھا۔ اس جوش میں یہ بھی ہوا ہے کہ بعض نظموں میں انقلاب کے ڈانڈے دہشت پسندی سے جا ملتے ہیں اور شاعر غلامی اور سرمایہ داری کی ایک لعنت سے آزاد ہونے کے لیے ہر چیز کو پھونک دینے اور تباہ کر دینے کے در پے نظر آنے لگا، جب کہ انقلاب کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ ہر چیز تباہ ہو جائے ورنہ انقلاب کا خواب راکھ کے ڈھیر پر بیٹھنے کی تمنا تو نہیں تھی۔ یہ کمزوری کسی نہ کسی حد تک بیشتر شاعروں کے اس عہد کے کلام میں نظر آتی ہے۔ اس سے مخدوم بھی مبرا نہیں ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں :
آگ ہوں آگ ہوں ہاں ایک دہکتی آگ ہوں 
آگ ہوں آگ بس اب آگ لگانے دے مجھے 
					(باغی)
	پھونک دو قصر کو گر کُن کا تماشا ہے یہی
	زلزلو آؤ دہکتے ہوئے لاؤ آؤ
	بجلیو آؤ گرج دار گھٹاؤ آؤ
	آؤ یہ کرہ ناپاک بھسم کر ڈالیں 
	آندھیو آؤ جہنم کی ہواؤ آؤ
	کاسۂ دہر کو معمور کرم کر ڈالیں 
	(موت کا گیت)
	لیکن مخدوم کے یہاں ایسی صرف چند مثالیں ہیں جن میں انھوں نے آگ لگانے یا کرۂ ناپاک کوبھسم کر دینے کی بات کی ہو۔ ’سرخ پرچم‘ کا ذکر دو تین نظموں میں ضرور آیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ان کی شروع کی نظمیں ہیں۔ جن میں ان کا تصورِ انقلاب بھی خام ہے اور نظمیں بھی جمالیاتی اعتبار سے اہم نہیں ہیں۔ مخدوم کے یہاں جلدی ہی تبدیلی آئی۔ ان نظموں کے بعد ان کی جو بھی نظمیں ملتی ہیں ان میں انقلاب کا تصور بھی تبدیل ہوا ہے اور فکری و فنی طور پر بھی وہ نظمیں بہتر ہیں۔
	مخدوم ان شاعروں میں ہیں جنھوں نے بہت جلد اس بات کو محسوس کر لیا کہ شاعری صرف نعرۂ انقلاب نہیں ہے اسی لیے ان کی بعد کی نظموں میں تبدیلی کی خواہش آزادی اور دکھ درد کے مداوے کی بات تو ملتی ہے لیکن اس میں ان کا انداز سنبھالا ہوا، رجائی اور شاعرانہ ہے۔ اسی لیے مخدوم کی سیاسی شاعری میں بھی شعری حسن، نغمگی اور اثر انگیزی ہے۔
	مخدوم کی شاعری میں اظہار و بیان میں دل کشی، خوب صورت تراکیب اور دل کش آہنگ پر بہت زور ملتا ہے، دوسری بات ان کے یہاں تصنع نہیں ہے۔ وہ اپنے جذبے، اپنی فکر اور اپنی آرزوؤں کو بڑی ایمان داری سے بیان کر دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مخدوم کی شاعری رومان کی پروردہ ہے۔ میرے خیال میں فیض، مجاز، مخدوم یہاں تک کہ کیفی اور نیاز حیدر کے بارے میں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ اس لیے کہ جہاں تک ان کے ذخیرۂ الفاظ کا تعلق ہے اور جو جوش اور شوریدگی ان کے یہاں نظر آتی ہے وہ رومانی تعبیر کے احاطے میں ضرور آ جاتی ہے لیکن اسے رومان کی پروردہ قرار دینا درست نہیں۔ رمز و کنایے یا استعارے یا خوب صورت تراکیب کا استعمال شاعری کا حسن ہے اور اچھی شاعری کی ضرورت۔
	مخدوم کے یہاں راست بیانیہ کے مقابلے میں رمز و استعارہ کی زبان زیادہ ہے اور یہی ان کی شاعری کی خوبی اور ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ سردار جعفری کے خیال میں مخدوم کے یہاں انقلابی شاعری کی شان نہیں ہے۔ انھیں فیض پر بھی اعتراض تھا۔ ان کے خیال میں برائی پر حملہ بہ راہِ راست اور اس کا اظہار بے جھجک ہونا چاہیے، اس میں رمز و اشارے کی گنجائش نہیں۔ استعارہ بھی اپنی تہہ داری کی وجہ سے وہ کام نہیں کرتا اس لیے نئے ادب کے معمار میں انھوں نے مخدوم کی شاعری پر یہ اعتراض کیا کہ:
’’مخدوم یہ تو تمھاری خواہش ہے کہ سویرا ہو جائے ورنہ ابھی تو کہیں سویرے کے آثار نہیں ہیں۔ تمھاری نظموں میں درد ہے، دکھ ہے لیکن وہ اعتماد اور حوصلہ نہیں، وہ آن بان اور جوش و خروش نہیں جو انقلابی شاعری کی شان ہے ‘‘۔
(سردار جعفری، نئے ادب کے معمار، مخدوم محی الدین، ص: ۲۳)
	سردار جعفری کی یہ رائے ۱۹۴۸ء کے آس پاس کی ہے یعنی ’’سرخ سویرا‘‘ کی اشاعت کے بعد بلکہ ’’سرخ سویرا‘‘ عوام و خواص دونوں میں مقبول تھا اور اس کی بعض نظمیں بلند آہنگ اور انقلاب کے جوش سے بھری ہوئی تھیں جن میں ٹکرا جانے اور دنیا کو بھسم کر دینے کے ارادوں کا اظہار تھا۔
	مخدوم جتنے حساس شاعر ہیں اتنے ہی جذباتی بھی ہیں۔ ہر بات انھیں شدت سے متاثر کرتی ہے۔ وہ خواہ حسن ہو یا غربت، افلاس، بھوک اور غلامی وہ ان تمام چیزوں سے انسانیت کو نجات دلانا چاہتے ہیں جن سے انسان پریشان اور انسانیت شرمندہ ہے۔ وہ نئی نسل کو انقلاب لانے اور ایک ایسا جہانِ نو تعمیر کرنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں جہاں اخوت ہو محبت ہو:
	ایسا جہان جس کا اچھوتا نظام ہو
	ایسا جہان جس کا اخوت پیام ہو
	ایسا جہان جس کی نئی صبح و شام ہو
	ایسے جہانِ نو کا تو پروردگار بن
	(جہانِ نو)
	اپنی نظم ’’حویلی‘‘ جو غلامی، تنگ دستی اور ظلم و جور کی علامت ہے، جسے انھوں نے فرسودہ نظام کے استعارے کے طور پر استعمال کیا جو نظام نزع کے عالم میں ہے، جس کے بام و در کرب میں ڈوبے ہوئے ہیں اور جس میں ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ اس نظم میں ’’حویلی‘‘ ہی استعارہ نہیں ہے بلکہ مار و کژوم بھی استعارے ہیں جو اس سماج اور انسانیت کو ڈسنے والے وہ لوگ یا وہ طبقے ہیں جو ملک دشمن اور انسانیت دشمن ہیں اور جنھوں نے اسے تباہ کر رکھا ہے اور اب جہاں نہ انصاف ہے اور نہ ایمان:
جس جگہ کٹتا ہے سر انصاف کا ایمان کا
روز و شب نیلا ہوتا ہے جہاں انسان کا
ہنس رہا ہے زندگی پر اس طرح ماضی کا حال
خندہ زن ہو جس طرح عصمت پہ قحبہ کا جمال
اور پھر نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں :
اے جواں سالِ جہاں، جانِ جہانِ زندگی
ساربان زندگی روح روان زندگی
بجلیاں جس کی کنیزیں زلزلے جس کے سفیر
جس کا دل خیبر شکن جس کی نظر ارجن کا تیر
آ انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں 
آ انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں 
(حویلی)
	نظم ’’مشرق‘‘ مخدوم کے درد و کرب کا اظہار ہے۔ وہ مشرق جو کبھی علم و آگہی کا مرکز تھا، جس سے دنیا نے جینے کا سلیقہ اور جہاں بانی کا ہنر سیکھا، جس نے انسانی برابری اور رواداری کا سبق دیا، جو مذہبی رہنماؤں کی سرزمین رہی ہے، وہی آج جہل، فاقہ، بھیک، بیماری، نجاست کا مکاں ہے اور جہاں وہ اک نئی دنیا اور نئے آدم کو بنانے کی بات کرتے ہیں۔ مخدوم کی ایک خصوصیت ان کی رجائیت ہے۔ وہ خراب سے خراب حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتے۔ ان کے پاس امید کی ایسی طاقت ہے جو کسی حالت میں انھیں کمزور نہیں پڑنے دیتی۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے کیسے کیسے مظالم سے گزرنا پڑا۔ وہ تو موجودہ نسل نے نہیں دیکھے لیکن آج بھی بار بار انسانیت اس کرب سے گزرتی ہے۔ کہیں عراق و فلسطین کی صورت تو کہیں انسانی بموں، بنیاد پرستی اور سیاسی خود غرضی کی لائی تباہی کی صورت۔ مخدوم ان حالات میں بھی پُر امید تھے۔ یہ امید، یہ رجائیت، ایسے خراب حالات میں بھی مایوس نہ ہونا زندگی کے لیے بہت بڑی طاقت ہے۔ ان کی نظم ’’اندھیرا‘‘ کے یہ مصرعے دیکھیے :
	وہ تڑختے ہوئے سر
	میتیں، ہاتھ کٹی، پاؤں کٹی
	لاش کے ڈھانچے کے اِس پار سے اُس پار تلک
	سرد ہوا
	نوحہ و نالہ و فریاد کناں 
	شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
	کبھی بچوں کی، کبھی ماؤں کی
	چاند کے تاروں کی ماتم کی صدا
	رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
	صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے 
	رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
	رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
	یہاں پر مخدوم کی دو نظموں کا ذکر کرنا چاہوں گا، یہ نظمیں بھی ’’سرخ سویرا‘‘ سے ہی ہیں جن کا لب و لہجہ مشرق سے مختلف ہے۔ مشرق زیادہ بہ راہِ راست اور زیادہ دکھ درد کی نظم ہے لیکن یہ دونوں نظمیں ان سیاسی نظموں میں اس جانب پہلا قدم ہیں جس کی طرف میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا کہ مخدوم تلخ بات بھی بڑے خوب صورت الفاظ یا زبان میں کرتے ہیں۔ ان کی نظم ’’انقلاب‘‘ کے یہ بند ملاحظہ کیجیے جس میں انقلاب کو ’’جان نغمہ‘‘ کہہ کر محبوب سے استعارہ کیا ہے اور اسے آنے والے نئے نظام عالم کے پیش رس کی تمنا قرار دیا ہے :
اے جان نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے 
ترے لیے یہ زمیں بے قرار کب سے ہے 
ہجومِ شوق سرِ رہ گزار کب سے ہے 
گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
رخ حیات پہ کاکل کی برہمی ہی نہیں 
نگارِ دہر میں انداز مریمی ہی نہیں 
مسیح و خضر کی کہنے کو کچھ کمی ہی نہیں 
گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
	(انقلاب)

	اس نظم کی رمزیت ایک طرف اس کے سیاسی پہلو کی نشاندہی کرتی ہے تو دوسری طرف اس کا شعری آہنگ اسے ایک اثر انگیز اور خوب صورت نظم بنا دیتا ہے۔
	دوسری نظم ’’ستارے ‘‘ ہے جس میں ان کے خیال، اسلوب اور اظہار و بیان کا تنوع بے ساختہ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ’’ستارے ‘‘ بہ ظاہر ایک سادہ سی نظم ہے جس میں شاعر ستاروں سے باتیں کرتا ہے لیکن اس کی گہری معنویت اس عہد کے کرب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ یک طرفہ مکالمہ ہونے کے باوجود خوب صورت اور پُر اثر ہے :
	جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
	جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ
	رات رات بھر جاگ جاگ کر
	کس کو گیت سناتے ہو
	چپ چپ رہ کر جھلمل جھلمل
	کس بھاشا میں گاتے ہو
	ہم جس نگری میں رہتے ہیں 
	وہ نگری کیا دیکھو گے 
	غم جس بستی میں بستے ہیں 
	وہ بستی کیا دیکھو گے 
	جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
	جاؤ جاؤ تم چھپ جاؤ
	’’سرخ سویرا‘‘ اور مخدوم کے دوسرے مجموعے ’’گل تر‘‘ کی شاعری میں فکر، اظہار اور اسلوب تینوں سطحوں پر نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ ’’سرخ سویرا‘‘ کے بعد کچھ عرصے تک مخدوم نے شعر نہیں کہے، اس خاموشی نے شاید انھیں خود اپنا تجزیہ کرنے کا موقعہ دیا۔ اس لیے کہ ’’گل تر‘‘ کا لہجہ زیادہ شعری، ٹھہرا ہوا اور پُر اثر ہے۔ یوں ’’سرخ سویرا‘‘ کی بھی ’’انتظار‘‘، جیسی نظموں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں انتظار کی کیفیتوں کی بڑی پُر اثر تصویر کشی کی گئی ہے :
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے 
سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے 
پتیاں کھڑکیں تو سمجھا کہ لو آپ آ ہی گئے 
سجدے مسرور کہ مسجود کو ہم پا ہی گئے 

شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی
آپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگی
صبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائی
او صبا تو بھی جو آئی تو اکیلی آئی
	(انتظار)
	’’گل تر‘‘ میں ایسی نظمیں جس میں نمایاں طور پر کسی سیاسی یا نظریاتی پہلو کو پیش کیا گیا ہو صرف چار ہیں : نیا چین، ماسکو، چپ نہ رہو، (لوممبا کے قتل پر) درہ موت (ویتنام پر) ورنہ ان کی عام نظمیں جذبے، احساسات اور خیال آفرینی کے خوب صورت نمونے ہیں۔ یہ بات غلط نہیں ہو گی کہ مخدوم کی نظموں اور غزلوں دونوں میں پیکر تراشی اور رمز و کنایہ کا عمل بہت گہرا اور پُر تاثیر ہے۔ یہ عمل ’’سرخ سویرا‘‘ کی بھی بعض نظموں میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن ’’گل تر‘‘ کی نظمیں اور غزلیں دونوں میں مخدوم کی فن کاری اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اپنے جذبے کو پُر تاثیر کنایے اور پیکر میں تبدیل کرنے کا فن جانتے ہیں۔ مخدوم کی بہت مشہور نظم ’’چارہ گر‘‘ ہے جس کا حوالہ ان پر لکھے جانے والے ہر مضمون میں ملے گا اور اس کی تکرار بے جا بھی نہیں ہے، اس لیے کہ ایسی پُر اثر اور ایسی دل آویز تصویریں بہت کم نظموں میں نظر آتی ہیں۔ یہ نظم کئی تصویروں کا البم ہے۔ اس نظم کی خوبی یہ ہے کہ اس میں صوتی حسن، نغمگی، دلکشی اور خوب صورتی بھی ہے اور بہت گہرا Pathos بھی۔ اس میں الفاظ کے ذریعے ایسا آہنگ پیدا کیا گیا ہے جس نے ہر تصویر کو متحرک بنا دیا ہے :
	اک چنبیلی کے منڈوے تلے 
	مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر
	دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے 
	دو بدن
	اوس میں بھیگتے، چاندنی میں نہاتے ہوئے 
	جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر
	ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا
	صرفِ ماتم ہوئی
	کالی کالی لٹوں سے لپٹ، گرم رخسار پر
	ایک پل کے لیے رک گئی
	ہم نے دیکھا انھیں 
	دن میں اور رات میں 
	نور و ظلمات میں 
	مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انھیں 
	مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انھیں 
	مے کدے کی دراڑوں نے دیکھا انھیں 
اور آخر میں چارہ گر ازل سے اس کا سوال:
	از ازل تا ابد
	یہ بتا چارہ گر
	تیری زنبیل میں 
	نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے 
	کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے 
	’’چارہ گر‘‘ کے علاوہ ان کی نظم ’’آج کی رات نہ جا‘‘ ایسی ہی شدید کیفیت کی حامل ہے۔ یہ دونوں نظمیں ’’چارہ گر‘‘ اور ’’آج کی رات نہ جا‘‘ اپنے موضوع اور اسلوب کے لحاظ سے منفرد نظمیں ہیں۔ فکر و خیال کی تازگی اور مخدوم کی جمالیاتی حس ان میں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے :
	رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے 
	دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے 
	مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آئے گا
	رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آئے گا
	آج کی رات نہ جا
اس کے دوسرے بند میں زندگی کے تضادات کو بڑی خوب صورتی سے ظاہر کیا گیا ہے :
	زندگی لطف بھی ہے زندگی آزاد بھی ہے 
	ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے 
	زندگی دید بھی ہے حسرتِ دیدار بھی ہے 
	زہر بھی، آبِ حیاتِ لب و رخسار بھی ہے 
	زندگی دار بھی ہے زندگی دلدار بھی ہے 
	آج کی رات نہ جا
	مخدوم کی نظموں میں ’’چاند تاروں کا بن‘‘ اپنی امیجری اور محاکات کی وجہ سے بہت اہم ہے۔ یہ نظم شاعر کے تخیل، خوابوں اور آرزوؤں پر مبنی نظم ہے۔ ایک عملاً سیاسی انسان لیکن بنیادی طور پر شاعر کا، آزادی اور اس کے بعد کی صورتِ حال کے بارے میں رد عمل ہے۔ یہ نظم بہ ظاہر سیاسی نظم نہیں ہے۔ اس کے الفاظ اور ان میں پوشیدہ رمز نے اسے ایک دلکش تخلیق بنا دیا ہے لیکن اس کی زیریں لہر میں ایک شدید سیاسی کرب پوشیدہ ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مخدوم ملک کی اشتراکی جدوجہد کا حصہ تھے اور اس آزادی کو ہندستانی کمیونسٹ پارٹی نے مکمل آزادی نہیں تسلیم کیا تھا۔ اس پس منظر کو نظر میں رکھ کر ان خوب صورت مصرعوں کی اشاریت کو دیکھنے کی ضرورت ہے :
	موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
	رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
	رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن	
	تشنگی تھی مگر 	
	تشنگی میں بھی سرشار تھے 
	رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے 
	صبح کا کچھ اجالا، اجالا بھی ہے 
	ہم دمو
	ہاتھ میں ہاتھ دو
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	منزلیں دار کی
	کوئے دلدار کی منزلیں 
	دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
	مخدوم کی آخری نظموں میں ایک اداسی، دکھ اور گہرے زخم کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس عام انسان کو بھی اس کے خواب کے ٹوٹنے سے ہو سکتا ہے لیکن سیاست میں عملی طور پر حصہ لینے والے، جیلوں کی سختیاں برداشت کرنے والے، ملک کے لیے اپنے خوابوں پر زندگی اور اس کی خوشی کو لٹا دینے والے کے لیے یہ احساس نفسیاتی طور پر شکست کا نہیں تو ٹوٹ جانے کا احساس ضرور تھا۔ مخدوم، غالب پر جب نظم لکھتے ہیں تو اس میں بھی اس دکھ اور کرب کی جھلک دکھائی دے جاتی ہے :
	تم تھے اپنی شکست کی آواز
	آج سب چپ ہیں منصفی کی طرح
	یہ کرب اپنے اندر سے ٹوٹنے کا کرب تھا جس میں نہ چیخ سنائی دیتی ہے اور نہ آنسو دکھائی دیتے ہیں اس لیے کہ شکایت ہو تو کس سے ہو۔ مخدوم خواب کے ٹوٹنے کو کس طرح بیان کرتے ہیں، یہ چند مصرعے دیکھیے :
	وہ جو میرا خواب کہلاتا تھا
	میرا ہی نہ تھا
	وہ تو سب کا خواب تھا
	سایۂ گیسو میں بس جانے کے ارماں دل میں تھے 
	میرے دل میں ہی نہ تھے 
	وہ تو سب کا خواب تھا
	لاکھ دل ہوتے تھے لیکن
	جب دھڑکتے تھے تو اک دل کی طرح 
	آپ میں اک گرمی احساس ہوتی تھی
	نہیں معلوم وہ کیا ہو گئی
	چاندنی سی میرے دل کے پار ہوتی تھی
	نہیں معلوم وہ کیا ہو گئی
	(سب کا خواب)
ایک ہی چھوٹی سی لیکن بہت پُر اثر نظم میں اس زخم کی گہرائی دیکھیے :
	کوئی کسی کو بتاتا نہیں کہ کیا کھویا
	کسی کو یاد نہیں ہے کہ دل پہ کیا گزری	
	دلوں میں بند ہیں تلخابۂ حیات کے خم
	کوئی زبان سے کہتا نہیں کہ غم کیا ہے 
زندگی اور حالات کے تضادات دیکھیے :
	ہر ایک زخم کے اندر ہے زخم، درد میں درد
	کسی کی آنکھ میں کانٹے کسی کی آنکھ میں پھول
	کہیں گلاب کہیں کیوڑے کی بستی ہے 
	یہ سر زمین اک اک بوند کو ترستی ہے 
یہ تمام نظمیں ان کی اشاراتی اور علامتی نظمیں ہیں اور ان میں ایک سے زائد پہلو تلاش کیے جا سکتے ہیں لیکن ان اشاروں، کنایوں اور علامتوں میں کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اس درد کی طرف اشارہ کر رہے ہوں جس سے وہ خود اور ان کے ساتھی گزرے ہیں اور ان آرزوؤں اور امنگوں بھرے خوابوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے جو انھوں نے سب کے لیے دیکھے تھے۔
	ایک اور آخری نظم جو ان کے مجموعے کی بھی آخری ہے اس کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا، اس کا آہنگ اور رمزیت توجہ کی مستحق ہے۔ میں اس خوب صورت نظم کے اسلوب اور رمزیت کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ میرے لیے یہ نظم، مخدوم کے فن کا ایک نمونہ بھی ہے اور دل کش اور دلآویز نظم بھی اور کسی چھپے ہوئے کرب سے آنکھوں میں ڈبڈبانے والا آنسو بھی:
	دل کا سامان اٹھاؤ
	جان کو نیلام کرو
	اور چلو
	درد کا چاند سر شام نکل آئے گا
	کیا مداوا ہے 
	چلو درد پیو
	چاند کو پیمانہ بناؤ
	رت کی آنکھوں سے ٹپکنے لگے کالے آنسو
	رت سے کہہ دو
	کہ وہ پھر آئے 
	چلو
	اس گل اندام کی چاہت میں بھی کیا کیا نہ ہوا
	درد پیدا ہوا، درماں کوئی پیدا نہ ہوا
	(رت)
	مخدوم کی نظموں کا آہنگ غزل کا آہنگ ہے جسے بیش تر ترقی پسندوں نے روایتی شاعری قرار دے کر نظر انداز کر دیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مخدوم، مجاز اور فیض کا یہ Contribution ہے کہ غزل کی زبان کو انقلاب کی زبان بنا دیا۔

٭٭٭


زبیر رضوی

مخدوم کی تخلیقی فہم


	مخدوم محی الدین نے اپنی تخلیقی زندگی میں اپنے ہم عصروں کے مقابلے کم لکھا اور اسی تناسب سے ان کی شاعری پر بھی کم لکھا گیا۔ سلیمان اریب کے رسالے ’’صبا‘‘ اور ماہ نامہ ’’نیا آدم‘‘ کے مخدوم نمبروں کے ساتھ داؤد اشرف کا مضمون، مخدوم کے یار مرزا ظفر الحسن نے عمر گزشتہ کی کتاب اور ذکر یار چلے اور دکن اداس ہے یارو ۱۹۸۶ء میں شائع ہونے والی شاذ تمکنت کی کتاب ’’مخدوم محی الدین شخصیات اور فن اور روسی مستشرق الیکسی سوخاچیف کی کتاب کے علاوہ کچھ بکھرے ہوئے مضامین بھی ہیں جو مخدوم کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں عالم خوندمیری نے مخدوم کی نظم ’’زلف چلیپا‘‘ کو مخدوم کی مقبول ہونے والی شاعری سے گریز پائی کا ایک اہم موڑ قرار دے کر مخدوم کے انقلابی اور باغی شاعر کے امیج کو ان کے سیاسی نظریات کا منطقی نتیجہ کہنے کی کم زور دلیل دی تھی۔ بالفرض اگر مخدوم کے پہلے مجموعے ’’سرخ سویرا‘‘ اور اس میں شامل نظموں، جنگِ آزادی، مستقبل، سپاہی، حویلی، مشرق، باغی تلنگانہ اور جہان نو، کو ان کی شاعری کا کلیدی رنگ مان لیا جائے تو بھی اسے شاعر مخدوم کا آدھا ادھورا چہرہ ہی کہا جائے گا۔ الیکسی سوخاچیف نے مخدوم کے اشتراکیت سے مملو باغی شاعر کو ہی اپنی کتاب میں چمک دمک دینے کی سعی کی ہے حالاں کہ ان کی کتاب میں رومانی شاعر مخدوم پر بھی اچھی خاصی روشنی پڑتی ہے۔ سوخاچیف کی کتاب کا قاری چوں کہ اشتراکیت پسند روسی تھا اور وہ اسی فلسفے کی آغوش کا پروردہ تھا اس لیے انھوں نے اپنے تجزیاتی مطالعے میں مخدوم پر تفصیل سے لکھتے ہوئے مخدوم کے شاعرانہ مرتبے کی تعین میں ان کی فطری رومانیت کو ان کی نظریہ آمیز شاعری پر ترجیح نہیں دی۔ ’’سرخ سویرا‘‘ میں مخدوم جس صبح اور جس نئی دنیا اور نئے آدم کے منتظر نظر آتے ہیں وہ ان کے ایقان اور امید کی دین ہے کہ انقلاب آئے گا اور جب وہ آئے گا تو نئے آدم کے ہاتھوں زندگی کا چہرہ ہی بدل کے رہ جائے گا۔ سوخاچیف کی کتاب اسامہ فاروقی کے ترجمے کے حوالے سے اردو قاری تک ۱۹۹۳ء میں پہنچی لیکن اس سے پہلے ۱۹۸۶ء میں شاذ تمکنت کا پی ایچ۔ڈی والا مقالہ ’’مخدوم محی الدین : حیات اور کارنامے ‘‘ کتابی صورت میں شائع ہو چکا تھا۔ سوخاچیف نے مخدوم پر کتاب لکھتے ہوئے شاذ تمکنت کی کتاب کو ایک اہم ماخذ کے طور پر اپنے سامنے رکھا تھا شاذ نے مخدوم کی شاعری اور شخصیت کے سات باب بنائے تھے اور مخدوم کی رومانی شاعری کو کتاب کے دوسرے ہی باب میں موضوع گفتگو بنانا شروع کر دیا تھا کیوں کہ مخدوم کی شاعری جہاں بھی اپنے عشقیہ لہجے میں صورت پذیر ہوئی ہے شاذ کی ساری دید و شنید اسی طرف مرکوز ہو کے رہ گئی ہے کہ شاذ ایک عاشق شاعر تھا اس لیے شاذ کا عاشق شاعر مخدوم کی شخصیت اور اس کی عشقیہ شاعری سے بڑے شوق اور شدت سے قریب آ جانا فطری بھی تھا۔ رومانیت والے اس باب میں شاذ نے اپنے اس خیال کو کلید بنایا:
’’مخدوم اور ان کے معاصرین فیض، مجاز، جاں نثار اختر، جذبی، علی سردار جعفری وغیرہ کی ابتدائی شاعری کے پیشوا دو نہایت اہم شاعر جوش اور اختر شیرانی سامنے آتے ہیں ‘‘۔
	شاذ نے اپنی کتاب کے اس حصے میں اثر انداز ہونے والے اور اثر قبول کرنے والے شاعروں کی شاعری میں ایک جیسی کیفیاتی فضا اور لفظیات کے صوتی آہنگ کا حوالہ دے کر انھیں ایک ہی تخلیقی Gene والا تخلیقی کنبہ، قرار دے دیا۔
	شاذ کی بعض نظموں میں خود چوں کہ جوش، فراق اور اخترالایمان کا شعری لب و لہجہ جھلکتا دمکتا محسوس ہوتا ہے اس لیے شاذ نے اس ہم رنگی کو خاصی اہمیت دے کر بیان کیا ہے۔ جب کہ اس نوعیت کی تخلیقی مماثلت کے باب میں اردو تنقید ہمیشہ ہی لب کشا ہوتی رہی ہے۔ خود تخلیقی ذہن رکھنے والوں نے اپنے اسلوب، ڈکشن اور شعری لفظیات اور ہیئت پسندیوں کے بارے میں یہ وضاحت بار بار کی ہے کہ دراصل یہ نفسِ مضمون ہے جو اپنے اظہار کے لیے کسی بھی حقیقی شاعر سے اپنی شعری صورت گری کے لیے اسلوب، ڈکشن، تلمیحات اور لفظیات کے تعین اور انتخاب میں سب سے زیادہ معاون بنتا ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی اور ناصر کاظمی نے جب میر کے طرز میں غزلیں کہی تھیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جس عہد میں سانس لے رہے ہیں وہ کبھی کبھی ہمیں طرز میر میں غزل کہنے کی تحریک دیتا ہے کیوں کہ یہ طرز میر ہے جو ہمارے اپنے اور ہمارے زمانے کے Ethos کو بیان کرنے کے لیے موزوں ترین اظہار ہے۔ طرز میر کے لیے یہ جواز دینے کے بعد یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر ہماری غزل اور طرز میر والی غزل میں کوئی مشابہت نظر آتی ہے تو اس کی وجہ ایک جیسی تخلیق Gene ہے۔
	میں سمجھتا ہوں کہ کسی شاعر کی ابتدائی شاعری کے خمیر میں اپنے عصر کے تخلیقی مزاج سے اثر پذیری قابلِ گرفت نہیں بنتی۔ اس کے برعکس حسن کو نئے رنگوں کے ساتھ اپنے خیالی کینوس پر زندگی کی خاکہ نگاری کرنی ہوتی ہے یا جن کے شعری سفر کو پر خار راہوں سے گزر کر اپنی منزل پانی ہوتی ہے وہ اپنے سفر اور رختِ سفر کی نشانیاں پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک نئے طور پر ایک نئی برق تجلی کی تمنا میں ہر دشت امکاں کو نقش پا بنا دیتے ہیں، مخدوم کو اس بات کا عرفان تھا۔ ’’گل تر‘‘ کے دیباچے میں مخدوم نے یہ کہہ کر اپنے تخلیقی خد و خال کو روشن کر دیا تھا:
’’جب آپ گل تر کو پڑھیں گے تو شاید آپ بھی اس عمل سے گزریں اور ذہن ’’سرخ سویرا‘‘ اور ’’گل تر‘‘ میں مقابلہ بھی کرنے لگے، شاید یہ خیال بھی آئے کہ کلام کا یہ مجموعہ اپنی سج دھج، نفس مضمون، حقیقت، ندرت، جمالیاتی کیفیت و کمیت اور تاثر کے اعتبار سے سرخ سویرا سے مختلف ہے ‘‘۔
	مخدوم نے یہ بھی وضاحت کی کہ ’’گل تر‘‘ کے مطالعے سے قبل آپ کو میری پچھلی شاعری یویناً یاد آئے گی، وہ اشعار بھی یاد آئیں گے جو آپ کو پسند ہیں اور جو مدت سے آپ کے حافظے میں روشن ہیں۔ مخدوم کو معلوم تھا کہ ’’گل تر‘‘ میں ان کی شاعری اپنا رنگ و آہنگ بدل چکی ہے اور وہ ’’گل تر‘‘ میں اپنی شاعری کے ایک نئے چہرے کے ساتھ سامنے آئے ہیں جس سے مانوس ہونے میں ان کے قاری کو وقت لگے گا۔ دراصل مخدوم کسی قدر دھیمی آواز میں یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ’’گل تر‘‘ کی شاعری اپنے پچھلے تخلیقی امیج کو رد کرنے کا ایک فطری عمل ہے کیوں کہ تخلیقی عمل جامد اور جگہ رک کر تا حیات وہیں قیام کرتے رہنے کا عمل نہیں ہے اور یہ بھی کہ خود کو رد کرنے کا مطلب اپنی شاعری کو ایک نئی صورت دینے کے عمل سے گزرنا ہے۔ مخدوم نے اسی بات کو قاری سے اس طرح کہا ہے :
’’یہ فرق میری نظر میں ایک نیا پن ہے جو عمر تجربے اور خود عہد حاضر کی نوعیت کے اپنے ما سبق سے مختلف ہونے کا نتیجہ ہے جو سماجی اور شعوری ارتقا کی نشان دہی کر تا ہے پھر بھی انسان دوستی اور سمٹا ہوا جمالیاتی اثر مشترک ہے۔ زماں مکاں کا پابند ہونے کے باوجود شعر بے زماں Timeless ہوتا ہے اور شاعر ایک عمر میں کئی عمریں گزارتا ہے ‘‘۔
	مخدوم نے ’’گل تر‘‘ کو تمنا کا دوسرا قدم مانا تھا لیکن یہ بات واضح کر دی تھی کہ ان کے شعری ادب کی قرات کس ڈھنگ سے زیادہ مناسب ہو گی یعنی ان کے مشہور کر دیے گئے یا یوں کہیے کہ تشہیر یافتہ شاعرانہ پہچان کے حوالے سے یا پھر ان کے نئے شعری آفاق کے حوالے سے جہاں ان کی شاعری کرۂ ادب پر بے زماں ہو کر دو امیت کا سانس لینا چاہتی ہے۔
	مخدوم نے ’’سرخ سویرا‘‘ اور ’’گل تر‘‘ کے درمیان تخلیقی بعد اور فاصلے کا اعتراف کرتے ہوئے اور ادب اور تخلیقی رویے پر نپی تلی بات کرتے ہوئے، انسان دوستی اور انسانی جمالیات کو قدر مشترک قرار دیا ہے۔ ہمیں مخدوم کے انہی کلیدی شعری استعاروں کو سمجھنا ہو گا۔ فیض اکیلے شاعر ہیں جنھیں مخدوم کا ہم مزاج اور ہم مشرب و ہم مسلک شاعر کہا جا سکتا ہے۔ دونوں کی شاعری کی بنا دہکتے ہوئے جوان جذبوں پر استوار ہوئی تھی۔ یہ عہد شباب کے وہ فطری جذبے تھے جو کبھی سینے میں یادوں کے الاؤ روشن کر دیتے تو کبھی کسی کے قدموں کی خواب ناک آہٹیں سننے کے لیے جاگتے رہتے ہیں۔ فیض اور مخدوم کی نظموں میں عشق بے محابا بھی ہے اور بے حساب بھی۔ جذبے اور احساس میں بلا کی گھلاوٹ اور سرشاری ہے۔ محبوب کا جو حیاتی پیکر ان نظموں میں ابھر کے آتا ہے اور بڑی حد تک ان سراپوں اور پیکروں سے بڑا مختلف ہے جو چلمنوں اور آدھے کھلے دریچوں سے چھن چھن کے زاویوں میں تقسیم ہوتا ہوا نگاہوں کی گرفت میں آیا تھا۔ یہاں تو وہ روبرو آنکھوں کے حصار میں قید ہوتا ہوا اپنی دید سے سرشار و مضطرب کرتا ہوا ایک حسن لازوال ہے۔ یہ ہجر اور وصل کے درمیان ہچکولے کھاتا ہوا مانوس عشقیہ تجربہ نہیں ہے۔ یہ غم یار سے غم روزگار کی طرف گریز پا ہونے والا رویہ بھی نہیں ہے (کم از کم مخدوم کی حد تک)۔ یہ عشق کی وہ جمالیات ہے جو انسان کے آفاقی سروکار سے جا ملتی ہے۔ مخدوم نے عشق کی اسی جمالیات سے اپنی نظموں کی کیاریوں میں وہ پھول کھلائے ہیں جو مرجھاتے نہیں اور جن کی خوش بو ازل گیر اور ابد تاب ہے۔ اس عشق کو دیکھ کر خدا بھی مسکرا دیتا ہے، قاضی عبدالغفار نے پتے کی بات کہی تھی، یہ عشق وہ ہے جو اپنے لیے اگر خدا کو مہربان کر لیتا ہے تو زمین آسمان بھی اس کے بوسۂ لب کے لیے مچل اٹھتے ہیں۔
	میں نے مخدوم پر اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’سرخ سویرا‘‘ میں مخدوم ’’اندھیرا‘‘ اور ’’انتظار‘‘ جیسی نظم میں اپنے ڈکشن اور لہجے کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ وہ سیاسی کمٹمنٹ جو ’سرخ سویرا‘ میں کسی قدر Loud تھا وہ ’گل تر‘ اور اس کے بعد کی نظموں میں ہلکے بیانیہ کے بجائے رمزیہ تہہ داری سے آراستہ ہوتا چلا گیا۔ اب شاعری میں سیاسی موضوعات کی ارادتاً راہ داری کا احساس نہیں ہوتا۔ قید، جیسی نظم اردو کے زندانی ادب میں سر فہرست نظم بن جاتی ہے۔ فیض دوسرے شاعر ہیں جو زنداں کو اپنے لیے جبر اور زباں بندی کا ایک مستقل استعارہ بنا لیتے ہیں۔ مخدوم کے لیے داروگیر کا موسم تو سدا بہار موسم کی طرح ان کے قدموں میں زنجیر بنا رہتا تھا لیکن وہ قید کے بعد چارہ گر، چاند تاروں کا بن جیسی نظمیں لکھتے رہے ’سرخ سویرا‘ میں وقتی اور علامتی موضوعات پر نظم لکھنے کا رویہ مخدوم کی شاعری میں اب راہ نہیں پاتا۔وہ شاعری کو ابد گیر اور دوامی قدروں کا حامل بنانے والی شاعری کے رموز سے آشنا ہوتے جا رہے تھے۔ پکاسو کی پینٹنگ گویٹرنیکا جسے اسپین کے جمہوریت پرستوں نے جنرل فرانکو کے خلاف جدوجہد کا ترجمان نہ بن سکنے کی بنا پر رد کر دیا تھا آج ساری دنیا کے لیے وہ جبر، ظلم کے خلاف ایک مثالی تخلیقی احتجاج بن کر ابھری ہے۔ اسی طرح مخدوم کی کئی نظمیں بے زماں ہو کر کرۂ ادب کے گرم اور سرد منطقوں میں دوامیت کی حامل زندگی جی رہی ہیں۔
	آخری ایک بات یہ کہ مخدوم نے بار بار اپنی شاعری میں ایک نئی صبح اور ظلمت کو سرنگوں کرنے والے خورشید جہاں تاب کی آمد کی نوید سنائی تھی لیکن ’بساطِ رقص‘ کی آخری نظموں تک آتے آتے مخدوم جیسا مستقبل پسند شاعر اداس اور تنہا دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کا یہ Disillusion ہم سے ایک نئے تجزیے کی امید رکھتا ہے۔ خاص طور سے ان حالات میں جن میں ہم نے مارکس اور لینن کی آرام گاہ بننے والے سویت یونین کے سقوط کا المیہ اپنی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھا تھا۔

