﻿



میں عشق میں ہوں 






منصور آفاق




گم شدہ دوست چاندنی کے نام

اک لڑکی کلی کیسی
چاندی کے ورق جیسی ، سونے کی ڈلی جیسی
اک لڑکی چنبلی سی
معشوق وہ رنگوں کی ، خوشبو کی سہیلی سی
اک لڑکی گلابوں سی
و ہ برف کے موسم میں ، ہنزہ کی شرابوں سی
وہ نام نزاکت کا
الھڑ سی جوانی پر ، جوبن تھا قیامت کا
موسم کی ادا جیسی
وہ سندھ کے ساحل پر چیتر کی ہوا جیسی
سورج کی کرن جیسی
ریشم سے ملائم وہ ، مخمل کے بدن جیسی
وہ دوست کتابوں کی
تھی دن کے اجالے میں ، وہ رات ثوابوں کی
کیا جانیے ہستی میں 
اب چاندنی رہتی ہے ، کس چاند کی بستی میں 
٭٭٭



اشتہار برائے ضرورت

مجھے اک خوبصورت دوست کی فوری ضرورت ہے
مرے گھر میں کسی خوش بخت کی فوری ضرورت ہے
صباحت خیز رنگت ہو ، صبا سی چال رکھتی ہو
بڑا شاداب چہرہ ہو، سنہرے بال رکھتی ہو
وہ کالی جھیل سی آنکھیں ، شفق سے گال رکھتی ہو
ادھوری شام رہتی ہو ، لب و رخسار میں اس کے
کوئی اقرار شامل ہو کہیں انکار میں اس کے
وہ چائے بھی بناتی ہو قرینے سے سلیقے سے
اسے شرمانا آتا ہو مگر اچھے طریقے سے
قلو پطرہ سے لب ہوں مسکراہٹ مونا لیزا سی
دوپٹے بھولتی پھرتی ہوئی الھڑدوشیزہ سی
کوئی مستانی لڑکی ہو ، کوئی دیوانی لڑکی ہو
کئی کہسار و دریا ہوں کنارِ خواب تک اس کے
مسلسل چلتے رہنا ہو کنارِ خواب تک اس کے
بدن سے بات کرتی ہو ،نظر سے کیت کہتی ہو
میانوالی کے جیسی ہو ، میاں والی میں رہتی ہو
ملائم نرم و نازک ساتھ کی فوری ضرورت ہے
کسی تازہ حنائی ہاتھ کی فوری ضرورت ہے
کسی اخبار میں دیتا ہوں جا کر اشتہار اپنا
مجھے اک خوبصورت دوست کی فوری ضرورت ہے
مرے گھر میں کسی خوش بخت کی فوری ضرورت ہے
٭٭٭



میں محبت زدہ ہوں ویسے ہی
پھر کسی کا ہوا ہوں ویسے ہی

آج میرا بہت برا دن تھا
یار سے لڑ پڑا ہوں ویسے ہی

ایک رہرو سے پوچھتے کیا ہو
میں یہاں رک گیا ہوں ویسے ہی

پھول یوں ہی یہ پاس ہیں میرے
راستے میں کھڑا ہوں ویسے ہی

مجھ کو لا حاصلی میں رہنا ہے
میں تجھے سوچتا ہوں ویسے ہی

اس لئے آنکھ میں تھکاوٹ ہے
ہر طرف دیکھتا ہوں ویسے ہی
٭٭٭


 

وہم

یہ میں جس میں رہ رہا ہوں کہیں خواب ہی نہ ہو
کہیں ٹوٹ ہی نہ جائے یہ طلسمِ  رنگ و نور
کہیں تم ہی یہ نہ کہہ دو ’’کہیں ہم ملے شاید‘‘
٭٭٭



کیوں گماں تیرا ہوا اک اجنبی کو دیکھ کر
سوچتی ہیں کچھ یہ آنکھیں پھر اسی کو دیکھ کر

دوستو کہنا ضرور اس خوبصورت شخص سے
دل دھڑکتا ہی نہیں ہے اب کسی کو دیکھ کر

اس قدر میں نے جلائے تیرے ہجراں میں چراغ
رات آتی ہی نہیں ہے روشنی کو دیکھ کر

رفتہ رفتہ آرہی سے تجھ سے باہر میری ذات
شاید اب پہچانتا ہوں زندگی کو دیکھ کر

جا رہی ہے غیر کے پہلو میں میری زندگی
جی لرز اٹھا ہے اپنی بے بسی کو دیکھ کر

پھر مرے چاروں طرف خوشبو ہے میرے یار کی
خوش ہوا ہوں غم میں اپنی واپسی کو دیکھ کر

رات کا ویران صحرا ذہن میں لہرا گیا
ڈر رہا تھا شام کی خالی گلی کو دیکھ کر

ہر جگہ منصور ظالم ہے محبت ہر جگہ
رو پڑا میں یار کی تر دامنی کو دیکھ کر
٭٭٭



میں نے کیا دیکھنا تھا ویسے بھی
میں وہاں سو رہا تھا ویسے بھی

اس کی آنکھیں بدل رہی تھیں ذرا
اور میں بے وفا تھا ویسے بھی

اس نے مجھ کو پڑھانا چھوڑ دیا
میں بڑا ہو گیا تھا ویسے بھی

کچھ مزاج آشنا نہ تھی دنیا
کچھ تعلق نیا تھا ویسے بھی

کچھ ضروری نہیں تھے درد و الم
میں اسے پوجتا تھا ویسے بھی

اس نے چاہا نہیں مجھے منصور
میں کسی اور کا تھا ویسے بھی
٭٭٭


 
مجھے تیری تمنا تنگ کرتی ہے



تجھے میں نے کہا نا
شبِ ہجراں 
کہانا
تنگ کرتی ہے
مجھے تیری تمنا تنگ کرتی ہے
کتابوں اور خوابوں میں 
کہیں کھونے نہیں دیتی
مجھے آرام سے شب کو
کبھی سونے نہیں دیتی
سرھانے کو دبوچے جا رہا ہوں میں 
تجھے بستر پہ سوچے جارہا ہوں میں 
تجھے بستر پہ سوچے جارہا ہوں میں 
٭٭٭




جانِ جاں 

تیرے غم سے فروزاں کوئی غم نہیں 
ظلم کی ، جبر کی رات اپنی جگہ
بے بسی کے یہ ظلمات اپنی جگہ
یہ دھڑکتے ہوئے یہ لپکتے ہوئے
بھوک کے بدنما ہاتھ اپنی جگہ
نبضِ شہرِ نگاراں بھی مدہم نہیں 
تیرے غم سے فروزاں کوئی غم نہیں 

درد کی انجمن ہی سہی یہ وطن
کوئے دار و رسن ہی سہی یہ وطن
تند و تاریک گلیوں میں پھیلی ہوئی
اک مسلسل گھٹن ہی سہی یہ وطن
تیرے ہجراں کی شب بھی مگر کم نہیں 
تیرے غم سے فروزاں کوئی غم نہیں 

تیرا غم ہے زمانوں پہ پھیلا ہوا
زندگی کے جہانوں پہ پھیلا ہوا
خاک مٹھی میں اس کی ہے سمٹی ہوئی
عرش تک آسمانوں میں پھیلا ہوا
تیرے دکھ سے بلند اور پرچم نہیں 
تیرے غم سے فروزاں کوئی غم نہیں 
 ٭٭٭


بہت اداس بہت بے قرار رہتا ہے
مگر اُسی طرح دریا کے پار رہتاہے

نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر بھی مجھے انتظار رہتا ہے

مجھے اداسیاں بچپن سے اچھی لگتی ہیں 
دل اپنا یار ، یونہی سوگوار رہتا ہے

شبِ وصال ہی رہتی ہے میرے پہلو میں 
خیال میں بھی کوئی ہم کنار رہتا ہے
٭٭٭

اک دو گھڑی کا تیرا تعلق کہے مجھے
صدیاں گزر گئی ہیں تجھے جانتے ہوئے

اس کے کمالِ  ضبط کی منصور خیر ہو
صرفِ  نظر کیا مجھے پہچانتے ہوئے
٭٭٭






دوبارہ کاٹنے آؤ گے ۔۔۔آس ہے سائیاں 
ابھی توکھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں 

تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے
مگر یہ ہجر جو برسوں سے پاس ہے سائیاں 

جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں 

ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا
مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں 

ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا
ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں 

کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے
بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں 

نجانے کونسی کھائی میں گرپڑے منصور
یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں 
٭٭٭



 

کبھی غم سے کبھی آزار سے مل کر رویا
اپنے گھر کے در و دیوار سے مل کر رویا
جب سے ٹوٹا ہوں اسی دن سے مسلسل منصور
اپنے اندر کے میں فنکار سے مل کر رویا
٭٭٭



 

کہیں چشم و لب و رخسار دیکھیں 
محبت کے بھی کچھ آثار دیکھیں 

طلب کی آخری حد آ گئی ہے
وہ آئیں اور مرا انکار دیکھیں 

اسے ہر بار ہم یوں دیکھتے ہیں 
کسی کو جیسے پہلی بار دیکھیں 
٭٭٭


 
خواہ یہ دل برباد رہے
اس میں تُو آباد رہے

اک لمحے کی خواہش میں 
برسوں ہم ناشاد رہے

ایک دعا دکھیارے کی
غم سے تُو آزاد رہے

اشکوں سے تعمیر ہوئی
درد مری بنیاد رہے

میں بھی کوئی ہوتا تھا
اتنا تجھ کو یاد رہے

زخم نہ چاٹے کوئی بھی
مرجائے یا شاد رہے
٭٭٭



تجھ کو معلوم کہاں آنکھ چرانے والے
کس لئے روٹھ گئے مجھ سے زمانے والے

میں نے خوابوں کے دریچوں سے عبث جھانکا تھا
تم تھے فنکار فقط گیت سنانے والے

روٹھنے والے مجھے اب تو اجازت دے دے
اور مل جائیں گے تجھ کو تو منانے والے

میں تو ہاتھوں کی لکیروں کو بھی پڑھ لیتا ہوں 
یہ تجھے علم نہ تھا ہاتھ ملانے والے

بجھ گئے اب مری پلکوں پہ سسکتے دیپک
ہوگئی دیر بہت دیر سے آنے والے

راس آئے نہیں منصور کو پھر دار و رسن
تم جو زندہ تھے مجھے چھوڑ کے جانے والے
٭٭٭




 
ساجن کے ہوتے ہوئے



ابھی صرف سولہ برس کی ہوتم
گھڑے دو نہ سر پہ اٹھایا کرو

چلا مت کرو اس قدر ناز سے
نہ بن ٹھن کے دریا پہ آیا کرو

مساگ آکے ہونٹوں پہ مچلے نہیں 
نہ ماتھے پہ بندیا لگایا کرو

تلے والی جوتی پہ موتی نہ ہوں 
زری کی نہ پوشاک پہنا کرو

بہت تنگ کرتی پہن کرکبھی
سرِ شام گھر سے نہ نکلا کرو

مری جان ! ساجن کے ہوتے ہوئے
نہ لوگوں کو جوبن دکھایا کرو
٭٭٭



یاد

(اختر شیرانی کے نام)

کیا اب بھی گھڑے بھرنے دریا پہ وہ آتی ہے
کیا اب بھی مری باتیں سکھیوں کو سناتی ہے

کیا اب بھی وہ ایڑی سے کرنوں کو اڑاتی ہے
کیا اب بھی ہواؤں سے زلفوں کو چھڑاتی ہے

کیا اب بھی وہ گزرے تو اک آگ سی لگ جائے
کیا اب بھی وہ بھیگے تو برسات سلگ جائے

کیا قوس قزح اب بھی پازیب ہے پاؤں کی
اے شام سنی تُو نے آواز ہواؤں کی
پھر مجھ کو بلاتی ہیں گلیاں مرے گاؤں کی
٭٭٭



لمس کے داغ

تجھ سے پہلے بھی کئی لوگ ملے تھے مجھ کو
تجھ سے پہلے بھی مری آنکھ میں رعنائی تھی

تجھ سے پہلے بھی کئی پھول کھلے تھے دل میں 
تجھ سے پہلے بھی بیاباں میں بہار آئی تھی

اب کے برکھا نے دکھائے ہیں مگر باغ نئے
وصل کے زخم نئے،لمس کے کچھ داغ نئے
٭٭٭



ہر موج کے پہلو میں دل تیرے لئے ہوتے
کشتی میں جو تُوہوتی پانی پہ دئیے ہوتے

تُو نرس بدن کی تھی ،تُو میری معالج تھی
یہ حق تھا ترا تُو نے یہ زخم سیئے ہوتے

جو ترے سٹیشن پر گاڑی نہ رکی ہوتی
ہم نے بھی نئے صحرا معلوم کئے ہوتے

لوٹ آئے ہیں پھرتیرے ہم کوئے ملامت میں 
جی سکتے اکیلے تو ہم لوگ جئے ہوتے

اجداد نے ہاتھوں میں بندوق نہیں دی ہے
ورنہ شبِ ہجراں کے آنسونہ پئے ہوتے

اے دوست جوانی کو کیوں شیلف میں رکھا ہے
کچھ زخم دئیے ہوتے ، کچھ زخم لئے ہوتے
٭٭٭



یاد کے ویراں کدے سے


چوڑیوں کے ٹوٹے ٹکڑوں سے
گری تنہائیاں 
روشنی اک بلب کی
چیزوں کی کچھ پر چھائیاں 
رات کے کچھ ادھ جلے سگریٹ کے ٹکڑے فرش پر
خواب کچھ رکھے ہوئے
بیخواب بستر کے قریب
وصل کی کافی کے دو آدھے پیالے میز پر
کچھ کتابیں ، پینسلیں 
اور کچھ رسالے میز پر
یاد کے ویراں کدے میں اور تو کچھ بھی نہیں 
٭٭٭


 

بارش

کھڑکیوں پہ ٹوٹتی
پاگل ہوائیں رات کی
چیختی روتی ہوئی
اونچی صدائیں رات کی
روح میں وحشت
نظر میں آنسوؤں کا رتجگہ
تیز بارش
میرے اندر اور باہر
ہر جگہ
٭٭٭


 
رات بھر وہ صبحِ  ہجراں کو صدا دیتا رہا
وصل کا بے لمس لمحہ بد دعا دیتا رہا

آتے جاتے موسموں پر یہ ہوا کا تبصرہ
تیری خوشبوئے بدن کا بھی پتہ دیتا رہا

جس نے ساری عمر رو رو کر گزاری وہ مجھے
’’وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ ‘‘دیتا رہا

اک نیا بھیجا ہے اس نے روز تحفہ درد کا
جتنا دے سکتا تھا چاہت کا صلہ دیتا رہا

میں خدا کی راہ میں دیتا ہے اپنا لہو
اور مجھ کو زندگی میرا خدا دیتا رہا
٭٭٭


 

لڑکیوں کے لئے ایک نظم

زرد پھولوں کی بہاریں 
منظروں میں گھل گئیں 
کٹ چکی سرسوں 
خزائیں ہنس رہی تھیں کھیت پر
پھر اچانک حیرتوں میں ذہن میرا گم ہوا
ایک تنہا پھول ٹہنی پر لہکتا دیکھ کر
ایک تتلی بن گئی میرے تعجب کا جواب
طوفِ گل میں منہمک جس وقت وہ آئی نظر
میں نے سوچا کاٹنے والی کوئی لڑکی ہی تھی
کب ہے میرے شہر کے مردوں کو جذبوں کی خبر
(مغربی ادب سے)
٭٭٭


 

مغنی


سردیوں کی ایک شب تھی اور آتش دان تھا
ہلکی نیلی روشنی میں منجمد تھا خواب گاہ
وقت رقصاں تھا کسی کی دکھ بھر ی آواز پر
کوئی افسردہ سا کیسٹ بج رہا تھا ٹیپ میں 
کانچ کی کھڑکی پہ تھیں مرکوز نظریں دیر سے
چودھویں چاندنی اتری ہوئی تھی فرش پر
چپ صنوبر کا شجر تھا برف بستہ لان میں 
اور اپنے گھونسلے میں کوئی اجڑی فاختہ
سوچتی تھی کرب میں ڈوبی ہوئی ہر تان پر
میرے زخموں کی خبر کیسے مغنی کو ہوئی
٭٭٭


زرد پتوں کو پہن لو

بہاروں سے بھری لڑکی
چلو اب زرد پتوں کو پہن لو
اپاہج موسموں کے درد
اپنی مانگ میں بھر لو
کسی کی یاد کی بیساکھیوں کو اب شریکِ  زندگی کر لو
جو ہر رت میں مچلتے تھے
وہ پاؤں کٹ گئے شاخِ تمنا کے
بہاروں سے بھری لڑکی
چلو اب ٹوٹے خوابوں کی خزاں کو
اوڑھ کر ہی جی لیا جائے
جو پھولوں کی طرح کھلتے تھے لب
انہیں اب سی لیا جائے
ہر اک خواہش ، ہر اک آنسو ، ہر اک جذبہ
بدن کے بند کمرے میں کہیں رکھ کر
مقفل کر دیا جائے
٭٭٭


مرے گیت تُو کہاں ہے

مر ے گیت تُو کہاں ہے
مرے میت تُو کہاں ہے
کسی شامِ  معتدل میں 
تری پھول پھول کھلتی
ہوئی گفتگو کہاں ہے
لبِ مشکبو کہاں ہے
مرے یار تُو کہاں ہے

