﻿

سال اقبال ۲۰۰۲ء

مطالعۂ اقبال کے سو سال 

علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر و فن پر منتخب مقالات
(۱۹۰۱ء۔ ۲۰۰۰ء)

مرتبین
رفیع الدین ہاشمی     محمد سہیل عمر    وحید اختر عشرت 

اکادمی ادبیات پاکستان 
پطرس بخاری روڈ، اسلام آباد


یہ کتاب سال اقبال ۲۰۰۲ء کے موقع پر شائع کی گئی
 


بسم اللہ الرَّ حمن الرَّ حیم
دیباچہ

	بیسویں صدی کا آغاز ہوا تو اگرچہ ’’شیخ محمد اقبال صاحب اقبال‘‘ بعض مقامی مشاعروں میں شرکت کے سبب اور انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے (۲۴ فروری ۱۹۰۰ء) میں پیش کردہ نظم ’’نالۂ یتیم‘‘ کے ذریعے، ایک محدود حلقے میں تو متعارف ہو چکے تھے، مگر اردو شعر و ادب کے بیشتر قارئین، ان سے واقف نہیں تھے، چنانچہ مخزن کے مدیر شیخ سر عبدالقادر نے، ان کی نظم ’’ہمالہ‘‘ شائع کرتے ہوئے تمہیداً، اپنے قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھا کہ: ’’شیخ محمد اقبال صاحب اقبال، ایم اے قائم مقام پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور، علوم مشرقی و مغربی دونوں میں صاحبِ کمال ہیں ‘‘ (مخزن اپریل ۱۹۰۱ء)
	ایک اور معروف ادبی جریدے خدنگِ نظر کے مدیر بھی چاہتے تھے کہ وہ اپنے قارئین کو اس ہونہار نوجوان سے متعارف کرائیں۔ اُنھوں نے شیخ عبدالقادر کو  ’’بار بار مجبور کیا کہ وہ اپنے قابلِ فخر دوست …… مسٹر محمد اقبال ایم اے کی شاعرانہ لائف ……قلم بند فرمائیں ‘‘ چنانچہ شیخ صاحب نے ایک مضمون لکھا جس میں اقبال کے حالات اور مختصر سوانح کے ساتھ، ان کی شاعری کے بارے میں بتایا کہ ان کا کلام ’’قوت بیان اور جوش سخن کے ساتھ اعلیٰ درجے کی علمی معلومات کا ثبوت دے رہا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’جو کچھ اقبال نے اب تک لکھا ہے، وہ اس اعتبار سے،[کہ] ایک نوجوان انگریزی خواں کا کلام ہے جس نے اپنی عمر کا بیشتر حصہّ علوم انگریزی کی تحصیل میں صرف کیا ہے اور جسے اہل زبان ہونے کا دعویٰ نہیں ، نہایت بے بہا ہے اور [اہل وطن کے لیے] مایۂ فخر و ناز ہے۔‘‘ (خدنگِ نظرمئی ۱۹۰۲ء، بہ حوالہ: اقبال، جادوگرِ ہندی نژاد از عتیق صدیقی، علی گڑھ ، اگست ۱۹۸۰ء، ص ۱۳۷، ۱۴۴) …… شیخ عبدا لقادر کا یہی مضمون اقبال پر قدیم ترین دستیاب مضمون ہے۔ شیخ صاحب مرحوم نے، بعد ازاں اقبال پر متعدد سوانحی اور تنقیدی مضامین لکھے۔ انھیں بانگِ درا کا دیباچہ لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
	اقبال کے ایک اور قریبی دوست اور رفیق منشی محمد الدین فوق نے بھی ۱۹۰۱ء میں اقبال کا چند سطری تعارف شائع کیا تھا۔ پھر اپریل ۱۹۰۹ء کے کشمیری میگزین میں ، انھوں نے اقبال کے مفصّل حالات لکھے جس کے متن میں متعدد بار اضافے کیے گئے۔ یہ مضمون نیرنگِ خیال کے
     اقبال نمبر ۱۹۳۲ء میں چھپا اور فوق کی مشاہیرِکشمیر (۱۹۳۲ء) میں بھی شامل ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر اور محمد الدین فوق سوانح و تنقید اقبال کے سلسلے میں ’’بارش کے پہلے قطرے‘‘ تھے۔ ان کے بعد اسرار خودی کی اشاعت (۱۹۱۷ء) پر علامہ اقبال کی حمایت اور مخالفت میں کئی اصحاب نے قلم اٹھایا۔ پھر ۱۹۲۲ء میں علامہ کے عزیز دوست نواب سر ذوالفقار علی خاں نے ایک مختصر کتاب A Voice from the East کے نام سے شائع کی، جو علامہ پر پہلی انگریزی کتاب ہے۔ چند سال بعد علامہ کے ایک اور ہم نشین مولوی احمد دین وکیل نے، ان پر پہلی اردو کتاب اقبال (۱۹۲۴ء) شائع کی۔ اس زمانے میں مضامین و مقالات کی صورت میں بھی تنقیداتِ اقبال کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، خصوصاً جب علامہ کا کوئی شعری مجموعہ منظرِ عام پر آتا تو دو چار قریبی احباب اور اقبال شناس تو ضرور ہی قلم اٹھا کر اس تصنیف کا تعارف و تجزیہ لکھ ڈالتے۔ ایسے جائزہ نگاروں میں سیّد سلیمان ندوی، محمد اسلم جیراج پوری اور چودھری محمد حسین کے نام نمایاں ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور رفتہ رفتہ اقبال پر لکھنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔
	اور جب بیسویں صدی اختتام کو پہنچ رہی تھی تو وہی ’’مسٹر محمد اقبال ایم اے‘‘ جو صدی کے آغاز میں ، ادبی حلقوں میں محتاجِ تعارف سمجھے گئے، اب انھیں اس صدی کا سب سے بڑا اردو شاعرتسلیم کیا جا چکا تھا اور ان کی شہرت و مقبولیت نصف النّہار تک پہنچ چکی تھی۔
	یہ ایک نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ اقبال پر اتنی کثرت اور اتنے تواتر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ کسی اور شاعر یا ادیب پر، معیار و مقدار، دونوں لحاظ سے اتنا کچھ نہیں لکھا گیا۔ اس کے نتیجے میں ، ان سو برسوں میں ، اقبالیاتی ادب کا ایک عظیم الشان ذخیرہ وجود میں آ چکا ہے۔
	اب ’’اقبالیاتی ادب‘‘ یا ’’اقبالیات‘‘ بہ ظاہر تو ایک صنفِ ادب یا شعبۂ علم ہے، مگر اس علمی و ادبی شعبے میں اس قدر تنوع آچکا ہے اور کی حدود اتنی وسعت اختیار کر گئی ہیں (اور وقت کے ساتھ یہ حدود وسیع تر ہو رہی ہیں ) کہ اب اقبالیات کو ایک ہمہ جہت تحریک کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ ’’ہر وہ مضمون یا مقالہ، جو اس عظیم فلسفی و مفکر کی زندگی، شاعری یا فکر و فلسفے کے کسی پہلو سے متعلق ہو، ہر وہ کتاب (نظم ہو یا نثر، طبع زاد ہو یا ترجمہ) جس کا موضوع شعر و فکر اقبال ہو، اقبال کی یاد میں کسی اخبار یا رسالے کی خصوصی اشاعت، ریڈیو یا ٹی وی کا کوئی پروگرام، کسی ادبی حلقے یا علمی مجلس کی کوئی خصوصی نشست، طلبہ کے لیے کسی اقبالی موضوع پر تحریری یا تقریری انعامی مقابلہ …… غرض ہر وہ کاوش، جس کا کسی نہ کسی حیثیت سے اقبال سے تعلق ہو، اقبالیات کے زُمرے میں شمار ہو گی۔‘‘ 
	اگر صرف اقبالیاتی کتابوں پر ہی نگاہ ڈالیں تو اس میں بھی خاصی رنگا رنگی اور تنوع نظر آئے گا،
 مثلاً:
٭	کلام اقبال کے  متداول/ انتخاب کلام کے/ اور باقیاتِ کلام کے مجموعے۔
٭	اقبال کی نظم و نثر کے تراجم
٭	سوانح اور مطالعہ شخصیت پر کتابیں ، ملفوظاتِ اقبال کے مجموعے
٭	حوالہ جاتی کتابیں (فرہنگیں ، اشاریے، کتابیات)
٭	کلام اقبال کی شرحیں 
٭	اقبال کے افکار و تصورات اور فن پر تحقیقی و توضیحی اور تنقیدی کتابیں۔
٭	اقبال پر منظوم کتابیں 
٭	متفرق کتابیں (بچوں کے لیے، نصابی، کوئز، سووینیر وغیرہ)
٭	ادبی و علمی مجلات کے اقبال نمبر
٭	یونی ورسٹیوں کے امتحانی تحقیقی مقالے(Dissertations)
	گویا اقبالیات کا تحریری ذخیرہ بھی کم و بیش دس شاخوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ان سو برسوں میں اقبالیات کی دیگر شاخوں میں بھی بہت اچھے کام ہوئے ہیں۔ کہنا چاہیے کہ یہ سب شاخیں بھی خوب برگ و بار لائی ہیں ، لیکن سب سے زیادہ خامہ فرسائی ان کے فکر و فلسفے پر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے فکر و فلسفے کے اساسی تصورات اور ان کی  ہفت رنگ شاعری کے تجزیے اور اس پر نقد و انتقاد پر مبنی کتابوں اور مضامین و مقالات کا ایک عظیم الشان ذخیرہ وجود میں آ چکا ہے۔ زیر نظر مجموعے میں اقبالیات کی صرف ایک دو شاخوں یعنی سوانح و شخصیت اور فکر و فن پر بیسوی صدی کے تحقیقی و تنقیدی مضامین و مقالات کا ایک انتخاب پیش کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ یہ مجموعہ پیش کرتے ہوئے،ہمیں ’’بہترین‘‘ مقالوں کے انتخاب کے انتخاب یا ’’جامع ترین‘‘ مجموعے کی پیش کش کا دعویٰ نہیں ، یہ ضرور ہے کہ یہ ایک ایسا متوازن انتخاب ہے جس سے اقبال کی شاعری اور فکر کی طرح، سو سالہ تنقید اقبال کی ہمہ جہتی، اس کی وسعت و جامعیّت اور تنوع کا اندازہ ہو سکے گا۔
	زیر نظر انتخاب میں اقبال کے فکر و فن کے اہم تر موضوعات کا احاطہ کرنے کوشش کی گئی ہے۔ بیشتر صدی کے نمایاں اقبال شناسوں اور نقادوں کی تحریریں ہیں۔ چوں کہ یہ مضامین کسی سکیم یا باقاعدہ منصوبے کے تحت نہیں لکھے یا لکھوائے گئے، اس لیے ان میں کہیں کہیں تکرار کا احساس ہو گا، لیکن اس تکرار میں بھی ایک تنوع موجود ہے۔ بسا اوقات مختلف لکھنے والے، ایک ہی نکتے کی تعبیر و توضیح اپنے اپنے زاویۂ نظر کے مطابق اور اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں ، (فکری مباحث میں اس کی گنجائش ہوتی ہے، اور جواز بھی) اسی سے تکرار کا جواز نکلتا ہے۔
	زیر نظر مقالات کا متن حتی الامکان صحت کے ساتھ پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں آیات قرآنی، احادیث نبویؐ، عربی و فارسی اقوال و ضرب الامثال ،اردو اور فارسی اشعار ممکنہ حد تک درست کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ نامور نقّادوں اور اقبال شناسوں میں سے شاذ ہی کسی کا مقالہ ایسا ہو گا جس میں اشعار اقبال پوری صحت کے ساتھ نقل کیے گئے ہوں۔
	اس مجموعے سے اندازہ ہو سکے گا کہ ادب اور اقبالیات کے عالموں اور نقادوں نے ہمارے قومی اور ملّی شاعر کو کن کن زاویوں سے دیکھا، سمجھا، پرکھا اور پھر کس کس نقد و انتقاد کے کن پیمانوں سے اس کی تعبیر و تفسیر کرنے کی کوشش کی۔ امید ہے قارئین کو ان مضامین کے ذریعے علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر و فن کا ایک واضح نقش قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

مرتّبین



۱




اقبال کے بعض حالات 


غلام بھیک نیرنگ

آغاز تعلقات 

	اللہ اکبر! وقت کی رفتار کس قدر سست اور بہ ایں ہمہ کس قدر تیز ہے۔ اقبال کی اور میری پہلی ملاقات بظاہر کل کی بات ہے، مگر حساب لگا کر دیکھیے تو یہ پورے پچاس سال کا واقعہ ہے، آدھی صدی گزر گئی اور کل کی بات ہے۔ 
	میں نے ۱۸۹۵ء میں پنجاب یونی ورسٹی کا انٹرنس پاس کیا اور اسی سال گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا۔ چونکہ میں تمام یونی ورسٹی میں اول رہا تھا، اس لیے کالج میں داخل ہوتے ہی بہت سے قابل طلبہ میرے دوست بن گئے۔ انھی میں میرے مرحوم دوست چودھری جلال الدین(۱) بھی تھے جو ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور سیالکوٹ سے انٹرنس پاس کر کے لاہور آ کر گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے تھے۔ وہ اور میں بورڈنگ ہاؤس میں رہتے تھے۔ بہت جلد معلوم ہو گیا کہ چودھری صاحب کو شعر سے خاص ذوق ہے اور انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اس ذوق کی پرورش مولانا سید میر حسن کی صحبت میں ہوئی۔ انھوں نے اقبال کا ذکر بھی کیا، کہ وہ مولوی صاحب موصوف کے خاص تربیت یافتہ بھی ہیں اور شاعر بھی ہیں ، ابھی ابھی سیالکوٹ سے آ کر گورنمنٹ کالج کی بی۔ اے کلاس میں داخل ہوئے ہیں۔
	ایک روز شام کے قریب میں اور چودھری جلال الدین مرحوم بورڈنگ ہاؤس سے شہر کو گئے۔ بھاٹی دروازہ کے قریب پہنچے تو سامنے سے ایک سادہ وضع گورے چٹے، کشیدہ قامت، جوان رعنا آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ چودھری صاحب نے کہا کہ شیخ محمد اقبال شاعر جن کا میں ذکر کیا تھا آرہے ہیں۔ جب ہم ایک دوسرے کے قریب پہنچ گئے تو سب ٹھہر گئے۔ چودھری صاحب سے اور شیخ محمد اقبال سے متعارفانہ ملاقات ہوئی اور چودھری صاحب نے میرا تعارف کرایا۔ اس کے بعد ہم اپنے اپنے راستے چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ اقبال اس وقت بھاٹی دروازہ کے اندر شیخ گلاب دین مرحوم کے مکان پر رہتے تھے۔ شیخ صاحب موصوف بھی سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ عدالت ہائے لاہور میں عرصہ دراز سے مختار کی حیثیت سے پریکٹس کرتے تھے اور لاہور میں جائیداد حاصل کر لی تھی۔ اس کے بعد اقبال سے تعلق کی وجہ سے شیخ گلاب دین سے ہم لوگوں کا بھی تعارف اور تعلق ہوا اور کئی مرتبہ ان کے بالا خانے میں بیٹھ کر ہم نے محرم کا جلوس دیکھا۔
	بھاٹی دروازے کے باہر جو اقبال سے سر راہ سرسری ملاقات ہوئی، تو دل میں خیال پیدا ہوا کہ ان کا کلام سننا یا دیکھنا چاہیے، دیکھیں تو یہ کیسا شعر کہتے ہیں۔ میں نے چودھری جلال الدین سے کہا کہ ان سے ان کے کچھ اشعار لائیے، میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ دو ایک روز کے بعد چودھری صاحب ایک پرچہ لائے۔ اس پر اقبال کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک غزل تھی جس کے یہ دو شعر اس وقت تک یا د ہیں :
بر سر زینت جو شمع محفل جانانہ ہے 
شانہ اس کی زلف پیچاں کا پر پروانہ ہے 
پاے ساقی پر گرایا جب گرایا ہے تجھے 
چال سے خالی کہاں یہ لغزش مستانہ ہے
	میں دیکھتا ہوں کہ بانگ درا میں یہ غزل نہیں ہے۔ یہ بھی میرے علم میں ہے کہ اقبال یورپ سے واپس آنے کے بعد اپنی ابتدائے کار کے کلام سے بہت بیزار ہو گئے۔ ان کا معیار سخن بڑی بلندی پر پہنچ گیا تھا۔ انھوں نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ اس زمانے کے اپنے اشعار مجھے دیکھ کر اب شرم آتی ہے، میں اس تمام کلام کو تلف کر دینا چاہتا ہوں۔ علاوہ بریں بانگ درا میں جو غزلیں درج کی گئیں ، انکے بھی بعض اشعار حذف کیے گئے۔ مثلاً اس غزل میں :
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی 
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
	دو شعر تو ضرور کاٹے گئے ہیں ، ایک کا دوسرا مصرع تھا (پہلا مصرع یاد نہیں ،بادہ نوشی اور حالت نشہ کا مضمون تھا):
اور میں گروں تو مجھ کو سنبھالا کرے کوئی
     اور یہ قطع:
اقبال عشق نے مرے سب بل دیے نکال 
مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی
ان حالات میں کوئی تعجب نہیں ، وہ غزل ’جانانہ ہے، پروانہ ہے، اب اقبال کے شائع شدہ مجموعہ کلام میں نہیں ، مگر جب میں نے یہ غزل دیکھی تو میری آنکھیں کھل گئیں۔ میں نے اس وقت تک اہل پنجاب کی
 اردو شاعری کے جو نمونے دیکھے تھے، ان کو دیکھ کر میں اہل پنجاب کی اردو گوئی کا معتقد نہ تھا، مگر اقبال کی اس غزل کو دیکھ کر میں نے اپنی رائے بدل لی اور مجھ کو معلوم ہو گیا کہ ذوق سخن کا اجارہ کسی خطۂ زمین کو نہیں دیا گیا۔ جب بندشوں کی ایسی چستی، کلام کی ایسی روانی اور مضامین کی یہ شوخی ایک طالب العلم کے کلام میں ہے،تو خدا جانے اسی پنجاب میں کتنے چھپے رستم پڑے ہوں گے جن کا حال ہم کو معلوم نہیں۔ خیر اور وں کو چھوڑیے، اقبال کا تو میں قائل ہوہی گیا۔
	چودھری جلال الدین نے اقبال کا پرچہ مجھ کو دیا کہ اقبال بھی آپ کے کلام کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کو کچھ اشعار بھیجے۔ اب یاد نہیں کہ وہ کون سے اشعار تھے مگر یہ یاد ہے کہ ان میں ایک شعر یہ بھی تھا:
حرم کو جانا جناب زاہد یہ ساری ظاہر پرستیاں ہیں 
میں اس کی رندی کو مانتا ہوں جو کام لے دیر سے حرم کا 
	یہ تو لکھ چکا کہ کلام کا نمونہ دیکھ کر میں نے اقبال کو کیا سمجھا، یہ معلوم نہیں کہ میرے اشعار دیکھ کر انھوں نے کیا رائے قائم کی، مگر بہر حال اس مبادلۂ اشعار سے میرے اور ان کے تعلق میں ایک خصوصیت ضرور پیدا ہوئی۔

بورڈنگ ہاؤس کی صحبتیں 

	اس ایک سرسری ملاقات کے بعد اقبال سے زیادہ صحبت کا موقع اس وقت ملا جب وہ بھی بورڈ نگ ہاؤس میں داخل ہو گئے۔ میں اس وقت ایف اے میں پڑھتا تھا، اس لئے جونیئر طلبہ کے زمرے میں ایک ڈارمیٹری میں رہتا تھا۔ ڈارمیٹری ایک بڑا کمرہ ہوتا تھا جس میں چھ چھ طلبہ  رہا کرتے تھے، اقبال چونکہ بی۔ اے کلاس میں سینیئر طلبہ کے زمرے میں تھے، وہ کیوبکل میں رہتے تھے۔ [کیوبکل چھوٹا کمرہ ہوتا تھا جس میں صرف ایک طالب علم رہتا تھا۔] بی۔ اے اور ایم۔ اے کے تمام طلبہ کو کیوبکل ملے ہوئے تھے، کھانے کا انتظام سینیئر اور جونیئر طلبہ کا ایک ہی مطبخ میں تھا،صرف اس قدر تفریق تھی کہ مسلمانوں کا مطبخ الگ تھا اور ہندوؤں اور سکھوں کا مطبخ الگ۔ اب تو گورنمٹ کالج کے بورڈنگ ہاؤس کی بڑی کایا پلٹ ہو گئی ہے۔خود کالج کی عمارت میں بھی بہت سے اضافے ہو گئے ہیں۔ ہمارے زمانے میں بورڈنگ ہاؤس میں کمروں کی تین قطاریں تھیں کے جنوبی قطار میں تمام کیوبکل ہی کیوبکل تھے۔ اس جنوبی قطار کے ساتھ زاویہ قائمہ بناتی ہوئی ایک قطار مشرق میں تھی، ایک مغرب میں۔ اس مشرقی و مغربی قطار کے دونوں سروں پر دو دو کیوبکل تھے۔ باقی تمام حصے میں ڈارمیٹری کی وضع کے کمرے تھے۔ جنوبی قطار کے وسط میں بورڈنگ ہاؤس کا پھاٹک تھا، اسی اوسطی حصے کے اوپر سپرنٹنڈنٹ کے لئے کمرے بنے ہوئے تھے اور جنوب مشرقی و جنوب مغربی گوشوں کے اوپر بھی ایک ایک کیوبکل بنا ہوا تھا، باقی تمام عمارت یک منزلہ تھی اور تینوں قطاورں کے آگے برآمدہ تھا۔ اقبال کو نیچے کی منزل میں مغربی قطار کے جنوبی سرے پر کیوبکل ملا۔ میں مشرقی قطار کی ایک ڈارمیٹری میں رہتا تھا۔ گویا بلحاظ سکونت ہم دونوں میں بعد المشرقین تھا۔ لیکن کالج کے اوقات درس کے سوا ہم دونوں کا وقت زیادہ تر ایک دوسرے کے ساتھ ہی گذرتا تھا اور اوقات مطالعہ کے بعد اور گرمی کے موسم میں رات کے وقت ان کا پلنگ ہماری ڈارمیٹری کے آگے ہمارے ہی پاس بچھتا تھا۔ 
	اقبال کی طبیعت میں اسی وقت سے ایک گونہ قطبیت تھی اور وہ ’’قطب از جا نمی جنبد‘‘کا مصداق تھا، میں اور کالج کے بورڈنگ ہاؤس میں جو جو اُن کے دوست تھے، سب انھی کے کمرے میں ان کے پاس جا بیٹھتے تھے، وہ وہیں میر فرش بنے بیٹھے رہتے تھے۔ حقہ جبھی سے ان کا ہمدم و ہم نفس تھا۔ برہنہ سر، بنیان دربر، ٹخنوں تک کا تہ بند باندھے ہوئے اور اگر سردی کا موسم ہے تو کمبل اوڑھے ہوئے بیٹھے رہتے تھے اور ہر قسم کی گپ اڑاتے رہتے تھے۔ طبیعت میں ظرافت بہت تھی، پھبتی زبردست کہتے تھے۔ ادبی مباحثے بھی ہوتے تھے۔ شعر کہے بھی جاتے تھے اور پڑھے بھی جاتے تھے۔ میں اس بورڈنگ ہاؤس میں چار سال رہا۔ ان میں سے تین سال ایسے تھے کہ اقبال بھی اسی بورڈنگ ہاؤس میں مقیم تھے۔ اس عرصہ میں میں نے بی اے پاس کر لیا اور قانون کا امتحان فرسٹ سرٹیفیکیٹ بھی پاس کر لیا۔ اس کے بعد مجھ کو قانون کا امتحان لائسنشیٹ (Licentiate in Law)پاس کرنا باقی تھا۔ مثل امتحانات سابقہ بی۔اے پاس کرنے پر بھی مجھ کو ایم۔ اے کے لئے وظیفہ ملا۔ میرے خانگی حالات میں اور خصوصاً دو چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کی ضرورت نے مزید تحصیل علم کی تمناؤں کو دفن کر کے مجھ کو مجبور کیا کہ قانون کا یہ آخری امتحان پاس کر لوں اور وکالت شروع کر دوں۔ انھی حالات کی وجہ سے بی۔ اے کے ساتھ ساتھ میں نے قانون کے دو امتحان پاس کئے تھے اور بی۔ اے کی تعلیم پر بہت کم توجہ کر سکا تھا۔ اس لئے میں صرف اس مقصد سے کہ وظیفہ ملتا رہے، ایم۔ اے کلاس میں داخل تو ہو گیا، مگر مضمون وہ اختیار کیا جس میں اساتذہ کو میری بے توجہی محسوس نہ ہو یعنی عربی اور صرف قانون کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ انھی حالات کے ماتحت تخفیف مصارف کی غرض سے میں نے گورنمنٹ کالج کا بورڈنگ ہاؤس چھوڑ دیا۔ کچھ عرصہ ایک دوست کا شریک مکان و طعام ہو کر موری دروازہ میں ایک بالا خانہ میں رہتا رہا اور اِ س کے بعد اور یئنٹل کالج کے بورڈنگ ہاؤس واقع حضورری باغ (متصل شاہی مسجد و قلعہ )میں چلا گیا اور وہیں سے قانون کا یہ آخری امتحان دیا۔
	میں اقبال کے حالات لکھتے لکھتے اپنا قصہ لکھنے بیٹھ گیا۔ مگر دکھانا یہ تھی کہ جب میں بی۔اے پاس کر چکا اور ادھر اقبال ایم۔ اے پاس کر چکے  تو ہم دونوں نے گورنمنٹ کالج کا بورڈنگ ہاؤس چھوڑ دیا اور جو صحبتیں وہاں تین سال تک رہیں وہ ختم ہو گئیں۔
	ان سہ سالہ صحبتوں میں خاص بات کیا تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم کو اس وقت اتنا شعور ہی نہ تھا کہ اس زمانے کے اقبال میں زمانہ ما بعد کے اقبال کو دیکھ لیتے۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ ایک ذہین طالب العلم جس نے شاعرانہ طبیعت پائی ہے، اس کو مرزا غالب کی شاعری سے خاص ذوق بھی ہے اور غالب کے اسلوب بیان کی تقلید کا شوق بھی،وہ اگر شعر کا شغل کرتا رہا تو غالب کا سا لکھنے لگے گا اور بہر حال اسی قسم اور اسی معیار کا ایک شاعر بن جائے گا جیسے ہمارے یہاں کے شاعر ہوتے ہیں۔ اگر ہم اس وقت یہ سمجھ سکتے کہ یہ شخص تو آگے چل کر اسرار خودی اور رموز بے خودی لکھے گا، اس کے قلم سے ضرب کلیم ارمغان حجاز اور جاوید نامہ نکلیں گے، یہ گوئٹے کے نام عالم ارواح میں پیام مشرق بھیجے گا، تو ہم اسی وقت سے اس کے حالات و ملفوظات کی یادداشتیں رکھنے لگتے۔ اس کے ایک ایک لفظ کو اس کے مستقبل کا آئینہ دار سمجھتے ہوئے محفوظ رکھتے اور آج جب اس کے کمالات کے دفتر دنیا میں موجود ہیں ، اس کا سوانح نگار دکھا سکتا کہ دیکھئے اس کے فلاں نظریہ کی اساس فلاں وقت کے فلاں واقعہ میں موجود ہے۔ مگر اس ابتدائی زمانہ میں کسی کو بھی اقبال میں ایک اچھے شاعر مگر عام معیار کے شاعر کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ یا اگر آپ اجازت دیں تو یہ کہوں کہ دیکھنے والوں کی کوتاہ نظری نہ تھی بلکہ اس وقت وہ چیز موجود ہی نہ تھی جو بعد میں بن گئی۔ شمس العلما سید میر حسن مرحوم و مغفور کی تربیت سراسر ادبی تھی، پروفیسر آرنلڈ (بعدہٗ سر طامس آرنلڈ) کا فیض تعلیم مطالعہ فلسفہ و تحقیق علمی کا رہنما ہوا، اس سے زائد کچھ نہیں۔ تصوف کی بنیاد گھر میں پڑ چکی تھی کہ اقبال کے والد ایک صوفی منش بزرگ تھے۔ اصل سر چشمہ جہاں سے اقبال کے تلاش حق کی، کبھی نہ بجھنے والی پیاس کو بار بار تسکین دی، قرآن کریم ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔
	ہاں ایک بات ضرور لکھنے کے قابل ہے۔ ہماری ان سہ سالہ صحبتوں میں اقبال اپنی ایک سکیم بار بار  پیش کیا کرتے تھے۔ ملٹن کی مشہور نظم Paradise Lost  اور Paradise Regained کا ذکر کر کے کہا کرتے تھے کہ واقعات کربلا کو ایسے رنگ میں نظم کروں گا کہ ملٹن Paradise Regainedکا جواب ہو جائے، مگر اس تجویز کی تکمیل کبھی نہیں ہو سکی۔ میں اتنا اور کہہ دوں کہ اردو شاعری کی اصلاح و ترقی کا اور اس میں مغربی شاعری کا رنگ پیدا کرنے کا ذکر بار بار آیا کرتا تھا۔
	بہر حال میں نے آخر ۱۸۹۹ء میں قانون کا آخری امتحان پاس کیا اور ابتدائے ۱۹۰۰ء میں انبالہ میں وکالت شروع کر دی۔ اقبال بدستور لاہور میں رہے اور گورنمنٹ کالج میں استاد فلسفہ مقرر ہو گئے۔ اب ہماری صحبتوں کا مسلسل دور ختم ہو گیا اور صرف کبھی کبھی کا ملنا رہ گیا۔

سیالکوٹ میں ملاقات 

	میں پیٹ کے دھندے میں لگا ہوا تھا اور اقبال اپنی ملازمت میں مبتلا تھے۔ دل چاہتا تھا کہ ان سے ملوں۔ آخر ستمبر کا مہینہ آیا اور دیوانی عدالتیں ایک ماہ کے لئے بند ہوئیں۔ اس وقت کالج میں تعطیل تھی اور اقبال گھر پر سیالکوٹ میں تھے۔ اس لئے ان سے ملنے کے لئے میں سیالکوٹ گیا اور ان کا مہمان ہوا۔ غالباً یہ ذکر ۱۹۰۱ء کا ہے۔ صبح کے وقت دو بچے میرے سامنے آئے۔ کالج کے زمانے میں اقبال سے بارہا سنا تھا کہ سیالکوٹ میں بعض ایسے مسلمان بھی ہیں جو اہل بیت رسول سے جلتے ہیں۔ ان کو جلانے کے لئے اقبال نے اپنے لڑکے کا نام آفتاب حسین رکھا ہے اور اپنے بھتیجے کا نام اعجاز حسین۔ [حالت یہ تھی کہ اقبال بارہا ایسے افسانے بھی گھڑ کر سنا دیا کرتے تھے، جن کی اصلیت کچھ نہ ہوتی تھی۔ اس لئے آفتاب حسین اور اعجاز حسین کے قصے کو بھی میں باور نہ کرتا تھا۔یہ بچے جو آئے تو اقبال نے ایک کا تعارف کرانے کے لئے پنجابی میں کہا کہ ’ایہہ آفتاب وانگوں سحر خیز اے‘ (یہ سورج کی طرح علی الصباح جاگ اٹھنے والا ہے)۔ میں نے سمجھ لیا کہ یہ ان کا بچہ آفتاب ہے اور بچے سے کہا کہ بھئی یہ تمھارا باپ ایسا ہی گپی ہے کہ اس نے تمھارا ذکر بارہا کیا مگر مجھ کو یقین نہیں آیا کہ تم کوئی واقعی ہستی ہو۔ آج تم کو دیکھ کر یقین آیا۔ اعجاز کا تعارف معمولی الفاظ میں تھا اور میں نے بھی اس سے اس قسم کی کوئی بات نہ کہی۔بعد میں آفتاب تعلیم کے لئے انگلستان گئے۔ وہاں سے ایم اے اور بیرسٹر ہو کر آئے اور اب وہ آفتاب اقبال ہیں۔ افسوس ہے کہ ان میں اور اقبال میں بعض وجوہ سے ان بن اور مغائرت رہی۔ اس خورد سالی کی ملاقات کے بع دوہ مجھے کلکتہ میں ملے۔ معلوم ہوا کہ وہاں کے اسلامیہ کالج میں پروفیسر ہیں۔ میں نے ان کو سیالکوٹ کی یہ ملاقات انھیں الفاظ میں یاد دلائی۔اعجاز اب اعجاز احمد اور پنجاب کی جوڈیشیل سروس میں سینیٔر جج ہیں۔ مگر ان سے اس روز کے بعد پھر کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ آفتاب کلکتہ کے بعد بھی کئی مرتبہ مل چکے ہیں۔ 
	میں سیالکوٹ کے اسی چکر میں اقبال کے ساتھ جا کر حضرت علامہ میر حسن رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوا۔ عجب نورانی بزرگ تھے، بے حد شفقت سے پیش آئے۔ اقبال کے والد ماجد مرحوم کی زیارت ہوئی۔ بڑے بابرکت لوگ تھے، اقبال کے ایک خاص دوست جھنڈے خاں بھی ملے جن کے تذکرے بارہا سننے میں آئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے قدیم طلبہ میں سے میرے دوست اور اقبال کے ہم جماعت،بی۔اے کلاس کے فلسفہ میں ہم سبق اور دوست میاں سر فضل حسین بھی (جو اس وقت صرف میاں اور بیرسٹر تھے) سیالکوٹ میں پریکٹس کرتے تھے، ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان دونوں کو ایک شرارت سوجھی۔ ایک سرخ رنگ کا ایریئیٹڈ پانی گلاسوں میں ڈال کر کچھ ایسے انداز سے پینا شروع کیا اور  مجھ کو پینے کو دیا کہ میں نے اس کو شراب سمجھا اور پینے سے انکار کیا۔ وہ دیر تک کہتے رہے کہ ایسی بھی کیا پارسائی ہے، پی لو،میں برابر انکار کرتا رہا۔ آخر مجھ کو خوب بنا چکے، تب بتایا کہ یہ کیا ہے اور تب میں نے پیا۔

مخزن، عبدالقادر اور اقبال

	مخزن مرحوم کو محبت اور حسرت سے یاد کرنے والے تمام ہندوستان میں جا بجا موجود ہیں۔ اس رسالے کو جاری کر کے شیخ عبدالقادر نے اردو زبان و ادب کی نہایت گرا ں بہا خدمت کی، جس کی داد ملک کے تمام صاحب ذوق دیتے آئے ہیں۔ اجرائے رسالہ مخزن کے بعد شیخ عبدالقادر کو کارکنان قضا و قدر نے اپنی نا معلوم حکمتوں کے ماتحت جبراً اور یکایک انگلستان بھیج دیا۔ وہاں سے وہ بیرسٹر ہو کر آئے، پھر بیرسٹری کے کام میں منہمک ہو کر سرکاری وکیل ہوئے، خان بہادر ہوئے، ہائی کورٹ کے جج اور سر ہوئے۔ وزیر تعلیم پنجاب رہے اور بہت سے مناصب جلیلہ پر سرفراز رہنے کے بعد ریاست بہاولپور کے چیف جسٹس ہوئے۔ ان حالات میں  مخزن ان کے فیض سے محروم ہو گیا اور ان کے انگلستان سے واپس آنے کے بعد چند سال تک دوسرے ہاتھوں میں رہ کر آخر بند ہی ہو گیا۔ لیکن جو کام مخزن نے کیا وہ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔
	اسی رسالے کے ذریعہ سے شیخ عبدالقادر بڑے بڑے قابل لوگوں کو منظر عام پر لے آئے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔فشی دیا نرائن نگم آنجہانی (بعدش رائے بہادر) اول اول  مخزن میں مضامین لکھنے لگے۔ پھر انھوں نے کانپور سے اپنا ماہانہ رسالہ زمانہ جاری کیا اور مدیر زمانہ کے فرائض بڑی قابلیت سے ادا کئے۔ حسرت موہانی نے مخزن میں مضامین لکھے، اس کے بعد اردوئے معلی جاری کیا۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی طفلانہ مشق اول اول مخزن ہی میں شائع ہوئی۔میں نے اپنی ماہانہ تنقید میں اس مضمون پر اعتراض کیا، مگر شیخ جوہر شناس نے لکھا کہ آپ ان کو دیکھیں گے تو ان کی حوصلہ افزائی ہی مناسب سمجھیں گے۔چنانچہ وہ آخر الہلال کے سحر طراز مدیر بنے اور ان کی جادو بیانی کو دنیا نے تسلیم کیا۔
	شیخ عبدالقادر ہی کی جوہر شناسی اول اول اقبال کو بھی کشاں کشاں منظر عام پر لائی۔ شیخ صاحب اقبال سے کہہ سکتے تھے:
اول آں کس کہ خریدار شدت، من بودم 
باعث گرمی بازار شدت، من بودم
 	شیح صاحب نے بانگ درا کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اقبال سے ان کا تعارف ۱۹۰۱ء سے دو تین سال پیشتر ہوا یعنی ۱۸۹۸ء یا ۱۸۹۹ء میں۔ شیخ صاحب سے میرا تعارف اس سے بہت پیشتر ہو چکا تھا۔ اجرائے مخزن کے بارے میں جو مشورے ہوئے، ان میں مرزا اعجاز حسین اعجاز دہلوی مرحوم اور میں بھی شریک تھے۔ میں مخزن کا پرچہ پہنچنے پر ہر ماہ شیخ صاحب کو مفصل تنقید لکھا کرتا تھا اور جب شیخ صاحب نے یکایک قصد انگلستان کیا تو مجھے لاہور بلا کر مخزن میرے سپرد کیا۔ میں ان کی غیر حاضری میں بلا اظہار نام اس کا مدیر رہا۔ شیخ محمد اکرم مرحوم اسٹنٹ ایڈیٹر اور مینیجر رہے۔ وہ تمام مضامین ڈاک سے میرے پاس بھیج دیا کرتے تھے اور میں فیصلہ کیا کرتا تھا کہ کون سا مضمون یا نظم قابل اشاعت ہے، مگر یہ کرامت شیخ عبدالقادر ہی کی تھی کہ وہ انگلستان میں بیٹھے تھے اور رسالہ اس حسن و خوبی سے چل رہا تھا کہ گویا وہ لاہور میں موجود ہیں۔
	لوگ شیخ عبدالقادر کو وسیع الا خلاق کہا کرتے ہیں ، مگر میں ان کو ہمیشہ وسیع المحبت سمجھتا رہا ہوں۔ اگر وہ وسیع الاخلاق ہوتے ہوئے وسیع المحبت بھی نہ ہوتے تو ان کا دائرہ احباب اس قدر وسیع نہ ہوتا۔ اخلاق ایک حد تک دوسروں کو گرویدہ کر لیتے ہیں۔ محبت اس گرویدگی میں گہرائی اور پائداری پیدا کرتی ہے۔ شیخ صاحب نے جس کسی میں ذرا بھی کچھ قابلیت دیکھی، اس کو اپنا بنا لیا اور ایسے راستے پر لگایا کہ اس کی قابلیت ترقی کرے۔
	اقبال کے بارے میں بھی شیخ صاحب نے یہی کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اقبال کی وجہ سے مخزن کو چار چاند لگے اور مخزن کی وجہ سے اقبال کا جوہر روز بروز زیادہ ہی چمکتا گیا۔
	اقبال شیخ صاحب کو شیخ عالم گنڈھ کہا کرتے تھے، یعنی دنیا بھر کو گانٹھ لینے والے، گرہ میں باندھ لینے والے، اپنا بنا لینے والے۔ اقبال نے عربی لفظ عالم کو پنجابی لفظ گنڈھ سے ملا کر باقاعدہ فارسی میں ایک اسم فاعل ترکیبی بنایا اور اس طرح اس لقب میں ایک رنگ ظرافت پیدا کر دیا۔ مگر ظرافت کے باوجود یہ لقب پھبتی یا تمسخر نہیں ہے، بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ تمسخر کا تو خیال بھی نہیں ہو سکتا۔ اقبال تو عبدالقادر کو وہ سمجھتے تھے جو بانگ درا میں ان کی نظم ’عبدالقادر کے نام‘ سے ظاہر ہے۔ 

سفر یورپ 

	۱۹۰۵ء کے موسم گرما میں اقبال نے مزید تعلیم کے لیے انگلستان جانے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے اپنی روانگی کی تاریخ مجھ کو لکھ دی تھی اور یہ طے ہو گیا تھا کہ میں ان کو خدا حافظ کہنے کے لئے دہلی میں ان سے ملوں گا۔ اتفاق کی بات کہ دہلی میں ان سے ملنے کی جو تاریخ تھی، اس سے پہلے روز شملہ میں میرا ایک مقدمہ برائے سماعت مقرر تھا۔ اس وقت تک شملہ اور کالکا کے درمیان ریل نہ تھی۔ محکمہ ڈاک کے انتظام سے دو اسپہ تانگے چلتے تھے، مسافر انھی تانگوں میں آتے جاتے تھے، لیکن مسافروں کے تانگے صرف دن میں چلتے تھے، ڈاک کا تانگہ شام کے چھ بجے شملہ سے روانہ ہو کر کالکا تک کا دو تہائی  یا نصف راستہ بعد غروب آفتاب طے کرتا تھا اور پہاڑ کی سڑک پر رات کا یہ سفر جس میں گھوڑے ڈاک کو بر وقت پہنچانے کے لئے فروٹ جاتے تھے، خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے اگر کوئی مسافر ڈاک کے تانگے میں سفر کرنا چاہتا تھا تو اس سے مطبوعہ اقرار نامے پر دستخط کرائے جاتے تھے، جس کا مضمون یہ تھا کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے گا تو گورنمنٹ کسی ضرر جسمانی یا نقصان جان کا ہرجانہ ادا کرنے کی ذمہ دار نہ ہو گی۔
	میں اس روز عدالت کے کام کی وجہ سے دن کے تانگے میں سفر نہیں کر سکتا تھا، مگر اقبال سے ملنے کے لئے دہلی اسی شام کو جانا ضروری تھا، اس لئے میں نے اس اقرار نامہ پر دستخط کر دیے اور عدالت میں اپنا کام ختم کرنے کے بعد ڈاک کے تانگے میں کالکا کو روانہ ہو گیا۔ شاید آدھا ہی راستہ طے ہوا تھا کہ سورج چھپ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں بالکل اندھیرا ہو گیا۔ جب کالکا تین چار میل رہ گیا تو ایک جگہ کھیت میں آگ جلتی دیکھ کر گھوڑے چمکے اور بے قابو ہو کر تانگے کو سڑک کے دائیں جانب کو لے چلے۔ آگے ایک چھوٹا سا پُل تھا۔ ایک پہیہ اس کی سینڈ پر چڑھ گیا اور تانگہ الٹ گیا، بم ٹوٹ گیا، گھوڑوں کی راسیں ڈرائیور کے ہاتھ سے چھوٹ گئیں اور تانگے کو وہیں چھوڑ کر ٹوٹے ہوئے بم کے ساتھ جتے ہوئے گھوڑے ہوا ہو گئے۔ ڈاک کے تھیلے سڑک پر پھیل گئے، ڈرائیور کو چوٹ آئی اور سواریوں کو بھی چوٹ آئی۔ چنانچہ میرا بھی گھٹنا چھل گیا اور خون جاری ہو گیا۔ یہ سب کچھ ہوا، مگر اس وقت سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اب دہلی جانے کے لیے ریل کیوں کر ملے گی۔آدھ گھنٹہ کے بعد کالکا کی طرف سے بگل سنائی دیا اور اس سے چند منٹ بعد ایک خالی تانگہ آ پہنچا۔ ڈاک کے تھیلوں اور سواریوں کو لے کر اس دوسرے تانگے والے نے ڈاک گاڑی کے چلنے سے پیشتر کالکا کے اسٹیشن پر پہنچا دیا اور سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔ چنانچہ اپنا زخمی گھٹنا لیے ہوئے میں حسب وعدہ دہلی پہنچ گیا اور حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی (قدس سرہ) کے آستانہ پر حاضر ہو گیا۔ وہاں اقبال مل گئے، ان کے ساتھ شیخ نذر محمد بی اے اسسٹنٹ انسپیکٹر مدارس تھے جو اقبال سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اقبال اور شیخ صاحب موصوف خواجہ حسن نظامی کے مہمان تھے۔
	دہلی میں اقبال کے ٹھہرنے کا مقصد یہ تھا کہ حصول برکت کے لیے حضرت محبوب الٰہی کے مزار شریف پر حاضری دی جائے اور التماس دعا کی جائے۔ چنانچہ اقبال حاضر ہوئے، ہم لوگ ہمراہ تھے۔ اقبال نے حضرت محبوب الٰہی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک نظم پڑھی جو بانگ درا میں ’التجائے مسافر‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ ایک اور نظم بھی اس وقت پڑھی تھی جس کا صرف یہ آخری مصرعہ یاد ہے:
لاج رکھ لینا کہ میں اقبال کا ہم نام ہوں 
	اس مصرع میں خواجہ اقبال کی طرف اشارہ تھا جو حضرت محبوب الٰہی کے خادم تھے اور اس وقت اس تلمیح کا خاص لطف اٹھایا گیا تھا، مگر اب وہ دو بسری نظم بانگ دار سے غائب ہے۔ شاید بعد میں غور کرنے پر اقبال نے اس کو اپنے معیار سے فروتر قرار دیا ہو اور شائع کرنا مناسب نہ سمجھا ہو۔

یورپ سے واپسی پر پہلی ملاقات 

	اقبال نے دوران قیام یورپ میں کیمبرج سے بی۔اے کی سند فضلیت حاصل کرنے کے علاوہ بیرسٹری کی سند بھی حاصل کی اور جرمنی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری لی۔ جب وہ یورپ سے واپس آئے تو انھوں نے لاہور میں بیرسٹری کی پریکٹس شروع کی۔ یورپ سے ان کی واپسی کے بعد ان سے میری پہلی ملاقات لاہور میں ہوئی۔ محرم کی تعطیل تھی۔ میں انھیں سے ملنے کی غرض سے لاہور گیا تھا، انھوں نے اپنے قیام کے لیے چنگڑ محلہ میں مکان لیا تھا۔ میں دن کے وقت لاہور پہنچا اور سیدھا ان کے وہاں گیا۔ ملازموں نے میری پذیرائی کی، مگر معلوم ہوا کہ اقبال کہیں گھومنے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے، اقبال نے بھی گھر سے نکلنا سیکھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ آئے تو میں نے دیکھا کہ نہایت نستعلیق سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ میں نے دوسرا شکر ادا کیا کہ اقبال نے لباس پہننا سیکھا۔ (اس سے پیشتر وہ لباس کے بارے میں صرف سادہ ہی نہیں ، بلکہ لا پروا تھے)خیر گلے ملے، مزاج پرسی ہوئی، اس کے بعد وہ سوٹ اتر گیا، وہی ہمیشہ کا تہبند بندھ گیا، وہی بنیان بدن پر رہ گیا، وہی کمبل شانوں پر سوار ہو گیا، ہم نفس (حقہ) حاضر ہو گیا۔ میں اور اقبال پہلے کی طرح فرش پر بیٹھ گئے، دنیا بھر کی باتیں چھڑ گئیں اور ہوتی رہیں۔ میرے قیام کے تین دن اسی ہیئت کذائی سے گزر گئے، کہاں اقبال اور کہاں گھر سے نکلنا اور کس کا سوٹ، یورپ ہو آئے،دماغ کو گو نا گوں فضائل علمی سے آراستہ کر لائے،سینے کو طرح طرح کی امنگوں اور عزائم سے بھر لائے، مگر رندی اور قلندری میں فرق نہ آیا۔ تین دن کی شبانہ روز صحبت کے بعد میں رخصت ہو کر انبالے چلا آیا۔

فلسفۂ خودی

	اقبال نے ۱۹۱۵ء میں مثنوی اسرار خودی شائع کی تو مجھ کو بھی اس کا ایک نسخہ بھیجا۔ اس سے پہلے میں آگاہ نہ تھا کہ اس قسم کی کوئی کتاب لکھی جا رہی ہے۔ اس میں تصوف اور خواجہ حافظ پر جو سخت گیری کی گئی ہے، وہ مجھ کو نا گوار گزری اور میں نے اقبال کو ایک طومار اختلاف لکھ کر بھیجا اور اس خط میں یہ بھی لکھا کہ میں اس بارے میں مفصل مضمون لکھ کر شائع کروں گا۔ اقبال نے جواب میں لکھا کہ ابھی آپ اشاعت کے لیے کچھ نہ لکھیں ، پہلے مجھے آپ سے بالمشافہ مبادلہ خیالات ہو جائے، پھر اگر آپ ضروری سمجھیں تو اپنے خیالات کو لکھ کر شائع کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ میں نے اس مرتبہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ خیالات قائم کئے ہیں۔ اس سے میں متنبہ ہوا اور میں نے اپنی تنقید کو لکھ کر شائع کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ البتہ وقتاً فوقتاً خطوط میں اور زبانی اقبال سے مذاکرہ ہوتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب انھوں نے رموز بے خودی لکھنے کا ارادہ کیا تو پہلے سے اس کا ایک خاکہ لکھ کر چند احباب میں بغرض مشورہ بھیجا۔ ان میں راقم، مرزا اعجاز حسین مرحوم اعجاز دہلوی اور لسان العصر خان بہادر سید اکبر حسین الہ آبادی مرحوم۔ تین نام تو مجھے یاد ہیں ، شاید کسی اور کو بھی بھیجا ہو۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی رائے لکھ کر بھیج دی اور اس کے بعد مثنوی رموز بے خودی لکھی گئی۔ اس کے دیباچہ میں اقبال نے اس مشاورت کا ذکر اس پیرایہ میں کیا ہے کہ مجھ کو فلاں فلاں سے امداد ملی۔
	اقبال کے مطالعہ قرآن کی کیفیت میرے مشاہدہ میں نہیں آئی، مگر ان کی تلاوت میں جو جذبہ ہوتا تھا، اس کا ایک نمونہ میں نے دیکھا ہے۔ چنگڑ محلے والے مکان کے باہر وہ بازار انار کلی میں ان بالا خانوں میں جا کر رہے، جن میں ہمارے ایام طالب علمی میں میاں محمد شفیع مرحوم رہتے تھے اور ان کی بیرسٹری کا دفتر تھا، اس کے بعد میاں صاحب موصوف ترقی کرتے کرتے لاہور بار کے لیڈر ہو گئے، سر کا خطاب پایا اور انھوں نے ہائی کورٹ کے عقب میں اقبال منزل کے نام سے (اقبال ان کے چھوٹے صاحبزادے کا نام ہے) ایک بڑی وسیع اور عالیشان کوٹھی بنوائی اور اس میں رہنے لگے۔ پھر اس کے بعد وائسرائے کی ایگزیکیوٹو کونسل کے ممبر ہو گئے۔ میاں صاحب جیسے مشہور و ممتاز بیرسٹر کا پرانا مسکن ایک عالمی شہرت حاصل کر چکا تھا، اس لیے قانون پیشہ لوگ اس میں رہنا اور اپنا دفتر قائم کرنا اپنے لیے موجب ترقی سمجھتے تھے، غالباً اسی خیال کے تحت کسی نے اقبال کو مشورہ دیا ہو گا کہ اپنی سکونت اور دفتر کے لیے یہ بالا خانہ لے لیں۔
		اچھا تو جب وہ ان بالا خانوں میں رہتے تھے تو ایک مرتبہ میں لاہور گیا ٹرین ایسے وقت لاہور پہنچی کہ اقبال کے مکان پر پہنچنے کے بعد صبح کی نماز کا وقت باقی تھا۔ میں اوپر پہنچا تو ایک کمرے سے تلاوت کلام اللہ کی بلند مگر نہایت شیریں اور درد انگیز آواز میرے کانوں میں آئی۔ میں سمجھ گیا کہ یہ کس کی آواز ہے۔ میں نے فوراً جلدی جلدی وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے اس کمرے میں گیا۔ دیکھا کہ اقبال مصلے پر بیٹھے  قرآن حکیم پڑھ رہے ہیں۔ مجھ کو دیکھ کر انھوں نے مصلیٰ خالی کر دیا اور خود پاس کے کمرے میں چلے گئے۔ میں نے اس مصلیٰ پر نماز پڑھی تو نماز میں خاص کیفیت محسوس کی اور میں نے اپنے دل میں اس وقت یہ کہا کہ یہ کیفیت وہ شخص یہاں چھوڑ گیا ہے، جو ابھی ابھی یہاں بیٹھا ہوا کلام اللہ پڑھ رہا تھا۔ یہ بات میرے علم میں تھی کہ اقبال صبح کی نماز بہت سویرے پڑھ کر تلاوت کیا کرتے ہیں مگر نمونہ اس روز دیکھا۔ اس روز سے میں اقبال کی روحانیت کا قائل ہو گیا اور دوسروں سے یہ کہنے لگا کہ اقبال بڑے بزرگ آدمی ہیں۔

اعزاز نائٹ ہڈ

	جنوری ۱۹۲۲ء میں اقبال کو نائٹ ہڈ ملی اور وہ سر محمد اقبال ہوئے۔ میں اس اللہ کے قلندر کو خوب سمجھتا تھا، مگر یہ بھی معلوم تھا کہ شیطان اپنے داؤ پیچ سب پر چلاتا ہے اس لیے ضروری سمجھا کہ مبارکباد کے ساتھ ان کو یہ بھی یاد دلا دوں کہ اسلامی دنیا ان سے کیا کیا توقعات رکھتی ہے۔ میں نے خط لکھا۔ اس کا جواب جو انھوں نے دیا مکاتیب اقبال صفحہ ۲۰۶/۲۰۷ پر درج ہے۔ اس کے ساتھ ان کی اصل تحریر کا فوٹو بھی ہے۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں : 
’’میں آپ کو اس اعزاز کی خود اطلاع دیتا، مگر جس دنیا کے میں اور آپ رہنے والے ہیں ، اس دنیا میں اس قسم کے واقعات احساسات سے فرو تر ہیں ، سینکڑوں خطوط اور تار آئے اور آرہے ہیں اور مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ لوگ ان چیزوں کو کیوں گرانقدر جانتے ہیں۔ باقی رہا وہ خطرہ جس کا آپ کے قلب کو احساس ہوا ہے، سو قسم ہے خدائے ذوالجلال کی جس کے قبضہ میں میری جان اور آبرو ہے اور قسم ہے اس بزرگ و برتر وجود کی جس کی وجہ سے مجھے ایمان نصیب ہوا اور مسلمان کہلاتا ہوں ، دنیا کی کوئی قوت مجھے حق کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ان شأ اللہ! اقبال کی زندگی مومنانہ نہیں لیکن اس کا دل مومن ہے۔‘‘

مسلمانان الور کی امداد 

	ریاست الور کی حکومت عرصہ دراز سے وہاں کے مسلمانوں کو مٹانے کی فکر میں تھی۔ کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کے مکاتب تعلیم قرآن و اردو بند ہو جائیں۔ مسلمان بچے اگر پڑھیں بھی تو ریاست کے مدارس میں جن میں ذریعہ تعلیم ہندی تھی اور وہ بھی ایسی سنسکرت آمیختہ ہندی کہ مسلمان بچے اس کو پڑھنے کے بعد بھی عملاً اس سے کورے ہی رہیں اور ریاست کی کسی ملازمت کے قابل کبھی نہ بن سکیں۔ اس کے علاوہ مساجد کو منہدم کیا جاتا تھا، مسجدوں کو مندر بنایا جاتا تھا، قبرستانوں میں سڑکیں نکالی جاتی تھیں اور طرح طرح سے مسلمانوں کی مذہبی زندگی کو نا ممکن بنایا جا رہا تھا۔ اگر مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی جدو جہد کرتے تھے تو ان کو باغی اور مخالف ریاست اور ان کی قائم کردہ انجمنوں کو خلاف قانون قرار دیا جاتا تھا۔ یہ قصہ طویل ہے مگر اس سلسلہ میں ۲۹ مئی ۱۹۳۲ء کو ریاست کی فوج نے بلا وجہ اور بالکل ناجائز طور پر مسلمانوں کے پر امن مجمع پر گولی چلائی۔ کئی مسلمان شہید ہوئے، کئی زخمی ہوئے اور اس کے بعد مسلمانوں پر گو نا گوں تشدد کیا گیا۔ آخر تنگ آ کر ہزار ہا مسلمانوں نے الور سے ہجرت کی۔ اس زمانے میں آل انڈیا مسلم کانفرنس قائم تھی اور اس وقت اس کے صدر اقبال تھے۔ جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام کے معتمد عمومی کی حیثیت سے میں نے معاملات الور کو اپنے ہاتھ میں لے کھا تھا اور میں نے مسلم کانفرنس مذکورہ سے معاونت کی درخواست کی۔ چنانچہ قرار پایا کہ مسلم کانفرنس کا ایک وفد وائسرائے کی خدمت میں پیش ہو کر مسلمانان الور کی داد رسی کے لیے وائسرائے کو توجہ دلائے۔ اس وفد کے ارکان کی تعداد تو زیادہ تھی مگر وائسرائے نے تاریخ اس قدر نزدیک مقرر کی کہ ہندوستان کے مختلف مقامات سے اکثر لوگ اس تاریخ پر شملہ نہ پہنچ سکتے تھے اور وائسرائے کا خیال یہ تھا کہ دو چار چیدہ آدمی آ جائیں ، زیادہ مجمع کرنا غیر ضروری ہے۔ چنانچہ اقبال بحیثیت صدر آل انڈیا مسلم کانفرنس اس وفد کی قیادت کے لیے لاہور سے شملہ تک کے سفر کی صعوبت گوارا کرتے ہوئے شملہ پہنچے۔ کالکا سے میں ان کے ہمراہ ہوا اور ہم دونوں نے کالکا سے شملہ تک کا سفر ایک ہی موٹر میں کیا۔ شملہ میں ان کا قیام لوئر بازار کے ایک بالا خانہ میں رہا۔ کیونکہ اس مرد خدا کی مزاج میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ ہم بڑے آدمی ہیں ، وائسرائے سے ملنے کے لیے آئے ہیں ، ہمارے قیام کے لیے کسی بڑے ہوٹل یا کوٹھی میں پر تکلف انتظام ہو۔ اس کے بعد ۶ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو وفد وائسرائے کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حاضری وفد کے بعد کیا کیا ہوا، اسکو یہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ صرف دو یا تین باتیں دکھانے کے لیے مندرجہ بالا سلسلہ واقعات لکھا گیا۔ پہلی بات یہ کہ قومی ضرورتوں کے موقع پر اقبال جو عموماً غیر متحرک رہتے تھے، ایسے ہی متحرک بن جاتے تھے جیسے کوئی اور جوشیلا کارکن۔ دوسری بات یہ کہ جب میں اور وہ موٹر میں کالکا کو جا رہے تھے تو حسب معمول اسلامی موضوعات پر گفتگو چھڑ گئی۔ میں نے کہا کہ آپ نے قرآن کریم کا بہت مطالعہ کیا ہے اور اس زمانے کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے خیالات سے بھی آپ واقف ہیں ، یہ دیکھتے ہوئے کہ ابنائے زمانہ کو قرآن کی تعلیم سے بیگانگی اور بعد کیوں ہے، آپ ان کیلیے قرآن کی تفسیر یا قرآن پر حواشی لکھئے۔ انھوں نے اس کام سے اپنی معذوری ظاہر کی۔ اس اظہار معذوری کے سلسلہ میں جو انھوں نے ایک تقریر کی تو اس میں بعض نازک مسائل آ گئے، ان کو بیان کرتے کرتے ان پر ایک حالت جوش و جذبہ طاری ہو گئی اور ایسا معلوم ہوا کہ ان کا دل سینے سے نکل پڑے گا۔ مگر دو چار ہی سیکنڈ میں انھوں نے خاموش رہ کر پھر سلسلہ گفتگو کو جاری کر دیا اور دیر تک جاری کھا، اس حالت پر ضبط پا لیا اور ذرا کی ذرا اسی قسم کا جوش و جذبہ میں نے ایک اور موقع پر بھی دیکھا۔ اس ملاقات کی بھی کچھ تفصیل لکھ دوں۔
	۱۹۳۴ء میں منٹگمری میں تعلیمی کانفرنس صوبہ پنجاب کا اجلاس ہوا۔ راقم بھی اس کانفرنس میں شریک ہوا۔ علی گڑھ سے سر راس مسعود مرحوم اور نواب صدر یار جنگ بہادر مولوی حبیب الرحمن خان شروانی بھی تشریف لا کر شریک اجلاس ہوئے۔ جب یہ اجلاس ختم ہو گیا تو واپسی میں نواب صدر یار جنگ اور راقم ایک دو روز کے لیے لاہور ٹھہر گئے اور شیخ سر عبدالقادر کے مہمان ہوئے۔ایک روز اقبال سے ملنے گئے۔ وہ اس وقت میکلوڈ روڈ پر اس بنگلے میں رہتے تھے جس کے عقب میں حضرت شاہ ابوالمعالی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ہے۔ بازار انار کلی کے بالا خانہ سے اٹھ کر وہ اسی بنگلہ میں آ گئے تھے اور جب تک ان کی کوٹھی جاوید منزل تعمیر نہ ہو گئی، اسی میں رہتے رہے۔ ہم جو گئے تو ان کو سامنے کے بڑے کمرے میں جس کے آگے برآمدہ تھا، بیٹھے ہوئے پایا کمرے میں نیچے چٹائی اور اس کے اوپر دری کا فرش تھا اور سامنے کی دیوار کی طرف کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ اقبال اپنے معمولی قلندرانہ لباس (بنیان، تہبند، کمبل) میں ملبوس بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ وہ ہم لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور باتیں شروع ہو گئیں۔ میں نے دیکھا کہ اس کمرے میں ایک طرف دیوار کے قریب کئی قالین لپٹے ہوئے رکھے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ قالین کیوں رکھے ہوئے ہیں ، کہنے لگے کہ میں افغانستان گیا تھا، نادر شاہ نے یہ قالین بطور تحفہ دیے تھے، ان کو بچھانے کی کوئی جگہ نہیں ، یہ رکھے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ قلندر کو جو کوئی تحفہ دے، خواہ دینے والا بادشاہ ہی ہو، اس تحفہ کا یہی حشر ہوتا ہے۔ (لیکن ان قالینوں کی دعا آخر قبول ہوئی۔ جب جاوید منزل تعمیر ہو گئی تو یہ اس میں بچھائے گئے)۔
	اس زمانے میں اقبال جاوید نامہ لکھ رہے تھے، مجھ کو اور شروانی صاحب کو اس کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔ پڑھتے پڑھتے ان پر دو چار سیکنڈ کے لیے وہی جوش و جذبہ طاری ہو گیا، جو میں نے شملہ کے سفر میں دیکھا تھا اور اسی طرح انھوں نے اس جوش پر فوراً قابو پا لیا۔
	میں اس بنگلہ میں کئی مرتبہ اقبال کا مہمان ہوا۔ جس کمرے میں میرا قیام ہوتا تھا، وہ پھاٹک میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کو تھا، وہ اس کمرہ میں میری ضروری آسائش کا انتظام کرا دیا کرتے تھے، ویسے شاید وہ کمرہ ان کے منشی کی نشست کے لیے تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ وہ سامنے کے بڑے کمرہ کے برآمدے میں ایک پلنگ بچھوا کر اس پر بیٹھ جایا کرتے تھے، پلنگ کے ایک جانب اور سامنے کرسیاں ہوتی تھیں۔ جو لوگ ان سے ملنے کے لیے آتے تھے، وہ ان کرسیوں پر بیٹھتے تھے، وہ خود پلنگ پر بیٹھے حقہ پیتے رہتے تھے۔ ملاقات کے لیے آنے والوں میں ہر درجے کے لوگ ہوتے تھے۔طلبہ آتے تھے، عام معزز لوگ اور معمولی درجہ کے لوگ آتے تھے، ہائی کورٹ کے جج اور حکومت پنجاب کے منسٹر بھی آتے تھے۔ وہ اللہ کا قلندر سب کے ساتھ یکساں اخلاق کا برتاؤ کرتا تھا، مگر ایک شان استغنا برابر قائم رکھتا تھا، نہ بڑے آدمی کے سامنے جھکتا تھا، نہ چھوٹے سے بے اعتنائی کرتا تھا، بے تکلف، بے تصنع گفتگو کرتا تھا، اسی میں ہنسی مذاق بھی ہوتا رہتا تھا، پھبتیاں بھی اڑتی رہتی تھیں۔ تقدس کا جامہ کبھی پہنا ہی نہیں۔ میں ان کو رندِ بے ریا کہا کرتا تھا۔

مجدد صاحب کے مزار پر حاضری 

	اقبال نے جا بجا خانقاہوں اور خانقاہ نشینوں پر اعتراضات کئے ہیں۔ اسرار خودی کے شائع ہونے پر ان کو تصوف اور سلاسل تصوف کا مخالف سمجھا گیا تھا، مگر ان کے کلام کے وسیع مطالعہ سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ ان کا اعتراض ریا کار، دوکاندار، دنیا طلب صوفیوں پر ہے اور وہ تصوف سے ان دور از کار عقائد و مسائل کو خارج کرنا چاہتے ہیں جو عجمیت کے زیر اثر اسلامی تصوف میں داخل ہو گئے ہیں۔ میں لکھ چکا ہوں کہ ان کے تصوف کی بنیاد گھر میں پڑ چکی تھی۔ ان کے والد ماجد ایک صوفی منش بزرگ تھے، خود اقبال سلسلۂ قادریہ میں بیعت کئے ہوئے تھے۔ اکابر طریقت سے ان کی عقیدت کا حال اسی سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ وہ مولانا جلال الدین رومی کی نظم سے بے حد متاثر تھے۔ پیر رومی کا ذکر ہر جگہ بڑی تعظیم سے کرتے ہیں اور خود کو ان کا مرید ہندی کہتے ہیں۔ بزرگوں کے مزارات پر بالقصد بغرض زیارت و طلب برکت حاضر ہوتے تھے۔ بانگ درا میں ان کی نظم ’التجائے مسافر‘ کو دیکھیے۔ اس سے حضرت محبوب الٰہی سے انتہائی عقیدت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ اقبال کی جوانی اور انگلستان جانے سے پیشتر کا واقعہ ہے۔ لیکن اگر بالفرض یہ جوانی کی خام کاری تھی تو بعد کی پختہ کاری بھی قابل غور ہے۔بال جبریل ملاحظہ ہو۔ اس کے صفحہ ۳۸ پر ایک نظم درج ہے، جس کا پہلا شعر ہے۔
سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا 
غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازۂ صحرا
	اس نظم کے شروع میں جو تمہیدی عبارت ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں : ’’نومبر ۱۹۳۳ء میں مصنف کو حکیم سنائی غزنوی کے مزار مقدس کی زیارت نصیب ہوئی۔ یہ چند افکار پریشان جن میں کلیم ہی کے ایک مشہور قصیدہ کی پیروی کی گئی ہے، اس روز سعید کی یاد گار میں سپرد قلم کئے گئے۔‘‘ الفاظ ’مزارمقدس‘ اور ’روز سعید‘ اپنی کہانی خود کہہ رہے ہیں۔
	اس پختہ کاری ہی کے زمانے میں غالباً ۱۹۳۴ میں حضرت امام ربانی شیح احمد سہر ندی(۲) مجدد الف ثانی کے مزار پاک کی زیارت کے لیے اقبال لاہور سے چل کر سرہند آئے۔ مجھ کو لکھا کہ میں بھی پہنچوں۔ چنانچہ میں انبالے سے گیا اور وہ لاہور سے آئے، ہم دونوں سرہند جنکشن پر مل گئے اور پھر روضہ  شریف پہنچے۔ مزار پر اقبال کی حاضری میرے ہمراہ ہوئی اور فاتحہ خوانی کے بعد وہ دیر تک مراقبے میں رہے۔ زیارت کے بعد کچھ عرصہ روضہ شریف میں ٹھہرے۔ سجادہ نشین صاحب سے ملے اور پھر وہ لاہور کو روانہ ہو گئے اور میں انبالے چلا آیا۔ حالت مراقبہ میں اقبال نے کیا دیکھا اور کیا محسوس کیا؟ یہ ایک روحانی سر گزشت ہے جس کو نہ میں پوچھ سکتا تھا، نہ شاید اقبال بیان کر سکتے، لیکن ان کا لاہور سے اتنی دور چل کر آنا ہی ثابت کرتا ہے کہ ان کو حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ سے کس قدر عقیدت تھی۔ بال جبریل میں ایک نظم کا عنوان ہے ’پنجاب کے پیر زادوں سے‘ ۔ اس کے یہ شعر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مجدد صاحب کو کیا سمجھتے تھے۔ 
حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر 
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے 
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار 
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے 
جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار 
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں 
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار 

تحریک تبلیغ اور اقبال 

	ہندوستان میں ہندوؤں کی جانب سے کم از کم ستر سال سے کبھی خفیہ، کبھی اعلانیہ، کبھی انفرادی، کبھی منظم اور جماعتی سازشیں اور کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ یہاں کے مسلمانوں کو مرتد کیا جائے۔ اس اجمال کی تفصیل طویل ہے۔ ۱۹۲۳ء کے آغاز میں اسی سلسلہ کی ایک منظم اور اعلانیہ تحریک شدھی آگرہ، متھرا، بھرت پور، ایٹا وغیرہ اضلاع میں جاری ہوئی اور مسلمانوں نے اس حملہ کی مدافعت کے لیے ان شدھی زدہ علاقوں میں اپنے واعظ اور مبلغ بھیجے۔ اس زمانے میں جو تجربات و مشاہدات ہوئے، ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے راقم نے یکم جولائی ۱۹۲۳ء کو بہ مشورہ و امداد بعض اکابر ملت مثل حاجی مولوی سر رحیم بخش مرحوم، مولانا عبدالماجد بدایونی، نواب عبدالوہاب خاں مرحوم ایک مرکزی جمعیت تبلیغ الاسلام قائم کی جو بفضلِ تعالیٰ اب تک قائم ہے اور راقم اب تک اس کا معتمد عمومی ہے چونکہ اقبال کو تبلیغ و اشاعت اسلام کا خاص شوق تھا، وہ ماہ اکتوبر ۱۹۲۳ء میں ہماری اس جمعیت کے ممبر ہو گئے۔

یورپین مسلم کانفرنس 

	جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام کے رجسٹر ہائے مراسلت میں یہ اندراج ہے کہ ۲۰ جنوری ۱۹۲۷ء کو اقبال کا ایک خط میرے نام آیا، جس کا مضمون یہ تھا کہ چند احباب کی تجویز ہے کہ آئندہ سال لاہور میں یورپین مسلمانوں کی ایک کانفرنس کی جائے جس کا خرچ قریباً تیس ہزار روپیہ ہو گا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ آیا ہماری جمعیت اس میں کچھ مدد کر سکے گی۔ میرے جواب مورخہ ۲۳ جنوری ۱۹۲۷ء کا خلاصہ یہ لکھا ہے کہ یورپین کانفرنس کا ارادہ بہت اچھا ہے لیکن روپے کا انتظام ضروری ہے۔ مناسب ہو کہ کسی بڑے آدمی کو صدر بنایا جائے اور اس سے رقم وصول کی جائے۔ پراپیگنڈہ آپ کے نام سے میں کر لوں گا۔ میرے خط کے جواب میں ۲۴ جنوری کو اقبال نے وہ خط لکھا جو مکاتیب اقبال کے صفحہ ۲۰۷/۲۰۸ پر درج ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’آٹھ ہزار روپے جمع کر دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ باقی روپیہ بھی اس غرض کے لیے عام مسلمان دینے کو تیا رہو جائیں گے اور میں کہتا ہوں کہ رقم مطلوبہ کا بہت بڑا حصہ غالباً لاہور ہی سے جمع کر لوں گا۔ بلکہ میرا ارادہ یہ ہے کہ جب تک رقم مطلوبہ کے وعدے پرائیویٹ طور پر نہ ہو جائیں ، اس کانفرنس کے متعلق کوئی اعلان نہ کیا جائے۔ یورپ اور امریکہ سے کم از کم آٹھ دس آدمیوں کو دعوت دی جائے گی۔ باقی جو  یورپین مسلمان ہندوستان میں موجود ہیں ، ان کی فہرست تیار کی جائے گی۔ آپ فی الحال اس فہرست کی تیاری میں مدد دیں اور اپنے احباب کو خط لکھ کر ان کے مفصل پتے دریافت کریں۔ کم از کم سو یورپین مسلمان اس کانفرنس میں جمع ہو جائیں تو خوب ہو۔ کانفرنس کے اجلاسوں کے لیے ٹکٹ لگانے کا قصد ہے۔ آپ اپنے دوستوں سے کہیں کہ فی الحال یہ خیال کانفیڈنشل ہے۔ مسٹر پکٹ ہال کو میں نے حیدر آباد خط لکھا تھا۔ ان کو اس خیال سے نامعلوم کیوں ہمدردی نہیں ! میں انگلستان سے خط و کتابت کر رہا ہوں۔‘‘

میرے ایجنٹ 

	اقبال اپنے مشہور لیکچر دینے کے لیے مدراس جانے والے تھے۔ میں نے ان کو لکھا کہ دوران قیام مدراس میں وہاں کے مسلمانوں کو تبلیغ کی اہمیت کی طرف توجہ دلائیں اور جمعیت مرکزیہ تبلیغ الا سلام کی مالی امداد کے لیے آمادہ کریں۔ میرے خط کے جواب میں انھوں نے مجھ کو ایک خط مورخہ ۵ دسمبر ۱۹۲۸ء کو لکھا جو مکاتیب اقبال کے صفحہ ۲۰۹/۲۱۱ پر درج ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں :
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام تمام کاموں پر مقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس مقصد کا عنصر نہیں ہے، جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتا ہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہ ہوں گے یہ بات میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں اور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربہ کے بعد ہندوستان کے سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے اور میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرے کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا، یا کم از کم یہ بھی شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے۔ بہر حال جس جانفشانی سے آپ نے تبلیغ کا کام کیا ہے اس کا اجر حضور سرور کائنات ہی دے سکتے ہیں۔ میں ان شاء اللہ جہاں جہاں موقع ملے گا، آپ کے ایجنٹ کے طور پر کہنے سننے کو حاضر ہوں ، مگر آپ اور مولوی عبدالماجد بدایونی جنوبی ہند کے دورہ کے لیے تیار رہیں۔‘‘

مصری وفد

	۱۹۳۶ء میں اچھوتوں میں اشاعت اسلام کا ایک خاص موقع پیدا ہوا۔ اچھوتوں کی ایک کانفرنس نے جس کے حاضرین کی تعداد دس ہزار نفوس بیان کی گئی تھی، ایک ریزولیشن پاس کیا کہ اچھوتوں کو ہندو دھرم چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرنا چاہیے۔ اس کانفرنس اور اس ریزولیشن کا غلغلہ تمام ہندوستان میں پھیل گیا۔ ایک جانب تو ہندؤں نے خاص کوشش کی کہ اچھوتوں کو کسی طرح اس ارادے سے باز رکھا جائے، دوسری جانب مسلمان، عیسائی، سکھ اور بدھ دھرم والے اس کوشش میں مصروف ہو گئے کہ اچھوتوں کو اپنے مذہب کی دعوت دیں۔ اس سلسلہ میں ہماری جمعیت نے بھی ڈھائی سال تک بہت کچھ جدو جہد کی، مگر اس کی تفصیل یہاں بیان  کرنا مقصود نہیں۔ یہاں صرف یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ اچھوتوں کے ریزولیشن دوبارہ تبدیل مذہب کی اطلاع مصر میں بھی پہنچی۔ جامعہ الازہر قاہرہ نے فیصلہ کیا کہ اچھوتوں میں تبلیغ الا سلام کا کام کرنے کے لیے الازہر کے علما کا ایک وفد ہندوستان بھیجا جائے۔ چونکہ اقبال کے علم و فضل کا شہرہ تمام ممالک اسلامی میں عرصہ دراز سے پہنچا ہوا تھا، اس لیے الازہر کے شیخ الجامعہ شیخ مصطفی مراغی نے اقبال کو خط لکھ کر ان کو وفد بھیجنے کے ارادہ سے مطلع بھی کیا اور ان کی رائے بھی دریافت کی کہ آیا ایسے وفد کا بھیجنا مناسب اور مفید ہو گا اور اگر اقبال کا جواب اثبات میں ہو تو ارکان وفد کن کن صفات کے آدمی ہوں۔ یہ بھی دریافت کیا کہ آیا علمائے ازہر کی تقریروں کی ترجمانی کیلیے ہندوستان میں آدمی مل جائیں گے، یا وفد اپنے ترجمان ہمراہ لائے۔ اقبال نے شیخ مصطفی مراغی کے اس خط کو اخبار احسان لاہور میں شائع کر دیا اور مجھ کو اپنے خط مورخہ یکم جولائی ۱۹۳۶ء میں لکھا:
’’مجھ سے شیخ صاحب نے مشورہ طلب کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس وفد کے متعلق آپ ضروری ہدایات دیں۔ مہربانی کر کے آپ لکھیں کہ ان کو کیا مشورہ دیا جائے۔ بعض باتیں میرے خیال میں ہیں ، مگر میں آپ کی رائے بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس وفد کے ہمراہ ملک کا دورہ بطور پروپیگنڈا سیکریٹری کے کریں۔ اس سے بہت اچھے نتائج نکلیں گے اور وفد کو آپ کے معلومات اور مشوروں کے امیال و عواطف سے بے حد فائدہ پہنچے گا۔‘‘ 
	لیکن اس خط کا جواب نہ لکھنے پایا تھا کہ اقبال نے ۴ جولائی کو اسی موضوع پر مجھ کو دوسرا خط لکھا اور اس میں مجھ سے چند باتیں کرنے کے بعد لکھا۔
 ’’مصری وفد کی ہر طرح حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ اس کے نتائج نہایت دور رس ہوں گے، آپ ضرور ان کے ساتھ دورہ کریں۔ یہ واقعہ ہندوستان بلکہ اسلام کی تاریخ میں یاد گار ہو گا۔ آپ کا جواب آنے پر میں شیخ جامعہ ازہر کا اصل خط ارسال کروں گا، تاکہ آپ بھی ان کو ایک علیٰحدہ خط لکھ سکیں۔ میں اپنے خط میں ان کو لکھ دوں گا کہ وہ آپ کے خط کا انتظار کریں۔‘‘
	ان کو تبلیغ اسلام سے اور مسلمانوں کے بین الممالک اشتراک عمل سے اس قدر گہری دلچسپی تھی کہ جب میرا جواب ان کو پہنچ گیا تو انھوں نے ۹ جولائی کو پھر ایک خط لکھا، ان کا اقتباس درج کرتا ہوں :
’’آپ کا خط عین انتظار میں ملا۔ یہ تمام مشکلات میرے ذہن میں تھیں جو آپ نے خط میں لکھی ہیں۔ باوجود ان کے میرا خیال تھا کہ ان کا ہندوستان آنا عام طور پر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں پر اور نیز خود مسلمانوں پر اچھا اثر ڈالے گا۔ ان کے آنے سے مسلمانوں کے تبلیغی جوش میں اضافہ ہونا بہت ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں پر عام اسلامی اخوت کا اثر پڑے گا۔ اس واسطے میرا خیال ہے کہ ان کو تمام مشکلات سے آگاہ کر دیا جائے اور جو فوائد ان کے وفد سے ممکن ہیں ، ان کا بھی ذکر کر دیا جائے اور فیصلہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔‘‘
	اس کے بعد مجھ کو اقبال کا کوئی اور خط اس سلسلے میں نہیں آیا، مگر یہ قرار پا چکا تھا کہ اقبال شیخ جامعہ الازہر کو میرے بارے میں لکھ دیں گے۔ انھوں نے ضرور لکھا ہو گا۔ میں نے اقبال کو اطمینان دلا دیا کہ میں وفد کو ہر امکانی امداد دوں گا۔میں نے شیخ جامعہ الازہر کو تار دے کر دریافت کیا کہ وفد کب ہندوستان پہنچے گا۔ ابھی مجھ کو اس تار کا کوئی جواب نہ ملا تھا کہ اخبار ایسٹرن ٹائمز لاہور مورخہ ۱۰ نومبر ۱۹۳۶ء میں قاہرہ کا ایک پیغام جس کی نسبت لکھا تھا کہ ہوائی ڈاک سے آیا ہے، شائع ہوا۔ اس میں درج تھا کہ علمائے ازہر کا وفد اطالوی جہاز کانٹی راس میں روانہ ہو کر ۱۲نومبر کو بمبئی پہنچے گا۔ بمبئی میں جو ہمارے تبلیغی دوست تھے، ان سے دربارہ وفد مذکور میری مراسلت ہو چکی تھی۔ اخبار میں یہ خبر پڑھتے ہی میں نے بمبئی تار دیا اور خود بمبئی پہنچ گیا۔ جہاز کانٹی راس ۱۷ نومبر ہی کو آیا۔ ہم نے تمام سواریوں کو اترتے ہوئے دیکھا اور بندر گاہ پر دریافت بھی کیا۔ مصری وفد اس میں نہ تھا۔ آخر کار یہ وفد ۱۱ دسمبر۱۹۳۶ء کو بمبئی میں جہاز سے اترا۔ احباب بمبئی نے ۹ دسمبر کو مجھ کو تار دیا تھا، وہ  ۱۰ دسمبر کو ملا تھا، میں نے بذریعہ تار احباب بمبئی کو مطلع کر دیا تھا کہ میرا پہنچنا ممکن نہیں ، آپ وفد کا استقبال کریں۔ ان کا پروگرام معلوم کر کے بذریعہ تار اطلاع دیں۔ ۱۲ دسمبر کو رئیس وفد نے مجھ کو خط لکھا۔ ۱۲ نومبر کو وفد کے نہ پہنچنے کے وجوہ لکھتے ہوئے میری تکلیف کا شکریہ لکھا اور یہ لکھا کہ وفد مجھے انبالے میں ملنا چاہتا ہے۔ شیخ ازہر کے نام جو تار میں نے بھیجا تھا،اس کا جواب نہ دے سکنے کے لیے معذرت بھی لکھی میں نے جواب میں وفد کا خیر مقدم کیا اور لکھا کہ انبالے کی بجائے دہلی میں ملنا زیادہ مناسب ہو گا۔ آخر کار وفد نے بذریعہ تار اطلاع دی کہ وہ ۳۰ دسمبر کو دہلی پہنچ گئے ہیں اور سیسل ہوٹل میں مقیم ہیں۔ میں ۳۱ دسمبر کی شام کو دہلی پہنچا اور یکم جنوری ۱۹۲۸ء کو سیسل ہوٹل میں وفد سے ملا۔ اخباروں سے معلوم ہو چکا تھا کہ اس وفد نے اپنا مقصد ہندوستان کے مسلم ادارات تعلیم کا معائنہ اور مطالعہ اور مسلمانان ہند سے ثقافتی (cultural)تعلقات قائم کرنا بیان کیا ہے۔ دہلی میں ملاقات ہونے پر معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے تبلیغی مقصد کو سب سے راز میں رکھا ہے اور اس بارے میں صرف مجھ سے اور اقبال سے بصیغۂ راز مبادلہ خیالات اور اخذ معلومات کریں گے۔ میں سیسل ہوٹل میں چار روز تک ارکان وفد سے گفتگو کرتا رہا۔ وفد کے سیکریٹری شیخ محمد حبیب احمد آفندی اور اسسٹنٹ سیکریٹری شیخ صلاح الدین التجار انگریزی دان تھے، رئیس وفد اور باقی دو ارکان وفد عربی میں سوالات کرتے تھے اور جو معلومات ان کو حاصل ہو چکی تھیں ، ان کو بیان کرتے تھے۔ شیخ حبیب ان کی اور میرے جوابات کی ترجمانی کرتے تھے۔ چار روز کے مسلسل مکالمات کے بعد رئیس وفد نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں وہ تمام واقعات و خیالات جو میں بیان اور ظاہر کر چکا ہوں ، انگریزی میں لکھ کر دے دوں۔ چنانچہ میں نے بائیس صفحہ کی ایک ٹائپ شدہ  یادداشت مرتب کر کے وفد کو دے دی۔ اندریں اثنا ایک صاحب نے ناگپور سے وفد کو ایک چٹھی لکھی تھی۔ وفد نے چاہا کہ میں اس چٹھی پر بھی ایک تبصرہ لکھ دوں۔ چنانچہ پانچ صفحہ کا ٹائپ شدہ تبصرہ لکھ کر ان کے حوالے کیا گیا۔
	دہلی میں مجھے ملنے سے پیشتر یہ وفد بمبئی، بھوپال اور آگرہ کا  دورہ کر چکا تھا، اس کے بعد علی گڑھ، رام پور،دیوبند اور پشاور کا دورہ کیا۔ میں علی گڑھ میں ان کے ہمراہ تھا۔ پشاور کے بعد وہ لاہور گئے اور میں بھی وہاں پہنچا۔ اقبال نے ۲۷ جنوری ۱۹۳۷ء کو وفد کے اعزاز میں ایک لنچ دیا۔ اس وقت اقبال کی صحت کچھ عرصہ سے خراب تھی، لنچ ایک ہوٹل میں دیا گیا تھا، میزبان کی حیثیت سے اقبال کا موجود ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ وہ شریک ہوئے۔ اس وقت انھوں نے کہا کہ میں چھ مہینے کے بعد گھر سے نکلا ہوں ، جاوید بھی موجود تھے، لنچ کے بعد ایک گروپ فوٹو لیا گیا۔ جاوید اس فوٹو میں بھی ہیں۔ یہ گروپ ایک نہایت خاص یاد گار ہے۔
	وفد کے مقصد سے متعلق وفد کی اقبال سے باتیں ہوئیں۔ میں جو کچھ کر چکا تھا، وہ میں نے بیان کیا۔ اقبال نے میرے خیالات سے اتفاق کیا۔ اقبال سے جو خاص مشورہ ہوا، اس کی ایک ٹائپ شدہ یادداشت مرتب کر کے میں نے وفد کو دے دی۔
	وفد کے نقل و حرکت اور واپسی سے متعلق ابھی بہت سے واقعات باقی ہیں اور میرے فائل میں ان سے متعلق بہت سا مواد ہے۔ مگر یہاں اسی حد تک ان واقعات کا بیان کرنا مقصود تھا، جہاں تک اقبال کا تعلق تھا، وہ واقعات آ چکے اور اقبال نے علالت کے باوجود اس اہم اسلامی کام میں جو دلچسپی لی، وہ ظاہر ہو چکی۔ یہ وفد وسط مارچ ۱۹۳۷ء میں ہندوستان سے واپس ہوا۔ عرصہ دراز کے بعد جب میں نے ایک شکایتی خط لکھ کر دریافت کیا، تو جون ۱۹۳۸ء میں شیخ محمد حبیب احمد آفندی نے وفد کی عربی رپورٹ کی ایک کاپی مجھ کو بھیجی۔ اس میں میری تجاویز سے وفد نے اتفاق رائے کیا تھا، مگر اس وقت ازہر کی انتظامی کونسل نے اندریں باب کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد کوئی خبر نہیں آئی۔

تمنائے مدینہ

	دنیا میں کون مسلمان ایسا ہو گا جس کو حج بیت اللہ کی آرزو نہ ہو اور جس کے دل کو مدینہ منورہ کی حاضری کی تمنا بے تاب نہ رکھتی ہو! اور پھر اقبال کے لیے تو یہ بات تصور میں بھی نہیں آسکتی کہ اس کا دل حضور رسالت مآب کے دربار میں حاضر ہونے کے لیے دن رات نہ تڑپتا ہو۔ ان کے کلام میں جا بجا اس کے شواہد موجود ہیں۔ مثال کے طور پر صرف دو شعر دیکھ لیجیے۔ حضور رسالت مآب کو وہ کیا سمجھتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے:
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است 
مدینہ منورہ ان کے نزدیک کیا تھا، ملاحظہ ہو:
خاک یثرب از دو عالم خوشتر است 
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است 
(اسرار خودی)
	چنانچہ اپنی زندگی کے آخری تین چار سال میں وہ حج بیت اللہ اور  زیارت رسول اللہ کی تجویزیں سوچتے رہے۔ سو اتفاق سے یہی زمانہ ان کی صحت کی خرابی اور جسمانی کمزوری کا تھا۔ اسی عرصہ میں ان کی اہلیہ محترمہ کا بھی انتقال ہو گیا اور بچوں کی نگہداشت اور تربیت کی ذمہ داری تمام تر انھی پہ آ پڑی۔ تا ہم وہ اس فکر میں رہے کہ عراق سے ہوتے ہوئے براہ بیت المقدس مدینۂ منورہ پہنچیں اور وہاں سے حج کے لیے مکہ معظمہ جائیں۔ وہ عراق کی زیارات کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے، نجف اشرف میں ان کے لیے بڑی کشش تھی۔ اس کا اندازہ اسرار خودی کے ان اشعار سے ہو سکتا ہے جو انھوں نے ’در شرح اسمائے علی مرتضیٰؓ کے عنوان سے لکھے ہیں۔ ان کا یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ جناب شیر خدا سے ان کو خاص طور پر کس قدر عقیدت تھی:
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف 
	انھوں نے مجھے لکھا کہ عراق کے راستہ سے سفر مدنیہ منورہ کے بارے میں معلومات فراہم کروں۔ چنانچہ میں نے بغداد خطوط لکھے اور مولانا سید حسن دین خاموش کو جو اسی زمانہ میں عرب سے براہ عراق واپس آئے تھے، خط لکھا اور جو اطلاعات حاصل ہو سکیں ، اقبال کو بھیجیں۔ بڑی مشکل یہ تھی کہ سب لوگ لاری کے سفر کو دشوار بیان کرتے تھے اور اقبال بہت کمزور تھے۔ ۱۹۳۷ء کے موسم سرما میں ایک روز جاوید منزل میں ان سے ملاقات ہوئی۔ دیر تک صحبت رہی۔ اور اس وقت بہت کمزور تھے۔ سفر مدینہ کا ذکر بھی رہا۔ کہنے لگے کہ جس قدر تھوڑی سی طاقت مجھ میں باقی رہ گئی ہے، میں اس کو مدنیہ کے سفر کے لیے بچا بچا کر رکھ رہا ہوں۔ افسوس کہ ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوئی اور وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
	اقبال کا قلبی تعلق حضور سرور کائنات کی ذات قدسی صفات سے اس قدر نازک تھا کہ حضور کا ذکر آتے ہی ان کی حالت دگر گوں ہو جاتی تھی، اگرچہ وہ فوراً ضبط کر لیتے تھے۔ چونکہ میں بارہا ان کی یہ کیفیت دیکھ چکا تھا، اس لیے میں نے ان کے سامنے تو نہیں کہا، مگر خاص خاص لوگوں سے بطور راز ضرور کہا کہ یہ اگر حضور کے مرقد پاک پر حاضر ہوں گے، تو زندہ واپس نہیں آئیں گے، وہیں جان بحق ہو جائیں گے۔ میرا اندازہ یہی تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔

مجلہ اقبال لاہور اکتوبر ۱۹۵۷ء
٭٭٭

حواشی

۱۔ چودھری جلال الدین میرے مخلص ترین دوستوں میں سے تھے۔ وہ چار سال تک گورنمنٹ کالج، لاہور میں میرے ساتھ پڑھتے رہے۔ میرے ساتھ بی۔ اے پاس کیا اور محکمہ ڈاک خانہ میں انسپیکٹر ہو گئے، پھر ترقی پا کر سپرنٹنڈنٹ ہوئے۔ خطاب ’خان صاحب‘ پایا۔ بے حد شریف انسان تھے، عمر نے دیر تک وفا نہ کی۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا ایک فرزند سیالکوٹ میں وکیل ہے۔ اس سے مل کر چودھری صاحب کی محبت اور شرافت یاد آ گئی۔
۲۔ سرہند کا نام استعمال میں بگڑ گیا ہے۔ صحیح نام سہرند تھا۔ عوام اس سرھند کہنے لگے، حرف  ر  کا تلفظ اس طرح کرتے تھے کہ  ھ  کو اس سے پہلے بولنے کے بجائے اس کے بعد اور اس سے مخلوط کر کے بولتے تھے۔ بالکل اس طرح جس طرح بھی اور تھی میں  ھ  ب  اور  ت سے مخلوط ہے۔ بعد کے زمانہ میں اس نام کو لفظ سر اور لفظ ہند سے مرکب سمجھ لیا گیا اور اسی طرح لکھا جانے لگا عوام اب بھی اسی طرح سرہند بولتے ہیں ، مگر پرانی نمرلی تحریروں میں سہرند صاف لکھا ہوا ہے۔
٭٭٭


اقبال 

شیخ عبدالقادر

	چند سال پہلے لاہور میں ایک بزم مشاعرہ قائم تھی، اور پنجاب کے اکثر نامور شعرا اس میں غزلیں کہہ کر لاتے تھے اور دادِ سخن پاتے تھے۔ کچھ   کہنہ مشق حضرات تھے جو دہلی یا لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے۔ یا اساتذہ دہلی و لکھنؤ کی صحبت سے مستفید ہو چکے تھے۔ کچھ نو آموز تھے جو ان حضرات میں سے کسی نہ کسی کے معّرف تھے۔ مشاعرہ کیا تھا سخن وروں کا ایک خاصہ دنگل تھا پہلے تلامذہ غزلیں پڑھتے تھے اور ایک دوسرے کے استادوں پر کوئی چوٹ کر جاتے تھے اور اپنے اپنے استاد کو بڑھا جاتے تھے۔ پھر استادوں کی نوبت آتی تھی۔ وہ بھی حریفوں کو پہچانتے تھے اور باہمی اشارے کنایہ سے رک نہ سکتے تھے۔ یہ دل لگی شاعری کو تو ڈبو رہی تھی، مگر مشاعرہ کے لیے باعثِ فروغ تھی۔ تماشائی جوق در جوق آتے تھے اور گھنٹوں یہ تماشا دیکھتے رہتے تھے۔ اس گروہ میں کبھی کبھی ایک کثیر تعداد سرکاری کالجوں کے طلبہ کی آ جاتی تھی۔ ان میں سے اکثر انگریزی تعلیم کی وجہ سے ایشیائی شاعری کے مذاق سے نا آشنا ہوتے تھے۔ مگر تقاضائے سِن تھا کہ ایسے مشغلے کو دلچسپ سمجھیں۔ آتے تھے اور اپنے اپنے دوستوں کو بلا لاتے تھے۔ ایک دن مقابلہ سخن گستری  حدِّ جدال پر پہنچنے کو تھا کہ اچانک طلبہ کے گروہ میں سے ایک نوجوان اٹھا۔ عمر بیس سے کچھ متجاوز ہو گی۔ رواج وقت کے مطابق داڑھی چٹ۔ موچھیں بڑھائی ہوئی۔ لباس نئے اور پرانے فیشن کے بین بین۔سیدھا اس کرسی کی طرف بڑھا جس پر بیٹھ کر شعرا غزل خوانی کرتے تھے۔ اور بیٹھتے ہی یہ مطلع پڑھا۔

تم آزماؤ ہاں کو زبان سے نکال کے 
یہ صدقے ہو گی میرے سوالِ وصال کے 

	مطلع کا پڑھنا تھا کہ کئی سخن آشنا کان متکلم کی طرف لگ گئے۔ اور کئی آنکھیں اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ مشاعرہ میں یہ رسم تھی کہ دبیر مجلس ہر سخن ور کی تعریف کر کے اس سے حاضرین کی شناسائی کرا دیتا تھا۔ مگر اس نوجوان منچلے شاعر سے خود دبیر مجلس نا واقف تھا۔ ایک طرف سے آواز آئی کہ پہلے حضرت کی تعریف تو فرمائیے۔ نوجوان شاعر نے کہا ’’لیجیے میں خود عرض کیے دیتا ہوں کہ میں کون ہوں ، خاکسار کو اقبال کہتے ہیں ، اور یہی میرا تخلص ہے۔ سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں اور یہاں کے سرکاری کالج میں بی۔ اے کی جماعت میں پڑھتا ہوں۔ حضرت داغؔ سے تلمذ کا فخر حاصل ہے۔ یہاں کے کسی بزرگ سے نہ خصوصیت ہے نہ خصومت۔ چند شعر لکھ کر لایا ہوں اگر اجازت ہو تو پڑھ سناؤں ‘‘۔ مختلف آوازیں آئیں کہ فرمائیے۔ اور ہمارے نوجوان شاعر  نے غزل کے باقی شعر پڑھنے شروع کیے۔ قریب قریب ہر شعر پر بیساختہ داد ملی۔ یہاں تک کہ اس شعر تک پہنچا:

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے 
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے 

	مرزا ارشد گور گانی دہلوی تشریف رکھتے تھے بے اختیار واہ واہ کہہ اٹھے اور بولے ’’میاں اقبال اس عمر میں۔ اور یہ شعر! ‘‘ اور واقعی اس رنگ کی کہنے والے کی عمر اور وضع سے توقع نہیں ہو سکتی تھی۔ غرض اس طرح غزل ختم ہوئی اور مقطع میں شاعر نے دہلوی اور لکھنوی پارٹی کے جھگڑے پر اپنے خیال کا اظہار نہایت خوبی سے کر دیا۔ اور اس میں شک نہیں کہ اس جھگڑے کے متعلق اہل پنجاب کا جو دونوں مقامات کے اصحاب فن کے خرمن کے خوشہ چیں ہیں ، یہی مسلک ہونا چاہیے۔ مقطع یہ تھا   ؎

اقبال لکھنؤ سے نہ دلی سے ہے غرض 
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلف کمال کے

	یہ پہلا موقع تھا کہ لاہور کے سخن دانوں کو اس ابھرتے ہوئے شاعر سے شناسائی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد کبھی کبھی مشاعرہ ہوتا رہا۔ اور سخن فہم حضرات اقبال کی غزلوں پر پسندیدگی کا اظہار کرتے رہے لیکن کچھ تو رفتہ رفتہ مشاعرے کی گرم بازاری نہ رہی، کچھ امتحانات وغیرہ نے کالجوں کے طلبہ کو مصروف کر دیا، اور کچھ عرصے کے لیے اقبال کی طباعی کا چرچا گورنمنٹ کالج لاہور کے طلبہ اور ان کے ملنے والوں تک محدود ہو گیا۔ پہلا عام جلسہ جس میں دوستوں کے اصرار نے اقبال کو پبلک کے روبرو کھینچ بلایا انجمن حمایت اسلام کا عظیم الشان جلسہ بابت ۱۸۹۹ء تھا جہاں اس نے ’’نالہ یتیم‘‘ کے عنوان سے ایک دل گداز نظم پڑھی۔یہ نظم ایسی مقبول ہوئی کہ جلسے میں بار بار اس کے پڑھنے کی فرمائش ہوئی تھی اور اس پر یتیم خانے کے لیے چندے کی بارش ہو رہی تھی۔ اس نظم نے اس شہرت کی بنیاد رکھی جو اب اطراف ہند کو گھیرتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل خود کارکنان انجمن کو ان کے نام اور جوہر سے یہاں تک ناواقفیت تھی کہ انھوں نے یہ دیکھ کر کہ شیخ محمد اقبال صاحب اقبال ایم۔ اے پاس کر چکے ہیں یہ قیاس کر لیا کہ وہ نظم انگریزی فرمائیں گے اور پروگرام میں ان کے نام کے مقابل نظم انگریزی چھاپ دیا۔ان کے احباب کو یہ کیفیت دیکھ کر ہنسی آئی۔ مگر انھوں نے کہا کہ خیر لوگ خود ہی دیکھ لیں گے کہ کم از کم اس شخص کی حالت میں انگریزی خوانی مذاق زبان اور علوم مشرقیہ کے پڑھنے میں صدِّ راہ نہیں بنی۔ اور ایسا ہوتا بھی کیوں۔ کیونکہ اس کی انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی علوم مشرقیہ کی تعلیم میں بھی پوری کوشش کی گئی تھی۔ اور وہ ان چند آدمیوں میں ہیں جو اعلا درجے کی انگریزی دانی کے ساتھ فارسی اور عربی سے بھی اچھی واقفیت رکھتے ہیں اور مزید لطف یہ ہے کہ سنسکرت سے بھی نا آشنا نہیں۔
	’’نالہ یتیم‘‘ کے پڑھے جانے کا نتیجہ یہ  ہوا کہ حاضرین جلسہ جس میں پنجاب اور ہندوستان کے اکثر اضلاع سے لوگ آئے ہوئے جمع تھے۔ اپنے اپنے ہاں اس نظم کے اثر کو لے گئے اور اس دن سے آج تک نہ صرف انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے کے پروگرام میں نظم اقبال ایک جزو ضروری بن گئی ہے، بلکہ لاہور میں کوئی اور بھی عظیم الشان جلسہ بغیر نظم اقبال کے مکمل نہیں ہوتا۔ اپریل ۱۹۰۱ء سے رسالہ مخزن کے اجرا نے اقبال سے اخبار بیں دنیا کو شناسا کر دیا ہے۔ اور جو کلام ان کا اس رسالے میں شائع ہوا ہے وہ قوت بیان اور جوش سخن کے ساتھ اعلیٰ درجے کی علمی معلومات کا ثبوت دے رہا ہے۔اور صاف بتا رہا ہے کہ کہنے والا انگریزی عربی اور فارسی علم ادب پر اچھا عبور رکھنے کے علاوہ سنسکرت اور بھاشا کے علم ادب کے بھی قدردانوں میں ہے۔ اور اپنے کلام کو ایسا گلدستہ بنا دیتا ہے جس میں مختلف گلشنوں کے پھول تربیت سے جمع کیے ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ ایسا پختہ اور وسیع مذاق پچیس چھبیس سال کی عمر میں کیونکر پیدا ہو گیا۔ ضرورت ہے کہ شیخ محمد اقبال کی ابتدائی عمر اور تعلیم اور تربیت پر مختصراً نظر ڈالی جائی۔
	ہمارے خیال میں اس میں وراثت کو بھی دخل ہے اور تربیت کو بھی۔ شیخ صاحب کاشمیری الاصل ہیں اور انھیں کشمیری پنڈتوں کے ایک  قدیم خاندان سے تعلق ہے۔ جس کی ایک شاخ اب تک وطن اصلی میں موجود ہے۔ خاندان کی وہ شاخ جس میں شیخ صاحب ہیں دوسو سال ہوئے مسلمان ہو گئی۔ گوت ان کی ’’سیفرو‘‘ ہے اور ان کے بزرگوں کا اسلام پر ایمان لانا ایک ولی کے ساتھ عقیدت کی وجہ سے ہوا، جو بزرگ اول میں مسلمان ہوئے ان کے پوتے پنجاب میں آ کر آباد ہوئے اور اس نقل مکان کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ خاندان سادات کے ایک بزرگ کے بیٹے کو پنجاب کی سیر کرانے کی تقریب سے یہاں آئے اور آخر یہیں کے ہو رہے   ؎

غربت کے مشغلوں نے وطن کو بھلا دیا 
خانہ خراب خاطر الفت شعار کا 

	اس حکایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اہل اللہ سے ارادت اور مشائخ اور اولیا کی نسبت حسن عقیدت اس خاندان کی طبیعتوں کا جزو ہو چکے ہیں اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ شیخ محمد اقبال کے والد اگرچہ امّی ہیں تصوف کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور صوفیا کے اکثر حالات پر حاوی ہیں اور ان کے اقوال انھیں یاد ہیں۔ یہ موروثی مذاق ہمارے نوجوان شاعر میں بھی موجود ہے اور اس کی شاعری کا ضروری جزو بن گیا ہے۔
	شیخ محمد اقبال کے زمانہ تعلیم میں کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں جو خصوصیت سے قابل ذکر ہو۔ اکثر مسلمان بچوں کی طرح کچھ دنوں مکتب کی ہوا کھائی۔ پھر مدرسے میں داخل ہوئے انگریزی شروع کی پھر کالج کے مدارج میں پہنچے اور زینہ بزینہ چڑھتے گئے۔ ہاں مدرسے میں پڑھنے اور سیالکوٹ کالج میں ایف، اے کے درجے میں تعلیم پانے کے متعلق یہ جتانا ضروری ہے کہ وہاں ایک استاد مشفق کی توجہ خاص نے ان کی طبیعت اور مذاق کے بنانے میں معتد بہ حصہ لیا۔ سیالکوٹ کے اسکاچ مشن کالج کو حسن اتفاق سے زبان عربی اور فارسی کی تدریس کے لیے ایک ایسے بزرگ دستیاب ہو گئے ہیں جن کی ذات نہ صرف اس تعلیم گاہ اور شہر سیالکوٹ کے لیے بلکہ پنجاب بھر کے لیے مغتنمات سے ہے۔ نام نامی ان کا مولیٰنا سید میر حسن صاحب ہے اور اعلا درجے کے با مذاق اصحاب میں ہیں۔ علم اور اہل علم کے شیدائی، ذوق کلام کے فدائی اور جویا۔ مولوی سید میر حسن اب تک ایسے طالب علم ہیں کہ جو ملے، جہاں ملے، جس سے ملے اور جب ملے، حاصل کرتے جاتے ہیں اور چھوڑتے نہیں۔ اس بات کا نتیجہ یہ ہے کہ جس شخص کو ان کی صحبت سے فیض پہنچا ہے وہ کچھ بن کے نکلا ہے۔ متعدد ہندو نوجوان ان کے شاگردوں میں ایسے ہیں جو اردو فارسی تو خیر معمولی بات ہے، عربی زبان میں اعلا درجے کا مذاق لے کر نکلے ہیں اور یونیورسٹی کے امتحانوں میں مسلمانوں سے بڑھ کر نمبر پا گئے ہیں۔ مولوی صاحب کی یہ عادت ہے کہ اگر کسی شاگرد کو ہونہار دیکھیں تو اسے معمولی درس تعلیم تک محدود نہیں رہنے دیتے۔ بلکہ خارج از وقت مدرسہ اسے بعض دلچسپ اور مفید کتابوں پر عبور کرا دیتے ہیں۔ پس جب سید میر حسن جیسے استاد کو اقبال سا شاگرد مل گیا تو انھوں نے کوئی دقیقہ ان جوہروں کو جِلا دینے میں جو قدرت نے طبیعت میں امانت رکھے تھے اٹھا نہیں رکھا۔ سید صاحب کا خاصہ تھا کہ باوجود خود ذوق شعر میں سرشار ہونے کے اکثر طلبہ کو شاعری سے روکتے تھے۔ مگر اقبال کی طبیعت کا اندازہ انھوں نے شروع سے ہی کر لیا تھا۔ اور اس کے ذوق شعر کی قدرتی ترقی کو چپکے چپکے دیکھتے گئے۔ اور کبھی اس کے گھٹانے کی کوشش نہیں کی۔ شعر کا شوق تو اقبال نے بچپن سے پایا تھا۔ اس کے والد کی زبانی ایک دوست کو معلوم ہوا ہے کہ بچپن میں جو پیسے جیب خرچ کے لیے گھر سے ملتے تھے ان کے منظوم قصے خرید لاتا تھا اور زبانی یاد کر لیتا تھا۔ مگر سید میر حسن صاحب کے فیضان صحبت کے زمانے میں اس شوق کو بے حد ترقی ہوئی۔ سید صاحب کو بے شمار اچھے اچھے شعر اساتذہ کے زبانی یاد ہیں۔ جو شعر وہ پڑھتے۔ اقبال اسے لکھ لیتا اور یاد کر لیتا۔ دیوان غالب سبقاً ان سے پڑھا اور ’’ناصر علی ہندی‘‘ کے دلآویز فارسی شعر بھی اسی زمانے میں نظر سے گزرے۔
	امتحان انٹرنس پاس کرنے کے بعد اقبال نے جناب نواب فصیح الملک نواب مرزا خاں صاحب داغؔ دہلوی استاد حضور نظام دکن خلد اللہ ملکہ سے بذریعہ خط و کتا بت تلمذ کی ٹھہرائی۔ اور کچھ عرصے تک غزل میں ان سے اصلاح لیتے رہے۔ جب سے نئے رنگ میں مخمس اور مسدس اور ترجیع بند لکھنے شروع کیے ہیں اس وقت سے خود اپنی اصلاح کرنے لگے ہیں۔ گو طبیعت کی روانی بسا اوقات نہایت عجلت میں شعر زبان سے نکلواتی ہے اور کبھی اپنے شوق اور کبھی احباب کی فرمائش سے وہ قلم بند بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ مہینوں کھٹائی میں پڑے رہتے ہیں۔ جب ذرا فرصت ملی انھیں پڑھا۔ اور جہاں کوئی لفظ کھٹکا تھوڑی اصلاح کر دی۔ پھر پڑھا اور پھر کہیں کچھ کر دیا۔ کبھی بہت ضرورت محسوس ہوئی تو کسی با مذاق دوست کے سامنے پڑھ کر اس کی تنقید سن لی اور اگر کچھ کام کی بات تنقید میں مل گئی تو اس سے فائدہ اٹھا لیا۔
	جس سال حضرت داغؔ سے اصلاح لینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی سال اقبال کی زندگی میں ایک اور واقعہ پیش آیا جسے ہمارے اہل ملک عموماً معمولی سمجھتے ہیں مگر جس کا ہر شخص کی زندگی پر عظیم الشان اثر پڑتا ہے۔ یعنی ان کی شادی ہو گئی۔ پنجاب کے ایک معزز خاندان میں انھیں نسبت فرزندی حاصل ہوئی۔ گو بظاہر یہ تعلق بہمہ وجوہ جانبین کے لیے مفید اور مناسب تھا مگر چونکہ یہاں رشتہ داریاں نو عمر لڑکوں کی است رضا کے بغیر ہی کر دی جاتی ہیں۔ اس لیے شیخ محمد اقبال باعتبار شادی بہت خوش قسمت ثابت نہ ہوئے۔اور اس واقعے نے طبیعت کی بشاشی اور شگفتگی کو اداسی سے بدل دیا۔ انھیں ایام میں ایک پیارے دوست کے انتقال نے غم کی آگ پر اور تیل ڈال دیا۔ اور طبیعت کا رنج اشعار سے ٹپکنے لگا اور اس درد نے شاعری کا وہ حصہ عطا کر کے جسے گداز کہتے ہیں اقبال کو پورا شاعر بنا دیا۔ ہندوستان میں شاعری کی ستّۂ ضروریہ میں لاگ یا لگاؤ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حالی جیسے متین شاعر نے اسے ’’چیز وہ مضمون سمجھانے والی‘‘ لکھا ہے۔ اور دیگر اساتذہ نے بھی کسی نہ کسی رنگ میں کسی نہ کسی کے ساتھ لگاؤ پیدا کیا ہے اور اس سے کلام میں واقفیت اور جوش کی چاشنی پیدا کی ہے جس کے بغیر کلام پھیکا رہ جاتا ہے۔ ہمارے اقبال بھی اس سے خالی نہ رہے کسی کی شوخی کے قائل ہوئے اور کلام میں رندانہ رنگ کی جھلکیاں نظر آنے لگیں۔ اور بہت سے معاملے کے اشعار نکلنے لگے۔ یہ رنگ اب تک باقی ہے مگر فلسفہ کا رنگ اس پر غالب آ جاتا ہے۔ طبیعت فلسفیانہ پائی تھی۔ اس لیے بی اے کے امتحان میں فلسفہ کا مضمون لے کر پاس ہوئے۔ بعد میں ایم اے میں بھی فلسفہ پڑھنے کا شوق ہوا۔ اور اس شوق کا زیادہ تر باعث یہ تھا کہ اس زمانے میں مسٹر ٹی، ڈبلیو، آرنلڈ صاحب جو علی گڑھ کالج کے مشہور پروفیسر تھے گورنمنٹ کالج لاہور میں چلے آئے۔ فلسفہ دانی میں ان کی شہرت عالمگیر ہے۔محتاج بیان نہیں۔ اور اس شہرت نے اقبال کو بے اختیار اپنی طرف کھینچا۔ مگر قابل ذکر یہ امر ہے کہ شاگرد کی طبیعت یہاں بھی شفقت استاد کے لیے اچھا خاصہ مقناطیس ثابت ہوئی۔

جادو عجب نگاہ خریدار دل میں تھا 
بکتا ہے ساتھ بیچنے والا بھی مال کے  

	خود آرنلڈ صاحب بھی اقبال کی تیز فہمی اور اس کے فلسفیانہ دماغ کے معترف ہو گئے انھوں نے اسے شاگردی کے مرتبت سے رفتہ رفتہ دوستی کے اعزاز تک پہنچا دیا ہے اور اقبال کے بہترین دوستوں اور عنایت فرماؤں میں ہیں۔ وہ ایک دفعہ فرماتے تھے کہ ایسا شاگرد استاد کو محقق بنا دیتا ہے اور محقق کو محقق تر۔ کئی مسئلے دوران تعلیم میں ایسے آئے جن کی تحقیقات مزید کی غرض سے آرنلڈ صاحب بہادر کو یورپ کے نامور فلسفہ دانوں سے خط و کتابت کرنی پڑی۔ اور یہ خط و کتابت استاد شاگرد دونوں کے لیے مفید ثابت ہوئی۔ فلسفہ کے شوق کا یہ بھی نتیجہ ہوا کہ اقبال کچھ دنوں ہند و فلسفے کے مطالعے میں مستغرق رہا۔ اور اس نے ایک دوست کو بتایا کہ اس فلسفے کے مطالعے سے طبیعت میں ایک قسم کا سکون محسوس ہونے لگا اور شانتی کے معنیٰ سمجھ میں آ گئے۔ اور اسی سبب سے اب مذہب میں تعصب کی گنجائش نہیں رہی اور سب مذاہب کی دل سے تعظیم کرتے ہیں اور ان کو بھلا جانتے ہیں۔ مگر یہ بھلا جاننا اپنے مذہب کے عشق کے منافی نہیں گو میدان عمل میں ابھی صفِ عشاقِ مذہب میں نہیں آ سکتے۔
	ایم اے پاس ہونے کے بعد شیخ محمد اقبال اوریئنٹل کالج لاہور میں تاریخ و فلسفہ و سیاست مدن کے مضامین پر لکچر دینے کے لیے مقرر کر دیے گئے۔ اس عہدے کی میعاد دو سال ہوتی ہے۔ اب وہ دو سال ختم ہو چکے ہیں۔ مگر افسران کالج ان کی خدمات کو ایسا قیمتی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے توسیع میعاد کے لیے سفارش کی ہے اور انھیں غالباً اور دو سال کے لیے وہاں رہنا ہو گا۔ اس کے بعد یا اسی اثنا میں اغلب ہے کہ انھیں صیغۂ تعلیم میں کوئی معقول ملازمت مل جائے۔ کیونکہ اکثر عہدہ داران تعلیم کی رائے ان کی نسبت اچھی ہے۔ اور وہ ان سے تعلیمی خدمت لینے کے خواہشمند ہیں۔ آج کل علمی مشاغل میں انہماک ہے۔ نثر میں مضمون سیاست مدن پر ایک بیش بہا اور جامع کتاب زیر تصنیف ہے۔ اور نظم میں عموماً انگریزی شعرا کی طرز پر معنی خیز نظمیں لکھتے ہیں جن میں سے اکثر بذریعہ مخزن اشاعت پا چکی ہیں۔ فرمائشی کلام سے بہت گھبراتے ہیں۔ اور کم ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ محض فرمائش سے شعر کہہ دیں اور حقیقت یہی ہے کہ شعر وہ چیز نہیں کہ کسی کے اصرار سے ہو جائے۔ یہ تو طبیعت کا ایک بے اختیار جوش ہے اور دل کا ابال ہے۔ اور پورا لطف اسی میں ہے کہ بی ساختہ زبان پر جاری ہو۔
	اقبال کے حالات زندگی کے اس مختصر خاکے کو ختم کرنے سے پہلے شاید بے جا نہ ہو گا کہ اس کے کلام پر نگاہ ڈالی جائے۔ اقبال کا کلام ابھی کمیت میں اکثر مشہور شعرا کے برابر نہیں پہنچا۔ مگر کیفیت میں انداز خاص رکھتا ہے۔ اول تو بھرتی کے اشعار اس کے کلام میں کم پائے جائیں گے۔ بقول داغؔ۔ع اس کے  ہر شعر میں ترکیب نئی بات نئی، نظر آتی ہے۔ غزل کے اکثر اشعار واقفیت کا رنگ لیے ہوتے ہیں اور تصنع ان میں بہت کم نظر آتا ہے۔ مگر طبیعت اپنے جوہر اصلی مسلسل نظموں میں دکھاتی ہے۔ گو ان میں بعض بند مشکل پسندی کے نمونے ہیں۔ کئی سخن فہم حضرات نے اس مشکل پسندی پر اعتراض کیا ہے۔ اور ایک حد تک یہ اعتراض بجا بھی تھا مگر اس کا اثر اقبال کی طبیعت پر ابتدا میں اچھا نہیں پڑا۔ بجائے اس کی اصلاح کی فکر کے اس کا قصد ہوا کہ شعر گوئی ترک کر دے۔ چنانچہ ایک دو بے تکلف دوستوں کے روبرو اس خیال کا اظہار بھی کر دیا۔ مگر انھوں نے سمجھایا کہ اگر کہیں ایک شعرا ایسا نکلتا ہے جس پر کوئی درست اعتراض وارد ہو سکے تو دس ایسے نکلتے ہیں جن کی خوبی کو سب مانتے ہیں اور ترک شعر گوئی ملک کی شاعری کو نقصان رساں ہو گا اور اسی زمانے میں دور دور سے دادیں آنے لگیں۔ منجملہ دیگر اصحاب کے مولیٰنا شبلی نعمانی جیسے نکتہ رس مشہور عالم نے بدین الفاظ داو دی کہ ’’جب آزاد اور حالی کی کرسیاں خالی ہوں گی تو لوگ آپ کو ڈھونڈھیں گے‘‘۔ ان باتوں نے اقبال کی ہمت پھر بندھا دی۔ اعتراض کا ایک حصہ جو اختیاری تھا رفع ہو جاتا ہے۔ اور اب پہلے سے زیادہ ایسے اشعار اقبال کے قلم سے نکلتے ہیں جو زور کے ساتھ سادگی اور سلاست کی خوبیوں سے بھی آراستہ ہوتے ہیں۔ مگر اعتراض کا ایک حصہ غیر اختیاری تھا اور وہ رفع نہیں ہوا اور نہیں ہو سکتا۔ اردو زبان بھی بمقابلہ انگریزی کے ابتدائی حالت میں ہے انگریزی شاعری میں اور خصوصاً فلسفہ میں اکثر خیالات ایسے ہیں جو موجودہ اردو الفاظ اور سیدھی سادھی ترکیبوں کی ضرورت ہے یا ذرا پیچیدہ ترکیبوں کی۔ اس لیے ع اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے، ایک طرف تو شاعر اپنے سامعین کی طرف جھکے اور ان کی سطح پر اترنے کی کوشش کرے، اور اس سے زیادہ سامعین اپنے مذاق کو بڑھاتیں اور معلومات کو وسیع کریں اس کی بلند پردازی کا تتبع کریں۔ اصل اندازہ تو کسی کے کلام کا اس کے بعد کی نسلیں لگاتی ہیں اور اس لیے اس کے معاصرین کے لیے موقع صحیح اندازے کا نہیں ہو سکتا۔ مگر اتنا کہنے  میں ہمیں تامل نہیں کہ جو کچھ اقبال نے اب تک لکھا ہے وہ اس اعتبار سے کہ ایک نوجوان انگریزی خوان کا کلام ہے جس نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ علوم انگریزی کی تحصیل میں صرف کیا ہے اور جسے اہل زبان ہونے کا دعویٰ نہیں ، نہایت بے بہا ہے اور اس حصہ ملک کے لیے جسے اب وہ اپنا وطن کہتا ہے مایہ فخر و ناز ہے 

خدنگِ نظر، مئی ۱۹۰۲          
بہ حوالہ :  اقبال جادوگر ہندی نژاد
مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی۔۱۹۸۰ء      
٭٭٭


علامہ سے تعارف

غلام رسول مہر

	میں حضرت علامہ اقبال کے اسمِ گرامی سے پہلے پہل ۱۹۰۷ء میں متعارف ہوا۔ اس زمانے میں حضرت مرحُوم کو لوگ عموماً شیخ مُحمدّ اقبال کہتے تھے اور کسی کو اندازہ نہ تھا کہ کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد اقبال ان مراتب عالیہ پر پہنچنے والے ہیں جو صرف ممتاز علمی شخصیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس وقت میں اپنی عُمر کے تیرھویں مرحلے میں تھا۔
	میں مشن ہائی سکول جالندھر میں تعلیم پا رہا تھا۔ جالندھر اگرچہ بہت پرانا شہر تھا لیکن وہاں دوسرے شہروں کی سرگرمیوں کے متعلق اطلاعات کمتر ہی پہنچتی تھیں۔ البتہ غلام پہلوان اور کیکر سنگھ پہلوان کی کشتیوں کے متعلق بہت سی کہانیاں سنی جاتی تھیں۔ یہ عرض کرنا مشکل ہے کہ وہ سب کی سب سچی تھیں یا ان میں رنگ آمیزی بھی راہ پا گئی تھی۔
	حضرت علامہ مرحوم سے رسمی تعارف یوں ہوا کہ مسلمانانِ جالندھر نے اپنی تعلیمی مساعی کا آغاز ایک اسلامیہ بورڈنگ ہاؤس کے قیام سے کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ مختلف مقامی سکولوں میں تعلیم پانے والے مسلمان نونہالوں کی تربیت اسلامی اُصول پر کی جائے۔ کسی سکول کے بورڈنگ ہاوس میں ایسا کوئی انتظام مُہیا نہ تھا، اور ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
	میں مشن ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں رہتا تھا۔ پھر اسلامیہ بورڈنگ ہاوس میں منتقل ہو گیا۔ اس لیے کہ اس کا فاصلہ ہمارے سکول سے صرف ایک فرلانگ تھا۔ اور اتنا ہی فاصلہ اس زمانے کے گورنمنٹ ہائی سکول کی عمارت سے تھا۔ غالباً انھی دو بڑے سکولوں کے مسلم طلبہ کے لیے اسلامیہ بورڈنگ ہاؤس قائم کیا گیا تھا اس کی عمارت دونوں سے قریب رکھنے کا راز بھی غالباً یہی تھا۔ وہاں منتقل ہونے کا ایک زائد محرک یہ ہوا کہ اس کے پہلے سپرنٹنڈنٹ میرے ایک رشتہ دار تھے۔

