﻿



ہواؤں کے ساز پر




انا قاسمی












کبھی ہاں کچھ، مرے بھی شعر اُس پیکر میں رہتے ہیں
وہی جو رنگ، تتلی کے سنہرے پر میں رہتے ہیں

نکل پڑتے ہیں جب باہر، تو کتنا خوف لگتا ہے
وہی کیڑے، جو اکثر آدمی کے سر میں رہتے ہیں

یہی تو ایک دنیا ہے، خیالوں کی یا خوابوں کی
ہیں جتنے بھی غزل والے، اسی چکر میں رہتے ہیں

جدھر دیکھو وہیں نفرت کے آسیبوں کا سایہ ہے
محبت کے فرشتے اب کہاں کس گھر میں رہتے ہیں

وہ جس دم بھر کے اس نے آہ، مجھ کو تھامنا چاہا
یقیں اس دم ہوا، کے دل بھی کچھ پتھر میں رہتے ہیں
٭٭٭






بازو و پر دئیے، پروازِ انا دی ہے مجھے
پھر خلاؤں میں نئی راہ دکھا دی ہے مجھے

اپنی ہستی سے وہ درویش تو بیگانہ رہا
میری روداد مگر اس نے سنا دی ہے مجھے

پھر ذرا غار کے دروازے سے پتھر سرکا
ایسا لگتا ہے کہ پھر ماں نے دعا دی ہے مجھے

قرض بوتا رہوں اور بیاج میں فصلیں کاٹوں
میرے اجداد نے میراث بھی کیا دی ہے مجھے

یہ تو ہونا ہی تھا اس روز رہِ الفت میں
جرم اس کا تھا مگر اس نے سزا دی ہے مجھے

جیسے سینے میں سمٹ آئی ہو دنیا ساری
شاعری تو نے ہی وسعت یہ عطا کی ہے مجھے
٭٭٭






مانے جو کوئی بات، تو اک بات بہت ہے
صدیوں کے لئے پل کی ملاقات بہت ہے

دن بھیڑ کے پردے میں چھپا لے گا ہر اک بات
ایسے میں نہ جاؤ، کہ ابھی رات بہت ہے

مہینے میں کسی روز، کہیں چائے کے دو کپ
اتنا ہے اگر ساتھ، تو پھر ساتھ بہت ہے

رسماً  ہی سہی، تم نے چلو خیریت پوچھی
اس دور میں اب اتنی مدارات بہت ہے

دنیا کے مقدر کی لکیروں کو پڑھیں ہم
کہتے ہے کہ مزدور کا بس ہاتھ بہت ہے

پھر تم کو پکاروں گا کبھی کوہِ اناؔسے
اے دوست ابھی گرمیِ حالات بہت ہے
٭٭٭


وہ آسماں مزاج کہاں آسماں سے تھا
اس کا وجود بھی تو اسی خاکداں سے تھا

اس کے ہر ایک ظلم کو کہتا تھا عدل میں
سایہ مرے بھی سر پہ اسی سائباں سے تھا

اس ساحرہ نے موم سے پتھر کیا جسے
وہ قصۂ لطیف مری داستاں سے تھا

گرد ان کر میں آیا ہوں میزانِ  فاعلات
اب کے ہمارا سامنا اس نکتہ داں سے تھا

یہ مفلسی کی آنچ میں جھلسی ہوئی غزل
رشتہ یہ کس غریب کا اردو زباں سے تھا
٭٭٭






رہتا ہے مشغلہ جہاں بس واہ واہ کا
میں بھی ہوں اس فقیر اسی خانقاہ کا

صد شکر حسن اور شب بے پناہ کا
ویسے ارادہ کچھ بھی نہیں ہے گناہ کا

مجھ سے ملے بغیر کہاں جائیے گا آپ
اک سنگ میل ہوں میں محبت کی راہ کا

یا رب ہر اک کو اتنی مصیبت ضرور دے
مطلب سمجھ سکے وہ غریبوں کی آہ کا

منصف کی بات اور ہے حق کا مزاج اور
دعویٰ ہو خود دلیل تو پھر کیا گواہ کا

تم کو بھی فرصتیں ملیں مجھ کو بھی تھوڑا وقت
سوچیں گے کوئی راستہ پھر سے نباہ کا
٭٭٭






