﻿


مدح شیخ


منقبتوں کا مجموعہ

شاہین اقبال اثرؔ








قرباں غلام شاہ کے دربار کے لئے
حاضر ہے جان حرمتِ سرکارﷺ کے لئے

کیجے دعائیں غازئ جیدار کے لئے
کیونکر ہو رنج کرگسِ مردار کے لئے

مرتے ہیں اک اشارۂ ابرو پہ ہم غلام
جیتے ہیں دو جہان کے سردار کے لئے

سنت کو زندہ کیجئے سارے جہان میں
عشقِ نبئ پاک کے اظہار کے لئے

آخر درِ حبیب پہ واریں گے جان بھی
ہم منتظر ہیں آٹھ پہر دار کے لئے

بدبخت و بد زبان ہیں آزاد آج بھی
دھرتی ہے تنگ صاحبِ کردار کے لئے

ان کو برا کہیں تو کریں کیس کورٹ میں
کوشاں ہیں جو آزادیِ اظہار کے لئے

پھر کیوں سزا حضورﷺ کے گستاخ کو نہ ہو
تعزیر جب ہے قوم کے غدار کے لئے




مرشد کی محبت کو میں سمجھا نہیں سکتا
اس حال کو الفاظ میں بتلا نہیں سکتا

یہ ظاہری اعضا کا نہیں دل کا عمل ہے
کیا کیجئے دل چیر کے دکھلا نہیں سکتا

عشاق کے احوال کی ممکن نہیں تعبیر
الفاظ کی زنجیر میں پہنا نہیں سکتا

جب تک کہ ثمر کوئی محبت کا نہ چکھے
ہے ذائقہ کیسا یہ سمجھ آ نہیں سکتا

اک جلوۂ مرشد نے کیا دل کو مسخر
اب دوسرا آنکھوں کو کوئی بھا نہیں سکتا

گر مرشدِ محسن سے نہ ہو حسنِ تعلق
کیفیتِ احسان کوئی پا نہیں سکتا

لغزش نہ کبھی مجھ سے ہوئی راہِ خدا میں
یہ بات کوئی اور تو فرما نہیں سکتا

وہ نسبتِ صدیق کے حامل ہیں یقیناً
ان جیسا کوئی دوسرا دکھلا نہیں سکتا

جو عاشقِ لیلیٰ ہے ہوا کرتا ہے نادم
جو عاشقِ مولیٰ ہے وہ پچھتا نہیں سکتا

منزل کا اگر شوق ہے تو چلنا پڑے گا
رہبر تجھے کاندھوں پہ تو پہنچا نہیں سکتا

انگارۂ دوزخ ہیں یہ معلوم ہے جس کو
وہ مال یتیموں کا کبھی کھا نہیں سکتا

کس منہ سے پڑھا کرتا ہے نعتیں کہ جو رخ پر
سرکارﷺ کے پرچم کو بھی لہرا نہیں سکتا



دیکھئے تو وہ نظر آتے ہیں شاہانہ مزاج
جانچئے تو ان کا باطن ہے فقیرانہ مزاج

جامعِ اضداد ہوتے ہیں ہمیشہ اہلِ دل
ہوش میں رہتے ہوئے رہتے ہیں دیوانہ مزاج

پڑتی ہے شانِ کریمی کی تجلی مستقل
جب ہی اہل اللہ رکھتے ہیں کریمانہ مزاج

کرتے ہیں فقہی مسائل حل مثالِ عشق سے
یوں جھلکتا ہے کبھی ان کا فقیہانہ مزاج

ساقیِ دوراں کا بس اک جام کافی ہے جناب
جو یہاں آئے بدل جاتا ہے رندانہ مزاج

جانِ جاناں پر فدا ہونے کو ہر دم جاں بدست
شمعِ حق کے لئے رکھتے ہیں پروانہ مزاج

طائرِ قدسی کی صحبت کا یہ ادنیٰ فیض ہے
ہو گئے رشکِ مَلک اکثر بہیمانہ مزاج

یہ نگاہِ شیخ کی زندہ کرامت ہے اثرؔ
دیکھتے ہی دیکھتے یکسر بدل جانا مزاج



برپا دل و نگاہ میں اک انقلاب کر دیا
شیطان اور نفس کا خانہ خراب کر دیا

لکھ کر کتاب روح کی بیماریاں ان کا علاج
باطن کے سارے دشمنوں کو بے نقاب کر دیا

قلبِ رقیق ہی نہیں گرمایا سوزِ عشق سے
بے حس و سنگدل کو بھی چشمِ پر آب کر دیا

گلشن کا فیض دوستو محدود گل تلک نہیں
خارِ چمن کو آپ نے رشکِ گلاب کر دیا

مریض اب طبیب ہے بے نطق اب خطیب ہے
بدبخت خوش نصیب ہے آتش کو آب کر دیا

تھے جو کبھی عصیاں میں مست وہ بد نظر  مرُدہ پرست
ہیں راہِ حق میں جاں بدست گدھ کو عقاب کر دیا

بے پیاسے پیاسے بن گئے اور پیاسے ساقی بن گئے
مُردوں میں جان ڈال دی ایسا خطاب کر دیا