(۲)
	میں بورڈنگ ہاؤس میں پہنچا تو طلبہ کے علاوہ وہاں ایک ویکسی نیٹر بھی مقیم تھا، جس نے بورڈنگ ہاؤس میں قیام کی خاص اجازت لے لی تھی۔ اس کا وطن لاہور تھا۔ موسم سرما کا بڑا حصّہ وہ اپنے رفیقوں کے ساتھ دیہات میں پھر پھر کر چیچک کے ٹیکے لگاتا۔ گرمیوں میں عموماً دفتری کام کرتا، نام یاد تو نہیں لیکن ہم انھیں شاہ صاحب یا شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے۔
	ان کے پاس کچھ کتابیں اور کچھ رسالے تھے۔ ان میں انجمنِ حمایت اسلام لاہور کے سالانہ اجلاسوں کی کارروائیاں بھی تھیں ، جن میں وہ تمام خطبے لکچر اور نظمیں چھاپی جاتی تھیں جو سالانہ اجلاس کی مختلف مجلسوں میں دیے جاتے تھے۔میں نیز دوسرے طلبہ یہ کارروائیاں اور رسالے شاہ جی سے لے کر پڑھا کرتے تھے۔ وہ کبھی کبھی بعض اجلاس کی کیفیت بھی سنایا کرتے تھے ’’اور شیخ مُحمدّ اقبال ‘‘ کی بہت ستائش فرمایا کرتے تھے۔ کہتے تھے وہ بہت بڑے شاعر ہیں اور آج کل ولایت گئے ہوئے ہیں۔
	میں نے ان کارروائیوں میں اقبال کی نظمیں خصوصیت سے پڑھیں لیکن تیرہ سال کے بچے کو جس کا علم فارسی اور اُردو کی محض ابتدائی کتابوں تک محدود تھا ان نظموں کی بلند حیثیت کا کیا اندازہ ہو سکتا تھا ؟ تاہم اقبال سے سمعی تعارف کی ابتدا اب تک لوح ذہن پر بالکل تازہ ہے۔ 
	اسی زمانے میں ایک موقع پر شیخ عبدالقادر مرحُوم، جو ولایت سے بیرسڑی کی سند لیکر تازہ تازہ آئے تھے، جالندھر تشریف لائے اور انھوں نے اسلامیہ بورڈنگ ہاوس کو بھی اپنے قدوم سے مشرف فرمایا۔ طلبہ نے شاہ جی کی انھی کارروائیوں سے چودھری خوشی مُحمدّ مرحُوم کی نظم کے چند اشعار لیے اور ایک آدھ شعر میں ترمیم کر کے اسے شیخ عبدالقادر مرحُوم کے استقبال کے لیے موزوں بنا لیا۔ حالانکہ وہ موزوں نہ تھی بایں ہمہ اسے اس شان سے پڑھا، گویا وہ چودھری خوشی مُحمدّ مرحُوم نے اسی تقریب کے لیے کہی تھی جس کا انتظام ہم نے شیخ عبدالقادر مرحُوم کے لیے کیا تھا۔عہدِ طفلی کی نیرنگیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔

(۳)
	میٹرک پاس کر کے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آیا تو اقبال کی ذاتِ گرامی کے متعلق نسبتاً زیادہ معلومات حاصل ہوئیں۔یہاں بعض مجلسوں میں ان کی زیارت سے بھی قلب و  نظر نے بقدرِ استطاعت کسب فیض کیا۔
	اقبال کا کلام خود اقبال کی زبان سے پہلی مرتبہ انجمنِ حمایت اسلام کے اس سالانہ اجلاس میں سُنا جو ریواز ہوسٹل کے صحن میں منعقد ہوا تھا۔۱۹۱۱ء میں ریواز ہوسٹل کے صحن میں ایک پختہ راستہ شرقاً غرباً اور دوسرا شمالاً جنوباً بنا ہوا تھا جس سے صحن چار مربعوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ داخلے کے پھاٹک کے دائیں جانب جو آخری مربع ہے اس میں سٹیج کا انتظام کیا گیا تھا۔ باقی صحن اور چاروں طرف کے برآمدوں نیز داخلے کی جانب کی دوسری منزل کے برآمدے اور چھتوں پر بھی حاضرین موجود تھے۔ اقبال نے اس اجلاس میں شکوہ پڑھا تھا۔اس نظم کے کچھ حالات ہم اپنے استاد مکرم خواجہ دل مُحمدّ مرحُوم سے سُن  چکے تھے۔جو وقتاً فوقتاً حضرت علامہ اقبال ؒ سے ملتے رہتے تھے۔بلکہ انھوں نے اس نظم کے کچھ شعر  بھی سنائے تھے۔جن میں سے ایک یہ تھا۔   ؎
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں 
زندگی مثلِ بلالِؓ حبشی رکھتے ہیں 
	اقبال ؒ نے پہلے ایک قطعہ سُنایا ، پھر شکوہ پڑھا۔ جن کاغذوں پر وہ اپنے قلم سے نظم لکھ کر لائے تھے وہ نواب ذوالفقار علی خاں مرحُوم رئیس مالیر کوٹلہ نے ایک سو روپے میں خرید کر انجمن کی نذر کر دیے تھے اور ۱۹۱۱ء میں ایک سو روپے آج کل کے ۱۰ دس ہزار کے برابر سمجھنے چاہییں۔
	اقبال ۱۹۰۵ء میں ولایت گئے تھے اور اس کے بعد پہلی مرتبہ انجمن کے اجلاس میں نظم سُنانے کے لیے آئے تھے۔ اس لیے مختلف سمتوں سے صدائیں بلند ہوئیں کہ معمول کے مطابق نظم گا کر پڑھی جائے۔ اقبال نے کہا کہ یہ نظم گا کر نہیں پڑھی جا سکتی۔ میں جس طرح پڑھتا ہوں آپ مہربانی فرما کر اسی طرح سُن لیں۔علمی و ادبی صلاحیت کا پیمانہ اس زمانے میں بھی چنداں قابلِ ذکر نہ تھا۔لیکن پورا شکوہ اقبال کی زبان سے سُنا تو دل کی عجیب کیفیت تھی۔ اور یہ احساس بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ اقبال نے جس طرح نظم پڑھی اس کے پڑھنے کا احسن طریقہ وہی تھا بلکہ اگر اسے تحت اللفظ نہ پڑھا جاتا اور آواز کے نشیب و فراز سے اس کے مختلف نکتے واضح نہ کیے جاتے تو نظم کی حقیقی حیثیت نمایاں نہ ہو سکتی۔

(۴)
	لاہور پہنچ کر سخن شناسی اور سخن فہمی کا ذوق خاصا فروغ پذیر معلوم ہوتا تھا لیکن اقبال کے ساتھ براہِ راست شناسائی پیدا کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اگرچہ سنتا رہتا تھا کہ وہ بے حد شفیق ہیں۔ جو بھی ان کی خدمت میں پہنچ جائے، اس سے بے تکلف باتیں کرتے ہیں ، لیکن ان کی عظمت کا تصور دل و دماغ پر اس طرح چھایا ہوا تھا کہ ان کے قریب پہنچتے ہی ہمت جواب دے دیتی تھی۔ بعض اوقات اتفاقیہ ان سے ملاقات بھی ہو جاتی تھی مگر اس طرح کہ چار چھ بزرگ اور چند طالب علم بلا قصد و ارادہ ایک مجلس میں جمع ہو گئے اور دوسرے سے رسمی تعارف کے بغیر باتیں کرتے رہے۔
	مثلاً ایک مرتبہ ہم چار پانچ طالب علم مولانا ظفر علی خاں مرحُوم سے ملنے کے لیے نکلے وہ اس زمانے میں شاہ مُحمدّ غوثؒ کے پاس ایک نو تعمیر عمارت میں رہتے تھے جس کی دوسری اور تیسری منزل انھوں نے کرایے پر لے رکھی تھی۔ ہم دوسری منزل میں پہنچے تو مکان کے صحن میں مولانا ظفر علی خاں بیٹھے تھے مغرب کی نماز ہو چکی تھی۔ عشا کی اذان ابھی نہیں ہوئی تھی۔ مولانا سے تھوڑے فاصلے پر اقبال ؒ بھی تشریف فرما تھے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اقبال نے شلوار پہن رکھی تھی۔ سفید قمیص اُوپر چھوٹا کوٹ ، سَر پر لنگی بندھی۔ ہاتھ میں چھڑی تھی اس زمانے میں وہ انار کلی لاہور میں رہتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ شام کے وقت ٹہلتے ٹہلتے مولانا ظفر علی خاں سے ملنے کے لیے آ گئے تھے۔
	ہمارے سامنے انھوں نے جو کچھ فرمایا اس کا مفاد یہ تھا کہ ظفر علی خاں آپ کے اخبار میں کان پور کے فلاں صاحب (ایک شاعر کا نام لیا جسے میں حذف کر رہا ہوں ) کی جو لمبی لمبی نظمیں چھپتی ہیں بعض اوقات خیال آتا ہے کہ تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لوں اور کان پور پہنچ کر ان کے پیٹ میں چھُرا گھونپ دُوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ اس شخص کو ختم کرنے کے لیے کان پور تک تھرڈ کلاس کا کرایہ خرچ کرنا بھی روپے کا ضیاع ہو گا۔
	قطعاً شبہہ نہیں کہ اس شاعر کی نظمیں بہت معمولی ہوتی تھیں اور عموماً  زمنیدار کا پورا پہلا صفحہ گھیر لیتی تھیں۔ حضرت علامہ کے ارشاد کا مقصد یہ تھا کہ اس قسم کی نظمیں اخبار میں نہ چھپنی چاہییں۔ لیکن اس زمانے میں خبریں اور مضمون زیادہ نہیں ہوتے تھے اور اخبار نویس کا اوّلین مقصد یہ ہوتا تھا کہ اخبار کے صفحات جلد سے جلد پُر ہو جائیں۔

(۵)
	دوسرے سال (۱۹۱۲ء میں ) انجمنِ حمایت اسلام کا سالانہ جلسہ اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ میں ہوا۔ اس زمانے میں برانڈرتھ روڈ کے ساتھ کوئی عمارت نہ تھی۔ احمد یہ بلڈنگس سامنے نظر آتی تھی اور وہاں کے نوجوان بھی کھیلنے کے لیے اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ میں آ جاتے تھے۔عام جلسے بھی عموماً اسی گراؤنڈ میں ہوتے تھے۔دو چار سو آدمی گھاس پر آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ اور تقریریں کرنے والوں کو جو کچھ سُنانا ہوتا تھا سنا دیتے تھے۔ جس طرف مبارک مسجد ہے اس طرف دو عمارتیں تھیں۔ ایک کالج لائبریری اور دوسری کالج کے جمنیزیم کی عمارت، گراؤنڈ خاصی کھلی تھی حبیبیہ ہال کے ساتھ سٹیج کا انتظام کیا گیا تھا۔ آگے خاصی دُور تک قناتیں اور شامیانے لگے تھے۔ مختلف اطراف میں دُکانیں بھی تھیں اور لوگ حسبِ ضرورت ٹہل بھی لیتے تھے۔برانڈرتھ روڈ کی طرف سے جلسہ گاہ کے اندر آنے کا دروازہ اس گوشے میں تھا جہاں برانڈرتھ روڈ سے اُترتے تھے اور اس طرف اب انجمن کے دفاتر ہیں اس گوشے سے سٹیج تک راستہ بنا دیا تھا۔ حضرت علامہ اقبال نظم پڑھنے کے لیے اسی راستے سے آئے تھے۔ سفید شلوار قمیص، سیاہی مائل گرم کوٹ اور سرپرہارڈ تُرکی ٹوپی تھی۔اس کے بعد بھی انجمن نے دو تین سالانہ اجلاس اسی مقام پر منعقد کیے مگر جیسا عالی شان اجلاس ۱۹۱۲ء کا تھا ویسے بہت کم اجلاس ہوئے ہوں گے۔
	اس سال حضرت علامہ نے  شمع اور شاعر پڑھی تھی اس میں بعض واضح پیش گوئیاں ہیں جو خدا کے فضل سے پوری ہو چکی ہیں۔ لیکن ۱۹۱۲ء میں میرے علم کی حد تک کسی کو احساس بھی نہ تھا یہ نظم پیش گوئیوں پر مشتمل ہے۔خود میری حالت بھی عام اصحاب سے مختلف نہ تھی حضرت علامہ کی نظم کے سلسلے میں ایک جھگڑا رُو نما ہوا۔ انجمن کے اجلاسوں کی صدارت کے لیے وہ اصحاب تجویز کیے جاتے تھے جن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقم فراہم ہو سکے۔ اتفاقیہ اس سال دو ایسے اصحاب تھے جن کے ذریعے بڑی رقم وصول ہونے کا امکان تھا اور وہ دونوں اصرار کر رہے تھے کہ اقبال کی نظم ان کی صدارت میں ہو۔ آخر اس مشکل کا حل یہ نکالا گیا کہ ان دونوں کی صدارتیں یکے بعد دیگرے ہوں  شمع اور شاعر کے پہلے چھ بند ایک صدر کے اجلاس میں پڑھے جائیں۔ پھر علامہ کو کچھ وقت سستانے کے لیے مل جائے اور باقی چھ بند دوسرے کی صدارت میں پڑھے جائیں۔ اسی لیے اقبالؒ نے ابتدا میں یہ قطعہ پڑھا تھا۔
ہم نشین بے ریایم ازرہِ اخلاص گفت
کاے کلام تو فروغ دیدۂ بر ناوپیر
درمیان انجمن معشوق ہر جائی مباش 
گاہ باسُلطان باشی گاہ  باشی بافقیر
گفتمش اے ہم نشیں ، معذورمے دارمِ ترا
درطلسم امتیاز ظاہری ہستی اسیر
من کہ شمع عشق در بزم جاں افروختم
سو ختم خود را وسامان دوئی ہم سوختم
	اس میں سُلطان سے مُراد مرزا سُلطان احمد تھے جو پہلے اجلاس کے صدر تھے۔ اور فقیر سے مُراد فقیر افتخارالدین تھے جو لاہور کے ایک ممتاز خاندان کے رُکن اور اس دور کے ممتاز عہدیدار تھے۔

(۶)
	شمع اور شاعر مولانا ظفر علی خاں مرحُوم نے اپنے پریس میں چھپوا دی تھی۔دس ہزار کاپیاں چھاپی گئی تھیں اور ہر کاپی کی قیمت خلاف معمول آٹھ آنے رکھی گئی تھی۔مولانا ظفر علی خاں نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اس طرح نظم کی کاپیاں بک جانے سے پانچ ہزار روپے وصول ہوں گے اور یہ رقم ڈاکٹر اقبال کے حوالے کر کے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تبلیغ اسلام کے لیے جاپان چلے جائیں۔
	یہ نظم بھی پوری کی پوری میں نے اقبال کی زبان مُبارک سے سُنی۔ اس کے بعد میری طالب علمی کے زمانے میں دو اجلاس اور ہوئے۔ ایک میں متفرق قطعات کے علاوہ وہ مزاحی قطعے پڑھے گئے جن کا نام خود حضرت علامہ نے رگڑا تجویز کیا تھا۔لیکن بعد میں وہ اکبری اقبال کے نام سے معروف ہوئے کیونکہ ان میں مزاح کا رنگ غالب تھا۔ دوسرے اجلاس میں پہلے تقریر فرمائی، پھر وہ نظم سُنائی جس کا مطلع ہے۔
کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں 
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں 
	مجھے اب تک یاد ہے کہ حضرت علامہ مرحُوم نے منتظر کے ظ کے مفتوح ہونے پر خاص زور دیا ہے اور فرمایا تھا اسے منتظرِ نہیں منتظَر پڑھا جائے یعنی وہ حقیقت جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ آخر میں مثنوی اسرارِ خودی کے تمہیدی مطالب میں سے پندرہ بیس اشعار پڑھے۔ اس وقت تک یہ مثنوی غالباً مکمل نہیں ہوئی تھی۔

(۷)
	میں مئی ۱۹۱۵ء میں بی۔اے کا امتحان دے کر لاہور سے چلا گیا اور ساڑھے چھ سال بعد نومبر ۱۹۲۱ء میں اخبارنویسی کے لیے آیا۔ اس وقت ملک کے حالات میں بنیادی تبدیلی آ چکی تھی۔ ترکِ موالات کی تحریک زوروں پر تھی میں زمیندار سے وابستہ ہو گیا تھا،لیکن والدہ نے اجازت نہ دی اور میں نے دفتر زمیندار میں معذرت لکھ بھیجی۔ اتفاق سے اخبار ضبطی ضمانت کے باعث کچھ عرصے کے لیے بند ہو گیا۔ جب اس کے از سرِ نو اجرا کا انتظام ہوا تو شفاعت اللہ خاں مرحُوم جو اس زمانے میں زمیندار کے مہتمم عمومی تھے،مولانا مُرتضیٰ احمد خاں میکش مرحُوم کے ساتھ میرے گاؤں پہنچے جو جالندھر شہر سے پانچ میل جانب جنوب تھا۔ میری والدہ کو یقین دلایا کہ مہر کو رسمی طور پر اخبار سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ اسے بالکل الگ رکھا جائے گا۔ یوں میرے لیے اوائل فروری ۱۹۲۲ء میں مستقل طور پر لاہور آنے اور اخبار سے وابستہ ہو جانے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں حضرت علامہ مرحُوم انار کلی بازار کی ایک وسیع عمارت کے بالائی حصّے میں رہتے تھے۔

(۸)
	یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم کالج کے زمانے میں میرے نہایت عزیز دوستوں میں سے تھے۔ وہ تعلیم مکمل کر چکے تو نواب سر ذوالفقار علی خاں مرحُوم نے چودھری صاحب کو اپنا سیکرٹری بنا لیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں چودھری صاحب نے اپنی غیر معمولی دُور اندیشی ، اصابتِ رائے اور خلوص و دیانت کی برکت سے ایسی حیثیت حاصل کر لی تھی کہ نواب صاحب مرحُوم کے ہاں ایک معزز رکنِ خاندان کے درجے پر فائز ہو گئے اور نواب صاحب، کوئی کام چودھری صاحب سے مشورہ کیے بغیر نہیں کرتے تھے۔ اس زمانے میں حضرت علامہ مرحُوم قریباً روزانہ نواب صاحب کے ہاں جاتے تھے۔ اس طرح حضرت علامہ اور چودھری صاحب کے درمیان بھی گہرے روابط پیدا ہو گئے۔ میں دوسرے اصحاب کے علاوہ چودھری صاحب مرحُوم سے بھی وقتاً فوقتاً ملتا رہتا تھا۔
	ایک روز شام کے وقت میں شفاعت اللہ خاں مرحُوم اور مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش مرحُوم گول باغ میں سیر کر رہے تھے۔ لوہاری دروازے اور شاہ عالمی دروازے کے درمیان اتفاقیہ چودھری مُحمدّ حسین مل گئے۔ شفاعت اللہ خاں مرحُوم نے اچانک چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم سے فرمائش کر دی کہ حضرت علامہ کی کوئی ایسی نظم سنائیے جواب تک کہیں چھپی نہ ہو۔چودھری صاحب نے مندرجہ ذیل چار شعر سُنائے:
یوں موج پریشاں خاطر نے پیغام لب ساحل کو دیا 
ہے دُور وصالِ بحر ابھی تو دریا میں گھبرا بھی گئی 
عزت ہے محبت کی قائم اے قیس حجابِ محمل سے 
محمل جو گیا عزت بھی گئی، غیرت بھی گئی لیلیٰ بھی گئی 
کی ترک تگ و دو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی گئی 
آوارگیِ فطرت بھی گئی اور کشمکشِ دریا بھی گئی 
نکلی تو لبِ اقبالؔ سے تھی، کیا جانیے کس کی تھی یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی 
	اس کا شعر یعنی:
اے بادِ صبا کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا 
قبضے سے اُمت بیچاری کے، دیں بھی گیا دنیا بھی گئی 
	یا تو اس وقت چودھری صاحب کو یاد نہ آیا یا انھوں نے سُنانا ضروری نہ سمجھا۔موچی دروازے سے آگے بڑھے تو چودھری صاحب چلے گئے۔ ہم دفتر زمیندار میں پہنچ گئے جو دہلی دروازے کے باہر اس وسیع عمارت کے بالائی حصّے میں تھا جسے ’’جہازی بلڈنگ‘‘ کہتے تھے۔ ہم یعنی میں اور میکش مرحُوم دفتر ہی میں رہتے تھے۔ راستے میں بھی چودھری صاحب کے سنائے ہوئے شعر ہماری گفتگو کا موضوع بنے رہے اور میں گفتگو کے دوران میں بعض شعر پڑھتا بھی رہا۔

(۹)
	دفتر میں پہنچ کر شفاعت اللہ خاں مرحُوم نے کہا کہ جو شعر سُن کر آئے، ہو ایک کاغذ پر لکھ دو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔کہ اچھے شعر ایک مرتبہ بھی دل جمعی سے سُن لیتا تو ذہن میں بدستور تازہ رہتے تھے۔ میں نے حافظے پر زور ڈال کر چاروں شعر اسی ترتیب سے لکھ دیے جس ترتیب سے سنے تھے اور اگلے روز وہ  زمیندار میں چھپ گئے۔مجھے معلوم نہ تھا کہ بلا اجازت شعر چھاپنا نامناسب ہے۔ دوسرے روز دوپہر کے وقت چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم دفتر زمیندار میں آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے یہ شعر کہاں سے لیے ؟ میں نے کہا کہ آپ ہی نے تو کل شام کو سنائے تھے۔ شفاعت اللہ خاں کے اصرار پر میں نے لکھ دیئے۔چودھری صاحب نے فرمایا :چلو میرے ساتھ۔ میں ان کے ساتھ ہولیا۔اور ہم حضرت علامہ مرحُوم کے دولت کدے پر پہنچ گئے۔ وہ اس وقت انار کلی میں رہتے تھے۔جہاں وہ ۲۳جولائی ۱۹۰۸ء سے مقیم تھے۔
	میں اس مکان میں پہلی مرتبہ گیا تھا۔ میں خاصا گھبرایا ہوا تھا۔اس لیے کہ آشکار ہو گیا تھا۔ اس حاضری کی حیثیت ایک لحاظ سے پیشی کی ہے، سیڑھیاں چڑھ کر ہم جس کمرے میں پہنچے تھے،حضرت علامہ وہاں ایک کرسی پر تشریف فرما تھے۔ سیڑھیوں کے قریب جو کرسی تھی، اس پر مجھے بٹھا دیا گیا۔ چودھری صاحب میرے بائیں جانب ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ پھر حضرت علامہ مرحُوم سے مخاطب ہو کر کہا:مُجرم کو پکڑ لایا ہوں۔ یہ سُن کر حضرت علامہ نے مجھ سے پوچھا: آپ نے یہ شعر کہاں سے لیے؟میں نے پورا واقعہ من و عن بیان کر دیا۔یعنی کل شام کے وقت اتفاقیہ چودھری صاحب گول باغ میں مل گئے تھے۔ شفاعت اللہ خاں نے ایسے شعر سُننے کی فرمائش کی جو کہیں چھپے نہ ہوں۔ چودھری صاحب نے چار شعر سُنا دیے۔ ہم دفتر میں پہنچے تو شفاعت اللہ خاں نے کہا کہ جو شعرا بھی سنے ہیں ، انھیں کاغذ پر لکھ دو۔ میں نے لکھ دیے۔ اس کے سوا میرا کوئی قصور نہیں۔
	یہ سُن کر حضرت علامہ مرحُوم نے فرمایا! آپ سچ کہتے ہیں ؟ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ غالباً حضرت علامہ کو میری گزارش کا یقین نہیں آیا۔ میں نے عرض کیا کہ واقعہ تو یہی ہے۔ میں اچھا شعر سُن لیتا ہوں تو مجھے عموماً نہیں بھُولتا، میں اور تو کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتا، آپ چاہیں تو اور شعر سُنا کر میرا امتحان لے لیں۔
	یہ جواب سُن کر حضرت علامہ کے چہرۂ مُبارک پر تبسم کی ہلکی ہلکی لہریں نمودار ہو گئیں اور صرف یہ فرمایا: یہ حافظہ تو بڑا خطرناک ہے۔
	یہ حضرت علامہ مرحُوم سے پہلا براہِ راست تعارف تھا۔ اس مکان میں پھر ایک مرتبہ سالک مرحُوم کے ساتھ گیا تھا۔ اس وقت حضرت علامہ مرحُوم نے ایک بڑا رجسٹر لے کر پیام مشرق کی نظمیں سنائی تھیں لیکن ان میں سے مجھے اب کچھ یاد نہیں۔ صرف یہ یاد ہے کہ رجسٹر حضرت علامہ کے ہاتھ میں تھا اور نظمیں سُناتے وقت انھوں نے عینک لگالی تھی۔

(۱۰)
	جلد ہی وہ انار کلی والے مکان سے میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔ ۱۹۲۳ء میں فلیمنگ روڈ اور بیڈن روڈ (جسے دل مُحمدّ روڈ بھی کہتے تھے۔) کے چوک سے قریب ایک مکان میں رہتا تھا۔ چوک کے پاس ہی ایک بلڈنگ تھی جس کے نیچے دکانیں اور اُوپر ایک ہی وضع کے پانچ فلیٹ تھے۔ یہ میرے قیام کے زمانے میں دل مُحمدّ بلڈنگ کہلاتی تھی۔شاید اس لیے کہ ایک مرتبہ خواجہ دل مُحمدّ مرحُوم نے خرید لی تھی۔ پھر فروخت کر ڈالی تھی۔ میں چوک کی طرف سے دوسرے اور میوہ منڈی کی طرف سے چوتھے فلیٹ میں رہتا تھا۔ 
	یہ مکان حضرت علامہ مرحُوم کی میکلوڈ روڈ والی کوٹھی سے بہت قریب تھا۔ شاہ ابوالمعالیؒ کے پاس جو بلند عمارتیں بن گئی ہیں ، ناپید تھیں اور ایک نیا بازار دل مُحمدّ روڈ سے میکلوڈ روڈ تک نکل آیا ہے، مفقود تھا۔ شاہ ابوالمعالیؒ کے پاس میکلوڈ روڈ پر ایک میدان سا تھا جس میں دھوبی دن کے وقت کپڑے سکھایا کرتے تھے۔ شام کے وقت میدان خالی ہو جاتا تھا۔ میں اپنے مکان سے نکلتا تو شاہ ابوالمعالیؒ کے پاس کے میدان سے گزرتا ہوا پانچ سات منٹ میں حضرت علامہ مرحُوم کی کوٹھی پہنچ جاتا تھا۔ چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم نے قلعہ گوجر سنگھ میں مکان کرایے پر لے لیا تھا جو بعد میں انھوں نے خرید کر از سرنو بنوا لیا تھا۔ وہ بھی آ جاتے تھے۔اس طرح روزانہ قریباً دو دو تین تین گھنٹے کی نشست ہو جاتی تھی۔ حضرت علامہ مرحُوم گفتگو فرماتے۔چودھری صاحب اس میں کبھی کبھی دخل دیتے۔ میں چپ چاپ یہ گفتگو سنتا رہتا۔ مجھ سے کچھ پوچھا جاتا تو جواب دیتا۔ پھر میں بیڈن روڈ (دل مُحمدّ روڈ)پر رمضان بلڈنگ کے ایک مکان میں منتقل ہو گیا، جس کے نیچے بعد میں شفاء الملک حکیم مُحمدّ حسن قرشی نے قومی دوا خانہ قائم کیا۔ گویا حضرت علامہ کی قیام گاہ سے اور بھی قریب ہو گیا۔ حضرت علامہ از راہِ شفقت کبھی کبھی چودھری علی بخش مرحُوم کو بھیج کر خود بلا لیتے تھے۔ 

(۱۱)
	یہ قرب مسلسل کئی سال تک جاری رہا اور حضرت علامہ کی بابرکت صحبت سے استفادے کا موسم بہار یہی تھا۔ میں نے اس دور میں دو تین مرتبہ التزام کیا کہ روزانہ گفتگوؤں کا خلاصہ روزنامچے کے طور پر لکھتا رہوں۔ اسی زمانے میں  زبورِ عجم کا آغاز ہوا تھا اور حضرت علامہ مرحُوم عموماً  زبور کے تازہ اشعار تنہائی میں مجھے اور چودھری  صاحب کو سُنایا کرتے تھے۔ میں گھر پہنچتا تو حافظے پر زور دے کر سُنے ہوئے اشعار لکھ لیتا۔ جو یاد نہ رہتے ان کی جگہ نقطے لگا لیتا۔ یہ کاپی بھی اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔ اس میں ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر کلام پر تاریخ درج ہے وہ لازماً اسی روز یا دو ایک روز پیشتر لکھا گیا۔ نیز بعض اشعار کے متعلق حضرت جو کچھ فرماتے، وہ بھی نوٹ کر لیتا۔ اب دیکھتا ہوں تو ان ارشادات سے بعض نظموں کا مفہوم متعین کرنے میں آسانی محسوس ہوئی اور اس طرح اشعار کے مطالب زیادہ واضح ہو گئے۔ یہ سب کچھ اس روزنامچے میں درج کر دیا گیا ہے، جس کی تمہید کے طور پر یہ داستان مرتب کر رہا ہوں۔(۱)
	مغرب کے بعد سے دس گیارہ بجے تک یہ صحبت برابر قائم رہتی لیکن کلام سُنانے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوتا جب دوسرے لوگ رخصت ہو جاتے۔ میں نماز مغرب سے کچھ عرصے بعد اجازت مانگتا تو فرماتے کہ ٹھہرو، کچھ کام ہے۔ اس سے اندازہ ہو جاتا کہ کلام سُنائیں گے۔
	ایک دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ حضرت پلنگ پر تکیے کے سہارے بیٹھے ہوئے تھے کہ اشعار سُناتے سُناتے بجلی بند ہو گئی۔حضرت بھی خاموش ہو گئے اور ہم بھی خاموش بیٹھے رہے۔ پانچ دس منٹ بعد بجلی از سرِ نو روشن ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ میرے لیے یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ جو شعر سنا رہے تھے ان میں خطاب رسُولِ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ بجلی کی روشنی ذرا کم تھی اور ہم میکلوڈ روڈ والی کوٹھی کے برآمدے میں بیٹھے تھے۔ حضرت اشعار کا رجسٹر لے کر بجلی کے عین نیچے جا کھڑے ہوئے اور اسی عالم میں کلام سے مشرف فرماتے رہے۔
	ایک مرتبہ مجھے فراغت تھی اور صبح ہی خدمت والا میں پہنچ گیا۔ پھر میں اور حضرت علامہ مسلسل گیارہ گھنٹے تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ جن اصحاب نے میکلوڈ روڈ والی کوٹھی دیکھی ہے۔ انھیں اندازہ ہو گا کہ اس کا برآمدہ خاصا وسیع تھا۔ اس برآمدے میں کرسیاں تو اِدھر اُدھر ضرور کھسکاتے رہے لیکن اُٹھے نہیں۔ کھانا بھی وہیں کھایا، اور اتفاق یہ کہ اور کوئی شخص آیا ہی نہیں جس سے صحبت اور گفتگو میں خلل پڑتا۔ حالانکہ ان کے ہاں لوگ بکثرت آتے رہتے تھے۔
	میں اس زمانے میں حُقہ بہت پیتا تھا۔حُقہ نہ ملتا تو سگرٹ شروع کر دیتا۔ علامہ مرحُوم کے حُقے میں شریک ہو جانے کو خلاف ادب سمجھتا تھا۔ اس وجہ سے میرے حاضر ہوتے ہی علی بخش کو دوسرا  حُقہ لے آنے کا حکم دے دیتے۔پھر علوم و حکم اور حقائق و معارف کا بحرِ ذخار جوش میں آ جاتا۔ عُرفی نے جہانگیر کے قصیدے میں کہا تھا۔
لبش جو نوبت خویش از نگا باز گرفت 
فتاد سامعہ در موج کوثر و تسنیم
	مجھے کم از کم سولہ سال تک اس شعر کا عملی تجربہ وسیع پیمانے پر ہوتا رہا۔ دس سال تک روزانہ اس طرح کئی کئی گھنٹے آب حیات کے جام پے درپے سامعہ کے ذریعے چڑھاتا رہا۔ جب میں مسلم ٹاؤن میں منتقل ہو گیا (۱۴دسمبر ۱۹۳۲ء)تو بُعدِ مکانی کے باعث استفادے کی پہلی حالت یقیناً قائم نہ رہی۔تاہم دوسرے تیسرے روز وقت نکال کر ضرور حاضر ہو جاتا۔ یہاں تک کہ حاضری کا یہ سلسلہ اس وقت بھی بدستور جاری رہا جب وہ جاوید منزل میں منتقل ہو گئے اور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی سے میرے لیے جاوید منزل اور بھی دور ہو گئی تھی۔ 

(۱۲)
	میں حضرت علّامہ مرحُوم کے متعلق جو کچھ مختلف اصحاب سے سُنتا رہتا تھا وہ بظاہر خصوصی عقیدت پیدا کرنے کے لیے چنداں ساز گار معلوم نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مجھ عاجز و ہیچ مدان کو بساط قُرب کے تازہ واردوں میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی تو اس وقت مذہبی نقطۂ نگاہ سے میری عام حالت وہی تھی جو مرزا غالب کے قرب میں پہنچنے کے وقت خواجہ حالی مغفور کی تھی۔خواجہ حالی یادگار غالب میں لکھتے ہیں :
’’یہ وہ زمانہ تھا کہ مذہبی خود پسندی کے نشے میں سرشار تھے۔ خدا کی تمام مخلوق میں سے صرف مسلمانوں کو اور مسلمانوں کے بہتر فرقوں میں سے اہل سُنت کو.........اور ان میں سے بھی صرف ان لوگوں کو کہ صوم و صلوٰۃ اور دیگر احکام ظاہری کے نہایت تقید کے ساتھ پابند ہوں ،نجات و مغفرت کے لائق جانتے تھے‘‘۔
	چند روز حضرت کی خدمت میں گزار کر اندازہ ہوا کہ دین حق کیا ہے اور اس کا مقصود کیا ہے۔ اب احوال ماضی پر نظرِ بازگشت ڈالتے ہوئے زندگی کے اس حصّے پر پہنچتا ہوں تو اپنی نادانی، نا فہمی اور نا کسی پر تعجب ہوتا ہے۔ علِم محدود، نظر کوتاہ،دماغ نا پختہ، جس متاع کو سرمایۂ افتخار و امتیاز سمجھ رہا تھا، وہ اس درجہ کاسہ ثابت ہوئی کہ اس کا وجود عدم برابر معلوم ہونے لگا۔ اگر میں کہوں کہ از سرِ نو حلقہ اسلام میں داخل ہوا تو اس پر حیرت نہ ہونی چاہیے۔ پہلا اسلام حقیقتاً رسمی تھا۔ حقیقی اسلام یا رُوح اسلام کی چاشنی سے اب ابتدائی لذت اندوزی کی نوبت آئی۔ سچ ہے منازل ارتقا میں انسان پر ہر قسم کے دور آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ایسا انتظام فرما دیا کہ وہی متاعِ کا سد اور مس خام اکسیر کے قریب پہنچی تو فطری صلاحیت کے مطابق کسبِ فیض کر کے ایسی ضرور بن گئی کہ کم از کم اپنے تصور کے مطابق باعث ننگ نہ رہی۔اسی وقت یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ اب تک ان کی ذاتِ گرامی کے ساتھ جو عقیدت تھی وہ ان کے شاعرانہ کمالات کے لیے محض دماغی اور ذہنی خراج تھی۔ اور اس کی حیثیت ایسی شراب کی تھی جو کیف سے یکسر تہی دامن ہو۔ اب قلب و رُوح کی شہادت نے اس عقیدت میں ایک کیفیت پیدا کر دی،جسے الفاظ کا لباس پہنانا میرے لیے ممکن نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے پہلے علمِ دین کے اثرات صرف ذہن و دماغ تک محدود تھے ،اب ان کا سر جوش قلب و روح پر طاری ہو گیا۔ اسی دور میں اندازہ ہوا کہ محض کتابیں دیکھ لینا کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ کسی صاحبِ کمال کی صحبت میں اس علم کو جاندار بنایا جائے۔
	حضرت کا سر چشمۂ فیضان ہر لحظہ جو شاں رہتا تھا اور ان کے لبوں پر جو بات آتی تھی، جواہر پاروں سے زیادہ بیش بہا تھی۔ تاہم استفادے کا معاملہ اپنی صلاحیت پر موقوف تھا:
ہر رشحہ بہ اندازہ ہر حوصلہ دارند
مے خانہء توفیق خم و جام نہ دارد
	اپنی ہمت کی کوتاہی، صلاحیت کی فرومایگی اور قوتِ جذب و ہضم کی سطحیت پر کتنی ہی حسرت اور کتنا ہی افسوس ہو۔ تاہم اس ابرِ گوہر بار کی بے نہایت بخششوں سے تنک بخشی کے شکوے کی نوبت کبھی نہ آئی۔ حضرت علامہ کی ذاتِ گرامی ہر فرد کے لیے مرزا غالب کے اس شعر کا ایک بدیع عملی پیکر تھی:
وسعت سعی کرم دیکھ کر سرَتا بسر خاک 
گزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہر بار ہنوز
	اگر پیمانہ طلب بہ قدرِ شوق و آرزو سرشار نہ ہو سکا تو اس کے لیے صرف اپنی واماندگیوں اور نا رسائیوں کو ذمّہ دار ٹھہرانا چاہیے۔ ساقی کا لطف و کرم تو اولیں لمحے سے آخر تک یکساں دل نواز اور رُوح پر ور رہا۔
ہرچہ ہست از قامتِ نا ساز و بے اندام ماست
ورنہ تشریف تو بر بالاے کس کوتاہ نیست
	معاملے کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ جب تک دولتِ مطلوب ہاتھ نہیں آتی، اس کی طلب چند لمحوں کے لیے بھی چین نہیں لینے دیتی اور جی چاہتا ہے کہ جو لمحہ بھی نصیب ہو اس دولت سے بے تامّل جیب و دامن بھر لینے چاہییں۔ جب دولت دسترس میں آ جائے تو اک گونہ غفلت کا پردہ دل پرچھا جاتا ہے۔ یا سمجھ لیجیے کہ آسودگی سی پیدا ہو جاتی ہے کہ جب چاہیں گے، اس سے خواہش کے مطابق استفادہ  کر لیں گے۔ اس کے چھن جانے کا اندیشہ دل سے حرفِ غلط کی طرح محو ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو یہ انسانی نفسیات کا ایک خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز ہاتھ آ جاتی ہے، تو اسے ہمیشہ کے لیے اپنی سمجھ لیتا ہے اور حادثات روزگار کا بھی اسے کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔ اسی غفلت کی بجلیوں نے مجھ سیاہ بخت کا خرمن آرزو بھی پھونک ڈالا۔ جب تک بساطِ قرب میں نہیں پہنچا تھا، آرزو تھی کہ یہ پوچھیں گے وہ پوچھیں گے……۔
	تو سب کچھ بھول گئے اور محض حضرت کے لطف و کرم کو مجلسِ قُرب کی غرض و غایت سمجھ لیا۔ یعنی بقولِ نظیری:
محروم فقر و توکل دراز دستی در افتد نیست
نشستہ ایم کہ خرما و رافتد زنخیل؟
	یعنی ہم خود خرما حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں نہ ہلائیں گے۔ جو کچھ نخل سے گرتا جائے گا، اسی پر قناعت کیے بیٹھے رہیں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن آرزوؤں سے بساطِ قُرب میں پہنچا، وہ بقدر ایک فی صد بھی پوری نہ ہوئیں۔ یہاں تک کہ جو کچھ ہونے والا تھا۔ اس طرح ہو گیا۔ گویا جو کچھ ہم دیکھ رہے تھے وہ حقیقت نہ تھی محض ایک خواب تھا۔
	حضرت کے آخری دنوں میں بھی بارہا حاضر ہوا اور گھنٹوں بیٹھا رہا۔ اس زمانے میں کچھ پوچھنے کی ہمّت ہی نہیں پڑتی تھی۔ بار بار یہ خیال دامن گیر ہو جاتا کہ مبادا حضرت سمجھیں ، یہ خلاف عادت سوالات اس لیے کیے جا رہے ہیں کہ میرا آخری وقت آ پہنچا ہے نیز انھیں دوسروں سے باتیں کرتے ہوئے دیکھتے تو وسوسہ بھی نہ ہوتا کہ ہم جلد اس نورانی چہرے سے محروم ہو جائیں گے۔
	انتقال سے صرف دو روز پیشتر میں اور سالک مرحُوم حاضر ہوئے۔ حضرت ایک جرمن عالم(۲)سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم معمول کے مطابق چپ چاپ ایک طرف بیٹھ گئے۔ ان کی اور جرمن عالم کی باتیں سنتے رہے۔ جرمن عالم کبھی کبھار دو چار لفظ بولتا اور حضرت بے تکلفی سے قریباً مسلسل باتیں کر رہے تھے۔ اس وقت کی گفتگو اور تندرستی کے زمانے کی گفتگو میں قطعاً کوئی فرق نہ تھا۔ ممکن ہے شفاء الملک حکیم حبیب الرحمن مرحُوم جیسا حاذق کوئی فرق بہتر طریق پر محسوس کر لیتا جنھوں نے کراچی کے ریڈیو سے مولانا سید سلیمان کی تقریر ڈھاکے میں سن کر لکھا تھا کہ آپ کی آواز ضعفِ قلب کا اعلان کر رہی ہے، اس کا کوئی تدارک کر لیجیے۔
	جرمن عالم رُخصت ہو گیا تو حضرت کے ارشادات کا جواب ہم زیادہ مختصر الفاظ میں دیتے رہے اس لیے کہ احساس یہ تھا حضرت کسی قدر تھک گئے ہیں۔چنانچہ ہمارے بیٹھے بیٹھے علی بخش پیغام لایا ’’ماسٹر صاحب ‘‘ (ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی کو ان کی ابتدائی مشغولیت کی بنا پر حضرت علامہ ماسٹر جی ہی کہتے تھے)اپنے چند دوستوں کے ساتھ سلام کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ علی بخش کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے کاغذ بھی تھے، جو ڈاکٹر عبداللہ چغتائی نے اسے دیے تھے۔ دراصل ڈاکٹر عبد اللہ ولایت میں رہ کر تاج محل پر اپنی کتاب مرتب کر کے لائے تھے اور نقشے بھی اسی کتاب کے تھے۔ تھکاوٹ ہی کے باعث حضرت نے فرمایا کہ انھیں سلام پہنچائیے۔ بڑی خوشی ہوئی کہ وہ آ گئے، پھر کسی وقت ان سے باتیں ہوں گی۔ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ وہ اس وقت کسی مزید ملاقات کی زحمت برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے بھی اجازت چاہی یہ سب کچھ دیکھ چکے تھے لیکن دل اس حالت میں یہ یقین کر لینے پر آمادہ نہ تھا کہ مفارقت کی ساعت اتنی قریب آ گئی ہے۔ 
	مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ وہ رات گزری، دن گزرا۔ دوسری رات کا بیشتر حصہ انتہائی تکلیف میں گزار کر ہماری امیدوں ،آرزوؤں اور مسرتوں کا آفتاب جہانتاب طلوع آفتاب کے قریب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
کل من علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربکّ ذوالجلال والاکرام
	شفاء الملک حکیم مُحمدّ حسن قرشی آخری دور میں ان کے معالج اور طبیّ مشیر رہے۔ وہ فرماتے تھے کہ قلب ضعیف ہو گیا ہے، نبض دقیق و ضعیف ہے، دل کسی قدر پھیل گیا ہے اور جگر بھی بڑھ گیا ہے۔ پاؤں پر ورم آگیا تھا۔ بائیں شانے پر درد ہوتا تھا۔ آخری روز ان کے تھوک میں خون آنے لگا تھا جو اس امر کی علامت تھا کہ دل کی طرف جانے والی رگ میں جو رسولی ہے،وہ پھٹ گئی ہے۔یہ علامت بھی خاصی خطرناک تھی۔ 
	وفات سے خاصی دیر پہلے انھوں نے خود بھی دل کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ آپ اس کی خوب دیکھ بھال کریں۔ اور رضی دانش کا یہ شعر بہ تصرف قلیل پڑھا تھا:
تہنیت گوئید مستاں راکہ سنگ محتسب
بر ’’دِل ‘‘ما آ مد و ایں آفت از مینا گذشت
	رضی دانش نے غالباً دوسرے مصرعے میں دل کی جگہ ’’سر‘‘ لکھا ہے لیکن حضرت نے شعر یونہی پڑھا اور میرے نزدیک اس تصرف سے شعر کا رُتبہ بدر جہا بلند تر ہو گیا۔
	آخری بیماری کے ابتدائی آثار۱۹۳۳ء ہی میں شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ اس وقت کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ رفتہ رفتہ پریشان کن صورت اختیار کر لے گی۔ چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم کے ساتھ اس موضوع پر کئی مرتبہ باتیں ہوئیں وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے کنبے کے افراد کی عمریں خاصی لمبی ہوتی ہیں حضرت کے والد ماجد نے۹۵ سال کی عمر پائی ان کی والدہ ماجدہ کی وفات۷۸ سال کی عمر میں ہوئی۔ برادر اکبر ان سے پندرہ سال بڑے ہیں اور بفضل اللہ ان کی صحت اچھی ہے لیکن وہ بھائی سے بھی دو سال پیشتر رخصت ہو گئے اور خاندان کی یہ رسم قائم رکھی کہ چھوٹا بھائی بڑے سے پیشتر وفات پاتا ہے۔ شیخ عطا مُحمدّ مرحُوم (حضرت کے بڑے بھائی ) وفات کی خبر پاکر سیالکوٹ سے آئے تھے تو آہ بھر کر کہا تھا کہ مجھے یقین سا تھا، اس مرتبہ خاندان کی یہ رسم بدل جائے گی، افسوس کہ نہ بدلی۔
	میں ۲۱کی صبح کو معمول کے مطابق بہت سویرے سیر کو نکل گیا تھا۔ واپس آ کر نہا رہا تھا کہ چودھری مُحمدّ حسین پھاٹک میں داخل ہوئے۔ میں نے سمجھ لیا کہ کوئی بہت ہی ضروری کام معلوم ہوتا ہے۔ ذرا قریب آئے تو فرمایا: دیکھو بھئی، جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ اب جلد تیار ہو جاؤ۔ یہ الفاظ کان میں پہنچے اور جسم سَر سے پاؤں تک سن ہو گیا۔ دو چار منٹ میں کپڑے پہنے۔ دل و دماغ کی عجیب کیفیت تھی۔ بات منہ سے نہیں نکلتی تھی۔ اسی حالت میں سالک مرحُوم، چودھری اور میں جاوید منزل پہنچے۔ دن کا بیشتر حصہ حضرت کے عزیزوں اور دوستوں میں گزر گیا جو جمع تھے۔ ایک مرتبہ جسد مبارک کو ذرا سہارا دینے کی ضرورت پڑی۔ میں نے اٹھایا۔ بے جان جسم کا بوجھ تو بہت زیادہ تھا لیکن پورا جسم ریشم کی طرح ملائم تھا۔ شاہی مسجد کے بیرونی احاطے میں مرقد کے لیے جگہ تجویز ہوئی۔ عصر کے وقت میت وہاں پہنچی۔ ہم تو بہت پہلے مرقد پر پہنچ گئے تھے۔ میت کے ساتھ قدم قدم چل کر بازاروں سے گزرتے ہوئے پہنچنا ممکن نہ تھا۔مغرب کے قریب میت پہنچی، اسے قبر میں اتارا، دفن کیا اور واپس ہوئے۔ بعد میں سُنا کہ اہل شہر نے نیز ان بے شمار افراد نے جو آس پاس کے شہروں مثلاً امرتسر، سیالکوٹ، وزیر آباد، گوجرانوالہ وغیرہ سے آ گئے تھے، اصرار کیا کہ انھیں بھی میت کو کندھا دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس غرض سے جنازے کو بانس لگائے گئے تاکہ بہت سے لوگ کم از کم ایک بار ضرور کندھا دینے کی سعادت حاصل کر سکیں۔ یہ اس محبوب وجود کی ہمہ گیر محبوبیت کا ایک کرشمہ تھا، جس نے پوری زندگی خاموشی اور گوشہ نشینی میں گزاری۔ لیکن اس بیش بہا زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں اس نے اسلام مسلمانوں اور انسانیت کی بہبود و فلاح کے سوا کبھی کچھ سوچا ہویا اس کے سوا  زبان مبارک پر آیا ہو۔

اقبالیات،  مرتبہ:امجد سیلم علوی،  لاہور۱۹۸۸ء
٭٭٭
حواشی 
۱۔ اس نوٹ کے اندراجات مصنف کے مجموعہ مضامین  اقبالیات (مرتّبہ:امجد سلیم علوی)میں شامل ہیں۔(مرتبین)
۲۔بیرن فان فلیٹ۔ جرمنی میں حضرت علامہ مرحوم کے ہم جماعت۔
٭٭٭




اقبال کی لفظی تصویر

پروفیسر حمید احمد خاں 

	ہر بڑے آدمی کا نام ایک طلسم ہے جسے زبان پر لاتے ہی نظر کے سامنے ایک نیا جہان اُبھر آتا ہے۔
	محمد اقبال !یہ نام پچھلی صدی تک کسی خاص مفہوم سے آشنا نہ تھا۔ ہزاروں دوسرے ناموں کی طرح یہ بھی ایک نام تھا، غیر متحرک اور منجمد ، جیسے زید اور بکر اور عمرو!آخر کار صدیوں کی بے سر و سامانی کے بعد خود ہمارے عہد میں اِس نام نے حیاتِ جاوید کا خلعت پہنا۔ اِس کو زندہ کرنے کے لیے ایک مسیح آیا اور یہ نام علامت قرار پایا فلسفہ زندگی کی ایک ہمہ گیر حرکت اور وسعت اور اضطراب کی۔ آنے والی نسلیں اِس نام کے پیچھے صرف اِسی حرکت اور وسعت اور اضطراب کی جھپٹ دیکھیں گی۔
	لیکن موجودہ نسل یہ نام سُنتی ہے تو زندگی کے اِس طوفان انگیز تخیل کے پیچھے اُسے ایک پر سکون اور عزلت پسند انسانی پیکر کی تصویر نظر آتی ہے۔ محمد اقبال !  پیغمبرِ اُمید، پیغمبرِ حیات!  بے شک !  مگر اِس سے پہلے ہماری طرح ہنسنے بولنے والا، کھانے پینے والا ایک انسان !  جب تک موجودہ نسل زندہ ہے یہ متحرک شبیہ اس کے تصور میں زندہ رہے گی۔ لیکن اس نسل کے گزر جانے کے ساتھ عالمِ خیال کی یہ تصویر بھی گزر جائے گی۔
	اقبال کے سراپا کی لفظی تصویر کھینچنا آسان نہیں۔ اگر انھیں کشیدہ قامت کہا جائے تو یہ کچھ مبالغہ سا معلوم ہوتا ہے، مگر اِس کے ساتھ ہی انھیں محض میانہ قد کہنا صریحاً کوتاہی ہو گی۔ یہی حال اُن کے ڈیل ڈول کا تھا۔ اُن کا جسم بھرا بھرا تھا مگر فربہی کے شبہے سے پاک۔ چنانچہ جب گرمی کے موسم میں باتیں کرتے کرتے پنڈلی پر سے کپڑا ہٹا دیتے تھے تو اہلِ مجلس کو تعجب سا ہوتا تھا کہ اُن کی پنڈلیوں پر کچھ زائد گوشت کیوں نظر نہیں آتا۔یہ اس لیے کہ اُن کے بھرے ہوئے پُر رُعب چہرے کا لحاظ کر کے دیکھنے والا قدرتی طور پر زیادہ پُر گوشت اور بھری ہوئی پنڈلیوں کی توقع رکھتا تھا۔ اُن کا رنگ گورا تھا جس میں سرخی کی جھلک آخری دنوں تک قائم رہی۔ مرض کی حالت سے قطع نظر، اُن کے چہرے کی سرخی، روشنی اور دھوپ میں خاص طور پر نمایاں ہو جاتی تھی۔ یہ گویا اُن کے اُس کشمیری خون کا اثر تھا جو اُن کے شفاف خد و خال سے چھپائے نہیں چھپتا تھا۔
	اقبال اپنے سر کے بال سنوارنے میں صرف یہ کرتے تھے کہ انھیں کنگھی سے سلجھا کر پیچھے ہٹا دیتے تھے (کم از کم میں نے اُن کے بالوں میں کبھی مانگ نہیں دیکھی)۔ باتیں کرتے ہوئے کبھی کبھی اپنا ہاتھ اسی انداز سے پیچھے کی طرف بالوں پر پھیر لیتے تھے۔ پیشانی اگرچہ کشادہ تھی مگر جہاں سر کے بال شروع ہوتے تھے وہاں کچھ تنگ تنگ بلکہ ایک گوشہ سا بناتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ ابرو بہت گھنے تھے اور شاید اس لیے کچھ زیادہ گھنے معلوم ہوتے تھے کہ اُن کے نیچے آنکھیں گہری بلکہ ذرا اندر کو دبی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ اُن کی آنکھیں بڑی نہ تھیں مگر گہری اور ذہین آنکھیں ضرور تھیں جن کے اوپر گھنے ابروؤں کے چھجے جھکے ہوئے تھے۔ گفتگو کرتے وقت اُن کی صرف دائیں آنکھ پوری کھلی رہتی تھی۔ دوسری آنکھ نا دانستہ طور پر ذرا بند کرتے تھے۔ دراصل اُن کی یہ آنکھ بینائی سے محروم تھی۔
	اقبال ڈاڑھی عمر بھر منڈاتے رہے لیکن مونچھیں رکھتے تھے۔ مونچھیں رکھنے کے بھی کئی فیشن ہیں۔ ہماری سوسائٹی میں بعض حضرات صرف اپنی ’’زور دار‘‘ مونچھوں کے دم خم سے پہچانے جاتے ہیں۔ اقبال کا تعلق اِس گروہ سے نہیں تھا۔ اُن کی مونچھیں ذرا چھدری تھیں اور خاموش، مگر اس خاموشی کے باوجود جان دار معلوم ہوتی تھیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اقبال کی مونچھوں میں اگر قیصر ولیم کی مونچھوں کی اکڑ نہیں تھی تو مسٹر چیمبر لین کی مونچھوں کا عجز و انکسار بھی نہ تھا۔
	یہ ایک دلچسپ سوال ہے کہ جو لوگ اقبال کے پاس بیٹھتے تھے، اُن پر اقبال کی شخصیت کا مجموعی طور پر کیا اثر ہوتا تھا۔ ہم اپنی جان پہچان کے لوگوں میں سے ہر شخص کے ساتھ بالعموم ایک نہ ایک خصوصیت منسوب کر دیتے ہیں جو ہمارے نزدیک اس کی شخصیت کی امتیازی نشانی بن جاتی ہے۔ اگر ایک شخص بالطبع خاموش ہے تو دوسرا بہت باتونی ہے، ایک کا کام دن رات ہنسی دل لگی ہے، دوسرا ذرا سی بات پر مشتمل ہو کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ غرض کوئی نہ کوئی نمایاں صفت ایسی ہوتی ہے جسے ہم اُس کی شخصیت کا جوہر قرار دیتے ہیں۔ اقبال کو میں نے بار ہا ہنستے دیکھا ہے اور کبھی کبھی غصے کی حالت میں بھی۔ لیکن اُن کی شخصیت کا محور نہ ہنسی تھی اور نہ غصہ۔ اصل میں انسان پر مختلف اوقات میں بہت سی ذہنی اور جسمانی کیفیتیں طاری ہوتی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اقبال کی زندگی میں غور و فکر کو جو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ وہ کسی اور شخصیت کو کبھی حاصل نہ ہوئی۔ خاموشی اور گفتگو، سکون اور اشتعال، ہر رنگ میں اُن کی اصل حیثیت ایک مفکر کی تھی۔ یہ نا ممکن تھا کہ کوئی شخص تھوڑی دیر اُن کے پاس بیٹھے اور یہ محسوس نہ کرے کہ اقبال کی پوری ہستی کی بنیاد غور و فکر پر قائم ہے۔ گفتگو میں ذرا وقفہ آیا اور اقبال کا ذہن ایک جست میں کائنات کی حدود کو عبور کر کے وہاں جا پہنچا جہاں ہمارا تمام شور و شغب قدرت کے سرمدی سکوت میں گم ہو جاتا ہے۔ اُس وقت دیکھنے والے کو صرف ایک نظر بتا دیتی کہ یہ اپنے آپ میں سمٹا ہوا انسان سیاسی پلیٹ فارم کی تقریرِ شرر بار اور منبر کے وعظِ ستم اندوز کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ اُس وقت اُس کا پیکرِ خاک اِسی عالمِ رنگ و بو میں موجود ہوتا لیکن اُس کی روح ستاروں کے نور سے الجھتی ہوئی، پاتال کے اندھیرے سے ٹکراتی ہوئی، کسی نئی دنیا میں جا نکلتی۔
	مگر اقبال کی اِس حیاتِ فکری کا ایک پہلو اور بھی تھا ؛اپنے ذہن کی اِسی کیفیت کی وجہ سے اقبال عام انسانی تعلقات سے بے نیاز تھے۔اپنے ملنے والوں سے اُن کا تعلق معاشرتی تعلق نہیں تھا، فلسفیانہ تھا۔میں برسوں اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا لیکن مجھے پورے عجز کے ساتھ اعتراف ہے کہ انھیں مجھ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا،میں تو خیر ایک عقیدت مند کی حیثیت سے اُن کے پاس جاتا تھا،  مگر اُن کے مقربین بھی اُن کے دلی تعلق سے غالباً محروم تھے۔ جب اقبال خلوص اور گرم جوشی سے بات کرتے تھے تو اِس لیے نہیں کہ اُن کا مخاطب اُن کے اِس اخلاص کا مستحق ہوتا، بلکہ اِس لیے کہ وہ تمام جوش اور خلوص انھیں اپنے اُس خیال کے متعلق محسوس ہوتا تھا جس کے اظہار سے انھیں اُس وقت غرض ہوتی۔ جن لوگوں سے اقبال بے تکلف تھے وہ لوگ بھی، روحانی طور پر، اُن کے لیے اشخاص نہیں تھے بلکہ محض چند ’’کھونٹیاں ‘‘ جن پر مختلف قسم کے خیالات بالکل مناسب طور پر لٹکائے جا سکتے تھے۔ اقبال اِس معاملے میں ہمیشہ تنہا اور آزاد رہے۔
	روح کی اِس تنہائی کے باوجود اقبال کو ایک مختصر حلقے کی گفتگو اور وہاں اپنے خیالات کے اظہار میں خاص لطف آتا تھا۔ وہ خود بھی خاموش رہ کر دوسروں کی بات سن سکتے تھے، اور انھیں باتونی کہنا تو کسی طرح بھی درست نہیں ہو گا لیکن مختلف سوالات کے جواب میں اپنی تشریحات پیش کرتے ہوئے جو لذت انھیں ملتی تھی وہ ہر شخص پر ظاہر تھی۔ دراصل اُن کی فطرت مشرقی وضع کے پرانے اُستاد کی فطرت تھی جس کا محبوب تریں مشغلہ اپنے شاگردوں کے درمیان بیٹھ کر بات بات میں نکتے پیدا کرنا تھا۔
	آج وہ شمع خاموش ہے اور وہ محفل بھی باقی نہیں رہی، لیکن ہمارا تخیل اِس مٹتی ہوئی تصویر کو ایک بار پھر زندہ کر سکتا ہے۔ آئیے پھر ایک مرتبہ ڈاکٹر اقبال سے ملنے چلیں۔ میکلوڈ روڈ سے مڑتے ہی ڈاکٹر صاحب اپنی کوٹھی کے برآمدے میں آرام کرسی پر بے تکلفی سے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اگر سردی کا موسم ہے تو ڈاکٹر صاحب قمیص اور شلوار میں ملبوس ایک بادامی دھُسا اوڑھے ہوئے ہیں۔ اگر گرمی ہے تو قمیص کے ساتھ ایک تہبند ہے اور قمیص کے بجائے بھی کئی مرتبہ صرف بنیان ہی ہے۔ آرام کرسی پر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھے ہیں اور کبھی کبھی اپنے پاؤں کے بے حد سفید تلوے کو ہاتھ سے سہلا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی آرام کرسی کے برابر حقہ پڑا ہے۔ چلم بجھ جاتی ہے تو ایک ایسے انداز میں ، جو کبھی نہیں بدلا، آواز دیتے ہیں :’’علی بخش ! ‘‘ اتنے میں ہم برآمدے کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہیں اور انھیں سلام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب تھوڑی دیر کے لیے اِدھر توجہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں :’’آؤ جی ...صاحب ‘‘۔ جس شخص کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اُس کا خیر مقدم اِسی مختصر جملے سے کرتے ہیں ، جس کو نہیں پہچانتے اُس کے متعلق کبھی نہیں پوچھتے کہ یہ کون ہے۔ ناواقفوں کے لیے یہی کافی ہے کہ سلام کریں اور بیٹھ جائیں۔ اِس کے بعد تکلف برطرف، وہ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں پوری آزادی سے شامل ہو جاتے ہیں۔
	اب باتیں شروع ہوتی ہیں اور علم و حکمت کا چشمہ اُبلنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے دماغ سے ہر رنگ کی موج اُٹھتی ہے اور اجنبی چہروں کا سامنا بھی ان کی گفتگو کی بے باک روانی کو تکلّف کی کسی زنجیر کا پابند نہیں کر سکتا۔ اُن کی تشریحات اُستادانہ ہیں۔ وہ سوالات کا جواب دینے سے تھکتے نہیں بلکہ ایک ایک نکتہ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ کچھ سمجھاتے ہیں تو ہاتھ کی صرف ایک انگلی ہی نہیں اُٹھاتے بلکہ داہنے ہاتھ کا پورا پنجہ حرکت میں آتا ہے۔ گفتگو ہمیشہ پنجابی میں ہوتی ہے۔ کبھی کسی علمی نکتے کے بیان میں انگریزی کے دو ایک جملے بھی بے تکلف استعمال کر جاتے ہیں۔ اُردو میں صرف اُس وقت بات کرتے ہیں جب بیرونِ پنجاب سے کوئی صاحب شریکِ مجلس ہوں۔ مذہب اور سیاست دو ایسے مضمون ہیں جن سے بحث کرتے ہوئے کبھی کبھی اُن کا لہجہ پر جوش ہو جاتا ہے۔ جوں ہی کوئی ایسا موقع آتا ہے، ڈاکٹر صاحب کرسی پر ذرا سیدھے ہو بیٹھتے ہیں۔ یہ میکلوڈ روڈ کے دنوں کی کیفیت ہے۔ میو روڈ کی کوٹھی کے زمانے میں امراض نے آ گھیرا ہے۔ بستر پر لیٹے رہتے ہیں اور ملاقاتیوں کو خواب گاہ ہی میں بلا لیتے ہیں۔ اِسی حالت میں گھنٹوں تک پر لطف باتیں ہوتی ہیں۔ لیکن جوں ہی گفتگو میں ذرا گرمی پیدا ہوئی، ڈاکٹر صاحب ایک دم اٹھ کر بستر پر بیٹھ گئے اور پھر اُس وقت تک نہیں لیٹے جب تک وہ بات ختم نہیں ہو گئی۔
	اب ہمیں اُن کے پاس گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا ہے۔ ہمارے سوالات ختم ہو چکے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کا ذہن بھی ایک اور پرواز کے لیے ذرا دم لیتا ہے۔ دونوں طرف خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب ایک اور ہی عالم میں ہیں ؛ وہ کمرے میں موجود ہیں مگر پھر بھی موجود نہیں ہیں۔ اُن کی ظاہر کی آنکھیں کچھ بند کچھ کھلی ہیں لیکن باطن کی آنکھ کسی اور سمت میں سراپا نگاہ ہو رہی ہے۔ اِسی کیفیت میں کچھ وقت گزر جاتا ہے۔ اُن کے خیالات کی موجیں انھیں بہاتی ہوئی کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ آخر کار حواسِ ظاہری کا دیدبان دفعۃً واپسی کا اشارہ کرتا ہے اور اُن کا سفینۂ خیال گہرے سمندروں کے سفر کے بعد پھر زندگی کے پرانے ساحلوں کی طرف رخ پھیرتا ہے۔ اُس وقت وہ اپنا سر ذرا اوپر کو اٹھاتے ہیں اور اُن کے منہ سے کبھی ’’یا اللہ ! ‘‘اور کبھی فقط ’’ہوں !‘‘کی ہلکی سی آواز نکلتی ہے۔ یہ آواز اس بات کی علامت ہے کہ جہاز ساحل پر آ پہنچا اور اُس کے لنگر کا قلابہ پھر ایک بار عالمِ اسباب کی مضبوط زمین میں پیوست ہو گیا۔ اِس قسم کے وقفوں کے بعد بالعموم اُن کی یہی لمبی اور پر سکون ’’ہوں !‘‘ ان کے ذہن کی دور و دراز اُڑان سے اُن کی بازگشت کی نقیب ہوتی ہے پھر اُسی پہلے انہماک سے باتیں شروع ہو جاتی ہیں تا آنکہ سہ پہر کے سائے ڈھل کر شام میں غائب ہونے لگتے ہیں اور سورج غروب ہو جاتا ہے۔ آخر ہم اپنی کرسیوں پر ایک بے معنی سی جنبش کرتے ہیں اور پھر اُٹھ کر اجازت چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں ’’اچھا چلتے ہیں آپ !‘‘ اور پھر ہمارے سلام کا جواب ہاتھ اُٹھا کر دیتے ہیں۔ یہ اُن کا ہمیشہ کا معمول تھا۔ 
	ڈاکٹر صاحب نے جب رحلت کی تو اہلِ لاہور کو ایک ایسا ’’شخصی ‘‘ نقصان پہنچا جس کی تلافی خود ڈاکٹر صاحب کا کلام بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اُن کے انتقال کے موقع پر میں اتفاق سے لاہور میں موجود نہیں تھا۔ میرے ایک دوست نے، جن کے ساتھ مل کر میں بار ہا ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایک خط لکھا جس میں لاہور کی زبان بن کر انھوں نے وہ جذبات قلم بند کر دیے جو بہت سے دلوں کو بے تاب کر رہے تھے مگر لب تک نہیں آ سکے تھے۔ انھوں نے لکھا:
ڈاکٹر اقبال چل بسے۔ افسوس کہ ہمیں آخری دنوں میں اُن کا نیاز حاصل نہ ہو سکا۔ یہ حسرت ہمیشہ میرے دل میں رہے گی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اقبال مرا نہیں کیونکہ اُس کا کلام اُسے زندۂ جاوید بنانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن میں اِس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقبال کے کلام میں اُس کی مکمل شخصیت دکھائی نہیں دیتی۔ اُس کی نظم تو انسانی زندگی کی اعلیٰ ترین اقدار سے موزوں (یعنی پر معنی اور متین) زبان میں بحث کرتی ہے لیکن خود اقبال کی شخصیت کا ایک اور نہایت دل چسپ پہلو بھی تھا؛ یعنی اس کی خوش کلامی جو بعض دفعہ بذلہ سنجی سے جا ملتی تھی۔ اُس کی نظم میں تو اُس کا تخیل عرش بریں کو اپنی بلند پروازی کی پہلی سیڑھی سمجھتا ہے لیکن کیا ہم نے اس کو اپنی زندگی میں بے علموں اور وہم پرستوں سے انھی کی سطح پر نہایت انہماک سے بحثیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ اُس کے کلام سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ’’دانائے راز‘‘ سے ہم سخن ہونا مجھ جیسے ہیچ مداں کے بس کی بات نہ تھی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں نے گھنٹوں اُس کی صحبت میں بصیرت افروز باتیں سنتے ہوئے گذار دیے مگر  اُس اللہ کے بندے نے کبھی ایک دفعہ بھی اشارے یا کنائے سے یہ جتانے کی کوشش نہ کی کہ بھئی تمھاری تنگ نظری وبال جان ہو رہی ہے، اب ختم بھی کرو۔ الغرض وہ اقبال جو لوگوں سے گویا پکار پکار کر کہتا تھا کہ آؤ میرے علم و فضل کے خزانے کھلے پڑے ہیں ، جھولیاں بھر بھر کے لے جاؤ، مرگیا ہے۔ اقبال کا کلام برحق، لیکن ہم اپنے بظاہر لاینحل مسئلوں کو اب کس کے پاس لے جائیں گے کہ وہ ایک جنبش لب سے مشکل سے مشکل گتھی کو سلجھا دے۔ یہ اقبال مر گیا ہے۔ افسوس!

اقبال کی شخصیت اور شاعری۔ مجلس ترقی ادب، لاہور۱۹۷۳ء
٭٭٭




علامہ اقبال :زندگی کا ایک دن

(علی بخش سے انٹرویو  ــــــ گفتگو:ممتاز حسن )
ترجمہ :محمد سہیل عمر


	جناب ممتاز حسن نے ۲۲ ستمبر ۱۹۵۷ء کو علامہ اقبال کے دیرینہ خادم علی بخش سے ایک انٹرویو کیا تھا، جسے انھوں نے مرتب کر کے انگریزی میں شائع کیا، ذیل میں اس کا اُردو ترجمہ دیا جا رہا ہے۔
س)	اقبال صبح کو عموماً کب بیدار ہوتے تھے؟
ج)	بہت سویرے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ بہت کم خواب تھے۔ نماز فجر کی بہت پابندی کرتے اور نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔
س)	وہ قرآن کس انداز میں پڑھتے تھے ؟
ج)	 جب تک ان کی آواز بیماری سے متاثر نہیں ہوئی تھی  وہ قرآن کی تلاوت بلند آہنگ میں خوش الحانی سے کرتے تھے۔ آواز بیٹھ گئی تو بھی قرآن پڑھتے ضرور تھے مگر بلند آواز سے نہیں 
س)	نماز اور تلاوت سے فارغ ہو کر کیا کرتے تھے؟
ج)	آرام کرسی  پر دراز ہو جاتے۔ میں حقہ تیار کر کے لے آتا۔ حقے سے شغل کرتے ہوئے اس روز کے عدالتی کیسوں کے خلاصوں پر بھی نظر ڈالتے رہتے۔اس دوران میں گاہ گاہ شعر کی آمد بھی ہونے لگتی۔
س)	آپ کیسے پہچانتے تھے کہ علامہ پر شعر  گوئی کی کیفیت طاری ہو رہی ہے؟
ج)	وہ مجھے پکارتے یا تالی بجاتے اور کہتے ’’میری بیاض اور قلمدان لاؤ‘‘ میں یہ چیزیں لے آتا تو وہ اشعار لکھ لیتے۔ اطمینان نہ ہوتا تو بہت بے چین ہو جاتے۔ شعر گوئی کے دوران میں اکثر قرآن مجید لانے کو کہتے۔شعر گوئی کے علاوہ بھی دن میں کئی بار مجھے بلا کر قرآن مجید لانے کی   ہدایت کرتے رہتے۔
س)	عدالت جانے کا وقت عموماً کیا ہوتا تھا؟
ج)	عدالتی اوقات سے دس پندرہ منٹ قبل روانہ ہوتے تھے پہلے بگھی میں ، اور آخری زمانے میں گاڑی خریدلی تھی۔
س)	وکالت کا کیا عالم تھا، بہت کام کرتے یا تھوڑا؟
ج)	وکالت میں ایک حد سے زیادہ اپنے آپ کو مصروف نہیں ہونے دیتے تھے۔ عام طور پر یوں تھا کہ ۵۰۰روپے کے برابر فیس کے کیس آ جاتے تو مزید کیس نہیں لیتے تھے۔ دیگر سائلین کو  اگلے ماہ آنے کا کہہ دیتے۔ اگر مہینے کے پہلے تین چار دنوں میں چار پانچ سو روپے کا کام مل جاتا تو باقی سارا مہینہ مزید کوئی کیس نہیں لیتے تھے۔
س)	یہ پانچ سو روپے کی حد کیوں لگائی گئی تھی؟
ج)	ان کا تخمینہ تھا کہ انہیں ماہانہ اخراجات کے لیے اس سے زیادہ پیسوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس زمانے میں اس رقم میں گھر کا کرایہ، نوکروں کی تنخواہیں منشی کی تنخواہ اور گھر کے عمومی اخراجات سب شامل تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے، جب علامہ صاحب انار کلی اور میکلوڈ روڈ پر رہا کرتے تھے۔
س)	علامہ صاحب نے کتنے عرصے تک وکالت کی؟
ج)	جب تک انہیں گلے کی بیماری لاحق نہیں ہوئی تھی ،وکالت کرتے رہے۔ یہ اندازاً ۳۳۔۱۹۳۲ء کا زمانہ تھا۔
س)	گلے کی بیماری کیسے شروع ہوئی تھی؟
ج)	وہ عید کی نماز پڑھنے گئے۔ سردی کا موسم تھا گھر واپس آ کر سویوں پر دہی ڈال کر کھایا جو انہیں بہت مرغوب تھا۔ اگلے ہی روز گلے کی تکلیف شروع ہو گئی۔ اس رات کے دو اڑھائی بجے  تک کھانستے رہے۔ اگلے دن ان کی آواز بیٹھ گئی اور وفات تک آواز کی یہی کیفیت رہی۔
س)	اب ذرا ان کے روز مرہ کے معمول پر دوبارہ بات ہو جائے۔ عدالت سے لوٹ کر آتے تو کیا کیا کرتے تھے؟ 
ج)	سب سے پہلے تو مجھے کہتے کہ میرا لباس تبدیل کرواؤ، رسمی دفتری لباس انہیں کبھی پسند نہ تھا۔ عدالت جانے کے لیے مجبوراً پہن لیتے اور گھر آتے ہی سب سے پہلے اس سے چھٹکارا حاصل کرتے۔
س)	لباس بدل کر کے کیا کیا کرتے تھے؟
ج)	اگر شعر کہنا ہوتے تو اس کے لیے حسب معمول بیاض، قلمدان اور قرآن مجید لانے کو کہتے ؟
س)	کیا وہ اپنی وکالت پر سنجیدگی سے توجہ دیتے تھے؟
ج)	اگر اگلے دن عدالت میں کوئی مقدمہ ہوتا تو اس مقدمے کی مسل دیکھ لیتے تھے۔ورنہ  مقدمے کے کام میں اپنے آپ کو نہ الجھاتے۔
س)	کیا وہ گھر پر عدالت کا کام کیا کرتے تھے؟
ج)	اگلے روز کے مقدمات سے متعلق کاغذات پر نظر ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں۔
س)	سہ پہر میں سونے کی عادت تھی۔
ج)	معمول تو نہیں تھا، کبھی سو بھی جاتے۔
س)	ان کی نیند کیسی تھی؟
ج)	نیند کچی تھی، ذرا سی آواز سے چونک جاتے تھے۔ 
س)	جسمانی تکلیف اور بے آرامی برداشت کرنے میں کیسے تھے؟
ج)	بہت نرم دل تھے۔ تکلیف کی برداشت بہت کم تھی۔ کسی اور کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔خون بہتا دیکھنے کی بالکل تاب نہ تھی۔ ایک مرتبہ پاؤں پر بھٹر نے کاٹ لیا، اس سے وہ ایسے لاچار ہوئے کہ حرکت کرنے کے لیے بھی میرے سہارے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ ایک مرتبہ جاوید کو بچپن میں ابرو کے قریب چوٹ لگ گئی جس سے تھوڑا سا خون بہ نکلا  خون دیکھ کر علامہ کو غش آگیا۔
س)	کھانا کس وقت کھاتے تھے؟
ج)	بارہ ایک بجے کے درمیان ایک ہی مرتبہ کھانا کھاتے۔ رات کے کھانے کا معمول نہ تھا۔
س)	کھانے میں کیا پسند تھا؟
ج)	پلاؤ، ماش کی دال، قیمہ بھرے کریلے، اور خشکہ 
س)	کھانے پر کئی طرح کی غذائیں ہوتی تھیں کیا؟
ج)	جی نہیں ایک وقت میں زیادہ کھاتے نہ تھے، خوراک خاصی کم تھی۔
س)	کسی خاص کھانے کو ناپسند کرتے تھے؟
ج)	جی ہاں۔ سری پائے اور ٹنڈے گوشت۔
س)	ورزش کیا کرتے تھے؟
ج)	ابتدا میں تو ورزش کرتے تھے۔ مگدر گھماتے اور ڈنڑ پیلتے تھے۔ انار کلی کے قیام تک یہ معمول رہا۔اِس کے بعد ورزش چھوٹ گئی۔
س)	کھیلوں سے دلچسپی تھی؟
ج)	کشتیوں کے دنگل شوق سے دیکھتے تھے۔
س)	دیگر دلچسپیاں کیا تھیں ؟
ج)	شروع کے دنوں میں کبوتر پالنے کا شوق رہا، کبھی کبھار تاش بھی کھیل لیتے۔
س)	شام کو کبھی کہیں باہر جایا کرتے تھے؟
ج)	شام کو کہیں باہر نکلنا ان کے لیے تقریباً نا ممکن تھا۔ جس زمانے میں قیام بھاٹی دروازے کے اندر تھا تو بسا اوقات حکیم شہباز الدین کے گھر کے باہر کے چبوترے تک ٹہل لیتے تھے۔ کبھی کبھار سر ذوالفقار علی اپنی موٹر لیکر آ جاتے اور انہیں باہر گھمانے لے جاتے۔
س)	رات کو سوتے کس وقت تھے؟ 
ج)	شام کو احباب کی محفل جمتی تھی۔ چودھری محمد حسین ہمیشہ سب سے آخر میں رخصت ہوتے تھے۔ مجلس عموماً دس بجے برخاست ہو جاتی اور اس کے بعد علامہ چودھری محمد حسین کے ساتھ بیٹھ کر انھیں اس روز کے تازہ اشعار سنایا کرتے تھے۔
س)	چودھری صاحب عموماً کتنی دیر ٹھہرتے تھے؟
ج)	رات کے بارہ ایک بجے تک، اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سونے کے لیے لیٹ جاتے۔ لیکن بمشکل دو تین گھنٹے سو کر تہجد کے لیے بیدار ہو جاتے۔
س)	طیش میں آتے تھے یا نہیں ؟
ج)	بہت نرم دل اور طبیعت کے مہربان تھے شاذ و نادر ہی غصے میں آتے۔ لیکن اگر اشتعال میں آ جاتے تو اپنے اوپر قابو پانا مشکل ہو جاتا۔ مجھے ان کی نرم دلی کا ایک واقعہ یاد ہے۔ ایک مرتبہ گھر میں ایک چور گھس آیا۔ہم میں سے کسی نے پکڑ کر اس کی پٹائی کر دی۔ علامہ اقبال  نے اس کا ہاتھ روک دیا اور کہا کہ چور کو مت پیٹو۔ یہی نہیں بلکہ اسے کھانا کھلایا اور آزاد کر دیا۔
س)	تہجد پابندی سے پڑھتے تھے کیا؟
ج)	جی ہاں پابندی سے پڑھتے تھے۔
س)	تہجد کے بعد کیا معمول تھا؟
ج)	اس کے بعد ذار دیر کو لیٹ رہتے،تاوقتیکہ فجر کا وقت آن لیتا اور وہ نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔
س)	کیا شعر کی آمد رات کو بھی ہوتی تھی؟
ج)	جی ہاں۔ راتوں کو بھی شعر گوئی کرتے۔عموماً یہ کیفیت ان پر رات کے دو اور اڑھائی کے درمیان طاری ہوتی تھی۔جب بھی ایسا ہوتا مجھے آواز دے کر بیاض اور قلمدان طلب کرتے۔

اقبالیات ،لاہور، جولائی تا ستمبر ۲۰۰۰
٭٭٭




حیاتِ اقبال کا سبق

سید ابوالاعلیٰ مودودی

	دنیا کا میلان ابتدا سے جدید ترین دور تک اکابر پرستی(Hero worship)  کی جانب رہا ہے۔ ہر بڑی چیز کو دیکھ کر ہٰذا ربّی ہٰذا ربّی اکبر کہنے کی عادت جس کا ظہور قدیم ترین انسان سے ہوا تھا آج تک اس سے نہیں چھوٹی ہے۔ جس طرح دو ہزار برس پہلے بدھ کی عظمت کا اعتراف اس مخلوق کے نزدیک بجز اس کے اور کسی صورت سے نہ ہو سکتا تھا کہ اس کا مجسمہ بنا کر اس کی عبادت کی جائے۔ اسی طرح آج بیسویں صدی میں دنیا کی سب سے زیادہ سخت منکرِ عبدیت قوم (روس) کا ذہن لینن کی بزرگی کے اعتراف کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں سوچ سکتا کہ اس کی شخصیت کے آگے مراسم عبودیت بجا لائیں۔
	لیکن مسلمانوں کا نقطۂ نظر اس باب میں عام انسانوں سے مختلف ہے۔ اکابر پرستی کا تصور اس کے ذہن کی افتاد سے کسی طرح میل نہیں کھاتا۔ وہ بڑوں کے ساتھ برتاؤ کرنے کی صرف ایک ہی صورت سوچ سکتا ہے یعنی اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَیٰ اللّٰہُ فَبھُُِدٰ ھُمْ اقْتَدِہْ (اللہ نے ان کو زندگی کا سیدھا راستہ بتایا تھا جس پر چل کر وہ بزرگی کے مراتب تک پہنچے لہٰذا ان کی زندگی سے سبق حاصل کرو اور اس کے مطابق عمل کرو)۔
	اسی نقطہ نظر سے میں اس مختصر مضمون میں اپنی قوم کے نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جس اقبال کی عظمت کا سکہ ان کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے، اس کی زندگی کیا سبق دیتی ہے۔
	سب جانتے ہیں کہ اقبال نے یہی مغربی تعلیم حاصل کی تھی جو ہمارے نوجوان انگریزی یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں۔ یہی تاریخ یہی ادب، یہی اقتصادیات، یہی سیاسیات، یہی قانون اور یہی فلسفہ انہوں نے بھی پڑھا تھا اور ان فنون میں بھی وہ مبتدی نہ تھے بلکہ منتہی فارغ التحصیل تھے۔ خصوصاً فلسفہ میں تو ان کو امامت کا مرتبہ حاصل تھا جس کا اعتراف موجودہ دور کے اکابر فلاسفر تک کر چکے ہیں۔ جس شراب کے دو چار گھونٹ پی کر بہت سے لوگ بہکنے لگتے ہیں یہ مرحوم اس کے سمندر پیئے بیٹھا تھا۔ پھر مغرب اور اس کی تہذیب کو بھی اس نے محض ساحل پر سے نہیں دیکھا تھا جس طرح ہمارے ۹۹فیصدی نوجوان دیکھتے ہیں بلکہ وہ اس دریا میں غوطہ لگا کر تہہ تک اتر چکا تھا، اور ان سب مرحلوں سے گزرا تھا جن میں پہنچ کر ہماری قوم کے ہزاروں نوجوان اپنے دین و ایمان ، اپنے اصول ، تہذیب و تمدن اور اپنے قومی اخلاق کے مبادی تک سے برگشتہ ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی قومی زبان تک بولنے کے قابل نہیں رہتے۔
	لیکن اس کے باوجود اس شخص کا حال کیا تھا؟ مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا، اس کے منجدھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ مسلمان پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہو چکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی ہی نہیں رہا۔ وہ جو کچھ سوچتا تھا قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا، جو کچھ دیکھتا تھا قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔ حقیقت اور قرآن اس کے نزدیک شے واحد تھے، اور اس شے واحد میں وہ اس طرح فنا ہو گیا تھا کہ اس کے دور کے علماء دین میں بھی مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو فنائیت فی القرآن میں اس امام فلسفہ اور اس ایم اے پی ایچ ڈی بار ایٹ لا سے لگا کھاتا ہو۔
	بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ آخری دور میں اقبال نے تمام کتابوں کو الگ کر دیا تھا اور سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب وہ اپنے سامنے نہ رکھتے تھے۔ وہ سالہا سال تک علوم و فنون کے دفتروں میں غرق رہنے کے بعد جس نتیجے پر پہنچے تھے، وہ یہ تھا کہ اصل علم قرآن ہے اور یہ جس کے ہاتھ آ جائے وہ دنیا کی تمام کتابوں سے بے نیاز ہے۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے ان کے پاس فلسفہ کے چند اہم سوالات بھیجے، اور ان کا جواب مانگا۔ ان کے قریب رہنے والے لوگ متوقع تھے، کہ اب علامہ اپنی لائبریری کی الماریاں کھلوائیں گے اور بڑی بڑی کتابیں نکلوا کر ان مسائل کا حل تلاش کریں گے، مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائبریری کی الماریاں مقفل کی مقفل رہیں ، اور وہ صرف قرآن ہاتھ میں لے کر جواب لکھنے بیٹھ گئے۔
	رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی ذات مبارک کے ساتھ ان کی والہانہ عقیدت کا حال اکثر لوگوں کو معلوم ہے، مگر یہ شاید کسی کو نہیں معلوم کہ انہوں نے اپنے سارے تفلسف اور اپنی تمام عقلیت کو رسولؐ عربی کے قدموں میں ایک متاع حقیر کی طرح نذر کر کے رکھ دیا تھا۔ حدیث کی جن باتوں پر نئے تعلیم یافتہ نہیں پرانے مولوی تک کان کھڑے کرتے ہیں اور پہلو بدل بدل کر تاویلیں کرنے لگتے ہیں ، یہ ڈاکٹر آف فلاسفی ان کے ٹھیٹھ لفظی مفہوم پر ایمان رکھتا تھا اور ایسی کوئی حدیث سن کر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے دل میں شک کا گزر نہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے ان کے سامنے بڑے اچنبھے کے انداز میں اس حدیث کا ذکر کیا جس میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اصحابِ ثلاثہ کے ساتھ کوہ احد پر تشریف رکھتے تھے، اتنے میں احد لرزنے لگا اور حضورؐ نے فرمایا کہ ٹھہر جا تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہو گیا۔
اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا کہ اس میں اچنبھے کی کونسی بات ہے؟ میں اس کو استعارہ و مجاز نہیں بالکل ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں ، اور میرے نزدیک اس کے لیے کسی تاویل کی حاجت نہیں ، اگر تم حقائق سے آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے آ کر مادے کے بڑے سے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں ، مجازی طور پر نہیں واقعی لرز اٹھتے ہیں۔
	اسلامی شریعت کے جن احکام کو بہت سے روشن خیال حضرات فرسودہ اور بوسیدہ قوانین سمجھتے ہیں اور جن پر اعتقاد رکھنا ان کے نزدیک ایسی تاریک خیال کی ہے کہ مہذب سوسائٹی میں ان کی تائید کرنا ایک تعلیم یافتہ آدمی کے لیے ڈوب مرنے سے زیادہ بدتر ہے۔ اقبال نہ صرف ان کو مانتا اور ان پر عمل کرتا تھا بلکہ برملا ان کی حمایت کرتا تھا۔ اور اس کو کسی کے سامنے ان کی تائید کرنے میں باک نہ تھا۔ ان کی ایک معمولی مثال سن لیجئے۔ ایک مرتبہ حکومت ہند نے ان کو جنوبی افریقہ میں اپنا ایجنٹ بنا کر بھیجنا چاہا اور یہ عہدہ ان کے سامنے باقاعدہ پیش کیا، مگر شرط یہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کو پردہ نہ کرائیں گے، سرکاری تقریبات میں لیڈی اقبال کو ساتھ لے کر شریک ہوا کریں گے۔ اقبال نے اس شرط کے ساتھ یہ عہدہ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور خود لارڈ لنگڈن کو کہا کہ میں بے شک ایک گناہ گار آدمی ہوں ، احکامِ اسلام کی پابندی میں بہت کوتاہیاں مجھ سے ہوتی ہیں ، مگر اتنی ذلت اختیار نہیں کر سکتا کہ محض آپ کا عہدہ حاصل کر نے کے لیے شریعت کے حکم کو توڑ دوں۔
	اقبال کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ وہ فقط اعتقادی مسلمان تھے، عمل سے ان کو کچھ سروکار نہ تھا۔ اس بدگمانی کے پیدا کرنے میں خود ان کی افتادِ طبیعت کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ ان میں کچھ فرقۂ ملامتیہ کے سے میلانات تھے، جن کی بناء پر اپنی رندی کے اشتہار دینے میں انہیں کچھ مزا آتا تھا ورنہ درحقیقت وہ اتنے بے عمل نہ تھے۔
	قرآن مجید کی تلاوت سے ان کو خاص شغف تھا اور صبح کے وقت بڑی خوش الحانی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ مگر اخیر زمانے میں طبیعت کی رقت کا یہ حال ہو گیا تھا کہ تلاوت کے دوران میں روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور مسلسل پڑھ ہی نہ سکتے تھے۔نماز بھی بڑے خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے مگر چھپ کر۔ ظاہر میں یہی اعلان تھا کہ گو نرا گفتار کا غازی ہوں۔
	ان کی سادہ زندگی اور فقیرانہ طبیعت کے حالات ان کی وفات ہی کے بعد لوگوں میں شائع ہوئے۔ ورنہ عام خیال یہی تھا کہ جیسے اور ’’سر صاحبان‘‘ ہوتے ہیں ، ویسے ہی وہ بھی ہوں گے، اور اسی بناء پر بہت سے لوگوں نے یہاں تک بلا تحقیق لکھ ڈالا تھا کہ ان کی بارگاہ عالی تک رسائی کہاں ہوتی ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص حقیقت میں اس سے بھی زیادہ فقیر منش تھا جتنا اس کی وفات کے بعد لوگوں نے اخبارات میں بیان کیا ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ سن لیجئے جس سے اس نائٹ اور بیرسٹر کی طبیعت کا آپ اندازہ کر سکیں گے۔ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورہ کے لیے اقبال اور سر فضل حسین مرحوم اور ایک دو اور مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا اور اپنی شاندار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لئے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پا کر معاً ان کے دل میں خیال آیا کہ جس رسولؐ پاک کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے نصیب ہوئے ہیں ، اس نے بوریے پر سو سو کر زندگی گزاری تھی۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اس بستر پر لیٹنا ان کے لیے نا ممکن ہو گیا۔ اٹھے اور برابر کے غسل خانہ میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گئے اور مسلسل رونا شروع کر دیا۔ جب دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلا کر اپنا بستر کھلوایا اور ایک چار پائی اس غسل خانے میں بچھوائی اور جب تک وہاں مقیم رہے غسل خانہ ہی میں سوتے رہے۔ یہ وفات سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے۔ جب باہر کی دنیا ان کو سوٹ بوٹ میں دیکھا کرتی تھی کسی کو خبر نہ تھی کہ اس سوٹ کے اندر جو شخص چھپا ہوا ہے اس کی اصلی شخصیت کیا ہے؟ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھا کہ جو سیاسی اغراض کے لیے سادگی و فقر کا اشتہار دیتے ہیں ، اور سوشلسٹ بن کر غریبوں کی ہمدردی کا دم بھرتے ہیں ، مگر پبلک کی نگاہوں سے ہٹ کر ان کی تمام زندگی رئیسانہ اور عیش پسندانہ ہے۔
	اقبال کے نائٹ ہڈ اور سر شفیع مرحوم جیسے حضرات کے ساتھ ان کے سیاسی رشتہ کو دیکھ کر عام خیال یہ تھا اور اب بھی ہے، کہ وہ محض شاعری ہی میں آزاد تھے عملی زندگی میں آزاد خیالی ان کو چھو کر بھی نہ گزری تھی، بلکہ وہ نرے انگریز کے غلام تھے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے قریب جو لوگ رہے ہیں اور جن کو گہرے ربط و ضبط کی بناء پر ان کی اندرونی زندگی اور ان کے اندرونی خیالات کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ انگریزی سیاست سے ان کو خیال اور عمل دونوں میں سخت نفرت تھی۔ بارگاہ حکومت سے وہ کوسوں دور بھاگتے تھے۔ سرکار اور اس کے پرستار دونوں ان سے سخت بدگمان تھے۔ اور ان کی ذات کو اپنے مقاصد میں حارج سمجھتے تھے۔
	سیاسیات میں ان کا نصب العین محض کامل آزادی ہی نہ تھا بلکہ وہ آزاد ہندوستان میں ’’دار الاسلام‘‘ کو اپنا مقصودِ حقیقی بنائے ہوئے تھے۔ اس لیے کسی ایسی تحریک کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ تھے۔ جو ایک دار الکفر کو دوسرے دار الکفر میں تبدیل کرنے والی ہو۔
	صرف یہی وجہ ہے کہ انھوں نے عملی سیاسیات میں ان لوگوں کے ساتھ مجبوراً نہ تعاون کیا، جو برٹش گورنمنٹ کے زیر سایہ ہندو راج کے قیام کی مخالفت کر رہے تھے، گو مقاصد کے اعتبار سے ان میں اور ان میں اور اس طبقہ میں کوئی ربط نہ تھا مگر صرف اس مصلحت نے ان کو اس طبقہ کے ساتھ جوڑ رکھا تھا کہ جب تک مسلمان نوجوانوں میں ’’دار الاسلام‘‘ کا نصب العین ایک آتشِ فروزاں کی طرح پھڑک نہ اٹھے اور وہ اس کے لیے سرفروشانہ جدوجہد پر آمادہ نہ ہو، اس وقت تک کم از کم انقلاب کے رخ کو بالکل دوسری جانب پلٹ جانے سے روکے رکھا جائے۔ اس بنا پر انہوں نے ایک طرف اپنی شاعری سے نوجوانانِ اسلام کے دلوں میں وہ روح پھونکنے کی کوشش کی جس سے سب لوگ واقف ہیں اور دوسری طرف عملی سیاسیات میں وہ روش اختیار کی جس کے اصل مقصود سے چند خاص آدمیوں کے سوا کوئی واقف نہیں ، اور جس کے بعض ظاہری پہلوؤں کی وجہ سے وہ خود اپنے بہترین عقیدت مند معترفین تک کے طعنے سنتے رہے۔

رسالہ جوہر…  اقبال نمبر۱۹۳۸، بہ حوالہ : اقبال اور مودودی
مرتبہ: ابو راشد فاروقی مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور ۱۹۸۰ء      
٭٭٭




اقبال کی شخصیت کے تخلیقی عناصر

سیّد ابو الحسن علی ندوی


	اقبال کی شخصیت کے وہ تخلیقی عناصر جس نے اقبال میں ایک مخصوص قسم کی گو نا گو نی رنگا رنگی پیدا کی ،اور جنھوں نے اقبال کو اس کے ہم عصروں سے زیادہ دل آویز، باعث کشش اور جاذب نظر بنا دیا چند ایسے عناصر ہیں جن کا تعلق اقبال کی علمی و ادبی اور تعلیمی کوششوں سے بہت ہی کم ہے ،اقبال کی شخصیت میں جو جامعیت ، بلندی فکر و خیال، سوز، درد کشش اور جاذبیت نظر آتی ہے، ان کا تعلق اقبال کی زندگی کے اس رخ سے ہے ، جسے ہم یقین و ایمان کہتے ہیں۔
	دراصل اقبال کی شخصیت کے بنانے ، سنوارنے اور پروان چڑھانے میں عصر حاضر کے صرف ان تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا ہاتھ نہیں ہے، جن میں اقبال نے داخل ہو کر علومِ عصر یہ اور مغربی تعلیم حاصل کی اگرچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اقبال علومِ جدیدہ اور مغربی تعلیم کا حصول ہندوستان ، انگلستان اور جرمنی میں ماہر اساتذہ سے کرتے رہے، اور وہاں کے علم و فن کے چشموں سے سیراب ہوتے رہے، یہاں تک کہ وہ عالمِ اسلامی میں مغربی علوم و افکار اور تہذیب و تمدن کے ماہرین میں منفرد شخصیت کے مالک ہو گئے، مغربی فلسفہ و اجتماع ، اخلاق اور سیاست و معیشت میں یورپ کے ایک متنحصص کی حیثیت حاصل کی ، اور علومِ جدید و قدیم میں بڑی گہری نگاہ حاصل کی ، لیکن اگر اقبال اس مقام پر پہنچ کر ٹھہر جاتے اور موجودہ تعلیمی اداروں کے پھلوں سے استفادہ کے بعد مطمئن ہو کر صرف اس حلاوت و مزہ سے لطف اندوز ہوتے رہتے تو پھر آج وہ ہمارا موضوعِ گفتگو نہیں بن سکتے تھے، اور نہ ادبِ اسلامی اور تاریخ ادب اسلامی ان کے شعر و ادب کے نغموں سے گونجتی رہتیں ، اور نہ علمی صدارت فکری زعامت اور اسلامی ذہن ان کے لیے اپنا دامن وسیع کرتا، اور نہ انھیں اس بلند مقام پر بٹھا کر فخر محسوس کرتا، اس کے لیے بڑی باریک اور بلند شرطیں ہیں ، کوئی شخص محض درس و تدریس علوم میں تنّوع اور کثرت تالیف و تصنیف کی وجہ سے اس مقام بلند تک نہیں پہنچ سکتا ، بلکہ اقبال اگر ان تعلیمی اداروں سے استفادہ کے بعد مطمئن ہو جاتے اور انھیں علوم و فنون کی علمی موشگافیوں میں اپنی دلچسپیوں کو محدود رکھتے تو زیادہ سے زیادہ فلسفہ ، معاشیات ، ادب اور تاریخ میں ایک ماہر استاد اور پروفیسر کی جگہ پاتے یا ایک بڑے پایہ کے مصنف علومِ عصریہ کے ماہر فن، صاحب اسلوب ادیب یا ایک اچھے شاعر ہوتے ، اور بس !یا پھر ایک کامیاب بیرسٹر، ایک اچھے جج یا حکومت کے ایک اچھے وزیر بنائے جاتے، لیکن آپ یقین کیجئے اگر اقبال ان میں سے کچھ بھی ہوتے تو زمانہ انھیں ویسے ہی بھلا دیتا جس طرح دنیا کے بڑے بڑے علما ، ادبا شعرا مصنفین، اور حکومتوں کے وزرا کو آج زمانے نے گوشہ عزلت و گمنامی میں ڈال رکھا ہے، اور آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون تھے’ اور کیا تھے لیکن اقبال کی ذہانت و عبقریت ،ان کا زندہ جاوید پیغام اور ان کی ذہنوں اور دلوں کی تسخیر کرنے کی طاقت و کشش……ان تمام فضائل اور بلندیوں کا سبب ان دنیاوی تعلیمی اداروں سے جدا ، ایک دوسرا تعلیمی ادارہ ہے جس میں کہ اقبال نے تعلیم و تربیت حاصل کی بڑھے اور پروان چڑھے۔
	میرا خیال ہے کہ آپ میں سے اکثر کا ذہن اس مخصوص ’’ادارہ‘‘ کی تلاش و جستجو میں پریشان ہو گا، اور آپ اس کے جاننے کے لیے بے چین ہوں گے کہ آخر وہ کون سا ادارہ ہے، جس نے اس ’’عظیم شاعر ‘‘کو پیدا کیا؟ اور وہ کون سے علوم ہیں جو اس میں پڑھائے جاتے ہیں ؟ کس زبان میں وہاں تعلیم ہوتی ہے ؟اور کیسے معلم وہاں تعلیم دیتے ہیں ’ بلاشبہ اس میں اعلیٰ درجے کے نگراں اور مربی ہونگے، جو ایسی ہی عظیم شخصیتیں پیدا کرتے ہیں ، (جیسے کہ اقبال تھے)مجھے یقین ہے کہ اگر آپ اس کے وجود اور محل و مقام سے واقف ہو جائیں تو پھر ضرور اس میں داخلہ کی کوشش کریں گے، اور اپنی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے آپ کو اس بے نظیر و بے مثال ادارہ کے سپرد کر دیں گے۔
	وہ ایک ایسا ’’ادارہ‘‘ ہے کہ جس نے اس میں تعلیم و تربیت حاصل کی ، اس کی ناکامی کا کوئی سوال نہیں ، جو وہاں سے نکلا وہ ضائع نہیں ہو سکتا ،وہ ایک ایسا ادارہ ہے کہ جہاں سے صرف ائمۂ فن، مجتہدین فکر، واضعین علوم، قائدین فکرو اصلاح،اور مجددین امت ہی پیدا ہوتے ہیں ، وہ جو کچھ لکھتے ہیں ، اس کے سمجھنے میں عام مدارس و یونیورسٹیوں کے طلبا و اساتذہ مشغول رہتے ہیں ، ان کی لکھی ہوئی چیزیں درس کے طور پر پڑھی پڑھائی جاتی ہیں ، ان کی تصنیفوں کی شرحیں لکھی جاتی ہیں ، ان کے اجمال کی تفصیل کی جاتی ہے، ان کے ثابت شدہ نظریات کی تائید و تشریح ہوتی ہے ان کے ایک ایک لفظ پر کتابیں لکھی جاتی ہیں :اور ان کی ایک ایک کتاب سے پورا پورا کتاب خانہ تیار ہو جاتا ہے، وہ ایک ایسا ادارہ ہے جہا ں تاریخ پڑھائی نہیں جاتی بلکہ تاریخ بنائی جاتی ہے ، وہاں افکار نظریات کی تشریح و توضیح نہیں ہوتی ، بلکہ افکار و نظریات وضع کئے جاتے ہیں ، آثار و نشانات کے کھوج نہیں لگائے جاتے بلکہ وہاں سے آثار و نشانات پیدا ہوتے ہیں ، یہ ادارہ اور مدرسہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا ہے، یہ دراصل ایک داخلی مدرسہ ہے ، جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور ہر انسان اسے اٹھائے ہر مقام پر لیے پھرتا ہے وہ  دل کا مدرسہ اور ضمیر و وجدان کا دبستان ہے، وہ ایک ایسا مدرسہ ہے جہاں روحانی پرداخت اور آلہی تربیت ہوتی ہے۔
	اقبال نے اس ادارہ سے اسی طرح تکمیل کی جس طرح دوسرے بہت سے وہبی انسان اس عظیم ادارہ سے تعلیم و تربیت کے بعد نکلے، اقبال کی سیرت و شخصیت اس کا علم و فضل اور اخلاق ، یہ سب کا سب مرہونِ منت ہے، اِس قلبی دبستان کا جس میں کہ اقبال نے برسوں زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے، اقبال کے کلام کا مطالعہ اس حقیقت کی اچھی نشاندہی کرتا ہے کہ خارجی مدرسہ کی بہ نسبت داخلی مدرسہ نے اس کی زندگی میں ایک دردو سوز، تب و تاب اور ایک نئی قوت و توانائی بخشی ، اگر وہ اپنے داخلی مدرسے میں تعلیم و تربیت حاصل نہ کرتا تو پھر نہ اُس کی یہ جاذب نظر شخصیت ہی ظاہر ہوتی ، اور نہ اس کا شعور و وجدان اس قدر شعلہ جانسوز نظر آتا، اور نہ اس کا آتشیں پیام قلب و نظر کے لیے سوزِ جاوداں ثابت ہوتا اقبال کے کلام میں اس ادارہ کے اساتذہ  و معلمین اور مربین کا ذکر و اعتراف بہت ہی کثرت سے ملتا ہے
	وہ تخلیقی عناصر جنھوں نے اقبال کی شخصیت کو بنایا، بڑھایا اور پروان چڑھایا وہ دراصل اقبال کو اپنے داخلی مدرسہ میں حاصل ہوئے، یہ پانچ تخلیقی عناصر ہیں جنھوں نے اقبال کی شخصیت کو ’’زندۂ جاوید‘‘ بنا دیا۔
	ان میں سے پہلا عنصر جو اقبال کو اپنے داخلی مدرسہ میں داخلہ کے بعد اول  ہی دن حاصل  ہوا وہ اس کا ’’ایمان و یقین ‘‘ ہے ،یہی یقین اقبال کا سب سے پہلا مربی اور مرشد ہے ، اور یہی اس کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سرچشمہ ہے، لیکن اقبال کا وہ یقین و ایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں ، جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے، بلکہ اقبال کا’’ یقین‘‘ عقیدہ و محبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب و وجدان، اس کی عقل وفکر ، اس کے ارادہ و تصرف اُس کی دوستی و دشمنی غرضکہ اس کی ساری زندگی پرچھایا ہوا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اقبال اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت راسخ الایمان تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ان کی محبت ، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجہ کا تھا، اس لیے ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا زندہ جاوید دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح و سعادت کے بامِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم رشد و ہدایت کے آخری مینار ،نبوت و رسالت کے خاتم اور مولائے کل ہیں :۔
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ،مولائے کل جس نے 
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا
	اس دورِ مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک و دمک سے اقبال کی آنکھیں خیرہ نہ ہو سکیں ، حالانکہ اقبال نے جلوہ دانش فرنگ میں زندگی کے طویل ایام گذارے اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اقبال  کی وہی والہانہ محبت ، جذبہ عشق اور روحانی وابستگی تھی، اور بلاشبہ ایک حْبِّ صادق اور عشقِ حقیقی ہی قلب و نظر کے لیے ایک اچھا محافظ اور پاسبان بن سکتا  ہے:۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں 
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیلؐ
رہے ہیں ،اور ہیں ،فرعون میری گھات میں اب تک
مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدمن بیضا 
عجب کیاگرمہ و پر ویں مرے نخچیرہو جائیں 
کہ برفتر اک صاحب دولتے بستم سرِ خودرا
	علامہ اقبال نے اپنی کتاب اسرار خودی میں ملتِ اسلامیہ کی زندگی کی بنیادوں اور ان ستونوں کے ذکر کے سلسلہ میں جس پر حیات ملتِ اسلامیہ موقوف ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اپنے روحانی تعلق ، دائمی وابستگی اور اپنی فداکارانہ مُحبّت کا بھی ذکر کیا ہے ، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا شعری وجدان جوش مارنے لگتا ہے، اور نعتیہ اشعار ابلنے لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے ، جیسے محبت و عقیدت کے چشمے پھُوٹ پڑے ہیں ، اس سلسلہ میں چندا شعار پیشِ خدمت ہیں۔ جِن سے اقبال کے مُحبّت بھرے جذبات کا قدرے اندازہ ہو گا:۔
درِ دل مسلم مقام مصطفیٰ است 
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ است 
بوریا ممنون خوابِ راحتش 
تاج کسریٰ زیر پائے امّتش
درشبستانِ حرِا خلوت گزید
قوم و آئین وحکومت آفرید
ماند شبہا چشمِ او محرومِ نوم
تابہ تخت خسروی خوابید قوم 
وقت ہیجاتیغ اور آہن گداز 
دیدۂ او اشکبار اندر نماز
در دعائے نصرت آمیں تیغ اُو 
قاطع نسلِ سلاطیں تیغ  او
در جہاں آئین نو آغاز کرد
مسندِ اقوام پیشییں درنورد
از کلید دیں درِ دنیا کشاد
ہمچو او بطن اُمِ گیتی نزاد
درنگاہِ او یکے بالا و پست 
با غلام خویش بریک خوا نشست 
در مصافے پیش آں گردوں سریر 
دختر سر دار طے آمد اسیر 
پائے در زنجیر و ہم بے پردہ بود
گردن ازشرم و حیا خم کردہ بود
دخترک راچوں نبیؐ بے پردہ دید
چادر خود پیش روے او کشید
آں کہ براعدا درِ رحمت کشاد
مکہ راپیغام لا تثریب داد
ماکہ از قیدِ وطن بیگانہ ایم 
چوں نگہ نوردوچشیم ویکیم
از حجاز وچین و ایرانیم ما 
شبنم یک صبح خندا نیم ما 
مست چشم ساقی بطحا ستیم 
در جہاں مثل مے ومینا ستیم
امتیازاتِ نسب را پاک سو خت 
آتش اوایں خس وخاشاک سوخت 
شورِ عشقش درنیٔ خاموش من 
می تپد صد نغمہ در آغوشِ من 
من چہ گوئم ازتولائش کہ چسیت 
خشک چوبے در فراقِ او گریست
ہستیِ مسلم تجلی گاہِ او
طور ہا بالدفاصلہ زگرد راہِ اُو
	جوں جوں زندگی کے دن گذرتے گئے، اقبال کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ والہانہ محبت و الفت بڑھتی ہی گئے ، یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر آتا یا مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوتا، تو اقبال بے قرار ہو جاتے ،آنکھیں پُر آب ہو جاتیں یہاں تک کہ آنسو رواں ہو جاتے ، یہی وہ گہری محبت تھی ، جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
مکن رسوا حضور خواجہؐ مارا
حساب من زچشم اونہاں گیر
یہ شعر محبت و عقیدت کا کتنا اچھا مظہر ہے۔
	دراصل علامہ اقبال کا یہی وہ ایمانِ کامل اور حبِّ صادق تھی، جس نے اقبال کے کلام میں یہ جوش، یہ ولولہ ، یہ سوز و گداز پیدا کر دیا، اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی، کہ دراصل رقت انگیز شعر، عمیق فکر ، روشن حکمت ، بلند معنویت ، نمایاں شجاعت، نادر شخصیت اور عبقریت  Geniusکا حقیقی منبع و سر چشمہ محبت و یقین ہی ہے، اور تاریخ عالم میں جو کچھ بھی انسانی کمالات یا دائمی آثار و نشانات نظر آتے ہیں ، وہ سب کے سب اسی محبت و یقین کے مرہونِ منت ہیں ، اگر کوئی شخصیت یقین کے جذبہ سے خالی ہو تو پھر وہ صرف گوشت و پوست کی صورت ہے اور اگر پوری امت اس سے خالی ہے ، تو پھر اس کی وقعت بکریوں اور بھیڑوں کے گلے سے زیادہ نہیں ، اور اس طرح اگر کسی کلام میں یقین و محبت کی روح کار فرما نہیں ہے تو پھر وہ ایک مقفیٰ اور موزوں کلام تو ہو سکتا ہے، لیکن ایک زندہ جاوید کلام نہیں بن سکتا اور جب کوئی کتاب اس روح سے خالی ہو تو اس کتاب کی حیثیت مجموعہ اوراق سے زیادہ نہیں ہو گی اور اسی طرح اگر کسی عبادت میں محبت و یقین کا جذبہ شامل نہیں ہے تو پھر وہ ایک بے روح ڈھانچہ ہے، غرضکہ پوری زندگی اگر محبت و یقین کے جذبہ سے خالی ہے تو پھر وہ زندگی زندگی نہیں ، بلکہ موت ہے ،اور پھر ایسی زندگی کیا ؟ جس میں طبیعتیں مردہ و افسردہ ہوں ، نظم و نثر کے سر چشمے خشک ہوں ، اور زندگی کے شعلے بجھ چکے ہوں ، ایسی حالت میں یقین کامل اور حُبِّ صادق ہی حیاتِ انسانی میں جلا پیدا کرتی ہے، اور انسانی زندگی نور و رنگ سے معمور ہو جاتی ہے، پھر شکستہ،پُر سوز و پُر درد روح نواز اور جاں بخش کلام سننے میں آتے ہیں ، خارقِ شجاعت و قوت دیکھنے میں آتی ہے، اور علم و ادب کے نقوش بھی زندہ جاوید بن جاتے ہیں ، یہاں تک کہ یہی محبت اگر پانی ، مٹی اور اینٹ پتھر میں داخل ہو جائے تو اس کو بھی زندہ جاوید بنا دیتی ہے، ہمارے سامنے اس کی روشن مثال مسجد قرطبہ، قصرِ زہرا اور تاج محل ہیں ، سچ تویہ ہے کہ محبت و یقین کے بغیر ادب و فن مردہ و افسردہ و نا تمام ہیں :۔
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر 
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر 
	بڑی غلط فہمی میں وہ لوگ مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اہل علم حضرات اپنی قوتِ علم،کثرتِ معلومات اور ذکاوت و ذہانت کی وجہ سے ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں یا ایک دوسرے پر فضلیت رکھتے ہیں ، اور اسی طرح شعرا کو ان کی فطری قوت شاعری،لفظوں کا حسن انتخاب ، معانی کی بلاغت ، انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے اور مصلحین وقت اور قائدین ملت کی بلندی و پستی موقوف ہے ان کی ذہانت کی تیزی ، خطابت کی بلندی، سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمت عملی پر !حالانکہ ایسا نہیں ہے،حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی فضلیت و بلندی کا دارومدار محبت و اخلاص پر ہے،ان کی سچی محبت اور مقصد سے اخلاص کامل ہی ان کی عظمت و بزرگی کا سبب ہے، کہ اس کا مقصد و موضوع اور غرض و غایت اس کی روح میں سرایت کر جاتی ہے قلب میں جاگزیں ہو جاتی ہے،اور فکر و عمل پرچھا جاتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذاتی خواہش مغلوب اور شخصیت تحلیل ہو جاتی ہے ، اب وہ جب کوئی بات کرتا ہے تو مقصد کی زبان سے کرتا ہے،جب کچھ لکھتا ہے، تو مقصد کے قلم سے لکھتا ہے، غرضکہ اس کے فکرو خیال ،دل و دماغ اور اس کی پوری زندگی پر اس کا مقصد چھا جاتا ہے۔
	ایک عظیم گناہ جو اس جدید تمدن کا پیدا کردہ ہے وہ ہے مادہ پرستی اور پھر اس سے نفع پسندی ، جنسی محبت اور نفسانی خواہش!جو درحقیقت جدید عصری مادی تعلیم کا ثمرہ ہے، جس نے ہماری نئی نسلوں کو تباہ کر رکھا ہے، اور آج حال یہ ہے کہ ان کے قلوب ، ایمان کی حرارت ، حُبِّ صادق کی تپش اور یقین کے سوز سے خالی ہیں ، اور یہ عالم نو ایک ایسی متحرک شے بن کر رہ گیا ہے کہ جس میں نہ کوئی زندگی ہے، اور نہ کوئی روح نہ شعور و وجدان ہے، نہ مسرت و غم کا احساس !اس کی مثال اس جامد شے کی طرح ہے، جو کسی جابر و قاہر شخص کے دستِ تصرف میں ہو، وہ جس طرح چاہے اسے حرکت دے اور استعمال کرے۔
	جب آپ اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اقبال کا کلام ہمارے جانے پہچانے شعرا سے بہت کچھ مختلف ہے ، اقبال کا کلام ہمارے شعور و احساس قلب و وجدان اور اعصاب میں حرکت و حرارت ، سوز و گداز، درد و تپش پیدا کرتا ہے، اور پھر ایک ایسا شعلۂ جوالہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے جس کی گرمی سے مادیت کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں ، فاسد معاشرہ اور باطل قدروں کے ڈھیر ،جل کر فنا ہو جاتے ہیں ، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کس قدر طاقت ور ایمان، پر درد و پر سوز سینہ اور بے چین روح رکھتا ہے ، قابل صد ستائش ہے وہ دوسرا مدرسہ جس نے اتنی اچھی تربیت کی اور ایسی قابل قدر شخصیت تیار کی۔
	اقبال کی شخصیت کو بنانے والا دوسرا عنصر وہ ہے جو آج ہر مسلمان گھر میں موجود ہے،مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اس کی روشنی سے محروم،اس کے علم و حکمت سے بے بہرہ ہیں ،میری مراد اس سے قرآن مجید ہے، اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب جس قدر .....اثر انداز ہوئی ہے ،اقبال کا ایمان چونکہ ’’نو مسلم‘‘ کا سا ہے، خاندانی وراثت کے طور پر انھیں نہیں ملا ہے اس لیے ان کے اندر نسلی مسلمانوں کے مقابلے میں قرآن سے شغف،اور شعورو احساس کے ساتھ مطالعہ کا ذوق بہت ہی مختلف رہا ہے ، جیسا کہ خود اقبال نے اپنے قرآن مجید پڑھنے کے سلسلے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ان کا یہ ہمیشہ کا دستور تھا کہ روزانہ بعد نماز صبح قرآنِ مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، اقبال کے والد جب انھیں دیکھتے تو فرماتے کیا کر رہے ہو؟ اقبال جواب دیتے ابا جان !آپ مجھ سے روزانہ پوچھتے ہیں ، اور میں ایک ہی جواب دیتا ہوں اور پھر آپ خاموش چلے جاتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ میں تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم قرآن اس طرح پڑھا کرو کہ جیسے قرآن اسی وقت تم پر نازل ہو رہا ہے، اس کے بعد سے اقبال نے قرآن برابر سمجھ کر پڑھنا شروع کیا اور اس طرح کہ گویا وہ واقعی ان پر نازل ہو رہا ہے، اپنے ایک شعر میں بھی وہ اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں :۔
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب 
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف
	علامہ اقبال نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کرتے گذاری ، قرآن مجید پڑھتے ، قرآن سوچتے ، قرآن بولتے، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انھیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا ، اس سے انھیں ایک نیا یقین ، ایک نئی روشنی ، اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی ، جوں جوں ان کا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا ، ان کے فکر میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی ، اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندہ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لَدُنی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے وہ ایک ایسی شاہ کلید ہے کہ حیات انسانی کے شعبوں میں سے جس شعبہ پر بھی اسے لگائیے ، فوراً کھل جائے گا، وہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے۔
	تیسرا عنصر جس کا اقبال کی شخصیت کی تعمیر میں بڑا دخل ہے، وہ عرفان نفس اور   خودی ہے ، علامہ اقبال نے عرفانِ ذات پر بہت زور دیا ہے، انسانی شخصیت کی حقیقی تعمیر ان کے نزدیک منت کشِ خودی ہے جب تک عرفانِ ذات نہ حاصل ہو ،اس وقت تک زندگی میں سوز و مستی ہے ،اور نہ جذب و شوق !اس سلسلہ میں اقبال کے یہ شعر ان کے فکر کی پوری ترجمانی کرتے ہیں :۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا  سراغ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا ،نہ بن ، اپنا تو بن 
من کی دنیا؟ من کی دنیا ، سوز و مستی جذب و شوق 
تن کی دنیا ؟ تن کی دنیا ، سود و سودا،مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی  ہے تو پھر جاتی نہیں 
تن کی دولت چھاؤں ہے ،آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج 
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا ، نہ تن
	ان کے کلام میں معنوی بلندی کے ساتھ ساتھ ، لفظوں کی بندش ہم آہنگی ، اتار چڑھاؤ روانی و تسلسل ، اور موسیقیت اس قدر زیادہ ہے کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔
	علامہ اقبال کو خودی کی تربیت اور عرفانِ نفس پر بڑا اعتماد تھا ، انکے نزدیک خود شناسی و خود آگاہی انسان کو اسرار شہنشہی سکھلاتے ہیں ، عطا رہوں یا رومی رازی ہوں یا غزالی ، بغیر عرفانِ نفس کے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اسی عرفانِ نفس کا نتیجہ تھا کہ اقبال نے اس رزق پر موت کو ترجیح دی جس رزق سے پرواز میں کوتا ہی آتی ہو اور دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اقبال کے خیال میں زیادہ بہتر ہے جس کی فقیری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خُو بُو اور ان کا اسوہ ہو اور حق تو یہ ہے کہ عرفانِ نفس اور عرفانِ ذات ہی کے حصول کے بعد انسان جرات سے اس بات کا اظہار کر سکتا ہے کہ:۔
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی 
	اقبال کا تصور خودی خود اقبال میں اس قدر رچ بس گیا کہ ان کی زندگی عرفانِ نفس کا زندہ نمونہ تھی ، ان کی زندگی کے اوراق میں ان کی خودی ،خود داری ،خود اعتمادی کے نقوش بہت ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، عرفانِ نفس ہی کے لیے دوسروں کو مخاطب کر کے وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں۔
اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم
دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامانِ موت 
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم
بلاشبہ اقبال نے شکم کے مقابلے میں دل کو ترجیح دی ، اور دل ہی کو اختیار کیا۔
	یہ عرفانِ نفس ہی کا کرشمہ تھا جس نے اقبال کو ہر قسم کی فکری اور ادبی بے راہ روی سے محفوظ رکھا، حالانکہ یہی دونوں چیزیں ہمارے عام ادبا و شعرا اور مصنفین کو ہر چراگاہ میں منھ مار لینے ،ہر وادی میں بھٹکنے اور ہر موضوع پر لکھنے کے لیے آمادہ کرتی ہیں ، خواہ وہ ان کے عقیدہ و خیال کے موافق ہو یا نہ ہو جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک نہ اپنی شخصیت کو پہچانتے ہیں ، اور نہ اپنے پیغام سے واقف ہوتے ہیں ،لیکن اقبال نے اول ہی دن سے اپنی ذات اور شخصیت کو اچھی طرح پہچانا ،اپنی وہبی صلاحیتوں کا صحیح صحیح اندازہ کیا، اور پھر صلاحیتوں ،شعری قوتوں کو مسلمانوں کی زندگی کے ابھارنے ان میں روح و زندگی پیدا کرنے ،اور یقین و ایمان کی دبی ہوئی چنگاریوں کو بھڑکانے میں صرف کیا ، اور ان میں قوت و حریت اور سیادت و قیادت کا احساس دلایا ،اقبال ایک فطری اور وہبی شاعر تھے، اگر وہ  شاعر نہ بننے کی کوشش کرتے تو کامیاب نہ ہوتے، شعر کہنے پر وہ مجبور تھے، اُن کی شاعری رستے ہوئے قلب،پر جوش  و پر سوز دل، معانی کی معنویت اور الفاظ کی شوکت کی آئینہ دار تھی، وہ ایک قادر الکلام ماہر فن شاعر تھے ، ان کے ہمعصر شعراء نہ صرف یہ کہ ان کی امامت اور کلام میں اعجاز کے قائل تھے ، بلکہ زبان تراکیب معانی افکار جدتِ تشبیہ ہر چیز سے متاثر تھے  ، ان کی شاعری کو عظیم بنانے میں انگریزی اور جرمن شعرو ادب اور فارسی شاعری کا بھی بڑا دخل ہے لیکن ان سب باتوں کے عرض کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اقبال کے ہمعصروں میں کوئی اچھا اور اونچا شاعر ہی نہ تھا، بلکہ اچھے سے اچھے اور اونچے اونچے ادیب و شاعر موجود تھے جو اپنے الفاظ کی فصاحت معنی کی بلاغت ، استعارہ و تشبیہ کی جدت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن جو چیز کہ اقبال کو اپنے ہمعصروں سے ممتاز کر دیتی ہے وہ ہے ان کی شاعرانہ عظمت ،ادبی قوت ، فنی ذہانت جبلی عبقریت اور ان سب کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام !اقبال نہ قومی شاعر تھے،اور نہ وطنی اور نہ عام رومانی شاعروں کی طرح ان کی شاعری بھی شراب و شاہد کی مرہون منت تھی، اور نہ ان کی شاعری نری حکمت و فلسفہ کی شاعری تھی، ان کے پاس اسلام کی دعوت اور قرآن کا پیغام تھا، جس طرح ہوا کے جھونکے پھولوں کی خوشبو پھیلاتے ہیں ،اور جس طرح اس زمانے میں برقی لہروں سے پیغامات کے پہچانے کا کام لیا جاتا ہے اسی طرح اقبال بھی اپنے اس پیغام کو شعر کی زبان میں کہتے تھے تاکہ ان کے پیغام کے لیے شعر ،برقی لہروں کا کام دے ،بلاشبہ اقبال کی شاعری نے خواب غفلت میں پڑی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا اور ان کے دلوں میں ایمان و یقین کی چنگاری پیدا کر دی ، تو یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ اقبال نے اپنے آپ کو پہچانا اپنی وہبی شخصیت و قوت کا صحیح اندازہ کیا، اور ان کو اصل مقام پر استعمال کیا۔
	وہ چوتھا عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کو بنایا ، پروان چڑھایا ،اور اس کی شاعری کونت نئے معانی ،افکار کی جولانی اور قوت تاثیر عطا کی ،  ان میں کتابوں کی درس و تدریس اور مطالعہ کے شوق و انہماک کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ اقبال کی آہِ سحر گاہی اس کا اصل سرچشمہ ہے جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا اس اخیر شب میں اقبال کا اٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا ، پھر گڑ گڑانا اور رونا، یہی چیز تھی جواس کی روح کو ایک نئی نشاط اس کے قلب کو ایک نئی روشنی اور اس کو ایک نئی فکری غذا عطا کرتی پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتا، جو انسانوں کو ایک نئی قوت ، ایک نئی روشنی اور ایک نئی زندگی عطا کرتا۔
	اقبال کے نزدیک آہ سحر گاہی زندگی کا بہت ہی عزیز سرمایہ ہے بڑے سے بڑے عالم و زاہد اور حکیم و مفکر اس سے مستغنی نہیں ،چنانچہ فرماتے ہیں :۔
عطار ہو ررمی ہو رازی  ہوغزالی ہو 
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی
اقبال علی الصباح اٹھنے کا بہت ہی اہتمام رکھتے تھے، سفرو حضر ہر مقام اور ہر کہیں ان کے لیے سحر خیزی ضروری تھی:۔
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی 
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی 
اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ اس کی تمنا بھی کرتے ہیں کہ خداوند مجھ سے تو جو چاہے چھین لے لیکن لذت آہِ سحر گاہی سے مجھے محروم نہ کر:۔
نہ چھین لذت آہِ سحر گہی مجھ سے 
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز
یہی وجہ تھی کہ وہ جوانوں میں اپنی اس آہ و سوز،اور درد و تپش کو دیکھنے کی تمنا کرتے تھے، اور دعائیں کرتے کہ خدا وندا یہ میرا سوزِ جگر اور میرا عشق و نظر آج کل کے مسلم نوجوانوں کو بخش دے:۔
جوانوں کو سوز جگر بخش دے 
مرا عشق ، میری نظر بخش دے
اسی بات کو ایک دوسری نظم میں اس طرح فرماتے ہیں :۔
جوانوں کو مری آہِ سحر دے 
تو ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے 
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کے دل سے نکلی ہوئی یہ دعائیں بے اثر نہیں گئیں اور آج سارے عالم اسلام میں خالص اسلامی فکر و نظر لیے نوجوانوں کی ایک نئی نسل ابھر رہی ہے۔
دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا
	آخری موثر عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کی تخلیق میں اہم حصہ لیا ہے، وہ مولانا جلال الدین رومی کی’’ مثنوی معنوی‘‘ ہے یہ کتاب مولانا رومی کی مشہور مثنوی ہے، جو فارسی زبان میں وجدانی تاثر اور اندرونی شدت کی بنا پر لکھی گئی ہے، دراصل یونانی فلسفہ عقلیات مولانا رومی کے دور میں جس طرح چھا چکا تھا اور کلامی مباحث خشک فلسفیانہ موشگافیاں مسلمانوں کی ذہنوں ، دینی مدرسوں اور علمی اداروں میں جس طرح سرایت کر چکی تھیں ، اس سے ہٹ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس صورت حال سے متاثر ہو کر مولانا روم نے مثنوی لکھنی شروع کی جو اپنے اندر قوت حیات کے ساتھ ادبی بلندی، معانی کی جدت ، حکیمانہ مثالوں اور نکتوں کے بیش بہا خزینے سمٹیے ہوئے ہے، اس کتاب نے اس دور سے لے کر آج تک ہزاروں انسانوں کو متاثر کیا ہے ان کے قلب و نظر میں تبدیلی کی ہے اسلامی کتب خانے میں اپنے انداز پر یہ ایک بے نظیر و بے مثال کتاب ہے، اس دور جدید میں ، جبکہ اقبال کو یورپ کے مادی و عقلی، بے روح و بے خدا افکار و خیالات سے سابقہ پڑا،اور مادہ و روح کی کشمکش اپنے پورے عروج کے ساتھ سامنے آئی تو اس قلبی اضطراب اور فکری انتشار کے موقع پر اقبال نے مولانا روم کی مثنوی سے مدد لی، اس کشمکش میں مولانا روم نے ان کو بہت کچھ سہارا دیا، یہاں تک کہ اقبال نے پیر روم کو اپنا کامل رہنما تسلیم کر لیا، اور صاف صاف اعلان کر دیا کہ عقل و خرد کی ساری گتھیاں جسے یورپ کی مادیت نے اور الجھا دیا ہے، ان کا حل صرف آتشِ رومی کے سوز میں پنہاں ہے، اور میری نگاہِ فکر اسی فیض سے روشن ہے، اور آج یہ اسی کا احسان ہے کہ میرے چھوٹے سے سبو میں فکر و نظر کا ایک بحر ذخار پوشیدہ ہے:۔
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں 
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن 
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں 
	مولانا روم سے اپنی اس محبت و عقیدت کا اظہار اقبال نے بار بار کیا ہے اور انھیں ہمیشہ ’’پیر روم‘‘(۱) کے نام سے یاد کرتے ہیں :۔
صحبت(۲) پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش 
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سربکف
	اقبال اس بیسویں صدی کے خالص صنعتی و مادی دور میں پھر کسی ’’رومی ‘‘کے منتظر ہیں ، ان کے نزدیک مادیت کا رنگ عشق کی بھٹی ہی میں صاف ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے آتشِ رومی کی ضرورت ہے:۔
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے 
وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی
لیکن اقبال مایوس نہیں ہیں بلکہ اپنے کشتِ ویراں سے بہت ہی پر امید ہیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے 
ذرا نم ہو، تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
	یہی وہ پانچ عناصر ہیں جنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تخلیق کی، اور یہ عناصر دراصل اسی دوسرے مدرسہ کے فیض و تربیت کے نتائج ہیں جس نے اقبال کو مضبوط عقیدہ، قوی ایمان، سلیم فکر اور بلند پیغام عطا کیا، اور جس نے اقبال کو ’’اقبال‘‘ بنایا۔

