﻿



ہیں خواب میں ہنوز


کے اشرف
(خواجہ اشرف)

جمع و ترتیب: اعجاز عبید





منڈی

جکارتہ سے ڈیڑھ سے میل دور چھوٹے سے گاؤں میں نوجوان جنسی غلام لڑکوں اور لڑکیوں کی منڈی لگی تھی اور دنیا بھر کے شوقین مزاج ان کی خریداری کے لئے جمع تھے۔

یہ کسی پتھر کے زمانے کی کہانی نہیں تھی۔ اُس زمانے کی کہانی تھی جب انسان آواز سے تیز رفتار جہازوں پر چند گھنٹوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتے تھے۔

جم بریڈفورڈ میں ایک فیکٹر ی اونر تھا۔ اُس کی فیکٹری میں دسیوں مزدور کام کرتے تھے۔ یہ مزدور دنیا بھر سے آنے والے ان مہاجرین کی اولاد تھے جو اُس زمانے میں انگلستان آئے تھے جب سلطنت برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔

جب جم کو اُس کے چند انڈونیشی مزدوروں نے بتایا کہ جکارتہ سے ڈیڑھ سو میل دور ایک گاؤں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی منڈی لگتی ہے تو اُسے یقین نہ آیا۔

ایک ویک اینڈ پر اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ انڈونیشیا جائے گا اور بذات خود دیکھے گا کہ آیا واقعی ایسی کوئی منڈی لگتی ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بکتے ہیں۔

وہ جب جکارتہ پہنچا اور وہاں سے ایک ٹیکسی لے کر اُس گاؤں پہنچا تو اُس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہاں واقعی لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک منڈی موجود تھی۔ جہاں یورپ اور امریکہ سے آنے والے کئی خریداروں کا جمگھٹا لگا تھا۔

یہ تسلی کر لینے کے بعد کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی منڈی حقیقی طور پر موجود ہے جم نے اس خوبصورت گاؤں کے طور طریقے سمجھنے کے لئے چند یورپی خریداروں سے بات کی۔

نیوزی لینڈ سے آنے والے ایک تاجر نے جس کا نام مارٹن تھا اُسے بتایا کہ اُس نے مستقل طور پر گاؤں سے چند میل کے فاصلے پر ایک گھر خرید رکھا ہے۔ 

وہ سال میں کئی ماہ یہاں گزارتا ہے۔ بعض اوقات اُس کے اور دوست بھی اُس کے ساتھ چلے آتے ہیں۔ یہاں آ کر وہ اچھے لگنے والے چند لڑکے اور لڑکیاں خرید لیتا ہے۔ جب تک اس کا جی چاہتا ہے ان کے ساتھ موج میلا کرتا ہے۔ جانے سے پہلے انہیں پھر بیچ جاتا ہے۔

"کیا اس کاروبار کو انڈونیشیا میں سرکاری تحفظ حاصل ہے ؟"

"نہیں بھی اور ہاں بھی۔۔۔۔" مارٹن نے جم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔

جم نے مارٹن کے جواب پر تعجب سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

"یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کاروبار کو سرکاری تحفظ حاصل ہو اور نہ بھی ہو۔"

"سرکاری تحفظ اس لئے حاصل نہیں ہے کہ اس کاروبار کو سرکاری تحفظ دینے کے لئے کوئی قوانین موجود نہیں۔ سرکاری تحفظ اس لئے حاصل ہے کہ کوئی ایسے قوانین نہیں ہیں جو اس کاروبار خلاف قانون بناتے ہوں۔"

جم ساری بات فوراً سمجھ گیا۔ لیکن مزید جانکاری حاصل کرنے کے لئے کہنے لگا کہ" لڑکوں ا ور لڑکیوں کی منڈی تو اُس نے دیکھ لی ہے لیکن یہ سار ا کاروبار کیسے چلتا ہے۔"

"یہ سب کام ایجنٹوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ " جیسے ہی آپ منڈی میں داخل ہوتے ہیں ایک ایجنٹ آپ کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ آپ لڑکے اور لڑکیاں پسند کرنے کے بعد قریب ہی واقع اُس کے دفتر میں چلے جاتے ہیں۔ وہاں قیمت اور وقت طے ہوتا ہے۔ آپ چند ہفتوں سے لے کر چند مہینوں کی مدت کے لئے جتنے لڑکے یا لڑکیاں چاہتے ہیں خرید لیتے ہیں۔سارے پیسے پیشگی ادا کرنا ہوتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کے کارندے ان لڑکوں اور لڑکیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ کوئی لڑکا یا لڑکی آپ کی مدت خرید سے روگردانی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی ایسا کرنے کی جرات کرے تو اُسے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔"

مارٹن سے تفصیل جاننے کے بعد جم نے بھی وہاں ایک گھر خریدا اور ایک ایجنٹ کے ذریعے وقتی طور پر ایک لڑکی خرید لی۔

لڑکی کی عمر مشکل سے سترہ اٹھارہ سال تھی۔ وہ ایک خوش شکل انڈونیشی لڑکی تھی۔ جسے کسی دور دراز گاؤں سے خریدا گیا تھا۔

لڑکی کا نام آمنہ تھا۔ جم لڑکی کو لے کر اپنے نئے خرید ے گھر میں لے آیا۔ اس نے آمنہ کو چند ہزار پونڈ میں ایک سال کے لئے خریدا تھا۔

اُسے اندازہ تھا کہ گھر خریدنے کی وجہ سے اب اُس کا انڈونیشیا آنا جانا لگا رہے گا۔ آمنہ کی وجہ سے اُس نے انڈونیشیا میں اپنے قیام کی مدت بڑھا دی۔ اُس نے انگلستان میں اپنے فیکٹری کے مینجر کو فون پر بتا دیا کہ وہ چند ہفتے انڈونیشیا میں رہے گا۔ اُس نے کاروبار کے سلسلے میں اُسے ضروری ہدایات دیں اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ جب چاہے کاروباری معاملات میں راہنمائی حاصل کرنے کے لئے اُس سے وہاں پر رابطہ کر سکتا ہے۔

چند ہفتے کے قیام کے بعد جم تقریباً اس گاؤں کے سب امور کو سمجھنے لگا۔ اُسے قریب ہی واقع سب تفریحی مقامات کا علم حاصل ہو گیا۔

وہ آمنہ کو ساتھ لے کر اکثر اُن مقامات پر چلا جاتا۔ ایسے مقامات پر آنے جانے سے اُس کی کئی اور یورپی خواتین و حضرات سے جان پہچان ہو گئی۔ یورپی مرد اگر جنسی سرگرمیوں کے لئے لڑکے اور لڑکیاں خریدتے تھے تو کئی یورپی خواتین بھی جنسی تلذذ حاصل کرنے کے لئے لڑکے اور لڑکیاں خریدتی تھیں۔

یہ سب یورپی نژاد اکثر اپنی پارٹیاں کرتے جن میں خوب دھما چوکڑی مچتی۔ پارٹیاں کبھی کسی کے گھر میں اور کبھی کسی ہوٹل میں منعقد ہوتیں۔ ان پارٹیوں میں اکثر زر خرید لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہوتے۔ بعض اوقات ایسی پارٹیوں میں بھی ان لڑکوں اور لڑکیوں کے سودے ہو تے۔

ان یورپیوں کے یہاں آنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ملکوں کے قوانین لڑکے اور لڑکیاں بیچنے اور خریدنے جیسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ لیکن تیسری دنیا کے کئی ممالک کی حکومتیں فقط زر مبادلہ کمانے کے لئے لڑکوں اور لڑکیوں کے خرید و فروخت کے اس کاروبار سے چشم پوشی کرتے تھے۔

دوسرے یورپین باشندوں سے ملاقاتوں میں جم کو پتہ چلا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی ایسی منڈیاں صرف انڈو نیشیا ہی میں نہیں بلکہ تھائی لینڈ،نیپال ،سری لنکا اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔

آمنہ صرف جسمانی طور پر ہی خوبصورت نہیں تھی وہ ذہنی طور پر بہت ذہین اور معاملہ فہم لڑکی تھی۔ اُس کے باپ نے اُسے جن حالات میں بیچنے کا فیصلہ کیا تھا وہ اُن حالات کو تبدیل کر کے رہے گی۔ 

منڈی میں بکنے کی وجہ سے وہ جم کی جنسی غلام تھی لیکن عورت ہونے کے ناطے کسی سطح پر اُسے بطور عورت اپنی طاقت کا اندازہ تھا۔

اُس نے بہت جلد اپنی محبوبانہ اداؤں اور معصومانہ حرکتوں سے جم کے دل میں گھر کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ بہت جلد وہ جم کی جنسی ضرورت سے بڑھ کر اُس کی نفسیاتی ضرورت بن گئی۔ ایک بار یہ عمل شروع ہوا تو پھر آمنہ پر جم کا نفسیاتی انحصار بڑھتا چلا گیا۔

جم نے اُسے ایک سال کے لئے خریدا تھا۔ معاہدے کے مطابق جم پر لازم تھا کہ وہ سال کے اختتام تک یا اُس سے پہلے دوبارہ منڈی میں ایجنٹ کے پاس واپس لائے۔

اس ایک سال کے دورانیے میں چند بار جم انگلستان واپس گیا اور اپنی فیکٹری کے معاملات نپٹا کر واپس چلا آیا۔ وہ جب بھی انگلستان گیا آمنہ کی یاد اُسے پہلے سے بڑھ کر آئی۔ وہ اُسے ہمیشہ یہ کہہ کر جاتا کہ وہ چند ہفتوں میں واپس لوٹے گا لیکن وہ دو چار دنوں میں واپس لوٹ آتا۔

آمنہ نے جم سے ملاقات کے فوراً بعد اُس سے انگریزی سیکھنا شروع کر دی۔ اُس کا انگریزی سیکھنا جم کی ضرورت بھی تھی کیونکہ اُسے انڈونیشی زبان نہیں آتی تھی۔ وہ جم کے ساتھ مختلف پارٹیوں میں جاتی تو اُس کے حسن اور جوانی سے بھرپور بدن کو دیکھ کر کئی لوگوں کے پٹھے اکٹر جاتے۔ وہ اُسے جم سے خریدنے کی بات کرتے لیکن جم بھر ی محفل میں اُسے اپنے بازوؤں میں لے کر ایسی خواہش کا اظہار کرنے والوں پر واضح کر دیتا کہ اُسے بیچنے کا اُس کا کوئی ارادہ نہیں۔

لیکن ایک سال کی مدت بڑی تیزی کے ساتھ بیت گئی۔ معاہدے کے مطابق آمنہ کو منڈی میں واپس ایجنٹ کے پاس لے جانے کا دن قریب سے قریب تر آنے لگا۔ اُس نے ایجنٹ سے مل کر دوبارہ آمنہ کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ایجنٹ نے اُسے بتایا کہ اُس کو خریدنے کی خواہش کئی اور خریداروں نے کی ہے۔ وہ منتظر ہیں کہ ایک برس کی مدت پوری ہو تو وہ اُسے خریدیں۔

 یہ سن کر جم کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ کافی امیر آدمی تھا لیکن جو دوسرے لوگ آمنہ کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے تھے وہ بھی کم امیر نہیں تھے۔ وہاں یورپ اور امریکہ کے ایک سے بڑھ کر ایک امیر لوگ اس کاروبار میں مصروف تھے۔

اِدھر یہ صورت حال تھی ادھر انگلستان میں اُس کی عدم موجودگی کی وجہ سے اُس کے کاروبار کی حالت دن بدن خراب ہو رہی تھی۔ اُس کا مینجر ایک کرپٹ آدمی تھا۔ جم کی عدم موجودگی سے اُس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ جم کو اُس کی ضرورت کی رقم فراہم کرتا رہا لیکن ساتھ ہی ساتھ اُس کی دولت کا صفایا بھی کرتا رہا۔

آمنہ کے منڈی میں واپس جانے سے پہلے جم کے مینجر نے اُسے فون پر بتایا کہ عدالت کی طرف سے اُس کی فیکٹری کی نیلامی کا حکمنامہ جاری ہوا ہے۔

 جم نے یہ خبر بد سُنی تو اُس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔اُس نے انگلستان میں اپنے وکیل سے پتہ کیا کہ اتنی بڑی فیکٹری ایک سال میں نیلامی میں کیسے جا رہی ہے ؟ وکیل نے اُسے بتایا کہ اُس کے مینجر نے نہ صرف اُس کے اثاثے اللوں تللوں میں اڑا دیئے ہیں بلکہ اُس نے فیکٹری کے سپلائرز کو گزشتہ ایک سال سے بل ادا نہیں کئے۔ اپنی رقوم وصول کرنے کے لئے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اُن کی درخواست پر عدالت نے فیکٹری کی نیلامی کا حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔

اتفاق سے جم کو جس دن آمنہ کو منڈی واپس لے جانا تھا اُسی دن عدالت نے اُس کی فیکٹری کی نیلامی کی تاریخ مقر ر کی تھی۔

آخر وہ دن آ پہنچا۔ سورج ڈوبنے سے پہلے جم آمنہ کے ساتھ منڈی پہنچا۔ ایجنٹ نے آمنہ کے لئے دی گئی مختلف آفرز کے بارے میں اُسے بتایا۔ آمنہ کے حسن کے شیدائیوں نے ایک سے ایک بڑھ کر بولی لگائی تھی۔

جم اپنی مالی تباہی کی وجہ سے اُس میں سے کسی بھی آفر سے بہتر آفر پیش نہ کر سکا۔ چنانچہ وہ آمنہ کو ایجنٹ کے حوالے کر کے ٹوٹے دل کے ساتھ گھر پہنچا تو اُس کے فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔

انگلستان سے اُس کے وکیل کا فون تھا۔ و ہ کہہ رہا تھا اُس کی فیکٹری نیلامی میں اُس کے کسی مخالف تاجر نے خرید لی ہے۔ نیلامی میں اتنے پیسے وصول نہیں ہوئے جن سے سب سپلائرز کے بل ادا ہو جاتے چنانچہ عدالت نے انگلستان میں اُس کے تمام اثاثوں کی قُرقی کا حکم دے دیا ہے۔

اُس نے ٹوٹے دل کے ساتھ جام میں شراب انڈیلی اور شام کی تنہائی میں آمنہ کو یاد کر کے رونے لگا۔ جکارتہ سے ڈیڑھ سو میل دور انسانوں کی منڈی میں اُس کا سب کچھ نیلام ہو چکا تھا۔
٭٭٭



دلدل


شیخ حسام الدین منہ اندھیرے بندوق اٹھا کر مرغابیوں کے شکار کے لئے روانہ ہُوا تو اپنے ساتھ اپنے پالتو کتے ٹم ٹم کو بھی لیتا گیا۔

وہ سورج نکلنے سے پہلے گاؤں سے دور واقع اُس جھیل تک پہنچنا چاہتا تھا جہاں برفانی موسموں کی شدت سے بچنے کے لئے شمال کی طرف سے آنے والی مرغابیوں کے قافلے اترا کرتے تھے۔ اُس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس کی عادت تھی کی وہ سردیوں کے موسم میں مرغابیوں کے شکار کے لئے صبح ہی صبح روانہ ہوتا اور سورج کے نکلنے کے بعد بہت سی شکار کردہ مرغابیاں کندھوں پر لٹکائے گاؤں واپس لوٹتا۔ واپسی پر وہ تقریباً سبھی دوستوں کے گھر رکتا اور ہر ایک کو دو چار مرغابیاں بانٹتا گھر پہنچتا تو اُس کا کندھا مرغابیوں کے بوجھ سے آزاد ہوتا۔

ٹم ٹم گولی لگنے کے بعد گرنے والی مرغابیاں اکٹھی کرنے میں اس کی مد د کرتا۔ اُسے اس کام میں اتنی مہارت ہو چکی تھی کہ اُدھر شیخ حسام الدین کارتوس داغتا اُدھر ٹم ٹم دوڑ کر زمین پر گرتی مرغابیاں پکڑ کر لانی شروع ہو جاتا۔

لیکن ایک دن ایک عجیب اتفاق ہُوا۔ شیخ حسام الدین نے حسب معمول مرغابیوں پر کارتوس داغا تو ایک مرغابی جھیل کے پاس واقع ایک دلدل میں جا گری۔

دلدل کے بارے میں گاؤں میں مختلف کہانیاں مشہور تھیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس دلدل کے نیچے زمین نہیں تھی۔ اگر کوئی جانور یا انسان اس میں پھنس جاتا تو اُس کا اس دلدل سے زندہ نکلنا مشکل ہوتا۔ آج تک کئی کتے ، بکریاں ، گائیں ، بھینسیں اور فرد اس دلدل میں پھنس کو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اہل گاؤں نے کئی بار مٹی ڈال کر اس دلدل کو بھرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس دلدل کی خونخواری میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اب بھی گا ہے بگا ہے جو ذی روح غلطی سے اس دلدل میں اترتا اُس کا زندہ نکلنا یقینی طور پر ناممکن ہوتا۔

اس صبح جیسے ہی شیخ حسام الدین نے کارتوس داغا اور مرغابی دلدل میں گری ٹم ٹم حسب عادت مرغابی کو پکڑنے کے لئے دلدل میں اتر گیا۔

شیخ حسام الدین کو ٹم ٹم سے بہت محبت تھی۔ انہوں نے آؤ دیکھا ناں تاؤ ٹم ٹم کو بچانے کے لئے دلدل میں اتر گئے۔

اب صورت حال یوں تھی کہ ٹم ٹم اور شیخ حسام الدین دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے دلدل میں دھنس رہے تھے۔ انسان کا بہترین دوست ہونے کی وجہ سے ٹم ٹم کوشش کر رہا تھا کہ وہ شیخ حسام الدین کی مد د کرے اور شیخ حسام الدین ٹم ٹم سے محبت ہونے کی وجہ سے کوشش کر رہا تھا کہ اُسے دلدل سے نکالے۔ لیکن دونوں کا حال یہ تھا کہ ایک دوسرے کی طرف بڑھنے کے لئے وہ جس قدر دست و پا مارتے تھے دلدل میں دھنستے جاتے تھے۔

دیہاتوں میں لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ علی الصبح کھیتی باڑی اور دیگر کاموں کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں تاکہ دھوپ میں تپش پیدا ہونے سے پہلے اپنے ضروری کاموں سے فارغ ہو جائیں۔

ایسے ہی چند کسانوں پر شیخ حسام الدین کی نظر پڑی تو اُس نے دلدل میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے انہیں مد د کے لئے پکارا لیکن کسی نے اُس کی پکار نہ سنی۔ وہ تھے بھی اُس سے اتنی دور کی اُس کی صدا اُن تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ 

وہ جیسے جیسے دلدل میں ہاتھ پاؤں مار رہا تھا مزید دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔ ٹم ٹم پہلے ہی تقریباً دلدل میں دھنس چکا تھا۔ اُس کی تھوڑی سی تھوتھنی نظر آ رہی تھی۔ وہ مسلسل درد ناک آوازوں میں چوں چوں کر رہا تھا۔ لیکن شیخ حسام الدین اب خود مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا۔ اُسے اپنا انجام صاف نظر آ رہا تھا۔ اُس نے اُس دن کو کوسنا شروع کیا جب اُس نے شکار کے لئے بندوق خریدی تھی۔ اُن دوستوں کو کوسا جنہوں نے اُسے شکار کی لت ڈالی تھی۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ اب اُنہیں کوسنے سے فائدہ؟۔ چنانچہ اُس نے دست و پا مارنے کی بجائے آنکھیں بند کر کے جامدو ساکت رہنے میں عافیت محسوس کی۔

جیسے ہی اُس نے آنکھیں بند کیں اور دست و پا مارنے بند کئے اُس کا دلدل میں دھنسنے کا عمل سست ہو گیا۔ اُس نے بند آنکھوں کے ساتھ خدا سے دعا کی کہ وہ اُس کی مد د کرے اور اُسے دلدل سے نکالے۔ لیکن اُس وقت خدا بھی اُس سے اتنا ہی دور تھا جتنا نیلا آسمان۔

آخر وہ خدا سے بھی مایوس ہو گیا۔ اُس نے دیکھا نیلے آسمان پر چیلیں اڑ رہیں تھیں۔ مرغابیوں کی قطاریں شمالی آسمان سے مسلسل جھیل کے پانی میں اُتر رہی تھیں۔

جو مرغابی اُس کے کارتوس سے گری تھی کب کی مر چکی تھی۔ اُس کا زندگی سے محروم وجود دلدل کی سطح پر پڑا تھا۔ ٹم ٹم کی چوں چوں بھی بند ہو چکی تھی اور اب اُس کی تھوتھنی بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اُس کا اپنا وجود بھی رفتہ رفتہ دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔

انسان کتنا بھی عقلمند کیوں نہ ہو کبھی نہ کبھی اُس پر حماقت غالب آ جاتی ہے اور وہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جس سے وہ دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ جتنے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اتنا دلدل میں اترتا چلا جاتا ہے۔ اُسے وہ سب مرغابیاں یاد آئیں جنہیں شکار کے بعد کندھے پر لٹکائے اپنے دوستوں کے گھر جاتا اور بڑے فخر کے ساتھ ان کی بیگمات کو بتا تا کہ آج اُس نے کتنی مرغابیاں شکار کی ہیں۔

خواجہ صاحب کی بیگم ہمیشہ مرغابیاں قبول کرنے سے انکار کر دیتی۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی " شیخ صاحب یہ مرغابیاں ہزاروں میلوں کا سفر کر کے سکون کے چند دن گزارنے اور اپنی اگلی نسل کو جنم دینے کے لئے ہمارے علاقے میں آتی ہیں لیکن ہم انہیں موت سے ہم کنا ر کر دیتے ہیں۔"

شیخ حسام الدین خواجہ صاحب کی بیگم کی بات ٹالنے کے لئے کہتا "بھابی کبھی مرغابی کی بریانی پکا کر دیکھیں کیا مزے دار ہوتی ہے۔"