گویائی کا دیا کچھ ایسا ساتھ سیلِ اشک نے
کہ سنگ کی چٹان کو بھی آب آب کر دیا

خوشبو نہ ان کی کیوں اڑے سارے جہان میں بھلا
آتشِ عشق نے جنہیں مثلِ کباب کر دیا

خارِ مغیلاں دیکھتے ہی رہ گئے اللہ نے
غنچۂ پھولپور کو رشکِ گلاب کر دیا

حیرت ہے جانتے ہیں سب اختر کے نام سے اسے
ذروں کو جس کی اک نظر نے آفتاب کر دیا

روحانی پہلوان کو کچھ ایسے گر سکھا دیئے
نفسِ عدو کے امتحاں میں کامیاب کر دیا

جب در کی خاک ہو گئے ناپاک پاک ہو گئے
رسوائے اہلِ دہر کو حضرت جناب کر دیا

آتا نہیں یقین گر دیکھئے جانبِ اثرؔ
ایسے ذلیل و خوار کو عزت مآب کر دیا

پیری میں میرے پیر کی آخر کوئی تو بات ہے
یونہی فدا اثرؔ نے کب اپنا شباب کر دیا



دل کے ارمان نکالیں تو نوازش ہو گی
اپنے سینے سے لگا لیں تو نوازش ہو گی

مجھ کو اغیار نے دھتکار دیا ہے سرکار
اپنی محفل میں بٹھا لیں تو نوازش ہو گی

بدتر از خارِ مغیلاں ہوں میں اے رشکِ گلاب
اپنے دامن میں چھپا لیں تو نوازش ہو گی

ہوش مجھ کو نہ رہے سود و زیاں کا ہرگز
اپنا دیوانہ بنا لیں تو نوازش ہو گی

جو سبک رو ہیں میں ہوں ان سے زیادہ محتاج
مجھ سے گرتے کو سنبھالیں تو نوازش ہو گی

نفس و شیطان نے کر ڈالا ہلاکت کے قریب
اس تباہی سے بچالیں تو نوازش ہو گی

میں ہوں اور خوئے معاصی کی وبا چار طرف
اس غلاظت سے نکالیں تو نوازش ہو گی

اک نظر کر دیں تو مل جائے مجھے آبِ حیات
گِل سمجھ کر ہی اٹھا لیں تو نوازش ہو گی

میری مٹی کو وہ قدموں ہی سے بخشیں زینت
اپنے رستے میں بچھا لیں تو نوازش ہو گی

ہے تمنا کہ مری کھال کے نعلین بنیں
اپنے تلووں سے لگا لیں تو نوازش ہو گی




کیسے سمجھے گا رموزِ دلِ دیوانہ ابھی
وہ جو خود عشق کی دولت سے ہے بیگانہ ابھی

آ جا  آ جا تُو بھی خدمت میں غلامانہ ابھی
دیکھ لے دیکھ لے یہ صورتِ شاہانہ ابھی

اترے شاہوں سے اثرؔ نشہ شاہانہ ابھی
اک صدا ہم بھی لگا دیں جو فقیرانہ ابھی

اور بھی ساغر و خم کے ہیں مراکز لیکن
منفرد سارے جہاں میں ترا میخانہ ابھی

جان کیا چیز ہے گر ایک اشارہ ہو جائے
جان قدموں پہ لٹا دے ترا دیوانہ ابھی

اب تو آنکھوں سے پلا دے مئے الفت ساقی
صبر کا ورنہ چھلک جائے گا پیمانہ ابھی

زاہدِ خشک کی خشکی بھی نکل جائے گی
مست کر دے گا ترا نعرۂ مستانہ ابھی