ترا ساتھ زندگی ہے
ترا ہاتھ زندگی ہے
تری خوشبوئے بدن میں 
کوئی خوابناک جادو
ترے پیرہن کے پیچھے
گلِ سرخ رو کے نیچے
کوئی آگ جل رہی ہے
تری گرم مسکراہٹ
مری آنکھ کے ہرن کو
کسی دشتِ خوبرو میں 
رکھے پہلوئے کرم میں 
ترے عشوہ و ادا کی
جہاں آب جو بہی ہے
وہیں سبز ۂ تبسم
وہیں لالۂ تکلم
تُو بہار ہے سراپا
مری آنکھ میں خزاں ہے
مرے میت تُو کہاں ہے
مرے گیت تُو کہاں ہے

تُو ہی میرا فن ہے لَے ہے
مرا حرف میری نَے ہے
تجھے گنگناؤں شب بھر
تجھے روز گاؤں شب بھر
بڑے لطف و ناز سے میں 
مرے گیت تُو کہاں ہے
مرے میت تُو کہاں ہے
٭٭٭


 

وصل خانۂ حیات


ایک سپنا
خواب اپنا
خوبصورت زندگی
جس میں تم ہو
جس میں میں ہو
وصل گھر ہو
عمر بھر ہو
٭٭٭


 
اے مری سخی سرکار

میرے ساتھ گزارو گی
جو پیار بھرے دو پل تو
کیا نقصان کرو گی اپنا
تم میں کیا کم ہو جائے گا
میرے پاکیزہ ہاتھوں کے چھو لینے سے
میل نہیں لگ جائے گی
میرے شانوں پر آ گرنے سے
تیرے بالوں میں دھول نہیں پڑ جائے گی
الٹا اور بڑھے گی
رخساروں پر گرم لہو کی سرخی
اور بدن کھل جائے گا
کچھ اور حسین ہو جاؤ گی
٭٭٭



الجھن

کیا میرا چہرہ اتنا سادہ ہے
کیا میری باتیں اتنی بھولی بھالی ہیں 
اتنے دن سے میری آنکھیں 
تم سے کچھ بھی کہہ نہ سکیں 
تم ہی مجھ سے پوچھ رہی ہے
’’تم بھی پیار سے جانت وانت رکھتے ہو
اپنے خواب خزانے میں 
یادوں کی دلدار امانت رکھتے ہو‘‘
کیا میرا چہرہ اتنا سادہ ہے
کیا میری باتیں اتنی بھولی بھالی ہیں 
یا پھر تم کچھ اور بھی جاننا چاہتی ہو
یا پھر تھوڑی دیر کی ساتھی ہو
٭٭٭



 

پہلی نظر


اِدھر بھی بے یقینی ہے
اُدھر بھی بے یقینی ہے
بھلا کیسے یہ ممکن ہے
کہ پہلی ہی نظر میں 
کسی سے پیار ہو جائے
مگر پہلے کسی ایسی
میں کیفیت سے گزرا تو نہیں ہوں 
محبت ہو گئی ہے ۔۔
ہاں محبت ہو گئی ہے
یقیناً مجھ کو تم سے
محبت ہو گئی ہے
یقیناً آسمانوں پر تعلق تھا ہمارے بیچ کوئی
یقیناً پچھلے جنموں کے کوئی بچھڑے ہوئے
ساتھی ہیں ہم دونوں 
تمہیں کیسے یقین آئے گا لیکن
تمہاری بے یقینی کوئی ناجائز نہیں ہے
کہ ایسا صرف ہوتا ہے محبت کی کتابوں میں 
خیالوں اور خوابوں میں 
مگر اے دوست میں کیسے کہوں تم سے
کہ اب کی بار یہ سب کچھ حقیقت میں ہوا ہے
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے
یہی پہلی نظر بس آخری ہے
٭٭٭


 

رقعہ

یہ دیارِجنس کے دن
دھوپ رت کے
یہ قیامت خیز راتیں 
برف رت کی
یوں گزر سکتی نہیں 
اے شریک جسم و جاں 
تیری ضرورت ہے مجھے
٭٭٭


کسی کی نزاکت کو دیکھ کر

محبت اور پھر میری محبت
نہیں یہ بوجھ تجھ سے اٹھ نہیں سکتا
تُو نازک ہے بہت نازک
محبت میری وحشی ہے
محبت میری سرکش ہے
کوئی طوفانی بارش جنگلوں کو
جس طرح مصلوب کرتی جا رہی ہو
کوئی بے چین جھرنا جس طرح
’’نے‘‘ کے تعاقب میں 
مسلسل ضابطوں سے قاعدوں سے ماورا
مسلسل محترک
اضطراب افزاء
نہیں یہ بوجھ تجھ سے اٹھ نہیں سکتا
٭٭٭

معذرت

جن کو غیرت مند دل نے
خاکِ پا سمجھا نہ تھا
تُو نے ان کے سامنے بھی
مجھ کو رسوا کر دیا
مجھ کو لگتا ہے مری جاں 
تیری محفل کے بھی میں قابل نہیں 
جو اٹھائے ترے بے جا ناز
میرا دل نہیں 
٭٭٭


 
سوچناکہ کیوں میں سوچتا ہوں 


میں اگر چاہوں 
تو اک حسنِ  جہاں ہو آس پاس
خوبصورت موسموں کا گلستاں ہو آس پاس
میں اگر چاہوں 
گزاروں لڑکیوں میں رات دن
ان لپکتی تھرتھراتی بجلیوں میں رات د ن
میں اگر چاہوں ۔۔
تو اشکوں سے ستارے ڈھال دوں 
چاند کی گردن میں یہ بے چین باہیں ڈال دوں 
میں اگر چاہوں 
مگر کیوں ۔کس لئے چاہوں 
٭٭٭

 

محبت جو تمہیں ہوتی

محبت جو تمہیں ہوتی
تو تم ایسے نہیں ہوتے
تمہارا کھردرا پن
تمہارے لہجے کی وحشت
تمہارے حکم نامے
تمہاری چال کی سختی
رعونت
کسی ایسے بدن میں ہو نہیں سکتے
جہاں دل ہو
محبت کرنے والا دل
محبت جو تمہیں ہوتی
تو تم ایسے نہیں ہوتے
٭٭٭


 



لوٹ آئی ہوئی اک گزری گھڑی حیرت سے
دیکھتی تھی مجھے ٹیرس پہ کھڑی حیرت سے

اک بگولے کی طرح اڑتے ہوئے دیکھتی تھی
درد کی دھول کو ساون کی جھڑی حیرت سے

تک رہی تھی ترے بنتے ہوئے ہیکل کے کلس
ایک دیمک زدہ لکڑی کی چھڑی حیرت سے
ق
رات کے پچھلے پہر دیکھ کے کھڑکی میں مجھے
ایک ناراض نظر بول پڑی حیرت سے

کیا بتاؤں میں طلسماتی بدن کی باتیں 
رات بھر اپنی تو بس آنکھ لڑی حیرت سے

داستانِ لب و عارض جو میں لکھنے بیٹھا
ٹوٹ جاتی تھی کہانی کی کڑی حیرت سے

جِلد میں اتنی بھی ہوتی ہے سفیدی منصور
چھو کے دیکھا تھا اسے میں نے بڑی حیرت سے
٭٭٭


 

وئلنٹائن کے دنوں کی نظمیں 
Valentine's day poems



آ مرے پاس آ


تم سمندر کی اٹھتی ہوئی لہر ہو
میں کنارے پہ بکھری ہوئی ریت ہوں 
منتظر ہوں ترا ۔ہاتھ اپنا جواں ریت پر پھیر کر
اپنی پوروں سے ہموار کر دے مجھے
اپنے پانی کی پُر جوش نرمی سے بھر دے مجھے
اپنی پاگل روانی کی گرمی سے بھر دے مجھے
ولن ٹائن کے دن کہہ رہا ہوں تجھے
ولن ٹائن مری!
آ مرے پاس آ
اے ہواؤں میں اڑتی ہوئی لہر آ
بھربھری ریت کو اک سنہرے سے ساحل میں تبدیل کر
مجھ کو اپنے سمندر میں تحلیل کر
٭٭٭


زانوئے جاناں کے لئے نظم


تمہی جانِ تمنا ہو
بہت ہی خوبصورت ہو
ہماری زندگی کی ایک اعلیٰ تر ضرورت ہو
محبت کے لئے اپنی
کیا ہے انتخاب ہم نے تمہارا
تلاشِ حسن میں دونوں جہاں بھی
اگر ہم گھوم لیتے
تم ایسی چیز مل سکتی نہیں تھی
دل و جاں کی طلب گاہوں میں سندرتا
کوئی بھی اور کھل سکتی نہیں تھی
بدل کوئی تمہارا ہو نہیں سکتا
بجز جاناں ہمارے
تمہارے زانوئے آسودگاں پہ اور کوئی سو نہیں سکتا
٭٭٭


ہمیں دھڑکن سنائی دے


محبت ایک دھڑکن ہے
حواسِ خمسہ کی دھڑکن
مقامِ روح میں پھیلے ہوئے احساس کی دھڑکن
بہت ہی پاس کی دھڑکن
محبت نور کے دریائے جاں میں ڈوب جانا ہے
محبت لمس کے آبِ رواں میں ڈوب جانا ہے
محبت ان نگاہوں سے اترتی ہے
جو دل میں دیکھ سکتی ہیں 
تری میری وفا بھی
اسی زندہ محبت کی کہانی تھی
مجسم شادمانی تھی
مکمل زندگانی تھی
مگر اب جسم دو ٹکڑوں میں اپنا ہے
ادھوری ہو گئی تو بھی
ادھورا ہو گیا میں بھی
چلو اس ولن ٹائن ڈے پہ مل جائیں 
بدن پھر ایک ہو جائے
مجھے تیری ، تجھے میری
سنائی پھر سے دھڑکن دے
یہی دھڑکن محبت ہے
یہی دھڑکن محبت ہے
٭٭٭


 
وئلنائن ڈے


کارڈ بھی بھیج چکا ہوں کتنے
اور تحائف بھی کئی سرخ ربن میں لپٹے
کچھ تو کہہ تُو بھی جواباً مجھ سے
دن محبت کا پھر آیا ہوا ہے
پھر ترے نام کے آسیب کا سایہ ہوا ہے
٭٭٭



طویل و تیرہ سہی شب مگر تسلی رکھ
ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر، تسلی رکھ

اسے گزرنا انہی پتھروں سے ہے آخر
اے میری شوق بھری رہگزر ،تسلی رکھ

ابھی سے صبحِ جدائی کا خوف کیا کرنا
ہے ماہ تاب ابھی بام پر، تسلی رکھ

کسی کاساتھ گھڑی دو گھڑی بھی کافی ہے
اے زندگی کی رہِ مختصر تسلی رکھ

نہیں نکلتی ترے منظروں سے بینائی
یہیں کہیں ہے۔ گرفتِ نظر، تسلی رکھ

ثمر نصیب یہ لا حاصلی سدا منصور
یہ ہار ہار نہیں ، ہار کر تسلی رکھ
٭٭٭



خراب و خستہ و ناکام کو ترے غم نے
بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے

وہ جانتا ہی نہیں تھا فراق کے آداب
لگا دی آگ درو بام کو ترے غم نے

کھلے ہوئے ہیں درختوں کے بال وحشت سے
رلا دیا ہے عجب شام کو ترے غم نے

میں آنسوؤں کے گہر ڈھونڈتا تھا پہلے بھی
بڑھایا اور مرے کام کو ترے غم نے

بنا دیا ہے جہاں بھر میں معتبر کیا کیا
مجھ ایسے شاعرِ بے نام کو ترے غم نے

بدل دیا ہے یقیں کے گمان میں منصور
فروغِ ہجر کے الزام کو ترے غم نے
٭٭٭



ٹہل رہا تھا کوئی سنگ سنگ رنگوں کے
بدل رہے تھے تسلسل سے رنگ رنگوں کے

وہ آسمان پہ شامِ  وصال پھرتی ہے
بچھے ہیں قوسِ قزح پہ پلنگ رنگوں کے

اتر نہ جائے درختوں سے گل رتوں کی شال
پہن لے کپڑے ذرا شوخ و شنگ رنگوں کے

تری گلی سے نکلتے نہیں ہیں جانِ بہار
فقیر عارضِ گل کے ملنگ رنگوں کے

تری مہک سے بڑھاتے ہیں اپنی توقیریں 
میں جانتا ہوں سبھی رنگ ڈھنگ رنگوں کے
٭٭٭







 اک مشکِ دلربا سی پہلے پہل لگی
اچھی مجھے اداسی پہلے پہل لگی

اشکوں کا ذائقہ ہوا محسوس بعد میں 
بھیگی ہوئی ہوا سی پہلے پہل لگی

پھر دردِ لا دوا سے رشتہ سدا رہا
وہ بے وفا۔ دعا سی پہلے پہل لگی

رنگوں کی رہ رہا ہوں اب تو سرائے میں 
اچھی یہ خوش لباسی پہلے پہل لگی

رک رک کے بولتا تھا میرا بدن مگر
جذبوں کو بدحواسی پہلے پہل لگی

پھر کھو گیا بدن کے شاداب باغ میں 
اپنی یہ روح پیاسی پہلے پہل لگی

سایوں سے بھی مجھے اب آنے لگا ہے ڈر
تنہائی کچھ خدا سی پہلے پہل لگی
٭٭٭



بہتی رہتی ہے گھٹا دیدۂ پرنم کی یونہی
اچھی لگتی ہے یہ برسات مجھے غم کی یونہی

کوئی امکان نہیں اس کے بچھڑ جانے کا
یاد آئی ہے مجھے ہجر کے موسم کی یونہی

پھر مجھے چھوڑ کے جانا تھا کسی نے شاید
رات آئی نہ تھی یہ ماہِ محرم کی یونہی

اپنی آنکھوں سے بنا لینے دو تصویر مجھے
پہنے رکھو ذرا پوشاک یہ ریشم کی یونہی

ذکر ہوتا رہے لیلائے وطن کا منصور
آگ جلتی رہے یہ نوحۂ ماتم کی یونہی
٭٭٭






 
یہ کیا کہ ہجر کا موسم کرے دراز وہی
جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض۔ وہی

یہ لگ رہا ہے کہ پھر شامِ اشک آئی ہے
دکھائی دی ہے مجھے چشمِ بد لحاظ وہی

یہ جنگ ہارنا میرے لئے ضروری ہے
میں مانتا ہوں کہ ہے ضبط کا محاذ وہی

جسے پسند نہیں تھی اداس رت کی غزل
سرھانے رکھتی ہے اب کیوں مری بیاض وہی

تر ے فراق کی وحشت سے جو شناسا ہو
وہی وصال سے ہوتا ہے سرفراز وہی

مرے خیال کی مسجد میں اور کوئی نہیں 
وہی وضو ،وہی سجدہ، وہی نماز وہی

جسے ملی ترے رخسار و لب کی گیرائی
ہوا خدائی سے منصور بے نیاز وہی
٭٭٭


 
ہمیشہ کے لئے جیون سے لڑ جانے کی جلدی تھی
نجانے کیوں تجھے جڑ سے اکھڑ جانے کی جلدی تھی

ابھی تو ہم ملے ہی تھے ، ابھی تو گل کھلے ہی تھے
تجھے کیا اس قدر جاناں بچھڑ جانے کی جلدی تھی

فقط تُو ہی نہیں بدلی ، نئی رت سے بہت پہلے
یہاں پرتو درختوں کو بھی جھڑ جانے کی جلدی تھی

مجھے تو ہجر میں رہنے کی عادت ہے مگر جاناں 
تجھے بھی ایسا لگتا ہے اجڑ جانے کی جلدی تھی

بجا ہے ہاتھ کو میرے تمنا تیری تھی لیکن
ترے دامن کو بھی شاید ادھڑ جانے کی جلدی تھی
٭٭٭



پلکوں سے ستاروں کی کمائی کا سبب پوچھ
آ مجھ سے کسی روز جدائی کا سبب پوچھ

یہ پوچھ کہ کیوں جوگ لیا سبز رتوں میں 
مجھ سے بھی فقیری کا گدائی کا سبب پوچھ

گجروں کی کوئی شہر نگاراں میں کمی ہے
اے دوست مری خالی کلائی کا سبب پوچھ

یہ دیکھ کہ سیلاب کا سرچشمہ کہاں ہے
آ آنکھ میں دریا کی رسائی کا سبب پوچھ

دل اپنے رویے پہ شرم سار نہیں ہے
منصور سے آ تلخ نوائی سبب پوچھ
٭٭٭



کسی کے بام سے اٹھتی ہوئی سحر نہ دکھا
تُو خالی ہاتھ مجھے بھیج۔۔ اور در نہ دکھا

ترے قریب کے لوگوں سے کل بھی ملنا ہے
یہ اتنے دور سے اے دوست اپنا گھر نہ دکھا

یہ آفتاب ہے آتش کدہ ہے جذبوں کا
جمالِ یار کو مہتابِ یخ نظر نہ دکھا

گزر کے آیا ہوں پت جھڑ کے زرد صحرا سے
مجھے بہار کی یہ شاخِ بے ثمر نہ دکھا

یہ کاٹنی ہے مجھے حوصلے سے تنہائی
شبِ فراق مجھے اپنی چشمِ تر نہ دکھا

میں جانتا ہوں کہ جنگل ہیں بیچ میں منصور
مجھے یہ راہ میں پھیلے ہوئے خطر نہ دکھا
٭٭٭



