﻿


یہ کیسی رُت ہے




احمد فراز
جمع و ترتیب: محمد بلال اعظم

تنہا تنہا، پس انداز موسم، اور نا یافت سے انتخاب



ابو جہاد


ابو جہاد مرا دل لہو لہو ہے مگر
معاف کر کہ ترے دشمنوں کے ساتھ ہیں ہم
ترا جنوں ترا ایثار محترم لیکن
جو سچ کہوں تو ترے قاتلوں کے ساتھ ہیں ہم

ہمی تو ہیں وہ ستمگر کہ مصلحت جن کی
دراز دستیِ قاتل کا دل بڑھاتی ہے
ہم اس قبیلۂ عشاق سے نہیں کہ جنہیں
ندیمِ دوست سے خوشبوئے دوست آتی ہے

جو ترے دل میں تپکتا تھا آبلے کی طرح
وہی تو دُکھ ہے جو چھالا مری زبان کا ہے
ہم اک سناں کے ہدف ایک تیر کے بسمل
اگر ہے فرق تو بس ہاتھ یا کمان کا ہے

تُو دشتِ بے وطنی میں لہو لہان ہوا
ہم اپنے گھر میں ہی سینہ فگار پھرتے ہیں
غلام گردشِ زنداں سے صحنِ مقتل تک
ابھی رسن بہ گلو میرے یار پھرتے ہیں

وہ جس نے خون اچھالا ترے شہیدوں کا
اُسی کی تیغ ہمارے سروں پہ چمکی ہے
وہی تو ایک ہے جلّاد جس کے ہاتھوں نے
ہر اک چراغ سے چہرے کی لو قلم کی ہے

ابو جہاد ہمارا جہاد ایک سا ہے
وہ سر زمین تری ہو کہ سر زمیں میری
رہِ وفا میں ترا خوں بہے کہ میرا لہو
دریدہ ہو ترا دامن کہ آستیں میری

چلیں گے ساتھ رفاقت کے پرچموں کے لیے
جہاں جہاں سے بھی ساتھی ہمیں پکاریں گے
اگر ہے دشنہ و خنجر زبان قاتل کی
تو ہم بھی حرفِ وفا کی زرہ سنواریں گے
٭٭٭


اگر یہ سب کچھ نہیں

    ملے تو ہم آج بھی ہیں لیکن
    نہ میرے دل میں وہ تشنگی تھی

    کہ تجھ سے مل کر کبھی نہ بچھڑوں
    نہ آج تجھ میں وہ زندگی تھی

    کہ جسم و جاں میں اُبال آئے
    نہ خواب زاروں میں روشنی تھی

    نہ میری آنکھیں چراغ کی لو
    نہ تجھ میں ہی خود سپردگی تھی

    مجسّموں کی طرح تھے دونوں
    نہ دوستی تھی نہ دشمنی تھی

    مجھے تو کچھ یوں لگا ہے جیسے
    وہ ساعتیں بھی گزر گئی ہیں

    کہ جن کو ہم لازوال سمجھے
    وہ خواہشیں بھی تو مر گئی ہیں

    جو تیرے میرے لہو کی حدّت
    کو آخرش برف کر گئی ہیں

    محبّتیں شوق کی چٹانوں
    سے گھاٹیوں میں اُتر گئی ہیں

    وہ قربتیں وہ جدائیاں سب
    غبار بن کر بکھر گئی ہیں

    اگر یہ سب کچھ نہیں تو بتلا
    وہ چاہتیں اب کدھر گئی ہیں
٭٭٭



ویت نام

    مجھے یقیں ہے
    کہ جب بھی تاریخ کی عدالت میں
    وقت لائے گا
    آج کے بے ضمیر و دیدہ دلیر قاتل کو
    جس کا دامان و آستیں
    خونِ بے گناہاں سے تر بتر ہے
    تو نسلِ آدم
    وفورِ نفرت سے روئے قاتل پہ تھوک دے گی
    مگر مجھے اس کا بھی یقیں ہے
    کہ کل کی تاریخ
    نسلِ آدم سے یہ بھی پوچھے گی
    اے مہذّب جہاں کی مخلوق
    کل ترے رُو برو یہی بے ضمیر قاتل
    ترے قبیلے کے بے گناہوں کو
    جب تہہِ تیغ کر رہا تھا
    تو تُو تماشائیوں کی صورت
    خموش و بے حس
    درندگی کے مظاہرے میں شریک
    کیوں دیکھتی رہی ہے
    تری یہ سب نفرتیں کہاں تھیں
    بتا کہ اس ظلم کیش قاتل کی تیغ برّاں میں
    اور تری مصلحت کے تیروں میں
    فرق کیا ہے؟
    تو سوچتا ہوں
    کہ ہم سبھی کیا جواب دیں گے
٭٭٭