"نہیں نہیں ہمیں نہیں پکانی مرغابی کے گوشت کی بریانی۔" خواجہ صاحب کی بیگم ٹالنے کے لئے کہتی۔ ایک آدھ بار شیخ حسام الدین کی بیگم نے باقاعدہ مرغابی کے گوشت کی بریانی پکا کر بھجوائی۔ خواجہ صاحب کی بیگم نے ان کا دل رکھنے کے لئے بریانی رکھ لی لیکن ان کے جاتے ہی یہ کہہ کر پھینک دی کہ "اللہ نہ کرے کسی دن ان مرغابیوں کے شکار کا حساب شیخ صاحب کو اپنی زندگی سے دینا پڑے۔ "

چند دن بعد شیخ حسام الدین کی خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا۔۔۔ " کیسی تھی مرغابی کے گوشت کی بریانی ؟"

خواجہ صاحب نے ادھر ادھر کی چند باتیں کرنے کے بعد صاف کہہ دیا کہ اُن کی بیگم نے وہ بریانی پھینک دی تھی اور ساتھ ہی اپنی بیگم کا جملہ بھی دہرا دیا۔

خواجہ صاحب کی بیگم کی بات سن کر شیخ حسام الدین کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں ابھر آئیں لیکن پھر یہ بات اُس کے ذہن سے نکل گئی۔

دلدل میں پھنسے پھنسے شیخ حسام الدین کو خواجہ صاحب کی بیگم کی بات یاد آئی۔ اُس نے آنکھیں موندھے موندھے سوچا شاید وہ وقت آ پہنچا۔ شاید اب ان سب مرغابیوں کی زندگی کی قیمت چکانے کا وقت آ پہنچا ہے جو اس کی بندوق کے کارتوسوں کا شکار ہوئی تھیں۔

شیخ حسام الدین بند آنکھوں کے ساتھ یہ سب سوچ رہا تھا۔ اُس کا جسم رفتہ رفتہ دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔اُسے لگ رہا تھا کہ اب موت یقینی ہے۔ وہ موت کے خوف سے ہوش و ہوا س کھو بیٹھا اور اُس نے خود کو تقدیر کے حوالے کر دیا۔

 ایک کسان اپنے بیلوں کی جوڑی کے ساتھ کھیت گاہنے کے بعد اپنے ڈیرے پر واپس جا رہا تھا۔ اُس نے شیخ حسام الدین کو دلدل میں پھنسے دیکھا تو جلدی سے بیلوں کی رسی کا پھندا بنا کر اس پر پھینکا۔ رسی کا پھندا شیخ حسام الدین کے بازوؤں سے پھسل کر چھاتی کے گرد کس گیا۔ کسان نے پنجالی میں رسی باندھ کر بیلوں کے زور سے کھینچا تو شیخ حسام الدین دلدل سے باہر نکل آیا۔

کسان نے شیخ حسام الدین کو دلدل سے نکال کر پانی سے اُس کا جسم صاف کیا۔ اُس کے ہاتھوں اور پیروں پر مالش کی تو اُس کے ہوش ٹھکانے آئے۔ اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے کسان کا شکریہ ادا کیا۔

وہ اٹھ کر جانے لگا تو کسان نے پاس پڑی اس کی بندوق اٹھا کر اسے پکڑائی۔ اُس نے چند لمحے بندوق دیکھی اور پھر دلدل میں پھینک دی۔

اُس نے کئی بار اپنے کئی سالوں کے ساتھی اور دوست ٹم ٹم کو آواز دی لیکن اُس کی طرف سے کوئی جواب نہ آنے کی وجہ سے رونے لگا۔ مردہ مرغابی جسے پکڑنے کے لئے ٹم ٹم نے دلدل میں چھلانگ لگائی تھی اب تک دلدل پر پڑی تھی۔ لیکن ٹم ٹم کا کہیں پتہ نہیں تھا۔
٭٭٭



بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ



یہ اتوار کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ہائی ٹیک کیفے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہُوا تھا۔ یہ لوگ مختلف زمانوں ، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے لباسوں سے اُن کے زمانوں ، علاقوں اور ثقافتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ لیکن اُن سب میں ایک چیز مشترک تھی۔ وہ چیز چائے کے وہ کپ تھے جو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں میں اُٹھا رکھے تھے۔ وہ سب گفتگو میں مصروف تھے۔ اُن کے چہروں سے بے پایاں خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔

 بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مختلف زمانوں ، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اتنے عظیم لوگ ایک وقت میں ایک جگہ اکٹھے ہوں۔

چند لمحوں کے لئے میں نے سوچا میں نشے میں ہوں۔ ورنہ میں ایک وقت میں کنفیوشس، مہاتما بدھ، کرشنا، موسیٰ، یسوع مسیح، ہومر، اُمرا القیس، گوئٹے ، کارل مارکس اور گاندھی کو ایک کیفے میں بیٹھے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔

 وہاں ماضی کی اور بے شمار عظیم شخصیات موجود تھیں لیکن میں اُن سے آشنا نہیں تھا۔ جنہیں میں نے پہچانا تھا اُن کی تصویریں میں نے مختلف میگزینوں دیکھ رکھی تھیں۔ 

وہاں وہ عظیم شخصیات بھی تھیں جن کا نام لکھنے سے کچھ لوگوں کے منہ کے ذائقے میں ترشی آ سکتی ہے۔ چنانچہ میں عمداً اُن کا نام لکھنے سے گریز کر رہا ہوں۔

میں نے کوشش کی کہ میں کیفے میں بیٹھے ہر عظیم آدمی سے ہاتھ ملاؤں لیکن اُن سے دور رہوں جن سے ہاتھ ملانا کسی طور خطرے سے خالی نہیں۔

سب سے پہلے میں نے کفیوشس سے ہاتھ ملایا۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ایک میز پر رکھ دیا اور دیر تک میرا ہاتھ تھامے رکھا۔ کنفیوشش کا میرا ہاتھ تھامنا میرے لئے میری زندگی کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ جیسے ہی اُس نے میرا ہاتھ تھاما مجھے لگا چینیوں کی ہزاروں سال کی دانش روشنی کی شکل میں میرے وجود سے گزر رہی ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے چینی ریستورانوں میں بانٹی جانے والی فارچون کوکیز میں سے نکلنے والی پرچیوں پر لکھے پیغامات کی پٹی چلنے لگی۔ اُس پٹی پر وہ سب خوش کن باتیں لکھی تھیں جو عموماً کھانے کے بعد مہمانوں کو پیش کی جانے والی کوکیز میں سے برآمد ہوتی ہیں۔ جب تک کنفیوشس نے میرا ہاتھ تھامے رکھا میری آنکھوں کے سامنے چینی تہذیب کے عظیم واقعات کی فلم چلتی رہی۔ ایک کے بعد ایک عظیم چینی دانشور، فنکار، دست کار میرے سامنے اپنے فن کے نمونے پیش کرتے رہے۔ میں حیرت کی تصویر بنا ان کے فن پاروں کو دیکھ کر اُن کے حسن سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ 

تھوڑی دیر بعد کنفیوشس نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔ میں عقیدت بھرے جذبات کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے دیکھا کرشنا اپنی گوپیوں کے ساتھ خوش وقتی میں مصروف تھا۔ لگتا تھا کہ وہ مہابھارت یدھ سے ابھی ابھی لوٹا تھا۔ اُس کے ہاتھ سے اُس کی روایتی مُرلی غائب تھی۔ اُس نے بھی اپنے ایک ہاتھ میں ہائی ٹیک کیفے کا چائے کا کپ پکڑ رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ دھیرے دھیرے ایک گوپی کی ننگی پیٹھ کے ابھار پر پھیر رہا تھا۔ جبکہ دوسری گوپیاں اُسے مالش کر رہی تھیں۔

 کرشنا کے قریب ہائی ٹیک کیفے کی دیوار میں ایک کھڑکی تھی جس میں دور بیل گاڑیوں کی ایک قطار آہستہ آہستہ چلتی وقت اور فاصلے کی دھُند میں غائب ہو تی دکھائی دے رہی تھی۔

اگر میں فانی انسان اس مسحور کن حالت میں ہوتا تو کبھی کسی اور طرف توجہ نہ دیتا۔ لیکن کرشنا نے مجھے دیکھا تو چائے کا کپ ایک گوپی کو پکڑا کر میرا ہاتھ تھام لیا اور دوسرا ہاتھ مسلسل گوپی کی ننگی پیٹھ کے ابھاروں پر پھیرتا رہا۔

میں کرشنا سے بہت سے سوال پوچھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس خوبصورت ماحول میں میں ایسا نہ کر سکا۔ میں کرشنا کی خوش وقتی میں حائل نہیں ہونا چاہتا تھا۔ گوپیاں مسلسل کرشنا کو مالش کر رہی تھیں۔ مالش کرتے ہوئے وہ مسحور کن آواز میں کرشنا کے لئے محبت کے گیت گا رہی تھیں۔ سارے ماحول میں ایک انتہائی خوشگوار خوشبو پھیلی تھی۔

میں نے سوچا کوئی بے وقوف ہی ایسے زیبا ماحول میں دانشورانہ گفتگو کرنی پسند کرے گا۔ میں نے ایسے سوچا ہی تھا کہ کرشنا کے ہاتھ سے میرے ہاتھ میں ایک انرجی روشنی بن کر بہنے لگی۔ اُس روشنی میں سب کچھ غائب ہو گیا۔ نہ ہائی ٹیک کیفے رہا۔ نہ پھولوں کی مہک رہی۔ نہ گوپیاں رہیں۔ نہ اُن کے گیت رہے۔ نہ میں رہا اور نہ کرشنا۔ بس ایک انرجی تھی جو روشنی کی شکل میں وقت کے بے کنار، لا محدود دریا میں ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کی طرح بہتی چلی جا رہی تھی۔ 

میں نہیں جانتا میں کب تک اس بے صورتی کی حالت میں رہا۔ اگر میں چاہوں بھی تو میں اس صورت حال کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ بس میں اتنا جانتا ہوں جب میں اس بے صورتی کی دنیا سے واپس صورتوں کی دنیا میں آیا کرشنا کے ایک ہاتھ میں ہائی ٹیک کیفے کا چائے کا کپ پکڑا تھا۔سارے ماحول میں پھولوں کی خوشبو پھیلی تھی۔ اُس کی گوپیاں اُسے مالش کر رہی تھیں۔ دوسرے ہاتھ سے اب بھی وہ ایک گوپی کی ننگی پیٹھ کے اُبھار سے کھیل رہا تھا۔

اُس کی گوپیوں میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے مجھے سفید کنول کا ایک پھول تحفے میں دیا جسے تھامے میں کیفے میں آگے بڑھ گیا۔

کیفے کے فرش پر چلتے میں نے دنیا کے تمام عظیم ترین انسان دیکھے۔ وہ جو ماضی میں جنم لے چکے تھے اور وہ جنہیں ابھی مستقبل میں جنم لینا تھا۔ چونکہ ہائی ٹیک کیفے میں وقت ماضی، حال اور مستقبل میں منقسم نہیں تھا۔ صرف حال تھا اس لئے سبھی عظیم انسان وہاں موجود تھے۔ جنہیں ابھی مستقبل میں جنم لینا تھا وہ بھی وہاں اپنے متوقع عظیم کر دار کی پریکٹس کر رہے تھے۔

لیکن میں اُن میں سے کسی میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ مجھے صرف مہاتما بدھ سے ملاقات میں دلچسپی تھی۔ اتوار کے اس خوبصورت دن میری یہاں آنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میں مہاتما بدھ کے ساتھ چائے کا ایک کپ پیوں۔ کیونکہ اس ہائی ٹیک کیفے میں سب سے اونچے مقام پر وہی براجمان تھا۔ باقی عظیم لوگوں کے برعکس مہاتما بدھ کے ارد گرد روشنیوں کے کئی ہالے پورے کیفے کو مسلسل منور کر رہے تھے۔

 اُس کے ارد گرد روشنیوں کے یہ ہالے دیکھ کر میں سوچ میں ڈوب گیا۔ آخر مہاتما بدھ میں ایسی کیا بات تھی اُسے یہ مرتبہ اور مقام کیونکر حاصل تھا۔ اُس کی عظمت دنیا بھرکے عظیم لوگوں سے زیادہ حقیقی تھی۔اِس عظمت کا کوئی آغاز یا انجام نہیں تھا۔ یہ عظمت وقت کی طرح لا محدود اور بے پایاں تھی۔ اُس نے بھی اپنے ہاتھ میں ہائی ٹیک کیفے کا ویسا ہی ایک کپ پکڑ رکھا تھا۔ ماضی حال اور مستقبل کے تمام عظیم انسان کوشاں تھے کہ اُنہیں اُس کے کپ کے مشروب سے پینے کے لئے چند قطرے مل جائیں۔ یہ ایک عجیب صورت حال تھی۔

 میں آہستہ آہستہ چلتا مہاتما بدھ کی طرف بڑھا۔ میں نے دیکھا اُس کے چہرے پر ایک عجیب اطمینان اور سکون تھا۔ ایک ایسا اطمینان جو صرف اُن انسانوں کے چہرے پر ہوتا ہے جو سب کچھ سننے ، سمجھنے اور جاننے کے بعد خود آخری سچائی کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے سب کچھ فراموش کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اُن کی جہالت اُن کے لئے رحمت بن جاتی ہے۔

مہاتما بدھ کی طرف چلتے ہوئے مجھے محسوس ہوا میرا وجود روشنیوں میں نہا گیا ہے۔ ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے لگا میرے دل اور میری روح کی گہرائیوں میں مہاتما بدھ کے چہرے والا سکون پھیلتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ میرا شعور شعورِ خالص میں بدل گیا۔ اب میں ہائی ٹیک کیفے کے فرش پر نہیں چل رہا تھا۔ اب میں مہاتما بدھ کے سامنے کھڑا تھا۔ مہاتما بدھ نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ لفظوں کا سہار ا لئے بغیر مجھے ہائی ٹیک کیفے میں خوش آمدید کہا اور پھر ایک کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔

"یہ خواہش کی کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی سے باہر چلے جاؤ تمہیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی۔" اُس نے اپنی نظریں میرے چہرے پر جمائے بغیر کوئی لفظ اد ا کئے مجھ سے کہا۔

"مجھے ہمیشہ کی زندگی نہیں چاہئے۔" میں نے نہ نفی میں سر ہلایا نہ کوئی لفظ ادا کیا لیکن"انکار " کی ترسیل ہو گئی۔

مہاتما بدھ نے ایک دوسری کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔

"یہ علم کی کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی سے باہر جاؤ۔ سب جان لو گے۔ کچھ چھپا نہیں رہے گا۔" لیکن میں خاموش رہا۔ نہ میں نے نفی میں سر ہلایا نہ کوئی لفظ ادا کیا لیکن پھر"انکار " کی ترسیل ہو گئی۔

میرے دوبارہ انکار پر مہاتما بدھ نے بغیر کسی رد عمل کا اظہار کئے ایک تیسری کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"یہ ابدیت کی کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی سے باہر جاؤ۔ تمہیں وقت کی اقلیم میں موجود ہر چیز کا ابدی مالک بنا دیا جائے گا۔"

" مجھے کسی چیز کی ملکیت نہیں چاہئے۔ نہ وقتی نہ ابدی۔" میرے ان کہے انکار پر مہاتما بدھ نے چوتھی کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ 

"یہ و انش کی کھڑکی ہے۔ اس میں سے صرف خداؤں کا گزر ہوتا ہے۔ تم بھی اس میں سے گزرو اور اُنہی میں سے ایک ہو جاؤ۔"

"مجھے خدا بننے سے بالکل دلچسپی نہیں۔ میں اُن سب مشکلات کا سامنا کرنا نہیں چاہتا جن کا سامنا عام طور پر خداؤں کو کرنا پڑتا ہے۔

مجھے صرف تمہارے ہاتھ میں پکڑا کپ چاہئے۔ میں اُس مشروب سے چند گھونٹ پینا چاہتا ہوں جو تم پی رہے ہو۔" میں نے کرشنا کے سامنے ہلکا سا خم ہوتے ہوئے التجا کی۔

مہاتما بدھ نے میری استدعا سنی تو مسکرا کر میری طرف دیکھا اور پھر محبت سے اپنے ہاتھ میں پکڑا کپ میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر مہاتما بدھ کے ہاتھ سے کپ پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہائی ٹیک کیفے کے دروازے کی طرف چل پڑا۔

میں جب ہائی ٹیک کیفے سے رخصت ہو رہا تھا میں نے دیکھا کرشنا اب مُرلی بجاتے ہوئے اپنی گوپیوں کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا۔ کنفیوشس نے دروازے تک آ کر مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ مجھے الوداع کہا۔ میں کیفے سے باہر آیا تو میں نے دیکھا اتوار کی شام ڈھل چکی تھی۔ سورج مغرب کی گود میں اُتر چکا تھا۔ اور رات کی تاریکی آہستہ آہستہ سارے ماحول میں پھیلتی جا رہی تھی۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ اگلے دن سوموار تھا اور مجھے صبح ہی صبح کام پر جانا تھا۔
٭٭٭



شیطان



پوری دنیا سے حج کے لئے آئے لوگ شیطان کو کنکریاں مار رہے تھے۔لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ حج کے باقی سارے مراحل میں حاجیوں کا رویہ نہایت نرم تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں اکٹھا کرنا شروع ہوئے اُن میں ایک ان جانا جذبہ عود کر آیا۔ احرام کے باوجود ان کی نرم خوئی تند خوئی میں بدلنے لگی اور وہ کنکریاں جمع کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے شیطان کی طرف بڑھنے لگے۔

اصغر نے بھی حج کے اس اہم فریضے کے لئے باقی حاجیوں کے ساتھ شیطان کی طرف روانہ ہوا تاکہ اُسے پتھریاں مارے۔ لیکن دوسرے حاجیوں کے برعکس شیطان کی طرف بڑھتے ہوئے اُس کے قدموں میں سست روی آنا شروع ہو گئ۔ یہاں تک کہ وہ سب حاجیوں سے پیچھے رہ گیا۔

اس نے ایک ایک کر کے مطلوبہ تعداد میں کنکریاں اکٹھی کیں اور آہستہ آہستہ شیطان کی طرف بڑھا۔ جب ہولے ہولے قدم اٹھاتا وہ پہلے شیطان کے پاس پہنچا تو تقریباً باقی سب حاجی اس اہم فریضے سے فارغ ہو کر کعبے کے طرف روانہ ہو چکے تھے۔

اس نے پہلے شیطان کو مارنے کے لئے کنکری اٹھائی تو شیطان نے مسکراتے ہوئے اسے خوش آمدید کہا اور پھر بولا: 

"تم بھی۔۔۔"

شیطان کے استفسار پر اس کا پتھر مارنے والا ہاتھ ہوا میں مُعلق رہ گیا۔ وہ چاہنے کے باوجود پتھر شیطان کی طرف نہ پھینک سکا۔

"ہاں میں بھی۔۔۔۔"

اُس نے پتھر والا ہاتھ ہوا میں اٹھائے اُسے جواب دیا۔

"میں تمہیں اپنا دوست سمجھتا تھا۔ تم بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح نکلے۔" شیطان نے مسکراتے ہوئے جملہ کسا۔

"ہاں۔ میں اُن سے الگ کیسے ہو سکتا ہوں۔ میں اُن میں پیدا ہوا تھا۔ اُنہی میں میری پرورش ہوئی۔ اُنہی کے ساتھ مجھے مرنا ہے۔ میں اُن سے الگ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔" اس نے تقریباً رونے والے لہجے میں اُسے جواب دیا۔

"میں نے کب کہا ہے کہ تم اُن سے الگ ہو جاؤ۔ کنکریاں تو تم نے پہلے ہی جمع کر لی ہیں۔ اور اُن کی خوب گنتی کی ہے تا کہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔مارنے کے لئے تمہارا ہاتھ ابھی تک ہوا میں مُعلق ہے۔ نہ جانے تم نے اپنا ہاتھ روک کیوں لیا ہے ؟"

"بس ایک خیال سے میرا ہاتھ ہوا میں رُک گیا ہے۔" اُس نے شیطان کے طنز بھرے جملے کا جواب دیتے ہوئے کہا۔

"ہاں خیال۔۔۔خیال ہی اصل قوت ہے۔ خیال ہی وہ بیج ہے جس سے عمل کا پودا پھوٹتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے تناور درخت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ خدا اور میں خیال ہی سے انسانوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کسی کے خیال میں وہ گھس جاتا ہے کسی کے خیال میں میں۔ باقی سار ا کام انسان خود کرتے ہیں۔"

شیطان کی گفتگو سن کر اصغر کا کنکریاں مارنے والا ہوا میں معلق ہاتھ نیچے آ گیا۔ کنکری اُس کے ہاتھ سے گر گئی اُس کا جی چاہا وہ مسلسل شیطان سے گفتگو کرتا رہے۔ 

اُس نے شیطان سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ۔۔۔"لاکھوں لوگوں سے کنکریاں پڑنے کے بعد وہ کیسا محسوس کرتا ہے۔"

اُس کا سوال سن کر شیطان نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ پھر کہنے لگا: "وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے کنکریاں مارتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر چھپے شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جتنے انسان پیدا کرتا ہے میں اتنے اپنے عکس پیدا کرتا ہوں۔ پھر ہر انسان کے اندر اپنا ایک عکس بٹھا دیتا ہوں۔ اس کے بعد کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی بھر اپنے اندر بیٹھے میرے عکس سے جدو جہد چلتی رہتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے وہ میرے خلاف جدوجہد کر رہا ہے حالانکہ وہ اپنی ذات کے اندر چھپے میرے عکس کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔"

شیطان کی گفتگو سن کر اصغر کے ہاتھ میں پکڑی دوسری کنکریاں بھی گر گئیں۔ اُس نے شیطان کو کنکریاں مارنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

اُسے لگا شیطان اُس پر غالب آ گیا ہے۔ شیطان کو کنکریاں مارنے کا حج کا ایک اہم رکن پورا ہونے سے رہا جاتا ہے۔

اس احساس کے پیدا ہوتے ہی اُس نے احرام کی چادر سے اپنے دونوں کندھے ڈھانپتے ہوئے لاحول پڑھی اور نیچے گری ہوئی کنکریاں دوبارہ اٹھانے کے لئے اپنی کمر جھکائی لیکن وہ خواہش اور کوشش کے باوجود ایسا نہ کر سکا۔