کنجِ لب سے جھیل کے ۔صبحِ کنول اچھی ہوئی
تیرے ہمرہ پھر مری شامِ سجل اچھی ہوئی

لمس کے مصرعے اترتے تھے لب و رخسار سے
بیٹھ کر پہلوئے جاناں میں غزل اچھی ہوئی

نیکیوں کی پوٹلی کھلتی رہی پھر رات بھر
رات بھر پھر محفلِ حسنِ عمل اچھی ہوئی

تیری زلفوں سے جو نکلی قاتلہ تھی رات وہ
تیری صورت میں جو آئی وہ اجل اچھی ہوئی

رات بھر بیٹھے رہے سگ یار کی دہلیز پر
یار کے کوچے میں اپنے ساتھ کل اچھی ہوئی
٭٭٭



میں آگہی کی گلی میں ریا کی شدت سے
پہنچ گیا ہوں شکستِ وفا کی شدت سے

دکھائی دیتا ہے طوفان مجھ میں آیا ہوا
کواڑ ٹوٹ نہ جائیں ہوا کی شدت سے

خدا نہیں ہے کہ اس کا شریک کوئی نہ ہو
میں چاہتا ہوں تجھے بھی بلا کی شدت سے

کچھ اور ہوتے ہیں روشن ستم کی راہوں میں 
چراغ ظلمتِ بے انتہا کی شدت سے

بڑے وقار سے ٹکرا رہے ہیں پھر منصور
ضمیر قوتِ فرمانروا کی شدت سے
٭٭٭



زمیں پہ رہ کے فلک سے ہے رابطہ کرنا
کسے نصیب خدا سے مصافحہ کرنا

تمام شہر ہے اس کے حصار میں شاید
بڑا عجیب تھا لوگوں سے کچھ پتہ کرنا

ترے فراق کا دیکھیں گے مسئلہ کیا ہے
کبھی جو وقت ہو مجھ سے مکالمہ کرنا

گلے سے لگ کے ملا کر کبھی کبھی مجھ سے
مجھے پسند ہے تجھ سے معانقہ کرنا

کہے ہے آنکھ میں پوشیدہ کائنات مجھے
ہر ایک شے کا مکمل مطالعہ کرنا

بڑا ضروری ہے عشقِ مجاز میں منصور
خود اپنے آپ پہ خود کو فریفتہ کرنا
٭٭٭


 


کس قدر نرم سی نازک سی ہے اردو کی طرح
صرف محسوس کیا کر اسے خوشبو کی طرح

پھر ہرے ہو گئے اس دل میں ترے زخم کے پھول
پھر چلی سرد ہوا میگھ کے دارو کی طرح

قتل گاہیں اسے محبوب بہت ہیں لیکن
یار ظالم نہیں چنگیز و ہلاکو کی طرح

وقت سچائی خدا ساتھ ہیں تینوں میرے
میں ہوں منصور مشیت کے ترازو کی طرح
٭٭٭



آسرا ٹوٹے ہوئے دل کے کھلونے پر رکھا
عشق میں پاؤں تعلق ختم ہونے پر رکھا

دیکھتے کیا دو جہاں ہم کہ فراقِ یار میں 
چشم و دیدہ کو ہمیشہ وقف رونے پر رکھا

رات ہم بھی یار کے ہم رقص بن سکتے تو تھے
جانے کیوں محفل میں خود کو ایک کونے پر رکھا

اپنی آنکھیں چھوڑ آئے تیرے دروازے کے پاس
اور تیرے خواب کو اپنے بچھونے پر رکھا

پانیوں کو ساحلوں میں قید کر دینے کے بعد
موج کو پابند ساحل کے ڈبونے پر رکھا

سونپ کر منصور دل کو آگ سلگانے کا کام
آنکھ کو مصروف دامن کے بھگونے پر رکھا
٭٭٭



چل رہے ہیں ایک ساتھ
میں خدا اور کائنات

دو وجودوں میں جلی
سردیوں کی ایک رات

گر پڑی ہے آنکھ سے
اک قیامت خیز بات

تیرے میرے درد کا
ایک شجرہ ،ایک ذات

پانیوں پر قرض ہے
فدیۂ نہرِ فرات

آگ سے بھی گرم تھا
یار کا منصور ہاتھ
٭٭٭



وصل کی ریت پہ جلتا ہوا ساون اور میں 
لمس کی آنچ سے بھیگا ہوا ساجن اور میں 

ٹیپ ریکارڈ پہ بجتا ہوا غمگیں نغمہ
ہر طرف پھیلی اداسی ،مرا آنگن اور میں 

شہر لاہور میں داتا کی گلی کے باہر
ایک مٹیار کا ہوتا ہوا درشن اور میں 

یہ مرے خواب میں اک ساتھ سجائے کس نے
تیرا چہرہ ، تری زلفیں ترا دامن اور میں 

تھا یہ اندیشہ کہ سبقت نہ کرے موت کہیں 
کچھ اسی واسطے جلدی میں تھے دشمن اور میں 

شور برپا تھا بلائیں تھیں ہوا میں منصور
آمنے سامنے جیسے ترا جوبن اور میں 
٭٭٭



روٹھے ہوئے دیارِ ستم گر نے آ لیا
آوارگی کی شام مجھے گھر نے آ لیا

گزرا کہیں سے اور یہ آنکھیں چھلک پڑیں 
یادش بخیر یار کے منظر نے آ لیا

میں جا رہا تھا زخم کا تحفہ لئے بغیر
اس کی گلی سے گزرا تو پتھر نے آ لیا

میں سن رہا ہوں اپنے ہی اندر کی سسکیاں 
کیا پھر کسی عمل کے مجھے ڈرنے آ لیا

منصور چل رہا تھا ابھی کہکشاں کے پاس
یہ کیا ہوا کہ پاؤں کی ٹھوکر نے آ لیا
٭٭٭


 

دستکوں کی آس پر لکڑی کے در بوڑھے ہوئے
اور ہم مغرور مجنوں اپنے گھر بوڑھے ہوئے

جس کی تزئیں کے لئے اپنی جوانی صرف کی
دوست ہم اس شہر کے فٹ پاتھ پر بوڑھے ہوئے
٭٭٭



فن کو سدھارتے ہوئے ماہر ڈسے گئے
سانپوں کو ساتھ رکھتے تھے آخر ڈسے گئے

دنیا زمانہ ساز چلن سے تھی آشنا
بھولے تھے اس لئے ترے شاعر ڈسے گئے

تجھ کو بھی کچھ خبر ہے سپیروں کے تاج ور
تیری گلی میں کتنے مسافر ڈسے گئے

زلفِ سیہ کی ایک لپک سے بہار میں 
اڑتے ہوئے خیال کے طائر ڈسے گئے

اک ساحرہ سروپ کے رخسارِ سرخ سے
منصور شہر لمس کے ساحر ڈسے گئے
٭٭٭


 

رات وہ کیا آنسوؤں میں عکس افگن ہو گئے
بہتے پانی میں ہزاروں بلب روشن ہو گئے

مسکرااٹھتے تھے برتن مانجھنے پر جھاگ سے
اس کلائی سے جو بچھڑے زرد کنگن ہو گئے

سارادن لاہور میں پھرتا رہا لے کر چراغ
یوں ہوا پھر رات کو داتا کے درشن ہو گئے

سایۂ گل کی تمنا میں ہم اہلِ گلستاں 
سوختہ جاں ، سوختہ دل ، سوختہ تن ہو گئے
٭٭٭



 آنکھیں کہیں لگی تھیں دریچہ کہیں کا تھا
آیا کہیں ہوں اور ارادہ کہیں کا تھا

یہ آگ تھی کسی کی نظر میں لگی ہوئی
در آیا ہے جو دل میں خرابہ کہیں کا تھا

کچھ میں بھی تھک گیا تھا طوالت سے شام کی
کچھ اس کا انتظار کمینہ کہیں کا تھا

حیرت ہے جا رہا ہے ترے شہر کی طرف
کل تک یہی تو تھا کہ یہ رستہ کہیں کا تھا

دیکھا اسے تو آنکھ سرِ بزم رو پڑی
میں بھول ہی گیا تھا کہ وعدہ کہیں کا تھا

اترا کہیں پہ اور مرے وصل کا جہاز
منصور پاسپورٹ پہ ویزہ کہیں کا تھا
٭٭٭


 




یہ لب سمیٹ لیں صحرا کی پیاس ایسا ہو
خود آپ چل کے کنواں آئے پاس ایسا ہو

کہانی سب کو سناتا پھرے محبت کی
کسی کے عشق میں دل بدحواس ایسا ہو

وہ خوش جمال بدن نرم گرم جیسا ہے
مرے بھی جسم کا کوئی لباس ایسا ہو

ملال سسکیاں گلیوں میں بھرتے پھرتے ہیں 
یہ شہر روز ترے بن اداس ایسا ہو

کوئی بھی راستہ یادوں کی دسترس میں نہ ہو
ہر ایک راہ پہ اگ آئے گھاس ایسا ہو

جسے خبر ہو کہ آنکھیں فراق کی کیا ہیں 
بس ایک شہر میں چہرہ شناس ایسا ہو

وہ بار بار پڑھے رات دن جسے منصور
کتابِ دل کا کوئی اقتباس ایسا ہو
٭٭٭



جذبوں بھری نہیں ہے کرن اشتعال کی
سوئی ہوئی ہے رات مرے ہم خیال کی

شاید کئی جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ  ملال کی

میں نے تمام عمر گزاری ہے ایک رات
مجھ کو خبر نہیں کوئی صبحِ وصال کی

آئی ہوئی ہے گھر میں جو مہمان ان دنوں 
لڑکی ہے اور ہے بھی وہ لڑکی کمال کی

رقصاں ہے کوئی شخص تو ماتم کی تال پر
آواز آ رہی ہے کہیں سے دھمال کی

پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
چلتی ہے اپنے ساتھ یہ ساعت زوال کی
٭٭٭

 

تعبیر کی تلاش میں 


عشق آباد کے کہساروں میں چاند نگر کی وادی تھی
شہزادی کا راج محل تھا خواب گلی کے نکڑ پر
آویزاں تھے دیواروں پر نقشِ محبت صدیوں کے
کچھ کچھ شام کی مخمل مخمل نرم شعاعیں باقی تھیں 
ایک کھلی کھڑکی سے اس کا کومل کومل نصف بدن
جھانک رہا تھا باہر اپنی شوخ قیامت خیزی سے
کتنے برسوں سے یہ خواب یہیں رک جاتا ہے
کھل جاتی ہیں اپنی آنکھیں اس تاریک زمانے میں 
لگتا ہے موجود ہے کوئی خوابوں کے ویرانے میں 
٭٭٭


 

تلور کے ایک نظم

بادلوں کے دامنوں میں اشک تک باقی نہ تھا
ڈوبتی تھیں ریت کے ذروں کی پیاسی دھڑکنیں 
تھل کے ہونٹوں پر سمٹ آئیں بدن کی حسیات
اور کوئی خشک ’ٹوبھا‘ اپنی تہہ میں جھانک کر
سوچتا تھا چاند اس میں اب اتر سکتا نہیں 
اتنا غمگیں دیکھ کر اس ریت کے تالاب کو
اک پرندہ رو پڑا بے آب رت کے کرب پر
اور’ تھل مارو‘ کے ٹوبھے آنسوؤں سے بھر گئے

(تلور۔۔ ایک پرندہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خشک سالی کے موسم میں فریاد کرتا ہے اور بارش ہونے لگتی ہے)
٭٭٭


ایک ساتھ سونا ہے
گھر میں اک بچھونا ہے

سربلند لوگوں کا
بادشہ بونا ہے

دوسرے کے ماتم پر
اپنا اپنا رونا ہے

کائنات سے باہر
گھر کا ایک کونا ہے

چائے کی پیالی میں 
آسماں ڈبونا ہے

چار دن کی دنیا میں 
کیا کسی کا ہونا ہے
٭٭٭

 

یوں خیالوں نے بدحواس کیا
ہجر کو وصل پر قیاس کیا

اپنی پہچان کے عمل نے مجھے
روئے جاناں سے روشناس کیا

کچھ فسردہ زمیں سے تھے لیکن
آسماں نے بہت اداس کیا

ہم نے ہر اک نماز سے پہلے
زیبِ تن خاک کا لباس کیا

بھول آئے ہیں ہم وہاں منصور
کیا بسیرا کسی کے پاس کیا
٭٭٭



رفتہ رفتہ اک پہاڑی راستہ گم ہو گیا
دو گھروں کے بیچ غم کا رابطہ گم ہو گیا

نرم و نازک جسم کی پتھر مزاجی کے سبب
اس سیہ مورت کا کڑو ذائقہ گم ہو گیا

اس نے از راہِ محبت مجھ سے پوچھا حالِ دل
یہ اچانک ہونے والا واقعہ گم ہو گیا

زندگی کی گفتگو ہونے لگی دونوں کے پیچ
وصل کی شب کچھ نہ کہنے کا گلہ گم ہو گیا

ایک گہری چپ میں گم ہونا کرامت ہے مگر
سولیوں پر بولنے کا مشورہ گم ہو گیا

کھو گئے منصور جگنو خوبصورت شام سے
سہہ پہر سے تتلیوں کا قافلہ گم ہو گیا
٭٭٭



دیکھ کر یونہی کسی کو۔اس پہ مر جانا غلط
میرا مجنوں میرا پاگل میرا دیوانہ غلط

ان دنوں غم ہائے دوراں کی کہانی ٹھیک ہے
اے غمِ جاناں ترا فی الحال افسانہ غلط

ایک دل اور ہر حسین سے لاکھ پیمانِ وفا
ایک شیشے کو ہر اک پتھرسے ٹکرانا غلط

ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط

ہاں ترا صدیوں پرانا ذہن ہے بالکل درست
یہ لب و عارض غلط ،یہ جام و پیمانہ غلط

میں انا الحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں 
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط
٭٭٭



آتے رہیں آنکھوں کو ترے خواب ہمیشہ
بھرتے رہیں پانی سے یہ تالاب ہمیشہ

اجڑے ہوئے لوگوں کی دعا ہے کہ تمہارا
یہ تازہ تعلق رہے شاداب ہمیشہ

کس وقت کوئی رات کو دوپہر بنا دے
میں رکھتا ہوں خسخانہ و برفاب ہمیشہ

ہے رات دسمبر کی مگر گھر سے نکل آ
گلیوں میں نکلتے نہیں مہتاب ہمیشہ

منصور شریک اپنی محبت میں تھی دنیا
ہجراں کے فراہم رہے اسباب ہمیشہ
٭٭٭



بے حال چلے شہر سے کمزور چلے
وہ ظلم ہے پہیے کئی چوکور چلے

بس پوٹلی کاندھے پہ وفا کی رکھ کر
ہم لوگ میانوالی سے لاہور چلے

آتی ہے سویروں سے بھی آوازِ فراق
یہ ہجر بھری رات بھی پُر شور چلے

ممکن ہے ٹھہر جائے لہو کی بارش
کچھ دیر گھٹا درد کی گھنگھور چلے

چلتی ہے وہ لڑکی کہ سرِ کنجِ صبا
پانی پہ شعاعوں بھرا بلور چلے

وہ خالی پڑا ہے کوئی بندوق نگر
وہ صدر مقامات سے شہ زور چلے
٭٭٭


 

 


یہ واقعہ بھی آنکھ کے اندر کہیں ہوا
اک اشک کے مکاں میں سمندر مکیں ہوا

سینے کے بال چھونے لگی ہے دھکتی سانس
یہ کون آج یاد کے اتنے قریں ہوا

قسمت عجیب ہے مرے گھر کی کہ بار بار
لٹنے کے باوجود بھی خالی نہیں ہوا

کھڑکی سے آ رہا تھا ابھی تو نظر مجھے
یہ خانماں خراب کہاں جاگزیں ہوا

اک تیز دھار چاند کو رکھ کر میان میں 
زیتون کا درخت مرا ہم نشیں ہوا

رہتی ہے اور رہنی ہے جس پہ ہمیشہ رات
وہ قریۂ فراق مری سرزمیں ہوا

منظر جدا نہیں ہوا اپنے مقام سے
ہونا جہاں تھا واقعہ بالکل وہیں ہوا
٭٭٭


اس دشتِ بے کسی کو، صبا کی گلی نہ کہہ
یہ جو گزر رہی ہے، اسے زندگی نہ کہہ

میرے لئے بہت ہے تری ایک ہی نظر
اس میرے روٹھنے کو، تُو ناراضگی نہ کہہ

میں کیسے بھول سکتا ہوں تیری اداسیاں 
ممکن نہیں ہے میرے لئے جو وہی نہ کہہ

کہہ اس سے کہ ہوئی ہے ،محبت مجھے مگر
یہ آسمانی بات ہے اس کو یونہی نہ کہہ

چائے پہ سہ پہر کی اسے تُو بلا مگر
منصور اس کو بات ڈنر کی ابھی نہ کہہ
٭٭٭



یونہی بے سمت چلنے سے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا
سفر رستہ رہے گا بس ، کبھی منزل نہیں ہو گا

محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا

مری جاں ! میرا وعدہ ہے کبھی چشمِ  تمنا سے
یہ اظہارِ  محبت اب سرِمحفل نہیں ہو گا

سکوتِ  دشت میں کچھ اجنبی سے نقشِ  پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کوئی محمل نہیں ہو گا