مرثیہ

وہ زخمِ انتظار کی لذّت بھی دے گیا
اب نامہ بر کی راہ نہ دیکھا کریں گے ہم

وہ کس طرح ملا تھا جدا کیسے ہو گیا
سوچا تھا یہ سوال نہ سوچا کریں گے ہم

اے زندگی جب اس سے وفا کر سکی نہ تو
پھر تُو بتا کہ تجھ سے وفا کیا کریں گے ہم
٭٭٭




جس طرح کوئی کہے۔۔۔



اور ترے شہر سے جب رختِ سفر باندھ لیا
در و دیوار پہ حسرت کی نظر کیا کرتے
چاند کجلائی ہوئی شام کی دہلیز پہ تھا
اس گھڑی بھی ترے مجبورِ سفر کیا کرتے
دل ٹھہر جانے کو کہتا تھا مگر کیا کرتے

"ہم نے جب وادیِ غربت میں قدم رکھا تھا"
جس طرح یادِ وطن آئی تھی سمجھانے کو
کچھ اسی طرح کی کیفیتِ جاں آج بھی ہے
جس طرح کوئی قیامت ہو گزر جانے کو
جس طرح کوئی کہے پھر سے پلٹ آنے کو
(واشنگٹن)
٭٭٭


آئینہ

    تجھ سے بچھڑا ہوں تو آج آیا مجھے اپنا خیال
    ایک قطرہ بھی نہیں باقی کہ ہوں پلکیں تو نم
    میری آنکھوں کے سمندر کون صحرا پی گئے
    ایک آنسو کو ترستی ہے مری تقریبِ غم

    میں نہ رو پایا تو سوچا مسکرا کر دیکھ لوں
    شاید اس بے جان پیکر میں کوئی زندہ ہو خواب
    پر لبوں کے تن برہنہ شاخچوں پر اب کہاں
    مسکراہٹ کے شگوفے خندۂ دل کے گلاب

    کتنا ویراں ہو چکا ہے میری ہستی کا جمال
    تجھ سے بچھڑا ہوں تو آج آیا مجھے اپنا خیال		٭٭٭



خوں بہا


    اُجرتی قاتل کی صورت
    بے حس و بے درد لمحوں کا خدا
    آج پہلی بار جیسے قتل کر کے
    سخت شرمندہ ہُوا
    بے گناہی کے لہو میں تر بتر
    معصومیت کی راکھ میں لپٹی
    تڑپتی آرزو چیخی
    کہ آخر کس عداوت کس ارادے
    کس خطا کی یہ سزا

    ایک منعم کی طرح
    اُجرتی قاتل نے میرے سامنے
    بکھرے ہُوئے اوراق پر
    لفظوں کے کچھ لعل و گہر
    یاقوت و مرجاں۔۔۔ رکھ دیے
    لو خوں بہا
    اور میں مقتول کے مجبور وارث کی طرح
    چپ ہو گیا
٭٭٭


لہولہان مسیحا

    زمیں نے سانولے چہروں کی دھُند پھیلا دی
    جب آفتاب نے چاہا کہ اپنے شعلوں سے
    سمندروں کی تہوں کے تمام لعل و گُہر
    محبتوں کے مہکتے گلاب راکھ کرے
    زمیں کے سانولے چہرے نہ سرمئی بادل
    بچا سکے ہیں مرے کاسنی شگوفوں کو!
    ابل رہے ہیں چٹانوں پہ رینگتے چشمے

