﻿
الجہاد فی الاسلام



ابو الاعلیٰ مودودی

(یہ ایک تقریر ہے جو۱۳/اپریل ۱۹۳۹ء کو یومِ اقبال کے موقع پر ٹاؤن ہال لاہور میں کی گئی تھی)

 
 

 
الجہاد فی الاسلام
ابو الاعلیٰ مودودی



عموماً لفظ ’’جہاد‘‘ کا ترجمہ انگریزی زبان میں (Holy War) ’’مقدس جنگ‘‘ کیا جاتا ہے، اور اس کی تشریح و تفسیر مدتہائے دراز سے کچھ اس انداز میں کی جاتی رہی ہے کہ اب یہ لفظ ’’جوش جنوں ‘‘ کا ہم معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کو سنتے ہی آدمی کی آنکھوں میں کچھ اس طرح کا نقشہ پھرنے لگتا ہے کہ مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے، ڈاڑھیاں چڑھائے، خونخوار آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا آ رہا ہے۔ جہاں کسی کافر کو دیکھ پاتا ہے، پکڑ لیتا ہے اور تلوار اس کی گردن پر رکھ کر کہتا ہے کہ بول لا الہ الا الہف ورنہ ابھی سر تن سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے ہماری یہ تصویر بڑی قلمکاریوں کے ساتھ بنائی ہے اور اس کے نیچے موٹے حرفوں میں لکھ دیا ہے کہ :
بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے
لطف یہ ہے کہ اس تصویر کے بنانے والے ہمارے وہ مہربان ہیں جو خود کئی صدیوں سے انتہا درجہ کی غیر مقدس جنگ (Un-Holy War) میں مشغول ہیں۔ ان کی اپنی تصویر یہ ہے کہ دولت اور اقتدار کے بھُوکے ہر قسم کے اسلحہ سے مسلح ہو کر قزاقوں کی طرح ساری دنیا پر پل پڑے ہیں اور ہر طرف تجارت کی منڈیاں ، خام پیداوار کے ذخیرے، نو آبادیاں بسانے کے قابل زمینیں اور معدنیات کی کانیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں تاکہ اپنی حرص کی کبھی نہ بجھنے والی آگ کے لیے ایندھن فراہم کریں۔ ان کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے، ہوس اور نفسِ امّارہ کی راہ میں ہے۔ ان کے نزدیک کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے بس یہ کافی وجہ جواز ہے کہ اس کی زمین میں کانیں ہیں ، یا اجناس کافی پیدا ہوتی ہیں ، یا وہاں تیل نکل آیا ہے، یا ان کے کارخانوں کا مال وہاں اچھی طرح کھپایا جا سکتا ہے، یا اپنی زائد آبادی کو وہاں آسانی کے ساتھ بسایا جا سکتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو اس قوم کا یہ گناہ بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے ملک کے راستے میں رہتی ہے جس پر یہ پہلے قبضہ کر چکے ہیں ، یا اب قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تو جو کچھ کیا وہ زمانۂ ماضی کا قصہ ہے اور ان کے کارنامے حال کے واقعات ہیں جو شب و روز دنیا کی آنکھوں کے سامنے گزر رہے ہیں۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، غرض کرۂ زمین کا کون سا حصہ بچارہ گیا ہے جو ان کی اس غیر مقدس جنگ سے لالہ زار نہیں ہو چکا؟ مگر ان کی مہارت قابل داد ہے۔ انہوں نے ہماری تصویر اتنی بھیانک اور اتنی بُری بنائی کہ خود ان کی تصویر اس کے پیچھے چھپ گئی، اور ہماری سادہ لوحی بھی قابلِ داد ہے۔ جب ہم نے غیروں کی بنائی ہوئی اپنی یہ تصویر دیکھی تو ایسے دہشت زدہ ہوئے کہ ہمیں اس تصویر کے پیچھے جھانک کر خود مصوروں کی صورت دیکھنے کا ہوش ہی نہ آیا اور لگے معذرت کرنے کہ حضور! بھلا ہم جنگ و قتال کیا جانیں۔ ہم تو بھکشوؤں اور پادریوں کی طرح پُر امن مبلغ لوگ ہیں۔ چند مذہبی عقائد کی تردید کرنا اور ان کی جگہ کچھ دوسرے عقائد لوگوں سے تسلیم کرا لینا، بس یہ ہمارا کام ہے۔ ہمیں تلوار سے کیا واسطہ؟ البتہ اتنا قصور کبھی کبھار ہم سے ضرور ہوا ہے کہ جب کوئی ہمیں مارنے آیا تو ہم نے بھی جواب میں ہاتھ اٹھایا۔ سو اب تو ہم اس سے بھی توبہ کر چکے ہیں۔ حضور کی طمانیت کے لیے تلوار والے جہاد کو سرکاری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اب تو جہاد فقط زبان و قلم کی کوشش کا نام ہے۔ توپ اور بندوق چلانا سرکار کا کام ہے اور زبان و قلم چلانا ہمارا کام۔

جہاد کے متعلق غلط فہمی کے اسباب

خیر، یہ تو سیاسی چالوں کی بات ہے مگر خالص علمی حیثیت سے ہم ان اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی حقیقت کو سمجھنا غیر مسلموں ہی کے لیے نہیں ، خود مسلمانوں کے لیے بھی دشوار ہو گیا ہے تو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتا ہے۔
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام کو ان معنوں میں ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہے جن میں یہ لفظ عموماً بولا جاتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ کہ مسلمانوں کو ان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا ہے، جن میں یہ لفظ عموماً مستعمل ہے۔
ان دو غلط فہمیوں نے صرف ایک جہاد ہی کے مسئلہ کو نہیں بلکہ مجموعی حیثیت سے پورے اسلام کے نقشہ کو بدل ڈالا ہے اور مسلمانوں کی پوزیشن کلی طور پر غلط کر کے رکھ دی ہے۔
’’مذہب‘‘ کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سے بجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چند عقائد اور عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں رکھیں ، اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو اس کو جس طرح چاہیں پکاریں۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کے لیے موجود ہے تو آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھرئیے اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پکڑنے کا کون سا موقع ہے؟ کیا آپ لوگوں کو مار مار کر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے جب کہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رو سے ایک ’’مذہب‘‘ قرار دے لیں۔ اور یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجہ جواز ثابت نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح ’’قوم‘‘ کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گروہ اشخاص (Homogenous Group of Men) کا نام ہے- جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باہم مجتمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہو گیا ہو۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہو، وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھاتا ہے اور اٹھا سکتا ہے۔یا تو ا س کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھیننے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں تو خیر تلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز بھی موجود ہے (اگرچہ بعض دھرماتماؤں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے)۔ لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا، حتیٰ کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں کے مدبرین بھی آج اس کو جائز کہنے کی جرأت نہیں رکھتے۔
 
