﻿



ہم سب شریر سے ہیں !




ون اردو رائٹرس سوسائٹی کے مختلف ارکان







پیش لفظ

ویسے تو ہر رائٹر کچھ نہ کچھ مزاحیہ لکھ سکتا ہے لیکن جب بات ہو کسی بین الاقوامی مقابلے کی اور ایک سے بڑھ کر ایک شوخ قلم کار لکھنے میں لگا ہوا ہو تو جو چیز تالیف ہو گی اس کا نام
ہم سب شریر سے ہیں
ہی ہو سکتا ہے۔ 
ضرور پڑھیے اور سدا ہنستے ہوئے خوش رہیے۔ 


آتش کی جوانی 

فریدون


کہتے ہیں جوانی دیوانی ہوتی ہے اور دیوانگی پہ کس کا بس چلتا ہے ؟ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کہنے والے شاید درختوں پہ اگتے ہیں۔ ہمارا تجربہ بولتا ہے کہ اللہ میاں یا تو امریکہ میں جوان کرے تا کہ جی بھر کے کافر دوشیزاؤں سے عبرت پکڑی جا سکے یا پھر درختوں پہ ہی اگا دے کہ اپنے ہاں تو جس جس قسم کے بلوغت کش بزرگ پائے جاتے ہیں ان کے سائے میں انسان جوان کے علاوہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے 
"ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے "
کہ موت تو آتی ہے مگر ذرا دوسری طرح سے۔ آتی تو ہے مگر شباب پہ۔
بقول ہمارے یار چوہدری کے ، جو نجانے کس کی قسمت سے ہمارے پلے پڑے ہیں، ہمارے ہاتھ میں جوانی کی لکیر ہی نہیں ہے۔ اس مشکوک روایت کے حق میں وہ کئ گفتہ و ناگفتہ دلائل پیش کرتے ہیں۔ جن کا بوجہ یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
خیر عزیزو، ان کا ذکر تو ایسے ہی در آیا بات ہو رہی تھی بزرگوں کی۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اکثر سفید پوش جگت بزرگ چار پانچ سو چوہے کھا چکنے بعد بزرگ بنتے ہیں۔ اب اگر آپ نے پورے نو سو کھا رکھے ہوں تو آپ نئ نسل کے کے لئے اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ کہ آپ کو اس راہ کی تمام گھاٹیاں ازبر ہو چکی ہوتی ہیں۔ مگر بزرگ اگر شومیِ قسمت سے اول الذکر گروہ کے ہوں (جو کہ کثیر تعداد میں ہوتے ہیں)تو بچوں کو ان کی پہنچ سے دور ہی رکھنا چاہئے۔ 
ہمارا پالا بھی کچھ ایسے ہی بزرگوں سے پڑا۔ جوانی بنا دستک دئیے یوں خاموشی سے آئی کہ پتہ ہی نہیں چلا کس دن ابا مونچھیں صاف کرنے کی مشین دلانے لے کر گئے۔ کیا زمانے تھے گرلز سکول کے پاس والی دوکان سے دہی خریدنا ہی ہماری سب سے بڑی بے راہ روی تھی۔
غصہ اب اس بات پہ آتا ہے کہ ہم واقعی اسے بے راہ روی سمجھتے تھے اور پہروں کن انکھیوں سے خود کو آئینے میں تکا کرتے ، یوسفی صاحب تو پھر تانگے کا راستہ کاٹ لیتے تھے مگر ہم سے تو یہ بھی نہ ہوا۔ جس جمعے مولوی صاحب جہنم کا ذکر کرتے ، ہم اس کے بعد کم از کم تین دن دور سے ترش دہی لا کر گھر سے مار کھاتے۔ 
ہمیں اس زمانے میں ان یاروں پہ بڑا رشک آتا جن کے گھر نسبتا گرلز سکول کے پاس تھے۔ کمبخت صبح شام دہی لینے جاتے۔ اور اس زمانے میں ہم انہیں ہی نواب واجد علی شاہ سمجھتے تھے۔ چوہدری کا گھر ہم سب میں سے گرلز سکول کے نزدیک تھا۔ فقط دس منٹ کی واک تھی۔ جو ہمارے گھر پہنچتے پہنچتے بیس ہو جاتے۔ مگر ہم اس پہ بھی شاکر تھے کہ ہم میں چند حرماں نصیب ایسے بھی تھے جو گرلز سکول سے آدھے آدھے گھنٹے کی مسافت پہ رہتے۔ 
سائیکل ہمیں مہیا نہ تھا کہ بزرگوں کی نظر میں بے راہروی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے پہ لڑکا لڑکیوں کو دیکھ کر سائیکل کی گھنٹی بجائے گا اور یوں پوری طرح بے راہروی کا شکار ہو جائے گا۔ اللہ، ہمارے ذہن میں دور دور تک ایسا خیال نہ تھا۔
گھر میں سائیکل تو تھا اور تھا بھی ہمارا اپنا مگر ابا چونکہ اکثر شام کو گھر نہ ہوتے تو کسی نہ کسی بزرگ سے اجازت لینی پڑتی جو کہ بیل سے دودھ یا اس کی زوجہ سے پرواز کی توقع رکھنے کے مترادف تھا۔ سو سارا دن پیدل مارچ کرنے کے بعد رات کو جب عموماً جوان روحیں اختر شماری کرتی ہیں ہم اپنی پنڈلیاں خود ہی دبا رہے ہوتے۔ 
غرض ہم میں سے ہر ایک اپنی سلطنت کا خود ہی بادشاہ تھا خود ہی وزیر اور گرلز سکول ہم سب کا دارالسلطنت تھا۔ 
٭٭٭



آپ کے خوابوں کی تعبیر 

سلمان سلو

درخت سے گرنا:
خواب کے مطابق محبت میں ناکامی کا اندیشہ ہے اس لیے محتاط رویہ اختیار کریں۔انڈین فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں{صرف ایک دن کے لئے۔ } اور ہوسکے تو وہ سویٹر جو ایک سال سے نہیں اتاری کسی فقیرنی کو صدقہ کر دیں۔حالات کچھ ہی دنوں میں پھر معمول پر آ جائیں گے۔ 

سانپ دیکھنا:
خواب اچھا نہیں ہے۔ کپڑے بدلتے وقت خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ آستین کو خاص طور پر چیک کریں کہیں آستین کا سانپ نہ چھپا بیٹھا ہو۔

سفید کپڑے دیکھنا:
خواب میں واضح اشارہ ہے کہ آپ کو ''سفیدیاں'' دیکھنے کو ملیں گی مالی خوشحالی نصیب ہو گی۔{یہاں مالی خوشحالی سے مراد یہ ہے کہ جتنے بھی جوتے ملیں خوشی سے قبول کریں اور کہی پر چھابڑی لگا کر سستے داموں فروخت کریں۔}

چیز کا گم ہونا:
خواب کے مطابق آپ کی محبوبہ سے جدائی ہو جائے گی اس سے پہلے کہ جدائی ہو آپ ''احتیاطی طور'' پر خود ہی الگ ہو جائیں {تاکہ خواب سچا ہو جائے } روزانہ ''پہلے تو کبھی کبھی غم تھا۔۔''کا ورد کریں انشاءاللہ افاقہ ہو گا۔۔

شادی و خانہ آبادی و بربادی دیکھنا:
خواب بہت ہی مبارک ہے ماشاءاللہ تمام کام ہونے کا اشارہ ہے۔ بڑوں کے مشورے پر عمل کریں لڑکی بہت ہی نیک پروین اور بڑوں کی عزت کرنے والی ہے امور خانہ داری میں ماہر ہے سگھڑ ہے لیکن ایک مسئلہ ہے اس لڑکی کو حاصل کرنے کے لیے دوسری دنیا کا ایک پھیرا لگانا پڑے گا۔۔۔

نیا محبوب دیکھنا:
خواب کے مطابق زلیخہ،رشیدہ سن لو ، رشتے آنے کا قوی امکان ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے ہی گھر سے {جن کو آجکل آپ پسند کرتے ہیں} رشتہ آ جائے۔ ۔{خدارا رشتے کے انتظار میں سب کام چھوڑ کر مت بیٹھ جائے گا۔رشتہ ملنے میں 10 سال بھی لگ سکتے ہیں۔}۔''جلد بازی'' سے کام لیا تو کسی بھی ''قریبی عزیز'' سے جدائی کا امکان ہے۔ ۔

ون اردو فورم دیکھنا:
خواب کے مطابق آپ کا جنت ارضی سے گزر ہو گا۔ایک پری پیکر سے ٹکراؤ ہو گا۔ وہ معصومیت سے پوچھی گی۔''بھیا، آپ کیسے ہو؟۔۔'' لیکن خدارا دل برداشتہ نہ ہو خدا پر بھروسہ کریں کچھ دنوں میں تمام حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ ۔

ٹیم اردو کا پی ایم دیکھنا:
خواب کچھ اچھا نہیں ہے۔ ''معاملہ گڑ بڑ ہے ''صبح سویرے آفتاب کے نکلنے سے پہلے ''محبتیں'' کے گانوں کا ورد کریں۔یہ عمل 24 گھنٹوں تک اٹھتے بیٹھتے جاری رکھیں۔جب ''کچھ کچھ'' ہونے لگے تب فورم کا رخ کریں۔ٹیم اردو کے ہر پوسٹ پر تھینکس کہنے کو بھی اپنا معمول بنائیں انشاءاللہ ہر جگہ خوب عزت ملے گی۔

بزی سرور کا ایرر دیکھنا:
خواب کے مطابق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔تھوڑی پریشانی کا امکان ہے وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔بس لاگ ان ہونے سے پہلے ''تو ہاں کر یا نہ کر تو ہے میری کرن''کا ورد ضرور کیا کریں۔۔۔دوسرے فورمز پر جانا ختم کر دیں۔۔

غلط پاس ورڈ کا ایرر دیکھنا:
خواب کے مطابق آپ پر آفت آنے کا قوی امکان ہے۔ آپ کی قسمت بہت ہی خراب ہے۔ جو ایک مرتبہ ''خوبصورت لوگوں کی سرزمین'' کا رخ کرتا ہے یہی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ فکر نہ کریں جانا تو ایک دن سب نے ہی ہے۔ آپ کا وقت قریب آ گیا ہے۔ مصیبت ٹالنے کے لئے اگر ہوسکے تو 22 ڈالر''صدقے واری'' کریں اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔۔۔۔۔
٭٭٭



ارے ناراض نہ ہونا۔ میں تو ہوں ہی ایسا 

عتیق الرحمٰن


پہلے پہل تو اس تھریڈ کو دیکھ کر میرے دل کو نہایت افسوس ہوا کیونکہ شہزاد بھائی نے اس مقابلے کی شرائط لکھتے ہوئے مجھے تقریباً بے دخل قرار دے دیا۔ کیونکہ انہوں نے واضع طور پر لکھا تھا کہ "مزاحیہ شاعری اس مقابلہ میں شامل نہیں ہو گی"۔ لیکن پھر اپنے دل کو لاکھ سمجھایا اور اس بات پر منایا کہ "انہوں نے تو مزاحیہ شاعری کو منع کیا ہے مزاحیہ شاعری کی کوشش کرنے والے کو تو نہیں" اور ویسے بھی میں ہوا کچھ ڈیرنگ سا انسان سو عموماً جس کام کو بہت مشکل کہا جائے اس میں کود جاتا ہوں- یہ اور بات ہے بنا سوچے سمجھے۔ لیکن کم از کم کوشش کرنے والوں میں تو نام آ جاتا ہے نا۔ اور سیانوں کے بقول کہ "رڑھ رڑھ کے ای بندہ ٹر دا اے "۔ تو لیں جی میری ٹٹی پھٹی کوشش تہاڈے حوالے۔ 

میں مختلف پیروں میں تحریر لکھ رہا ہوں۔ جو کہ طنز و مزاح کی بنیاد پر میں نے لکھی ہیں۔

1- سردیوں کی شاموں میں اگر آپ کے پاس 70cc موٹر سائیکل ہے اور آپ کو کسی کھلے علاقے کی طرف جانا پڑ گیا ہے اور فی الموقع آپ کے پاس دستانے اور دوسرا سردی سے بچاؤ کے لئے سامان نہیں تو اس معاملے میں سردی سے بچنے کا آسان اور واحد طریقہ یہ ہے کہ موٹر سائیکل کسی بس کے پیچھے لگا لیں۔ اس طرح آپ سردی سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن سوال یہ ہی پیدا ہو گا کہ اتنی تیز موٹر سائیکل کیسے بھاگے گی۔ اور خدانخواستہ راستے میں بس خراب ہو گئی تو آپ کا کیا بنے گا۔

2- اگر کسی سڑیل سے انسان کا ٹی وی ایڈ کے لئے انٹرویو ہو اور انٹرویو لینے والا اس سے کہے کہ اپنی طبیعت کے حساب سے اس طرح بولیں کہ آپ لوگوں کو مائل کرو کہ لوگ آپ جیسے ہو جائیں تو وہ سڑیل ایڈ کے لئے ایکٹ کرتے ہوئے بولے گا" جیلسی! ایک ایسا کام جسے عام لوگ صحیح نہیں سمجھتے لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ۔ جیلس ہونے سے آپ کا خون کھولتا ہے جس سے آپ کا جسم توانائی صرف کرتا ہے اور آپ کے دماغ تک حرکت کرتا ہے جس سے آپ ہو تندرست و توانا۔ اس لئے بہتر صحت کے لئے be a jealous today"

3-اگر آپ کا بچہ ایسی باتیں کرتا ہے کہ جو سننے میں تو بھلی محسوس ہوتی ہیں لیکن ان کا اصل میں مطلب یا تو ہوتا ہی نہیں یا مبہم ہوتا ہے تو آپ کو اس بچے کے مستقبل کے متعلق بے فکر ہو جانا چاہئیے کیونکہ سیاستدان ہونے کی خصوصیات اس میں ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

4- اگر آپ کا بچہ شروع ہی سے بندوقوں کا شوقین ہے اور وہ دوسروں پر رعب جھاڑ کر ان سے چیزیں کھاتا ہے تو یہ علامتیں اس کے بڑا ہو کر پولیس میں جانے کی ہیں۔ پندرہ بیس ہزار تنخواہ میں یہ بچہ نہ صرف ایک پورے خاندان کو پالے گا بلکہ ایک سال کے اندر اندر جیل روڈ، یا ڈیفس روڈ پر جگہ خرید لے گا۔

5- اگر آپ کا بچہ چیزوں کو جوڑ سکتا ہے اور بجلی کے پیچیدہ کام کر لیتا ہے جو یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے بچے میں کامیاب سائنسدان بننے کی خوبیاں موجود ہیں لیکن آپ اس کو موٹر مکینک کے کام پر ڈال دینا کیونکہ ہماری قوم قومی اثاثوں کی قدر نہیں کرتی۔

6- اسکول کے دنوں کی بات یاد آ گئی ہے۔ میں کوئی "حور پرا" تو نہیں ہوں لیکن اسکول میں واحد "ڈیبیٹر" ہونے اور کلاس مانیٹر ہونے کی وجہ سے کافی ٹیلنٹڈ گردانا جاتا تھا اور اسی وجہ سے ایک آدھ لڑکی مجھ میں انٹرسٹڈ ہو گئی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ میں اس کول کی چھت سے اتر رہا تھا۔ اور دوسرا راستہ بھی کوئی نہیں تھا اگر ہوتا تو شاید یہ یاد نہ جڑتی۔ ہوا یوں کہ میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تو آخری تین سیڑھیوں پر مجھ سے ایک کلاس جونئیر تین چار لڑکیاں ان پر بیٹھی تھیں اور ایسی ترتیب سے بیٹھی تھیں کی کم از کم دو پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ میں جب اتر رہا تھا تو ان میں سے ایک نے اپنی ساتھیوں کو میرے متعلق کچھ کہا(چپکے سے۔ جیسے۔ دیکھنا وہ مجھے کیسے بلاتا ہے۔ شاید وہ ان پر رعب جھاڑنا چاہتی تھی میرے نام کا)۔ لیکن اس کا برا وقت آیا تھا کہ میں نے اپنے چھوٹے اور باریک کانوں سے بات کا خلاصہ سن لیا اور عین وقت علاج بھی ڈھونڈ لیا۔ جب میں ان کے قریب پہنچا تو خصوصاً اس کا نام لے کر کہا "باجی جی۔ ذرا راہ تے دے دیو لنگن لئی" (بہن جی۔ ذرا گزرنے کے لئے رستہ تو دے دیں)۔ مجھے تو گزرنے دیا اس کی سہیلیوں نے لیکن بعد میں اس کی جو ہوئی وہ مزے کی تھی۔ کیونکہ میں ایک دیوار کی اوٹ کھڑے ہو کر سن رہا تھا۔

میری اس تحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں۔ بس ایک مزاح ہے اور میں چاہوں گا کہ اس پر صرف اور صرف ہنسا جائے۔ بہت بہت شکریہ
٭٭٭




انوکھا چیلنج

روشنی

گوٹ ہنس مکھ میں چوہدریوں کا خاندان آباد تھا۔ سالہا سال سے مزاح میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا اور طنز و ظرافت کی زمیں پر ان کی اجارہ داری قائم و دائم رہی۔ پھر وقت کی پکڑ، حاسدوں کے ذہن اور میرے ہونے والے نصیب میں اک سیاہ گھڑی در آئی۔ آس پڑوس کے پنڈ کے چوہدریوں نے میرے آنجہانی دادا جان کے ذہن میں یہ خناس بھر دیا۔ کہ مزاح بڑی عام سی بات ہے خاص تو تب ہو جب تمہارے خاندان میں کوئی سنجیدہ شریف پیدا ہو۔ ان کی بات کو دادا جان نے خلاف معمول سنجیدگی سے لے لیا اور ہم پیدا ہونے سے پہلے ہی ایک تجربے کی نذر ہو نے کے لئے منتخب ہو گئے۔ 
ہمارے سارے ہم زلف شاید اس انہونی کی خبر پا چکے تھے جو اس دردناک سانحے سے پہلے ہی دنیا میں آورد ہو چکے تھے۔ 
اپنی آنے والی زندگی میں لکھے گئے مقدر کا اک سرا بھی ہمارے سامنے وا ہوتا تو ہم عالم ارواح سے اس عالم میں پرواز کا ارادہ بدل دیتے۔ ہک ہا! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ کاتب تقدیر کے قلم کی نوک پر ہنس مکھ خاندان کے سب سے لاڈلے سپوت کے آخری چشم و چراغ۔۔۔ مابدولت۔ ۔۔ قرار پانا ٹھہرے۔ 
دنیا میں پہلی آنکھ کھلنے پر ہی ہمارا استقبال بڑی سنجیدگی سے کیا گیا تھا۔ اس دن پوری حویلی میں پورے جوش و خروش سے یوم سنجیدگی منایا گیا۔ قہقہے لگانے کی بجائے ہلکے سے مسکرانے پر اکتفاء کیا گیا۔ چہرے پر بارہ بجا کر مصنوعی سنجیدگی کی داغ بیل ڈالی گئی۔ تا کہ آنے والے وقت میں ضرورتاً سنجیدگی طاری کرنے میں آسان رہے۔ 
ان سب باتوں سے بے خبر ہم دھیرے دھیرے اپنی زندگی کے دن گزارنے لگے۔ جب پہلی بار ہم نے قلقاری ماری اور ہلکی مسکان نے ہمارے چہرے کا احاطہ کیا تو بڑے بزرگوں کی پیشانی پر پریشانی کی لکیر ابھری اور انہوں نے مجھے مزاح کے سایے سے بھی دور رکھنے کے لئے اپنی نظروں سے دور کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میری قسمت میں دادا جان کے سب سے خشک مزاج دوست کے ہاں ٹھہرنا قرار پایا۔ جو شاید ساری زندگی میں غلطی سے ہی کبھی مسکرائے ہوں۔ اپنے گھر سے دور رہنا میرے لیئے اتنا آسان تو نہ تھا مگر اک خواب میرے ہمراہ ہوا اور زندگی اپنی راہ پہ چلنا آسان ہو گئی۔ بچپن میں اک بار سنا تھا، خاندان میں سب ایم بی بی ایس ہیں میرے دادا دادی،امی ابا، تایا تائی وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ خواب کب ہمارے ذہن میں آ بسا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ کہیں نہ کہیں ہم اپنوں جیسا بننا چاہتے تھے۔ مستقبل میں اس کی تعبیر سے بے خبر ہم من و عن اس خواب کو پلکوں پہ سجا کے بیٹھ گئے۔ 
مدرسہ، اسکول اور کالج تک میری طبیعت میں خاصی سنجیدگی آ گئی۔ میں سر اٹھا کر کہہ سکتا تھا۔ میری طبیعت میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ لیکن اسے محاورے والا کوٹ کوٹ سمجھنے کی غلطی نہ کیجیئے گا۔ مجھے مسکرانے کے لئے خاصی محنت کرنی پڑتی تھی۔ اور یہی میرے آنجہانی دادا جان کی کامیابی ٹھہری۔
وقت پر لگا کر گزر گیا۔ اور ہم ایم بی بی ایس کی ڈگری اٹھائے گھر کو چلے آئے۔ یہ دن تاریخ میں سنہرے لفظوں میں لکھے جانے کے قابل تھا کیونکہ ہنس مکھ خاندان اپنے چیلنج میں کامیاب ہو چکا تھا۔ حاسدوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس خوشی کے موقع پر ہم نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام ہو گئے۔ اور دل مسوس کر رہ گئے۔ اپنی ڈگری نکالی اور سارے خاندان کے سامنے رکھ دی۔ اترا کر کہا ہم بھی آپ کی طرح ہیں۔ ایم بی بی ایس۔ یہ کہنے کی دیر تھی۔ چہار طرف قہقہے ابل پڑھے۔ ہمیں ایم بی بی ایس کا وہ مفہوم روشناس کرایا گیا جو کبھی ہماری نظر کی قید میں نہ آسکا۔
ایم بی بی ایس یعنی میاں بیوی بچوں سمیت۔ بہت سا وقت گزر چکا تھا۔ مگر ہم پھر بھی چاہتے تھے۔ ہم اور ہمارے خاندان میں کم سے کم ایک قدر تو مشترک ہو۔ اسلئے اس نئے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے لئے چل نکلے۔ خاندان کی پرانی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے امپورٹڈ دلہن کی تلاش شروع کر دی۔ یہاں لفظ امپورٹڈ بھلے اردو کا نہ لگے مگر استاد محترم کے ارشاد : کہ "ہر لفظ ذہن میں ایک خاص جگہ جا کے ٹکراتا ہے۔ " کی روشنی میں درآمدی سے امپورٹڈ زیادہ قوی لگا اسلئے گوش گزار کر دیا۔
اک نئی تلاش ہمیں ولایتی گھرانے کے دروازے تک لے گئی۔ انہوں نے ہمارے سراپے اور ہماری ڈگری کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا اور ہم سے مطلوبہ آسامی کے لئے تجربے کی تفصیل پوچھی۔ ہم نے لجاتے شرماتے کہا " قبلہ یہ پہلا موقع ہے اور اس سے پہلے شادی کا ہمیں کوئی تجربہ نہیں لیکن اگر آپ کی یہ ڈیمانڈ ہے تو میں ہنگامی بنیادوں پر تجربہ حاصل کرنے کی اپنی سی کوشش کر سکتا ہوں۔ " اس جواب پر ہمیں جو گھوریاں پڑیں انہوں نے ہمیں شرم سے پانی پانی کر دیا۔ انہوں نے نوکری کا تجربہ پوچھا تھا اور ہم اسے کچھ اور سمجھ بیٹھے۔ 
انٹرویو کا دوسرا سیشن اک ضروری ٹیسٹ تھا۔ جس میں ہماری طبیبانہ صلاحیتوں کا امتحان لینا مقصود تھا۔ سب سے پہلے مریضہ اک کم عمر بچی تھی۔ ان کے مرض کی تشخیص بڑی آسانی سے ہو گئی مگر انہوں نے دوا کے لئے کچھ بے ضرر سی شرائط عائد کر دی کہ وہ گولی ،پڑی ،شربت کھا پی نہیں سکتی اور ٹیکے سے انہیں ڈر لگتا ہے۔ ہم نے وضو بنایا اور ان پر کچھ کلمات پڑھ کر پھونک دئے۔ پھر ایک ضعیف سی مریضہ آئی۔ ان کا خون نکالنا اور لگانا تھا۔ خون نکالنے کا مرحلہ ان کی چیخوں کے ساتھ بہ خوبی طے پا گیا، سوئی کے ذریعہ خون کی دوبارہ واپسی انہوں نے نامنظور کر دی۔ مجبوراً انہیں گلوکوز میں خون گھول کر پلا دیا۔
اپنوں کی دعائیں رنگ لائیں اور ہماری بطور دلہا تقرری عمل میں لائی گئی۔ ہنس مکھ خاندان اپنے تجربے اور مابدولت اپنے خوابوں کو پا کر مسرور کامیاب زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ 
٭٭٭





اور جب بڑھاپا چھا گیا

کشتاج


یہ اس وقت کی بات ہے جب ون اردو ممبران پر بڑھاپا چھا گیا تھا۔
ایک دن ٹیم بھائی کے پاس ایک انویٹیشن لیٹر آیا، جس میں ون اردو ممبران کو مدعو کیا گیا تھا۔ ٹیم بھائی لاٹھی ٹیکتے ہوئے اور لڑکھڑاتے ہوئے ڈائس تک پہنچے اور اعلان کرنا شروع کیا جو کہ کچھ یوں تھا
"محترم ممبران السلام علیکم!
خواہش ہے کہ میرا یہ پیغام آپ کو حال میں ملے۔ (مستقبل کا سوال کہاں؟)……" پھر ٹیم بھائی کافی دیر تک لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ کہاں سے دعوت آئی ہے اور کب تک جانا ہے۔ جب تھک گئے تو کہنے لگے ، "اب سمارا بہن آپ کو بتائیں گی کہ کس طرح تیار ہونا ہے (ظاہر ہے بڑھاپے میں اکثر لوگ تیار ہونا بھی بھول جاتے ہیں کہ جوانی میں کیسے بن ٹھن کر جاتے تھے۔ ")
سمارا آپی جس ڈائری میں یہ سب کچھ لکھ کر لائی تھیں اسی ڈائری میں پچھلے صفحے پر ساحرہ آپا کے مصالحہ بھرے رول کی ریسیپی بھی لکھی ہوئی تھی اور اگلے صفحے پر جو کچھ کہنے جا رہی تھیں وہ لرزتے ہاتھوں کی بدولت چھوٹ جاتا اور اڑ کر صفحہ پلٹ جایا کرتا اور جب تک وہ واپس صفحہ پلٹتیں، تب تک سامنے والے صفحے کو ہی پڑھتی جاتیں۔ (ظاہر ہے عزت کا سوال ہوتا ہے نا) اسی لیے وہ کچھ اس قسم کا اعلان کرسکیں۔
" السلام علیکم "
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ آج شام کو ہمیں ایک دعوت میں جانا ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے اپنی الماری سے اپنی پسند کا بہترین سوٹ نکالیں… اب اس میں اچھی طرح سے مصالحہ بھرلیں…اس کے بعد اسے پہن لیں پھر آپ اپنا منہ اچھی طرح سے دھوئیں… اب اس پر آٹا لگاتے جائیں… پھر اپنے ڈریس سے ملتی جلتی یعنی میچنگ کی جوتیاں اٹھائیں اور… اس میں تیل ڈال کر پہن لیں… اب اپنی ضرورت کا تمام سامان اٹھا کر چولہے پر بیٹھ جانا ہے … اور یہ بس آپ کو ون اردو مین روڈ پر کھڑی ملے گی۔
شکریہ۔"
اعلان سننے کے بعد سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ اس اعلان کو بڑی مشکل سے سنا گیا۔ کیونکہ کچھ ممبران تک تو یہ بوڑھی، مریل اور نحیف سی آواز پہنچ ہی نہ سکی اور کچھ لوگ جو آگے بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے اپنے کانوں میں آلۂ سماعت لگایا ہی نہیں ہوا تھا۔ لیکن ٹیم بھائی بھی خوب سمجھ دار نکلے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ کسی کو ان کی آواز نہیں گئی ہو گی۔ اس لیے انہوں نے مختصراً بلیک بورڈ پر لکھ دیا کہ " آج رات ایک دعوت کے لیے آٹھ بجے ون اردو مین روڈ پر کھڑی بس میں سوار ہونا ہے۔ "
شام ہوئی اور سب لوگ بس میں آ بیٹھے۔ اچانک ساحل بھائی کو یاد آیا کہ تالا لگانا تو بھول ہی گیا۔ لیکن انہوں نے ٹینشن بالکل نہیں لی اور اطمینان سے کھڑکی سے باہر جھانکا اور ریموٹ والا ہاتھ آگے کیا اور یہ کیا؟ ٹھک کر کے تالا لگ گیا… اب کون اس بڑھاپے میں بار بار جا کر تالے لگائے۔ 
پھر گل رعنا آپی نے سب لوگوں کی حاضری لگائی۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ تمام لوگ آ چکے ہیں تو انہوں نے احمد لون بھائی کو بس چلانے کا کہا۔ اور یوں یہ بس چل پڑی۔ کچھ دیر بعد سب لوگ دعوت میں پہنچ گئے۔ یہاں سارا ہال مختلف قسم کے کھانوں کی خوشبوؤں سے مہک رہا تھا۔ احسان سحر بھائی خوش ہو کر کہنے لگے ، "واہ بھئی واہ، یہاں پر کتنے لذیذ کھانوں کی خوشبوئیں آ رہی ہیں۔ "
دلپسند: " اور مجھے تو لگ رہا ہے کہ بوڑھوں کے لیے کوئی اسپیشل انتظام بھی کیا گیا ہے تڑکا…" ابھی تڑکا لگانے ہی والے تھے کہ کہیں سے اصلی تڑکا لگایا گیا، جس کی وجہ سے وہ کھانستے ہوئے بمشکل چیخے ، " یہ کس کم بخت نے تڑکا لگا دیا ہے ؟" ہال میں بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جو اس سب سے بے نیاز گپیں لگا رہے تھے۔ جیسے کہ ساحرہ آپی اپنی سہیلیوں کو اپنی لاٹھی دکھا دکھا کر بتا رہی تھیں، "دیکھو میں نے آج ہی اپنی پوتی سے اس لاٹھی کا "غلاف" سلوا کر چڑھوایا ہے۔ دیکھو کتنا پیارا لگ رہا ہے۔ " جرار ذرا اس کی تصویر تو کھینچنا۔ " آمنہ آپی جن کی عینک کے چشمے مزید موٹائی اختیار کر چکے تھے وہ عینک کو ناک پر چڑھا چڑھا کر بغور لاٹھی کے غلاف کا جائزہ لینے لگیں کہ اس میں ایسا کیا ہے کہ اس کی تصویر کھنچوائی جائے۔ "
جرار بھائی جو اپنی ڈریم گرل، جن کے تمام دانت ٹوٹ چکے تھے ، ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہیں ساحرہ آپا کی یہ بات قطعی پسند نہ آئی۔ اس لیے طرح طرح کے منہ بنانے لگے۔ دراصل وہ منہ پھلا کر بیٹھ جانا چاہتے تھے ، لیکن لٹکی ہوئی جھریوں بھری کھال ایک انچ بھی نہ پھول سکی۔
ایک طرف خواتین کی باتیں اور دوسری طرف امان بھائی کی شاعری۔ امان بھائی سب لوگوں کو اپنے اشعار سنا سنا کر "خوش" کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی شاعری پر بھی جیسے بڑھاپا چھا گیا تھا۔ وہ خود بھی اپنے اشعار نہیں سمجھ پاتے تھے ، لیکن وہ سناتے ضرور تھے عادت جو ٹھہری۔
امان:
" مرنا ہے سب ہی کو اک نہ اک دن امان
کوئی مر نہ جائے بڑھاپے کی خوشی میں"
سب جلدی جلدی دعائیں کرنے لگے کہ کسی طرح کھانا لگے اور جان چھوٹے۔ (اب اس میں بیچارے امان بھائی کا بھی کیا قصور؟ سنا ہے جوانی میں بہت ہوشیار رہا کرتے تھے۔ لیکن اب تو بڑھاپا آ ہی گیا تھا نا !!! اس میں کسی بات کا "ہوش" نہ کوئی "یار", بس گزر رہی تھی جیسے تیسے شاعری کرتے )
پھر کچھ دیر میں سب کی یہ دعا قبول بھی ہو گئی۔ اور روٹی کھل گئی۔ سب لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ مگر اب وہ دم اور خم کہاں رہا، جو جوانی میں ہوا کرتا تھا۔ بڑی مشکل سے سب نے آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ ابھی کھانا شروع کیے ہوئے کچھ ہی دیر پوئی تھی کہ عامر بھائی نے بچوں کی طرح رونا شروع کر دیا کہ انہیں لیگ پیس نہیں ملا۔ بڑی مشکلوں سے انہیں ایک دو لیگ پیس ڈھونڈ کر مہیا کیے گئے۔ پھر یاز بھائی منہ میں نوالہ ڈالنے ہی والے تھے کہ گل آپا نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اتفاق سے وہ یاز بھائی کے سامنے ہی بیٹھی تھیں تو ان سے روتے روتے کہنے لگیں، "ہائے میں اپنے دانت تو گھر پر ہی بھول آئی ہوں، اب کیا کروں یاز بھائی کچھ کیجیئے نا!!"
یاز بھائی نے عادت کے مطابق کہہ دیا "کرتے ہیں کچھ۔ " گو کہ اب اس عمر میں ان کے پاس کچھ کرنے کرانے کا وقت نہیں رہ گیا تھا لیکن کیا کریں بیچارے اپنی عادت سے مجبور تھے۔ 
اس سے پہلے کہ گل آپا کے آنسوؤں سے سارا دستر خوان بھیگ جاتا، کاشفین آپی نے جلدی جلدی انہیں تسلی دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا " گو آنکھ میں جنبش نہیں ہاتھوں میں تو دم ہے … آپ اسی کے ذریعے کچھ گزارا کر لیجیئے۔ "
اس کے بعد عمران بھائی نے اپنی بنیان کی جیب سے بتیسی نکالی اور بہت آرام سے اپنے منہ میں فٹ کر لی۔
گل آپا کو عمران بھائی کی بتیسی باقاعدہ منہ چڑا رہی تھی اور عمران بھائی کھانے میں مگن تھے کہ اچانک ایک زور دار تڑاخ کی آواز سے سارا ہال گونج اٹھا اور ساتھ ہی عمران بھائی کے ہاتھ سے نوالہ بھی چھوٹ گیا… یہ تڑاخ ہما آپی کی لاٹھی سے نکلی ہوئی آواز تھی جو ان کی جوانی کی چٹاخ کا نعم البدل ہوا کرتی تھی۔
ہما آپی: "یہاں گل شہزادی بتیسی کے لیئے رو رہی ہیں اور … اور … تمہیں ذرا شرم نہیں آتی کہ اسے آدھی یعنی سولہ دانت ہی دے دو!!!"
اب عمران بھائی بھی تھوڑا سا شرمانے لگے کہ واقعی شرم تو آنی چاہیئے نا، لیکن اچانک اتنے سارے مزیدار کھانے دیکھ کر جو منہ میں پانی بھر آیا تو اس نے ساری شرم بھلا دی۔
صرف عمران بھائی ہی کیا، اتنے مزے دار کھانے دیکھ کر تو سب کا ہی عجیب حال تھا۔ جیسے کہ کائنات آپا اتنے سارے مزیدار کھانے دیکھ کر خوشی سے پھولی نہیں سمارہی تھیں۔ ویسے بھی اب وہ اتنی پھول چکی تھیں کہ کسی بھی عام سی کرسی میں سمانا ان کے لیئے قدرے مشکل ہو رہا تھا۔ ظاہر ہے جوانی میں دوسروں کو ڈائیٹ میں لگا کر خود جو مزے لے لے کر ہر کھانے سے لطف اندوز ہوتی رہی تھیں۔ لیکن بڑھاپے میں ڈائٹنگ کرنا ان کے بس کی بات نہ تھی اور منہ کو جو چٹخارے لگے ہوئے تھے بھلا وہ کیسے چھوٹ سکتے تھے ؟ اسی وجہ سے اس وقت بھی مرغ کی ران کو باقاعدہ اڑانے کی کوشش کرنا چاہ رہی تھیں۔ لیکن بچی کھچی ڈاڑھ میں ایک ریشہ جو پھنسا تو سب کچھ بھول کر اپنی داڑھ سنبھال کر بیٹھ گئیں۔
برابر میں وش آپا بیٹھی بڑی تہذیب سے کھانا کھانے میں مصروف تھیں۔ کائنات آپی نے ان سے تیلی مانگی تا کہ ریشہ داڑھ سے نکال سکیں اور مش جی نے جلدی سے تیلی نکال کر دے دی۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ "یہ میری پسندیدہ تیلی ہے۔ اس کو مجھے دھو دھلا کر واپس دے دینا۔ " پھر جب کائنات آپی تیلی واپس کر رہی تھیں تب اچانک لبنیٰ آپا کی حیرت بھری چیخ سنائی دی اور مش جی کے ہاتھوں سے ان کی محبوب تیلی نیچے گر گئی… دراصل ہوا کچھ یوں کہ ناعمہ آپا نے میک اپ کرنے کے لیے اپنے پچکے ہوئے گالوں میں روئیاں دبا لی تھیں تاکہ گال پھولے رہیں اور اس پہ میک اپ سیٹ ہو جائے۔ پھر جب کھانا کھانے کے لیے انہوں نے منہ سے روئیاں نکالیں اور پھولے ہوئے گال ایک دم پچک گئے تو بھلا لبنیٰ آپا کیوں نہ حیران ہوتیں۔ صرف وہی نہیں سب کے سب انہیں حیرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے لیکن ابھی ایک اور حیرت انگیز منظر ان کا منتظر تھا۔
مون آپا کو جب سب نے لاٹھی لیے دروازے پر لال بھبھوکا ہوتے ہوئے دیکھا تو سب کے ہاتھوں کے نوالے اڑ گئے۔ ظاہر ہے ہاتھ میں طوطے تو تھے نہیں جو اڑتے۔ 
مون: "میں وہاں کھڑی بس کا انتظار کرتی رہی اور تم سب لوگ مجھے چھوڑ کر یہاں پر آرام سے دعوت اڑا رہے ہو؟" یہ کہہ کر جو انہوں نے سب کو ایک ایک کر کے اپنی لاٹھی کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے تو گھر تک کیسے پہنچے یہ تو اللہ بہتر جانے یا پھر بس ڈرائیور کیونکہ میں تو خود اپنی جان بچانے کی فکر میں بھاگتی پھر رہی تھی۔ ہاں بس اتنا یاد ہے کہ ٹیم بھائی کان پکڑ کر کہہ رہے تھے کہ " آئندہ ان بوڑھوں کے ساتھ دعوت میں شرکت نہیں کرنا۔"
مجھے تو یہ سبق ملا کہ اس عمر میں کسی دعوت میں شرکت نہیں کرنی چاہیئے بلکہ فراز بھائی کی طرح آرام کرنا چاہیئے۔ خیر ان کا معاملہ تو کچھ اور ہی ہے جو شخص جوانی میں سونے سے نہ چوکے ، وہ بڑھاپا کیسے ضائع کرسکتا تھا۔
٭٭٭


یک سکول کی آنسرنگ مشین

آمنہ احمد


ہائی سکولوں کے طلباء کی غیر حاضری سے تنگ آ کر یہ طریقہ کار نافذ کیا گیا کہ اگر کوئی طالب علم ایک سمسٹر میں پندرہ سے تیس دن غیر حاضر ہو گا اور غیر حاضری میں کیا گیا کام مکمل نہیں کرے گا تو وہ اگلے سمسٹر یا جماعت میں نہیں جاسکے گا۔
جب سے یہ بات نافذالعمل ہوئی تھی، والدین غصے سے آپے سے باہر ہو رہے تھے اور اساتذہ اور پرنسپل کو والدین کی طرف سے فون اور ای میلز کے ذریعے مقدموں کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ساری دنیا کی طرح امریکی اساتذہ بھی بے بسی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ جب بات حد سے بڑھ گئی تو ایک ہائی سکول کے اساتذہ نے سر جوڑ کر فیصلہ کیا کہ اس لغویات کا کوئی سد باب ہو نا چاہئے۔ 
اب کیونکہ یہ امریکی سکول تھا۔ امریکی اساتذہ تھے ، اور امریکی ہی والدین اور شاگرد، تو مسئلے کے حل کیلئے بھی امریکی طریقہ کار ہی ڈھونڈا گیا مگر کہیں کہیں آپ کو اس میں اپنے ہاں کی بھی جھلک نظر آئے گی کہ جیسا ہمارے ہاں آپ کسی دفتر میں فون کریں تو آپ کو کوئی پلا ہی نہیں پکڑاتا۔ خیر ملاحظہ کریں کہ اساتذہ کرام اور پرنسپل نے ملکر کیا لائحہ عمل تیار کیا۔
فیصلہ ہوا کہ گراہم بیل کی روح کو دعائیں دیتے ہوئے اور نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیلی فون کی جوابی سروس پر یہ پیغام ریکارڈ کروا دیا جائے۔ لیجئے آپ بھی یہ پیغام پڑھیں اور دنیا کی سپر طاقت کے اساتذہ کے علمی استعدلال پر سر دھنیں۔
"ہیلو ! آپ سکول کی خود کار جوابی سروس سے مخاطب ہیں۔ آپ کی صحیح جگہ تک راہنمائی کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس پیغام کو بغور سنیں اور درست نمبر کا انتخاب کریں۔"
"اگر آپ اپنے بچے کی غیر حاضری کے متعلق جھوٹ بولنا چاہتے ہیں تو ایک کا ہندسہ دبائیں"۔
"اگر آپ نے بچے کے سکول کا کام مکمل نہ کرنے کے متعلق کوئی بہانہ گھڑنا ہے تو دو کا ہندسہ دبائیں"۔
" اگر آپ نے ہمارے طریقہ کار کے متعلق شکایت کرنی ہے تو تین کا ہندسہ دبائیں"۔
" اگر آپ نے ہمارے ملازمین اور اساتذہ کو بد دعاؤں اور گالیوں سے نوازنا ہے تو چار کا ہندسہ دبائیں"۔
" اگر آپ نے ہم سے یہ پوچھنا ہے کہ آپ کو وہ معلومات کیوں نہیں ملی جو آپ کو بار بار آپ کے گھر کے پتے پر بھیجی گئیں تو پانچ کے ہندسے کو دبائیں"۔
" اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے بچے کی پرورش کا ذمہ لے لیں تو چھ کا ہندسہ دبائیں"۔
"اگر آپ ہاتھ بڑھا کر کسی کا گلا دبانا چاہتے ہیں یا کسی کو تھپڑ مارنا چاہتے ہیں تو سات کا ہندسہ دبائیں"۔
" اگر اس سال میں آپ تیسری بار اپنے بچے کے استاد کی تبدیلی چاہتے ہیں تو آٹھ کا ہندسہ دبائیں"۔
" اگر آپ سکول کی بس ویگن کی سروس کے متعلق شکایت کرنا چاہتے ہیں تو نو کا ہندسہ دبائیں"۔
" اگر آپ کو سکول کی کنٹین کے متعلق شکایت کرنی ہے تو صفر کا ہندسہ دبائیں"۔
"اگر آپ کو ادراک ہو گیا ہے کہ یہ حقیقی دنیا ہے اور اس دنیا میں بچے کو اپنے افعال، سکول کے کام، گھر کے کام کا خود ذمہ دار ہونا چاہئے اور یہ استاد کی غلطی نہیں کہ آپ کا بچہ محنت نہیں کرتا ہے تو پھر فون بند کر دیں اور ایک خوش گوار دن گزاریں۔"
" اگر آپ اس پیغام کو سمجھنے کے قابل ہیں تو اپنے اساتذہ کے شکر گزار ہوں۔"
٭٭٭
(ترجمہ)


ایک مزاحیہ تحریر

ندیم اختر

معزز قارئین،
آپ نے تحریر کا عنوان پڑھا، اتنا تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس تحریر کا، جو آپ آگے جا کر پڑھنے لگے ہیں۔ مزاح سے کچھ نہ کچھ تو تعلق ہے۔ ۔ اگر نہیں سمجھے تو آپ کا اللہ ہی حافظ۔ ۔ اتنی سامنے کی بات نہ سمجھنے والوں کیلئے عموماً ایک بار برداری کے لئے کام آنے والے چوپائے یا پھر ایک رات رات بھر جاگ کر ہولناک آوازیں نکالنے والے پرندے کی مثال دی جاتی ہے۔ مگر میں ایسی گستاخی کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا۔ ۔ میری صرف اتنی استدعا ہے کہ آئندہ کچھ بھی پڑھنے لگیں تو پورے دھیان سے معنی مفہوم سمجھ کر پڑھیں، تا کہ کوئی آپ کے متعلق کسی طرح کی نا معقول رائے قائم کرنے سے باز رہے۔ ۔
اس سے پہلے کہ اس تحریر کا باقاعدہ آغاز کیا جائے ، آئیے ہم طے کر لیں کہ مزاح دراصل ہے کیا۔ ۔ لیکن اس سے بھی پہلے میں اپنے سر سے ہیڈ فون اتار کر ایک طرف رکھنے لگا ہوں کیونکہ مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ جگجیت کی آواز میں درد بھری غزلیں سنتے ہوئے آپ اور چاہے سب کچھ کر سکتے ہوں، ایک مزاحیہ تحریر ہر گز نہیں لکھ سکتے۔ 
تو ہم مزاح کی تعریف پر بحث کرنے لگے تھے۔ لیکن میں نے آپ سے تو پوچھا نہیں کہ آپ اس بحث میں شامل ہونا چاہیں گے یا نہیں۔ دیکھیں ناں بعض لوگوں کو بحث مباحثہ پسند نہیں ہوتا۔۔ اور جب معاملہ مزاح جیسے سنجیدہ موضوع کا ہو تو یہ ہر کس و نا کس کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی۔ ۔ لہذا اگر آپ بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو آپ کو اس کا اختیار ہے۔ ۔ آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں اور اپنے قیمتی وقت کو اپنی پسند کے مطابق گزارنا جمہوریت کی رو سے آپ کا بنیادی حق ہے۔ ۔ بالکل ویسے ہی جیسے الیکشن کے دنوں میں آوے ہی آوے کے نعرے لگانا اور ووٹ ڈالنا آپ کا حق ہے اور اگلے الیکشن تک کے لئے آپ کو بالکل فراموش کر دینا آپ کے منتخب نمائندوں کا حق۔ ۔ لیکن ہم یہاں سیاست نہیں، مزاح پر بات کر رہے ہیں۔
دنیا میں مزاج اور مزاح کے اعتبار سے بھانت بھانت کے لوگ پائے جاتے ہی۔ کچھ رجائیت پسند المیہ سے المیہ بات یا صورتحال میں بھی ہنسنے ہنسانے کا پہلو تلاش کر لیتے ہیں، تو بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے تاثرات میں عالمی معیار کے لطیفے سن کر کوئی تبدیلی آتی ہے نہ صدر صاحب کی تقریر سن کر۔ ۔ وہ چارلی چپلن کی فلموں کو بھی پہلی یا دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں پر بنی دستاویزی فلم جتنی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔۔ حتی کہ وزیر داخلہ صاحب کی شکل دیکھ کر بھی وہ زیادہ سے زیادہ مسکراتے ہی ہیں۔ ہنسی انہیں تب بھی نہیں آتی۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا شمار ایسے بد ذوق اور بد مزاج لوگوں میں ہرگز نہیں ہوتا۔
مزاح ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہمیشہ لکھا گیا۔۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہر دور کے عظیم فلسفیوں، مفکرین اور صاحبان علم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ ۔ اور پھر کچھ لکھے بنا واپس رکھ دیا ہے۔ اسلئے کہ دوسرے موضوعات پر لکھ لکھ کر وہ سب کاغذ اور سیاہی ختم کر چکتے تھے۔ ۔ اور جب تک یہ چیزیں پھر سے میسر آتیں، وہ بھول بھال جاتے تھے کہ انہیں کتنے اہم موضوع پر لکھنا تھا۔ ۔ صدیوں سے مزاح کے ساتھ یہی ٹریجڈی ہوتی آئی ہے۔ اس پر جتنے بھی قہقہے لگائے جائیں، زیادہ ہیں۔
میں نے اپنی پہلی مزاحیہ تحریر، آج تک نہیں لکھی۔ ۔ ہاں دوسری کوئی ساڑھے سات سال قبل انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں چوتھی بار ناکام ہونے پر لکھی تھی، جس کا عنوان تھا "میرٹ کا قتل نا منظور"..اس میں کیا لکھا تھا، یہ تو اب یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ جن اکا دکا لوگوں کو پڑھوائی تھی، ان سب نے پڑھ کر ایک ہی بات کہی تھی "شرم کرو" اور جواب میں میں نے دل ہی دل میں یہ ترمیم شدہ شعر پڑھا تھا
پہلے آتی تھی حال دل پہ شرم
اب کسی بات پر نہیں آتی
اب تک جو کچھ آپ نے پڑھا، اگر اس کی کوئی کل سیدھی نہ لگی ہو تو اس میں آپ کا کچھ قصور نہیں، نہ میرا ہے۔ ۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اونٹ بیچارہ بلا وجہ بدنام ہے۔ ۔ اور یہ بھی کہ ضروری نہیں ہر بات ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی ہو۔ ۔ کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہنے والے بنا سوچے سمجھے کہہ یا لکھ دیتے ہیں۔ ۔ پھر طویل عرصے کی تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ارے یہ تو کائنات کے سر بستہ رازوں میں سے ایک راز بیان کیا گیا ہے۔ ۔ چلو بھئی انہیں نوبل پرائز دو۔ کیا کہا۔ انہیں گزرے تو زمانے بیت گئے۔ ۔ کوئی بات نہیں۔ ۔ بعد از مرگ ہی دے دو۔ ۔ تو قارئین گرامی، اب اس بے سروپا تحریر کو ایک نوبل انعام یافتہ مصنف کا شاہکار سمجھ کر پھر سے پڑھیں۔ ۔ شاید اس طرح آپ کی تشفی کا بہتر طور سامان ہوسکے۔ ۔ مجھے اجازت دیجئے کہ ایک ضروری کام یاد آ گیا۔۔ بھئی وصیت لکھنی ہے ناں کہ انعام کی رقم کو کس طرح استعمال ہونا چاہئے۔ 
٭٭٭