نقوش اقبال، ادارہ نشریات اسلام کراچی، ۱۹۷۲ء لاہور
٭٭٭

حواشی

۱۔   پیر رومی مرشد روشن ضمیر۔ کا روانِ عشق و مستی را امیر۔ اقبال
۲۔  یعنی مطالعہ مثنوی
٭٭٭




ملفوظات اقبال

 یوسف سلیم چشتی


	علامہ اقبال مرحوم سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ ۱۹۲۵ء سے۱۹۳۸ء تک جاری رہا۔ ان سے ملاقات کی تقریب اس طرح پیدا ہوئی کہ اس زمانے میں مجھے فلسفہ، الہٰیات اور علم کلام کے مسائل سے بڑی دلچسپی تھی۔ ان تینوں علوم میں ہستی باری کا مسئلہ بنیادی اور سر فہرست ہے لیکن کانٹ نے اپنی ’’تنقید عقل خالص ‘‘میں اثبات واجب الوجود پر جس قدر اَدِلہّ حکما اور متکلمین نے قائم کی ہیں ، سب کا ابطال کر دیا ہے۔ اس لیے میں حضرت علامہ سے ملنے گیا اور ان سے عرض کی کہ کیا آپ کے ذہن میں اثبات واجب پر کوئی ایسی دلیل ہے جو ناقابل رد ہو؟انہوں نے کہا کہ عقل انسانی اس معاملے میں عاجز ہے۔ خدا کی ہستی کا یقین دلائل عقلیہ سے پیدا نہیں ہو سکتا،اس کے لیے مشاہدہ باطنی درکار ہے۔ عقل یہ تو بتا سکتی ہے کہ اس کائنات کا کوئی ،خالق یا صانع ہونا چاہیے لیکن اس کا اثبات نہیں کر سکتی کہ یہ بات اس کے حیطۂ اقتدار سے باہر ہے۔ اس کے حکما کی تقلید کے بجائے ارباب کشف و شہود یعنی صوفیائے کرام کی پیروی کرو۔ بالفاظ دیگر رازی کو چھوڑ کر رومی کو اپنا راہنما بناؤ۔
	اس ملاقات کے بعد ان سے رسم و راہ کا سلسلہ قائم ہو گیا اور کچھ عرصے کے بعد میں نے ان کے کلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعے کی بدولت مجھے ان کی شخصیت سے بڑا لگاؤ پیدا ہو گیا۔ اور جہاں تک ممکن ہو سکا میں نے ان سے استفادہ کیا۔چونکہ وہ یہ بات پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کے ارشادات ان کے سامنے بیٹھ کر، قلمبند کروں اس لیے گھر آ کر جو کچھ ذہن میں محفوظ رہتا تھا اسے ایک ضخیم نوٹ بک میں لکھ لیا کرتا تھا۔ ۱۹۵۵ء میں دریائے راوی کے سیلاب کا پانی میرے گھر میں بلائے بے درماں کی طرح داخل ہوا اور صد ہا کتابوں کے ساتھ وہ نوٹ بک بھی برباد ہو گئی۔یہ ملفوظات جو میں ذیل میں درج کر رہا ہوں ان متفرق کاغذات اور پاکٹ بکس میں مندرج تھے جو ایک ٹرنک میں محفوظ تھیں۔

۱۔ ۱۹ مارچ ۱۹۳۰ء ۶ بجے شام، میکلوڈ روڈ
	علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کی کہ یاجوج اور ماجوج سے کون اشخاص مراد ہیں ؟ فرمایا کہ یہ عربی زبان کے الفاظ نہیں ہیں ، بلکہ بابلی زبان کے الفاظ گاگ اور میٹ گاگ کا معرب ہیں۔ بابل (عراق)میں دو طبقے آباد تھے ایک وہ جس کے پاس زمین تھی دوسرا وہ جو اس سے محروم تھا۔ جدید اصطلاح میں جاگیر دار اور مزدور طبقہ کہہ سکتے ہیں۔
	پھر میں نے حکیم اسپنوزا کا تذکرہ چھیڑا تو علامہ نے فرمایا کہ میری رائے میں اس کی اخلاقی تعلیمات، جناب مسیحؑ کی تعلیمات سے برتر ہیں۔ یہودی قوم میں صرف دو آدمی پیدا ہوئے جن کا نام قیامت تک زندہ رہے گا، یعنی جناب مسیحؑ اور حکیم اسپنوزا۔پھر فرمایا کہ حکیم اسپنوزا ایک اونچی قسم کی وحدت الوجود کا قائل تھا۔ جناب مسیحؑ کی ولادت بھی عام انسانوں کی طرح ہوئی تھی۔ میرا یہی خیال ہے، مذہب کی بنیاد عقل پر نہیں بلکہ باطنی تجربے پر ہے۔ لیکن جب کوئی شخص اپنے تجربے کو دوسروں کو سمجھانا چاہتا ہے تو وہ عقل سے کام لے سکتا ہے۔ یعنی ہم عقل کی مدد سے اپنے تجربے کو دوسروں کے لیے قریب الفہم بنا سکتے ہیں۔
	مذہب کی غایت ’’حضور ‘‘ ہے اور یہ کیفیت شعور کی گرفت میں نہیں آسکتی۔ انسان اس کیفیت کو بذریعہ الفاظ  بیان نہیں کر سکتا۔ خدا کا کامل طور سے ادراک کر لینا، عقل کے بس کی بات نہیں ہے۔ انسانی ذہن خدا کا کامل تصور نہیں کر سکتا۔ وہ صرف اس کے مظاہر کا تصور کر سکتا ہے۔ یعنی خدا کا ظہور جس طرح فطرت میں ہوتا ہے بس اس کا ادراک کر سکتا ہے۔

۲۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۰ء میکلوڈ روڈ
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔بقائے روح کے مسئلہ پر گفتگو میں فرمایا: ’’انسان کو اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی لازم ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو مفت نہیں ملتی۔ صرف وہ لوگ اس نعمت کو حاصل کر سکیں گے جو اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں گے۔ سکرات الموت میں بھی کوئی مصلحت ضرور پوشیدہ ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی بدولت خودی میں یہ طاقت پیدا ہو جائے کہ وہ انتشار سے محفوظ رہ سکے۔‘‘
	پھر فرمایا:’’شوپن ہاور کا نظریہ یہ ہے کہ آرزو منبع شر ہے،لیکن میری رائے میں یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ خواہشات کو فنا مت کرو بلکہ ان کو احکام شرع کے تابع کر دو‘‘۔

۳۔ یکم اکتوبر ۱۹۳۰ء میکلوڈ  روڈ
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہُوا۔ وحدت الوجود کے مسئلے پر گفتگو میں فرمایا :’’ایک صوفی جب اپنی باطنی واردات کا بیان کرتا ہے تو اسے وحدت وجود سے تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ ذات واحد، کائنات کی اصل ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب تصوف کے عنصر سے خالی نہیں ہے حتیٰ کہ سائنس میں تصوف کا رنگ جھلکتا ہے۔‘‘
	’’اسپنوزا، فلسفی تھا، صوفی نہیں تھا کیونکہ صوفی وہ ہے جو وراء العقل ذرائع سے علم حاصل کرتا ہے۔ اسپنوزا عقلی اعتبار سے حلول (Pantheism)کا قائل تھا۔ لیکن شیخ اکبر ابن عربی حلول کے قائل نہیں تھے کیونکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔‘‘
	ختم نبوت کے عقیدے پر گفتگو میں انہوں نے فرمایا کہ ’’ختم نبوت کے عقیدے کی ثقافتی قدر و قیمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیشہ کے لیے اعلان فرما دیا کہ آئندہ کسی انسان کے ذہن پر کسی انسان کی حکومت نہیں ہو گی۔ میرے بعد کوئی شخص دوسروں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری بات کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لو۔ ختم نبوت ایسا عقیدہ ہے جس کی بدولت انسانی علم کے دائرے کو وسعت نصیب ہو گئی۔
	’’علی محمد باب کی دریافت یہ ہے کہ جہاد منسوخ ہو گیا۔ صاحب الہام کے لیے کسی گرامر (صرف و نحو)کی پابندی لازمی نہیں ہے۔ یعنی الہام ایسی عبارت میں بھی ہو سکتا ہے جو گرامر کے لحاظ سے غلط ہو۔‘‘
	پھر فرمایا ’’حقیقت کا علم انسان کو کئی طریقوں سے حاصل ہو سکتا ہے۔ مثلاً مشاہدات حسی یا مشاہدہ باطنی (واردات قلبی )
	’’میں نے کبھی ایسا کوئی شعر نہیں کہا جسے اپنے قلب میں محسوس نہ کیا ہو، اور محض عقل کے زور سے کہہ دیا ہو۔ یعنی میرے اشعار میں فکر اور جذبہ دونوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔‘‘

۴۔۳ اکتوبر ۱۹۳۰ء میکلوڈ روڈ 
 	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کی کہ مذہب کا دارومدار عقل پر ہے یا جذبات پر؟
	’’یہ سوال ہی غلط ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ جب ایغو (خودی)اپنے گرد و پیش کی دنیا کا جائزہ لیتی ہے تو اس میں جذبہ،شعور اور ارادہ، تینوں کار فرما ہوتے ہیں۔مذہب کا تعلق انسان کے ان تینوں پہلوؤں سے ہے۔ کوئی جذبہ ایسا نہیں ہے جس میں خودی کے دوسرے پہلو (شعور اور ارادہ)شامل نہ ہوں۔انسان خالص جذبات یا خالص شعور یا خالص ارادے سے ناآشنا ہے۔ مثلاً علم الدین شہید کا جذبہ اس کی مکمل شخصیت کی گہرائی سے ابھرا تھا۔ اس میں شعور اور ارادہ بھی شامل تھا۔
	’’ایمان دراصل عمل کی استعداد کا نام ہے۔ اسلام ایسے ایمان کو پسند نہیں کرتا جو انسان کو عمل پر آمادہ نہ کر سکے۔’’
	’’وحی میں بھی شعور اور ارادے کے عناصر شامل ہوتے ہیں ‘‘۔ جو لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کا دل سوز دروں سے بیگانہ ہوتا ہے یعنی وہ متکلم نعش‘‘ ہوتے ہیں۔’’جو آدمی دوسروں کے لیے اسوہ (نمونہ)ہوتا ہے اس کی کوئی ’’پرائیوٹ زندگی نہیں ہوتی‘‘۔ یعنی وہ خلوت اور جلوت دونوں میں یکساں زندگی بسر کرتا ہے بالفاظ دیگر اس کے ظاہر اور باطن میں مطابقت ہوتی ہے۔

۵۔ اکتوبر ۱۹۳۰ء ۶ بجے شام میکلوڈ روڈ
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کی کہ مذہب اور نظریہ حلول (Pantheism)میں بنیادی فرق کیا ہے؟ فرمایا کہ نظریہ حلول کی رو سے خدائے مشخص کا وجود نہیں ہے۔ جبکہ مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ خدا ایک شخص (Person)ہے جو سنتا ہے، جواب دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ مذہب میں خدا کا تصور انسانی خودی کے رنگ میں کیا جاتا ہے، اور ہم تصور کرنے پر مجبور ہیں۔
	ہمارا تصور طاقت (Force)ہمارے تصور ارادہ سے ماخوذ ہے ’’آخر الامر اس بات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ صرف باطنی تجربہ ہی کسی مذہب کی صداقت کا معیار ہے۔ ہاں جب تم اپنے باطنی تجربے کو دوسروں کو سمجھاؤ گے تو عقل سے کام لے سکتے ہو۔ الہٰیات دراصل اپنے باطنی تجارب کو دوسروں کو بذریعہ عقل سمجھانے کا دوسرا نام ہے۔
	میں نے اسی زمانے میں خطباتِ مدراس کا پہلی مرتبہ مطالعہ کیا تھا۔ ان خطبات کی خوبیاں بیان کیں تو فرمایا ’’اگر یہ کتاب المامون کے عہد میں لکھی گئی ہوتی تو تمام دنیائے اسلام میں ایک غلغلہ برپا ہو جاتا’’۔ پھر فرمایا ’’دراصل میری یہ کتاب آیندہ فلسفہ اسلام پر قلم اٹھانے والوں کے لیے ایک مقدمے کا کام دے گی۔

۶۔۲۱  اکتوبر ۱۹۳۰ء۱۔۵ بجے شام میکلوڈ روڈ 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ملوکیت کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے یہ دریافت کیا کہ اسلام ملوکیت کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ فرمایا ’’اسلام کو ملوکیت سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ وہ ملوکیت کی ہر صورت کو مذموم قرار دیتا ہے۔ اسلام میں ملوکیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پھر فرمایا ملوکیت کی بنیاد انسان کا یہ جذبہ ہے، کہ وہ طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ دوسروں پر حکومت کر سکے اور اس طاقت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرا اس میں شریک ہو۔ِ
	ملوکیت کا طریق کار یہ ہے کہ بادشاہ،قوم میں تقسیم اور تفریق کا رنگ پیدا کرتا ہے تاکہ وہ ثالث کا فرض انجام دے سکے اور اس طرح متخاصم جماعتوں کو یقین دلاتا ہے کہ تمہاری عافیت کے لیے میرا وجود ضروری ہے۔
	ملوکیت کا ثمرہ یہ ہے کہ محکوم قوم میں (الف) فسق و فجور پیدا ہوتا جاتا ہے۔ (ب) اعلیٰ ادنیٰ اور ادنیٰ اعلیٰ ہو جاتے ہیں (ج) محکوم قوم رفتہ رقتہ اخلاق حسنہ سے عاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ملکہء سبا کا قول لائق مطالعہ ہے:
قالت ان الملوک اذا دخلواقریۃ افسلوھا وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ (النمل۔ ۳۳) 
(ترجمہ) ’’ملکہ نے کہا کہ بلا شک جب بادشاہ کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس میں فساد برپا کرتے ہیں (تباہ کر دیتے ہیں ) اور اس شہر کے معزز افراد کو ذلیل کر دیتے ہیں (تاکہ وہ سر نہ اٹھا سکیں )۔

۷۔۱۳دسمبر ۱۹۳۰ء  میکلوڈ روڈ
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ خدا اور انسان کے باہمی رشتے پر گفتگو چلی تو علامہ نے فرمایا:
’’حقیقی معنی میں صرف خدا ہی موجود ہے۔ انسان موجود ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
چو موج می تپد آدم بجستجوئے وجود 
ہنوز تا بہ کمر درمیانہ عدم است 
	پھر فرمایا:''God is in effort as seen through man" 
	پھر فرمایا:’’خدا کے سوا اور کوئی شے حقیقی معنی میں موجود نہیں ہے۔‘‘
	فرمایا کہ ’’اس بات کی تائید نہ فلسفے سے ہو سکتی ہے نہ الہٰیات سے کہ خدا وہاں ہے اور انسان یہاں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا اور انسان مدمقابل ہستیاں نہیں ہیں :
اگر خواہی خدا را فاش بنیی
خودی را فاش تر دیدن بیاموز
اگر زیری ز خود گیری زبر شو 
خدا خواہی؟ بخود نزدیک تر شو 
	ہیگل کا نظریہ یہ ہے کہ ’’میرا وجود خدا کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اس کا وجود میرے لیے‘‘۔ پھر فرمایا ’’موت بھی زندگی ہی کا ایک رخ (Aspect) ہے۔ اس لیے اس سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
	’’کوئی شخص ہمہ اوست کا مفہوم لفظوں کے ذریعے سے دوسرے کو نہیں سمجھا سکتا۔ اس کا تعلق وجدان سے ہے نہ کہ ادراک سے۔‘‘
	’’اگر ہم خدا، خودی یا کسی اور شے کو جوہر قرار دیں تو ان میں سے کسی کی ہستی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ صفات، جوہر میں پائی جاتی ہیں۔ یعنی وہ قائم بذات غیر ہیں ، اس لیے کوئی غیر یعنی جوہر ضرور موجود ہے۔ حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس لبے ہم خدا یا خودی کو جوہر نہیں کہہ سکتے‘‘۔

۸۔ ۴ستمبر ۱۹۳۱ء یوم جمعہ۔۵بجے شام۔میکلوڈ روڈ
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ موصوف یکم ستمبر کو لاہور سے روانگی کا قصد کر چکے تھے مگر فوری علالت کی وجہ سے التوا واقع ہو گیا۔
	میں نے عرض کی کہ آپکے الٰہ آباد کے خطبہ ء صدارت کو میں اپنے اشاعت اسلام کالج کے طلبہ کو سبقاً سبقاً پڑھا رہا ہوں۔ فرمایا تم نے اچھا کیا، مگر اس میں دوامی قدر و قیمت(Permanent Value) کی چیز تو صرف شروع کا حصہ ہی ہے، یعنی اسلام اور قومیت۔ اسے خاص توجہ سے پڑھنا چاہیے اور اگر ہو سکے تو اس کی شرح لکھنی چاہیے۔
	پھر فرمایا ’’شاید مسلمانوں نے کسی سیاسی خطبہ کو اس ذوق و شوق سے نہیں پڑھا ہو گا جیسے اس خطبے کو پڑھا ہے، اور نہ اس قدر زیادہ افراد نے کسی خطبے کو اس قدر لائق اعتنا سمجھا ہو گا‘‘۔
	میں نے عرض کی کہ ایمان اور عقل میں کیا رشتہ ہے؟ فرمایا ’’دونوں جداگانہ چیزیں ہیں۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ بعض کی رائے میں عقل بمنزلہ خادم ہے اور ایمان مخدوم ہے، وغیرہ۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ ان کو مخلوط نہ کیا جائے، دونوں اپنی اپنی جگہ رہیں۔
	حضور انور سے جبریل علیہ السلام نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ تو زبان سے کلمہ ء شہادت ادا کرے، نماز پڑھے، روزہ رکھے، زکوٰۃ دے، اور اگر استطاعت ہو تو حج کرے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ پر، ملائکہ پر، کتابوں پر، رسولوں پر، قدر خیرو شر من اللہ پر اور یوم آخرت پر۔ پھر انہوں نے پوچھا احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ حالت ممکن نہ ہو تو پھر یہ محسوس کر گویا وہ تجھے دیکھ رہا ہے‘‘۔
	حدیث بیان کرنے کے بعد علامہ نے فرمایا کہ ’’یہ اسلام ہی کے تین مراتب ہیں اور ایمان اور احسان میں بہت تھوڑا سا فرق ہے۔ یہ احسان والی کیفیت ہی دراصل اسلام کی روح ہے اور کیفیت ایمان عمل صالح سے پیدا ہوتی ہے‘‘۔
	پھر فرمایا ’’ایمان کے جس قدر ارکان ہیں وہ سب کے سب، عقل کے حیطہء اقتدار سے باہر ہیں۔ عقل زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی ہے کہ ان کے ممکن یا غیر ممکن ہونے کا فتویٰ دیدے مثلاً: (الف)
Whether the concept of "God" is logically possible or not.
 یعنی تصور ذات باری عقلاً ممکن ہے یا نہیں ؟ اب ظاہر ہے کہ قیامت، حشرونشر، وزن اعمال، جنت و نار وغیرہ کا ہمیں کوئی شخصی تجربہ نہیں ہے۔ اس لیے عقل ان امور سے متعلق نفیاً یا اثباتاً کچھ نہیں کہہ سکتی۔ وہ تو صرف مادیات میں چل سکتی ہے۔ یا ان باتوں میں جو ہمارے تجربے یا مشاہدے میں آ چکی ہیں۔ مثلاً جزو اپنے کل سے چھوٹا ہوتا ہے‘‘۔
	پھر فرمایا ’’جیسا کہ میں کئی دفعہ واضح کر چکا ہوں ، ہم خدا کو مجرد عقل سے نہیں پا سکتے(عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی)اسے باطنی مشاہدے یا تجربے کی بدولت جان سکتے ہیں اور مذہب جیسا کہ ارباب علم جانتے ہیں تجارب کے ایک طویل سلسلے کا نام ہے۔چونکہ خدا لامتناہی(Infinite) ہے اور وہ ہر لمحہ نئی تجلی فرماتا ہے   کماقال:۔ کل یوم ھو فی شان  (۲۷۔۲۹)
	’’یعنی حق تعالیٰ ہر لمحہ اپنی ذات کی نئی تجلی کرتا رہتاہے۔ اس لیے اس کی ہستی سے متعلق ہمارے مشاہدات اور تجارب باطنی بھی لامتناہی ہیں۔ نیز، یہ ضروری تو نہیں کہ ہمارا آج کا تجربہ کافی یا آخری یا معیاری قرار پائے۔ عین ممکن ہے کل ہمیں بہتر اور برتر تجربہ حاصل ہو جائے۔
	پس ثابت ہوا کہ ایمان ایک ترقی پذیر کیفیت ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ بات قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ ایمان میں کمی، بیشی ہو سکتی ہے:۔ واذاتلیت علیھمٰ ایتہ زادتھم ایمانا (۱۱:۶۴)اور جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو زیادہ کر دیتی ہیں ان کے ایمان کو۔
	پھر فرمایا’’ ہاں عقل کو اس حالت میں مذہبی عقائد یا مسلمات پر تنقید کا حق حاصل ہے جب وہ مسلمات، تحکمانہ (Dogmatic) رنگ میں پیش کئے جائیں مثلاً فلاں بات پر ایمان لے آؤ ورنہ نجات نہیں ہو گی۔ الحمد اللہ اسلام میں کوئی Dogma نہیں ہے، یعنی اسلام کسی بات کو زبردستی نہیں منواتا۔ قرآن جس قدر عقائد تلقین کرتاہے، ان کی راستی پر دلائل عقلیہ مرتب کرتا ہے۔
	پھر فرمایا’’ اگر ایک شخص کو اپنی ذات میں خدا کی ہستی کا تجربہ یا مشاہدہ ہو گیا ہے تو پھر عقل کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس میں دخل دے۔ اور سچ پوچھو تو عقل کو اس باطنی تجربے اور مشاہدے سے سروکار بھی کیا ہو سکتا ہے؟ یہ تجربہ تو عقل کی رسائی سے بالاتر ہے۔ جب کوئی شخص اچھا شعر کہتا ہے یا اچھی تصویر بناتا ہے تو اس پر تنقید کے لیے کسی مہندس یا منجم کے پاس نہیں جاتا بلکہ کسی شاعر یا مصور کے پاس جاتا ہے۔ لہٰذا ایک فلسفی یا منطقی،کسی باطنی مشاہدے پر کس طرح تنقید کر سکتا ہے۔ یاد رکھو! مذہبی تجارب(مشاہدات باطنی) عقل کی دسترس سے باہر ہیں۔
	آخر میں عودالی المقصود کے انداز میں فرمایا کہ ایمان اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کو عمل پر آمادہ کر دے۔ یعنی مومن وہ ہے جس سے اعمال صالحہ خلوص قلب کے ساتھ سرزد ہوں ، نہ اس لیے کہ وہ دوزخ سے خوفزدہ ہے یا جنت کا آرزو مند ہے۔ بلکہ اس لیے کہ اس کی ذہنیت ہی ایسی ہو گئی ہے کہ اگر وہ اعمال حسنہ ادا نہ کرے تو اسے راحت قلبی نصیب نہیں ہو سکتی۔ بالفاظ دیگر نکو کاری اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے۔ کم از کم میں اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ ایک آدمی مومن بھی ہو اور بد کار بھی ہو۔ ہاں ایک مسلم گناہ کا ارتکاب کر سکتا ہے۔

۹۔ ۲۷ مئی ۱۹۳۲ء،۸ بجے دن،میکلوڈ روڈ 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ڈرائینگ روم میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے۔ میں رسالہ ’’نگار‘‘ لکھنؤ بابت ماہ مئی ساتھ لایا تھا۔ اس میں ان کی شاعری پر فنی نقطہ نگاہ سے تنقید کی گئی تھی۔ اسے پڑھ کر فرمایا ’’ خدا جانے مسلمانوں کو یہ توفیق کب حاصل ہو گی کہ وہ وزن اور بحر سے بالاتر ہو کر معانی تک پہنچنے کی کوشش کریں گے‘‘۔ اس کے بعد دیر تک شاعری کے مقصد پر گفتگو کی۔
	پچھلی ملاقات میں ‘ میں نے عرض کی تھی کہ اسرار خودی کے بعض اشعار آپ سے سمجھنا چاہتا ہوں۔ چونکہ اس امر کی اجازت دے دی تھی، اس لیے آج اسرار خودی بھی ساتھ لایا تھا۔ اشارہ پا کر میں نے پہلا مصرع پڑھا:
پیکر ہستی ز آثار خودی است
	فرمایا ’’ہر شے میں خودی موجود ہے۔ پتھر ہی کو لے لو۔ اگر تم کمزور ہو تو تم سے اٹھائے نہیں اٹھے گا۔ اس میں وزن ہے اور یہی اس کی خودی ہے۔ درخت کو کاٹو تو مشکل سے کٹے گا۔غرض ہر                 شے کسی نہ کسی رنگ میں قوت مزاحمت (Power of resistance)رکھتی ہے اور یہی اس کی خودی ہے۔ یہی اس کی ہستی کا ثبوت ہے، کہ وہ ہے۔
	فرمایا کہ ایغو کے لیے غیر ایغو(Non ego)کا ہونا ضروری ہے، جب تک آپ غیر کو ثابت نہ کریں ،ایغو کو ثابت نہیں کر سکتے۔ ایغو کو مشخص کرنے کے لیے اسے اغیار سے متمیّز کرنا ضروری ہے،اور اس امتیاز کے لیے دوسری اشیا کا وجود ضروری ہے جن کے مقابلے میں یا موجودگی میں ذہن کسی خاص شے کے وجود کا تصور کر سکتا ہے۔ الغرض انا کے لیے غیر کا وجود ضروری ہے:
باطل از قوت پذیر د شان حق
	فرمایا کہ قوت ایسی شے ہے کہ اگر یہ حاصل ہو جائے تو باطل میں بھی حق کی ایک شان پیدا ہو جاتی ہے اور اس میں شک بھی کیا ہے۔ نصرانیت کو دیکھ لو۔ چونکہ اس وقت اس کے پیروؤں کو قوت حاصل ہے، اس لیے بہتوں کے حق میں باعث مزلت اقوام نبی ہوئی ہے:
زندگانی محکم از تقنطوا است
	فرمایا ’’یاد رکھو غم اور خوف یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں کہ خودی کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اور ایک مسلمان جب تک ان دو عیبوں سے پاک نہ ہو جائے حقیقی معنی میں مسلمان نہیں ہو سکتا اور ان کے ازالے کی صورت یہ ہے کہ انسان، توحید الٰہی کو اپنے دل میں پختہ کر لے، بایں طور کہ پھر شک دل میں راہ نہ پا سکے۔ یعنی اسے یہ یقین ہو جائے کہ جب تک خدا نہ چاہے، کوئی طاقت مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ پھر اس کے دل میں نہ حزن راہ پا سکتا ہے نہ خوف۔اگر غیر اللہ کا خوف کسی درجے میں بھی دل میں موجود ہے تو خودی کبھی ہرگز نہیں ابھر سکتی:
بیم غیر اللہ عمل را دشمن است
	فرمایا ’’ہم جملہ مظاہر فطرت سے ڈرتے ہیں ، زلزلے سے آگ سے، امراض سے، سانپ سے، تاریکی سے، شیر سے، وغیرہ۔ محض اسی لیے کہ ہم موت سے ڈرتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ موت ایک مرحلہ ہے جو روحانی ترقی کے سلسلے میں لازماً پیش آتا ہے تو ہم موت سے خوفزدہ نہیں ہو سکتے ‘‘۔ موت بھی زندگی ہی کی ایک شان (Aspect)ہے۔ موت زندگی کے خاتمے کا نام نہیں ہے بلکہ موت وہ دروازہ ہے جس میں سے ہو کر ہم نئی دنیا میں داخل ہوتے ہیں ‘‘۔
	’’کائنات میں کوئی شے تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جب ہم کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کائنات سراب (Illusion)ہے۔ بلکہ یہاں جو کچھ ہے مومن کی نگاہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا مطمح نظر بہت بلند ہوتا ہے۔ وہ مادی ساز و سامان سے مطلق مرعوب نہیں ہوتا، کیونکہ ہر شے فانی ہے‘‘۔
	’’اگر ہم یہ یقین کر لیں کہ کائنات میں یا میں ہوں یا خدا ہے‘ تیسری کوئی ہستی نہیں ہے، تو پھر خوف کیسا؟ یعنی ہم مومن اس وقت بن سکتے ہیں جب خدا کے سوا کسی کا وجود ہماری نگاہ میں نہ سمائے۔
رمز قرآں از حسینؓ آموختیم 
	فرمایا کہ تعلیمات قرآنی کی روح یہ ہے کہ مومن وہ ہے جو باطل کا مقابلہ کرے اور مطلق ہراساں نہ ہو۔ یعنی ایسے موقع پر نفع یا نقصان کا خیال دل میں نہ لائے، شہید کو شہید اسی لیے کہتے ہیں کہ  وہ اپنے معتقدات کی سچائی پر اپنے خون سے گواہی دیتا ہے۔
	ایک فرنچ مصنف نے لکھا ہے کہ اسلام ایک آسان مذہب ہے۔ والٹیر نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ اسلام آسان مذہب نہیں ہے، دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنا، موسم گرما میں روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا اور حج کرنا، یہ باتیں آسان نہیں ہیں۔ میں نے دل میں کہا اسلام کی حقیقت سے نہ معترض واقف ہے نہ مجیب بے شک اسلام نے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا حکم دیا ہے مگر اسلام کا نصب العین ان ارکان سے بالاتر ہے۔ نماز پڑھنی آسان ہے مگر باطل کے مقابلے میں صف آرائی ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ انسان جان دے دے مگر فرعون کے سامنے سر نہ جھکائے:
ماسوا اللہ را مسلماں بندہ نیست 
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
	ہمارے زمانے میں انور پاشا شہید نے اسی اصول پر عمل کیا۔ انہوں نے ترکستان میں آزاد اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ چونکہ مشیت ایزدی کو منظور نہ تھا اس لیے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ مگر انہوں نے روسیوں کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ بلکہ مردانہ وار موت کو لبیک کہا اور ابدی زندگی حاصل کرلی۔
در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست
ہمچو مرداں جاں سپردن زندگیست

۱۰۔ ۳جون ۱۹۳۲ء، یومِ جمعہ، میکلوڈ روڈ‘۵ بجے شام 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باہر بیٹھے تھے اور ایک صاحب سے اپنی کوٹھی کے لیے زمین کی خریداری کے مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے۔ میں خاموش بیٹھا رہا۔ جب وہ صاحب چلے گئے تو آپ نے حقے کے چند کش لیے اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا ’’مجھے مسلمانوں کی حالت پر رونا آتا ہے۔ ان میں غیرت کا مادہ بہت کم رہ گیا ہے۔ اسی لیے انہیں اب اتنی تمیز بھی نہیں ہے کہ جس کی وہ خوشامد کرتے ہیں اس سے انہیں کچھ فائدہ بھی حاصل ہو گا یا نہیں۔ جس شخص کو صاحب اقتدار دیکھتے ہیں اس کی خوشامد  کرنے لگتے ہیں۔ اور یہ مسئلہ کہ جسے وہ فائدہ سمجھتے ہیں دراصل اس کی قیمت (Value) کیا ہے، اس قدر اونچا کہ اس تک ان کے ذہنوں کی رسائی بھی نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد مجھے پڑھنے کے لیے اشارہ کیا۔ میں نے یہ شعر پڑھا:۔
شعلہ ہائے او صد ابراہیمؑ سوخت
تا چراغِ یک محمدؐ بر فروخت
فرمایا ’’اس سے پہلے یہ شعر آ چکا ہے:
عذرِ ایں اسراف و ایں سنگیں دلی
خَلق و تکمیلِ جمالِ معنوی 
	مطلب یہ ہے کہ فطرت بظاہر خونریزی کرتی ہے لیکن جمال باطنی کی تکمیل اسی سے ہوتی ہے۔ جب ملائکہ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی‘ خلافت ارضی ہمیں عطا کی جائے۔ انسان تو بہت خصیم اور خونریز ہے اور ہم ہر وقت آپ کی تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں تو اللہ نے ان کی تردید تو نہیں کی مگر یہ فرمایا:اِنّیْ اَعْلَمُ مَا لَاْ تَعْلَمُوْن یعنی خدا نے کائنات کی تخلیق ایک خاص نہج پر کی ہے۔خصومت اور سفک دم، دونوں باتیں انسان کی فطرت میں ودیعت کی ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو تکمیل جمال معنوی کے لیے کوئی اور صورت پیدا کر سکتا تھا، مگر اس نے یہی پسند کیا کہ جدوجہد اور جنگ و جدل سے جمال کی تکمیل ہو۔ اسی لیے اس نے فرشتوں کو ا س کام کے لیے منتخب نہیں کیا کیونکہ ان کے اندر خصومت اور خونریزی کا مادہ نہیں۔ جبکہ پیکار اور جدال انسان کی سرشت میں داخل ہے۔
	فطرت میں بظاہر خونریزی اور تباہ کاری نظر آتی ہے۔ بہت ضیاع ہوتا ہے اس کے بعد کوئی عمدہ شے تیار ہوتی ہے۔ مثلاً لاکھوں پھول آتے ہیں ، اکثر ضائع ہو جاتے ہیں ، چند پھولوں پر پھل لگتے ہیں۔ لاکھوں بچے پیدا ہوتے ہیں اکثر مر جاتے ہیں ، کمتر پروان چڑھتے ہیں۔ اسی طرح خودی کے شعلے نے سیکڑوں ابراہیم پیدا کر کے فنا کر دیے۔ تب جا کر ایک انسان کامل پیدا ہوا۔ یہ صورت اس لیے مد نظر ہوئی کہ انسان جدوجہد کرنے کے بعد تکمیل جمال کر سکے۔
	اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  الّٰذی خَلَقَ فَسَوّٰی وَالّٰذِیْ قَدَّرَ فَھَدٰی
یعنی پیدا کیا، پھر درست کیا (مناسب حال صورت بخشی)پھر اندازہ مقرر کیا کہ اس حد تک ترقی ممکن ہے۔ پھر اس حد تک پہنچنے کے لیے ہدایت عطا کی۔ اس کے بعد آزادی عطا کی کہ جدوجہد کرے۔ زندگی از اول تا آخر عمل سے عبارت ہے سکون موت ہے۔
شعلہ خود در شرر تقسم کرد 
جز پرستی عقل را تعلیم کرد
	فرمایا ’’عقل ‘کل کو نہیں دیکھ سکتی صرف جز کو دیکھ سکتی ہے کیونکہ وہ زنجیر ی زمان و مکان ہے۔ کل کو صرف وجدان پا سکتا ہے، کیونکہ وجدانی حالت میں نفس ناطقہ ،قید زمان و مکان سے آزاد ہو جاتا ہے:
علم از سامان حفظ زندگی است 
	فرمایا :’’علم و فن کا مقصد اصلی، محض آگاہی نہیں ہے بلکہ یہ کہ انسان علم کی بدولت اپنی زندگی اور خودی کی حفاظت کے طریقوں سے آگاہ ہو جائے۔ مذہب کا مقصد بھی یہی ہے۔ جو لوگ ’’فن برائے فن‘‘ کے قائل ہیں ، وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ فلسفہ، آرٹ اور مذہب، اگر خودی کی حفاظت میں معاون نہ ہوں تو بالکل بیکار ہیں :
در اطاعت کوش اے غفلت شعار
می شود از جبر پیدا اختیار
	فرمایا ’’خودی کی تربیت میں پہلا مرحلہ اطاعت ہے۔ اسی لیے اسلام کے معنی ہیں احکام شرع کی بلا چون و چرا اطاعت کرنی۔ جب انسان احکام شرع کی اطاعت کرتا ہے تو اس میں اختیار کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے یعنی وہ صاحب اقتدار ہو جاتا ہے۔ حقیقی آزادی (حریت)احکام الٰہی کی تعمیل ہی سے پیدا ہوتی ہے۔
	کائنات پر نظر ڈالو۔ جو شے قیمتی اور معزز ہے وہ اطاعت ہی کی وجہ سے ہے۔ ہوا جب پھول میں مقید ہوتی ہے تو خوشبودار بن جاتی ہے۔ اسی طرح مرد مومن، اطاعت سے مراتب عالیہ حاصل کرتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو سختی، آئین کی شکایت کرنی زیبا نہیں ہے۔ اور نہ آئین میں تاویل کرنی چاہیے۔
	اطاعت سے ضبط نفس کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ انسان دو عناصر سے مرکب ہے‘ خوف اور محبت۔ ان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف مائل رہتا ہے اور یہ دنیا طلبی اسے فحشاء اور منکرات پر ابھارتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ مسلمان یہ عقیدہ اپنے دل میں راسخ کر لے کہ اللہ کے سوا اور کوئی ہستی مجھے نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ’’لا الہ‘‘ کا عصا اس قدر طاقتور ہے کہ خوف اور محبت کے طلسم کو چشم زدن میں باطل کر دیتا ہے۔ دیکھ لو! حضرت ابراہیمؑ نے اپنے فرزند کے گلے پر چھری رکھ دی، کیوں ؟ محض اس لیے کہ انہیں اللہ کے سوا اور کسی سے محبت نہیں تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل کو قیامت تک مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا کہ مومن وہ ہے جس کے دل میں خدا کے سوا اور کسی کی محبت نہ ہو۔ خالد جانباز کو ’’سیف اللہ‘‘ کا لقب اسی چیز نے دلوایا کہ وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔
	آخر میں فرمایا کہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ زبان سے مت کہو بلکہ دل سے کہو۔ یعنی اس بات پر کامل یقین رکھو کہ خدا کے علاوہ کوئی ہستی تم پر قاہر اور غالب نہیں ہے۔ جب ما سویٰ اللہ کا خوف اور اس سے امید، یہ دو باتیں دل سے نکل جاتی ہیں تو مسلمان، مومن بن جاتا ہے۔

۱۱۔ ۱۵۔ اپریل ۱۹۳۳ء
	ادارہ معارف اسلامیہ کے پہلے اجلاس منعقدہ لاہور میں علامہ اقبال مرحوم نے اپنا افتتاحی خطبہ پڑھا تھا۔ اس میں سے چند اقتباسات ذیل میں درج کرتا ہوں۔
’’عصرِ حاضر کے مسلمان، علم کلام کی بحثوں کے مقابلے میں اسلام کی ثقافتی تاریخ سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور اسی لیے مسلمان ملکوں میں ثقافت جدیدہ کے تصورات کو اپنے اندر جذب کرنے کا میلان پیدا ہو گیا ہے‘‘۔
	انسان نے ہمیشہ سے کائنات میں نظم و ربط باہمی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور قرآنی تعلیمات کی رو سے نظم وضبط (Order) اس کائنات کی سرشت میں داخل ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ:
ما تَرٰی فِی خَلَقِ الرَّحْمٰنِ مِن تَفٰوُت فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَریٰ مِنْ فُطُوْر(اے انسان)تو اللہ کی تخلیق میں کہیں تفاوت نہ پا سکے گا۔(اگر تجھے شک ہو تو)دوبارہ نگاہ (غور)کر کے دیکھ لے، کیا تو کہیں کوئی شگاف (فساد)دیکھتا ہے؟
	’’تمام سائنس اس یقین پر مبنی ہے کہ کائنات میں نظم و نسق پایا جاتا ہے۔ چانچہ جدید سائنس اسی مفروضے سے شروع ہوتا ہے۔ اور اگر یہ مفروضہ صحیح ہے تو پھر علم کا صحیح ذریعہ صرف تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ آیت مذکورہ بالا جدید سائنس اور اسلام میں استقرائی طریق کا سنگ بنیاد ہے۔
	سب سے پہلے مسلمان ماہرین فلکیات نے بطلیموسی نظام کی صحت اور واقعیت میں شک کیا۔ اور اس طرح کا پر نیکی نظام کی بنیاد پڑی۔
	’’موجودہ عہد کے مسلمان علما اور حکما کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ اس مجوسی گردو غبار کو دور کریں جس نے اسلام کے محاسن کو ہماری نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے‘‘

۱۲۔ یکم مئی ۱۹۳۳ء میکلوڈ روڈ 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں اپنے ساتھ مسلم ریوائیول کا دسمبر نمبر لے گیا تھا۔ اس میں علامہ کا وہ لیکچر شائع ہوا تھا جو انہوں نے مجلس ارسطو لندن میں دیا تھا۔ میں نے عرض کی کہ اس کا اردو ترجمہ کرنے کی اجازت دے دیجئے تو فرمایا کہ میں نے پروفیسر سید نذیر نیازی (جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی)سے ترجمہ کے لیے کہہ دیا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جناب میکش (مرتضیٰ احمد مرحوم)ملنے آ گئے۔ انہوں نے ایسڑن ٹائمز (اس زمانے میں لاہور سے شائع ہوتا تھا)کے ایک مضمون کو علامہ کے سامنے پیش کیا۔ پڑھ کر فرمایا بڑا افسوس ہے کہ روسی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔ اس کے لیے تو مسلمانان عالم کو کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔
	اس مضمون کو پڑھ کر کمیونزم اور بالشوزم پر تبصرہ فرمایا اور اس ضمن میں جاوید نامے سے چند اشعار جو ان تحریکوں سے متعلق ہیں ، پڑھ کر سنائے۔
	اس کے بعد مسٹر نور احمد چیف رپورٹر سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ملنے آ گئے ان سے تھوڑی دیر تک بعض سیاسی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ وہ چلے گئے تو علامہ نے میکش صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’چند روز ہوئے سردار عب دالرسول خاں اور ان کے ایک دوست میرے پاس آئے تھے، کہتے تھے کہ ’’ہم دونوں ابھی فریضہ حج سے فارغ ہو کر آئے ہیں۔ سلطان ابن سعود نے بہت برا کیا کہ زائرین کو روضہ اقدس کی جالیوں کو بوسہ دینے سے روک دیا۔ مجھے سلطان نے عصرانے پر مدعو کیا تھا لیکن میں نے ان کی دعوت اس لیے رد کر دی کہ انہوں نے ہمارے جذبات کا احترام نہیں کیا۔‘‘ یہ سن کر میکش کہنے لگے کہ میری رائے میں سلطان نے بہت اچھا کیا۔ کیونکہ جالیوں کو بوسہ دینا ایک مشرکانہ فعل ہے۔ اس پر علامہ نے فرمایا کہ میں اس بات میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ اگر کوئی شخص فرط محبت سے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لے اور اس کی پیشانی چوم لے تو یہ شرک کیسے ہو گیا؟ یہ تو اظہار محبت ہے۔ اسی طرح حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کی جالیوں کو چومنا، مشرکانہ فعل نہیں ہے بلکہ حضور انورؐ سے محبت کا اظہار ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص آنحضرت میں خدائی صفات تسلیم کرتا ہے یا آپ کو الوہیت میں شریک کرتا ہے تو وہ بلاشبہ مشرک ہے۔ مجھے بخوبی معلوم ہے کہ جو مسلمان جالیوں کو چومتے ہیں وہ فرط محبت و عقیدت سے ایسا کرتے ہیں اور یہ فعل مشرکانہ نہیں ہے۔
	اس پر میکش کہنے لگے کہ محبت یہ نہیں ہے کہ جالیوں کو بوسہ دیا جائے، محبت یہ ہے کہ محبوب کے Cause(مقصد حیات)کی حمایت کی جائے یا اس کی اتباع کی جائے۔ یہ سن کر علامہ لیٹے سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آپ کو یہ غلطی، محبت کے مدارج میں امتیاز نہ کر سکنے کی وجہ سے لاحق ہوئی ہے۔ محبت کے مختلف مدارج ہیں۔ اگر ایک شخص محبت میں اس قدر بلند مرتبہ حاصل کر لے کہ محبوب کے رنگ میں رنگین ہو جائے یا اس کے لیے اپنی جان قربان کر دے تو یہ اس کی انتہائی خوش نصیبی ہے۔ مگر سب لوگ اس بلند مرتبے تک نہیں پہنچ سکتے۔ جو شخص اپنے محبوب کے لیے جان نہیں دے سکتا ظاہر ہے کہ اس کی محبت ادنیٰ درجے کی ہے لیکن آپ اس کی محبت کی مطلق نفی نہیں کر سکتے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے سرے سے محبت ہی نہیں۔
	آپ محبت کو منطق کے پیمانے سے ناپنا چاہتے ہیں۔حالانکہ یہ اصول ہی غلط ہے۔ محبت، منطق سے بالاتر ہے۔ یہاں Higher logicکی حکومت ہے۔ ارسطو اور مل کی منطق بیکار ہے۔ محبت کیا شے ہے؟ لفظوں کے ذریعہ سے اس کا اظہار بہت مشکل ہے۔ اور محبت کا تجزیہ کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے:ع۔’’ ذوق این بادہ ندانی بخدا تا نچشی‘‘ والا معاملہ ہے اس کا تعلق دماغ سے نہیں ہے، دل سے ہے۔اگر آپ کے وضع کردہ اصول کو صحیح تسلیم کر لیا جائے کہ جو شخص جس قدر زیادہ متبع رسول ہے اسی قدر زیادہ رسول سے محبت کرتا ہے یعنی اگر محبت کا معیار، اتباع رسول قرار دیا جائے تو آپ علم الدین شہید کے بارے میں کیا کہیں گے؟ وہ تو نماز کا بھی پابند نہ تھا اتباع رسول تو بڑی چیز ہے؟
	دراصل یہ سب کچھ، انسان کے مزاج Temperament پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی عقل  ان کی محبت کے تابع ہوتی ہے اور بعض کی محبت ان کی عقل کے تابع ہوتی ہے، اور دونوں قسم کے آدمی دنیا میں پائے جاتے ہیں مثلاً:
	حضرت علیؓ اگرچہ علم و فضل کے اعتبار سے بہت بلند مرتبے پر فائز تھے لیکن حُبِّ رسولؐ کا جذبہ ان کی عقل پر غالب تھا۔ وہ بعض باتیں ایسی کرتے تھے جن پر منطقی اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ مثلاً وہ  جب کبھی اس درخت کے نیچے سے گُزرتے تھے جس کے نیچے سے ایک مرتبہ حضور انور ﷺگزرے تھے ‘تو جھک کر گزرتے تھے حالانکہ، وہ قصیرالقامتہ تھے۔ اس لیے اس کی مطلق ضرورت نہ تھی، جب لوگوں نے سبب دریافت کیا تو کہا حضور انور جھک کر گزرے تھے۔ میں جھک کر ‘ اپنے محبوب کے فعل کی تقلید کرتا ہوں۔
	دوسری مثال حضرت با یزید بسطامیؒ کی ہے جنہوں نے ساری عمر خربورہ نہیں کھایا کیونکہ انہیں کوئی حدیث ایسی نہیں ملی جس سے حضور کا خربوزہ کھانا ثابت ہو جاتا۔ اسی لیے میں نے لکھا ہے:
کامل بسطام در تقلید فرد 
اجتناب از خوردنِ خربوزہ کرد
	ان کے برعکس، حضرت فاروق اعظمؓ کی عقل ان کی محبت پر غالب تھی، اسی بنا پر انہوں نے وہ درخت کٹوا دیا جس کے تنے سے حضور انور نے پشت مبارک لگائی تھی۔ اگر ان کی محبت علیؓ کی محبت کی طرح ہوتی تو ہرگز وہ درخت نہ کٹواتے۔
	قصہ مختصر علیؓ اور عمرؓ کو حضور سے محبت تھی لیکن طبائع کے اختلافات کی بنا پر ان کی محبتوں کی نوعیت اور کیفیت جداگانہ تھی۔ ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی افتاد طبع کی روشنی میں جو رنگ مرغوب نظر آئے، اختیار کر لے۔ اس میں کسی مباحثے کی ضرورت نہیں بلکہ گنجائش ہی نہیں ہے۔
	چونکہ حضرت علی ؓ کی محبت Human type عام انسانی ٹائپ کی ہے اس لیے وہ عموماً لوگوں کو اپیل کرتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کی محبت Superhuman type فوق البشر نوعیت کی ہے اس لیے کم لوگوں کو پسند آتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے، کہ عموماً لوگوں پر جذبات کا رنگ غالب ہوتا ہے عقلی ٹائپ کے آدمی بہت کم ہوتے ہیں۔
	دیکھ لو!آنحضرت بمقابلہ دیگر پیشوایان مذاہبِ عالم، مسلمانوں کو زیادہ اپیل کرتے ہیں۔ اس کی، وجہ یہ ہے کہ وہ ہم میں ہی سے ہیں قُلْ اِنَّما اَنَا بَشَرُ‘مِّثْلَکُمْ تصور ذات باری تعالیٰ کا ذکر آیا تو فرمایا قرآن مجید کا پیش کردہ تصور ہمیں زیادہ اپیل کرتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا   ادُعْوُنِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ گویا اس طرح بندے اور خدا (عابد اور معبود)میں ایک روحانی رابطہ قائم ہو جاتا ہے اور یہ رابطہ ہی مذہب کی جان ہے۔
	معتزلہ کا پیش کردہ تصور باری‘ عام مسلمانوں کو اپیل نہیں کر سکتا کیونکہ ان کی رو سے خدا نہ سمیع ہے نہ بصیر نہ علیم ہے نہ مجیب۔ بلکہ میری تورائے یہ ہے کہ ایسے خدا کو ماننے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

۱۳۔ ۱۸ فروری ۱۹۳۴ء میکلوڈ روڈ 
	ایک عرصے کے بعد حضرت علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ غزنی کے رہنے والے ایک احمدی بزرگ عبدالقادر نامی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت علامہ نے انہیں مجھ سے متعارف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صاحب ۱۹۱۸ء میں ہندوستان آئے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد قادیانی مذہب اختیار کر لیا، اس لیے افغانستان واپس نہیں گئے۔آج کل احمدیہ بلڈنگس میں مقیم ہیں اور گاہے گاہے میرے پاس آتے رہتے ہیں۔
	اس تعارف کے بعد انہوں نے علامہ سے کہا کہ مسلمانان عالم کے ادبار سے میرا دل خون ہو رہا ہے، مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس قوم سے اپنی توجہ بالکل ہٹا لی ہے (ان کے الفاظ یہ تھے کہ مونہہ موڑ لیا ہے)
	علامہ نے فرمایا،میرا خیال ہے کہ خدا نے ان سے مونہہ نہیں موڑا بلکہ خود انہوں نے قرآن سے مونہہ موڑ لیا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔ میں یہ بات آج سے بیس سال پہلے کہہ چکا ہوں۔
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
	تاہم جائے شکر ہے کہ ابھی ان کی حالت ہنود یا یہود کی سی نہیں ہوئی ہے۔ علاوہ بریں مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ انہیں دوبارہ عروج حاصل ہو گا۔ خدا نے ۱۹۱۷ء میں ایک موقع دیا تھا مگر افسوس!
	اس کے بعد عبدالقادر صاحب نے مسیحؑ اور مہدی کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ 
	اس پر علامہ نے فرمایا کہ میری رائے میں مسیح اور مہدی کے نزول کا تخیل سراسر غیر اسلامی ہے۔ قرآن حکیم میں ان بزرگوں کی دوبارہ تشریف آوری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں نزول مہدی کا مطلق ذکر نہیں ہے۔ ہاں، مسیح کی آمد ثانی سے متعلق دو حدیثیں ضرور موجود ہیں مگر جب قرآن میں اس کی آمد ثانی کا کوئی وعدہ نہیں ہے تو لامحالہ ان کو ناقابل اعتماد قرار دینا پڑے گا۔ مسیح اور مہدی کا انتظار کرتے رہنے کے بجائے خود مسلمانان عالم ہی وہ کام کیوں نہ کریں جو وہ مسیح اور مہدی سے متعلق سمجھتے ہیں۔
	میں نے علامہ کی توجہ شری جواہر لعل نہرو کی خود نوشتہ سوانح حیات میں اس عبارت کی طرف مبذول کی جس میں انہوں نے Organised Religionسے نفرت اور اس کی ضرر رسانی کا ذکر کیا ہے فرمایا ’’ پنڈت جی نے مذہب سے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جو لوگ مذہب کی حقیقت سے ناواقف ہیں وہ عموماً یہی کہتے ہیں کہ وہ تعصب اور تنگدلی سکھاتا ہے۔
	حالانکہ موجودہ نیشنلزم (وطنیت کا نظریہ)مذہب سے زیادہ تعصب اور تنگدلی سکھاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جنگوں کا سبب یہی نیشنلزم ہے۔ مذہب کو ارباب سیاست نے ہمیشہ اپنے مقاصد مشومہ کے لیے استعمال کیا ہے۔ حروب صلیبی کی تہ میں بھی یہی جذبہ کار فرما تھا۔ ارباب سیاست مذہب کے نام پر لوگوں کو لڑاتے ہیں اور مخالفین مذہب کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ مذہب خونریزی کراتا ہے ارباب اقتدار کا شیوہ یہ ہے کہ وہ پہلے جنگ کو عوام کی نظروں میں مقدس بناتے ہیں ، پھر انہیں  اپنا سر کٹانے کے لیے میدان جنگ میں بھیجتے ہیں۔ یعنی مذہب کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
	گذشتہ زمانے کی تاریخ پر نظر ڈالو۔ برہمنوں نے بودھ دھرم کو اس بنا پر ہندوستان سے خارج نہیں کیا کہ وہ اصولاً اس کے مخالف تھے، بلکہ محض اس لیے کہ اس کی وجہ سے ان کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا تھا۔ ورنہ بودھ دھرم تو ویدانت کی تعلیم کا منطقی نتیجہ ہے۔ غور کرو!جب ہر شخص کی آتما یکساں ہے تو پھر ذات پات اور چھوت چھات کیسی؟ ویدانت کی تعلیم کا منطقی نتیجہ مساوات نسل انسانی ہے اور بودھ دھرم نے ویدانت کے اسی نتیجے کو ہندوؤں میں عام کرنے کی کوشش کی تھی جس کی پاداش میں اسے خارج البلد بلکہ خارج الوطن کر دیا گیا۔
	اس کے بعد ہندوستان کے سماجی حالات سے متعلق گفتگو رہی۔ بعد ازاں گفتگو مذہب کی طرف آ گئی۔ فرمایا کہ نبی اور مجدد میں کئی پہلوؤں سے فرق ہوتا ہے، مگر سب سے بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ دونوں کی ذہنی کیفیات مختلف النوع ہوتی ہیں۔ اسی طرح مشاہدہ باطنی میں بھی کیفیت کا فرق ہوتا ہے، آخر میں فرمایا کہ اگر تم میرے مضمون ’’ اسلام اور احمدیت ‘‘ کا اردو ترجمہ شائع کرو تو اس پر حواشی بھی لکھنا اور خصوصاً بروز کے عقیدہ کی وضاحت کر دینا۔

۱۴۔ ۷ ستمبر ۱۹۳۶ء جاوید منزل میو روڈ ‘۶بجے شام 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مسلمانوں کی سیاسی پستی کا ذکر چلا تو فرمایا ’’ پنجاب کے مسلمان اب تک کوئی انگریزی روز نامہ نہیں جاری کر سکے۔ اس سے ان کی قومی زندگی کی پستی اور زبونی کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ مسلمان امرا مشاغل لا طائل پر لاکھوں روپے خرچ کر سکتے ہیں لیکن قومی کاموں کے لیے ان کے پاس ایک پیسہ نہیں ہے۔ مجھے سالہا سال سے مسلمانوں کی اس ذہنیت کا تجربہ ہے‘‘ پھر فرمایا ’’انگلینڈ کی سوچی سمجھی ہوئی حکمت عملی یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک جو اسلامی ممالک کو متحد کر سکے، کامیاب نہ ہونے دی جائے۔ برطانیہ ہر گز نہیں چاہتا کہ اسلامی ممالک میں بیداری پیدا ہو، اسے ہر وقت پین اسلامزم کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔‘‘
	اس کے بعد نیازی صاحب آ گئے۔ انہوں نے لائٹ سے چند اقتباسات علامہ کو سنائے۔ ان پر علامہ نے تبصرہ فرمایا۔ اس ضمن میں یہ بھی فرمایا ’’ بروئے قرآن وحی و الہام کسی خاص قوم، ملک یا نسل سے مختص نہیں ہے، الہام تمام زندہ ہستیوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ شہد کی مکھی بھی اس نعمت سے سرفراز ہو سکتی ہے، اور سائنس دان بھی الہام کے محتاج ہیں۔ د نیا میں جس قدر عظیم ایجادات ہوئی ہیں وہ سب الہام کی بدولت ہوئی ہیں نہ کہ ریسرچ کی بدولت۔ نیز انسان اپنی زندگی کے اکثر معاملات Inspirationالہام ہی کے تحت طے کرتا ہے۔ میری رائے میں نزول مسیح کا عقیدہ مجوسیت کی راہ سے مسلمانوں میں آیا ہے۔ کسی زمانے میں ’’انتظار‘‘ عوام الناس کے لیے مفید تھا لیکن ختم نبوت کے بعد کسی کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ 
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار 
وہی مہدی وہی آخر زمانی 

۱۵۔ اکتوبر ۱۹۳۶ء جاوید منزل میو روڈ
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ادبی تنقید کا ذکر نکلا تو فرمایا ’’جہاں تک صحیح تنقید کا سوال ہے، ہندوستان ابھی مغرب سے سو سال پیچھے ہے۔ ہندوؤں میں تو کچھ حقیقت پسندی پیدا ہو چلی ہے لیکن مسلمانوں میں ابھی تک رومانیت کا اثر باقی ہے۔ گزشتہ پانچ سو سال میں مسلمانوں کے آرٹ، لٹریچر اور  شاعری کا رجحان یہ رہا ہے کہ حقائق سے گریز کیا جائے اور خیالی دنیا میں زندگی بسر کی جائے۔
	ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ مسجد قرطبہ کو دیکھ کر آپ پر کیا اثر ہوا؟ میں نے کہا It is a commentary on the Quran written in stones یہ قرآن کی تفسیر ہے جو پتھروں کے ذریعے سے لکھی گئی ہے۔‘‘
	 پھر فرمایا ’’میری شاعری کو شعر کے معیار پر جانچنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اسرار خودی سے لے کر بال جبریل تک ہر کتاب میں میں نے یہی لکھا ہے کہ شاعری میرے لیے مقصود بالذات نہیں ہے۔ میں تو مسلمانوں کے سامنے حقائق حیات بیان کرتا ہوں اور انہیں مشکلات زندگی کا مقابلہ کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ لیکن مسلمانوں پر گزشتہ تین سو سال سے رومانیت کی وجہ سے ایسا رنگ چڑھ گیا ہے کہ اگر کوئی شخص انہیں بذریعہ شعر‘ حقائق حیات کی طرف دعوت دے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعری نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر ان کی نظر میں شاعری وہ ہے جس میں خلاف عقل اور تخیلی باتیں ہوں جن کو حقیقت سے کوئی سروکار نہ ہو۔ ’’خدا مست‘‘ کی ترکیب پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ترکیب اساتذہ کے یہاں نہیں ملتی۔ وہ یہ غور نہیں کرتے کہ اقبال کا پیغام کیا ہے؟
	اقوام کے عروج و زوال کے اسباب بہت مخفی ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے ہم کو جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ علامات ہیں نہ کہ اسباب۔ قومی عروج انتہائی نظم و ضبط کی صفت پر موقوف ہے۔ ظاہر ہے کہ قانون کی اطاعت بہت مشکل چیز ہے اور اس کے لیے بڑی ہمت درکار ہے۔ جو قومیں رو بہ زوال ہیں وہ محنت اور پابندیوں سے گھبراتی ہیں جس طرح مریض طبیب کے احکام کی تعمیل سے گریزاں ہوتا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ مرض بڑھتا جاتا ہے۔

۱۶۔ ۲۶ اکتوبر ۱۹۳۶ء جاوید منزل
علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جہاد پر گفتگو چلی۔ اس ضمن میں فرمایا ’’جہاد کرنا انسانی فطرت میں شامل ہے، بلکہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اگر ایک شخص اپنے ایمان، اپنے تمدن اور اپنے وطن کی حفاظت یا حمایت میں تلوار بلند نہیں کر سکتا تو میں نہیں سمجھتا کہ پھر تلوار کا اور مصرف کیا ہے؟ جب کبھی مسلمان کا دین خطرے میں ہو‘ اس پر تلوار اٹھانا فرض ہے۔ اگر وہ اس مقدس فرض کی انجام دہی کے لیے بھی تلوار نہیں اٹھاتا تو پھر اس کی تلوار اس کے کس دن کام آئے گی؟
جہاد، اگر جوع الارض کے لیے ہو تو حرام ہے۔ لیکن اسلام کی حفاظت کے لیے جہاد کرنا پہلے بھی جائز تھا اور آج بھی جائز ہے ’’جو قیصر کا حق ہے وہ قیصر کو دو، یہ خالص رومن پروپاگنڈا تھا‘‘۔

۱۷۔ ۶ نومبر ۱۹۳۶ء جاوید منزل
	علامہ کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ میں نے سوال کیا کہ آج کل ہندوستان میں بیکاری روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آپ کی رائے میں اس کا حل کیا ہے؟ فرمایا:
(ا)۔	 جب تک ہم انگریزوں کی غلامی میں ہیں۔
(ب)۔	 سرمایہ داری ہم پر مسلط رہے گی۔
(ج)۔	 فوج پر ملکی محاصل کا کثیر حصہ خرچ ہوتا رہے گا۔
(د)۔	 خود مسلمان رسوم لا یعنی پر اسراف بیجا کرتے رہیں گے۔ اس وقت تک کوئی صحیح حل دستیاب نہیں ہو سکتا۔

۱۸۔۲۰ نومبر ۱۹۳۶ء جاوید منزل 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا ’’انسانی فطرت کی ایک کمزوری یہ ہے وہ سہارا تلاش کرتی ہے۔ سابقہ ادیان نے اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور ’’ شفیع‘‘ کا تصور پیش کیا اور کہا ہمارا مذہب قبول کر لو گے تو ہمارے مذہب کا بانی تمہاری شفاعت کر دے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوت عمل کمزور ہو گئی اور عوام، مذہبی پیشواؤں کے غلام ہو گئے۔ اس لیے اسلام نے اگر شفاعت کا تذکرہ بھی کیا تو ’’اِلاّباذنہٖ‘‘ کی قید لگا دی یعنی قیامت کے دن ‘اللہ کے حکم کے بغیر کوئی شخص کسی کی شفاعت (سفارش)نہیں کر سکے گا۔ تاکہ قوت عمل مردہ نہ ہو جائے۔ اسلام میں  سب سے بڑا شفیع خود انسان کا عمل صالح ہے۔
	لَیْسَ لِْلِاْنَساِن اِلاّ مَاْسَعیٰ انسان کووہی ملے گا جس کے لیے اس نے جدوجہد کی ہے۔ شفاعت بمعنی کفارہ تو صریحاً خلاف اسلام ہے لیکن سفارش پر کوئی منطقی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خدا کے حضور میں کسی نیک بندے کا کسی گناہ گار کے لیے سفارش کرنا نہ عقلاً معیوب ہے نہ نقلاً مذموم ہے۔
	فرمایا ’’مجھے تو اب یہ خیال ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی دینی اصلاح ممکن بھی ہے یا نہیں ؟ وہ تو غیر اسلامی عقائد اور رسوم کے اس طرح قدر خوگر ہو چکے ہیں کہ اب حقیقی اسلام سے انھیں تسلی نہیں ہو سکتی‘‘۔
	فرمایا ’’ہندی مسلمان کی ذہنی پستی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ جو کام میں کر رہا ہوں وہ کہیں میری یا قوم کی تضیع اوقات کا موجب تو نہیں ہو جائے گا۔
	فرمایا ’’لوگوں میں اس بات کا احساس بھی باقی نہیں رہا کہ ہم جو کچھ لکھ رہے ہیں اس سے ہمیں یا قوم کو فائدہ پہنچے گا یا نقصان؟
	فرمایا ’’چند روز ہوئے ایک شاعر میرے پاس آئے اور کہا مجھے اپنے اشعار میں تصرف کی اجازت دے دیجیے۔ میں نے کہا ’’بندۂ خدا!مجھ پر کیوں ظلم کرتے ہو؟ خود ہی اپنے مطلب کے اشعار کیوں نہیں تصنیف کر لیتے؟ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج کل ہر شخص صاحب تصنیف بننا چاہتا ہے اور یہ معلوم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ مجھ میں تصنیف کی اہلیت بھی ہے یا نہیں ؟ کس قدر تکلیف دہ ہے ایسے ماحول میں رہنا!

۱۹۔۱۷ دسمبر ۱۹۳۶ء جاوید منزل 
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت باہر صحن میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ مسئلہ تجسیم پر گفتگو ہوئی۔فرمایا کہ دیگر مذاہب نے خدا کو اتنا پست کیا کہ وہ انسان کی سطح پر آگیا۔ لیکن اسلام نے انسان کو اتنا بلند کیا کہ مظہر صفات بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر بشکل انسان جلوہ گر ہو تو وہ خدائی صفات سے معریٰ ہو جائے گا، اس لیے ہم اسے خدا نہیں کہہ سکتے۔
	اس کے بعد ماسٹر عبداللہ چغتائی علامہ سے ملنے آ گئے۔ وہ فرانس جا رہے ہیں۔ علامہ ان کو مفید مشورے دیتے رہے۔ چلتے وقت انہیں دعا دی اور کہا اگر اللہ نے مجھے صحت عطا فرما دی تو ۱۹۳۸ء میں حج کرنے جاؤں گا۔

۲۰۔۱۹۳۷ء (نوٹ بک میں تاریخ درج نہیں ہے۔ غالباً اکتوبر کا مہینہ تھا)
	علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سوال کیا کہ جمہوریت کے بارے میں اسلام کی تعلیم کیا ہے؟ فرمایا ’’اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ امیر کے لیے مقدم شرط یہ ہے کہ وہ اسلام کی حمایت کرے گا۔خواہ وہ عربی ہو یا عجمی ‘‘اسلام نے جمہوریت کی روح اختیار کی ہے اور وہ ’’شوریٰ‘‘ ہے اسلام نے دنیا کو جمہوریت کی روح سے روشناس کیا۔ اسی لیے اسلام نے وحی کا سلسلہ بند کر دیا تاکہ ہم آنحضرت ؐ کے بعد کسی انسان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں۔ بنی آدم کو حُریّت کی نعمت سے مالا مال کرنے کے لیے، وحی کو ختم کرنا لازمی تھا۔ اسلام نے اسی لیے ملوکیت، احباریت اور نبوت کو ختم کر دیا تاکہ انسان آزادی کی نعمت سے بہرہ ور ہو سکے۔اس کے علاوہ انفرادی ذمہ داری کا قانون نافذ کیا  لا تزروازر توزر اخری(۶:۱۶۴)کوئی شخص کسی شخص کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
	اسلام میں امارت بھی نکاح کی طرح ایک عمرانی معاہدہ ہے، امیر اور قوم کے درمیان۔عوام نے ایک شخص سے کہا کہ اگر تم شریعت کی پابندی اور اس کے نفاذ کا وعدہ کرو تو ہم تمہیں اپنا امیر منتخب کرتے ہیں۔ اس شخص نے وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی کروں گا۔بس وہ قوم کا امیر منتخب ہو گیا۔اگر وہ خلاف ورزی کرے تو قوم کو اس کے خلاف بغاوت کا حق حاصل ہے۔اسلامی جمہوریت میں رائے دہی کے لیے کلمہ شہادت ادا کرنا کافی ہے۔
	مغربی جمہوریت میں بر سر اقتدار پارٹی عوام کو فریب دیتی ہے کہ تم حکمراں ہو۔ حالانکہ دراصل زمام کار چند افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو پرائم منسٹر کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔۱۹۱۴ء کی جنگ میں دراصل انگلستان کا وزیراعظم، اس ملک کا حکمراں تھا، نام عوام کا تھا۔مجھے برسوں علامہ مرحوم کی خدمت میں حاضری کا موقع ملا۔ ۱۹۳۰ء اور ۱۹۳۶ء میں جبکہ وہ انجمن حمایت اسلام کے صدر تھے اور میں انجمن کے قائم کردہ اشاعت اسلام کالج کا پرنسپل تھا۔ مجھے بہت زیادہ ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ کیونکہ انہیں اس کالج سے بہت دلچسپی تھی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کالج ۱۹۲۹ء میں ان کی اور غلام بھیک نیرنگ مرحوم کی متفقہ کوشش ہی سے قائم ہُوا تھا۔ 
	ان کی زندگی کے بہت سے واقعات آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں ، اور ان کی یاد اس قدر روشن ہے کہ آج بائیس سال گذر جانے کے بعد بھی وہ مدھم نہیں پڑی، اگر مدیر محترم نے ارشاد فرمایا تو میں انہیں جداگانہ مضمون کی صورت میں قلمبند کر دوں گا…ان شاء اللہ و بتوفیقہ…


مقالات یوسف سلیم چشتی (بہ سلسلہ علامہ اقبال)  
مرتب: اختر النسا بزم اقبال لاہوری لاہور، ۱۹۹۹ء
٭٭٭



اقبال: ایک باپ کی حیثیت سے


ڈاکٹر جاوید اقبال


	میں نے سن رکھا ہے کہ میری پیدائش سے چند سال قبل ابا جان شیخ احمدؒ  سرہندی مجدد الف ثانی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایک بیٹا عطا کرے۔ آپ نے حضرت مجدد ؒسے یہ عہد بھی کیا کہ اگر خداوند تعالیٰ نے انھیں بیٹا دیا تو اسے ساتھ لے کر مزار پر حاضر ہوں گے۔
	آپ کی دعا پوری ہوئی اور کچھ عرصے بعد جب میں نے ہوش سنبھالا تو مجھے اپنے ہمراہ لے کر دوبارہ سرہند شریف پہنچے۔اس سفر کے دھندلے سے تصورات میری نگاہوں کے سامنے ابھرتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ ان کی انگلی پکڑے مزار میں داخل ہو رہا ہو ں۔ گنبد کے تیرہ و تار مگر پُر وقار ماحول نے مجھ پر ایک ہیبت سی طاری کر رکھی ہے۔پھٹی پھٹی آنکھوں سے میں اپنے چاروں طرف گھور رہا ہوں جیسے میں اس مقام کی خاموش فضا سے کچھ کچھ شناسا ہُوں۔ابا جان نے مجھے اپنے قریب بٹھا لیا۔ پھر انھوں نے قرآن مجید کا پارہ منگوایا اور دیر تک پڑھتے رہے۔ اس وقت صرف ہم دو ہی تربت کے قریب بیٹھے تھے۔ گنبد کی خاموش اور تاریک فضا میں ان کی آواز کی گونج ایک ہولناک ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو امڈ کر رخساروں پر ڈھلک آئے ہیں۔ ایک روز وہاں ٹھہرنے کے بعد ہم گھر واپس آ گئے،لیکن مجھ پر اس راز کا انکشاف نہ ہُوا کہ آخر اس مزار پر جانے کا مقصد کیا تھا اور وہ آنسو کس لیے تھے۔مجھے یاد ہے، میں بچپن میں اکثر یہی سوچا کرتا۔
	اپنی زندگی میں ابا جان نے مجھے شاذ ہی کوئی ایسا موقع دیا ہو گا جس سے میں ان کی شفقت یا اس الفت کا اندازہ لگا سکتا جو انھیں میری ذات سے تھی۔ والدین بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں ، انھیں گلے سے لگاتے ہیں ، انھیں چومتے ہیں ، مگر مجھے آپ کے خدوخال سے کبھی اس قسم کی شفقت پدری کا احساس نہ ہوا۔ بظاہر وہ کم گو اور سرد مہر سے دکھائی دیتے تھے۔ مجھے کبھی گھر میں منہ اٹھائے اِدھر اُدھر بھاگتے دیکھ کر مسکراتے تو مربیانہ انداز سے۔ گویا کوئی انھیں مجبوراً مسکرانے کو کہہ رہا ہو۔اور اکثر اوقات تو میں انھیں اپنی آرام کرسی یا چارپائی پر آنکھیں بند کئے اپنے خیالات میں مستغرق پاتا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ انھیں مجھ سے محبت نہ تھی، سراسر غلط ہے۔ ان کی محبت کے اظہار میں ایک اپنی طرز کی خاموش تھی جس میں عنفوانِ شبا ب کے وقتی ہیجان کا فقدان تھا یا اس کی نوعیت فکری یا تخیلی تھی جس تک پہنچنے کی اہلیت میرا ذہن نارسا نہ رکھتا تھا۔ بہر حال، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے۔ میں ان سے محبت تھوڑی کرتا تھا اور خوف زیادہ کھاتا تھا۔
	ہر گھر کی باتیں چھوٹی موٹی ہوا کرتی ہیں ، مگر ان سے گھر کے افراد کے کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات والدین میں اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں تنازع بھی ہو جایا کرتا ہے۔ اسی طرح ابا جان اور اماں جان میں میری وجہ سے کئی بار تکرار ہو جاتی۔ مثلاً اماں جان کو میرے متعلق ہر گھڑی یہی فکر دامن گیر رہتا کہ جب کبھی میں اکیلا کھانا کھاؤں ،پیٹ بھر کر نہیں کھاتا، اس لیے وہ ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا کرتیں یہاں تک کہ میں آٹھ نو برس کا ہو گیا۔ لیکن پھر بھی مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھانے کی عادت نہ پڑی ابا جان اس بات پر بار بار ناراض ہوئے کہ تم اسے بگاڑ رہی ہو، اگر یہ جوان ہو کر بھی خود کھانا نہ کھا سکا تو کیا ہو گا۔ ہم لوگ رات کو اکثر خشکہ کھایا کرتے تھے۔لہٰذا اب یوں ہوتا کہ بطور احتیاط چمچہ میری پلیٹ کے قریب رکھ دیا جاتا، مگر کھانا اماں جان ہی کھلاتیں۔ ابا جان کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ دبے پاؤں زنانے میں آیا کرتے، اس طرح کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پاتی۔ بہرحال، جب بھی اماں جان مجھے کھلا رہی ہوتیں ، ان کا دھیان باہر ہی رہتا اور جونہی وہ ابا جان کے قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنتیں تو اپنا ہاتھ پھرتی سے علیحدہ کر کے چمچہ میرے آگے رکھ دیتیں اور میں خود کھانا کھانے میں مشغول ہو جاتا۔ مجھے یقین ہے کہ ابا جان کئی مرتبہ اس کا سراغ لگا چکے تھے، لیکن وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے بعد چلے جایا کرتے۔
	میں بچپن میں بے حد شریر تھا، پڑھائی سے بھی کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، اس لیے اماں جان سے مار کھانا میرا معمول بن چکا تھا۔ اماں جان بچوں کی پرورش کے سلسلے میں ایک ایسے اصول کی پابند تھیں جو نہایت سخت تھا۔ وہ اکثر کہا کرتیں کہ اولاد کو کھانے کو دو سونے کا نوالہ، لیکن دیکھو قہر کی نظر سے۔ اسی اصول کے پیش نظر، گو میں ان کے ہاں بارہ برس کے شدید انتظار کے پیدا ہوا، مجھے یاد نہیں کہ انھوں نے مجھ پر کبھی ایسی شفقت یا محبت کا اظہار کیا ہو جس کی توقع بچے اپنی ماؤں سے رکھتے ہیں۔ البتہ میں نے اتنا سن رکھا ہے کہ وہ جب کبھی بھی مجھے پیار کرتیں ، میری نیند کے عالم میں کرتیں تاکہ مجھے علم نہ ہو سکے۔شاید اسی لیے بچپن میں میرے ذہن میں یہ خیال بھی گزرا کرتا کہ میری ماں دراصل میری حقیقی ماں نہیں بلکہ سوتیلی ماں ہے۔
	بہر حال، ابا جان سے میں نے بہت کم مار کھائی ہے۔میرے لیے ان کی جھڑک ہی کافی ہوا کرتی گرمیوں میں دوپہر کے وقت دھوپ میں ننگے پاؤں پھرنے پر مجھے کئی بار کوسا گیا۔ ابا جان جب کبھی بہت برہم ہوتے تو ان کے مُنہ سے ہمیشہ یہی الفاظ نکلتے ’’احمق آدمی! بیوقوف !!‘‘مجھے یہاں ابا جان سے مار کھانے کا ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ بچپن میں مجھے روز ایک آنہ خرچ کرنے کو ملا کرتا اور اسے خرچ کر چکنے کے بعد خواہ میں اماں جان کی کتنی ہی منتیں کرتا، مجھے مزید کچھ نہ ملتا بلکہ ہر لمحہ ان کے ناراض ہونے کا احتمال رہتا۔ ایک دفعہ اتفاق یوں ہوا کہ کوئی مٹھائی بیچنے والا ہمارے گھر کے سامنے سے گزرا۔ مٹھائی دیکھ کر میں للچاگیا۔ لیکن جیب خالی تھی۔ اسے بٹھا تو لیا اور اماں جان کے پاس دوڑا آیا کہ شاید کچھ مل جائے۔مگر انھوں نے ٹکا سا جواب دے دیا۔ طبیعت ضدی تھی۔ خیال آیا کہ اس خوانچہ فروش سے پوچھوں کہ پیتل لے کر مٹھائی دے سکتا ہے یا نہیں۔ بد قسمتی سے اس نے ہاں کہہ دی بس پھر کیا تھا۔ سائے کی طرح ابا جان کے کمرے میں گھسا اور بڑے ٹیبل فین کے پیچھے لگے پیتل کے پرزے کو اتار خوانچہ فروش کو دے آیا اور مٹھائی لے لی۔ لیکن شامت اعمال کہ ہمارا شوفر ادھر سے گزر رہا تھا۔ اس نے آ کر ابا جان سے شکایت کر دی۔ میں خوشی خوشی اچھلتے کودتے جو گھر کی حدود میں داخل ہوا تو مجھے اطلاع ملی کہ ابا جان بلا رہے ہیں۔ ڈرتے ڈرتے ان کے کمرے میں گیا۔ وہ اپنی آرام کرسی پر نیم دراز تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور تین چار تھپڑ میری گردن پر جما دیے۔ ابا جان مجھے جب کبھی مارتے، گدی پر مارتے۔ وہ زور سے تو نہ مارتے مگر گدی جسم کا ایسا حصہ ہے جہاں چوٹ زیادہ لگتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر مجھے ان سے مار کھانے کا اتفاق ہوا تو اس کی وجہ نوکروں کو برا بھلا کہنا یا جھوٹ بولنا تھی۔
	بعض اوقات ایسا ہوا کہ اگر ابا جان نے میری کسی شرارت پر مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اماں جان بیچ میں آ کھڑی ہوئیں اور انھیں روک دیا یا اگر اماں جان نے مجھے ضرورت سے زیادہ پیٹا تو ابا جان خفا ہوئے کہ بچے کو اس بے دردی سے نہیں مارنا چاہئے۔ایک دفعہ میں آنکھوں پر پٹی باندھے اماں جان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ ٹھوکر لگی اور منہ کے بل گر پڑا جس کی وجہ سے ہونٹ کٹ گیا اور منہ سے خون جاری ہو گیا۔ اتفاق سے اسی لحظہ ابا جان زنانے میں داخل ہوئے اور اچانک میرے منہ سے یوں خون بہتا دیکھ کر بے ہوش ہو گئے۔
	ہم گھر میں شور نہ مچاسکتے تھے۔ اگرمیں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ باہر دالان میں کبھی کرکٹ کھیل رہا ہوتا تو ہمیں حکم ملتا کہ یہاں مت کھیلو، اور ہم منہ لٹکائے وہاں سے چل دیتے۔ لیکن بعض اوقات وہ ہمارے کھیل میں خود بھی شریک ہو جایا کرتے۔ ہمارے ہاتھ ان کی طرف گیند پھینکتے پھینکتے تھک جاتے مگر وہ بلا تھامے ’ٹھپ ٹھپ‘ کرتے رہتے۔ایک دفعہ وہ اندر بیٹھے تھے۔ میں نے ہٹ جو لگائی تو گیند دروازے کے شیشے کو توڑتی ان کے کمرے میں جا گری۔ اس دن سے ہمیں کرکٹ کھیلنے کی ممانعت کر دی گئی۔ کئی بار کھلی بہار میں جب میں کوٹھے پر پتنگ اڑا رہا ہوتا تو وہ دبے پاؤں اوپر آ جاتے اور میرے ہاتھ سے پتنگ لے کر خود اڑانے لگتے۔ مگر مجھے یاد ہے کہ انھوں نے جب بھی کسی اور پتنگ سے پیچ لڑایا تو ہمیشہ ہماری پتنگ ہی کٹی۔
	ہمارے گھر میں کھانا اماں جان پکایا کرتی تھیں۔ ان کی مدد کے لیے ایک اور خاتون بھی تھیں جنھیں میں بڑی اماں کہا کرتا۔ ان کے علاوہ ہماری کوٹھی کے پیچھے ایک نومسلموں کا محلہ تھا جس کی لڑکیاں اماں جان سے قرآن مجید کا سبق لینے آتیں ، سینا پرونا سیکھتیں اور گھر کا کام کاج بھی کرتیں۔
	مجھے خواب کی طرح یاد ہے کہ ہمارے یہاں ایک مرتبہ ایک مہمان آ کر ٹھہرے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار انھیں ابا جان کو اقبال کہہ کر پکارتے سنا۔ یہ متناسب جسم،میانہ قد، باریش بزرگ نہایت خوش پوش، خوش باش اور خوش خور تھے۔ بمبئی سے آئے تھے اور مجھے چاکلیٹ کا ڈبہ تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ آپ کے قہقہے سارے گھر میں گونجتے رہتے اور آپ کے لیے اماں جان روز طرح طرح کے کھانے پکاتیں۔ آپ کا نام مولانا محمد علی تھا۔ یہ وہی محمد علی تھے جن کے متعلق اس زمانے میں مجھے ایک شعر حفظ ہو گیا تھا   ؎
بولی اماں محمد علی کی
جان، بیٹا!خلافت پہ دے دو
	دو ایک مرتبہ میں ابا جان اور اماں جان کے ساتھ سیالکوٹ بھی گیا۔ تب دادا جان بقید حیات تھے، گو بہت ضعیف ہو چکے تھے اور اپنے کمرے میں ہمیشہ چار پائی پر بیٹھے رہتے۔ میں ان کے پاس جاتا تو آنکھوں کو اپنے ہاتھ کا سایہ دے کر مجھے دیکھتے اور پوچھتے کہ کون ہے۔؟جب میں اتنا بتاتا کہ میں جاوید ہوں تو ہنس پڑتے، طاق میں سے ایک ٹین کا ڈبہ اٹھاتے اور اس میں سے برفی نکال کر مجھے کھانے کو دیتے۔ سیالکوٹ کے مکان میں یا محلہ چوڑیگراں کی گلیوں میں جہاں میں بھاگتا پھرتا تھا، وہیں ابا جان کا بچپن بھی گزرا تھا۔
	میرے بچپن میں رمضان کا مہینہ سردیوں میں آیا کرتا اور عید بھی سردیوں میں آتی تھی۔ رمضان کے دنوں میں اماں جان باقاعدہ روزے رکھتیں اور قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتیں۔ گھر کے ملازم بھی روزے رکھتے۔ مجھے سحری کھانے کا بے حد شوق تھا اور ایک آدھ بار ابا جان کے ساتھ سحری کھانا بھی یاد پڑتا ہے۔ وہ روزہ کبھی کبھار رکھتے تھے اور جب رکھتے، تو ہر نصف گھنٹے کے بعد علی بخش کو بلوا کر پوچھتے کہ افطاری میں کتنا وقت باقی ہے۔(۱)
	جب عید کا چاند دکھائی دیتا تو گھر میں بڑی چہل پہل ہو جاتی۔ میں عموماً ابا جان کو عید کا چاند دکھایا کرتا تھا۔ گو مجھے نہانے سے سخت نفرت تھی، لیکن اس شب گرم پانی سے اماں جان مجھے نہلاتیں اور میں بڑے شوق سے نہاتا۔ نئے کپڑے یا جوتوں کا نیا جوڑا سرہانے رکھ کر سوتا۔ صبح اٹھ کر نئے کپڑے پہنے جاتے، عیدی ملتی، کمخواب کی ایک اچکن جس کے نقرئی بٹن تھے، مجھے ہر عید پر اماں جان پہنایا کرتیں سر پر تلے کی گول ٹوپی پہنتا اور مجھے کلائی پر باندھنے کے لیے ایک سونے کی گھڑی بھی دی جاتی جو افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ نے میرے لیے تحفے کے طور پر بھیجی تھی۔ سج دھج کر میں ابا جان کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا۔ ان کی انگلی پکڑے شاہی مسجد میں داخل ہوتا اور ان کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتا۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم گھر آتے۔ ابا جان کی عادت تھی کی وہ عید کے روز سویوں پر دہی ڈال کر کھایا کرتے تھے۔ سارا دن انھیں ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا اور دن کھاتے پیتے، ہنستے کھیلتے گزر جاتا۔ رات آتی تو اماں جان سونے کی گھڑی اور اچکن اتروا لیتیں اور پھر اگلی عید تک مجھے ان کا انتظار کرنا پڑتا۔
	کبھی بیمار ہوتا تو اماں جان اور ابا جان بہت پریشان ہو جاتے۔ میرے سرہانے روپوں کے نوٹ رکھے جاتے اور کھیلنے کے لیے اماں جان مجھے نو اشرفیاں دیتیں جو میری پیدائش کے وقت ابا جان کے مختلف احباب سے بطور تحفہ ملی تھیں۔ اماں جان کا خیال تھا کہ اگر بچہ بیمار ہو اور اسے کھیلنے کے لیے روپے یا اشرفیاں دی جائیں تو وہ جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔ ابا جان مجھ سے بار بار پوچھتے کہیں درد تو نہیں ہو رہا، اور اگر میں انکار سے سر ہلاتا تو کہتے:’’منہ سے بولو بیٹا!سر مت ہلاؤ۔‘‘میرا بچپن زیادہ تر تنہائی میں گزرا۔ ۱۹۳۰ء میں منیرہ پیدا ہوئی لیکن وہ مجھ سے چھ سال چھوٹی تھی اس لیے ہم اکٹھے کھیل بھی نہ سکتے تھے۔
	مجھے وہ دن بھی خوب یاد ہے جب میں پہلی بار اسکول گیا۔ میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی ہو گی۔ اماں جان بہت فکر مند تھیں کہ میں سارا دن گھر سے دور کیسے رہ سکوں گا۔ ابا جان انھیں دلاسا دیتے رہے،لیکن ساتھ خود بھی علی بخش سے پوچھتے کہ جاوید کو لینے کوئی نہیں گیا۔ چھٹی ہونے پر جب میں گھر آیا تو اماں جان برآمدے میں کھڑی میری راہ تک رہی تھیں۔ ابا جان بھی اپنے کمرے سے اٹھ کر آ گئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہیں اداس تو نہیں ہو گئے تھے۔ بعد میں اسکول جانا ایک معمول بن گیا۔
	مجھے موسیقی سے بھی خاصا لگاؤ تھا۔ لیکن ہمارے گھر میں نہ تو ریڈیو تھا اور نہ گراموفون بجانے کی اجازت تھی کیونکہ ابا جان ایسی چیزوں کو پسند نہ کرتے تھے۔البتہ گانا سننے کا انھیں شوق ضرور تھا، اور اچھا گانے والوں کو جب کبھی گھر بلوا کر ان سے اپنا یا اوروں کا کلام سنتے تو مجھے بھی پاس بٹھا لیا کرتے۔ فقیر نجم الدین مرحوم ، ابا جان کو اکثر ستار بجا کر سنایا کرتے تھے۔ خود ابا جان کو جوانی میں ستار بجانے کا شوق رہ چکا تھا۔ لیکن جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یورپ گئے تو اپنی ستار کسی دوست کو دے گئے۔ ۱۹۳۱ء میں جب گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لیے انگلستان گئے تو اس وقت میری عمر کوئی سات سال کے لگ بھگ تھی۔ میں نے انھیں ایک اوٹ پٹانگ سا خط لکھا اور خواہش ظاہر کی کہ جب وہ واپس تشریف لائیں تو میرے لیے گراموفون لیتے آئیں۔ گراموفون تو وہ لے کر نہ آئے لیکن میرا انھیں انگلستان میں لکھا ہوا خط ان کی مندرجہ ذیل نظم کی شان نزول کا باعث ضرور بنا   ؎
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر 
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو 
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر 
اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں 
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر 
میں شاخِ تاک ہوں ، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر 
مرا طریق امیری نہیں ،فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
	اماں جان کی بڑی آرزو تھی کہ ابا جان تمام دن گھر پر پڑے رہنے کی بجائے کہیں ملازمت کر لیں۔ یہ سن کر ابا جان عموماً مسکرا دیا کرتے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں میں نے بھی اس معمے کو سلجھانے کی بارہا کوشش کی کہ میرے ابا جان کام کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھ بیٹھتا تو میں خاموش ہو جاتا کیونکہ میں خود نہ جانتا تھا۔ اسی طرح اماں جان اس بات پر مصر رہتیں کہ کرائے کا گھر چھوڑ کر اپنا گھر بنوائیے۔ ان ایام میں ہم میکلوڈ روڈ پر رہا کرتا تھے۔
	چند سالوں بعد اماں جان کے ،گھر کے اخراجات سے بچائے ہوئے، روپوں سے زمین خریدی گئی اور ’جاوید منزل‘ کی تعمیر شروع ہوئی۔ زمین اور مکان اماں جان کے نام تھے اور انہی کی ملکیت تھے۔ بہر حال،جب تعمیر مکمل ہو گئی تو ہم میو روڈ پر اٹھ آئے۔ لیکن اماں جان نئے گھر میں بیمار گاڑی پر ہی لائی گئیں کیونکہ ان دنوں وہ سخت علیل تھیں۔ انھیں چار پائی پر لٹائے اندر لایا گیا۔ دوسرے دن ابا جان جب انھیں دیکھنے کے لیے زنانے میں آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھ میں کچھ کاغذات اٹھا رکھے تھے۔ آپ نے اماں جان سے کہا کہ اس مکان کو جاوید کے نام ہبہ کر دو لیکن اماں جان نہ مانتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ مجھے کیا معلوم یہ لڑکا بڑا ہو کر کیسا نکلے۔ میں انشاء اللہ جلد صحت یاب ہو جاؤں گی۔ آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں۔ لیکن ابا جان نے انھیں آگاہ کیا کہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ اس پر انھوں نے ہبہ نامہ پر دستخط کر دیئے۔ یوں ’جاوید منزل‘ میرے نام منتقل ہو گئی۔ابا جان نے کرایہ نامہ بھی تحریر کیا جس کی رو سے آپ میرے کرایہ دار کی حیثیت سے رہنے  لگے۔ آپ سامنے کے تین کمروں میں رہائش کا کرایہ ہر ماہ کی ۲۱تاریخ کو ادا کرتے تھے۔
	نئے گھر میں قدم رکھنے کے تیسرے یا چوتھے روز اماں جان پر اچانک غشی کا عالم طاری ہو گیا۔ کوئی پانچ بجے شام کے قریب جب مجھے ان کے پاس لے جایا گیا تو  وہ بستر پر بیہوش پڑی تھیں۔ میں نے ان کے حلق میں شہد ٹپکایا اور روتے ہوئے کہا کہ اماں جان میری طرف دیکھئے۔ انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔ لحظہ بھر کے لیے میری طرف دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔ اسی شام انھوں نے غشی کے عالم میں داعی اجل کو لبیک کہا اور رات کو دفن کر دی گئیں۔ ان کی وفات کے وقت میری عمر دس برس تھی اور منیرہ کی چار برس۔
	اماں جان کے انتقال کے بعد ہم دونوں بچے ابا جان کے زیادہ قریب آ گئے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت اماں جان فوت ہوئیں تو ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے، روتے روتے ابا جان کے کمرے کی طرف گئے۔ وہ حسب معمول اپنی چار پائی پر نیم دراز تھے کیونکہ ان دنوں خود بھی بیمار رہتے تھے۔ گلا بیٹھ چکا تھا اور صاف بول نہ سکتے تھے۔ میں اور منیرہ ان کے دروازے تک پہنچ کر ٹھٹھک سے گئے۔ یوں روتے کھڑا دیکھ کر انھوں نے انگلی کے اشارے سے ہمیں قریب آنے کو کہا، اور جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ایک پہلو میں مجھے اور دوسرے میں منیرہ کو بٹھا لیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پیار سے ہمارے کندھوں پر رکھ کر قدرے کرختگی میں مجھ سے گویا ہوئے:’’تمہیں یوں نہ رونا چاہیے!یاد رکھو‘ تم مرد ہو‘ اور مرد کبھی نہیں رویا کرتے۔‘‘اس کے بعد اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ انھوں نے ہم دونوں بہن بھائیوں کی پیشانیوں کو باری باری چوما۔
	اماں جان کی بے وقت موت نے ابا جان کو پژمردہ سا کر دیا۔ لیکن اب وہ ہم دونوں بچوں کا بے حد خیال رکھنے لگے۔ ہمیں حکم تھا کہ ان سے مل کر اسکول جایا کریں۔ جانے سے پہلے، اور آنے کے بعد وہ ہم دونوں کی پیشانیوں پر بوسہ دیا کرتے۔مگر مجھے اس بوسے میں شفقت کی بجائے ہمیشہ معمول کی جھلک دکھائی دیتی گویا وہ ہمیں اس لیے چومتے ہیں کہ کہیں ہم دونوں یہ تصور نہ کر لیں کہ ہمیں ابا جان کی محبت میسر نہیں ہے۔ بہرحال، منیرہ کو ان کا قرب حاصل تھا اور رات کو عموماً انہی کے بستر میں سو جایا کرتی۔ اس کی ہر خواہش بغیر کسی حیل و حجت کے پوری کر دی جاتی، اور اگر میں کبھی اسے جھڑکتا یا مار بیٹھتا تو میری شامت آ جاتی۔ انھیں ہم دونوں بہن بھائیوں کے جھگڑے پر بہت رنج ہوتا تھا۔ وہ اپنے احباب سے اکثر مایوسانہ انداز میں کہا کرتے کہ یہ دونوں آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ اور احباب کے یہ کہنے کے باوجود کہ جس گھر میں بچے ہوں ، وہاں لڑائی جھگڑا ہوا ہی کرتا ہے، ان کی تسلی نہ ہوتی۔ مجھ سے بار ہا جل کر کہا کرتے ’’تمہارا دل پتھر کا ہے۔ تم بڑے سنگ دل ہو۔ اتنا نہیں جانتے کہ اس بہن کے سوا تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔‘‘
	اماں جان کی وفات کے کچھ عرصے بعد وہ مجھے اس خیال سے اپنے ہمراہ بھوپال لے گئے کہ ان کی عدم موجودگی میں منیرہ سے لڑتا نہ رہوں۔ اس سفر کی دھندلی سی یاد اب تک میرے ذہن میں موجود ہے۔بہت لمبا سفر تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کئی دن اور کئی راتیں ریل گاڑی ہی میں گزریں۔ رات کو علی بخش مجھے اوپر کی برتھ پر سلا دیتا اور ابا جان نیچے کی برتھ پر سوتے۔ ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا بھی وہیں منگوا لیا جاتا۔ جب ہم بھوپال پہنچے تو اسٹیشن پر محمد شعیب استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہم موٹر کار میں شیش محل پہنچے جہاں ابا جان کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ شیش محل ایک پرانی وضع کی نہایت وسیع و عریض عمارت تھی۔ اتنے بڑے بڑے کمرے تھے کہ مجھے رات کو ان میں سے گزرتے ڈر آیا کرتا۔
	ہم بھوپال میں کوئی دو ایک ماہ ٹھہرے۔ وہاں ڈاکٹر باسط ابا جان کے معالج تھے اور ان کے گلے کا علاج برقی شعاعوں سے کرتے تھے۔ مجھے روز پڑھانے کے لیے ایک استاد بھی شیش محل آیا کرتے۔شیش محل کے قریب، ایک جھیل کے کنارے، میں ڈاکٹر باسط کے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا۔ ڈاکٹر باسط کا گھر شیش محل کے مقابل تھا اور اس کے سامنے غالباً ایک وسیع میدان تھا۔
	تقریباً ہر دوسرے تیسرے روز میں ابا جان کے ساتھ سید راس مسعود کے ہاں ’ریاض منزل ‘جایا کرتا۔ وہ میری زندگی میں دوسری ایسی شخصیت تھے جنھیں میں نے ابا جان کو اقبال کہہ کر پکارتے سنا۔سید راس مسعود قد میں ابا جان سے بہت اونچے،قومی ہیکل اور گورے چٹے بزرگ تھے۔مجھ سے ہر وقت مذاق کرتے رہتے۔ میں اور ابا جان ہفتے میں دو ایک بار رات کا کھانا سید راس مسعود اور بیگم امت المسعود کے ساتھ ’ریاض منزل‘ میں کھایا کرتے بسا اوقات ہم اور جگہوں پر بھی کھانے پر مدعو ہوتے۔ ایک مرتبہ ہم کسی دعوت سے واپس آ رہے تھے اور گاڑی میں ابا جان کے ساتھ ادھیڑ عمر کی فربہ سی ہنس مکھ خاتون بیٹھی تھیں۔ وہ مجھ سے نہایت شفقت سے پیش آئیں۔ بعد میں ابا جان نے مجھے بتایا کہ وہ سروجنی نائیڈو تھیں۔ اسی طرح ایک شام بیگم صاحبہ بھوپال کے ہاں چائے پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے کیونکہ بیگم صاحبہ نے فرمائش کر رکھی تھی کہ جاوید کو ساتھ لائیے۔سید راس مسعود ہمارے ہمراہ تھے۔ جب ان دونوں بزرگوں نے بیگم صاحبہ بھوپال کو جھک کر فرشی سلام کیے تو مجھے بڑی ہنسی آئی۔
	بہرحال، بھوپال میں میرا بیشتر وقت ابا جان کی نگاہوں کے سامنے ہی گزرتا تھا۔ رات کو کھانے کی میز پر مجھے سکھایا کرتے کہ چمچہ اس طرح پکڑنا چاہیے اور کانٹا یوں۔ میں فطرتاً کچھ شرمیلا واقع ہوا تھا، اس لیے جب کبھی انھیں لوگ وہاں ملنے آتے یا وہ لوگوں کے ہاں جاتے تو مجھ سے ہمیشہ کہا کرتے کہ لوگوں کے سامنے خاموش بیٹھے رہنے کی بجائے ان سے بات چیت کرنی چاہیے۔
	بھوپال سے واپسی پر ہم چند دنوں کے لیے دہلی ٹھہرے۔ وہاں ابا جان بذات خود مجھے تاریخی مقامات کی سیر کرانے کے لیے لے گئے۔ پہلے لال قلعہ دیکھا۔ پھر نظام الدین اولیا گئے۔ اور پھر نئی دہلی سے ہوتے ہوئے قطب پہنچے۔ میرا دل چاہا کہ قطب مینار کے اوپر چڑھ جاؤں ، اور میں نے ابا جان کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا مگر وہ بولے ’’تم جاؤ، میں اتنی بلندی پر نہیں چڑھ سکتا، اور جب اوپر پہنچو تو نیچے کی طرف مت دیکھنا، کہیں دہشت سے گر نہ پڑو۔‘‘ بالا خر ہم واپس لاہور آ گئے
	گرمیوں میں ابا جان باہر سوتے اور میری چارپائی ان کے قریب ہوا کرتی۔ رات گئے تک وہ جاگتے رہتے کیونکہ انھیں عموماً رات کو تکلیف ہوتی تھی۔ اور جب شعر کی آ مد ہوتی تو ان کی طبیعت اور بھی زیادہ خراب ہو جایا کرتی۔ چہرے پر تغیر رونما ہو جاتا، بستر پر کروٹیں بدلتے، کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتے اور کبھی گھٹنوں میں سر دے دیتے۔ اکثر اوقات وہ رات کے دو یا تین بجے علی بخش کو تالی بجا کر بلاتے اور اس سے اپنی بیاض اور قلم دوات لانے کو کہتے۔ جب وہ لے آتا تو اشعار لکھ دیتے۔ اشعار لکھ چکنے کے بعد ان کے چہرے پر آہستہ آہستہ سکون کے آثار نمودار ہو جاتے اور وہ آرام سے لیٹ جاتے۔ بعض اوقات تو وہ علی بخش کو اس غرض کے لئے بلواتے کہ میری پائینتی پر پڑی ہوئی چادر کو میرے اوپر ڈال دو۔
	ابا جان کی عادت، سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر، بستر پر ایک طرف سونے کی تھی۔ اس حالت میں ان کا ایک پاؤں اکثر ہلتا رہتا جس سے دیکھنے والا یہ اندازہ لگا سکتا کہ وہ ابھی سوئے نہیں بلکہ کچھ سوچ رہے ہیں۔لیکن جب وہ گہری نیند سو جاتے تو خراٹے لیا کرتے،اور نہایت بھیانک قسم کی آوازیں نکلتیں۔ کئی بار میں ان کے خراٹوں سے ڈر جایا کرتا۔
	ابا جان کو میں نے بیسیوں مرتبہ خودبخود مسکراتے یا روتے دیکھا ہے۔ جب کبھی تنہائی میں بیٹھے اپنا کوئی شعر گنگناتے تو ان کا بے جان سا ہاتھ عجیب تغافل کے عالم میں اٹھتا اور ہوا میں گھوم کر اپنی پہلی جگہ پر آ گرتا۔ ساتھ ہی ان کے سر کو ہلکی سی جنبش ہوتی۔ صبح کو نماز بہت کم چھوڑتے تھے۔ گرمیوں میں باہر رکھے ہوئے تخت پر ہی نیت باندھ لیتے، دھوتی اور بنیان زیب تن ہوتی اور سرپر تولیہ رکھ لیتے۔ ان کے کمرے کی حالت پریشان سی رہتی تھی، دیواریں گرد و غبار سے اٹی ہوتیں۔ بستر ان کی دھوتی اور بنیان کی طرح میلا ہو جاتا مگر انھیں بدلوانے کا خیال نہ آتا۔ منہ دھونے اور نہانے سے گھبراتے، اور اگر کبھی مجبوراً باہر جانا پڑتا تو کپڑے بدلتے وقت سرد آہیں بھرا کرتے۔ وہ فطرتاً سست تھے اس لئے اگر کہیں وقت کی پابندی ہوتی تو انھیں ہمیشہ دیر ہو جایا کرتی۔ ویسے چارپائی پر نیم دراز پڑے رہنے میں بہت خوش رہتے۔ کئی بار دوپہر کا کھانا کسی کتاب میں منہمک ہونے کی وجہ سے بھول جایا کرتے اور جب وہ کتاب ختم ہو جاتی تو علی بخش کو بلوا کر معصومانہ انداز میں پوچھتے ’’کیوں بھئی، میں نے کھانا کھا لیا ہے؟‘‘ شام کو گھر کے دالان ہی میں دو ایک چکر لگا لیا کرتے۔ اس کے سوا ان کی زندگی میں بظاہر کامل جمود تھا۔
	اماں جان کی وفات کے بعد ابا جان صرف ایک بار زنانے میں آئے، وہ بھی تب جب مجھے بخار آیا تھا۔ آپ کو پہلی بار تب معلوم ہوا کہ زنانہ حصے میں کمروں کی تعداد کتنی ہے۔ اسی طرح اماں جان کی وفات کے بعد ابا جان نے خضاب لگانا بھی ترک کر دیا تھا۔ ایک دن میں نے ان سے از سر نو خضاب شروع کرنے کو کہا تو مسکرا کر بولے ’’میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں ‘‘۔ میں نے پھر کہا ’’لیکن، ابا جان! ہم تو آپ کو جوان دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘چنانچہ شاید اس خیال سے کہ بچے میرے سفید بالوں کو دیکھ کر ضعیف سمجھنے لگے ہیں ، انھوں نے پھر سے خضاب لگانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔ مگر چند مہینوں بعد پھر چھوڑ دیا اور میری ہمت نہ پڑی کہ ان سے دوبارہ خضاب شروع کرنے کو کہوں۔
	اماں جان کی وفات کے کوئی دو ایک سال بعد منیرہ کی دیکھ بھال کے لئے ابا جان نے ایک جرمن خاتون کو علی گڑھ سے بلوایا، اور وہ ہمارے یہاں رہنے لگیں۔ ہم انھیں ،آپا جان، کہا کرتے۔ ان دنوں ہماری گھریلو زندگی میں ایک ترتیب سی آ گئی۔ ہم سب، ابا جان سمیت، دوپہر اور رات کا کھانا کھانے والے کمرے میں کھایا کرتے۔ منیرہ اور آپا جان، ہر شام ابا جان کے پاس بیٹھا کرتیں۔ ابا جان جرمن زبان بخوبی جانتے تھے، اس لئے آپا جان، سے جرمن ہی میں گفتگو کیا کرتے، اور منیرہ سے بھی کہتے کہ جرمن زبان سیکھو، جرمن عورتیں بڑی دلیر ہوتی ہیں۔ منیرہ ان دنوں جرمن زبان کے چند فقرے سیکھ گئی تھی، اس لئے وہ بھی ان سے جرمن میں بات چیت کرتی اور خوب ہنسی مذاق ہوتا۔
	مجھے مصوری سے بھی دلچسپی تھی لیکن ابا جان کو میرے اس شوق کا علم نہ تھا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک تصویر بنائی جو اتفاق سے خاصی اچھی بن گئی۔ ان دنوں تایا جان سیالکوٹ سے لاہور آئے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں مقیم تھے۔ تایا جان خود انجینئر تھے لیکن جب انھوں نے میری بنائی ہوئی تصویر دیکھی تو بے حد خوش ہوئے۔ فوراً تصویر ہاتھ میں لے کر ابا جان کو دکھانے چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے گیا۔ ابا جان کو پہلے تو یقین نہ آیا کہ تصویر میں نے بنائی ہے، لیکن جب یقین آگیا تو میری حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے فرانس، اطالیہ اور انگلستان سے میرے لئے خاص طور پر آرٹ کی کتب منگوائیں۔ انھیں خیال تھا کہ دنیا کے بہترین مصوروں کے شاہکاروں کو دیکھ کر مصوری کے لئے میرا شوق بڑھے گا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جب میری نظر سے مصوری کے شاہکار گزرے تو میں نے اس خیال سے ہمت ہار دی کہ اگر میں ساری عمر بھی کوشش کروں تو ایسی خوبصورت تصاویر نہیں بنا سکتا۔ 
	ابا جان کی تمنا تھی کہ میں تقریر کرنا سیکھوں۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ میں کشتی لڑا کروں۔ چنانچہ اس سلسلے میں میرے لیے گھر میں ایک اکھاڑہ بھی کھدوایا گیا تھا۔وہ اکثر کہا کرتے کہ اکھاڑے کی مٹی میں ڈنڑ پیلنا یا لنگوٹی باندھ کر لیٹ رہنا صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ پھر بڑی عید کے روز مجھے ہمیشہ تلقین کیا کرتے کہ بکرے کے ذبح ہوتے وقت میں وہاں موجود رہوں۔ لیکن ان کا اپنا یہ حال تھا کہ کسی قسم کا خون بہتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ ابا جان میں قوت برداشت کی انتہا تھی، مگر جب ایک مرتبہ کسی سے ناراض ہو جاتے تو پھر ساری عمر اس کا چہرہ دیکھنے کے روادار نہ ہوتے۔ انھیں کبوتر بازی کا شوق بھی رہ چکا تھا۔ آخری عمر میں ان کی خواہش تھی کہ گھر کی چھت پر ایک وسیع پنجرہ بنوایا جائے جس میں لاتعداد کبوتر چھوڑ دیئے جائیں اور ان کی چار پائی ہر وقت کبوتروں کے درمیان رہا کرے۔ انھیں یقین تھا کہ کبوتروں کے پروں کی ہوا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
	ابا جان کے عقیدت مندوں میں ایک حجازی عرب بھی تھے جو کبھی کبھار انھیں قرآن مجید پڑھ کر سنایا کرتے۔ میں نے بھی ان سے قرآن مجید پڑھا ہے۔ ان کی آواز بڑی پیاری تھی۔ ابا جان جب بھی ان سے قرآن مجید سنتے، مجھے بلا بھیجتے اور اپنے پاس بٹھا لیتے۔ ایک باز انھوں نے سورۃ مزمل پڑھی تو آپ اتنا روئے کہ تکیہ آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ جب وہ ختم کر چکے تو آپ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مرتعش لہجے میں بولے ’’تمہیں یوں قرآن پڑھنا چاہیے!‘‘اسی طرح مجھ سے ایک مرتبہ مسدس حالی پڑھنے کو کہا، اور خاص طور پر وہ بند .....جب قریب بیٹھے ہوئے میاں محمد شفیع نے دہرایا   ؎
’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا!‘‘
	تو آپ سنتے ہی آبدیدہ ہو گئے۔ میں نے اماں جان کی موت  پر انھیں آنسو بہاتے نہ دیکھا تھا مگر قرآن مجید سنتے وقت یا اپنا کوئی شعر پڑھتے وقت یا رسولؐ اللہ کا اسم مبارک کسی کی نوک زبان پر آتے ہی ان کی  آنکھیں بھر آیا کرتیں۔
	ابا جان کو انگریزی لباس سے سخت نفرت تھی۔ مجھے ہمیشہ شلوار اور اچکن پہننے کی تلقین کیا کرتے۔ منیرہ بھی اگر اپنے بالوں کو دو حصوں میں گوندھتی تو نا پسند کرتے اور کہتے :’’اپنے بال اس طرح مت گوندھا کرو، یہ یہودیوں کا انداز ہے۔‘‘اور اگر میں کبھی غلطی سے اپنی قمیضوں یا شلواروں کا کپڑا بڑھیا قسم کا خرید لاتا تو بہت خفا ہوتے اور کہتے ’’تم اپنے آپ کو کسی رئیس کا بیٹا سمجھتے ہو؟تمہاری طبیعت میں امارت کی بو ہے۔ا ور اگر تم نے اپنے یہ انداز نہ چھوڑے تو میں تمہیں کھدر کے کپڑے پہنوا دوں گا۔’’میرے لیے بارہ آنے گز سے زائد قمیص کا کپڑا خریدنا یا آٹھ روپے سے زائد کا بوٹ خریدنا جرم تھا جس کی سزا خاصی کڑی تھی۔ لیکن اگر انھیں کبھی یہ معلوم ہو جاتا کہ میں آج پلنگ پر سونے کی بجائے زمین پر سویا تو بڑے خوش ہوا کرتے۔
	اپنی زندگی میں صرف ایک بار انھوں نے مجھے سنیما دیکھنے کی اجازت دی۔ وہ ایک انگریزی فلم تھی جس میں نپولین کا عشق دکھایا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ابا جان کو یہ نہ بتایا گیا بلکہ کہا گیا کہ اس فلم میں نپولین کے حالات زندگی ہیں۔ابا جان دنیا بھر کے جری سپہ سالاروں سے  والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ مجھے اکثر خالد بن ولید ؓ اور فاروق اعظمؓ کی باتیں سنایا کرتے۔ ایک دفعہ انھوں نے مجھے بتایا کہ نپولین کے اجداد عرب سے آئے تھے،اور واسکوڈی گاما کو عربوں ہی نے ہندوستان کا راستہ دکھایا۔
	مجھے کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بھی بے حد شوق تھا۔ باغ و بہار (قصہ چہار درویش)حاتم طائی،طلسم ہو شربا اور عبد الحکیم شرر کے سب ناول پڑھ ڈالے تھے۔ساتویں جماعت کے امتحان کے قریب میرے ہاتھ الف لیلہ لگ گئی،اور اس کتاب سے میں اس قدر مسحور ہوا کہ رات گئے تک اسے پڑھتا رہتا۔امتحان سر پر آ گئے لیکن میں نے الف لیلہ کو نہ چھوڑا بلکہ رات کو امتحان کی تیاری کرنے کی بجائے الف لیلہ پڑھتا رہتا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ساتویں جماعت کے امتحان میں ناکام رہ گیا۔ جب اباجان کو علم ہوا کہ میں الف لیلہ میں منہمک ہونے کی وجہ سے امتحان میں ناکام رہا ہوں تو برہم نہ ہوئے، کہنے لگے ’’اگر تم امتحان میں کامیاب ہو جانے کے بعد الف لیلہ پڑھتے تو تمہیں اور بھی لطف آتا‘‘۔
	ایک مرتبہ گرمیوں کے موسم میں ابا جان نے کشمیر جانے کا ارادہ بھی کیا کیونکہ ان کے احباب کا اصرار تھا کہ وہ تبدیلی آب و ہوا کی خاطر لاہور سے تھوڑے عرصے کے لیے کہیں باہر چلے جائیں۔ انھوں نے منیرہ اور مجھ سے بھی ساتھ چلنے کو کہا۔ ہم بڑے خوش تھے کہ ابا جان کے  ہمراہ کشمیر جا رہے ہیں۔ لیکن کشمیر میں ابا جان کا داخلہ ممنوع تھا لہٰذا انھوں نے حکومت سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ عرصے تک خط و کتابت جاری رہی۔ مگر جب اجازت ملی تو گرمیوں کا موسم نکل چکا تھا۔ یوں وہ اپنی زندگی میں آخری بار وادی کشمیر میں کچھ دن گزارنے سے محروم رہ گئے۔ اسی طرح بیت اللہ کے حج پر جانے کا قصد بھی کیا، لیکن وہ بھی پورا نہ ہو سکا۔
	ابا جان کو معلوم تھا کہ مجھے بڑی بڑی شخصیتوں کے آٹو گراف لینے کا شوق ہے۔گو وہ میری اس عادت کو نہ تو برا سمجھتے اور نہ سراہتے، لیکن ایک شام انھوں نے مجھے  خاص طور پر بلوا کر کہا کہ ہمارے یہاں ایک مہمان آرہے ہیں ، جب وہ آ کر بیٹھ جائیں تھوڑی دیر بعد میں کمرہ میں داخل ہوں اور ان سے آٹو گراف دینے کی استدعا کروں۔چنانچہ جب مہمان تشریف لے آئے تو میں ان کے حکم کے مطابق کمرے میں داخل ہوا۔ ابا جان کے پاس ایک دبلے پتلے مگر نہایت خوش پوش شخص بیٹھے تھے۔ان کی نگاہوں میں عقاب جیسی پھرتی تھی۔اور ان کے ساتھ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک دبلی پتلی خاتون بھی تھیں۔ ابا جان نے ان سے میرا تعارف کرایا اور میں نے آٹو گراف کی کتاب آگے بڑھا دی۔ مہمان نے مجھ سے انگریزی میں پوچھا ’’کیا تم بھی شعر کہتے ہو؟‘‘میں نے کہا ’’جی نہیں !‘‘اس پر انھوں نے سوال کیا ’’پھر تم بڑے ہو کر کیا کرو گے؟‘‘میں خاموش رہا۔ وہ ہنستے ہوئے، ابا جان سے مخاطب ہوئے ’’کوئی جواب نہیں دیتا! ‘‘’’یہ جواب نہیں دے گا۔ ‘‘ ابا جان بولے۔’’کیونکہ یہ اس دن کا منتظر ہے جب آپ اسے بتائیں گے کہ اسے کیا کرنا ہے۔‘‘ میری آٹو گراف کی کتاب پر دستخط کر دیے گئے۔ یہ میری خالق پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح سے پہلی ملاقات تھی تب قائد اعظم کو پنجاب میں زیادہ لوگ نہ جانتے تھے اور مسلم عوام پاکستان کے تصور سے ابھی روشناس نہ ہوئے تھے۔ بہرحال، میں نے اس مختصر سے عرصے میں یہ اندازہ لگا لیا کہ ابا جان اُن کی کس قدر عزت کرتے ہیں۔
	آخری ایام میں ابا جان کی نظر بہت کمزور ہو گئی تھی اس لیے مجھے حکم تھا کہ انھیں ہر روز صبح اخبار پڑھ کر سنایا کروں۔ اگر کسی لفظ کا تلفظ غلط ادا کر جاتا تو بہت خفا ہوتے۔ اسی طرح رات کو میں انھی کی کوئی غزل گا کر بھی سنایا کرتا۔ ان دنوں مجھے ان کی صرف ایک غزل یاد تھی  ع
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر!
	ابا جان کے سامنے وہ غزل پڑھنا میرے لیے ایک عذاب ہوا کرتا۔ اگر کوئی شعر غلط پڑھ جاتا تو وہ ناراض ہوتے اور کہتے ’’شعر پڑھ رہے ہو یا نثر؟‘‘
	ان کی وفات سے کوئی دو ایک ماہ پیشتر ایک شام پنڈت نہرو کو ان سے ملنے کے لیے آنا تھا۔ ابا جان نے مجھے بلا کر حکم دیا کہ پنڈت نہرو کے استقبال کے لیے ڈیوڑھی میں کھڑا رہوں۔ میں نے تعجب سے پوچھا پنڈت نہرو کون ہیں ؟کہنے لگے ’’جس طرح محمد علی جناح مسلمانوں کے قائد ہیں ، اسی طرح پنڈت نہرو ہندوؤں کے سربراہ ہیں۔‘‘میں باہر کھڑا پنڈت جی کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ تشریف لائے تو میں نے انھیں ’’السلام علیکم‘‘ کہا اور انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کا جواب دیا، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر نہایت شفقت سے میری کمر میں بازو ڈال کر ابا جان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ ابا جان ان سے بڑے تپاک سے ملے اور صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ لیکن پنڈت جی نے نیچے فرش پر بیٹھنے پر اصرار کیا۔ بالاخر وہ فرش پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئے، اور ابا جان بستر پر لیٹے ان سے باتیں کرنے لگے۔
	ابا جان سے لوگ گھر پر ہی ملنے آتے۔ ہر شام احباب کی محفل جما کرتی۔ ان کی چارپائی کے گرد بہت سی کرسیاں رکھی ہوتیں اور لوگ ان پر آ کر بیٹھ جایا کرتے۔ آپ چارپائی پر لیٹے، ان سے باتیں کرتے رہتے اور ساتھ ساتھ حقہ بھی پیتے جاتے۔ رات کا کھانا نہ کھاتے تھے، صرف کشمیری چائے پینے پر اکتفا کرتے۔ رات گئے تک علی بخش ان کے پاؤں دباتا اور اگر میں کبھی دبانے بیٹھتا تو منع کر دیتے اور کہتے ’’تم ابھی چھوٹے ہو، تھک جاؤ گے۔‘‘
	مجھے خاص طور پر حکم تھا کہ جب بھی ان کے پاس لوگ بیٹھے ہوں اور کوئی بحث مباحثہ ہو رہا ہو تو میں وہاں ضرور موجود رہوں۔ لیکن مجھے ان کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہ ہوا کرتی کیونکہ وہ میری سمجھ سے بالاتر ہوتیں۔ سو، میں عموماً موقع پا کر وہاں سے کھسک جایا کرتا جس پر انھیں بہت رنج ہوتا اور وہ اپنے احباب سے کہتے ’’یہ لڑکا نہ جانے کیوں میرے پاس بیٹھنے سے گریز کرتا ہے۔‘‘دراصل اب وہ تنہائی بھی محسوس کرنے لگے تھے اور اکثر اوقات افسردگی سے کہا کرتے ’’سارا دن یہاں مسافروں کی طرح پڑا رہتا ہوں ، میرے پاس آ کر کوئی نہیں بیٹھتا!‘‘
	آخری رات ان کی چارپائی گول کمرے میں بچھی تھی۔ عقیدت مندوں کا جمگھٹا تھا۔ میں کوئی نو بجے کے قریب اس کمرے میں داخل ہوا تو پہچان نہ سکے۔ پوچھا کون ہے؟‘‘میں نے جواب دیا ’’میں جاوید ہوں۔‘‘ہنس پڑے اور بولے ’’جاوید بن کر دکھاؤ تو جانیں !‘‘پھر اپنے قریب بیٹھے ہوئے چودھری محمد حسین سے مخاطب ہوئے ’’چودھری صاحب!اسے جاوید نامہ کے آخیر میں وہ دعا ’’خطاب بہ جاوید ‘‘ضرور پڑھوا دیجیے گا۔‘‘
	اس رات ہمارے ہاں بہت سے ڈاکٹر آئے ہوئے تھے۔ ہر کوئی ہراساں دکھائی دیتا تھا کیونکہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ آج کی رات مشکل سے کٹے گی۔ کوٹھی کے صحن میں کئی جگہوں پر، دو دو تین تین کی ٹولیوں میں ، لوگ کھڑے باہم سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ابا جان سے ڈاکٹروں کی یہ رائے مخفی رکھی گئی۔ مگر وہ بڑے تیز فہم تھے۔ انھیں اپنے احباب کا بکھرا ہوا شیرازہ دیکھ کر یقین ہو گیا تھا کہ بساط عنقریب الٹنے والی ہے۔ اس کے باوجود وہ اس رات معمول سے زیادہ ہشاش بشاش نظر آتے تھے۔
	مجھے بھی حالات سے آگاہ نہ کیا گیا اس لیے میں معمول کے مطابق اپنے کمرے میں جا کر سو رہا۔ مگر صبح طلوع آفتاب سے پیشتر مجھے علی بخش نے آ کر جھنجھوڑا اور چیختے ہوئے کہا:’’جاؤ دیکھو !تمہارے ابا جان کو کیا ہو گیا ہے۔‘‘
	نیند اچانک میری آنکھوں سے کافور ہو گئی۔ میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ گھر کے مختلف حصوں سے کراہنے اور سسکیاں بھرنے کی بھنچی ہوئی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ میں اپنے بستر سے اس خیال سے نکلا کہ جا کر دیکھوں تو سہی کہ انھیں کیا ہو گیا ہے۔ جب میں اپنے کمرے سے گزرتا ہوا ملحقہ کمرے میں پہنچا تو منیرہ تخت پر اکیلی بیٹھی، اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپائے رو رہی تھی۔ مجھے ابا جان کے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ میری طرف لپکی اور میرے بازو سے چمٹ گئی۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے لیکن اس کے باوجود وہ میرے ساتھ چل رہی تھی۔ ہم دونوں ان کے کمرے کے دروازے تک پہنچ کر رک سے گئے۔ میں نے دہلیز پر کھڑے کھڑے اندر جھانکا۔ ان کے کمرے میں کوئی بھی نہ تھا۔ کھڑکیاں کھلی تھیں اور وہ چارپائی پر سیدھے لیٹے تھے۔ انھیں گردن تک سفید چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا جو کبھی کبھار ہوا کے جھونکوں سے ہل جاتی۔ ابا جان کی آنکھیں بند تھیں ، چہرہ قبلے کی طرف تھا، مونچھوں کے بال سفید ہو چکے تھے،اور سر کے بالوں کے کناروں پر میرے کہنے سے آخری بار لگائے ہوئے خضاب کی ہلکی سی سیاہی موجود تھی۔
	منیرہ کی ٹانگیں دہشت سے کانپ رہی تھیں۔ اس نے میرے بازو کو بہت زور سے پکڑ رکھا تھا اور مجھے اس کی سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ مگر میں کوشش کے باوجود بھی نہ رو سکتا تھا۔ مجھے خوف تھا کہ اگر میں رو دیا تو وہ ابھی اٹھ کھڑے ہوں گے، اپنی انگلی کے اشارے سے ہم سے قریب آنے کو کہیں گے۔ اور جب ہم ان کے قریب پہنچ جائیں گے تو وہ اپنے ایک پہلو میں مجھے اور دوسرے میں منیرہ کو بٹھا لیں گے، پھر اپنے دونوں ہاتھ پیار سے ہمارے کندھوں پر رکھ کر قدرے کرختگی سے مجھ سے کہیں گے ’’تمہیں یوں نہ رونا چاہیے۔ یاد رکھو تم مرد ہو، اور مرد کبھی نہیں رویا کرتے!‘‘