امید ہے کہ کوئی نیا گل کھلائے گا
یہ سلسلہ بڑھے تو تری رسم راہ کا

مجبورو ناتواں کوئی انساں نظر نہ آئے
گزرے گا یاں سے قافلہ عالم پناہ کا
٭٭٭


کھینچی لبوں نے آہ کہ سینے پہ آیا ہاتھ
بس پر سوار دور سے اس نے ہلایا ہاتھ

محفل میں یوں بھی بارہا اس نے ملایا ہاتھ
لہجہ تھا نا شناس مگر مسکرایا ہاتھ

پھولوں میں اس کی سانس کی آہٹ سنائی دی
بادِ صبا نے چپکے سے آ کر دبایا ہاتھ

یوں زندگی سے میرے مراسم ہیں آج کل
ہاتھوں میں جیسے تھام لے کوئی پرایا ہاتھ

میں تھا خموش جب تو زباں سب کے پاس تھی
اب سب ہیں لاجواب تو میں نے اٹھایا ہاتھ
٭٭٭






یہ فاصلے بھی، سات سمندر سے کم نہیں
اس کا خدا نہیں ہے، ہمارا صنم نہیں

کلیاں تھرک رہی ہیں، ہواؤں کے ساز پر
افسوس میرے ہاتھ میں کاغذ قلم نہیں

پی کر تو دیکھ اس میں ہی کل کائنات ہے
جامِ سفال گرچہ مرا جامِ  جم نہیں

تم کو اگر نہیں ہے شعورِ وفا تو کیا
ہم بھی کوئی مسافرِ دشتِ الم نہیں

ٹوٹے تو یہ سکوت کا عالم کسی طرح
گر ہاں نہیں، تو کہہ دو خدا کی قسم، نہیں

اک تو، کہ لازوال تری ذاتِ بے مثال
اک میں کہ جس کا کوئی وجود و عدم نہیں
٭٭٭





بہت ویران لگتا ہے، تری چلمن کا سناٹا
نیا ہنگامہ مانگے ہے، یہ شہرِ فن کا سناٹا

کوئی پوچھے تو اس سوکھے ہوئے تلسی کے پودے سے
کہ اس پر کس طرح بیتا کھلے آنگن کا سناٹا

تری محفل کی رودادیں بہت سی سن رکھیں ہیں، پر
تری آنکھوں میں دیکھا ہے، ادھورے پن کا سناٹا

سیانی مفلسی ٖفٹ پاتھ پر بے خوف بکھری ہے
کہ دس تالوں میں رہتا ہے بچارے دھن کا سناٹا

خدایا اس زمیں پر تو ترے بندوں کا قبضہ ہے
تو ان تاروں سے پُر کر دے مرے دامن کا سناٹا

مری اس سے کئی دن سے لڑائی بھی نہیں پھر بھی
عجب خوشبو بکھیرے ہے، یہ اپنے پن کا سناٹا

تمہیں یہ نیند کچھ یوں ہی نہیں آتی انا  صاحب
دلوں کو لوریاں دیتا ہے ہر دھڑکن کا سناٹا
٭٭٭



