﻿



مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی



مبشر نذیر










دیباچہ

انسان نے انسان پر جو ظلم کیے ہیں، ان میں سب سے بڑا ظلم غلامی ہے۔ نسل انسانیت پر اتنے ظلم کسی اور مخلوق نے نہ کیے ہوں گے جتنے خود انسانوں نے دوسرے انسانوں پر کیے ہیں۔ دور قدیم ہی سے انسان کو غلام بنانے کا رواج رہا ہے۔ ایک گروہ جب طاقت اور توانائی کے نئے ذخائر دریافت کر بیٹھتا تو وہ اپنے بھائیوں ہی کے دوسرے گروہوں پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیتا۔ جہاں طاقت کام نہ آتی، وہاں مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے ہی بھائیوں کو ذہنی اور نفسیاتی غلام بنا لیا جاتا۔
          موجودہ دور میں اگرچہ جسمانی غلامی کی لعنت کا خاتمہ ہو چکا ہے مگر ذہنی اور نفسیاتی غلامی کا معاملہ اب بھی موجود ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا میں یہ مسئلہ اتنی گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے کہ مذہبی اور غیر مذہبی مسلمانوں کا بڑا حصہ اس لعنت کا شکار نظر آّتا ہے۔  اس تحریر کے پہلے باب میں نفسیاتی غلامی سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور آپ کے خلفاء راشدین کا طرز عمل بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں نفسیاتی غلامی کے تاریخی ارتقاء پر بحث کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں موجودہ دور میں نفسیاتی غلامی کی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چوتھا باب نفسیاتی غلامی کے خاتمے سے متعلق ہے۔ 
یہ کتاب بنیادی طور پر میری کتاب "اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ" کا ایک حصہ ہے جسے افادہ عام کے لئے ضروری ترامیم کے ساتھ الگ سے شائع کیا جا رہا ہے۔   اس کتاب میں میں نے یہ بھرپور کوشش کی ہے کہ ہر قسم کی معلومات کا تجزیہ بالکل غیر جانبداری سے کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کے بارے میں بھی ناانصافی سے کام نہ لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مقامات پر میں نے مسلمانوں کی تاریخ اور قوانین پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور جہاں جہاں غیر مسلم اقوام کے ہاں کوئی مثبت اقدام ملا ہے تو اس کی تعریف بھی کی ہے۔ یہ کتاب کسی قوم، مذہب یا نقطہ نظر کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد معروضی طور (Objectively) پر چند سوالات کا جواب حاصل کرنا ہے۔
          جو احباب اس کتاب کو پڑھیں، وہ بلا تکلف اس سلسلے میں اپنے تاثرات، آراء اور سوالات لکھ بھیجیں تاکہ ان کی روشنی میں اس کتاب کو مزید بہتر بنا دیا جائے۔ اس کے بعد ارادہ ہے کہ انشاء اللہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کر کے غیر مسلم محققین اور مستشرقین تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے سامنے حقیقت کو آشکار کیا جا سکے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
محمد مبشر نذیر
November 2008



باب 1: اسلام اور نفسیاتی آزادی

نفسیاتی غلامی: اسلام سے پہلے

اسلام سے پہلے بھی دنیا بھر میں مذہبی طبقے کو اقتدار حاصل تھا۔ دنیا کے کم و بیش تمام ممالک ہی میں مذہبی طبقہ اس درجے میں موجود تھا کہ وہ حکومتی اور معاشرتی معاملات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرز حکومت کو تھیو کریسی کہا جاتا تھا۔ اس دور میں دنیا کا غالب مذہب "شرک" تھا۔ کم و بیش دنیا بھر کے ممالک میں دیوی دیوتاؤں کی دیو مالا (Mythology) تخلیق کی گئی تھی۔ ریاست کے ہر شہری کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس دیو مالا پر ایمان لائے۔ اگر کوئی شخص مخصوص مذہبی عقائد سے مختلف نظریہ رکھنا چاہتا تو اسے مذہبی جبر کا شکار ہونا پڑتا اور اسے اس کے انحراف کے درجے اور شدت کے مطابق کوئی بھی سزا دی جا سکتی تھی۔
          دین شرک کے مقابلے میں دین توحید کے علمبردار اہل کتاب تھے جو یہودیوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھے۔ یہ لوگ اگرچہ توحید ہی کے پیروکار تھے اور شرک کو ایک برائی ہی قرار دیا کرتے تھے لیکن غیر محسوس طریقے پر شرک ان کے اندر شخصیت پرستی کی صورت میں سرایت کر چکا تھا۔ یہودیوں نے سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو اور عیسائیوں نے سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا قرار دے کر شرک کو اپنے مذہبی عقائد میں جگہ دے رکھی تھی۔
          اہل کتاب کے ہاں بھی ان کے مذہبی علماء اور صوفیاء کو وہی مقام حاصل ہو چکا تھا جو کہ اہل شرک کے ہاں ان کے مذہبی راہنماؤں کو حاصل تھا۔ ان کے ہاں مذہبی راہنماؤں کا یہ مقام اب بھی برقرار ہے البتہ ان کی سیاسی قوت کمزور پڑ چکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے زمانے میں اس ذہنی غلامی کی کیا صورت موجود تھی، اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے:
حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي حدثنا عبد السلام بن حرب عن غطيف بن أعين عن مصعب بن سعد عن عدي بن حاتم قال :  أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وفي عنقي صليب من ذهب فقال يا عدي اطرح عنك هذا الوثن وسمعته يقرأ في سورة براءة { اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله } قال أما إنهم لم يكونوا يعبدونهم ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئا استحلوه وإذا حرموا عليهم شيئا حرموه. (ترمذی؛ کتاب التفسیر؛ حدیث 3095)
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے پاس آیا تو میرے گلے میں سونے کی ایک صلیب لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا، "اے عدی! اس بت کو اتار دو۔" میں نے آپ کو سورۃ توبہ کی یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا، "ان (اہل کتاب نے) اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور صوفیاء کو اس کا شریک بنا لیا تھا۔" اور فرمایا، "یہ لوگ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے مگر جب وہ کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو اسے حلال سمجھنے لگتے اور جب حرام قرار دیتے تو اسے حرام سمجھنے لگتے۔"
اگر یہودی اور عیسائی حضرات کے اپنے مذہبی لٹریچر، خاص طور پر ان کے اولیاء کرام (Saints) کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو بعینہ یہی تصویر سامنے آتی ہے۔

فکری آزادی  کے معاملے میں اسلام کی اصلاحات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے اپنے صحابہ سے ذہنی آقا و غلام کے تعلق کی بجائے دوستانہ تعلق قائم فرمایا۔ جن معاملات میں اللہ تعالی کی جانب سے وحی نازل ہو جایا کرتی تھی، اس میں تو صحابہ سنتے اور اطاعت کرتے لیکن جہاں معاملہ دین کے کسی حکم کا نہ ہوتا، وہاں ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی ذاتی رائے سے مختلف رائے پیش کرنا بھی کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔

غور و فکر کی قرآنی دعوت
اللہ تعالی کی جانب سے نازل کردہ وحی کے معاملے میں بھی یہ معاملہ نہ تھا کہ لوگ اندھا دھند اس حکم کی پیروی میں لگ جائیں بلکہ انہیں اس پر کھلے ذہن سے غور و فکر کرنے کا حق حاصل تھا۔ قرآن مجید بار بار مسلمانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اللہ کے احکامات کی حکمتیں جاننے کی تلقین کرتا ہے۔
وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمّاً وَعُمْيَاناً. (الفرقان؛ 25:73)
جب انہیں اللہ کی آیات سے نصیحت دلائی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ۔  الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. (اٰل عمران 3:190-191)
آسمان و زمین کی تخلیق اور شب و روز کے فرق میں اہل عقل کے لئے نشانیاں ہیں۔ (اہل عقل وہ ہیں جو ان نشانیوں کو دیکھ کر) کھڑے، بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، "اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے کار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔"
قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر یہ بیان ہوا ہے کہ نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو "اولوا الباب" یعنی صاحب عقل اور سوچنے سمجھنے والے لوگ ہیں۔

آزادی اظہار سے متعلق رسول اللہ کا طرز عمل
اختلاف رائے کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کا طرز عمل یہ ہوا کرتا تھا کہ آپ مختلف رائے کو دبانے کی بجائے اس پر مثبت انداز میں غور و خوض فرماتے اور کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ اپنی رائے کی بجائے کسی صحابی کی رائے کو ترجیح دے دیا کرتے تھے۔ اگر آپ صحابہ کی رائے سے متفق نہ ہوتے تو انہیں مثبت انداز میں متفق کرنے کی کوشش فرماتے۔ اظہار رائے کی اس آزادی کی کچھ مثالیں ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے صحابہ کو یہ واضح طور پر بتا دیا کہ صرف اور صرف دینی احکام سے متعلق ان پر آپ کی پیروی کرنا لازم ہے۔ دنیاوی امور میں وہ اپنے معاملات جیسے چاہے چلا سکتے ہیں بشرطیکہ اس سے دین کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔
حدثنا عبدالله بن الرومي اليمامي وعباس بن عبدالعظيم العنبري وأحمد بن جعفر المعقري. قالوا: حدثنا النضر بن محمد. حدثنا عكرمة (وهو ابن عمار). حدثنا أبو النجاشي. حدثني رافع بن خديج قال:  قدم نبي الله صلى الله عليه و سلم المدينة. وهم يأبرون النخل. يقولون يلقحون النخل. فقال "ما تصنعون؟". قالوا: كنا نصنعه. قال "لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرا" فتركوه. فنفضت أو فنقصت. قال فذكروا ذلك له فقال "إنما أنا بشر. إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به. وإذا أمرتكم بشيء من رأي. فإنما أن بشر، انتم أعلم بأمر دنياكم" (مسلم، کتاب الفضائل، حديث 6127)
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کھجوروں کی پیوند کاری کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا، "تم لوگ یہ کیا کرتے ہو۔" وہ بولے، "ہم تو یہی کرتے آ رہے ہیں۔" آپ نے فرمایا، "اگر تم یہ نہ کرو تو ہو سکتا ہے کہ بہتر ہو۔" انہوں نے پیوند کاری چھوڑ دی جس کے نتیجے میں پیداوار کم ہو گئی۔ انہوں نے جب آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا، "میں تو ایک انسان ہوں (مگر اللہ کا رسول ہوں۔) اگر میں تمہیں دین سے متعلق کوئی حکم دو تو اس پر عمل کروں اور اگر اپنی رائے سے تمہیں کوئی بات کہوں تو میں انسان ہی ہوں۔ تم اپنے دنیاوی امور کو خود بہتر جانتے ہو۔"
اس سے اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے یہ بات محض عجز و انکسار کی وجہ سے ارشاد فرمائی۔ بہت سے دیگر واقعات سے یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ اور آپ کے صحابہ کا یہی معمول رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم جنگی پلاننگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورے سے کیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن مجید میں آپ کو اسی کا حکم دیا گیا تھا۔
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ۔ (آل عمران 3:159)
ان سے درگزر کرتے رہیے، ان کی بخشش کی دعا کرتے رہیے اور معاملات میں ان سے مشورہ کرتے رہیے۔
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ۔  (شوری 42:38)
(اہل ایمان تو وہ ہیں) جو اپنے رب کی پکار کا جواب دیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات کو مشورے سے چلاتے ہیں۔
جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے ایک مقام پر قیام کرتے ہوئے ایک جنگی حکمت عملی ترتیب دی لیکن اس کے بعد آپ نے ایک صحابی سیدنا حباب بن  منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر اس جنگی حکمت عملی میں تبدیلی فرمائی۔
قال الحباب بن المنذر يا رسول الله إن هذا المكان الذي أنت به ليس بمنزل انطلق بنا إلى أدنى ماء إلى القوم فإني عالم بها وبقلبها بها قليب قد عرفت عذوبة مائه لا ينزح ثم نبني عليه حوضا فنشرب ونقاتل ونعور ما سواه من القلب فنزل جبريل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال الرأي ما أشار به الحباب فنهض رسول الله صلى الله عليه و سلم ففعل ذلك۔ (طبقات ابن سعد، غزوہ بدر)
حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، "یا رسول اللہ! جس مقام پر آپ ٹھہرے ہوئے ہیں، مناسب نہیں ہے۔ ہمیں نیچے پانی کی طرف چلنا چاہیے۔ میں اس جگہ سے واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ میٹھا پانی ہے۔ ہم پانی کا بہاؤ تبدیل کر کے اسے ایک حوض کی شکل دے لیں گے اور اس سے پانی پئیں گے، جنگ کریں گے اور صرف ہم ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جبریل اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے پاس اترے اور کہنے لگے کہ حباب کی رائے درست ہے۔ آپ اٹھے اور آپ نے اسی رائے پر عمل کیا۔
جنگ احد کے موقع پر آپ نے اپنی رائے کے خلاف نوجوان صحابہ کی رائے کے مطابق شہر سے باہر نکل کر مقابلہ فرمایا۔
فكان رأي رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يخرج من المدينة لهذه الرؤيا فأحب أن يوافق على مثل رأيه فاستشار أصحابه في الخروج فأشار عليه عبد الله بن أبي بن سلول أن لا يخرج وكان ذلك رأي الأكابر من المهاجرين والأنصار فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم امكثوا في المدينة واجعلوا النساء والذراري في الآطام فقال فتيان أحداث لم يشهدوا بدرا فطلبوا من رسول الله صلى الله عليه و سلم الخروج إلى عدوهم ورغبوا في الشهادة وقالوا اخرج بنا إلى عدونا فغلب على الأمر الذي يريدون الخروج۔ (طبقات ابن سعد، غزوہ احد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ نہ کیا جائے۔ آپ کے خواب کے مطابق یہی رائے پسندیدہ تھی۔ آپ نے اپنے صحابہ سے نکلنے کے بارے میں مشورہ کیا۔ عبداللہ بن ابی کا مشورہ یہ تھا کہ باہر نکل کر مقابلہ نہ کیا جائے اور مہاجرین و انصار کے بزرگوں کی رائے بھی یہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے فرمایا، "مدینہ میں ٹھہرے رہو اور بچوں اور خواتین کو محفوظ مقام پر چھوڑ دو۔
نئے نوجوان لڑکے جنہوں نے بدر کی جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ لوگ شہادت کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ وہ بولے، "ہم دشمن کی طرف نکل کر چلیں۔" باہر نکل کر مقابلہ کرنے والوں کی رائے (کثرت رائے کے باعث) غالب ہو گئی (اور باہر نکل کر ہی مقابلہ کیا گیا۔)
جنگ خندق میں ایک سابقہ غلام، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ جنگ کا یہ طریق کار سن کر صحابہ بہت حیران ہوئے کیونکہ جنگ کرنے کا یہ طریقہ عرب میں رائج نہیں تھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے صحابہ کو اظہار رائے کی آزادی کس حد تک حاصل تھی  اور اس میں آزاد، غلام اور مولی ہر شخص کو رائے دینے کا برابر حق حاصل تھا۔
          آپ نے جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک فوجی مہم کا امیر بنا کر بھیجا تو اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا۔ آپ نے انہیں کافر و مشرک یا گستاخ رسول قرار دینے کی بجائے انہیں مثبت انداز میں قائل فرمایا۔
حدثنا إسماعيل: حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث بعثا، وأمر عليهم أسامة بن زيد، فطعن الناس في إمارته، فقام النبي صلى الله عليه و سلم فقال: (إن تطعنوا في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل، وايم الله إن كان لخليفا للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس لي، وإن هذا لمن أحب الناس إلي بعده). (بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3730)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنا کر بھیجا۔ لوگوں نے ان کے امیر ہونے پر اعتراض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، "تم لوگ ان کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو جبہ تم نے اس سے پہلے ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم وہ امارت کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ پسند تھے اور ان کے بعد اسامہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کیا تو اس موقع پر انہیں اسلامی قانون کی حیثیت سے یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے خاوند سے علیحدگی حاصل کر لیں۔ وہ اپنے خاوند کو سخت ناپسند کرتی تھیں جبکہ ان کے خاوند ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے ان سے شادی کو باقی رکھنے کی سفارش کی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔
حدثنا محمد: أخبرنا عبد الوهاب: حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن زوج بريرة عبد أسود يقال له مغيث، كأني أنظر إليه يطوف خلفها يبكي ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبي صلى الله عليه و سلم لعباس: (يا عباس، ألا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثا). فقال النبي صلى الله عليه و سلم: (لو راجعته). قالت يا رسول الله تأمرني؟ قال: (إنما أنا أشفع). قالت: لا حاجة لي فيه. (بخاری، کتاب الطلاق، حديث 5283)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ کے خاوند ایک سیاہ فام غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ میں گویا اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے ہیں اور ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا، "عباس! کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ مغیث بریرہ سے کس قدر محبت کرتا ہے اور وہ اس سے کتنی نفرت کرتی ہے۔" آپ نے بریرہ سے فرمایا، "کاش تم علیحدگی کا یہ فیصلہ بدل دو۔" وہ پوچھنے لگیں، "یا رسول اللہ! کیا یہ آپ کا حکم ہے؟" آپ نے فرمایا، "نہیں میں تو سفارش کر رہا ہوں۔" وہ بولیں، "پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔"
بعض افراد نے قرآن مجید کی ایک آیت سے یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم زیادہ غور و فکر کرنے اور سوالات کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ وہ آیت یہ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ. (المائدہ؛ 5:100)
اے ایمان والو! ان چیزوں کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو جو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں، لیکن اگر تم ایسے وقت میں یہ سوالات کرو گے تو وہ تم پر واضح کر دی جائیں گی۔ اب تک جو تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کر دیا اور وہ معاف کرنے والا اور بردبار ہے۔
اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ دین اسلام میں غور و فکر ممنوع ہے، بالکل ہی غلط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی احادیث سے یہ بالکل ہی واضح ہے کہ اس آیت میں جن سوالات سے روکا گیا ہے، وہ ایک مخصوص نوعیت کے سوالات ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ: حدثنا سعيد: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: (إن أعظم المسلمين جرماً، من سأل عن شيء لم يُحرَّم، فحُرِّم من أجل مسألته). (بخارى؛ كتاب الاعتصام؛ حديث 7289)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا، "سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جو حرام نہیں تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔"
وعن أبي ثعلبة الخشني قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله فرض فرائض فلا تضيعوها وحرم حرمات فلا تنتهكوها وحد حدودا فلا تعتدوها وسكت عن أشياء من غير نسيان فلا تبحثوا عنها . (مشکوۃ؛ كتاب الاعتصام؛ حديث 197)
سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے فرمایا، "اللہ نے کچھ فرائض لازم کئے ہیں، انہیں ضائع مت کرو۔ اس نے کچھ کام حرام قرار دیے ہیں، ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان کی خلاف ورزی مت کرو۔ لیکن اس نے کچھ چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے، ان کے بارے میں تفتیش میں نہ پڑو سوائے اس کے کہ بھول کر کچھ کر گزرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے مثبت غور و فکر سے کبھی نہیں روکا۔ قرآن مجید کے نزول کے وقت ایسے سوالات سے منع فرمایا گیا جن کے نتیجے میں کوئی کام حرام ہو جائے اور امت مشکل میں پڑ جائے۔ اللہ تعالی نے جہاں خاموشی اختیار کی ہے، اس میں خاموش ہی رہنا چاہیے تاکہ لوگوں کے لئے انتخاب (Choice) کی آزادی برقرار رہے اور وہ اللہ تعالی کے ہاں اس معاملے میں مسئول نہ ہوں۔
          رہے مثبت سوالات، تو ان کے بارے میں قطعی کوئی ممانعت نہ تھی۔ احادیث کے پورے ذخیرے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حلال و حرام کے مخصوص دائرے کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم سے بکثرت سوال کیا کرتے تھے اور آپ انہیں ہر طرح سے مطمئن کر دیا کرتے تھے۔

