﻿’

 
  	’

میرا گلگت وہنزہ




سلمیٰ اعوان
ایک ادھورا سفر نامہ (مکمل کتاب تصویری شکل میں اردو منزل ڈاٹ کام پر دستیاب ہے)




سلمیٰ اعوان کے فن میں ایک ایسا سحر ہے کوئی ایسا جادو ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اسے آخر دم تک جکڑے رکھتا ہے۔ سلمیٰ اعوان کے ہاں مشاہدے کی اتنی خوفناک گہرائی ہے کہ جو بھی کردار ان کے سامنے آتا ہے اس کے ظاہری خدوخال سے زیادہ وہ اس کے باطن کا ایسا ایکس رے لیتی ہیں کہ کوئی رگ، کوئی نس، کوئی ورید پوشیدہ نہیں رہتی۔ انسانی کرداروں کے علاوہ مناظر و ماحول کی تصویر کشی میں بھی مشاہدے کا یہ کمال ملتا ہے۔ اور یہ ایک ایسی خوبی ہے جس کی ہمارے ادب میں صرف ایک مثال راجندر سنگھ بیدی ہی کی پیش کی جا سکتی ہے۔’
سلمیٰ کا اسلوب رواں،پر کشش،شگفتگی اور اخلاص لیے ہوئے ہے۔ ان کے سفر نامے ’’میرا گلگت و ہنزہ‘‘ میں قدم قدم پر اپنایت و محبت کا جو اظہار تحریر کے ایک ایک لفظ سے چھلکا پڑتا ہے اس نے سفر نامے کو ادب پارہ بنا دیا ہے۔ یہ ادب پارہ اردو کی سفر نامہ نگاری کی تاریخ میں مدتوں روشنی کے مینار کا کام کرتا رہے گا۔’
احمد ندیم قاسمی


پیش لفظ

سفرنامہ نگاری میں تھامس جے کرومبی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ ادب کی اس صنف کو اس نے اپنے منفرد اسلوب سے ایک نئی اور انوکھی جہت دی ہے۔ ابن بطوطہ کو میں نے کرومبی کے حوالے سے پڑھا۔ سچی بات ہے۔ اس عظیم سیاح کی چوالیس ممالک پر پھیلی سیاحت نے مجھے سحر زدہ کر دیا تھا۔
ایڈونچر سے معمور دونوں سیاحوں کی پر آشوب سیاحت،چودھویں اور بیسویں صدی کے تہذیبی موازنے قرون وسطیٰ اور وسط ایشیا کے افسانوں ی شہروں کی داستانیں۔
میں دنوں نہیں،مہینوں مضطرب رہی۔ وسائل اور حالات کی کم مائیگی نے مجھے تڑپائے رکھا۔
اے کاش میں کرومبی کی سفری ساتھی بن سکتی۔ مردان خانوں سے آگے زنان خانوں کے دروازوں کے بند پٹ دھڑ سے کھول کر اندر جا گھستی،اس زندگی کی جھلک دیکھتی اور اس پر لکھتی کہ جس کے بغیر تہذیبی تاریخ ادھوری رہتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر لکھنے کے لئے میں گھروں کے بند دروازے کھول کر بہت اندر جا گھسی تھی۔
آج کا نقاد اگر سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے تو کتاب میں تہذیبی خوشبو کے ساتھ ساتھ ایک کٹھن اور ایڈونچر سے معمور سفر کی دستاویزی شہادت اسے ملے گی۔
ہاں مگر کل کا نقاد اس دور کی مخصوص مہک اور سچائی کی زیادہ بہتر طریقے سے گواہی دے گا۔ 
سلمیٰ اعوان


باب: 1

ذکر اُس پری وش یاسین کا۔۔۔
من اندر اِک آگ سی سلگے

سچ تو یہ تھا کہ اس شب میرے دل پر ایسی ہی جھری پڑی تھی جیسی سیمنٹ کی کسی دیوار پر تیز دھار کے چاقو، چھری یا کسی چٹانی پہاڑ کے سینے پر الیکٹریکل ہلٹی سے پڑتی ہے۔
ایک اونچے فائیو سٹار ہوٹل کی رات کا وہ پہلا پہر کسی البیلی کشمیری حسینہ کی مانند جوان تھا۔ جگمگاتی روشنیوں نے چہروں کا ایک ایک خم اور نقش واضح کر رکھا تھا۔ ویٹنگ لاؤنج میں میرے دائیں ہاتھ بیٹھی تیس پینتیس کے چکر میں بل کھاتی ایک دل کش خاتون ’’گیمبیا‘‘ کے مشرقی حصے کے ’’تاکی‘‘ قبائل کے شادی بیاہ کی دلچسپ رسومات کا ذکر زور و شور سے کر رہی تھی۔ بڑی کامیاب داستان گو نظر آتی تھی۔ ہاتھوں اور آنکھوں کی حرکت سے ایسا سماں باندھ رکھا تھا کہ بارہ تیرہ کا ٹولہ پوری طرح اس کی گفتگو کے سحر میں جکڑا ہوا اپنی اپنی نشستوں پر سے گردنوں کو کندھوں سے آگے لڑھکائے افریقہ کے ملک ’’گیمبیا‘‘ کی داستان سن رہا تھا۔
بیان جاری تھا۔
بالغ لڑکیوں کے گھر بسانے کے لئے ایک ایسی رات کا انتخاب کیا جاتا ہے جب آسمان پر نہ تو چاند ہو اور نہ ستارے، مطلع ابر آلود ہو، ہر سو خاموشی اور سکون ہو، کسی شخص کو آگ تک جلانے کی اجازت نہیں ہوتی‘‘۔
جب اچانک ایک نوخیز لڑکی عقبی نشست سے اٹھ کر سامنے آئی۔ شانوں پر لہراتے بالوں کو ایک جھٹکے سے پیچھے کرتے ہوئے وہ جھکی۔ سچی بات ہے وہ من و عن امریکی فلم سٹار ’’جوڈی فوسٹر‘‘ کی مانند نظر آئی تھی۔ وہی ناگن ’’جوڈی فوسٹر‘‘ جس کے عاشق صادق ’’رچرڈسن‘‘ نے صرف اسے متوجہ کرنے اور اپنی طرف مائل کرنے کے لئے صدر ’’ریگن‘‘ پر قاتلانہ حملہ کر ڈالا تھا۔
اور میں نے بے اختیار اپنے آپ سے کہا تھا: ’’ارے صدر ریگن تو رہا ایک طرف ایسی لڑکی کے لئے تو لاکھوں قتل کئے جا سکتے ہیں ‘‘۔ وہ آگے بڑھی۔ کمان جیسے ابروؤں کو اس نے ادائے ناز سے جنبش دی اور بولی۔
’’بھئی ہمارے تو اپنے ملک کے رسوم و رواج اتنے دلچسپ اور خوبصورت ہیں کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ وادی یاسین میں ’’بوپھاؤ‘‘ کا تہوار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

وادی یاسین

ایک ماڈرن سی خاتون نے زیر لب کہا۔ اس کی آنکھوں سے چھلکتی حیرت اس کی لاعلمی کو واضح کرتے ہوئے یہ بھی بتا رہی تھی کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ علاقہ کہاں واقع ہے؟
’’کمال ہے ان پڑھی لکھی فیشن ایبل عورتوں پر۔ یہ اپنے ملک کے علاقوں سے بھی ناواقف ہیں ‘‘۔
پھر اُس نے لانبی گردن اوپر اٹھائی۔ کومل سی ناک کے نتھنے پھُلاتے ہوئے بولے
ہمارے لوگ بھی عجیب ہیں۔ حُسن فطرت اور سیاحت کے لئے یورپ اور امریکہ بھاگے جاتے ہیں اور نہیں جانتے ہیں کہ ان کے اپنے ملک میں ایسی خوبصورت اور دل آویز جگہیں ہیں۔ جنہیں غیر ملکی سیاحوں نے جنت نظیر کہا ہے۔ گلگت کی وادیاں اشکومن، یسین و نگر، ہنزہ، چٹور کھنڈ اور دیامر کی وادیاں، داریل اور تانگیر۔ خدا گواہ ہے انسان ان کے حسن کو دیکھ کر گنگ رہ جاتا ہے۔
وہ پل بھر کے لیئے رکی۔ چہرے پر یاس اور دکھ کے رنگ بکھیرتے ہوئے سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا۔
ان کی غربت اور مسائل جان کر بندہ بے اختیار سوچتا ہے کہ یہ ایک ترقی پذیر ملک کے علاقے ہیں۔ ’’ملکہ دشتی‘‘ جیسے حسن کی مالک عورتیں اور ’’سمیسن‘‘ جیسے جری جوانوں کے اجسام کو لنڈے کے کپڑے بھی میسر نہیں۔ خواتین کی تنظیموں، سیاسی پارٹیوں، مذہبی راہنماؤں اور لکھاریوں کو ان علاقوں میں جانے اور وہاں کے بارے میں جاننے کی توفیق نصیب نہیں۔ اس لئے کہ انہیں تصویریں اتروانے اور چھپوانے، بیانات جاری کرنے اور پبلیسٹی حاصل کرنے کے نت نئے طریقوں کو پلان کرنے سے فرصت ہو تب نا۔
وہ دل کش اور خوبرو لڑکی جو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک جدیدیت کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی اپنی سوچوں میں کس قدر محب وطن تھی۔ اس وقت ولیم ٹیل بنی ہاتھ میں کمان پکڑے طنز کے تیر پر تیر چھوڑتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے تیروں کی بوچھاڑ سے کوئی اور زخمی ہوا یا نہیں ٬ یہ میں نہیں جانتی تھی پر میں چھلنی چھلنی ہو گئی تھی۔
اس چلبلی لڑکی نے میرے اندر کے مہم جو ادیب کو جگا ڈالا تھا۔ جو سالہا سال سے مصلحتوں کے تحت دل کے کسی گوشے میں سکڑا سکڑایا پڑا تھا۔ دراصل اٹھائیس سال تک پڑھنے اور ڈگریاں حاصل کرنے اور من موجی زندگی گزارنے کے بعد گھر بسانے کا فطری احساس ان سب جذبوں پر غالب آ گیا تھا۔ جس میں شہرت اور ناموری حاصل کرنے اور اپنے آپ کو ایک اچھے ادیب کے طور پر منوانے کے عزائم شامل تھے۔ میں عورت کی فطری جبلت کے ہاتھوں بے بس ہو گئی تھی اور عمر کی اس حد پر پہنچ کر یہ احساس بھی قوی ہو گیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اب بقیہ عمر کنوار پنے کی نذر ہو جائے۔
اماں کے وظیفوں اور دعاؤں نے جس کے لڑ لگایا وہ بلاشبہ پیار کرنے کے قابل تھا۔ شیر افگن جیسا۔ پر گھر کی راجدھانی کے ظلّ سبحانی مہابلی کے سامنے پورا پورا گیدڑ تھا۔
ظلّ سبحانی دراصل پکے پکے لارڈ کلائیو تھے۔ وہی چہرہ مہرہ۔ ویسا ہی رنگ و روپ، وہی انداز، وہی دبدبہ مجھ جیسی اڑتی چڑیا پنجرے میں قید ہو گئی تھی۔ سسرال نے ناک میں نتھ نہیں نکیل ڈال دی تھی۔ جس نے ناک کے نتھنے چھوڑ براچھیں بھی چیر دی تھیں۔ سارے عزائم اور خواب چولھے پر پکتی ہنڈیا سے نکلتی بھاپ کی مانند فضا میں تحلیل ہو گئے تھے۔ عیار لومڑی کی طرح لمبے چوڑے گھر کے ایک کھڈے لگی اس کٹھن وقت کو جس میں ازدواجی زندگی کے تحفظ کا پٹڑہ ہو سکتا تھا، بچاتی، پاؤں اندر ہی اندر مضبوط کرتی،ماہ و سال اپنے اوپر سے گزارتی چلی جاتی تھی۔
پرسی کلاس‘‘ کی یہ پڑھی لکھی عورت جس کے اندر اپنے آپ کو منوانے اور شہرت حاصل کرنے کے جراثیم گو کڑے حالات کی اینٹی بائیوٹک دواؤں سے نڈھال ضرور ہو گئے تھے۔ پر ابھی مرے نہیں تھے اب دوبارہ زندہ ہو رہے تھے۔ وہ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح ترقی پذیر کا ٹھپہ ماتھے سے پونچھ کر اسے ترقی یافتہ جیسے خوش رنگ جھومر سے سجانا چاہتی تھی۔
پر مصیبت تو یہ تھی کہ لڑ لگنے والا ایسا امن پسند تھا کہ زندگی کی رواں دواں ندی میں اُسے طغیانی چھوڑ ہلکے سے بھنور بھی پسند نہ تھے۔
ایک بار دورے پر کوئٹہ جا رہا تھا۔ میں نے بریف کیس تیار کیا۔ اسے پکڑایا اور کہا
‘‘مجھے بھی ساتھ لے چلتے کوئٹہ نہیں دیکھا۔ دیکھ لیتی اسی بہانے‘‘۔ اپنے اپ پر کلون کی بارش کرتے ہوئے لڑ لگنے والے نے گھوم کر یوں دیکھا جیسے میں پاگل ہو گئی ہوں۔
‘‘لو تمہیں کہاں گھسیٹتا پھروں گا۔ میں تو وہاں کام بھی ڈھنگ سے نہ کر سکوں گا۔دھیان تم میں ہی اٹکا رہے گا کہ کہیں کوئی رکشہ، ٹیکسی والا ہیر پھیر نہ کر جائے‘‘۔
میں نے دھیرے سے کہا۔
’’میں انجانی جگہوں، انجانے شہروں، ناواقف راستوں اور اجنبی لوگوں سے کبھی نہیں گھبراتی۔ ہمیشہ راستے نکال لیتی ہوں اور میرے ساتھ کبھی کوئی ہیرا پھیری نہیں ہوئی‘‘۔
اور بریف کیس کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے اس نے طنزاً کہا۔
‘‘عجیب عورت ہو۔ یہاں اجنبی جگہ پر سونا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں دوروں سے جان بچاتا پھرتا ہوں مار سارا سکون غارت ہو جاتا ہے‘‘۔
تب میں نے ہونٹوں کو بڑی گھودوئی سے نہیں سیا،چھوٹی سے سیا۔ چھوٹے چھوٹے توپے لگائے۔ اس لئے کہ میرے تلووں کے نیچے جو زمین تھی وہ رتیلی تھی اور میرے پاؤں سرک سرک جاتے تھے۔
اور جب رتیلی زمین موزائق کے فرش میں بدلی۔ اس وقت زندگی کے ازدواجی پہلو گلے گلے تک سیرابی پا چکے تھے۔ گھر کا سکون ڈسنے لگا تھا۔ جی چاہتا تھا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہواؤں میں اڑتی ابابیلوں کی طرح انجانے دیسوں کی طرف نکل جاؤں ’’رائیڈر ہیگرڈ‘‘ کے ’’میکومیزن‘‘ اور ’’ہنسیں ‘‘ کا روپ دھار لوں۔ نئی جگہوں کے اسرار جانوں۔ ’’ڈور تھی ڈکس‘‘ بن جاؤں اور خوب خوب لکھوں۔
اب اندر اور باہر زور دار جنگ کا آغاز ہوا۔ ممتا اور گھر داری ٹانگوں کو اندر کی جانب گھسیٹ رہی تھی۔ اور کچھ بننے بنانے، لکھنے لکھانے کی آندھی پٹخ پٹخ کر دروازے کے باہر پھینکتی تھی۔
پھر اس شب میرے دل پر اس شوخ کنیا کی باتوں کے ہتھیار سے وہ جھری پڑی تھی۔ جس نے مجھے عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
شمالی علاقہ جات پر لکھنے کا منصوبہ ذہن نے بنایا۔ تو وہاں جانا شرط ٹھہرا۔ میرے تخیل کے گھوڑے ایسے کمزور، مریل اور لاغر سے ہیں کہ بیچارے مشاہدے اور تجربے کی خوراک کھائے بغیر دو قدم بھی نہیں چل سکتے۔ اپنے آپ کو تجربات میں سے گزارے بغیر میرے لئے کچھ لکھنا ایسا ہی ہے جیسے ماں دردوں کے بغیر بچہ جن دے۔
تب ایک دن میں نے اپنا پرانا اعتماد بحال کرتے ہوئے لڑ لگنے والے سے کہا۔
میں شمالی علاقوں کی سیاحت کے لئے جانا چاہتی ہوں۔ مجھے کچھ لکھنا ہے۔‘‘
میاں کے ہونٹوں اور آنکھوں میں طنزیہ ہنسی ابھری تھی۔
مشرقی پاکستان پر لکھنے کے لئے وہاں گئیں تو اسے بنگلہ دیش بنا دیا۔ اب شمالی علاقہ جات کی شامت آ گئی ہے۔ خدا کے لئے رحم کھاؤ اس پر۔ گھرہستن عورت بنو۔ فضول میں گوڈون اسٹن، ڈریو اور منٹگمری جیسے مہم جوؤں اور کوہ پیماؤں کی روحوں کو شرمندہ کرتی پھرتی ہو‘‘۔
ڈھیٹ بن کر مدعا پھر گوش گزار کیا۔ اس بار لہجے کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی جھلاہٹ تھی۔
،عجیب عورت سے واسطہ پڑا ہے۔ ٹک کر رہنا دوبھر ہے۔ کوئی پوچھے بھلا تم نے وہاں جا کر خشک اور بنجر پہاڑوں سے کون سے راز و نیاز کرنے ہیں ‘‘۔
سچی بات ہے، بھینس کے آگے بین بجانے والے محاورے کا صحیح اور عملی مفہوم اس دن میری سمجھ میں آیا تھا۔
٭٭٭  



باب: 2 میجی لن اور اسکا بیڑہ۔ جلکوٹ اور جلکوٹیے

شاہراہ ریشم اور اُس کا حسن و جمال

اس وقت جب صبح کا نور زمین اور آسمان پر ایک ملکوتی سی بارش کر رہا تھا۔ میں دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ایک دوسرے سے جوڑے انہیں ناک کی پھنگی سے ٹکائے،آنکھیں بند کئے اس سے راز و نیاز میں مصروف تھی جو مشرق و مغرب کا رب ہے۔ میری آنکھوں سے دو گرم گرم قطرے نکلے تھے اور انہوں نے ہاتھوں کی اندرونی جلد کو گرمی کا خفیف سا احساس دلایا تھا۔
میرے سر پر اس وقت اسلام آباد کے آسمان کی چھت تھی۔ میرے پیٹ میں اضطراب،بے چینی اور اندیشوں کے گولے ادھر ادھر لڑھک رہے تھے۔ میں ابھی کل بچوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچی تھی اور آج ایک بجے تن تنہا شمالی علاقوں کی سیاحت کے لئے روانہ ہو رہی تھی۔
قصہ کچھ یوں تھاہماری راجباڑی کے ایک حصے کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ ماشاء اللہ سے دیور،دیورانیوں اور ان کے بچوں سے بھرا پرُا کنبہ جب تین کمروں میں بمعہ سامان کے سمٹا اور اکلوتے باتھ روم کے سامنے قطاریں لگ گئیں تب میں نے مسکینی سے کہا۔
تیرہ سال ہو گئے ہیں تمہارے پلے سے بندھے ہوئے۔ میری حالت تالاب میں ٹھہرے ہوئے کائی زدہ پانی جیسی ہے جو اب سڑاند مارنے لگا ہے۔ میکہ بھی کم بخت بالشت بھر کے فاصلے پر ہے۔ کہیں دور ہوتا تو چلو بندہ دس پندرہ دن ہی گزار آتا۔ توے پر پڑی کواسی روٹی بھی جل جاتی ہے اگر اسے پر تا نہ دیا جائے۔ مجھے اسلام آباد چھوٹی خالہ کے ہاں جانا ہے۔
مگر۔۔۔
میں نے اُسے لفظ ’’مگر‘‘ سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ میں جانتی تھی وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟ یہی کہ وہ میرے اور بچوں کے بغیر اداس ہو جائے گا۔
میرے سسرالی خاندان کے مردوں کا بیویوں کے بغیر ایک دن بھی گزارنا گویا قید با مشقت کی چکی پیسنا ہے۔ پر جہاں کہیں کوئی ملک عدم کی مسافر ہوئی۔ وہ دل کی مسند سے یوں اتری جیسے بدقسمت وزیر وزارتوں کی کرسیوں سے اترتے ہیں۔ بے چاری کا چہلم ابھی بیچ میں ہی اٹکا ہوتا ہے کہ نئی کو کھوجنے اور گھر لانے کے لئے دوڑ دھوپ شروع ہو جاتی ہے۔
تین جولائی کو اسلام آباد پہنچی۔ بھاگ دوڑ کرنے سے پتہ چلا کہ گلگت، ہنزہ بائی روڈ جانے کے لئے نیٹکو بس سروس سے سفر کرنا ہو گا۔ پہلی بس صبح چار بجے اور دوسری دن کے ڈیڑھ بجے روانہ ہوتی ہے۔
میرا پہلا پڑاؤ چلاس تھا۔ دوسری بس سے اگر سفر کیا جاتا تب پو پھٹے میں چلاس پہنچ جاتی۔
چھوٹی خالہ بہت جزبز ہو رہی تھیں۔
کمبخت ابھی تو آئی ہو اور ابھی نئے محاذ پر نکل رہی ہو۔ وہ بھی تن تنہا، کوئی چھری تلے گردن آئی ہے تیری۔ کوئی بازو بیلنے میں آ گیا ہے۔
میں ہنسی۔
بازو ہی تو بیلنے میں آ گیا ہے۔ ارے کیا کروں چھوٹی خالہ؟ ایک تو اس جذبہ حب الوطنی نے مار ڈالا۔ دوسرے خود نمائی اور منفرد بننے کے جذبات نچلا نہیں بیٹھنے دیتے۔ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا والی بات ہو رہی ہے۔ رہی بات تنہا گھومنے پھرنے کی۔ ان پڑھ والدین کا یہی فائدہ ہوا توہے مجھے کہ اپنی ذات پر اعتماد سیکھا۔ اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالی۔ سہارے ڈھونڈنے اور ان کی محتاجی سے نفرت کی۔
ارے پڑھے لکھے والدین تو عذاب ہوتے ہیں۔ اپنے تجربات میں سے بچوں کو گزرنے نہیں دیتے۔ پند و نصائح کے لٹھ ہر وقت ان کے چاروں طرف گھماتے رہتے ہیں اور بالاخر چڑیا گھر کے پنجروں میں بند شیروں جیسا بنا دیتے ہیں ‘‘۔
چھوٹی خالہ! میں نے لمبا سانس بھرا۔
میں تو مار کو پولو کی سگی بھتیجی بننا چاہتی ہوں۔ واسکو ڈے گاما کی گدی نشین ہونا چاہتی ہوں۔ مجھے ہیون سانگ بننے کی آرزو ہے۔ میں تھامس جے کرومبی کے نقش قدم پر چلنے کی متمنی ہوں۔ جس نے سیاحت کو نئے رنگ اور نئے انداز دئیے۔ پر مجھے تو مار ڈالا اس کمبخت لڑ لگنے والے نے کہ جو کائل کے اچھلتے ناچتے شعلوں کی بجائے اس کی ٹھنڈی راکھ بن کر پڑا رہنا چاہتا ہے‘‘۔
چھوٹی خالہ بٹر بٹر میرا منہ تکتی تھیں۔ کسی زمانے میں وہ پوری قانگو کی کھوپڑی تھیں۔ کیا مجال جو کسی کو بولنے دیں۔ پر تب جب آتش جوان تھا۔
چند لمحوں بعد انہوں نے پھر یہ کہنا ضروری سمجھا تھا۔
’’مجھے تو تمہاری تکلیف کا احساس ہے‘‘۔
ارے آپ نہیں جانتیں اسے۔ بڑا من موجی بندہ ہے۔ بچوں کی ہڑک اٹھی تو پل نہیں لگائے گا ہواؤں کے دوش پر اڑتا پل جھپکتے میں میرے سر پر آ کھڑا ہو گا اور ساتھ لے کر ہی ٹلے گا۔ میں تو شکر گزار ہوں مولا کی کہ اس کا ذہن سیمنٹ بجری اور سریا میں الجھا۔
گیارہ بجے میں نے بیگ میں ایک جوڑا کپڑوں کا، ٹوتھ پیسٹ، دور بین اور تولیہ رکھا۔ ڈائری اور پین پنسلوں کا جائزہ لیا۔ ان مقامی لوگوں کے ایڈریس چیک کرنے کے بعد سنبھالے،جن کے گھر مجھے مختلف جگہوں پر ٹھہرنا تھا۔ پیسے دھیلے کو اندر کی جیب میں ٹھونسا۔ اس کی زپ مضبوطی سے بند کی۔ قیمہ بھرے پر اٹھوں کا لفافہ بھی رکھ لیا۔
اب ’’میجی لن‘‘ اپنے بیڑے کے ساتھ شمالی علاقوں کی سرزمین کے گرد چکر لگانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔
بچے بڑے کمرے میں کھیل رہے تھے۔ میں ان کے کمرے میں نہیں گئی۔ میں نے ان کے منہ ماتھے بھی نہیں چومے اور نہ ہی انہیں خدا حافظ کہا۔ گو میرا دل ایسا کرنے پر تڑپا تھا۔
صدر روڈ سے سوزوکی میں بیٹھی تو وسوسوں اور اندیشوں کی قطاریں دماغ میں فلم کے ان شیدائیوں کی طرح لگ گئیں جو کسی سپرہٹ فلم کے ٹکٹ کے لئے سینما گھر کی کھڑکی کے سامنے ایک دوسرے کو دھکم پیل دینے میں مصروف ہوتے ہیں۔
کٹھن اور دشوار گزار راستوں اور جگہوں پر تن تنہا،چوروں کی طرح جا رہی ہوں۔ کوئی ہرج مرج ہو گیا تو سسرال چھوڑ میکہ بھی بیچارے میاں کا طعنوں سے کلیجہ چھلنی کر دے گا۔
کسی کھڈ میں گر گرا گئی تو لاش کو کتے، بلیاں نوچتے، کھسوٹتے پھریں گے۔
بچے پیچھے چھوڑے جا رہی ہوں۔ خدانخواستہ کوئی حادثہ جنم لے لے تو بچوں سے والہانہ پیار کرنے والا میاں منڈیا مروڑ کر رکھ دے گا۔
پیرو دھائی کے اڈے پر نیٹکو بس سروس سے چلاس کے لئے ٹکٹ کٹوانے لگی تو اونچے کاؤنٹر پر بیٹھے ٹکٹ بابو نے موٹے شیشوں کی عینک سے یوں گھُورا جیسے یا تو میں مفرور عورت ہوں یا پھر قتل ڈاکہ ڈال کر پہاڑوں کی گود میں پناہ لینے جا رہی ہوں۔
میں نے پل نہیں لگایا اور جانے کی غرض و غایت پر روشنی ڈال دی۔ چلو اتنا ضرور ہوا کہ انداز دید میں تھوڑے سے احترام کے جذبات عود آئے اور یہ بھی محسوس ہوا تھا کہ لہجے میں مٹھاس بھی گھل گئی ہے۔ نرمی اور ملائمت تھی لہجے میں جب کہا۔
دراصل یہ راستہ اتنا لمبا اور دشوار گزار ہے کہ مقامی عورتیں بھی بہت کم سفر کرتی ہیں۔ آپ اکیلی ہیں دعا کیجئے کوئی خاتون آ جائے۔
میرا جی چاہا چیخ کر کہہ دوں کہ میرے ساتھ ہے ایک ساتھی،جس کی حفاظت میں میں اپنے آپ کو سونپ کر چلی ہوں۔ مگر جانے کیوں چپکی ہو رہی۔
ظہر کی نماز وہیں ایک کمرے میں پڑھی اور دعا کی۔
پروردگار کوئی میرے جیسی جنونی غیر ملکی عورت ہی آ جائے‘‘۔لمبی چوڑی دعائیں مانگنے کے بعد جب باہر نکلی تو پتہ چلا کہ ایک لاہوری جوڑا سیر سپاٹے کے لئے گلگت اور ہنزہ جا رہا ہے۔ میرا دل اس وقت گندو راج کے پھول کی طرح کھل اٹھا۔ لڑکی نام جس کا عروج تھا۔ مشہور افسانہ نگار ممتاز مفتی کی بھانجی تھی۔ جہاز کا ٹکٹ نہ ملنے کے باعث شاید قدرت نے انہیں میری ہمراہی کے لئے اس طرف دھکیل دیا تھا۔
ڈیڑھ بجے بس چلی۔ ٹیکسلا کی دوکانوں میں پتھر کی سجاوٹی اور خانہ داری سے متعلقہ اشیاء پر رنگین نقش و نگاری یوں بہار دکھلا رہی تھی جیسے کسی ریگستان میں کیکٹس کے پودے جلوے بکھیرتے ہیں۔
شاہراہ ہزارہ پر جگہ جگہ بنے پُل گاڑی کے پہیوں کے نیچے سے نکل نکل کر پیچھے بھاگتے رہے۔ جلد ہی ہند کو بولنے والوں کا ہریالی اور شادابی میں ڈوبا ہوا ہری پور کا شہر آیا۔
میرے سامنے والی نشست پر ایک نوجوان نے سگریٹ سلگایا۔ جلتی تیلی کو ہوا میں لہراتے ہوئے بجھایا اور بولا۔
اس شہر میں کپڑے کے چھوٹے بڑے پچاس کارخانے، پاور ٹرانسفارمر اور بجلی کے سوئچ بنانے کا سب سے بڑا کمپلیکس، ماچس سازی کے چھ کارخانے اور ملک بھر کا کاوا ساکی موٹر سائیکل کے پرزے جوڑ کر اسے بنانے کا کارخانہ ہے۔ ارے ایوب خان اس شہر کو بنا گیا ہے‘‘۔
میں نے ان معلومات پر حیران ہو کر جلدی سے رخ پھیر کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سڑک کے کنارے غریب اور مفلوک الحال لوگ جگہ جگہ مکئی کے بھٹے کوئلوں پر بھون رہے تھے۔ گندے مندے کپڑوں میں دیہاتی مرد اور عورتیں مریل اور لاغر سے گھوڑوں میں جُتے تانگوں میں بیٹھے تھے۔ بے شمار کارخانوں کا مالک ایک صنعتی شہر۔

بھولی بھالی صورت والے ہوتے ہیں جلاد

بھی ہری پور کا پرانا نام گل ڈھیری تھا۔ پشین، بلوچستان سے آنے والے ترین قبیلے کے دور اقتدار میں کشمیر کے گورنر ہری سنگھ نلوہ نے اسے فتح کرنا چاہا پر ہزارہ پلکیا اور تربیلا کے مسلمانوں نے اسے شکست دی۔ لیکن جب رنجیت سنگھ نے گل ڈھیری پر قبضہ جما کر اسے ہری سنگھ کے حوالے کر دیا۔ تب اس نے اس کا نام ہری پور رکھا۔ اس نے یہاں ایک قلعہ بھی بنایا۔ قلعے کے چاروں طرف پانی سے لبالب بھری خندق تھی۔ قلعہ میں آمدورفت کا واحد دروازہ لکڑی اور لوہے کا ایک پل تھا جو رات کے وقت اٹھا لیا جاتا تھا۔ یوں رات کو یہ ایک جزیرے کی صورت اختیار کر لیتا تھا۔ یہ قلعہ اب بھی موجود ہے۔
اس وقت میرا جی چاہا میں چھلانگ مار کر بس کے دروازے سے باہر کود جاؤں اور قلعہ دیکھ آؤں۔ پر افسوس تو یہ تھا کہ نہ تو میرے پاس سلیمانی ٹوپی تھی اور نہ جادو کا سرمہ جسے آنکھوں میں لگا کر اور ٹوپی پہن کر میں موجیں مارتی پھرتی۔
حویلیاں کا خوبصورت شہر گزر گیا۔
حویلیاں سے سولہ کلو میٹر آگے شاہراہ ریشم پر کیپٹن جیمز ایبٹ کے نام پر رکھا گیا ایبٹ آباد شہر سرسبز ٹہنیوں پر کھلے گلاب کی طرح ہنستا تھا۔ یہ چوک فوارہ، گلیات، کوہستان،گلگت،کشمیر و کاغان کی وادیوں کا صدر دروازہ ہے۔ ایبٹ آباد ائیرمارشل اصغر خان کا شہر ہے۔ شاید اسی لئے اس شہر کے درو دیوار پر نعروں کا انداز بہت تیکھا اور شوخ ہے۔ سطح سمندر سے ۶۲۲۸ فٹ بلند یہاں کا مشہور پہاڑ کوہ سربن ایک ادبی حیثیت بھی رکھتا ہے کہ شاعر مشرق نے بانگ درا میں اسے مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے۔
اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ سر بن کا
کوہ سربن کے عین نیچے ’’ر ش‘‘ کا خوبصورت میدان ہے جس کے سرسبز سینے پر مکان یوں لشکارے مارتے ہیں جیسے سبز قمیص کے دامن پر رنگارنگ دھاگوں کی کشیدہ کاری۔
ایبٹ آباد سے پندرہ میل کے فاصلے پر مانسہرہ ہے جو مان سنگھ نامی ایک ہندو کے نام پر ہے۔ اس کی تین تحصیلیں مانسہرہ، بٹ گرام، بالا کوٹ اور چوتھی متوقع تحصیل اوگی ہے۔ یہاں مہاتما بدھ اور اشوک کے زمانے کی تحریریں کندہ ہیں۔
میں کھڑکی سے گردن باہر نکالے تیزی سے گزرتے خاکی، دو راہا،گاندھیاں کے چھوٹے چھوٹے گاؤں اپنی نظروں میں سمونے کی کوشش کر رہی تھی۔
میں نے دوربین بیگ سے نکالی اور آنکھوں سے لگا لی۔ پکھلی کی حسین اور سرسبز وادی دیکھ کر میری آنکھیں پھٹنے کی حد تک پھیل گئی تھیں۔ کونش کا پر بہار خطہ یوں لگتا تھا۔ جیسے جنت کے نظارے زمین پر اتر آئے ہوں۔
ڈوڈیال اور شنکیاری دونوں اہمیت کی جگہیں ہیں۔ ڈوڈیال میں مینٹل ہسپتال ہے۔ اور شنکیاری نہ صرف فوجی چھاؤنی ہے بلکہ اہل قلم کا مرکز بھی ہے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک بوڑھا آدمی توے پر روٹیاں پکا رہا تھا جانے اپنے لئے،اپنے بچوں کے لئے یا مسافروں کے لئے۔ اس کی گرم گرم روٹیوں نے مجھے بھوک کا احساس دلایا۔
ڈاڈر کا گاؤں آیا۔ میں چونکی۔ میری ایک دوست ٹی بی کی مریض بن کر یہاں آئی تھی اور اس ٹی بی کے خوبصورت ہسپتال کے ایک کمرے میں دم توڑ گئی تھی۔ ڈاڈر کا نام سالوں میرے ذہن پر تھرکتا رہا۔
اچھڑیاں، کوٹلی، قاضی آباد، آہل اور بٹل کے گاؤں گزرتے گئے۔ بٹل میں پہاڑوں کی رنگت کیسری تھی۔ بائیں ہاتھ گھاٹیوں میں اندھیرا تھا۔ دائیں ہاتھ کوہستان بٹل کے گھنے جنگلات دیودار، چیڑ اور پلار کے بلند و بالا درختوں کی چوٹیاں جو سورج کی سونا بکھیرتی کرنوں سے لدی پھندی تھیں۔
چھترپلین کی وادی کافی اونچائی پر ہے۔ برف باری خوب ہوتی ہے۔ بٹ گرام میں دھوپ قدرے پھیکی پڑ گئی تھی۔ اس وادی کے نظارے مجھے کسی عاشق کی طرح آنکھوں سے اشارے کرتے تھے کہ کہاں جاتی ہو؟ اتر آؤ نا یہاں ہمارے پاس۔ بٹ گرام تحصیل کا صدر مقام بھی ہے اسی لیے بیشتر دفاتر یہاں ہیں۔ پشتو اکثریت کی زبان ہے۔ ڈگری کالج بھی بن رہا ہے۔
دریائے سندھ موجیں مارتا رواں دواں تھا۔ سڑک کبھی پیچ کھاتی کسی پہاڑ کے سر پر جا پہنچتی اور کبھی بل کھاتی ہوئی نشیبی وادیوں میں آگے بڑھتی۔
بٹ گرام سے صرف گیارہ میل کے فاصلے پر تھاکوٹ کا عظیم الشان پل جو دنیا میں اپنی نوعیت کا تیسرا پل سمجھا جاتا ہے اب میری آنکھوں کے سامنے تھا۔
یہاں گاڑی رُک گئی تھی۔ میں،عروج اور اس کا میاں زمان اس پل کو دیکھنے کے لئے یوں گاڑی سے نکل کر بھاگے جیسے گاؤں کی دلہن کے ڈولے پر پھینکے جانے والے سکوں کو لوُٹنے کے لئے بچے بھاگتے ہیں۔
فنی کاریگری کا منہ بولتا یہ پل دس ماہ کی قلیل مدت میں تیار ہوا تھا۔ دریائے سندھ کی چنگھاڑوں سے دل دہلا جاتا تھا پر پل کی جوانی اور اٹھان بھی غضب کی اثر انگیز تھی۔
ایک مقامی بوڑھا آدمی میرے پاس آ کر رُک گیا۔ میری آنکھوں سے چھلکتی وارفتگی محسوس کرتے ہوئے بولا۔
وہ بڑا گرم دن تھا جس دن سڑک کا افتتاح ہوا۔ پاکستان کے صدر فوجیوں اور افسروں کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ ڈھیر سارے چینی بھی تھے۔ اس دن میلے کا سا سماں تھا۔ میرا پوتا پیدا ہوا تھا اس دن‘‘۔
مجھے ہنسی آئی۔ یادداشت کی کڑیوں میں کیسی مماثلت تھی۔
شاہراہ ریشم کی تعمیر ۷ جنوری ۱۹۵۹ء میں شروع ہوئی اور بیس سال میں چوبیس ہزار پاکستانی اور چینی جوانوں کی مشترکہ کاوشوں سے تکمیل کو پہنچی۔ ۱۸ جون ۱۹۷۸ء کو صدرپاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اس کا افتتاح تھاکوٹ پل پر کیا۔ چین کی نمائندگی نائب وزیر اعظم کنگ پیاؤ نے کی۔ اس پل پر سے ۷۰ ٹن وزن گزارا جا سکتا ہے۔
میں ڈائری میں تفصیلات کو نوٹ کرنے میں جتی ہوئی تھی اور ڈرائیور ہارن پر ہارن دئیے جا رہا تھا۔
عروج چیخی
اللہ کی بندی بس کر اب،وگرنہ چھوڑ جائے گا تمہیں یہاں۔ پھر دیدار کرتی رہنا ساری رات بیٹھ کر اس کا‘‘۔
ہم دونوں بھاگیں۔
تھاکوٹ سے ذرا آگے دلائی اور اس سے آگے بشام۔ یہاں پہنچ کر گاڑی بھی رک گئی اور رات بھی اتر آئی۔ یہاں سے سوات نزدیک ہے۔ نو عمر لڑکے سوات جانے والی گاڑیوں پر سوات سوات کا شور مچا رہے تھے۔ سڑک کے کنارے ہوٹل تھے۔ چائے پکتی اور روٹیاں دھڑا دھڑ لگتی تھیں۔ میلے کچلے کپڑوں میں حسین صورت لڑکے مسافروں کے آگے سالن کی پلیٹیں اور روٹیاں رکھتے تھے۔ ہوٹلوں کے عقب میں دریائے سندھ کی موجوں کا شور کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا۔
ایک بار نہیں،دو بار نہیں،دس بار بھی نہیں،یقیناً دس ہزار بار میں نے خدا شکر ادا کیا ہو گا کہ اس نے میری رفاقت کے لئے ایک عورت بھیج دی۔ لمبی چوڑی گاڑی میں ہم دو کے سوا تیسری کوئی آدھی عورت بھی نہ تھی۔ بشام کے جس ہوٹل میں ہم نے پڑاؤ ڈالا تھا۔ وہاں باتھ روم اللہ کی بنائی ہوئی کھلی زمین پر تھا۔ گو کہنے کو تاریکی تھی پر کہیں کہیں چمکتی سفیدیاں یہ بتاتی تھیں کہ خیر سے یہاں فراغت کے چھوٹے بڑے مرحلے طے ہو رہے ہیں۔
میں نے چادر کی دیوار بنائی۔ عروج اس کے زیر سایہ بیٹھی۔ پھر وہی کام عروج نے کیا اور میں نے فائدہ اٹھایا۔
کھانے کی چھوٹی سی میز پورم پور گندگی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کرسیاں بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اب خود بوجھ بنی پڑی تھیں۔ چھت کے پنکھے نے چلنے کی تہمت کا بار مفت میں اپنے کاندھے پر اٹھا رکھا تھا۔ کمرے کا ایک چھوٹا سا ٹوٹہ بھی اس کا زیر احسان نہ تھا۔
میں نے قیمہ بھرے پر اٹھے نکالے۔ عروج نے ماش کی دال اور گرم گرم تنوری روٹیاں منگوا لیں۔ اللہ جانے ماش کی دال پکانے کے نسخے ان ٹال ہوٹل والوں کے پاس کہاں سے آ گئے ہیں۔ گھر گر ہستن عورتیں بھی انگلیاں چاٹتی رہ جاتی ہیں۔
ابھی چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا ہی تھا کہ چلو چلو کا شور مچ گیا۔ کنڈیکٹر نے تین چکر لگائے اور ہارن نے یوں چیخنا چنگھاڑنا شروع کر دیا جیسے خدانخواستہ ائیر ریڈ ہو گیا ہے۔
باہر گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا۔ مجھے حسرت ہوئی کہ اے کاش چاندی رات ہوتی۔ کہیں کہیں جگنو سے ٹمٹماتے تھے جو یہ بتاتے تھے کہ یہاں وادیاں ہیں اور گھروں میں بتیاں روشن ہیں۔ ابھی صرف ۲۲۰ میل کا سفر طے ہوا تھا۔
میرے سامنے والی نشست پر بیٹھا وہی نوجوان اٹھا۔ میرے پاس آیا اور بولا مجھے ذوالفقار کہتے ہیں۔ آہ میرا تخلص ہے۔ داسو میں متعین ہوں۔ آپ کیا کِسی اخبار سے ہیں ؟
ارے کہاں بھائی مجھے تو آوارہ گردی کا جنون اڑائے پھرتا ہے‘‘۔
اُس نوجوان کی جوانی ان علاقوں میں گزر رہی تھی۔ پولیس میں ہونے کے باوجود ادب سے دلچسپی رکھتا تھا، تاریخ اس کے گھر کی لونڈی تھی۔ یہاں کا چپہ چپہ اس کے قدموں تلے روندا ہوا تھا۔
اُس نے سگریٹ سلگایا۔ تیلی کو ایک بار پھر اسی انداز میں فضا میں لہرایا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔
شاہراہ ریشم کا وہ حصہ جو بشام سے سازین تک ہے۔ قدرت کے حسین مناظر سے پر ہے۔ بشام سے ہربن تک دریائے سندھ کے دونوں جانب واقع علاقے کوہستانی کہلاتے ہیں۔ ہزاروں سال قبل جب سکندر اعظم نے ٹیکسلا فتح کیا تو یہ علاقہ ٹیکسلا کا ایک حصہ تھا۔ چندر گپت اشوک اور راجہ رسالو نے مدتوں اس علاقہ پر حکومت کی۔
تیمور نے ہندوستان فتح کرنے کے بعد اس علاقے کو ترکوں کے سپرد کر دیا۔ اسلامی حکومت کی بنیاد تبھی رکھی گئی۔ اس وقت یہ علاقہ ولایت پکھی کہلاتا تھا۔ ترکوں کے زوال کے بعد درانی غالب آ گئے۔ بعد میں نا اتفاقیوں کی وجہ سے ہزارہ پر سکھوں کا قبضہ ہو گیا۔ لیکن کوہستان کا علاقہ ان کے قبضے سے آزاد رہا۔ انگریزی دور میں بھی اس علاقے نے اپنی آزادی برقرار رکھی۔ آزادی پاکستان کے بعد پاکستان میں شامل ہو گیا۔ یکم اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اسے کا ضلع درجہ دیا گیا۔
یہاں کے لوگ دلیر اور جری ہیں۔ دریائے سندھ کے دونوں اطراف کے لوگوں کی اکثریت شین ذات پر مشتمل ہے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ رسم و رواج عادات و اطوار اور آداب و معاشرت میں یک رنگی کے باوجود زبانیں اس قدر مختلف ہیں کہ ایک دوسرے کی زبان نہ بول سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ ان شنیوں کا تعلق عرب قریش سے بتایا جاتا ہے جو سقوط سندھ کے بعد ہندوؤں کے ظلم و ستم سے بھاگ کر قبائلی علاقوں میں آئے اور پھر کوہستانی علاقوں میں پھیل گئے۔ پشتو دونوں طرف کے لوگوں کے رابطے کی زبان ہے۔

ایک دلچسپ بات آپ کی اطلاع کے لئے

اس نے سگریٹ کا زوردار سوٹا لگایا۔ نتھنوں سے دھواں خارج کیا اور پھر بولا۔
سندھ کے آر پار رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شادی بیاہ نہیں کرتے۔ مغربی جانب کے لوگ مشرقی جانب کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ اور دینی ہیں۔ دین کے بڑے بڑے جید علماء نے یہاں جنم لیا ہے۔ لوگ خوبصورت اور دراز قامت ہیں۔ ذہین اور معاملہ فہم ہیں۔
ہاں یاد رکھیئے جلکوٹ کبھی مت جائیں۔
جلکوٹ کے باشندے بہت سنگ دل اور سفاک ہیں۔ کسی کو قتل کرانا یا کرنا ان کے لئے معمولی بات ہے۔ جب کوئی مسافر ان کے گاؤں سے گزرے تو اسے لوٹے بغیر نہیں چھوڑتے۔ ایک معمولی ٹوپی کی خاطر بھی قتل کر دیتے ہیں۔ قتل کرنے کے بعد مینار جیسے تین منزلہ مکان میں قلعہ بند ہو جاتے ہیں۔ یہ مکان گھڑی کہلاتا ہے۔
ویسے ایک قابل ذکر بات ہے۔ اس نے غالباً خوف کی پرچھائیں میرے چہرے پر رینگتی ہوئی محسوس کر لی تھیں۔ بچوں اور عورتوں پر یہ لوگ ہاتھ نہیں اٹھاتے۔
میں نے اپنے کانوں کو چُھوا۔ چھوٹی چھوٹی چار ماشے کی مرکیاں میں اتار آئی تھی۔ ننگے بچھے ہاتھ،کان میرے پاس تھا کیا؟
پھر بھی مجھے جھرجھری سی آ گئی۔ نوجوان بولتے بولتے ابھی تھکا نہیں تھا۔ یوں اب دریا کا مشرقی علاقہ ضلع ہزارہ اور مغربی حصہ ضلع سوات کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ قانون کا مکمل نفاذ عمل میں لایا گیا ہے اور علاقے میں قتل و غارت کی گرم بازاری میں بہت حد تک کمی آ گئی ہے۔
پچھلی نشست پر کوئی گھٹیا برانڈ کا سگریٹ پی رہا تھا۔ دھوئیں کے مرغولے بھک بھک کرتے اس کے منہ سے نکل کر فضا میں گھٹیا اور ناگوار بو پھیلا رہے تھے۔ عروج ناک سکوڑتے ہوئے اس کی طرف یوں دیکھتی تھی جیسے اسے گردن سے پکڑ کر کھڑکی کے راستے سالم باہر پھینک دینا چاہتی ہو۔ وہ میری تاریخ دانی سے بھی عاجز نظر آ رہی تھی۔
میرا اپنا دل بھی حمل کے کچے دنوں کی طرح متلانے لگا تھا۔
میں نے کھڑکی کا پورا شیشہ کھول دیا۔ بلند و بالا پہاڑوں کی صورت پر ہیبت جنوں اور دیوؤں کی سی نظر آتی تھی۔ وادیوں کا سارا حسن تاریکی نگلے بیٹھی تھی۔
نوجوان نے اپنا رخ سیدھا کر لیا تھا۔ وہ اب آنکھیں بند کئے غالباً سونے کی کوشش میں تھا۔ گاڑی کے سارے مسافروں کی گردنیں دائیں، بائیں جھولتی تھیں۔ عروج بھی اپنے میاں کے شانے پر سر رکھے آنکھیں موندے ہوئے تھی۔ میاں بھی اونگھ رہا تھا۔ بھری گاڑی میں غالباً میں واحد مسافر تھی جو کیل کی طرح سیٹ میں گڑی ہوئی تھی۔
میرے سارے سریر میں خوف اور دہشت یوں جذب ہو رہی تھی جیسے ریگستانی سیگار و پانی اپنے اندر جذب کرتا ہے۔
تیسرا کلمہ میری زبان پر تھا۔ ہر پندرہ منٹ بعد میں خود اللہ کے حضور کسی مظلوم کی طرح کھڑا کر دیتی۔
بھلا جیسی بھی جنونی اور احمق ہوں پر ہوں تو تیری بندی۔‘‘
بس اب تیز رفتاری سے پٹن کی طرف رواں دواں تھی۔ بشام سے چھبیس میل آگے پٹن اور تقریباً چورانوے میل چلاس۔ میرے سفر کی پہلی منزل۔
میں خوف اور اندیشوں کی گھمن گھریوں میں الجھی ہوئی تھی۔ کیونکہ بس کو رات کے تین یا ساڑھے تین بجے وہاں پہنچ جانا تھا۔
رات کی تاریکی۔ انجان جگہ، شہر سڑک سے ڈیڑھ دو میل کی بلندی پر۔
پروردگار میں اوکھلی سردے بیٹھی ہوں۔ موسلوں سے بچانا اب تیرا کام ہے‘‘۔
پیرود ہوائی اڈے پر مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ بس پو پھٹے چلاس پہنچے گی۔ لیکن ڈرائیور کی بیٹی کے ہاں گلگت میں بارہ سال بعد بچے کی ولادت ہوئی تھی اور وہ اُ سے دیکھنے کی خوشی میں ایکسیلیٹر کو معمول سے زیادہ دبائے جا رہا تھا اور مجھ جیسی پردیسن کا پٹڑا ہوا جاتا تھا۔
یقیناً دعا قبول ہو گئی تھی کیونکہ جسم کا ہرمواس کے حضور تنا کھڑا تھا۔ کو میلا میں گاڑی خراب ہو گئی۔ مسافروں کو نیچے اتار دیا گیا۔
میں اور عروج بند دوکانوں کے سامنے پڑے بینچوں پر بیٹھ گئیں۔ رات نہ صرف سیاہ تھی بلکہ ڈراؤنی بھی تھی۔ ہم سے کچھ فاصلے پر پولیس کا سپاہی بیٹھا ڈنڈے سے کھیل رہا تھا۔ میں نے اس سے مزید معلومات حاصل کرنی چاہیں۔
’’یہاں بچے بچیوں کی تعلیمی حالت کیسی ہے؟‘‘
’’صفر‘‘
اس کے لہجے میں رکھائی بھی تھی اور رعونت بھی گورنمنٹ یہاں ہر بچے کو ماہانہ وظیفہ دیتی ہے کہ کسی طرح یہ لوگ پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لیں۔ انہیں بھیڑ بکریاں چرانے سے فرصت ملے تب پڑھیں گے نا۔ اور ہاں لڑکیوں کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟
میں نے اپنی تاریخ دانی کی کتاب کو بستے میں باندھ دیا۔ کیونکہ اس کے پھڑپھڑاتے صفحے مجھے کچھ نہ کچھ جاننے پر اکساتے تھے اور پاس بیٹھا مقامی آدمی بڑا روایتی جان پڑتا تھا۔ اس کے ہاں عورت کو سوال جواب کی اجازت نہیں تھی۔
گاڑی کی مرمت میں ڈھائی گھنٹے لگے۔ پانی باغ، لٹر، شتیال اور بشہ نالہ تاریکی میں ہی گزر گئے۔ دیو قامت ننگے بچھے پہاڑوں کی چوٹیاں سپید نظر آنے لگی تھیں۔ اس سپیدی کو دیکھ کر میرا دل ایسی طمانیت سے سرشار ہوا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
چلاس اب زیادہ دور نہیں تھا۔ تھور نالہ سے صرف اٹھارہ میل کا فاصلہ تھا اور تھور نالہ پل جھپکتے میں آیا چاہتا تھا۔ میں بار بار گھڑی کو دیکھتی تھی۔ بالآخر ڈرائیور سے کہہ بیٹھی۔
اگر آپ جلدی کریں تو مجھے چلاس میں صبح کی نماز مل سکتی ہے‘‘۔
اس اللہ کے بندے نے فوراً گاڑی ایک نالے کے پاس روک دی۔ ہوائیں گرم اور تیز تھیں۔ نالے کا پانی ٹھنڈا اور شفاف تھا۔ وضو کیا اور دور جا کر ٹیلے کے پیچھے نماز ادا کی۔ حقیقتاً سرور اور سپردگی کی ایسی کیفیت نماز میں پہلے کبھی نہ آئی تھی۔
میرا پہلا پڑاؤ چلاس تھا۔ میرے چھوٹے چچا ایک طویل عرصہ یہاں ملازمت کے سلسلے میں رہے تھے اور یہاں کے مقامی لوگوں کے نام ان کے خط میر ے پاس تھے۔ چلاس کے چاندنی ہوٹل کے سامنے گاڑی رکی۔ سب مسافر بھی چائے پانی کے لئے اتر گئے۔ عروج سے میں نے ان کے گلگت میں قیام کا پتہ پوچھا۔ ہنستے ہوئے بولی۔
’’یار کسی سستے سے ہوٹل میں تلاش کر لینا۔‘‘


باب:3 چلاس : دیامر کا ایک اہم شہر

نانگا پربت کے جلوے۔ چلاس قلعہ۔
جدوجہد آزادی گل جان اور اس کا محبوب

لوگوں کی بات نہیں پر میری ضرور ہے کہ زندگی میں بہت سی تشنہ آرزوئیں اور ادھوری خواہشیں ایسی بھی رہیں جن کی گھمن گھیریوں میں غوطے کھاتے اور الجھتے ان کے پورا ہونے کا تصور ہمیشہ محال نظر آیا۔ خدا غریق رحمت کرے جناب فضل کریم فضلی کو اور عمر دراز دے قرۃ العین حیدر کو کہ اول الذکر نے نہایت تفصیلاً اور موخرالذکر نے قدرے مختصر کنچن چنگا کے حسن و جمال کے نقشے یوں کھینچے ہیں کہا نہیں پڑھ پڑھ کر میں نے بے اختیار نیلی چھت والے سے گلہ کیا۔واہ مولا مجبور و بے بس اشرف المخلوق بنا کر احسان کا ٹوکرہ سر پر دھر دیا ہے۔ مرغ زریں ہی بنا دیتا کہ تیرے جلوے تو دیکھتا‘‘۔چلاس کا شہر شاہراہ ریشم سے خاصی بلندی پر ہے۔ چاندنی ہوٹل میں جب مسافر ناشتہ کر رہے تھے میں نے ہوٹل والے سے بات کی جس نے ایک نو عمر لڑکے کو جگایا جو کرائے پر سوزوکی چلاتا تھا۔ بیس روپے کے عوض وہ مجھے لے جانے پر آمادہ ہوا۔سوزوکی نے رخ پھیرا۔ ذرا فاصلے پر شنگریلا تھا۔ ائر مارشل اصغر خان کے چھوٹے بھائی بریگیڈئراسلم کا شنگریلا ہوٹل۔ شمالی علاقہ جات میں ان مہنگے شنگریلا ہوٹلوں نے دھوم مچا رکھی ہے۔ خاص طور پر شنگریلا بلتستان نے۔دفعتاً میں نے اپنے دائیں ہاتھ دیکھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کنچن چنگا سورج کی اولین کرنوں میں ہنستی ہو اور کہتی ہو کہ خواہشیں اور آرزوئیں اگر سچی طلب رکھتی ہیں تو کسی نہ کسی روپ میں ضرور پوری ہوتی ہیں۔میں نے ڈرائیور لڑکے کی طرف دیکھا۔اس نے میری آنکھوں سے چھلکتے سوال کا مفہوم سمجھا اور بولا۔یہ نانگا پریت ہے۔ استور اور چلاس کا درمیانی پہاڑ۔ دنیا کی چھٹی اونچی چوٹی جس کی بلندی ۸۱۲۶ میٹر ہے‘‘۔
میں سوزوکی سے نیچے اتر آئی تھی۔ڈرائیور لڑکا بولے جا رہا تھا۔ میرے کان بند ہو گئے تھے۔ ہونٹ سل گئے تھے۔ آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ اس وقت چلاس کے پہاڑوں سے ٹکرا کر جو ہوائیں لوٹتی تھیں وہ تیز بھی تھیں اور گرم بھی۔ نانگا پربت کی برف کے پیرہن پہنے چوٹیاں جن پر سورج کی طلائی کرنیں کیسے کیسے دلفریب نقش و نگار بنا رہی تھیں۔ مجھ پر جذب کی گہری کیفیت طاری تھی۔ جی چاہتا تھا وجود کی قید سے آزاد ہو کر ان کے سینے پر چڑھ دوڑوں۔ حسن فطرت کی شراب اس فیاضی سے بہہ رہی تھی کہ میری آنکھیں پی پی کر سیراب ہونے کی بجائے مزید پیاسی ہو رہی تھیں۔
ڈرائیور چھو کرہ پاس آ کر بولا ’’اب چلئے نا۔ میں نے واپس بھی آنا ہے‘‘۔میں نے نگاہوں کا رخ پھیرا۔ آسمان کی نیلی وسعتوں سے زمین کی خاکستری پنہائیوں میں آئی سونیوال کوٹ کی بستی شاہ بلوط کے جھومتے سبز درختوں کے درمیان کھڑی تھی۔ دور بین کی آنکھیں مجھے چھوٹی چھوٹی تفصیلات سنانے لگی تھیں۔ مثلاً گھروں کے آنگن سونے تھے۔ خاصی گنجان وادی تھی، پر زندگی کی جیتی جاگتی علامت دھواں تین چار گھروں کے سوا کہیں سے نہیں اٹھ رہا تھا۔ ڈھور ڈنگر بھی نظر نہیں آتے تھے اور انسان بھی کم و بیش نظروں کی زد سے باہر تھے۔ چند بوڑھوں نے ضرور اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔ گلیوں اور گھروں میں اچھلتے ناچتے بچوں کی عدم موجودگی تشویشناک تھی۔
میں نے خود سے کہا تھا۔ ’’ملک میں امن و امان کی صورت حال اطمینان بخش ہے۔ لہٰذا میرے خیال کے مطابق مردوں کے لام پر جانے اور عورتوں اور بچوں کے ادھر ادھر ہونے کا بھی کوئی سوال نہیں۔ ‘‘
میں نے لڑکے سے اس ویرانی کا سبب پوچھا۔پتہ چلا کہ چلاس چونکہ سارے شمالی علاقوں میں سب سے زیادہ گرم ہے۔ گرمیاں شروع ہوتے ہی یہاں کے لوگ ٹھنڈی جگہوں پر چلے جاتے ہیں۔ یہ بستی جواب شاہین آباد کہلاتی ہے۔ موسم گرما کے آغاز میں ہی گئی داس اور نیاٹ کے نالوں میں چلی گئی ہے۔بات سمجھ میں آ جائے تو سر کا ہلنا فطری امر ہے۔میں بھی ہلتے سر کے ساتھ آ کر سوزوکی میں بیٹھ گئی۔
لڑکے نے سوزوکی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔نانگا پربت کو مقامی لوگ دیامر کہتے ہیں۔ ہماری زبان میں اس کے معنی ہیں پریوں کے رہنے کی جگہ۔ یہ بات مشہور ہے کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر پریاں رہتی ہیں۔ اب لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ سب غلط باتیں ہیں۔میں نے نانگا پربت کے حسن کو پھر دیکھا اور لڑکے سے کہا۔
’’ارے غلط کیوں ہیں ؟ حسن و رعنائی کے خیالی یا حقیقی پیکر ایسی دل آویز جگہوں پر نہ رہیں گے تو کیا پنڈی بھٹیاں کے چک نمبر ۸۸ کی روڑیوں پر ڈیرے ڈالیں گے‘‘۔
لڑکا کھلکھلا کر ہنسا۔ بات شاید اس کے دل کو لگی تھی۔میرے سامنے بٹوگاہ کے کنارے واقع ایک اور آبادی تھی۔ چلاس بازار تھورا سا اونچائی پر ہے۔ بٹوگاہ چلاس کا مشہور نالہ ہے۔ چلاس کے اکثریتی قبیلے بٹو کے لوگ یہاں آباد ہیں۔ اکثریت شین ذات سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ تاریخ کی قدیم ترین بستی ہے۔ بٹو کوٹ کی بستی بھی ویران نظر آ رہی تھی۔ لڑکا بتا رہا تھا کہ بیشتر لوگ اس مال مویشیوں کے ساتھ بٹوگاہ کی چراگاہوں میں چلے گئے ہیں۔ وہاں مکئی کی فصل کاٹ کر اکتوبر میں واپس آئیں گے۔
اللہ۔ اب میں اس ساری جان سے لرزی تھی۔ یہاں تو بستیاں ویران پڑی ہیں۔ جن کی مہمان بننے جا رہی ہوں وہ بھی اگر ٹھنڈی ہوائیں کھانے اپنے گرمائی مستقر گئے ہوئے ہوں تو میرا کیا بنے گا؟
بہرحال دل کو سمجھایا کہ اب گھبرانا کیسا؟ اوکھلی میں سر دیا ہے تو موسلوں سے کیا ڈر؟ چلاس کا بازار آیا۔ اونچے اونچے موڑ آئے۔ ٹیڑھی میڑی گلیاں۔ چھوٹی سی عمر کا لڑکا کس مہارت سے گاڑی چلاتا تھا۔ ہر موڑ پر میرا دل ڈوب جاتا کہ بس اب گاڑی الٹی کہ الٹی لیکن خیریت رہی اور ہسپتال روڈ کے عین مقابل ایک کھلے سے میدان میں اس نے مجھے اتارتے ہوئے کہا۔
لیجئے وہ سامنے آپ کے میزبانوں کا گھر ہے۔‘‘ ابھی میں نے زمین پر قدم رکھ کرچلاس کی ہوا کا ناک کے نتھنوں سے ایک زور دار کش لیا ہی تھا کہ میرے دائیں بائیں بچوں کا جمگھٹا لگ گیا۔ چمکتے دمکتے چہروں والی چھوٹی چھوٹی بچیاں جنہوں نے ایرانی جرسی کے سبز اور سرخ پھولوں والے میلے کچیلے سوٹ پہن رکھے تھے۔ اوڑھنیاں سروں پر تھیں اور بالوں کا رنگ واضح نہیں ہو رہا تھا۔ سرخ و سفید چہروں پر زکام کے پیلے لیس دار مادے سے لتھڑی ناکوں والے لڑکے جن کے نقش و نگار ان خدوخال سے مختلف تھے جن کے بارے میں میں نے پڑھا اور سنا تھا۔
اپنے اردگرد اس پر رونق میلے کو دیکھ کر مجھے خوشی کا احساس ہوا تھا۔ دل کو ڈھارس بندھی کہ چلو کچھ لوگ تو ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا تھا کہ بہت سے سرکاری ملازمین اور کاروباری گھرانے ابھی یہیں ہیں۔
تبھی میرے میزبان آنکھوں میں حیرت و استعجاب کے رنگ لئے میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ مجھے یوں محسوس ہوا تھا جیسے ڈاکٹر ناموس کی کتاب کا ایک خالص شین چہرہ کتابی صفحات سے نکل کر میرے سامنے آ گیا ہو۔ چھ فٹی قامت،کھڑی ناک پر ذرا عمودی،موٹی آنکھوں کی رنگت اودے اور نیلے رنگ کے بین بین، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئیں لیکن گال پچکے ہوئے۔ چہرہ سرخ و سفید اور باریش۔
انہیں شاید کسی نے اطلاع دے دی تھی۔ میں نے اپنا تعارف اپنے چچا کے حوالے سے کروایا۔ بہت خوش ہوئے۔
ان کے پیچھے پیچھے چلتی گھر میں داخل ہوئی۔ گزرگاہ کے ساتھ مردانہ بیٹھک جس کا دروازہ صاحب خانہ نے کھولا تو لکڑی کی چھت کھڑکیوں اور دروازوں کے ساتھ فرش بھی چوبی نظر آیا۔ چلاس کی وادیاں داریل اور تانگیر جنگلات کا گھر ہیں۔ مکان میں لکڑی کا استعمال فراخدلی سے ہوتا ہے۔ نشست گاہ آنگن سے تین زینے نیچی تھی۔ صحن کے ایک طرف بادام کا درخت کچے پھل کے ساتھ پر پھیلائے کھڑا تھا۔ دوسری طرف کائل کی لکڑیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ آنگن سے ذرا اونچا برآمدہ اور آگے دو کمرے جن پر کسی اجڑی بیوہ کا گمان پڑتا تھا۔ ہاں البتہ دیواروں پر لٹکتی بیش قیمت بندوقیں چلاسی لوگوں کی جنگویانہ ذہنیت کی عکاس تھیں۔
بلوری آنکھوں والی خاتون خانہ بیٹی جنے بیٹھی تھی۔ پتہ چلا کہ گھر والوں نے تو بابو سر چلے جانا تھا بس اس زچگی نے روک دیا۔ اب کل پرسوں کی تیاری تھی۔
میں نے دل میں کہا: ’’چلو شکر ہے۔ لڑکی بھاگوان ہے، وگرنہ میں کہاں خجل خوار ہوتی‘‘۔
گھر پر خوشحالی اور رزق کی فراوانی تھی۔ پر صفائی ستھرائی اور سلیقہ جیسی خوبیوں کی تنگی تھی۔ چودہ سالہ جوان بیٹی گلاب کا مہکتا پھول تھی جس کی مسحور کن خوشبو نے اندر باہر کے سارے گند پر ایک پردہ سا ڈال دیا تھا۔
چائے سے فارغ ہو کر میں نے چارپائی کی پٹی سے نیچے لٹکتی ٹانگوں کو اوپر کیا۔ دیوار سے ٹیک لگائی اور اپنے میزبان کی طرف دیکھا جو مقامی ٹوپی سر سے اتارے اپنے خشخشی بالوں میں انگلیاں چلا رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ میں تھوڑا سا آرام کر لوں۔
مجھے آرام کی ضرورت نہیں تھی۔ میں ان سے باتیں کرنا چاہتی تھی۔ شہر کے مضافات میں گھومنے کی متمنی تھی۔ وقت کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھانا میرا منتہائے مقصود تھا۔ میں جو گھر میں تھوڑا سا کام کرنے کے بعد ہمیشہ شکست خوردہ کھلاڑی کی طرف ہانپ کر بیٹھ جاتی تھی۔ اب اٹھارہ گھنٹے کے طویل اور صبر آزما سفر کے بعد بھی راج پری پیکر کی طرح صعوبتوں کے اکھاڑے میں کودنے اور شہ زوری دکھانے کے لئے تازہ دم تھی۔
صاحب خانہ نے اپنی پٹولہ سی حسین بیوی پر ایک نظر ڈالی۔ پھر نگاہوں کا رخ میری سمت کیا اور بولے۔
’’آپ کو یقیناً یہ تو پتہ چل گیا ہو گا کہ شنا یہاں کے اکثریتی لوگوں کی زبان ہے۔ شنا بولنے والے لوگ دراصل دار دیا دُرد ہیں اور نسلاً آریائی ہیں۔ آریا قوم دس پندرہ صدی قبل از مسیح وادی سندھ میں فاتح بن کر آئی۔ انہوں نے ’’جلکوٹ اور گور‘‘ کے درمیانی علاقے میں رہنا شروع کیا۔ ان کا وہ گروہ جو اپنے طور طریقوں،رسم و رواج پر قائم رہا ’’شین‘‘ کہلایا۔ لیکن وہ لوگ جو اردگرد پھیل گئے اور جنہوں نے مقامی لوگوں سے شادیاں کیں۔ اپنا رنگ انہیں دیا اور کچھ ان کا رنگ خود لیا۔ یشکن بنے۔ کمی اور ڈوم کمتر ذاتیں ہیں۔
شین اس علاقے کی سب سے اونچی اور ممتاز قوم ہے۔ ہم دونوں شین ہیں۔‘‘
انہوں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں سے بیوی کی طرف اشارہ کیا۔
صاحب خانہ نے آخری جملہ گو دھیمے انداز میں کہا تھا لیکن اس میں تفاخر کی جو لہریں موجیں مار رہی تھیں۔ وہ مجھ سے چھپی نہ رہی تھیں۔
باہر کوئی ملنے والا آیا تھا۔ میرے میزبان اٹھ کر چلے گئے۔ میں کمرے سے نکل کر آنگن میں آئی۔ دھوپ کی تیزی اور اس کا پسار پہاڑوں اور میدانوں پر بھری دوپہر کی مانند تھا۔ لیکن ابھی صبح تھی اور میری گھڑی نو بجا رہی تھی۔
برآمدے کی دیوار کے ساتھ لوہے کے چولہے میں لکڑیاں جل رہی تھیں۔ یہ چولہا عجیب ساخت کا تھا۔ آگے پیچھے کا سلسلہ یوں پھیلا ہوا تھا کہ چولہے کے منہ میں جلتی لکڑیوں کی آگ تیسری دیگچی تک پہنچ رہی تھی۔ پتیلوں اور دیگچی میں جانے کیا کیا پک رہا تھا؟
میں قریب جا بیٹھی۔ گلاب کے پھول نے ہنستی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ میں نے نام پوچھا۔
گل جان بیگم۔‘‘ایسی معصوم اور بھولی بھالی صورت کے لئے کیسا بھاری بھر کم نام تھا۔
میں کھڑی ہو گئی کیونکہ گل جان بیگم نے مجھے پیشکش کی تھی کہ ’’آؤ تمہیں اپنا باغیچہ دکھاؤں،نشست گاہ کے دروازے سے اتارا گیا دس پوڈوں کا چھوٹا سا چوبی زینہ گھر اور باغیچے میں رابطے کا واحد ذریعہ تھا۔ ناشپاتی، سیب، خوبانی کے درختوں کی ٹہنیاں اور انگور کی بیلیں پھولوں کے بارسے جھکی پڑتی تھیں۔ اس دلفریب نظارے کو دیکھ کر میرے چہرے اور آنکھوں سے خوشی کی کرنیں پھوٹی تھیں۔ کیونکہ میدانی علاقوں میں رہنے کی وجہ سے ہم لوگ تو قدرت کے ان انمول عطیات کو ان کے حسن کے ساتھ دیکھنے کی سعادت سے محروم ہی رہتے ہیں۔
پر میری قسمت کہ میرے ذہن و دہن کو للچاتا پھل ابھی کچا تھا۔ پکا پھل توت ختم ہو چکا تھا۔ اگر کہیں کوئی ٹانواں ٹانواں دانہ نظر آتا تھا تو اسے توڑنے کے لئے یقیناً میں لولی لنگی ہونے کا رسک لینا نہیں چاہتی تھی۔
سوانچل (ساگ) اور منڈیا (چائنا پالک) کی کیاریوں میں ابھی گل جان نے پاؤں دھرا ہی تھا جب اس کی پکار پڑی۔ وہ اور اس کے پیچھے پیچھے میں بھی الٹے پاؤں بھاگی۔ پتہ چلا کہ گوشت تیز آنچ سے جل گیا ہے اس کی بُو نے چارپائی پر بیٹھی زچہّ ماں کو اٹھنے اور پکارنے پر مجبور کر دیا تھا۔میں اب چلاس کے گرد و نواح کا چکر لگانے اور قبل از تاریخ وہ چٹانی مجسمے اور پتھروں کے ہتھیار دیکھنے کا سوچ رہی تھی جن کی وجہ سے چلاس خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس خواہش کا اظہار جب کمرے میں موجود صاحب خانہ سے کیا گیا تو بے چارے نے گھبرا کر ایک بار زمین کو دیکھا، دوسری بار بیوی کو اور تیسری بار مجھے۔ پھر قدرے تذبذب سے بولا۔بی بی دراصل ان علاقوں میں عورت کا یوں پھرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے‘‘۔چلو یہ اچھی ایکٹویٹی رہی۔ جان جوکھوں میں ڈال کر گویا میں ان کا گھر دیکھنے اور کھانے کھانے ہی تو یہاں آئی ہوں ‘‘۔
بہرحال میں نے غصے پر قابو پایا اور ہنس کر کہا۔’’میں آپ کی مدد اور تعاون کی ضرورت مند ہوں۔ اتنا کٹھن سفر۔۔۔ ‘‘ انہوں نے فوراً میری بات کاٹ دی۔’’چلیئے میں کچھ کرتا ہوں ‘‘۔ وہ باہر نکل گئے۔ تھوری دیر بعد اندر آئے مجھے بتایا۔’’ابھی باہر میرا بھتیجا آیا تھا۔ اسے میں نے آپ کے بارے میں بتایا ہے۔ وہ ابھی آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ چلاس کے مضافات میں گھوم آئیے۔ باقی رہے تاریخی مجسمے، دراصل یہ مختلف جگہوں پر ہیں۔ دریا پار ایک وادی تھلپن ہے۔ تھور اور گچی میں بھی سننے میں آئے ہیں۔ میں دراصل تذبذب میں ہوں کہ وہاں جانا مسئلہ ہے‘‘۔
ان تاریخی کتبوں کو دیکھے بغیر چلاس آنا رائیگاں جاتا تھا۔ میں چارپائی پر بیٹھ گئی اور رسان سے بولی۔
آپ میری مجبوری سمجھیں۔ کسی اچھی سی گاڑی اور ماہر ڈرائیور کا بندوبست کر دیجئے۔ جتنے پیسے وہ لینا چاہے میں دوں گی۔ اچھا برا لگنے کی بات چھوڑئیے۔ بچوں والی عورت کے لئے بار بار گھر سے نکلنا مشکل ہے۔ روز روز کوئی آیا جاتا ہے!پھر ایک عجیب سی بات ہوئی۔سترہ اٹھارہ سال کا ایک لڑکا گھر میں داخل ہوا۔ یہ محمد صادق تھا۔ جس نے گائیڈ کے فرائض سرانجام دینے تھے۔ میں اٹھنے ہی والی تھی کہ برآمدے میں کھڑی گل جان نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا۔ دہلیز سے قدم نکلتے ہی اس نے مجھے ہاتھ سے تھام کر دوسرے کمرے میں ایک جستی ٹرنک کے سامنے لا کھڑا کیا۔ میں حیران و ششدر ’’سر آرتھر کنین‘‘ ڈائل کی جاسوسی کہانیوں والی صورت حال محسوس کرتی تھی۔
تب ایک جھٹکے سے بکس کا ڈھکن اوپر اٹھا۔ اس نے جرسی کی پھولدار چادر کپڑوں کی تہوں سے نکال کر اسے بند کیا۔ میرے سر سے وہ نسبتاً مہین چادر اُتاری اور وہ اوڑھا دی۔
بارہ تیرہ سالہ گل جان جس نے مجھے کچھ کہے بغیر بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔ میں نے اس کی پیشانی چومی اور باہر نکل آئی۔گھر سے نکل کر جو سڑک پاؤں کے نیچے آئی وہ ہسپتال روڈ تھی۔ دور افتادہ علاقوں میں سرکاری عمارتوں کے مخصوص پیٹرن پر تعمیر شدہ چھوٹا سا ہسپتال جہاں ہمہ وقت دس بارہ مریض داخل رہتے ہیں۔ پانچ مرد ڈاکٹر حاضر، خاتون ڈاکٹر غیر حاضر ہی نہیں کلی غائب۔انچارج ڈاکٹر محمد افضل خان سمیت تین اور ڈاکٹر استوار سے تھے۔ پتہ چلا کہ تعلیمی لحاظ سے استوار شمالی علاقہ جات میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
زنانہ وارڈ میں زچگی کا ایک اُلجھا ہوا کیس چلاس سے چھ میل پرے وادی سے آیا ہوا تھا۔ پورا خاندان برآمدے میں جمع چہ میگوئیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ دائی جو اپنے آپ کو مڈوائف کہتی تھی۔ انہیں سمجھا سمجھا کر ہار گئی تھی کہ اگر انہیں مریضہ کی جان درکار ہے تو مرد ڈاکٹر اندر بھیجنا بہت ضروری ہے۔ایسے نازک لمحات میں پند و نصائح اور قائل کرنے کے جو حربے استعمال میں لائے جا سکتے تھے وہ سب آزمائے گئے اور یوں مرد ڈاکٹر اندر جانے میں کامیاب ہوا۔میں نے ڈاکٹر افضل خان کی طرف دیکھا اور بے اختیار کہا۔اگر آپ نے کراچی جیسے شہر کو چھوڑ کر محض اپنے علاقے کی خدمت کے لئے یہاں ڈیرے ڈالنے تھے تو میٹریکولیٹ گھر والی کی جگہ ڈاکٹر بیوی لانی تھی۔ کم از کم ایسی صورت سے تو بچ جاتے۔
’’ارے بی بی بہتیرے طرلے مارے اس ماڈرن ڈاکٹر لڑکی کے جسے مجھ سے محبت کا دعویٰ تھا۔ مگر جو شہر چھوڑ کر یہاں آنے پر تیار نہیں تھیں۔ آپ بتائیں کیا کرتا۔‘‘میں نے کچھ نہیں بتایا کیونکہ ایسی صورت میں بتانے کے لئے کچھ باقی نہیں رہتا۔
ریاض گلی سے جو چڑھائی شروع ہوئی تو وہ کھتر محلہ جا کر ختم ہوئی۔ پتھروں کی دیواروں والے گھر جن کے چھوٹے چھوٹے دروازے بند تھے۔ جولائی کے تپتے سورج نے مجھے پسینہ پسینہ کر ڈالا تھا۔ ایک دیوار کی اوٹ میں سستانے بیٹھی تو صادق ہنسنے لگا۔میرے دائیں بائیں اور سامنے جانوروں کی بکھری ہڈیاں ہر جاندار کے فانی ہونے کی داستانیں سنانے ہی لگی تھیں کہ میں دہلا کر اٹھی۔ ان کہانیوں کو سننے کا ابھی میرے پاس وقت نہیں تھا۔محمد صادق بتاتا تھا۔
دیامر ۱۹۴۷ء میں گلگت پاکستان کا حصہ بنا۔ جنگ آزادی گلگت و بلتستان میں چلاسیوں اور استوریوں نے جی جان سے مجاہدوں کی نہ صرف مدد کی بلکہ عملی طور پر جنگ میں حصہ بھی لیا۔ ۱۹۵۳ء میں پورے داریل و تانگیر کا الحاق دیا مر کے ساتھ ہوا۔ ۱۹۷۲ء میں انتظامی بہتری کے لئے استوار،داریل و تانگیر اور چلاس کی تحصیلوں کو ملا کر ایک ضلع دیا مر کے نام سے قائم کیا گیا جس کا صدر مقام چلاس ہے۔
تھوڑی سی چڑھائی کے بعد میرے سامنے ایک پختہ سڑک تھی جس کے دونوں جانب بڑے بڑے دروازوں والی پختہ دوکانیں تھیں۔ گاہکوں اور دوکانداروں کی اکثریت باریش تھی۔ دلوں کے حال خدا بہتر جانتا ہے کہ یہ سنت نبوی سے وابستگی کی بنا پر ہے یا اس میں خط بنوانے کی کاہلی کا عمل دخل ہے۔ چلاس کی اٹھانوے فیصد آبادی سُنیّ مسلک سے متعلق ہے۔
پرلی طرف چلاس کی تیسری آبادی جسے مہاجر کالونی کے ساتھ ساتھ رونئی بھی کہا جاتا ہے، واقع ہے۔ گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا۔ یہاں سرکاری ملازمین اور پٹھانوں کی اکثریت ہے۔ ستراسی گھر ہوں گے۔ ساتھ ہی شلکٹ کا گاؤں ہے۔
محمد صادق مجھے مچھلیوں کے فارم دیکھنے کی دعوت دے رہا تھا جو کہیں قریب ہی تھا لیکن مجھے زندوں کی نسبت بے جانوں سے زیادہ دلچسپی تھی۔ میں نے چلاس کا تاریخی قلعہ دیکھنے کے لئے دوڑ لگا رکھی تھی۔
صادق کہنا تھا۔دیکھنا تھا تو آپ نے پہلے بتایا ہوتا میں شارٹ کٹ سے لے چلتا۔ ہاں آپ ذرا آہستہ چلئے۔ میرے پیچھے رہیے۔
میری بہت سی خراب عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی مرد کے ساتھ چلتے ہوئے میرا ایک قدم پیچھے رہنے کی بجائے اس سے آگے رہتا ہے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں میاں نے غالباً مروت میں اس عادت کو برداشت کیا۔ پر جب تعلقات میں ذرا بوسیدگی ائی تو ایک دن سیر کے لئے جاتے ہوئے بیچ سڑک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔کیسی سٹوپڈ عورت سے واسطہ پڑ گیا ہے۔ پیچھے نہیں قدم چلتے تو آگے بھی مت بڑھو‘‘۔
وہیں ’’تو تو میں میں ‘‘ ہو گئی اور نتیجتاً ہم لوگ گھر میں الگ الگ داخل ہوئے۔
بیچارہ صادق‘‘
اب بھلا میں مرد کی ذہنیت پر چچ چچ کرنے کے سوا اور کیا کر سکتی تھی۔ بازار کے ساتھ جماعت خانہ تھا اور اس کے پاس ہی مضبوط قلعہ آن بان سے کھڑا تھا۔ اندر پولیس نے اپنا دفتر بنا رکھا تھا۔
میں نے برجیوں میں سے جھانکتے ان سوراخوں کو دیکھا جن کے دہانوں پر رکھی گئی بندوقوں کی نالیوں سے شعلے نکل کر دشمن کو خاکستر کرتے تھے۔چلاس کے جری و دلیر اور غیور لوگ ہمیشہ دشمن کے لئے عذاب بنے رہے۔صادق بتا رہا تھا۔یہ ۱۸۵۱ء کا ذکر ہے۔ ڈوگرہ فوج نے چلاس پر حملہ کر دیا۔ ڈوگرہ فوج کیل کانٹے سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے نامور فوجی اور سول راہنماؤں کے ساتھ تھی۔ وزیر زور آور سنگھ،دیوان ٹھاکر سنگھ،کر نل بجے سنگھ اور کرنل جواہر کے ہمراہ خود آئے تھے۔ اہل چلاس کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ لوگ اپنے اس قلعے میں آ گئے۔ یہ قلعہ ایسا مضبوط،ایسا مستحکم اور ایسا پر اسرار تھا کہ کسی طرف سے بھی اس پر حملہ کرنے کی راہ نہ تھی۔ ڈوگرہ فوج اس کے چاروں طرف پھیل گئی۔ چلاسی مردوں کی شجاعت تو ایک طرف،عورتیں ایسی جنگجو کہ انہوں نے بندوقیں ہاتھوں میں تھام کر مردوں سے کہا:
تم لوگ رات کو لڑو، دن ہمارے لئے رہنے دو۔‘‘
اب کرنل بجے اور جواہر سنگھ حیران کہ قلعے میں محصور لوگ کیا فولادی ہیں کہ تھکتے نہیں۔کسی وقت تفنگ بازی کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا تھا۔ مخبروں نے خبر دی کہ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔ جونہی ڈوگروں کی تازہ کمک پہنچتی۔ فصیل سے گولیوں اور پتھروں کی ایسی بارش ہوتی کہ سپاہیوں کی اکثریت وہیں ڈھیر ہو جاتی۔
صورت حال تشویشناک تھی۔ آخر کار قلعے کے اندر نقب لگا کر پانی کے حوض تک رسائی حاصل کی گئی اور پانی ضائع کر دیا۔ باہمت چلاسی اب مجبور ہو گئے تھے۔ اطاعت تو قبول کی،خراج ادا کرنا بھی منظور کیا،لیکن اس کے باوجود ۱۸۹۲ء تک ڈوگرہ فوج کو باقاعدہ انتظامیہ قائم کرنی نصیب نہ ہوئی۔
اسی سال انگریزی فوج کے میجر رابرٹسن نے چلاس پر حملہ کیا۔ زبردست جھڑپوں کے بعد افواج کشمیر نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا،لیکن چلاس والوں نے اپنے اندرونی معاملات میں انہیں مداخلت کرنے کی کبھی اجازت نہ دی۔ ہمیشہ ان کے لئے مصیبت بنے رہے۔جنگ آزادی کے لئے اہل چلاس کی خدمات نے بھی تاریخ کے صفحات میں سنہری ابواب کا اضافہ کیا۔ ٹائیگر فورس جس کی قلندرانہ آن میں سکندرانہ شان تھی۔ اس میں چلاس کے جیالے بھی شامل تھے جو ہر محاذ پر بے جگری سے لڑے اور شجاعت کے میدان میں نئی داستانیں رقم کیں۔جب واپسی کے لئے ڈھلانی راستے پر تیزی سے اترا جا رہا تھا۔ میں ایک جگہ بے اختیار رک گئی۔ میرے سامنے ایک ایسا گھر تھا جس کی دیواریں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ آنگن میں جابجا کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا تھا شکستہ دیوار کی چھوٹی سی اوٹ میں ایک نحیف و نزار بوڑھا فراغت کا مرحلہ طے کر رہا تھا۔ خوبانی کے پیٹر کے نیچے بچھی چارپائی پر ایک ایسی لڑکی بیٹھی تھی جو اس ماحول کی مناسبت سے مجھے کنول کا پھول نظر آئی تھی۔ درخت کے تنے سے بندھی بکری تصویر حیرت بنی اس ماحول کو دیکھتی اور کبھی کبھی بھاں بھاں کرتی تھی۔میں بے اختیار اس کے پاس جا بیٹھی۔ سامنے کا منظر کیسا دلفریب تھا۔ دریائے سندھ ایک پتلی سی لکیر کی مانند نظر آرہا تھا۔ سہاگہ کئے ہوئے اور سبز کونپلوں والے چھوٹے بڑے کھیت جیومیٹری کی ہر شکل کا نمونہ تھے۔ چلاس کی زرخیز میدانی زمین دو فصلی ہونے کے باوجود غذائی ضروریات میں لوگوں کو خود کفیل نہیں کرتی۔شاہ بلوط کے قد آور درختوں کے پتے ہوا کے زور سے جھوم کر جب سورج کے رخ پر آتے تو یوں لگتا جیسے چاندی کے دریا میں غوطہ مار کر نکلے ہوں۔ دریا پار کھنر کے پہاڑ تھے۔ ننگے بچھے یہ پہاڑ ذرا جاذب نظر نہ تھے۔صادق نے شنا (مقامی زبان) میں اسے غالباً میرے متعلق بتایا تھا۔ گرمی کی اس شدت میں اس نے نیلی پھولوں والی جرسی کا گندہ مندہ سوٹ پہن رکھا تھا۔ گلے میں کپڑے پر لگائے گئے موتیوں کا زیور جسے وہ مشٹی کہتی تھی زیب تن تھا۔ اس کی صحت،حسن و جوانی اور بانکپن کو دیکھتے ہوئے میرا یہ سوال فطری تھا۔اتنا گند پھیلائے بیٹھی ہو؟ طبیعت نہیں گھبراتی‘‘۔
اس ماہ رخ نے کمال بے اعتنائی سے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا تھا۔دراصل پرسوں تو ہم لوگوں نے گٹو مل چلے جانا ہے۔ وہاں ہمارا گھر،زمین، بھیڑ بکریاں، مال مویشی، دیار، دیودار اور چلغوزوں کے درخت ہیں۔ جب جانا ہے تو فضول میں یہاں ہلکان ہونے سے فائدہ! تین چار دن پہلے جھاڑو دیا تھا۔ ایک تو بکریاں اتنی کم بخت ہیں کہ جگہ جگہ گند ڈالتی پھرتی ہیں۔‘‘اب بھلا اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا‘‘ کہنے کے سوا کوئی اور چارہ تھا؟اس کی شادی کو گیارہ سال گزر گئے تھے اور ہنوز وہ بچے سے محروم تھی۔ میرے پوچھنے پر کہ شوہر کا رویہ کیساہے؟ اس نے اعتماد اور توکلّ سے لبالب بھرا جواب دیا تھا۔یہ تو مولا کی دین ہے۔ بندہ کیوں پھوُں پھاں کرتا پھرے؟ جب اس کی کوئی کاریگری نہیں۔اگر وہ تمہیں چھوڑ دے پھر‘‘۔ ’’چھوڑ دے۔ ہزار بار چھوڑدے۔ اللہ مالک ہے۔ بہتیرے مرد۔اس ان پڑھ جاہل عورت نے مجھ جیسی پڑھی لکھی کے منہ پر زناٹے کا تھپڑا مارا تھا۔ ’’بات ہوئی نا‘‘ میں نے اس کے شانے تھپتھپا کر داد دی۔

باب: 4
وادی نیاٹ کے غریب مظلوم لوگ۔
چاق اور ماہ چاق کی کہانی
جالو پر سفر۔ تھلپن اور قدیم تاریخ
گھر پہنچے تو صاحب خانہ کے دو عزیز انتظار میں بیٹھے تھے۔ سیدھے سادے معصوم سے لوگ جو چلاس شہر خریداری کے لئے آئے تھے۔ میرا سُن کر بیٹھ گئے کہ میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے حکام بالا کو ضرور آگاہ کروں۔قصہ یوں تھا کہ تھک داس پلین میں گورنمنٹ نے لاکھوں روپے کے خرچ سے نہر نکالی۔ پلاٹ بنائے۔اب ان پلاٹوں کو مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدہ داران نے ۱۳۰۰۰ (تیرہ ہزار روپے) فی مرلہ اپنے واقف کاروں اور رسوخ والے امیر لوگوں کے ہاتھ بیچ دئیے۔ بابو سر نیاٹ کے غریب لوگ جن کا پہلا حق تھا منہ دیکھتے رہ گئے۔اب میں انہیں کیا بتاتی کہ تھک نالے کی بستی بابو سرنیاٹ ہو یا لاہور جیسے بڑے شہر کی کوئی عام سی آبادی۔ غریب کے استحصال کا سلسلہ تو زور دشور سے جاری ہے۔ عدل کے دروازوں کی کنڈیاں اتنی اونچی ہیں کہ انہیں کھولنے کے لئے غریب بیچارے کی قد و قامت سرے سے بہت چھوٹی ہے۔لیکن میں نے سچ کے ڈنگ سے انہیں زخمی نہیں کیا۔ کیونکہ ایک تو میرا ایمان ہے کہ بے شک گڑ نہ دو پر گڑ جیسی بات تو کرو۔ دوسرے یقینا مجھے اپنے آپ کو کم مایہ ظاہر کرنا بھی مقصود نہ تھا۔صاحب خانہ مجھ سے کہتے تھے۔یہ میرے گہرے عزیز ہیں۔ ان کے والد اور میرے والد ’’سومو‘‘ کی رسم ادا کرنے کے بعد حقیقی بھائی بنے تھے۔ ہمارے دستور کے مطابق جب دوستی کو محرم کے رشتے میں بدلنا ہو تو ’’سومو‘‘ بنایا جاتا ہے۔ یعنی بکرے وغیرہ ذبح کر کے گاؤں والوں کی ضیافت کی جاتی ہے۔ ان کا تعلق یشکن قبیلے سے ہے۔ میرے والد نے دس بکرے ذبح کئے تھے۔ والدین کے بعد اب ہم لوگ بھی ایک دوسرے کے لئے بہت خلوص اور محبت رکھتے ہیں۔‘‘میرے ہونٹوں پر بے بسی سے لبریز مسکراہٹ کو بے چارے سادہ لوح لوگ کیا سمجھتے؟ بہرحال میں نے پکا وعدہ کیا کہ نیچے جاتے ہی اس مسئلے کو ضروری اہمیت دوں گی۔ پر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔جس وقت گل جان نے چھوٹی سی چُوں چُوں کرتی میز لا کر ہمارے سامنے رکھی۔ اس وقت ایک بجنے والا تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے محمد صادق نے چلاس کے چہرے کے اولین نقش و نگار دکھائے۔
روایت ہے کہ چلاس اور ا سکے آس پاس کے علاقے پر ایک ہندو راجہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے دو لڑکے تھے۔ چاق اور ماہ چاق۔ باپ مرا تو بڑا بھائی چاق بوٹ (والی یا امیر) بنا۔ لیکن چھوٹے بھائی کویہ گوارہ نہ ہوا۔ اس نے لوگوں کو اکسایا اور اعلان جنگ کر دیا۔ زبردست لڑائی ہوئی۔ بوٹ نے یہ لڑائی جیتی لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بھائی کی حق تلفی نہیں کرے گا اس نے ماہ چاق کو بلایا اور کہا۔
آؤ ہم دونوں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر نشان زدہ تیر پھینکتے ہیں۔ یہ تیر جہاں جہاں لگیں گے وہ علاقے ہماری سلطنت ہوں گے۔ ماہ چاق کو یہ تجویز پسند آئی۔
کہا جاتا ہے کہ دونوں اپنے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنے اپنے تیروں کے تعاقب میں بھاگے۔ ماہ چاق چترال کے مشرق کی طرف وادی بشقار گول میں خیمہ زن ہوا۔ چترال میں اس وقت رئیس خاندان کی حکومت تھی۔ سنا ہے رئیس نے اپنا نمائندہ بھیجا تو ماہ چاق نے سونے کی کرسی پر بیٹھ کر اس سے مذاکرات کئے۔اللہ حکمران ماضی کے ہوں یا حال، کے جاہ و حشمت کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔میں نے بے اختیار سوچا۔بڑا بھائی جو بوٹ کہلاتا تھا۔ اس کی حکومت جب ختم ہوئی تو یہ سارا علاقہ الگ الگ ریاستوں میں بٹ گیا۔ گوہر آباد، تھک تھور، داریل تانگیر، ہربن شتیال، سازین اور جلکوٹ میں جسٹیرو سسٹم کے تحت حکومت شروع ہوئی۔
۱۸۴۲ء میں گلگت پر سکھوں نے قبضہ جمانے کے بعد چلاس پر حملہ کیا۔ لیکن بہادر چلاسیوں نے داریل اور تانگیر کے شہ زور لوگوں کی مدد سے انہیں زبردست شکست دی۔ انگریزوں نے عیاری سے اس علاقے پر قبضہ ضرور کیا مگر ان لوگوں نے سدا انہیں تنگ کیا۔خدا کا شکر ہے کہ اب یہ پاکستان کا ایک حصہ ہے۔محمد صادق کے شکر کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے بھی خدا کا شکر ادا کیا کہ ایسے جیالوں کی سرزمین میرا وطن ہے۔
ماضی کے دریاؤں میں غوطہ خوری کے بعد جب میں اٹھی۔ اس وقت ڈیرھ بج رہا تھا۔ میں نے صادق سے کہا کہ وہ تھلپن جانے کے لئے کسی سوزوکی کا بندوبست کرے جب تک میں ظہر کی نماز سے فارغ ہو جاؤں۔برآمدے میں کھڑے تخت پوش کو بچھایا۔ گل جان نے قریب آ کر استفہامیہ انداز میں کہا۔ صبائے نماز (ظہر کی نماز) میں نے بس قیافے سے اس کا مطلب سمجھا اور مسکراتے ہوئے سر کو اثبات میں ہلا دیا۔کسری نماز کے دو فرض جلدی ہی پڑھے گئے۔ فارغ ہو کر رخ سیدھا کیا۔ دھوپ کی تیزی نے آنکھوں کو چُندھیا دیا تھا۔ دن کسی بیماری کی دکھ بھری رات کی طرح لمبا ہو گیا تھا۔ یہی دن جو گھروں میں پل جھپکتے گزر جاتا ہے۔تھلپن کا گاؤں دریائے سندھ کے پار ہے۔ سوزوکی میں بیٹھ کر تیز دھوپ میں چمکتے نانگا پربت کے نظارے پھر دیکھے۔ دریائے سندھ کے پاس سوزوکی رک گئی۔ پتہ چلا کہ تھلپن جانے کے لئے ’’جالو‘‘ سے سفر کرنا ہو گا۔ جالو دراصل ہوا سے بھری ہوئی مشکوں اور بانس کے ڈنڈوں سے بنی ہوئی مقامی کشتی کا نام ہے۔ ایسے علاقے جہاں درمیان میں دریا حائل ہیں اور پل نہیں،رابطے کا واحد ذریعہ یہی جالو ہیں۔جالو پر قدم رکھتے ہی میرے دل نے دھک دھک کی صدائیں لگانا شروع کر دی تھیں۔ میں نے سہم کر فی الفور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو بغور دیکھا کہ کہیں ڈوب کر مرنے کی کوئی علامت تو نہیں۔میرے سامنے تھلپن کا میدان پھیلا ہوا تھا۔ دریائے سند ھ کے کناروں پر پڑے بڑے بڑے پتھروں پر ایسی کندہ کاری تھی جو زمانے گزر جانے کے بعد بھی ہنوز روز اول کی طرح نمایاں تھی۔ اگر ڈاکٹر احمد حسن دانی کے مقالات میری نظر سے نہ گزر چکے ہوتے تو شاید میں ان کی تاریخی باریکیوں کا صحیح طرح اندازہ نہ کر پاتی جن کی عکاسی یہ تصویریں اور تحریریں کرتی ہیں۔جانوروں میں مارخور اور پہاڑی بکروں کی تصویریں تھیں۔ پر تھین سپاہی ان جانوروں کا شکار کرتے نظر آتے تھے۔ ان کے لباس اور ہتھیاروں سے تاریخ کی معاشرتی گتھیوں کو کھولنا مجھ جیسی مبتدی کے لئے بہت دلچسپ تھا۔ کہیں گڈرئیے بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے۔ کہیں شکاری شکار کرتے تھے۔ایسی ہی تصوریں پیرو کے جنوبی صحرا ناز کا اور پالیا کے قصبوں میں بھی سینکڑوں مربع میل کے رقبے پر مشتمل خشک سطح مرتفع میں پائی گئی ہیں۔ صحرائی جانوروں کی دیو ہیکل اور مختلف اقلیدس شکلیں دیکھ کرلوگ حیرت سے سوال کرتے۔بھلا قدیم باشندوں نے یہ کیوں اور کس لئے بنائیں ؟مگر ماہرین نے ان کے مطالعے سے یہ ثابت کیا کہ کچھ نقشے اور خاکے شمس و قمر کے نقطہ انقلاب اور کچھ بودو باش اور کچھ ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ہمارے ساتھ ڈرائیور لڑکا بھی تھا۔ وہ گزشتہ ماہ دو جرمنوں کو شتیال اور کھنرلے کر گیا تھا۔ بتا رہا تھا کہ وہ لوگ سارا دن پاگلوں کی طرح وہاں پھرتے رہے تھے۔مجھے یہ سوچ کر ہنسی آئی کہ وہ کہتا ہو گا اب ایک اور پاگل عورت پتھروں کو آنکھوں سے چاٹتی پھر رہی ہے۔عصر کی نماز میں نے تھلپن کے گاؤں میں پڑھی۔ ازل اور ابد کے زاویوں میں بھٹکتا ذہن ایک نقطے پر آ کر رک گیا تھا۔ ماضی فنا،حال اور مستقل فنا کی طرف رواں دواں۔چلاس میں ستھین دو رکے چٹانی کتبے اس عہد کی پوری تاریخ کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بدھ مت کے سٹوپاجن کے سامنے ستھین سپاہی احتراماً گھوڑوں سے اترتے دکھائی دئیے گئے ہیں۔ ان تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ستھین حکمرانوں نے بدھ مت کی سرپرستی کی تھی۔
اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ستھین کون لوگ تھے؟غیر مستند حوالوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ دراصل شین ہی ستھین ہیں۔ لیکن یہ بات ابھی تحقیق طلب ہے کہ ستھین اور آریاؤں میں کس قسم کی بھائی بندی قائم تھی۔ ستھین کے بعد پرتھین آئے۔گھومتے گھومتے شام ہو گئی تھی۔ موسم کی تمازت اب خوشگواری میں بدل گئی تھی۔ اس وقت میرا جی ایک کپ چائے پینے کو چاہتا تھا۔ لیکن ان ویرانوں میں چائے کہاں ؟تھک کر میں ایک بڑے پتھر پر بیٹھ گئی۔ اس پر عجیب وغریب قسم کی تحریر تھی۔غالباً یہی وہ تحریریں ہیں جنہیں کھروشتی کہا گیا ہے۔تھلپن چھوٹی سی وادی ہے۔ ستر اسی گھروں پر مشتمل لوگوں کی اکثریت اپنے گرمائی مستقر ملٹ ہروپے کی چراگاہوں میں گئی ہوئی تھی۔ سواتی اور سونی وال ذات کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔چلاس کے مشہور کھنر نالے کے یخ پانی نے طبیعت کو فرخت اور تازگی دی۔ نالہ کا دریا میں گرنا بھی ایک دلفریب منظر تھا۔جالو بان ہمارا منتظر تھا۔ کشتی میں بیٹھی تو ہنستے ہوئے بولا۔بی بی کیسا لگا آپ کو ہمارا علاقہ‘‘۔میں نے ہنس کر جواباً کہاتمہارا کیوں ؟ میرا نہیں ہے یہ‘‘۔جس وقت گھر پہنچے تو مغرب ہو چکی تھی۔ نماز کی وہ چوکی جس پر ظہر پڑھی تھی۔ اس وقت مرغی کی بیٹوں سے یوں بھری ہوئی تھی جیسے کسی خوبصورت سے بچے کا گندمی چہرہ پھول ماتا کے داغوں سے بھر جاتا ہے۔نماز کا خیال چھوڑ کر لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر چڑھ گئی۔ ہوائیں اتنی تیز اور گرم تھیں کہ یوں لگتا تھا جیسے پروردگار نے دوزخ کی کھڑکی کا چلاس پر واقع روشن دان کھول دیا ہو۔ ساتھ والوں کے گھر اگا ہوا بادام کا درخت چھت پر جھکا ہوا تھا۔ گل جان نے چند بادام توڑ کر میری ہتھیلی پر رکھے۔ گری بڑی لذیز اور میٹھی تھی۔ اس وقت میں نے سوچا اگر یہ درخت میرے صحن میں اگا ہوا ہوتا تو میں کتنی خوش نصیب ہوتی۔ روز سردائی گھوٹ گھوٹ کر خود بھی پیتی اور اولاد کو بھی پلاتی۔دور سفید ے کے درخت ہواؤں سے جھوم جھوم جاتے تھے۔ نانگاہ پربت پر پریوں کا کوٹ (قلعہ) اب نظر نہیں آتا تھا۔ نیچے آنگن میں گھر والی مٹی کے تیل والے چولہے پر جانے کیا پکا رہی تھی۔ خوشبو ناک کے نتھنوں میں گھس گھس کر بھی کچھ واضح نہیں کر پاتی تھی۔ملگجے اندھیرے میں مجھے یوں لگا جیسے گل جان کے رسیلے گلابی ہونٹ کچھ کہنے، کچھ پوچھنے کے لئے پھڑپھڑا رہے ہوں۔ اس کی ہیرے کی مانند چمکتی آنکھوں میں جیسے حجاب اور شوق کے رنگ گھلے ملے ہوں۔ ابھی میں اس کی کیفیت کا جائزہ لینے میں مصروف تھی کہ اس نے خود ہی پہل کر دی۔آپ کو محمد صادق کیسا لگا؟‘‘اچھا لڑکا ہے‘‘۔ میں نے سادگی سے کہاپر اگلے ہی لمحے مجھے اپنی بیوقوفی پر ہنسی آئی ارے‘‘ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھاتو یہ بات ہےوہ کچھ جھینپی۔ یہ پتہ چلا کہ صادق کے گھر والے گل جان کا رشتہ چاہتے ہیں۔ خود محمد صادق اسے میٹھی نظروں سے دیکھتا ہےمیں حیران رہ گئی۔ جب چودہ سالہ گل جان نے آرزدگی سے کہا۔ ’’ہمارے یہاں دھاپ کا رواج ہے۔ لڑکی والے لڑکے والوں سے پیسہ لیتے ہیں۔ میرے ابا نے پچاس ہزار روپیہ مانگا ہے۔ صادق کا باپ نہیں۔ اس کے بھائی بھی امیر نہیں۔ اتنا پیسہ وہ کہاں سے لائے گا؟‘‘میں گنگ بیٹھی اس کے معصوم چہرے کو تکتی تھی۔ اتنی سی عمر اور ایسا دکھ۔ نیچے سے آواز پڑی اور ہم دونوں چونک اٹھیں۔روٹیوں کی چنگیر اور سٹیل کی پلیٹ سامنے آئی تو پتہ چلا کہ اتنا شور شرابا کرنے والا سالن انڈے گنڈے تھا۔کھانے کے دوران پتہ چلا کہ گھر والے کل بابو سرٹاپ جا رہے ہیں۔ پانی کا وہ گلاس جو ہونٹوں سے لگانے کے لئے میں نے اٹھایا ہی تھا واپس میز پر رکھتے ہوئے کہا ایک دن کے لئے میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔ ایسی جگہوں پر جانے کے مواقع روز روز نہیں ملتے۔ جواب میں صاحب خانہ نے ’’شوق سے چلئے‘‘ کہا۔اب اللہ جانے کہ ’’شوق سے چلئے‘‘ کہنے میں مجبوری تھی یا فی الواقع جذبہ بھی تھا۔میں اس جھمیلے میں زیادہ نہیں الجھی۔ کبھی کبھار خود داری اور آن کو اپنے سے الگ کر کے طاق پر سجا دینا زیادہ سود مند رہتا ہے۔ کیونکہ میرے خیال کے مطابق کسی بھی جگہ پر لکھنے کے لیے مقامی زندگی میں رچنا بسنا ضروری ہے۔ حالات اگر کچھ مدت کی اجازت نہ دیں تو جتنا وقت بھی ہاتھ آئے تو اسے بھرپور انداز میں سمیٹنا چاہیے۔ چلاس کی تین چوتھائی آبادی تو نالوں میں بیٹھی تھی۔اسی لئے میں خوش تھی اور گل جان مجھ سے بھی زیادہ خوش۔عشاء کی نما زپڑ ھ کر دعا کے لئے ہاتھ پھیلے اور آنکھیں بند ہوئیں تو بچے دھم دھم کرتے جائے نماز پر آ کر بیٹھ گئے۔میں خطرناک راستوں کی راہرو بن گئی تھی۔ چودہ ہزار فٹ پر سفر کرنے والی تھی۔ میں عافیت کی طلب گار تھی۔ اپنی، اپنے بچوں اور گھر والے کیاحساسات کی شدت نے میرے سر کو زمین پر ڈال دیا۔ میں نے طلائی کرسی پر بیٹھے، اپنے رب کی ٹانگوں کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا تھا۔ میرا رب جو کبھی نور کا ہیولا بن جاتا اور کبھی مادّی روپ میں ڈھل جاتا ہے۔ میں اپنی مرضی کے مطابق اس کے مختلف بت تراشنے کی مجرم ہوں لیکن کیا کروں۔ مقدم تو مجھے اپنی قلبی تسکین ہے۔رات خاصی خوشگوار تھی۔ پر چلاس کے مچھر جنہیں  کہا جاتا ہے بڑے ظالم نکلے۔ کم بختوں کے کاٹنے کا انداز اُس چلبلے عاشق جیسا تھا جو بار بار اپنی محبوبہ کے رخساروں کی چٹکی کاٹنے سے باز نہیں آتا۔چلاس کی گرمیوں اور مچھر دونوں بڑی شہرت رکھتے ہیں اور میں ان دونوں سے لطف اندوز ہوئی گل جان نے صبح سویرے چائے بنا لی تھی۔ کیک نما کلچہ ذائقہ دار تھا۔ صادق ہمارے ساتھ جا رہا تھا۔ اس کی ماں اور بھائی لوشی میں تھے۔ مجھے گل جان کے خوش ہونے کی وجہ اب سمجھ آئی تھی دونوں ماں بیٹیوں نے چادریں اوڑھنے سے پہلے سروں پر ٹوپیاں رکھیں۔یہاں کا دستور ہے۔گل جان ہنسی،

٭٭٭
ماخذ: اردو منزل ڈاٹ کام