اُس نے پھر لاحول پڑھی ، چاروں قُل پڑھے ، لیکن وہ پھر بھی کنکریاں نہ اٹھا سکا۔ شیطان کافی دیر تک اُس کی بے بسی پر محظوظ ہو رہا تھا۔ پھر اُس نے آگے بڑھ کر کنکریاں اٹھائیں اور اُسے تھما دیں۔

"لو دوست۔ میں جانتا ہوں تم کس کشمکش سے دوچار ہو۔ میں تمہارا پُرانا دوست ہوں۔ تمہاری اتنی مد د تو کر سکتا ہوں۔"

اُس نے ہاتھ بڑھا کر شیطان سے کنکریاں پکڑ لیں۔ اُس کا خیال تھا کہ اب وہ شیطان کو کنکریاں مار کر حج کا یہ اہم رکن پورا کر سکتا ہے۔ لیکن دوبارہ خواہش کے باوجود وہ ہاتھ اٹھا کر شیطان کی طرف کنکری نہ پھینک سکا۔

شیطان نے اُس کی حالت دیکھ کر پھر قہقہہ لگایا:

"دیکھو دوست ، جب تم نے کنکریاں خود اکٹھی کی تھیں تم مجھے کنکری نہیں مار سکے تھے۔ اب تو کنکریاں خود میں نے تمہیں تھمائی ہیں۔ اب ان کنکریوں میں اتنی استعداد نہیں رہ گئی کہ وہ مجھ تک پہنچیں۔ اب تم چاہو بھی تو میری طرف کنکری نہیں پھینک سکو گے اور اگر پھینکو گے تو وہ مجھ تک پہنچے گی نہیں۔ اب یہ تمہاری نہیں میری کنکریاں ہیں اور میری کنکریاں مجھے کیسے لگ سکتی ہیں ؟"

اصغر نے بے بسی سے شیطان کی طرف دیکھا۔ اُس نے گڑ گڑا کر خدا سے دعا کی کہ وہ شیطان کے خلاف اُس کی مد د کرے۔

لیکن خدا نے اُسی وقت اُسے تنہا چھوڑ دیا تھا جب شیطان کے ساتھ اُس کا مکالمہ شروع ہوا تھا۔ خدا کا رویہ دیکھ کر اُس کی سسکیاں اُس کے گلے اور آنسو اُس کی آنکھوں میں اٹک گئے۔ اُسے لگا وہ صلیب پر لٹکا یسوع مسیح ہے جسے خدا نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

لیکن یسوع مسیح نے تو اپنے اربوں کھربوں پیروکاروں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا۔ اُسے کس کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا؟

اُس نے پھر روتے ہوئے خدا سے استدعا کی کہ وہ شیطان کے خلاف اُس کی مد د کرے۔ اُس کو طاقت عطا کرے کہ وہ اُس کی طرف کنکریاں پھینک سکے۔

آخر خدا کو اُس کی حالت پر ترس آیا۔ اُس نے ہمت کر کے ایک کنکری شیطان کی طرف پھینکی۔ جو شیطان سے دور جا گری۔ پھر اُس نے ایک اور کنکری شیطان کی طرف پھینکی لیکن وہ بھی شیطان سے دور جا کری۔ شیطان چند لمحوں تک اُسے جد و جہد کرتے دیکھتا رہا۔ پھر ہولے ہولے چلتا اُس کے قریب پہنچ کر بولا:

"لو میں تمہارے قریب آ گیا ہوں۔ تم چاہو تو مجھے کنکری مار کر اپنے مناسک حج پورے کر لو۔ لیکن میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر تمہاری کنکریاں مجھے لگ بھی گئیں تو تمہارا حج نہیں ہو سکے گا۔"

اصغر نے شیطان کی بات سنی تو متجسس ہو کر اُس سے پوچھا کہ۔۔۔ " وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔ وہ اتنی دور سے سفر کر کے حج کرنے پہنچا ہے۔ اُس نے شرعی احکامات کے مطابق سب مناسک ادا کئے ہیں۔ پھر بھلا اُس کا حج کیوں نہیں ہو گا۔"

شیطان نے اصغر کی بات سن کر ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ پھر اُس نے پرانے مسلمانوں کو یاد کیا۔ اُس نے اصغر کو پرانے مسلمانوں کے بہت سے قصے سنائے۔ پھر کہا:

"پرانے مسلمان اُسے کنکریاں مارتے تھے تو اُسے ایک لذت حاصل ہوتی تھی۔ اُن کی سچائی اور اخلاص پر وہ انہیں دل سے دعائیں دیتا تھا۔ اُن سے کنکریاں کھا کر اُسے لگتا تھا کہ کچھ باقر دار انسان اُسے کنکریاں مار رہے ہیں۔ اب مسلمان اُسے کنکریاں مارتے ہیں تو اُسے بہت کوفت ہوتی ہے۔ اُسے لگتا ہے جھوٹوں اور منافقوں کا ایک جم غفیر اُسے کنکریاں مار رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ تم بھی اُن میں سے ایک ہو۔ تم بھی جھوٹے اور منافق ہو۔ تمہارا نہ خدا سے کوئی تعلق ہے نہ رسول سے۔ "

اصغر نے شیطان کی بات سنی تو چڑ کر کہنے لگا : "تم مکار ہو۔ جھوٹے ہو۔ تم مجھے بہکا رہے ہو۔ اپنے بھائی بندوں کے خلاف اُکسا رہے ہو۔ ہم پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں۔ زکوٰة دیتے ہیں۔ نوافل ادا کرتے ہیں۔ ٹی وی پر رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔ اگربتیاں جلا کر میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع سے حضور رسالت مآب پر درود و سلام بھجواتے ہیں۔ ایک سے ایک بڑھ کر سُریلی آواز میں اُن کے لئے نعتیں پڑھتے ہیں۔۔۔۔"

"بس بس بس۔ "

 اصغر بولتا جا رہا تھا۔ شیطان نے اُسے چپ کرایا۔

"دیکھو۔پھینکو مجھ پر چند کنکریاں اور رفو چکر ہو جاؤ یہاں سے۔ واپس جا کر اپنے نام کے ساتھ تم بھی حاجی کا اضافہ کر لینا۔ اصغر سے حاجی اصغر بن جانا۔ لیکن تم سب مسلمان جہلا کا ایک سیل بیکراں ہو۔ بوجھ ہو تم اس دھرتی پر۔ رینگتے ہوئے کیڑے ہو تم۔ تم تو انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہو۔ انسان ہونے کی بنیادی شرط قوت عمل ہے۔ مسلسل قوت عمل۔ قوت عمل سے اپنے آپ کو سنوارنا۔ کائنات کو سنوارنا۔ انسانیت کے آج کو اس کے گزشتہ کل کے سے بہتر بنانا۔ لیکن تم اس زمین کا گند ہو۔۔۔۔ کوڑا کرکٹ ہو۔۔۔۔خدا نے تمہیں انسان بنایا تھا لیکن تم نے اپنی بے عملی سے انسان ہونے کا حق بھی کھو دیا ہے۔"

شیطان کی باتیں سن کر اصغر کی ہمت جواب دے گئی۔ اُس کے لئے مزید اُس کی باتیں سننا مشکل ہو گیا۔ اُس کے ہاتھ سے کنکریاں گر پڑیں اور وہ حرم کی طرف چل پڑا۔

شیطان نے اُسے اُلٹے پاؤں چلتے دیکھا تو پیچھے سے آواز لگائی :

"حاجی اصغر۔۔۔ مجھے کنکریاں تو مارتے جاؤ۔ مجھے کنکریاں مارے بغیر تمہارے مناسک حج پورے نہیں ہوں گے۔ لیکن اصغر شیطان کی بات سنی ان سنی کر کے چلتا رہا۔

اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے بڑبڑا رہا تھا۔

"مجھے نہیں پورے کرنے مناسک حج۔میں حاجی نہیں بننا چاہتا۔ میں مسلمان بھی نہیں بننا چاہتا۔ پہلے میں ایک انسان بننا چاہتا ہوں۔۔۔۔صرف ایک انسان۔۔۔ایک اچھا انسان۔"
٭٭٭




اونٹ اور بدو


ہم اس زمین کے سوتیلے بیٹے 
زند گی کی الجھی ہوئی راہوں پر چلتے 
ایسے دشت میں آ پہنچے ہیں 
جہاں شرق و غرب اور شمال و جنوب
اپنا مفہوم کھو بیٹھے ہیں 
ہم میں سے کچھ دائیں ہاتھ جانا چاہتے ہیں 
اور کچھ بائیں 
لیکن جہاں دائیں اور بائیں کی تمیز ختم ہو جائے 
جہاں سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ کا لبادہ اوڑھ لے 
وہاں آگ کا الاؤ جلا کر
چند لمحے رکنا
چلتے چلے جانے سے زیادہ بہتر ہے 
ہم اس زمیں کے سوتیلے بیٹے 
زندگی کی الجھی ہوئی راہوں پر چلتے 
ایسے دشت میں آ پہنچے ہیں۔۔۔۔۔

"یار یہ بکواس بند کرو۔ مجھے تمہارا گیت زہر لگ رہا ہے۔" اونٹ نے خیمے سے لمبی گردن باہر نکال کر بدو کو ڈانٹ پلائی۔ اونٹ کب خیمے کے اندر گھسا تھا اور بدو کب باہر آیا تھا نہ اونٹ کو یاد تھا نہ بدو کو۔

ابھی اونٹ اور بدو کا مکالمہ چل رہا تھا کہ بدو کو دور صحرا میں غبار اڑتا دکھائی دیا۔

بدو نے آگ کے الاؤ کے پاس بیٹھے بیٹھے اپنے تھیلے سے دف نکال کر بجانی شروع کر دی۔ اونٹ نے گردن خیمے کے اندر کھینچتے ہوئے پھر بدو کو سرزنش کی:

"تم آگ تاپو یا دف بجاؤ تمہارے لئے محشر کی گھڑی آ پہنچی ہے۔"

بدو نے اونٹ کی طرف توجہ دئیے بغیر دف بجانی جاری رکھی۔ اتنے میں اڑتے غبار میں سے ایک بڑی سی جیپ نمودار ہوئی۔

جیپ بدو کے پاس آ کر رکی۔اس میں سے بندوق تانے ایک گورا باہر نکلا۔ بندوق کی نالی بدو کی طرف تھی۔ بدو نے بندوق کی پرواہ کئے بغیر دف بجانی جاری رکھی۔ بلکہ ساتھ پھر وہی گیت الاپنا شروع کر دیا۔

"ہم اس زمین کے سوتیلے بیٹے 
زندگی کی الجھی راہوں پر چلتے 
ایسے دشت میں آ پہنچے ہیں۔۔۔۔۔"

اونٹ کو بدو کے گیت سے پھر الجھن ہوئی لیکن اس نے صورت حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے اپنی گردن خیمے کے اندر رکھنے میں عافیت محسوس کی۔

گورے نے بندوق کی نالی بدو کی گردن پر رکھتے ہوئے کہا: "میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔"

بدو نے دف بجانی اور گانا بند کیا۔پھر گورے سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا: "بندوق سے بندوں کو قتل کیا جاتا ہے۔سوال زبان سے پوچھا جاتا ہے۔ابھی تک تم نے مجھ پر بندوق تان رکھی تھی۔ سوال اب پوچھ رہے ہو۔ بولو میں تمہاری کیسے مد د کر سکتا ہوں۔"

اونٹ خیمے کے اندر گورے اور بدو کا مکالمہ سن رہا تھا۔ وہ اب تک بدو کو بے وقوف سمجھتا آ رہا تھا۔ گورے کے ساتھ بدو کا مکالمہ سن کر اسے بے اختیار بدو پر پیار آیا۔اسے زندگی میں پہلی بار بدو اچھا لگا۔

بدو کا جواب سن کر گورے نے بندوق کی نالی کا رخ اس کی طرف سے ہٹاتے ہوئے کہا: "وہ اور اس کے ساتھی صحرا میں راستہ بھول گئے ہیں۔ گاڑی کا سارا پٹرول ختم ہو چکا ہے۔ ان کے سارے انسٹرومینٹ خراب ہو چکے ہیں۔خوراک ختم ہو چکی ہے۔ وہ بغداد واپس جانا چاہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ کیسے واپس جا سکتے ہیں۔ "

گورے کی بات سن کر بدو نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔"انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ان کا مسئلہ تو اس کا اونٹ بھی حل کر سکتا ہے۔"

اونٹ نے خیمے کے اندر اپنا ذکر سنا تو پریشان ہوا۔ اس نے بدو کے بارے میں اپنی رائے فوراًًتبدیل کر لی۔ اسے پھر بدو دنیا کا احمق ترین انسان دکھائی دینے لگا۔

گورے نے بدو کے منہ سے اونٹ کا ذکر سنا تو حیرانی سے ادھر ادھر دیکھا۔ اسے دور دور تک کہیں اونٹ دکھائی نہ دیا۔ اونٹ خاموشی سے خیمے کے اندر گورے اور بدو کا مکالمہ سنتا رہا۔

جیب میں بیٹھے فوجیوں میں سے ایک نے بندوق بدو کی طرف سیدھی کرتے ہوئے اس کے پاس اپنے کھڑے ساتھی سے کہا کہ۔۔"یہ اونٹ کی اولاد ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہاں کوئی اونٹ نہیں۔ یہ اپنے کسی ساتھی دہشت گرد کا انتظار کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کے ساتھی دہشت گرد یہاں پہنچیں ہمیں اس کی کھوپڑی اڑا دینی چاہئے۔ "

اونٹ نے بدو کی جان خطرے میں دیکھی تو اس نے خیمے سے اپنی گردن نکال کر گورے فوجیوں سے کہا کہ وہ خیمے کے اندر آرام کر رہا ہے۔

گوروں کو اونٹ کی بات بالکل پلے نہ پڑی۔ لیکن انہیں احساس ہوا کہ بدو سچ کہہ رہا تھا۔ انہوں نے اپنی بندوقوں کی نالیاں نیچی کر لیں۔

بدو نے پھر اپنا گیت الاپنا شروع کر دیا:

" ہم اس زمین کے سوتیلے بیٹے 
زند گی کی الجھی ہوئی راہوں پر چلتے 
ایسے دشت میں آ پہنچے ہیں 
جہاں شرق و غرب اور شمال و جنوب
اپنا مفہوم کھو بیٹھے ہیں "

پہلے بدو کے گیت پر صرف اونٹ ناراض ہو رہا تھا۔ اب اس کے پاس کھڑے گورے سپاہی نے دوبارہ اپنی بندوق کی نالی بدو کی کھوپڑی کی طرف سیدھی کی اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنا بے ہودہ گیت بند کرے ورنہ وہ اس کی کھوپڑی اڑا دے گا۔

بدو نے گانا بند کیا اور گورے سے کہا کہ۔۔۔" وہ سخت بد ذوق آدمی ہے۔ بندوقوں سے کھیلتے ہوئے اس کی حس جمال مر چکی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے گیت میں یہی رونا رو رہا ہے کہ وہ صحرا میں راستہ بھول چکا ہے۔ اس کا اونٹ اس کی آخری امید ہے لیکن اونٹ نے آگے چلنے سے انکار کر دیا ہے۔ بلکہ اس نے اسے خیمے سے باہر نکال دیا ہے اور خود اس کے خیمے پر قبضہ کر لیا ہے۔اس نے رات اس الاؤ کے پاس بیٹھ کر گزار ی ہے۔ جبکہ اونٹ خیمے میں آرام کر رہا ہے۔ "

گورے نے بدو کی بات سن کر اپنی بندوق کی نالی پھر نیچے کر لی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ بدو کے ساتھ کیا سلوک کرے۔

وہ اور اس کے ساتھی کئی دن سے صحرا میں بھٹک رہے تھے۔ ان کا کھانے پینے کا سارا سامان ختم ہو چکا تھا۔ سمت نمائی اور سارے صدائی آلات خراب ہو چکے تھے۔ جیب میں چند گیلن پٹرول باقی تھا۔ ابھی تک ان کو بچانے والی کوئی ٹیم بھی صحرا میں ان تک نہیں پہنچی تھی۔ یہ اکیلا بدو اور اس کا اونٹ تھا جو انہیں کئی دنوں تک صحرا میں بھٹکنے کے دوران دکھائی دیا تھا۔ اسے مار کر وہ امید کی آخری کرن بھی گل نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اونٹ خیمے کے اندر بدو اور گورے کی پریشاں حالی پر خوش ہو رہا تھا۔ وہ دونوں سے بے زار تھا۔ بدو اور اس کے آبا و اجداد ہزاروں سالوں سے اس سے صحرا میں بیگار لے رہے تھے۔ گوروں نے پوری دنیا کا سکون تباہ کر دیا تھا۔ یہ ایسی عجیب انسانی نسل تھی جو نہ اِس طور خوش تھی نہ اُس طور۔ یہ صحراؤں کو سمندر اور سمندروں کو صحرا بنانا چاہتے تھے۔ آبادیوں کو ویران اور ویرانوں کو آباد کرنا چاہتے تھے۔

اونٹ خیمے میں بیٹھا یہ سب سوچ رہا تھا۔ ادھر جیپ میں بیٹھے گوروں کا بھوک سے برا حال ہو رہا تھا۔ کئی دنوں سے ان کے منہ میں خوراک کا ایک نوالہ تک نہیں گیا تھا۔

اپنے ساتھی اور بدو کے باہمی مکالمے سے بے زار انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ فیصلہ کر کے جیپ سے اترے۔

اونٹ نے ان کے قدموں کی آہٹ سے اندازہ لگایا کہ وہ خیمے کے طرف آ رہے ہیں۔ اس نے خیمے سے نکل کر بھاگنا چاہا لیکن گوروں میں سے ایک نے دو فائر کئے ایک اونٹ کے دل پر اور دوسرا گردن پر۔

اونٹ بلبلاتا ہوا گرا اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔ گوروں نے چاقوؤں سے اونٹ کا گوشت کاٹ کر الاؤ پر بھون کر کھانا شروع کر دیا۔

بدو خاموشی سے انہیں اونٹ کا گوشت بھونتے اور کھاتے دیکھتا رہا۔ گوروں نے اسے بھی اونٹ کا گوشت پیش کیا لیکن اس نے گوشت کھانے سے انکار کر دیا۔

اسے اپنے اونٹ کی ہلاکت کا افسوس تھا لیکن وہ مسلح گوروں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے دوبارہ دف کے ساتھ پر سوز آواز میں گانا شروع کر دیا۔

" ہم اس زمین کے سوتیلے بیٹے 
زند گی کی الجھی ہوئی راہوں پر چلتے 
ایسے دشت میں آ پہنچے ہیں "
٭٭٭




اعلان جنگ


کئی دنوں سے اس کا معمول تھا کہ وہ صبح سو کر اٹھتا تو پہلے مشرق کی طرف منہ کر کے خدا کو ایک موٹی سی گالی دیتا۔ اس کے بعد مغرب کی طرف منہ کرتا اور شیطان کو ایک موٹی سی گالی دیتا۔

خدا اس کی گالی سن کر ہمیشہ خاموش رہتا۔ شیطان خدا کو خاموش دیکھتا تو چادر لپیٹ کر دوبارہ آنکھیں موند لیتا۔ "اگر خدا اس کی گالیوں پر رد عمل ظاہر نہیں کر رہا تو مجھے اس کی گالیوں کا جواب دینے کی کیا ضرورت ہے۔" شیطان لیٹے لیٹے سوچتا۔

 کئی دنوں تک اس کی گالیاں سننے کے بعد ایک دن خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سے گالیاں دینے کا سبب پوچھے گا۔ چنانچہ اس دن اس نے اس سے گالی سنی تو اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ "آج صبح وہ اس قدر ناراض کیوں ہے ؟" خدا کا سوال سن کر اس نے خشمگیں نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور پھر کہا : "وہ اس سے سخت بے زار ہے اور آج کے بعد اس کا نام نہیں سننا چاہتا۔ "

خدا نے حوصلے اور صبر کے ساتھ اس کی بات سنی اور پھر اس سے پوچھا کہ" آخر اس نے ایسا کیا کیا ہے کہ وہ اس کانام نہیں سننا چاہتا۔ "

 اس نے جواب میں کہا "اس نے آخر ایسا کیا کیا ہے کہ وہ اس کا نام عزت اور احترام سے لے ؟" خدا نے اس کی بات سنی تو مسکراتے ہوئے کہا:

" اس نے اسے پیدا کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہ کچھ نہیں تھا۔ پھر اس نے اسے جیتا جاگتا انسان بنایا۔ چلنے پھرنے کے لیے پاؤں دیئے۔ کام کرنے کے لیے ہاتھ دیئے۔ سوچنے کے لیئے دماغ دیا۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں۔ محبت کرنے کے لیئے دل دیا۔۔۔۔اور۔۔۔ اور۔۔۔۔"

"اور کیا۔۔۔۔؟" اس نے ترش لہجے میں خدا کا منہ چڑاتے ہوئے پوچھا۔

"خیر جانے دو۔ میں نے تمہیں اتنا کچھ دیا اور تمہارے لئے اتنی نعمتیں پیدا کیں کہ تم گننا چاہو تو گن نہ سکو۔ شکریہ ادا کرنا چاہو تو شکریہ ادا نہ کر سکو۔"

وہ خدا کا جواب سن کر کچھ نرم پڑا۔ اس کے لہجے کی ترشی کچھ کم ہوئی۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا: " ٹھیک ہے میں مانتا ہوں تم نے مجھے پیدا کیا، چلنے پھرنے کے لیئے پاوں دیئے ، کام کرنے کے لیے ہاتھ دیئے ، سوچنے کے لیئے دماغ دیا، دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں اور محبت کرنے کے لیے دل دیا۔۔۔اور۔۔۔اور"

ابھی اس نے خدا سے اتنی بات ہی کی تھی کہ دوسری طرف شیطان نے لیٹے لیٹے چادر سے منہ نکال کر آنکھیں ملتے ہوئے اسے کہا:

"تم مجھے بھی روزانہ گالیاں دیتے ہو۔ آج تک میں نے تمہیں جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ اب خدا نے تمہاری گالیوں کے جواب میں اپنی نعمتوں کا کھاتا کھول دیا ہے تو میں اس میں تھوڑی سی تصحیح کرنا چاہتا ہوں۔"

اس نے شیطان کی بات سن کر خدا کی طرف سے منہ موڑ کر اس کی بات سننے کی کوشش کی تو خدا نے اسے روکا کہ وہ اس کی طرف توجہ نہ کرے۔ لیکن اس نے خدا کی بات کو پس پشت ڈالتے ہوئے شیطان سے کہا اگر وہ خدا کے کھاتے سے اتنا پریشان ہے تو وہ بھی اپنا کھاتا کھول لے۔

شیطان نے اس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے کہا: "وہ ٹھیک کہتا ہے۔وہ تمہیں عدم سے وجود مین لایا۔ اس نے تمہیں چلنے کے لیے پاؤں ، کام کرنے کے لیے ہاتھ، سوچنے کے لیے دماغ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور محبت کرنے کے لیے دل دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے تمہارے قدموں کو حرکت، ہاتھوں کو طاقت، دماغ کو متنوع طور پر سوچنے کی صلاحیت اور آنکھوں کو مختلف رنگ دیکھنے کی اہلیت دی۔ جہاں تک محبت کرنے والے دل کا تعلق ہے محبت میں بھی لذت اور چاشنی میری وجہ سے ہے۔ محبت سے لذت اور چاشنی نکل جائے تو دل صرف خون پمپ کرنے والا آلہ رہ جاتا ہے۔ محبت سے اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ " 

اس نے شیطان کی بات سن کر ایک نظر خدا کی طرف دیکھا۔ خدا نے کہا: "یہ جھوٹ بولتا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ صرف تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ پیروں کی حرکت ، ہاتھوں میں کام کرنے کی طاقت، دماغ کی سوچنے کی صلاحیت، آنکھوں میں دیکھنے کی روشنی سب ان اعضا کی اپنی خصوصیات ہیں۔ اس لعین کا اس میں سے کسی چیز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔"

شیطان نے اسے خدا کی بات توجہ سے سنتے دیکھا تو اپنی چادر ایک طرف پھینک کر کھڑا ہو گیا اور تن کر کہنے لگا: "یہ مجھے جھوٹا کہتا ہے۔ اسے پوچھو اس نے میرے خلاف کب سے اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ اس جنگ میں لاکھوں کروڑوں انسان قتل ہو چکے ہیں۔ ابھی تک اس کا غصہ کم نہیں ہوا۔ نہ جانے اور کتنے لوگ اس کی اس جنگ کا ایندھن بنیں گے۔ انسانوں کی دنیا میں سارے مصائب اس کی وجہ سے ہیں۔ جب تک اس کا میرے خلاف جنگ کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہو تا انسان اسی طرح تباہ و برباد ہوتے رہیں گے۔ انسانوں کو اس کے چنگل سے نکلنا ہو گا۔ انہیں اس سے نجات پانا ہو گی۔"

شیطان کی تقریر سن کر خدا بھی جوش میں آ گیا۔ وہ بھی اسی طرح تن کر کہنے لگا: "یہ مجھ پر جنگ کا الزام لگاتا ہے۔ اسے پوچھو اس دنیا میں سارے فتنے کس کی وجہ سے ہیں۔ میں جہاں جاتا ہوں۔ یہ پہلے وہاں پہنچ کر اپنا ٹینٹ لگا لیتا ہے۔ اور لوگوں کو میرے خلاف اکسانے لگتا ہے۔ "

اب تک خدا اس کے مشرق اور شیطان مغرب کی طرف کھڑا تھا۔ وہ دونوں باری باری سے بول رہے تھے۔ وہ درمیان میں کھڑا ان کا مکالمہ سن رہا تھا۔ 

خدا بولتا تو وہ اپنا دھیان اس کی طرف کر لیتا۔ شیطان بولتا تو وہ اپنی پوری توجہ اس پر مرکوز کر دیتا۔ پھر یوں ہوا کہ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیک وقت بولنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے پر چیخ چیخ کر الزامات لگانا شروع ہو گئے۔۔

اس نے دونوں کو ہاتھوں کے اشارے سے خاموش رہنے کی تلقین کی۔ لیکن وہ دونوں مسلسل چیخ رہے تھے۔ چلا رہے تھے۔ خدا کے ذہن میں جو آتا تھا شیطان سے کہے جا رہا تھا۔ شیطان بھی اسے ترکی بہ ترکی جواب دے رہا تھا۔ نہ خدا چپ ہو رہا تھا نہ شیطان۔

آخر تنگ آ کر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کر لیے۔ لیکن وہ دونوں اتنی اونچی آواز سے چیخ رہے تھے کہ ہاتھوں سے کان بند کرنے کے باوجود ان کی آواز اس کے کانوں کے پردے چیر کر اس کے دماغ تک پہنچ رہی تھی۔

خدا اسے کہہ رہا تھا کہ اس کے سب مسائل شیطان کی وجہ سے ہیں۔ اسے چاہیئے وہ شیطان کے خلاف جنگ کرے۔ شیطان اسے کہہ رہا تھا کہ اس کے سب مسائل خدا کی وجہ سے ہیں وہ خدا کے خلاف جنگ کرے۔ جب کانوں پر ہاتھ رکھنے سے بھی وہ ان کی آواز روکنے میں ناکام ہو گیا اور ان دونوں کے چیخنے سے اس کا دماغ پھٹنے لگا تو اس نے منہ مشرق کی طرف کر کے پہلے خدا کو اور پھر منہ مغرب کی طرف کر کے شیطان کو ایک بڑی سے گالی دی اور دونوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اسے ان دونوں میں سے کسی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ دونوں کے خلاف جنگ کرے گا۔ وہ نہ خدا کے چکر میں پڑنا چاہتا اور نہ شیطان کے۔

اس کا اعلان جنگ سن کر خدا اور شیطان نے ایک دوسرے پر چلّانا بند کر دیا اور دونوں قہقہے مار کر ہنسنا شروع ہو گئے۔ اس نے دیکھا وہ دونوں بے تحاشہ ہنس رہے تھے اور ان کے قہقہوں کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی جارہی تھی۔ وہ دونوں کہہ رہے تھے :

 "آخر اس نے اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ہم دونوں جیت گئے ہیں۔"
٭٭٭



خواب آور پتھر


پھر ایسا ہوا کہ سارے شہر کے مکینوں کو نیند نے آ گھیرا۔

وہ جتنی کوشش کرتے کہ جاگتے رہیں ان کی آنکھیں بند ہو جاتیں۔ شہر کے مکینوں کی نیند کی وجہ سے زندگی کا کاروبار متاثر ہونے لگا۔ پہلے صحن خاموش ہوئے ، پھر دریچے ، پھر گلیاں پھر محلے اور پھر بازار۔

لیکن دن اور رات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ فطرتی مظاہر جس طرح کام کرتے ہیں ویسے ہی کر تے رہے۔ وقت پر سورج طلوع اور غروب ہوتا۔ وقت پر دن نکلتا اور ڈوبتا۔ وقت پر رات آتی ، تارے نکلتے ، چاند چمکتا، سحر ہوتی، غنچے چٹکتے ، پھول کھلتے ، صبح ہوتی، لیکن اس شہر خوابیدگاں کے مکیں اس سب سے بے نیاز سوئے رہتے۔

شروع میں ارد گرد کی بستیوں کے مکینوں کو اندازہ نہ ہوا کہ ان کی ہمسائیگی میں ایک بستی کے لوگوں پر نیند مسلط کر دی گئی ہے۔ لیکن سارے کا سارا گاؤں نیند میں کھو جائے اور کسی کو پتہ نہ چلے یہ کیسے ممکن تھا۔

جب ارد گرد کی بستیوں کے لوگوں کو پتہ چلا تو انہوں نے مختلف طریقوں سے کوشش شروع کی کہ اس بستی کے مکینوں کو نیند سے بیدار کریں لیکن ان کی سب کوششیں ناکام ہوئیں۔

سب سے پہلے انہوں نے بستی میں نمائندے بھیجے کہ وہ گھر گھر جائیں اور لوگوں کو نیند سے بیدار کریں لیکن قریبی بستیوں کے جو نمائندے اس بد قسمت بستی میں سوئے ہوؤں کو جگانے گئے بستی کی حدود میں داخل ہوتے ہی انہیں بھی ابدی نیند نے گھیر لیا۔ ان میں سے کوئی لوٹ کر واپس نہ آیا۔

اپنے نمائندوں کا یہ حال دیکھ کر ارد گرد کی بستیوں کے مکینوں نے اپنی اپنی بستیوں میں عوامی اجتماع کئے تا کہ ملحقہ بستی کے غیر فطرتی نیند میں کے شکار لوگوں کو جگانے کا کوئی طریقہ سوچیں لیکن انہیں اس مسئلے کا کوئی واضح حل سجھائی نہ دیا۔ وہ جتنا سوچتے اور پریشاں ہوتے۔ کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے انسانی تاریخ میں ایسے کسی واقعہ کے بارے میں نہ سنا تھا نہ پڑھا تھا۔ یہ ایک ایسا انوکھا واقعہ تھا جس کی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔ اس انوکھی صورت حال سے دوچار آخر چند بستیوں کے مکینوں نے فیصلہ کیا کہ وہاں نمائندے بھجوانے کی بجائے ایسے جہاز بھجوائے جائیں جن میں 

شور وغل کے ایسے آلات لگے ہوں جن کے شور سے سونے والوں کو نیند سے بیدار کیا جا سکے۔

اتفاقا ً ارد گرد کی بستیوں کے مکینوں کا یہ منصوبہ بھی سوئے ہوؤں کو جگانے میں کوئی نمائیاں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ کیوں کہ منصوبے کے مطابق جیسے ہی خوفناک شور پیدا کرنے والے طیارے اس گاؤں کی حدود میں داخل ہوئے ان کے پائلٹ چاہنے کے باوجود اپنی آنکھیں کھلی رکھنے میں ناکام رہے۔ جیسے ہی ان کے جہاز اس گاؤں کی حدود میں داخل ہوئے انہیں نیند نے آ گھیرا۔ وہ پوری کوشش کے باوجود خود کو نیند کی گرفت میں جانے سے نہ بچا سکے۔چناچہ ان کے جہاز پائلٹوں کی عدم توجہ کی وجہ سے ارد گرد درختوں اور پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے۔

اس دوران اس بستی کی صورت حال جوں کی توں رہی۔ نہ ان کی نیند ٹوٹی ، نہ گھروں کے صحن اور دریچے چہکے ، نہ گلیوں اور محلوں میں رونق لوٹی نہ بازار کھلے اور نہ زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔

آخرکار یہ مسئلہ ایک قومی مسئلے میں تبدیل ہو گیا۔ خوابیدہ لوگوں کی بستی کے واقعات سن کر سارے ملک کے لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو گئی-

ارد گرد کی بستیوں کے لوگوں کے علاوہ ملک کے سارے سیانے سر جوڑ کر بیٹھے کہ اس بلائے ناگہانی سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے۔ سوئے ہوئے لوگوں کو کیسے ابدی نیند سے جگایا جائے۔

 سب سیانے سونے والوں کے بارے میں گفتگو کرتے۔ لیکن کسی کے پاس کوئی واضح لائحہ عمل نہیں تھا۔ تقریروں پر سب کا زور تھا۔ لیکن سونے والوں کو کیسے جگایا جا سکتا ہے اس طرف کسی کی توجہ نہیں تھی۔ سچ یہ ہے کہ ان سیانوں میں سے کوئی سوئے ہوؤں کو جگانے میں دلچسپی بھی نہیں رکھتا تھا۔ بظاہر

وہ انہیں جگانے کی باتیں کرتے لیکن تنہائی میں ایک دوسرے سے کہتے کہ ان کا سویا رہنا ان کے جاگنے سے زیادہ بہتر ہے۔ اس بستی کے لوگ بہت شرپسند ہیں جاگ جائیں تو مسئلے پیدا کرتے ہیں۔ اس لیئے سوئے رہیں تو زیادہ اچھا ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے بستی کے لوگوں کو گہری نیند سے جگانے کے لیئے پائلٹوں والے جہاز بھجوائے تھے اپنے پہلے منصوبے میں ناکامی کے بعد انہوں نے وہاں بغیر پائلٹ جہاز بھجوانے شروع کر دئیے۔

بغیر پائلٹ جہاز بستی میں جا کر شور کرتے ، اونچی نیچی پروازیں کرتے ، پھر بغیر کوئ نقصان اٹھائے واپس لوٹ آتے۔ اگرچہ بغیر پائلٹ جہاز سوئے ہوؤں کو جگانے میں ناکام رہے تھے لیکن جہاز بھجوانے والوں کا خیال تھا کہ یہ ایک کامیاب تجربہ تھا۔ بغیر پائلٹ جہازوں کے استعمال سے سونے والوں کو جگایا جا سکتا ہے۔ ملک کے سب سیانوں کا بھی اس بات سے اتفاق تھا کہ ان لوگوں کی نیند کا سوائے بغیر پائیلٹوں والے جہازوں کی پروازوں کے کوئی حل نہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے خواہش ظاہر کی کہ اگر وہ جہاز انہیں عطا کر دیے جائیں تو وہ خود انہیں سوئے ہوؤں کو جگانے کے لیے استعمال کریں گے لیکن ان کے گومگو کے روئیے کی وجہ سے بے پائلٹ جہازوں والے ان پر اعتبار کرنے سے گریزاں تھے۔

جب ان نئے کھلونوں کی اونچی نیچی پروازوں سے مسئلہ حل نہ ہوا تو بے پائلٹ جہازوں نے ان سوئے ہوئے لوگوں پر بم برسانے شروع کر دئیے۔ لیکن بموں کے دھماکوں اور ان سے پھیلنے والی تباہی کے نتیجے میں بھی وہ بھاری نیند سے بیدار نہ ہوئے۔ وہ جو چاہتے تھے کہ سوئے ہوئے لوگوں پر بم برستے رہیں رفتہ رفتہ ان کی آنکھیں بھی نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔

ان پر ایک ایسا خمار طاری ہوا کہ وہ نہ سوتے تھے نہ جاگتے تھے۔ بلکہ کچھ ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ وہ تکلیف اور خوشی کے تصور سے آزاد ہو گئے۔ سوئے ہوؤں کی بستی پر بم گرتے تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل جاتیں۔ بتیسیاں کھل اٹھتیں اور وہ بم برسانے والوں کو ان کے ٹھیک ٹھیک نشانوں کی داد دیتے۔

کئی سال تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ نہ سوئے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے۔ نہ تدبیر کرنے والوں کی تدبیریں کامیاب ہوئیں۔ نہ صحنوں کی خاموشی ٹوٹی نہ دریچوں کے کواڑ کھلے نہ گلی محلے آباد ہوئے نہ بازاروں کی رونق لوٹی۔ بلکہ بے پائلٹ جہازوں کے بموں سے وہ بستی ویران سے ویران تر ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اس بستی کی نحوست ارد گرد کی بستیوں میں پھیلنے لگی۔ لوگوں کے اعصاب نیند میں جائے بغیر ایسے شل ہوئے کہ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو گئیں۔

آخرکار اس چھوٹی سی بستی کا مسئلہ ساری دنیا کا مسئلہ بن گیا۔ بڑے بڑے دماغ سوچ  بچار میں مصروف ہوئے لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق سونے والوں کا مسئلہ گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتا گیا لیکن سب عالی دماغ گھسے پھٹے فارمولوں پر عمل کرتے رہے۔ زیادہ تر فارمولے پہلے بھی کئی بستیوں پر آزمائے جا چکے تھے لیکن وہ پھر بھی مصر تھے کہ انہی فارمولوں پر عمل جاری رہنا چاہیے۔

اس دوران کچھ بین الاقوامی ماہرین نے دریافت کیا کہ سونے والوں کی بستی کی نیند کی وجہ کچھ ایسے پتھر ہیں جن سے ہمہ وقت ایسی شعاعیں نکلتی رہتی ہیں جن کی زد میں آنے والی ہر چیز پر نیند طاری ہو جاتی ہے۔ اور سونے والے ایک ایسی مصنوعی کیفیت میں ڈوب جاتے ہیں جس سے نکلنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ ان پتھروں کا اس زمین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کا تعلق خلا سے ہے۔ شائد ان میں سے کچھ اس آبادی میں گر گئے ہوں گے جن کی وجہ سے ہر زی روح چیز پر نیند طاری ہے۔

اس انکشاف کے بعد سب قومی اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ سوئے ہوؤں کو جگانے سے پہلے ان پتھروں نجات پانا ضروری ہے۔اگر ان پتھروں سے نجات مل جائے تو سونے والے خود بخود جاگ جائیں گے۔ اس دریافت سے سونے والوں کی بستی کے اردگرد بستیوں کے لوگ بہت خوش تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان پتھروں کو سونے والوں کی بستی سے نکالنے کے لیے بین الاقوامی نمائندے آئیں گے تو اس سے کاروبار بڑھے گا۔ روپے پیسے کی ریل پیل ہو گی۔ ان کی دن بدل جائیں گے۔

لیکن بین الاقوامی اداروں والے لوگ بھی بین الاقوامی سطح پر ایس کاروائیاں کر کے سیانے ہو چکے تھے۔ انہوں نے اس بات کی ذمہ داری تو قبول کی کہ وہ ان پتھروں کو اس بستی سے کسی نہ کسی طرح ہٹا دیں گے لیکن ایسا روپے پیسے کے ذریعے نہیں ہو گا۔ صرف بے پائلٹ طیاروں کی مد د سے ان پتھروں پر میزائیلوں سے نشانے لگائے جائیں گے اور انہیں تباہ و برباد کر دیا جائے گا لیکن کسی کو روپوں پیسوں سے نہیں نوازا جائے گا۔ اب صورت حال یوں ہے کہ بے پائلٹ طیارے رات دن ان پتھروں کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن جتنے پتھر تباہ ہوتے ہیں ان سے مزید ایسی شعاعیں برآمد ہوتی ہیں جن سے نہ صرف اس بستی کے مکینوں کی نیند شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے بلکہ ان شعاعوں کی وجہ سے ارد گرد کے بستیوں کے مکینوں پر بھی نیند طاری ہو رہی ہے۔

سوئے ہوؤں کی بستی کے ارد گرد بستیوں کے لوگ پھیلتی ہوئی ابدی نیند کے اثرات سے متفکر ہیں۔ لیکن ریاستی کار پردازگان کا خیال ہے کہ نیند ان کے لیے بہتر ہے۔ یہ شرپسند لوگ ہیں۔ جاگ جائیں تو شر پھیلاتے ہیں۔ ان کا سونا ان کے جاگنے سے بہتر ہے۔ چنانچہ ان پتھروں پر بے پائلٹ طیاروں سے مزائیلوں کی بارش جاری رہنی چاہیے تا کہ ان سے اور زیادہ شعاعیں برآمد ہوں جو کہ اور زیادہ لوگوں کو سلا سکیں۔
٭٭٭




پاگل


گاؤں میں سب کا ماننا تھا کہ فقیرا پاگل ہے۔ لیکن فقیرا جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں صرف وقت سے پہلے اس دنیا میں چلا آیا ہے۔ لوگ اس کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہیں اس لیے وہ اس کو پاگل جانتے ہیں۔

فقیرے کا اصل نام فقیر حسین تھا۔ وہ ایک بہت غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ کئی برس قبل جب اس نے میٹرک کیا تو اس کے والد نے گاؤں کے چوہدری صاحب سے کہہ کر اسے محکمہ انہار میں کلرک بھرتی کرا دیا۔ وہ کلرک بھرتی ہو کر بہت خوش تھا۔ ملازمت سے اسے سو ڈیڑھ سو روپے ماہانہ تنخواہ مل جاتی تھی جسے لا کر وہ ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیتا۔ ماں پہلے روپوں کو آنکھوں سے لگاتی پھر فقیرے کو خرچ کے لیے دس روپے دے کر باقی اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھ لیتی۔

فقیرے کے پاگل ہونے کی باتیں سب سے پہلے اس کے محکمہ میں اس وقت شروع ہوئیں جب اس نے دفتر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ رشوت کے پیسوں میں سے اپنا حصہ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

ہوا یوں کہ مہینے کے اختتام پر جب اوور سیر صاحب نے مختلف زمین داروں کی طرف سے ملنے والے رشوت کے روپوں میں سے فقیرے کا حصہ اسے دینے کی کوشش کی تو اس نے یہ کہہ کر اس نے حصہ وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے کام کی تنخواہ ملتی ہے اور وہ تنخواہ کے علاوہ کوئی اور پیسے قبول نہیں کرے گا۔

شروع شروع میں اوور سیر صاحب کا خیال تھا کہ وہ محکمے میں نیا آنے کی وجہ سے رشوت لینے سے انکاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ باقی ملازموں کی طرح وہ بھی ان چیزوں کا عادی ہو جائے گا اور اپنا حصہ وصول کر لیا کرے گا۔ لیکن جب کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس نے رشوت کے پیسوں میں حصہ دار بننے سے انکار کیا تو اوور سیر صاحب نے اس کے پاگل ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔

فقیرے نے اوور سیر صاحب کی بات کا برا منائے بغیر محکمہ انہار میں اپنا کام جاری رکھا۔ وقت کے ساتھ اس نے رشوت میں سے اپنا حصہ نہ لینے کے علاوہ اپنے دفتر کے ساتھیوں کو زمین داروں سے رشوت وصول کرنے پر برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ وہ انہیں اس بات پر کوستا کہ انہیں اپنا کام کرنے کی سرکار سے تنخواہ ملتی ہے اس لیے انہیں زمین داروں سے رشوت وصول نہیں کرنی چاہیے۔ شروع شروع میں اس کے ساتھی اس کے اعتراضات کو کہی اور ان کہی سمجھ کر باتوں میں اڑا دیتے لیکن جب ان پر اس کی تنقید حد سے بڑھنے لگی تو انہوں نے اوور سیر کے ساتھ مل کر اس کے خلاف رشوت لینے کا کیس بنایا اور اسے ملازمت سے فارغ کرا دیا۔