٭٭٭



ڈاکٹر لئیق صلاح


مخدوم بہ حیثیت ڈراما نگار اور اداکار


	مخدوم محی الدین کو عموماً لوگ شاعر اور ٹریڈ یونین کی حیثیت سے زیادہ جانتے ہیں لیکن ان کی نثری تصانیف، بہ طور خاص ڈراما نگاری کے تعلق سے بہت کم واقفیت ہے۔ مرزا ظفر الحسن نے مخدوم کی زندگی کو تین زاویوں کا مثلث بتلایا ہے۔ شاعری، ڈراما اور سیاست۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مخدوم ڈراما نگار بھی تھے، ہدایت کار بھی اور اداکار بھی۔ وہ ایک طربیہ (Comedian) اداکار تھے۔
	سچ پوچھا جائے تو مخدوم کا پہلا زینہ ’’ڈرامہ نگاری‘‘ ہی ہے۔ مخدوم نے طالبِ علمی کے دور میں ایک نظم ’’پیلا دوشالہ‘‘ منظوم کی تھی۔ وہ ایک وقتی تاثر تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس نظم سے ان کی شعری صلاحیت کا اندازہ ضرور ہوا۔
	مخدوم کی ڈرامہ نگاری اور اداکاری کو ایک غیر شعوری فعل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے ایک مقالہ ’’اردو ڈراما اور اسٹیج‘‘ ایم۔اے کے امتحان کے لیے سپردِ قلم کیا تھا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں اس فن کے تعلق سے کس قدر جان کاری تھی۔
	مخدوم نے اپنے مقالے کو دس ابواب (Chapters) میں تقسیم کیا تھا۔ اس میں ڈرامے کے آغاز اور ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے ساتھ ہی اس کا تعلق ہندی و دیہی ڈراموں سے بتلایا ہے جدید تھیٹر اردو ڈراموں کی خصوصیات اور دوسری زبانوں سے تراجم کا بھی ذکر ہے۔ ان کی نظر میں اردو ڈراما نگاری کی تاخیر کی وجہ فاتح اور مفتوح کا ایک دوسرے کی زبان سے واقفیت ہے۔
	مخدوم نے جدید تھیٹر کے بارے میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ’’جنگ پلاسی‘‘ (۱۷۰۷ئ) سے پہلے ہی کلکتہ میں تھیٹر موجود تھا۔ جو ہندستان میں مغربی تھیٹر کا مرکز بنا۔ یہ یورپین تاجروں، پادریوں، افسروں کے علاوہ بنگالی زمین دار اور معززین شہر کی تفریح گاہ تھا۔
	جدید تھیٹر کے عروج کی ایک اور وجہ مخدوم کی دانست میں لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی تھی۔ ۱۸۲۳ء سے نصاب میں انگریزی ڈرامے بھی شامل کیے گئے تھے۔ نتیجتاً مغربی افکار، فن ڈراما اور اسٹیج کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ لوگوں میں ڈرامے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ مرہٹی اور کنڑی زبانوں میں بھی ناٹک لکھے گئے۔ پارسیوں نے اسے قومی روایات کی پیش کشی کے ایک موثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔
	مخدوم نے بالکل صحیح نتیجہ اخذ کیا۔ان کے خیال میں پارسیوں نے بڑی دور اندیشی سے لسانی اختلاف کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے مقام پر جہاں مختلف زبانیں جاننے والے ہوں ایک ایسی زبان کو وسیلہ اظہار بنایا جو عام فہم ہونے کے علاوہ ہندستان کے گوشے گوشے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور یہ خوش نصیب زبان ’’اردو‘‘ تھی۔ اس کا اثر ہندستان کی دوسری زبانوں اور تھیٹر پر بھی ہوا۔ مگر جو مقبولیت ’’اردو ڈراموں ‘‘ کو حاصل ہوئی وہ دیگر زبانوں کو حاصل نہ ہو سکی۔
	مخدوم نے اردو کی اس خوش نصیبی کی سراہا ہے کہ اسے کاروباری سرپرستی نصیب ہوئی۔ اردو زبان میں ڈرامائی ادب کا اضافہ ہوا لیکن انھیں اس کا بھی افسوس تھا کہ ڈرامے ادبی تحریک کی بھرپور ترجمانی کرنے سے قاصر ہیں۔ صرف تاجرانہ مقاصد کے تحت اوسط درجے کے تماشا بینوں کی تفریح کے غماز ہیں۔ڈراموں میں ادبی و فنی محاسن نہیں سوائے تفریحی عناصر کے اور کر دار سازی پر بھی توجہ نہیں کی گئی۔مخدوم نے ایک اور اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے ان کے خیال ڈرامے کتب خانوں یا گھروں میں بیٹھ کر پڑھنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ اسٹیج کے لیے لکھے جاتے ہیں۔ ڈرامے کا تصور اسٹیج کے بغیر ممکن نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ مکالموں کی ادائی، چہرے کے تاثرات، حرکات و سکنات، جذبات کی عکاسی کا اندازہ اسٹیج ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔
	حیدرآباد میں چند با شعور افراد نے ناٹک کی معاشرتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک ادارہ ’’انجمن اصلاح خیال‘‘ کے نام سے ۱۹۰۰ء میں قائم کیا۔ جامعہ عثمانیہ کی تاسیس ۱۹۱۹ء کے بعد ڈراما نگاری نے ترقی کی، طبع زاد ڈرامے بھی لکھے گئے اور مغرب کے شاہکار ڈراموں کا ترجمہ اردو میں کیا گیا۔
	روسی محقق الیکسی سوخاچیف نے لکھا ہے کہ جامعہ عثمانیہ کی ادبی و تہذیبی فضا نے مخدوم کی صلاحیتوں کے ابھارنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بہ طور خاص ہاسٹل کے طالبِ علموں کو ایسے مواقع زیادہ میسر آتے تھے۔ مخدوم نے عزیز احمد کے ڈرامے ’’طالبِ علمی کا زمانہ‘‘ میں اداکاری کی۔ ۱۹۳۱ء میں اشتیاق حسین قریشی کے ڈرامے ’’ہم زاد‘‘ میں بھی انھوں نے وزیر کا کر دار بڑی خوبی سے نبھایا۔ بہ قول مرزا ظفر الحسن مخدوم خوب چمکا، بلکہ حق تو یہ ہے کہ اس نے ڈرامے کو چمکایا۔
مرزا ظفر الحسن کے one act play ’’نیا ہنر مند‘‘ میں مخدوم نے جاگیردار کے بھتیجے کا رول شان دار طریقے پر ادا کیا۔
	مخدوم نے تین ڈرامے لکھے۔ پہلا ’’ہوش کے ناخن‘‘ یہ ڈرامہ پروفیسر حسین علی خاں کی ایما پر میر حسن اور مخدوم نے تحریر کیا تھا، جو جارج برناڈشا کے ڈرامے Widowers House کا بہترین ترجمہ ہے۔مقامی اعتبار سے کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں پُر تکلف زبان کے علاوہ ٹھیٹ دکنی کا بھی استعمال کیا ہے۔ کر دار کی نوعیت کے لحاظ سے مکالمے قلم بند کیے گئے ہیں۔ ’’بندہ علی‘‘ اور ’’شب رنگ‘‘ چوں کہ ان پڑھ تھے اس لیے ان کی مناسب سے، گفتگو کا انداز بھی ویسا ہی ہے۔ غضنفر کے مکالموں سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت چالاک اور معاملہ فہم شخص ہے۔ قاری عبدالعزیز کی بات چیت میں ایک خوشامد ی اور درباری کی جھلک نمایاں ہے۔
	یہ ڈراما (ہوش کے ناخن) ۱۶/ دسمبر ۱۹۲۴ء کو سالانہ جشن عثمانیہ کی تقریبات کے سلسلے میں ’’لیاقت منزل‘‘ میں اسٹیج کیا گیا تھا۔ مخدوم کو بہترین ادکاری پر انعام بھی ملا ان کی ایکٹنگ سے لوگ خوب لطف اندوز ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا نمائندہ اجتماع نہ صرف جامعہ عثمانیہ کی تاریخ میں بلکہ حیدرآباد کی سماجی زندگی کی پوری تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس میں دکنی معاشرے کی جھلکیاں بڑی خوبی سے پیش کی گئی تھیں۔
	’’ہوش کے ناخن‘‘ کے ناظرین میں نظام، شہزادے، بے شمار مصاحبین کے علاوہ مہاراجا کشن پرشاد، سر اکبر حیدری، بلبل ہند سروجنی نائیڈو اور رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عظیم ہستیاں بھی موجود تھیں۔ مخدوم کو ٹیگور نے عمدہ ڈراما لکھنے اور باصلاحیت اداکاری پر مبارک باد دی۔ علاوہ ازیں حصولِ علم کے لیے شانتی نکتین آنے کی دعوت بھی دی۔
	مخدوم نے ایک طربیہ ڈراما (Comedy) ’’مرشد‘‘ بھی لکھا ہے۔ کوئٹہ کے زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے مرزا ظفر الحسن کا ڈراما ’’ہوش ربا‘‘ اسٹیج کیا اور اس کی آمدنی نواب اعظم جاہ بہادر ولی عہد سلطنت کے فنڈ میں جمع کی۔ جب اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں کو معلوم ہوا کہ عثمانین زلزلے کے مصیبت زدگان کی امداد کے لیے کر رہے ہیں تو بہت خوش ہوئے اور بار بار ہر ایک کو مخاطب کر کے کہہ رہے تھے کہ میرے بچے ڈراما کر رہے ہیں ہم سب ڈنر کے بعد جائیں گے۔
	اعلیٰ حضرت اور شہزادگان کے علاوہ مولانا شوکت علی اور خواجہ حسن نظامی بھی ناظرین میں شامل تھے۔ ’’مرشد‘‘ کی ایکٹنگ مخدوم کر رہے تھے۔ ان کا میک اپ بالکل خواجہ صاحب کی طرح تھا۔ ناظرین میں دونوں خصوصی مہمان بھی محظوظ ہوئے۔
	مخدوم کی آخری تین ایکٹ کا ڈراما ’’پھول بن‘‘ چیخوف کے ڈرامے ’’باغ بنفشہ کا ترجمہ ہے۔ اس کا موضوع مخلوط تعلیم ہے۔ تین ایکٹ میں چھ سین ہیں اور چودہ کر دار جن میں زنانہ کر دار بھی شامل ہیں۔ مخدوم نے مرد کا کر دار اور مرزا ظفر الحسن نے ’’مس ارورہ‘‘ کا پارٹ ادا کیا۔
	مخدوم نے تین قابلِ تعریف کر دار ادا کیے ہیں۔ ’’ہوش کے ناخن‘‘ کے قاری عبدالعزیز اور ’’ظاہر باطن‘‘ کے لالہ گوہری رام مہاجن کے پارٹ کو مخدوم نے بڑی خوبی سے ادا کیا۔ تیسرا کر دار ’’حشرات الارض‘‘ کے مولوی خیر الامور، مطبع کے مالک کا تھا۔
	مرزا شکور بیگ نے اس کر دار کا حلیہ بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں ’’خیر الامور کے سر پر سفید نقشی کام کی گول ٹوپی، جسم پر مہین ململ کی شیروانی، ٹھڈی پر سفید داڑھی، مونچھیں کتری ہوئیں، آنکھوں میں سرمہ ناک پر عینک، اندازہ کیجیے کہ اس ہیئت کذائی میں مخدوم کیسا دکھائی دیا ہو گا۔‘‘
	مکالموں کی ادائیگی ملاحظہ کیجیے مخدوم جب اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیر کر فاتحانہ انداز میں کہتا ہے کہ ’’ صاحب زادے یہ بال میں نے دھوپ میں سفید نہیں کیے۔‘‘ تو تھیٹر قہقہوں سے گونج اٹھتا۔
	محمد یحییٰ صدیقی (جو محکمہ پولیس کے ایک تجربہ کار افسر اور حیدرآباد سرویس کے رکن تھے ) نے مخدوم کی اداکاری کو اس طرح سراہا ہے۔
’’مزاحیہ اداکاری بہت اچھی کرتے ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس صف میں حیدرآباد میں چوٹی کے اداکار ہیں تو مبالغہ نہ ہو گا۔ تبدیلی ہیئت کے بعد آپ کی صورت اتنی مضحکہ خیز بن جاتی ہے کہ دیکھنے والوں کو خواہ مخواہ بھی ہنسی آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیج پر آ جانا ہی لوگوں کو ہنسانے کے لیے کافی ہے۔ سب سے اہم خصوصیت جو ان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے یہ ہے کہ چہرے کے اتار چڑھاؤ سے اپنے اندرونی جذبات کو ظاہر کرنے میں خاص قدرت رکھتے ہیں جو حیدرآباد کے کسی اداکار کو نصیب نہیں۔‘‘
’’ہوش کے ناخن‘‘ کے مکالموں سے ہی مخدوم کی بذلہ سنجی کا اندازہ ہوتا ہے جو محفل کو زعفران زار بناتی تھی۔ قاری عبدالعزیز کا کر دار مخدوم نے اس طرح پیش کیا۔
غضنفر	:اس خط نویسی کے کام کی وجہ سے دماغ پر گرانی معلوم ہوتی ہے۔ آپ تو ماشا اللہ قاری ہیں کچھ اپنی قرات سے محظوظ فرمائیے۔
قاری (مخدوم):	قبلہ معاف فرمائیے۔ میں کہاں کا قاری۔ افسوس کہ یہ شرف مجھے حاصل نہیں۔ صرف عبدالعزیز سامعہ کو گراں معلوم ہوتا تھا۔ اس لیے قاری کا لفظ نام کے آگے بڑھا لیا۔ تقدیم و تاخیر کاخیال نہ فرما کر اسے تخلص ہی سمجھ لیجیے۔
	مخدوم نے عابد حسین کی تحریر کردہ تمثیل ’’غفلت‘‘ کے علاوہ ’’نئی روشنی‘‘، ’’طبیب حاذق‘‘، ’’غلط در غلط‘‘ کے ذریعے اپنی اداکاری کا لوہا منوا لیا۔ الیکسی سوخاچیف نے مخدوم کی ڈراما نگاری اور اداکاری کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے 
 ’’یونی ورسٹی میں تعلیم سے فراغت پانے کے بعد مخدوم نے دوبارہ نہ ہی ڈراما نگاری کی طرف توجہ دی اور نہ ہی اداکاری کی طرف، اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ ادبی زندگی میں ان کی یہ سرگرمیاں لاحاصل نہیں رہیں ‘‘۔
٭٭٭

 
سلیمان اطہر جاوید

مخدوم کی غزل


	مخدوم کو محبت اور محنت کا شاعر کہا گیا ہے۔۔۔۔۔واقعہ یہ ہے کہ ہمارے بہت کم شاعروں کی زندگی اسی جہد اور جہد مسلسل سے عبارت رہی ہے جیسی کہ مخدوم کی۔ ۲۵، ۲۶ سال کی عمر میں کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ ہوئے جب کہ سابق ریاستِ حیدرآباد میں اس پارٹی پر پابندی تھی۔ اس وجہ سے مخدوم کو مختلف اوقات میں اپنی زندگی کے کئی سال روپوشی اور قید میں گزارنے پڑے اور یہی لگ بھگ پچیس سال کی عمر ہو گی انھوں نے شعر گوئی کا آغاز کیا۔ مخدوم کا پہلا مجموعہ کلام ’’سرخ سویرا‘‘ ۱۹۴۴ء میں شائع ہوا جب کہ مخدوم قید میں تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مجموعہ میں کوئی غزل نہیں۔ گویا مخدوم نے خود کو نظم کے شاعر کی حیثیت سے متعارف کرایا اور منوایا۔ یہ اور بات ہے کہ ’’سرخ سویرا‘‘ کی بعض نظموں میں تغزل کی کیفیت موجود ہے۔ انھوں نے غزلیں نہ کہی ہوں لیکن اسی زمانے میں انھوں نے ’’بزبان غزل‘‘ بہت کچھ کہا ہے۔ ہاں بس صنف غزل سے انھوں نے اپنے قلم کو بچائے رکھا اس کے اور جو بھی اسباب ہوں، ایک سبب یویناً یہ بھی ہو گا کہ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ترقی پسند بالعموم صنف غزل کو کچھ اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ چناں چہ ’’سرخ سویرا‘‘ کی اشاعت کے کوئی پندرہ سال بعد تک مخدوم نے غزل نہیں کہی۔ مخدوم کی پہلی غزل جس کا مطلع ہے 
 سیماب وشی، تشنہ لبی، باخبری ہے 
اس دشت میں گر رخت سفر ہے تو یہی ہے 
 انھوں نے ۱۹۵۹ء میں کہی اور وہ بھی بمبئی میں منعقدہ ایک طرحی مشاعرہ کے لیے۔۔۔۔۔ یوں مخدوم کی غزل گوئی کا آغاز ہوتا ہے۔ ویسے مجموعی طور پر مخدوم کا شعری سرمایہ ہے ہی کم لیکن ان کی غزلوں کی تعداد اور کم ہے، یعنی صرف (۲۱)۔۔۔۔۔تعداد میں کم ہونے کے باوجود مخدوم کی غزل اپنی ایک پہچان، ایک شناخت رکھتی ہے۔
	مخدوم نے شاعری میں کچھ ایسے تجربے نہیں کیے ہیں۔ یہاں تک ہیئت کا تعلق ہے، چند ایک کو چھوڑ کر ان کی زیادہ تر منظومات پابند ہیں۔ دراصل مخدوم کی شاعری فکر کے اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے اور اپنے موضوعات کی وجہ سے متوجہ کرتی ہے۔ ان کی غزلیں بھی تعداد میں زیادہ نہ ہوں لیکن ان کو پڑھتے ہوئے مخدوم کے مزاج، فکر اور زندگی کے بارے میں ان کے نقطہ نظر تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور ان کے رومانی مزاج اور حسن سے وابستگی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
	مخدوم نے اپنے آپ کو زیادہ تر پارٹی کی سرگرمیوں کے لیے وقف رکھا۔ عوامی سیاست ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، جس قدر وقت کہ دینا چاہیے تھا انھوں نے شاعری کے لیے نہیں دیا۔ جذبات جب بہت زیادہ شدت اختیار کر چکے ہوں اور یوں کہیے کہ شعر اپنے آپ کو لکھوانے کے لیے شاعر کو مجبور کر رہا ہو انھوں نے تب ہی شاعری کی ’’گل تر‘‘ کے پیش لفظ میں انھوں نے لکھا ہے :
’’گلِ تر کی نظمیں، غزلیں انتہائی مصروفیتوں لکھی گئی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں لکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہوں۔ سماجی تقاضے پر اسرار طریقے پر شعر لکھواتے رہے ہیں۔‘‘
	کمیونسٹ پارٹی سے گہری اور اٹوٹ وابستگی کے باوجود مخدوم کی سیاسی زندگی اور ادبی زندگی قدرے تفاوت سا رہا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں جتنے بھی انقلابی، باغی یا احتجاجی رہے ہوں، بہ حیثیت شاعر ان پر رومانیت غالب ہے۔ وہ یہاں تصوراتی اور تخیل پسند زیادہ ہیں۔ یہ چیز ان کی غزلوں ہی میں نہیں ان کی نظموں کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے من حیث المجموع ان کی شاعری کے بارے میں عرض کر رہا ہوں۔
	مخدوم کی بعض منظومات نہایت جوشیلی، بڑی گونج گرج کی حامل اور ولولہ انگیز ہیں بلکہ قاری بھی جولانی اور گرمی محسوس کرتا ہے۔ ’’باغی‘‘، ’’جنگ‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’موت کا گیت‘‘، ’’دھواں ‘‘، ’’آزادی وطن‘‘، ’’حویلی‘‘، ’’مستقبل‘‘، ’’قمر‘‘، ’’روح مغفور‘‘، ’’زلف چلیپا‘‘، ’’سپاہی‘‘، ’’اندھیرا‘‘، ’’جنگِ آزادی‘‘، ’’بنگال‘‘، ’’تلنگانہ‘‘ اور ’’قید‘‘۔۔۔۔۔ لیکن اس پہلو سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے کہ ان میں ’’تلنگانہ‘‘ اور ’’قید‘‘ کے علاوہ ساری نظمیں ’’سرخ سویرا‘‘ کے پہلے ایڈیشن میں شامل ہیں جس میں مخدوم کے موسومہ سبط حسن کا مکتوب بہ طور ’’دیباچہ‘‘ موجود ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مخدوم کی شاعری کا انقلابی اور احتجاجی رویہ ’’سرخ سویرا‘‘ کے پہلے ایڈیشن تک رہا۔ ویسے اس دور کی بیش تر منظومات مثلاً ’’طور‘‘، ’’ساگر کے کنارے ‘‘، ’’تلنگن‘‘، ’’سجدہ‘‘، ’’لمحۂ رخصت‘‘، ’’جوانی‘‘، ’’یاد ہے ‘‘، ’’شاعر‘‘، ’’انتظار‘‘، ’’برسات‘‘، ’’انتساب‘‘، ’’نامۂ حبیب‘‘، ’’وہ‘‘ اور ’’پشیمانی‘‘ پر رومانیت اور حسن و عشق کی فضا چھائی ہوئی ہے اور رہی غنائیت تو لگ بھگ ان کی ہر نظم میں یہ ایک اہم عنصر ہے۔۔۔۔۔ من بعد مخدوم کے کلام میں انقلاب اور احتجاج کی آنچ کم ہوتی جاتی ہے اور رومانیت نسبتاً فزوں۔ اس کی وجہ یہ بھی رہی ہو گی کہ ۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی کے بعد اس نوع کی شاعری ویسے ممکن نہ تھی۔ چناں چہ ان کے ہاں ’’چاند تاروں کا بن‘‘ لوممبا کے قتل پر لکھی گئی نظم ’’چپ نہ رہو‘‘، ’’وقت بے درد مسیحا‘‘ جیسی منظومات ملتی ہیں جن میں بہر کیف انقلاب اور احتجاج کی بلند آہنگ نہیں اور اب تو انھوں نے غزلیں بھی کہنی شروع کر دی تھیں یہاں تک کہ ان کی ایک نظم کا عنوان ہی ’’جانِ غزل‘‘ ہے۔
	مخدوم کی غزل میں یہ بجا، ایسا روایتی اور کلاسیکی انداز نہ ہو بہر کیف رومان کی چاشنی، تغزل اور سرشاری کی کیفیات سے ان کی غزلیں سجی رہتی ہیں اور حسن محبوب کے تذکرے سے مزین اور یہ کچھ غیر ارادی طور پر نہیں، خود مخدوم کو غزل کے اور اپنی غزل کے اس رنگ کا بہ خوبی احساس تھا۔ تب ہی تو وہ کہتے ہیں :
کمانِ ابروئے خوباں کا بانکپن ہے غزل
تمام رات غزل گائیں دید یار کریں 
	آپ اس کو غزل کی جیت کہیے یا کچھ اور لیکن مخدوم کی غزل اس طرح بھی کامیاب ہے۔ ہاں انھوں نے اس خصوص میں روایت سے ہٹ کر چلنے کی سعی کرتے ہوئے اپنی شناخت پیدا کی ہے یہ شاعری روایتی معلوم نہیں ہوتی۔ حسن و عشق کے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے غزلوں کے ہمہ اشعار ملاحظہ ہوں :

اک شہر میں اک آہوئے خوش چشم سے ہم کو
کم کم ہی سہی نسبتِ پیمانہ رہی ہے 

اس اندھیرے میں اجالے کا گماں تک بھی نہ تھا
شعلہ رو، شعلہ نوا، شعلہ نظر سے پہلے 

شمیمِ پیرہنِ یار کیا نثار کریں 
تجھی کو دل سے لگائیں تجھی سے پیار کریں 

پھر بلا بھیجا ہے پھولوں نے گلستانوں سے 
تم بھی آ جاؤ کہ باتیں کریں پیمانوں سے 

جہاں بھی بیٹھے ہیں جس جا بھی رات مے پی ہے 
انھیں کی آنکھوں کے قصے، انھیں کے پیار کی بات

روشن ہے بزمِ شعلۂ رخاں دیکھتے چلیں 
اس میں وہ ایک نورِ جہاں دیکھتے چلیں 

بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزہ آخرِ شب
اور بھی سرخ ہے رخسارِ حیا آخرِ شب

شہر میں دھوم ہے اک شعلہ نوا کی مخدوم
تذکرے رستوں میں چرچے ہیں پری خانوں میں 

چشم و رخسار کے اذکار کو جاری رکھو
پیار کے نغمے کو دہراؤ کہ کچھ رات کٹے 

آنکھوں میں حیا، لب پہ ہنسی آ تو رہی ہے 
آغوشِ سحر میں کوئی شرما تو رہا ہے 

	میں نے یہاں کم از کم اشعار کا انتخاب کیا ہے او ر ہر غزل سے صرف ایک شعر۔ ورنہ انہی غزلوں سے اور کئی اشعار بہ آسانی منتخب کیے جا سکتے ہیں۔ و نیز ان غزلوں کے تقریباً سارے اشعار اسی ذیل میں جن کے پہلے مصرعے یہ ہیں :
یہ کون آیا ہے تنہائیوں میں جام لیے 
ساز آہستہ ذرا گردشِ جام آہستہ
پھر چھڑی رات بات پھولوں کی
تم گلستاں سے گئے ہو کہ گلستاں چپ ہے 
	اور جہاں تک لفظیات کے سرمایہ، ترکیبات، تشبیہات اور استعارات وغیرہ کا تعلق ہے، مخدوم کی غزل (بلکہ کل شاعری) اردو شاعری کی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ فیض کی شاعری کی طرح۔ یہ اور بات ہے کہ فیض اور مخدوم نے ان الفاظ اور تشبیہات وغیرہ کو آج کے سیاسی اور معاشرے میں نئے معانی اور نئے مفاہیم کا حامل بنا دیا ان کی تقدیر ہی بدل دی۔ مخدوم اپنی زندگی میں کتنے ہی آزاد رہے ہوں اس معاملے میں وہ روایات کے پابند نظر آتے ہیں۔ اس کا اندازہ کچھ ان ترکیبوں وغیرہ سے ہو گا۔ سیماب وشی، تشنہ لبی، آہوئے خوش چشم، صحبتِ رخسار کا کل شب رنگ، شعلہ رو، شعلہ نوا، شعلۂ نظر، گنجِ قفس، دشتِ الم فزا، شمیمِ پیرہنِ یار، کمانِ ابروئے خوباں، یارِ غم گسار، سر چشمِ وفا، بزمِ شعلہ رخاں، رقص گہِ گل رخاں، نقشِ کفِ پا، مینائے زر فشاں، خیمۂ شب اور خوئے بتاں وغیرہ۔۔۔۔۔
	اردو غزل کچھ ایسی لوچ و لچک کی حامل ہے کہ ہم ایک ہی شعر کو مختلف معانی پہنا دیتے ہیں۔ غزل کے اشعار میں تصوف کی مہک تو عام طور پر محسوس کی جاتی ہے اور ایسے بھی بیش تر اشعار ہیں جو ہیں تو عشق مجازی کے لیکن پڑھنے والے جن میں عشق حقیقی کا لطف پاتے ہیں۔ و نیز شعر تو یادِ محبوب لیے ہوتا ہے۔ آپ اسے وطن کی محبت میں بھی گنگنا لیجیے۔ خصوصاً فیض احمد فیض کے یہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں۔ مخدوم کے ہاں بھی ایسے اشعار مل جائیں گے جو اپنے طور پر خواہ کیسے ہی ہوں کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ ان سے شاعر کی حب الوطنی کی ترجمانی ہوتی ہے۔ جی ہاں، غزل کے اشعار۔۔۔۔۔ مثلاً:
جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوار
پھول کھلتے ہیں درِ مے کدہ وا ہوتا ہے 
ایک جھونکا ترے پہلو کا مہکتی ہوئی یاد
ایک لمحہ تری دلداری کا کیا کیا نہ بنا
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر
	ظاہر ہے یہ ’’یاد‘‘ محبوب کی بھی ہو سکتی ہے اور وطن کی بھی۔۔۔۔۔لیکن مخدوم چوں کہ اپنی عملی زندگی میں مجاہد آزادی رہے ہیں اس لیے ان کی غزلوں میں ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جن سے وطن کی راہ میں ان کی سخت کوشی اور آبلہ پائی کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے جذبہ کی صداقت، عزم و حوصلہ کی بلندی اور عالی ہمتی مترشح ہوتی ہے۔ یہ اشعار:
اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ شوق
جز تیرے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے 
دراز ہے شبِ غم سوز و ساز ساتھ رہے 
مسافرو! مئے مینا گداز ساتھ رہے 
قدم قدم پہ اندھیروں کا سامنا ہے 
سفر کٹھن ہے، دمِ شعلہ ساز ساتھ رہے 
	وطن کی آزادی، اس کی خوش حالی، ترقی، بہبودی اور امن و آشتی کے لیے ایثار و قربانی کرنے، اپنے شب و روز کو وقف کر دینے اور وطن کے ایک خوش آئند مستقبل کے لیے جہدِ پیہم سے کام لینے کے با وصف یہ حقیقت ہے کہ حالات مایوس کن ہیں۔ فضائیں تیرہ و تازہ، غیر یقینی عام، جبر و استحصال ہر سو، قدغن اور تحدیدات قدم قدم اور فرد کہ بے بس و بے کس۔۔۔۔۔ ہر سمت ایک سوالیہ نشان، انتشار، تشنگی اور اندھیرے، اندھیرے، اندھیرے ہی اندھیرے۔ کل کیا ہو گا، صبح کیا ہو گا؟ کسی کو خبر نہیں، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس دور کے ترقی پسندوں کے ہاں ایسے اشعار بالعموم مل جاتے ہیں۔ مخدوم کے ہاں بھی۔ حالات سے مفر کب اور کس کو ہے ؟
کون جانے کہ ہو کیا رنگ سحر رنگ چمن
مے کدہ رقص میں ہے پچھلے پہر سے پہلے 
یہ زرد زرد اجالے یہ رات رات کا درد
یہی تو رہ گئی اب جانِ بے قرار کی بات
یہ تمنا ہے کہ اڑتی ہوئی منزل کا غبار
صبح کے پردے میں یاد آ گئی شام آہستہ
سن رہا ہوں حوادث کی آواز کو پا رہا ہوں زمانے کے ہر راز کو
دوستو، اٹھ رہا ہے دلوں سے دھواں، آنکھ لینے لگی ہچکیاں دوستو!
شام سلگاتی چلی آتی ہے زخموں کے چراغ
کوئی جام آیا تو کیا کوئی گھٹا چھائی تو کیا
	اس ضمن میں ’’بساطِ رقص‘‘ کی آخری غزل ’’گلوئے یزداں میں نوکِ سناں بھی ٹوٹی ہے ‘‘ خصوصیت کی حامل ہے کہ اس میں رومانیت کے مقابلہ میں حقیقت اور احتجاجی لب و لہجہ ہے۔
	اور مخدوم کے ہاں ایسے شعر بھی مل جائیں گے جن میں انھوں نے بڑی حد تک راست اظہار سے کام لیا ہے۔ ملک کے فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں اس شعر کو پڑھیے :
دیپ جلتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے 
اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے 
مخدوم کے ہاں ایسے اشعار بھی ہیں جن میں غم دوراں اور غمِ جاناں دونوں ایک جان دو قالب ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے محبت اور محنت کو ہم آمیز کر دیا ہے کہ ان دونوں سے ایک تصویر کی تکمیل ہوتی ہے۔ تغزل اور ترنم کی کارفرمائی تو ہے ہی۔ چند اشعار:
ہر شام سجائے ہیں تمنا کے نشیمن
ہر صبح مے تلخی ایام بھی پی ہے 
یہ کوہ کیا ہے، یہ دشتِ الم فزا کیا ہے 
جو اک تری نگہِ دل نواز ساتھ رہے 
دلوں کی تشنگی جتنی، دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسنِ یار کی بات
آج تو تلخی دوراں بھی بہت ہلکی ہے 
گھول دو ہجر کی راتوں کو بھی پیمانوں میں 
	مخدوم کی زندگی ہمت و حوصلہ سے عبارت تھی۔ نامساعد حالات لیکن پھر بھی عزم محکم اور جواں۔ ان کی منظومات میں تو ایسے کئی اشعار مل جائیں گے لیکن غزلوں میں بھی کہیں کہیں ایسے اشعار مل جاتے ہیں :
اٹھو کہ فرصت دیوانگی غنیمت ہے 
قفس کو لے کے اڑیں گل کو ہم کنار کریں 
کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں 
غم زدو، تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے 
مخدوم نے زندگی بھر اور گراں اور گراں کوہ غم کا سامنا کیا ان کو ہنستے ہوئے اٹھایا لیکن اسی کے ساتھ اپنے تیشے کو بھی چمکاتے رہے کہ انھوں نے حالات و حوادث کی یہ پہاڑ جیسی رات، یہ پہاڑ ایسے ہی نہیں کاٹے۔ 
	مخدوم کی غزلوں کا سرمایہ کمیت کے اعتبار سے کم ہے لیکن کیفیت کے اعتبار سے اس کی قدر و قیمت سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ ان کی غزلیں (۲۱) سہی لیکن اول تو کوئی (۲۱) غزلیں کہنے والا شاعر ہمارے ادب میں معتبر نہیں رہا۔ و نیز بہت کم شاعر ایسے ہوں گے جن کی صرف (۲۱) غزلوں سے اتنے اشعار منتخب کیے جا سکتے ہوں جتنے مخدوم کی غزلوں سے۔۔۔۔۔ یہ بھی مخدوم کی غزل کا ایک قابلِ توجہ، مثبت، وقیع اور جامع پہلو ہے !
٭٭٭