مئے لالہ فام، اقبال اکادمی لاہور، ۱۹۹۲ء۔
٭٭٭
حاشیہ

۱۔جاوید اقبال صاحب کے بچپن کا یہ مشاہدہ علامہ کی زندگی کے ان آخری برسوں کا ہے،جب( ۱۹۳۴ء سے) علامہ کی طویل علالت کا آغاز ہو چکا تھا۔(مرتبین)
٭٭٭


اقبال کی آخری علالت

سید نذیر نیازی

	۱۹۳۶ء کی سردیاں آئیں تو حضرت علامہ کی طبیعت بہتر ہونا شروع ہو گئی اور ۱۹۳۷ء کے اختتام تک صحت کی یہ رفتار برابر قائم رہی۔ اس زمانے میں ایسا بھی ہوا کہ کبھی کبھی ان کی آواز نہایت صاف ہو جاتی علی ہذا تنفس اور بلغم میں بھی کمی تھی۔ البتہ کمزوری کا احساس باقی تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت علامہ پلنگ پر لیٹے رہنے کی بجائے اکثر نشست کے کمرے میں آ بیٹھتے مگر انہوں نے خود پڑھنا لکھنا ترک کر دیا تھا کیونکہ مارچ یا اپریل ۱۹۳۷ء میں موتیا بند کی علامتیں قطعی طور سے ظاہر ہو گئی تھیں۔ بہر کیف اب ان کی خواہش تھی کہ قرآن پاک کے حقائق و معارف کے متعلق اپنا دیرینہ ارادہ پورا کریں۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کس رنگ میں ؟تفسیر و تشریح یا ابتدائی مطالعہ کے لیے ایک مقدمہ؟ بالاخر موجودہ زمانے کی اجتماعی تحریکات کو دیکھتے ہوئے ان کے دل میں یہ خیال دن بدن مستحکم ہوتا چلا گیا کہ اس وقت ضرورت اسلام کے نظام عمرانی کی تصریح و توضیح کی ہے وہ چاہتے تھے کہ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ کی مانند تشکیل جدید فقہ اسلامی پر قلم اٹھائیں اور دیکھیں کہ قرآن پاک نے ان مسائل کی رہنمائی کس انداز میں کی ہے۔ لیکن اس کے لیے وقت کی ضرورت تھی اور ان حضرات کی بھی جو فقہ اسلامی پر نظر رکھتے ہوئے جدید عمرانی رجحانات کو سمجھتے ہوں۔ بایں ہمہ انہوں نے اس غرض سے یورپ اور مصر کی بعض نئی مطبوعات فراہم کرنا شروع کر دی تھیں لیکن افسوس ہے کہ اس تصنیف کا کام استفصائے مسائل، ترتیب مقدمات اور تقسیم مباحث سے آگے نہیں بڑھا اور وہ بھی صرف ان کے غور و فکر اور گفتگوؤں کی دنیا میں۔ آگے چل کر جب وہ اپنی صحت سے ناامید ہو گئے تو اس ارادے کی ناکامی سے اس قدر شکستہ خاطر تھے کہ دو ایک بار فرمایا۔ ’’میں یہ کتاب لکھ سکتا تو اطمینان سے جان دیتا۔‘‘
	تشکیل جدید فقہ اسلامی کا ارادہ ملتوی ہوا تو ان کا ذہن جس کی تیزی اور سر گرمی جمود تعطل کی بجائے دن بدن بڑھتی جاتی تھی، ایک دوسری جانب منتقل ہو گیا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں صبح و شام ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور گھنٹوں مباحث پر ان سے گفتگو کرتا۔ ایک مرتبہ حضرت علامہ نے فرمایا۔ ’’لوگوں سے بات چیت کرنے میں بہت سے عمدہ خیالات سوجھتے ہیں مگر بعد میں کوئی یاد رہ جاتا ہے اور کوئی نہیں۔‘‘میں نے خلاف ارادہ عرض کیا کہ میں نے تو اپنی بساط کے مطابق آپ کے ارشادات کا ایک روزنامچہ تیار کر رکھا ہے۔ کہنے لگے ’’ایکرمان کی طرح ؟‘‘میں اپنی بے مایگی کے احساس سے خاموش ہو گیا۔ انہوں نے کہا ’’اگر تم اپنے ساتھ ایک یادداشت بھی رکھ لو تو کیا خوب ہوتا کہ جس بات کو کرنے کو کہا جائے فوراً قلم بند ہو جائے۔‘‘ لیکن ابھی دو ایک باتیں ہی درج یادداشت ہوئی تھیں کہ یہ امر واضح طور سے محسوس ہونے لگا کہ حضرت علامہ کے افادات ایک کتاب کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ میں ہر روز عہد نامہ عتیق یا اناجیل  کا کوئی حصہ پڑھ کر سنایا کروں یہ مشغلہ کئی روز تک جاری رہا۔ عہد نامہ عتیق پر ان کی تنقید بڑے مزے کی ہوتی اور وہ اس کے انداز بیان اور مطالب کا مقابلہ بار بار قرآن پاک سے کرتے۔ دراصل ان کا خیال تھا کہ نطشے کی کتاب Also Sprachh Zarathustraکی طرح ایک نئی تصنیف What an unknown Prophet said  یا  The book of an unknown Prophetکے نام سے مرتب کریں۔ اور اس کے لیے انہیں کسی مناسب ادبی اسلوب کی تلاش تھی۔
	اس امر کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ تشکیل جدید فقہ اسلامی کی طرح اس کتاب کا تصور بھی کوئی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ میں ابھی عرض کر چکا ہوں کہ ۱۹۳۷ء میں حضرت علامہ کی صحت سال گذشتہ سے کہیں زیادہ بہتر تھی۔ رفتہ رفتہ انہوں نے اپنے بدن میں ایک قسم کی تازگی اور قوت محسوس کرنا شروع کی۔اس سے انہیں پھر امید بندھ گئی کہ شاید کچھ مدت کے بعد سفر کے قابل ہو جائیں۔اس خیال کے آتے ہی حکیم صاحب قبلہ سے درخواستیں ہونے لگیں کہ تقویت بدن کے لیے کوئی زود اثر اکسیر ایجاد کریں۔ ایک خط میں لکھتے ہیں :
ہے دو روحوں کا نشیمن یہ تن خاکی مرا
ایک میں ہے سوز و مستی ایک میں ہے تاب و تب
ایک جو اللہ نے بخشی مجھے صبح ازل 
دوسری وہ آپ کی بھیجی ہوئے روح الذہب
	جب سے حضرت علامہ گول میز کانفرنسوں کے سلسلے میں یورپ تشریف لے جا رہے تھے بالخصوص سیاحت اندلس اور افغانستان کے بعد ان کے دل میں برابر یہ شوق پیدا ہو رہا تھا کہ اگر ممکن ہو تو بلادِ اسلامیہ کا سفر کریں تاکہ دنیائے اسلام کی موجودہ ذہنی کشاکش اور اجتماعی اضطراب کا صحیح اندازہ ہو سکے۔ان کا خیال تھا جو لوگ ان ممالک کی سیر کرتے ہیں ، ان کی قوتِ مشاہدہ نہایت محدود بلکہ اکثر معدوم ہوتی ہے لیکن اس سے کہیں بڑھ کر ان کی ایک دیرینہ آرزو تھی اور وہ حرم پاک نبوی کی زیارت تھی۔ ۱۹۳۲ء میں انگلستان سے واپس ہوتے ہوئے جب وہ موتمر اسلامیہ کی شرکت کے لیے بیت المقدس تشریف لے گئے ہیں تو اس وقت سفر حجاز کا سامان تقریباً مکمل ہو چکا تھا لیکن پھر جیسا کہ انہوں نے خود مجھ سے فرمایا۔ ’’اس بات سے شرم آتی تھی کہ میں گویا ’’ضمناً‘‘ دربار رسولؐ میں حاضر ہوں۔‘‘ خیر اس وقت تو یہ ارادہ پورا ہونے سے رہ گیا مگر ان کے تاثرات دب نہ سکے اور ان کا اظہار اس نظم میں ہوا جو ’’ذوق شوق‘‘ کے عنوان سے بالِ جبریلمیں موجود ہے۔ اب ۱۹۳۷ء میں ان کی حالت بہتر ہوئی تو انہوں نے مختلف جہاز راں کمپنیوں سے خط و کتابت شروع کر دی۔ خیال یہ تھا کہ ۱۹۳۸ء میں نہیں تو ۱۹۳۹ء میں وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ منور کی زیارت سے فیض یاب ہو سکیں۔ رفتہ رفتہ انہوں نے عالم تصور میں اس مقدس سفر کی تمام منزلیں طے کر لیں۔ ادھر وفور شوق نے ان کے درد بھرے ساز کو چھیڑا اور ادھر ان کی زبان جوش و خروش میں ترانہ ریز ہوئی   ؎
بایں پیری رہ یثرب گرفتم
نوا خواں از سرور عاشقانہ
چوآں مرغے کہ در صحرا سر شام 
کشاید پر بہ فکر آشیانہ 
انہوں نے خیال ہی خیال میں احرام سفر باندھا اور ارض پاک کو روانہ ہو گئے
’’الا یا خیمگی خیم فروہل
کہ پیش آہنگ بیروں شدز منزل‘‘
خرد از راندن محمل فروماند
زمام خویش دادم در کف دل
کبھی وہ عین حرم کعبہ میں اپنی بے تابی کا اظہار کرتے   ؎
بدن داماند و جانم درتگ و پوست
سوئے شہرے کہ بطحا در رہ اوست
توباش ایں جا و با خاصاں بیامیز
کہ من دارم ہوائے منزل دوست
اور کبھی دیار حبیب صلعم میں پہنچ کر ان کی بے چین روح کو تسکین و قرار کی ایک دولت ہاتھ آ جاتی ہے   ؎
دریں وادی زمانی جاودانی 
ز خاکش بے صور روید معانی!
حکیماں یا کلیماں دوش بر دوش 
کہ ایں جاکس نہ گوید ’لن ترانی‘!
	اب طبیعت میں آمد کا وہ زور تھا کہ رباعیوں پر رباعیاں موزوں ہوتی چلی گئیں۔ پچھلے سال کی برسات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک روز مجھ سے ارشاد فرمایا ’’نیازی صاحب !ارمغان حجاز کا مسودہ صاف کرنا ہے۔‘‘عنوان کتاب اور رباعیات (یا قطعات اس لیے کہ اوزان کی روسے غالباً انہیں قطعات کہنا ہی زیادہ مناسب ہو گا اگرچہ حضرت علامہ نے خود ان کو رباعیوں ہی سے تعبیر کیا) کا ذکر تو روز مرہ کی صحبتوں میں اکثر آتا رہتا تھا لیکن یہ سن کر اور بھی مسرت ہوئی کہ مسودے کی تبیض کا وقت آ پہنچا۔ ۱۹۳۶ء سے اشعار کی ترتیب و تسوید کی خدمت حضرت علامہ نے میرے ہی ذمے کر رکھی تھی جس سے مجھے ان کی شاعری کے نفسیاتی پہلوؤں سے اور زیادہ گہرا اتصال پیدا کرنے کا موقعہ ملا۔ حضرت علامہ کی یہ آخری تصنیف جو ایک طرح سے حجاز کا خیالی سفرنامہ ہے (فرمایا کرتے تھے ’’اصل سفرنامہ تو وہ ہو گاجو حرمین پاک کی زیارت کے بعد لکھا جائے گا)ان کی وفات سے بمشکل ایک ہفتہ پہلے مکمل ہوئے۔ میرا مطلب اس رباعی سے ہے جو آنے والے ’’مرد مسلم‘‘ کے متعلق انہوں نے درج بیاض کرائی ورنہ صحیح معنوں میں اس تصنیف کو مکمل کہنا غلط ہے کیونکہ رباعیات کی آمد اور ان کی تصحیح ترمیم،انتخاب اور قطع و برید کا سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ایک دن جب میں اور چودھری صاحب حسب معمول ان کی خدمت میں حاضر تھے تو فرمایا ’’بیاض لے آؤ اور فہرست مرتب کر دو۔‘‘ قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ لمحے میرے اور چودھری صاحب کے لیے کس قدر تکلیف اور رنج کا باعث ہوں گے۔ میں نے فہرست کو ترتیب دے کر عرض کیا ’’اور اردو نظمیں ؟‘‘ فرمایا ’’الگ عنوان دے کر ساتھ ہی شامل کر دو۔‘‘
	اردو نظموں کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ حضرت علامہ کا مشغلہ سخن تو ہمیشہ جاری رہتا۔ وہ اگر چاہتے بھی تو اسے بند نہ کر سکتے تھے۔اس سلسلے میں انہوں نے ایک دن خود مجھے سے ارشاد فرمایا کہ ’’آمد شعر کی مثال ایسی ہے جیسے تحریک جنسی کی ہم اسے چاہیں بھی تو روک نہیں سکتے۔ ‘‘کہنے لگے ’’میں بلا ارادہ بھی شعر کہہ سکتا ہوں ‘‘ اور بعض دفعہ ایک ہی شب میں اشعار کی تعداد تین تین سو تک پہنچ گئی۔ ایک دفعہ سو کر اٹھے تو یہ شعر زبان پر تھا   ؎
دوزخ کے کسی طاق میں افسردہ پڑی ہے 
خاکستر اسکندر و چنگیز و ہلاکو
	اور فرمایا ’’اس کا کچھ مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ بہر کیف ان مثالوں سے ان کے جوش طبیعت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے ایک طویل نظم ۱۹۳۶ء میں ہو چکی تھی۔  اس کے بعد وقتاً فوقتاً یہ مشغلہ جاری رہا اور متعدد قطعات، نظمیں اور رباعیاں مرتب ہوتی چلی گئیں۔ بعض اشعار کشمیر اور اہل کشمیر کے متعلق تھے۔خیال تھا کہ یہ مجموعہ شاید حضور اسرافیل کے نام شائع ہو گا گھر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آخری اُردو نظم جو انہوں نے کہی اس کی تاریخ، فروری ۱۹۳۷ء ہے چھ شعر کا ایک مختصر سا قطعہ جس کا موضوع تھا:’’حضرت انسان۔‘‘
	یوں حضرت علامہ کی علالت کو کم و بیش چار سال گزر گئے۔ پانچویں برس یعنی ۱۹۳۸ء کا آغاز ہوا تو ان کی طبیعت نے یک بیک پلٹا کھایا۔ البتہ ۱۹۳۷ء میں دو ایک روز کے لیے دہلی ضرور تشریف لے گئے تاکہ حکیم صاحب کو نبض دکھا سکیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مرض کے ازالے کا کچھ بہت زیادہ موثر طریق نہ تھا۔ معلوم نہیں ان کے آخری عوارض کی ابتدا کب ہوئی لیکن جہاں تک میں اپنی قوت مشاہدہ پر اعتماد کر سکتا ہوں۔ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ ان کی صحت آخر ۱۹۳۷ء ہی سے گرنا شروع ہو گئی تھی۔ میں اس زمانے میں حضرت علّامہ کو دیکھ کر اکثر گھبرا جاتا۔ بسا اوقات وہ اس قدر لاغر اور نحیف معلوم ہوتے جیسے ان کے بدن میں خون ہی نہیں۔ بایں ہمہ ان سے جو کوئی بھی خیریت مزاج دریافت کرتا،فرماتے ’’الحمدللہ، بہت اچھا ہوں۔‘‘
	اس زمانے میں حکیم محمد حسن صاحب قرشی نے ان کے لیے چند مرکبات تجویز کر رکھے تھے جن سے فائدہ ہوا لیکن ۱۹۳۷ء کا آغاز اور ’’یوم اقبال ‘‘کی تقریب خیر و خوبی سے گزر گئی تو انہیں دفعتاً ضیق النفس کے خفیف سے دورے ہونے لگے ایک روز انہوں نے شکایت کی کہ پچھلی رات کا اکثر حصہ بے خواب گزرتا ہے۔ پھر ایسا معلوم ہوا جیسے گردے کے مقام پر درد ہے۔ دو ایک دن نقرس کی تکلیف بھی رہی مگر اس کے بعد بتدریج افاقہ ہوتا گیا۔ رہی نیند کی کمی سو خیال تھا کہ شاید تبدیلی وقت کی وجہ سے ایسا ہو۔ کیونکہ حضرت علامہ دن کا اکثر حصہ سو لیا کرتے تھے اور بے خوابی کے باوجود تھکن یا بے چینی محسوس نہ کرتے۔ضیق النفس کے لیے قرشی صاحب نے ایک ہلکا سا جوشاندہ تجویز کر رکھا تھا جس کے استعمال سے فوراً سکون ہو جاتا۔ ان کی رائے تھی کہ حضرت علامہ کو دمہ قلبی (Cardiac Asthma)ہے ضعف قلب کے باعث اور ڈاکٹروں نے  اس کی تائید کی۔ اس تکلیف میں حضرت علامہ اکثر بیٹھے بیٹھے سامنے کی طرف جھُک جاتے اور بسا اوقات پائنتی پر تکیہ رکھے اپنا سر اس پر ٹیک دیتے۔
	ایک عجیب بات یہ ہے کہ ان ایام میں انہوں نے دفعتاً مایوسی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ علی بخش سے اکثر کہا کرتے تھے:’’۱۹۳۸ء خیریت سے گزر جائے تو سمجھنا کہ اچھا ہوں۔ ’’۲۲ فروری کی شام کو مجھ سے شوپن ہاور کے متعلق گفتگو کرتے کرتے یک بیک کہنے لگے ’’نیازی صاحب اس فلسفہ میں کیا رکھا ہے،کچھ بھی نہیں۔‘‘میں سمجھا ان کا اشارہ ہے عقل کی بے مایگی کی طرف۔ کہنے لگے۔ ’’علم کی مسرت ،کوئی مسرت نہیں مسرت یہ ہے کہ انسان کی صحت ہو تندرستی ہو۔‘‘
	اس کے تین روز بعد یعنی ۲۵ فروری کی شام کو انہوں نے ضیق کو روکنے کے لیے حسب معمول جوشاندہ پیا مگر دورے کی شدت میں کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اگلے روز ایلوپیتھک علاج شروع کیا گیا۔ اس میں کچھ دوائیں غالباً دورے کو روکنے اور کچھ نیند کے لیے تھیں۔ اس طرح چند روز آرام سے گزر گئے مگر پھر ۳ مارچ کو آخر شب میں ان پر ضعف قلب کے باعث غشی طاری ہو گئی اور وہ اسی حالت میں پلنگ سے نیچے گر گئے۔
	قرشی صاحب کا قاعدہ تھا کہ صبح کی نماز کے بعد حضرت علامہ کی خیریت معلوم کرنے اکثر جاوید منزل تشریف لے جاتے۔ اس روز بھی حسن اتفاق سے ایسا ہی ہوا۔ قرشی صاحب پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علامہ دم کشی کے باعث تکلیف میں ہیں انہوں نے جہاں تک ممکن تھا اس وقت مناسب تدابیر کیں اور پھر سیدھے میرے ہاں چلے آئے ان کی اس غیر متوقع تشریف آوری پر مجھے ایک گونہ تعجب ہُوا لیکن میں ابھی دریافتِ حالات نہ کرنے پایا تھا کہ اُنھوں نے خود ہی صبح کے پُر خطر واقعہ کا ذکر کر دیا۔کہنے لگے :دل نہایت ضعیف ہے۔ جگر اور گردے ماؤف ہو رہے ہیں۔ مگر اللہ پر بھروسا رکھنا چاہیے، مناسب تدابیر اور احتیاط سے افاقہ ہو جائے گا۔‘‘ میں کچھ اور پوچھنا چاہتا تھا کہ انہوں نے کہا۔ ’’آپ فوراً جاوید منزل چلے جائیے اور حضرت علامہ کی حالت سے مجھے اطلاع دیجئے۔ میں دوائیں بھجواتا ہوں۔‘‘
	یہ گویا آغاز تھا حضرت علامہ کے مرض الموت کا لیکن اس وقت بھی ان کے استقلال اور دل جمعی کی یہ کیفیت تھی کہ جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو حسب معمول نہایت اطمینان سے باتیں کرنے لگے۔ ’’آج کیا خبر ہے ؟لڑائی ہوئی ہے یا نہیں ؟ آسٹریا کا کیا حال ہے؟‘‘دو تین گھنٹے کی نشست کے بعد جب میں نے یہ دریافت کیا کہ قرشی صاحب سے کیا عرض کر دیا جائے تو مسکرا کر فرمایا۔ ’’میری طبیعت اچھی ہے اس قدر اچھی کہ اگر کسی موضوع پر تقریر کرنا پڑے تو اس کا سلسلہ تین گھنٹے تک جاری رکھ سکتا ہوں۔‘‘ حضرت علامہ نے یہ الفاظ اس لیے فرمائے کہ انہیں زیادہ گفتگو سے منع کر دیا گیا تھا۔ طبی اصطلاح میں ان کی نبض اگرچہ ’’نملی ‘‘تھی یعنی چیونٹی کی طرح نہایت ضعیف لیکن ان کا ذہن برابر صفائی سے کام کرتا رہا۔ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی قلب و دماغ عطا کیے تھے۔ان کے معالج اگرچہ ابتدا میں گھبرا جاتے۔ لیکن ان کی قوت دماغی سے چند ہی روز کے بعد امید بندھ جاتی کہ ابھی صحت کے امکانات باقی ہیں۔ یوں حضرت علامہ کے اس نظریے کی تائید ہو جاتی تھی کہ ہر شخص کی طب انفرادی ہے اور دوران علاج میں مزاج کا خیال رکھنا از بسکہ ضروری۔
	حضرت علامہ کے تیمار داروں کے لیے یہ دن بڑے اضطراب کا تھا۔ بالخصوص اس لیے کہ شام کو انہیں ذرا ذرا سی دیر کے بعد ضعف قلب کا دورہ ہونے لگتا ظاہر ہے کہ اس تشویش انگیز حالت میں خطوں پر اکتفا کرنا ناممکن تھا اور اگرچہ حکیم صاحب کی خدمت میں مفصل اطلاع کر دی گئی مگر اب عملاً علاج قرشی صاحب ہی کا تھا۔ یوں بھی حضرت علامہ انہیں اکثر مشورے کے لیے طلب فرما لیا کرتے تھے اور پچھلے برس سے تو ان کا معمول ہو گیا تھا کہ ہر دوسرے تیسرے روز جاوید منزل تشریف لے جاتے حضرت علامہ کو ان کی ذات پر بے حد اعتماد تھا اور وہ ان کی لیاقت و خداقت سے متاثر ہو کر اکثر فرمایا کرتے تھے:’’شمالی ہند میں اب اُن کے سوا اور کون ہے؟ اگر ان کا وجود ایک چھوٹے سے ادارے کی شکل اختیار کر لے تو ہندوستان میں نہ سہی کم از کم پنجاب میں ہماری طب کو بہت کافی فروغ ہو سکتا ہے ‘‘ قرشی صاحب نے بھی جس خلوص اور دلسوزی سے حضرت علامہ کی خبر گیری کی ہے اس کے متعلق اتنا عرض کر دینا کافی ہو گا کہ ان کا تعلق محض طبیب اور مریض کا نہیں بلکہ ایک عقیدت مند اور خدمت گذار دوست کا تھا۔ وہ ان ایام میں حضرت علامہ کی بیماری کے سوا سب کچھ بھول گئے۔ کتنے مرکبات تھے جو انہوں نے محض حضرت علامہ کے لیے اپنی زیر نگرانی تیار کیے وہ صبح و شام ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور گھنٹوں ان کے پاس بیٹھ کر کبھی دوا کھلاتے کبھی مزے مزے کی باتوں سے ان کا جی بہلاتے اکثر وہ ان کی ہتھیلیاں سہلانے لگتے اور پھر چپکے چپکے ان کے چہرے اور پاؤں کا معائنہ کر لیتے۔ یہ اس لیے کہ ان کو ابتدا ہی سے خیال ہو چلا تھا کہ حضرت علامہ کا رجحان استسقا کی طرف ہے۔ خود حضرت علامہ کی یہ کیفیت تھی کہ ادھر قرشی صاحب نے جاوید منزل میں قدم رکھا اور ادھر ان کی تمام شکایات دور ہو گئیں۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے ’’میرا سب سے بڑا علاج یہی ہے کہ حکیم صاحب پاس بیٹھے رہیں۔‘‘
	لہٰذا قرشی صاحب کی محنت اور توجہ سے تھوڑے دنوں میں یہ حالت ہو گئی کہ حضرت علامہ کو  لحظہ بہ لحظہ افاقہ ہونے لگا اور بعض دفعہ وہ اپنی خواب گاہ میں چل پھر بھی لیتے۔ اس اثنا میں حکیم نابینا صاحب کی دوائیں آ گئی تھیں اور پھر کُچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر مظفر الدین صاحب  بھی ان سے ضروری ہدایات لیتے آئے کیونکہ حکیم نابینا صاحب اس وقت حیدرآباد تشریف لے جا چکے تھے۔ اس طرح اطمینان کی ایک اور صورت پیدا ہو گئی مگر ان کے بعض نیاز مندوں کا خیال تھا کہ اگر قرشی کے علاج میں ڈاکٹری مشورہ بھی شامل کر لیا جائے تو کیا حرج ہے۔ ممکن ہے ایسا کرنا مفید ہی ثابت ہو۔یہ سوچ کر ڈاکٹر محمد یوسف صاحب سے رجوع کیا گیا اور انہوں نے پورے خلوص اور توجہ سے اس امر کی کوشش کی کہ تخفیفِ مرض کی کوئی صورت نکل آئے کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر کپتان الٰہی بخش سے بھی مشورہ ہوا۔ مگر حضرت علامہ کی اپنی طبیعت کا یہ عالم تھا کہ ایلوپیتھک دواؤں سے بار بار گھبرا تے اور ایک خاص میعاد مقرر کرنے کے بعد ان کا استعمال چھوڑ دیتے۔
	یہاں پہنچ کر قدرتاً یہ سوال پیدا ہو گا کہ حضرت علامہ کا مرض فی الحقیقت کیا تھا۔قرشی صاحب کہتے ہیں کہ انہیں عظم و اتساع قلب کی شکایت تھی یعنی دل کے مناسب عمل میں نقص واقع ہو گیا تھا جس سے ان کے عضلی ریشے بڑے ہو کر لٹک گئے تھے اس طرح ان کے دل میں سانس کی تکلیف دمہ قلبی کی وجہ سے تھی۔ بالفاظ دیگر چونکہ دل کا عمل پورا نہ ہوتا تھا اس لیے تکلیف رونما ہو جاتی۔ قرشی صاحب کی رائے تھی کہ ’’حضرت علامہ کی کھانسی، بول زلالی،نبض کا ضعیف، سریع اور غیر منظم ہونا یہ سب اتساع قلب کی علامات ہیں۔ مزید برآں ان کا جگر بھی بڑھا ہوا تھا مگر حضرت علامہ کا جگر پہلے سے ماؤف تھا۔ ’’اتنا تو مجھے بھی یاد ہے کہ حکیم نابینا صاحب حضرت علامہ کے جگر کی اصلاح کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔ قرشی صاحب کے نزدیک حضرت علامہ کے گردے بھی متاثر تھے اور ان کو شروع ہی سے خیال ہو گیا تھا کہ استسقا کا خدشہ ہے۔ 
	اس کے مقابلے میں ایک دوسری تشخیص یہ تھی کہ حضرت علامہ کو انور سما اور طی (انورزم)یعنی شہ رگ کی رسولی ہے۔ یہ اس لیے کہ جب ان کا دل کمزور ہو گیا تو خون کے مسلسل دباؤ نے شہ رگ میں جو ربڑ کے غبارے کی مانند پھیل گئی تھی۔ ایک گڑھا سا پیدا کر دیا جس نے رفتہ رفتہ ایک دموی رسولی کی شکل اختیار کر لی۔ یہی سبب وقت نفس کا تھا کیونکہ قصبتہ اریحہ (ہوا کی نالی)پراس رسولی کا دباؤ پڑتا تھا۔ اس طرح حضرت علامہ کو مسلسل کھانسی ہوتی رہتی اور انور سما کے باعث چونکہ آواز کے ڈورے کھل گئے تھے لہٰذا ان کا گلا بیٹھ گیا۔
	حضرت علامہ کے عوارض کی ان دو تشخیصوں کے متعلق جن کی تفصیل کے لیے میں قرشی صاحب کا ممنون احسان ہوں ، اگرچہ راقم الحروف کا کچھ کہنا بے سود ہو گا لیکن اتنا ضرور عرض کرنا پڑتا ہے کہ زیادہ تر اتفاق رائے غالباً پہلی تشخیص پر ہی تھا۔ ۲۱ مارچ کو جب محمد اسد صاحب مترجم بخاری حضرت علامہ کی عیادت کے لیے آئے ہیں اور ان کے ساتھ ڈاکٹر زیلتسر(Selzer)بھی تھے تو ان کا (ڈاکٹر زیلتسر کا)بھی یہی خیال تھا کہ حضرت علامہ کو اتساع قلب کا عارضہ ہے اور گلے کی تکلیف مقامی فالج کا نتیجہ۔بہر کیف قرشی صاحب کی رائے تھی کہ حضرت علامہ کو لطیف مقویات اور مغزیات کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے اور ان کے لیے مشک غبر اور مروارید بہت مفید ہیں گے۔ ان دواؤں کا فی الواقع یہ اثر بھی ہوا کہ حضرت علامہ اگر کبھی تبدیلی علاج بھی کرتے تو ان کا استعمال برابر جاری رکھتے۔
	بات اصل میں یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی خیالات اور تجربات کی بنا پر طب قدیم کی خوبیوں کے قائل ہو چکے تھے۔ جدید نظریوں پر انہیں سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ ان میں انسان کی حیثیت محض ایک شے کی رہ جاتی ہے اور اس کے نفسیاتی پہلوؤں کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ اول تو ان کی رائے یہ تھی کہ طب کا علم ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اس کے یہ معنی ہو گے کہ ہم زندگی کی کنہ سے باخبر ہیں جو بداہتاً ایک غلط سی بات ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ایک حد تک طب ممکن بھی ہے تو ہر شخص کی طب دوسرے سے جداگانہ ہو گی کیونکہ پرانا (Ego)بجائے خود یکتا اور منفرد ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے اس امر کی طرف اشارہ بھی کیا کہ اس نقطۂ نظر کے ماتحت اٹلی میں ایک جدید طب کی تشکیل ہو رہی ہے۔ وہ کہا کرتے تھے علم طب نے کیا ترقی کی ہے؟حالانکہ نوع انسانی کو اس کی ضرورت بد و شعور ہی سے محسوس ہو رہی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ علم ہوتا یا پھر اس کی ابتدا اس وقت ہو گی جب تمام علوم و فنون کا ارتقا مکمل ہو جائے۔ لیکن جہاں تک عملی مجبوریوں کا تعلق ہے ان کے لیے دواؤں کا استعمال ناگزیر تھا۔ مگر وہ ایلوپیتھک دواؤں سے بہت ناراض تھے اس لیے کہ ان میں نہ ذائقے کا خیال رکھا جاتا ہے نہ پسند کا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدمت خلق کی بجائے تجارت کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ ان کے مقابلے میں طبی دوائیں ہیں۔ کس قدر لطیف اور خوش مزہ!ان سے مسلمانوں کے ذوق جمال اور نفاست مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ جب وہ قرشی صاحب کے تیار کردہ خمیرہ گاؤ زبان عنبری یا دواء المسک کو مزے لے لے کر چاٹتے تو اس پر اظہار افسوس ظاہر کرتے کہ ان کی خوراک کس قدر کم ہے۔ نہ چھ نہ سات فقط تین ماشے پھر ان کا ذاتی تجربہ بھی یہ تھا کہ درد گردہ کی شکایت جو انہیں مدت سے تھی۔ حکیم نابینا صاحب ہی کے علاج سے دور ہوئی اور ۱۹۳۴ء میں جب ڈاکٹروں نے بار بار ان کی صحت سے مایوسی کا اظہار کیا تو یہ حکیم صاحب ہی کی دوائیں تھیں جن سے امید کی ایک جھلک پیدا ہوئی اور وہ کم و بیش چار برس تک اپنے مشاغل کو جاری رکھ سکے۔ دوران علاج میں حضرت علامہ نے بارہا اس امر کا مشاہدہ کیا جدید آلات سے بالاخر انکشافات نبض ہی کی تصدیق ہوتی۔ لہٰذا یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی کہ ان کا اعتماد قدیم دواؤں پر دن بدن بڑھتا گیا۔ وہ کہا کرتے تھے ہماری دواؤں کے اثرات صدیوں کے تجربے سے ثابت ہو رہے ہیں۔ آج کل کی دواؤں کی کیا ہے، ادھر ایجاد ہوئیں ادھر متروک۔
	۱۷ مارچ کے بعد جب سے طبی علاج از سرنو شروع ہوا حضرت علامہ کی صحت میں خفیف سا مد و جزر پیدا ہوتا رہا۔اس خیال سے کہ اگر ان حالات کی اطلاع عام ہو گئی تو شاید لوگوں کی عقیدت مندی ان کے آرام میں حارج ہو حضرت علامہ کی خرابی صحت کی خبر مخفی رکھی گئی۔ ان دنوں معمول یہ تھا کہ حضرت علامہ کے متعدد احباب کے علاوہ ہم لوگ یعنی چودھری محمد حسین، راجا حسن اختر، قرشی صاحب اور راقم  الحروف صبح و شام حضرت علامہ کی خیریت معلوم کر آتے اور پھر رات کو باقاعدہ ان کی خدمت میں جمع ہو جاتے یا پھر محمد شفیع صاحب جاوید منزل ہی میں اٹھ کر آئے تھے تاکہ حضرت علامہ کی دیکھ بھال اور دواؤں کا خیال رکھیں۔ خدمت گزاری کے لیے علی بخش اور دُوسرے نیاز مند موجود تھے۔ علی بخش بے چارا تو کئی  راتیں سویا ہی نہیں۔ حضرت علامہ کو دن میں تو نسبتاً آرام رہتا تھا اور وہ کُچھ وقت سو بھی لیتے تھے لیکن رات کو ان کی تکلیف بڑھ جاتی۔ کبھی اختلاج ہوتا۔ کبھی ضعف، کبھی احتباس ریاح۔ ضیض کے دورے بالعموم پچھلے پہر میں ہوتے تھے اور شفیع صاحب کو اس کی روک تھام کے لیے خاص طور سے جاگ جاگ کر دوائیں کھلانا پڑتیں۔ علی بخش،رحما، دیوان علی (حضرت علامہ کے ملازمین)اور احباب ان کا بدن دباتے۔ جب رات زیادہ ہو جاتی تو چودھری صاحب اور راجا صاحب ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیتے تاکہ حضرت علامہ سو جائیں۔ اس وقت قرشی صاحب اور بھی زیادہ قریب ہو بیٹھتے اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حضرت علامہ دیوان علی سے بلھے شاہ کی کافیاں یا پنجابی گیت سنتے اور مجھ سے فرماتے کہ ’’میں بغداد یا قرطبہ کا کوئی ایسا افسانہ بیان کروں جس سے ان کو نیند آ جائے۔‘‘اس طرح کچھ دنوں کے بعد حضرت علامہ کی طبیعت یہاں تک سنبھل گئی کہ راجا صاحب سے (سرکاری مشاغل کی مجبوریوں کے باعث )ناغے ہونے لگے اور قرشی صاحب سے دوا اور غذا کے متعلق چھیڑ چھاڑ شروع ہو گئی۔ حضرت علامہ ان سے ہر دوسرے تیسرے روز اس امر کی خواہش کرتے کہ ان کی غذا کی فہرست میں اضافہ ہو تاکہ انتخاب میں سہولت رہے۔ ایک مرتبہ کہنے لگے :’’پلاؤ کھانے کو بہت جی چاہتا ہے۔ ‘‘ قرشی صاحب نے کہا آپ کھچڑی کھا لیجئے۔ فرمایا:’’بھنی ہوئے؟کافی گھی کے ساتھ؟‘‘انہوں نے کہا ’’نہیں ، گھی کم ہونا چاہیے کیونکہ آپ کا جگر بڑھ گیا ہے۔‘‘ حضرت علامہ کہنے لگے:لو پھر اس میں کیا لذت ہو گی۔ اس میں دہی کیوں نہ ملا لیا جائے۔‘‘ قرشی صاحب بولے:’’مگر آپ کو کھانسی ہے ....دہی مضر ہے۔‘‘ فرمایا:تو پھر اس کھچڑی سے نہ کھانا اچھا ہے۔‘‘ بقول قرشی صاحب آخری ایام میں ان کی قُوّتِ تنقید بہت بڑھ گئی تھی اور مزاج میں بے حد ذکاوت اور نفاست پیدا ہو چکی تھی اس لیے ان کے سوالات کا جواب دینا کوئی آسان بات نہ تھی۔ بعض دفعہ وہ (قرشی صاحب)خود بھی پریشان ہو جاتے۔ اگر ان سے یہ کہا جاتا کہ ان کی بعض علامات دوسرے اسباب کا نتیجہ ہیں تو وہ اس شدت سے جرح کرتے کہ جواب نہ بن پڑتا۔ ان کا اصرار تھا کہ ہر بات ٹھیک ٹھیک بیان کی جائے۔
	۱۶ اپریل کی شام کو جب راجا صاحب اور سیّد عابد علی حسب معمول تشریف لائے ان سے مصلحتاً یہ کہا گیا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں تو حضرت علامہ بہت خفا ہوئے۔ کہنے لگے:’’میں جانتا ہوں یہ باتیں تعلّقِ خاطر کی بنا پر کہی جاتی ہیں۔ مگر اس طرح سننے والے غلط رائے قائم کر لیتے ہیں۔‘‘دواؤں کے متعلق بھی ان کا کہنا یہ تھا کہ میں انہیں صحت کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ اس لیے کہ شدت مرض میں میری خودی (Ego)کو نقصان نہ پہنچے۔
	بایں ہمہ ان کے اخلاق عالیہ اور کمال وضع کا یہ عالم تھا کہ ان کے معمول اور روز مرہ زندگی میں انتہائی تکلیف کے باجود کوئی فرق نہ آیا۔ وہ اپنے ملنے والوں سے اسی خندہ پیشانی اور تپاک سے ملتے جس طرح تندرستی میں ان کا شیوہ تھا بلکہ اب انہوں نے اس بات کا اور بھی زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا تھا کہ ان کی تواضع اور خاطرداری میں کوئی فرو گذاشت تو نہیں ہوتی۔ صحت کی اس گئی گزری حالت میں بھی وہ اگر کسی کے کام آ سکے تو اس سے انکار نہیں کیا اور اپنی قوم کے معاملات میں جہاں تک ممکن تھا حصہ لیا۔ انہیں اپنے احباب کے جذبہ خدمت گزاری کی بڑی قدر تھی اور انہوں نے اپنی خلوتوں میں اس کا اظہار بھی کیا۔ ایک شام جب وہ انتہائی کرب کی حالت میں تھے، علی بخش نے بے اختیار رونا شروع کردیا۔ ہم نے اسے تسلی دی تو فرمایا۔’’رونے دیجئے تیس پینتیس برس کا ساتھ ہے جی ہلکا ہو جائے گا۔‘‘
	حضرت علامہ ایک زندہ انسان تھے اور آخر وقت تک صحیح معنوں میں زندہ رہے۔ وہ اپنے اردگرد کی زندہ دنیا کو ایک لخطے کے لیے بھی فراموش نہیں کر سکے برعکس اس کے یورپ اور ایشیا کی ایک ایک تبدیلی کا حال پوچھتے اور اپنے مخصوص انداز میں اس پر رائے زنی کرتے۔ لوگوں نے صرف اتنا سنا کہ،آسٹریا کا الحاق جرمنی سے ہو گیا۔حضرت علامہ نے فرمایا:’’وسط ایشیا میں ۴ کروڑ ترک آباد ہیں۔ اتحاد اتراک پر اس کا اثر کیا رہے گا۔‘‘ اس زمانے میں اٹلی اور برطانیہ کے درمیان گفت و شنید ہو رہی تھی۔ حضرت علامہ اس کی ایک ایک تفصیل کو سنتے اور فرماتے:’’اگر اٹلی نے فی الواقع اتحادیوں سے مصالحت کر لی جیسا کہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے تو بلاد اسلامیہ کو مجبوراً روس کی طرف ہاتھ بڑھانا پڑے گا۔ اس طرح سیاسیات عالم پر ان کے سبق آموز تبصروں کے ساتھ ساتھ ان کے اشعار و افکار اور ارشادات کا سلسلہ ہر وقت جاری رہتا۔ اپنی وفات سے دو روز پہلے وہ راجا صاحب کے بعض احباب سے شاعر کی ملی حیثیت اور اسلامی فن تعمیر پر فلسفیانہ بحث کر رہے تھے۔ ان کی گفتگوئیں لطف و حرارت سے کبھی خالی نہ ہوئیں اور اس کی جولانیاں مرتے دم تک قائم رہیں۔ علی بخش اور چودھری صاحب کی چھیڑ چھاڑ مدت سے چلی آتی تھی۔ ایک روز چودھری صاحب کہنے لگے:’’علی بخش کی مونچھوں کو دیکھتا ہوں تو سوچنے لگتا ہوں آخر ان کا رنگ کیا ہے؟ جس بال کو دیکھیے دوسرے سے مختلف ‘‘ حضرت علامہ نے برجستہ فرمایا ’’مچھئی‘‘
	ان کا یہ کہنا کہ دواؤں کا استعمال فائدے کے خیال سے نہیں بلکہ محض اس لیے کرتا ہوں کہ میری خودی (Ego)کو نقصان نہ پہنچے لفظ بلفظ صحیح تھا اور معلوم نہیں اس میں دواؤں کو فی الواقع کوئی دخل تھا بھی یا نہیں۔ بہر حال انہوں نے اپنی قوت ادراک اور ذہن کی بیداری کو جس طرح واضح طور پر قائم کر رکھا اسے دیکھ دیکھ کر تعجب ہوتا تھا۔ ایک رات جب ہم لوگ اس کوشش میں تھے کہ حضرت علامہ سو جائیں۔دیوان علی نے گانا شروع کیا اور گاتے گاتے سہ حرفی ہدایت اللہ کے چند اشعار پڑھ ڈالے۔ اس پر حضرت علامہ یک بارگی اٹھ بیٹھے اور کہنے لگے۔’’چودھری صاحب اسے کہتے ہیں پحرفے امتے رامی  تواں کش۔‘‘چودھری صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں سر پر ہاتھ پھیرا اور ’’ہوں ‘‘ کہہ کر خاموش ہو گئے۔ حضرت علامہ فرما رہے تھے:’’مشرق کیا ایک طرح سے ساری شاعری کا پس منظر یہی ہے۔‘‘ میں نے عرض کی کہ ہدایت اللہ نے موت و سکرات کا جو نقشہ پیش کیا ہے خلاف واقعہ تو نہیں۔ خود قرآن پاک میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت علامہ نے جواب میں فرمایا :’’مجھے حقائق سے انکار نہیں۔ انکار حقائق کی تعبیر سے ہے۔‘‘اور پھر اپنی وہ رباعی لکھوائی جس پر سول اینڈ ملٹری گزٹ کے کالم کے کالم سیاہ ہوتے رہے، بایں ہمہ اس کا مطلب بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آیا۔یعنی:
بہشتے بہر پاکان حرم ہست
بہشتے بہر ارباب ہمم ہست
بگو ہندی مسلماں راکہ خوش باش 
بہشتے فی سبیل اللہ ہم ہست
(آخری رباعی اس سے دو  ایک  دن بعد ہوئی)
	حضرت علامہ نے اپنی بیماری کا مقابلہ جس ہمت اور استقلال سے کیا اس کو دیکھ دیکھ کر ان کے تیمار دار تو کیا معالجین کو بھی خیال ہونے لگتا تھا کہ شاید ان کا وقت اتنا قریب نہیں جتنا بظاہر معلوم ہوتا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ حضرت علامہ نے ایک لحظے کے لیے بھی مریض بننا گوارا نہیں کیا۔وہ مریض ضرور تھے مگر انہیں مریض کی حیثیت میں زندہ رہنا منظور نہ تھا۔
	ایک دفعہ جب ان کی غذا و دوا اور آرام میں خاص اہتمام ہونے لگا تو فرمایا:’’اس طرح کا جینا گویا جینے سے بغاوت کرنا ہے میں محسوس کرتا ہوں کہ اب میں دنیا کے قابل نہیں رہا۔‘‘ تکلیف کی حالت میں انہیں بے شک تکلیف ہوتی مگر ادھر اس کا احساس کم ہوا اور ادھر ان کی ساری شگفتگی عود کر آئی ان کی باتوں میں وہ لطف اور دلچسپی پیدا ہو جاتی جیسے وہ کبھی بیمار ہی نہیں تھے۔یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ان کی طویل علامت نے ان کے ذہن پر کوئی اثر نہ کیا۔ ان کو کوئی اندیشہ تھا نہ پریشانی۔ ان کے یاس نا آشنا دل میں اضطراب اور خوف کی ہلکی سی جھلک بھی پیدا نہ ہوئی۔ گویا موت و حیات کے متعلق جو دلیرانہ اور جرات آموز رویہ انہوں نے عمر بھر اختیار کر رکھا تھا آخر تک قائم رہا۔ اس لحاظ سے وہ فی الواقع خودی کے پیغمبر تھے۔ موت سے ان کی بے خوفی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ جب ان کے معالجین کی بے بسی صاف صاف نظر آنے لگی اس وقت بھی ان کو مکروہات دنیوی کا مطلق خیال نہ آیا۔ چنانچہ آخری شب میں انہوں نے  جو نصیحت جاوید سلمہ کو فرمائی اس کا ماحصل یہ تھا۔’’میرے بیٹے!میں چاہتا ہوں کہ تم میں نظر پیدا ہو۔‘‘ایک دن جب انہیں درد کی شدت نے بے تاب کر رکھا تھا مجھ سے کہنے لگے:’’اللہ ہی اللہ ہے۔‘‘ میرے پاس ان الفاظ کا کیا جواب تھا میں خاموش کھڑا رہا۔ انہوں نے پھر فرمایا۔’’یاد رکھو اللہ کے سوا اور کچھ نہیں۔‘‘ میں سمجھتا ہوں اس وقت ان کا ذہن وجود و عدم کے عقدوں سے الجھ گیا تھا اور ان کا اشارہ حضرت بایزیدبسطامی کے ارشاد کی طرف تھا جس کا ذکر اُنھوں نے تشکیلِ جدید میں بھی کیا ہے۔ وہ یہ کہ ایک دن حضرت کے حلقے میں تخلیق کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ ان کے کسی مرید نے کہا ’’جب کچھ نہیں تھا تو صرف خدا تھا۔‘‘حضرت بایزید فوراً بول اٹھے۔’’اور اب کیا ہے !اب بھی صرف خُدا ہے۔‘‘
	رہی اسلام سے ان کی شیفتگی سو اس کے متعلق کیا عرض کیا جائے۔ یہ داستان بہت طویل ہے۔ وہ اس کے مستقبل یا خود ان کے اپنے الفاظ میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کی تقدیر(destiny)سے ایک لحظے کے لیے بھی مایوس نہیں ہوئے۔ عالم اسلامی کے جدید رجحانات ظاہراً کس قدر یاس انگیز ہیں لیکن ان کی رجائیت میں سر مو فرق نہ آیا۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص بصیرت عطا کی تھی۔ لوگ ان کے پاس آتے اور بے چین ہو کر مادیت و وطنیت کے اس سیلاب کی طرف اشارہ کرتے جو بلادِ سلامیہ میں ہر طرف پھیل رہا ہے۔ حضرت علامہ فرماتے تمہاری نگاہیں قشر پر ہیں۔ اپنے ایمان کو مضبوط رکھو اور منتظر رہو کہ انسان کے اندرون ضمیر سے آخر کس چیز کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عین اس وقت جب سیاست حاضرہ کی دسیسہ کاریوں سے عوام اور خواص  تو کیا بڑے بڑے حجرہ نشین اور عبادت گزار بھی محفوظ نہ رہے۔ حضرت علامہ کے پائے استقامت کو جنبش تک نہ ہوئی۔ ایک سہ پہر کا ذکر ہے۔ حضرات سالک و مہر بھی موجود تھے اور زعیم ترکی کی غیر معمولی فراست کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔ کسی نے کہا اتحاد شرق کا خیال نہایت مستحسن ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں کہ انقرہ و کابل اور طہران کا میثاق اتحاد اسلامی کا نتیجہ ہے۔ حضرت علامہ نے فرمایا:’’بے شک، مگر آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس کی تکمیل کا راستہ اسلام ہی نے صاف کیا۔‘‘البتہ ایک حقیقت آشنا مبصر کی طرح وہ اس بات کو خوب جانتے تھے کہ اس وقت عملاً مسلمانوں کی حالت کیا ہے؟ان کے ذہنی اور اخلاقی انحطاط کا انہیں بڑا دکھ تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہم لوگ رات کو انہیں اچھی حالت میں چھوڑ کر آتے مگر صبح جب قرشی صاحب پھر ان کی نبض دیکھتے تو ضعف و نقاہت کی انتہا ہوتی۔ دریافت کرنے پر پتا چلتا کہ حضرت علامہ ملت کی زبوں حالی پر دیر تک روتے رہے۔ اُنھیں جدید زمانہ کے ان الحاد پرور نظریوں سے بے حد تکلیف ہوتی تھی جو اندر ہی اندر ہمارے جسد ملی کو کھائے جا رہے ہیں مگر اس پر انہوں  نے، درویشانہ، خاموشی اختیار کی غیر اسلامی تفریق پر انہوں نے اپنا بیان اس وقت لکھوایا جب رہ رہ کر ضعف اور اختلاج کے دورے ہو رہے تھے اور قرشی صاحب کو خطرہ تھا کہ اس کا کوئی ناگوار اثر ان کی طبیعت پرنہ پڑے۔ ان ایام میں وہ اکثر فرمایا کرتے تھے:
حقیقت را بہ رندے فاش کردند
کہ ملا کم شناسد رمز دیں را
ایک رات انہوں نے یہ شعر پڑھا:
تہنیت گوئید مستاں را کہ سنگ محتسب
بر دل ما آمد و ایں آفت از مینا گزشت
	اور اتنی رقت طاری ہوئی کہ ان کے نیاز مندوں کو اضطراب ہونے لگا۔وہ کہا کرتے تھے میں نے اسلام کے لیے کیا کیا؟ میری خدمت اسلامی تو بس اس قدر ہے جیسے کوئی شخص فرط مُحبّت میں سوتے ہوئے بچہ کو بوسہ دے۔ ایک دن مجھ سے رسول صلعم پر گفتگو فرما رہے تھے۔ جب حضرت ابوسعید خدری کی اس روایت کا ذکر آیا کہ حضور رسالت ماب صلعم اپنے بعض اصحاب کے ساتھ احد پر تشریف لے گئے اور احد کانپ اٹھا تو حضرت علامہ نے فرمایا:’’یہ محض استعارہ نہیں۔‘‘ اور پھر درد کی تکلیف کے باوجود سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور جوش میں آ کر کہنے لگےMind you this is no metaphor (یاد رکھو یہ محض استعارہ نہیں ) انہیں حضور سرور کونین صلعم سے کچھ ایسا عشق تھا کہ آپؐ   کا ذکر مبارک آتے ہی ان کی آنکھیں اشک بار ہو جاتیں اور بیماری کے آخری ایام میں تو فرط ادب سے یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ حضور صلعم کا اسم گرامی زبان پر لانے سے پہلے اس امر کا اطمینان کر لیتے کہ ان کے حواس اور بدنی حالت میں کوئی خرابی تو نہیں۔
	اس رفتار میں مرض الموت کی رفتار کچھ عجب سی رہی۔ اول استستا کا حملہ ہوا جس سے چہرے اور پاؤں پر ورم آگیا۔اب پیٹھ کے درد سے بھی خاصی تکلیف رہتی تھی اور حضرت علامہ فرمایا کرتے تھے:’’میری دواؤں کی آزمائیش اس میں ہے کہ پیٹھ کا درد جاتا ہے یا نہیں۔’’مگر پھر رفتہ رفتہ ان علامات میں تخفیف ہونا شروع ہو گئی حتیٰ کہ قرشی صاحب ایک خاص مجبوری کے باعث دو روز کے لیے راولپنڈی تشریف لے گئے۔ لیکن اگلے ہی روز بیماری نے کچھ ایسا زور پکڑا کہ حضرت علامہ کے بائیں جانب تمام جسم پر ورم پھیل گیا۔ اس حالت میں ڈاکٹر جمعیت سنگھ صاحب کو بلوایا گیا۔ انہوں نے معائنے کے بعد قطعاً مایوسی کا اظہار کیا اور دو ایک باتیں ان کی عادت کے متعلق صاف صاف کہہ دیں۔ بایں ہمہ حضرت علامہ مطلق پریشان نہ ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب کی باتوں کو سن کر اس طرح سوالات کرنا شروع کر دیے جیسے کسی امر کی تنقیح مقصود ہو۔ ڈاکٹر صاحب گئے تو ان کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد صاحب نے کوشش کی کہ دوچار کلمات تسلی کے کہیں مگر حضرت علامہ الٹا ان کی تسکین خاطر فرماتے ہوئے کہنے لگے:’’میں مسلمان ہوں۔ موت سے نہیں ڈرتا۔‘‘اس کے بعد اپنا یہ شعر پڑھا:
نشان مرد حق دیگر چہ گویم 
چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست
	ڈاکٹر صاحب گئے تو انہوں نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا کاغذ قلم لے آؤ خط لکھوانا ہے۔ یہ ان کا آخری خط تھا!
	تیسرے پہر ڈاکٹر جمعیت سنگھ پھر تشریف لائے۔ ڈاکٹر یار محمد خاں صاحب ساتھ تھے،شام کو کپتان الٰہی بخش صاحب بھی آ گئے اور باہمی مشورے سے دواؤں اور انجکشنوں کی تجویز ہونے لگے۔ دوسرے روز قرشی صاحب بھی پہنچ گئے۔ اب ہر قسم کی تدابیر ہو رہی تھیں۔ قدیم و جدید سب۔
	بالاخر وہ وقت آ پہنچا۔ جس کا کھٹکا مدت سے لگا ہوا تھا۔ ۲۰ اپریل کی سہ پہر کو جب میں حضرت علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ بیرن فلٹ ہائم (Von Veltheim)اور ان کے ایک پارسی دوست سے گفتگو کر رہے تھے اور گوئٹے اور شلر اور معلوم نہیں کس کس کا ذکر تھا فلٹ ہائم گئے تو چند اور احباب آ گئے جن سے دیر تک لیگ، کانگریس اور بیرونی سیاسیات پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ شام کے قریب جب ان کے معالجین ایک ایک کر کے جمع ہوئے تو انہیں بتلایا گیا کہ حضرت علاّمہ کو بلغم میں کل شام سے خون آ رہا ہے۔ یہ علامت نہایت یاس انگیز تھی اس لیے کہ خون دل سے آیا تھا۔ اس حالت میں کسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ شاید وہ آج کی رات جان بر نہ ہو سکیں۔ مگر انسان اپنی عادت سے مجبور ہے۔ تدبیر کا دامن آخر وقت تک نہیں چھوڑتا۔ قرشی صاحب نے بعض دوائیں تلاش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو موٹر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اتفاق سے اسی وقت راجا صاحب تشریف لے آئے۔ میں نے پوچھا گاڑی ہے؟ کہنے لگے:’’نہیں مگر کیا مضائقہ ہے ابھی لیے آتا ہوں۔‘‘ چونکہ ان کی اپنی گاڑی خراب تھی لہٰذا اتنا کہہ کر راجا صاحب موٹر کی تلاش میں نکل گئے۔ ادھر ڈاکٹر صاحبان کی رائے ہوئی کہ کرنل امیر چند صاحب کو بھی مشورے میں شامل کر لیا جائے۔ اس اثنا میں ہم لوگ حضرت علامہ کا پلنگ صحن میں لے آئے تھے۔ کرنل صاحب تشریف لائے تو ان کی حالت کس قدر سنبھل چکی تھی۔ مطلب یہ کہ ان حواس ظاہری کی کیفیت یہ تھی کہ ایک دفعہ پھر امید بندھ گئی۔ لہٰذا طے ہوا کہ کچھ تدابیر اس وقت اختیار کی جائیں اور کچھ صبح۔ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر صاحبان چلے گئے اور ڈاکٹر عبدالقیوم صاحب کو رات کے لیے ضروری ہدایات دیتے گئے۔ اب ہوا میں ذرا سی خنکی آ چکی تھی اس لیے حضرت علامہ بڑے کمرے میں اٹھ آئے اور حسبِ معمول باتیں کرنے لگے۔ دفعتاً انہیں خیال آیا کہ قرشی صاحب غالباً شام سے بھوکے ہیں اور ہر چند کہ انہوں نے انکار کیا لیکن حضرت علامہ علی بخش سے کہنے لگے کہ ان کے لیے چائے تیار کرے اور نئے  بسکٹ جو میم صاحبہ نے بنائے ہیں ، کھلائے۔ اس وقت صرف ہم لوگ یعنی قرشی صاحب، چودھری صاحب،سید سلامت اللہ اور راقم الحروف ان کی خدمت میں حاضر تھے۔ حضرت علامہ نے راجا صاحب کو یاد فرمایا تو ان سے عرض کیا گیا کہ وہ کام سے گئے ہیں۔ ۱۱ بجے تو اس خیال سے کہ ہم لوگ شاید ان کی نیند میں حارج ہو رہے ہیں چودھری صاحب نے اجازت طلب کی لیکن حضرت علامہ نے فرمایا :’’میں دوا پی لوں ، پھر چلے جائیے گا۔‘‘ اس طرح بیس پچیس منٹ اور گزر گئے حتیٰ کہ شفیع صاحب کیمسٹ کے ہاں سے دوا لے کر آ گئے۔ حضرت علامہ کو ایک خوراک پلائی گئی مگر ا س کے پیتے ہی ان کا جی متلانے لگا اور انہوں نے خفا ہو کر کہا ’’یہ دوائیں غیر انسانی (Inhuman)ہیں۔‘‘ان کی گھبراہٹ کو دیکھ کر قرشی صاحب نے خمیرہ گاؤ زبان عنبری کی ایک خوراک کھلائی جس سے فوراً سکون ہو گیا۔ اسکے بعد حضرت علامہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ ایلوپیتھک دوا استعمال نہیں کریں گے اور جب شفیع صاحب نے یہ کہا کہ انہیں اوروں کے لیے زندہ رہنا چاہیے تو فرمایا:’’ان دواؤں کے سہارے نہیں ‘‘(Not on these medicines) ) اس طرح گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔ بالاخر یہ دیکھ کر کہ حضرت علامہ نیند کی طرف مائل ہیں ہم نے اجازت طلب کی۔ انہوں نے فرمایا :بہت اچھا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے ان کی خواہش تھی کہ ہو سکے تو قرشی صاحب ٹھہرے رہیں۔بایں ہمہ انہوں نے اس امر پر اصرار نہیں کیا۔ اس وقت بارہ بج کر تیس منٹ ہوئے تھے اور کسی کو یہ وہم بھی نہ تھا کہ یہ آخری صحبت ہو گی جاوید منزل کی!
	ہم لوگ حضرت علامہ کی خدمت سے اٹھ کر آئے ہی تھے کہ راجا صاحب تشریف لے آئے اور آخر شب تک وہیں حاضر رہے۔ شروع شروع میں تو حضرت علامہ کو سکون رہا اور وہ کچھ سو بھی گئے لیکن پچھلے پہر کے قریب بے چینی شروع ہو گئی۔ اس پر انہوں نے شفیع صاحب سے کہا:’’قرشی صاحب کو لے آؤ۔‘‘ وہ ان کے ہاں آئے تو سہی لیکن غلطی سے اطلاع نہ کر سکے۔ شاید ۳ بجے کا وقت ہو گا کہ حضرت علامہ نے راجا صاحب کو طلب فرمایا۔ ان کا (راجا صاحب کا)اپنا بیان ہے کہ جب میں حاضر ہوا تو حضرت علامہ نے دیوان علی سے کہا:’’تم سو جاؤ البتہ علی بخش جاگتا رہے اب اس کے سونے کا وقت نہیں۔‘‘ اس کے بعد مجھ سے فرمایا:پیٹھ کی طرف کیوں بیٹھے ہو سامنے آ جاؤ۔ میں ان کے متصل ہو بیٹھا کہنے لگے:قرآن مجید کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ۔کوئی حدیث یاد ہے؟ اس کے بعد ان پر غنودگی سی طاری ہو گئی میں نے دیا گل کر دیا اور باہر تخت پر آ بیٹھا۔ راجا صاحب چلے آئے تو ایک دفعہ پھر کوشش کی گئی کہ حضرت علامہ رات کو دوا استعمال کریں مگر انہوں نے سختی سے انکار کر دیا۔ ایک مرتبہ فرمایا:’’جب ہم حیات کی ماہئیت ہی سے بے خبر ہیں تو اس کا علم (science)کیونکر ممکن ہے؟‘‘ تھوڑی دیر کے بعد راجا صاحب کو پھر ان سے قرشی صاحب کے لانے کے لیے کہا۔ راجا صاحب کہتے ہیں۔’’میں اس وقت کی حالت کا مطلق اندازہ نہ کرنے پایا تھا۔ میں نے عرض کیا حکیم صاحب رات دیر سے گئے ہیں۔شاید ان کو بیدار کرنا مناسب نہ ہو۔‘‘پھر اپنی یہ رباعی پڑھی جو گذشتہ دسمبر میں انہوں نے کہی تھی   ؎
سرود رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجازآید کہ ناید؟
سر آمد روزگار ایں فقیرے 
دگر دانائے راز آید کہ ناید؟
	راجا صاحب کہتے ہیں۔ میں نے ان اشعار کو سنتے ہی عرض کیا کہ ابھی حکیم صاحب کو لے آتا ہوں۔ یہ واقعہ۵ بج کر ۵منٹ کا ہے راجا صاحب گئے تو حضرت علامہ خواب گاہ میں تشریف لے آئے۔ڈاکٹر عبدالقیوم نے حسب ہدایات فروٹ سالٹ تیار کیا۔ حضرت علامہ بھرے ہوئے گلاس کو دیکھ کر کہنے لگے:’’اتنا بڑا گلاس کس طرح پیوں گا؟‘‘اور پھر چپ چاپ سارا گلاس پی گئے۔ علی بخش نے چوکی پلنگ کے ساتھ لگا دی۔ اب اس کے سوا کمرے میں اور کوئی نہیں تھا۔ حضرت علامہ نے اول اسے شانوں کو دبانے کے لیے کہا پھر دفعتاً لیٹے لیٹے اپنے پاؤں پھیلا لیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا:’’یا اللہ۔‘‘ میرے یہاں درد ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی سر پیچھے کی طرف گرنے لگا۔ علی بخش نے آگے بڑھ کر سہارا دیا تو انہوں نے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس طرح وہ آواز جس نے گذشتہ ربع صدی سے ملت اسلامیہ کے سینے کو سوز آرزو سے گرمایا تھا۔ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ علامہ مرحوم نے خود اپنے ارشادات کو کاروان اسلام کے لیے بانگ درا سے تعبیر کیا تھا اور آج جب ہماری سوگوار محفل ان کے وجود سے خالی ہے تو انہیں کا یہ شعر بار بار زبان پر آتا ہے:
جس کے آوازے سے لذت گیر اب تک گوش ہے
وہ جرس کیا اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟
انا للہ وانالیہ راجعون۔ 
	۲۱ اپریل کی صبح کو میں سویرے ہی اٹھا اور حسب عادت جاوید منزل پہنچ گیا لیکن ابھی پھاٹک میں قدم رکھا تھا کہ راجا صاحب نظر آئے۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ میں سمجھا رات کی بے خوابی کا اثر ہے۔ میں ان کی طرف بڑھا اور کہنے لگا رات آپ کہاں تھے؟ آپ کا دیر تک انتظار رہا۔ وہ معلوم نہیں ہاتھ سے کیا اشارہ کرتے ہوئے ایک طرف چلے گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو قرشی صاحب سر جھکائے ایک روش پر ٹہل رہے تھے۔میں نے حضرت علامہ کی خیریت دریافت کی تو انہوں نے کچھ تامل کیا۔ پھر ایک دھیمی اور بھرائی ہوئی آواز میں ان کے منہ سے صرف اتنا نکلا ’’فوت ہو گئے۔‘‘
	میں ایک لحظے کے لیے سناٹے میں تھا۔ پھر دفعتاً حضرت علامہ کی خواب گاہ کی طرف بڑھا۔ پردہ ہٹا کر دیکھا تو ان کے فکر آلود چہرے پر ایک ہلکا سا تبسم اور سکون متانت کے آثار نمایاں تھے۔معلوم ہوتا تھا وہ بہت گہری نیند سو رہے ہیں۔ پلنگ سے ہٹ کر فرش پر بیٹھ گیا۔ شاید وہاں کچھ اور حضرات بھی بیٹھے تھے لیکن میں نے نہیں دیکھا۔ ہاں راجہ صاحب کو دیکھا وہ ان کی پائنتی کا سہارا لیے زار زار رو رہے تھے۔ان کو دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ کر سکا اور بے قرار ہو کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
	اس اثنا میں حضرت علامہ کے انتقال کی خبر بجلی کی طرح شہر میں پھیل چکی تھا اب جاوید منزل میں ان کے عقیدت مندوں کا ہجوم تھا۔ یہ سانحہ کچھ اس قدر عجلت اور بے خبری میں پیش آیا تھا کہ جو شخص آتا معتوب ہو کر کہتا :’’کیا ڈاکٹر صاحب کیا علامہ اقبال فوت ہو گئے؟‘‘ گویا ان کے نزدیک یہ خبر ابھی غلط تھی۔ حالانکہ وہ گھڑی جو بر حق ہے اور جس کا ایک دن ہر کسی کو سامنا کرنا ہے آ پہنچی تھی۔
کل من علیھا فان۔و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام۔
	جنازہ سہ پہر میں ۵ بجے کے قریب اٹھا۔ جاوید منزل کے صحن اور کمروں میں خلقت کا اژدہام تھا۔ معلوم نہیں ان کے غم میں کس کس کی آنکھیں اشک بار ہوئیں اور میو روڈ سے شاہی مسجد تک کتنے انسان جنازے میں شریک تھے۔ ہم لوگ لاہور کی مختلف سڑکوں سے گزر رہے تھے۔ شہر میں ایک کہرام سا مچا ہوا تھا جدھر دیکھیے حضرت علامہ ہی کا ذکر تھا۔ جنازہ ابھی راستے میں تھا کہ اخباروں کے ضمیمے، قطعات اور مرثیے تقسیم ہونے لگے۔دفعتاً خیال آیا کہ یہ اس شخص کی میت ہے جس کا دل و دماغ رفتہ رفتہ اسلام میں اس طرح کھویا گیا کہ اس کی نگاہوں میں اور کوئی چیز جچتی ہی نہیں تھی اور جو مسلمانوں کی بے حسی اور اغیار کی چیرہ دستی کے باوجود یہ کہنے سے باز نہ رہ سکا:
گرچہ رفت از دست ما تاج و نگیں 
ما گدایاں را بچشم کم مبیں 
	معلوم نہیں ساحر افرنگ کی فریب کاریوں نے اسے کس کس راہ سے سمجھایا کہ ملت اسلامیہ کی نجات تہذیب نوی کی پرستش میں ہے مگر اس کے ایمان سے لبریز دل میں نبی اُمّی صلعم کی محبت بے اختیار کہہ ٹھی:
در دل مسلم مقام مصطفی است 
آبروئے ما ز نام مصطفی است
	اس خیال کے آتے ہی میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ جنازہ تو بے شک اقبال ہی کا ہے لیکن کیا اقبال کی موت ایک لحاظ سے ہندوستان کے آخری مسلمان کی موت نہیں ؟ اس لیے کہ وہ اسلام کا نقیب تھا، راز دار تھا اور اب کون ہے جو علامہ مرحوم کی مخصوص حیثیت میں ان کی جگہ لے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مقامات عالیہ سے سرفراز فرمائے اور ان کو اپنی رحمت اور مغفرت کے سائے میں پناہ دے۔آمین، ثم آمین۔

اقبالیاتِ نذیر نیازی، مرتبہ : عبداللہ شاہ ہاشمی۔  اقبال اکادمی لاہور ۱۹۹۶ء
 ٭٭٭



۲




اُردو شاعری اور شعرائے حال

دیا نرائن نگم

	اُردو کی ہر دل عزیزی کا ایک بین ثبوت ہے کہ اس کے اہلِ کمال ملک کے اطراف و جوانب میں پھیلے ہوئے ہیں ، چنانچہ آسمانِ شاعری کا دوسرا روشن ستارہ اس وقت پنجاب میں چمک رہا ہے۔ اقبال سیال کوٹ کے رہنے والے ہیں ، بزرگوں کا وطن کشمیر تھا۔ آپ کے خاندان نے (جو سپرو تھے) دو سو سال ہوئے ایک بزرگ فقیر کی عقیدتمندی میں اسلام قبول کیا۔(۱)
	ڈاکٹر اقبال فلسفہ کے ایک زبردست عالم ہیں اور غیر ممالک میں بھی عرصہ تک رہ کر اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ آپ کو ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری ملی ہے۔ عربی، فارسی اور یورپین فلسفہ میں عبور ہونے کے علاوہ سنسکرت کے بھی آپ فاضل ہیں۔ آپ نے ایک دفعہ ایک دوست سے کہا کہ سنسکرت اور فلسفہ کے مطالعہ نے مجھے روحانی شانتی کے معنی سمجھا دیئے ہیں۔ اور اب مجھ میں تعصب اور تنگ نظری کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اقبال کو فطرت سے ایک دردمند دل ملا ہے۔ عرصہ ہوا مولانا شبلی نے فرمایا تھا کہ جب آزاد اور حالی کی کرسیاں خالی ہوں گی تو لوگ اقبال کو ڈھونڈیں گے، یہ پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی ہے۔ اقبال کو طالب علمی ہی کے زمانہ سے شعر گوئی کا شوق تھا، چنانچہ انٹرنس پاس کرنے کے بعد آپ نے بذریعہ خط و کتابت حضرت داغ سے اصلاحِ سخن لینا شروع کر دی۔ اسی سال ان کی شادی ہو گئی، لیکن یہ خوش قسمت ثابت نہ ہوئی جس سے طبیعت کی شگفتگی اداسی سے بدل گئی۔ اُنہیں دِنوں ایک دوست کا انتقال بھی ہو گیا۔ اس نے دلی رنج کو اور گہرا کر دیا اور یہ درد بن کر اشعار سے ٹپکنے لگا اور آپ کے کلام میں وہ گداز پیدا ہو گیا جو شاعری کی جان ہے۔ فلسفہ کی بدولت نظر میں غیر معمولی وسعت پیدا ہو گئی۔
	سب سے پہلی غزل(۲) جو آپ نے لاہور کے ایک مشاعرہ میں پڑھی، اس کا مطلع یہ تھا:
تم آزماؤ ہاں کو زباں سے نکال کے
یہ صدقے ہو گی میرے سوالِ وصال کے
	مطلع کا پڑھنا تھا کہ سخن فہم اصحاب نوجوان شاعر کی طرف مخاطب(۳) ہو گئے اور اقبال نے پوری غزل سنا کر دادِ سخن لی۔ اس کے دو اشعار آپ بھی سن کر محظوظ ہوں :
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
اقبال لکھنؤ سے نہ دِلّی سے ہے غرض
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلفِ کمال کے(۴)
	اس کے بعد ۱۸۹۹ء میں آپ نے ’’نالۂ یتیم‘‘ کے نام سے انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ جلسہ میں ایک دلگداز نظم پڑھی جو بہت پسند کی گئی۔ پھر آپ کی نظمیں ملک کے ادبی رسالوں میں چھپنے لگیں۔ خدنگِ نظر، مخزن، زمانہ وغیرہ میں آپ کا کلام قدر کے ساتھ شائع ہونے لگا۔ ابتدا میں اقبال کے کلام میں زبان کی اکثر غلطیاں رہ جاتی تھیں اور اُردوئے معلی کی اولین جلدیں اُن اعتراضات سے بھری پڑی ہیں۔ مگر اقبال نے نکتہ چینی سے فائدہ اُٹھایا اور آج اُردو کے بہترین قومی شاعر کی حیثیت سے ان کا سکہ دلوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ والا قومی گیت آپ ہی کے فکر رسا کا نتیجہ ہے۔ اکبر اگر اس زمانہ کے لسان العصر ہیں تو اقبال قوم کے صحیح ترجمان۔ قومی جذبات کو ادا کرنا اُنہیں کا حصہ ہے۔ خیالات میں گہرائی، بیاں میں گداز، نگاہ میں وسعت جو ان کے کلام میں پائی جاتی ہے اور کہیں نہیں ملتی۔ ان کے اشعار پڑھ کر شاعر اور ناظم کا فرق صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے انکی تشبیہات اوریجنل اور اُنکا تخیل اعلی اور شُستہ انکے استعارات نازک اور بلیغ ہوتے ہیں۔ اشعار پُر معنی اور پُر مضمون ہوتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کا دِل مناظرِ قدرت اور حالات قوم کو دیکھ کر اُمنڈنے لگتا ہے، اور اس کے نالے اشعار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اقبال حسن کا عاشق کامل ہے مگر اس کا عشق معصومانہ ہے۔ وہ ادنیٰ جذبات سے ملوث نہیں ہوتا۔ع
بے لوث ہے جوں نکہتِ گل اس کی جوانی(۵)
	حالانکہ ہر وقت مستی اور خود فراموشی طاری رہتی ہے۔ معمولی مناظر سے اس کے اثر پذیر دل میں خیالات کا تلاطم پیدا ہونے لگتا ہے اور نالۂ دل موزوں ہو جاتا ہے۔ رات سے مخاطب ہو کر وہ خود کہتا ہے:
میں ترے چاند کی کھیتی میں گہر بوتا ہوں 
چھپ کے انسانوں سے مانند سحر روتا ہوں 
دن کی شورش میں نکلتے ہوئے شرماتے ہیں 
عزلتِ شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیں 
مجھ میں فریاد جو پنہاں ہے سناؤں کس کو
تپش شوق کا نظارہ دِکھاؤں کس کو
برق ایمن مرے سینے پہ پڑی روتی ہے
دیکھنے والی ہے جو آنکھ کہاں سوتی ہے
صفت شمع لحد مردہ ہے محفل میری
آہ اے رات بڑی دور ہے  منزل میری
عہد حاضر کی ہوا راس نہیں ہے مجھ کو
اپنے نقصان کا احساس نہیں ہے مجھ کو(۶)
ضبط پیغام محبت سے جو گھبراتا ہوں 
تیرے تابندہ ستاروں کو سنا جاتا ہوں (۷)
	اقبال کا کلام قوم کے سنجیدہ اور فلسفیانہ تخیلات کا عکس ہے۔ قوم کی موجودہ پستی ہر وقت بے چین اور بیقرار کیے رہتی ہے اور اُس کی حالت بالکل ایک اجڑے ہوئے گلستان کے بلبل نالاں کی سی ہے۔ اس کی آزردگی قوم کی روحانی پستی کے باعث ہے۔ اُسے قوم کی اخلاقی ترقی کی فکر دامنگیر رہتی ہے۔ حسنِ ازل کے عاشق کی حیثیت سے وہ زندگی میں ازلی حسن اور ابدی تکمیل کی جھلک دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اخلاق کے Beauty and Perfection اعلیٰ ترین معیار پر عام عمل درآمد کا آرزومند ہے۔ وہ قوم میں خود داری کا احساس پیدا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ خود اس کے دل میں خود داری کا سکہ بیٹھا ہوا ہے۔ اقبال دُنیا اور دُنیا والوں کی خامیوں سے اس درجہ متاثر ہے کہ ملک کا اور کوئی دوسرا شاعر نہیں ہے۔ اس کا کلام روح کی کشمکش کا ایک ثبوت ہے:
روح کو لیکن کسی گم گشتہ شے کی ہے ہوس
ورنہ اس صحرا میں کیوں نالاں ہے وہ مثلِ جرس(۸)
	اکبر اور اقبال کی شاعری کی دُنیا ایک دوسرے سے بالکل جدا اور نرالی ہے۔ اکبر قومی معاشرت کا مصلح اور اقبال روحانی شانتی کا منّاد ہے۔ اکبر مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید کا مضحکہ اڑاتا ہے، وہ ہنسی ہنسی میں تنبیہ کرتا ہے تاکہ ہمارے طرزِ معاشرت اور تہذیب کا اصلی اور وطنی جوہر مفقود نہ ہونے پائے۔ وہ محبِ وطن ہے اور جب دیکھتا ہے کہ قومی معاشرت اصلیت اور مشرقیت سے خالی ہو رہی ہے تو کراہنے لگتا ہے۔ اکبر کی تمام عمر اسی کوشش میں گزری ہے کہ ہمارے جسدِ قومی پر مغربیت کا ملمع نہ چڑھنے پائے۔ وہ محکومیت کی ذلت کو محسوس کرتا ہے، اس لیے کہ اُن سے غلط معیارِ زندگی کو نمود حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ غیر ملکی اثرات ناقص کے خلاف جدوجہد میں مصروف پیکار رہتا ہے۔ اور گو مغرب کے بہترین اوصاف جذب کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم دل پر مشرقی اوصاف اور قومی ڈھانچے میں ہندی وضع قطع کے سوا اور کسی کو دخل دلانا نہیں چاہتا۔ اقبال کا نقطۂ(۸) خیال اس سے بھی بلند ہے۔ اس کی دُنیائے شاعری بالکل نرالی ہے۔ وہ مجاز کی پروا ہی نہیں رکھتا صرف حقیقت کی طرف دیکھتا ہے۔ مجاز اور حقیقت کے امتیاز سے اس کی آنکھیں ہر وقت پرنم رہتی ہیں :
اشک کے دانے زمین شعر میں بوتا ہے وہ(۹)
	وہ روح کے لیے مجاز سے آزادی چاہتا ہے اور دُنیاوی جدوجہد سے قطع نظر صرف روح کی ترقی اور روح کی بالیدگی پر جان دیتا ہے، اُس کے لیے دُنیاوی زندگی و بال جان ہے۔ جسم کا پیرہن ایک بوجھ ہے۔ بقول شاعر:
زندگانی در جگر خار است و درپا سوزن است
تا نفس باقیست در پیراہنِ ما سوزن است
	اقبال کے لیے دُنیا کی ظاہری ترقی ایک فنا ہونے والی شے ہے اور وہ کسی اور چیز کا متوالا ہے۔ اس کی تلاش و جستجو میں وہ سرگرداں رہتا ہے اور جب اسے نہیں پاتا تو رو دیتا ہے اور اس کی آہ و زاری اشعار بن جاتی ہے۔ اقبال اُس بلبل کی مثال ہے جسکو اپنے پر ہی قفس معلوم ہوتے ہیں اکبر طرزِ معاشرت میں قوم کو قیدِ فرنگ سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔ اقبال قیدِ حیات سے مکدّر رہتا ہے۔ وہ زندگی کو ایک منزل خیال کرتا ہے، آخرت کی موت کو زندگی جاوید کی ابتدا سمجھتا ہے۔ موت سے بھی اسے لڑنے میں عار نہیں اور اپنے خدا سے بھی حق پر حجت و تکرار کرنے میں اسے تامل نہیں۔ وہ روحانی نجات کو بخششِ ربانی کی طرح نہیں مانگتا۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو اُس کا اہل اور اس کا حقدار بنانا چاہتا ہے۔ وہ کبھی کبھی خدا کے سامنے دستِ سوال پھیلاتا ہے، لیکن ہمیشہ بے نیازی اور خود داری کا پہلو لیے ہوئے۔ اُس کی مثال اس فقیر بے نوا کی سی ہے، جو ایثار نفس، خلوصِ نیت اور صدقِ عقیدت کی بضاعت رکھتا ہے اور اسی لیے وہ اپنی روح پر فتوح کی عظمت سے واقف ہے۔ اقبال ایک فلسفی نکتہ رس کی طرح موت کے معمہ کو بھی حل کرنا چاہتا ہے۔ وہ کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت کا نظارہ دیکھتا ہے، اس کو مادی دُنیا سے اتنی غرض نہیں جتنی کہ عالمِ روحانیت سے۔ اکبر مادی دُنیا میں مجاز اور حقیقت، سچ اور جھوٹ میں جو فرق اور تفاوت ہے، اُس کی ہنسی اُڑا اُڑا کر قوم کی ہدایت کرتا ہے۔ جب وہ سنجیدہ ہوتا ہے تو فلسفۂ حیات کی باتیں بھی کرتا ہے، قلب کی وارداتیں بھی بیان کر جاتا ہے، نہایت سلیس زبان اور مقبولِ عام پیرائے میں۔ اقبال بھی تارک الدنیا نہیں ہے اور نہ دُنیا کو مایا اور ’’متھیا؟‘‘ جانتا ہے مگر اس سے صرف اُس حد تک واسطہ رکھتا ہے۔ جہاں تک کہ روح کے ایک عارضی قیام گاہ کی حیثیت سے اس کی ضرورت پڑتی ہے، ورنہ حیاتِ ابدی کے مسائل اور تغیراتِ روحانی کے مرحلے، زندگی اور موت کی کشمکش ہر وقت اس کے دماغ میں چکر لگایا کرتی ہے۔ اکبر انسانوں کی حماقت پر ہنس دیتا ہے اور اپنی قوم کی ظاہر پرستی کا مضحکہ اُڑاتے رہتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ حقیقت سے ناآشنا۔ مادی تعلیم کے بندے اور اس کے ظاہر پرست ابنائے وطن اگر سنبھلیں گے تو مضحکہ سے ورنہ روحانیت ان میں مفقود ہو گئی ہے۔ خوفِ خدا ان کے دلوں سے جاتا رہا ہے۔ نہ مذہب ان میں باقی ہے اور ’’نہ لوک لاج‘‘ ہی کا کوئی اثر ہے۔ عوام الناس کو ان خاصانِ خدا نے احمق اور اجہل سمجھ رکھا ہے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی چیز کام دے سکتی ہے تو وہ مضحکہ ہے اور یہی اکبر کا زبردست آلہ ہے۔ اقبال کا خاصہ اشک ریزی ہے۔ اس کا خون دل آنکھوں کی راہ سے ٹپکا کرتا ہے۔ جہاں اکبر قہقہہ لگاتا ہے، وہاں اقبال اپنا دل پگھلا پگھلا کر آنسوؤں کی جھڑی لگا دیتا ہے۔ بسا اوقات اقبال کی سوگواری تبسم کی بھی متحمل نہیں ہوتی اور شاید بھری محفل میں بھی وہ اداس رہتا ہے۔ غم اس کی روحانی غذا ہے۔
	انسانوں کے ساتھ ہمدردی اس کے زخم دل کا مرہم ہے۔ باطل پرست انسانوں کے قہقہوں کو سن کر اور دُنیا کی عارضی شگفتگی دیکھ کر اس کی چشم حقیقت میں پرنم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا تخیل بلند۔ اس کی فکر رسا۔ اس کا بیان دلگداز ہے اور اس کا کلام قلب میں حرارت اور روح میں تڑپ پیدا کرتا ہے۔ اس کے الفاظ میں عجب دبدبہ اور شکوہ ہے، اس کا حرف حرف ایک روحانی پیغام ہے۔ موت اور زوال سے وہ دلکھتا نہیں کیونکہ جیسا اوپر کہا جا چکا ہے۔ زندگی اس کے لیے ایک منزل ہے اور حیاتِ انسانی آخرت کا پیش خیمہ ہے۔ حسنِ فانی کی نسبت اُس کا فلسفہ سمجھنے کی چیز ہے۔ وہ ایک جرمن فلاسفر کی تائید میں کہتا ہے:
’’خدا سے حسن نے ایک روز یہ سوال کیا
جہاں میں کیوں نہ مجھے تو نے لازوال کیا‘‘
ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دُنیا
شبِ دراز عدم کا فسانہ ہے دُنیا
ہوئی ہے رنگ تغیر سے جب نمود اس کی
وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی
کہیں قریب تھا یہ گفتگو قمر نے سنی
فلک پہ عام ہوئی اخترِ سحر نے سنی
سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو
فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو
بھر آئے پھول کے آنسو پیامِ شبنم سے
کلی کا ننھا سا دل خون ہو گیا غم سے
چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا، سوگوار گیا(۱۰)
عشق اور موت کی تشریح سنیے:
فرشتہ تھا اک عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا
پئے سیر فردوس کو جا رہا تھا
قضا سے ملا راہ میں وہ قضارا
یہ پوچھا ترا نام کیا کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا
اُڑاتی ہوں میں رختِ ہستی کے پرزے
بجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارا
مری آنکھ میں جادوئے نیستی ہے
پیامِ فنا ہے اِسی کا اشارا
مگر ایک ہستی ہے انساں کے دل میں 
وہ ہے نورِ مطلق کی آنکھوں کا تارا
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا
سرِ کوہ چمکے جو وہ بَن کے بجلی
تو ہو غیرتِ طور ہر سنگِ خارا(۱۱)
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر
اندھیرے کا ہر نور میں کیا گزارا
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ
قضا تھی شکارِ قضا ہو گئی وہ(۱۲)
	وہ عشق و محبت کو لافانی سمجھتا ہے، چنانچہ ایک اور جگہ کہتا ہے:
ہے ابد کے نسخہ دیرینہ کی تمہید عشق
عقل انسانی ہے فانی زندۂ جاوید عشق
عشق کے خورشید سے شامِ اجل شرمندہ ہے
ظلمتِ ہستی میں یہ سورج سدا تابندہ ہے(۱۳)
رخصتِ محبوب کا مقصد فنا ہوتا اگر
جوشِ الفت بھی دلِ عاشق سے کر جاتا سفر
عشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیں 
روح میں غم بن کے رہتا ہے مگر جاتا نہیں 
ہے بقائے عشق سے پیدا بقا محبوب کی
زندگانی ہے عدم ناآشنا محبوب کی(۱۴)
	موت کے لیے اس کا خیال ہے:
مرنے والے مرتے ہیں ، لیکن فنا ہوتے نہیں 
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں (۱۵)
	پھر ایک جگہ لکھتا ہے:
خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جاؤں 
عشق کا سوز زمانے کو دِکھاتا جاؤں (۱۶)
	موت کے متعلق اس کے مزید خیالات سنیے۔ سوامی رام تیرتھ جی پر ایک نوحہ لکھتے ہوئے کہا ہے:
ہم بغل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب تو
پہلے گوہر تھا بنا اب گوہرِ نایاب تو
آہ کھولا کس ادا سے تو نے رازِ رنگ و بو
میں ابھی تک ہوں اسیرِ امتیاز رنگ و بو
مٹ کے غوغا زندگی کا شورشِ محشر بنا
یہ شرارہ بجھ کے آتش خانۂ آزر بنا
نفی  ہستی اِک کرشمہ ہے دِل آگاہ کا
لا کے دریا میں نہاں موتی ہے الا اللہ کا
چشمِ نابینا سے مخفی معنی ٔ انجام ہے
تھم گئی جس دم تڑپ سیماب سیمِ خام ہے
توڑ دیتا ہے بتِ ہستی کو ابراہیمِ عشق
ہوش کی دارو ہے گویا مستی ٔ تسنیمِ عشق(۱۷)
کیا کہوں زندوں سے میں اس شاہدِ مستور کی
دار کو سمجھے ہوئے ہیں جو سزا منصور کی(۱۸)
	اپنے استاد داغ کی موت پر ایک مختصر نوحہ کہا ہے، جس کے آخر میں فرمایا ہے:
کھل نہیں سکتی شکایت کے لیے لیکن زباں 
ہے خزاں کا رنگ بھی وجۂ قیامِ گلستاں 
ایک ہی قانون عالمگیر کے ہیں سب اثر
بوئے گل کا باغ سے دُنیا سے  گلچیں کا سفر(۱۹)
	کسی اور موقع پر دریائے راوی پر ایک کشتی ٔ رواں دیکھ کر کہا ہے:
جہازِ زندگی آدمی رواں ہے یوں ہی
ابد کے بحر میں پیدا یوں ہی نہاں ہے یوں ہی
شکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا
نظر سے چھپتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا(۲۰)
	انسان کی حقیقت اقبال کی زبانی سنیے:

مری ہستی نہیں ، وحدت میں کثرت کا تماشہ ہے
کہ خود عاشق ہوں خود معشوق ہوں خود دردِ فرقت ہوں 
نہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہ
میں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں (۲۱)
وضو کے واسطے آتا ہے کعبہ لے کے زم زم کو
الٰہی کونسی وادی میں میں محوِ عبادت ہوں 
جو سمجھوں اور کچھ خاکِ عرب کے سونے والوں کو
مجھے معذور رکھ میں مستِ صہبائے محبت ہوں 
یہی صہبا ہے جو رفعت بنا دیتی ہے پستی کو
اسی صہبا میں آنکھیں دیکھتی ہیں رازِ ہستی کو(۲۲)
	ایک اور جگہ فرمایا ہے:
اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو
قطرہ ہے لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہے
کیوں گرفتارِ طلسمِ ہیچ مقداری ہے تو
دیکھ تو پوشیدہ تجھ میں شوکتِ طوفاں بھی ہے
ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی ٔ داماں بھی ہے
پھونک ڈالا ہے مری آتشِ نوائی نے مجھے
اور میری زندگانی کا یہی ساماں بھی ہے
راز اس آتش نوائی کا مرے سینہ میں دیکھ
جلوۂ تقدیر میرے دل کے آئینہ میں دیکھ(۲۳)
	قومی ایثار اور ملکی وفاداری کی نسبت اپنا خیال کیسے لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے۔ یہ قطعہ گذشتہ جنگِ بلقان کے موقع پر لکھا گیا تھا جب طرابلس کے جانثار محبانِ وطن کی شہادت بھی اسے اطالیہ کے پنجہ سے نہ بچا سکی تھی۔ آپ کہتے ہیں عالمِ خیال میں ایک شب:
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجکو
حضور آیہ رحمت میں لے گئے مجکو
کہا حضور نے اے عندلیبِ باغِ حجاز
کلی کلی ہے تری گرمی ٔ نوا سے گداز!
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا(۲۴)
	اس پر اقبال کا جواب ہے:
حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں 
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کو اِک آبگینہ لایا ہوں 
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تری اُمت کی آبرو اس میں 
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں (۲۵)
	وہ خالقِ کون و مکان سے عجیب پُرلطف پیرایہ میں مسلمانوں کی پستی کا شکوہ کرتا ہے، وہ کہتا ہے:
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو(۲۶)
	طول طویل شکوہ شکایت کے بعد وہ کہتا ہے:
مشکلیں امتِ مرحوم کی آساں کر دے
مورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے(۲۷)
	جواب میں بھی ایک طولانی نظم ہے جس کا آخری بند یہ ہے:
مثلِ بو قید ہے غنچہ میں ، پریشاں ہو جا
رخت بردوش ہوائے چمنستاں ہو جا
شوقِ وسعت ہے تو ذرے سے بیاباں ہو جا
نغمۂ موج سے ہنگامۂ طوفاں ہو جا(۲۸)
بول اس نام کا ہر قوم میں بالا کر دے
اور دُنیا کے اندھیرے میں اُجالا کر دے(۲۹)
	رنج و غم کے فلسفیانہ پہلو پر کہا ہے:
موجِ غم پر رقص کرتا ہے، حبابِ زندگی
ہے الم کا سورہ بھی جزوِ کتابِ زندگی
ایک بھی پتّی اگر کم ہو تو وہ گل ہی نہیں 
جو خزاں نادیدہ ہو بلبل وہ بلبل ہی نہیں 
غم جوانی کو جگا دیتا ہے لطفِ خواب سے
ساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے
طائر دل کے لیے غم شہپر پرواز ہے
راز ہے انساں کا دل غم انکشافِ راز ہے
غم نہیں غم، روح کا اِک نغمۂ خاموش ہے
جو سرودِ بربط ہستی سے ہم آغوش ہے
جس کا جامِ دل شکستِ غم سے ہے ناآشنا
جو سدا مستِ شرابِ عیش و عشرت ہی رہا
گو بظاہر تلخی ٔ دَوراں سے آرامیدہ ہے
زندگی کا راز اس کی آنکھ سے پوشیدہ ہے(۳۰)
	استغنا دیکھنا ہو تو سنئیے ایک غزل میں واعظ سے فرمایا ہے:
واعظ کمالِ ترک سے ملتی ہے یاں مراد
دُنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
مینار دل پہ اپنے خدا کا نزول دیکھ
یہ انتظارِ مہدی و عیسیٰ بھی چھوڑ دے(۳۱)
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
جینا وہ کیا جو ہو نفسِ غیر پر مدار
شہرت کی زندگی کا بھروسہ بھی چھوڑ دے(۳۲)
	ماہِ نو سے خطاب کر کے کہا ہے:
گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں سراپا نور تو
سیکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دور تو
جو مری ہستی کا مقصد ہے مجھے معلوم ہے
یہ چمک وہ ہے جبیں جس سے تری محروم ہے(۳۳)
	ملک اور قوم کی ترقی کی آرزو اس کے دل میں موجزن ہے۔ ماہِ نو سے مخاطب ہو کر آخر میں کہتا ہے:
چاہیے میری نگاہوں کو انوکھی چاندنی
لا کہیں سے ماہ کامل بن کے ایسی چاندنی
ظلمت بیگانگی میرے وطن سے دور ہو
خاکِ ہندوستاں کا ہر ذرہ سراپا نور ہو(۳۴)
	ہندوستان ہمارا کا نغمہ دلکش تو ملک بھر میں ہر جگہ مشہور ہو چکا ہے، مسلمانوں کی بیداری کے لیے بھی اس نے دُعا مانگی ہے، جس کا مشہور عنوان یہ ہے:
یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے(۳۵)
	مادرِ ہند کی پوری عظمت اقبال کے دل میں بیٹھی ہوئی ہے، مادرِ وطن پر ایک طویل نظم کے صرف دو بند نذر ہیں :
چشتی نے جس زمیں میں پیغامِ حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشتِ عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے(۳۶)
گوتم کا جو وطن ہے جاپان کا حرم ہے
عیسیٰ کے عاشقوں کا چھوٹا یروشلم ہے
مدفون جس زمیں میں اسلام کا حشم ہے

ہر پھول جس چمن کا فردوس ہے ارم ہے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے(۳۷)
	اقبال دُنیا میں ہر جگہ سچائی کا قدردان ہے۔ بودھ مذہب کی عظمت کے اعتراف میں اشعارِ ذیل ملاحظہ ہوں :
وہ اصولِ حق نماے نفی ہستی کی صدا
روح کو ملتی ہے جس سے لذتِ آبِ بقا
جس سے پردہ روئے قانونِ محبت کا اُٹھا
جس نے انساں کو دیا رازِ حقیقت کا پتا(۳۸)
	اقبال کی روحانی تڑپ جس کا جلوہ اس کے ہر شعر میں جھلکا کرتا ہے، اس غزل سے بخوبی واضح ہوتی ہے جس میں حسبِ دستور اس کی تمام خصوصیات موجود ہیں :
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں 
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں 
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم ہای سیاہ کو ترے عفو بندہ نواز میں (۳۹)
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں 
نہ وہ غزنوی میں مذاق ہے نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں (۴۰)
تجھے کیا سنایئے ہم نشیں مجھے موت میں جو مزا ملا
نہ ملا مسیح کو خضر کو وہ نشاط عمرِ دراز میں (۴۱)
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں (۴۲)
	زندگی کے مختلف مسائل اور مراحل پر اقبال کے خیالات سے تو آپ بخوبی واقف ہو چکے اب آپ اس کے کمالِ شاعرانہ کی داد دیجیے۔ جگنو کی تعریف میں ہزارہا شعر آپ کی نظر سے گزرے ہوں گے، مگر اقبال کی ندرتِ بیاں اور فکرِ رسا کا معجزہ دیکھنے اور سننے کے لائق ہے۔ ملاحظہ کیجئے کہ ہر شعر میں ایک نیا اور اچھوتا خیال باندھا ہے۔ کہتے ہیں :
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں 
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں 
آیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے، مہتاب کی کرن میں 
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا گمنام تھا وطن میں 
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا
ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں 
حسنِ قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی
لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں 
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں 
پروانہ اِک پتنگا جگنو بھی اک پتنگا
وہ روشنی کا جویا یہ روشنی سراپا(۴۳)

زمانہ، نومبر، ۱۹۱۸ء بہ حوالہ: نقدِ اقبال، حیات اقبال میں ، 
مرتبہ تحسین فراقی۔ بزم اقبال لاہور، ۱۹۹۲ء        
٭٭

حوالے اور حواشی

۱۔ اقبال کے جدِ اعلیٰ بابا لول حج یا لولی حاجی کے لقب سے معروف تھے۔
۲۔ یہ غزل امین الدین مرحوم کے مکان (اندرون بھاٹی دروازہ) میں منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی اور بہارِ گلشن، جلد دوم میں شائع ہوئی۔ باقیاتِ اقبال، صفحہ ۳۸۸، ۹۱
۳۔ یہاں متوجہ کا محل تھا۔
۴۔ باقیاتِ اقبال، صفحہ ۳۹۰
۵۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۵۹ پر یہ مصرع یوں ہے:
’’بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی‘‘
۶۔ کلیاتِ اقبال میں یہ شعر ردیف کی تبدیلی کے ساتھ درج ہے:
عہدِ حاضر کی ہوا راس نہیں ہے اس کو   صفحہ ۱۷۳
۷۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۷۳
۸۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۹۴
۹۔ اقبال کے مصرعے: اشک کے دانے زمینِ شعر میں بوتا ہوں میں ، میں ادنی تعبیر کیا گیا ہے، دیکھیے کلیاتِ اقبال، صفحہ ۹۰
۱۰۔کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۱۲
۱۱۔ یہ شعر بعد میں اقبال نے حذف کر دیا، چنانچہ کلیاتِ اقبال میں یہ شامل نہیں۔
۱۲۔کلیاتِ اقبال، صفحہ ۵۷، ۵۸
۱۳۔ بعد ازاں اقبال نے اس مصرعے کو اس طرح بدل کر زیادہ بامعنی بنا دیا: عشق سوزِ زندگی ہے تا ابد پائندہ ہے، کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۵۶
۱۴۔کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۵۶
۱۵۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۵۷
۱۶۔کلیاتِ اقبال، صفحہ ۸۶
۱۷۔کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۱۴
۱۸۔ یہ شعر کلیاتِ اقبال میں شامل نہیں۔
۱۹۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۹۰
۲۰۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۹۵
۲۱۔ اس بند کے سوائے اس ایک شعر کے اور کوئی شعر کلیاتِ اقبال میں شامل نہیں ، دیکھیے: صفحہ ۶۹
۲۲۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۳۲۰، ۳۲۱
۲۳۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۹۳، ۱۹۴
۲۴۔  کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۹۷
۲۵۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۹۷
۲۶۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۶۳
۲۷۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۶۹
۲۸۔ کلیاتِ اقبال، یہ مصرعہ اس شکل میں ہے: ’’ہے تُنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جا‘‘۔
۲۹۔ ٹیپ کا یہ شعر کلیاتِ اقبال میں اپنی اس متغیر صورت میں ملتا ہے: (دیکھیے: صفحہ ۲۰۷)
’’قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے --- دہر میں عشقِ محمدؐ سے اجالا کر دے‘‘
۳۰۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۵۵، ۱۵۶۔ آخری شعر ترمیمی صورت میں یوں ہے:
 ’’کلفتِ غم گرچہ اس کے روز و شب سے دُور ہے--- زندگی کا راز اس کی آنکھ سے مستور ہے‘‘
۳۱۔ یہ دوسرا شعر بانگِ درا میں شامل نہیں۔ یہ شعر بیدل کے ایک شعر:
 ’’باز آمدن مہدی و عیسیٰ اینجا--- از تجربۂ مزاج اعیاں دور است‘‘
     کی یاد دِلاتا ہے۔ اقبال کے اس متروک شعر کے لیے دیکھیے: باقیاتِ اقبال، صفحہ ۴۵۱
۳۲۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۱۰۸
۳۳۔  کلیاتِ اقبال، صفحہ ۸۰
۳۴۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۳۱۲
۳۵۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۲۱۲
۳۶۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۸۷
۳۷۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۳۳۸
۳۸۔ یہ اشعار غالباً اب تک مدوّن نہیں ہوئے۔
۳۹۔ بعد میں یہ مصرع یوں بدل دیا گیا:
’’مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں ‘‘۔
۴۰۔ بعد میں اس مصرع میں ترمیم کر دی گئی: 
’’نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں ‘‘۔
۴۱۔ یہ شعر کلیاتِ اقبال میں شامل نہیں۔
۴۲۔  کلیاتِ اقبال، صفحہ ۲۸۱
۴۳۔ کلیاتِ اقبال، صفحہ ۸۴
٭٭٭



اقبال: ایک آفاقی شاعر


ڈاکٹر ایم  ڈی   تاثیر

	ڈاکٹر اقبال فوت ہو چکے ہیں مگر اب ان کا چرچا پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ گویا مر کر وہ اور بھی زندہ ہو گئے ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، ان کے اثر اور ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ شہرت تو کئی بڑی بڑی شخصیتوں والے لوگوں کی مرنے کے بعد زیادہ ہو جاتی ہے مگر اثر زیادہ محض مصنفوں اور دیگر تخلیقی کام کرنے والوں ہی کا ہو سکتا ہے۔ موت کے بعد زندگی نام کو تو بادشاہوں اور جرنیلوں کو حاصل ہو سکتی ہے مگر اصلی زندگی، مسلسل اثر ڈالنے والی زندگی، ادیبوں اور صناعوں کے لیے ممکن ہے۔ بقول اقبال:
رہے نہ ایبک و غوری کے معرکے باقی
ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسرو
	آئندہ کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ، محض رائے کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ اپنی زندگی میں بڑی بڑی شہرتوں کے مالک آج ایسے بھلائے جاچکے ہیں کہ ان کے متعلق تحقیقات کرنے والے لوگوں پر کھودا پہاڑ اور نکلی چوہیا کی پھبتی کسی جاتی ہے۔ ذوق جو شاید اپنے وقت میں غالب سے بہت بلند سمجھا جاتا تھا، آج غالب سے اس کا مقابلہ کرنا بھی بد ذوقی کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔ اس سے ادبی تنقید کی بے بضاعتی واضح ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھار صدیوں کے بعد کوئی ایسا شاعر بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے متعلق پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ صدیوں تک اس کا نام زندہ رہے گا اور اس کا کلام اثر انداز رہے گا۔ اقبال ان چند شاعروں میں سے ہے، اور یہی نہیں کہ اس کا اثر ہندوستان میں بڑھتا جائے گا بلکہ قیاس یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں جب اس کا کلام ترجمہ ہو کر پہنچے گا تو اس کا انداز خیال بہت مقبول ہو گا۔ اردو میں اور کوئی شاعر ایسا نہیں جس کے اثر کے متعلق ایسے عالمگیر امکانات کی توقع کی جا سکے۔
	لیکن اقبال تو محض اسلامی شاعر ہے۔ یہ سوال بار بار کیا جا چکا ہے۔ اقبال کی زندگی میں اور بعد بھی۔ تاسف سے، غصے سے، طعنے کے طور پر اور بڑے ناز و افتخار سے اس سوال کا جواب بھی کئی طرح سے دیا گیا ہے اور صداقت کے مختلف پہلوؤں کا مختلف طریقوں سے اظہار کیا گیا ہے۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو لوگ اقبال کی حمایت کرتے ہوئے معذرت کے انداز میں کہتے ہیں کہ اقبال کی شاعری کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں وہ صداقت سے بہت دور ہیں۔ اقبال کی شاعری صحیح معنوں میں اسلامی شاعری ہے اور اقبال صحیح معنوں میں مومن شاعر تھا۔ اور یہ بیان اس کے اپنے پیش کردہ معیار اسلام کے مطابق بالکل صحیح ہے۔ یہ اور بحث ہے کہ اس کا معیار مسلمہ عقائد سے مختلف تھا یا مطابق۔ لیکن اس کا آخری معیار قرآن اور اسلام ہے!۔۔
	تو پھر اقبال کی شاعری عالمگیر کیسے ہوئی؟ بالکل اسی طرح جس طرح ہومر اور دانتے، کالی داس اور ٹیگور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے شاعر ہیں۔ ہومر کا کلام پڑھیے، بسم اللہ ہی دیوتاؤں کے نام سے ہوتی ہے اور پھر قدم قدم پر یونان کے توہمات اور عقیدوں کا تذکرہ ہے۔ دانتے کٹر عیسائی ہی نہیں بلکہ اس قدر متعصّب اور تنگ نظر ہے کہ وہ اپنی کتاب میں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو بد ترین گالیاں دیتا ہے۔ اگر آج کوئی مصنف ایسی کتاب ہندوستان میں لکھے تو اس کی کتاب ضبط ہو جائے اور نہ ہو تو جا بجا بلوے ہو جائیں ، فرقہ وار فساد برپا کرا دیے جائیں۔ کالی داس ہندو مذہب کے دیوتاؤں کا داس ہے اور ٹیگور بھی اپنی مذہبی روایات کا ترجمان ہے، دیوی دیوتاؤں کا نام لیوا ہے۔ اقبال بھی ان سب کی طرح ان روایات کو استعمال کرتا ہے جن میں وہ پھولا پھلا۔ پروان چڑھا۔ مگر ایک بات میں اقبال ان سب سے ممتاز ہے اور وہ یہ کہ وہ پرانی روایات کو اس طرح برتتا ہے کہ ان کا مفہوم بدل جاتا ہے اور ان میں نئے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب کبھی اقبال ابراہیم خلیل اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو وہ یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے ایک نبی نہیں ہوتے بلکہ شاعر کا تصور انھیں جنگ آزادی کا مجسمہ بنا دیتا ہے اور آزر کے بت غلامی اور توہمات کی تمثیل بن جاتے ہیں جنھیں توڑ کر انسان صحیح انسانیت کا دعویٰ دار ہو سکتا ہے!۔ ایسے ’’خلیل‘‘ کو فرقہ واری کا نشان سمجھنا بد ترین فرقہ وارانہ ذہنیت کی نشانی ہے۔ یہ تو وہ خلیل ہے جو عشق کا مجسمہ ہے، وطن کا، آزادی کا، عشق کا جس کے متعلق اقبال نے کہا ہے:
بے خطرہ کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
میں نے ابھی ابھی وطن کے عشق کا ذکر کیا تھا۔ ایک دن پہلے بھی میں نے کچھ اس قسم کی بات کہی تھی تو ایک بڑے سمجھدار فارسی دان بزرگ نے مجھے ٹوکا تھا۔ کہنے لگے کہ اقبال تو وطنیت کا دشمن ہے اور تم کہتے ہو کہ وہ وطن کے عشق کی باتیں کرتا ہے۔ بحث کی خاطر تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ اقبال وطن کے عشق کی باتیں کرتا ہے۔ میں نے تو فقط یہ کہا تھا کہ اقبال کی شاعری میں خلیل مجازی نشان ہے عشق کا اور عشق وطن کا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میری نیت بحث کی نہیں ، میں تو محض تبادلہ خیالات کر رہا ہوں اور جو کوئی مجھے میری غلطی پر ٹوک دے تو یہ اس کی نوازش ہے۔ اقبال واقعی وطنیت کے دشمن تھے لیکن وطن کے عاشق تھے۔ یہ محض فقرہ بازی نہیں۔ سچی پتے کی بات ہے۔ کئی بوجھ بجھکڑوں نے یہ اڑا رکھی ہے کہ اقبال ہندی ترانہ لکھ کر ہندوستان سے پھر گیا اور انگلستان کے مشہور ادیب فوسٹر نے تو اور ہی کمال کردیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اقبال نے پہلے اسلامی ترانہ لکھا اور جب اس کے ہندو دوستوں نے اسے مجبور کیا تو اس نے قومی ترانہ لکھ دیا۔ گویا یہ محض فرمائشی چیز تھی۔ حالانکہ قومی ترانہ برسوں پہلے لکھا گیااور یہ ہمالیہ اور نیا شوالہ کا دور ہے۔ وہ میٹھے میٹھے بول!  ع
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
	یہ اقبال کے آغاز شباب کا زمانہ ہے، بڑھتی جوانی کا دور ہے اور یہ ہندوستان کی قومی تحریک کا بھی ابتدائی عہد تھا۔ یہ وہ دن تھے جب بندے ماترم کا نعرہ لگانا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔ اقبال نے ان دنوں پورے جوش سے قومی اشعار لکھے اور ان دنوں کا لکھا ہوا ترانہ آج بھی اپنی قسم کا ایک ہی ترانہ ہے۔ اس وقت تک ہندوستان کی کسی زبان میں اور کوئی گیت ایسا نہ لکھا گیا جو اس انداز سے بہتر ہو، گویا وطن پرستی میں بھی اقبال ہی اول نمبر رہتا ہے۔لیکن اقبال کو وطن کی محبت نے اندھا نہیں کیا بلکہ اسے اس محبت سے زیادہ وسعت قلب حاصل ہوئی اور ہندوستان کی محبت نے اسے سارے جہان کی محبت سکھائی۔ اسے یورپ میں جا کر معلوم ہوا کہ کس طرح وطن پرستی عالم دشمنی سکھا سکتی ہے اور وہ اس قسم کی وطنیت کا دشمن ہے جو انسان کو انسان کا بیری بناتی ہے۔ یہ وہ وطنیت ہے جسے دیکھ کر اقبال نے یورپ میں ایک خطرناک جنگ کی پیش گوئی کی تھی۔ بعینہ اسی طرح جس طرح کئی سال پہلے مشہور جرمن فلسفی شاعر نطشے نے کہا تھا کہ یورپ ایک مہلک جنگ کی طرف بھاگم بھاگ جا رہا ہے۔
	اقبال کا وہ شعر مشہور۔
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپایدار ہو گا
ء میں یہ ہو کر رہا اور اب پھر یہ ہو کر رہے گا۔
	میں نے نطشے کا نام لیا ہے… اور ایک معاملے میں دونوں کے خیالات کے یکساں ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اقبال اور نطشے کئی باتوں میں ملتے جلتے ہیں اور پہلے پہل تو اقبال پر اس کے خیالات کا بڑا اثر تھا۔ اس قدر کہ کئی اوپری نظر سے دیکھنے والے لوگ کہہ اٹھتے ہیں کہ اقبال، نطشے اور برگساں وغیرہ مغربی فلسفیوں کے خیالات نظم میں بیان کردیتا ہے اور بس!… میں کہتا ہوں کہ اقبال اگر یہی کچھ کرتا تو بھی اس کا درجہ آج کل کے شعرا سے بہت بلند ہوتا کیونکہ فلسفے جیسی خشک خیالی کو نظم کی رنگینی بخشنا بے مثال کام ہے اور پھر فلسفہ بھی کسی اور کا یہ تو قریباً محال ہے۔ مگر اقبال فقط یہ نہیں کرتا اور اس کے کئی مداح اس جھوٹے دعوے سے جسے وہ الزام سمجھتے ہیں اور جو الزام سمجھ کر ہی اقبال پر لگایا جاتا ہے، اس قدر بگڑتے ہیں کہ وہ ضد میں آ کر کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اقبال نے کسی مغرب کے فلسفی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، اس پر یورپ کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ گویا اقبال جو انگریزی میں لکھتا، انگریزی بولتا، دن رات انگریزی کتابیں پڑھتا، انگریزی لباس پہنتا اور اپنے بچوں کی تربیت کے لیے مغربی معلم تجویز کرتا، وہ اقبال مغرب سے متاثر نہیں ہوا اور بالکل خلا میں رہ کر سوچتا لکھتا رہتا تھا۔ اس سے اقبال کی عظمت ثابت نہیں۔ اقبال کی عظمت تو یہ ہے کہ وہ یورپ کے بہترین خیالات کو لیتا ہے، جانچ تول کر لیتا ہے، ان میں کھرے کھوٹے کی تمیز کرتا ہے اور پھر اس دولت کو اپنا مال بنا لیتا ہے۔ وہ کھلے بندوں پکار کر کہتا ہے کہ آج کل علم و دانش یورپ میں ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے علم و حکمت کا منبع ایشیائی تھے اور ان سے یورپ نے بے دریغ یہ دولت حاصل کی۔ اب یہ وقت ہے کہ استاد شاگرد بنا ہوا ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس اپنے پرانے ورثے کو پھر اپنا بنا لیں۔ اوچھے پن سے نہیں کہ علم اس طرح حاصل نہیں ہوتا، یہ لوٹ کھسوٹ کا کام نہیں ، بلکہ غور و فکر سے، محنت سے، نیاز مندی سے، یورپ کا علم ہمارا علم ہے، ہمارا علم یورپ کا علم ہے۔ ہمیں اس میں وطنیت کی تفرقہ پردازی سے بچنا چاہیے۔ اقبال حکما یورپ کے خیالات سے اپنا دامن بھرتا ہے مگر اس کا دامن اس بوجھ سے پھٹ  نہیں جاتا۔ میرے ایک جاٹ دوست کے بقول، اقبال کا شاعرانہ معدہ بہت مضبوط ہے، اسے بد ہضمی نہیں ہوتی۔ وہ ثقیل سے ثقیل خیالات کو ہضم کر لیتا ہے۔ اور وہ اپنے مشہور انگریزی لیکچروں میں ہم سب کو دعوت دیتا ہے کہ ہم بھی ایسا کریں اور پچھلے سات آٹھ سو سال سے جو ایشیا علم کی دوڑ میں پیچھے رہا جاتا ہے، اس کی تلافی کریں اور ہمیں اپنے سے آگے آگے چلنے والے مغربی متلاشیان علم کی کوششوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ ہے اقبال کا پیغام علمی لوگوں کے لیے۔ یہ ہے صحیح عمل کا پیغام اور اقبال کا شاعرانہ نظام تمام تر دعوت عمل ہے۔ اس کے نزدیک صداقت کا معیار بھی عمل ہے۔ وہ بار بار پکار کر کہتا ہے کہ نیکی اور سچائی وہ ہے جس سے شخصیت کی تقویت ہو اور جس سے خودی کمزور ہو وہ بدی ہے، جھوٹ ہے، فریب کاری ہے۔ اس میں وہ کسی خاص مذہب کا نام نہیں لیتا۔ یہ ایک عالمگیر معیار ہے جس سے صداقت پرکھی جا سکتی ہے۔ یہ خودی کا نام کوئی نئی اختراع نہیں مگر اقبال کا بیشتر کمال اس میں ہے کہ اس نے اس نام سے جو بڑی حد تک محض فلسفیانہ اصطلاح بن کر رہ گیا تھا، ایک مکمل تصور وضع کیا۔ اس خالی خول میں جان ڈالی۔ اس بے رنگ انگارے میں صوت گری کی اور اس ایک خودی کی بنیاد پر اس نے اپنا سارا نظریۂ حیات استوار کیا۔ زندگی کیا ہے؟ خودی کا ثبات۔ نیکی کیا ہے؟ خودی کی پختگی۔ بدی کیا ہے؟ خودی کی خامی۔ موت کیا ہے؟ خودی کی بیماری۔ اس مسئلے میں اقبال کا خیال بہت نرالا ہے اور وہ لوگ جو ہر وقت نئے خیال کی تلاش میں رہتے ہیں ، ان کے لیے بڑی دلچسپی کا باعث ہو گا۔ اقبال کہتے ہیں کہ شخصیت کی بیماریاں بہت طرح کی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’متعدد شخصیتوں کی بیماری‘‘ کہ جس میں ایک شخص دو دو تین تین چار چار حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ اگر رات کے وقت وہ خونخوار ڈاکو ہے تو دن کو بڑا متقی، پارسا بزرگ ہے۔ رات کے وقت اسے دن کی حالت یاد نہیں ہوتی اور دن کے وقت، رات کی حالت بھول چکا ہوتا ہے۔ ایک شخصیت کئی ٹکڑے ہو جاتی ہے۔ پاش پاش ہو جاتی ہے۔ اس طرح نیند بھی شخصیت کی بیماری ہے اور انسان آدھی عمر نیم مردہ سا رہتا ہے! لیکن یہ بیماریاں ہلکے ہلکے جھٹکے ہیں ، مدھم مدھم زلزلے ہیں مگر خودی کی قیامت موت ہے۔ موت سے ٹکرا کر بہت کم شخصیتیں صحیح سالم رہتی ہیں اور اقبال کے نزدیک موت کے بعد زندگی ہر انسان کا حق نہیں بلکہ اس کی شخصیت کی پختگی کا ثمرہ ہے۔ اگر خودی محکم ہے تو موت پر غلبہ حاصل کر لے گی۔ نہیں تو موت اسے مٹا دے گی۔ یہی خیال جرمنی کے مشہور فلسفی شاعر گوئٹے کا بھی تھا مگر اس نے اقبال کی طرح اس کی وضاحت نہیں کی۔ مجھے یاد ہے میں نے علامہ اقبال سے پوچھا تھا کہ اگر فقط چند مستحق لوگ ہی مرنے کے بعد زندہ ہوں گے تو پھر جہنم اور جنت کی تفریق کیا ہوئی۔ انھوں نے فرمایا اول تو دوزخ اور جنت مقامات نہیں بلکہ ذہنی حالت کے دو نام ہیں اور پھر یہ کہ جہنم کا حق دار ہونا بھی خودی کی قوت کا نتیجہ ہے۔ ابو جہل دوزخ کا ایندھن بنے گا، خالد اور طارق وغیرہ جنت کی کیفیت میں ہوں گے اور عام انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح تلف ہو جائیں گے۔ یہ خیال جیسے میں ابھی عرض کر چکا ہوں بہت نرالا ہے مگر اقبال کے فلسفہ خودی کا لازمی نتیجہ ہے اور آپ چاہے میری طرح اسے صحیح نہ سمجھیں یا اس کے قائل ہوں ، میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر ہمارے عہد میں کوئی شخصیت موت کے بعد زندہ رہنے کی حق دار ہے تو وہ اقبال کی شخصیت ہے۔ اسے زندگی سے اس قدر وابستگی تھی، زندگی کا اس قدر یقین تھا کہ موت نے اس کے بدن کو پے بہ پے حملوں سے چور چور تو ضرور کر دیا مگر اس کے دماغ کو ہراساں نہ کر سکی اور یہی موت کی شکست تھی۔ کہتے ہیں بزدل مرنے سے پہلے سو بار مر چکا ہوتا ہے اور بہادر جیتا جاگتا جان دیتا ہے۔ اقبال مرتے دم تک زندہ رہے اور جہاں تک ہماری زندگی پر اثر ڈالنے کا تعلق ہے، وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ زندہ ہیں اور وہ تعلیم جو انھوں نے ہمیں دی ہے وہ عارضی سیاسی ہنگامے کی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کی ضرورت ہمیں مدتوں رہے گی اور ہمیں ہی نہیں تمام دنیا کو اس کی ضرورت ہے اور دنیا میں ہر مذہب ہر خیال کے لوگ موجود ہیں۔ سادے الفاظ میں وہ تعلیم غیرت، خود اعتمادی، سربلندی کی تعلیم ہے۔ کس قدر سیدھے سادے الفاظ ہیں۔
	من کی دنیا؟ من کی دنیا …صاحب یہ شعر کس طرح ہے، بھول گیا مجھے، بھئی ذرا خوش الحانی سے پڑھ دو!۔ سوزو مستی، جذب و شوق! ہاں اس طرح۔
من کی دنیا؟ من کی دنیا، سوز و مستی، جذب و شوق
تن کی دنیا؟ تن کی دنیا، سود و سودا مکر و فن
من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
	یہ وہی تعلیم ہے جو لا الٰہ الا اللہ میں موجود ہے کہ کوئی انسان خدا نہیں۔ کسی انسان کے سامنے کوئی انسان سر نہ جھکائے اور اقبال تو اس قدر سر بلند ہے کہ وہ انسان کو خدا سے بھڑا دیتا ہے۔ کہتے ہیں :
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
	یہ ہے اقبال کی تعلیم ---- اب اس میں بتائیے ہندو مسلمانوں کا جھگڑا کہاں ہے؟ یہ پیغام ہر انسان کے لیے ہے۔ اقبال نے اوّل اوّل کہا ہے:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
	لیکن انہیں جلد ہی احساس ہوا کہ ایک ہی سر زمین میں جہاں کے لوگ مختلف ہو سکتے ہیں ، جو ایک دوسرے کے اساسی طور پر مخالف ہوں ، ایک کا فائدہ دوسرے کا لازمی نقصان ہو، اس لیے سرزمین نہیں بلکہ خیال کا ایک ہونا انسانوں کے اتحاد کے لیے ضروری ہے۔ تو انھوں نے کہا:
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
	مگر انہیں اس میں بھی جماعتی اختلافات کی گنجائش نظر آئی تو انھوں نے اپنی آخری تصنیفوں میں ساری دنیا کو اپنا مخاطب بنایا اور خدا کی زبانی فرشتوں کا یہ پیغام سنایا کہ … اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔ 
	سوچیے یہاں نہ ہندو ہیں نہ مسلمان، ساری دنیا کے غریبوں سے خطاب ہے۔ یہ تھا اقبال کی وطنیت سے نفرت اور وطن بلکہ جہاں دوستی کا راز۔ مجھے یاد ہے پیام مشرق کے چھپنے کے بعد مسز سروجنی نائڈو نے اقبال کو ایک مفصل خط لکھا تھا جس میں اقبال کا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس نے بلبل ہند کو وطنیت کے قفس سے آزاد کرا کے سارے جہاں کا چمنستان بخش دیا۔ آج ہندوستان کے اور رہنما بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں … وہ آج وہی باتیں کر رہے ہیں جو اقبال کئی دن پہلے پکار پکار کر کہہ رہا تھا اور اقبال کی کہی ہوئی بہت سی باتیں آئندہ بھی دہرائی جائیں گی۔ جن صداقتوں کو اس نے آشکار کیا ہے، بے نقاب کیا ہے، وہ ہمیں بھی صاف صاف نظر آنے لگیں گی۔ یہی اقبال کی دعا تھی:
جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے

اقبال کا فکر و فن مرتبہ : افضل حق قرشی ، بزم اقبال لاہور ، ۱۹۹۴ء

٭٭٭




اقبال

مجنوں گورکھپوری


	ہمارے ادب اور ہماری معاشرت کی تاریخ میں اقبال کا شمار اُن دانایانِ راز میں ہو گا جو مستقبل کی جھلک دِکھا کر فکر و عمل کا رُخ نئی سمتوں کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ اس سے تو کبھی بھی کسی کو انکار نہیں ، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ یہی ان کی ساری شخصیت اور ساری حیثیت ہے۔ اگر ہم اُن کے فلسفے اور پیغام کو نظرانداز کر دیں یا کسی ایسے زمانے کا تصور کر سکیں جب کہ اُن کے افکار و میلانات کا کوئی عنصر بھی زندہ نہ رہے گا، تو اس حالت میں بھی ہم کو یہ ماننا پڑے گا کہ محض صنّاع اور شاعر کی حیثیت سے اقبال دُنیا کے بڑے بڑے شاعروں کے ساتھ جگہ پا سکتے ہیں۔ افکار و جذبات سے برطرف ہو کر اقبال نے اُردو شاعری میں جو نئے اسالیب و صور تراشے ہیں اور پرانے اسالیب کو نئے انداز سے استعمال کر کے جو نئے آہنگ پیدا کیے ہیں ، وہ ہماری شاعری کی زبان میں یقیناً اختراعات کا حکم رکھتے ہیں اور مستقل اضافے ہیں ـ۔
	شاعر کے لغوی معنی ایک ایسے صاحبِ شعور کے ہیں جو دوسروں میں بھی شعور پیدا کر سکتا ہو۔ اگر ہم شاعری کی صرف اسی قدر تعریف مان لیں تو اقبال کے متعلق کبھی دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ جو کچھ اس سے پہلے کہا جا چکا ہے، وہ اقبال کو صاحبِ شعور اور شعور آفریں ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اُنہوں نے دُنیا کو نئی آگاہیاں دیں ، اُن میں زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں کا احساس پیدا ہوا اور اُنہوں نے دوسروں میں بھی اس کا شدید احساس پیدا کیا۔ لیکن بعض نقادوں کے خیال میں شاعر کی تعریف صرف اس قدر نہیں ہے۔ اس جماعت کا خیال ہے کہ شاعری میں صرف یہ دیکھنا نہیں چاہیے کہ کیا کہا گیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کس عنوان اور کس انداز سے کہا گیا ہے۔ یعنی شاعری کے عناصر دو ہیں : معنی اور صورت--- دیکھنا چاہیے کہ صوری اعتبار سے اقبال کی شاعری کیا درجہ رکھتی ہے۔
	اقبال کی اس حیثیت پر نظر ڈالتے وقت ہم کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی شاعری کی ابتدا، جیسا کہ عام طور سے ہوا کرتا ہے، غزل سے ہوئی اور اوّل اوّل داغ کو اُنہوں نے اپنا استاد منتخب کیا۔ بظاہر یہ کوئی بڑی اہم بات نہیں معلوم ہوتی اور اقبال کے اکثر تنقید نگار ان کی شاعرانہ زندگی کے اس واقعے کو اعتنا کے قابل نہ سمجھیں گے۔ لیکن ہماری رائے میں اقبال کی خالص فن کارانہ اہمیت کی بنیاد یہی واقعہ ہے۔ اگر ہم صحیح ذوق کے ساتھ اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں تو کیا نظم میں اور کیا غزل میں ، جو کیفیت سب سے زیادہ نمایاں اور موثر طور پر محسوس ہوتی ہے، وہ وہی ہے جس کو مبہم اور مجموعی طور پر تغزل کہا جا سکتا ہے۔ ہم کو تو کبھی کبھی ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اقبال فطرتاً غزل گو تھے اور اتنے بڑے نظم نگار ہونے کے بعد اور اس کے باوجود بھی وہ غزل گو ہی رہے۔ نظموں میں بھی اُنہوں نے ایک قسم کی غزل گوئی ہی کی ہے۔ اس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ ان نظموں میں شاید گنتی کے اشعار ایسے نکلیں گے جو فرداً فرداً اپنی جگہ معنی اور اسلوب دونوں کے اعتبار سے مکمل نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اقبال کی نظموں کے بند کے بند بغیر ارادہ اور کوشش کے زبان پر چڑھ جاتے ہیں اور ہر شعر اپنے اندر ضرب المثل ہو جانے کی قوی صلاحیت رکھتا ہے۔
	اچھی شاعری کی ایک زبردست اور لازمی علامت ترنم اور موسیقیت ہے۔ موسیقیت سے شاعری کا خمیر ہوا۔ ہر چھوٹے بڑے شاعر کے کلام میں کسی نہ کسی قسم کی موسیقیت ضرور پائی جاتی ہے۔ ورنہ شعر اور نثر کے اثرات برابر ہوں۔ میر سے لے کر داغ تک اور داغ سے لے کر اب تک ہر شاعر کے وہاں موسیقیت ملے گی اور ہر شاعر کی موسیقیت کا انداز جدا ہو گا۔ اقبال کی شاعری کا بھی ایک غالب عنصر اس کی انفرادی موسیقیت ہے، جس کی سب سے نمایاں خصوصیت ہمواری اور بلاغت ہے۔
	اس اعتبار سے اُردو کا کوئی دوسرا شاعر ان کا پورا حریف نظر نہیں آتا۔ اگر داغ ہمواری میں ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو بلاغت اور معنوی قدر کا ان کے یہاں پتا نہیں ہے۔ اور اگر غالب بلاغت میں اقبال کے ہمسر کہے جا سکتے ہیں تو ان کے کلام کی موسیقیت میں ایسی ہمواری نہ ملے گی۔
	اقبال کے اشعار ہماری سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں ، یا ان کے افکار و نظریات سے ہم کو اتفاق ہو یا نہ ہو، لیکن جس خصوصیت کا ان کے حامی اور مخالف دونوں کو قائل ہونا پڑے گا، وہ یہ ہے کہ ان کا ایک مصرع ایسا نہیں ہوتا جو نازک سے نازک ساز پر گایا نہ جا سکتا ہو۔ اور یہ خصوصیت محض غنائی نہیں ہے یعنی وہ محض خوش آہنگ الفاظ کے حسنِ ترتیب سے نہیں پیدا ہوئی ہے۔ اقبال کے اشعار میں جو موسیقیت ہوتی ہے، وہ ایک مرکب آہنگ ہے جس کو الفاظ و افکار دونوں سے بہ یک وقت ایک اصلی اور اندرونی تعلق ہوتا ہے اور ہم کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ اور معنی باہم مل کر ایک ایسی دھُن پیدا کر رہے ہیں جس کا تجزیہ نہیں کیا جا  سکتا۔ اسی لیے اقبال کا ترنم کبھی سطحی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر تہ بہ تہ گہرائیاں ہوتی ہیں۔
	جہاں تک الفاظ اور ترکیبوں کے حسنِ انتخاب کا تعلق ہے، اقبال ہم کو جدید شعرائے اُردو میں سب سے زیادہ ممتاز نظر آتے ہیں۔ ان کا اسلوب بحیثیتِ مجموعی وہی ہے، جس کو غزل کا روایتی اسلوب کہہ سکتے ہیں اور جس کا جوہر رومانیت ہے۔ اس نقطۂ نظر سے ہم اقبال کے اسلوب کو ’’کلاسیکی اسلوب‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اقبال کا اصل اجتہاد یہ ہے کہ اُنہوں نے پرانے الفاظ اور فقرات اور پرانے اسالیب و روایات کو بالکل نئے انداز سے استعمال کیا ہے اور ہماری زندگی کی نئی ضرورتوں کے لیے کام میں لائے ہیں۔ چنانچہ اگر ٹھہر کر غور کے ساتھ ان کے اسلوب پر نظر ڈالی جائے تو اقبال کا اسلوب ہمارے اندر ایک ہی وقت میں قدامت اور جدت، پختگی اور تازگی دونوں کا ایک مرکب  احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ بڑا مشکل کام تھا اور اس کو اقبال کا معمولی اکتساب کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا۔
	ایک گروہ ایسا ہے جو اقبال پر اعتراض کرتا ہے کہ ان کے وہاں فارسی الفاظ اور ترکیبوں اور ایران و عرب کی تواریخی زندگی سے متعلق روایات و تلمیحات اور انہی سے ماخوذ تشبیہات و استعارات کی بھرمار ہے۔ یہ شکایت ایک خاص نقطۂ نظر سے اور ایک حد تک بجا بھی ہے۔ اقبال کی بڑھی ہوئی فارسیت نے ان کو عوام کا شاعر ہونے نہیں دیا اور اس لحاظ سے وہ یقینا خسارے میں رہے۔ مگر پھر ایسا مفکر اور ایسا صاحبِ شعور شاعر عوام کی اور پھر ہندوستان کے عوام کی چیز نہیں ہو سکتا۔ اقبال کی فارسیت سے ان کو صرف اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ ان کے سمجھنے والوں اور ان کے پیغام سے موافق یا مخالف اثر قبول کرنے والوں کا دائرہ محدود ہو گیا۔ لیکن اس سے ان کی شاعری کو فائدہ بھی بہت پہنچا۔ ان کے کلام میں ایک حلاوت، ایک متنوع ترنم، ایک بلیغ خوش آہنگی بھی پیدا ہو گئی ہے جو داغ یا امیر کی سلیس اور عام فہم اور رواں اور سہل زبان کے استعمال سے نہیں پیدا ہو سکتی تھی۔ اقبال کی شاعری میں جو صوتی حسن ہے، اس کی ترکیب میں جہاں اور بہت سے عناصر داخل ہیں ، وہاں ایک عنصر فارسی الفاظ کا صحیح اور کامیاب انتخاب اور ان کا قرینے کے ساتھ استعمال بھی ہے۔
	اقبال کی فطرت کو موسیقی سے پیدائشی لگاؤ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اشعار گنگنا کر نہیں بلکہ باقاعدہ گا کر کہا کرتے تھے۔ یہ ایک زبردست اشارہ ہے، جس سے ہم ان کے مزاجِ شعری کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اقبال جیسا مفکر اور پیغامبر نظم لکھنے والا ایسا کامیاب اور اثر انگیز غزل گو بھی رہ سکا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جیسا کہ پہلے اشارتاً کہا جا چکا ہے، ان کی اصلی فطرت تغزل اور ان کا اصلی فن غزل تھا۔ ان کا ایک شعر ہے جس سے ان کے اصلی اور ایک حد تک دبے ہوئے میلان کا پتا چلتا ہے:
مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی
شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی
	اقبال کی غزلیات اور نظمیات کا شروع سے آخر تک سلسلے اور ترتیب کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو موسیقیت اور خوش آہنگی کی خصوصیت ان کے وہاں برابر ملے گی۔ البتہ مختلف ادوار میں اس موسیقیت کی گہرائی اور معنویت میں فرق ہو گا۔ ابتدائی دور میں اقبال کی شاعری میں جو صوتی حسن ہے وہ زیادہ تر بالائی ہے اور اس کا حجم کم ہے۔ رفتہ رفتہ اور درجہ بدرجہ اقبال کی موسیقیت میں گہرائی اور اندرونی کیفیت بڑھتی گئی اور وہ روز بروز ان کے افکار کی طرح زیادہ بلیغ اور زیادہ مستقل ہوتی گئی۔
	اب آئیے اس نقطۂ نظر سے اقبال کے کچھ اشعار پر نظر ڈالی جائے، بلالحاظ اس کے کہ وہ غزل کے ہیں یا نظم کے، جو اشعار اس سے پہلے مختلف موقعوں پر منتخب کیے جا چکے ہیں ، ہمارے دعوے کی تائید کے لیے کافی ہیں ، مگر اب کچھ اور اشعار پیش کیے جاتے ہیں ، جن سے ہم اپنے اس دعوے کو ثابت کر سکتے ہیں کہ اقبال ایک خالص فنکار کی حیثیت سے بھی اپنا ایک شخصی مقام رکھتے ہیں اور ان کی شاعری محض جمالیاتی محاسن کی بنا پر بھی گراں قدر اور بلند مرتبہ ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے:
در جہاں مثلِ چراغِ لالۂ صحرا ستم
نے نصیبِ محفلے، نے قسمتِ کاشانۂ
ــــــــــــ
تھا جنہیں ذوقِ تماشا وہ تو رخصت ہو گئے
لے کے اب تو وعدۂ دیدارِ عام آیا تو کیا
آخرِ شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
ــــــــــــ
آج ہیں خاموش وہ دشتِ جنوں پرور جہاں 
رقص میں لیلا رہی، لیلا کے دیوانے رہے
ــــــــــــ
خیر تو ساقی سہی لیکن پلائے گا کسے؟
اب نہ وہ مے کش رہے باقی، نہ مے خانے رہے
رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اُسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے
ــــــــــــ

نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا، نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاکِ جادوے سامری، تو قتیلِ شیوۂ آزری
میں نواے سوختہ درگلو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بو
میں حکایتِ غمِ آرزو، تو حدیثِ ماتمِ دلبری
ــــــــــــ
نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
ــــــــــــ
اس گلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھا
ناز بھی کر تو بہ اندازۂ رعنائی کر
ــــــــــــ
اُٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
اُڑا لی قمریوں نے، طوطیوں نے، عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرزِ فغاں میری
ــــــــــــ
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں 
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں 
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں 
ــــــــــــ
مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں 
محبت کے لیے دل ڈھونڈھ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں 
ــــــــــــ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے، اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں 
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں 
ــــــــــــ
کوئی دل ایسا نظر نہ آیا نہ جس میں خوابیدہ ہو تمنا
الٰہی تیرا جہان کیا ہے، نگار خانہ ہے آرزو کا
ــــــــــــ
دیارِ مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
ــــــــــــ
تنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے
نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے
نہیں یہ شانِ خود داری چمن سے توڑ کر مُجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زیبِ گلو کر لے
ــــــــــــ
ہنوز ہم نفسے در چمن نمی بینم
بہار می رسد و من گلِ نخستینم
ــــــــــــ
کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و مے خانہ ہیں مدت سے خموش
ــــــــــــ
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی ؐ سے مجھے
کہ عالمِ بشریّت کی زد میں ہے گردوں 
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے زار و زبوں 
میرِ سپاہ نا سزا، لشکریاں شکستہ صف
آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف
ــــــــــــ
رہ و رسمِ حرم نامحرمانہ
کلیسا کی ادا سوداگرانہ
تبّرک ہے مرا پیراہنِ چاک
نہیں اہلِ جنوں کا یہ زمانہ
ــــــــــــ
پریشاں کاروبارِ آشنائی
پریشاں تر مری رنگیں نوائی
کبھی میں ڈھونڈتا ہوں لذتِ وصل
خوش آتا ہے کبھی سوزِ جدائی
ــــــــــــ
چمن میں رختِ گل شبنم سے تر ہے
سمن ہے، سبزہ ہے، بادِ سحر ہے
مگر ہنگامہ ہو سکتا نہیں گرم
یہاں کا لالہ بے سوزِ جگر ہے
ــــــــــــ
تو اے کودک منش خود را ادب کن
مسلماں زادہ ای؟ ترکِ نسب کن
برنگِ احمر و خون و رگ و پوست
عرب نازد اگر، ترکِ عرب کن
ــــــــــــ
ربودی دل ز چاکِ سینۂ من
بغارت بردہ ای گنجینۂ من

متاعِ آرزویم با کہ دادی؟
چہ کردی باغمِ دیرینۂ من؟
ــــــــــــ
یمِ عشق کشتیِ من، یمِ عشق ساحلِ من
نہ غمِ سفینہ دارم، نہ سرِکرانہ دارم
ــــــــــــ
شرار از خاکِ من خیزد، کجا ریزم، کراسوزم
غلط کردی کہ در جانم فگندی سوزِ مشتاقی
ــــــــــــ
گہے رسم و رہِ فرزانگی ذوقِ جنوں بخشد
من از درسِ خردمنداں گریباں چاک می آیم
گہے پیچد جہاں برمن، گہے من بر جہاں پیچم
بگرداں بادہ تا بیروں ازیں پیچاک می آیم
نہ ایں جا چشمکِ ساقی، نہ آنجا حرفِ مشتاقی
ز بزمِ صوفی و ملا بسے غمناک می آیم
ــــــــــــ
مرا براہِ طلب بار در گل است ہنوز
کہ دل بقافلہ و رخت و منزل است ہنوز
کجا است برقِ نگاہے کہ خانماں سوزد
مرا معاملہ باکشت و حاصل است ہنوز
نگاہ شوق تسلی بہ جلوۂ نشود
کجا برم خلشے را کہ در دل است ہنوز
حضورِ یار حکایت دراز تر گردید
چنانکہ ایں ہمہ ناگفتہ در دل است ہنوز
ــــــــــــ
تو عیارِ کم عیاراں ، تو قرارِ بے قراراں 
تو دواے دل فگاراں مگر ایں کہ دیر یابی
ـــــــــــــ
من اے دریاے بے پایاں بہ موجِ تو درافتادم
نہ گوہر آرزو دارم، نہ می جویم کرانے را
ــــــــــــ
چو پرویں فروناید اندیشۂ من
بدریوزۂ پرتوِ مہر و ماہے
ــــــــــــ
درگزر از خاک و خود را پیکرِ خاکی مگیر
چاک اگر در سینہ ریزی آفتاب آید بروں 
ــــــــــــ
مثلِ شرر ذرہ را تن بہ تپیدن دہم
تن بہ تپیدن دہم، بال پریدن دہم
ــــــــــــ
یوسفِ گم گشتہ را باز کشودم نقاب
تا بہ تنک مایگاں ذوقِ خریدن دہم
ــــــــــــ
ہنگامۂ ایں محفل از گردشِ جامِ من
ایں کوکبِ شامِ من، ایں ماہِ تمامِ من
ــــــــــــ
	یہ اشعار یوں ہی اِدھر اُدھر سے چن لیے گئے ہیں اور ان میں کسی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔ طوالت کے خیال سے اتنے ہی اشعار پر اکتفا کیا جا رہا ہے، ورنہ حسنِ صوتی اور خوش آہنگی کے اعتبار سے اقبال کا کلام، کیا اُردو اور کیا فارسی، شروع سے آخر تک انتخاب کا حکم رکھتا ہے۔

اقبال از مجنوں گورکھپوری، بحوالہ: اقبال بحیثیت شاعر
مرتبہ رفیع الدین ہاشمی، لاہور، ۱۹۷۶ء          
٭٭٭



اقبال ایک پیغمبر کی حیثیت سے 

ممتاز حسن

	اقبال کا کلام مجموعی طور پر یکساں نہیں ہے۔ اپنے ابتدئی اور آخری دور میں عموماً اور درمیان کے زمانے میں کہیں کہیں ، اقبال ایک شاعرِ محض یا ایک فلسفی محض کی حیثیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً یہ شعر:
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں 
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں 
جس کا مضمون ایک فلسفیانہ احساس ہے۔ یا یہ شعر:
اگر کاوی درونم را خیالِ خویش را یابی
پریشاں جلوۂ چوں ماہتاب اندر بیابانے
جو ایک شاعرانہ کیفیت کا اظہار ہے۔
	کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اقبال کا سارا کلام ان معنوں میں ’’ پیغمبری‘‘ہے جو ہم نے لیے ہیں۔ میں نے صرف یہی کہا ہے کہ اقبال کی اولین اور اہم ترین حیثیت ایک پیغمبر کی ہے، اور لوگ اس حیثیت کو سمجھنے سے عموماً قاصر رہتے ہیں۔اقبال نے خود کہا ہے:
بہ خامۂ کہ خط زندگی رقم زدہ است 
نوشتہ اند پیامے بہ برگِ رنگینم
	جو لوگ نکتہ رس نہیں ہیں وہ اس ’’برگِ رنگیں ‘‘کی رنگینیوں میں محو ہو جاتے ہیں اور اس پیغام کو، جو خامہ قدرت نے اس پر لکھ رکھا ہے، نظر انداز کر دیتے ہیں ؛ یعنی ’’الفاظ کی خوبصورتی‘‘ اور ’’ترکیبوں کی چستی‘‘ سے بحث کرتے ہیں اور اصل مقصد کو نہیں سمجھتے، ہندوستان ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے اور اقبال ان کے ہاتھوں نالاں ہے۔پیامِ مشرق کی افتتاحی مثنوی کے وہ شعر جو :
آشنائے من زمن بیگانہ رفت
از خمستانم تہی پیمانہ رفت
	سے شروع ہوتے ہیں ، اسی درد ناک حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ، اقبال کو اپنی تنہائی کا احساس زیادہ تر انھی نافہمیوں ، کج فہمیوں اور غلط فہمیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے ’اسرارِ خودی‘کے خاتمے پر ایک ہمدم کے لیے دعا بھی کی ہے:
خواہم از لطفِ تو یارے ہمدمے
از رموزِ فطرتِ من محرمے
تا بجانِ او سپارم ہوے خویش
بازبینم درِ دل او روے خویش
	اقبال کی پیغمبرانہ حیثیت واضح کرنے کے بعد اس کے پیغام کی توضیح ضروری ہے۔ مگر اس سے پہلے یہ ذہن نشین کر لینا بہتر ہو گا کہ اقبال کن چیزوں کی حمایت اور کن چیزوں کی مخالفت کے لیے آیا ہے ؟ اقبال نے چند باتوں کے خلاف اپنی پوری قوت سے جہاد کیا ہے، اور میرے ذہن میں کوئی صورت حالات ایسی پیدا نہیں ہو سکتی جو اسے ان کے موافق بنا سکے۔ اقبال سب سے پہلے سکون و جمود کا مخالف ہے۔ سکون و جمود ہی ایک ایسی چیز ہے جوافراد اور قوم کے لیے خود کشی کے معنی رکھتی ہے۔ زندگی ایک میدانِ کارزار ہے، پھولوں کی کیاری نہیں۔ یہاں جو شخص جدوجہد سے گھبرایا، اس کی ہستی اور موت برابر ہے:
درین رباط کہن چشم عافیت داری؟
ترا بہ کشمکشِ زندگی نگاہے نیست
(پیام مشرق)
	ایشائی تہذیب کے دور حاضر کو مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تواس کی تاریخ ذہنی اور روحانی سکون و جمود کی ایک لمبی نیند نظر آئے گی جو جمال الدین افغانی کے وقت تک باقی تھی اور جس کے اثرات  اب بھی مشرق پر غالب ہیں۔ اس کی وجہ آب و ہوا نہیں ہے، کیونکہ آخر اسی ایشیا سے تاتاری اور عرب اٹھے تھے۔ اس کی وجہ  ایشیائی فلسفہ اور ایشیائی شاعری ہے جس نے ہر ایک ایشیائی فرد کے لیے سکون و جمود کو ایک نصب العین کی حیثیت سے قائم کر دیا ہے۔ صوفیوں نے غالباً و یدانت کے فلسفے سے متاثر ہو کر ’’فنا فی اللہ‘‘کا تصور باندھ رکھا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی انفرادی اور شخصی حیثیت کسی اور شخصیت میں جذب ہو جائے تاکہ وہ زندگی کی کاوشوں اور گوناگوں ذمّہ داریوں سے سبکدوش ہو سکے۔
	سکون اور جمود کا نصب العین بہت عام ہے۔ حافظ، عمر خیام اور ٹیگور (اس شاعر نے اس تخیل کو پوری جامعیت کے ساتھ پیش کیا ہے)اسی کے دل دادہ ہیں۔ یہ سب تسکین کی تلاش میں ہیں اور دنیا چونکہ عرصۂ جدوجہد ہے اس لیے اس سے بیزار ہیں اور ایک نئی دنیا کے خواب دیکھتے ہیں ، جہاں سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور جہاں کی زندگی محض تن آسانی کی ایک داستان ہو۔ ایسی دنیا سب سے پہلے افلاطون نے (جو مشرقی تخیلات کا مورث اول ہے)تیار کی تھی۔ اس کے ’’نظریہ‘‘’’مثُل‘‘ کا ماحصل یہ ہے کہ یہ دنیا، جس میں ہم رہتے ہیں ، ایک اور دنیا کا جواس سے بدرجہا زیادہ مکمل اور دلآویز ہے، دھندلا سا خاکہ ہے۔ حسن، حقیقت اور انصاف جو اس دنیا میں ایک ادھوری صورت میں پائے جاتے ہیں ، وہاں اپنی اصلی حقیقت میں جلوہ گر ہیں۔ اور جو تکالیف روح کو جستجوئے حقیقت میں یہاں پیش آتی ہیں وہاں وہ ان سب سے آزاد ہے۔افلاطون نے اپنی تصانیف میں اس موہوم سی دنیا کا اپنی پوری شاعرانہ قوت سے نقشہ کھینچا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس زندگی کے ہنگامے سے مخلصی پا کر وہ ایک سکون کی دنیا میں جا پہنچے اور اس کی فضا میں جذب ہو جائے۔ اقبال کی تعلیم افلاطون کی تعلیم کے برعکس ہے۔ و ہ اس دُنیا کی زندگی کوحقیقت سمجھتا ہے اور اس کے مصائب اور شدائد کو انسان کی قوت اور سیرت کے اظہار کے لیے ضروری سمجھتا ہے:
ز قید صیدِ نہنگاں حکایتے آور
مگو کہ زورقِ ما روشناسِ دریا نیست
(پیامِ مشرق)
	اقبال نے ٹیگور کی طرح اپنی تعلیم کو مبہم نہیں رکھا بلکہ واضح ترین انداز میں پیش کیا ہے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں کہا ہے :ع
اگر خواہی حیات اندر خطر زی
یا 
بہ کیشِ زندہ دلاں زندگی جفاطلبی است
سفر بہ کعبہ نکردم کہ راہِ بے خطر است
	اقبال سے پہلے غالب نے بھی سکون و جمود کے تباہ کن تصور کے خلاف احتجاج کیا ہے:
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق 
نوحہء غم ہی سہی، نغمہء شادی نہ سہی
	دوسری چیز جس سے اقبال کو قطعی دشمنی ہے، وہ گمان و شک ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ سرزمین مشرق مختلف مذاہب کا گہوارہ اور یقین وایمان کا سرچشمہ ہونے کے باوجود ہر قسم کے شکوک کا منبع رہی ہے۔ اور آج کل تو مغرب کی طرف سے شکوک کا جو سیلاب مشرق پر اُمنڈ آیا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ نئی نئی ایجادات، سائنس کی حیرت انگیز معلومات، جنگِ عظیم کی ہولناک واردات، سرمایہ و محنت کا جھگڑا اور روس کا سیاسی اور تمدّنی انقلاب ان شکوک کے اسباب میں سے ہیں۔ حالات کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ ہمیں ان پر پوری طرح غور کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ البتہ ہمارے پچھلے خیالات ضرور تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ آج کل مغرب میں خدا، روح، مادہ، حکومت، دولت، ازدواج وغیرہ کسی چیز کے متعلق بھی کوئی عام عقیدہ قائم نہیں ہے۔ پچھلے عقائد فنا ہو چکے ہیں ، یا ہو رہے ہیں ، اور ان کی جگہ نئے عقائد قائم ہوتے نظر نہیں آتے ڈیکارٹ دور حاضر کا اولین فلسفی شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے فلسفے کی ابتدا یوں ہوئی کہ اسے اپنے وجود پر شک پیداہوا۔ مجھے ایسے لوگوں سے گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے جو اپنی ہستی کے منکر ہیں۔ میں اپنے ایک ہندو دوست کو جو اپنی بود و نبود میں شک رکھتے ہیں ، آج تک ان کی ہستی کا یقین نہیں دلا سکا۔
	اس میں کچھ شک نہیں کہ تحصیل علم کے لیے شکوک کا ہونا لازم ہے۔ مگر یہ شکوک اگر مادی دنیا تک محدود رہیں تو مفید ہو سکتے ہیں ، یعنی انسان ان کی وجہ سے مادی حقائق کی تحقیق کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اگر یہ شکوک اس غیر مادی دنیا تک پہنچ جائیں جس کا تعلق مذہب کے اصولوں سے ہے تو سوائے اس کے کہ ان سے اور شکوک پیدا ہوں ، اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ شکوک صرف انھی چیزوں کے متعلق ہونے چاہئیں جن کے متعلق رفع بھی ہو سکیں ، جیسے مادی حقائق۔ مثلاً اگر کسی شخص کو ستاروں کے متعلق کسی شک کو رفع کرنا ہو تو وہ دوربین کی مدد سے ایسا کر سکتا ہے۔مگر خدا کی ہستی کے متعلق جو شکوک بھی ہوں گے وہ دوربین یا کسی اور ذریعہ تحقیق کے احاطہ امداد سے باہر ہوں گے۔
	مزید براں علمِ زندگی کی انتہا نہیں ، عمل کادرجہ اس سے بالاتر ہے، یعنی انسانوں کی اجتماعی زندگی میں کسی واقعے کا پیدا کرنا بہتر ہے کسی واقعے کے متعلق تحقیق کرنے سے۔اقبال نے علم و عمل اور شک و یقین کے باہمی تعلق کو کیا خوب بیان کیا ہے:
ہمائے علم تا اُفتد بدامست
یقیں کم کن گرفتارِ شکے باش
عمل خواہی؟ یقیں را پختہ ترکن
یکے بین و یکے جوے و یکے باش
	اقبال ہر قسم کے شکوک سے (خصوصاً ان شکوک سے جو حصولِ علم کے لیے مفید ہیں )شناسا ہے۔ اس کی ابتدائی نظمیں بھی اس بات کی گواہ ہیں۔ مثلاً
جلوہِ حُسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب
پالتا ہے جسے آغوشِ تخیل میں شباب
آہ وہ حسن زمانے میں کہیں ہے کہ نہیں ؟
خاتمِ دہر میں یا رب وہ نگیں ہے کہ نہیں 
مگر دیکھو یہی اقبال عقل اور یقین کا مقابلہ کس طرح کرتا ہے:
بہ پیچ و تاب خرد گرچہ لذتِ دگر است 
یقین سادہ دلاں بہ ز نکتہ ہائے دقیق
پھر کہا ہے اور کس جوش وخروش سے کہا ہے:
من آں علم و فراست با پرِ کاہے نمی گیرم 
کہ از تیغ و سپر بیگانہ سازد مردِ غازی را
	اقبال کا بار باریہی تقاضا ہے کہ ہم عقلی شکوک سے نجات حاصل کر کے یقیں پیدا کریں۔ انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ عناصر زندگی کی تسخیر کرے۔اور عقلی شکو ک ہمیں کچھ بھی کرنے نہیں دیتے۔
	اگر ہم اقبال کو محض فلسفی کی حیثیت سے دیکھیں تو ہمیں برگساں کے فلسفے کی طرح اس کے فلسفے کی بنا بھی غیر عقلی نظر آئے گی۔خدا، روح، مادہ وغیرہ کی نسبت اقبال کا جواب بھی وہی ہے جو جرمنی کے سب سے بڑے فلسفی امانول کانٹ کا تھا۔ یعنی یہ کہ عقل ان کے متعلق کسی قسم کا قطعی فیصلہ دینے سے قاصر ہے۔ نہ ہم خدا کی ہستی کو عقلی وجوہ سے ثابت کر سکتے ہیں ، نہ عقلی دلائل سے اس کا انکار کر سکتے ہیں مگر اس کی ہستی کے متعلق یقین رکھنا ہماری دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے، اور یہی حال زندگی کے تمام اہم ترین مسائل کا ہے۔ قرآن شریف میں ایک آیت ہے کہ یسئلونک عن الروح کل الروح من امر ربی، یعنی لوگ تجھ سے روح کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، تو کہہ دے کہ روح میرے خدا کے حکم سے ہے اور فقط۔ رسولِ کریمؐ نے بھی ایسے ایسے دور از کار مسائل کے متعلق سوچتے رہنے سے منع کیا ہے۔ حقیقت میں کامیاب زندگی وہی ہے جس کی بُنیاد یقین اور ایمان پر ہو۔ جہادِ زندگانی میں مردوں کی شمشیریں یہی ہیں۔ صوفیا اکثر ’’عینِ حقیقت‘‘ کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ حقیقت وہی ہے جس پر ہمارا ایمان ہو۔ حوّا کے کسی فرزند نے آج تک حقیقت کو بے نقاب نہیں دیکھا:
کہ چوں بجلوہ در آئی حجاب من نظر است
	دنیا کا سب سے بڑا عارف خود کہہ گیا ہے کہ ’’ماعرفناک حق معرفتک‘‘ ہم نے تجھے ویسے نہیں پہچانا جیسے پہچاننا چاہیے تھا۔
	اقبال غلامی کا دشمن ہے،خواہ  وہ ذہنی غلامی ہو یا تمدنی غلامی یا سیاسی غلامی۔ اقبال لفظ ’’مسلم‘‘ کو ’’مردِ آزاد‘‘ کا ہم معنی سمجھتا ہے اور یہی اس لفظ کا صحیح مفہوم ہے۔ اسلام ہی دنیا کا ایک ایسا مذہب اور ایک ایسی تحریک ہے جس نے دنیا کو غلامی سے آزادکرایا ہے۔ اس نے بت پرستی کی مخالفت کی اور بنی نوعِ انسان کی نگاہ کو محسوسات کے محدود حلقے سے بلند کر دیا۔ اس نے قیصر و کسریٰ کے جور و استبداد کا خاتمہ کر کے انسان کی سیاسی غلامی کو مٹایا۔ زکوٰۃدینے کا سبق سکھا کر سرمایہ داری (جو استعمار اور جوع الارض کی ماں ہے)کا مقابلہ کیا۔ خدا کے سامنے سب کو ایک کر دیا۔ عورتوں کے حقوق (جن کی اسلام سے پہلے کوئی ہستی نہ تھی)مقرر کیے، حتیٰ کہ ان کو جائداد کی ملکیت کا حق بھی دے دیا۔ جو لوگ جسمانی طور  پر غلام تھے ان کے مالکوں کو ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کا حکم دیا اور اُن کو آزاد کرنے کی ترغیب دی۔ اسلام غلامی کاہر حیثیت سے دشمن ہے۔ مسلمان وہی ہے جس کا دل، دماغ، روح اور جسم آزاد ہو۔ایک خدا کی پرستش کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی ماسوا سے بے نیاز ہو جائے:
ہرکہ پیماں باہو الموجود بست
گردنش از بندِ ہر معبود رست 
(رموز بے خودی)
	اقبال یاس، حزن اور خوف کا دشمن ہے۔ یہ تینوں چیزیں آج کل ہوا اور پانی سے بھی زیادہ عام ہیں اور مشرق و مغرب کی تہذیب کا حصہ بن چکی ہیں۔ اگر آپ کسی مسلمان سے ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق گفتگوکریں اور پوچھیں کہ ’’کیا ان کی حالت کبھی بہتر ہو گی؟‘‘ تونوے فیصدی جواب نفی میں ملیں گے۔ اور یہ اس لیے نہیں کہ ان لوگوں نے حالات کا مطالعہ کیا ہے یا خدانخواستہ انھیں زندگی کا کچھ تجربہ ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ طبعاً مایوس واقع ہوئے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو چھوڑیے، اگر آپ آج دنیا کے کسی گوشے میں یہ سوال کریں کہ زندگی اچھی ہے یا موت’ تو عام رائے موت کے حق میں ہو گی۔یہی وجہ ہے کہ آج کل تمام دنیا میں خود کشی ایک عام چیز ہے۔ اقبال یاس کا دشمن ہے کیونکہ یاس زندگی کی مخالف ہے اور امید زندگی کا سہارا:  ع
چراغِ راہِ حیات است جلوہ امید
	یاس انسانی روح کا ایک مرض ہے۔ یہ مرض ہر ایک روح کو کبھی کبھی لا حق ہوا کرتا ہے، مگر وہ روحیں جو طبعاً تندرست ہوں ، اس کے اثر میں دیر تک نہیں رہتیں۔ اگر یہی سوال کہ زندگی بہترہے یا موت گوئٹے یا سعدی یا سولھویں صدی کے مشہور بت تراش بن ونوٹوسلینی سے کیا جاتا تو گوئٹے خاموش رہتا، شیخ سعدی کھلکھلاکر ہنس دیتے اور سلینی تو یقینا سوال کرنے والے کا کچومرنکال دیتا۔
	یاس کی طرح حزن اور خوف بھی افراد اور اقوام کے لیے بہت بڑی بیماریاں ہیں۔ یہ قوتِ عمل کو تباہ کرتی ہیں اور روح کو کمزور کر دیتی ہیں۔اقبال نے اِن میں سے ہر ایک کو اُم الخبائث کہا ہے اور ان کا علاج بھی بتایا ہے جو ان سب کا واحد علاج ہے  ــــــ توحید پر ایمان۔
	اقبال مادیت کا دشمن ہے۔ زندگی کی معلومات کو سطحی نظر سے دیکھنا، سائنس کے واقعات کے علاوہ اور سب حقائق کو نظرانداز کر دینا اور جسمانی آرام و آسائش پر قانع ہو جانا مادہ پرستی ہے۔ میں نے ایک دفعہ پوچھاکہ ابلیس کیا چیز ہے؟ تواقبال نے جواب دیا کہ ابلیس مادیت ہے اور انسان کے ساتھ اس کی ازلی جنگ ہے۔ مادیت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی روح کے اعلیٰ مقاصد کو نظرانداز کر دے اور انسانی روح یہ چاہتی ہے کہ مادیت کو تسخیر کر کے اس سے بلند ہو جائے۔ اقبال مادہ پرستی کا دشمن ہے اور اسی لیے تہذیبِ مغرب کا بھی، کیونکہ تہذیب مغرب محض مادہ  پرستی کا دوسرا نام ہے۔ اقبال نے مغرب میں جا کر اس تہذیب کا اپنی آنکھوں سے بغور معائنہ کیا اور اس خود غرضی،تنگ نظری سنگدلی اور لہو و لعب کو دیکھ کر، جو سرمایہ داری کے اصول اور اس تمدن کے بنیادی پتھر ہیں ، یہ رائے قائم کی ہے کہ:
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی 
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
	اقبال جرمنی کے مشہور محقق آسوالڈ سپنگلر کی طرح اس تہذیب کے خاتمے کا منتظر ہے۔ مگر دونوں کے نقطہ نظر میں فرق ہے۔ سپنگلر کا نظریہ ہے کہ ہر تہذیب اور تمدّن کی مثال ایک درخت کی سی ہے۔ جس طرح درخت کے لیے اُگنا، بڑھنا، پھولنا پھلنا اور آخر میں خشک ہو کر گر پڑنا لازم ہے، اسی طرح ہر ایک تہذیب اور تمدن کے لیے ابتدا، عروج، تنزل اور خاتمہ لابّدی ہے۔ سپنگلر کا خیال ہے کہ مغرب کی موجودہ تہذیب کے عروج کا زمانہ گزر چکا ہے اور اب اس کا دورِ تنزل اسے خاتمے کی طرف لیے جارہا ہے،اور یہ سب تقدیر کے اٹل اصولوں کے ماتحت ہو رہا ہے۔ برعکس اس کے اقبال کے کلام کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سپنگلر کے خیال سے متفق نہیں۔ اقبال کا اعتقاد ہے کہ ایسی تہذیب جس کی بنیاد اسلام کے اُصول ہوں ، کبھی فنا نہیں ہو سکتی۔ تہذیبِ مغرب کی بنیاد چونکہ صرف عقل اور عقل کی خام کاریوں پر ہے اور اس کی عظمت کی عمارت نوعِ انسان کے گوشت اور خون سے بنی ہوئی ہے، اس لیے اقبال کے نزدیک اسے بقا نہیں ہو سکتی اور وہ اُس کے خاتمے کا منتظر ہے۔
	ایک اور چیز جو دورِ حاضر سے مخصوص ہے، ملت سے فرد کی بے پروائی اور علیٰحدگی ہے۔ آج کل ہر انسان علیٰحدگی چاہتا ہے۔ عورتیں اپنی اقتصادی آزادی سے متاثر ہو کر اور روحانی آزادی کا نام لے کر سب پابندیاں توڑنا چاہتی ہیں۔ مرد بظاہر کشت و خون سے بیزار ہو کر اور ایک بین الاقوامی صلح کانام لے کر اور باطن میں جد و جہد اور سعیِ پیہم سے تھک کر سوسائٹی سے علیٰحدہ ہونا چاہتے ہیں مشرق میں تو صوفیوں ، درویشوں ، رشیوں اور مہاتماؤں کی مہربانی سے، جو فرداً فرداً اپنی روح کی خیر مناتے دنیا سے چلے گئے، سوسائٹی کا صحیح تخیل، جو اسلام نے پیش کیا تھا، قائم نہیں رہ سکا۔ مغرب میں بھی اب یہ وبا زندگی کی اندرونی گہرائیوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت تک حالات  اس وبا پر قابوپاتے رہے ہیں۔ جنگِ عظیم میں مختلف قوموں کو اپنااندرونی نظم ونسق مضبوط کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ جنگ کے بعد یہ نظم نسق بگڑگیا، مگرروس کے سیاسی اور تمدنی خطرے کی وجہ سے اب پھر سنبھل گیاہے۔ مگر مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ زمانہ موجودہ میں انسانی طبائع کا اصلی میلان علیٰحدگی کی طرف ہے۔اگر بولشوزم کے پروگرام پر ایک نظر ڈالی جائے تو ان کا بھی منتہاے نظرقریب قریب یہی نظر آئے گا۔ بولشویکوں کے اپنے قول کے مطابق ان کے مختارانِ مطلق، یعنی ڈکٹیٹروں کی حکومت صرف اس وقت تک ہے جب تک دنیا مجموعی حیثیت سے ان کے خیالات سے متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ہر قسم کی حکومت اور ہر قسم کے آئین کا دور ختم ہو جائے گا، اور امید کی جاتی ہے کہ انسان اپنی فطرت پر اور دوسرے انسانوں کی فطرت پر اعتماد کر لیا کرے گا۔ ایسا زمانہ آئے یا نہ آئے، کم از کم اقبال اس کے آنے کے خلاف ضرور ہے۔اس کے خیال کے مطابق فرد کا ملت سے وابستہ رہنا لازم ہے۔ اقبال کسی فرد من حیث الفرد کی روحانی یا سیاسی نجات کا قائل نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ رُسولِ عربیؐ  کو ہر زمانے کے اور ہر قسم کے پیغمبروں پر اسی لیے فضلیت ہے کہ اور سب قیامت کے دن ’’نفسی نفسی‘‘ کہیں گے مگر آپؐ کی زبان پر ’’امتّی امتّی‘‘ ہو گا۔
	اب میں اقبال کے پیغام کی طرف توجہ کرنا چاہتا ہوں ، مگر قبل اس کے کہ ’اسرارِ خودی‘اور ’رموزِ بے خودی‘ کے مضمون پر غور کیا جائے، بہتر ہو گا کہ دو تین باتوں کو اچھی طرح مدّنظر رکھ لیا جائے، کیونکہ ان کے بغیر اقبال کا سمجھنا نا ممکن ہے:
اول :اقبال کے لیے زندگی ایک اچھی چیز ہے۔
دوم : یہ دنیا اور اس کے رنج والم انسانی روح کی ترقی کے لیے بہت سودمند ہیں۔
سوم :زندگی عمل کا نام ہے۔
چہارم:زندگی کے لیے تین چیزیں لازم ہیں ؛ آرزو ، کوشش اور امید، اور تینوں کی تینوں نہایت ضروری ہیں۔
	اقبال کا پیغام، تما م و کمال،اسرارو رموز،میں محفوظ ہے۔ ان دونوں مثنویوں کی اشاعت کے بعد اقبال نے جو کچھ لکھا ہے، اسی پیغام کو دہرانے کے لیے لکھا ہے،اور اسے ہزاروں ہی طرح دہرایا ہے۔ اس پیغام کے دو حصے ہیں ؛ ایک تو اس سوال کا جواب ہے کہ فرد کوخود کیا ہونا چاہیے؟ اور دوسرا اس سوال کا جواب کہ فرد کی ملت کی طرف کیا ذمہ داریاں ہیں ؟
	اقبال فرد کے لیے استحکامِ خودی چاہتا ہے،یعنی یہ کہ انسان خود نگر،خودشناس اور خود گر ہو۔تمام کائنات اور کائنات کے تمام اجزا کا وجود خودی ہی کی وجہ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک چیز کو دوسری چیزسے تمیز کرلیتے ہیں۔ ایک درخت ہمیں ایک پتھر سے مختلف نظر آتا ہے، بلکہ ہم ایک پتّھر کوکِسی دوسرے پتھر سے بھی متمیز کر لیتے ہیں۔ یہ خودی کی ادنیٰ صورت ہے۔ جب خودی زندگی کے مختلف طبقوں سے گذر کر انسان کی صورت میں نمودار ہوتی ہے تواس کا وجود مکمل ہو جاتاہے۔ انسان میں پہنچ کر خودی سمندر کی لہروں سے زیادہ بے قرار اور آگ کے شعلوں سے زیادہ بے تاب ہو جاتی ہے:
خیزد، انگیزد،پرد، تابد، رمد
سوزد، افروزد، کشد، میرد، دمد
	خودی ہی کے دم سے زندگی اور زندگی کی قوتِ تسخیر ہے۔ خودی کے معنی ہیں اپنی فطرت پر برقراررہنا اور اپنی ہستی کو محکم کرنا۔جس کسی نے خودی کے اس سبق پر عمل کیا اس نے گویااپنے آپ میں تسخیر کی قوت پیدا کر لی۔ اقبال نے اس حقیقت کو چاند، زمین اور سورج کی مثال سے واضح کیا ہے۔ زمین کی ہستی چاند سے زیادہ محکم ہے، سو چاند زمین کے تابع ہے اور اس کے گرد گھومتا ہے۔ سورج کی ہستی زمین سے زیادہ محکم ہے، سو زمین اس کے تابع ہے اور اس کے گرد گھومتی ہے:
چوں زمیں برہستیِ خود محکم است 
ماہ پابندِ طوافِ پیہم است
ہستیِ مہر از زمیں محکم تر است
پس زمیں مسحورِ چشمِ خاور است
	خودی کے معنی سمجھنے کے بعد یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ ہم اس قیمتی چیز کو ضائع بھی کر سکتے  ہیں اور برقراربھی رکھ سکتے ہیں۔ اس کا برقرار رکھناحقیقی زندگی ہے اور اس کا ضائع کر دینا موت کے مترادف۔
	خودی کی برقراری کے لیے مقاصد کا ہونا ضروری ہے اور مقاصد پست نہیں ہونے چاہیں۔ اقبال نے ہر جگہ بلند نظری پر زوردیاہے۔ مثلاً ’طلوعِ اسلام‘ میں کہا ہے:
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کے گردِراہ ہوں وہ کارواں توہے
یا’زبورِ عجم‘  میں مقاصد کے لا انتہا ہونے کا پیغام دیا:
ز جوئے کہکشاں بگذر،زنیلِ آسماں بگذر
ز منزل دل بمیرد گرچہ باشد منزلِ ماھے
	خودی عشق و محبت سے مضبوط ہوتی ہے اور سوال یا دوسروں کی دست نگری سے ضعیف ہو جاتی ہے۔ عشق و محبت کسی ایسی ہستی کے ساتھ ہونا چاہیے جو دنیا بھر کے انسانوں سے پاک تر اور محبوب تر ہو۔ایسی ہستی رسول کریمؐکی ہستی ہے جو ہزاروں جہانوں کے لیے مایہ رحمت اور دوست و دشمن کے لیے مرجع وماویٰ ہے:
آنکہ بر اعدا درِ رحمت کشاد
مکہ را پیغامِ لا تثریب داد
طورموجے از غبار خانہ اش
کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش
روز محشر اعتبارِ ماست او
در جہاں ہم پردہ دارِ ماست او
	خودی جب عشق و محبت سے محکم ہو جائے تو دنیا کی ظاہری اور باطنی قوتیں اس کی تابع ہو جاتی ہیں۔ ایک فقیرِ بے مایہ کے سامنے بڑے بڑے دبدبے والے سلاطین کانپ جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی زندگی اس حقیقت کو بڑی اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ اگر ان کے زمانے میں فارس اور روم اور شام اور مصر تسخیر ہوئے تو اس کی وجہ کیا تھی؟ محض ان کا عشقِ نبیؐ:
ہر کہ عشقِ مصطفی سامانِ اوست
بحر وبر در گوشہ دامانِ اوست
	خودی کو اپنے استقرار واستحکام میں حیات ملی کے ساتھ وابستہ رہنے سے بہت مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ حیاتِ ملی کے قیام اور تسلسل کا بھی یہی ذریعہ ہے کہ ملت اپنی مخصوص روایات کو محفوظ رکھے۔ اقبال نے ان روایات کی حفاطت پر اتنا زوردیا ہے کہ ایک شیخ کی زبان سے ایک برہمن کو کہلوا دیا ہے کہ بتوں سے بیزار نہ ہو اور اپنے بڑوں کے طریقوں کو ہاتھ سے نہ دے:
من نگویم از بتاں بیزار شو 
کافری، شائستہ زنار شو
اے امانت دارِ تہذیبِ کہن
پشت پا بر مسلک آبا مزن
گرز جمیعت حیاتِ مِلّت است 
کفر ہم سرمایہ جمعیت است
	خودی جب مضبوط اور محکم ہو جائے تو اس کی تربیت ضروری ہے۔ اس کے تین درجے ہیں ؟ پہلا درجہ اطاعت ہے، یعنی آئینِ الٰہی کی پابندی۔ آئینِ الٰہی کا مطلب اسلام کے قوانین سے ہے اور یہ قوانین سخت نہیں ہیں۔ اقبال نے اس حالت کو اُونٹ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ اُونٹ ایک محنت شعار اور بوجھ اٹھانے والا جانور ہے۔ دوسرا درجہ ضبطِ نفس ہے، یعنی یہ کہ اسلامی قوانین کی پابندی کے ذریعے سے انسان اپنے آپ پر قابوپا لے اور ہر ایک قسم کے جسمانی اور روحانی مصائب کے امتحان میں پورا اترنے کے قابل ہو جائے۔ جب یہ ہو جائے تو اس سے آگے تربیتِ خودی کا تیسرا درجہ ہے، یعنی نیابتِ الٰہی۔ نیابت الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمین پر صحیح معنوں میں خداوند تعالیٰ کا نائب اور خلیفہ بن کر رہے، اس حالت میں انسان ’’انسان کامل‘‘ کی حد پر پہنچ جاتا ہے، یا نطشا کی زبان میں ’’مافوق الانسان‘‘بن جاتا ہے۔ مگر جیسا کہ میں آگے چل کر ظاہر کروں گا، اقبال کے ’’انسانِ کامل ‘‘اور نطشا کے ’’مافوق الانسان‘‘میں بہت فرق ہے۔ اقبال کا ’’انسانِ کامل‘‘ یا دوسرے الفاظ میں مردِ مسلم گویا بنی نوعِانسان کے وجود کی غرض وغایت ہے:
نوعِ انساں مزرع و تو حاصلی
کاروانِ زندگی را منزلی
	وقت ایک تلوار ہے اور یہ تلوار’’انسانِ کامل‘‘ یا مردِ مسلم کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔مسلم کا فرض ہے کہ وہ آئینِ الٰہی یعنی اسلام کی اشاعت کرے۔ اشاعت ہر ایک ممکن طریق سے ہونی چاہیے۔ جہاد بھی اشاعت کا ایک طریقہ ہے مگر جہاد کی تہہ میں ملک گیری کی ہوس ہوتووہ جہاد جہاد نہیں ہے، خود غرضی کی جنگ ہے اور یہ حرام ہے۔ اقبال نے اس خود غرضی کی جنگ کو، جو ماکیافیلی فلسفہ کے بنیادی اصولوں میں سے ہے، بہت برا کہا ہے اور ضمناًماکیافیلی کی بھی خبر لی ہے،کیونکہ آج کل دنیا میں جتنی مصیبتیں ہیں ، ان میں سے اسّی فیصدی کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار افراد یا غالب اقوام اِسی فلسفہ پر عامل ہیں۔
	ایک اور شخص جو اقبال کی ملامت کا نشانہ بنا ہے، افلاطون ہے، جس کے خواب اور فلسفے کی طرف میں اشارہ کر چکا ہوں۔ میرے نزدیک افلاطون دنیا کے بہت بڑے مجرموں میں سے ہے کیونکہ اس کی تعلیم کا لُبِ لباب نفیِ خودی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ خودی کی تباہی کا سبق اقوامِ غالب،اقوامِ مغلوب کو دیا کرتی ہیں ،جیسے مشنری لوگ، جو خود حکمران قوموں سے تعلق رکھتے ہیں ، ہندوستان یا اور غلام ملکوں میں جا کر عیسائیت کے تباہ کن اصولوں کی اشاعت کرتے ہیں اور اپنے ملکوں میں نہیں کرتے۔ مگر اقبال کو اس خیال سے اختلاف ہے۔ وہ نطشا کے اس خیال سے متفق ہے کہ نفیِ خودی کا سبق مغلوب قومیں غالب قوموں کو کمزور کرنے کے لیے دیا کرتی ہیں۔ چونکہ مردانہ اوصاف مثلاً جوش عمل، غیرت، حمیت، قربانی ان میں خود موجود نہیں ہوتے اس لیے وہ ان اوصاف کو دوسری قوموں کے ہاں بھی دیکھنا نہیں چاہتیں۔
	یہاں تک تو خودی کا سبق تھا، اب اقبال کے پیغام کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے؛ فرد کو لازم ہے کہ اپنی خودی کی تکمیل اور تربیت کرے لیکن فرد اگر خودی کی حدود کے اندر رہے تو اس کی زندگی کامیاب نہیں ہوتی۔ فرد کا رابطہ ملت کے ساتھ نہایت ضروری ہے۔ اس کا وقار، اس کی عظمت، اس کا احترام ملت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ملت کا تعلق فرد کو ہرقسم کی آلائشوں سے پاک رکھتا ہے، کیونکہ ملی روایات کا اثر بہت صحت بخش ہوتا ہے۔ چنانچہ رسولِ کریمؐ کا ارشاد ہے کہ شیطان جماعت سے دور رہتا ہے۔ یہاں ہم خودی کی منزل سے گزر کر بے خودی کی منزل میں آ پہنچتے ہیں :
درجماعت خود شکن گردد خودی 
تا ز گلبرگے چمن گردد خودی 
فرد می گیرد  زملت احترام
ملت از افراد می یابد نظام
فرد تا اندر جماعت گم شود 
قطرۂ وسعت طلب قلزم شود
	افراد کے ایک سلسلے میں منسلک ہو جانے کا نام ملت ہے۔انسان طعباً مدنی یا مجلسی واقع ہوا ہے مگر اس مجلسیت سے ملت پیدانہیں ہوتی۔ ملت کا پیدا ہونا کسی عظیم الشان شخصیت کے اثر کا نتیجہ ہوا کرتاہے، جو ذروں کو اٹھا کر آفتاب کر دے اور خاک کو اکسیر بنادے۔ یہ شخصیت نبیؐ کی شخصیت ہے۔ ایک صاحبِ دل چند لوگوں کو افراد سے قوم بنا دیتا ہے اور ان کی نظر کو ایک نصب العین پر قائم کر دیتا ہے تاکہ وہ آوارگی سے آزاد ہو کر اپنے مدعاے حقیقی کی طرف متوجہ ہو:
بند ھا از پاکشاید بندہ را
از خداوندانی رباید بندہ را 
گویدش تو بندۂ دیگر نہ ای 
زیں بتانِ بے زباں کمتر نہ ای
تا سوے یک مدعایش می کشد 
حلقہ آئین بہایش می کشد
	ہر ایک ملت کے لیے اساسی اصولوں کا ہونا ضروری ہے۔ملتِ اسلامیہ دو اصولوں پر قائم ہے۔ توحید اور رسالت۔ توحید انسان کو ماسوا سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ یاس، حزن اور خوف کا،جو سب روحانی امراض کی جڑہیں ، قلع و قمع کر دیتی ہے۔ اور رسالت کا مقصد انسان کو حریت، مساوات اور اخوت کے راستے پر چلانا ہے۔ جب رسول عربیؐ  کا ظہور ہواتودنیا بھر پر ذہنی، روحانی اور سیاسی غلامی چھائی ہوئی تھی۔ رسالت نے دنیاکو تو ہمات اور کفر و شرک سے آزاد کرایا، بندہ و آقا کا فرق مٹا دیا، انسان کو انسان کا بھائی بنادیا، بتوں کو توڑ ڈالا، گویا انسانی روح کو انسانی استبداد سے آزاد کراکے آئینِ الٰہیہ کا تابع بنا دیا۔ مساوات اسلامیہ کا یہ عالم تھا کہ جب حضرت عمرؓ اپنے زمانۂ خلافت میں شام کو تشریف لے گئے ہیں تو ان کے اُونٹ کی سواری میں دو اور آدمیوں کا بھی حصہ تھا جن میں سے ایک ان کا اپنا غلام تھا۔ باری باری سے ایک آدمی سوار ہوتا اور باقی دونوں پیادہ چلتے۔حریتِ اسلامیہ کی سب سے بڑی مثال حادثہ کربلا ہے۔ امام حسینؐ کی شہادت نے نہ صرف یہ واضح کیا کہ مسلمانوں کا خلیفہ مسلمانوں کا انتخاب کردہ ہونا چاہیے، اور نام و نسب کو اس انتخاب میں کچھ دخل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دنیاکو اچھی طرح جتا دیا کہ ایک مسلمان فسق و فجور اور استبدادکی حکومت کو برادشت نہیں کر سکتا، اور یہ عینِ اسلام ہے۔ خواجہ معین الدین اجمیری نے کہا ہے:
سر داد و نداد دست در دستِ یزید
حقا کہ بناے لا الہٰ است حسین
اقبال کہتا ہے:
رمزقرآں از حسین آموختیم
ز آتشِ او شعلہ ھا اندوختیم
شوکتِ شام وفرِ بغداد رفت
سطوتِ غرناطہ ہم از یادرفت
تارِما از زخمہ اش لرزاں ھنوز
تازہ از تکبیرِ او ایماں ھنوز
	حریت، اخوت، مساوات اور توحید انسان کو ماسوا سے بیگانہ اور بلند کر دیتی ہیں اور چونکہ توحید ورسالت کا مقصد بنی نوع انسان کو ایک برادری میں منسلک کر دینا ہے اس لیے ملتِ اسلامیہ کے لیے ’’وطنیت‘‘ کا ماکیافیلی تصور کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ملتِ اسلامیہ نہ وطن کی مکانی قید میں ہے، نہ عروج و زوال کی زمانی قید میں۔ حقیقت چونکہ ہمیشہ کے لیے حقیقت ہے اس لیے ملتِ اسلامیہ کو فنا نا ممکن ہے:
از اجل ایں قوم بے پرواستے
اُستوار ازنحن نزلناستے
ذکر قائم از قیامِ ذاکِر است
از دوامِ او دوامِ ذاکر است
	حیاتِ ملیہ کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد آئین پر ہو۔ ملتِ اسلامیہ کے نظام کے لیے قرآن شریف آئین کا سرچشمہ ہے۔ اس آئین پرمضبوطی سے قائم رہنے کے لے ہر ایک فرد کی سیرتِ ملی یا اس کا قوم سے رابطہ مضبوط ہوتا ہے اور اطوار وآدابِ محمدیہؐ  کی پیروی کرنے سے ملت کے افراد کے درمیان حسن سلوک بڑھتا ہے۔ فرد کوقوم سے رابط مضبوط رکھنا چاہیے خصوصاً جب قوم پر انحطاط کا دور ہو تو اپنی مخصوص روایات کی پوری حفاظت کرنی چاہیے۔ کیونکہ اگر کوئی قوم اپنے انحطاط کے زمانے میں اپنی جمعیت  قائم رکھ سکے تو اس کے دن بہت جلد پھرجاتے ہیں اور اگر اس کی جمعیت پریشان ہو جائے تو پھر قوم کا خدا حافظ۔ گویا اقبال نے مسلمانوں کو صاف طور پر یہ بتلا دیا ہے کہ آج کل جب تم پر تنزل کا زمانہ ہے اگر یہودیوں کی طرح اپنے آبا کی روایات کو برقراررکھوگے تو تمہاری ہستی برقرار رہے گی اور اگراپنی اپنی جگہ اجتہاد کی ٹھانو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔
	حیاتِ ملیہ کے لیے ایک مرکز محسوس ضروری ہے،اور ملتِاسلامیہ کے لیے یہ مرکز کعبہ ہے۔ کعبہ مسلمانوں کی پرستش کے لیے نہیں ہے بلکہ اس لیے ہے کہ سب کے سب اس کے ذریعے سے جمع ہو سکیں اور ان میں یگانگت پیداہو۔ اقبال نے کعبے کو جسمِ انسانی سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح جسمِ انسانی زندگی کا ایک مرکزِ محسوس ہے، اسی طرح کعبہ ملّت اسلامی کی زندگی کا ایک محسوس نشان ہے۔ کعبے کا تعلق ملت کی ظاہری جمعیت سے ہے۔حقیقی جمعیت اسی طرح حاصل ہوتی ہے کہ ملی نصب العین کو، جو رسالت کا پیش کردہ ہے، ملت کے پیش نظر رکھا جائے اور اس نصب العین کے لیے ملت کی تمام قوتیں وقف کر دی جائیں۔ ملت اسلامیہ کا نصب العین توحید کی اشاعت ہے۔ توحید کی اشاعت ہر مسلمان کا فرض ہے کیونکہ اس سے حیات ملی محکم ہوتی ہے اور ملت ماسوا سے جنگ کرنے کے قابل بنتی ہے۔مسلمان صرف  توحید کے سامنے جھکتا ہے۔ ماسوا اس کی تسخیر کے لیے ہیں۔مادے سے جنگ سب کچھ قربان کردے۔ ماسوا سے بے نیازہو جا اور ایک ان دیکھے خدا کے ساتھ اپنا رشتہ الفت جوڑ لے:
عاشقی؟ توحید را بر دل زدن
وانگہے خود را بہ ہر مشکل زدن
(زبورِ عجم)

ہمایوں ، اکتوبر۱۹۳۱ء بہ حوالہ :اقبال معاصرین کی نظر میں۔ 

مرتبہ: پروفیسر وقار عظیم،مجلس ترقی ادب ،لاہور،۱۹۷۳ء۔       
٭٭٭





توازن : اقبال کی شاعری کا ایک پہلو

پروفیسر محمد منور


	اس بات کو عموماً ایک امرِ مسلم کی طرح قبول کر لیا گیا ہے کہ فلاسفہ کا وہ اوّلین مکتب جس سے تعلق رکھنے والوں نے عالم کو کائنات Cosmos قرار دیا تھا۔ فیثاغورثی مکتب تھا۔ فیثاغورثیوں کے نزدیک اس کلمے سے ایک ایسا کل اور ایک ایسی وحدت مراد تھی، جس کے جملہ اجزا منظم و مرتب ہوں۔ فیثاغورثیوں کا عقیدہ تھا کہ ہر فرد، بشر اپنی جگہ ایک ننھی منّی سی منظم و مرتب کائنات ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ افرادِ آدم، عالمِ اکبر Macrocosm کے جملہ اساسی اصولوں کی بخوبی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی باعث ہے کہ وہ ہر انسانی وجود کو عالمِ اصغر Microcosm قرار دیتے تھے۔ چنانچہ وہ اس خیال کے بھی حامی تھے کہ کارخانۂ فطرت کے اساسی اصولوں کا مطالعہ کرنے اور اُنہیں سمجھ لینے سے آدمی اپنی زندگی کو باقاعدگی اور تنظیم کے زیور سے مزیّن کر سکتا ہے۔
	کائنات کے ایک منظم و مرتب وحدت ہونے کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد بڑا واضح اور صریح ہے۔ بہت سی آیات اس امر پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ذیل میں چند آیات کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے:
’’خدائے رحمن کی تخلیق (دُنیا) میں تم کو کہیں بھی رخنہ نظر نہ آئے گا۔ پھر سے نظر دوڑا لو، کیا کہیں کوئی کوتاہی دِکھائی دی؟‘‘(۴:۶۸)
’’بالتحقیق ہم نے ہر شے کو ایک قدر و معیار کے مطابق پیدا کیا ہے۔‘‘(۴۹:۵۴)
’’اس (خدا) نے آسمان کو اونچا اُٹھایا ہے اور میزان مقرر کر دی ہے تاکہ تم میزان کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ کرو۔‘‘
(۷:۵۵)
	مسطورۂ بالا آیات کے مطالعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خدا کی کائنات بے ربط اور بے جوڑ نہیں ہے۔ ہر شے آئینِ تناسب و توازن کی پابند ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم سوجھ بوجھ رکھنے والے ہر شخص کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ کائنات کے توازن و تناسب پر غور کرے تاکہ وہ خود اپنی زندگی کو بھی اس سانچے میں ڈھال سکے۔ توازن و تناسب فقط جسمانی ڈھانچے ہی کے لیے ضروری نہیں ، یہ تخیل و تفکر کے لیے بھی ضروری ہے اور افعال و اعمال کے لیے بھی۔
	لی مین برائی سن Lyman Bryson کا خیال یہ ہے کہ دینی جذبہ خواہ وہ کسی بھی روپ میں ہو اور خواہ وہ اپنے اظہار میں کتنا ہی مبتدیانہ ہو یا کتنا ہی پختہ و عمیق، ہمیشہ اس اعتقاد پر مبنی ہوتا ہے کہ فطرتِ کائنات اور انسان کے تصور انصاف، رحم اور راستبازی کے مابین ایک غایتی ہم آہنگی موجود ہے۔  (Patterns of Ethics in America Today, P.108)
	توازن ہی میں قوت کا راز پنہاں ہے۔ کائنات اس لیے باقی ہے کہ اس میں باقی رہنے کی قوت ہے اور وہ قوت توازن کا عطیہ ہے۔ جوں ہی توازن بگڑا، اثیرِ بسیط میں تیرنے والے جہان آپس میں ٹکڑا کر ختم ہو جائیں گے۔ یہی کیفیت اس عالمِ اصغر کی ہے جسے آدمی کہتے ہیں اور یہی تقدیر اس معاشرے کی ہے جسے آدمیوں کا مجموعہ استوار کرتا ہے۔ سپائی نوزا Spinoza کے بقول جسمانی بیماری کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے اعضائے ترکیبی کے توازن میں خلل واقع ہو گیا ہے۔ جب یہ عدم توازن ختم ہو جائے تو صحت لوٹ آتی ہے، عدم توازن بڑھتا چلا جائے تو جان پر بن جاتی ہے۔ اسی طرح جالینوس کا ایک قول منقول چلا آتا ہے کہ ’’شر‘‘ روحانی بیماری ہے۔ قرآن اہلِ شر کے بارے میں خواہ وہ کفر کے مرتکب ہوں خواہ شرک کے اور خواہ نفاق کے، یہ فیصلہ صادر کرتا ہے کہ ’’فیِ قُلُوبھُِِمْ مَّرَض‘‘ (ان کے دلوں میں بیماری جاگزین ہے۔)
	توازن کا احساس علامہ اقبال کے افکار و اشعار کا ایک اہم پہلو ہے۔ چنانچہ وہ ہر نظامِ فکر اور فلسفے کی اچھی چیزوں پر بھی نگاہ رکھتے تھے اور بری چیزوں پر بھی۔ مثلاً وہ جمہوریت کی اچھی باتوں کے قائل ہیں۔ مگر جب وہ استعماری روپ دھارتی ہے یا دو صد مغزِ خر کے شمار ہی کو معیارِ دانش قرار دے لیتی ہے تو وہ اسے معاف نہیں کرتے۔ وہ اشتراکیت کی اچھی باتوں کی تعریف کرتے ہیں مگر اس کی خدا نا شناسی اور احترامِ روحِ آدمیت سے نا آگاہی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہیں۔ مسولینی کی شخصیت سے بہت متاثر تھے، مگر جب اس نے حبشہ کو پامال کیا تو علامہ اقبال نے مسولینی پر بھی اور اس سارے تمدن پر بھی لعن طعن کی، جس نے یورپ کی استعماری اور فسطائی روح کو جنم دیا تھا--- ان کی ’’خودی‘‘ کو ’’بے خودی‘‘ کا سہارا میسر ہے۔ ان کا ’’شکوہ‘‘ بھی تنہا نہیں رہا، اسے بھی ’’جوابِ شکوہ‘‘ نے تقویت دے دی۔ اُن کے یہاں آزادیِ افکار کو تقلید اور تقلید کو آزادیِ افکار کی احتیاج ہے۔
	ان کے اکثر شعر پارے بالعموم خود اپنی ذات میں نظم و ترتیب اور تناسب و توازن کا خوبصورت نمونہ پیش کرتے ہیں۔ وہ جبلی شاعر تھے مگر وہ پیدائشی مفکر بھی تھے--- ’’جام و سندان باختن‘‘ ہر صاحبِ شوق کے بس کا روگ نہیں۔ علامہ اقبال کے یہاں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ان کا فلسفہ، شعر پر حاوی ہو جائے۔ شعر و فلسفہ کا وہ خوب صورت امتزاج ہوتا ہے کہ ’’ارتباط حرف و معنی اختلاطِ جان و تن‘‘ والی بات بن جاتی ہے۔ مثلاً ضربِ کلیم میں ’’عورت‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں :
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں !
یا مثلاً
از کلیمے سبق آموز کہ دانائے فرنگ
جگرِ بحر شگافید و بہ سینا نہ رسید
چوں سرمۂ رازی را از دیدہ فروشستم
تقدیرِ امم دیدم پنہاں بکتاب اندر
	یہ توازن ان کی اکثر نظموں کی ہیئت و ترکیب اور ان کے موضوعات کے مابین جلوہ گر نظر آتا ہے۔
	یہ فکری اور فنی توازن بے سبب نہ تھا۔ علامہ اقبال کا مطالعہ گوناگوں تھا اور وہ مطالعہ سطحی نہ تھا کہ دماغ کا سرمایہ تو بنا رہے، مگر دل و جان کی گہرائیوں تک نہ اُترے۔ حق تو یہ ہے کہ ان کے لیے ’’خبر‘‘ کا ’’اثر‘‘ جزوِ دل و جاں بن گیا تھا، اس لیے جو ان کی زبان سے نکلتا تھا، وہ گہرے احساس اور کامل اخلاص کا مظہر ہوتا تھا۔ وہ عربی، فارسی اور اُردو، انگریزی اور جرمن وغیرہ زبانوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ کسی حد تک سنسکرت بھی جانتے تھے۔ سنسکرت اُنہوں نے سوامی رام تیرتھ سے پڑھی تھی۔ فلسفے اور قانون کے عمر بھر طالب علم رہے۔ تاریخِ تمدن و سیاست سے بھی بھرپور دل چسپی تھی اور تاریخِ ادیان و مذاہب سے بھی۔ وہ تاریخ ادبِ مغرب سے بھی آشنا تھے اور تاریخِ ادبِ مشرق سے بھی، خواہ وہ ادب قدیم تھا یا جدید۔ یہی عالم معاشیات کا تھا۔ معاشیات کے موضوع پر اُنہوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی اور اس وقت جب ابھی اُن کا کوئی شعری مجموعہ منصہ شہود پر نہ آیا تھا۔ وہ سائنس کے طالب علم نہ تھے، لیکن اس کے با وصف قدیم و جدید سائنسی نظریات و اکتشافات پر نظر تھی۔ بالخصوص معاصر سائنسی نظریات سے آگاہی نے ان کو جدید مغربی تمدن اور پھر عالمِ انسانیت پر ثبت ہونے والے اس کے اثرات کو سمجھنے میں بیش بہا مدد بہم پہنچائی تھی--- اسی وسعتِ نظر کے باعث وہ ہر نظامِ فکر و عمل کے اچھے نکات کو منتخب کر لینے پر قادر تھے۔ خالی انتخاب سے بھی بات نہیں بنتی، علامہ اقبال اس منتخب مواد کو وہ حسنِ ترکیب عطا کرتے ہیں کہ ایک نئی چیز وجود میں آ جاتی ہے--- موسیقی سے لگاؤ تھا۔ کلاسیکل موسیقی کے خصوصاً رسیا تھے۔ اس ’’حسنِ سماعت‘‘نے ان کی شاعری کو خوش آہنگ بنانے میں بڑا حصہ لیا، چنانچہ کرخت آوازیں ، ثقالتیں ، تعقیدیں اور ناہمواریاں ان کے کلام میں کم ہیں۔ بقول ابو الاثر حفیظ جالندھری، اقبال پتھر کی بھاری چٹانیں اُٹھا لاتے ہیں ، مگر موتیوں کی طرح جڑ دیتے ہیں۔
	اُنہیں بخوبی علم تھا کہ ان کا دور عصرِ مادہ پرستی ہے۔ وہ اس سے بھی آگاہ تھے کہ عصر معاصر کے معاشی مسائل ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معاشروں کو کس انداز میں متاثر کر رہے ہیں اور اس سے روحِ انسانیت کس عذاب میں مبتلا ہو چکی ہے اور ہو رہی ہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ مذہبی اقدار متزلزل ہو رہی ہیں۔ علم مابعدالطبیعات سمٹ رہا ہے۔ ’’منطقی اثباتیت‘‘ پھیل رہی ہے۔ روح سکڑ رہی ہے اور بدن انگڑائی لے رہا ہے۔ اخلاقی اقدار کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں اور آدمی وحشت و حیوانیت کی جانب مراجعت کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔ (آج کے ہپّی حضرات و خواتین اسی مراجعت کا جلوہ ہیں )۔ چنانچہ اُنہوں نے ٹھیک کہا تھا:
عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں 
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل ؑ
	’’مثلِ خلیل ؑ‘‘ کی ترکیب تشبیہی ان کے احساس کی شدت کو بڑھا رہی ہے۔ گویا وہ محسوس کر رہے تھے کہ باطل کے مناظر بخوبی سمجھنے والے اور ان مناظر کے خلاف حق کی آواز بلند کرنے والے اپنے دور میں وہ واحد فرد ہیں ، باقی لوگ اگر از روئے باطن ان کی تائید کرتے بھی ہیں تو ان کا ظاہر ایک طرح سے تماشبین ہی کا سا ہے۔
	ان کے خیال میں دورِ معاصر کا یہ عذاب اور افراتفری، عدم تناسب و توازن کی پیداوار تھے۔ اس لیے کہ معاصر افکار اور معاصر نظام کسی نہ کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دے رہے تھے اور باقی پہلو دب رہے تھے، اور وہ حاوی عنصر مادہ پرستی تھا--- نیز یہ کہ زندگی کو ایک منظم و مرتب وحدت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا تھا۔ بہ الفاظِ دیگر حیات و کائنات اندھوں کا ہاتھی بن کر رہ گئی تھی۔ جو اندھا ہاتھی کی دُم پکڑے ہوئے تھا، وہ کہہ رہا تھا ’’ہاتھی رسی ہے‘‘ جو سونڈ پکڑے ہوئے تھا اس کا بیان تھا کہ ہاتھی سانپ ہے اور جو ٹانگ سے لپٹا ہوا تھا، اس کا اعلان تھا کہ ’’ہاتھی ستون ہے‘‘۔ وہ دم کو دم یا سونڈ کو سونڈ یا ٹانگ کو ٹانگ کہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ اس لیے کہ دم یا سونڈ یا ٹانگ تو کسی اعضائی وحدت کا حصہ ہے اور وہ وحدت پیشِ نظر نہ ہو تو یہ اسمی تعین کس طرح عمل میں آئے؟
	یہ مثال جو بچوں کے قاعدوں میں ایک ننھے سے سبق کی حیثیت رکھتی ہے، بڑوں سے بڑے داناؤں کے لیے چراغِ راہ ہے--- یہ سبق درس دیتا ہے کہ کائنات کا ہر ذرّہ ایک نظام ہے اور وہ کسی اور نظام سے مربوط ہے اور وہ کسی اور سے، اور اسی طرح تا  لا انتہا یہ سلسلہ چلا جاتا ہے:
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چیریں 
	اس شعر میں مضمون کے تفلسف نے بیان کی شعریت پر بار ڈالنے کے بجائے اُلٹا اسے نکھار دیا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بیان کی شعریت نے مضمون کے تفلسف کو سنوار دیا ہے۔ اسی طرح ایک فارسی قطعہ جو  ارمغانِ حجاز سے ماخوذ ہے، دیکھیے۔ یہ بھی فلسفیانہ مضمون اور شاعرانہ حسنِ بیان کے امتزاج کا دلنشین نمونہ ہے:
دو صد دانا دریں محفل سخن گفت
سخن نازک تر از برگِ سمن گفت
ولے بامن بگو آں دیدہ ور کیست
کہ خارے دید و احوالِ چمن گفت
	’’بڑے بڑے اہلِ نظر نے اس باغِ عالم میں گفتگو فرمائی۔ گفتگو جو برگِ سمن سے بھی نازک تھی۔ لیکن مجھے بتاؤ وہ دیدہ ور کون ہے، جس نے ایک کانٹے کو دیکھا اور سارے باغ کے احوال بیان کر دیئے۔‘‘
	ایسا خیال کہ ذرّے کا دل چیرنے سے خورشید کا لہو ٹپکے گا یا کانٹے کو دیکھ کر پورے باغ کے اسرار بیان کیے جا سکتے ہیں ، وہی شخص ظاہر کر سکتا ہے، جو پوری کائنات کو ایک مربوط وحدت جانتا ہے۔
	علامہ اقبال کا اصرار ہے کہ یہ ہمہ جہتی منظر اور یہ جہاں شناسی اُنہیں قرآن کی بدولت میسر آئی:
گوہرِ دریائے قرآں سُفتہ ام
شرحِ رمزِ صبغۃ اللہ گفتہ ام
	اسی طرح ایک موقع پر تلقین کرتے ہیں کہ اگر تم مسلمانوں کی سی نگاہ کے مالک ہو تو اپنے آپ کو اور قرآن کو سمجھو:
چوں مسلماناں اگر داری جگر
در ضمیرِ خویش و در قرآں نگر
	قرآن ہی سے رازِ خودی واضح ہو گا اور قرآن ہی سے سرِ خدائی عیاں ہو گا۔ اس کی روشنی میں بات ذرّے سے چل کر آفتاب تک اور بندے سے چل کر خدا تک پہنچے گی۔
	فلسفہ و فکر کے بہت سے طالب علم نقاد اس خیال کے حامی ہیں کہ اقبال نے افلاطون، ارسطو، نطشے اور برگساں وغیرہ سے بڑا اثر قبول کیا ہے، بالکل بجا ہے۔ اُنہوں نے سب کے افکار کا مطالعہ کیا تھا اور ان سب کی پسندیدہ باتوں کو، جو خود ان کے نظریات کی موید تھیں ، سراہا اور قبول بھی کیا۔ لیکن ہر اِک سے اتفاق کسی زاویے پہلو یا جزو کے ضمن میں آیا ہے۔ آیا کامل افلاطون یا کامل نطشے یا کامل برگساں سے اقبال کو کامل اتفاق ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ ازروئے منطق ان مختلف نظریات کے علمبردار حضرات میں سے بیک وقت ایک ہی کے ساتھ کاملاً متفق ہو سکتے تھے، ایک سے زیادہ کے ساتھ نہیں ، اور اگر ایک ہی سے یہ اتفاقِ کامل ممکن تھا تو پھر وہ کون ہے۔ کسی کا بھی نام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر وہ کسی پیشرو کے ساتھ کاملاً متفق ہوتے تو وہ زیادہ سے زیادہ افلاطونِ ثانی یا نطشۂ ثانی یا برگسانِ ثانی کہلاتے۔ اگر ایسا نہیں اور یہ بھی عیاں ہے کہ اقبال حسنِ انتخاب پر قادر تھے، تو ماننا پڑے گا کہ ان کا نظریہ اور مقصد دوسروں سے جدا تھا۔ وہ کن چیزوں کو کس مقصد کے لیے منتخب کر رہے تھے، اور پھر وہ منتخب اُمور و وسائل اور تصورات و خیالات محض بے جوڑ اشیا کی ڈھیری ہیں یا وہ علامہ اقبال کے مقصد کے سانچے میں ڈھل کر کوئی نئی دِل کش اور دِل کشا شے بن گئے ہیں ؟ علامہ اقبال کے بقول شہد کے ذرّے یہ نعرہ نہیں لگا سکتے کہ وہ نرگس ہیں یا گلاب--- وہ شہد ہیں اور اس کے عمومی ذائقے اور لذت کے حصہ دار:
ایں نمی گوید کہ من از عبہرم
آں نمی گوید من از نیلو فرم
	یہی عالم علامہ اقبال کے نظامِ فکر کا ہے۔ ان کا نظام اقبال کے سوا کسی دوسرے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا---
	اہلِ نظر بقدر شعور و ادراک کائنات کا مطالعہ کرتے چلے آئے ہیں ۔ جسے جس قدر بہتر نظر ملی، اس نے حقائق کو اسی قدر بہتر سمجھا۔ بعد میں آنے والے اہلِ نظر نے اپنے پیش روؤں کی تائید کر دی مگر تائید اور اندھی تقلید میں فرق ہے--- اقبال بھی موید تو ہیں مگر کوتاہ نظر مقلد نہیں۔ وسیع ارادت ہے تو مولانا رومؒ سے، اور وہ اس لیے کہ اُن کا سرچشمۂ ہدایت قرآن ہے۔ وہاں اتحاد و اتفاق کے لیے گنجائش بہت زیادہ تھی--- بہرحال، یورپ میں اقبال سے قبل اور معاصر دور میں ’’زریں اوسط‘‘ کا اصول ’’فوق البشر‘‘ ’’تخلیقی ارتقا‘‘ ’’آمریت، ’’اشتراکیت‘‘، ’’سرمایہ داری‘‘، ’’منطقی اثبات‘‘ اور ’’یہ وہ‘‘ کے ایسے نظریات موجود تھے، لیکن توازن و تناسب کا وہ قرآنی انداز جس کے اقبال علمبردار ہیں ، کہاں تھا اور کہاں ہے!
	علامہ اقبال ان شعراء میں سے نہ تھے کہ جو خیال بھی کسی کے بیان سے یا کسی منظر سے یا کسی قافیے کے باعث سوجھ گیا، اس سے جس طرح کا شعر یا قطعہ یا نظم اختراع کی جا سکی، کر دی، خواہ وہ ان کے نظامِ فکر یا ان کے عام نظریات سے کوئی مطابقت رکھے یا نہ رکھے۔ یہ روّیہ ان شعراء کا ہے جن پر قرآن نے یہ تنقید کی ہے کہ انھم فی کل وادیھیمون (وہ خیال کی ہر وادی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔)
	علامہ اقبال جو اثر قبول کرتے ہیں ، وہ ان کے وسیع نظامِ فکر و خیال سے متصادم نہیں ہوتا، اُلٹا اس کی تعمیر کا حسین جزو بن جاتا ہے۔ جہاں بظاہر تصادم کا منظر جلوہ گر ہے، وہاں درحقیقت تدریج ہے یا پس منظر کی وسعتوں میں کوئی شے کسی دوسری سے فاصلے پر ہونے کی بدولت مربوط نظر نہیں آتی۔ پس منظر کی کلیت ذہن نشین ہے تو نہ بے ربطی ہے نہ تصادم--- کائنات کے تصادمِ بے نہایت میں تلخی و شیرینی، بلندی و پستی، شیری و روباہی، نور و ظلمت تصادم کا نام نہیں ، وہ تو ایک سلسلے کے اجزاء ہیں جس سے خدا کی خلّاقی کے گوناگوں مظاہر وجود میں آتے ہیں :
سلسلۂ روز و شب تارِ حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
	ہر وادیِ خیال میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والے شعرا وہی ہو سکتے ہیں جن کے پیشِ نظر کوئی مقصد یا مقصود نہیں ہوتا۔ ورنہ تلاش کہیں تو کوئی مثبت رُخ اختیار کرتی، اور آوارگی ہی مایۂ حیات بن کر نہ رہ جاتی۔
	ظاہر ہے کہ جو شخص حیات و کائنات کی کلیت اور وحدت کا تصور رکھتا ہو، وہ زندگی کے معاملے میں بھی نظم و ضبط کو نظرانداز نہ کرے گا۔ جسم میں بھوک کے احساس ہی کی کیفیت کا مسئلہ لے لیجیے۔ جب بھوک مٹانے کے بجائے محض کھانا پینا ہی مقصود بن جائے اور ہوس کا رنگ اختیار کر لے تو گویا توازن چھن گیا۔ قرآن حکیم کا حکم ہے:
کلوا واشربوا ولاتسرفوا  (کھاؤ پیو، مگر زیادتی نہ کرو۔)
	زیادتی مراد ہے بھوک اور پیاس کا حد سے بڑھ جانا۔ امام غزالی کہتے ہیں :
’’ضرورت سے زیادہ کھانا پینا، ذہن کو کند اور حافظے کو کمزور کر دیتا ہے۔ خوابیدگی بڑھ جاتی ہے جو وقت کا ضیاع بھی ہے اور جس سے قلب کی قوت بھی گھٹ جاتی ہے، نورِ دانش دھندلا جاتا ہے اور آدمی نیکی اور بدی میں تمیز کرنے کی اہلیت سے محروم ہو جاتا ہے۔‘‘ (بحوالہ: A History of Muslim Philosophy، از: ایم۔ایم شریف)
	یہ توازن اور اعتدال کی نہایت معمولی سی مثال تھی مگر اس کے اثرات کی جولان گاہ بھی کتنی وسیع ہے۔ معنی یہ کہ ہر وہ چیز جو اپنی حدود کی پابند ہے، وہ متناسب ہے، متوازن ہے، حسین ہے اور خیر ہے۔ یہاں ابن مسکویہ کا قولِ ذیل بے محل نہ ہو گا:
’’ہر وہ شے جو عمل میں آنی چاہیے، اگر اس طرح عمل میں آئے جس طرح آنی چاہیے، اس حد تک جس حد تک چاہیے، وہاں جہاں چاہیے، اور اس وقت جس وقت چاہیے، خیر کہلاتی ہے، اور ہر وہ شخص جو سوچ سمجھ کر اپنے شوق و اختیار سے اس طریق پر گامزن ہوتا ہے، اسے مردِ دانا کہتے ہیں۔‘‘(A History of Muslim Philosophy, p.306)
	اور یہ تو عیاں ہے کہ مثال فقط عمل کے ذریعے پیش کی جا سکتی ہے، لہٰذا اچھا وہ ہے جس سے اچھائی سرزد ہو۔ وہ جس کے ہاتھوں بھلے کام عمل میں آئیں ، وہ بھلا اور جس سے برے کام عمل میں آئیں ، وہ برا--- جو کچھ نہ کرے وہ ناکارہ، ہیچ اور بعض کے نزدیک بدتر بلکہ خود علامہ اقبال کے نزدیک بھی--- چنانچہ وہ نظریات و تصورات جو عمل کی تائید و تصدیق سے محروم رہتے ہیں ، مثال اور نمونہ نہیں بن سکتے۔ ان کی حیثیت سرمایۂ دماغ اور موعود ذہنی سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔ یہی باعث ہے کہ علامہ اقبال ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو اپنے کردار کو اپنی گفتار کے مقابل نہیں تولتے اور میزان بحال نہیں رکھتے:
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار تو ثابت، وہ سیارا
	اس مقام پر پہنچ کر ہمیں متوازن کردار کے لیے علامہ اقبال کے ’’مردِ مومن‘‘ پر ایک نظر ڈالنی چاہیے، اقبال کا مردِ مومن ان کا نصب العینی انسان ہے۔ وہ کیسا ہونا چاہیے، جواب تو ایک ہی ہے کہ توازن و اعتدال کا نمونہ، اعمال و اقوال کا خوبصورت امتزاج؟ چنانچہ ضربِ کلیم کی ایک نظم کے چند اشعار درج کیے جاتے ہیں جو مردِ مومن کی توصیف میں ہیں :
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
فطرت کا سرودِ ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفتِ سورۂ رحمن!
	مسجدِ قرطبہ میں ’’مردانِ حق‘‘ کا جو نقشہ کھینچا ہے، وہ یوں ہے:
نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
	بانگِ درا میں کہا ہے:
گزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستان راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
	اسی طرح ضربِ کلیم میں آتا ہے:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
	گویا علامہ اقبال کا نصب العینی انسان ’’احسن تقویم‘‘ کی صحیح مثال ہے۔ سختی کی جگہ سختی، نرمی کے موقع پر نرمی، جگرِ لالہ کے لیے ٹھنڈک، دریاؤں کے لیے طوفان، کوہ و بیابان کے لیے سیلِ تُند رَو اور گلستان کے لیے جوئے نغمہ خواں ، بزمِ اُنس میں ابریشم، رزمِ حق و باطل میں فولاد--- یہی اسلام کی اصل روح ہے، اسی کا نام صراطِ مستقیم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
	لاتکن راطباً فتعسر ولا یابساً فتکسر۔ (نہ اتنے تر بنو کہ نچوڑ لیے جاؤ اور نہ اتنے خشک بنو کہ توڑ دیے جاؤ۔)
	قرآن حکیم میں آتا ہے:
’’نہ تو اپنے بازو کو اپنے گلے کا ہار بنا لو اور نہ بے تحاشا پھیلاتے چلے جاؤ۔ (دونوں صورتیں غیر معتدل ہیں )۔ لہٰذا خطرہ ہے کہ پھٹکار اور دھتکار پا کر بیٹھ رہو گے۔‘‘ (۱۷:۲۹)
	توازن کا درس دینے والی اور بھی بہت سی آیات ہیں۔ مگر مزید مثالوں سے دانستہ گریز کیا جا رہا ہے۔ علامہ اقبال قرآن کی اسی توازن آموزی کے پیشِ نظر لکھتے ہیں :
زقرآں پیش خود آئینہ آویز
دگرگوں گشتۂ از خویش بگریز
ترازوئے بنہ کردارِ خود را
قیامت ہائے پیشیں رابر انگیز
	’’قرآن کو آئینے کی طرح پیشِ نظر رکھ۔ اس آئینے میں دیکھے گا، تو پتہ چلے گا کہ تو بالکل بدل کر رہ گیا ہے، لہٰذا اپنے اس مسخ شدہ وجود سے گریز اختیار کر لے، اپنے کردار کے لیے ترازو مقرر کر لے یعنی کردار کو اعتدال کا نمونہ بنا لے۔ جب تو ایسا کرے گا تو تجھ میں وہی قوت آ جائے گی، جو تیرے آباؤ اجداد کو میسر تھی۔ لہٰذا تو بھی وہی قیامت دُنیا میں بپا کر دے گا، جو عہدِ ماضی میں تیرے آباؤ اجداد بپا کرتے تھے۔‘‘--- گویا علامہ اقبال کے یہاں طاقت اور قوت کا راز تناسب اور توافق میں پنہاں ہے--- مگر یہ نظریۂ قوت ذرا آگے چل کر زیرِ بحث آئے گا۔
	مشرق و مغرب کی آویزش کے معاملے میں علامہ اقبال کا میلان مشرق کی طرف اس لیے ہے کہ مشرق کے فکری نظام میں عموماً روح کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ اور مغرب میں عموماً مادہ کو۔ لیکن یہ محض ترجیحی درجہ بندی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ روح کافی ہے اور مادہ بے ضرورت شے ہے۔ وہ رہبانیت کے شدید مخالف تھے، اس لیے کہ لارھبانیۃ فی الاسلام--- رہبانیت خلافِ اعتدال ہے، لہٰذا اسلام میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں لیکن مغرب کی بے روح مادہ پرستی بھی ناگوار شے ہے۔ اس لیے کہ بے روح معاشرہ احترامِ انسانیت کے تصور ہی سے محروم رہ جاتا ہے اور نتیجتاً اخلاق کی ناقہ بے زمام ہو جاتی ہے۔ رحم اور ہمدردی کا جذبہ ناپید ہو جاتا ہے۔ ہوس سود کی کوئی حد نہیں رہتی۔ آدمی طبقات کی نذر ہو جاتا ہے۔ گویا عالمِ انسانیت وحشت کدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ علامہ اقبال کو نہ رہبانیت پسند ہے اور نہ مادہ پرستی، چنانچہ وہ اپنے دَور کے مشرق و مغرب، دونوں سے خوش نہ تھے:
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا، وہاں بے ذوق ہے صہبا
	اسی طرح جاوید نامہ میں رقمطراز ہیں :
غریباں را زیر کی سازِ حیات
شرقیاں را عشق رازِ کائنات
زیرکی از عشق گرد و حق شناس
کارِ عشق از زیرکی محکم اساس
خیز و نقشِ عالمِ دیگر نبہ
عشق را بازیر کی آمیزدہ
	علامہ کہتے ہیں کہ اہلِ مغرب کے لیے عقل سب کچھ ہے اور اہلِ مشرق کے لیے عشق۔ حالانکہ عقل کو عشق کی مدد درکار ہے تاکہ وہ حق شناس ہو جائے اور عشق کو عقل کی ضرورت ہے تاکہ اس کا معاملہ پختہ بنیاد ہو جائے۔ لہٰذا اے مردِ مسلمان اُٹھ اور ایک نئی دُنیا کی طرح ڈال دے۔ وہ دُنیا ایسی ہو جس میں عشق اور عقل ایک دوسرے کے دمساز و قرین ہوں  
	بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ شعر ذیل میں علامہ اقبال نے دل کو عقل کی قید سے رہا کر دینے کی تلقین کی ہے، وہ شعر ہے:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
	مگر اس شعر کی رو سے کوئی تضاد یا تصادم ثابت نہیں ہوتا۔ ترجیح اسی امر کو ہے کہ دل کو عقل کی رفاقت میسر رہے۔ ہاں کبھی کبھی اسے من مانی بھی کر لینے دی جائے جس کا مطلب ہے کہ آدمی کو گاہے گاہے کوئی ’’بے عقلی‘‘ بھی کر لینی چاہیے۔ اس سے زندگی کی لذت میں اضافہ ہو جائے گا۔ ’’کاش کر دے و گزاشتے‘‘ کا مفہوم تقریباً یہی ہے۔ ویسے علامہ اقبال کا نظریہ یہ ہے کہ مردِ مومن جس کا کردار ترازو رہا ہو، عالمِ سکروا استغراق میں بھی اعتدال و احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس کا جنوں بھی سمیع و بصیر ہوتا ہے   اگرچہ اس امر کا اس بحث سے براہِ راست تعلق نہیں تاہم علامہ کا شعر ذیل ان کے جنونِ متوازن پر روشنی ڈال رہا ہے:
باچنیں زورِ جنوں پاسِ گریباں داشتم
درجنوں از خود نرفتن کارِ ہر دیوانہ نیست
	علامہ اقبال اس معاملے میں اتنے محتاط ہیں کہ انبیا علیہم السلام کی وحی کو چھوڑ کر باقی ہر الہام، کشف، وجدان وغیرہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مثلاً ان کا شعر:
صاحبِ ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش
	ہو سکتا ہے کہ وہ فرشتہ جو نغمے الہام کر رہا ہے، خود بے سُرا ہو رہا ہو۔ لہٰذا صاحبِ ساز کو ہر دم چوکنا رہنا چاہیے۔ مطلب یہ کہ اگر وجدان کو اکیلے چھوڑ دیا جائے تو کبھی کبھی غلطی کا اندیشہ ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہ الہام صوفیا اور اولیا یا مجذوب حضرات کا الہام، وجدان اور کشف ہے، اور یہ انبیاء علیہم السلام کی وحی سے بالکل جدا ہے۔ انبیاء کی وحی کو غیر انبیاء کے الہامات کی صحت و عدم صحت کے لیے کسوٹی کی حیثیت حاصل ہے    لہٰذا عقل کی شدید ضرورت ہے تاکہ وہ وحی پر استوار ہونے والی شرع کی میزان پر ان معاملات کشف وجدان کو تول سکے   جو کچھ مخالف شریعت ہے، وہ غلط ہے۔ اتنی عقل ہر دم ایک رفیقِ بیدار کی طرح دِل کے ہم راہ رہنی چاہیے۔ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والا الہام و وجدان خطائے آہنگ کا نتیجہ ہے۔ اس خطا کے امکان پر حضرت مجدد الف ثانی ؒ بالفاظِ ذیل روشنی ڈالتے ہیں :
’’در وحی قطع است و در الہام ظن۔ زیرا کہ وحی بتوسطِ ملک است و ملائکہ معصوم اند۔ احتمالِ خطا درایشاں نیست۔ والہام اگرچہ محلِ عالی داردو آں قلب است و قلب از عالم امراست، امّا قلب را با عقل و نفس نحوی از تعلق متحقق است و نفس ہر چند کہ تزکیہ مطمئنہ گشتہ است امّا:
ھر چند کہ مطمئنہ گردد
ہرگز زصفات خود نگردد
پس خطارا درایں موطن، مجال پیدا شد۔‘‘ 
(مکتوباتِ امام ربانی، مطبع مجددی، امرتسر، دفتر اوّل، حصہ دوم، صفحہ نمبر ۴)
	ترجمہ اس عبارت کا یہ ہے:
’’وحی حتمی اور یقینی ہے، اور الہام گمان و احتمال۔ اس لیے کہ وحی فرشتے کے توسط سے آتی ہے اور فرشتے معصوم ہیں ، ان سے غلطی اور خطا کا اندیشہ نہیں۔ رہا الہام تو اگرچہ وہ بھی محلِ عالی کا مالک ہے اور وہ محلِ قلب ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قلب کا تعلق عالمِ امر سے ہے۔ (عالمِ خلق سے نہیں ، قلب خاکی نہیں قلب افلاکی ہے)۔ تاہم قلب کو عقل اور نفس سے ایک طرح کا تعلق تو بالتحقیق ہو جاتا ہے اور نفس خواہ تزکیہ پا کر کتنا ہی مطمئن ہو جائے، پھر بھی وہ اپنی صفات سے کاملاً عاری نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا وہاں خطا کے لیے جولانی کی گنجائش موجود ہے۔‘‘
	گویا علامہ اقبال الہام و وجدان کے ہر مدعی کو باخبر کر دینا چاہتے ہیں کہ اسے ہوشیار رہنا چاہیے۔ جس آواز کو وہ فرشتے کی آواز جان رہا ہے، ممکن ہے وہ اس کے نفس کی آواز ہو   نفس کسی نخوت کا صیدِ زبوں ہو اور وہ نخوت نفس کی آواز بن کر الٹے سیدھے دعاوی کرا رہی ہو، کبھی غوث ہونے کا دعویٰ کبھی مہدی و قطب ہونے کا دعویٰ، کبھی پیغمبر ہونے کا دعویٰ، کبھی ذات منزّہ سے ہمکنار ہونے کا دعویٰ و علی ہذا القیاس   ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے اس عقل بیدار کی ضرورت ہے جو شریعت کے نور سے مستنیر ہو۔
	اس بحث کے پیشِ نظر یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ان بزرگوں کی تعریض بے محل ہے جو کہتے ہیں کہ اقبال ’’لٹھ لے کر‘‘ عقل کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ایسی آرا غیر معتدل ہیں اور اقبال کی تعلیمات و تصریحات کو تماماً پیشِ نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہیں۔ اقبال دل کو یا عشق کو عقل پر ترجیح ضرور دیتے ہیں ، مگر یہ ترجیح کی بات ہے۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے نظامِ فکر میں عقل کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ بے نسبتِ عقل کوئی بھی نظام، نظام کیسے بن سکتا ہے۔
	قرآن ان لوگوں کو ’’ظالم‘‘ اور ’’معتد‘‘ قرار دیتا ہے جو حدود کا احترام نہیں کرتے۔ حدود شکنی کا عمل وہیں ظہور میں آتا ہے، جہاں جبلتیں سرکش ہو جاتی ہیں۔ ہر جبلت انسان کے لیے جوہری قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی جبلت کسی دوسری جبلت یا دوسری جبلتوں پر مسلط نہ ہو جائے۔ یہ ایک جبلت کا کسی دوسری ایک یا ایک سے زیادہ جبلتوں پر تسلط ’’حد شکنی‘‘ کا موجب بن جاتا ہے۔ ’’احترامِ حدود‘‘ کا دوسرا نام انصاف ہے۔ یہی شریعت ہے۔ یہی آئینِ دین ہے۔ اور پھر وہی بات کہ خودی مسولینی کی ہو یا ہٹلر کی، پابند شرع ہو جائے تو مسلمانی ہو جاتی ہے۔‘‘--- یہی باعث ہے کہ فقہِ اسلامی میں شریعت کی خلاف ورزی پر عمل میں آنے والی سزا کا نام ’’حد‘‘ ہے۔
	علامہ اقبال کے فکر کا لب لباب خودی ہے--- بعض سہولت پسند نقاد خودی کا سلیس ترجمہ ’’قوت‘‘ کر لیتے ہیں۔ پھر اس ترجمہ کا مزید سلیس ترجمہ فاشیت قرار دے لیا جاتا ہے، اور چونکہ علامہ اقبال کی علامات میں شاہین، شیر، تیغ، جہاد، سنجر، تیمور، ابدالی، نادر اور مسولینی وغیرہ کلمات و اسما موجود ہیں ، اس لیے ’’فاشیت‘‘ کے دعوے کو دلیل مل جاتی ہے   مگر ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ علامہ اقبال جس قوت کے قائل ہیں ، وہ اندھی اور بے مقصود نہیں۔ قوت برائے قوت ایک مہمل جوہر ہے۔
	قوت ’’خیر‘‘ بھی ہے اور ’’شر‘‘ بھی۔ فیصلہ مقصود کے ہاتھ میں ہے۔ الاعمال بالنیات۔ قوت کا غلط استعمال شر ہے، قوت کا بجا استعمال خیر ہے۔ ایک قوت وہ ہے جو معاشرے کا تحفظ کرتی ہے، ظلم و جور کا قلع قمع کرتی ہے۔ اس کے برعکس ایک قوت وہ ہے جس کے مزاج میں ذوقِ تخریب و غارت ودیعت کیا گیا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ علامہ اقبال جس قوت کے حامی ہیں ، وہ ’’پابندِ حدود‘‘ ہے۔ وہ شرح کے تابع ہے۔ اس کی روح اعتدال ہے۔ یہی باعث کہ ان کے نزدیک ’’اختیار‘‘ جبر پر استوار ہے اور وہ اختیار جو ’’غیر مجبور‘‘ ہے۔ وہ چنگیزی کے سوا کچھ نہیں ، یہاں جبر سے مراد پابندیٔ آئین و شرع ہے   علامہ اقبال ’’می شود از جبر پیدا اختیار‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے، اسرارِ خودی میں لکھتے ہیں :
ہستیِ مسلم ز آئین است و بس
باطنِ دینِ نبیؐ این است و بس
برگِ گل شد چوں ز آئیں بستہ شد
گل ز آئیں بستہ شد گلدستہ شد
نغمہ از ضبطِ صدا پیداستے
ضبط چوں رفت از صدا غوغاستے
دَر گلوئے ما نفس موجِ ہواست
چوں ہوا پابندِ نے گردد نواست
	مسلمان کی ہستی آئین کی پابندی کے باعث ہے۔ دینِ رسولؐ کی روح یہی امر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پھول کی پتی پابندیٔ آئین کے باعث گل ہے اور گل پابندی کے باعث گلدستے کا روپ دھار لیتا ہے۔ آواز پابند ہوتی ہے تو نغمہ بن جاتی ہے اور پابندی ختم ہو جائے تو نغمہ رخصت ہو جاتا ہے اور شور و غل باقی رہ جاتا ہے۔ ہماری سانس محض موجِ ہوا ہے، جب وابستۂ نے ہو جائے تو نَوا بن جاتی ہے۔ گویا تناسب کا نام حسن ہے اور تناسب ہی میں قوت کا راز پنہاں ہے۔
	امام غزالی کہتے ہیں :
’’جمال خود اپنی ذات میں وہ جوہر ہے جو ہر کسی کو مرغوب ہے۔ جمال سے مفہوم ہے کسی کل کے اجزا کا باہمی حسنِ تناسب اور یہ چیز فقط مادی اشیا ہی میں جلوہ گر نہیں ہوتی۔ یہ آدمی کی حرکات و سکنات، طرزِ عمل رویے اور تصورات و نظریات میں بھی پائی جاتی ہے--- غرضیکہ وہ شے جو جمیل ہے، ہمارے لیے خود اپنی ذات میں مرغوب ہے۔‘‘ (A History of Muslim Philosophy, p. 636) 
	بے نظم مسالا، اینٹ، پتھر، چونا، گچ، رنگ وغیرہ ڈھیر اور انبار کہلاتا ہے، وہی سب کچھ پابند تناسب ہو جائے تو تاج محل اور موتی مسجد وجود میں آ جاتی ہے۔ آدمیوں کی بے نظم جمعیت بھیڑ بھاڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ بھیڑ بھاڑ جب پابندِ نظم ہو جائے تو فوج کہلاتی ہے، جس کی حرکات میں آہنگ پایا جاتا ہے، اور وہی آہنگ اس کی قوت کا راز ہے۔ جب تک یہ آہنگ باقی ہے، فوج فوج ہے۔ وہ مدافعت بھی کرتی ہے، وہ شر کے خلاف جہاد بھی کرتی ہے اور جب بے نظم ہو جائے تو پھر ایک ہجوم میں تبدیل ہو کر اپنی قوت کھو بیٹھتی ہے۔ بات وہی کہ
ع	  می شود از جبر پیدا اختیار
	اگر سطورِ بالا میں بیان کردہ اصول کی روشنی میں کائنات کے وسیع نظام کے اندر مختلف معاشروں اور معاشرتوں کا نظارہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ علامہ اقبال کے اسماء جو قوت پر دلالت کرتے ہیں ، وہ محض علامات ہیں ، ورنہ قوت کا اصل سرچشمہ ’’پابندی‘‘ خود اپنی ذات میں ایک قوت ہے اور روحاً اور معناً چنگیزیت اور فاشیت اور فسطائیت سے بالکل مختلف ہے۔
	مزید برآں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ علامہ اقبال نے تربیتِ خودی کے لیے تین مراحل بتائے ہیں۔ پہلا اطاعت، دوسرا ضبطِ نفس اور تیسرا نیابت الٰہی۔ نیابتِ الٰہی ایک طرح سے پہلے دونوں مرحلوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ جو فرد اطاعت و ضبطِ نفس کے عمل میں کامل نہیں ، وہ عناصر کائنات کا مسخر نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ اس میں روحِ اعتدال پیدا نہ ہو گی جو قوت کا سرچشمہ ہے--- نائب الٰہی وہی ہو گا جو احکامِ خداوندی کا سب سے زیادہ پابند ہو گا اور جسے احکامِ الٰہی کی پابندی:  تخلقوا باخلاق اﷲ (اللہ کے اخلاق و اوصاف اپنا لو) کا نمونہ بنا دے گی۔ وہ اللہ جو خلاق ہے، رزّاق ہے، رحمن ہے، غفار ہے، ستار ہے، اور ساتھ ہی جبار ہے، قہار ہے، ذوالقّوت، ذوانتقام ہے۔ ہر صنعت اپنی جگہ جلوہ گر، گوناگوں جوہر کا توازن اور اسی توازن کا مالک ہے۔ علامہ اقبال کا نصب العینی انسان، ان کا مردِ مومن جو:۔  ع
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
کی ترکیبِ حسین کا مظہر ہونے کے باعث   
آہنگ میں یکتا صفتِ سورۂ رحمن
بن جاتا ہے:
میزانِ اقبال، اقبال اکادمی، لاہور، ۱۹۸۲ء
٭٭٭

ستیِٔ                                                                                                                          


اقبال کا نظریۂ شعر
(بانگ دراکی چند نظموں کی روشنی میں )

احمد ندیم قاسمی


	شاعر کے جملہ نظریاتِ حیات اور نظریۂ فن کا مستند ترین ماخذ اس کا کلام ہوتا ہے۔ بعض محققین نے تو شعرا کے کلام میں سے ان کے حالات زندگی بھی مرتب کر لیے ہیں اور بعد کی تحقیق شاہد ہے کہ یہ حالات بیشتر درست ثابت ہوئے۔ شاعر اپنے آپ سے جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔ جب وہ شعر کہتا ہے تو ایک ایسے عالم میں پہنچ جاتا ہے جہاں آفتاب حقیقت و صداقت کی شعاعیں کسی دور دراز کے کونے کھدرے کو بھی منور کیے بغیر نہیں رہتیں۔ یوں شاعر اپنے شعر میں ہمیشہ سچ بولتا ہے۔
	علامہ اقبال کے نظریۂ فن کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، مگر کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ سب سے پہلے ہم انہی کے کلام سے رجوع کریں اور ان کے اشعار ہی سے ان کے نظریۂ فن کا کھوج لگائیں۔ آج میں صرف  بانگ درا کو پیش نظر رکھوں گا۔ علامہ کے اس اولین مجموعۂ کلام میں اردو، فارسی اور انگریزی کے چھ شعرا پر پانچ نظمیں شامل ہیں۔ ایک نظم ’شبلی و حالی‘ میں دونوں پر بیک وقت اظہار خیال کیا گیا ہے۔ ان نظموں کی مدد سے اقبال کا نظریۂ شعر بڑی آسانی سے مرتب ہو سکتا ہے۔ یہ سب ان کے ابتدائی دورِ شاعری کی تخلیقات ہیں ، مگر جس نظریے کا خاکہ ان سے مرتب ہوتا ہے، اس کا اطلاق، بعض معمولی تبدیلیوں کے ساتھ، ان کے آخری دورِ شاعری پر بھی ہو سکتا ہے۔ بانگ درا میں دو نظمیں ایسی بھی شامل ہیں جن میں شاعر کے منصب کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان دونوں کا عنوان ’شاعر‘ ہے۔ پھر ’سید کی لوحِ تربت‘ اور ’عبدالقادر کے نام‘ میں بھی ان کے نظریۂ شعر کی چند جھلکیاں موجود ہیں۔ اس نظم میں ، جس کا عنوان ’عبدالقادر کے نام‘ ہے، علامہ اقبال نے جیسے اپنی شاعری کا منشور مرتب کر دیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے  بال جبریل،  ضرب کلیم، ارمغان حجاز اور اپنے فارسی کلام میں اسی منشور کے مطابق شاعری کی ہے۔ جو حضرات شاعر کے حوالے سے ’منشور‘ کے لفظ سے بِدکتے ہیں انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص کا اپنا ایک منشور ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ منفی منشور کے حامل حضرات منشور کے وجود ہی سے انکار کرنے میں عافیت دیکھتے ہیں۔ اقبال کا منشور زندگی کے اثبات کا منشور ہے۔
	جس طرح مرزا غالب نے کہا تھا کہ:
بیا کہ قاعدۂ آسماں بگردانیم
اسی طرح اقبال نے شیخ عبدالقادر سے مخاطب ہو کر کہا تھا:
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں 
اور:
شمع کی طرح جئیں بزم گہِ عالم میں 
خود جلیں ، دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں 
اقبال اس نظم میں کہتے ہیں کہ اپنی بساط فریاد ہی تو ہے، مگر یہ ایسی فریاد ہے جو محفل کو تہ و بالا کر سکتی ہے۔ آؤ کہ ہم عشق کی قوت…لگن کی قوت…مقصد کی قوت سے سنگ امروز کو اتنا صیقل کریں کہ وہ فردا کا آئینہ بن جائے، قوم کو اس کی کھوئی اور لٹی ہوئی قوت و حشمت کا احساس دلائیں ، چمن کو آئین نمو سکھائیں تا کہ شبنم کا ایک ایک قطرہ، ایک ایک دریا کی روانی اور بیکرانی اختیار کر لے۔ اقدار بدل رہی ہیں 
(ع قیس کو آرزوئے نو سے شناسا کر دیں ) ہم نے یورپ کے یخ ماحول میں بیٹھ کر جو کچھ سوچا تھا، اور اپنے ذہنوں کو ان سوچوں سے گرمایا تھا، انھیں یہاں مشرق میں عام کریں اور اس اعتماد کے ساتھ اپنی ان سوچوں کی آگ میں جلیں کہ ہمارے جلنے سے روشنی پھیلے گی اور لوگوں کی آنکھوں میں ، جنھیں اندھیرے نے بظاہر اندھا کر دیا ہے، بینائی لوٹ آئے گی۔
	اقبال کا کلام گواہ ہے کہ انھوں نے جو کچھ اپنے انتقال سے تیس بتیس برس پہلے کہا تھا، وہ محض جوانی کے جوش یا جذباتیت کی زد میں آ کر نہیں کہا تھا بلکہ پورے غور و فکر کے بعد انھوں نے شاعر کا منصب معین کیا تھا۔ پھر انھوں نے اس منصب کو اپنے دور کے سیاسی حالات اور تاریخ کے حوالے سے پرکھا تھا، اور محض اندھیرے میں تیر نہیں چلایا تھا بلکہ انھیں اپنے ہدف کا شعور کامل حاصل تھا، اور وہ بڑی خود اعتمادی کے ساتھ ایک ایسی راہ پر گامزن ہوئے تھے جس پر بعد میں پوری قوم نے چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنی پہلی منزل پا لی۔
	’عبدالقادر کے نام‘ میں تو علامہ اقبال نے بہت کھل کر اپنے فنی عزائم کا اظہار کیا ہے مگر دیگر (متذکرہ صدر) نظموں میں بھی (بالواسطہ طور پر ہی سہی) وہ اپنے نظریۂ شعر کو غیر مبہم انداز میں بیان کرتے چلے گئے ہیں ، اور کسی ایک مقام پر بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ انھوں نے کوئی ایسی بات کہہ دی ہو جس پر بعد میں وہ عمل نہ کر سکے ہوں۔ ممکن ہے اس وضاحت سے بعض لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ اقبال نے اپنی بے ساختگی پر پہرے بٹھا لیے تھے اور اپنے آپ کو پابند کر لیا تھا…مگر گزارش یہ ہے کہ بڑے شاعر، خود کو بعض نظریات کا (مثبت نظریات کا) پابند کر لینے کے باوجود، اپنی بے ساختگی کو مجروح نہیں کرتے، اور جو شاعر کسی فنی یا تہذیبی نقطۂ نظر کا پابند نہیں ہوتا، وہ اپنی بے ساختگی کو صرف اس حد تک کام میں لاتا ہے کہ آخری دم تک اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہتا رہا ہے۔
	’شاعر‘ کے عنوان سے دو نظمیں  بانگ درا میں شامل ہیں۔ پہلی نظم حصہ اول میں ہے اور ۱۹۰۵ سے قبل کی تخلیق ہے۔ دوسری حصہ سوم میں ہے اور ۱۹۰۸ء کے بعد کی تخلیق ہے۔ مگر خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں جگہ شاعر کے مناصب مربوط ہیں۔ پہلی نظم میں اقبال نے قوم کو جسم قرار دیا ہے، افراد کو اس جسم کے اعضا کہا ہے (یہ اعضا ’منزل صنعت‘ کے رہ پیما ہیں )۔ ’محفل نظم حکومت‘ قوم کا ’چہرۂ زیبا‘ ہے اور شاعر قوم کا ’دیدۂ بینا‘ ہے۔ شاعر کو پیکر قوم کی آنکھ قرار دینے کے بعد اقبال نے نہایت فن کارانہ حسن کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ شاعر قوم کے کسی دکھ، کسی مصیبت، کسی آزمائش سے بے توجہ نہیں رہ سکتا۔ 
مبتلائے درد کوئی عضو ہو، روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
	’شاعر‘ کے عنوان کی دوسری نظم میں اسی نقطۂ نظر کو ذرا وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اور قوم سے ہمدردی اور اس کے مصائب میں شرکت کے علاوہ شاعر پر فرض کر دیا گیا ہے کہ وہ (ان مصائب کے خاتمے کے لیے) کھری بات کہے۔ وہ کھری بات کہے گا تو جبھی ویرانۂ حیات میں بہار آئے گی۔ جب قوم بت سازی اور بت گری پر اتر آئے تو شاعر کے کلام کو شانِ خلیل دکھانی چاہیے اور کار خلیل کرنا چاہیے۔ اقبال نے اس نظم میں یہ بھی کہا ہے کہ جو شاعری خون جگر سے پرورش پاتی ہے، وہ عالم انسانیت کے لیے زندگی دوام کا نسخہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر پہلی نظم میں شاعر کا منصب معین کیا گیا ہے تو دوسری نظم میں اس منصب کا حق ادا کرنے کے لیے شاعر کے لیے راہ عمل مقرر کی گئی ہے اور اسی شاعری کو (جس میں شاعر اپنی نوع اور اپنی قوم اور اپنے معاشرے کی بعض ذمہ داریاں قبول کرتا ہے) زندگی کی چہل پہل، اس کی شادابی اور بالیدگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔
گلشن دہر میں اگر جوئے مئے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
	’سید کی لوح تربت، میں اقبال شاعر کو اپنے وقار اور ’آبرو‘ کا تحفظ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
ہو نہ جائے، دیکھنا، تیری صدا بے آبرو
	یہ ’صدا‘ کی ’بے آبروئی‘ بہت ہی بڑا سانحہ ہے جو کسی شاعر پر گزر سکتا ہے۔ شاعر کی صدا کی آبرو صرف اس طرح محفوظ رہ سکتی ہے کہ بقول ایک شاعر:
جو کچھ کہوں ، یقیں سے کہوں ، برملا کہوں 
	وہ جو کچھ کہے، اپنے اعلیٰ اور پاکیزہ اور مثبت منصب کو پیش نظر رکھ کر کہے۔ پھر وہ جانتا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور اسے علم ہو کہ اس کی صدا صرف اس تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے دنیا میں پھیلنا ہے، اور دنیا کو رنگ و بو کی، شادابی و نمو کی ضرورت ہے۔ اقبال نے اس نظم میں شعرا کو یہ احساس بھی دلایا ہے کہ جو اقدار مر گئیں ، وہ مر چکیں ، اور نئی قدروں ، نئے معیاروں سے بدکنا بیکار ہے۔ اس خیال کو اقبال نے ایک اور جگہ (بانگ درا ہی میں ) بڑی خوبصورتی کے ساتھ نظم کیا ہے:
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں 
	’سید کی لوح تربت‘ میں انھوں نے واشگاف اور براہ راست انداز میں کہہ دیا ہے کہ:
محفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ، ان فسانوں کو نہ چھیڑ
انھوں نے شاعر سے کہا ہے کہ پرانی لکیروں کو پیٹنے کی بجائے :
سونے والوں کو جگا دے شعلۂ آواز سے
خرمنِ باطن جلا دے شعلۂ آواز سے
	یہ شعر و شاعری کی باتیں تھیں مگر جب علامہ اقبال شاعروں کا ذکر کرتے ہیں تو جب بھی اپنے فنی نقطۂ نظر پر پوری پامردی سے قائم رہتے ہیں۔ ساتھ ہی ان نظموں میں ان کا نظریۂ فن شعر بھی پوری جزئیات کے ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہ نظمیں داغ، شبلی و حالی، غالب، عرفی اور شیکسپئر کے متعلق ہیں۔ داغ کے مرثیے میں انھوں نے داغ کے بانکپن اور شوخی بیان کا ذکر کیا ہے۔ یہ بتایا ہے کہ پیری میں بھی ان کے رنگ ڈھنگ جوانوں کے سے تھے، عشق کی ہو بہو تصویر کھینچتے تھے، ہر شخص کے دل کی بات کہتے تھے اور تخیل کی پرواز کے دوران میں بھی زمین سے اپنا رشتہ ٹوٹنے نہیں دیتے تھے۔ اس سے زیادہ اقبال نے داغ کے بارے میں کچھ نہیں کہا، اور انھیں کہنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ ان کا نظریۂ فن داغ کے نظریۂ فن سے سراسر مختلف تھا۔ بہر صورت داغ کے اس مرثیے سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ بیان کی شوخی، اظہار کا بانکپن اور معاملات عشق کی شاعری اقبال کے نزدیک کوئی گناہ نہیں تھی۔ بصورت دیگر ہم اقبال کے بعد کے کلام میں اس طرح کے سراپا جمال اشعار کہاں پاتے کہ:
آج بھی اس دیس میں ، عام ہے چشم غزال
اور نگاہوں کے تیر، آج بھی ہیں دل نشیں 
شبلی و حالی کا مرثیہ دراصل اس شعر کی تضمین ہے:
اکنوں کرا دماغ کہ پرسد ز باغبان
بلیل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد
اس مرثیے میں اقبال مسلمان سے کہتے ہیں کہ تو منفرد ہے۔ نئے نئے علوم دراصل تیرا سرود رفتہ ہیں۔ تیرے پرانے قافلوں کی گرد کا نام تہذیب قرار پایا ہے۔ تو نے مردانہ وقار و آبرو کے معیار قائم کیے ہیں۔ پھر آج کل جو تیرے گلشن پر خزاں کی یلغار ہے تو اس کا راز گلشن کے پرانے راز داروں سے پوچھ کہ مردان کار مصائب پر محض روتے رلاتے نہیں ہیں بلکہ حادثات کے اسباب ڈھونڈ کر ان مصائب کا مداوا کرتے ہیں۔ اس پر مسلمان جواب دیتا ہے کہ کس سے پوچھوں ، جب کہ گلشن کے وہ سبھی پرانے راز دار خاموش ہو گئے ہیں جن کی نوائے درد ملت اسلامیہ کے لیے سرمایۂ گداز تھی:
شبلی کو رو رہے تھے ابھی اہل گلستاں 
حالی بھی ہو گیا سوے فردوس رہ نورد
یہ مرثیہ اقبال کے اس منشور شاعری (’عبدالقادر کے نام‘) کے عین مطابق ہے جس میں وہ کہتے ہیں :
جلوۂ یوسف گم گشتہ دکھا کر ان کو
تیش آمادہ تر از خون زلیخا کر دیں 
	اقبال کا نظریۂ شعر ان نظموں میں بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے جن کے عنوان عرفی، شیکسپیئر اور مرزا غالب ہیں۔ عرفی کے بیان میں وہ کہتے ہیں کہ اس نے تخیل کا ایک ایسا ایوان تعمیر کیا جس کی عظمت و حشمت پر سینا و فارابی کے ’حیرت خانے، قربان کیے جا سکتے ہیں۔ پھر:
قضائے عشق پر تحریر کی تو نے نوا ایسی
کہ جس سے آج بھی درد کے سوتے ابل رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ روحِ عرفی سے کہتے ہیں کہ اب لوگوں میں وہ اضطراب، وہ بے تابی، وہ بے قراری ڈھونڈے سے نہیں ملتی، اس سیمابی کیفیت کا کہیں نام نہیں ہے جو ارتقائے حیات کے لیے ضروری ہے اور تو جس کا ایک بلیغ نمائندہ تھا:
کسی کا شعلۂ فریاد ہو ظلمت ربا کیونکر
گراں ہے شب پرستوں پر سحر کی آسماں تابی
اس پر روح عرفی شاعر سے کہتی ہے:
نوا را تلخ ترمی زن، چو ذوق نغمہ کم یابی
حدی را تیز ترمی خواں ، چو محمل را گراں بینی
اور کون انکار کر سکتا ہے کہ روحِ عرفی کا یہ مشورہ اقبال کے نظریۂ فن کا عنوان ہے!
	شیکسپیئر کو مخاطب کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ جس طرح دریا شفق صبح کا آئینہ ہے، اور حسن حق کا آئینہ ہے، اور دل حسن کا آئینہ ہے، اسی طرح تیرا حسن کلام دل انسان کا آئینہ ہے۔ تیری فکر فلک رس تھی۔ تیری آنکھ نے عالم کو عریاں دیکھا (حالانکہ چشم عالم تجھے نہ دیکھ سکی کیونکہ تو تو خورشید میں تابِ خورشید کی طرح پوشیدہ تھا) اور :
حفظ اسرار کا، فطرت کو ہے سودا ایسا
راز داں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا
یوں اقبال نے اس نظم میں اعلیٰ شاعری کو محسوسات و تصورات انسانی کا آئینہ، فکر کی بلندی کو اعلیٰ شاعری کا لازمہ اور اسرار فطرت کی راز دانی کو اعلیٰ شاعری کی پہچان قرار دیا ہے، اور یہی عناصر اقبال کے نظریۂ شعر کے لازمی اجزا ہیں۔
	مرزا غالب کے حضور نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے اقبال نے تخیل کی بلند پروازی، روح و بدن کے رشتوں کے ادراک اور حسن کی اس جستجو کی اہمیت واضح کی ہے جو زندگی کو جامد نہیں رہنے دیتی بلکہ ہمہ وقت بیدار و بے قرار رکھتی ہے، اور انسان کو نئی سے نئی دنیاؤں سے متعارف کراتی ہے۔
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
پھر اس نظم میں اقبال نے اس نکتے (اپنے منشور شاعری کی اس شق) پر بھی زور دیا ہے کہ غالب کی طرح سچا شاعر وہ ہے جس کی نوا زندگی سے کچھ چھینے نہیں بلکہ اس کے سرمائے میں اضافہ کرے۔ اس کا شعر زندگی کا عکاس ہو، شاعر کا حسن گویائی ایسا مسحور کن ہو کہ تصویریں بول اٹھیں اور جمود چٹخ کر ابلنے لگے۔ پھر اقبال نے متذکرہ نظم میں یہ نازک نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ محض تخیل کی بلند پروازی عظیم شاعری کی تخلیق پر قادر نہیں ہو سکتی۔ غالب کی سی عظیم شاعری تخلیق کرنے یا غالب کی پیروی کرنے کے لیے تخیل کی بلندی میں فکر کی بلندی کو بھی شامل کرنا ہو گا۔
	اور کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اقبال نے ان نظموں میں شعر و شاعری کے بارے میں جو بھی نظریات پیش کیے ہیں ، ان پر عمر بھر عمل بھی کیا اور یوں وہ دنیا کی عظیم شاعری کے علاوہ زندگی کے سرمائے میں بھی بے پناہ اضافے کر گئے؟ ان کا یہ نظریۂ شعر زندگی اور اس کے حسن، انسان اور اس کی توانائیوں ، کائنات اور اس کی پہنائیوں اور انسانی فکر کی رسائیوں کا نظریہ ہے، اور یہی وہ نظریہ ہے جس سے ’منفیت‘ بے معنویت اور لایعنیت کے ان نظریوں کو شکست دی جا سکتی ہے جنھوں نے آج کے جدید انسان کو اپنی گرفت میں لینے اور اس سے اس کا انفرادی شرف چھیننے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔

مجلّہ اقبال، لاہور، اپریل  ۱۹۷۴ء

٭٭٭




کلام اقبال میں خون جگر کی علامتی حیثیت


ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی


	اقبال کے نظریۂ فن کے سلسلے میں ’’خون جگر‘‘ کی اصطلاح اکثر زیر بحث آتی ہے، لیکن عموماً سر سری طور پر۔ بعض حضرات نے ’’خون جگر‘‘ کے زیر عنوان اقبال کے نظریۂ فن کے مختلف غیر متعلق پہلوؤں کا ذکر کیا ہے، اور کہیں کہیں عنوان کے پاس خاطر سے ادھر ادھر خون جگر کے چھینٹے ڈال دیے ہیں۔ اگر کسی نے بحث کی حدود کا خیال رکھا تو لفظی موشگافی میں پڑ کر، اس اصطلاح کی معنوی وسعت و اہمیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ مثلاً پروفیسر عزیز احمد نے ’’خون جگر‘‘ کے ضمن میں فارسی و اردو شعرا کے حوالے سے ’’جگر‘‘ اور ’’ خون جگر‘‘ پر ایک طویل بحث چھیڑ دی ہے۔ میری رائے میں جس طرح غالب کا یہ شعر:
دل سے تری نگاہ، جگر تک اتر گئی 
دونوں کو اک ادا میں رضا مند کر گئی 
خیالی مضمون آفرینی کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح ’’دل ‘‘ و ’’جگر ‘‘ کے مرتبہ و مقام کی تعین و تخصیص کی کوشش، اور جگر کو دل کے بعد ’’عشق کا دوسرا مورچہ ‘‘ قرار دینا بھی محض شاعرانہ نکتہ سنجی کے سوا اور کچھ نہیں۔ عزیز احمد نے اپنی تاویلات کی توثیق و تائید کے لیے، جاوید نامہ سے ’’زندہ رود‘‘ اور غالب کے اس مکالمے کا حوالہ دیا ہے، جس میں اقبال نے غالب سے ان کے اس شعر کی وضاحت طلب کی ہے:
قمری کف خاکستر و بلبل قفسِ رنگ
اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے!!
اور غالب کی زبان سے یہ تشریح کی گئی ہے:

نالہ کو خیزد از سوز جگر 
ہر کجا تاثیر او دیدم دگر
قمری از تاثیر او واسوختہ 
بلبل از وے رنگ ہا اندوختہ

لیکن اگر غالب کے شعر میں ’’جگر سوختہ ‘‘ کی جگہ ’’دل سوختہ‘‘ کی ترکیب ہوتی تو کیا غالب کا جواب اس سے مختلف ہوتا؟ اگرچہ جگر کو مجازاً حوصلہ و ہمت سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسد انسانی میں دل ہی باطنی احساسات و کیفیات کا مرکز مانا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں بھی جہاں حواس ظاہر کے لیے ’’سمع و بصر‘‘ کا ذکر آیا ہے، وہاں حواس باطنی کے لیے ’’فواد‘‘ یا قلب کی تخصیص کی گئی ہے۔ صوفیا اور شعرا بھی بالعموم اسی روایت کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ فن اور کمالِ فن کے سلسلے میں کیا غالب اور کیا اقبال، سب نے دل کے سوز و گداز کو کمال فن کا منبع قرار دیا ہے۔ غالب کہتے ہیں :
حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسد
پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
	اور اقبال:
آیا کہاں سے نالۂ نے میں سرورِ مے 
اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوب نے 
جس روز دل کی رمز مغنی سمجھ گیا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں طے!
	اس میں شک نہیں کہ اقبال نے خون جگر، سوز جگر اور درد جگر کی تراکیب بکثرت استعمال کی ہیں ،کہیں کہیں تو وزن و قافیہ کی مجبوری یا ضرورت شعری کا تقاضا ہو سکتا ہے، لیکن ہر جگہ یہ تاویل درست نہیں۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ ’’دل‘‘ کے مقابلے میں ’’جگر ‘‘کی صوتی قدر و قیمت زیادہ ہے۔ لفظوں کے انتخاب و ترتیب میں ، اقبال صوت و آہنگ کا اس حد تک خیال رکھتے تھے کہ کوئی ’’متجسس الفاظ چرب و شیریں ‘‘ اس معاملے میں ان کا مدمقابل نہیں ہو سکتا! 
	اس بحث کے سلسلے میں قابل غور نکتہ صرف یہ ہے کہ ’’خون جگر‘‘ کی اصطلاح سے اقبال کی کیا مراد ہے؟ اس ضمن میں عزیز احمد کی یہ رائے درست ہے کہ ’’جگر ‘‘ کا دردِ عشق سے خون ہو جانا، انسان کے عشق کی تکمیل ہے۔ خون جگر کی اصطلاح میں فنکار کے تخلیقی جذبے کی پوری کلیت ہے۔ اس کی اندرونی تپش، اس کا ’’سوز و گداز‘‘ اس کی اعلیٰ ترین تصوریت اور سخت ترین محنت۔۔۔ خون جگر ہی سے تمام فنون کی تخلیق ہوتی ہے۔
	اقبال نے ’’دل‘‘ کو عشق اور وجدان کے معنی میں استعمال کیا ہے (مثلاً ملاحظہ ہو : نظم ’’عقل و دل‘‘) ان کے کلام میں عشق اور کیفیات عشق کے لیے جتنے الفاظ آئے ہیں ، مثلاً ’’سوز و ساز‘‘ درد داغ، جذب و شوق، تڑپ، آرزو وغیرہ، سب کا تعلق خلوص کی گہرائی سے ہے، لہٰذا اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ ’’خون جگر‘‘ سے مراد فنکار کا خلوص ہے۔ کیونکہ خلوص کے مفہوم میں تجربے کی صداقت، نصب العین کی سچی لگن اور اندرونی تپش، اعلیٰ ترین تصوریت، اور سخت ترین محنت، یہ تمام باتیں شامل ہیں۔
	اس تمہیدی گفتگو کے بعد اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اقبال کے تصور فن میں ’’خون جگر‘‘ کی کیا اہمیت ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری کے مختلف ادوار میں ، کہیں اجمالاً اور اشارۃً اور کہیں صراحتہً اپنے نظریۂ فن کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا ہے، لیکن جس تکرار و تواتر کے ساتھ ’’خون جگر ‘‘کا ذکر آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصطلاح ان کے نظریۂ فن میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اقبال کا شمار، فن کی مقصدیت، اور ’’فن برائے زندگی ‘‘کے پر جوش مبلغوں میں ہوتا ہے۔ مقصدیت فن کے حامیوں میں افلاطون سے لے کر رسکن اور ٹالسٹائی تک، سب نے فن کے اصلاحی و اخلاقی مقاصد اور اعلیٰ انسانی اقدار کے مقابلے میں ، فن کے دیگر عوامل و عناصر، مثلاً فن کار کی شخصیت اور فنی آداب و اقدار کو عموماً نظر انداز کر دیا ہے۔ اسی طرح سماجی اور مارکسی دبستان کے نقاد بھی ’’روح عصر ‘‘اور اجتماعی و افادی قدروں پر اتنا زور دیتے ہیں کہ فن اور فنکار کی انفرادیت معرض خطر میں پڑ جاتی ہے۔ گویا ’’فن برائے فن‘‘ کی طرح ’’فن برائے زندگی‘‘ کے علم بردار بھی انتہا پسندانہ یک رخے نظریات کے حامل ہیں۔ فن میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ اگر چہ اخلاقیات کا ایک حصہ ایسا ہے جو مختلف زبانوں اور قوموں کے آداب و رسوم کے تابع ہے اور جسے اضافی، ہنگامی اور علاقائی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن بہت سے اخلاقی تصورات، فطرت انسانی کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ اور زبان و مکان کے اختلافات سے ماورا، ہیں۔ زندگی اور ادب و فن میں ایسی مستقل، آفاقی اور ابدی اقدار اخلاق کی اہمیت سے انکار کرنا بڑی ہٹ دھرمی ہو گی لیکن کسی ادبی تخلیق کو، فن پارہ بننے کے لیے، سب سے پہلے، فن کی جمالیاتی اقدار کا ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شعر، اخلاق آموزی کے باوجود، فن کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا،تو وہ محض ایک منظوم وعظ ہے، شعر نہیں۔ مثلاً کوئی ایسا شعر لیجئے جو اخلاقی عنصر سے عاری، لیکن فنی حسن سے بھرپور ہو، مثلاً غالب ہی کا یہ شعر:
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے باد پیمائی!
	یہاں یقیناً اس شعر کو اول الذکر پر ترجیح دی جائے گی۔
	زندگی کی عکاسی، رہنمائی تعمیر و تنقید کے لیے فن کار کا معاشرتی شعور سے بہرہ مند ہونا لازم ہے، لیکن اگر کوئی فنکار، محض خارجی تحریک کے زیر اثر،کسی پنچ سالہ ترقیاتی منصوبے یا کسی سیاسی یا معاشی نظریے کا مبلغ بن جائے، تو اس کی تخلیق پروپیگنڈے کی ادنیٰ سطح سے بلند ہو کر فن کا درجہ نہیں حاصل کر سکتی۔ فن برائے زندگی کے حامیوں میں اقبال نے اس خطرے کو سب سے زیادہ محسوس کیا اور اسی لیے وہ بار بار فنکار کی شخصیت یا خودی کو فن کی تخلیق کا سر چشمہ قرار دیتے ہیں۔ فن، نمود ذات کے فطری جذبے اور خودی کی تخلیقی قوت کا اظہار ہے۔ لیکن جب تک اس قوت کی تحریک جذبۂ عشق سے نہ ہو، شخصیت کا اظہار بھی بھر پور نہیں ہوتا۔ عشق انسانی خودی کی تمام پوشیدہ قوتوں اور صلاحیتوں کو برانگیختہ کر دیتا ہے:
از محبت اشتعال جوہرش 
ارتقائے ممکنات مضمرش
فن کی دنیا میں بھی جوہر خودی کا مکمل انکشاف عشق کی تحریکی قوت کا مرہون منت ہے۔
عشق صیقل می زند فرہنگ را 
جوہر آئینہ بخشد سنگ را 
اہل دل را سینۂ سینا دہد 
با ہنر منداں ’’ید بیضا‘‘ دہد
	افلاطون نے شاعر کے ’’ملہمانہ جنوں ‘‘ (Inspired madness)کا ذکر کیا ہے۔ اس کے نزدیک شعرا، شعر و موسیقی کی دیویوں کے سحر زدہ ہوتے ہیں اور اسی جذب و جنوں کے عالم میں شعر کہتے ہیں۔ نظریۂ نقل کی طرح، اس کا یہ نظریۂ جنوں بھی فنکار کی شخصیت کی تخلیقی قوتوں کی نفی کر کے، اس فن کو کسی خارجی یا ماورائی طاقت کے تابع کر دیتا ہے۔ اقبال یہاں بھی افلاطون سے اختلاف کرتے ہیں۔ انھوں نے جس جنوں کو فن کا محرک قرار دیا ہے، وہ عبارت ہے اس والہانہ کیفیت، اس جذبۂ بے اختیار سے جو دل پر عشق کے کامل تسلط سے پیدا ہوتا ہے۔ گویا جب وہ ’’الہام ‘‘ یا ’’جنوں ‘ کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد وہی ’’سوز دروں ‘‘ ہے جس سے دل و جگر خون ہو کر کسی منظوم فن پارے یا شعر کو نغمگی اور رنگینی عطا کرتا ہے۔
برگ گل رنگیں ز مضمونِ من است
مصرعِ من قطرۂ خونِ من است
نغمہ می باید جنوں پروردہٖ
آتشے در خونِ دل حل کردہٖ
	جب تک کوئی نظریہ یا فلسفہ دل کی گہرائیوں میں اتر کر جذبے کی آنچ سے پگھل نہ جائے، فن کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتا:
فن اگر سوزے نہ دارد حکمت است 
شعر می گردد چو سوز از دل گرفت
یا مردہ ہے یا نزع کے عالم میں گرفتار 
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خون جگر سے!
	کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ایک فنکار محض شہرت یا نام و نمود کی آرزو میں ایسے بلند لیکن مستعار خیالات کا اظہار کرتا ہے جو ذہنی ادراک کی سطح سے اتر کر، اور اس کی باطنی شخصیت میں جذب ہو کر، اس کے دل کی آواز نہیں بن پاتے۔ ظاہر ہے کہ ایسی نمائشی شاعری، محض قادر الکلامی کے بل پر، ابدیت سے ہم کنار نہیں ہو سکتی۔ اقبال کے معاصرین میں حضرت سیماب اکبر آبادی، ایک ماہر فن استاد تھے۔ اپنی شاعری کے آخری دور میں انھوں نے ’’شاعرملت‘‘ کے مقابلے میں ، ایک بین الاقوامی شاعر بننے کا خواب دیکھا اور اس زعم میں بہت سے فلسفیانہ مقولے اور اخلاقی فارمولے نظم کیے لیکن اس منصوبہ بندی کا نتیجہ کیا نکلا؟ آج اقبال کے صدہا شعر، اہل ذوق کی زبان پر ہیں اور سیماب کا ایک آدھ شعر بھی شاید ہی کسی کو یاد ہو۔ سیماب کے کلام میں اُستادانہ ہنر مندی اور کاریگری کے تمام تیور موجود ہیں ، کمی صرف ’’خون جگر‘‘ کی ہے، جس کے بغیر ’’معجزۂ فن کی نمود‘‘ ممکن نہیں۔
	ہماری غزل گوئی، روایتی اور تقلیدی روش کی وجہ سے ہمیشہ بد نام رہی ہے۔ اقبال نے ابتدا ہی میں اس خرابی کو محسوس کیا اور رسمی و پنچائتی غزل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی:
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی 
رستہ بھی ڈھونڈھ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے 
لطف کلام کیا جو نہ ہو دل میں درد عشق 
بسمل نہیں ہے تو، تو تڑپنا بھی چھوڑ دے
	لیکن جدید نظم بھی مغرب کی اندھی تقلید کی علت میں گرفتار ہے۔ مغرب کی ذہنی غلامی کی بدولت وہاں کی ادبی تحریکیں اور مغربی شعرا کی فکری و فنی بدعتیں ہمارے یہاں فیشن کے طور پر رائج و مقبول ہو جاتی ہیں۔ تقلید کی یہ روش، فن کے تمام شعبوں میں عام ہے۔ اقبال اس اندھی تقلید کو ’’مرگِ تخیل‘‘ کی علامت سمجھتے ہوئے احتجاجاً کہتے ہیں :
کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگِ تخیل 
ہندی بھی فرنگی کا مقلد، عجمی بھی 
مجھ کوتو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزاد 
کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی 
	اقبال کے نزدیک فن کی بنیاد حقائق زندگی کے شعور پر ہونی چاہئے۔ حقیقت شناسی کے لیے ضروری ہے کہ فنکار، مستعار نظریوں پر بھروسا نہ کرے بلکہ اپنی نظر سے، اپنے نور خودی کی روشنی میں زندگی کا مشاہدہ کرے:
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے 
افلاک منور ہوں ترے نور سحر سے 
اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی 
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
پھر نظر نظر میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ظاہر بیں نگاہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی:
اے اہل نظر، ذوق نظر خوب ہے لیکن 
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا؟
	جو فن کار چشم ظاہر کے ساتھ، نور بصیرت بھی رکھتا ہو، وہی حال کے آئینے میں مستقبل کی تصویر دیکھتا ہے۔ جب اس کی نگاہ سوز دل میں ڈوب کر ابھرتی ہے تو’’ عالم نو کی سحر‘‘ کو بھی بے نقاب دیکھ لیتی ہے۔ یہ جہاں بینی اور دیدہ وری، ایک درد آشنا دل کی تڑپ اور سوز و گداز کا حاصل ہوتی ہے:
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی 
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
	اس بحث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’’خون جگر‘‘ فنکار کی شخصیت کے توسط سے فن پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس میں تاثیر اور سوز کی کیفیت پیدا کرتا ہے، لیکن خون جگر کا فن سے براہ راست تعلق بھی ہے۔ یہاں ’’خونِ جگر‘‘ سے مراد، فن سے فنکار کی گہری لگن ہے اور گہری لگن، احترام فن اور کاوش فن دونوں پر مشتمل ہے۔ اقبال نے جا بجا جذبے کو فن کی روح کہا ہے، لیکن اس روح کی نمود کے لیے الفاظ کا موزوں ترین قالب بھی درکار ہے اور اس قالب کی ساخت و پرداخت میں فنکار کے شعور و ادراک، تفکر و تخیل،مشق و مہارت، چابک دستی اور ہنر مندی، ان سب عوامل کا حصہ ہوتا ہے۔ اقبال ایک خط میں لکھتے ہیں : ’’شاعری کی جان تو شاعر کے جذبات ہیں۔جذبات انسانی اور کیفیات قلبی، ’’اللہ کا دین ہے‘‘۔ مگر اس کے ساتھ یہ جملہ بھی موجود ہے: ’’ہاں یہ ضرور ہے کہ طبع موزوں اس کے ادا کرنے کے لیے پر اثر الفاظ کی تلاش کرے‘‘۔ الفاظ تلاش اور تراش خراش کا عمل بڑی جاں کا ہی چاہتا ہے۔ بقول امیر:
خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعے تر کی صورت
	جو فنکار لفظوں کی مختلف دلالتوں ، ان کے معانی کی مختلف تہوں کو پہچانتا ہو، جو یہ جانتا ہو کہ لہجے کے فرق سے لفظوں کے تیور کس طرح بدل جاتے ہیں ، جو لفظوں کے آہنگ اور سر کے تال میل سے نغمہ گری کا گر جانتا ہو، اس کے کلام میں ہر لفظ نگینے کی طرح جڑا ہوا ہوتا ہے کہ اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جا سکتا:
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں 
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا!
	مختصر یہ کہ ہر فن کی ایک تکنیک اور اس کو برتنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے۔ یہ سلیقہ مسلسل مشق و مزاولت اور کسب و ریاض سے پیدا ہوتا ہے۔ گویا فن پر پوری قدرت حاصل کرنے کے لیے بھی ’’خون جگر‘‘ صرف کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا ہے:
ہر چند کہ ایجاد معانی ہے خداداد 
کوشش سے کہاں مرد ہنر مند ہے آزاد 
خون رگ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر 
مے خانۂ حافظ ہو کہ بت خانۂ بہزاد 
بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا 
روشن شررِ تیشہ سے ہے خانۂ بہزاد
	دراصل فنکار کی طبیعت کا فطری رجحان اور اندرونی تقاضا خود بخود اسے اکتساب فن کی ’’محنت پہیم‘‘ پر اکساتا ہے۔ فن اس کے لیے محض دل لگی نہیں ، یہ اس کے دل کی لگی اور ’’لگن‘‘ ہے۔ اگر کوئی شخص اس سچی لگن اور جذب و شوق کے بغیر، محض اپنی علمیت اور موزونیت طبع کے بل پر شعر کا مشغلہ تفریحاً اختیار کر لے تو خواہ لاکھ سخن وری کا دم بھرے، وہ سچے فنکار کا مرتبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر دور میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ اچھے خاصے، عالم فاضل، ادیب و خطیب، جب شعر کے میدان میں طبع آزمائی کرنے چلے تو صرف متشاعر بن کر رہ گئے۔ قریبی زمانے کی ایک عبرتناک مثال ہمارے پیش نظر، حضرت علامہ مشرقی مرحوم کی شاعری ہے۔ موصوف کے کلام کے تین مجموعے، ’’حریم غیب‘‘، ’’دہ الباب‘‘  اور ’’ارمغان حکیم‘‘  جو ساڑھے چار ہزار اشعار پر مشتمل ہیں ، ۱۹۵۲ء میں مرتب ہو کر شائع ہوئے تھے۔ فروری ۱۹۵۱ء تک کے درمیان علامہ مرحوم کو پیہم چھ چھ ماہ کی قیدیں بھگتنا پڑیں۔ ایام اسیری میں نوشت و خواند کی سہولتیں میسر تھیں۔ ناچار شعر گوئی اختیار کی۔ آخر جب قید سے رہا ہو کر نکلے تو ملت کے لیے یہ تینوں مجموعے بطور ارمغان لائے، جیسا کہ پہلے مجموعے کی ابتدائی نظم میں فرماتے ہیں :
امت شعر زدہ سن کہ یہ کیا لایا ہوں 
نہ نبی ہو کے میں پیغام خدا لایا ہوں 
شاعری اور وہ پیغام عیاذاً باللہ 
جبرائیل اس کے گواہ، طرفہ ہدیٰ لایا ہوں ‘‘
	یہ تینوں مجموعے ’’طرفہ ہدیٰ ‘‘ تو ضرور ہیں لیکن فن شعر کے لحاظ سے کلام موزوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں ، کیونکہ خود مصنف کا رشتہ بھی فن شعر سے منفی قسم کا ہے۔ ان کی رائے میں شعر و شاعری نکمے اور ناکارہ لوگوں کا مشغلہ ہے۔ انھوں نے اس متبذل فن کو اصلاح قوم کے لیے ’’علاج بالمثل‘‘ کے طور پر گوارا کیا:
امت شعر زدہ کا ہے یہ بالمثل علاج 
زندہ کر شعر سے، جس شعر سے مردار ہوئی
	تاہم وہ اپنی مصلحانہ شاعری کو بھی اپنے لیے کسر شان سمجھتے ہیں :
ہے مشرقی تو بلند اس قدر کہ اور ہے کچھ 
وگرنہ قوم کی ہے موت شاعری کیا ہے
	ان کے تیسرے مجموعے کلام :’’ارمغان حکیم ‘‘ میں پچاس اشعار کی ایک غزل ہے، جس کے آخری چند قطعہ بند اشعار میں انھوں نے اس مبتذل فن کو اختیار کرنے کی توجیہ کی ہے:
میں حکم رب سے شاعر قید میں ہوں 
سمجھتا ہوں کہ کیا حکمت چھپی ہے
مری توہین ہے بن جاؤں شاعر 
کہ ناکاروں کا پیشہ شاعری ہے 
کہاں ہو گا کوئی مجھ سا بھی شاعر 
کہ جس کا شعر قہر کاہلی ہے 
کہے لمحوں میں یہ سب شعر میں نے 
ازل کی بارگاہ میں کیا کمی ہے
کوئی لاؤ تو اس کے ہی برابر
غزل یہ سادہ کار مشرقی ہے 
	ایام اسیری کی مجبوریوں کے علاوہ علامہ مشرقی کی شعر گوئی کا ایک نفسیاتی محرک بھی تھا۔ انھیں اس امر کا شدید احساس تھا کہ قوم کی صحیح قیادت صرف انہی کا حصہ ہے۔ ان کی ذہانت و قابلیت کے آگے اقبال کی کوئی ہستی نہیں ، لیکن کلام اقبال کا سحر دلوں پر ایسا چھایا ہوا ہے کہ انھیں کوئی نہیں پوچھتا۔ اس ’’نا قدریٖ ابنائے زمان‘‘ کی شکایت پردے پردے میں جا بجا کی ہے۔ ایک جگہ ذرا کھل کر فرماتے ہیں :
مرا تھرڈ، اقبال کا فسٹ دیکھو 
دفاتر میں اس کے لگے ’’بسٹ‘‘ دیکھو 
کیا میں نے پل میں ، لگی عمر اس کو 
نہ ڈالو مرے کام پر ’’ڈسٹ‘‘ دیکھو
	علامہ صاحب کا خیال ہے کہ اس ’’امت شعر زدہ‘‘ کو اقبال کی شاعری نے ڈبویا ہے لہٰذا جب تک کلام اقبال کو ذہنوں سے محو نہ کر دیا جائے بلکہ مزار اقبال کو بھی منظر عام سے نہ ہٹایا جائے، اس وقت تک قوم راہ راست پر نہیں آسکتی :
یہ قبر اقبال کی بن کر رہے گی قبر پاکستان 
گماں شاید تمہیں ہو کہہ رہا ہوں بات میں کد سے 
میں اس تک ہوں ہٹا دو قبر کو سرحد سے مسجد کی 
سند لاؤ تو بدعت کی ہاں کوئی سی مسند سے 
بناؤ قبر کو اور شاعری کو ذہن سے القط 
کہ شاید پھر تعلق ہو خدا کا ذہن مرتد سے 
	اقبال کے فلسفہ و پیغام کی تردید و تضحیک تو علامہ مشرقی کے کلام کا خاص موضوع ہے، لیکن اقبال کی مفکرانہ حیثیت کے بارے میں ان کے اعتراضات پر سر دست کوئی بحث مقصود نہیں ، البتہ اقبال کے فن پر ان کے مندرجہ ذیل اعتراضات ہر صاحبِ ذوق کے لیے موجب حیرت ہیں :
’’بہت کم شعر ہیں اقبال کے برجستہ ہر رو سے 
ادب کے نقص یاں ہیں تو وہاں الجھن زباں میں ہے 
جو شوکت ہے کہیں الفاظ میں تو خبط ہے مطلب 
نپٹ پختیدگی نے قول ایں میں ہے نہ آں میں ہے 
بہت کچھ وہ ہے، معنی جس کے ہوں گے بطن شاعرمیں 
بہت کچھ قافیہ رانی جو شعر ناتواں میں ہے 
ہے اس کی فارسی اس درجے تک ناقص کہ ایرانی 
کہا کرتے ہیں ، کہتا ہم نہ جانیں کس زباں میں ہے‘‘
	اہل نظر جانتے ہیں کہ ان اعتراضات کا اقبال کے کلام سے تو کوئی واسطہ نہیں ، البتہ یہ ساری باتیں خود معترض کے کلام پر حرف بہ حرف پوری اترتی ہیں۔ ان کے ’’شعر ناتواں ‘‘میں ’’قافیہ رانی‘‘ تو بہت کچھ ہے لیکن ’’نپٹ پختیدگی‘‘ کا کہیں نشان نہیں ملتا، اور ملے کیسے کہ اس فن سے نہ تو انھیں کوئی لگاؤ ہے اور نہ اس کے لیے کاوش فکر کی انھوں نے ضرورت سمجھی۔ انھیں تو یہ زعم تھا کہ جب میری ذہانت نے مغربی علوم کے بڑے بڑے معرکے سر کر لیے تو شعر کیا چیز ہے۔ یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
شعر تو ادنیٰ اشارہ ہے تیری چٹکی کا 
مغربی علموں میں بھی جب نہ تجھے ہار ہوئی!
	اس سہل انگاری کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہونا تھا کہ ان کی شاعری (بقول خود)’’ قہر کاہلی‘‘ بن کر رہ جائے۔
	اگرچہ اقبال بھی از اول تا آخر ایک پیغام گو شاعر ہیں ، لیکن مشق سخن کے ابتدائی دور سے لے کر لگ بھگ ۱۹۱۰ء تک (کم و بیش، بیس سال) انھوں نے اکتساب فن کے تمام مرحلے اس خلوص و انہماک سے طے کیے کہ بعد میں جب انھیں اپنے مقصد و پیغام کا احساس شدید تر ہوتا گیا، تب بھی فن سے ان کا رشتہ منقطع نہ ہو سکا اور ’’فن پرستی‘‘ سے اظہار بے نیازی کے باوجود، انھیں ایک سچے فنکار کی طرح ہمیشہ اس بات کا احساس رہا کہ :
نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر 
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر 
	چنانچہ تزئین کلام کی مصنوعی کوشش کے بغیر، ان کا کلام تغزل و ترنم کی کیفیات اور فنی لطافتوں سے معمور ہے۔ اقبال کے اس دعوے پر خود ان کا کلام گواہ ہے:
آنچہ من در بزم آوردہ ام، دانی کہ چیست؟
یک چمن گل، یک نیستاں نالہ، یک خمحانہ مے!!

فروغِ اقبال۔ اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ۱۹۹۶ء
٭٭٭



اقبال کا معجزۂ فن

سلیم احمد

	محمد حسن عسکری نے کسی جگہ ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کو اُردو شاعری کا تاج محل کہا ہے۔ تاج محل سے میرا ذہن خود بخود دلی کی شاہی مسجد کی طرف جاتا ہے اور یاد آتا ہے کہ اقبال نے اسے مسجدوں کی دلہن کہا تھا۔ یہ مسجد واقعی ہے بھی دلہن کی طرح۔ نفیس، نازک، خوبصورت۔ لیکن اس میں وہ صلابت، سنگینی، اور پختگی نہیں جو مسجدِ قرطبہ میں پائی جاتی ہے۔ کیا یہ دو قوموں کے مزاج کا فرق ہے؟ میں نے دلی، آگرہ اور فتح پور سیکری میں شاہی تعمیرات دیکھی ہیں۔ مجھے عہدِ غلاماں کے بعض بچے کھچے آثار میں جو مردانہ قوت نظر آئی وہ عہدِ شاہ جہانی کی تعمیرات میں کم ہوتی چلی گئی ہے۔ یہاں تک کہ خود مغلیہ دور کی ابتدا کے آثار بعد کی تعمیرات سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمایوں کے مقبرے میں وہ نفاست نہیں ہے، جو عہدِ شاہ جہانی کی تعمیرات میں پیدا ہو گئی ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جیسے جیسے ہندوستان کی مٹی میں ملتے گئے، کمزور ہوتے گئے؟ یا ہم یہ کہیں کہ ان میں قوت کے ساتھ حسن کا اضافہ ہو گیا؟ سلطنتِ دہلی کے دور تک مسلمان ہندوستان میں پوری طرح جمے نہیں ہیں۔ ابھی باہر سے آمد و رفت بھی لگی ہوئی ہے اور اندر سے جڑیں بھی مضبوط نہیں ہوئی ہیں۔ لیکن بعد کے ادوار میں وہ یہاں زمین پکڑنے لگتے ہیں اور عہدِ مغلیہ سے وہ واضح طور پر ہندوستانی بن جاتے ہیں۔ عہدِ مغلیہ کا آغاز بابر سے ہوتا ہے۔ اب بابر کی شخصیت کو دیکھیے تو وہ قوت اور حسن کے توازن کا ایک دلکش نمونہ ہے۔ ایک طرف وہ ایسا فاتح ہے، جس نے صرف بارہ ہزار سپاہیوں سے ابراہیم لودھی اور رانا سانگا کے ٹڈی دل لشکر کو شکست دی اور ایک عظیم الشان سلطنت کا بانی بنا۔ دوسری طرف وہ شاعر ہے اور ترکی عروض پر رسالہ لکھتا ہے۔ اس کی شخصیت کی قوت اور خوبصورتی کا داخلی اندازہ لگانا ہو تو اس کی ’تزک‘ کا مطالعہ کیجئے جس کے اسلوب میں ایک فاتح کا کردار ایک شاعر کے حسنِ طبیعت سے گلے ملتا نظر آتا ہے۔ جسمانی قوت میں اس کا یہ حال ہے کہ اس نے ہندوستان کے سارے دریا خود پیر کر پار کیے اور قلعے کی دیوار پر دو آدمیوں کو بغل میں دبا کر دوڑ سکتا ہے۔ لیکن دل کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ بیٹے کی بیماری برداشت نہیں کر سکتا اور اس کو بچانے کے لیے اپنی جان صدقے کے طور پر دے دیتا ہے۔ بابر فاتح میں شاعر کی ایک کمزوری بھی ہے--- شراب نوشی۔ یہ کمزوری اس لیے ہے کہ بابر خود اسے کمزوری سمجھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رانا سانگا کے مقابلے پر اسے فتح اس وقت نصیب ہوئی جب اس نے اپنی فوج کے سامنے آخری تقریر کر کے جام توڑ دیا اور کبھی شراب نہ پینے کا عہد کیا۔ ذہن خود بخود بھٹکتا ہوا محمد شاہ رنگیلے سے سقوطِ ڈھاکہ تک جاتا ہے اور نہ جانے کیسے کیسے کردار یاد آنے لگتے ہیں۔ مغلیہ خاندان میں بابر کی یہ کمزوری عہد بہ عہد چلتی ہے۔ ہمایوں شراب نہیں پیتا، لیکن افیون کھاتا ہے۔ ویسے بھی وہ ایک کمزور شخصیت کا مالک ہے جس کی واحد خوبی یہ ہے کہ رحم اور حسنِ سلوک میں بابر کے حسنِ طبیعت کا نمونہ ہے۔ اکبر میں بابر کی ساری خوبیاں موجود ہیں۔ وہ فاتح ہے، شہنشاہ ہے، اکبرِ اعظم ہے، لیکن اس کے دل کو دیکھو تو شاعرانہ نزاکت سے دھڑک رہا ہے۔ وہ ہندوستان میں مغلیہ خون کا شاہکار ہے اور وہ پہلا ہندوستانی ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے حقیقی مسائل کا سب سے زیادہ شعور رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مسئلے کے حل کا جو طریقہ وہ اختیار کرتا ہے، اس سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہے اور ان میں میں بھی شامل ہوں۔ پھر اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ اکبر کی پالیسی کا سنگِ بنیاد ہمایوں نے رکھا تھا اور بسترِ مرگ پر اکبر کو نصیحت کی تھی کہ ترکوں کو آپس میں لڑنے دو اور سلطنت کی بنیاد مقامی لوگوں کی مدد سے استوار کرو۔ جہانگیر مغلیہ خاندان کے داخلی توازن میں ایک نمایاں عدم توازن کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس پر بابری شخصیت کی کمزوری کا غلبہ ہے۔ باپ سے بغاوت، شراب نوشی کی کثرت اور عشق و عاشقی کے وہ افسانے جو اس سے منسوب ہیں ، اس کی شخصیت کو ایک افسانہ تو بناتے ہیں لیکن اس میں فاتحانہ قوت، مردانہ صلابت کی نمایاں کمی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسے بابر اور اکبر کا وہ دل بھی نہیں ملا جو رحم اور حسنِ سلوک کے جذبات سے دھڑکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر وہ ایک ایسی سخت دلی کا مظاہرہ کرتا ہے جو اس سے پہلے خاندانِ مغلیہ میں ظاہر نہیں ہوئی۔ وہ شیرافگن اور ابوالفضل کو قتل کراتا ہے۔ اپنے بیٹے کو اندھا کرا دیتا ہے اور اپنے دودھ شریک بھائی کو قلعے کی دیوار سے سر کے بل پھنکوا کر مروا ڈالتا ہے۔ لیکن اس سنگ دلی کے ساتھ ’’دل کی کمزوری‘‘ بھی اندر ہی اندر کہیں موجود ہے۔ کشمیر میں ایک مزدور پہاڑی سے گر گیا، لاش گوشت کا لوتھڑا بن گئی۔ لوگ اس لوتھڑے کو کپڑے میں باندھ کر جہانگیر کے سامنے لے آئے۔ جہانگیر نے اس لوتھڑے کو دیکھا تو مزاج مکدر ہو گیا۔ اتنا اثر لیا کہ بیمار ہو گیا اور اسی بیماری میں چل بسا۔ شاہ جہاں ایک بار پھر بابری توازن کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن اب کے اس فرق کے ساتھ کہ بابر کی شخصیت کا جزوِ غالب اس کی قوت ہے۔ شاہ جہاں کی شخصیت کا جزوِ غالب حسن ہے۔ اب مسلمان ہندوستان میں پورے طور پر جم چکے ہیں۔ اندرونی و بیرونی طاقتیں ایک دوسرے سے ہم آہنگی میں ایک ایسا توازن حاصل کر چکی ہیں جس میں مقامی اور غیر مقامی کی تفریق گویا ایک وحدت کا حصہ بن چکی ہے۔ ایرانی اور ترک عناصر، جن کی پیکار عہدِ جہانگیری میں سلطنتِ مغلیہ کے لیے ایک نمایاں خطرہ تھی، اب ایک ہم آہنگ مرکب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ دور خارجی فتوحات کا دور نہیں ہے، مگر اس کی داخلی فتوحات اتنی بڑی ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی عظمت کی زندہ نشانیاں اسی دور کی دین ہیں۔ اور نگ زیب عالمگیر نمایاں طور پر پھر خارجی اور داخلی پیکار کا اظہار کرتا ہے۔ مقامی عناصر کی بغاوتیں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں اور اپنے اثر و نفوذ کی بنا پر خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایرانی اور ترکی افتراق پھر سر اُٹھاتا ہے اور خطرے پر خطرے کا اضافہ کرتا ہے۔ اور نگ زیب کی شخصیت داخلی طور پر بھی ایک پیکار کا شکار ہے۔ وہ شاعر ہے، ادیب ہے، شاعری کا ایک پرستار ہے کہ بیدل کا دیوان سفر میں بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے، لیکن اس کی یہ خوبیاں ایک شہنشاہ کی حیثیت سے اس کی کمزوریاں بن سکتی ہیں۔ وہ خارجی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی شخصیت کے ان عناصر کو دباتا ہے اور اس شدت کے ساتھ کہ اس کی خارجی تصویر اس کی داخلی تصویر سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ مجھے اور نگ زیب کو دیکھ کر ایسے ہی سپاہی کا خیال آتا ہے جو اندر سے زخموں سے چور چور ہو، لیکن انہیں چھپانے کے لیے زرہ پوش ہو گیا ہو اور لوگ اس کی زرہ کو دیکھ کر اس کے زخموں کا اندازہ نہ لگا سکتے ہوں۔ اور نگ زیب میں بابر کا شاعر اور شہنشاہ مساوی قوت رکھتے ہیں۔ مگر اور نگ زیب کے حالات کا تقاضا ہے کہ شاعر کو قتل کیا جائے اور شہنشاہ کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ اور نگ زیب کا المیہ بھی ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کا بھی۔ اور نگ زیب ہندوستان میں سلطنتِ مغلیہ اور مسلمانوں کی قوت کے تحفظ کی اس پیکار کا آخری سپاہی ہے، جو اس کی وفات کے ساتھ ہی مسلمانوں کی شکست کو ظاہر کرنے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایک شدید انتشار اندر اور باہر سے اُنہیں توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ سلطنتِ مغلیہ کو بھی اور مسلمانوں کے اقتدار کو بھی۔ اور نگ زیب اس انتشار کا المیہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہمارے دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہندی مسلمان ہندوستان میں کمزور کتنے ہی ہو گئے ہوں ، مٹے بالکل نہیں۔ جب کہ عرب اندلس میں فنا ہو گئے۔ یہ فرق کیوں ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کی بقا کا کیا راز ہے؟ یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے۔
	معاف کیجیے گا، بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ذکر تھا شاہی مسجد اور مسجدِ قرطبہ کے فرق کا۔ مسجدِ قرطبہ عربوں کی تخلیق ہے، شاہی مسجد ہندی مسلمانوں کی۔ مسجدِ قرطبہ میں صلابت اور قوت کا وہ اظہار ہے جو اقبال کو حد درجہ پسند ہے، لیکن شاہی مسجد ہندی مسلمانوں کی اس سادہ مردانگی کا اظہار ہے جس میں قوت حسن سے گل مل رہی ہے۔ اقبال نہ شاہی مسجد سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، نہ میر کی شاعری سے اور شاید میر امن کی نثر بھی اُن کے دل کو نہیں چھوتی، کیونکہ اس میں انہیں وہ چیز نہیں ملتی یا اُس درجے میں نہیں ملتی جس کی طرف ان کا دل کھنچتا ہے، یعنی وہ قوت جو اپنے اندر نفاست کے بجائے صلابت کا انداز رکھتی ہو۔ بہرحال اقبال کی ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ ایک ہندی کی طرف سے عرب مسلمانوں کے لیے عقیدت اور محبت کے ان جذبات کی تخلیق ہے جو ہندی مسلمانوں کے دل کو عربوں کے لیے ہمیشہ آغوشِ عاشق کی طرح کشادہ رکھتے ہیں۔ ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کا مرکزی موضوع کچھ لوگوں کے نزدیک زمانہ ہے، کچھ لوگوں کے نزدیک عشق اور کچھ لوگوں کے نزدیک موت۔ لیکن میرے نزدیک ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کا موضوع وہ حیاتِ شاعرانہ ہے جو معجزہ ہائے ہنر میں اپنی نمود کرتی ہے۔ اس حیاتِ شاعرانہ کے دو مرکز ہیں۔ ایک داخلی دوسرا خارجی۔ ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ میں اقبال داخلی مرکز کو ’’قلب‘‘ کہتے ہیں اور خارجی مرکز علامتی طور پر مسجدِ قرطبہ ہے۔ یعنی وہ معجزۂ فن جو قلب سے خارج میں نمود کے لیے رنگ و چنگ، خشت و سنگ اور حرف و صوت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ حیاتِ شاعرانہ انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ انفرادی حیاتِ شاعرانہ فن کے شخصی نمونوں میں اپنا اظہار کرتی ہے، جب کہ اجتماعی حیاتِ شاعرانہ سے اجتماعی فنی کارنامے ظہور میں آتے ہیں اور اس کا اظہار بیشتر قوموں کے فنِ تعمیر میں ہوتا ہے۔ اجتماعی حیاتِ شاعرانہ کا ایک اور مظہر قوموں کی تاریخ ہے جس میں وہ اقدار کی تخلیق کرتی ہیں اور انفرادی قلب کی طرح ان کا بھی ایک داخلی مرکز ہے۔ ذکر چونکہ مسلمانوں کا ہے اس لیے ہم کہیں گے کہ مسلمانوں کے اجتماعی قلب کی علامت حرمِ کعبہ ہے جو مسلمانوں کے نزدیک قلبِ عالم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کا موضوع اپنے داخلی تقاضوں سے ایک سہ ابعادی کائنات کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کائنات کا ایک بُعد قلب ہے، دوسرا بُعد مسجدِ قرطبہ، تیسرا بُعد حرمِ کعبہ۔ اقبال کی نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ اسی کائنات کی لفظی صورت گری ہے۔
	پہلے حیاتِ شاعرانہ کے داخلی مرکز کو دیکھے۔ یہ قلب ہے۔ حیاتِ شاعرانہ کا وجود قلب کے اعماق میں ہے، جہاں وہ خونِ جگر سے ہم آمیز ہو کر معجزۂ فن کی تخلیق کرتی ہے۔ یہ معجزہ جب حرف میں اپنا اظہار کرتا ہے تو شاعری بن جاتا ہے، صوت میں اپنا اظہار کرتا ہے تو موسیقی بن جاتا ہے، رنگ میں اپنا اظہار کرتا ہے تو مصوری بن جاتا ہے اور سنگ و خشت میں اپنا اظہار کرتا ہے تو فنِ تعمیر بن جاتا ہے۔ خونِ جگر عشق سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ معجزۂ فن کی نمود عشق کے ذریعے فن کار کے قلب سے ہوتی ہے۔ معجزے سچے بھی ہوتے ہیں اور جھوٹے بھی۔ اقبال کے نزدیک سچے معجزے کی ایک پہچان ہے۔ وہی جو اقبال کی شاعرانہ شخصیت کا مرکزی موضوع ہے، موت کے مقابلے پر دوام۔ زمانے کی حقیقت تغیر ہے، اس لیے وہ موت کا نمائندہ ہے۔ اس کا کام کائنات کی ہر چیز کو پرکھنا ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ اپنے وجود میں وہ سچی ہے یا جھوٹی، یعنی موت کا مقابلہ کر سکتی ہے یا نہیں۔ اس لیے اقبال عشق کو زمانے کے مقابلے پر رکھتے ہیں اور دونوں کی قوتوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک ایسی قوت ہے جو زمانے کو شکست دے سکتی ہے۔ یعنی موت پر قابو پا سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کے دو ثبوت ہیں ، ایک خود ان کی شاعری اور دوسرا مسجدِ قرطبہ۔ اقبال دونوں کا مقابلہ کرتے ہیں :
تیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز
تجھ سے دلوں کا حضور، مُجھ سے  دِلوں کی کشُود
اور اس طرح شاید اقبال یہ کہتے ہیں کہ اگر عربوں نے مسجدِ قرطبہ کی تخلیق کر کے اپنی صداقتِ عشق یا صداقتِ حیات کو ظاہر کیا ہے تو ہندی مسلمان بھی ان سے کم نہیں ہیں۔ ہندی مسلمانوں نے اقبال کی شاعری پیدا کی ہے۔ نظم میں اچانک ’’کافرِ ہندی‘‘ کا لفظ اتفاقیہ نہیں آیا۔ یہ اتنا معنی خیز ہے کہ نظم کی پوری معنویت کو متاثر کرتا ہے۔
	اقبال فن کار کے قلب کا تقابل عرشِ معلی سے کرتے ہیں۔ عرشِ معلی اس کائنات کا چوتھا بُعد ہے جو ماورائے کائنات ہے۔ عرشِ معلی لامحدود قوت اور دوامِ حیات کا مظہر ہے لیکن فن کار کا قلب بھی اس سے کم نہیں ہے۔ یہ بھی اس قوت و حیات کا مظہر ہے جو زمانے اور موت سے شکست نہیں کھاتی۔ اقبال اس قلب کو ذاتی تجربے سے جانتے ہیں اور میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ جیسی نظم، جو بظاہر اتنی معروضی معلوم ہوتی ہے، اس کی تخلیق اقبال کے داخلی تجربے سے ہوئی ہے۔
	حیاتِ شاعرانہ کا خارجی مرکز علامتی طور پر مسجدِ قرطبہ ہے۔ اس لیے یہ مسلمانوں کی حیاتِ شاعرانہ کے داخلی مرکز یعنی قلب کا خارجی اظہار ہے۔ ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ میں جو چیز ظاہر ہوئی ہے، وہ مسلمانوں کی وہ داخلی زندگی ہے جس سے مسلمان تاریخ میں ابدیت حاصل کرتے ہیں :
تجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا راز
اس کے دِنوں کی تپش، اس کی شبوں کا گداز
اس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیم
اس کا سرور، اس کا شوق، اس کا نیاز، اس کا ناز
	مسلمانوں کی یہ داخلی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے۔ اس کے مقابلے پر خارجی کائنات ’’وہم و طلسم و مجاز‘‘ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔
	اب فن کار کے قلب اور مسجدِ قرطبہ کے مقابلے پر ایک تیسری علامات حرمِ کعبہ ہے جو مسلمانوں کے اجتماعی قلب کی علامت ہے۔ اقبال مسجدِ قرطبہ کا رشتہ حرمِ کعبہ سے جوڑتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کی نظریں مسلمانوں کے اجتماعی تاریخی عمل کو دیکھنے لگتی ہیں۔ مسلمانوں کا اجتماعی تاریخی عمل ان کے اجتماعی قلب سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ حرمِ کعبہ کی دین ہے۔ مسلمانوں کی وہ اجتماعی زندگی، جو اقدار کی تخلیق کرتی ہے، اس قلب سے وابستہ ہے اور تاریخ میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ اس زندگی کے پہلے علم بردار عرب ہیں :
آہ وہ مردانِ حق، وہ عربی شہسوار
حاملِ خلقِ عظیم، صاحبِ صدق و یقیں 
جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریب
سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیں 
جن کی نگاہوں نے کی تربیتِ شرق و غرب
ظلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں 
	مسلمانوں کا اجتماعی تاریخی عمل حرمِ کعبہ سے ان کی وابستگی کا ثمر ہے اور یہ عمل انسانیت کے لیے خیر ثابت ہوا ہے۔ اقبال اس کے ثبوت کے لیے خود اندلس کو پیش کرتے ہیں ، جہاں مسلمانوں کے لہو کا فیض آج بھی جاری ہے، جب کہ خود مسلمان اندلس سے ختم ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اقبال کو یہ تلخ حقیقت یاد آ جاتی ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی تاریخی عمل، جو انسانیت کے لیے خیر تھا، ہر جگہ جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں ، زوال اور فنا سے دوچار ہیں۔ ان کی حکومتیں ختم ہو چکی ہیں۔ جو باقی ہیں وہ موت کے گھاٹ اُتر رہی ہیں۔ محکومی اور غلامی نے ان کی روحوں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ خود مسجدِ قرطبہ، جو مسلمانوں کے اجتماعی تاریخی عمل کی ایک علامت ہے، صدیوں سے ویران اور غیرآباد ہے اور اس کی فضائیں بانگِ اذاں کو ترس رہی ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ساتھ اقبال کو اپنی ذات بھی یاد آتی ہے یا نہیں ، لیکن نظم کے آخر میں وہ عہدِ شباب کو ضرور یاد کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہوں نے مسلمانوں کی اجتماعی حالت کے پس منظر میں اپنی ذاتی حالت کو بھی دیکھا ہے؟ وہ بھی اب بوڑھے ہو رہے ہیں۔ بوڑھے، کمزور اور بیمار۔ اقبال کو یاد آتا ہے کہ زمانہ منقلب ہے اور حیات کو موت سے اور موت کو حیات سے بدل رہا ہے۔ زمانے کے انقلابات قوموں کو بدل رہے ہیں۔ جرمنی بدل گیا، فرانس بدل گیا، اٹلی بدل گیا۔ وہ قومیں جو زوال اور موت کا شکار تھیں ، از سرِ نو جوان ہو رہی ہیں ، زندہ ہو رہی ہیں۔ اقبال اس تبدیلی کو بڑی اُمید کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ زمانے کی یہ تبدیلیاں مسلمانوں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیں ؟ قومیں کس چیز سے زندہ ہوتی ہیں ؟ اپنے قلب و روح کے اضطراب سے۔ جس طرح قطرۂ خونِ جگر معجزۂ ہنر کی تخلیق کرتا ہے اسی طرح قومیں بھی قطرۂ خونِ جگر کی شورش سے بیدار ہوتی ہیں۔ اقبال اپنے دل میں دیکھتے ہیں۔ ان کے دل کے اضطراب نے ان کی شاعری کو پیدا کیا ہے۔ کیا یہی اضطراب اجتماعی طور پر روحِ مسلماں میں موجود نہیں ہے؟ نظم کے آخری بند میں اس خواب کا ذکر ہے جب عالمِ نو پردۂ تقدیر سے ظہور میں آئے گا اور مسلمان حیاتِ نو حاصل کر لیں گے۔ مسلمان اور ان کے ساتھ شاید اقبال بھی۔
	نظم کا آغاز زمانے کے بارے میں چند خیالات سے ہوا تھا۔ ہم اسے پہلے ذہن کے ذریعے پڑھنا شروع کرتے ہیں ، لیکن نظم جوں جوں آگے بڑھتی ہے اس میں جذبہ، ایک گہرا جذبہ، شامل ہوتا جاتا ہے۔ پہلا بند ختم ہوتے ہوتے ہم اس جذبے کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ اب خیالات خیالات نہیں رہتے، اب وہ صرف ذہن کی چیز نہیں ہیں ، اب ان میں اقبال کا دل بھی شامل ہو گیا ہے۔ ہمیں اس دل کی دھڑکن صاف سنائی دینے لگتی ہے۔ اور ہم اس کی دھڑکن کے نغمے سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ وہ مستی جو اقبال کے دل میں ہے اور نظم کی تخلیق کا باعث ہے، ہمارے دلوں میں بھی سرایت کرنے لگتی ہے۔ نظم کی نغمگی اور بحر کا آہنگ اس مستی کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ہم اقبال کے تجربے میں زیادہ سے زیادہ شریک ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ طبلِ جنگ کی طرح ہے جس کی آواز سے مست ہو کر لوگ جان دینے پر تیار ہو جاتے ہیں ، یا اُس حدی کی طرح جس کی لے پر جنگل میں بھٹکے ہوئے اونٹ بھی کارواں میں واپس آ جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم اقبال کے تجربے میں ڈوب جاتے ہیں۔ ان کے محسوسات کی گہری زندگی ہمارے رگ و پے میں اُترنے لگتی ہے۔ اب ہم اقبال کے خیالات سے واقف نہیں ہوتے، اب ہم اقبال کے دل میں اتر جاتے ہیں اور اس کی گہرائیوں میں ہمیں ایک ایسی زندگی محسوس ہونے لگتی ہے جو اس سے پہلے ہم نے محسوس نہیں کی تھی۔ ہم اپنے وجود میں زیادہ حساس، زیادہ مضطرب، زیادہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ اب نظم کا آہنگ ہمارے لہو کا آہنگ بن جاتا ہے۔ اور نظم ہمارے سر سے نیچے اُتر کر ہمارے پورے وجود کو پگھلاتی ہوئی ہمارے تلوؤں میں گونجنے لگتی ہے۔ ہم نظم کے سامنے برہنہ ہو جاتے ہیں ، جس طرح بچہ اپنی ماں کے سامنے برہنہ ہو جاتا ہے اور روحِ شاعری ہمارے وجود کو نہلانے لگتی ہے۔ ہمارے وجود کی ساری کثافتیں دھُل جاتی ہیں اور ہم ایک دھڑکتے ہوئے دل کی طرح اقبال کے تجربے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ اور جب اقبال کی نظم ختم ہوتی ہے اور ہم ہوش میں آتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے--- ہم اسے بیان کر سکیں یا نہ کر سکیں ، کہہ سکیں یا نہ کہہ سکیں --- کہ ابدیت کی تاریخ میں ایک معجزۂ فن کا اِضافہ ہو چکا ہے۔

اقبال: ایک شاعر، قوسین، لاہور، ۱۹۸۷ء
٭٭٭


اقبال : آفاقی شاعر

ڈاکٹر سید شوکت سبزواری 

	اقبال کا ہمارے یہاں گہرا، وسیع اور تفصیلی مطالعہ ہوا ہے۔ اس عظیم شاعر کی شاعری، حکمت، پیغام، سیرت و شخصیت کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو بحث میں نہ آیا ہو اور جس کا ہر پہلو روشن نہ ہو گیا ہو۔ چنانچہ ایک عام ناظر جب اقبال کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہے، اور بقول شخصے پیسے کو پیسنا گوارا نہیں ہوتا تو اسے سخت حیرانی ہوتی ہے کہ اقبال کے متعلق کیا کہے اور اس کے کلام و پیام کے کس گوشے یا پہلو کو روشنی میں لائے۔ عرب کے اس شاعر کی طرح جسے اپنے شعری سرمایہ کو دیکھ کر احساس ہوا تھا۔
ھل غاورالشعرا من متر دم۔ (شاعروں نے ہمارے کہنے کے لیے چھوڑا ہی کیا ہے کہ ہم کہیں )
	اقبال پر اظہار خیال کرنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے کہنے کے لیے اب کچھ نہیں رہا۔ اس سلسلے میں افکار و خیالات کے لوگ اقبال کے کلام و پیام سے متعلق مختلف اثر لے رہے ہیں تو اس کا یہ احساس شدید سے شدید تر ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اقبال کا مطالعہ عموماً ہمارے یہاں ضروری انداز  سے ہوا مختلف خانوں میں بانٹ کر اور بعض صورتوں میں ایک خانے کو دوسرے سے الگ رکھ کر۔ اقبال کو پڑھایا گیا۔ اس پر جامع تجزیاتی بحثیں ضرور ہوئیں لیکن مجموعی طور پر کل کی حیثیت سے اس طرح کی کوشش کہ اس کی فنی اور ادبی شخصیت آئینہ ہو جائے اور پیام و الہام کی مکمل تصویر ایک نظر میں سامنے آ جائے کم سے کم میری نظر سے نہیں گزری۔ کسی نے اقبال پر قومی شاعر کی حیثیت سے بحث کی کسی نے ملی شاعر کی حیثیت سے ،کسی نے اسے اسلامی شاعر قرار دیا کسی نے آفاقی شاعر، کسی نے اس کے تصور خودی پر زور دیا کسی نے فلسفہ بے خودی پر۔ اس بحث کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس نے اقبال کو ملی شاعر قرار دیا تھا اس نے اس کے قومی شاعر ہونے سے انکار کیا اور جس نے اسے اسلامی شاعر بتایا تھا اس نے اس کی شاعری کے عالمی پہلو کی نفی کی۔ اسی طرح جِس نے تصور خودی پر زور دیا تھا۔ اس نے اقبال کو انفرادیت پسند کہا اور جس نے فلسفہ بے خودی پر زور دیا تھا اس نے اس کو اجتماعیت پسند ٹھہرایا۔
	جزئیاتی بحث کا نتیجہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ ناظر کے سامنے پوری حقیقت نہیں آتی حقیقت کے چند پہلوؤں پر اس کی نظر جاتی ہے (مشہود حکیم شاعر سنائی نے حدیقۃ الحقیقۃ میں جزئیاتی انداز نظر کو ایک مثال سے سمجھایا ہے کہ چار نابینے ایک ہاتھی دیکھنے گئے کسی نے سونڈ کو چھوا، کسی نے پاؤں کو۔ ایک کے ہاتھ میں دُم آ گئی۔ ایک ایسا بھی تھا جس نے پیٹ کو مس کر کے ڈیل ڈول کا اندازہ لگایا۔ ہاتھی کے اس جزوی مطالعے کے بعد جب یہ واپس ہوئے تو ان کے تاثرات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ ایک کہتا تھا ہاتھی ستون کی طرح ہے، دوسرا کہتا تھا ہر گز نہیں ہاتھی لٹھ کی طرح ہے۔ ہر ایک مثال بے تشبیہ نہیں۔ سنائی کا مطلب یہ ہے کہ مطالعہ کرنے والا اپنی نظر کو کسی ایک پہلو تک محدود رکھے گا تو حقیقت کے صرف اسی ایک پہلو تک اس کی رسائی ہو گی۔ کل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلو نظر میں رکھے جائیں )۔
	اقبال کی شاعری کا موضوع بہت وسیع ہے۔ اس میں اتنی ہی وسعت ہے جتنی اس رنگا رنگ کائنات میں ہے۔ اقبال نے حیات و کائنات کے حقائق و مسائل کو فکر کی جنگاہ بنایا۔ اور ان میں پیچیدگی تھی اس لیے اس پیچیدگی کا پرتو اقبال کے کلام پر پڑا لیکن وقت نظر سے کام لے کر بظاہر متضاد کیفیات و احوال میں جس انداز سے اس نے توازن قائم رکھا اس کی داد نہیں دی جا سکتی۔ اقبال نے ہر چیز کو اس کی جگہ دی وہ صرف فلسفہ خودی کا مبلغ نہیں بے خودی کا مبلغ بھی ہے۔ دونوں کی حدود ہیں۔ دونوں کی قیود ہیں۔ خودی کی حدیں ختم ہوتے ہی بے خودی کی حدیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اقبال نے ان حدوں کی تعیین کی ہے یہ اور بات ہے کہ ان کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی ہم نہ کر سکیں ، اور گریباں کے چاک کو داماں کے چاک سے ملا دیں۔
	یہ جزوی انداز نظر کا اثر ہے کہ بعض حضرات اقبال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اسلامی شاعر ہیں اور اسلامی شاعر کے وہ یہ معنی بتاتے ہیں کہ ان کے مخاطب صرف مسلمان ہیں۔ ان کا پیغام مسلمانوں کے لیے ہے۔ انھوں نے دنیا کو مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کر کے مسلمان کی صلاح و فلاح کی کوشش کی۔اس میں شبہ نہیں کہ اقبال نے مسلمانوں کو مخاطب کیا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی صلاح و فلاح کی کوشش کی لیکن یہ صحیح نہیں کہ ان کے مخاطب صرف مسلمان ہیں یا ان کا پیغام صرف مسلمانوں  کے لیے ہے یا مسلم و غیر مسلم کے امتیاز کی نوعیت اقبال کے یہاں کالے گورے، سامی غیر سامی،مشرقی و مغربی، ہندی و چینی کی طرح لازمی اور ابدی ہے۔ فلسفہ اقبال کی روح توازن ہے۔یہ توازن حیات و کائنات کی متضاد اور متصادم کیفیات کا مزاج ہے جو ان میں اعتدال قائم رکھنے سے حاصل ہوا۔ اقبال نے مسائل حیات میں توازن رکھ کر گویا کائنات کا مزاج پیش کیا ہے۔
	اس سلسلے میں سب سے پہلے اقبال کی نظم ’’شعاع امید‘‘ پر نظر جاتی ہے۔اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ آفتاب نے اپنی شعاعوں سے کہا کہ جب تم ظلمت کدہ عالم کو جگمگا نہیں سکتیں تو آوارہ گردی سے فائدہ؟ آؤ میرے دل میں سما جاؤ۔ اس پر ایک شوخ کرن بولی۔مجھے تنویر کی اجازت مرحمت ہو میں اس ظلمت کدے کو نور اور روشنی میں نہلاؤں گی۔ اس نظم کا آخری شعر ہے:۔
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
	اس شعر سے اقبال کے کلام و پیام کا رخ متعین ہوتا ہے۔ شوخ کرن اقبال کا کلام  ہے کرن کا کام ہے تاریکی کے پردوں کو چاک کرنا اور شب کو پھاڑ کر سحر کرنا۔ اس میں مشرق و مغرب کی تمیز نہیں۔جہاں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہو۔ کرن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہاں چمکے اور اس اندھیارے کو دور کرے۔چنانچہ اول اول اقبال نے برصغیر پاک ہند کو جو آویزشوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور یہ کہہ کر اہل وطن کے دل میں حب وطن کی شمع روشن کی:
اجاڑا ہے تمیز ملت و آئین نے قوموں کو
مرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہے
اس کے بعد اسلامی دنیا کی زبوں حالت نے شاعر کو ملت مسلم کی طرف متوجہ کیا:۔
یہی مقصودِ فطرت ہے یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولؐ ہاشمی 
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت و مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوڑا تو جمعیت کہاں 
اور جمعیت ہُوئی رخصت تو ملّت بھی گئی
	اسلامی ممالک میں رنگ، نسل، خون، تہذیب اور قومیت کے محدود تصور کی بنا پر پھوٹ پڑی تھی اس لیے اقبال نے ان کی بڑھی ہوئی لے کو مُسکر قرار دے کر کہا:۔
	نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ۔ خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مُسکرات رنگ و نسل کا امتیاز اپنی جگہ معیوب نہیں۔ واختلاف السنتکم والوانکم
زبانوں کا اختلاف اور رنگوں کا اختلاف سے زبانوں اور رنگوں کے اختلاف کی مصلحت معلوم ہوتی ہے اور :
وجعلنا کم شعوباً وقبائل  لتعارفوا         ہم نے تمہارے گروہ اور قبیلے بنائے تاکہ تمہاری شناخت ہو۔
	میں نے عرض کیا تھا کہ اقبال کے فلسفہ حیات کی روح توازن ہے۔ اقبال نے ہر شے کو خاص  جگہ دے کر اور حدود و قیود میں محصور رکھ کر اپنے پیش کردہ نظام حیات میں توازن قائم کیا ہے۔ وطن دوستی اپنی جگہ مستحسن جذبہ ہے اس صورت میں قابلِ قدر ہے جب اپنی مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھ کر بالاتر اور برتر جذبہ ملت پرستی سے نہ ٹکرائے۔ ٹکراؤ کائنات کے ہم آہنگ صد رنگ نظام کی روح کے منافی ہے۔ اس وسیع پہناور اور نا محدود فضا میں بے شمار سہارے اپنے اپنے محوروں پر گردش کر رہے ہیں۔ان میں سے کوئی دوسرے کی حدوں میں قدم نہیں رکھتا۔
لاالشمس ینبغی لھاان تدرک القمر ولااللیل سابق النھار   سورج چاند کا راستہ نہیں روکتا اور نہ رات دن سے آگے جانے کی کوشش کرتی ہے
	قوم و ملت میں وہی نسبت ہونی چاہیے جو چاند اور سیارے میں ہے۔قوم اپنے مرکز پر رہے اور ملت اپنے مرکز پر۔ دونوں اپنے اپنے دائروں میں رہیں۔ اپنے اپنے محوروں پر گردش کریں تو نظامِ حیات نظام شمسی کی طرح خطرے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ قومیت نے اپنے دائرہ سے نکل کر ملت کی حدود میں قدم رکھا یا نسل نے مذہب سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اس کا انجام تباہی ہے۔
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی !
اڑ گیا دنیا سے تو ماند خاکِ رہ  گزر
	اقبال کا نقطۂ نگاہ عالمی ہے۔ ملک پر بھی ان کی نظر ہے اور ملت پر بھی۔وہ  نسل کو بھی دیکھتے ہیں اور اصل کو بھی۔ نظر کی یہ عالمیت، عمومیت، بلندی، اور بے باکی اقبال نے جہاں رنگ، نسبت سے براء ت کی ہے:
غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے 
تو اے مرغِ حرم اڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا
وہاں مذہب کے اس تصور کو بھی مستحق نہیں سمجھا۔ جو انسان کو انسان سے جدا کرے۔
آنکھ میری اور غم میں سرشک آباد ہو 
امتیاز ملت و آئیں سے دل  آزاد ہو
اخوت اقبال کا مسلک ہے اور محبت اس کا ایمان۔
ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی  زباں ہو جا
	اخوت اور محبت انسانی رشتوں کی بنیاد ہے۔ ایک ملک کے باشندے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ یہ فطری جذبہ ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے ملک کے باشندوں سے نفرت کی جائے۔ اسی طرح ایک عقیدہ رکھنے والوں میں بھائی چارہ ہوتاہے۔ یہ تقاضائے فطرت ہے۔ اقبال کہتاہے کہ صحیح اور سچے مذہب کا ماننے والا ہرگز اس شخص سے نفرت  نہیں کر سکتا جو خلوص کے ساتھ اس سے اختلاف کرے کیوں ؟ اس لیے کہ
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
	انسانیت کا رشتہ ایک مُقدّس رِشتہ ہے جس کی عظمت کا اسلام بھی قائل ہے اور اقبال بھی۔  اقبال کی یہ دلی آرزو تھی.
سر میں جز ہمدردیِ انساں کوئی سودا نہ ہو
	اقبال اس معنی میں آفاقی نہیں .
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمر قند
	اور نہ اس معنی میں آفاقی ہے کہ وہ مسلمانانِ عالم کو قید مقام سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے.
نہ چینی و عربی وہ نہ رومی و شامی
سما سکا نہ دو عالم میں مردِ آفاقی
	وہ اپنے وسیع بالاتر اور بلند تر نقطۂ نگاہ کے اعتبار سے آفاقی ہے۔ ملک و ملت کے رنگارنگ استوار رشتوں کے باوجود اقبال نے وحدت انسانیت کا  خواب دیکھا۔ اس نے اپنے ملک کو بھی چاہا۔ اپنی ملت سے بھی لو لگائی اور انسان سے بھی استوار رہا۔ اس کے ثبوت میں اقبال کے آخری مجموعہ کلام ’’ضرب کلیم‘‘ کی جو ۱۹۳۶ء میں شائع ہوا تھا۔ ایک چھوٹی سی نظم ’’مکہ اور جنیوا‘‘ پیش کی جا سکتی ہے۔ فرماتے ہیں :۔
اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام 
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم
تفریق ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم
آخری شعر خاص طور سے غور کے قابل ہے:
مکہ نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام یا جمعیت آدم
	اقبال مخلوق خدا کی کسی ایسی تقسیم کے قائل نہیں جس سے وحدتِ انسانی کی جڑ کٹے اور انسان انسان سے بچھڑ کر ایک دوسرے کا گلا کاٹے۔ وطنیت سے جو جذبہ اقبال کے نزدیک ایک فطری جذبہ ہے  محض اس بنا پر اقبال نے برأت کی تھی:
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی  ہے اس سے
	یہ امر ایک سیاسی بصیرت رکھنے والے کے لیے شاید دلچسپی کا باعث ہو کہ مخلوقِ خدا کی اس تفریق کا ذمہ دار اقبال کے نزدیک مغرب ہے۔ مغرب نے اوّل اوّل محدود قومیت کا سبق پڑھا کر ملت کو  جو ایک اٹوٹ وحدت ہے، ٹکڑیوں میں بانٹا جس طرح قینچی سونے کے ٹکڑے کرتی ہے.
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز
اور آخر آخر ملتوں میں پھوٹ ڈلوا کر وحدتِ انسانیت کو پارہ پارہ کیا.
تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود 
	اقبال کی خار اشگاف نظر گہری عمیق، عام اور جامع تھی۔ اس نے حیات و کائنات کا حکیمانہ مطالعہ کیا۔ ذرّے ذرّے کا دل چیر کر حقیقت تک رسائی حاصل کی اس لیے اقبال کی شاعری میں وسعت بھی ہے۔ اور گہرائی بھی۔ اس کا پیغام عام ہے۔ اس کا خطاب کسی خاص ملکیت و ملت سے نہیں۔ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والا انسان اس کا مخاطب ہے اس کی زبان بستہ رنگ خصوصیت نہیں۔ نوعِ انسان کی رہنما اور ترجمان ہے :۔
بستہ رنگ خصوصیت نہ ہو میری زباں ۔۔۔نوعِ انساں قوم ہو میری وطن میرا جہاں 

خیابان اقبال ،پشاور،مرتبہ:محمد طاہر فاروقی ، خاطر غزنوی، ۱۹۶۶ء
٭٭٭




اقبال کا لفظیاتی نظام

شمس الرحمن فاروقی

	اقبال کے اُردو فارسی کلام میں اتنی طرح کے اور اتنی جگہ کے تصورات و نظریات ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ جلوہ افروز ہیں کہ ہر طرح کا قاری ان کے یہاں اپنے لیے قابلِ قبول مال ڈھونڈ نکالتا ہے۔ چنانچہ فاشزم کا نام لیوا ہو یا انسانی آزادی کا علم بردار، صوفی ہو یا انقلابی، مشرق کا پرستار ہو یا مغربی فکر کا دلدادہ، سیدھا سادا مسلمان ہویا اصل کا خاص سومناتی، قرآن و حدیث میں تفکر و تدبر کرنے والا ہو یا مارکس و لینن کا مرید، ہر شخص کی جھولی بھرنے کے لیے ان کے یہاں جواہر ریزے موجود ہیں۔ موضوع اور فکر کے اسی تنوع کے باعث یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے اپنے تعصبات کو ترک کر کے شاعر اقبال کے اسرار میں غوطہ زن ہوں اور جس چیز کو ہم ظاہر و باہر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کی گہرائیوں میں اتریں۔
	یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب اقبال کی شاعری اتنی آسانی سے خود کو منوا لیتی ہے تو پھر اس کی چھان بین اور تجزیے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کے افکار ہی کے میدان میں گھوڑے کیوں نہ دوڑائے جائیں ، خاص کر جب کہ اس عمل میں فکری موشگافیوں کے امکان زیادہ ہیں۔ اس کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ اقبال کی اہمیت قائم ہی اسی وجہ سے ہوئی کہ وہ شاعر ہیں۔ لہٰذا ان کی شاعری کو ترک کر کے کسی بھی چیز کو اختیار کرنا، چاہے وہ جذباتی طور پر ہمارے لیے کتنی ہی خوشگوار کیوں نہ ہو، ادبی مطالعے کے ساتھ بے ادبی کے علاوہ خود اقبال کے ساتھ بے انصافی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اقبال کے افکار جس شکل میں بھی ہمارے سامنے ہیں وہ اُن کی شاعری ہی کے مرہون منت ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ انھی افکار کو کسی اور پیرائے میں بیان کر دیا جائے اور پھر بھی وہ اقبال کے افکار و آثار رہ جائیں۔ وہ ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ ہو یا ’’طلوع اسلام‘‘ یا ’’ساقی نامہ‘‘ یا ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کسی بھی نظم میں کوئی ایسا خیال نہیں ہے جسے خالص اقبالؔ کی ملکیت کہا جا سکے یا جس کے بارے میں یہ دعویٰ ہو سکے کہ اگر یہ خیال اقبال اس نظم میں نہ رکھتے تو دنیا اس سے محروم رہ جاتی۔ ان خیالات میں جدت، لذت، حسن جو کچھ بھی ہے وہ محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اقبالؔ کی زبان میں بیان ہوتے ہیں ، ورنہ ان کا کوئی  Patent  اقبال کے پاس نہیں تھا۔ وہ ہم آپ ہوں یا اقبال کا بڑے سے بڑا شارح، ان خیالات کو نظم سے الگ بیان کیا جائے تو اقبالؔ کی نظم نہیں ، بلکہ ایک نسبتاً یا کلیتاً بے روح بیان وجود میں آئے گا۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ’’جبرئیل و ابلیس‘‘ جیسی نسبتاً سادہ نظم کا بھی کوئی لفظی ترجمہ ایسا ممکن ہے کہ پوری نظم اس میں برقرار رہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ اقبال کی شاعری بہت جلد اپنی عظمت یا خوبی کو اپنے آپ منوا لیتی ہے لیکن تنقیدی طریقِ کار کا تقاضا یہ ہے کہ خود اس بات کی وجوہ تلاش کی جائیں کہ یہ شاعری اتنی تیزی سے متاثر کیوں کرتی ہے اور پھر یہ کہ اس کو دوسرے شعرا سے کس طرح ممتاز کیا جائے، یعنی وہ کیا اسلوبیاتی یا اظہاری خصوصیات ہیں جن کی بنا پر اقبال کی انفرادیت ثابت ہو سکتی ہے؟ آخری سوال اس لیے اہم ہے کہ اچھے اور بُرے شاعر کے درمیان حدّ فاصل اکثر یہی انفرادیت ہوتی ہے کیوں کہ شاعری کے مجرد خواص یعنی استعاراتی اور علامتی طرز اظہار، جدلیاتی الفاظ، ابہام وغیرہ تو ہر اچھے شاعر کے یہاں کم و بیش موجود ہی ہوتے ہیں۔
	اگر اقبال کی فکری انفرادیت ان کی شاعرانہ انفرادیت کے تحت نہ رکھی جائے بلکہ اسے قائم بالذات مان لیا جائے تو پھر اقبال کے کلام کی مفصل شرح یا ان نظموں کی توضیح کافی ہے، اصل کلام کے مطالعے کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شاعری زبان کی وہ کیفیت ہے جس میں اُسے مخصوص شدت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ بقول جارج اسٹینر ممکن ہے ادب کے بغیر زبان قائم ہو سکے لیکن زبان کے بغیر ادب قائم نہیں ہو سکتا۔ زبان کی مخصوص شدت سے مراد یہ ہے کہ ادب میں استعمال ہونے والی زبان مکمل معنویت کی کوشش کرتی ہے۔ اس میں کوئی لفظ بلکہ کوئی حرف بے کار یا برائے بیت نہیں ہوتا اور یہ مکمل معنویت اس مخصوص فن پارے کی حد تک جس میں زبان برتی گئی ہے، فقیدالمثال اور یکتا ہوتی ہے۔ یعنی وہ معنویت پوری پوری کسی اور لسانی ترتیب، حتیّٰ کہ کسی اور فن پارے میں بھی نہیں سما سکتی۔ہمارے متقدمین اس نکتے سے پوری طرح آگاہ تھے۔ اِسی وجہ سے انھوں نے شعر میں حشو اور تناسب اور لفظی و معنوی ہم آہنگی کی بحثیں اٹھائیں۔ افسوس کہ انھوں نے ان مسائل کو فکری اساس نہ عطا کی اور بعد میں آنے والے نقادوں نے اُن کی عمارت کو منہدم کرنے کے لیے جو منطقی دلائل استعمال کیے وہ متقدمین کے یہاں فکری اساس کی کمی کے باعث بہت کار گر ثابت ہوئے۔ ابن خلدون سے لے کر نکات الشعرا میں میرؔ کے منتشر خیالات اس بات کی دلیل ہیں کہ زبان کو شعر بلکہ شاعری کا سرچشمہ اور بنیاد سمجھنا ہماری شعریات کا ایک حصّہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ زبان کے تفصیلی محامکے پر قدرت ہونا استاد بننے کی پہلی شرط رہا ہے۔آتش کا شاعری کو مرصع سازی کہنا زیادہ بنیادی حقیقت تھا اور اس حقیقت کے نظر انداز ہو جانے کی وجہ سے جگرؔ کو ’’کاری گران شعر‘‘ پر طنز کرنے کا موقع ملا۔ جگر صاحب کو یہ خیال نہیں رہا تھا(یا ان کے زمانے میں لوگ اس بات کو بھول چکے تھے) کہ اگر شعر میں اثر نہیں ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ شاعروں کی جگہ ’’کاری گرانِ شعر‘‘ نے لے لی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کاری گری کا فن شاعروں نے بھلا دیا ہے۔ بقول جارج اسٹینر، ارسطو کا نظریہ اس افلاطونی حقیقت کو پس پشت ڈال دیتا ہے کہ زبان جب موسیقیاتی امکانات سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے تو وہ ہم میں یہ صلاحیت پیدا کر دیتی ہے کہ ہم شاعرانہ صداقت اور تصدیق پذیر صداقت میں فرق کر سکیں۔ شعر میں اثر پیدا ہی اس کاری گری سے ہوتا ہے جو زبان اور موسیقی کے امتزاج کی سعی کرتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ان حقائق کی دوبارہ چھان بین ان نقادوں اور مفکروں کی مرہونِ منت ہے جنھوں نے شاعری کی زبان اور شاعرانہ زبان پر لسانیاتی طریقوں سے غور و خوض کیا ہے۔ ان میں ماسکو لسانیاتی مکتب (Moscow Linguistic Circle) کے اراکین، خاص کر رومان جیکبسن (Roman Jakobson) کا نام قابل ذکر ہے۔ جیکبسن کا کہنا ہے کہ وہ ماہر لسانیات جو زبان کے شاعرانہ تفاعل سے ناواقف ہے اتنا ہی مجہول الزمان ہے جتنا وہ نقاد جو لسانیاتی مسائل اور طریق کار سے بے خبر یا اُن سے لا پروا ہے۔ اسٹینر کی یہ بات قابل توجہ ہے کہ اب ہم اس مفروضے کی روشنی میں عمل پیرا ہیں کہ استعاراتی زبان میں بہت سی ایسی تصدیقیں (Verification) اور بے جوڑ پن Inconsistencies) (ہوتے ہیں جو داخلی ہیں اور جن کی توجیہہ اپنی منطق، بلکہ علامتی منطق،آپ رکھتی ہے۔ آئی، اے رچرڈ نے معنی سے بحث کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام تنقیدی مسائل کی شاہ کلید ان سوالوں میں ہے کہ معنی کیا ہے؟ جب ہم معنی کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو اس وقت کیا کر رہے ہوتے ہیں اور وہ چیز ہے کیا، جس کو ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب میں اس نے چار طرح کے معنی کی نشان دہی کی تھی جنھیں اس نے مفہوم، محسوس، لہجہ اور ارادہ کا نام دیا تھا۔ ان کی تفصیل میں جائے بغیر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سوالوں کی اہمیت کے پیش نظر جواب، یعنی معنی کی چار اقسام اور یہ بیان کہ یہ سب یا ان میں سے بیش تر معنی شاعری میں بہ یک وقت موجود رہتے ہیں ، بہت دور رس نہیں معلوم ہوتا۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہم اتنی بھی دور پہنچ جائیں تو بہت ہے۔ بیدلؔ کا یہ کہنا کہ پس ہر نقشے کہ می بینی حرفے ست کہ می شنوی، چاسر کے اس مصرعے کی یاد دلاتا ہے کہ ’’آواز کچھ نہیں ہے مگر ہوا ہے،شکستہ۔‘‘ان دونوں حقائق کے پیچھے شاعری کا وہی تصور کارفرما ہے کہ شاعری میں زبان اور موسیقی ہم آہنگ ہو جاتے ہیں ، یعنی ایک عنصر دوسرے کا اظہار کرتا ہے۔ رچرڈز کی بیان کردہ معنی کی چار قسمیں بھی آہنگ کے ذریعہ ایک دوسری سے منسلک ہیں۔ والٹر آنگ (Walter Ong)اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آواز کیا ہے، اسے وجود میں لانا یعنی اسے سننا چاہیے۔
	آہنگ یا موسیقی کا اس قدر اہمیت کے ساتھ ذکر میں اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ شاعری خاموش بیٹھ کرپڑھنے کی چیزنہیں ہے بلکہ علی الخصوص اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ شاعری کا آہنگ وہ آہنگ نہیں ہے جو ساز یا ترنم یا بہ قول سردار جعفری ’’لحنِ داؤدی ‘‘کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے۔ شاعری کا آہنگ دراصل وہ موسیقی ہے جو خاموش ہی پڑھنے میں نمایاں ہو جسے ساز یا ترنّم کی ضرورت نہ ہو بلکہ جسے آپ چپ چاپ پڑھیں تو الفاظ آپ کو از خود سنائی دیں۔ کبھی بلند، کبھی پست، کبھی تیز، کبھی مدھم، ان کی ہزار شکلیں آپ کے داخلی سامعے پر اثر انداز ہوں گی۔ یہ آہنگ معنی کا مرہون منّت یا  اُس کا تابع ہوتا ہے لیکن اس کے بغیر معنی کا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ والٹر آنگ کے کہنے کا اصل مفہوم یہی ہے۔ شعر کی ان جہتوں کا مطالعہ ہی دراصل شعر فہمی کا صحیح راستہ ہے۔
	اس مفروضے کو قائم کرنے کے بعد اقبال کا شاعرانہ حُسن اُن کے افکار پر مقدم ہے اور شاعرانہ حسن کا مطالعہ دراصل شاعرانہ زبان کا مطالعہ ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقبال کی شاعرانہ زبان کے خواص کیا ہیں اور اُن کا لفظیاتی نظام کن عناصر سے مرکب ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ سوال اور قائم کرنا ہوں گے، اس لیے کہ ہر بڑا شاعر زبان کو اپنے طور پر برتتا ہے اور ایک شاعر کا طریق کار دوسرے کو سمجھنے کے لیے لازماً کار آمد نہیں ہو سکتا۔ عمومی مشابہتیں ضرور ہوتی ہیں لیکن بدلی ہوئی جزئیات اور تفصیلات کی بنا پر مشابہتیں مختلف بڑے شعرا کے یہاں متنوع صورت حال پیدا کرتی ہیں مثلاً اردو کے چار عظیم ترین شعرا میرؔ، غالبؔ، انیسؔ، اور اقبالؔ مناسبت لفظی کے ماہر ہیں۔ یعنی ان کے یہاں الفاظ گذشتہ سے پیوستہ آتے ہیں ، الفاظ موضوع کی مناسبت سے ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور موضوع کے لحاظ سے مناسب تلازموں کے حامل اور مختلف طرح کی رعایتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اقبال کے یہاں مناسبت الفاظ تسلسل کا کام کرتی ہے کیوں کہ ان کے بہت سے الفاظ اگلے بلکہ بہت بعد میں آنے والے الفاظ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اُن کی رعایتِ لفظی منتشر اور بہ ظاہر بے ربط اشعار یا بندوں کو مربوط کر دیتی ہے۔ میر انیس کے یہاں تسلسل واقعات سے قائم ہوتا ہے، غالب اور میرؔ کے یہاں تسلسل کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ میری مراد یہ ہے چاروں شاعر لفظی در و بست کے ماہر ہیں ، اس مہارت کا اظہار انھوں نے بعض مشترک اور بعض انفرادی طریقوں سے کیا ہے۔ اسی طرح ان چاروں کے یہاں بعض کلیدی الفاظ ہیں ، یہ ایک عمومی مشابہت ہے۔ لیکن جزئیات کا مطالعہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ کلیدی الفاظ کا استعمال اقبال کے یہاں غالبؔ اور دوسرے شعرا سے مختلف ہے۔ ان انفرادیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے میں دو سوال قائم کرتا ہوں اور دو مثالوں سے اپنی بات واضح کرتا ہوں۔
(۱) کیا اقبالؔ کے کلام میں موضوعاتی ارتقا کا کوئی رشتہ ان کے کلیدی الفاظ سے ہے؟
(۲) اقبالؔ کی طویل یا نسبتاً طویل نظموں میں موضوعاتی انتشار کے باوجود وحدت اور قوت کیونکر پیدا ہوئی ہے؟
	پہلے سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ کلیدی الفاظ کو شاعر محض کسی تاثر یا خیال کو واضح کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یا محض اس لیے کہ کسی مقررہ نظم یا شعر کے سیاق و سباق میں ان الفاظ کا استعمال فطری طور پر کیا جا سکتا ہے۔ یہ کلیدی لفظ کی کم ترین صورت ہوئی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کلیدی لفظ کسی مخصوص تجربے یا ذہنی مشاہدے کے استعارے کے طور پر استعمال ہو اور آخری صورت یہ ہے کہ کلیدی لفظ علامتی پیرایہ اختیار کر لے۔ کلیدی لفظ کی پہچان یہ ہے کہ وہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ وہ جس قدر معنی خیز ہوتا جاتا ہے شاعرانہ اظہار کو اسی قدر قوت ملتی جاتی ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اقبال اپنے تمام موضوعات کو اشارتاً یا صراحتاً بانگ درا میں بیان کر چکے تھے۔ بال جبریل اگرچہ بانگِ درا سے بہت بہتر مجموعہ ہے لیکن اس وجہ سے نہیں کہ اس میں انھوں نے کسی نئے موضوع یا خیال کو برتا ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ بال جبریل کلیدی الفاظ سے پرُ ہے اور ان الفاظ میں علامتی یا استعاراتی رنگ آ گیا ہے یہ کلیدی الفاظ بیش تر وہی ہیں جو بانگ درا میں استعمال ہو چکے ہیں لیکن بانگ درا کی حد تک کلیدی الفاظ کے استعمال میں نہ تو تعدادی کثرت ہے اور نہ معنوی۔ شروع کی نظموں میں یہ الفاظ تقریباً رسمی استعمال کا حکم رکھتے ہیں اور صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شاعر کو ان الفاظ سے ایک شغف ہے۔ بالِ جبریل میں رسمی استعمال کم سے کم لیکن استعمال کا وقوع کثیر تر ہو جاتا ہے۔ ضرب کلیم میں یہی کلیدی الفاظ بہت کم ہو جاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال کا شاعرانہ مزاج جو شروع سے استعاراتی اور علامتی اظہار پر مائل تھا، اپنے معنوی ارتقا کی منزلیں لفظی ارتقا کی شکل میں طے کرتا رہا۔ بال جبریل اس کا نقطۂ عروج ہے۔ ضرب کلیم اور ارمغانِ حجاز میں شاعری کم ہوتی جاتی ہے اور اسی اعتبار سے کلیدی الفاظ کا وقوع اور ان کی معنویت بھی گھٹتی جاتی ہے۔ اقبال کی بہترین شاعری یعنی بال جبریل اس تناظر میں نہ دیکھی جائے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کہ ضرب کلیم میں ظاہری پختگی اور قوتِ بیان کی شان و شوکت کے باوجود شاعرانہ اظہار کی جگہ بیانیہ، حکیمانہ، عارفانہ جو بھی کہیے لیکن بانگ درا اور بال جبریل سے مختلف اور کم کام یاب اظہار کی فراوانی کیوں ہے۔
	اقبالؔ کے بعض کلیدی الفاظ حسب ذیل ہیں : گل، بو، شمع، خون، تجلّی، لالہ، شاہین، شعلہ، حسن، عشق، دل، عقل ، خورشید، فی الحال میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ لالہ (مرکب یا مفرد شکل میں ، یعنی محض لالہ یا لالہ و گل، لالۂ صحرا وغیرہ) کا وقوع اور معنویت اقبالؔ کے شاعرانہ ارتقا کے ساتھ کس طرح منسلک ہے۔
	دوسرا سوال نہ صرف اس لیے ضروری ہے کہ اقبال ؔکے لفظی تناسبات، ان کے در و بست کا نظام، رعایتیں اور مناسبتیں اُن کی نظموں کو اردو کی اعلیٰ ترین شاعرانہ روایت (میرؔ، غالبؔ، انیسؔ) کا امین اور اس کو بلند تر منزلوں سے روشناس کرنے والا شاعر ٹھہراتی ہیں ، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ سوال اکثر اٹھا ہے کہ ان کی طویل اور نسبتاً طویل نظموں کو نظمیں کہا ہی کیوں جائے جب ان میں کسی طرح کا واقعاتی، بیانیہ، حتیّٰ کہ جذباتی تسلسل بھی نہیں ہے۔ ’’خضر راہ‘‘ اور ’’شمع و شاعر‘‘ کی مثال سامنے ہے۔ نقادوں نے جذباتی تسلسل کا اگر فقدان نہیں تو کمی یقیناً ’’مسجد قرطبہ‘‘ میں بھی محسوس کی ہے۔ ایسی صورت میں یہ سوال سنجیدگی سے اٹھایا جا سکتا ہے کہ ان کو نظمیں نہ کہہ کر محض پریشان خیالات یا بہت سے بہت اقوال زرّیں ٹائپ کی چیزوں کا مجموعہ کیوں نہ کہا جائے؟ اگر یہ صحیح ہے کہ انتشار کی کثرت کا الزام ان پر عائد ہوتا ہے تو اقبال بحیثیت نظم گو ناکام ٹھہرتے ہیں اور اُن کی شاعرانہ عظمت کا جو تاثر فوری طور پر قائم ہوا تھا، یا تو غلط ہے یا پھر ہمیں نظم کی تعریف دوبارہ متعین کرنا ہو گی۔
	ظاہر ہے کہ نظم کی تعریف دوبارہ اس طرح متعین کرنا کہ اقبالؔ کی مبینہ غیر نظم نظمیں بھی اس تعریف کے تحت شامل ہو سکیں ایک مشکل کارروائی ہے۔ لیکن یہ غیر ضروری کارروائی بھی ہے کہ کیوں کہ اگر یہ ثابت ہو سکے کہ اقبال کی نظموں میں وحدت اور تسلسل موجود ہے تو نئی تعریف وضع کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اقبالؔ کی طویل اور نسبتاً طویل نظموں میں تسلسل اور وحدت کے ذریعہ قوت دراصل ان کے لفظی در و بست کی بنا پر وجود میں آئی ہے۔ اس کلیے کو ثابت کرنے کے لیے مَیں ’’ذوق و شوق‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں اس نظم کی بڑائی اس کے موضوع میں نہیں دیکھتا، اس معنی میں کہ موضوع اگر مختصراً بیان کیا جائے تو وہ محض اتنا ہے کہ یہ نظم رسول مقبولؐ کی شان میں ہے جس میں عالم اسلام کا بھی کچھ ذکر آ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس موضوع کو اقبالؔ کے علاوہ بھی بہت لوگوں نے برتا ہے۔ خوش عقیدگی کی بنا پر مجھے ہر نعتیہ نظم اچھی لگ سکتی ہے لیکن یہ اس کی خوبی کا تنقیدی جواز نہیں ہو سکتا۔ علاوہ بریں خود اقبالؔ نے بھی اس طرح کی درجنوں نظمیں کہی ہیں۔ پیام مشرق کا ایک پورا حصہ اسی موضوع کے لیے وقف ہے، پھر ’’ذوق و شوق‘‘ کی تخصیص کیا ہے؟ کلینتھ بروکس نے ورڈ زورتھ کے ایک مشہور سانیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر اس موضوع کو مختصراً بیان کیا جائے تو اس میں کوئی ندرت نہیں ، لہٰذا نظم کی خوبی کے وجوہ کہیں اور تلاش کرنا ہوں گے۔ بالکل یہی حال ’’ذوق و شوق‘‘ کا ہے۔
	لالہ کے بارے میں یوسف سلیم چشتی نے بعض پتے کی باتیں کہی ہیں۔ وہ اگرچہ اس لفظ کی کلیدی اہمیت اور معنوی ارتقا کو نہیں سمجھ پائے ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کی اہمیت کو محسوس کرنے میں اولیت انھیں کو حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں : 
’’جس طرح پرندوں میں شاہین اقبال کا محبوب ہے اسی طرح پھولوں میں گل لالہ انھیں بہت مرغوب ہے۔ یوں تو ہر تصنیف میں اس کا تذکرہ آیا ہے لیکن پیام مشرق میں انھوں نے اسے طرح طرح سے سجایا ہے۔۔۔۔۔۔ گل لالہ سے اقبال کی دل چسپی کا سبب یہ ہے کہ جس طرح انکو شاہین میں مردِ مومن کی صفات نظر آتی ہیں ، اسی طرح وہ اس پھول میں عاشق کی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہیں ‘‘۔
	یہ توجیہہ ہمیں بہت دور نہیں لے جاتی لیکن اس سے لالے کی معنویت کا ایک پہلو مختصراً ضرور روشن ہوتا ہے۔ 
	جیسا کہ میں شروع میں کہہ چکا ہوں ، کلیدی لفظ کی قوت اس کی تکرار میں ہے بشرطیکہ تکرار میں معنویت بھی وسیع تر ہوتی جائے یا بدلتی جائے۔ مجرد تکرار بھی شاعر کی دل چسپی اور اس کے ذہن کی جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یعنی یہ بات کہ کوئی کلیدی لفظ کتنی بار استعمال ہوا ہے، ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ شاعر کو اس لفظ کی معنویتوں سے کتنی دل چسپی ہے اور بالواسطہ یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے علامتی یا استعاراتی اظہار میں شدّت اب کتنی ہے۔ چناں چہ پوری بانگ درا میں لفظ لالہ مرکب یا مفرد شکل میں بائیس بار استعمال ہوا ہے۔ بال جبریل جو بانگِ دراکی تقریباً ایک تہائی ہے، لیکن اس میں لالہ مرکب یا مفرد شکل میں اکیس بار اور ضرب کلیم میں (جو تقریباً بال جبریل کے ہی اتنی ہے) محض آٹھ بار استعمال ہوا ہے۔ ارمغان حجاز کے اردو حصّے میں اس کا وقوع صرف تین بار ہے۔
	اگر زیادہ دور نہ جا کر صرف یوسف سلیم چشتی کی بات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ بانگ درا میں لالے کا ذکر کثرت سے ہے لیکن بال جبریل میں یہ کثرت اتنی زیادہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس مجموعے میں اقبال کا ذہن لالہ اور اس کی معنویتوں کی طرف زیادہ مائل تھا۔ ضرب کلیم اور ارمغان میں اس لفظ کی قلت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگرچہ اس کتاب میں اقبال اسلام اور اسلامیوں کے بارے میں باتیں اتنی ہی شدومد سے کر رہے ہیں جو بال جبریل میں تھی لیکن لالے کے ذکر کی قلت یقیناً کم سے کم اس معنویت کی قلت ہے جس کی طرف یوسف سلیم چشتی نے اشارہ کیا ہے اور اگر اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیے کہ بال جبریل میں لالے کا پھول صرف عاشق کی روایتی اور رسمی معنویت کا حامل نہیں ، بلکہ اس میں کئی پہلو اور بھی ہیں تو اس بات کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اقبالؔ کا شاعرانہ ارتقا بانگ درا سے بال جبریل تک رسمیاتی سے استعاراتی اور علامتی اظہار کی طرف ہے اور بال جبریل کے بعد سے بیانیہ، خطابیہ اور کم معنویت کے حامل اظہار کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
	بانگ درا کے شروع میں گل لالہ کا وقوع اور اس کی معنویت دیکھنے کے لیے یہ مثالیں  ملاحظہ ہوں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیے کہ شروع کی تینتیس۳۳ نظمیں لالے کے ذکر سے خالی ہیں اس کا اولین وقوع ’’تصویر درد‘‘ ہے اور یہاں رعایت لفظی کا کھیل نظر آتا ہے ؎
اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے کچھ گل نے
 چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری 
	رعایت لفظی صرف لالہ اور نرگس اور گل کی نہیں ہے،لطیف تر رعایت لفظ ورق کی ہے جس کا مفہوم پھول کی پنکھڑی بھی ہے اور داستان کا صفحہ بھی۔ دوسری بار لالہ تقریباً اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے جس کی طرف یوسف سلیم چشتی نے اشارہ کیا ہے۔
اگر سیاہ دلم داغ لالہ زار تو ام
وگر کشادہ جبینم گل بہار تو ام
	’’تصویر ِدرد ‘‘کے شعر میں بھی لالے کا پھول شاعر کی داستان کا ورق بن کر ایک طرح کے سوزِ دروں کا حامل نظر آتا ہے لیکن اس میں طنز کی بھی کیفیت ہے کہ لالہ اور گل اور نرگس شاعر کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ حضرت سلطان جی کے دربار میں دل کی سیاہی لالے کے داغ کا بدل ٹھہرتی ہے اور سوزِ عشق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ نظم ’’محبت ‘‘کا آخری شعر بھی لالے کے داغ سے عشق کے داغ کا تلازمہ قائم کرتا ہے۔ حصہ سوم کی پہلی نظم ’’بلاد اسلامیہ‘‘ میں پہلی بارلالۂ صحرا کا ذکر اسلام اور اس کی تہذیب کے لیے بظاہر ایک سطحی اور کچھ نامناسب استعارے کے طور پر ملتا ہے
 لالۂ صحرا جسے کہتے ہیں تہذیب حجاز
	لیکن پورے تناظر میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو لالۂ صحرا کے استعارے کے ذریعہ ظاہر کرنا دراصل علامتی ہے۔ کیوں کہ لالے کا سوز دروں اور داغ عشق پہلے حوالوں سے قائم ہو چکے ہیں۔ اب اس کی سرخی اور گل گونی اس پر مستزاد ہے۔ سُرخ جو کام یابی، عزت داری، شاہی، جلال اور خون کا رنگ ہے، لفظ صحرا لالے کے پھول کی مضبوطی اور اس کی قوت نمو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو بھی کہ یہ پھول اگرچہ نامساعد اور بیابانی ماحول میں اُگا لیکن اس کی فطرت جیسی تھی اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایسے ہی حالات میں کھلے۔ لالۂ صحرا کی تنہائی اس کی یکتائی اور ورڈزورتھ کے گل بنفشہ کی طرح اس کی ناقدری کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح لالۂ صحرا اسلام اور اُس کے بہترین پھول یعنی مرد مومن اور اس کی خاک پیدائش یعنی حجاز، ان سب تصورات کو محیط ہو جاتا ہے۔ ’’شمع اور شاعر‘‘ کے دوسرے شعر میں مرد مومن کی ناقدری اور تنہائی کا تصور لالۂ صحرا کو شاعر کا استعارہ بنا دیتا ہے  ؎
در جہاں مثلِ چراغِ لالۂ صحرا ستم
نے نصیبِ محفلے نے قسمتِ کاشانۂ
چراغ کا لفظ ممکن ہے یہاں غالبؔ کے لا جواب مصرعے
نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا
نے اقبال کے ذہن میں ڈالا ہو۔ لیکن لالے کی سُرخی اور سوز اور شاعر کے کلام کی روشنی، بصیرت اور اس کے دل کے سوز کے اعتبار سے کس قدر مناسب ہے۔ اس شعر میں لالۂ صحرا =مرد مومن= شاعر کا تصوّر قائم ہوتا ہے اور نظم ’’مرد مسلمان‘‘ میں اس کی توثیق ہوتی ہے کہ اقبالؔ کا مرد مومن اور شاعر دونوں ایک ہیں۔ ایک طرف تو مرد مومن شبنم کی طرح جگر لالہ میں ٹھنڈک ڈالتا ہے اور دوسری طرف شاعر اپنے کلام کی شیرینی اور عارفانہ بصیرت کی وجہ سے اس کو سکون سے ہم کنار کرتا ہے۔ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان میں جو صفات مومن کی ہیں وہی شاعر پر بھی منطبق ہو سکتی ہیں۔ شمع اور شاعر کے دوسرے بند میں یہی لالۂ صحرا یعنی شاعر پھر ظاہر ہوتا ہے لیکن شاعر محفل اور کاشانے کا نقیب نہ ہو کر سنسان صحرا میں تنہا کھڑا ہے تو وہ بھی اسی وجہ سے کہ وہ روایتی لالۂ صحرا بن کر رہ گیا ہے۔ اس میں عقل کی روشنی ہے لیکن عشق کا سوز نہیں   ؎
یوں تو روشن ہے مگر سوزِ دروں رکھتا نہیں 
شعلہ ہے مثلِ چراغِ لالۂ صحرا ترا
	’’خضر راہ‘‘ میں لالے کا پھول جو ٹوپی کی شکل کا ہے، ترکی ٹوپی(جو اس زمانے میں اسلامی تہذیب کی علامت بن گئی تھی) سے ملحق ہو کر لالہ اور اسلام کے تلازمے کو مستحکم کرتا ہے   ؎
ہو گئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
	’’طلوع اسلام‘‘ میں لالے کا ذکر تین بار آیا ہے اور تینوں بار اسلام اور اسلامیوں کی علامت کی شکل میں ہے   ؎
۱۔	ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے
۲۔	حِنا بندِ عروسِ لالہ ہے خونِ جگر تیرا
۳۔	سرِ خاکِ شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
	پہلے دونوں مصرعوں میں ’’شمع اور شاعر‘‘ کا چراغِ لالۂ صحرا جو بے سوز تھا پھر نمودار ہوتا ہے لیکن لالہ جو خود چراغ تھا اب اس میں چراغِ آرزو یعنی سوزِ دروں کی بات ہے اور وہ لالہ جو کبھی ذاتی لہو کے فروغ سے روشن تھا، اب قلب مسلم کے تازہ خون سے رنگین ہو گا۔اس طرح لالہ اسلام کے ماضی، حال اور مستقبل اور مردِ مومن کی قوتِ تخلیقِ نو اور شاعر کی روشن ضمیری کو بیک وقت ظاہر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ شہیدوں کی خاک پر بھی شاعر یعنی مرد مومن کا جو لہو ٹپکا ہے جو برگِ لالہ کی شکل میں ٹپکا ہے۔
	اب یہ بات ظاہر ہو چکی ہو گی کہ بانگِ درا کے آخر تک آتے آتے لالہ اور علی الخصوص لالۂ صحرا روایتی عشق و سوز یا کام یابی اور فتح مندی کے ساتھ(بلکہ اس سے بڑھ کر) ایک علامتی رنگ اختیار کر گئے ہیں۔ بال جبریل میں لالے کی پہلی نمود نظم یا غزل نمبر۹ میں ہی ہوتی ہے جب کہ بانگِ درا کی تینتیس۳۳ نظمیں اس کے ذکر سے عاری ہیں۔ یہاں گل و لالہ انسان کی علامت بننے لگتے ہیں اور خاص کر اس انسان کی جو حساس اور صاحبِ شعور ہے   ؎
نبیل تر ہیں گل و لالہ فیض سے اس کے
نگاہِ شاعرِ رنگیں نوا میں ہے جادو
یعنی شاعر اور مرد مومن اور حساس انسان تینوں لالے کے توسط سے قریب تر آ جاتے ہیں۔ نمبر۱۶ میں بھی گل و لالہ حساس اور لطیف طبع انسان کا استعارہ ہے   ؎
تو برگِ گیاہے نہ دہی اہلِ خرد را
او کشتِ گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند
 	سنائی والی نظم کے بعد ساتویں غزل کا لا جواب مطلع دوبارہ شاعر اور چراغ لالہ کو متحد کرتا ہے   ؎
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن 
مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمن
	یوسف سلیم چشتی کی بیان کردہ مناسبت کے علاوہ تنہائی پسندی اور تصنع سے گریز کے اعتبار سے لالہ اور شاہین میں ایک اور مرکزِ اتحاد اس سلسلے کی پچپن ویں غزل یا نظم میں نظر آتا ہے۔ اگر شاہین قصر سلطانی کے گنبد پر نشیمن نہیں بنا سکتا تو لالہ بھی خیاباں کی پُرتکلف فضا میں پھول پھل نہیں سکتا۔اس طرح لالہ شاہین سے ہوتا ہوا پھر مرد مومن اور شاعر تک پہنچتا ہے   ؎
پنپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل سوز
کہ سازگار نہیں یہ جہانِ گندم وجو 
	جس نظم میں یہ تمام علامتی جہتیں اور تاریخی شعور اور روایتی مفاہیم یک جا ہو گئے ہیں ، وہ بالِ جبریل کی شہرۂ آفاق نظم ’’لالۂ صحرا‘‘ ہے۔ آٹھ شعروں کی یہ نظم ایک گہری جھیل کی طرح ہے جس میں تمام علامتوں اور استعاروں کے دریا ضم ہو جاتے ہیں۔ اس نظم کے اشعار میں بھی حسبِ معمول ظاہراربط کی کمی ہے جس کی وجہ سے نظم سے زیادہ غزل کا تاثر فوری طور پر پیدا ہوتا ہے، لیکن لالۂ صحرا کو شاعر اور عالمِ اسلام، مرد مومن، اس کی قوتِ نمو، انسان اور اس کا جذبۂ عمل، ان سب کی علامتوں کے طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ الگ الگ اشعار میں الگ الگ علامتیں ہیں جن کا نقطۂ ارتکاز خود شاعر کی ذات ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل اس وقت ضروری نہیں ہے لیکن یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ فلسفیانہ یا تبلیغی انداز میں اس نظم کی تشریح اس کا ربط زائل کر دیتی ہے۔
	ضرب کلیم میں جو خال خال تذکرے گل لالہ کے ہیں وہ  بال جبریل کے مقابلے میں روایتی انداز کے ہیں۔ لیکن ’’مرد مسلمان‘‘ میں جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ، جگر لالہ کی ٹھنڈک کا ذکر علامتی رنگ رکھتا ہے۔ باقی نظموں میں جہاں کچھ استعاراتی لہجہ ہے بھی تو وہاں مفہوم سمٹا ہوا اور تکراری ہے مثلاً:
۱۔	مری نواسے گریبانِ لالہ چاک ہوا
۲۔	اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
	لالۂ صحرا میں ربط کی ظاہری کمی کا ذکر مجھے ذوق و شوق تک لاتا ہے جس میں لفظی در و بست اور رعایتِ لفظی کے ذریعہ ربط دکھانا میرا مقصود ہے۔
	اقبالؔ کا کلام رعایت لفظی سے تقریباً اتنا ہی مملو ہے جتنا غالب کا کلام ہے۔ لیکن بوجوہ نقادوں کی نگاہ اس نکتے پر نہیں پڑی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اقبال کا کلام اپنی اِنفرادیت کے باوجود اجنبیت کا تاثّر اسی وجہ سے نہیں پیدا کرتا کہ وہ اُردو شاعری کی بہترین لفظیاتی روایت کا روشن نمونہ ہے۔ ذوق و شوق کی کامیابی کا راز رعایت اور مناسبت کا یہی التزام ہے جس پر مستزاد یہ کہ الفاظ بلکہ مصرعوں میں گذشتہ کی بازگشت یا آئندہ کی پیش آمد بہت ہے۔
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں 
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں 
	مندرجہ ذیل رعایتوں پر غور کیجیے۔ نظر، چشمہ، ندیاں ، رواں ، دشت، ندیاں۔ چشمہ، صبح، نور، نظر۔ رواں (رواں بہ صنم رائے مہملہ بہ معنی جان)۔ نظر، آفتاب۔ الفاظ کے اُلٹ پھیر سے متعدد تراکیب بنتی ہیں جو مناسب اور بامعنی ہیں مثلاً: نور نظر، قلب دشت، چشمۂ زندگی، آفتاب صبح، نور صبح وغیرہ۔
حسنِ ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجود
دل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں 
نکات و رعایات: حسن، نمود۔ پردہ، وجود، نمود۔ چاک، صبح۔ ازل، نور، نگاہ کا زیاں اور چشمۂ آفتاب(یعنی سورج کو دیکھ کر آنکھ خیرہ ہو جاتی ہے) پردۂ وجود کا چاک ہونا اور روشنی کا پردے سے نکلنا یعنی آفتاب کا افق پر ظاہر ہونا۔ ہزار، ایک۔ حُسنِ ازل اور نور کی ندیاں۔ ازل سے ذہن زال کی طرف منتقل ہوتا ہے، بمعنی پُرانا، سفید۔ زندگی، وجود۔ داخلی قافیہ۔
سُرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شب
کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں 
نکات و رعایات: ہزارسود، رنگ برنگ۔ نور کی ندیاں ، سُرخ و کبود۔ طیلساں بمعنی رنگین ریشمی نرم چادر اور بمعنی لسان، بولنے میں ماہر۔ سحاب بہ معنی بادل جو گرجتا ہے، اس کے اعتبار سے طیلساں بمعنی لسان کا اشارہ نامناسب نہیں۔ داخلی قافیہ ’چھوڑ گیا، دے گیا۔ سُرخ و کبود پچھلے شعر کے داخلی قافیوں سے ہم آہنگ ہے۔
گرد سے پاک ہے ہوا برگِ نخیل دھل گئے
ریگِ نواحِ کاظمہ نرم ہے مثلِ پریناں 
رعایات: طیلساں اور پرنیاں بمعنی سیاہ ریشمی کپڑا۔ فرانسیسی میں بالو اور ریشمی کپڑے دونوں کو Sable کہتے ہیں۔ بو دلیر نے کہیں اس لفظ کو دونوں معنی میں بھی استعمال کیا ہے۔ ممکن ہے اقبالؔ کے ذہن میں فرانسیسی لفظ رہا ہو۔ دشت کے اعتبار سے ریگ اور ریگ کے اعتبار سے گرد۔ نرم، برگ۔ سحاب، پاک(یعنی بال سے پانی گرتا ہے جو ہر چیز کو پاک کرتا ہے) سحاب، دھل گئے۔ دھُل گئے، ندیاں ، چشمہ۔ کاظمہ مدینہ منورہ کا نام ہے لیکن اس کے لغوی معنی ہیں ضبط کرنے والی، یعنی نرم مزاج۔ لہٰذا کاظم کے اعتبار سے نرم۔ کاظمہ بمعنی مدینہ منورہ کے اعتبار سے پاک۔ اور مدینہ کو منورہ کہتے ہیں ، اس کے لحاظ سے چشمۂ آفتاب اور نور کی ندیاں۔ داخلی قافیہ(ہوا، کاظمہ)
آگ بجھی ہوئی اُدھر ٹوٹی ہوئی طناب ادھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں 
نکات و رعایات: آگ کے اعتبار سے ٹوٹنا بمعنی ختم ہونا جو چاہ کنوں کی اصطلاح میں پانی رکنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مقام، گذرے۔ کارواں ، رواں۔ داخلی قافیہ(ادھر، ادھر) 
آئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہی 
اہلِ فراق کے لیے عیشِ دوام ہے یہی
نکات و رعایات: مقام، دوام (قائم و دائم) عیش بمعنی آرام اور عیش بمعنی رہنا، اس لحاظ سے عیش اور مقام میں بھی مناسبت ہے۔ اس کے اوپر والے شعر میں مقام گذرنے کی صفت ہے اور اس شعر میں ٹھہرنے کی۔ آئی اور مقام کا ربط ظاہر ہے۔ صدائے جبرئیل، حسن ازل کی نمود۔فراق اور عیش میں صنعتِ تضاد ہے۔
	اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس بند کا ہر مصرع ایک دوسرے سے پیوستہ ہے اور ایک شعر کے  الفاظ دوسرے بلکہ بہت بعد کے شعروں میں جھلک اٹھتے ہیں۔ الگ الگ  دیکھیے تو اشعار میں کوئی خاص ربط نہیں۔ عربی قصیدہ نگاروں کے انداز میں رسمی آغاز ہے جس میں شاعر اپنی معشوقہ کی قیام گاہ یا فرودگاہ پر جا کر اس کے حسن کو یاد کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مناظر فطرت کا بھی بیان کرتا ہے۔قصیدہ نگار بیانیہ تسلسل کا خیال رکھتا ہے لیکن اقبال لفظی در و بست اور گذشتہ الفاظ کی بازگشت کا ہنر استعمال کرتے ہیں اور معنوی ربط ہلکا ہونے کے باوجود بند کے تمام اشعار کو رشتۂ سیمیں میں باندھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری شعر جو بالکل غیر متعلق ہے، پورے منظر نامے پر Commentary معلوم ہونے لگتا ہے۔ جوش صاحب تو دو مصرعوں میں مناسب الفاظ نہیں لا سکتے اور یہاں پورے بند کے تمام مصرعے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ اسی طرح اس بند کے الفاظ اگلے بندوں میں بھی جھلکتے نظر آتے ہیں۔ یہ دوہرا در و بست ہے۔ ملاحظہ ہو:
کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیات
کہنہ ہے بزمِ کائنات تازہ ہیں میرے واردات
نکات و رعایات: زہر کی تلخی اور شراب کی رعایت سے زہر اور مے۔حیات اور کائنات۔بزم کے لیے کہنہ اور واردات کے لیے تازہ کس قدر مناسب ہے، علی الخصوص جب واردات کے دوسرے معنی یعنی ’’آنے والے ‘‘بھی ذہن میں رکھے جائیں۔داخلی قافیہ۔ پچھلے شعر میں مقام ہے یہی کی مناسبت سے تازہ ہیں میرے واردات کتنا معنی خیز ہو گیا ہے۔
کیا نہیں اور غزنوی کار گہہِ حیات میں 
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومنات
نکات و رعایات:صرف و نحو کی وجہ سے اہل حرم کے سومنات ذومعنی ہے۔ ایک نثر یوں ہو گی:
سومنات کب سے اہل حرم کے منتظر بیٹھے ہیں۔ دوسری نثریوں ہو گی: اہل حرم کے بنائے ہوئے سومنات کب سے منتظر بیٹھے ہیں (کہ وہ آ کر انھیں منہدم کر دیں )پچھلے شعر میں کائنات کو بزم کہا تو اس کی رعایت سے حیات کو کار گہہ کہا۔ کارگاہ بھی ذومعنی ہے یعنی کارخانہ اور عمل کی جگہ۔ کارخانے کے معنی کی روشنی میں غرنوی کتنا مناسب ہو جاتا ہے کہ کارخانۂ حیات میں اصنام تعمیر ہو رہے ہیں اور غزنوی بت شکن تھا۔ داخلی قافیہ (حیات اور سو منات ) جو پچھلے شعر کے داخلی قوافی سے مربوط ہے۔
ذکرِ عرب کے سوز میں فکرِ عجم کے ساز میں 
نے عربی مشاہدات نے عجمی تخیلات،
نکات و رعایات: ذکر و فکر۔ مشاہدات و تخیلات۔ سوز و ساز۔ ذکر کے اعتبار سے مشاہدہ اور مشاہدے کے لحاظ سے سوز کتنا برمحل ہے۔ یعنی پہلے مشاہدہ کیا۔ پھر مشاہدہ کی ہوئی چیز کا ذکر کیا، اس سے سوز پیدا ہوا۔ فکر کے اعتبار سے تخیّلات بھی بہت برمحل ہے اور تخیلات کے اعتبار سے ساز کا حسن تو غیر معمولی ہے، کیوں کہ شاعری کا تعلق تخیل سے بھی ہے اور ساز سے بھی۔ ساز کے اعتبار سے نے بھی دیدنی ہے۔ داخلی قافیہ (مشاہدات) بھی گذشتہ اشعار کو پیوست کرتا ہے۔
قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں 
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
نکات و رعایات: دجلہ اور فرات کی لہروں کو گیسو کہا۔ ان کی سیاہی شہادت اور ماتم حسین کی یاد دلاتی ہے لیکن ان کی چمک پانی کی فراخی پر دال ہے جو کسی پیاسے کی تلاش میں ہے۔ قافلہ کا لفظ گذرے ہیں کتنے کارواں سے اور حجاز و حسین ؓذکر عرب کے سوز سے مربوط ہیں۔
عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدۂ تصورات
نکات و رعایات: شرع و دیں ، فقہی معنی کے علاوہ لغوی معنی (دونوں راستے کے معنی میں مستعمل ہیں ) میں بھی برمحل ہیں۔ لغوی معنی (راستہ) قافلۂ حجاز کے راستے کو اس شعر سے منسلک کرتے ہیں اور راستے کے دونوں طرف نصب بت (بت کدۂ تصورات) غزنوی اور سومنات کی یاد دلاتے ہیں۔ پہلا مصرع عشق پر ختم اور دوسرا عشق پر شروع ہوتا ہے (یہ ایک صفت بھی ہے) عشق کی تکرار اہل فراق اور بت کدۂ تصورات عجمی تخیلات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ داخلی قافیہ (اولیں ، شرع و دیں )
صدقِ خلیلؓ بھی ہے عشق صبر حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
نکات و رعایات: صدق خلیل اور صبر حسین دونوں قافلۂ حجاز کی یاد دلاتے ہیں۔ خلیل اللہ کا مختصر قافلہ جو ان کے اہل خانہ پر مشتمل تھا، حرم کی تعمیر کرتا ہے اور حسین کا قافلہ جو اُن کے اہل خانہ پر مشتمل تھا، حرم کا استحکام کرتا ہے۔ (نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسمٰعیل) پچھلے شعر میں دل اور نگاہ شروع میں مذکور دل کے سود اور نگاہ کے زیاں سے مربوط ہیں اور یہ تینوں (عقل و دل و نگاہ) صدق خلیل سے مربوط ہیں ، کیوں کہ خلیل اللہ نے عقل کے مشاہدے اور نگاہ کی بصارت کودل کی گواہی سمجھا لیکن جب ان پر عشق آشکار ہوا تو انھیں معلوم ہوا کہ اصلیت تو کچھ اور ہے۔ جو کچھ اُن کی آنکھ دیکھتی گئی وہ جھوٹا ثابت ہو گیا، اس طرح نگاہ کا زیاں دل کا سود بنا۔ معرکۂ وجود کا تعلق صبر حسین سے بھی ہے کہ انھوں نے جان کھو کر زندہ وجود حاصل کیا ا ور حسنِ ازل کی نمود سے بھی، کہ جس کے ذریعہ پردۂ وجود چاک ہوتا ہے اور حقیقت نمودار ہوتی ہے۔ یعنی حسین نے پردۂ زندگی چاک کیا تو انھیں حسن ازل کی نمود کا دیدار ہوا
آیۂ کائنات کا معنی دیریاب تو،
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
نکات و رعایات: آیۂ کائنات کا دیریاب معنی (یعنی رسول مقبولؐ) اس معنی میں دیریاب ہے کہ بزمِ کائنات تو کہنہ تھی لیکن آپ کا ورود مسعود نسبتاً حال میں ہوا۔ اس طرح تازہ ہیں میرے واردات کا ایک مَفہوم یہ بھی نکلتا ہے کہ شاعر نے آیۂ کائنات کے معنی دیریاب کو اب جا کر حاصل کیا ہے۔ آیہ بمعنی نشانی بھی درست ہے اور بمعنی قرآن کی آیت بھی۔ کائنات کا لفظ پچھلے بند کے قافیے کی یاد دلاتا ہے۔ وہ قافلہ ہائے رنگ و بو جو معنیِ دیریاب کی تلاش میں نکلے ہیں قافلۂ حسین اور قافلۂ خلیل ہیں تو قافلۂ کلیم اللہ بھی ہیں جو خلیل اللہ کی طرح ملک مصر سے مملکت موعود کی تلاش میں نکلے تھے۔ دیریاب کی مناسبت سے قافلوں کا نکلنا کس قدر خوب ہے۔ کاش جوش و فراق کے صدہا صفحات میں ایک شعر بھی ایسی لفظی اور معنوی مناسبتوں کا حامل نکلتا۔
جلوتیانِ مدرسۂ کور نگاہ و مردہ ذوق
خلوتیانِ مے کدہ کم طلب و تہی کدو
نکات و رعایات: جلوتیان مدرسہ اور خلوتیان مے کدہ میں ترصیع ہے۔ مدرسہ کی رعایت سے جلوت اور مے کدہ کی رعایت سے خلوت، کیوں کہ مے خوار صرف اپنے ہی میں گم ہوتا ہے، اُسے دنیا و مافیا کی خبر نہیں ہوتی۔ جلوت اور خلوت۔ مدرسہ اور نگاہ (کیوں کہ مدرسے میں پڑھنے کا کام ہوتا ہے) مے کدہ اور طلب اور کدو۔ پچھلے شعر کا رنگ و بو اس شعرکے نگاہ اور طلب سے مربوط ہے کیوں کہ نگاہ کا تعلق رنگ (یعنی دیکھنے) اور بو کا تعلق طلب مے (یعنی بوئے مے کے ذریعے مے کی یاد آنے) سے ہے۔ کور نگاہ کا ربط کم طلب اور مردہ ذوق کا ربط تہی کدو سے ہے۔ کیونکہ جب آنکھ اندھی ہے تو وہ طلب کیا کرے گی اور کدو کو سکھا کر (یعنی اسے مار کر) اس میں شراب بھرتے ہیں۔ کدو نہ صرف یہ کہ مردہ ہے بلکہ مردہ ذوق بھی ہے کیونکہ اس پر شباب کا اثر نہیں ہوتا۔
میں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ
میری تمام سرگذشت کھوئے ہوؤں کی جستجو
نکات و رعایات: یہ پورا شعر آگ بجھی ہوئی ادھر .... والے شعر کی یاد دلاتا ہے۔ آتش رفتہ آگ بجھی ہوئی ادھر سراغ، کیا خبر، گزرے ہیں کارواں ، کھوئے ہوؤں کی جستجو۔ اور دیکھیے: رفتہ اور سرگذشت (یعنی رفت و گذشت) رفتہ، کھوئے ہوئے۔ سراغ جستجو۔ میرے واردات کا ربط، آتش رفتہ اور کھوئے ہوؤں سے بھی ہے۔ کیوں کہ شاعر پر یہ اسرار اب واضح رہے ہیں یعنی یہ واردات اس پر اب نازل ہو رہے ہیں کہ میری تمام سرگذشت کھوئے ہوؤں کی جستجو ہے اور اس طرح میری، غزل میں ہی آتش رفتہ کا سُراغ مل سکتا ہے۔
خونِ دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورش
ہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہو
نکات و رعایات: موج، پانی، نشو و نما، پرورش۔ موج، خون، رگ، رواں ، لہو۔ پرورش، رواں ، لہو۔ نوا بہ معنی سامان اور ساز بہ معنی سامان کا بھی اشارہ موجود ہے۔ ساز، نور۔ ان الفاظ کا غزل اور سر گذشت سے رشتہ ظاہر ہے۔ نوا رگ ساز ہے اور دل و جگر ساز۔ اس کے علاوہ رگ ساز میں صاحب ساز کا لہو رواں ہونا اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کبھی کبھی مضراب کے بغیر ساز پر انگلیاں پھیرنے میں انگلیاں لہو لہان بھی ہو جاتی ہیں اور مجاز حقیقت بن جاتا ہے۔
فرصتِ کش مکش مدہ ایں دلِ بے قرار را 
یک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تاب دار را
نکات و رعایات: ردیف و قافیہ (بے قرار را، تاب دار را) میں ساز کے تاروں کی تھرتھراہٹ صاف سنائی دیتی ہے۔ خون دل و جگر کا رشتہ کش مکش سے ظاہر ہے۔ گیسوئے تاب دار کا فقرہ گیسوئے تاب دارِ دجلہ و فرات کی یاد دلاتا ہے جہاں حسینؓ پیاسے شہید ہوئے تھے۔ یہاں بھی گیسوئے تاب دار تسلیم جاں کا بہانا بن رہے ہیں اور شکن گیسو کی افزائش اس لیے ہے کہ دل و جگر جو کش مکش اظہار غم میں خون ہو رہے ہیں انھیں شکنوں میں گرفتار ہو کر ہمیشہ کے لیے قرار پا جائیں۔ اس طرح یہ اہل فراق کے لیے دوام ہے یہی سے جا ملتا ہے۔
لوح بھی تو، قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
نکات و رعایات: لوح اور قلم کی رعایت سے کتاب کہنا سامنے کی بات تھی لیکن الکتاب اور اس کے ساتھ وجود کا لفظ ہمیں پھر نظم کے آغاز کی طرف لے جاتا ہے جہاں حسنِ ازل کی نمود ہے اور معرکۂ وجود گرم ہے۔ آبگینہ کے ساتھ محیط اور حباب تو ٹھیک ہی ہے لیکن آسمان کو وسیع ظاہر نہ کر کے صرف آبگینۂ رنگ کہنا دو معنی رکھتا ہے۔ یعنی رنگ بمعنی رنگ بھی ہے اور بمعنی شکل بھی ہے۔ اس طرح آسمان کی شکل آبگینے جیسی اور اس کا رنگ آبگینے جیسا ہلکا ہو جاتا ہے۔ گنبد کے ساتھ آب کا لفظ از خود وسعت کا تاثر پیدا کرتا ہے لیکن ایک مفہوم اور بھی ہے۔ ایک نثر تو یہ ہو گی کہ گنبد آبگینہ رنگ (یعنی آسمان) تیرے محیط میں حباب کی طرح ہے۔ دوسری نثر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تیرے محیط میں جو حباب ہے وہ گنبد آبگینہ رنگ ہے۔ یعنی تیرے سمندر کا ہر بلبلہ آسمان کے برابر ہے۔ دوسرے مفہوم کی روشنی میں محیط اور آسمان دونوں کی وسعت خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔ وسعت کا یہ تاثر اس وقت اور مستحکم ہوتا ہے جب یہ مصرع آیۂ کائنات کا معنیِ دیریاب تو کی طرف راجع کیا جائے کہ خود کائنات محض ایک آیت یا نشانی ہے اور تو اس کا مخفی و دیر یاب معنی ہے، یعنی تو وہ چیز ہے جس کی محض ایک نشانی کائنات جیسی اتھاہ چیز ہے۔ ایسی صورت میں تیرے محیط میں تیرتے ہوئے حباب آسمان کے برابر ہیں تو حیرت کیا ہے۔
	پانی اور نشو و نما کے جو استعارے اور پیکر پچھلے شعر میں قائم ہوئے تھے ان کی توسیع آبگینہ، محیط اور حباب سے ہوتی ہے۔ اگلے شعر میں پانی بمعنی زندگی اور نشو و نما کے ساتھ نور (یعنی چشمۂ نور جو پانی بھی ہے اور روشنی بھی ہے)، ہمیں پھر اول بند کی طرف لے جاتا ہے۔
عالمِ آب و خاک کو تیرے ظہور سے فروغ
ذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
نکات و رعایات: عالم، آب، خاک، ذرہ، ریگ۔ ظہور، فروغ، طلوع ، آفتاب۔ فروغ بمعنی روشن ہونا، آب و خاک کا روشن ہونا براہ راست دشت میں صبح چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں سے مربوط ہے۔ وہ ذرۂ ریگ جو نرم مثل پرنیاں تھا اب پر تو آفتاب سے مستفید ہو کر خود آفتاب بن گیا ہے۔ لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں   ؎
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و با یزید تیرا جمالِ بے نقاب
نکات و رعایات: جلال، جمال، ظہور،طلوع، نمود، فروغ، بے نقاب۔ عالم آب و خاک کے اعتبار سے شوکت سنجر و سلیم اور ذرۂ ریگ کے اعتبار سے فقر جنید و با یزید۔
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
نکات و رعایات: مشہور حدیث کی طرف اشارہ ہونے کے علاوہ بے نقاب اور حجاب میں رعایت ہے۔ ایسی ہی رعایت شوق اور حجاب میں ہے۔ نماز، قیام، سجود میں رعایت بھی ہے اور تدریج بھی۔ اندرونی قافیہ (امام، قیام)
تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب
نکات و رعایات: نگاہ کے اعتبار سے جستجو اور حضور، ناز کے اعتبار سے غیاب و اضطراب۔ یعنی نگاہ کا وصف جستجو اور پھر حضوری ہے جب کہ ناز غیاب (بمعنی پردہ) اور پردہ اضطراب پیدا کرتا ہے۔
تیرہ و تار ہے جہاں گردشِ آفتاب سے
طبعِ زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے
نکات و رعایات: تیرہ و تار، گردش۔ تازہ کے اعتبار سے جلوۂ بے حجاب۔ اس لیے کہ صبح کہ صفت تازگی ہے اور تیرگی کے بعد صبح ہوتی ہے۔ آفتاب گردش میں ہے یا دنیا کو گردش دے رہا ہے۔ جلوۂ بے حجاب پردۂ وجود کی چاکی سے مربوط ہے۔ آفتاب کی گردش میں گردش سیّارہ کی کیفیت ہے یعنی ایسا ستارہ جو روشن نہیں رہ گیا۔ یہ احساس ہمیں عشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدۂ تصورات کی یاد دلاتا ہے کیونکہ عالم کا اصول کارگر عشق ہی ہے۔ وہ نہیں تو آفتاب بھی روشنی گنوا دے گا۔
میری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شب
مجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم، نخیلِ بے رطب
نکات و رعایات: تمام گزشتہ روز و شب کا فقرہ تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو کی یاد دلاتا ہے۔علم نخیل بے رطب اس نخیل سے مربوط ہے جس سے برگ بند اول میں دھل گئے تھے، کیوں کہ نواح کاظمہ میں برگ نخیل کے دھلنے (اب گرد یعنی Confusion سے پاک ہے ہوا کی معنویت اور بڑھ گئی) پر ہی یہ محسوس ہوا کہ میں جس درخت سے برگ دبار کا تمنائی تھا وہ تو بانجھ ہے۔
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیٰ عقل تمام بولہب
نکات و رعایات: معرکۂ کہن جو ضمیر میں تازہ ہو رہا ہے زمیں کے دوبارہ زندہ ہونے کا مترادف ہے اور ساتھ ساتھ ان واردات کا بھی حوالہ ہے جن کی تازگی کا ذکر دوسرے بند میں ہوا۔ پچھلے بند میں بھی طبع زمانہ کے تازہ کرنے کی درخواست وجود محمدیؐ سے کی گئی ہے۔ ضمیر سے مراد Conscience کے علاوہ اندرونِ ذات بھی ہے (ضمیر بمعنی چھپنے والا، چھپا ہوا)، طبع زمانہ کی تازگی جو جلوۂ بے نقاب کے ذریعہ عمل میں آئے گی، دراصل اس معرکۂ کہن کا دوبارہ وجود میں آنا ہے جو حق اور باطل کے درمیان محض عجمی تخیلات میں نہیں بلکہ عربی مشاہدات میں کھیلا گیا تھا۔ ہوا جو گرد سے پاک ہے اور برگ نخیل جو دھلے ہوئے ہیں وہ بھی اسی نئی زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بو لہب کا لغوی مفہوم صاحب شعلہ ہے۔ ابو لہب حسین ہوتے ہوئے بھی داخلی جمال کے مشاہدے سے محروم تھا۔ اسی طرح جس طرح گردش آفتاب بے روح کی بنا پر تیرہ و تار ہے۔ داخلی قافیہ (ہوا، مصطفیٰ)
گاہ بہ حیلہ می برد گاہ بزور می کشد
عشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب
نکات و رعایات: ابتدا و حیلہ اور انتہا زور۔ عشق انسان کو مغلوب کر لیتا ہے اور اسے اہل فراق بنا دیتا ہے۔ نظم کا آخری شعر اس خیال سے مربوط ہے۔ پہلے مصرعے میں اندرونی قافیہ اور دوسرے میں ترصیع۔
عالمِ سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراق
وصل میں مرگِ آرزو ہجر میں لذتِ طلب
نکات و رعایات: نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو اور وصل میں اس کی موت۔ اصل نفس کی موج وہی ہے جو وصل سے دور اور فراق سے نزدیک رکھے۔
عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھا
گرچہ بہانہ جُو رہی میری نگاہِ بے ادب
نکات و رعایات: نگاہ بے ادب اپنا زیاں کرتی ہے لیکن دل کے لیے ہزار سود اسی میں ہے۔ عین، نظر، نگاہ۔
گرمیِ آرزو فراق شورشِ ہائے ہو فراق
موج کی جستجو فراق قطرے کی آبرو فراق
نکات و رعایات: گرمی، شورش، جستجو۔ موج، قطرہ، آبرو۔ موج سے آرزو کا نشو و نما اور آرزو فراق ہے اس لیے قطرے جو مل کر موج بناتے ہیں اُن کی آبرو (دونوں معنی میں ) فراق ہی سے ہے۔ موج کی شورش میں گرمی ہے۔ وہ دریا بھی ہے آتش بھی، جس طرح دشت میں صبح کا سماں۔
مندرجہ بالا تجزیے سے ظاہر ہو گیا کہ پوری نظم در و بست کا شاہ کار ہے۔ خیالات کا انتشار اس قدر ہے کہ ایک ہی بند میں خیال جگہ جگہ بدلتا ہے۔ اس ظاہری بے ربطی کو ہئیتی وحدت دینے کے لیے اقبال نے بند میں اشعار کی تعداد یکساں رکھی ہے اور پوری نظم ترکیب بند میں ہے۔ لیکن یہ کارگذاری بذات خود محض ایک مصنوعی وحدت پیدا کرتی ہے۔ انتشار کے باوجود نظم متحد اور مکمل اسی لیے بنی ہے کہ ہر مصرع ایک دوسرے سے لفظی اور اس طرح داخلی معنوی ربط رکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لفظی در و بست اور رعایات اس نظم میں اتنی ہی ہیں جتنی میں نے اوپر بیان کی ہیں ، یقین ہے کہ اور بھی ہوں گی لیکن ان کے مختصر بیان سے بھی میرے نظریے کی تصدیق ہوتی ہے کہ نظم اور خاص طویل یا نسبتاً طویل نظم میں اقبالؔ کی فن کاری ایک طرح کی یکتائی رکھتی ہے جس کا بدل ممکن نہیں۔ نظم کی قوت دراصل اسی یکتائی میں ہے۔ اس طرح اقبالؔ فلسفی یا مجذوب جو کچھ بھی ہیں اپنی صناعی اور مخصوص نظم سازی کے حوالے ہی سے اپنی شاعرانہ شخصیت کو قائم کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی شاعرانہ شخصیت ان کے مجذوب یا فلسفی ہونے سے قائم ہوتی ہے۔
اقبال کا فن،  مرتبہ: گوپی چند نارنگ، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی، ۱۹۸۳ء	٭٭٭