جہاد کی حقیقت

پس اگر اسلام ایک ’’مذہب‘‘ اور مسلمان ایک ’’قوم‘‘ ہے تو جہاد کی ساری معنویت، جس کی بنا پر اسلام میں اسے افضل العبادات کہا گیا ہے، سرے سے ختم ہو جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کسی ’’مذہب‘‘ کا اور ’’مسلمان‘‘ کسی ’’قوم‘‘ کا نام نہیں ہے۔ دراصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (Sanction) کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق اسے تعمیر کرنا چاہتا ہے اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت (International Revolutionary Party)کا نام ہے جسے اسلام اپنے مطلوبہ انقلابی پروگرام کو عمل میں لانے کے لیے منظم کرتا ہے۔ اور جہاد اس انقلابی جدوجہد (Revolutionary Struggle) کا اور انتہائی صرفِ طاقت کا نام ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی جماعت عمل میں لاتی ہے۔
تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کو چھوڑ کر اپنی ایک خاص اصطلاحی زبان (Terminology) اختیار کرتا ہے تاکہ اس کے انقلابی تصورات عام تصورات سے ممتاز ہو سکیں۔ لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام نے حرب اور اسی نوعیت کے دوسرے عربی الفاظ جو جنگ (War) کے مفہوم کو ادا کرتے ہیں قصداً ترک کر دیئے اور ان کی جگہ ’’جہاد‘‘ کا لفظ استعمال کیا جو (Struggle) کا ہم معنی ہے بلکہ اس سے زیادہ مبالغہ رکھتا ہے۔ انگریزی میں اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جا سکتا ہے: (To exert one's utmost endeavour in furthering a cause)
’’اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کر دینا‘‘۔
سوال یہ ہے کہ پرانے الفاظ کو چھوڑ کر یہ نیا لفظ کیوں اختیار کیا گیا اس کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ’’جنگ‘‘ کا لفظ قوموں اور سلطنتوں کی ان لڑائیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا اور آج تک ہو رہا ہے جو اشخاص یا جماعتوں کی نفسانی اغراض کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ ان لڑائیوں کے محرک محض ایسے شخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نظرئیے اور کسی اصول کی حمایت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے اس لیے وہ سرے سے اس لفظ ہی کو ترک کر دیتا ہے۔ اس کے پیشِ نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا نقصان نہیں ہے۔ وہ اس سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہے یا دوسری سلطنت کا۔ ا س کی دلچسپی جس سے ہے ، وہ انسانیت کی فلاح ہے۔اس فلاح کے لیے وہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔ اس نظریے اور مسلک کے خلاف جہاں جس کی حکومت بھی ہے، اسلام اسے مٹانا چاہتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔ اس کا مدعا اور اپنے نظریے اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہے بلا لحاظ اس کے کہ کون اس کا جھنڈا لے کر اٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔ وہ زمین مانگتا ہے، زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پور اکرۂ  زمین؛ اس لیے نہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آ جائے۔ بلکہ صرف اس لیے کہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پروگرام اس کے پاس ہے، یا بالفاظ صحیح تر یوں کہیے کہ فلاحِ انسانیت کے جس پروگرام کا نام ’’اسلام‘‘ ہے، اس سے تمام نوعِ انسانی متمتع ہو۔ اس غرض کے لیے وہ ان تمام طاقتوں سے کام لینا چاہتا ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے کارگر ہو سکتی ہیں ، اور ان سب طاقتوں کے استعمال کا ایک جامع نام ’’جہاد‘‘ رکھتا ہے۔ زبان و قلم کے زور سے لوگوں کے نقطۂ نظر کو بدلنا اور ان کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے۔ تلوار کے زور سے پرانے ظالمانہ نظامِ زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے اور اس راہ میں مال صرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے۔

’’فی سبیل اللہ‘‘ کی لازمی قید

لیکن اسلام کا جہاد نرا ’’جہاد‘‘ نہیں ہے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی قید اس کے ساتھ ایک لازمی قید ہے۔ یہ لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے جس طرف ابھی میں اشارہ کر چکا ہوں۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے ’’راہ خدا میں ‘‘ اس ترجمے سے لوگ غلط فہمی میں پڑ گئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ زبردستی لوگوں کو اسلام کے مذہبی عقائد کا پیرو بنانا جہاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ لوگوں کے تنگ دماغوں میں ’’راہ خدا‘‘ کا کوئی مفہوم اس کے سوا نہیں سما سکتا۔ مگر اسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کیا جائے اور جس کے کرنے والے کا مقصد اس سے خود کوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو، اسلام ایسے کام کو ’’فی سبیل اللہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ خیرات دیتے ہیں اس نیت سے کہ اسی دنیا میں مادی یا اخلاقی طور پر اس خیرات کا کوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کر آئے تو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ اور اگر خیرات سے آپ کی نیت یہ ہے کہ ایک غریب انسان کی مدد کر کے آپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے۔ پس یہ اصطلاح مخصوص ہے ایسے کاموں کے لیے جو کامل خلوص کے ساتھ، ہر قسم کی نفسانی اغراض سے پاک ہو کر، اس نظریے پر کیے جائیں کہ انسان کا دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجب ہے، اور انسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
’’جہاد‘‘ کے لیے بھی ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی قید اسی غرض کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب نظامِ زندگی میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی نظریے کے مطابق نیا نظام مرتب کرنے کے لیے اٹھے، تو اس قیام اور اس سر بازی و جاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہو۔ اُس کا یہ مقصد ہر گز نہ ہو کہ قیصر کو ہٹا کر وہ خود قیصر بن جائے۔ اپنی ذات کے لیے مال و دولت، یا شہرت و ناموری، یا عزت و جاہ حاصل کرنے کا شائبہ تک اس کی جدوجہد کے مقاصد میں شامل نہ ہو۔ اس کی تمام قربانیوں اور ساری محنتوں کا مدعا صرف یہ ہو کہ بندگانِ خدا کے درمیان ایک عادلانہ نظامِ زندگی قائم کیا جائے۔ اس کے معاوضہ میں اسے خدا کی خوشنودی کے سوا کچھ بھی مطلوب نہ ہو:
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ (النّسآء ۴: ۷۶)
’’جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں او رجو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘‘۔
’’طاغوت‘‘ کا مصدر ’’طغیان‘‘ ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں طغیانی آ گئی ہے۔ اسی طرح جب آدمی اپنی جائز حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جائے یا اپنے مناسب حصہ سے زائد فوائد حاصل کرے تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں راہِ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کا قانونِ عدل دنیا میں قائم ہو۔ لڑنے والا خود بھی اس کی پابندی کرے اور دوسروں سے بھی اس کی پابندی کرائے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (القصص ۲۸: ۸۳)
’’آخرت میں عزت کا مقام تو ہم نے صرف ان لوگوں کے لیے رکھا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنا اور فساد کرنا نہیں چاہتے۔ عاقبت کی کامیابی صرف خدا ترس لوگوں کے لیے ہے۔‘‘
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا۔ ’’راہِ خدا کی جنگ سے کیا مراد ہے؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے۔ دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے۔ تیسرے شخص کو کسی سے عداوت ہوتی ہے یا قومی حمیت کا جوش ہوتا ہے، اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے؟‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا ’’کسی کی بھی نہیں۔ فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ’’اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اونٹ باندھنے کی ایک رسی حاصل کرنے کی بھی نیت ہوئی تو اس کا اجر ضائع ہو گیا۔‘‘ اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو اور کوئی شخصی یا جماعتی غرض پیشِ نظر نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل کی قید اسلامی نقطۂ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جان دار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے پورا زور صرف کر رہا ہے۔ لیکن ’’مسلمان‘‘ جس انقلابی جماعت کا نام ہے اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپاؤ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کر دو، نہ اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو۔
جہاد کے اس مفہوم اور فی سبیل اللہ کی اس معنویت کو مختصراً بیان کر دینے کے بعد میں اس دعوتِ انقلاب کی تھوڑی سی تشریح کرنا چاہتا ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے تاکہ آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جا سکے کہ اس دعوت کے لیے جہاد کی حاجت کیا ہے اور اس کی غایت (Objective) کیا ہے؟
 
