﻿


منشا یاد کی کہانی کے تناظر میں 
جنس ،عورت اور  سماجی معنویت

 
۔۔۔۔۔۔۔تنقیدی مضامین۔۔۔۔۔۔۔

محمد حمید شاہد









انتساب

منشا یاد کے تراشے ہوئے کرداروں کے نام 








کُوک بھرا کھلونا

 کتنی عجیب بات ہے یہ ، کہ وہ، جو کئی کرداروں کی زندگی جیتا تھا ، اچانک مر گیا۔
 وہ اپنے کرداروں کو چھوتا تھا، یوں کہ وہ جی اٹھتے تھے۔  اس جی اٹھنے کا راز اس نے یہ بتایا تھا کہ وہ ان کی کھال میں گھس کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔
  یوں لگتا ہے اس نے بوڑھی عیار موت کو بھی جی اٹھنے والا کردار بنانا چاہا تھا، اپنی کہانی کا کردار۔  اور  ابھی دن پوری طرح معدوم نہیں ہوا تھا کہ اس سیاہ چشم کے ڈھیلے ماس کے جھریوں بھرے جال میں گھس کروہ راستہ بھول گیا۔  
 اس نے عجب عجب کرداروں کی کہانیاں لکھی تھیں ، ’’تیرھواں کھمبا‘‘ نامی محبت کی کسک کو جھیل جانے والی انجی کی کہانی ،جو ایک تہذیبی رشتے کے تقدس میں بندھ کر دولخت ہو گئی تھی۔  اور  پیچھے کی سمت بھاگتے کھمبے گننے والے اس کے عاشق کی کہانی بھی،جس نے اپنی محبوبہ کو اپنے شوہر کے ساتھ دیکھا تھا تو اسے لگا تھا جیسے تیز رفتار ریل کار کا انجن اس کے اوپر سے گزر گیا ہو اور  اس کی بوٹیاں ہوا میں اڑ رہی ہوں۔  اپنے اندر کی گھٹن کے تعفن اور  باسی پن سے بھاگ نکلنے والی’’ بند مٹھی میں جگنو‘‘ کی اس شہری لڑکی کی کہانی، جس نے پہلی بار ننگی گالیاں سنی تھیں تو اس کے بدن سے چمٹی ہوئی جونکیں ایک ایک کر کے جھڑ گئی تھیں اور  لچی لفنگی مشٹنڈی ہونے کے طعنے سننے اور  سنانے والی پھپھپے کٹنیوں سے پوشیدہ رکھے جانے والے انسانی اعضا کے ناموں کو فراوانی سے سنا تھا تو اپنے بدن میں باسی ہو جانے والی زندگی کو تازہ ہوتے اور  ایک لذت کو پھوٹتے پایا تھا۔  میلہ دیکھنے آنے والے اس شخص کی کہانی جس کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔  ’’راستے بند ہیں ‘‘ ، جیسی اس انوکھی کہانی کا یہ عجب کردار لکھتے ہوئے اس نے اپنے اندر کی ساری لذت اس کے اندر اتار دی تھی۔ حتی کہ ٹرک کے نیچے آ کر کچلا جانے والا کوئی اور  تھا مگر موت کی لذت اس کے اندر اتری جو خالی جیب میلا دیکھنے آیا تھا لہذا وہ مر گیا تھا۔  
 کچی پکی قبریں ، پانی میں گھرا پانی، رکی ہوئی آوازیں ، بوکا، تماشا، راتب،جیکوپچھے، بیک مرر، وقت سمندر، سارنگی، پولی تھین، نظر کا دھوکہ، پنج کلیان، سزا اور  بڑھا دی، درخت آدمی، کٹم کاٹا۔ 
 کٹم کاٹے کا کھیل چلتا رہا۔  وقت لمحہ لمحہ کر کے تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے پر گرتا رہا  اور  وہ کرداروں کی لکیریں بناتا اور  انہیں کاٹتا رہا۔
  اس نے عجب عجب ذائقے لکھے اور  ان کا چکھنا لکھا۔
  نئے نئے مناظر لکھے اور  ان کا دیکھا جانا لکھا،
  انوکھی انوکھی خوشبوئیں لکھیں اور  ان کا مشام جان میں اترنا لکھا، 
 لذت بھرے لمس کو محسوس کیا اور  اسے زندگی بنا کر لکھا۔
 اس نے جس طرح اپنے کرداروں کو شدت سے سوچنے پر اکسایا اور  اتنے ہی بھولپن سے انہیں دانش بھرے سوالات کے مقابل کر دیا۔  
 بے پناہ محبت کی طویل نہر کھودی اور ساری آدمیت کو اس کے کنارے بسانا چاہا۔
  محترم ہو جانے والے رشتوں کو لکھا اور  اپنے محبوب کرداروں کو اس ریشمی ڈور میں پرونا چاہا۔
  کرداروں کے اندر ایک عجب طرح کی حمیت جگائی اور  ان کے لہو میں اپنی رہتل کی خوشبو کو اتار دیا۔   
 عجب عجب کہانیاں ، عجب عجب کردار۔ کہیں موت کے کھلیان سے اگتی ہوئی زندگی۔ کہیں زندگی کی نس نس میں اترتی ہوئی موت۔  
  یوں نہیں ہے کہ موت اس کے لیے کوئی اجنبی کردار تھا اس نے اسے محبت سے لکھا ہے اور  سفاکی سے بھی۔ یہ موت کبھی تو انجی کی چیخ  کے بعد اس کے تھر تھر کانپے چلے جانے پر اس عاشق کی سی ہو گئی تھی جو ریل کار کے نیچے کچلا نہیں گیا تھا بلکہ اس کے دروازے میں کھڑا ہوا کے جھونکوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا اور  کبھی علی احمد پر قسطوں میں اترنے والے اس عذاب جیسی ،جو مرنا چاہتا تھا مگر مر نہیں چکتا تھا حتی کہ اس کی اپنی بیوی نے جھنجھلا کر پوچھا تھا’’ کیا ہم سب کو مار کر مرنے کا ارادہ ہے‘‘ ۔  اسی کہانی میں موت نے آ کر موت کو آوازیں دینے والی اسی عورت کی’’ سزا اور  بڑھا دی‘‘ تھی۔
  ادبدا کر کھسک جانے والی موت سے لے کر ترسا  ترسا کر مارنے والی موت تک ، ایک ہی ہلے میں بہت سارے انسانوں کو مار ڈالنے والی موت سے لے کر اس شخص کی موت تک جسے ’’پولی تھین‘‘ کھا کر مرنا تھا مگر جو مومی لفافے کے تعاقب میں بجلی کے کھمبے پر چڑھا اور  کرنٹ لگنے سے مرگیا تھا۔
  سب طرح کی موتیں اس نے لکھ ڈالی تھیں۔
  مگر یوں لگتا تھا کہ جیسے جو موت اسے لکھنا تھی، وہ ابھی باقی تھی لہذا وہ خود اس کے ڈھیلے ماس  کے جال میں اتر گیا۔
 اچھا یوں نہیں ہے کہ اچانک وہ اپنے نصیبے میں لکھی ہوئی موت کے مقابل ہوا تھا۔ اور  یہ بھی بہ جا ہے کہ یہ سب کچھ اس کے ادراک میں کہیں پہلے سے تھا تاہم یوں ہے کہ میرے لیے یہ مرحلہ ٹوٹ پڑنے والی قیامت کا سا تھا۔ 
 مجھے یاد ہے کچھ عرصہ پہلے جب اس کے دل کی دھڑکنیں اپنا آہنگ چھوڑنے لگی تھیں اور  اس نے اپنی چھاتی کا ماس کٹوا کر اس میں پیس میکر رکھوا لیا تھا۔ اس نے ایک کہانی لکھی تھی ، ’’کوک بھرے کھلونے ‘‘ ۔ 
 تب اس نے بتایا تھا کہ موت اسے چھو کر نکل گئی تھی۔
  وہ ساری عمر عجب اور  انوکھے خیال سوچتا اور  لکھتا رہا۔ موت اسے چھو کر گزری تو اس نے اپنے آپ کو ایک کوک بھرا کھلونا کہا۔ کہانی مکمل ہو گئی تو مجھے بلایا اور  مزے لے لے کر ساری کہانی مجھے سنا دی۔ 
 کہانی سنا چکا تو اس نے سوچے ہوئے کئی عنوان میرے سامنے رکھ دیے۔
 ایک۔۔۔۔دو۔۔۔۔۔۔تین۔۔۔۔۔۔۔۔چار۔۔۔۔۔  
 میں نے کہا ’’ کوک بھرا کھلونا‘‘ 
 کہانی میں کوک بھرے کھلونے کا حوالہ آیا تھا، ایسا کھلونا جس میں چابی بھرتے ہیں اور  وہ زندہ ہو جاتا ہے ،مگر یہ عنوان اس فہرست میں نہ تھا جو اس نے سوچے تھے۔  
وہ الجھن میں پڑ گیا کہ اس عنوان سے وہ سب الجھن میں پڑ سکتے تھے تو فوری طور پر’’ کوک‘‘  جیسے لفظ سے معنی اخذ نہ کر سکتے تھے۔
 کہانی کو الجھاوا بنانے  والوں پر وہ خوب برستا تھا۔  ترسیل اسے عزیز تھی تاہم اسے محض واقعہ بنا ڈالنے کے حق میں بھی نہ تھا۔ 
 اچھا جملہ کہنا ، تہذیبی تناظر اچھالتا ہوا ،دیہی دانش سے لبالب بھرا ہوا ، مٹی کی خوشبو میں گندھا ہوا مگر کہانی کے اندر پوری طرح پیوست ، ہاں یہ بھی اسے عزیز تھا
  اور  کہانی کا ایسا عنوان، جو پوری توجہ کھینچ لے اور  پڑھنے والے کو کہانی کی طرف مائل کر دے۔ کہانی کی طرف اور  اس تخلیقی حصار کی جانب بھی جو وہ اپنے جادو بھرے بیانیے سے کھینچا کرتا تھا۔ 
  خیر میرا اصرار بڑھا تو اس نے کہانی کے اوپر یہ عنوان جما کر اسے کئی بار دہرایا۔  پھر چپ ہو گیا اور  اپنی چھاتی پر وہاں ہاتھ رکھا جہاں اس نے پیس میکر لگوا رکھا تھا۔ 
 اس نے بتایا تھا :
 ’’ جب میں نے ڈاکٹروں سے یہ پوچھا تھا کہ اس مشین کی کوئی گارنٹی ہے، جو آپ نے میری چھاتی میں گاڑ دی ہے تو انہوں نے کہا تھا ہاں ، مگر آدمی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔‘‘ 
  پھر وہ خود ہی ہنسنے لگا تھا۔ وہ ہنستا رہا۔ نہیں ، شاید وہ ہنسنے کی اداکاری کر رہا تھا۔ تب ہی تو میں بوکھلا کر اسے دیکھنے لگا تھا۔ وہ جھینپ کر چپ ہو گیا اور  میرا دل رکھنے کو وہ کہانی سنانے لگا جو ڈاکٹروں نے اسے کچھ سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے سنائی تھی۔ ایک ایسے شخص کی کہانی جو مر گیا تھا مگر اس کا پیس میکر اس کے مرنے کے بعد بھی کام کرتا رہا یہ پیس میکر بعد ازاں مرنے والے کی وصیت پر ایک اور  ضرورت مند کو لگا دیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے اس مشین کی قیمت بتائی تھی جس کی کارکردگی کو کمپیوٹر سے آنکا جا سکتا تھا اور  یہ بھی بتایا تھا کہ وہ پیس میکر ابھی تک اس ضرورت مند کو زندہ رکھے ہوئے تھا۔  
 ’’کوک بھرا کھلونا ‘‘ میں نے دہرایا 
 یوں لگتا تھا اسے میری تجویز اب اچھی لگنے لگی تھی اس نے اسے تھوڑا سا بدل کر لکھا ’’ کوک بھرے کھلونے‘‘ 
 پھر میری طرف دیکھا ، کہا:
  ’’یہ ٹھیک رہے گا کہ ہم سب تقدیر کے ہاتھوں میں کوک بھر ے کھلونے ہی تو ہیں۔  پتہ نہیں کب اور  کہاں کوک ختم ہو جائے۔ ‘‘ 
  مقدر کو بدل لینے کا اس میں حوصلہ تھا ، ساری عمر اس نے یہی تو کیا تھا یوں لگتا ہے ، وہ مسلسل اپنے قلم سے اپنی تقدیر میں کمی بیشی کرتا آیا تھا ، مگر کچھ برسوں سے مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ موت جس سے وہ کنی کاٹ کر گزرنا چاہتا تھا اس کی محبوبہ ہو گئی تھی ، سیاہ چشم محبوبہ۔  موت کو سیاہ چشم اس نے تب کہا تھا جب وہ گلابوں کی مہک کے ساتھ اس کا تعاقب کر رہی تھی  اور  جب اس کی یہ محبوبہ اس کے مقابل آئی تو اس کی کہانی کو اس نے شام پڑنے سے پہلے پہلے لکھنا چاہا۔ 
 عصر کا وقت ڈھل رہا تھا۔
  شام پڑنے اور  رات کے آ لینے میں ابھی کئی سمے باقی تھے،اس کی کہانی مکمل ہو گئی اور  سارا خسارہ ہماری جھولی میں آ گرا تھا کہ موت کی کہانی لکھتے ہوئے وہ اپنے بدن میں لوٹ کر کوک بھرنا بھول گیا تھا۔

 (منشا یاد کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان، کے زیر اہتمام منعقدہ تعزیتی اجلاس میں پڑھی گئی ایک تحریر)
٭٭٭