آزادی اظہار سے متعلق خلفاء راشدین کا طرز عمل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے بعد آپ کے خلفاء راشدین کا طرز عمل بھی یہی رہا۔ اس کی تفصیل کے لئے خلفاء راشدین کے طرز عمل کی کچھ مثالیں ہم بیان کر رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے پہلے خطبے میں اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
أخبرنا عبيد الله بن موسى قال أخبرنا هشام بن عروة قال عبيد الله أظنه عن أبيه قال لما ولي أبو بكر خطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد أيها الناس قد وليت أمركم ولست يخيركم ولكن نزل القرآن وسن النبي صلى الله عليه و سلم السنن فعلمنا فعلمنا اعملوا أن أكيس الكيس التقوى وأن أحمق الحمق الفجور وأن أقواكم عندي الضعيف حتى آخذ له بحقه وأن أضعفكم عندي القوي حتى آخذ منه الحق أيها الناس إنما أنا متبع ولست بمبتدع فإن أحسنت فأعينوني وإن زغت فقوموني. (طبقات ابن سعد، ذکر ابوبکر)
جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اس میں انہوں نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا، "اے انسانو! مجھے آپ کے امور کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے اور میں اس کی خواہش نہیں رکھتا تھا۔ قرآن نازل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے سنت قائم فرمائی تو ہمیں دین کا علم ہوا۔ جان رکھیے کہ سب سے بہترین لباس، اللہ سے خبردار رہنے کا لباس ہے۔ تمام بے وقوفیوں میں سے سب سے بڑی بے وقوفی گناہ کرنا ہے۔
آپ میں سے جو شخص سب سے زیادہ طاقتور ہے، وہ میرے نزدیک اس وقت تک سب سے زیادہ کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے (اس کے ذمے عائد) حق وصول نہ کر لوں۔ آپ میں سے جو شخص سب سے زیادہ کمزور ہے وہ میرے نزدیک اس وقت تک سب سے زیادہ طاقتور ہے جب تک میں اسے اس کا حق پہنچا نہ دوں۔ اے انسانو! میں تو (دین کی) پیروی کرنے والا ہوں نہ کہ کوئی بدعت پیدا کرنے والا۔ اگر میں اچھا کام کروں تو آپ میری مدد کیجیے گا اور اگر غلط راستہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دیجیے گا۔"
 اس خطبے کی آخری بات محض عجز و انکسار ہی نہ تھی بلکہ صحابہ کا عمل یہی تھا۔ ارتداد کے خلاف جنگی کاروائی ہو یا لشکر اسامہ کی روانگی، روم و ایران سے جنگ کا معاملہ ہو یا اپنے بعد آنے والے خلیفہ کی تقرری، ہر ہر معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کے مشورے سے ہی معاملات چلایا کرتے تھے اور تمام صحابہ کو کھلے عام اپنی رائے کے اظہار کی آزادی حاصل تھی۔
          سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی مثال قائم فرمائی۔ لوگوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جمعے کے خطبے کے دوران کھڑے ہو کر بھرے مجمع میں آپ کا احتساب کر سکیں۔ مشہور واقعہ ہے کہ آپ دو چادروں پر مشتمل لباس پہن کر جمعہ کے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ کے پاس دو چادریں کہاں سے آ گئیں جبکہ ہم سب کو تو مال غنیمت میں سے ایک ایک چادر ملی ہے۔ آپ نے خود جواب دینے کی بجائے اپنے بیٹے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جواب دینے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے اٹھ کر بتایا کہ میں نے اپنے حصے کی چادر اباجان کو دے دی ہے۔ آپ نے اعتراض کرنے والوں کو گستاخ قرار نہیں دیا۔
          ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے خواتین کے حق مہر کی رقم کی ایک حد مقرر کرنے کا ارادہ کیا۔ نماز جمعہ میں ایک خاتون نے اس سے سخت اختلاف کیا اور ان کی رائے کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ آپ نے ان خاتون کو بھی گستاخ قرار نہیں دیا۔
          زمینوں کا انتظام کرنا ہو، جنگی تیاریاں کا معاملہ ہو، عوام کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کرنا ہو، مال غنیمت کی تقسیم ہو، ہر معاملے میں لوگوں کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق حاصل تھا۔ جو شخص صاحبین مجلس کی اکثریت کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا، اسی کی رائے پر حکومتی فیصلہ نافذ ہو جاتا۔ آپ دوسروں کو اپنا احتساب کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
أخبرنا محمد بن عمر قال حدثني قيس بن الربيع عن عطاء بن السائب عن زادان عن سلمان أن عمر قال له أملك أنا أم خليفة فقال له سلمان إن أنت جبيت من أرض المسلمين درهما أو أقل أو أكثر ثم وضعته في غير حقه فأنت ملك غير خليفة فاستعبر عمر. (طبقات ابن سعد، ذکر عمر)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "کیا میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ؟" سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "اگر آپ مسلمانوں کی زمین میں سے ایک درہم یا اس سے کم یا زیادہ وصول کرے اور اسے ناحق خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں خلیفہ نہیں ہیں۔" عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رونے لگے۔
أخبرنا محمد بن عمر قال حدثني عبد الله بن الحارث عن أبيه عن سفيان بن أبي العوجاء قال قال عمر بن الخطاب والله ما أدري أخليفة أنا أم ملك فإن كنت ملكا فهذا أمر عظيم قال قائل يا أمير المؤمنين إن بينهما فرقا قال ما هو قال الخليفة لا يأخذ إلا حقا ولا يضعه إلا في حق فأنت بحمد الله كذلك والملك يعسف الناس فيأخذ من هذا ويعطي هذا فسكت عمر۔ (طبقات ابن سعد، ذکر عمر)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مجھے یہ پتہ نہیں چلتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ۔ اگر تو میں بادشاہ ہوں تو یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔" کسی شخص نے کہا، "اے امیر المومنین! ان دونوں میں فرق ہے۔ خلیفہ وہ ہے جو سوائے حق کے (ٹیکس) وصول نہیں کرتا اور نہ ہی اسے ناحق خرچ کرتا ہے۔ الحمد للہ آپ ایسے ہیں ہیں۔ بادشاہ تو لوگوں پر ظلم کر کے ٹیکس لیتا ہے اور اسے اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے۔" عمر یہ سن کر خاموش ہو گئے۔
خلیفہ بننے کے بعد طویل عرصے تک آپ نے تنخواہ نہیں لی بلکہ اپنے مال سے خرچ کرتے رہے۔ جب آپ کا اپنا مال ختم ہو گیا تو پھر صحابہ سے مشورہ کیا کہ میں اپنے گھر کے خرچ کا کیا کروں؟ سیدنا عثمان اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کے مشورے کے مطابق آپ نے کھانے اور لباس کے لئے رقم بیت المال سے لینا شروع کی۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ اپنے دور خلافت میں عمر روزانہ دو درہم تنخواہ لیتے تھے اور میری تنخواہ ایک سو اسی درہم ہوا کرتی تھی۔
          سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انہی کے مقرر کردہ جج قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر دعوی کر دیا۔ آپ نے اپنے حق میں دو گواہ سیدنا حسن و قنبر رضی اللہ عنہما کو پیش کیا۔ جج نے ان دونوں کی گواہی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ایک ان کا بیٹا تھا اور دوسرا آزاد کردہ غلام اور فیصلہ یہودی کے حق میں سنا دیا۔ یہودی نے یہ فیصلہ سن کر اسلام قبول کر لیا کہ انصاف کا یہ عالم ہے کہ قاضی ایک غیر مسلم کے حق میں خلیفہ وقت کے خلاف فیصلہ دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب خلیفہ وقت کے معاملے میں آزادی رائے کا یہ عالم تھا تو پھر دیگر بزرگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟
          اس تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام نے آباء پرستی، شخصیت پرستی اور فکری غلامی کے دیگر تمام بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو نفسیاتی غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ تین چار سو سال کے بعد امت مسلمہ اسی نفسیاتی غلامی کا بڑے پیمانے پر شکار ہو گئی جس سے نکالنے کی کوشش اسلام نے کی تھی۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔
٭٭٭



باب 2: مسلم دنیا میں نفسیاتی غلامی


خلفاء راشدین سے لے کر بعد کے ادوار کے مسلم حکمران، اگرچہ بادشاہ تھے لیکن بالعموم علم کے دلدادہ اور قدردان تھے۔ مامون الرشید جیسے چند ایک حکمرانوں کو چھوڑ کر کسی حکمران نے مسلمانوں کو نظریاتی اور فکری طور پر غلام بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ان کے ہاں "آزادی فکر" اور "آزادی اظہار رائے" ایک بڑی قدر کے طور پر موجود تھی اور اس کے لئے ان کے ارباب فکر و نظر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہا کرتے تھے۔
          بعد کی صدیوں میں دو ایسی تبدیلیاں وجود پذیر ہوئے جن کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاں فکری اور نظریاتی غلامی کا آغاز ہوا۔ ان میں سے ایک تبدیلی تو اندھی تقلید کا فروغ تھا اور دوسرا استاذ و شاگرد یا پیر و مرید کے تعلقات میں تبدیلیوں کا۔ ان دونوں سماجی اداروں پر تبصرہ کرنے کا مقصد کسی کی تردید یا تائید نہیں ہے۔ ہم یہ تفصیلات محض ایک تاریخی ریکارڈ کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔

اندھی تقلید
لفظ "تقلید" کا معنی ہے پیروی کرنا۔ اصطلاحی مفہوم میں مسلمانوں کے ہاں تقلید کا معنی یہ رہا ہے کہ قرآن و سنت میں خود غور و فکر کرنے کی بجائے قدیم دور کے اہل علم جو کام کر گئے، دلیل جانے بغیر اس کی پیروی کی جائے۔ چوتھی صدی ہجری میں یہ طے پایا کہ ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ چار مشہور مکاتب فکر یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی میں سے کسی ایک مکتب فکر کا انتخاب کر لے اور اس کی پیروی کرنا شروع کر دے۔
          تقلید کے سماجی ادارے کا آغاز اور ارتقاء کس طرح سے ہوا۔ اس موضوع پر شاہ ولی اللہ (1702-1762CE) نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب، "حجۃ اللہ البالغہ" میں ایک پورا باب تحریر کیا ہے۔ پہلی تین صدیوں کے مسلمانوں کی روش کے بارے میں شاہ صاحب لکھتے ہیں:
اعلم ان الناس قبل المائۃ الرابعۃ غیر مجمعین علی التقلید الخالص لمذھب واحد بعینہ۔ قال ابو طالب المکی فی قوت القلوب: "ان الکتب و المجموعات محدثۃ، و القول بمقالات الناس و الفتیا بمذھب الواحد من الناس، واتخاذ قولہ و الحکایۃ لہ من کل شییء و التفقہ علی مذھبہ۔ لم یکن الناس قدیما علی ذلک فی القرنین الاول و الثانی انتھی۔
اقول: و بعد القرنین حدث فیھم شییء من التخریج، غیر ان اھل المائۃ الرابعۃ لم یکونوا مجتمعین علی التقلید الخالص علی مذھب واحد و التفقہ لہ و الحکایۃ لقولہ، کما یظھر من التتبع، بل کان فیھم العلماء و العامۃ، و کان من خبر العامۃ انھم کانوا فی المسائل الجماعیۃ التی لا اختلاف فیھا بین المسلمین او جمھور المجتھدین لا یقلدون الا صاحب الشرع، و کانوا یتعلمون صفۃ الوضوء و الغسل و الصلاۃ و الزکاۃ و نحو ذلک من آبائھم او معلمی بلدانھم، فیمشون حسب ذلک، و اذا وقعت لھم واقعۃ استفتوا فیھا ای مفت وجدوا من غیر تعیین مذھب۔
و کان من خبر الخاصۃ انہ کان اھل الحدیث منھم یشتغلون بالحدیث، فیخلص الیھم من احادیث النبی صلی اللہ علیہ و سلم و آثار الصحابۃ ما لا یحتاجون معہ الی شییء آخر فی المسالۃ، من حدیث مستفیض او صحیح قد عمل بن بعض الفقھاء، و لا عذر لتارک العمل بہ، او اقوال متظاھرہ لجمھور الصحابۃ و التابعین مما لا یحسن مخالفتھا، فان لم یجد فی المسالۃ ما یطمئن بہ قلبہ، لتعارض النقل و عدم وضوح الترجیح و نحو ذلک، رجع الی کلام بعض من مضی من الفقھاء، فان وجد قولین اختار اوثقھما، سوا کان من اھل امدینۃ او من اھل الکوفۃ، و کان اھل التخریج منھم یخرجون فیما لا یجدونہ مصرحا، و یجتھدون فی المذھب، و کان ھولاء ینسبون الی مذھب احدھم فیقال، "فلان شافعی، و فلاں حنفی"۔ و کان صاحب الحدیث ایضا قد ینسب الی احد المذاھب لکثرۃ موافقتہ لہ، کالنسائی و البیھقی ینسبان الی الشافعی، وکان لا یتولی القضاء و لا الافتاء الا مجتھد لہ، ولا یسمی الفقیہ الا مجتھدا۔ (حجۃ اللہ البالغہ، باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ و بعدھا)
یہ جان لیجیے کہ چوتھی صدی ہجری سے پہلے لوگ کسی خاص مکتب فکر کی تقلید کرنے پر متفق نہ تھے۔ قوت القلوب میں ابو طالب مکی کہتے ہیں، "یہ کتابیں، مجموعے سب نئی چیز ہیں۔ لوگوں کی آراء کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا، لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے نقطہ نظر کے مطابق فتوی دینا، اپنے امام کی رائے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، ہر چیز میں اسی کی رائے کو بیان کرنا اور اسی کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنا (اور دوسرے نقطہ نظر کو سمجھنے سے اجتناب کرنا) پہلی اور دوسری صدی میں لوگوں کا رواج نہ تھا۔"
       میری (شاہ ولی اللہ کی) رائے یہ ہے کہ بعد کی صدیوں میں ایک نئی چیز پیدا ہوئی جسے "تخریج" کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ (علمی تاریخ کے) مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ چوتھی صدی تک کے اہل علم کسی خاص امام کے مکتب فکر کی تقلید کرنے، اسی میں غور و فکر کرنے اور اسی کو بیان کرتے رہنے کے معاملے میں متفق نہ تھے۔ ان میں علماء اور عام لوگ ہوتے تھے۔ جہاں تک تو عام لوگوں کا تعلق ہے، تو وہ ان معاملات میں جن میں مسلمانوں یا مجتہدین کی اکثریت میں اتفاق رائے تھا، وہ سوائے صاحب شریعت صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے کسی کی تقلید نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ وضو، غسل، نماز، زکوۃ وغیرہ کا طریقہ اپنے والدین یا شہر کے علماء سے سیکھ لیتے تھے اور اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔ جب انہیں کوئی مخصوص مسئلہ پیش آتا تو جو بھی (صاحب علم) مفتی انہیں ملتا، بغیر کسی مکتب فکر کی تخصیص کے، وہ اس سے سوال پوچھ لیا کرتے تھے۔
       جہاں تک خاص (علماء) کا تعلق ہے تو ان میں حدیث کے ماہرین بھی تھے۔ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی احادیث اور آپ کے صحابہ کے آثار موجود تھے۔ انہیں حدیث سے استفادہ کرنے کے علاوہ، جن پر بعض فقہا بھی عمل کرتے ہوں، کسی اور سے سوال پوچھنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ان کے لئے اس حدیث یا صحابہ و تابعین کی اکثریت کی رائے پر عمل ترک کر دینے کے لئے کوئی عذر نہیں تھا اور نہ ہی اسے اچھا سمجھا جاتا تھا۔
       جب ان کے پاس کوئی ایسا معاملہ آتا جس کے بارے میں (موجود آراء پر) ان کا دل مطمئن نہ ہوتا ، جیسے آراء کے نقل کرنے میں تضاد پایا جاتا یا کسی ایک رائے کو ترجیح دینا واضح نہ ہوتا، تو وہ ماضی کے فقہاء کے نقطہ ہائے نظر کی طرف رجوع کرتے۔ اگر انہیں دو نقطہ ہائے نظر مل جاتے تو وہ ان میں سے صحیح ترین کو اختیار کر لیتے خواہ وہ مدینہ کے کسی عالم کا نقطہ نظر ہوتا یا کوفہ کے (یا کسی اور شہر کے)۔
       ان میں اہل تخریج بھی موجود تھے۔ جب انہیں کسی مسئلے میں واضح بات نہ ملتی تو وہ کسی مخصوص مکتب فکر کے دائرے میں ہی رہ کر اجتہاد کیا کرتے تھے۔ ایسے لوگ کسی مخصوص مکتب فکر سے وابستہ سمجھے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ فلاں شافعی ہے یا فلاں حنفی ہے۔ ان میں بعض حدیث کے ماہرین بھی کسی ایک مکتب فکر کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں کیونکہ ان کی اکثر آراء اس مکتب فکر کے مطابق ہیں۔ مثال کے طور پر امام نسائی اور امام بیہقی کو شافعی مکتب فکر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ عدالت کے جج اور مفتی کے منصب پر جو فائز ہوتے تھے، ان کا مجتہد ہونا ضروری تھا اور مجتہد سے کم درجے کے کسی شخص کو فقیہ کا نام نہ دیا جاتا تھا۔
اس طرز عمل میں بعد کی صدیوں میں کیا تبدیلی واقع ہوئی، اس کی تفصیل شاہ صاحب ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
ثم بعد ھذہ القرون کان اناس آخرون ذھبو یمینا و شمالا، و حدث فیھم امور، منھا الجدل و الخلاف فی علم الفقہ۔ و تفصیلہ، علی ما ذکرہ الغزالی، انہ لما انقرض عھد الخلفاء الراشدین المھدیین افضت الخلافۃ الی قوم تولوھا بغیر استحقاق و الا استقلال بعلم الفتاوی و الاحکام، فاضطروا الی الاستعانۃ بالفقھاء و الی استصحابھم فی جمیع احوالھم، و قد بقی من العلماء من ھو مستمر علی الاطراز الاول و ملازم صفو الدین، فکانو اذا طلبوا ھربوا و اعرضوا، فرای اھل تلک الاعصار عز العلماء و اقبال الائمۃ علیھم مع اعراضھم، فاشرابوا بطلب العلم توصلا الی نیل العز و درک الجاہ، فاصبح الفقھا بعد ان کانوا مطلوبین طالبین، وبعد ان کانوا اعزۃ بالاعراض عن السلاطین اذلۃ بالاقبال علیھم، الا من وفقہ اللہ۔
و قد کان من قبلھم قد صنف الناس فی علم الکلام و اکثروا القال و القیل و الایراد و الجواب و تمھید طریق الجدل، فوقع ذلک منھم بموقع من قبل ان کان من الصدور و الملوک من مالت نفسہ الی المناظرۃ فی الفقہ و بیان الاولی من مذھب الشافعی و ابی حنیفۃ رحمہ اللہ، فترک الناس الکلام و فنون العلم، واقبلوا علی المسائل الخلافیۃ بین الشافعی و ابی حنیفۃ رحمہ اللہ علی الخصوص، و تساھلوا فی الخلاف مع مالک و سفیان و احمد بن حنبل وغیرہھم۔ و زعموا ان غرضھم استنباط دقائق الشرع و تقریر علل المذھب و تمھید اصول الفتاوی، و اکثروا فیھا التصانیف و الاستنباطات، و رتبوا فیھا انواع المجادلات و التصنیفات و ھم مستمرون علیہ الی الآن، و لسنا ندری ما الذی قدر اللہ تعالی فیما بعدھا من الاعصار۔ انتھی حاصلہ۔
و منھا انھم اطمانوا بالتقلید، و دب التقلید فی صدورھم دبیب النمل و ھم لا یشعرون، و کان سبب ذلک تزاحم الفقھاء و تجادلھم فیما بینھم، فانھم لما وقعت فیھم المزاحمۃ فی الفتوی کان کل من افتی بشییء نوقض فی فتواہ و رد علیہ، فلم ینقطع الکلام الی بمسیر الی تصریح رجل من المتقدمین فی المسالۃ۔
و ایضا جور القضاۃ، فان القضاۃ لما جار اکثرھم و لم یکونوا امناء، لم یقبل منھم الی ما لا یریب العامۃ فیہ، و یکون شیئا قد قیل من قبل۔
و ایضا جھل روؤس الناس، و استفتاء الناس من لا علم لہ بالحدیث و لا بطریق التخریج، کما تری ذلک ظاھرا فی اکثر المتاخرین، و قد نبہ علیہ ابن الھمام وغیرہ، وفی ذلک الوقت یسمی غیر المجتھد فقیھا۔
و منھا ان اقبل اکثرھم علی التعمقات فی کل فن، فمنھم من زعم انہ یوسس علم اسماء الرجال و معرفۃ مراتب الجرح و التعدیل، ثم خرج من ذلک الی التاریخ قدیمہ و حدیثہ، و منھم من تفحص عن نوادر الاخبار و غرائبھا و ان دخلت فی حد الموضوع، و منھم من کثر القیل و القال فی اصول الفقہ، و استنبط کل لاصحابہ قواعد جدلیۃ، فاورد فاستقصی و اجاب و تفصی و عرف و قسم فحور، طول الکلام تارۃ و تارۃ اخری اختصر، و منھم من ذھب الی ھذا بفرض الصور المستبعدۃ التی من حقھا الا یتعرض لھا عاقل، و بفحص العمومات و الایماءات من کلام المخرجین فمن دونھم مما لا یرتضی استماعہ عالم و لا جاھل۔۔۔۔
فنشات بعدھم قرون علی التقلید الصرف لا یمیزون الحق من الباطل و لا الجدل عن استنباط، فالفقیہ یومئذ ھو الثرثار المتشدق الذی حفظ اقوال الفقھاء قویھا و ضعیفھا من غیر تمییز، و سردھا بشقشقۃ شدقیہ۔ و المحدث من عد الاحادیث صحیحھا و سقیما و ھذھا کھذ الاسمار بقوۃ لحییہ۔ و لا اقول: کان ذلک کلیا مطردا، فان اللہ طائفۃ من عبادہ لا یضرھم من خذلھم، و ھم حجۃ اللہ فی ارضہ و ان قلوا۔ و لم یات قرن بعد ذلک الا و ھو اکثر فتنۃ و اوفر تقلیدا و اشد انتزاعا للامانۃ من صدور الرجال، حتی اطمانوا بترک الخوض فی امر الدین و بان یقولا:  إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ (زخرف 43:22) ۔۔۔۔
ان ھذہ المذاھب الاربعۃ المدونۃ المحررۃ قد اجتمعت الامۃ، او من یعتد بہ منھا، علی جواز تقلیدھا الی یومنا ھذا، و فی ذلک من المصالح ما لا یخفی، لا سیما فی ھذہ الایام التی قصرت فیھا الھمم جدا، و اشربت النفوس الھوی و اعجب کل ذی رای برایہ۔ فما ذھب الیہ ابن حزم حیث قال: "التقلید حرام، لا یحل لاحد ان یاخذ قول احد غیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بلا برھان۔"۔۔۔۔۔
فان ھولاء الفقھا کلھم قد نھوا عن تقلید غیرھم، فقد خالفھم من قلدھم، و ایضا فما الذی جعل رجلا من ھولاء او من غیرھم اولی ان یقلد من عمر بن الخطاب او علی ابن ابی طالب او ابن مسعود او ابن عمر او ابن عباس او عائشۃ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنھم؟ فلو ساغ التقلید لکان کل واحد من ھولاء احق بان یتبع من غیرہ۔ انتھی۔۔۔۔
و فیمن یکون عامیا و یقلد رجلا من الفقھاء بعینہ و یری انہ یمتنع من مثلہ الخطا و ان ما قالہ ھو الصواب لبتۃ و اضمر فی قبلہ لا یترک تقلیدہ و ان ظھر الدلیل علی خلافہ، و ذلک ما رواہ الترمذی عن عدی بن حاتم انہ قال: " اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ (توبہ 9:31)" سمعتہ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، یقرا: قال: انھم لم یکونوا یعبدونھم، و لکنھم کانوا اذا احلوا لھم شیئا استحلوہ، و اذا حرموا علیھم شیئا حرموہ۔
و فیمن لا یجوز ان یستفتی الحنفی مثلا فقیھا شافعیا و بالعکس، و لا یجوز ان یقتدی الحنفی بامام شافعی مثلا، فان ھذا قد خالف اجماع القرون الاولی، و ناقض الصحابۃ و التابعین، ولیس محلہ۔(حجۃ اللہ البالغہ، باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ و بعدھا)
ان ادوار کے بعد کے لوگ ادھر ادھر جانے لگے۔ ان میں نئے نئے امور پیدا ہوئے۔ ان میں علم فقہ کے معاملے میں اختلاف پیدا ہوا۔ اس کی تفصیل غزالی کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ جب ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کا دور ختم ہوا تو حکومت ان لوگوں کو مل گئی جو احکام اور فتاوی کے معاملے میں نااہل اور کمزور تھے۔ یہ اس بات پر مجبور ہوئے کہ وہ (حکومت چلانے کے لئے) فقہاء سے مدد طلب کریں اور ہر طرح کی صورتحال میں انہیں اپنا ساتھی بنائیں۔
(اس دور میں) ایسے علماء موجود تھے جو پرانے طریق کار پر قائم تھے اور دین کی عزت برقرار رکھنے کو لازم سمجھتے تھے۔ جب انہیں (حکومتی معاملات میں) طلب کیا جاتا تو وہ ادھر ادھر ہو کر اس سے بچنے کی کوشش کرتے۔ (دنیا داری سے) اس اعراض کی وجہ سے اس دور کے علماء اور ائمہ کی عزت اور مرتبہ برقرار رہا۔ بعد میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو جاہ و منصب اور عزت حاصل کرنے کے لئے علم حاصل کرنے لگے۔ اس کے بعد فقہاء مطلوب کی بجائے طالب بنتے چلے گئے اور وہ لوگ جو بادشاہوں سے دور رہنے کی وجہ سے معزز تھے، اب ان کے گرد اکٹھا ہونے کی وجہ سے ذلت کا شکار ہو گئے سوائے اس کے کہ جسے اللہ نے (بچنے کی) توفیق دی۔
ان سے پہلے ایسے لوگ تھے جنہوں نے علم الکلام (عقائد کے فلسفے کا علم) میں تصانیف مرتب کیں۔ یہ لوگ اس علم سے متعلق مختلف آرا اکٹھا کرنے، ان کا حوالہ دینے، سوال جواب کرنے، اور بحث و مباحثے کا طریق کار طے کرنے میں ضرورت سے زیادہ مشغول ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں جو کام سینہ بہ سینہ ہو رہا تھا وہ منظر عام پر آنے لگا۔
بادشاہوں نے اپنی تفریح کی خاطر فقہ خاص طور پر امام ابوحنیفہ اور شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے مذہب سے متعلق بحث مباحثوں کو فنانس کر کے ان کی (حوصلہ افزائی کرنا شروع کر دی۔) لوگوں نے علم کلام اور دیگر علمی فنون کو چھوڑ دیا اور شافعی و حنفی مکاتب فکر کے اختلافی مسائل میں اسپیشلائز کرنے لگے۔ انہوں نے امام مالک، سفیان ثوری اور احمد بن حنبل رحمھم اللہ وغیرہ کے معاملے کو پس پشت ڈال دیا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ یہ سب اس لئے کر رہے ہیں کہ شریعت میں گہرے نکات کو تلاش کیا جائے، مختلف مکاتب فکر کی خامیوں کو بیان کیا جائے اور فتوی دینے کے علم کے اصولوں کو مرتب کیا جائے۔
وہ لوگ اس معاملے میں نتائج اخذ کرنے اور تصنیف و تالیف میں ضرورت سے زیادہ مشغول ہو گئے۔ اس میں انہوں نے بہت سی اقسام کے بحث و مباحثے اور تصنیفات مرتب کیں اور آج تک یہ اسی کام میں مشغول ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالی (کے دین کو نازل کرنے) کا مقصد یہی تھا جو کچھ بعد کے ادوار میں ہوتا رہا۔ بہرحال یہی ہوتا رہا۔
ان میں سے بعض وہ لوگ تھے جو (اندھی) تقلید پر مطمئن ہو گئے۔ لاشعوری طور پر تقلید چیونٹی کی رفتار سے ان کے سینوں میں سرایت کرتی چلی گئی۔ اس کا سبب فقہاء کا ایک دوسرے سے مقابلہ اور آپس میں (غیر ضروری) بحث مباحثہ کرنا تھا۔ جب بھی کوئی ایک شخص اپنا نقطہ نظر بیان کرتا تو دوسرا اس کے بالکل الٹ فتوی جاری کر کے اس کی تردید کرنے لگ جاتا۔ اس پر ان کا مناظرہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک کہ کوئی شخص قدیم علماء میں سے کسی کی واضح رائے سامنے نہ رکھ دیتا۔
(تقلیدی روش میں اضافے کی) ایک وجہ عدالتی ججوں کا ظلم و ستم بھی تھا۔ جب قاضیوں نے غیر منصفانہ فیصلے کرنا شروع کر دیے اور وہ (پیشہ ورانہ) دیانت داری چھوڑتے چلے گئے تو ان کے ان فیصلوں کو قبول نہ کیا جانے لگا جو اس سے پہلے کئے گئے عدالتی فیصلوں کے مطابق نہ تھے۔
(تقلیدی روش میں اضافے کی) ایک اور وجہ لوگوں کے مذہبی راہنماؤں کی جہالت بھی تھی۔ لوگ ان لوگوں سے فتوی طلب کرنے لگے جنہیں نہ تو حدیث کا علم تھا اور نہ ہی تخریج کے طریق کار (پہلے سے موجود قوانین کو نئی صورتحال پر منطبق کرنے کا طریق کار) کا علم تھا۔ یہ چیز آپ بعد کے دور کے لوگوں میں عام دیکھ سکتے ہیں۔ ابن ھمام وغیرہ نے اسی پر متنبہ کیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب غیر مجتہد لوگ، فقیہ کہلائے جانے لگے۔
ان میں سے وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے ہر فن میں (ضرورت سے زیادہ) گہرائی میں جانے کی کوشش کی۔ ان میں وہ بھی تھے جو اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کے فنون کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ قدیم اور جدید تاریخ (سے متعلق روایات) جمع کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے عجیب و غریب روایات (ہی کو اپنا مقصد بنا کر ان) کی چھان بین شروع کر دی اگرچہ وہ محض جعلی روایت ہی کیوں نہ ہو۔
ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اصول الفقہ میں (غیر ضروری) بحث و مباحثہ کرنے لگے۔ ہر ایک نے (اپنے اپنے مکتب فکر کے بڑے لوگوں کے نتائج فکر سے ان کے) طریق کار سے متعلق قواعد و ضوابط اخذ کرنا شروع کر دیے۔ یہ لوگ انہی معاملات کو اکٹھا کرنے، ان کی چھان بین کرنے، ان سے متعلق سوال و جواب تیار کرنے اور بے جا قسم بندی (Classification) کرنے میں مشغول ہو گئے۔ کبھی اس پر طویل بحثیں کرتے اور کبھی مختصر۔
ان میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے ایسی خیالی صورت حال فرض کرنا شروع کیں جنہیں اگر کوئی عقل مند سوچے تو اسے ان کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ محسوس ہو گا۔ وہ تخریج کے ماہرین کے طرز بیان سے ایسے ایسے نکات اور عمومی نتائج (Generalized Conclusions) اخذ کرنے لگ گئے جنہیں سن کر نہ تو کسی عالم اور نہ ہی جاہل کا ذہن مطمئن ہو سکتا ہے۔۔۔۔
اس کے بعد خالص تقلید کا دور شروع ہوا۔ اب لوگ نہ تو حق اور باطل میں فرق نہ کرنے لگے اور نہ ہی احکام اخذ کرنے اور ان پر بحث و مباحثہ کرنے میں کوئی تفریق کرنے لگے۔ اب فقیہ اس شخص کا نام ہو گیا جو زیادہ بولتا اور غیر محتاط طریقے سے بحث کرتا ہو، قدیم علماء کی مضبوط اور کمزور آراء میں کسی فرق کے بغیر یاد کر لے اور اسے پورے جوش و خروش کے ساتھ بیان کر دے۔ محدث اس شخص کو کہا جانے لگا جو صحیح و کمزور ہر طرح کی احادیث کو یاد کر لے اور انہیں بغیر سوچے سمجھے زور و شور سے اپنے جبڑوں کی طاقت سے بیان کرنے لگ جائے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہر شخص ایسا ہی ہو گیا تھا۔ اللہ کے بندوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے ایسے لوگوں کی جہالت سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ یہ لوگ اگرچہ تعداد میں کم ہوں لیکن زمین میں اللہ کی حجت ہوا کرتے ہیں۔
اس کے بعد کے زمانوں میں فتنوں کی کثرت ہو گئی، اندھی تقلید عام ہو گئی اور لوگوں کے سینوں سے دیانت داری نکلتی چلی گئی۔ لوگوں کو اس بات پر پورا اطمینان ہو گیا کہ دین کے امور میں غور و خوض کو ترک کر دینا چاہیے۔ (گویا یہ کیفیت پیدا ہو گئی کہ) وہ کہنے لگے، "ہم نے اپنے آبا ؤ اجداد کو اس طریقے پر پایا ہے اور ہم تو انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ (قرآن، سورۃ زخرف 43:22)
اس وقت سے لے کر آج تک ان چار مکاتب فکر (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) جن کے مسائل کو تحریر کر دیا گیا تھا، کے متعلق امت کا اتفاق رائے ہو گیا کہ جو جس مسلک کی چاہے، تقلید کرنا شروع کر دے۔ اس میں بھی کچھ ایسی مصلحتیں ہیں جو مخفی نہیں ہیں۔ اس دور میں جب عزم و ارادے میں بہت کمزوری واقع ہو گئی تھی، لوگ اپنی نفسانی خواہشات کے عادی ہو گئے تھے اور ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق ہی رائے پسند کرنے لگا (تو تقلید کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔)
ابن حزم نے (اس معاملے میں اختلاف کرتے ہوئے) کہا، "تقلید حرام ہے۔ کسی شخص کے لئے یہ بات درست نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے علاوہ کسی اور شخص کی بات کو بغیر دلیل کے قبول کرے۔۔۔۔جہاں تک ان فقہا (یعنی امام ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنی تقلید سے منع کیا تھا۔ جس نے ان کی تقلید کی کوشش کی تو انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ اگر ان میں سے ہی کسی شخص کی تقلید کرنا ضروری ہوتا تو پھر سیدنا عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن مسعود، ابن عمر، ابن عباس، یا ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم کیا اس بات کے زیادہ مستحق نہیں ہیں کہ ان ہی کی تقلید کر لی جائے؟ اگر تقلید جائز ہوتی تو کسی اور کی بجائے ان میں سے ایک کی تقلید کرنا زیادہ درست ہوتا۔" (ابن حزم کی بات ختم ہوئی۔)
ان میں سے بعض عام لوگ ہوتے ہیں جو فقہاء کی تقلید کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے غلطی نہیں ہو سکتی اور جو کچھ اس نے کہہ دیا وہ مطلقاً درست ہے۔ وہ کسی صورت اس عالم کی تقلید کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے اگرچہ اس کے خلاف واضح دلیل بھی موجود ہی کیوں نہ ہو۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے جیسا کہ امام ترمذی نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم سے یہ آیت سنی، "انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا شریک بنا لیا تھا۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا، "وہ ان علماء و مشائخ کی عبادت تو نہیں کرتے تھے لیکن جب وہ کسی چیز کو حلال کہتے تو یہ بھی اسے حلال قرار دے دیتے اور جب اسے حرام کہتے تو یہ بھی اسے حرام قرار دے دیا کرتے تھے۔
ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس بات کو جائز نہیں سمجھتے کہ کوئی حنفی کسی شافعی عالم سے سوال پوچھ لے یا کوئی شافعی کسی حنفی عالم سے سوال پوچھ لے۔ وہ حنفی کے لئے شافعی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو غلط سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات پہلی صدیوں کے اتفاق رائے اور صحابہ و تابعین کے نقطہ نظر کے خلاف ہے اور اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔           
اندھی تقلید کی یہ روش صرف عام لوگوں تک محدود نہ رہی بلکہ اس کا شکار وہ لوگ بھی ہو گئے جو عالم دین ہونے کے دعوے دار تھے۔ اس کے بعد یہ طرز عمل صرف مذہب تک ہی محدود نہ رہا۔ آہستہ آہستہ اس کے اثرات تمام علوم و فنون میں پھیلتے چلے گئے۔ نہ صرف فقہ کے ائمہ، بلکہ منطق، فلسفہ، تاریخ، جغرافیہ، کیمسٹری، بائیولوجی جیسے دنیاوی علوم کے قدیم مفکرین مقدس حیثیت اختیار کرتے چلے گئے۔ ان مفکرین سے اختلاف رائے رکھنا ایک جرم قرار پایا اور جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی، اسے بھی کافر و ملحد قرار دیا جانے لگا۔ مشہور فلسفیوں اور سائنسدانوں جیسے غزالی، ابن رشد اور ابن سینا کو کفر کے فتووں کا سامنا کرنا پڑا۔ خود شاہ ولی اللہ، جو کہ ایک بڑے صوفی عالم تھے، پر اس الزام کے تحت کفر کا فتوی لگا دیا گیا کہ انہوں نے فارسی میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کی جرأت کی تھی۔
          یہ روش آج تک برقرار ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذہبی مدارس کے سلیبس "درس نظامی" میں قرون وسطی کے فلسفے اور منطق کی کتب صدرا، میبذی، شمس البازغۃ، ایساغوجی، مرقاۃ، شرح تہذیب اور سلم العلوم کو عملی طور پر وہی تقدس حاصل رہا ہے جو بخاری و مسلم کو حاصل ہے۔
          اس صورتحال کا اگر عیسائی دنیا سے تقابل کیا جائے تو مسلمانوں کے ہاں یہ فرق ضرور رہا ہے کہ اکثریت کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والوں پر معاشرتی سطح پر تو جبر کیا گیا لیکن حکومتی سطح پر ان کے خلاف کاروائی بہت ہی کم کی گئی۔ اس کے برعکس عیسائی دنیا میں ایسے مفکرین کو انکوئزیشن کی عدالتوں کے ذریعے قانونی سزا دی جاتی تھی۔ اس کی تفصیل ہم اگلے باب میں بیان کریں گے۔
          پچھلے ڈیڑھ سو سال کے مسلمانوں کی فکر کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کورانہ تقلید کا یہ طرز زندگی اب رو بہ زوال ہو رہا ہے۔