اسلام کی دعوت انقلاب

اسلام کی دعوت انقلاب کا خلاصہ یہ ہے:
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ (البقرۃ ۲: ۲۱)
لوگو! صرف اپنے رب کی بندگی کرو۔ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔
اسلام مزدوروں یا زمینداروں یا کاشت کاروں یا کارخانہ داروں کو نہیں پکارتا، بلکہ تمام انسانوں کو پکارتا ہے۔ اس کا خطاب انسان سے بحیثیت انسان ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر تم خدا کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت اور فرماں برداری کرتے ہو تو اسے چھوڑ دو۔ اگر خود تمہارے اندر خدائی کا داعیہ ہے تو اسے بھی دماغ سے نکال دو کیونکہ دوسروں سے اپنی بندگی کرانے اور دوسروں کا سر اپنے آگے جھکوانے کا حق بھی تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ تم سب کو ایک خدا کی بندگی قبول کرنی چاہیے اور اس بندگی میں سب کو ایک سطح پر آ جانا چاہیے:
تَعَالَوْا الٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍِ م بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَانُشْرِکَ بہٗ شَیْئًا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ  (آل عمران۳: ۶۴)
آؤ ہم اور تم ایک ایسی بات پر جمع ہو جائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے وہ یہ کہ ہم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور خداوندی میں کسی کو خدا کا شریک بھی نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے بجائے امرونہی کا مالک بھی نہ بنائے۔
یہ عالمگیر اور کلی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس نے پکار کر کہا کہ اِن الْحُکْمُ اِلَّا للہ ’’حکومت سوائے خدا کے اور کسی کی نہیں ہے۔‘‘ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذاتِ خود انسان کا حکمران بن جائے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے روک دے۔ کسی انسان کو بالذات امر و نہی کا مالک سمجھنا دراصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے اور دنیا میں یہی اصل بِنائے فساد ہے۔ اللہ نے انسان کو جس صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور زندگی بسر کرنے کا جو سیدھا راستہ اسے بتایا ہے اس سے انسان کے ہٹنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں۔ اور نتیجتاً خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ اس کا انجام پھر لازمی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھُلا  یا چھپا داعیہ لے کر اٹھتے ہیں اور اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنا بندہ بنا لیتے ہیں اور دوسری طرف اسی خدا فراموشی اور خود فراموشی کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کا ایک حصہ طاقتوروں کی خداوندی مان لیتا ہے اور اس کے اس حق کو تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ حکم کریں اور یہ حکم کے آگے سر جھکا دیں۔ یہی دنیا میں ظلم و فساد اور ناجائز انتفاع (Exploitation) کی بنیاد ہے اور اسلام پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے۔ وہ ہانکے پکارے کہتا ہے: 
لَا تُطِیْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَ oالَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْن (الشعراء ۲۶: -۱۵۲۱۵۱)
ان لوگوں کا حکم ہر گز نہ مانو جو اپنی جائز حد سے گزر گئے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔
َلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا (الکھف۱۸: ۲۸)
اس شخص کی اطاعت ہر گز نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہشات نفس کا بندہ بن گیا ہے اور جس کا کام افراط و تفریط پر مبنی ہے۔
اَ لَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَo الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا۔(ھود۱۱: -۱۹۱۸) 
خدا کی لعنت ان ظالموں پر جو خدا کے بنائے ہوئے زندگی کے سیدھے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں۔ 
وہ لوگوں سے پوچھتا ہے کہ 
ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ (یوسف۱۲:۳۹)
بہت سے چھوٹے بڑے خدا، جن کی بندگی میں تم پسے جا رہے ہو، ان کی بندگی قبول ہے، یا اس ایک خدا کی جو سب سے زبردست ہے؟ 
اگر اس خدائے واحد کی بندگی قبول نہ کرو گے تو ان چھوٹے اور جھوٹے خداؤں کی آقائی سے تمہیں کبھی نجات نہ مل سکے گی۔ یہ کسی نہ کسی طور سے تم پر تسلط پائیں گے، اور فساد برپا کر کے رہیں گے۔
اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْھَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَھْلِھَآ اَذِلَّۃً۔ وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْن (النمل ۲۷: ۳۴)
یہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اس کے نظامِ حیات کو تہہ و بالا کر ڈالتے ہیں اور اس کی عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور ان کا یہی وطیرہ ہے۔
وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۔ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرہ ۲: ۲۰۵)
اور جب وہ اقتدار پا لیتا ہے تو زمین میں فساد پھیلاتا ہے۔ کھیتوں کو خراب اور نسلوں کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
یہاں پوری تفصیل کا موقع نہیں۔ مختصراً میں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوتِ توحید و خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدے کی دعوت نہ تھی جس میں عام طور پر مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے، بلکہ حقیقت میں ایک اجتماعی انقلاب (Social Revolution) کی دعوت تھی۔ اس کی ضرب بلاواسطہ ان طبقوں پر پڑتی تھی جنہوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر، یا سیاسی رنگ میں بادشاہ اور رئیس اور حکمراں گروہ بن کر، یا معاشی رنگ میں مہاجن اور زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامتہ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا۔ یہ کہیں علانیہ ارباب من دون اللہ بنے ہوئے تھے، دنیا سے اپنے پیدائشی یا طبقاتی حقوق کی بنا پر اطاعت و بندگی کا مطالبہ کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ :
مَاعَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ (القصص ۲۸: ۳۸)
میں اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جانتا
اور اَنَا رَبُّکُمُ الْاَ عْلٰی(النٰزِّعات ۷۹: ۲۴)
میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔
اور اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ(البقرہ ۲ : ۲۵۸)
میں زندہ رکھتا ہوں اور میں مارتا ہوں۔
اور مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً (حم السجدہ ۴۱: ۱۵)
ہم سے بڑھ کر طاقت ور کون ہے؟
اور کسی جگہ انہوں نے عامتہ الناس کی جہالت کو استعمال (Exploit) کرنے کے لیے بتوں اور ہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھے تھے جن کی آڑ پکڑ کر یہ اپنے خداوندی حقوق بندگانِ خدا سے تسلیم کراتے تھے۔ پس کفر و شرک اور بُت پرستی کے خلاف اسلام کی دعوت، اور خدائے واحد کی بندگی و عبودیت کے لیے اسلام کی تبلیغ، براہ راست حکومت اور اس کو سہارا دینے والے یا اس کے سہارے چلنے والے طبقوں کی اغراض سے متصادم ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے جب کبھی کسی نبی نے یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرَہٗ کی صدا بلند کی، حکومت وقت فوراً اس کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی اور تمام ناجائز انتفاع کرنے والے طبقے اس کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے۔ کیونکہ یہ محض ایک مابعد الطبیعی قضیہ (Metaphysical Proposition) کا بیان نہ تھا، بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا، اور اس میں پہلی آواز سنتے ہی سیاسی شورش کی بُو سونگھ لی جاتی تھی۔