منشا یاد کے افسانوں میں 
مشرقی نسائی تہذیب کے حوالے

  میں منشا یاد کے افسانے کی عورت پر بات کرنا چاہتا ہوں اور  راجندر سنگھ بیدی کی عورت یاد آنے لگی ہے۔  بیدی کی عورت سے منشا کی عورت کا کیا سمبندھ؟ آپ حیران ہو کر حرف گیر ہو رہے ہیں ، آپ کا متعجب ہونا یقیناً اس صورت واقعہ سے پھوٹا ہے کہ بیدی اور  منٹو کے افسانوں میں عورتوں کے کردار بنیادی حوالے کے طور پر آتے ہیں ، اس طرح کہ وہ ان دو فن کاروں کی شناخت بن جاتے ہیں۔ منٹو کو اگر چکلے والی اور  گناہ میں پڑی ہوئی عورت کے ذریعے تہذیب و تمدن کی چولی اتارنے والے کے طور پر پہچانا جاتا ہے تو بیدی کو اس گرہستن اور  خاندان سے جڑی ہوئی عورت کے ذریعے جو اپنے صبر سے اپنا اور  کٹھور معاشرے کا سر پھوڑتی ہے۔  منشا یاد کی شناخت بنانے میں اس کی دیہی عورت کا خاطر خواہ حصہ ہو کر بھی اس کی اپنی فکشن کے دیگر لوازم سے تناسب میں کم بنتا ہے۔ وہ لوازم جو موضوعات ، فضا بندی اور  منظر نگاری سے شناخت ہوتے ہیں۔ کرداروں کی اٹھان اور  باہمی کشاکش کے علاوہ متنی و تخلیقی خواص کے امتزاج سے جمالیاتی پیکر بناتے ہیں۔ ان سب نے اس کے افسانوں کو ایک خاص سطح پر پہنچا دیا ہے۔ تجسس ،کشش اور  سحر،آپ منشا یاد کے افسانے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو یہ تینوں لفظ بھی کیفیت بن کر آپ کے تخیل کے اندر حلول کر رہے ہوتے ہیں۔ وقت تیزی سے ماضی حال اور  مستقبل کے بیچ سعی کرتا ہے اور  دیہی دانش کہیں انہونی کو ہونی کا سا بنا دیتی ہے اور  کہیں ہونی شدنی وہ شکنجہ بن جاتی ہے جس میں جکڑی ہوئی انسانیت کراہ رہی ہے۔  منشا یاد کے ہاں ایسے موضوعات کی کمی نہیں ہے جو زندگی کی عام شاہراہ سے اٹھائے گئے ہوں لیکن ہوتا یوں ہے کہ روزمرہ کا دیکھا بھالا موضوع اس کے قلم اور  تخیل کا لمس پا کر بھیدوں بھرا فن پارہ ہو جاتا ہے  ۔۔ مگر صاحب ابھی منشا یاد کی شناخت کے نمایاں نشانات پر بات نہیں ہو رہی کہ اس نشست میں مجھے صرف اس کے افسانوں کی عورت پر بات کرنا ہے۔
 منشا یاد کے ہاں ،تصویر زن سے کائنات میں رنگ والی عورت ہو یاوہ جسے حالی نے ’’ماؤں ، بہنو ، بیٹیو‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا ، ہر دو صورتوں میں عورت زمین کے ساتھ جڑ کر آتی ہے۔ حافظ شیرازی کا ایک شعر ہے :
اگر شراب خوری جرعہ ای فشاں بر خاک
ازاں گناہ کہ نفعی رسد بہ غیر چہ باک
  یعنی شراب پیو تو گھونٹ بھر شراب زمین پر بھی ڈال دو کہ اس گناہ سے کیا باک جس میں کسی کا بھلا ہو رہا ہو۔ اور  منشا یاد کا معاملہ یہ ہے کہ وہ  سارا لطف اپنے حلقوم میں اور  ساری کی ساری شراب زمین پر پھینکتا رہا ہے۔ بدلے میں زمین یوں مست ہو کر مہکی کہ اس کے افسانوں کا دامن معنویت اور  جمال کی مستی سے کناروں تک بھر گیا۔  منشا یاد کی عورت بھی اسی شراب میں گوندھی ہوئی مٹی سے معتبر ہے۔  
 معاف کرنا صاحب ،کہ میں باتوں ہی باتوں میں آپ کا سوال اپنے پہلو میں رکھ کر بھول گیا تھا۔ آپ کا سوال کچھ ایسا ہی تھا نا ۔۔  بیدی کا حوالہ کیوں آیا ؟ ۔۔ ہاں سوال مزے دار ہے۔ دیکھئے جی ، یہ بات تو طے ہو چکی،کہ جب جب کسی نے فکشن میں جنس اور  عورت کا مطالعہ کرنا چاہا تو منٹو اس کے اعصاب پر سوار ہو گیا اور  جس نے دیہی پس منظر کے افسانوں میں عورت کو حزن کے کیف کی جھمر جھمر میں جانچنا چاہا ، اس کی سب سے پہلے بیدی سے ملاقات ناگزیر ہو گئی  ۔۔ اور  ہاں ،اس سے کون انکاری ہو گا کہ یہ اس امر واقعی کے با وصف ہو رہا ہے کہ منٹو محض جنس نہیں ہے اور  نہ ہی بیدی کو حکیم نے اس سے پرہیز کی تلقین کر رکھی تھی۔  اپنے موضوع کے تعین کے ساتھ ہی میرا بیدی کا ذکر لے بیٹھنا ایک تو اسی مجبوری کا شاخسانہ تھا، کہ وہ خود ہی میرے سامنے آ بیٹھا تھا۔ اور  دوسری وجہ جو میں جان پایا ہوں وہ یہ بنتی ہے کہ میں نے منشا یاد کی عورت کو ایک ایسے حزن کے ابتلا میں پایا ہے جس کا سلسلہ احساس کی سطح پر اگر کسی کے نسوانی کرداروں سے جوڑا جا سکتا ہے تو وہ بیدی کے افسانوں کے نسوانی کردار ہیں۔ یہاں یہ وضاحت لازم ہو گئی ہے کہ یہ بات میں اس تناظر میں قطعا ً نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں نے اس معاملے میں منشا یاد کو بیدی کے مقلد کے طور پر شناخت کیا ہے بلکہ یوں ہے کہ دونوں کا اپنا اپنا دیہی ماحول ، کرداروں کے نین نقش ،قد کاٹھ چال ڈھال ،زبان اور  موضوعات میں اتنے رخنے ہیں کہ مناسبتیں اور  مشابہتیں تلاش کرنے نکلو تو کچھ ہاتھ نہیں آتا تاہم دونوں کے افسانوں میں ایک چیز ہے جو میں نے بطور خاص محسوس کی ہے اور  وہ ہے دکھ کی ایک شدید لہر۔ دونوں کے ہاں یہ دکھ ، جدائی اور  تاہنگ والا گیت بن جاتا ہے۔ بیدی نے جب ’’لاجونتی‘‘ لکھتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا تھا کہ ’’ ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے ، تو ہمارے دلوں کو ایک پاکیزہ اور  روشن حزن سے بھر دیا تھا۔  منشا یاد کے ہاں بھی یہی دکھ یوں ہی ہلورے دیتا ہے ’’ ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں ، مینوں لے چلے بابلا لے چلے ‘‘ (افسانہ: تیرہواں کھمبا)۔  میں سمجھتا ہوں کہ دُکھ اور  جدائی کے احساس کی یہ لہر ،جو دونوں کے ہاں شدت سے ظاہر ہوئی ہے، اس کا سبب ان دونوں کا پنجاب کی لوک روایات سے آگاہ ہونا اور  اس کی مٹی سے مانوس ہونا ہے۔ صوفیانہ روایات کی امین اس دھرتی سے جو دل سے وابستہ ہوتا ہے حزن کا خزانہ اس کے ہاتھ آ ہی جاتا ہے۔
  بیدی اور  منشا دونوں کے ہاں ایک اور  بات جو میں نے بطور خاص شناخت کی ہے  وہ یہ ہے کہ دونوں نے اپنے اپنے تخلیقی عمل کے آغاز سے ہی عورت کو بٹر بٹر تکنا شروع نہیں کر دیا تھا ، دونوں جھجکے اور  ٹھٹکے تھے اور  دونوں نے اسے رشتوں اور  روایات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ عورت کو لکھتے ہوئے ، دونوں کو اپنی تخلیقی زندگی کے شروع میں حسی کی بجائے فکری سطح پر زیادہ متحرک پایا گیا ہے تاہم بعد میں دونوں کے ہاں فکری دھارے ادراکی حسیات میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔  بیدی نے اپنے مضمون ’’ افسانوی تجربہ اور  اظہار کے تخلیقی مسائل ‘‘ میں خود بتایا تھا کہ منٹو نے اس پر گرفت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ بیدی ، تمہاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو ، معلوم ہوتا ہے لکھنے سے پہلے سوچتے ہو ، لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو‘‘ ۔ اور  منشا یاد نے اپنی پہلی کتاب ’’بند مٹھی میں جگنو‘‘ کی دوسری اشاعت پر اپنے افسانوں میں موجود شدت کو جذباتیت قرار دیا تھا۔  منشا یاد کے اسی شدت پسندی والے رویے کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا دوسرا افسانہ’’ جڑیں ‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔  تاہم اس سے پہلے کارل گسٹاویونگ کی وہ بات، جس کے مطابق ، لاشعور میں نہاں باتوں سے کلی طور پر کٹنا ممکن ہی نہیں ہے تاہم وہ یہ بھی کہتا تھا کہ شعوری سطح پران سے دامن کشاں ہوا جا سکتا ہے ،ان سے پیچھا چھڑانے، ان کو اندر کہیں دبا لینے یا اپنے بدلے ہوئے تہذیبی مزاج سے کچھ اور  معنی بھی پہنائے جا سکتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ ان کا حیلہ کیا جا سکتا ہے۔  جوں جوں لکھنے والا آگے بڑھتا ہے شاطر ہوتا جاتا ہے ، بچپنے کی معصومیت اور  بے ساختگی پر مہارت اور  فن کارانہ ساختگی تہیں جمانے لگتی ہے۔ میں ایک اچھے لکھنے والی کے لیے شاطر اور  چالاک ہونا بہت ضروری گردانتا ہوں مگر اس ساری چالاکی کو اس کی معصومیت اور بچپنے جیسی لپک اور  بے ساختگی کے اندر چھپا ہوا ہونا چاہئیے منشا یاد کے لا شعور کی تشکیل میں یقیناً اس کے بچپن اور  گھر کے ماحول کا اثر اس وقت بہت گہرا تھا جب وہ افسانہ ’’جڑیں ‘‘ لکھ رہا تھا۔  یہ ماحول ، میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ، کہ منشا یاد کو منٹو والی عورت،( جو چکلے والی اور  ٹکھیائی رنڈی تو ہو سکتی تھی چکی پیسنے والی ابیات گانے اور  اپنے خاندان کے دکھ جرنے والی نہیں ہو سکتی تھی) سے دور لے گیا جبکہ اس نے عورت کے وجود کو رشتوں کی پاکیزگی اور  تعلق کے خلوص کی ’’شدت ‘‘ میں دیکھا۔  اس کہانی میں تین عورتیں ایک ساتھ آئی ہیں جو دوسری تین عورتوں کے پیکروں میں ڈھل کر کہانی کے مرکزی کردار جاوید پر قیامت ڈھا گئی ہیں۔  نیک نہاد نوجوان جاوید جو ہاسٹل میں آنے سے پہلے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتا تھا مگر کالج میں پہنچ کر اس کا شمار رجعت پسندوں اور  دقیانوسی خیالات والوں میں ہونے لگا تھا۔ یہاں تک پہنچ کر افسانہ نگار بین السطور یہ بتا چکا ہے کہ جاوید دیہات کے مصفا اور  تہذیبی ماحول سے نکل کر شہر کے اس آلودہ ماحول میں پہنچ گیا تھا جہاں عورت کے حوالوں سے رشتوں اور  تعلق کی وہ تمیز تیزی سے دھندلا رہی تھی جو اس کی سرشت اور  لا شعور کا حصہ تھی۔  کہانی میں یوں ہوتا ہے کہ جاوید کو اس کے دوست ’بندے کا پتر‘ بنانے کے لیے شراب پلاتے ہیں ، چرس کے سوٹے لگواتے ہیں اور  زبردستی تھیٹر لے جاتے ہیں۔ یہیں اس کے سامنے تین عورتیں لائی جاتی ہیں۔  تھیٹر کی اسٹیج پر آنے والی عورتوں کو آپ منٹو کی عورت کہہ لیں اور  جس روپ میں جاوید نے انہیں شناخت کیا اسے منشا یاد کے ہاں کی وہ عورت جان لیا جائے جس سے ،اپنے جذباتی پن پر قابو پا کر بھی ،وہ دامن کشاں نہ ہو سکا۔   لگ بھگ یہی کچھ بیدی کے ساتھ ہوا تھا۔ یہی سبب ہے کہ بید ی جب ’’لاجونتی ‘‘ لکھ رہا تھا یا منشا نے ’’سزا اور  بڑھا دی‘‘ لکھا تو اس کے پیچھے وہی تہذیبی شعور کا دھارا بہر حال کام کر رہا تھا تاہم یہاں تک آتے آتے فکری شدت کی جگہ احساس کی شدت نے جمالیاتی آہنگ میں چلنا سیکھ لیا تھا۔ خیر اس پر بات آگے چل کر ہو گی کہ فی الحال تو ہم منشا یاد کے افسانے ’’جڑیں ‘‘ پر بات کرنا چاہ رہے تھے۔
 اوہ ، اب اس کا کیا کیا جائے کہ خدا خدا کر کے ’’جڑیں ‘‘ پر بات کرنے کا ماحول بنا تھا کہ تہذیبی جڑوں نے اپنی مٹی سے مہکتی میری چھاتی کو جکڑنا شروع کر دیا ہے۔  معاف کیجئے کہ منشا یاد کے ہاں پائے جانے والے عورت کے تصور کو Crude  صورت میں  دیکھنے اور دکھانے سے پہلے مجھے اپنی چھاتی کی جکڑن سے نمٹنا ہے۔صاحب کرم کیجئے اور  اس عورت کی بابت سوچئے جو اپنی ہی تہذیب کی جڑوں کو کھود ڈالنا چاہتی ہے۔  جی ، آپ نے درست گمان باندھا ،میری مراد اسی عورت سے ہے جو نئی اور  مستعار تہذیب کی چکا چوند میں ہمارے ہاں کے جنس زدہ مرد کو محبوب اور  مرغوب ہو گئی ہے۔  اندھی روشن خیالی اور  مغرب زدگی میں بپا کی گئی عورتوں کی آزادی کی نام نہاد تحریکوں کے بارے میں Barbra Sheterman نے جو کہا ، صاحب وہ تو پلو میں باندھنے کے لائق ہے،  تاہم یاد رکھنا چاہیئے کہ باربرا کی یہ بات تب پلے پڑے گی جب ہم لمحہ بھر کو پیروی افرنگ کی اندھی خواہش سے الگ ہو کر سوچنے کے لائق ہو پائیں گے ۔۔ کاش کہ ہو پائیں ؟  ۔۔ مگر کیسے ؟ ۔۔ مجھے تو اب اس کی ہر صورت معدوم ہوتے دِکھنے لگی ہے۔  عجب ہوا چلی ہے کہ تہذیب کی ساری امی جمی اکھڑ تی چلی جاتی ہے۔  باربرا کی وہ بات جو میں ایک بار پھر نقل کر رہا ہوں محمد سلیم الرحمن کے ترجمہ مطبوعہ سویرا  سے نقل در نقل ہوتے چلی آتی ہے  اور  سچ جانو تو ہے بھی اس لائق کہ اپنے ہاں کی بلا سوچے سمجھے feminism کا پھریرا سر بلند کرنے والیوں کو بار بار سناؤں۔  باربرا شیٹرمین نے ایک فیمینسٹ بیٹی فرانڈن کی کتاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے مغربی خواتین کو اصل سمت سے ہٹا کر آوارہ خرامی اور  بے راہ روی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس کے مطابق، مغربی جمہوریت میں آزادی کے معنی حسن کی نمائش اور  عورت کو رونق محفل بنائے رکھنا ہے۔ اس رویے نے پورے سماج کو Consumerism کا غلام بنا دیا ہے۔ اور  اسی رویے کے تحت عورت کا جسم اس کا اپنا نہیں رہا ،نمائش کی شے ہو گیا ہے۔  قصاب کی دکان پر لٹکے لذیذ                                                                                                                                 یکیناّ سے پر ون                                                                                                                 گوشت کے پارچوں اور  زندہ تھرکتے نسوانی وجودوں کا منڈی میں ایک ہی طرح سے بھاؤ تاؤ ہونے لگا ہے۔  جی ، اب عورت نمائش کی شے ہے ، تسکین والی گولی ہے ، نشے والی بوتل ہے اور  اس کی منڈی میں دیگر اجناس کی طرح قیمت لگتی ہے۔ لہذا صاحبو خاندانی نظام  معدوم ہو رہا ہے اور  جدید عورت رشتوں سے آزاد ہو رہی ہے۔  عورتوں کی آزادی زندہ باد۔  مگر اس بے بصیرتی کی ارزانی پر داد کے ڈونگرے کیسے برساؤں کہ جس کی بدولت آزادیِ نسواں کی/کے پر جوش حامیوں کو ، عورت کو اپنی جاگیر سمجھنے اور  اِسے رشتوں سے لائق توقیر بنانے والوں کے بیچ تمیز کرنا نصیب ہی نہیں ہو رہا ہے۔  خود مغرب والوں کو اتنی پر جوش خواتین کہاں میسر ہیں جو گھر پھونک تماشا دیکھنے اور دکھانے کو گلیوں اور  سڑکوں میں کودتی پھرتی ہوں گی۔  لہذا اُدھر کی ساری این جی اوز ان پر بہت مہربان ہو گئی ہیں۔  جب سستے نعرے مہنگے داموں بک رہے ہوں تو جڑوں کی بات عجیب لگتی ہے۔  مگر صاحب ،میں بتا چکا ہوں کہ جس ماحول سے منشا یاد کی اپنی سائیکی تشکیل پائی تھی وہاں عورت کا وجود ’’شے ‘‘ نہیں تھا، اور  اس وجود کا تصور رشتے ناطے کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔  اسی ماحول نے ان رشتوں کو اتنا خالص کر دیا ہے کہ عشق یا جنس کی بات بھی سچے جذبوں کے پانیوں سے دھل کر پاکیزہ اور  محترم لگنے لگتی ہے۔   منشا یاد کے افسانوں نے بتایا ہے کہ خلوص، سچائی اور  پھر جذبوں کی بے پناہ شدت کے ساتھ عورت کو اسی طرح محسوس کیا اور  کرایا جا سکتا ہے ۔ اور ہاں یہ جو منشا یاد کے افسانوں کا مرد عورت کی ناموس کے لیے لڑنے مرنے اور  مارنے کو تیار ہو جاتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ ان رشتوں اور  تعلق کی ریشمیں ڈور میں بندھی عورت پر تسلط چاہتا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی مثبت سماجی اقدار کو بچانا چاہتا اور  ان پر اعتماد رکھتا ہے۔
 منشا یاد کے افسانہ ’’جڑیں ‘‘ کے جاوید نے تھیٹر کی اسٹیج پر لوگوں کی تالیوں اور  سیٹیوں کے درمیان جس نوخیز لڑکی کو ناچتے گاتے دیکھا تھا وہ اسے ہو بہو زبیدہ لگی تھی۔ کرسیاں اور  سیٹیاں بجانے والوں میں سے کسی نے کوئی جملہ کسا تو وہ ناچتے ناچتے ہنس دی تھی۔ اس کا ہنسنا بھی زبیدہ جیسا تھا۔  جاوید نے زبیدہ کو تین سال سے نہیں دیکھا تھا۔ تاہم یہ ہنسی جاوید کو تین سال پیچھے لے گئی اور اس نے اپنی آنکھوں سے اسے ہنستے دیکھا۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ اپنے والد کی پش اور  تبدیلی سے پہلے ان کے ہاں اکثر آتی جاتی تھی۔  وہ اس کی چھوٹی بہن کی کلاس فیلو تھی۔ وہ چھوٹے چھوٹے خوب صورت قہقہے لگاتی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا وہ بہن کی بجائے اس سے باتیں کرے اور  چھوٹے چھوٹے خوب صورت قہقہے لگائے لیکن وہ اس سے شرماتی تھی۔ وہ بھی اس سے شرماتا تھا لیکن چھپ چھپ کر اس کے چھوٹے چھوٹے خوب صورت قہقہے سنتا اور  ہمیشہ یہ آرزو کیا کرتا کہ وہ ایک لمبا خوب صورت قہقہہ لگائے جسے وہ اپنی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لے۔ ایسا سوچتے ہوئے اسے یقین ہو چلا تھا کہ اگر آج اس کے ذہن میں وہ لمبا خوب صورت قہقہہ محفوظ ہوتا تو  وہ  اندر سے اس قدر کھوکھلا اور  ویران نہ ہوتا۔ وہ  کبھی فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ زبیدہ کا حسن اس کے چھوٹے چھوٹے قہقہے تھے یا اس کے سیاہ گھنے بال۔  بہت جلد تالیوں اور  سیٹیوں کے شور میں زبیدہ کے چھوٹے چھوٹے قہقہے دب جاتے ہیں۔ پھر جاوید نے دھمال کے دوران جو منظر دیکھا وہ اس کے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھا۔  اس کے بال کھل چکے تھے۔    اس منظر میں محبت کے ابتدائی نقوش سے عورت کا وجود متشکل ہوتا ہے جو فوراً بعد ایک باقی رہ جانے والی تاہنگ اور  حسرت کا حصہ ہو جاتا ہے۔
 افسانہ نگار نے اپنی ہی تہذیب سے بر گشتہ ثقافتی مظاہر سے دل بستگی کو شعار کرنے والوں کے لیے ایک اور  طمانچے کا یوں اہتمام کیا کہ پروین اختر کو اسٹیج پر لے آیا جسے جاوید نے اس بار رخشندہ کے طور پر شناخت کیا تھا۔  رخشندہ جاوید کی ماموں زاد تھی۔  اس کے جسم سے ایسی مقناطیسی لہریں نکلتی تھیں کہ وہ دور چلے جانے کے بعد بھی اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا۔  اسے دیکھ کر جوئے شیر لانے ، زہر پھانکنے ، سانپوں سے ڈسوانے اور  ران چیر کر کباب بنانے کی داستانیں سچی معلوم ہونے لگتی تھی۔ مگر جاوید نے رخشندہ کو تھیٹر کی اسٹیج پر دیکھا اور  وہ بھی یوں کہ وہ تماشائیوں سے نوٹ وصول کر رہی تھی۔  اسے ویل دینے والوں میں سے ایک شخص نے جب  اس کی کلائی پکڑ لی تو جاوید آپے  سے باہر ہو گیا۔  اس کا جی چاہنے لگا تھا کہ وہ ہجوم پھلانگتا اس شخص تک پہنچے اور  اس کے دانت توڑ کر رکھ دے۔مگر اسے پکڑ کر بٹھا لیا گیا تھا اور  رخشندہ بڑی بے ہودگی سے ناچ رہی تھی۔
   پہلی عورت کے ساتھ جاوید کا محبت کا رشتہ تھا ، دوسری عورت محبت اور  رشتے کے مخلوط تعلق سے سامنے آئی جب کہ تیسری عورت کو اسٹیج پر لاتے ہوئے افسانہ نگار نے ایک اور  دھچکا دینے کا اہتمام کیا۔  آنے کو تو اسٹیج پر چاند بی بی آئی تھی مگر وہ جاوید کو یوں لگ رہی تھی جیسے وہ چاند بی بی نہ تھی اس کی چھوٹی پھوپھی شازیہ تھی۔ اس پھوپھی کی شادی چند ماہ پہلے ہی ہوئی تھی۔ عورت کے پاؤں میں پڑے گھنگھروؤں کی آواز، سارنگی اور  طبلے کی آواز میں گھلنے ملنے کے دورانئے میں جاوید نے گمان باندھا تھا کہ ہو نہ ہو تھیٹر والوں نے عجب چالاکی دکھائی ہے کہ تماشائیوں کو ناچنے والیاں اپنی ہی مائیں بہنیں نظر آتی ہے۔تو صاحب کہانی کا خلاصہ تب تک لطف نہ دے گا جب تک میں یہ نہ بتا دوں کہ افسانہ نگار نے آخر تک پہنچتے پہنچتے جاوید کو لوگوں سے تھپڑ مروائے ، پاگل اور  دیوانہ کہلوایا، پتھر پڑوائے مگر اس سے یہ بھی کہلوا دیا کہ کہ اسٹیج پر پیشہ ور گانے والیاں سب کو اپنی مائیں بہنیں نظر آتی ہیں مگر وہ ایسا ظاہر نہیں ہونے دیتے۔اس پوری کہانی کو علامتی سطح پر اٹھا لیجئے اور  تھیٹر کی تہذیب کو فرنگیوں کا ناٹک جان کر اپنے ہاں کے رشتوں سے معتبر ہونے والی اس عورت کا تصور کیجئے جو اس تماشے میں رشتوں اور  تعلق سے محروم ہو رہی ہے تو منشا یاد کی شدت پسندی کے جواز اور  خلوص کو بہت سہولت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
 میں نہیں جانتا کہ منشا یاد نے جو پہلی کہانی سوچی ہو گی اس میں عورت کا کیا روپ ہو گا۔ تاہم اس کی پہلی کتاب کی پہلی کہانی یعنی ’’دل کا بوجھ‘‘ اور  کئی دوسری کہانیوں مثلاً ’’ تیسرا شخص ‘‘ ’’ دوپہر اور  جگنو‘‘ اور  ’’سانپ اور  خوشبو‘‘ وغیرہ میں بھی سگے رشتوں کے حوالے سے عورت موجود ہے۔ اور  یہ رشتے ہیں ، ماں ، بیوی یا بیٹی۔ تاہم بجا کہ یہ کہانیاں عورتوں سے زیادہ  انسانی کے رویوں کی کہانی بنتی ہیں۔ کہنے کو تو ’’کالک‘‘ بھی بدلتے مرد کی کہانی ہے مگر عورت کا اس تبدیلی سے کیا تعلق بنتا ہے اس کا مطالعہ بہت  دلچسپ ہو جاتا ہے۔
’’ آخری بار میں کب رویا تھا مجھے اچھی طرح یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ اس وقت میں ابھی شہر نہیں آیا تھا۔ گاؤں کی کسی لڑکی کا بیاہ تھا، ہاں مجھے یاد آ گیا،فتح دین تیلی کی بیٹی کی ڈولی نکلی تھی اور  بینڈ باجے والوں نے بابل سے بچھڑنے سے متعلق کسی گیت کی دھُن بجائی تھی اور  مجھے ایسا لگا تھا جیسے وہ فتح دین تیلی کی بیٹی نہیں میری سگی بہن ہے  ۔۔ ‘‘ 
 تو صاحب دیکھا آپ نے کہ دیہی معاشرت میں عورت محض عورت ہوتی ہی نہیں کوئی سگا رشتہ نہ ہو تو بھی کسی نہ کسی رشتے میں جڑ کر محترم ہو جاتی ہے۔ یہیں منشا یاد کے پنجابی ناول ’’ٹانواں ٹانواں تارا ‘‘ کے  عبدل کے آنسو یاد آتے ہیں۔ ناول میں ایک مرحلے پر باراتی جب کھانا کھا چکتے ہیں اور  دلہن کی رخصتی کا مرحلہ آ جاتا ہے تو دلہن کی رشتہ دار عورتیں رو رو کر اسے رخصت کر رہی ہوتی ہیں۔ عبدل لڑکے والوں کے ساتھ آیا ہے مگر اس دیہاتی کے معصوم دل کا نقشہ منشا یاد نے یوں کھینچا ہے:
’’ خالد دا دھیان پیا تے کیہہ ویکھدا اے،میاں عبدل پنڈ دیاں اتھروپونجدیاں زنانیاں تے روندے پئے ماں پیؤ نیڑے کھلوتا روندا پیا اے۔ اوہ سمجھیا،اوہنوں کسے کجھ آکھ دتا اے۔ انو ،نوں گھلیوس،پتہ کرے،مئیں عبدل نوں کیہہ ہویااے۔انو تھلے اتر کے آیا۔
 میاں کیہہ ہویا اے؟
 کجھ نئیں ، میاں عبدل آکھیا ، ایہو جے ویلے اتے رون نے آای جاندا اے،
 پر توں نے جانجی ایں ؟
 جانجی آں پر بندا وی تاں آں ‘‘ 
 تو یوں ہے صاحب کہ دیہاتی ہر حال میں بندہ رہتا ہے مگر شہر آدمی کی نفسیات کو کس طرح مسخ کر دیتا ہے کالک، میں موجود عورت کے آئینے میں اسے بھی دیکھ  لیجئے:
’’ پچھلے تیرہ برسوں میں (یعنی شہر میں آنے کے بعد) میں نے کتنے ہی نشیب و فراز دیکھے ہیں ، کتنے ہی دل چیر دینے والے مناظر آنکھوں کے سامنے آئے ہیں جنہیں دیکھ کر دل کو کچھ ہوتا بھی رہا ہے مگر آنکھ سے آنسو کبھی نہیں ٹپکا،یہاں تک کہ ایک مرتبہ میری سگی خالہ فوت ہو گئیں ،مجھے معلوم ہوا کہ خاندان کے لوگ مجھ سے رونے کی توقع رکھتے ہوں گے ،اسی لیے میں نے کوشش بھی کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے دوسروں کو خالہ کی میت پر بین کرتے اور  پچھاڑیں کھاتے دیکھ کر عبرت حاصل کرنے اور  خالہ کو اپنی ماں فرض کر کے خود پر رقت طاری کرنے کی بہت کوشش کی مگر ایک بھی آنسو میری آنکھ سے نہ ٹپکا  ۔۔ ‘‘ 
  اور  ہاں ، یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں کہ شہر بڑی تیزی سے نئی تہذیب میں ڈھل رہے ہیں اور  اس کہانی میں گاؤں اس ہند مسلم تہذیب کی شناخت بن کر آیا ہے جس میں عورت اور  مرد سچے رشتوں میں بندھ کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتے آئے ہیں جس کا اعلی انسانی قدروں پر پختہ ایمان ہے۔ اسی افسانے کا ایک اور  مقام:
’’ میں نے جس لڑکی سے پہلے پہل اظہار محبت کیا تھا مجھے اس سے سچ مچ محبت تھی۔ میں اُسے جو کچھ کہتا تھا سب سچ ہوتا تھا۔ مجھے اس کی آنکھیں اچھی لگتی تھیں۔ اور  میں صرف اس کی آنکھوں کی تعریف کرتا اور  سوچتا تھا۔ مگر اب کسی شاعر لڑکی کا جسم اچھا لگے تو اس کی غزل کے مجموعی تاثر کی تعریف کرتا ہوں اور  افسانہ نگار خاتون اچھی لگیں تو بات افسانے کے عنوان کی تعریف سے شروع ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض اس لیے ہے کہ مجھے روئے ہوئے بارہ تیرہ برس ہو گئے ہیں اور  میرے اندر معصومیت اور  سادگی کا قحط پڑ گیا ہے‘‘ 
 صاحب یہی وہ سادگی اور  معصومیت کا قحط ہے جو تیزی سے بدلتی ہوئی زندگی نے ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے مردہ پلید اور  قبر چونے گچ ، یہی معاملہ ہمارے دلوں کا ہوتا جا رہا ہے اور  دلوں کی اسی کالک میں عورت کے ساتھ رشتے بھی گم ہو رہے ہیں۔منشا یاد نے ایک اور  افسانے ’’دیمک کا گھروندہ‘‘ میں انہی معدوم ہوتے رشتوں کی محسوسات کی سطح پر تصویر کشی کی ہے۔ (یاد رہے اوپر وہ ذہنی ساخت دکھائی جا چکی جس میں ایک کامی کی بیٹی کوئی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی رشتوں میں جڑی ہوئی محسوس ہوتی تھی ):
’’میں قریبی مارکیٹ سے ارشد کی پسند کے  بسکٹ لینے چلا گیا۔ واپس آیا تو شکیلہ ڈرائنگ روم میں چائے کے برتن رکھنے گئی ہوئی تھی۔ میں اسے اندر بھیجنے پر امی سے خفگی کا اظہار کرنا چاہتا تھا کہ اندر سے اس کی چیخ سنائی دی۔ میں بھاگ کر اندر پہنچا تو دیکھا چائے کے برتن ٹوٹے پڑے تھے۔ شکیلہ منہ چھپائے ایک طرف کھڑی رو رہی تھی اور  ارشد کہیں نہیں تھا۔ مگر اسی دَم میری نظر نالی میں غائب ہوتی سانپ کی دُم پر پڑی۔ میں ہاکی لے کر اس کا سر کچلنے نکلا مگر وہ غائب ہو چکا تھا۔‘‘ 
 مان لیجئے صاحب کہ تہذیب کی ساری رونق  اور  چہل پہل رشتوں اور  تعلق کی محتاج ہوتی ہے۔  یہ رشتے ہند مسلم تہذیب کا امتیاز ہیں اور  انہیں کے سبب خاندان کا انسٹی ٹیوشن مضبوط رہا ہے مگر جارح ثقافت کی چکا چوند میں سب کچھ بکھر رہا ہے۔  اور  اسی کا شاخسانہ ہے کہ اب انسان اشرف المخلوقات نہیں رہا ، رذیل سانپ بن گیا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ رذالے کی جورو کو سدا طلاق ، تو صاحب سچ ہی کہتے ہیں ،  بھلا کمینوں اور  سفلوں کو اپنے عہد کا اور  اپنے رشتوں کا پاس کیوں ہو گا اور  کیسے ہو گا۔ منشا نے اس صورت کو گرفت میں یوں لیا ہے : 
’’ میں خود بھی انسان کی جون میں کوئی سانپ ہوں۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر کسی دن پتہ چلا کہ میں سچ مچ اصل میں سانپ ہوں تو مجھے مختلف لوگوں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا ہو گا۔ مثلاً وہ بڑھیا جو میری ماں کہلاتی ہے  ۔۔ لیکن کیا خبر وہ بڑھیا یعنی میری ماں دراصل انسان کی جون میں کوئی ناگن ہو اور  عورت بن کر اس نے میرے باپ سے شادی کر لی ہو۔ اور  کون جانے ایک روز اس نے اسے ڈس لیا ہو اور  وہ مر گیا ہو لیکن یہ بھی تو نہیں کہا جا سکتا کہ میرا باپ سانپ نہیں تھا۔ ممکن ہے ماں سے اکتا کر اس نے مرنے کا بہانہ کیا ہو اور  قبر سے نکل کر اپنے پرانے بل یا غار میں چلا گیا ہو‘‘ 
’’ میں نے ماں اور  شکیلہ کو اپنے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور  ان کا پہرہ دے رہا ہوں۔ ماں میری شادی پر مصر ہے اس نے میرے لیے پہلے سے ایک لڑکی چُن رکھی ہے مگر میں نے ابھی تک اس لڑکی کو نہیں دیکھا اور  نہیں کہہ سکتا کہ وہ لڑکی ہی ہو گی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جب ڈولی کا پردہ سرکایا جائے تو وہ کنڈلی مارے بیٹھی ہو یا پھر میرے پہلو میں لیٹی لیٹی اچانک ناگن بن کر میرے سینے پر چڑھ جائے۔‘‘ 
 رشتوں کی مکمل شکستگی کے بعد عورت اور  مرد کا تعلق کتنا پست اور  گھناؤنا ہو جائے گا منشا یاد کے ہاں یہ موضوع پلٹ پلٹ کر آتا رہا ہے۔کہیں کہیں تو یہ موضوع انسانی نفسیات کا انتہائی باریک بینی اور  دردمندی سے کیا گیا مطالعہ ہو جاتا ہے۔  قومی اہمیت کے امور پر مرد اور  عورت کے بیچ رشتوں سے تہی تعلق کس طرح اثر اندوز ہوتا ہے اس کا  انتہائی سلیقے ،مہارت اور  بے دردی سے کیا گیا تجزیہ منشا یاد کے افسانے ’’چھتیں اور  ستون‘‘ میں ملتا ہے۔ قومی اہمیت کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے اور  جس کی نگرانی میں عمارت کو تعمیر ہونا ہے وہ چند شوخ اور  حسین لڑکیوں کے تعاقب میں مری پہنچ گیا ہے۔ اس کہانی میں مس نجمہ سمیت کئی اور  لڑکیوں کی سمت اشارے بھی ہوتے ہیں۔ ان لڑکیوں کی سمت جن میں رشتے مقدس نہیں رہتے لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اہلے  گہلے پھرنے والی لڑکیوں کے ساتھ اٹکھیلیوں میں مکمل ہونے والی قومی اہمیت کی عمارت کی چھت ٹپکنے لگتی ہے۔
 رشتوں ،ناطوں اور  گہرے سماجی تعلقات کی تکرار سن سن کر جب آپ کے دھیان میں منشا کی کہانی ’’شجر بے سایہ ‘‘ آئی ہو گی تو آپ مجھ پر خوب ہنسے ہوں گے۔  ہت تیرے کی ، کہتے آپ کے چہرے پر میں تمسخر کی جھلک دیکھ رہا ہوں۔  آپ کا اصرار ہے کہ ’’شجر بے سایہ ‘‘  میں رشتوں کی اوقات ہے ہی کیا؟ ۔۔ ڈیڑھ بکائن میاں باغ میں ، رشتوں کی اس پونجی پر اتنا بھی کیا اترانا۔  آپ کا کہا بلا سبب نہیں لہذا سر آنکھوں پر ، میں بھی تو شاید اس افسانے سے اسی وجہ سے کنی کاٹ رہا تھا۔ مگر اب جو آپ کے ماتھے کی چنٹ دیکھی اور  ایک بار پھر اس افسانے کے کرداروں پر غور کیا تو کھلا کہ میں اپنی سہولت کو عزیز جان کر پہلو بچا رہا تھا، جی صرف سہولت نہیں  ۔۔  بے پناہ سہولت، وہی جو  اس افسانے کے باب میں ایک کلیشے سا تنقیدی جملہ لکھ کر آگے گزر جانے والے مظفر علی سید کو میسر آئی تھی۔  ’’شجر بے سایہ ‘‘ کو ایک طرف رکھ کر اور  اپنی اندر بے اعتنائی بھر کر میں نے جو سہولت ہتھیائی تھی، وہ مداری کا بخت بننے والی وہ سہولت نہیں تھی کہ جس میں وہ اپنی ٹوکری یا ٹوپی سے وہ چیزیں نکال دکھاتا ہے جو اس میں ہوتی ہی نہیں ،یا پھر اس میں اوپر سے ڈال دی گئی ہوتی ہیں۔ بلکہ یوں ہے کہ اب تک جن افسانوں کا تذکرہ ہوا ان میں سہولت یہ تھی کہ ان کا متن خود میری مدد کرتا رہا ہے۔ مجھے نہ ان میں سے وہ چیز نکال دکھانے کا شعبدہ دکھانا پڑا جو اس میں نہیں تھا نہ اس میں اپنی طرف سے معنی ڈالنے پڑے۔  یہ افسانے تو اس عطر کی شیشی کی طرح تھے جو باہر سے بھی بھیگی ہوئی ہوتی ہے۔ سطر سطر معنوں کی ایسی خوشبو امنڈتی رہی جو انسانی تہذیبی رشتوں سے معتبر ہوتی   ۔۔ ’’شجر سایہ دار ‘‘  میں یہ سہولت نہ تھی، یہاں منہ بند شیشی کے باہر کچھ نہ تھا، کارک کھولنا ضروری تھا کہ اس کہانی کی عورتوں سے سیدھے سبھاؤ ملا ہی نہیں جا سکتا تھا ۔۔ اور  اگر ایسا کیا جاتا تو عین مین وہی ٹھوکر کھانے کا احتمال تھا جو مظفر علی سید نے یہاں کھائی۔  اس کہانی کی ساری فضا سے سرسری گزر نے ا ور سطحی نتیجوں میں لپیٹنے کا یہی شاخسانہ نکلنا تھا۔ مظفر علی سید کا کہنا ہے کہ اس کہانی میں عشق پر روایتی معاشرے کا جبر پوری شدت سے محسوس کرایا گیا ہے۔ اور  میرا کہنا ہے ، ہونہہ عشق؟  مگر کون سا عشق؟؟؟ وہ جو غفوراں نے کیا تھا یا وہ جو صغریٰ نے کیا ؟  ۔۔ اب رہی بات’’ روایتی معاشرے‘‘ اور  اس کے ’’جبر‘‘ کی، تو صاحب اس ضمن میں بھی مجھے مظفر علی سید کی بات تو بڑی اچٹی ہوئی لگی ہے۔  کیسے؟؟ ۔۔ پہلے افسانے کی جزئیات پر بات ہولے تو اس پر بھی آؤں گا اور  جو توفیق ہوئی ضرور کہوں گا۔
’’شجر بے سایہ ‘‘  اس حویلی کی کہانی ہے جو گاؤں سے قصبے کو جانے والی کچی سڑک پر واقع تھی اور  جسے کتوں والی حویلی کہا جاتا تھا۔  اس لئے کہ اس میں دو خونخوار قسم کے بولی کتے(بل ڈاگ)  اور  دو مرد گامو اور  وریامو رہتے تھے۔ کتوں کے نام بھی لوگوں نے مالکوں کے نام پر رکھ دیئے تھے۔ دونوں بھائی  نہایت اجڈ اور  ظالم سمجھے جاتے کہ انہوں نے اپنی سگی بہن کو قتل کر دیا تھا اور  گاؤں والوں سے ہر قسم کا تعلق توڑ کر اور  گاؤں کی سکونت ترک کر کے یہاں سب سے الگ اس حویلی میں رہنے لگے۔  دیہی معاشرے میں یوں الگ تھلگ ہونے کی ایک اور  وجہ بھی افسانے میں موجود ہے، لگتا ہے مظفر علی سید کا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں۔یہ سطر پڑھئے ،حویلی کے مکین خود بخود کٹ کر گاؤں والوں سے الگ ہو جائیں گے:
’’گاؤں کے بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان پرانے زمانے کے کسی غیر ملکی حملہ اور  قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ‘‘ 
لیجئے صاحب وہ جو مظفر علی سید نے اوپر ’’روایتی معاشرے والے جبر‘‘ کا مصرعہ اٹھایا تھا وہ تو یہاں تک آتے آتے کلی طور پر ناموزوں ہو گیا ہے۔ ہاں تو جب یہ طے ہو گیا کہ یہ دیہات سے الگ تھلگ واقع حویلی کی کہانی ہے اور  ایسے مردوں کی، جو کتوں کی طرح خونخوار ، ظالم  تھے، گاؤں میں ان کی کوئی برادری نہ تھی جس کے ناطے سے وہ اس روایتی معاشرے کے نمائندہ کردار کہے جا سکتے تو سوچا جانا چاہیئے کہ مظفر علی سید نے اوپر والا فتوی کیوں لگایا ؟ اجی کہہ لیجئے سہولت کی خاطر ۔۔ مگر وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں کَہلی اَگے ٹوئے، تو ہوا یوں ہے کہ اس جلدی اور  سہولت میں انہیں آگے کا گڑھا نظر ہی نہیں آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منشا یاد نے ان کرداروں کو نفسیاتی عارضے میں مبتلا اس محدود طبقے کا نمائندہ بنا دیا ہے جو معاشرتی اقداری وجود کی روشن پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ مظفر علی سید کے اٹھائے ہوئے جھیڑے میں ، میں بھول ہی گیا کہ بات منشا یاد کے افسانوں کی عورتوں کی کرنا تھی  ۔۔ تو یوں ہے کہ اس کہانی میں چار عورتیں ہیں۔ اور  بتاتا چلوں کہ چاروں کا مطالعہ افسانہ نگار نے نہایت چابک دستی سے کیا ہے۔  دونوں ظالم بھائیوں نے اپنی بہن غفوراں کو قتل کر دیا تھا۔ جس حویلی میں وہ رہتے تھے وہ کسی زمانے میں مویشیوں کا باڑا تھی۔ وہاں کبھی ایک کنواں بھی ہوا کرتا تھا جس  کے بارے میں لوگوں کا ایک گمان یہ بھی تھا کہ غفوراں کو قتل کر کے اس میں پھینک دیا گیا اور  بعد میں اسے پاٹ دیا گیا۔ اصل بات کوئی نہ جانتا تھا کہ غفوراں رو پوش ہوئی یا قتل کی گئی، کنوئیں ڈالی گئی ،نہر یا دریا میں بہائی یا کسی کھیت میں دبا دی گئی ۔ افسانہ نگار نے بہت سے گمان  باندھے ، اور  یہ ثابت کیا کہ گامو اور  وریامو اتنے شقی القلب تھے کہ بہن کو کھا گئے مگر منہ سے کچھ نہ پھوٹے۔سارے گاؤں کو غفوراں کی روح کسی نہ کسی موقعے پر نظر آ جاتی تھی مگر ان شیطانوں کے قریب بھی نہ پھٹکتی تھی۔  یہ سب کچھ بتانے کے با وصف جس طرح اس کردار کو بنایا سنوارا گیا ہے وہ اپنی جگہ بہت اہم اور  دلچسپ ہو جاتا ہے۔ پڑھنے والا ہر دم موت کی سرسراہٹ سنتا رہتا ہے :
’’وہ گھر میں رہتی تھی مگر گھر کا کوئی فرد اس سے بات نہ کرتا تھا اس نے ماں سے کئی مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر ماں جواب نہیں دیتی تھی۔ سوائے ننھی صغریٰ کی ہوں ہاں کے وہ بات کرنے کو ترس گئی تھی۔ ایک رات اس نے ماں کے پاؤں پکڑ لئے اور  روتے ہوئے کہنے لگی۔
’’ماں مجھے مار، مجھ پر تھوک، مجھے گالیاں اور  طعنے دے خدا کے لیے کچھ تو کہہ‘‘ 
’’میں تیری ماں نہیں ہوں تو کسی کتیا کی اولاد ہے‘‘ 
ماں نے گالی دی تو نا امیدی کے اندھیرے میں امید کا چمکتا ہوا جگنو دکھائی دیا ۔۔ مگر دوسرے ہی لمحے ماں نے ایک ایسی بات کہہ دی جسے سن کر وہ سناٹے میں آ گئی۔
’’تو اس گھر میں مہمان ہے پتہ نہیں کتنے دن، کتنی گھڑیاں۔‘‘ 
’’نہیں ماں  ۔۔ خدا کے لیے ایسا نہ کہو۔‘‘ 
’’اپنی ناپاک زبان سے خدا رسول کا نام مت لے‘‘ 