تو ایسا پھول رشکِ گلستاں کہیں جسے
ہم ایسے خار خارِ مغیلاں کہیں جسے

جس نے رہِ سلوک کو آسان کر دیا
اہلِ صفا مجددِ دوراں کہیں جسے

جس کا وجود گوہرِ نایاب کی مثال
جوہر شناس لعلِ بدخشاں کہیں جسے

ہر لمحۂ حیات ہے جس کا خدا کے ساتھ
صدیقِ وقت صاحبِ احساں کہیں جسے

وہ پھول پھولپور کا گلشن کی آبرو
خود اپنی ذات ہی میں گلستاں کہیں جسے

اقوال وہ کہ سازِ محبت کا کام دیں
احوال وہ کہ آتشِ سوزاں کہیں جسے

اخترؔ کہ ماہتاب بھی جس کا رہین ہو
اہلِ نگاہ مہرِ درخشاں کہیں جسے

منسوب اسکے نام ہے میری کتابِ زیست
افسانۂ حیات کا عنواں کہیں جسے

جو اس کے در پہ آ گیا منزل کو پا گیا
اہلِ سلوک اہلِ نصیباں کہیں جسے

دیدار سے ہوں جس کی جہاں بھر کے غم غلط
دکھ کا علاج درد کا درماں کہیں جسے

آنکھوں کا نور روحی فدا قلب کا سرور
خود عارفین مظہرِ یزداں کہیں جسے

جس کی ادا ادا سے جھلکتا ہے عشق عشق
دیوانگانِ حق میں نمایاں کہیں جسے

وجہِ حیات مجمعِ عشاق کے لئے
یہ خانقاہ کوچۂ جاناں کہیں جسے

صد شکر ہم بھی اسکی رعیت میں ہیں اثرؔ
کُل اولیائے وقت کا سلطاں کہیں جسے

اس رشکِ آفتاب کی محفل میں اے اثرؔ
مدحت سرائی اپنی چراغاں کہیں جسے




حبِ شیخ کے معترضین کو منظوم جواب


میری مخمور نگاہوں پہ نہ حیرت کرتے
کاش تم بھی مرے ساقی سے محبت کرتے

نسبتِ شیخ کی دولت جو عطا ہو جاتی
مدحتِ شیخ پہ ہرگز نہ ملامت کرتے

چشمِ تر اور دلِ مضطر کی اگر کھاتے چوٹ
زاہدِ خشک نہ پھر مجھ کو نصیحت کرتے

پھر پتہ چلتا کہ صحبت کی فضیلت کیا ہے
دل میں محسوس جب ایماں کی حلاوت کرتے

مسئلہ مسلکِ الفت کا جو ہوتا معلوم
مشورہ دینے کی پھر آپ نہ زحمت کرتے

پھر کسی اور پہ ہرگز نہ ٹھہرتیں نظریں
اک نظر گر مرے مرشد کی زیارت کرتے

رب کے پیاروں کی محبت ہے اگر غیر اللہ
میرے آقاﷺ سے صحابہؓ نہ محبت کرتے

ذاتِ اقدسﷺ پہ فدا ہوتی نہ جانِ صدیقؓ
اس قدر حضرتِ فاروقؓ نہ الفت کرتے

شاہِ بطحٰہﷺ پہ خزانے نہ لٹاتے عثماںؓ
کھیل کر جاں پہ علیؓ یوں نہ حفاظت کرتے

بو ہریرہؓ نہ پڑے رہتے درِ اقدس پر
جا کے وہ مسجدِ نبوی میں عبادت کرتے


شکریہ محسن و مشفق کا اگر شرک ہے پھر
روبرو حضرتِ حسانؓ نہ مدحت کرتے

جسم سے نکلا ہوا خون نہ پیتے اصحابؓ
ان کے نعلین کی ہرگز نہ حفاظت کرتے