 
 پروفیسر رحمت یوسف زئی


مخدوم کی شعری جمالیات


	حیدرآباد کے ساتھ مخدوم کا نام ایسے ہی جڑا ہے جیسے چار مینار کے بغیر حیدرآباد ادھورا ہے۔ حیدرآباد کی ادبی، سماجی زندگی کا ذکر چھڑے تو مخدوم کا ذکر ناگزیر ہے۔ حیدرآباد کے تمام شعرا میں سب سے زیادہ چاہا جانے والا شاعر مخدوم ہی تو ہے۔ مخدوم کی سیاسی زندگی اور ان کے سیاسی افکار سے ہٹ کر ان کی شخصیت میں جھانک کر دیکھیے تو ایک سیدھا سادہ، سچا، محبت کرنے والا، دوستوں پر جان نثار کرنے والا، حسن و جمال کی قدر کرنے والا شخص مسکراتا، قہقہے لگاتا نظر آئے گا۔ سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کے باوجود مخدوم کے چہرے کی ملکوتی مسکراہٹ ہمیشہ اپنا جادو جگاتی رہی۔ انھوں نے زندگی کو اپنے انداز سے برتا۔
	 انسان عجیب فطرت کا حامل ہے۔ ناہمواری، تضاد اور پیچیدگی اسے ہمیشہ ناپسند رہی۔ لیکن انسان کی مجبوری یہ ہے کہ ناہمواری تضاد اور پیچیدگیوں کے بغیر اس کی زندگی ادھوری سی لگتی ہے۔ انسان بنیادی طور پر حسن پرست ہے۔ حدیث مبارک ہے، ان اللہ جمیل ویحب الجمال اور ظاہر ہے کہ پروردگار نے انسان کو اپنی چند خصوصیات سے متصف کر کے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا،یعنی اگر خدا کو جمال پسند ہے تو انسان کو بھی جمال پسند ہونا لازم ہے۔ جمال اور ناہمواری ایک دوسرے کی ضد کہے جا سکتے ہیں لیکن دلچسپ پہلو یہ کہ انسان ناہمواریوں اور تضادات کو کچھ اس طرح اپنے تصرف میں لے آتا ہے کہ انہی ناہمواریوں اور تضادات کے بطن سے حسن جنم لیتا ہے۔ بیکن نے تناسب کے انوکھے پن میں حسن کو محسوس کیا تھا۔ یہی انوکھا پن ہے جو ایک خوب صورت اور سجے ہوئے ڈرائنگ روم میں ایک خاص سلیقے سے رکھے گئے کے کیکٹس یا گل دان میں معمولی گھاس کی آڑی ترچھی پتیوں کو ایک خاص انداز میں لگانے سے دلکشی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے کانٹ کہتا ہے کہ حسن دراصل انسان کی نظر میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ مخدوم بھی حسن پرست تھے۔ وہ بھی حسن کی لذتوں سے ہم کنار ہونے کا جذبہ رکھتے تھے۔ حسن کو محسوس کرنے کی صلاحیت ان میں بے پناہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی جا بجا ایسے مقامات ملتے ہیں جہاں انھوں نے حسن کو مختلف جہتوں کو اپنے استعاروں اور علامتوں سے اجاگر کیا۔ مخدوم بنیادی طور پر ترقی پسند تھے۔ اس کے باوجود مخدوم نے غزل کو سینے سے لگائے رکھا۔ غزل کا جادو ہی کچھ ایسا ہے کہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مخدوم غزل کے منکر نہ تھے۔ کیوں کہ غزل میں جمالیاتی عنصر کسی اور صنف کے مقابلے میں زیادہ خوب صورتی سے جلوہ افروز ہوتا ہے۔ ایجاز و اختصار کے ساتھ لطیف اور نازک جذبات میں ہلچل پیدا کرنے کا کام جس خوب صورتی سے غزل کا شعر انجام دے سکتا ہے اس طرح شاید کسی اور صنف کے لیے ممکن نہیں۔ مخدوم اس رمز سے واقف تھے اس لیے اپنی جمالیاتی حس کی تسکین کے لیے انھوں نے غزل کی دیوی کو بھی وسیلہ بنایا۔ چناں چہ غزل کے بارے میں وہ کہتے ہیں :
کمان ابروئے خوباں کا بانکپن ہے غزل
	لیکن غزل سے ہٹ کر ان کا تصور جمال نظموں میں بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ حسن کا ایک لازمی نتیجہ کیف و سرور بھی ہے۔ مخدوم اس کیف و سرور کے شیدائی ہیں جو حسن کے توسط سے ذہنوں کو اسیر کر لیتا ہے۔ ان کی ایک نظم ’’نورس‘‘ کے دو شعر ملاحظہ کیجیے :
حوروں کے بہشتی نغموں سے جو راگ بنے وہ راگ ہے وہ
جس سے کہ کلیمی ملتی ہے کچھ ایسی ہی اک آگ ہے وہ
	دوشیزگی کا ایک وصف شوخی اور الہڑ پن بھی ہے۔ تبھی تو حسن اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ ابھرتا ہے۔ مخدوم اپنی شعری تخلیقات میں اس بات کو ملحوظ رکھتے ہیں کہ حسن کی تصویر کشی میں شوخی اور الہڑ پن کا بھی عنصر موجود رہے۔ ان کی نظم جوانی کے یہ دو شعر دیکھیے :
اعضا میں لچک ہے تو ہے اک لوچ کمر میں 
اعصاب میں پارہ ہے تو بجلی ہے نظر میں 
آنے لگی ہر بات پہ رک رک کے ہنسی اب
رنگین تموج سے گراں بار ہوئے لب
	مخدوم کی لفظیات، تشبیہیں، استعارے اور علامتیں جذبات اور احساسات کی ایک وسیع کائنات ہیں اور اس کائنات کے سفر میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا قاری بھی شامل ہو جاتا ہے۔ کاسۂ دریوزہ گری، شمعِ شبستان خیال، نسخۂ کیمیائے محبت، رات کی تلچھٹیں، کامدیو کی کمان، جسم کا سورج اور ایسی بے شمار تراکیب مخدوم کی شعریات کا اہم جز ہیں، جن سے نہ صرف وہ پیکر تراشتے ہیں بلکہ اس عمل میں قاری کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مخدوم کی جمالیات مشرقی اقدار سے منسلک ہے۔ انھیں ہندستان اور خصوصاً دکن کی مٹی اور یہاں کے ذرے ذرے میں بکھرے ہوئے حسن سے بے پناہ محبت ہے۔ وہ مغربی لبادوں پر ہندوستانی ملبوس کو اہمیت دیتے ہیں۔ غازہ اور لپ اسٹک سے سجے چہرے کے بجائے سادہ اور سرخ لب و رخسار انھیں زیادہ عزیز ہیں۔ انھوں نے مصنوعی زندگی کو کبھی پسند نہیں کیا۔ وہ حقیقت اور اصلیت کے قائل ہیں۔
	یہ شعر دیکھیے :
بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزہ آخرِ شب
اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخرِ شب
	اور اسی غزل کا شعر ہے :
اس انداز سے پھر صبح کا آنچل ڈھلکے 
اسی انداز سے چل، باد صبا آخر شب
	خالص ہندستانی مزاج کی پیکر تراشی ملاحظہ ہو۔ کہتے ہیں :
لطف سجدوں میں آ رہا ہے مجھے 
چھپ کے کوئی بلا رہا ہے مجھے 
آئی آواز اس کی باتوں کی
آ رہا ہے غبار نور بدن
پھیلتی جا رہی ہے بوئے دہن
موج تسنیم و کیف خلد بریں 
جگمگاتا بدن چمکتی جبیں 
نغمے پازیب کے جگاتے ہوئے 
بخت خفتہ مرے جگاتے ہوئے 
	مخدوم حسن فطرت کے ساتھ حسن انسانی کو بھی محسوس کرتے اور اپنی تخلیقات میں نمایاں کرتے ہیں۔ ان کی مشہور نظم ’’چارہ گر‘‘ سے یہ مصرعے دیکھیں :
	اوس میں بھیگتے چاندنی میں نہاتے ہوئے 
	جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر
	ٹھنڈی ٹھنڈی چمن کی سبک رو ہوا 
	صرف ماتم ہوئی
	کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر
	ایک پل کے لیے رک گئی
اور اس شعر میں دیکھیے :
ہجومِ بادہ و گل میں ہجومِ یاراں میں 
کسی نگاہ نے جھک کر مرے سلام لیے 
ایک شعر یہ بھی ہے کہ:
کسی خیال کی خوش بو کسی بدن کی مہک
در قفس پہ کھڑی ہے صبا پیام لیے 
	جب کوئی شاعر اپنی تخلیق میں حسن کی تصویر کشی کرتا ہے تو اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں، پہلا تو یہ کہ وہ خود حسن کو محسوس کرنا چاہتا ہے دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے احساسِ حسن سے قاری کو بھی لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرنا چاہتا ہے۔ مخدوم کے ہاں یہ دونوں پہلو نظر آتے ہیں۔ یہ شعر دیکھیں :
اک بہکتی بہکتی ہوئی رات ہے لڑکھڑاتی نگاہوں کی سوغات ہے 
پنکھڑی کی زباں پھول کی داستاں اس کے ہونٹوں کی پرچھائیاں دوستو
	مخدوم کے ہاں حسن کبھی استعارے اور کبھی علامت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور جب وہ حسن کی پیکر تراشی کرتے ہیں تو تمام خد و خال ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کی پیکر تراشی میں جنسی جذبہ نہیں بلکہ ایک انبساط کی کیفیت ہوتی ہے۔
	یہ دو شعر ملاحظہ ہوں :
وہ خمِ گردن، وہ دستِ ناز، وہ ان کا سلام
ابروؤں کا وہ تکلم، وہ نگاہوں کا پیام
بولتی آنکھوں کا رس، گل رنگ عارض کا جمال
مسکراتا سا تصور، گنگناتا سا خیال
	یہ گنگناہٹ ایک الوہی انبساط کی وجہ سے ہے۔ اس میں جنسی جذبات کا دخل نہیں۔ دراصل مخدوم حسن پرست ہیں، بوالہوس نہیں ! اور اس لیے ان کے اظہار میں بے ساختگی کے ساتھ پیکر تراشی کا عمل عروج پر نظر آتا ہے۔ اردو شاعری کا اہم عنصر حسن و عشق کا انبار ہے۔ مخدوم بھی اس سے دامن کشاں نہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ روایت پرست تھے۔ بلکہ انھوں نے روایات کے بطون سے اپنے استعارے وضع کیے اور انھیں اپنے مخصوص انداز میں استعمال کیا۔ ان کی ایک نظم ’’جان غزل‘‘ کے ابتدائی مصرعے ملاحظہ کیجیے :
	اے دلِ نارسا آج اتنا مچل
	مست آنکھوں کی جھیلوں میں کھلنے لگیں آنسوؤں کے کنول
	مل گیا راہ میں اجنبی موڑ پر کوئی جانِ غزل
	آج تو یاد آئیں نہ دنیا کے غم
	آج دل کھول کر مسکرا چشم نم
	دیکھیے زندگی کی گہما گہمی، وقت کے تیز بہاؤ اور مصائب سے بھرپور مسائل کے درمیان شاعر کس طرح اپنے لیے سامان تسکین فراہم کر رہا ہے۔ ایک اور نظم سناٹا کی کچھ سطریں ملاحظہ کیجیے :
کوئی دھڑکن / نہ کوئی چاپ / نہ سنچل/ نہ کوئی موج / نہ کسی سانس کی گرمی / نہ بدن
ایسے سناٹے میں اک آدھ تو پتا کھڑکے 
کوئی پگھلا ہوا موتی / کوئی آنسو / کوئی دل / کچھ بھی نہیں 
کتنی سنسان ہے یہ راہ گزر
کوئی رخسار تو چمکے / کوئی بجلی تو گرے 
	مسائل کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں شاعر نے کس خوب صورتی سے اپنی شعری جمالیات کی عکاسی کی ہے۔ اس طرح نظم ’وقت‘ بے درد مسیحا میں وہ کہتے ہیں :
ہلکا ہلکا سا وہ اڑتا ہوا گالوں کا گلال
بھینی بھینی سی وہ خوش بو کسی پیراہن کی
تو یہ بہ ظاہر فرار کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ نامساعد حالات سے نمٹنے اور برداشت کرنے کا ایک طریقہ سمجھاتے ہیں۔ وہ خیر و شر کے روایتی پیمانوں سے ہٹ کرا پنی ایک نئی راہ تلاش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں :
بے صحبت رخسار اندھیرا ہی اندھیرا
گو جام وہی مئے وہی مئے خانہ وہی ہے 

ہاں وہ نغمہ چھیڑ جس سے مسکرائے زندگی
تو بجائے ساز الفت اور گائے زندگی
	مخدوم کا تصورِ حسن آفاقیت لیے ہوئے ہے۔ وہ حسن کو زمانے پر محیط دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں :
دلوں کی تشنگی جتنی، دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسنِ یار کی بات
اور اسی غزل کا ایک اور شعر ہے :
تمام عمر چلی ہے تمام عمر چلے 
الہٰی ختم نہ ہو بار غم گسار کی بات
	مخدوم نے اپنے جذبات اور احساسات کو عام روزمرہ اور سلیس انداز میں ظاہر کیا۔ اسی لیے ان کے جمالیاتی تصور سے سبھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور ان کے اظہار میں پوشیدہ پیغام بھی آسانی سے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ ’’چاند تاروں کا بن‘‘ سے یہ مصرعے دیکھیے 
 ہم دمو
ہاتھ میں ہاتھ دو / سوئے منزل چلو
منزلیں پیار کی / منزلیں دار کی / کوئے دل دار کی
دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھا کر چلو
	تو قاری پرا یک عجیب قسم کا جذبہ طاری ہو جاتا ہے۔ مخدوم سادگی میں حسن پیدا کرنے پر قادر تھے۔ ان کا ایقان تھا کہ سادگی میں جو حسن ہے وہ پیچیدہ اظہار میں نہیں۔ان کی لئے ان کی سادگی میں پوشیدہ حسن اور معنویت قاری کے دل کو قابو میں کر لیتی ہے۔ یہ صرف چند پہلو ہیں جو مخدوم کی شعری جمالیات کی ہلکی سی عکاسی کرتے ہیں۔ مخدوم بنیادی طور پر حسن پرست ہیں اور ان کا احساسِ جمال ہر وقت تازہ توانا ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود انھوں نے اپنے احساسِ جمال کو زنگ آلود یا گرد آلود ہونے نہیں دیا۔ ان کی احتجاجی شاعری میں بھی جمالیاتی عنصر جا بجا دیکھا جا سکتا ہے۔ مخدوم ترقی پسند تھے، مخدوم انقلاب کے علم برادر تھے لیکن جب وہ انقلاب کے نغمے گاتے ہیں تب بھی ان کے ہاں حسن اور احساس جمال کا غیر معمولی درک نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ کائنات کی ہر شے میں سے حسن کھوج نکالتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور شاید یہی فلسفہ جمالیات کا مرکزی نکتہ ہے۔

٭٭٭






ڈاکٹر سید داؤد اشرف


مخدوم محی الدین کی نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘



	مخدوم محی الدین بلاشبہ ایک بلند پایہ شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں جگہ جگہ فن کارانہ حسن کے بڑے خوب صورت اور اعلیٰ نمونے ملتے ہیں۔ ان کی شاعری کی اٹھان اور ابتدائی شعری تخلیقات کی چند منفرد خصوصیات کی وجہ سے یہ واضح اشارے ملنے لگے تھے کہ وہ مستقبل میں ایک اہم اور بڑے شاعر کی حیثیت سے نمایاں ہوں گے۔
	مخدوم نے گزشتہ صدی کے تیسرے دہے کے بعد شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا مجموعہ ’’سرخ سویرا‘‘ تقریباً دس سال کے فکر سخن کا نتیجہ ہے۔ اس شعری مجموعے میں رومانی اور انقلابی نظموں کے علاوہ ایسی نظمیں بھی شامل ہیں جن میں رومانی اور انقلابی شاعری کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ پہلے مجموعے کی اہم نظموں میں مشرق، حویلی، انتظار، انقلاب، اندھیرا اور اسٹالن قابلِ ذکر ہیں۔ سرخ سویرا کی اشاعت کے بعد چوں کہ مخدوم عملی سیاست کے میدان میں داخل ہو گئے تھے۔ اس لیے ایک طویل عرصے تک وہ شاعری کی جانب توجہ نہ دے سکے۔ اس طویل خاموشی کے بعد انھوں نے جو پہلی نظم لکھی وہ آزاد نظم ’’قید‘‘ ہے جو دوسرے مجموعے ’’گل تر‘‘ کی پہلی نظم ہے۔ انھوں نے ’’چارہ گر‘‘ جو ان کی ایک اہم نظم ہے ۱۹۵۶ء میں لکھی۔ اس نظم سے مخدوم کی شاعری کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اس نظم کے بعد انھوں نے بڑی اچھی اور حسین نظمیں لکھیں جن میں چاند تاروں کا بن، رقص، سناٹا، لخت جگر، وقت بے درد مسیحا اور رومال شامل ہیں۔ مخدوم کے دوسرے دور کی شاعری کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اشاریت کا عنصر نمایاں ہے اور بالواسطہ اور شاعرانہ اظہار کو انھوں نے بڑی اہمیت دی ہے۔ احساس جمال، نغمگی اور موسیقیت کا عنصر از ابتدا تا انتہا ان کی شاعری میں موجود ہے۔
	مخدوم کی نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘ آزادی پر لکھی گئی بہترین نظموں میں اپنی منفرد شان رکھتی ہے۔ اس نظم کا کینوس Canvas بہت پھیلا ہوا ہے۔ لیکن مخدوم نے اختصار اسے کام لیتے ہوئے بڑی مکمل اور جامع نظم کہی ہے۔ یہ نظم ہندستان کی جد و جہدِ آزادی اور حصولِ آزادی کے بعد کے ہنگاموں اور المیہ کو پیش کرتی ہے۔ یہ نظم مخدوم کی سیاسی اور عوامی زندگی کے تاثرات اور تجربات کا نچوڑ ہے لیکن یہ تاثرات ایک سیاست داں کے نہیں ہیں، ایک شاعر کے ہیں۔ انھوں نے ہر واقعے، ہر موڑ اور ہر بات کا ایک احساس شاعر کی حیثیت سے مشاہدہ اور مطالعہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظم میں بڑی روانی، بڑا تاثر اور موسیقیت ملتی ہے۔ موضوع کی وسعت کے باوجود انھوں نے اختصار سے کام لیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر لفظ شاعر نے چن چن کر استعمال کیا ہے اور اپنے مجموعی تاثر کو عمیق مطالعے اور گہری سوچ کے بعد ہی نظم کی شکل میں پیش کیا ہے۔ ’’چاند تاروں کا بن‘‘ لکھنے تک مخدوم یہ دیکھ چکے تھے کہ آزادی کے متوالے کس طرح ’’موم کی طرح‘‘ جلتے پگھلتے رہے تاکہ نیا سورج طلوع ہو، اندھیرا چھٹے اور روشنی آئے۔ آزادی کے دیوانوں نے ہر مصیبت جھیلی، سختیاں برداشت کیں، بے غرضی کے ساتھ کسی قسم کا ایثار کرنے میں پیچھے نہیں ہٹے حتی کہ اپنی جانیں بھی قربان کر دیں۔۔۔ انھیں تشنگی ضرور تھی مگر وہ ’’اس تشنگی میں بھی سرشار تھے ‘‘۔ لیکن صبح دم۔۔۔ وہ ایک ’’دیوارِ غم‘‘ بن گئے کیوں کہ ’’رات کی شہ لوگوں کا اچھلتا ہو‘‘۔۔۔ ’’جوئے خون بن گیا‘‘۔۔۔ مخدوم کا اشارہ ان قیامت خیز فسادات کی طرف ہے جو حصولِ آزادی کے مرحلے اور حصولِ آزادی کے بعد دیکھے گئے۔ ’’رات‘‘ نے جاتے جاتے خون کی ندیاں بہا دیں۔ اس نظم میں موم کی طرح جلتے ہوئے شہیدوں ہی کا ذکر نہیں ہے بلکہ ان ’’امامانِ صد مکر و فن‘‘ کی طرف بھی اشارہ ہے جو ہندستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ ہر جدوجہد آزادی کی تاریخ میں نظر آتے ہیں جو ’’خونِ نورِ سحر‘‘ پی جاتے ہیں اور سادہ لوح بے غرض انسانوں کو رہزن کے بھیس میں رہنما بن کر ڈس لیتے ہیں مخدوم کا یہ کہنا کہ:
	رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے 
	صبح کا کچھ اجالا اجالا بھی ہے 
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	منزلیں دار کی
	کوئے دلدار کی منزلیں 
	روش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
	مخدوم کے پیش نظر ایک منزل نہیں بلکہ منزلیں ہیں اور یہ منزلیں دار کی منزلیں بھی ہیں اور پیار کی منزلیں بھی ہیں جنھیں وہ کوئے دلدار کی منزلیں بھی کہتے ہیں۔ یہ منزلیں انسانیت کے ارتقا کی تاریخ میں مرحلوں اور کڑیوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔ شاعر کا شعوری ارتقا اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب یہ جستجو اٹل معلوم ہوتی ہے کہ راہوں کے بعد منزل آتی ہے اور منزل کے بعد پھر راہیں شروع ہو جاتی ہیں۔ منزل مقصود تو صرف ایک خیال اور تصور ہے۔ زندگی کو زیادہ حسین، زیادہ خوب صورت اور اس دھرتی کو انسانوں کے لیے زیادہ اچھی رہنے کی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد ہمیشہ جاری رہے گی کیوں کہ کش مکش حیات کے ہنگامے ختم نہیں ہو سکتے۔ کوئی سویرا مکمل سویرا نہیں ہوتا۔ یہ اور بات ہے کہ کہیں سویرا ہو جانے کے بعد بھی گھٹا ٹوپ اندھیرے کے چھا جانے کا احساس رہتا ہے اور کہیں سویرا تو ہو جاتا ہے لیکن کچھ کچھ اندھیرا باقی رہتا ہے۔ اس اندھیرے کے فرقِ بیش و کم کا انحصار مخصوص تاریخی حالات، نوعیت انقلاب اور جدوجہد کے فرق پر ہوتا ہے۔
	مخدوم کی یہ نظم بڑی جامع اور ان کے دوسرے دور کی شاعری کی بہترین نظم ہے۔ شاعرانہ اظہار کی صداقت اور بھرپور تاثر کی یہ نظم بڑی عمدہ مثال ہے۔ اس نظم میں خوابوں کی تعبیر کے چہرے مسخ شدہ نظر آتے ہیں جن سے لہو کی بوندیں ٹپک رہی ہیں۔آرزوؤں اور تمناؤں میں تصادم نظر آتا ہے۔ اس نظم میں شاعر مایوسیوں، تمناؤں کے خون اور خوابوں کی خوف ناک تعبیروں کو تو بیان کرتا ہے لیکن وہ نا امید نہیں بلکہ پھر ایک سچے شہید کے جذبے کے ساتھ دوش پر صلیب اٹھائے اگلی منزلوں کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ انسانی تاریخ میں ایسے ہی شہیدوں نے انسانی تہذیب کو ارتقا کی منزلیں طے کرائی ہیں۔ یہ شہید زہر کے جام پیتے رہے اور صلیب و دار کا خیر مقدم کرتے رہے ہیں تاکہ آگے کی منزلوں کی طرف سفر حیات جاری رہے اور حسین سے تر کی تلاش کبھی ختم نہ ہو۔
	اس نظم اور اس کے تاثر میں روایتی اور سطحی انداز کی حب الوطنی نہیں ملتی اور نہ ہی جذبۂ آزادی محدود اور مقید شکل میں ملتا ہے بلکہ اس کی اشاریت میں آفاقیت کی وسعتیں سموئی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور اس کا تاثر ہر دور کے فرد اور انسان کے شدید ترین جذبے اور غم سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ غم ذات کو غم حیات اور کائنات سے جوڑنے والی یہ نظم اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا کہ اردو کی شاعری میں اپنی طرز کی بہترین اور انتہائی متاثر کن نظم ہے جو سامعین اور قارئین کو اپنے ساتھ ان تمام مقامات تک بہا لے جاتی ہے جن کی نشان دہی اس نظم میں اشاروں کے ذریعے کی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ قارئین اور سامعین اس نظم کی فضا میں کھو کر رہ جاتے ہیں اور اس کی معنویت، جامعیت اور اثر پذیری کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔
جس دور میں اس نظم کی تخلیق ہوئی اس دور کی عصری شاعری میں راست اظہار اور خطابت کو کبھی کبھی نعروں کی شکل دینے کا رجحان پایا جاتا تھا۔ اس سے بچ کر اور اس ڈگر سے ہٹ کر اس طرح کی شعری کیفیات پیدا کی جا سکتی ہیں یہ نظم اس کی ایک بہترین مثال اور نمونہ ہے۔ یہ نظم آج ہی نہیں بلکہ مستقبل میں جب کبھی پڑھی اور سنی جائے گی وہی بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید اور عمیق تاثر پیدا کرے گی جو پہلے پہل اس نظم کو پڑھنے یا سننے کے بعد قلب اور ذہن کے پردے پر ابھرا تھا۔
	چاند تاروں کا بن
	موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
	رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
	رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن
	تشنگی تھی مگر
	تشنگی میں بھی سرشار تھے 
	پیاسی آنکھوں کے جالی کٹورے لئے 
	منتظر مرد و زن
	مستیاں ختم، مدہوشیاں ختم تھیں، ختم تھا بانکپن
	رات کے جگمگاتے دہکتے بدن
	صبح دم ایک دیوارِ غم بن گئے 
	خارزارِ الم بن گئے 
	رات کی شہ رگوں کا اچھلتا لہو
	جوئے خون بن گیا
	کچھ امامانِ صد مکر و فن
	ان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھی
	ان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواں 
	اک کمین گاہ سے 
	پھینک کر اپنی نوکِ زیاں 
	خونِ نورِ سحر پی گئے 
	رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے 
	صبح کا کچھ اجالا، اجالا بھی ہے 
	ہم دمو
	ہاتھ میں ہاتھ دو
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	کوئے دلدار کی منزلیں 
	روش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو

٭٭٭



شمیم فیضی



مخدوم، داستانوی شخصیت اور اس کی معنویت

	مخدوم اپنی زندگی میں ہی داستانوی شخصیت بن گئے تھے۔ شاعر کی حیثیت سے لوگ ان کے دیوانے تھے اور سیاست داں کی حیثیت سے انھیں چاہنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں تھی۔ ان کی کثیر جہتی شخصیت اور کثیر رخی سرگرمیوں نے اس داستانوی شخصیت کی تعمیر میں نمایاں کر دار ادا کیا۔ ان کی زندگی میں ہی بعض لوگوں نے ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ کر کے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اگر وہ سیاسی سرگرمیوں میں اپنی توانائی صرف نہ کرتے تو اس سے بھی بڑے شاعر ہوتے جب کہ بعض دوسرے دوستوں نے ان کی شاعری کو اپنی سیاسی فہم سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ مگر دونوں ہی زمرے کے لوگوں نے ان کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا۔ مخدوم ایک مکمل انسان تھے اور زندگی کے مسائل، ادبی اور سیاسی ہر طرح کے مسائل کے متعلق ان کا بنیادی رویہ انسان دوستانہ تھا۔
	سچائی تو یہ ہے کہ مخدوم کی زندگی کے ان مختلف اور کثیر جہتی پہلوؤں سے ہی وہ داستانوی شخصیت تعمیر ہوئی جس کا ایک زمانہ دیوانہ تھا۔ وہ کچھ لوگوں کے لیے محض شاعر تھے تو کچھ اور کے لیے جبر و استبداد اور استحصال کے خلاف برسر پیکار مجاہد تھے۔ مگر سب ہی یہ مانتے تھے کہ وہ بنیادی طور پر انسان دوست ہیں۔ ایک شاعر کی حیثیت سے انھوں نے اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا آغاز رومانی نظموں سے کیا۔ مگر جلد ہی انھوں نے یہ عبوری مرحلہ طے کر لیا اور زندگی کی تلخ حقیقتوں نے انھیں ایک نئی دنیا اور اندازِ فکر سے روشناس کروایا۔ ان کی ابتدائی انقلابی نظموں کی طرف عبور کے دوران مخدوم بائیں بازو کی اس انتہا پسندی سے بھی دوچار ہوئے، جسے سید سبط حسن نے ’’ادبی دہشت گردی‘‘ قرار دیا ہے۔ ادبی تخلیقات میں یہ ذہنی سفر، سیاست داں مخدوم کی تعمیرو تشکیل میں معاون بنا۔ آج کے بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے برخلاف جو تحریک کے تجربات سے کچھ سیکھنے کے بجائے نظریاتی ادعائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی اور انقلاب کے پُر تشدد راستہ پر ہی اصرار کرتے ہیں، مخدوم نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ انقلاب اور انقلابی تحریک کے فروغ کے لیے عوام کی اکثریت جو استحصال زدہ ہوتی ہے، ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ مخدوم محی الدین کا نظریاتی ارتقا بڑی حد تک مشترکہ کمیونسٹ پارٹی کے آخری جنرل سکریٹری اجے گھوش کے ذہنی اور سیاسی سفر کے مماثل ہے۔ اجئے گھوش ہی کی طرح مخدوم بھی کچھ عرصہ دہشت گردی کے اثرات سے متاثر رہنے کے بعد مارکسزم لینن ازم تک پہنچے۔
	ساہتیہ اکادمی نے ’’ہندستانی ادب کے معمار‘‘ کا جو کتابی سلسلہ شائع کیا ہے اس میں سیدہ جعفر نے مخدوم پر کتاب چہ لکھا ہے۔ مخدوم کی ابتدائی رومانوی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے بالکل درست کہا ہے کہ ان کی ابتدائی نظموں میں محبت کا حوصلہ، چاہنے کی تمنا، بت تراشنے کی آرزو اور رومانی کیفیت ہے جو عمر اور سن و سال کا تقاضہ ہے۔ ان نظموں میں سن بلوغت کے ابتدائی برسوں کی معصومیت ہے مگر انسان دوستی کے تصور کے ساتھ، محبت کے ابتدائی سبق کے بارے میں مخدوم کہتے ہیں :
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے 
یہیں کی جرات اظہار حرف مدعا میں نے 
یہیں دیکھے تھے عشوے، ناز و انداز حیا میں نے 
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
	محبت کی سرشاری میں وہ روزمرہ کے مصائب اور غم و آلام سے بیگانہ نظر آتے ہیں :
بلائے فکر فردا ہم سے کوسوں دور ہوتی تھی
سرور سرمدی سے زندگی معمور ہوتی تھی
ہماری خلوت معصوم رشک طور ہوتی تھی
ملک جھولا جھلاتے تھے غزل خواں حور ہوتی تھی
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
	یہ ایسی بے داغ اور معصوم محبت تھی کہ:
خدا بھی مسکرا دیتا تھا جب ہم پیار کرتے تھے 
	حالاں کہ مخدوم کی ابتدائی رومانوی نظموں پر اختر شیرانی کا اثر نمایاں ہے، مگر مخدوم کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب کو اس کے ماحول سے الگ کر کے نہیں دیکھتے۔ وہ معصوم، تلنگانہ کی، ان کے وطن کی الھڑ جوانی ہے :
پھرنے والی کھیت کی مینڈوں پہ بل کھاتی ہوئی
نرم و شیریں قہقہوں کے پھول برساتی ہوئی
کنگنوں سے کھیلتی، اوروں سے شرماتی ہوئی
اجنبی کو دیکھ کر خاموش مت ہو، گائے جا
ہاں تلنگن گائے جا، بانکی تلنگن گائے جا
	مگر معصوم رومانیت کا یہ دور جلد ہی ختم ہو گیا۔ تعلیم کے لیے حیدرآباد گئے، یہاں بھی غربت و افلاس نے ان کا دامن نہیں چھوڑا۔ راج بہادر گوڑ نے لکھا ہے کہ زمانہ طالبِ علمی میں مخدوم کا ناشتہ اور دوپہر کا لنچ دونوں ملا کر نظام کے سکہ میں صرف تین پیسوں کا ہوتا تھا۔ زندگی کے نئے مسائل تھے جن سے مخدوم دوچار تھے مگر معصوم رومانیت کا وہ ابتدائی دور دم ساز بنا ہوا ہے۔
نہ وہ اب کھیت باقی ہے نہ وہ آب رواں باقی
مگر اس عیش رفتہ کاہے، اک دھندلا نشاں باقی
	ان کی ابتدائی دور کی رومانوی شاعری کا بہترین نمونہ ان کی نظم ’’انتظار‘‘ ہے۔ جہاں ایک عاشق کی بے تابی، وصال کی امید اور محبوب کے نہ آنے پر مایوسی کی بھرپور عکاسی ہے :

رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے 
نس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے 
خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا
اپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گا
	انتظار کی اس تڑپ کے بعد نا امیدی کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں :
شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی
آپ کے آنے کی ایک آس تھی اب جانے لگی
صبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائی
او صبا تو بھی جو آئی تو اکیلی آئی
میرے محبوب، میری نیند اڑانے والے 
میرے مسجود، میری روح پہ چھانے والے 
آ بھی جا تاکہ میرے سجدوں کا ارماں نکلے 
آ بھی جا تاکہ ترے قدموں پہ میری جاں نکلے 
	مخدوم کی رومانیت کا نقطۂ عروج ان کی وہ غزلیں ہیں جو انھوں نے اپنی زندگی کی آخری دہائی میں کہی ہیں مگر ان تک جانے سے پہلے ضروری ہے کہ اس ’’معصوم رومانیت‘‘ سے انقلابی فکر بلکہ بہ قول سبط حسن ’’ادبی دہشت گردی‘‘ کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔
	مخدوم حیدرآباد میں ایک نئی دنیا سے روشناس ہوتے ہیں۔ یہ گاؤں کی رو پہلی دھوپ کی تمازت سے علاحدہ دنیا ہے۔ یہاں استحصال اور جاگیردارانہ استبداد کی لو چلتی ہے۔ حالاں کہ مخدوم نے اپنے گاؤں میں ہی اپنے بزرگوں سے روسی انقلاب اور پرولتاری اقتدار کا ذکر سن رکھا تھا، مگر حیدرآباد کے استحصال اور جاگیردارانہ استبداد کی کڑی دھوپ نے ان میں طبقاتی شعور کو بیدار کیا۔ وہ طبقاتی جدوجہد کے ذریعہ انقلاب کی منزل تک پہنچے کے فلسفے سے روشناس ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی ابتدائی رومانوی نظموں میں معصومیت اور جذبہ کی حلاوت ہے مگر ان کی ابتدائی انقلابی نظمیں گھن گرج اور دہشت گردانہ اندازِ فکر سے پُر ہیں۔ راج بہادر گوڑ لکھتے ہیں کہ انقلابی تصور سے آشنائی کے اس ابتدائی دور میں مخدوم نے سامراج دشمنی اور جاگیردار دشمنی کے جذبات سے معمور نظمیں لکھیں۔ ’’روح فغفور‘‘ میں وہ چینی آمر فغفور کے حوالے سے انسانی قدروں کی پامالی کا ماتم کرتے ہیں :
وہ شب اندام وہ قبر کی تیرگی
میرے گھر میں وہ کل یک بیک گھس گئی
ناچتی کودتی، شور کرتی ہوئی
میری خوشیوں سے جیبوں کو بھرتی ہوئی
پرچم غم ہوا میں لہراتی ہوئی
مسکراتی ہوئی، کھلکھلاتی ہوئی
ایڑیوں سے دلوں کو کچلتی ہوئی
خون پی پی کے گرتی ابھرتی ہوئی
پشت گیتی پہ میں بھی تو ناسور ہوں 
دیکھ تو کون ہوں، روح فغفور ہوں 
	اس طرح اپنی نظم آزادی وطن میں وہ ملک کے نوجوانوں کو للکارتے ہیں کہ آؤ بھارت کی تقدیر بدل دیں :
چھپی خاموش آہیں شور محشر بن کے نکلی ہیں 
دبی چنگاریاں خورشید خاور بن کے نکلی ہیں 
بدل دی نوجوان ہند نے تقدیر زنداں کی
کہو ہندوستاں کی جے، کہو ہندوستاں کی جے 
	قاضی نذر الاسلام کی باغیانہ روش اور شاعری نے بھارت کی سبھی زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کو متاثر کیا تھا۔ مخدوم کی نظم باغی، قاضی صاحب کی نظم ’’وردی‘‘ کی بازگشت ہے :
رند ہوں، برق ہوں، بے چین ہوں، پارا ہوں میں 
خود پرستار، خود آگاہ، خود آرا ہوں میں 
گردن ظلم کٹے جس سے وہ آرا ہوں میں 
خرمنِ جور جلا دے وہ شرارا ہوں میں 
	اس تعارف کے بعد وہ نخوت ارباب زماں، ظلم اور روش اہلِ جہاں اور عشرت آباد، امارت کے مکاں کو توڑنے کے عزم کے ساتھ اعلان کرتے ہیں :
برق بن کر بت ماضی کو گرانے دے مجھے 
رسم کہنہ کو تہہ خاک ملانے دے مجھے 
تفرقے مذہب و ملت کے مٹانے دے مجھے 
خواب فردا کو اب حال بنانے دے مجھے 
آگ ہوں آگے ہوں، ہاں ایک دہکتی ہوئی آگے 
آگ ہوں آگ بس اب آگ لگانے دے مجھے 
	’’موت کا گیت‘‘ بھی اسی قبیل کی نظم ہے، جس میں وہ گرج کر کہتے ہیں :
زلزلو آؤ، دہکتے ہوئے لاؤ آؤ
بجلیو آؤ، گرج دار گھٹاؤ آؤ
آندھیو آؤ، جہنم کی ہواؤ آؤ
آؤ یہ کرۂ ناپاک بھسم کر ڈالیں 
قصہ دہر کو معمورِ کرم کر ڈالیں 
	’’جنگ‘‘ وغیرہ بھی اس دور اور قبیل کی نظمیں ہیں۔ مگر میرے خیال سے ان کے اندازِ فکر اور دور کی سب سے نمائندہ نظم ’’حویلی‘‘ ہے جس میں نہ صرف جاگیرداری کے فرسودہ نظام سے نفرت اور اس کے کارندوں کی حقیقی شناخت موجود ہے بلکہ ایک نئے نظام کی تعمیر کا عزم بھی نمایاں ہے۔ نظم کی ابتدا میں کہتے ہیں :
ایک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج
لے رہی ہے نزع کے عالم میں مردوں سے خراج
اک مسلسل کرب میں ڈوبے ہوئے سب بام و در
جس طرف دیکھو اندھیرا، جس طرف دیکھو کھنڈر
مارو کژدم کا ٹھکانا جس کی دیواروں کے چاک
اف یہ رخنے کس قدر تاریک کتنے ہولناک
جن میں رہتے ہیں مہاجن، جن میں بستے ہیں امیر
جن میں کاشی کے برہمن، جن میں کعبے کے فقیر
	اور پھر راست کہتے ہیں :
جانتا ہوں موت کا ہم ساز و ہمدم کون ہے 
کون ہے پروردگارِ بزم ماتم کون ہے 
کوڑھ کے دھبے چھپا سکتا نہیں ملبوس دیں 
بھوک کے شعلے بجھا سکتا نہیں روح الا میں 
	اس لیے ان کے اندر کا انقلابی للکارتا ہے :
ہاں وہ نغمہ چھیڑ جس سے مسکرائے زندگی
تو بجائے ساز الفت اور گائے زندگی
آ، انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں 
آ، انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں 
	اس کے بعد مخدوم نے اپنے انقلابی سفر میں ادبی انقلابیت کے سفر میں پیچھے مڑ کر دیکھنا سیکھا ہی نہیں۔ ان کی شاعری میں ’’نئی دنیا اور نئے آدم‘‘ کی تلاش کی سرگزشت بن گئی۔ ’’جنگِ آزادی‘‘ جو شاید ہماری انقلابی تحریک کی سب سے مقبول نظموں میں سے ایک ہے۔ ان کی نظریاتی پختگی اور مارکسی اندازِ فکر کی غماز ہے۔ وہ کہتے ہیں :
سارا سنسار ہمارا ہے 
پورب پچھم، اتر دکن
ہم افرنگی، ہم امریکی
ہم چینی جانبازانِ وطن
ہم سرخ سپاہی، ظلم شکن
آہن پیکر، فولاد بدن
یہ جنگ ہے جنگِ آزادی
آزادی کے پرچم کے تلے 
	مخدوم کے اندازِ فکر اور لہجہ کی یہ تبدیلی حیدرآباد میں محنت کشوں کی تحریک کی دین ہے۔ آزادی اظہارِ خیال پر پابندی ہے، عدالتی نظام، جاگیرداری کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ محنت کش بدترین استبداد اور استحصال سے دوچار ہیں۔ اس استبدادی اور استحصالی نظام سے نجات کی جدوجہد میں سرگرداں مخدوم، بعض دوستوں کے ساتھ کامریڈز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھتے ہیں۔ روپوشی میں کام کرنے والے کمیونسٹ کارکنوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ وہ ٹریڈ یونین تحریک میں مزدوروں کو منظم کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے ریلوے اور ٹیکسٹائلس مزدوروں کو منظم کرنے میں بھی نمایاں کر دار ادا کیا۔ مگر یہاں میں خاص طور سے سب سے زیادہ استحصال کے شکار بٹن مزدوروں کی یونین بنانے کی پہل کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ جاگیر دار مخالف جدوجہد میں مخدوم کے قریبی رفیق کے۔ایل۔مہندرا لکھتے ہیں ’’اس دور میں جب کہ ٹریڈ یونین تحریک تو کجا، جمہوریت اور آزادی کا نام لینا بھی خطرہ مول لینے کے مترادف تھا۔ حیدرآباد کے جاگیرداروں نے نام نہاد مسلم قیادت کے آگے بڑھا کر انالملک کے پُر فریب نعرہ سے ریاست کے مسلمان محنت کشوں کو ’’دیگر محنت کش طبقات سے الگ رکھنے کی مجرمانہ سازشیں شروع کر دی تھیں۔ مخدوم اور راج (بہادر گوڑ) نے اپنی مساعی سے حیدرآباد کے بٹن ورکرس کی پہلی یونین بنائی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح سے یاد ہے جب کہ مغل پورہ کے پبلک پارک میں راج اور مخدوم بٹن مزدوروں جن کی غالب اکثریت دو آنے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے چودہ تا سولہ سال کے مسلم بچوں پر مشتمل تھی، مخاطب کرتے ہوئے ہم بادشاہ ہیں کہ اس فریب کا بھرم کھولا اور انا الملک کا نعرہ لگانے والوں سے پوچھا کہ کیا ان بدحال مسلم بچوں کو بھی وہ ریاست کے تاج داروں میں شمار کرتے ہیں۔ مخدوم نے ان استحصال زدہ مسلم بچوں کے ذریعہ حیدرآباد ریاست کے مسلم محنت کشوں کو یہ پیعام دیا کہ وہ بھی جاگیرداری نظام کے اسی طرح مارے ہوئے ہیں جس طرح دوسرے۔ یہاں اس واقعہ کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ بدبختی سے آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کی سیاست جذباتی نعروں کے حصار میں رہی ہے۔ مسلمان سیاسی جذباتیت یا جذباتی سیاست کا اسیر رہا ہے، جس نے سب سے زیادہ نقصان، خود مسلمانوں کو پہنچایا ہے۔
	طبقاتی مزدوروں پر مسلمانوں کو متحد کرنے کی مساعی نے مخدوم کی اس داستانوی شخصیت کی تعمیر میں اہم کر دار ادا کیا جو تلنگانہ کی مسلح جدوجہد کے دوران ابھر کر سامنے آئی۔ مخدوم جاگیرداروں اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف جنگ کے مجاہد بن چکے تھے۔ اسی لیے مسلح جدوجہد کے زمانے میں بہ یک وقت کئی مقامات پر مسلح دستوں کی قیادت کرنے والے مخدوم کی شخصیت کے قصے عام ہوئے۔ یہ وہی سحر ہے کہ جب مخدوم نے آصف سابع کی فرق مبارک پر پڑنے والی ضربت کاری کا ذکر کیا تو محنت کش جھوم اٹھے :
لرز لرز کے گرے سقف و بام زر داری
ہے پاش پاش نظام ہلاکو و زاری
پڑی ہے فرق مبارک پہ ضربت کاری
حضور آصف سابع پہ ہے غشی طاری
	’’تلنگانہ‘‘ ان کے پہلے مجموعہ ’’سرخ سویرا‘‘ کی آخری نظم ہے۔ اس دور کی ادبی تخلیقات میں شاید ’’قید‘‘ سب سے زیادہ مقبول نظم ہے۔ جس میں شاعر کو افسوس ہے کہ وہ سینکڑوں لاکھوں قدم اور سینکڑوں لاکھوں عوام کے دلوں کی دھڑکن سے ہم آہنگ رہنے کے بجائے زنداں میں محبوس ہے۔ مگر وہ دل شکستہ نہیں ہے :
سالہا سال کی افسردہ و مجبور جوانی کی امنگ
طوق و زنجیر سے لپٹی ہوئی سو جاتی ہے 
کروٹیں لینے میں زنجیر کی جھنکار کا شور
خواب میں زیست کی شورش کا پتہ دیتا ہے 