’’میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ‘‘ 
’’کچھ فائدہ نہیں ‘‘ 
’’تو کیا سچ مچ ماں ؟‘‘ 
’’ہاں ‘‘ 
’’کب؟‘‘ 
’’یہ مجھے نہیں پتہ۔‘‘ 
مارے خوف کے اس کا حلق خشک ہو گیا، ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔‘‘ 
گامو، وریامو اور  ان کی ماں پر’’ روایتی معاشرے‘‘ نے کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔ بیٹے شیطان تھے تو ان کی بوڑھی ماں چڑیل۔ یہ بات سارا گاؤں جانتا تھا مگر، حیرت ہے مظفر علی سید کا دھیان ادھر نہیں گیا: گاؤں کے لوگوں نے اس خاتون کی اپنے اپنے ذہنوں میں کیا تصویر بنا رکھی تھی اس کے لیے کہانی کی طرف رجوع کرتے ہیں :
’’وہ اپنی بیٹی کی حفاظت نہ کر سکی تھی اور ماں ہو کر اسے بدسلوکی سے تنگ آ کر بھاگ جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ پھر اس کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے قتل ہو جانے دیا تھا۔ وہ گاؤں میں بہت کم آتی تھی مگر جب بھی آتی ،جدھر سے گزرتی سہاگنیں ، حاملہ عورتیں اور  نوجوان لڑکیاں اس کے سائے سے بچنے کے لئے راستہ بدل لیتیں۔ ان کا خیال تھا وہ جسے چھو لے گی یا جس سے بات کرے گی اس کی کوکھ کبھی ہری نہ ہو گی یا گود خالی ہو جائے گی۔ اس کے بارے میں مشہور ہو گیا تھا کہ وہ جس درخت کے نیچے بیٹھ جاتی تھی وہ بے سایہ ہو جاتا تھا۔ گاؤں میں جب بھی کوئی غیر معمولی واقعہ یا حادثہ رونما ہوتا بوڑھی سکینہ اور  اس کے خاندان کو اس میں ضرور ملوث کر لیا جاتا۔ بڑی بوڑھیوں نے تو گامو کے ہاں نرینہ اولاد نہ ہونے کو بھی غفوراں کی روح کا انتقام ہی سمجھا تھا اور  جب وریامو کا نوعمر بیٹا سانپ کے ڈسنے سے مر گیا تو اسے بھی اسی انتقامی کارروائی کا حصہ سمجھا گیا جو غفوراں اپنے گھر والوں سے لے رہی تھی۔‘‘ 
اب ذرا کہانی کے آغاز کی طرف چلتا ہوں کہ مظفر علی سید نے اپنی ہی دھن میں جو کہہ دیا تھا اس نے میرا کام خاصا کٹھن کر دیا ہے ۔ افسانہ نگار نے اس افسانے کو یوں شروع کیا ہے:
’’ سہ پہر کا وقت تھا جب نمبردار کی بیوی ست بھرائی اسے اپنے ساتھ لے کر اس کے گھر پہنچانے نکلی۔‘‘ 
یہ کہانی ست بھرائی کی نہیں ہے ، غفوراں کی ہے ، میلے میں لٹ جانے اور  خالی ہاتھ واپس آنے والے بچے کی طرح آنکھیں جھکائے کھوئی کھوئی پیچھے پیچھے چلی آنے والی غفوراں کی۔ اسے ست بھرائی بار بار تسلیاں دیتی ہے مگر وہ سوکھے پتے کی طرح لرزتی ہے کہ اس سے جو غلط فیصلہ ہو گیا تھا اس نے اسے اندر سے منہدم کر دیا ہے۔ شاید یہی وہ غلط فیصلہ ہے جسے وہ عشق سمجھ لیا گیا ہے جس کے برتے پر رشتوں سے احترام پاتے معاشرت پر روایتی جبر کی پھبتی کس دی گئی ہے۔ کہانی بہر صورت عشق کی نہیں بلکہ معاشرے سے کٹے ہوئے ان کرداروں کی ہے جو نفسیاتی کجی کے ابتلا میں ہیں۔ اسی نفسیاتی کجی میں مبتلا ماں کا رویہ آپ ملاحظہ فرما چکے اب ذہن میں یہ نقشہ بھی جما لیجئے کہ ست بھرائی غفوراں کو چھوڑ کر جا چکی یوں کہ کسی نے غفوراں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔ ماں صحن میں چارپائی پر بیٹھی چاول صاف کر رہی تھی وہ اسی طرح چپ چاپ چاول صاف کرتی رہی۔ چھوٹا بھائی لکڑیاں چیر رہا تھا وہ بدستور لکڑیاں چیرتا رہا، بڑا بھائی صحن کے ایک کونے میں چارپائی کی ادوائن ٹھیک کر رہا تھا وہ بھی اپنے کام میں لگا رہا۔ صرف بھابی نے اس پر ایک نظر ڈالی تھی مگر وہ بھی یوں کہ جیسے گھر میں گھس آنے والے پلے پر ڈالی جاتی ہے۔اب آگے کی کہانی منشا یاد ہی کے لفظوں میں :
’’وہ سیدھی پسار میں چلی گئی تھی اور  دروازے کے ساتھ لگ کر ایسی جگہ بیٹھ گئی تھی جہاں سے سب کی حرکات و سکنات نظر آ سکیں وہ سب کچھ دیکھتے اور  سنتے رہنا چاہتی تھی اسے ڈر تھا کہ لکڑیاں چیرتا ہوا بھائی کلہاڑا لے کر اس کی طرف بڑھے گا اور  اسے سوکھی لکڑی کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ۔۔ اس کا دل بیٹھنے لگا اسے لگ رہا تھا ۔۔ کہ وہ اندر آ جائیں گے اور  وہ ان سے اپنی زندگی کی بھیک بھی نہیں مانگ سکے گی۔ کچھ مانگنے اور  بخشوانے کے لئے الفاظ ضروری تھے اور  اس کے پاس پچھتاوے کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مگر جب ۔۔ ‘‘ 
اس اقتباس میں غفوراں کے ’’پچھتاوے کے آنسوؤں ‘‘ نے عشق کی حقیقت کھول دی ہے یوں کہ کہانی کا اصل تنازع بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔اب تک کہانی کی چار عورتیں سامنے آ چکی ہیں 
۱۔ دو ظالم بھائیوں کی بہن سہمی ہوئی غفوراں جسے اپنی غلطی کا اعتراف ہے ، جو اپنے کئے پر نادم ہے مگر جانتی ہے کہ اس کے ظالم بھائی اسے قتل کر دیں گے۔
۲۔ ڈائن جیسی ماں سکینہ ، جو بیٹی کی غلطی معاف کرنا جانتی ہی نہیں۔ جس کے سینے میں شاید دل ہی نہیں ہے کہ دل ہوتا تو اس میں ممتا کا روایتی جذبہ بھی ہوتا ہے۔
۳۔نمبردار کی ریاکار بیوی ست بھرائی، جو اپنا فرض ادا کر کے اور  جتا کر جا چکی ہے۔
۴۔ گامو کی بیوی رابعہ یعنی غفوراں کی بھابی ، وہی جس نے اوپر والے اقتباس میں غفوراں پر یوں نظر ڈالی تھی جیسے کتیا کے پلے پر ڈالی جاتی ہے۔
تو صاحب کہانی کی ان چار عورتوں سے ست بھرائی کو یوں منہا کر لیا گیا ہے کہ اس کے بعد وہ کہانی میں پلٹ کر نہیں آئے گی۔  غفواں مار دی گئی یا غائب ہو گئی یوں کہ اس کا نام نشان تک نہ ملتا تھا تاہم وہ کہانی میں آخر تک موجود رہتی ہے۔  باقی ایک ماں رہتی ہے اور  ایک بھابی ۔۔ نہیں صاحب نہیں ، میں بہک گیا ہوں۔ جب غفوراں ہی نہ رہی تو رابعہ کس کی بھابی ہوئی ؟ تو یوں ہے کہ بھابی کا کردار بھی تمام ہوا۔ تو پھر رابعہ کی حیثیت باقی بچ جانے والی کہانی میں کیا رہ جاتی ہے ؟ ایک سوال ہے  ۔۔ آپ کہہ سکتے ہیں ایک بیوی یا ایک بہو۔ مگر صاحب  کہانی کے متن میں ایک بیوی یا بہو کے طور پر اسے فعال نہیں دکھایا گیا ہے۔ تو پھر ایک عورت؟ ۔۔ محض ایک عورت ؟؟؟ ۔۔ یہ عورت والی بات بھی خوب پوچھی آپ نے  ۔۔ کہیئے ، وہ جو سکینہ ہے ، ڈائن سکینہ  ۔۔ کیا وہ عورت نہیں تھی۔ اور  وہ جو غفوراں تھی ، سہمی ہوئی ، جس کی خطا معاف نہ کی گئی اور  وہ غائب کر دی گئی، وہ بھی تو عورت تھی۔ صرف ایک عورت ہونا یا مرد ہونا ایک تہذیبی معاشرے میں لایعنی سی بات لگتی ہے۔ اس کا وجود رشتوں ہی سے معتبر ہوتا ہے۔ سکینہ ڈائن نہ ہوتی ماں ہوتی تو اس کا دل تب ممتا کے جذبے سے بھر ہی جانا چاہیئے تھا، جب اس  کے گربھ استھان سے جنم لینے اور  اس کی چھاتی کا دودھ پینے والی اس کی اپنی بیٹی اس کی پائنتی پر بیٹھی زار و قطار روتی رہی تھی مگر وہ تو ضد کی پکی نکلی تھی، اس کا دل پگھل ہی نہیں رہا تھا۔
   ۔۔ اوہ صاحب، ایک لمحہ کو ٹھہرئیے کہ مجھے  اپنی غلطی کی دست بستہ معافی طلب کرنا ہے۔ یہ جو میں اوپر چار عورتوں کی گنتی کر آیا ہوں تو یوں ہے کہ افسانے کے اقتباس میں منشا یاد نے پانچ عورتوں کی جانب اشارے کئے تھے میں رابعہ کی گود والی ننھی صغریٰ کو بھول ہی گیا تھا۔ بھول چوک معاف صاحب کہ باقی کہانی تو اسی صغریٰ کی ہے جو جوان ہو کر وہی غلطی کرتی ہے جو غفوراں نے کی تھی اور  اپنی جان گنوا بیٹھی تھی۔ ۔۔ ہاں تو یہ سچ ہے کہ اس بچی کے حوالے سے رابعہ ماں بھی ہے۔  کہانی کے آخر میں ایک نہیں دو مائیں ہو جاتی ہیں اور  ایک باپ کو بھی ہم صاف صاف دیکھ سکتے ہیں   ۔۔ میرا تاولا پن دیکھئے کہ ایک ہی سانس میں وہ بات کہہ دی جو دم لے کر ، اور  کہانی کے کچھ اور  حصوں کی طرف آپ کی توجہ حاصل کر کے کہنی تھی۔
 کہانی کے آخری حصے تک پہنچنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک تہذیبی معاشرے میں میل جول رویوں کو کتنا بدل دیتا ہے۔ بہت سا وقت گزر چکا ہے۔  صغریٰ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ لیے ہیں اور  اس کے حسن کی دھوم آس پاس کے دیہاتوں میں خوب مچی ہوئی ہے۔  وریامو اور  گامو کا ایک دوسرے سے جھگڑا ہو گیا ہے اور  وہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور  ایک دوسرے سے بات تک کرنے کے روادار نہیں۔ گامو کو نرینہ اولاد نہ ہونے کے صدمے نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔ سکینہ بوڑھی اور  کمزور ہو گئی ہے اور  اگرچہ وہ وریامو کے پاس رہتی ہے مگر وہ ماں سے زیادہ صغریٰ کا خیال رکھتی ہے۔  ان کے بولی کتے مر کھپ گئے ہیں ایک بیمار پڑ گیا تھا دوسرے کو کسی نے زہر دے دیا۔ کتے اب بھی حویلی کی رکھوالے کرتے ہیں مگر وہ بھونک کر چپ ہو جانے یا تھوڑی دور تک پیچھا کر کے ہانپ جانے والے عام سے کتے ہیں۔ ان لوگوں کے گاؤں والوں سے تعلقات بھی بہتر ہو رہے ہیں اور  وہ شادی غمی کے موقعوں پر گاؤں میں آنے جانے لگے ہیں۔ صغریٰ اکیلی کہیں نہیں جاتی مگر ماں یا دادی کے ہمراہ کبھی کبھار گاؤں چلی جاتی ہے۔ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے کہ ایک رات وہ اپنے بستر میں نہیں ہوتی اور  اس کا باپ گامو بپھر کر کہتا ہے کہ اب وہ اس کتیا کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔  رابعہ روتے روتے اپنی ساس سے لپٹ گئی، عورت، عورت کے لیے عورت کی مدد چاہتی ہے۔  
’’اب کیا ہو گا ماسی؟‘‘ 
مگر اس کی ساس عورت کہاں ہے ، عورت ہوتی تو ایک عورت پر بیتنے والے دکھ کو محسوس کرتی ، بغیر توقف کے جھٹ کہتی ہے:
’’وہی جو اس گھر میں ہوتا چلا آیا ہے۔‘‘ 
’’نہیں ماسی۔ خدا کے لئے ایسا نہ کہو ۔۔ میری ایک ہی بیٹی ہے۔‘‘ 
’’میرے کہنے نہ کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے میری اس گھر میں کون سنتا ہے۔‘‘ 
یہ ایک ماں کا تڑپنا ہے جو اپنی ساس سے مسلسل کہہ رہی ہے کہ وہ اس کے پیچھے جائے کہ کہیں اس کا باپ اسے مار ہی نہ ڈالے۔ مگر وہ شقی القلب بات الٹا کر کہتی ہے کہ نہیں وہ نہیں جا سکتی کہ یہ غیرت کا معاملہ ہے  اور  ایسے معاملے میں وہ اس کی بھی نہ سنے گا۔آگے کی کہانی ہو بہو نقل کرتا ہوں :
’’ وہ اسے ساتھ لئے آ پہنچا تھا۔ اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا اس کے بال الجھے ہوئے تھے معلوم ہوتا تھا اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا ہے وہ ڈری اور  سہمی ہوئی تھی۔
حویلی کا صدر دروازہ بند کر کے گامو اس کے قریب آیا اور  اسے لاتوں اور  مکوں سے پیٹنے لگا وہ زمین پر گر گئی تو وہ دھاڑا۔
’’ٹوکا کہاں ہے میں اس کے ٹکڑے کر دوں گا۔‘‘ 
صغریٰ ماں کے پاؤں پڑ گئی۔
  ’’مجھے بچا لو ماں۔ابا مجھے مار ڈالے گا‘‘ 
’’ٹوکا تمہارے پاس پڑا ہے گامو۔‘‘ سکینہ نے جذبات سے عاری لہجے میں کہا۔
رابعہ نے غصے اور  نفرت سے اور  صغریٰ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ گامو ٹوکا اٹھانے کے لیے مڑا تو رابعہ نے اسے روک دیا اور  بولی۔
’’ہوش کرو غصے میں تم پاگل ہو جاتے ہو۔‘‘ 
پھر اس نے ٹوکا پکڑ کر دور اندھیرے میں پھینک دیا اور  زمین پر گری ہوئی صغریٰ کو سہارا دے کر اندر لے گئی۔
سکینہ اپنے کتے کی طرح چیر پھاڑ کر رکھ دینے والے اپنے بیٹے کو بے بس ہوتے دیکھ رہی تھی اسے اس پر طیش آ رہا تھا،اس پر برستے ہوئے کہا:
’’گامو یا تو تم بوڑھے اور  کمزور ہو گئے ہو یا بے غیرت‘‘ 
بوڑھا تو ہر ایک کو ہونا ہوتا ہے ، خود سکینہ بھی بوڑھی تھی مگر اس میں زہر ویسے کا ویسا تھا۔ گامو کی بے بسی اور  پھر نادم سا ہو کر اندر چلا جانا اس کی بے غیرتی کو بھی ظاہر نہیں کرتا۔ افسانہ نگار نے یہ بات اگلے سطروں میں بتا دی ہے اور  وہ کچھ یوں ہے :
’’جب وہ اپنے اپنے بستروں میں لیٹ گئے تو انہیں چبوترے کی طرف سے بلند آواز میں بین کرنے کی آواز سنائی دی۔
’’کرماں مارئیے غفورو ۔۔ اس رات تیرا باپ بھی زندہ ہوتا تو تیری فریاد سن لیتا‘‘ 
پھر اس کے دو ہتڑوں سے چھاتی پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں جیسے غفوراں ابھی ابھی قتل ہوئی ہو۔‘‘ 
 ہاں کہہ لیجئے ایک ماں کے لیے غفوراں عین اس وقت ہی قتل ہوئی ، عین اس وقت جب سکینہ کے اند ر ایک ماں نے کروٹ لی تھی اور  اس کا دل ممتا کے جذبوں سے بھر گیا تھا۔ صاحبو یہی تو وہ بات ہے جو افسانہ نگار بتانا چاہتا ہے۔ عشق ، روایتی معاشرہ ، جبر ، غیرت  اور  قتل سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے اور  رشتے جیت جاتے ہیں۔  ایک تہذیبی معاشرے میں یہی تو وہ رشتے ہیں جو افسانہ نگار کے ہاں بہت اہم ہو جاتے ہیں ، یہی انسان کی پناہ گاہ ہیں اور  انسانیت کی بقا بھی۔
 عورت کے مختلف روپ منشا کی کہانیوں میں آئے چلے جاتے ہیں۔  انہیں پڑھتے ہوئے اور  پوری کہانی کے اندر رکھ کر انہیں محسوس کرتے ہوئے کہیں بھی بدن میں سنسنی نہیں دوڑتی ، وہاں بھی جہاں وہ اپنے پورے بدن کے ساتھ آتی ہے۔ یہ ’’پانی میں گھرا ہوا پانی ‘‘ کی عورت ہو یا  ’’بند مٹھی میں جگنو‘‘ ’’جیکو پچھے ‘‘ ،،’’ ببول سے لپٹی بیل‘‘ ’’سارنگی‘‘ ’’ نظر آ لباس مجاز میں ‘‘ ’’ ساجھے کا کھیت ‘‘ ’’الف  جمع ب کا مربع‘‘ اور  ’’جھڑبیری‘‘ والی عورتیں کہیں بھی  مردوں کے اندر لذت کے ابال کو بڑھانے اور  عورت کی توقیر داؤ پر لگا کر انہیں مردوں کے لیے مرغوب نہیں بناتیں۔  انتہائی خلوص سے اپنے سماجی تناظر میں عورتوں کے یہ کردار تخلیقی اور  جمالیاتی سطح پر بہت کچھ سجھاتے ہیں۔
  اور  اب موضوع کی مناسبت سے منشا یاد کے دو افسانوں اور  حسن عسکری کی ایک بات کا ذکر کہ یہ تینوں ایک ساتھ ذہن میں ککلی کھیلنے لگے ہیں۔  تاہم اپنی سہولت کے لیے حسن عسکری کی بات کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر رہا ہوں۔   منشا یاد کے جن افسانوں کی جانب میں ، اب آپ کو لے چلا ہوں ، ان کا ذکر یوں ضروری ہو گیا ہے کہ اوپر جن افسانوں کی بات آئی تھی ان میں وہ خاص تعلق جو خاندانی رشتوں کے مترادف ہو جاتا ہے یا پھر خود سگے رشتے ،کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ کہیں کہیں ان دونوں صورتوں سے الگ ہو کر صورت احوال کی تفہیم بھی ملتی ہے مگر ان دو افسانوں میں انتہائی مضبوط اور  انتہائی کمزور رشتے کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی بے وفائی ، تھوڑی سی بے ایمانی ،تھوڑا سا بہکاوا اور  بے پناہ پچھتاوا اور  خوف در آیا ہے۔  پھر یوں بھی ہے کہ اپنی تیکنیک اور  ٹریٹمنٹ کے اعتبار سے بھی یہ دونوں افسانے منشا یاد کی اہم ترین تخلیقات میں سے گردانے جاتے ہیں۔ دونوں میں محبت کے انتہائی نازک معاملات کمال فنی مہارت سے نبھائے گئے ہیں۔  میں مانتا ہوں کہ یہ محض عورت کی کہانیاں نہیں ہیں مگر انہیں پڑھتے ہوئے دونوں افسانوں کے نسوانی کرداروں کے دلوں کو دھڑکتا ہوا صاف محسوس کیا جا سکتا ہے ، یوں کہ آخر تک پہنچتے ہوئے پڑھنے والے کا دل بھی زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے ، اور  بھی اتنے زور سے کہ دوسرے ہی لمحے دھڑکنیں اچھل کر سینے سے باہر جا پڑ نے کا گمان ہوتا ہے۔ اوہ صاحب ،  میں افسانوں کی نشان دہی کئے بغیر بے تکان بولے چلا جاتا ہوں۔ یہ نسیان نہیں ہے صاحب، سب عجلت کی کارستانی ہے ، ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ ڈالنے کی للک۔ لیجئے ، دونوں کے نام ایک ساتھ لکھ رہا ہوں ’’ تیرہواں کھمبا‘‘ اور  ’’ سزا اور  بڑھا دی‘‘ ۔ ان دونوں کہانیوں کوصرف  عورتوں کی کہانیاں نہیں کہا جا سکتا ہے مگر انہیں بار بار پڑھتے ہوئے میں نے خود کو ہر بار کہانی کی عورتوں کے قریب پایا ہے۔   ان کہانیوں کاذکر بطور خاص اس لیے بھی لے آیا ہوں کہ ان میں بظاہر محبت کی روایتی مثلث بنتی ہے مگر ان کی بنت ہر گز روایتی نہیں ہے۔ دونوں میں ایک ایک عورت اور  ایک ایک شوہر ہے اور  تیسرا وہ شخص ہے جو کوئی رشتہ نہ رکھتے ہوئے بھی نسوانی کرداروں کے دلوں میں بھونچال بر پا کر سکتا تھا اور  یہ بھونچال اٹھا گیا ہے۔   ’’ تیرہواں کھمبا ‘‘ ریل کار میں سوار نو بیاہتا جوڑے کی کہانی ہے۔ اور  یہ کہانی گارڈ کے وسل دیتے ہی چستی اور  سرعت سے آگے بڑھتی ہے ، غیر ضروری تفصیلات اور  فالتو پن کو لائق اعتنا نہ جانتے ہوئے۔ بالکل اسی طرح جیسے راہ میں آتے ہوئے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن زن کر کے پیجھے رہ رہے تھے۔ یہ کہانی صرف اس نوبیاہتا جوڑے کی نہیں ہے اس میں ایک تیسرا کردار بھی موجود ہے ، بلکہ مجھے یوں کہنا چاہیئے کہ وہ تو پہلے سے موجود تھا، گاڑی میں  ۔۔ اور  انجی کی زندگی میں  ۔۔ مگر ریل کار میں اسے اپنے شوہر کے ساتھ اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر اسے یوں لگا تھا جیسے وہ ریل کار کی سیٹ پر نہیں ، ریل کی پٹڑی پر اوندے منھ پڑا تھا۔عین اسی لمحے مشرقی تہذیب کا حسن کہانی پر پھوار کی صورت برس پڑتا ہے۔  محبت جو دلوں کے اندر خوشبو کی طرح بسی ہوئی تھی سطر سطر سے آشکار ہونے لگتی ہے مگر انجی تو شوہر کے ساتھ ہے۔ ایک نئی زندگی کا آغاز کر چکی ہے۔اب جو ماضی تھا وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی۔ وہ محبت جو اسے ہو گئی تھی اسے اس نے ایک ایسی محبت سے پچھاڑنا تھا جو اب وہ سیکھ رہی تھی۔ اور  ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں انتہائی پر خلوص تھی۔ سامنے مرد تھا ، پہلی محبت مگر غیر اور  اجنبی ہو جانے والا مرد ، اپنی ران چیر کر کباب پیش کرنے والا مرد:
’’ چناب آ گیا انجی‘‘ اس کے شوہر نے کہا۔ ’’ اور  چائے بھی، چکن سلائس اور  شامی کباب۔‘‘ 
’’اونہہ یہ کیسی باس ہے ،میں نہیں کھاتی۔‘‘ 
’’بھئی مچھلی کے کباب ہیں ،آج گوشت کا ناغہ ہے نا۔‘‘ 
’’ بڑی خراب سی بو ہے ،شاید باسی مچھلی کے ہیں ‘‘ 
اس کی ران میں درد ہونے لگا۔ اس کا جی چاہا چیری ہوئی ران سے ساری پٹیاں اتار کر اسے دکھائے اور  کہے:
’’ طوفان کی وجہ سے مجھے آج کوئی مچھلی نہ ملی اور  میں نے اپنی ران چیر کر تمہارے لیے کباب تلے ،مگر تمہیں بو آتی ہے ،تم اسے باسی کہتی ہو۔‘‘ 
 یہ اپنی ران چیرنے کی بات انجی کے شوہر نے نہیں کہی تھی یہ تو اس کے دل میں گونجی تھی جس سے اس کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔  یا پھر  شاید اس مہینوال نے کہی تھی جس نے کچے گھڑے پر چناب کے پانیوں پر ٹھل جانے والی سوہنی کے لیے اپنی ران کی مچھلیاں چیر ڈالی تھیں۔ مگر وہاں کوئی سوہنی تھی نہ مہینوال ، چناب کی لہریں تھیں نہ کچا گھڑا، بظاہر کسی نے ران چیری تھی  اور نہ ہی کسی کا کلیجا حلقوم تک اچھلا تھا۔مگر اندر ہی اندر سوہنی مہینوال کا کہانی کے سارے مناظر اپنے بھید کھول رہے تھے۔ 
  جب انجی کا شوہر کسی اسٹیشن پر کچھ لینے اترا تو یہ وہ  مرحلہ تھا جس پر وہ دونوں بہک کر ماضی میں کود سکتے تھے ، ایک دوسرے سے گلے شکوے کر سکتے تھے اور  اس کا احتمال تو بہت زیادہ تھا کہ خود افسانہ نگار بہک جاتا اور  سوچ سوچ کر رقت آمیز مکالمے لکھ تا اور  اپنے قاری کو رقیق القلب بنا ڈالتا  یوں ممکن ہے نرم دل والوں کے قوائے حیوانی پر خوب خوب چوٹ پڑتی اور  ان رونی صورتوں سے اسے خوب داد بھی ملتی۔  اگر ایسا ہوتا تو یقین جانئے  یہ سستی قسم کی داد تو اس کے حصے میں آ جاتی مگر یہ جو اب تک کہانی کا چست بہاؤ بنا ہے ،اس کا ناس مارا جاتا۔  منشا یاد کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا اور  لطف یہ ہے کہ اس نے ایسا کیا بھی نہیں۔ ایک طرف تو اس نے اپنے موضوع اور  کہانی کے فطری بہاؤ میں رخنے ڈالے سے اجتناب برتا اور  دوسری طرف اس نے مشرقی تہذیب کے اس وصف خاص کو بھی اجاگر کر دیا جس میں شادی کے بعد اپنے مرد سے وفاداری سب سے مقدم ٹھہرتی ہے : 
’’ اس کا شوہر آیا تو وہ الجھ پڑی۔’’ اتنی دیر لگا دی آپ نے ؟‘‘ 
’’اوہ انجی ۔۔ تم تو بچوں کی طرح پریشان ہو جاتی ہو ؟‘‘ 
 وہ بچوں کی طرح پریشان نہیں وہ تو اپنے آپ سے اس سارے عرصے میں جنگ کرتی رہی تھی۔ شوہر کو دیکھتے ہی اس کے اندر تانت بھرنے والے تناؤ کو پرے پھینک دینے کا لمحہ آیا تو اس کے ایک معصوم بچی کی طرح مچل کر بدن ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔ مگر جس دھیان کو اس نے باہر دھکیلا تھا اور  دھم سے پھر اس کے اندر کود گیا تھا۔ افسانہ اپنی آخری سطروں میں عورت کا دل چیر کر دکھا دیتا ہے :
 ’’ ریل کار پوری تیزی سے اندھیرے کے عفریت کو کچلتی اور  سیٹیاں بجاتی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ڈبے میں شور اب بہت کم تھا۔ ہر شخص ہر بات سے اکتا کر اونگھ رہا تھا یا پھر تھکے تھکے لہجے میں ہمراہیوں سے باتیں کر رہا تھا۔ اچانک ریل کار ایک دھچکے کے ساتھ رک گئی، لوگ ایک دوسرے پر گر پڑے۔
’’ کیا ہوا؟‘‘ 
’’ سگنل نہیں ملا ہو گا؟‘‘ 
’’ کوئی نیچے تو نہیں آ گیا؟؟؟‘‘ 
 کسی کے نیچے آنے کی بات سن کر وہ لرز گئی۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور  منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔
’’ ہائے میں مر گئی ۔۔ اس نے خود کشی کر لی۔‘‘ 
’’کس نے خود کشی کر لی ، اور  تمہیں کیا ہوا ہے انجی‘‘ 
 وہ تھر تھر کانپ رہی تھی ، دروازے کی طرف اشارہ کر کے اور  سسک کر رہ گئی۔ اس کے شوہر نے پلٹ کر دیکھا وہ دروازے میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھا اور  ہوا کے جھونکوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔‘‘ 
 منشا یاد نے مرد اور  عورت کی نفسیات کو جس خوبی سے آخری سطروں میں برتا ہے وہ  اپنی جگہ اہم ہو جاتا ہے۔  ’’سزا اور  بڑھا دی جائے‘‘ میں یہ دوسرا  مرد یوں اشارہ کر کے دکھایا نہیں جا سکتا۔ وہ کہانی میں اس تواتر سے آیا ہی نہیں ہے تاہم واقعہ یہ ہے اس کہانی کا دوسرا مرد بہت سی حدیں پھلانگ چکا ہے۔ ’’تیرہواں کھمبا‘‘ میں جوڑا نو بیاہتا تھا جب اس کہانی میں میاں بیوی ایک عمر گزار چکے ہیں۔ بچے جوان ہو چکے بہوئیں آ چکیں ، بیوی نڈھال اور  شوہر موت کے بستر پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ 
’’ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا اور  صاف کہہ دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔ اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اسے ہسپتال میں رکھیں یا گھر لے جائیں ‘‘ 
 ہسپتال کی ایمبولینس اسے گھر چھوڑ گئی تھی اور  ساتھ ہی اس کے بدن پر وہ تکان بھی چھوڑ گئی تھی جس سے علی احمد کی حالت بہت بگڑ گئی۔ اس کی سانسیں اکھڑ گئیں اور  سرہانے کلام پاک کی تلاوت ہونے لگی۔ تب کسی لمحے میں اس کی حالت کچھ سنبھل گئی تو روتے بلکتے بیٹے بیٹیاں اور  تلاوت کرنے والے آنسو پونچھنے لگے تو اس کی بیوی صباحت کے دل میں غصے اور  نفرت کی لہر سی اٹھی تھی اور  اس کا جی چاہنے لگا تھا کہ چلا کر کہے :
’’ اب مر بھی چکو علی احمد۔‘‘ 
 ایک مشرقی بیوی ایسا کہہ نہیں سکتی تھی ، لہذا اس نے  ایسا کہا نہیں تھا۔ وہ کئی روز سے ہسپتال  کے چکر لگاتے لگاتے،مہمانوں کے لیے ڈھیر سارا کھانا پکاتے پکاتے اور علی احمد کے لیے یخنیاں اور  ساگودانہ بناتے بناتے تھک گئی تھی لیکن ایسا لگتا تھا وہ مرے گا نہیں۔ کئی بار اس کی حالت غیر ہوئی مگر ہر بار سنبھل گیا۔ دنیا داری کے تقاضے تھے، اور  بچوں سے بھی بہت کچھ چھپانا تھا، لہذا اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ہسپتال میں رکنا پڑتا تھا۔ دیکھئے صاحب افسانہ نگار کس طرح صباحت کے دل کے اندر اتر گیا ہے اور  وہاں ابلی پڑتی شدید نفرت کو کتنی سفاکی سے بیان کر دیا ہے۔ مشرق کی عورت کبھی یوں اپنے مرد کے مرنے کی خواہش نہیں کر تی مگر کچھ تھا کہ وہ اس بے پناہ نفرت میں ڈھل گیا تھا۔ وہ کیا تھا بہت جلد کہانی میں اس کو بتانے کا موقع نکل آتا ہے۔  اور  یہ موقع تب نکلتا ہے جب علی احمد پر غنودگی کے دورے پڑتے ہیں۔وہ بے جان سا پڑا رہتا ہے اور  سب اس کی تیمار داری کرتے کرتے نڈھال ہو جاتے ہیں ، حتی کہ صباحت بھی حوصلہ چھوڑ بیٹھتی ہے اور  سیدھا علی احمد کے سرہانے جا پہنچتی ہے۔ سارے کمرے میں علی احمد کی اکھڑی اکھڑی سانسیں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ رشتہ دار اور  عزیز جو اس وقت کمرے میں موجود تھے باہر نکل جاتے ہیں اور  صباحت پھٹ پڑتی ہے :’’ تم آسانی سے نہیں مرو گے علی احمد۔ بڑی ڈھیٹ چیز ہو۔ کیا ہم سب کو مار کر مرنے کا ارادہ ہے۔‘‘ علی احمد گلا کٹے بیل کی طرح بجھی بجھی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہے اس میں اس بدلی ہوئی عورت کو دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہوتا لہذا آنکھیں بند کر لیتا ہے، یوں کہ آنکھوں کے کنارے آنسوؤں سے بھیگ  جاتے ہیں مگر  عورت کے اندر سے ابلتی نفرت اسی طرح ابلتی رہتی ہے :
’’ میرے لیے تو تم پندرہ برس پہلے مر چکے تھے علی احمد۔ میری ایک چھوٹی سی بھول کی تم نے مجھے اتنی کڑی سزا دی۔ اس سے اچھا تھا تم مجھے طلاق دے دیتے لیکن تم مجھے اذیت دینا چاہتے تھے۔ ‘‘ 
 آگے چل کر افسانہ نگار نے صباحت سے اس کی اس چھوٹی سی بھول کا اعتراف کرایا جو پندرہ سال سے انہیں ایک دوسرے سے کا ٹے ہوئے تھا۔  صباحت ہی کے لفظوں میں :
’’ ٹھیک ہے یہ میری غلطی تھی۔ میں نادان تھی۔ اس حرام زادے کی چکنی چپڑی باتوں کے سحر میں آ گئی لیکن اس کے ذمہ دار بھی تم خود تھے۔ تم نے اسے گھر میں کیوں رکھا۔ کیوں اس پر اعتبار کیا۔  کیوں مجھے آزمائش میں ڈالا۔ تم نے خود ہمیں ڈھیل دی۔ وہ میرے لیے نت نئے تحائف لاتا اور  مجھے لمبی ڈرائیو پر لے جاتا مگر تمہاری پیشانی پر کبھی بل نہ آیا۔ مجھے تو لگتا ہے تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا کہ مجھ سے کوئی خطا سرزد ہو جائے اور  تم مجھے ایکسپلایٹ کر سکو۔ اور  میں باقی ماندہ زندگی تمہاری اطاعت اور  قید میں گزار دوں لیکن میں نے اگر یہ طویل عذاب جھیلا تو محض بچوں کی خاطر۔ ورنہ مجھے تمہاری صورت سے نفرت ہو گئی تھی۔‘‘ 
 کہانی نے اس حصے میں مرد و زن  کے آزادانہ اور  بے باکانہ اختلاط پر شدید گرفت کی ہے  اور ان حدوں اور  فاصلوں کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا ہے جو مشرقی تہذیب کا حسن ہیں۔  عورت کا اپنے آپ پر اعتماد اپنی جگہ اور  اس کی نشوونما بہت اہم سہی ، مگر جنس کی لپک کی بھی اپنی ایک حقیقت ہے جس نے مغرب کی پر اعتماد عورت کا اپنا گھر بکھیر کر رکھ دیا اور  اسے ننگا کر کے رسوا بھی کیا ہے۔ کہانی کا کہنا ہے کہ خاندان کے انسٹی ٹیوشن کی بقا اور  استحکام ہی مشرقی عورت کو دلدل میں دھکیلنے سے بچا سکتا ہے۔
 صاحب ، ایک بار پھر محبت اور  قربانیوں کے پانی سے گندھی عورت کی اس نفرت کی طرف جس نے اس کے وجود کو جہنم بنا رکھا ہے۔  ایک عورت ایسی صورت حال میں نہیں رہ سکتی ، صباحت بھی نہیں رہنا چاہتی تھی مگر خود پر جبر کر کے نبھا رہی تھی۔  اس نے اپنے نہ مر چکنے والے مرد کو بتایا کہ اگر وہ چاہتی تو اسے زہر بھی دے سکتی تھی مگر اس نے ایسا بچوں کی وجہ سے نہیں کیا تھا۔ اور  اسے زہر نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اگر اس کا مرد اسے بری عورت قرار دے کر تعلق توڑ سکتا تھا تو ایک عورت ہو کر اس میں بھی حوصلہ تھا کہ وہ  اپنے مرد کے بغیر رہ سکے۔سو وہ رہی اور  یوں رہی جیسے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کر رہی ہو۔
 آہ ایک مشرقی عورت؟  ۔۔ مگر مجھے کہنے دیجئے واہ مشرقی عورت۔ مشرقی عورت کے ساتھ ’’آہ‘‘ کی آواز مجھے عورت کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتی وومن ایکٹی وسٹ کی کتاب ’’بری عورت‘‘ سے نکل کر آتی سنائی دی ہے۔جس میں سب کچھ گڈ مڈ ہو جاتا ہے  جب کہ’’ واہ‘‘ اس مشرقی عورت کے لیے دل سے نکلی ہے جو عمر قید جتنے اذیت والے دکھ میں بھی اپنا گھر بچانا چاہتی ہے۔  ایک مرد کا ستم سہہ کر سارے مردوں پر نہیں چڑھ دوڑتی ان کے بیچ تمیز کرتی ہے۔ اس کے بیٹے بھی تو اب تک مرد بن چکے ہیں جن سے اسے محبت ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو اپنے خالص پن کے ساتھ جس طرح ہمارے سماج میں ملتی ہے اور  کہیں نہیں ملتی۔ لہذا  مغرب سے عورت کی مادر پدر آزادی کا ایجنڈا لینے والی اور  ’’ بری عورت، بری عورت‘‘ کی پکار سے چونکانے والیاں کیا جانیں کہ اپنی اولاد کے لیے بڑے بڑے دکھ سہہ لینے کے کیا معنی بنتے ہیں۔      
 ہاں ، تو میں بتا رہا تھا کہ منشا کی کہانی کا ظالم مرد مر نہیں رہا تھا جب کہ اس کی عورت تہیہ کئے بیٹھی تھی کہ اسے مر جانے میں مدد دے گی لہذا وہ اپنی نفرت کے زہر کا ایک ایک قطرہ اس کے بدن میں اتار رہی تھی اور  ہچکیاں لیتے اپنے مرد کو بتا رہی تھی کہ اسے اس سے کبھی محبت نہیں رہی تھی۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ اس سے کبھی شادی بھی نہ کرتی۔ منشا یاد نے اس مرحلے پر اپنے سماج کی اس قبیح روایت پر شدید چوٹ لگائی ہے جس میں عورت سے اس کی مرضی پوچھی ہی نہیں جاتی اور  اسے ایک ایسے مرد سے نباہ پر مجبور کیا جاتا ہے جو جس سے وہ محبت نہیں کر سکتی۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سجھا دیا ہے کہ جوانی  کے جوش میں ہم جسے محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں ،وہ فقط جنس کا زور ہوتا ہے اور  ایسا منشا نے اس کردار کے ذریعے بتایا ہے جس کے ساتھ صباحت پھسل گئی تھی۔
 صباحت نے پندرہ برس خود پر جبر کیا مگر اس کے مرد پر نزع کا عالم طاری ہوا تو صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور  جب وہ ساری نفرت کا زہر اس کے جسم میں اتار چکی تو وہ کر مر گیا۔مگر کہانی اس کے مرنے پر کہاں تمام ہوتی ہے۔ منشا یاد کے ہاں یہ وصف بطور خاص دیکھا جا سکتا ہے کہ کہانی کی ٹیل میں ایک ٹوسٹ ضرور ہوتا ہے ، ایک  ایسا موڑ جو کہانی پر ایک نیا منظرنامہ کھول دیتا ہے۔ اس کہانی میں یہ موڑ تب آیا جب صباحت نے اس پورٹ ایبل کیسٹ پلیئر کی طرف دھیان دیا تھا جو اس کا بیٹا یہ کہتے ہوئے دے گیا تھا :’’ابو کی آواز‘‘ ۔  مرنے کے بعد بھی اس کے مرد کی آواز اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس نے بوکھلا کر بیٹے کی بات کو دہرایا تھا۔ تو بیٹے نے بتایا تھا کہ اس میں اس کے لیے ایک میسج تھا ،ریکارڈ کیا ہوا اور  اس کا خیال تھا کہ جب ابو ہسپتال میں تھے ، آخری بار، تب انہوں نے کیسٹ پلیئر منگوایا تھا ،شاید تب ہی پیغام ریکارڈ کیا گیا ہو۔ صباحت کا دل دھک سے رہ گیا ، پتہ نہیں اس نے کیا کہا تھا ، کہیں بچوں نے سن نہ لیا ہو۔ مگر مہذب بچے نے بتایا کہ جونہی اس نے ابو کی آواز میں ماں کے نام پیغام سنا وہ کیسٹ پلیئر بند کر کے ماں کو دینے آ گیا۔  اور  کہانی اسی ریکارڈ کئے گئے میسج کے ذریعے نیا بھید کھولتی ہے۔ صباحت نے کیسٹ پلیئر آن کیا تو اس کا مرد جس سے وہ شدید نفرت کرتی آئی تھی اظہار تشکر کے الفاظ کہہ رہا تھا۔ جس طرح اس نے اس کی تیمار داری کی تھی ، اس کے احسان کے نیچے وہ دبا جا رہا تھا اور  کہہ رہا تھا :
’’مجھے اندازہ نہیں تھا تمہیں مجھ سے اتنی محبت ہے۔ افسوس ہمارے درمیان غلط فہمیاں اور  جھجک سی پیدا ہو گئی۔ کاش میں اسے دور کر سکا ہوتا۔ لیکن صباحت میں نے ہمیشہ تم سے محبت کی۔ تم جب بھی آتی ہو کچھ کہنا چاہتی ہو میرا رواں رواں ہمہ تن گوش رہتا ہے لیکن تم ہر بار نہیں کہہ پاتی ہو۔ تمہارے منہ سے محبت کے دو بول سننے کے لیے میری جان اٹکی ہوئی ہے ،ورنہ میں کب کا مر چکا ہوتا۔‘‘ 
 جسے عورت کی محبت کے بول سن کر مرنا تھا وہ اس کی ابلتی نفرت میں ڈوب کر مر گیا۔ جس نے اتنی شدید نفرت کی تھی وہ اس پر کھل کر رو بھی نہ سکی تھی مگر بعد از مرگ جوں ہی اس کا میسج تمام ہوتا ہے عورت تکئے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے جیسے اس کا مرد پہلے نہیں اب مرا تھا۔ یوں ہم پندرہ برس نفرت کرنے والی عورت کے دل سے محبت کو امنڈتا دیکھ سکتے ہیں اور  اس کی شدت کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔
  اور  آخر میں مجھے عسکری کی بات کی طرف آنا ہے مگر پہلے یہ تو یاد دلا دوں کہ منٹو کو عورت کی نفسیات سمجھانے کے لیے ایک خاص قسم کی عورت کی جانب رجوع کرنا پڑا تھا یہ احمد علی کے گھر میں پڑی ہوئی عورت نہیں ہو سکتی تھی۔  ’’امتل جان، ، ’’بالا خانہ‘‘ اور  ’’رام پیاری ‘‘ والے رحمان مذنب کو بھی خوشبودار عورت سے رغبت رہی۔آغا بابر کے ہاں زیادہ تر عورت جنس کی لذت دینے آتی ہے اور  حسن عسکری  ۔۔ رکئے صاحب خود عسکری ہی کی زبان سے سن لیتے ہیں :
’’مجھے خود پتا نہیں کہ کہ یہ خالص ہندوستانی عنصر ہے کیا چیز ، لیکن میں اس کا وجود تسلیم کرتا ہوں  اور  اس کا احترام کرتا ہوں۔ میرے افسانوں میں یہ احترام اس شکل میں ظاہر ہوا ہے کہ میرے کرداروں کے نام عیسائی ہیں ‘‘ 
     ( اختتامیہ :جزیرے)
 اس کا یہ قطعا مطلب نہیں ہے کہ ہندو یا مسلم کریکٹرز کو قابل اعتنا نہ جان کر عسکری ہندوستانی عورت کے شعور کو سمجھنے میں ناکام ہوا ،نہ ہی اس سے یہ معنی برآمد ہوتے ہیں کہ  اس باب میں منٹو اور  دوسروں کو ناکامی ہوئی بلکہ  مجھے محض یہ بتانا ہے کہ منشا یاد کے ہاتھ وہ تیکنیک اور  سینے میں حوصلہ آ گیا ہے کہ وہ عام گھر کی رشتوں سے عبارت عورت کو سبک دستی سے لکھ کر تہذیبی شعور کی پرتیں کھولتا چلا جائے اور کہیں بھی اسے جھجک محسوس نہ ہو۔  اسی بے باک سلیقے نے مجھے منشا یاد کی عورت کی طرف راغب کیا۔  میں سمجھتا ہوں کہ منشا بھی بیدی کی طرح جنس کی تقدیس کا قائل ہے۔  عورت کو جنسی اور  سفلی جذبات کی تطہیر کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے معاشرے کی انتہائی ضروری اور  اہم اکائی گردانتا ہے۔  منشا یاد نے عورت کو صرف خوش بو دار  اور  لذیذ ہی نہیں بنایا ، اسے بیدی کی طرح با وقار بھی بنا دیا ہے۔یوں اپنی تہذیب کو عورت کے کرداروں سے سمجھنے کے لیے خاص قسم کی عورتوں کے علاقوں میں جانے کی ضرورت ہے کہ کوٹھے چڑھنے کی کہ منشا یاد نے اس کا اہتمام آس پاس کی لپٹی لپٹائی ،اپنی تہذیب میں رچی بسی اور  اپنی معاشرت سے جڑی ہوئی عورت کو لکھ کر کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ منشا یاد کے یہ نسوانی کردار بہت سے مقامات پر انتہائی سفاک اور  بے رحم ہو جاتے ہیں اور  بظاہر صحت مند نظر آنے والے معاشرتی وجود کے اندر کی رسولیوں کو پھوڑ کر متعفن مواد کو بہہ جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔  
٭٭٭