استاذ و شاگرد اور مرشد و مرید کے نئے تعلقات
اسلام میں تزکیہ نفس یعنی شخصیت کی اصلاح اور تربیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن مجید انسانوں کے تزکیہ نفس ہی کو اپنے انبیاء و رسل کی دنیا میں آمد کا مقصد قرار دیتا ہے۔ مذہب کا بنیادی مقصد ہی تزکیہ نفس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی پوری سیرت کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمہ وقت اپنے اصحاب کا تزکیہ فرمایا کرتے تھے اور ان کی تعمیر شخصیت میں اہم ترین کردار ادا کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کا اپنے صحابہ سے تعلق "مرشد کی غلامی" پر مبنی نہ تھا بلکہ آپ کا رویہ اپنے صحابہ سے دوستانہ اور برادرانہ تھا۔ اسلام کے اس "تزکیہ نفس" کے تصور ہی کو بعد کے ادوار میں بہت سے لوگوں نے "اسلامی تصوف" کا نام دیا۔
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے بعد آپ کے صحابہ نے اگلی نسل کی تعمیر شخصیت میں اپنا کردار ادا کیا۔ صحابہ کے تربیت یافتہ تابعین نے یہی معاملہ اپنی اگلی نسل کے ساتھ کیا اور یہ سلسلہ چل نکلا۔ دور صحابہ میں تعمیر شخصیت کے لئے کسی ایک استاذ یا مرشد سے وابستہ ہونے کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔ لوگ ایک صحابی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے قرآن و حدیث سیکھتے۔ اس کے بعد دوسرے صحابی کے پاس جا کر ان سے بھی قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کر لیا کرتے تھے۔ قرآن و سنت کی اسی تعلیم کے ذریعے ان کا تزکیہ کیا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ تو دور دراز علاقوں سے سفر کر کے دوسرے شہروں کے علماء صحابہ و تابعین کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان صحابہ و تابعین کا آپس میں تعلق محبت، دوستی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہوا کرتا تھا۔
          مسلم حکومتوں نے معیشت بہتر بنانے پر پوری توجہ دی جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں دولت کی ریل پیل ہو گئی اور لوگ مال و دولت کی دوڑ میں دین سے غافل ہوتے چلے گئے۔ اس کے رد عمل میں مسلمانوں کے ہاں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ دنیا سے بے رغبتی اور دین سے قربت اختیار کی جائے اور اپنی شخصیتوں کا تزکیہ کیا جائے۔
          فتوحات کے نتیجے میں جو ممالک اسلامی سلطنت کا نتیجہ بنے وہاں ان قوموں کے اپنے تصوف یا صوفی ازم کی ایک مضبوط روایت پہلے سے موجود تھی۔ ایک طرف ایرانی تصوف تھا اور دوسری طرف مسیحی رہبانیت۔ کچھ عرصے میں ہی مسلمانوں کی تزکیہ نفس کی تحریک میں عجمی اثرات داخل ہونا شروع ہو گئے۔ ایران اور وسط ایشیا میں ایرانی تصوف، ترکی میں مسیحی رہبانیت اور ہندوستان میں ہندی تصوف نے تزکیہ نفس کی تحریک میں بے شمار ایسے اثرات داخل کر دیے جو کہ اسلام میں بالکل ہی اجنبی تھے۔ موجودہ دور میں ہمیں "تصوف" کے نام پر جو کچھ ملتا ہے، اس میں اگرچہ کچھ حصہ اسلام کے تزکیہ نفس کا ہے لیکن اس میں ایرانی، ہندوستانی اور ترکی تصوف کا عنصر اب غالب آ چکا ہے۔
          اس کتاب کا موضوع چونکہ تصوف نہیں بلکہ غلامی ہے، اس وجہ سے ہم یہاں مروجہ تصوف کے صرف اس پہلو کا جائزہ لیں گے جس نے نفسیاتی غلامی کو فروغ دیا۔ مروجہ تصوف کے تمام سلسلوں میں یہ عقیدہ متفقہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی "ایک ہی مرشد" کو اپنا راہنما بنائے، اس سے تربیت حاصل کرے اور اس کی نگرانی میں تصوف اور سلوک کی منازل طے کرے۔
          پیری مریدی کے اس تعلق کی تفصیل بیان کرنے کے لئے ہمیں تاریخ میں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے برصغیر میں تصوف کی روایت اتنی مضبوط ہے کہ ہم ان تفصیلات کو قریبی دور کے صوفی علماء کی کتب میں دیکھ سکتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ہاں دلائل کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہم جان بوجھ کر شخصیات کے ناموں اور حوالوں کو حذف کر رہے ہیں تاکہ کسی قسم کا تعصب قارئین کو متاثر نہ کر سکے۔ برصغیر کے ایک بہت بڑے صوفی عالم لکھتے ہیں:
بیعت ارادت یہ ہے کہ مرید اپنے ارادہ و اختیار ختم کر کے خود کو شیخ و مرشد ہادی برحق کے بالکل سپرد کر دے، اسے مطلقاً اپنا حاکم و متصرف جانے، اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے، کوئی قدم بغیر اس کی مرضی کے نہ رکھے۔ اس کے لئے مرشد کے بعض احکام، یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام، اگر اس کے نزدیک صحیح نہ بھی معلوم ہوں تو انہیں افعال خضر علیہ الصلوۃ والسلام کی مثل سمجھے، اپنی عقل کا قصور جانے، اس کی کسی بات پر دل میں اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے۔
انہی عالم کی خدمت میں کسی نے پیر کامل کے کچھ حقوق و آداب تحریر کر کے تصحیح کے لئے پیش کئے تو انہوں نے ان تمام حقوق کو صحیح اور قرآن عظیم، احادیث شریفہ، کلام علماء اور ارشادات اولیاء سے ثابت شدہ قرار دیا اور فرمایا کہ اکابر نے اس سے بھی زائد آداب لکھے ہیں۔ ان آداب کی تفصیل یہ ہے:
1.                یہ اعتقاد رکھے کہ میرا مطلب اسی مرشد سے حاصل ہو گا اور اگر دوسری طرف توجہ کرے گا تو مرشد کے فیوض و برکات سے محروم رہے گا۔
2.                 ہر طرح مرشد کا مطیع (فرمانبردار) ہو اور جان و مال سے اس کی خدمت کرے کیونکہ بغیر محبت پیر کے کچھ نہیں ہوتا اور محبت کی پہچان یہی ہے۔
3.                 مرشد جو کچھ کہے، اس کو فوراً بجا لائے اور بغیر اجازت اس کے فعل کی اقتدا (پیروی) نہ کرے۔ کیونکہ بعض اوقات وہ (یعنی مرشد) اپنے حال و مقام کے مناسب ایک کام کرتا ہے (مگر ہو سکتا ہے)، کہ مرید کو اس کا کرنا زہر قاتل ہے۔
4.                 جو ورد و وظیفہ مرشد تعلیم کرے، اس کو پڑھے اور تمام وظیفے چھوڑ دے۔ خواہ اس نے اپنی طرف سے پڑھنا شروع کیا یا کسی دوسرے نے بتایا ہو۔
5.                 مرشد کی موجودگی میں ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔
6.                 یہاں تک سوائے فرض و سنت کے نماز نفل اور کوئی وظیفہ اس کی اجازت کے بغیر نہ پڑھے۔
7.                 حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑا ہو کہ اس کا سایہ مرشد کے سایہ پر یا اس کے کپڑے پر پڑے۔
8.                 اس کے مصلے (یعنی جائے نماز) پر پاؤں نہ رکھے۔
9.                 مرشد کے برتنوں کو استعمال میں نہ لاوے۔
10.           اس کے سامنے نہ کھانا کھائے نہ پیئے اور نہ وضو کرے، ہاں اجازت کے بعد مضائقہ نہیں۔
11.           اس کے روبرو (یعنی سامنے) کسی (اور) سے بات نہ کرے بلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔
12.           جس جگہ مرشد بیٹھتا ہو اس طرف پیر نہ پھیلائے، اگرچہ سامنے نہ ہو۔
13.           اور اس طرف تھوکے بھی نہیں۔
14.           جو کچھ مرشد کہے اور کرے، اس پر اعتراض نہ کرے کیونکہ جو کچھ وہ (یعنی مرشد) کرتا ہے اور کہتا ہے (اس کی) اگر کوئی بات سمجھ نہ آوے تو حضرت موسی و خضر علیہما السلام کا قصہ یاد کر لے۔
15.           اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔
16.           اگر کوئی شبہ دل میں گزرے تو فوراً عرض کرے اور اگر وہ شبہ حل نہ ہو تو اپنے فہم (یعنی عقل کی کمی) کا نقصان سمجھے اور اگر مرشد اس کا جواب نہ دے تو جان لے کہ میں اس جواب کے لائق نہ تھا۔
17.           اپنے خواب میں جو کچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اور اگر اس کی تعبیر ذہن میں آوے تو اسے بھی عرض کرے۔
18.           بے ضرورت اور بے اذن (بغیر اجازت) مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔
19.           مرشد کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے اور بآواز اس سے بات نہ کرے اور بقدر ضرورت مختصر کلام کرے اور نہایت توجہ سے جواب کا منتظر رہے۔
20.            اور مرشد کے کلام کو دوسرے سے اس قدر بیان کرے جس قدر لوگ سمجھ سکیں اور جس بات کو یہ لوگ نہ سمجھیں گے تو اسے بیان نہ کرے۔
21.           مرشد کے کلام کو رد نہ کرے اگرچہ حق مرید ہی کی جانب ہو بلکہ اعتقاد کرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب (یعنی درستی) سے بہتر ہے۔
22.            کسی دوسرے کا سلام و پیام شیخ سے نہ کہے (یہ عام مریدین کے لئے ہے جس کو بارگاہ مرشد میں ابھی منصب عرض معروض و دیگران حاصل نہ ہو۔ ایسوں سے اگر کوئی سلام کے لئے عرض کرے تو عذر کرے کہ حضور میں مرشد کریم کی بارگاہ میں دوسرے کی بات عرض کرنے کے ابھی قابل نہیں)۔
23.            جو کچھ اس کا حال ہو، برا یا بھلا، اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے، اطلاع ہونے پر اس کی اصلاح کرے گا۔
24.            مرشد کے کشف پر اعتماد کر کے سکوت نہ کرے۔
25.            اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو۔ اگر کچھ پڑھنا ہو تو اس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔
26.            جو کچھ فیض باطنی اسے پہنچے، اسے مرشد کا طفیل سمجھے۔ اگر خواب میں یا مراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا، تب بھی یہ جانے کہ مرشد کا کوئی وظیفہ اس بزرگ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
مرشد کے حقوق مرید پر شمار سے افزوں ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہو کر رہے۔ اس کی رضا کو اللہ عزوجل کی رضا اور اس کی ناخوشی کو اللہ عزوجل کی ناخوشی جانے۔ اسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہتر سمجھے، اگر کوئی نعمت دوسرے سے ملے تو بھی اسے (اپنے) مرشد ہی کی عطا اور انہیں کی نظر کی توجہ کا صدقہ جانے۔ مال، اولاد، جان سب ان پر تصدق (وار دینے) کرنے کو تیار رہے۔
ان کی جو بات اپنی نظر میں خلاف شرعی بلکہ معاذ اللہ (گناہ) کبیرہ معلوم ہو، اس پر بھی نہ اعتراض کرے، نہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غلطی ہے۔۔۔۔۔۔جو وہ حکم دیں "کیوں" نہ کہے، دیر نہ کرے، سب کاموں میں اسے تقدیم (اولیت) دے۔۔۔۔۔جب ایسا ہو گا تو ہر وقت اللہ عزوجل و سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ و سلم و مشائخ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی مدد زندگی میں، نزع میں، قبر میں، حشر میں، میزان پر، پل صراط پر، حوض کوثر پر ہر جگہ اس کے ساتھ رہے گی۔
انہی عالم نے اپنی ایک اور کتاب میں  مرشد کامل کی جو شرائط بیان کی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مرشد اعلانیہ فاسق نہ ہو اور شریعت کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ یہ بات سمجھنا بہرحال مشکل ہے اوپر بیان کردہ ادب نمبر 14 ، 16 اور 21 پر عمل کرتے ہوئے یہ کیسے طے کیا جائے گا کہ مرشد کامل اعلانیہ فاسق ہیں یا نہیں۔
          اگر مرشد کوئی خلاف شریعت بات کریں گے بھی تو مرید پر لازم ہے کہ وہ اسے حضرت موسی و خضر علیہما السلام کے واقعے کی طرح سمجھ کر ان کی غلطی کو اپنی صحیح بات سے بہتر سمجھے۔ اس کے جواب میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مرشد کی یہ Assessment مرید بننے سے پہلے کرنا ضروری ہے، مرید بننے کے بعد تو بس "مردہ بدست زندہ" والا معاملہ ہونا چاہیے۔
          اس پر مزید ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرید کے اپنے مرشد کی بیعت میں داخل ہو جانے کے بعد کیا یہ اس مرید کی برکت ہو گی کہ مرشد صاحب آئندہ کے لئے ہر قسم کی گمراہی اور فسق و فجور سے محروم ہو جائیں گے۔ اگر انہیں گمراہیوں اور گناہوں سے بچانے میں مرید کا کوئی ہاتھ نہیں ہے تو پھر اس کے بیعت کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ایسی صورت میں موجودہ یا آئندہ کسی مرشد کی بھی Assessment کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اور آنکھیں بند کر کے جو پیر صاحب پہلے نظر آ جائیں، ان کی بیعت کر لینی چاہیے؟ اس سوال کا جواب ہمیں اہل تصوف کے کسی حلقے سے نہیں مل سکا ہے۔
          یہی وجہ ہے کہ عملی دنیا میں بہت سے ایسے پیروں، جنہیں شریعت کو اہمیت دینے والے صوفیاء بھی فاسق و فاجر سمجھتے ہوں گے، کی خلاف شریعت باتوں کو ان کے مرید حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے تشبیہ دے کر ان کی غلطی کو اپنی صحیح بات سے بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ان کے لئے اپنے ہی ائمہ کے بیان کردہ ان آداب کی روشنی میں ضروری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بہت سے ایسے پیر صاحبان جو اپنی مریدنیوں سے بدکاری کا کھلے عام ارتکاب بھی کرتے ہیں، ان کے مرید ان کے اس عمل کو بھی نعوذ باللہ حق بجانب سمجھتے ہیں۔ ان حقوق کے علاوہ فاضل مصنف مرشد کے مزید آداب بھی بیان فرماتے ہیں:
1.                مرشد کے حق باپ کے حق سے زائد ہیں۔
2.   باپ مٹی کے جسم کا باپ ہے اور پیر روح کا باپ ہے۔
3.   کوئی کام اس کے خلاف مرضی کرنا مرید کو جائز نہیں۔
4.   اس کے سامنے ہنسنا منع ہے۔
5.   اس کی بغیر اجازت بات کرنا منع ہے۔
6.   اس کی مجلس میں دوسرے کی طرف متوجہ ہونا منع ہے۔
7.   اس کی غیبت (یعنی عدم موجودگی) میں اس کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھنا منع ہے۔
8.   اس کی اولاد کی تعظیم فرض ہے اگرچہ بے جا حال پر ہوں۔
9.   اس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہے۔
10. اس کے بچھونے کی تعظیم فرض ہے۔
11. اس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہے۔
12. اس سے اپنا کوئی حال چھپانے کی اجازت نہیں، اپنے جان و مال کو اسی کا سمجھے۔
اہل تصوف کے نقطہ نظر کے مطابق "فنا فی اللہ" کی منزل تک پہنچنے کے لئے ایک مرید کو پہلے "فنا فی الشیخ" اور اس کے بعد "فنا فی الرسول" کے مقامات سے گزرنا ضروری ہے۔ فنا فی الشیخ کے مقام کے بارے میں ایک صوفی مصنف بیان کرتے ہیں:
اللہ عزوجل کا مقرب بننے کا اعلی و عظیم انعام پانے (یعنی فنا فی الرسول صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ و سلم ہو کر فنا فی اللہ عزوجل ہونے) کی پہلی سیڑھی فنا فی الشیخ ہے۔ یعنی سالک اپنے آپ کو مرشد سے الگ نہ سمجھے۔ بلکہ خیال کرے، کہ میرے جسم کی حرکت و سکون میرے مرشد ہی کے اختیار میں ہے۔ اور میرا مرشد ہی مجھے سمجھ سکتا ہے۔ اور ظاہر و باطن کی اصلاح کر سکتا ہے۔ اپنے طور طریقوں سے یہ ظاہر کرے، کہ اپنے وجود پر اس کا کوئی اختیار نہیں اور طرز عمل میں ریاکاری اور خود پسندی سے بالکل دور رہے۔ (مگر یہ یاد رہے) کہ فنا فی الشیخ کی پہلی منزل تصور مرشد کا مکمل قائم ہونا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ تصور مرشد مریدین کی ترقی کے لئے کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔۔۔۔
       یاد رہے! کہ جب تک مرید اپنے مرشد کی ذات میں اپنے آپ کو گم نہیں کر لے گا۔ آگے راستہ نہیں پا سکے گا۔ تصور مرشد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے مرید کو چاہیے کہ اپنے دل میں مرشد کی محبت کو خوب بڑھائے۔ جتنی محبت زیادہ ہو گی، اتنا ہی مرشد کے تصور میں آسانی ہو گی۔ مرشد کی ذات کو اپنی سوچ کا محور بنانے کی کوشش کرے، مرشد کامل کے ہر ہر انداز، ہر ہر عادت اور ان کے ہر عمل کو بغور دیکھے اور اسے خود بھی اپنانے کی کوشش کرے۔ ہر وقت اس کے گمان میں مرشد کا جلوہ سمایا رہے۔ چلے تو ان کے انداز میں، بیٹھے تو سوچے کہ میرے مرشد اس طرح بیٹھتے ہیں، کھانا کھائے تو ان کا انداز اپنائے۔ جہاں موقع ملے مرشد کی باتیں بیان کرے، ان کے ملفوظات شریف کی اشاعت کرے، ان سے ظاہر ہونے والی برکتوں کا خوب تذکرہ کرے! کہ یہ پیر و مرشد سے محبت کی دلیل ہے۔
تصور مرشد کا طریقہ وہ اپنے ائمہ کے حوالے سے اس طرح بیان کرتے ہیں:
خلوت (یعنی تنہائی) میں آوازوں سے دور، رو بہ مکان شیخ (یعنی مرشد کے گھر کی طرف منہ کر کے)، اور وصال ہو گیا ہو تو، جس طرف مزار شیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے۔ محض خاموشی، با ادب، بکمال خشوع و خضوع، صورت شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو ان کے حضور جانے، اور یہ خیال جمائے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم سے انوار و فیض، شیخ کے قلب پر فائض ہو رہے ہیں۔ اور میرا قلب، قلب شیخ کے نیچے، بحالت دریوزہ گری (یعنی گداگری) میں لگا ہوا ہے۔ اور اس میں سے، انوار و فیوض، ابل ابل کر، میرے دل میں آ رہے ہیں۔
       اس تصور کو بڑھائے، یہاں تک کہ جم جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے۔ اس کی انتہا پر، صورت شیخ (یعنی پیر و مرشد کا چہرہ مبارک) خود متمثل ہو کر مرید کے ساتھ رہے گی۔ اور ان شاء اللہ عزوجل (اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی عطا سے) ہر کام میں مدد کرے گی۔ اور اس راہ میں جو مشکل اسے پیش آئے گی اس کا حل بتائے گی۔
یہ تمام معاملات اہل تصوف کے کسی ایک مکتب فکر تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ یہ تصوف کی متفق علیہ روایت کا حصہ رہے ہیں۔ اہل تصوف کے دوسرے مکتب فکر کے ایک اہم صوفی بزرگ بیان فرماتے ہیں:
ملا علی قاری شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں۔ من اعترض علی شیخہ و نظر الیہ احتقارا فلا یفلح ابدا۔ جس نے اپنے شیخ پر اعتراض کیا اور اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا۔۔۔۔جملہ اہل اللہ کی دو رکعات ہماری لاکھ رکعات سے افضل ہیں۔ ان کا سونا ہمارے جاگنے سے بہتر ہے، ہمارے تہجد و اشراق و اوابین سے افضل ہے۔ حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ عارف کی دو رکعات غیر عارف کی لاکھ رکعات سے افضل ہیں۔ اللہ والوں پر اعتراض کرنے والے محروم رہتے ہیں۔
ایک اور جگہ بیان کرتے ہیں:
لیکن آہ! لوگوں نے اللہ والوں کو نہیں پہنچانا کہ اللہ والوں کی غلامی سے کیا ملتا ہے۔۔۔۔۔تو آج میں آپ لوگوں کو شارٹ کٹ راستہ بتاتا ہوں کہ دنیا میں جس ولی اللہ سے یا ان کے غلاموں سے مناسبت ہو، اس کی خدمت اور محبت کرو مگر اخلاص کے ساتھ۔ اللہ کے یہاں محبت وہی مقبول ہے جو اتباع کے ساتھ ہو، شیخ کے مشورے پر جان کی بازی لگا دو، اخلاص کے ساتھ، اللہ کے لئے۔
فاضل مصنف نے اس مقام پر اپنے واقعات بیان کیے ہیں جن میں وہ اپنے مرشد کے لئے محبت و اطاعت کی مثال قائم کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ان کے مرشد کے لئے تہجد کے وقت پانی گرم کرنے کا اہتمام نہیں تھا۔ فاضل مصنف نے رات کے اول وقت میں پانی گرم کروایا اور پانی کے اس برتن کو بند کر کے گدے میں لپیٹ کر ساری رات اپنے پیٹ کے نیچے دبا کر جاگتے رہے تاکہ یہ پانی گرم رہے۔
          اسی طرح وہ سخت گرمی میں تپتی لو کے دوران وہ شیخ کے وضو کے لئے لوہے کا گھڑا سر پر رکھ کر ایک میل سے پانی لاتے رہے۔ ان کے شیخ دوپہر ایک بجے ناشتہ کیا کرتے تھے۔ فاضل مصنف صبح فجر سے لے کر ایک بجے تک فاقے سے رہا کرتے تھے تاکہ کہیں ناشتہ مرشد سے پہلے نہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان کے مرشد نے انہیں ایسا کرنے سے روکا یا نہیں۔ اس محبت بھری غلامی کی ایسی بیسیوں مثالیں اہل تصوف کے تمام مکاتب فکر میں ملتی ہیں۔
          اوپر بیان کردہ دونوں  مکاتب فکر میں فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے مکتب فکر کے مطابق مرشد کے انتقال کے بعد اس کے فیض کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کسی دوسرے کو مرشد بنا لیا جائے۔ فاضل مصنف بیان فرماتے ہیں:
ایسے ہی شیخ کے انتقال کے بعد با جماع صوفیا و اولیاء دوسرا شیخ تلاش کرنا بھی واجب ہے۔۔۔ ایک آدمی کنویں میں گرے ہوئے ڈولوں کو اپنے ڈول سے نکال رہا ہے۔ کھینچنے والا اپنے ڈول میں رسی باندھ کر کنویں میں ڈالتا ہے اور گرے ہوئے ڈولوں کو اپنے ڈول میں پھنسا کر باہر کھینچ لیتا ہے کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اب اس کا ڈول کنویں میں گرے ہوئے ڈولوں کو نہیں نکال سکتا چاہے گرے ہوئے ڈول اسے سے کتنا چپٹے رہیں۔ ان کو نکالنے کے لئے دوسرا زندہ آدمی آئے اور وہ اپنا ڈول ڈالے تب نکل سکیں گے۔ شیخ کے انتقال کے بعد لاکھ اس کی قبر پر مراقبہ کرتے رہو اصلاح نہیں ہو سکتی۔ لہذا مولانا رومی نے فرمایا کہ زندہ شیخ تلاش کرو کیونکہ انتقال کے بعد اس کا روحانی تعلق ختم ہو گیا۔
یہ تمام معاملات محض کتابوں ہی میں لکھے نہیں ہوئے بلکہ صوفی سلسلوں میں ان پر پورے دل و جان سے عمل بھی کیا جاتا ہے۔ جو صاحب مشاہدہ کرنا چاہیں وہ اہل تصوف کی کسی بھی مجلس میں شریک ہو کر اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
          اہل تصوف کے ان اقتباسات کو پیش کرنے کے بعد یہ بیان کرنا کچھ بہت زیادہ ضروری نہیں ہے کہ تصوف سے وابستگی کے نتیجے میں رضا کارانہ غلامی (Voluntary Slavery) کی وہ شکل وجود میں آتی ہے، جس کے سامنے قانونی غلامی کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔ مریدین اپنے مرشد کے سامنے خود کو حقیر ترین سمجھتے ہوئے ان کے ہر ہر اشارے پر عمل کرنے کو جس طرح تیار رہتے ہیں، اس کی مثال ہمیں قانونی غلامی یا جاگیردارانہ نظام میں نہیں مل سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مریدین خود کو "سگ فلاں مرشد" یعنی " فلاں مرشد کا کتا" کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
          تصوف کی یہ تحریک مسلم معاشروں میں کوئی اجنبی تحریک نہ رہی تھی۔ قرون وسطی میں یہ تحریک مسلم معاشروں پر غیر معمولی طور پر اثر انداز ہوئی۔ پچھلے ایک ہزار برس میں ترکی سے لے کر برصغیر تک بلا مبالغہ اربوں مسلمان اس تحریک کا حصہ بنے اور یہ سلسلہ آج تک پوری قوت اور شان و شوکت کے ساتھ جاری ہے۔ تصوف کی اس تحریک میں عام طور پر کم ذہین یا اوسط ذہانت کے افراد شامل ہوئے لیکن استثنائی طور پر یہ تحریک مسلم تاریخ کے بعض ذہین ترین افراد جیسے امام غزالی اور شاہ ولی اللہ کو بھی متاثر کر کے اپنا حصہ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