جس دن اسے رشوت خوری کے الزام میں ملازمت سے نکالا گیا وہ گھر پہنچتے ہی ماں کے سامنے سسکیاں بھر کر رونا شروع ہو گیا۔ ماں نے اسے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا تو پہلے اسے تسلی دی اور پھر رونے کی وجہ پوچھی۔ اس نے ماں کو بتایا کہ اس کے دفتر کے ساتھیوں نے رشوت کے مال میں حصہ دار نہ بننے کی وجہ سے اس پر رشوت خوری کا الزام لگا کر اسے ملازمت سے فارغ کرا دیا ہے۔

فقیرے کے باپ نے اس کی ملازمت چھوٹنے کی خبر سنی تو بھاگے چوہدری صاحب کے پاس پہنچے تاکہ انہیں کہہ کر اسے ملازمت پر بحال کرائیں۔

چوہدری صاحب کے کہنے پر محکمہ انہار کے افسر نے فقیرے کی ملازمت بحال کر دی لیکن ساتھ ہی یہ تاکید کی کہ آئندہ اگر وہ رشوت نہ لینا چاہے تو نہ لے لیکن دوسروں سے اس بارے میں کوئی پنگا نہ لے ورنہ وہ دوبارہ اس کی کوئی مد د نہیں کر سکیں گے۔

بحالی کا پروانہ پکڑے فقیرا دفتر واپس پہنچا تو اوور سیر صاحب نے اس کو کام کرنے کی اجازت دے دی لیکن ساتھ ہی وارننگ دی کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور کسی کے ساتھ رشوت کے بارے میں بحث مباحثے میں نہ اُلجھے۔

بحالی کے چند ماہ تک فقیرا روزانہ سفید شلوار قمیض پہنے سائکل پر سوار اپنے دفتر جاتا، سارا دن اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر کام کرتا، اور دفتر کا وقت ختم ہونے کے بعد دوبارہ سائکل پر سوار گھر واپس پہنچ جاتا۔ اس کے رویے میں تبدیلی سے اس کے ساتھی بظاہر مطمئن تھے لیکن انہیں اس کی دفتر میں موجودگی سے سخت وحشت ہوتی۔

اسے اپنے درمیان بیٹھے دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا کہ کوئی وہاں بیٹھا نہ صرف ان کے ہر فعل کو دیکھ رہا ہے اور ان کی حرکتوں پر نظر رکھ رہا ہے بلکہ ان کے خلاف وہ کسی وقت انکوائری بھی شروع کروا سکتا ہے۔

پھر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے کہ چپراسی سے لے کر ایکسین تک سب رشوت میں سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اس لیے انکوائری کون کرے گا؟

چنانچہ انہوں نے فقیرے کی واپسی کو مجبوری سمجھ کر قبول کر لیا۔ اور رفتہ رفتہ اس کی موجودگی سے بے نیاز ہو گئے۔

ایک دن انہیں اطلاع ملی کہ ان کے محکمے کے وزیر محکماتی دورے پر ان کے دفتر میں تشریف لا رہے ہیں۔ 

وزیر صاحب کے دورے کی اچانک اطلاع سے سارے ملازمین پریشان ہو گئے۔ ان کے دل وسوسوں اور خدشوں میں ڈوب گئے۔ انہوں نے اوور سیر صاحب سے مل کر خدشے کا اظہار کیا کہ فقیرا رشوت میں سے اپنا حصہ وصول نہیں کرتا، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب وزیر صاحب تشریف لائیں وہ انہیں دفتر میں پائی جانے والی رشوت کے بارے میں باخبر نہ کر دے۔ انہوں نے اوور سیر صاحب سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو وہ اس دن اسے دفتر سے دور رکھیں۔ ملازمین کے خدشات کے پیش نظر اوور سیر صاحب نے فقیرے سے کہا وہ چاہتے ہیں کہ جس دن وزیر صاحب دورے پر آ رہے ہیں وہ دفتر سے چھٹی کر لے۔ اوورسیر صاحب کے کہنے پر فقیرے نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ اس دن چھٹی کرے گا اور کام پر نہیں آئے گا۔

کرنے کو اس نے اوور سیر صاحب سے وعدہ کر لیا کہ وہ وزیر موصوف کے دورے کے دن دفتر نہیں آئے گا لیکن پھر نہ جانے اسے کیا سوجھی کہ عین وزیر کے دورے کے دن اس نے ایک کتبہ بنایا جس پر موٹے موٹے حروف میں لکھا کہ محکمہ انہار میں رشوت ختم کی جائے۔ پھر حسب معمول صبح ناشتہ کیا، سفید شلوار قمیض پہنی اور سائکل پر سوار ہو کر دفتر جانے کی بجائے گاؤں کی طرف آنے والی سڑک کے کنارے جا کر کتبہ اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔

دن چڑھے جب اس نے جھنڈے والی گاڑی ہائی وے سے اتر کر گاؤں جانے والی سڑک پر آتے دیکھی تو اس نے سڑک کے بیچوں بیچ کتبہ لہرانا شروع کر دیا۔ وزیر صاحب نے جب اپنے محکمے میں رشوت کے بارے میں کتبہ دیکھا تو ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ پھر انہوں نے فقیرے کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ وہ کیسے جانتا ہے کہ محکمہ انہار کے دفتر میں رشوت چلتی ہے۔ اس نے وزیر صاحب کو بتایا کہ وہ محکمے میں بطور کلرک کام کرتا ہے۔ محکمے میں ہر ماہ زمین داروں کی طرف سے ملنے والے رشوت کے پیسوں کی تقسیم ہوتی ہے۔ رشوت میں سے اس کے سوا نیچے سے لے کر اوپر تک سب اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ اس نے وزیر صاحب کو بتایا کہ ایک بار اس نے انہیں رشوت لینے سے منع کیا تو انہوں نے اس کیے خلاف سازش کر کے اس کی ملازمت ختم کر دی۔

فقیرے کی گفتگو سن کر وزیر آبپاشی محکمہ انہار کے دفتر پہنچے تو سب سے پہلے انہوں نے اوور سیر صاحب سے پوچھا کہ فقیرے کو ملازمت سے نکالے جانے کے بعد بحال کس نے کیا تھا۔ اوور سیر نے وزیر کو بتایا کہ فقیرے کو ملازمت ایکسین صاحب نے دی تھی، پھر ملازمت سے نکالا بھی انہوں نے تھا اور بعد میں معافی تلافی کے بعد بحال بھی انہوں نے کیا تھا۔

وزیر کے دورے کی وجہ سے ایکسین صاحب بھی وہیں دفتر میں موجود تھے۔ اوور سیر کی بات سن کر وزیر نے دفتر کے ٹائپسٹ کو بلا کر تین آرڈر ٹائپ کرائے۔

ایک آرڈر میں انہوں نے فقیرے کی برطرفی کا نوٹس جاری کیا۔ دوسرے میں ایکسین صاحب کی برطرفی کا اور تیسرے میں اوورسیر صاحب کی بطور ایکسین پروموشن کا۔

دفتر سے وزیر صاحب کے حکم سے دوبارہ برطرفی کے بعد فقیرے کا روزانہ کا معمول ہے کہ وہ علی الصبح سفید شلوار قمیض پہنے ، سائکل پر سوار، ہائی وے سے گاؤں کی طرف آنے والے سڑک کے کنارے جا کر کتبہ پکڑ کر کھڑا رہتا ہے۔ کتبے پر اب بھی موٹے موٹے حروف میں لکھا ہے کہ محکمہ انہار میں رشوت ختم کرو۔

آنے جانے والے لوگ کہتے ہیں کہ فقیرا پاگل ہو گیا ہے۔ فقیرا کہتا ہے لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔ کون پاگل ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن فقیرے کی ماں اب بھی ہر صبح اسے ناشتہ کھلا کر ، کتبہ تھما کر ، کام پر جانے کا کہتی ہے۔

 اگر کبھی فقیرا کسلمندی کا اظہار کرتا ہے تو پہلے وہ اسے محبت سے چمکارتی ہے کہ وہ اٹھے اور کام پر جائے۔ اگر وہ کوئی بہانہ بناتا ہے تو وہ اسے دھمکی دیتی ہے کہ اگر وہ کام پر نہیں جائے گا تو وہ خود کتبہ اٹھا کر سڑک کے کنارے جا کر کھڑی ہو جائے گی۔ 

لوگ کہتے ہیں فقیرا پاگل ہو گیا ہے۔ لیکن فقیر ا کہتا ہے کہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔ کون پاگل ہے فقیرا یا لوگ اس کا فیصلہ آپ لوگوں پر منحصر ہے۔
٭٭٭



ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ


 

بہت سے مسائل تھے اس کے ساتھ۔

سب سے پہلے یہ کہ اسے اپنی زبان پر کنٹرول نہیں تھا۔ یہ نہیں کہ اس کی زبان کوئی گز بھر لمبی تھی۔ صرف اس کے ذہن کے کچھ خلیے تباہ ہو چکے تھے جو کہ زبان کے وہ حصے فلٹر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے جن سے بدبو آتی ہے۔ جو عام سامع کو ناگوار گزرتے ہیں۔ جنہیں معیاری زبان کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔

دوسرا وہ شخصیت کے انتشار کا شکار تھا۔ شخصیت کے انتشار کی اصطلاح میں نے انگریزی اصطلاح پرسنیلٹی ڈس آرڈر کے مترادف کے طور پر استعمال کی ہے۔

شخصیت کا انتشار اور تباہ شدہ ذہنی خلیوں کی وجہ سے اس کی زبان میں ایک خاص خلا پیدا ہو چکا تھا۔ اس کے جملے اور تحریریں اس لسانی خلا سے بھرپور ہوتیں۔

صرف یہی نہیں کہ اس کی اپنی زبان میں جگہ جگہ یہ خلا دکھائی دیتا بلکہ اسے دوسروں کی زبان میں بھی وہی خلا دکھائی دیتا۔ تباہ شدہ ذہنی خلیوں کی وجہ سے اس میں صلاحیت نہیں تھی کہ وہ لسانی زبان کے ربط کو دیکھ پاتا۔

جب لوگ اس خلا کی وجہ سے بھنا جاتے اور اس کے جملوں کے گم شدہ نقطے ملانے کی کوشش کرتے تو وہ ناراض ہو جاتا اور پھر گالی گلوچ پر اتر آتا۔

اس کے علاوہ اسے معروف شخصیات کے ساتھ تعلق جوڑنے کا بھی بہت شوق تھا۔

اس مقصد کے لیے اس نے کئی فلمی ایکٹروں کے نام یاد کر رکھے تھے جنہیں وہ وقتاً فوقتاً اپنے نام کے ساتھ لگا کر لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا۔

لیکن یہ سب سطحی مسائل تھے۔ اصل مسائل بہت گہرے تھے۔ جب اسے ڈاکٹر اشرف کے کلینک میں لایا گیا تو وہ ان سطحی اور گہرے مسائل سے تقریباً ہلکان ہو رہا تھا۔

بے تحاشا گالیاں بک رہا تھا۔ تشدد اس کے ذہن اور روح پر سوار تھا۔ اس وقت اگر کوئی اس کے سامنے آ جاتا تو یقیناً قتل ہو جاتا۔

لیکن ڈاکٹر اشرف نے زندگی میں کئ ایسے کیس دیکھے تھے۔ اس وجہ سے انہیں مریض کا متشدد رویہ دیکھ کر ذرہ پریشانی نہ ہوئی۔ انہوں نے مریض کے عزیزوں سے کہا کہ وہ اسے ان کے کلینک پر تین دن کے لیے تنہا چھوڑ دیں وہ تحلیل نفسی کے ذریعے اس کے سطحی اور گہرے مسائل حل کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: کیس اگرچہ خاصا گنجلک ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ تین دن کے عرصہ میں مریض کے نہ صرف تمام تباہ شدہ ذہنی خلیے ٹھیک کئے جا سکتے ہیں بلکہ وہ مسائل جن کا ڈی این ایز کے ساتھ تعلق ہے ان کو بھی درست کیا جا سکتا ہے۔ 

ڈاکٹر اشرف کو اندازہ تھا کہ مریض کا لسانی انتشار اس کے تباہ شدہ ذہنی خلیوں کی وجہ سے تھا اور متشددانہ رویہ بھی انہی خلیوں کی میکناکی تحریکات سے جنم لے رہا تھا لیکن انہیں مریض کے لسانی انتشار اور متشددانہ رویے سے زیادہ فکر ڈی این ایز میں بیٹھے پروٹین پر مبنی ان خلیوں سے تھی جن کی وجہ سے اس بات کا مکمل امکان تھا کہ مریض کوئی ایسا کام کرتا جس سے اپنے آپ کو یا سوسائٹی کو نقصاں پہنچاتا۔ مثلاً اس میں خود کش بمبر بننے کی مکمل علامات موجود تھیں۔ 

چنانچہ جیسے ہی مریض کے عزیز اسے ڈاکٹر اشرف کے کلینک میں لائے انہوں نے اس کی تحلیل نفسی پر فوراً کام شروع کر دیا۔

ڈاکٹر اشرف کا مریضوں پر کام کرنے کا طریقہ انتہائی عجیب و غریب ہے۔ بے شمار لوگوں کو اسے طریقے کی سمجھ نہیں آتی تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔

لیکن بعد میں جب مریض ٹھیک ہو جاتا ہے تو وہ ان کے لیے پھولوں کے ہار لے کر پیش ہوتے ہیں۔

اس مریض پر جب ڈاکٹر اشرف نے تحلیل نفسی کا عمل شروع کیا۔ مریض نے انہیں جی بھر کہ ماں بہن کی گالیاں دیں۔ ان کی تعلیمی استعداد پر سوالات اٹھائے۔

ڈاکٹر صاحب نے اس کی گالیوں کو اس کے تباہ شدہ ذہنی خلیوں کی علامت جانتے ہوئے ان کی طرف توجہ نہ دی۔ اور مریض کی تحلیل نفسی کا عمل جاری رکھا۔

تھوڑی دیر تک زبان اور ہاتھ پیر چلانے کے بعد مریض نے تھک ہار کر اپنے آپ کو ڈاکٹر اشرف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

سب سے پہلے مریض نے اقرار کیا کہ وہ واقعتاً بیمار ہے۔ اس نے کہا کہ اسے صرف فلو ہے۔

ڈاکٹر اشرف نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ اسے فلو ہے لیکن اسے فلو کی خطرناک ترین شکل لاحق ہے۔ پھر انہوں نے وضاحت کی کہ وہ جس فلو کا شکار ہے اسے ذہنی فلو کہا جاتا ہے۔ یہ بالکل اسٹامک فلو کی طرح ہوتا ہے۔

اسٹامک فلو معدے کو ڈسٹرب کرتا ہے لیکن ذہنی فلو ذہن کو ڈسٹرب کرتا ہے۔ جس میں انسانی ذہن کی حالت بھی کچھ اس کے اسٹامک فلو میں معدے جیسی ہوتی ہے۔ جس کے سارے سمٹمز اس مریض میں موجود تھے۔

تھوڑی دیر بعد مریض نے آنکھیں بند کر لیں ڈاکٹر اشرف اسے اس مقام پر لے گئے جب وہ اپنے باپ کے آلہ تناسل سے ایک سپرم کی شکل میں اپنی ماں کی اندام نہانی میں داخل ہوا۔

جب وہ ذہنی طور پر اس کیفیت سے گزر رہا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اور وہ کراہتی ہوئی آواز میں ڈاکٹر اشرف کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ جن کی تفصیل کچھ اس طرح تھی:

"تم ابھی ابھی ایک سرنگ سے ایک بوند مائع مادے کی شکل میں کروڑوں دوسرے سپرموں کے ساتھ اپنی ماں کے اندام نہانی میں داخل ہوئے ہو۔ تمہارا ہدف اندام نہانی کے اندر رکھے ایک انڈے تک پہنچنا ہے۔ تمہارا مقابلہ ان کروڑوں سپرموں کے ساتھ ہے۔ تم میں سے صرف ایک اس انڈے تک پہنچے گا۔ کیا تم ان سپرموں کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہو۔"

"ہاں ہاں۔ لیکن یہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ ہم سب سنپولیوں کی طرح اس انڈے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیا میں اسے انڈے تک پہنچ پاؤں گا۔"

ڈاکٹر اشرف کو اس کی آواز میں کمزوری کے اثرات دکھائی دیئے۔ انہوں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔

"فکر نہیں کرو تم اپنا سفر جاری رکھو۔ تم ضرو اس انڈے تک پہنچو گے۔ " اس نے ڈاکٹر اشرف کی آواز سنی لیکن خوف اس وقت تک اپنا کام کر چکا تھا۔ سپرم کے اہم حصے تباہ ہو چکے تھے۔ جن میں دماغ کے بھی چند خلیے تھے۔

لیکن ڈاکٹر اشرف کے ڈھارس بندھانے پر اس نے انڈے کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ یہاں تک کہ وہ ان تباہ شدہ ذہنی خلیوں کے ساتھ ماں کے اندام نہانی میں رکھے انڈے تک پہنچ گیا۔

انڈے کے ساتھ جڑتے ہی اس نے نعرہ لگایا:

"میں انڈے تک پہنچ گیا ہوں۔ میں ہوں۔ ماں کی اندام نہانی میری کائنات ہے۔ "

ڈاکٹر اشرف نے اس کا نعرہ سنا تو کہا:

"جانتے ہو وقت ایک سرنگ ہے۔ وہ سرنگ جس میں سے تم گزر کر اسے انڈے تک پہنچے ہو۔ اور جس جگہ تم ہو۔ یہ سپیس ہے۔ تمہاری سپیس۔ جب تک اس سپیس میں رہو گے۔ سکھی رہو گے۔ اس سے باہر نکلو گے تو تمہارے ذہن کے تباہ شدہ ذہنی خلیے تمہاری زندگی برباد کر دیں گے۔"

مریض نے ڈاکٹر کا انتباہ سنا تو آنکھیں موند لیں۔ پھر چند لمحوں بعد زقند بھری اور ذہنی خلیوں کا علاج کروائے بغیر وہاں سے بھاگ گیا۔

ڈاکٹر اشرف کو امید ہے کہ وہ واپس آئے گا لیکن کب آئے گا۔ آپ بھی انتظار کریں میں بھی کرتا ہوں۔

دیکھیے کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک
٭٭٭




چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا


اقبال جسے سب جاننے والے بالا کہتے تھے ایک فٹ بال بنانے کی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔

یہ کام اس نے کئی برس پہلے شروع کیا تھا۔ اس کے باپ نے غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر اسے اسکول میں پانچویں جماعت سے اٹھا کر اس فٹ بال فیکٹری میں بھرتی کروایا تھا۔

چند برس کی محنت کے بعد بالا اس قابل ہوا کہ بغیر کسی نگرانی کے خود فٹبال سینے لگا۔

ان دنوں پاکستان دنیا میں واحد ملک تھا جہاں بنے فٹبال پوری دنیا میں ایکسپورٹ ہوتے تھے۔

یوروپ اور لاطینی امریکہ کے ہر ملک میں فٹبال بہت شوق سے کھیلی اور دیکھی جاتی تھی۔

کبھی کبھار بازار میں سے گزرتے کسی چائے خانے میں رکھے کسی ٹی وی پر بالے کو فٹبال کا میچ دکھائی دیتا تو وہ چند منٹ وہاں رک جاتا۔ جیب میں چند سکے ہوتے تو میچ دیکھنے کے لیے وہ گرما گرم چائے کا ایک کپ خرید کر چند منٹوں کے لیے چائے خانے کے ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا اور پھر فٹبال پر لکھا برانڈ نیم پڑھنے کی کوشش کرتا۔ اگر کبھی فٹبال پر ولسن لکھا دکھائی دے جاتا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ وہ فخر سے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو بتا تا کہ یہ فٹبال اس کی کمپنی میں بنا تھا۔

اسی طرح فٹبال سیتے بالے کی عمر اٹھارہ سال ہوئی تو اس کے ماں با پ نے اپنے ہی گاوں میں بشیرے موچی کی بیٹی آمو سے اس کی شادی کر دی۔ آمو کا اصل نام آمنہ تھا۔

اس کو آمنہ کا نام گاوں کی مسجد کے مولوی صاحب نے دیا تھا۔ کئی برس قبل جب آمنہ کی پیدائش ہوئی تھِی اس کا باپ بشیرا لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا تھا۔

اسے اس بات سے عار آتی تھی کہ اپنے کسی جاننے والے کو اپنے ہاں بیٹی کی پیدائش کے بارے میں بتاتا۔

اپنی بیوی کے حاملہ ہونے سے پہلے اسے لڑکوں کے کئ نام یاد تھے۔ جب اس کی بیوی بشیراں کا حمل سے پیٹ پھولنا شروع ہوا تو اسی وقت اس نے بہت سے لڑکوں کے نام سوچنا شروع کر دیے۔ لیکن جب آمنہ کی پیدائش ہوئی اس کا سر شرم سے جھک گیا۔ اس کے لیے کسی کو یہ بتانا کہ اس کی گھر والی نے لڑکی کو جنم دیا ہے مشکل ترین کام تھا۔ خود اسے نو مولودہ کو دینے کے لیے لڑکیوں والا کوئی نام نہیں سوجھتا تھا۔

آمنہ کی پیدائش کے کئ دن بعد ایک دن اتفاقاً مسجد کے امام صاحب اپنی پھٹی جوتی سلانے کے لیے اس کے جوتیاں گانٹھنے کے اڈے پر رکے تو اس نے امام صاحب سے اجرت وصول کرنے کی بجائے انہیں اپنا مسئلہ بتایا۔ امام صاحب نے پہلے تو اس کے بیٹی کی پیدائش پر احساس شرمندگی پر یہ کہہ کراس کی سرزنش کی کہ بیٹے اور بیٹیاں دونوں اللہ کی نعمت ہیں۔ پھر انہوں نے اسے لڑکی کا نام آمنہ رکھنے کا مشورہ دیا۔

شاید زندگی میں یہ پہلی اور آخری بار تھا کہ کسی نے اس بچی کو آمنہ کہہ کر پکارا تھا۔

اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے آمو ہو گئی۔ گھر اور محلے والے سب اسے ہمیشہ آمو کہہ کر پکارتے۔

وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کا نام آمنہ ہے۔ اگر کوئی اسے پوچھتا کہ اس کا نام کیا ہے تو وہ ہمیشہ پوچھنے والے کو اپنا نام آمو ہی بتاتی۔

بہرحال جب بالے اور آمو کی شادی ہوئی تو دونوں بہت خوش تھے۔ پہلے بالے کے گھر میں تین افراد خانہ تھے جو ایک ہی چھت تلے زندگی کرتے تھے۔ اس کا باپ، ماں اور خود بالا۔ بالے کی شادی کے بعد اس گھر میں آمو بھی چلی آئی تو اس چھوٹے سے گھر میں تین کی بجائے چار افراد ہو گئے۔

گھر کیا تھا، بس چند گز زمین پر کچی مٹی سے چار دیواری کھڑی کی گئی تھی۔ چاردیواری کے اندر درختوں کی موٹی موٹی سوکھی لکڑیوں اور مٹی سے ایک چھوٹا سا کمرہ بنایا گیا تھا۔

کمرے میں اتنی جگہ نہیں تھی کہ تین یا چار چارپائیاں بچائی جا سکتیں۔ اس لیے زمین پر چند پھوڑ اور پھوڑوں پر چٹائیاں بچھی رہتیں جنہیں رات میں کھول دیا جاتا اور دن کو لپیٹ کر چلنے پھرنے کے لیے جگہ بنائی جاتی۔ یہ گھر بالے کے دادا نے بنایا تھا۔ بعد میں اس کے ماں باپ کی زندگی بھی اسی گھر میں گزری تھی۔

ہر سال بارشوں کا موسم شروع ہونے سے پہلے اس کا باپ گاوں کے جوہڑ سے مٹی نکال لاتا جسے اس کی ماں چھت اور دیواروں پر لیپ دیتی اور اس طرح وہ گھر ایک سال کے لیے موسم کی سختیوں سے محفوظ ہو جاتا۔

آمو سے شادی کے بعد یہ فریضہ بالے اور آمو نے سنبھال لیا۔ اس طرح بالے اور آمو کی زندگی اپنے باپ دادا کی زندگیوں کے سانچے میں ڈھل گئی۔ فرق پڑا تو صرف اتنا کہ پہلے اس کا دادا اور بعد میں اس کا باپ لوگوں کی زمینوں پر مزدوری کرتے جس سے ان کا گزارہ چلتا۔ جبکہ بالے نے اپنے باپ کے کہنے پر کھیت مزدوری کی بجاۓ فٹبال بنانے کی فیکٹری میں کام شروع کر دیا تھا۔

شروع میں بالے کے دادا نے کوشش کی کہ وہ بالے کے باپ کو اس کے بچپن میں اسکول بھجواتا اور لکھنا پڑھنا سکھاتا لیکن چند ہی سال بعد غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر اسے بالے کے باپ کو اپنے ساتھ کھیتوں پر مزدوری پر لگانا پڑا۔ بعد میں بالے کے باپ نے بھی بالے کواسکول بجھوا کر یہی کوشش کی لیکن اسے بھی مجبوراً چند سالوں بعد بالے کو اسکول سے اٹھوا کر فٹبال بنانے کی فیکٹری میں ملازمت دلانا پڑی۔

جب بالے نے بچپن میں فٹ بال فیکٹری میں کام شروع کیا اور چند ماہ بعد وہ پہلی بار پگار کے چند روپے گھر لایا تو اس کا باپ بہت خوش تھا۔ اس کا خیال تھا کہ بالے کو کھیت مزدوری سے نجات دلا کر اس نے اپنے خاندان کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

اس لیے بالے کی شادی کے بعد، چند روز بیمار رہنے کے بعد، وہ فوت ہوا تو اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے چہرے سے طمانیت کا یہ احساس جھلکتا تھا۔ باپ مرا تو ماں کی طبعیت بھی خراب رہنے لگی۔ وہ بھی جلد ہی ایک وفا شعار بیوی کی طرح سل اور دق سے خون تھوکتے راہی ملک عدم ہوئی۔

 ماں باپ کی وفات سے پہلے بالا نہ صرف فٹبال سینے کا مکمل کاریگر بن چکا تھا بلکہ شادی کے بعد وہ اتنے پیسے بھی کمانے لگا تھا کہ اس نے رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری اور چاردیواری کے اندر واقع اکلوتا کمرہ بھی پکی اینٹوں سے بنوا لیا تھا۔ چنانچہ جب اس کے باپ اور ماں کی وفات ہوئی تو وہ دونوں زمین پر بچھی چٹائی پر مرنے کے بجائے پکی اینٹوں کے کمرے میں بچھی چارپائیوں پر مرے۔

بالے کے ماں باپ کو فوت ہوئے چند برس بیتے تو اس نے گھر میں بجلی لگوائی، کمرے میں آمو کے کہنے پر بجلی کے ایک بلب کے علاوہ بجلی سے چلنے والا ایک پنکھا بھی لگوایا۔

جلد ہی تین پیڑھیوں کو پروان چڑھانے والے اس ایک کمرے کے گھر میں جو پہلے کچی مٹی اور گارے سے بنا تھا اور اب بالے کی فٹبال فیکٹری میں برسوں کی محنت کے بعد پکی اینٹوں سے بنے گھر میں تبدیل ہو چکا تھا بالے اور آمو کے ہاں ایک خوبصورت بیٹے نے جنم لیا۔

بیٹا بالے اور آمو کی جان تھا۔ بیٹے کی پیدائش کے بعد بالے نے فیکٹری میں مزید دل لگی اور محنت سے کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے کبھی کبھار اگر فیکٹری کا مالک اسے اپنے وقت سے زیادہ ٹائم لگانے کے لیے کہتا تو وہ انکار کر دیتا۔ لیکن بیٹے کی پیدائش کے بعد اس نے فیکٹری کے مالک سے خود درخواست کی کہ وہ جتنا ممکن ہو سکے اوور ٹائم لگانا چاہتا ہے۔

اوور ٹائم کرنے کی وجہ محض اس کا بیٹا تھا۔ اپنے باپ اور دادا کی طرح اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو اسکول بھجوائے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرے۔

اسے اپنی زندگی کے بارے میں قلق تھا کہ اس کی تعلیم کا سلسلہ پانچویں جماعت سے رک گیا تھا۔ چنانچہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا بھی اپنے باپ اور دادا کی طرح مالی مشکلات اور غربت کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاۓ۔

بالے اور آمو کا بیٹا ابھی ڈھائی تین سال کا تھا کہ ملک میں پہلے سیاسی اور پھر معاشی ابتری پھیلنی شروع ہوئی۔ جس سے پیداواری اور کاروباری عمل سست روی کا شکار ہوا۔

بین الاقوامی منڈیوں میں فٹبالوں کی سپلائی کا خلا پیدا ہوا تو چین اور جاپان نے فٹبال بنا کر پاکستان سے زیادہ سستے داموں ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیے۔

جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ پاکستان میں فٹبال بنانے کی ایک کے بعد دوسری فیکٹری بند ہونا شروع ہوئی۔ پہلے اوور ٹائم ختم ہوا پھر روزمرّہ کا کام بھی کم سے کمتر ہوتا گیا۔

اوپر سے ملک میں بین الاقوامی سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر رشوت خوری کی بنیاد پر قائم کیا گیا بجلی کا نظام پورے ملک میں اس طرح درہم برہم ہوا کہ فیکٹریوں کو بجلی کی سپلائی روک دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں مندی پھیل گئی۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے۔

بالے نے فٹبال فیکٹری میں محنت سے جو پیسا کمایا تھا کچھ کچے گھر کو پکا بنانے پر صرف ہوا باقی ملک بھر میں مندی پھیلنے اور چیزوں کی مہنگائی کی وجہ سے تیزی کے ساتھ خرچ ہوا۔ یہاں تک کہ پہلے بالے کے کھانے پینے میں کمی آئی پھر آمو کے اور پھر ان کے لیے اپنے بیٹے کی مناسب خوراک کا بند و بست بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔

چند ماہ تک ادھر ادھر سے مانگ تانگ کر گزارہ چلتا رہا یہاں تک کہ آلے دوالے والے اور دوکاندار بھی بالے اور آمو کی شکل سے بے زار ہونے لگے۔ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھتے تو فوراً بد کلامی اور بدزبانی شروع کر دیتے۔

ایک دن تو آمو اور اس کے چھوٹے سے بیٹے کی دنیا بالکل ہی اجڑ گئی۔

ہوا یوں کہ گھر میں کئی دن سے فاقہ چل رہا تھا۔ بالا اپنی فیکٹری کے مالک کے پاس گیا۔ فیکٹری کئی ماہ سے بند پڑی تھی۔ اس نے فیکٹری کے مالک سے درخواست کی کہ وہ اسے چند روپے ادھار دے اور جب بھی فیکٹری میں کام دوبارہ شروع ہو وہ اس کی پگار میں سے وہ پیسے کاٹ لے۔

لیکن فیکٹری کے مالک نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے اس سے کہا کہ ایک تو اس کی اپنی مالی حالت ابتر ہے اور دوسرے ملک میں سیاسی اور معاشی صورت حال دن بدن مزید بگڑ رہی ہے اور اب اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ان کی فیکٹری دوبارہ چلے گی۔ چنانچہ اس کے لیے اسے پیسے ادھار نہیں ممکن نہیں۔

بالا فیکٹری کے مالک سے مایوس لوٹا تو آمو بھوک سے بلکتے بچے کے ساتھ ہمسائیگی میں لوگوں کے دروازوں پر دستک دینے چلی گئی کہ شاید کوئی اس پر ترس کھا کران کی مد د کر دے۔

ہر طرف سے مایوس ہو کر وہ گھر لوٹی تو بالے نے گلے میں پھندا ڈال کر بجلی کے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی تھی۔

آمو نے بالے کی بجلی کے پھنکے سے لٹکتی لاش دیکھی تو پہلے تو بے ہوش ہو گئی پھر ہوش میں آئی تو اس نے رو رو کر بینوں سے آسمان سرپر اٹھا لیا۔

ہمسائیوں نے اس کا رونا دھونا سنا تو پتہ کرنے چلے آئے۔ جب انہوں نے بالے کی لاش پنکھے سے لٹکتی دیکھی تو انہوں اس لاش کو پنکھے سے اتار کر پہلے نہلا دہلا کر اس کے کفن دفن کا انتظام کیا اور پھر آمو اور اس کے بیٹے کے لیے کھچ کھانے پینے کا سامان لائے۔ بالے کی موت پر جو کھانے پینے کا سامان آیا تھا دوچار دن میں ختم ہوا۔ اور پھر بھوک کی وہی خوفناک بلائیں آہستہ آہستہ آمو اور اس کے بیٹے کی طرف بڑھنے لگیں۔

بالے کی خود کشی کے بعد آمو کی ساری آسیں اور امیدیں دم توڑ گئیں۔ ایک تو وہ چھوٹے سے بچے کی ماں تھی اس کے ساتھ اس کے لیے کام کاج کرنا ممکن نہیں تھا اور پھر گھر میں کوئی ایسی جمع پونجی نہیں تھی جسے بیچ کروہ اپنا اور اپنے بیٹے کے پیٹ کا جہنم بھرتی۔

اس کے باوجود اس نے اپنی سی پوری کوشش کی کہ کوئی ہمسائیگی میں یا ادھر ادھر اسے گھر کے کام کاج کے لیے دو وقت کی روٹی پر ملازم رکھ لے لیکن اس کرموں جلی کی قسمت نے یاوری نہ کی۔

کچھ مخیر حضرات نے خدا ترسی کرتے ہوئے اسے اپنی رکھیل بننے کی دعوت دی لیکن سیدھی سادی نیک دل آمو اپنی بھوک اور مجبوری کے باوجود خود کو اس کام پر آمادہ نہ کر سکی۔

کئی دنوں سے بھوکی آمو ایک دن اپنے بھوک سے بلکتے بیٹے کو گود میں لیے اپنے چھوٹے سے گھر کے دروازے پر بیٹھی تھی کہ سامنے والے گھر کی دیوار پر پر اسے چند کوے شور مچاتے دکھائی پڑے۔ ایک کوے کے منہ میں کوئی چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا تھا جو دوسرے کوے اس سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ کووں کی اس چھینا جھپٹی میں روٹی کا ٹکڑا گلی میں گر پڑا۔ اس پہلے کہ کوے جھپٹ کر وہ ٹکڑا پکڑتے وہ فوراً اٹھی تا کہ کووں سے پہلے وہ روٹی کا ٹکڑا اٹھا لے۔

جیسے ہی تیزی کے ساتھ وہ کوے کے منہ سے گلی میں گرے ہوئے چپہ بھر روٹی کے ٹکڑے کی طرف بڑھی ایک طرف سے تیزی سے آتا ایک موٹر سائکل سوار اس سے آ ٹکرایا۔ تیز رفتار موٹر سائکل کی ٹکر سے آمو روٹی کا ٹکڑا اٹھانے سے پہلے اپنے بیٹے سمیت سامنے والی دیوار سے جا ٹکرائی۔ چند منٹوں بعد آمو اور اس کا بیٹا دونوں اسی جگہ دم توڑ گئے۔

کووں نے گلی میں گرا چپہ بھر روٹی کو ٹکڑا اٹھایا اور ہوا میں اڑ گئے۔ 
٭٭٭


 

وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے 


 
نگاہ خانم کا معمول تھا کہ وہ روزانہ اپنے گھر سے نکل کر پیدل چل کر کالج جاتی۔ اور کالج میں روز مرہ کے معمولات سرانجام دینے کے بعد گھر واپس آ جاتی۔

اسے کالج آتے جاتے کئی سال ہو گئے تھے لیکن اس نے کبھی راہ میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں دیکھی تھی۔ کبھی کبھی نگاہ خانم کا جی چاہتا کہ روز مرہ کی یکسانیت ٹوٹے اور کبھی کوئی ایسا واقع رونما ہو جس سے اسے کچھ مختلف محسوس ہو۔

لیکن گھر سے کالج کے راستے پرچھائی یکسانیت نگاہ خانم کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جا رہی تھی۔

چاہنے کے باوجود نگاہ خانم کی زندگی میں کوئی ایسا واقع رونما نہیں ہو رہا تھا جس سے اسے اپنی زندگی میں تبدیلی کا احساس ہوتا۔

وہ محسوس کرتی ان دنوں شہر کے لڑکے بھی کچھ ضرورت سے زیادہ شریف ہو گئے ہیں۔ کسی زمانے میں آتی جاتی لڑکیوں پر لائن مارنا، جملے کسنا، اور ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کرنا زندگی کا معمول تھا۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں اس چھیڑ چھاڑ سے لطف اندوز ہوتے۔ اگر کبھی بات آگے بڑھ جاتی تو ارد گرد کا معاشرہ فوراً اپنا کر دار ادا کر کے چیزوں کو دوبارہ ڈھرے پر ڈال دیتا اور بات آئی گئی ہو جاتی۔

لیکن زندگی میں ایسی یکسانیت بالکل نہیں تھی۔ ایسی لا تعلقی کہ لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ بند کر دیں نگاہ خانم کے لیے اس کا تصور بھی محال تھا۔

اس نے یکسانیت سے اکتا کر کالج آنے جانے کے مختلف راستے ڈھونڈھے تا کہ روزانہ نئے راستے سے کالج آئے جائے اور اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم کچھ نئے چہروں کے عکس اپنے ذہن پر منقش کرے۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں نئے راستے بھی پرانے ہو جاتے اور نئے دکھنے والے چہروں کی جاذبیت بھی تقریباً ختم ہو جاتی۔

نئے راستوں کی تلاش میں ایک دن نگاہ خانم کی زندگی میں ایسا واقعہ رونما ہوا کہ وہ اپنے روایتی راستے کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو گئی۔ اب وہ دوبارہ پرانے راستے سے کالج آنے جانے لگی لیکن اب جس چیز کو اس کی نگاہیں ڈھونڈھتی تھیں وہ کہیں نہیں دکھتی تھی۔

ہوا یوں کہ ایک دن وہ ایک نئے راستے سے کالج جا رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی طرف ایک نوجوان بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔

نگاہ خانم جیسے جیسے کالج کی طرف بڑھتی جا رہی تھی وہ نوجوان اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ تیزی سے چلتی تو اس کے تعاقب میں نوجوان کے قدم بھی تیزی سے اٹھنے لگتے۔ وہ آہستہ روی اختیار کرتی تو نوجوان کی رفتار میں بھی آہستگی آ جاتی۔

وہ نوجوان مسلسل نگاہ خانم کے پیچھے چل رہا تھا لیکن اس کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ برقرار رکھے ہوئے تھا۔ نہ فاصلے میں کمی آنے دیتا اور نہ فاصلہ بڑھنے دیتا۔

نگاہ خانم جانتی تھی کہ وہ اس کا تعاقب کر رہا ہے لیکن وہ یہ جاننے سے قاصر تھی کہ نوجوان کی رفتار اس کی رفتار کی کمی و بیشی کے ساتھ کیوں کم و بیش ہو رہی تھی۔

نگاہ خانم نے جتنی بار اپنی رفتار سست کی اس کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا کہ وہ نوجوان اس تک پہنچے اور جو بھی کہنا چاہتا ہے کہے۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ نوجوان اس سے بات کرے۔ اس پر کوئی جملہ کسے۔ یا کوئی ایسی حرکت کرے جس سے اس کی زندگی کی یکسانیت ٹوٹے۔ لیکن نگاہ خانم کی بار بار کی کوشش کے باوجود نوجوان نے نہ اس کا تعاقب ترک کیا نہ اس سے اپنے فاصلے میں کمی یا بیشی پیدا ہونے دی۔

اس نوجوان کے ہاتھ میں ایک پیکج تھا جو وہ نگاہ خانم کو دینا چاہتا تھا لیکن اس کے خیال میں ابھی تک راستے میں کوئی ایسا مقام نہیں آیا تھا جہاں وہ اس پیکیج کو نگاہ خانم کے حوالے کرتا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اسے وہ پیکیج نگاہ خانم کو دیتے ہوئے دیکھے۔

اسے اس بات کا مکمل احساس تھا کہ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عورت کی آبرو کتنی نازک چیز سمجھی جاتی ہے۔ اور کس طرح اسے آئنے کی طرح ہر وقت صاف رہنا چاہیے۔ کیونکہ اس رجعت پسند معاشرے میں آئنے پر ذرا سا غبار پڑھنے سے عورت کی زندگی اس طرح دھندلا جاتی ہے کہ پھر اسے دنیا کی کوئی چیز صاف نہیں کر سکتی۔

لیکن نگاہ خانم کا اتنا تعاقب کرنے کے بعد بھی ابھی تک نوجوان کو کوئی ایسا موقع نہیں ملا تھا جب کوئی ارد گرد موجود نہ ہو یا اسے دیکھ نہ رہا ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ آج وہ کسی طرح پیکیج نگاہ خانم کے حوالے کرے تا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی راستے سے آیا جایا کرے جہاں سے وہ کئی سالوں سے آ جا رہی تھی۔

وہ نوجوان جانتا تھا کہ پہلے نگاہ خانم کالج میں پڑھنے جاتی تھی اور اب اسی کالج میں پڑھا رہی تھی اور اسی سلسلے میں اس کا روزانہ ادھر سے گزرنا معمول تھا۔

شروع شروع میں جب نگاہ خانم نے روزانہ کی یکسانیت سے تنگ آ کر راستہ تبدیل کرنے کی عادت اپنائی تھی اس نوجوان کا خیال تھا کہ شاید اس کی طبعیت ٹھیک نہیں اور اس نے کالج سے چھٹی کر لی ہے لیکن جب وہ کبھی کبھار پرانے راستے پر آ نکلتی اور پھر کئی دنوں تک غائب ہو جاتی تو نوجوان کو اس کے بارے میں فکر ہونے لگتی۔

نگاہ خانم کے روز روز کے راستوں کی ادل بدل سے نوجوان نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب اگر وہ اسے کہیں نظر آئی تو وہ ضرور اس سے ملاقات کر کے اس سے دل کی بات کہے گا۔ اسے بتائے گا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے اور کتنے سالوں سے اس کو آتے جاتے دیکھتا رہتا ہے۔

وہ ایک مصور تھا۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ روزانہ اس کے گھر کے سامنے سے گزرنے والی نگاہ خانم نے اسے مصور بنا دیا تھا تو بے جا نہیں ہو گا۔

وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ یہ گھر کئی سال پہلے اس کے ایک دور کے عزیز نے اس وقت اسے رہائش کے لیے دیا تھا جب اس کے والدین ایک ایکسڈینٹ میں فوت ہو گئے تھے۔ اور اب وہ اس دنیا میں تنہا تھا۔

گھر شہر کی مین روڈ پر واقع تھا۔ روڈ پر ہر وقت لوگوں کی آمد و رفت رہتی تھی۔ کبھی کبھار پولیس والے بھی گشت کرتے ادھر آ نکلتے۔

گھر ایک کمرے پر مشتمل تھا جس کی ایک کھڑکی باہر سڑک کی طرف کھلتی تھی۔

وہ ہمیشہ نگاہ خانم کے کالج جانے کے وقت کھڑکی میں کھڑے ہو جاتا اور پھر اسے اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھتا۔ وہ جب تک اسے دکھائی دیتی وہ وہیں کھڑا رہتا۔

جب وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی وہ پنسل اور کاغذ پکڑ کر اس کی تصویر بنانے لگتا۔

شروع شروع میں اس کی بنائی تصویریں چند دھبوں پر مشتمل ہوتیں لیکن رفتہ رفتہ ان دھبوں میں خد و خال ابھرنے لگے۔

پھر اس نے نگاہ خانم کی تصویر بنانے کے لیے باقاعدہ رنگ استعمال کرنے شروع کئے۔

رنگوں کے استعمال سے اس کی بنائی ہوئی تصویریں شاہکاروں میں تبدیل ہونا شروع ہو گئیں۔