یہی لگتا ہے بس وہ شورشِ  دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامۂ تخلیق میں شامل نہیں ہو گا
٭٭٭

 
ناقابلِ معافی مانا کہ پیار میں تھی
لمحوں کی بے وفائی کب اختیار میں تھی

اک کونج رو رہی تھی سوکھی ہوئی ندی پر
آواز میرے غم کی اس کی پکار میں تھی

رب کی قسم ۔ خبر کچھ اس کے سوانہیں ہے
لڑکی سیہ رنگ کی چھوٹی سی کار میں تھی

سگرٹ حشیش کے اب سلگا رہے تھے دونوں 
غم سے نجات شاید خود سے فرار میں تھی

یونہی سفر کیا ہے صحرائے درد و غم کا
منصور وہ حسینہ کب انتظار میں تھی
٭٭٭


 




بے قراری ہے اضطراب نہیں 
تیرے بن درد ہے عذاب نہیں 

ہم سفر احتیاط، میرا بدن
نیکیوں کی کوئی کتاب نہیں 

ایک بستر پہ سوئے ہیں دونوں 
پھر بھی ہم رنگ اپنے خواب نہیں 

کچھ دنوں سے بجا ہے شب کا ایک
اور گھڑیال بھی خراب نہیں 

آئی شامِ  وصالِ  یار مگر
یہ مرے ہجر کاحساب نہیں 

دوپہر ہے فراق کی مجھ میں 
کوئی شب ، کوئی ماہ تاب نہیں 

چھو کے دیکھا ہے میرے ہاتھوں نے
تیرا چہرہ پسِ نقاب نہیں 
٭٭٭







زندگانی کی پہیلی دیکھتی ہو
اپنے گھر اپنی سہیلی دیکھتی ہو

پتھروں کو کاٹتا رہتا ہوں دن بھر
کیا مری چھو کر ہتھیلی دیکھتی ہو

یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے چشم و لب میں 
بولتی ہو رت ، چنبیلی دیکھتی ہو

پھر بھی مل سکتے ہیں ہم دونوں یہاں پر
ہے سڑک کتنی اکیلی۔۔ دیکھتی ہو

غم کی صدیوں کا کھنڈر لگنے لگا ہوں 
جسم کی خالی حویلی دیکھتی ہو

بات خوشبو کی اچانک موسموں نے
چھین میرے ہونٹ سے لی ،دیکھتی ہو

مجھ میں دیکھو بیٹھ کر اس کو کوئی دن
خود میں کیا دلہن نویلی دیکھتی ہو
٭٭٭



میں آگیا ہوں ترے نقشِ پا پہ چلتے ہوئے
ترے جہان میں بادِ صبا پہ چلتے ہوئے

عدالتِ  لب و رخ کا ملا طلب نامہ
کہ لڑکھڑایا تھا راہِ وفا پہ چلتے ہوئے

کھڑا ہوں شہرِ محبت کے بابِ  اول پر
فصیلِ  درد کی ہر انتہا پہ چلتے ہوئے

رکاوٹیں تو بہت تھیں مگر ترے دل تک
پہنچ گیا ہوں میں دستِ دعا پہ چلتے ہوئے

گرا ہوا بھی چمکتا ہوں جھیل میں منصور
میں ماہتاب تھا بامِ سما پہ چلتے ہوئے
٭٭٭



قبر سی رات خامشی اور میں 
تیرا وعدہ ، تری گلی اور میں 

تیرے نقشِ قدم کی کھوج میں ہیں 
آج بھی تھل میں چاندنی اور میں 

تیرا کمرہ ، دہکتی انگیٹھی
برف پروردہ جنوری اور میں 

ایک فیری کے خالی عرشے پر
جل پری ناچتی ہوئی اور میں 

لائٹیں آف ، لائنیں انگیج
ایک تصویر رات کی اور میں 
٭٭٭







روز وہ میرا قلم درد سے بھر دیتا ہے
میرا محبوب مجھے اذنِ ہنر دیتا ہے

رتجگے دیتا ہے وہ چاندنی راتوں کے مجھے
کوئی تو ہے جو محبت کا ثمر دیتا ہے

وہ جو کل ہاتھ پہ سر رکھ کے ادھر آیا تھا
وہ برا شخص سہی ساتھ مگر دیتا ہے

اس میں دیکھے ہیں قفس میں نے تو آباد بہت
ایک موسم جو پرندوں کو سفر دیتا ہے

میں نے تقسیم کی منزل پہ اسے وصل کہا
ایک لمحہ جو مجھے میری خبر دیتا ہے

شام ہوتے ہی ترے واسطے اپنے گھر کی
کوئی تو آن ،سبھی بتیاں ، کر دیتا ہے

ہجر کی رت کا پیمبر ہے وہ موسم منصور
آنسوؤں سے مرے تالاب جو بھر دیتا ہے
٭٭٭


مشورہ

مرا یہ مشورہ ہے
کسی بندھن سے پہلے
کچھ ملاقاتیں ضروری ہیں 
تجھے بھی علم ہونا چاہئے
کچھ میرے بارے میں 
مجھے بھی علم ہونا چاہئے
کچھ تیرے بارے میں 
ابھی کتنا ہی ہم اک دوسرے کو جانتے ہیں 
یہی دو لنچ ۔۔چائے سہہ پہر کی
اک ڈنر اور وہ بھی آدھا سا
فقط کچھ گفتگوئیں فون پر ہوتی ہوئی
سارا اثاثہ ہیں 
بقول قاسمی اپنی ’’ملاقاتیں ادھوری ہیں ‘‘
کسی بندھن سے پہلے
کچھ ملاقاتیں ضروری ہیں 
٭٭٭



سامنے جذبوں کا محشر رکھ دیا
بوجھ کہساروں کا اس پر رکھ دیا

پانیوں میں ڈوبتا جاتا ہوں میں 
آنکھ میں کس نے سمندر رکھ دیا

اور پھر چپ چاپ آنسو پی لئے
اپنا دکھ اپنے ہی اندر رکھ دیا

میں نے اپنا استعارہ جان کر
ریل کی پٹڑی پہ پتھر رکھ دیا

اور پھر جاہ و حشم کے شوق میں 
ہم نے گروی ایک دن گھر رکھ دیا

میری مٹی کا دیا تھا سو اسے
میں نے سورج کے برابر رکھ دیا

فکر کی تازہ ہوا کے واسطے
ذہن کی دیوار میں در رکھ دیا
٭٭٭


پانیوں کو منجمد ہونا تھا آخر ہو گئے
رت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے





مرے پڑوس کو میرا خیال کم تو نہیں 
مگر فراق کی شامِ ملال کم تو نہیں 

نکاح نامے پہ کر آئے دستخط یہ ہاتھ
کسی کے تیرِ نظر کا کمال کم تو نہیں 

تُو  کیوں پہن کے بہاروں کے رنگ پھرتی ہے
ترے لئے مرے برگد کی چھال کم تو نہیں 

اندھیرا رہنے دے کچھ دیر اور کمرے میں 
ابھی نگہ میں طلب کا سوال کم تو نہیں 

یہ کس لئے میں کوئی تجھ سی ڈھونڈ لایا ہوں 
مجھے وہ وصل بھری فون کال کم تو نہیں 

شبِ سیہ میں ابھارے جو نور کے گنبد
مرے لئے وہ سویرے کا تھال کم تو نہیں 
٭٭٭



یاد کے قہر میں اک برہنہ بدن
موج میں لہر میں اک برہنہ بدن

دیر تک پھر ٹریفک رکا ہی رہا
ہو گیا شہر میں اک برہنہ، بدن

پوچھتا پھر رہا ہے ’’کوئی مرد ہے‘‘
ان دنوں دہر میں اک برہنہ بدن

موت کے بعد خاموش تھے تبصرے
گاؤں کی نہر میں اک برہنہ بدن

خود سے منصور ہم لمس ہونے لگا
آخری پہر میں اک برہنہ بدن
٭٭٭



حسن تھا بے قرار ہو نہ سکا
وہ کسی کا بھی یار ہو نہ سکا

ہجر میں تھی کسی کی وہ بھی ہوئی
مجھ سے بھی انتظار ہو نہ سکا

جھڑتے پتوں کو گن رہا تھا میں 
تیرے غم کا شمار ہو نہ سکا

تیرے جوڑے میں جو سجا نہ گلاب
آشنائے بہار ہو نہ سکا

تیری آغوش مل گئی جس کو
وہ اجل ہمکنار ہو نہ سکا

تف ہے میرے شعور پر منصور
میں کسی پر نثار ہو نہ سکا
٭٭٭



دلِ فگار کے یہ لخت لخت کون گنے
ہیں ارضِ خاک پہ کتنے درخت کون گنے

شمار کرتی ہیں آنکھیں بہار کے موسم
ٹھہر گئے ہیں جو وہ وقتِ سخت کون گنے

بدلتے جاتے ہیں حالات موسموں کی طرح
یہ تیرے نام سے منسوب بخت کون گنے

مجھے تو عارض و لب کا حساب رکھنا ہے
حسین لوگوں کے لہجے کرخت کون گنے

ہر اک نگر کے عجائب گھروں میں ہیں موجود
یہاں پہ ظلِ الہی کے تخت کون گنے
٭٭٭



جانِ جاں ہے مرے ساتھ ۔ آہستہ چل
جتنا ممکن ہے اے رات۔ آہستہ چل

یہ محبت کا رستہ خطرناک ہے
اے دلِ غیر محتاط ۔۔ آہستہ چل

اتنی رسوائیاں ٹھیک ہوتی نہیں 
اے مرے عشق کی بات ۔ آہستہ چل

کتنی مشکل سے آئے ہیں وہ بزم میں 
کچھ تو وقتِ ملاقات ۔ آہستہ چل

اس کی لافانی تصویر تخلیق کر
کینوس پہ مرے ہاتھ ۔ آہستہ چل
٭٭٭



کبھی کہا ہے کسی نے یوں صاف صاف یونہی
کیا نہیں ہے محبت کا اعتراف یونہی

بچھڑ کے مجھ سے پلٹ آئے چاند راتوں میں 
کرے وہ غم کے سزاوار کو معاف یونہی

چلا گیا تھا وہ موسم کی بس خرابی سے
ہیں پہر رات کے اب تک مرے خلاف یونہی

اسے خبر ہے کہ سردی میں میرا پہلو ہے
وہ بن رہا ہے کسی اور کا لحاف یونہی

ہزار پردوں میں ، میں نے چھپا رکھا ہے اسے
بدن کی پھیلتی جاتی ہے مشکِ ناف یونہی

نہیں تھا اتنا رقابت کا مسئلہ منصور
ہوا ہے شہر کے لوگوں سے اختلاف یونہی
٭٭٭



ہمارے بیچ غلط فہمیاں ہیں برسوں سے
کہ لوگ دونوں طرف درمیاں ہیں برسوں سے

خیال رکھ کہ پرندوں کے پر بھی ہوتے ہیں 
ترے قفس کی یونہی تیلیاں ہیں برسوں سے

ہر ایک شام نکلتی ہیں بام پر صبحیں 
دیارِ یار کی یہ شوخیاں ہیں برسوں سے

کبھی وصال کی وحشت کبھی فراق کے دکھ
مرے نصیب میں دشواریاں ہیں برسوں سے

لٹک رہے ہیں وہی عورتوں کے ملبوسات
وہی خیال کی الماریاں ہیں برسوں سے

یہی سے آتی ہے خوشبوئے یار بس منصور
کھلی ہوئی یہ مری کھڑکیاں ہیں برسوں سے
٭٭٭


 



یونہی رکی ہے جو رستے میں ، اس بہار میں ہوں 
میں اس کے ساتھ مگر اس کے انتظار میں ہوں 

سنا ہے اب بھی مرا ذکر کرتی رہتی ہے
یہی بہت ہے ابھی تک کسی شمار میں ہوں 

سنا ہے اب بھی وہ گلبرگ رہ رہی ہے کہیں 
مرا خیال ہے اب تک نواحِ یار میں ہوں 

کسی کے تاج محل سے جوپے بہ پے ابھرے
میں خستہ بام انہی زلزلوں کی مار میں ہوں 

مرے مزاج میں ہرجائی پن ہی آنا تھا
رکا ہوا میں زمانوں سے کوئے یار میں ہوں 

ہے رنگ و نور کی نکہت طواف میں میرے
کسی چراغ بدن کی شبِ نگار میں ہوں 

ترے لبوں کا ابھی تک ہے ذائقہ مجھ میں 
شبِ وصال ابھی تک ترے خمار میں ہوں 

ابھی گلاب کئی چل رہے ہیں پہلو میں 
ابھی میں باغ سے جاتی ہوئی بہار میں ہوں 

مرے سوا جو کسی اور کا نہ ہو منصور
اک ایسے شخص کے برسوں سے انتظار میں ہوں 
٭٭٭


 

مجھے شوخ و شنگ لباس میں کوئی دلربا نہ ملا کرے
مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے

بڑی سرپھری سی ہوا چلے کہیں شام دشت خیال میں 
مرے راکھ راکھ سے جسم کو کوئی ریت پر نہ لکھا کرے

مرا ذکر و فکر ہوا کرے تری بارگاہِ خیال میں 
مرے داغِ سجدہ کو چومنے تری جاء نماز بچھا کرے

مرے جسم و جاں سے پرے کہیں بڑی دور خانۂ لمس سے
کوئی خانقاہی کبوتری کہیں گنبدوں میں رہا کرے

کوئی قم باذنی کہے نہیں کوئی چارہ گر نہ نصیب ہو
مرا اور کوئی خدا نہ ہو ترے بعد جگ میں خدا کرے

اسے پوچھنا کہ وصال کا کوئی واقعہ بھی کہیں پہ ہے
وہ جو خامشی کے دیار میں کسی ان سنی کو سنا کرے

تری کائنات میں قید ہوں بڑے مختصر سے قفس میں ہوں 
بڑی سنگ زاد گھٹن سی ہے مجھے کوئی اس سے رہا کرے

مرے ہر گناہ و ثواب کو یہ چھپا لے اپنے لباس میں 
بڑی لاج پال ہے تیرگی کوئی رات کا نہ گلہ کرے

ترا وصل آبِ  حیات ہے ترے جانتے ہیں محب مگر
ہے طلب درازیِ عمر کی کوئی موت کی نہ دعا کرے
٭٭٭


 




اے چاند پتہ تیرا کسی سے نہیں ملتا
رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا

او پچھلے پہر رات کے ،جا نیند سے کہہ دے
اب خواب میں بھی کوئی کسی سے نہیں ملتا

کیوں طے شدہ ساعت پہ ٹرام آتی نہیں ہے
کیوں وقت ترا میری گھڑی سے نہیں ملتا

میں تیری محبت میں کہیں گوشہ نشیں ہوں 
یہ بخت کبھی نام وری سے نہیں ملتا

میں یار کے جوڑے میں جسے دیکھ رہا ہوں 
وہ حسن کہیں ٹوٹی کلی میں نہیں ملتا

وہ تجھ میں کسی روز ضرور آ کے گرے گی
دریا تو کبھی جا کے ندی سے نہیں ملتا

دہلیز پہ رکھ دیتا ہے ہر شام جو آنکھیں 
منصور عجب ہے کہ اسی سے نہیں ملتا
٭٭٭


 

عشقِ مجاز کے چند لمحے

اب اس سولہ سالے۔۔
دلکش بھولے بھالے۔۔
نیلے نینوں والے
لڑکے سے درخواست کرو
’شرنا‘ کی آواز پہ ناچے ۔۔ جیسے کتھک ناچ کیا تھا کل اس نے
نازک قوس کلائی کی۔۔
قوسِ قزح کے رنگ بکھیرے
نرم تھراہٹ پاؤں کی۔۔
جیسے پارہ ٹوٹتا جائے
تھر کاتا جائے اپنے بم
گھومے اپنی ایڑھی پر
اور تناسب نرم بدن کا
تھال کے تیز کناروں پر دکھلائے
او! رومی کے نغمے گانے والی۔۔۔
سرخ سفید رقاصہ
آج تمہاری محفل میں 
میرے ہمرہ آئے ہوئے ہیں 
حافظ ، خسرو، بلھے شاہ اور مادھو لال حسین
٭٭٭


 

محبت کے لئے تین نظمیں 

نئی سوچ

کتابوں میں رکھے ہوئے خواب
دیمک زدہ ہو گئے ہیں 
زندگی کمپیوٹر کی چِپ میں کہیں کھو گئی ہے
اڑانوں کے نوچے ہوئے آسماں سے
چرائے ہوئے چاند تارے
مری خاک کی تجربہ گاہ میں 
اب پڑے۔۔ ڈر رہے ہیں 
زمیں اپنے جوتوں کی ایڑھی کے نیچے
انہیں نہ لگا دے کہیں 
اجالوں کی رحمت بھری دھوپ چمگادڑوں کی
نظر میں ملا دی گئی ہے
عجائب گھروں میں پرانے زمانے کی مضبوط انگیا
اور ماضی سے وابستہ شہوت کی کھالیں 
سجادی گئی ہیں 
اک امرد پرستی کے بازار کے
بدنما پادری کے گلے کی صلیبیں 
مسیحا کی چھاتی کی زینت بنا دی گئی ہیں 
ازل سے گزرتے ہوئے وقت کے سنگ کی
ایک تحریر ۔۔ میرا بدن
میں صدیوں پرانا کوئی شخص ہوں 
مجھے اپنی آنکھیں پرانی لحد میں چھپانی پڑی ہیں 
مجھے اپنے کانوں میں سیسے کا سیال بھرنا پڑا ہے
مگر کچھ سوالوں بھری ۔۔زپ ہوئی ایک فائل۔۔آتے ہوئے وقت کے فولڈر میں 
’’نئی سوچ ‘‘کے نام سے رکھ رہا ہوں ۔۔
اسے دیکھ لینا۔
٭٭٭