شام کے شانے سے جب آنچل ڈھلے
چاندنی کے رتھ پہ تم آنا چلے

رات کچی نیند میں تجھ کو جگاؤں
تو حنائی ہاتھ سے آنکھیں ملے

تو سرورِ رقص میں بل کھائے، یا
چاند لہروں کے تلے انگڑائی لے

ہو چلے ناسور جب زخمِ امید
تب تری آواز کے نشتر چلے

ہم فقیروں کی کہاں منزل یہاں
مرحلے در مرحلے در مرحلے

آؤ چل کر بسترِ خاکی پہ سوئیں
نیلگوں آکاش کے سائے تلے

چڑھ رہے ہیں یاس کے سائے بہت
یوں سمٹتے جا رہے ہیں فاصلے

آپ کیسے شاعروں کے غول میں؟
آدمی تو آپ تھے اچھے بھلے

ٹوٹ جائے رات کا بندِ قبا
سینۂ خورشید سے چادر ڈھلے

روشنی کے اس تعاقب میں انا
جب جلے اپنے ہی بال و پر جلے
٭٭٭



قطعات

ابر بیتاب ہوکے چیخ پڑا
برق انگڑائی لے کے جاگ اٹھی
قطرہ قطرہ جگر سے خوں ٹپکا
رات تنہائی لے کے جاگ اٹھی



خوب ہریائے ہیں چنے کے کھیت
بیریاں پھل رہی ہیں آ جاؤ
فرصتوں کے بھی کچھ تقاضے ہیں
چھٹیاں چل رہی ہیں آ جاؤ





روٹھنا مجھ سے مگر خود کو سزا مت دینا
زلف  رخسار سے کھیلے تو ہٹا مت دینا

میرے اس جرم کی قسطوں میں سزا مت دینا
بے وفائی کا صلہ یار وفا مت دینا

کون آئے گا دہکتے ہوئے شعلوں کے پرے
تھک کے سو جاؤں تو اے خواب جگہ مت دینا

ساری دنیا کو جلا دے گا ترا آگ کا کھیل
بھڑکے جذبات کو آنچل کی ہوا مت دینا

خون ہو جائیں نہ قسمت کی لکیریں تیری
میلے ہاتھوں کو کبھی رنگے حنا مت دینا

اوچھی پلکوں پہ حسیں خواب سجانے والے
میری آنکھوں سے میری نیند اڑا مت دینا

سوچ لینا کوئی تاویل مناسب لیکن
اس ہتھیلی سے مرا نام مٹا مت دینا
٭٭٭


جب کوئی اس پہ جان دینے لگے
جان کی وہ امان دینے لگے

آنکھ بستر پہ اس گھڑی جھپکی
جب پرندے اذان دینے لگے

اس کے لہجے میں دھار آنے لگی
لفظ دل پر نشان دینے لگے

آؤ باہر ذرا ٹہل کر آئیں
اب یہ بستر تھکان دینے لگے

میری غزلیں سمجھ میں آنے لگی
اب ادھر بھی وہ دھیان دینے لگے
٭٭٭



کس سے پوچھوں اے فلک حالات کا سورج ہے کون
تلملاتا کیوں اٹھا ہے، بات کا سورج ہے کون

دے گیا آنکھوں کو سپنے، لے گیا آنکھوں کا نور
تو زمیں کی تہ میں ڈوبا، رات کا سورج ہے کون

تیرے جاتے ہی یہ ذرے آسماں پیما ہوئے
سب سے کہتے ہیں بتا ظلمات کا سورج ہے کون

ہے کہاں اب مشرق و مغرب کا تو تابندہ گر
ان گھٹاؤں کے تلے برسات کا سورج ہے کون

آخرش اس کا بھی سر خوں  رنگ میں رنگ جائے گا
یہ جہانگیری ہے کس کی ذات کا سورج ہے کون

روشنی کے پر سمیٹے شام کی دہلیز پر
زندگی کے آخری لمحات کا سورج ہے کون

کچی فصلوں کا لہو برسوں سے پی جاتا ہے کیوں
بادلوں میں چھپ کے بیٹھا گھات کا سورج ہے کون