خلاصہ بحث
پچھلے ایک ہزار برس سے مسلم دنیا کا سوچنے سمجھنے اور لکھنے بولنے والا ذہین طبقہ تقلید اور عوام الناس کا طبقہ تصوف کے ذریعے نفسیاتی غلامی میں مبتلا رہا ہے۔ مسلم دنیا کی پوری تاریخ میں ایسے افراد کی شدید کمی رہی ہے جنہوں نے طے شدہ دائرے سے ہٹ کر سوچنے (Thinking outside the box)  کی کوشش کی ہو۔ بعض جلیل القدر اہل علم نے کسی حد تک روایتی طریقے سے ہٹ کر غور و فکر کی کوشش کی لیکن ان حضرات کی فکر کو بالعموم مسلم معاشروں میں قبول عام حاصل نہیں ہوا۔
          ان سب حضرات کو اپنی زندگیوں میں زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے بہت سے حضرات کو کافر و مرتد قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا گیا۔ ایک طبقہ غیر روایتی طرز فکر سے متاثر ہوا بھی لیکن اس کا اثر مسلم معاشروں میں بالعموم محدود رہا ہے۔ ایسا ضرور رہا ہے کہ عیسائی دنیا کے برعکس ہمارے ہاں "آزادی فکر" کو قانون اور ڈنڈے کی طاقت سے نہیں بلکہ زیادہ تر شخصیتوں کی طاقت سے محدود کیا گیا ہے۔
          اس تفصیل سے پوری طرح یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ مسلم دنیا میں غلامی کے خاتمے کی کوئی تحریک شروع کیوں نہ ہو سکی؟ جب معاشرے کے ذہین ترین طبقے سے لے کر عام آدمی تک ہر شخص نفسیاتی غلامی میں نہ صرف مبتلا ہو بلکہ اس غلامی کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہو تو یہ خیال کسے سوجھ سکتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلامی کے خاتمے کی بات کرنے کی جرأت کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں اگرچہ غلامی کے خاتمے کی کمزور اندرونی تحریکیں موجود رہی ہیں لیکن فیصلہ کن طریقے پر غلامی کا خاتمہ اہل مغرب کے دباؤ پر ہی کیا گیا ہے۔
٭٭٭


باب 3: موجودہ دور میں نفسیاتی غلامی


موجودہ دور میں مسلم معاشرے بالعموم نفسیاتی غلامی کے سخت شکنجے میں مبتلا ہیں۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ نفسیاتی غلامی، غلامی کی ایسی صورت ہے جس میں قانونی اور معاشرتی طور پر تو کوئی شخص بالکل آزاد ہوتا ہے لیکن وہ کسی شخصیت کی متاثر ہو کر یا متاثر کر دیے جانے کے نتیجے میں اس کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اب اس شخص کی اپنی کوئی سوچ اور فکر باقی نہیں رہ جاتی۔ اس کے نظریات وہی ہو جاتے ہیں جو اس کے فکری آقا کے نظریات ہیں۔ وہ اپنے ذہن کی بجائے اپنے آقا کے ذہن سے سوچنے لگتا ہے۔ اس کا آقا اسے جنت میں لے جائے یا جہنم میں، اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
          انسان اپنی فطرت میں آزاد پیدا ہوا ہے۔ یہ آزاد رہنا چاہتا ہے لیکن بعض طالع آزما افراد انہیں اپنی ذہنی غلامی میں دھکیل دیتے ہیں۔ بعض انسان فطرتاً حساس ہوتے ہیں اور کسی کا اثر قبول کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ذہنی غلام بنانے والوں کا خاص شکار ہوتے ہیں۔ ذہنی غلام بنانے والے ایسے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جن کے نتیجے میں ایک اچھا بھلا ہوشیار شخص آہستہ آہستہ ان کے نرغے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔
          ضروری نہیں کہ غلام بنانے والے تمام افراد انہیں شعوری طور پر غلام بنانا چاہتے ہوں۔ ان میں سے بعض لوگ دین اور انسانیت سے مخلص بھی ہوتے ہیں لیکن وہ لاشعوری طور پر دوسروں کو اپنا ذہنی غلام بناتے چلے جاتے ہیں۔

فکری غلام بنائے جانے کا طریق کار
انسانوں کو ذہنی غلامی میں دھکیلنے کے جو طریق ہائے کار استعمال کئے جاتے ہیں، وہ وہی ہیں جو دنیا بھر میں برین واشنگ کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ ان طریق ہائے کو تفصیل سے بیان کر دیا جائے تاکہ قارئین اس طریق کار سے اچھی طرح واقف ہو جائیں کہ ان کے راہنما ان کی کس طرح سے برین واشنگ کیا کرتے ہیں۔
          یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ تمام کے تمام راہنما ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض راہنما لوگوں کی برین واشنگ کرتے ہیں اور بعض اسے برا سمجھتے ہیں۔ جو لوگ برین واشنگ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، وہ کسی مخصوص مکتب فکر، مسلک، فرقے، قوم یا مذہب تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ہر فرقے اور ہر قوم میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو برین واشنگ کے ذریعے لوگوں کو اپنا فکری غلام بنانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
          یہ تفصیلات بیان کرنے کا مقصد کسی مخصوص گروہ یا لیڈر کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ یہ کام ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ جس گروہ سے وابستہ ہیں، اس میں ان تفصیلات کا عملی مشاہدہ خود کریں اور دیکھیں کہ انہیں بے وقوف کس طرح بنایا جاتا ہے۔ فکری غلام بنائے جانے کے طریق ہائے کار کو ہم ان عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں:
·      مذہبی راہنما کو مقدس بنائے جانے کی مہم
·      مقربین خاص کی ٹیم کی تیاری
·      مقدس مشن کی تخلیق
·      اپنے پیغام کو خدا کا پیغام بنا کر پیش کرنے کا عمل
·      عقل کے استعمال کی حوصلہ شکنی
·      اختلاف رائے کی مخالفت
   "مخالفین" کی تخلیق
·      برین واشنگ کا طریق کار
·      برین واشنگ کے لئے مذہب کا استعمال
·      نفسیاتی غلامی کی آئندہ نسلوں کو منتقلی