جنس :منشا یاد کے افسانوں کا ایک ضمنی موضوع 


   منشا یاد کے افسانوں میں جنس اور  عورت کو تلاش کرتے ہوئے مجھے عین آغاز میں ہی منٹو یاد آ گیا ہے۔اب اگر میں یہ کہوں کہ جنس منٹو کا مرغوب موضوع تھا، آپ ایک لمحے کا توقف کیے بغیر ، ترت مان لیں گے۔اس کا سبب اس کے علاوہ اور  کیا ہو سکتا ہے کہ منٹو کا نام آتے ہی اس کے بہت سارے جنسی چٹخارہ چھوڑتے کردار سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ویسے بھی جنس ،فحاشی، لذت اور  سنسنی خیزی کو منٹو سے متھ بنا کر یوں نتھی کر دیا گیا ہے کہ ادھر اس کا نام سوچا ادھر لذت کے چھینٹے اڑے ،کچھ اور  سوجھتا ہی نہیں۔  کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جنس سے باہر رہ جانے والے منٹو کو دریافت نہ کر کے ہم زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تاہم اس کا کیا کیجئے کہ خود منٹو نے ہمیں کسی اور  طرف ملتفت نہیں ہونے دیا۔ مثلاً اس کا فرائیڈن تھیوری پر یوں ایمان لانا : ’’ اور  سچ پوچھئے تو فی زمانہ مرد اور  عورت کا پریم ہوتا ہی جنسی ہے ‘‘ ہمیں کہیں اور  کیسے جانے دے گا۔ 
 منٹو کے ہاں یہ جنس مرد سے کہیں زیادہ عورت کے راستے سے آتی ہے۔ جنس کی نمائندہ عورتیں ہی اس کی پسندیدہ عورتیں ہیں اس کہنا ہے کہ چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور  رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے اس کے افسانوں کی عورت نہیں ہو سکتی۔ خود منٹو کے الفاظ میں : 
’’ میری ہیروئن چکلے کی ایک ٹکیائی رنڈی ہو سکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور  دن کو سوتے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آیا ہے۔
اس کے بھاری بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اُچٹتی ہوئی نیندیں منجمد ہو گئی ہیں ، میرے افسانوں کا موضوع بن سکتے ہیں۔اس کی غلاظت ،اس کی بیماریاں ، اس کا چڑ چڑا پن ،اس کی گالیاں ،یہ سب مجھے بھاتی ہیں۔ میں ان کے متعلق لکھتا ہوں اور  گھریلو عورتوں کی شستہ کلامیوں ،ان کی صحت اور  ان کی نفاست پسندی کو نظر انداز کر جاتا ہوں۔‘‘ 
 منٹو پتی ورتا استریوں اور  نیک دل بیویوں کے بارے میں لکھنا اس لیے فضول گردانتا تھا کہ بقول اس کے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا تھا مگر لطف دیکھئے کہ منشا یاد کو وہ عورتیں قطعاٍ نہیں بھاتیں جو منٹو کو مرغوب تھیں۔  وہ پتی ورتا استریوں اور  نیک دل بیویوں کی دنیا میں رہتا ہے اور  اس کی پروا کیے بغیر کہ ان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ،ان کے خدوخال یوں اجالتا ہے کہ وہ ہر بار نئی جمالیاتی جھلک دے جاتی ہیں۔پھر یوں بھی ہے کہ منشا کو عورت اور  جنس پر براہ راست لکھتے ہوئے بہت لاج آتی ہے اور  اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اس گوں کا آدمی ہے ہی نہیں کہ منہ اٹھائے اور  کوٹھے کی سیڑھیاں پھلانگتا طوائف کے گھٹنوں سے گھٹنا جوڑ کر بیٹھ جائے۔وہ ایسا کیوں نہیں ہے ؟ آپ جاننا چاہیں تو میں آپ کو اس کا بچپن یاد دلاتا ہوں ۔ خود ہی قیافہ لگائیں کہ جس کی ماں بیٹے کو ننگے سر ماموں کے سامنے نہ جانے دیتی ہو ، اور  جس کی سینما دیکھنے پر پیشی ہو جاتی ہو ،وہ بڑا ہو کر بے ایمان بنے گا بھی تو کتنا۔ چاہے جتنا کھل کھیل لے ،منٹو کی مرغوب عورت کی تلاش میں اپنی لاج کا دائرہ توڑ کر کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھے تو کیسے ؟ ۔۔ لیجئے، بڑھنے سے پہلے ہی ہم اس سوال سے بھی نپٹ چکے کہ جنس اور  عورت منشا یاد کے افسانوں کا بنیادی حوالہ بنتے ہی نہیں ہیں۔
  اچھا صاحب، قرینے سے چلتے ہیں۔ جس ترتیب سے منشا یاد کو دیکھا جا سکتا ہے ، ذرا اس کی ترتیب  بناتے ہیں۔  یہ وسط سے اسے دیکھنا، یا آدھے دھڑ سے اسے جانچنا مجھے خود بھی کھلنے لگا ہے۔  آپ جانتے ہی ہیں کہ:
٭ جس دور میں منشا یاد نے شناخت پائی وہ دور علامت نگاری اور  تجرید کے نرغے میں تھا۔  ایسا زمانہ کہ منٹو اور  روایت سے جڑی ہوئی کہانی، دونوں کو بہ سہولت گالی دی جا سکتی تھی ، اور  منہ بھر کر گالی دی جا رہی تھی۔  ایسے میں منشا یاد نے بھی علامتی کہانیاں لکھیں ، ہوا جو چل نکلی تھی ۔۔ اور  اسی لہر میں قلم سے اس قبیل کی کئی با کمال کہانیاں بھی نکل گئیں  ۔۔ مگر لطف یہ ہے کہ شناخت بیانیہ کہانی ہی سے بنی۔
٭منشا یاد کا دوسرا حوالہ اسی سے مخصوص دیہات نگاری بنتا ہے۔ وسطی پنجاب والا دیہات، اس کے میلے ٹھیلے ،اس کے وسنیک اور  اس کی مٹی سے اُگ آنے والی دانش۔
٭منشا کے افسانوں کی تیسری شناخت طبقاتی تفاوت اور  تضاد پر اس کا شدید رد عمل بنتا ہے۔ اس موضوع پر لکھتے ہوئے وہ معاشرے کے پسے ہوئے کرداروں کو اٹھاتا ہے اور  انہیں مراعات یافتہ طبقے کے مقابل لا کر یوں نمایاں کرتا ہے کہ قاری خود بخود کمہاروں ،فقیروں ، ترکھانوں ، تیلیوں ، موچیوں ، اور  زمین پر رزق کے لیے رینگنے والے کیڑوں جیسے انسانوں کے ساتھ جا کھڑا ہوتا ہے اور  انہیں با وقار بنا دیتا ہے۔
٭منشا یاد کی کہانیوں کی چوتھی شناخت اس کا مضبوط اور  تخلیقی رس سے بھرا ہوا بیانیہ بنتا ہے،  شگفتگی اور  دیہی دانش کا امتزاج اس کے بیانئے کو نکھارتا ہے اور  اس کا اپنا خلوص پوری کہانی کے بیان کو اتنا خالص اور  پاکیزہ بنا دیتا ہے کہ ہر جملہ قاری کے قلب تک رسائی پا لیتا ہے۔
٭ عصری آگہی اور  سیاسی شعور منشا یاد کا پانچواں اختصاص ہے ، تاریخ کیسے مسخ ہوتی ہے اور  عام آدمی سیاست کے ہاتھوں کیسے مار کھاتا ہے ،جمہوری آوازیں کیسے دبا دی جاتی ہیں اور  سامراج کے دروغے کیسے قوموں کو تذلیل سے دوچار کرتے ہیں اس کی کہانیوں کا موضوع بنتے رہتے ہیں۔ ۔۔ ،   ۔۔ 
  صاحب ، اگر میں یوں ہی گنواتا گیا تو عورت اور  جنس کا نمبر آئے گا ہی نہیں یا بہت بعد میں آئے گا ۔۔ مگر میرے اندر کا ٹیڑھ دیکھئے کہ اوپر والی ترتیب سے آگے بڑھ ہی نہیں پا رہا ہوں اور  دل ہے کہ منشا کی معدودے چند عورتوں اور  ان سے تشکیل پانے والی جنسی حسیت ہی کی طرف مچلنے لگا ہے۔
 ہم طے کر چکے کہ پورے سماج کے اعصاب پر بری طرح سوار عورت اور سارے بدن پر حکومت کرنے والی اول نمبر کی جنس منشا یاد کے مہذب معاشرے میں وکٹری اسٹینڈ پر نہیں ہے ، وہ جنس جو اچھلتی کودتی ہے ،  اور  اس عورت کے بدن سے پھوٹتی ہے جسے عریاں ہونے میں باک نہیں ہے ، قوسوں کمانوں کی نمائش سے اشتہا پیدا کرنا جسے مرغوب ہے، اس سے منشا یاد کی کہانی کی کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اب آپ پوچھ سکتے ہیں تو باقی کون سی جنس رہ جاتی ہے ؟ اور  میرا کہنا یہ ہے کہ وہ جو چپکے چپکے میٹھے سروں بدن بیچ بہتی ہے اور  دیمک کی طرح اندر ہی اندر سے چاٹتی رہتی ہے ، لباس میں چھپی ہوئی اور  تہذیب کی خوشبو میں بسی ہوئی۔ ہاں ، یہی تو منشا یاد کے ہاں ہے۔چھپی ہوئی یہ جنس اور  مستور عورتیں جہاں جہاں اس کی کہانی کے باقی حوالوں کے اندر سے جھلک دیتی ہیں ، ہماری اپنی زندگی کی تفسیر بن جاتی ہیں۔
  عشق محبت اور  جنس ، تینوں کو ایک ہی معنی کے سلیتے میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔  تینوں کا ذائقہ جدا ہے  ۔۔ مگر یوں ہے کہ میں نے ایک لفظ جنس لکھ کر دونوں دوسرے جذبوں کو ان میں یوں بریکٹ کر لیا ہے کہ میرے موضوع میں ایسا عشق اور  ایسی محبت آئے گی جو بہر حال جنسی جذبے کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر جڑ جاتی ہے۔ منشا یاد کے ہاں جنس کہیں محبت کے زیر اثر رہتی ہے اور  کہیں عشق بن کر بھڑک اٹھتی ہے تاہم ایسا بہت کم کم ہوتا ہے کہ وہ فقط لذت بن گئی ہو۔  اور  شاید یہی سبب ہے کہ وہ  محض جنسی کجی کو موضوع نہیں بناتا اسے سماجی اور  تہذیبی مسئلہ کے طور پر کہانی کے وسط میں یوں نہاں کرتا ہے جیسے بدن کے وسط میں اسے قدرت نے رکھ دیا ہے۔  بات وسط تک پہنچ گئی ہے تو لازم ہو گیا ہے کہ منشا یاد کی کہانیوں اور  چند نسوانی کرداروں کو سامنے رکھ کر بات کی جائے۔
  اس موضوع کی ایک بہترین مثال اس کا افسانہ ’’بند مٹھی میں جگنو‘‘  بنتا ہے۔  یہ افسانہ جہاں ہماری جمالیات کو تسکین پہنچاتا ہے ،وہیں بہت معنی خیز بھی ہے۔  تاہم عین آغاز ہی میں آپ کو چو کنا کر دوں کہ اس کہانی کو سیدھے سبھاؤ سمجھنے کی غلطی ہر گز ہر گز نہ کیجئے گا کہ پہلے اس تنہائی اور  یکسانیت کو سمجھا جانا بہت ضروری ہے جو کالج کی ایک لڑکی کے اندر جنسی گھٹن کا سبب بن گئی تھی۔ افسانے کے اندر اس فضا بندی کا فن کارانہ اہتمام ملتا ہے:
’’ وہ کتابوں اور  رسالوں سے اکتا گئی تھی ۔۔ ‘‘ 
’’تھوڑی دیر پہلے روٹی لے کر کھیتوں کو جاتے وقت ، پھوپھی اس پر تنہائی کا ٹوکرا رکھ گئی تھی  ‘‘ 
’’تنہائی کے ٹوکرے کے نیچے پڑے پڑے اسے بدبو کے بھبوکوں نے گھیر لیا تھا  ۔۔ ‘‘ 
 ان جملوں میں تنہا اور  اکتائی ہوئی لڑکی کا تصور تو ابھرتا ہے مگر یہ تنہائی اس کے وجود کے اندر اُتری ہوئی دِکھائی نہیں دیتی ہے۔  منشا یاد جیسا افسانہ نگار اتنے پر اکتفا کیسے کر سکتا تھا لہذا آگے چل کر وہ ان محرکات کو سامنے لاتا ہے جنہوں نے لڑکی کا باطن تشکیل دیا تھا :
٭’’بچپن میں اس کا خیال تھا کہ آسمان پر ہزاروں لاکھوں سورج ہیں اور  ہر روز نیا سورج طلوع ہوتا ہے۔ وہ ایک عرصہ تک یہی سمجھتی رہی کہ ہر شام ایک سورج بجھ جاتا ہے اور  اگلی صبح ویسا ہی یا موسم کے لحاظ سے چھوٹا بڑا سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ ‘‘ 
٭’’مگر اب اسے پتہ تھا کہ کہ ایک ہی پرانا سورج اور  ایک ہی تھکا ہارا چاند ہر روز استعمال ہوتے ہیں پرانی چیزوں سے اس کا جی اوبھ گیا تھا ‘‘ 
٭’’تازگی کا عالم گیر قحط پڑا ہوا تھا۔ہر صبح بوسیدگی کی دبلی گائیں تازگی کی فربہ گایوں کو ہڑپ کر جاتی تھیں۔‘‘ 
٭’’تازگی کو سورج کی شعاعوں سے بچا کر فریج میں کئی کئی دن تک رکھا جاتا تھا۔ تازگی آٹھ آٹھ دن کی مری ہوئی مچھلیوں کی صورت بکتی تھی ‘‘ 
٭’’جسموں کی بوسیدگی کو ڈھانپنے کے لیے نت نئے فیشن ہوتے تھے اور  آؤٹ آف ڈیٹ نظریات پر لفظوں کا ملمع چڑھایا جاتا تھا۔‘‘ 
٭’’ٹیلی ویژن اور  فلموں کی نقلی لڑائیاں ، سنے سنائے لطیفوں کی طرح بور لگتی تھی ‘‘ 
 آپ نے دیکھا کہ ایک اکتائی ہوئی لڑکی ایک مختلف منظر نامے میں اپنی مکمل نفسیات کے ساتھ اس تجربے سے گزرنے کے لیے بالکل تیار ہو گئی ہے جس سے افسانہ نگار نے اسے گزارنا ہے۔ یہی پوری طرح اندر سے اکتائی ہوئی لڑکی آخری سیڑھی پر بیٹھ جاتی ہے لمبا سانس لیتی ہے اور  نظارہ کرتی ہے۔ اس کے سامنے لڑنے والی بھی عورتیں ہیں۔  یہ منشا یاد کی عورت کا ایک اور  روپ ہے مگر ہمیں سیڑھی پر بیٹھی لڑکی کی بات کو آگے بڑھانا ہے جس کے اندر ابھی تک جنس کے جرثومے نے آنکھ نہیں کھولی ہے۔  لڑنے والی عورتوں کے چہروں پر آگ کے شعلے تو تھے، مگر وہ نفرت نہیں تھی ان کی آوازوں میں بجلی کی کڑک تھی مگر سانسوں میں سانپوں کی پھنکار نہیں تھی۔ شریفاں اور  نوراں جنہیں وہ پہلے سے جانتی تھی اس نظارے میں پھپھے کٹنیاں بن کر سامنے آئی تھیں۔
 یہیں کچھ آگے چل کر منشا یاد نے اکتائی ہوئی لڑکی کے لیے چار الگ الگ کیفیات درج کر کے آگے سوالیہ نشان ڈال دیئے ہیں۔
’’ خواب؟۔۔۔۔۔۔معدے کی گرانی؟۔۔۔۔۔۔۔واہمے؟۔۔۔۔۔۔۔۔لاشعور میں چھپی ہو ئی خواہشات؟‘‘ 
 اور  اس کے بعد اس نے لکھا ہے کہ :
٭’’ ایک بار اس نے دیکھا وہ چائے بناتے بناتے خود کیتلی میں بند ہو گئی ہے، وہ چیختی چلاتی ہے مگر کوئی ڈھکنا نہیں اُٹھاتا یہاں تک کہ اس کا دم گھٹ جاتا اور  وہ مر جاتی ہے‘‘ 
٭’’ بھرے پرے گھر میں بھی اس پر اداسی اور  تنہائی کے تنبو ہر وقت تنے رہتے۔ کبھی کبھی وہ اپنے جسم کی ان پڑھی کتاب کھول کر خود ہی تصویریں دیکھنے بیٹھ جاتی ، پھر میلی ہونے کے ڈر سے بند کر کے ایک طرف رکھ دیتی‘‘ 
٭’’اسے ہر چیز باسی محسوس ہونے لگتی۔ اسے اپنا جسم ، جس پر اسے خود سونے کا پانی چڑھا ہوا لگتا تھا ، سوکھا چمڑا نظر آنے لگتا۔ پسینے سے مردہ مچھلیوں کی بدبو آتی اور  کتاب یا رسالہ کھول کر بیٹھتی تو جگہ جگہ مری ہوئی مکھیاں چپکی ہوئی دکھائی دیتیں۔ بیٹھے بٹھائے اس کے ذہن میں سوچ کی مکروہ چمگادڑ چکر لگانے لگتی اور  اسے ہر چیز سے گھن آتی۔  موسیقی مردہ کوے کی لاش پر سینکڑوں کوؤں کی کائیں کائیں معلوم ہوتی۔ انڈوں سے برادے اور  سالن سے مردہ گوشت کی سڑاند آتی  ۔۔ اس کا جی متلانے لگتا اور  وہ قے کرنے لگتی۔‘‘     
 گویا جنس کا وہ جرثومہ جس نے ابھی تک آنکھیں کھول کر ادھر ادھر منہ نہیں مارا تھا ، اپنی نفسیات  میں مکمل تھا۔ مکمل بھی اور  کارگزاری دکھانے کے لیے بے کل بھی۔ یہی سبب ہے کہ آخری سیڑھی پر بیٹھی لڑکی کے اندر کھد بد ہونے لگتی ہے۔ پھپھے کٹنیاں اپنی جون بدل کر لچیاں اور  لفنگیاں ہو جاتی ہیں ، آنکھ مٹکا کرنے اور  کسی کے ساتھ ادھل جانے والیاں۔ ادھل جانے کا رومان بھی لڑکی پر جست لگا چکا ہے۔
 میں نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ لڑنے والیوں کے اب تک دو گروپ بن چکے تھے۔ افسانہ نگار نے انہیں جیٹھانی اور  دیورانی گروپ کا نام دے کر دیہی معاشرے کی روایتی مگر پر خلوص لڑائیوں کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ افسانے میں بتایا گیا ہے کہ جیٹھانی کو رنج تھا کہ اس کی مرغیاں دیورانی کے گھر انڈے دیتیں اور  کڑ کڑ کرنے اپنے گھر آ جاتی تھیں جبکہ دیورانی کا کہنا تھا کہ وہ مرغیاں فاحشہ تھیں۔ اپنے بانجھ پن کو چھپانے کے لیے کڑ کڑانے والیاں اور  انڈے دینے کی بجائے مر غوں کی طرح  بانگیں دینے والیاں۔
 ایک ایسی شہری لڑکی جس کے گھر والے اس کے سامنے محتاط ہو کر بات کرتے رہے ہوں۔ اس کے لیے جیٹھانی اور  دیورانی گروپ کی اس لڑائی میں لذت بھر گئی تھی۔  کہانی ہمیں سجھاتی ہے کہ وہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کس طرح ادھل جانے کے رومان اور  مرغیوں کی فحاشی سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ لڑائی آگے بڑھی اور  پچھلی سات پشتوں کے گڑے مردوں کو اکھاڑا گیا اور  ان کے بدنوں کے کفن نوچ لیے گئے تو اس کی آنکھوں کے سامنے قبرستانوں میں راتوں کو الاؤ کے گرد ناچتی عورتیں گھوم گئیں۔ جھجک جھجک کر بدن کی کتاب جھانک لینے والی لڑکی اب ننگی گالیاں اور  پوشیدہ انسانی اعضا کے نام سن رہی ہے، اس کے ذہن کے پنجرے میں قید بے شمار چڑیاں یکبارگی پھُر سے اُڑ گئی ہیں  اور  اس کے بدن سے چمٹی ہوئی جونکیں ایک ایک کر کے جھڑنے لگی ہیں۔
 جنس کے جرثومے کی آنکھیں پوری طرح کھل چکی ہیں اب افسانے کی لڑکی اکتائی ہوئی نہ رہی تھی، بالکل بدل گئی ہے،  اس کا سارا جسم دمکنے لگا ہے۔ اس کے اندر سے جو نیا سورج اُگنے لگا تھا اُس نے اس کے رخساروں کو اپنی لذیذ گرمی سے دھکا دیا تھا۔  لڑکی پسینے میں بھیگ گئی ہے اور  اس کا بدن ہلکا ہو کر زمین سے اوپر ہی اوپر اٹھنے لگا۔ کہانی کے آخر میں غلیظ مکھیاں پھر بھنبھنانے لگتی ہیں ، چربی جلنے کی سڑاند ہر طرف پھیل جاتی ہے اور  لڑکی قے کر دیتی ہے  ۔۔ کیسے؟ یہاں جنس کا ابال ، کڑھی کے ابال کا سا ہو جاتا ہے جو اپنے تئیں الگ سے توجہ چاہتا ہے۔
 اب تک منشا یاد نے شہری زندگی کے حبس زدہ سکون اور  مضمحل کر دینے والی یکسانیت کے مقابلے میں دیہی زندگی کی کشادگی اور  بے ساختگی کو رکھ کر جنسی جذبے کی نمود اور  بالیدگی کو دکھایا ہے۔  اور  صاحب ،اگر آپ نے دیہی اور  شہری زندگی، دونوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے تو ماحول ، لہجے اور  لغت کی تبدیلی کا یہ موٹیف آپ کو ایک اور  ہی دنیا میں لے جائے گا۔ شہری لڑکی کے لیے جو جو الفاظ فحش تھے دیہی زندگی میں معمول کا حصہ ہو جانے کی وجہ سے فحش نہیں رہے تھے فقط گالی جیسے ہو گئے تھے۔وہ جو پوشیدہ اعضا ئے انسانی کے نام دوسروں کو برا بھلا کہنے، دبکانے ، طعنے دینے یا اکسانے کے لیے سر عام لیے جا رہے تھے وہ شہری لڑکی کے اندر ابال لا رہے تھے مگر دیہی عورتیں انہیں یوں اگل رہی تھیں جیسے ان کے کوئی معنی نہ تھے یا وہ گوشت پوست کے اعضا نہ تھے، پتھر تھے، جن سے مقابل کو زخمی کیا جا سکتا تھا یا پھر لیروں اور  ٹاکیوں کے ایسے کھدو تھے جن کے ذریعے بکنے والیوں کے منہ بند کئے جا سکتے تھے۔ لڑکی کے اندر بپا تبدیلی کو افسانہ نگار نے مثبت دکھایا ہے مگر اس کے بعد یہی دیہی موٹیف اس کے جذبوں کو اوندھا کر رکھ دیتا ہے۔  اور  یہ تب ہوتا ہے جب بپھری عورتوں میں بیچ بچاؤ کی نیت سے آگے آنے والا ستر سال کا ایک با وقار نظر آنے والا شخص  ناکام ہو جاتا ہے اور  چھوٹے قد کے مریل سے شخص کی فحش گالیاں سن کر سب لڑنے والے ادھر ادھر کھسک جاتے ہیں۔ اب یہ فحش الفاظ،  جو اس کے اندر ابال پیدا کر رہے تھے ،ابکائی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ 
 جنس کا ایک اور  انداز سے مطالعہ منشا یاد کے افسانے ’’ پانی میں گھرا ہوا پانی‘‘ میں ملتا ہے۔  ایک لمحے کو رُک کر صرف اس کے نام ہی کا لطف لے لیجئے   ۔۔ پانی میں گھرا ہوا پانی۔ آپ کو قائل ہونا پڑے گا کہ منشا کہانی کا عنوان رکھنے کے حوالے سے ’ نام میں کیا رکھا ہے ‘ کو نہیں مانتا اس پر بہت غور کرتا ہے اور  سوچ سمجھ کر نام اور  عنوان رکھتا ہے۔  ہاں تو ہم منشا کے ہاں عورت اور  جنس کو ایک اور  پہلو سے دیکھنے چلے تھے اور  اس کے لیے میں نے جو افسانہ چنا ہے اس میں شہر اور  شہری زندگی کا کوئی حوالہ نہیں ہے، اس کی کہانی کے تمام لوازم دیہات ہی کی سوندھی سوندھی مٹی سے پھوٹتے ہیں۔ اوپر جس کہانی کی تفہیم کی کو شش کی گئی ہے اس میں مرد کہانی کے آخر میں آتے ہیں مگر زیر نظر کہانی کے آغاز میں ہی ایک مرد آ گیا ہے  ۔۔ کہانی کی عورت میرے اس جملے کو پڑھ کر شاید کھلکھلا کر ہنس دے یا پھر شاید رو دے اور  ممکن ہے کچھ بھی نہ کرے۔ جس ماحول سے اس کہانی کا تانا بانا بنا گیا ہے اس میں ایک عورت آخر کر بھی کیا سکتی ہے؟۔  کہانی کا مرد تپتی دو پہروں میں چکنی مٹی سے گھوڑے ، بیل اور  بندر بناتے بناتے ایک روز آدمی بنا تا ہے۔ اور  اسے سوکھنے کو رکھ دیتا ہے۔
 یہاں بات روک کر ذرا اس منظر نامے سے مانوس ہولیں جس میں مٹی کا باوا بنانے والے مرد کو دکھایا جا رہا ہے۔ ویران اور  کلر زدہ زمین، دور دور تک کسی چرند پرند کا نشان تک نہیں ،کھڑی دوپہر میں شرینہہ کے درخت جھلس رہے ہیں اور  ہر طرف ہو کا عالم ہے۔اسی منظر نامے میں ایک عورت کے نام کو بھی شامل کر لیجئے جو ابھی تک باوا بنانے والے مرد کے لیے روٹی لے کر نہیں آئی ہے تاہم افسانہ نگار نے اس کی طرف اشارہ کر کے اسے اس ماحول کا حصہ بنا دیا ہے۔  افسانہ نگار نے یہ بھی بتایا ہے کہ مٹی سے گھوڑے بیل بنانے والے کے ذہن میں بہت سی  متاثر کرنے والی شکلیں اور  قامتیں محفوظ تھیں انہیں توڑ کر،جوڑ کر اور  مٹی میں گوندھ کر ایک ایسا مرد بنانا چاہتا تھا جو مکمل ہو اور  جسے دیکھ کر کم از کم زیناں ضرور دنگ رہ جائے۔
 ایک مکمل مرد ،کہانی کے مرد یعنی دتے نے بنا لیا اور  اسے سوکھنے کے لیے دھوپ میں رکھ کر بہت کچھ سوچ لیا تو زیناں بھی آ گئی۔  دتے کے روٹی کھا چکنے کے بعد اور  زیناں کے جانے سے پہلے  دونوں کے بیچ کا مکالمہ جس مشاقی سے منشا نے لکھا ہے اس کا لطف غارت کرنے کو تلخیص نہیں کروں گا ،عین مین نقل کر رہا ہو کہ اس میں سمجھنے کو بہت کچھ ہے:۔
 ’’ زیناں ، میں نے آج ایک کمال کی چیز بنائی ہے۔‘‘ 
 کیا؟‘‘ 
 ’’بوجھو تو؟‘‘ 
 ’’مرتبان؟‘‘ وہ بولی ’’تم نے اچھا کیا جب بھی لسی مانگنے جاتی ہوں ، چودھرانی مرتبان کا ضرور پوچھتی ہے ‘‘ 
 ’’وہ بھی بنا دوں گا لیکن یہ ایک دوسری چیز ہے ‘‘ 
 ’’ اچھا اچھا‘‘ وہ ہنس پڑی  ’’ مجھے پتا چل گیا، جھانواں ‘‘ 
 وہ ہنس پڑا، کہنے لگا ’’ جھانواں تو نہیں پر ایک لحاظ سے جھانواں ہی سمجھو کیوں کہ اس میں عقل تمیز نہیں ہے  ۔۔ میں نے باوا بنایا ہے ‘‘ 
  ’’باوا؟‘‘ 
 ’’ہاں باوا ، اور  ایسا بنایا ہے کہ بس جان ڈالنے کی کسر رہ گئی ہے ، تم دیکھو گی تو حیران رہ جاؤ گی کہ دنیا میں تم سے زیادہ خوب صورت چیزیں بھی ہیں یا بنائی جا سکتی ہیں ‘‘               
 ’’اچھا، چلو دکھاؤ‘‘ وہ اشتیاق سے بولی۔
 وہ اسے لے کر وہاں آیا جہاں اس نے ساری چیزیں دھوپ میں سوکھنے کے لیے رکھی تھیں مگر یہ جان کر پریشان ہو گیا کہ گھوڑے ،بیل بندر اور  دوسری سب چیزیں جوں کی توں پڑی تھیں مگر وہاں آدمی نہ تھا۔ آدمی نہ آدم زاد‘‘ 
 باقی کی کہانی میں اسی گم ہو جانے والے آدمی کی ڈھنڈیا رہتی ہے۔ زیناں کو وسوسے اُٹھتے ہیں جیسے یہ آدمی بنایا ہی نہیں گیا تھا اور  دتے کو یقین ہے کہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ زیناں جانتی تھی کہ اس کا دتا کئی پشتوں سے نفرتوں کا ستایا ہوا اور  محبتوں کو ترسا ہوا تھا اور  جو کچھ اب ہو رہا تھا وہ اسے اسی کا شاخسانہ سمجھ رہی تھی۔ دونوں کا مکالمہ ایک بار پھر:
 ’’ میری طرف دیکھو  ۔۔ میں بھی تو ہوں  ۔۔ تم تو پھر دن بھر کھلونوں سے کھیلتے رہتے ہو‘‘ 
 ’’ اور  تم نے جو اتنے سارے گھگھو گھوڑے پڑچھتی پر سجا رکھے ہیں ؟‘‘ 
 ’’ ہاں رکھے تو ہوئے ہیں مگر کیا فائدہ؟‘‘ 
 ’’لیکن تمہیں رب نے اتنا حسن دے دیا ہے کہ تم محض شیشہ دیکھ کر بھی وقت گزار سکتی ہو‘‘ 
 یہاں زیناں کے مخمصے کی وجہ سے مکالمہ رُک جاتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ دتے کی بات پر روئے یا اترائے۔ اس کے بعد کہانی اپنے عنوان سے جڑ جاتی ہے۔ زیناں کی زبان سے دبیز جملے نکلتے ہیں :
 ’’ دتے تم پانی میں گھرے ہوئے پانی ہو اور  میں آگ میں گھری ہوئی آگ۔ تمہیں کیا پتہ آگ کیا ہوتی ہے ؟ تم آوی میں چیزیں ضرور پکاتے ہو لیکن تم نے خود آوی میں پک  کر نہیں دیکھا ‘‘ 
 اب دتے کی باری ہے زیناں سے حد درجہ مرعوب دتا، جس نے بہت خوب صورت باوا بنایا اور  دھوپ میں سوکھنے کو رکھ دیا مگر جسے تپتی دھوپ نگل گئی تھی۔ کہنے لگا:
 ’’ میں تو پہلے ہی تمہیں ناری سمجھتا ہوں ‘‘ 
 زیناں اس کے بعد جو کہنے والی ہے اس مرحلے تک افسانہ نگار سہج سہج چلا ہے ، سلیقے سے ،جملے جملے کو جوڑتے اور  رمز کو معنی میں تحلیل کرتے ہوئے۔ اگلا جملہ اور  پھر اس سے اگلے جملے ایسے ہیں کہ دتا ننگا ہو جاتا ہے اور  خود زیناں کا کرب چیختا چنگھاڑتا قاری کے اندر گھس بیٹھتا ہے۔ زیناں دتے کے جواب میں کہتی ہے :
 ’’ نہ اڑیا ۔۔ مجھے خاکی ہی رہنے دے  ۔۔ میں توایک بھینس اور  ایک گدھی کے عوض ۔۔ ‘‘ 
 دتا اس جواب پر جھینپتے ہوئے زیناں کو بھینس اور  گدھی کا ذکر بار بار کرنے سے منع کرتا ہے اور  اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اگر اس کے پاس قارون کا خزانہ ہوتا تو اسے دے کر بھی وہ زیناں کو حاصل کرلیتا۔ مگر وہ دتے کی اس بات کو کوئی وقعت نہیں دیتی  اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پہلے سے بھی زیادہ سفاک جملے بولتی ہے :
 ’’ ذ کر کیوں نہ کروں  ۔۔ بھینس اب تیسرے چوتھے سوئے میں ہوتی اور  گدھی ۔۔ ‘‘ 
 اجازت دیجئے صاحب  کہ کہانی کو یہاں روک کر آپ کو یاد دلا دوں کہ دتے نے مٹی کا آدمی بنایا تھا ،زیناں کے برابر کا خوبصورت، بلکہ اس سے بھی زیادہ خوب صورت۔ اور مکمل آدمی۔ جسے دیکھ کر زیناں کو حیران ہونا تھا  ۔۔ مگریہ آدمی دتے کو قاری کے سامنے عریاں کر نے کے بعد اور  زیناں کی نظر میں آنے سے پہلے ہی کھسک گیا تھا۔ اگر کہانی میں دتے کے علاوہ کوئی اور آدمی تھا تو وہ رمجا تھا۔  گاؤں بھر کے مردوں میں سے افسانہ نگار نے الگ کر کے اس اکیلے رمجے کو اس لیے کہانی کے اندر گھسنے دیا تھا کہ بس وہی تو تھا جو دتے کو آدمی سمجھتا تھا۔ ہاں یہ بات الگ رہی کہ وہ بھی صرف زیناں کی وجہ سے۔
 کہانی آخر تک پہنچتے پہنچتے بہت لطیف ہو جاتی ہے۔ باوا گم ہونے کی وہ خبر جو زیناں نے رمجے کو سنائی تھی پورے گاؤں میں گونج گئی پھر لوگ اسے بھول گئے۔ آوی دہکتی رہی، گھگھگو گھوڑے بنتے اور  پکتے رہے حتیٰ کہ بہت سا وقت گزر گیا اور  کہانی کے نیا موڑ کاٹنے کا مرحلہ آ گیا۔ ’’ بند مٹھی میں جگنو‘‘ میں کہانی کو نیا موڑ کاٹنے یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ پلٹا کھانے کے لیے اتنے وقت کی ضرورت نہ تھی آناً فاناً سب کچھ ہو گیا تھا  مگر یہاں کہانی نے لمبا موڑ کاٹا ہے دھیرے دھیرے آگے بڑھی ہے حتی کہ ان کے گھر کے آنگن میں ایک ننھا سا شرینہہ اُگ آتا ہے۔ اس کو شرینہہ نہ کہیں ایک نئی امید کہیں۔ ایسی اُمید جس نے زیناں کے بیمار بدن کو توانا کر دیا تھا۔  اب وہ دتے کو بھی حوصلہ پکڑنے کو کہہ رہی تھی اور  دتا اس سے حیران ہو کر پوچھ رہا تھا ،’ تمہیں یقین ہے میں نے وہ باوا بنایا تھا؟ ‘زیناں کا جواب تھا :
 ’’ ہاں مجھے یقین ہے کہ پورے گاؤں میں ایک ہی ایسا آدمی ہے جو ان چیزوں سے بھی محبت کر سکتا ہے جو اُس نے نہ بنائی ہوں۔‘‘ 
کہانی یہاں ایک اور  سمت کو جست لگاتی ہے۔ اور یہ سمت بھی جنس کے حوالے ہی سے بامعنی بنتی ہے۔ قاری کو اس سمت لے جانے کے لیے کہانی کے اس حصے میں رتوں کے بدلنے کا تذکرہ ہوا ہے ، بادلوں کے امنڈ امنڈ کر برسنے ، سیلاب آنے اور  کلراٹھی زمینوں پر سبزہ اگ آنے کی بات ہوئی ہے اور  اس خدشے کو بھی متن کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ شرینہہ کا بیج زیناں کی کھاری، چنگیر یا جوتے کے تلوے سے چپک کر گھر میں آ گیا ہو گا۔ بیج کہیں سے بھی آ سکتا تھا اور  یہ واقعہ تھا کہ امید کا بیج ان کے گھر میں آ گیا تھا اور  اُگ بھی گیا تھا۔ جب کہ زیناں کو یقین تھا کہ ایک دتا ہی تھا جو اپنی نہ بنائی ہوئی چیزوں سے بھی محبت کر سکتا تھا۔واہ ،واہ، واہ۔  رک جائیے صاحب رک جایئے ، یہاں رک جائیے کہ مجھے دل کھول کر بظاہر بھولپن سے کہانی بننے والے منشا یاد کی فنکارانہ چالاکی یا بقول مظفر علی سید کاریگری کی داد دینا ہے۔ اور  کہنے دیجئے کہ جو افسانہ نگار ایسی عیاری اور  مکاری متن میں نہیں رکھ سکتے انہیں جنسی نفسیات کے افسانے لکھنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ مگر یہ بات ان جنس نگاروں کو کیوں کر سمجھ میں آئے گی جو اس جذبے کے تلذذ سے اپنے اعصاب بھی توڑتے ہیں اور  اپنے قاری کو متلذذ کرنے کے اتنے حیلے کرتے ہیں کہ انہیں پڑھتے ہوئے متلی آ جاتی ہے۔
  اور  اب تھوڑا سا وقت ’’جیکو پچھے ‘‘ کے ساتھ۔ منشا یاد اگر چاہتا تو اس کا عنوان پنجابی کی بجائے اردو میں یوں رکھ سکتے تھا،’’اگر کوئی پوچھے ‘‘ مگر صاحب وہ ایسا کیوں کرتا کہ اس طرح تو پورا افسانہ اس تہذیبی روایت سے کٹ جاتا جس روایت میں یہ سوال زندگی کی تفہیم کا استعارہ بنتا ہے۔ 
 ’’جے کو پچھے، توں بندہ کس دا ہیں ؟، توں آکھ جی ، اللہ تعالیٰ دا۔‘‘ 