اسلامی دعوت انقلاب کی خصوصیت!

اس میں شک نہیں کہ انبیاء علیہم السلام سب کے سب انقلابی لیڈر تھے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم سب سے بڑے انقلابی لیڈر ہیں۔ لیکن جو چیز دنیا کے عام انقلابیوں اور ان خدا پرست انقلابی لیڈروں کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچتی ہے، وہ یہ ہے کہ دوسرے انقلابی لوگ خواہ کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہوں ، عدل اور توسط کے صحیح مقام کو نہیں پا سکتے۔ وہ یا تو خود مظلوم طبقوں میں سے اٹھتے ہیں ، یا ان کی حمایت کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں اور پھر سارے معاملات کو انہی طبقوں کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر غیر جانبدارانہ اور خالص انسانیت کی نظر نہیں ہوتی، بلکہ ایک طبقے کی طرف حمایت کا جذبہ لیے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ ظلم کا ایسا علاج سوچتے ہیں جو نتیجتاً ایک جوابی ظلم ہوتا ہے۔ ان کے لیے انتقام، حسد اور عداوت کے جذبات سے پاک ہو کر ایک ایسا معتدل اور متوازن اجتماعی نظام تجویز کرنا ممکن نہیں ہوتا جس میں مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح ہو۔ بخلاف اس کے انبیاء علیہم السلام خواہ کتنے ہی ستائے گئے ہوں اور کتنا ہی ان پر اور ان کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا ہو، ان کی انقلابی تحریک نے کبھی ان کے شخصی جذبات کا اثر نہیں پایا۔ وہ براہ راست خدا کی ہدایت کے تحت کام کرتے تھے اور خدا چونکہ انسانی جذبات سے منزہ ہے، کسی انسانی طبقے سے اس کا مخصوص رشتہ نہیں ، نہ کسی دوسرے انسانی طبقے سے اس کو کوئی شکایت یا عداوت ہے، اس لیے خدا کی ہدایت کے تحت انبیاء علیہم السلام تمام معاملات کو بے لاگ انصاف کے ساتھ اس نظر سے دیکھتے تھے کہ تمام انسانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کس چیز میں ہے۔ کس طرح ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں ہر شخص اپنی جائز حدود کے اندر رہ سکے، اپنے جائز حقوق سے متمتع ہو سکے اور افراد کے باہمی روابط، نیز فرد اور جماعت کے باہمی تعلق میں کامل توازن قائم ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی انقلابی تحریک کبھی طبقاتی نزاع (Class War) میں تبدیل نہ ہونے پائی۔ تعمیر نو(Social Reconstruction)اس طرز پر نہیں ہوئی کہ ایک طبقے کو دوسرے طبقے پر مسلط کر دیں ، بلکہ اس کے لیے عدل کا ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں تمام انسانوں کے لیے ترقی اور مادی و روحانی سعادت کے یکساں امکانات رکھے گئے تھے۔