مجھے غم ہے کہ مرا گنج گراں مایہ عمر نذر زنداں ہوا
نذر آزادی زندانِ وطن کیوں نہ ہوا
	ہند کی آزادی اور حیدرآباد میں پولیس ایکشن تاریخ کے اتنے قریبی واقعات ہیں کہ یہاں انھیں دوہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تو مخدوم کے شاعر اور سیاست داں دونوں حیثیتوں میں زندگی کے دو پہلوؤں کا ذکر ضرور سمجھتا ہوں۔ مخدوم آزادی کے بعد حیدرآباد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں لیجسلیٹیو کونسل میں سی پی آئی کے گروپ لیڈر رہے۔ ان دونوں حیثیتوں میں ان کے کارہائے نمایاں کے ذکر کے لیے علاحدہ مضمون درکار ہے۔ اسی دوران مخدوم عالمی ٹریڈ یونین کانگریس (WFTU) کے عہدے دار منتخب ہوئے اور ملک کے باہر چلے گئے۔ انھوں نے موجود سوشلسٹ ملکوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ زدنگی کی نئی حقیقتوں سے روشناس ہوئے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران بعض جذباتی لمحوں کے زیر اثر کوئی نظم کہہ دینے کے سوا بالعموم مخدوم کے تخلیقی سوتے خشک رہے، انھوں نے دنیا کا دورہ کرتے ہوئے پانچ برسوں تک کوئی نظم نہیں لکھی۔ وطن واپسی کے بعد اور ایک بار پھر اپنے محبوب محنت کش عوام کی معیت میں مصروف جدوجہد ہونے کے بعد ان کی سب سے قابل قدر نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘ شائع ہوئی جس کے بارے میں خود مخدوم نے کہا ہے کہ یہ آزادی سے پہلے بعد اور آگے کا منظر نامہ ہے۔ میں اسے مخدوم کی شاعری کی معراج تسلیم کرتا ہوں۔ جس میں مخدوم اپنی زندگی کا سارا تجربہ نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ نظم ان کی رجائیت کی بھی علامت ہے جو ساری زندگی ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں عنصر رہی ہے :
	موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
	رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
	رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن
	تشنگی تھی مگر
	تشنگی میں بھی سرشار تھے 
	پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے 
	منتظر مرد و زن
	مستیاں ختم، مدہوشیاں ختم تھیں، حتم تھا بانکپن
	رات کے جگمگاتے دہکتے بدن
	آزادی وطن کے بعد امامانِ صد مکر و فن کے خون نور سحر پی جانے کا شکوہ کرنے کے بعد مخدوم آواز دیتے ہیں :
	رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے 
	صبح کا کچھ اجالا اجالا بھی ہے 
	ہم دمو!
	ہاتھ میں ہاتھ دو
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	منزلیں دار کی
	کوئے دلدار کی منزلیں 
	دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
	’’گل تر‘‘ میں اس کے بعد زیادہ تر غزلیں ہیں۔ مخدوم اب عملی زندگی میں زیادہ سرگرم ہیں اور ادبی ذریعہ اظہارِ غزل ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ’’گل تر‘‘ کے دیباچے میں خود مخدوم کہتے ہیں :
’’زماں اور مکاں کا پابند ہونے کے باوجود شعر بے زمان (Time-less) ہوتا ہے اور شاعر اپنی ایک عمر میں کئی عمریں گزارتا ہے۔ تہذیب انسانی جبلتوں کو سماجی تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنے کا مسلسل عمل ہے۔ جمالیاتی حس انسانی حواس کی ترقی اور نشوونما کا دوسرا نام ہے۔‘‘ مخدوم کی غزلیں اس پیمانے پر کھری اترتی ہیں۔ ان میں ان کی رومانیت، بالغ نظری کی اعلیٰ ترین بلندی پر ہے تو اپنے آدرش سے وابستگی بھی نمایاں ہے۔ ان کی غزلیں رومان اور آدرش دونوں کی معراج کی نمائندہ ہیں۔ یہاں اپنی بات ان کی غزلوں کے دونوں جہتوں کے کچھ اشعار نقل کر کے ختم کرتا ہوں۔
		رومانیت کے مرقعے :
	آج تو تلخی دوراں بھی بہت ہلکی ہے 
	گھول دو ہجر کی راتوں کو بھی پیمانے میں 
	تمام عمر چلی ہے تمام عمر چلے 
	الٰہی ختم نہ ہو یاد غم گسار کی بات
	ساز آہستہ ذرا گردش جام آہستہ
	جانے کیا آئے نگاہوں کا پیام آہستہ
	ہجوم بادہ و گل میں ہجوم یاراں میں 
	کسی نگاہ نے جھک کر میرے سلام لیے 
	بڑھ گیا بادۂ گلگوں کا مزا آخر شب
	اور بھی سرخ ہے رخسار حیا آخر شب
		اور اب آدرش پر اصرار:
	گل ہے قندیل حرم، گل ہیں کلیسا کے چراغ
	سوئے مے خانہ بڑھے دست دعا آخر شب
	اٹھو کہ فرصت دیوانگی غنیمت ہے 
	قفس کو لے کے اڑیں، گلوں کو ہم کنار کریں 
	ہم تو کھلتے ہوئے غنچوں کا تبسم ہیں ندیم
	مسکراتے ہوئے ٹکراتے ہیں طوفانوں سے 
	تحفہ برگ و گل باد بہاراں لے کر
	قافلے عشق کے نکلے ہیں بیابانوں سے 

٭٭٭

 
پروفیسر فاطمہ بیگم

مخدوم کی شاعری میں اسلامی تلمیحات و اشارات

	اس سمینار کے انعقاد کی تیاری کے سلسلے میں جب مجھ سے موضوع کی بابت دریافت کیا گیا تو میں نے مخدوم کے پہلے مجموعہ کلام سرخ سویرا کے انتساب ’’محبت اور محبت کے نام‘‘ کے حوالے سے مخدوم کو ان کی صد سالہ تقاریب کے ضمن میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ارادہ کیا اور اسی موضوع کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس عنوان پر اظہارِ خیال کے لیے جب میں نے کلامِ مخدوم کا مطالعہ کیا تو تب میرے ذہن نے اسلامی تلمیحات اور اشارات اور مخدوم کی شاعری پر بات چیت کو زیادہ موزوں سمجھا میں منتظمین کی مشکور ہوں کہ انھوں نے موضوع کی تبدیلی کی اجازت دی۔
	مخدوم پر گفتگو کی شروعات دستور کے مطابق ان کے ابتدائی حالاتِ زندگی سے شروع ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ ابھی پانچ سال ہی کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کی دوسری شادی (جس کا پہلے مخدوم کو علم نہ تھا) کی وجہ سے وہ ماں کی شفقت و محبت سے بھی محروم ہو گئے۔ چچا مولوی محمد بشیر الدین جو مذہب اور زمانے کے اہم معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے کی زیر سرپرستی مخدوم کی ابتدائی تعلیم و تربیت ہوئی۔ اس بارے میں خود مخدوم کا کہنا ہے :
’’میری ابتدائی تعلیم گھر پر عربی فارسی میں ہوئی اور تلگو گاؤں کے مکتب میں پڑھی۔۔۔ میرا گھریلو ماحول بڑا مذہبی تھا۔ میں نے مولسری کے بیجوں پر ختمِ خواجگان، مولود شریف پڑھنے سے لے کر مسجد کی جاروب کشی اور اذان تک دی ہے۔ مسجد میں نمازیوں کے لیے کنویں سے پانی نکالنا، ہر جمعہ کو سر منڈانا، سخت گرم پانی سے نہانا اور روزانہ کے معمول میں فرض، سنت اور نوافل کے علاوہ اشراق اور چاشت کی نمازیں پڑھنا۔‘‘
(مخدوم محی الدین سے انٹرویو۔ پروفیسر امیر عارفی)
	مخدوم کی ابتدائی زندگی مذہبی ماحول میں بسر ہوئی اس پر خود مخدوم کے اظہارِ خیال کے ساتھ ان پر تحقیقی و تنقیدی کام کرنے والے تقریباً سارے محققین متفق ہیں۔ ڈاکٹر داؤد اشرف، مخدوم محی الدین، ڈاکٹر شاذ تمکنت، مخدوم محی الدین حیات، شخصیت، شاعری، ڈاکٹر عطا الرحمن، مخدوم محی الدین جہات اور شاعری، ڈاکٹر محمد فیروز۔ مخدوم رومانی بھی، انقلابی بھی، مغنی تبسم۔ مخدوم اپنی ذات میں ایک انجمن مختصر سرگزشت۔
	غرض گھر کا ماحول مذہبی تھا اور مذہبی فرائض کی انجام دہی میں سختی برتی جاتی تھی اسی زمانے میں مخدوم نے اپنے چچا سے روس اور انقلابِ روس کے بارے میں بہت کچھ سنا اور جب اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تو محبت اور محنت کو اپنا شعار بنایا۔ یہاں تک کہ زندگی کے آخری لمحہ تک اسے اپنے سے جدا نہیں کیا۔
	کمیونسٹ طرزِ فکر اور پارٹی سے قربت نے مخدوم کو ایک با عمل کمیونسٹ قائد کا جیتا جاگتا پیکر بنا دیا اور وہ ایک فعال لیڈر کی شکل میں نہ صرف ہندستان بلکہ بیرون ہند بھی مشہور اور مقبول ہو گئے۔ اس با عمل شخصیت کی تعمیر میں ابتدائی دور میں جو مذہبی عناصر شامل ہو گئے تھے وہ قریب ساری زندگی ان کے ساتھ رہے اور ان کی شاعری کی اساس بنے رہے۔ ان کی فکر اور ان کی شاعری کی لفظیات ہمیشہ اس کے زیر اثر رہی۔
	’’سرخ سویرا‘‘ کی پہلی ہی نظم ’’طور‘‘ ہے۔ کوہِ طور خالق اور مخلوق کے رشتے، مخلوق کے تجسس، خالق کی دلدہی کی علامت ہے۔ مخدوم نے ’’طور‘‘ عنوان کے تحت اپنی محبت اور اس کی پاکیزگی اور معصومیت کی عکاسی کی۔
	نظم ’’آسمانی لوریاں ‘‘ دن کی رخصت، شام کی آمد اور رات کی تفصیلات پیش کرتی ہے۔ اس میں مخدوم رات کی خاموشیوں میں پیامِ حق سنتے نظر آتے ہیں۔ رات کی خاموشیوں میں اللہ تعالیٰ سے روز و نیاز اور اس کی تفصیلات مخدوم کی زبانی سماعت فرمائیے :
روزِ روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں 
اڑ رہی ہیں آسماں پر زعفرانی ساریاں 
شام رخصت ہو رہی ہے رات کا منھ چوم کر
ہو رہی ہیں چرخ پر تاروں کی کچھ سرگوشیاں 
۔۔۔
سرمدی نغمات سے ساری فضا معمور ہے 
نطقِ رب ذوالمنن ہیں رات کی خاموشیاں 
نیند سی آنکھوں میں آتی ہے جھکا جاتا ہے سر
سن رہا تھا دیر سے میں آسمانی لوریاں 
				(کلیاتِ مخدوم محی الدین، ص: ۱۰۳)
	نظم ’’سجدہ‘‘ مخدوم کی ایک ایسی نظم ہے جس میں مخدوم اپنی محبوبہ کے ساتھ وقت گزارتے نظر آتے ہیں اور اسی قول کی تفسیر پیش کرتے ہیں کہ خدا کے بعد اگر سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو شریکِ زندگی کو ہوتی کہتے ہیں :
لطف سجدوں میں آ رہا ہے مجھے 
چھپ کے کوئی بلا رہا ہے مجھے					(ص: ۱۰۴)
	نظم ’’میں ‘‘ میں آدم اور ابنِ آدم کی اہمیت اور افادیت، جبر و قدر، مذہبی انداز میں اس طرح اجاگر کرتے ہیں :
خود تراشیدہ بت ناز آفریں میرا وجود
میری ذاتِ پاک مسجودِ جہانِ ہست و بود
دوسرا کوئی نہیں رہتا جہاں رہتا ہوں میں 
اپنے سیلاب خودی میں آپ ہی بہتا ہوں میں 
میرے سجدوں کے لیے ہی وقف ہے میری جبیں 
میری اقلیم انا میں دوسرا کوئی نہیں 					(ص: ۱۱۰)
	نظم ’’جنگ‘‘ میں جنگ کی ہولناکیوں اور تباہیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آخر میں ’’آفتابِ رحمت دوراں و انجمِ حمیت یزداں ‘‘ کے طلوع ہونے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں لکھتے ہیں :
خود اپنی زندگی پہ پشیماں ہے زندگی
قربانِ گاہِ موت پہ رقصاں ہے زندگی
انسان رہ سکے کوئی ایسا جہاں بھی ہے 
اس فتنہ زار زمیں کا کوئی پاسباں بھی ہے 
او آفتابِ رحمت دوراں طلوع ہو
او انجمِ حمیت یزداں طلوع ہو					(ص: ۱۱۷)
	اپنی نظم ’’موت کا گیت‘‘ میں انسانی خون کی ارزانی، ایمان و کفر کی تعریف، قسمت اور مقدر کے حیلے وغیرہ بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ گناہ گار انسان فشار قبر سے دو چار ہوتا ہے اس طرح ظلم کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہیں مخدوم لکھتے ہیں :
عرش کی آڑ میں انسان بہت کھیل چکا
خونِ انسان سے انسان بہت کھیل چکا
مورِ بے جاں سے سلیمان بہت کھیل چکا
وقت ہے آؤ دو عالم کو دگر گوں کر دیں 
قلبِ گیتی میں تباہی کے شرارے بھر دیں 
ظلمتِ کفر کو ایمان نہیں کہتے ہیں 
سگِ خون خوار کو انسان نہیں کہتے ہیں 
دشمنِ جاں کو نگہبان نہیں کہتے ہیں 
جاگ اٹھنے کو ہے اب خوں کا تلاطم دیکھو
ملک الموت کے چہرے کا تبسم دیکھو
جان لو قہر کا سیلاب کسے کہتے ہیں 
ناگہاں موت کا گرداب کسے کہتے ہیں 
قبر کے پہلوؤں کی داب کسے کہتے ہیں 
دورِ ناشاد کو اب شاد کیا جائے گا
روحِ انسان کو آزاد کیا جائے گا					(ص: ۱۲۰)
	تاریخ اسلام سے واقف ہر مسلمان حضرت علیؓ کی بہادری، ان کی جنگ، ان کی تلوار ’’ذوالفقار‘‘ کے بارے میں جانتا ہے۔ اپنی نظم ’’جہانِ نو‘‘ میں جہانِ نو کی تعمیر کے لیے مخدوم کو ذوالفقار یاد آتی ہے اور کفر کے اندھیرے کو مٹانے محبت، مساوات، نئی صبح و شام کے اچھوتے نظام کو پھر سے رائج کرنے کے لیے مخدوم ذوالفقار کو باطل کی گردنوں پر چمکنے کے لیے یاد کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں اسلام، بانی اسلام، ترویج اسلام کے شیر، سب کی اہمیت، افادیت مسلمہ طور پر بیان ہوتی ہے۔ اشعار سماعت فرمائیے :
نغمے شر فشاں ہوں اٹھا آتشیں رباب
مضرابِ بے خودی سے بجا سازِ انقلاب
معمار عہد نو ہو ترا دست پُر شباب
باطل کی گردنوں پہ چمک ذوالفقار بن
ایسا جہان جس کا اچھوتا نظام ہو
ایسا جہان جس کا اخوت پیام ہو
ایسا جہان جس کی نئی صبح و شام ہو
ایسے جہانِ نو کا تو پروردگار بن					(ص: ۱۲۷)
	نظم ’’نورس‘‘ میں جبرئیل امین اور کلیمی کی تلمیحات کے سہارے مخدوم اپنے ما فی الضمیر کو واضح کرتے نظر آتے ہیں لکھتے ہیں :
جبرئیل امین کے ہونٹوں کی
بے گائے ہوئے نغموں کی صدا
حوروں کے بہشتی نغموں سے 
جو راگ بنے وہ راگ ہے وہ
جس سے کہ کلیمی ملتی ہے 
کچھ ایسی ہی اک آگ ہے وہ					(ص: ۱۳۷)
	نظم ’’انقلاب‘‘ میں انقلاب کا انتظار کرتے ہوئے اور اسے جلد آنے کی دعوت دیتے ہوئے مخدوم کلامِ پاک میں جن انبیا کا بیان ہوا ہے ان کی مخصوص خصوصیات سے زمانہ کو خالی بتاتے ہیں کہتے ہیں :
رخِ حیات پر کاکل کی برہمی ہی نہیں 
نگارِ دہر میں انداز مریمی ہی نہیں 
مسیح و خضر کی کہنے کو کچھ کمی ہی نہیں 
گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے 
	حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کے واقعہ کو موجودہ عہد سے جوڑتے ہوئے حق و باطل، خیر و شر کے مقابل میں ہار کر بھی جیتنے کی کیفیت کی عکاسی کرتے ہوئے مخدوم نظم پیار کی چاندنی میں رقم طراز ہیں :
ابن آدم کو سولی چڑھاتے رہو
زندگانی سرِ دار گاتی رہے 
	’’مارٹن لوتھر کنگ‘‘ نظم میں مارٹن لوتھر کے قتل پر مخدوم کو آغازِ اسلام کے سن ۶۰ھ کے قتل حسین، شام غریباں، خیر و شر، نیکی و بدی کا تصادم و ٹکراؤ یاد آتا ہے اور وہ بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں :
یہ قتل، قتل کسی ایک آدمی کا نہیں 
یہ قتل، حق کا مساوات کا، شرافت کا
یہ قتل علم کا، حکمت کا، آدمیت کا
یہ قتل حکم و مروت کا خاکساری کا
یہ قتل ظلم رسیدوں کی غم گساری کا
یہ قتل ایک کا، دو کا نہیں، ہزار کاہے 
خدا کا قتل ہے، قدرت کے شاہ کار کاہے 
ہے شام، شامِ غریباں، ہے صبح، صبح حنین
یہ قتل، قتل مسیحا، یہ قتل، قتل حسین					(ص: ۲۳۱)
	ڈاکٹر محمد فیروز کے مطابق ۱۰۸ شعری تخلیقات (بہ حوالہ مضمون ’’مخدوم رومانی بھی، انقلابی بھی)، مخدوم کی کل کائنات، درج بالا مثالیں گیارہ نظموں سے لی گئی ہیں ویسے نظم ’’نالہ حبیب‘‘، ’’لختِ جگر‘‘، بھاگ متی، رات کے بارہ بجے اور چند غزلوں میں بھی علامات، تلمیحات، اسما ایسے مستعمل ہوئے ہیں جن کے سرے مذہب سے جا ملتے ہیں مثلاً تورات، انجیل، قرآن، ہاجرہ، یعقوب، یوسف، کشاکشِ دل پیغمبراں، گلوئے یزداں وغیرہ۔
	اس مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مخدوم نے کامریڈ کے طور پر شہرت پائی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا آج بھی ان کی یاد مناتی ہے اور انھیں اپنا قائد تسلیم کرتی ہے لیکن ادب کے ایک عام قاری کی حیثیت سے جب میں نے سرخ سویرا، گل تر اور بساطِ رقص اور ان کی یکجا شکل ’’کلیاتِ مخدوم محی الدین‘‘ کا مطالعہ کیا تو مجھے ان کی فکر، ان کے اسلوب، ان کی سوچ، ان کے الفاظ کے پس پردہ اسلام، اسلامی فکر، اسلامی تہذیب، اسلامی روایات کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آیا جو ان کی پہلی نظم سے ان کے آخری دور کے کلام تک مختلف انداز سے جلوہ گر نظر آیا۔
	اس میں کوئی شک نہیں کہ جب مخدوم نے ہوش سنبھالا اسلامی مملکت قریب قریب معدوم ہو چکی تھی، اسلام اصول و قوانین دہرائے تو جا رہے تھے لیکن صدقِ دل سے ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا۔ کارل مارکس کے نظریات یوروپی ممالک میں ہلچل مچا چکے تھے۔ ادب میں انفرادی اور اجتماعی جبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی تھی۔ ہر حساس انسان اپنے ظرف کے مطابق اپنے شعور کے مطابق عالمی سطح پر آزادی، مساوات اور ترقی کا پرچم بلند کرنے کی کوشش میں تھا۔ مخدوم اپنے بچپن میں ہی روس اور اہلِ روس کی کامیابی کے بارے میں جان چکے تھے شاید ان ہی وجوہات کے تحت مخدوم نے کمیونزم سے اور کمیونسٹ تحریک سے رشتہ جوڑا، غریبوں سے محبت، ان کی عزت، ان کے حقوق کی حفاظت اور ان کے لیے سینہ سپر ہونے کی جرات نے جو اسلامی اصول و قوانین سے بڑی حد تک قربت اور مماثلت رکھتے تھے نے انھیں اپنی جانب متوجہ کیا اور انھوں نے اس تحریک کے توسط سے غریبوں اور مزدوروں سے ناطہ جوڑا ان کی خدمت کی۔ گھر کی، پارٹی کی، سماج کی، ذمہ داریوں کو ایک با اصول انسان کی طرح پورا کیا اور اپنا روشن اور قابلِ تقلید کر دار آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ گئے۔
	اس مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابتدائی زندگی کی تعلیمات کی اہمیت اور افادیت ان کے ذہن اور ان کے دل نے پوری طرح قبول کی تھیں۔ محبت، خلوص، بھائی چارگی، مساوات، غریبوں، محتاجوں کے کام آتے ہوئے خوشی محسوس کرنا، اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر سوچنا، مخدوم کی طبیعت کا، فطرت کا ایک حصہ بن چکے تھے۔ مخدوم نے شعوری طور پر اپنے لیے اس راستے کو منتخب کیا جس پر چلتے ہوئے انھیں اور ان کے متعلقین کو پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مخدوم کی اس بے لوث خدمت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مخدوم نے اپنے اور پنے گھر والوں کے لیے ایک گھر بھی نہیں چھوڑا اور خود اپنے صاحب زادے نصرت محی الدین کی ملازمت کے لیے بھی اپنے اثر و رسوخ کا استعمال بالکل ہی نہیں کیا۔ ان کے دوست احباب ان کی روزمرہ زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی جفا کشی اور سادگی کی کئی تصویریں پیش کرتے ہیں۔ پارٹی کے دفتر میں سو جانا۔ عام کمپارٹمنٹ میں سفر کرنا۔ بھوک پیاس کی صعوبتیں برداشت کرنا۔ یہ ساری خصوصیات اس حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ مخدوم مذہب کی بنیادی روح کو تسلیم کرتے اور اپنی عملی زندگی میں اس سے کام لیتے تھے۔ اب رہی بات نماز کی پابندی نہ کرنا یا مے نوشی میں مشغول رہنا اور دوسری باتیں تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بے عیب ذاتِ خدا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے درگزر اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا پر منحصر ہوتا ہے جب کہ بندوں کی خدمت اور محتاجوں کی مدد اللہ کا پسندیدہ عمل ہے۔ استاد محترم پروفیسر مغنی تبسم کے ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہتی ہوں :
کرم کیا ہے کہ توفیق دی گناہوں کی
کرم کرے گا گناہوں کی جب سزا دے گا
٭٭٭