 تو یہ جو اللہ کی مخلوق ہے اس میں سے منشا یاد کی نظر انتخاب، اس کہانی کے لیے،  خواب دیکھنے والی اس لڑکی پر پڑی ہے جو پڑھائی کے بعد بی بی جی کے گھر کا کام کاج کر دیا کرتی تھی۔ اور  ایک روزیوں ہوا تھا کہ بی بی جی نے جاتے ہوئے اس لڑکی کو کچھ پرانے کپڑے بھی دے دیئے تھے۔ان کپڑوں میں زہر مہرہ رنگ کا ایک مردانہ کرتہ بھی تھا۔ یہ کرتہ اس نے خود مانگا تھا( اور  مانگا بھی کیسے جیسے کوئی شہزادی اپنی ملکہ ماں سے نیا باغ لگوا دینے یا محل بنوا دینے کی فرمائش کرے) اور  بی بی جی نے کہا تھا ، ہاں لے جاؤ تمہارا بھائی پہن لے گا۔ منشا یاد کی کہانیوں کی یہ خوبی مجھے بہت بھاتی ہے کہ وہ منظر نگاری کے لیے لمبا چوڑا ترددنہیں کرتا چپکے سے سارا ماحول قاری کی آنکھوں  کے سامنے اور  دل پر کھول دیتا ہے۔ اس کہانی کا منظر نامہ بھی قاری پر عین آغاز میں ہی پوری طرح کھل جاتا ہے بلکہ کہنے دیجئے کہ ابتداء ہی سے وہ اس لڑکی کے ساتھ ہو لیتا ہے جو بی بی جی سے مردانہ کرتہ لے کر اپنے گھر پہنچی اور  اسے دھونے بیٹھی تو اس کے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی تھی۔ یہی بجلی قاری کے بدن میں بھی دوڑتی ہے اور  وہ چوکنا ہو کر کہانی میں معنی کے رمزی بہاؤ پر توجہ مرکوز کر دیتا ہے۔ 
 ’’ جے کو پچھے ایہہ خزانہ کتھوں لبھا؟، توں آکھ جی، بی بی جی نے دتا‘‘ 
 لڑکی کی ماں جو بی بی جی کی اس فیاضی پر انہیں ڈھیروں دعائیں دے رہی تھی بیٹی کے اصرار پر یہ مردانہ کرتہ سلوا کر بیٹی کو پہن لینے کی اجازت دے دیتی ہے۔ کرتہ دھوتے ہوئے جس کے بدن میں بجلی دوڑتی تھی ،اسے پہن کر اس پر کیا بیتتی ہو گی اس کا اندازہ خود لگا لیجئے۔  یہ کرتہ، جس کی اترن ہے وہ بہت جلد شہر سے آ کر اس کہانی میں نمودار ہوتا ہے۔ بی بی جی کا بیٹا،جس کے کپڑے دھونے میں اس لڑکی کو بہت  مزا آتا ہے۔ وہ بی بی جی سے سبق لینے آتی تھی اور  ان کے کام کاج کرنے کے لیے رک جایا کرتی تھی۔ جب ان کا بیٹا آتا تو وہ اور  بھی دیر تک دوسرے کاموں یا پھر کپڑے دھونے میں مصروف رہتی۔ 
 ’’وہ ان کپڑوں پر صابن رگڑتی تو اسے لگتا وہ خود بھی کھرنے لگی ہے۔ لذت کی جھاگ سے اس کے ہاتھ لتھڑ جاتے۔ کپڑوں کو دھو اور  نچوڑ کر رسی پر لٹکاتی تو اسے لگتا اس کی اپنی روح کا میل بھی اُتر گیا ہے  اور  وہ دھل کر نکھر گئی ہے۔ سب کچھ اجلا اجلا، اچھا اچھا لگنے لگتا۔‘‘ 
 جی ،آگے بڑھنے سے پہلے میں دو عدد لمحات آپ کی یاد داشت پر چمکانا چاہتا ہوں۔ پہلا وہ لمحہ جب ’’ بند مٹھی میں جگنو‘‘ کی شہری لڑکی آخری سیڑھی پر بیٹھی اس کیفیت کو پہنچی تھی جس میں اس کے گال تمتما اُٹھے تھے اس کا بدن ہلکا ہو کر فضا میں اوپر اُٹھتا جا رہا تھا۔ دوسرا وہ لمحہ جب ’’پانی میں گھرا ہوا پانی‘‘ کی زیناں کی چیخیں اور  دتے کے گھر چلم کے لیے جلائے گئے اپلوں کا دھواں ایک ساتھ بلند ہوا تھا۔ اور  شاید یہ یاد کرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پہلی صورت میں شہری لڑکی کے گال فحش گالیاں سن کر اور  مستور اعضاء کے نام بر سر عام لئے جانے پر دہکنے لگے تھے جب کہ زیناں یہ سوچ کر ہلکی پھلکی ہو گئی تھی کہ اس کا دتا ان چیزوں سے بھی محبت کر سکتا تھا جو اس نے نہ بنائی ہوں۔ یوں اس سے  بہ سہولت یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عمومی زندگی کا منفی رویہ ایک سطح پر جا کر مثبت ہو جاتا ہے اور یہی سماجی سطح پر قابل گرفت رویہ جنسی آسودگی کا ذریعہ ہو کر فرد کو اندر سے مستحکم کر سکتا ہے۔ لگ بھگ آسودگی اور  لطف کی اسی کیفیت کو پہنچی ہو ئی اس افسانے میں بی بی جی کی شاگرد پر یہ لمحہ بہت جلد بیت گیا۔  محبت سے اس کی پیشانی چومنے والی بی بی جی نہیں جانتی تھیں کہ اس کے اندر کیسا تنور دہک رہا تھا:
 ’’ جے کو پچھے تیرے اندر کیہ اے؟، تو آکھ جی ، تنور ‘‘ 
بی بی جی کے  ہاں ان کے بیٹے کی شادی کی تیاریاں تھیں اور  وہ اس سب سے بے تعلق کر دی گئی تھی۔  اس کے لیے وہاں کوئی کام نہ تھا ، یا جو کام تھا وہ ختم ہو گیا تھا  لہذا اس نے جو تصور باندھے اس کی گھگھی بندھ جانے پر ختم ہوئے اور  جو گماں قائم کئے ، بی بی جی کے جواب دیتے ہی ڈھ گئے۔ اب وہ  یوں تھی کہ اس کے سامنے کچھ بھی نہیں تھا اور  اتنی حیرتیں تھیں کہ جن سے اس کی بکل بھر گئی تھی۔جے کو پچھے اس کہانی چ کیہ اے، تو آکھ جی ،حیاتی دیاں رمزاں ، رمزاں چ لکیاں حیرتاں ، تے حیرتاں چ لکیاں رمزاں۔
    ’’جیکو پچھے ‘‘ کے آخر تک پہنچتے پہنچتے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مل مل کر کپڑے دھونے اور  مردانہ کرتہ پہننے والی لڑکی کے جذبات کو جنس کی نفسیات سے جوڑا جائے یا ان جذبات کو اسی کے ہاتھ میں جھاگ ہو جانے والے صابن سے دھل جانے والی صاف ستھری محبت مان لیا جائے،  یہ جانتے بوجھتے کہ لڑکی راتوں کو اپنی سیڑھیوں پر بی بی جی کے بیٹے کے قدموں کی آہٹیں سنتی تھی اور چپ چاپ لیٹے ہوئے اسے یوں لگتا تھا جیسے وہ دیر تک چادر کے کونے کو پکڑ کر کھینچتا اور  ستاتا تھا،تاہم ’’تیرہواں کھمبا ‘‘ ،’’ ببول سے لپٹی بیل‘‘ ’’سارنگی‘‘  ’’جھڑبیری، ، اور  ’’ نظر آ لباس مجاز میں ‘‘ جیسے دیگر افسانے عورت اور  مرد کے تعلق کے افسانے ہوتے ہوئے بھی جنس کے موٹیف کو کہیں بہت نیچے دبا دیتے ہیں اور  اجلی محبت کا ایک نیا روپ ہر بار جھلک دے جاتا ہے۔’’ سزا اور  بڑھا دی ‘‘  ٹریٹمنٹ کے اعتبار سے بہت چست کہانی ہے اس میں بے وفائی کی صورت میں جنس اپنا کام دکھاتی ہے اور  عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتی ہے مگر میں اسے بھی جنسی نفسیات کے خانے میں اس لیے نہیں ڈال سکتا کہ افسانہ نگار نے ان لمحوں کو، کہ جب صباحت جنسی طور پر پھسلی اور بے وفائی کی مرتکب ہو رہی تھی، کہانی کے اندر مخفی رکھ چھوڑا ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ’’ لوہے کا آدمی ‘‘ اور ’’کچی پکی قبریں ‘‘ جیسے اپنے اپنے موضوعات کے کامیاب افسانوں کا بھی ہے انہیں بھی جنسی نفسیات والی کہانیوں میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے با وصف کہ ان میں اس طرح کے مقامات بھی آتے رہتے ہیں :
 ’’  ۔۔ وہ ایک ایک کر کے کپڑے اتارتی اور  نہر کے سبز رنگ پانی میں نہانے کے لیے اترتی ہے۔ وہ کالو اور  ڈبو کو منہ دوسری طرف کر لینے کی ہدایت کرتا ہے لیکن خود آنکھیں پھاڑے نہر کے اس پار اسے پانی میں اترتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے۔ وہ سنہری مچھلی کی طرح تیرتی ہوئی نہر کے وسط میں آ جاتی ہے اور  اپنا عریاں بدن چھپانے کے لیے غوطہ لگا کر تہہ میں چلی جاتی ہے۔ اور  وہ اس کے اوپر آنے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔‘‘ 
 یہ اقتباس منشا یاد کے مقبول افسانے ’’کچی پکی قبریں ‘‘ کا ہے۔ نہر میں غوطہ لگانے والی نوراں ہے ،چوہدری بخشے کی خوب صورت بیٹی۔ یہ جب سے جوان ہوئی ہے گاؤں بھر کے گبھروؤں کا کام کاج میں جی نہیں لگتا۔ سب کا دھیان اسی کی طرف لگا ہوا ہے اور  ان کی بنسریوں اور  لبوں پر دردیلی دھنیں ، ماہیئے ٹپے اور  گیت ہیں۔  کوڈو جو قبرستان کی ایک جھونپڑی اور  افلاس میں پلا بڑھا ہے ان سب نوجوان عاشقوں سے اس لیے خوش نصیب ہے کہ وہ چوہدری بخشے کی حویلی پر روزانہ بھیک مانگنے جاتا ہے  تو اسے نوراں کا دیدار نصیب ہوتا رہتا ہے۔ اور  اس پر مستزاد یہ کہ جب وہ ساوی چڑھا لیتا ہے تو اس کے نہر میں اترنے کا نظارہ بھی کر لیتا ہے۔جو کوڈو دیکھتا تھا، کچھ نہ تھا فقط وہم تھا اور  بہکا ہوا دھیان، نظر کا دھوکا ہو جاتا تھا۔ اس کے باوجود کہ یہ ایک کامیاب افسانہ ہے ، اسی دھیان دھوکے کے سبب اسے جنسی نفسیات کا افسانہ نہیں کہا جا سکتا تاہم ’’ نظر کا دھوکا‘‘ ’’ساجھے کا کھیت‘‘ اور ( الف +ب )2جیسے افسانوں کو جنسی موٹیف کے کامیاب اور  قابل ذکر افسانوں کی ذیل میں رکھا جائے گا۔لہذا اجازت صاحب کہ دو اڑھائی باتیں ان افسانوں کے باب میں :
  جی ، تو پہلے ’’ساجھے کا کھیت‘‘ ۔ یہ کہانی بھی ہمارے ہاں کے محترم رشتوں کے درمیان سے جنسی حسیت کی طرف آتی ہے۔ ’’نظر  کا دھوکا‘‘ جس کی طرف میں بعد میں آؤں گا،میں ماں اور  بیٹی کا رشتہ مستحکم ہے مگر افسانہ ’’ساجھے کا کھیت‘‘ میں ،اس رشتے میں بھی دراڑیں پڑ ی ہوئی ہیں تاہم دونوں افسانوں میں ، جہاں اس معاشرتی بگاڑ کا سبب پیسہ ا ور جنس بنتی ہے وہی مرد کا مکروہ کردار بھی سامنے آتا ہے ، اتنا مکروہ کہ ان کرداروں سے نفرت یقینی ہو جاتی ہے۔ ’’ساجھے کا کھیت‘‘  میں کہانی کے نقوش یوں بنتے ہیں ( معذرت کہ کہانی کا خاکہ آپ کو منشا یاد کی نثر کے رس کے بغیر پڑھنا پڑے گا ):
٭ ایک مسکین سا آدمی ہے، موجو موچی۔ اتنا مفلس اور اتنا اکیلا کہ اس کے گھر میں چوہے بھی بھوکوں مرتے تھے۔ اس نے مختلف ہاتھوں میں بکتی ہوئی عورت تانی قسطوں  میں خرید لی۔
 ٭ بیچنے والا تھا چوہدری شریف۔  اپنی رکھیل عورت بیچنا نہ چاہتا مگر مجبوری یہ آن پڑی تھی کہ اس کی بیوی اور  برادری کا دباؤ اس پر بڑھ گیا تھا۔ 
   ٭ چوہدری شریف نے ، اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں تانی بھوکوں نہ مر جائے یا پھر کسی کام کی نہ رہے،اسے جہیز میں کھیت حصے پر دے دیا تھا۔         
٭کھیت کا ایک حصہ موجو کے پاس تھا مگر زمین اتنی زرخیز نکلی کہ موجو کے بھاں بھاں کرتے خالی بھڑولے بھر گئے۔
٭ چوہدری شریف چوں کہ آدھے کا مالک تھا لہذا اس کا چکر لگتا رہتا تھا کہ کہیں موجو پورے کھیت کا مالک نہ بن بیٹھے۔
٭ تانی کے تین بیٹیاں ہوئیں۔ بڑی، منجھلی اور  چھوٹی۔ جب وہ بڑی ہوئیں تو انہوں نے خوب رنگ روپ نکالا۔ 
 ٭بہانے بہانے سے پہلے اس کے ہاں کھرلوں کا جوان بیٹا ادریس آیا اور  پھر موجو کو یوں لگنے لگا جیسے شہر اور  گاؤں کے سارے اچھے اچھے لوگ اس کے گھر میں جمع ہو گئے تھے۔  یوں ،جیسے وہ ایک پیر تھا اور  سب اس کے مرید۔ 
٭گویا موجو عزت دار ہو گیا تھا اور  واقعہ یہ تھا کہ اس کے گھر معزز مہمانوں اور  روپے پیسے کی فراوانی ہو گئی تھی۔ لڑکیاں شہر بھی آنے جانے لگی تھیں۔
٭کہانی میں چوہدری شریف دل گرفتہ ہو تے دکھایا گیا ہے کہ اسے کھرلوں کے بیٹے نے دھمکا کر ادھر آنے کو روک دیا تھا اور  یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ اگر وہ چاہے تو اپنی زمین واپس لے لے مگر اس نے آئندہ موسموں میں اچھی فصل کی امید پر زمین واپس لینا پسند نہ کی۔
٭اتنے سارے مال دار لوگوں اور  جواں گبھرؤوں کے مقابلے میں چوہدری شریف کی کوئی وقعت نہ تھی مگر وہ دست بردار نہ ہونا چاہتا تھا۔ آخر ایک روز تانی نے اس کی درخواست قبول کر لی اور  اسے ملاقات کا وقت دے دیا۔
٭ تانی اسے اطمینان سے سنتی رہی اور  پھر وہ بات کہی جسے ہو بہو درج کرنے کے لئے میں نے اوپر کہانی کی تلخیص کا اتناکھیکھن کیا:
’’ تمہیں یاد ہے چودھری !تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے۔ کیسی کیسی غلیظ خواہشیں  ۔۔ اور  کیسے رکھتے تھے مجھے۔ جیسے میں عورت نہیں کتیا تھی۔ چودھری میں بھی کسی کی بیٹی تھی مگر تم نے اور  تمہارے جیسوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ تمہیں معلوم ہے۔ میں تو بڑی معصوم اور  پاک تھی۔ صرف کمزور اور  غریب تھی۔ گھر سے اپلوں کے لیے گوبر جمع کرنے کو نکلی تھی کہ تم لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی اور  مجھے گوبر سے بھی بدتر چیز بنا دیا گیا۔ اور  تمہیں منجھلی کا نام لیتے ہوئے شرم آنی چاہیے چودھری ، وہ تمہاری اپنی بیٹی ہے۔  بڑی ساتھ والے گاؤں کے ذیلدار کی اور  چھوٹی کا مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ، تمہاری ہے یا کس کی؟۔ مگر دیکھو میں نے تم چودھریوں اور ذیلداروں کی بیٹیوں کو کتنے اچھے طریقے سے رکھا ہوا ہے ‘‘ 
         افسانے میں بتایا گیا ہے کہ تانی کی یہ بات سن کر کچھ دیر سناٹا رہا اور  پھر جب چودھری شریف نے موجو کی بابت سوال کیا تو تانی نے کہا تھا:
 ’’ اس بیچارے کا کیا ہے ؟وہ تو میرا نوکر اور  تمہارا مزارع ہے، سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے ، اس کے اپنے پاس تو آج بھی بیج کے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ 
 کہانی اس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر ختم کہاں ہوتی ہے۔ چوہدریوں اور  ذیلداروں کے اس سماج میں موجو بن جانے والے بے چاروں کی مسکین صورتیں نظر کے سامنے سے گزرنا شروع ہو جاتی ہیں۔   
  اس ضمن کی دوسری کہانی ہے ’’ نظر کا دھوکا‘‘ ۔اب یہ بات کیا دہرانا لازم ہے کہ منشا یاد کے ہاں افسانوں میں زمین پر کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کرنے والے گرے پڑے انسانوں کی کہانیاں بڑی تعداد میں مل جاتی ہیں۔ میلے ٹھیلے بھی اس کا محبوب موضوع ہیں اور  سچ پوچھئے تو دیہی زندگی کے انہی مظاہر نے  اس کے افسانوں میں ایک جادو، عجب اور  بھید سا رکھ دیا ہے۔  ’’ نظر کا دھوکا ‘‘ بھی اسی دیہی زندگی اور  میلے ٹھیلے کی فضا سے پھوٹا ہے۔ کہانی کی لڑکی شیداں ، اس کی ماں کے بیان کے مطابق بڑی ہو چکی تھی۔  اتنی بڑی کہ اسے بیٹی کو کھیل دکھانے کے لیے میلے پر بھیجتے ہوئے ہول آنے لگے ہیں۔ مگر شیداں کے باپ اور  بھائی کو لڑکی کی نہیں لومڑی کی فکر تھی کہ لڑکی تو گھر کی تھی مگر لومڑی کرائے پر بھی نہ مل رہی تھی۔شیداں اپنے باپ اور  بھائی کو اس مشکل میں پا کر بہت خوش تھی کہ اُسے ، اس سال تماشا نہیں بننا پڑے گا۔کیونکہ:
’’ وہ برسوں سے  تماشا بن رہی تھی۔  اس کے چہرے کے ساتھ کئی طرح کے دھڑ لگتے رہے تھے ، کبھی ناگن کا، کبھی بکری کا، اور  کبھی لومڑی کا۔ایک ہی پوز میں پہروں بیٹھے بیٹھے اس کی کمر دُکھنے لگتی۔ ٹانگیں شل ہو جاتیں۔ ‘‘ 
 حیف کہ اس کی خوشی بہت جلد ختم ہو گئی، ابھی میلے کو تین چار روز رہتے تھے کہ ابا منہ مانگے دام دے کر لومڑی خرید لایا۔ ماں اپنے خاوند اور  بیٹے کو روکتے،ان کو غیرت دلاتے، بکتے جھکتے نڈھال ہو گئی مگر باپ بیٹا’’ نظر کا دھوکا‘‘ دکھانے شیداں اور  لومڑی کو لے کر میلے میں پہنچ گئے۔ منشا یاد نے یہاں تک پہنچتے پہنچتے اپنے  پر لطف بیانیے اور  جز رسی سے اپنے قاری کے گرد ایک بھرپور میلہ بسا دیا ہے  وہی میلہ جس میں بے پناہ حبس اور  گرمی تھی ، ہر کہیں لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے تھے مگر لومڑی عورت کے انکلوژر کی طرف اکا دکا لوگ ہی آرہے تھے ،باقی سارا وقت انکلوژر خالی پڑا رہتا،  اتنا خالی کہ باپ بیٹے کو لومڑی پر لگی ہوئی رقم ڈوبتی نظر آنے لگی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کہانی پلٹا کھاتی ہے۔ منشا یاد نے اس پلٹے کے لیے بڑی مہارت سے متن تشکیل دیا ہے :
’’ سہ پہر کے قریب جب حبس بڑھ گیا تھا اور  سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ٹکٹ تیزی سے بکنے لگے۔ اور  پھر اس میں برابر اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پہلے تو وہ بہت خوش ہوا مگر پھر یہ دیکھ کر چونکا کہ اندر جانے والے باہر آنے کا نام نہیں لیتے اور  جن کو رش کی وجہ سے فیکا باہر نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے وہ نیا ٹکٹ  خرید کر اندر آ جاتے ہیں۔ ‘‘ 
 اس مقام پر شیداں کے بھائی کا شیطانی چہرہ دکھایا گیا ہے جو باپ کے پوچھنے پر رش بڑھنے کی اصلی وجہ نہیں بتاتا،معنی خیز ہنسی ہنس کر سارا معاملہ پی جاتا ہے۔ مچان پر بیٹھے ٹکٹ بیچتے باپ کو کرید ہوئی، وہ اترا اور  خود اندر تماشائیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پھر جو دیکھا اس کے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھا:
’’ پردہ سرک جانے کی وجہ سے لومڑی کے ساتھ ساتھ لڑکی کا اوپر کا دھڑ بھی صاف نظر آ رہا تھا۔ پہلے تو اسے شبہ ہوا کہ وہ تماشائیوں ہی سے نہیں کرتے سے بھی بے نیاز ہو کر بیٹھی ہے مگر پھر فورا ہی اندازہ ہو گیا کہ ململ کا باریک کرتہ بھیگ کر اس کے جسم سے چپک گیا اور  جلد کی رنگت اختیار کر گیا ہے ‘‘ 
 دوسرے معنوں میں یوں کہیں وہ بے لباس ہو گئی تھی اور  لوگ لومڑی عورت کا تماشا نہیں دیکھ رہے تھے ایک ایسی ننگی لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس کے جوان ہونے پر اس کی ماں کو ہول آنے لگے تھے۔ یہی ہے وہ نظر کا دھوکہ ہے جو افسانہ نگار ہمیں دکھانا چاہتا تھا۔ رزق کے حصول اور  فن کے نام پر آج کی عورت ننگی ہو رہی ہے۔ جس عورت کو لومڑی جیسا چالاک بنا بنا کر دکھایا جاتا ہے وہ اتنی چالاک ہے نہیں تبھی تو نظرباز مردوں کا تماشا بنتی ہے اور  ہر بار رسوا ہوتی ہے۔  کہانی آخری جملوں میں پہنچ کر تہذیبی اور  اخلاقی اقدار سے دامن گریزاں معاشرے کے رخسار پر طمانچہ کی صورت ہو جاتی ہے۔ بے غیرتی سے ہنستے بھائی کا چہرہ تو آپ نے دیکھ ہی لیا اب ذرا پیسے بٹورنے والے باپ کا روپ بھی دیکھ لیں جو میری نظر میں ’مارکیٹ اکانومی‘ والی جدید ترین سوچ اور  مالی آسودگی کے لیے ’روشن خیالی‘ کا نعرہ لگانے والی بیمار ذہنیت کا مظہر کردار بن گیا ہے :
 ’’ اسے فیکے پر غصہ آیا۔وہ جلدی سے واپس اپنی جگہ پر آیا کہ فیکے کو ڈانٹ کر پردہ ٹھیک کرنے کو کہے اور  خود شو بند کرنے کا اعلان کرے مگر پھر اس کی نظر تماشائیوں کی لمبی قطار پر پڑی اور  وہ جلدی جلدی ٹکٹیں بیچنے لگ گیا۔‘‘ 
  وہ پردہ جو با پ اور  بھائی نے برابر کرنا تھا ، بر ابر نہ ہوا تو لسان العصر حضرت اکبر الہ آبادی بہت یاد آئے، کیوں ؟ میں نہیں جانتا ، اور  ان کا یہ شعر بھی ذہن میں گونجنے لگا ہے حالاں کہ بظاہر یہاں اس کا کوئی محل نہیں ہے  
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا 
  لائن لگی ہوئی ہے، لمبی لائن  ۔۔ ٹکٹ بک رہے ہیں اور  دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ اکبر نے بہت عرصہ پہلے جس نئی تہذیب کے انڈوں کو گندا کہا اور  انہیں اٹھا باہر پھینکنے کا مشورہ دیا تھا وہ تہذیب اب انفارمیشن ٹیکنالوجی  اور  مارکیٹ اکانومی کی چہیتی ہو کر ہر کہیں یوں دندنا رہی ہے کہ انسانیت ، تہذیبی اقدار اور  رشتے ناتے، سب ہی کچھ متروک ہو گیا ہے ۔۔ کہیئے صاحب ، کیا بدلتے ہوئے تناظر میں یہی نظر کا دھوکا نہیں ہے؟۔
 منشا یاد کا ایک اور  افسانہ ہے  ’’ الف + ب کا مربع‘‘ ۔ اس کے جس حصے سے جنس بہہ نکلی ہے وہاں سے چند سطور درج کر رہا ہوں اس پر بات بڑھاؤں گا نہیں کہ یہ اقتباس ہی اتنا اجلا اور  لٹ لٹ کرنے والا ہے کہ سب کچھ سجھائی دے جاتا ہے:
’’گرمیوں میں دیہات کے لوگ تہمد کو اچھی طرح باندھ کر سوتے۔سردیوں میں لحافوں کی وجہ سے اس احتیاط کی ضرورت نہ ہوتی مگر کھڑکیاں دروازے بند ہوں تو خواہ باہر کتنی ہی سردی پڑ رہی ہو کچی دیواروں والے مکان گرم رہتے ہیں۔ جنت بھی لحاف میں منہ سر ڈھانپ کر سوتی لیکن جب پڑوسیوں کا مرغ آدھی رات کو دھمی ویلا سمجھ کر اذانیں دینے لگتا تو جنت کو گرمی لگتی اور  وہ پاؤں مار مارکر لحاف ایک طرف گرا دیتی۔مٹی کے تیل کے دئیے کی مدھم سی لو اچانک لٹ لٹ کرنے لگتی اور  سارے پسار میں روشنی پھیل جاتی۔
دیوار سے لٹکے ہوئے پرندوں کے چارٹ کا کالا تیتر زور زور سے بولنے لگتا۔
میری پسلی سے ٹیر ٹیر کرتی ٹٹہری نکلتی اور  سارے پسار کا چکر لگا کر پڑ چھتی پر جا بیٹھتی۔
مجھے وظیفے کے امتحان کا خیال آتا اور  میں کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگتا۔ تاجر خواہ کتنی ہی سستی جنس خریدتا اور  کتنی ہی مہنگی فروخت کرتا اسے نفع کی بجائے الٹا نقصان ہوتا۔نادر شاہ کی فوجیں دلی پر چڑھائی کرتیں اور  شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتیں۔۔۔ یہ ساری اینٹیں ایک ایک کر کے رات بھر میرے سر میں لگتی رہتیں۔طول بلد اور  عرض بلد آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے اور  خطِ استوا خطِ سرطان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھتا۔(الجبرے کے )الف اور  ب اپنے اپنے مربعے سروں پر اٹھائے پسار کے کچے فرش پر بھنگڑہ ڈالتے اور  زاویے یا قوسیں بناتے ہوئے پر کار کی سوئی میری انگلی میں اتر جاتی پھر ایک رات میں نے پہلی بار آتش بازی کا خواب دیکھا۔ شوں شوں کرتی ہوائیاں اوپر جاتیں اور  آگ کے پھولوں کا باغ سا کھل جاتا۔اچانک ایک ہوائی جس کے سرے پر گولا سا بندھا ہوا تھا شوں شوں کرتی اوپر ہی اوپر چڑھتی گئی پھر کہیں بہت دور سے پہلے آسمان سے آواز سنائی دی ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ!میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ دیکھا تو میرا لباس پسینے میں تر تھا۔ جسم سیاہ ہو چکا تھا اور  سارے پسار میں بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی‘‘ 
 لیجئے ،اس موضوع کے ضمن میں ،مجھے منشا یاد کے جن افسانوں کی طرف اشارے کرنا تھے، کر دیئے ہیں اور  اب ان نشتروں کی سمت نگاہ اٹھتی ہے جو اس جنسی حسیت کی جراحی میں کام آئے۔ یہ تعداد میں میر تقی میر کے بہتر نشتر نہ سہی مگر اتنے کم اور  اتنے غیر اہم بھی نہیں ہیں کہ ادھر کو دیکھا ہی نہ جائے۔ ویسے آپس کی بات ہے شاعروں کے بہتر نشتر گننے نکلو تو گنتی ہاتھ کی دو انگلیوں سے آگے نہیں چلتی۔ جی تو میں یہ فہرست یوں بنا پایا ہوں۔
٭ شہری اور  دیہی زندگی کا تفاوت،  ایسا زیر نظر موضوع کے بس ایک آدھ افسانے میں ہوا۔ تاہم منشا یاد نے دیگر موضوعات کے افسانوں میں بھی یہ حربہ کامیابی سے استعمال کیا ہے۔
٭دیہی زندگی کے اندر سے پھوٹتے مناظر اور  مظاہر ایسا ہم سب افسانوں میں دیکھ آئے ہیں۔
٭ زبان کا فن کارانہ اور  دوہری سطح پر استعمال ،  متن میں معنیاتی سطح پر لہریں ، بھنور اور  مسلسل بہاؤ۔ 
٭ ۔۔ روزمروں ، کہاوتوں ، ماہیوں ، ٹپوں اور  دیہی دانش کے ذریعے معنوی دبازت کاا لتزام اور  اس کا اہتمام کہ یہ سب اوپر سے چپکا ہوا نہ لگے متن میں تحلیل ہو جائے۔
٭یکسانیت، اکتاہٹ اور  کسالت منشا یاد کے خاص حربے بنتے ہیں۔ جنسی حسیت کی تعمیر، تظہیر اور  تعمیر کے علاوہ دیگر افسانوں میں بھی انہیں کامیابی سے برتا گیا ہے۔
٭ ۔۔ تخلیقی اور  تیکنیکی دونوں سطح پر چوکس رہ کر بیا نییے کی تعمیر، کہیں تصویریں بنتی ہیں ، کہیں شعور کی رو متحرک ہوتی ہے ، کہیں مکالمہ چلتا ہے ، کہیں مونو لاگ ہے    اور  کہیں ان  سب عناصر کی چاپ اور  دھندلکا، جس کے اندر سے کہانی کے کامل استعارے یا  متن سے مربوط علامتیں پھوٹتی رہتی ہیں۔
 ٭ ۔۔ کہانی کی تعمیر کا مرحلہ وار اور  نفیس التزام مگر یوں کہ نہ تو منصوبہ بندی نظر آتی ہے اور  نہ ہی پڑھتے ہوئے چونکاتی ہے  بلکہ لگتا ہے کہ عمومی زندگی میں بھی  یوں ہی ہوتا ہے، ہو سکتا ہے یا پھر ہونا چاہیے۔
٭ ۔۔ صورتحال کے بیان میں کچھ exaggeration اور  magnification تاہم یہ کیفیت کائی کا پہاڑ یا پنکھ کا پکھیرو نہیں بناتی بلکہ ڈرامے کا وہ  hyperbole بناتی ہے جس میں کہانی کا تنازع اور  تناظر گونج پیدا کر کے ادبی ہال کی آخری نشست پر براجمان قاری تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ 
٭کہانی میں کم از کم معنیاتی سطح پر ایک اور  کہانی کا التزام۔یہی سبب ہے کہ چنے گئے افسانوں کو ہم محض جنسی نفسیات کے مطالعے قرار نہیں دے سکتے۔بات الجھ رہی ہے لہذا دو مثالیں دوں گا۔
۱۔ افسانہ ’’بند مٹھی میں جگنو‘‘ ۔۔ کہانی میں بظاہر شہری لڑکی کا باطن کھنگالا جا رہا ہے مگر جب ایک با وقار نظر آنے والا شخص ،کمی کمین ہونے کی وجہ سے آپس میں الجھتی اور  لڑتی بھڑتی عورتوں کی صلح میں ناکام ہو جاتا ہے اور  ایک مریل سے شخص کی فحش گالیاں اس لیے کامیاب ہو جاتی ہیں کہ وہ گاؤں کی دو تہائی زمین کا مالک ہے تو کہانی معاشرے کے کھوکھلے پن کو بھی کھول کر رکھ دیتی ہے۔
۲۔  اسی طرح افسانہ ’’ پانی میں گھراہوا  پانی‘‘ ۔۔ نشاندہی ہو چکی کہ زیناں ایک بھینس اور  ایک گدھی کے عوض دتے کے گھر آئی تھی اور  اس سانحے نے دونوں کے بیچ جنسی سطح پرعدم شراکت کے علاوہ بھی معنی کا دائرہ بنا دیا ہے۔
ذرا چھاتی پر ہاتھ رکھ کر کہیئے کیا دل سے آہ نہیں نکلتی اور  کیا اسے انسانوں کا معاشرہ کہا جا سکتا ہے جو کام کرنے والے یعنی کامی کو کمی اور  کمین سمجھے۔  مادی حیثیت اور  طاقت کو تو دیکھے مگر انسان اور  انسانیت کو نہ دیکھے۔ یہی وہ دوسری سطح پر موجود معنیاتی نظام ہے جو لگ بھگ منشا یاد کی ہر کہانی اپنے ذہین قاری کے لیے متن میں نہاں رکھے ہوئے ہوتی ہے۔
٭ ۔۔ سماجی اقدار کو روندنے کچلنے اور  دانستہ نظر انداز کرنے سے احتراز۔  یوں کہہ لیں کہ منشا یاد کی کہانیوں کا دیدہ سفید نہیں ہوا۔اس نے ارنڈی کا تیل دے کر کہانی کے بطن سے غیرت نہیں بہائی، اور  اس کی آنکھوں کا پانی سلامت رہنے دیا ہے۔  یہی سبب ہے کہ اس کے کردار  جنسی سطح پر اتنے عملی اور  فعال نہیں جتنے نفسیاتی اور  حسیاتی سطح پر ہیں۔  اور  اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ جنس کو برتتے ہوئے کہیں بھی لذت اخذ نہیں کرتا، پٹھوں کو بھینچنے اور  اعصاب کو تانت دینے کے جتن نہیں کرتا ۔۔ ،  ۔۔ اور  ۔۔ میں قلم روک رہا ہوں کہ لگتا ہے صاحب اس باب میں گنتی سچ مچ بہتر کو جا پہنچے گی۔  
 اب فوراً ہی مجھے رخصت ہونا ہے  ۔۔ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر ۔۔ کہ من بہت کچھ کہنے کا تقاضا کئے جاتا ہے ،جب کہ بات پہلے ہی بہت طول  کھینچ چکی ہے۔  تاہم آخر میں ، یہ بتائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں جب بھی اور  جہاں بھی عصمت چغتائی کے ’’لحاف‘‘ محمد حسن عسکری کے’’ پھسلن‘‘ سعادت حسن منٹو کے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ آغا بابر کے ’’ خالہ تاج‘‘ رحمان مذنب کے’’ پتلی جان‘‘  ممتاز مفتی کے ’’ جھکی جھکی آنکھیں ‘‘ قدرت اللہ شہاب کے’’ شلوار‘‘ سلیم اختر کے ’’جلے پاؤں کی بلی‘‘ وغیرہ  جیسے افسانوں کی بابت سوچتا رہا ہوں ، منشا یاد کے جنسی حسیت کے یہ افسانے بھی دھپ سے میرے دھیان کی چھت پر اُترتے رہے ہیں۔ یہ افسانے زیر نظر موضوع کے حوالے سے یوں بھی لائق اعتنا ہیں کہ صنفی اشتہا انگیزی میں طاق اور  جنسی گمرہی سے لذت گیری کے حصول میں مگن نہ ہوتے ہوئے بھی یہ تخلیقی اور  تیکنیکی سطح پر اتنے اہم ہو گئے ہیں کہ فکشن کا قاری ان سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ منٹو نے احمد ندیم قاسمی کو ایک خط میں بتایا تھا کہ وہ جب بھی عشق و محبت کی بابت سوچتا تھا تو اسے شہوانیت ہی نظر آتی تھی۔ مگر منشا یاد نے عورت کو شہوت سے الگ دیکھا ہے اور  الگ کر کے دکھایا بھی ہے۔یہیں محمد حسن عسکری کی ایک بات بھی یاد کر لیتے ہیں : ’’ گندی سے گندی بات اچھا ادب بن سکتی ہے مگر جنسیت سے مغلوب ہو کر بڑا ادب پیدا نہیں کیا جا سکتا‘‘ ۔  میں نہیں جانتا عسکری کی اس بات میں سچ کتنا ہے کہ کہنے والوں نے منٹو کو’ لذت گیر‘ کہا مگر کون ہے جو اس کی کہانی کو بڑی کہانی نہیں کہے گا۔ یہ کچھ ایسی بات ہے جس پر سیدھا سادا فتوی کام نہیں آتا۔  کہانی کے اپنے بھید ہیں اور  ان بھیدوں کے عقدے بہر حال منٹو پرپانی تھے۔  بعد میں جس نے منٹو کا سا وتیرہ اپنایا، وہ منہ کے بل گرا۔  منشا یاد کی خوبی یہ ہے کہ اس نے اس باب میں بھی اپنی الگ راہ بنائی ہے۔  وہ کہیں بھی جنسیت سے مغلوب نہیں ہے  ۔۔ ہاں ،وہ عسکری والی بات منشا یا د کے حوالے سے ضرور بامعنی ہو جاتی ہے اور  دل کو لگتی بھی ہے۔  اللہ حافظ ، مگر یاد رکھیے گا کہ یہ موضوع منشا یاد کا صرف اور  محض ضمنی حوالہ ہے۔   
٭٭٭