    ہر ایک سرو صنوبر، چنار کی صُورت
    بھڑک اُٹھا ہے یہاں تک کہ میرا سایہ بھی
    مرے وجود کی دیوار میں سمٹ آیا!
    وہ آفتاب کے نصف النّہار پر ہے ابھی
    مرے زمیں کے سلگتے ہُوئے شگوفوں کو
    یقینِ غیر یقینی بہار پر ہے ابھی
    پلٹ کے آئے نہ آئے اک آسرا ہے مگر
    لہو لہان مسیحا کہ دار پر ہے ابھی
٭٭٭



خواب جھُوٹے خواب

    خواب جھوٹے خواب میرے خواب تیرے خواب بھی
    درد کی لذّت بھی دھوکہ قرب کا غم بھی فریب
    بے قراری بھی نمائش خام یارائے شکیب
    تشنگی کی آگ بھی قاتل شرابِ ناب بھی

    میں نے جس دریا کی وسعت دیکھ کر چاہا اُسے
    وہ تو میری موجۂ غم سے بھی تھا پایاب تر
    تُو بڑھی جن ساحلوں کی سمت مجھ کو دیکھ کر
    تشنگی اُن کی بجھا سکتا نہیں سیلاب بھی

    واہموں میں مبتلا ہم آج تک سمجھا کیے
    تیرا آئینہ بھی سورج میرے پتّھر بھی گلاب
    آؤ اب تسلیم کر لیں سب غلط باتیں کہیں
    کاغذی ہیں پھول میرے تیرے دریا بھی سراب
    خواب جھوٹے خواب میرے خواب تیرے خواب بھی
٭٭٭ 



بیادِ فیض

قلم بدست ہوں حیران ہوں کہ کیا لکھوں
میں تیری بات کے دنیا کا تذکرہ لکھوں

لکھوں کہ تُو نے محبت کی روشنی لکھی
ترے سخن کو ستاروں کا قافلہ لکھوں

جہاں یزید بہت ہوں، حسین اکیلا ہو
تو کیوں نہ اپنی زمیں کو بھی کربلا لکھوں

ترے بغیر ہے ہر نقش "نقشِ فریادی"
تو پوغل "دستِ صبا" پر ہے آبلہ لکھوں

مثالِ "دستِ تہہِ سنگ" تھی وفا ان کی
سو کس طرح انہیں یارانِ با صفا لکھوں

حدیثِ کوچۂ قاتل ہے نامۂ زنداں
سو اس کو قصۂ تعزیرِ ناروا لکھوں

جگہ جگہ ہیں "صلیبیں مرے دریچے میں"
سو اسمِ عیسیٰ و منصور جا بجا لکھوں

گرفتہ دل ہے بہت "شامِ شہر یاراں" آج
کہاں ہے تُو کہ تجھے حالِ دلبرا لکھوں

کہاں گیا ہے "مرے دل مرے مسافر" تُو
کہ میں تجھے رہ و منزل کا ماجرا لکھوں

تو مجھ کو چھوڑ گیا لکھ  کے "نسخہ ہائے وفا"
میں کس طرح تجھے اے دوست بے وفا لکھوں

"شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں"
خدا نکردہ کہ میں تیرا مرثیہ لکھوں
٭٭٭



اےعشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے
تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیت کے
بیکار گئے آخر

اغیار کی باہوں میں
دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو
غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی
تا چند وفا کیشا

وہ وادیِ کلفت تھی
یا کوہِ الم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے
خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے
خوننابہ بہم جو تھا

رستوں میں لٹایا ہے
وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل
نے جان کا اندیشہ
۔۔۔ ۔۔

کچھ اہلِ ریا بھی تو
ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے
جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے
وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے
ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نس نس میں
گھائل تھے رگ و ریشہ
۔۔۔ ۔۔

جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کہ پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ محبت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا
۔۔۔ ۔۔

یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پریخانہ

صد شکر سلامت ہے
پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ

اے عشقِ جنوں پیشہ
اے عشقِ جنوں پیشہ
٭٭٭


تخلیق


    درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیں
    زخمِ دل جاگ سکے نشترِ غم رقص کرے
    جو بھی سانسوں میں گھُلا ہے اُسے عریاں نہ کرو
    چپ بھی شعلہ ہے مگر کوئی نہ الزام دھرے

    ایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہُوئے بُت
    جذبۂ کاوشِ خالق کو نگونسار کریں
    مُو قلم حلقۂ ابرو کو بنا دے خنجر
    لفظ نوحوں میں رقم مدحِ رخِ یار کریں
    رقصِ مینا سے اُٹھے نغمۂ رقصِ بسمل
    ساز خود اپنے مغنّی کو گنہگار کریں

    مرہمِ اشک نہیں زخمِ طلب کا چارہ
    خوں بھی روؤ گے تو کس خاک کی سج دھج ہو گی
    کانپتے ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی بنیادوں پر
    جو بھی دیوار اٹھاؤ گے وہی کج ہو گی
    کوئی پتّھر ہو کہ نغمہ کوئی پیکر ہو کہ رنگ
    جو بھی تصویر بناؤ گے اپاہج ہو گی
٭٭٭


ابھی ہم خوبصورت ہیں
(احمد شمیم کی یاد میں)

ہمارے جسم اوراقِ خزانی ہو گئے ہیں
اور ردائے زخم سے آراستہ ہیں
پھر بھی دیکھو تو
ہماری خوشنمائی پر کوئی حرف
اور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیا
ہمارے ہونٹ زہریلی رُتوں سے کاسنی ہیں
اور چہرے رتجگوں کی شعلگی سے
آبنوسی ہو چکے ہیں
اور زخمی خواب
نا دیدہ جزیروں کی زمیں پر
اس طرح بکھرے پڑے ہیں
جس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کو
سمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہے
لہو کی بارشیں
یا خود کشی کی خواہشیں تھیں
اس اذیت کے سفر میں
کون سا موسم نہیں آیا
مگر آنکھوں میں نم
لہجے میں سم
ہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیا
ابھی تک دل ہمارے
خندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیں
ابھی ہم خوبصورت ہیں

زمانے ہو گئے
ہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھے
مگر اب بھی
بہت سے آشنا نا آشنا ہمدم
اور ان کی یاد کے مانوس قاصد
اور ان کی چاہتوں کے ہجر نامے
دور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیں
گلابی موسموں کی دھُوپ
جب نو رُستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئی
معمورۂ تن میں در آتی ہے
تو برفانی بدن میں
جوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہے
اُداسی کا پرندہ
چپ کے جنگل میں
سرِ شاخِ نہالِ غم چہکتا ہے
کوئی بھولا ہوا بِسرا ہوا دکھ
آبلہ بن کر تپکتا ہے
تو یوں لگتا ہے
جیسے حرف اپنے
زندہ آوازوں کی صورت ہیں
ابھی ہم خوبصورت ہیں

ہماری خوشنمائی حرفِ حق کی رونمائی ہے
اسی خاطر تو ہم آشفتہ جاں
عشّاق کی یادوں میں رہتے ہیں
کہ جو اُن پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیں
ہماری حرف سازی
اب بھی محبوبِ جاں ہے
شاعری شوریدگانِ عشق کے وردِ زباں ہے
اور گلابوں کی طرح شاداب چہرے
لعل و مرجاں کی طرح لب
صندلیں ہاتھوں سے
چاہت اور عقیدت کی بیاضوں پر
ہمارے نام لکھتے ہیں
سبھی درد نا آشنا
ایثار مشرب
ہم نفس اہلِ قفس
جب مقتلوں کی سمت جاتے ہیں
ہمارے بیت گاتے ہیں
ابھی تک ناز کرتے ہیں
سب اہلِ قافلہ
اپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پر
ابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پر
ابھی ہم آسمانوں کی امانت
اور زمینوں کی ضرورت ہیں
ابھی ہم خوبصورت ہیں
٭٭٭




مسندِ پیرِ مغاں


اُڑا کے بادِ فنا لے گئی ہے شہر کا شہر
نہ بام و در رہے باقی نہ جسم و جاں میرے
کسے کسے میں پکاروں کسے کسے روؤں
تڑپ رہے ہیں شناسا کہاں کہاں میرے

کسی کا کاسۂ سر ہے فضا میں سر گرداں
کوئی نگارِ دل آرا و دو نیم ہو کے گرا
تڑخ گیا ہے کسی کا بدن صراحی سا
کسی کا شیشۂ جاں دستِ ناتواں سے گرا