ایک میں اور ایک تم 


کائنات

ہم گھر والوں کے دو شاہکار۔ ۔۔۔۔
اکٹھے ہی گھر کو رونق دینے چلے آئے تھے۔ ویسے تو اماں ابا بڑا صرفے کے قائل تھے۔ لیکن پتہ نہیں یہاں ان کا حساب کتاب کیسے غلط ہو گیا کہ وہ بھی اس فضول خرچی کے منتظر نہ تھے۔ چند منٹوں کے وقفے سے ہم دونوں بھائی اس رنگوں کی دنیا میں رنگینی بڑھانے کے لیے رونق افروز ہو چکے تھے۔ 
وہ زمانے نہیں تھے کہ جب پہلے ہی پتہ چل جاتا کہ گھر میں ایک نہیں دو مہمان آ رہے ہیں۔ تب تو لوگ دوائی بھی تبھی کھاتے تھے ، جب جان پہ بن آتی۔ نزلہ چلتا تو جوشاندہ پی لیتے ، کھانسی ہوتی تو منہ میں ملٹھی رکھ لیتے۔ کمزوری آتی تو پانی میں گلوکوز ڈال کر دل ناتواں کو تراوٹ پہنچا لیتے۔ ہم بھائیوں کی طرح یہ وٹامن شٹامن تب نہیں تھیں۔ واہ واہ کیا سستے زمانے تھے اور سستے نسخے ، اور سستے میں ہی سب چھوٹ جاتے تھے۔ 
سننے میں آیا کہ لوگوں رشتہ داروں کا ہمیں دیکھ کر رشک و حسد سے برا حال ہو گیا۔ لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے۔ 
ایک بولی آئی۔۔۔۔ " واہ واہ ، کیا قسمت پائی ہے حضرت آپ نے۔ لوگ ایک اولاد نرینہ کو ترستے ہیں اور ماشاءاللہ، آپ کے لیے اللہ نے جوڑی بھیج دی۔ "
دوسری بولی، بولی۔۔۔۔۔ "ہمممممم ایک بیٹا ہوتا ایک بیٹی ہوتی تو تب فیملی بالکل مکمل ہو جاتی۔ ہم دو ہمارے دو کے مصداق۔۔۔ اور ان کو نظر بھی نہ لگتی۔"
تیسری بولی بھی یقیناً پیچھے نہ رہی۔۔۔۔۔"ہاں اللہ کی شان، اگر دو بیٹیاں آ جاتیں تو ابھی سے ہی ان کی قسمت کی فکر لگ جاتی۔"
اور ایک حضرت نے تو حد کر دی۔ آگے بڑھ کر بولے "میاں صاحب، اب تو آپ کے گھر میں ایک ڈاکٹر اور ایک وکیل پکا۔۔۔"
پتہ چلا لوگ تو یہ لمبی لمبی چھوڑتے رہے اور بچارے ابا اماں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ہی جھانکتے رہے۔ اور آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ طے پا گیا کہ ایک کے لیے بنائے گئے کپڑے مساوات کے تحت دونوں میں تقسیم کر دیں گے۔ اور یہ کہ ایک کو تم ساتھ سلانا اور ایک کو میں۔ اور دونوں کو بدل بدل کر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کبھی ماں کا دودھ ملے گا اور کبھی بکری کا۔ یہ خاموش معاہدہ کر کے دونوں کچھ پرسکون ہو گئے۔ اس سے پہلے تو دونوں دل میں کچھ گھبرائے ہوئے تھے کہ اللہ نے تو چھپر پھاڑ کر دے دیا مگر اسے سنبھالیں گے اب وہ کیسے ؟
اور پھر وہ بھانت بھانت کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جو ہمارا مستقبل طے کر رہے تھے۔ اور ہم آنکھیں پٹپٹا کر اس دنیا کے باسیوں اور ان کی باتوں سے بے نیاز ایک بھائی ہاتھ کا انگوٹھا اور دوسرا بھائی پاؤں کا انگوٹھا چوستے رہے۔ اماں ابا انجانے میں ہی ڈبل خرچے کے نیچے دب چکے تھے۔ 
اب لوگوں نے ڈبل مٹھائی کی بھی ڈیمانڈ کر دی۔ ابھی لوگ پیلے لڈوؤں، چٹی، پیلی، گلابی چم چم، حبشی حلوے اور کالی گلاب جامنوں سے منہ میٹھا کر کے ہٹے ہی تھے کہ نام کرن کا مسئلہ پیش آ گیا۔
ایک مفت کا مشورہ آیا کہ ان کا نام بھی کلیان جی آنند جی، لکشمی کانت پیارے لال، آنند ملن یا شنکر جے کشن کی طرح رکھا جائے۔ جو ایک ہی سانس میں لیا جا سکے۔ آخر دو سانسوں کی فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے۔ ۔۔ سو ہمارے لیے بھی ایم اشرف۔۔۔ حسن طارق۔ ۔۔۔ اکبر اعظم جیسے نام قرعہ اندازی میں ڈلنے لگے۔ یا پھر یہ کہ وحید مراد نام کو ہم دونوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یا محمد اور علی کو اکٹھا کر دیا جائے۔ شکر ہے ہماری بچت ہو گئی کسی نے رنگیلا،منور ظریف۔ ۔۔۔یا۔ ۔۔۔ الن، ننھا جیسے نام نہیں سوچ لیے۔ 
البتہ اماں نے شائد فلم گورا اور کالا دیکھ لی تھی۔ ہم میں سے ایک کافی گورا تھا اور دوسرا تھوڑا کالا۔ لوگوں کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ دونوں کے رنگ ایک جیسے ہوتے تا کہ یہ بھائی تو لگتے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ " ان کی عرفیت تو بنی بنائی ہے۔ بگھا اور کالو۔ " اب ان میں سے کوئی اس سے کہتا " کیا تم آرڈر پہ بنے تھے۔ ؟ افسوس، اتنے تماش بینوں میں کسی نے بھی کہنے والے کی زبان نہ پکڑی۔ اور اس بات پر ہم آج بھی تلملاتے ہیں۔ کیونکہ چڑیاں کھیت چگ گئی تھیں۔
چناچہ باہمی مشاورت سے ہمارے نام رکھ دیئے گئے۔ سب۔ ۔۔ ر۔ ۔۔۔ کے پلیٹ فورم پر اکٹھے ہو گئے تھے۔ میرا نام راسخ اور بھائی کا نام راحم۔۔۔ راسخ کا معنی ہے مضبوط اور دیرپا اور راحم کا معنی رحم کرنے والا۔۔۔۔ یہ تو علیحدہ بات ہے اور بہت بعد کی بات ہے کہ میں مضبوط ہو کر بھی بھائی سے مار کھا لیتا تھا اور بھائی کے نام کے مصداق پھر اپنے پر رحم بھی کر لیتا تھا۔
لوگوں کی بھیڑ ذرا چھٹی تو اماں ابا کو بھی ہمیں گود میں لینے اور ہم پہ غور کرنے کا موقع ملا کہ کونسا ماں پر ہے اور کونسا باپ پر۔ ابھی غور و خوض جاری تھا کہ دھن دھنا دھن گھر کا دروازہ پیٹا جانے لگا کہ "۔۔۔۔۔ کدے گھار کاکا جمیا۔ ۔۔۔" اور ناچنے والے اپنے ہاتھوں کی سپیشل تالیاں بجاتے گھر کے اندر گھس آئے۔ چھن چھن چھنا چھن۔ ۔۔۔ اور گھنگھروؤں کی جھنکار کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے ڈانس بھی شروع ہو گیا۔ جن لوگوں کے لیے پہلے ہم جان محفل تھے ، اب وہی ہم سے منہ پھیر کر ناچنے والوں کے گرد گھیرا ڈال چکے تھے۔ اور اپنی پسند کے گانے سننے لگے تھے۔ اور رقص کے زاویے اپنے ذہن میں محفوظ کرنے لگے تھے۔ 
اماں ابا پھر گھبرا کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ کہ اب پھر ڈبل خرچہ ہو گا۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہم میں سے ایک کو چھپا دیا جاتا یا ہم میں سے ایک کو کوئی اڈاپٹ ہی کر لیتا۔
سو آنے والے رقاصاؤں نے خوب اپنے ڈانس کی کلا دکھانی شروع کر دی۔ ابھی ہم جھولے میں قلقاریاں مارنے اور گود کی سواری کے قابل تھے مگر ہمارے سہروں کے گیت گائے جا رہے تھے۔ 
جیوے بنڑا عمراں ساریاں
تیرے سیرے توں میں واریاں
اور
دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے 
دلہن کا تو دل دیوانہ لگتا ہے 
دلہن۔۔۔۔ جس بیچاری نے ابھی پتہ نہیں کب دنیا کی سیر کو آنا تھا۔ جس کا انتظار پھر ہمیں ابھی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔۔
٭٭٭


بلا عنوان

محمدقرطاس مرزا الکشمیری


مس  کئی طرح کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے 
"میں آپ کو مس کرتا ہوں
 " اُس نے پروگرام  مس کر دیا "
 ایک مس اور بھی ہوتی ہے " دوشیزہ " لڑکی بالی اور ایک مس ہوتی ہے پڑھانے والی " مثلاً میتھ پڑھانا " اردو پڑھانا " جغرافیہ دینیات وغیرہ " 
کچھ مسیں ایک کو دوسرے کے خلاف بھی پڑھاتی ہیں اور حیرت کی بات یہ کہ زبردست طریقے سے پڑھاتی ہیں ، کچھ سکولوں کالجوں میں یہ رواج یا مجبوری ہوتی ہے کہ وہاں میتھ یا عربی ، پڑھانے کے لئے ایک مرد ٹیچر بھی رکھا جاتا ہے اور وہ بے چارہ نفسیاتی نمونہ سا بن جاتا ہے ہنس کیوں رہا تھا ، سوچ کیا رہا تھا " آج دیکھو اکیلے میں ہنس رہا تھا " ضرور کوئی گڑبڑ ہے " پوچھنا چاہئے کل آنے دو میں سب پوچھ کے چھوڑوں گی 
ایک بچہ تھا " عمر اس کی ہو گی۔ ۔ ۔۔ ۔ " بس اتنی ہی عمر تھی جتنی عام بچوں کی ہوتی ہے ، آ کر مس صاحبہ سے بولا میں میں آپ کو اپنی مرغی دوں گا ، بس تھوڑی سی بیمار رہتی ہے " مس صاحبہ کو بڑی خوشی ہوہی کہ بچہ کتنا اچھا ہے ، کچھ عرصہ بعد مس صاحبہ کو بچے نے بتایا کہ مرغی اب تندرست ہو گئ ہے اس لئے آپ کو دینے کا ارادہ اب بدل دیا ہے۔ 
مرغیوں بکریوں اور کتوں کے کچھ نئے فوائد ہماری ساس صاحبہ نے بھی دریافت کئے ہیں ، آپ فرماتی ہیں ہمارے گاوں میں گھروں کی صفائی میں یہ جانور  بہت خاص حصہ لیتے ہیں ہم نے حیرت نے کہا پھوپھو حضور آپ یہ کیا فرما رہی ہیں ، تو کہنے لگیں بیٹا کوئی سبزی کاٹیں تو بکریاں سبزی کے باقیات کا فوراً صفایا کر دیتی ہیں روٹیوں کے ٹکرے مرغیاں چگ دیتی ہیں اور ہڈیاں کتے کھا جاتے ہیں کتوں سے یاد آیا ہمارے سالے صاحب کو کتے پالنے کا بہت شوق ہے ، مگر ہمارے سسر صاحب غصے کے بڑے تیز ہیں کوئی کتا گھر میں گھسنے نہیں دیتے اور وہ کتے کو گھر سے باہر چھپاتے پھرتے ہیں ، اپنے حصے کی روٹی بھی جیب میں ڈال کر کتے کو کھلا آتے ہیں ، جب بات سب کو پتہ چلتی ہے تو کتے سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے ، اگر گھر سے باہر چھوڑ آہیں تو کتا ان کی واپسی سے پہلے ہی گھر پہنچ جاتا ہے۔ 
٭٭٭ 

بھوت بھیا کی ڈریم گرل

مس پنکی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا پالا شا لاڈلا شا بھائی جرار شہرِ ون اردو میں میں بھوت کے نام سے مشہور تھا کیونکہ اس کی فیورٹ ہابی لوگوں کو ڈرانا اور اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے ان کا "تراہ" نکالنا تھا۔اس لیے سب نے انہیں بھوت کا خطاب دیا۔
بھوت بھیا سارا سارا دن ون اردو کی گلیوں میں آوارہ گردی کرتے پائے جاتے تھے۔ کبھی میم فارمونا باجی کے ساتھ سلطان بھائی کی بندوق پکڑے شکار پہ جا رہے ہیں تو کبھی ساحل کے ساتھ سمندر کی سیر کر رہے ہوتے اور کبھی کبھی تو ساحرہ کے کچن میں فریج کی تلاشی لیتے ہوئے بھی پکڑے گئے۔ وہاں سے نکالا جاتا تو عمران بھائی کی"ادبی بیٹھک" میں جناتی قہقہے لگانے پہنچ جاتے۔ 
بھائی کے دن کا بیشتر حصہ بس انہی ایکٹیوٹیز میں،ون اردو کی گلیوں میں اچھلتے کودتے ،شرارتیں کرتے اور اٹکھیلیاں کرتے گزرتا اور جو باقی کا وقت بچتا وہ جرار بھائی اپنی ڈریم گرل کے سپنوں میں کھوئے رہتے۔ بقول ان کے یہ ان کے لیے دن کا سب سے پسندیدہ وقت ہوتا تھا جب وہ اپنی ڈریم گرل کے ساتھ کینڈل لائٹ ڈنر کرنے کے بعد سمندر کے کنارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دنیا جہاں کی باتیں کرتے ہوئے دور تک بس چلتے ہی جاتے ،چلتے ہی جاتے یہاں تک کہ صبح نہ ہو جاتی۔
سب بہنوں کو بھائی کی شادی کا بہت شوق تھا پر بھائی تھے کہ بس ڈریم گرل کے ہی سپنوں میں کھوئے رہتے اور کوئی لڑکی پسند ہی نہ آتی۔بقول ان کے جب ان کو ان کی ڈریم گرل ملے گی تب ہی وہ شادی کریں کریں گے ورنہ ڈریمز والی ڈریم گرل کے ساتھ ہی وہ بہت خوش ہیں اور ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔جس پہ گل اپی اور پنکی غصے سے کھول کر رہ جاتیں۔دونوں بہنوں نے بہت ترکیبیں لڑائیں کہ بھائی کو اس ڈریم گرل کے چنگل سے نکال سکیں پر کامیاب نہ ہو سکیں۔ اور تھک ہار کر صبر کے گھونٹ پی کر بیٹھ رہیں۔
جرار بھائی کو شکار کا بھی بہت شوق تھا۔جب وہ شکار پر جاتے تو دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے تھے۔ ایک دن جب وہ شکار سے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ شہرِ ون اردو میں خاصی چہل پہل اور رونق لگی ہوئی ہے۔ سب لوگ اپنے بکروں کو سجا سنوار کے ون اردو کی گلیوں میں گھوم پھر رہے تھے۔ کہیں ہوشربا بہنا سے بکروں کو مہندی لگوائی جا رہی ہے ،کہیں سجدہ باجی کی گفٹ شاپ سے گفٹس خرید کر سب میں تحائف کا تبادلہ کیا جا رہا ہے تو کوئی رضا قصائی سے جھگڑ رہا ہے کہ فلاں کو آپ نے سب سے پیارا بکرا دے دیا اور میرے لیے یہ سوکھا سڑا میمنا رہ گیا تھا۔غرض ہر طرف بس بکرا، بکرا کی تکرار ہو رہی تھی۔جس سے جرار بھائی نے سوچا کہ ہو نہ ہو عید آ رہی ہے اور تھوڑی دیر میں اس خیال کی تصدیق بھی ہو گئی جب جرار بھائی کو لیٹر بکس میں بہنوں کی طرف سے ڈھیر سارے عید کارڈز موصول ہوئے۔ 
اب جرار بھائی بھاگم بھاگ پہنچے رضا قصائی کی طرف کہ انہیں تو عید کے دن کا یاد ہی نہیں رہا تھا اور ابھی بکرا بھی لینا تھا آخر کو قربانی جو کرنی تھی۔پر افسوس کے رضا قصائی تمام بکرے بیچ کے فارغ شارغ ہو کے عید کی تیاریوں میں مصروف تھا۔اور بھائی *ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں،میں ہر کام کرنے میں کی تصویر بنے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ 
پنکی سدا کی نرم دل۔اس سے بھائی کی پریشانی دیکھی نہ گئی اور اپنا بکرا لے کر بھائی کے گھر پہنچی اور بھائی کو اپنا بکرا اٍر کر دیا کہ وہ تو ابھی سویٹ سکسٹین میں ہے اس میں قربانی فرض نہیں پر بھائی کو تو ہر صورت فرض کی ادائیگی کرنی چاہیئے۔ لیکن اناپرست بھائی صاحب نے منع کر دیا کہ وہ بہنوں سے کوئی چیز نہیں لیتے اور کہاں کہ بکرا؟
پنکی نے بہت اصرار کیا پر بھائی کی ضد کے آگے اس کی ایک نہ چلی تو اس نے دل ہی دل میں تہیہ کیا کہ وہ عید پر اس بکرے کی سب سے خاص چیز بھائی کو گفٹ کرے گی۔
خاص چیز۔۔۔؟؟۔۔۔۔۔جی ہاں۔۔! وہ چیز جس سے کوئی انسان محروم ہو تو وہ خاص ہی ہوئی ناں تو پنکی عید کے روز اپنے خوبصورت سے بکرے کی انتہائی قیمتی چیز لیے جرار بھائی کے ہاں پہنچی اور انہیں تحفے میں پیش کی۔
جرار بھائی اتنا بیش بہا قیمتی گفٹ لے کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ انہوں نے تو بس آج تک اس کا نام ہی سن رکھا تھا کہ*دماغ* بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ اورجسے استعمال کرنے والے لوگ عقلمند کہلاتے ہیں۔
بس جرار بھائی نے پنکی سے وہ دماغ لیا اور انتہائی محفوظ مقام پر رکھ دیا اور پنکی کو منع کیا کہ وہ کسی اور کو نہ بتائے کہ اتنی قیمتی چیز ان کے پاس ہے۔ کبھی وہ گھر پر ہوتے ہیں۔کبھی نہیں اور آج کل تو ویسے بھی حالات بہت خراب ہیں،دن دیہاڑے ڈاکے پڑ رہے ہیں۔اور وہ اتنی قیمتی چیز کو ہر وقت ساتھ لیے بھی نہیں گھوم سکتے۔ پنکی نے معاملے کی سنگینی سمجھتے ہوئے یہ راز کسی کو نہ بتانے کی حامی بھر لی۔
ایسے ہی دن گزرتے گئے اور جرار بھائی روز رات کو ایک بارسونے سے پہلے الماری میں چیک کر لیتے کہ آیا ان کی قیمتی چیز موجود ہے کہ نہیں؟پر کبھی اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہوئی۔
کچھ ہفتے بعد شہرِ ون اردو میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا اعلان ہوا تو سب نے چھٹیوں کو انجوائے کے لیے شہر سے باہر جانے کا پروگرام بنایا۔جرار بھائی دو دن پہلے ہی تو واپس آئے تھے جرمنی کے ٹور سے سو انہیں گھر سے جانے کی اجازت نہ ملی اور بے چارے اکیلے ون اردو کی سنسان گلیوں کے چکر کاٹے رہتے۔ 
ایسے میں ایک دن انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ آج*دماغ* کو استعمال کیا جائے اور ان بے مصرف دنوں کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔ ۔۔۔چنانچہ انہوں نے دماغ کو الماری سے نکالا۔اس پہ لگی گرد و مٹی صاف کی اور اسے اپنے سر میں فٹ کرنے لگے۔ 
فٹ کرنے کے بعد کافی دیر تک تو بھائی کا سر دکھتا رہا اور بھاری بھاری محسوس ہوتا رہا پر یہ علامات نارمل تھیں۔آخر کو پچھلے کئی جنموں سے خالی تھا اور اب ایک دم سے *دماغ* نامی بوجھا ڈالا گیا تو ایسا تو ہو نا ہی تھا ناں۔۔۔
خیر بھائی سر میں دماغ فٹ کرنے کے بعد بیڈ پر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئے تاکہ دماغ صحیح طرح سے کام کر سکے اورپھر دماغ کو حکم دیا۔
جرار_____"دماغ،دماغ۔۔۔۔مجھے کام بتاؤ
میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔میں کس کو ستاؤں؟؟
"جرار______"دماغ،دماغ !____مجھے کام بتاؤ
میں کیا کروں____میں کس کو کھاؤں؟؟"
پر وہ دماغ تھا پنکی کے بکرے کا اور پنکی کا بکرا عید سے پہلے تک کافی عرصہ پنکی کے ساتھ گزار چکا تھا اور پنکی سے کافی عقلمندانہ اچھی اچھی اور سلجھی ہوئی باتیں سیکھ چکا تھا سو اس نے جرار کی باتوں پر کان نہ دھرا اور اسے سمجھایا۔۔۔
دماغ___"تم فصول کاموں مین اپنا وقت برباد مت کرو_اور پڑھائی پر توجہ دو!"
جرار___(غصے سے )"تم میرے دماغ ہو کہ میرے بابا کے ؟ان کے سنہری اقوال کیوں دہرا رہے ہو۔۔؟کچھ ایسا بتاؤ جس سے میری بوریت دور ہو؟" جرار کو دماغ کی بات پسند نہ آئی اور اگلا حکم دیا۔
دماغ___"بوریت ہی دور کرنی ہے تو کوئی کرئیٹیو کام کرو یا اور کچھ نہیں تو چند دن اپنے بابا کا کام ہی دیکھ لو__ان کا ہاتھ بٹا دو۔۔۔"دماغ بھی آخر پنکی کے بکرے کا تھا اور باقی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک خوبی اپنی بات پر ڈٹے رہنا بھی تھی۔سو اس نے جرار کے غصے کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک اور حل پیش کیا۔
جرار___"(غصے سے کھولتے ہوئے )"اب تم نے دادو کے فرمودات دہرانے شروع کر دیے ؟______کچھ ایسا بتاؤ جو نیا سا ہو۔۔۔۔۔۔جس سے لائف ایک دم چینج ہو جائے۔ ۔؟"بھائی نے اس بار اپنی بات تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔
دماغ__"تو پھر ایسا کرو شادی کر لو____اس سے سب کی لائف میں چینج آ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔اور______"
دماغ کی یہ پہلی بات بھائی تھی جو جا کر سیدھا بھائی کے دل کو لگی اور وہ بیڈ سے چھلانگ مار کر اٹھے۔ دماغ اس فوری جھٹکے کے لیے تیار نہ تھا اور اپنی بات کہتے کہتے بند ہو گیا۔
بھائی کے خوشی کے مارے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے کہ کتنا زبردست آئیڈیا ان کے ہاتھ لگا تھا اور دماغ نے بالکل ان کے دل کی بات کہ دی تھی۔
انہوں نے دماغ کو واپس الماری میں رکھا اور آج پہلے بار انہیں اس کی افادیت کا اندازہ ہوا تو انہوں نے الماری کو باہر سے تالا بھی لگا دیا کہ واقعی یہ چیز تو بہت قیمتی ہے اور بس خوش قسمت لوگوں کو ملتی ہے ___
لیں جی بھوت بھیا پہ تو شادی کا بھوت سوار ہو گیا۔اور بھوت پہ بھوت سوار ہو تو کیا ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھ لیتے ہیں____
جرار بھائی نے دوڑ لگائی اور ہانپتے ہانپتے شاعری گھر پہنچے جہاں پنی اور گل آپی بیٹھیں بیت بازی کھیل رہی تھیں۔
جرار__"آپا__آپا_____پنکی_!"بھائ کی سانس پھولی ہوئی تھی پر انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔
جرار__"آپا___میں شادی کرنے لگا ہوں__"جرار بھائی نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔جیسے شادی نہیں بلکہ چاند پہ جانے لگے ہوں۔
گل آپی__"ہیں جرار___! کیا کہہ رہے ہو____ہوش میں تو ہو؟"گل آپی حیرت سے بے ہوش ہوتے ہوتے بچیں کہ کہاں تو بھائی کی منتیں کر کر کے تھک گئیں کہ شادی کر لو _اور کس عمر میں کرو گے _شاید اسی طرح تم کچھ کچھ ذمہ دار ہو جاؤ اور کوئی عقل شقل آ جائے __اور اب بے شرموں کے طرح خود ہی شادی کا اعلان کرتے پھر رہے تھے اور ایسے بتا رہے تھے جیسے ابھی ہاتھ پکڑ کے لڑکی والوں کے ہاں چل دیں گے۔ 
پنکی__"بھائی کے بچے ___! کس سے کر رہے ہو شادی____؟پہلے کیوں نہیں بتایا___؟مجھے تو پہلے ہی شک تھا__؟"پنکی نے حیرت اور غصے کے ملے جلے احساسات سے سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور شکی نظروں سے بھائی کو گھورنے لگی۔
دوسری طرف جرار بھائی ایسی صورتحال کے لیے قطعی تیار نہیں تھے۔ یہ سب تو انہوں نے سوچا ہی نہیں تھا۔
جرار___"لڑکی__!!__؟؟"
پنکی__(اداسی سی)_"سنا تھا شادی کے بعد بھائی بدلی جاتے ہیں مگر آپ تو پہلے ہی______"
جرار__(غصے سے پنکی کی بات کاٹتے ہوئے )_"ارے شادی ہی تو کر رہا ہوں__کوئی گناہ تھوڑی ہے __دونوں ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو؟__"
گل آپی__"کس سے کر رہے ہو شادی_؟"گل آپی نے گھورتے ہوئے کہا۔
جرار____"اپنی ڈریم گرل سے۔ ۔۔۔۔۔۔۔"بھائی نے آنکھیں بند کر کے خیالوں میں کھوتے ہوئے جواب دیا۔
گل آپی___"اور یہ ڈریم گرل کہاں رہتی ہے ؟___"گل آپی نے تفشیشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
پنکی----"ان کے ڈریمز میں___"پنکی نے جل کر جواب دیا اور بھائی کو گھورنے لگی۔
جرار بھائی نے پنکی کو غصے سے دیکھا اور آپا کی طرف متوجہ ہوئے جو بس اب ٹپ ٹپ آنسو بہانے کی تیاری میں تھیں۔
جرار__"ارے میری پیاری آپا___لڑکی تو آپ ہی ڈھونڈیں گی ناں___میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ میں شادی کے لیے تیار ہوں---"بھائی نے آپی کو کول ڈاؤن کرتے ہوئے کہا۔
پنکی___"کیا __!!_سچ بھائی____؟ لڑکی ہم لوگ ہی ڈھونڈیں گے ناں___؟"پنکی خوشی سے چیختے ہوئے بولی۔
جرار___"ہم لوگ کون_؟__میں آپا سے کہہ رہا ہوں___بس وہی ڈھونڈیں گی میری ڈریم گرل___"بھائی نے پنکی کو چڑاتے ہوئے کہا۔
پنکی___"ہاں تو میں اور آپی الگ الگ تھوڑی ہیں_"پنکی نے بھائی کی بات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جواب دیا۔
جرار__"خبردار__تم رہنے ہی دو___لڑکی تو بس آپا ہی ڈھونڈیں گی۔تم اپنے جیسی کوئی کام والی چنی منی آنکھوں اور پھینی ناک والی ڈھونڈ لاؤ گی_"بھائی نے پنکی کو مزید چڑایا پر پنکی پر ذرا اثر نہ ہوا اور وہ آپی کو اپنی جاننے والی تمام لڑکیوں کے نام گنوانے لگی۔
جرار۔۔۔"آپا میں کہہ رہا ہوں____اس پنکو کو خبردار جو ساتھ لے کر گئیں تو__لڑکی والوں نے اسے دیکھتے ہی انکار کر دینا ہے کیسی آفت کی پر کالا لڑکی ہے __نند بن کے نہ جانے کیا کیا ظلم ڈھائے ان کی معصوم بیٹی پر__"بھائی نے آپی کو وارن کیا۔
پنکی نے شکایتی نظروں سے گل اپی کی طرف دیکھا تو ان کا دل پسیج گیا۔
گل آپی___"جرار۔۔۔! اب تم مجھے بتاؤ گے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں۔۔۔۔۔تمھارے مرضی کب سے چلنے لگی۔۔؟؟" گل آپی نے جرار بھائی کو گھورتے ہوئے کہا۔
گل آپی__"اور ویسے بھی ائے دن میری بیک میں پین رہتا ہے __پاؤں بھی بہت درد کرتے ہیں_خیر یہ تو عمر کا تقاضا ہے۔ ۔۔اور پنکی ساتھ ہو گی تو مجھے آسانی رہے گی۔۔۔۔۔بہت ساری باتیں بھول جاتی ہوں۔۔۔۔کبھی کبھی تو اپنا نام تک بھول جاتی ہوں۔۔اور پنکی کی یادداشت ماشاء اللہ سے بہت تیز ہے۔ ۔۔بس ہم دونوں بہنیں مل کر لڑکی ڈھونڈیں گی۔۔"گل آپی نے پیار سے پنکی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
پنکی نے چڑاتی ہوئی نظروں سے بھائی کو دیکھا۔۔اور جڑ کے آپی کے ساتھ بیٹھ گئی اور لڑکیوں کے بارے ڈسکس کرنے لگی۔
بھائی نے ہار مانتے ہوئے باہر کا رخ کیا اور سوچا کہ فی الحال پنکی کا غصہ کسی اور پہ نکالتا ہوں۔۔آخر کو انہیں پنکی سے ہارنا برداشت جو نہیں ہو رہا تھا۔
دوسری طرف پنکی گل آپی کی حمایت ملنے پر اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
***********
دو دن بعد______
پنکی__"بھائی مانا کہ آپ مشرقی لڑکے ہیں پر پھر بھی اپنی پسند نا پسند ہی بتا دیں؟یہی بتا دیں کی کیسی لڑکی چاہیئے ؟کیا کوالیفیکیشن ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔"
جرار__"(بھائی کو پہلی بار پنکی کی کوئی بات پسند آئی)_"ہاں یہ  تو تم نے صحیح کہا__آخر کو زندگی تو مجھے ہی اس کے ساتھ گزارنی ہے اپنی پسند نا پسند تو بتانی چاہیئے __تم لوگ تو کل کو اپنے گھر سدھار جاؤ گی تم لوگوں کو کیا__بعد میں بھگتنا تو مجھے ہی پڑے گا__"
پنکی نے گھور کر بھائی کو دیکھا۔کہنا تو بہت کچھ چاہ رہی تھی لیکن بھائی کی پسند نا پسند جاننے کا اشتیاق زیادہ تھا سو چپ رہی۔
جرار__(مزے سے آنکھیں بند کر کے صوفے کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے بولے )__"لڑکی__! بس بالکل میری ڈریم گرل جیسی ہو_"
پنکی__(غصے سے )_"تو ٹھیک ہے اگلی بار آپ کی ڈریم گرل آپ کے ڈریمز میں آئے تو مجھے وہیں بلوا لیجئے گا_میں وہیں دیکھ لوں گی۔"
جرار___"لو خوامخواہ ہی___تم کباب میں ہڈی__کوئی ضرورت نہیں_"بھائی نے بدمزہ ہوتے ہوئے کہا۔
پنکی__"تو پھر انسانوں کی طرح بتا دیں ناں کہ کیسی لڑکی چاہیئے _"پنکی اکتاہٹ سے بولی۔
جرار__"بس سمجھو بالکل اپسر ہو__کوئل جیسی میٹھی میٹھی آواز__مورنی جیسی چال___ہرنی جیسی بڑی بڑی آنکھیں____!"
پنکی__"بس_بس_افففففففف۔۔۔! "بھائی کی بات کاٹتے ہوئے۔ "کوئی انسانوں والی خصوصیات نہیں ہیں ___توبہہہہہ__!!"
بھائی نے کھا جانے والی نظروں سے پنکی کو دیکھا اور اس سے پہلے کہ کچھ کہتے پنکی بولی۔
پنکی__"اگر آپ کی ایسی ہی پسند ہے تو ٹھیک ہے۔ اتنی خصوصیات کسی ایک میں تو ملنے والی نہیں۔آپ انہی میں سے چوز کر لو کہ کہ میٹھی آواز والی کوئل سے شادی کرنی ہے کہ مورنی سے یا پھر جھیل سی گہری آنکھوں والی ہرنی سے __ہم خوامخواہ میں ہی انسانوں کی بستی میں آپ کے لیے ا یک عدد *لڑکی* تلاش کرتے ہوئے پھر رہے تھے۔ "پنکی نے لفظ لڑکی پر زور دیتے ہوئے شرارتی نظروں سے بھائی کو دیکھتے ہوئے کہا اور بھائی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پنکی کا سر پھاڑ دیں یا پھر اپنا سر کسی دیوار سے ماریں۔انہیں کس نے کہا تھا کہ اپنی پسند نہ پسند پنکی سے ڈسکس کرنے بیٹھ جائیں۔اور پنکی بھائی کی کیفیات سے لطف اندوز ہوتی ہوئی اپنی جان بچانے کو بھاگ گئی۔
*******
ایک ہفتے بعد_______
گل آپی__"پنکی میں نے تو یہ چار لڑکیاں سلیکٹ کی ہیں ان سب میں سے۔ ۔۔"گل آپی نے تصویروں کی البم واپس ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا۔پنکی چاروں تصویروں کا بغور معائنہ کرنے لگی۔
گل اپی__"ویسے تو مجھے یہ چاروں ہی بہت پسند ہیں اور ان میں سے جس کے لیے بھی جرار کہے گا ہم رشتہ لے کر چلے جائیں گے۔ "
پنکی__"آپی میں تو کہتی ہوں ان چاروں میں سے خود ہی ایک سلیکٹ کر لیتی ہیں۔بھائی کا پتا ہے ناں آپ کو۔انہوں نے کہنا ہے کہ اسلام میں چار کی اجازت ہے میں چاروں سے شادی کر لیتا ہوں___"پنکی نے فکر مندی سے کہا۔
گل آپی__"توبہ ہے پنکو۔۔۔۔کبھی تو ڈھنگ کی بات کر لیا کرو۔۔۔جرار صحیح ہر وقت تم سے لڑتا رہتا ہے۔ ۔۔۔تم جو منہ میں اتا ہے بلا سوچے سمجھے بولے چلے جاتی ہو۔۔۔"گل آپی نے پنکی کو گھورتے ہوئے کہا۔
پنکی__"لیں آپی ایسا بھی میں نے کیا کہہ دیا۔۔۔۔آپ کو نہیں پتا سچی__پر بھائی ایسے ہی ہیں__"پنکی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
گل آپی__"افففف پنکو____اب جرار کے سامنے ایسا کچھ مت کہنا ورنہ اس سے کچھ بعید بھی نہیں___تم سے ضد لگاگے وہ ایسا کر بھی بیٹھے گا۔دونوں ایک جیسے پاگل ہو_"آپی نے پنکی کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
پنکی__"دیکھا____آپ بھی مان گئیں ناں کہ بھائی کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں__"پنکی نے آپی کو اپنی بات پہ قائل ہوتے دیکھا تو خوشی سے کہا اور آپی محض سر ہلا کے رہ گئیں کہ ان دونوں کی حرکتوں اور باتوں کی واقعی ان بے چاری کو سمجھ نہیں آتی تھی۔
اتنے میں بھائی آتے ہوئے نظر آئے تو پنکی نے آپی کو ان کی طرف متوجہ کیا۔
جرار__"جی تو خواتین___کہاں تک پہنچی اپ کی تلاشِ رشتہ کی مہم۔۔۔؟"
گل آپی__(لفظ خواتین استعمال کیے جانے پر آپی برا تو مانیں پر یہ بحث میں پڑنے کا وقت نہیں تھا)__"جی حضرت کے لیے یہ چار عدد لڑکیاں پسند کی ہیں___"آپی نے بھائی کے ہی لہجے میں جواب دیا۔
گل آپی__"ان میں سے جس کے لیے بھی کہو گے بات آگے چلاتے ہیں۔۔۔"
جرار__"ارے صرف چار۔۔۔۔۔۔۔"بھائی نے حیرت سے کہا۔۔۔"آپ کے اتنے خوبرو__ پرنس چارمنگ____ہائی کوالیفائیڈ بھائی کے لیے تو لڑکیوں کی لائن لگ جانی چاہئے تھی اور آپ____"
گل آپی__"اففف جرار__بی سیریس___پہلے ہی میرے سر میں درد ہے ___اپنی اوٹ پٹانگ باتیں نہ سناؤ اور شام تک مجھے بتا دینا کہ ان میں سے کون سے لڑکی پسند ہے۔ ۔۔۔۔۔"آپی چائے "بنوانے " کے لیے اٹھ کر ساحرہ آپا کے کچن کے جانب چل دیں۔
پنکی___"بھائی __! میں ہیلپ کروں آپ کی کچھ__؟؟" پنکی نے اشتیاق سے پوچھا۔
جرار۔۔۔"ہاں ان سب کا ذرا بائیو ڈیٹا کوئی حدود اربعہ وغیرہ تو بتاؤ۔۔۔۔۔۔"تصویریں الٹ پلٹ کرتے دیکھتے ہوئے کہا۔
پنکی__"بھائی یہ ریڈ کپڑوں والی علینہ ہے __دیکھیں کتنی کیوٹ ہے اور باتیں تو اتنی پیاری پیاری کرتی ہے کہ کچھ نہ پوچھیں___اور کھانا____بس انگلیاں چاٹتے رہ جائیں__سب سے مزے کی بریانی بناتی ہے ___آپ کی فیورٹ ہے ناں بریانی___اور ہاں آپ کا فیورٹ بیسن کا حلوہ___افففف یمی بہت ہی مزے کا بناتی ہیں___اور پائن ایپل کیک کا تو پوچھیں ہی مت___میں ان سے اس کی ریسپی بھی لے کر آئی ہوں__آج ہی ساحرہ آپا کے کچن میں بناؤں گی اور_____"
جرار___"اففففف___پنکوووو____چپ کر جاؤ___مجھے اپنی ڈریم گرل چاہیئے ___کوئی باورچن___کوئی برتن مانجھنے والی یا کپڑے دھونے والی کام کام والی ماسی نہیں___آئی سمجھ___"بھائی نے غصے سے کہا-
اور پنکی جو اتنے شوق سے بھائی کو اپنی ہونے والی بھابھی کی خوبیاں بتا رہی تھی اور دل ہی دل میں اس لڑکی کو اپنی بھابھی بنا بھی چکی تھی_بس اپنا سا منہ لے کر رہ گئی__
جرار__"بس میری طرف سے یہ رید کپڑوں والی باورچن علینہ ریجیکٹ ہی سمجھو___"بھائی نے تصویر ٹیبل پہ پٹختے ہوئے کہا۔اور باقی تصویروں کا معائنہ کرنے لگے اور کافی دیر کے غورو حوض کے بعد ایک بلیک ڈریس والی لڑکی کی تصویر لیے گل آپی اور ساحرہ آپی کو دکھانے چل دیے۔ 
*********
بھائی کے رشتے کی بات کیا طے ہوئی کہ زور و شور سے شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور اللہ اللہ کر کے شادی کا دن بھی آ پہنچا۔
شادی کے دن بھائی پھولے نہیں سما رہے تھے اور اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہفتہ پہلے جو ناپ دے کر شیروانی سلوائی گئی تھی آج اس کے بٹن ہی بند نہیں ہو رہے تھے۔ ایک ہفتے میں ہی بھائی نے خوشی کے مارے اتنا وزن بڑھا لیا کہ شیروانی میں سما ہی نہیں رہے تھے۔ ۔خیر جیسے تیسے بھائی کو تیار کیا۔اتنے میں رضوان بھائی گھوڑے کو لیے ون اردو چوپال پہنچے۔ پیچھے پیچھے احمد لون بھائی اپنی بندوق اٹھائے مسلسل فائرنگ کرتے آرہے تھے۔ ٹھاہ۔ ۔۔ٹھاہ۔۔ٹھاہ۔۔۔
بھائی کا احمد بھائی کو دیکھتے ہی منہ بن گیا۔انہیں احمد بھائی کی بندوق سے سخت چڑ تھی۔۔اس سے پہلے کہ شادی میں بدمزگی ہو ہم نے بڑی مشکل سے احمد بھائی سے بندوق لے کر انہیں پٹاخوں کا پیکٹ پکڑایا کہ اب باقی کا شوق اس سے پورا کر لیں۔
اس دوران پیر جی انکل بھی شادی کے سہرے گاتے آن پہنچے۔ سب نے مل کر بھائی کو گھوڑے پر بٹھایا۔بھائی گھوڑے پر بیٹھ کر خود کو کسی سلطنت کا شہزادہ سمجھ رہے تھے جیسے دلہن لینے نہیں دنیا فتح کرنے جا رہے ہوں۔
بارات کے پہنچنے پر اس کا پر جوش استقبال کیا گیا۔اتنی آؤ بھگت دیکھ کے بھائی کی بتیسی تھی کہ اندر ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔بالکل کولگیٹ کا اشتہار بنے ہوئے تھے۔ گل اپی بار بار بھائی کی نظر اتار رہی تھیں۔بھائی کو سٹیج پر بٹھایا گیا۔
پنکی اپنا پنک لہنگا پہنے اور دولہے کی لاڈلی،  نک چڑھی اور سر چڑھی بہن ہونے کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے سٹیج پر بھائی کے ساتھ جڑ کر بیٹھی تھی۔یہ علحٰدہ بات ہے کہ بھائی کئی بار گھوریوں سے نواز چکے تھے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سٹیج سے نو دو گیارہ ہونے کا کئی بار اشارہ بھی کر چکے تھے۔ پر وہ پنکی ہی کیاجو اتنی آسانی سے مان جائے۔ آخر ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ 
وہاں ساحرہ آپی اپنی پرپل امبریلا فراک پہنے جو بھائی کی شادی کے لیے سپیشل بنوائی تھی کی پرواہ کیے بغیر شادی ہال کے کچن میں گھسیں کھانوں کا معائنہ کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ ایک کک سے رشین پلاؤ کی ریسپی پوچھ کر اپنی ڈائری میں نوٹ کرتی جا رہی تھیں۔
دوسری طرف مجاجنی آپا۔۔پٹیالہ شلوار سوٹ میں نک سک سے تیار__بالوں میں لمبا سا پراندھا لگائے __ڈی_جے کے پاس کھڑی میوزک انسٹرکشنز دے رہی تھیں اور اپنی پسند کا گانا لگوا کر اپنے کاکے سے ڈانس کروا رہی تھیں۔
اتنے میں دلہن کو لا کر بھائی کے ساتھ سٹیج پر بٹھایا گیا۔اب بھائی کی پوری توجہ دلہن کی طرف تھی۔پنکی نے سکون کاسانس لیا کہ کسی بہانے بھائی کا س پر سے دھیان ہٹا اور آرام سے ایزی ہو کر سٹیج پر بیٹھ گئی۔
بھائی یاک بار پھر سے کولگیٹ کا اشتہار بن گئے تھے اور گردن موڑے دلہن کو گھورے جا رہے تھے۔ شکر ہے کہ دلہن بالکل مشرقی لڑکیوں کی طرح آنکھیں جھپکائے بیٹھی تھی ورنہ بھائی کو اس پوز میں دیکھ کراس کا "تراہ"نکل جانا تھا۔
گل آپی نے دو تین بار بھائی کو گھرکا اور اشارہ کیا کہ سامنے دیکھو۔دُلہن کوئی بھاگی نہیں جا رہی۔سے ساتھ لے کر ہی جائیں گے پھر جی بھر کے دیکھتے رہنا۔پر وہ بھائی ہی کیا جن کو اثر ہو جائے۔ فوٹو گرافر بے چارہ الگ کیمرہ پکڑ کر حیران پریشان کھڑا تھا کہ دولہا جی کب اس کی طرف نظر کرم کریں گے۔ 
پنکی نے جوسب کو یوں پریشان دیکھا تو اسے ایک ہی حل سوجھا اور اس نے برابر میں بیٹھے ہوئے بھائی کے ایک زوردار کہنی رسید کی۔بھائی تڑپ کے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور دل ہی دل میں پنکی کوکوسنے لگے۔ گل آپی نے سکون کا سانس لیا۔فوٹو گرافر نے تشکر بھری نظروں سے پنکی کو دیکھا اور فٹ سے پنکی کی تین چار پیاری پیاری تصویریں اتاریں۔
دولہا اور دلہن کی جوڑی بہت پیاری لگ رہی تھی۔دونوں بہت خوش لگ رہے تھے۔ اور بھائی خود کو بہت خوش قسمت سمجھ رہے تھے کہ ان کی ڈریم گرل خوابوں سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں ان کے سامنے تھی۔
اور اس کے ساتھ ہی شادی اختتام پذیر ہوئی۔
************
شادی کے ایک ماہ بعد___
جرار بھائی اور حوریہ بھابھی جنہیں پیار سے بھائی حور پری کہتے تھے ہنی مون سے واپس آئے تو پنکی اور گل آپی نے گھر کو ان کے حوالے کیا اور اپنے اپنے گھر جانے کا سوچا۔
گل آپی__"اچھا جرار__اب میری بہو آ گئی ہے تمھارا خیال رکھنے کو۔۔۔۔میں اب چلتی ہوں_میں نے جاب سے کافی چھٹیاں کر لیں اور داؤد کے اسکول کا بھی کافی حرج ہو رہا ہے۔ ۔۔"
جرار__"چلیں ٹھیک ہے آپا___ میری حور پری ہے ناں یہاں۔۔۔ڈونٹ وری__"بھائی نے حور پری کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
پنکی__"اچھا بھائی__میں بھی چلتی ہوں ا ب__بہت انجوائے کیا آپ کی شادی پر__اور اب بھابھی کے انے سے کتنی رونق ہو گئی ہے ناں اور میرا تو بالکل دل نہیں چاہ رہا واپس جانے کو___"پنکی نے اداسی سے کہا۔
جرار__"ارے ننھی پری__اداس کیوں ہوتی ہو پھر آ جانا ناں___یہ بھی توسوچو تمھارے نیکسٹ منتھ ایگزیمز ہیں__"وہ بھی تو دینے ہیں ناں_!"جرار بھائی نے پیارسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ مبادا پنکی دل کے کہے میں آ کر رک ہی نہ جائے۔ 
اور یوں دونوں بہنیں بھائی اور بھابھی کو خوش و خرم،شاد وآباد رہنے کی دعائیں دیتے ہوئے اپنے اپنے گھر رخصت ہوئیں۔
**********
اگلا دن____
آج بھائی کا شادی کے بعد آفس جانے کا پہلا دن تھا۔
جرار__""حور پری___ارے بھئی کہاں ہو؟؟__مجھے دیر ہو رہی ہے __"بھائی نے بھابھی کو آواز لگائی۔بھابھی جو ابھی تک سو رہی تھیں۔صبح صبح بیدار کیے جانے پر برا سا منہ بناتے ہوئے اٹھ بیٹھیں۔
بھابھی__"کیا ہو گیا___؟ اتنا شور کیوں مچا رکھا ہے صبح صبح__؟"
جرار__"مجھے دیر ہو رہی ہے آفس سے __میرے کپڑے کہاں ہیں؟؟"بھائی نے پریشانی سے پوچھا۔
بھابھی__"حد ہوتی ہے یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے __ظاہر ہے کپڑے الماری میں ہوتے ہیں__ابھی تک تو کپڑے الماریوں میں ہی رکھنے کا رواج ہے __"بھابھی نے اکتاہٹ سے کہا جس پہ بھائی حیران رہ گئے کہ یہ خیال انھیں کیوں نہیں آیا__اور الماری کھول کر کپڑے دیکھنے لگے۔ 
جرار__"ارے ان میں سے تو کوئی ایک سوٹ بھی ا ستری شدہ نہیں ہے۔ ۔۔"بھائی نے پریشانی سے الماری کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
بھابھی__تو کیا ہو گیا_! نہیں ہے تو کر لو ناں ___"بھابھی نے لا پرواہی سے کہا۔"اور مجھے یہ ٹی وی کا ایموٹ پکڑانا__خوامخواہ ہی صبح صبح جگا دیا__اب اور کچھ نہیں تو ٹی وی پہ مارننگ شو ہی دیکھ لیتی ہوں___"بھائی حیرت سے منہ کھولے کھڑے تھے اور اسی حیرت میں حور پری کو ریموٹ پکڑا کے استری اسٹینڈ کی جانب بڑھ گئے۔ 
تھوڑی دیر بعد______
بھائی نک سک سے تیار کمرے میں داخل ہوئے۔ 
جرار__"حور پری___ وہ ناشتہ___!"
بھابھی__"ارے میں اتنی صبح صبح ناشتہ نہیں کرتی__پر اب اٹھ ہی گئی ہوں تو ایک کپ چائے کا دے جانا بس۔"بھابھی نے بھائی کی بات کاتتے ہوئے کہا۔
بھائی کا منہ ایک بار پھر سے کھل گیا۔یعنی ناشتہ بھی اب وہی بنائیں گے۔ پر یہ سوچتے ہوئے کچن کی جانب چل دیے کہ حور پری کا صبح صبح جگائے جانے پہ موڈ آف ہے اور بھابھی کو چائے کا کپ دے کر آفس کے لیے روانہ ہوئے۔ 
جاب سے واپسی پر_____
جرار__"ہیلو__!"
بھابھی__"آ گئے آپ___میں کب سے آپ ہی کا انتظار کر رہی تھی___"
جرار__"ہاں _بس بہت تھک گیا ہوں__"بھائی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا_"اور بھوک بھی بہت لگ رہی ہے __"
بھابھی__"ہاں مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے __دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا__"بھابھی نے نقاہت سے کہا۔
جرار__"ارے جان__! میرے انتظار میں بھوکی نہ رہا کرو اور کچھ کھا لیا کرو_تمھارے بغیر میرے بھی حلق سے کچھ نہیں اترتا پر کیا کروں مجبوری ہے __کام بھی تو کرنا ہے ناں__"بھائی نے محبت سے بھابھی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
جرار__"چلو اب تمھیں مزید بھوکا نہیں رکھتا اور آج اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہوں__تم کھانا ٹیبل پر لگاؤ_میں منہ ہاتھ دھو کے آتا ہوں__"بھائی نے محبت سے کہا اور صوفے سے اٹھ کے روم کی جانب قدم بڑھائے۔ 
بھابھی__"کھانا۔۔۔۔؟ کون سا کھانا۔۔۔؟؟"بھابھی نے پوچھا۔
جرار__"کیا مطلب__؟"بھائی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھابھی کی طرف دیکھا۔
بھابھی__"کون سا کھانا ٹیبل پہ لگاؤں__؟بھابھی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
جرار__"وہی جو تم نے بنایا ہے۔ ۔۔۔۔"بھائی نے حیرت سے جواب دیا۔۔۔
بھابھی__"میں__؟؟اور کوکنگ__؟ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مجھے کھانا بنانا اتا ہے _؟بھائی نے پوچھا۔
جرار__" کیا مطلب__؟
بھابھی__"مجھے تو کچن میں جاتے ہی ڈپریشن ہو جاتا ہے __دم گھٹنے لگتا ہے __کوکنگ کرنا تو دور کی بات ہے۔ ۔۔۔"بھابھی نے نزاکت سے کہا۔اور بھائی حیرت سے منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے بھابھی کو دیکھ رہے تھے۔ وہ تو بس بھابھی کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے کے خواہش رکھتے تھے پر یہ نہیں جانتے تھے کہ پہلے اپنے ہاتھوں سے پکانا بھی پڑے گا_
*************
شادی کے تین ماہ بعد_____
آج سنڈے تھا چھٹی کا دن اور بھائی صبح سے گھر کی صفائی ستھرائی میں مصروف تھے۔ ہفتے میں ایک ہی دن ملتا تھا تمام رکے ہوئے کام سرانجام دینے کا اور بھائی اپنی ڈریم گرل کے ماتھے پر ایک بھی شکن آنے سے پہلے تمام کام ختم کرنا چاہتے تھے آ کر کو بہت پیار جو کرتے تھے اپنی حور پری سے۔ 
دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر بھائی ڈرائنگ روم آئے جہاں بھابھی ٹی وی پر نظریں جمائے ہاتھ میں ریموٹ پکڑے بیٹھی تھیں۔۔
جرار__"کل پنکی کا فون آیا تھا۔۔۔اس کے ایگزیمزکا رزلٹ آ گیا ہے۔ ۔۔بہت اچھے پرسنٹیج سے پاس ہو گئی ہے۔ ۔۔چلو چل کے مبارکباد دے آئیں__"
بھابھی__"آج__؟_ارے نہیں__آج تو ٹی وی پہ ایوارڈ شو آنا ہے _میں پچھلے دو ویکس سے انتظار کر رہی تھی اور میں نے تو ایس۔ایم۔ایس کر کے اپنے فیورٹ ایکٹرز کو ووٹ بھی دیا تھا۔۔۔میں تو کبھی یہ شو مس نہ کروں۔۔۔۔پھر کسی دن چلے جائیں گے۔ ۔۔"بھابھی نے لا پرواہی سے کہا۔
جرار__"پھر کسی دن نہیں جاسکتے ناں__آج مجھے چھٹی ہے __صبح سے پھر آفس اور پھر نیکسٹ سنڈے ہی فری ہوں گا__"
بھابھی__"تو ٹھیک ہے نیکسٹ سنڈے ہی چلیں گے پھر__"
جرار__"پر پنکی مائنڈ کر جائے گی ناں__اسے ہر موقع پہ سب سے پہلے میری ہی وش کا انتظار ہوتا ہے __بہت پیار کرتی ہے ناں مجھ سے میری ننھی پری__"بھائی کے لہجے میں ڈھیر ساری محبت دھر آئی جو بھابھی کو ایک آنکھ نہ بھائی۔
بھابھی__"ہاں جانتی ہوں__ہر دو دن بعد مس یو کے کارڈز سے لیٹر بکس بھرا ہو تا ہے۔ ۔۔میل کھولو تو وہاں کارڈز__آف لائن میسجز___توبہ__اس لڑکی سے کہو اب اس کی منگنی ہو چکی ہے _اپنے فیانسی کو کیا کرے اتنا مس اور یہ ساری کارڈز بھی اسے بھیجا کرے _"بھابھی نے ناگواری سے کہا۔
بھائی نے پہلی بار بھابھی کو غصے سے دیکھا۔
جرار__"جی نہیں__پنکی اییس نہیں ہے __وہ بس اپنے بھائی کو مس کر سکتی ہے ___"
بھابھی__"لو__اپنے فیانسی کو مس کرنا گناہ ہے کیا___"بھابھی نے حیرت سے کہا۔
بھائی کو جب کچھ جواب نہ بن پڑا تو اکتا گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ 
جرار__"اگر تمھارا جانے کا موڈ نہیں تو میں اکیلا ہی اسے وش کر آتا ہوں۔۔۔"
بھابھی بھی سکون سے اپنا ایوارڈ شو دیکھنا چاہتی تھیں سو آرام سے اجازت دے دی۔
یوں بھائی پنکی کا فیورٹ اسٹرابری کیک لیے اسے وش کرنے پہنچے۔ پنکی بھائی کو دیکھ کے بہت خوش ہوئی پر اکیلے آنے میں غصہ کیا۔
جرار__"وہ تمھاری بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔اس لیے میں سوچا میں خود ہی تمھیں وش کر آؤں۔۔۔بعد میں تمھاری بھابھی کو پھر کسی دن لے آؤں گا۔
پنکی__"ارے بھابھی کی طبیعت خراب ہے۔ ۔۔اور آپ انھیں اکیلا گھر چھوڑ ائے۔ ۔۔۔۔مجھے فون پہ کر دیتے ناں وش۔۔۔۔۔لائیں فون دیں میں بھابھی سے خیریت پوچھ لوں۔۔۔۔"
جرار__نہیں__اب اتنی بھی خراب نہیں__اور جب میں آیا تو وہ سو رہی تھی__"بھائی نے گھبراہٹ سے کہا اور جلدی سے فون جیب میں ڈال لیا کہ کہیں سچ مچ فون نہ ملا دے۔ ۔
پنکی__"چلیں ایسا کرتی ہوں__میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں__بہت دن ہو گئے بھابھی سے ملے ہوئے __اور ان کی خیریت بھی پوچھ لوں گی__"پنکی نے جلدی سے پلان ترتیب دیا۔
جرار__"ارے یوں ایک دم__آنٹی سے اجازت تو لے لو__"بھائی پریشان ہو گئے۔ 
پنکی__"ارے امی کی فکر نہ کریں_وہ آپ کے گھر جانے سے کبھی منع نہیں کرتیں__عام اجازت ہے ان کی طرف سے۔ ۔۔۔۔"پنکی نے خوشی سے بتایا اور یوں نہ چاہتے ہوئے بھی بھائی کو پنکی کو ساتھ لے جانا پڑا۔
پنکی گھر میں داخل ہوئی تو ڈرائنگ روم میوزک کی تیز آوازوں سے گونج رہا تھا اور بھابھی چلغوزوں کی پلیٹ گود میں رکھے شو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں_اور پنکی حیرت سے کبھی ٹی وی تو کبھی بھابھی کو اور کبھی بھائی کی طرف دیکھ رہی تھی اور بقول ان کے بھابھی کے سر میں تو درد تھا اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اندر داخل ہو گئی۔
بھابھی پنکی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔
بھابھی__"اچھا ہوا پنکی تم خود ہی آ گئیں__بہت دن ہو گئے تمھیں دیکھے ہوئے اور بہت بہت مبارک ہو__جرار بتا رہا تھا کہ کافی اچھے مارکس آئے ہیں تمھارے۔ ۔۔۔ٍ آ جاؤ دونوں مل کے یہ شو دیکھیں__بہت مزے کا ہے _جرار تم کھ کھانے کو لے آؤ__"بھابھی نے صوفے پر جگہ بناتے ہوئے پنکی کو بٹھایا اور بھائی کو کچن کی جانب روانہ کیا-
پنکی ابھی تک سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
سنڈے نائٹ______
بھابھی__"جرار آج کوئی اسپیشل ڈش بنانا__پنکی ہم لوگوں کی شادی کے بعد پہلی بار ہمارے گھر آئی ہے۔ ۔۔"بھابھی نے پنکی کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
پنکی__"کیا مطلب__؟ آج کھانا بھائی بنائیں گے کیا__؟"پنکی نے حیرانگی سے کہا۔
بھابھی__"لو "آج" سے کیا مطلب ہے۔ ۔کھانا تو شروع سے تمھارے بھائی ہی بناتے ہیں__پر مجھے تم لوگوں سے ایک شکایت ہے _خود تو تم بھی اور ساحرہ بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہو__بھائی کو کچھ بھی نہیں سکھایا__تین ماہ سے میں انہیں کوکنگ شوز سے ریسپیز نوٹ کر کر کے دے رہی ہوں پر ابھی تک ان سے ڈھنگ کی ایک ڈش نہیں بنی__ہاں چائے ویسے بہت مزے کی بناتے ہیں__پی کے ساری تھکن منٹوں میں اتر جاتی ہے۔ ۔"بھابھی نے پنکی سے شکایتی لہجے میں کہا اور آخر میں ان کے لہجے میں بھائی کے لیے ڈھیر ساری محبت در آئی۔
بھائی اپنی ڈھیر ساری تعریفیں سن کے شرمندہ ہوئے جا رہے تھے۔ پنکی آنکھیں پھاڑے حیرت سے دونوں کو تک رہی تھی۔۔۔اب کچھ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ اس کی سمجھ میں آنے لگا تھا۔
اتنے میں بھائی کچن کی جانب روانہ ہوئے __پنکی بھی ان کے پیچھے لپکی۔
پنکی__"بھائی میں یہ کیا سن رہی ہوں___بلکہ دیکھ رہی ہوں___"پنکی نے فکر مندی سے بھائی سے پوچھا۔
جرار__"لو کیا دیکھ لیا۔۔۔۔میں اپنی ننھی پری کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا رہا ہوں اور کیا___!"بھائی نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے پنکی کو مکھن لگاتے ہوئے کہا۔
پنکی__"یہ اتنا بڑا انقلاب کیسے آ گیا___اور آپ تو کچن سے کوسوں دور بھاگتے تھے __یاد ہے ایک بار ٹرائفل بنانے کو شوق چڑھا تھا اور اس کے لیے فروٹ کاتتے ہوئے انگلی کٹوا لی۔۔۔۔۔اس کے بعد آپ نے کچن میں جھانکا تک نہیں تھا۔۔۔۔اور اب بریانی __چکن کڑھائی___"پنکی نے کچن میں نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
جرار__"ارے ننھی پری وہ تب کی بات تھی___اب تو مجھے کوکنگ کرنا بہت اچھا لگتا ہے "بھائی نے پنکی کی بات کاٹ کر جواب دیا۔
پنکی__"اور بھابھی کو___؟ پنکی نے بھائی کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
جرار__"لو اس کے اتنے خوبصورت مرمریں ہاتھ کیا اب چھریاں "چمچے  اور کانٹے پکڑنے کو رہ گئے ہیں___"بھائی نے بھابھی کا دفاع کیا۔
پنکی محبت کے اس انداز پر دنگ رہ گئی۔
********
کچھ دن بعد______
ڈور بیل مسلسل بجے جا رہی تھی پر بھابھی آرام سے نیل پالش لگانے میں مصروف تھیں۔
بھابھی__"جرار دیکھنا تو___دروازے پہ کون ہے ____"
بھائی جو مشین لگائے کپڑے دھونے میں مصروف تھے اورسر سے پاوں تک بالکل بھیگے بلے بنے ہوئے تھے۔ اس حلیے میں دروازے پہ جانا نہیں چاہ رہے تھے پر حور پری کا حکم ٹال کر اس کی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے سو نہ چاہتے ہوئے بھی چل دیے۔ ۔
دروازے کے پاس پہنچ کر انہوں نے دروازہ کھولنے کے بجائے پہلے اوپر سے جھانکنا ضروری سمجھا۔۔باہر گل آپی داؤد کا ہاتھ پکڑے بے تابی سے دروازہ کھلنے کے انتظار میں کھڑی تھیں۔
آج بھائی کے دروازہ کھولنے سے پہلے گیٹ کے اوپرسے جھانکنے کی عادت کام آ گئی اور انہوں نے واپسی کے لیے دوڑ لگائی۔
اس حلیے میں آپا کے سامنے جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔انہوں نے اپنے لاڈلے کو اس حال میں دیکھ کر وہیں رونا شروع کر دینا تھا۔۔
ان سب بہنوں نے تو بھائی کو اتنے ناز نخروں اور چاؤ چونچلوں سے پالا تھا اور آنکھوں کا تارا بنا رکھا تھا__پر یہ بھائی کی ڈریم گرل نے ان کو کیا بنا رکھا ہے __؟؟
بھائی دوڑتے ہوئے ہانپتے ہانپتے اندر پہنچے۔ ۔
بھابھی__"کیا ہوا__؟؟_اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو__؟ گھر میں ڈاکو آ گئے ہیں کیا__؟؟"بھابھی نے ایک ہی سانس میں ڈھیروں سوال پوچھ ڈالے۔ 
جرار__"وہ__آپا___"اپنا سانس درست کرتے ہوئے بولے _""تم دروازہ کھولو میں چینج کر لوں پہلے __"
بھابھی__"ارے تم نے دروازہ بھی نہیں کھولا___گل وہیں کھڑی ہیں دروازے پہ ہی__حد ہے جرار__"کہتے ہوئے بھابھی گیٹ کی طرف گئیں_
بھابھی دروازہ کھول کر آپی کو اندر لے کر آئیں اور ڈرائنگ روم میں بٹھایا_حال احوال دریافت کے بعد باتیں کرنے لگیں_گل آپی کی نظریں ادھر ادھر بھائی کو ڈھونڈ رہی تھیں_
گل آپی__"جرار کہاں ہے __؟نظر نہیں آرہا___؟"
بھابھی__"وہ چینج کرنے گئے ہیں__آتے ہی ہوں گے ___"
اندر بھائی بہت جدوجہد کے بعد الماری سے ایک ڈھنگ کا سوٹ نکالنے میں کامیاب ہو چکے تھے اور اب استری اسٹینڈ کی طرف جا رہے تھے __
گل آپی بے چینی سے بھائی کا ویٹ کر رہی تھیں۔
گل آپی__"یہ جرار کہاں رہ گیا__مجھے آئے ہوئے آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے __مجھے جلدی واپس بھی جانا ہے __"گل آپی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
بھابھی__"میں دیکھ کر اتی ہوں__"بھابھی اٹھ کر بھائی کو دیکھنے گئیں۔وہاں بھائی سوٹ استری کر کے اب نہانے کے لیے جا رہے تھے کہ گل اپا کے سامنے ان کا بھائی اچھا سا پالا شا بن کر جائے۔ ۔
گل آپی کو پنکی سب کچھ بتا تو پہلے ہی چکی تھی اور اب بھائی کے گھر میں آ کر گل اپی سچ مچ میں پریشان ہو گئیں۔
تقریباً45 منٹ بعد بھائی پالے شے بن کر کمرے سے برآمد ہوئے۔ 
جرار__"السلام علیکم آپا۔۔۔۔کیسی ہیں آپ___ کیسے ہو داؤد؟؟"
گل آپی__"تمھیں مل گئی فرصت اپا کو سلام کرنے کی__"گل آپی نے غصے سے جواب دیا۔اور اٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔
گل آپی__"اب میں چلتی ہوں__تم اپنے باقی کے کام بھی نمٹا لو__"
جرار__"ارے اپا__ایسے کیسے جا رہی ہیں____؟میµں بالکل فارغ ہی تو ہوں____"بھائی آپی کے غصے سے سہم گئے۔ 
بھابھی__"ہاں ناں__ایسے کیسے جا سکتی ہیں وہ بھی کچھ کھائے پیے بغیر____"بھابھی نے بھی گل آپی کو رکنے پر اصرار کیا۔
گل آپی__"ہاں سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ ۔۔۔چلو چائے پی کر چلتی ہوں پھر__"آپی نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
بھابھی__"بالکل__کیوں نہیں___"بھابھی نے مسکراتے ہوئے کہا اور بھائی کی جانب متوجہ ہوئیں۔
بھابھی__"جرار اچھی سی چائے تو پلوانا آپا کو__"
"جرار چائے بہت اچھی بناتا ہے گل__"بھائی کو کچن کی جانب روانہ کرتے ہوئے بھابھی نے گل اپی کو بتایا_گل آپی حیرت سے بھابھی کو دیکھ رہی تھیں_اب انہیں پنکی کی باتوں پہ مکمل یقین آ گیا تھا_
بھابھی__"جرار چائے کے ساتھ وہ سینڈوچز بھی لانا داؤد کے لیے جو تم نے ساحرہ کے سترخوان سے سیکھے تھے۔ ۔۔"
گل آپی خاموشی سے بیٹھی بس دیکھے جا رہی تھیں۔۔۔۔آدھے گھنٹے بعد بھائی کچن سے برآمد ہوئے __چائے واقعی بہت مزیدار بنی تھی__اور داؤد کو سینڈوچز بھی بہت پسند آئے۔ ۔۔گھڑی کی طرف نگاہ گئی تو گل آپی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
جرار__"کہاں آپا۔۔۔۔۔۔؟"
گل آپی__"اب کافی شام ہو گئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ساجد آفس سے آ چکے ہوں گے۔ ۔۔اور مجھے ابھی کھانا بھی بنانا ہے جا کر۔۔۔۔۔۔اور تمھیں بھی تو بنانا ہو گا ناں۔۔۔۔سو مجھے اب اجازت دو۔۔۔۔۔"
اور یوں گل آپی دکھی دل کے ساتھ بھائی کے گھر سے واپس آ گئیں۔
بھائی کو کھانا بنانے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں تھیں اور انہیں باورچن ، کام والی اور ماسی کے خطاب سے نوازتے تھے۔ ۔۔
انہیں بس ہر وقت خوشبوؤں میں رچی بسی ڈریم گرل چاہیئے تھی جو انہیں مل گئی____امید ہے اب بھائی بہت خوش ہوں گے۔
کیا آپ میں سے بھی کسی کو اپنی ڈریم گرل چاہیئے؟
٭٭٭