مذہبی راہنما کو مقدس بنائے جانے کی مہم
نفسیاتی غلامی کا آغاز اس طریقے سے کیا جاتا ہے کہ کسی ایک شخص کو غیر معمولی اہمیت دے دی جاتی تھی۔ یہ شخص عموماً کسی حلقے، جماعت، مدرسے، تنظیم یا فرقے کا سربراہ یا روحانی پیشوا ہوتا ہے۔ لازمی طور پر یہ جس شخص کو راہنما کا درجہ دیا جاتا ہے، اس کی شخصیت میں بذات خود کچھ اچھی صفات پائی جاتی ہیں۔ ان صفات کے علاوہ اس شخص کے ساتھ کچھ اور صفات بھی منسوب کر دی جاتی ہیں جو اس میں موجود نہیں ہوتیں۔
          لوگوں کو راہنما سے متاثر کرنے کے لئے ایک پراپیگنڈا مشینری کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ جو لوگ اس سے متاثر ہونے لگیں، انہیں سختی سے تلقین کی جاتی ہے کہ وہ صرف اسی راہنما کی تقاریر سنیں، اسی کی کتب پڑھیں اور کسی اور جانب دیکھیں بھی نہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ حضرت جی کے فیض سے محروم رہیں گے۔ لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ "حق" وہی ہے جو ہمارے اس راہنما نے دریافت کر لیا ہے اور اس کے علاوہ اور جو بھی لوگ ہیں، اگرچہ وہ کتنے بھی اچھے ہیں، لیکن ان میں ہمارے راہنما جیسی بات نہیں ہے۔
          بعض حلقے جو شخصیت پرستی سے بچنے کا دعوی کرتے ہیں، ان کے ہاں عام طور پر ایک شخصیت کی بجائے متعدد شخصیات کی پروموشن کی مہم چلائی جاتی ہے۔ ایسے حلقوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ اگر دو راہنماؤں میں اختلاف پیدا ہو جائے تو ہر راہنما اپنے اپنے پیروکاروں کو لے کر جماعت کو تقسیم کر دینے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم گروہوں میں ایک سے زائد شخصیات پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔
          اپنی شخصیت کو مزید موثر بنانے کے لئے مذہبی راہنما یہ کام کرتے ہیں کہ وہ نہایت ہی عجز و انکسار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوی کرتے ہیں کہ "میں تو کچھ بھی نہیں۔ یہ سب میرے فلاں استاذ، شیخ، مرشد کا فیض ہے۔" بسا اوقات یہ حضرات قدیم زمانے کی کسی بڑی شخصیت جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم، کسی صحابی یا بڑے عالم سے اپنے تعلق کا دعوی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو فلاں ہستی کے خوشہ چین ہیں اور انہی کے نظریات کو پیش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض حضرات تو اس ہستی سے بذریعہ کشف براہ راست تعلق کا دعوی کرتے ہیں اور جو نسبتاً معقولیت پسند (Rational) ہوتے ہیں، وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ میں، اس ہستی کی کتابوں سے یہ نظریات حاصل کر کے پیش کر رہا ہوں۔

مقربین خاص کی ٹیم کی تیاری
کسی راہنما کے لئے یہ ایک مشکل کام ہوتا ہے کہ وہ اجتماعات میں اپنی تعریف خود کرے اگرچہ بعض راہنما یہ بھی کر گزرتے ہیں۔ اس وجہ سے شخصیت کو مقدس بنانے کی مہم کے لئے ایک باقاعدہ پروپیگنڈا ٹیم تیار کی جاتی ہے۔ اس ٹیم کے اراکین کو راہنما کے "مقرب خاص" یا قریبی ساتھی کا نام دیا جاتا ہے۔
          اس ٹیم کے اراکین عام اجتماعات، تنظیمی اجلاسوں، نجی محفلوں غرض ہر جگہ حضرت جی کے تقوی، شخصی اوصاف اور کرامات کا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ایسے واقعات سنائے جاتے ہیں کہ جس سے لوگ جھوم اٹھیں۔ جو لوگ اس شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں، وہ بذات خود اس مہم کا حصہ بنتے ہوئے انہی واقعات اور کرامات کو دوسروں تک سینہ بہ سینہ منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس ہستی کی کرامات کو تواتر کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔
          راہنما کی ہستی کو بالعموم عوام سے دور کر کے، اس کے اور عام لوگوں کے درمیان تقدس کا ایک ہالہ پیدا کر دیا جاتا ہے۔ اس راہنما سے رابطہ کرنا کسی عام مرید کے لئے ممکن نہیں رہتا بلکہ یہ صرف "مقربین خاص" کے حلقے سے توسط سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ مقربین خاص کا یہ گروہ راہنما کی بھی راہنمائی کرتے ہوئے اسے بتاتا ہے کہ اسے کس طریقے سے عوام کے سامنے پیش ہونا ہے۔ کس کے سامنے کس بات کا خیال رکھنا ہے۔ کس کے سامنے کون سی بات کرنی ہے اور کون سی نہیں کرنی۔ راہنما کی ذاتی زندگی کو عام لوگوں کی نظر سے مکمل طور پر اوجھل کر دیا جاتا ہے۔
          راہنما سے وابستہ عجیب و غریب اور محیر العقول کرامتیں تخلیق کی جاتی ہیں۔ اگر کبھی کوئی واقعہ محض اتفاق سے بھی پیش آ جائے تو مقربین خاص کی ٹیم اسے بھی اپنے راہنما کی کرامت قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور پراپیگنڈا کرتے ہیں۔
          یہ حضرات جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبیوں کو بھی یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ جب چاہے معجزہ دکھا دیں۔ ان کے معاملے میں بھی اللہ تعالی اپنی مرضی سے ہی معجزے کو ان کے ہاتھ پر ظاہر کرتا تھا۔ اس معجزے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کو بتا دیا جائے کہ یہ واقعتاً خدا کا سچا رسول ہے۔ ختم نبوت کے بعد اب کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ اللہ کے کسی نیک بندے کے ساتھ کبھی کوئی محیر العقول واقعہ پیش آ جائے لیکن ان کرامتوں کا پیش کرنا اس نیک بندے کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ جب چاہے، کوئی بٹن دبا کر کرامت دکھا دے۔

مذہبی راہنماؤں کا ظاہری مشن اور خفیہ ایجنڈا
راہنما بالعموم کسی نہایت ہی اعلی مقصد جیسے دعوت دین، عوام کی فلاح و بہبود وغیرہ کو اپنا مشن قرار دے کر اپنے پیروکاروں کو متحرک کرتا ہے۔ بہت مرتبہ وہ راہنما خود کبھی تو حقیقی اور کبھی مصنوعی عجز و انکسار کے ساتھ یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اس مشن کا نہایت ہی ادنی خادم ہے اور اس مشن کے لئے اگر اس کی جان بھی چلے جائے تو اسے پرواہ نہیں۔
          اس ظاہری مشن سے ہٹ کر ایک "خفیہ مشن" بھی ہوتا ہے۔ اس خفیہ مشن کو نہ تو کہیں تحریر کیا جاتا ہے اور نہ ہی بیان کیا جاتا ہے لیکن تحریک سے تعلق رکھنے والے تمام کارکن اس خفیہ مشن کے بارے میں علم رکھتے ہیں اور اسی کے حصول کی جدوجہد میں شریک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سی تحریکوں میں ظاہری مشن "اسلام کی تبلیغ" ہوتا ہے لیکن اس کے پردے میں "اپنے نظریات اور مسلک کی تبلیغ" حقیقی مشن کے طور پر موجود ہوتی ہے۔ عقل رکھنے والا کوئی بھی شخص ان تحریکوں کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزار کر اس خفیہ مشن سے واقفیت حاصل کر سکتا ہے۔

اپنے پیغام کو خدا کا پیغام بنا کر پیش کرنے کا عمل
اس کے بعد وہ راہنما قرآن مجید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی احادیث اور قدیم بزرگوں کے حوالے پیش کر کر کے بتاتا ہے کہ جو بات میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں، وہ خدا کا پیغام ہے۔

علم دین پر اجارہ داری
راہنما کو یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس کے دعوی کو پرکھنے کے لئے قرآن و سنت کا مطالعہ کرنا شروع کر دے۔ اس وجہ سے علم کا رجحان رکھنے والے افراد کے لئے بطور خاص یہ تاکید کی جاتی ہے کہ خبردار! قرآن کا مطالعہ نہ کرنا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ قرآن کا مطالعہ کرنے کے لئے اکیس علوم پر کامل عبور حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر تم نے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو پھر صرف اور صرف اپنے ہی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کسی عالم کی زیر نگرانی ایسا کرو۔
          جب وہ شخص ایسا کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اسی راہنما کے پیروکار وہ عالم، قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر اس راہنما کے عقائد و نظریات کے مطابق ڈھال کر اسے تعلیم دیتے ہیں۔ اس موضوع پر ہم اپنی بات کرنے کی بجائے پچھلی صدی کے ایک بڑے عالم اور مورخ کے الفاظ ہی نقل کر رہے ہیں:
اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے ارشاد الہی 'بلغ ما انزل الیک' کی تعمیل میں تبلیغ اسلام اور تبلیغ حق کو ہرگز ہرگز مخصوص حلقوں تک ہی محدود نہیں رکھا اور ادنی سے ادنی قابلیت کے لوگوں پر بھی تعلیم اسلام کا دروازہ اسی طرح کھلا رہا جیسا کہ اعلی سے اعلی قابلیت کے لوگوں پر کھلا ہوا تھا۔ اسلام نے حقیقی مساوات قائم کر کے سب کے لئے یکساں تقرب الہی کے راستے کھول دیے۔ بنی اسرائیل نے اپنے آپ کو دوسری اقوام سے نسبی طور پر بھی برتر و بہتر قرار دیا۔ ہندوستان میں برہمنوں نے مذہب کو اپنی ملکیت بنا کر دوسری اقوام کو عبادات اور اعمال مذہبی میں اپنا دست نگر اور محکوم رکھنے کا نہایت زبردست انتظام کیا۔
       ہندوستان کے مسلمان جو اپنی بہت سے باتوں میں ہندوستان اور ہندوؤں کا اثر قبول کر چکے ہیں، وہ اثر مجلسوں، میلوں، شادی غمی کی تقریبوں میں بہت نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ نفس پرست ائمہ مساجد اور زر طلب معلمین مکاتب بھی ہندوستان کے برہمنوں کی بہت سی باتوں کے چرا لینے میں کامیاب ہو گئے۔
کھانے پر فاتحہ دینا اور امام مسجد کے سوا فاتحہ خوانی دوسرے کا حق نہ ہونا۔۔۔۔مردہ کی بخشش کے لئے امام صاحب کی بیش قرار اجرت کے ساتھ قرآن خوانی، قبر پر بیٹھ کر مردہ کو جمعہ سپرد کرنا اور اس کا معاوضہ۔۔۔۔۔مسجد میں گھی کا چراغ اور اس کے ساتھ پیسے، مسجد کا طاق بھرنا وغیرہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں مراسم ہیں جو برہمنوں کی آمدنیوں کو دیکھ دیکھ کر انہی کی طرح اسلامی لباس میں ہندوستانی مسلمانوں کے نام نہاد ائمہ مساجد اور معلمین مکاتب نے مسلمانوں میں رواج دے کر برہمنوں کی طرح اپنی پروہتائی قائم کر لی اور ان حافظوں، میاں صاحبوں اور پیر جیوں کے بغیر یہ بدعیہ مراسم ادا ہی نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ ضرب المثل ہے کہ "ملا ہی کی ماری حلال ہوتی ہے۔"
یہ رنگ دیکھ کر بلند مرتبہ علماء و فقہا بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر برہمنوں کی ڈگر پر چل نکلے اور علم دین کو اپنی ملکیت بنانے پر آمادہ نظر آنے لگے۔ سب سے زیادہ وجوب تقلید شخصی سے امداد لی گئی۔ پھر اکابر پرستی کو لازم قرار دیا گیا۔ پھر فتووں میں یہ التزام کیا گیا کہ کنز و قدوری و شامی و ہدایہ وغیرہ کتب کے حوالے عربی الفاظ میں درج کر کے ان کے ترجمے ساتھ ہی درج کرنے سے اعراض کیا گیا کہ عام مسلمان ان فقہی کتابوں کے الفاظ کا مطلب نہ سمجھ سکیں اور ان کو چون و چرا کا موقع نہ مل سکے۔
اگر کوئی شخص کسی مسئلہ میں افہام تفہیم کے درپے ہو تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ تم نے علم کس سے پڑھا ہے اور تمہارے پاس سند ہے یا نہیں۔ اگر مولویت کی سند نہیں رکھتا تو وہ قابل خطاب نہیں حالانکہ ان سند یافتہ جاہلوں کی جہالت سے بڑھ کر نقصان رساں جہالت کا نمونہ تلاش کرنا آسان نہیں۔ ان لوگوں کی سب سے زیادہ اذیت رساں اور ملعون کوشش یہ ہے کہ یہ فہم قرآن سے لوگوں کو دور و مہجور رکھنا چاہتے اور علوم قرآن کی اشاعت کو اپنی موت سمجھتے ہیں۔
اب سے قریباً دو سو سال (اور اب تین سو سال) پیشتر اسی ہندوستان میں مولویوں نے حضرت شاہ ولی اللہ کے خلاف کفر کا فتوی صرف اس لئے صادر کیا تھا کہ انہوں نے قرآن مجید کا فارسی زبان میں کیوں ترجمہ کیا اور عام لوگوں کو مطالب قرآنیہ کے سمجھنے کا موقع کیوں بہم پہنچایا۔ اب وہ حالت تو بحمد اللہ باقی نہیں رہی لیکن اب اسی کی مانند دوسری چیز یہ موجود ہے کہ ترجمہ میں تقلید کیوں نہیں کی گئی ۔۔۔۔ تدبر فی القرآن اور تفسیر بالرائے میں فرق نہ کر کے نام نہاد مولویوں نے تدبر فی القرآن کو گناہ عظیم قرار دے رکھا ہے۔ (اکبر شاہ خان نجیب آبادی، معیار العلماء)

عقل کے استعمال کی حوصلہ شکنی
عقل کے استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس نظریے کو بار بار بیان کیا جاتا ہے کہ شیطان اپنی عقل کے باعث گمراہ ہوا۔ اگر تم نے عقل کو استعمال کیا تو تم بھی گمراہ ہو جاؤ گے۔ یہ حضرات شاید یہ نہیں جانتے کہ شیطان عقل کو استعمال کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے تکبر کے جذبے کے باعث گمراہ ہوا۔ اگر وہ عقل استعمال کر لیتا تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں مردود نہ ٹھہرتا۔
          عجیب بات یہ ہے کہ یہ حضرات اپنے پیروکاروں کو تو عقل کے استعمال سے روکتے ہیں مگر خود ہر معاملے میں اپنی عقل کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پیروکار بھی اگر اپنی عقل کو ان حضرات کی پیروی میں ان ہی کے خفیہ مشن کے لئے استعمال کیا جائے تو اس شخص کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی عقل کو اس راہنما کے نظریات کا کسی دوسرے راہنما کے نظریات سے تقابل کرنے کے لئے استعمال کرے تو اس پر گمراہی سے لے کر کفر، ارتداد اور الحاد کے فتوے عائد کر دیے جاتے ہیں۔

اختلاف رائے کی مخالفت
پیروکاروں کے ذہنوں میں یہ بات اتاری جاتی ہے کہ راہنما سے اختلاف رائے کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ جو شخص ایسا کرے گا، وہ جہنم کا سزاوار ہو گا۔ اختلاف رائے کو اتحاد کا مخالف قرار دے کر اس پر مکمل پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ راہنما کی آراء کو مقدس قرار دے دیا جاتا ہے اور اس سے معمولی سا اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی شخص ذرا سا بھی اختلاف رائے کر لے تو اس کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اسے نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ راہنما کی ناراضی سے لے کر حلقے سے اخراج کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ بعض لوگوں کو تو حلقے کے بھائیوں کی جانب سے جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

"مخالفین" کی تخلیق
ان حضرات کی دعوت کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ اس میں کسی مخصوص شخص، گروہ، فرقے، ملک، یا مذہب کو مصنوعی طور پر اپنا ہدف بنا لیا جاتا ہے اور اس کے خلاف تقریروں اور تحریروں کی صورت میں الفاظ کا ایک طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ جو الزام کچھ حقیقت کے حامل ہوتے ہیں، ان میں زبردست مبالغہ کر کے ان کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے الزامات بھی عائد کئے جاتے ہیں جو حقیقتاً کوئی وجود نہیں رکھتے۔ اس عمل کو "فلاں کے خلاف جہاد" کا مقدس نام دے دیا جاتا ہے۔

برین واشنگ کا عملی نظام
راہنما کی شخصیت کے بے پناہ تقدس اور نظریاتی فریم ورک کو رگوں میں اتارنے سے پیروکاروں کی برین واشنگ کر کے انہیں راہنما کا مکمل غلام بنا لیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے جو طریق ہائے کار اختیار کئے جاتے ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے:

تربیتی نشستیں
راہنما سے وابستہ افراد کی مخصوص تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ نشستیں بند ماحول میں کی جاتی ہیں۔ ان نشستوں میں خصوصی طور پر باہر کے افراد، جو اس راہنما سے متاثر نہیں ہیں، کو شریک ہونے سے روکا جاتا ہے۔
          ان نشستوں میں فلموں کے سیٹ کی طرز پر ایک تصوراتی (Fantastic) سا ماحول تخلیق کیا جاتا ہے جو پیروکاروں پر غیر معمولی لاشعوری اثر پیدا کرتا ہے۔ مختلف علامتوں (Symbols) کو بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ سلوگنز کے بینر ہر طرف لٹکائے جاتے ہیں۔ شرکاء کے سونے، جاگنے، اٹھنے، بیٹھنے، کھانے، پینے اور حتی کہ استنجا کرنے کو نشستوں کے منتظمین کنٹرول کرتے ہیں اور یہ سارا عمل "ضبط نفس" یا ڈسپلن کے نام پر ہوتا ہے۔

خاص مبلغین کے بیانات
تربیتی نشستوں اور ان کے علاوہ دیگر مواقع پر راہنما کے مقربین خاص کے حلقے سے تعلق رکھنے والے خاص مبلغین کی تقاریر کروائی جاتی ہیں جن میں ظاہری و خفیہ مشن کی تفصیلات، راہنما کی شخصیت سے متعلق پروپیگنڈا اور قدیم لٹریچر کے حوالوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
          ان تقاریر کی خاص بات یہ ہے کہ سینیئر ساتھیوں کو پہلے سے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ راہنماؤں کے بیانات کے دوران، خواہ مصنوعی طور پر ہی سہی، "سبحان اللہ، سبحان اللہ" کہہ کر یہ مظاہرہ کریں کہ ان کی بات کا زبردست اثر ہو رہا ہے۔ یہ چیز نئے آنے والے افراد پر زبردست اثر پیدا کرتی ہے۔ بہت سے مذہبی حلقوں میں اگرچہ موسیقی کے آلات کو گناہ سمجھا جاتا ہے لیکن نثری تقریر کے ساتھ ساتھ بغیر آلات کے شعر و نغمہ کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ موسیقی کا اثر جذبات پر زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

مکمل معلومات کی عدم فراہمی
اس تحریک کے مختلف اجتماعات اور نشستوں میں عام طور پر حقائق کی بجائے فینٹسی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں بلکہ ادھوری بات بتائی جاتی ہے جو تصویر کا صرف ایک رخ ہی پیش کرتی ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ کبھی بھی نہیں دکھایا جاتا جو تحریک کے اصل مقاصد سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ عقلی و منطقی دلائل اگر بیان بھی کئے جاتے ہیں تو ان پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا بلکہ اس کی بجائے واقعات کے بیان کر کے اور ان کی ویڈیوز دکھا کر ان کی اندھی تقلید پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

سماجی ری انفورسمنٹ (Social Reinforcement) اور جذباتی بلیک میل
حلقے یا تحریک کے پیروکاروں میں زبردست محبت و انس پیدا کیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے ان سب کارکنوں کو چھوٹے چھوٹے خاندانوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو ایک ہی بڑے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں۔ سادہ لوح پیروکار ایک دوسرے کی حقیقی برادرانہ محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ چالاک لیڈر مصنوعی طور پر ان سے محبت کا ناٹک رچاتے ہیں۔
          اگر کوئی پیروکار تحریک کے اصل مقاصد (ظاہری مشن نہیں) سے انحراف کی غلطی کر بیٹھتا ہے تو اسے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی تو اس کی غلطی پر سخت افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، کبھی اس کے جرم پر ٹسوے بہائے جاتے ہیں اور کبھی اس کا سماجی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔
          بعض غلطیوں پر حضرت جی ناراض ہو جاتے ہیں اور ان کے پیروکار، اس ناراضی کے بھیانک نتائج کا ایسا پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پیروکار راہنما کے قدموں میں گر جاتا ہے، گڑگڑاتا ہے اور ندامت کے آنسوؤں سے اپنی غلطی کو دھونے کی کوشش کرتا ہے۔ شروع شروع میں مقربین خاص غلطی کر کے معافی مانگنے کا ڈرامہ رچا کر لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہیں اور اس کے بعد سچے پیروکار پورے خلوص سے یہ سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔
          انتہائی صورتوں میں ایسے شخص کو برادری سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ تمام سزائیں پیروکاروں کے لئے جذباتی طور پر اتنے بڑے دھچکے کا باعث ہوتی ہیں کہ پیروکاروں کی اکثریت ان سے عبرت پکڑتے ہوئے معمولی سے انحراف کا خیال بھی دل میں نہیں لاتی۔

عقل کی بجائے جذباتیت کو اپیل
عام طور پر راہنما، اپنے پیروکاروں کی عقل کی بجائے ان کے جذبات کو اپیل کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو عقلی طور پر اپنی بات پر قائل کرنے کے لئے دلائل کی ضرورت ہوتی ہے جو ان حضرات کا کمزور پہلو ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ بڑا آسان کام ہوتا ہے کہ کسی کے مخصوص جذبات جن میں غیرت، غصہ، محبت، عقیدت، سیکس وغیرہ شامل ہیں، انہیں بھڑکا کر اس پیروکار کو اپنے مکمل کنٹرول میں لے لیا جائے۔
          پیروکار کے جذبے کو تحریک دینے کے لئے مختلف مناظروں یا میدانوں میں اپنی فتوحات اور مخالف کی شکست کے واقعات کو نمک مرچ لگا کر بیان کیا جاتا ہے۔ یہ کام مقربین خاص کا حلقہ زبردست انداز میں اور راہنما عجز و انکسار کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔

اہم لوگوں سے خصوصی ملاقات
ہر گروہ میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو دینی یا دنیاوی اعتبار سے اہم مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی بات کو پہنچانے کی عام طور پر اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زیر تربیت افراد کی ایسے اہم لوگوں سے خصوصی ملاقات کروائی جاتی ہے۔
          یہ ملاقات گو کہ ون ٹو ون ہوتی ہے لیکن دوستانہ سطح پر نہیں ہو رہی ہوتی۔ اس اہم شخصیت کی اوقات اور حیثیت کے مطابق اس کا ایک امیج پہلے ہی زیر تربیت فرد کے ذہن میں اتارا جا چکا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ شخص ملاقات سے پہلے ہی اس شخصیت سے مرعوب اور متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملاقاتیں بہت موثر ثابت ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص زیادہ اہمیت کا حامل ہو جائے تو اس کی بڑے راہنما سے خصوصی ملاقات کا اہتمام بھی کر دیا جاتا ہے اور اسے اس شخص کی خدمات کا انعام قرار دے دیا جاتا ہے۔

وفاداری کا امتحان
مختلف درجے کے راہنما کبھی کبھار اپنے پیروکاروں کی وفاداری کا امتحان بھی لے لیتے ہیں۔ اس امتحان میں انہیں یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ واقعی اپنے راہنما کے وفادار ہیں۔ یہ امتحان چھوٹی موٹی قربانیوں سے لے کر جان کی قربانی پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہٹلر نے اپنے فوجی دستوں سے جان کی قربانی لے کر ان کا امتحان لیا تھا۔ ہمارے مذہبی راہنماؤں کے ہاں بھی اس کی مثالیں کم نہیں ہیں۔ موجودہ دور میں خود کش حملے اسی قربانی کی انتہائی صورت ہے۔

نام کی تبدیلی
اپنے پیروکاروں کو نفسیاتی طور پر اپنا مطیع بنانے کے لئے بعض راہنما ان کے اچھے اچھے نام تک تبدیل کر دیتے ہیں۔ نفسیات کو اس طریقے سے مسخ کر دیا جاتا ہے کہ وہ پیروکار بھی فخر سے اپنا نیا نام دوستوں کو بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ میرے حضرت کا مجھ پر کرم ہے کہ انہوں نے نام بدلنے کے لئے میرا انتخاب فرمایا۔ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ پیروکار کی پرانی شخصیت کو ختم کر کے ایک بالکل نئی شخصیت پیدا کی جائے جو راہنما کی مکمل نفسیاتی غلام ہو۔
          اس موقع پر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے بعض صحابہ کے نام تبدیل فرمائے تھے تو اس کی کیا وجہ تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے کبھی کسی صحابی کا اچھا نام تبدیل نہیں کیا۔ استثنائی طور پر چند ایک واقعات ایسے ملتے ہیں جن میں کسی شخص کے نام میں شرک یا کوئی اور اخلاقی برائی پائی جاتی تھی۔ اس صورت میں آپ نے اسے اپنا نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تاکہ نام سے اس اخلاقی برائی یا شرک کے پہلو کو دور کیا جا سکے۔

سوالات کی حوصلہ شکنی
بہت سے گروہوں میں زیادہ سوالات پوچھنے اور بول چال پر پابندی بھی عائد کر دی جاتی ہے۔ زیادہ سوال کرنے کو پسند تو شاید ہی کسی حلقے میں کیا جاتا ہو۔ جس سوال کا جواب راہنما نہ دے سکتے ہوں، اس سوال کو "احمقانہ" قرار دے دیا جاتا ہے اور جس سوال کا جواب ان کے پاس موجود ہو، اس کا بڑھ چڑھ کر جواب دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو سوچنے کی زیادہ عادت نہ پڑے اور عقل کو استعمال کر کے ان کے پیروکار کہیں کسی اور ہی طرف نہ نکل جائیں۔


معاشرے سے قطع تعلق
لوگوں کو عام طور پر ان کے پرانے ماحول، جیسے والدین، اساتذہ، دوستوں اور رشتے داروں سے کاٹ کر نئے حلقے کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے پرانے رشتوں کی اہمیت کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور نئے رشتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس گروہ سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے کسی فرد سے معمولی سا تعلق رکھنا "گناہ کبیرہ" قرار دے دیا جاتا ہے۔ بعض گروہوں میں تو مختلف نقطہ نظر رکھنے والے کو سلام کرنے یا اس سے مصافحہ کرنے کی صورت میں نکاح ٹوٹ جانے کا فتوی تک دے دیا جاتا ہے۔

مخصوص وضع قطع
بعض گروہوں میں یہ طریق کار اختیار کیا جاتا ہے کہ پیروکاروں کو ایک مخصوص وضع قطع اختیار کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ گروہ معاشرے کے باقی حصوں سے الگ ہو کر ایک مخصوص شناخت حاصل کر لے۔ اس وضع قطع کو سنت ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور اس سے مختلف کسی بھی سنت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
          اگر کوئی پیروکار ایک مرتبہ اس وضع قطع کو اختیار کر لے تو پھر اس سے چھٹکارا اسے موت کی صورت میں ہی مل سکتا ہے۔ بلکہ بعض حلقوں میں تو یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ اسے کفن بھی اسی وضع قطع میں دیا جائے۔ اگر کوئی پیروکار اس وضع قطع کی خلاف ورزی کرے تو سماجی ری انفورسمنٹ کے طریقوں سے اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اس صورت کو دوبارہ اختیار کرے۔

برین واشنگ کے لئے مذہب کا استعمال
بہت سے مذہبی راہنما لوگوں کو اپنا نفسیاتی غلام بنانے کے لئے اکثر اوقات مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ یہ طریق کار صرف کسی مخصوص مذہب تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے راہنما اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کرتے۔ مسلمانوں کے راہنما لوگوں کو فکری غلام بنانے کے لئے مذہب کو جن طریقوں سے استعمال کرتے ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے:

خدا اور بندے کے درمیان واسطے کا تصور
یہ تصور دنیا کے بہت سے مذاہب میں موجود ہے کہ بندہ، اپنے خدا سے براہ راست رابطہ نہیں کر سکتا بلکہ ایسا کرنے کے لئے اسے کسی اللہ والے کا سہارا لینا بہت ضروری ہے۔ اگرچہ قرآن مجید اور صحیح احادیث میں واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالی کے حضور دعا کر سکتا ہے، گڑگڑا کر توبہ کر سکتا ہے، اپنی حاجات کو صرف اور صرف اسی سے مانگ سکتا ہے لیکن اس سے قطع نظر بہت سے گروہوں میں اس نظریے کو پروان چڑھایا گیا کہ ایسا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ کسی اللہ والے کا دامن پکڑنا ضروری ہے۔
          یہ تصور عام کیا جاتا ہے کہ قرآن و سنت اگرچہ اہم تو ہیں مگر کافی نہیں ہیں۔ اللہ تعالی کا حقیقی فیضان اس کے علاوہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم سے لے کر آج تک بزرگان دین کی زنجیر کے سینوں میں سے منتقل ہوتا ہوا آ رہا ہے۔ آج کے دور میں ان بزرگوں میں سب سے بہتر "ہمارے حضرت" ہیں۔ ان کی بیعت کر کے ان کی غلامی کا طوق پہن لیجیے تو یہ فیضان حاصل ہو جائے گا۔

اطاعت امیر کی احادیث کا استعمال
بہت سے مذہبی راہنما لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرنے کے لئے اطاعت امیر سے متعلق احادیث کو ان کے سیاق و سباق سے ہٹا کر اپنے لئے استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے مسلم امت کو انارکی اور لاقانونیت سے بچانے کے لئے حکومت کی اطاعت کا حکم دیا ہے بشرطیکہ وہ صریحاً کفر کا ارتکاب نہ کرے۔ یہ احادیث ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔
          عہد صحابہ و تابعین میں لفظ "امیر" یا "اولو الامر" سے مراد ہمیشہ حکمران ہی سمجھا جاتا ہے اور لفظ "جماعت" کا معنی حکومت ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت راشدہ کے آخری دور میں مسلمانوں کے ہاں جو دو فرقے پیدا ہوئے، ان میں سے چھوٹے فرقے کا نام اھل التشیع (یعنی گروہ کے پیروکار) اور بڑے فرقے کا نام اھل السنۃ و الجماعۃ (یعنی سنت اور حکومت کے پیروکار) رکھا گیا۔
          جب سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح کے نتیجے میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور مضبوط حکومت قائم ہوئی تو اس کا نام "عام الجماعۃ" یعنی جماعت کا سال رکھا گیا۔ ہم یہاں صحیح مسلم کی صرف دو حدیث دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث میں لفظ "جماعت" اور دوسری میں لفظ "سلطان" آیا ہے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جماعت کا معنی حکومت ہی ہوتا ہے۔
حدثنا حسن بن الربيع. حدثنا حماد بن زيد عن الجعد، أبي عثمان، عن أبي رجاء، عن ابن عباس، يرويه. قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم (من رأى من أميره شيئا يكرهه، فليصبر. فإنه من فارق الجماعة شبرا، فمات، فميتة جاهلية). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4790)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے فرمایا، "جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناگوار گزرے، وہ اس پر صبر کرے (یعنی بغاوت نہ کرے۔) جو شخص بھی جماعت سے بالشت بھر بھی نکلے گا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔"
وحدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا عبدالوارث. حدثنا الجعد. حدثنا أبو رجاء العطاردي عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه و سلم. قال (من كره من أميره شيئا فليصبر عليه. فإنه ليس أحد من الناس خرج من السلطان شبرا، فمات عليه، إلا مات ميتة جاهلية). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4791)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے فرمایا، "جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناگوار گزرے، وہ اس پر صبر کرے (یعنی بغاوت نہ کرے۔) جو شخص بھی حکمران کی اطاعت سے بالشت بھر بھی نکلے گا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔"

جنت اور جہنم کے عقیدے کا استعمال
قرآن مجید نے جنت کا مستحق ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو اللہ، اس کے رسولوں اور آخرت پر ایمان لائیں اور اپنی عملی زندگی میں اخلاقی اصولوں اور ان کی بنیاد پر نازل کردہ شریعت کی پیروی کریں۔ مذہبی راہنما اس نظریے کو اپنے حق میں اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ اس کے بعد اس راہنما کی اطاعت کی صورت میں جنت اور اس کی نافرمانی کی صورت میں جہنم لازم ہو جاتی ہے۔ "میں گناہ گار ہوں" کے نظریے کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ وہ گناہ گار ہیں۔ اگر وہ نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت جی سے وابستہ ہو جائیں ورنہ ان کا مقدر جہنم ہو گی۔

اعتراف اور توبہ
کیتھولک عیسائیوں میں مذہبی راہنما کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اس کے توسط سے توبہ کرنے کا تصور موجود ہے۔ اسلام میں اعتراف کا کوئی تصور تو موجود نہیں ہے لیکن بعض مذہبی راہنماؤں نے اجتماعی توبہ کی صورت میں یہ سلسلہ مسلمانوں کے ہاں بھی جاری کر رکھا ہے۔
          بہت سے مذہبی راہنما اپنے پیروکاروں میں عجز و انکسار پیدا کر کے اس عاجزی کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں۔ پیروکاروں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ وہ گناہ گار ہیں۔ اس وجہ سے انہیں توبہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی یونہی کسی کو معاف کر دے، اس کا امکان کافی کم ہے۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ حضرت جی کے توسط سے توبہ کی جائے۔ اس طرح سے اس کی قبولیت کا امکان زیادہ ہے۔ پیروکاروں کے اجتماعات میں ان سے کہا جاتا ہے کہ راہنما توبہ کروائیں گے، ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کو یاد کر کے اشک باری اور توبہ کرے۔
          اس اشک باری اور توبہ کے نتیجے میں شرکاء کو یقینی طور پر روحانی لطف اور پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ اس روحانی لطف کو اللہ تعالی سے تعلق قائم کرنے کی بجائے راہنما کی ذات سے تعلق مضبوط کرنے کے لئے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ پیروکاروں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ پاکیزگی انہیں اس راہنما کی بدولت حاصل ہوئی ہے اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اگلی محفل میں آنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تنہائی میں اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرے تو شاید اسے اس محفل کی نسبت زیادہ ہی پاکیزگی حاصل ہو جائے گی۔

روحانی تجربات
دنیا کے بہت سے مذاہب میں لوگ راہنما کے زیر تربیت روحانی تجربات حاصل کرتے ہیں جن میں کشف، اچھے خواب، انبیاء کرام علیہم السلام کا دیدار، فرشتوں کا نزول، مقدس مقامات کی روحانی زیارت وغیرہ شامل ہے۔ اس کے لئے یہ راہنما مخصوص ماحول میں مختلف نفسی علوم جیسے ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے ذریعے پیروکاروں کے ذہن پر اثر انداز ہو کر انہیں روحانی تجربات سے گزارتے ہیں جن میں مقدس مقامات جیسے خانہ کعبہ یا روضہ انور کا دیدار شامل ہوتا ہے۔
          ایک صاحب کو میں نے خود دیکھا کہ وہ اپنے پیروکاروں میں مقدس مقامات کی زیارت کی اتنی تڑپ پیدا کر دیتے تھے کہ ان پیروکاروں کے تصور میں چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے مقدس مقامات کی شبیہ رہتی تھی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ انہیں کبھی کبھار خواب میں یہی مقدس مقامات نظر آ جاتے۔ اس زیارت کو یہ لوگ "حضرت جی کا فیض" قرار دیا کرتے تھے۔ جس مرید کے ذہن پر ان کا اثر قائم ہو جائے، وہ خوش نصیب قرار پاتا ہے اور باقی افراد "دیدار کی بھیک کب بٹے گی؟" کی تڑپ لئے اگلی محفل کا انتظار کرتے ہیں۔

نفسیاتی غلامی کی اگلی نسلوں کو منتقلی
صرف پیروکاروں ہی کو غلام بنا لینے پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بھی راہنما کی محفلوں میں لایا کریں۔ اس طریقے سے برین واشنگ کا یہ عمل کچی ذہن کے بچوں پر بھی دوہرایا جاتا ہے۔
          نفسیاتی غلامی کو فروغ دینے کے اس عمل کی بہت سی تفصیلات ابھی باقی ہیں لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ تفصیلات بیان کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ لوگ اپنے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کے مکر و فریب سے آگاہ ہو کر ان سے بچ سکیں۔


باب 4: نفسیاتی غلامی کا سد باب


ہمارے ہاں نفسیاتی غلامی اس درجے میں پھیلی ہوئی ہے کہ مذہبی افراد کا کوئی طبقہ اور کوئی فرقہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں کسی راہنما کو 'حضرت' کہا جاتا ہے، کہیں وہ 'شیخ' کہلاتا ہے، کہیں اسے 'استاذ' قرار دیا جاتا ہے اور کہیں اس کا لقب 'پیر' ہے۔ جو لوگ دوسروں کو کسی کی نفسیاتی غلامی سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اس کے لئے بالعموم مناظرے اور بحث مباحثے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
          ہماری ناقص رائے میں نفسیاتی غلامی کو ختم کرنے کا یہ طریقہ نہایت ہی غیر موثر اور بے کار ہے۔ اس طریقے سے کسی شخص کو نفسیاتی غلامی سے نکالا تو نہیں جا سکتا البتہ اسے اپنی روش پر مضبوط ضرور کیا جا سکتا ہے۔ بحث مباحثے کے ذریعے صرف اور صرف اس شخص کو تبدیل کیا جا سکتا ہے جو کسی دوسرے کا فکری غلام نہ ہو بلکہ صرف اور صرف دلائل کی بنیاد پر اپنا نقطہ نظر تشکیل دیتا ہو۔ جو شخص کسی کا فکری غلام بن چکا ہو، اسے اس گڑھے سے نکالنے کے لئے ایک طویل اور صبر آزما عمل کی ضرورت ہے جسے علم نفسیات میں "ڈی کنڈیشنگ (Deconditioning)" کہا جاتا ہے۔
          نفسیاتی غلامی کے سد باب کے لئے جن بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے، انہیں ہم ان عنوانات کے تحت بیان کر سکتے ہیں:
·      آزادی فکر کی تحریک
·      مخلص اور مفاد پرست راہنماؤں میں فرق کرنے کی صلاحیت
·      دینی تعلیم میں درکار اصلاحات
·      ڈی کنڈیشنگ کا عمل
ان میں سے پہلے تین اقدامات کا تعلق اس بات سے ہے کہ جو افراد ابھی نفسیاتی غلامی سے محفوظ ہیں، انہیں مستقبل میں کسی بھی راہنما کا فکری غلام بننے سے روکا جائے۔ چوتھے اقدام کا تعلق ان افراد سے ہے جو کسی شخصیت کی نفسیاتی غلامی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔

آزادی فکر کی تحریک
ہر قسم کی غلامی کے مکمل خاتمے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشروں میں آزادی فکر کو ایک مثبت قدر بنا کر پیش کریں۔ ہمارے ہاں سیکولر طبقات پہلے ہی فکری آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ ان کے ہاں یہ تحریک علی وجہ البصیرت نہیں بلکہ مغرب کی اندھی تقلید پر مشتمل ہے۔ موجودہ دور میں مذہبی طبقے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ صحابہ و تابعین کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے فکری آزادی کی تحریک شروع کریں۔ جیسا کہ ہم پچھلے باب میں بیان کر چکے ہیں کہ اسلام میں آزادی فکر کا تصور، مغربی تصور سے کافی مختلف ہے۔

اسلامی اور مغربی آزادی فکر میں فرق
موجودہ مغرب کی آزادی فکر کا نظریہ بنیادی طور پر ایک "بے خدا" کائنات کے تصور کی بنیاد پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں کسی چیز کے "مقدس" ہونے کا تصور موجود نہیں ہے۔ اسلامی نظریے کے مطابق یہ کائنات ایک خدا نے تخلیق کی ہے۔ ہمارے لئے اس خدا کی کتب، اس کی عطا کردہ اخلاقیات اور اسی کی عطا کردہ شریعت مقدس ہیں۔ شریعت کے مقدس ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس کے بارے میں غور و فکر کرنا ہی ممنوع ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں شریعت پر غور و فکر اور اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے۔
          اللہ تعالی کی دی ہوئی شریعت بہت مختصر اور آسان ہے۔ اس پر کوئی اعتراض کرنا انسانی عقل کے لئے سرے سے ممکن ہی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں مستشرقین اور مسلمانوں کے سیکولر ذہن رکھنے والے افراد کی جانب سے شریعت پر جو عقلی اعتراضات کئے جاتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی شریعت پر نہیں بلکہ انسانوں کے کام پر کئے گئے ہیں۔
          علم فقہ، جسے اسلامی قانون بھی کہا جاتا ہے، پورے کا پورا اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت نہیں ہے۔ یہ خدائی شریعت کو سمجھنے کی انسانی کاوشوں کے نتیجے میں وجود پذیر ہوا جس میں بہرحال غلطی کا امکان موجود ہے۔ میں نے خاص طور پر ان اعتراضات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے اور ان کی تفصیل انشاء اللہ میں کسی اور کتاب میں بیان کروں گا۔ جن نتائج پر میں پہنچا ہوں، مختصراً ان کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی فقہی قانون پر عقلی اعتراض صرف اور صرف اسی صورت میں کئے جا سکتے ہیں جب:
·      کوئی قانون قرآن و سنت کی بجائے کسی مجتہد کے ذاتی اجتہاد پر مبنی ہو۔
·      قرآن مجید کی کسی آیت کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر یا کسی حدیث کو اس کے موقع و محل اور سیاق و سباق سے ہٹا کر سمجھنے کے نتیجے میں کوئی قانون اخذ کیا گیا ہو۔
·      شریعت کے کسی حکم پر غلط طور پر قیاس کرتے ہوئے کوئی قانون اخذ کر لیا جائے۔
·      رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی حدیث کی بجائے فقہاء کی آراء کو ترجیح دیتے ہوئے قانون سازی کی جائے۔
اسلامی شریعت کے بارے میں بھی قرآن مجید مسلمانوں کو غور و فکر کرتے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ مختصر سی شریعت کے اس دائرے کے علاوہ دنیا جہان کے موضوعات سے متعلق مسلمانوں کو مکمل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں اپنی فکر کے گھوڑوں کو دوڑائیں۔ قرآن مجید نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ بار بار اسی کی تلقین کرتا ہے۔
          مغرب کی "آزادی اظہار" اور اسلام کی عطا کردہ "آزادی اظہار" میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام کی آزادی اظہار کا تصور اخلاقی حدود کا پابند ہے۔ آزادی کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ ہر شخص اس حد تک آزاد ہے کہ وہ دوسرے کی آزادی میں مداخلت نہ کرے۔ اہل مغرب کے ہاں آزادی اظہار کے نام پر دوسروں کی آزادی میں مداخلت کی جاتی ہے جس کا اظہار ان کے ہاں دوسرے مذاہب اور ان کی مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسلام میں کسی بھی فکر پر علمی تنقید اور جرح و تعدیل کی اجازت تو ہے لیکن کسی مذہب یا فلسفے اور اس کی مقدس شخصیات سے متعلق کسی بدتمیزی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
          مغرب کی آزادی اظہار نے خاص طور پر مرد و زن کے تعلق سے متعلق بے جا افراط سے کام لیا ہے جس کے مظاہر ان کے ہاں ساحلوں پر ملتے ہیں۔ اس قسم کی آزادی اظہار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ معاملہ اب ان کا پرائیویٹ معاملہ نہیں بلکہ دوسروں کی آزادی میں مداخلت بن جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سنگاپور کے عظیم راہنما 'لی کو آن یو' انے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ "اگر کوئی مرد و زن سر عام ازدواجی تعلق قائم کریں تو یہ ان کا پرائیویٹ معاملہ نہیں رہتا بلکہ پبلک معاملہ بن جاتا ہے۔" ملحدین کی آزادی اظہار کی اپروچ کی غلطی بنیادی طور پر یہ ہے کہ وہ اس کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے دوسروں کی آزادی میں مداخلت کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔

آزادی فکر کے لئے درکار عملی اقدامات
موجودہ نفسیاتی غلامی کے خاتمے اور آئندہ اس کے احیاء سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے معاشروں میں آزادی فکر کے اسلامی تصور کو فروغ دینا ہو گا۔ اس ضمن میں جو اصلاحات درکار ہیں، وہ بنیادی طور پر یہ ہیں:
·      آزادی فکر کو ایک بڑی قدر (Value) کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔
·      مذہبی راہنما، سماجی مفکرین اور میڈیا آزادی فکر کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
·      پورے شعور کے ساتھ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ نفسیاتی غلامی ایک برائی ہے جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ نفسیاتی غلامی کے خاتمے کے لئے معاشرے کا ذہین طبقہ متحرک ہو جائے۔
·      نئی نسل کی تربیت اس طریقے سے کی جائے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرنے والی بنے۔ اس کے لئے تعلیمی نظام میں زبردست اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔
اپنے وسائل کی حد تک ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ جن قارئین نے میری دیگر تحریروں کا مطالعہ کیا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ میں اپنی ہر تحریر میں قارئین کی نفسیاتی آزادی کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ یہی کوشش اگر دوسرے لوگ بھی کرنا شروع کر دیں تو نفسیاتی و فکری آزادی کا یہ عمل تیز ہوتا چلا جائے گا۔