علی احمد فاطمی

احتجاج اور انقلاب کے درمیان ۔    مخدومؔ محی الدین


	ایک خیال ہے کہ ادب کی تخلیق کی بنیاد ہی مزاحمت، اضطراب و احتجاج پر ہوتی ہے۔ یہ ایک فکری سے زیادہ فطری عمل ہے۔ اس لیے کہ نظریے اور فلسفے سے زیادہ بڑا جذبہ بے چینی و اضطراب، اختلاف و انحراف کا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پروفیسر قمر رئیس نے اچھی بات کہی ہے :
		’’ حساس ادیب جب اپنے کسی معتبر تجربے کو اظہار کی شکل دیتا ہے تو گویا وہ اختلافی یا انحرافی عمل سے گزرتا ہے۔ وہ بلاشبہ کسی سماج یا انسانی صورتِ حال کے بارے میں اعتماد سے اپنی بات کہتا ہے کہ اس میں کچھ نیا ہے اس میں دوسروں کی سوچ یا علم و آگہی سے ہٹ کر کچھ کہا گیا ہے یعنی اس کا تخلیقی تجربہ دوسروں سے اختلاف کا پہلو رکھتا ہے۔‘‘
	احتجاج تو وہاں سے شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے ماحول سے ناآسودہ ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے کرب کا اظہار کرتا ہے۔ 
	شعر و ادب کے حوالے سے یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ مزاحمت و احتجاج وغیرہ فطری عناصر تو ہیں اور ان کا اظہار بھی فطری عمل ہے لیکن تخلیقی اظہار کے فن کارانہ عمل میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ ادب کا چہرہ مسخ نہ ہونے پائے یعنی ادب کی ادبیت یا شعر کی شعریت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔ گزشتہ دہائیوں میں ایک خاص طبقہ ء فکر کی جانب سے یہ بات اتنی بار دہرائی گئی ہے کہ بہ ظاہر یہ بات معقول سی نظر آنے لگی ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ادب ہے کیا اور اس کی ادبیت کیا ہے اور شعریت کسے کہتے ہیں۔ کچھ بھرے پیٹ اور خالی ذہن کے قارئین و ناقدین کے تئیں اگر ادب یا شاعری سے مراد محض تغزل ہے نغمگی ہے، جذباتیت ہے، لطافت وغیرہ ہے تو پھر کسی نوع کی مزاحمتی شاعری شعر و سخن کے نرم و نازک چہرے کو مسخ تو کرے گی یا کم از کم خراش تو ڈالے گی ہی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ نغمگی کا چہرہ الگ ہوتا ہے اور کرختگی کا الگ۔ دونوں کی حسّیات و کیفیات الگ الگ ہوتی ہیں۔اگر زندگی کرخت ہے تو شاعری کے کرخت ہونے کے امکانات قوی ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہییں اور اس کے جانچنے پرکھنے کے پیمانے بھی مختلف ہوں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ چاروں طرف آہ و زاری ہو، واویلا ہو اور سنجیدہ و ذمہ دار شاعر کسی ٹیلے پر بیٹھا ان خوں ریز مناظر کو دیکھ کر بانسری بجا  رہا ہو۔ چاروں طرف شور و غل ہوتا ہے تو سرگوشیاں از خود اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔ جس طرح زندگی کے چہرے مختلف ہوتے ہیں اسی طرح شعر و ادب کے چہرے بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہر نوع کی شاعری کی شعریات الگ الگ ہوتی ہے یا الگ الگ ہونی چاہیے۔ شاعری کا اگر کوئی سماجی منصب ہے اور وہ انقلابِ دہر سے گہر ا اور باطنی رشتہ رکھتی ہے تو پھر ہمہ وقت عشق و محبت کے سستے راگ نہیں الاپ سکتی کیوں کہ زندگی بہ ذاتِ خود کہیں نغمہ ہے۔ الاپ ہے اور کہیں چیخ پکار ہے۔ اس نغمہ، الاپ اور چیخ پکار کو الگ الگ ڈھنگ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری مشکل یہ رہی ہے کہ اردو تنقید نے یا اردو شعریات نے ان سب کو الگ الگ ڈھنگ سے سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ غزلیہ شاعری کا مزاج و مذاق اور شعریات اتنی غالب رہی کہ نظم کی حقیقت، خارجیت، مزاحمت وغیرہ راس آئی نہ سمجھ میں آئی اور ہم مخصوص سکہ بند غزل کی شعریات اور اس سے بڑھ کر اپنی پسند و ناپسند تہذیبی پس منظر کے حوالے سے سب کو جانچتے پرکھتے رہے اور غلط قسم کے فیصلے کرتے رہے۔ اس نوع کی غلطیاں تو ترقی پسند نقادوں سے بھی ہوئیں۔ وہ آج تک مزاحمت، احتجاج اور انقلاب کے مابین نازک احساس اور فرق کو پیش نہ کر سکے چناں چہ کلاسیکی تصورات کی انسان دوستی کی شاعری، مزاحمتی شاعری اور بعد کے دور کی احتجاج اور انقلابی شاعری جو ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہوئے بھی الگ الگ ابواب ہیں۔ ’’مزاحمت اور پاکستان کی اردو شاعری‘‘ کے مصنف ڈاکٹر آغا ظفر حسنین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :
’’ بلاشبہ احتجاج، انقلاب اور بغاوت کی اصطلاحیں مفہوم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف تصورات کی حامل ہیں مگر بعض اوقات ادب میں ان تینوں کو ایک دوسرے کے بدل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی توجیحات بھی تقریباً وہی ہیں۔ جو احتجاج اور مزاحمت کی InterChangeability کے ضمن میں بیان کی گئی ہیں۔‘‘
	گزشتہ دنوں ان تمام نزاکتوں کو نئے سرے سے غور کرنے کی ابتدا تو ہوئی۔ کچھ اچھے سمینار ہوئے۔ کتابیں بھی منظرِ عام پر آئیں لیکن ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور س کی شعریات و جمالیات کی نزاکتوں اور پرتوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔
	یہ سچ ہے کہ مزاحمت عربی لفظ اور زحمہ سے مستعار ہے جس کے لغوی معنی حریف سے ٹکر لینے یا مدافعت کرنے کے ہوتے ہیں۔ انگریزی میں اس کا بدل Resistance ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو فرق Resistance اور Protest میں ہے اور جو فرق Protest اور Revolution میں ہے وہی فرق مزاحمت، احتجاج اور انقلاب میں ہے۔ ہمارے پاس ایک اور لفظ بغاوت بھی ہے اور انقلاب کے بہت قریب ہے۔ ڈاکٹر علی جاویدؔ نے اس سلسلے میں کچھ اچھے کام کیے ہیں۔ جعفر زٹلی سے لے کر افہام و تفہیم کے مضامین تک انھوں نے ان اصطلاحوں پر معنی خیز روشنی ڈالی ہے۔ ایک مضمون میں واضح طور پر لکھتے ہیں :
		’’ انقلاب، بغاوت اور احتجاج ایک دوسرے سے قریب ضرور ہیں لیکن ان میں بہت فرق ہے۔ جہاں تک انقلاب کا تعلق ہے تو اسے لوگوں نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے لیکن اگر انقلاب کے سائنٹفک نقطہ ء نظر کو دھیان میں رکھا جائے تو انقلاب کے معنی کسی سماج کی معاشیات کے پیداواری رشتے میں مکمل تبدیل یا دوسرے الفاظ میں کسی سماجی ڈھانچے میں مکمل سماجی، سیاسی اور معاشی تبدیلی کے ہیں۔۔۔ انقلاب کے لیے عمل پیہم ضروری ہے اور انقلاب کا تعلق کسی باقاعدہ تحریک سے ہوتا ہے جس کے مقاصد پہلے سے طے ہوتے ہیں۔
ساتھ ہی انقلاب کے لیے انقلابی شعور کا ہونا لازمی ہے جب کہ احتجاج کسی بھی سماجی نظام یا تحریک سے ناراضگی کا ردِ عمل ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی تحریک کا مخالف ہے تو اس کی یہ مخالفت کسی طرح کی حکمت عملی کو جنم نہیں دیتی بلکہ ایک طرح کی ذہنی بغاوت کی موجب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ احتجاج کسی بھی شے کے خلاف اسے ختم کرنے کا راستہ ہموار نہیں کرتا۔۔۔‘‘
	اگر یہ باتیں ذہن میں واضح نہ ہوں تو اس قسم کی غلطیاں ہو جانے کا امکان بنا رہتا ہے جیسا کہ ہمارے ایک دوست نے اقبال کے اس شعر :
’’جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روٹی / اس کھیت کے ہر خوشہ ء گندم کو جلا دو۔‘‘کے بارے میں کہا کہ احتجاج کی یہ آواز چیخ میں بدل گئی ہے اور گوشِ ادب پر گراں گزرتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ چیخ نہیں ہے بلکہ غم و غصہ میں ڈوبی ہوئی احتجاج کی وہ منزل ہے جہاں سے انقلاب کی شروعات ہوتی ہے۔ پھر جب زندگی میں کبھی کبھی چیخ کا اپنا ایک عمل ہے ضرورت ہے تو پھر شاعری میں کیوں نہیں ؟ ایک خاص نوع کی شاعری میں چیخ کی وہی اہمیت تھے جیسے ایک خاص نوع کی شاعری میں خاموشی کی۔۔۔ اس لیے کسی چیز پر تبصرہ کرنے یا مذمت کرنے سے قبل اس نوع کی شاعری کی کیفیت و ضرورت پر ضرور غور کر لینا چاہیے۔
	’’ سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے / دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔‘‘ جیسا شعر فکر و فن اور معیار پرستوں کی جمالیات کے اعتبار سے جو بھی حیثیت رکھتا ہو لیکن بڑے ملک کی بڑی تاریخی، سیاسی اور انقلابی زندگی میں اس نے کلیدی رول ادا کیا اور حصولِ آزادی میں بے حد اہم حصہ دار رہا۔ اگر کوئی شعر روایتی شعریات کے پیمانے پر بہت کھرا نہیں ہے لیکن سماجیات و سیاسیات کے ضمن میں غیر معمولی کامیاب ہے اور تاریخ میں بے حد اہم رول ادا کر رہا ہو یا ادا کر چکا ہو تو اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایلیا اہرن برگ کے یہ مشہور جملے پھر دُہراتا ہوں :
		’’ ایک ادیب کے لیے یہی ضروری نہیں کہ وہ ایسے ادب کی تخلیق کرے جو مستقبل کی صدیوں کے لیے ہو۔ اسے ایسے ادب کی تخلیق پر بھی قدرت ہونی چاہیے جو صرف ایک لمحے کے لیے ہو، اگر اس ایک لمحے میں اس کی قوم کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہے۔‘‘
	سراج الدولہ کی موت پر اس کے دوست رام نرائن موزوں نے شعر کہا تھا :
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پر کیا گزری
	یہ اچھا شعر تو ہے لیکن اس میں محض رنج و غم کا لطیف پیرائے میں اظہار ہے اور تلخی احساس ہے۔ ہلکی سی دبی دبی سی مزاحمت بھی ہو سکتی ہے لیکن احتجاج نہیں ہے لیکن جب یہی تلخی احساس مزید شدید اور کرخت لہجہ اختیار کر لیتی ہے تو مصحفی اور مومن جیسے غزل گو شعرا بھی اس رنگ کے شعر کہتے ہیں :
ہندوستان کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی
ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی
مومن حسد سے کرتے ہیں ساماں جہاد کا
ترسا صنم کو دیکھ کے نصرانیوں میں ہم
	ان اشعار کی روشنی میں آپ جعفر زٹلی، سودا، نظیر وغیرہ کی نظموں، شہر آشوبوں کا بہ غور ملاحظہ کیجیے۔ یہ مزاحمت اور احتجاج کے آس پاس کی تو مثالیں ہیں لیکن انقلاب ہرگز نہیں کیوں کہ اس وقت تک ادب میں سماجی اور آگے بڑھ کر سیاسی انقلاب کا کوئی واضح تصور نہ تھا۔ اسی لیے ان میں جو مزاحمت اور احتجاج ہے ان میں صوفیانہ اقدار کے تحت انسانی اقدار کے عناصر زیادہ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ باضابطہ انقلاب تو اقبال اور جوش کے یہاں بھی نہیں ہے۔حالاں کہ کہا جاتا ہے کہ اقبال پہلے شاعر ہیں جنھوں نے لفظ انقلاب کا باقاعدہ استعمال کیا اور جوش تو شاعرِ انقلاب ہی کہے جاتے ہیں۔ ان دونوں کی وسیع المشربی اور انسان دوستی سے کسے انکار ہو سکتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اقبال کا انقلاب مبہم طرز کاہے ورنہ وہ صوفیانہ طرز کے پیغام انسانیت کے شاعر ہیں اور جوش کا انقلاب دراصل احتجاج ہے اور ایسا احتجاج جو بقول محمد حسن:
	’’احتجاج پورے طور پر یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کیا چاہتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے اس کی تکمیل کے لیے کون سے ذرائع اور وسائل اختیار کیے جانے چاہیے البتہ وہ یہ ضرور جانتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس سے نا آسودہ ہے۔‘‘
	اسی مقام پر وہ انقلاب سے الگ ہوتا ہے کیوں کہ انقلاب کا مارکسی و اشتراکی تصور اپنے ذہن میں بدلی ہوئی دنیا اور نظام کا واضح تصور رکھتا ہے۔ 
	اس مختصر اور نا مکمل سے پس منظر میں اگر ترقی پسند شاعری کے احتجاج و انقلاب کا معروضی جائزہ لیا جائے تو کچھ کارآمد باتیں برآمد ہو سکتی ہیں … لیکن یہاں مجھے چند باتیں مخدوم کے احتجاج اور انقلاب کے حوالے سے عرض کرنی ہیں … کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ پوری ترقی پسند تحریک میں مخدوم اکیلا شاعر ہے جو صحیح معنوں میں ترقی پسند شاعر ہے یعنی جس کے پاس احتجاج و انقلاب کا معقول و مناسب تصور تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات سچ ہو… لیکن ایسا شاید اس لیے کہا جاتا ہے کہ مخدوم کی پوری شاعری اپنی ذات کی شاعری نہیں ہے بلکہ عوام کی ہے ہندوستان کی ہے۔ ہندوستانی عوام کی غلامی اور محرومی نے مخدوم کو وہ دردو کرب دیا کہ ان کو پوری شاعری بلکہ پوری زندگی احتجاج و انقلاب میں بدل گئی۔ مخدوم شاعر ہی نہیں بلکہ ٹریڈ یوننیسٹ اور کمیونسٹ رہنما تھے حالاں کہ اگر ایک سچے اور پکے ترقی پسند ہونے کے یہی معیار ہیں تو تحریک کے بعض دیگر شعرا بھی پارٹی کے ممبر تھے۔ تحریک آزادی کے سرگرم کارکن جو جیل بھی گئے اور ان کی شاعری میں بھی احتجاج اور انقلاب ہے لیکن ان میں سے مخدوم کوئی نہ بن سکا حالاں کہ جو جس شکل میں ہے اس کی اپنی منفرد و ممتاز شناخت ہے لیکن مخدوم کی بات پھر بھی اور ہے … بس معاملہ یا مسئلہ یہی ہے کہ یہ پھر بھی اور کیا ہے۔
	مخدوم اور دیگر ترقی پسند شعرا کے مابین تھوڑا فرق منظر و پس منظر کاہے … فیض، مجاز، سردار ساحر وغیرہ کے مقابلے مخدوم زندگی بھر ہر اسٹیج پر ہمہ وقت اور ہر سانس میں عوام کے ساتھ تھے۔ قدم قدم پر ان کے ساتھ… پھر انھیں قدموں، دھڑکنوں، تجربوں اور عوامی مسئلوں کو وہ اپنی شاعری میں انداز و آہنگ میں پیش کر دیتے ہیں۔ انھوں نے خود ہی کئی بار کہا ہے … ’’وہ شعر کہتے نہیں ہیں کوئی اور شعر کہلواتا ہے۔‘‘ یہ کوئی اور نہیں اس ملک کے عوام ہیں۔ عام انسان ہیں جن کے شب و روز، رنج و غم دکھ سکھ میں مخدوم سراپا ڈوبے ہوئے ہیں اور صرف ڈوبے ہوئے ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں اور ایک کمیونسٹ رہنما ہونے کے ناتے ان کے یہاں صرف احتجاج نہیں ہے بلکہ انقلاب کا واضح تصور ہے وہ جس خوشحال دنیا کو خواب میں دیکھتے ہیں اس کا بھرپور تصور حقیقت میں بھی رکھتے ہیں۔
	مخدوم کے پاس فیض کی طرح رقیب، ہجر، تنہائی، صبا، سحر وغیرہ کا کوئی رونا نہیں ہے۔ ان کی حسیات اور لفظیات ہی الگ ہے جس کی وجہ سے ان کی شعریات بھی مختلف و منفرد ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اردو کی روایتی شاعری یا استعارے و علائم سے واقف نہ تھے ان کی اکثر غزلوں یا بعض نظموں میں اس کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں لیکن مخدوم بنیادی طور پر سماجی کرب اور سیاسی شعور کا شاعر ہے۔ اس کا سیاسی شعور عالمی ہے اور سماجی کرب اجتماعی… کمیونسٹ لیڈر ڈانگے نے ان کے تعلق سے کیا خوب بات کہی تھی:
	’’مخدوم شیشے میں رہنے والا شاعر نہیں وہ انقلاب اور اس کے آدرش کی حمایت میں بڑی بے باکی سے لکھتا ہے۔ اسی لیے اس کی شاعری اتنی پر اثر ہے کہ لاکھوں کے دل کی آواز بن گئی۔‘‘
	یہیں سے وہ دوسرے ترقی پسند شعرا بطورِ خاص فیض سے الگ ہوتے ہیں کیوں کہ فیض کے یہاں انقلاب کا تصور تو واضح ہے لیکن آہنگ و اسلوب روایتی، لفظیات بھی کلاسیکی، یہ الگ بات ہے کہ فیض نے اس میں بڑے سلیقے اور ہنر مندی سے سیاسی اشارے پیدا کر کے نئے معنی و مفاہیم دے دیے ہیں جو فیض کا اپنا منفرد کارنامہ ہے اور جسے اردو کے قارئین و ناقدین نے عمومی طور پر پسند کیا۔ فیض اردو کے روایتی ذہن کے قارئین و ناقدین کی کمزوری سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے موضوع کے تقاضوں سے زیادہ ناقدین کے معیار و مذاق کو ذہن میں رکھا لیکن پہلے جزوی طور پر مجاز اس کے بعد کُلی طور پر مخدوم اس سے نہ صرف مختلف و منحرف تھے ان کے ذہن میں ناقد کم تھے قارئین زیادہ اور اس سے بھی زیادہ عوام۔ وہ ان کو اپنی شاعری سے متاثر ہی نہیں تبدیل بھی کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ تاثیر سے زیادہ تدبیر پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ شعر و ادب کے معیار سے زیادہ عوامی زندگی کے معیار پر نظر رکھتے ہیں وہ شعریات سے زیادہ حیات پر غور کرتے ہیں اور اسی کو بدلنے کی فکر اور جدوجہد کرتے ہیں۔ اسی لیے مخدوم ان سب سے الگ تھے۔ مخدوم کے پرانے ساتھی راج بہادر گوڑ نے ایک جگہ لکھا ہے :
	’’مخدوم کی شاعری اور خیالات نہ تو آسمان سے ٹپکے ہیں نہ حقے کے کش سے نکلے ہیں بلکہ وہ عوام کے لیے لڑتا رہا ہے اس نے تلنگانے کے کسانوں کی روپوش اور چھاپہ مار لڑائیوں میں ان کا ساتھ دیا۔ اس نے انقلاب اور اس کے آدرش کو اس وقت اپنایا جب کہ وہ با عزت استاد تھا۔ مخدوم نے پہلے ذہنی طور پر یہ راہ اختیار کی پھر عملی طور پر مزدور طبقے کی لڑائیوں میں شریک ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا شاعر ٹریڈیونینوں کی شرح اجرت کی پیچیدگیوں اور گتھیوں کو سلجھانے اور اس کے ساتھ اپنے نغمے سنانے میں مسرت محسوس کرتا ہے۔‘‘
	ملاحظہ کیجیے گوڑ صاحب کا یہ خیال کہ مخدوم پہلے ذہنی طور پر پھر عملی طور پر اس لڑائی میں شریک ہوئے اور دوسرا جملہ یہ بھی کہ وہ پامال اور پس ماندہ عوام کو اپنے نغمے سنانے میں مسرت محسوس کرتا تھا نہ کہ اردو کے معیار پرست ناقدین کو سنا کر… پروفیسر زینت ساجدہ نے اپنے ایک تاثراتی مضمون میں لکھا ہے کہ:
	’’شعر کا لفظ لفظ جس طرح وارد ہوتا ہے لوگوں کو سنا نے لگتا ہے … راستہ چلتے آدمی کو روک کر سنائے گا بلکہ اُسے دیکھ کر آدمی خود سننے کے لیے رک جائے گا۔کوئی نہیں تو رکشا والے کو سنائے گا۔ ہوٹل کے بیرے کو سنائے گا، ننھے منے بچوں کو سنائے گا… اس کا کلام مرضِ متعدی ہے۔ سننے والے دوسروں کو سنائیں گے اس طرح حیدرآباد کی ساری پبلک توتے کی طرح اس کا کلام رٹ لیتی ہے … خدا جانے کون سا منتر پڑھ کر پھونک دیا ہے اکتا نے کا نام نہیں لیتے۔ باسی پرانی بوسیدہ غزلیں تک شوق سے سنتے ہیں اور دوسرے شاعروں کی سائیکلوجی خراب ہوتی ہے۔‘‘
	یہی وہ منتر ہے جہاں سے مخدوم کے معاملات اور تصورات نہ صرف واضح بلکہ اپنے مقصد سے راست طور پر وابستہ ہوتے ہیں اور اسی مقام پر وہ دیگر شعرا سے مختلف بلکہ بلند مقام کے حقدار ہیں اور وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ:
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
اور یہ بھی…
ہمد مو ہاتھ میں ہاتھ دو
سوئے منزل چلو
منزلیں پیار کی
منزلیں دار کی
کوئے دلدار کی منزلیں 
دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو
……
	مخدوم کے یہاں رقیب، تنہائی، ہجر وغیرہ نہیں ہے۔ بلکہ حیات، کائنات، صلیب، منزل اور ہمدم بلکہ ہمد مو ہے یعنی عوام۔۔ اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ ہے۔ مخدوم کا تخلیقی عمل محض شعری وجدان، ایران اور توران پرٹکا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ انسان ہے اور انسانی سیلاب، ایک جگہ وہ خود کہتے ہیں :
	’’شعر میں ہم ماورا کی حدوں کو چھوتے ہیں مگر شعر سماج سے ماور نہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں لکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہوں۔ سماجی تقاضے پر اسرار طریقے سے شعر لکھواتے رہے ہیں اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں نے کچھ لکھا ہی نہیں ہے۔‘‘
	اب میں مخدوم کی دو نظموں پر گفتگو کروں گا جن کے ذریعے احتجاج اور انقلاب کے مابین فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی نظم ہے ’’حویلی‘‘ اور دوسری ہے ’’جنگِ آزادی‘‘۔
	حویلی، مخدوم نے آزادی کے بعد 1950ء کے آس پاس کہی تھی۔ اس نظم میں بوسیدہ حویلی کو فرسودہ سماج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نظم شروع ہی ہوتی ہے اسی خیال سے پہلے مصرع میں ہی تعارف ہوتا ہے۔
	’’ایک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج……
اور فوراً دوسرے ہی مصرع میں غم و غصہ کا اظہار ہوتا ہے جو شاعر یہ کہتا ہے :
لے رہی ہے نزع کے عالم میں مردوں سے خراج
	اس کے بعد یہ غم و غصہ احتجاج کی چادر اوڑھ کر مسلسل کئی اشعار میں پھیل جاتا ہے جن میں ان تمام عناصر کو گرفت میں لیتے ہیں جو اس فرسودہ سماج کو مزید فرسودہ اور کوڑھ زدہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ صرف سرمایہ داروں کو ہی نہیں دوسرے ذمہ داروں پر بھی غصہ و غم کی سنگ باری کرتے ہیں :
جن میں رہتے ہیں مہاجن جن میں بستے ہیں امیر
جن میں کاشی کے برہمن جن میں کعبے کے فقیر
رہزنوں کا قصرِ شوریٰ، قاتلوں کی خواب گاہ
کھل کھلاتے ہیں جرائم جگمگاتے ہیں گناہ
	جہاں پورا کہ پورے سماج عام انسانوں اور کمزور طبقوں کے استحصال میں ڈوبا ہوا ہو ظاہر ہے کہ اس سماج کی صورتِ حال کیا ہو گی… کہتے ہیں :
جس جگہ کٹتا ہو سر انصاف کا ایمان کا
روز و شب نیلام ہوتا ہے جہاں انسان کا
زیست کو درسِ اجل دیتی ہے جس کی بارگاہ
قہقہہ بن کر نکلتی ہے جہاں ہر ایک آہ
سیم و زر کا دیوتا جس جا کبھی سوتا نہیں 
زندگی کا بھول کر جس جا گزر ہوتا نہیں 
ہنس رہا ہے زندگی پر اس طرح ماضی کا حال
خندہ زن ہو جس طرح عصمت پہ قحبہ کا جمال
	یہ احتجاج کی ایک شکل ہے جو زندگی کی مکروہ صورتوں کے پیشِ نظر استحصالی قوتوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ لیکن مخدوم کے احتجاج کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ صرف ایک یہ شکل پیش نہیں کرتے بلکہ ان گداؤں اور بے نواؤں کی صورتِ حال بھی پیش کرتے ہیں جن کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔
ایک جانب ہیں وہیں ان بے نواؤں کے گروہ
ہاں انھیں بے نان و بے پوشش گداؤں کے گروہ
جن کے دل کچلے ہوئے جن کی تمنا پائمال
جھانکتا ہے جن کی آنکھوں سے جہنم کا جلال
اے خدائے دوجہاں اے وہ جو ہر اک دل میں ہے 
دیکھ تیرے ہاتھ کا شہکار کس منزل میں ہے 
جانتا ہوں موت کا ہم ساز و ہمدم کون ہے 
کون ہے پروردگارِ بزمِ ماتم کون ہے 
کوڑھ کے دھبے چھپا سکتا نہیں ملبوسِ دیں 
بھوک کے شعلے بجھا سکتا نہیں روح الا میں 
	احتجاج کی یہ دوسری شکل ہے جہاں غم و غصہ کے ساتھ انسان دوستی، انسانیت اور اشتراکیت سبھی شیر و شکر ہو گئے اور نغمہ الاپ سے دو قدم آگے بڑھ کر احتجاج بھی بن گیا ہے … اور اسے بننا بھی چاہیے کہ احتجاج کی شعریات۔ فریاد کی شعریات سے بہرحال مختلف ہوتی ہے اور احتجاج کی منزلِ کمال کہ اس کے بغیر احتجاجی شاعری کا کوئی تصور مکمل نہیں ہوتا… یہی نہیں ایک ذمہ دار ترقی پسند شاعر اپنی تخلیق کو صرف آگ اور دھوئیں پر ہی ختم نہیں کرتا بلکہ اس دھوئیں میں روشنی کی کرن بھی تلاش کرتا ہے۔ ہمت و حوصلے کی بات کرتا ہے اور نظم کو امید و نشاط پر ختم کرتا ہے چناں چہ نظم بھی اپنے آخری حصہ میں دعوتِ عمل دیتی ہے محبت اور اخوت کے پیغام پر ختم ہوتی ہے :
ہاں وہ نغمہ چھیڑ جس سے مسکرائے زندگی
تو بجائے سازِ اُلفت اور گائے زندگی
آ انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں 
آ انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں 
	یہ سچ ہے کہ یہ نظم کہیں کہیں احتجاج سے آگے بڑھ کر انقلاب کی حدوں کو چھونے لگتی ہے اور تخلیق میں اتنی پابندی یا خانہ بندی بھی ممکن مناسب نہیں تاہم یہ نظم احتجاجی زیادہ ہے انقلابی کم۔ لیکن مخدوم کی دوسری نظم جنگِ آزادی میرے خیال میں مکمل طور پر انقلابی نظم ہے۔ نظم کے پہلے ہی بند میں شاعر اعلانِ جنگ کر رہا ہے اور صاف کہہ رہا ہے کہ یہ آزادی کی جنگ ہے اور آزادی کی اس جنگ میں ہند کے تمام محکوم، مظلوم، مجبور، دہقان، مزدور سبھی شامل ہیں لیکن دوسرے ہی بند میں شاعر یہ بھی کہتا ہے :
سارا سنسار ہمارا ہے 
پورب پچھم اتر دکن
ہم افرنگی ہم امریکی
ہم چینی جاں بازانِ وطن
ہم سرخ سپاہی ظلم شکن
آہن پیکر فولاد بدن
	وہ اس انقلابی جنگ میں ساری دنیا کے مظلوموں کو شامل کر لیتا ہے حتیٰ کہ امریکی اور افرنگی عوام کو بھی اور پوری دنیا کے عوام کو سرخ سپاہی کہتا ہے … یعنی ایک خاص قسم کی جدلیت اور اشتراکیت… کیوں کہ یہ لڑائی محض اقتدار کی نہیں ہے بلکہ مکمل آزادی کی ہے اور آزادی تو تمام عوام کا مشترک اور کائناتی مسئلہ ہے۔ اگلے بند میں مخدوم اپنے نظریات اور مطالبات کو مزید واضح کر دیتے ہیں :
وہ جنگ ہی کیا وہ امن ہی کیا
دشمن جس میں تاراج نہ ہو
وہ دنیا دنیا کیا ہو گی؟
جس دنیا میں سوراج نہ ہو
وہ آزادی آزادی کیا
مزدور کا جس میں راج نہ ہو
	آخری مصرعے میں وہ باقاعدہ مزدوروں کے راج کا اعلان کر دیتے ہیں یعنی مخدوم کے ذہن میں نہ صرف نظام کے بدلنے بلکہ نیا نظام کیسا ہو اور کس کا ہو… پوری تصویر و تشکیل واضح ہے بلکہ وہ سوال بھی قائم کرتے ہیں کہ جس دنیا میں سوراج نہ ہو، جمہوریت نہ ہو، وہ دنیا دنیا کیا ہو گی؟ اور آزادی بھی مکمل نہیں ہے جس میں مزدوروں کا راج ہو… اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ نظم صرف انقلابی نعرہ نہیں ہے رومانی احتجاج نہیں ہے بلکہ نظامِ کہنہ کو بدلنے کا پختہ عزم تو ہے ہی نیز نظامِ نو کیا ہو اور کیسا ہو اس کا واضح نظریہ بھی ہے … یہیں سے وہ تصور انقلاب میں اقبال اور جوش ہی نہیں بعض دیگر ترقی پسند شعرا سے بھی آگے ہو جاتے ہیں۔ مخدوم کو یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہے بلکہ پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں :
لو سرخ سویرا آتا ہے 
گلنار ترانہ گاتا ہے 
دیکھو پرچم لہراتا ہے 
	ان تین مصرعوں میں نعرہ محض ہوا میں نہیں اُچھل رہا ہے بلکہ ایک منضبط فکر کا اعلانیہ بھی بن رہا ہے …وہ اعلان ہندوستان جیسے ملک میں کتنا کارگر اور پر اثر ہے یہ الگ بحث ہے لیکن مخدوم کے فکر و نظر اور انقلابی شاعری کے اثر کے ضمن میں بحث و تمحیص کی گنجائش کم سے کم رہتی ہے کہ مخدوم کے یہاں احتجاج اور انقلاب کے تصورات مبہم اور غیر واضح نہیں تھے اس لیے کہ مخدوم سراپا احتجاج اور انقلاب تھے اگر وہ ایک طرف غم و غصے کی شدت میں یہ کہتے ہیں :
آگ ہوں آگ ہوں ہاں ایک دہکتی ہوئی آگ
آگ ہوں آگ بس اب آگ لگانے دے مجھے 
تو دوسری طرف بار بار یہ بھی کہتے ہیں :
ایسا جہان جس کا اچھوتا نظام ہو
ایسا جہان جس کا اخوت پیام ہو
ایسا جہان جس کی نئی صبح و شام ہو
ایسے جہانِ نو کا تو پروردگار بن
	اور یہی انقلاب کا صحیح تصور ہے … لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک سچے انقلاب کے لیے سچے غصے لو احتجاج کی ضرورت ہوتی ہے اور احتجاج کے لیے اضطراب کی کڑی در کڑی ان سلسلوں کو الگ کر کے اور عوام و عوامی دنیا کا بہتر تصور کیے بغیر آپ منزلِ انقلاب تک نہیں پہنچ سکتے … اس سیاق و سباق میں مخدوم محی الدین صرف اپنے ہم عصروں میں ہی نہیں بلکہ پوری اردو شاعری میں منفرد دو معتبر مقام رکھتے ہیں … یہ الگ بات ہے کہ اس نوع کی احتجاجی اور انقلابی شاعری کے بارے میں اردو کے معیار پرست اور جمال پرست نقاد نعرہ بازی کی شاعری، خطابت، خارجیت وغیرہ کا الزام لگا کر اسے معمولی و سطحی شاعری قرار دیتے ہیں … یہاں کوئی پیچیدہ اور لمبی بحث نہیں چھیڑ نے کا وقت نہیں ہے۔ اس پر باتیں ہوتی رہی ہیں اور پھر ہوں گی فی الحال میں برناڈ شا کے اس جملے پر اپنی بات ختم کرتا ہوں :
’’دنیا دو قسم کے لوگوں سے آباد ہے۔ وہ عقل مند جو خود کو دنیا کے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں اور وہ بے وقوف جو دنیا کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا بے وقوفوں کی ہی بدولت تاریخ اور تہذیب ارتقا پاتے ہیں۔‘‘
مخدوم محی الدین دنیا کے ایسے ہی چند بے وقوف اور دیوانے شاعروں میں سے ایک تھے۔

٭٭٭



اودھیش رانی


مخدوم محی الدین : یادوں کے جھروکے سے 

	حیدرآباد کے عوام کا ایک بڑا طبقہ فخریہ یہ کہتا ہے کہ ہم نے مخدوم کو دیکھا ہے۔ سیاہ تراشیدہ بدن،چمکتی آنکھیں اگر خاموش کھڑے ہوں تو کسی مندر کے بت لگتے تھے، مسکراہٹ ایسی تھی کہ خواہ مخواہ شک ہوتا تھا کہ لیونار ڈونسی نے کہیں اسی مسکراہٹ کو دیکھ کر ہی مونا لیزا نہ بنائی ہو۔ آواز کا جادو تو لگتا تھا کہ حضرت بلال حبشی نے راست بخشا ہو۔
	یہاں مخدوم کے چاہنے والوں کے پاس ان کی یادوں کے جھروکے مہکتے رہتے ہیں۔ میں آج نہ صرف آپ کے سامنے اپنی یادوں کے جھروکوں کو کھولوں گی بلکہ کئی بزرگوں اور دوستوں کی یادوں کے جھروکے کھولوں گی جن میں مخدوم آج بھی جھانکتے ہیں۔
	میں نے مخدوم بھائی کو کب پہلی بار دیکھا یہ تو یاد نہیں مگر جب میٹرک میں پڑھ رہی تھی تو ایک دن شام کو مخدوم بھائی ہمارے گھر آئے۔ میرے والد رائے محبوب نرائن کے ساتھ مختلف امور پر بات کرتے رہے جو اس وقت میرے پلے نہیں پڑے تھے۔ نہرو کی پالیسیوں اور کمیونسٹ پارٹی کی اس وقت کی لائن وغیرہ وغیرہ۔ کھانا کھانے کے بعد میرے والد نے فرمائش کر دی بھئی کوئی تازہ چیز سنا دو۔ مخدوم نے اپنی نظم ’’چنبیلی کا منڈوا‘‘ سنائی۔ ہم نے اپنے منھ پھٹ انداز میں کہہ ڈالا یہ نظم تازہ نہیں ہے۔ یہ تو دو ہفتے پہلے ’’آئینہ‘‘ میں چھپ چکی ہے۔ یہ پتا نہیں تھا کہ مخدوم بھائی کی نظمیں اور غزلیں تازہ کب رہتی تھیں۔ ان کے خیال کو جب آواز ملتی تب ہی لوگوں کی زبان پر شعر آ جاتے تھے۔ وہ کب تک تازہ رہتیں جب وہ کسی اخبار یا رسالے کی زینت بنتیں اس وقت تک کئی حیدرآبادیوں کو یہ یاد ہو جاتی تھیں۔ خیر وہ ہماری اس گستاخانہ حرکت سے خوش ہو گئے اور فوراً یہ بات ذہن نشین کروا دی کہ جب تک ایک بھی نو عمر یا نئی نسل کا فرد اردو پڑھے گا اردو کا مستقبل محفوظ ہے۔ اس کے کچھ ہی دن بعد حیدرآباد میں انجمن ترقی اردو کی کانفرنس ہوئی۔ اردو ہال ابھی تعمیری مرحلے میں ہی تھا۔ بہت سے شعرا اور ادبا موجود تھے۔ مخدوم صاحب ہم کو لے گئے اور کئی حضرات سے ہم کو متعارف کروایا اور سب سے یہ بتاتے رہے ہم آنے والی نسلوں کے نمائندے ہیں جو اردو کو زندہ رکھیں گے۔ ہم بھی مخدوم صاحب کی طرح مرس کر اپنا سر ہلاتے رہے۔ یہاں یہ بات بتاتی چلوں کہ ’مرسنا‘ ایک تیلگو لفظ ہے جو دکنی میں مروج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتراہٹ اور مسرت دونوں جذبوں کا ایک ساتھ اظہار ہونا۔ اسے زینت آپا نے مخدوم صاحب کی ۶۰ ویں سال گرہ پر اپنے مضمون میں استعمال کیا تھا اور میں نے اس کا استعمال استاد سے استفادہ کرتے ہوئے کیا ہے۔
	یوں تو اکثر مخدوم صاحب سے ملاقات ہوتی رہتی تھی مگر ایک دن راکھی کے تہوار کے بارے میں پوچھا۔ ہم نے کہا اس کے بارے میں کوئی اساطیری کہانی نہیں سنی ہے مگر رانی کرناوتی کا ہمایوں کو راکھی باندھنا، سنا ہے۔کہنے لگے کیوں نہ اس بار آپ کے گھر راکھی کا تہوار منایا جائے۔ ہم خوشی سے پھول گئے اور مخدوم صاحب کے معیار کی راکھی ڈھونڈنی شروع کی۔ مگر یہ کام مشکل تھا۔ ہم نے کارچوب نیا نیا سیکھا تھا، اسی کا مظاہرہ راکھی بنانے میں کیا اور ایک ہتھوڑا درانتی والی راکھی بنا ڈالی۔ راکھی کے دن وہ ہمارے گھر آئے تو نصرت اور ظفر کو بھی ساتھ لے کے، نصرت محی الدین اس روز بہت خاموش اور سنجیدہ بنے رہے، ظفر بہت چھوٹے تھے۔ ان کی سمجھ میں صرف چچا ابا کی بات ماننا ہی بڑی اہم بات تھی اور اس کے بعد جب وہ حیدرآباد میں ہوتے تھے، راکھی پر صبح صبح ہی آ جاتے اور راکھی بندھوا کر جاتے تھے۔ یہاں یہ بات بھی بتا دوں کہ دہلی میں جب ان کا انتقال ہوا اس کے دوسرے روز راکھی تھی اور اسی دن ان کی تدفین ہوئی۔ ہم کو آج بھی لگتا ہے کہ اس قدیم سیکولر تہوار کو ان کی یاد میں ہمیشہ تازہ رکھیں۔ ایک دن ہم ظہیر آپا سے ملنے گئے آپا ایک ڈسٹرکٹ سکریٹری کامریڈ کی بیوی تھیں جو ایم۔ایل۔اے کوراٹرز میں رہتی تھیں ان کے چار بچے تین لڑکے اور ایک لڑکی مخدوم صاحب کو گورے نانا کہا کرتے تھے۔ تو صاحب ہم کو راستے میں مخدوم صاحب مل گئے۔ ہاتھ میں امراؤ کیروسین اسٹوو تھا۔ اب راستے بھر میں ہم کو اس چولہے کی افادیت کے بارے میں بتاتے رہے۔ گھر پہنچ کر رابعہ بھابی کو اس چولہے کی ترکیب استعمال سمجھاتے رہے اور ہم کو اس سے استفادہ کرنے کے لیے وہاں اس وقت تک کھڑا رہنا پڑا جب تک اس چولہے کا افتتاح نہ ہو گیا۔
	میں مجلہ ’’عثمانیہ‘‘ کی نائب مدیر اور احمد جلیس مدیر تھے، احمد جلیس، علامہ حیرت بدایونی کے تیسرے لڑکے تھے۔ ہم دونوں نے طے کیا کہ مجلے کا پہلا شمارہ مخدوم صاحب کو دیا جائے اور داد لی جائے تو صاحب پہنچے ایم۔ایل۔اے کوارٹرز چھوٹے سے کمرے میں، چائے وغیرہ ملی۔ مجلہ لے کر مخدوم صاحب نے صفحات الٹائے اور پھر جو نظر ہم دونوں پر پڑی تو ہماری داد لینے کی خواہش کے پرخچے اڑتے نظر آئے۔ جوش کے شعر کو کسی نے تصویر میں ڈھالا تھا۔ چغتائی کی طرز اور اسلوب کی نقل کرنے کی کوشش تھی۔ مگر تصویر میں کچھ عریانیت جھلک گئی تھی۔
	ابھی اور اسی وقت اس صفحے کو مجلے سے الگ کیجیے۔ ایسی بیہودگی اور مجلے میں اور میں کسی اور کے پاس بھی یہ تصویر نہیں دیکھنا چاہتا۔ تو صاحب رات بھر ہم جلے سے اس صفحے کو الگ کرنے میں لگے رہے اور دوسرے روز یہ بتا دیا کہ ہم نے اس صفحے کو نہ صرف مجلے سے علاحدہ کیا ہے بلکہ جلا بھی ڈالا ہے۔ ہنسنے لگے، کہا کہ آئندہ دوسروں کو ایسی حرکت سے منع کرنا۔ مگر آج جب ہم مدرسوں اور کالجوں میں بیوٹی کوئن کے مقابلے دیکھ رہے ہیں اور عریانیت کا مظاہرہ تصویروں میں نہیں بلکہ کھلے عام ہو رہا ہے تو سوچتے ہیں آج مخدوم بھائی ہوتے تو ہم بھی ان کے ساتھ جھنڈا ڈنڈا لے کر احتجاج کرتے۔
	مخدوم صاحب گھریلو ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کرتے تھے ان کو نبھاتے بھی تھے۔ بعض چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی وہ نظر رکھتے تھے۔ مثلاً وہ تاشقند جا رہے تھے تو انھوں نے بھابی سے پوچھا آپ کے لیے کیا لائیں ؟ بھابی نے فرمائش کر دی چوڑی کا جوڑا لے آئیے۔ مسکرائے اور اس کا ذکر دوستوں کے سامنے کیا۔ پھر خود ہی کہنے لگے حیدرآبادی عورتوں کو چوڑیوں کے جوڑے بہت پسند آتے ہیں۔
	حیدرآباد میں عثمانیہ گریجویٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے نمائش لگتی ہے۔ کسی یو۔پی والے نے اس سلسلے میں مخدوم صاحب سے پوچھا : سنا ہے یہاں پر درشنی ہے، یہ ثقیل ہندی مخدوم صاحب ہضم نہ کر سکے، کہنے لگے : شنکری ہے مگر اب بوڑھی ہو چکی ہے۔ شنکری بائی حیدرآباد کی مشہور ہندستانی سنگیت کی ماہر تھیں۔
	مخدوم صاحب بے حد مذہبی تھے یعنی وہ مذہب کی اخلاقیات پر پوری طرح پابند تھے۔ جھوٹ بولنے سے گریز کرتے تھے اور دل آزاری کو پاس بھی پھٹکنے نہ دیتے تھے۔
	ایک بار کسی انٹرویو کے لیے حسن فرخ اور غیاث متین ساتھ گئے۔ انٹرویو شروع ہوا تو حسبِ عادت سگریٹ سلگا لی اور حسن فرخ اور غیاث متین کو بھی پیش کیا۔ دونوں نے اپنے روزہ دار ہونے کا دعویٰ کر کے معذرت کر لی۔ مخدوم صاحب نے اپنی سگریٹ فوراً بجھا دی اور کہا میں آپ کے احترام کے لیے نہیں پیوں گا۔ دونوں نے کہا آپ پیجیے۔ مگر مخدوم صاحب نے کہا روزہ نہ رکھوں تو میرا حساب کتاب کوئی اور کرے گا مگر آپ کو تکلیف دوں تو اپنا حساب آپ کروں گا۔ اس طرح انٹرویو بغیر سگریٹ کے مکمل ہوا۔ ایسا کام ایک سچا کمیونسٹ ہی کر سکتا ہے۔
	مخدوم صاحب کے پاس غرض مند آتے تھے۔ وہ اکثر ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شراب کی دکان کے مالک نے ایک سفارش چاہی کہ میونسپل کمشنر سے کہہ کر شراب کی دکان کھولنے کی اجازت دلوا دیجیے۔ مخدوم صاحب راضی ہو گئے۔ میونسپل کمشنر سے ملاقات کا وقت لے لیا گیا اور کمشنر کے دفتر پہنچے۔ کمشنر نے خاطر مدارت کی۔ مدعا بیان کیا گیا تو کمشنر نے قانون بتایا کہ کسی درس گاہ اور عبادت گاہ سے ۲۰۰ گز کے دائرے میں شراب خانہ، جوا خانہ اور سینما گھر کی اجازت نہیں دی جا سکتی جب کہ یہ دکان ایک درس گاہ سے پچاس گز کے فاصلے پر اور ایک عاشورہ خانے سے صرف بیس گز کے فاصلے پر واقع ہے۔ اب مخدوم صاحب غرض مند پر برس پڑے اور کہا آپ کیا چاہتے ہیں ؟ آپ کے فائدے کے لیے میں ایک اچھے قانون کو توڑ دوں۔ افسوس اب سوویں سال گرہ پر اس دکان کی جگہ ایک ڈرگس کا اڈہ تیار ہو گیا ہے اور قانون بنانے والے آنکھیں بند کیے خاموش ہیں۔
	مخدوم صاحب کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ ایک غرض مند تشریف لے گئے۔ مخدوم صاحب نے ان سے کہا کہ آپ پھر تشریف لائیے۔ مگر وہ کچھ کہنے کی کوشش کرنے لگے تو مخدوم صاحب نے کہا بھئی میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے آپ بعد میں کبھی آئیے۔ وہ صاحب فوراً پوچھنے لگے ایسا کیا مگر صاحب وہ ہاؤزنگ بورڈ کی میٹنگ میں میرا مسئلہ پیش ہونے والا ہے۔
	جیلانی بانو صاحبہ نے بتایا کہ انھوں نے جب پہلی کہانی لکھی تو کسی نے سراہا، کسی نے مذاق اڑایا، مگر ایک دن مخدوم صاحب ان کے گھر گئے۔ علامہ حیرت بدایونی سے ملاقات کی اور ان کی بیٹی سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ بانو آئیں تو کہا اچھی کہانی ہے لکھتی رہنا اور جب ’’روشنی کے مینار‘‘ چھپ چکی تو انھوں نے حسبِ وعدہ رائے لکھی۔ جب جانے لگے تو کہا علامہ بانو کی شادی کسی اپنے جیسے مولوی سے نہ کروانا۔
	روپوشی کا ایک واقعہ سن لیجیے۔ مخدوم صاحب تیلگو سے کم واقف تھے۔ ایک صاحب کے گھر رہنا پڑا تو وہاں یہ افواہ اڑا دی گئی یہ ایک بزرگ ہیں جن کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے، مخدوم صاحب کو سمجھا دیا گیا کہ اگر کوئی ان کی Caste پوچھے تو کہنا ویلما۔ ایک بار وہ باہر نکل کر سگریٹ خرید رہے تھے تو کسی نے پوچھا کہ آپ کی Caste کیا ہے مخدوم نے کہا ’وملا‘۔ مگر جلد ہی جگہ بدلنی پڑی۔
	لاہوٹی سرینواس صاحب کو کسی امن کانفرنس کے سلسلے میں تاشقند جانا پڑا۔ پندرہ دن بعد وہ لوٹ کر آئے اور سفر نامہ تاشقند سنایا جس میں کئی بار اس بات کا ذکر ہوا کہ لوگ وہاں ان کو پہچانتے ہیں۔ مخدوم صاحب نے لقمہ لگایا کہ وہاں میں نے ایک سڑک کا نام بھی دیکھا تھا۔ لاہوتی اسٹریٹ۔ بھولے بھالے لاہوٹی صاحب نے کہا میں نے بھی سنا ہے۔ مخدوم صاحب اور کچھ آگے بڑھے اور کہا سڑک پر مقبرہ لاہوتی بھی ہے۔ اب لاہوٹی صاحب کی سمجھ میں آ گیا کہ مخدوم صاحب ابوالقاسم لاہوتی کو لاہوٹی بتا رہے تھے۔
	اس سفر کے ذکر میں لاہوٹی صاحب نے کہا میں نے ایک قدیم قرآن شریف اونٹ کی جھلی پر لکھا دیکھا ہے ان کی مراد قرآن شریف کے اس نسخے سے تھی جو اونٹ کی جھلی پر لکھا ہوا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ کی شہادت اسی نسخے کی تلاوت کے دوران ہوئی تھی۔ اس کی پچاس نقلیں زار روس نے بنوائی تھیں اور مختلف ممالک میں بھیجا تھا۔ مخدوم صاحب نے پوچھا کتنا پرانا نسخہ تھا دو ہزار برس تین ہزار برس بیچارے لاہوٹی نے کہہ دیا تین ہزار برس پرانا۔
	منیر آپا، اقبال متین صاحب کی بیوی تھیں۔ کھانا کھلانے کی شوقین تھیں۔ اکثر مہمان آتے رہتے تھے۔ کھانا کھاتے مگر تعریف صرف مخدوم صاحب ہی کرتے وہ بھی اس انداز میں، ہاں تو منیر یہ بتاؤ یہ بگھارے بیگن جو آپ نے بنائے اس میں کیا کیا مسالے ڈالے ہیں، کچی املی اور کچے ناریل کا استعمال کیا۔بہت دیر بھونا ہو گا۔ اب منیر آپا بڑے ہی خلوص سے ترکیب بگھارے بیگن بتاتیں اور مخدوم صاحب کسی معصوم بچے کی طرح جو پریوں کی کہانی سنتے ہوئے حیرت زدہ ہو کر سوال پر سوال کرتے جاتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھاکہ اب اگلی دعوت مخدوم صاحب خود دیں گے وہ بھی بگھارے بیگن بنا کر۔
	ڈاکٹر راج بہادر گوڑ بتاتے ہیں کہ اسی طرح مخدوم صاحب نے بریانی پکانے کی ترکیب لکھ لی اور اشارہ زیرہ دو چمچہ لکھا تھا جس کو موصوف نے دو چھٹانک لکھ لیا اور روپوشی کے زمانے میں بریانی پکا لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بریانی کے مزے میں کڑواہٹ بھی شامل ہو گئی۔ مخدوم صاحب کو ہر تہذیبی تمدنی امور سے دلچسپی تھی وہ مشاعرہ ہو یا پھر کشتی کا مقابلہ، اگر شرکت کی درخواست ہو تو اپنی مصروفیات سے وقت نکال ہی لیا کرتے تھے۔ چناں چہ شکیلہ بانو بھوپالی کی قوالیوں میں اکثر شریک ہوتے تھے۔ ہم نے پوچھا وہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو جواب دیا وہ شوخ تو ہے ہی مگر زبردست حافظہ رکھتی ہے، غضب کی حاضر جواب ہے اسی خوبی کو سراہتا ہوں۔ کشتی کے پروگرام کے علاوہ ایک مرتبہ گالیوں کے مقابلے کی صدارت کی تھی۔ مخدوم صاحب شاعری کے رومانی دور سے گزر رہے تھے۔ ایک نظم لکھی تھی ’’طور‘‘ بہت مقبول عام ہوئی اور جامعہ کے مشاعرے میں مخدوم صاحب نے سنایا، مصرع تھا:
خدا بھی مسکرا دیتا تھا جب ہم پیار کرتے تھے 
	ایک بزرگ نے کہا مخدوم صاحب تمھاری نظم میں ایطا ہے۔ مخدوم صاحب ان شعری باریکیوں اور نزاکتوں کے قائل نہ تھے انھیں تو جی جی کہہ کر آگے بڑھ گئے مگر آگے آ کر کہنے لگے سب لوگ شعر سن کر گردن ہلا رہے ہیں اور خدا بھی مسکرا رہا ہے۔ ان کو ایطا کیسے نظر آیا۔
	مخدوم صاحب نے آزاد نظم لکھنا شروع کر دی تھی۔ کسی نے استادی دکھانے کے لیے کہا کہ بحر اور وزن کا خیال رکھا جائے تو شعر میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔
	مخدوم صاحب نے کہا تازہ شعر ہے بحر اور وزن کا خیال رکھا ہے۔
۷۱،۷۲،۷۳،۷۴		۷۵،۷۶،۷۷،۷۸
	اور معنویت آپ پیدا کیجیے، سچ ہے یہ بحر اور وزن میں ہے۔
	کامریڈ معین اور ظہیر آپا دونوں ہی کمیونسٹ پارٹی کے کارکن تھے۔ کامریڈ معین کا بیان ہے کہ روپوشی کے دوران جب سب کامریڈ سو جاتے مخدوم صاحب رات بھر جاگتے اور کسی بھی ناگہانی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے۔
	اخبار پڑھنے کا شوق بہت دلچسپ تھا۔ روپوشی کے دوران جیسے ہی اخبار آیا سبھی انتظار میں رہتے مگر وہ پھرتی سے اخبار لے کر بیت الخلا میں چلے جاتے جہاں کوئی بھی اخبار پر حملہ نہیں کر سکتا تھا۔
	مخدوم صاحب کا ’باپ کا دل‘ بہت ہی کم زور تھا۔ وہ اولاد سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ایک بار نصرت محی الدین صاحب گھر سے غائب ہو گئے۔یہ چاہتے تھے ان کے نصیرہ سے عشق کا اعلان ہو جائے۔ ڈھونڈ رہے تھے پتا نہیں چل رہا تھا۔ رابعہ بھابی نے ایک انجن ڈالنے والے کو بلوایا تاکہ پتا چلا یا جا سکے کہ نصرت کہاں ہیں۔ انجن ایک طرح کا عجیب سا عمل ہے جس میں کہا جاتا ہے ناخن پر کاجل لگا کر سوال کیا جاتا ہے اور ناخن کے کاجل میں سنیما کی طرح سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ضعیف الاعتقادی ہے۔ مگر مخدوم صاحب ایک ماں کی خواہش کے احترام میں اپنے کمیونسٹ نظریے کو کچھ دیر کے لیے بھول گئے۔ جب کسی کے بھی ناخن پر کوئی نشان نہ ابھرا تو مخدوم صاحب نے کامریڈ ظہیر سے کہا کہ تم بھی کوشش کرو شاید کوئی حل مل جائے۔
	مخدوم صاحب نے دو بچوں کے نام رکھے ہیں۔ ایک تو کامریڈ معین اور ظہیر آپا کے بڑے لڑکے کا نام، ان کو یقین ہو چلا تھا کہ کامریڈ سجاد ظہیر پاکستان سے نہیں لوٹیں گے تو انھوں نے اس لڑکے کا نام سجاد رکھ دیا۔
	دوسرا لڑکا ہے مجاہد، یہ کامریڈ غلام حیدر اور سکینہ حیدر کے برخوردار ہیں۔ سکینہ بھابی اب تو دہلی والی ہو گئی ہیں، مگر ہیں تو وہ حیدرآباد کے ایک قدامت پسند خاندان سے۔ جب کامریڈ غلام حیدر سے شادی ہوئی تو بالکل ہی ایک ٹریڈ یونین لیڈر بن گئیں۔وہ اپنے تین ماہ کے بچے کو لے کر دھرنے پر بیٹھیں اور گرفتار ہو گئیں تو بچہ بھی ان کے ساتھ جیل کی ہوا کھانے لگا۔ تب مخدوم صاحب نے اس بچے کو ’مجاہد‘ کا نام دیا۔
	یادوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا کیوں کہ یہ سینہ بہ سینہ، نسل در نسل جیتی ہیں۔ اب صرف آخری یاد بتا دوں، ۱۹۶۴ء، میں پہلی بار صدر جمہوریہ کا انتخاب ہوا اور اگست میں وہ وی۔وی۔گری کو مبارک باد دینے گئے۔ اس سے پہلے انھوں نے آکاش وانی حیدرآباد پر پہلی بار اور آخری بار مشاعرہ پڑھا اور پرانے شہر میں دوستوں سے ملنے گئے۔ وہاں سے لونی گئے۔ صبح صبح ہی انھوں نے درد دل کی شکایت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پسینے میں ڈوب گئے۔ راج بہادر گوڑ بتاتے ہیں وہ اور کامریڈ معین نے مخدوم صاحب کو ہاسپٹل منتقل کیا۔ ڈاکٹر نے عمر پوچھی گوڑ صاحب نے کہا ۶۵ تو فوراً کہا نہیں ۶۲ برس کا ہوں۔ پھر جب معائنہ جاری تھا انھوں نے کامریڈ معین سے اخبار پڑھنے کو کہا۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ مسجد اقصیٰ پر اٹک گئے تو کہا کیسے مسلمان ہو تم کو اپنے پہلے قبلہ کا نام پڑھنا نہیں آتا۔ حالاں کہ ڈاکٹروں نے اونچی آواز سے بات کرنے سے منع کیا تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے گوڑ اور معین کو بتا دیا کہ وہ مجبور اور لاچار ہیں۔ اہلِ خاندان کو اطلاع کر دی گئی۔ نصیرہ اور آساوری کی بچیوں سے کشمیر لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر دلی میں دل ایسا پھٹا کہ اس کی گونج حیدرآبادیوں کو سب سے زیادہ سنائی دی اور مخدوم صاحب پہلی اور آخری بار وعدہ خلافی کر بیٹھے۔ دلی میں حیدرآبادیوں کا دل خاموش ہو گیا مگر یادیں۔۔۔ وہ دل کے روکنے سے کہاں رکتی ہیں۔ وہ تو نسل در نسل سفر کرتی ہیں۔
	پروفیسر رحمت یوسف زئی نے مخدوم صاحب کے انتقال کی خبر سن کر یہ نظم کہی تھی:
	مخدوم محی الدین صاحب (جسے مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ پھٹتا ہے )
چارہ گر کھو گیا	ہر طرف اپنی زنبیل سے جس نے بانٹی تھی سورج کرن
چارہ گر کھو گیا	جس کے نغمات سے جگمگاتی رہے گی زمین دکن
وہ مسیحا گیا		جس نے پھونکا تھا مزدور کے جسم میں ایک عزمِ جواں 
وہ مسیحا گیا		وہ جو محنت کشوں اور غریبوں کا تھا راز داں، ترجماں 
وہ سپاہی گیا		سرخ پرچم تلے حاکم وقت سے جس نے لوہا لیا
وہ سپاہی گیا		گولیوں کے برستے ہوئے مینھ میں بھی جو بڑھتا رہا
وہ جو گم ہو گیا	اس کی آواز تھی کیمیا، مسکراہٹ تھی جیسے سحر
وہ جو گم ہو گیا	بن کے آیا تھا ظلمت کدہ میں اجالوں کا پیغامبر
اب وہ نغمے کہاں  انقلابات کے وہ جو ایک دور تھا ختم اب ہو گیا
اب وہ نغمے کہاں  جو مغنی تھا اس بزم کا ساز پر رکھ کے سر سو گیا
	آج اس جشن صد سالہ میں تم نہیں تمھاری چشم نگراں باقی ہے۔
٭٭٭