تم کو خبر ہونے تک 

کوثر بیگ

میرے گھر میں ایک افلاطون ہے۔ 
یہ کون ہے ؟
کیا آپ بوجھ پائیں گے۔ 
چلیں میں آپ کو اس افلاطون بارے کچھ بتاتی ہوں۔۔ پھر آپ خود ہی سوچنا اور فیصلہ کرنا۔
ایک دن اس کے اسکول میں میچ ہونے والا لگا۔ میں نے اسے سو کا نوٹ دیا۔ اور کہا "کہ نئ گیند خریدو یا کوئی بھی تدبیر کرو مگر تمہیں جیتنا چاہیے۔ "
پھر جب میچ شروع ہوا تو وہ پرانی گیند ہی سے کھیل رہا تھا۔ بریک کے وقت میں نے بلا کر اسے پوچھا کہ" تم نے میرے سو کے نوٹ کا کیا کیا ؟
" آپ نے کہا تھا کہ کوئی بھی تدبیر کرو جس سے میچ جیت جائیں۔ "
"تو پھر ؟ " میں نے پوچھا
"ہم نے مخالف ٹیم کے کپتان کو دے دیا ہے۔ " افلاطون نے افلاطونی ساجواب دیا۔
ایک بار میں اس کے ساتھ کہیں جا رہی تھی تو راستہ میں فقیر نے کہا
"بابا خدا کے نام پر کچھ دو "
اس نے پوچھا " بابا کیا تمہارے پاس دس کا کھلا ہو گا ؟
فقیر نے فورا کہا " ہاں دس کا کھلا ہے نا۔ "
یہ سن کر اس نے اطمینان سے فقیر کو کہا " تو پہلے اسے خرچ کرو نا "
ایک بار میرے میاں کے دوست گھر آئے انہوں نے باتوں کے دوران کہا کہ "میرا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں ؟ " تو اس نے جھٹ پٹ جواب دیا " انکل آپ بال منڈھوا دیں۔ "
اسی طرح ایک بار اس کی ان حرکتوں سے تنگ آ کر میں نے شرارت کرنے پر اس کو سیدھا لیٹ کر سائیکل کی طرح ٹانگیں چلانے کے لئے کہا وہ تھوڑی دیر چلانے کے بعد رک گیا۔
میں نے رک جانے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا " میری چین اتر گئ ہے۔ "
وہ ہمیشہ ایک پاؤں پر کھڑا رہتا، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ "کیونکہ مجھے پتہ ہے دوسرا پیر بھی اٹھاؤں گا تو گر جاوں گا۔ "
ایک بار میری بیٹی کی سہیلی گھر آئی۔اس نے کہا "آنٹی شادی کے لیے شوہر ڈھونڈنے میں میری مدد کریں پلیز۔ " میں نے اس کی پسند دریافت کی۔
وہ بولی "بہت خوبصورت ہو اور دلکش ہو۔ ہمیشہ میرے ساتھ ہو جب میں تھک جاؤں تو وہ میرا دل بہلائے گانے گائے اور ڈانس کرے۔ وہ مجھے اچھی اچھی کہانیاں اور لطیفے سنائے۔ جب بھی میرا موڈ ہو مجھے انگریزی سینما دکھائے ، جب میں چاہوں وہ بولے جب چاہوں وہ چپ ہو جائے۔ "
اس پر افلاطون نے۔ ۔۔۔جو یہ سن رہا تھا بات کاٹتے ہوئے کہا
" لگتا ہے آپ کو شوہر کی نہیں بلکہ ٹی وی کی ضرورت ہے۔ "
چلیں اب میں آپ کو اس افلاطون بارے بتا دوں کہ وہ کون تھا، جو ایسی باتیں کر کے مجھے کبھی حیران، کبھی پریشان کر دیتا تھا۔ اور جو ہر وقت میرے ساتھ ہی رہتا ہے ، مجھ سے بے لوث محبت کرتا ہے۔ اور میری بھی وہ جان ہے ، میں بھی اسے دل و جان سے محبت کرتی ہوں۔ کبھی زیادہ لاڈ آئے تو اس کی پیشانی بھی چوم لیتی ہوں۔ ہاں تو، اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ آخر وہ میرا شہزادہ، میرا پرنس، میرا راجہ بیٹا ہی تو ہے۔ 
اب آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ اسے دانا مانیں گے کہ جینیئس۔۔۔۔۔
٭٭٭



حسرت ان غنچوں پہ ہے

عائشہ مزمل


یارو.... دلدارو !
کوئی تو میرے " درد کی دوا" کرو ؟ کوئی تو بتائے میں کیسے ڈائیٹنگ کروں؟
جب بھی کوشش کروں ایک نئی ہی کہانی بن جاتی ہے۔ لو اب سنو، میری داستان امیر حمزہ۔۔۔۔۔
آہا جی " 12 اپریل"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی ڈراؤنی تاریخ تھی کہ اس دن سے ڈائیٹنگ کا دوسرا سیشن شروع ہونا تھا۔ جبکہ میں نے پہلا سیشن بھی اسی "دوسرے " کے انتظار میں چھوڑ دیا تھا۔
روزانہ کیلینڈر دیکھتی اور سوچتی کہ اف صرف "10 دن" باقی رہ گئے ، جو کھانا ہے جلدی جلدی کھا لوں "کیک پزا، حلوہ، گلاب جامن " پھر تو دو ہفتے کی ڈائیٹ ہی ہو گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یم یم صرف دو ھفتے کی ڈائٹ اور پھر میرا "5 کلو وزن " کم۔۔۔ (واہ واہ
میں نے خود کو تصور میں کسی ماڈل کی طرح کیٹ واک کرتے پایا ہی تھا کہ اچانک پیر لڑکھڑا گیا اور میں ڈائٹ کی تلخ دنیا میں واپس پلٹ آئی)
جیو کائنات، واہ میرا دیرینہ خواب پورا ہونے میں کچھ دن ہی باقی ہیں۔ چلو اپنا وزن تو چیک کر لوں پہلے کہ کتنا ہے ؟ اوہو 63 کلو توبہ توبہ۔۔۔۔۔!
کوئی بات اب ان شا اللہ میں اس کو صرف دو ہفتے میں 58 پر لے تو آؤں گی۔
شائد میرے ساتھ بھی کوئی آمنہ یا جیا جیسا معجزہ ہو جائے اور میں بھی 15 پاؤنڈ لوز کر لوں۔۔۔۔۔۔ آہا پھر تو" پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں"۔۔۔!
(لا حول۔ ۔۔۔۔۔۔اوہو محاورے بھی وزن بڑھانے والے ہی یاد آتے ہیں۔)
ہاں جی آپ سمجھ گیے ہوں گے کی میں کس کی بات کر رہی ہوں ؟
جی یہ میں ہی ہوں۔ ۔۔۔۔
نام۔ ۔۔۔۔۔۔ مس نزاکت
عمر۔۔۔۔۔۔ (آہم) 16 سال اور "چند ماہ"
قد۔۔۔۔۔۔۔۔۔(آہم) 4 فٹ سے بھی اونچا
وزن۔ ۔۔۔۔۔ اور یہاں آ کر بس آہ بھر کر رہ جاتی ہوں۔
کائنات نے ہم جیسے "ذرا سے ہیلتھی" (بقول ساحرہ کے ) لوگوں کو ایک خواب دکھایا، جسکی تعبیر کئی ممبران نے پا لی۔ اور ہم جیسے صرف آہیں بھرتے رہ گئے۔ ۔
میں نے پہلی بار حسرت سے دیکھا اور شامل نہ ہوئی۔ ڈایٹنگ کے نام سے ہی میری روح فنا ہو جاتی ہے۔ ۔۔ جھرجھری سی آتی ہے۔ ۔۔۔
لیکن سب کا اتنا اچھا رزلٹ دیکھ کر میں نے ہمت پکڑی، میاں جی سے کہا اس بار میں ضرور ڈائٹنگ کروں گی، آخر روزہ بھی تو رکھتی ہوں نہ۔ ۔۔۔اس ڈائٹ میں تو کھانا بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ 
بس جی اللہ کا نام لے کر میں سب سے پہلے نام لکھوانے والوں میں میں بھی شامل ہو گئی۔ اب خوشی خوشی روز ویٹ کرتی کہ کب 12 اپریل آئے گی اور میں جادو سے اسمارٹ ہو جاؤں گی۔ ۔۔ میں نے ہفتے کو ہی ساری گروسری کر لی تھی میاں سے کہا بہت سارا پھل لے آنا۔
آخر وہ شہکار آ گیا جسکا تھا انتظار"۔۔۔۔۔۔۔"12 اپریل" کا سورج طلوع ہوا میں نے خوشی خوشی میاں کو 2 انڈے 4 سلائس چائے کا ناشتہ دیا اور خود "کالی ،پتلی، بھجنگ چائے اور سوکھا توس " لیا اور کھا پی لیا۔ بچے اٹھے ان کو ناشتہ دیا۔
11 بج گئے ، میں خوش تھی کہ ڈائٹنگ بہت اچھی جا رہی ہے۔ ایک سیب کھایا پانی پیا۔
1 بجے بڑے اہتمام سے اپنے لئے دال مونگ بنائی (زیادہ بنائی کہ کل پرسوں بھی کام آجائے گی) پیالہ بھر کہ سلاد بنایا (کہ جب دل کیا کھا لوں گی آخر سب کی آزمودہ ٹپس تھیں) بہت "شوق"سے تناول فرمایا۔
سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا لیکن خوشیوں کو اپنی ہی نظر بھی لگ جاتی ہے کبھی کبھی۔۔۔۔۔
بچوں کو پراٹھا بنا کر دیا لیکن ان کے "مزاج پہ پورا نہ اترا"، سوچا چکھوں تو "بس پھر کیا۔۔۔؟ وہ میرے "معدے " میں چپکے سے اتر گیا اور مجھے پتہ بھی نہ چلا۔۔۔۔
شام کو کچھ مہمان آئے۔ میں نے معذرت کی کہ میں تو ڈائیٹ پہ ہوں ساتھ نہیں دے سکتی۔ خیر جی انہوں نے میری ہمت کی بہت داد دی اور کھا پی کے چلے گئے۔ 
میں کھانا جلدی کھاتی ہوں تو سوچا تھوڑی سی بغیر آئل کے گریوی بنا لیتی ہوں تو بڑے "پریم اور چاؤ" سے پکایا اور مزے سے کھایا اور سوچا " واہ یہ تو میں روز کھا سکتی ہوں"۔ 
بڑے بیٹے نے آلو والے پراٹھے کی فرمائش کی۔ ۔۔ بڑا کرسپی گولڈن سا تھا۔ "ایک بائٹ" ھی لی تھی بس "لیکن آہم۔ ۔۔ اس کے بعد صبر نہ ہو سکا اور۔۔۔۔۔
رات کو میاں کے لئے آلو گوشت بنایا۔ ۔ نئی ترکیب تھی۔ بالکل دیگ جیسا ٹیسٹ آئے گا۔ تو "بس" یہ دیکھنے کے لئے کہ دیگ جیسا ذائقہ کیسا ہوتا ہے "چکھتے چکھتے "۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید آدھی۔ ۔۔ روٹی۔۔۔۔۔۔۔۔"آہم آہم "۔۔۔۔۔۔باقی۔۔۔ اب اپنے منہ سے کیا تعریف کروں اپنی۔۔۔۔۔۔۔ "آپ لوگ خود سمجھدار ہیں "کہ وہ آدھی روٹی کہاں گئی؟
شام کو میاں گھر آئے چائے کی فرمائش ہوئی، میں بھی شوق سے پیتی ہوں۔ تو چائے کے ساتھ ان کو اپنی ڈائٹنگ کا حال سنایا۔ اور کہا کہ میں آج تو نہیں کر سکی میرا خیال ہے کل یہی پہلا دن دوبارہ شروع کروں گی۔ ۔۔۔۔۔
یہی عزم لے کر سو گئی۔۔۔۔ صبح ہوئی ناشتہ ٹھیک کیا، آج پکا ارادہ تھا کہ کوئی غلطی نہیں کروں گی۔ ۔۔۔ درس کا دن تھا، میں نے سوچا وائیٹ سوس کے ساتھ پاسٹا بنا لیتی ہوں۔ تو کام شروع کیا۔ ۔۔۔ سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا۔ ۔۔۔
ذرا نمک تو "چکھ" لوں۔ ۔۔ کہیں وائٹ سوس کا "ٹیسٹ عجیب تو نہیں " بن رہا کہتے کہتے بلکہ چکھتے چکھتے ایک پیالی پاسٹا۔۔۔ بھی۔ ۔ کھا گئی۔
بس جی۔ ۔۔۔
"اب کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
باقی "آپ لوگ خود سمجھدار ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں آگے ڈائٹنگ کروں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا یہ تکلف رہنے ہی دوں؟ "
٭٭٭


دیسی کڑی بدیسی جاب 

ساحرہ

دیسی کی بھی عجیب زندگی ہے۔ جو بھی کرنا چاہتی ہے بس وہی نہیں ہو پاتا اور جو جو بھی ہو جاتا ہے وہ اس نے کبھی نہیں چاہا ہوتا۔

دیسی اور کاغذات کی بچت
ابھی کل کی ہی تو بات ہے جب باس نے دیسی کو کچھ پیپرز ہاتھ سے لکھ کر ٹھیک کر دئے اور نیا پرنٹ آؤٹ نکالنے سے منع کر دیا تاکہ بلاوجہ پیپرز ضائع نہ ہوں۔ تھوڑی دیر بعد جب باس وہاں سے گزرا تو دیسی کو اسی صفحے کی فوٹو کاپیاں بناتے پایا۔ یہ دیکھ کر باس پہلے تو حیرت سے بت بن گیا اور پھر غصے سے بولا
" میں نے کہا تھا نیا پرنٹ آؤٹ لینے میں بہت پیپرز ضائع ہوتے ہیں۔ ہمارا بجٹ پہلے ہی بہت کم ہے ، پھر تم یہ فوٹو کاپیاں کیوں بنا رہی ہو؟"
"تو میں نے کب پیپر ضائع کئے ہیں وہ شان بے نیازی سے گویا ہوئی اور نہ ہی نئے پرنٹ آؤٹ لئے ہیں۔ پیپر بچانے کے خیال ہی سے تو میں نے صرف فوٹو کاپیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ "
۔ دیسی نے اپنا فخریہ کارنامہ بتاتے ہوئے تائیدی نظروں سے باس کو دیکھا۔"
یہ سنکر باس نے اپنا سر پیٹ لیا اور دیسی کے ساتھ سر کھپانے کی بجائے وہاں سے غائب ہو جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔

دیسی، سیب اور کالا نمک
دیسی کو گھر سے روزانہ صبح ناشتہ نہ کرنے اور سیب کے فائدوں پر لیکچر سنتے جب کافی سارے سال گزر گئے تو تنگ آ کر اس نے سوچا چلو کچھ دن سیب کھا کر دیکھ ہی لیتے ہیں کیا پتہ اس بہانے کشمیر ہی آزاد کروانے کی طاقت آ جائے۔ اب مسلئہ یہ ہو رہا تھا کہ دیسی تو شاید سیب کو کسی نہ کسی طور پسند کر ہی لیتی مگر ہر قسم کے سیب خود دیسی کو سخت ناپسند کر نے لگے تھے اور اس کے پاس جانے کو کسی صورت راضی نہ ہوتے تھے۔ اگر وہ کھانے کی کوشش بھی کرتی تو سیب اندر جانے کی بجائے روٹھ روٹھ کر باہر کی طرف بنجی جمپنگ کی کوشش کرنے لگتے۔ 
دیسی کو سخت شکایت تھی کہ سیب بہت میٹھا ہوتا ہے اور اتنا میٹھا کھانا کسی عقلمند انسان کے لئے بعید از قیاس ہے اس لئے سیب کو کھا کر اپنی سمجھداری پر شبہ کروانا اس کو گوارا نہیں تھا۔ ادھر دوسری طرف سیب کو بھی بہت برا لگتا تھا جس طرح دیسی اسے دیکھتے ہی اتنے برے برے منہ بنانا شروع کر دیتی ہے۔ اس میں میں سیبوں کی سر عام توہین کا بہت بڑا پہلو نکلتا ہے۔ سارے سیبوں کی انٹرنیشنل کانفرنس کے بعد یہ طے پایا تھا کہ وہ دیسی سے جتنا ممکن ہو دور رہنے کی کوشش کریں گے اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے دیسی کے خلاف اپنی بقا کی جنگ جاری رکھیں گے۔ 
لاکھ کوشش پر بھی دیسی اور سیب کی آپس میں نہ بن پائی تو کسی ناہنجار نے دیسی کو مشورہ دیا کہ تم اس پر کالا نمک ڈال لیا کرو۔ اس سے سیب کی مٹھاس کم اور کھٹاس بڑھ جائے گی۔
دیسی نے خوشی خوشی مان لیا اور بڑی دور 35 میل کی یاترا ڈرائیو کے بعد کالا نمک حاصل کیا گیا۔
اب اگلے دن جاب پر لنچ آور میں دیسی نے بہت اہتمام سے سیب کاٹا اور جیسے ہی کالے نمک کا تھیلا کھولا تو اس میں سے بڑی عجیب سی بو آئی۔ کچھ دیر کے لئے تو دیسی خود بھی گھبرا گئ مگر خیر جب چکھ کر دیکھا تو ٹیسٹ کافی اچھا لگا اور سیب بھی کھانے کے قابل ہو گیا۔
ابھی وہ بڑے ذوق و شوق سے سیب پر نمک چھڑک چھڑک کر ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے دشمنوں کے زخموں پر چھڑکا ہو کہ اتنے میں جاب پر ایک عجیب سے ہنگامہ آرائی ہونے لگی۔ دیسی نے اپنے ہاتھوں کو روک کر اب کانوں کو کام پر لگا دیا، کانوں نے پہلی اطلاع جو بہم پہنچائی وہ اتنی خوش آئند ہرگز نہیں تھی۔
کوئی کہیں ذرا دور کھڑا بہت بری بدبو کی شکایت کر رہا تھا۔
بدلے میں ایک اور آواز نے تائید کی اور کہا
"میرا خیال ہے کسی کا ایگ سیندویچ خراب ہو گیا ہے "
"نہیں نہیں میرا خیال ہے سیوریج کا کوئی پائپ ٹوٹ گیا ہے۔ یہ بدبو باتھ روم کی طرف سے آتی لگ رہی ہے۔ " تیسری آواز نے خیال آرائی کی۔
مجھے تو لگتا تھا جیسے یہ بو دیسی کے آفس کی طرف سے آ رہی ہے چلو چل کر دیکھتے ہیں۔
بس بس یہ سننا تھا کہ دیسی کو فورا سمجھ میں آ گیا کہ کیا غضب ہوا ہے۔ اس نے پہلے تو نینو سیکنڈ میں کالے نمک کا مشورہ دینے والے کی شان میں کچھ ناقابل اشاعت مدح سرائی کی اور باقی کے نو سیکنڈ میں جلدی کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے سیبوں اور نمک کا پیک اپ پلس ریپ اپ کرنا شروع کیا۔ کاش کہ اس کے وہ ایکشن اور ری ایکشن اس وقت ریکارڈ کئے جا سکتے تو دنیا کو ایک ناقابل یقین حد تک پھرتیلا مظاہرہ دیکھنے کا موقع ملتا اور گنیز بک کی پہلی اشاعت کے پہلے صفحے پر اس کی تصویر چھپ جاتی۔ نو سیکنڈ کے اندر اندر دیسی نے اپنے سیبوں کی پلیٹ کو نمک کی تھیلی سمیت دو تین شاپنگ بیگ میں کس کے لپیٹا اور ٹریش میں ڈال کر ٹریش کین کے اوپر سی پی یو رکھ دیا تاکہ بو باہر نہ نکلے۔ وہ بچارے کٹے کٹائے سیب نمک کی تھیلی کو سینے سے لگائے لگائے ہمیشہ کے لئے ٹریش کی ا تھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئے۔ 
جب وہ تفتیشی پارٹی سراغ لگاتے لگاتے اس کے آفس تک پہنچی تو وہ بہت انہماک سے جاب کا کام کرنے میں مصروف تھی۔ ان لوگوں کے استفسار پر کمپیوٹر سے نظریں ہٹائے بغیر اور کوئی جواب دئے بغیر بس ہلکے سے کندھے اچکا کر دوبارہ سے یوں اپنے کام میں مصروف ہو گئ جیسے ابھی اسی سیکنڈ میں ناسا کی طرف سے جو کوئی خلائی جہاز ہوا میں بھیجا جانے والا ہے اس کے آخری بٹن دبانے کی ذمہ داری دیسی کی تو ہے۔ 

دیسی اور جیکی ٹیفٹ
جاب سے لے آف ہونے کے بعد اگر کوئی بندہ اگلے دن دوبارہ اسی بلڈنگ کے آس پاس نظر آئے تو اس کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ وہ۔(نا کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کے سنہری اصول پر عمل کرتے ہوئے ) باقی سبکو گولیاں مارنے آیا ہے۔ ایسا تاریخ میں بہت بار ہو چکا ہے اس لئے اگر جاب سے کوئی فائر ہو تو اگلے دن باقی سب غور غور سے پارکینگ لاٹ چیک کرتے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی گھات لگا کر تو نہیں بیٹھا؟
دیسی نے جیکی ٹیفٹ کو لے ٓاف کے اگلے دن صبح صبح پارکینگ میں اپنی کار میں کچھ ڈھونڈتے دیکھا تو بری طرح گھبرا گئ اور خود ہی فیصلہ کر لیا کہ ضرور کار میں سے اپنی گن نکال رہا ہے تاکہ سب کو گولی مار سکے۔ ۔ اس کا احساس ہوتے ہی وہ متوقع گولی سے بچنے کے لئے چیختی ہوئی اندر کی طرف بھاگی۔ اس کو اس طرح بدحواسی سے بھاگتا دیکھ کر جیکی بھی گھبرا گیا اور غیر ارادی طور پر اپنی تلاش ادھوری چھوڑ کر کچھ نہ سمجھتے ہوئے مدد کے خیال سے تیزی سے اس کی طرف لپکا۔ 
جیکی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر دیسی کا رہا سہا شک بھی جاتا رہا اور وہ بھاگ کر بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی چلائی
تھفٹ سب کو مارنے آ گیا ہے بھاگو۔ 911 کو کال کرو۔
اس کو بگٹٹ بھاگتے دیکھ کر سب لوگ کچھ بھی سمجھے بغیر ادھر ادھر بھاگنے کا مقابلہ کرنے لگے۔ کوئی سیدھے بھاگتے ہوئے ڈسپلے سے ٹکرایا تو کوئی کسی دروازے میں جا کر گنٹھی کی طرح بج اٹھا۔ کوئی ٹیبل سے گلے مل کر لم لیٹ ہوا تو کچھ لوگ آپس میں ہی ٹکرا کر زمیں بوس ہو گئے۔ غرض ایک منٹ کے اندر اندر پوری بلڈنگ میں ہنگامہ بپا ہو گیا اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئ۔ 
911 کو کال کرو تھیفٹ نے حملہ کر دیا ہے اس کے پاس اتنی بڑی گن ہے۔ 
"تھیفٹ؟ یہ کون ہے ؟ ڈیسک کے نیچے چھپی ہوئی ریسپشنیٹ نے 911 کو کال کرتے کرتے کانپتے ہاتھوں کو روک کر دیسی سے پوچھا ؟"
وہ وہ جس کو کل لے آف کیا تھا اس کے پاس بہت بڑی گن ہے۔ دیسی نے تصوراتی گن کی لمبائی ہاتھوں کو پورا پھیلا کر بتانی چاہی۔وہ ہم سب کو مارنے آ رہا ہے۔ 
اوہ نو۔ اس کا نام تھیفٹ نہیں بلکہ ٹیفٹ ہے اور اس کو واپس بلا لیا ہے کمپنی نے پارٹ ٹائم کام کرنے کے لئے ویک میں 4 دن آیا کرے گا۔

دیسی اور لوٹا
یوں تو اپنی جاب پر دیسی کو دن میں کئ مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے مگر ایک دن نجانے بیٹھے بیٹھے دماغ میں کیا سودا سمایا اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ جب امریکن باتھ روم میں دنیا جہاں کے باقی سارے لوازمات موجود ہیں تو آخر لوٹا بھی ہونے میں کیا قباحت ہے۔ اس کمی کو فی الفور پورا کیا جانا چاہیئے۔ 
جاب پر تو پوچھنا بے کار تھا اجازت ملنے کا امکان نہیں تھا الٹا لوگ مذاق ہی اڑاتے۔ کافی دیر سوچ بچار کے بعد اس نے یہ انوکھا ایڈوینچر اپنے رسک پر کرنے کی ٹھان لی اور باتھ روم میں کئ گھنٹے تحقیق کے بعد بے شمار ایکسٹرا کیبنیٹس میں سے آخری والی کو اپنے ہونے والے پیارے لوٹے کی مستقل جائے رہائش کے طور پر منتخب کر لیا۔ 
لیجیئے دیکھتے ہی دیکھتے لوٹے کی سکونت کا مسئلہ چٹکیوں میں حل ہو گیا اور دیسی نے اپنی عقلمندی پر خود کو تھپکی دی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ سب کی نظروں سے چھپا کر لوٹے کو منزل مقصود تک پہنچائے کیسے ؟
سب سے پہلے تو پاکستانی اسٹور سے ایک لوٹا ہیروں کے مول خریدا گیا پھر ریپینگ پیپر میں لپیٹ کر کرسمس گفٹ بیگ میں رکھ کر اس کی گردن میں ہار پھول اور ربن ڈالے گئے تاکہ دیکھنے والے کو وہ دور سے کرسمس گفٹ نظر آئے۔ لوٹا اپنی اس عزت افزائی پر پھولے نہیں سما رہا تھا بلکہ خوشی کے مارے اپنی اوقات بھول کر آپے سے باہر ہو ہو جاتا تھا اور اچھل اچھل کر اس کی ٹونٹی لفافے کو پھاڑ کر باہر نکلنے کو بے تاب ہو رہی تھی تاکہ باہر نکل کر زمانے والوں کو چیخ چیخ کر بتا سکے دیکھو دیکھو لوگو! کوئی ہے میرے جیسا یہاں؟
مجھے کتنی عزت ملی ہے اور تم لوگوں کی میرے سامنے اوقات ہی کیا ہے ؟ حتی کہ اس وقت اگر کچھ سیاہ ستدان اس لوٹے کی شان دیکھ لیتے تو اپنے آپ کو کو لوٹا برادری سے ہونے پر بہت اعلی مرتبت محسوس کرنے لگتے۔ 
خیر دیسی نے جیسے تیسے کر کے لوگوں کی نظروں سے چھپا کر لوٹے کو اس کی جائے رہائش تک پہنچا دیا اور اس کے سامنے دوسرے ٹشو پیپرز کی دیوار بھی بنا دی تاکہ دیکھنے والوں کی بینائی پر بھی برا اثر نہ پڑے اور لوٹے کو بھی تنہائی کا جان لیوا احساس نہ تنگ کرتا رہے بلکہ ٹشوز کے ساتھ دل بہلا رہے۔ 
اب دن میں کئ بار دیسی اور لوٹے کی چوری چھپے ملاقاتیں ہوتیں۔ وہ چپکے چپکے لیڈیز روم میں جا کر اپنے لوٹے کا دیدار کرتی اور ادھر لوٹا بھی ہر وقت دیسی کے انتظار میں دیدہ دل فرش راہ کئے پڑا رہتا۔ جب بھی دونوں ملتے ایک دوسرے سے خوب شکوے شکایات کئے جاتے۔ کھبی روٹھا تو کھبی منایا جاتا۔ غرض ان کی محبت زوروں پر تھی اور بڑی کامیابی سے زمانے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یہ عشق پروان چڑھ رہا تھا۔
ابھی ان کا طولانی عشق شروع ہوئے صرف پانچ دن ہی ہوئے تھے کہ ایک دن دیسی کو اوورہیڈ پر اپنے نام کا پیج سنائی دیا۔ اس کو فورا کسی ایمیرجنسی میٹینگ کے لئے کہیں بلایا جا رہا تھا۔ یہ سنتے ہی ہمیشہ کی طرح اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور باری باری بھاگ بھاگ کر ہر ایک میٹینگ روم ،کانفرنس رومز میں ٹھوکریں اور ٹھڈے کھانے کے باوجود جب کہیں بھی میٹینگ کے آثار نظر نہیں آئے تو مزید پریشان ہونے لگی۔ اتنی دیر میں پیج دوبارہ سنائی دیا تو دیسی نے بھاگ کر ریسپشینسٹ سے پوچھا کہاں ہے میٹینگ؟
"تمھارے ڈیپارٹمنٹ کے لیڈیز روم میں"۔
یہ غیر متوقع جواب سن کر وہ ہکا بکا رہ گئ۔۔۔۔
ہائیں ! یہ کس ٹائپ کی میٹینگ ہے ؟ لیڈیز روم کا سن کر دیسی بھونچکی رہ گئ اور اس کے کے ہاتھ میں پکڑی فائل نیچے گر گئ اور پھر لوٹے کا خیال آتے ہی دیسی کے ہاتھوں کے طوطے کبوتر سب اڑ گئے۔ یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔ وہیں تو میرا پیارا لوٹا بھی ہے اور وہ تو ہے بھی نظرباز لوٹا ، اتنی ساری عورتوں کو اکٹھا دیکھ کر کہیں باہر نہ نکل آئے۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی ادھر بھاگی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا تو اندر ایک عجیب دل دہلا دینے والا منظر نظر آیا۔
بالکل سامنے اس کی پانچ ساتھی دائرے میں جھکی ہوئی زمین کو ایسے خوفزدہ انداز میں گھور رہی تھیں جیسے وہاں سے ابھی اسامہ بن لادن اَگا ہی چاہتا ہے۔ جب ان کی نظروں کے تعاقب میں دیسی نے زمین کو دیکھا تو تھرا کر رہ گئی۔ ان کے بیچوں و بیچ اس کا پیارا لوٹا بالکل بے پردگی کی حالت میں پڑا تھا اور پانچ نا محرم عورتوں کی نظریں تیر کی طرح اس کے آر پار ہو رہی تھیں جسکی وجہ سے لوٹا پہلے تو شرم سے سرخ ہو ہو کر اپنے آپ میں سمٹتا رہا مگر جب کسی نے اس کی نقشے بازی کو لفٹ نہیں کرائی تو شرمانے کا ارادہ ملتوی کر کے اب فکر و پریشانی سے نیلا ہونا شروع ہو گیا تھا۔
قدموں کی آہٹ پا کر سب نے مڑ کر دیسی کو دیکھا اور ایک ساتھی نے پوچھا
تمکو معلوم ہے یہ کیا ہے ؟
پہلے دیسی نے گھبرا کر سوچا منع کر دے۔ اجنبی بن جائے اور لوٹے سے اپنی تمام ملاقاتوں کا حال بھی چھپا لے مگر جب لوٹے پر نظر پڑی تو وہ بڑی عاشقانہ اور محبوبانہ نظروں سے دیسی کو ہی دیکھ رہا تھا۔( دیسی اس وقت بلیک ڈریس میں بہت کیوٹ لگ رہی تھی جس پر سلور بیل لگی تھی اس کے لانبے لانبے بال بھی ہوا میں لہرا رہے تھے (باتھ روم میں کوئی پنکھا بھی نہیں تھا اس لئے بال لہرانے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی) اس کی میچینگ بلیک اورسلور جیولری کی روشنی اس کے چہرے کو ایک الوہی چمک بخش رہے تھے۔ دیسی کی یہی سادگی تھی جو اسے باقی سب سے ممتاز کرتی تھی۔
( توجہ طلب بات یہ ہے کہ اپنے آخری وقت اور اتنی پریشانی کے عالم میں بھی لوٹا یہ سب اول الذکر نوٹس کئے بنا نہیں رہ سکا تھا)۔ 
ویسے تودیسی کی ساری حرکتیں بھی اس کو باقی سب سے بہت ممتاز کرنے کو کافی تھیں مگر لوٹا یہ سب گہری باتیں کہاں سمجھ سکتا تھا۔ اسی لئے وہ دنیا سے بے خبر ابھی بھی دیسی کوبڑی دلنواز نظروں سے دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک اسے اپنی حالیہ عاشقانہ کی بجائے مجرمانہ حیثیت کا جو احساس ہوا تو دل دھک سے رہ گیا اور بڑی ملتجیانہ نظروں سے دیسی کو دیکھ کر سوچا ایک یہی تو ہے جو مجھے میری شناخت دے سکتی ہے۔ مجھے اپنا نام دے کر بھرے باتھ روم میں بے آبرو ہونے سے بچا سکتی ہے ورنہ تو میرا انجام بہت بھیانک ہونے والا ہے۔ 
اپنے پیارے لوٹے کی جدائی کے خیال سے دیسی کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے بھی سچ بولنے کی ٹھان لی اور سوچا اب جو ہو گا دیکھا جائے گا میں اپنے قدم وآپس نہیں موڑ سکتی نہ لوٹے کا ساتھ چھوڑ سکتی ہوں۔
ھمممممممممممممممممممم
مممممممممممممممممممم
دیسی نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور بولی۔ 
ہاں یہ میرا۔ ۔۔۔۔۔لوٹا---- ہے۔ 
ویٹ ؟ ؟ ؟ ؟
ویٹ از دســـــــــــــــــــس؟ وہ پانچوں کورس کے انداز میں چلائیں۔
وہ۔ ۔۔۔یہ۔۔ میں۔۔۔ہاں۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔ ۔۔ یہ تو (جلدی جلدی اپنے گٹوں پر زور ڈال کر دیسی نے لوٹے کا کوئی انگلش نام یاد کرنے کی بڑی کامیاب، ناکام کوشش کی)
اب اسے اپنے آپ پر اپنے گھر والوں پر۔ اپنے اساتذہ پر پورے معاشرے پر بے تحاشا غصہ آنے لگا،جنہوں نے اس کو لوٹے کا کوئی انگلش نام نہیں بتایا تھا ابھی تک۔ خود وہ اپنے آپ کو بھی کوس رہی تھی کہ جب یہاں لانے کا رسک لیا تو نام کیوں نہیں پوچھا کسی سے۔ خیر ان کو کیا پتہ ہو سکتا ہے اس کے بارے میں۔ یہ کونسا یوز کرتے ہیں۔ میں کچھ بھی کہ دیتی ہوں۔
ھممممممممممم
دیسی نے کھنکار کر دوبارہ گلا صاف کیا اور اب کی باراس کو حتی الامکان امریکن لہجے میں بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے ان سب کو دیکھا اور کہا۔ 
"دس از مائی لوؤٹھا "۔
بٹ وٹ اٹ ڈز؟ وائے دس لوؤٹھا از ہئیر؟
(وہ سب ایک ساتھ چلائیں)
((لیکن اس کا کام کیا ہے اور یہ لوٹا یہاں کیا کر رہا ہے 
وہ دن اور آج کا دن ہے ، دیسی ابھی تک ان کو لوٹے کی وجہ تسمیہ سمجھانے میں اتنی ہی ناکام ہے جتنا کہ ہم کشمیر کو پاکستان کا حصہ ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ آپ بھی دعا کرنا یہ دونوں معاملے جلد سلجھ جائیں۔آمین
٭٭٭

سسرالی میٹنگ

امان

کر دار:
زر بیوپاری (آصف زرداری)
رضو (یوسف رضا گیلانی)
رحیمو (رحمان ملک)
شاہ صاحب (شاہ محمود قریشی)
قمرو (قمر الزماں طائرہ)
اعتراض شاہ (اعتزاز احسن)
علی سائیں (قائم علی شاہ)
فہمی (فہمیدہ مرزا)
سلو (سلمان تاثیر)
"پردہ اٹھتا ہے "
قمرو: "سا لیکم! آپ سب کو بی بی کی سسرالی میٹنگ میں خوش آمدید۔ میں جناب زر بیوپاری سے گزارش کروں گا کہ میٹنگ شروع کرنے کی اجازت دیں۔"
زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ۔"
قمرو: بہت شکریہ جناب، تو آج کی میٹنگ کا ایجنڈہ ہے :
1) کیری لوگر بل
زر بیوپاری: "بابا مینو میں کیری کا اچار بھی ہے کہ نہیں!"
قمرو: "جناب۔ بالکل ہے اور اب ہوے ہی ہوے۔ "
زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ۔"
قمرو:
2) میڈیا
3) اور این آر او
"جس پر ہم الگ الگ سیشن میں بات کریں گے۔ پہلے کیری لوگر بل کے متعلق گفتگو شروع کی جاتی ہے۔ 
پہلے تو یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ کیری لوگر بل کیا ہے ! آسان الفاظ میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کیری، لو، گر۔ یعنی اگر کیری لیں تو اُس کا بل۔ اب ہم پاکستانی اتنے بے شرم تو نہیں کہ کیری بھی لے لیں اور بل کی بات ہی نہ کریں۔ اس لیے کیری لوگر کا بل ناگزیر ہے۔ "
اعتراض شاہ: "لو اگر نہیں، لوگر۔"
قمرو: "لوفر!! دیکھئے جناب صدر، اعتراض صاحب اب اعتراض کے ساتھ ساتھ غیر مہذبانہ زبان بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔"
زر بیوپاری (اعتراض شاہ کو گھورتے ہوئے ): "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران بشمول اعتراض شاہ: "واہ سائیں واہ"
قمرو (اپنی گردن میں سریا اٹکاتے اور اعتراض شاہ پر مسکراتے ہوئے ): "ہاں تو میں بات کر رہا تھا کیری لینے کے بل کی۔ لگتا ہے اعتراض صاحب کے علم میں نہیں کہ میں بھی پڑھا لکھا بندہ ہوں وہ الگ بات کہ غلطی سے سیاست میں آ گیا۔ (بقیہ ممبران کی کھی کھی شروع ہو گئی اور صدر صاحب بھی اونگھتے اونگھتے چونکے )۔ ہاں تو کیری لینے کا بل! اب میں آپ حضرات سے درخواست کروں گا کہ کھلا کھاؤ تے ننگا نہاؤ والی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے منہ پھاڑیں۔ مگر یہ بات یاد رکھئے کہ کنٹینر کی تعداد سو نہیں پچاس ہے۔ کہ پنتیس کنٹینر جناب زر بیوپاری اور پندرہ کنٹینر جناب رضو کے لیے ہیں۔"
رضو (قمرو کو گھورتے ہوئے ): "آہم۔۔۔۔"
قمرو: "معافی جناب! معافی چاہتا ہوں، پندرہ کنٹینر جناب یوسف رضا گیلانی کے لیے ہیں۔"
رضو: "آہو۔۔! چلو پھر شروع کرو اوئے۔ "
شاہ صاحب: "بھئی زیادہ حق تو میرا ہی بنتا ہے ، کیوں جناب صدر، آپ تقریر کرتے رہے اور میں نے پیچھے سے کیسا کام کیا اُدھر۔ مانتے ہیں نہ آپ۔ اس لیے اس بندر بانٹ کا بڑا حصہ مجھے عنایت کیا جائے۔ "
رحیمو (شاہ صاحب کو گھورتے ہوئے ): "کیوں جناب ایسا کیا تیر مار لیا اگر آرڈر بک کر لیا تو، میں نے کیری کے کنٹینر ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی اور ڈسٹری بیوٹرز سے بھاؤ تاؤ کر کے مارکیٹ میں جگہ بنائی، اور آپ کہتے ہیں کہ کیری میری، او نہ جی نہ، ایسی نہیں ٹھہری۔"