جسم پر ملتے بھلا کیوں وہ وضو کا پانی
کس لئے موئے مبارک سے عقیدت کرتے

جسمِ اطہر کے پسینے کو نہ کرتے محفوظ
ان کے اقوال کی ایسی نہ حفاظت کرتے

کرتی گھائل نہ اگر ساقیِ کوثرﷺ کی نظر
نوش اصحابؓ نہ یوں جامِ شہادت کرتے

کس طرح خلد میں گزرے گی زیارت کے بغیر
آ کے عشاق طلب یہ نہ وضاحت کرتے


جیسی اصحابؓ نے کی اپنے نبیﷺ کی توقیر
نہیں دیکھا گیا شاہوں کی بھی عزت کرتے

شاہِ  کونینﷺ کی کرتے نہ غلامی وہ اگر
ساری دنیا پہ بھلا کیسے حکومت کرتے

عقل والوں میں بھی آ جاتے جنوں کے آثار
چند دن محفلِ عشاق میں شرکت کرتے

دل میں پا جاتے مرے رب کی محبت کی مٹھاس
تم اگر اہلِ محبت سے محبت کرتے

قلب کا نام بھی رکھ دیتے ریاض الجنۃ
زیرِ سایہ کسی مرشد کے ریاضت کرتے

صاحبِ علم کا منبر جبھی منبر ہوتا
لے کے گر نورِ نبوت کو خطابت کرتے


صاحبِ قال، مصلیٰ بھی مصلیٰ ہوتا
صاحبِ حال اگر بن کے امامت کرتے

نسبتِ سرورِ کونینﷺ کا پا جاتے ثمر
خود کو منسوب اگر صاحبِ نسبت کرتے

عمر بھر کیلئے ہو جاتا اثرؔ نفس مطیع
چند دن مرشدِ کامل کی اطاعت کرتے



میرے بابا جی

دلوں کا روگ مٹاتے ہیں میرے بابا جی
ہنسا ہنسا کے پھنساتے ہیں میرے بابا جی

جو پیاس ہو تو بجھاتے ہیں میرے بابا جی
نہ ہو تو پیاس لگاتے ہیں میرے بابا جی

کوئی بھی در سے نہیں لوٹتا ہے خالی ہاتھ
متاعِ عشق لٹاتے ہیں میرے بابا جی

ہو غیر اجنبی بیگانہ یا عدو کوئی
ہر اک کو اپنا بناتے ہیں میرے بابا جی

بس ایک ذات سے ہوتا ہے آشنا سالک
نشاں دوئی کا مٹاتے ہیں میرے بابا جی

حیا سے ماہ بھی روپوش ہونے لگتا ہے
جو دل کا داغ دکھاتے ہیں میرے بابا جی

عذابِ نار کا تو تذکرہ بھی ہے مشکل
کہ رحمتوں میں نہاتے ہیں میرے بابا جی

کب احتیاجِ سبو جام و ساغر و مینا
فقط نظر سے پلاتے ہیں میرے بابا جی

رسائی ہوتی ہے یکدم خدائے پاک تلک
بتوں سے جان چھڑاتے ہیں میرے بابا جی



جو اپنے دل میں خالقِ حیات لے کے چلتے ہیں
وہ اپنے ساتھ ساری کائنات لے کے چلتے ہیں

جہاں بھی جائیں اشکبار آنکھیں ساتھ ہوتی ہیں
وہ نیل اور دجلہ و فرات لے کے چلتے ہیں

جہاز قربِ حق کا آسماں پہ ہوتا ہے مگر
نزول کر کے ہم کو اپنے ساتھ لے کے چلتے ہیں

زمانے بھر کے بت ہمارا کیا بگاڑیں گے بھلا
کہ اپنے ساتھ ہم خدا کی ذات لے کے چلتے ہیں