یہ دہکتی آگ اور یہ آبلہ پائی تری
اے انا دل میں ترے جذبات کا سورج ہے کون
٭٭٭





جا چکا ہے سب تو اب کیا جائے گا
یار پانسہ پھینک دیکھا جائے گا

خود تراشیدہ لکیریں ہی نہ پڑھ
بول جوگی سال کیسا جائے گا

ہے کڑی یہ دھوپ کچھ سایہ بھی ہو
ورنہ یہ پودا تو کمہلا جائے گا

تشنگی میری ہنسیے گی اور سن
آبی رت میں ابر پیاسا جائے گا

اور بڑھ جائے گی دھرتی کی تھکان
بوڑھے برگد کا جو سایہ جائے گا

دل وہ شے ہے شاعری کے شہر میں
جس قدر ٹوٹے گا، مہنگا جائے گا
٭٭٭





زخم مہکیں گے تو آہوں میں اثر بھی آئے گا
رفتہ رفتہ شعر کہنے کا ہنر بھی آئے گا

منزلوں کے ذکر کو مٹنے نہ دینا واعظو
حوصلے زندہ ہیں تو عزمِ سفر بھی آئے گا

رو پڑے گی چشمِ دوراں اپنا چہرہ دیکھ کر
جب قلم کی نوک پر خونِ جگر بھی آئے گا

کھا رہا ہوں ایک مدت سے فریبِ  زندگی
سوچنا ہوں کوئی لمحہ معتبر بھی آئے گا

اے انا اپنے لئے چن لے سراطِ  مستقیم
ہاں اگر کچھ راستہ زیر و زبر بھی آئے گا

جستجو میں جس کی جو ہے اس کا ملنا لازمی
اے خدا اک دن نہ اک دن تو نظر بھی آئے گا
٭٭٭






کج کلاہی سے، نہ مطلب ریشمی شالوں سے ہے
دوستانہ یار میرا صرف متوالوں سے ہے

شاعری کا شوق تو تازہ ہے لیکن دوستو
سلسلہ تو حسن والوں سے مرا سالوں سے ہے

اڑ کے جائے گا بھلا وہ جنگلی پنچھی کہاں
جس کی شریانوں  میں خوشبو آم کی ڈالوں سے ہے

پر کٹے پنچھی چمن میں رینگتے سے دیکھ کر
جانے کیوں اک خوف سا ہر دم ترے بالوں سے ہے

ہم کہ تج دیں زندگی تک اس پری پیکر کے نام
پھر بھی اس کو بیر سا ہم چاہنے والوں سے ہے
٭٭٭





دوزخ سی یہ دنیا بھی سہانی ہے کہ تم ہو
یہ بارِ غمِ  زیست اٹھانی ہے کہ تم ہو

لفظوں میں وہی روحِ معانی  ہے کہ تم ہو
غزلوں میں وہی شعلہ بیانی ہے کہ تم ہو

کچھ یوں ہی نہیں روح میں اتری ہے یہ خوشبو
بولو تو سہی، رات کی رانی ہے کہ تم ہو

محفل میں غزل پڑھنے کا یارا تو نہیں ہے
ہاں تم کو کوئی بات سنانی ہے کہ تم ہو

آنچل ہے ترا، یا کہ ہیں سب رنگ دھنک کے
یہ وادیِ خوش رنگ ہی دھانی ہے کہ تم ہو

اب رخ سے نقاب اپنے الٹ دے مرے قاتل
کیا فرق ہے اب دشمنِ جانی ہے کہ تم ہو
٭٭٭


واقعہ ہے یا کہ تیرا ذکر افسانوں میں ہے
بات کچھ تو ہے کہ تو اخبار کے خانوں میں ہے

نصف شب تو غرق میری جاموں  پیمانوں میں ہے
اور باقی جو ہے وہ تسبیح کے دانوں میں ہے

ہم متن پڑھتے رہے لیکن اب آیا یہ دماغ
لطف تو سارے کا سارا حاشیہ خانوں میں ہے

کیا کہیں اس کو، سرِ  مقتل تھا جو خنجر بکف
وہ برہنہ سر ہمارے مرثیہ خوانوں میں ہے

سر بکف پھرتا ہوں تیرے شہر میں تنہا، کہ سن
خوف کیسا جب کہ وہ میرے نگہبانوں میں ہے
٭٭٭