مخلص اور مفاد پرست مذہبی راہنماؤں میں فرق کرنے کی صلاحیت
سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام الناس میں مخلص اور مفاد پرست مذہبی راہنماؤں میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ اس ضمن میں ہمارے ہاں مذہبی حلقوں کی جانب سے بہت ہی کم لکھا اور بولا گیا ہے۔ بعض سیکولر ذہن کے افراد نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے مقاصد مختلف ہونے کی وجہ سے عام لوگوں میں ان کا اثر بہت ہی محدود رہا ہے۔
          یہاں پر ہم مخلص اور مفاد پرست مذہبی راہنماؤں میں فرق کرنے کے کچھ طریقے بیان کر رہے ہیں۔ جو احباب عام لوگوں کو نفسیاتی غلامی سے نجات دلانے میں دلچسپی محسوس کرتے ہوں، ان سے گذارش ہے کہ اگر وہ ان طریقوں کو درست سمجھتے ہوں تو انہیں جس طریقے سے بھی ممکن ہو، دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
          مخلص اور غیر مخلص مذہبی راہنماؤں میں بنیادی فرق یہی ہے کہ مفاد پرست راہنماؤں کے برعکس مخلص راہنما کسی پیروکار کا کبھی جذباتی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی استحصال نہیں کرتے بلکہ اپنی زندگی کو انہیں فائدہ پہنچانے کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
·      مفاد پرست راہنما ایک ظاہری اور ایک خفیہ ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ان کی کاوشوں کا محور خفیہ ایجنڈا ہوا کرتا ہے۔ مخلص راہنما کے تمام مقاصد واضح اور متعین ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں پایا جاتا۔ وہ جو بات کرتے ہیں، صاف انداز میں کرتے ہیں اور ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔
·      مفاد پرست راہنما اپنے پیروکاروں کو اپنا فکری غلام بنانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جن کی تفصیل ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس مخلص راہنما کبھی کسی شخص کو اپنا غلام بنانے کے لئے کوئی ہتھکنڈا استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ انہیں آزادی فکر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنما خود یا ان کے مقربین کی ٹیم، اپنے پیروکاروں کو فکری غلام بنانے کے لئے ہمیشہ انہیں یہی تلقین کرتے ہیں کہ وہ کسی مختلف نقطہ نظر رکھنے والے عالم کی تقریر نہ سنیں اور نہ ہی ان کی تحریریں پڑھیں ورنہ وہ گمراہ ہو جائیں گے۔ مخلص راہنما اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ لوگوں کو دونوں نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا چاہیے اور جو نقطہ نظر انہیں قرآن و سنت کے قریب لگے، اسے اختیار کر لینا چاہیے۔
·      مفاد پرست راہنما اپنی بات کو خدا کے حکم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس سے اختلاف کرنے کو گمراہی، کفر اور الحاد قرار دیتے ہیں۔ مخلص راہنما اپنی بات کو، اگرچہ وہ واقعتاً خدا کا حکم ہی ہو، اس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ "میری سمجھ کے مطابق خدا کا حکم یہی ہے۔ اگر آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کیجیے۔"
·      مفاد پرست راہنماؤں کے گرد مفاد پرست "مقربین خاص" کی ایک ٹیم ہوتی ہے جو ہر ہر موقع پر اپنے شیخ کی پروموشن میں مشغول ہوتی ہے۔ مخلص راہنماؤں کے گرد ایسی کوئی ٹیم موجود نہیں ہوتی۔ ان کے شاگرد اور پیروکار بھی انہیں بس "ایک انسان اور ایک عالم" سمجھتے ہیں اور ان کی شخصیت کو کبھی حق و باطل کا معیار قرار نہیں دیتے۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے گرد مقربین خاص کو حلقہ انہیں عوام سے دور رکھتا ہے۔ ان کی شخصیت کے گرد پردے ڈال کر انہیں پراسرار بنا دیا جاتا ہے۔ مخلص راہنماؤں کے گرد ایسا کوئی حلقہ نہیں ہوتا اور یہ حضرات عوام سے گھل مل کر رہتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنما بعض اوقات کسی بڑی شخصیت کی روح سے اپنے روحانی تعلق کا دعوی کرتے ہیں جبکہ مخلص راہنما ایسا کوئی دعوی نہیں کرتے۔ وہ بڑی شخصیات سے صرف حسی ذرائع جیسے ان کی کتب کے مطالعے وغیرہ کے ذریعے استفادہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کی کرامتوں کو بھرپور پراپیگنڈا کیا جاتا ہے لیکن مخلص راہنماؤں کے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے حلقوں میں عقل کی بہت مخالفت کی جاتی ہے اور جذبات کو ہر طریقے سے ابھارا جاتا ہے۔ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ لوگ اپنی عقل پر اعتماد کرنے کی بجائے راہنما کی عقل پر اعتماد کریں۔ مخلص راہنماؤں کے ہاں عقل کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگوں کو علم سے وابستہ کر کے انہیں اس ذہنی سطح پر لایا جاتا ہے کہ وہ خود اپنی عقل کو استعمال کر کے صحیح و غلط کا فیصلہ کریں۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے ہاں کسی مخصوص شخص یا گروہ کو مخالف قرار دے کر اس کی تردید، تفسیق اور تکفیر میں ساری توانائیاں صرف کی جاتی ہیں۔ مخلص راہنما کسی مخصوص شخص یا گروہ کو نہیں بلکہ ان نظریات اور اعمال کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کے خیال میں غلط ہوتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے ہاں "واقعات" کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ مخلص راہنماؤں کے ہاں دلائل کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے تاکہ عام لوگوں کی ذہنی سطح کو بلند کر کے انہیں اپنی عقل استعمال کرنے کی عادت ڈالی جا سکے۔
·      مفاد پرست راہنما کبھی پوری معلومات نہیں دیتے۔ ان کے ہاں تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا جاتا ہے اور دوسرے رخ کو اس طرح سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مخلص راہنماؤں کے ہاں تصویر کے دونوں رخ پیش کئے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ تصویر کا دوسرا رخ چھپانے کی بجائے اسے عوام کے سامنے پیش کر کے دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس میں کیا غلطی پائی جاتی ہے۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے ہاں اختلاف رائے ایک جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ مخلص راہنماؤں کے ہاں اختلاف رائے ایک قدر (Value) کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے کسی پیروکار سے کسی غلطی کی صورت میں شدید رد عمل سامنے آتا ہے اور راہنما کی ناراضی سے لے کر برادری سے اخراج تک ہر ذریعے سے اس شخص کو صحیح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مخلص راہنماؤں کے ہاں کسی پیروکار کی غلطی کی صورت میں اسے نرمی اور محبت سے توجہ دلائی جاتی ہے، دلائل دیے جاتے ہیں اور اگر پھر بھی معاملہ درست نہ ہو تو اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
·      مفاد پرست راہنما اپنے پیروکاروں سے محبت کا مصنوعی سا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی انحراف کی صورت میں اسے بھرپور انداز میں جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں۔ یہ محبت اس وقت اڑنچھو ہو جاتی ہے جب راہنما سے کسی مسئلے پر اختلاف کر لیا جائے۔ مخلص راہنما کا اپنے پیروکاروں سے تعلق محض خلوص پرمبنی ہوتا ہے۔ ان کے ہاں جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کا تصور موجود نہیں ہوتا۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے حلقوں میں جذباتیت پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ مخلص راہنما بالعموم جذباتیت سے پرہیز کرتے ہیں۔ اگر ان کے ہاں کبھی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی بھی جاتی ہے تو ایسا بالعموم کسی ثابت شدہ نیکی جیسے نماز، زکوٰۃ وغیرہ کی ترغیب کے لئے کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں خاص طور پر اختلافی امور میں صرف دلائل کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور جذباتیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
·      مفاد پرست راہنما اپنے پیروکاروں کو مکمل کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تربیتی نشستوں میں بالخصوص اور عام زندگی میں بالعموم پیروکاروں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ کھانے، پینے، سونے، جاگنے، اٹھنے، بیٹھنے، لباس پہننے، استنجا کرنے غرض ہر قسم کے معاملات میں راہنما کی دی گئی ہدایات کی پیروی کریں۔ مخلص راہنما کبھی اپنے پیروکاروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کا پیروکار اپنی پرانی شناخت بھلا کر نئی شناخت کو قبول کر لے۔ اسی وجہ سے وہ اکثر اوقات اپنے پیروکاروں کا نام بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ مخلص راہنما کبھی ایسا نہیں کرتے۔ ہاں اگر کسی شخص کے نام میں کوئی اخلاقی خرابی موجود ہے، تب وہ اسے مشورہ دے دیتے ہیں کہ وہ خود اپنا نام تبدیل کر لے۔
·      مفاد پرست راہنما اپنے پیروکاروں کو معاشرے سے کاٹ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ انہیں ایک خاص وضع قطع اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پیروکاروں کے ذہن میں یہ بات اتاری جاتی ہے کہ راہنما روحانی باپ ہے اور اس کا درجہ حقیقی باپ سے بھی زیادہ ہے۔ حقیقی بھائیوں کی جگہ روحانی بھائیوں کا رشتہ زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مخلص راہنما ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ دلوں کو ملانے کا کام کرتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے ہاں چونکہ جذباتیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اس وجہ سے ان کے حلقوں میں ایک تصوراتی (Fantastic) سا ماحول موجود ہوتا ہے۔ لوگ عموماً حقیقت سے فرار حاصل کر کے اس تصوراتی ماحول میں خوش ہو جاتے ہیں۔ مخلص راہنما لوگوں کو حقیقت پسند بناتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنما لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے بالعموم اپنی مجلسوں میں فلموں کے سیٹ کی طرز پر مصنوعی سا ماحول تشکیل دیتے ہیں۔ سینئر پیروکاروں کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ جونیئر پیروکاروں کے سامنے متاثر کن طرز عمل کا مظاہرہ کریں۔ مخلص راہنماؤں کے ہاں مصنوعی چیزوں کی بجائے عام طور پر دلائل سے متاثر کیا جاتا ہے۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے ہاں سوالات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جبکہ مخلص راہنماؤں کے ہاں سوالات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
·      مفاد پرست راہنما اپنے الفاظ یا عمل کے ذریعے خود کو خدا اور بندے کے درمیان ایک واسطہ قرار دیتے ہیں جبکہ مخلص راہنما خود کو اللہ کا ایک حقیر بندہ قرار دیتے ہوئے محض ایک معلم یا استاذ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنما اپنی ذاتی حیثیت بنانے کے لئے مذہب کا استعمال کرتے ہیں جبکہ مخلص راہنما ایسا نہیں کرتے۔
·      مفاد پرست راہنما نفسی علوم جیسے جادو ٹونے کو رعب جمانے کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ مخلص راہنما اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔
·      مفاد پرست راہنماؤں کے ہاں ان کے کسی پیروکار کی دینی یا دنیاوی کامیابی کو "حضرت کا کرم" قرار دیا جاتا ہے جبکہ مخلص راہنماؤں کے ہاں اسے صرف اور صرف "اللہ کا کرم" قرار دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ بیان کرنا بہت ضروری ہے کہ اگر ان میں سے کوئی ایک آدھ بات استثنائی طور پر اگر کسی راہنما میں پائی بھی جائے تو اس پر فوری طور پر مفاد پرست ہونے کا فتوی نہیں لگا دینا چاہیے۔ ہمیں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس راہنما کو اس طرف توجہ دلا دینی چاہیے کہ اس معاملے میں اس کا طرز عمل مفاد پرست لیڈروں جیسا ہے۔ اگر اس کے پاس اس طرز عمل کی کوئی معقول توجیہ موجود ہو اور وہ خوشدلی سے اپنے طرز عمل میں تبدیلی کا فیصلہ کر لے تو یقیناً وہ راہنما، مخلص ہی ہوگا۔ اس کے برعکس اگر وہ بھڑک اٹھے اور توجہ دلانے والے کو بے نقط سنائے تو پھر جان لینا چاہیے کہ وہ لیڈر مخلص نہیں ہے۔
          یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنی ابتدا میں مخلص ہو اور بعد میں وہ کسی وجہ سے مفاد پرستانہ کردار ادا کرنے لگ جائے۔ اس وجہ سے مذہبی راہنماؤں پر، خاص طور پر، نظر رکھنی چاہیے اور ان کی غلطیوں پر انہیں تنہائی میں بروقت توجہ دلانی چاہیے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں۔ اس مسلسل چھان بین کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی غلطی کا نقصان تو صرف اسے ہی پہنچے گا جبکہ مذہبی راہنما کی غلطی کا اثر بہت سے لوگوں تک پہنچے گا۔
          اس میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمیں اجتہادی غلطی اور کردار کی غلطی میں فرق کرنا چاہیے۔ اگر مذہبی راہنما درست نیت کے ساتھ، دلائل کی بنیاد پر کسی مسئلے کے بارے میں کوئی غلط رائے قائم کر بیٹھتا ہے تو یہ اجتہادی غلطی ہے۔ اجتہادی غلطی کا موجود ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مشہور حدیث کے مطابق مجتہد کو اس غلطی پر بھی اجر ملے گا۔ کردار کی غلطی سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص ایسے ہتھکنڈے اختیار کرنے لگ جائے جس کے نتیجے میں لوگ اس کے فکری غلام بننا شروع ہو جائیں۔ ایسی صورت میں اس راہنما کو فوراً توجہ دلانی چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔


نظام تعلیم میں درکار اصلاحات
ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی صحیح ہدایت قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی جاری کردہ سنت کی صورت میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی عطا کردہ ہدایت کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہمارے پاس حدیث کی صورت میں موجود ہے۔ ان احادیث کے بارے میں ہمارے پاس ایسا معیار بھی موجود ہے جس کی مدد سے صحیح و موضوع یعنی اصلی اور جعلی احادیث میں فرق کیا جا سکے۔
          اس کے بعد قرآن و سنت کو سمجھنے کی کاوشوں کے سلسلے میں چودہ سو سال کے اہل علم کے علمی کام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ان سب وسائل کے ہوتے ہوئے کمی صرف اس بات کی ہے کہ دین کے طالب علموں اور عام لوگوں کو اس ذخیرے تک صحیح معنوں میں رسائی فراہم کر دی جائے۔ ظاہر ہے جو لوگ دین کا علمی مطالعہ کرنے کا ذوق رکھتے ہوں، ان میں یہ کام زیادہ اچھے طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ عام لوگوں کو بالعموم غیر رسمی (Informal) طریقے سے دین کی تعلیم دی جا سکتی ہے۔ اس میں بھی کچھ اصلاحات کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔
          قرآن و سنت کی صحیح تعلیم کے لئے ہمیں دینی تعلیم کے رسمی اور غیر رسمی نظام میں ہمہ جہت تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نظام میں مجوزہ تبدیلیوں پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ یہاں پر ہم دیگر اہل علم کی تجاویز پر اعتماد کرتے ہوئے کوئی نئی بات کرنے کی بجائے صرف انہی مجوزہ تبدیلیوں کا ذکر کریں گے جن کا تعلق ذہنی غلامی کے خاتمے سے ہے۔ وہ تبدیلیاں یہ ہیں:

·      عربی کی تعلیم
·      قرآن کو دینی تعلیم کا محور بنانے کی ضرورت
·      حدیث کی تعلیم میں نقد حدیث کی اہمیت
·      تقابلی مطالعے کا طریق تعلیم
·      جدید دنیاوی علوم کی تعلیم
·      دینی تعلیم کی سرٹیفیکیشن کا آن لائن نظام

عربی کی تعلیم
نفسیاتی غلامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض مذہبی راہنما قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کی احادیث کی عربی عبارت سنا کر اس کے ترجمے میں من پسند تبدیلیاں کر کے عام لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ علوم دینیہ کے طلباء کے اندر عربی زبان میں اعلی درجے کی مہارت پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم کے زمانے کے لٹریچر کا مکمل مطالعہ کروانے کی ضرورت ہے۔
          عام لوگوں کو بھی عربی زبان سے اتنی واقفیت کروا دینا ضروری ہے کہ کوئی شخص انہیں کم از کم دھوکا نہ دے سکے۔ اس مقصد کے لئے صرف و نحو (گرامر) کے ذریعے زبان سکھانے کا طریقہ ہمارے نزدیک بالکل ہی بے کار ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف بوریت پیدا ہوتی ہے بلکہ زبان کی ذخیرہ الفاظ (Vocabulary) اور اسالیب (Styles) کو بھی احسن انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بہترین طریقہ وہ ہے جس پر عرب ممالک میں عربی زبان کی تعلیم جاتی ہے۔ اس کے مطابق عربی زبان کو بحیثیت ایک زبان کے پڑھایا جائے اور لٹریچر کا مطالعہ کرواتے ہوئے گرامر کے قواعد ذہن نشین کروائے جائیں۔

قرآن کو دینی تعلیم کا محور بنانے کی ضرورت
ہمارے ہاں بدقسمتی سے دینی تعلیم کے نظام میں قرآن مجید کو محور کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ مدارس میں تعلیم کا آغاز صرف و نحو سے کروایا جاتا ہے۔ اس کے بعد قرون وسطی کے منطق اور فلسفے کی تعلیم پر کئی سال ضائع کر دیے جاتے ہیں۔ فقہ کے کسی مخصوص مسلک کی تعلیم کا باقاعدہ آغاز عام طور پر دوسرے سال میں کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چھ سات سال تک چلتا رہتا ہے۔ قرون وسطی کے علم کلام کی بحثیں بھی عام طور پر تیسرے یا چوتھے سال میں پڑھا دی جاتی ہیں۔ قرآن مجید کی تعلیم کا آغاز عام طور پر پانچویں سال میں کیا جاتا ہے۔
          اس پورے عمل کے نتیجے میں طالب علم جب تک قرآن کے مطالعے پر پہنچتا ہے، اس وقت تک وہ فقہ یا علم کلام کے کسی مسلک کے بارے میں اچھا خاص متعصب ہو چکا ہوتا ہے۔ اب وہ قرآن مجید کو اپنے مخصوص نظریات کی عینک سے دیکھتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ قرآن مجید کی حقیقی راہنمائی سے محروم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر طالب علموں کو قرآن پڑھانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس سے اپنے فقہی یا کلامی مسلک کو ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔
          اس طرز تعلیم کا نقصان یہ ہے کہ ہمارے نصاب تعلیم میں قرآن مجید کو معاذ اللہ ثانوی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس منطق اور فقہ کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ ظاہر ہے اس طرز عمل کے نتیجے میں نفسیاتی غلام جنم نہیں لیں گے تو اور کیا ہو گا۔
          ہمیں قرآن مجید کو دینی تعلیم کا محور بنانے کی مہم شروع کرنا ہو گی۔ قرآن کی بنیادی تعلیم کا آغاز ابتدائی جماعتوں ہی میں ہو جانا چاہیے اور صرف اس کی عبارت کو بے سوچے سمجھے بغیر پڑھ لینے کی بجائے سوچ سمجھ کر پڑھنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ عربی زبان کی تعلیم میں قرآن کو بطور ایک شہ پارہ ادب پڑھایا جانا چاہیے۔ فقہ کی تعلیم میں قرآن کو اولین ماخذ کی حیثیت سے پڑھایا جانا چاہیے اور احکام سے متعلق آیات پر خاص توجہ دی جانی چاہیے۔ علم کلام کی تعلیم میں بھی قرآن کو یہی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ حدیث کی تعلیم میں سنت اور حدیث کو قرآن کے عملی اطلاق کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ اس طریقے سے قرآن ہی کو تمام علوم پر میزان، فرقان اور مھیمن کی حیثیت سے پیش کرنا چاہیے۔
          عام لوگوں کو ان کی اپنی زبانوں میں قرآن مجید کی بنیادی تعلیم یعنی عقائد، اخلاقیات اور شریعت سے آگاہ کروایا جانا ضروری ہے۔ اس بنیادی قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں عربی زبان سکھانے کے لئے بھی قرآن کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

حدیث کی تعلیم میں نقد حدیث اور سیاق و سباق کی اہمیت
ہمارے معاشروں میں نفسیاتی غلامی کا ایک بہت بڑا سبب موضوع یعنی جعلی احادیث کی نشر و اشاعت ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب بڑے پیمانے پر ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جعلی احادیث گھڑ گھڑ کر انہیں معاشرے میں پھیلانے کی مذموم کوشش کی۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ احادیث کے ذریعے لوگوں کو اپنے فرقے کا نفسیاتی غلام بنایا جا سکے۔ اللہ تعالی اپنی رحمت فرمائے محدثین پر جن کی غیر معمولی کاوشوں کے نتیجے میں احادیث کی جانچ پڑتال اور ان کو پرکھنے سے متعلق معلومات کا ایسا ذخیرہ وجود میں آیا جس کی مثال کسی قوم کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
          ضرورت اس امر کی ہے کہ حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کو دین کے طالب علموں کو تفصیل سے پڑھایا جائے، ان کی عملی مشق کروائی جائے اور دورہ حدیث کی شکل میں خانہ پری کرنے سے گریز کیا جائے۔ الحمد للہ بہت سے دینی مدارس میں اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ عام لوگوں کو حدیث کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اس سے خبردار کرنے کی ضرورت ہے کہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کن کن جعلی احادیث کو استعمال کر کے لوگوں کو اپنا نفسیاتی غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
          احادیث کو سمجھنے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اوقات راوی پوری حدیث کا صرف ایک حصہ بیان کر دیتے ہیں جس کے باعث ایک بات جو کسی مخصوص صورتحال کے لئے کہی گئی ہوتی ہے، کا قیامت تک کے لئے عمومی اطلاق کر دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کو سمجھنے کے لئے اس کا سیاق و سباق اور موقع محل نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ کسی حدیث کے تمام طرق (یعنی مختلف ذرائع سے پہنچنے والی حدیث) کو اکٹھا کر کے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