وہ کیا جواب دیں گے جا کے منکر و نکیر کو
رہِ حیات میں جو منکرات لے کے چلتے ہیں

بیاں کرے گی حال کو زبانِ عقل کس طرح
دیوانے جب ہی عشق کی لغات لے کے چلتے ہیں

ہم اس لئے ہیں مطمئن رہِ سلوک میں اثرؔ
وہ اپنے ہاتھ میں ہمارا ہاتھ لے کے چلتے ہیں





کشادہ دل ہیں اہلِ درد ہیں وہ
خدا کے راستے کے مرد ہیں وہ

جو صدیوں قبل اہل اللہ گزرے
اثرؔ اس قافلے کے فرد ہیں وہ

اگر عشقِ بتاں ہیں نارِ دوزخ
تو عشقِ حق میں رشکِ برد ہیں وہ

شکستہ دل بھی ہو جاتے ہیں شاداں
بڑے غمخوار ہیں ہمدرد ہیں وہ

وہ ہم میں ہیں مگر ہم میں نہیں ہیں
کسی دیگر جہاں کے فرد ہیں وہ

کھلے ہیں ان پہ اسرارِ طریقت
کہ واقف کارِ گرم و سرد ہیں وہ

جو ان کے درد سے نا آشنا ہیں
حقیقت میں اثرؔ بے درد ہیں وہ



تیری نسبت پہ مجھ کو بڑا ناز ہے
تیری الفت مرے دل کی آواز ہے

روح میں درد ہے قلب میں راز ہے
عشق میں سوز ہے نطق میں ساز ہے

ہر محب یہ سمجھتا ہے میں ہوں احب
جانے تیری محبت میں کیا راز ہے

فرش والے اسے کیسے پہچانتے
عرشِ اعظم پہ جس کی کہ پرواز ہے

خالقِ حسن خود تیرے دل میں ہے تُو
کوچۂ عشق کا محرمِ راز ہے

یہ جو آنکھوں سے جاری ہے سیلِ رواں
تیرے دل کے تلاطم کا غماز ہے

حاملِ شہنشاہِ جہاں تیرا دل
جب ہی کہتی ہے دنیا تُو شہباز ہے

اہلِ نسبت بھی تجھ سے ہی منسوب ہیں
اہلِ نسبت کی صف میں تُو ممتاز ہے



ہے جب سے ترے حسن کا جلوہ مرے دل میں
اب دوسرا کوئی نہیں سجتا مرے دل میں

ہستی کو مری لعل بنایا ہے اسی نے
بہتا ہے جو اک خون کا دریا مرے دل میں

ہے جلوہ نما دل میں مرے خالقِ خورشید
رہتا ہے اجالا ہی اجالا مرے دل میں

دل خالقِ دنیا کی محبت سے ہے لبریز
کس طرح بھلا آئے گی دنیا مرے دل میں

جو اہلِ خرد ہیں وہ سمجھنے سے ہیں قاصر
ہوتے ہیں مضامین وہ القا مرے دل میں

ہے میری علالت بھی محبت کی علامت
رہتا ہے ہمہ وقت مسیحا مرے دل میں

سنت ہے مرے پیشِ نظر قلب میں اللہ
روضہ مری آنکھوں میں ہے کعبہ مرے دل میں

لیلیٰ سے کبھی میلا نہیں ہونے دیا دل
مہمان جبھی ہو گئے مولیٰ مرے دل میں

اک ذرّہ نمک جس سے کہ پاگل ہوا مجنوں
موجود ہے وہ خالقِ لیلیٰ مرے دل میں

اک ذات میں مشغول ہے ہر آن مری روح
اب دوسرا کوئی نہیں ہوتا مرے دل میں

کیوں مجھ کو خیال آنے لگا تحتِ ثریٰ کا
ہر دم ہے غم عرشِ معلی مرے دل میں

جلوت میں مرا جسم ہے خلوت میں مرا قلب
گلشن میں مرا دل ہے تو صحرا مرے دل میں

اس دل سے نکالا ہے تمنا کا جنازہ
مہماں ہے جبھی جانِ تمنا مرے دل میں

پاتے ہیں جبھی بیٹھنے والے بھی برودت
بہتا ہے ترے قرب کا دریا مرے دل میں

بس اپنا خدا راضی رہے، ہے مرا مقصد
اغیار کی کوئی نہیں پروا مرے دل میں

ہر گوشے میں موجود تُو ہی تُو نظر آیا
جس نے بھی اثرؔ جھانک کے دیکھا مرے دل میں