جہاد کی ضرورت اور اس کی غایت

اس مختصر مقالہ میں میرے لیے اس اجتماعی نظام (Social Order) کی تفصیلات پیش کرنا مشکل ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے۔ تفصیل کا موقع انشاء اللہ عنقریب آئے گا۔ یہاں اپنے موضوع کی حد میں رہتے ہوئے جس بات کو مجھے واضح کرنا تھا وہ صرف یہ تھی کہ اسلام محض ایک مذہبی عقیدہ اور چند عبادات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک سسٹم ہے جو دنیا سے زندگی کے تمام ظالمانہ اور مفسدانہ نظامات کو مٹانا چاہتا ہے اور ان کی جگہ اپنا ایک اصلاحی پروگرام نافذ کرنا چاہتا ہے جس کو وہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے بہتر سمجھتا ہے۔
اس تخریب و تعمیر اور انقلاب و اصلاح کے لیے وہ کسی ایک قوم یا گروہ کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے۔ وہ خود ان ظالم طبقوں اور ناجائز انتفاع کرنے والے گروہوں ، حتیٰ کہ بادشاہوں اور رئیسوں کو بھی پکارتا ہے کہ آؤ اس جائز حد کے اندر رہنا قبول کر لو جو تمہارے خالق نے تمہارے لیے مقرر کی ہے۔ اگر تم عدل اور حق کے نظام کوقبول کر لو گے تو تمہارے لیے امن و سلامتی ہے۔ یہاں کسی انسان سے دشمنی نہیں ہے۔ دشمنی جو کچھ بھی ہے ظلم سے ہے، فساد سے ہے، بد اخلاقی سے ہے، اس بات سے ہے کہ کوئی شخص اپنی فطری حد سے تجاوز کر کے وہ کچھ حاصل کرنا چاہے جو فطرت اللہ کے لحاظ سے اس کا نہیں ہے۔
یہ دعوت جو لوگ بھی قبول کر لیں وہ خواہ کسی طبقے، کسی نسل، کسی قوم اور کسی ملک کے ہوں ، یکساں حقوق اور مساویانہ حیثیت سے اسلامی جماعت کے رکن بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ بین الاقوامی انقلابی پارٹی تیار ہوتی ہے جسے قرآن ’’ حزب اللہ‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے اور جس کا دوسرا نام ’’اسلامی جماعت‘‘ یا ’’امت مسلمہ’’ ہے۔
یہ پارٹی وجود میں آتے ہی اپنے مقصدِ وجود کی تحصیل کے لیے جہاد شروع کر دیتی ہے۔ اس کے عین وجود کا اقتضاء یہی ہے کہ یہ غیر اسلامی نظام کی حکمرانی کو مٹانے کی کوشش کرے اور اس کے مقابلہ میں تمدن و اجتماع کے اس معتدل و متوازن ضابطہ کی حکومت قائم کرے جسے قرآن ایک جامع لفظ ’’کلمتہ اللہ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر یہ پارٹی حکومت کو بدلنے اور اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کی کوشش نہ کرے تو اس کے وجود میں آنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی اور مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہے، اور اس جہاد کے سوا اس کی ہستی کا اور کوئی مصرف نہیں۔ قرآن اس کی پیدائش کا ایک ہی مقصد بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ۔ (آل عمران ۳: ۱۱۰)
تم وہ بہترین امت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ مذہبی تبلیغ کرنے والے واعظین (Preachers) اور مبشرین (Missionaries) کی جماعت نہیں ہے، بلکہ خدائی فوج داروں کی جماعت ہے لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآ عَلَی النَّاسِ؛ اور اس کا کام یہ ہے کہ دنیا سے ظلم، فتنہ، فساد، بد اخلاقی، طغیانی اور ناجائز انتفاع کو بزور مٹا دے۔ اَرْبَابٌ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی خداوندی کو ختم کر دے؛ بدی کی جگہ نیکی قائم کرے۔
قٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَاتَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرہ ۲: ۱۹۳)
ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جائے۔
اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْر(الانفال ۸: ۷۳)
اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ ہو گا اور بڑا فساد برپا رہے گا۔
ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْن (التوبہ ۹: ۳۳)
وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ اور حق کی اطاعت کا صحیح ضابطہ دے کر بھیجا ہے تاکہ تمام اطاعتوں کو مٹا کر اسی ایک اطاعت کو سب پر غالب کر دے خواہ وہ لوگ اس پر راضی نہ ہوں جو خداوندی میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
لہٰذا اس پارٹی کے لیے حکومت کے اقتدار پر قبضہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ مفسدانہ نظامِ تمدن ایک فاسد حکومت کے بل پر قائم ہوتا ہے اور ایک صالح نظام تمدن اس وقت تک کسی طرح قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ حکومت مفسدین سے مغلوب ہو کر مصلحین کے ہاتھ میں نہ آ جائے۔
دنیا کی اصلاح سے قطع نظر اس جماعت کے لیے خود اپنے مسلک پر عامل ہونا بھی غیر ممکن ہے اگر حکومت کا نظام کسی دوسرے مسلک پر قائم ہو۔ کوئی پارٹی جو کسی سسٹم کو برحق سمجھتی ہو، کسی دوسرے سسٹم کی حکومت میں اپنے مسلک کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتی۔ ایک اشتراکی مسلک کا آدمی اگر انگلستان یا امریکہ میں رہ کر اشتراکیت کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہے تو کسی طرح اپنے اس ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ضابطۂ حیات حکومت کی طاقت سے بجبر اس پر مسلط ہو گا اور وہ اس کی قہرمانی سے کسی طرح بچ نہ سکے گا۔ اسی طور پر ایک مسلمان بھی اگر کسی غیر اسلامی نظامِ حکومت میں رہ کر اسلامی اصول پر زندگی بسر کرنا چاہے تو اس کا کامیاب ہونا محال ہے۔ جن قوانین کو وہ باطل سمجھتا ہے، جن ٹیکسوں کو وہ حرام سمجھتا ہے، جن معاملات کو وہ ناجائز سمجھتا ہے، جس تہذیب اور جس طرزِ زندگی کو وہ فاسد سمجھتا ہے، جس طریقِ تعلیم کو وہ مہلک سمجھتا ہے، وہ سب کے سب اس پر، اس کے گھربار پر ، اس کی اولاد پر اس طرح مسلط ہو جائیں گے کہ وہ کسی طرح ان کی گرفت سے بچ کر نہ نکل سکے گا۔ لہٰذا جو شخص یا گروہ کسی مسلک پر اعتقاد رکھتا ہو وہ اپنے اعتقاد کے فطری اقتضا ہی سے اس امر پر مجبور ہوتا ہے کہ مسلکِ مخالف کی حکومت کو ہٹانے اور اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ مخالف نظریے کی حکومت مسلط ہو تو اس صورت میں وہ خود اپنے مسلک پر عمل نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اس کوشش سے غفلت برتتا ہے تو اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ وہ درحقیقت اپنے عقائد ہی میں جھوٹا ہے۔
عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ۔ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنo لَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ۔۔۔ اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (التوبہ ۹: -۴۵۴۳)
اے نبی! خدا تمہیں معاف کرے، تم نے ان لوگوں کو جہاد کی شرکت سے علیٰحدہ رہنے کی اجازت کیوں دے دی؟ تمہیں اجازت نہ دینی چاہیے تھی تاکہ یہ بات تم پر کھل جاتی کہ اپنے ایمان میں سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟ جو لوگ اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہیں کر سکتے کہ انہیں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے سے معذور رکھا جائے۔۔۔ ایسی درخواست تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ آخر پر۔
ان الفاظ میں قرآن نے صاف اور صریح فتویٰ دے دیا ہے کہ اپنے اعتقاد (Conviction) میں کسی جماعت کے صادق ہونے کا واحد معیار یہی ہے کہ وہ جس مسلک پر اعتقاد رکھتی ہو، اس کو حکمران بنانے کے لیے جان و مال سے جہاد کرے۔ اگر تم مسلک مخالف کی حکومت کو گوارا کرتے ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے اعتقاد میں جھوٹے ہو اور اس کا فطری نتیجہ یہی ہے اور یہی ہو سکتا ہے کہ آخرکار اسلام کے مسلک پر تمہارا نام نہاد عقیدہ بھی باقی نہ رہے گا۔ ابتدا میں تم مسلکِ مخالف کی حکومت کو بکراہت گوارا کرو گے پھر رفتہ رفتہ تمہارے دل اس سے مانوس ہوتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کراہت رغبت سے بدل جائے گی اور آخر میں نوبت اس حد تک پہنچے گی کہ مسلک مخالف کی حکومت قائم ہونے اور قائم رہنے میں تم خود مددگار بنو گے، اپنی جان و مال سے جہاد اس لیے کرو گے کہ مسلکِ اسلام کے بجائے مسلکِ غیراسلام قائم ہو یا قائم رہے۔ تمہاری اپنی طاقتیں مسلکِ اسلام کے قیام کی مزاحمت میں صرف ہونے لگیں گی اور یہاں پہنچ کر تم میں اور کافروں میں اسلام کے منافقانہ دعویٰ، ایک بدترین جھوٹ، ایک پر فریب نام کے سوا کوئی فرق نہ رہے گا۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس نتیجہ کو صاف صاف بیان فرما دیا ہے:
والذی نفسی بیدہ لتامرون بالمعروف ولتنھن عن المنکر ولتاخذن یدالمسی ولتطرنہ علی الحق اطراء اولنضربن اللہ قلوب بعضکم علی بعض اولیلعنکم کما لعنھم
اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تمہیں نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا اور بدکار کا ہاتھ پکڑنا اور اسے حق کی طرف بزور موڑنا ہو گا، یا پھر اللہ کے قانون فطرت کا یہ نتیجہ ظاہر ہو کر رہے گا کہ بدکاروں کے دلوں کا اثر تمہارے دلوں پر بھی پڑ جائے اور ان کی طرح تم بھی ملعون ہو کر رہو۔