منشا یاد کا افسانہ اور  سماجی معنویت
 
’’ میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔
عمر کے اس حصے میں ،جب لطیف اور  نازک جذبے سرد پڑ جاتے ہیں اور  آدمی کے اندر کا بیل تھک کر تھان پر بیٹھا جگالی کر رہا ہوتا ہے۔ اسے ڈچکروں اور  ٹھوکروں سے حرکت میں نہیں لایا جا سکتا۔ اسے ہلانے جلانے کے لیے تابڑ توڑ ڈنڈے برسانا پڑتے ہیں۔
 اس کی موت کی خبر سن کر مجھے صدمہ ضرور ہوا جیسے بیٹھے بیٹھائے کسی نے ٹھوکر مار دی۔  میں چونکا اور  پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘ 
 صاحب ،  منشا یاد کی کہانی ’’سارنگی‘‘ کا یہ دلچسپ ٹکڑا عین تمہید میں آپ کو اس لیے سنا دیا ہے کہ مجھے تیزی سے بدلتے ہوئے سماج کے ساتھ جڑے رہنے کی شدید خواہش رکھنے والے منشا یاد کا لگ بھگ اپنے ہر دوسرے افسانے میں ایک عجب دھج سے چونکنا لطف دیتا رہا ہے۔
اسے آگے کا سفر کرنا ہے مگر اُسے بار بار بیک مرر دیکھنا پڑتا ہے۔  یاد رہے ’’بیک مرر ‘‘ اس کا ایک افسانہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ محبوب استعارہ بھی ۔۔ وہ اس بیک مرر میں دیکھتا ہے ، بار بار دیکھتا ہے ،عقب میں تیزی سے معدوم ہوتے منظر نامے کو بھی اور  ونڈ اسکرین میں سے تیر کی تیزی سے اپنی سمت بڑھتے نامانوس وقت کو بھی۔ جو کچھ جانا پہچانا ہے وہ اس کے اندر بس جاتا ہے اور  جو سامنے ہے وہ اس دھرتی جیسا ہو جاتا ہے جسے بیل نے اپنے سینگوں پر اُٹھا رکھا ہے۔
 ہم جو ماضی کے ساتھ ایک بامعنی رشتہ رکھنا چاہتے ہیں اور  ارضیت کو اپنی سانسوں میں بسائے ہوئے ہیں ، زمین سے چاہے جتنا اوپر اٹھ جائیں اپنے حصے کی مٹی اپنی مٹھی میں ضرور رکھتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ منشا یاد کی مٹھی میں جو مٹی ہے وہ جگنو بن کر چمکتی ہے۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آ کر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔  
 منشا یاد کے افسانوں میں متشکل ہونے والے جس سماج کی میں بات کر رہا ہوں اس میں خالص اور  پاکیزہ رشتوں میں ایسے ایسے کردار ملتے ہیں جن کا تصور مادیت زدگی نے مشکل بنا دیا ہے اور ایسی ایسی فضا ملتی ہے کہ جس کے اندر سے زندگی کی خوشبو کے جھرنے پھوٹ بہتے ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ ضرورت ، پیداواریت اور  سرمائے کی افزودگی کی بنیادوں پر اسارے جا رہے نئے عہد کے شیش محل کے اندر اس خوشبو کا داخلہ ممنوع ہے۔
مگر ۔۔ اُسے تو اِس خوشبو کے ساتھ ہی اس کانچ محل میں داخل ہونا ہے۔ 
 اور  منشا یاد اس امتناع کو توڑنا چاہتا ہے۔
 مجھے ’’سارنگی‘‘ کا جملہ ایک بار پھر دہرانے دیجئے: 
’’  میں چونکا اور  پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘ 
 تو یوں ہے کہ کہ منشا یاد نے ہمت کر کے اور  نیت باندھ کر کچھ افسانے تو اسی دھرتی کے بارے میں لکھے ہیں جو سینگوں پر بوجھ کی طرح جھول رہی ہے اور  بہت سارے افسانے اس مٹی کے بارے میں لکھے ہیں جو خوشبو بن گئی۔ وہ خوشبو جس نے انسان کا وجود بامعنی بنا دیا ہے۔ 
میں اس دونوں قسم کے افسانوں کی سماجی معنویت کو بھی الگ الگ پہچان سکتا ہوں۔
 ایک قسم کے افسانوں کے اندر آدمی اڑیل بیل کی طرح  دکھایا گیا ہے جسے اس کا مالک آگے کو کھنچتا ہے مگر بیل پیچھے کو زور لگاتا ہے حتی کہ مالک بپھر جاتا ہے۔ اس قبیل کے افسانوں کی  ایک عمدہ مثال منشا یاد کا ۸ اکتوبر کے سانحے کے حوالے سے لکھا گیا ’’ آگے خاموشی ہے ‘‘ کا نام پانے والا افسانہ ہے۔  آپ جانتے ہی ہیں کہ اس افسانے کا ماسٹر دین محمد اپنے طالب علموں سمیت ملبے کے اندر دب گیا تھا۔  اس کے شاگرد ایک ایک کر کے اس کے سامنے مرتے رہے اور  وہ خود جرعہ جرعہ موت لنڈھاتے ہوئے بھی زندہ رہا۔ اور  پھر یوں ہوا تھا کہ ہمارے  نام نہاد دانش وروں کی رکی ہوئی سوچ کے تعفن نے اسے تڑپایا اور  مار دیا تھا۔اس کہانی میں منشا یاد نے ماسٹر دین محمد کے ہاتھ میں اس کے مرنے سے پہلے جوتا تھمانا چاہا ہے کہ وہ اسے اُن دانش وروں کی سمت اُچھال سکے۔ اور سجھانے کا جتن کیا ہے کہ جمود زدہ متعفن سوچ رکھنے والوں کو جب تک چوٹ نہ لگے وہ اڑیل بیل کی طرح پیچھے ہی کو زور دیتے رہتے ہیں۔ 
اُس کا فیصلہ ہے کہ آگے نہ دیکھیں تو راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور  پلٹ کر دیکھنا بھول جائے تو شناخت گم ہو جاتی ہے۔
 منشا یاد کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے مجھے خواہش ہونے لگی ہے کہ اسی کی طرح چلتی ہوئی بات کی گاڑی کی ونڈ اسکرین سے نظر اٹھا کر بیک مرر میں دیکھوں۔  تو یوں ہے کہ اس بار وہ اڑیل بیل نظر آ گیا ہے جس کا مالک اُسے آگے کھینچنے سے اُکتا گیا تھا اور  بپھر کر اُس کے کولہوں پر چوٹ لگانا چاہتا تھا۔   
  دوسری قبیل کے افسانوں کی دنیا ہی کچھ اور  ہے الگ سی مگر روح کو سرشار کرنے والی۔ان افسانوں میں فکری دائروں سے کہیں  زیادہ زندگی کی تفہیم کی راہیں نکلتی ہیں۔ منشا یاد نے ’’شہر افسانہ‘‘ کی ابتدائی سطور میں لکھا ہے کہ ’’سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسان روز بروز مشین میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ ‘‘ مشین میں ڈھلتے مصروف آدمی کا جو ہیولا منشا یاد نے بنایا ہے وہ آدمی اپنے بنجراپے سے بولایا ہوا ہے۔ تاہم جب جب وہ اسی گھٹن زدہ ماحول کے مقابل دیہی زندگی کے کشادہ ماحول کو لے کر آیا تو یوں لگا جیسے تاریکی کی لمبی سرنگ کے اندر سے روشنی کی چیخ جادو بنسری کے سر کی طرح برآمد ہو گئی ہے، یوں کہ تاریک سرنگ کا دوسرا کنارہ روشن ہو گیا ہے۔ 
 میں اسی روشن کنارے پر منشا یاد کے افسانے ’’اپنا گھر‘‘ کے میلے کچیلے مگر فرشتوں جیسے اس شخص کو دیکھتا ہوں جس کا دل اپنے بچوں سے ملنے کو چاہا تھا تو اس نے چارہ کاٹنا اور  ہل چلانا وہیں موقوف کیا۔ بس پکڑی اور  ملنے آ گیا تھا۔     
  جسے میں نے تاریک غار سے شناخت کیا ہے منشا یاد کے مرکزی کردار نے اس  صورت حال کا نقشہ اسی افسانے کے آغاز میں یوں کھینچا ہے۔
’’ وہی ہر طرف مداریوں کی طرح چتر چالاک آدمی اور  آسمان میں تھگلی لگانے والی تیرہ تالن عورتیں۔
منافقت سے اٹی ہوئی صورتیں  ۔۔ خود غرضی کے جالے  ۔۔ سازشوں کی مکڑیاں اور  وہی ٹانگیں کھینچنے اور  میرے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں پر مرغیوں کی طرح گندگی پھیلاتے احباب۔ وہی ہر روز ایک طرح سو کر اٹھنا اور  وہی ستر ستر قدم پیچھے ہٹ کر ایک دوسری سے ٹکریں مارتی دیواریں۔
بھاگم بھاگ دفتر کے لیے تیار ہونا  ۔۔ وہی میز اور  وہی ایک جیسا ناشتہ ۔۔ وہی دفتر اور  وہی انتظار میں بیٹھے ہوئے  گدھوں کی طرح افسران بالا کی نظریں۔
وہی فائلیں اور  وہی ایک جیسے قے کیے ہوئے لفظوں کے پیٹ بھرنا۔‘‘ 
 تو صاحب !یہ منظر نامہ جو منشا یاد نے دکھایا ہے اس نے نئے آدمی کے رنگ ڈھنگ اور  چال ڈھال کے بے ڈھنگے پن کو ننگا کر دیا ہے۔  آدمی اپنے تہذیبی آہنگ سے نکل چکا ہے۔  اپنی نوعیت کے اعتبار سے آدمی کا آدمی سے تعلق سماجی نہیں رہا بازاری ہو گیا ہے۔ عقیدے دم توڑنے لگے ہیں ، عقیدت اور  احترام کے قرینے قریہ بدر ہوئے اور  اقدار بدل گئی ہیں۔ حقیقت کے معنی اُلجھ گئے اور  سچائیGray Areas کا رزق ہو گئی ہے۔  الفاظ ہیں ، معنی عنقا ہیں۔ جملہ ہے مگر اس کے بطن میں مفہوم کا حمل ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔  پریشان نظری ہے ، فکری انتشار ہے۔شمیم حنفی نے اسے آڈن کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ ’’بے چینی‘‘ کا عہد  ہے ، فرانز الیگزنڈر نے اسے ’’عدم تعقل‘‘ کا دور کہا مگر یار لوگ تہذیبی اقدار پر شب خون مارنے والے اس عہد کو روشن خیال، ترقی یافتہ، اور  انسانی فلاح کا عہد قرار دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔  منشا یاد کے ہاں معاملہ یہ ہے کہ اس کی گفتگوؤں میں جتنی توجہ یہ بدلا ہوا زمانہ پاتا ہے اس کا تخلیقی وجود عین مین اِس تناسب سے اس تبدیلی کو قبول نہیں کر پاتا،کہ اپنے افسانوں کو جس سماجی معنویت سے وہ جگمگا رہا ہے اس کا غالب حصہ ارضیت ، تہذیب اور  روایت  ہی میں پیوست ہے۔       
 میں نے کسی اور  جگہ لکھا تھا کہ منشا یاد کو بیدی کی طرح گرہستن اور  خاندان سے جڑی ہوئی عورت پر لکھنا اچھا لگتا ہے اور  آج کی نشست میں اس پر یہ اضافہ کرنا ہے کہ اس کا سبب محض اور  صرف یہ ہے کہ رشتوں میں جڑی ہوئی عورت ہی اسے سماج کے اندر بامعنی دِکھتی ہے۔ جب کہ رشتوں سے کٹی ہوئی عورت ’’شے ‘‘ بن جاتی ہے، ’’صارف‘‘ ہوتی ہے یا پھر محض ’’کارآمد/بے کار‘‘ پُرزہ( اور  لگ بھگ یہی بات تو مردوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔)  یہی  سبب ہے کہ ان رشتوں کے لیے وہ بہت کچھ قربان کر سکتا ہے حتی کہ اپنا عشق بھی۔ اس باب میں منشا یاد کے معروف افسانے ’’تیرہواں کھمبا ‘‘ کو دھیان میں لائیے اور  اس نوبیاہتا جوڑے کو بھی جو ریل کار میں سوار ہو گیا تھا۔ منشا یاد نے اپنے قاری کو ایک عجب صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے اسی منظر نامے میں ایک تیسرے کردار کو بھی موجود رکھا ہے۔  یہ تیسرا شخص نوبیاہتا دلہن کی زندگی میں کبھی اہم رہا ہو گا مگر نئے اور  تخلیقی رشتے سے جڑ جانے والی کے لیے (پرانا عشق بھولنا مشکل سہی)،نیا رشتہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو اپنی کیمسٹری میں چاہے عشق جتنا اخلاص نہ رکھتا ہو اس کی ایک سماجی معنویت ہوتی ہے۔ تو یوں ہے کہ اس افسانے کے آخر میں منہ زور عشق ہار جاتا اور  تخلیقی رشتہ سماجی معنویت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔منشا یاد چاہتا تو اس تیسرے آدمی کو ریل سے کود کر خود کشی کی راہ دکھا دیتا ، نوبیاہتا انجی کی چھاتی سے چیخ برآمد کر کے  اس کے عشق کا بھانڈا پھوڑ کر سماجی رشتے میں دراڑیں ڈال سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔جس گوں کا وہ آدمی ہے اس گوں کا آدمی اپنے کرداروں کو اوچھا نہیں رہنے دیتا انہیں وسیب کا ذمہ دار آدمی بنا دیتا ہے۔سو اس نے منہ زور عشق کو پچھاڑ دیا ہے اور  سماج کو ایک تخلیقی رشتے سمیت بچا لیا ہے۔ 
 جی مجھے موقع ملا ہے کہ میں منشا یاد کے افسانوں کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کروں اور  اس مطالعے میں محسوس کیا ہے کہ سماجی منظر نامے میں منشا یاد کے ہاں تخلیقی رشتے بہت احترام پاتے ہیں۔ ’’سزا اور  بڑھا دی جائے‘‘ ’’سارنگی‘‘ اور  ’’ساجھے کا کھیت‘‘ جیسی کہانیوں سے میں صحیح یا غلط اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مادی تعیش کے عہد میں ، بنتی بگڑی حسیات والے نئے تفریحی آدمی سے کہیں زیادہ اسے تہذیبی اور  سماجی آدمی بہت محبوب ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جس دور میں منشا یاد نے شناخت پائی وہ علامت نگاری اور  تجرید کا زمانہ تھا اور  اس عہد کے افسانے میں اس نے سماجی اور  تہذیبی علامت کے شعور کے ساتھ جو افسانے لکھے  وہ الگ سے مطالعہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔تاہم مجھے ان کے حوالے سے یہاں یہ کہنا ہے کہ اگر منشا یاد کو سماجی رشتوں میں بندھے آدمی سے محبت نہ ہوتی اور  وہ فرد کے محض باطنی آشوب کو ہی کہانی کا وسیلہ بنانا چاہتا تو بھی اس ڈھنگ میں اس نے ایسی ایسی کامیاب کہانیاں لکھی ہیں کہ وہ بہت دور تک جا سکتا تھا مگر بہت جلد ادھر سے دامن جھٹک کر الگ ہو گیا۔محض دیہات نگاری بھی اس کا مسئلہ نہیں بن پایا ورنہ وہ بالا دست جاگیردار طبقے کی چیرہ دستیاں دکھا کر اور  ہمارے دل دہلا کر بھی مقبول ہو سکتا تھا۔ ذرا تصور باندھیے ’’کچی پکی قبریں ‘‘ والے کوڈو فقیر کا جس کی نظر کدال پر پڑی تھی تو فاتحانہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ناچنے لگی تھی۔ پکی قبریں ادھیڑ کران میں اپنے مردے رکھنے والے ایسے جی دار کردار اس کی کہانیوں میں آئے ضرور ،مگر سماجی معنویت کے باب میں اس نے ترقی پسندوں کی طرح اسے طبقاتی مسئلے کے فیتے نہیں لگائے۔ اس کے کردار کہیں بھی اپنی شناخت گم نہیں کرتے پوری کہانی میں یوں رچے بسے ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی کے بدن میں اس کی مست کر دینے والی مہک۔میلے ٹھیلے کے رسیا، نچلی ذاتوں کے کمی کمین، جنس کے مارے ہوئے مرد اور  عوتیں ، اپنوں سے پچھڑے ہوئے مگر ایسے کردار جن کے وجود کی مٹی کو خلوص کے پانیوں سے گوندھا گیا ہوتا ہے۔جو سماج کو جینے کے قابل بنانے کی للک رکھتے ہیں اور  اپنے وسیب کی دانش کے امیں ہوتے ہیں۔
  یوں تو عصری آگہی اور  سیاسی شعور بھی منشا یاد کے افسانوں کا ایک قوی حوالہ بنتا ہے’’۹۷۸ا کا آخری افسانہ:پناہ‘‘ ’’بوکا‘‘ اور ’’کہانی کی رات‘‘ جیسے اہم افسانے اس باب میں عمدہ مثال ہیں  کہ ایسے افسانوں میں منشا یاد نے تاریخ کو مسخ کرنے والے چہروں کو نوچ ڈالا ہے۔  عام آدمی کو مات دینے والے سیاست دانوں کو لتاڑا ،جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی اور  سامراج کے دروغوں کے منہ پر تھوکا ہے مگر آج کی نشست میں میرا دھیان منشا یاد کی اس دھج کی طرف رہا ہے جو رواں منظر نامے سے اوب کر اور  چونک کر عقب میں دیکھتا اور  لمحہ لمحہ مادیت سے مات کھاتے آدمی کے ضمیر پر دستک دیتا رہا ہے۔اس نہج سے مطالعے نے مجھے حوصلہ دیا ہے کہ منشا یاد کی فکشن کے محبوب سروکاروں میں سماجی رشتوں کی مہک کو بھی قدرے نمایاں جگہ دوں کہ یہ ایسی مہک ہے جو سماج کو بامعنی اور  تخلیقی بنا رہی ہے۔                                       
٭٭٭