اقبال کی شاعری کا صوتیاتی نظام


گوپی چند نارنگ


	اقبال کی شاعری اسلوبیاتی مطالعے کے لیے خاصا دلچسپ مواد فراہم کرتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلوبیات لسانیات کی وہ شاخ ہے جس کا ایک سرا لسانیات سے اور دوسرا سرا ادب سے جڑا ہوا ہے۔ ادب کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ موضوعی اور جمالیاتی چیز ہے جبکہ لسانیات سماجی سائنس ہے، اور ہر سائنس معروضی اور تجرباتی ہوتی ہے ادبی تنقید کا معاملہ دوسرا ہے۔ ادبی تنقید موضوعی بھی ہوتی ہے اور معروضی بھی، اس لیے کہ تنقید کا منصب ادب شناسی ہے، اور ادب شناسی کا عمل خواہ وہ ذوقی اور جمالیاتی ہو یا معنیاتی، حقیقتاً تمام مباحث اس لسانی اور ملفوظی پیکر کے حوالے سے پیدا ہوتے ہیں جس سے کسی بھی فن پارے کا بحیثیت فن پارے کے وجود قائم ہوتا ہے۔اسلوبیات اس موضوع کا معروض ہے، گویا یہ ادبی تنقید کا عملی حربہ ہے۔ اسلوبیات طریقۂ کار ہے، کل تنقید نہیں۔ کوئی بھی طریقہ کار کل تنقید نہیں ہو سکتا۔ اسلوبیات اس کا دعویٰ بھی نہیں کرتی۔ یہ دوسرے طریقوں کی نفی بھی نہیں کرتی، چنانچہ اس کو اپنے طور پر بھی برتا جا سکتا ہے اور دوسرے طریقوں سے ملا کر بھی۔ لیکن اسلوبیات کوئی بات بغیر ثبوت کے نہیں کہتی۔ یہ تنقیدی آرا کی صحت یا عدم صحت کے لیے ٹھوس تجرباتی بنیادیں فراہم کرتی ہے، اور اس طرح ادب کے سربستہ اظہاری رازوں کی گرہیں کھول سکتی ہے، یا تخلیقی عمل کے بعض پر اسرار گوشوں پر روشنی ڈال سکتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس بارے میں ایسے ثبوت بھی پیش کر سکتی ہے جنھیں رد نہیں کیا جا سکتا۔ اسلوبیات کے بارے میں یہ بات خاطر نشان رہنی چاہیے کہ اسلوبیاتی مطالعے میں رہنما نظر (Guiding Insight) ادبی اور جمالیاتی ذوق یعنی تنقید ہی سے ملتی ہے لیکن اکثر و بیشتر ایسا بھی ہوتا ہے کہ تجرباتی ذہنی رویے کے دوران ایسے ایسے امور پر نظر پڑتی ہے یا ایسے ایسے نکتے سوجھ جاتے ہیں جن کی مدد سے تنقید کی نئی راہیں سامنے آتی ہیں۔ تنقید اور اسلوبیات میں ادبی ذوق اور سائنسی رویے کے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے سے باہمی لین دین جاری رہتا ہے، اور اس طرح اسلوبیات تنقید سے جو کچھ لیتی ہے اس سے کئی گنا کر کے تنقید کو لوٹا دیتی ہے۔
	ادب کا رشتہ یوں تو تمام انسانی علوم سے ہے۔ ادب انسانیت کی روح اسی لیے ہے کہ اس میں انسان کی تمام ذہنی کاوشوں کی پرچھائیاں دیکھی جا سکتی ہیں اور ہر طرح کے اثرات کا عمل دخل جاری رہتا ہے۔ چنانچہ ادبی تنقید میں جمالیاتی اور ادبی معیاروں کی بنیادی اہمیت کے با وصف مختلف علوم سے مدد لی جا تی رہی ہے، مثلاً فلسفہ ، مذہبیات ، نفسیات ، سیاسیات، عمرانیات وغیرہ سے ادبی تنقید کے مختلف دبستانوں میں مدد لی جاتی ہے، اس بارے میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ لیکن ان علوم اور اسلوبیات میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ان میں سے کسی کا موضوع براہ راست ادب یا ادب کا وسیلۂ اظہار یعنی زبان نہیں ہے، جبکہ اسلوبیات کا موضوع ہی زبان اور اس کا تخلیقی استعمال ہے، یعنی وہ لسانی اظہاری پیکر جس کے ذریعے ادب بطور ادب کے مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے ادبی تنقید میں جو مدد اسلوبیات سے مل سکتی ہے، کسی دوسرے ضابطۂ علم سے نہیں مل سکتی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اسلوبیات ادبی تنقید کا سب سے کارگر حربہ ہے یا یہ کہ اسلوبیات ادبی تنقید کی عملی بنیاد ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
	زیر نظر مضمون میں اقبال کی اردو شاعر کے اسلوبیاتی مطالعے کے صرف ایک پہلو یعنی صوتیاتی نظام کو لیا جائے گا۔ اسلوبیاتی مطالعے کی کئی سطحیں اور کئی پہلو ہو سکتے ہیں ، مثلاً کوئی بھی فن پارہ اظہاری اکائی کے طور پر وجود میں آتا ہے۔ یہ اکائی کلموں سے مل کر بنتی ہے جسے اظہار کی نحوی سطح  کہہ سکتے ہیں۔ کلمے، لفظوں یا لفظوں کے قلیل ترین حصوں یعنی صرفیوں (Morphemes) سے مل کر بنتے ہیں ، جنھیں اظہار کی لفظیاتی یا صرفیاتی سطح کہہ سکتے ہیں اور یہ صرفیے بجائے خود اصوات کا مجموعہ ہوتے ہیں جنھیں اظہار کی صوتیاتی سطح کہہ سکتے ہیں۔ اس مضمون میں اظہار کی سب سے بنیادی سطح یعنی صوتیاتی سطح ہی کے بارے میں غور و خوض کیا جائے گا۔
	صوت کے ضمن میں یہ بدیہی بات ہے کہ صوت کے معنی نہیں ہوتے۔ معنی کا عمل اس سے اوپری سطح یعنی صرفیاتی سطح سے شروع ہو جاتا ہے اور کلمے کی نحوی سطح سے گزر کر فن پارے کی معنیاتی اکائی کے درجے تک پہنچ کر مکمل ہوتا ہے۔ صوت کی سطح خالص آہنگ کی سطح ہے۔ لیکن اگر اس سے فرض کر لیا جائے کہ آہنگ سے مراد معنی کی کلی نفی ہے، تو یہ بھی غلط ہو گا، کیونکہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آہنگ سے ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے فضا سازی یا سماں بندی میں مدد ملتی ہے اور یہ فضا سازی کسی بھی معنیاتی تاثر کو ہلکا، گہرا یا تیکھا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کے ابتدائی دور کی نظم ’’ایک شام،، (دریائے نیکر ہائیڈل برگ کے کنارے پر) ملاحظہ ہو:
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فروش خاموش
کہسار کے سبز پوش خاموش
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں شب کے سو گئی ہے
کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے
نیکر کا خرام بھی سکوں ہے
تاروں کا خموش کارواں ہے
یہ قافلہ بے درا رواں ہے
خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا
قدرت ہے مراقبے میں گویا
اے دل! تو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
	اس نظم کو پڑھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ اس میں سناٹے اور تنہائی کی کیفیت بعض خاص خاص آوازوں کی تکرار سے بھی ابھاری گئی ہے۔ بادی النظر ہی میں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ آوازیں س، ش، خ اور ف کی ہیں جو سات شعروں کی اس مختصر سی نظم میں ۳۵ بار آئی ہیں کسی فن پارے میں خاص خاص آوازوں کا بغیر کسی شعور اہتمام کے درآماً اتفاقی بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر میر تقی میر کی غزل:
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
یا غالب کی غزل:
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
میں صوتیاتی سطح پر آخر ایسی کون سی بات ہے کہ یہ غزلیں گلوکاروں میں ہمیشہ بے حد مقبول رہی ہیں ، اور بعض نے تو ان کے ذریعے اپنی آواز کا ایسا جادو جگایا ہے کہ باید و شاید وجہ ظاہر ہے کہ ان غزلوں میں طویل مصوتوں اور غنائی مصوتوں کے در و بست سے موسیقی کا ایسا امکان ہاتھ آ گیا ہے جو عام طور پر میسر نہیں آتا۔ ایسی مثالیں تقریباً ہر بڑے شاعر کے یہاں مل جائیں گی، لیکن ان کی بنا پر کسی شاعر کے پورے صوتیاتی نظام کے بارے میں حکم نہیں لگایا جا سکتا، صوتیاتی آہنگ کا تعلق بہت کچھ شاعر کی افتادِ طبع اور اس کے شعری مزاج سے ہے جس کی تشکیل بڑی حد تک غیر شعوری طور پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میر کی درد و سوز میں ڈوبی ہوئی نرم لے، درد مندی اور گھلتے رہنے کی کیفیت ان آوازوں سے متعلق نہیں ہو سکتی جن کے ذریعے غالب اپنی معنی آفرینی۔ فکری، تہ داری یا نفسیاتی ژرف بینی یا اسرار ازل کی گرہ کشائی کا جادو جگاتے ہیں۔ اسی طرح اقبال کا فردیت  پر اصرار، عمل کی گرم جوشی، جرأت مندی، آفاق کی وسعتوں میں پرواز کا حوصلہ اور بے پایاں تحرک بھی ایک ایسے صوتیاتی نظام کا تقاضا کرتا ہے جو اس کی معنیاتی فضا سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اس نظام کی اہمیت اس میں ہے کہ اگر اس میں باطنی ارتباط نہ ہو تو شاعری کی ساری معنیاتی فضا درہم برہم ہو جائے، اور وہ رنگ نہ بن سکے جسے شاعر کی آواز یا اس کے شعری مزاج سے تعبیر کرتے ہیں۔ اقبال کے بارے میں یہ بات عام طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ ان کی آواز میں ایک ایسا جادو، ایسی کشش اور نغمگی ہے جو پوری اردو شاعری میں کہیں اور نہیں ملتی۔ ان کے لہجے میں ایسا شکوہ، توانائی، بے پایانی اور گونج کی ایسی کیفیت ہے جیسے کوئی چیز گنبد افلاک میں ابھرتی اور پھیلتی ہوئی چلی جائے۔ اس میں دل نشینی اور دلآدیزی کے ساتھ ساتھ ایک ایسی برش، روانی ، تندی اور چستی ہے جیسے سرود کے کسے ہوئے تاروں سے کوئی نغمہ پھوٹ بہا ہو یا کوئی پہاڑی چشمہ ابل رہا ہو۔ آخر اس فطری نغمگی کا صوتیاتی راز کیا ہے یا اس کا تعلق کن خاص آوازوں سے ہے۔ یہ راز اگر ہاتھ آ جائے تو اس سے اقبال کے پورے صوتیاتی نظام کی گرہ کھل سکتی ہے، لیکن اس کوشش میں :
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
یا 
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
یا ’’پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن‘‘ کے آخری اشعار میں من کی دنیا، تن کی دنیا اور دھن دولت کی دھوپ چھاؤں والے اسلوب کو نظر انداز کرنا ہو گا کیونکہ یہ اقبال کے شعری اسلوب کا ایک رخ یا ایک پہلو تو ہے، کل اسلوب نہیں۔ چنانچہ پوری شاعری کے صوتیاتی مزاج کے تجزیے کے لیے اقبال کے اس کلام کو سامنے رکھنا چاہیے جس سے اقبال کے شعری مزاج کی پہچان ہوتی ہے یا پھر پورے کلام کا تجزیہ مختلف جگہوں سے یوں کرنا چاہیے کہ اس کی صوتیاتی روح تک ہماری رسائی ہو سکے۔
	نامناسب نہ ہو گا اگر سب سے پہلے اقبال کی بعض شاہکار نظموں مثلاً مسجد قرطبہ، ذوق و شوق اور خضر راہ کو لیا جائے، اور دیکھا جائے کہ کیا صوتیاتی سطح پر ان میں کوئی چیز قدر مشترک کا درجہ رکھتی ہے:
سلسلۂ روز و شب، نقش گر حادثات
سلسلۂ روز و شب، اصل حیات و ممات
سلسلۂ روز و شب، تار حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفا ت
سلسلۂ روز و شب، ساز ازل کی فغاں 
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلۂ روز و شب، صیرنی کائنات 
تو ہو اگر کم عیار، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات
تیرے شب و روز کی اور حقیقت کیا ہے
ایک زمانے کی رو، جس میں نہ دن ہے نہ رات!
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کار جہاں بے ثبات، کار جہاں بے ثبات!
اول و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا
نقش کہن ہو کہ نو، منزل آخر فنا
	اس بند کی وہ یک نوعی آوازیں جو ذہن میں ایک چمک سی پیدا کرتی ہیں اور دیرپا اثر چھوڑتی ہیں درج ذیل ہیں :
س	ل	س	ل	ر	ز	ش	ش	ح	ث	س	ل	س	ل	ر	ز	ش	ص	ل	ح	س	ل	س	ل	ر	ز	ش	ر	ح	ر	ر	س	س	ہ	ذ	ز	ص	ف	س	ل	س	ل	ر	ز	ش	س	ر	ز	ف	غ	س	س	ہ	ذ	ز	ر	ر	ہ	ر	ہ	س	ل	س	ل	ر	ز	ش	ص	ر	ف	ہ	ر	ر	ہ	ر	ر	ہ	ر	ر	ہ	ر	ر	ر	ش	ر	ز	ر	ح	ہ	ز	ر	س	ہ	ر	ف	ز	ہ	ہ	ر	ہ	ث	ر	ہ	ث	خ	ر	ف	ظ	ر	ف	ش	ہ	ہ	ز	ل	خ	ر	ف	                = کل ۱۱۸ بار
اوپر کے گوشوارے سے ظاہر ہے کہ ان میں زیادہ تر صفیری آوازیں ہیں یعنی ف س ش ز خ غ ہ۔ (ث ص ذ ض ظ یا ح کی آوازیں وہی ہیں جو س، ز،یاہ کی ہیں جو سب صفیری ہیں ) ان کے علاوہ دونوں مصوتی مصمتوں یعنی ل اور ر کو بھی اس میں لے لیا گیا ہے کیونکہ یہ سب کے سب(Vocalic) یعنی مصوتی مصمتے یا مسلسل مصمتے کہلاتے ہیں ، اس لیے کہ ان میں مصوتوں کی طرح تسلسل کی اور جاری رہنے اور پھیلنے کی کیفیت ہے۔ اس بند میں اگرچہ بندشی آوازوں میں سے ت کی تکرار قافیے کی وجہ سے ہوئی ہے اور ب اور ک کا نیزم اور ن کا بھی استعمال ملتا ہے، لیکن ان آوازوں کی تکرار اس پیمانے پر نہیں جس پیمانے پر صفیری یا مسلسل آوازوں کی تکرار ملتی ہے۔ بندشی آوازیں ہوا کی بندش سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مقابلے پر صفیری اور مسلسل آوازوں میں فراوانی اور بے کرانی کا تاثر پیدا کرنے کی کہیں زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔ یہاں اس امر کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ اردو مصمتوں میں بندشی آوازوں کی تعداد نصف سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے آدھے مصمتے سادہ ہیں ا ور آدھے ہکار۔ سادہ آوازیں اکثر زبانوں میں ملتی ہیں اور بڑی حد تک مشترک ہیں۔ لیکن اردو کا امتیاز ہکار اور معکوسی آوازوں سے پیدا ہوتا ہے جو تعداد میں چودہ ہیں اور ان کے مقابلے میں صفیری اور مسلسل آوازیں تعداد میں صرف نو ہیں۔ اب اس روشنی میں اقبال کے یہاں یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اوپر کے سولہ مصرعوں میں ہکار آوازیں صرف پانچ بار آئی ہیں جبکہ صفیری اور مسلسل آوازیں ایک سو اٹھارہ بار استعمال ہوئی ہیں ! گویا ہکار آوازوں کا چلن نہ ہونے کے برابر ہے، اور وہ بھی صرف دو شعروں میں :
ع    جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
ع   تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
یعنی ہکار آوازیں وہیں آئی ہیں جہاں ان کا استعمال نا گزیر تھا یعنی ضمیر یا فعل میں اور یہ بات معلوم ہے کہ اردو کے افعال و ضمائر کا ڈھانچا سر تا سر زمینی ہے۔ اس بند کے نتائج پر یہ سوال بہر حال قائم کیا جا سکتا ہے کہ کہیں اس بند میں ان آوازوں کا وقوع کسی خاص وجہ سے تو نہیں ، یا یہ محض اتفاقی تو نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں دھوکا ہو رہا ہو اور اقبال کے کلی صوتیاتی آہنگ سے ان نتائج کا کوئی بڑا تعلق نہ ہو۔ اس کا جواب دینے سے پہلے نظم کے دوسرے بندوں کے نتائج معلوم کر لینے چاہئیں۔

بند	     صفیری و مسلسل آوازیں 		ہکار و معکوسی آوازیں 
پہلا بند		۱۱۸			۵
دوسرا بند		۱۰۹			۲
تیسرا بند		۱۱۸			۳
چوتھا بند		۱۲۳			۴
پانچواں بند		۱۱۲			۳
چھٹا بند		۱۲۳			۷
ساتواں بند	۱۱۶			۹
	صفیری آوازوں کے استعمال کی یہ صوتیاتی لے آخری بند تک میں ملتی ہے۔ یہاں ان اشعار کے پیش کرنے سے مراد یہی ہے کہ مصرعوں کو پڑھتے ہوئے ان آوازوں پر نظر رکھی جائے جو اس نظم کے صوتیاتی آہنگ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں اور جن کے درو بست نے اس نظم کو معنیاتی اور صوتیاتی ہم آہنگی کا عجیب و غریب مرقع بنا دیا ہے۔ ذیل کے بند میں صفیری آوازیں ۱۱۳ بار اور ہکار صرف ۶ بار آئی ہیں :
وادیٔ کہسار میں غرقِ شفق ہے سحاب
لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب!
سادہ و پر سوز ہے دختر دہقاں کا گیت
کشتیِ دل کے لیے سیل ہے عہد شباب!
آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں 
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
پردہ اٹھادوں اگر چہرہ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ امم کی حیات کشمکش انقلاب!
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
نقش ہیں سب ناتمام، خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام، خونِ جگر کے بغیر!
						(۱۱۳:۶)
اس پوری نظم کا صوتیاتی تناسب حسب ذیل ہے:
تعداد اشعار      صفیری و مسلسل آوازیں 	      ہکار و معکوس آوازیں 
۶۴		۹۳۱			۳۹
گویا صفیری اور مسلسل آوازیں جو اردو میں ہکار و معکوس آوازوں سے تعداد میں خاصی کم ہیں (۹:۱۴) اقبال کے یہاں بیس گنا سے بھی زیادہ استعمال ہوئی ہیں۔ اس تجزیے سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صفیری اور مسلسل آوازوں کی کثرت اور ہکار و معکوسی آوازوں کا انتہائی قلیل استعمال ہی شاید وہ کلید ہے جس سے اقبال کے نہاں خانۂ آہنگ تک رسائی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اب اقبال کی بعض دوسری شاہکار نظموں پر بھی نظر ڈالنی ضروری ہے۔ ذوق و شوق کے ابتدائی اشعار ملاحظہ ہوں :
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں 
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندِّیاں رواں !
حسنِ ازل کی ہے نمود، چاک ہے پردۂ وجود
دل کے لیے ہزار سود، ایک نگاہ کا زیاں !
سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شب!
کوہِ ضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں !
گرد سے پاک ہے ہوا، برگِ نخیل دھل گئے
ریگِ نواحِ کاظمہ نرم ہے مثلِ پرنیاں !
آگ بجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں !
آئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہی
اہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہی
ان اشعار سے بھی اسی بات کی توثیق ہوتی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے۔ ہکار آوازیں صرف وہیں آئی ہیں جہاں فعل کی مجبوری ہے یا ایسے حروف میں جو اردو کی بنیادی لفظیات کا حصہ ہیں اور جن سے مفر نہیں۔ اس نظم کے باقی حصوں سے بھی اس مفروضے کی تصدیق ہو جاتی ہے جس کا ذکر ہم پہلے سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔
ذوق و شوق
تعداد اشعار	         صفیری و مسلسل	         ہکار و معکوسی
۳۰			۴۵۱			۲۳
	یہ دونوں نظمیں بال جبریل سے تھیں۔ نامناسب نہ ہو گا اگر پہلے مجموعے بانگ درا سے خضر راہ کو بھی دیکھ لیا جائے جو ان نظموں سے بارہ تیرہ سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اس کا آغاز شاعر اور خضر کے مکالمے سے ہوتا ہے جس کے بعد مختلف عنوانات قائم کر دیئے گئے ہیں۔ پہلے ایک بند پر نظر ڈال لی جائے۔ اس کے بعد پورا تجزیہ پیش کیا جائے گا۔
ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر
گوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب
شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب!
جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب!
رات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
انجم کم ضو گرفتارِ طلسمِ ماہتاب!
دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیکِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانندِ سحر رنگِ شباب
کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیرِ عالم بے حجاب!
دل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوا
میں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوا
خضر راہ
تعداد اشعار	     صفیری و مسلسل		ہکار و معکوسی
۸۵		       ۱۲۱۵		   ۸۷
	اقبال کی دوسری مشہور نظموں میں ’’طلوع اسلام‘‘ ، ’’لینن خدا کے حضور میں ‘‘ ، ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ اور ’’شعاع امید‘‘ میں بھی یہی کیفیت ملتی ہے۔ خضر راہ، مسجد قرطبہ اور ذوق و شوق کی طرح طلوع اسلام بھی ترکیب بند ہے۔ لینن خدا کے حضور میں مسلسل اور شعاع امید اور ابلیس کی مجلس شوریٰ بندوں میں منقسم نظمیں ہیں۔ ’’ساقی نامہ‘‘ البتہ مثنوی ہے جس میں مصرعوں کے ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے افعال کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس سے ہکار و معکوسی آوازوں کی تعداد پر بھی اثر پڑا ہے۔ اگرچہ یہ پوری مثنوی کی کیفیت نہیں ہے، تاہم ہکار و معکوسی آوازیں کہیں قافیہ ردیف کی مجبوری کی وجہ سے تو کہیں بیان کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے در آئی ہیں۔ یوں بھی ’’پھر‘‘ ، ’’بھی‘‘ ، ’’مجھ‘‘، ’’کچھ‘‘ ، ’’تھا‘‘ ، ’’تھی‘‘ بنیادی شعروں میں بھی کہیں کہیں ناگزیر طور پر وارد ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ذیل کے مصرعے ملاحظہ ہوں :
ع
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمّات میں 
ع
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی
ع
برا نہ مان ذرا آزما کے دیکھ اسے
ع
تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں 
ع
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں 
ع
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 
ع
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک
ع
تری نگاہ فرو مایہ ہاتھ ہے کوتاہ
ع
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
ع
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ع
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
ع
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
ع
آدم کو سکھاتا ہے آدابِ خداوندی
ع
مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
	اقبال کے یہاں ہکار اور معکوسی آوازوں کے قلیل استعمال کی خصوصیت کو ذہن نشین کرنے کے لیے اقبال کا تقابل کسی ایسے شاعر سے کرنا ضروری ہے جس کا پیرایۂ بیان بول چال کی زبان سے قریب ہو اور جس کے یہاں ہکار اور معکوسی آوازوں کا استعمال فطری طور پر ہوا ہو۔ اس سے یہ اندازہ بھی کیا جا سکے گا کہ اردو میں ان آوازوں کے فطری استعمال کا اوسط کیا ہے اور کیا اقبال کے یہاں اس سے واقعی کوئی انحراف ملتا ہے۔ اس سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ ہمارے بڑے شاعروں میں بول چال کی زبان سے قریب ہونے کا شرف میر تقی میر کو حاصل ہے۔ ان کے یہاں سینکڑوں غزلیں ایسی ہیں جن کے ردیف و قوافی میں بھی ہکار و معکوسی آوازیں آزادانہ استعمال ہوئی ہیں :
	ہم تو اک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے… کھا بیٹھیں گے، چھپا بیٹھیں گے
	میر جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ…سمجھا کچھ، ٹھہرا کچھ
	بود  نقش و نگار سا ہے کچھ…اعتبار سا ہے کچھ، پیار سا ہے کچھ
	موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا… دفتر نکلا
	خوش وہ کہ اٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر…کھٹک کھٹک کر، مٹک مٹک کر
	دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا…کوٹا گیا، چھوٹا گیا
	بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا…توڑا، تھوڑا
میر کے یہاں ایسی غزلیں بھی ہیں جو ’ ڑ‘  پر یا ’ٹ‘ پر ختم ہوتی ہیں :
	آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ…موڑ موڑ ، پھوڑ پھوڑ 
	ہوا ہے خواب سونا آہ اس کروٹ سے اس کروٹ…لٹ لٹ، کھٹ کھٹ
	دل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ…نٹ کھٹ، جمگھٹ
	لیکن اگر صرف ایسی غزلوں کو سامنے رکھا جائے تو نتائج مبالغہ آمیز نکلیں گے۔ کیونکہ اول تو قافیے اور ردیف میں آوازوں کے استعمال کے شعوری ہونے کا امکان ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ ایک بار جب ایسی آوازیں مطلع کے قافیے ردیف میں آ پڑیں تو باقی اشعار میں ان کا التزام واجب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اگر صرف ایسی غزلوں کا تجزیہ کیا جائے تو میر کے کلام میں ان آوازوں کے تناسب کی نہایت مبالغہ آمیز تصویر سامنے آئے گی۔ بہتر یہ ہے کہ بعض دوسری غزلوں کو لیا جائے اور ہکار و معکوسی آوازوں کے استعمال کو ردیف و قوافی سے ہٹ کر دیکھا جائے:
تعداد اشعار
ہکار معکوسی آوازیں 
الٹی ہو گئیں سب تدبریں کچھ نہ دوانے کا کام کیا
۱۵
۲۴
کچھ کرو فکر مجھ دِوانے کی
۹
۱۴
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کر پھر کیدھر چلے
۹    
۲۷ 
۳۳ 
۶۵ 
	اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ میر کے یہاں ہکار و معکوسی آوازوں کا تناسب تقریباً دو آواز فی شعر ہے۔ پورے کلیات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ تناسب کچھ زیادہ ہی نکلے گا، اس سے کم ہرگز نہیں۔ اس سلسلے میں کلام غالب کو دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، اختصار کی خاطر ہم نے غالب کی غزلوں کے اتفاقی تجزیے پر اکتفا کیا جس کی تفصیل حاشیے میں درج ہے (۱) اس تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ غالب کے اکیانوے اشعار میں معکوسی اور ہکار آوازیں نواسی بار آئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غالب کے یہاں بھی جنھیں اپنے گفتہ فارسی اور مستعار ’’نقش ہائے رنگ رنگ‘‘ پر ناز تھا، ان آوازوں کے استعمال کا تناسب تقریباً ایک آواز فی شعر ہے۔ میر اور غالب کے اس تناظر میں دیکھیے تو ان آوازوں کے استعمال کے سلسلے میں اقبال کی صوتی انفرادیت کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے:
میر:
ہکار و معکوسی آوازیں فی شعر
۳
غالب :
ہکار و معکوسی آوازیں فی شعر
۱
اقبال:
ہکار و معکوسی آوازیں فی شعر
ایک سے کم
	ان نتائج سے ظاہر ہے کہ میر جن کے ہاں ہکار و معکوسی آوازوں کا استعمال تقریباً فطری ہے، ان کی بہ نسبت غالب کے یہاں ان آوازوں کا استعمال آدھا اور اقبال کے یہاں سب سے کم ہے۔ ان نتائج کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شاید اقبال کے یہاں ہکار و معکوسی آوازوں کے استعمال کا تناسب اردو شاعری میں سب سے قلیل ہے۔ اب اس کو صفیری و مسلسل آوازوں کے استعمال سے ملا کر دیکھیے تو حیرت ہوتی ہے کہ عربی فارسی لفظیات کا ذخیرہ جو اقبال کا سرمایۂ امتیاز ہے، وہی غالب کے لیے بھی وجہ افتخار تھا، لیکن مشترک سرچشمہ لفظیات کے با وصف دونوں کے یہاں اس کے پہلو بہ پہلو ہکار و معکوسی آوازوں کے استعمال کی کیفیت میں خاصا فرق ہے۔
	غالب کے صوتی آہنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر مسعود حسین نے ان کے یہاں صفیری آوازوں کے استعمال پر بجا طور پر ز ور دیا ہے۔ ان کا بیان ہے ’’ان (غالب) کی فارسی گوئی اور فارسی دانی کا اثر ان کے ریختے پر بھی نمایاں ہے۔ اردو شعر کی زبان کو انھوں نے ذوق کی محاورہ بندی سے نکال کر عجمی لالہ زاروں میں لا کھڑا کیا(۲)‘‘
	غالب اور اقبال میں یہ خصوصیت مشترک ہے۔ اقبال کے رموز و علائم میں بڑی تعداد ایسے الفاظ کی ہے جن میں صفیری اور مسلسل آوازیں نمایاں طور پر استعمال ہوتی ہیں ، یا پھر ایسی آوازیں آئی ہیں جو منہ کے اگلے حصوں میں ادا ہوتی ہیں :
شاہین     مشرق     شمع و شاعر     شعاع     روشنی     شفق     شعلہ     فقر
فرشتے     فرمان      فقیہہ     خودی و خدا   قل و عشق    ارض و سما     ذوق و شوق
زمان و مکاں     سوز و سامان    درد و داغ    جستجو و آرزو    شہید جستجو     شکر و شکایت
 تسلیم و رضا    ابلیس و آدم       نیسان و صدف       زیست       مسجد       ملا
مدرسہ     صوفی    خانقاہ    کلیسا    مرد مومن    شمشیر و سناں     طاؤس و رباب
نرگس     نالۂ بلبل     لالۂ صحرا      چراغ لالہ
اس خصوصیت کی توثیق ان لفظوں سے بھی ہوتی ہے جہاں اقبال کئی لفظوں کے معنوی سیٹ میں ایک کا انتخاب کرتے ہیں، مثلاًَ وہ شہباز اور عقاب پر شاہین کو ترجیح دیتے ہیں  یا جنت، بہشت اور فردوس میں سے فردوس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ، یا شمس، خورشید اور آفتاب میں سے وہ زیادہ آفتاب کے حق میں ہیں۔ (اگرچہ اس انتخاب میں طویل مصوتوں اور غنائی مصوتوں کا بھی ہاتھ ہے جس کا ذکر آگے چل کر کیا جائے گا) یہاں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ صفیری و مسلسل آوازوں کا استعمال تو غالب کے یہاں بھی کثرت سے ہوا ہے، لیکن اقبال کی لے حرکی اور رجائی ہے جبکہ غالب کا تفکر حزنیہ ہے اور اس میں الم ناکی کی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کے اظہار میں منہ کے اگلے حصوں سے ادا ہونے والی آوازوں کے بجائے منہ کے پچھلے حصوں سے ادا ہونے والی آوازوں یا مسموع آوازوں سے مدد ملی ہے، مثلاً ذیل کے اجزائے کلام غالب کے پسندیدہ الفاظ ہیں اور ان میں گ، ج ، د، غ، ب، اور م کی جو نمایاں حیثیت ہے وہ ظاہر ہے:
دل و جگر      زخم جگر     جگر داری کا دعویٰ      دعوت مژگان     نگاہ بے محابا
بت بیداد گر     ستم گر جاں      غم گسار     غارت گر جنس وفا     دود چراغ محفل
داغِ دل      درد بے دوا      مرگِ تمنا       رگِ جاں      رگِ سنگ     سنگِ گراں 
بوئے گل     گلِ نغمہ    موجِ محیطِ بے خودی     سیلاب گریہ      سیلاب بلا    حلقۂ گرداب
بند  غم      ساغرِ مے خانہ نیرنگ    رنجِ نومیدیٔ جاوید     تغافل ہائے ساقی     غم آوارگی ہائے صبا
	غالب اور اقبال کے صوتیاتی آہنگ کا بنیادی فرق مصمتوں سے زیادہ مصوتوں کے استعمال میں کھلتا ہے۔ پروفیسر مسعود حسین نے صحیح اشارہ کیا ہے ’’غالب کا کمال لفظ اور ترکیب میں ظاہر ہوتا ہے صوتی آہنگ میں نہیں۔ وہ لفظ کی تہ داری اور ترکیب کی پہلو داری سے اکثر اوقات صوتی آہنگ کی کمی کو چھپا لے جاتے ہیں ‘‘ (۳)اقبال کے یہاں یہ کیفیت نہیں۔ ان کے یہاں صوتی آہنگ کی کمی کا احساس قطعاً نہیں ہوتا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی کہ ان کے اشعار کو کہیں سے پڑھیے، ان میں عجیب و غریب نغمگی کا احساس ہو گا، گویا لفظوں میں موسیقی سموئی ہوئی ہے۔ آخر غالب کے صوتی آہنگ کی وہ کون سی کمی ہے جو اقبال کی آواز تک پہنچ کر دور ہو گئی ہے۔ اتنی بات معلوم ہے کہ غالب کا فن معنی آفرینی کا رمزیہ فن ہے۔ ان کا فنی سانچا غزل کا شعر یعنی دو مصرعوں کی محض ذرا سی زمین ہے جس میں وہ جہاں معنی آباد کر دیتے ہیں۔ اگرچہ اقبال کی شاعری بھی رمزیہ امکانات رکھتی ہے لیکن ترغیب عمل کی پیغامی شاعری ہونے کی وجہ سے اس کے فنی سانچے وسیع ہیں۔ اقبال کی اکثر غزلوں میں بھی نظموں کے تسلسل کا لطف ہے۔ غالب کے یہاں رمزیہ فنی رویے کی وجہ سے نحوی ڈھانچے میں خاصی تخفیف ہو گئی ہے اور افعال تو خاصے نچڑ کر سامنے آتے ہیں۔ اس اختصار و تخفیف کا منفی اثر خاص طور پر طویل مصوتوں اور غنائی مصوتوں پر ہوا ہے۔ اقبال کے یہاں ا ظہاری وسعت اور ربط بیان کی وجہ سے اکثر فعل اور کلمے کے دیگر لوازم بغیر تخفیف کے نظم ہوئے ہیں ، اور ان کی وجہ سے طویل مصوتوں کی فراوانی پیدا ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر کلیات اقبال سے ایک اتفاقی تجزیے کے بیس اشعار میں طویل یا غنائی مصوتے ۳۳۶ بار آئے ہیں۔ یعنی اقبال کے یہاں طویل غنائی مصوتوں کا اوسط فی شعر ۸ء ۱۶ ہوا (۴)۔ اس اوسط کی توثیق کے لیے اقبال کی کسی دو غزلوں پر بھی نظر ڈالی گئی:
	کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں : سات شعر :۱۱۷ طویل مصوتے: اوسط ۷ء۱۶
	اگر کج روہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا    : پانچ شعر:۱۰۲ طویل مصوتے : اوسط ۴ء۲۰
	اس سے ثابت ہے کہ اقبال کے یہاں فی شعر کم از کم سولہ طویل مصوتوں کے استعمال کا امکان ہے۔ اس اعتبار سے غالب کا کلام دیکھیے تو مایوسی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر دیوان غالب کے اتفاقی تجزیے ہے جو اوسط ہاتھ آتا ہے، وہ ۶ء طویل مصوتے فی شعر کا ہے(۵)۔ ذیل کی غزلوں کے اوسط سے اسے مزید جانچا گیا:
    نے گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز		      :اشعار ۹	: طویل مصوتے ۸۸
    سادگی پر اس کے مرجانے کی حسرت دل میں ہے   : اشعار ۷	: طویل مصوتے ۹۸
    دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی		      : اشعار ۹  	: طویل مصوتے ۹۹  
    					  ۲۵		    ۲۸۵
				     اوسط فی شعر    ۱۱
گویا غالب کے یہاں طویل مصوتوں کے وقوع کا امکان گیارہ سے بارہ طویل مصوتے فی شعر سے زیادہ کا نہیں۔ غالب کی جس کم آہنگی کا ذکر پروفیسر مسعود حسین نے کیا ہے، عین ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ طویل مصوتوں کی کفایت ہو۔ لیکن ابھی اس بارے میں پوری تصویر سامنے نہیں آئی۔ غالب کے یہاں طویل مصوتوں کی کفایت اور اقبال کے یہاں ان کی فراوانی کا پورا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا ہے۔ جب اس بارے میں میر کا اوسط بھی سامنے ہو:
	الٹی ہو گئیں سب تدبیریں  …… : اشعار  ۱۵    : طویل مصوتے ۲۸۲
	کچھ کرو فکر  ……………  :اشعار  ۹     : طویل مصوتے ۱۰۱
	سختیاں کھنچیں سو کھینچیں ………: اشعار   ۹      : طویل مصوتے ۱۴۰  
				         ۳۳	       ۵۲۳
	اب ان تینوں شاعروں کے یہاں طویل مصوتوں کے استعمال کی جو تصویر مرتب ہوتی ہے وہ یوں ہے:
	میر		۱۶ طویل مصوتے فی شعر
	غالب		۱۱ طویل مصوتے فی شعر
	اقبال		۱۶ طویل مصوتے فی شعر
	اس تقابلی تجزیے سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ طویل مصوتوں کے معاملے میں اقبال غالب سے خاصے آگے ہیں اور میر کے ہم پلہ ہیں۔ اتنی بات واضح ہے کہ جہاں طویل مصوتوں کی فراوانی ہو گی، غنائی مصوتوں کی کثرت بھی وہیں ہو گی، کیونکہ اردو کا ایک عام رجحان ہے کہ غنیت صرف طویل مصوتوں ہی کے ساتھ وارد ہوتی ہے۔ نغمگی کے لیے طویل مصوتوں کے ساتھ ساتھ غنائی مصوتوں کی جو اہمیت ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔ اقبال کا کمال جس نے ان کے صوتیاتی آہنگ کو اردو شعریات کا عجوبہ بنا دیا ہے، دراصل یہ ہے کہ طویل و غنائی مصوتوں کی زمینی کیفیات اقبال کے یہاں زناٹے دار، صفیری و سلسلہ دار ’’مسلسل‘‘ آوازوں کی آسمانی کیفیات کے ساتھ مربوط و ممزوج ہو کر سامنے آتی ہیں۔ اقبال کے یہاں صفیری و مسلسل آوازوں اور طویل و غنائی مصوتوں کا یہ ربط و امتزاج ایک ایسی صوتیاتی سطح پیش کرتا ہے جس کی دوسری نظیر اردو میں نہیں ملتی۔ اصوات کی اس خوش امتزاجی نے اقبال کے صوتیاتی آہنگ کو ایسی دلآویزی ، توانائی ، شکوہ اور آفاق میں سلسلہ در سلسلہ پھیلنے والی ایسی گونج عطا کی ہے جو اپنے تحرک و تموج اور امنگ و ولولے کے اعتبار سے بجا طور پر یزداں گیر کہی جا سکتی ہے۔

اقبال کا فن، ایجوکیشنل پبلشرز دہلی،۱۹۸۳ء
٭٭٭

حواشی

۱۔	دیوان غالب طبع برلن
 	ص ۳۱،۳۰	تعداد اشعار 	۱۳	ہکار و معکوسی آوازیں 	۲۱
 	    ۵۳،۵۲		۱۳			۱۱
 	    ۶۵،۶۴		۱۳			۵
 	    ۱۰۱،۱۰۰		۱۳			۱۴
 	   ۱۲۳،۱۲۲		۱۳			۱۷
	    ۱۶۱،۱۶۰		۱۳			۱۵
	   ۲۰۱،۲۰۰		۱۳			۶   
						۸۹  
۲۔	مسعود حسین خاں ’’غالب کے اردو کلام کا صوتی آہنگ‘‘ مشمولہ بین الاقوامی غالب سیمنار ۱۹۶۹ء 
	ص ۲۰۷۔
۳۔	مسعود حسین خاں ’’غالب کے اردو کلام کا صوتی آہنگ‘‘ مشمولہ بین الاقوامی غالب سیمینار ۱۹۶۹ء
 	ص ۲۰۵ء
۴۔	کلیات اقبال اردو، طبع غلام علی، لاہور، ص ۷۰ ، ۷۱، ۱۴۰، ۱۴۱، ۲۱۰، ۲۱۱، ۲۸۰، ۳۵۰، ۳۵۱، ۴۲۲، ۴۲۳، ۴۹۰، ۴۹۱، ۵۶۲، ۵۶۳، ۶۳۰، ۶۳۱، ۶۷۸، ۶۷۹  (طویل / غنائی مصوتے ۲۲ + ۱۹+ ۲۳+ ۱۸+ ۱۴ + ۱۳+ ۱۶+ ۲۰+ ۱۸+ ۱۹+ ۱۹+ ۱۷+ ۱۳+۱۳+ ۱۳+ ۱۷+ ۱۶+ ۱۶+ ۱۴+ ۱۶  کل ۳۳۶  بیس اشعار ہیں۔ اوسط فی شعر ۸  ٔ ۱۶
۵۔ 	دیوان غالب طبع برلن
	۱۱، ۱۰، ۱۱، ۱۴، ۱۰
	۱۲، ۹، ۱۲، ۱۴، ۱۳
	کل تعداد ۱۱۶  اشعار ۱۰ اوسط ۶  ٔ ۱۱ فی شعر
٭٭٭




اقبال کی اُردو شاعری میں ہیئت کے تجربے

 ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا

	ہم نے جہاں اُردو تنقید میں انگریزی سے بہت استفادہ کیا ہے، وہیں اس استفادے میں کچھ ٹھوکریں بھی کھائی ہیں۔ انگریزی میں ہیئت اور صنف دونوں کے لیے ایک ہی لفظ مستعمل ہے، اور وہ ہے فارم (Form) مگر اُردو میں ہیئت اور صنف کے الفاظ الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے زود نویس نقادوں نے اکثر ہیئت اور صنف کو متبادل الفاظ سمجھ کر استعمال کیا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں ، اور میں مضمون کے شروع میں ہی یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہیئت اور صنف دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ ہیئت کسی نظم کی ظاہری شکل و صورت کو کہتے ہیں ؛ جیسے مثلث، مربع، مخمّس، مسّدس، مثمّن، معشّر، ترکیب بند، ترجیع بند وغیرہ۔ اور یہ ساری شکلیں ، ترتیبِ قوافی سے پہچانی جاتی ہیں اور مواد یاموضوع کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف ’’صنف‘‘ کا مطلب نوع اور قسم وغیرہ ہے؛ جیسے غزل، قطعہ، قصیدہ اور رباعی وغیرہ۔ ہیئت کے مقابلے میں صنف ایک وسیع تر لفظ ہے۔ چنانچہ اصناف یعنی غزل، قصیدے، رباعی اور قطعے وغیرہ کو ظاہری شکل کے علاوہ بعض دوسری خصوصیات کی بنا پر بھی شناخت کیا جاتا ہے۔ حالانکہ غزل، قصیدہ اور قطعہ ظاہری شکل میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں مگر بعض داخلی خوبیوں کی وجہ سے اُنہیں الگ الگ اصناف کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہیئت ظاہری شکل ہے مگر صنف ظاہری شکل اور داخلی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔
	دوسری بات بھی، جسے میں شروع ہی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں ، یہ ہے کہ کسی صنف میں تجربے سے مراد داخلی خصوصیات یا موضوع میں تبدیلی ہوتی ہے، ظاہری شکل میں تبدیلی نہیں۔ مثال کے طور پر غزل کی صنف میں موضوع اور اسلوب کے بہت سے تجربات ہوئے ہیں مگر اس کی ترتیبِ قوافی جوں کی توں قائم رہی ہے۔ اس کے برخلاف اگر ایک ہیئت میں تبدیلی کی جائے تو وہ فوراً کسی دوسری ہیئت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
	اقبال کے بارے میں ہم اکثر یہ سنتے آئے ہیں کہ ’’موضوع اور مواد میں وہ روایتی شاعری سے الگ ہٹے ہوئے ہیں مگر ہئیتوں میں اُنہوں نے روایت سے سر مو انحراف نہیں کیا۔‘‘ یہ بات درست نہیں ہے۔ ان کے ہاں متعدد نظمیں ایسی ملتی ہیں جن میں روایتی ہئیتوں کو ترک کر کے نئی ہیئتیں تراشی گئی ہیں ، مگر ان نظموں کی طرف آج تک کسی نقاد نے توجہ نہیں کی۔ اس معاملے میں آدھا قصور تو سطحی نظر سے پڑھنے والے اور آنکھ بند کر کے لکھنے والے نقادوں کا ہے اور آدھا قصور خود اقبال کا۔ کوتاہ اندیش نقاد تو شاید معذور ہیں لیکن اقبال بے چارے کسرِ نفسی کا شکار ہوئے ہیں :
نہ بینی خیر ازاں مردِ فرو دست
کہ بر من تہمتِ شعر و سخن بست
	’’شاعری بحیثیتِ فن کبھی میرا مطمحِ نظر نہیں رہا۔‘‘
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
نغمۂ کجا و من کجا، سازِ سخن بہانہ ایست
سوئے قطار مے کشم ناقۂ بے زمام را
	اس قسم کے بیانات سے اقبال کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کے کلام میں شعری نفاستیں ہی تلاش کرتے نہ رہ جائیں کیونکہ اُنہیں احساس تھا کہ اُن کے ہاں فنی باریکیاں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اس خوف نے کہیں کہیں انکسار کی صورت بھی اختیار کر لی ہے اور اُنہوں نے اپنے کلام میں اپنے افکار کے مقابلے میں فنی اہمیت کو بہت گھٹا کر پیش کیا ہے، جس سے بے شمار لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔ مگر میں یہ کہوں گا کہ اقبال اتنا ہی بڑا مفکر ہے جتنا بڑا فن کار اور فنکار اقبال اپنے افکار کو پیش کرنے کے لیے نئی نئی شعری شکلیں تراشتا رہا ہے۔
	اقبال کے ہاں جن روایتی ہئیتوں کا استعمال زیادہ ہے، وہ مثنوی، مسدس اور ترکیب بند ہیں مگر ان روایتی ہئیتوں کے درمیان اقبال کی طبع زاد ہیئتیں جابجا بکھری پڑی ہیں۔ ان نئی ہئیتوں میں سے بعض تو بالکل نادر ہیں مگر بیشتر پرانی ہئیتوں کے باہمی امتزاج یا جزوی ترمیم سے تراشی گئی ہیں۔
	ہیئت کے تجربے سب سے زیادہ  بانگِ درا  میں ہیں۔ اس کی سترہ نظمیں روایتی ہئیتوں سے مختلف ہیں۔ بالِ جبریل میں ایسی نظموں کی تعداد سات ہے اور ضربِ کلیم میں آٹھ۔ ارمغانِ حجاز میں اُردو نظموں کا حصہ بہت کم ہے مگر اس میں بھی تین نظمیں ہیئت کے اعتبار سے تجربات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس طرح اقبال کے اُردو کلام میں بحیثیتِ مجموعی پینتیس نظمیں ہیئت کے تجربات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ جن شاعروں کی کُل کائنات ہی ہیئت کے تجربات ہیں ، ان کے ہاں بھی غیر روایتی ہیٔتیں اس بڑی تعداد تک نہیں پہنچتیں۔
	اب اقبال کے کلام میں ہیئت کے بعض تجربات پر ایک نظر ڈالیے۔ بعض اوقات اقبال کسی ایک نظم میں دو یا تین مختلف ہیئتوں کو جمع کر دیتے ہیں۔ مثلاً کہیں ترکیب بند اور مثمّن کو ملا دیا ہے، کہیں مثنوی اور مسّدس کا امتزاج کر دیا ہے، کہیں ایک ہی نظم میں مثنوی، ترکیب بند اور قطعے کو جمع کر دیا ہے۔ اس طرح کی چند نظمیں ملاحظہ ہوں۔
	سب سے پہلے بانگِ درا کی نظم ’’غرّۂ شوال یا ہلالِ عید‘‘ ملاحظہ فرمایے
غُرّۂ شوال اے نورِ نگاہِ روزہ دار
آ، کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار
تیری پیشانی پہ تحریرِ پیامِ عید ہے
شام تیری کیا ہے، صبحِ عیش کی تمہید ہے
سرگذشتِ ملتِ بیضا کا تُو آئینہ ہے
اے مہِ نو! ہم کو تجھ سے اُلفتِ دیرینہ ہے
	اسی طرح مثنوی کی سی ترتیبِ قوافی میں سات اشعار رقم کیے گئے ہیں۔ ساتویں شعر میں چاند سے یوں خطاب کیا گیا ہے:
اوجِ گردوں سے ذرا دُنیا کی بستی دیکھ لے
اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے
	اس شعر کے بعد نظم کی ہیئت تبدیل ہو گئی ہے اور مثنوی کی بجائے ترکیب بند کا ایک بند تحریر کر دیا گیا ہے:
قافلے دیکھ اور اُن کی برق رفتاری بھی دیکھ
رہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ
دیکھ کر تجھ کو اُفق پر ہم لٹاتے تھے گہر
اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ
دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخ
بت کدے میں برہمن کی پختہ زُنّاری بھی دیکھ
بارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہو
اُمّتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ
اور آخری شعر ہے:
صورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ، اور خاموش رہ
شورشِ امروز میں محوِ سرودِ دوش رہ
	اس طرح نظم ’’بزمِ انجم‘‘ میں پہلے دو بند ’’ترکیب بند‘‘ کے انداز میں لکھے گئے ہیں اور آخری بند قطعے کی ہیئت میں ہے کیونکہ اس میں اختتامی بیت موجود نہیں ہے۔ اقبال کے ہاں ہیئت کو تبدیل کرنے کا ایک اور طریقہ بھی رائج ہے؛ وہ یہ کہ مثنوی کی ہیئت میں نظم لکھتے لکھتے جہاں خیال کی لہر میں تیزی آئی، وہاں ایک مسدس کا بند آ گیا۔ چونکہ مسدس کے بند کے پہلے چار مصرعوں میں چار قافیے یکے بعد دیگرے آتے ہیں ، اس لیے تیزی کا تاثر قافیے کی ترتیب سے بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کی عمدہ مثال ’’گورستانِ شاہی‘‘ میں ہے جو مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے:
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہے
کچھ مکّدر سا جبینِ ماہ کا آئینہ ہے
چاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میں 
صبحِ صادق سو رہی ہے، رات کی آغوش میں 
	اس ترتیبِ قوافی میں بائیس اشعار کے بعد اچانک مسدس کا یہ بند آ جاتا ہے:
شورشِ بزمِ طرب کیا، عود کی تقدیر کیا
درد مندانِ جہاں کا نالۂ شبگیر کیا
عرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیا
خون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیا
اب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیں 
سینۂ ویراں میں جانِ رفتہ آ سکتی نہیں 
	نظم ’’ستارہ‘‘ کا پہلا بند بالکل مثمّن کا بند معلوم ہوتا ہے مگر دوسرا بند ترکیب بند کا ہے:
قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحر تجھ کو
مآلِ حسن کی کیا مل گئی خبر تجھ کو؟
متاعِ نور کے لُٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو؟
ہے کیا ہراسِ فنا صورتِ شرر تجھ کو؟
زمیں سے دور دیا آسماں نے گھر تجھ کو
مثالِ ماہ اُڑھائی قبائے زر تجھ کو
غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے
تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے!
	دوسرے بند میں قافیے کی ترتیب کا اختلاف دیکھیے۔ مگر ذہن میں رہے کہ پہلے بند کے ابتدائی چھ مصرعے ہم قافیہ ہیں جبکہ دوسرے بند میں یہ صورت باقی نہیں رہی:
چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہے
جو اَوج ایک کا ہے، دوسرے کی پستی ہے
اجل ہے لاکھوں ستاروں کی اِک ولایتِ مہر
فنا کی نیند مئے زندگی کی مستی ہے
وِداعِ غنچہ میں ہے رازِ آفرینشِ گل
عدم عدم ہے کہ آئینہ دارِ ہستی ہے
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں 
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں 
	اب  بانگِ درا ہی سے ایک اور نظم ملاحظہ فرمایئے۔ اس میں قافیوں کی ترتیب کا ایک نرالا تجربہ کیا گیا ہے۔ نظم کا عنوان ’’حسن و عشق‘‘ ہے۔ یہ نظم تین بندوں پر مشتمل ہے اور ہر بند سات مصرعوں پر۔ سات مصرعوں کا بند لکھنے کا رواج اُردو میں نہیں ہے۔ اور پھر ترتیبِ قوافی دیکھیے تو اور بھی نادر ہے۔ ہر بند میں چھ مصرعے (تین شعر) مثنوی کے انداز میں لکھے گئے ہیں اور ساتواں مصرع الگ۔ ہر بند کا ساتواں مصرع ہم قافیہ ہے:
جس طرح ڈوبتی ہے کشتیٔ سیمینِ قمر
نورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سحر
جیسے ہو جاتا ہے گم، نور کا لے کر آنچل
چاندنی رات میں مہتاب کا ہمرنگ کنول
جلوۂ طور میں جیسے یدِ بیضائے کلیم
موجۂ نکہت گلزار میں غنچے کی شمیم
ہے ترے سیلِ محبت میں یونہی دل میرا
تو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں میں 
حسن کی برق ہے تُو، عشق کا حاصل ہوں میں 
تو سحر ہے تو مرے اشک ہیں شبنم تیری
شامِ غربت ہوں اگر میں ، تو شفق تُو میری
مرے دل میں تری زلفوں کی پریشانی ہے
تری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہے
حسنِ کامل ہے ترا، عشق ہے کامل میرا
	ان کے علاوہ  بانگِ درا کی بعض اَور نظمیں ؛ مثلاً پرندے کی فریاد، گلِ پژمردہ، اخترِ صبح، نوائے غم، انسان، فلسفۂ غم، بزمِ انجم، ’’میں اور تُو‘‘ اور عرفی وغیرہ بھی ہیئت کے بعض تجربات کی وجہ سے قابلِ ذکر ہیں۔
	بالِ جبریل میں ان تجربات نے ایک مختلف صورت اختیار کر لی ہے۔ اس میں اقبال نے بعض نظمیں کئی کئی حصوں میں لکھی ہیں اور ہر حصے کے ذیلی عنوان قائم کیے ہیں۔ مختلف حصوں میں نہ صرف ہیئت کا فرق نظر آتا ہے بلکہ ان کی بحر بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کا آغاز بانگِ درا کی ایک نظم ’’رات اور شاعر‘‘ سے ہوا تھا۔ اس نظم کے دو حصے ہیں۔ دونوں کے ذیلی عنوان ’’رات‘‘ اور ’’شاعر‘‘ ہیں۔ اگرچہ اس نظم میں ہیئت مثنوی کی اختیار کی گئی ہے مگر دونوں حصوں میں بحر مختلف ہے۔ رات یوں شاعر سے مخاطب ہوتی ہے:
کیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تو پریشاں 
خاموش صورتِ گل، مانندِ بُو پریشاں 
	مگر شاعر دوسری بحر میں یوں گویا ہوتا ہے:
میں ترے چاند کی کھیتی میں گہر بوتا ہوں 
چھپ کے انسانوں سے مانندِ سحر روتا ہوں 
	بالِ جبریل میں ’’لینن خدا کے حضور میں ‘‘، ’’فرشتوں کا گیت‘‘ اور ’’فرمانِ خدا‘‘ ایک ہی ڈرامائی نظم کے تین حصے ہیں۔ ان میں کہیں بحر مختلف ہے اور کہیں ہیئت۔ یہی کیفیت اُس نظم کی ہے، جس کے دو ذیلی عنوان ہیں : ’’فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں ‘‘ اور ’’روحِ ارضی آدم ؑ کا استقبال کرتی ہے‘‘۔ پہلا حصہ قطعے کی ہیئت میں ہے اور دوسرا مخمس کی ہیئت میں۔ اسی طرح کی ایک اور مثال ’’یورپ سے ایک خط اور جواب‘‘ کی ہے۔ ایسی نظموں میں ہیئتوں اور بحروں کی تبدیلی سے اقبال مختلف کرداروں کے مزاج کا فرق واضح کرنا چاہتے ہیں۔
	بالِ جبریل کی دو اور نظمیں ایسی ہیں ، جن کا ذکر کیے بغیر موضوع تشنہ رہے گا۔ ایک نظم کا عنوان ہے ’’ایک نوجوان کے نام‘‘ بظاہر تو یہ نظم مسدس معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کے دو بند ہیں اور ہر بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہے، لیکن اس کے قافیوں کی ترتیب مسدس سے مختلف واقع ہوئی ہے:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
امارت کیا، شکوہِ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل؟
نہ زورِ حیدری تجھ میں ، نہ استغنائے سلمانی
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلّی میں 
کہ پایا میں نے استغنا میں معراجِ مسلمانی
	لہٰذا ترتیبِ قوافی کے لحاظ سے اُسے قطعہ کہنا چاہیے۔ اب دوسرا بند ملاحظہ ہو:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں 
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں 
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تُو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں 
	یہ بند بھی ترتیبِ قوافی کے لحاظ سے قطعہ ہے۔ لیکن روایتی ہیئتوں میں کسی ایک نظم میں اوپر تلے ایک ہی بحر کے قطعات لکھنے کا رواج نہیں ہے۔ یہ طریقہ مسدس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اس نظم کے بارے میں کہنا چاہیے کہ اس میں مسدس اور قطعے کی ہیئتوں کا امتزاج ہے۔
	دوسری نظم کا نام ہے ’’فقر‘‘۔ اس نظم کے قافیوں کی ترتیب کا خیال اقبال کو شاید پنجابی شاعری کی بعض کتابوں سے ہوا ہے۔ مثلاً ’’ہیر وارث شاہ‘‘ میں ایک بند میں جتنے بھی مصرعے لکھے جائیں ، وہ سب آپس میں ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اقبال نے قافیوں کا یہی انداز اس نظم میں اختیار کر لیا ہے۔ اُردو نظم میں قافیوں کی یہ ترتیب بھی موجود نہیں ہے:
اِک فقر سکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری
اِک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری
اِک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اِک فقر سے مٹی میں خاصیّتِ اکسیری
اِک فقر سے شبیری، اِک فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیری
	ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز میں بھی ہیئت کے یہ تجربے برابر ملتے ہیں لیکن ان کتابوں میں سے بالخصوص چند نظموں کا حوالہ کافی رہے گا۔ اقبال کے ہاں آہنگ اس قدر تند و تیز ہے کہ سارے اُردو ادب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ ترانوں وغیرہ کی قسم کی نظموں کا ضروری جز آہنگ ہے۔ ایسا پُر جوش آہنگ جو پڑھنے والے کو بیدار کری۔ اس انداز میں اقبال نے دو نظمیں لکھی ہیں۔ ضربِ کلیم کی نظم ہے ’’محراب گل افغان کے افکار‘‘:
رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندوستان
تو بھی اے فرزندِ کہستاں ! اپنی خودی پہچان
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان
اونچی جس کی لہر نہیں ہے، وہ کیسا دریا
جس کی ہوائیں تند نہیں ہیں ، وہ کیسا طوفان
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان
تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی لاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں ، اپنا دین ایمان
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان
	اس نظم کے ہر بند کو چار مصرعوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر بند کے پہلے دونوں مصرعے سات سات ارکان کے ہیں اور بعد کے دو مصرعے تین تین ارکان کے۔ اس نظم کے پانچ بند ہیں۔ ان پانچوں بندوں کے تین تین ارکان والے مصرعے ترجیع کے مصرعے ہیں۔ یعنی بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ پانچوں بندوں کے پہلے دو دو مصرعے آپس میں قطعے کی ہیئت رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ نظم مربع، قطعہ بند اور ترجیع بند کی ترکیب سے اختراع کی گئی ہے۔
	ارمغانِ حجاز میں ’’مُلّا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کا بیاض ‘‘ بھی قابلِ غور ہیں۔
پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
مرغانِ سحر تیری فضاؤں میں ہیں بے تاب
اے وادیِ لولاب
گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب
اے وادیِ لولاب
مُلّا کی نظر نورِ فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانۂ صوفی کے مئے ناب
اے وادیِ لولاب
	اس نظم کے چھے بند ہیں۔ ہر بند تین مصرعوں کا ہے۔ تیسرا مصرعہ ترجیع کا ہے۔ ہر بند میں پہلے دونوں مصرعے چار رکنی ہیں اور تیسرا مصرع دو رُکنی ہے۔ یہ نظم ہیئت میں ’محراب گل‘ والی نظم سے ذرا آسان ہے مگر اسے بھی مثلث، قطعہ اور ترجیع بند کا امتزاج کہا جا سکتا ہے۔
	اقبال کے دَور کے متوازی رومانی تحریک کا آغاز، ارتقا اور زوال ہوا۔ رومانی شاعر باغی ہوتا ہے، ماحول کا، نظریات کا اور روایات کا۔ اس لیے رومانی شعرا مروجہ ہیئتوں سے بھی بغاوت کرتے ہیں اور اپنے لیے نئی ہیئتیں تراشتے ہیں ، مگر رومانی شعرا عموماً آہستہ آہستہ ہیئت پرستی کی طرف مائل ہوتے رہتے ہیں۔ اُردو ادب میں بھی حفیظ جالندھری اور اختر شیرانی وغیرہ شعرا کی رومانیت قیوم نظر، مختار صدیقی اور مجید امجد(۱) تک پہنچ کر ہیئت پرستی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مگر اقبال کے لیے ’’رومانی‘‘ کی اصطلاح بہت چھوٹی ہے۔ ان میں بیک وقت کلاسیکی تنظیم اور رومانی بغاوت ہے۔ وہ افکار کے اعتبار سے رومانیت سے ہٹ جاتے ہیں ، مگر ہیئت کے نئے پن میں رومانیوں سے ان کی سطحی مشابہت ضرور ہے اور یہ مشابہت واقعی سطحی ہے۔ اقبال ہیئت پر سوار ہیں اور رومانیوں پر ہیئت سوار ہے۔ اقبال اپنے افکار کے اظہار کے لیے ہیئت کو ظروف ساز کی مٹی کی طرح جدھر چاہتے ہیں ، موڑ دیتے ہیں ، جب کہ رومانی شعرا نئی نئی شکلیں بنا کر اُنہیں پوجنے لگتے ہیں۔ اقبال جیسے بُت شکن کا ہیئت پرستی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے! اقبال کے ہاں ہیئت کے جس تجربے کو بھی دیکھیں ، اس کا موضوع سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہو گا۔ اقبال کا نظریہ تھا:
کبک پا از شوخی ٔ رفتار یافت
بلبل از سعی ٔ نوا منقار یافت
	یعنی زندگی ماحول کے مطابق نہیں ڈھلتی بلکہ ماحول کو اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔ اقبال نے اس کا ثبوت اپنی شاعری کے ذریعے یوں دیا کہ اُنہوں نے ہیئتوں کو اپنے افکار کے مطابق ڈھال لیا۔

اقبال بحیثیت شاعر، مرتبہ: رفیع الدین ہاشمی مجلس ترقی ادب، لاہور، ۱۹۷۶ء
حواشی
۱۔  دوسری دفعہ پڑھنے پر محسوس کرتا ہوں کہ یہاں مجید امجد سے زیادتی ہو گئی ہے۔ ان کے ہاں ہیئت موضوع سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتی ہے۔ (م۔ز)
٭٭٭


کلامِ اقبال پر عربی ادب کے اثرات

پروفیسر محمد منّور

	عزیز احمد ’’اقبال، نئی تشکیل‘‘ کے آخر میں لکھتے ہیں :
’’اقبال کا پورا کلام پڑھنے کے بعد اقبال کے اطراف میں بہت کچھ پڑھنا پڑتا ہے۔ رومی، نطشے، برگساں ، الجیلی، یونانی فلسفہ، اسلامی فلسفہ، قدیم ہندو فلسفہ، جدید یورپی فلسفہ، جرمن، اطالوی، انگریزی شاعری، فارسی غزل، اُردو غزل اور سب کچھ پڑھنے کے بعد پھر اقبال کو پڑھیے تو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ابھی اور بہت کچھ پڑھنا ہے۔‘‘
	میں سمجھتا ہوں کہ اس ’بہت کچھ ‘ میں عربی ادب بھی ایک بڑے اہم عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔
	عرب شعرا نے ایرانی شعرا پر جو اثر ڈالا، وہ محتاجِ بیاں نہیں ، فارسی کے ذریعے وہ اثر اُردو میں منتقل ہوا، بلکہ ہسپانوی مستشرق غارسیاغومس کے بقول تو ساری اسلامی شاعری پر عرب شعرا کے مضامین و افکار کی چھاپ ہے۔ مستشرق مذکور لکھتے ہیں کہ عرب کی زندگی بیشتر سفری تھی، آج یہاں ، کل وہاں ، نت نئے چشموں اور نئی چراگاہوں کی تلاش۔ چنانچہ ان کی شاعری کا بہت بڑا حصہ چھوڑی ہوئی منزلوں ، بچھڑے ہوئے دوستوں ، دُور اُفتادہ محبوباؤں ، گزر جانے والے قافلوں اور بے نشان مسافتوں کی روح اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ آگے چل کر اسی اثر کے باعث عربوں اور دیگر مسلمانوں کی شاعری میں کائنات ایک رواں دواں کارواں کا انداز اختیار کر گئی، یوں گویا داستانِ زیست کا حرفِ آخر ہو ’’اللہ باقی‘‘۔
	غارسیاغومس کے بیان میں مبالغے کا وافر حصہ شامل سہی، تاہم اس امر سے انکار مشکل ہے کہ شعرائے عرب کے محبوب مضامین نے اسلامی زبانوں میں شعر کہنے والے غیر عرب مسلم شعرا بلکہ اسلامی زبانوں میں شعر کہنے والے غیرمسلم شعرا کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ غیر عرب شعرا بھی جو سرسبز و شاداب علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور جن کی زندگیوں کا کارواں اور قافلے سے کوئی رابطہ نہ تھا بلکہ جو بڑے شہروں کی بند گلیوں ہی میں فوت ہو گئے، وہ بھی اپنے کلام کے توسط سے عرب کے صحرا نشین نظر آتے ہیں۔ مثلاً مرزا غالب جو شہر آگرہ میں پیدا ہوئے اور شہر دہلی میں وفات پا گئے، اس قسم کے شعر بھی کہتے ہیں :
کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی؟
	عربی زبان کے ہسپانوی شعرا کو لیجئے وہ سپین میں بیٹھے ہوئے ٹیلوں ، خیموں اور قافلوں کا ذکر کرتے ہیں ، حالانکہ سپین کا بیشتر حصہ سرسبز و شاداب سرزمین ہے۔ باغوں کی بہتات ہے۔ وہاں وہ قافلے اور شتربان اور ریت کے وسیع اور بلند ٹیلے کہاں جو عرب کی جان ہیں۔ ابنِ حزم اندلسی کہتا ہے:
تذکرت ودالحبیب کانہ
لخرلۃ اطلال ببرقۃ ثہمدٖ
وعہدی بعہد کان لی منہ ثابت
یلوح کباقی الوثم فی ظاھر الیدٖ
(ترجمہ) میرے دل میں محبوب کی یاد یوں اُبھری گویا ثہمد کی سنگلاخ زمین میں خولہ (کی چھوڑی ہوئی منزل) کے کھنڈر ہوں۔ میرے اس کے مابین جو پیمان محکم تھا، اس کی یاد یوں تازہ ہوئی جیسے پشتِ دست پر گودنے کے نشان نمایاں ہوں۔
	ان دو شعروں کے دونوں دوسرے مصرعے درحقیقت عہدِ جاہلیت کے مشہور شاعر طرفہ کے معلقے کا مطلع ہیں۔
	اصل بات یہ ہے کہ جغرافیائی ماحول کی طرح ذہنی ماحول بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ علم و فکر کے دھارے جس وطن سے پھوٹتے ہیں ، وہ علمی اور فکری وطن ذہنوں میں بسنے لگتا ہے اور اس وطن کی فضا ذہن کی آب و ہوا بن جاتی ہے۔
	اقبال کو عربی ادب سے لگاؤ تھا۔ عربی اُنہوں نے شمس العلماء مولانا سیّد میر حسنؒ سے پڑھی تھی۔ جن کے بارے میں سر عبدالقادر نے دیباچۂ بانگِ درا میں لکھا ہے کہ ’’ان کی تعلیم کا یہ خاصہ ہے کہ جو کوئی ان سے فارسی یا عربی سیکھے، اس کی طبیعت میں اس زبان کا صحیح مذاق پیدا کر دیتے ہیں۔‘‘
	علامہ اقبال نے فارسی اور عربی، دونوں زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ اُردو زبان کی تحصیل بھی مکمل کی۔ مگر حق یہ ہے کہ عربیت ان کی روح میں سرایت کر گئی تھی۔ عربیت کا تعلق عرب سے تھا اور عرب اس لیے عزیز تھا کہ ’’آنجا دلبر است‘‘۔ گویا وہ سرزمین وطنِ محبوب ہونے کے باعث اقبال کے دل و دماغ میں بس گئی اور اس طرح یہ عنصر ان کے ذہنی ماحول کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ کون نہیں جانتا کہ وہاں کی زندگی مسلسل حرکت تھی اور مسلسل کاوش۔ ہر قبیلہ اور ہر قبیلے کا ہر فرد ہر دم چاق و چوبند تھا، ورنہ چراگاہ چھن گئی، چشمے پر دوسروں نے قبضہ کر لیا اور زندگی کے وسائل زائل ہو گئے--- اس طرح عقیدت و ارادت کا جغرافیائی پس منظر اقبال کے نظامِ فکر کی ایک ضروری بنیاد بن گیا--- یہیں سے اقبال اور ٹیگور کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں --- دونوں کے اسلاف ہم کیش تھے، ان دونوں کے وطن کے طبعی جغرافیہ اور سیاسی تاریخ میں وہ فرق نہ تھا، جو دونوں کے افکار میں ہے۔ ایک میراثِ گوتم کا پاسبان اور دوسرا میراثِ خلیل ؑ کا ایک کا فلسفہ سکونی ہے، دوسرے کاحر کی۔
	مگر اقبال کا یہ ذہنی ارتقا تدریجی تھا۔ بانگِ درا کے پہلے دو حصوں میں عربی اور اسلامی اثرات کم کم ہیں۔ یورپ سے لوٹے تو اندازِ فکر بدل چکا تھا۔ وہ قومیت سے ہٹے اور ملّت کی طرف راغب ہو گئے:
سوے مادر آ کہ تیمارت کند
	یہ سلسلہ بانگِ درا کے تیسرے حصے اور اسرارِ خودی سے شروع ہوا اور پھر ارمغانِ حجاز تک رنگ بدل بدل کر جلوہ گر ہوتا رہا۔ کلامِ اقبال پر عربی اثرات مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ، کچھ باتیں صاف اور صریح ہیں ، کچھ علامت بن گئی ہیں اور کچھ تصاویر خیالی ہیں۔ صریحاً تو وہ عرب کو ’’تمدن آفریں خلّاقِ آئینِ جہانداری‘‘ کہتے ہیں اور عرب صحرا نشینوں کو ’’جہانگیر و جہاں بان و جہاندار و جہاں آرا‘‘ قرار دیتے ہیں --- ان کے نزدیک عصرِ نو عربوں ہی کے خوں کی لالہ کاری ہے۔
عصرِ حاضر زادۂ ایّامِ تُست
مستی ٔ اواز مئے گلفامِ تُست
شارحِ اسرارِ اُو تو بودۂٖ
اوّلیں معمارِ اُو تو بودۂٖ
اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ
مردِ صحرا پاسبانِ فطرت است
	لہٰذا وہ اس صحرا نشیں شیر کے دوبارہ ہوشیار ہونے کی اُمید رکھتے ہیں ، جس نے پہلے کبھی صحرا سے نکل کر روما کے تخت کو اُلٹ دیا تھا مگر یہ صریح باتیں ہیں ، لطف وہاں آتا ہے جہاں وہ عرب کی ادبی روح کو اپنے شعروں میں سمو دیتے ہیں ، جہاں ان کی تشبیہیں ، استعارے اور تلمیحیں اور خیالی تصویریں قاری کے ذہن کو عربی ماحول کی طرف منتقل کر دیتی ہیں۔ یہاں یہ بات صاف ہو جانی چاہیے کہ کلامِ اقبال پر براہِ راست قرآن و حدیث کا جو اثر ہے، میں اس سے بحث نہ کروں گا، وہ بذاتِ خود ایک کتاب کا موضوع ہے۔ میں یہاں صرف عربی ادب کے بعض عناصر تک محدود رہوں گا۔ جی چاہتا ہے کہ اس راہ میں بانگِ درا کی نظم خضرِ راہ کے ایک بند کو راہبر بناؤں۔
	شاعر نے خضرؑ سے پوچھا تھا:
چھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تیری ہے، بے روز و شب و فردا و دوش
	خضر ؑ جواب دیتے ہیں :
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھے
یہ تگا پوئے دما دم زِندگی کی ہے دلیل
اَے رہینِ خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیں 
گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگِ رحیل
ریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خرام
وہ حضر بے برگ و ساماں ، وہ سفر بے سنگ و میل
وہ نمود اخترِ سیماب پا ہنگامِ صبح
یا نمایاں بامِ گردوں سے جبینِ جبرئیل ؑ
وہ سکوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشمِ جہاں بینِ خلیل ؑ
اور وہ پانی کے چشمے پر مقامِ کارواں 
اہلِ ایماں جس طرح جنت میں گردِ سلسبیل
تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش
اور آبادی میں تو زنجیریِ کِشت و نخیل
پختہ تر ہے گردش پیہم سے جامِ زندگی
ہے یہی اَے بے خبر رازِ دوامِ زندگی!
	تشریحی اشاروں کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ فضائے دشت میں بانگِ رحیل، ریت کے ٹیلے، آہو کا بے پروا خرام، بے برگ و ساماں حضر اور بے سنگِ میل سفر، پانی کے چشمے پر مقامِ کارواں وہ مناظر ہیں کہ ذہن کو عربی قصائد نگاروں کی طرف لوٹا لے جاتے ہیں۔ پانی کے چشمے اور سلسبیل والا شعر عربی اور اسلامی روح کا دلآویز امتزاج ہے۔ زنجیریِ کشت و نخیل والا شعر بھی توجہ طلب ہے، وہ اس لیے کہ اقبال نے جس آبادی کو پیشِ نظر رکھا ہے وہ صحرائی آبادی ہے، جہاں کی زنجیریں مختصر سی کھیتی باڑی اور نخلستان ہوتے ہیں ، یہ تو واضح ہے کہ اقبال نے ان مناظر کو برای العین نہ دیکھا تھا۔ تیسری گول میز کانفرنس سے لوٹتے ہوئے وہ قاہرہ اور بیت المقدس میں ایک آدھ دن رُکے ضرور تھے اور بس۔ درحقیقت یہ وہ خیالی تصاویر ہیں جو شعرا کا عطیہ ہیں۔
	کلمۂ نخیل اور بیت المقدس کے باعث ذہن، اقبال کی مشہور نعتیہ نظم ’’ذوق و شوق‘‘ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس نظم کا آغاز اپنی معنوی خوبی کو جبھی واضح کرتا ہے کہ اُسے عربی ادب کے آئینے میں دیکھا جائے:
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں 
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں 
سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شب
کوہِ اِضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں 
گرد سے پاک ہے ہوا، برگِ نخیل دھُل گئے
ریگِ نواحِ کاظمہ نرم ہے مثلِ پرنیاں 
آگ بجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں !
	ان اشعار میں کوہِ اِضم اور ریگِ نواحِ کاظمہ کے اندر مدینہ منورہ کی یاد مضمر ہے۔ کوہِ اِضم وہ پہاڑی سلسلہ ہے جس کی وادی میں مدینہ منورہ آباد ہے۔ کاظمہ کو جو بصرہ کے قریب ایک بستی تھی، عہدِ جاہلیت و اسلام کے ایک سے زیادہ شعرا نے منزلِ محبوب کے طور پر قلمبند کیا تھا، مثلاً ایک شاعر کا شعر ہے:
الم یبلغک ما فعلت ظباہٗ
بکاظمۃ غذاتہ لقیت عمرا
	کیا تمہیں یہ خبر نہیں ملی کہ جس صبح میں عمر سے ملا تھا، اس صبح کاظمہ کے مقام پر اس کے ساتھ اس کے غزال بچے نے کیا سلوک کیا تھا؟
	چنانچہ صاحبِ قصیدۂ بردہ امام بوصیریؒ نے مدینہ شریف کے کلمۂ کاظمہ ہی سے اشارہ کیا ہے۔ ان کے مشہور قصیدے کا شعر ہے:
ام ھبت الریح من تلقاء کاظمۃ
او اومض البرق فی الظماء من اضمٖ
	ایسا تو نہیں کہ کاظمہ کی جانب سے ہوا کا جھونکا آیا ہو یا یہ کہ کوہِ اِضم کی بجلی تاریکیوں میں چمک رہی ہو؟
	کوہِ اِضم کے بارے میں ایک اور شاعر کہتا ہے:
بانت سعاد و امسی حبلہا الصرما
واحتلت الغور و الاجراع من اضما
	میری محبوبہ سعاد نے دوری اختیار کر لی اور اس کا رشتۂ محبت ٹوٹ کر رہ گیا۔ اس نے اب کوہِ اِضم کی وادی میں بمقام غور و اجراع ڈیرا ڈال لیا ہے۔
	ہمیں معلوم ہے کہ اقبال نے ’’ذوق و شوق‘‘ کے بیشتر اشعار فلسطین میں کہے تھے، مگر وہ عالمِ خیال میں نواحِ مدینہ کی سیر و زیارت کر رہے تھے۔ دردِ ہجراں مضطرب کر رہا تھا۔ دل میں دیارِ حبیبؐ کے دیدار کا ذوق، شوق انگیز تھا۔ ارمان مچل رہے تھے، روحانی کرب اور جسمانی بُعد--- عجیب بے سکون لذت اور بڑی لذیذ بے سکونی کا عالم تھا، بہرحال پیشِ نظر تھا، سوادِ منزلِ محبوب، لہٰذا ماحول نور کی ندیوں ، رنگ برنگ طیلسانوں اور مثلِ پرنیاں نرم ریگ کی وجہ سے روشن، رنگین اور ملائم ہو رہا تھا۔ ٹوٹی ہوئی طناب، بجھی ہوئی آگ اور گزر جانے والے قافلے عرب شعرا کے محبوب ترین مضمون ہیں۔
	کلامِ اقبال کا مطالعہ کرنے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ عمر کے ساتھ ان کی دینی شیفتگی بڑھتی چلی گئی اور جوں جوں اس شیفتگی میں اضافہ ہو تا گیا، کاروان، قافلہ، زمام، ناقہ، مقام، سبیل، منزل، طناب، خیمہ، نخل، نخیل وغیرہ کلمات کا استعمال بھی تدریجاً بڑھتا گیا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو:
بہر جائے کہ خواہی خیمہ گستر
طناب از دیگراں جستن خرام است
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب
	نظم ’’ذوق و شوق‘‘ کے یہ مصرعے دیکھیے:
ع	قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں 
ع	نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
ع	مجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم نخیل بے رطب
	نخیلِ بے رُطب ٹھیٹھ عربی پیرایۂ بیان ہے۔ رطب پختہ کھجور کو کہتے ہیں --- محاورہ ہے ارطب النخل یعنی کھجور کا پھل پکنے لگا--- چونکہ نظم کی فضا عربی ہے، لہٰذا ایسے ہی کلمات اس میں رنگ بھر سکتے ہیں ، جو اسی فضا کی پیداوار ہوں۔ کلمۂ نخیل سے ’’خضرِ راہ‘‘ کے درج کردہ بند میں بھی سابقہ پڑا تھا اور ’’ذوق و شوق‘‘ میں بھی--- وہی کلمہ اب ذہن کو مسجد قرطبہ کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ ’’مسجد قرطبہ کے بند بھی ’’ذوق و شوق‘‘ کی طرح غزل کی صورت میں چلتے ہیں اور عربی شاعری ہی کے انداز میں قافیے بے ردیف ہیں۔ مسجد قرطبہ سے خطاب کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں :
تیری بِنا پائدار تیرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل
	یہ نظم سپین میں کہی گئی تھی، مگر سپین کی جغرافیائی فضا کے بجائے عرب کا ذہنی ماحول اثرانداز تھا۔ لہٰذا نظم کا مزاج عربی بن گیا ہے۔ مسجد کے ستونوں کو ہجومِ نخیل سے تشبیہ دی ہے اور وہ بھی صحرائے شام کے ہجومِ نخیل سے۔ صحرائے شام کی شرط اس لیے مناسب تھی کہ مسجد کا بانی عبدالرحمن الداخل شام ہی سے آیا تھا۔ وہی عبدالرحمن جس نے سرزمینِ اندلس میں کھجور کا پہلا درخت لگایا تھا اور شام کے ہجومِ نخیل کی یاد میں رو رو کر شعر کہے تھے، اِن اشعار کا بھی آزاد ترجمہ بالِ جبریل میں موجود ہے۔ اقبال نے عربوں ہی کے انداز میں مسجد قرطبہ کی وسعت اور عظمت کے پیش نظر اسے حرمِ قرطبہ کہہ کر پکارا ہے۔ اقبال سے کئی سو سال قبل ابن المثنیٰ نے اس مسجد پر جو شعر کہے تھے، ان میں اسے باضابطہ حرمِ کعبہ سے تشبیہ دی تھی:
بنیت للہ خیر بیتا
نخرس عن وصفہ الانام
حجّ الیہ من کل ادب
کانہ المسجد الحرام
کان محرابہٗ اذا ما
حف بہٖ الرکن و المقام
	’’اللہ کے لیے بہت اعلیٰ گھر تعمیر کیا گیا ہے۔ لوگوں کی زبانیں اس کی توصیف بیان نہیں کر سکتیں۔ لوگ ہر نواح سے اس کا رُخ کرتے ہیں ، یوں گویا وہ مسجدِ حرام (کعبہ) ہو۔ جب لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا منبر کعبے کے رکن و مقام کا کام دے رہا ہے۔‘‘
	مسجد کی عبرتناک فضا نے اقبال کو گردشِ فلک کے اصولِ لازوال کی طرف منتقل کر دیا اور وہ عروج و زوالِ اقوام و ملل پر غور کرتے اور یاس کی تاریکیوں میں اُمید کی شمعوں کا نظارہ کرتے، دریائے کبیر سے خطاب کرتے ہیں :
آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
	اسی دریائے کبیر کے کنارے کبھی ابوبکر ابن اللبانہ الدانی (م :۵۰۷ھ) نے بنوعباد کو یاد کیا تھا  ’’معتمد کی فریاد قید خانے میں ‘‘ ایک نظم بالِ جبریل کی زینت ہے جو محمد معتمد بن معتفد عبادی کے اشعار کا آزاد ترجمہ ہے۔ معتمد کو یوسف بن تاشفین نے ۴۸۴ھ میں گرفتار کر کے بیڑیاں پہنائیں اور مراکش الغرب میں کوہِ اطلس کے دامن میں بمقام اغمات قید کر دیا۔ معتمد کی سخاوت، جواں مردی، مروّت، ادب نوازی اور خوش باشی کو اندلس کے معاصر اور مابعد کے شعرا نے بڑے کرب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ابن اللبانہ، دریائے کبیر کے کنارے بیٹھا ہوا کہتا ہے، ’’اے دریا، میں چشم تصور کی مدد سے دیکھ رہا ہوں کہ بنو عباد کی کشتیاں سمندر کی طرف جا رہی ہیں۔ اور پھر وہ اصول عروج و زوال کے غم انگیز خیالات میں کھو کر بنو عباس اور بغداد کی اوائلی شان و شوکت کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اقبال نے ہسپانیہ کے مسلم حکمرانوں کو عمومی رنگ میں بڑی محبت سے یاد کیا ہے:
ساقی ٔ اربابِ ذوق، فارسِ میدانِ شوق
بادہ ہے اس کا رحیق، تیغ ہے اس کی اصیل!
	مگر ابن اللّبانہ نے خصوصاً بنو عبّاد کی تعریف کی:
تبکی السماء بمزن رائح غادی
علی البہالیل من ابناء عبادی
علی الجبال التّی ھدت قواعدھا
وکانت الارض منہم ذات اوتادی
	’’ابرِ باراں صبح و شام سردارانِ بنی عبّاد پر اشک افشاں ہے۔ وہ ان پہاڑوں پر اشک افشاں ہے جن کی بنیادیں اکھاڑ دی گئیں ، حالانکہ خود اُنہی کی وجہ سے زمین کو سہارے میسر تھے۔‘‘
	اقبال کا یہ مصرعہ کہ 
ع	بادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیل
	کسی ایسے ہی شخص کے منہ سے نکل سکتا تھا، جس کو عربی زبان کی چاشنی وافر میسر ہو--- نخیل نے ہمیں قرطبہ پہنچا دیا تھا--- نخیل کہ کھجور ہے اور عربوں کی پھوپھی جان ہے، وہ اگر عربوں کی داستان سنائے تو حق پہنچتا ہے--- یہاں معاً  جاوید نامہ میں مہدی سوڈانی کی زبان سے نکلوائے ہوئے کلمات یاد آ جاتے ہیں۔ مہدی، ساربان سے خطاب کرتے ہیں :
ناقہ مستِ سبزۂ ومن مستِ دوست
او بدستِ تست ومن در دستِ دوست
آب را کردند بر صحرا سبیل
برجبل ہاشستہ اور اقِ نخیل
سارباں یاراں بہ یثرب ما بہ نجد
آں حدی کُو ناقہ را آرد بہ وجد
	مہدی سوڈانی کا رُخ بھی مدینہ طیبہ کی طرف ہے۔ جلدی پہنچنا چاہتے ہیں۔ بارانِ رحمت ہو چکی ہے، ناقہ سبزے کے باعث رُک رُک جاتی ہے۔ پانی کی، صحرا کے لیے سبیل لگا دی گئی ہے اور پہاڑوں پر برگِ نخیل دھُل گئے ہیں۔ مہدی سوڈانی کی زبان سے یہ کہلوانے کے لیے دینی اور عربی پس منظر سے آگاہی ضروری تھی۔
	عربِ جاہلیت کے ذہن کی جو ترجمانی علامہ اقبال نے جاوید نامہ میں کی ہے، لائقِ داد ہے۔ جاوید نامہ میں طاسین محمدؐ کا آغاز ’’نوحۂ روحِ ابی جہل در حرم کعبہ‘‘ سے ہوتا ہے۔ عرب کو اپنے حسب نسب پر کس قدر فخر تھا اور دوسروں کی زبان کو کس قدر گھٹیا سمجھتے تھے، چند شعروں میں ان امور کا ملخّص پیش کر دیا گیا ہے۔ ابوجہل کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف جو شکایت تھی، وہ یہ ہے:
مذہبِ او قاطعِ ملک و نسب
از قریش و منکر از فضلِ عرب
قدرِ احرارِ عرب نشناختہ
باکلفتانِ حبش در ساختہ
ایں مساوات، ایں مواخات اعجمی است
خوب می دانم کہ سلیمانؓ مزدکی است
ابنِ عبداللہ فرمیش خوردہ است
رستخیزے بر عرب آواردہ است
اعجمی را اصلِ عدنانی کجاست
گنگ را گفتارِ سحبانی کجاست
چشمِ خاصانِ عرب گردیدہ کور
برنیائی اَے زہیر از خاکِ گور؟
اے سُبل، اے بندہ راپوزش پذیر
خانۂ خود راز بے کیشاں بگیر
گلۂ شاں رابگرگاں کن سبیل
تلخ کُن خرمائے شاں را برنخیل
اے منات اے لات ازیں منزل مرو
گزر منزل می روی از دلِ مرو
اے ترا اندر دو چشمِ ماوثاق
مہلتے اِن کنتِ ازمعتِ الفراق‘‘
	سحبان وائل عرب کا آتش بیاں خطیب تھا، زہیر بن ابی سلمیٰ عرب جاہلیت کے تین چار چوٹی کے شاعروں میں سے ایک تھا۔ اِن کنت از معتِ الفراق‘‘ امرؤ القیس کے معلقے کی طرف توجہ مبذول کر رہا ہے۔ یہ مصرعے تو خاص طور پر قدیم عرب ذہنیت کے آئینہ دار ہیں۔
ع	از قریش و منکر از فضلِ عرب
ع	گنگ را گفتارِ سحبانی کجاست
ع	تلخ کن خرمائے شاں رابرنخیل
	یہ تو چند سطور کی فضا کا معاملہ تھا۔ ویسے اگر جاوید نامہ کے مواد اور پیرایۂ اظہار پر نظر ڈالی جائے تو احساس ہو گا کہ اس کتاب کے خاکے کا بھی حسب نسب عربی ہے۔ سیر افلاک اور مناظر بہشت پر اوّلیں کتاب شاید ابو الحسن علی بن منصور عرف ابن القارح کی ہے جس میں اُنہوں نے غیر اہل ایمان اور بد عمل شعرا و خطبا حضرات کو جہنم میں مبتلائے عذاب دِکھایا تھا (یہ صاحب ابوالعلا المعری کے ملنے والوں میں سے تھے)۔ ابو العلا المعری نے ان کے ردّ میں رسالۃ الغفران تحریر کیا۔ معری سیر کرتا ہوا جنت میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں کئی ایسے شعرا کرام سے ملاقات ہوئی جو عہدِ جاہلیت میں چل بسے تھے۔ اُنہوں نے زمانہ اسلام دیکھا ہی نہ تھا۔ معری حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ تم اسلام کی روشنی پھیلنے سے قبل وفات پا گئے تھے۔ تمہیں جنت کیوں کر مل گئی۔ اس پر فرداً فرداً ہر ملاقاتی شاعر اپنے بخشے جانے کی توجیہہ کرتا ہے۔ زہیر کا اپنا موقف ہے۔ امرؤ القیس کا اپنا جواب ہے۔ عبید بن الابرص اپنے دلائل پیش کرتا ہے--- معری ویسے بھی متشکک تھا۔ اہلِ دین کے تشدد سے اس کو شدید نفرت تھی۔ اس کے نزدیک خدا کا تصور اگر کچھ تھا تو وہ محض بے رحمی کا مظہر نہ تھا۔ معری کے بعد محی الدین ابنِ عربی ؒ کی کتاب 
فتوحاتِ مکیہ ایک طرح سے درمیانی کڑی کا کام دیتی ہے۔ فتوحاتِ مکیہ میں سیرِ افلاک کے ساتھ ساتھ تمثیلی انداز بھی موجود ہے--- دانتے، فتوحاتِ مکیہ سے متاثر ہوا۔ اس ضمن میں اقبال نے ایک سے زیادہ مقام پر اشارے کیے ہیں۔ لی بان گریونے بام نے بھی اپنی کتاب Medieval Islam میں دانتے کی ابن العربی سے اثر پذیری کو تسلیم کیا ہے--- جاوید نامہ میں چار طواسین ہیں۔ طاسینِ گوتم، طاسین زرتشت، طاسینِ مسیحؑ اور طاسینِ محمدﷺ--- صاف ظاہر ہے کہ یہ حلّاج کی کتاب الطواسین کا اثر ہے۔
	بہرحال، جاوید نامہ میں بھی رسالۃ الغفران جیسی فراخدلی دِکھائی ہے، حالانکہ اقبال مزاجاً مذہبی آدمی تھے، معری کی طرح متشکک نہ تھے، مگر اُنہوں نے کسی قوم کو یا سردارِ قوم کو مذہبی تنگ نظری کی بنا پر نذرِ جہنم نہیں کیا۔ اقبال نے جہنم کی جگہ زحل کے دریائے خون کا منظر پیش کیا ہے اور میر جعفر اور میر صادق کو مبتلائے عذاب دِکھایا ہے۔ کسی غیرمسلم قوم کے کسی ہادی یا بزرگ یا فلاسفر کو ان کا شریکِ حال نہیں بنایا۔ جعفر اور صادق غدار تھے--- اُنہوں نے قوم و وطن کا اپنی خود غرضی کی بنا پر خون کر دیا تھا۔ کروڑوں انسان ان کی غداری کے باعث غلامی کے قعر مذلّت میں جا پڑے تھے، لہٰذا اقبال نے از راہِ تنبیہ کہا ہے:
ایں جہاں بے ابتدا بے انتہاست
بندۂ غدار را مولا کجاست
	جعفرانِ آں زماں ہوں یا صادقانِ ایں زماں ، بہرحال بے مولا ہی رہے، بے مولا ہی رہیں گے۔
	کلامِ اقبال کا مطالعہ کرتے ہوئے یوں تو متنبی، معری، عمرو بن کلثوم، بوصیری، کعب بن زہیر، زہیر بن ابی سلمیٰ، امرؤ القیس، معتمد وغیرہ شعرائے عرب کا ذکر یا نشان مل جاتا ہے۔ مثلاً ارمغانِ حجاز میں اقبال نے عمرو بن کلثوم کا یہ شعر اپنے قطعہ کا جزو بنا لیا ہے:
صبنت الکاس عنّا امّ عمرو
وکان الکاس مجراھا الیمینا
اگر ایں است رسمِ دوست داری
بدیوارِ حرم زن جام و مینا
	(اے امِ عمرو ہم دائیں جانب تھے اور دستور کے موافق گردشِ ساغر کو دائیں جانب ہی سے شروع ہونا چاہیے تھا، مگر تو نے اسے الٹا چلا دیا۔ اگر طریقِ دوستداری یہی ہے تو پھر جام و مینا کو دیوارِ حرم پہ دے مار!)
	مگر بعض جگہ عربی شعروں کا پرتو نظر آتا ہے، اور اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ اگر متنبی، ابوتمام اور امرؤ القیس وغیرہ کے کلام کا بالتدقیق مطالعہ کیا جائے تو ممکن ہے ’’زیادہ نشانات مل جائیں۔ اثر پذیری بالکل قدرتی بات ہے۔ مقالے کے آغاز میں اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ مطالعہ جس بھی ادب کا کیا جائے، اس کا اثر ذہن پر کچھ نہ کچھ ضرور رہ جاتا ہے، مثال کے طور پر علامہ اقبال کا شعر ہے:
گماں آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیلِ رہبانی
	عرب جاہلیت میں تارک الدنیا راہبوں کی دور افتادہ جھونپڑیوں کے قریب رات کی تاریکیوں میں جھلملانے والے چراغ کی لو امرؤ القیس کے اس شعر میں ملاحظہ کیجئے:
تضیئ الظلام بالعشی کانھا
منارۃ مُمسٰی راھب متبتّل
	(میری محبوبہ اپنے حسن کے باعث شام ڈھلے تک تاریکیوں کو منور کر دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ کسی تارک الدنیا راہب کی قندیل ہے جو شام کے وقت روشن کر دی جاتی ہو۔)
	اسی مضمون سے متاثر ہو کر فارسی میں یہ قطعہ کہا گیا ہے:
شبِ ایں کوہ و دشتِ سینہ تابے
نہ دروے مرغکے نَے موجِ آبے
نگردد روشن از قندیلِ رہباں 
تو میدانی کہ باید آفتابے
	پس چہ باید کرد اَے اقوامِ شرق میں عربوں کو فرنگیوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی تلقین ان الفاظ میں کی ہے:
از فریب اُو اگر خواہی اماں 
اُشترانش راز حوضِ خود براں 
	یہ مضمون زُہیر بن ابی سلمیٰ کا معلّقے کا مضمون ہے:
ومن لم یذدعن حوضہ بلاحہٖ
یھّدم، ومن لایظلم الناس یظلم
	جو شخص اپنے حوض کی مدافعت اپنے اسلحہ سے نہیں کرتا، اس کا حوض توڑ دیا جاتا ہے، جو دوسروں پر چڑھ نہ دوڑے، لوگ اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔
	اسرارِ خودی میں ایک شعر ہے جس پر بوصیریؒ کا اثر ہے اور حاشیے میں خود اقبال نے اس امر کی طرف اشارہ کر دیا ہے:
رونق از ما محفلِ ایّام را
اورُسل را ختم وما اقوام را
	بوصیریؒ کا شعر ہے:
لھّا دعا اللّٰہ داعینا لطاعتہٖ
اکرم الرُّسل کُنّا اکرم الامم
	’’جب خدا نے ہمارے داعی ٔ اسلامی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کی اطاعت کے باعث ’’اکرم الرسل‘‘ قرار دیا ہے تو ہم ان کی امت ہونے کے باعث ’’اکرم الامم‘‘ بن گئے۔‘‘
	علامہ اقبال نے مسجدِ قرطبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
تیرا جلال و جمال، مردِ خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیل
	اس شعر کو پڑھتے ہی مسجدِ قرطبہ کے ایک بانی عبدالرحمن الناصر کا ایک شعر یاد آ جاتا ہے:
ان البناء اذا تعاظم قدرہٗ
اضحٰی یدل علٰی عظیم الشان
	(کسی عمارت کا عالیشان ہونا اشارہ کرتا ہے،اس امر کی جانب کہ اس کا بنانے والا عالیشان ہے۔)
	اسی مضمون کو ابوفراس حمدانی نے ایک اور رنگ میں ادا کیا ہے:
صنائع فاق صانعہا ففاقت
وغرس طاب غارسہا فطابا
	(جن صنائع کا صانع فائق ہو گا، وہ صنائع بھی فائق ہوتی ہے۔ جس پودے کا بیجنے والا پاک ہو، وہ پودا بھی پاک ہوتا ہے۔)
	اقبال نے والدہ مکرمہ کا جو مرثیہ کہا تھا، اس کا آخری شعر ہے:
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
	دوسرے ممالک میں بھی ’’لحد پر شبنم افشانی‘‘ کی خواہش پیرایۂ دُعا ہو گی، لیکن عرب کی سرزمین تو ازلی تشنہ سرزمین ہے، لہٰذا عربوں کے یہاں یہ دُعا انتہائی خلوص کی مظہر تھی کہ تیری قبر گیلی رہے---ابو تمام نے اسی تصور کے تحت محمد بن حمید الطائی حاکم موصل کے مرثیے میں یہ مضمون پیدا کیا تھا:
وکیف احتمالی للغیوث صنیعۃ
بائِسقا ئھا قبراً وفی لحدہ البحر
	(میں اس قبر کو سیراب کرنے والے بادلوں کا ممنون کیوں ہوں ، جس قبر کی لحد میں خود سمندر سویا پڑا ہے۔)
	کوشش کی جائے تو ایسے کئی اور نشان مل جائیں گے، جن سے واضح ہو جائے گا کہ اقبال کے ذہن نے عربی فضا کو کس حد تک قبول کیا تھا۔
	مضامین کے علاوہ اقبال کے کلام میں ایسے الفاظ بھی کثرت سے مل جائیں گے جنہیں وہ کبھی کبھی ٹھیٹھ عربی معنی میں استعمال کرتے ہیں ، مثلاً دلیل کو راہبر کے معنی میں ، ادیب کو مؤدب اور اتالیق کے معنوں میں ، طلب کو تعاقب کے معنوں میں ، غریب کو نادر کے معنوں میں ، زحمت کو گھٹن کے معنوں میں ، زحمت کا استعمال دیکھیے، موجِ دریا میں کہا ہے:
زحمتِ تنگی ٔ دریا سے گریزاں ہوں میں 
وسعتِ بحر کی فرقت میں پریشاں ہوں میں 
	یہاں اگر زحمت کے عام معنی--- کلفت--- مراد لیے جائیں تو وہ مفہوم پیدا نہیں ہوتا جو گھٹن سے ہوتا ہے--- مصرع تو ’’کلفت تنگی ٔ دریا سے گریزاں ہوں میں ‘‘ بھی ہو سکتا تھا، مگر زحمت میں جو بھرپور معنی نہاں ہیں وہ کلفت میں کہاں !
	بہرحال بات وہیں آ کر ختم ہوتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی، اور وہ عزیز احمد کے یہ کلمات تھے کہ اقبال کا پورا کلام پڑھنے کے بعد اقبال کے اطراف میں بہت کچھ پڑھنا پڑتا ہے:
گماں مبر کہ بپایاں رسید کارِ مغاں 
ہزار بادۂ ناخوردہ در رگِ تاک است