عالمگیر انقلاب

اس بحث سے آپ پریہ بات واضح ہو گئی ہو گی کہ اسلامی جہاد کا مقصود (Objective) غیر اسلامی نظام کی حکومت کو مٹا کر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ اسلام یہ انقلاب صرف ایک ملک یا چند ملکوں میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ ابتداء ً مسلم پارٹی کے ارکان کا فرض یہی ہے کہ جہاں جہاں وہ رہتے ہوں ، وہاں کے نظامِ حکومت میں انقلاب پیدا کریں لیکن ان کی آخری منزلِ مقصود ایک عالم گیر انقلاب (World Revolution) کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کوئی انقلابی مسلک جو قومیت کے بجائے انسانیت کی فلاح کے اصول لے کر اٹھا ہو، اپنے انقلابی مطمح نظر کو کبھی ایک ملک یا ایک قوم کے دائرے میں محدود نہیں کر سکتا۔ بلکہ وہ اپنی فطرت کے عین اقتضاء ہی سے مجبور ہے کہ عالمگیر انقلاب کو اپنا مطمح نظر بنائے۔ حق جغرافی حدود کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اگر کسی پہاڑ یا دریا کے اس پار حق ہوں تو اس پار بھی حق ہوں۔ نوعِ انسانی کے کسی حصہ کو بھی مجھ سے محروم نہ رہنا چاہیے۔ انسان جہاں بھی ظلم و ستم کا اور افراط و تفریط کا تختۂ مشق بنا ہوا ہے وہاں اس کی مدد کے لیے پہنچنا میرا فرض ہے۔ اسی تخیل کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
وَمَالَکُمْ لَاتُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا (النساء۴: ۷۵) 
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کی راہ میں ان مردوں ، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جنہیں کمزور پا کر دبا لیا گیا ہے اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ خدا یا ہمیں اس بستی سے نکال جس کے کارفرما ظالم ہیں۔
علاوہ بریں قومی اور ملکی تقسیمات کے باوجود انسانی تعلقات و روابط کچھ ایسی عالمگیری اپنے اندر رکھتے ہیں کہ کوئی ایک مملکت اپنے اصول و مسلک کے مطابق پوری طرح عمل نہیں کر سکتی جب تک کہ ہمسایہ ممالک میں بھی وہی اصول و مسلک رائج نہ ہو جائے۔ لہٰذا مسلم پارٹی کے لیے اصلاح عمومی اور تحفظ خودی دونوں کی خاطر یہ ناگزیر ہے کہ کسی ایک خطہ میں اسلامی نظام کی حکومت قائم کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ جہاں تک اس کی قوتیں ساتھ دیں ، اس نظام کو تمام اطراف میں وسیع کرنے کی کوشش کرے۔ وہ ایک طرف اپنے افکار و نظریات کو دنیا میں پھیلائے گی اور تمام ممالک کے باشندوں کو دعوت دے گی کہ اس مسلک کو قبول کریں جس میں ان کے لیے حقیقی فلاح مضمر ہے۔ دوسری طرف اگر اس میں طاقت ہو گی تو وہ لڑ کر غیر اسلامی حکومتوں کو مٹا دے گی اور ان کی جگہ اسلامی حکومت قائم کرے گی۔
یہی پالیسی تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے عمل کیا۔ عرب ، جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی، سب سے پہلے اسی کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول و مسلک کی طرف دعوت دی۔ پھر جب انہوں نے واضح طور پر انکار کر دیا تو ان کے خلاف جنگی کارروائی کا تہیہ کر لیا۔ غزوہ تبوک اسی سلسلہ کی ابتداء تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پارٹی کے لیڈر ہوئے تو انہوں نے روم اور ایران دونوں کی غیراسلامی حکومتوں پر حملہ کیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حملے کو کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچا دیا۔ مصر و شام اور روم و ایران کے عوام اول اول اس کو عرب قوم کی امپیریلسٹ پالیسی سمجھے، انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح پہلے ایک قوم دوسری قوم کو غلام بنانے کے لیے نکلا کرتی تھی اسی طرح اب بھی ایک قوم اسی غرض کے لیے نکلی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر لوگ قیصر و کسریٰ کے جھنڈے تلے مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نکلے۔ مگر جب ان پر مسلم پارٹی کے انقلابی مسلک کا حال کھلا، اور جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ جفا کارانہ قوم پرستیAggressive Nationalism) ) کے علمبردار نہیں ہیں بلکہ قومی اغراض سے پاک ہیں ، اور محض ایک عادلانہ نظام قائم کرنے آئے ہیں ، اور ان کا مقصد درحقیقت ان ظالم طبقوں کی خداوندی کو ختم کرنا ہے جو قیصریت و کسرویت کی پناہ میں ہم کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ تو ان کی اخلاقی ہمدردیاں مسلم پارٹی کی طرف ہو گئیں۔ وہ قیصر و کسریٰ کے جھنڈ ے سے الگ ہوتے چلے گئے اور اگر مارے باندھے فوج میں بھرتی ہو کر لڑنے آئے بھی تو بے دلی سے لڑے۔ یہی سبب ہے ان حیرت انگیز فتوحات کا جو ابتدائی دور میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور یہی سبب ہے اس کا کہ اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد جب ان ممالک کے باشندوں نے اسلامی نظام اجتماعی کو عملاً کام کرتے ہوئے دیکھا تو وہ خود اس بین الاقوامی پارٹی میں شریک ہوتے چلے گئے اور خود اس مسلک کے علمبردار بن کر آگے بڑھے تاکہ دوسرے ملکوں میں بھی اس کو پھیلا دیں۔