ان زپ فائل


کتابوں میں رکھے ہوئے تتلیوں کے پروں کی شفق اب کہاں جائے گی
درختوں پہ لکھے ہوئے نام سے
یار کو بھیجنے والے رومال پر
سرخ ریشم کے ہوتے ہوئے کام سے
رنگ و خوشبو کے مہکے ہوئے بام سے
ہجر کی صبح سے ، وصل کی شام سے
گفتگو کرنے والا
مرے جیسا ٹوٹے ہوئے خواب شب بھر رفو کرنے والا کہاں جائے گا
٭٭٭



رسپانس


تمہیں اپنے ہاتھوں کو آرے سے
کیوں کاٹنا پڑ گیا ہے
تمہیں اپنے پاؤں سے بھاری چٹانوں کو
کیوں باندھنا پڑ گیا ہے
کہو نور سے تیز رفتار اڑتے پرندوں پہ
بیٹھے ہوئے خاک رو۔۔کچھ کہو
کچھ کہو کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی دسترس کے
جہاں ساز ماحول نے
کس بلندی سے تجھ نوازا کہو۔
سوچنے پر میسر جہاں چیز ہو جاتی تھی۔۔۔
وہ بہشتِ حسیں 
جس کا وعدہ تھا وہ سر خوشی خاک پر تم کو دے دی گئی
اپنے ہاتھوں سے نرماہٹوں کو چھوؤ،
اپنے کانوں کو رس گھولتی روشنی بخش دو
اپنی آنکھوں میں پھیلا دو بس حسن کو
اپنے پاؤں کو قالین کی نرم آغوش میں 
لمس کے راستے پہ روانہ کرو۔
دوستی ۔۔۔رس بھری زندگانی سے بس دوستی۔
٭٭٭


 

مری جاں ! منتظر رہنا


آب جو کے ساتھ چلتی ایک پٹڑی اور میں 
اپنے موٹر سائیکل کی تیز تر رفتار پر
سوچتا ہوں وقت سے آگے نکل آیا مگر
یہ کلائی پر بندھی راڈو کی روپہلی گھڑی
اپنی سوئی کی سبک اندام حرکت سے مجھے
پھر جکڑ دیتی ہے لمحوں کی کسی زنجیر میں 
منتظر رہنا مری جاں ۔ساعتوں کی قید سے
بس نکل آؤں گا تھوڑی دیر میں ۔۔کچھ دیر میں 
٭٭٭




لمحۂ وصال کھوجتی لکیر


نیم تاریک گلی ، رات کی پچھلی سانسیں 
مرے قدموں سے نکلتے ہوئے لمبے سائے
ایک دروازے سے بہتی ہوئی روشن سی لکیر
میری بہکی ہوئی نظروں کی توجہ کے لئے
اپنی قامت میں بہت رد و بدل کرتی رہی
میں مگر ذات کے صحرا کہیں کھویا ہوا
خواب بنتی ہوئی بخ بستہ ہوا میں گم تھا
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ اجالے کی لکیر
اک سلگتے ہوئے جذبے کی خبر دیتی ہے
٭٭٭


 

سالگرہ کا تحفہ


بائیس برس کی سالگرہ پر
بھیج مجھے پھر نظم کا تحفہ
نظم صبا کی ، نظم سحر کی
نظم تری دلدار نظر کی
نظم ترے پُر جوش سخن کی
نظم ترے گل پوش دہن کی
نظم ترے بھرپور بدن کی
بائیس برس کی سالگرہ پر
بھیج مجھے پھر نظم کا تحفہ
٭٭٭




سالگرہ کا خط


تجھے برتھ ڈے پہ اے جان جاں 
کوئی تحفہ بھیج رہا ہوں میں 
اسے اپنے ہاتھ سے کھولنا
اسے احتیاط سے کھولنا
تری دھڑکنوں سے بھرا ہوا
مرا دل ہے اس میں رکھا ہوا
تری روشنی سے بھری ہوئی
مری آنکھ اس میں رکھی ہوئی
ترے منظروں سے بھرے ہوئے
مرے خواب اس میں رکھے ہوئے
تری دید کے ، تری یاد کے
ہیں گلاب اس میں رکھے ہیں 
مری ایک ہی شبِ وصل کا
ہے ثواب اس میں رکھا ہوا
ترے ہجر کے اسی سال کا
ہے حساب اس میں رکھا ہوا
اسے اپنے ہاتھ سے کھولنا۔اسے احتیاط سے کھولنا
٭٭٭


کہیں کچھ دیر بیٹھیں 

تمہیں معلوم ہوں گی شہر بھر کی کھڑکیاں وہ بھی
جو میرے واسطے کھلتی ہیں 
اکثر چاند راتوں میں 
جو مجھ پر مہرباں ہیں 
تم نے دیکھیں لڑکیاں وہ بھی
مری دلداریاں بھی تم سے پوشیدہ نہیں شاید
مجھے ہر ہر قدم پہ دعوتِ نظارہ ملتی ہے
جوانی کی لچک ہر گام پہ آوارہ ملتی ہے
مگر میں ہوں تمہارا چاہنے والا
تمہی سے گفتگو میری
تمہی ہو جستجو میری
چلو آؤ کہیں چل کر ذرا کچھ دیر بیٹھیں اور سوچیں 
مراسم کے مسائل پر
محبت کے وسائل پر
٭٭٭


 

محبت سوچتی ہے

یونہی کیا بے سبب میں نے
تجھے دلدار ٹھہرایا
تری چشم کرم کو صبح کا شاہکار ٹھہرایا
ترے رخسارو لب کوحسن کا معیار ٹھہرایا
تہجد کی ہواؤں اور اشکوں کی دعاؤں میں 
دھلی تازہ سحر جانا
تمہیں جانِ تمنا کہہ دیا خلدِ نظر جانا
یونہی کیا بے سبب میں نے؟
نہیں ایسا نہیں ۔۔ہرگز
بہت کچھ سوچ کر تجھ کو
ترے پاگل نے چاہا ہے
٭٭٭


محبت کیا کر

یہ تیری شخصیت کے رنگ
پھولوں کی طرح شاداب ہو جائیں 
محبت کو پہن لے اور مخمل کی طرح ہو جا
یہ بالوں کو بناتے کا سکھاتی ہے سلیقہ
یہ کپڑوں کو بدلنے کی بھی عادت ڈال دیتی ہے
کریزیں ٹھیک رکھتی ہے
یہ شکنوں سے بچاتی ہے قمیضوں کو
یہ جوتوں کی سیاہی کو چمک ہر روز دیتی ہے
محبت گفتگو کو نازکی دیتی ہے کلیوں کی
محبت زندگی کو ایک رونق بخش دیتی ہے
محبت خوبصورت تر بناتی ہے
بدن پر تتلیوں کے پر بناتی ہے
وفا کے ساحلوں پہ گھر بناتی ہے
٭٭٭



نسبت کا پیوند

ماں نے کہا
’’رک جاؤ بیٹے ، رک جاؤ ۔۔ تم مر جاؤ گے
اور سپاہی بیٹا ۔ خستہ گھر کی ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ رک کر
ماں کے پاؤں چھو کے بولا
’’ماں مت روک مجھے
دیکھ پکارا ہے اس خاکِ وطن نے
جو ہم سب کی دھرتی ماں ہے
ماں ! مت روک مجھے ۔۔۔ میں زندہ رہوں گا
زندہ ہے سقراط ابھی تک، عیسٰی دار پہ جی اٹھا تھا
ماں ! شبیر نہیں مر سکتا
سرمد اور منصور ابھی تک زندہ ہیں 
پھر تیرا بیٹا کیسے مر سکتا ہے‘‘
ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما اور کہا
’’تاریخ کے سینے پر تم ، دستِ تحقیق نہ رکھو
میرے چاند! تمہارا علم ادھورا ہے
تم مر جاؤ گے
تم جیسے بے نام مجاہد مرتے آئے ہیں 
زندہ ہے سقراط اگر تو اس کے پس منظر میں 
اس کا علم بھی ہے اور رتبہ بھی
وہ استاد تھا اپنے وقت کے فاتح کا
تجھ کوعیسیٰ یاد رہا ہے
لیکن اس کے پیچھے جو اعزازِ نبوت ہے وہ بھول گئے ہو
سرمداور منصور تو وقت کے ایسے حاکم تھے
علم رعایا تھا جن کی
شبیر نواسہ تھا سرکاردو عالم کا
اور تم صرف مرے بیٹے ہو
نسبت کا پیوند کہاں سے لاؤ گے
تم مر جاؤ گے ‘‘
٭٭٭


تیسرے کردار کی کہانی

مری جاں ہاں یہی ہوں گی
تمہارے دیس کی رسمیں 
کہ کھاؤ ابتدا میں پیار کی معصوم سی قسمیں 
دلاؤ پھر وفاؤں کا یقین دل کو کرو بس میں 
سمجھ لے جب کوئی ناداں 
ہمیں الفت ہے آپس میں 
نظر پھیرو تڑپنے کے لئے
تنہااسے چھوڑو
کسی نو واردِ الفت سے اپنا رابطہ جوڑو
مری جاں ہاں یہی ہوں گی تمہارے دیس کی رسمیں 
مگر میری محبت کی کہانی اور ہے جاناں 
کہ اس میں تیسرا کردار ہوتا ہی نہیں ہے
اگر ہو تو اسے پھر مرنا پڑتا ہے
٭٭٭


 

بس اک چراغ جلانے لگا ہوں سالگرہ
اکیلے اپنی منانے لگا ہوں سالگرہ

یہ ایک سال کی ہونے لگی ہے تنہائی
سو اپنی آنکھ سجانے لگا ہوں سالگرہ

میں ڈائری سے مٹاتا ہوں دل پہ لکھی بات
یہ کیسے اس کی بھلانے لگا ہوں سالگرہ

بجھا کے عمر کی یہ موم بتیاں گھر سے
میں تیرے ساتھ ہی جانے لگا ہوں سالگر

سجی ہے میز پہ اب تک تُو کیک کی صورت
سو تیرے ٹکڑے بنانے لگا ہوں سالگرہ

جلی ہوئی ہے جو برسوں سے خانۂ دل میں 
وہ موم بتی بجھانے لگا ہوں سالگرہ

کسی طرح تو منانا ہے سال ہجراں کا
میں اپنا گھر ہی جلانے لگا ہوں سالگرہ

پھر اس کے بعد سجا دوں گا گیٹ پر آنکھیں 
ابھی تو خواب بچھانے لگا ہوں سالگرہ

ہزار رنگ بکھیروں گا درد کے منصور
میں آسمان بہانے لگا ہوں سالگرہ
٭٭٭

 

آئے خوشبو درو دیوار سے پہلے پہلے
پھول لا، آمدِدلدارسے پہلے پہلے

اس کو سمجھا کہ محبت کا تعلق کیا ہے
بول! ممکن ہے تو انکار سے پہلے پہلے

میرے گل پوش کو آنا ہے کسی روز یہاں 
پت چھڑیں ہیں گل و گلزار سے پہلے پہلے

پھیل جاتی ہے شبِ وصل کی رعنائی میں 
روشنی سی لب و رخسار سے پہلے پہلے

اب تو ملتے ہیں مجھے حسنِ تبسم کے گلاب
بات ہوتی ہی نہ تھی یار سے پہلے پہلے
٭٭٭




ناکام محبت کی ایک اور کہانی


دیکھتا تھامیں اس پھول کو آتے جاتے ہوئے
بیٹھ کر بالکونی میں اکثر مگر
ایک اتوار کی خوش ادا شام میں 
اس کا انداز ہی اور تھا
کھل رہا تھا افق کی نکھرتی ہوئی شاخ پر
صبح کے موسموں کی طرح
میں نے رت دیکھ کر اک تبسم کا تحفہ لبوں پر رکھا
اس نے دیکھا مجھے اور شاداب تر ہو گیا
یہ گھڑی اس کہانی کا آغاز تھی
جو یونہی وقت لکھتا گیا
جس کو سوچا نہ تھا
جس کو سمجھا نہ تھا
یہ کہانی جو اشکوں کے پانی سے لکھی گئی ریت پر
یہ کہانی جو آہوں کے شعلوں نے تحریر کی
اس کی بنیاد میں اک تبسم کے لمحے کی تعمیر تھی
ایک کھلتی ہوئی شام کی دلربا سبز تصویر تھی
جو خزاں کے دسمبر میں تبدیل کر دی گئی
ایک تاریک منظر میں تبدیل کر دی گئی
اس کہانی کی تفصیل اتنی ہے بس
ہم ملے ، گل کھلے اور خزاں آ گئی
تیسرے شخص کے روپ میں 
تیسرا آدمی۔ایک آسیب تھا
بلا کی ذہانت بھری گفتگو، نرم لہجہ
خوش لباسی کا خوش زیب موسم
خوبصورت خدوخال جن کی وضاحت بھی ممکن نہیں 
ایسے سندر سے آسیب نے
میرے اس پھول کے ذہن کو منجمد کر دیا
اپنے جادو بھرے رنگ سے بھر دیا
تیسرا شخص آسیب تھا
ایسا آسیب کہ تین سو سے زیادہ شبیں ہو گئیں 
آج بھی اس کے کالر کی زینت مرا پھول ہے
٭٭٭


محبت کے انتظار میں ایک نظم

محبت معجزہ ہے زندگانی کی کہانی میں 
محبت کی کشش ہے کائناتوں کی روانی میں 
محبت گنگناتا باغ موسم کی جوانی میں 
محبت کی نظر سے آگ لگ جاتی ہے پانی میں 
محبت پر کسی کا سیر حاصل تبصرہ سن کر
کہا دل نے، چلو ہم بھی محبت کا ہنر سکھیں 
جہاں منزل نہیں رستہ ملے بس وہ سفر سکھیں 
کسی اسمِ تعلق سے طلسمِ چشمِ تر سکھیں 
مگر خوابوں میں آتی ہی نہیں ہے ساحرہ کوئی
بدن کی قاہرہ کوئی ، ہوا کی شاعرہ کوئی
کرم کی مائرہ کوئی ، نظر کی طاہرہ کوئی
بزرگِ خاص سے تعویذ لینے کی ضرورت ہے
کوئی اسرار بستہ چیز لینے کی ضرورت ہے
٭٭٭


 
جدائی کے بعد پہلی نظم

یہ خوشبو سے بھرے پُر رنگ لمحے شام کے
یہ باغیچے میں کھلتے پھول تیرے نام کے
یہ تیرے بعد جانِ جاں مرے کس کام کے
٭٭٭


اجازت

 
مجھے اجازت جو یار دیتا میں اپنے غم پر کتاب لکھتا
لہو سے لکھتا کہ میں نے اس کے
ستم کی راتیں گزاری کیسے
فراق رت کی سیاہ چادر پہ کیسے ٹانکے
وفا کے تارے
برہنہ گلیوں پہ کیسے اوڑھے
سکوت کے چاند میں نے
رگوں کے وحشی سمندروں کو
سکون کی رات کیسے دی ہے
جدائیوں کی قیامتوں کو
گزارا کس درد میں ہے میں نے
مجھے اجازت جو یار دیتا
الم کی لکھتا وہ داستانیں 
کہ پڑھنے والے بھی چیخ اٹھتے
دلوں کے کالے بھی چیخ اٹھتے
مجھے اجازت نہیں ہے لیکن
دلوں سے چاقو گزارنے کی
کنارِ چشمِ  وفا سے آنسو گزارنے کی
٭٭٭


خوش گمانی

مرے آس پاس ہے بزم میں 
کوئی روشنی سی وصال کی
کسی خوش ادا کے خرام سے
جلے دل میں تازہ چراغ سے
کئی قمقموں بھرے باغ سے
کئی جگمگائے ہیں داغ سے
مرے آس پاس ہے مشک سی
کسی خوش بدن کے جمال کی
مری آنکھ میں کوئی کہکشاں 
کسی خوبرو کے خیال کی
مری جستجو پہ نزول سا
کسی خوش نگاہ کے ابر کا
یہی ہے صلہ مرے صبر کا
یہی ہے صلہ مرے صبر کا		٭٭٭


محبت ایک خوشبو ہے

محبت ایک خوشبو ہے
کہیں پھولوں سے اٹھتی ہے
کہیں کلیوں میں پھرتی ہے
کہیں ہو جائے تو اس کی خبر گلیوں میں پھرتی ہے
بدن پر رنگ کے شاور سے گرتی ہے
فضا رنگین کرتی ہے دھنک میں خواب بھرتی ہے
ہوا کو شوخیاں دیتی ہے جھونکوں کی
زمیں کو سبز کرتی ہے
فلک میں نیل بھرتی ہے
چلو تم بھی پہن لو یہ ردائے رنگ خوشبو کی
چلو میں پہن لوں یہ قبائے رنگ خوشبو کی
چلو گلیوں میں پھیلائیں یہ رعنائی محبت کی
بڑی ہی خوشنما ہوتی ہے رسوائی محبت کی
محبت ایک خوشبو ہے	٭٭٭