رو برو پیکرِ جمال ہے آج
کچھ نہ پوچھو جو میرا حال ہے آج

غم سے ناآشنا ہوا ہوں میں
ہر بنِ مو مرا نہال ہے آج

جان ان پر نہ کیوں فدا کر دیں
جذبۂ شوق کیا خیال ہے آج

اپنی قسمت پہ رشک کرتا ہوں
مجھ کو حاصل ترا وصال ہے آج

لوگ سمجھے کہ میں نشے میں ہوں
بے خودی سے جو میری چال ہے آج

میری روحانیت نے للکارا
خواہشِ نفس کیوں نڈھال ہے آج

ساڈی تقدیر دا نہ پچھو جی
ساڈا مرشد جو ساڈے نال ہے آج



ہے جب سے ترے حسن کا جلوہ مرے دل میں
اب دوسرا کوئی نہیں سجتا مرے دل میں

ہستی کو مری لعل بنایا ہے اسی نے
بہتا ہے جو اک خون کا دریا مرے دل میں

ہے جلوہ نما دل میں مرے خالقِ خورشید
رہتا ہے اجالا ہی اجالا مرے دل میں

دل خالقِ دنیا کی محبت سے ہے لبریز
کس طرح بھلا آئے گی دنیا مرے دل میں

جو اہلِ خرد ہیں وہ سمجھنے سے ہیں قاصر
ہوتے ہیں مضامین وہ القا مرے دل میں

ہے میری علالت بھی محبت کی علامت
رہتا ہے ہمہ وقت مسیحا مرے دل میں

سنت ہے مرے پیشِ نظر قلب میں اللہ
روضہ مری آنکھوں میں ہے کعبہ مرے دل میں

لیلیٰ سے کبھی میلا نہیں ہونے دیا دل
مہمان جبھی ہو گئے مولیٰ مرے دل میں

اک ذرّہ نمک جس سے کہ پاگل ہوا مجنوں
موجود ہے وہ خالقِ لیلیٰ مرے دل میں

اک ذات میں مشغول ہے ہر آن مری روح
اب دوسرا کوئی نہیں ہوتا مرے دل میں

کیوں مجھ کو خیال آنے لگا تحتِ ثریٰ کا
ہر دم ہے غم عرشِ معلی مرے دل میں

جلوت میں مرا جسم ہے خلوت میں مرا قلب
گلشن میں مرا دل ہے تو صحرا مرے دل میں

اس دل سے نکالا ہے تمنا کا جنازہ
مہماں ہے جبھی جانِ تمنا مرے دل میں

پاتے ہیں جبھی بیٹھنے والے بھی برودت
بہتا ہے ترے قرب کا دریا مرے دل میں

بس اپنا خدا راضی رہے، ہے مرا مقصد
اغیار کی کوئی نہیں پروا مرے دل میں

ہر گوشے میں موجود تُو ہی تُو نظر آیا
جس نے بھی اثرؔ جھانک کے دیکھا مرے دل میں





جو کسی اللہ والے سے کرے گا دشمنی
جیتے جی دنیا میں ایسا شخص رسوا ہو گا خود

جس نے اتنا مہرباں اور با عطا مرشد دیا
ہادی و معطی و رحماں پھر وہ کیسا ہو گا خود

غیر ممکن ہے نہ پائے عشقِ مولیٰ کا ثمر
گلشنِ عشاق میں جو آتا جاتا ہو گا خود

فیض سے جن کے ولایت پا گئے اہلِ جہاں
سوچئے تو کس قدر اللہ والا ہو گا خود

قطرۂ بے قدر جو ہے بحرِ صحبت میں اثرؔ
اک زمانہ آئے گا دیکھو گے دریا ہو گا خود

دوسروں کو جو پلاتا ہے مسلسل خمرِ عشق
چپکے چپکے جامِ عرفاں کتنا پیتا ہو گا خود

مردہ دل لوگوں کو جس نے دی حیاتِ نو اثرؔ
وہ طبیبِ عصر ہو گا یا مسیحا ہو گا خود



سکوتِ حضرتِ اقدس کی شان کیا کہئے
سراپا گوش ہیں اہلِ زبان کیا کہئے

جوانی شیخ نے جو اک ضعیف پر واری
جبھی ہیں آج فدا نوجوان کیا کئے

زمینِ اہلِ محبت کا ہے عروج ایسا
کہ سرنگوں ہے وہاں آسمان کیا کہئے