جارحانہ اور مدافعانہ کی تقسیم غیر متعلق ہے

یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر جب آپ غور کریں گے تو یہ بات بآسانی آپ کی سمجھ میں آ جائے گی کہ جنگ کی جو تقسیم جارحانہ (Aggressive) اور مدافعانہ (Defensive) کی اصطلاحوں میں کی گئی ہے،اس کا اطلاق سرے سے اسلامی جہاد پر ہوتا ہی نہیں۔ یہ تقسیم صرف قومی اور ملکی لڑائیوں پر ہی منطبق ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اصطلاحاً ’’حملہ‘‘ اور ’’مدافعت‘‘ کے الفاظ، ایک ملک یا ایک قوم کی نسبت سے ہی بولے جاتے ہیں۔ مگر جب ایک بین الاقوامی پارٹی ایک جہانی نظریہ و مسلک کو لے کر اٹھے اور تمام قوموں کو انسانی حیثیت سے اس مسلک کی طرف بلائے اور ہر قوم کے آدمیوں کو مساویانہ حیثیت سے پارٹی میں شریک کرے اور محض مسلکِ مخالف کی حکومت کو مٹا کر اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنے کے لیے جدوجہد نہ کرے، تو ایسی حالت میں اصطلاحی حملہ اور اصطلاحی مدافعت کا قطعاً کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر اصطلاح سے قطع نظر کر لی جائے تب بھی اسلامی جہاد پر جارحانہ اور مدافعانہ کی تقسیم منطبق نہیں ہوتی۔ اسلامی جہاد بیک وقت جارحانہ بھی ہے اور مدافعانہ بھی۔ جارحانہ اس لیے کہ مسلم پارٹی مسلک مخالف کی حکمرانی پر حملہ کرتی ہے اور مدافعانہ اس لیے کہ خود اپنے مسلک پر عامل ہونے کے لیے حکومت کی طاقت حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ پارٹی ہونے کی حیثیت سے اس کا کوئی گھر نہیں ہے کہ وہ اس کی مدافعت کرے۔ اس کے پاس محض اپنے اصول ہیں جن کی وہ حمایت کرتی ہے، اسی طرح مخالف پارٹی کے بھی گھر پر وہ حملہ نہیں کرتی، بلکہ اس کے اصولوں پر حملہ کرتی ہے اور اس حملہ کا مدعا یہ نہیں ہے کہ اس سے زبردستی اس کے اصول چھڑائے جائیں بلکہ مدعا صرف یہ ہے کہ اس کے اصولوں سے حکومت کی طاقت چھین لی جائے۔

ذمّیوں کی حیثیت 

یہیں سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ کسی ملک پر اسلامی نظام کی حکومت قائم ہو جانے کی صورت میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہو گی، جو کسی دوسرے عقیدہ و مسلک کے متبع ہوں۔ اسلام کا جہاد لوگوں کے عقیدہ و مسلک اور ان کے طریقِ عبادت یا قوانینِ معاشرت سے تعرض نہیں کرتا۔ وہ ان کو پوری آزادی دیتا ہے کہ جس عقیدہ پر چاہیں قائم رہیں اور جس مسلک پر چاہیں چلیں۔ البتہ وہ ان کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ ان کی خاطر کسی ایسے طریقے پر حکومت کا نظام چلایا جائے جو اسلام کی نگاہ میں فاسد ہے۔ نیز وہ ان کے اس حق کو بھی نہیں مانتا کہ وہ معاملات کے اُن طریقوں کو اسلامی نظامِ حکومت میں جاری رکھیں جو اسلام کے نزدیک اجتماعی فلاح کے لیے مہلک ہیں مثلاً وہ حکومت کا نظام ہاتھ میں لیتے ہوئے سُودی کاروبار کی تمام صورتوں کو مسدود کر دے گا۔ جوئے کی ہر گز اجازت نہ دے گا۔ خرید و فروخت اور مالی لین دین کی ان تمام شکلوں کو روک دے گا جو اسلامی قانون میں حرام ہیں۔ قحبہ خانوں اور فواحش کے اڈوں کو کلیتہً بند کر دے گا۔ غیرمسلم عورتوں کو ستر کے کم سے کم حدود کی پابندی پر مجبور کر ے گا، اور انہیں تبرجِ جاہلیت کے ساتھ پھرنے سے روک دے گا۔سینما پر احتساب قائم کرے گا۔ اس قسم کے اور بہت سے امور ہیں جن میں ایک اسلامی نظام حکومت نہ صرف اجتماعی فلاح و بہبود کی خاطر بلکہ خود اپنے تحفظ (Self Defence) کی خاطر بھی ان تمدنی معاملات کی اجازت نہ دے گا جو غیر مسلموں کے مسلک میں چاہے جائز ہوں مگر اسلام کی نگاہ میں موجبِ فساد و ہلاکت ہیں۔
اس باب میں اگر کوئی شخص اسلام پر نا رواداری کا الزام عاید کرے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے کسی مسلک نے بھی دوسرے مسلک والوں کے ساتھ اتنی رواداری نہیں برتی جتنی اسلام برتتا ہے۔ دوسری جگہ تو آپ دیکھیں گے کہ غیر مسلک والوں کے لیے زندگی دوبھر کر دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ وطن چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن اسلام غیر مسلک والوں کو پورے امن کے ساتھ ہر قسم کی ترقی کرنے کا موقع دیتا ہے، اور ان کے ساتھ ایسی فیاضی کا برتاؤ کرتا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