وہ ہر صبح نگاہ خانم کو جس طرح کے کپڑوں میں جس انداز سے چلتے دیکھتا سارا دن اسے برش اور رنگوں کی مد د سے کاغذ پر اتارنے میں صرف کر دیتا۔ اس کی انگلیاں تب تک برش سے کاغذ پر رنگ بکھیرتی رہتیں جب تک وہ مطمئن نہ ہو جاتا کہ نگاہ خانم کا اس دن کا انداز واقعتاً کاغذ پر منعکس ہو چکا ہے۔

جب سے نگاہ خانم نے یکسانیت سے اکتا کر مختلف راستوں سے کالج آنا جانا شروع کیا تھا اس دن سے اس کی تصویریں بنانے کی روٹین ٹوٹ چکی تھی جس کی وجہ سے وہ خاصی الجھن کا شکار تھا اور اب چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح نگاہ خانم کو مائل کرئے کہ وہ پرانے راستے سے کالج آیا جائے کرے تا کہ اس کا تصویریں بنانے کا سلسلہ چلتا رہے۔

لیکن اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس تک اپنا پیغام کیسے پہنچائے۔ اسی ارادے سے آج صبح وہ گھر سے نکلا تھا کہ کسی نہ کسی طرح نگاہ خانم تک اپنے دل کی بات پہنچا کر رہے گا۔

اسی مقصد سے نگاہ خانم کو دیکھتے ہی وہ اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔ لیکن روڈ پر آتے جاتے لوگوں کی وجہ سے اسے موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ اس سے دل کی بات کہے۔

آخر چلتے چلتے جب نگاہ خانم تقریباً اپنے کالج کے قریب پہنچی اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کو پیکٹ تھمانے کی کوشش کی لیکن اسی لمحے اسے سائکل پر سوار ایک پولیس مین دکھائی دیا جو علاقے کا گشت کر رہا تھا۔ پولیس مین کو دیکھتے ہی پیکٹ اس کے ہاتھ سے گر گیا اور وہ جلدی سے ہجوم میں گم ہو گیا۔

نگاہ خانم نے پیکٹ گرتے دیکھا تو آگے بڑھ کر اس پیکٹ کو زمین سے اٹھا لیا کہ ہو سکے تو وہ اسے اس تک پہنچا دے گی۔

لیکن جب نگاہ خانم نے زمین سے پیکٹ اٹھایا وہ حیران ہوئی کہ اس پیکٹ پر اس کا نام اور اس کے کالج کا پتہ لکھا تھا۔

نگاہ خانم نے پیکٹ کھولا تو اس میں اس کی ہاتھ سے بنی ہوئی بہت سی تصویریں تھیں۔ سب سے اوپر والی تصویر میں وہ ادھ کھلی آنکھوں سے کسی طرف دیکھ رہی تھی۔

تصویر کے نیچے لکھا تھا: وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے۔ نگاہ خانم دیر تک وہیں کھڑی اس تصویر کو دیکھتی رہی اور انتظار کرتی رہی کہ شاید وہ نوجوان واپس آئے۔ لیکن جب وہ واپس نہیں آیا تو وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کالج کے گیٹ کے اندر داخل ہو گئی۔ وہ بار بار گنگنا رہی تھی: وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے۔ نگاہ خانم کو محسوس ہوا اس کی زندگی پر کئی سالوں سے چھائی یکسانیت آخر کار ٹوٹنے لگی ہے۔ لیکن راستہ وہی ہے جس پر وہ کئی سالوں سے کالج آ جا رہی ہے۔
٭٭٭


 
عشق مجنوں و لیلیٰ

از  بہروز مہمان
ترجمہ

راوی حکایت بیان کرتے ہیں کے قیس عامری کی عمر اس وقت بارہ سال تھی جب وہ ایک دن مدرسہ جاتے ہوئے راستے میں ملنے والی تیرہ سالہ لیلی کو دیکھتے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہوا اور اسے دل دے بیٹھا۔

جب دیکھا تیرا روئے زیبا مدرسے میں 
ختم ہوئی دلچسپی حساب و ہندسے میں 

راوی بیان کرتے ہیں کہ جب تک قیس عامری کی عمر اٹھارہ سال نہ ہوئی وہ لیلی کی محبت میں جلتا رہا یہاں تک کہ جونپور کے مدرسے سے لیلی کے فارغ التحصیل ہونے کا وقت آ پہنچا۔

اس وقت قیس عامری اپنے آپ میں نہ رہا اور اس کے لیے لیلی کی محبت کو دوستوں سے چھپانا نا ممکن ہو گیا۔ چنانچہ ایک دن اس نے مدرسے میں دور سے جب لیلی کا چہرہ دیکھا تو وہ لرزا دینے والے بخار کی مریض کی طرح بے ہوش ہو گیا۔ دوست دوڑے دوڑے اس کے پاس پہنچے اور سمجھے کے اسے زکام کا زبردست دورہ پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے۔ قیس عامری دل میں ان کی سادہ دلی پر ہنسا اور کہا:

میں نہیں از راہ نزلہ لرزاں دوستو
عشق لیلی میں ہوں گریاں دوستو

اس کے بعد ہر دن قیس عامری پر لیلی کی محبت کا جنوں بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس جنون میں اس نے شہر کو خیر باد کہا اور جنگل و بیاباں کی راہ لی۔ سوائے جنگلی بیر بوٹیوں کے سب کچھ کھانا پینا چھوٹا۔ لباس سے تن آزاد ہوا اور لیلی کی محبت میں نالہ و زاری اس کے روز و شب کا مشغلہ ٹھہرا۔

اگر کوئی بھولا بھٹکا آ کر اس سے اس کا نام و نشان پوچھتا تو کہتا کہ نام میرا مجنوں ہے ، بیر بوٹیاں میری غزا ہیں اور یہ بیاباں میرا گھر ہے۔

عشق لیلی نے کیے جسم و جاں پاک
بیر بوٹیاں ہیں فقط میری خوراک

مجنوں کی ماں نے ایک دن ایک مہرباں جاننے والے کو مجنوں کی تلاش میں بھیجا تا کہ وہ اسے واپس لائے اور دوبارہ عالم انسانی کا حصہ بنائے۔

جب وہ مہرباں شخص جنگل میں مجنوں کے پاس پہنچا تو اس نے انگشت بدنداں مجنوں کودیکھا اوراسں سے پوچھا یہ تو نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔

مجنوں نے اسے جواب دیا اے عاشقوں کی دنیا کے احوال سے بے خبر تو کیا جانے کہ عاشق کو معشوق تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کس حال سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لیے تو میرے حال پر تعجب نہ کر بس یوں سمجھ کہ جو تیرے لیے سیدھا ہے وہ میرے لیے الٹا ہے اور جو میرے لیے الٹا ہے وہ تیرے لیے سیدھا ہے۔

اس جہاں کو سیم و زر سے ہے استغنا
عاشق کے لیے کافی ہے جنگل کی ہوا

لیلی سے قیس کے چچا زاد بھائی نے جا کر کہا قیس تیرے جمال کی تاب نہ لا کر مجنوں ہو چکا ہے اور اب جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ لیلی نے ہنس کر جواب دیا میں نے کئی بار اس سے کہا ہے کے وہ دل سے میرا خیال نکال دے کیونکہ میری شادی میرے عم زاد ابن سلام کے ساتھ طے ہو چکی ہے۔ اگرچہ میں نے ابن سلام کو بہت بار کہا ہے کے میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن میرے لیے میرے ماں باپ کے انتخاب کا احترام لازم ہے۔ اس لیے میری شادی اسی سے ہو گی۔ لہذا قیس مجھے بھول جائے -

اگر وہ نہ مانے تو اسے موبل فون دینا اور کہنا آج رات میری کال کا انتظار کرے میں خود اسے کال کر کے سمجھاؤں کہ جنگل و بیاباں کو چھوڑ کر شہر واپس لوٹے اور دوبارہ زندگی کے رنگ ڈھنگ اپنائے۔

پوچھتے ہیں کیوں مجنوں دیوانہ ہوا
کس کے خاطر سوئے جنگل روانہ ہوا

لیلی سے موبائل فون لے کر قیس کا چچا زاد بھائی بیاباں کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ بیاباں پہنچا تو دیکھا قیس جانوروں کی طرح درخت پر چڑھا بیٹھا ہے۔ اس نے مجنوں سے پوچھا کیوں مجنوں بنے درخت پر چڑھے بیٹھے ہو۔ مجنوں نے کہا ابھی لیلی کے عشق میں یہی بن پا یا ہوں۔ اس لیے اس حال میں ہوں۔ شاید لیلی کا عشق ایک دن مجھے پرندہ بنا دے اور میں اس کے عشق مین آسمانوں کی طرف پرواز کر جاؤں۔

عشق لیلی سے ہے میرا جسم سوئے روح رواں 
سر سوئے افلاک ہے اور دل بنا ہے آتش فشاں 

اس کے چچا زاد نے موبایل درخت کے پاس رکھا اور یہ کہہ کر وہاں سے روانہ ہوا کہ آج رات لیلی تجھے کال کرے گی۔ اس کی کال کا انتظار کرنا۔ مجنوں دیر تک درخت سے موبایل فون کو محبت بھر دیوانگی سے دیکھتا رہا اور لیلی کی یاد میں روتا رہا۔ آخر درخت سے نیچے اترا۔ فون پکڑ کو اسے چومتا رہا۔ شام گئے فون کی گھنٹی تو اس پر ایک عجیب دیوانگی طاری ہو گئی۔ وہ فون کا جواب دینے کے بجائے اسے بغل میں دبائے چیتے کی طرح جنگل میں دوڑنے لگا۔ اور یوں اس نے وہ موبایل فون گم کر دیا۔

اس حال میں ایک سال بیت گیا۔ لیلی کی شادی ابن سلام سے ہو گئی۔ لیکن رات کے وقت جب ابن سلام دلہا بنا لیلی کے کمرے میں پہنچا تو لیلی نے بغل میں رکھے ڈنڈے سے ابن سلام کے دانت توڑ دیے اور ضربوں سے اس کا سر پھوڑ دیا۔

کچھ عرصہ بعد مجنوں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے کہا:

توڑ دیے تو نے اس چور کے دانت بے خیال
کیسے ناز دکھائے تو نے اے پری رو و جمال

لیلی ابن سلام کے ساتھ خوش نہیں تھی۔ اس نے جوں توں اس کے ساتھ چند سال گزارے۔ لیکن چند سالوں بعد ابن سلام کو جاں لیوا نزلے کا مرض لاحق ہوا جس سے اس نے جان جان آفریں کے سپرد کی۔

بعد میں لیلی نے مجنوں کو پیغام بھیجا کہ اس کی جان ابن سلام سے چھوٹ گئی۔ اب یا تو وہ شہر میں واپس آ جائے یا وہ اس کے پیچھے جنگل آ رہی ہے۔

مجنوں تک جب لیلی کا پیغام پہنچا تو وہ زار و قطار روتا رہا اور کہتا رہا۔

تیرے فراق میں میں اس حال میں ہوں 
زندہ ہوں اور بس تیرے خیال میں ہوں 

تیرے آلام فراق سے ہے سینہ چھلنی
اس درد سے ہمیشہ تیرے وصال میں ہوں 

اس کیفیت میں وہ جنگل ہی میں رہا اور شہر کی طرف نہیں گیا۔ چند دنوں بعد لیلی اسے ڈھونڈتے ہوئی جنگل پہنچی۔ جب مجنوں نے لیلی کو دیکھا تو فرط شوق سے بے ہوش ہوا۔ اسے اٹھا کر شہر میں لیلی کے گھر لائے۔

کئی دنوں بعد ہوش میں آیا۔ لیلی کو اپنے پاس پا کر سوچا وہ مر چکا ہے۔ اور جنت میں لیلی کو دیکھ رہا ہے۔ لیلی کا قرب پا کر مجنوں آبدیدہ ہو گیا اور کہنے لگا۔

تیرے جمال نے اس لیے مجھے مارا
کہ آؤں جنت میں اور تجھے دیکھوں 

لیلی مجنوں کی بات سن کر ہنسی اور سرزنش سے بولی۔ اتنے سال دیوانوں کی طرح جنگلوں میں گھومتے رہے۔ ماں باپ جدائی میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آ اب ہم اپنا گھر بنائیں اور باقی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں۔

راوی کہتا ہے چند دنوں بعد مجنوں نارمل ہو گیا۔ لیلی کا باپ ابھی زندہ تھا اس نے ان کی شادی کے جشن کا اہتمام کیا۔ جنگل کے تمام جانور ہرن خرگوش چیتے شیر ہاتھی جو سالہا سال جنگل میں رہنے کے سبب مجنوں سے شناسا ہو گئے تھے اس کی لیلی کے ساتھ شادی کا جشن منانے چلے آئے۔

راوی کہتا ہے شادی کے بعد مجنوں اور لیلی کے ہاں سات بچے پیدا ہوئے۔ جو ان کے سامنے جوان ہوئے۔ مجنوں ہمہ وقت لیلی کے ساتھ رہا۔ کبھی اس سے جدا نہ ہوا۔ لیلی کے باپ کے باغات سے ان کی زندگی چلتی رہی۔

راوی لیلی اور مجنوں کی ساری داستاں جانتا ہے سوائے اس کے ان کی موت کس سال واقع ہوئی اور وہ کس شہر میں دفن ہوئے۔ 
٭٭٭



افیونی



پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لے کر سید صاحب پہلے دن بطور وزیر اعظم دفتر پہنچے تو سارے اسٹاف نے ان کا خوش دلی سے استقبال کیا۔ ان کے پرائیوٹ سکریٹری نے باقی اسٹاف ممبران سے ان کا تعارف کرایا۔ اسٹاف ممبران سے تعارف کے بعد پرائیوٹ سکریٹری نے وزیر اعظم سے چائے پانی کے لئے پوچھا۔ انہوں نے مسکرا کر پرائیوٹ سکریٹری کا شکریہ ادا کیا اور جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ 

پرائیوٹ سکریٹری سر جھکائے ، ہاتھ میں نوٹ بک پکڑے ، وزیر اعظم کے پیچھے چلتا ان کے دفتر میں داخل ہوا تو انہوں نے اسے دروازہ بند کرنے کے لئے کہا۔

اس سے پہلے کہ پرائیوٹ سکریٹری دروازے کے طرف بڑھتا دروازے کے پاس کھڑے اردلی نے دروازہ بند کر دیا۔ 

وزیر اعظم نے اس کو اپنی روزانہ کی ضروریات کی فہرست تھماتے ہوئے کہا کہ بطور پرائیوٹ سکریٹری وہ اس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی مطلوبہ اشیا ہمہ وقت فراہم رکھا کرے۔

پرائیوٹ سکریٹری نے وزیر اعظم کی روز مرہ کی ضروریات کی عطا کردہ فہرست پر نظریں ڈالیں تو اسے سب سے اوپر افیون لکھی دکھائی دی۔

"افیون؟" اس نے استفہامیہ انداز میں وزیر اعظم کی طرف دیکھا۔ "ہائی بھائی۔ تم جانتے ہو میں صرف  ملک کا وزیر اعظم نہیں۔ میری کئی حیثیتیں ہیں۔ میں حسنی حسینی سید ہوں۔ گدی نشیں ہوں۔ میرے ہزاروں مرید ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد میرے آباؤ اجداد کے مرید تھے۔ اب وہ میرے مرید ہیں۔ وہ میرے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ میرے پیروں اور ہاتھوں کو چومتے ہیں۔ مجھے نذرو نیاز پیش کرتے ہیں۔

 یہ خاصہ دشوار کام ہے۔ اس لئے میں اپنے دن کا آغاز افیون کھانے سے کرتا ہوں۔ اگر افیون نہ کھاؤں تو اتنے سارے لوگوں سے سجدے اور نظر و نیاز وصول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب وزارت عظمی ٰ کے بعد میری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ہزاروں مریدوں کے علاوہ اب میرے ناتواں کندھوں پر ملک کے کروڑوں عوام کا بوجھ بھی آ پڑا ہے۔ اس لئے اب تو افیون کے بغیر دن کا آغاز کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ "

وزیر اعظم کی بات سن کر سکریٹری نے اثباتیہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا: "لیکن سر یہاں دار الخلافے میں افیون کی کوئی دوکان نہیں ہے۔ آج تک کسی وزیر اعظم نے افیون استعمال نہیں کی تھی۔ اس لئے مجھے پتہ کرنا پڑے گا کہ افیون کہاں سے مل سکتی ہے ؟"

وزیر اعظم نے پرائیوٹ سکریٹری کی بات سنی تو مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ "افیون کا حصول کوئی مشکل کام نہیں۔ میرے شہر میں افیون کا ٹھیکہ میرے پاس ہے۔ میری کیبنٹ کے کئی منسٹر حسنی حسینی سید ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ افیون استعمال کرتے ہیں۔ تم ان کے پرائیوٹ سکریٹریوں سے بھی پتہ کر لو۔ اگر انہیں بھی اپنے باسوں کے لئے افیون چاہئے تو تم ان کے لئے بھی میرے ٹھیکے سے افیون منگوا لیا کرو۔ ان کا حصہ انہیں پہنچا دیا کرو اور باقی میرے لئے اسٹاک میں حاضر رکھو۔ میں کبھی کبھار دن میں ایک سے زیادہ بار افیون کھانے کا عادی ہوں۔

صدر صاحب سے بھی پتہ کر لینا۔ وہ بھی افیون کھاتے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو ان کو بھی یہیں سے افیون سپلائی کر دیا کرو۔ لیکن دھیان رکھنا کاغذوں میں افیون کا لفظ نہ آنے پائے۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ایسی باتیں پبلک کو پتہ نہیں چلنا چاہیں۔ یہاں دفتر میں بھی افیون کا سارا سلسلہ تمہارے کنٹرول میں رہنا چاہئے۔ تا کہ کسی اور کو پتہ نہ چلے کہ میں افیون کھاتا ہوں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ افیون کا بل ساتھ ہی ساتھ سرکاری کھاتے سے ادا کر دیا کرو کیونکہ اب میں وزیر اعظم ہوں۔ میری تمام ضروریات کی ذمہ داری اب قوم اور قومی خزانے پر ہے۔ "

پرائیوٹ سکریٹری نے وزیر اعظم سے وعدہ کیا کہ وہ آج ہی ہیلی کاپٹر بھیج کر اُن کے شہر سے کافی ساری افیون منگوا  لے گا۔ تا کہ ان کے لئے افیون کا اسٹاک موجود رہے اور انہیں بوقت ضرورت فوراً دستیاب ہو سکے۔

پرائیوٹ سکریٹری نو منتخب وزیر اعظم سے روزمرہ کے لئے ہدایات لے کر ان کے دفتر سے اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اس کے پی اے نے اسے بتایا کہ کئی وفاقی وزیروں اور صدر محترم کے سکریٹری اس سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

اس نے بات کرنے والوں کی لسٹ دیکھی تو تقریباً سبھی گدی نشین حسنی حسینی سید وزیروں کے پرائیوٹ سکریٹریوں کے پیغامات تھے۔

لسٹ دیکھ کر اسے خیال گزرا کہ ان کا مسئلہ بھی اس کے مسئلے سے ملتا جلتا ہو گا۔ یقیناً ان کو بھی اپنے باسوں کے لئے افیون چاہئے ہو گی۔

چنانچہ اس نے جلدی سے وزیر اعظم کے ائیر اسکواڈ میں سے ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ فوراً وزیر اعظم کے شہر جائے اور وہاں افیون کے ٹھیکے پر جتنی افیون موجود ہو سب لیتا آئے۔

ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ نے پہلے کبھی اس طرح کے احکامات نہیں سنے تھے۔ اس نے تعجب آمیز نظروں سے وزیر اعظم کے پرائیوٹ سکریٹری کی طرف دیکھا۔پرائیوٹ سکریٹری کی نظروں سے جھلکتی عجلت اور خاموشی کو امر یقینی جان کر وہ فوراً وزیر اعظم ہاؤس میں بنے ہیلی پیڈ کی طرف بھاگا اور جلدی سے ہیلی کاپٹر اڑا کر وزیر اعظم کے شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔

چند گھنٹے پرواز کے بعد وہ وزیر اعظم کے شہر پہنچا تو اُسے شہر سے باہر ایک کھلی جگہ دکھائی دی۔ اس نے وہیں ہیلی کاپٹر اتار لیا۔ جس جگہ اس نے ہیلی کاپٹر اتارا شہر کا پولیس اسٹیشن بھی وہیں پاس ہی تھا۔

ہیلی کاپٹر لو لینڈ کرتے دیکھ کر لوکل پولیس کے چند سپاہی فوراً وہاں آ پہنچے۔ ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ نے ان سپاہیوں میں سے ایک کو کہا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر سے آیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ افیون کے ٹھیکے پر جس قدر افیون دستیاب ہے دارالخلافہ لے جائے۔ کیونکہ وہیں افیون کی سخت ضرورت ہے۔ 

ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ کی بات سن کر پولیس والوں میں سے ایک فوراً افیون کے ٹھیکے کے طرف بھاگا۔ وہ بھاگتا بھاگتا افیون کے ٹھیکے پر پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ آج صبح ہی ایک اور ہیلی کاپٹر آیا تھا۔ اس کا پائیلٹ ٹھیکہ کھلوا کر ساری افیون لے گیا ہے۔

ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ کو اس صورت حال سے خاصی مایوسی اور پریشانی ہوئی۔ مایوسی اس بات سے کہ وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ فلائی کر کے یہاں پہنچا تھا لیکن خالی ہاتھ واپس جا رہا ہے۔ پریشانی اس بات پر کہ آج وزیر اعظم کا جاب پر پہلا دن ہے۔ یہ دفتر میں وزیر اعظم کے پہلے دن کا پہلا آرڈر ہے۔ وہ اس آرڈر کی تکمیل میں ناکام رہا ہے۔ اب وہ وزیر اعظم کے پرائیوٹ سکریٹری کو کیا جواب دے گا۔ پرائیوٹ سکریٹری وزیر اعظم کو کیا بتائے گا۔

 اس نے اپنے ذہن پر بہت زور ڈالا کہ کسی اور شہر میں واقع افیون کے ٹھیکے سے افیون لیتا جائے لیکن اسے کچھ اندازہ نہ ہوا کہ اور کس کس شہر میں افیون کے ٹھیکے ہیں۔ 