رضو: "دیکھو جی، لڑو نہیں۔ ہم جمہوریت پسند ہیں اور پرامن ملک کے باسی، اس لیے راضی خوشی مل بانٹ کر چلو، کوئی میں میں نہیں چلے گی،۔۔۔میں میں۔۔۔ارے علی سائیں بابا، میں نے آپ کو کہا تھا کہ اعلیٰ نسل کے بکرے بھجوائے گا آپ اس عید پر، مگر آپ نے تو سندھ کو قحط سالی کا نمونہ بنا کر بھیج دیا۔"
علی سائیں: "بابا سائیں ہم کیا کرتا، ہم نے تو بھیجنا چاہتا تھا مگر وہ بکرا ہی نہیں مانا، ایک ہی رٹ لگائی تھی کہ میں ملتان نہ جاوانگا۔"
رضو: "بابا سائیں خیر ہے ، آپ کب سے سچ بولنے لگے کہ بکرے کو ملتان ہی کا بولا تھا۔ خیر ہے۔ ہاں تو چلو آگے بڑھو۔"
قمرو: "دیکھیں شاہ صاحب، جتنا آپ نے کام کیا ہے اتنا ہی رحیمو نے بھی اور ہم سب نے۔ اس لیے حصہ سب کو ہی برابر کا ملے گا۔ کیوں جناب صدر۔"
زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
بقیہ ممبران: "واہ سائیں واہ"
شاہ صاحب: "اچھا چلیں ٹھیک، پچاس کنٹینر میں سے دس میرے۔ "
رحیمو: "اور دس میرے۔ "
زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
رحیمو اور شاہ صاحب خوش ہو کر: "واہ سائیں واہ"
بقیہ ممبران منہ بسورے ٹیبل بجاتے ہوئے : "واہ سائیں واہ"
علی سائیں: "بابا ہم کو تو کیری پسند ہی نہیں، ہاں میرا نکا، مرزا سائیں (ذولفقار مرزا) شوق سے کھاتا ہے ، اور میری شازو (شازیہ مری) تو جان چھڑکتی ہے کھٹے پر۔ تو بابا ایسا کرو کہ ہم کو پانچ دے دو اور میرے لیے بابا سائیں ایسا کرو ایک کنٹینر چینی کا بندوبست کرو نی۔ میری شازو تو پھیکی چائے پی پی کر پھیکی پھیکی ہو گئی ہے۔ اس کی مٹھاس واپس لادو بابا۔"
زر بیوپاری (علی سائیں کو آنکھ مارتے ہوئے ): "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
علی سائیں اپنی سندھی ٹوپی اتار کر کسی قدر خم ہو کر: "وڈے سائیں کا شکریہ۔"
سلو: "او دیکھو جی، میں کیا اے تین چھورے پچیس کنٹینر لے اڑے ، اے تو کوئی گل نہ ہوئی۔ میں تو کیلے کیلے پچیس کی ٹھان بیٹھا تھا۔"
سب ممبران بیک وقت: "پچیسسسس۔۔۔!"
سلو: "او ہاں آں۔ کیا ہے نا جی میری ووٹی نوں کسی نے مشورہ دٍتا ہے کہ کیری نال فیس مساج کرائی تے فیس کمر عمری دا لگندا ہے۔ نے ہور ڈسو میری ووٹی نوں کیری دا شربت بھی چاہیے ، ہیلتھ اشیو۔ نے فر میرے دو نکے وہ تو پورے کالج وچ اعلان کر دٍتا ہے کیری پارٹی دا۔ اے سوہنی سوہنی دوستیاں نے وچ ان دی وے زتی نہیں ہو۔ ہور مری کاکی۔ او جی کیا بتاؤں ان نے تو کیری دے پانی دا سوئمنگ پول بھی آرڈر کی دٍتا ہے۔ "
رضو: "سلو صاحب۔ پہلی گل تو اے کہ اتھے ووٹی نے کاکے کاکیوں دی نئیں چلنی نے ہور اے تو ساڈے گھر دی بھی رام لیلا ہے۔ تسی ایسا کرو کہ پانچ لے لو۔ سائیں بھی پانچ تسی بھی پانچ۔"
علی سائیں (اتراتے ہوئے ): "جب کہ ریونیو بھی زیادہ ہم دیتا ہے بابا۔"
سلو: "دیکھو سائیں، اتھے این ایف سی کو نہ گھسیٹو۔ اسی جمہوریت دی ریل گڈی وچ سوار ہیں۔ تسی ریونیو دی پسوری وچ مے نہ لاؤ۔ اسی بھی پانچ میں خوش، کوئی گل نئیں، میری ووٹی ہور کاکے کاکی ولایت جا کر شوق پورا کر لیں گے۔ "
قمرو: "تیس کنٹینر بک ہو چکے ہیں، بیس باقی ہیں۔ جس میں سے میں دس لینے کا اعلان کرتا ہوں، میں نے میڈیا میں جھوٹ بول بول کر اپنی زبان کالی کر لی، ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہرا کام میں کھرا۔"
رحیمو: "او قمرے ، بیان لکھ کر کون دیتا تھا تجھے۔ اچھل مت، اینکر کے سامنے تو تیری بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اس لے چپ چاپ پانچ لے اور دوسروں کو موقع دے۔ "
قمرو: "جناب صدر، دیکھئے کس قدر تضحیک آمیز رویہ ہے ، اسی وجہ سے آپ کو اب چھپ چھپ کہ شبو (شیریں رحمان) سے شیرینی بنوانی پڑتی ہے۔ "
زر بیوپاری (رحیمو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ): "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
رحیمو نے اتراتے ہوئے قمرو کو زبان دکھائی۔
قمرو: "ٹھیک ہے جناب، پانچ میرے ہوئے۔ اب باقی بچے پندرہ۔"
فہمی: "اسمبلی چلانا کوئی آسان کام ہے کیا۔ سب کی سنتے رہو اور میٹنگز میں ہزار بار کہہ چکی ہوں کہ میرے لیے روئی کا بندوبست کیا جائے کہ کان میں ٹھونس سکوں۔ مگر کوئی ہے کہ میری بات سنتا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے اسمبلی میں بیٹھی اپنی بات کہتی ہوں۔"
رضو: "فہمی ڈارلنگ ناراض کیوں ہوتی ہو۔ اچھا چلو دس تمہارے ہوئے۔ اب خوش!"
فہمی (اپنا ڈوپٹہ سر پر رکھتے اور شرماتے ہوئے ): "جی۔ اگلے اجلاس میں آپ کے لیے کیری کا شربت میری طرف سے۔ "
رضو مست ہو کر جھومنے لگے۔ 
قمرو: "اچھا تو اب پانچ کنٹینر بچے ہیں۔ اور ایک ہی شخص۔ مگر ان کو اعتراض کرنے کی عادت سی ہے اس لیے میں جناب رضو صاحب سے درخواست کروں گا کہ پانچ کنٹینر اور اعتراض صاحب کا فیصلہ وہ خود کریں۔"
اعتراض شاہ (غصے سے قمرو کو دیکھتے ہوئے ): "جناب یہ نا انصافی ہے۔ میں نے جج تحریک میں کتنی مچ مچ کر کے اپنی پارٹی کا دفاع کیا اور یہاں جب سب کو خود سے لینے کی اجازت ہے تو میرے ساتھ یہ برتاؤ کیوں!"
رضو، (زر بیوپاری سے کھسر پھسر کرنے کے بعد): "دیکھیں اعتراض صاحب، مانا آپ کی خدمات رہی ہیں مگر آپ کی چند حرکتوں کی وجہ سے آپ کی ممبرشپ خارج کر دی گئی تھی مگر اب جب کہ آپ نے معافی مانگ لی ہے اور دوبارہ سے ممبر بن گئے ہیں اس لیے آپ کو ہم نے آج کی اہم میٹنگ میں بلایا ہے۔ مگر ابھی آپ کی شمولیت نئی ہے اور پھر ہماری پارٹی کے دیگر وزراء اور بندے بھی ہیں ان میں بھی کیری تقسیم کرنی ہے ورنہ ناراض ہو جائیں گے وہ۔ اس لیے میں نے اور زر بیوپاری صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کے ذمے ہم ان پانچ کنٹینروں کی منصفانہ تقسیم کی ذمے داری ڈالیں۔ آپ تو وکیل بھی ہیں اس لیے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کچھ اپنے لیے اور باقی پورے ملک میں ہمارے پارٹی کارکنوں اور وزراء میں تقسیم کر دیجئے گا۔"
اعتراض شاہ (اپنے کالے کوٹ اور سفید شرٹ کالر صحیح کرتے اور جھوٹ سچ کا منظر پیش کرتے ہوئے ): "ہاں ہاں ٹھیک ہے میں ذمے داری لیتا ہوں، باقی کے پانچ میرے حوالے کر دیئے جائیں۔"
قمرو: "اچھا تو معزز ساتھیوں ہمارا پہلا ٹاسک ختم ہوا بخوبی، اب ہم لنچ کے بعد دوسرے نکتے پر بحث کریں گے۔ "
زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ۔"
"پردہ گرتا ہے "
"پردہ اٹھتا ہے "
قمرو: "اچھا تو معزز ممبران! اب ہم دوسرا نکتہ میڈیا۔۔۔ہیں۔۔۔۔ارے۔ ۔۔۔یہ جناب عالی زر بیوپاری صاحب کہاں ہیں!"
رضو: "وہ قیلولہ کرنے کے عادی ہیں اور ویسے بھی میڈیا سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں، اس لیے میں قائم مقام چیئرمین ہوں۔"
قمرو: "تو جناب عالی، میڈیا۔ میں اپنے آپ کو بڑا بدنصیب سمجھتا ہوں کہ میں یہ پرائیویٹ چینل جب نہیں تھے تب کیوں نہیں بنا وزیر اطلاعات۔۔۔۔! خالی پی ٹی وی ہوتا اور ہماری واہ واہ کبھی شاذونادر آ کر ہم بھی دو کی چار کر دیتے۔ "
علی سائیں، قمرو کی بات کاٹتے ہوئے : "ارے بابا قمرو یہ تو تمہارے والد کی غلطی ہوئی نا!"
اعتراض شاہ، جرح کے انداز میں: "کیوں! کیوں، اس میں ان کے والد صاحب کی کیا غلطی ہوئی۔"
علی سائیں: "ارے بابا سائیں تو بھی ایک جھلی ہے ، اس کا بابا جلدی شادی کرتا تو یہ جلدی پیدا ہوتا اور بڑا ہوتا نا، تبھی تو اُس زمانے میں وزیر بنتا نا۔"
دیگر ممبران کی کھی کھی سے قمرو کا غصہ بڑھ گیا اور اُس نے اپنے مخصوص جذباتی انداز میں پانی کا جگ اپنے ہی سر پر انڈیلا اور رضو کی طرف دیکھنے لگا شکایت آمیز نگاہوں سے۔ 
رضو: "سائیں بابا، آپ بھی کیا! اپنا ہی بچہ ہے۔ تھوڑا خیال رکھیں۔"
علی سائیں حیرت سے : "ارے رضی تو نے کبھی بتایا نہیں کہ یہ تیرا بچہ ہے !"
رضو ہنستے ہوئے : "کیا سائیں، آپ بھی گڑے مردے اکھاڑ رہے ہیں۔!"
قمرو اچھلتے ہوئے : "کیا مطلب!"
رضو: "کچھ نہیں کچھ نہیں۔ اچھا اچھا میڈیا کو آگے بڑھاؤ، مطبل کا کوئی مطبل نہیں ہوتا سیاست میں۔"
قمرو منہ لٹکائے : "جی تو آج کل میڈیا کی بونگیاں کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہیں، وہ ہمارے لیڈر، وزراء کو بلا بلا کر لٹارتے ہیں اور جو حقائق ہمیں نہیں معلوم ہوتے وہ ان کی زبانی حرف بہ حرف سچ معلوم ہوتے ہیں۔ ہمیں اس معاملے میں کچھ کرنا چاہئے۔ کچھ اینکر تو ہاتھ دھو کے بلکہ نہا وہا کے ہمارے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ میری وزارت بھی اس قسم کی ہے کہ سب کو مجھے ہی جھیلنا پڑتا ہے۔ "
رحیمو: "تو کیا لے لیں واپس وزارت! رضو۔ اس کی مشکل آسان کر دینی چاہئے۔ "
قمرو: "نہیں نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا۔"
رضو: "او قمرے ، ہم سیاستدان سامنے والے کی بات کو اپنا مطبل پہناتے ہیں۔ چل تو کہتا ہے تو تیرا مطلب بھی سمجھ لیتے ہیں۔ بول۔۔!"
قمرو: "میں یہ کہہ رہا تھا کہ میڈیا کو کس طرح قابو میں کیا جائے خصوصاً چند اینکر کو!۔"
اعتراض شاہ: "وکالت پڑھی ہوتی تو آج یہ مشکل نہ ہوتی آپ کو قمرو صاحب!"
قمرو: "او کالے سفید بھائی، میڈیا میں جسٹس چودھری نہیں بیٹھے۔ کبھی اینکر کے سامنے بیٹھیں تو آپ کی وکالت دھری کی دھری رہ جائے گی۔"
سلو: "ناس جاوے ان میڈیا والوں دا، میری ووٹی نے میرے کاکے کاکیوں کو بھی نہیں بخشا۔"
رحیمو: "ویسے سلو، وہ خبر اور تصاویر میرے لیے بھی نئی تھیں، پہلے کبھی معلوم نہیں تھا یہ سب۔۔۔!
سلو: "معلوم نئیں دا تو فر!!! کی مطبل۔۔۔ڈسو کی مطبل ہے ٹھاڈا۔"
رحیمو ہنستے ہوئے : "اوئے چھڈ یار، گرمی نہ کھا۔ چل یہ لے ، پی اور عیش کر۔"
سلو ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس حلق میں انڈیلتے ہوئے منہ بنائے چپ ہوئے۔ 
رحیمو، رضو کو آنکھ مارتے ہوئے : "اوئے تم لوگ صرف نام ہی کے سیاستدان رہنا، دیکھو میں کیسے بولتا ہوں میڈیا میں۔"
سلو: "جب بولتے ہو بے سرا ہی بولتے ہو، ڈھز ڈھز ڈھڑ ڈھڑ ڈھس ڈھس کے علاوہ تمہیں کوئی بولی آتی ہے۔ "
شاہ صاحب: "ارے فرینڈز! یہ کیا آپس میں لڑ رہے ہیں آپ لوگ، قمرو صحیح کہتا ہے۔ لگتا ہے اب مجھے ہی فرینڈز آف پاکستان اور سپر پاور سے میڈیا تالے کی امداد کی درخواست کرنی پڑے گی۔"
رحیمو: "ہاں ضرور کرو، مگر تالے نہیں منگوانا، امداد منگوا لینا۔ تالے ہم یہیں بنوائیں گے۔ "
رضو: "آہو۔۔۔!"
علی سائیں: "بابا تم کیا میڈیا میڈیا کرتا ہے ، میری شازو کو نہیں دیکھا کیسے بیان دیتی ہے اور جواب دیتی ہے۔ "
قمرو رال ٹپکاتے ہوئے : "تو سائیں بابا! کب سے آؤں اُن سے سیکھنے۔ "
علی سائیں: "او جھلی، اُس کے پاس کیوں جائے گا، میں ہوں نا کبھی آ مری بیٹھک میں! وڈے سائیں کا بڑا کرم ہے مجھ پر، ایسے ایسے شارٹ سکھاؤں گا کہ میڈیا کی ایسی تیسی۔"
فہمی: "سائیں بابا، دھیرج دھیرج، میرے خیال سے ہمیں اس پر اسمبلی میں بل لانا ہو گا۔ اور آپ سب ایسا کریں کہ میڈیا کی محفوظ شدہ ریکارڈنگ کو بار بار دیکھیں اور پریکٹس کریں، جلد آپ لوگ طاق ہو جائیں گے اینکر کو اینٹ مارنے میں۔"
رضو: "آہو۔۔۔!"
قمرو: "ٹھیک ہے پھر اس نکتے پر بھی اتفاق رائے سے ہم یہ بل پاس کرا ہی لیں گے اسمبلی سے۔ آخر کو فہمی بھی اپنی ہے۔ "
فہمی غصے سے پہلو بدلتی ہوئیں اور رضو غصے سے : "آہممم۔۔۔"
قمرو: "او معاف کیجئے گا جی، میرا مطلب ہے اپنی پارٹی کی ہیں۔"
فہمی نظریں جھکاتے ہوئے : "رضووووو۔۔۔"
رضو: "آہو۔۔۔"
فہمی: "یہ قمرو بھائی آج کل کچھ زیادہ ہی مطلبی نہیں ہو گئے !"
رضو: "آہو۔۔۔"
قمرو: "اوہ فہمی آپا، معاف کیجئے گا۔ بولیں تو میرے کنٹینر بھی آپ کے نام۔"
رضو غصے سے قمرو کو: "کیوں، میں نے پندرہ کیا تیرے پیؤ کے لیے رکھے ہیں!"
رضو فہمی سے : "فہمی ڈارلنگ، تم اس کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ اس کو اس کے مطبل میں سمجھادوں گا میٹنگ کے بعد، تم اپنا پیارا چہرہ گلنار کرو، یہ غصہ تمہارے حسن پر۔۔۔۔۔"
رحیمو کے کھنکارنے پر رضو چونکے اور جھلا کر قمرو سے بولے : "او قمرے دی اولاد، تجھے تو میں سمجھ لوں گا۔ چل یہ سیشن بھی ختم۔ اب چائے کا وقفہ ہے ، میرے روم میں لا میری اور فہمی کی چائے۔ "
"پردہ گرتا ہے "
"پردہ اٹھتا ہے "
زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ"
رضو: "اوئے قمرے ، اپنے مطبل پر ذرا لگام لگائی۔ سمجھا کھوتے دے پتر!"
قمرو: "جی جناب، کس کے رکھوں گا اپنی لگام اب۔ تو بھائیوں اور فہمی جی اب تیسرا۔۔۔۔۔۔!"
رضو غصے سے : "کھوتے دا پتر ہے تو کھوتا ہی رہے گا، ہم سب بھائی اور فہمی "جی"!۔۔۔"
قمرو: "جناب میرا مطبل ہے فہمی آپا!"
رضو اور بگڑتے ہوئے : "اوئے رحیمو، اس کو وزیرستان کے اندر ثالثی بنا کر بھیج دے۔ سارے مطبل نکل جائیں گے اس کے۔ "
رحیمو: "اوئے چھڈ یار۔ اس کو اینکروں کے بیچ ہی چھوڑ دیں گے۔ "
قمرو رونی صورت بناتے ہوئے : "جناب مجھے معاف فرمایئے ، فہمی آپا میرے لے نہایت قابل احترام ہیں۔"
رضو، فہمی کے اشارے پر ٹھنڈے ہوتے ہوئے : "اچھا اچھا۔۔۔چل آگے بڑھ۔"
قمرو: "اب آخری نکتہ ہے این آر او! جہاں دیکھو جسے دیکھو این آر او کی مخالفت کرتا نظر آتا ہے۔ آخر میں کہتا ہوں اس میں برائی کیا ہے ! انسان خطاؤں کا پتلا ہے ، اور غلطیاں معاف کر دینی چاہئیں۔ اور پھر ایک ہاتھ لے اور ایک ہاتھ دے والی پالیسی کے تحت ہی جمہوریت آئی ہے پھر سے اس ملک میں۔ گنج برادران(شریف برادران) سمجھتے ہیں کہ ان کے احتجاج سے آمر نے راستہ چھوڑا، تو چودھری صاحب خود تو نیم آنکھوں سے گنجے (منیر) ملک اور اعتراض شاہ کو دیکھتے رہتے ہیں اور۔۔۔۔"
اعتراض شاہ: "آپ معزز چیف جسٹس آف پاکستان کی توہین کر رہے ہیں!۔"
رحیمو: "لو پا گئی پسوری اعتراض کی! کیوں وہ کیا تیرے چاچا دا پتر لگتا ہے کہ اتنی مرچیں لگتی ہیں!۔"
اعتراض شاہ: "جناب، وہ اس ملک کے چیف جسٹس ہیں اور ان کا رتبہ بہت اعلیٰ ہے اس لیے ان کے لیے ایسی زبان نہیں استعمال کرنی چاہئے۔ "
رحیمو: "سی ای میٹنگ میں ہے تو عدالت میں نہیں، اتنی ہی فکر ہے تو ابھی کے ابھی تیرا ٹکٹ پھاڑ دیتے ہیں۔"
زر بیوپاری سر ہلاتے ہوئے : "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ"
اعتراض شاہ نظریں نیچے کرتے ہوئے : "اچھا جناب، جاری رکھئے ، میں معافی چاہتا ہوں۔"
قمرو: "تو جناب، یہ سب ان لوگوں کی بھول ہے۔ آمر ڈرنے والا نہیں تھا، اس سے تو ڈر کے بھاگے تھے گنج شریف، جناب صدر زر بیوپاری نے تو ان کے دور میں بھی جیل کاٹی اور شہید بی بی نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وطن واپسی کی ٹھانی۔"
میٹنگ ممبران: "بی بی کل بھی زندہ تھی بی بی آج بھی زندہ ہے۔ "
زر بیوپاری پہلو بدلتے ڈرے ڈرے انداز میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے : "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
میٹنگ ممبران دھیمی آواز میں: "واہ سائیں واہ"
قمرو: "تو جناب، ہم نے اپنی غلطیاں معاف بھی کروائیں تو کیا، ملک کو جمہوریت بھی تو دی ہے بدلے میں! اب ہما۔۔۔۔۔۔۔"
رضو: "کی مطبل ہوا غلطیوں دا، تھاڈا  مطبل ہے ساڈی بھی کوئی غلطی تھی جسے ماف کروایا۔ غلطی تو کی تیرے پیؤ نے تے نوں اس دنیا میں لا کر، کھوتے دے پتر، اپنی ہی پارٹی دے پا وچ کلہاڑا مارتا ہے کہ غلطیاں ماف کروائیں۔ "
رحیمو: "ہاں رضو، قمرے کے باپ کی اس غلطی کو آج اس کمرے ہی میں سدھار دیتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے میڈیا نے خرید لیا ہے اس کو، اب ہمارے ہی سامنے ہمیں ہی قصور وار ٹھہراتا ہے۔ "
علی سائیں: "بابا ایسا کرو نی اس کو ہمارے گاؤں بھیج دو۔"
اعتراض شاہ:"سچ چھپائے نہیں چھپتا زمانے میں
کیسے کیسے لوگ ہیں گھرانے میں"
سلو: "شکل ویکھ اپنی مرے ، کالے سچ کے بیوپاری۔"
شاہ صاحب: "فرینڈز، ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کر رہی ہے ، یا تو تالاب بدل لو یا مچلی کو باہر پھینکو۔"
فہمی: "دیکھو جی میں تو کہتی ہوں قمرو بھائی کو واپس ٹریننگ دینا ہو گی۔"
رضو: "آہو۔۔۔"
قمرو: "جناب میر مطلب تھا کہ۔۔۔۔"
رضو: "فر مطبل، تیرا ناس جاوے قمرے ، تو نئیں سدھرے گا۔"
قمرو: "جناب مدعا۔ میرا مطلب نہیں این آر او۔۔۔۔"
ایک بار پھر لفظ این آر او سن کر زربیوپاری صاحب ناراضگی سے : "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"
قمرو لرزتے ہوئے : "واہ سائیں واہ"
زربیوپاری عجلت میں اٹھ کر "مردوں کے لیے " آویزاں تختی والے دروازے میں گھستے نظر آئے۔ 
رضو: "اوئے چھڈو جی، یہ این آر او۔ مے کیا آج دی میٹنگ ادھر ہی مٹی پاؤ۔ میں ذرا اہم قومی امور انجام دینے جا رہا ہوں۔"
فہمی اٹھتے ہوئے : "ہاں رضو، بہت کام ہے چلو۔"
رضو اور فہمی جاتے ہوئے۔ 
رحیمو: "میں بھی چلا، قیمت بڑھوانے اپنے سر کی۔"
شاہ صاحب: "اوکے فرینڈز، سی یا!! امریکہ سے کچھ منگوانا ہو تو فون کر دینا۔ بائے۔ "
سلو بوتل اٹھائے جھومتے گاتے جاتے نظر آئے۔ 
اعتراض شاہ: "اچھا قمرے ، تیری بھی قسمت سچ جیسی ہی نکلی۔ اللہ حافظ"
قمرو: "سائیں، آپ کیوں بیٹھے ہیں۔ آپ نے نہیں جانا کیا۔"
علی سائیں: "بابا ہم تم کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جائے گا۔"
قمرو گھبراتے ہوئے : "کیا مطلب سائیں۔"
علی سائیں آنکھ مارتے ہوئے : "بابا تم چلو نی، سب مطلب سمجھا دے گا۔"
قمرو دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے : "سائیں! رب راکھا۔"
علی سائیں ٹوپی اتارے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ایک ہاتھ سے دھوتی سنبھالے ، پڑھتے ہوئے :
حال پوچھن وارو نا ملیو	دل رکھن وارو نہ ملیو
درد جے ساگر ما سائیں	کوئی کھڈن وارو نہ ملیو
"پردہ گرتا ہے "
٭٭٭


قصہ آج کے درویش کا 


سحر آزاد


جی یہ قصہ چوتھے درویش کا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ! نہیں نہیں بھائی یہ قصہ داستان امیر حمزہ کے چوتھے درویش کا نہیں ہے ، بلکہ یہ قصہ ہے لاہور کے انارکلی بازار کے چوتھے درویش کا ہے۔ 
وہ یوں ہے ناں کہ! اس بازار میں اتنے درویش گھومتے ہیں کہ نشانیوں سے یاد رکھنا آسان نہیں، اس لیے ہم نے ان کو نمبر دے رکھے تھے۔ حبیب جلیبیوں والے کی دوکان کے پاس کھڑا "پہلا درویش" گلی نمبر ۳۳ کی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑا "دوسرا درویش" گول چوک میں ہر کسی کو ڈرانے والا "تیسرا درویش" اور میرے کمپیوٹر سنٹر کے باہر کھڑا میرا دوست اور "چوتھا درویش "
ان درویشوں کا کوئی مخصوص کام اس کے علاوہ نہیں تھا کہ وہ گرلز کالج اور گرلزاسکول کے مخصوص وقت میں اپنے مخصوص مقام پر کھڑے ہو کر تانک جھانک کیا کرتے تھے۔ 
تو جی یہ قصہ مذکورہ چوتھے درویش کا ہے۔ 
تو قصہ شروع کرنے سے پہلے آپ کو چوتھے درویش محترم کا طول عرض بتانا بہت ضروری ہے۔ تو شروع کرتے ہیں ان کی طول کے ساتھ ماشاء اللہ میری دوکان کے شیڈ کے ساتھ لگتا ہے یعنی ساڑھے چھ فٹ سے کم نہیں ہے اور عرض کی کیا بات کروں اتنا سمجھ لیں کہ ایک دس بائے بارہ کی دوکان میں ان کو مشکل سے "رکھ" سکتے ہیں وہ بھی پھنس پھنسا کے۔ 
ویسے تو چوتھے درویش محترم کا ایک عدد نام بھی ہے "پر سانوں کی" ہم تو اسے چوتھے درویش کے نام سے ہی پکاریں گے۔ تو ہوا یوں کہ گوالمنڈی میں کھانے کے مشہور مقابلے "کھاپے خلاص" کا اعلان کر دیا گیا۔ اعلان سن کر ہمارے ذہن میں پیسے بنانے کی ایک اچھی سی ترکیب آ گئی کہ اپنا "چوتھا درویش "آخر کس کام آئے گا۔ اس کا مقابلہ کروا کر رقم جیتتے ہیں۔
بڑی مشکلوں سے اسے راضی کر کے اس کا نام (اپنی جیب سے ۲۰۰ روپے انٹری فیس جمع کروا کر) مقابلے میں لکھوایا۔ اور اپنے درویش کو مقابلے کے تیار کرنا شروع کر دیا۔ یعنی ہم اس کو سارا دن کچھ نہ کھانے دیتے اور شام کو اس کو خوب ٹھونس ٹھونس کر کھلاتے جس میں سارا فنانس میرا ہی استعمال ہوتا تھا۔
آخر اللہ اللہ کر کے مقابلے کا دن آ پہنچا۔ ہمیں اپنے درویش کی کامیابی کا پورا پورا یقین تھا۔ یقیناً یہ مقابلہ ہم ہی جیتنے والے تھے۔ مگر جب نظر مقابلے کی جگہ پر پڑی تو ہمیں اپنے پیسے ڈوبتے ہوئے نظر آنے لگے۔ 
سڑک کے درمیان ایک بڑی سی ٹیبل اور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اور مقابلے میں اپنے درویش سمیت انیس عدد افراد موجود تھے اور جن کے درمیان بیٹھے ہوئے ہمارے درویش محترم "کاکے کاکے " لگ رہے تھے۔ 
مقابلے کا آغاز سب کے سامنے ایک ایک جگ "لسی" کا رکھ کر کیا گیا (تا کہ کھانے کی بچت ہو) جس کو سب نے ایسے ہی داڑھ گیلی کرنے کے مصادر ہڑپ کر لیا۔
پھر کھانوں پر کھانے آنے لگے اور برتنوں پر برتن واپس جانے لگے۔ میں درویش کی کرسی کے پاس کھڑا ہو کر اس کا جوش "ختم کر دو سب کو، چھوڑنا مت " قسم کے نعروں سے بڑھا رہا تھا۔ اور درویش ایسے میری بات کر رہا تھا جیسے میز پر بھنا ہوا امریکہ پڑا ہو۔ تقریباً! گھنٹہ بھر بعد ایک آدمی نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے۔ ڈول پر ڈگا مارا گیا اور لوگ خوشی سے چلانے لگے کہ ایک تو گیا۔
مزید آدھے گھنٹے میں مزید کے گرد صرف چار لوگ بچے تھے جن میں ہمارا درویش بھی بیٹھا ہماری عزت بڑھا رہا تھا مگر اس کی حالت ایسی لگ رہی تھی جیسے چائنہ کے ٹی وی کی طرح ابھی جواب دے جائے گا۔
جب چار لوگ رہ گئے تو مقابلے کا دوسرا حصہ شروع ہوا اس حصے میں مقابلے کے شرکاء اپنی مرضی کی ڈش بلوائیں گے اور باقی سب کھائیں گے۔ پہلے نمبر والے آدمی نے کہا کہ سب کو بہت زیادہ مسالے والا مرغ مسلم پیش کیا جائے۔ کسی کے پیٹ میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ایک پورا مرغ مسلم کھا جاتے۔ مگر پھر بھی ہمارے درویش اور ڈش منگوانے والے اور ایک اور آدمی نے مرغ مسلم کھا لیا۔
چوتھا آدمی نہ کھا سکا اور مقابلے سے باہر ہو گیا۔
سب شرکاء کی حالت حد سے زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ سانس بہت مشکل سے آ رہی تھی۔ اب باری تھی دوسرے آدمی کے ڈش طلب کرنے کی اس نے چپل کباب منگوائے۔ جس کو ان تینوں نے ہی کھا لیا۔ درویش ایسی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا، جیسے کہ ابھی اٹھنا ہی چاہتا ہے مگر اٹھنے کی ہمت نہیں اور نہ ہی بولنے کی ہمت ہے۔ 
میں اپنا کان اس کے منہ کے قریب لے گیا۔ درویش نے اکھڑی اکھڑی سانسوں سے کہا کہ اب بس ہو گئی ہے۔ میں مزید نہیں کھا سکوں گا۔ مجھے اپنے پیسے ڈوبتے ہوئے محسوس ہوئے۔ 
سب لوگ میرے طرف دیکھ رہے تھے کہ درویش نے کیا کہا ہے۔ 
"درویش کہہ رہا ہے کہ ابلے ہوئے کریلے منگوائے جائیں "
میں نے کہا
تو دوسرے دونوں شرکاء اٹھ گئے اور ہمارا درویش یہ مقابلہ جیت گیا۔ اور مجھے ملی انعام کی رقم،
مگر افسوس
وہ رقم میرے پاس نہیں رہی۔
نہیں، نہیں میں نے رقم درویش کو نہیں دی۔ بلکہ یہ رقم بے احتیاطی سے کھانے کی وجہ سے بیمار ہو جانے پردرویش کے علاج اور دوائیوں میں نکل گئی۔ بلکہ مزید اپنے پاس سے دو ہزار روپے لگانے پڑے۔ 
٭٭٭


مائی بیسٹ فرینڈ 

بابر ندیم




جب میں میٹرک میں تھا تو میں نے انگلش کے سبجیکٹ میں ایک مضمون"مائی بیسٹ فرینڈ "کو رٹا لگایا۔اس رٹے میں معلوم نہیں ہماری یادداشت کا کمال تھا یا ماسٹر صاحب کے ڈنڈے کا ،میں ساری زندگی اس مضمون کو اپنے ذہن سے محو نہ کرسکا،بچپن میں سنے اس گانے کی طرح "ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے "اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ اس مضمون میں دوست کی جو خوبیاں بیان کی گئیں تھیں۔ ویسا دوست میں آج بھی تلاش کر رہا ہوں لیکن کسی ایک شخص میں اتنی خوبیاں مجھے آج تک نہ مل سکیں۔ میں زندگی میں جس شخص کو بھی " مائی بیسٹ فرینڈ سمجھ کر قریب ہوا وہ بعد میں MY BEST ENEMY"ثابت ہوا۔
سچی بات تو یہ ہے ،میں نے مضمون میں دی گئی تمام شخصی خوبیوں کو ذہن میں رکھا ،اور پھر اپنی شخصیت کو اس تناظر میں پرکھا تو بے اختیار میری ہنسی نکل گئی،پھر اپنے آپ پر بڑا غصّہ آیا کہ میں کون ہوتا ہوں اپنے آپ پر ہنسنے والا ،یہ کام تو دوسروں کا ہے۔ 
میں نے مضمون میں بیسٹ فرینڈ کے بارے میں پڑھا تھا کہ
"He Offers His Prayers Regularly
جبکہ ہم جمعہ بھی اس وقت پڑھتے تھے جب وہ امتحانات کے دنوں میں پیپرز کے دوران آ جاتا تھا۔آگے ٹیچر نے لکھوایا تھا کہ
He sleeps early in the morning ہم ساری رات چیٹنگ کرنے کے بعد پر He gets up early in the morning
پر عمل کرنے والوں میں سے تھے اور چیٹنگ کی دنیا میں ہمارا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ ایک لڑکی سے تین مہینے رات دن چیٹنگ کر نے کے بعد ایک دن انکشاف ہوا کہ وہ لڑکی نہیں لڑکا ہے -ان رت جگوں کا حساب کس سے مانگیں۔ 
ویسے تو رت جگے کاٹنے میں ایک پرندہ بھی مشہور ہے جس کو اہل مغرب "فلاسفر" جبکہ اہل مشرق "خاندان احمقاں " سے گردانتے ہیں۔ اس سلسلے میں ،میں اہل مغرب کی رائے کو زیادہ معتبر مانتا ہوں اور اس بارے میں پہلی دلیل یہ دیتا ہوں کہ اہل مغرب کی تمام تر ترقی "الو" کے رت جگوں اور گہری سوچ بچار کا نتیجہ ہے۔ دوسری دلیل یہ کہ میرے جیسا سیلف میڈ جینئس بھی اس عادت کا شکار ہے۔ سیلف میڈ اس لیے کہ ابھی تک ہم نے خود ہی اپنے جینئس ہونے کا انکشاف کیا ہے اور دوسروں نے ذاتی حسد کی بنا  پر ہمیں جینئس تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس دنیا میں کسی کی ترقی سے جلنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اور ہندو لوگ تو مرنے کے بعد بھی جلانے سے باز نہیں آتے۔ ویسے تو رت جگے کاٹنے میں"خاندان عاشقاں" بھی کافی بدنام ہے۔ لیکن عشق نامی بیماری کا تا حال کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے ویسے بھی بقول شاعر "یہ وہ آگ ہے جو لگائے نہ لگے ،اور اگر لگ جائے تو بجھائے نہ بجھے اور کھجائے نہ کھجے "یعنی یہ عشق بھی پیٹھ پر لگنے والی خارش کی طرح ہے جہاں بندے کا اپنا ہاتھ نہیں پہونچتا اور کسی اور کے ہاتھ کا وہاں پہنچنا وہ پسند نہیں کرتا۔عشق میں جو کچھ بھی کرنا ہے خود ہی کرنا ہے مطلب یہ ہوا کہ کچھ بھی نہیں کرنا ہے ،آگے ٹیچر نے لکھا تھا۔ 
He always speaks truth
اس زمانے میں یہ کام کوئی گونگا ہی بہتر کر سکتا ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھ میں اور ٹیچر کے لکھوائے گئے میرے بیسٹ فرینڈ میں تمام باتیں ایک دوسرے کی ضد تھیں بلکہ ہمارے درمیان کچھ مشترک بھی تھیں -مثال کے طور پر ٹیچر نے لکھوایا تھا
He is very good in his studies and absolutely tops in his class
ٹاپ تو میں بھی کرتا تھا ،لیکن چونکہ ہم دونو ایک ہی کلاس میں تھے اور ایک وقت میں ایک کلاس میں ایک ہی سٹوڈنٹ ٹاپ کرسکتا ہے ،اس لیے ہمارے ٹاپ کرنے کے لیے خاص طور پر گنجائش پیدا کی جاتی،وہ کلاس میں اوپر سے ٹاپ کرتا تھا اور میں نیچے سے۔ کلاس میں بیٹھنے مین بھی اس پوزیشن کا خیال رکھا جاتا۔ہمارا بیسٹ فرینڈ بلیک بورڈ والی سمت میں سب سے آگے بیٹھتا اور ہمیں کلاس روم سے باہر نکلنے والی سمت میں سب سے آگے بٹھایا جاتا۔دل لگی میں ہمیں بیک بنچر بھی کہا جاتا تھا۔ اکثر ٹیچر کلاس میں ہمارے بیسٹ فرینڈ سے سوال پوچھ کر اس کی لیاقت کا امتحان لیتے رہتے تھے کہ آیا اس کی لیاقت اسی درجے کی ہے یا اس میں کوئی کمی واقع تو نہیں ہو گئی،چونکہ میری لیاقت مسلمہ تھی اسلئے ٹیچر مجھ سے سوال پوچھ کر شرمندہ ہونا نہیں چاہتے تھے اسلیے اکثر مجھ سے سوال پوچھنے سے گریز کرتے۔ اردو اور انگلش کے حروف تہجی میں بھی میری اور بیسٹ فرینڈ کی پسند یکساں تھی،بقول ٹیچر بیسٹ فرینڈ کو "ک"اور "C"سے شروع ہونے والی جگہ""یعنی "کلاس روم " پسند تھی اور اکثر وہیں پایا جاتا تھا۔ مجھے بھی "ک" اور Cوالی جگہیں پسند تھیں اور میں بھی سارا دن کینٹین میں گزارتا تھا۔اس کے علاوہ ٹیچر نے لکھوایا تھا
All the teachers of the school likes him very much
ٹیچر پسند تو خیر مجھے بھی سارے ہی کرتے تھے سوائے ایک آدھ کے۔ اور اگر مجھ سے باری باری ٹیچرز کے نام لے کر پوچھا جائے تو میں ہر ٹیچر کے نام پر یہی کہوں گا کہ صرف اس ٹیچر کے سوا باقی تمام ٹیچر مجھے پسند کرتے ہیں۔ بیسٹ فرینڈ کے بارے میں ٹیچر نے مزید یہ لکھوایا "He is good in all subjects"،ویسے میری تعریف کرنے میں بھی
ٹیچر نے کبھی کجوسی سے کام نہیں لیا۔اور اکثر میری تعریف کرتے ہوئے کہا کرتے 
He is good for nothing،
اس فقرے کا میرے جیسے قابل(کابل) دوست نے اس طرح ترجمہ کیا کہ"کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں میں اچھا نہ ہوں " الغرض اگر سچ پوچھا جائے تو ایسی خوبیوں والا شخص میرے بیسٹ فرینڈ میں اسلئے شامل تھا کہ اسے ٹیچر نے ایسا لکھوایا تھا۔ ورنہ ہمارے حلقہ دوستاں میں ایسے پڑھاکو اور خشک بندے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔اورایسی خوبیاں ایسے اشخاص میں ہی پائی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمیں آج تک بیسٹ فرینڈ نہیں مل سکا۔
٭٭٭

مشن امپاسیبل ون اُردُو

منہا ملک


محل کے وسع و عریض میدان میں بجائے جانے والے نقّارے کی تیز آواز پُورے  Urdualli Wood میں گُونج رہی تھی۔ سوئے ہوئے افراد گہری نیند سے جاگ کر آنکھیں ملنے لگے۔ ۔ حیرانگی کا عنصر کہیں نہیں تھا کیونکہ یہ روز کا معمول تھا۔ ۔
اسی اثناء میں فضا لڑاکا طیاروں کی گرج سے گُونج اُٹھی۔ "اُردوالی وُڈ" کے مکینوں نے بستروں سے چھلانگ لگائی اور ریفریش ہونے کو دوڑے۔ 
"تصور کریں کہ ہم خالص اُردو سُن اور بول رہے ہیں۔۔ " طیاروں نے نیچی پروازیں کرتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر سے یہ اعلان بار بار دُہرانا شروع کر دیا۔۔۔ اُردوالی وُڈ کے سمندر پار سے آنے والے مکین اس اعلان کو سُن کر ہراساں ہو گئے۔ ۔ خصوصاً گُڈو، ایٹرنٹی، عثمان، وغیرہ وغیرہ۔ جنہیں اُردو بولنا تو دُور کی بات، سمجھنا بھی بہت مُشکل لگتا تھا۔۔۔ اعلان وقفے وقفے سے دہرایا جاتا رہا۔ جب سب اپنے اپنے مورچوں پر پہنچ گئے تو طیارے اُردوالی وُڈ کے شاہی محل کی طرف روانہ ہو گئے جہاں سے "ٹیم کرُوز" انہیں کنٹرول کر رہے تھے۔ 
ٹیم کرُوز صاحب نے لڑاکا طیاروں کو ان کی جگہ پر پہنچا کر مارکنگ طیارے میں "ہنگامی اجلاس" کا پیغام فیڈ کر کے اعلی عہدیداران کی طرف روانہ کر دیا اور خود اسکرین پر اُردوالی وُڈ کے مختلف مورچوں پر ہونے والی نقل و حمل کا جائزہ لینے لگے۔ ایک دو انگریزی اور پنجابی فائرز پر ٹیم کرُوز جی نے بُرا سا منہ بنایا اور وارننگ کے طور پر ایک ہینڈ گرنیڈ گزٹ میں لپیٹ کر دے مارا۔ تھوڑی سی "چیں چاں" کے بعد خاموشی چھا گئی۔
مارکنگ طیارہ پیغام پہنچا کر واپس آ چکا تھا اس کا مطلب تھا کہ اجلاس کے لئے لوگوں نے آنا شروع کر دیا ہے۔ ٹیم کرُوز جی نے ماڈ رُوم کو فوکس کرنا شروع کر دیا جہاں اجلاس کی کاروائی ہونے والی تھی۔
سب سے پہلے "اشتباہ جی" لاٹھی ٹیکتے اندر داخل ہوئیں۔۔۔ کمرہ خالی دیکھ کر اپنی نشست سنبھالتے ہوئے گنگنائیں۔ ۔ 
ابھی تک راستے کے پیچ و خم(خالص اردو میں ملاوٹ) نہیں مُکے 
میرا ذوقِ طلب شاید ابھی تک خام ہے ساقی
اور ٹیم کروز جی اتنے اعلی ذوق پر خاموشی سے سر دھُننے لگے۔ 
اگلے داخل ہونے والے صاحب کا نام کیا بتائیں۔۔ ۔ کیونکہ ان کا نام نہیں "نک ہے جی"۔ ۔ بہت ہی خوشگوار مُوڈ میں "کس نے یہ ہم پہ ہرا رنگ ڈالا" گُنگناتے ہوئے اشتباہ جی سے پُوچھنے لگے۔ ۔ ۔ "ہم نے ایک رنگ سوچا ہے ، دس سوالوں میں بُوجھیں گی؟"۔۔ اشتباہ جی نے چشمہ سیٹ کرتے ہوئے دروازے سے اندر آتی سمارا کو ساتھ ملا کر دس سوالوں کی لسٹ سوچنا شروع کر دی۔
جب عمران نیّر، امان، ماظق اور سخنور جی جیبوں میں شعروں کے بم ٹھونسے ، منظومات کی کلاشنکوفیں کندھوں سے لٹکائے اندر داخل ہوئے اور ہاتھوں میں پکڑی مشین گنز سے ایک برسٹ غزلیات کا مارا۔۔ ۔ فضا "تڑڑڑڑ تڑڑڑڑ ڈھائیں ڈھائیں۔۔ڈھشوں " کی کان پھاڑ آوازوں سے دھمک اُٹھی۔ اور وہ چاروں اپنی نشستوں پر آ براجمان ہوئے۔ ہم پہ یہ کس نے ہرا رنگ ڈالا کی گُنگناہٹ بدستور جاری تھی۔
خُسرو، مُربیا اور سوب اندر داخل ہو کر کمپوزنگ پسٹلز سے کمپوز شُدہ صفحات یہاں وہاں فائر کرنے لگے۔ مونا نے ایک نظر سب پر ڈالی اور بولیں: "آپ اپنا کام کرتے جائیں وقت آپ کے لئے خالص اُردو ایوارڈ کے حصول میں خود ہی مدد کرے گا۔۔ ۔ "
ساحل صاحب نے پیار بھرا آداب عرض کرتے ہوئے اندر داخل ہو کر میٹنگ روم کا دروازہ بند کر کے جیب میں سے تالا نکال لیا۔
"ارے ے ے۔ ۔ ۔ میاں ساحل۔۔ رُکو تو۔ ۔ ابھی سب نہیں آئے۔ ۔ " مُون، دیا اور دانی نے ساحل کو تالا لگانے سے منع کرنا چاہا۔
"پلیزززززز۔ ۔ ۔ " ساحل نے پلٹ کر اُن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "ایک وقت میں ایک ہی فرد منع کر سکتا ہے۔ "
ساحل کہتے ہوئے دروازے کے پاس سے ہٹنے کا ابھی سوچ ہی رہے تھے دروازہ دھماکے سے کھُلا اور یہ سر پکڑ کر آنے والی ہستی کو خونخوار نگاہوں سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگے 
دوسرے ہی لمحے وش جی نے اپنے مخصوص انداز میں پرس جھُلاتے ہوئے آواز لگائی۔۔ "اُردو انسٹال کر لو۔۔ ۔ پوائنٹس لے لو۔۔ "۔۔ ۔ 
"ائے بی بی۔۔ ۔ " اشتباہ جی نے چشمے کو ناک کی پھننگ پرکھسکا کر ناقدانہ نظروں سے وش جی کا جائزہ لیا۔ "تم دوہزار نقاط لے لو ہم سے۔ ۔ لیکن یہ "پوائنٹس" اور "انسٹال" کی جگہ اُردو میں مستعمل الفاظ استعمال کیا کرو۔"۔۔ 
وش جی نے مؤدبانہ انداز میں سر ہلا کر اُردو لغت میں سر گھُسیڑ لیا۔ ٹھیک اُسی وقت ان کا موبائل گُنگنا اُٹھا۔ ۔ "اُردو انسٹال کر لو۔۔ ۔ پوائنٹس لے لو" کی سُریلی ٹون فضا میں لہرانے لگی۔ اشتباہ جی نے گھُوری ڈالی اور وش جی رُخ پھیر کر کسی اُردو انسٹال کرنے والے کو اس کے نقاط ارسال کرنے لگیں۔
سب سے آخر میں ہما جی داخل ہوئیں۔۔ تمام جونئیرز نے اُن کے سلام کا بڑے پُر تپاک انداز میں جواب دیا اور جب تک وہ اپنی نشست پر نہ بیٹھ گئیں سب کے ہاتھ اپنے گالوں پر ہی دھرے رہے۔ 
************************
کمرے کی چھت پر لگے ہوئے اسپیکر میں سے "اُردو۔ ۔ اُردو۔ ۔" کی ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی۔ سب حاضرین مؤدب ہو کر بیٹھ گئے۔ ۔ ۔ اسپیکر میں سے لال رنگ کی روشنی نکلنے لگی۔
"السلام علیکم۔۔ ۔ میری خواہش ہے کہ میری آواز آپ کو سُریلی ترین آواز لگے۔ ۔۔ "۔ ۔ ٹیم کرُوز جی کی با رعب آواز ہال میں چھائے ہوئے سنّاٹے کو چیر گئی۔
"پچھلے کُچھ عرصے میں اُردوالی وُڈ میں مکینوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ۔ جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافے کا امکان ہے جو ہمارے نظام کو سُست کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اُردوالی وُڈ کا ویزہ عارضی طور پر بند کر دیا جائے۔ ۔ ۔ کسی کو کوئی اعتراض؟۔ ۔ "
"نہیں جناب۔۔ ۔ !" سب نے ایک آواز میں جواب دیا۔
"ہممم۔ ۔ ۔ ۔ گُڈ۔ ۔ دوسری بات۔۔ ۔ "
"براہ مہربانی خالص اُردو جناب۔۔ ۔ " اشتباہ جی نے ناک کی نوک پر کھسک آنے والا چشمہ درست کرتے ہوئے ٹیم کرُوز جی کی بات قطع کرتے ہوئے کہا۔ "گُڈ کی بجائے اردو میں رائج لفظ استعمال کرنے کی درخواست کرتی ہوں۔۔ "
جونیئرز کے چہروں پر در آنے والی دبی دبی مسکراہٹ۔ ۔ ۔ اسپیکر میں سے نکلتی لال روشنی کے یکدم تیز ہونے پر لمحے کے ہزارویں حصے میں غائب ہو گئی۔
"یاددہانی کا شُکریہ اشتباہ بہن۔۔۔ ۔ " ٹیم کرُوز جی نے اپنے ازلی ٹھنڈے مزاج کو بروئے کار لاتے ہوئے بات جاری رکھی۔
"اس سال دیکھا گیا ہے کہ اُردوالی وُڈ میں رومن پستولوں کا رجحان کافی زیادہ رہا ہے۔ ۔ ساتھ ہی ساتھ پنجابی کلاشنکوفوں کی نقل و حمل بھی بہت زیادہ دیکھی گئی ہے۔ ۔ ۔ ہمارا مقصد خالص اُردو اسلحے کا فروغ ہے۔ ۔ اس لئے میں نے کچھ دن پہلے ہی "خواہش" صاحبہ کو بھاری مقدار میں نقاط کے نشے کے انجکشنز کے ساتھ اُردو اسلحے کی مارکیٹنگ کے لئے مقرر کیا ہے۔ ۔ ان کی کارکر دگی کافی اچھی جا رہی ہے۔ ۔ لیکن اس مقصد کو کم وقت میں پانے کے لئے ہم سب کو خود میدان میں اُترنا ہو گا۔ اس لئے آپ سب خود کو پہلے اُردو اسلحے سے لیس کر لیں۔۔ اس بار میں نے خاص "انگریزی اور پنجابی کش جیکٹیں" بھی تیار کرائی ہیں۔۔۔ آپ انہیں ہر وقت باندھیں رکھیں۔۔ اور جہاں اُردو کے علاوہ کوئی اور اسلحہ دکھائی دے اسے وہیں اُڑا دیں۔۔ ۔ " بات کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے ٹیم کرُوز جی کی آواز میں جوش کا عنصر غالب آچکا تھا اور تمام حاضرین کے چہرے بھی وفور جوش سے تمتماتے محسوس ہو رہے تھے۔ ۔۔ ۔ سب نے میز بجا بجا کر "خالص اُردو۔۔ خالص اُردو۔ " کے نعرے لگائے۔ 
"میں آپ کو نمونے کے طور پر دکھاتا ہوں کہ ہمیں کیسے کام کرنا ہو گا۔۔ ۔ " اسپیکر میں سے پھر آواز اُبھری۔۔ اور سب سامنے دیوار پر لگے ہوئے پردے پر ایک منظر روشن ہو گیا۔
"یہ گُفتگو کا مورچہ ہے۔ ۔ اسے اس لئے منتخب کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ "غیر اُردو " حملے یہیں پر ہوتے ہیں۔ ۔ " ٹیم کرُوز جی نے وضاحت فرماتے ہوئے کہا۔
سب اُدھر متوجہ ہو گئے۔ جہاں کسی موضوع پر زور و شور سے گولہ باری چل رہی تھی۔۔ ہاشمی پاجی ،فرُخ منیر اور ساحرہ کی شُرلیاں بھی وقفے وقفے سے گر رہی تھیں۔ ۔ ۔ ڈھیر سارے توپ(تھریڈ)بین بھی کھڑے لُطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ شُکرانے کے طور پر ہوائی فائرنگ کر رہے تھے۔ ۔ ۔ہر طرف سے ٹھاہ ٹھاہ ڈُز ڈُز کی آوازیں  آرہی تھیں۔ ۔ ۔ اسی اثناء میں گُڈو بھائی صاحب کی طرف سے پھینکا جانے والا انگریزی گولہ زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹا اور سب توپ بینوں نے اپنی اپنی ڈکشنریاں کھول لیں۔۔ ۔ ٹیم کرُوز جی نے ایکشن میں آتے ہوئے خود اینٹری ماری اور دوسرے ہی لمحے فضا "تڑ تڑ تڑ تڑ" کی خوفناک آواز سے گونج اُٹھی۔۔ ۔ ٹیم کرُوز جی نے استقبالیہ فائرز پر ایک پراسرار سی مُسکراہٹ کے ساتھ اپنا راکٹ لانچر نکالا اور خالص اُردو کا فلسفاتی راکٹ مورچے کے وسط میں فائر کر دیا۔ ۔ ۔ سب واہ واہ کرتے ہوئے ادھر اُدھر ہو گئے۔ ۔ ۔ ٹیم کرُوز جی نے نہایت متانت سے گُڈو بھائی جی کو اُردو اسلحے کے استعمال کی ہدایت کی جس پر گُڈو بھائی نے محض مسکرانے پر ہی اکتفا کرتے ہوئے کہا peace on u۔۔ ۔ ۔ ۔ٹیم کُروز جی مسکراتے ہوئے مورچے سے باہر آ گئے۔ ۔ ۔ ہال میں بیٹھے ہوئے حاضرین نے تالیاں بجا بجا کر ٹیم کرُوز جی کے ایکشن کو سراہا۔۔ ۔ 
۔ساتھ ہی گُڈو جی کی طرف سے عروسہ جی کو پی ایم کا گولہ موصول ہوا جس میں ٹیم کرُوز جی کی پوسٹ کو انگلش میں ٹرانسلیٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔۔ ۔ 
"مشن پر روانہ ہونے کی تیاری کی جائے۔ ۔ ۔ سب مسلح ہو کر پورے اُردوالی وُڈ میں پھیل جائیں اور تمام غیر اُردو بندوقوں کا قلع قمع کریں۔۔ ۔ ہمیں ہر حال میں کامیابی چاہیئے۔ ۔ " ٹیم کرُوز جی کی بات ختم ہوتے ہی تمام اعلی عہدیداران نے اپنی نشستیں چھوڑ کر غیر اُردوکش جیکٹیس زیب تن کیں اور الماریوں میں سے اردو اسلحے سے خود کو لیس کر کے مشن پورا کرنے روانہ ہو گئے۔ ۔یازغل، اشتباہ جی، سمارا اور مسکان بکتر بند گاڑیوں میں اور باقی سب نیلے اسکوٹرز پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ ۔ ۔ ساحل جاتے جاتے میٹنگ رُوم کے دروازے کی طرف پلٹا۔ ۔۔ خُسرو، رفعت اور عروسہ نے حیرت سے اسے رُکتے ہوئے سوالیہ انداز میں دیکھا۔ ۔ ۔ساحل نے جیب میں سے تالا نکالا اور دروازے پر لگا دیا۔۔ 
**********************
ٹیم کرُوز لال ہیلی کاپٹر میں دُوربین آنکھوں سے لگائے اُردوالی وُڈ کے تمام مورچوں پر ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ سب سے پہلے مشنری مورچے میں جھانکا۔ ۔ ناول اور شاعری دونوں حصوں میں پُرسکون انداز میں کام ہو رہا تھا۔
اسلامی مورچے میں بھی راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔۔ آگے کوئز سنٹر پر نظر پڑی تو عبداللہ، دلپسند اور اے زی بندوقیں پکڑے نت نئے سوالات فائر کرتے نظر آئے۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف یازغل جی کسوٹی کی توپ کے پاس کھڑے تھے۔ ۔ ٹیم کرُوز جی کو تھوڑی حیرانگی ہوئی کہ آخر کوئی کسوٹی کا گولہ فائر کیوں نہیں کر رہے یازغل۔ ۔ ۔ تھوڑا نزدیک کر کے دیکھا تو پتہ چلا کہ یازغل جی توپ کے ساتھ ہی کسوٹی ڈالے بیٹھے ہیں۔۔ ۔ ۔ ٹیم کرُوز جی نے مسکرا کر اگلے مورچے پر نگاہ دوڑائی۔
جوکس والے مورچے میں دیا، اے زی، عتیق، پنکی وغیرہ کی کلاشنکوفیں قہقہے اُگل رہی تھیں۔۔ ۔ ساتھ ہی ساتھ بھُوتانہ قہقہوں کی کان پھاڑ آوازیں بھی ماحول کو خوشگوار بنانے میں معاونت کر رہی تھیں۔
دُعا ہوشربا، سلمان سلو، عاشی اور چاکلیٹ ڈیزائننگ مورچے حرف دُعا کی نگرانی میں چاقو چھُریوں سے لکڑیوں پر ہُنر آزمائی کرنے میں مشغول تھیں۔۔ ۔ گوشہ خواتین میں ہما تنویر اور سمارا توپوں سے کھانے اور ملبوسات کے گولے فائر کر رہی تھیں۔۔ کہ ساحرہ اپنا کچن لانچر تھامے اندر داخل ہوئیں اور ایسے ایسے ترکیبی میزائل پھینکے کہ سب دنگ رہ گئے۔ ۔ ۔ پھر وہ غُل مچا کہ الامان الحفیظ۔۔ ۔ ٹیم کرُوز جی کان لپیٹ کر اس مورچے سے نکل آئے۔ ۔ 
وش صاحبہ اپنے مورچے میں "اُردو انسٹال کرو۔ ۔ پوائنٹس لے لو" کا بینر لگائے بیٹھی چند رومن پستول رکھنے والوں سے سر کھپا رہی تھیں۔ ستائشی نظروں سے یہ نظارہ دیکھتے ہوئے ٹیم کرُوز جی آخری مورچے کی طرف بڑھے۔ ہر طرف ہونے والی گولہ باری سے فضا لرز رہی تھی۔۔ ۔ ساحل ہاتھوں میں تالے لئے پھرتے دکھائی دئیے۔ ۔ ہر طرف ہونے والی گولہ بازی سے بے نیاز انہیں جہاں کسی کے ہاتھ میں دو توپیں دکھائی دیتیں ، جھٹ سے ایک کو تالا ڈال کر اپنی راہ ہو لیتے۔ ۔ کانوں میں گویا روئی ٹھونس رکھی تھی کہ کسی پھُلجھڑی یا فائر پر کچھ ردعمل نہ ظاہر کرتے۔ ۔ ۔ اس جانفشانی کو دل ہی دل میں سراہ کر ٹیم کرُوز جی نے طمانیت بھری سانس لیتے ہوئے مجاجنی، ہاشمی پا جی اور رضوان جی کو آئندہ پنجابی گولوں کے استعمال سے احتراز کی تلقین کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر کا رُخ محل کی طرف موڑ دیا۔۔۔ پُورے ہفتے کے مشن کے بعد اب وہ آرام کے مُوڈ میں دکھائی دے رہے تھے۔ 
********************
محل میں پہنچتے ہی مارکنگ طیارے میں "کیپ اٹ اپ" کا پیغام فیڈ کر کے تمام اعلی عہدیداران کی طرف روانہ کیا۔۔ اور ایک بار پھر سے اُردوالی وُڈ کا ایک بار پھر سے جائزہ لینے کا ارادہ کر کے سکرین پر مختلف مورچوں کو فوکس کرنا شروع کیا۔۔۔ ۔ پنجابی، رومن اور انگریزی گولے اب بھی وقتاً فوقتاً گرتے دکھائی دیے اور ٹیم کرُوز جی کے پاس سر پکڑنے کے سوا اب کوئی چارہ نہ تھا۔
لہذا انہوں نے گزٹ کے میزائل سے ایک سال تک کے مزید "خالص ترین اردو" کے انتظار کا دھماکہ کر دیا۔
اور ریفریش ہونے کو چل دئیے۔ ۔ 
٭٭٭

