﻿

اوامر و نواہی


(قرآن و حدیث )


 قرآن مجید کی تمام سورتوں اور صحاح ستہ کی جملہ کتب سے اوامر و نواہی کی تعلیمات کا انتخاب 


یوسف ثانی



تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے۔(آل عمران۔۱۰۴)

مآ خذ
www.paighamequran.com
www.paighamequranblogspot.com
http://kitaben.urdulibrary.org







  قرآن اور مسلمانوں کا عروج و زوال


 مسلمانوں کے عروج و زوال کی کہانی علامہ اقبال  ؒ نے اللہ تعالیٰ کی زبانی کیا خوب بیان کی ہے کہ ع وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر ؛ اور تم خوار ہوئے،  تارکِ قرآں ہو کر۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب تک مسلمان قرآن و سنت پر من حیث القوم عمل پیرا رہے،  وہ نہ صرف سیاسی طور پر دنیا میں عروج پر رہے بلکہ عصری علوم و فنون میں بھی دنیا کے امام بنے اور دنیا کی دیگر اقوام سائنس و ٹیکنالوجی سمیت جملہ علوم و فنون سیکھنے کے لیے مسلم ممالک کی درسگاہوں کا اسی طرح رُخ کیا کرتی تھیں جیسے آج کے مسلمان عصری علوم و فنون سیکھنے کے لیے مغربی ممالک کی طرف دیکھتے ہیں۔   مسلمانوں کے اس عروج کے زمانے میں آج کا  ترقی یافتہ مغرب اور یورپ تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جسے وہ خود بھی ’تاریک دور‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔   مسلمانوں کا زوال اس وقت شروع ہوا جب وہ قرآن و سنت سے دور ہوتے چلے گئے۔ اس کے برعکس تاریخ ہمیں یہ دلچسپ صورتحال بھی بتلاتی ہے کہ مغربی اقوام اُس وقت تک تاریکی میں ڈوبی رہیں جب تک ان کا اپنے مذہب سے تعلق استوار رہا۔  بعد ازاں مغرب نے اسٹیٹ کے معاملات کو چرچ سے علیحدہ کیا اور اپنے مذہبی معاملات کو چرچ تک محدود کیا تو اُن پر دُنیوی ترقی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
ماہرینِ دینیات اس بات کو یوں واضح کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل اور ترقی یافتہ دین ہے جو دنیا کے تمام معاملات میں درست سمت میں رہنمائی فراہم کر نے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا مسلمان جب تک اپنے دین کے اصل ماخذ یعنی قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے رہے، دنیا میں کامیاب و کامران رہے۔ اس کے برعکس عیسائیت سمیت دیگر تمام مذاہب نامکمل اور ناقص ہونے کے سبب بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔   لہٰذا مغرب جب تک اپنے فرسودہ مذہبی روایات سے جڑا رہا، ترقی سے دور رہا۔ لیکن جب انہوں نے اپنے اس ناقص مذہب سے چھٹکارا حاصل کر لیا تو وہ ترقی کرتے چلے گئے۔ مسلمانوں کے بعض نادان دوست، مسلمانوں کو بھی دانستہ یا  نا دانستہ طور پر اپنے دُنیوی معاملات کو اپنے دین سے جدا کرنے کے اسی راستے پر چلانا چاہتے ہیں ،  جس پر چل کر مغرب نے ترقی کی ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے، ہم جوں جوں اپنے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں ،  تنزلی کے گڑھے میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔  