دراصل بات یہ تھی کہ آج تک جتنے وزیر اعظم یا صدر دارالخلافے میں وارد ہوئے تھے وہ یا تو نشے سے پرہیز کرتے تھے اور اگر ان میں سے کسی کو نشے کا شوق تھا تو وہ افیون نہیں کھاتا تھا شراب کے نشے سے شغل فرماتا تھا۔

وہ سابقہ حکومتوں کے کئی حسنی حسینی سید وزیروں ، وزیر اعظموں اور صدروں کو جانتا تھا جو افیون کھاتے یا شراب پیتے تھے لیکن ان کی نشے کی یہ عادت ان تک محدود تھی۔ ان کے اسٹاف کو اندازہ تک نہیں ہوتا تھا کہ موصوف نے افیون کھائی یا شراب پی ہے۔ لیکن اب تو معاملہ ہی مختلف تھا۔ اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ وزیر اعظم کے پرائیوٹ سکریٹری نے اسے گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر وزیر اعظم کے شہر بھجوایا تھا تا کہ وہاں سے افیون کے ٹھیکے سے ساری افیون اٹھا لائے۔

اس کا ہیلی کاپٹر دارالخلافے کی طرف محو پرواز تھا اور اس کا ذہن سوچوں میں الجھا تھا۔ اسے یکے بعد دیگرے نشہ کرنے والے سب صدر اور وزیر اعظم یاد آ رہے تھے۔ شراب ان کے دفتر اور گھر میں موجود رہتی تھی۔ جو پینا چاہتا تھا اسے فوراً پیش کر دی جاتی تھی۔

اس نے چاہا کہ وہ کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے پرائیوٹ سکریٹری کو افیون نہ ملنے کی پیشگی اطلاع دے دے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ جب تک پرائیوٹ سکریٹری تک اس کا پیغام پہنچے گا وہ خود وہاں پہنچ جائے گا۔ دوسرا اسے پرائیوٹ سکریٹری نے صبح ہی منع کر دیا تھا کہ افیون کی بات کی کسی کو کانوں کان خبر نہ پڑے ورنہ اس کو ملازمت سے برخواست کیا جا سکتا ہے۔

انہی سوچوں میں گم وہ ہیلی کاپٹر اڑاتا دارالخلافہ واپس پہنچا۔ تھکے اعصاب کے ساتھ ہیلی پیڈ پر ہیلی کاپٹر اتار کر منہ لٹکائے پرائیوٹ سکریٹری کے دفتر پہنچا تا کہ اسے افیون نہ ملنے کی اطلاع دے۔

وہ افیون نہ ملنے کی بری خبر سنانے پرائیوٹ سکریٹری کے دفتر میں داخل ہوا تو وہ فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ گفتگو سے لگتا تھا اس کی کسی دوسرے حسنی حسینی سید وزیر کے پرائیوٹ سکریٹری سے بات ہو رہی تھی۔ موضوع گفتگو افیون ہی تھی۔

پرائیوٹ سکریٹری فون پر کہہ رہا تھا:

"اچھا ہوا۔ صدر صاحب کے اے ڈی سی نے دارالخلافے میں افیون کی سپلائی کی ذمہ داری خود لے لی ہے۔ اب وزیر اعظم اور باقی وزرا بھی اپنی ضرورت کے لئے صدر صاحب کے اے ڈی سے ضرورت کے مطابق افیون لے سکتے ہیں۔ "

پرائیوٹ سکریٹری نے فون رکھا تو ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ نے اسے اپنے ناکام لوٹنے کی اطلاع دینا چاہی لیکن اس کے منہ کھولنے سے پہلے پرائیوٹ سکریٹری نے اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ اس کے وزیر اعظم کے شہر میں افیون کے ٹھیکے پر پہنچنے سے پہلے صدر صاحب کے اے ڈی سی نے صدر صاحب کے کہنے پر ٹھیکے سے ساری افیون پہلے ہی اٹھوا لی تھی۔ چنانچہ وہ متفکر نہ ہو۔

پھر پرائیوٹ سکریٹری نے ہنستے ہوئے کہا: "شکر ہے کہ اب صدر، وزیر اعظم اور حسنی حسینی سید وزیروں کی افیون کی سپلائی کی ذمہ داری خود صدر صاحب کے اے ڈی سی نے لے لی ہے۔ کم از کم ہمیں اب اس افیونی وزیر اعظم کے لئے افیون کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔

ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ اور دوسرے اسٹاف نے پرائیوٹ سکریٹری کی طرف اس طرح معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں۔۔۔۔۔" انہوں نے کچھ نہیں سنا۔"
٭٭٭





مکالمے کا قتل



احمد صاحب پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ وکالت میں اُن کی تیسری نسل تھی۔ اُن سے پہلے اُن کے والد اور دادا بھی وکیل تھے۔ وکالت کے پیشے سے وابستگی کی وجہ سے علاقے میں اُن کا کافی اثرو رسوخ تھا۔ ان کا معمول تھا وہ سر شام کھانا کھا کر سیر کی غرض سے گھر سے نکل کھڑے ہوتے۔ بعض اوقات اُن کے ملنے والے کبھی انہیں کسی پان کی دوکان اور کبھی چائے کے کسی کھوکھے پر روک لیتے۔ اور ان سے گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیتے جو دیر تک چلتا رہتا۔

آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ سیر کے لئے اپنے گھر سے نکلے چند ملنے والوں نے انہیں سر راہ گھیر لیا۔ یہ ملنے والے مقامی کالج کے چند طالب علم تھے جو احمد صاحب سے موجودہ ملکی صورت حال پر بحث مباحثہ کرنا چاہتے تھے۔ علیک سلیک کے بعد انہوں نے یکے بعد دیگرے احمد صاحب پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ ملک کی موجودہ صورت حال پر پریشان تھے اور جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ 

ملک کے بارے میں لڑکوں کی تشویش دیکھ کر احمد صاحب نے حسب معمول جیب سے سگریٹوں کا پیک نکالا، ایک سگریٹ سلگایا اور فضا میں دھواں چھوڑتے ہوئے کہنے لگے :

"پاکستان پٹڑی سے اتر گیا ہے۔ آغاز تو ٹھیک تھا لیکن بعد میں اتنی بار اس کی ڈائریکشن تبدیل ہوئی ہے کہ اب یہ چاہے بھی تو راہ راست پر نہیں آ سکتا۔۔۔۔" پھر تھوڑے سے توقف سے بولے۔۔۔۔" اور سچ تو یہ ہے کہ کوئی چاہتا بھی نہیں کہ پاکستان راہ راست پر آئے۔"

لڑکوں نے احمد صاحب کی بات سنی تو پریشان ہو گئے۔ وہ سب ملک کے مستقبل کے بارے میں پہلے ہی پریشان تھے احمد صاحب کے جواب نے انہیں اور بھی پریشان کر دیا۔

ان کی حالت اس مریض جیسی تھی جو جانتا ہے کہ وہ بیمار ہے لیکن کوئی دوائی کھانا نہیں چاہتا۔ خاص طور پر کوئی کڑوی دوائی تو بالکل نہیں کھانا چاہتا۔

ان کی حالت دیکھتے ہوئے احمد صاحب نے کہا: "علاج تو ہے لیکن دوائی ذرا کڑوی ہے۔"

" احمد صاحب ، آ پ کڑوی سے کڑوی دوائی تجویز کریں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے وہ دوا استعمال کریں گے۔ پاکستان کے عوام سے بھی درخواست کریں گے۔ ان کے سامنے ہاتھ جوڑیں گے کہ اپنے وطن کی خاطر وہ آپ کی تجویز کردہ کڑوی گولی نگلیں۔ "

احمد صاحب نے ان کی بات سنی تو اُن کے چہرے پر گہری سوچ کی لکیریں پھیل گئیں۔ انہوں نے سگریٹ کا ایک طویل کش کھینچا اور پھر بولے :

"صرف انسان بن کر سوچنا اور عمل کرنا شروع کر دیں۔ باقی سارے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔"

احمد صاحب کی بات سن کر لڑکوں نے قہقہہ لگایا۔ وہ اپنی نا تجربہ کاری سے احمد صاحب کی بات کی گہرائی نہ سمجھ سکے۔ لیکن پھر بھی استفہامیہ انداز میں بولے :

"احمد صاحب یہ کونسی کڑوی گولی آپ نے تجویز کی ہے۔ ہم سب انسان ہیں اور انسان بن کر سوچتے ہیں۔ لیکن ہمارے مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔"

"سب پاکستانی انسان ضرور ہیں۔ لیکن وہ انسان بن کر سوچتے نہیں ہیں۔ وہ مُردوں کو زندوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ مُردوں کی عزت کے نام پر زندوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ موت کے بعد کی زندگی کے نام پر اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی موجودہ زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔

کوئی مسلمان بن کر سوچتا ہے ، کوئی عیسائی بن کر، کوئی پارسی بن کر۔ اور جو زیادہ گہرائی میں جانا چاہتا ہے وہ شیعہ ، سنی، وہابی ، بریلوی اور قادیانی بن کر سوچنے لگتا ہے۔ اور جس کی اس سے تسلی نہیں ہوتی وہ اس دائرے کو اور پھیلانے کے لئے پنجابی، سندھی ، بلوچی، پٹھان یا مہاجر بن جاتا ہے۔ " 

احمد صاحب کی بات سن کر و ہ سب سوچ میں پڑ گئے۔ انہیں بات سمجھ آ گئی تھی۔ انسان بن کر سوچنا، انسانوں کی طر ح عمل کرنا، عقیدے ، نظرئیے اور خیالات کے اختلاف کے باوجود دوسروں کو اپنے جیسا انسان سمجھنا اور ان کی عزت کرنا واقعی ایک مشکل کام ہے۔

جب احمد صاحب نے دیکھا کہ وہ ان کی بات کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔

"کیا انسان ہونے کے ناطے سب کو رہنے کے لئے ایک اچھا گھر چاہئے ؟" انہوں نے لڑکوں سے وکیل کی طرح ایک سوال پوچھا۔

لڑکوں نے اُن کے سوال پر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بیک زبان بولے : "ہاں ، احمد صاحب ، اس بات میں کیا شک ہے کہ سب کو رہنے کے لئے ایک اچھا گھر چاہئے۔"

ان کا جواب سن کر احمد صاحب نے کہا: " اگر یہ طے ہے تو ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس بات کا اہتمام کیوں نہیں کرتے کہ سب سے پہلے ہر پاکستانی کو رہنے کے لئے ایک اچھا گھر فراہم کریں۔ یہ نہ سوچیں کہ اس کا نظریہ یا عقیدہ کیا ہے۔

احمد صاحب کی بات سن کر لڑکے ہنسنے لگے اور پھر ہنستے چلے گئے۔ احمد صاحب اُن کو ہنستے دیکھ کر خود بھی مسکرانے لگے۔

"احمد صاحب ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمیں آہستہ آہستہ کس طرف لے جا رہے ہیں۔"

"کہاں لے جا رہا ہوں ؟" احمد صاحب نے سگریٹ کا ایک اور طویل کش لگایا اور دھواں فضا میں چھوڑ دیا۔ دھواں احمد صاحب اور لڑکوں کے درمیان منحنی خط بن کر فضا میں پھیلتا چلا گیا۔

"آپ ہمیں کسی نہ کسی طرح مذہب سے دور لے جانا چاہتے ہیں۔" انہوں نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ احمد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

احمد صاحب نے جب دیکھا کہ لڑکے کسی طور مذہب سے ہٹ کر سوچنے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے ایک اور تہہ در تہہ سوال غبارے کی طرح فضا میں چھوڑا۔

"اچھا یہ بتاؤ اگر پاکستانی اچھے گھر میں رہیں ، تین وقت پیٹ بھر کر کھانا کھائیں ، سب بچے اچھے اسکولوں میں پڑھیں ، بیماروں کا اچھے ہسپتالوں میں علاج ہو، سفر کرنے کے لئے اچھا ٹرانسپورٹ سسٹم ہو، اچھی سڑکیں ہوں ، جدید ریلوے سسٹم ہو جس پر تیز رفتار گاڑیاں چلیں ، لوگوں کو ملازمتیں ملیں ، کام کرنے کا ماحول صاف ستھرا اور پر سکون ہو، ہر انسان کو عزت ملے تو کیا اس سے مذہب خطرے میں پڑ جائے گا؟"

احمد صاحب کا تہہ در تہہ سوال سن کر سارے لڑکے گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اُن کے سوال کا کیا جواب دیں۔

احمد صاحب نے جتنی باتیں کی تھیں اُن سے کسی کو اختلاف نہیں تھا۔ لیکن مذہب پرستوں کا ترکش کبھی تیروں سے خالی نہیں ہوتا۔ خاص طور پر نوجوان مذہب پرستی میں پڑ جائیں تو اُن کی ذہنی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے۔ زندگی کے بارے میں اُن کا نظریہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ مذہب کو ہر چیز پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ مذہب کے لئے جان تک دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ 

"خوشحالی آ جائے تو لوگ مذہب سے دور ہٹ جاتے ہیں۔لوگ مذہبی سرگرمیوں کی بجائے ثقافتی سرگرمیوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ مذہب اُن کے لئے اہم نہیں رہ جاتا۔۔۔ اور۔۔۔اور۔" لڑکوں میں سے چند ایک نے نقطۂ اعتراض اُٹھایا۔

احمد صاحب نے ان لڑکوں کا اعتراض سنا تو قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔۔۔"اور مولویوں کا کاروبار مندا پڑ جاتا ہے۔ لوگوں میں اُن کا اثرو رسوخ کم ہو جاتا ہے۔ اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ لوگ غریب رہیں ، بے کار رہیں ، بیمار رہیں تا کہ مذہب کے سائے تلے توہم پرستی قائم رہے۔ تاکہ ان کی تعویذوں اور ٹوٹکوں کی دوکانیں چلتی رہیں۔"

احمد صاحب علاقے کے معزز آدمی تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ اور وکیل بھی چھوٹے موٹے نہیں سارے ملک میں جانے پہچانے تھے۔

اس لئے کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اُن کے منہ چڑ ھ کر بولتا لیکن اِدھر اُدھر ہرزہ سرائی سے کسی کو کون روک سکتا ہے۔ اُن کی باتوں پر اعتراض اُٹھانے والے لڑکے اُس شام احمد صاحب کی بات سن کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے لیکن اگلے دن کالج میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے احمد صاحب کی روشن خیالی پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کیا۔

کالج میں انہوں نے اپنے ہم خیال لڑکوں کو احمد صاحب کے خلاف بھڑکایا۔ رات کی گفتگو کو بنیا د بنا کر انہیں ان کے خلاف اکسایا۔

اُن کے اکسانے پر جذبات سے مغلوب مذہب پرست لڑکے جلوس کی شکل میں اکٹھے ہوئے اور کچہری میں احمد صاحب کے چیمبر کی طرف چل پڑے۔

وہ مسلسل احمد صاحب کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ احمد صاحب کو اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے پر گرفتار کرے۔

پولیس کمشنر کو احمد صاحب کے خلاف کالج کے لڑکوں کے جلوس کا پتہ چلا تو اُس نے انہیں فون پر صورت حال سے آگاہ کیا۔ احمد صاحب نے پولیس کمشنر کو سر شام لڑکوں سے ہونے والے اپنے مکالمے کی تفصیلات بتائیں۔

پولیس کمشنر نے احمد صاحب کی بات سن کر کہا :

"احمد صاحب آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کس قدر بے ہودگی شروع ہو چکی ہے۔ اب اس ملک میں آزادانہ مکالمے کی کوئی گنجائش نہیں۔ "

احمد صاحب نے انتہائی تحمل کے ساتھ پولیس کمشنر کی بات سنی اور اُس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے دفتر سے چلے گئے۔

شہر کی پولیس نے کچہری جانے والے راستے پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دیں تاکہ کالج کے بپھرے ہوئے لڑکے احمد صاحب کے چیمبر تک نہ پہنچ پائیں۔

کالج کے لڑکوں کا جلوس دیکھ کر ہر وقت مائل بہ فساد شہر کے ملاؤں کی بھی فساد پھیلانے کی رگ پھڑکی۔ چنانچہ وہ بھی اپنے اپنے طالب علموں اور مقتدیوں کو ساتھ لے کر کالج کے لڑکوں کے جلوس میں شامل ہو گئے۔ 

دراصل وہ عرصہ سے منتظر تھے کہ احمد صاحب کے خلاف شہر میں ہلچل ہو تو معاشرے میں روشن خیالی پھیلانے کی وجہ سے انہیں کیفر کر دار تک پہنچائیں۔ جلوس میں شامل ہونے سے پہلے انہوں نے مسجدوں کے سپیکروں پر عام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ بھی احمد صاحب کے خلاف مظاہرے میں شریک ہو کر ثواب دارین حاصل کریں۔ چنانچہ جو ثواب دارین کے زیادہ رسیا تھے وہ بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مظاہرے میں شامل ہو گئے۔

مظاہرین پولیس کی سب رکاوٹیں توڑتے۔ دوکانوں کو آگ لگاتے۔ لوگوں کے کاروبار تباہ کرتے کچہری کی طرف رواں دواں رہے۔

راستے میں جگہ جگہ رک کر ملا حضرات اپنی آتشیں تقریروں سے مظاہرے میں شامل لوگوں کے جذبات بھڑکا رہے تھے۔ اُن کی تقریروں سے لوگوں کا مذہبی جوش و جذبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ مسلسل احمد صاحب کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

پولیس نے پوری کوشش کی کہ مظاہرین کو روکے لیکن ناکامی کے بعد مجبوراً اُنہوں نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے برسانے شروع کر دئیے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ مظاہرین اور بپھر گئے۔ ملاؤں کی تقریریں جلتی پر اور تیل ڈال رہی تھیں۔ مظاہرین نے پولیس کے ساتھ ہاتھ پائی شروع کر دی۔ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لئے اصلی گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ دسیوں لوگ پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ وہیں سڑک پر گر ے اور تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئے۔ انہیں اٹھانے کے لئے نہ کوئی ایمبولینس آئی۔ نہ مظاہرے میں شامل کسی اور آدمی نے اُن کی مد د کی۔

پولیس کمشنر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے مظاہرین کے کچہری پہنچنے سے پہلے احمد صاحب اپنے گھر جا چکے تھے لیکن وہ اس صورت حال پر سخت آزردہ تھے۔ اُنہیں گزشتہ شب طالب علموں کے ساتھ اپنے مکالمے پر افسوس ہُوا۔

"کاش انہوں نے اُن نوجوانوں سے بات نہ کی ہوتی۔ اُن کے باپ دادا پبلک لائف میں تھے۔ باپ اور دادا کی زندگیاں انگریزوں کے دور میں وکالت کرتے گزری تھیں۔ لیکن کسی کو ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ "

انہی سوچوں میں گم انہوں نے ٹی وی آن کیا تو ٹی وی پر ہنگاموں کی خبریں چل رہی تھیں۔ مظاہرین نے کئی لوگوں کی دوکانوں کو آگ لگا دی تھی۔ جس کے جواب میں پولیس نے ان پر گولیاں چلائی تھیں۔گولیوں سے کئی مظاہرین ہلاک ہو چکے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد طالب علموں کی تھی۔

احمد صاحب کو خبریں سننے کا یارا نہ رہا۔ انہوں نے ٹی وی بند کر دیا۔ مرنے والوں کو یاد کر کے اُن کی بوڑھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اُنہیں لگا اُن کی وجہ سے دسیوں بچے ناحق ہلاک ہو گئے ہیں۔۔۔ معصوم بچے جو پڑھ لکھ کر فارغ ہوتے تو اپنے والدین کا سہارا بنتے۔۔۔ اپنے ملک کی خدمت کرتے۔۔۔ بھرپور زندگیاں گزارتے۔ لیکن اب وہ پولیس کی

 گولیوں کی نذر ہو چکے تھے۔۔۔اور یہ سب اُن کی وجہ سے ہُوا تھا۔

وہ دکھ اور غم سے نڈھال ہو گئے۔ انہوں نے پولیس اسٹیشن کال کر کے چند مرنے والوں کے گھر کا پتہ حاصل کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ وہ چاہتے تھے کہ مرنے والوں کے گھر جا کر اُن سے اظہار افسوس کریں۔

وہ گاڑی چلاتے مرنے والے ایک لڑکے کے گھر پہنچے تو وہاں لوگوں کا مجمع لگا تھا۔ اُنہیں دیکھتے ہی مجمع میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔

لوگوں نے اُن سے وہاں آنے کا سبب پوچھے بغیر احمد صاحب پر ہلہ بول دیا۔ اُنہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اُنہیں بتائیں کہ وہ مرنے والے کے لئے اظہار افسوس کرنے آئے ہیں۔ لیکن کسی نے اُن کی بات نہ سنی۔ انہیں جلد ہی صورت حال کی نزاکت کا اندازہ ہو گیا۔ وہ گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے جانا چاہا لیکن مجمع نے اُن کی گاڑی کو آگ لگا دی۔

 اللہ اکبر کے نعروں کے شور میں روشن خیالی کی بات کرے والا وکیل سر عام جل کر راکھ ہو گیا۔ اُن کے جلائے جانے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیل گئی۔ 

اگلے دن کالج کے مذہب پرست لڑکوں نے پھر جلوس نکالا، شہر بھر کے ملا بھی اُن کے ساتھ تھے۔ وہ احمد صاحب کی موت پر جوش و خروش سے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ نعروں کے بیچوں بیچ کہیں جلتی ہوئی گاڑی کے شعلوں سے احمد صاحب مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ پر وقار انداز میں لوگوں سے کہہ رہے تھے :

"اگر تم انسانوں کی طرح سوچنا اور عمل کرنا شروع کر دو تو تمہارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ "

احمد صاحب کے جلے جسم کا دھواں فضا میں لکیریں بناتا آسمان کی طرف بلند سے بلند تر ہو تا جا رہا تھا۔
٭٭٭

ماخذ: یاہو اردو رائٹرس گروپ
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