مفت مشورہ

رفعت


بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہم اپنا دماغ ذرا کم کم ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ اور اس پر بہت فخر سے ارشاد بھی فرماتے تھے کہ
"چیز جتنی استعمال ہو ختم ہوتی جاتی ہے اور ہم اپنا دماغ ختم نہیں کرنا چاہتے۔ "
لیکن پھر بھی ہم شاید سب کو عقل مند لگتے تھے (شکل سے )تبھی تو جس کو دیکھو منہ اٹھائے ہم سے مشورہ مانگنے چلا آتا تھا، اور ہم بھی ایسے کھلے دل کے کہ کبھی نہ کہنے کو دل ہی نہ کرتا تھا۔۔
بڑی سوچ بچار کے بعد مشورہ دیا جاتا اور اس کو ثابت بھی کیا جاتا، کہ اگلا بندہ اپنے آپ کو انتہا درجے کا بے وقوف سمجھتے ہوئے سر ہلاتا جاتا اور اس بے وقوفی کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا جب اس پر عمل بھی کر لیتا۔۔۔۔ اب اگر نتیجہ ٹھیک نہ نکلے تو اس میں ہمارا کیا قصور۔
جب ہمارے پاس شکایت نامہ آتا بمع دو چار القابات کے تو ہم معصوم شکل بنا کر کہتے 
"ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہا تو نہیں تھا کہ اس پر عمل بھی کریں "
ایک بار رات کے وقت گھر میں مہمان آ گئے۔ ۔۔ اب ایک ہی بوتل تھی کوک کی اس وقت، کچن میں دو لوگ سر جوڑ کر بیٹھے تھے کہ اب کیا کریں،جیسے ریاضی کا کوئی سوال حل کر رہے ہوں۔ اور عقل مند اتنے کہ گلاسوں میں ڈال بھی چکے تھے۔ ۔
شوہر۔۔" اب کیا کریں، دکانیں بھی بند ہیں۔"
بیوی۔ ۔۔۔۔۔۔ "میں نے کہا بھی تھا کہ شربت بناتی ہوں، لیکن میری سنتا کون ہے۔ "
اتنے میں مابدولت کچن میں آئے اور ہم نے بڑی ہمدردی سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔ گلاسوں کو دیکھتے ہی بات سمجھ گئے (عقل مند جو ہوئے )
ہم نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے کہا کیوں پریشان ہو رہے ہیں تھوڑا تھوڑا پانی ملا دیجئیے۔ مہمان تو بے زبان ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
اب دونوں میاں بیوی ہم کو ایسی تشکرانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے ہم نے ان کو پرائز بونڈ نکلنے کی خوشخبری سنائی ہو۔۔۔ ہم نے بھی ایک احسان جتاتی ہوئی مسکراہٹ ان کی طرف اچھالی اور باہر نکل آئے۔ ۔۔
اب جناب مہمانوں کے سامنے کوک رکھی گئی۔ پی تو وہ گئے لیکن ہمارا اندازہ تھورا سا غلط ہو گیا کہ "مہمان بے زبان ہوتے ہیں۔ "
پہلا سپ لیتے ہی فرمانے لگے آج کل تو کوک بھی دو نمبر آتی ہے "
ہم نے اس کمرے سے باہر نکلنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ چار خونخوار نگاہیں ہمیں بری طرح گھور رہی تھیں۔۔
مہمانوں کے جانے کے بعد معاملہ گھر کے بڑوں تک پہنچ گیا۔ ہماری طلبی ہوئی۔ ہم معصوم سی شکل بنائے کھڑے تھے۔ ڈانٹ کر پوچھا گیا کہ یہ حرکت کس کی تھی۔ ہم نے معصومیت سے ان دونوں کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔ بھئی ہم نے کچھ کیا ہی نہیں تھا۔
ان دونوں نے جھٹ سے بول دیا کہ مشورہ تو آپ کا ہی تھا۔ اور ہم دل میں سوچ رہے تھے کہ لوگ کیسے احسان فراموش ہوتے ہیں۔ اتنی بڑی مصیبت سے نکالا اور ہم پر ہی الزام
ہم نے جواب دیا
"مشورہ ہی دیا تھا آپ نہ مانتے ،ماننے کا تو نہیں کہا تھا "
اور جھٹ وہاں سے غائب ہو گئے کہ اس کے بعد کچھ مزید القاب سنے پڑتے۔ 
اب آپ ہی بتائیے اس میں ہمارا کیا قصور
ایسے ہی ایک بار ہمارے گھر کا پنکھا خراب ہو گیا۔۔ اباجی نے اس کی موٹر کھولی اور مکینکی دکھانے لگے۔ ہم بھی شروع سے تھوڑے مکینکانہ ذہن والے ہیں تو ہم بھی کھڑے ہو گئے ان کے سر پر۔ ساتھ ہمارے ایک بھائی صاحب ابا جی کی مدد کر رہے تھے۔ 
اب اباجی ایک تار کو پکڑ کر دوسری کے ساتھ جوڑ رہے تھے ہم سے رہا نہ گیا
ہم۔ ۔۔۔۔۔ "اباجی یہ تار اس کے ساتھ نہیں نیلی والی کے ساتھ جوڑیں۔ ۔۔"
اباجی۔۔۔۔۔۔۔ "ہیں تمہیں کیسے پتا کہ یہ تار اس سے جوڑنی ہے۔ ۔"
ہم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ذرا سا مسکراتے ہوئے )"ہم نے دیکھا ہے یہ وہیں سے اتری ہے۔ ۔"
اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمم
بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالو جان نہیں یہ تار یہاں نہیں جڑے گی۔ شارٹ ہو جائے گا۔
اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(خفا ہوتے ہوئے )ارے وہ کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہو گی۔
بھائی صاحب۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو کیا پتا
ہم۔۔۔۔۔۔۔اباجی ہمیں پتا ہے ہم نے دیکھا ہے۔ (ساتھ ہی نیچا منہ کر کے چل دئیے )
اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر آؤ۔
اور اباجی نے بھائی صاحب کے نہ نا کرتے ہوئے تار نیلی تار سے جوڑ دی۔ ۔۔
د۔۔ممممم۔۔۔۔ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سارے گھر کی لائٹس بند۔
لائٹ آنے کے بعد اباجی کی تقریر شروع ہو چکی تھی۔ سب سننے کے بعد ہم نے نہایت معصومانہ عرض کی
ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہا تو نہیں تھا کہ عمل کریں،آپ نہ مانتے ہماری بات۔ ۔۔۔
اب آپ خود ہی بتائیں کہ ہمارے مشورے برے ہوتے ہیں یا لوگ ہی اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتے 
اگر تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ 
جب جی چاہے مشورہ مانگ کر دیکھیے 
٭٭٭

مولانا فتوری

بابر ندیم



مولانا کا اصل نام تو شاید تاریخ کے صفحات میں ایسا گُم ہوا ہے کہ تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔البتہ وطن مالوف میں مولانا کو "مولانا فتوری" کے مبارک نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ مولانا کی فتور پھیلانے کی وہ بے مثال صلاحیتیں ہیں،جن کو بیان کرنے کی حاجت نہیں ہوتی،اور جن کا اعتراف مولانا کے معتقدین کم اور مخالفین زیادہ کرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ مولانا کو جس جلسے مین بھی مدعو کیا جاتا ،مولانا اپنی تقریر سے ایسا روح پرور سماں باندھتے کہ مختلف عقائد کے لوگ دیوانہ وار نعرے لگا تے ،ڈنڈے اُٹھائے دوڑے چلے آتے اور آپس میں باہم بدست و گریباں ہو جاتے ، دور سے دیکھنے پرایسا معلوم ہوتا جیسے لوگ عید مل رہے ہوں۔تھوڑی دیر بعد پولیس والے بھی عقیدت کے جذبے سے سرشار ہو کر ہلہ بول دیتے اور لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اپنی گاڑیوں میں ڈالنے لگتے۔ مولانا ایسے مواقع پر ہمیشہ کھسک لیا کرتے۔ 
خاص طور پر محرم الحرام کے دنوں میں مولانا کو نقص امن کے خدشے کے تحت حفظ ماتقدم کے طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا۔ جہاں مولانا پولیس کے مہمان ہوتے اور پولیس کے نذرو نیاز کے نیک جذبے کے تحت عوام سے چھینے گئے مُرغ مسلم اُڑاتے۔مولانا کا قول ہے کہ "مرغ تو میں جیل سے باہر بھی کھاتا ہوں،مگر پولیس کے حلالی مُرغوں کا سواد ہی کچھ اور ہے۔ "
پولیس میں بھی مولانا کے ارادت مند قابل لحاظ تعداد میں موجود تھے ، جو مولانا کے پاس پابندی سے ہر روز حاضری دیتے اور مولانا ان کو فن فتنہ گری سے روشناس کراتے۔ 
مولانا فتوری کو اس بات کا گلہ ضرور تھا کہ زمانے نے ان کی قدر نہیں کی ،مگر اس بات پر اطمینان بھی تھا کہ وہ خود کونسا زمانے کو قابل توجہ گردانتے ہیں۔یعنی حساب برابر۔جب بھی زمانہ انہیں ٹھوکر مارتا ،وہ جوابی کاروائی میں ذرا تحمل نہ دکھاتے اور فوراً زمانے کو جوابی ٹھوکر رسید فرماتے۔ متواتر ٹھوکروں اور جوابی ٹھوکروں کی بدولت ان کے پاؤں کا انگوٹھا اکثر زخمی رہتا۔مگر مولانا جن میں لاپرواہی کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی ،اپنے زخموں کی چنداں پرواہ نہ کرتے۔ ان کا خیال تھا کہ دل پر لگنے والے زخموں کے سوا دوسرے زخم توجہ کے لائق نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بے توجہی تو دیکھتے ہوئے زخموں نے بھی ان کی پروا نہ کی ،جس کی بدولت مولانا کو عین عالم شباب میں اپنے انگوٹھے سے محروم ہونا پڑا۔
مولانا فتوری کو مذہب سے بھی گہرا لگاؤ ہے ،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ترقی کا زینہ طے کرنے کے لیے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا ،حتیٰ کہ مذہب ان کا اوڑھنا اور بچھونا بن گیا۔البتہ کھانے میں انہیں مرغ مسلم اور دیکھنے میں کترینہ کیف پسند ہے۔ چاول پلیٹ میں کھانے کے بجائے خاص طور پر تیار کر دہ تھال میں کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس تھال کے طول و عرض کو ناپنے کی آج تک جتنی بھی کوششیں کی گئیں ،تمام رائیگاں ثابت ہوئیں۔ بقول مولانا اس تھال میں کھانے کا مقصد عوام الناس کو بھی اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرنا ہے۔ عوام البتہ انتہائی عقیدت و احترام کے جذبہ سے مغلوب ہو کر ایک ہی نوالہ اُٹھا نے پر اکتفا کرتے 
۔عوام کی عدم دلچسپی کو دیکھ کر مولانا کو مجبوراً پورا تھال اکیلے ہی ختم کرنا پڑتا۔ 
یہ با ت طے تھی کہ مولانا کو دنیاوی آسائش اور مال و دولت سے کوئی سروکار نہ تھا ،وہ اکثر اپنی تقاریر میں اپنے معتقدین کو دنیاوی خرافات سے دور رہنے کی تلقین فرماتے۔ البتہ دین کے نام پر حاصل کی گئی دولت کو اس اصول سے مستثٰنی قرار دیتے۔ نجانے کیوں مولانا کو بچپن ہی سے چاند سے ایک خاص قسم کی انسیت سی ہو گئی تھی۔سننے میں آیا ہے کہ مولانا کے گھر والے ان کی پیدائش پر انہیں چاند کہ کر پُکارنے لگے البتہ چند روز بعد جب مولانا نے اپنا اصل رنگ و روپ نکالا تو قرابت دار نجانے کیوں مولانا کو چاند کہنے سے کترانے لگے۔ مولانا البتہ چاند مانگنے سے کبھی باز نہ آئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مولانا ہر تقریر کے بعد چن دے ،چن دے ،چندے کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں۔ 
مولانا کو جائیداد اور سیاست وراثت میں ملی ہیں ،اسلیے سیاست کو بھی وہ جاگیر سمجھ کر برتتے ہیں اور سیاسی قلابازیاں لگانے مین کوئی عار نہیں سمجھتے ،ویسے تو ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگانے میں بندروں کو ملکہ حاصل ہے۔ مگر مولانا کی سیاسی قلا بازیوں کے سامنے بندر بھی عاجز نظر آتے ہیں اور کانوں کو ہاتھ لگاتے دیکھے اور سُنے گئے ہیں۔ البتہ معتقدین کے اندھے اعتقاد میں اب تک کوئی فرق دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔سیاست کے بارے میں مولانا کا سنہری قول ہے کہ کترینہ کیف ایک فلم میں جتنی بار کپڑے بدلتی ہے سیاستدان اگر اتنی بار اپنی پارٹی نہ بدلے تو اس کے سیاستدان ہونے پر شک کرنا چاہیے اور اگر بدل لے تو اس کے با کر دار ہونے پر۔ البتہ خود کو وہ یہاں بھی اس اصول سے مستثٰنی قرار دیتے ہیں۔ 
مولانا کو کترینہ کیف کے مسلمان ہوتے ہوئے بے حجاب نظر آنے پر سخت اعتراض تھا ،یہی وجہ ہے کہ مولانا فارغ اوقات میں ،جو کہ انہیں اکثر حاصل رہتے تھے۔ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کترینہ کی فلم لگا کر کترینہ کو بے حجابی ترک کرنے کا مشورہ دیتے رہتے۔ سکرین پر مولانا کو جہاں جہاں بے حجابی نظر آتی،وہاں وہاں ان کی طبیعت میں جلال آ جاتا اور مولانا غصے کی حالت میں کانپتے ہاتھوں سے ریموٹ پکڑ کر فلم کے قابل اعتراض مناظر کو آگے پیچھے کر کے دیکھتے اور لا حول ولا پڑھتے رہتے۔ فلم کے آغاز میں مولانا کی زبان سے اکثر "لاحول ولا" اور "مر بے حیا" جیسے الفاظ ادا ہوتے۔ اور آخر میں "سبحان اللہ" اور "مرحبا" جیسے الفاظ خارج ہوتے۔ فلم ختم ہونے پر مولانا اس امید کا برملا اظہار کرتے کہ ایک دن وہ کترینہ کیف کا فہم اسلام درست کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے ،پھر فرماتے "دوشیزہ" میں حیا کی تھوڑی سی کمی ہے ، مگر کمبخت ہے بلا کی حسین،مستقبل میں مولانا کا ارادہ "بپاشا با سو " کو مشرف بہ اسلام کرنے کا بھی تھا۔
مولانا کو حلال چیزوں سے خاص رغبت تھی ،حلالہ کا نام سنتے ہی اپنی جگہ سے اُچھل پڑتے اور ان کی باچھیں کھل جاتیں اور ان کی آنکھوں میں گلابی ڈورے ناچنے لگتے اس سلسلے میں اپنی خدمات وقف کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے۔ اپنی تقریر کا آغاز ہمیشہ "حلالہ کی برکات" سے کرتے۔ طبیعت میں تجسس کا عنصر بدرجہ اتم موجود تھا۔اسی بنا پر ارادت مندوں کے گھریلو حالات جاننے میں غیر ضروری دلچسپی دکھاتے اور تنازعات کی ٹوہ میں لگے رہتے ،اور اکثر اپنے ارادت مندوں کو تلقین کرتے "گھر میں کوئی مسئلہ ہو تو بتایے گا " اور اگر کوئی معتقد اس غلطی کا ارتکاب کر بیٹھتا تو مولانا اپنی خُداداد صلاحیتوں کو کام میں لا کر اس معمولی مسئلے کو "حلالہ" تک پہنچا کر ہی دم لیتے۔ مولانا کے اکثر دوست بڑے فخر سے مولانا کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "مولانا کے ہوتے ہوئے انہیں دشمنوں کی کوئی ضرورت نہیں"۔
مولانا کو مذہبی علوم پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔علم القرآن،علم البیان،تفسیر القرآن اور حدیث کے علاوہ فقہ کا نام بھی سن رکھا تھا۔ اور اپنی گفتگو میں اکثر ان علوم کا نام لے کر اپنے معتقدین کو جو کہ اکثر ان پڑھ تھے اپنی علمیت سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے۔ اگر غلطی سے کوئی تعلیم یافتہ صاحب علم ان کی محفل میں آ جاتا تو مولانا نامعلوم وجوہات کی بناٴ پر فوراً مراقبہ میں چلے جاتے اور پکارنے کے باوجود بھی جواب نہ دیتے جب تک کے وہ صاحب چلے نہ جاتے ،اور پھر چونک کر پُوچھتے کہ کیا کوئی آیا تھا۔
مولانا کو جن علوم پر دسترس کا دعویٰ تھا, ان میں سے ایک کشف القبور بھی تھا۔ اکثر قبرستان سے گذرتے ہوئے کسی قبر کی طرف اشارہ کر تے ہوئے انکشاف فرماتے کہ اس قبر میں ہیروئنچی ہے ،قریب جا کر دیکھنے پر معلوم ہوتا واقعی ہیروئنچی بیٹھا ہیروئن کے کش لگا رہا ہے۔ رات کو وہی ہیروئنچی مولانا کے والد کی درگاہ پر بیٹھا سگریٹ میں ہیروئن بھر رہا ہوتا۔ مولانا کا دعویٰ تھا کہ اکثر رات کو خواب میں کوئی نہ کوئی ولی اللہ آ کر انہیں بتاتے ہیں کہ میری قبر فلاں مقام پر ہے اس جگہ کی کھدائی کرا کر میری قبر کی تعمیر نو کر ادو۔ مولانا صبح ہوتے ہی اپنے مبارک خواب کا اعلان فرما دیتے جو لوگ مولانا کو جانتے تھے وہ ان کی بات پر فوراً یقین کر لیتے اور جو زیادہ جانتے تھے وہ کبھی یقین نہ کرتے۔ مولانا علاقے کے لوگوں کی معیت میں خود جا کر اس جگہ کی نشاندہی فرما تے ،جو جگہ بقول ان کے ولی اللہ نے خواب میں بتائی ہوتی اور اپنی نگرانی میں قبر اور درگاہ کی تعمیر کیلئے زمین کی حد بندی کرتے ایسی جگہیں اکثر ان کے مخالفین کی ملکیت ہوتیں۔ مولانا کہ مخالفین ان کی اس حرکت سے سخت نالاں تھے اور مولانا کو نیند نہ آنے کی دعائیں منگا کرتے۔ 
الغرض مولانا کی خصوصیات کا احاطہ ایک نشست میں کرنا ممکن نہیں،اس کیلئے ایک دفتر چاہیے۔ 
٭٭٭


میری نظر میں میرے لوگ 

عتیق الرحمن

آج بحیثیت ایکٹو ممبر میرا ون اردو پر آخری دن ہے۔ الوداعی کی پوسٹ میں ایک دوست نے کہا تھا کہ اس مقابلے میں حصہ ضرور لوں۔ وقت کی کمی تو ہے ہی لیکن کیا کریں "بھائی لوگوں کو خوش رکھنا کوئی اتنا آسان کام تھوڑے ہی ہے۔ " خیر یہ رہی میری پوسٹ، اس پوسٹ میں، میں جس کے بارے میں جیسا سوچتا ہوں یا وہ مجھے جیسا لگتا ہے اس حساب سے اس کا حال بیان ہو گا۔ چونکہ میں نے ان ممبران سے پیشگی اجازت نہیں لی اس لئے ان میں سے کسی کا نام بھی واضح نہیں کروں گا۔ بعد میں آپ کو پتا لگ جائے تو وہ اور بات ہے۔ تو شروع کرتے ہیں۔
ون اردو کے دادا جی:
انکی ہر پوسٹ ایسے لگتی ہے جیسے چھاننی سے چھانٹ کر نکالی گئی ہے۔ سنجیدہ باتیں بہت زیادہ کرتے ہیں اور جو مزاحیہ ہوتی ہیں ان پر ہنسنے سے پہلے بھی سوچنا پڑتا ہے یا ساتھ والے سے کہنا پڑتا ہے کہ ہنسنے والی بات ہوئی تو مجھے بھی بتا دینا۔ فورم کی حالت ٹھیک رکھنے کی طرف دھیان دیتے رہتے ہیں۔ اور ممبران کی اصلاح پر بھی توجہ دیتے رہتے ہیں۔ اگر یہ کسی کو یہ بھی کہیں گے نہ کہ "تمہارے لئے یہی بہتر ہے ابھی سدھر جاؤ" تو ساتھ میں ہی لکھا ہو گا " اگر میں آپ کی کچھ اور مدد کر سکوں تو بتائیے گا۔"
مس ڈینجرس گڈز:
یہ بہن ہماری بہت ہی اچھی ہیں اور میں دل سے ان کا احترام کرتا ہوں۔ بہت ہی زیادہ دور اندیش ہیں۔ ابھی تک جتنا بھی پتا لگا ہے ان کی ابھی نسبت بھی کہیں نہیں قائم ہوئی اس لئے پہلے ہی سے ڈینجرس گڈز کا کورس کر رہی ہیں۔ اللہ کرے ان کو اچھا سا دولہا ملے تا کہ ان کو ان کے اس کورس کا استعمال ہی نہ کرنا پڑے۔ پھر بھی دولہا بھائی تو راہ راست پر قائم رکھنے کے لئے ان کا یہ کورس بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاہاہاہاہا
مسٹر سیریس خان:
یہ بھائی بھی بڑی محبت والے ہیں۔ اور اگر ان سے کچھ پوچھ بیٹھو تو پہلے دو منٹ بالکل خاموشی سے گزریں گے۔ سوال کرنے والا سمجھے گا کہ اس نے ان کو ہرٹ کر دیا ہے۔ لیکن پھر وہ ہمارے بھائی بولیں گے اور کہیں گے " فاخرہ بتول" نے اس سیچویشن کی اس شعر میں بڑی خوبی سے منظر کشی کی ہے اور ساتھ میں پوری نظم سائل کے گوش گزار۔
بھائی سفر نامہ:
یہ صاحب بڑے ہی چست قسم کے انسان ہیں اور اتنے زیادہ چست ہیں کہ کہیں پر ان کا دس منٹ سے زیادہ ٹکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی تھریڈ میں بات ہو رہی ہو گی تو یہ "گواچ" جائیں گے۔ ویسے بھی یہ اکثر و پیشتر گواچے رہتے ہیں اور جب واپسی ہوتی ہے تو سب سے پہلی پوسٹ میں سفر نامہ لکھا ہوتا ہے۔ 
تڑکا بھائی:
یہ ہمارے ایسے بھائی ہیں کہ ہر بات پر تڑکا لگا دیتے ہیں۔ ایک دن ان کی زوجہ محترمہ نے جو سالن پکایا وہ آدھے سے زیادہ جلا ہوا تھا۔ بھائی جان بڑے غصے میں بولے کہ یہ سالن کیسے پکایا ہے۔ بھابھی تو خاموش رہیں ہاں گھر والوں کی طرف سے آواز آئی " تڑکا لگا کے " اور اس کے بعد ایک قہقہہ تھا جو رکنے کا نام نہ لیتا تھا۔
اچھے بھائی:
یہ ہمارے بھائی بہت ہی اچھے ہیں۔ ظاہر ہے تین شادیوں پر بھی نہیں سدھرنا تو پھر کب سدھرنا ہے۔ ان سے ہماری اکثر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ ایک دن بولے " عتیق بھائی آپ بھی کوئی شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ " ہاہاہاہا
کھڑاک والے :
ان بھائی صاحب کی بھی بڑی زبردست کہانی ہے۔ ایک دفعہ اپنی بھاگاں سے ملنے گئے تو دروازہ کھڑکایا ہی تھا کہ ان کے ابا سامنے آنے پر ان کے دل کے سارے کھڑاک ہل کر رہ گئے اور وہ دن اور آج کا دن انہوں نے ٹھان لی ہے کہ اب بھاگاں کے پاس جائیں گے تو پورے "کھڑاک" کے ساتھ جائیں گے اور اسے ساتھ لے آئیں گے۔ 
اچھی بہن:
یہ بہن واقعی میری بہن جیسی ہی لگتی ہیں۔ ہر وقت ان کو میرے "ویاہ" کی فکر رہتی ہے۔ اور کئی بار یہ اعلانیہ بھی کہہ چکی ہیں کہ "عتیق بھائی اپنی شادی میں ہمیں مت بھولنا" اور ایک دفعہ تو یہ عتیق بھائی کھپے کا بھی نعرہ لگا چکی ہیں۔ اللہ خیر کرے۔ 
جیسے پہلے عرض کی تھی کہ یہ مزاحیہ تحریر ہے ، لیکن پھر بھی اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میری طرف سے " بوری بھر کر ایڈوانس میں معذرت۔" ویسے سچ پوچھیں تو مجھے جتنی محبتیں ملی ہیں ان کی بنیاد میں کہہ سکتا ہوں کہ اوپر جن جن کا بھی ذکر کیا ہے وہ اس پوسٹ پر ایک دفعہ بے اختیار ضرور ہنسیں گے۔ 
خوش رہیں اور دوسروں کی خوشی کی وجہ بنیں۔
اللہ حافظ۔
٭٭٭


نفسیاتی مسائل اور ان کا حل 

غالب خستہ



حکیم صاحب میں کافی عرصے سے آپ کے کالم پڑھتی چلی آ رہی ہوں۔ لوگوں کو دیئے گئے آپ کے مشوروں اور تجاویز سے میں بہت فائدہ اٹھا چکی ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے ، خیر مسئلہ میرا تو نہیں بلکہ میرے شوہر کا ہے جو کہ کچھ عرصے سے عجیب و غریب قسم کی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو چکا ہے۔ خصوصاً جب سے ان کے ایک قریبی دوست کی شادی ہوئی ہے تب سے وہ چڑچڑے ہو گئے ہیں۔ ان کی عادتیں دن بدن بگڑتی جا رہی ہیں-
مثلاً صفائی سے انہیں پہلی جیسی رغبت نہیں رہی۔ اب کپڑے دھونے ، برتن مانجھنے اور کمروں کی جھاڑو پونچھ میں ان کا جی نہیں لگتا- میں کئی صابن اور ویکیوم کلینر بدل کر دیکھ چکی ہوں کسی سے بھی افاقہ نہیں ہوا۔۔
اس کے علاوہ علم و ادب سے بھی اب انہیں چڑ سی ہو گئی ہے۔ خود تو گھر کے کاموں سے مصروفیت کی وجہ سے وہ کچھ پڑھ نہیں سکتے ، اب مجھے بھی سارا سارا دن خواتین ڈائجسٹوں اور دیگر فلمی رسالوں سے اکتسابِ فیض حاصل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنانے لگے ہیں۔
نفسیاتی مریضوں کی طرح وہ تنہائی پسند اور لوگوں سے میل جول کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں۔ روزانہ دس گیارہ مرتبہ سہیلیوں سے فون اور نیٹ پر چیٹنگ کے دوران بار بار مجھے ٹوکتے ہیں۔ ہجوم اور بھیڑ والی جگہوں یعنی بازار اور مارکیٹ میں اختلاجِ قلب کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے اب مجھے روزانہ شاپنگ پر لے جانے سے بھی معذرت کرنے لگے ہیں۔۔
اس کے علاوہ وقت بے وقت ان پر نیند کے دورے بھی پڑنے لگے ہیں۔ میں کوئی بات شروع کروں تو بیس پچیس منٹ بعد ہی میری بات ختم ہونے سے پہلے ہی ان پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے ، خیر شاید یہ میری آواز کی نغمگی کی وجہ سے ہو جو ان پر لوری کا سا اثر کرتی ہو، اور کیوں نہ کرے آخر روزانہ کئی گھنٹے ٹی وی اور ڈیک پر میوزک سے مستفید ہونے اور ریاض کرنے سے اتنا اثر تو آنا ہی چاہئیے۔ ۔ علاوہ ازیں ان کی بھوک بھی مر گئی ہے۔ روزانہ اب ہوٹل سے کھانا بھی نہیں منگواتے اور میں جو اتنی محنت امی سے فون پر پوچھ پوچھ کر، ڈالڈا کا دسترخوان پڑھ پڑھ کر اور ہاتھ جلا جلا کر ہر مہینے ایک دو دفعہ کھانا تیار کرتی ہوں اس کا بھی ایک ہی لقمہ کھا کر ان کی بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ خدارا ڈاکٹر صاحب اس کا کوئی شافی حل بتائیں؟
جواب:
عزیزہ آپ کے بیان کئے گئے احوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا شوہر نہایت خطرناک قسم کی کیفیت کا شکار ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دوست کی شادی کسی دقیانوسی خاتون سے ہوئی ہے جو پرانے زمانے کی خواتین کی طرح کھانا خود پکاتی، برتن وغیرہ خود دھوتی، اور شوہر کو اپنے سر کا تاج سمجھتی ہے۔ آپ کے شوہر کا یہ دوست آپ کے میاں کو اپنے گھر کے حالات سنا سنا کر آپ کی ازدواجی زندگی میں زہر گھول رہا ہے۔ فی الفور اس دوست نما دشمن سے اپنے شوہر کا تعلق ختم کرائیں۔ نیز ہمارے مطب سے "شربتِ زن مرید" منگوا کر صبح شام دو چمچ اپنے میاں کو پلائیں، انشاء اللہ افاقہ ہو گا۔
(2)
حکیم صاحب میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں اور آج کل شدید قسم کے احساسِ کمتری کا شکار ہو گیا ہوں۔ میں خود کو ایک ابنارمل انسان سمجھتا ہوں اور اس بنا پر میں نے لوگوں سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ آپ ہی میرے لئے امید کی آخری کرن ہو اگر آپ نے بھی میری مدد نہ کی تو شاید میں اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو لوں۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ پڑھائی میں میرا دل بہت لگتا ہے۔ کتابوں کی طرف میرا دل کھنچتا چلا جاتا ہے - وقت بے وقت سٹڈی کرنے کی عادت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہا۔ مجھے یہ بات ہضم کرنی مشکل ہو رہی ہے کہ میں ہر امتحان آسانی سے پاس کر لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ میرے ذہن میں نجانے کیسے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ہر لیکچر اٹینڈ کرنا ضروری ہے - جو ایک دفعہ پڑھ لوں وہ سبق بار بار کوشش کرنے سے بھی ذہن سے نہیں نکلتا۔ لیکن ان سب سے زیادہ کرب اور ذہنی اذیت والی بات یہ ہے کہ مجھے رات کو نیند بھی سکون سے آ جاتی ہے اور صبح سویرے ہی آنکھ کھل جاتی ہے۔ صبح دیر تک سونے کی نعمت سے محروم ہوں۔ حالانکہ میرے ساتھیوں اور ہم جماعتوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرتا۔ سب نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی بھی پڑھائی میں وقت برباد نہیں کرتا۔ ہر امتحان آرام سے دو دو دفعہ دیتے ہیں۔ ساری ساری رات فون پر باتیں کرتے اور ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔
میں بہت پریشان ہوں- اور سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ مجھے بھوک بھی بہت لگتی ہے۔ کھانا پیٹ بھر کے کھاتا ہوں۔ سگریٹ اور نسوار جیسی انمول شے کی طرف بار بار کوشش کرنے پر بھی طبیعت مائل نہیں ہوتی۔ اور تو اور میری صحت بھی بہت اچھی ہے۔ خدارا میری مدد کریں ؟
جواب:
آپ کا مسئلہ واقعی سنگین ہے۔ آپ ایک خطرناک بیماری " نارمل سٹیٹ آف مائینڈ " کا شکار ہو گئے ہیں۔ آج کل یہ بیماری بہت رئیر ہے۔ آپ کے ساتھیوں کی بیان کر دہ حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کوایجوکیشن میں پڑھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ مسئلہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ آپ نہ صرف کتابوں جیسی ضرر رساں چیز میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لے کر اپنا وقت برباد کر رہے ہیں، بلکہ اپنے ارد گرد کی دلچسپیوں میں دلچسپی نہ لے کر اپنے ساتھیوں کیلئے ایک غلط اور ناگفتہ بہ مثال قائم کر رہے ہیں۔ میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ فوراً سے پیشتر کسی قریبی ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں تا کہ وہ خود ترغیبی اور تحلیلِ نفسی کا عمل کر کے آپ کی جہنم زار زندگی کو جنت بنا دے۔ آپ نے شعر تو سنا ہو گا کہ
؎عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
لہذا فورا ہمارے مشوروں ہر عمل کر کے اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کریں۔ نیز ہمارے مطب سے آپ فی الفور چند ڈائجسٹ اور ہندی اور انگریزی فلمیں منگوا لیں۔ اور روزانہ دو سے تین فلمیں بلا ناغہ دیکھیں۔ سٹڈی کی لت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہ نہایت آزمودہ اور تیر بہدف نسخہ ہے۔ آپ علاج میں تاخیر نہ کریں ورنہ یہ بیماری بڑھ کر سینڈروم کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ میں آپ کی صحت کیلئے دعاگو ہوں۔
(3)
حکیم صاحب میں اپنے بیٹے کا مسئلہ لیکر حاضر ہوا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فقیر جدی پشتی رئیس ہے اور قیامِ پاکستان سے اس علاقے کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں ہمارے ہی خاندان میں رہی ہیں۔ خاندان کا واحد چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے ہم سب کی امیدوں کا مرکز میرا بیٹا ہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ بھی اپنی خاندانی روایات کو زندہ رکھتا اور موروثی سیاست میں حصہ لیکر خاندان کے کاروبار اور دولت کو بڑھاتا لیکن بدقسمتی سے صاحبزادہ بری صحبت کا شکار ہو گیا ہے اور اس پر عوام کی خدمت کے دورے پڑنے لگے ہیں۔ باپ دادا کی سیاست سے کمائی گئی دولت اور عزت کو بیچ چوراہے میں غریب عوام پر لٹا رہا ہے۔ خدا جانے کس کی نظر لگ گئی ہے ورنہ تو ہم نے اس کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ پیدا ہوتے ہی خاندان کے بزرگ نے اس کے منہ میں سونے کا چمچ دے دیا تھا اور غریبوں کا سایہ بھی اس پر نہیں پڑنے دیا گیا تھا۔ خدا را حکیم صاحب اس کی صحت یابی کیلئے کوئی آزمودہ نسخہ بتائیں۔ اس کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ اللہ معاف کرے کئی دفعہ تو اس کے منہ سے جاگیردارانہ نظام کے خلاف بھی باتیں سن چکا ہوں۔ کئی دفعہ سختی سے ٹوک دیا ہے کہ یہ کیا کفر بول رہے ہو لیکن اس پر اثر نہیں ہوتا۔
جواب:
محترم رئیس صاحب! اگرچہ آپ نے اپنے خط کے ساتھ جوابی لفافہ ارسال نہیں کیا تاہم آپ کی خاندانی دولت اور سیاسی اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ہم مطب کے اصولوں کے خلاف اپنے ذاتی خرچ پر جواب بھجوا رہے ہیں۔ کیا تعجب کہ کسی دن ہماری یہی نیکی ہمارے کام آ جائے اور آپ حکومتی فنڈ کا کچھ حصہ اس ناچیز پر بھی خرچ کر لیں۔
جناب! صاحبزادے کے احوال کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔ یہ مجھے عالمی یہودی سازش کا کوئی حصہ لگتا ہے کہ جس کا شکار ہو کر آج کل کے نوجوان اپنے ہی خاندان اور اپنی روایات کے خلاف بولنے لگے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ صاحبزادے کے کمرے سی فی الفور ہر قسم کی انقلابی لٹریچر ، انقلابی شاعری اور عوام کے حقوق کا پرچار کرنے والی زہریلی کتابیں اور مواد تلف کر دیں۔ نیز کچھ عرصے تک ان کا جیب خرچ بند کر دیں اور ان کی ڈگری ان کے ہاتھ میں تھما کر نوکری حاصل کرنے کے لیے جوئے شیر لانے والی مہم پر بھیج دیں۔ انشاءاللہ کچھ ہی عرصے میں جوتیاں چٹخا کر اور سرکاری دفاتر کے چکر لگا کر ان کی عقل ٹھکانے آ جائے گی اور نظام کو تبدیل کرنے والے خیالات خود بخود مُرجھا جائیں گے۔ اور صاحبزادے آپ کی خواہش کے عین مطابق راہِ چَپ پر آ جائیں گے۔ 
نیز اس کے علاوہ ہمارا مشورہ ہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں اور امید رکھیں کہ اس شادی سے اللہ آپ کو آپ کا کہا ماننے والی فرمانبردار طالح اولاد عنایت کرے گا۔ آپ کی مطلب براری کیلئے چند ادویات اور کشتے بھجوا رہا ہوں۔
دعا گو
حکیم جی
٭٭٭



نیم باز آنکھوں سے 

کائنات

ٹھیک سے یاد تو نہیں ہے کہ میں نے کب اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دنیا کو دیکھنا جانچنا شروع کیا۔
لیکن آنکھوں سے پٹپٹا کر دیکھنا تو شائد جھولے سے ہی شروع کر دیا تھا۔ اب اتنی پرانی خاک کیسے چھانوں کہ زیادہ جھولے میں ہی چھت کی طرف نظر کیے شہتیر گنتا رہتا تھا یا دائیں بائیں دیواریں جانچنا شروع کیں کہ ان کا پلستر، سفیدی صحیح ہے یا اکھڑا ہوا ہے یا ان پر ڈسٹمپر کس کلر کا ہونا چاہیئے۔ یا پھر ان لوگوں کو دیکھتا، جو مجھے عجوبہ سمجھ کر جھولے کے پاس چلے آتے تھے۔ جیسے کبھی جھولا یا جھولے والے نہیں دیکھے۔ 
یا پھر میں نے گود کی سواری زیادہ کی۔ کیونکہ جوائنٹ فیملی تھی اس لیے مجھے ہر طرح کی گود میسر تھی۔ پڑھے لکھوں کی بھی اور ناخواندہ کی بھی۔ اب آپ خود ہی سمجھ جائیں نا کہ پڑھے لکھوں کی گود میں جا کر میرے اندر تب ہی خواب پنپنے لگے ہوں گے کہ میں بھی ان کی طرح ڈاکٹر ، انجینئر، وکیل بنوں، کیونکہ ایکٹر، شاعر اور فنکار تو خاندان میں ناپید تھے ، اس لیے میں وہ خواب تو دیکھ نہیں سکتا تھا۔
اور دوسری طرح کے گودمین جو پڑھے لکھے نہیں تھے وہ یقیناً اندر سے تو بڑے ایجوکیٹڈ تھے ، ان سے مجھے ضرور خاندان کی روایات، سدا بہار محاورے ، اونچی ناکوں کے مسئلے ، خاندانی سیاست اور پتہ نہیں کیا کیا ملا ہو گا۔ ظاہر ہے وہ میرے لاشعور میں رچ بس گیا ہو گا۔ اب میں اپنا تجزیہ کرتا ہوں تو بظاہر ایک پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں، لیکن یہ کسی کو نہیں پتہ اور نہ ہی کبھی میں نے پتہ چلنے دیا کہ میں اندر سے کتنا میسنا ہوں۔ یقیناً مجھ پر یہ کرم نوازی ان ناخواندہ مہربانوں کی ہے۔ 
میں یہ ساری باتیں اندازوں کی بنا پر کر رہا ہوں۔ کیونکہ کبھی کبھی جب میں اپنی ذات کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہوں، تو مجھے اپنی ذات کی تشکیل میں یہ عوامل نظر آتے ہیں۔ کہ ایسا ہوا ہو گا ویسا ہوا ہو گا تبھی تو میری ذات کی ایسی نو رتن کھچڑی پکی ہے۔ 
ہاں تو۔ ۔۔ بچپن تو احمد لون بھائی کی طرح گودیوں کے سفر میں ہی گزر گیا۔۔ شکر ہے وہ بچپن تھا ورنہ میں تو گوڈوں گٹوں سے ہی رہ جاتا۔
کچھ خاندان کے ممبران نے مجھے بعد میں بتایا کہ میں نے ماں کا دودھ شوق سے پیا ہی نہیں۔ ماں کی بجائے بھینس کا دودھ مجھے زیادہ بھا گیا تھا اتنا زیادہ کہ اتنا تو بھینس کو بھی اس کی افادیت کا پتہ نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں ماں میرے اس نخرے پر بہت تلملائی تھی، کیونکہ انھیں اپنی ساس سے سننا پڑتا تھا کہ ہمارے زمانے میں تو یہ ہمارے زمانے میں تو وہ۔۔۔
سو اسی طرح زمانے کی ہوا پھانکتے پھانکتے اور گودیوں میں منتقل ہوتے ہوتے میں بھی کچھ بڑا ہو گیا۔ اور جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا۔ میں نے اپنی ذات میں بھی کچھ تبدیلی نوٹ کی۔ والدین نے تو یہ سکھلایا بتلایا تھا کہ دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھو لیکن میں کھلی آنکھوں سے تو شروع سے ہی دیکھ رہا تھا یہ کونسی نئی بات تھی۔ اب میں نے بلکہ دنیا کو اپنے من کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔
خاص طور پر جب سے میں نے میر کا یہ شعر پڑھ لیا۔
میر، ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے 
تو میں سوچنے لگا کہ یہ پینے پلانے کا معاملہ تو گڑبڑ ہے ، اور وہ بھی شراب کا۔۔۔ اور نہ ہی ابھی آنکھوں سے جام پینے کے زمانے آئے۔ لیکن میں اپنی ان آنکھوں میں دنیا کی رنگینیاں تو دیکھ بھر سکتا ہوں۔ اور دوسروں کے اندر جھانک سکتا ہوں۔
سو اب میں نے دنیا کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ دوسروں کی نظروں میں، میں ایک بڑا سلجھا ہوا بیبا لڑکا تھا۔ اور یہ کریڈٹ مجھے بغیر کسی محنت کے مل گیا تھا اس لیے میں اسے کھونا نہ چاہتا تھا۔ اسی چیز نے مجھے زیادہ فائدہ دیا کہ اس کی آڑ لے کر میں اپنے دل کی کر سکتا تھا۔
چھوٹی موٹی دل لگیاں اور شرارتیں تو میں نے گھر کے اندر ہی شروع کر دی تھیں تا کہ باقیوں کا ری ایکشن دیکھ سکوں، اور کوئی الٹا سیدھا کام کر کے پھر ایسا بن جاتا تھا کہ کسی کو شبہ تک نہیں ہوتا تھا۔ کہ یہ میری کارستانی ہو سکتی ہے۔ 
جیسے ایک دن ماں ہنڈیا پکا رہی تھی، میں ان سے کچھ فاصلے پر اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔ ماں گوشت بھون رہی تھی۔ اور مجھے پتہ تھا کہ ابا کو بھنا گوشت بہت پسند ہے ، اس لیے ماں اب لازمی اس میں سے کچھ بھنا گوشت نکال کر ابا کے لیے رکھ لے گی۔ اور باقی میں آلو یا کوئی سبزی ڈال کر حساب پورا کر لے گی۔ ابھی میں اماں ابا کی اس آپس کی لگاوٹ بارے سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ماں ہنڈیا چھوڑ کر کمرے میں گئی، تب نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں بھاگ کر گیا اور جگ میں پڑا پانی ہنڈیا کے اندر ڈال دیا۔ جو کہ ماں نے ابا کا حصہ نکالنے کے بعد اندر ڈالنا تھا۔ اور جلدی سے واپس آ کر اپنی جگہ بیٹھ گیا اور بظاہر پہلے کی طرح پڑھائی میں مگن ہو گیا۔
ماں واپس آئی اور جب ہانڈی میں ڈوئی گھمانے لگی تو اسے احساس ہوا۔ لیکن ماں نے اپنی ہتھیلی ماتھے پر دے ماری کہ
"میری تو مت ماری گئی یہ میں کیسے بھول کر پہلے ہی پانی ڈال گئی۔ "
اور میں اس دوران نیم باز آنکھوں سے یہ سب دیکھتا رہا۔ ماں کا دھیان ایک بار بھی اپنے اس سپوت کی جانب نہیں گیا۔ اور یہ مجھے اپنی کامیابی لگی میں نے دیکھ لیا کہ
ماں صبر والی ہے ،
دوسروں کو جلدی سے الزام دینے والی نہیں
اور ٹھنڈی طبیعت کی ہے۔ 
ورنہ۔ ۔ مسز ہما تنویر کی طرح ماں کی ڈوئی ہوتی اور میں رقص میں ہوتا۔
ایک دفعہ رات کے کھانے کے وقت گلی سے فقیر کی صدا پہ صدا آ رہی تھی، ماں نے مجھے بلایا اور کہا
" لو فقیر کو روٹی دے آؤ۔ "
میں چلا گیا دیکھا اس فقیر نے ایک لمبا سا کپڑے کا تھیلا اپنے کندھے سے لٹکا رکھا ہے۔ ظاہر ہے جس میں وہ سب شیر و مال ڈالتا ہو گیا۔ مجھے تجسس سا ہوا۔ اس نے کھانا لینے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور میں نے دینے کے بہانے اس کے تھیلے میں ہی منہ گھسیڑ لیا اور میری نیم باز آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا
" ارے تمہارے پاس تو چاول بھی ہیں، زردہ بھی ، روٹی بھی اور حلوہ بھی۔ پھر بھی تم مانگ رہے ہو ؟
اور وہ بے چارہ خاموش، تب مجھے اندازہ ہوا کہ میں نا دانستگی میں دوسروں کو لاجواب بھی کر سکتا ہوں۔ یہ اضافی خوبی نکلی۔ جس کا مجھے خود بھی علم نہ تھا۔
ایک بار میں سکول سے واپس گھر آ رہا تھا کہ نہ جانے کیا سوجھی کہ روز کا نارمل راستہ چھوڑ کر میں نے مارکیٹ کے بیچ والا راستہ لے لیا۔ اپنی دھن میں چلا آ رہا تھا کہ میں نے اپنے خالو جی کو دیکھا کہ وہ حلوائی کی دکان پر ہیں اور رنگ برنگی مٹھائی سے شغف فرما رہے ہیں۔ میں پہلے حیران ہوا۔ پھر ساری سٹوری سمجھ آ گئی۔ چٹورے کہیں کے۔ 
میں فورا خالہ کے گھر گیا اور ایسے ظاہر کیا جیسے خالہ سے ملنے آیا ہوں اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے یہ خالو کا سیکرٹ بھی ان سے سرسری انداز میں بیان کر دیا۔ خالہ مسکرائیں، پر میرے دل کی نہ ہوئی۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور اگلے روز میں پھر اسی راستے پہ جا نکلا اور سوئے اتفاق کہ خالو پھر وہاں موجود تھے ، آج خالو پھر دودھ دہی والے کی دکان پر بڑا گلاس لسی کا اپنے اندر انڈیل رہے تھے۔ اب تو ان کے اس کھانے پینے بارے مجھے کوئی شبہ نہ رہا تھا۔ برا بھی لگا کہ۔ ۔۔ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ یہ تو اپنی ہی دھن میں مست ہیں۔ سو میں پھر غڑاپ سے خالہ کے آنگن میں کود پڑا۔ آج خالہ سن کر مسکرائیں نہیں۔ خاموش رہیں۔
لیکن اب یہ ہونے لگا کہ میں خالو کی ٹوہ میں رہنے لگا، بلکہ مجھے تجسس ہوتا کہ خالو آج کیا کھا رہے ہوں گے اور مجھے جیسے ہی علم ہوتا۔ میں بہانے بہانے سے جا کر خالہ کے گوش گزار کر آتا۔ اب خالہ کے چہرے پر پہلے دن والی مسکراہٹ نہ رہی تھی بلکہ سنتے ہی ماتھے پر تیوری پڑنے لگی تھی۔ جلد ہی میں نے خالہ کی جانب اب بھولے بھٹکے سے جانا چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ آگ سلگ چکی تھی اور وہاں دھماکے ہونے لگے تھے۔ اور میرا مقصد بھی پورا ہو گیا تھا۔ اگر میں بر وقت اپنے آپ کو نہ روکتا تو یقیناً خالہ کا، ہما جی کی طرح چٹاخ ہوتا اور ستاروں کا جہاں ہوتا۔
میں نے دیکھ لیا تھا کہ
خالو ایک خودغرض قسم کے انسان ہیں۔ جنہیں سوائے اپنے اور کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
اور خالہ بارے بھی کہ
وہ کتنی جلدی میری باتوں میں آ گئیں۔
کل کو کوئی اور بھی بڑے آرام سے ان کو اپنی باتوں کے جال میں الجھا سکتا ہے۔ 
اب کہاں تک میں اپنے تجربے آپ کو بتاتا رہوں۔
میں نے اپنی ان چمکتی آنکھوں سے بہت دنیا کی چکا چوند دیکھی اور تجربے کیے۔ اب میرا وہ دور گزر گیا ہے۔ میں اچھا پڑھ لکھ گیا ہوں۔ اماں ابا کیا کسی کو بھی نہ تو پہلے مجھ سے کوئی شکایت تھی اور نہ ہی اب ہے۔ البتہ ان نیم باز آنکھوں سے میں نے جو دنیا دیکھی تھی۔ اب وہ میری عملی زندگی میں شامل ہو گئی ہے۔ کہ
میں نہ تو اماں کی طرح کبھی اپنے آپ کو الزام دیتا ہوں۔
نہ ہی خالو کی طرح خود غرض انسان ہوں۔
نہ ہی خالہ کی طرح ایک دم دوسرے پر بھروسہ کر لیتا ہوں۔
اب مجھے اپنی کہانی یہیں ختم کرنا ہو گی۔ کیونکہ میری نیم باز آنکھیں اس وقت اور بھی نیم باز ہوئی جا رہی ہیں۔ عقلمندو، سمجھ جاؤ نا اب مجھے نیند آ رہی ہے۔ ۔ ۔ 
٭٭٭