مصلحت خیز یہ ریا کاری 
زندگانی کی ناز برداری

قیصری تیری، میرا دشتِ نجد
اپنے اپنے جہاں کی سرداری

کیسے ناداں ہو کاٹ بیٹھے ہو
ایک ہی رو میں زندگی ساری

ہو جو ایماں تو بیٹھتا ہے میاں
ایک انساں ہزار پر بھاری

کاروبارِ جہاں سے گھبرا کر
کر رہا ہوں جنوں کی تیاری

ذہن و دل  میں چبھن سی رہتی ہے
شاعری ہے عجیب بیماری

مسکرا کیا گئی وہ شوخ ادا
دل پہ گویا چلا گئی آری
٭٭٭





مری خاطر یہ نادانی کرو گے
تم اپنی آنکھ کو پانی کرو گے

مری ٹوپی کی قیمت پوچھتے ہو
مرے تم در کی دربانی کرو گے

اتر کر دل سے خنجر پوچھتا ہے
کہو کس کی ثنا خوانی کرو گے

جنوں حد سے گزرتا جا رہا ہے
تم اب صحرا میں سلطانی کرو گے

عداوت میں بہت کچھ کر چکے ہو
محبت میں بھی من مانی کرو گے

پھلوں سے شاخ اب جھکنے لگی ہے
کہاں تک تم نگہبانی کرو گے
٭٭٭



گیسو گھٹا ہیں برق نظر میں سمائی ہے
اب کے بہار سانس کے جھونکوں سے آئی ہے

اٹھلا کے آ کے سامنے پائل بجائی ہے
ایماں پہ بن پڑی ہے قیامت وہ ڈھائی ہے

سہمے ہوئے ہیں لفظ بعنوانِ عرضِ شوق
پہلے پہل کسی سے میری آشنائی ہے

بچپن کی ایک جھینپی سی تصویرِ حسن آج
احساسِ شاعری میں جواں ہو کے آئی ہے

رگ رگ میں جیسے لمس کی کلیاں چٹک اٹھیں
رہ رہ کے ہر نفس میں وہ یوں مسکرائی ہے

نکلے ابھی نہیں ہے پر و بال بھی مگر
باندھا ہے وہ خیال فضا تھرتھرائی ہے

ڈر ہے کہ زاہدوں کا نہ ایمان ڈوب جائے
کافر کے مدعا میں بلا کی صفائی ہے

ایسی ہی بات تھی نہ خدا سے کہی گئی
جا جا کے بس مزار پہ چادر چڑھائی ہے

کانٹوں پہ چل کے پاؤں رنگے ہے کوئی انا
تم یہ سمجھ رہے ہو کہ مہندی رچائی ہے
٭٭٭





کھل اٹھا پھول سا بدن اس کا
اف وہ باریک پیرہن اس کا

لالہ و گل تمام اپنے ہیں
مانتا ہوں کہ ہے چمن اس کا

دل کے بے  آب تپتے صحرا میں
سرد جھونکا ہے بانکپن اس کا

خوشبوئیں گھولتا ہے لہجے میں
پنکھڑی پنکھڑی دہن اس کا

یہ جو اشعار ہیں اسی کے ہیں
میرا لہجہ ہے سارا فن اس کا

جفت وہ تھا میں طاق بن کے رہا
ایک سن میرا ایک سن اس کا

ایک چادر ہے کل متاعِ فقیر
وہی بستر وہی کفن اس کا
٭٭٭



کب نہیں خونِ جگر چھڑکا ترے عنوان پر
ہاتھ رکھ کر تو ہی کہہ دے میر کے دیوان پر

پھر گیا ہے آج پانی میرے سب ارمان پر
دیکھ کر اس کی عنایت اجنبی مہمان پر

جسم ہی کیا روح میں سرگوشیاں تحلیل ہیں
لب رکھے ہیں جب سے اس نے اپنے میرے کان پر

سب بیاضیں تول دیں جس نے مری ردی کے بھاؤ
شاعری ہے منحصر میری اسی نادان پر

اپنی ہی آواز سے ڈر کر کبھی ایسا لگا
ٹوٹ کر جیسے گرے بجلی کسی چٹان پر

روزے محشر کا تصور ہو گیا بالائے طاق