خدا کے بعد نبیﷺ اور نبی کے بعد اصحاب
بس اس کے بعد ہے مرشد کی شان کیا کہئے

یہیں سے ہوتی ہے سپلائی دولتِ تقویٰ
یہی ہے عشقِ خدا کی دکان کیا کہئے

ہے شان آپ کی شاہانِ سلطنت سے سوا
سو شعر آپ کے شایانِ شان کیا کہئے

ہوئی ہے جانِ سخن پر جو اپنی جان فدا
جبھی تو جان میں آئی ہے جان کیا کہئے

ہر ایک شے کا ہوا کرتا ہے کوئی معدن
سو اللہ والے ہیں تقویٰ کی کان کیا کہئے



ہے دھوم تیرے حسنِ بیاں کی جہان میں
چرچے ترے سخن کے ہیں اہلِ زبان میں

رہ کر زمین پر ہے مقیم آسمان میں
مصروف ہے وہ طائرِ قدسی اڑان میں

جوہر کھلے ہیں صاحبِ گلشن کے علم کے
خوشبوئے پھولپور بسی گلستان میں

کھلتے ہیں مجھ پہ رشد و ہدایت کے بابِ نو
کہتا ہوں شعر جب بھی میں مرشد کی شان میں

گاہک کوئی بھی روح کا خالی نہ جائے گا
ہر چیز دستیاب ہے دل کی دکان میں

مشکل نہیں ہماری رسائی خدا تلک
حائل ہمارا نفس ہے بس درمیان میں

سمجھیں عوام تاکہ مرا ما فی الضمیر
کرتا ہوں شاعری میں عوامی زبان میں

یہ دل خدا کا گھر ہے ذرا احتیاط سے
آئے نہ کوئی غیر خدا کے مکان میں

اس جانِ جاں پہ جب سے فدا کی ہے نصف جاں
سو جان پآ  گیا ہوں اثرؔ اپنی جان میں



تذکرہ ہو جبکہ سب سے عالی نسبت پیر کا
نام ہی کافی ہے شیخِ وقتِ عالمگیر کا

ان کو ملتا ہے بدل اس عزت و توقیر کا
جو ادب کرتے ہیں جتنا اپنے پیارے پیر کا

کب عمل کرتے ہیں آخر وہ کوئی تسخیر کا
دیکھتے ہیں ہم کرشمہ آہ کی تاثیر کا

یہ فقط ’’توحیدِ مطلب‘‘ کا کرشمہ ہی نہیں
لائے تو کوئی بدل دنیا میں میرے پیر کا

عالمِ پاکی کے باسی کی نظر اٹھی اِدھر
بس چمک اٹھا ستارہ خاک کی تقدیر کا

سوزِ اہل دل سے از خود لوگ ہوتے ہیں اسیر
قید یہ محتاج کب ہے زور کا زنجیر کا

ساقیا تو منتظر تھے جانے کب سے میکشو
آپ اپنے آپ سے کیجے گلہ تاخیر کا

پاک لوگوں پر نہ کیجے خود کو اب ہرگز قیاس
دیکھئے مطلب الگ ہے شیر کا اور شِیر کا

ہر بنِ مُو سے دیا کرتا ہے پیغامِ وفا
عشق کب محتاج ہوتا ہے بھلا تقریر کا

آگے آگے دیکھنا رہبر کی ذمہ داری ہے
پیچھے پیچھے راہ چلنا کام ہے رہگیر کا

اب ہمارے میرؔ ہیں عشرت جمیلِ خندہ لب
لد گیا ہے اب زمانہ رونے والے میرؔ کا

والدِ روحانی کا قبضہ ہے کُل عالم میں جب
کچھ تو ورثہ پائیں ہم بھی عشق کی جاگیر کا

اپنی آنکھوں کو ہمیشہ با وضو رکھا کریں
یہ طریقہ ہے ہمارے قلب کی تطہیر کا

تین دن تک دیکھنے والا تڑپتا ہے جناب
اتنا گہرا زخم ہوتا ہے نظر کے تیر کا

عشقِ مولیٰ کے لئے مہمیز کا دیتا ہے کام
تذکرہ لیلیٰ و مجنوں اور رانجھا ہیر کا

کوئی آہیں بھر رہا ہے کوئی ہے نالہ کناں
یہ فقط ادنیٰ تاثر ہے اثرؔ کے پیر کا
٭٭٭
http://www.bazm.org/category/madhesheikh/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