دل کا دریا بہنے دو


آنکھیں جو کچھ کہتی ہیں وہ کہنے دو
دل کا دریا بہنے دو
ہونٹوں پر شاداب تبسم رہنے دو
کتنی دیر چھپاؤ گی تم پیار مرا
کتنی دیر نگاہیں پھیرو گی
کتنی دیر محبت کی دلدار ہوائیں پھیرو گی
جانے دو جس سمت بھی زلفیں جاتی ہیں 
جانے دو جس سمت بھی نظریں جاتی ہیں 
بات کرو جو دل میں ہے
بیٹھ کے میرے ساتھ کہیں 
ختم نہ ہو جائے یہ عمر کی سندر رات کہیں 
آنکھیں جو کچھ کہتی ہیں وہ کہنے دو
دل کا دریا بہنے دو
ہونٹوں پر شاداب تبسم رہنے دو
٭٭٭




آ اے شبِ فراق


’’آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلوں ‘‘
کچھ دیر جا کے بیٹھیں گے بستر پہ یار کے
آتی ہے اس سے آج بھی اس کی مہک مجھے
کچھ دیر سرکو رکھیں گے تکیے پہ اس جگہ
اپنی بکھیرتی تھی وہ زلفوں کوجس جگہ
کچھ دیر تم بھی گھومنا کمروں میں یاد کے
ہولے سے اس کے کپڑوں کی الماری کھولنا
لٹکائے اس نے جیسے تھے ویسے ہیں آج بھی
شبنم بھرے گلاب کی کچھ پتیاں بھی ہیں 
لائی تھی ایک شامِ  وفا میں مرے لئے
شاخِ نظر پہ وہ ترو تازہ ہیں آج بھی
میری طرح سے تم بھی انہیں چھو کے دیکھنا
دیوار پر بڑا سا ہے فوٹو لگا ہوا
اس کی پرارتھنا بھی کریں گے نگاہ سے
آ اے شبِ فراق چلیں اس مقام پر
منظر پڑے ہیں جس جگہ صبحِ وصال کے
٭٭٭



مانا مرے وصال سے رغبت نہ تھی اسے
لیکن جدائیوں سے بھی قربت نہ تھی اسے

چاہت بھری نگاہ سے دیکھا بس ایک بار
شاید کچھ اور کہنے کی ہمت نہ تھی اسے

اچھا کیا ہے اس نے تعلق کو توڑ کر
میں جانتا ہوں میری ضرورت نہ تھی اسے

رسماً وہ رہ رہی تھی مرے ساتھ خواب میں 
مجھ کو خبر ہے مجھ سے محبت نہ تھی اسے

اتنا ہے اس کی تیز مزاجی کا بس سبب
منصور ساتھ رہنے کی عادت نہ تھی اسے
٭٭٭



فسردگی سی در آئی ہے بے سبب یوں ہی
یونہی یہ آنکھ بھر آئی ہے بے سبب یوں ہی

کسی کے نام سے وحشت نہیں ، یہ ماتھے پر
کوئی شکن ابھر آئی ہے بے سبب یوں ہی

جسے بھلا دیا میں نے وہ آئینے میں مجھے
ابھی ابھی نظر آئی ہے بے سبب یوں ہی

اسے کہو شبِ غم سے مرے مراسم ہیں 
یہ صبح میرے گھر آئی ہے بے سبب یوں ہی

ہے میرے صحن میں آباد تیرہ رت منصور
یہ چاندنی اتر آئی ہے بے سبب یوں ہی
٭٭٭



صرف امید بدعا پہ نہ رکھ
آسرا حشر کی سزا پہ نہ رکھ

زندگی خود بھٹکتی پھرتی ہے
پاؤں تُو اسکے نقشِ پا پہ نہ رکھ

غم تو تیری عطا ہے جانِ فراق
اس کا الزام تو خدا پہ نہ رکھ

حسن ہے دوست میری کمزوری
کچھ بھروسہ مری وفا پہ نہ رکھ

گھیر لیں گے زمین کو بادل
زلف کو گرمیِ ہوا پہ نہ رکھ
٭٭٭



ہر ایک قدم قاتل ، آہستہ چلے کوئی
رستے میں پڑے ہیں دل،آہستہ چلے کوئی

ہم دونوں کی چاہت کی خاموش مسافت میں 
اک تیسرا ہے حائل ، آہستہ چلے کوئی

پلکوں کے کناروں پر جاری ہے سفر اپنا
پانی میں چلی محمل ،آہستہ چلے کوئی

دشوار گزار اپنی یہ پیار کی راہیں ہیں 
چلنا ہے بہت مشکل آہستہ چلے کوئی

پھر اپنے سمندر کی موجوں میں روانی ہے
ہے خوف زدہ ساحل ، آہستہ چلے کوئی

سہمی ہوئی پھرتی ہے وہ وصل کی چاپوں سے
منصور کہے منزل آہستہ چلے کوئی
٭٭٭



ہوتے تھے شہر وصل میں یک جان اتنے ہی
جتنے ہیں ہم سے ان دنوں انجان اتنے ہی

پتھرا دیا ہے ہجر کے آسیب نے ہمیں 
مشکل ہیں جتنے ہوتے تھے آسان اتنے ہی

برسوں کے بعد بھی وہی رختِ سفر میں خواب
نکلے تھے گھر سے بے سرو سامان اتنے ہی

جتنا اسے زیادہ سمجھنے لگے تھے ہم
اس کے رویے پر ہوئے حیران اتنے ہی

منصور تھی تمنا ٹھہرتے وہاں مگر
ممکن تھا جتنا ہم ہوئے مہمان اتنے ہی
٭٭٭


 




بہتا ہے انتظار کا دریا فراق میں 
رہتا ہے بے قرار سا صحرا فراق میں 

دو موم بتیاں تھیں ستارے تھے فرش پر
اک دیکھنے کی چیز تھا کمرہ فراق میں 

میں تاپتا ہوں ہاتھ جلے دل کی راکھ پر
مجھ کو فراق بس ہے سہارا فراق میں 

میں تو بناتا رہتا ہوں تصویر پیاس کی
تُو بول کیا ہے مشغلہ تیرا فراق میں 

حد سے گزر رہا ہے وفا کا معاملہ
بجھنے لگی ہے صبحِ تمنا فراق میں 

میں دیکھتا ہوں تیرے خد و خال کے چراغ
آئینہ دیکھتا ہے تماشا فراق میں 

منصور پھیر اب وہی آنکھوں پہ دھجیاں 
وہ یادگارِ دستِ زلیخا فراق میں 
٭٭٭




اے میرے میانوالی

 
اے میرے میانوالی ،اے میرے میانوالی
ہجراں کی سیاہی میں مایوس نہ ہو جانا
تنہائی کی راتوں سے مانوس نہ ہو جانا
رت کوئی بھی چاہے ہو،پھولوں کو ہرا رکھنا
میں لوٹ کے آؤں گا ،دروازہ کھلا رکھنا
کچھی کے پہاڑوں میں کیکر کے کواڑوں میں ، زخموں کے اجاڑوں میں ،امید کی باڑوں میں ،
کاٹنے مری یادوں کے ،آباد سدا رکھنا
میں لوٹ آؤں گا دروازہ کھلا رکھنا
آنکھوں کے مزاروں پر جلتے ہیں دئیے تیرے
پردیس میں بھی سپنے تعمیر کئے تیرے
اے میرے میانوالی اے میرے میانوالی
جا کے میاں ذکری کے دربارِمقدس پر
اسمائے محمد کی تحریر شدہ چادر
اک میری طرف سے بھی ہر پیر کو جا رکھنا
کچھ پھول چڑھا رکھنا دربار سجا رکھنا
ہاتھوں پہ دعا رکھنا
اے میرے میانوالی
اے میرے میانوالی
٭٭٭



اسے بدلتے ہوئے دیکھتے رہے ہم بھی
پھر اس کے بعد اچانک بدل گئے ہم بھی

اکیلے رہنے کی عادت نہ تھی سو برسوں تک
ترے بغیر پریشاں بہت ہوئے ہم بھی

ہمیں بھی زعم ہے اپنی جوان مردی پر
بدن گلاب ہے تیرا تو ہیں ہرے ہم بھی

سنا ہے تُو نے بہت دیر مجھ کو سوچا ہے
بتایا ہوتا تو کچھ دیر سوچتے ہم بھی

لپیٹ رکھی تھی پت چھڑ کی شال پیڑوں نے
کچھ ایسا شام کا موسم تھارو پڑے ہم بھی

یونہی قریب دو مانوس اجنبی آئے
ملول وہ بھی بہت تھی اداس تھے ہم بھی

اسے بھی نیند کے شاید کوئی عداوت تھی
ہزار جاگنے والے تھے رات کے ہم بھی

وہ آتے جاتے ہمیں دیکھنے لگی منصور
نواح یار کے رکھتے تھے راستے ہم بھی
٭٭٭






سمندر جیسی آنکھیں تھی گل و گلزار چہرہ تھا
لبِ ساحل کوئی دن سا تبسم بار چہرہ تھا

مری نظریں اٹھی تو تھیں پلٹ کر پھر نہیں آئیں 
بڑی سندر جوانی تھی بڑا دلدار چہرہ تھا

تکلم کی صراحی سے مسلسل گیت بن بن کر
شراب و شہد بہتے تھے وہ خوش گفتار چہرہ تھا

کبھی کچھ دھوپ ہوتی تھی کبھی بادل سے آتے تھے
کبھی پُر خواب آنکھیں تھیں کبھی بیدار چہرہ تھا

شفق کے سرخ رو شعلے لب و رخسار کہتے تھے
چناروں کی طرح شاید کوئی گلنار چہرہ تھا

مجھے تشبیہیں آتی ہے مگراس حسن کی بابت
بس اتنا جانتا ہوں وہ کوئی شہکار چہرہ تھا

کہوں کیسے کہ کیسا تھا مرے الفاظ گم سم ہیں 
کچھ ایسا لگتا ہے جیسے پسِ دیوار چہرہ تھا
٭٭٭



کوئی آتا ہے میری یاد کے گھر جیسے ہی
رو پڑے ابر ادھر ، آنکھ ادھر، جیسے ہی

شور کرتے ہیں تمنا کے پرندے مجھ میں 
تیرے رخساروں سے اٹھتی ہے سحر جیسے ہی

غم نئی طاقتِ اظہارسے ہوتا ہے طلوع
کچھ سنبھل جاتا ہے یہ دیدۂ تر جیسے ہی

گل و گلزار نظر آتی ہے میری بستی
پاؤں کو چومتی ہے راہ گزر جیسے ہی

حسن کیا چیز ہے پھر سوچتا رہتا ہوں میں 
دیکھتا ہوں کوئی محبوبِ نظر جیسے ہی

دھوپ کا درد نگاہوں میں سمٹ آتا ہے
ختم ہوتا ہے اندھیرے کا سفر جیسے ہی

صبح ہجراں کی جوانی ہے مرے پہلو میں 
کرتے ہیں ہوتی ہے اب عمر بسر جیسے ہی

ڈال دینا ہے تجھے دستِ گریزاں منصور
دیکھنا جھکتی ہوئی شاخ ثمر جیسے ہی
٭٭٭







ترے خال و خد بتا کر جو پتہ کسی سے پوچھیں 
وہی ہم کوسمجھے پاگل ترا کیا کسی سے پوچھیں 

کوئی شب جمال والی ،کوئی رت وصال والی
ہے نصیب میں کیا اپنے ذرا آکسی سے پوچھیں 

ہمیں ہجر کی طوالت سے گلہ نہیں ہے لیکن
ابھی کاٹنی ہے کتنی یہ سزا کسی سے پوچھیں 

ترے شہر کی طرف بھی کوئی راستہ تو جائے
جو ملائے دو دلوں کو وہ دعا کسی سے پوچھیں 

جہاں ممکنات میں تھا وہاں تارے توڑ لائے
وہ جو رہ گئی ہو ہم سے وہ وفا کسی سے پوچھیں 

یہ فراق کا جہنم جو عطا کیا گیا ہے
دیاکس عمل کا آخر یہ صلہ کسی سے پوچھیں 

ہے طلسم زاد کوئی کہ ہیں لوگ پتھروں کے
جو سنا کہیں کسی کو ، جو کہا کسی سے پوچھیں 
٭٭٭



اس سے ملتے تھے بے ارادہ کچھ
اور ملتے تھے ہم زیادہ کچھ

اِس گرفتارِ زلف کی خاطر
ہیں سپاہی اُدھر ستادہ کچھ

بھیجتے ہیں یہی سدا پیغام
یاد آیا ہے اپنا وعدہ کچھ

بے نقابی تھی دھوپ کی ہم پر
اس پہ پانی کا تھا لبادہ کچھ

پھر خزاں کی سیاہ راتوں سے
کہہ رہا ہے بہار زادہ کچھ

کیا ہوا کیوں چھلک رہے ہیں ہم
ظرف منصور تھا کشادہ کچھ
٭٭٭



آوارہ گردِ شب کے آداب کر قبول
اے دوست رتجگوں کے یہ خواب کر قبول

لایا ہوں رکھ کے سب کچھ طشتِ فراق میں 
یہ میری زندگی کے اسباب کر قبول

اے چاند پیش خدمت آنکھیں ہیں آنسوؤں کی
دریا قبول کر لے، تالاب کر قبول

اپنے سمندروں کے آباد ساحلوں پر
یہ چودھویں کی شب کا مہتاب کر قبول

دوچار پھول کیا میں بھیجوں تری طرف
میری طرف سے باغِ شاداب کر قبول

موتی سجے ہوئے ہیں اس کی پلک پلک پر
منصور کی یہ چشمِ پُر آب کر قبول
٭٭٭



مجھے بھی غم ہے کسی کا، ملا تواس نے کہا
میں اس کے سامنے جب رو دیا تو اس نے کہا

اداس رہنے کی عادت ہے مجھ کو ویسے ہی
مری اداسی کا قصہ سنا تواس نے کہا

خیال رکھنا تجھے دل کا مرض لاحق ہے
وہ مجھ کو چھوڑ کے جانے لگا تو اس نے کہا

کوئی وصال کی تمثال اب ضروری ہے
فراقِ یار بہت ہو گیا تو اس نے کہا

اے میرے سہل طلب !آسماں نژاد ہوں میں 
میں راستے میں کہیں گر پڑا تو اس نے کہا

طلوع صبح ہوئی تیری راکھ سے منصور
میں پچھلی رات کہیں جل بجھا تو اس نے کہا
٭٭٭


 
دیر سے ہی سہی ملے کوئی
آنکھ میں پھول تو کھلے کوئی

رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں 
راستوں کے یہ سلسلے کوئی

میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
مجھ سے اس کے سنے گلے کوئی

اس کو آ جائے اب مری خوشبو
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی

ہجر میں بھیج کر نئی خوابیں 
مجھ کو دیتا ہے حوصلے کوئی

دے گیا بس سفر اداسی کا
لے گیا دل کے ولولے کوئی

نت بلائے تمام شہروں سے
تیری یادوں کے قافلے کوئی

گرمیِ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آبلے کوئی
٭٭٭


اک تجھے ہمکلام کر لوں میں 
پانیوں پر خرام کر لوں میں 

کچھ فراغت اگر ہے آج تجھے
گھر میں کچھ اہتمام کر لوں میں 

چاہتا ہوں کہ سایۂ گل میں 
زندگانی تمام کر لوں میں 

پھر کریں گے وصال کی باتیں 
پہلے تھوڑا سا کام کر لوں میں 

تیرے رخسار سے چرا کے شفق
سرخرو اپنی شام کر لوں میں 

مجھ کو اتنی کہاں اجازت ہے
تیرے گھر میں قیام کر لوں میں 
٭٭٭


 

 

خالی مکاں کے آخری منظر گواہ رہ
آیا تھا میں پلٹ کے یہاں پر گواہ رہ

میں جا رہا ہوں ایک زمانہ گزار کے
اے کوہِ انتظار کے پتھر گواہ رہ

سوئی نہیں ہے ایک بھی ساعت فراق کی
شب ہائے تار تار کے بستر گواہ رہ

جاڑے کی برف رت بھی اکیلے گزار دی
یورپ کے اے سفید دسمبر گواہ رہ

دولخت ہوتے ہوتے بھی آخر تلک تجھے
آباد رکھنا چاہا تھا اے گھر گواہ رہ

جب تجھ سے ملنے آیا محمد تو اس کے گھر
درہم نہ تھے اے والیِ محشر گواہ رہ

کرتا رہا ہے تیر کے منصور تجھ کو پار
اے آنسوؤں کے گرم سمندر گواہ رہ
٭٭٭




گزرتا ہے کوئی برسوں میں تارہ دیکھتے کیا ہو
محبت کا یہ کم آبادرستہ دیکھتے کیا ہو

مرے برج و ستارہ تم ہو خوش بختی تمہی سے ہے
لکیریں دیکھتے کیا ہو،ستارہ دیکھتے کیا ہو

محبت وہ نہیں ،حاصل جہاں لا حاصلی کا ہو
جو کھلتا ہی نہیں ہے وہ دریچہ دیکھتے کیا ہو

یہاں کاغذ پہن کر صرف میرے خواب رہتے ہیں 
یہ بے ترتیب سا نظموں کا کمرہ دیکھتے کیا ہو

ہے بندوبست لمس و ذائقہ کی پیاس کا منصور
نگاہوں سے کسی کا صرف چہرہ دیکھتے کیا ہو
٭٭٭




رات جن کاجلی آنکھوں سے لڑی آنکھیں ہیں 
ننگی تلواریں ہیں دونوں ۔۔وہ کوئی آنکھیں ہیں 

آنکھ جھپکوں کو نکل آتی ہیں دیواروں سے
میرے کمرے میں دو آسیب بھری آنکھیں ہیں 

ہجر کی جھیل ترا غم بھی ہے معلوم مگر
یہ کوئی نہر نہیں ہے یہ مری آنکھیں ہیں 

دیکھتے ہیں کہ یہ سیلاب اترتا کب ہے
دیر سے ایک ہی پانی میں کھڑی آنکھیں ہیں 

جن کی پلکوں پہ گوارہ نہ تھا اک قطرہ تجھے
تیز بارش میں ترے در پہ وہی آنکھیں ہیں 

کون بچھڑا ہے کہ دنیا میں مرے چاروں طرف
غم زدہ چہرے ہیں بس روتی ہوئی آنکھیں ہیں 

نیم تاریک دکھائی مجھے دیتا ہے جہاں 
آنکھ میں اس کی سیہ آدھی کھلی آنکھیں ہیں 

انتظاروں کی انگیٹھی کو بجھایا ہی نہیں 
اپنی دہلیز پہ برسوں سے دھری آنکھیں ہیں 

اک ذرا ٹھہر شبِ غم کہ کئی سال کے بعد
بس ذرا دیر ہوئی ہے یہ لگی آنکھیں ہیں 
٭٭٭




مژہ پر لہلہاتے آنسوؤں کو سبز رکھتی ہے
ہوائے یار غم کے موسموں کو سبز رکھتی ہے

وہی خوشبوئیں بکھرا کر اداسی کے گلابوں کی
کنارِ آبِ  ہجراں رتجگوں کو سبز رکھتی ہے

ملائم گھاس کے قالین بچھتے ہیں رہِ غم میں 
وہی آہٹ وفا کے راستوں کو سبز رکھتی ہے

شبِ فرقت میں رکھتی ہے تر و تازہ مرا چہرہ
وہی شبنم کے اشکوں سے گلوں کو سبز رکھتی ہے

لگاتی ہے درختوں پر امیدوں کے ثمر منصور
وہی ہر شاخِ منظر پر رتوں کو سبز رکھتی ہے
٭٭٭






مل گئے مجھ کو بھی جینے کے بہانے کیا کیا
رنگ بکھرا دئیے ہیں تازہ ہوا نے کیا کیا

کیا گلابوں نے غزل چھیڑی ہے رخساروں کی
زلف کے گیت کہے بادِ صبا نے کیا کیا

کیسی خوشبوئے بدن آتی ہے بسترسے مجھے
رنگ وہ چھوڑ گیا میرے سرھانے کیا کیا

میرے پہلو میں نئے پھول کھلے ہیں کتنے
مجھ کو شاداب کیا شامِ وفا نے کیا کیا

میں تجھے کیسے بتاؤں کہ تُو نازک دل ہے
مجھ پہ گزرے ہیں مصائب کے زمانے کیا کیا

اس کی زلفوں کو شبِ وصل اڑانیں دے کر
کہتی پھرتی ہیں ہوائیں بھی نجانے کیا کیا

یونہی بے وجہ تعلق ہے کسی سے لیکن
پھیلتے جاتے ہیں منصور فسانے کیا کیا
٭٭٭


 

آؤ ملتے ہیں ذرا چھوڑنے والوں سے یونہی
پھر ملاقات کریں کوئی، ملالوں سے یونہی

ہم کو بھی کتنے برس ایک ہی پہلو میں ہوئے
ایک کھونٹے سے بندھی تم بھی ہو سالوں سے یونہی

پیاس کا دشت ہی قسمت میں لکھا تھا اپنی
سلسلے ہم نے بڑھائے ہیں غزالوں سے یونہی

لوٹ آنا تھا یہیں شام کو پرواز کے بعد
باندھ رکھا ہے ہمیں یار نے بالوں سے یونہی

ہم نہیں چاہتے اس شخص کو دل سے منصور
رابطہ اس کا ہے خوابوں سے خیالوں سے یونہی
٭٭٭



پھیلی ہوئی ہے آنکھ میں آبِ رواں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

آنکھوں میں کس کے عارض و لب ہیں کھلے ہوئے
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد

آنکھیں فراقِ  تازہ کو روئیں گی بعد میں 
پلکوں پہ چل رہی ہے ابھی رفتگاں کی یاد

پردیس میں ہوں لیکن رہتا ہوں دیس میں 
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد

کوئی بھی شے نہیں تھی جہاں وصل کے سوا
آتی ہے مجھ کو اب بھی اسی لا مکاں کی یاد

منصور ایک عمر سے چبھتی ہے ذہن میں 
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
٭٭٭



آب رواں میں پھر نئی شامت دکھائی دی
سندر سی ایک اور قیامت دکھائی دی

دیکھا نظر نے معجزہ پہلے جمال کا
پھر گفتگو میں ایک کرامت دکھائی دی

کرتی تھی ذکر وہ کسی بندھن کا وصل میں 
اس کے لباس میں بھی قدامت دکھائی دی

دیکھا شبِ وصال کی وحشت میں آئینہ
بندِ قبا بدن پہ سلامت دکھائی دی

تقریبِ گل میں آئیں بہاریں بہت مگر
ہر سمت تیری رونقِ قامت دکھائی دی

منصور چپ کھڑی تھی کہیں شام کی کرن
چھیڑا تو روشنی کی علامت دکھائی دی
٭٭٭



آ کے پہلو میں کوئی تیر لگا
عشق کا نعرۂ  دلگیر لگا

اِس اداسی کا کوئی توڑ نکال
صحن میں یار کی تصویر لگا

بیٹھ آرام سے آنکھوں پہ مگر
پہلے دروازے پہ زنجیر لگا

اس نے بوسہ دیا کاندھے پہ ترے
اب تو آوازۂ تسخیر لگا

یہ کوئی خواب نہیں ہے منصور
خود کو چاقو سے ذرا چیر لگا
٭٭٭


 

ڈوبتے ڈوبتے آوازہ لگانے والے
میرے پانی کا تھے اندازہ لگانے والے

مجھ میں موسم کئی ہوتے تھے ترے پہلو میں 
شاخ پر پھول تر و تازہ لگانے والے

کھینچتے پھرتے ہیں دیواروں کے بے رحم حصار
دل میں امید کا دروازہ لگانے والے

رات کے گیسوئے تاریک پہ بھی بات کریں 
عارضِ شام پہ یہ غازہ لگانے والے

مجھ سے بہتر یہ خریدارِ محبت منصور
غم میں اندازۂ خمیازہ لگانے والے
٭٭٭


 

اس بے محل کو کیسے کوئی بر محل کرے
جز اس کے کون دل کے مسائل کو حل کرے

ممکن ہے کوئی بات پہنچ جائے یار تک
یہ آس رات رات دکھوں کو غزل کرے

پہلے اسی نے ترکِ تعلق کیا سو میں 
یہ چاہتا ہوں صلح میں بھی وہ پہل کرے

پچھلی گلی میں رات کے پچھلے پہر ہوں میں 
اس سے کہو کہ وعدے پہ وہ بھی عمل کرے

مت پوچھ پائے یار کی معجز نمائیاں 
شامِ ابد کو اک وہی صبحِ ازل کرے
٭٭٭


 

بس ایک ابرِ مسلسل کے گیت گائے کوئی
کہ جلترنگ کی رم جھم سے یاد آئے کوئی

بھرا ہوا ہے جو میرے بدن کی گرمی سے
تمام رات وہی مصرعہ گنگنائے کوئی

ترس رہا ہے یہ سینہ کسی کی دھڑکن کو
مجھے فراق کی رت میں گلے لگائے کوئی

ابھی تو دھوپ درختوں میں ہے محبت کی
کہ چل رہا ہے رہِ غم پہ سائے سائے کوئی

وہ زود رنج ہے جانِ فراز سامنصور
دلاؤں یاد اگر کچھ تو ، روٹھ جائے کوئی
٭٭٭


 

شب کہیں اور شب کے سائے کہیں 
کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں 

کانچ سے بھی زیادہ نازک ہے
سنگدل ۔ دل تو آزمائے کہیں 

ڈھل رہا ہوں غزل کے پیکر میں 
پھر مجھے کوئی گنگنائے کہیں 

ہجر کی شام اس پہ بھی گزرے
چاہتا ہوں وہ دل لگائے کہیں 

فاصلے ختم دو دلوں کے ہوں 
دو ستارے کوئی ملائے کہیں 

شخصیت کا یہ خول رہنے دو
میری رائے بدل نہ جائے کہیں 

ہے کہیں انتظار گاہِ حیات
اور ہے موت کی سرائے کہیں 

بس اداسی ہے چارسو منصور
کوئی تو شخص مسکرائے کہیں 
٭٭٭



اب وصل گاہِ یار کا کوئی پتہ نہ دو
صبحوں کو مہر اور شبوں کو دیا نہ دو

میں تھک چکا ہوں چھین لو مجھ سے مرا خلوص
مری وفا کی یا مجھے اتنی سزا نہ دو

اب حصہ بن گئی ہے اداسی مزاج کا
بہتر یہی ہے مجھ کو خوشی کی دعا نہ دو

کوئی خبر دو اس کی جسے چھوڑ آیا ہوں 
منزل ہے ہمسفر مجھے اس کا پتہ نہ دو

غمہائے روزگار میں الجھا ہوا ہوں میں 
اس دلنواز شخص پہ کوئی گلہ نہ دو

عادت نہیں ہے ایسی کسی بات کی مجھے
اچھا یہی ہے پیچھے سے مجھ کو صدا نہ دو

دریا گزار لینے دو صحرائے ہجرسے
رونے دو کھل کھلا کے ، مجھے حوصلہ نہ دو

ممکن نہیں طلوعِ وفا تو اے ہجر یار
شب کے مسافروں کو دئیے کا صلہ نہ دو

آئی نہیں ہوتیسرے دن سے مرے قریب
خوابوں کے بیچ اتنا تو اب فاصلہ نہ دو
٭٭٭



یہ دیکھنا ، ہے تیری ضرورت کہاں کہاں 
پھر سوچنا کہ کرنی ہے الفت کہاں کہاں 

کس کس کے دل پہ وار کرو گی بدن کے ساتھ
برپا کرو گی اور قیامت کہاں کہاں 

ڈالی خود اپنی روح تھی جو بت تراش کے
ہونے لگی ہے اس کی عبادت کہاں کہاں 

مجھ کو تو پھرتے رہنے کی عادت ہے نیند میں 
اے خواب تم اٹھاؤ گے زحمت کہاں کہاں 

اے دوست سرگزشت وفا کی بس اتنی ہے
آئی نہیں ہے مجھ پہ مصیبت کہاں کہاں 

بھیجا ہے پھر کسی نے یہ تحفہ گلاب کا
منصور تم کرو گے محبت کہاں کہاں 
٭٭٭



لا حاصلی کی بند گلی سے خلوص کا
رشتہ بنا رہا ہوں کسی سے خلوص کا

ممکن نہیں ہیں جس سے مراسم وجود کے
امیدوار ہوں میں اسی سے خلوص کا

اس نے کہا کہ سبز خزاں میں رہے کوئی
پوچھا گیا تھا ایک کلی سے خلوص کا

ہے ربط اس سے جیسے چٹانوں کا رابطہ
موجیں پٹختی تیز ندی سے خلوص کا

منصور مجھ کو دیکھ کے کچھ سوچتی ہے وہ
اک واسطہ ہے سنگ دلی سے خلوص کا
٭٭٭



بنا کر بال اچھے سے ، نئے کپڑے بدل کے رو
بہت بھر آیا ہے دل توکسی کے پاس چل کے رو

یہاں پر دل دھڑکتے ہی نہیں لفظوں کے پہلو میں 
یہ محفل شاعروں کی ہے نہ ہمرہ تُو غزل کے رو

گرا کے آخری پتہ ، اڑا کے آخری پتہ
ہوا اب بین کر اس کے، شجر اب ہاتھ مل کے رو

کوئی تارہ کوئی جگنو نہیں ہے دور تک کوئی
اندھیرا ہے بہت دل میں چراغ شب میں ڈھل کے رو

تجھے دریا بہانے ہیں کسی کی یاد میں برسوں 
ندی کے ساتھ بہہ کے رو، چٹانوں سے پھسل کے رو

ہوئی ہے موت جو مجھ میں اب اسکا کیسے ماتم ہو
یہی منصور بہتر ہے کہیں گھر سے نکل کے رو
٭٭٭



ہر زباں پر رواں محبت ہے
سوچتا ہوں کہاں محبت ہے

عمر بھر اور کچھ کیا ہی نہیں 
عمر کی داستاں محبت ہے

شور ہے ہر طرف تعلق کا
کیسی یہ بے زباں محبت ہے

ہے خبر گرم چار آنکھوں میں 
دو دلوں میں نہاں محبت ہے

کوئی رستہ جہاں نہیں جاتا
کیا کروں میں ، وہاں محبت ہے

رو نہ اتنا کسی کے غم میں تُو
مجھ کو بھی میری جاں محبت ہے

درد کی دوپہر کے صحرا میں 
اپنا بس سائباں محبت ہے

دل رکھا ہے بساطِ غالب پر
میر کا آستاں محبت ہے

ننگے سر پھر رہی ہے بستی میں 
کس قدر بے ا ماں محبت ہے

چار اطراف راستے منصور
شہر کے درمیاں محبت ہے
٭٭٭







پاس ہیں چند پل محبت کے
زندگی ساتھ چل محبت کے

نت نئے دائرے بناتے ہیں 
پانیوں میں کنول محبت کے

کھل رہے ہیں گلاب کمرے میں 
کیسے سندر عمل محبت کے

شاہ زادی کے انتظار میں ہیں 
شہرِ دل میں محل محبت کے

رات ویراں کدہ ہوئی ،غم کی
چاند۔ باہر نکل، محبت کے

میرا خونِ جگر فروزاں ہے
ہاتھ میں ہے غزل محبت کے

کچھ بدلنے لگے ہیں دن منصور
رنگ تُو بھی بدل محبت کے
٭٭٭



 

کسی گلپوش بنگلے میں کھلے ہیں در محبت کے
دکھائی دے رہے ہیں پھر نئے منظر محبت کے

انگیٹھی پر سجا رکھا ہے جن کو شوق سے میں نے
کئے ہیں جمع برسوں میں یہی پتھر محبت کے

تمنا ایک چہرے کی مسلسل چلتی رہتی ہے
پڑے ہیں راہِ غم پر پاؤں میں چکر محبت کے

ابھی کچھ دیر سوچوں گا ابھی کچھ دیر دیکھوں گا
کئی ہیں راستے دکھ کے کئی ہیں گھر محبت کے

مجھے منصور پہلا تجربہ ہے تبصرہ کیا ہو
کئی حیرت بھرے موسم ملے اندر محبت کے
٭٭٭




اے کوچۂ جاں کے بخت ورو میں عشق میں ہوں 
اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں 

دیوار و در پر شہر کی سب پوشاکوں پر
دل پینٹ کرو تصویر گرو میں عشق میں ہوں 

اے شامِ وفا کی گرم رقاصہ گلیوں میں 
اب ڈھول بجا کر رقص کرو میں عشق میں ہوں 

ہے رنگِ چراغاں شہرِ وفا میں خوب مگر
کچھ سرخ غبارے اور بھرو میں عشق میں ہوں 

اے صحنِ چمن کے پچھلے پہر کی تیز ہوا
بس پھولوں کے اب ہار پرو میں عشق میں ہوں 

اب حالتِ دل کو اور چھپانا ٹھیک نہیں 
اُس جانِ جہاں سے کہہ کر رو میں عشق میں ہوں 

آواز نہ دے اب کوئی مجھے ،چپ رنگ رہیں 
اے قوسِ قزح کے نرم پرو میں عشق میں ہوں 

میں عشق میں ہوں میں عشق میں ہوں میں عشق میں ہوں 
میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں 

اے شعلہ گل کے سرخ لبو ں کی شوخ شفق
خاموش رہو، خاموش رہو میں عشق میں ہوں 

ہے تیز بہت یہ آگ بدن کی پہلے بھی
اے جلوۂ گل بے باک نہ ہو میں عشق میں ہوں 

ہے نام لکھا معشوقِ ازل کا ماتھے پر
اے ظلم وستم کے شہر پڑھو میں عشق میں ہوں 

پھر ہاتھ بڑھا کر سب کے گریباں چاک کرو
پھر زور سے تم منصور کہو میں عشق میں ہوں 
٭٭٭



امید کھو گئی ہے ترے غم کے شہر میں 
کاغذ کی ایک کشتی ہے اشکوں کی نہر میں 

میری کوئی نظر تجھے ڈس ہی نہ لے کہیں 
آنکھیں بجھی ہوئی ہیں یہ سانپوں کے زہر میں 

کیا کیا دکھایا ہے مجھے چشمِ فراق نے
دیکھی ہے میں نے آگ سمندر کی لہر میں 

کچھ دیر اس کے ساتھ رہا ہوں بدن کے ساتھ
جنت تلاش کر لی ہے دوزخ کے قہر میں 

اک دلنواز شخص کی امید کے بغیر
رہنا ہے زندہ کیسے ستم گاہِ دھر میں 

منصور لکھ کے نام کسی کا قمیض پر
اعلان کر رہا ہوں محبت کا شہر میں 
٭٭٭



پھرتی ہے دشت دشت شبِ غم میں زندگی
رہتی ہے ایک کوئے محرم میں زندگی

کیسے عجب ہیں اس کی اچٹتی نظر کے رنگ
کیسی بدل گئی ہے مری دم میں زندگی

ہر شام ایک مرثیہ ، ہر صبح ایک بین
اب بس گزار نوحۂ ماتم میں زندگی

شاید سرکتی ہے کوئی ٹوٹی ہوئی چٹان
ہوتی نہیں فراق کے موسم میں زندگی

منصور دو گھروں میں ہے آباد ایک جسم
تقسیم آدھی آدھی ہوئی ہم میں زندگی
٭٭٭







میں جا رہا تھا یاد کی کشتی پہ پچھلی رات
صحرا نکل کے آگیا پانی پہ پچھلی رات

میں نے گلی میں اس کو بلایا نہیں کبھی
نکلا تھا چاند اپنی ہی مرضی پہ پچھلی رات

یہ میرا واہمہ ہے کہ دورِ خزاں میں بھی
کھلتا ہوا گلاب تھا ٹہنی پہ پچھلی رات

اترا تھا مرے آگ بگولا بدن کا خواب
الہام کی طرح کسی لڑکی پہ پچھلی رات

شاید فراقِ یار میں جلنے کے شوق سے
خود آشیانہ گر پڑا بجلی پہ پچھلی رات

لکھتا رہا ہے میرے ملالوں کی داستاں 
شبنم کا قطرہ پھول کی پتی پہ پچھلی رات

منصور پُر ثواب تعلق پہ خوش نہ ہو
وہ روپڑی تھی وصل کی غلطی پہ پچھلی رات
٭٭٭


 

رہتی ہے ہم کلام جو دن بھر کتاب سے
کہہ اس سے، دل دھڑکتے ہیں باہر کتاب سے

اچھا نہیں شگون کہ تصویر یار کی
پانی میں گر پڑی ہے نکل کر کتاب سے

گرد و نواح میں جھانک لیا کر کبھی کبھی
مانا کہ کوئی شے نہیں بہتر کتاب سے

چشمِ تصورات میں آسن وصال کے
کیا کیا نکال لائی وہ کافر کتاب سے

منصور اس کی ڈائری پڑھ لی تھی ایک رات
دیکھے ہیں میں نے یار کے منظر کتاب سے
٭٭٭



دھڑکن کی طرح یار کے سینے میں رہا کر
ہر وقت محبت کے مدینے میں رہا کر

جانا ہے تجھے قرب کی ہر آخری حد تک
خوشبو کی طرح اس کے پسینے میں رہا کر

تہذیب بھی ہوتی ہے محبت میں کوئی چیز
جب اس سے ملا کر تو قرینے میں رہا کر

چاہے کوئی موسم ہو کوئی رت ہو کوئی سال
تُو خانۂ ہجراں کے مہینے میں رہا کر

منصور بھروسہ ہی نہیں موجِ بدن کا
وہ شخص سمندر ہے سفینے میں رہا کر
٭٭٭



غم کا کاٹھ کباڑ لگا
سارا شہر اجاڑ لگا

پہلی بارحسین کوئی
مجھ کو ایک پہاڑ لگا

آنسوکون شمار کرے
دل بھی آج کراڑ لگا

پوریں آگ لے آئی تھیں 
سینہ جھاڑ جھنکاڑ لگا

دنیا ایک مثلث ہے
دل میں تین کواڑ لگا

ہے منصور پہاڑ کوئی
تُو بھی ایک دراڑ لگا
٭٭٭





 

غمِ حیات کا ساراحساب پیش کریں 
چلو اسے دلِ خانہ خراب پیش کریں 

طواف کوچۂ جاناں سے جو ملا ہے ہمیں 
وہ سارے شہر کو حج کا ثواب پیش کریں 

کھلے ہوئے ہیں کئی دن سے صحن میں لیکن
کہاں ہے وہ کہ جسے ہم گلاب پیش کریں 

پتہ کرو کہ کہاں ان دنوں ہے وہ کہ اسے
یہ شاعری کی مقدس کتاب پیش کریں 

کسی جمال کا پہلو کہیں ملے تو اسے
فراق کی یہ شبِ اضطراب پیش کریں 

یہ آنکھیں مانگتی اتنی سی بس اجازت ہیں 
کہ بارگاہِ محبت میں خواب پیش کریں 

میں سوچتا ہوں بلا کر نہ کیوں اسے منصور
شبِ سیاہ کو ہم ماہتاب پیش کریں 
٭٭٭

 

مجھے اچھی لگی ہے صبح دکھلاتی ہوئی لڑکی
وہ کھڑکی سے سیہ پردے کو سرکاتی ہوئی لڑکی

اسے روکو،اسے آواز دو،جانے نہ دو اس کو
یہی ہے وہ ، مسلسل خواب میں آتی ہوئی لڑکی

یقیناً ڈھونڈتی پھرتی ہے کوئی ہم سخن اپنا
یہ خوشبو کی طرح محفل میں چکراتی ہوئی لڑکی

جلا کر راکھ کر دے نہ دلِ  پُر جوش کی بستی
یہ سورج کی حسین کرنوں کو سنولاتی ہوئی لڑکی

نجانے کیا بنانے کا ارادہ رکھتی ہے مجھ کو
یہ شیرازہ مری دنیا کا بکھراتی ہوئی لڑکی

جسے منصور پھولوں پر لٹایا تھا بہاروں میں 
ابھی تک یاد ہے مجھ کو وہ شرماتی ہوئی لڑکی
٭٭٭


 

کہا جو ہوتا تو جاں سے گزر گئے ہوتے
ہمارا کیا تھا محبت میں مر گئے ہوتے

کسی شراب کدے سے نکل کے پچھلی رات
یہ چاہیے تھا ہمیں اپنے گھر گئے ہوتے

بدل بھی سکتے تھے کروٹ وفا کے بستر پر
جو اپنے دل کی طرح تجھ سے بھر گئے ہوتے

خرید لی ہیں وہ آنکھیں کہ ہم بھلا کیسے
تری پسند سے انکار کر گئے ہوتے

کسی کا چہرہ افق پر طلوع نہ ہوتا تو
تمام شہر کے چہرے اتر گئے ہوتے

ہمیں تو مدِ مخالف نے جوڑ رکھا ہے
سمیٹ لیتا کوئی تو بکھر گئے ہوتے

جو ایک بند ہو در تو ہزار کھلتے ہیں 
نہ ملتی تیری گلی تو کدھر گئے ہوتے

اگر یہ خواب کی بستی نہ ہوتی تو منصور
ترے فراق کی راتوں سے ڈر گئے ہوتے
٭٭٭


 

دشت تقدیر کا اک شخص لے لایا مجھ میں 
ابر کوئی نہ شجر کوئی نہ سایا مجھ میں 

جانے کیا مانگتا پھرتا ہے یہ دل کہ اس نے
غیر معلوم امنگوں کو جگایا مجھ میں 

قابلِ داد ہے وہ شخص کہ رہنے کے لئے
ایک شیشے کا محل اس نے بنایا مجھ میں 

اپنے پہلو کی طلب اور بڑھانے کے لئے
اشتہار اس نے محبت کا لگایا مجھ میں 

دوڑتا پھرتا ہے دن رات رگ و پے میں مرے
دل نے منصور یہ کیا شخص بسایا مجھ میں 
٭٭٭


 

عجیب رنگ میں آئیں جوانیاں اس پر
نثار ہوتی پھریں زندگانیاں اس پر

میں اسکے کنجِ بدن سے کروں ہر اک آغاز
کہ ختم ہوتی ہیں اپنی کہانیاں اس پر

مرے وجود نے رکھا حصار میں اس کو
مرے خیال نے کیں حکمرانیاں اس پر

وہ شاہکار لب و رخ کا بولتا ہے کمال
خدا نے کی ہیں بہت مہربانیاں اس پر

میں اس کے قرب میں رہتا ہوں اس لئے منصور
گلاب پھینکتی ہیں شادمانیاں اس پر
٭٭٭




محبت ہے بہت سیدھی بہت سادی محبت میں 
لٹاتی ہے بدن کا زر ، یہ شہزادی محبت میں 

اسے دیوارِ جاں پر کوئی آویزاں کرے کیسے
کہ ہے تصویر کا ہر نقش فریادی محبت میں 

نظر میں وصل کی قوسِ قزح ہے، پاؤں میں بادل
سنورتی جاتی ہے پھولوں بھری وادی محبت میں 

سنا ہے اپنے گھر کے بام و در تک پھونک ڈالے ہیں 
جہاں تک مجھ سے ممکن تھا کی بربادی محبت میں 

ترے بالوں میں میری انگلیوں کے ساز لرزاں ہوں 
بس اتنی چاہیے منصور آزادی محبت میں 
٭٭٭


 

 

تیرے پاکیزہ بدن کے خواب میں رہتا ہوں میں 
اک ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا ہوں میں 

تجھ میں شادابی تو ہے اے اجنبی لڑکی مگر
رات بھر بس ہجر کے آداب میں رہتا ہوں میں 

یہ نہیں کہ کچھ نہیں حاصل بجز تنہائی کے
جانِ جاں اک عالمِ  اسباب میں رہتا ہوں میں 

اور کوئی بھی نہیں ہے زعم بس اس کے سوا
تیرے دل کے قریۂ مہتاب میں رہتا ہوں میں 

اک ترو تازہ نظر کے ساتھ کتنے سال سے
یاد کی د وشیزۂ شاداب میں رہتا ہوں میں 
٭٭٭



یہ بے سبب ہوا احمق زمانہ تیری طرف
میں خود پرست یونہی تھا روانہ تیری طرف

میں آگیا ہوں سرِ شام تیرے کوچے میں 
ہے آج رات کا پھر آب و دانہ تیری طرف

شکار گاہِ  جہاں میں خیال رکھ کہ ہے آج
ہر ایک تیرِ نظر کا نشانہ تیری طرف

نہیں ابھی تجھے پہچان اپنے چہرے کی
بنا رہا ہوں میں آئینہ خانہ تیری طرف

خریدنا ہے مکاں اک ترے علاقے میں 
ضروری ہے کوئی میرا ٹھکانہ تیری طرف

بس ایک بوسۂ سر گرم کی تمنا میں 
رکھا ہمیشہ ہے منصور شانہ تیری طرف
٭٭٭


 

کوئی جگنو ، کوئی شب ، کوئی ہوا ، کوئی ستارہ
کوئی میرا نہیں اب تیرے سوا کوئی ستارہ

کتنے برسوں سے مرے دل میں اندھیرا ہے کسی کا
میرے چارہ گرو!ہے میری دوا کوئی ستارہ

پاؤں رکھا مرے بختوں میں زوالوں کی گھڑی نے
برج میں آ گیا ہے غیر روا کوئی ستارہ

تیری قسمت میں نہیں ہے کسی مہتاب کا چہرہ
کہہ رہا ہے یہ مجھے نرم نوا کوئی ستارہ

مل رہا ہوں میں کسی اور جہاں زاد سے منصور
ہو رہا ہے یہ مری آنکھ پہ وا کوئی ستارہ
٭٭٭



اس کے دماغ میں ہی سہی روبرو ہوں میں 
مجھ کو یہی بہت ہے پسِ گفتگو ہوں میں 

پھیلی ہوئی ہے لمس کی دونوں طرف بہار
دیکھو مجھے کہ آج کنارِ گلو ہوں میں 

وحشت تمام اس میں ہے میرے وصال کی
ہم رقص کے پھڑکتے بدن کا لہو ہوں میں 

اک دوسرے سے کہتے نہیں ، جانتے تو ہیں 
تُو میرے چارسو ہے ، ترے چارسو ہوں میں 

مجھ کو بھی گنگنا اے تہجد گزار دل
تیرے لئے تو نغمۂ اللہ ہو ہوں میں 

منصور کیا کرے گا زمانے کا شور و غل
تُو میری آرزو ہے تری آرزو ہوں میں 
٭٭٭



سلوک خود سے کیا غیر کی طرح میں نے
اسے بھی چھوڑ دیا شہر کی طرح میں نے

وہ چاند رات کی وحشت کے بعد ہفتوں تک
سکوت تان لیا بحر کی طرح میں نے

شبِ فراق کی تلخی بہت تھی سو تجھ کو
پیا شراب کسی زہر کی طرح میں نے

وہ چل رہی تھی سمندر کے نرم ساحل پر
اسے سمیٹ لیا لہر کی طرح میں نے

بدن سے اپنے گزرنے دیا سدا اس کو
مثالِ آب کسی نہر کی طرح میں نے

وہ حادثاتِ زمانہ کی پتلی تھی منصور
اسے گزار دیا خیر کی طرح میں نے
٭٭٭



چلا گیا ہے وہ اب شور اس کے بعد نہ کر
سکوتِ درد میں اے دل بہت فساد نہ کر

مرے مزاج کا حصہ ہے یہ اکیلا پن
کہا ہے تجھ سے جو اس پہ تُو اعتماد نہ کر

اداسیوں بھری تنہائی ہے بہت سندر
یہ خامشی کی غزل سُن کسی کو یاد نہ کر

ترے لئے ہے بنایا یہ دانۂ گندم
نفس نفس میں سلگتا ہوا جہاد نہ کر

سیاہی رہنے دے صحنِ حیات میں منصور
ملال خانۂ شب کو چراغ زاد نہ کر
٭٭٭



سوگئے ہیں ہار کر سب رات کے جاگے ہوئے
صبح کے روشن تصورات کے جاگے ہوئے

رات کی پچھلی گلی میں ایک میں اور ایک چاند
جاگتے پھرتے ہیں دو حالات کے جاگے ہوئے

رونے پہ پابندیاں ہیں ، قہقہے ممنوع ہیں 
کیا کریں ہم ہجر کے صدمات کے جاگے ہوئے

اے شبِ گرم و ملائم رہ ابھی آغوش میں 
تیرے پہلو میں ہیں تیرے ساتھ کے جاگے ہوئے

دیدۂ شب میں پہن کر بارشوں کے پیرہن
پھر رہے ہیں موسمِ برسات کے جاگے ہوئے

کھو گئے منصور آخر زردیوں کی نیند میں 
موسمِ گل کی توقعات کے جاگے ہوئے
٭٭٭



وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام
اس دل میں حوصلہ تو بہت تھا مگر وہ شام

گرنی تو تھی افق میں گلابوں کی سرخ شاخ
لیکن گری کہیں بہ طریق دگر وہ شام

رکھے ہیں بام چشم پہ میں نے بھی کچھ چراغ
پھر آ رہی ہے رات پہن کر اگر وہ شام

شانوں پہ پھر فراق کی زلفیں بکھیر کر
افسردہ سی اداس سی آئی ہے گھر وہ شام

مژگاں کی نوک نوک پہ آویختہ کرے
منصور کاٹ کاٹ کے لختِ جگر وہ شام
٭٭٭



چیختی ہے بے زبانی شہر میں 
درد کی ہے حکمرانی شہر میں 

صرف دیوارِ وفا اونچی نہیں 
ہر طرف ہے بد گمانی شہر میں 

رو رہا ہے آسماں جانے کسے
پھیلتا جاتا ہے پانی شہر میں 

جاتے جاتے ایک کردارِ وفا
لکھ گیا کیسی کہانی شہر میں 

گاؤں والو دیکھتے کیا ہو مجھے
چھوڑ آیا ہوں جوانی شہر میں 

آرہے ہیں آسماں کے مالکان
بڑھ رہی ہے لا مکانی شہر میں 
٭٭٭



دل سے ناراض تھااس زود فراموش سے میں 
بولتا پھر بھی رہا چہرۂ خاموش سے میں 

زندگی حسنِ صراحی کے علاوہ بھی ہے
کہہ رہا ہوں یہی اس چشمِ بلانوش سے میں 

چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری جانِ حیات
بوجھ بے رحم مسائل کا ترے دوش سے میں 

تیری شادابیِ جاں میں ہے نزاکت کتنی
پوچھنا چاہتا ہوں بسترِ گل پوش سے میں 

ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور
جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں 
٭٭٭



شاید تمام ہونے کو ہے رات کی گھڑی
کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی

باہر سے لوٹ جائے وہ امید کی کرن
اب ختم ہو چکی ہے ملاقات کی گھڑی

اچھی ہیں اس کی یہ متلون مزاجیاں 
ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی

بہتا ہے میرے سامنے سرچشمۂدعا
پتھرا گئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی

منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو
ٹھہری ہوئی زخم میں حالات کی گھڑی
٭٭٭






وہ جو تیری طرف نہیں ہوتے
گولیوں کے ہدف نہیں ہوتے

تارے ہوتے ہیں صرف پلکوں پر
ہر طرف صف بہ صف نہیں ہوتے

روح پر پھیر اپنی نرماہٹ
جسم اندر سے رف نہیں ہوتے

بات ہم تک پہنچ ہی جاتی ہے
سارے جملے حذف نہیں ہوتے

ہم شرابی نئی طرح کے ہیں 
یونہی ساغربکف نہیں ہوتے

سب سمندر ہیں قطرۂ جاں میں 
ہم صدف در صدف نہیں ہوتے

عشق کرنا خیال سے منصور
خوبرو با شرف نہیں ہوتے
٭٭٭


ماخذ:
http://www.mansoorafaq.com/mainashiq.html
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