وہ قیامت ڈھائی ہے انسان نے انسان پر

آپ کی بھی بات نکلی دیر تک صحبت رہی
چل پڑا تھا تبصرہ کل رات کو شیطان پر

گولیاں چلنے کی آوازیں بتاتی ہیں انا
آ گئی ہے بات چل کر پھر کسی کی آن پر
٭٭٭





مری تباہی کا وہ ہی ارادہ رکھتے ہیں
مجھی سے جو شرفِ استفادہ رکھتے ہیں

اٹھائیے کبھی زحمت غریب خانے کی
مکان چھوٹا مگر دل کشادہ رکھتے ہیں

دلوں میں رکھتے ہیں طوفان حسرتوں کے وہی
جو اپنے حسن کے تیور کو سادہ رکھتے ہیں

ادھر بھی کم نہیں رکھتے ہیں داغ سینے پر
یہ بات اور، ہنر وہ زیادہ رکھتے ہیں

یہ بھاگتی ہوئی دنیا یہ سبقتوں کا دور
مگر ہیں ہم کہ سفر پا پیادہ رکھتے ہیں

وہی ہے عشق مرا میری حسرتوں کا بیاں
ورق کتاب کا پہلا جو سادہ رکھتے ہیں
٭٭٭





آنکھوں میں پڑھ رہا ہے محبت کے باب کو
پانی میں دیکھتا ہے کوئی آفتاب کو

بس یوں سمجھیے شوقِ طلب کے عتاب کو
شعلوں پہ رکھ دیا ہے شگفتہ گلاب کو

جوبن کو، بانکپن کو، حیا کو، شباب کو
آنکھوں سے پی رہا ہوں چھلکتی شراب کو

شرما رہا ہے چھو کے ترا جسم کس طرح
نظریں اٹھا کے دیکھ ذرا ماہتاب کو

اک عمر تیری راہ میں برباد کر چکا
اک عمر رہ گئی ہے حساب و کتاب کو

فانی ہوں میں حقیر ہوں کچھ بھی نہیں ہوں میں
میں کیا کروں گا لے کے عذاب و ثواب کو

جو عکس اس میں آیا اترتا چلا گیا
آخر میں کیا کروں دلِ خانہ خراب کو

اب کے ترا صنم بھی جواں ہو چلا انا
سرکا کے جھانکتا ہے غزل کے حجاب کو
٭٭٭





رموزِ رنگ، خوشبو کی زباں کو کون سمجھے گا
گلِ صد برگ کی طرزِ فغاں کو کون سمجھے گا

مری آنکھیں بھی نم ہیں با وضو ہے اس کا چہرہ بھی
بجز رندوں  کے اس پیرِ مغاں کو کون سمجھے گا

بجھے گی پیاس تو تشنہ لبوں پر برق کھیلے گی
ہے کیوں پیہم دواں آب رواں کو کون سمجھے گا

نہیں تو اک شکستِ خامشی کا حرفِ اول ہے
پسِ انکار مضطر اس کی ہاں کو کون سمجھے گا

وہ تعمیرِ جہاں کی بات اب قصہ کہانی ہے
مگر اقبال کے خوابِ گراں  کو کون سمجھے گا

فلک کی بات تو اہلِ خرد سب جان بیٹھے ہیں
جنوں کو فکر ہے  اب اس جہاں کو کون سمجھے گا

ہوئی بارش تو ہر دیوارو در سے مینہ برسے گا
مکیں ہوں میں جہاں اب اس مکاں کو کون سمجھے گا
٭٭٭

ماخذ:
http://www.kavitakosh.org/kk/%27%25E0%25A4%2585%25E0%25A4%25A8%25E0%25A4%25BE%27_%25E0%25A4%2595%25E0%25A4%25BC%25E0%25A4%25BE%25E0%25A4%25B8%25E0%25A4%25AE%25E0%25A5%2580&sa=U&ei=ySIqUbDfM4SurAefrIGYAw&ved=0CB4QFjAB&usg=AFQjCNGI2YoM5_Q8xcze_eVmWLUcgkF0Ug
ہندی سے رسم الخط کی تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