ڈاکٹر قاسم امام


فکر و عمل کی اکائی کا شاعر مخدوم


	ترقی پسندی کے بنیاد گزار شعرا میں فیض، مخدوم، جذبی، جاں نثار اختر، سردار جعفری اور مجاز وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ ان شعرا پر روایت کی گرفت کافی مضبوط ہے اور اختر شیرانی والی رومانیت کے اثرات بھی نمایاں نظر آتے ہیں لہجے میں دھیما پن ہے۔ ان شعرا نے نظموں میں عزل کی لفظیات سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ ان شعرا کے یہاں مکمل سیاسی شعور ملتا ہے لیکن اس کے اظہار میں وہ شعری جمالیات اور توازن کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے یہاں الفاظ، جذباتی انداز میں آتے ہیں اور ایک نئی معنویت کے حامل بن جاتے ہیں جو عام طور پر سیاسی یا سماجی صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں اس طرح ترقی پسندوں کے اولین دور کے شعرا اپنی روایت سے وابستہ رہتے ہوئے ایک نئی شعری فضا تعمیر کرتے ہیں۔ فیض کے پہلے مجموعے ’’نقش فریادی‘‘ میں جہاں ’’مری جاں اب بھ ی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو‘‘ جیسی نظمیں ہیں وہیں ’’موضوع سخن‘‘، ’’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘‘ اور اس کے علاوہ ’’کتے ‘‘ جیسی نظم بھی ملتی ہے۔ اس سلسلے میں مخدوم کی نظمیں بھی خصوصی توجہ کی حامل ہیں۔ مخدوم نہ صرف شاعر بلکہ کمیونسٹ پارٹی کے ہمہ وقتی کارکن اور ٹریڈ یونین کے بڑے لیڈر بھی تھے۔ گو وہ عملی طور پر پوری طرح کمیونسٹ سیاست میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن ان کی نظموں میں توازن و اعتدال نظر آتا ہے۔ یہ بات انھیں دیگر ترقی پسند شعرا سے ممتاز کرتی ہیں۔ ابتدا ان کی بھی رومانی نظموں سے ہوئی رفتہ رفتہ وہ سیاسی و سماجی صورتِ حال کو موضوع بنانے لگے۔ ان کے شعری مجموعے ’’سرخ سویرا‘‘ میں ’’شعلہ طور‘‘ اور ’’انتظار‘‘ جیسی نظمیں بھی ملتی ہیں اور سرمایہ داری اور تلنگانہ جیسی نظمیں بھی۔
	رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے   سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے   خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا   اپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گا   نظریں نیچی کیے، شرمائے ہوئے آئے گا   کاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گا (انتظار)۔
	دیارِ ہند کا وہ راہبر تلنگانہ   بنا رہا ہے نئی اک سحر تلنگانہ   بلا رہا ہے بہ سمت دگر تلنگانہ   وہ انقلاب کا پیغامبر تلنگانہ (تلنگانہ)۔
	مخدوم کے شعری اظہار میں جو ڈرامائی عنصر پایا جاتا ہے وہ ان کے پہلے مجموعے ’’سرخ سویرا‘‘ سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل نظمیں اپنے موضوع کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ حالاں کہ ترقی پسندی کے پس منظر میں اور ’’سرخ سویرا‘‘ کے موضوعات پر نقادوں نے کھل کر گفتگو بھی کی ہے۔ مخدوم کی ترقی پسند تحریک سے وابستگی اور چند ابتدائی نظموں میں خطیبانہ لب لہجے کے باوجود ’’سرخ سویرا‘‘ میں شامل بعض نظموں میں موت کو جس طرح موضوع بنایا گیا ہے وہ اردو شاعری کے قارئین کے لیے ایک حیرت انگیز تجربہ ہے۔ موت کے اس کرخت اور خوف ناک تجربے کو مخدوم نے اپنے اسلوب سے بہت آسان اور رواں دواں بنا دیا ہے۔ ویسے مخدوم شروع ہی سے اشاریت یا تشبیہوں اور استعاروں کے شاعر رہے ہیں۔ ’’سرخ سویرا‘‘ کی چند نظموں کو چھوڑ کر ان کا لہجہ عام طور پر دھیما اور بڑی حد تک خود کلامی سے قریب رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مخدوم پر رومانیت کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ اپنے دور میں انھوں نے علامتوں، استعاروں اور خود کلامی کو اپنا خصوصی طرزِ اظہار بنا لیا اور ان کا یہی طرزِ اظہار موت کو شعری تجربے کے طور پر بیان کرنے میں معاون ثابت ہوا۔ یہاں نظموں کے کچھ ٹکڑے مثال کے طور پر پیش ہیں :
(۱)	ملک الموت کے چہرے کا تبسم
(۲)	موت کا گرداب کسے کہتے ہیں 
	قبر کے پہلوؤں کی داب کسے کہتے ہیں (نظم: موت کا گیت)
	اس زمیں کے پر نشیلے بام و در میں موت ہے   اس کے دل میں موت ہے اس کی نظر میں موت ہے   مندروں میں، معبدوں میں اور کلیساؤں میں موت   خلوتوں میں موت ہے، شاہی شبستانوں میں موت (نظم : زلفِ چلیپا)۔
	قبر کے روزن سے اپنا سر نکالا موت نے   بے سہارا جان کر مارا ہے بھالا موت نے   خاندانوں کو بنا ڈالا نوالا موت نے   شیر خواروں کو چبا کر تھوک ڈالا موت نے (نظم: بنگال)
	شعلہ زمیں کا عرش کی گود میں سو گیا   امت کا شب چراغ اندھیرے میں کھو گیا 
(نظم: اقبال کی رحلت پر)
	اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ / وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ / ’’وہ تہذیب کے زخم‘‘ / خندقیں   باڑھ کے تار / باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوئے انسانوں کے جسم /اور انسانوں کے جسموں پہ وہ بیٹھے ہوئے گدھ / وہ تڑختے ہوئے سر / میتیں ہاتھ کٹی پاؤں کٹی / لاش کے ڈھانچے کے اس پار سے اس پار تلک / سرد ہوا / نوحہ و نالہ و فریاد کناں / شب کے سناٹے میں رونے کی صدا / کبھی بچوں کی کبھی ماؤں کی / چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا / رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم / صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے / رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں / رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں (نظم اندھیرا)۔
	مندرجہ بالا نظموں کے ٹکڑے مخدوم کے پہلے مجموعے ’’سرخ سویرا‘‘ سے لیے گئے ہیں۔ ان کے دوسرے مجموعے ’’بساطِ رقص‘‘ میں ویت نام کے پس منظر میں تحریر کردہ نظم ’’درۂ موت‘‘ میں موت کا یہ تصور اپنے پورے تخلیقی شباب پر ہے۔
	اس تباہی کی گزر گاہ سے چل / یہ کوئی رستہ ہے جس رستے میں / نہ کوئی پھول نہ پتہ / نہ کوئی پیر نہ پھل / اک ہیولائے سیہ / حدِ نظر / جس طرف دیکھو کھنڈر / موت کا درہ ہے تیزی سے گزر / شام کا چہرہ ہے خوں آلودہ / اور خورشید ہوا، قلزم ظلمات میں حل / دشتِ خاموشی سے جب گزرو گے / کئی امیدوں کی لاشوں سے گزرنا ہو گا / اس اندھیرے سے نکل / دامن کوہ میں چپ چاپ اتر آتی ہے رات / اور رستوں سے چمٹ جاتی ہے / سائے مٹ جاتے ہیں / پھر وہی کرب و کراہ / پھر وہی نالہ و شیون / وہی چیخیں، وہی آہ / چیخیں اس زخمی گم گشتہ کی / زندگانی نے جسے کاٹ لیا / ایسے اجڑے ہوئے رستے سے ذرا آگے چل (درہ موت۔ مخدوم)
	اس نظم میں ’’شام کا چہرہ ہے خوں آلودہ‘‘ اور خورشید وا قلزمِ ظلمات میں حل، اور دامنِ کوہ میں چپ چاپ اتر آتی ہے رات جیسے مصرعوں سے موت کے درہ کو پینٹ کیا گیا ہے۔ اس نظم کا سب سے نمایاں پہلو اس کا ڈرامائی عنصر ہے جو نظم میں شامل مختلف شیڈس کی مدد سے موت کی خوف ناکی کو اور گہرا کر کے ایک غم انگیز تاثر پیدا کرتا ہے۔ یہاں اگر مخدوم کی نظم ’’اندھیرا‘‘ کا موازنہ ’’درۂ موت‘‘ سے کیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ پہلے مجموعے سے دوسرے مجموعے تک شاعر کا گراف بہ تدریج اوپر کی طرف بڑھتا ہے۔ حالاں کہ دونوں ہی نظمیں اپنی منظر نگاری اور ڈرامائی اسلوب کے باعث جدید اردو نظم میں نمایاں مقام کی حامل ہیں۔
	جدید اردو نظم میں جو ہیئتی تجربے کیے گئے ان میں مخدوم کی نظموں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ساتھ ہی مخدوم نے نظم معریٰ کو بھی بہت فراوانی اور کامیابی سے برتا ہے۔ کبھی اس ہیئت میں ہر مصرعے کو مکمل اکائی کے طور پر برتا تو کبھی حسبِ موقع مصرعوں کی اکائی کو توڑا بھی ہے۔ یعنی مصرع کے قافیے ہوں اور ہر مصرعہ معنوی اعتبار سے اپنے آپ میں مکمل ہو۔ اس مسلمہ اصول سے انحراف کرتے ہوئے کبھی ایک دوسرے کو معنوی اعتبار سے دوسرے مصرعے میں لے جا کر مکمل کیا گیا یا کبھی ایک ہی مصرعے میں معنوی اعتبار سے دونوں مصرعوں کو جمع کر دیا ہے۔ اس قسم کی نظموں میں وزن کے اعتبار سے تو ہر مصرعہ ہم وزن ہوتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے دونوں مصرعوں کو جمع کر دیا ہے۔ اس قسم کی نظموں میں وزن کے اعتبار سے تو ہر مصرعہ ہم وزن ہوتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے یہ پابندی نہیں کی جاتی کہ وزن کے ساتھ ساتھ معنوی اعتبار سے بھی مصرعہ مکمل ہو۔ اس قسم کی نظموں کو ہم آسانی سے آزاد نظم کی ہیئت میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ نظم معریٰ کی دوسری شکل جس میں مصرعہ وزن اور معنی ہر دو اعتبار سے مکمل ہوتا ہے۔ لیکن قافیے کا اہتمام نہیں کیا جاتا کو بھی اس عہد میں پوری شدت کے ساتھ برتا گیا۔ مثلاً اپنی نظم ’’چارہ گر‘‘ میں انھوں نے آزاد، پابند اور معریٰ ہیئتوں کو ایک دوسرے میں ضم کر دیا۔ اس نظم کے کچھ حصے آزاد نظم کی ہیئت رکھتے ہیں کچھ حصہ معریٰ نظم اور کچھ چھوٹے بڑے مصرعوں پر مشتمل ہیں۔
	ہم نے دیکھا انھیں / دن میں اور رات میں / نور و ظلمات میں / مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انھیں / مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انھیں / مے کدے کی دراڑوں نے دیکھا انھیں / از ازل تا ابد / بتا چارہ گر / تیری زنبیل میں / نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے ؟ / کچھ علاجِ مداوائے الفت بھی ہے ؟/ اک چنبیلی کے منڈوے تلے / مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر / دو بدن / چارہ گر! (چارہ گر: مخدوم محی الدین)۔
	ترقی پسند تحریک سے اپنی تمام تر وابستگیوں کے باوجود مخدوم بنیادی طور پر لطیف حسیات کے شاعر ہیں وہ ٹھوس چیزوں کو سمعی حسی اور کیفی پیکروں میں ڈھالنے اور غیر مرئی چیزوں کو ٹھوس پیکروں میں ڈھالنے پر غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں۔ مثلاً نظم ’’بلور‘‘ میں مخدوم نے اپنی دونوں صلاحیتوں سے کام لیا ہے۔
	منور خموشی کے بلور چھنکے / کرن مرمریں فرش پر چھن سے ٹوٹی / کلی چٹکی، آواز کے پھول مہکے / رنگوں کی سروں کی کوئی کہکشاں / کھلکھلاتی ہوئی گود میں آ پڑی / خموشی کے گہرے سمندر کی تہہ سے / کسی جل پری نے مجھے جیسے آواز دی ہو / اندھیرے کے پردے ہلے، ساز چونکے / کئی نور کی انگلیاں جگمگائیں / شفق در شفق، رنگ در رنگ / عارض کا حیرت کدہ سامنے ہے / وہ ہنستا ہوا مے کدہ سامنے ہے / دھنک سامنے ہے / کسی کو یہ قصہ سناؤں تو کیسے / قدم اور آگے بڑھاؤں تو کیسے /
	نظم میں ایک لمحہ کی کیفیت پیش کی گئی ہے۔ نظم کا متکلم کسی کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے اور شاید آنے والے کے تصور میں گم اپنے اطراف و ارد گرد سے بے خبر ہے کہ اچانک ایک آواز اس کی جانی پہچانی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہاں شاعر مختلف بصری، سمعی پیکروں کے ذریعے اس آواز تجسیم کرتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے رد عمل اور اپنی دلی کیفیت کا اظہار کرتا ہے، منور خموشی کے بلور چھنکے، چوں کہ یہ انتظار اور خموشی محبوب کے لیے ہے اس لیے وہ منور ہے۔ کیفیت چوں کہ نازک ہے اس لیے ’’بلور‘‘ ہے۔
	آگے کے مصرعوں میں اس آواز کی وجہ سے شاعر کے جذبات میں پیدا ہونے والی کیفیات کا ذکر خوب صورت پیکروں کے ذریعے کیا گیا ہے۔ کلی کا چٹکنا، آوازوں کے پھولوں کا مہکنا، رنگوں اور سروں کی کہکشاں کا گود میں آ گرنا یہ سب ایسے پیکر ہیں جو شاعر کے جذبات و احساسات کی تجسیم کر رہے ہیں۔ اب دور سے آتی ہوئی آواز زیادہ واضح اور خاص شاعر کے لیے ہے اور ’’کسی جل پری نے مجھے جیسے آواز دی ہو اور اسی مخاطبت کی وجہ سے اندھیرے کے پردے ہلتے ہیں، ساز بجنے لگتے ہیں اور نور کی انگلیاں، پردے کو ہٹانے لگتی ہیں اور اس کے بعد پورا پیکر سامنے آ جاتا ہے۔ شفق در شفق رنگ در رنگ عارض کا حیرت کدہ سامنے ہے / وہ ہنستا ہوا مے کدہ سامنے ہے / دھنک سامنے ہے۔ وفورِ جذبات میں محبوب کے لیے کئی خوب صورت استعارے استعمال کیے ہیں۔ مختلف تشبیہات کا استعمال شاعر کی جذبات کی شدت اور اس ذہنی کیفیت کو پیش کرتا ہے۔
	جب انسان / اچانک مل جانے والی خوشی کی وجہ سے جذباتی طور پر بے قابو ہو جاتا ہے اور اس کے اظہار کے لیے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے، کسی کو یہ قصہ سناؤں تو کیسے، پوری نظم ایک متحرک خوش رنگ اور خوب صورت تصویروں کی سلسلے میں کی طرح سامنے آتی ہے۔ زیادہ تر پیکر ایسے ہیں جن کا تعلق بصارت یا سماعت سے ہے۔ نظم پڑھتے ہوئے قاری اگر حساس ہو تو اپنے ذہن کے اسکرین پر تصویروں کی شکل میں پوری نظم کو دیکھ سکتا ہے۔
	اگر ہم یہاں ذرا سا رک کر مخدوم کی زندگی اور انقلاب سے ان کی پُر خلوص لگن کو ذہن میں تازہ کریں تو نظم کی ایک اور سطح ابھرتی ہے۔ محبوب جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ آنے والا وہ دور بھی ہو سکتا ہے جس کے لیے وہ زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے اور جس کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ممکن ہے تصور میں اس دور کی جھلک دیکھی ہو، ویسے بھی مخدوم کے نزدیک انقلاب اور محبوب میں کوئی فرق نہیں ہے وہ انقلاب کا انتظار اسی ذوق و شوق اور خلوص سے کرتے ہیں۔ جس ذوق و شوق سے محبوب کا انتظار کیا جاتا ہے اور اس کی شہادت ان کی کئی نظموں میں ملتی ہے۔ مخدوم نے فکر و عمل کی یہ اکائی آخر تک برقرار رکھی۔ یعقوب راہی بھی مخدوم کی شخصیت اور شاعری کو بجا طور پر ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتے۔ مخدوم کی شاعری میں فکرو عمل کی اس اکائی سے متعلق اپنے ایک مضمون میں یعقوب راہی لکھتے ہیں :
’’فکر و جذبہ کا، سوز و گداز کا مجسمہ، صناعی و کاری گری کی کوشش کم سے کم، بے ساختگی ہی سے بے ساختگی، آمد، بہاؤ ہی بہاؤ، شروع سے آخر تک، موسیقیت ہی موسیقیت، شعریت ہی شعریت، عمر کے ساتھ ساتھ جوانی کا جوش تو کم ہوا لیکن نہ کبھی سرکشی کا جذبہ ختم ہوا نہ انقلاب کی آگ سرد ہوئی۔۔۔‘‘
٭٭٭


 
ڈاکٹر نکہت جہاں

مخدوم کی شاعری اور سماجی شعور


	شاعری انکشاف ذات ہے اور یویناً شاعر اپنی شاعری سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ لیکن شاعری کو سمجھنے، اس کے فنی محاسن و معائب کا اندازہ کرنے اور اس کی امتیازی کیفیتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے شاعر کے ذہن، اس کے نفسیاتی اور سماجی رجحانات اور جذباتی محرکات سے واقف ہونا ضر وری ہے۔ شاعر شعوری طور پر سماج کے متصادم اور پیچیدہ عناصر سے شخصی طور پر وابستہ ہو کر اپنے فن کے ذریعہ اظہار کرتا ہے۔ مخدوم محی الدین کی شاعری بھی ان کے شعور حیات کی جیتی جاگتی تصویر اور فکر و عمل کی سچی ترجمان ہے۔ ان کے پہلے مجموعہ کلام ’’سرخ سویرا‘‘ کا انتساب ’’محبت اور محنت کے نام‘‘ ہی مخدوم کے ذہنی رویہ، سوچ اور رجحانات کا عکاس ہے۔ انھوں نے ذاتی غم کے بجائے عوام کے درد و کرب کو ترجیح دی۔ اس کی مثال سماجی موضوعات پر ان کی نظمیں مشرق، اندھیرا، زلف چلیپا اور حویلی وغیرہ ہیں۔
	مخدوم کا تعلق اس دور سے ہے جب ادب برائے زندگی کا نظریہ عام ہو چکا تھا اور زندگی سے متعلق مسائل کو ادب کا موضوع بنایا جانے لگا تھا۔ جاگیردارانہ عہد دم توڑنے لگا تھا اور یہ احساس ہو چلا تھا کہ انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال نہیں ہونا چاہیے۔ یہ رجحان اس دور کے سارے ادب میں نظر آتا ہے۔ ۱۹۳۶ء میں باقاعدہ اردو کے ادیبوں نے یہ ذمہ داری قبول کی کہ معاشی خوش حالی حاصل کرنے کے لیے عوام کی ذہنی تربیت کی جائے۔ اس تحریک کے پس پشت کارل مارکس کے اقتصادی نظریات کام کر رہے تھے۔ اس تحریک کو ترقی پسندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چناں چہ ترقی پسند ادیبوں نے آزادی کی لڑائی میں اس نظریہ کے تحت ایک خواب دیکھا کہ وہ انگریزوں کو ہندستان سے نکال کر ایک ایسا ہندستان بنائیں گے جس میں بھائی چارہ ہو، بہتر سماجی حالات ہوں اور کسی قسم کا ظلم نہ ہو۔ مخدوم کی شاعری میں بھی یہی جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔
	مخدوم جب اپنے ماحول اور گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو انھیں ہر طرف ذہنی انتشار، افلاس، بھوک، غلامی اور اضطراب نظر آتا ہے۔ ان کی نظم ’’مشرق‘‘ میں ماحول سے بیزاری اور غلامی سے نفرت کا احساس ظاہر ہوتا ہے :
جہل، فاقہ، بھیک، بیماری، نجاست کا مکاں 
زندگانی، تازگی، عقل و فراست کا مساں 
وہم زائیدہ خداؤں کا روایت کا غلام
پرورش پاتا رہا ہے جس میں صدیوں کا جذام
جھڑ چکے ہیں دست و بازو جس کے اس مشرق کو دیکھ
وہم زائیدہ خداؤں کا روایت کا غلام
پرورش پاتا رہا ہے جس میں صدیوں کا جذام
جھڑ چکے ہیں دست و بازو جس کے اس مشرق کو دیکھ
کھیلتی ہے سانس سینے میں مریض دق کو دیکھ
اک ننگی نعش بے گور و کفن ٹھٹھری ہوئی
مغربی چیلوں کا لقمہ خون میں لتھڑی ہوئی
	مخدوم نے دیکھا کہ ان کا وطن جہل، فاقہ، بھوک، بیماری اور نجاست کا مکان ہے۔ عقل و فراست کا مساں ہے، روایت کا غلام ہے جس میں صدیوں کا جذام پرورش پا رہا ہے۔
نغمہ جبرئیل ہے انسان کا گانا نہیں 
صور اسرافیل ہے دنیا نے پہچانا نہیں 
					 (اقبال)
	مخدوم کی شاعری میں اسلامی تلمیحات، اسلامی روایات اور تصورات کی کارفرمائی کا مطالعہ بعض دل چسپ حقائق کو برافگندہ نقاب کرتا ہے۔ جیسے اس مطالعہ میں یہ بات نہایت واضح اور محسوس انداز میں سامنے آتی ہے کہ مخدوم کی نظموں میں تلمیحات اور اسلامی روایات و تصورات پر مبنی الفاظ کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔ غزلوں میں ان الفاظ و تلمیحات کا ورود کم نظر آتا ہے۔ ویسے مخدوم نے نظموں کے مقابلے میں غزلیں لکھی بھی کم ہیں لیکن غزلوں اور نظموں کی تعداد میں جو نسبت ہے اسلامی تلمیحات و روایات کی تعداد اس کے متناسب نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ مشاہدہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مخدوم کے پہلے مجموعے ’’سرخ سویرا‘‘ میں اسلامی تلمیحات اور اسلامی روایات کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔ اس کے بالمقابل ان کے دوسرے شعری مجموعے ’’گل تر‘‘ میں ان کا استعمال نسبتاً کم ہوا ہے اور تیسرے مجموعے ’’بساطِ رقص‘‘ میں ان کا استعمال اور بھی کم ہے۔ ضخامت کے اعتبار سے ’’گلِ تر‘‘، ’’سرخ سویرا‘‘ سے قدرے کم ہے اور اس میں نظموں کے علاوہ غزلیات بھی شامل ہیں۔ غزلیات میں مخدوم نے تلمیحات کا استعمال کم ہی کیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اس میں اسلامی تلمیحات و روایات کے استعمال کا تناسب بھی کم ہے۔ اس حقیقت کو دوسرے زاویے سے یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ’’سرخ سویرا‘‘ کی اشاعت ۱۹۴۴ء میں عمل میں آئی۔ یہ مخدوم کے ابتدائی دس سالہ ریاض سخن کا نتیجہ ہے۔ اس ابتدائی دور میں مذہب اور اس کے متعلقات کے بارے میں ان کا رویہ کچھ اور تھا جو مذہبی علائم و اشارات کو برتنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا تھا لیکن بعد کے دور میں شاید ان کے خیالات میں شدت پیدا ہوتی گئی اور وہ ان الفاظ و علائم سے اعراض و گریز کرنے لگے۔ خود مخدوم کو بھی احساس تھا کہ گلِ تر کی شاعری سرخ سویرا کی شاعری سے مختلف ہے۔ اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے ’’گلِ تر‘‘ کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں :
’’یہ فرق میری نظر میں ایک نیا پن ہے جو عمر، تجربہ اور خود عہد حاضر کی نوعیت کے اپنے ما سبق سے مختلف ہونے کا نتیجہ ہے جو سماجی اور شعوری ارتقا کی نشان دہی کرتا ہے۔‘‘
	’’سرخ سویرا‘‘ کے مقابلے میں ’’گلِ تر‘‘ میں اسلامی تلمیحات و روایات کا تقلیل استعمال ممکن ہے۔ مخدوم کے مزعومہ اسی ’’سماجی اور شعوری ارتقا‘‘ کا نتیجہ ہو۔

٭٭٭



شمیم طارق


مخدوم کی ایک پُر کیف نظم۔ ’’چارہ گر‘‘

	’’چارہ گر‘‘ مخدوم محی الدین کی ہی نہیں اردو شاعری کی بہترین عشقیہ نظموں میں سے ایک ہے۔ اس کا موضوع محبت کی سرشاری و دل سوزی ہے اس لیے نظم کی ابتدا میں چھوٹے بڑے مقفی اور غیر مقفی مصرعوں کو اس ترتیب سے پیش کر دیا گیا ہے کہ والہانہ و سرور کی ایسی فضا تیار ہو جائے جو محبت کا خاصہ ہے اور قاری محسوس کر لے کہ وہ کون سی خواب گیں کیفیت یا آتش سیال ہے جو لفظوں میں گھول کر اس کو پلائی جانے والی ہے :