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمان انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنے جملہ معاملات کو اپنے دین کے اصل ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے جوڑنے کی کوشش کریں۔  ’پیغامِ قرآن و حدیث‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ مسلمان ہونے کے دعویدار خواہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں ،  قرآن و حدیث کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں۔   وہ ان سے قلبی لگاؤ تورکھتے ہیں مگر بوجوہ انہیں پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔   ’پیغامِ قرآن‘ اور ’پیغامِ حدیث‘ کا مجموعہ ’پیغامِ قرآن و حدیث‘ کی صورت میں اس لئے شائع کیا جا رہا ہے تاکہ ایک عام پڑھا لکھا مسلمان بھی ایک متفقہ و مصدقہ کتاب کے ذریعہ اسلام کی اصل روح سے آگاہ ہو سکے۔ اس کتاب میں قرآن و حدیث کے مکمل پیغام کو سمونے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن و حدیث کو بحیثیت مجموعی پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہماری کامیابی کا دار و مدار کتاب و سنت پر عمل کرنے ہی میں ہے۔
دین اسلام بنیادی طور پر صرف کتاب و سنت یعنی قرآن اور حدیث کے مجموعہ کا نام ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کے علاوہ دنیا میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جس کی ہر بات تسلیم کی جا سکتی ہو۔ صحابہ کرام ؓ اور ائمہ و محدثین نے بھی ہدایت کے اسی چشمہ سے فیض پایا۔ عموماً یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن و حدیث کو براہِ راست سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔   یہ بات اللہ کے اس قول کے سراسر خلاف ہے کہ بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنا دیا ہے، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ (القمر۔۱۷)۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بطورِ خاص ساری انسانیت کے لیے ’’معلم‘‘ بنا کر بھیجا۔ اور آپﷺ ہی سے صحابہ کرام ؓ نے سارا دین سیکھا۔ لہٰذا ہم بھی قرآن و حدیث سے دین کو براہِ راست سیکھ سکتے ہیں۔   البتہ اگر کوئی بات سمجھنے میں دقت محسوس ہو تو اصحاب علم سے رجوع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔   
ائمہ اربعہ نے بھی صرف اتباعِ قرآن و حدیث ہی کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں : اگر میری کوئی بات قرآن،  حدیث یا قولِ صحابہ ؓ کے خلاف ہو تو میری بات چھوڑ دو۔ (ایقاظ ھمم اولی ا لا بصار،صفحہ:۵۰)۔ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔(درّ المختار جلد۔۱، صفحہ:۶۸) کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ ہمارے قول کے مطابق فتویٰ دے، جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ ہمارے قول کا ماخذ کیا ہے؟(ا لا نتقار فی فضائل ا لثلاثہ و ا لا ئمہ ا لفقہاء  لا بن عبد ا لبر، صفحہ: ۱۴۵)امام مالک ؒ کا فرمان ہے: سر ور کائنات ﷺ کے سوا باقی ہر انسان کی بات کو قبول بھی کیا جا سکتا ہے اور رَد بھی۔ (ارشاد السالک لا بن عبد الہادی۔ جلد۔۱، صفحہ۔۲۲۷) میری بات غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی۔ لہٰذا میری رائے کو دیکھ لیا کرو۔ جو کتاب و سنت کے مطابق ہو، اسے لے لو اور جو کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو اسے ترک کر دو۔(ایقاظ ھمم اولی ا لا بصار،صفحہ:۷۲)۔ امام شافعی ؒ کہتے ہیں : جب میری کسی بھی بات کے خلاف نبیؐ کی صحیح ثابت ہو تو حدیث کا مقام زیادہ ہے اور میری تقلید نہ کرو۔(آدابِ الشافعی و منا قبہ لا بن ابی حاتم الرازی، صفحہ۔۹۳)امام احمد بن حنبل ؒ کا فرمان ہے: نہ میری تقلید کرو نہ کسی اور کی بلکہ جہاں سے انہوں نے دین لیا ہے، تم بھی وہاں سے دین حاصل کرو۔(ایقاظ ھمم اولی ا لا بصار،صفحہ:۱۱۳)۔ دین کے معاملے میں لوگوں کی تقلید کرنا انسان کی کم فہمی کی علامت ہے۔ (اعلام المواقعین لا بن قیم ؒ جلد۔۲، صفحہ۔۱۷۸)
٭٭٭