چاند بابو چلے شہری چال 

جرار


کبھی کوئی دن انسان کی زندگی میں خواب کی مانند بھی ہوا کرتا ہے۔ ہر کسی کی زندگی میں ایسا ایک دن ضرور آتا ہے۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسا دن آیا۔
میں چاند عرف کالا، ہاں جی رنگت ذرا دبی دبی سی تھی، ویسے ابّے سمیت سب کہتے تھے کہ شخصیت بھی ذرا دبی دبی سی ہے۔ خیر جی، میں نے اپنی حیاتی میں ایک دن خواب کی صورت گزارا، ایک بھیانک خواب، میں اپنی کہانی اپنی زبانی بتاتا ہوں۔
میرے ابّے کا ایک دوست بڑا آدمی تھا شہر میں اچھی کوٹھی میں رہتا تھا۔ میرے ابّے نے تو پڑھائی کی ساری عمر آم توڑنے اور تالاب سے مچھیاں پکڑنے میں گزار دی ورنہ شاید ہم بھی آج شہر والے ہوتے۔ 
ابّے کے دوست کی بیٹی کی شادی تھی، ابّا تو فصل کی وجہ سے جا نہ سکا۔ ابّے نے مجھے کہا کہ میں چلا جاؤں اور جو دینا دلانا ہے اس کے ساتھ ساتھ تحفے تحائف دے آؤں، ساتھ ہی معذرت کر لوں کہ ابّا نہیں آ سکتا۔۔ مجھے شہر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ میں نے جانے کی حامی بھر لی۔ شادی سے دو دن پہلے میں نے سامان باندھا اور چل نکلا۔
میرے پاس سامان کے طور پر 4 بکسے تھے۔ شہر جانے کے لیے گاڑی پر سوار ہوا تو ابّا اور بے بے مجھے چھوڑنے پلیٹ فارم تک آئے۔ بے بے نے کہا۔ " پُتر میں نے آم، لیموں کا اچار الگ الگ ڈبے میں رکھوا دئیے ہیں۔"  تو ساتھ ہی ابّا بولا " او ہو نیک بخت لڑکا گاڑی کے ایک ہی ڈبے میں سوار ہو گا تم نے کاہے الگ الگ ڈبے میں رکھوا دیے ؟ تو بے بے نے کہا " کالے کے ابّا ، گاڑی کے الگ ڈبوں میں نہیں، سامان کے الگ ڈبوں میں۔ "
اللہ اللہ کر کے گاڑی روانہ ہوئی۔ میں ذرا مخولیا قسم کا بندہ تھا۔ میں نے سیٹ پر بیٹھے آدمی سے کہا "بھائی میاں ٹانگیں پسار لو، دہلی ابھی دور ہے "۔ سامنے سیٹ پر بیٹھے بڑے میاں بھڑک اٹھے " کیا کہا ؟ کیا یہ گاڑی دہلی جا رہی ہے ؟ " میں نے عرض کیا " نہیں بڑے میاں وہ تو میں ہی ایک محاورہ بول رہا تھا " بڑے میاں نے ایک ہی لفظ استعمال کیا میری شان میں " نامعقول"  اور مجھے ایسی گھوری کرائی کہ میں سارا راستہ دم سادھے بیٹھا رہا۔
اللہ سوہنے نے کرم کیا شہر آ گیا۔ میں نے گاڑی سے سامان اتارا اور ایک رکشے والے کو گھر کا پتا دیا کہ " میاں اس پتے پر لے چلو۔ " رکشے والا بولا " اگر میں نے یہ دو چار لفظ پڑھے ہوتے تو آج کہیں پرائمری کا ٹیچر ہوتا یہاں رکشہ نہ چلا رہا ہوتا۔ ہونہہ ( اس نے غصّے میں گردن ماری) "۔ رکشے والا تو گسہ ہی ہو گیا۔
میں نے ایک حولدار سے کہا " سلام صاب ! میں چاند۔ ۔۔۔ " حولدار نے کہا " پورا کہو نا، گرہن لگا چاند " میں نے بُرا محسوس کیے بن پتا اس کے سامنے کیا اور کہا کہ اس رکشے والے کو پتا بتا دیں۔ حولدار بابو نے پتا میرے ہاتھ سے لیا اور رکشے والے کو سمجھانے لگا۔ یہ میری زندگی کا پہلا واقعہ تھا جب کسی حولدار نے بنا رشوت لیے کام کیا۔
اللہ اللہ کر کے میں ابّے کے دوست کی کوٹھی پہنچا۔ کافی بڑی کوٹھی تھی۔ میں اندر گیا تو مجھ سے سب بہت اچھے سے پیش آئے۔ کچھ دیر بعد ابّے کے دوست نے کہا۔ "بھئی اسے گیسٹ روم تک لے جاؤ، کافی لمبا سفر کر کے آیا ہے تھک گیا ہو گا۔ " اجی میرے تو حواس خراب ہو گئے اللہ جانے کس بلا کا نام تھا گیسٹ روم ، میں سامان بغل میں دبائے ایک آدمی کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ وہ ایک کمرے کے آگے جا کر رکا، دروازہ کھولا اور مجھے اندر آنے کو کہا۔
میں نے ڈرتے ڈرتے اندر جھانکا سب ٹھیک تھا میں اندر آ گیا۔ اس آدمی نے کہا یہ آپ کی قیام گاہ ہے۔ میں نے گردن گھُما کر کہا " کیا ہے ؟ " وہ بولا " رُکنے کی جگہ سر" میں نے بڑے انداز سے کہا " ٹھیک ہے " اس کے جانے کے بعد میں نے کمرے کا جائزہ لیا۔
سب سے پہلے میں نے غسل خانہ دیکھا۔ عجیب حیرت ہوئی منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ میں اندر داخل ہوا تو میرا پاؤں پھسل گیا۔ فرش ہی بڑا چکنا چکنا سا تھا میں نے جوتی اتار کر ہاتھ میں پکڑی اور غسل خانے کا جائزہ لیا۔ نہانے کے لیے بالٹی ڈبے کے بجائے ایک آسمان پر لگا فوارہ تھا۔ وہ بھی عجیب لیٹ کر نہانے والی جگہ پر اور اس کے سامنے پردہ لگا تھا۔ دل نے خیال کیا۔ پردہ تو ہم بھی لگاتے ہیں نہانے والے کمرے کے سامنے مگر یہاں کیا ضرورت ہے جب دروازہ ہے تو۔ ۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا غسل خانے میں تو ہر چیز ہی میرے ذہن کو ہلا رہی تھی۔ ایسی چیزیں جن کا تصور بھی اپنے گاؤں میں نہیں تھا۔
کمرے میں بستر پر نگاہ ڈالی۔ بان کی چارپائی پر سو سو کر کمر ایسی اکڑی تھی کہ اب اسے ایسا سیدھا گدا کہاں بھاتا۔ میں نے چادر پکڑی زمین پر بچھائی اور سو گیا۔
اگلے دن میں نے تحفے تحائف والا اور انواع اقسام کے اچار والے دونوں بکسے ابّے کے دوست کی بیوی کو دیے۔ اتنی دیر میں ابّے کے دوست کے چچا آ گئے۔ لمبے لمبے بوٹ پہنے سر پر یہ بڑی سی ٹوپی رکھے۔ میں نے سر سے پاؤں تک ان کو غور سے دیکھا تو کہتے " ہم شکاری ہوتے ہیں " میں نے ان سے ہاتھ ملایا اور کہا " شکاری تو ہم بھی ہوتے ہیں جی مگر اتنے اوکھے نہیں ہوتے ( اشارہ ان کے لباس کی جانب تھا۔ ) اس سے پہلے کہ ہم اپنے شکار کے قصے عرض کرتے وہ لمبی لمبی چھوڑنے پر آ گئے۔ کہتے ، ہم نے شیر کا ایسے شکار کیا، ویسے قابو کیا۔ ایسے مرغابی کو پکڑا، تیتر بٹیر، اور جانے کیا کیا۔ بس ایک ہاتھی ہی چھوڑا تھا انہوں نے ، یا شاید وہ اپنے حجم کی وجہ سے بچ گیا ان کے ہاتھوں۔۔ ابھی قصے جاری تھے کہ بڑے ہال والے کمرے میں ایک موٹا تازہ چوہا آ گیا۔ شکاری چچا جوتوں سمیت صوفے پر چڑھ گئے۔ ہم حیران پریشان منہ کھول کے انہیں دیکھ رہے تھے کہ انہیں کیا ہوا۔ ہم نے کہا " ارے چچا جی ! آپ تو شکاری ہوتے ہیں نا پھر ایک چوہے سے کیوں ڈر گئے ؟" تو بولے " ہم کوئی شکاری بلّے تو ہیں نہیں جو چوہوں کا شکار کریں۔ ہم بڑی بڑی چیزوں کا شکار کرتے ہیں۔ ان حقیر چیزوں کا نہیں " لو جی بالآخر ہم نے ہی اس چوہے کو شکار کیا۔
کچھ دیر گزری تھی کہ ابّے کے دوست کی ایک رشتہ دار ڈاکٹرنی آئی۔ ہم نے بھی سلام دعا کی۔ کھانا میز پر لگا تو کہنے لگیں " ڈائٹنگ کرتے ہو ؟" ہمارے تو جی فرشتے بھی اس انگریزی کے لفظ سے نا آشنا تھے۔ ہم نے نا سمجھی والی شکل بنائی تو کہتیں " بھئی کھانے سے کوئی ناراضگی ہے کیا ؟ " ہم نے پوری طاقت سے نہ میں مُنڈی ہلائی۔ تو ابّے کے دوست نے کہا " آ جاؤ میاں ! کھانا کھا لو " ایک کرسی کو سلیقے سے قابو کیا اور نہاری کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ڈاکٹرنی جی بولیں " یہ کیا غضب کر رہے ہو ہارٹ اٹیک کروانا ہے کیا؟ یہی کھانے ہیں جو دل رُکنے کا سبب بنتے ہیں۔ " ہم نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
میز پر مرغی بھی پڑی تھی مصالحہ لگی ساتھ لیموں پڑا تھا دل للچایا۔ ہم نے ایک بڑی بوٹی کی جانب ہاتھ بڑھایا ڈاکٹرنی جی کو ہمارے مرچ مصالحے کھانے سے بھی کچھ ہونے لگا، فٹ سے بولیں " اتنا مرچ مصالحہ کھاؤ گے تو معدے کا السر تو لازمی ہو جائے گا۔ پھر کرواتے پھرنا اینڈو اسکوپی" اتنے خوفناک خوفناک نام لے رہی تھیں کہ دل ، معدہ ، کلیجہ سب ہل کر رہ گیا۔
باجو میں سموسے پڑے تھے ہم نے ان کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا تو پھر بولیں " ارے جانے کس تیل میں تلے ہوئے ہوں گے۔ خوامخواہ کولیسٹرول بڑھواؤ گے۔ " سموسے سے بھی آنکھیں پھیر لیں۔
کھانے میں تو کچھ نہ ملا، سوچا پھل فروٹ ہی پر ہاتھ صاف کر لیں۔ پیٹ کا دوزخ تو بھرنا تھا نا۔ ہم نے مالٹے اور امرود کاٹے اور ان پر مزے سے نمک اور چاٹ مصالحہ چھڑکا۔ ڈاکٹرنی جی نے بھی مداخلت کی " یہ نمک ہی بلڈ پریشر کی جڑ ہے ، بلڈ پریشر زیادہ ہو جائے تو قابو سے باہر ہو جاتا ہے اور پھر سیدھا اثر دماغ تک ،شریانیں پھٹ جاتیں ہیں بلڈ پریشر ہائی ہو تو۔ ۔۔۔۔۔ " ہم نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا آخر دل کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا دماغ بھی تو بہت پیارا تھا جی۔
نمکین تو کچھ نہ ملا شادی والا گھر تھا اور شادی والے گھر میں ایک ہی چیز کی بہتات ہوتی ہے جی جی مٹھائی کی۔ اور ہم بھی ٹھہرے میٹھے کے شوقین۔ مگر ڈاکٹرنی جی کی ٹانگیں ہی بڑی لمبی تھی ہر بات میں آ کر اڑ جاتی تھیں۔ ابھی ہماری نظریں گلاب جامن اور رس گلے کے درمیان فیصلہ کن انداز میں گشت کر رہی تھیں کہ وہ پھر بول پڑیں " اف میرے خدا، جانتے ہیں آپ کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں اگر آپ کو شوگر ہو گئی تو کیا زندگی گزرے گی، گردے فیل ہو جائیں گے ، آنکھیں بھی کبھی کبھی شوگر کی وجہ سے بینائی سے محروم ہو جایا کرتی ہیں۔ اور کبھی کبھی تو۔ ۔۔۔ " اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتیں ہم نے مٹھائی سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔
اب میز پر واحد پانی بچا تھا جس پر شاید ان کو اعتراض نہ ہوتا مگر ہم نے احتیاطاً پوچھ ہی لیا۔ " جی پانی سے تو نہیں ہو جاتی کوئی بیماری ؟" ڈاکٹرنی جی بولیں " پانی تو جتنا زیادہ پی سکتے ہیں اس سے بھی زیادہ پئیں ، گردوں کی صفائی اور چہرے کی شادابی اسی میں موثر ہے " جلے دل سے آواز آئی، پانی ہی پیئیں اور پیتے ہی چلے جائیں جب جب بھوک ستائے پانی کی بریانی اور آلو چھولے بنا کر کھا جائیں۔
کھانے۔ ۔ ۔ بلکہ یوں کہیں پینے کے کچھ توقف بعد ابّے کے دوست کا ایک رشتہ والا پروفیسر آیا۔ میں نے بھی ہاتھ ملایا۔ پروفیسر نے جیسے ہی ڈاکٹرنی کو دیکھا تو دور ہی سے اپنی بیگم سے کہنے لگا " ارے بیگم ہماری دوا کا وقت ہو گیا ہے ذرا دیجیے گا وہ بھولی یادداشت کو واپس پانے والی گولی " بیگم نے کہا " گھر پر تو آپ نے کہا تھا کہ کھا لی ہے اب کون سی گولی کھانی ہے ؟ "پروفیسر صاب بولے " او ہو بیگم وقت ہو گیا ہے دوائی کھانے کا کوئی سی بھی گولی دے دو۔ "
وقت سے آگے پیچھے دوائی کھائی جائے تو وہ اثر نہیں کرتی۔ " پروفیسر صاب نے بیگم کے پرس کو ٹٹول کر ایک عدد گولی دریافت کی جو جانے کس چیز کی تھی، پھر پانی کا گلاس منگوایا، اور گولی کھانے سے پہلے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی، مسکراہٹ چہرے پر آئی اور گولی حلق سے نیچے۔ 
ہم نے تو سر ہی پکڑ لیا، اللہ رے اللہ یہ سہر کے لوگ۔ ہم میں تو ہمت نہ تھی کہ اور کچھ دن یہاں بھوکے پیاسے ہولتے رہتے۔ ابّے کے دوست سے ہاتھ ملایا ابّے کی طرف سے نہ آنے کی معذرت کی اور اپنے جانے کی اجازت طلب کی۔ ابّے کے دوست نے کہا "میاں شادی گزار لو پھر چلے جانا " مگر کوئی ہماری آنتوں سے پوچھتا، وہ تو یہاں لمحہ بھر بھی رُکنے کو رضا مند نہ تھیں۔ اگر بادنخواستہ رُک جاتے تو کسی نہ کسی بیماری میں ضرور مبتلا ہو جاتے۔ ہم نے وجہ بیان کی کہ " نہ صاب آج کل فصل کی کٹائی کے دن ہیں ابّا بیچارہ کتنا کام کرے گا آخر، ہم کو جانا ہے اس کی مدد کے واسطے۔ "
ہم نے تو اگلے دن کا سورج بھی نہیں چڑھنے دیا کہ ریل گاڑی چڑھ گئے۔ سارا شوق دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اس ایک دن میں سہر کے سارے خواب سہانے کہیں جا کر سو گئے۔ ہمیں تو رہ رہ کر اپنے گاؤں کی یاد ستائے جا رہی تھی جہاں نہ تو ماحول کی آلودگی تھی، نہ آواز کی، نہ ہزاروں ناموں کی بیماریاں، جہاں سکون ہی سکون تھا کھلا کھاتے ہیں، رج کے کام کرتے ہیں اور ڈٹ کے جیتے ہیں۔ ہم نے تو شُکر کا سانس لیا اور ہم واپس اپنے گاؤں کی آزاد فضاؤں کی طرف چل دئیے۔ 
٭٭٭


ڈاکومینڑی فلم چاچا عاشق اور اس کی پریشانی

رضوان


قدردان مہربان
ون اردو ممبران
آج ہم آپ کو اپنے محلے کی ایک بہت مشہور شخصیت کی زندگی اور اس کی پریشانی کے بارے میں ایک ڈاکومینڑی فلم دکھا رہے ہیں۔
جب سے اس بیوہ کے بارے میں چاچے کو حمید کریانیہ والے کی دکان سے پتہ چلا ہے کہ وہ بچاری جوانی (40 سال) میں اور صرف پانچ بچوں کے ساتھ بیوہ ہو گئی ہے چاچے عاشق کے دل میں اس بیوہ کے لئے رحم اور انسانیت بہت بڑھ گئی ہے اور چاچا کے کچھ دن تو بہت پریشانی میں گزرے اور پھر آخر کار اس نے اس کے ساتھ وہی کیا جو پہلے ایک بیوہ کے ساتھ پہلے کر چکا تھا۔
مطلب نکاح
چاچے عاشق نے رخسانہ ناز کے ساتھ خفیہ نکاح کیا ہے اور اس کے پانچ بچوں کے سر پر باپ کی شفقت کا ہاتھ پھیرا ہے چاچا عاشق آج کل کچھ پریشان ہے ، ہر وقت سر پر ہاتھ رکھے ہاتھ میں کے ٹو کا سگریٹ لئے بس کچھ سوچتا ہی رہتا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے چہرے پر وٹوں (جہریوں) میں مزید اضافہ ہو جاتا اور اس کو یہی فکر ستا رہی ہے کہ کیسے اس نئی زوجہ اور اس کے پیارے بچوں کو اپنے گھر میں منتقل کروں،
شاید آپ لوگ چاچے عاشق کو جانتے نہیں ہیں لو جی ان کا تعارف کچھ یوں ہے 
جیسے نام "چاچا عاشق" سے ہی پتہ چل رہا ہے بڑی محبت کرنے والا محلے کی مشہور ترین شخصیت، بہت ملنسار، بیواؤں کا مسیحا، 75 سال کا جوان بوڑھا پہلے دو اور اب یہ نئی ملا کر 3 زندہ اور 2 مرحوم زوجہ ماجدوں کا مشترکہ شوہر نامدار
21 پرانے اور نئے 5 بچے ملا کر 26 بچوں ماشاءاللہ کے اکلوتے ابا میاں
اور زندگی میں کوئی اور کام نہیں بس یہ کام تھا چاچے کا
محلے کا واحد گھر جہاں پورے 20 کلو آٹے کا تھیلا ایک دن میں ختم ہوتا ہے پھر بھی بچے بھوک بھوک کرتے رہتے۔ 
جتنا نقصان محکمہ بہبود آبادی والوں کو اور جتنا فائدہ چاچے عاشق کو اس محکمہ سے ملا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
ہر لیڈی ہتلھ ورکر کا سب سے بڑا ٹارگٹ چاچے عاشق کا گھر ، جب بھی کوئی نئی لیڈی ہیتلھ ورکر محلے میں آتی سب سے پہلے اس گھر کا رخ کرتی ، مگر بے سود ساری دوائیاں چاچا عاشق شہر کے میڈکل اسٹور پر سستے داموں بیچ آتے اور ماشاء اللہ سال میں دو نئے ماڈل دنیا میں تشریف لاتے۔ 
چاچے کی فیملی
چاچے کی فیملی کے افراد کی لسٹ ایسے تھی جیسے الکیشن کی ووٹنگ لسٹ
بڑی زوجہ
سھگراں بیگم زوجہ عاشق علی
بچے 7 عدد
آصف پرداری
سلمان بواسیر
الطاف مین
فوزیہ نواب
فردوس عاشق
منظور نکھٹو
باول مٹھو
چھوٹی زوجہ حمیداں بیگم زوجہ عاشق علی
بچے 7عدد
نواز غریب
شجاعت عالمی
شہباز غریب
نثار
حمیداں دولتانہ
سمیرا کلک
خادم شہباز
بڑی مرحومہ زوجہ نیک پروین
بچے 4 عدد
شجاعت ملائی
شیخ مرشید
کشمالہ عارف
خورشید قستوری
مرحومہ حاجن بی بی
بچے 3 عدد
قاضی ہوشین
فضل الزام
عمران خاکاں
نئی زوجہ رخسانہ بیگم کے بچوں کے نام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں
گھر کا منظر نامہ
سات مرلے کا گھر صحن جس کے درمیاں ایک بڑی سے چارپائی اور 5 کمرے 
کمروں کا منظر اور کمروں میں ڈبل اسٹوری بیٹ کی لائین ایسے جیسے دبئی میں کسی کنسٹرکیشن کمپنی کا لیبر کمیپ ہو اور
ایک کچن
جیسا کہ تیسرے درجے کا ریسٹورنٹ ہو جہاں پر کبھی برتن دھلے نہ ہوں، سالن گرا پڑا ہو، ہر ٹائم چولہا پر کچھ نہ کچھ پک رہا ہو۔ اور دونوں بیویاں جلے اور بھنے منہ بنا کر اپنے اپنے بچوں کے کھانے کا انتظام کر رہی ہوں
حمام غسل خانہ بمعہ ٹائلٹ
جس کو استعمال کرنے کے لئے باقاعدہ اندراج کرنا پڑتا جس کا نام اور ٹائم باتھ روم کے باہر پڑے ہوئے رجسٹر میں پہلے لکھا ہوتا وہ ہی پہلے حمام استعمال کرتا۔ ہاں صحن کا کھرا چھوٹے بچوں کے لئے تھا جہاں وہ جب دل کرتے آرام سے سب کے سامنے ہی اپنی حاجت پوری کر لیتے 
چاچے عاشق نے اپنے بچوں کے نام چن چن کر رکھے تھے اور اگر کبھی چاچے کی گھر میں جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم پارلیمنٹ ہاوس میں آ گئے ہیں
کوئی کسی کو شیدا بلا رہا ہے 
تو کبھی ایک طرف کشمالہ عاشق چھوٹی بیوی کی بیٹی ، فردوس عاشق وڈی بیوی کی بیٹی ، سے اپنے جونڈے (بال) پٹوا کر رو رہی ہے 
کسی کونے میں آصف بھائی الطاف بھائی کے ساتھ بیٹھ کر وڈی امی کے منڈے نواز بھائی کے خلاف شاطرانہ باتیں کر رہا ہے 
ہمسائے کے لڑکے کو مارا الطاف نے ہوتا ہے ، مگر وہ چالاکی سے الزام قاضی پر لگا دیتا ہے۔ 
چاچے عاشق سے جیب سے پیسے سب سے بڑے منڈے آصف نے چرائے ہوتے ہیں مگر وہ صاف مکر جاتا ہے اور سارا الزام نکے بھائی شجاعت پر لگ جاتا ہے 
اور کہیں مرحومہ بیگم حاجن بی بی کا نکا پتر عمران ان کو دیکھ دیکھ کر کڑ رہا ہے اور سارا دن ان کے خلاف بولتے رہنا۔ 
مرحومہ حاجن بی بی کا لڑکا قاضی بچارا سارے گھر میں سب کو انسانوں کی طرح رہنے کے طریقے بتاتا رہتا ہے ، مگر بے سود کوئی اس کی بات ہی نہیں سنتا
مرحومہ حاجن بی بی کا دوسرا لڑکا فضل الزام بالکل اپنے بھائی قاضی کے الٹ ذہن کا، ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے ابے چاچے عاشق کے پاس رہنا ، اس کی کی ہاں میں ہاں ملانا، ہر کام چپ چپا کے کرنا، اور پورے گھر کا میسانہ اور ہر ایک سی آئی ڈی رکھنا
مطلب چاچے عاشق کے گھر کا نظام ایسے چل رہا ہے جیسے پاکستان کا نظام چل رہا ہے۔ 
ایسی فلم دیکھنے کے بعد بہت سے سوال ذہن میں جنم لیتے ہیں
کیا چاچا عاشق اپنی پریشانی کو دور کر پائے گا؟
ایسا گھر جس میں تل دھرنے کو جگہ نہیں چاچا عاشق اپنی نئی نویلی ایکس بیوہ اور موجودہ بیوی رخسانہ ناز کو بمعہ پانچ بچوں کے لا کر کہاں رکھے گا؟
اگر اچانک چاچا عاشق اپنی سیکنڈ ہنڈ نئی دلہن رخسانہ ناز کو بمعہ پانچ بچوں گھر میں لے آتا ہے تو اس کی گھر میں موجود زندہ بیویوں اور قبروں میں مردہ بیویوں کا کیا ری ایکشن ہو گا؟
کیا چاچے عاشق کو سب مل کر پھینٹی لگائیں گے اور گھر سے نکال دیں گے ؟
کیا دوسری بیویاں رخسانہ ناز کو قبول کر لیں گی؟
کیا چاچے عاشق کے 21 بچے اپنے 5 نئے بھائی بہنوں کو قبول کر لیں گے ، یہ ان کے ناک میں دم کریں گے ؟
6 نئے افراد (ایک بیوی اور 5 بچے ) کی گھر میں کیسے جگہ بنے گی؟۔
کیا چاچا جس نے رحم کھا کہ ایسا فعل کیا ہے اس کو کوئی فری میں روزانہ آٹے کا ایک اور توڑا دے گا، کیا چاچے کے معصوم شیطان بچوں کے لئے گورنمننٹ کوئی وظیفہ مقرر کرے گی؟
ایسے اور بھی بہت سے سوال ذہن میں جنم لیں گے 
پر ان کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ، ہر کوئی چاچے کو غلط نگاہ سے دیکھے گا، کوئی چاچے عاشق کی نیک نیت کو نہیں دیکھے گا اور ہر کوئی بولے گا لتھاں قبر وچ دے کم جواناں آلے (ٹانگیں قبر میں اور کام جوانوں والے ) اور بھی بہت کچھ بولیں گے ؟
مگر کوئی چاچے کے اس عمل کی گہرائی تک نہیں جائے گا، کوئی اس کو شاباش نہیں بولے گا جو اس نے ایک بیوہ کے سر پر چھت اور معصوم بچوں کے سر پر باپ کا ہاتھ شفقت سے رکھا، کیوں ہم لوگ ایسے انسانیت کے دوستوں اور لوگوں کے دکھوں کو اپنا سمجھنے والے اور نیک انسانوں کو برا بھلا کہتے ہیں؟
آخر کب تک چاچے عاشق جیسے صالح لوگ ، بیواؤں کے مسیحاہ، کو معاشرے میں بری نگاہ سے دیکھا جاتا رہے گا؟
یہ کوئی غلط کام نہیں ہے کہ ان بابوں کو ایسا کرنے پر ہم لعن طعن کریں وہ وقت ضرور آئے گا، ہاں ضرور آئے گا جب لوگوں میں بیداری پیدا ہو گی اس لئے ہمیں معاشرہ کے ایک ممبر کی حیثیت سے چاہئے کہ اپنے معاشرے میں پھیلے ہوئے ایسے کر داروں کی حوصلہ افزائی کریں۔
کیا کبھی ان اور ایج نئی شادی کرنے والے بابوں کو بھی معاشرے میں عزت ملے گی؟، ،کبھی تو وہ ٹائم آئے گا جب کوئی بابا بیوہ بیاہ کر لائے گا تو سب لوگ اس کے اس کام پر اس کو مبارکیں دیں گے اور گھر میں ان کا استقبال بالکل ایسے کریں گے جیسے کوئی جوان پہلی دفعہ شادی کر کے نئی نویلی دلہن لاتا ہے ؟
آج کی ڈاکو مینڑی فلم میں ہمارا مقصد معاشرے میں پھیلا ہوا ایک نہایت اہم مسئلہ "بیواؤں کے سہارا بننے والے بابوں" کے متعلق آپ کو آگاہ کرنا تھا۔ امید ہے آپ اس مسئلے کی گہرائی کو ضرور سمجھیں گے ؟
آپ کی آرا کا انتظار رہے گا۔
رپورٹر
چوہدری رض
کمیرہ مین چھیدا مسلی کے ساتھ
ون اردو۔ لاہور
٭٭٭

ڈرائیور اناڑی گاڑی بیچاری 

بابر ندیم

ڈس اور چھن کی آواز ایک ساتھ آنے پر میں نے مڑ کر دیکھا
گاڑی ایک برگد کے درخت سے ٹکرا کر رُک چکی تھی۔گاڑی کا بیک ونڈ اسکرین کا شیشہ ٹوٹ کر بکھر چُکا تھا۔ صورتحال کو سمجھنے میں مجھے کچھ سیکنڈ لگے ،میرے کانوں میں ملی جلی آوازیں آ رہیں تھیں۔
کمال ہے اتنا چوڑا درخت نظر نہیں آیا؟سر،آپ کو اتنا بڑا درخت نظر نہیں آیا
ایک حوالدار نے بے یقینی کے عالم میں پوچھا
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی نہیں۔ہم نے جواب دیا." سر! زندگی میں کبھی کبھی پیچھے مڑ کر بھی دیکھ لینا چاہیے "، شکل سے فلسفی نظر آنے والے صوبیدار نے داڑھی کھُجاتے ہوئے فلسفہ بگھارا
گاڑی بیک کرنا ہمارے لئے ہمیشہ ہی پرابلم رہا ہے۔ سارا مسئلہ ہمارے پاؤں اور گردن کے درمیان باہمی ربط یعنی کوآرڈینیشن کا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کر کے ہم بیک گئیر لگاتے اور ایکسلیٹر پر پاؤں دباتے اور جتنی دیر میں پیچھے مڑ کر دیکھتے گاڑی ڈس کر چُکی ہوتی۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ ہم ایکسلیٹر پر پاؤں دبانے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن پیدائشی طور پر مجھ میں کوئی خامی تھی کہ میں جیسے ہی بیک گئیر لگا کر پیچھے گردن گھمانے کا ارادہ کرتا پاؤں خود بخود ایکسیلیٹر پر دب جاتا۔
ایک دن ہم نے ٹھان لی کہ آج ہم ہر حال میں گردن پہلے پیچھے گھُمائیں گے اور ایکسیلیٹر پر پاؤں بعد میں دبائیں گے۔ احتیاطاً گاڑی ہم نے ایسی جگہ کھڑی کی ہوئی تھی جہاں گاڑی کہ پیچھے کُچھ نہ ہو تاکہ گاڑی کا کسی چیز سے ٹکرانے کا اندیشہ ہی نہ رہے۔ ہماری گاڑی میں حسب توقع ہینڈ بریک کام نہیں کرتی تھی اس لئے میری عادت تھی کہ گاڑی کو پہلے گئیر میں کھڑا کرتا تھا تاکہ کسی ڈھلوان کی وجہ سے گاڑی آگے یا پیچھے نہ لڑھک پڑے۔ میں نے ذہن میں یہ دہراتے ہوئے کہ گردن تیزی سے پیچھے گھُمانی ہے اور پاؤں بعد میں دبانا ہے۔ گاڑی کا دروازہ کھولا ,کلچ دبا کر چابی گھُمائی گاڑی اسٹارٹ کی تیزی سے گردن پیچھے گھُمائی اور کلچ چھوڑتے ہوئے ایکسیلیٹر پر پاؤں دبا دیا ،تمام ایکشنز حیران کن طور پر بہترین ہو گئے سوائے اس کے کہ ہم بیک گئیر لگانا بھول گئے۔ گاڑی فرسٹ گئیر میں تھی۔ سامنے دیوار تھی اور ہم پڑی تیزی سے گردن گھُما کر پیچھے دیکھ رہے تھے ،ڈس کی آواز آئی اور ہم آفس پہنچتے پہنچتے ہوسپٹل پہنچ گئے۔ ہسپتال میں موجود ہمارے کُچھ کرم فرماؤں نے بتایا جس وقت ہمیں لایا گیا ،ہمارے منہ سے بے ربط جملے نکل رہے تھے ،ہم کبھی کہتے گردن پہلے گھُمانی ہے ،پاؤں بعد میں دبانا ہے اور کبھی کہتے گردن پہلے دبانی ہے پاؤں بعد میں گھمانا ہے۔ 
بات گاڑی کے درخت سے ٹکرانے کی ہو رہی تھی۔ 
اگلے دن تک ایکسیڈنٹ کی خبر پوری یونٹ میں پھیل چکی تھی ،مجھ کو عادی مجرم سمجھتے ہوئے کسی نے ہمدردی ظاہر نہیں کی،ہر کوئی گاڑی کی مزاج پُرسی کر رہا تھا۔ہماری شامت اعمال کے اس دن سنٹرل ٹی بریک تھی
اور تمام آفیسرز بمعہ کمانڈنگ آفیسر ٹی بار میں موجود تھے۔ کمانڈنگ آفیسر نے حسب معمول گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا
کیا خبریں ہیں؟
کیپٹن جو کہ ایجوٹنٹ کی ڈیوٹی کر رہا تھا کہنے لگا ،"سر خبریں بڑی گھمبیر ہیں"
کیا مطلب؟
سر میجر صاحب نے گاڑی ایک بار پھر درخت کو مار دی۔
کمانڈنگ آفیسر نے حیرت بھرے انداز میں میری طرف دیکھا اور پوچھا
درخت کو چوٹ تو نہیں آئی۔
پھر خود ہی کہنے لگے ،ابھی پچھلے ہفتے آپ نے ایک درخت کو گاڑی ماری تھی،یہ آپ درختوں کو گاڑی مارتے ہیں یا درخت اتنے سٹوپڈ ہیں کہ خواہ مخواہ آپ کے راستے میں آ جاتے ہیں۔
ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کیپٹن نے دوبارہ موشگافی کی
سر! آپ نے غور نہیں کیا ،آجکل یونٹ میں لگے درخت کتنے سہمے سہمے رہتے ہیں ،سر اب تو یہ عالم ہے کہ میجر صاحب گاڑی سٹارٹ کرتے ہیں تو گاڑی کے پیچھے والے درخت دائیں بائیں ہونے لگتے ہیں ،تاکہ اپنا بچاؤں کر سکیں
آفیسرز کو تو موقع اور بندہ چاہیے مذاق اڑانے کیلئے ہم سمجھ گئے آج ہماری باری ہے ،خیر کوئی بات نہیں جب ہمیں موقع ملا تو ادھار بمع سود واپس کر دیں گے۔ 
ایک اور کیپٹن نے لقمہ دیا ،سر خدا جھوٹ نہ بلوائے ،میں نے خود اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے کہ سر جیسے ہی گاڑی لے کریونٹ سے باہر نکلے تو یونٹ کے تمام درخت سجدے میں گر گئے کہ خدایا تیرا شکر ہے آج تو بچ گئے کل کی کل دیکھیں گے۔ 
میجر جو کہ سیکنڈ ان کما نڈ کی ڈیوٹی کر رہے تھے بولے سر سنا ہے "خانم ڈرائیونگ اسکول "والوں نے میجر صاحب کی خدمات ڈیمانسٹریٹر کے طور پر مانگی ہیں۔ 
کمانڈنگ آفیسر نے حیرانگی سے پوچھا وہ کیوں ؟
وہ اپنے طلبا کو ڈیمانسٹریشن دکھانا چا ہتے ہیں۔ خانم ڈرائیونگ اسکول والوں کی جوہر شناسی پر ہمیں خوشگوار سی حیرت ہوئی تاہم تغافل برتتے ہوئے ہم نے پوچھا
وہ کیوں؟
سیکنڈ ان کمانڈ کہنے لگے 
To give them very good sample of
ہم نے بیتاب ہوتے ہوئے پوچھا
آف کیا
very bad driving
اس سے زیادہ انسلٹ کروانے کی ہم میں برداشت نہیں تھی۔ ہم بھی میدان میں کود پڑے ،بولے 
سر پچھلے ہفتے سیکنڈ ان کمانڈ ہمارے گھر گئے تھے ،واپسی پر میں ان کو سی آف کرنے کے لیے ان کی گاڑی تک ان کے ساتھ چلا اچانک ان کو زمین پر نہ جانے کیا نظر آیا یہ ایک دم جھکے اور زمین سے کُچھ اٹھا لیا ،ان کی مُٹھی بند تھی میں نے کہا دکھائیں کیا اٹھایا ہے ،کہنے لگے "کُچھ نہیں ،کچھ نہیں "۔مجھے شک ہوا،کوئی بہت قیمتی چیز ہاتھ لگ گئی ہے ،اس لیے بتا نہیں رہے۔ پھر میری طرف پیٹھ کی اور رازدارانہ انداز میں مُٹھی کھول کر دیکھا،پھر لا حول ولا پڑھ کر جلدی سے جو کُچھ مُٹھی میں تھا پھینک دیا۔ میں بڑا حیران ہوا۔ میں نے پوچھا سر اتنے شوق سے تو اٹھایا تھا،کیا تھا،آپ نے پھینکا کیوں
کہنے لگے کچھ نہیں کچھ نہیں
مین نے اصرار کیا تو کہنے لگے 
یار تمھارے علاقے میں لوگ تھوکتے بھی ایسے ہیں کہ لگتا ہے " اٹھنی "پڑی ہوئی ہے 
پورا ٹی بار قہقہوں سے گونج اٹھا۔
انٹرنیٹ سے پڑھے ہوئے لطیفے نے ہماری عزت بحال کر دی۔
اس سے پہلے میرے پاس جو گاڑی تھی وہ کافی ضعیف الطبیعت تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر خدا یاد آتا تھا یا نیلامی کا وہ اشتہار جس میں لکھا ہوتا ہے "ایک گاڑی جہاں ہے ،جیسی ہے کی بنیاد پر نیلام کی جائے گی"
ہماری گاڑی بھی ہزاروں روپیہ خرچ کروانے کے باوجود ویسی کی ویسی تھی نہ تو اس کے رنگ و روپ میں کوئی فرق آیا تھا نہ چال چلن میں
ایک بار ہماری گاڑی دو تین ماہ ٹھیک ٹھاک چلتی رہی ،تو ہم مکینک کے پاس لے گئے۔ مکینک نے ہمیں دیکھتے ہی کہا ،میجر صاحب آپ پریشان لگ رہے ہیں
پھر گاڑی خراب ہو گئی ؟
ہم نے کہا نہیں تو !
مکینک بولا پھر کیوں پریشان ہیں ؟
اس لیے کہ اب تک خراب نہیں ہوئی ،ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔ 
ہمارے ایک پڑوسی آفس جاتے ہوئے کبھی کبھار لفٹ مانگ لیا کرتے تھے۔ ایک دن ان کو تیز قدموں سے آفس جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے پاس گاڑی روک کر کہا
آئیں بیٹھیں میں ڈراپ کر دوں گا۔ کہنے لگے 
شکریہ !آج آفس جلدی پہنچنا ہے اس لئے پیدل بہتر رہے گا۔
غصہ تو بھت آیا ،گاڑی اتنی بھی سست نہیں تھی ،کُچھ لوگ ہوتے ہی کم ظرف ہیں اور ان میں اکثر پڑوسی ہی ہوتے ہیں ،ہماری رائے پڑوسیوں کے بارے میں اس لئے بھی اچھی نہیں تھی کہ وہ بھی ہمارے بارے میں ایسی ہی رائے رکھتے تھے۔ 
دوسرا وہ ہمارے آفس جانے کا انتظار کر کے نکلتے تھے کہ کہیں مروت میں گاڑی کو دھکا نہ لگانا پڑے۔ 
الغرض ہماری گاڑی کی حالت اتنی خستہ ہو چُکی تھی کہ کسی کو بتاتے ہوئے شرم آتی تھی کہ یہ ہماری گاڑی ہے اس لیے ہم اپنی گاڑی پڑوس کے گھر کے سامنے کھڑی کرتے تھے تاکہ لوگ سمجھیں پڑوس والوں کی گاڑی ہے۔ پڑوسی ہماری اس حرکت سے سخت نالاں تھے اور ہر آنے والے مہمان کو بطور خاص بتاتے کہ یہ گاڑی نما چیز برابر والے میجر صاحب کی ہے۔ 
ایک بار بس اسٹاپ پر کھڑے ایک صاحب نے لفٹ لینے کے لیے اپنا انگوٹھا اٹھایا ہمارے جی میں نہ جانے کیا آئی کہ ہم نے گاڑی کھڑی کر دی۔ حالانکہ ہمیں بس اسٹاپ پر لیڈیز کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا،کالج کے زمانے کی عادتیں مشکل ہی سے چھوٹتی ہیں۔ گاڑی قریب پہنچنے پر ان صاحب نے گاڑی کی خستہ حالت دیکھتے ہوئے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا مگر اب دیر ہو چکی تھی ہم گاڑی ان کے سامنے روک چکے تھے۔ انہیں بادل ناخواستہ گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی کی تعریفیں شروع کر دیں اور اس وقت تک کرتے رہے جب تک گاڑی نے ہچکیاں لینی شروع نہ کر دیں۔پوچھنے لگے گاڑی کو کیا ہوا ہے۔ ہم نے کہا اپنی تعریفیں سن کر ہنس رہی ہے۔ چونکتے ہوئے پوچھا کیا مطلب؟
اس سے پہلے کہ ہم کچھ جواب دیتے گاڑی نے رک کر خود ہی اپنی اوقات دکھا دی۔ ہم نے ان صاحب سے کہا ذرا دھکا تو لگائیے گا۔ بُرا سا منہ بناتے ہوئے اترے اور دھکا لگانا شروع کر دیا لیکن گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی آخر کہنے لگے 
آپ ایسا کیوں نہیں کر لیتے 
ہم نے کہا۔ کیسے کیوں نہیں کر لیتے 
کہنے لگے آپ گاڑی کے فرش پر جہاں بریک اور کلچ ہوتے ہیں دو بڑے بڑے سوراغ کرا لیں ہم نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ وہ کیوں
کہنے لگے تاکہ آپ سوراغوں میں سے اپنے پاؤں نکال کر سڑک پر رکھ سکیں اور پاؤں آگے پیچھے چلا کر گاڑی آگے دھکیل سکیں۔ میرا بچہ بھی اپنی کھلونا گاڑی ایسے یہ چلاتا ہے۔ اسطرح پٹرول کی بھی بچت ہو گی اور گاڑی کی رفتار میں بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا آپ کی گاڑی ویسے بھی چلتے ہوئے توڑتی ہے Sound Barrier
اس کی باتوں سے ہمیں حضرت علی کا قول یاد آ گیا"ڈرو اس شخص کے شر سے جس پر تم نے کبھی کوئی احسان کیا ہو"احسان فراموشی کی انتہا دیکھو ایک تو گاڑی مین لفٹ لی اوپر سے باتیں الگ سنائیں کیا فرق پڑتا ہے اگر گاڑی میں بیٹھے کم ہیں اور دھکا زیادہ لگایا ہے۔ ویگن میں ٹکٹ دے کر مُرغا بن کر جاتے تو پتہ لگتا
ایک دفعہ ہمارے ایک جاننے والے جو اسپخول کا کاروبار کرتے تھے جن کا اصل نام تو شائد ان کو بھی یاد نہیں رہا تھا۔محلے کے بچوں سے تعلقات کشیدہ ہونے کی بنا پر مرزا اسپغول کے مبارک نام سے پکارے جاتے تھے یہ نام ان کی چڑ بن چکا تھا۔ محلے کے بچے ان کو دیکھتے ہی اسپغول اسپغول چلا کر دوڑ لگا دیتے۔ مرزا اسپغول چونکہ اونچا سنتے تھے اسلئے سناتے بھی اونچا ہی تھے فُل والیم full volume
میں گالیاں دیتے بچوں کے پیچھے دوڑ لگا دیتے۔ محلے کے کتے جو کہ صبح سے اس صحتمندانہ ایکٹیوٹی کے انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے ،مرزا اسپغول کے گلی میں داخل ہوتے ہی اپنے کان کھڑے کر لیتے اور بھاگنے کی پوزیشن اسطرح بنا لیتے جیسے اولمپک میں اتھلیٹ دوڑنے سے پہلے بناتے ہیں مرزا اسپغول جیسے ہی بچوں کے پیچھے دوڑتے۔ کتے مرزا اسپغول کے پیچھے دوڑ لگا دیتے۔ کتوں کو پیچھے آتا دیکھ کر مرزا صاحب کمال مہارت سے اپنا بھاگنے کا رخ تبدیل کر لیتے اور اچانک کسی گلی میں گھُس جاتے۔ اناڑی کتے سیدھا بچوں کے پیچھے بھاگتے چلے جاتے اور مرزا اسپغول کے پیچھے وہی کتے رہ جاتے جو بہت ہی کتے ہوتے یعنی عمر اور تجربہ کے لحاظ سے مرزا کے ہم پلہ ہوتے۔ اور مرزا کی چال کو سمجھنے کے قابل ہوتے ایسے کتوں سے نبٹنے کے لیے مرز ا نے جیب میں پتھر ڈال رکھے ہوتے تھے۔ 
مرزا صاحب کی اسطرح محلے میں آمد کا سب سے زیادہ فائدہ ان کے گھر والوں کو ہوتا تھا۔ مرزا صاحب کی بڑی بیٹی جو کہ چھت پر چڑھ کر تاک جھانک کرنے اور اسی نوع کی دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف ہوتی۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز سنتے ہی "ہائے اللہ ابو آ گئے " کہ کر نیچے بھاگ جاتی اور چھوٹی بیٹی جلدی سے انڈین چینل چینج کر کے پاکستانی چینل لگا دیتی اور مرزا صاحب کی بیگم فوراً سر پر دوپٹہ باندھ کر چارپائی پر لیٹ کر ہائے ہائے کرنے لگتیں۔اہل محلہ نے کافی کوششیں کیں کہ مرزا صاحب اور بچوں کے درمیان تعلقات معمول پر لائیں جائیں۔ لیکن کبھی ایک پارٹی اور کبھی دوسری پارٹی اڑ جاتی ،خاص طور پر تھرڈ پارٹی یعنی کتے کسی طور اپنی یہ صحت مندانہ ایکٹیوٹی چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ ویسے کتے اگر ماننے والے ہوتے تو کتے ہی کیوں کہلاتے۔ 
مرزا صاحب نے میرے گھر آتے ہی اعلان کیا کہ انہوں نے ہسپتال جانا ہے اور اس راستے پر گامزن ہونے کیلئے مجھ ناچیز کو ہم رکابی کا شرف بخشنا چاہتے ہیں انکار کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ انکار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔خدا بھلا کرے میری گاڑی کا جسے میں گاڑی کہتے ہوئے نجانے کیوں جھجک جاتا تھا اس گاڑی کی وجہ سے ان کا یہ سفر میرے ساتھ آخری سفر ثابت ہوا ،کیونکہ
sufferاس سفر میں انہوں نے اتنا کیا کہ آئندہ میری گاڑی میں بیٹھنا تو درکنار میری گاڑی پر کبھی نگاہ غلط انداز ڈالنے کی بھی جرات نہ کرسکے میری گاڑی میں بیٹھتے ہی انہوں نے حسب معمول زمانے کی ناہمواریوں کا ذکر شروع کر دیا اور اس وقت تک کرتے رہے جب تک سڑک کی ناہمواریوں نے ان کی توجہ اپنی طرف نہ مبذول کر لی گاڑی ایک اچھلو speed breaker پر اتنے زور سے اچھلی کہ مرزا صاحب کا سر گاڑی کی چھت سے جا ٹکرایا مرزا صاحب نے ہمیں گھور کر دیکھا اور کہا گاڑی میں بریک نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے 
ہم نے لا پرواہی سے کہا۔ اطلاع دینے کا شکریہ
تھوڑی دیر بعد ایک اور اچھلو گاڑی کی طرف بڑھتا نظر آیا،جوں جوں گاڑی اچھلو سے قریب ہو رہی تھی مرزا صاحب گاڑی کی رفتار میں کوئی فرق نہ پا کر مضطرب ہو رہے تھے ،کبھی ڈیش بورڈ کو مضبوطی سے پکڑ لیتے اور کبھی دروازے کے ہینڈل کو۔آخر رہا نہیں گیا اور پوچھنے لگے کیا اس بار بھی بریک نہ لگائیے گا
ہم نے کہا" ہوتی تو پہلی بار ہی لگا لیتے "
انہوں نے بے یقینی کے عالم میں ہمیں دیکھا اور کہا "کیا بریک نہیں ہے ؟ گاڑی کیسے روکو گے ؟
میں نے کہا وقت آنے پر دیکھیں گے۔ 
ہماری منزل قریب آ چکی تھی،ہوسپٹل تقریباً دوسو میٹر رہ گیا تھا ،سڑک ایک دیوار پر ختم ہو رہی تھی ،جیسے جیسے سڑک قریب آ رہی تھی مرزا صاحب کا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا تھا۔مرزا صاحب "جل تو جلال تو" پڑھنا شروع ہو گئے۔ 
ہم نے گاڑی کو تیسرے گئیر میں ڈالا۔ رفتار تھوڑی کم ہوئی اور جب فاصلہ پچاس میٹر رہ گیا تو گاڑی کو پہلے گئیر میں لے آیا۔گاڑی کی رفتار آہستہ ضرور ہوئی مگر ابھی بھی وہ رُکنے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہی تھی،ہم نے مرزا صاحب کے اطمینان کیلئے بریک پر پاؤں مارنے شروع کر دیے ،لیکن گاڑی نے ہماری اس حرکت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسی رفتار سے چلتی رہی۔ دیوار کو پندرہ میٹر کے فاصلے پر دیکھ کر مرزا صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ان کا منہ کھلا ہوا تھا اور آیتیں پڑھنے کی کوشش میں ان کے منہ سے بے ہنگم آوازیں نکل رہیں تھیں۔میں نے اچانک ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر چھلانگ لگا دی۔آخری لمحوں میں میں نے مرزا صاحب کی آخر جھلک جو دیکھی،وہ بے یقینی کے عالم میں مجھے گاڑی سے چھلانگ لگاتے دیکھ رہے تھے اور خشک گلے سے چیخیں مارنے کی کوششیں کر رہے تھے ،گاڑی اب برائے نام سپیڈ سے چل رہی تھی۔ میں نے گاڑی کے ساتھ دوڑنا شروع کر دیا اور جب گاڑی دیوار سے پانچ میٹر دور رہ گئی میں گاڑی سے آگے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور گاڑی اور دیوار کے درمیان آ کر دونوں ہاتھ بونٹ پر رکھ کر گاڑی روکنے کی کوشش کرنے لگا گاڑی مجھے دھکیلتے دھکیلتے دیوار تک لے گئی اور با لآخر رُک گئی۔مرزا صاحب پر نظر پڑی وہ سکتے کے عالم میں دونو ہاتھ ہوا میں اس طرح اٹھائے ہوئے تھے۔ جیسے دیوار کو ہاتھوں سے روکنا چاہتے ہوں منہ سے چیخ مارنے کی کوشش میں خر خر کی آوازیں نکل رہی تھیں۔گاڑی کو رکتا دیکھ کر ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے گرے۔ اور کھلا منہ سلو موشن میں بند ہونا شروع ہوا فوراً گاڑی سے اترے اور سجدے میں گر گئے۔ واپسی پر گاڑی میں بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا۔ہم نے سمجھانے کی لاکھ کوشش کی کہ یہ معمول کی کاروائی ہے اور ہم اس طرح گاڑی روکنے میں کافی ماہر ہو چکے ہیں ،وہ نہ مانے اور رکشہ روک کر اس میں بیٹھ گئے اور واپس رکشے پر آئے ٴ۔ 
٭٭٭