اک چنبیلی کے منڈوں تلے 
مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن / پیار کی آگ میں جل گئے 
	ان ابتدائی چار مصرعوں کو جو محبت کی تاثیر یا خوابگیں کیفیت کے مظہر ہیں خبر سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان میں صرف یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ’’دو پیار کرنے والے محبت کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے۔‘‘ لیکن اس نظم کا یا نظم کے ان ابتدائی چار مصرعوں کا صرف یہی مطلب ہوتا تو یہ نظم اردو کی نہایت خوب صورت اور مسحور کن نظم نہ تسلیم کی گئی ہوتی۔ انھیں چار مصرعوں میں محبت کے انجام سے بھی باخبر کیا گیا ہے یعنی جو دو بدن یا دو وجود جل کر راکھ ہوئے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے اور پھر ’’چنبیلی کے منڈوے تلے ‘‘ اور ’’مے کدے سے ذرا دور‘‘ جیسے تلازموں اور ترکیبوں کے ذریعے جو آگ سے تضاد کی نسبت رکھتے ہیں، یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جو دو بدن پیار کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے، مرنا ان کی مجبوری نہیں رغبت اور کیفیت تھی۔ جو کچھ ہوا ان کی رضا و رغبت سے ایک خاص کیفیت میں ہوا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ محبت کا انجام فنا ہے، جانتے بوجھتے انھوں نے محبت کی۔ محبت ان کی سرشت تھی، تقدیر تھی، وہ محبت کے علاوہ کچھ پانا اور حاصل کرنا چاہتے ہی نہیں تھے اس لیے جل کر راکھ ہو گئے۔
	 اس کیفیت کی مزید تشریح اگلے تین مصرعوں میں ہے :
پیار حرف وفا
پیار ان کا خدا
پیار ان کی چتا
	بہ ظاہر ان تین مصرعوں میں پیار کرنے والوں کی دلکش تصویر کشی کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ’’وفا‘‘، ’’خدا‘‘ اور ’’چتا‘‘ جیسے لفظوں سے نظم کی عشقیہ ماحول میں شدت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر حقیقت میں ان تین مصرعوں کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ایک دوسرے کی محبت میں سرشار عاشق و معشوق کے لیے وصل کا لمحہ وہ لمحہ ہے جہاں دوئی کا ہر احساس ختم ہو جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔
	مخدوم کا شمار سعادت مند کمیونسٹوں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے پارٹی لائن سے کبھی بغاوت نہیں کی اور کمیونسٹ ہونے کی حیثیت سے وہ ایک ایسے فلسفۂ حیات میں یقین رکھتے تھے جس میں روحانیت و ماورائیت کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس نظم کی پوری کیفیت اور فضا ماورائی اور روحانی ہے۔ صوفیہ کے ملفوظات سے صرف نظر کر کے پوری نظم خصوصاً ان تین مصرعوں کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ مصرعے اصل میں محبت کے تین مدارج یا مراحل ہیں۔
	پہلا مرحلہ ’’حرفِ وفا‘‘ کا تھا جب ’’عہد الست‘‘ میں تمام ارواح نے محبوبِ حقیقی سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دنیا میں اس کو اپنا مالک و محبوب مانتی رہیں گی۔ دوسرا محلہ ’’عہد کی تکمیل‘‘ کا تھا یعنی جب انھوں نے اپنے عہد کی تکمیل کرنے یا پابند وفا رہ کرا پنی زندگی کو بامعنی بنایا تھا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کو ’’پابند وفا‘‘ ہونے کے بدلے محبوب حقیقی کے سوا کچھ مطلوب ہی نہیں ہوتا۔ وہ محبوبِ حقیقی سے اگر کچھ مانگتا ہے تو محبوبِ حقیقی کو ماہی مانگتا ہے اور اگر کسی ذات کو باقی سمجھتا ہے تو وہ ذاتِ حق ہے۔ لسان الحق شاہ تراب علی قلندر نے اس بات کو اپنی غزل کے ایک شعر میں یوں بیان کیا ہے :
عبث ہے آرزو دنیا و دیں کی
تراب اللہ بس، باقی ہوس ہے 
یہی انسان کے لیے بقا کا راز اور ہمیشگی و دوام کا مقام ہے کہ وہ مالک وہ محبوب حقیقی کی محبت میں خود کو فنا کر دے کیوں کہ محبت کے دعوے کے بعد اپنی یا اپنے لیے کسی چیز کی فکر کرنا ’’ہوس‘‘ کی مترادف ہے 
حقیقی عشق جس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تیسرے مصرعے میں یہی حقیقت اور واضح لفظوں میں بیان کی گئی ہے کہ چوں کہ ’’عشق‘‘ اور ’’ہوس‘‘ ایک ساتھ باقی نہیں رہ سکتے اس لیے عشق حقیقی کے بعد ہر چیز فنا ہو جاتی ہے خود محبت کا انجام بھی فنا ہے لیکن ایسی فنا جو حیاتِ دوام یا بقا کی ضامن ہے یعنی عشق اور ہوس دونوں فانی ہیں مگر ہوس کی فنا عشق حقیقی کی بقا ہے اور عشق حقیقی میں فنا بقا کی ضمانت۔
	عشق کے ان مرحلوں کو سمجھنے کے لیے ایک علامتی پرندے کی مثال دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ صوفیہ کے حلقے میں اس پرندے کا بہت ذکر کیا جاتا ہے۔ اس علامتی پرندے کا نام ہے۔ ’’ققنس‘‘ جو اپنی آتش نفس میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے مگر بارش کا پہلا قطرہ پڑتے ہی دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے اور اسم اعظم کے ورد سے اپنے وجود کو خاک کرنے میں لگ جاتا ہے۔ زندگی و موت کے اس تسلسل میں وہ بار بار موت سے دوچار ہوتا ہے مگر اس ورد کو جاری رکھتا ہے جس کا منطقی نتیجہ موت ہے کہ موت ہی اس کی سرشت ہے اور وہ جانتا ہے کہ بقا صرف اس کی شان ہے جو حی و قیوم ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی بقا اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ باقی رہنے والی ذات کی یاد میں خود کو فنا کرتا ہے۔
	مخدوم نے اپنے دوسرے مجموعۂ کلام ’’گلِ تر‘‘ کے دیباچے میں ایک بہت بلیغ جملہ لکھا ہے وہ جملہ یہ ہے کہ ’’شعر میں ہم ماورا کی حدوں کو چھوتے ہیں مگر شعر سماج سے ماورا نہیں ہوتا۔‘‘ یہ مجموعہ ۱۹۶۱ء میں منظر عام پر آیا۔ یہ وہ دور تھا جب کمیونسٹ پارٹی کا ادبی محاذ کمزور پڑنے لگا تھا۔ فیض، فراق، ممتاز، حسین، خلیل الرحمن اعظمی اور اخترالایمان، علی سردار جعفری کی ادبی ترقی پسندی کی متعین کی ہوئی تعریف کو سن کر زیر لب مسکرانے لگے تھے۔ ہمارے رسائل ان کے درمیان بعض ادبی مناقشوں کے بھی گواہ ہیں۔ ’’گل تر‘ کے دیباچے میں مخدوم نے تخلیقی تجربے کی حیثیت اور شاعر و ادیب کے منصب پر جن لفظوں میں روشنی ڈالی ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ دوسرا شعری مجموعہ شائع ہونے تک ان کے اندر کا شاعر ان کے باہر کے کامریڈ پر حاوی ہو چکا تھا۔
	’’زمان و مکان کا پابند ہونے کے باوجود شعر بے زماں (Timeless) ہوتا ہے اور شاعر اپنی ایک عمر میں کئی عمریں گزارتا ہے، سماج کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات اور احساسات بھی بدلتے جاتے ہیں مگر جبلتیں برقرار رہتی ہیں۔ تہذیب، انسانی جبلتوں کو سماجی تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنے کا مسلسل عمل ہے، جمالیاتی حس انسانی حواس کی ترقی اور نشوونما کا دوسرا نام ہے، اگر انسان کو سماج سے الگ چھوڑ دیا جائے تو وہ ایک گونگا وحشی بن کر رہ جائے گا، جو اپنی جبلتوں پر زندہ رہے گا۔ فنونِ لطیفہ انفرادی اور اجتماعی نفس کا بڑا ذریعہ ہیں جو انسان کو وحشت سے شرافت کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں۔‘‘
	شاعر اپنے گرد و پیش کے خارجی عالم اور دل کے اندر کی دنیا میں مسلسل کشمکش اور تضاد پاتا ہے یہی تضاد تخلیق کی قوتِ محرکہ بن جاتا ہے۔
	شاعر اپنے دل میں چھپی ہوئی روشنی اور تاریکی کی آویزش کو اور روحانی کرب و اضطراب کی علامتوں کو اجاگر کرتا اور شاعر میں ڈھالتا ہے۔ اس عمل سے تضاد تخلیل ہو کر تسکین و طمانیت کے مرکب میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ شاعر بہ حیثیت ایک فردِ معاشرہ، حقیقتوں سے متصادم اور متاثر رہتا ہے، پھر وہ دل کی جذباتی دنیا کی خلوتوں میں چلا جاتا ہے، روحانی کرب و اضطراب کی بھٹی میں تپتا ہے شعر کی تخلیق کرتا ہے اور داخلی عالم سے نکل کر عالم خارج میں واپس آتا ہے تاکہ نوعِ انسانی سے قریب تر ہو کر ہم کلام ہو۔
	مندرجہ بالا سطور میں جو ’’گلِ تر‘‘ کے دیباچے سے ماخوذ ہے ’’روحانی کرب‘‘، ’’تہذیب نفس‘‘ اور ’’دل کی جذباتی دنیا کی خلوتوں ‘‘ جیسی ترکیبوں کے ذریعے شعر اور شاعری کی جس فنی اور فکری بصیرت کا اظہار کیا گیا ہے وہ ان کی پارٹی کی ادبی محاذ کی نعرہ بازی سے بہت مختلف ہے۔ اگر کسی ترقی پسند شاعر کے کلام میں اس فکر و کیفیت کی کارفرمائی ہے تووہ صرف فیض احمد فیض ہیں۔ فیض اور مخدوم میں ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ وہ نظم اور غزل، دونوں اصنافِ سخن میں یکساں دست رس کے علاوہ جداگانہ شان اور پہچان کے حامل ہیں۔ دونوں نے اپنی شاعری میں لفظوں کو معنوی توسیع کے عمل سے گزار کر معنی کی نئی جہات سے ہم کنار کیا ہے دونوں کی شاعری کا غالب عنصر اس کی والہانہ کیفیت اور چمنستانِ محبت کی فضا ہے جو انگاروں پر لوٹتے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے مشقتیں برداشت کرتے ہوئے تخلیق کاروں کو بھی گل و بلبل کے افسانے بیان کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے کیوں کہ فکر و فلسفہ کی حدبندی اور جیل کی چہار دیواری تخلیق کار کے جمالیاتی احسا س کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ تخلیق کار اپنا جہاں آپ آباد کرتا ہے اور اگر اس کی طبیعت جیل کی چاردیواری میں گل و بلبل کی داستان بیان کرنے کی ہوئی ہے تو جیل میں بھی گل و بلبل کی داستان بیان کرتا ہے۔ فیض جب راولپنڈی سازش کیس میں جیل کاٹ رہے تھے تو انھوں نے رضیہ سجاد ظہیر کو چند نظمیں بھیجنے کے ساتھ لکھا تھا کہ:
’’آپ کی فرمائش پر بنے (سجاد ظہیر) نے میری نئی اور فضول سی نظم غالباً آپ کو بھیج دی ہے۔ میں نے تو منع کیا تھا کہ مت بھیجنا۔ کہیں علی سردار جعفری کی نظر پڑ گئی تو مجھ پر تنزل پسندی کا فتویٰ لگا دے گا۔ یوں بھی لوگ کہیں گے کہ ہمیں جیل میں بیٹھ کر محض گل و بلبل کی سوجھ رہی ہے حالاں کہ لکھنے کو اور اتنی باتیں رکھی ہیں۔ بہ ہر صورت آپ باتیں بناتے رہیے ہمارا جیل میں اگر عاشقانہ شعر لکھنے کا جی چاہے گا تو ہم ضرور لکھیں گے۔‘‘
	فارسی اور اردو کی شعری روایت میں عاشقانہ اور رندانہ کو عارفانہ شاعری بنانے کی کامیاب روایت بہت پرانی ہے۔ دونوں قسم کی شاعری میں الفاظ و تلازمات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ فیض و مخدوم نے اس روایت سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے اور اگر صوفیا نے چشم، ابرو، لب، گیسو، رخ سے ’’بصیرت ازلی‘‘، ’’ربوبیت و عبودیت کا حجاب‘‘، ’’نور قدس سے عقل کا منور ہونا‘‘ یا ’’نفس رحمانی‘‘، ’’تجلی جلالی‘‘ اور ذاتِ حق‘‘ جیسے معنی مراد لیے ہیں تو فیض نے ’’عشق‘‘ سے ’’جذبہ حیرت‘‘، ’’رقبت‘‘ سے رجعت پسندانہ نظام اور ’’عقل‘‘ سے زوال آمادہ ذہنیت مراد لی ہے، اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مخدوم نے ’’حرفِ وفا‘‘، ’’ان کا خدا‘‘ اور ’’چتا‘‘ کو عوامی جدوجہد، انقلاب اور انقلاب برپا کرنے کی تیاری میں مر جانے کی آرزو و آمادگی کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ ان کے استعمال کیے ہوئے لفظوں کی یہ تفہیم انہی کے اس جملے کا آئینہ ہے کہ ’’جمالیاتی حس انسانی حواس کی ترقی اور نشوونما کا دوسرا نام ہے۔ ’’مخدوم یویناً ایک ترقی یافتہ فکر کے حامل تھے اس لیے ان کی فکر جمالیاتی احساس کی جملہ خوبیوں سے مالا مال ہے۔ اس کے علاوہ یہ نظم فنی تکمیل کا بھی احساس دلاتی ہے۔ اس میں داخلیت اور خارجیت، وضاحت اور ابہام پرانے الفاظ اور نئے پیرایہ اظہار کے امتزاج سے پیدا ہونے والی انوکھی شان پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اور خوبی یہ ہے کہ آزاد نظم کے پیرایے میں یعنی اس پیرایے میں جوا س وقت تک ترقی پسندوں میں زوال پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
	نظم کے تیسرے بند میں موضوع کا کوئی نیا پہلو اجاگر کرنے کے بجائے عشق کے نقطۂ کمال ’’وصل‘‘ کی وہ والہانہ کیفیت بیان کی گئی ہے جس میں دوائی یا یاس و حرماں کا ہر احساس مٹ جاتا ہے۔ اس بیان میں مخدوم کی استعمال کی ہوئی امیجری ان کے ترقی یافتہ جمالیاتی احساس کی رہین منت ہے۔ اس نظم کے عشقیہ ماحول میں بلا کی شدت پیدا ہو گئی ہے۔
دو بدن
اوس میں بھیگتے 
چاندنی میں نہاتے ہوئے 
جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر
ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا
صرف ماتم ہوئی
کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر
ایک پل کے لیے رک گئی
	چوتھا بند اس یاد دہانی پر مشتمل ہے کہ محبت کا لمحہ، محبت کے جذبے کی طرح تعینات اور حد بندیوں سے مستثنیٰ ہے اس کو بھلے برے، میں نور و ظلمت میں نہیں تقسیم کیا جا سکتا۔ یہ ایک قابلِ تقسیم اکائی ہے۔
ہم نے دیکھا انھیں 
دن میں اور رات میں 
نور و ظلمات میں 
مسجدوں کے مناروں نے دیکھا نہیں 
مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انھیں 
مے کدے کی دراڑوں نے دیکھا انھیں 
	نظم کے آخری بند میں محبت کی ابدیت اور ہمہ گیری کو اجاگر کرنے کے بعد ’’چارہ گر‘‘ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ کیا اس کے پاس ’’کیمیائے محبت‘‘ کا کوئی نسخہ ہے ؟ مگر اسی پل سوال پوچھنے والے کو یاد آتا ہے کہ نسخۂکیمیائے محبت پانے کا مطلب فنا ہو جانا ہے لہذا وہ دوسرے ہی پل یا اسی سانس میں ’’چارہ گر‘‘ سے پوچھ بیٹھتا ہے کہ کیا کیمیائے محبت کا کوئی ایسا نسخہ بھی ہے جو مقصد زندگی کو سرور و کیف میں تو ڈھالے، فنا نہ کرے ؟ یہ سوال ایک خاص فلسفۂ حیات اور سماجی جدوجہد سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔ اسی سوال کے ساتھ نظم کی ماورائی فضا سماجی شعور میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ’’گل تر‘‘ کے اس بلیغ جملے کی معنویت سامنے آ جاتی ہے کہ ’’شعر میں ہم ماورا کی حدوں کو چھوتے ہیں مگر شعر سماج سے ماورا نہیں ہوتا‘‘۔ ’’چارہ گر‘‘ اس نظم کا بہت وسیع استعارہ ہے یہ سیاسی رہبر وہ مسیحا بھی ہو سکتی ہے اور روحانی شیخ و مرشد اور عالم و رہنما بھی۔
از ازل تا ابد
یہ بتا چارہ گر/ تیری زنبیل میں 
نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے ؟
کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے ؟
	نظم کے آخر میں پہلے بند کو مکرر پیش کرنے کے بعد کچھ نئے مصرعوں کے ذریعے مخدوم نے ’’مقصد زندگی‘‘ یا محبوبۂ زندگی پر جان دینے والوں پر زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد کرتے ہوئے زندہ رہنے والوں کی اہمیت و فوقیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے ساتھ ہی مسجد و مندر اور مے کدے سے عوامی جدوجہد کو مقصد حیات یا محبوبہ بنا لینے والوں کی تباہی کا نظارہ کرتے ہوئے ان پر سنگ ملامت پھینکنے والوں یا خود فریبی اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والوں کو للکارا ہے کہ ظلم و نا انصافی کی جدوجہد کرتے ہوئے آزمائشوں میں زندہ رہنے کا جو لطف ہے اس کو وہ کیا جانیں جنھیں کسی مقصدِ حیات کو محبوبۂ زندگی بنانے کی توفیق ہی نہیں ہوئی۔ رومانی شعرا بھی ایسے شعر کہتے رہے ہیں مثلاً اختر شیرانی نے کہا تھا:
محبت مبتدا میرا محبت منتہا میرا
محبت ہی محبت ہے حقیقت میں خدا میرا
ترقی پسند شاعروں نے بھی اس روایت کو اپنایا مگر غنائیت اور موسیقیت کو مجروح کیے بنا پرانے لفظوں سے نئے مفاہیم پیدا کر کے شعری روش کو نقطۂ کمال تک پہنچایا فیض نے۔ انھوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ اس کا انجام موت ہے ایک نظر حیات یا مقصد زندگی کو نہ صرف محبوبہ کا درجہ دیا بلکہ اس سے محبوبہ جیسا سلوک بھی کیا۔ مثال کے طور پر پیش ہے ان کی نظم کا ایک بند، جس کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ مقتل میں محبت کے گیت گا رہے ہیں۔ یہ بہ یک وقت عاشقانہ شاعری بھی ہے اور انقلابی شاعر بھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح صوفیہ کی شاعری بہ یک وقت عاشقانہ شاعری بھی تھی اور عارفانہ شاعری بھی:
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے 
ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے 
	مخدوم کی نظم ’’چارہ گر‘‘ مخدوم کے اس خواب کی سب سے خوب صورت تعبیر ہے جس کو انھوں نے ’’گل تر‘‘ کے دیباچے میں پیش کیا تھا۔ وہ زندگی اور مقصد زندگی کے شاعر تھے اور زندگی کے مظاہر اور کیفیتیں اتنی متنوع اور پُر اسرار ہیں کہ جیسے جیسے ان کا ادراک بڑھتا جاتا ہے زندگی کی معنویت اور زندگی کو مزید بہتر بنانے کی تڑپ بھی بڑھتی جاتی ہے اور بالآخر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ کیا بیداری اور کیا خواب مقصد زندگی پر محبوبۂ زندگی کا گمان کر کے انسان پکارنے لگتا ہے کہ:
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے 
سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے 
٭٭٭

 

ارجمند آرا


مخدوم محی الدین کے تخلیقی سروکار

	مخدوم سے میرا پہلا تعارف ان کی نظم ’’سپاہی‘‘ کے ذریعے ہوا تھا۔ ان دنوں میں جے این یو میں ایم۔اے کی طالبِ علم تھی۔ جے این یو کے طلبہ میں سیاسی مظاہروں اور دھرنوں کے موقعوں پر ایسے گیت گائے جاتے ہیں جو کسی نہ کسی طور سے ظلم و جبر، استحصال اور جنگ کے خلاف ہیں۔ ایسے ہی کسی موقع پر مخدوم کا یہ گیت سنا تھا:
جانے والے سپاہی سے پوچھو 
وہ کہاں جا رہا ہے 
کون دکھیا ہے جو گا رہی ہے 
بھوکے بچوں کو بہلا رہی ہے 
لاش جلنے کی بو آ رہی ہے 
زندگی ہے کہ چلا رہی ہے 
جانے والے سپاہی سے پوچھو
	اس گیت سے اداسی اور غم ناکی کی ایک کیفیت دلوں پر طاری ہو جاتی تھی۔ حالاں کہ زیادہ تر ایسے گیت گائے جاتے تھے جس میں رجز ہوتا تھا، گھن گرج اور خطابت ہوتی تھی جو دلوں کو جوش و خروش سے معمور کر دیتی تھی۔ مجھے تجسس تھا کہ یہ کون سا شاعر ہے جو سیاسی سروکار رکھنے والے طالبِ علموں کے لیے تحریک کا باعث بنا ہوا ہے۔ پتا چلا کہ یہ مخدوم محی الدین ہیں جو شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم سیاسی کارکن اور تلنگانہ تحریک کے بڑے لیڈر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا سیاسی موقف، شاعری سے مقدم تھا اور انھوں نے اپنی زندگی بائیں بازو کی سیاست، ٹریڈ یونین ازم اور عوامی کاز کے لیے وقف کر دی تھی۔ میرے ساتھیوں نے مخدوم کا ذکر جس محبت اور فخر سے کیا تھا اس سے مخدوم کے اعلیٰ انسانی قدروں میں یقین اور سچائی پر اعتبار آ گیا اور اسی دن سے مخدوم کے ساتھ ایک اپنائیت کا رشتہ قائم ہو گیا۔
	حالاں کہ مخدوم کو باقاعدہ پڑھنے کا موقع عرصے تک نہیں ملا لیکن جب جب بھی ان کی نظمیں پڑھیں، اچھی لگیں۔ میرے ذہن میں ان کی شخصیت دو خانوں میں منقسم تھی۔۔۔ سیاسی کارکن مخدوم اور شاعر مخدوم۔ جو نظمیں میں نے پڑھی تھیں ان سے کبھی نہیں لگتا تھا کہ یہ صاحب پولیٹکل ایکٹوسٹ بھی ہوں گے۔ ان کی سیاسی زندگی کے بارے میں کبھی پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ یوں اس سلسلے میں اندھیرے میں تھی۔ اس طرح ان کی شخصیت میرے ذہن میں دو لخت تھی۔ لیکن پچھلے دنوں جب یہ چرچا ہونے لگا کہ مخدوم کا صد سالہ جشن منایا جائے تو خیال آیا کہ مناسب موقع ہے وقت نکال کر کچھ پڑھ لیا جائے۔ اس طرح مخدوم کے سوانحی حالات اور ان کی سیرت کے بارے میں کچھ کتابیں دیکھیں تو ایک بالکل ہی الگ اور بڑی بھرپور زندگی جینے والے، زندہ دل مخدوم سے ملاقات ہوئی۔ اندازہ ہوا کہ یہ نیا مخدوم شاعر کی روایتی امیج سے بالکل الگ طرح کا شخص ہے۔ یہ خشک مزاج دانش ور بھی نہیں ہے، جوڑ توڑ کا ماہر سیاست داں بھی نہیں، اپنی ذات میں گم شاعر بھی نہیں۔۔۔ پھر بھی دانش ور ہے، سیاست داں ہے اور شاعر بھی۔ غریب ہے، شاہانہ بے نیازی رکھنے والا امیر بھی۔ ہر طرح کے لوگوں میں گھل مل جانے والا سادہ دل عام آدمی بھی ہے، بڑی بڑی ذمے داریاں اپنے کاندھوں پر لے لینے والا اچھا منتظم بھی۔ خوش گپیوں میں گھرا رہنے والا کٹھیا بھی اور سب سے زیادہ حیران کن سوال تو یہ تھا کہ یتیمی تنگ حالی، غربت اور سخت کوشی کی زندگی کے باوجود مخدوم میں زندہ دلی اور چلبلا پن کہاں سے آیا؟ انھوں نے ہر قسم کے مشکل حالات کو شکست دینا کب سیکھ لیا؟ حالات کے خلاف جدوجہد میں ان کے موثر ترین ہتھیار آخر یہی زندہ دلی اور بے نیازی کب اور کیسے بن گئے ؟ یہ ایسی گتھی ہے جس کا سلجھنا آسان نہیں بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ مخدوم بڑے سخت جان اور حوصلے والے آدمی تھے۔ مایوسی اور دل شکستگی ان کے قریب سے بھی نہیں گزری تھی۔
	مخدوم محض پانچ برس کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ کی دوسری شادی ہو گئی اور مخدوم اپنے چچا بشیر الدین کی کفالت میں آ گئے۔ اپنے چچا کی تربیت کے زیر اثر ان کا سماجی شعور پروان چڑھا۔ جب مخدوم بچے ہی تھے اپنے چچا کی زبانی انھیں پتا چلا کہ روس ایک ایسا ملک ہے جہاں معاشی اور تہذیبی اعتبار سے سب لوگ برابر ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کے چچا محنت کش عوام اور کاشت کاروں سے ہم دردیاں رکھتے ہیں۔ مریضوں کی خدمت کرتے ہیں۔ مخدوم بھی ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ مخدوم نے ابتدائی تعلیم بڑے مذہبی ماحول اور سخت ڈسپلن میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ حیدرآباد آئے۔ وہاں بے سر و سامانی اور بے روزگاری کے عالم میں انھیں ایک مسجد میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ کبھی کئی کئی وقت کے فاقے بھی ہو جاتے تھے لیکن ان کے مزاج میں زندہ دلی اس طرح رچی بسی تھی کہ وہ مایوسی کا کبھی شکار نہیں ہوئے۔ گزر اوقات کے لیے کبھی کسی امیر نواب کی عیسائی محبوبہ کو انگریزی میں خط لکھنے کا عجیب و غریب کام کرنا پرا تو ٹھیلے پر لگا کر تصویریں بھی بیچنی پڑیں۔ بے سر و سامانی کا یہ عالم گزرا کہ تن کے کپڑوں سے بستر اور جوتوں سے تکیے کا کام لینا پڑ جاتا تھا۔
	اردو میں ایم۔اے کرنے کے تین سال بعد سٹی کالج حیدرآباد میں نوکری مل گئی تو بھی ان کی قناعت اور بے نیازی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ ان کا بے فکرا پن کالج کے لڑکوں میں فیشن بن گیا۔ کالج کے زمانے سے ہی طالبِ علموں کی ہر طرح کی سرگرمیوں، کھیل کود اور ثقافتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ڈراموں میں حصہ لیتے تھے اور اچھے ایکٹر سمجھے جاتے تھے۔ خود بھی ڈرامے لکھتے اور ان کو اسٹیج کرتے تھے۔ شاعر کی حیثیت سے بھی پہچان بنا لی تھی۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا۔ ان کی آواز کا جادو لوگوں کو مسحور کر دیتا تھا۔ عرض یہ کہ وہ نوجوانی ہی میں ایک مقبول و معروف اور ہر دل عزیز آدمی بن چکے تھے۔ ان کی سیاسی سرگرمیاں بھی شروع ہو چکی تھیں۔ ۱۹۳۲ء میں بی۔اے کرنے کے بعد انھوں نے مارکسزم کا مطالعہ شروع کیا تھا۔ ان دنوں حیدرآباد میں کمیونسٹ پارٹی اور اشتراکی ادب کی فروخت پر پابندی تھی۔ مخدوم نے نریش کمار کو دیے ہوئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ۱۹۳۴ء میں مارکسزم کے مطالعے سے دماغ میں کشیدگی پیدا ہوئی اور وہ ۱۹۳۶ء میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن بن گئے۔ ۱۹۳۹ء میں ناگپور کے ’’کامریڈ گروپ‘‘ کی مدد سے مخدوم نے حیدرآباد میں اسٹوڈنٹس یونین بنائی اور اسی تنظیم سے عوامی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ ۱۹۴۰ء میں بائیں بازو کی کامریڈ ایسوسی ایشن قائم کر لی جس کے سکریٹری خود مخدوم تھے۔ اس تنظیم نے ۱۹۴۱ء تک اتنے جوش و خروش سے کام کیا اور ممبران کی تعداد اتنی بڑھا لی کہ تنظیم کے مختلف شعبے بنانے پڑے۔ اسی دور میں مخدوم نے ملازمت چھوڑ دی اور پارٹی کے کل وقتی رکن بن گئے۔
	پارٹی کے لیے ان کی لگن اور محنت سے کام کرنے کی بہت سی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان کی لگن کا اندازہ اس واقعے سے کیا جا سکتا ہے کہ ناگپور میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی کانفرنس میں کامریڈ مخدوم اور کامریڈ راج بہادر گوڑ کو ڈیلی گیٹ کے طور پر شریک ہونا تھا۔ جس دن روانگی تھی اسی روز مخدوم کی چچی کا انتقال ہو گیا۔ سب کو یقین تھا کہ مخدوم اب کانفرنس میں نہ جا سکیں گے لیکن اس وقت سب حیرت زدہ رہ گئے جب انھوں نے مخدوم کو سفر کیلیے کمر کسے پلیٹ فارم کی جانب آتے دیکھا۔ انھوں نے بتایا کہ چچی کی آخری رسوم کی ذمے داریاں انھوں نے اپنے ایک رشتے کے بھائی نظام الدین کو سونپ دی ہیں۔
	دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں جو معاشی ابتری پھیلی اس سے مہنگائی اتنی بڑھی کہ مزدور اور کسان احتجاج میں سڑکوں پر اترنے لگے۔ مخدوم اور دوسرے نوجوان کامریڈوں نے اس صورتِ حال کا اندازہ کر کے مزدوروں کو منظم کرنے کا کام شروع کر دیا۔ اس جدوجہد نے مخدوم کو ایک کامیاب ٹریڈ یونین لیڈر بنا دیا۔ دیکھتے دیکھتے حیدرآباد میں سو سے زیادہ ٹریڈ یونینیں قائم ہو گئیں۔ ان کی رہنما طاقت مخدوم ہی تھے۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے مخدوم کو جیل بھی جانا پڑا۔
	جب مخدوم سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے، ترقی پسند ادبی تحریک بھی زوروں پر تھی۔ سجاد ظہیر اور ان کے ساتھی انجمن کے ادبی اور تنظیمی کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ انھوں نے حیدرآباد میں انجمن کی شاخ قائم کرنے کا کام کامریڈ سبط حسن اور مخدوم کو سونپا اور ۱۹۴۳ء میں انجمن کی باقاعدہ بنیاد ڈال دی گئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کو مسز سروجنی نائیڈو کی سرپرستی حاصل تھی اور اس کے افتتاحی اجلاس کے صدر قاضی عبدالغفار تھے۔ انجمن نے جس طرح سے کام شروع کیا اور جلد ہی باقاعدہ تحریک  بن گئی، اس کے سبب انجمن کی پہلی آل انڈیا کانفرنس بھی حیدرآباد ہی میں منعقد کی گئی تھی جس میں مولانا حسرت موہانی، ڈاکٹر تارا چندر، فراق گورکھپوری اور سید احتشام حسین نے مختلف اجلاس کی صدارت کی تھی۔
	انہی دنوں مخدوم کی سیاسی مصروفیات بڑھتی گئیں اور انجمن کے لیے وہ زیادہ وقت نہ نکال سکے۔ اکتوبر ۱۹۴۶ء میں مزدور رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے تو مخدوم کو بھی روپوش ہونا پڑا۔ روپوشی کے دوران مخدوم نے ایک نئی جدوجہد کا آغاز کیا۔ تلنگانہ کے زمین دار ان مزدوروں کا بری طرح استحصال کرتے تھے اور برائے نام مزدوری دیتے تھے۔ روی نارائن ریڈی کی سربراہی میں مخدوم اور دوسرے روپوش نوجوانوں نے ظلم و جبر کے اس نظام کو توڑنے کی جدوجہد شروع کی اور تلنگانہ جاگ اٹھا۔ تلنگانہ کا یہ سنگھرش ہتھیار بند سنگھرش تھا۔ اس زمانے میں مخدوم زیادہ تر وجے واڑہ میں رہے۔ ۱۹۵۱ء میں مخدوم کو گرفتار کر لیا گیا اور انھیں چنچل گوڑہ جیل بھیج دیا گیا۔ اس جدوجہد کے دوران گیارہ لاکھ ایکڑ زمین پر قبضہ کر کے اسے بے زمین کسانوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس قید سے مخدوم کو جنوری ۱۹۵۲ء میں رہائی ملی۔ کہتے ہیں ان کے رہا ہونے پر جلوس نکالا گیا وہ اتنا بڑا تھا کہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ مخدوم کی نظم ’’یہ جنگ ہے جنگِ آزادی‘‘ ان دنوں مزدوروں اور محنت کشوں کے ہر جلسے میں کورس میں پڑھی جاتی تھی۔ یہاں بھی پڑھی گئی۔ مخدوم زندہ باد کے نعروں سے میدان گونج اٹھا۔ مخدوم نے اپنی نظم ’’قید‘‘ پہلی بار اسی جلسے میں سنائی۔ یہ نظم انھوں نے اسی قید کے دوران لکھی تھی۔ یہ ہے مخدوم کی وہ زندگی جو انھوں نے اپنی تمام تخلیقی اور سیاسی سروکاروں میں ہم آہنگی پیدا کر کے بسر کی۔
	یہ تھے ان کی زندگی کے سروکار جو دراصل ان کی شاعری کے بھی سروکار بنے۔ مخدوم سب سے محبت کرتے تھے یہ بات تو اپنی جگہ مسلم لیکن بڑی بات یہ ہے کہ وہ محبت پانے کا فن جانتے تھے، جو ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔ ان کا سیاسی موقف اور آدرش اپنی جگہ اس آدرش کے لیے زندگی وقف کر دینے کی لگن اپنی جگہ، لیکن ان کے مزاج کی سادگی، والہانہ پن، اپنائیت، محبت اور خلوص بھی اتنے ہی مستقل تھے کہ سیاسی زندگی ان کی فطری معصومیت کو کبھی نہ چھین سکی۔ چناں چہ ان کی فطری معصومیت کو کبھی نہ چھین سکی۔ چناں چہ اس انقلابی کی شاعری میں رومانیت اور محبت دوش بہ دوش پلتی رہی۔ نہ انقلاب نے رومان کا ساتھ چھوڑا اور نہ رومان پسندی نے انقلاب کے ساتھ کوئی تضاد محسوس کیا۔ وہ جہاں کہیں بھی رہے اپنے نصب العین کو پانے کی کوششیں کرتے رہے۔ جب تھکتے تھے، دل کی دنیا میں پناہ لے لیتے تھے :
	تھک کے رہ جاتے ہیں استدلال کے جس جا قدم
	ٹوٹ جاتا ہے پہنچ کر جس جگہ منطق کا دم
	خواب و عقل و ہوش کی مجہول تعبیروں سے دور
	فلسفی کی ’’کس طرح‘‘ اور ’’کیوں ‘‘ کی زنجیروں سے دور
	میرے رہنے کا جہانِ جاودانی اور ہے 
	دل کی دنیائے نہاں کی زندگانی اور ہے 
	مخدوم اپنے دل کی دنیائے نہاں میں اس لیے نہیں جاتے کہ وہ زندگی سے فرار چاہتے ہیں۔ بلکہ انھوں نے ایک توازن قائم کیا تھا اپنی ذہنی و جذباتی دنیا اور اپنے حقیقی خوابوں کی دنیا کے مابین۔ ان کا خواب محنت کشوں کو ظلم و جبر سے نجات دلانا اور اشتراکی نظریے کے مطابق مساوات قائم کرنا تھا۔ اس خواب نے انھیں کبھی چین سے نہ رہنے دیا اور وہ ہمیشہ ایک نئے جہان کی تعمیر کے لیے محنت کشوں کو اپنی شاعری سے تحریک دلاتے رہے :
نغمے شرر فشاں ہوں، اٹھا آتشِ رباب
مضرابِ بے خودی سے بجا سازِ انقلاب
معمار عہدِ نو ہو ترا دستِ پر شباب
باطل کی گردنوں پہ چمک، ذوالفقار بن
ایسا جہان جس کا اچھوتا نظام ہو
ایسا جہان جس کا اخوت پیام ہو
ایسا جہان جس کی نئی صبح و شام ہو
ایسے جہانِ نو کا تو پروردگار بن
	لیکن مخدوم کے لہجے کے دھیمے پن، لطافت اور نغمگی سے کوئی اس دھوکے میں نہ آئے کہ مخدوم کا انقلاب کا تصور محض جذباتی نعرہ تھا۔ انھوں نے اس انقلاب کے لیے مسلسل جدوجہد کی تھی، ان کا تصور انقلاب تجربے کی بھٹی میں تپ کر کندن بنا تھا۔ انقلاب کے تصور کی اچھی ترجمانی ان کی نظم جنگِ آزادی سے ہوتی ہے۔ اس میں ان کے اشتراکی فلسفے کی پرتیں بہ تدریج کھلتی ہیں۔ پہلے بند میں وہ بتاتے ہیں کہ یہ جنگِ آزادی محکوموں، مجبوروں، دہقانوں اور مزدوروں کی جنگ ہے۔ دوسرے بند میں یہ واضح کرتے ہیں کہ دراصل دنیا کے تمام مجبور،’ محکوم، دہقان اور مزدور ایک ہیں اور وہ سب سرخ پرچم کے تلے ہی ایک ہو سکتے ہیں کیوں کہ دنیا کے ان پائمال لوگوں کے مسائل ایک جیسے ہیں، ان کا مقدر ایک سا ہے، اس لیے ان کی جنگ بھی ایک ہی جنگ ہے۔ تیسرے بند میں مخدوم مسلح جدوجہد کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہیں اور مکمل آزادی کے لیے دشمن کی بربادی و تاراجی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ وہ سوراج کی مانگ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیتے ہیں کہ سوراج سے ان کی مراد مزدوروں کا راج ہے اور اس خواب کی تلاش میں جذبات اور جوش سے مغلوب ہو کر انقلاب کی نویدیوں سناتے ہیں :
	لو سرخ سویرا آتا ہے
     آزادی کا آزادی کا
	گلنار ترانہ گاتا ہے 
	آزادی کا آزادی کا
	دیکھو پرچم لہراتا ہے 
	آزادی کا آزادی کا
	یہ جنگ ہے جنگِ آزادی
	آزادی کے پرچم کے تلے 