میزان اقبال، اقبال اکادمی لاہور، ۱۹۸۶ء
٭٭٭




فارسی شاعری، اور اقبال کا اسلوب بیان 

ڈاکٹر محمد ریاض

	دنیا کی دوسری زبانوں کے مانند، فارسی میں بھی شعر کے نمونے نثر سے پہلے ملتے ہیں۔ قدیم ترین نمونے اب تک تیسری صدی ہجری/نویں صدی عیسوی کے اوائل کے ملے ہیں۔ تصانیف اقبال میں جن ایرانی شعرا کا ذکر ملتا ہے، ان کا عصر حیات پانچویں سے تیرھویں صدی ہجری/گیارھویں سے انیسویں صدی عیسوی کو محیط ہے یعنی غزنویوں کے دور سے قاچاریو ں کے عہد تک۔ برصغیر کے شعرا جو ان کے ہاں مذکور ہیں ، وہ بارہویں تا بیسویں صدی عیسوی کے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ اقبال نے قدماء متوسطین اور کسی قدر جدید شعرا کے اسالیب کو پیش نظر رکھا مگر جلد ہی انھوں نے اپنا خاص سبک یا اسلوب اختیار کر لیا۔ بعض حضرات اقبال کی فارسی شاعری کو کلاسیکی شاعری کا نمونہ قرار دیتے ہیں (۱)۔ یہ بات جزوی طور پر صحیح ہے مگر یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نئی ہیئت شاعری اور نیا انداز بیان اختیار کرنے کی بنا پر اقبال جدید ترین شعرائے فارسی کی صف میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔
	ایک عرصے سے فارسی زبان و ادب کے محققین اور ناقدین،فارسی شاعری کے اسالیب پر بحث جاری کیے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں فارسی نثر کے بارے میں بھی کتب و مقالات لکھے جاتے رہے ہیں۔ اِن سب بحثوں کا ماحصل یہ ہے کہ عصری تقاضوں اور ماحول کے مطابق، مصنفین اور شعرا خاص روش و نثر و نظم کو اپناتے رہے ہیں۔سبک(طرز) اگرچہ نام کے اعتبار سے مقامات و ممالک سے منسوب نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اعصار و ازمنہ سے منسلک ہیں۔
	فارسی شاعری کا آغاز، ایران قدیم کے ان مشرقی علاقوں سے ہوا جنھیں ہم ترکستان، خراسان اور ماوراء النہر کے نام سے جانتے ہیں۔ پہلی صدی ہجری کے وسط میں عربوں نے ایران پر تسلط کیا مگر تیسری صدی ہجری کے اوائل تک ایرانیوں نے کافی حد تک آزادی اور داخلی خودمختاری حاصل کر لی تھی۔ ان حالات میں طاہریوں (۲۰۵۔۲۵۹ھ )، صفاریوں (۲۵۹۔۲۹۱ھ ) اور سامانیوں (۲۹۱۔۳۶۷ھ)کی حکومتیں جو مندرجہ بالا علاقوں میں قائم ہوئیں ، فارسی ادب کے فروغ کے لیے نہایت درجہ کوشاں رہیں۔ان حکومتوں کے جانشین غزنوی اور سلجوقی سلاطین ہوئے  اس سارے عرصے میں ترکستان اور خراسان کا وسیع علاقہ، فارسی ادب کا گہوارہ بنا رہا۔فارسی ادب ایران اور ہمجوار ممالک کے بعض حصوں میں پھیلتا گیا مگر شعر فارسی کے بیشتر فصحا جیسے رود کی، دقیقی، فردوسی، فرخی، عنصری، منوچہری اور ناصر خسرو وغیرھم، ایران کے مشرقی علاقوں سے ہی اٹھے۔ ادبی اصطلاح میں  ان شعرا کے اسلوب کو سبک ترکستانی بھی کہتے رہے  ہیں مگر سبک خراسانی زیادہ متداول اصطلاح ہے۔ بعض محققین تبریز، آذربائجان اور اس کے نواح کے شعرا مثلاً خاقانی،نظامی ،فلکی اور قطران کے اندازِ شعر کو ’سبک آذربائجانی‘ کا نام دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ابتدا سے قرن ہفتم ہجری کے اوائل تک فارسی شاعری کا عام اسلوب، خراسانی ہی رہا ہے۔ البتہ آخری سو سال میں شعرا پرانی ڈگر سے کسی قدر ہٹ رہے تھے اس لیے انوری، ظہیر، خاقانی، نظامی اور عطار وغیرہ کے ہاں شعرائے متقدم کے اسلوب سے کسی قدر اختلاف نظر آتا ہے۔ یہ لوگ سبک خراسانی کے نمائندے تھے مگر تغزل میں اس اسلوب پر چلتے نظر آتے ہیں جس نے نصف صدی بعد ایک نئے سبک یعنی سبک عراقی کو جنم دیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ شعرا وغیرہ کا اسلوب نیم خراسانی اور نیم عراقی تھا۔
	ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں چنگیز خان اور اس کے منگولی ٹولے نے ایران، خصوصاً خراسان کو تاخت و تاراج کیا۔ کئی علما، فضلا اور شعرا قتل ہوئے اور باقی نے عراق عجم (اصفہان، تہران ، رے، تبریز اور آذربائجان وغیرہ)کا رخ کیا۔ منگولوں ، ایلخانیوں ، خوارزمشاہیوں اور تیموریوں کے عہد میں شاعری بالعموم دربار سے نکل کر دور دور تک پھیلتی گئی۔ اب یہ توصیف، مدح اور پراپیگنڈا کا ذریعہ ہی نہ تھی، اس میں لطیف افکار، تصوف و عرفان، پندو اخلاق اور تفکر بھی سمونے لگا۔ اسے غزل کی زبان مل گئی تھی جسے اقبال ایرانی تفکر کا ایک نمایاں پہلو قرار دیتے ہیں (۲)۔ اصطلاحاً اس نئے اسلوب شعر کو جو کوئی تین سو سال تک متداول رہا ’سبک عراقی‘ کہتے ہیں۔ اس عرصے میں شعرا عراق عجم کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی تھے مثلاً شیراز میں سعدی اور حافظ تھے۔ بعض مصنف سعدی و حافظ کے اسلوب کو ’سبک فارسی‘ کہتے ہیں یعنی فارس (مشمولہ شیراز)کا اسلوب۔ یاد رہے کہ فارس اس وقت ایران کا ایک صوبہ ہے جس کا صدر مقام شیراز ہے مگر ۱۹۳۵ع تک پارس یا فارس کے نام کا پورے ’ایران‘ پر اطلاق ہوتا تھا۔ بہر حال ہمارے نزدیک ’سبک عراقی‘ ان تین صدیوں  کی شاعری کا مناسب ترین نام ہے ورنہ شیراز کے شعرا کو ’سبک فارسی‘ کا نمائندہ کہیں تو قونیہ کے مولانائے روم، دہلی کے امیر خسرو اور ہرات کے مولانا جامی کے اسلوب کو کوئی اور نام دینا پڑے گا، اور ان تکلّفات کا نتیجہ کچھ نہ ہو گا۔
	سبک عراقی جس کی تفصیل بعد آئے گی، فارسی شاعری کا دلآویز ترین سبک ہے۔ برصغیر میں دسویں صدی ہجری سے عصر اقبال تک اس کا تتبع نہ رہا، مگر ایرانیوں نے انیسویں صدی عیسوی سے اس سبک (اور کسی حد خراسانی سبک کی طرف بھی)عود کر لیا تھا۔ جدید ایرانی محقق یہاں بھی ایک موشگافی دکھاتے اور دسویں صدی ہجری کے اکثر فارسی شعرا کو مکتب و قوع، کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک معاملہ بندی (وقوع)اور واسوخت لکھنا، سبک عراقی ہے نہ ہندی، بنابریں فغانی اور وحشی بافقی کے قبیل کے شعرا’ شاعرانِ وقوع‘ ہیں (۳) اس اسلوب کی مثالیں بعد میں نقل ہوں گی۔
	دسویں صدی ہجری کے اوائل سے ایران میں صفویوں کی حکومت قائم ہوئی جِس کا بانی شاہ اسماعیل اول (م  ۹۳۰/۱۵۲۴ع ) تھا۔ صفوی، شیخ صفی الدین اردبیلی (م: ۱۳۳۴ع )سے منسوب تھے اور انھوں نے کوئی سوا دو سو سال تک حکومت کی ہے۔ ان کے دارالحکومت تبریز،قزوین اور اصفہان رہے۔ صفویوں کا دور، ترقی و پیشرفت کا دور ہے مگر عام شاعری کو اس عہد میں سخت دھچکا لگا۔ مذہبی شعرا کے علاوہ دوسروں کے بارے میں دربار حکومت عام طور پر بے التفات رہا۔ اس لیے اس عہد کے بیسیوں نامور شعرا و ادبا نے برصغیر پاک و ہند کی راہ لی اور مغل شاہنشاہوں اور ان کے  امرا کی  فیاضیوں سے بہرہ مند ہونے لگے۔ اقبال نے اپنی ابتدائی دور کی ایک نظم ’ہندوستانی بچوں کا گیت‘ میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے برصغیر کی معارف پروری کی تعریف کی ہے:
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس(۴) کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
	برصغیر میں وارد ہونے والے شعرا نے اپنی طبیعت کی یہاں خوب جولانیاں دکھائیں اور بعض مواقع پر شاعری کو ریاضی اور دیگر علوم عقلی کا نمونہ بنا دیا۔ اقبال  کے زیر اثر برصغیر اور افغانستان کے اکثر شعرا نے اب اس ڈگر کو ترک کر دیا ہے۔ قرونِ مذکور کے شعرا کے سبک کو ’سبک اصفہانی‘ بھی کہتے ہیں مگر سبک ہندی کی اصطلاح زیادہ رائج ہے۔ اس کے خصوصیات بعد میں ذکر ہوں گے۔
	ایران میں دسویں صدی ہجری کے اواسط سے بارہویں صدی ہجری کے اواخر تک سبک ہندی کا رواج رہا، اس کے بعد خراسانی اور عراقی اسالیب کی طرف رجوع کر لیا گیا۔ اصطلاح میں اسے ’احیائے ادبی، کا عہد کہتے ہیں۔ اس عہد کے چار شاعر آذر، نشاط،طاہرہ اور قاآنی اقبال کی تصانیف میں مذکور ہیں۔
سبک اقبال
	ناقدین فن نے اقبال کی مجموعی فارسی شاعری کو ’سبک  اقبال‘ کا نام دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ برصغیر میں فارسی کے انحطاط کے دور میں ایک غیر فارسی زبان شاعر، ایک نیا ’سبک شعر وجود میں لے آئے۔ اس امر کا خود ایرانیوں کو اعتراف ہے کہ اقبال، رودکی، سعدی اور بابا فعانی وغیرہم کے مانند، ایک نئے سبک شعر کے بانی ہیں جسے ان کے نام کے ساتھ منسوب کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ سبک اردو اور فارسی دونوں میں ، اور ہر صنف سخن میں ، نمایاں ہے۔ پروفیسر سعید نفیسی مرحوم نے لکھا ہے کہ اقبال کے فارسی شعر میں عرفی، فیضی، ظہوری،کلیم، صائب، بیدل اور غالب کے سبک کی بازگشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے ہاں سنائی، عطار، رومی، عراقی، اوحدی مراغی اور کمال خجندی کا رنگ ملتا ہے(۵)۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین خطیبی نے جو ملک الشعرا محمد تقی بہار مشہدی کے خاص شاگرد اور تہران یونیورسٹی میں سبک شناسی فارسی کے استاد ہیں ، لکھا ہے:
’’اقبال کے سبک شاعری کو سبک اقبال کا نام دینا مناسب ہے۔ اقبال کے ہاں سبک ہندی کے عناصر تقریباً مفقود ہیں۔ انھوں نے منوچہری، ناصر خسرو، سنائی، عطار، رومی، سعدی، حافظ اور جامی ایسے اساتذہ شعرا کے سبک کا بغور مطالعہ کیا اور اپنے اشعار کو ان ہی قدیم سبک پر استوار کیا لیکن نئے مضامین و موضوعات کی بنا پر ان کا سبک، سبکِ اقبال بن گیا ہے۔ ۔ ۔فارسی شاعری میں اقبال نے حیرت انگیز مہارت دکھائی اور اساتذہ کے رنگ میں انتہائی فصاحت و بلاغت کے ساتھ، دقیق و عمیق فلسفیانہ، صوفیانہ اخلاقی اور سائنسی مضامین بیان فرمائے ہیں۔ ان کی شاعری میں لغوی و معنوی دشواریوں یا الفاظ کے بے محل استعمال کی مثالیں بمشکل ملیں گی۔۔۔۔۔۔ معانی کی بلندی کے ساتھ اقبال کے الفاظ بھی بلند ہیں۔ اگرچہ اقبال کا مقصد محض شاعری نہ تھا، وہ حقائق بیان کرنے پر زیادہ متوجہ رہے مگر ان کے کلام کو پڑھیں تو فکر و فن ہم سطح و ہم ردیف نظر آتے ہیں ‘‘۔(۶)
	کسی ایک سبک کی کوئی جامع و مانع تعریف پیش کرنا مشکل ہے۔ سبک اقبال کا بھی یہی حال ہے۔ علامہ کا اردو کلام ہو یا فارسی، اپنی انفرادیت کا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے مگر اس اعلان کو صاحبان ذوق اور ان کے کلام کی مزاولت رکھنے والے ہی سن سکتے ہیں۔ دیگر اسالیب کی خصوصیات بعد میں بیان ہوں گی۔ اول یہاں سبک اقبال کے چند نمایاں خصوصیات بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ خصوصیات ’سبک عراقی ‘ کے بعد میں بیان ہونے والے خصوصیات کے سوا ہیں :
	سبک (طرز )اقبال کی پہلی خصوصیت فکر و فن کا حسین ترین امتزاج ہے۔ فارسی شاعری کے کسی مفکر شاعر کے ہاں الفاظ و معانی یوں ہم ردیف نظر نہیں آتے۔ مثال کی خاطر حضرت رومی کی تصانیف اور شیخ محمود کی گلشن راز پر ایک نظر ڈالیں۔ جہاں فکر و پیغام بڑھا، وہاں شاعری کا حسن ماند پڑ گیا۔ یہ حضرات شاعر محض تھے نہ اقبال۔ البتہ اقبال کی پیغام دوستی نے ان کی شاعری کا حسن کم نہیں کیا۔ اقبال کو لوگ فلسفی شاعر اور شاعر فلسفی کہتے رہے اور ان دونوں بیانات میں جزوی صداقت ہے۔ اقبال فرماتے ہیں :
ز شعر دلکش اقبال می تواں دریافت
کہ درس فلسفہ می دارد و عاشقی ورزید
بایں بہانہ دریں بزم محرمے جویم 
غزل سرایم و پیغام آشنا گویم
	پہلا شعر ان کے فلسفی شاعر ہونے کا  غماز ہے اور دوسرا شاعر فلسفی ہونے کا موید۔ بہر حال ان کے کلام میں فکر و فن،نقطہ کمال پر نظر آتے ہیں۔
	شعر اقبال کی دوسری خصوصیت، سادگی اور سادہ بیانی ہے۔ ذو لسانین شاعر عام طور پر غیر مادری زبان میں گنجلک اور مشکل الفاظ استعمال کرتے اور زبان و بیان کی ہنر نمائی کی طرف توجہ دیتے رہے ہیں۔ اقبال کا مقصد ابلاغ عام تھا، اس لیے ان کے ہاں لفظی یا معنوی دشواریاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے اردو کلام کی غیر معمولی اور غالب سے بھی بڑھی ہوئی ’فارسیت‘ کی بعض ناقدین کو شکایت(۷) ہو سکتی ہے، مگر فارسی کلام کے بارے میں ایسی بات کرنا انصاف کے خلاف اور کور ذوقی کی دلیل ہو گی۔ قرآن مجید کی مزاولت سے علامہ مرحوم نے آسانی و مشکل گوئی کے حدود سیکھے،یہی وجہ ہے کہ ان کی کئی اردو نظمیں دوسری جماعت کے بچے پڑھتے اور سمجھتے ہیں ، اور علامہ کی اسی خصوصیت سے استفادہ کرتے ہوئے جناب پروفیسر سید محمد عبدالرشید فاضل صاحب نے ’درسیات اقبال‘ کے تین حصے مرتب کر کے چھپوائے ہیں (۸)۔ فارسی زبان والے ممالک میں اقبال کی فارسی تصانیف کے کئی حصے ابتدائی جماعتوں کے درس میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اقبال ایسے مفکر شاعر کے لیے سادہ سے سادہ اشعار کہنا، ایک قابلِ فخر بات ہے مجھے ان کے کلام کے معتدبہ حصے میں فرخی سیستانی اور سعدی شیرازی کے کلام جیسی شان سہلِ ممتنع نظر آتی ہے۔ کیوں نہ ہو، آخر وہ شاعر تھے اور ماورائے شاعر بھی۔
نہ پنداری کہ من بی بادہ مستم
مثال شاعراں افسانہ بستم
بہ جبریل امین ہم داستانم
رقیب و قاصد و درباں ندانم 
دل سنگ از زجاج من بلرزد
یم افکار من ساحل نورزد
دمی در خویشتن خلوت گزیدم 
جہانی لازوالی آفریدم
	سبک اقبال کی تیسری خصوصیت، اس کا بے باک، زور دار اور انقلاب پرور لہجہ ہے۔ یہ لہجہ ان کی شاعری کی جان ہے اور اس نے لاکھوں دلوں کو مسخر کر لیا ہے۔ یہی لہجہ ہماری تحریک آزادی کا  ایک نمایاں محرک رہا اور اس نے کتنے افراد کو جویا، پویا اور فعال بنایا ہے۔ غزل فارسی میں اقبال نے رومی کی غزلیات کا جوش بیان اپنایا۔ مگر رومی کا جوش بیان، بعض عارفانہ موضوعات کے لیے مختص رہا۔ اقبال کے ہاں عصری تقاضوں کے مطابق سب ہی کچھ ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
گرچہ متاع عشق را عقل بہاے کم نہد
من ندھم بہ تخت جم آہِ جگر گداز را
بہر نرخی کہ ایں کالا بگیری سودمند افتد
بزور بازوی حیدرؓ بدہ ادراک رازی را
اگر یک ذرہ کم گردد ز انگیز وجود من 
باین قیمت نمی گیرم حیات جاودانی را
بہ کیش زندہ دلاں زندگی جفا طلبی است
سفر بکعبہ نکردم کہ راہ بے خطر است 
ترا نادان امیدِ غم گساریھا ز افرنگ است؟
دل شاہین نسوزد بہر آن مرغے کہ در چنگ است
تیر و سنان  و خنجر و شمشیرم آرزوست 
بامن میا کہ مسلک شبیرم آرزوست
ز قید و صید نہنگان حکایتے آور
مگو کہ زورقِ ما روشناس دریا نیست
مرید ہمت آن رہروم کہ پا نگذاشت
بجادہ ای کہ درو کوہ و دشت و صحرا نیست
لالۂ این چمن آلودہ رنگ است ہنوز 
سپر از دست مینداز کہ جنگ است ہنوز
چو موج مست خودی باش و سر بطوفاں کش 
نرا کہ گفت کہ بنشیں و پابداماں کش؟
مثل شرر ذرہ را ذوق   تپیدن دہم
ذوق تپیدن دہم، بال پریدن دہم
می توان جبریل را گنجشک دست آموز کرد
شھپرش با موی آتش دیدہ بستن می توان 
گفتند جہان ما آیا بتو می سازد؟
گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن
در دشت جنونِ من جبریل زبون صیدی
بزداں بکمند آور اے ہمت مردانہ
بیروں قدم نہ از دور آفاق 
تو بیش ازینی، تو بیش ازینی
از مرگ ترسی ای زندہ جاوید؟
مرگ است صیدے تو در کمینی 
جانے کہ بخشند دیگر نگیرند
آدم بمیرد از بے یقینی
	اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو بالخصوص اور جہان اسلام کو بالعموم آزادی کے لے سینہ سپر کیا۔ یہی نہیں ، انھوں نے دولت سے بے نیازی برتنے اور موت سے بے خوف رہنے کا موثر درس دیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ایرانی شعرا نے آزادی اور حقوق مشروط کے حصول کی خاطر بے باکانہ جدوجہد کی، اور ایمان پرور شعر کہے۔ اقبال نے بھی ان کے جس قدر اشعار دیکھے، ان کی تعریف کی ہے(۹)۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایرانی شعرا کو اقبال کا سا متین اور متنوع لہجہ میسر نہ آیا، اور بعض ایرانی از روئے تعصب اس امر کی تاویلات پیش کر رہے ہیں ، مثلاً پروفیسر عباس مہرین شوشتری، جو سالہا سال ہندوستان اور پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، لکھتے ہیں کہ ایران کے معاصر شعرا کو وہ ماحول نہ ملا جو اقبال کو میسر رہا ورنہ وہ بھی وطنیت سے بالاتر ہو کر بات کرتے اور جہان اسلام میں اپنی آواز پہنچا سکتے(۱۰)۔ کاش وہ یہ بتا سکتے کہ ان کا مدعا اظہار تعصب کے علاوہ کیا ہے؟ بہر حال اقبال کا بے باک لہجہ ایک بے نظیر چیز ہے، اور اس کی غایت کو ان کے جذبہ انسان دوستی میں دیکھا جا سکتا ہے:
حرکت اعصاب گردون دیدہ ام
در رگ مہ حرکت خون دیدہ ام
بہر انسان چشمِ من شبھا گریست 
تا دریدم پردہ اسرار زیست
از درون کارگاہِ ممکنات 
بر کشیدم سر تقویم حیات
	اقبال کی شاعری کی چوتھی خصوصیت، اِن کی ابداعات ہیں۔ آپ نے پرانی اصطلاحات کو نئے معانی دیے، متداول الفاظ کے معانی میں توسیع پیدا کی، نئی تراکیب وضع کیں اور بعض نئی تعبیرات ازخود تخلیق کیں۔ ان کے ہاں خودی، بیخودی، عشق اور خرد وغیرہ معمولی معانی کے آئینہ دار نہیں ہیں۔ گرہ خوردہ نگاہ، جنگاہ، طائر پیش رس، تازہ کاری، گران رکابی، افرنگ زدہ، شعلہ درگیر، قدر انداز، زادہ باغ و راغ، فاختہ کہن صغیر، نغمہ پار، اثر باختہ آہ، حاضر آرائی، ایازی، محمودی، سمرقندی، تبریز، ہنگامۂ چنگیز، آشوب ہلاکو، کوفہ وشام اور گرمی سومنات نیز جذبہ، ہنگامہ، گرمی اور آشوب وغیرہ کی نئی نئی تعبیرات سے ان کا کلام مملو ہے۔ ایسے استعارات، کنایات نیز نئے اسامی و اماکن جیسے فرامرز، جہان درست، اور مرغدین وغیرہ اقبال کی زبان شناسی، قادر کلامی، جودت طبع اور خلاقی ذہن کے زندہ ثبوت ہیں۔ ان چار خصوصیات کے علاوہ بعض خصوصیات ان کی فارسی شاعری پر عمومی تبصرہ کے دوران بیان ہو جائیں گے۔

عمومی تبصرہ (کتب، اصناف سخن)
	اقبال کی اُردو شاعری کے قابل ذکر نمونے ۱۸۹۴ء کے سال سے، جب وہ انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے دست یاب ہیں (۱۱)۔ ایم۔اے فلسفہ (۱۸۹۹ء)کرنے، اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ، عربی اور انگریزی کی تدریس فرمانے (۱۸۹۹۔۱۹۰۵ع)اور علم الاقتصاد تصنیف کرنے (اشاعت اول ۱۹۰۴ء) کے بعد ۱۹۰۵ء میں جب وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن روانہ ہوئے، اس وقت تک ان کی اردو شاعری کی دھوم سارے برصغیر میں مچ چکی تھی۔ مگر جیسا کہ پیشتر لکھا گیا، اس وقت تک فارسی میں ان کے کہے ہوئے اشعار میں سے  صرف کوئی ایک سو دست یاب ہیں۔ یورپ کے سہ سالہ قیام کے دوران، اقبال نے فارسی گوئی کی طرف خصوصی توجہ دی، سر شیح عبدالقادر نے دیپاچۂ بانگ درا میں اِس ’ مرحلہ انعطاف‘ کے بارے میں اقبال کے قیام لندن سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ نقل فرمایا ہے:
’’ایک مرتبہ وہ ایک دوست کے ہاں مدعو تھے جہاں ان سے فارسی اشعار سنانے کی فرمائش ہوئی اور پوچھا گیا کہ وہ فارسی شعر بھی کہتے ہیں یا نہیں ؟ انھیں اعتراف کرنا پڑا کہ انھوں نے سوائے ایک آدھ شعر کبھی کہنے کے، فارسی لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر کچھ ایسا وقت تھا اور اس فرمائش نے ایسی تحریک ان کے دل میں پیدا کی کہ دعوت سے واپس آ کر بستر پر لیٹے ہوئے باقی وقت وہ شاید فارسی اشعار کہتے رہے اور صبح اٹھتے ہی جو مجھ سے ملے تو دو تازہ غزلیں فارسی میں تیار تھیں جو انھوں نے زبانی مجھے سنائیں۔ ان غزلوں کے کہنے سے انھیں اپنی فارسی گوئی کی قوت کا حال معلوم ہوا جس کا پہلے انھوں نے اس طرح امتحان نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد ولایت سے واپس آنے پر گو کبھی کبھی اردو نظمیں بھی کہتے تھے مگر طبیعت کا رخ فارسی کی طرف ہو گیا‘‘(۱۲)
	اگرچہ علامہ مرحوم کی ’زبانی‘ سنائی ہوئی غزلوں کی نشاندہی مُشکل ہے مگر واقعہ مذکور اقبال کی فارسی پسندی کے لیے ضرور محرک بنا ہو گا۔ علامہ کی فارسی گوئی کی دیگر وجوہ اس سے قبل بیان ہو چکیں۔
	اقبال کی مثنوی اسرار خودی ۱۹۱۵ء میں چھپی۔ اس کے آغاز کا ماہ و سال ہمیں معلوم نہیں مگر قرائن بتاتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے سے قبل اس کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس مثنوی، اور اس کے بعد لکھے جانے والی مثنوی (رموز بے خودی، اشاعت اول۱۹۱۸ع )میں خودی و بے خودی سے متعلق اقبال کی اساسی تعلیمات ملتی ہیں اور پہلی جنگ عظیم کے وقائع کا ان پر پرتو معمولی نوعیت کا ہے۔ اقبال کی دیگر تصانیف میں اس خوفناک جنگ کے بعض انعکاسات دیکھے جا سکتے ہیں۔ بہر حال، اقبال نے زندگی کے آخری ۲۵ سالوں (اواخر ۱۹۱۳ء تا اوائل ۱۹۳۸ء )میں فارسی گوئی کی طرف زیادہ توجہ مبذول رکھی اور اس زمانے کی ان کی اردو شاعری میں ’فارسیت‘ کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ بقول سر عبدالقادر کے (دیباچہ بانگ درا)اقبال، اپنے اشہب قلم کو کسی قدر تکلّف کے ساتھ میدان فارسی سے عرصہ اردو کی طرف موڑتے رہے۔ مرزا اسداللہ خان غالب مرحوم کے اردو کلام میں ’فارسیت‘ کی فراوانی ہے، مگر فارسی شاعروں کے مصرعوں اور شعروں پر تضمینوں ، تراجم اور دیگر تاثرات قبول کرنے کے لحاظ سے اقبال کا اردو کلام، اردو کے ہر دوسرے شاعری کے مقابلے میں فارسی سے زیادہ قریب ہے۔ بلکہ قرآنِ مجید کی آیات، احادیثِ رسول ؐ، بزرگانِ دین کے اقوال اور تاریخ اسلام کی تلمیحات سمونے کی وہ روایت جو اردو نثر نگاروں اور شاعروں کے ہاں موجود رہی، وہ بھی اقبال اور ان کے ہم سن معاصرین پر تقریباً ختم ہو گئی مگر بعض ناقدین نئی روشِ شاعری سے خوش ہیں (۱۳)۔ جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ اقبال نے اردو شعرا کے کلام پر تضمین کمتر کی ہے۔ سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی کا ایک مصرع اور مرزا غالب کے چند مصرعے اور اشعار ان تضمینوں کی کل کائنات ہیں۔ کیفیت، ہمارے اِس کتابچہ کے ہر صفحے سے ہویدا ہے۔

اقبال کی فارسی مثنویاں 
	اقبال کی بیشتر فارسی شاعری، صنف مثنوی میں ہے۔ ایک مثنوی گلشن راز جدید (مشمولہ زبور عجم)کے سوا جو شیخ محمود شبستری کی ’گلشن راز‘ کے جواب میں اور اسی بحر میں ہے(بحر ہزج مسدس محذوف یا مقصور یعنی مفاعیلن، مفاعیلن،مفاعیل یا فعولن)، ان کی دیگر تمام مثنویاں  اسرارخودی، رموز بے خودی (موجودہ اسرار و رموز) جاوید نامہ، مسافر، پس چہ باید کرد اور بندگی نامہ (شامل زبور عجم)حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی کی مثنوی شریف کی معروف بحر میں ہیں (بحر رمل مسدس محذوف یا مقصور جو زحافات میں فاعلاتن،فاعلاتن فاعلات یا فاعلن ہے)۔مثنوی اسرار خودی کے بارے میں اقبال نے تصریح کی ہے کہ اسے  لکھتے وقت انھوں نے مثنوی معنوی اور مثنوی بو علی قلندر پانی پتی کے اسلوب کو پیش نظر رکھا ہے۔ اسرار خودی کی تمہید لکھنے میں انھوں نے ظہوری ترشیزی کے معروف ساقی نامہ کی پیروی کا اعتراف کیا ہے (۱۴)۔ اس قسم کی پیروی کی توضیح اپنے مقام پر آئے گی مثنوی رموز بے خودی، پہلی مثنوی کا تکملہ ہے۔ان دونوں مثنویوں میں اقبال نے رومی کی مثنوی اور دیوان کبیر، نیز بو علی قلندر کی مثنوی اور عرفی و نظیری کے بعض اشعار نقل و تضمین کیے ہیں۔ اقبال کی دیگر مثنویوں میں بھی نقل اور تضمینوں کی یہی حالت ہے۔بعض مثنویوں میں انھوں نے اپنی یا دیگر شعرا کی غزلیں بھی نقل فرمائی ہیں۔ یہ انداز امیر خسرو یا عراقی وغیرہ کی مثنویوں میں نظر آتا ہے، مگر اقبال کے ہاں یہ جدت قابل توجہ ہے کہ انھوں نے دوسروں کی غزلیں تضمین فرمائی ہیں۔ رومی نے سنائی و عطار وغیرہ کے چند شعر ضرور تضمین کیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی جدتیں کئی اعتبار سے بے نظیر ہیں۔

دو نبیتیاں (رباعیات)
	پیام مشرق کا ابتدائی حصہ (لالہ طور)اور ارمغان حجاز (حصہ فارسی )تماماً دو بیتیوں پر مشتمل  ہے۔ اس وزن میں ارمغان حجاز (حصہ اردو) اور بال جبریل میں متعدد دوبیتیاں موجود ہیں۔ پیام مشرق میں انھوں نے ان دو بیتیوں کو ’رباعیات‘ لکھا ہے لفظی طور پر واقعی یہ ’رباعیات‘ ہیں مگر اصطلاحی طور پر ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کا وزن ’لاحول ولاقوۃ الابا للہ‘ نہیں جس کے ۳۴ زحافات رباعی کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ اقبال کی یہ دو بیتیاں ، دراصل ترانے ہیں جن کا وزن بابا طاہر عریاں ہمدانی (قرن پنجم ہجری کے شاعر)کی معروف پہلویات یا فہلویات کے وزن کا ہے۔ علامہ نے خود اشارہ کیا ہے کہ انھوں نے بابا طاہر کی دو بیتیوں کا اسلوب اپنایا ہے(۱۵)۔ ان سب دو بیتیوں کا وزن ہزج مسدس محذوف یا مقصور ہے جس کا ذکر ’گلشن راز‘ میں ہو چکا ہے۔ اقبال نے رباعی کے خاص وزن کی طرف توجہ نہیں دی مگر اپنے زور بیان سے دو بیتی کو رباعی بنا دیا ہے۔ رباعی کے چار اشعار میں کوئی خاص مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ اقبال کی دو بیتیوں کا بھی یہی عالم ہے۔ شعرا نے بالعموم رباعی یا دو بیتی کی ظاہری ہیئت کی پابندی کی ہے۔ پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرع مردف و مقفی ملتا ہے جبکہ  تیسرا مصرع آزاد نظر آتا ہے یا بعض جگہ مقفی اور مردف اقبال نے متعدد دو بیتیوں میں پہلا اور تیسرا مصرع بے ردیف و قافیہ رکھا اور اس طرح اپنی آزادہ روی اور جدت پسندی کا ثبوت دیا مثلاً:
سحر مے گفت بلبل باغبان را 
دریں گل جز نہال غم نگیرد 
بہ پیری می رسد خار بیاباں 
ولے گل چوں جو ان گردد بمیرد
مسلمانے کہ در بند فرنگ است
دلش در دست او آساں نیاید
ز سیماے کہ سودم بر در غیر
سجودے بوذرؓ و سلمانؓ نیاید
بہر حال، جیسا کہ ہم نے ایک مقالے میں بھی لکھا تھا(۱۶) تسلسل بیان اور وسعت معانی کے لحاظ سے اقبال کی ہر دو بیتی اردو یا فارسی کے بڑے بڑے رباعی گو شعرا جیسے اکبر یا حالی، یا خیام، رومی، سعدی اور سحابی وغیرہ کی ہر رباعی کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہے۔

غزلیات
	اقبال کی فارسی غزلیات کے سدا بہار اور دلآویز نمونے پیام مشرق (حصہ مئے باقی) اور زبور عجم (حصہ اول و دوم) میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مثنوی گلشن راز جدید اور مثنوی مسافر میں ایک ایک اور جاوید نامہ میں چند غزلیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اقبال کے اردو مجموعہ ہائے کلام میں بھی فارسی  غزل و تغزل کے نمونے ملتے ہیں۔ غرض، اقبال کی فارسی غزلیات بھی دیوان حافظ کی نصف ضخامت کی حامل ہیں۔
	اقبال کی غزل اُن کی فارسی شاعری کا گل سرسبد ہے۔ غزلیات کا معتدبہ حصہ اساتذہ کے قالب ہائے شعر سے ہم آہنگ ہے البتہ لفظ و معنی کے اعتبار سے ان غزلوں کا دوسروں کی غزلوں کے ساتھ مقائسہ و موازنہ کرنا تحصیل حاصل ہو گا:
غزل آن گو کہ فطرت ساز خود را پردہ گرداند
چہ آید زان غزل خوانے کہ با فطرت ہم آہنگ است
در غزل اقبال احوالِ خودی را فاش گفت
ز آنکہ ایں تو کافر از آئین دیر آگاہ نسیت
یہاں روسی، عراقی، سعدی، خسرو، حافظ، جامی، فغانی اور نظیری وغیرہ کی غزلوں کے ہم طرح ضرور ہیں مگر روح شاعرِ مشرق کی اپنی ہے، نمونے بعد میں ملاحظہ فرمائیے گا۔
	اقبال نے زبان غزل کو بے انتہا دسعت دی، ان کے تتبع میں غزل میں دنیا بھر کے مضامین سمونا، ہنر مندی ہے۔ ان کی غزلیں اس قابل ہیں کہ دوسرے شاعر ان کی تقلید کریں اور پیغام و تغزل کو ممزوج و مخلوط کرنے کی کوشش کو آگے بڑھائیں۔ اقبال کا یہ بڑا کمال ہے کہ غزل میں ہر قسم کے مضامین ادا کر دیے مگر زبان کے لوچ میں فرق نہ آنے دیا۔ شاعر مشرق کا مقصد ابلاغ تھا، نہ کہ ہُنر نمائی مگر ابلاغ پیغام نے غزل کے تقاضوں کو اتنا معمولی مجروح کیا کہ ہر کہ و مہ اس امر کی نشان دہی بھی نہیں کر سکتا۔ اقبال فرماتے ہیں :
بایں بہانہ دریں بزم محرمے جویم
غزل سرایم و پیغام آشنا گویم
نعمہ کجا و من کجا ساز سخن بہانہ ایست
سوے قطار می کشم ناقہ بے زمام را
وقت برہنہ گفتن است، من بہ کنایہ گفتہ ام
خود بگو کجا برم ہم نفسانِ خام را
اقبال کی بے بدل اور کم نظیر فارسی غزل کے بعض خصوصیات کے بارے میں ان کے ایک ارادت مند دوست چودھری محمد حسین مرحوم کی ایک عمدہ تحریر کا اقتباس ہماری اس بحث کا تتمہ ہے۔ ۱۹۲۷ع میں ’زبور عجم‘ کی اشاعت اول کی مناسبت سے انھوں نے لکھا تھا:
’’۔۔۔۔۔۔  اقبال نے انتہائی کوشش کر دکھائی ہے کہ غزل کو پیغام کے رتبے تک لے جائے۔ یہ کوشش قابل ستائش ہے اور مشرقی علم و ادب کی تاریخ میں اپنی قسم کی پہلی مثال ہے۔ آج عراقی، سعدی، حافظ، عرفی، نظیری، صائب اور غالب وغیرہم ہوتے تو جس فن کو انھوں نے شروع کیا تھا اور جس کے کمالات دکھانے میں زندگی صرف کر دی، اسے حد کمال کو پہنچا ہوا دیکھ لیتے۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتے کہ اقبال، غزل کو پیغام کی منزل تک لے جانے میں اسے بعض ضروری لوازم سے محروم کر رہا ہے کہیں مطلع نہیں لکھتے(۱۷)، مقطع کی تو پروا ہی نہیں کرتا اور اشعار غزل کی تعداد، اس کے نزدیک بے معنی قید ہے تو شاید وہ اقبال کی غزل کو کوئی نیا نام دیتے جسے اختراع کرنے سے ہم قاصر ہیں ۔۔۔۔۔ غرض، غزل کا یہ عروج، مشرقی شعر کے عروج(۱۸) کی حد ہے۔‘‘

مستزادات 
	مستزادات کی مختلف صورتیں فارسی شاعری میں پانچویں صدی ہجری /گیارہویں صدی عیسوی سے تا امروز جاری رہی ہیں۔ مصرع اول اور مصرع ثانی معنوی طور پر کہیں مربوط ہیں اور کہیں غیر مربوط مگر صوری طور پر ہر بڑے مصرع پر ایک چھوٹا مصرع یا چند مصرعوں پر ایک ہم وزن یا مختلف الوزن مصرع اضافہ شدہ نظر آتا ہے۔ محققین کا خیال ہے(۱۹) کہ مسعود سعد سلمان لاہوری (م ۵۱۵ھ )غالباً پہلا فارسی شاعر ہے جس نے متسزادات لکھے ہیں۔ اس کے باوجود، پیام مشرق اور زبور عجم میں موجود اقبال کے مستزادات ایسے نمونے فارسی ادب میں بہت کم دیکھے جا سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اہل زبان نے ان منظومات پر اَش اَش کیا ہے(۲۰)۔ پیام مشرق کے مستزادات فصل بہار، سرود انجم، کرمک شب تاب، حدی اور شبنم کے زیر عنوان دیکھے جا سکتے ہیں۔ زبور عجم کے چار مستزاد آمیز منظومات کے افتتاحی بیت دیکھیں :
۱۔یا مسلماں راحدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ
یا دریں فرسودہ پیکر تازہ جانی آفریں 
یا چناں کن یا چنیں 

۲۔
مانند صبا خیز و وزیدن دگر آموز
دامان گل و لالہ کشیدن دگر آموز
اندر دلک غنچہ خزیدن دگر آموز(۲۱)

۳۔ای غنچہ خوابیدہ چو نرگس نگراں خیز
کاشانہ ما رفت بتاراج غماں خیز
از نالہ مرغ چمن از بانگ اذاں خیز
از گرمی ہنگامہ آتش نفساں خیز
از خواب گراں ، خواب گراں ، خواب گراں خیز
از خواب گراں خیز

۴۔خواجہ از خون رگ مزدور سازد لعل ناب 
از جفای دہ خدایاں کشتِ دہقاناں خراب
انقلاب انقلاب ای انقلاب

ایسے روح پرور نغمے ہمیں تلاش بسیار کے باوجود فارسی ادب میں نہ مِل سکے، اور آنجہانی پروفیسر آربری نے انھیں عربی ادب کے لیے بھی نادر اور بدیع بتایا ہے(۲۲)۔

اقبال کی متفرق اختراعات اور جدتیں 
	اقبال کی مثنوی جاوید نامہ صوری اور معنوی ابداعات کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ کتاب مثنوی میں ہے، مگر اس میں اقبال کی اپنی، نیز رومی، غالب اور طاہرہ بابیہ وغیرہ کی غزلیں بھی مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ رومی اور غالب کی مثنویوں کے اشعار بھی تضمین شدہ نظر آتے ہیں۔ چند ترکیب بند اور مستزادیہ ترجیع بند بھی کتاب میں موجود ہیں۔ ان تنوعات نے کتاب کو بے حد دلچسپ بنا دیا ہے۔ معنوی اعتبار سے بھی یہ کتاب فی الحال فارسی ادب کی کتاب اول ہے۔ کتاب روایات معراج کے اتباع میں لکھی گئی ہے۔ یوں تو روایات معراج کا انعکاس اسلامی ادب میں کافی ہے(۲۳) ایک فارسی شاعر کا ارداویراف نامہ، بایزید بسطامی کے عربی ملفوظات، سنائی کی مثنوی سیرالعباد الی المعاد، عطار کی مثنوی منطق الطیر ابن عربی کی الفتوعات المکیہ اور رسائل، ابو العلا معری کا رسالتہ الغفران ابو عامر اندلسی کا   رسالۃ التوابع و الزوابع اور دانتے کی ڈیوائن کامیڈی، وغیرہ سب ہی افلاکی سفر کے نمونے ہیں مگر اقبال کے جاوید نامہ  کا رنگ منفرد ہے:
آنچہ گفتم از جہانے دیگر است
این کتاب از آسمانے دیگر است
	پیام مشرق اور ارمغان حجاز کے منظومات اور ان کے عنوانات کے تنوع پر نظر ڈالیں تو مسحور کن نظر آتے ہیں۔ شاعری میں ہیئت کے نئے تجربے (مستزادات نو )بیان ہو چکے۔ نیز شاعر مشرق کی تراکیب سازی اور اصطلاحات تراشی کی بے نظیر قوت کی طرف بھی اشارہ ہو چکا۔ غرض ہر چیز کمال کے انتہائے مقام پر نظر آتی ہے اور اسی وجہ سے ملک الشعرا بہار، اقبال کو عصر حاضر کا بے نظیر مفکر اور حجۃ الشعر و التفلسف قرار دیتے ہیں :
عصر حاضر خاصۂ اقبال گشت
واحدی کزصد ہزاراں برگذشت
عالم از حجت نمی ماند تہی
فرق باشد از ورم تا فربھی
ایک معاصر ایرانی شاعر جناب کاظم رجوی ایزد شعرا فارسی کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اب بالالتزام اقبال کی ہی پیروی کریں :
مولوی وسعدی و حافظ تجلی کردہ اند
در ہمہ افکار و در آمال و در امیال او
شاعران را باید از اندیشہ او پیروی
تابیار آید ز اقوال شان ہمہ افعال او

اقبال اور فارسی شعرا ، اقبال اکادمی پاکستان ،لاہور ، ۱۹۷۷ء  

حواشی 

۱۔ Poems from Iqbal(وکٹر کیرنن)دیباچہ۔
۲۔ The Development of Metaphysics in Persia :تعارف
۳۔ مکتب وقوع در شعر فارسی
۴۔ اقبال نے یہاں فارس کے لفظ میں ’ر‘ کو متحرک اور مفتوح باندھا ہے حالانکہ یہ ساکن ہے۔
۴۔ رومی عصر، ص ۱۲۴
۶۔ ایضاً، ض ۱۵۶ (اردو اقتباس ہمارا ترجمہ سمجھیے)۔
۷۔ A History of Urdu Literatureمیں اقبال کا ذکر۔
۸۔ شائع کردہ اقبال اکادمی پاکستان،
۹۔ اقبال نامہ ، دوم ص ۱۵۷۔
۱۰۔ تاریخ زبان و ادبیات ایران در خارج از ایران ص ۱۵۴۔ موصوف یہاں اقبال کو فلسفے سے بھی تقریباً کورا قرار دیتے ہیں۔ آخر ہند کے پنشن خوار جو ہیں ! 
۱۱۔ باقیات اقبال، طبع ثانی۔
۱۲۔ اقبال کے قیام یورپ کے دوران کی ایک غزل  ’اقبال‘  مولفہ عطیہ بیگم  (ترجمہ ضیا الدین برنی ، ص ۷۔۸) میں دستیاب ہے۔ یہ ۱۹۰۷ء کی لکھی ہوئی ہے اور مطلع یوں ہے:
ای گل ز خار آرزو آزاد چون رسیدۂ
تو ہم ز خاک این چمن مانند ما دمیدۂ
۱۳۔ Poems from Iqbal(وکٹر کیرنن) توضیح نمبر ۱۔
۱۴۔ اقبال نامہ اوّل، ص ۸۶، اور دوم، ص ۱۴۹۔
۱۵۔ گفتار اقبال (مرتبہ: محمد رفیق افضل) ص ۲۴۲۔
۱۶۔ ماہنامہ ماہ نو کراچی، اپریل ۱۹۷۰ء نیز فاران کراچی مئی ۱۹۷۱ء۔
۱۷۔ اقبال کا اپنا بیان: مکاتیب بنام گرامی، ص ۱۶۴۔
۱۸۔ ماہنامہ ادبی دنیا  لاہور، اپریل و مئی ۱۹۷۰ء ص ۴۹۔
۱۹۔ مباحث بر سبک خراسانی در فارسی۔
۲۰۔ یک چمن گل، ص ۵۔
۲۱۔ یہ مثال مسمطات کے تحت مثلت کی ہے۔
۲۲۔   Aspects of Islamic Civilization میں اقبال کا ذکر۔
۲۳۔ ’’جاوید نامہ پر ایک نظر‘‘ از چودھری محمد حسین (نیرنگ خیال،اقبال نمبر)۔ ماہنامہ ادبی دنیا لاہور اگست ۱۹۷۱ء میں راقم کا مقالہ نیز راقم کا مقالہJournal of Cultural Institute of R.C.D. Tehran, Spring 1975میں عنوان ہے: 
"Javid Nama : A Unique Persian Book"
٭٭٭


نوجوان شاعر، اقبال (ایک تجزیہ)


پروفیسر محمد عثمان

	۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۵ء تک کا زمانہ اقبال کے شباب کا زمانہ تھا۔ شاعری کے اعتبار سے تو اسے عنفوان شباب بھی کہہ سکتے ہیں لیکن خود اقبال اپنی اس منزل سے گزر چکے تھے۔ ان کی پیدائش ۱۸۷۷ء میں ہوئی تھی۔ ۱۹۰۱ء میں ان کی عمر ۲۳برس کی ہو گی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔اے کرنے کے بعد پہلے اور ئینٹل کالج میں اور پھر گورنمنٹ کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے تھے اور ان کا زیادہ  وقت پڑھنے اور پڑھانے میں گزرتا تھا۔ بانگِ درا   کا پہلا حصہ اس کلام پر مشتمل ہے جو انھوں  نے اس عہد میں یعنی ۲۳، ۲۴ برس سے ۳۲ برس کی عمر تک لکھا۔ اس کم و بیش پانچ سال کی شاعری کو بعض نقادوں نے ’دورِ اول کی شاعری‘ کہا اور بعض نے اسے قومیت یا وطنیت کی شاعری سے تعبیر کیا ہے۔ بہر حال یہی وہ زمانہ ہے جس میں کہی ہوئی نظمیں اور غزلیں اور ان کا کہنے والا نوجوان اقبال اس مطالعہ کا موضوع ہے۔

۱۔ فلسفیانہ تفکرّ
	فلسفہ کی طرف میلان اور کالج میں بطورِ مضمون کے اس کا انتخاب اس امر کا ثبوت ہے کہ طبعیت میں گہرے غور و فکر کا رنگ پایا جاتا تھا۔ یوں تو ہر تعلیم یافتہ اور علم و فن سے ذوق رکھنے والا شخص زندگی کے بعض پہلوؤں پر غور کرتا ہے مگر وہ لوگ جو فلسفہ کی طرف خاص طور پر بڑھتے ہیں ، ان کا فکر دوسرے لوگوں سے خاصا ممتاز ہوتا ہے۔ عام لوگ زندگی کے ظواہر مثلاً سیاسیات، معاشیات، اجتماعیات وغیرہ کے مسائل کے متعلق سوچتے سمجھتے ہیں۔ فلسفہ کا رسیا زندگی اور کائنات کی بنیاد پر غور کرتا ہے۔ اس کا ذہن مادہ اور زندگی کی ظاہری سطح سے گزر کر وراء مادہ سے پھوٹنے والی الجھنوں کو حل کرنے کی سعی کرتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں دیکھتا ہے کہ موجودہ زندگی کیسی ہے اور کیا ہونی چاہیے بلکہ اس بات کی کھوج لگاتا ہے کہ زندگی ہے کیا؟ یہ کیا تھی؟ کیا ہو گی؟ اور یہ کیوں ہے؟ دوسرے لفظوں میں یہ لوگ زندگی کی رفتار اور اس کی اصلاح پر ہی نظر رکھنا کافی نہیں سمجھتے بلکہ اس کی ماہیّت اور اس کی ابتدا اور انتہا کو سمجھنے کی جستجو بھی کرتے ہیں۔ بانگِ درا کے پہلے حصّے میں یہ رجحان اقبال کا سب سے نمایاں اور اہم رجحان ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔ اوّل یہ کہ روز مرہ کے واقعات کو وہ اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے عام لوگ انہیں دیکھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور انہیں قابلِ توجہ اور دَر خورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ پروانے ہر رات شمع پر آ آ کر گرتے ہیں اور جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ میرے اور شاید آپ کے لیے یہ واقعہ زندگی کے معمولات میں سے ہے، لیکن نوجوان اقبال کی نظر میں یہ، غیر معمولی، واقعہ ہے۔ جب اس کی نگاہ اس منظر پر پڑتی ہے تو وہ ٹھٹک جاتا ہے۔ اس کے دل میں بیسیوں سوال اٹھتے ہیں۔ اسے شمع کی روشنی پر پروانے کے جل مَرنے میں کوئی سربستہ راز، کوئی پر اسرار معنویّت دکھائی دیتی ہے اور اس کا استفسار ایک گہرے تحیّر میں ڈوب جاتا ہے:
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں ؟
یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں ؟
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے 
آدابِ عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برقِ نگاہ کا؟
آزارِ موت میں اسے آرامِ جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگیِ جاوداں ہے کیا؟
پروانہ اور ذوقِ تماشائے روشنی!
کیڑا ذرا سا اور تمنّائے روشنی!
	دوم یہ کہ چونکہ غور و فکر کی ابتدا ہے، جستجو کا آغاز ہے، اس لیے شاعر سراپا استفسار اور یکسر سوال بنا ہوا ہے اور اسے اپنی اس کیفیّت کا شدید احساس ہی گلِ رنگین، بانگِ درا کی دوسری نظم ہے۔ اس میں نوجوان شاعر اپنے آپ کو ’’سراپا سوز و سازِ آرزو‘‘ اور زخمی شمشیرِ ذوق جستجو، کہتا ہے ا ور اس کے بیان میں اتنا خلوص اور اتنا درد ہے کہ پڑھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا:
تو شناسائے خراشِ عقدۂ مشکل نہیں 
اے گلِ رنگیں ! ترے پہلو میں شاید دل نہیں 
زیبِ محفل ہے شریکِ شورشِ محفل نہیں 
یہ فراغت بزمِ ہستی میں مجھے حاصل نہیں 
اس چمن میں مَیں سراپا سوز و سازِ آرزو
اور تیری زندگانی بے گدازِ آرزو
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اِک برگ ریاضِ طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دُور ہے
مطمئن ہے تو پریشاں مثلِ بو رہتا ہوں میں 
زخمیٔ شمشیر ذوقِ جستجو رہتا ہوں میں 
	سوم یہ کہ شاعر کی حیثیت سے اقبال زندگی یا فطرت کے جس مظہر کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے اس کا دل اس مظہر کی حقیقت کو پا لینے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مچل جاتا ہے، بے قرار ہو جاتا ہے۔ اس جذبہ کے ماتحت وہ کبھی  ماہ نو، آفتابِ صُبح اور گُلِ پژمردہ سے مصروف گفتگو ہوتا ہے اور کبھی ’چاند‘ ، ’گلِ رنگین‘ اور ’شمع‘ سے۔ شاعران سے طرح طرح کے سوال کرتا۔ ان سے اپنے دل کی کہتا اور ان کے دل کی سننے کی خواہش کرتا ہے۔ نظم ’گلِ رنگین‘سے جو ٹکڑے ابھی آپ کی نظر سے گزرے ہیں ان سے میرے اس خیال کی تصدیق ہو سکتی ہے لیکن اس پہلو کی سب سے بہتر نمائندگی وہ نظم کرتی ہے جس کا عنوان ’خفتگانِ خاک سے استفسار‘۔ زندگی کی اصل کیا ہے؟اس مسئلہ کا حل بہت کچھ ’موت کیا ہے؟‘کے حل پر منحصر ہے۔ مابعد الطبیعات کے جس قدر نظامِ انسانی ذہن نے تعمیر کیے ہیں اس کی اساس موت کے کسی نہ کسی تصّور پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ہماری سمجھ میں یہ بات صاف ہو جائے کہ موت کیا ہے تو زندگی کی گتھی اس کی روشنی میں خودبخود سلجھنے لگتی ہے۔ اقبال نے متذکرہ بالا نظم میں اوپر تلے کم و بیش تیس بتیس سوال خفتگانِ خاک سے کیے ہیں۔ سوالات کی نوعیّت اور ہمہ گیری اور اندازِ بیان کے جوش سے بآسانی اندازہ ہو سکتا ہے کہ شاعر فطرت کے اس مظہر کو تمام و کمال جان لینے کے لیے کس قدر بے قرار ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
اے مئے غفلت کے سرمستو! کہاں رہتے ہو تم؟
کچھ کہو اس دیس کی آخر جہاں رہتے ہو تم
وہ بھی حیرت خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟
اور پیکارِ عناصر کا تماشا ہے کوئی؟
آدمی واں بھی حصارِ غم میں ہے محصور کیا؟
اس ولایت میں بھی ہے اِنساں کا دل مجبور کیا؟
اس جہاں میں اک معیشت اور سو افتاد ہے
رُوح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟
کیا وہاں بجلی بھی ہے، دہقاں بھی ہے خرمن بھی ہے؟
قافلے والے بھی ہیں ؟ اندیشۂ رہزن بھی ہے؟
واں بھی کیا فریادِ بلبل پر چمن روتا نہیں ؟
اس جہاں کی طرح واں بھی دردِ دلِ ہوتا نہیں ؟
جستجو میں ہے وہاں بھی رُوح کو آرام کیا؟
واں بھی انساں ہے قتیلِ ذوقِ استفہام کیا؟
آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے؟
یا محبت کی تجلّی سے سراپا نور ہے؟
تم بتا دو راز جو اس گنبدِ گرداں میں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دلِ انساں میں ہے
	لیکن نوجوان اقبال ۲۴، ۲۵ برس کے اقبال، کے متعلق اس باب میں سب سے اہم بات بیان کے قابل یہ ہے کہ وہ اس غور و فکر، تلاش و جستجو اور سوز و ساز کی ابتدائی منزل میں بھی عجب طرح کا اعتماد اپنے اوپر اور انسان کی عظمت پر رکھتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ذوقِ استفسار اور دردِ استفہام اسے تشکیک یا قنوطیت کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ وہ اپنے نوخیز وجدان کے سہارے امیّد و یقین کی طرف بڑھتا ہے۔ پڑھنے والے کو بے تاب جستجو اور پختہ اعتماد کا یہ امتزاج دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ ’آفتابِ صبح‘میں آفتاب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں :
آرزو نورِ حقیقت کی ہمارے دل میں ہے
لیلیٔ ذوقِ طلب کا گھر اسی محمل میں ہے
کس قدر لذت کشودِ عقدۂ مشکل میں ہے
لطفِ صد حاصل ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
دردِ استفہام سے واقف ترا پہلو نہیں 
جستجوئے رازِ قدرت کا شناسا تو نہیں 
گلِ رنگیں ، ان اشعار پر ختم ہوتی ہے:
یہ پریشانی مری سامانِ جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغِ خانۂ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آئینۂ حیرت نہ ہو
یہ تلاشِ متصل شمعِ جہاں افروز ہے
تو سنِ ادراکِ انساں کو خرام آموز ہے
	سورج کی طرح چاند بھی شاعر کی کئی ایک کیفیات میں شریک ہے۔ مگر اشتراکِ راہ میں جلد ایک موڑ آ جاتا ہے جس سے آگے صرف شاعر ہی جا سکتا ہے۔ چاند بے چارے کا وہاں گزر کہاں ؟ یہ وہ مقام ہے جہاں سے انسان کائنات کی دوسری تمام مخلوقات کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتا ہے۔ اس راہِ عظمت میں اس کا کوئی ہم سفر نہیں ، کوئی شریک نہیں۔ یہ مرتبہ تنہا اسے حاصل ہے۔ کیوں ؟ اس کا جواب انسان کا وہ وصف ہے جو نوجوان اقبال کی سب سے نمایاں خصوصیّت ہے: ذوقِ آگہی۔ چنانچہ چاند سے خطاب ہوتا ہے: 
پھر بھی اے ماہِ مبیں ! میں اور ہوں ، تو اور ہے 
درد جس پہلو میں اٹھتا ہے وہ پہلو اور ہے
گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں ، سراپا نور تو
سینکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دُور تو
جو مری ہستی کا مقصد ہے مجھے معلوم ہے
یہ چمک وہ ہے جبیں جس سے تری محروم ہے
	اس رُجحان کا آخری پہلو یہ ہے کہ اس دَور میں اقبال صرف استفسار اور استفہام پر ہی اکتفا نہیں کرتا  جیسا کہ ’خفتگانِ خاک‘ کے اشعار سے گمان ہو سکتا ہے بلکہ اس کی مابعد الطبعیاتی نظام کی بنیادیں جن پر بعد میں اس کے فکر کی فلک بوس عمارت کھڑی ہوئی اسی زمانے میں استوار ہوتی ہیں۔ یہ کائنات کیا ہے؟ یہ مادّہ ہی مادّہ ہے یا اس طبعی اور مادّی نظام کے پیچھے کوئی شعور، کوئی ذہن، کوئی مقصد کارفرما ہے؟ نوجوان اقبال کائنات کی مادّی تعبیر کرنے والے کو، چشم غلط نگر ‘ کہتا ہے اور سلسلۂ کون و مکاں کی رومانی اور اخلاقی تعبیر پر زور دیتا ہے:
چشمِ غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے
عالم ظہور جلوۂ ذوقِ شعور ہے
یہ سلسلہ زمان و مکاں کا کمند ہے
طوقِ گلوئے حسنِ تماشا پسند ہے
	اسے کائنات کی ہر چیز میں ، ہر شے میں حسنِ مطلق کا جلوہ نظر آتا ہے۔ اس کے نزدیک کائنات کی ’کثرت‘ وحدت ہی کا ایک کرشمہ ہے۔ اس متصوفانہ تصورِ کائنات کا اظہار پہلے دَور میں کئی ایک مقام پر ہوا ہے۔ ’بچّہ اور شمع‘ اور ’جگنو‘ میں نوجوان اقبال نے یہ خیال بڑی خوبی، وضاحت اور جوش کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’جگنو‘ سے چار اشعار درج کیے جاتے ہیں :
حسنِ ازل کی پیدا ہر چیز میں جھلک ہے
انساں میں وہ سخن ہے غنچے میں وہ چٹک ہے 
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا
واں چاندنی ہے جو کچھ یاں درد کی کسک ہے
اندازِ گفتگو نے دھوکے دیے ہیں ورنہ
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کی چہک ہے
کثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی
جگنو کی جو چمک ہے، وہ پھول کی مہک ہے
پہلے دَور کی ایک غزل کا ایک شعر ہے:
وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے
	آگے چل کر اگرچہ اقبال وحدت الوجود کے نظریہ کے قائل نہیں رہتے، مگر حسنِ ازل کی پیدا  ہر چیز میں جھلک ہے، کی واقعّیت سے انہیں کبھی انکار ہوا اور نہ ہو سکتا تھا۔ کائنات کی روحانی تعبیر اور ’اکثریت‘ میں ’وحدت‘ کا راز پا لینے کے علاوہ اقبال نے انسانی جوہر کی ابدیّت کا خیال بھی پہلے دَور کے اواخر میں بڑے غیر مبہم الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ’کنارِ راوی‘ پہلے حصے کی نہایت عمدہ نظموں میں شمار کیے جانے کے قابل ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت شاعر راوی کے کنارے کھڑا ڈُوبتے ہوئے سورج کا نظارہ کر رہا ہے اور منظر کی دلفریبی میں کھویا جا رہا ہے، گہرے سکوت اور تنہائی کا عالم ہے، دُور مقبرۂ جہانگیر کے مینارے عہدِ رفتہ کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ اتنے میں ایک کشتی شاعر کے قریب سے ہو کر گذرتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے  نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اقبال کے فلسفی ذہن کو زندگی کے لیے ایک نادر تشبیہ سوجھتی ہے:
رواں ہے سینۂ دریا پہ اک سفینۂِ تیز
ہوا ہے موج سے ملاّح جس کا گرمِ ستیز
سبک روی میں ہے مثلِ نگاہ یہ کشتی
نِکل کے حلقۂ حدِ نظر سے دُور گئی
جہاز زندگیِ آدمی رواں ہے یونہی
ابد کے بحر میں پیدا یونہی، نہاں ہے یونہی
شکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا
نظر سے چھپتا ہے، لیکن فنا نہیں ہوتا
	انسانی جوہر کی ابدیّت کا یہ خیال بانگِ درا اور بعد کی کتابوں میں بیسیوں مرتبہ ادا ہوا مگر بیان کی وہ دل کشی جو اوپر کے اشعار کا حصّہ ہے غالباً کہیں اور پیدا نہ ہو سکی۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں 
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں 
(بانگِ درا، حصہّ سوم)
موت تجدیدِ مذاق زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
(بانگِ درا، حصہّ سوم)
جوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں 
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں 
(بانگِ درا۔ حصہ سوم)
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے
(ضربِ کلیم۔ صفحہ ۶۳)
	الغرض اقبال کا فلسفیانہ تفّکر جو ابتدا میں محض ایک بے تابی، ایک دردِ استفہام، ایک ذوقِ جستجو تھا۔ دورِ اوّل (۱۹۰۱۔ ۱۹۰۵ء) کے ختم ہونے سے پہلے اپنے لیے بعض مثبت بنیادیں تلاش کر لیتا ہے اور اس کا مضطرب دل کائنات میں خدا کے وجود، ہر شے میں اس ظہور اور انسانی جوہر کی ابدّیت کے تصّورات سے قدرے تسکین پاتا ہے۔


۲۔ وسیع انسانی ہمدردی
	نوجوان شاعر کی شخصیت میں اس رجائی تفکر کے بعد جو رجحان ہمیں ملتا ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک وسیع انسانی ہمدردی اور محبت جو پورے کرۂ ارض اور نسل آدم کو محیط ہے، دوسرے ہندوستانی قومیت اور جذبہ حب الوطنی۔ ہندوستانی قومیت کا جذبہ دراصل وسیع انسان دوستی ہی کی ایک شاخ تھی جس کا رنگ مقامی اثرات اور حالات نے اور گہرا کردیا بعض حضرات کا خیال ہے کہ اقبال کی شخصیت اور کلام کا یہ رجحان ولایت سے واپس آنے کے بعد رفتہ رفتہ اس قدر کم ہوتا گیا کہ آخر میں باقی ہی نہ رہا۔ یہ خیال صحیح نہیں اور اس بنیادی غلط فہمی سے پیدا ہوتا ہے کہ اقبال میں وسیع انسانی ہمدردی کا جذبہ حُبّ الوطنی سے پیدا ہو ا تھا۔ لہٰذا جب وہ ہندوستانی قومیت کے تصور سے دستبردار ہوئے تو یہ جذبہ بھی دب گیا۔ اگر اقبال کا از اول تا آخر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کا مقصود ہمیشہ اور ہر دور میں انسانیت اور انسانی فلاح و بہبود رہا۔ اسی کے پیش نظر انھوں نے پہلے قومیت کو اپنایا اور بڑے جوش و مستی سے اور اسی کی خاطر بعد میں قومیت کے خیال سے نہ صرف دستبردار ہوئے بلکہ اسے انتہائی خطرناک اور مہلک ٹھہرایا۔ جِن حضرات کو اقبال سے یہ شکایت ہے کہ ان کے کلام میں ہر جگہ مسلمان اور اسلام کا ذکر ملتا ہے انہیں اس بات کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے یہاں انسان، انسانی وحدت اور انسانی عظمت کا ذکر کہاں کہاں اور کس کس طرح جاری و ساری ہے۔ میرا خیال ہے بانگِ درا سے ارمغان تک مسلمان کا جتنی بار ذکر ہوا ہے انسان اور انسانی محبت و عظمت کا ذکر اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دورِ اول میں جو شعر نوجوان اقبال نے انسانی ہمدردی پر لکھے ہیں اردو شاعری کیا، دنیا کی کم ہی زبانوں میں اس کی نظیر ملے گی۔ یہ آواز اس کے دل کی گہرائیوں سے اٹھ رہی ہے کہ نوعِ انسانی اس کی قوم اور سارا جہاں اس کا وطن ہے اور زندگی کے تمام دکھ درد کا مداوا نوعِ انسان کی محبت میں ہے۔ ’’آفتابِ صبح‘‘ میں کہتے ہیں :
بستۂ رنگِ خصوصیت نہ ہو میری زباں 
نوعِ انساں قوم ہو میری، وطن میرا جہاں 
صدمہ آ جائے  ہوا سے گل کی پتی کو اگر 
اشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر
دل میں ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شرر
نور سے جس کے ملے رازِ حقیقت کی خبر 
شاہد قدرت کا آئینہ ہو دل میرا نہ ہو
سر میں جز ہمدردیِ انساں کوئی سودا نہ ہو 
	’تصویرِ درد‘ میں ایک جگہ بڑی خوبی سے توحید کو وحدتِ انسانی کی ایک دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ خدا کے بندوں میں تفریق کرنا اس کی شان مطلقیت سے انکار کے مترادف ہے:
زباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل 
بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نے 
کنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا
ارے غافل!جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نے
	اس درد سے لبریز نظم میں نوع انسان کی محبت کو شراب روح پرور کہا اور بتایا کہ بیمار قوموں کے لیے ’شفاء اور خفتہ بخت قوموں کے لیے بیدار بختی کے لیے کی راہ یہی محبت و اخوت ہے:
شرابِ روح پرور ہے محبت نوعِ انساں کی 
سکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام وسبو رہنا 
محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے 
کیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نے 
بیابانِ محبت، دشتِ غربت بھی، وطن بھی ہے
یہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی، چمن بھی ہے
محبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھی
جرس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے 
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے 
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طور ہوتا ہے
	اس محبت نے ان کے دل کو فرقہ آرائی اور اس کے ’ثمر‘ تعصب سے پاک کر دیا اور وہ امتیازِ ملت و مذہب سے بہت اوپر اٹھ کرہندوستان کی آزادی اور اس میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کے اتحاد کے زبردست علمبردار اور نقیب بن گئے۔ان کی قومی شاعری اور جذبہ جب الوطنی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ اس سے اس حد تک واقف ہے کہ یہاں کچھ کہنا ضروری نہیں۔ اس جگہ صرف یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ جب انھوں نے دیکھا کہ قومیت یا وطن بہ حیثیت ایک سیاسی تصور کے نوعِ انسانی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے اور ان کے دلوں میں نفرت اور رقابت کی آگ بھڑکاتا ہے۔تو وہ اس تصور کی اسی جوش و جذبہ سے مخالفت کرنے لگے جس جذبہ کے ساتھ انھوں نے اس سے پہلے اس کی حمایت کی تھی اور جب انھوں نے یہ دیکھا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نسل، رنگ، زبان اور جغرافیائی حدود کے تمام امتیازات مٹا کر انسانی وحدت و اخوت و مساوت کا ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جس میں ہر فرد کو ترقی کے برابر کے مواقع حاصل ہیں اور جو اپنے اندر مادی اور روحانی اقدار کا ایک متوازن امتزاج رکھتا ہے تو ان میں اس نظام سے وہی والہانہ شیفتگی پیدا ہو گئی جس والہانہ پن کے ساتھ وہ اس سے پہلے قومیت کی طرف بڑھتے تھے۔ اقبال کے چند سالہ مطالعہ کے بعد جس نتیجے پر میں پہنچا ہوں یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک قومیت یا اسلام کبھی مقصود بالذات نہ تھے۔ ان کی نظر ہمیشہ پوری نوعِ انسانی اور اس کی فلاح و بہبود پر رہی۔ اسلام سے ان کو بے اندازہ رغبت اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ اس نظام سے ان کی نظر و فکر کے زیادہ سے زیادہ انسانی تقاضے پورے ہوئے اور ان کی فطرت کی پیاس بُجھی۔

۳۔عشق کی برتری
	ابھی تک ہم نے نوجوان شاعر اقبال کی شخصیت کے دو رخ دیکھے ہیں۔ ان کی فلسفیانہ جستجواور اس کی وسیع انسانی ہمدردی یا انسان دوستی جو نسل، رنگ اور ملت و مذہب کی حدود توڑ کر پوری نوعِ انسانی کی وحدت کا نظارہ کرتی ہے۔ تیسرا رجحان عقل پر عشق کی فضلیت اور برتری کا ہے۔ عقل بڑی قیمتی چیز ہے اور ضروری بھی مگر حیات انسانی کی صحیح رہنمائی اس کے بس کی بات نہیں۔ یہ خیال اقبال کے نظامِ فکر میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس پر انھوں نے زندگی کے ہر دور میں نت نئے اسلوب میں روشنی ڈالی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو کچھ انھوں نے پہلے دور میں کہا ہے وہ بھی کچھ کم وقیع نہیں اور اس نازک اور لطیف موضوع پر بعد میں کہے گئے سینکڑوں بلند پایہ اشعار کے ابتدائیہ کے طور پر ہماری توجہ کا حق دار ہے۔ فلسفہ کی دنیا میں یہ سوال بڑا بنیادی ہے کہ صحیح علم کس ذریعہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔ دوسرے مسائل کی طرح اس بارے میں بھی کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ایک گروہ کا خیال ہے کہ حصول علم صرف حواس کے ذریعے ممکن ہے۔ دوسرا گروہ جو اس کی صلاحیت کو ناقص ٹھہرا کر کہ صرف عقل Logical Reason or Intellectکو واحد ذریعہ علم مانتا ہے تیسرا گروہ متشککین اور لاادریوں Agnosticsکا ہے جنہیں سرے سے اس بات میں شبہ ہے کہ فکر انسانی کی رسائی اصل تک ہو سکتی ہے لیکن ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اس یقین کے ساتھ بڑھتا ہے کہ انسان حقیقت کو جان تو سکتا ہے مگر عقل محض کے ذریعہ سے نہیں بلکہ وجدان کے ذریعہ سے، دوسرے لفظوں میں اصل کو تجزیاتی صورت میں یعنی اجزا کو علیٰحدہ علیٰحدہ سمجھ کر کل کی طرف قدم اٹھانے سے اصل کو جاننا ممکن نہیں بلکہ قدرت کی طرف سے انسان کو ایک خصوصی احساس یا جذبہ ایسا بھی عطا ہوا ہے جو کل کو مجموعی طور پر پا لینے یا اس کا ادراک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس خصوصی حس کو وجدانIntuition کہتے ہیں اور اس پر مبنی نظامِ فکر کو وجدانیت Intuitionismکہا جاتا ہے۔ فلاسفہ عالم میں غزالی اور برگساں اس گروہ کے ممتاز نمائندے تسلیم ہوتے ہیں۔ کانٹ بھی ایک حد تک اس زمرے میں شریک ہے۔ 
	یہ فیصلہ کرنا تو مشکل ہے کہ اس خیال یا نتیجہ تک اقبال خود بخود پہنچے یا تاریخ فلسفہ کے اس باب کے بغور مطالعہ کے بعد انھوں نے اپنی افتاد طبع کو اس مدرسہ خیال سے ہم آہنگ اور متفق پایا۔ بہر حال یہ واقع ہے کہ ۲۴،۲۵برس کی عمر میں وہ اس خیال کے بہت بڑے حامی تھے اور اس کے بعد جب تک زندہ رہے ہزار رنگ میں نقطہ نظر کی تائید و حمایت کرتے رہے۔ یہ بات اس مضمون کے دائرہ سے خارج ہے کہ اقبال کے مقاصد فن میں اس خیال کو کیا اور کتنی اہمیت حاصل ہے اور ا مدردیٔ، یہ میمل نستعیق میں وصول ہوئی ہے۔ مبارک ہو
                                                                             نھوں نے اس پر اتنی توجہ کیوں صرف کی؟یہاں تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ دور اول کی متعدد نظموں میں یہ خیال موجود ہے اور ایک نظم خاص طور پر اس خیال کو واضح کرنے کے لیے لکھی گئی۔ میری مراد اس نظم سے ہے جو ’’عقل و دل‘‘ کے عنوان سے بانگِ درا کے صفحہ ۲۸ پر درج ہے اور بالکل ابتدائی نظموں میں سے ہے۔ یہ نظم خیال اور بیان کے اعتبار سے اس قدر مربوط اور حشو و زوائد سے اس حد تک پاک ہے کہ حوالہ دیتے وقت پوری نظم درج کیے بغیر چارۂ کار نہیں :
 عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میں 
ہوں زمیں پر، گزر فلک پہ مرا 
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں میں 
کام دنیا میں رہبری ہے مرا
مثلِ خضر خجستہ پاہوں میں 
ہوں مفسر کتاب ہستی کی 
مظہرِ شان کبریا ہوں میں 
بوند اک خون کی ہے تو لیکن 
غیرت لعل بے بہا ہوں میں 
دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے 
پر مجھے بھی تو دیکھ کیا ہوں میں 
رازِ ہستی کو تو سمجھتی ہے
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں 
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں میں 
علم تجھ سے، تو معرفت مجھ سے 
تو خدا جُو، خدا نما ہوں میں 
علم کی انتہا ہے بے تابی 
اس مرض کی مگر دوا ہوں میں 
شمع تو محفلِ صداقت کی 
حسن کی بزم کا دیا ہوں میں 
تو زمان و مکان سے رشتہ بپا
طائرِ سدرہ آشنا ہوں میں 
کس بلندی پہ ہے مقام مرا 
عرش ربِ جلیل کا ہوں میں 
اس نظم کے اشعار :
علم کی انتہا ہے بے تابی 
اس مرض کی مگر دوا ہوں میں 
اور
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
و خدا جُو، خدا نما ہوں میں 
کا مقابلہ پچیس تیس برس بعد لکھے گئے مندرجہ ذیل اشعار سے کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔
عقل گو آستاں سے دور نہیں 
اس کی تقدیر میں حضور نہیں 
علم میں بھی سردر ہے لیکن 
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں 
(بالِ جبریل) 
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 
(بالِ جبریل)
خرد سے راہرو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے؟ چراغِ رہ گذر ہے
درونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغ رہگذر کو کیا خبر ہے 
(بالِ جبریل)
	اس سلسلہ میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اگرچہ ذریعہ علم کے طور پر اقبال بھی وجدان اور اس کی سب سے اعلیٰ صورت وحی کا قائل ہے مگر اس کے یہاں دل اور عشق کا تصور برگساں کے وجدان، کے مجموعی تصور سے مختلف ہے۔ البتہ عقل کو ناقص ذریعہ علم ٹھہرانے میں غزالی، رومی، کانٹ، برگساں اور اقبال سب متفق ہیں۔

۴۔ پیغامبری
	پیامبری یا پیغامبری کی شان چوتھا رجحان ہے جو ہمیں نوجوان اقبال میں نظر آتا ہے۔ جس شاعر کو آگے چل کر:
چہ باید مرد را؟ طبع بلندے، مشرب نابے
دل گرمے، نگاہ پاک بینے ، جان بے تابے 
یا
دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گرداب!
اور
گذر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے 
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
جیسے پیغام لیے ہوئے اشعار کہنا تھے وہ بھلا ابتدا میں اس میلان کو اظہار دیے بغیر کیوں کر رہ سکتا تھا۔ جب اس کی نظر نفسیاتِ انسانی اور زندگی کے حقائق پر بہت گہری ہو گئی تو اس کے پیام نے ان اشعار کی صورت اختیار کی جو آپ نے ابھی پڑھے ہیں۔ لیکن جب وہ ابھی اتنا پختہ نظر اور صاحب بصیرت نہ ہوا تھا تو اس نے کم و بیش اتنا ہی قیمتی پیغام نہایت پر خلوص مگر سیدھے سادے طریق سے دیا۔ جن لوگوں نے نظم سیّد کی لوح تربت، غور سے پڑھی ہے وہ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اس نظم کا لکھنے والا ابتدا ہی سے ایسی شاعری کا آب و رنگ لیے ہوئے تھا جسے ’’جز ویست پیغمبری‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ نظم بھی ابتدائی نظموں میں سے ہے اور بانگِ درا کے صفحہ ۴۲ پر درج ہے۔تاریخ مطالعہ کے اعتبار سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس نظم میں اقبال نے تکنیک بھی وہی استعمال کیا ہے جو انھوں نے بعد میں اکثر ایسی نظموں میں برتا جو خاص طور سے پیامی کہی جا سکتی ہیں۔مثلاً ’شمع و شاعر‘ ’خضرِ راہ اور ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘ وغیرہ یعنی وہ اپنا پیغام کسی دوسرے کی زبان سے کہلواتے ہیں اور مکالمہ کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ سیّد کی لوحِ تربت سے آواز اٹھتی ہے :
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیں 
ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں 
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں 
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں 
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے 
محفلِ نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جواب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ
تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صدا
ہے دلیری دستِ ارباب سیاست کا عصا
عرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے 
بندہ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے 
قوتِ فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقم 
شیشہ دل ہو اگر تیرا مثال جام جم
ایک رکھ اپنی زباں تلمیذِ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے 
خرمنِ باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
نوجوان اقبال نے عالم دین، سیاسی رہنما اور شاعر کو جو پیغام ان اشعار میں دیا ہے نہ صرف اس کی صحت اور صداقت میں کوئی شبہ نہیں بلکہ اس ملک میں اس پیغام کو عام کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی اس سے پہلے کبھی تھی۔ اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ یہ پیغام اپنی سادگی کے باوجود فلسفی اقبال کے پیغام خودشناسی اور پیغام یزادں شناسی سے کم اہم نہیں۔
	اس رجحان کے باب میں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ نری پند و موعظت کی شاعری سے بہت مختلف شاعری ہے اور اس میں اور مولانا حالی کی ’’کچھ کر لو نوجوانوں ،اٹھتی جوانیاں ہیں ‘‘میں بڑا فرق ہے۔ یہ ناصحانہ نہیں پیغامبرانہ شان کی حامل ہے۔ دور اوّل کی کئی اور نظمیں اور غزلیں اس رجحان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو بچوں کے لے لکھی ہوئی وہ تمام نظمیں جو بانگِ درا کے حصہ اول میں درج ہیں دراصل اسی جذبے اور رجحان کا اظہار ہیں۔ اقبال جب جوان تھے تو انھوں نے بچوں کے لیے لکھا، ان کی رہبری کرنا چاہی۔ جب پختہ سن ہوئے تو جوانوں کے لیے کہنے لگے، ان کے خضرِ راہ بنے۔

۵۔ خود نگری
	پانچویں چیز اقبال کا یہ رجحان ہے کہ وہ جس قدر وقت،توجہ اور توانائی خارج کے مسائل کو سمجھنے پر صرف کرتے ہیں ،اسی قدر ان کی نظر اپنی داخلی زندگی پر بھی رہتی ہے۔ ان کی شخصیت میں خارجیت اور داخلیت کا ایک ایسادل کش ملاپ ملتا ہے جو تاریخِ عالم میں بہت کم اشخاص کو نصیب ہوا ہو گا۔ برسوں بعد کے دو شعر ہیں۔
اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے
بری ہے مستی اندیشہ ہائے افلاکی
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
	یہ اشعار ایک ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تصویر کے دونوں رخ دیکھنے اور سمجھنے کی عادی ہو۔ اقبال انفس و آفاق دونوں کی اہمیت سے آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں انھوں نے آفاق کے مسائل کو سمجھا اور بیان کیا وہاں وہ انفس کے اسرار بھی کھولتے رہے اور اسی کے ساتھ ہر دور میں اپنی ذات کی تصویر ایسے حسین رنگوں سے مصور کی کہ اس سے بہتر تصویر اچھے سے اچھے مصور کے بس کی بھی نہیں۔ میرا مطالعہ زیادہ نہیں لیکن میرا اندازہ ہے کہ جس اہتمام کے ساتھ اور جس دقتِ نظر، صحت بیان اور ندرت ادا کے ساتھ اقبال نے ہر دور میں اپنی ذات اور بدلتی ہوئی نفسی کیفیات کے متعلق لکھا ہے اس اہتمام اور دل کشی کے ساتھ شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے شاعر نے اپنے متعلق لکھا ہو۔ پچاس برس کے  بالغ نظر حکیم شخصیت کے خدوخال ہم میں سے اکثر کے ذہن میں ہوں گے۔ اگر نہیں تو تازہ کر لیجئے:۔
فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند 
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمر قند
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی نا خوش 
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکاقند
مشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیش 
خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند
ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش 
میں بندہ مومن ہوں نہیں دانۂ اسپند
پر سوز و نظر باز و نکوبین و کم آزار 
آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند
ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرم 
کیا چھینے گا غنچہ سے کوئی ذوق شکر خند
	یہ تصور کس قدر دل کو لبھانے والی اور دِل میں گھر کرنے والی ہے مگر پچیس برس کے اقبال کی تصویر اس سے کم دلآویز اور کم جاذب نظر نہیں۔ ایک مولوی صاحب کی زبانی سنیے:
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثرِ فلسفہ دانی 
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل 
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی 
کچھ عار اُسے حسن فروشوں سے نہیں ہے
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی 
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت 
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی 
لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے 
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی 
مجموعہ اضداد ہے اقبال نہیں ہے
دل دفتر حکمت ہے، طبیعت خفقانی
رندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف 
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی 
اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی 
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی 
(زہد و رندی۔ بانگِ درا)
	نوجوان اقبال، مجموعہ اضداد اقبال کو سمجھنے میں ’مولوی‘ صاحب کو جو دقّت ہے خود اقبال بھی اس سے بالاتر نہیں۔ اقبال کا جواب ملاحظہ ہو:
میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا 
گہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانی 
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبال کو دیکھوں 
کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی 
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں ، واللہ نہیں ہے
	یہ تھی چوبیس پچیس برس کے اقبال کی تصویر، تئیس برس کے شاعر کے دل کا مرقع اور اس کے ارادوں اور آرزؤوں کا عکس وہ نظم ہے جو انھوں نے ۱۹۰۵ء میں ولایت جاتے ہوئے دہلی میں لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر پڑھی:
نظر ہے ابرِ کرم پر درخت صحرا ہوں 
کیا خدا نے نہ محتاجِ باغباں مجھ کو 
فلک نشین صفت مہر ہوں زمانے میں 
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو 
مقام، ہمسفروں سے ہو اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو 
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے 
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر
تری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کو
	یہ ہیں وہ پانچ رجحانات جو ہمیں نوجوان شاعر میں واضح اور نمایاں طور پر ملتے ہیں اور یہی بنیادی رجحانات ہیں جو آخر تک ان کے فن اور ان کی شخصیت میں ممتاز رہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہ پانچوں رجحانات پانچ سوتوں کی صورت میں خراماں خراماں بہتے، محبت اور اخوت کے نغمے دلنواز سروں میں گاتے، گنگناتے، شعر و سخن کی ایک رنگین وادی میں پہنچ کر باہم مل جاتے اور ایک جوئے نغمہ خواں کی تشکیل کیا کرتے۔ اس زمانے میں اس جوئے وادی کو لوگ شیخ محمد اقبال، نوجوان پروفیسر اقبال کے نام سے یاد کرتے تھے۔ آگے چل کر گردشِ ایام کے ساتھ یہ گاتے گنگناتے پانچ سوتے پانچ تند و تیز طوفانی دریاؤں میں بدل گئے۔ اپنے تیز بہاؤمیں انھوں نے ہزار فراز کو نشیب اور ہزار نشیب کو فراز کر دیا۔ اب گلستانوں اور وادیوں کی ندی میں ان کا سمٹنا، سمانا ناممکن تھا۔ ان کی امنگیں کسی سمندر، بے کراں سمندر کی تلاش میں نکلیں۔جس سمندر کی آغوش میں ان کو آسودگی نصیب ہوئی اسے بعد میں ہم حکیم مشرق کہنے لگے۔

حیات اقبال کا ایک جذباتی دور، مکتبہ جدید لاہور،اپریل ۱۹۵۵ء
٭٭٭



اقبالِ عہد آفریں 

ڈاکٹر اسلم انصاری

	فنونِ ادب میں شاعری کی ہمہ گیر تاثیر کو ہر عہد میں تسلیم کیا گیا ہے، شاعروں نے انفرادی اور اجتماعی زندگی پر بعض حیرت انگیز اثرات مرتب کیے ہیں ، اسی لیے شاعروں کو انسانی تمدن کے معماروں میں شامل کیا جاتا ہے، اثر انگیزی کے اعتبار سے شاعری کو بعض صورتوں میں موسیقی پر بھی فوقیت حاصل ہے، موسیقی کا اثر کیفیات تک محدود ہے، شاعری انسانی زندگی میں جس نوع کے تحولات پیدا کرنے پر قادر ہے، اس کی کوئی مثال موسیقی کی تاریخ میں شاذ ہی ملے گی، شاعری انسان کے فکر، جذبے اور تخّیل کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہے، اور بعض اوقات ایک غیر معمولی محرک عمل کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے، دنیا کے تمام بڑے شاعروں نے اپنے عہد کو کسی نہ کسی طرح ضرور متاثر کیا ہے، شاعری کی فوری اثر انگیزی کی جو مثالیں تاریخ میں محفوظ رہی ہیں ، تاثیر شعر کے ثبوت میں بہت کافی ہیں ، مثلاً امیر نصر بن احمد سامانی، کا رودکی کے اشعار سے متاثر ہو کر اپنے وطن بخارا کی محبت میں بے قرار ہو جانا اور عرب شاعر میمون بن قیس کے کلام کا لوگوں کے لیے شہرت یا رسوائی کا باعث ہونا وغیرہ، لیکن بلند پایہ شاعری کے اثرات اس سے کہیں زیادہ دیر پا اور دور رس ثابت ہوتے ہیں ، فردوسی، سعدی، رومی اور حافظ کئی صدیوں سے اہل مشرق کے دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں ، بقولِ کارلائل اطالوی شاعر دانتے نے اپنے شعری شاہکار ’’طربیۂ ایزدی‘‘ کے ذریعے گیارہ گنگ اور بے زبان صدیوں کو زبان بخش دی۔ اکثر بڑے شعرا نے اپنے فکر تخیل اور حسنِ کلام کی بدولت انسانوں کے ذوق و شوق کے ساتھ ساتھ فکر و فن کو بھی متاثر کیا، نظامی عروضی سمر قندی نے شاعری کی جو تعریف وضع کی ہے، اس کی رو سے شاعری ان مقدماتِ موہومہ (متخیلہ)سے عبارت ہے۔ جن کے ذریعے چھوٹی چیز کو بڑا، اور بڑی چیز کو چھوٹا، اور اسی طرح خوب کو زشت اور زشت کو خوب دکھایا جا سکتا ہے، اسی لیے شاعری دنیا میں بڑے بڑے امور کے وجود میں آنے کا سبب بن جاتی ہے [وامورِ عظام را در نظامِ عالم سبب شود(۱)]   مشرق کے علمائے شاعری میں نظامی عروضی سمر قندی پہلا نقاد ہے جس نے ’’نظامِ عالم‘‘ میں ’’ امورِ عظام‘‘ کے اسباب میں شاعری کو بھی شامل کیا ہے، لیکن اس کی نظر میں بھی شاعری کے فوری اثرات ہیں جو قصیدہ گو شعرا بادشاہوں کی طبائع پر اپنی بدیہہ گوئی اور لطفِ کلام سے پیدا کر دکھاتے تھے، البتہ بعض متقدمین نے عرب قبائل کی اجتماعی زندگی میں شاعر کی اہمیت اور تاثیر کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔(۲) لیکن شاعری کی تاثیرات معنوی کو آج کے علوم و انتقاد کی روشنی میں زیادہ صراحت اور قطعیت کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے، یہ عکس حیات و نقد حیات ہی نہیں تخلیق حیات بھی ہے، اسی لیے تاریخ انسانی کے بعض عظیم تحولات کے پس منظر میں دوسرے بڑے عوامل کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کار فرما نظر آتی ہے، بیشک شاعری نے انقلاب برپا کر دکھائے ہیں ، لیکن دنیا میں بہت کم شعرا ایسے گذرے ہیں جنھیں ہم شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی طرح صحیح معنوں میں ’ عہد آفریں ‘ شاعر کہہ سکیں۔
	یوں تو دنیا کے اکثر بڑے شعرا اپنے عہد کی زندگی پر اثر انداز ہوئے ہیں ، لیکن شعر اقبال نے بیسویں صدی میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر جو گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور عصرِ حاضر کے مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ کی تشکیل میں جو اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس کی مثالیں نایاب نہیں تو کم یا ب ضرور ہیں ، اقبال کے فکر و فن نے تاریخ، سیاست اور ادب پر یکساں طور پر اثرات چھوڑے ہیں ، انھوں نے اُردو شاعری میں ایک ایسی روش اختیار کی جس کی کوئی مثال اس سے پہلے موجُود نہیں تھی، اُنھوں نے شاعری میں تاریخی شعور کو شامل کر کے زندگی اور شاعری دونوں کے آفاق کو حیرت انگیز طور پر وسیع کیا، انھوں نے اردو شاعری کو اس رفعت و شکوہ سے آشنا کیا جو دنیا کی بہت کم زبانوں کے حصے میں آسکے ہوں گے، انھوں نے اردو نظم و غزل پر فکر، خیال، جذبے اور اظہار کے یکسر نئے ابواب وا کر دئیے، وہ اپنے ساتھ ایک نیا طرز فکر اور نیا طرز احساس لائے، اس فکر و احساس کی جڑیں تو ماضی کی علمی، ادبی اور تہذیبی روایات میں تھیں ، لیکن اس کا دامن زندگی کے نئے سے نئے تجربے کے لیے وا تھا، اقبال نے اُردو شاعری کی لفظیات میں ایک عظیم تغیر پیدا کر دیا، اور شعری معنویت کے رشتے عصری حقائق اور تاریخ و تہذیب کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ استوار کر دئیے، انھوں نے شاعری کو فلسفہ اور فلسفے کو زندگی عطا کی اور مغربی افکار کے مقابلے میں مشرقی فکر کے حیات بخش عناصر کو اس طرح نمایاں کیا کہ اس سے مشرق اور مغرب دونوں کو نئی روش میّسر آسکے۔ انھوں نے شاعری کو استدلال دیا اور استدلال کو منطق کے بے جان کلیوں سے نکال کر زندگی کی حقیقتوں کے قریب لے آئے، شعری معنویت کے جن نئے امکانات کو انھوں نے اپنی شاعری میں منکشف کیا، وہ صرف اردو شاعری ہی نہیں ، پوری دنیائے ادب میں کم نظیر ہیں ، اقبال نے مشرقی ادب کی تاریخ میں شاید پہلی بار یہ تصّورِ شعر پیش کیا کہ شاعری مقصُود بالذات نہیں ، بلکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مقاصدِ عالیہ کی تشریح و تکمیل کا ایک موثر ذریعہ ہے، لیکن شاعری کو ایک وسیلہ یا ذریعہ قرار دینے کے باوجود انھیں نے شاعری کو فکر و تخیل اور اسلوب بیان کی جن بلندیوں سے آشنا کیا، انھیں اُردو شاعری میں یکسر ایک نئے جہان معنی کے انکشاف کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کی شاعری کی اشاعت کے ساتھ ہی اردو شاعر ی اور برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں بنیادی اور اصولی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں ، وہ ایک نئے جہان معنی کے پردہ کشا اور ایک نئے آہنگ شاعری کے علمبردار تھے،انھوں نے اردو شاعری کو فکر و خیال اور اسلوب و آہنگ کی اس بلندی سے مالا مال کیا جسے صدیو ں پہلے ایک رومی نقاد لان جائی نس (Longinus)نے ’’ارفعّیت‘‘ (Sublimity) سے تعبیر کیا تھا۔ اس ارفعیت نے شعر و ادب کو نئی جہتیں عطا کیں ، اور بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک نیا تاریخی، علمی، انسانیاتی تخلیقی اور سیاسی شعور عطا کیا۔ انھوں نے شاعری کو ایک ایسی علمی جہت عطا کی جو کلیتہً کم نظیر تھی، انھوں نے ثابت کر دیا کہ عصر حاضر میں ایک بہت وسیع اور رچے ہوئے علمی شعور کے بغیر بلند پایہ شاعری وجود میں نہیں آسکتی۔ انھوں نے شاعری کو علم کی وسعت کے ساتھ مشروط کر دیا اور عصر حاضر کی علمی صداقتوں کو اس فنی شعور کے ساتھ شاعری میں لے آئے کہ علم و فنون کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہ رہا۔ چھٹی صدی ہجری میں صاحب چہار مقالہ نے شاعری کو نظامِ عالم، میں جن امور عظام، کا سبب قرار دیا تھا وہ چودھویں صدی ہجری میں اقبال کی شاعری کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئے۔
	اقبال نے شاعر کی زبان کو بالخصوص اور علم و ادب کی زبان کو بالعموم ایک نئی تبدیلی سے روشناس کیا۔ اُردو زبان کو علمی طور پر جو قو ت سرسید اور ان کے رفقا نے عطا کی تھی، شاعری میں اس کا اثر ابھی اتنا نمایاں نہیں تھا۔ اگرچہ مولانا حالی نے شاعری کی زبان کو بہت حد تک تبدیل کیا، لیکن حالی کی زبان مجموعی طور پر کس نئی لسانی تشکیل کے مترادف نہیں تھی۔ اقبال نے زبان میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت کا احساس پیدا کیا۔ اور اپنی شاعری کے ذریعے ایک ایسی شعری زبان تخلیق کی جو مستقبل کی علمی اور ادبی ضرورتوں کے علاوہ معاشرتی اور عمرانی تبدیلیوں کا ساتھ بھی دے سکتی تھی۔ اقبال نے اپنی لسانی تشکیل کی بنیاد محاورے اور قدیم تلازمات کی بجائے زبان کے فطری علم پر رکھی۔اس نئی شاعرانہ زبان میں محسوسات اور خیالات (مجردات)کے ساتھ ساتھ خارجی حقائق کو بیان کرنے کی بھی پوری پوری صلاحیت تھی، اس کے باوجود یہ زبان علم و ادب کی قدیم روایات سے یکسر منقطع نہیں تھی۔ عصر حاضر کی تمام بڑی شعری تحریکات میں اقبا ل کے اثر کو کسی نہ کسی صورت میں ضرور کار فرما دیکھا جا سکتا ہے۔
	اقبال سے پیشتر اردو میں بلند پایہ شاعری کے تمام تر اجزا غزل ہی میں ملتے ہیں۔ اقبال کے شاعرانہ نبوغ نے نظم کو غزل کے علاوہ دوسری تمام شعری اصناف کا ہم پلہ بنا دیا۔ اگرچہ اردو نظم اقبال سے  پہلے وجود میں آچکی تھی لیکن Poemکے معنوں میں نظم کا  جدید تصور اتنا واضح نہیں ہوا تھا۔ بلکہ نظم اپنی ہیئتوں سے پہچانی جاتی تھی، مثلاً قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، ترکیب بند، ترجیع بند، مسدس مخمس رباعی اور قطعہ وغیرہ، البتہ قدیم شاعروں میں نظیر اکبر آبادی ضرور ایک ایسے شاعر ہیں جو ان تمام ہیئتوں کو نظم یا Poem کے جدید تصور کے قریب لے آئے تھے، اسی لیے ان کی نظموں میں اصل اہمیت ہیئت کی نہیں بلکہ موضوع اور اس سے متعلق جذبات و احساسات کی ہے، یعنی نظیر کی نظم کے مختلف النوع اجزاء میں ایک ایسی تعمیر اتی وحدت ضرور پیدا ہو جاتی ہے جو نظم کا اصل فنی تقاضا ہے، یہی وجہ ہے کہ سودا کے قصائد یا میرحسن کی مثنویات کو ان معنوں میں نظم نہیں کیا جاسکتا جن معنوں میں نظیر کی نظمیں ، نظمیں کہلاتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اردو میں نظم کے جدید یا مغربی تصور کو رائج کرنے کا سہرا حالی اور آزاد کے سر ہے، جنہوں نے انجمن پنجاب کے زیر اہتمام جدید مشاعروں کی بنیاد ڈالی، ان مشاعروں نے جدید نظم گوئی کے رجحان کو جس پر جوش ادبی تحریک کی ضرورت دے دی، اس کے روح رواں خود حالی اور آزاد تھے، جنہیں ہر حال میں جدید نظم کے اولیں معمار تسلیم کیا جانا چاہیے۔ حالی اور آزاد نے جدید نظم کو اس کا ابتدائی فنی تصور دیا، اس ابتدائی فنی تصور میں نظم کے لیے موزوں ترین ہیئت مثنوی ہی کو خیال کیا گیا، لیکن اقبال کی شاعری نے اردو نظم کی دنیا میں ایک حقیقی انقلاب برپا کر دیا۔ جس طرح مرزا غالب نے اردو غزل کو آفاقی شاعری کا لب و لہجہ عطا کیا تھا۔ اسی طرح اقبال نے بھی بیک جست اردو نظم کو دنیا کی بلند پایہ شاعری کا ہم عنان وہم زبان بنا دیا، اس کارنامے میں اردو کا کوئی اور شاعر ان کا شریک نہیں ہے،اردو نظم جو ابھی یک رخی، سادہ اور نقشِ معریّٰ تھی، اقبال کے ہاتھوں پہلو دار پیچیدہ اور رنگین بن گئی۔ اقبال نے نظم کو بیان واقعہ کی سادہ اور مستقیم صورت حال سے نکال کر اسے جذبے اور تخیل کی پیچیدہ تر صورت حال سے آشنا کیا، اور نظم کے اجزا کو فنی تہ داری کے ساتھ سہ البادی بنا دیا۔ نظم جو اقبال سے پیشتر ایک حرفِ سادہ تھی۔ اقبال کے جوہرِ تخلیق کی بدولت ایک ایسا نغمہ بن گئی جس میں حیات و کائنات کی کئی  صداقتوں کو سمو دیا گیا تھا۔ اقبال نے نظم کو خط مستقیم کا مسافر ہونے کی بجائے نغماتی تحرک اور آہنگ کے خم و پیچ سے آشنا کیا۔ اور نظم کو ایک بیج کی طرح نقطۂ آغاز سے بڑھنا اور پھلنا اور پھولناسکھایا، اردو نظم پہلی بار اقبال ہی کے ہاں نامیاتی وحدت کے طور پر رونما ہوئی جس میں تعمیراتی وحدت کا حسن بھی موجود ہے۔ اقبال سے پہلے کی نظم، وہ جو کچھ بھی تھی، صرف خارج کی ترجمان تھی، اور شاعری کی لطافت اور وسعت سے بہت حد تک عاری تھی اقبال نے اسے خارج کے ساتھ ساتھ داخل کی دنیا سے بھی آشنا کیا اور اسے ان شعری لطافتوں سے بھی مالامال کیا جن کے بغیر شاعری، شاعری کہلانے کی حق دار نہیں ہو سکتی، اسی طرح اقبال نے نظم کو ایک ایسا ڈکشن عطا کیا جو اگرچہ بہت حد تک روایت کے ذخیروں سے مستفاد تھا تاہم وہ بہ حیثیت مجموعی زندگی کی نئی حقیقتوں کی ترجمانی کی صلاحیت بھی رکھتا تھا اور ایک نئے طرز احساس کا حامل بھی تھا، یہی وہ حقیقت ہے  جسے اقبال کے اولیں مبّصر سر عبدالقادر نے ان کی اولیں مقبول نظم، ہمالہ، پر تبصرہ کرتے ہوئے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’اس میں انگریزی خیالات تھے اور فارسی بندشیں ‘‘ انگریزی خیالات سے مراد مغربی افکار نہیں بلکہ ایک نیا طرز احساس ہے جو وجود میں نہ آتا اگر اقبال مغربی افکار اور انگریزی شاعری کی اسالیب سے متعارف نہ ہوتے۔ اقبال کے زیر اثر اردو نظم نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہمہ گیر ادبی تحریک کی صورت اختیار کر لی، نظم گوئی اور نظم نگاری کی جو متنوع صورتیں جوش ملیح آبادی،سیماب اکبر آبادی، ساغر نظامی، اختر شیرانی، احسان دانش اور اسی عہد کے دوسرے شعرا کے ہاں نمودار ہوئیں ان سب کا رشتہ کسی نہ کسی شکل میں اقبال کے فنِ نظم سے جاملتا ہے۔ اگرچہ نظم کے لے مسدس کی ہیئت کا احیا مولانا حالی نے کیا، لیکن یہ اقبال کی نظمیں شکوہ اور جوابِ شکوہ تھیں جن کی حیران کن مقبولیت نے مسدس کو نظم کی ایک مصدقہ ہیئت بنا دیا تھا۔ اسی طرح اقبال نے نظم کو جو رفعت خیال اور لہجے کا شکوہ عطا کیا تھا۔ اس نے بھی نظم کے لیے ایک مروجہ اور معیاری لہجے کی حیثیت اختیار کر لی تھی، گویا اقبال نے اردر نظم میں ایک پورے عہد کو جنم دیا۔ اور اردو نظم کی تاریخ پر بہت گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ لیکن نظم کے عناصر ترکیبی میں جلال و جمال اور فکر و غنائیت کا جو خوبصورت امتزاج اقبال نے پیدا کیا، اس کی تقلید ایسی آسان نہ تھی، لیکن اقبال کے اثرات اس کے باوجود ہمہ گیر تھے، اور ان اثرات کی یہی ہمہ گیری تھی جس نے اقبال کے طرز کو واضح طور ایک دبستان نہ بننے دیا، وگرنہ جدید شاعری پر اُن کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے تو بیسویں صدی کی اُردو شاعری کا ایک معتدبہ حِصّہ ’دبستانِ اقبال‘ کی شاعری کہلانے کا مستحق ہے۔
	کچھ ایسی ہی قلبِ ماہیئت اقبال نے اردو غزل کی بھی کی، جس کی تاریخ نظم کی تاریخ سے کہیں طویل اور تہ دار تھی۔ غزل جس کی رمزیات کے رستے ہمارے تمدن کی تاریخ میں بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں ، دنیا کی ایک انوکھی اور منفرد طرز شاعری ہے جس میں الفاظ لازمی طور پر تہ دار معنویت کے حامل ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تلازمانی رشتوں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ غزل کی اشاریت و رمزیت اور غنائیت و لطافت نے اسے ہر عہد کی مقبول ترین صنف سخن بنائے رکھا ہے، اس صنف شاعری میں ، جس میں عمومیت کے امکانات ہر حال میں موجود رہتے ہیں ، ایک انفرادی لب و لہجہ ہی نہیں بلکہ ایک نیا اسلوب پیدا کرنا غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ اقبال نے غزل میں ابتدائی طور پر جس شاعر سے اثر قبول کیا، اس کے اسلوب کا طرہ امتیاز ہی زبان تھا، یعنی داغ جو لہجے کی کاٹ اور زبان کے معاشرتی اطلاقات کے اعتبار سے اپنے استاد ذوق سے بھی کچھ آگے ہی نظر آتے ہیں۔ اقبال نے آغاز میں اپنے استاد ہی کے لسانی دبستان کی پیروی کی، لیکن اُن کی ابتدائی غزلیں جن پر روایتی غزل اور داغ کی زبان کا رنگ نمایاں ہے، اس حقیقت کی طرف ضرور اشارہ کرتی ہیں کہ اقبال زبان کے روایتی سانچوں کو نئی اطلاقی صورتوں میں برتنے کے خواہاں ہیں داغ سے انھوں نے زبان پر ماہرانہ گرفت حاصل کرنے کا ہنر ضرور سیکھا، اور وہ ارتجال و بداہت (Spontaneity)جو داغ کی شاعری میں روانی پیدا کرتی ہے، اقبال کے ہاں اسلوب بیان پر کامل گرفت کی صورت اختیار کر گئی۔ لیکن اقبال کی یہ کامل گرفت صناعانہ سے زیادہ خلاقانہ ہے جس کی بدولت انھوں نے اردو غزل کو ایک نیا انبساط، ایک نئی وسعت خیال اور فکر کی ایک نئی جہت عطا کی۔ اس نئے اسلوب غزل میں ، جو اقبال کی اختراعی صلاحیتوں کا رہین منت ہے، اقبال نے غزل کے تمام اشارات اور رموز و علائم کی ماہیت کو بدل کر رکھ دیا۔ غزل کا من و تو، جو صرف عاشق و معشوق کی طرف اشارہ کرتا تھا، نئی سے نئی انسانی صداقتوں کا آئینہ دار بن گیا۔غزل کا’ میں ‘ (من)جو صرف ایک ناکام عاشق تھا، اقبال کی غزل میں عشق جلیل کا نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کا انسان بن گیا جو کائنات کے حسن کا معترف بھی ہے، اور اس کی قوتوں کا حریف بے باک بھی ؛یہ دہ ہے جو آدم اور ابن آدم دونوں کی نمائندگی کا حق ادا کرتا ہے یہ ’میں ‘ مشرق کی انا بھی ہے، اور اسلامی تمدن کا نفس ناطقہ بھی، اسی واحد متکلم میں مشرق و مغرب کے انسان کی درماندگیاں بھی سمٹ آئی ہیں اور نوعِ انسانی کے تخلیقی امکانات بھی؛ واحد متکلم کے مطالب کی یہی بوقلمونی اور وسعت ہے جو اقبال کی غزل کو عصر حاضر کے انسان کا نغمہ تخلیق بنا دیتی ہے۔ اقبال نے غزل کو ایک نئی جغرافیائی دُنیا عطا کی، جس کی وسعتوں میں کوہِ الومذ و کوہِ دماوند سے لے کر ساحل نیل و خاک کاشغر سمٹے ہوئے ہیں۔ یہ دنیا بیک وقت اسلامی مشرق کی دنیا بھی ہے، اور عصر حاضر کے انسان کی رزم گاہ فکر و تخیل بھی۔ اقبال نے غزل کو دائروں میں تکرار کرتی ہوئی زبان کی بجائے ایک ایسی زبان دی جو آگے کی طرف پھیلتی اور حرکت کرتی ہے، خیال کی اس پیش قدمی(Progression)نے غزل کی زبان کی قدیم گچھے دار صورتوں کو توڑ کر شعری زبان کا ایک نیا سانچہ تیار کیا۔ اقبال نے غزل میں الفاظ کی مرتکز تہ داری (Concentrated Centrality)کی بجائے الفاظ کی نامیاتی پیش رفت (Progressive Organic Growth)کو اہمیت دی، اور یوں اردو غزل کو لسانی اور فکری پھیلاؤ کی نادر فنی صورتیں میسر آئیں۔ اقبال نے اردو غزل کو لہجے کی تازگی، فکر کی بلندی، جذبے کی سچائی اور خارجی کائنات سے ایک نئی نسبت عطا کی، اردو غزل جو اپنے تکراری پیمانوں کی بدولت ایک جوئے تنک آب بن کر رہ گئی تھی اور جس میں عشق و عاشقی کے فرسودہ کھیل اور بے مایہ صوفیت کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تھا، اقبال کی بدولت ایک دریائے تند و تیز بنی، جس نے عصر حاضر کی تمام صداقتوں کوسینے سے لگایا اور انھیں ایک نئے نظامِ علائم میں منتقل کر دیا۔ 
	ایلیٹ نے کہا ہے کہ ہر بڑا شاعر ناگزیر طور پر اپنے لیے ایک نیا اسلوب شاعری تخلیق کرتا ہے جو اس کی تخلیقی وار دات کو بیان کر سکے، یوں شاعری میں ایک نئے معیار اور شاعری کی تعریف میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہوتا ہے اور ہمیں (یعنی نقادوں کو) شاعری کے مجموعی تصور میں تبدیلی اور شاعری کی تنقید کے معائیر میں ردّ و بدل کرنا پڑتا ہے۔ اردو شاعری میں غالب اور اقبال نے یقیناً ایسا ہی کیا، انھوں نے اپنے لیے نئے اسالیب شاعری کی تخلیق کی، اردو شاعری کے مروجہ اسالیب و تصورات کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا، جب اقبال نے اپنی شاعری کا آغاز کیا تو اردو میں حالی اور آزاد کی بدولت قومی اور فطرت پسندی کی شاعری وجود میں آ چکی تھی۔ اس روایت کو آگے بڑھا کر عظیم آفاقی شاعری کی وسعتوں اور عظمتوں سے آشنا کرنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس کے لیے اقبال جیسے خلاق شاعر کا فکر و تخیل درکار تھا، جس میں گندگی کی بڑی سے بڑی صداقت بھی آسانی کے ساتھ طرز جلیل کی بلاغت اور شاعرانہ لطافت و نغمگی کے سانچے میں ڈھل جائے۔ اقبال نے اردو شاعری کو زبان و بیان اور فکر و تخیل کے اعتبار سے جو کچھ دیا، اس کی بدولت پوری اردو شاعری دو حصوں میں منقسم نظر آتی ہے، ایک وہ جو اقبال سے پہلے تھی اور ایک وہ جو اقبال کے بعد صورت پذیر ہوئی۔
	فکرِ مجرد کو شاعری سے ہمیشہ بعد رہا ہے، اس لیے فکر مجرد اپنی مصدقہ صورتوں کو منطق کے سانچوں میں ظاہر کرتی ہے۔ جب کہ شاعری تخیل کی آزاد پرواز سے وجود میں آتی ہے، اسی لیے شاعری کی ابتدائی تعریفوں میں فکر (Thought)کو شاعری کے عناصر ترکیبی میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگر فکر و تخیل کی اس لفظی نزاع سے قطعِ نظر کر لیا جائے۔ اور ان میں بعد المشرقین تسلیم کرنے پر زور نہ دیا جائے تو اس حقیقت کو پہچاننے میں زیادہ دقت پیش نہیں آسکتی کہ شاعری بھی فکر کا ایک منفرد اسلوب یاسانچہ ہے، جو منطق سے مختلف ضرور ہے، لیکن منطق اور اس شاعرانہ تفکر میں ضدین کا رشتہ نہیں ، بلکہ ایک ہی قوت کے اظہار کے دو مختلف پیرائے ہیں البتہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کسی کو تامل نہیں ہو سکتا کہ منطق فکر کی تنظیم ہے اور شاعری فکر کی تخلیقی  حرکت ہے۔ بہر حال فلسفہ (جو فکر کے منطقی لوازمات سے مشروط ہے)اور شاعری کو کبھی ایک نہیں سمجھا گیا یہ اور بات ہے کہ دنیا کی عظیم شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ فلسفیانہ فکر کی دولت سے مالامال ہے، اس کے باوجود اگر ہم دنیا کے بڑے شاعروں کو فلسفی یا مفکر کہیں تو یہ زیادہ مجازاً ہو گاحقیقتاً نہیں ، جب کہ اقبال دنیا کے وہ منفرد شاعر ہیں جو فی الحقیقت ایک مفکر بھی ہیں ، اور انھوں نے فلسفے کے فکر بارد کو جس طرح شاعری کے تخیل رنگیں اور جذبہ گرم کے ساتھ پیوند کیا ہے، اس کی صورت عالمی ادب میں صرف جرمن شاعر گوئٹے یا اقبال کے عظیم پیش رو غالب کے ہاں نظر آتی ہے (اقبال نے غالب اور گوئٹے کی مشابہتوں پر خود بھی بہت زور دیا ہے)، البتہ غالب کے بر عکس اقبال کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ(اقبال )فلسفیانہ افکار کو تمثیل اور استعارے کی بجائے راست انداز میں بھی بیان کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ہاں تمثیل واستعارے کا پردہ موجود نہیں ، بلکہ وہ جب چاہتے ہیں تمثیل و استعارہ کو چھوڑ کر راست انداز بیان اختیار کر لیتے ہیں ، اور اس کے باوجود ان کے ہاں شعریت کی سطح برقرار  رہتی ہے۔ اقبال کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کے اجزائے ترکیبی میں سنجیدہ تفکر کا اضافہ کیا اور میتھیو آرنلڈ کے الفاظ میں شاعری کو نقدِ حیات کا ذریعہ بنایا۔تنقیدِ حیات اور سنجیدہ تفکر کی اس خوبی نے اقبال کو بیک وقت ایک عظیم مفکر، تہذیب و تمدن کا ایک نقاد اور ایک معلّمِ حیات بنا دیا۔
	اگر تاریخ فلسفہ کے مغربی مولفین اور مورخین کے معیار تدوین کو آخری اور قطعی نہ سمجھا جائے تو اقبال کو جدید فلسفے کی تاریخ میں بھی ایک اہم مقام ملنا چاہیے۔ یہ ایک ناخوشگوار حقیقت ہے کہ تاریخ فلسفہ کے مغربی مولفین نے مسلمان مفکرین کے افکار کو انسانی فکر کی تاریخ کا حصہ کبھی نہیں سمجھا۔ وہ سٹوری آف فلاسفی، کے مولف ول ڈیورانٹ ہوں یا تاریخ فلسفہ کے مولف اسٹیس،مسلمان فلسفیوں کے خیالات یا فلسفیانہ نظاموں کو انسانی فکر کے رواں دھارے میں شامل نہیں سمجھتے اور اپنی تاریخ فلسفہ میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ، یہاں تک کہ غزالی، ابن رشد، ابن عربی، ابن خلدون، بوعلی سینا اور فارابی جیسے عظیم الشان مفکرین اور معلمین کو بھی انسانی فکر کے ارتقا کی تاریخ میں چنداں اہمیت کا حامل نہیں سمجھا جاتا، اس لیے اگر اقبال کو عصر حاضر کے فلسفیوں میں شامل نہیں کیا جاتا تو اس میں حیرت کی بات نہیں ، عام طور پر فلسفہ کے مغربی مورخین اپنی تالیفات کو مغربی فکر کی تاریخ تک محدود رکھتے ہیں ، اور اپنے موضوع کی حدود کو اپنے اس رویے کا جواز بناتے ہیں ،لیکن وہ تالیفات جو مغربی فکر کی تاریخ، تک محدود نہیں رکھی جاتیں ان میں بھی مسلمانوں کے افکار کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔ بہر حال بیسویں صدی کے مفکرین میں اقبال اصولاً ایک امتیازی مقام کے مستحق ہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے جدید فلسفے کے ارتقائی عمل کی آخری کڑی کو مکمل کیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی فلسفی کے تمام تر خیالات کلی طور پر طبع زاد نہیں ہوتے۔ ہر فلسفی اپنے خیالات کا تانا بانا اپنے پیش روؤں کے خیالات اور فلسفے کے مسلمات سے تیار کرتا ہے۔ افلاطون یا ہیگل جیسے فلسفی دنیا میں چند ایک ہی ہیں جنہوں نے انسانی فکر کی کایا پلٹ دی ہو یا ایسا نظام  فکر پیش کیا ہو جس میں متقدمین و معاصرین سے استفادہ نہ ہونے کے برابر ہو۔ اسی لیے کسی بھی قابل ذکر یا بڑے فلسفی  کی اصل اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ انسانی فکر میں کسی نئے تصور کا اضافہ کر دے۔اس اعتبار سے اقبال کا شمار یقیناً عصر حاضر کے بڑے فلسفیوں میں ہونا چاہیے کہ انھوں نے فلسفے کو ایک نئی مابعد الطبعیاتی تعبیر کا مواد فراہم کیا اور انسانی فکر کی تاریخ میں ’خودی ‘یا ’انا‘ کی تخلیقی فعلیت کو اس قدر شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا۔ یہ کہنا تو مبالغہ ہو گا کہ اقبال سے پہلے خودی کا کوئی تصور موجود نہیں تھا، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اقبال سے پیشتر کسی مفکر نے اپنے فلسفے کی اساس خودی یا انا کی تخلیقی فعلیت کے تصور پر نہیں رکھی، اگرچہ اس تصور کے آثار ہمیں مغربی فکر کی تاریخ میں کانٹ ہی سے ملنا شروع ہو جاتے ہیں ، اسپینوزا کا تصور ارادہ بھی انا کی تخلیقی فعلیت ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے، برگسان کا عقلِ تجربی یا عقل منطقی کے مقابلے میں وجدان کو اہمیت دنیا بھی اسی رجحان کا آئینہ دار ہے، لیکن مغربی فلسفے کے اس میلان یا رجحان کی منطقی تکمیل اقبال کے تصور خودی ہی میں ہوتی ہے، اسی طرح اقبال نے اسلامی تصورات کے حوالے سے زندگی اور کائنات کی روحانی اور اخلاقی تعبیر کا جو منہاج استوار کیا ہے، وہ  انھیں عصر حاضر میں ایک مابعد الطبعیاتی مفکر کے طور پر ضرور خصوصی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔ اپنے  انگریزی خطبات میں اقبال نے مذہب،فلسفہ اور سائنس کے درمیان مشترکہ اقدار اور خصوصیات تلاش کرنے اور انھیں بہت حد تک ہم آہنگ کرنے کی جو سعی کی ہے، وہ بھی بذاتِ خود کم اہمیت کا کارنامہ نہیں ہے ان کی یہ سعی انھیں مذہبی مفکروں کی صف میں بھی ممتاز کرتی ہے۔ اور اسلامی فکر کی تاریخ میں اُنھیں غیر معمولی امتیاز بھی عطا کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ مشرق میں ان کے افکار و خیالات کی اصل اہمیت اور قدر و قیمت زیادہ تر اسلامی فکر کے حوالے سے ہے، اور یہ حوالہ ایسا ہے جو انھیں غالباً دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا۔ اسلامی مشرق میں ان کا اصل کارنامہ قدیم افکار کی تنقیح اور انتخاب کے علاوہ عصر حاضر کے اسلامی تفکر کے لیے بعض اساسی خطوط فراہم کرنا ہے۔ ان کے تفکر نے مسلمانوں کے فکر کے لیے مہمیز کا کام دیا ہے، اس میں شک نہیں کہ ان کے بعد اسلامی مشرق کو ابھی تک ان سے بڑا یا ان جیسا کوئی مفکر نصیب نہیں ہوا لیکن تفکر کے جس عمل کو انھوں نے جاری کیا ہے اسے ایک عظیم فکری کارنامے سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا جن عوامل نے جدید دنیا میں اسلامی تمدن کے احیا اور اسلامی تفکر کی پیش رفت کو ایک ہمہ گیر تحریک کی صورت دے دی ہے ان میں اقبال کے فکر اور شاعری کو اولین اور موثر ترین حیثیت حاصل ہے۔ مشرق اور اسلام سے محبت اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی آرزو کو اقبال نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک طرزاحساس اور نصب العین بنا دیا ہے ان کے عہد آفریں شاعر اور مفکر ہونے کے لیے اس سے بڑی شہادت کیا ہو گی کہ ان کا فکر عصر حاضر کے مسلمانوں کے طرز فکر اور طرز احساس کی اساس بن گیا ہے۔
	اقبال نے شاعری کو ایسے علوم و فنون کا حوالہ بنا دیا ہے، جن کے بغیر عصرِ رواں میں انسانی زندگی کی کوئی تشریح یا تعبیر مکمل نہیں ہو سکتی، فلسفہ جو ہمارے قدیم مکتبوں میں اشارات بو علی سینا، شمس بازغہ یا سلم العلوم تک محدود تھا، اقبال اسے عملی زندگی کی بساط پر لے آئے اور ثمریت یا نتائجیت کا ایک ایسا منہاج پیدا کیا جو بیک وقت تصوریت یا عینیت (Idealism)اور حقیقت پسندی (Realism)کا ایک متوازن امتزاج پیش کرتا تھا۔ انھوں نے برصغیر کی علمی دنیا میں فلسفے کے آفاق کو ایک طرف مولانا روم، بیدل، عراقی اور مجددِ الف ثانی تک اور دوسری طرف برگساں ،وہائٹ ہیڈ، نطشے اور گوئٹے تک وسیع کیا اور مسلمانوں کے لیے نیزانسانی فکر کے ارتقا کے ہرسنجیدہ طالب علم کے لیے مسائل و معارف کا ایک ایسا تناظر (Perspective)ڼ فراہم کیا، جس کی روشنی میں حیات انسانی کے دقیق اور اہم مسائل کو زیادہ آسانی اور صراحت کے ساتھ دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انھوں نفسیات میں میکڈ وگل اور ولیم جمیز کے خیالات کو عام علمی دنیا میں متعارف کرایا، اور وجدانی فلسفے کی مقبولیت اور تشریح کے لیے نئے خطوط و اشارت مرتب کئے۔ انھوں نے مذہب سائنس اور فلسفے کی ممکنہ تطبیق تلاش کرتے ہوئے مذہب کے ان مسائل کو چھوا جن کا مسلمانوں کے لیے ایک ایسانظام حوالگی (Fram of References)ترتیب دیا، جس میں ماضی کے بعض ایسے فکری حوالوں کو زندہ کیا گیا تھا، جو عمومی فراموش گاری کا شکار ہو کر طاقِ نسیاں کی زینت بن چکے تھے۔بالخصوص مولانا روم کے افکار پر ان کا زور ایک ایسا عمل تھا جس نے مولانا روم ہی کو نہیں بلکہ اسلامی فکر کی پوری روایت کو ایک زندہ حوالے کے طور پر ذہنوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اگرچہ مولانا روم کے کلام اور افکار سے دلچسپی اقبال کے افکار کی اشاعت سے پہلے بھی موجود تھی۔ اور مولانا شبلی نعمانی نے سوانح عمری مولانا روم لکھ کر اس عمومی دلچسپی کو تاریخی اور فکری اساس بھی فراہم کر دی لیکن اقبال نے مولانا روم کو پورے اسلامی تمدن کے ایک عظیم اور مثالی شاعر کی حیثیت سے جدید اسلامی دنیا کے سامنے پیش کیا اور فکر رومی سے استفادے کی عملی صورتیں بھی پیش کیں ، غرض اقبال نے جدید اسلامی فکر کو ایک نئی تحریک بھی دی  اور اسے حوالوں کا نظام بھی دیا تاکہ وہ خود مکتفی بھی رہے اور اس کے رشتے اپنے اصل سرچشموں کے ساتھ بھی برقرار ہیں۔ اقبال نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے برصغیر کے اسلامی تمدن کو اس کے قدیم تہذیبی اور علمی سرچشموں سے مربوط کیا اور اردو شعر و ادب کو بھی، دہلی لکھنو اور اکبر آباد کی نفی کیے بغیر، شیراز و تبریز کی طویل شعری، ادبی اور فکری روایت کی یاد دلائی، انھوں نے ایشیا میں ایک عظیم تر اسلامی تمدن کے نشو و ارتقا کا خواب دیکھا اور اس خواب کو پیرایۂ تعبیر دینے کے لیے ایک ایسا فکری سانچہ بھی دیا جسے ہم اس مثالی اسلامی تمدن کی فکری اور تہذیبی اساس کہہ سکتے ہیں۔
	اکثر فلسفیوں کو معلمین بھی کہہ دیا جاتا ہے، اقبال کو بھی اگر ایک معلم کہا جائے تو غلط نہ ہو گا بلکہ لفظ کا صحیح ترین اطلاق ہو گا، اگر برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل نو کے طویل عمل میں اقبال کے کردار کا تجزیہ کریں تو وہ صحیح معنوں میں ایک معلم قوم کی حیثیت میں اپنا تاریخی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ، بلکہ اگر انھیں عصر حاضر کا ایک عظیم معلم قوم کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ انھوں نے ایک مثالی معلم قوم کی طرح اپنی قوم کی ذہنی، جذباتی، فکری اور اجتماعی ضرورتوں کو محسوس کیا، ان کے مسائل کا دقتِ نظر سے تجزیہ کیا، ان کے سرد و خنک سینوں میں مقصد حیات کا شعلہ بھڑکایا،ان کے دلوں میں زندہ رہنے کی مانگ بیدار کی، انھیں بتایا کہ جذبے کی حرارت، کردار کی صلابت اور ارادے کی قوت قوموں کی زندگی میں کیا معنی رکھتی ہے۔ انھوں نے اپنی قوت تخلیق، تاثیر سخن اور اخلاص فکر سے ایک پوری قوم کی قلب ماہیت کر دی، انھوں نے قوم کو جو نصب العین دیا وہ بیک وقت مثالی بھی تھا اور حقیقت پسندانہ بھی۔جنوب مغربی ایشیا میں ایک آزاد اسلامی مملکت کی تشکیل، ایشیا میں ایک نئے اسلامی تمدن کی صورت پذیری اور عالم اسلام کا اتحاد۔ اقبال کے نصب العین کے تین بنیادی زاویے ہیں۔ جنوب مغربی ایشیا میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا قیام ان کی وفات کے صرف نو سال بعد عمل میں آگیا، اور عالم اسلام کے واقعات کی رفتار اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اقبال کا مرتب کیا ہوا نصاب فکر و عمل شعوری اور لاشعوری، دونوں پر، ایک نئی اسلامی دنیا کی تشکیل میں نہایت گہرے اور دور رس اثرات کا حامل ثابت ہو رہا ہے:
گماں مبر کہ بیایاں رسید کارِ مغاں 
ہزار بادۂ نا خوردہ در رگِ تاک است!
 	عصر حاضر میں تاریخ کے عمل کی جدلیت کو سمجھنے میں اقبال نے جس بصیرت کا اظہار کیا، وہ حیران کن بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ وہ صمیم قلب سے مشرق اور ایشیا کی مظلوم و محکوم اقوام کی بیداری اور آزادی کے خواہاں تھے۔ اگرچہ ان کا پیغام عالمگیر ہے، اور وہ ادبیات عالم میں پورے مشرق کی نمائندگی کرتے ہیں ، تاہم ان کی نظریں خاص طور پر ایشیا کی بیدار ہوتی ہوئی اقوام کی صورت احوال پر مرکوز تھیں۔ ان کی شاعری میں بیسویں صدی کے اوائل کی ایشیا کی بہت سی اہم تحریکات کا پرتو ملتا ہے۔ وہ ایشیائی اقوام کے ہر نئے اقدام کو دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔آزادی کی ہر تحریک میں انھیں ایشیائی تہذیب کی برتری اور تاریخ عالم میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے امکانات کا سراغ ملتا ہے۔ ان کا یہ کارنامہ کم اہمیت کا حامل نہیں کہ انھوں نے بیسویں صدی میں اردو شاعری کو پورے ایشیا کے احساسات اور امنگوں کا ترجمان بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے اسلامی دنیا کو بالخصوص ایک نئی زندگی کا پیغام دینے کے علاوہ اسے ایک نیا فکری، انسانی اور تاریخی تناظر بھی عطا کیا۔ ان کی شاعری میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی آرزو کے ساتھ ساتھ مظلوموں اور محکوموں کی صورت حال کا تجزیہ بھی ملتا ہے۔ انھوں نے نہایت واضح انداز اور موثر ترین پیرائے میں مغرب کے استعماری نظاموں سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا، انھوں نے مشرقی اور ایشیائی اقوام کو خود شناسی، خود گری اور خود نگری اور انھیں قوت اور توانائی کے حصول کی راہ دکھائی، لیکن قوت اور توانائی کو عالمگیرانسانی اخوت اور انسانی فوز و فلاح کے بلند مقاصد کے لیے صرف کرنے کا سبق بھی صراحت کے ساتھ دیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس قُوّت پسندی کے باوجود انھوں نے ہر نوع کے استعمارو استبداد کو رد کر دیا اور صِرف انھیں مقاصد عالیہ کی نشان دہی کی جو مجموعی طور پر پوری انسانیت کے لیے قابل آرزو ہو سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال کا فکر و فن آج بھی حیات آفرین تصورات کا سر چشمہ ہے انھوں نے جس طرح مشرقی اور ایشیائی اقوام کو ایک نئے فکری انقلاب سے دو چار کیا، اس کی پیش بینی خود ان کے ہاں بھی موجود تھی،
پس از من شعیر ان خونند ومی رقصند ومی گویند
جہانے را دگر گوں کر دیک مردِخود آگاہے!
 
اقبال عہد آفرین، مکتبہ کاروان ادب، ملتان، ۱۹۸۷ء

حواشی 

۱۔’’شاعری صناعتی ست کہ شاعربداں اتساقِ مقدمات موہومہ کند و التیام قیاسات منتجہ را براں وجہ کہ معنی خردرا بزرگ گرواند و معنی بزرگ راخرد، نیکوراور خلعتِ بزرگ باز نکاید و زشت را در صورتِ نیکو جلوہ کند، بہام و قوت ہای عقباتی و حسیاتی رابر انگیزد تابداں ابہام طبائع را انقباضی وانبساطی بودو امور عظام را در نظام عالم سبب شود‘‘  (چہار مقالہ:مقالہ دوم)
۲۔ مقدمۂ شعر و شاعری اور شعر العجم جلد پنجم
٭٭٭
تشکر: وسیع اللہ کھوکھر جن کے روسط سے فائل کا حصول ہوا
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