امپیریلزم کا شبہ

یہاں پہنچ کر مجھے پھر اس بات کا اعادہ کرنا چاہیے کہ ’’اسلام‘‘ کی نظر میں جہاد صرف وہی ہے جو محض فی سبیل اللہ ہواور اس جہاد کے نتیجہ میں جب اسلامی حکومت قائم ہو تو مسلمانوں کے لیے یہ ہر گز جائز نہیں ہے کہ وہ قیصر و کسریٰ کو ہٹا کر خود قیصر و کسریٰ بن جائیں۔ مسلمان اس لیے نہیں لڑتا اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے نہیں لڑ سکتا کہ اس کی ذاتی حکومت قائم ہو جائے اور وہ خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا لے اور ناجائز طور پر لوگوں کی گاڑھی محنتوں کا روپیہ وصول کر کے اپنے لیے زمین میں جنتیں بنانے لگے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں بلکہ جہاد فی سبیل الطاغوت ہے اور ایسی حکومت کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسلام کا جہاد تو ایک خشک اور بے مزا د محنت ہے جس میں جان، مال اور خواہشاتِ نفس کی قربانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اگر یہ جہاد کامیاب ہو اور نتیجہ میں حکومت مل جائے تو سچے مسلمان حکمران پر ذمہ داریوں کا اس قدر بھاری بوجھ عائد ہو جاتا ہے کہ اس غریب کے لیے راتوں کی نیند اور دن کی آسائش تک حرام ہو جاتی ہے۔ مگر اس کے معاوضہ میں وہ حکومت و اقتدار کی ان لذتوں میں سے کوئی لذت حاصل نہیں کر سکتا جن کی خاطر دنیا میں عموماً حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسلام کا فرماں روا نہ تو رعیت کے عام افراد سے ممتاز کوئی بالاتر ہستی ہے، نہ عظمت و رفعت کے تخت پر وہ بیٹھ سکتا ہے، نہ اپنے آگے کسی سے گردن جھکوا سکتا ہے، نہ قانونِ شریعت کے خلاف ایک پتہ ہلا سکتا ہے، نہ اسے اختیار حاصل ہے کہ اپنے کسی عزیز یا دوست یا خود اپنی ذات کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ ہستی کے جائز مطالبہ سے بچا سکے، نہ وہ حق کے خلاف ایک حبّہ لے سکتا ہے اور نہ چپہ بھر زمین پر قبضہ کر سکتا ہے۔ ایک متوسط درجہ کے مسلمان کو زندگی بسر کرنے کے لیے جتنی تنخواہ کافی ہو سکتی ہے اس سے زیادہ بیت المال سے ایک پائی لینا بھی اس کے لیے حرام ہے۔ وہ غریب نہ عالیشان قصر بنوا سکتا ہے نہ خدم و حشم رکھ سکتا ہے۔ نہ عیش و عشرت کے سامان فراہم کر سکتا ہے۔ اس پر ہر وقت یہ خوف غالب رہتا ہے کہ ایک دن اس کے اعمال کا سخت حساب لیا جائے گا اور اگر حرام کا ایک پیسہ، جبر سے لی ہوئی زمین کا ایک چپہ، تکبر و فرعونیت کا ایک شمّہ، ظلم و بے انصافی کا ایک دھبہ اور خواہشاتِ نفسانی کی بندگی کا ایک شائبہ بھی اس کے حساب میں نکل آیا تو اسے سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔ اگر کوئی شخص حقیقت میں دنیا کا لالچی ہو تو اس سے بڑا کوئی بے وقوف نہ ہو گا، اگر وہ اسلامی قانون کے مطابق حکومت کا بار سنبھالنے پر آمادہ ہو۔ کیونکہ اسلامی حکومت کے فرماں روا سے تو بازار کے ایک معمولی دکاندار کی پوزیشن زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ وہ تو خلیفہ سے زیادہ کماتا ہے اور رات کو پاؤں پھیلا کر سوتا ہے۔ خلیفہ بے چارے کو نہ اس کے برابر آمدنی نصیب اور نہ رات کو چین سے سونا ہی نصیب۔
یہ بنیادی فرق ہے اسلامی حکومت اور غیراسلامی حکومت کا۔ غیر اسلامی حکومت میں حکمران گروہ اپنی خداوندی قائم کرتا ہے اور اپنی ذات کے لیے ملک کے وسائل و ذرائع استعمال کرتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی حکومت میں حکمراں گروہ مجرد خدمت کرتا ہے اور عام باشندوں سے بڑھ کر اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اسلامی حکومت کی سول سروس کو جو تنخواہیں ملتی تھیں ، ان کا تقابل آج کل یا خود اس دور کی امپیریلسٹ طاقتوں کی سول سروس کے مشاہروں سے کر کے دیکھیے، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی جہاں کشائی اور امپیریلزم کی عالمگیری میں روحی و جوہری فرق ہے۔ اسلامی حکومت میں خراساں ، عراق، شام اور مصر کے گورنروں کی تنخواہیں آپ کے معمولی انسپکٹروں کی تنخواہوں سے بھی کم تھیں۔ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ  کی تنخواہ ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ نہ تھی، درآں حالیکہ بیت المال دنیا کی دو عظیم الشان سلطنتوں کے خزانوں سے بھرپور ہو رہا تھا۔ اگرچہ ظاہر میں امپیریلزم بھی ملک فتح کرنا ہے اور اسلام بھی، مگر دنوں کے جوہر میں زمین و آسمان کا فرق ہے

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں 
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

یہ ہے اس جہاد کی حقیقت جس کے متعلق آپ بہت کچھ سنتے رہے ہیں۔ اب اگر آپ مجھ سے دریافت کریں کہ آج اسلام اور مسلم جماعت اور جہاد کا وہ تصور جو تم پیش کر رہے ہو، کہاں غائب ہو گیا، اور کیوں دنیا بھر کے مسلمانوں میں کہیں بھی اس کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا، تو میں عرض کروں گا کہ یہ سوال مجھ سے نہ کیجیے بلکہ ان لوگوں سے کیجیے جنہوں نے مسلمانوں کی توجہ ان کے اصلی مشن سے ہٹا کر تعویذ، گنڈوں اور عملیات اور مراقبوں اور ریاضتوں کی طرف پھیر دی۔ جنہوں نے نجات اور فلاح اور حصولِ مقاصد کے لیے شارٹ کٹ تجویز کیے تاکہ مجاہدے اور جانفشانی کے بغیر سب کچھ تسبیح پھرانے یا کسی صاحب قبر کی عنایات حاصل کر لینے ہی سے میسر آ جائے، جنہوں نے اسلام کی کلیات اور اصول و مقاصد کو لپیٹ کر تاریک گوشوں میں پھینک دیا اور مسلمانوں کے ذہن کو آمین بالجہر اور رفع یدین اور ایصالِ ثواب و زیارتِ قبور اور اسی قسم کے بے شمار جزئیات کی بحثوں میں ایسا پھنسا یا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مقصدِ تخلیق کو اور اسلام کی حقیقت کو قطعی بھول گئے۔ اگر اس سے بھی آپ کی تشفی نہ ہو تو پھر یہ سوال ان امراء اور احکام و اصحابِ اقتدار کے سامنے پیش کیجیے جو قرآن اور محمد صل ی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر قرآن کے قانون اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت کا اس سے زیادہ کوئی حق اپنے اوپر تسلیم نہیں کرتے کہ کبھی ختم قرآن کرا دیں اور کبھی عید میلاد کے جلسے کرا دیں۔ رہا اس قانون اور ہدایت کا عملاً نافذ کرنا، تو یہ حضرات اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ سمجھتے ہیں ، کیونکہ درحقیقت ان کا نفس ان پابندیوں کو قبول کرنے اور ان ذمہ داریوں کا بوجھ سنبھالنے کے لیے ہر گز تیار نہیں ہے جو اسلام ان پر عائد کرتا ہے۔ یہ بڑی سستی نجات کے طالب ہیں۔


***
ناشر کی اجازت سے، تشکر: ایم بلال
پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید