﻿


ہرنی کے بچے 


جمع و ترتیب: جویریہ مسعود





ہرنی کے بچے تھے تین

(مرکزی خیال ایک پشتو لوک کہانی سے)
جویریہ مسعود

ہرنی کے بچے تھے تین
تینوں چلے گئے تین نہروں پر

دو نہریں خشک تھیں، ایک میں نہ تھا پانی
جس نہر میں نہ تھا پانی، اس میں بیٹھے تھے تین کمہار

دو کی آنکھیں نہ تھیں، ایک کمہار تھا اندھا
اندھے کمہار نے بنائیں تین ہانڈیاں

دو ہانڈیوں میں تھے سوراخ ۔ تیسرے کا نہیں تھا پیندا۔
جس ہانڈی کا پیندا نہ تھا، اس میں پکائے تین دانے چاول کے

دو دانے جل گیے ، ایک دانہ چاول کا پک نہ سکا
جو دانہ چاول کا پک نہ سکا، اس کو ڈال دیا تین برتنوں میں

دو برتن رہ گئے خالی ، ایک برتن بھرا نہیں
جو برتن بھرا نہیں، اس پر بلاۓ تین فقیر

دو فقیر بھوکے رہ گئے، ایک فقیر کا پیٹ رہ گیا خالی
جس فقیر کا پیٹ رہ گیا خالی، اس کو مارے تین ڈنڈے

دو ڈنڈے فقیر کو لگے نہیں، ایک ڈنڈے کا وار گیا خالی
جس ڈنڈے کا وار گیا خالی، اس پر ڈالیں تین اشرفیاں

دو اشرفیوں میں تھا کھوٹ، ایک اشرفی تھی نقلی
جو اشرفی تھی نقلی، اسے لے گئے چیچوں کی دکان پر

چیچوں تھا رات کو اندھا، نظر نہ آتا تھا اسے دن میں
چیچوں کو دی اشرفی ، اس نے خوشی سے لی

چیچوں نے دیں ہم کو ٹافیاں۔
ہم نے کھائیں ٹافیاں اور خوشی خوشی گھر آئے

اور
بچوں پیسہ ہوا ہضم
کہانی ہوئی ختم
٭٭٭



میری امی

گلالئ (سوات، عمر 11 سال)

میری امی، میری امی
پیاری پیاری میری امی

کرتی ہوں اس کا اقرار
وہ کرتی ہیں مجھ سے پیار

صبح مجھے اٹھاتی ہیں
پیار سے ناشتہ بناتی ہیں

پھر کرتی ہے مجھ کو تیار
ساتھ میں پیار بھی بے شمار

جب میں واپس آتی ہوں
در پر اُن کو پاتی پاتی ہوں

وہ کرتی ہیں میرا انتظار
دیر ہونے پر ہوتی ہے بے قرار

مزے کا کھانا پکاتی ہیں
اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ہیں

ہوم ورک جب کرنے جاؤں
امی کو ہی پاس میں پاؤں

مدد کو رہتی ہیں تیار
پیار ان کا ہے بے شمار

رات کو پیار سے سلاتی ہیں
ساتھ میں کہانیاں سناتی ہیں

فخر وہ مجھ پر کرتی ہیں
مجھ پر جان چھڑکتی ہیں
٭٭٭


پہیلیاں

(1)

پوسا نہ پالا بن گئی خالہ
"خالہ! بھانجے کو کھلاؤ"
بولی: "ہوش میں آؤ"

(2)

ڈبکی کھا کر آئی نکل
دیکھ کے جائے پھسل
دیکھنے میں پھول نہ پھل
کہنے کو اک پھول اک پھل

(3)

سیکھنے والا بولتا جائے
سیکھانے والا چپ
اس سے میرا دھیان لڑا ہے
شور نہ کرنا، چپ!
٭٭٭

جوابات:
1۔ بلی 2۔ گلاب جامن 3۔ کتاب 
٭٭٭



کمپیوٹر

    نہ کتابوں کی نہ رسالوں کی دنیا
یہ دنیا ہے فقط کمپیوٹر کی دنیا

    ہر اک نگاہوں کا مرکز یہی ہے
    ہر اک کام کا جیسے محور یہی ہے

    ہماری ترقی کا ہے راز اس میں
    نئی زندگی کا نیا ساز اس میں

    دیے کامیابی کے اس سے جلیں گے
    کہ دنیا کہ سب کام اس سے چلیں گے

یہ مانا کہ دنیا بہت ہی بڑی ہے
    مگر اب گلوبل ویلیج بن چکی ہے

    کسی سے کہیں بھی کوئی بات کر لو
    زبانی کلامی ملاقات کر لو

یہ سچ ہے کہ دنیا بہت ہی حسیں ہے
    نہ ہو کمپیوٹر تو کچھ بھی نہیں ہے
٭٭٭


مچھلی کا بچہ


    مچھلی کا بچہ
    انڈے سے نکلا

    پانی میں پھسلا
    ابو نے پکڑا

    باجی نے کاٹا
    امی نے پکایا

    ہم سب نے کھایا
    تو بڑا مزہ آیا
٭٭٭



مچھلی کا شکار

    ایک دو تین چار پانچ
    میں نے لی اِک مچھلی پھانس

    چھ سات آٹھ نو دس
    میں نے اس کو چھوڑا بس

    تم نے اس کو چھوڑا کیوں؟
    اس نے کاٹی انگلی یوں

    کونسی انگلی اس نے کاٹی؟
    سیدھے ہاتھ کی چھوٹی والی
٭٭٭



سہیلی بوجھ پہیلی


(1)
ڈبیا سے نکلا، جس نے بھی کھولی
چاندی کا پانی، سونے کی گولی

(2)
مٹھی میں وہ لاکھوں آئیں
گن کر ہم کیسے سمجھائیں

(3)
مخمل کے پردے، خوشبو کا گھر
صبح سویرے کھلتا ہے در

(4)
ایک جگہ پر چکر کھائے
وہ آگے نہ پیچھے جائے
اس کا چلنا سب کو بھائے
جیسی چاہو چال دکھائے

(5)
کبھی ہیں لال، کبھی ہیں کالے
لاکھوں بار دیکھے ہیں بھالے

(6)
دھوپ کبھی اسے سکھائے
سوکھا، جب سائے میں آئے


(7)
منہ ہے چھوٹا بڑی ہے بات
سن لو دنیا کے حالات
٭٭٭

جوابات:
(1) انڈا
(2) ریت کے ذرات
(3) گلاب
(4) بجلی کا پنکھا
(5) کوئلے
(6) پسینہ
(7) لاؤڈ سپیکر
٭٭٭


میاں مگرمچھ

    اگر نگر کے میاں مگرمچھ
    ہم کو بتاؤ بالکل سچ

    دم ہے تمہاری اتنی موٹی
    آنکھیں کیوں ہیں اتنی چھوٹی

    مسکراتے ہو تم ایسے
    کوئی بات ہوئی ہو جیسے

    اچھا بابا! کچھ نہ بولو
    دانتوں والا منہ نہ کھولو

    تم کوئی گپ شپ نہیں کرو گے
    جو کوئی آئے ہڑپ کرو گے
٭٭٭


پشاور

محمود شام

جب پشاور کی بات چلتی ہے
پھر تو غیرت بھی ساتھ چلتی ہے

بچے بوڑھے ہیں، سب بہادر ہیں
ان کو آتے لڑائی کے گر ہیں

محنتی بھی ہیں اور جفاکش بھی
گلی کوچوں میں ہے بہت رش بھی

قصہ خوانی کے نام کا بازار
کتنی صدیوں سے گرم کاروبار

خوب مضبوط ہے پشاور فورٹ
عدل کا ہے نشان ہائی کورٹ

طورخم بھی یہیں سے جاتے ہیں
تکا بوٹی بھی خوب کھاتے ہیں

ہضم ہو نہ اگر کبھی کھانا
چل کے پی لیں پشاوری قہوا

چیختی آ رہی ہے خیبر میل
ہے کراچی سے لوگ لائی ریل
٭٭٭



بچہ ہوں میں!

طالب محسن

بچہ ہوں میں چند سال کا
رہتا ہوں میں بے حال سا

بپتا مری دل دوز ہے
سن لو سبق آموز ہے
٭٭٭

اسکول میں پڑھتا ہوں میں
وقتِ سحر اٹھتا ہوں میں
ماں ڈانٹتی : جلدی کرو
ابا کہیں : اٹھو چلو
٭٭٭

نو دس کتابیں ہیں مری
اور کاپیاں بھی ڈھیر سی
کس کس کو میں یکجا کروں
کیسے کروں؟ آہیں بھروں
٭٭٭

جب رات کو سویا تھا میں
اس بات پر رویا تھا میں
کم سن ہوں میں یہ بوجھ ہے
اٹھ نہ سکے وہ اوجھ ہے
٭٭٭

سب ٹیچریں جلاد ہیں
مجھ پھول پر فولاد ہیں
یوں کام دیتی ہیں مجھے
ہاتھی کو لادیں بوجھ سے
٭٭٭

گھنٹوں جتا رہتا ہوں میں
پھر جھڑکیاں سہتا ہوں میں
کس کس کو میں پورا کروں
کس کس کی سختی سے بچوں
٭٭٭