دلوں پہ برق گری سنگِ محتسب کی طرح
نہ کوئی رند نہ رطلِ گراں سلامت ہے
بساطِ میکدہ ویراں ہوئی تو غم کیسا
خوشا کہ مسندِ پیرِ مغاں سلامت ہے
٭٭٭



نامۂ جاناں


مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکن
نہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی بات
نہ کسی حرف میں محرومیِ جاں کا قصّہ
نہ کسی لفظ میں بھولے ہوئے اقرار کی بات
نہ کسی سطر پہ بھیگے ہوئے کاجل کی لکیر
کہ کہیں ذکر جدائی کا نہ دیدار کی بات

بس وہی ایک مضموں، کہ مرے شہر کے لوگ
کیسے سہمے ہوئے رہتے ہیں گھروں میں اپنے
اتنی بے نام خموشی ہے کہ دیوانے بھی
کوئی سودا نہیں رکھتے سروں میں اپنے
اب قفس ہی کو نشیمن کا بدل جان لیا
اب کہاں طاقتِ پرواز پروں میں اپنے

وہ جو دو چار سُبو کش تھے کہ جن کے دم سے
گردشِ جام بھی تھی رونقِ میخانہ بھی تھی
وہ جو دو چار نوا گر تھے کہ جن کے ہوتے
حرمتِ نغمہ بھی تھی جرأتِ رندانہ بھی تھی
کوئی مقتل کوئی زنداں کوئی پردیس گیا
چند ہی تھے کہ روش جن کی جداگانہ تھی

اب تو بس بردہ فروشی ہے جدھر بھی جاؤ
اب تو ہر کوچہ و کُو مصر کا بازار لگے
سرِ دربار ستادہ ہیں بیاضیں لے کر
وہ جو کچھ دوست کبھی صاحبِ کردار لگے
غیرتِ عشق کہ کل مالِ تجارت میں نہ تھی
آج دیکھو تو ہیں انبار کے انبار لگے

ایسا آسیب زدہ شہر کہ دیکھا نہ سنا
ایسی دہشت ہے کہ پتھر ہوئے سب کے بازو
در و دیوارِ خرابات وہی ہیں لیکن
نہ کہیں قلقلِ مینا ہے نہ گل بانگِ سبو
بے دلی شیوۂ اربابِ محبت ٹھہرا
اب کوئی آئے کہ جائے "تَنَنا ہُو یا ہُو"
٭٭٭

عقیدت


    میں کتنی وارفتگی سے اُس کو سُنا رہا تھا
    وہ ساری باتیں وہ سارے قصّے
    جو اس سے ملنے سے پیشتر
    میری زندگی کی حکایتیں تھیں

    میں کہہ رہا تھا
    کہ اور بھی لوگ تھے
    جنہیں مری آرزو تھی مری طلب تھی
    کہ جن سے میری محبّتوں کا رہا تعلّق
    کہ جن کی مجھ پر عنایتیں تھیں

    میں کہہ رہا تھا
    کہ اُن میں کچھ کو تو میں نے
    جاں سے عزیز جانا
    مگر اُنہیں میں سے بعض کو
    میری بے دلی سے شکایتیں تھیں

    میں ایک اک بات
    ایک اک جرم کی کہانی
    دھڑکتے دل کانپتے بدن سے سُنا رہا تھا
    مگر وہ پتھّر بنی
    مجھے اِس طرح سے سُنتی رہی
    کہ جیسے مرے لبوں پر
    کسی مقدّس تریں صحیفے کی آیتیں تھیں
٭٭٭