سیدھے چلو تو ہیرو ،اُلٹے چلے تو اُچکے

 یکایک سکرین سیاہ ہو گئی ۔۔ 
 گھبرا کر ٹیلی فون ملایا ۔۔ ’’ہیلو! میری سکرین سیاہ ہو گئی ہے ۔۔ ‘‘ 
 ’’میری بھی‘‘ ۔۔ 
 ’’اس کا مطلب ہے سب کی ۔۔ ‘‘ 
 نگہت سلیم کی دعوت پر ہونے والے رابطہ کے اجلاس میں منشا یاد کا افسانہ ’’کہانی کی رات‘‘ شروع ہوا تو سب جان گئے یہ اس ڈرامے پر لکھا گیا ہے جو ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ میں بار بار کھیلا جاتا رہا ہے ۔۔ افسانہ کئی سوالات اٹھاتا ہے ۔۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ۔۔ ’’آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا ۔۔ ’’ 
 ’’ابو جی ! ڈاؤن  (Down)  ہونے میں دیر کتنی لگتی ہے‘‘ ۔
’’ ہاں بیٹا تم ٹھیک کہتے ہو دیر تو اپ (Up) ہونے میں لگتی ہے، ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی ہمیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہم آگے کی سمت بڑھ رہے ہیں ایک جھٹکا سا ہوتا ہے اور  یوں لگتا ہے جیسے سارا منظرنامہ بدل گیا ہے، ہم آگے کہاں بڑھ رہے تھے، مسلسل کھائی میں گرے جا رہے تھے۔‘‘ 
 منشا یاد کو مظفر علی سید نے کاریگر افسانہ نگار کہا تھا اس افسانے میں بھی وہ اپنی کاریگری سے ایک ظالم جادو گر کو لے آتے ہیں  ۔۔ وہی جادو گر جس کی جان طوطے میں ہوتی ہے۔
 کہانی کے بچے دادا جان سے سوال کرتے ہیں  ۔۔ 
 ’’جادو گر اپنی جان طوطے میں کیوں چھوڑ جاتا ہے‘‘ 
 اس سوال کا جواب کہانی میں آگے چل کر ملتا ہے تاہم یہیں وہ ایک دلچسپ نکتہ اٹھاتے ہیں :
’’دیووں اور  جادوگروں کی جانیں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک اصلی اور  دوسری نقلی، نقلی جان وہ ساتھ لئے پھرتے ہیں اور  اصلی انہوں نے چھپا رکھی ہوتی ہے۔‘‘ 
 کہانی کا دادا جان اسے یوں منطبق کرتا ہے۔
’’جیسے زوال آمادہ قوموں کے بعض لیڈر دولت کو اپنی جان کی طرح عزیز رکھتے ہیں اور  اسے بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کر دیتے ہیں  ۔۔ ‘‘ 
افسانے میں منشا یاد نے اساطیر سے بھی مدد لی ہے ۔۔ اور  یدھشڑ کے دربار کا منظر قاری پر کھولا ہے ۔۔ ٹانک کے احوال میں ہم دیکھتے ہیں کہ کلاکاروں کے سولنگ میں دشمن کے آدمی گھس آئے ہیں اصل اور  نقل کا فرق مٹ جاتا ہے بس یہی پتہ چلتا ہے کہ لوگ مار رہے ہیں اور  لوگ مر رہے ہیں ، اندھے یدھشٹر کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل کون ہے اور  نقل کون ۔۔ ؟
 کہانی کے ایک اور  سوال کا سکہ فضا میں اچھلتا ہے اور  ہم اندازہ ہی نہیں کر پاتے کہ وہ چاند کے بل گرے گا یا زنجیر کے رخ ۔۔ سوال ہے۔
 ’’جب ہر ہیرو کا انجام ولن کا سا ہوتا ہے تو لوگ ہیرو کیوں بنتے ہیں ؟ ‘‘ 
کہانی میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
’’نمایاں نظر آنا اور  ہیرو بننا آدمی کی سرشت میں ہے اور  آدمی کا آدمی پر حکم چلانا دنیا کا سب سے بڑا نشہ ہے۔ قدیم زمانے مین جب حاکم اور  بادشاہ محلوں کی بجائے غاروں اور  درختوں کی جھنڈ میں رہتے ، پیدل چلتے اور  لنگوٹی کسا کرتے تھے تب بھی یہ منصب اتنا ہی دل کش تھا جتنا آج ہے۔ قدیم زمانے میں دنیا کے بعض خطوں میں بادشاہ کو دو یا تین سال کے لئے چنا جاتا تھا پھر دستور کے مطابق قتل کر دیا جاتا۔ معزول اور  قتل ہونے والا پکار پکار کر کہتا کہ کوئی اس منصب کی خواہش نہ کرے مگر امیدواروں کی تعداد میں کمی نہ ہوتی تھی‘‘ ۔
 منشا یاد کی کہانیوں میں گاؤں کا منظر فراست لے کر آتا ہے اس کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔۔ گاؤں کی پنچائیت کا احوال دیکھئے
’’ایک بار ایسا ہوا کہ ایک سرپنچ کے اپنے لڑکے نے ساتھیوں کی مدد سے ایک غریب جلاہے کے کنبے کو بے عزت کر ڈالا اسے خوب زدو کوب کیا اور  اس کا گھر جلا ڈالا اور  ساتھ ہی موقع پر موجود لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اس کے خلاف گواہی دی تو ان کا حشر بھی ایسا ہی ہو گا۔ جلاہا اپنا مقدمہ پنچایت میں لے گیا، نہایت توجہ اور  ہمدردی سے اس کی فریاد سنی گئی مگر آخر میں پنچائیت نے معذوری ظاہر کی کہ اس میں شک نہیں کہ گامو جلاہے کا گھر جلایا گیا ہے ، مارا پیٹا گیا ہے اور  بال بچوں کو رسوا کیا گیا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ کوئی گواہ ہی نہیں ہے جو گواہ ہیں وہ مجرموں کو پہچان نہیں سکے آگ اور  فساد کے خوف سے دور کھڑے رہے۔‘‘ 
  پنچائیت کی معذوری سے ایک لطیف نکتہ پیدا کرتے ہوئے کہانی جناح ایونیو کی طرف نکل جاتی ہے پھر وہاں سے زیرو پوائنٹ پہنچ جاتی ہے۔
 ہماری راہ میں بار بار ’’صفر‘‘ کا عدد کیوں آتا ہے؟
 کہانی یہ سوال شدت سے اٹھانے کے بعد ایک دلچسپ واقعہ  پیدا کرتی ہے واقعے میں بچے ویڈیو پر فلم دیکھ رہے ہیں بچے ریموٹ کنٹرول سے ایک منظر کو روک کر ریورس کرتے ہیں ، پھر آگے جانے دیتے ہیں اور  ریورس کرتے ہیں تو ان کے قہقہے چھوٹ جاتے ہیں  ۔۔ فلم کا منظر یوں ہے کہ ایک آدمی ایک لڑکی کو ہار پہنا رہا ہے ۔۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ ہیرو اور  ہیروئن کا روایتی منظر ہے ۔۔ بچے ریورس کرتے ہیں  ۔۔ وہی آدمی ، لڑکی کے گلے کا ہار اچک کر پیچھے ہٹتا ہے ۔۔ بچے قہقہہ لگاتے ہیں اور  کہانی کے دادا جان نتیجہ اخذ کرتے ہیں :
  ’’ سیدھے چلو تو ہیرو ۔۔ الٹے چلو تو اچکے ۔۔ ‘‘ 
 ہماری سیاسی تاریخ میں کون ہیرو ہے اور  کون اچکا، اس کا فیصلہ ہو سکے گا بھی یا نہیں کہانی ہمیں یہ نہیں بتاتی، سچ تو یہ ہے کہ حالات بھی ہمیں یہ بتانے سے قاصر ہیں  ۔۔ کہانی میں اور  حقیقت میں بھی ایک ہی منظر دہرایا جا رہا ہے کہ سیاہ سکرین پر تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ایک چہرہ نمودار ہوتا ہے اس بار بھی ہوا ہے ۔۔ امید بندھتی رہی ہے اور  ٹوٹتی رہی ہے ۔۔ لگتا ہے اس بار بھی امید محض ٹوٹنے کے واسطے  ہی بندھی ہے۔
٭٭٭



پنجابی ناول ٹانواں ٹانواں تارا کے چند کردار

 ’’بات پاواں بتولی پاواں ‘‘ کی ذیل میں ’’ٹانواں ٹانواں تارا‘‘ کے مصنف محمد منشا یاد نے ایک عجب مغالطہ قاری کے ذہن میں ڈالنے کی سعی کی ہے پنجابی کا یہ ناول پڑھتے ہوئے اسے ذہن سے بالکل نکال دینا از بس ضروری ہے۔  مناسب یہ ہو گا  کہ آپ دیباچہ ناول کے بالکل آخر میں پڑھیں ورنہ پہلے صفحے کی گمراہی آخر تک سنبھلنے نہ دے گی۔  دیباچے میں منشا یاد نے ناول کے آخری منظر نامے میں موجود اس بوڑھے کا ذکر کیا ہے جو پختہ سڑک کے بیچوں ننگے پاؤں چلا جا رہا تھا پھر جب اس نے چند بچوں کو ریت پر کھیلنے والے بچوں میں سے ایک وہ خود تھا جسے کتابوں اور  خوابوں کی گھٹی پلائی گئی تھی، تب چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور  کہانیوں نے اس کے اندر ککلی ڈالنا شروع کر دی تھی۔
 ریت پر لکیریں بنانے، خوابوں اور  کتابوں گھٹی اور  کہانیوں کی ککلی والی باتوں کی حد تک میں منشا یاد سے متفق ہوں۔  یقیناً یہ سچ ہو گا مگر یہ بیان بالکل مغالطہٰ آمیز اور  پانچ سو اٹھتر صفحوں والے ناول کے سارے متن سے متضاد ہے کہ وہ بچے جو اس وقت ریت پر لکیریں ڈال رہے تھے ان میں سے ایک ناول نگار خود تھا۔  اس لیے کہ جب وہ بوڑھا کہ جس کے حواس کی ڈور اس کی گرفت سے پھسل گئی تھی اور  وہ کٹی پتنگ کی طرح تپتی سڑک کے فلک پر ننگے قدموں ڈول رہا تھا تب تک ناول نگار کے قدموں کے چھالے بھی صاف صاف دکھنے لگے تھے۔  ریت پر لکیریں ڈالنے کا وقت تو بہت پہلے بیت چکا تھا البتہ وہ ساری اذیت جو ریت پھانکتے اور  کنکر چباتے بوڑھے کے چہرے پر جھلک دے رہی تھی اسے ناول نگار نے ’’ٹانواں ٹانواں تارا‘‘ کے ہر کردار کے مقدر کا حصہ بھی بنا ڈالا تھا۔  ایسے میں مجھے ڈاکٹر احسن فاروقی کا کہا یاد آیا:
’’ناول زندگی کا آئینہ ضرور ہے مگر اس آئینے میں زندگی کا عکس گہری اور  بدلی ہوئی حالت اختیار کر لیتا ہے‘‘ 
  ’’ٹانواں ٹانواں تارا‘‘ کا مصنف بھی اسی آئینے میں کہیں تو پوری طرح ایک کردار میں خود جا بیٹھتا ہے اور  کہیں لخت لخت اپنا وجود چھوڑتا چلا جاتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ میں ان بچوں سے بالکل مانوس نہیں ہو پاتا جو ریت پر بارہ کٹال کھیل رہے تھے تاہم اس بوڑھے کے بہت قریب ہو جاتا ہوں جس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے۔
 ڈاکٹر احسن فاروقی کی ہی ایک اور  بات یا د آ رہی ہے:
’’ناول میں زندگی کا نقشہ ہونا چاہیے ،جیتا جاگتا ۔۔ اور  یہ کہ ناول نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تجربات ہی کا بیان ناول میں کرے ۔۔ ‘‘ 
 اس تناظر میں جب میں ’’ٹانواں ٹانواں تارا‘‘ دیکھتا ہوں تو غیر ارادی طور پر ہر اس مقام کو نشان زدہ کرتا چلا جاتا ہوں جہاں خود ناول نگار نے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔  ناول پڑھ چکتا ہوں تو میں دو کیفیات  سے گزرتا ہوں پہلی یہ کہ میں نے صفحہ نمبر۴۳۷ سے ۴۷۲ کے مسلسل ۳۵ صفحات کو چھوڑ کر لگ بھگ ہر دوسرے صفحے کو نشان زد کر دیا تھا۔ دوسرا احساس یہ تھا کہ احسن فاروقی نے جو کہا تھا وہ مکمل طور پر سچ نہیں تھا۔ تاہم یہ اپنی جگہ سچ ہے کہ منشا یاد نے زندگی کے بھر پور اظہار کے لیے مضبوط کردار نگاری کا سہارا لیا ہے اور  اپنے کرداروں کو اس طرح خوبصورتی سے تعمیر کیا ہے کہ وہ ہمارے شعور میں جا بستے ہیں نہ صرف ہماری ہمدردیاں حاصل کر لیتے ہیں ، بلکہ ہمارے دلوں کو بھی اپنی مٹھیوں میں لے لیتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ جب بھاباسو جیسے شیہنہ جوان کی بالکل آغاز ہی میں ، محض بہتر صفحے گزرنے کے بعد، ٹانگیں ٹوٹ جاتی ہیں یا پھر معصوم اور  پاکیزہ حسن والی نجی صفحہ نمبر ۱۷۴  پرہی اپنی معصومیت اور  عصمت سرور جیسے درندے کے ہاتھوں تار تار کروا بیٹھتی ہے تو یقین جانیے بڑا دکھ ہوتا ہے۔
 ان کرداروں کے پیکر اتنی نفاست اور  محبت سے تراشے گئے تھے کہ جب تک اپنی مکمل اور  پاکیزہ صورت میں رہے اپنے ہونے کا بھر پور احساس دلاتے رہے مگر جونہی ناول نگار نے انہیں بے دردی سے داغدار کیا، سسکتی زندگی گزارتے نظر آئے۔  میں بھی ان کرداروں کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ہوں۔  انہی کے ساتھ ہنستا اور  روتا رہا ہوں۔  مگر جب یہ کردار ناول کے خالق کی بنائی ہوئی تقدیر کا شکار ہوئے تو میرے دل میں اس خواہش نے انگڑائی لی تھی کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔  میں تصور کر سکتا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ناول کیا صورت اختیار کرتا مگر منشا یاد کے قلم کے جبر کا راستہ نہ ’’کاش‘‘ روکتا ہے اور  نہ ’’اگر‘‘ ۔  یوں وہ بڑی محبت سے تراشیدہ خوبصورت کرداروں کو بے دردی سے توڑ پھوڑ کر عین  چلتے قصے کے وسط سے ایک اور  کردار انتہائی مہارت سے تراشتا ہے۔  یہ نیا کردار خود بخود پہلے کردار کی کچھ یوں جگہ لے لیتا ہے کہ وہ ساری ہمدردیاں بھی جو پہلے کرداروں سے وابستہ تھیں ، سمیٹ لیتا ہے۔  یہاں منشا یاد کا فن عروج پر پہنچ جاتا ہے اور  یہیں سے ناول ایک نئی منزل کی سمت پھر سے رواں ہو جاتا ہے، یوں کہ قصے کے نئے پن کا جادو پھر سے سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔  پے در پے وقوعے جنم لیتے ہیں ، نئی نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  ایسے میں نئے اور  اجنبی کردار یکایک سامنے آتے رہتے ہیں اور  یوں سامنے آتے ہیں کہ پوری قامت کے ساتھ آنکھوں میں سما جاتے ہیں۔  تاہم یہ سارے کردار اس حد سے آگے نہیں بڑھتے جو مصنف نے ان کے لیے مقرر رکھ چھوڑی ہے۔  وہ مصنف کے لکھے کو نہ صرف برضا و رغبت قبول کرتے ہیں بلکہ اس حیثیت سے قاری بھی انہیں بسر و چشم قبول کرتا چلا جاتا ہے۔
 صاحب ،ایک کردار ایسا ہے کہ مصنف نے جس کے لیے پڑھنے والوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کو ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے مگر قاری اسے اپنے دل میں مناسب جگہ نہیں دے پاتا حالانکہ وہ کردار بہت خوبصورت اور  بہت دلآویز ہے۔  یہ کردار نجی کی ناجائز اولاد اور  سلیم کی محبوبہ نینا کا ہے، جو خالد کی لے پالک بلکہ اصل بیٹی کی طرح اس گھر میں رہتی ہے اور  یوں رہتی ہے کہ اس کی خوشبو سے سارا گھر مہکتا رہتا ہے۔ جس کے وجود کی مہک سے خالد کے گھر کے درو دیوار سرشار تھے خالد کے بیٹے نعیم کے دل پراس وجود کی مہک دستک نہ دے پائی تھی۔  بالکل اسی طرح جس طرح قاری کے دل تک اس مہک کی دسترس نہیں ہو پاتی۔ یہ کردار آخر تک پہنچتے پہنچتے اس قدر بے بس لاچار اور  مظلوم ہو جاتا ہے کہ بدلے میں اسے پڑھنے والوں کی ڈھیروں ہمدردیاں ملنی چاہییں ، مصنف بھی ایسا ہی چاہتا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔  قارئین کی ساری ہمدردیاں اس بوڑھے کی جھولی میں جا پڑتی ہیں جس کے ماتھے کا داغ اس خوبصورت لڑکی کو بنا دیا جاتا ہے،  ہمدردیاں سمیٹنے والا بوڑھا کوئی اور  نہیں اس ناول کا مرکزی کردار خالد ہے۔
 نکے پنڈ میں پلنے بڑھنے والا خالد، جس کا باپ حکیم بن گیا تھا۔ ایک وقت تھا کہ خالد کے بزرگ بارہ تیرہ ایکڑ اراضی کے مالک تھے۔ یہ اراضی وہ خود ہی کاشت کرتے تھے لیکن اس کے دادا نے اپنی زمین ملک خوشی محمد کو لکھ دی اور  خود سائیں جی ہو گئے تھے کہ انہیں اپنی نسل کو ختم ہونے سے بچانا تھا۔ خالد کی دادی نے چرخہ کات کات کر گھر کا خرچ پورا کیا۔  دادا جی فوت ہو گئے اور  خالد ایسے ہی حالات میں پڑھ لکھ کر شہر پہنچ گیا۔  وکیل بنا، محبت کی۔ جس سے محبت کی اس سے شادی نہ کر سکا۔  جس سے شادی کی وہ زندگی کا حصہ نہ بن سکی۔  جو اس کے لیے اجڑ گئی اسے دیکھا تو تڑپ اٹھا کہ اس کو تو زندگی کا ساتھی ہونا چاہیے تھا۔  کفارہ یوں ادا کیا کہ اس کی ناجائز بیٹی کو اپنے گھر میں بیٹی بنا کر لا بسایا مگر اس کے دشمن نے اسی کو اس کے لیے گالی بنا دیا۔  وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔ اس کے لیے سب کچھ اندھیر ہو گیا تھا اور  وہ ننگے پاؤں ریت کی ڈھیری پر جا بیٹھا تھا۔
 قاری جو خالد کے ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے یہاں پہنچ کر اس کا دل بھی بیٹھ جاتا ہے۔  ایسے میں کئی خواہشیں جنم لیتی ہیں  ۔۔  کاش مصنف اتنا بے درد نہ ہوتا، اسے عاشی سے ہی ملوا دیتا کہ جس کے بدن کے مہک ناول کے صفحوں سے بھی اٹھ رہی ہے۔  ایسا ممکن نہ تھا تو کاش ولی محمد سنیارے کی بیٹی نجمہ ہی اس کا مقدر بن جاتی کہ جو خود سونے کی ڈلی تھی۔  اور  نہیں تو زینت کم از کم بالکل ملوانی نہ ہوتی، یوں ہوتی جیسے شہناز تھی، قہقہے لگانے والی ، جملے پھینکنے والی، دلگیری کرنے والی، الجھنوں کو سلجھانے والی۔ مگر ناول جوں جوں آگے بڑھتا ہے ظالم دکھ کے پنجوں کی گرفت دل پر مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسے میں فرحانہ بھی بہت پیچھے رہ جاتی ہے اور  میں سوچتا ہوں ، فرحانہ کو اتنا پیچھے تو نہیں رہنا چاہیے تھا۔ مگر میرے چاہنے اور  خواہش کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے، کہانی کو تو اسی نہج پر چلنا تھا جس پر ناول نگار چلانا چاہتا تھا۔  سو ناول جب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو میں اپنے سارے ’’اگر مگر‘‘ بھول جاتا ہوں اور  تسلیم کر لیتا ہوں کہ منشا یاد جیسا فنکار کہانی کو قاری کی مرضی سے نہیں بلکہ خود اپنی مرضی سے جیسے چاہتا ہے ،چلاتا ہے اور  یہ بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ناول کے ایسے کردار پنجاب سے اور  پنجابی زبان میں ہی تخلیق کیے جا سکتے تھے اور  انہیں کوئی اور  نہیں صرف منشا یاد ہی تراش سکتا تھا۔
٭٭٭



اردو افسانہ : ایک صدی کا قصہ

(۲۹  جنوری ۲۰۰۴ء کی صبح یعنی کانفرنس کے روز پاکستان ٹیلی ویژن نے اردو افسانے کی ایک صدی مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظر منشا یاد اور  محمد حمید شاہد کی گفتگو لائیو نشر کی۔ اینکر پرسنز کے فرائض نوید صدیقی  اور  مریم ملک نے ادا کیے جبکہ پروگرام پروڈیوسر قیصر نقی امام تھے ) 