	اشتراکی انقلاب مخدوم کی شاعری کا اہم ترین موضوع ہے۔ ساتھ ہی اشتراکی نظام فکر کے تحت آنے والے سروکار بھی مخدوم کا موضوع ہیں۔ بوسیدہ معاشرتی نظام، فرسودہ روایات، نا برابری اور استحصال کے رشتے، دنیا کو بدلنے کی ضرورت، جدوجہد، جنگ وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن پر مخدوم نے بہ راہِ راست نظمیں لکھی ہیں۔ شکست خوردہ اقدار اور فرسودہ روایات پر بے دردی سے چو کی ہے اور ناسور کا منھ کھول دیا ہے کہ ان خرابیوں کو دور کرنے کا پیغام وہ ڈھکے چھپے انداز میں، رمز و اشارے میں نہیں دینا چاہتے۔ یہاں ان کے نزدیک شاعری کا مقصد لوگوں کے ذہنوں کو ان برائیوں کی جانب متوجہ کرنا اور تبدیلی کی طرف مائل کرنا ہے۔ اس کی بہت واضح مثالیں ان کی نظموں مشرق، حویلی، دھواں، جہانِ نو، انقلاب، جنگِ آزادی، زلفِ چلیپا، قید اور تلنگن وغیرہ سے ہیں۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت مناسب ہو گی۔ ان کی نظم مشرق کے یہ حصے ملاحظہ ہوں :
	جہل، فاقہ، بیماری، نجاست کا مکان
	زندگانی، تازگی، عقل و فراست کا مسان
	وہم زائیدہ خداؤں کا، روایت کا غلام
	پرورش پاتا رہا ہے جس میں صدیوں کا جذام
	جھڑ چکے ہیں دست و بازو جس کے اس مشرق کو دیکھ
	اس کے بعد وہ مشرق کے فرسودہ سماجی نظام کو کوڑھ اور ایسی بے گور و کفن لاش سے تشبیہ دیتے ہیں جو مغربی چیلوں کا لقمہ ہے۔ ایسی مسلسل رات بتاتے ہیں جس کی صبح نہیں اور پھر پیغام دیتے ہیں :
اس زمینِ موت پروردہ کو ڈھایا جائے گا
اک نئی دنیا، نیا آدم بنایا جائے گا
	مخدوم کی اس قسم کی نظمیں جو بہ راہِ راست ہیں، مقصدی نظمیں ہیں۔ یہ اکہری ہیں اور ان میں خطابت شدید اور پیغام بالکل واضح ہے۔ ادبی معیار کے اعتبار سے ان کا شمار اعلیٰ پایے کی نظمو ں میں نہیں کیا جاتا۔ ان کے مقابلے میں مخدوم کے شاعرانہ جوہر ان نظموں میں کھلتے ہیں جہاں انھوں نے مظاہر فطرت کو استعارہ بنا کر اپنا مقصد بیان کیا ہے۔ ان نظموں میں ایک کیفیت اور جذبہ ہے جو قاری کو حقیقت کا ادراک اس طرح کراتا ہے کہ وہ غصے یا جوش خروش کے بجائے ایک اداسی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ اندھیرے میں امید کی کرن دکھاتا ہے، موہوم سا اشارہ کرتا ہے بہتر مستقبل کی جانب۔ غیر حقیقی امیدیں نہیں بندھاتا، کوئی بلند بانگ نعرہ نہیں لگاتا۔ ایسی عمدہ نظموں میں اندھیرا، چاند تاروں کا بھی، قید، چارہ گر وغیرہ شامل ہیں۔ نظم ’’اندھیرا‘‘ میں مخدوم نے اندھیری رات کے آسمان کو گداگر کے کٹورے سے تعبیر کیا ہے جس میں چمکتے ہوئے چاند تاروں کو بھیک میں ملے سکوں کے مانند بتایا ہے۔ پھر وہ اسی بھیک کے نور سے چمکتے ہوئے آسمان کے نیچے واقع ہونے والے انسانیت سوز حادثات، استحصال، ظلم و ستم، جنگ اور قتل و غارت پر بچوں اور ماؤں کے نوحوں اور فریاد کی جانب توجہ دلاتے ہیں لیکن یہ امید بھی رکھتے ہیں :
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشید درحشاں کے نکلنے تک ہے 
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں 
	نظم ’’قید‘‘ کا ڈکشن، جو انھوں نے چنچل گوڑہ جیل میں لکھی، خوب صورت تشبیہوں، استعاروں اور لفظی رعایتوں سے تیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’قید‘‘ میں جھلملا جاتی ہے انفاس کی لو، جاگ اٹھتی ہے میری شمع شبستانِ خیال‘‘ وغیرہ ہمیں فیض کے ڈکشن کی یاد دلا جاتے ہیں۔ تین بندوں پر مشتمل اس نظم میں ہر بند کے آخر میں لگتا ہے کہ نظم ختم ہو گئی، ہر بار اینٹی کلائمکس ہوتا ہے اور اگلے بند میں نظم پھر سے ایک نئے خیال کے ساتھ اٹھتی ہے مثلاً:
	سیکڑوں لاکھوں عوام
	سیکڑوں لاکھوں قدم
	سیکڑوں لاکھوں، دھڑکتے ہوئے انسانوں کے دل
	جبر شاہی سے غمیں، جور سیاست سے نڈھال
	جانے کس موڑ پہ وہ دھم سے دھماکا بن جائیں 
	یہاں لگتا ہے کہ نظم ختم ہو گئی لیکن نظم پھر ایک الگ خیال، شاعر کا موقف پیش کرنے کے لیے یوں آگے بڑھتی ہے :
	سالہا سال کی افسردہ و مجبور جوانی کی امنگ
	طوق و زنجیر سے لپٹی ہوئی سو جاتی ہے 
	کروٹیں لینے میں زنجیر کی جھنکار کا شور
	خواب میں زیست کی شورش کا پتا دیتا ہے 	
	مجھ کو غم ہے کہ مرا گنجِ گراں مایۂ عمر	
	نذرِ زنداں ہوا
	نذرِ آزادی زندانِ وطن کیوں نہ ہوا؟
	شاعر کے دل کی یہ کسک، حالات کے آگے مجبوری کا غم، وطن کے لیے مر مٹنے کی حسرت قاری کو بھی شاعر کا ہم راہی بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ نظم کی ہیئت ہمیں اخترالایمان کی نظم ’’ایک لڑکا‘‘ کے در و بست کی یاد دلاتی ہے۔ ارفع ترین انسانی مقصد کو ذہن میں رکھ کر زیست کرنے کا رجائیت بھرا پیغام دونوں کے یہاں یکساں ہے۔
	’’چارہ گر‘‘ مخدوم کی بہت مشہور نظم ہے، غالباً اس لیے بھی کہ ایک بے حد خوب صورت اور مقبولِ عام فلمی گیت کی صورت میں مشہور ہے۔۔۔
	ایک چنبیلی کے منڈوے تلے 
	مے کدے سے ذرا دور، اس موڑ پر
	دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے 
	اس نظم میں عشق کے انسانی جذبے سے متعلق ایک بڑے مسئلے کو موضوع نظم بنایا گیا ہے۔ ازل سے ہی عشق کرنے والے لوگوں کا انجام یکساں ہوا ہے، مندر، مسجد اور مے کدے اس انجام کے گواہ ہیں۔ ان کے مسئلے کو کوئی مداوا نہیں۔ شاعر پوچھتا ہے :
	یہ بتا چارہ گر
	تیری زنبیل میں 
	نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے ؟
	کچھ علاج و مداوے الفت بھی ہے ؟
	یہ ’’چارہ گر‘‘ جو وقت بھی ہو سکتا ہے، خدا بھی۔۔۔ دراصل چارہ گر نہیں ہے بلکہ وہ جفا جو، سفلہ پور اور کینہ ساز ہے جو کبھی گردش، چرخ، تقدیر، کبھی اتفاقات و حادثات اور وقت کے جبر کی مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اور محبت کرنے والوں کو الم ناک انجام سے دوچار کرتا رہتا ہے، اس نازک و لطیف الم ناک کہانی کے لیے مخدوم نے زبان بھی اور اس کے لیے استعاراتی نظام بھی ویسا ہی نرم و نازک تشکیل دیا ہے تاکہ انجام کی الم ناکی کے تاثر کو زیادہ گہرا کر سکیں :
	دو بدن
	 اوس میں بھیگتے، چاندنی میں نہاتے ہوئے 
	جیسے دو تازہ رو، تازہ دم پھول، پچھلے پہر
	ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا
	صرفِ ماتم ہوئی
	کالی کالی لٹوں سے لپٹ، گرم رخسار پر
	ایک پل کے لیے رک گئی
	مخدوم کی تخلیقی کاوشیں ان کی نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘ میں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں۔ مخدوم نے اس نظم کی ذیلی سرخی لگائی ہے ’’آزادی سے پہلے، بعد اور آگے ‘‘ نظم کو ہم اسی ترتیب سے تین حصوں میں پڑھ سکتے ہیں کہ وطن کی آزادی کے لیے ہمارے جانبازوں نے کیا کیا قربانیاں دیں، اپنی جانیں ہنسی خوشی نچھاور کیں، اپنی خوشیاں، اپنی سرمستیاں اور بانکپن سب کچھ لٹا دیا لیکن تشنگی میں بھی سرشار رہے کیوں کہ ان کی نظروں کے سامنے عزم آزادی کی منزل تک پہنچنے کا تھا:
	موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
	رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
	رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن
	تشنگی تھی مگر
	تشنگی میں بھی سرشار تھے 
	پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے 
	منتظر مرد و زن
	مستیاں ختم، مدہوشیاں ختم تھیں، ختم تھا بانکپن
	لیکن یہ قربانیاں کیا رنگ لائیں ؟ آزادی ملی تو داغ داغ اجالے اور شب گزیدہ سحر کی صورت میں :
	رات کے جگمگاتے دہکتے بدن
	صبح دم ایک دیوارِ غم بن گئے 
	 خارزارِ الم بن گئے 
	رات کی شہ رگوں کا اچھلتا لہو
	جوئے خوں بن گیا
	آزادی کے بعد کا یہ دوسرا مرحلہ تھا جس میں خون کی ندیاں بہائی گئیں اور مکر و فریب کے پتلے کچھ امامانِ قوم نے اپنی سانپ جیسی زہریلی پھنکار سے صبح کی روشنی کا خون پی لیا۔ اس کو جلا کر خاک کر دیا۔ لیکن کیا ہم اس انجام کو قبول کر لیں ؟ کیا ہمت ہار بیٹھیں ؟ نہیں ! مخدوم شکست ماننے والوں میں سے نہیں ہیں۔ وہ دیکھتے ہی کہ سامنے صرف رات کی تلچھٹیں اور اندھیرا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے پرے صبح کا کچھ کچھ اجالا بھی ہے جس کی روشنی میں آگے بڑھا جا سکتا ہے :
	ہم دمو!
	ہاتھ میں ہاتھ دو
	سوئے منزل چلو
	منزلیں پیار کی
	منزلیں دار کی
	کوے دلدار کی منزلیں 
	دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو!
	نظم میں صوتی آہنگ ہے اور کچھ حروف کی تکرار سے موسیقی اور نغمگی پیدا کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ساخت اور نظم کے فنی تقاضوں اور لوازم کے اعتبار سے بھی یہ نظم زیادہ پختہ ہے۔
	یہ تمام مثالیں جو یہاں پیش کی گئیں ان موضوعات پر مشتمل ہیں جو مخدوم کے مقاصد کے قریب ہیں اور جن سے مخدوم کو عمر بھر سروکار رہا۔ ان موضوعات کو اور ان میں پیش کردہ انداز کو مخدوم کا غالب انداز اور غالب رنگ بھی کہا جا سکتا ہے لیکن یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مخدوم کے ہاں محبت اور عشق کا رنگ پھیکا ہے۔ اپنی بہت سی نظموں کا موضوع مخدوم نے عشق کو بنایا ہے۔ ان کی نظموں کی محبوبہ زمینی محبوبہ ہے جو اردو کے دوسرے شاعروں کی محبوباؤں کے برخلاف ہر صعوبت میں، ہر مشکل راہ میں، اپنے آدرش کی جانب مرد کی ہم قدم ہے۔ وہ محبوبہ بھی ہے اور ایکٹوسٹ بھی۔
ہر طرف پھیلی ہوئی ہے چاندنی ہی چاندنی
جیسے وہ خود ساتھ ہیں، ان کی جوانی ساتھ ہے 
	مخدوم کی شاعری کا محبوب فیض کے تصورِ محبوب سے کس قدر مختلف ہے جس میں اپنی ذمے داریوں اور معاشرتی صورتِ حال سے آگاہ مرد اپنی محبوبہ سے معذرت تو طلب کرتا ہے کہ:
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے 
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے 
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
	لیکن اپنی محبوبہ سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم بھی خود آگاہی اور عرفان کی منزل حاصل کرو اور اسی راہ کی راہی بن جاؤ جس پر تمھارا عاشق گامزن ہے ! مخدوم کے نزدیک تو زندگی عشق اور کام دونوں کو ساتھ ساتھ نباہنے کا نام ہے۔ وہ دونوں میں سے کسی کو ادھورا نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ان کے ہاں فرہاد عاشق بھی ہے اور مزدور بھی۔۔۔ اور مخدوم دونوں ہی کو سرخ رو دیکھنا چاہتے ہیں :
الہٰی یہ بساطِ رقص اور بھی بسیط ہو
صدائے تیشہ کامراں ہو، کوہکن کی جیت ہو
	مخدوم کی شاعری کے یہ وہ سروکار ہیں جن کو ہم ان کی فکری پرواز، ان کی تربیت، ان کے اشتراکی نصب العین اور آدرشوں کی عطا بھی کہہ سکتے ہیں اور بلند انسانی اقدار کا نمائندہ بھی۔ مخدوم کی شاعری کا دوسرا رخ خالص عشقیہ جذبات کی ترجمانی سے متعلق ہے جس پر الگ سے تفصیلی گفتگو درکار ہے، طوالت کے سبب اس مضمون میں ان کی شاعری کے اس رخ پر گفتگو کی گنجائش نہیں۔ البتہ یہ کہنا ضروری ہے کہ اس سے پہلے کہ مخدوم کے عشقیہ اشعار، ان کی نظموں میں عشق کی مختلف کیفیتوں کا بیان اور جذبات کی شدت لوگوں کو ان کے آدرشوں کے منافی لگے اور اس سے پہلے کہ:
جو چھو لیتا میں اس کو وہ نہا جاتا پسینے میں 
	جیسے طرزِ اظہار پر لوگ مخدوم کی فکر و شاعری کو مختلف خانوں میں بانٹنے کی کوشش کریں یا اس کا کوئی نفسیاتی تجزیہ کرنے لگیں، ہمیں مخدوم کے اس بیان کو ذہن میں رکھنا چاہیے جس میں وہ انسان، بلکہ مکمل انسان کی تصویر کچھ یوں پیش کرتے اور فنونِ لطیفہ سے اس کا رشتہ معین کرتے ہیں :
’’سماج کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات اور احساسات بھی بدلتے جاتے ہیں، مگر جبلتیں برقرار رہتی ہیں۔ تہذیب، انسانی جبلتوں کو سماجی تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنے کا مسلسل عمل ہے۔ جمالیاتی حس انسانی حواس کی ترقی اور نشوونما کا دوسرا نام ہے۔ اگر انسان کو سماج سے الگ چھوڑ دیا جائے تو وہ ایک گونگا وحشی بن کر رہ جائے گا جو اپنی جبلتوں پر زندہ رہے گا۔ فنونِ لطیفہ انفرادی اور اجتماعی تہذیب نفس کا بڑا ذریعہ ہیں جو انسان کو وحشت سے شرافت کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں۔
	شاعر اپنے گرد و پیش کی دنیا اور دل کی دنیا میں مسلسل کشمکش اور تضاد پاتا ہے۔ یہی تضاد تخلیق کی قوتِ محرکہ بن جاتا ہے۔
	کہہ سکتے ہیں کہ مخدوم کی شعری کائنات کو سمجھنا ہو، ان کے تخلیقی سروکاروں کی درجہ بندی کرنی ہو تو مخدوم کے مذکورہ بالا بیان کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔ اس سے ہم نہ صرف یہ ان کے کلام کے تنوع اور رنگا رنگی کو سمجھ سکیں گے بلکہ اس کی تہہ داری پیچیدگی کی بھی معنی آفرینی کر سکیں گے۔

٭٭٭



احسن علی مرزا

غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے 


	مخدوم۔۔۔ ’’تھا‘‘ آدمی بجائے خود ایک محشر خیال۔
	مخدوم کو، لوگوں نے جن مختلف زاویوں سے دیکھا اور ان کی شخصیت کے بارے میں ہر شخص نے جو رائے قائم کی، وہ اکثر صورتوں میں مختلف و متضاد سی نظر آتی ہے۔ گوپی چند نارنگ انھیں ’’مطرب انقلاب‘‘ قرار دیتے ہیں۔ پروفیسر مسیح الزماں ’’کر دار کا غازی‘‘ کہتے ہیں۔ ظ۔انصاری نے انھیں ’’حدی خواں ‘‘ کا نام دیا۔ جوگندر پال سے وہ ’’معصوم بزرگ‘‘ کے روپ میں ملے۔۔۔ لیکن سب سے زیادہ پتہ کی بات تو واجدہ تبسم نے کہی ہے۔۔۔ ’’م سے محبت سے مخدوم‘‘ محبت، مخدوم کی شخصیت کی تعمیر میں بنیاد کا پتھر بن گئی تھی اور اسی نے انھیں، راج بہادر گوڑ کے الفاظ میں ’’کلچر کے شیدائیوں کے لیے میوزیم، دانش وروں کے لیے لائبریری اور انقلابیوں کے لیے اسلحہ خانہ کا روپ دے دیا تھا۔‘‘ اس ہمہ گیر ہستی میں جو بہ ذاتِ خود ایک انجمن تھی، آخر وہ کیا جادو تھا کہ جس نے ’’سردار جعفری‘‘ کو مخدوم کی وفات کے بعد یہ لکھنے پر مجبور کر دیا کہ ’’مخدوم کے بعد، حیدرآباد میں دھرا ہی کیا ہے کہ کوئی وہاں آئے۔‘‘
	کچھ لوگ، مخدوم کی وفات کے بعد چھا جانے والے سناٹے میں، بھانت بھانت کی آوازیں نکال کر، اپنے وجود کو منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کے لیے بھی، انھیں مخدوم سے ’’جھوٹ موٹ‘‘ کی قربت کا سہارا لینا پڑا ہے۔ کسی برگد کے سایہ میں بیٹھ کر کسی نہ گزری ہوئی رات کی، کوئی سڑی گندی داستاں سنا کر، وہ اپنی آلائش ذہن کو مخدوم سے ربط و اتصال کی ایک کڑی قرار دینا چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن اس ہذیاں سرائی کے پس پردہ محرکات نے، مخدوم کے ان نام نہاد دوستوں کا بھرم کھول دیا۔
	مخدوم کی کتاب زندگی کا پہلا صفحہ، حیدرآباد کی طغیانی کے اس دور سے شروع ہوتا ہے جب کہ اس شہر کے مطلق العنان حکم ران نے بھی ہزاروں انسانوں کی نعشوں کو غضب ناک موسی کی سطح پر بے کسی کے عالم میں تیرتا دیکھ کر اگلے وقتوں کے بزرگوں کے بیان کے مطابق اپنے ہاتھی کو بھی پانی میں اتار دیا تھا۔ شاید موسیٰ کی ان ہی طوفانی روایات سے مخدوم کا خمیر گوندھا گیا تھا۔ حسب نسب کے اعتبار سے مخدوم کے جدا علیٰ آنحضرت صلعم کے مشہور صحابیوں میں شامل تھے۔ دادا رشید الدین صاحب اورنگ زیب کی فوج کے ساتھ اعظم گڑھ سے حیدرآباد آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ انھوں نے ضلع میدک میں سکونت اختیار کر لی۔ مخدوم کے ہم نام ان کے پردادا، جناب مخدوم محی الدین صاحب حیدرآباد کے بہت اچھے قاریوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ مخدوم کے والد جناب غوث محی الدین صاحب تعلقہ اندول میں تحصیل کے صیغہ دار تھے۔ لیکن مخدوم کی پیدائش کے چار سال بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا اور ان کے چچا جناب بشیر الدین صاحب نے مخدوم کی کفالت اور پرورش کی ذمہ داری قبول کر لی۔ یہ بھی تحصیل ہی کے صیغہ دار تھے لیکن ترقی کرتے کرتے تحصیل دار بن گئے تھے۔ مخدوم کی ابتدائی تعلیم میدک اور سنگاریڈی میں ہوئی۔ مخدوم صاحب کے بچپن کے دوست جناب ظفرالحسن کے الفاظ میں جو اب پاکستانی بن گئے ہیں۔ سنگاریڈی میں ان بچوں میں شامل تھے جو سڑکوں پر لوہے کا پہیہ گھمانے والے کم عمر لڑکوں پر حقارت کی نظر ڈالتے ہوئے اپنے سے بڑے عمر کے لڑکوں کے ساتھ تالاب کو تیر کر جایا کرتے تھے۔
	جناب داؤد اشرف، جنھوں نے مخدوم پر ریسرچ کر کے ایم۔اے کی ڈگری لی ہے، اپنے تحقیقاتی مقالہ میں لکھتے ہیں کہ مخدوم کا گھرانہ بے حد مذہبی واقع ہوا تھا۔ صوم صلوۃ کی پابندی کے علاوہ مخدوم کو نمازیوں کے لیے وضو کا پانی بھرنا اور مسجد میں جاروب کشی بھی کرنا پڑتا تھا۔ پڑھائی لکھائی کے بعد شام میں مخدوم اپنے چچا کی نگرانی میں خوش نویسی اور خطاطی کی مشق کرتے۔ چچا صاحب مذہبی اور پابند شرع ہی نہیں مساوات اور اخوت کے اصولوں کے بھی زبردست حامی تھے۔ تحریک خلافت کے وہ پُر جوش موید رہے ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کی خبر انھوں نے ایک دن دسترخوان پر بیٹھ کر اپنے تمام افراد خاندان کو سنائی اور بتایا کہ اب وہاں امیر و غریب کا فرق ہٹ گیا اور سبھی ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھاتے ہیں، مخدوم کو یہ بات عجیب سی لگی اور وہ سوچتے رہے کہ سب لوگوں کو ایک دسترخوان پر کھانا کھلانے کے لیے اس ملک میں کتنا بڑا دسترخوان بنایا گیا ہو گا۔
	مخدوم صاحب کی ابتدائی تعلیم قرآن خوانی گلستان و بوستان سے شروع ہوئی۔ ۱۹۲۹ء میں انھوں نے سنگاریڈی ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان کامیاب کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چیلہ پورہ کے مدرسہ شبینہ سے انھوں نے منشی کے امتحان میں بھی امتیازی کامیابی حاصل کی اور اسی سال یعنی ۱۹۲۹ء میں جامعہ عثمانیہ میں داخلہ لیا۔ انٹرمیڈیٹ میں دینیات کے استاد جناب مناظر احسن گیلانی سے ہر وقت کے بحث مباحثہ کی بنا پر انھیں دینیات کی کلاس سے نکال دیا جانے لگا اور دینیات کی جماعتوں میں حاضری کی کمی کی وجہ سے وہ امتحان میں بیٹھ نہ سکے۔ حیدرآباد میں جس رشتہ دار کی سرپرستی میں مخدوم تعلیم حاصل کر رہے تھے اس سے وہ رضاکارانہ طور پر دست بردار و دست کش ہو گئے اور ٹیوشن سے طعام و قیام کے اخراجات کی تکمیل کرنے لگے۔ اس سلسلہ میں انھیں ایک نواب صاحب کی اینگلو انڈین محبوبہ کو انگریزی میں نامہ ہائے محبت بھی تحریر کرنے پڑتے تھے۔ دو تین مہینوں تک سابق ریاست حیدرآباد کے محکمہ ملکی و مال میں تھرڈ گریڈ کی کلرکی بھی کی۔ اخبارات میں کام کیا۔ ہاکر بن کر، اس وقت کی فلم اسٹاروں کی عریاں تصاویر کو بھی فروخت کیا۔ دن بھر محنت و مشقت اور حصولِ علم میں گزرتا اور رات میں اپنے دوست نورالہدیٰ کے ساتھ سلطان بازار کی ہری مسجد میں رہتے لیکن بذلہ سنجی اور زندہ دلی نے آزمائش و امتحان کے اس مرحلہ پر بھی ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ مخدوم نورالہدیٰ میر حسن اور اشفاق حسن اور اشفاق حسین یہ ایک ایسے مربع کی شکل اختیار کر گئے تھے جس کے اندر غم و اندوہ کے لیے کوئی جگہ نکلنی مشکل تھی۔ جمال الدین کے لطیفوں اور پیلا دوشالہ کا خالق مخدوم دنیا کو دار المحن نہیں سمجھتا تھا۔
	’’جس طرح کوئی نئے نئے الفاظ تلاش کرتا ہے۔ اس طرح مخدوم بھی نئے نئے لطیفے گھڑتے۔ جہاں بیٹھتے ایک لطیفے بنا دیا۔ جس نے بلایا کسی نہ کسی لطیفہ کی فرمائش کی۔ مخدوم کو حاضرین و سامعین کی ضرورت تھی اور انھیں وہ ٹھوک بھاؤ ملنے لگے۔ لڑکے تفریح چاہتے تھے اور مخدوم نے لطیفوں کے انبار لگا دیے۔ مخدوم کا کاروبار ایسا چمکا کہ سبحان اللہ۔ عام قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے محفل سجتی ہے، پھر شمع محفل پیدا ہوتی ہے۔ جامعہ میں اس کے برعکس ہوا پہلے مخدوم چراغ با اور اس کی کرنوں سے محفل بعد میں سجی، چھوٹے بڑے گروپ بننے لگے اور ان میں مخدوم کا ذکر ہونے لگا۔ مخدوم سے پہلے جامعہ میں سماجی جمود تھا اور یہ جمود مخدوم نے توڑا‘‘۔
	مخدوم نے ڈرامے لکھے، اسٹیج کیے، ہیرو کا رول ادا کیا اور اس فن میں بھی کمال فن کا ایسا مظاہرہ کیا کہ گرو دیو ٹیگور بھی جو ان کے ایک ڈرامہ کے خصوصی دیکھنے والوں میں شامل تھے، ان کی ذہانت اور اداکاری سے متاثر ہو کر اسٹیج پر چلے آئے اور انھیں شانتی نکیتن میں شرکت کی پیش کش کی۔ جہاں تک مخدوم کی شاعری کا تعلق ہے اس کا آغاز ۱۹۳۳ء میں کہی گئی مزاحیہ نظم ’’پیلا دوشالہ‘‘ سے ہوتا ہے جو شائع تو کہیں نہیں ہوئی، لیکن ہر محفل میں فرمائش کر کے سنی جاتی تھی۔ ان کی پہلی نظم جناب مجنون گورکھپوری کے رسالہ ایوان ۱۹۳۴ء میں ’’طور‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوئی۔ 
	انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں نہ بٹھائے جانے کے دور ہی میں جناب مخدوم پر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ انھیں ۴۸ گھنٹوں تک بھوکا رہنا پڑا۔ جب ضبط و تحمل کا پیمانہ جھلک اٹھا تو یہ اپنے ایک رشتہ کے چچا کے گھر پہنچ گئے اور وہاں ان کی لڑکی کے اصرار پر انھوں نے اسی کے ہاتھ کی بنائی ہوئی روٹیاں کھائیں اور چھ سات گھنٹوں تک اسی گھر میں سوتے پڑے رہے۔ یہی لڑکی بعد میں ان کی رفیقہ حیات بنی۔ زندگی بھر وہ اس خاتون کا احترام کرتے رہے اور اپنے بڑے لڑکے نصرت محی الدین کے مطابق اپنے بچوں سے کہا کرتے تھے ’’اس خاتون نے میرے اور تمھارے لیے بڑے دکھ جھیلے ہیں، اس کا دل سے احترام کرو۔‘‘
	اپنی بیوی کے اسی روپ نے ان کی شاعری کو ’’لذتی شاعری‘‘ سے تیز رکھا راج کی یہ رائے بالکل درست ہے کہ ’’مخدوم کی رومانی شاعری بھی ان کی زندگی کے بلند نصب العین کے تابع رہی۔ وہ داغ کی طرح مٹی کی بھی ملے تو روا ہے شباب میں ‘‘ کے قائل نہ تھے۔ ان کو ایسی خلوت معصوم درکار تھی۔ جس پر طور کو رشک ہونے لگے۔‘‘
	مخدوم ادب و شعر ہی کے راستہ محنت کشوں کی ہمہ گیر تحریک میں داخل ہوئے۔ چناں چہ ۱۹۳۶ء میں انھوں نے ہی حیدرآباد میں جناب سبط حسن، اختر حسین رائے پوری اور ڈاکٹر جے سوریا کے اشتراک و تعاون سے انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد ڈالی اور اپنے خلوص، معیار، شعر اور ذہانت و فراست کی بنا پر اس کل ہند ادبی تنظیم کے صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ ۱۹۴۵ء میں وہ اپنی صاحب زادی اساوری کے ساتھ فرنڈس آف سوویت یونین کی کانفرنس میں شرکت کے لیے ممبئی گئے اور اس موقعہ پر سروجنی دیوی نے ان سے اور ان کی صاحب زادی سے گاندھی جی کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا ’’یہ میرا بیٹا ہے اور یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیٹی ہے ‘‘ اس سے پہلے ہی ۱۹۳۰ء میں وہ سروجنی دیوی کی قیام گاہ گولڈن تھرش ہولڈ‘‘ میں پنڈت نہرو بھی متعارف ہو چکے تھے۔
	قاضی عبدالغفار صاحب کے بیان کے مطابق بالآخر ’’مخدوم کی زندگی میں وہ وقت بھی بہت جلد آ گیا جب کہ اس نے اپنے بربط کے نغمہ پرور تاروں سے انگلی ہٹا لی اور اسے شعر و ادب کی لذتوں سے رو گردان ہو کر زندگی کے ویرانوں میں قدم رکھنا پڑا۔ اس نے اپنے نغمہ کو لذتوں کی بے پناہ کشاکش میں اس طرح منتقل کر دیا کہ اس کی شاعری کی روح کتابوں کے اوراق کی پابندیوں سے آزاد ہو گئی‘‘ ۔۱۹۳۹ء میں مخدوم کا تقرر سٹی کالج میں بہ حیثیت استاد اردو عمل میں آ چکا تھا۔ اس وقت تک مخدوم کی نظمیں حیدرآباد کی ہر محفل میں سنائی دینے لگی تھیں اور ایک نظم ’’انقلاب‘‘ پر تو علمائے کرام نے کفر کا فتویٰ بھی صادر فرمایا تھا۔ مخدوم نے دو سال تک سٹی کالج میں کام کیا۔ لیکن اس دوران ان کے سیاسی عقائد میں پختگی آنے لگی تھی۔ ان کی سیاسی مصروفیات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا تھا۔کالج کے بعض گوشوں سے دبی دبی آواز میں یہ شکایت بھی کی جانے لگی کہ ’’مخدوم‘‘ اپنی جماعتوں میں اشتراکیت کا پرچار کیا کرتے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر انھوں نے ۱۹۴۱ء میں ملازمت سے استعفیٰ پیش کر دیا۔ مخدوم جن دنوں قید ملازمت سے آزاد ہوئے، ریاستِ حیدرآباد میں اشتراکیت تو بڑی بات ہے جمہوریت اور آزادی کا نام لینا گناہ سمجھا جاتا تھا مجلس اتحاد المسلمین کا اثر بڑھتا جا رہا تھا اور انا الملک کے گم راہ کن نعرے کے ذریعہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ظلِ سبحانی، اسلامی اقتدار کے مظہر ہیں اور ان کے مقابلہ میں جمہوریت و آزادی کے نعرے لگانے والے اسلام کے دشمن ہیں۔ احتساب و رجعت پسندی کے اس صبر آزما ماحول میں جے سوریا، اختر حسن رائے پوری، سبط حسن اور جے وی نرسنگ راؤ نے مارکسٹ اسٹیڈی سرکل کی بنیاد رکھی۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر راج بہادر گوڑ، احسن علی مرزا اور ابراہیم مرحوم نے کامریڈز  اسوسی ایشن کے قیام کا اعلان کیا۔ دوسری طرف کامریڈ روی نارائن ریڈی، اپنے ایک گروپ کے ساتھ مصروف عمل تھے۔ یہ سب ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے لاعلم اور ناواقف تھے۔ تاہم کسی نہ کسی طرح ان کو ایک دوسرے سے قریب ہونے کا موقعہ ملا اور مخدوم کامریڈ ایسوسی ایشن کے روحِ رواں بن گئے اور عثمانیہ یونی ورسٹی کے جونیر طلبا کے قائم کردہ اسی ادارہ نے ۱۹۳۹ء میں کمیونسٹ پارٹی کی شکل اختیار کر لی اور کل ہند کمیونسٹ پارٹی سے الحاق عمل میں آیا۔ آندھرا مہاسبھا میں جو ایک خالصتاً تہذیبی اور ثقافتی تنظیم تھی کامریڈ روی نارائن ریڈی اور کامریڈ مخدوم کے اثر کمیونسٹ تحریک کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن گئی اور تلنگانہ کی مسلح جدوجہد کے آغاز میں اس جماعت نے نمایاں حصہ لیا۔ ۱۹۴۲ء میں مخدوم نے پارٹی کی ہدایت کے مطابق ریلوے ورکرس یونین میں کام شروع کیا اور جلد ہی اس کے چیف وائس پریسیڈنٹ منتخب ہوئے۔ اس سے پہلے ہی مخدوم کے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ کے بعد انھیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کر کے تین ماہ کی قید کی سزا دی جاچکی تھی اور اپنی رہائی کے بعد ہی سے انھوں نے مزدوروں کو منظم کرنے کا کام انتہائی جوش و خروش سے شروع کر دیا تھا۔ چناں چہ ۱۹۴۵ء میں انھوں نے ٹریڈ یونین خطوط پر بٹن مزدوروں کی پہلی تنظیم قائم کی اور اس کے پرچم تلے پہلی مرتبہ حیدرآباد کی مطلق العنان حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرایا چند ہی مہینوں کے اندر مخدوم نے اپنی کاوش و کوشش سے برتی مزدوروں، بلدی مزدوروں، کوئلہ کے کان کنوں اور دیگر محنت کش طبقات کی ۴۲ ٹریڈ یونین قائم کیں۔
	جن لوگوں کو اس وقت کی ریاست حیدرآباد کے حال و ماحول کا اندازہ ہے، وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ ان حالات میں مزدوروں اور محنت کش طبقات کو منظم اور مائل بہ عمل کرنے کے لیے کس دل گردہ کی ضرورت تھی۔ مخدوم نے ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل کی تمنا میں جو محنت کے استحصال کو گوارہ نہ کر سکے۔ دنیا بھر کی مشقتیں جھیلیں اور ۱۹۴۵ء میں آل حیدرآباد ٹریڈ یونین کانگریس کا سالانہ اجلاس منعقد کرانے میں کامیاب رہے۔ حکومتِ حیدرآباد نے اگرچہ کہ اس اجلاس کے انعقاد کی اجازت دے دی تھی لیکن جلسہ کے دوران ہی مخدوم کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت سے مخدوم رہا کر دیے گئے اور قانونی وار و گیر کی اس منزل کو کامیابی سے طے کرنے کے بعد انھوں نے پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور لگن کے ساتھ ٹریڈ یونین تحریک میں حصہ لینا شروع کیا۔ اکتوبر ۱۹۴۶ء میں وہ سمنٹ فکٹری کے مزدوروں کے حالات کی چھان بین کے لیے شاہ آباد گئے ہوئے تھے کہ انھیں وہیں پر اپنے وارنٹ گرفتاری کی خبر ملی اور وہ روپوش ہو گئے چناں چہ ۱۹۴۶ء سے ۱۹۵۱ء تک مخدوم روپوش رہے اور اس دور میں ان کی صعوبتوں کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی لڑکی اساوری اور ان کا لڑکا نصرت دونوں ہی انھیں والد کے بجائے چچا کہنے لگے تھے۔ تاکہ اس وقت کی انتقام جو حکومتیں مخدوم کی محنت کش طبقہ سے والہانہ محبت کی پاداش میں مخدوم کے ان بچوں کو بھی ظلم زیادتی کا ہدف نہ بنائیں۔
	روپوشی کے اس دور نے مخدوم کے کر دار اور اس کی شخصیت کو کافی نکھارا اور اپنی استقامت کر دار کی بنا پر وہ ان گھروں میں بڑی توقیر اور بڑے ہی احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے رہے جن میں انھوں نے پناہ لی تھی۔ روایت پسند، بے شعور اور غیر سیاسی گھرانوں کے بڑے بوڑھے بھی، ان کی ہم دردی و دل سوزی سے متاثر ہو کر اپنے آپ کے خطرہ میں گھر جانے کے احساس سے بے نیاز ہو کر ان کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ اسی اثنا میں انھوں نے تلنگانہ کی مسلح جدوجہد کی رہنمائی بھی کی۔ پولیس ایکشن کے بعد بھی یہ جدوجہد جاری رہی، مارچ ۱۹۵۱ء میں مخدوم جب حیدرآباد پہنچے تو انھیں گرفتار کر لیا گیا اور آزاد ہندستان کے پہلے چناؤ سے کچھ ہی قبل انھیں ۱۹۵۲ء میں رہا کر دیا گیا۔ کانگریس کے مقابلہ کے لیے بائیں بازو کے بعض گروہوں اور افراد پر مشتمل عوامی جمہوری محاذ تشکیل دیا گیا۔ مخدوم محاذ کے ٹکٹ پر اسمبلی اور پارلیمنٹ دونوں ہی کے امیدوار نامزد کیے گئے۔ لیکن کانگریس کی دھاندلیوں کی وجہ سے مخدوم کو اپنی بے پناہ مقبولیت کے باوجود کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ البتہ ضمنی چناؤ میں وہ حضور نگر کے حلقہ سے سابق حیدرآباد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام آندھراپردیش کے بعد وہ ۱۹۵۶ء قانون ساز کونسل میں کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار بنے اور اپنی اچانک وفات تک کونسل میں کمیونسٹ گروپ کے قائد رہے۔
٭٭٭

تشکر:پروفیسر رحمت یوسف زئی، جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل۔ اعجاز عبید