چاند اَور میں

    چاند سے میں نے کہا! اے مری راتوں کے رفیق
    تو کہ سر گشتہ و تنہا تھا سدا میری طرح
    اپنے سینے میں چھپائے ہُوئے لاکھوں گھاؤ
    تو دکھاوے کے لیے ہنستا رہا میری طرح
    ضوفشاں حسن ترا میرے ہُنر کی صورت
    اور مقدّر میں اندھیرے کی ردا میری طرح
    وہی تقدیر تری میری زمیں کی گردش
    وہی افلاک کا نخچیرِ جفا میری طرح
    ترے منظر بھی ویراں مرے خوابوں جیسے
    تیرے قدموں میں بھی زنجیرِ وفا میری طرح
    وہی صحرائے شبِ زیست میں تنہا سفری
    وہی ویرانۂ جاں دشتِ بلا میری طرح
    آج کیوں میری رفاقت بھی گراں ہے تجھ کو
    تو کبھی اتنا بھی افسردہ نہ تھا میری طرح
    چاند نے مجھ سے کہا! اے مرے پاگل شاعر
    تو کہ محرم ہے مرے قریۂ تنہائی کا
    تجھ کو معلوم ہے جو زخم مری روح میں ہے
    مجھ کو حاصل ہے شرف تیری شناسائی کا
    موج زن ہے مرے اطراف میں اک بحرِ سکوت
    اور چرچا ہے فضا میں تری گویائی کا
    آج کی شب مرے سینے پہ وہ قابیل اترا
    جس کی گردن پہ دمکتا ہے لہو بھائی کا
    میرے دامن میں نہ ہیرے ہیں نہ سونا چاندی
    اور بجز اس کے نہیں شوق تمنّائی کا
    مجھ کو دُکھ ہے کہ نہ لے جائیں یہ دنیا والے
    میری دنیا ہے خزانہ مری تنہائی کا
٭٭٭



کردار


    ہم ابھی ایستادہ تھے
    اب سے کچھ پہلے
    وفا کے فرش پائندہ پہ
    خوش وقتی کے رنگیں شامیانوں کے تلے
    اپنے ہاتھوں میں قرار و قول کی شمعیں لیے
    آندھیوں میں زلزلوں میں
    تا قیامت ساتھ دینے کے لیے
    آمادہ تھے
    اک دوسرے کے اس قدر دلدادہ تھے

    دیکھنے والوں میں شامل
    یار بھی اغیار بھی
    چند آنکھوں میں نمی
    چند آنکھوں میں حقارت، برہمی
    چند آنکھوں میں سکوتِ دائمی
    جم گئے سائے اُدھر
    اور کانپ اُٹھی اس طرف دیوار بھی
    دشمنوں کو بھی یقیں
    اور بد گماں کچھ ہمنشیں۔۔۔ غمخوار بھی
    دیکھنے والوں نے دیکھا

    کس طرح صدیاں اچانک
    ثانیوں میں بٹ گئیں
    شامیانیوں کی طنابیں کٹ گئیں

    بجھ گئیں شمعیں قرار و قول کی
    فرشِ وفا کی سخت و پائندہ سلیں بھی پھٹ گئیں
    اور دو پیکر
    خود اپنے خنجروں کے وار سے
    خاک و خوں میں تر بتر
    فرش پر افتادہ تھے
    ہم ابھی ایستادہ تھے
٭٭٭


نامعلوم مسافت


نہ یہ کہ میں تری یادوں سے ہو گیا غافل
نہیں کہ میرا تساہل یہ شاعرانہ ہے

مری طویل خموشی پہ تُو قیاس نہ کر
کہ تجھ سے ترکِ تعلق کا شاخسانہ ہے

نہ راستے ہیں نہ منزل نہ قافلے نہ جرس
کہ جس طرح سے ہر اک خواب میں روانہ ہے

عجب دیارِ خموشاں ہے جس طرف دیکھو
نہ حرفِ دل ہے نہ سازِ سخن کا بہانہ ہے

نہ فرش و بام نہ دیوار و در نہ طاق و چراغ
یہ بود و باش بھی گویا مسافرانہ ہے

میں کس طرح تجھ سے رکھوں رابطہ کہ یہاں
نہ کوئی گھر ہے، نہ ہوٹل، نہ ڈاکخانہ ہے
٭٭٭


کُشان بی بی؎


    تو جب
    بمبریت کے قاتل پہاڑوں کی صلیبوں سے اُتر آئے
    تو یہ جانا
    کہ ہم دشتِ عدم کو پار کر آئے
    ہر اک کے پاؤں چھلنی جسم شل
    اعضا تھکن سے چُور
    لیکن سب
    ہراسِ مرگ سے بے جان۔۔۔ بے حس تھے
    سبھی یوں زرد رُو جیسے
    ابھی تک آسمانوں کے سفر سے لوٹ کر
    رُوحیں نہیں آئیں
    چلو ہم سب کے سب زندہ ہیں
    جیسے بھی ہیں یکجا ہیں
    ضیاؔ، باسطؔ، سعیدؔ اور میں