کاکا ریوڑی

دلپسند سیال



کاکا ریوڑی میرے بچپن کا دوست ہے۔ بہت ہی مخلص ،سادہ مزاج اور ہنس مکھ ،بڑی سے بڑی بات بھی ہنس کا سہہ جاتا ہے ،کسی کے مذاق کا برا نہیں مناتا۔
مجھے اپنا گرو مانتا ہے ،اور میری ہر بات پر کیوں،کیا،کس لیے ،جیسے سوال کیے بغیر عمل کرتا ہے۔ میری ہر سوجھی شرارت پر فوراً عمل کر گزرتا ہے اگر پکڑا جائے تو فوراً میرا نام بتا دیتا ہے کہ۔ مجھے دلپسند نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔
کاکا ریوڑی کے نام سے آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ریوڑیاں بناتا ہے یا ریوڑیاں بہت شوق سے کھاتا ہے نہیں جی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ 
اس کا اصل نام تو فیاض ہے مگر وہ پورے گاؤں میں کاکا ریوڑی کے نام سے مشہور ہے۔ اب تو گاؤں والے اس کا اصل نام ہی بھول چکے ہیں۔
اس کے سب رشتے دار اور جاننے والوں نے اسے رشتہ نہیں دیا اس کی ہم عمر کی سبھی لڑکیاں اسے کاکا(بھائی)کا خطاب دے کر پیا دیس سدھار گئیں۔اس کے بعد کاکا نے ہر جوان ہونے والی لڑکی کو اس امید پر کھلایا پلایا اور اس کے گھر والوں کی خدمت کی کہ شاید اس سے شادی ہو جائے مگر عین وقت وہ لڑکی اسے کاکا کہہ کر کسی اور کی ڈولی بیٹھ جاتی اور وہ کاکا کا فرض نبھاتے ہوئے ڈولی کو کاندھا دیتا اور دعوت ولیمہ کھا کر کہتا "واہ قورمہ لاجواب تھا۔"
اس طرح وہ گاؤں میں کاکا مشہور ہو گیا۔
ایک روز کاکا جی ملنگوں کے ڈیرے پر چلا گیا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر بھنگ پی لی۔
نشے میں دھت وہ گھر جا رہا تھا کہ اس کی نظر زمین پر بکھری بکری کی مینگنیوں پر پڑی تو انہیں چن چن کر جیبیں بھرنے لگا کسی نے وہاں سے گزرتے ہوئے اس سے پوچھ لیا کہ کاکا یہ کیا کر رہے ہو تو کاکا جی بولے کسی بچے نے ریوڑیاں گرا دی ہیں وہ چن رہا ہوں۔ اس شخص نے یہ بات پورے گاؤں میں پھیلا دیا اور اس طرح کاکا کے ساتھ ریوڑی کی پخ لگ گئی اور وہ کاکا ریوڑی کے نام سے مشہور ہو گیا۔
کاکا ریوڑی کا قد ساڑھے چار فٹ۔رنگ سانولا۔آواز بہت بھاری۔ایک آنکھ میں تھوڑا سا نقص ہے۔ اگر وہ کسی چیز کو غور سے دیکھے تو آنکھ ایسے جھپکنے لگتی ہے جیسے آنکھ مار رہا ہو۔
آنکھ میں نقص بلی کے پنجا مارنے سے ہوا۔ دراصل ہوا یوں کہ ایک دن اسے اپنی پالتو بلی پر ایسا پیار آیا کہ اس کی "چمی" لینے کی کوشش کی اور بلی کو یہ گستاخی بہت ناگوار گزری اس نے پنجا دے مارا جس سے آنکھ ایسی چھبی کہ پھر ٹھیک نہ ہوئی۔
اوپر کے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ روتے ہوئے بھی ہنستا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اور اگر ہنس لے تو پھر دکان کے شٹر کی طرح اوپری ہونٹ کو انگلی سے نیچے لانا پڑتا ہے۔ 
آنکھ کے نقص اور اور دانتوں کی وجہ سے انجان لوگوں سے اس کی کئی مرتبہ ٹھکائی ہو چکی ہے۔ کہ ہمیں دیکھ کر ہنستا کیوں ہے اور آنکھ کیوں ماری۔
سکول وہ میرے ساتھ ہی داخل ہوا۔ ہم دونوں اکٹھے سکول جاتے تھے۔ شروع میں وہ دھوتی کرتا پہن کر سکول جاتا تھا۔کئی مرتبہ استاد کے کہنے اور بعد میں دو تین مرتبہ پٹائی ہونے کے بعد مجبوراً اسے شلوار قمیض پہننی پڑی۔ اور پہلے ہی دن شلوار کے پہنچے میں پاؤں کے انگوٹھے پھنسنے سے کئی مرتبہ زمین پر گرا۔ 
ماں نے اسے ناڑا باندھنا تو سیکھا دیا مگر یہ بھول گئی کہ ایمرجسی لینڈنگ میں ناڑے کے بجائے لاسٹک ضروری ہوتی ہے۔ 
ایک دن صبح ہم سکول جا رہے تھے کہ اسے "دو نمبر"  زور کی لگی تو اس نے جوش میں ناڑے کا غلط سرا کھینچ لیا جس سے گرہ سخت ہو گئی۔
مدد کے لیے مجھے پکارا،میں نے اپنے تئیں بہت کوشش کی ،اوپر سے اس کی جلدی کرنے کی فریاد۔میں نے زور لگا کر ناڑا توڑ دیا اور شلوار کے کونے اس کے ہاتھوں میں تھما کر سامنے جوار کی فصل کی طرف اشارہ کیا۔
وہ ریس کے گھوڑے کی طرح دوڑا۔مگر رات والی چنے کی دال اپنا کام کر گئی۔وہ راستے سے ہی مرے مرے قدموں سے واپس آ گیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا۔واپس کیوں آ گئے۔ 
اس نے کہا۔فصل میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔"کاروائی" راستے میں ہی مکمل ہو گئی تھی۔
میں نے پوچھا "اب کیا ارادہ ہے۔ "
اس نے جواب دیا "اب واپس گھر ہی جانا پڑے گا۔" یہ کہہ کر گھر کی طرف چل پڑا۔
دونوں ہاتھوں سے شلوار ایسے پکڑی ہوئی تھی جیسے کوئی خزانہ چھپایا ہوا ہو۔
اور اس خزانے کی وجہ سے چل ایسے رہا تھا جیسے بطخ انڈا دینے جا رہی ہو۔
اس دن کے بعد وہ دوبارا سکول نہیں گیا۔
بیس سال کی عمر تک اس کی جب مونچھیں نہ نکلی تو بہت پریشان ہوا۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگا۔دل بھائی۔ مونچھوں کے بغیر زنانی لگتا ہوں۔کوئی ایسا علاج بتاؤ جس سے مونچھیں اگ آئیں۔مجھے شرارت سوجھی۔اسے مشورہ دیا کہ رات کو سوتے وقت مونچھوں پر ڈی۔اے۔ پی کھاد رکھ کر اوپر شاپر باندھ لینا دو دن کے بعد مونچھیں اگ آئیں گی۔اور اسے فصلوں کی مثال دی کہ کس طرح ڈی۔اے۔ پی کھاد کی وجہ سے فصلیں جلد اگ آتی ہیں۔یہ بات اس کے عقل لگی اور اس نے عمل کر ڈالا۔
رات بھر جلن کی وجہ سے سو نہ سکا۔ صبح اس کا منہ ڈبل روٹی بن چکا تھا۔جسے دیکھ کر مجھے کافی افسوس اور شرمندگی ہوئی۔مگر حیرت کی بات یہ کہ دو ماہ بعد اس کی واقعی مونچھیں نکل آئیں گھنی ایسی کہ جوؤں کا پورا ریوڑ سما جائے۔ 
میرا ایک تکیہ کلام ہے "تڑکا لگا کے " جو کہ ایک مذاق کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔گاؤں بھر میں میرے تکیہ کلام کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے۔ اس نے بھی ایک تکیہ کلام اپنا لیا "میں صدقے تھیواں"اور یہ تکیہ کلام اس کی زبان پر ایسا چڑھا ہے کہ بات شروع کرنے سے پہلے وہ اپنا تکیہ کلام لازمی بولتا ہے۔ مرد تو مرد عورتوں کے ساتھ بھی بات کرتے ہوئے تکیہ کلام ضرور بولتا ہے۔ انجان عورتوں سے کئی مرتبہ اپنے تکیہ کلام کی داد بھی وصول کر چکا ہے۔ 
ایک مرتبہ ہم دونوں اکٹھے نزدیکی قصبے میں لگا سالانہ میلہ دیکھنے گئے۔ 
میلہ گھومتے ہوئے وہ ایک چوڑیوں کی دکان پر رک گیا۔ مجھے خبر نہ ہوئی اور میں آگے چلا گیا۔
ایک خوبصورت عورت چوڑیاں پہن رہی تھی۔کاکا جی کو یہ منظر اتنا چھا لگا کہ غور سے ملاحظہ فرمانے لگا۔جس کے نتیجے میں آنکھ ڈمپر مارنے لگی۔
اس کے اس طرح گھورنے پر عورت نے اس کی طرف دیکھا اور حیران رہ گئی کہ یہ کون بدتمیز ہے جو ہنستے ہوئے اسے دیکھ کر آنکھ مار رہا ہے۔ پہلے تو اس نے ناگواری سے منہ پھیر لیا لیکن مسلسل اس حرکت پہ وہ عورت بھنا گئی اور اسے کھری کھری سنانے لگی۔
بدتمیز،بے شرم بے حیا۔تیری کوئی ماں،بہن نہیں ہے۔ بے غیرت ، پرائی عورتوں کو دیکھ کر آنکھ مارتا ہے اور ساتھ ہنستا بھی ہے۔ 
عورت کے اس طرح غصہ کرنے پر کاکا ریوڑی اپنے مخصوص انداز میں معصومیت سے گویا ہوا۔
" میں صدقے تھیواں! کیا پئے آہدے او تساں( کیا کہہ رہی ہیں آپ)
ہنستے ہوئے دانت اور آنکھ مسلسل ڈمپر مارنے میں مصروف۔اوپر سے تکیہ کلام کا تڑکا "میں صدقے تھیواں"نے گویا جلتی پر پٹرول کا کام کیا۔عورت نے تو شور مچا دیا۔عورت کا شوہر جو کہ دوسری دکان پر خریداری کر رہا تھا اپنی بیوی کے شور پر لبیک کہا۔ادھر کاکا ریوڑی عورت سے پوچھ رہا ہے۔ "میں صدقے تھیواں! کہڑی گلوں کاوڑیندے پئے او"( کس وجہ سے غصہ کر رہی ہو)
عورت کے شوہر نے کاکا جی کو پیچھے سے گردن پر ہاتھ جماتے ہوئے کہا" اوئے ٹیڈی اے بدماشی ! توں میڈی زال تے صدقے پیا تھیندی( اوئے تیری یہ بدماشی کہ میری بیوی پر عاشق ہو رہا ہے ) بس جناب کاکا ریوڑی کی ٹھکائی شروع ہو گئی اور اس کار خیر میں ایرے غیرے بھی شامل ہو گئے۔ 
میں جو آ گئے نکل گیا تھا شور شرابا سن کر واپس آیا تو دیکھا بہت سے لوگ کاکا ریوڑی کی پٹائی کر رہے ہیں جبکہ کاکا جی کی زبان پر یہ گردان جاری ہے۔ 
"میں صدقے تھیواں میکوں کیوں کٹی ویندے او" (مجھے کیوں پیٹ رہے ہو)۔
لوگ اس بات پہ حیران کہ عجیب ستم ظریف عاشق ہے کہ اتنی مار کھانے کے باوجود بھی ہنس رہا ہے اور سب کو آنکھیں بھی مار رہا ہے۔ 
بڑی مشکلوں سے لوگوں کو سمجھا بجھا کر میں نے کاکا ریوڑی کی جان چھڑائی۔
کاکا جی ایک موچی کی لڑکی سے عشق فرما رہے تھے مگر وہ لڑکی اسے گھاس نہیں ڈال رہی تھی۔کاکا جی نے مجھے کہا کہ مجھے ایسی باتیں سیکھاؤ جو عاشق اپنی معشوق سے کرتے ہیں۔میں نے اسے کچھ ڈائیلاگ سیکھا دیئے۔ 
اور کاکا ریوڑی نے جا کر اس لڑکی کو یہ ڈائیلاگ مارے تو اس لڑکی نے حیرت سے کہا کاکا آج یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تو کاکا ریوڑی نے جھٹ کہا۔ مجھے دلپسند نے کہا کہ ایسے بولنا۔ دوسرے دن وہ لڑکی راستے میں ملی اور مجھ سے کہنے لگی دل جی ایسی باتیں خود کہی جاتی ہیں کسی اور سے نہیں کہلوائی جاتی۔ اور میں شرم سے بغلیں جھانکنے لگا۔
ایک دن کاکا ریوڑی بہت اداس تھا میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا سب کی شادی ہو گئی صرف ہم دونوں کنوارے رہ گئے ہیں۔
میں نے کہا۔ میں نے تو خود ابھی شادی نہیں کر رہا۔تو کاکا ریوڑی کہنے لگا لیکن میں شادی کرنا چاہتا ہوں مگر کوئی رشتہ دیتا ہی نہیں ہے۔ اور پھر میرے پیچھے پڑ گیا کہ کوئی ایسا مشورہ دو جس سے میری شادی ہو جائے۔ میں بہت انکار کیا مگر وہ میری جان کو آ گیا۔آخر کار تنگ آ کر میں اپنی جان چھڑانے کو اس سے کہہ دیا کہ اگر وہ گیڈر کی سواری کرے تو اس کی شادی ہو جائے گی۔
یہ میں نے اس لیے کہہ دیا کہ نہ اس سے گیڈر پکڑا جائے گا نہ وہ سواری کرسکے گا۔کاکا ریوڑی نے پوچھا گیڈر کی سواری کیوں۔
میں نے کہا وہ اس لیے کہ گیڈر کے سر پر گیڈر سنگی ہوتی ہے اور گیڈر سنگی مادہ کی ملکہ کہلائی جاتی ہے۔ جو کنوارا گیڈر کے اوپر سوار ہو جائے تو اس سے گیڈر سنگی خوش ہو جاتی ہے۔ اور پھر کنوارے کی جلد شادی ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی عورتیں ایسے شوہر پسند کرتی ہیں جو گیڈر کا دل رکھتے ہوں۔
میری بات سن کر کاکا ریوڑی خاموش ہو گئے۔ اور میں بھی یہ بات بھول گیا۔
کئی دن کے بعد کاکا ریوڑی صبح صبح میرے گھر آ دھمکے۔ اور زبردستی کر کے مجھے اپنے گھر لے گئے اور میں وجہ پوچھتا رہا گیا۔
گھر پہنچ کر ایک کمرے کا بند دروازہ کھولا اور مجھے اندر لے گیا۔ اور یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ اندر ایک گیڈر بندھا ہوا تھا۔گیڈر کی حالت بتاتی تھی کہ رات بھر اس سے کمہار کے گدھے جیسا کام لیا گیا ہے۔ گیڈر کاکا ریوڑی کو خشمگی نظروں سے گھور رہا تھا۔ جیسے بے زبان خاموشی کہہ رہا ہو کہ شادی تیری نہیں ہوئی تو سزا مجھے کیوں۔
کاکا ریوڑی کہنے لگا ! دل بھائی آپ نے یہ تو بتایا نہیں تھا کہ کتنے دن گیڈر کی سواری کرنی ہے۔ میں ساری رات تو سواری کر چکا ہوں۔اب اور کتنے دن سواری کرنی ہے۔ گیڈر کی حالت دیکھتے ہوئے میں نے کہا بس اتنی کافی ہے اب گیڈر کو چھوڑ دو۔ 
جب گیڈر کو چھوڑا تو وہ اس طرح بھاگا جیسے کھوتی اپنے بچے کی طرف۔ 
ٹھیک دو ماہ بعد کاکا ریوڑی کی شادی ہو گئی۔
اب میں اس بارے میں کیا کہوں کہ میری عقل خود جواز ڈھونڈ رہی ہے۔ 
(نوٹ:- تمام کنوارے اپنی ذمہ داری پر گیڈر کی سواری کریں)
گیڈر کی سواری کی برکت تھی یا قسمت کی یاوری کہ کاکا ریوڑی کا رشتہ طے ہو گیا۔جبکہ ہر سننے والا حیران کہ یہ اچانک کیسے ہو گیا۔سبھی رنڈوے ،لنڈورے کاکا ریوڑی کے پیچھے پڑ گئے کہ ہمیں بھی وہ جادو بتاؤ جو تم نے چلایا ہے۔ 
میری سخت تاکید کے باوجود کاکا ریوڑی نے راز اگل دیا۔
گیدڑوں کی تو گویا شامت آ گئی۔لوگوں کی بے وقت کی سواری سے وہ تنگ آ گئے اور ہجرت کرنے پہ مجبور ہوئے۔ وہ جو رات ہوتے ہی کھیتوں میں سُر سے سُر ملاتے ہوئے پاپ سونگ گاتے تھے۔ وہ موسیقی ناپید ہو گئی۔اب تو بس رات کو کسی وقت چند ایک بوڑھے گیدڑوں کی ٹھمری میں گائی راگ ملہار سنائی دے جاتی ہے۔ 
لوگوں نے شاید اس ڈر سے ان بوڑھے گیدڑوں کو چھوڑ دیا کہ کہیں ان کی سواری کرنے سے کوئی بوڑھی گلے نہ پڑ جائے۔ 
کاکا ریوڑی کی خالہ ضلع لودھراں کے ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ اس نے ہی اپنے گاؤن کے ایک گھر میں رشتہ طے کر دیا۔
لڑکی کو آسیب کی شکایت تھی جس کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہوپا رہی تھی۔ کاکا ریوڑی کو کوئی دیتا نہیں تھا۔اسے کوئی لیتا نہیں تھا۔رب نے بنا دی جوڑی۔
ہم لوگ شادی پر بہت شرارتیں کرتے ہیں خاص طور پر سہ بالا کے ساتھ۔ دلہا بھی بچ نہیں پاتا تھا شرارتوں سے۔ 
بلآخر کاکا ریوڑی کی شادی آ گئی۔میرے بہت انکار کرنے کے باوجود کاکا ریوڑی نے سہ بالا بننے پر مجبور کر دیا۔ میری نظروں کے سامنے سے وہ سارے سہ بالے گزر گئے جو میری شرارتوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ گویا میری شامت بھی آیا ہی چاہتی تھی۔سہ بالا کو لڑکے والوں کی طرف خطرہ نہیں ہوتا۔ اس کی خدمت صرف لڑکی والے کرتے ہیں۔
شادی سے ایک روز پہلے کاکا ریوڑی کی خالہ بمعہ فیملی کے شادی میں شرکت کرنے آ گئی۔اس کی بڑی بیٹی شنو نے آتے ہی مجھے اطلاع دیتے ہوئے کہا۔
دل بھائی ہوشیار رہیے گا ہمارے گاؤں کی لڑکیوں نے آپ کی خدمت کرنے کے لیے بہت تیاری کر رکھی ہے۔ انہوں نے آپ سے سارے پرانے بدلے چکانے ہیں۔خاص طور پر لڑکیوں کی لیڈر سے بچنا جو کہ شہر میں پڑھتی ہے۔ 
ہمارے گاؤں آنے والی ان لوگوں کی دو براتوں کے ساتھ میں نے بہت شرارتیں کی تھیں۔اور اب کاکا ریوڑی کی مہربانی سے مجھے ان کا حساب دینا تھا۔
شنو نے یہ کہہ کر میری ہمت بندھائی کہ وہ خطرے سے بروقت خبردار کر دیا کرے گی۔
ہمارے ہاں ایک رسم "جھمی"ہوتی ہے۔ بیٹی والوں کی طرف سے لڑکے اور لڑکیاں حویلی کے دروازے میں کھڑے ہو کر لال چنریا تان لیتے ہیں۔لڑکے والے ان کے منہ مانگے پیسے اس چنریا میں ڈالتے ہیں تو وہ راستہ دیتے ہیں۔اگر کوئی براتی ان کی بے خبری میں اندر چلا جائے تو پھر وہ بغیر پیسے لیے جھمی ہٹا لیتے ہیں۔ جھمی دلہن کی بہنیں وصول کرتی ہیں۔ ہمیں بھی "جھمی" کے لیے حویلی کے دروازے پر روک لیا گیا۔
دلہن کی بہنیں جھمی کا دس ہزار مانگ رہی تھیں جبکہ میں پانچ دے رہا تھا۔ان میں ایک خوبصورت لڑکی بہت تیزو طرار لگتی تھی زیادہ وہی بول رہی تھی۔ شنو نے اشارے سے بتایا کہ یہی محترمہ ہے جو مجھے تگنی کا ناچ نچانے کے لیے سبھی لڑکیوں کی لیڈر بنی ہوئی ہے۔ میں نے تنقیدی نظروں سے اسے دیکھا واقعی وہ بہت خوبصورت لڑکی تھی۔اور لیڈر بننے کے قابل بھی۔ 
ابھی ہماری تکرار جاری تھی۔کہ اچانک حویلی کے اندر کتے آپس میں لڑ پڑے۔ اور ایک کتا دم دبا کر بھاگتا ہوا چھلانگ مار کر دیوار پر چڑھ آیا۔اس کا ارادہ باہر چھلانگ مارنے کا تھا۔ مگر برات کو دیکھ کر وہ گڑبڑا گیا۔ابھی وہ گومگو کی کیفیت میں تھا کہ دیوار کے قریب کھڑے مراسی نے شہنائی کا رخ اس کی طرف کر کے زور سے "پوں"کی تو کتا ڈر کر اندر کی طرف سیدھا چاولوں سے بھرے ٹب پر گرا۔گرم چاولوں نے اس کا مزاج پوچھا لیا۔۔ کتے کی درد سے کر لاتی ٹائیں ٹائیں سن کر سبھی لوگ ادھر متوجہ ہوئے۔ اور میں اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دلہے کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔اس طرح پانچ ہزار بھی بچ گئے۔ جبکہ بے چارے بیٹی والوں کے دو دیگ چاول کتے نے چھلانگ لگا کر خراب کر دیئے۔ 
شادی کے موقعہ پر انسانوں کے علاوہ دو اور جاندار بھی شادی کو انجوائے کرتے ہیں۔ اور وہ جاندار ہیں۔کوا اور کتا۔دونوں بڑی دور دور سے تشریف لے آتے ہیں۔اس موقعہ پر عموماً دوسری بستیوں کے کتوں کو شادی والوں کے کتے برداشت نہیں کرتے وقفے وقفے سے ان کا جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ اور کوے بھی بوٹیوں ،ہڈیوں پرآپس میں لڑتے ہیں۔
گرمیوں کے دن تھے سارے براتی صحن میں لگے نیم کے درختوں کی چھاؤں میں چار پائیوں پر بیٹھے تھے۔ کوے درختوں پر جبکہ کتے چارپائیوں کے نیچے گھسے ہڈیاں چبا رہے تھے۔ 
کھانا کھانے کے بعد مولوی صاحب نے نکاح کی کاروائی شروع کر دی۔ دولہے اور گواہوں کے دستخط اور انگوٹھے لگانے کے بعد دلہن کے والد کے آگے رجسٹر رکھتے ہوئے مولوی صاحب نے ایک خانے پر انگلی رکھتے ہوئے وہاں انگوٹھا لگانے کو کہا۔انگوٹھا لگانے کے لیے وہ جیسے ہی تیار ہوا۔ اسے چھینک آ گئی۔
آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآ چھی ی ی ی۔ ۔۔۔۔آآ کرتے ہوئے جیسے ہی منہ اوپر کیا اسی وقت درخت پر بیٹھے کوے نے تاک کر بیٹ کی جو سیدھی ناک کی پھنکی پر پڑی۔
اور چھی کرتے ہوئے جب منہ نیچے ہوا تو بیٹ اڑتی ہوئی سیدھی اس جگہ گری جہاں انگوٹھا لگانا تھا۔
لو جی انگوٹھا لگ گیا۔نکاح کی مبارکاں۔ یہ کہتے ہوئے مراسی نے ڈھول پر تاپ لگا دی۔باوجود کوشش کے لوگ ہنسی ضبط نہ کر سکے۔ سب سے بڑا قہقہہ کاکا ریوڑی کا تھا۔
دلہن سے اقرار اور انگوٹھا لگوانے کے لیے مولوی صاحب نے مجھے ساتھ لے لیا۔ کمرا لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا۔میرا ما تھا ٹھنکا۔
مولوی صاحب نے دلہن سے ایجاب و قبول کرانے لگا۔ 
شمیم بنت کریم بخش آپ کو فیاض احمد ولد نیاز احمد کے ساتھ حق مہار مبلغ ایک ہزار نکاح قبول ہے تو دلہن کی طرف سے خاموشی۔ 
دوسری مرتبہ بھی خاموشی رہی۔ جب تیسری مرتبہ مولوی نے کہا تو دلہن کی ماں جھٹ سے بولیں۔ "ہاں ہاں قبول ہے۔ "
مولوی صاحب نے کہا بی بی نکاح آپ کا نہیں آپ کی بیٹی کا ہے۔ آپ نے تو پہلے ہی ہاں ہاں کی ہوئی ہے۔ 
مولوی کی بات پر سب لڑکیاں کھل کھلا کر ہنس پڑیں۔
میں نے کہا مولوی صاحب دلہن اقرار میں سر ہلا رہی ہے کہ نکاح قبول ہے۔ شکر ہے اسی وقت دلہن نے بھی چپ کا روزہ توڑتے ہوئے قبول ہے کہا۔
اس سے پہلے کہ لڑکیاں مجھے گھیرتی میں کمرے سے باہر نکل گیا۔ابھی تک تو شنو کی مہربانی اور اپنی ہوشیار سے لڑکیوں کے بہت سے وار خالی گئے تھے۔ جس کی وجہ سے لڑکیاں بہت تلملائی ہوئی تھیں۔
دودھ پلائی کی رسم کے لیے دلہا اور میں دلہن کے پاس کمرے میں جا رہے تھے کہ اچانک دو لڑکے ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتے ہوئے ہماری طرف آئے ان کا انداز ایسا تھا کہ جیسے پہلا والا لڑکا دوسرے سے بچنے کے لیے بھاگ رہا ہو۔
میں غیر ارادی طور پر رک گیا اور اسی وجہ سے بچ بھی گیا۔
جبکہ کاکا ریوڑی اس لڑکے کی زد میں آ گئے اور بھر پور ٹکراؤ سے اچھل کر نزدیک پڑی خالی دیگ میں جا گرے۔ ساڑھے چار فٹ قد اور مختصر وجود کے مالک کاکا ریوڑی دیگ میں اس طرح فٹ ہو گئے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔
دیگ پہلو کے بل ہو کر پہیے کی طرح چل پڑی بارش کے پانی کی خاطر حویلی کے صحن میں دروازے تک کافی ڈھلوان تھی۔جبکہ دروازے کے باہر تو بہت ڈھلوان تھی۔اس سے پہلے کہ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آتا دیگ دلہے سمیت دروازے تک پہنچ گئی۔
اسی وقت حویلی کے باہر کتے آپس میں لڑ پڑے اِدھر دیگ دروازے سے باہر نکلی اُدھر اسی وقت ایک کتا بھاگتا ہوا دروازے سے گزرا اور سیدھا دیگ میں جا گھسا۔ 
ایک تو دروازے کے باہر کافی ڈھلوان تھی دوسرا کتے اور کاکا جی کی پتھکاریوں نے دیگ کی چال کو مہمیز دی۔اور دیگ ڈھلوان پر اس طرح جا رہی تھی جیسے موٹر کار۔
سب سے پہلے میں دیگ کے پیچھے دوڑا دروازے پر پہنچ کر دیکھا تو دیگ کافی دور جا چکی تھی اور دیگ میں کتے آواز سن کر باقی کتے بھی دیگ کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ وہ شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ کھانے سے بھری دیگ وہ اکیلا چرا کر بھاگ رہا ہے اس لیے وہ اپنا حصہ بٹورنے دیگ کے پیچھے دوڑ پڑے تھے۔ 
اب صورت حال یہ تھی کہ دیگ آگے اس کے پیچھے کتے اور سب سے پیچھے پوری برات۔ 
دیگ تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ایک کتیا نے میرا تھن کا ریکارڈ توڑتے ہوئے دیگ کے آگے نکل کر کھڑی ہو گئی اور بھوں بھوں بھوں کرتے ہوئے دیگ کو روکنے کا کہنے لگی۔ بھلا دیگ کتے کے اختیار میں تھوڑی تھی کہ وہ بریک لگاتا۔
عین وقت پر کتیا نے آگے سے ہٹنے کی کوشش کی مگر اسے دیر ہو چکی تھی۔دیگ گولے کی طرح اس کی پچھلی ٹانگوں سے ٹکرائی اور سیدھی ہو کر رک گئی۔دیگ رکتے ہی کتا چھلانگ لگا کر دیگ سے باہر نکل کر بھاگ مگر چکر آ جانے کی وجہ سے سیدھا کتیا پر گرا جو پہلے ہی ٹانگوں کی قربانی پہ نوحہ کناں تھی۔
دونوں مل کر زور زور راگ الاپنے لگے۔ 
بہر حال کتیا نے  اپنی ٹانگوں کی قربانی دے کر جہاں اپنے ایک درجن بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا وہاں ہمارے کاکا ریوڑی کی بھی جان بچی۔
یہ تو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکوں نے یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا دیگ وہاں جان بوجھ کر رکھی گئی تھی گرانا تو مجھے تھا۔ مگر میری خوش قسمتی اور کاکا ریوڑی کی بدقسمتی۔مگر یہ شرارت کرنے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دیگ یوں فل سپیڈ چل پڑے گی۔
دو گھنٹوں کے بعد کاکا ریوڑی کے ہوش ٹھکانے آئے تو ہم دوبارا دودھ پلائی کی رسم کے لیے دلہن کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ کمرے میں ایک طرف تین کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری طر رنگین پائیوں والی ایک چارپائی تھی جس پر خوبصورت سی چادر بچھی ہوئی تھی۔ 
ایک کرسی پر پہلے سے دلہن بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ والی کرسی پر دلہا بیٹھ گیا۔
لڑکیوں کی لیڈر نے بڑی خوبصورت مسکراہٹ سے مجھے نوازتے ہوئے کرسی کی طرف اشارا کرتے ہوئے پیارے بھرے انداز میں کہا "دل۔ ۔۔۔۔پس۔۔ن۔۔د۔ ۔۔۔جی بیٹھیے نا۔
اس کی مسکراہٹ اور لہجے پر میں ٹھٹھک گیا۔کہ ضرور کرسی میں کچھ راز ہے۔ 
اس لیے بڑے اطمینان سے جا کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔
مگر بیٹھنا غضب ہو گیا۔میں زور سے زمین پر گرا اور سر چارپائی کے بازو سے ٹکرانے سے آنکھوں کے آگے ست رنگ کے تارے ناچ گئے۔ 
چارپائی میں نواڑ وغیرہ نہیں تھی خالی چادر کھینچ کر باندھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مجھے محسوس نہیں ہوا۔میں اپنے خیال سے سیانا بنا تھا۔ مگر وہ کہاوت بھول گیا تھا کہ سیانا کوا اپنی بیٹ پر بیٹھتا ہے۔ 
ساری لڑکیاں منہ پھاڑے ہنس رہی تھیں۔ اور وہ محترمہ اسی کرسی پر بیٹھی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔حسب توقع سب سے اونچا قہقہ کاکا ریوڑی کا تھا۔
یہ بعد میں پتا چلا کہ یہ آئیڈیا اسی محترمہ کا تھا گویا وہ انسانی نفسیات کافی حد تک جانتی تھی۔
میں اٹھنے کی کوشش کرنے لگا تو وہ لپک کر آئی اور لہجے میں شہد جیسی مٹھاس لیے بڑے پیارے 
انداز میں بولی۔دل۔۔۔۔۔۔۔۔پسند جی چوٹ تو زیادہ نہیں لگی۔
میں نے کہا "دل سے پسند کرتی ہو اور دشمنی بھی کرتی ہو۔"
میری بات پر سب لڑکیاں ایک بار پھر قہقہہ مار کر ہنس پڑیں جبکہ وہ بری طرح جھینپ گئی۔اور شرمندہ لہجے میں بولی۔آپ کا نام ہی ایسا ہے تو اب کیا کیا جائے اور مجھے اٹھانے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
میں نے کہا "دیکھ لو خود ہاتھ تھامنے کو کہہ رہی ہو۔ اگر تھاموں گا تو عمر بھر کے لیے۔ "میری بات پر اس نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیا اور شرم کے مارے کمرے سے بھاگ کھڑی ہوئی۔اور اس کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ سر کی چوٹ بھول کر دل کو پکڑ لیا۔ کم بخت اس کے پیچھے فرار ہونے کو پر تولنے لگا تھا۔
پچھلے دنوں میں گاؤں گیا۔ ایک دن ہم دونوں اکٹھے آموں کے باغ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کاکا ریوڑی نے کہا دل بھائی آپ بھی گیڈر کی سواری کر لیں۔گیڈر میں پکڑ لاؤں گا۔ اور میں اس کی بات پر سٹپٹا کر رہ گیا۔۔۔۔
٭٭٭

کبھی ہیرو ہے کوئی 

در نایاب


سردیوں کی سہ پہر تھی۔ ممی لاونج کے آرام دہ صوفے پر شال اوڑھے لیٹی اپنے پسندیدہ ناول میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کہانی بڑے زبردست موڑ پر پہنچ چکی تھی۔ ہیرو کی ماں ہیرو کی غیر موجودگی میں ہیروئن کو دھوکے سے کسی کے ساتھ پھنسا چکی تھی۔ ممی مسلسل ناخنوں کو دانتوں سے چباتے وہ سین پڑھنے میں مگن تھیں، جس میں ہیرو اپنی جان سے پیاری محبوبہ کو پروپوز کرنے اس کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور ہیروئن کے بجائے رقیب میاں دروازہ کھولتے ہیں۔ کہ اتنے میں۔۔ ۔ ۔ ۔ کھلی کھڑکی سے کچھ اڑتا ہوا لاونج میں گھسا اور سر پر سے گزرتا ہوا محسوس ہوا۔ ممی نے بے دھیانی میں اس کالے اڑنے والے کے تعاقب میں نظر دوڑائی۔ وہ اڑتا ہوا صوفے کے سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کے پیلے شیڈ پر لینڈ ہوا۔ ممی کی توجہ پھر سے ابھی رقیب پر ہوئی ہی تھی کہ چھٹی حس بیدار ہوئی۔ اب کے نظر جو اٹھائی تو لیمپ شیڈ سے چمٹے دو انچ کے کالے لمبے ، مونچھیں گھماتے ، پروں کو پھرپھڑاتے ، کانٹے دار ٹانگوں والے ، گندی نالی سے ڈبکی کھائے کوکروچ پر جب پڑی تو پانچ فٹ سات انچ اور پچھتر کلو گرام کی ممی کا دل پتے کی طرح لرزنے لگا، خوف سے گھگھی بندھ گئی۔ سانولا رنگ سفید پڑ گیا اور دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ اپنے آپ کو سمیٹ کر پوری کی پوری شال کے اندر چھپ گئی۔
قریب ہی چار سالہ دانی ٹام اینڈ جیری میں مگن تھا۔
"د د دانی ی!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممی کے جانی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دانی میرا پالا شا منا۔۔ ۔ شاباش کتنا اچھا بیٹا ہے میرا!" ممی اپنے حلق میں آیا دل نگلتے ہوئے بڑی مسکین سی آواز میں شال میں سے تھوڑا سا منہ نکال کر پکاریں۔
چار سال کا توتلو،گولو گبلو دانش پکا بدمعاش تھا۔ جب بھی ممی اسے ایسے چاپلوسی سے بلاتیں تو فوراً سمجھ جاتا کہ کوئی کام کروانا ہے جو وہ خود کسی نہ کسی وجہ سے نہیں کرسکتیں۔ فوراً اپنے آپ کو تیس مار خان بنا لیتا۔
" تیا ؟۔۔ ۔ بولے تو! تئم نئی ہے اپن تے پاس" دانی نے پلٹ کر بھائی لوگ کی مانند جواب دیا۔
" یہ کیا بولے تو، بولے تو لگا رکھا ہے ؟ جی ممی بولو۔۔ سمجھے۔ ۔ !" امی کاکروچ وکروچ بھول کر غصے سے سبق پڑھانے بیٹھ گئیں۔
دانی کے پیشانی پر آتے کالے گھنگھریالے بالوں کے نیچے ابرو پر ننھے ننھے بل پڑے اور پھولے گال اور پھولنا شروع ہوئے۔ ایک تو ٹام اینڈ جیری جیسا کارٹون چھوڑا اور اب لیکچر پلائی کی تیاری۔ ایک دم موڈ خراب ہو گیا۔ ایک کندھا اچکایا اور پورا ٹی وی کی طرف واپس گھوم گیا۔
"نہیں نہیں۔ ۔ دانی بیٹا۔ ۔ میرا چھوٹا سا جانی۔۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔ میں نے تو تمہیں اس لئے بلایا تھا کہ یاد ہے تم نے پچھلے ہفتے چاکلیٹ کیک کی فرمائش کی تھی جو میں نے اس وقت پوری نہیں کی تھی۔ کیونکہ تمہاری ٹمی میں درد تھا۔۔ آج میں تمہیں خوب سارا چاکلیٹ ڈال کر کیک بنا دوں گی اور سب سے بڑا پیس تمہارا ہی ہو گا۔۔ !" ممی نے بیچارگی سے چارہ ڈالا۔
"پلومس!" دانی یہ سن کر کھل اٹھا۔ فوراً وعدے کی مہر ثبت کروانے پر تل گیا۔
ہمم اب آیا نہ اونٹ پہاڑ تلے۔ 
" بالکل پرامس، لیکن پہلے میرا منا میرا ایک چھوٹا سا کام کرے گا اوکے !"
"تیا! بولے تو؟" پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ"۔
ممی نے بمشکل اپنا ٹمپر قابو میں کیا۔
" دو فٹا۔۔ کل کا چھوکرا" دل ہی دل میں دانت پیسے۔ 
" ادھر آؤ میرا بہادر بیٹا میرا ہیرو۔ ۔ ۔ ۔ " ممی نے چمکارا
دانی ناچار کھڑا ہوا۔۔ ۔ اور ممی کے پاس آ کر شال میں جھانکا۔ اندر ممی تھر تھر کانپ رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ ایک دم ممی کتاب پڑھتے پڑھتے شال کے اندر کیسے غائب ہو گئیں۔
"تیا تام ہے۔ ۔۔ ۔ ؟" اب کے ذرا ممی کی حالت پر ترس کھایا۔ 
" دانی۔۔ بیٹا۔۔ باہر جاؤ اور جا کر وہ۔ ۔ وہ شوریک میں سے ابو کا ایک جوگر لے کر آؤ"۔
"تیوں۔۔ ؟" معاملے کی سنگینی جانے بغیر سوال داغا۔
" تم لے کر تو آؤ نا بعد میں کیوں کیوں کرنا۔۔ "
ممی کا دل چاہ رہا تھا دانی کو اٹھا کر جھنجھوڑ ڈالیں۔ مگر اس کالے خبیث کاکروچ نے حواس معطل کر دیئے تھے۔ دل نے کہا اس سے تو اچھا کوکروچ کو خود ہی ہاتھ میں لے کر جھنجھوڑ کر مسل ڈالتی۔ یہ سوچنا ہی تھا کہ سارے بدن نے ایک جھرجھری لی۔
دانی چلا باہر جوتا لینے۔ ۔ ۔
امی نے ڈرتے ڈرتے لیمپ شیڈ پر نگاہ کی۔ وہ وہیں ٹکا ہوا تھا مگر پر پھیلا رہا تھا مطلب کسی بھی ٹائم پھر اڑنے کی تیاری تھی۔"اگر یہ اڑ کر میرے سر پر لینڈ ہوا تو۔" اس سے آگے سوچا نہ گیا۔
" دانی ارے بھئی کہاں ہو جلدی لاؤ نا" ممی بے صبری سے پکاریں۔
" تون سا والا۔ لید یا لیلو۔۔ " معصومیت سے دور سے آواز آئی۔
" ارے بھئی کوئی بھی لے آؤ۔" اب کے ممی جھنجھلائیں۔
سائز فورٹی ٹو کا چوڑے منہ والا بھاری بھرکم جوگر بمشکل دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے دانی واپس آیا۔
" دانی میرے جانی۔۔ ۔ وہ دیکھ رہے ہو۔۔ سامنے لیمپ شیڈ پر۔۔ ؟"
"ہاں دیتھ را ؤں۔۔ ۔ کوتلوج !"
" دانی پلیز اسے اس جوتے سے مار کر باہر پھینک کر آؤ"
دانی نے ایک نظر دو گرام کے کوکروچ پر ڈالی اور دوسری تھرتھراتی ممی پر ڈالی اور سوچا ممی اگر اتنا ڈر رہی ہے تو یقیناً یہ کوکروچ سارے بیڈ گائیز سے بدتر ہی ہو گا۔
دانی بیک وقت بین ٹین، بیٹ مین، اسپائڈر مین اور جتنے بھی کارٹون نیٹ ورک کے ہیرو مین ہوسکتے تھے بن گیا۔
بمشکل ہاتھ میں جوتے کو سنبھال کر گھمایا اور بالکل ایسے پھینکا جیسے تھرو بال میں پھینکا جاتا ہے۔ جوتا لیمپ تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں ڈھیر ہو گیا مگر اس سے کوکروچ خبردار ہو کر اڑا اور ممی بدحواس ہو کر چیخیں اور شال کے اندر پوری طرح گم ہو کر لگیں جل تو جلال تو کا ورد کرنے۔ 
کوکروچ شاید ممی سے زیادہ بد حواس تھا اسی لئے فرار کی راہ نہ پا کر سیدھا دانی کے سر پر لینڈ ہوا۔
"تدھر دیا، تدھر دیا!" دانی نے اپنا مشروم کٹ ادھر ادھر گھمایا۔ کوکروچ بھی دانی کے سر پر اپنا توازن قائم رکھنے کے لئے بار بار پر پھیلا رہا تھا۔
ممی نے پھر ذرا سا منہ باہر نکال کر جھانکا پھر سے ایک جھرجھری لی اور بولی۔
"ت ت تمہارے سر پر ہے دانی جلدی سے نکالو اسے " یہ سچوشن تو ناول سے بھی زیادہ خطرناک تھی۔
"دانی نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور جلد ہی مونچھیں ہاتھ آ گئی۔
" مل دیا مل دیا!" خوشی سے مونچھوں کے سرے پر لٹکے بے بس کوکروچ کو ممی کی آنکھوں کے آگے لہرایا۔ ایک سیکنڈ کو ممی نے تڑپتے کوکروچ کی کانٹے دار ٹانگوں پر نظر ڈالی۔ اور وہ وقت یاد کیا جب اسٹور صاف کرنے کے وقت اوپر کہیں سے ایسا ہی ایک کالا خبیث اڑ کر بازو پر گرا تھا۔ اور اپنی کانٹے دار ٹانگوں سے سارے بازو پر چکر لگایا تھا اور ممی نے اس دن ایسی دلدوز چیخیں ماری تھی کہ ایسی چیخیں تو نانی اماں کے دار فانی سے کوچ کر جانے پر بھی نہیں ماری تھیں۔ ابو کو تو ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ ویسے بھی ممی کی موجودگی میں ابو پر ہمیشہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ منڈلاتا ہی رہتا ہے۔ 
دانی نے کوکروچ والا ہاتھ اونچا کر کے اپنی آنکھوں کے لیول پر کیا۔ پہلے دلچسپی سے اسے تڑپتے دیکھا پھر بولا۔
" تتّے۔ ۔ ۔ میں تیرا تھون پی جاؤں گا۔( کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا)"
یہ کہہ کر اس نے جوتا اٹھایا اور خون پینے کی مناسب جگہ کے لئے یہاں وہاں نظر دوڑائی۔ اور ڈائننگ ٹیبل کے نیچی کی جگہ کا انتخاب کیا۔
" تے لی تو میں۔۔۔ ۔ ٹھا!۔۔ ۔ ٹھا!" دانی اس کا قیمہ بنانے میں میں مصروف تھا۔
" دانی بس کرو!" ممی گھٹی گھٹی آواز میں ایسے کہہ رہی تھیں جیسے کوئی ان کا "اپنا" ہی پٹ رہا ہو۔
دانی اس کا "کریا کرم" کر کے باہر نکلا تو ہاتھ میں اب بھی مونچھوں کے سرے پر بچا کھچا پچکا ہوا کوکروچ تھا۔ ممی نے دیکھا تو ایک خطرناک ابکائی لی۔ دوپہر میں کھائی کڑھی جو انہوں نے ساحرہ کی ریسیپی سے بنائی تھی باہر آنے کو بیتاب تھی۔ ممی نے بمشکل لمبی لمبی سانسیں لے کر اسے پھر سے پیٹ میں واپس بھیجی۔
اتنے میں آپی اپنے روم سے باہر آ کر دانی پر برسنے لگی۔
"دانی کے بچے کیا ٹھک ٹھک کر رہے ہو۔ کم از کم ایک گھنٹے کو تو کسی کو بخش دیا کرو۔ اتنی اچھی نیند آرہی تھی۔"
آپی آنکھیں میچتی ہوئی دانی پر لعن طعن کر رہی تھی۔ دانی کے خیال میں اس نے ہیرو بن کر ممی کو ولن سے بچایا۔ اب بجائے تعریف تمغوں کے یہ آؤ بھگت اسے ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے آپی کی طرف غصے سے دیکھا۔ پھولے گال سرخ ہوئے اور ابرو چڑھا کر بولا۔
"بولے تو اپن نے ممی تو بچایا۔۔ ۔ اب یہ پتلو۔۔ ۔ میں اپنے تملے میں جاتا ہوں اور توئی مجھ سے بات نہ تلے "۔ یہ کہہ کر آپی کا ہاتھ پکڑ کر اس پر کوکروچ کا کچومر تھمایا اور افسردہ سا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
آپی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اپنی ہتھیلی پر نگاہ کی۔۔ ۔ پانچ فٹ پانچ انچ کی آپی کے چہرے کا رنگ بدلا۔۔ دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔ وہ پتے کی طرح کانپنے لگی۔ لرزتے ہاتھوں سے کچلا کوکروچ جھاڑا۔ اور۔۔ اور پھر ممی سے بھی زیادہ دلدوز چیخوں سے سارا محلہ گونج اٹھا۔
٭٭٭