تقابلی مطالعے کا طریق تعلیم
ہمارے ہاں علم فقہ اور علم الکلام کی تعلیم کا طریق کار بالعموم یہ ہے کہ ہر مدرسے کا تعلق کسی مخصوص فقہی اور کلامی مسلک سے ہوتا ہے۔ دوران تعلیم ابتدائی سالوں میں اسی مسلک کی کتب پڑھائی جاتی ہیں اور برین واشنگ کے ذریعے طلباء کو اسی مسلک کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے مسالک کے کچھ مباحث اس مسلک کے اپنے علماء کی کتب کی بجائے، ان کے رد میں لکھی گئی کتب کے ذریعے پڑھائے جاتے ہیں جس سے ان مسالک کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اس طریق کار سے تنگ نظر اور متعصب اسکالرز کی فوج تیار کر لی جاتی ہے جن کا مقصد عملی زندگی میں اپنے مسلک کا دفاع اور دوسرے مسلک کی تردید ہی ہوتا ہے۔
          تعلیم کا بہترین طریقہ وہ ہے جو غیر متعصب اداروں میں رائج ہے۔ اس طریق کار کے مطابق تمام قابل ذکر فقہی اور کلامی مسالک کی تعلیم ان کی اپنی کتب کے ذریعے "جیسا کہ وہ ہیں" کی بنیاد پر دی جائے اور ہر مسلک کے مضبوط اور کمزور پہلوؤں کو بلا تعصب بیان کر دیا جائے۔ طالب علموں کو اس بات کی تربیت دی جائے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر مختلف مسالک کا ایک دوسرے سے موازنہ کر سکیں اور جس معاملے میں جو نقطہ نظر بہتر ہو، اسے اختیار کر سکیں۔
          اس معاملے کو صرف مسلمانوں کے اندر کے مسالک تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ دیگر مذاہب اور ان کے مختلف مکاتب ہائے فکر کے علاوہ سیکولر نظام ہائے حیات کا تقابلی مطالعہ بھی اسے طریقے پر کیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے بلکہ جو جیسا ہے، اسے اسی طرح سمجھا جائے۔ اس طرح ہمارے اندر وسعت نظری پیدا ہو گی اور تعصب اور جہالت کا خاتمہ ہو سکے گا۔
          اس طریق کار کی طرف روایتی علماء کے متوجہ نہ ہونے کے اسباب ہمارے خیال میں دو ہیں۔ ایک وجہ تو وہ مسلکی تعصب ہے جس نے دین مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں "نامعلوم چیز کا خوف (Xenophobia)" بہت وسیع پیمانے پر پھیلا جاتا ہے۔ بہت سے علماء اس بات سے خوف محسوس ہیں کہ اگر انہوں نے دیگر مذاہب اور سیکولر نظام ہائے حیات کا مطالعہ شروع کر دیا تو نجانے کیا ہو جائے؟ کہیں ہمارے لوگ دوسرے نقطہ نظر کی طرف نہ چلے جائیں۔
          جن اہل علم نے یہ تقابلی مطالعہ کیا ہے، وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ایسا کرنے سے کوئی مضر اثرات پیدا نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام بڑے مذاہب اپنی اصل میں اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ مذاہب ہی ہیں۔ چونکہ ان مذاہب میں بعد کے مختلف ادوار میں تحریف اور تغیر و تبدیل کیا جاتا رہا ہے، اس وجہ سے ان میں بہت سی ایسے عقائد و اعمال شامل ہو چکے ہیں جو سراسر نامعقولیت پر مبنی ہیں۔
          اسی طرح سیکولر نظام ہائے حیات میں بہت سے ایسے خلا موجود ہیں، جن کی بدولت انہیں کبھی اسلام پر فوقیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام خدائی فکر (Divine Intellect) پر مبنی ہے جبکہ یہ نظام ہائے حیات انسانی عقل (Human Intellect) پر مبنی ہیں۔ اس وجہ سے ہم پورے وثوق اور اطمینان سے کہہ سکتے ہیں ان فلسفوں کے مطالعے سے انسان کا اسلام پر اعتماد پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے ہمیں ہر خوف کو دل سے نکال کر سب چیزوں کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے۔

جدید دنیاوی علوم کی تعلیم
دنیاوی علوم اگرچہ مذہب سے براہ راست تعلق نہیں رکھتے ہیں لیکن یہ مذہب کے دنیاوی معاملات پر اطلاق کرنے میں بڑے ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا دین ہمیں سود سے منع کرتا ہے۔ اب اگر ہم دنیا میں ایسا نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جو سود سے پاک ہو تو ہمیں معاشیات کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ ہمارے قدیم اہل علم اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے دور کے دنیاوی علوم منطق اور فلسفہ کو نصاب میں داخل کر رکھا تھا۔
          موجودہ دور میں دین کے طالب علموں کے لئے جو دنیاوی علوم انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ان میں عمرانیات، معاشیات، سیاسیات، نفسیات اور جدید فلسفہ شامل ہیں۔ یہ سب علوم قدیم نصاب میں "فلسفہ" کے عنوان کے تحت پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں ان علوم کو درمیانی سطح تک دین کے طالب علموں کو پڑھا دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور ریاضی کی مبادیات کو ان کے نصاب میں داخل کیا جانا چاہیے۔ دور جدید میں دعوت دین کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس وجہ سے اس علم کے تازہ ترین مباحث کو بھی دین کے طالب علموں کے نصاب کا حصہ بنا دیا جانا چاہیے۔
          ان علوم کو پڑھنے سے ذہن میں وسعت پیدا ہو گی، نامعقول تصورات کا خاتمہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں طالب علموں کو تعصبات اور نفسیاتی غلامی سے نجات مل سکے گی۔

دینی تعلیم کی آن لائن سرٹیفیکیشن کا نظام
دنیا بھر میں مختلف پیشوں کے ماہرین تیار کرنے کے لئے بہت سی سرٹیفیکیشنز کا سلسلہ موجود ہے۔ یہ سرٹیفیکشنز پروفیشنل باڈیز جاری کرتی ہیں۔ اس کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ طلباء کو انٹرنیٹ کے ذریعے نصابی مواد مہیا کر دیا جاتا ہے۔ طلباء اپنے طور پر اس مواد کا مطالعہ کر لیتے ہیں یا پروفیشنل باڈی ان کے لئے مختلف شہروں میں باقاعدہ کلاسز کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔
          دنیا بھر کے مختلف شہروں میں پروفیشنل باڈی  کے زیر انتظام آن لائن امتحان منعقد کیا جاتا ہے۔ امتحان میں کامیابی کے ساتھ ساتھ کچھ عرصے کے لئے کسی ادارے میں پروفیشنل تربیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد طلباء کو سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے اور انہیں پروفیشنل باڈی کا ممبر بنا لیا جاتا ہے۔ اپنے ممبران کے علم کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے لئے پروفیشنل باڈیز ان سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ مسلسل تعلیم و تربیت (Continuous Professional Education) کے ذریعے اپنے علم کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔
          یہ طریقہ ابھی تک اسلامی علوم کی تعلیم کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا گیا۔ بحرین میں اسلامک بینکنگ انڈسٹری کے لئے ماہرین تیار کرنے کی غرض سے "ھیئۃ المحاسبۃ و المراجعۃ للمؤسسات  المالیۃ الاسلامیۃ" یعنی “Accounting & Auditing Organization for Islamic Financial Institutions (AAOIFI)”  کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس تنظیم کے تحت Certified Islamic Professional Accountants  اور Certified Sharia Auditor & Advisor کے پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ یہ پروگرام بھی تادم تحریر بحرین تک ہی محدود ہیں۔ اسی طرح لندن میں Academy for International Modern Studies نے بھی اسی قسم کے کچھ پروگرام شروع کئے ہیں۔
          ضروری ہے کہ تمام اسلامی علوم کے لئے اسی طرز کی سرٹیفیکیشنز کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اگر کوئی ادارہ اس سلسلے میں پیش رفت کرنا چاہے تو راقم الحروف کی خدمات بغیر کسی معاوضہ کے حاضر ہیں۔
          ہمیں یقین ہے کہ علم کے فروغ  کے ساتھ ساتھ جہالت اور تعصبات کا خاتمہ ہوگا، فاصلے ختم ہوں گے اور نفسیاتی غلامی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

ڈی کنڈیشنگ کا عمل
نفسیاتی غلامی کے خاتمے کی جو تجاویز ہم نے اوپر بیان کی ہیں، ان تجاویز کا تعلق نئی نسل کے ان افراد سے ہے جو ابھی تک نفسیاتی غلامی میں مبتلا نہیں ہوئے۔ یہ تجاویز ان افراد کو نفسیاتی غلامی میں جانے سے روکنے کے لئے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو کسی بھی قسم کی نفسیاتی غلامی کا پہلے ہی شکار ہو چکے ہیں، انہیں اس سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے، جو بعض ماہرین نفسیات کی اصطلاح میں "ڈی کنڈیشنگ (Deconditioning)" کہلاتا ہے۔
          ڈی کنڈیشنگ سے ہماری مراد ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے کسی بھی ایسے شخص کو جو کہ نفسیاتی طور پر غلام بنایا جا چکا ہو، ایک طویل عرصے میں اس کی نارمل آزاد حالت تک لانے کی کوشش کی جائے۔ اب ہم اس عمل کی تفصیل بیان کرتے ہیں:

ڈی کنڈیشنگ: نفسیاتی غلام کی آزادی کا عمل
ڈی کنڈیشنگ کے عمل کے نتیجے میں صرف انہی افراد کو نفسیاتی غلامی سے آزاد کروانے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو اپنے اندر آزاد ہونے کا پوٹینشل رکھتے ہوں۔ جس شخص میں یہ پوٹینشل موجود نہ ہو، اسے آزاد کروانا بہت مشکل ہے۔ آزاد ہونے کے پوٹینشل کا معنی یہ ہے کہ کسی ایسے شخص میں، جو اگرچہ عارضی طور پر نفسیاتی غلامی کا شکار ہو چکا ہو، کچھ خصوصیات پائی جاتی ہوں:
·      اس شخص میں حق پرستی کے لئے ایک خاص حمیت اور غیرت پائی جاتی ہو۔ وہ حق سے وابستہ رہنا چاہتا ہو۔ وہ کسی فکر سے وابستہ صرف اسی لئے ہوا ہو کہ یہ فکر اس کے خیال میں 'حق' ہو۔
·      وہ شخص اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب تلاش کرنا چاہتا ہو۔ اس کے برعکس مکمل طور پر ذہنی غلام شخص، اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب تلاش کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ وہ بیک وقت متضاد باتوں کو مانتا رہتا ہے اور اپنے ذہن کو مختلف خانوں میں بانٹ کر رکھتا ہے۔ اگر اس کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو تو اسے شیطان کا وسوسہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔
·      اس شخص کے لئے اپنے افکار میں تضاد قابل برداشت نہ ہو۔ مثال کے طور پر وہ یہ نہ مان سکتا ہو کہ کوئی چیز ایک ہی وقت میں بالکل سیاہ اور بالکل سفید بھی ہو سکتی ہے۔ عملی زندگی میں اس کی مثال یہ ہے کہ اس کے لئے یہ ماننا بہت مشکل ہو کہ اس کے راہنما میں کوئی اخلاقی خرابی بھی پائی جاتی ہے اور اس کے باوجود اسے اپنے راہنما کی پیروی کرنا چاہیے۔
جس شخص میں آزاد ہونے کا یہ پوٹینشل پایا جائے، اس کا نفسیاتی غلامی سے آزاد ہونا ممکن ہے۔ اس کی عملی صورت عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ یا حادثہ پیش آ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ذہن میں ایک تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ تضاد کی یہ کیفیت اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ وہ اس تضاد کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب اس میں ناکام رہتا ہے تو وہ فکری غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت ہم ایک مثال کے ذریعے کرتے ہیں۔
          ایک صاحب کسی بڑے پیر کے مرید تھے اور اس سے نہایت عقیدت رکھتے تھے۔ یہ عقیدت اتنی انتہا تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس کے باوجود، کہ ان کے پیر کو بدکاری کی عادت تھی اور اس معاملے میں وہ اپنی کسی مریدنی کو بھی نہیں چھوڑتا تھا، وہ صاحب اس پیر سے عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے پیر نے ان کے ذہن میں یہ ڈال رکھا تھا کہ اللہ والے جو کچھ بھی کریں، ان کے لئے جائز ہوتا ہے۔
          ایک مرتبہ پیر نے انہی صاحب کی بہن کو، جو خود اس کی مرید تھی، ورغلا کر اس کے ساتھ بدکاری کا ارتکاب کر لیا۔ اب ان صاحب کو کچھ ہوش آیا۔ وہ ایک عالم دین کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔ عالم نے انہیں بتایا کہ تمہارا پیر تو کھلا شیطان ہے۔ اب ان صاحب کے ذہن کی دھند چھٹنا شروع ہوئی اور ان کے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ کے عمل کا آغاز ہوا۔ غلامی ان کی نفسیات میں اس حد تک رچ بس چکی تھی کہ ڈی کنڈیشنگ کا یہ عمل کئی ماہ جاری رہا اور اس کے بعد انہوں نے پیر کی بیعت توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
          بسا اوقات کوئی شخص، اپنے راہنما کی ذات کی بجائے اس کے تصورات اور دعوت میں موجود کسی خامی کے بارے میں یہ جان لیتا ہے کہ یہ واقعتاً خامی ہی ہے۔ اس سے پہلے وہ اس خامی کو خامی نہیں سمجھ رہا ہوتا۔ اس کے بعد اس کے ذہن میں راہنما کی ذات پر جو اعتماد قائم تھا، وہ باقی نہیں رہتا۔ اب وہ راہنما کے ایک ایک نظریے کو لے کر اس کا تجزیہ کرنا شروع کرتا ہے، اس کا تقابل دوسرے راہنماؤں کے نظریات سے کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اپنے راہنما کی غلطیوں سے واقف ہوتا چلا جاتا ہے۔
          اس عمل میں آہستہ آہستہ غلامی کا خول ٹوٹنا شروع ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی جال کی گرہیں یکے بعد دیگرے کھلتی چلی جا رہی ہیں۔ پرانے تصورات کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہوتا ہے اور ان کی جگہ نئے تصورات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس عمل میں وہ کچھ عرصے میں وہ نفسیاتی غلامی سے آزاد ہوتا چلا جاتا ہے۔
          ڈی کنڈیشنگ کا یہ عمل آسان نہیں ہوتا۔ جو شخص ڈی کنڈیشنگ کے عمل سے گزر رہا ہو، بسا اوقات اس کی کیفیت ایک ایسی خاتون کی سی ہوتی ہے جو درد زہ میں مبتلا ہو۔ اسے بیک وقت دو متضاد باتوں کا ماننا پڑتا ہے۔ بعض لوگ اس اذیت سے بچنے کے لئے اپنے ذہن کو خانوں میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ ایک بات ایک جگہ اور اس کی متضاد دوسری بات دوسری جگہ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ان باتوں کے تضاد پر زیادہ سوچنا نہ پڑے۔ عارضی طور پر تو اس طریقے سے کام چلانا ممکن ہوتا ہے لیکن طویل عرصے تک اس کیفیت کو برداشت کرنا ناممکن ہوتا چلا جاتا ہے۔
          بعض لوگ تو ان کیفیات کو برداشت نہ کر سکنے کے باعث مستقل نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ جن افراد میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے، وہ بالآخر اس مہم سے سرخرو ہو کر نکلتے ہیں جس کے انعام کے طور پر انہیں نفسیاتی آزادی نصیب ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص شعوری طور پر ڈی کنڈیشنگ کے عمل سے گزر رہا ہو تو وہ اس کیفیت سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے۔
          ڈی کنڈیشنگ کا اس عمل کا دورانیہ ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں چونکہ اس عمل سے دو مرتبہ گزرنے کا موقع ملا ہے، اس وجہ سے میں اپنا تجربہ بیان کر سکتا ہوں کہ پہلی مرتبہ اس عمل میں مجھے چھ سال اور دوسری مرتبہ پانچ سال کا عرصہ لگا۔ پہلی مرتبہ کی ڈی کنڈیشنگ بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی جبکہ دوسری مرتبہ میں نے اس عمل کو بھرپور انجوائے کیا تھا۔
          ڈی کنڈیشنگ کے عمل کے اختتام پر انسان اپنے بہت سے سابقہ تصورات سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ اس کی جگہ نئے تصورات قائم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پرانے دوستوں سے رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں اور نئے دوستوں کے ساتھ رشتے استوار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پرانی اقدار ایک ایک کر کے بکھرتی چلی جاتی ہیں اور نئی اقدار جنم لینے لگتی ہیں۔ مختلف واقعات کی توجیہ کرنے کا پرانا طریقہ ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور اب واقعات کو نئے تناظر میں دیکھا جانے لگتا ہے۔

ڈی کنڈیشنگ سے متعلق داعی حق کا کردار
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کسی شخص میں ڈی کنڈیشنگ کا عمل شروع کرنے کے لئے بحث و مناظرے کا طریقہ کار بالکل ہی بے کار اور لایعنی ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ہو جس کے ذہن میں مناظرے کے ذریعے ڈی کنڈیشنگ کا عمل شروع کیا جا سکے۔ دین کے بہت سے پرجوش داعی، جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا مخاطب چند گھنٹوں میں تبدیل ہو کر ان کا نقطہ نظر قبول کر لے، مناظرے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور جب وہ اس میں بری طرح ناکام رہتے ہیں تو پھر مخاطب سے لڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں۔ میری رائے میں ایک ایسا شخص (جسے ہم داعی کہیں گے)، جو کسی کا نفسیاتی غلام نہیں ہے، کو اپنے کسی نفسیاتی غلامی کے شکار بھائی (جسے ہم مخاطب کہیں گے) کو اس سے نکالنے کے لئے ان راہنما اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
·      داعی حق کے لئے اپنی نیت میں اخلاص پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس کی دعوت کا مقصد کسی شخص کو گھیر گھار کر اپنے نقطہ نظر پر قائل یا لاجواب کرنا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جس بات کو وہ درست سمجھتا ہے، اسے احسن انداز میں اپنے دوسرے بھائی تک پہنچا دے۔ داعی کو اپنے مخاطب کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔
·      داعی کو اپنے آپ کو اس بات کے لئے تیار رکھنا چاہیے کہ اگر اس کی بجائے اس کا مخاطب ہی حق بات پر ہو تو وہ اسے ماننے کے لئے کھلے ذہن سے تیار ہو۔
·      داعی حق کو پہلے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کہیں خود تو کسی اور راہنما کا نفسیاتی غلام تو نہیں ہے۔
·      داعی کو کبھی بھی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ ڈی کنڈیشنگ کا عمل بسا اوقات سالوں پر محیط ہوتا ہے۔
·      داعی کو کبھی بھی اپنے مخاطب یا اس کے راہنما کو ڈائرکٹ تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ضد کے سوا اور کچھ پیدا نہیں ہوتا۔ ضد، انانیت اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں مخاطب کی نفسیاتی غلامی کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
·      داعی کو چاہیے کہ وہ مخاطب کی شخصیت میں حق پرستی کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ بہت سے لوگ حق پرستی کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ اپنے راہنما اور اس کے نظریات سے چمٹے ہوئے رہتے ہیں۔ ان ڈائرکٹ مثالوں کے ذریعے، جن کا زیر بحث راہنما اور اس کے نظریات سے کوئی تعلق نہ ہو، داعی کو مخاطب کی شخصیت میں حق پرستی کا حقیقی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب حق پرستی کا جذبہ بیدار ہو جائے گا تو پھر خود بخود وہ شخص اپنے راہنما کی نفسیاتی غلامی سے آزاد ہونا شروع ہو جائے گا۔
·      ڈی کنڈیشنگ کے عمل کو شروع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کے سامنے ان ڈائرکٹ طریقے سے کچھ ایسے سوالات رکھے جائیں جس سے اس کے ذہن میں برف پگھلنے کا عمل شروع ہو سکے۔ سوالات کو مخاطب کے سامنے براہ راست رکھنا مناسب نہیں ہے۔ اس کی بجائے ایک بہتر طریقہ یہ ہے کہ داعی، اپنے مخاطب کو آزاد ذہن کے حامل علماء کی کتب پڑھنے کے لئے دے۔ اس ضمن میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ کتاب کے مصنف بذات خود کسی اور راہنما کے فکری غلام نہ ہوں۔
·      ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مخاطب کی ملاقات کسی ایسے تیسرے شخص سے کروا دی جائے جو مخاطب کے کسی نظریے کے باعث شدید قسم کی مشکلات کا شکار ہوا ہو تو وہ شخص خود ڈی کنڈیشنگ کا عمل شروع کروا سکتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک صاحب اپنے فرقے کے شدید نفسیاتی غلام تھے۔ ان کے فرقے میں طلاق کا قانون بہت سخت تھا۔ ایک مرتبہ ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو جذبات میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا تھا اور اب اس کے بچوں کا مسئلہ اس کے سامنے تھا۔ اس شخص کے احساسات نے ان صاحب کے اندر ڈی کنڈیشنگ کا عمل شروع کر دیا جس کی بدولت وہ آہستہ آہستہ اپنے فرقے سے بیزار ہوتے چلے گئے اور بالآخر آزاد طرز فکر کی منزل تک پہنچ گئے۔
·      ڈی کنڈیشنگ کا عمل شروع ہو جانے کے بعد داعی کو اپنے مخاطب کے سر پر مسلط نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ اسے مخاطب کو تبدیل ہونے کے لئے طویل وقت دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر امور میں دوستی اور خلوص کا تعلق استوار رکھنا چاہیے۔

ڈی کنڈیشنگ کے بعد کے نفسیاتی اتار چڑھاؤ
جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں کہ ڈی کنڈیشنگ کسی بھی نفسیاتی غلام کے لئے ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ جب یہ عمل مکمل ہوتا ہے تو مخاطب کسی بھی بات کو تسلیم کر لینے سے پہلے ایک "خالی پیریڈ" سے گزرتا ہے۔ اس عرصے میں اس کے نظریات بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد اس کے نظریات میں ایک ٹھہراؤ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
          ایک حق پرست کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اگرچہ اس کے نظریات میں کسی وقت ٹھہراؤ بھی پیدا ہو جائے لیکن اگر اس کے بعد کبھی بھی اسے اس کی غلطی کی طرف توجہ دلائی جائے تو اسے ہر حال میں حق کو قبول کر لینا چاہیے۔
اگر ان امور کا خیال رکھا جائے تو ہم اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کی بڑی حد تک مدد کر سکتے ہیں جو کسی بھی درجے میں نفسیاتی غلامی کا شکار ہیں۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ نفسیاتی غلامی کے خاتمے کی جدوجہد میں ہر قدم پر ہماری مدد فرمائے۔ آمین۔

٭٭٭
ماخذ:
http://www.mubashirnazir.org/ER/Slavery/L0019-00-Intslavery.htm
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