    ہمارا میزباں کب سے نہ جانے
    گھر کے دروازے کھُلے چھوڑے
    سبک شہتیر کے پُل پر ہمارا منتظر تھا
    اس کو یہ معلوم تھا
    ہم اجنبی مہماں
    سیاحت کے لئے کن مشکلوں سے
    ہفت خواں طے کر کے
    اِس وادی میں آئیں گے
    چناروں کے بلند اشجار
    انگوروں کی بیلیں
    چار سُو سبزہ
    ہوائیں بید مشک و عود و مُر کی خوشبوؤں سے
    چُور بوجھل
    طائرانِ خوشنما و خوش نوا۔۔۔ بے کل
    سبک رفتار چشموں کی تہوں میں
    پتّھروں کا نیل و یاقوت سا چھل بل
    ادھر کچھ دور بُزغالوں کے گلے
    نوجواں چرواہیوں کے دودھیا چہروں کی صورت
    برف سے شفاف و دل آرا
    فضا حیرت فزا۔۔۔ سحر آفریں دنیا
    "مژہ برہم مزن تا نشکنی رنگِ تماشا را"
    ہمارا میزباں مفلس تھا
    لیکن شام کو خوانِ ضیافت دیکھ کر
    ہم خس بد نداں تھے
    کشادہ طشت میں بزغالۂ بریاں
    بطک میں آبِ تاک
    اور کشتیوں میں ڈھیر سیبوں کے
    الاؤ میں دہکتی آگ
    کتنی گرم کتنی خوبصورت تھی

    مگر ہم منتظر اس پَل کے تھے
    جب کافرستاں کی جواں پریاں
    زمینی خُلد کی حوریں
    دف و مردنگ کی تھاپوں پہ رقصاں
    اپنے محبوبوں کی فرقت کے
    نشیلے گیت گائیں گی
    الف لیلہ کے شہزادوں کی صورت
    ہم میں ہر اک
    اس طلسماتی فضا کے سحر میں گُم تھا
    بتانِ آذری کا رقص جاری تھا
    سیہ ملبوس میں لپٹے ہُوئے
    مرمر کے بُت
    مہتاب سے پیکر
    سبھی باہوں میں باہیں ڈال کر زنجیر کی صورت
    کماں کی شکل میں جُنباں
    کہ جیسے دیوتاؤں کے رتھوں کی گھوڑیاں
    وحشت سے پا کُو باں
    دف و مامہ و مردنگ کے آہنگ میں
    آہستہ آہستہ
    کھنکتے قہقہے۔۔۔ محجوب آوازیں بھی
    شامل ہو گئیں آخر
    کہ جیسے نقرئی گھنگرو
    اچانک جھنجھنا اُٹھیں
    سبھی غارت گرِ تمکین و ہوش و دشمنِ ایماں
    ہر اک فتنہ گرِ دوراں
    مگر وہ سر گروہِ ناز نیناں
    غیرتِ ناہید
    جانِ حلقۂ خوباں
    کشان بی بی
    قد و قامت قیامت
    جُنبشیں جادو
    بدن طوفاں
    ضیاؔ کردار میں گوتم
    مجسّم صدق و ایثار و وفا
    درد آشنا و نفس کُش ہمدم
    لہو اس کا بھی اس شعلے نے گرمایا
    مگر سب ساتھیوں سے کم
    بتانِ آذری رقصاں
    مگر باسطؔ جو اک فنکار
    لیکن شکوہ سنجِ زندگی ہر دم
    قلم اس کا دُر افشان و گہر تحریر
    لیکن خود تہی داماں
    شکستہ دل
    خود اپنے فن سے اپنے آپ سے نالاں
    یہاں دنیا کے غم بھُولا ہُوا
    بسمل
    ہر اک پیکر پہ سو سو جان سے قرباں
    سعیدؔ اک کم نظر جذبات کا پُتلا
    مہندس
    اور فقط جسموں کا سوداگر
    جو اپنے ساتھیوں سے بھی چھپا کر ساتھ لایا تھا
    کئی تحفے
    ملمّع کی ہوئی انگوٹھیاں
    جھوٹے نگوں کے ہار
    دل آویز آوازے
    کسی ماہر شکاری کی طرح
    اپنی کمند و دام پر نازاں
    ہر اک پر سحر طاری تھا
    بتانِ آذری کا رقص جاری تھا