گھر آ کے بھی فرصت نہیں
کچھ کھیل لوں مہلت نہیں
آنے کو ہیں ٹیوٹر مرے
کانوں سے پکڑیں گے مجھے
٭٭٭

پھر قاری صاحب آئیں گے
قرآں مجھے سکھلائیں گے
یوں شام سر پر آئے گی
پھر ماں مجھے سمجھائے گی
٭٭٭

موقع یہی ہے کام کا
کچھ فکر کر انجام کا
میں پس رہا ہوں، دوستو
کچھ تو مدد میری کرو
٭٭٭



علم کے فائدے

شفیع الدین نیّرؔ

    علم اک لازوال دولت ہے
    علم اک بے مثال طاقت ہے

    علم ہی سے خدا کو پہچانا
    علم ہی سے برا بھلا جانا

    علم ہی سب ہنر سکھاتا ہے
    علم ہی آدمی بناتا ہے

    علم ہی سے آدمی کی عزت ہے
    علم سے آدمی میں ہمت ہے

    علم نے عقل کو جِلا دی ہے
    نئی دنیا ہمیں دکھا دی ہے

    ہر سمندر میں تیرنے کے لیے
    بن گئے علم سے جہاز نئے

    ہر طرف اڑ رہے ہیں طیارے
    ہیں بنے علم سے یہ سارے

    علم کی دھن جسے لگی ہی نہیں
    سچ تو یہ ہے، وہ آدمی ہی نہیں

یہ اثر ہو دعاۓ نیّرؔ میں
    علم کی روشنی ہو گھر گھر میں	٭٭٭



سچ کہو

اسماعیل میرٹھی


    سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ
    ہے بھلے مانسوں کا ہمیشہ سچ

    سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز
    سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز

    سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر
    جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر

    سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف
    سچ کرا دے گا سب قصور معاف

    ہے برا جھوٹ بولنے والا
    آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا
٭٭٭


محنتی چیونٹی

حفیظ جالندھری

یہ بھولی بھالی چیونٹی
    پھرتی ہے دن بھر رات بھر
    کرتی ہے محنت کس قدر
    جاتی ہے کھیتوں کی طرف
    لمبی قطاریں باندھ کر

    پھر گھر پلٹ آتی ہے یہ
    دانے اٹھا کر لاتی ہے یہ
    غلے سے بھر لیتی ہے گھر
    کرتی ہے کیا لمبی سفر

یہ بھولی بھالی چیونٹی
    رکھو کوئی شے ڈھانک کر
    مل جاتی ہے اس کو خبر
    لے جاتی ہے یہ کچھ نہ کچھ
    وہ خشک شے ہو یا ہو تر
    بو سونگھ کر بڑھتی ہے یہ
    دیوار پر چڑھتی ہے یہ
    جتنے ہیں ننھے جانور
ان سب میں آتی ہے نظر

    کیسی نرالی چیونٹی
یہ بھولی بھالی چیونٹی
    محنت سے شرماتی نہیں
    مشکل سے گھبراتی نہیں
    کیسا ہی بھاری کام ہو
    کرنے سے اکتاتی نہیں

    رہتی نہیں بے کار یہ
    ہے واقعی ہشیار یہ
    سستی اسے آتی نہیں
    سستی اسے بھاتی نہیں

    ہے عقل والی چیونٹی
یہ بھولی بھالی چیونٹی
٭٭٭



تھوڑا تھوڑا خرچ کریں ہم


احمد حاطب صدیقی


ننھی سے یہ بولیں نانی
میری پیاری گڑیا رانی

آ جا میری گود میں آ جا
سن لے مجھ سے ایک کہانی

یہ جو اپنی گول زمیں ہے
پہلے پہل تھی پانی پانی

سب دنیا تھی ایک سمندر
جس کی لہریں تھیں طوفانی

رفتہ رفتہ ابھری خشکی
ہولے ہولے اترا پانی

پیڑ، پہاڑ، چٹانیں، صحرا
جنگل کا جنگل حیوانی

ساری چیزیں ہو گئیں پیدا
تب آئی وہ صبح سہانی

جب اللہ نے حکم سے اپنے
دکھلانے کو اپنی نشانی

دنیا میں انسان کو بھیجا
خوب بڑھی نسل انسانی

تم کو سن کر حیرت ہوگی
میری پیاری گڑیا رانی

حصے چار، زمیں کے ہوں تو
ایک ہے خشکی، تین ہے پانی

لیکن، استعمال کے قابل
زیادہ ہرگز نہیں ہے جانی

تھوڑا تھوڑا خرچ کریں ہم
شروع نہ کر دیں نہر بہانی
٭٭٭



٭٭٭
ٹائپنگ: جویریہ مسعود
ماخذ:
http://www.urduweb.org/mehfil/forumdisplay.php?11
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