کھلتا کسی پہ کیوں نہ 

حرا قریشی


"اف وردہ کس مصیبت میں ڈال دیا۔" ناجیہ نے بیچارگی سے کہتے ہوئے کتاب بند کی اور وردہ کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھا۔
"خبردار جو میرے بھائی کو مصیبت کہا۔" وردہ نے اسے گھورا تو وہ جلدی سے بولی تھی
"تمہارے بھائی کو کون کہہ رہا ہے۔ مگر یہ شاعری تو کسی مصیبت سے کم نہیں۔ مجھ سے یاد ہی نہیں ہو رہی۔ تم انہیں صاف صاف بتادو تم نے جھوٹ بولا تھا مجھے شاعری کا کوئی شوق ووق نہیں ہے۔ " ناجیہ نے اپنی طرف سے بہت اچھا حل بتایا تھا۔
"واہ واہ۔ کیا بات ہے محترمہ کی۔ یعنی میری محبت میں اتنا بھی نہیں کرسکتیں۔ صرف کچھ دن کی تو بات ہے۔ بس شادی ہو جائے پھر بے شک بھائی پر تمہاری اصلیت کھل جائے۔ پھر تم جانو اور بھائی جانیں۔ میری تو اس فوزیہ سے جان چھوٹ جائے گی نا۔" وردہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کچھ ہمت بھی دلائی۔
"تمہاری اس فوزیہ سے جان چھوٹ جائے گی اور میری جان ہمیشہ کے لیے اس شاعری کی وجہ سے عذاب میں آ جائے گی۔" ناجیہ نے اسے گھورتے ہوئے ایک دفعہ پھر فرحت عباس شاہ کی "کہاں ہو تم" اٹھا لی تھی۔
"اچھا ایک آئڈیا ہے۔ " وردہ کو اس کی مسکین صورت پر ترس آ گیا تھا۔ "ایسا کرتی ہوں میں تمہیں کچھ مشہور اشعار، غزلیں وغیرہ اور کتابوں کے نام ایس ایم ایس کر دیتی ہوں۔ تم کل ایسے شو کرنا جیسے میسجز چیک کر رہی ہو اور جو یاد نہ ہو وہ دیکھ کر پڑھ لینا۔" وردہ نے داد طلب نظروں سے ناجیہ کی طرف دیکھا۔
"زبردست! یعنی اب یہ سب نہیں رٹنا پڑے گا۔ اف وردہ تم کتنی اچھی ہو۔ میری اتنی بڑی مشکل آسان کر دی۔ بس اب تمہیں اس فوزیہ سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تمہاری ہونے والی بھابھی تمہارے ساتھ ہے۔ دیکھنا میں کیسے دھاک بٹھاتی ہوں۔ فوزیہ کی شاعری میرے سامنے پانی بھرتی نظر آئے گی۔" اتنی دیر سے ناجیہ جو وردہ کی تسلیاں سن کر بھی پریشان تھی مصیبت ٹل جانے پر جلدی جلدی اسے یقین دلانے لگی۔
* - * - *
ارے آپ اب تک ہماری پریشانی کی وجہ نہیں سمجھ سکے ؟ ابھی کچھ دن پہلے میں نے اپنے بھائی عالیان سے اپنی بچپن کی دوست ناجیہ کی انگیجمنٹ کروائی ہے۔ ویسے تو اب کوئی پریشانی کی بات نہیں مگر میری کزن فوزیہ اب بھی بھائی کے گرد منڈلاتی رہتی ہے۔ جس نے مجھ سمیت ناجیہ کی بھی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میرے بھائی ایک مصروف ترین بزنس مین ہونے کے باوجود شاعری جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔ ذرا فارغ وقت ملا اور وہ کوئی موٹی سی شاعری کی کتاب لے کر بیٹھے نظر آئیں گے۔ یہاں تک بھی بات ٹھیک ہے۔ انسان کو کسی چیز کا شوق ہے تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ 
شوق اپنے تک رہتا تو بات پریشان کن نہ تھی، مگر کچھ دن پہلے امی کے دل میں بھائی کی شادی کرنے کا ارمان جاگا۔ امی کے پوچھنے پر بھائی نے کہا کے ان کی صرف ایک خواہش ہے کہ ان کی ہونے والی بیگم شاعری سے شغف رکھتی ہوں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہیں کافی با ذوق ہونا چاہیے۔ بھائی کی اس عجیب و غریب فرمائش پر جہاں مجھے غصہ آیا وہیں امی نے اپنے لاڈلے کی واحد فرمائش پوری کرنے کی ٹھان لی اور میرا وہ اپنی بچپن کی دوست ناجیہ کو بھابھی بنانے کا ہمیشہ کا خواب کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیا۔ امی کے لیے بھی یہ بات پریشان کن تھی کہ آخر با ذوق بہو کیسے تلاشی جائے ؟ پھر بھائی اور امی کی پریشانی میں نے ناجیہ کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر دور کر دی۔ بھائی کو اس کے شاعری کی شیدائی ہونے کی بڑی مشکلوں سے یقین دہانی کروائی کیونکہ ناجیہ اور ہمارا سالوں سے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔ کیا سب اسے جانتے نہیں تھے ؟ جس نے کورس کی کتابوں کو بڑی مشکلوں سے ہاتھ لگایا ہو وہ بھلا شاعری کی کتابیں کہاں پڑھتی ہو گی۔ مگر میں نے ان دونوں کو اچھی طرح یقین دلا دیا کہ وہ اپنے فارغ وقت میں شاعری کے علاوہ کچھ پڑھتی ہی نہیں۔ بلکہ خالی پڑھتی ہی نہیں وہ تو خود شاعری کرتی بھی ہے۔ میں یہ بھول ہی گئی کہ جھوٹ بھی اس حد تک بولنا چاہیے جتنا نبھ جائے۔ میں بھی کیا کرتی۔ امی کی چہیتی بھانجی فوزیہ کا بھوت ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا تھا۔ جو بات کا جواب بھی کسی کے شعر یا ایسی اردو میں دیتی تھی کہ میرا تو سانس اٹکنے لگتا تھا۔ اسے مستقل طور پر گھر لے آنے کا مطلب تھا کہ چلتے پھرتے اردو ادب کو سر پر سوار کر لیا جائے جو مجھے کسی طرح منظور نہیں تھا۔
میری اتنی تعریفوں پر یقین تو ان دونوں کو کسی نہ کسی طرح آ ہی گیا۔ پھر کیا تھا بھائی نے تو سب امی اور مجھ پر چھوڑ دیا اور ہم نے چٹ رشتہ اور پٹ منگنی کروا کر ہی دم لیا۔ میرا بس چلتا تو نکاح بھی پڑھوا دیتی مگر وہ کچھ ماہ بعد ہونا طے پایا تھا۔ اب بس مجھے ان کچھ ماہ بھائی اور ناجیہ کا سامنا نہیں ہونے دینا تھا۔ نہ بھائی کو ناجیہ کی شاعری سے لگاؤ کے جھوٹ کا پتا چلنے دینا تھا نہ ناجیہ کو بھائی کی اوٹ پٹانگ شرط کی خبر ہونے دینی تھی۔ مگر برا ہو میری قسمت کا۔ ہر کام میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے۔ ابھی جب منگنی ہوئے کچھ ہی ہفتے گزرے تھے ناجیہ کی سالگرہ پر ہمیشہ کے خاموش، سیدھے سادھے لگنے والے ہمارے بھائی محترم کی اسے ڈنر پر لے جانے کی فرمائش نے میرے ہوش ہی اڑا دیے۔ مجھے پورا یقین تھا ناجیہ کے گھر والے اسے جانے کی اجازت نہیں دیں گے مگر حیرت کا جھٹکا تو تب لگا جب امی نے بتایا کہ میں بھائی اور ناجیہ کے ساتھ ڈنر پر جا رہی ہوں۔ وہ بھی ٹھیک دو دن بعد۔ پھر کیا تھا۔ مجھے جو بھی کرنا تھا ان دو دنوں میں کرنا تھا۔ ورنہ بھانڈا پھوٹتا تو میری خیر نہیں تھی۔
ایک گھنٹے بعد میں ناجیہ کے قدموں میں موجود تھی۔ پہلے اسے سچائی سے آگاہ کیا تو وہ آگ بگولہ ہی ہو گئی۔ بڑی مشکلوں سے اسے ٹھنڈا کیا۔ پھر اسے اپنے مشن میں شامل کرنے کے لیے پاپڑ بیلے۔ اگلے پچھلے سارے احسانات یاد دلانے سے وہ نہ مانی تو منتیں کر کے ، دنیا کی سب سے بے ضرر نند ہونے کے سہانے خواب دکھا کر راضی کیا۔ فوزیہ سے اسے بھی چڑ تھی اور ویسے بھی اب کوئی لڑکی بھائی کی طرف یا بھائی کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیتے تو ناجیہ اس کی جان کی دشمن ہو جاتی تھی۔ ماننا تو اسے تھا ہی آخر اس کی زندگی کا معاملہ تھا۔
* - * - *
دوسرے دن شام میں ہم نے ناجیہ کو اس کے گھر سے پک کیا اور بھائی کے فیورٹ ریسٹورینٹ پہنچ گئے۔ ناجیہ جو کل تک بہت نروس تھی اب اس کا کانفیڈینس دیکھنے والا تھا، بس اپنا موبائل کسی متاع کی طرح ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ اورڈر دے کر ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ میں شکر ہی کرتی رہی کہ بھائی کا شاعری کی طرف دھیان ہی نہیں جا رہا مگر شاید ناجیہ بی بی کو اپنی دھاک بٹھانے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا۔ خود ہی بھائی سے ان کے فیورٹ شاعر کا پوچھ بیٹھیں اور بھائی تو جیسے ان کے منہ سے شاعری کا ذکر سن کر کِھل اٹھے تھے۔ اچھی خاصی دیر پتا نہیں کون کون سے شعراء اور ان کی مشہور کتابوں کے نام لیتے رہے۔ میں نے ناجیہ کو گھورا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے ، اپنا سر ایسے ہلا رہی تھی جیسے سب سمجھ آ رہا ہو۔ جبکہ میں لکھ کر دے سکتی ہوں کہ آدھے سے زیادہ شعراء کا نام اس نے پہلے کبھی سنا ہی نہیں ہو گا۔
"آپ بھی تو بتائیں۔ آپ کس کا کلام پسند کرتی ہیں؟" بھائی کا یہ پوچھنا تھا اور میں نے ناجیہ کی طرف دیکھا۔ تیاری تو اس نے کافی کی تھی پھر بھی اگر کچھ یاد نہ رہتا تو موبائل ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ اس لیے میں نے اطمینان سے ادھر ادھر بیٹھے لوگوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
"مجھے تو فرحت عباس شاہ بہت پسند ہیں۔ ان کی شاعری میں اتنی خوبصورتی سے احساسات بیان کیے گئے ہوتے ہیں کہ انسان پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ " میں نے دل ہی دل میں ناجیہ کی ایکٹنگ کو داد دی۔
"بلکہ میں تو کہوں گی فرحت عباس شاہ میری فیورٹ شاعرہ ہیں۔" میں جو بڑے اطمینان سے لوگوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھی اپنی کرسی سے گرتے گرتے بچی۔ "شاعرہ" میں نے آنکھیں پھاڑ کر فخریہ مسکراہٹ سجائے بیٹھی ناجیہ کو دیکھا۔ بھائی جو جوس کا سپ لے رہے تھے کھانس کھانس کر ان کی آنکھوں سے پانی نکل آیا۔ ناجیہ بھی کچھ گھبراگئی۔
"افوہ بھئی یہ کیا آپ دونوں شاعری کی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ میں بور ہو رہی ہوں۔ اور بھائی ویٹر سے کہیں جلدی لائے بھوک کے مارے میرا تو حشر ہو رہا ہے۔ " میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی مگر میں کیا کرتی ناجیہ خود ہی اپنی جان کی دشمن بنی بیٹھی تھی۔
"ارے وردہ اب دو با ذوق لوگوں میں تم بد ذوق بور ہی ہو گی۔" ناجیہ نے بڑے اسٹائل سے کہا تھا اور میرا دل چاہا اس کو کچا چبا جاؤں۔
"اچھا تو فرحت عباس شاہ آپ کی فیورٹ شاعرہ ہیں؟ ویسے ندا فاضلی کی شاعری کے بارے میں کیا خیال ہے ؟" عالیان بھائی نے اپنے اوپر بڑی دقتوں سے سنجیدگی طاری کرتے ہوئے پوچھا۔ اور میں ناجیہ کی بکواس پر جزبز کر کے رہ گئی۔ بھائی کے سوال پر وہ کچھ گڑبڑائی کیونکہ یہ نام تو اسے میں نے رٹایا ہی نہیں تھا۔ میری طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا تو میں نے بھی غصے سے منہ دوسری طرف کر لیا۔ "اب بھگتیں محترمہ۔"
"ندا فاضلی۔۔ ۔ اوہ ہاں۔ وہ بھی کافی اچھی شاعری کرتی ہیں۔ بلکہ ان کی کئی غزلیں میں نے اپنی ڈائری میں لکھ رکھی ہیں۔"
"شاعری کرتی ہیں" سن کر میرا دل چاہا بال نوچ لوں۔ اپنے نہیں برابر میں بیٹھی ناجیہ کے۔ اس نے ایک اور شاعر کو شاعرہ بنا دیا تھا۔ مجھ سے مزید ہضم نہیں ہوا اس لیے وہاں سے اٹھ گئی۔
"میں ابھی امی کو کال کر کے آتی ہوں۔" میں نے باہر کی طرف دوڑ لگائی کے اسے ایس ایم ایس کر کے ہی بتاؤں کے اپنا شاعری نامہ بند کرے ورنہ پتا نہیں کیا ہونے والا تھا۔ مگر میرے مسلسل میسجز کرنے کے بعد بھی اس نے اپنے موبائل کی طرف نہ دیکھا تو میں پیر پٹختی واپس اپنی جگہ آ کر بیٹھ گئی۔ وہاں جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا۔
"وردہ تم نے بتایا نہیں ناجیہ شاعری کی اتنی زیادہ شوقین ہے اور تم ان کے ساتھ کافی دفعہ مشاعروں میں جا چکی ہو۔" میرے بیٹھتے ہی بھائی نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس جھوٹ پر ناجیہ کی طرف دیکھا مگر وہ میری طرف کب دیکھ رہی تھی۔ پٹر پٹر بولتی وہ اپنے با ذوق ہونے کے کتنے ہی ثبوت دیتی جا رہی تھی۔
"ارے خالی جاتے ہی نہیں ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جگہ محسن نقوی بھی مدعو تھے۔ ان کی شاعری کا تو آپ کو پتا ہے۔ ایک دنیا دیوانی ہے۔ میں کتنے ہی ضروری کام چھوڑ کر صرف ان کی وجہ سے گئی تھی۔ اور خالی گئی ہی نہیں تھی ان سے آٹوگراف بھی لی تھی۔" ناجیہ تو لگتا تھا اپنی اعلیٰ کارکردگی پر بہت ہی خوش تھی۔ محسن نقوی جو اب اس دنیا میں ہی نہیں تھے ، یہ محترمہ ان سے نہ صرف ملی تھیں بلکہ ان سے آٹوگراف بھی لیا تھا۔ میں اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئی۔ ناجیہ کو چپ کروانا اب میرے بس میں نہیں تھا۔ وہ ایک دفعہ شروع ہو جائے تو پھر ادھر ادھر دیکھے بغیر نان اسٹاپ بولتی ہے۔ 
"یہ تو کافی تشویش ناک بات ہے۔ " بھائی کی بڑبڑاہٹ میں نے تو صاف سنی تھی مگر شاید وہ نہیں سن سکی۔
"آپ تو شاعری کے بارے میں کافی معلومات رکھتی ہیں۔" بھائی نے امپریس ہونے کی اداکاری کی تو مجھے ان پر بھی غصہ آنے لگا۔ ناجیہ پرسکون بیٹھی تھی۔
"مجھے یاد ہے میں نے سب سے پہلے محسن نقوی کی شاعری کی کتاب لی تھی۔ شاید 9 کلاس میں تھا میں۔ آپ کب سے شاعری کی شوقین ہیں۔ سب سے پہلی کتاب کون سی لی تھی؟" بھائی تو لگتا تھا اس کا امتحان لینے بیٹھے تھے۔ خوب مزے لے رہے تھے۔ 
"میں نے۔ ۔۔" ناجیہ اٹکی۔۔۔ اسی وقت ویٹر ڈنر سرو کرنے لگا تو اس نے فوراً اپنے موبائل سے رجوع کیا۔ میں نے بھی شکر کا سانس لیا کے شاید اب کچھ عقلمندانہ جواب آ جائے۔ مگر اس نے اپنا فون غصے سے بیگ میں ڈالا تو یہ آس بھی ختم ہو گئی۔
"تو کیا کہہ رہی تھیں آپ؟" ویٹر کے جاتے ہی بھائی نے پھر پوچھا تھا۔
"وہ۔۔ میں نے۔ ۔ میں نے سب سے پہلی شاعری کی کتاب وصی شاہ کی "میرے ہو کے رہو" لی تھی میں بھی تب 9 کلاس میں تھی۔" ذہن پر زور دیتے ہوئے آخر کار ایک کتاب کا نام لے ہی لیا تھا۔ مگر افسوس۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور کھانا کھانا شروع ہو گئی۔ یہاں تو جو ہونا تھا وہ ہو کر رہے گا میں کیوں اس کے غم میں ڈٹ کر نہ کھاؤں۔
باقی کا وقت خاموشی سے کٹا۔ ناجیہ کو گھر ڈراپ کرتے وقت بھائی کی بات سن کر ناجیہ کے سارے کے سارے طبق روشن ہو گئے تھے۔ 
"وردہ نے بتایا تو تھا مگر مجھے آج سے پہلے یقین نہیں آیا تھا کہ آپ کو شاعری سے اس قدر لگاؤ ہے۔ " بھائی نے بات شروع کی تو ناجیہ کی مسکراہٹ دیکھنے والی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی سب بہت اچھا ہوا ہے۔ 
"کیا اعلیٰ ذوق پایا ہے۔ ۔۔۔۔ اپنی با ذوق دوست کے ارشادات تم بھی ذرا غور سے سن لو وردہ۔
فرحت عباس شاہ ان کی فیورٹ "شاعرہ" ہیں، شاعر نہیں" عالیان نے شاعرہ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
" انہوں نے سات سال پہلے پہلی شاعری کی کتاب وصی شاہ کی "میرے ہو کے رہو" لی تھی۔ یعنی اس وقت جب وصی شاہ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ یہ کتاب بھی چھپنی ہے۔ اور محفلِ مشاعرہ میں جانے کا جنون کی حد تک شوق رکھتی ہیں، کبھی کوئی مس نہیں ہوا۔ ابھی پچھلے مہینے "محسن نقوی" کے مشاعرے میں گئیں تھیں۔ اور نہ صرف یہ کے مشاعرے میں گئی تھیں بلکہ ان سے آٹوگراف بھی لے کر آئی ہیں۔ ویسے ایک بات پوچھ سکتا ہوں ناجیہ؟ یہ کون سے با ذوق لوگ ہیں جو شعراء کا قبرستان تک پیچھا کرتے ہیں۔ محسن نقوی کی عرصہ ہوا ڈیتھ ہو چکی ہے " عالیان نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بتایا تو ناجیہ کا دل چاہا کے وہاں سے اڑن چھو ہو جائے۔ ۔۔۔
"کیا کوئی گڑ بڑ ہو گئی وردہ؟" ناجیہ نے گھبرا کر سرگوشی کی تھی۔
"تم اب بھی پوچھ رہی ہو؟ یعنی اتنا زبردست کارنامہ کرنے کے بعد بھی؟" وردہ تو تپی بیٹھی تھی۔
"لو، اب میری کیا غلطی ہے کہ فون کی بیٹری ہی لو تھی۔ خبیث چل کر ہی نہ دیا۔ پھر مجھے جو جو یاد آیا بولتی گئی۔" اس نے معصومیت سے اپنا دفع کیا۔
"اور میں جو کھانس کھانس کر تمہیں ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر تم کسی طرف دیکھتیں تو کچھ سمجھتیں نا تم تو اپنی فیورٹ شاعرہ فرحت عباس شاہ کی غزلوں کے ٹائیٹلز گنوا رہی تھیں۔ ان میں سے بھی آدھے تو پروین شاکر کی غزلیں تھیں۔" وردہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔

"میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا وردہ مجھ سے نہیں ہو گا یہ ڈرامہ۔ مگر تم پر تو بھوت سوار تھا۔ مجھے تو تمہارے بھائی ہی کچھ کھسکے ہوئے لگتے ہیں۔ اب آج کل کون پڑھتا ہے ایسی مشکل شاعری اور اگر پڑھنا ہے تو خود سو دفعہ پڑھیں بیچاری منگیتر کا کیا گناہ ہے کہ وہ بھی رٹے لگائے۔ اب ضروری تو نہیں نا ہر کسی میں بڈھی روح سمائی ہو۔" ناجیہ بھی جھنجھلا گئی تھی۔ اتنے گھنٹوں کی محنت اور ٹینشن کا یہ نتیجہ اس کے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ وہ دونوں عالیان کی موجودگی فراموش کر چکی تھیں۔ اور وہ ان کی باتوں پر محظوظ ہو رہا تھا۔
"ہیں ہیں۔۔۔ جھوٹ کی حد ہے۔ میں نے کب فورس کیا تھا تمہیں؟ تم نے خود چیلنج قبول کیا تھا۔ میں نے صرف فوزیہ کا بتایا تھا کہ وہ شعر سنا سنا کر اپنے آپ کو بہت با ذوق ظاہر کرتی ہے تم بھی کچھ رٹ لو مستقبل میں کام آئیں گے۔ دھاک بٹھانے کا شوق تمہیں ہوا تھا۔ اور غلطی ساری کی ساری تمہاری ہی ہے۔ موبائل چارج نہیں کرسکتی تھیں؟ کیا فائدہ ہوا اتنی محنت کا جو لکھ لکھ کر میسجز سیو کیے تھے۔ " وردہ کو اب محنت ضائع ہونے کی فکر ہوئی۔
"بس رہنے دو۔۔۔ تمہارے میسجز بھی تمہاری ہی طرح بے وفا نکلے۔ عین وقت پر ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اب کیا میں چپ بیٹھی اسے آن کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔ بیٹری لو ہو گئی تھی موبائل کی۔" ناجیہ نے وردہ کو جھاڑتے ہوئے نظریں اٹھائیں تو عالیان کو اپنی طرف دیکھتا پا کر گڑبڑا گئی۔ پھر دل کڑا کر کے بولنا شروع کیا۔
"دیکھیں مجھے شاعری کا کوئی شوق نہیں تھا۔ نہ ہی مجھے آپ کی کسی شرط کا علم تھا۔ یہ سب وردہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس نے میرے بارے میں سب جھوٹ کہا تھا آپ سے۔ نہ تو مجھے شاعری سے کوئی لگاؤ ہے ، نہ ہی کسی شاعر کو جانتی ہوں۔ آج جو سب میں نے کہا وہ کل وردہ کی منتیں کرنے پر رٹے مارے تھے۔ آپ کی بھی غلطی نہیں۔ انسان کو ایک دفعہ زندگی ملتی ہے اس میں اپنی مرضی کا ساتھی چننے کی پوری آزادی ہونی چاہیے اس لیے۔ ۔۔ اس لیے " آخر تک آتے آتے ناجیہ روہانسی ہو گئی تھی۔
"یہ تو کچھ اس قسم کا معاملہ لگتا ہے 
کھلتا کسی پہ کیوں نہ میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے "
عالیان کے شعر سنانے پر ناجیہ کو بھی ایسا ہی لگا۔ یہ ساری رسوائی اس شاعری کی وجہ سے ہی ہوئی تھی۔ اسے شاعری پر مزید غصہ آنے لگا۔
"بھئی جب آپ میرے لیے اتنا کچھ کرسکتی ہیں، تو میں ایک فضول سی فرمائش نہیں چھوڑ سکتا۔" عالیان نے اسے رونے کی تیاری کرتے دیکھ کر فوراً کہا تھا۔
"کیا! فضول سے فرمائش؟" وردہ خوشی سے چیخی تھی۔ "آپ کو ناجیہ کے بد ذوق ہونے پر کوئی اعتراض نہیں؟" عالیان نے نفی میں سر ہلایا اور ناجیہ نے اپنے آپ کو بد ذوق کہنے پر وردہ کو گھورا تھا مگر پھر وہ تینوں ہی ہنس پڑے تھے۔ 
٭٭٭

ہاشمی نامہ 

ہاشمی


السلام و علیکم
لوجی پاسے پاسے ہو جاؤ ہاشمی آ گیا جے۔ 
میں مشکور ہوں فرخ بھائی کا کہ انھوں نے مجھ کو متحرک کیا اور یہ تحریر لکھنے پر اکسایا،اس تحریر کو لکھنے کے لئے مجھے ماضی میں جھاتی مارنی پڑی جو ایک مشکل کام تھا۔ میں کوئی مزاح نگار نہیں ہوں ہوسکتا ہے کہ میرے ماضی کے کچھ لمحوں اور کر داروں کو پڑھ کر آپ کے لبوں پہ مسکراہٹ نہ آئے اس کے لئے پہلے ہی معذرت، میں نے انتہائی سنجیدگی سے یہ مزاحیہ تحریر لکھنے کی کوشش کی ہے اور آپ دوستوں کی نذر
بذلہ سنجی لاہوریوں کا خاصہ ہے جس کو عرف عام میں جگت بازی بھی کہتے ہیں۔ اسٹوڈنٹ لائف میں اپنی حالت یہ تھی کہ جیسے ریس کا گھوڑا ہوتا ہے جو میدان میں دوڑنے کے لئے بیتاب ہوتا ہے اور فرنٹ گیٹ کھلتا ہے اور پیچھے سے اس کو لکڑی کا تختہ مار کر ہانکا جاتا ہے اور وہ چھلانگ لگا کر میدان میں پیر دھرتا ہے اور پھر چل سو چل۔ نہ اس گھوڑے کو پتا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونا ہے نہ ہم کو خبر تھی۔ کیا زمانہ تھا طالبعلمی کا، ابتدائی تعلیم میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول مزنگ سے حاصل کی بہت شغل کیا کلاس میں میرے ساتھ میرا نیپی فرینڈ ہوتا تھا نصیر عرف بابا۔۔۔۔۔۔یہ عرفیت ہمارے لاہور میں عام ہے ہم لوگ اصل نام سے ایک دوسرے کو کم ہی پکارتے ہیں کسی کا محبت سے اور کسی کا خار بازی میں نام رکھ دیتے تھے پھر اسی عرفیت سے اس کو پکارتے تھے چاہے اگلا خوشی سے قبول کرے یا پھر غصہ کرے ،ایک دوست کا نام وسیم تھا چہرے پر پمپلز تھے اور وہ شیو بڑھائے رکھتا تھا اس کو ہم خوبصورت نوجوان کہتے تھے ، ایک دوست تھا اس کے والد صاحب پلاسٹک کے پائپ بناتے تھے اور مولوی ٹائپ گھرانہ تھا ہم نے اس کا نام پپولوی رکھ دیا، ایک لڑکا گلوکارہ نورجہاں کا بہت فین تھا اور ہے اب بھی، اس کے مطابق کوئی استاد کوئی خان صاحب نورجہاں کے پائے کا گلوکار نہیں ہے ہم نے تنگ آ کر اس کا نام نورجہاں کا پتر ڈال دیا، اس کا ذکر کرنا ہوتا تو کہتے تھے نورجہاں دا پتر کدھر ہے نورجہاں کا پتر یہ کہتا ہے۔ خیر بات تو ہو رہی تھی کہ میرے ساتھ نصیر عرف بابا ہوتا تھا ہم دونوں اکٹھ کی وجہ سے ہمارا کافی رعب تھا کلاس میں مگر ایک دن میرا رعب مٹی میں مل گیا۔ سردیوں میں ہمارے ٹیچر سر سلیم ہم کو کلاس میں بٹھا کر خود دھوپ سینکنے باہر گراؤنڈ میں چلے جاتے تھے دوسرے ٹیچرز کے پاس، پندرہ بیس منٹ ہم ریلیکس ہوتے تھے ایک دن وہ باہر گئے تو میں بھی نکل گیا پانی پینے کے بہانے ، پانچ منٹ بعد واپس آیا تو کمرے کا دروازہ بند تھا سردیوں کے دن تھے ، میں نے دھڑام سے دروازہ کھولا اور غزل گنگناتے ہوئے داخل ہوا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس کا حال سنائیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات پر غور نہیں کیا کہ کمرے میں پن ڈراپ سائلنٹ کیوں ہے وہ تو دو قدم آگے بڑھ کر پتا چلا کہ سر سلیم 2 منٹ بعد ہی واپس آ گئے تھے کسی وجہ سے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ خود سوچیں کہ میری کیا حالت ہوئی ہو گی۔ خیر سر سلیم نے کہا ہاشمی پتر تیرے عشق کو بعد میں منائیں گے پہلے توں ایتھے ذرا کن پھڑ اور ہاشمی صاحب پھر انسان سے مرغا بن گئے کلاس میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں قسم واٹ لگ گئی رعب کی اور سکولنگ کے اختتام تک کلاس فیلوز انجوائے کرتے رہے اس سین کو۔ ایک کلاس فیلو ہوتا تھا نام اس کا خرم تھا مگر عرفیت میں اس کو ہم بونگا کہتے تھے اس میں ایک کوالٹی تھی کہ اس کو اردو پڑھنی نہیں آتی تھی مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ بائیوں کیمسٹری اور فزکس پڑھ لیتا تھا اردو کے ٹیچر سر عبد المومن خصوصی طور پر اس کو کھڑا کر کے اس سے اردو سنتے تھے جب وہ اٹک اٹک کر پڑھتا تھا تو ساری کلاس ٹھٹھہ کرتی تھی اور وہ خود بھی ہنس رہا ہوتا تھا اپنی حالت پر، میرا میتھ کمزور تھا اور بابے کو انگلش کا ککھ نہیں پتا تھا میٹرک کے امتحان میں ہمارے رولنمبر آگے پیچھے تھے میں آگے اور بابا میری پچھلی سیٹ پر بیٹھتا تھا، میتھ اور انگلش کے پیپرز میں ہم نے امداد باہمی کے تحت شیٹس چینج کر کے ایک دوسرے کی تھوڑی تھوڑی مدد کی، خرم عرف بونگا پانچ پیپرز میں رہ گیا کافی سال بعد ملا تو بتایا کہ ابا جی نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اگر تیری شادی تک یا شادی کے بعد تک بھی اگر میٹرک نہ ہوا تو پھر بھی کوشش جاری رہے گی، اس شرمو شرمی میں اس نے محمود غزنوی کو واضح مارجن سے شکست دیتے ہوئے چوتھی کوشش میں میٹرک کو فتح کر لیا۔ بخیر و عافیت میٹرک پاس کر کے ہم کالج پہنچے تو وہ الگ ہی دنیا تھی۔
پہلا پیریڈ اردو کا ہوتا تھا جس پر مجھے اپنی طرف سے کافی عبور تھا اس لئے شاذونادر ہی کلاس میں جاتا تھا ہمارے پرنسپل صاحب ایک دبنگ قسم کے ریٹائرڈ فوجی تھے ریش مبارک ماشاءاللہ کافی طویل تھی ان کی شکل آپ یاد کرنے کی کوشش کروں تو اسام بن لادن کا چہرہ ذہن میں آتا ہے ٹوپی اور ریش ان کا ٹریڈ مارک تھے ہم ان کو دور سے دیکھ کر کینٹین اور گراؤنڈ سے دوڑ لگا دیا کرتے تھے ،اس کا تدارک یہ کیا انھوں نے بعد ازاں ک اس ٹوپی کو اتار کر منہ پر رکھ لیا کرتے تھے جسیے دولہا رومال رکھتا ہے منہ پر، اپنے تئیں وہ سمجھتے تھے کہ داڑھی کو زرہ بند کر کے پہچان میں نہیں آئیں گے مگر ہم چوکنے رہا کرتے بارہا وہ جھاڑیوں درختوں کی اوٹ میں کرالنگ کر کے ہم تک پہنچ کر ایک دم خودکش حملہ کر دیتے تھے اور جو ہتھے چڑھ جاتا تھاوہ جام۔ پھڑکولا پیتا تھا، پھڑکولا کوئی کوکاکولا ٹائپ چیز نہیں ہے یہ خالصتاً کٹ ہے جو راوی(دریا کی نہیں اپنی بات کر رہا ہوں) کے کن سے بارہا گزری ہے یعنی کنوں کن بچ گیا ایک بار تو اپنے فرینڈ کو پرنسپل کی طرف دھکا دے کر بھاگ گیا جیسے مشرف نے اپنے بندے پکڑ پکڑ امریکہ کے حوالے کیے ، اس سیفٹی ایکٹ کو سب نے فرینڈشب ایکٹ کے خلاف قرار دیا جس کی وجہ سے کمینوں نے آج سے 12 سال پہلے مجھ سے 300 روپلی کا کھانا کھایا اور سارا مہینہ میں نے سسکتے ہوئے گزارا سیگرٹ بھی مانگ مانگ کر پیے ، ہمارا گروپ 35 لڑکوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا جو مختلف ڈیپارٹمنٹس سے تعلق رکھتے تھے اور کالج میں رعب بھی تھا یونین (ایم ایس ایف) والے ہم کو پکڑ پکڑ کر بٹھاتے تھے اپنے پاس۔
کیا زمانہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عجب بے ساختگی تھی بے دھڑک کہہ دینا مصلحت پسندی موقع کی مناسبت سے بات کرنے کا رجحان نہ تھا، چونکہ میں ایک نالائق قسم کا طالبعلم تھا اس لئے والدین نے اکیڈمی میں بھرتی کروایا ہوا تھا وہاں باقاعدگی کے ساتھ جاتے تھے کیونکہ وہ مخلوط درسگا تھی زنانیاں بائیں طرف بیٹھتی تھیں اور ہم اپنی نکی نکی مردانیاں لے کر سجے پاسے بیٹھ جاتے تھے سر بلیک بورڈ پر میتھ کا سوال حل کر رہے ہوتے تھے اور مجھ سمیت نوجوان کن اکھیوں سے لڑکیوں کو دیکھ رہے ہوتے تھے وہ تو ہوش تب آتی تھی جب میری ٹنڈ پر سر چاک مار کر کہتے تھے ہاشمی صاحب ادھررررررر۔ تو ہڑبڑا کر سر کی طرف متوجہ ہو جاتے اور وہ ناہنجار ناعاقبت اندیش لڑکیاں کھی کھی کرنا شروع کر دیتی انھی رویوں کے بناء پر میں نے ان سے کنارہ کر لیا اور ان میں سے کسی سے شادی کا ارادہ ترک کر دیا کہ ساری عمر مجھے کہ مینہے مارنے ہیں کہ تم وہی ہو نا جو مجھ کو لک لک کر دیکھتے تھے۔ سر نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہم کو آگے بٹھانا شروع کر دیا اور اور خواتین کو پیچھے کلاس ختم ہوتی تو وہ پہلے کھسک لیتیں اور سر ہم کو اپنی تشریف ہلکی سی بھی نہیں کھسکانے دیتے تھے جب تک ان کی تسلی نہ ہو جاتی۔ ایک دن سر ہم کو کیلکس کا سوال سمجھا رہے تھے جو کافی مشکل تھا ایک بار حل کیا پھر دوسری بار حل کر کے سمجھایا اور پوچھا کہ کچھ پلے پڑا لڑکیوں نے تو نمبر بنانے کے لئے فٹافٹ ہاتھ بلند کر دیے لڑکے کچھ تذبذب کا شکار تھے سر نے ہماری شکلیں دیکھیں تو ایک بار پھر سوال مٹانے لگے دوبارہ سے حل کرنے کے لئیے اور کہنے لگے میرے ہاتھ گھس گئے ہیں نالائقو تمہیں سمجھا سمجھا کر مگر کوڑھ مغزو تواڈے پلے کج نئیں پیندا، کیا کرو گے تم بڑے ہو کر؟ میں نے بے ساختگی میں کہا شادی۔۔۔۔۔۔ اس بات ہر وہ ہاسا بڑا کہ میں خود ہی کچا پڑ گیا، اوپر سے سرسجاد کی گھوری آج تک یاد ہے مجھے۔ 
رات کی بیٹھک ہوا کرتی تھی جہاں اپنے گلی محلے علاقے کے دوست چائے والے ہوٹل پر اکٹھے ہوتے تھے رات گئے چائے کے دور کے دور چلا کرتے تھے اور شاعری خیالات نظریات پر بحث و تکرار ہوا کرتی تھی مذہبی عقائد پر تلخ کلامی ہو جایا کرتی تھی کہ آتش جوان تھا تب۔ رات کو اکثر لیٹ آتا تھا مجھے گھر واپسی کی ڈیڈ لائن ساڑھے دس کی ملی تھی جوں جوں میں جوان ہوتا گیا یہ لمٹ بڑھتی گئی اب یہ صبح فجر کی اذان تک ہے ، ہمارے گھر کا دروازہ لکڑی کا تھا جس کی کنڈی باہر سے ہاتھ ڈال کر کھولنے کا طریقہ میں نے اپنے چچا سے سیکھا تھا کیونکہ وہ بھی اپنی جوانی میں ایسے ہی حرکتوں میں ملوث پائے گئے جس دن کنڈی میں دادی یا دادا جی چمچہ پھنسا دیتے تھے وہ رات باہر تھڑی پر بیٹھ کر گزارنی پڑتی تھی اور صبح فجر ٹائم جب دادا جی نماز کے لئے مسجد جاتے تھے تو میں دوڑ کر گھر وڑ جاتا تھا، صحن میں دادا دادی اور چھوٹی پھپھو سوتے تھے اور ان کے پاس سے گزر کر مجھے اوپر کی منزل پر جانا پڑتا تھا بہت احتیاط سے چوروں کی طرح دبے پاؤں ان کی منجیوں کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا ویسے تو اندھیرے کے باوجود مجھے سارا نقشہ یاد ہوتا تھا کہ کون سی چیز کہاں پر ہے مگر کہیں غلطی سے کسی چوکی پیڑھی کو ٹھیڈا لگ جاتا تھا تو پھپھی صاحبہ بھتیجا دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک عدد جوتی دادی جی کو ھینڈ اوور کر دیتی تھیں اور وہ اپنے تجرے کو (جو چچا کو مارتے ہوئے حاصل کیا تھا) بروئے کار لاتے ہوئے میر پڑپڑی سیک دیتی تھیں، میں اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ میں نے دادا دادی کے ساتھ کافی ٹائم گزارا اور ان کے ساتھ بہت شرارتیں بھی کیں مجھے یاد ہے دادا مرحوم کو ٹی وی دیکھنے کا بہت چسکا تھا اس زمانے میں صرف پی ٹی وی ہی آتا تھا اور وہ فرمان الٰہی اور قومی ترانہ سن کر ہی ٹی بند کرتے تھے الگ بات ہے کہ زیادہ ٹائم بیٹھے بیٹھے سوتے میں گزر جاتا تھا ہمارا ٹی وی سونی کا تھا پھر چچا نے بھی سونی کا ٹی وی لیا تو ایک دن بیٹھے بیٹھے شغل کا موڈ بن گیا تو میں اپنے ٹی وی کا ریمورٹ لے کر چچا کے پورشن میں آیا اور چھپ کر بیٹھ کر چینل چینج کر دیا دادا جی نے پھر پھر پی ٹی وی لگایا تو میں نے آواز اونچی کر دی انھوں نے آواز کم کی تو میں نے ٹی وی آف کر دیا وہ پریشان ہو گئے ، دادی مرحومہ کو پتا تھا کہ یہ میری کاروائی ہے اس لئے وہ دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھی تھیں، دس منٹ تک یہ سلسلہ چلتا رہا آخر دادا جی نے اٹھ کر ٹی وی بند کر دیا اور خاموشی سے فکرمند ہو کر بیٹھ گئے دادی نے انجان بن کر پوچھا کہ ٹی وی کیوں بند کر دیا تو وہ کہنے لگے کہ زاہد کی ماں(ڈیڈ کا نام زاہد ہے اس وجہ سے وہ دادی کو زاہد کی ماں کہہ کر مخاطب کرتے تھے ) نواں ٹی وی خراب ہو گیا اے خود ہی آواز اچی ہو جاندی اے آپئی چینل چینج ہو جاندا اے نواں ٹی وی لیا سی شاہد نے ھن پتا نئی کنے پیسے لگن گے اینوں ٹھیک کران لئی۔۔۔۔اس بات پر دادی کا قہقہہ اتنا بلند تھا کہ دادا جی نے ایسے دیکھا ان کو کہ جیسے ٹی وی کی خرابی کے صدمے سے ان کے ذہن پر شائد برا اثر پڑا ہے خیر پھر ان کو جب حقیقت پتا چلی تو پھر انھوں نے الو کا پٹھا کھوتے دا پتر اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا مجھ کو مگر انجوائے انھوں نے خوب کیا اس شرارت کو۔
ایک لڑکا ہوتا تھا نام عاصم تھا مگر ہم اس کو مٹھا پاء کہتے تھے وہ ہر بات میں کہتا تھا کہ مٹھا پا کے ، وہ بے چارہ ان پڑھ تھا جب ہم نے اس کا ریکارڈ لگانا ہوتا تھا تو ایک دوسرے کا آنکھ مار کر کر محفل میں قانون پاس کر دیتے تھے کہ کوئی پنجابی نہیں بولے گا پھر ہم اس کی گلابی اردو سن کر دوہرے چوہرے ہوتے تھے جس انداز سے الفاظ اس کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلتے تھے وہ دیکھنے کا نظارہ ہوتا تھا۔ وہ پلمبر تھا پیشے کے حساب سے ہم نے اردو میں اس سے پوچھا مٹھا جی کہیے جناب کیا کام کرتے ہیں اس بیچارے نے کہنا تھا جواب میں کہ پلمبری کرتا ہوں اس کے منہ سے نکل گیا پیغمبری کا کام کرتے ہیں ہم تو پہلے ہکابکا رہ گئے پھر ہم نے خوب سر دھنا اس جواب پر کے کیا خوب کا کام تلاش کیا ہے جناب نے اور پھر وہ لوٹ پوٹ ہوئے کہ کچھ نہ پوچھیں، ہم نے اس کا اس بات پر بہت ریکارڈ لگایا۔ ایک کر دار تھا افتخار عرف استاد تابی اس کو علم نجوم وغیرہ سے بہت شغف تھا ہر وقت ساعتوں میں الجھا رہتا تھا یہ زحل کی ساعت ہے اس میں یہ نہیں کرنا نحوست ہے مشتری ہے اس میں کاروبار کی باتیں ہوں گی مریخ کی ساعت ہے احتیاط کرو لڑائی جھگڑا ہوسکتا ہے اور ہم اس کا توا لگاتے تھے مگر وہ اپنی دھن کا پکا تھا اس کی مثال دیتا ہوں اس کی شادی کسی گاؤں والی سائیڈ پر ہوئی ہے بارات لے کر جا رہے تھے کہ ایک جگہ مٹی میں اس کی گاڑی کا ٹائر پھنس گیا ہم دوست دولہے کی گاڑی میں تھے اور پیچھے رہ گئے تھے ، دولہا سمیت باہر نکل کر ہم زور لگانے لگے مگر گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی، اچانک وہ زور لگاتے لگاتے ایک جگہ بیٹھ گیا اور خلاؤں میں گھورنے لگا جیسے کچھ حساب لگا رہا ہو، ہم اکھڑے سانسوں کے ساتھ اس کو گھورنے لگے ، اچانک کہنے لگا اینوں چھڈ کے بہہ جاؤ آرام نال، ہم نے کہا کیا بات ہے تو کہنے لگا اس وقت زحل کی ساعت چل رہی ہے 20 منٹ بعد زور لگاؤ گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ ہم لٹرلی زمین پر لیٹ گئے ہنستے ہنستے ایک دوست ہوتا تھا گل بٹ نام گلریز تھا مگر ہم گل کہتے تھے۔ کہنے لگا استاد تابی اس سے زیادہ میں کیا کہوں کہ فٹے منہ، مگر اتفاق دیکھئے کہ تقریباً آدھ گھنٹے بعد ہم گاڑی کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ بقیہ راستے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں جتاتا گیا۔
وہ خوبصورت وقت اب خواب و خیال ہو گئے۔ اس مضمون کے کچھ کر دار اللہ کو پیارے ہو گئے کچھ اپنی بیویوں کو۔۔۔۔۔۔ اب آس پاس رہتے ہوئے بھی مہینوں بعد ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ صرف ذہن کے آئینے میں ان کے عکس باقی ہیں جن پر وقت کی گرد کی تہہ دن بدن گہری ہوتی جا رہی ہے۔ 
٭٭٭


ہم اور ہمارے غبارے کی داستاں 

می مانو


وہ کیا ہے نا جی۔ ہمیں غبارے بچپن سے ہی بہت پسند ہی۔ لال،نیلے ،پیلے گول مٹول سے غبارے۔ ۔۔ اب تو ہمارا بچپن پلس جوانی چل رہی ہے۔ مگر دل نہیں چاہتا کہ جوان ہوں۔۔۔ بس بچوں کی طرح گول مٹول غباروں کے ساتھ زندگی کھیلنے میں گزر جائے۔ ۔۔ پہلے تو ایک ایک روپے کے آتے تھے غبارے۔ ۔ اور ہم امی سے رو رو کہ بھکاریوں کی طرح غبارے کی فرمائش کرتے تھے۔ ۔ اور ہماری اماں حضور کہتی۔۔۔
"ارے بد دماغ غبارے کاہے کو لیتی ہے۔ ۔۔ کچھ دیر تک گول مٹول رہتے ہیں پھر پھس۔۔ ارے میں پوچھتی ہوں فائدہ ایسی چیزوں کا۔۔۔ بندہ کوئی کام کی چیز لے جیسے زیرے والے "بسکوٹ " ایک روپے میں پانچ آ جاتے ہیں۔ بندہ تو پیٹ تو بھر لے۔ (ہماری اماں ہر چیز کو نت نئے نام سے نوازتی جیسے ابھی بسکٹ کو بسکوٹ سے نواز دیا)
"امی کیا ہے بھئ۔۔۔ ایک غبارے کی فرمائش کی تھی مگر آپ اصل موضوع سے ہٹ کر پتہ نہیں کون سے دکھڑے رونے لگتی ہیں۔۔۔
"اب تو اس موئے غبارے کی خاطر ماں سے زبان درازی کرے گی۔۔ آنے دے ابّا کو، مار نا پڑوائی تو میں تیری ماں نہیں۔۔۔"
ہم بیچارے قسمت کو کوستے منہ بسورتے باہر سہلیوں کے ساتھ کھیلنے چل پڑے۔ ۔۔ اب بھلا زیرے کا بسکوٹ اوہو اماں بھی نا منہ پر بسکوٹ چڑھا گئ۔۔۔۔۔ ہاں تو کہا تھے ہم۔۔۔ یعنی ہم مابدولت اب زیرے کا بسکٹ کھائے۔ ۔۔ ایک تو اس میں اتنے بڑے بڑے زیرے ہوتے ہیں کہ حلق میں پھنس جائے۔ ۔ خواہ مخواہ گدی میں چماٹ لگوا کر زیرے کو حلق میں اتارنا پڑتا ہے۔ ۔۔
"ارے چنی آ جاؤں ہم مس مس والا کھیل رہیں ہیں۔۔" یہ آواز ایک بہتی ناک والی سر پر ایک چنی سی چٹیا بنائے (ہم آج تک حیران تھے کہ اتنے بڑے سر پر چنے چنے بالوں میں اتنا ننھا سا پودا کیسے اگا لیتی ہے۔ )اور منہ میں لالی پاپ ڈالے لال منہ کے ساتھ ہماری سہیلی گڑیا کی تھی۔۔۔
"نہیں گڑیا مجھے نہیں کھیلنا۔۔۔۔۔" ہم نے کچھ زیادہ ہی رکھائی کا مظاہرہ کیا۔۔۔اور ایک سرد آہ بھری کہ اپنے نصیب میں شاید غبارہ نہیں۔۔۔ گلی کی بچیاں ہمیں ایسے دیکھ رہی تھیں، کہ جیسے آج سے پہلے کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔۔۔ بلکہ کچھ تو خوش تھی کہ چلو آج مس بننے کی بارے ان کی آئے گی۔۔۔
اچانک ہمیں لگا کہ ہمارے سر پر سے کچھ گزرا ہے۔ ۔۔۔" ہمم ہو گا کوئی پرندہ۔ ۔" مگر جب اوپر سر اٹھا کو دیکھا تو ایک خوبصورت سا لال رنگ کا غبارہ جو شاید دو روپے والا تھا اڑے جا رہا تھا۔۔۔۔ ہم پہلے تو اسے حیرانی اور خوشی کے آنسوں کے ساتھ دیکھتے رہے۔ پھر دل سے آواز آئی۔۔۔" ارے چنی اٹھ اس سے پہلے کہ تیرا محبوب کسی اور کہ پاس چلا جائے اٹھ۔۔ ہائیں یہ دل کی آواز ہماری اماں کی آواز سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ ۔۔ "اوہو اسے چھوڑو کہ میری آواز کس سے ملتی ہے بس کمر کسو اور بھاگ چنی۔۔"
اوہ ہاں، یہ دل بڑی عقلمندانہ بات کہہ رہا ہے یہ میری اماں نہیں ہوسکتی۔۔۔ خیر جی ہم نے اپنے فراک کی بیلٹ کسی، چپل کو پاؤں میں مضبوطی سے اڑیسا۔۔ اور دے دھنا دھن بھاگ۔۔۔ جہاں جہاں غبارہ وہاں وہاں ہم۔ ۔۔ سر صرف آسمان کی اوپر تھا۔۔ "اوئی ماں"اچانک کسی کی پتلی سی آواز آئی۔۔۔۔ ارے نہیں یہ تو ہماری برابر والی پان والی خالہ ہیں۔ لگتا ہے ان کی آواز پان کھا کھا کر اتنی پتلی ہو گئ ہے۔ ۔۔
"ارے چنی کی بچی کہاں بھاگے جا رہی ہے۔ دیکھ کر نہیں چل سکتی۔۔ ٹھیر میں تمھاری امی سے شکایت کرتی ہوں "مگر ہمیں تو ابھی کسی کا ڈر نہیں تھا خالہ کو پریشان حال چھوڑ کہ بھاگتے گئے۔ ۔ اور بار بار اچھل کر غبارے کا دھاگا پکڑنے کی کوشش کرتے ، کہ اچانک دکان والے خالو جو نماز پڑھ کر آرہے تھے ان سے ٹکرا گئے۔ ۔۔
"ارے بچی دیکھ کر کدھر کی دوڑ ہے بھئ۔۔۔ "خالو ہمیں روکتے ہوئے پوچھنے لگے۔ ۔۔"ارے خالو بعد میں بتاتی ہوں۔" اور ان کے برابر سے دم دبا کر
بھاگے۔ ۔۔ اچانک وہ غبارہ غائب ہو گیا۔۔۔۔ ہیں کہاں گیا۔۔۔ نہیں یہیں کہیں ہونا چاہیے۔ ۔۔ کہاں گیا۔ ۔ کہاں گیا۔۔۔ دل چاہ رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ ۔۔ دو روپے والا غبارہ قسمت والوں کو ملتا ہے۔ ۔ ابھی ہم اسی دکھ میں تھے کہ اچانک ہمارے پیر سے کچھ ٹکرایا۔۔۔ ہیں یہ کیا یہ زمین ہمارے منہ کہ قریب بوسہ دینے کیوں آرہی ہے۔ ۔۔ "اوئی اللہ!!!!!!!!"ہم پوری قوت سے چلائے۔ ۔۔ ہم گلی کے بیچ و بیچ کھڑے تھے کہ ایک سائیکل سوار بچے نے ہمیں ٹھوک دیا۔۔۔ "اندھے نظر کا چشمہ لگاؤ۔۔۔۔" ہم نے روتے روتے گلا پھاڑ کے کہا۔۔ ابھی غبارے کا درد کم تھا جو ایک اور درد دے دیا۔۔۔۔ ہمارے گھٹنے سے خون نکلنے لگا۔۔۔ "تم خود اندھی، بیچ سڑک میں کاہے کو کھڑی ہو۔۔"اس نے تڑاخ سے جواب دیا اور یہ جا وہ جا۔۔۔۔
گھر تک ہمیں برابر والے سلیم انکل نے گود میں پہنچایا۔۔۔ گھر پہنچ کر امی نے جو بے لاگ کی سنائی۔ اچانک ابو نمودار ہوئے اور ہمیں اس حالت میں دیکھ کر دوڑے دوڑے آئے۔ ۔۔ "ارے کیا ہوا ہماری لاڈو رانی کو۔۔۔"
ابو نے جیسے دکھتی رگ پر ہاتھ رک دیا۔۔۔ "میں گر گی آآآآ ھا اا اا اامیں بس تھوڑا سا بول کہ پوری قوت سے رو دی۔۔۔ "نا نا بچہ ایسے نہیں روتے آؤ ہم مرہم لگا دیں۔۔ دیکھو آج ہم اپنی چنی کے لیے کیا لائے۔ ۔۔غبارہ" ابو نے بغیر پھلایا ہوا غبارہ ہماری طرف کیا۔۔۔۔ "کیا اا اا۔۔میں خوشی سے مزید رو دی۔۔۔ جلدی سے ابو کے ہاتھ سے جھپٹا اور لگی پھلانے۔ ۔۔۔"
"لاؤ چنی میں پھلا دو۔ ۔ مجھے بڑا مزہ آتا ہے پھلانے میں۔۔"ہمارا بڑا بھائی اسلم بولا "نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اپنا گندا گندا منہ لگانے کی۔۔" میں نے غصے میں بولا۔۔۔"اللہ کرے تمھارا غبارہ پھٹ جائے۔ ۔۔۔"اسلم نے ایک بددعا سے بھی نواز دیا۔۔۔ "اور اللہ کرے تمھارے سائیکل کا ٹائر بھی پھٹ جائے۔ ۔ "ہم کسی سے کم تھے کیا۔۔۔اور لگے پھلانے غبارہ۔ ۔۔پٹاخ!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!اچانک سے دو چیزیں پھٹنے کی آوازیں آئی۔ اسلم کی سائیکل کا سامنے والا ٹائیر پنکچر ہو گیا تھا اور ساتھ میں ہمارا غبارہ بھی پھس ہو گیا تھا۔ جی ہمارے قسمت کی طرح۔۔۔
٭٭٭
ماخذ:
http://www.urdupubliclibrary.com/
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