    ضیاؔ حیرت میں گم
    باسطؔ زخود رفتہ
    سعیدؔ افسوں زدہ
    میں بُت
    کشان بی بی کے لب
    کلیوں کی صورت نیم وا
    اور ہم فقط
    آواز کی خوشبو سے پاگل
    لذّتِ معنی سے نا محرم
    زبانِ یار کیلاشی و ما از حرفِ بیگانہ
    (ہمارے میزباں نے ترجمانی کی)
    کشان بی بی یہ کہتی ہے
    "مرے محبوب تو اک دستۂ مُر ہے
    کہ جو راتوں کو مری چھاتیوں کے درمیاں
    خوشبو لُٹاتا ہے
    مری ہمجولیو!
    بستی کے سارے نوجوانوں میں
    مرا محبوب پیارا
    جس طرح بن کے درختوں میں ہو نخلِ سیب استادہ
    مرا محبوب
    جیسے جھاڑیوں کے درمیاں کوئی گلِ سوسن
    مرا محبوب مجھ سے کل ملا تھا
    اُس نے مجھ سے خوب باتیں کیں
    وہ کہتا تھا کہ اے میری پری
    اے نازنین
    اب تو مری بستی کو میرے ساتھ چل
    برسات کا موسم چلا
    بادل برس کر کھل چکے
    انگور اور سیبوں کی مٹی جاگ اٹھی
    اے کوہساروں کی چکوری
    تو نہ جانے کن پہاڑوں کی دراڑوں میں چھپی ہے
    آ مرے ہمراہ چل پیاری

    بتانِ آذری کا رقص جاری تھا
    فضا پر سحر طاری تھا
    ہر اک کی آنکھ میں تل کی طرح
    وہ کافرستاں کی قلو پطرہ
    مگر ہم میں کوئی سیزر نہ انتونی
    ضیاؔ گوتم سہی
    لیکن کشاں بی بی
    وہ کافر جو ضیاؔ کو بھی نہ سونپی جائے ہے مجھ سے
    نہ جانے کس طرح یہ شب ڈھلی
    لیکن سحر دم
    جب پرندوں کے چہکنے کی صدا آئی
    کشان بی بی
    سیہ ملبوس میں لپٹی
    جبیں پر کوڑیوں کا تاج
    گالوں پر گھنی زلفیں
    کنیزوں کی طرح اپنی رفیقوں کو لیے
    رخصت ہُوئی ہم سے
    بصد اندازِ استغنا و دارائی
    تو ہم سارے تماشائی تھے پتّھر
    اور پتّھر تھے تماشائی

    ؎ کافرستان کی ایک لڑکی
٭٭٭


یہ کیسی رُت ہے

    یہ کیسی رُت ہے
    کہ ہر شجر
    صحنِ گلستاں میں
    ملول و تنہا سلگ رہا ہے
    طیور کب سے چپ چاپ منقار زیرِ پر ہیں
    ہوائیں نوحہ کناں
    کہ اس باغ کی بہاریں
    گئیں تو پھر لوٹ کر نہ آئیں
    یہ کیسی رُت ہے
    نہ برف باری کے دن
    کہ شاخوں کے پیرہن پر
    سپیدۂ صبح کا گماں ہو
    نہ فصلِ گُل ہے
    کہ ہر طرف شورِ جانفروشاں سے
    کوئے محبوب کا سماں ہو
    نہ دور پت جھڑ کا ہے
    کہ بے جان کونپلوں کو
    اُمیدِ فردائے مہرباں ہو

    یہ کیسی رُت ہے
    کوئی تو بولے
    کوئی تو دھڑکے
    کوئی تو بھڑکے
٭٭٭
ٹائپنگ: محمد بلال اعظم
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