نوید صدیقی  : پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام روشن پاکستان میں ہم کو شش کرتے ہیں کہ آپ کو زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں ہونے والوں سے ملائیں۔ آج ہمارے پاس جو دو مہمان موجود ہیں وہ بہت ہی اہم ہیں۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ محمد منشا یاد صاحب جو مشہور افسانہ نگار اور  ڈرامہ نگار ہیں۔ ان کے ساتھ موجود ہیں محمد حمید شاہد صاحب ، جو افسانہ نگار اور  نقاد ہیں۔ آپ دونوں کی تشریف آوری کا شکریہ۔
منشا یاد/محمد حمید شاہد: آپ کا شکریہ
نوید صدیقی : افسانے کے حوالے سے بات کرتے ہیں منشا یاد صاحب، جو ہمارے پاس ریکارڈ اور  تاریخ ہے اس کے مطابق پہلا اردو افسانہ 1903ء میں لکھا گیا۔گویا اردو افسانے نے ایک صدی مکمل کر لی ہے۔آپ فرمائیں کہ افسانہ لکھنے کی ابتدا اردو میں کیسے ہوئی ؟
منشا یاد:آپ جانتے ہی ہیں کہ پہلے داستان کا ایک دور تھا ، جیسے آپ نے ’’الف لیلہ‘‘ کی داستان سن رکھی ہے۔ ایک مسجع اور  مقفیٰ قسم کی عبارت ہوتی تھی اور  مبالغہ سے پر ایسی زبان میں فرضی کرداروں اور  پریوں اور جنوں کی کہانی،۔ پھر افسانہ آیا ، اگرچہ مختصر کہانی ہمارے ہاں تھی مگر افسانے کی صنف ہم نے مغرب سے مستعار لی یا یوں کہہ لیں کہ مغرب کی دیکھا دیکھی ادھر آئی۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ مانا جاتا تھا کہ پریم چند پہلے بڑے افسانہ نگار ہیں اور  اس میں شک نہیں کہ اگر بڑا افسانہ نگار کہیں تو ہی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دم کوئی بڑا افسانہ لکھ لیا گیا ،پریم چند کے ہاں بھی ارتقاء آیا۔ تو پہلا افسانہ نگار نقادوں اور  محققین نے راشد الخیری کو قرار دیا ہے۔ 1965ء میں پنجاب یونیورسٹی میں ایک مقالہ لکھا گیا اس میں کہا گیا کہ راشد الخیری نے جو افسانہ ‘‘ نصیر اور  خدیجہ‘‘ لکھا وہ پہلا افسانہ ہے۔ وہ ایک خط کی صورت میں ہے۔ایک بہن اپنے بھائی کو خط لکھ رہی ہے۔ اور  دوسری فوت ہو جانے والی بہن کے بچوں کی حالت بیان کر رہی ہے اور  اسے ان کی دیکھ بھال کے لیے کہہ رہی ہے۔ یہ بہت خوب صورت انداز میں ہے۔افسانے میں یہی ہوتا ہے کہ اس میں کس ایک خیال ، واقعہ یا ایک بات ہوتی ہے ، جو  اس کی مرکزی تھیم بنتی ہے۔
نوید صدیقی  : آپ نے بجا فرمایا مگر حمید شاہد صاحب آپ کہیں ، کیا 1903ء سے افسانہ اردو میں نہیں لکھا جاتا تھا۔کیا پہلے مختصر بات کہنے کی روایت نہیں تھی ؟
محمد حمید شاہد : آپ نے مناسب سوال کیا لیکن پہلے تو یہ دیکھ لیا جائے کہ  افسانہ ہے کیا ؟۔ افسانے میں جو کچھ آپ بیان کر رہے ہوتے ہیں وہ آرٹ کی فارم میں ہوتا ہے۔ اس میں یوں نہیں ہوتا کہ آپ وعظ اور  نصیحت کرنے لگیں کہ صاحب آپ کو یہ کرنا چاہیے اور  یہ نہیں کرنا چاہیے ، یہ راستہ ہے جس پر چلنا ہے اور  یہ راستہ خراب ہے ادھر مت جائیے۔ افسانہ نگار نے تو صورت حال کو اس طرح پیش کرنا ہے کہ پڑھنے والا خود اپنے اندر سے روشنی پھوٹتی ہوئی محسوس کرے ورنہ تو اس سے پہلے کی تحریریں بھی موجود ہیں۔ سر سید احمد خان کی تحریروں کو بھی تو آپ افسانہ کہہ سکتے ہیں ،جو کہانی کی صورت میں لکھی گئیں۔ ’’گزرا ہوا زمانہ ‘‘ کو لے لیں ، مگر اس میں سے آپ کو کچھ ٹکڑے نکالنے پڑیں گے جن میں وہ قاری سے مخاطب ہو جاتے ہیں اور  کہتے ہیں کہ صاحب اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو یہ کرنا ہے۔ تو یہ چیز جب نکل گئی اور  بعد میں بالکل  کامپیکٹ صورت میں آپ کے سامنے فن پارہ آ گیا تو ہم نے کہا یہ افسانہ ہے۔ کہانی کی روایت پہلے بھی موجود تھی لیکن 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہمارے ہاں انحطاط آیا۔  غلامی کی ایک اور  گرہ پڑنے کے بعد ہمارے ہاں بہت توڑ پھوڑ شروع ہو گئی تھی اس کے بعد ہمارے ہاں بہت سی اصلاح پسند تحریکیں شروع ہو گئیں ان کے افسانے پر بھی اثرات پڑے لیکن راشد الخیری تک آ کر آپ کو پیور فارم میں آرٹ کی سطح پر لکھی ہوئی کہانی کا رجحان ملتا ہے۔ راشد الخیری ہوں یا سلطان حیدر جوش یا پھر پریم چند، ان کے ہاں کہانی نکھری ہوئی صورت میں سامنے آتی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب افسانہ ،جس طرح مغرب میں لکھا جا رہا تھا ،لگ بھگ اسی اسلوب میں یہاں لکھا گیا لیکن اپنی روایات کو ساتھ لے کر۔ اپنے تقاضوں اور  اپنے مسائل کو سامنے لے کر افسانہ سامنے آتا ہے۔
مریم ملک : منشا یاد صاحب ، آپ نے ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔ کچھ سیریل بھی لکھے اور  ہم جانتے ہیں کہ ایک نام ہے آپ کا۔ تو آپ کیا کہتے ہیں کہ افسانہ جو ڈرامہ بن کر ٹیلی ویژن پر چلتا ہے اس کا امپیکٹ زیادہ ہوتا ہے لوگوں پر یا جو لکھتے ہیں کتاب میں اس کا ؟
منشا یاد: ظاہر ہے جب افسانہ یا ناول ڈرامے یا فلم کی صورت پیش ہوتا ہے تو اسے سب دیکھتے ہیں۔ اور  اس میں پڑھا لکھا ہونے کی شرط بھی نہیں ہوتی
( قہقہہ) سب کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔ اور  دوسری بات یہ ہے کہ اس کو پیش کرنے میں اور  لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں۔تو اسطرح وہ مقبول ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ جو لکھا ہوا لفظ ہے اس کی اپنی اہمیت ہے اور  جو کچھ آپ لکھتے ہیں اسے آپ بعینہِ ویسے دکھا نہیں سکتے۔ممکن ہی نہیں ہوتا کہ ہر وہ چیز آپ دکھا سکیں جو قلم سے نکلتی ہے۔  بہرحال افسانے اور  ناول کا ڈرامے کے ساتھ ایک تعلق تو ہے۔ لیکن ہم افسانے کی بات کرنا چاہتے ہیں کہ اردو افسانے کی ایک صدی مکمل ہونے پر آج ہم اسلام آباد میں جو قومی ادبی سیمینار منعقد کر رہے ہیں اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت،۔اس میں شرکت  کے لئے کراچی ،لاہور گوجرانوالہ اور  دوسرے شہروں سے بھی افسانہ نگار آرہے ہیں۔ وہ مقالات پڑھیں گے اور  دوسرے سیشن میں افسانے بھی پڑھے جائیں گے۔ہم یوں سو سال کے افسانے کو یاد کریں گے اور  یہ سلسلہ آگے چلتا رہے گا۔ 
مریم ملک: ٹیلی ویژن کے لیے جو آپ نے ڈرامے لکھے تو کیا یہ آپ کے اپنے افسانے تھے یا ۔۔ 
 نوید صدیقی : یعنی ٹیلی ویژن کے لیے آپ نے ڈائیریکٹلی لکھا یا کہ آپ نے پہلے افسانے لکھے اور  پھر انہیں ٹیلی ویژن کے لئے اڈاپٹ کیا۔
منشا یاد: نہیں ، جو ’’بندھن‘‘ اور ’’ جنون‘‘ تھے وہ دوسروں کے ناول تھے راہیں اور میرے ناول پر ۔۔ 
نوید صدیقی  : ناظرین یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ منشا یاد صاحب کے کئی ڈرامے یا سیریل آ چکے ہیں۔ ’’راہیں ‘‘ ’’ بندھن ‘‘ اور  ’’جنون‘‘ سیریلز آپ نے دیکھے اور  آج کل آپ ’’پورے چاند کی رات ‘‘ دیکھ رہے ہیں جو پی ٹی وی پر چل رہا ہے۔ لانگ پلے اور کئی انفرادی ڈرامے بھی منشا یاد صاحب لکھ چکے ہیں۔جی
منشا یاد:  تومیں افسانے کی بات کر رہا تھا۔ افسانے کا جس طرح سفر آگے بڑھا اہم ناموں کا اضافہ ہوتا گیا۔ سعادت حسن منٹو پاکستان بننے سے پہلے بھی لکھ رہے اور  پاکستان بننے کے بعد بھی انہوں نے لکھا۔ اور  احمد ندیم قاسمی ایک اور  بڑا نام، اردو زبان کے دوسرے بڑے لکھنے والے کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی اور  غلام عباس۔ ادھر پاکستان میں ابھی پچھلے دنوں ایک انگریزی کے اخبار نے سروے کیا اور  لکھا کہ اگر پانچ افسانے منتخب کرنے ہوں۔ دس بیس کی بات ہوتی  تو شاید ہم بھی اس میں آ جاتے (قہقہہ)، تو اس نے جو پانچ بہترین افسانے منتخب کئے ان میں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ منٹو کا ، ’’اوور کوٹ‘‘ غلام عباس کا، ’’ آپا ‘‘ ممتاز مفتی کا۔’’ گڈریا‘‘ اشفاق احمد کا ، اور  ’’ آخری آدمی‘‘ انتظار حسین کا ، یہ پانچ افسانے اخبار کے مطابق بہترین ہیں۔ ویسے تو ان کے علاوہ احمد ندیم قاسمی نے بہترین افسانے لکھے ہیں جن پر فلمیں بھی بنیں۔وہ جو فلموں کا جٹ والا سلسلہ تھا مولاجٹ سے شروع ہونے والا یہ ان کے افسانے گنڈاسا سے شروع ہوا تھا ۔’’ پرمیشر سنگھ‘‘ پر بڑی مشہور فلم بنی تھی کرتار سنگھ۔پھر ان کا ایک بہت خوب صورت افسانہ تھا رئیس خانہ۔
نوید صدیقی : جی ہاں سیف الدین سیف صاحب والی
منشا یاد: یہ ان کا سب سے مشہور افسانہ ہے۔ان کے مجموعے ہیں درجنوں کے حساب سے۔اس کے علاوہ غلام عباس کا ’’آنندی‘‘ بڑا مشہور ہے اس پر فلمیں بنیں پڑوسی ملک میں منڈی کے نام سے ، اور  یہاں بھی بنی۔
نوید صدیقی : جی منٹو صاحب کے افسانے پر بھی بنی وہ جھمکے والی فلم’’ بدنام ‘‘ 
محمد حمید شاہد: یوں تو بہت سارے افسانوں کو ڈرامائی تشکیل دی گئی ،منٹو ، قاسمی صاحب، اسد محمد خان کے افسانوں پر ڈرامے بنے، خود منشا یاد صاحب کے افسانوں پر ڈرامے بنے۔ اور  افسانوں پر اتنے اچھے ڈرامے بنے ہیں کہ آپ انہیں اپنی لائبریری میں رکھنا پسند کریں گے۔ جنہیں آپ ایک دفعہ دیکھ کر پرے پھینکنا نہیں چاہیں گے کہ جی چلیں دیکھ لیا اور  ختم ہوئی بات۔ بلکہ آپ محفوظ کر لیں گے کہ ان میں کچھ کہا گیا ہے اور  زندگی کو آگے بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔ 
نوید صدیقی  : یہ جو آپ نے لائبریری والی بات کی ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عموماً آج کل یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ کمپیریٹولی پڑھنے والوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔اس میں مختلف آراء ہیں کہ بڑھ گئی ہے، تعداد چھپنے کی شاید زیادہ ہو گئی ہے لیکن جنرل پرسپشن یہی ہے۔ ذرا پیچھے کی بات کریں تو ادبی رسائل تک ہر ایک کی رسائی تھی اور  لوگ پڑھتے بھی تھے۔ آج کل بس یہ جاننے کی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیلی ویژن پر کون کون سے پروگرام آرہے ہیں ،کون کون سے آنے والے ہیں۔ تو یہ جو ٹیکنالوجی کا بہاؤ ہے اور  میڈیا کی ڈامینیشن ہے تو کیا خیال ہے اس نے کتاب کی اہمیت کو کم نہیں کیا ہے ؟
محمد حمید شاہد : جی ، نئی دلہن کچھ دن راج تو کرے گی (قہقہہ) اور  وہ اچھی بھی لگتی ہے۔ ٹیکنالوجی ہمارے ہاں نئی دلہن کی طرح ہے۔ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی آپ کے ہاں سیلاب کی طرح آ رہی ہے ،اوور لوڈ کر رہی ہے جیسا کہ آپ نے کہا۔ تو یہ سارا کچھ آ تو رہا ہے لیکن مت بھولیے کہ کتاب زیادہ تعداد میں چھپنے لگی ہے ، صاحب مقابلہ ہے۔ اور  یہ مقابلہ دو سطحوں پر ہوتا ہے۔ دیکھیں جی یہ جو انسانیت ہے اسے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،ایک علم کی اور  ایک تہذیب کی۔ اسی سے معاشرے قائم رہ سکتے ہیں اور  اسی سے معاشرے آگے چلتے ہیں۔ مانا کہ پہلے ہمارے ہاں کتاب کم ہوتی تھی اور  پڑھنے والے بھی کم ہی تھے لیکن وہ اس کی اہمیت کو جانتے تھے کہ یہ میڈیا کا زور ان کے ہاں نہیں تھا۔ اور  ہمیں یہ شدت سے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ پہلے کتاب کی قدر ہوتی تھی۔ اب بھی کتاب پڑھنے والی اسی تناسب سی ہیں لیکن میڈیا سے اب چونکہ ان لوگوں کا زیادہ چلن ہے جو کتاب سے کچھ دور ہیں اور انفارمیشن سے زیادہ قریب ہیں لہذا یوں محسوس ہوتا ہے کہ انفارمیشن کے تلے کتاب دب گئی ہے۔ کتاب دبے گی نہیں۔ کتاب اپنا کتاب کرتی رہتی ہے۔ افسانہ اپنا کام کر رہا ہے۔اب دیکھیں افسانے کاکام ہے لوگوں کو تہذیب دینا ،زندگی کے اصل حقائق انہیں بتانا۔ایک طرف مارکیٹ اکانومی ہے اور  دوسری طرف کتاب۔ ابھی افسانہ ’’آنندی‘‘ کی بات ہو رہی تھی۔تو افسانہ ’’آنندی‘‘ کیا ہے غلام عباس کا ، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب لوگ مارکیٹ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں تو اس کی بعد کیا کچھ ہوتا ہے۔ پھر آپ کو ایک فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔وہ فیصلہ چاہے غلط ہوتا ہے یا صحیح ،میں یہ نہیں کہتا ،تو پھر آپ کو ایک بسا بسایا شہر اجاڑ دینا پڑتا ہے کہ چلیں جی نئی جگہ چلیں۔ تو یہ چیز ہمیں افسانہ ہی بتا سکتا ہے اور  بتاتا ہے مارکیٹ اکانومی آپ کو نہیں بتائے گی۔
مریم ملک: تو یہ جو ساری ہماری ٹیکنالوجی ہے ،ٹیلی ویژن کا میڈیم ہے انٹرنیٹ ہے اور  ساری دنیا گلوبل ویلیج بن گئی ہے تو کیا اگر لکھنے والے ان سے مل کر لکھیں اور  مل کر چلیں تو ہیلپ فل نہیں ہو گا یہ سب کچھ؟
محمد حمید شاہد : جی ہو گا اور  میرا خیال ہے کہ ہے اور  ایسا ہی ہو رہا ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود فرمایا کہ بہت سے افسانوں کے ڈرامے بنائے گئے۔ بہت سے ناولوں پر فلمیں بنیں تو یوں کتاب تو ہے اور  یہ جو لٹریچر کی کتاب ہے چاہے وہ ہمارے ہاں ہے یا مغربی تہذیب میں وہ کبھی فرنٹ شیلف پر رکھی نہیں ہوتی او بیک شیلف پر ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ 
مریم ملک : یہ طاقت رکھتی ہے 
محمد حمید شاہد : جی ، یہ نمک کی طرح ہیں۔ یہ جو لکھنے والے ہوتے ہیں یہ آٹے میں نمک جیسے ہیں۔ معاشرے کے آٹے میں اس طرح کا نمک ،جو ذائقہ بناتا ہے اور  یہی ذائقہ بناتا ہے۔ تو لکھنے والے نمک ضرور ہیں مگر زندگی اور  تہذیب کا یہی ذائقہ بناتے ہیں۔
منشا یاد: ایک اور  بات بھی ہے اور  میں سمجھتا ہوں کہ وقت کی ساتھ ساتھ کتاب کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ اور  وہ زیادہ دور تک پہنچنے لگی ہے۔ پہلے جو کتاب چھپتی تھی ایک ہزار یا دو ہزار۔جن لوگوں تک پہنچتی تھی ظاہر ہے وہ ایک یا دو ہزار ہوتے تھے۔ لیکن اب جب کتاب نیٹ پر جاتی ہے ، اس کے مندرجات نیٹ پر جاتے ہیں یا صرف اس کی چبر ہی جاتی ہے، وہ لوگ جو انٹر نیٹ کو جانتے ہیں انہیں پتا ہے کہ کیسے اور  کہاں کہاں پہنچتی ہے۔پوری کی پوری کتابیں لوڈ ہو جاتی ہیں اور  ہیں۔حتی کہ وہ کتابیں بھی جو بین ہو گئی ہیں ، وہ بھی آپ کو وہاں مل جاتی ہیں۔ آپ پڑھ سکتے ہیں انہیں دیکھ سکتے ہیں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔تو وہ ساری کتابیں ،افسانے اور  ڈرامے یا ان کا ذکر جب اپ لوڈ ہوتا ہے اور  دوسرے ہی لمحے آپ کو رسپانس مل جاتا ہے امریکہ سے ،انگلینڈ یا کینیڈا سے۔ اب اگر آدمی کی یا نوجوان کی دلچسپی کم ہوئی ہے کتا ب سے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی وہ بہت مصروف ہے تصویریں دیکھنے اور  گانے سننے میں (قہقہہ) اسے جب فرصت ملے گی تو کمپیوٹر والا اگلا سوال آئے گا۔ لائبریری جانے اور  کتابیں پڑھنے کی طرف جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب تو کتاب کی اشاعت بھی آسان ہو گئی ہے اور  اس کا پھیلاؤ بھی دور تک ہو گیا ہے۔
نوید صدیقی : اسی حوالے سے ہم اپنی گفتگو جاری رکھیں گے۔ہمارے مہمان ہمارے ساتھ ہیں ابھی منشا یاد صاحب نے جیسا کہ گانے کا ذکر کیا(ہنستے ہوئے) ہم آپ سب کو اور  اپنے مہمانو ں کو بھی ایک خوب صورت گیت سنواتے ہی ٹینا ثانی کا۔آئیے سنتے ہیں۔
 ۔۔ وقفہ ۔۔  
مریم ملک: آپ نے ٹینا ثانی کو سنا اور  اب ہم گفتگو جاری رکھیں گے اپنے مہمانوں کے ساتھ۔
نوید صدیقی : ہمارے ساتھ جو مہمان موجود ہیں۔ بہت ہی جانے پہچانے نام ، بہت معروف۔جناب منشا یاد صاحب کی پہلی کتاب 1975ء میں آئی۔ اس کے بعد آٹھ افسانوں کے مجموعے ائے۔ایک ناول آیا ،چار ڈرامہ سریل اور  ان میں سے ایک آج کل آپ دیکھ رہے ہیں ’’پورے چاند کی رات‘‘ اس کے علاوہ متعدد انتھالوجیز اور  انفرادی پلے بھی ہیں۔ منشا یاد صاحب موجود ہیں محمد حمید شاہد۔آپ افسانہ نگار اور  نقاد ہیں۔ افسانوں کے دو مجموعے اب تک چھپ چکے ہیں تنقید اور  دوسری نثری کتابیں الگ ہیں۔ تراجم پر مشتمل کتاب بھی چھپ چکی ہے اور  نثری نظم کی بھی۔ جی ، تو ہم افسانے پر بات کر رہے تھے۔ افسانے کے حوالے سے ،جیسا کہ شروع میں ہم نے گفتگو کی کہ اردو افسانے کا سو سال کا سفر پورا ہو گیا ہے۔ قیام پاکستان کی اردگرد کے افسانے پر تو غالباً ہم بات کر چکے تھے، ساٹھ کی دہائی کی طرف آئیں تو کیا صورت حال بنتی ہے ؟
منشا یاد: ساٹھ کی دہائی میں ، شاعری میں بھی اور  افسانے میں بھی ، ایک تبدیلی آئی، جدیدیت کی ایک لہر آئی۔ جس میں علامت نگاری کو خاص طور پر اپنایا گیا اور  اسلوب میں انقلاب آیا۔ پہلے جو افسانہ تھا اس میں تفصیل نگاری تھی ،خارجی زندگی اور  اس کا ذکر ہوتا تھا۔اب  اشاریت کے ساتھ باطنی زندگی کا ذکر ہونے لگا۔افسانے میں ایجاز و اختصار آیا اور  اس اسلوب کی ابتدا ساٹھ کی دہائی میں ہوئی۔ جب کوئی نیا رجحان اور  اسلوب آتا یا نیا تجربہ ہوتا ہے تو اس میں افراط و تفریط کا امکان ہوتا ہے۔ تو یوں ہوا کہ افسانے کے قاری کا کچھ عرصے کے لئے افسانے سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ یعنی لوگوں کو یہ رجحان اجنبی سا لگا تھا اور  لکھنے والوں نے بھی کچھ زیادہ ہی تیزی دکھائی اور  قاری سے آگے نکل گئے۔ لیکن اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد اس تجربے میں استحکام سا آ گیا اور  اس میں بڑے خوب صورت افسانے لکھے گئے۔بلاشبہ پاکستان میں اس رجحان کے بانی ڈاکٹر انور سجاد ہیں اور بھارت میں بلراج مین را۔ تو اس میں انور سجاد نے بہت اچھے افسانے لکھے ،جیسے’ گائے‘‘ اور  ’’چھٹی کا دن‘‘  وغیرہ۔ اور یہ سب ایک نئے اسلوب ایک نئی ڈکشن کے ساتھ تھے۔
محمد حمید شاہد : اس اسلوب میں ڈاکٹر رشید امجد کے افسانے بھی تو بہت اہم ہیں۔ اور  انہوں نے اس اسلوب میں بہت زیادہ افسانے لکھے۔خود منشا یاد صاحب آپ بھی تو اس اسلوب کی طرف گئے اگرچہ آپ علامت کے ساتھ ساتھ بیانیہ میں بھی لکھ رہے تھے۔ یہ تو بہرحال طے ہے کہ افسانے کے اندر اس تحریک نے ،جو علامت کی تھی اور  تجرید کی بھی ،اس ن گہرائی پیدا کی۔ خارجی سطح پر آپ بہت سی چیزیں دیکھتے ہیں اور  انہیں سطح پر سے ہی دیکھتے ہیں۔ مگر جب ان کے اندر اتر کر دیکھیں تو تجربہ مختلف ہو جاتا ہے۔ اب وہ علامت جو زمین سے اُگی تھی اور  معاشرے سے اٹھائی گئی تھی ،اس نے کمونی کیٹ بھی کیا اور  قاری تک پہنچی بھی  ،لیکن بہت سارے ایسے افسانے بھی لکھے گئے جن کی علامتیں معاشرے سے نہیں اٹھائی گئی تھیں ،باہر سے لے لی گئی تھیں یا ہم نے خود وضع کر لی تھیں۔ جب خود ہی وضع کر لیں اور  باہر سے اٹھا لیں تو ظاہر ہے ان کی ترسیل نہیں ہو رہی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قاری دور ہو گیا۔ پھر افسانہ باہر کی طرف لپکا اور  اندر سے رشتہ بھی مستحکم رکھا۔ گزشتہ ربع صدی میں آ کر جب ہم دیکھتے ہیں تو افسانہ ہمیں دو سطحوں پر ترسیل کرتا نظر آتا ہے دو سطحوں پر آپ کی استھیٹک یعنی آپ کی جمالیات کو مطمئن کرتا ہے۔  جس طرح ایک چراغ ہوتا ہے وہ جسے بینٹھی کہتے ہیں آپ اسے ایک طرف سے بھی جلا سکتے ہیں اور  دوسری طرف سے بھی۔ اسی طرح یہ افسانہ خارج سے بھی مکمل صورت میں ہوتا ہے اور  آپ ایک واقعہ کو ہوتے دیکھتے ہیں اسے آگے بڑھتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ وہ پیک پر پہنچتا ہے ،تصادم کی صورت حال کو آنا ہو تو وہ بھی آتی ہے یا اسے جو رخ اختیار کرنا ہوتا ہے وہ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کی اندر بھی اس سے بہت بڑی بات کہی جا رہی ہوتی ہے ، بڑی اور  آفاقی بات۔
نوید صدیقی : جو پس پردہ کہی جا رہی رہی ہوتی ہے۔
محمد حمید شاہد : جی ہاں  اور  ضروری نہیں ہے کہ ہر قاری اس تک پہنچے بھی لیکن ذہین اور  با ذوق قاری اس تک پہنچتا ہے اور  یہ وہ بات ہوتی ہے جو آپ سامنے نہیں کہہ سکتے۔اسے آپ کو پردے میں چھپا کر ہی کہنا ہوتا تھا۔افسانے میں اس طرح لکھنے کی جو روایت ہے یہ گزشتہ ربع صدی میں ڈالی گئی ہے۔ اور  میں سمجھتا ہوں کہ اس کے پیچھے وہ سارے تجربے موجود ہیں جو افسانے میں منٹو نے کیے ،جو بیدی صاحب نے کئے تھے ،جو انتظار حسین کے ’’زرد کتا‘‘ کی صورت سامنے آئے ،جو اشفاق احمد نے ’’گڈریا‘‘ اور  ’’ہے گھوڑا‘‘ میں کئے ،وہ انور سجاد کے ہاں ہوئے، منشا یاد اور  رشید امجد نے کئے ،اسد محمد خان نے کئے۔تو یہ سارے تجربے یہاں جب ایک نقطے پر مرتکز ہوتے ہیں تو ایک نئے افسانے کی اور  افسانے میں ایک نئی صورت کی کرنیں پھوٹ پڑتی ہیں۔
نوید صدیقی : منشا یاد صاحب ، اسی حوالے سے میں پوچھنا چاہوں گا کہ جو علامت کا سلسلہ تھا جسے ہم بیٹوین دی لائین بات کہنے کی صورت کہتے ہیں۔ اس کی علاوہ کوئی اور  تحریک جو افسانے کو موجودہ صورت میں لانے میں معاون رہی؟
منشا یاد: ہاں ،ویسے تو اور  بھی رجحان اور تحریکیں ہیں مگر پاکستانی افسانے میں جدیدیت اور  علامت نگاری کا رجحان غالب رہا ہے۔ اور  اس میں بہت اچھی کہانیاں لکھی گئیں۔ ابھی گذشتہ رات کو مجھے افسانہ سیمینار کے سلسلے میں جو احمد ندیم قاسمی صاحب کا خط اور  وزیر آغا صاحب کا پیغام ملا ہے۔وزیر آغا ہمارے بہت اچھے نقاد ہیں انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کہ ان سو برسوں میں اردو افسانہ ماورائیت ،ارضیت ،تجریدیت اور علامتیت کے مختلف مراحل سے گزر کر اب اس مقام پر آ پہنچا ہے جہاں ان سب کا امتزاج رونما ہونے لگا ہے۔اب افسانہ اور پلاٹ دوبارہ نمودار ہو گئے ہیں مگر اپنے تجریدی اور  علامتی ابعاد کے ساتھ۔ یہ ایک نہایت اہم پیش رفت ہے۔ان کی یہ بات بہت خوبصورت ہے کہ اب سارے رجحان مل کر ایک ہو گئے ہیں۔سارے اسالیب اور  سارے رویے مدغم ہو گئے ہیں۔ اب وہ تقسیم ختم ہو گئی ہے کہ یہ خارج کا افسانہ ہے یا داخل کا ،اس میں علامت ہے یا بیانیہ۔
 نوید صدیقی : گویا صرف افسانہ رہ گیا ہے اور  تجربہ مکمل ہوا 
منشا یاد: ہاں ،  اب یہ نئے لوگ ہیں حمید شاہد صاحب اور  ان کے ساتھ بہت سارے نوجوان لکھنے والے۔ اعجاز راہی اور  رشید امجد اور یونس جاوید تو ہمارے ساتھ تھے ،پھر ہمارے فورا بعد آنے والوں میں احمد جاوید اہم تھے۔
محمد حمید شاہد: اور  انور زاہدی بھی
مریم ملک: منشا یاد صاحب آپ نے ڈرامے لکھے اور  افسانے بھی۔تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی زیادہ پہچان آپ کے افسانوں اور  ان کے پڑھنے والوں سے بنی یا جو آپ نے ڈرامے لکھے اور  دیکھے گئے ان کی وجہ سے؟
منشا یاد: دیکھیں جی بات اس طرح ہے کہ جب  پہلی بار پروین شاکر کی دس بارہ غزلیں ایک ساتھ چھپیں تو ہم ادب کی دنیا میں چونک گئے تھے ، لیکن ان کو پبلک میں کوئی نہیں جانتا تھا۔بعد میں بھی دو تین برس ہم ان کو پڑھتے رہے لیکن پبلک میں ان کو کوئی نہ جانتا تھا۔ایک دن وہ ٹی وی پر آئیں اور  آ کر اپنی غزلیں سنائیں اگلے روز جب میں اپنے دفتر پہنچا تو سارے دفتر  والوں نے کہا ایک نئی شاعرہ آئی ہے پروین شاکر۔رات کو ٹی وی پر اسے سنا ؟ (قہقہہ) یہ تو ہوتا ہے ٹیلی ویژن کا اور  شو بز کا جو میڈیم ہے  ۔۔ 
نو ید صدیقی : ویوژل میڈیم کا اپنا اثر ہوتا ہے 
منشا یاد: ہاں ، لیکن یہ ہے کہ میری بنیادی پہچان تو وہی تھی۔ اور  اگر ٹیلی ویژن پر نہ آتا یا نہ بھی دکھایا جاتا تو پھر بھی لکھتا رہتا کہ جگنو کا کام تو چمکنا ہے ، وہ تو چمکے گا ، کوئی دیکھے نہ دیکھے ، کوئی پڑھے نہ پڑھے۔
نو ید صدیقی : مریم ملک شائد یہ پوچھنا چاہ رہی ہیں کہ آپ کو زیادہ کس نے سمجھا قاری نے یا ناظر نے ؟
منشا یاد: دیکھیں میرا خیال ہے قاری نے، جو کچھ ہم لکھ سکتے ہیں وہ پوری طرح ہم دکھا نہیں سکتے۔ نہ دکھایا جا سکتا ہے۔ پبلک میں یا لوگوں میں آپ کہہ سکتے ہیں ، کہ ٹی وی نے روشناس کرایا لیکن آپ کا اصل کام جو ہے اس کی اصل ایویلیوئیشن تو ڈاکٹر وزیر آغا جیسا نقاد ہی کرے گا یا وہی کرے گا جو فن کا نقاد ہے۔ وہ بتائے گا کہ افسانہ میں نے کیسا لکھا۔ اور  اس کی کیاریٹنگ کیا ہے ۔۔ 
نو ید صدیقی : اس میں شک نہیں لیکن آپ کی اپنی رائے  ۔۔ 
مریم ملک: (ہنستے ہوئے)آپ خود کیا کہتے ہیں ؟
منشا یاد: میں سمجھتا ہوں کہ ۔۔ 
نو ید صدیقی : یعنی آپ کو پڑھنے والے زیادہ رسپانڈ کرتے ہیں یا ٹیلی ویژن کی آڈیینش؟
منشا یاد: میرا خیال ہے دونوں۔
مریم ملک: آپ کو کیا اچھا لگتا ہے کہ آپ کتابیں زیادہ لکھیں یا ڈرامہ؟
منشا یاد: مجھے لکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ میں لکھنے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔
نو ید صدیقی  : بنیادی طور پر لکھنا چاہے وہ کتاب کی صورت میں ہو یا ڈرامے کی صورت میں لکھا جائے 
منشا یاد: ہاں ، یہ تو پیش کرنے کی صورت ہے ، ایک میڈیم ہے۔
مریم ملک: اچھا، شاہد صاحب آپ افسانے کے علاوہ تنقید بھی لکھتے ہیں ،تو بتائیں اسے کیسے لیا جاتا ہے۔ تنقید تو ذرا اور  چیز ہوتی ہے۔ اسی مشکل ہی سے لیا جاتا ہے۔ تو جب آپ تنقید کرتے ہیں تو آپ کو کیا رسپانس ملتا ہے ؟
محمد حمید شاہد: دیکھیں جی بنیادی طور پر تو میں افسانہ نگار ہوں۔ اور  افسانے میں ہی میری شناخت بھی بنی۔ حالانکہ میں نے نثمیں بھی لکھیں۔ تنقید کی طرف تو میں یوں آیا کہ جب میں کچھ پڑھتا ہوں ، کتابیں لکھنے والے بجھ پر مہربانی فرماتے ہیں کہ وہ اپنی کتابیں بھیج دیتے ہیں ، تو جب میں پڑھتا ہوں تو ایک رائے قائم کرتا ہوں۔ یہ رائے اچھی بھی ہو سکتی ہے اور  اچھی نہیں بھی ہو سکتی۔ اس کتاب کا یا اس فن پارے کا پڑھنے کی بعد مجھ پر یہی تقاضہ ہے کہ میں اس پر ایمانداری سے صحیح رائے دوں۔  اگر  درست رائے نہیں دوں گا تو دو نقصان ہوں گے ، ایک یہ کہ مجھے اپنے اپنے ضمیر پر بوجھ لے کر چلنا پڑے گا اور  دوسرا یہ کہ جو اس رائے کو پڑھے گا اس کتاب یا فن پارے کے بارے میں گمراہ ہو سکتا ہے۔اب رہ گئی بات آپ کے سوال کے اس حصے کی کہ جن پر تنقید لکھی جاتی ہے  وہ کیسے ری ایکٹ کرتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ جو سمجھدار ہو گا وہ تو مثبت رد  عمل ہی ظاہر کرے گا کہ بات یوں ہی نہیں پھینک دی جاتی۔ تنقید کے لیے بات کرنے کا ایک ڈھنگ ہوتا ہے۔ تنقید کا اپنا ایک سلیقہ ہوتا ہے۔یہاں بات طریقے سے کی جاتی ہے۔ کہ صاحب، اگر اس میں یہ اور  یہ کجی ہے تو اس سے یہ اور  یہ خرابی در آئی ہے۔ تنقید ایک اہم میڈیم ہے اور  اس کا مقصد صرف کہ فن پارے کی خامیاں تلاش کی جائیں۔ اب تو اس کے ذریعے بہت ساری چیزوں کو آپس میں ریلیٹ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
مریم ملک: اور  لوگ ان چیزوں کو ایکسیپٹ کر تے ہیں ، سہولت سے ؟
محمد حمید شاہد: جی، اور  پھر بہت سے علوم آ گئے ہیں۔آپ ایک فن پارے کو مختلف انداز سے دیکھ پرکھ رہے ہوتے ہیں۔ آپ اسے سائینسی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔معاشی اور  معاشرتی حوالی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور  وہ سارے فنون جن کا چلن آج کل ہے ان کی تناظر میں فن پارے کو دیکھا جاتا ہے کہ فن پارے مین جو کچھ کہا جا رہا ہے ان علوم اور  فنون کے حوالے سے اس کے کیا معنی بنتے ہیں ، کیا زاویے نکلتے ہیں۔ اور  پھر اس سے پہلی جو کچھ لکھا جا چکا ہے اور  جوجو تخلیقات  سامنے آ چکی ہیں اُس کے ساتھ اِس کا کیا تعلق بنتا ہے اور  کیا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ تو یوں تنقید صرف فن پارے میں خرابی کی نشاندہی نہیں ہے خوبی کی نشاندہی اور  بہتر تفہیم بھی تنقید کہلاتی ہے۔
مریم ملک: یہ بہت اچھا میسج تھا ،جو آپ نے دیا 
نو ید صدیقی : جی ، اور  اب جانے سے پہلے ہم آپ سے ایک سوال کرنا چاہیں گے۔افسانے کے جب جدید دور کی بات کرتے ہیں یا آئندہ کی افسانے کی بات کرتے ہیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے تفصیل سے بات کی اور  شاہکار افسانوں کی نشاندہی بھی کی۔ جب ہم جدید دور اور  آئندہ کی بات کرتے ہیں تو آپ کیا کہیں گے کہ دونوں بنیادی طور پر دوسرے شعبوں سے منسلک ہیں اور  ادب بھی لکھتے ہیں۔ شاہد صاحب بنکار ہیں اور  منشا یاد صاحب پبلک ایڈمنسٹریشن سے منسلک رہے ہیں اور  بنیادی طور پر ان دونوں شعبوں میں ادب کا عمل دخل کم ہی ہوتا ہے(قہقہہ) آپ نے دونوں کو ملایا آئندہ کے جو ادیب ہیں کیا وہ ایسا کر پائیں گے۔ کہ اکثر ہم کہتے ہیں پہلے بہت اچھا لکھا جاتا تھا اور  یہ ایک ناسٹیلجیا ہوتا ہے کہ پہلی چیزیں اچھی لگتی ہیں۔ ایسا ہمارے ہاں بھی ایک نیشنل کریکٹر بن چکا ہے اور  دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے۔ آئندہ کے افسانے کو آپ اس حوالے سے کس طرح دیکھتے ہیں۔
محمد حمید شا ہد: آپ نے بجا فرمایا کہ نا سٹیلجیا کے سبب ہم یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ پہلے جو کچھ ہوتا تھا سب اچھا تھا اور  اب اچھا نہیں ہو رہا۔ دراصل یہ قریب کی چیزیں بہت قریب ہونے سے آف فوکس ہو جاتی ہیں۔ آپ قریب کی چیز کو آنکھ کی قریب رکھ کر دیکھیں تو وہ دھندلا جائے گی۔ وہ صحیح طور پر نظر نہ آئے گی۔ ایک وقت چاہیے ہوتا ہے ، ایک فاصلہ ضروری ہوتا ہے چیزوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے ،ان کی صحیح اسیسمنٹ کے لیے۔ اردو افسانہ بہت خوب صورتی سے اب بھی لکھا جا رہا ہے۔ دیکھئے اردو کی حوالے سے دور دراز علاقے کوئٹہ سے حال ہی میں یعقوب شاہ غرشین کی افسانوں کی کتاب آئی ہے۔ فاروق سرور نے ایک بہت ہی خوب صورت افسانہ لکھا ’’زرد لومڑی‘‘ ۔ کیسی کیسی اچھی کتاب آ رہی ہے۔ پھر کراچی چلے جائیں آصف فرخی وہاں موجود ہیں ،مبین  مرزا وہاں ہیں  ۔۔ 
منشا یاد: اسد محمد خان بڑا اچھا لکھ رہے ہیں 
محمد حمید شاہد: درست مگر میں نئے لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔ یہ تو پرانے لوگوں میں سے ہیں ،آپ کے ایج گروپ کے ، سینئر۔  نئے لو گوں میں بتا رہا تھا کہ مبین مرزا ہیں کراچی سے۔ حیدر آباد چلے جائیں تو آپ کو افسانہ نگار وہاں بھی مل جائیں گے۔ لاہور آ جاتے ہیں تو امجد طفیل آپ کو وہاں نظر آتا ہے بڑی خوب صورتی سے افسانہ لکھ رہا ہے ’’،مچھلیاں شکار کرتی ہیں ‘‘ جیسا ۔۔ 
نو ید صدیقی  : گویا آپ کافی مطمئن ہیں 
محمد حمید شاہد: جی ، آپ فیصل آباد چلے جائیں ،وہاں طاہرہ اقبال موجود ہے آپ میانوالی چلے جائیں وہاں حامد سراج ہے، آپ مظفر آباد چلے جائیں تو وہاں محمد الیاس مل جائے گا اور  ۔۔ 
مریم ملک : کافی حد تک حوصلہ افزا ۔۔ 
منشا یاد: یوں تو بہت لوگ ہیں ، شائد آپ یہ بھی پو چھنا چاہتے ہیں کہ یہ لکھنا بطور پروفیشن کیسا ہے؟
مریم ملک :  لکھنا پروفیشن بنے گا یا نہیں بنے گا ؟
نوید صدیقی  : اس حوالے سے کہ چیزوں کو بیلنس کرنا کہ آئندہ تو کمر شلائزیشن کا دور ہے 
منشا یاد: ہاں ، اس وقت تو یہ صورت ہے کہ اکثر ادیب پارٹ ٹائم لکھتے ہیں۔صرف دوچار ادیب فل ٹائم ہیں ،جیسے مستنصر حسین تارڑ صرف لکھتے ہیں یا میڈیا سے وابستہ ہیں۔ زیادہ تر لوگ مختلف شعبو ں میں کام کرتے ہیں ساتھ ہی افسانہ لکھتے ہیں یا شعر کہتے ہیں تاہم ایک وقت آ سکتا ہے کہ یہ پروفیشن بن جائے۔جیسا کہ اب ٹی وی والوں کو کہانیوں کی تلاش ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب کہانیوں کا خاصا معاوضہ ملے گا (قہقہہ) اور  دوسرے چینل بھی کھل رہے ہیں۔
نوید صدیقی : گویا لکھنے کی جو اہمیت ہے وہ اپنی جگہ برقرار ہے۔
منشا یاد: جی ،یوں ایک وقت آئے گا کہ لکھنے والے کو اور  افسانے کو بھی کمرشل سپورٹ ملے گی۔
نوید صدیقی : جی بہت امید افزا بات ہے یہ۔ افسانہ نگاروں کے کچھ ناموں کا ذکر ہوا۔ جیسا کہ شاہد صاحب نے کہا اتنے سارے نام ہیں اتنے مختصر وقت میں سب نہیں لیے جا سکتے لیکن ہمارے مہمان اور  ہم بھی آئندہ 
کی حوالے سے پر امید ہیں۔ ہمارے مہمان جو آج کی ٹرانسمیشن میں موجود تھے منشا یاد صاحب اور  محمد حمید شاہد صاحب ، آپ کا بہت بہت شکریہ۔
٭٭٭   

تشکر: محمد حمید شاہد۔ جنہوں نے فائل فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