پیغامِ قرآن و حدیث،  ایک تعارف

پیغامِ قرآن: اردو زبان میں قرآن کے لفظی اور با محاورہ تراجم نے قرآن فہمی کے ضمن میں عوام کی خاصی حد تک رہنمائی کی ہے۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتب و رسائل کو آسانی کے ساتھ پڑھنے کی اہلیت رکھنے والا قاری بھی جب قرآن کے ان تراجم کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو اسے ایک نامانوس سی اجنبیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چند صفحات کے مطالعہ کے بعد ہی اس کی توجہ بھٹکنے لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یا تو ایک ہی موضوع پر لکھی گئی کتاب کو روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں یا پھر ایسے رسائل و جرائد کو جس کے متنوع موضوعات کی درجہ بندی واضح طور پر دکھائی دے۔ کتاب کے آغاز میں روایتی طور پر فہرستِ مضامین موجود ہو۔ ہر باب کے طویل متن کو مختصر نثر پاروں میں تقسیم کیا گیا۔  اس کے برعکس تقریری اندازِ بیان میں نازل ہونے والی قرآن مجید کو سورتوں اور آیات کی درجہ بندی کے ساتھ تحریرِ مسلسل میں مرتب کیا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنی بصری ہیئت میں بھی ان عام کتابوں جیسی نہیں ہے، جنہیں ہم روز و شب روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں۔  
قارئین کی اسی ’ضرورت ‘کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیغامِ قرآن کو مرتب کیا گیا ہے۔پیغامِ قرآن کے اصل متن اور ایک عام با محاورہ ترجمہ قرآن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ پیغامِ قرآن میں آیات کے تراجم کی ترتیب کو تبدیل کیے بغیر ہر پارے کی جملہ آیات کو مختلف پیراگراف میں تقسیم کر کے ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور پارہ کے آغاز میں حسب روایت ایسے تمام ذیلی عنوانات کی فہرست دیدی گئی ہے ہر پیراگراف کے آخر میں سورت و آیت کا حوالہ بھی درج ہے تاکہ اگر کہیں مزید وضاحت کی ضرورت ہو تو اصل عربی متن اور دیگر تراجم و تفاسیر سے رجوع کیا جا سکے۔ امر و نہی کے بلاواسطہ یا بالواسطہ تعلیمات پر مبنی آیات کو جلی اور خط کشیدہ کیا گیا ہے تاکہ قارئین قرآنی dos and don'ts سے ایک ہی نظر میں آگاہ ہو سکیں۔  کتاب کے آخر میں جملہ اوامر و نواہی کا اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
میں محمد ابراہیم حنیف استاذ التفسیر و الحدیث جامعہ حنیفیہ، کراچی،  پاکستان جناب یوسف ثانی کی کتاب پیغامِ قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ پیغامِ قرآن بے شمار خصوصیات کا حامل ہے۔پیغامِ قرآن کا متن، قرآن مجید کا لفظ بہ لفظ اردو ترجمہ نہ ہونے کے باوجود قرآن مجید کا ایک عمدہ با محاورہ اردو مفہوم ہے اور یہ فہم قرآن کا بہترین ذریعہ ہے۔ پیغامِ قرآن کے متن میں کہیں بھی کوئی جملہ یا فقرہ عربی مصحفِ قرآن کے مفہوم سے متصادم یا متضاد نہیں ہے۔
پیغامِ قرآن میں آیاتِ قرآنی کی موضوعاتی درجہ بندی، ذیلی عنوانات اور ہر پارے کے آغاز میں فہرستِ مضامین بہت عمدہ بلکہ ہر عام و خاص کے لئے نافع ہے۔ اس سے ایک عام قاری کو نہ صرف پڑھنے میں آسانی ہو گی بلکہ اس سے قرآن فہمی میں بھی مدد ملتی ہے جو کہ اصل مقصود ہے۔فہرستِ مضامین پر نظر ڈالتے ہی پارے کے جملہ موضوعات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے، جو کہ میرے جیسے نیم خطیبوں کے لئے بہت بڑا خزانہ ہے۔ اس میں ربطِ آیات کا بھی  لحاظ رکھا گیا ہے، جس کی ایک خاص اہمیت ہے۔
قرآنی تعلیمات کے مدرسوں اور معلمین تک رسائی نہ رکھنے والے عربی زبان سے ناواقف عام پڑھے لکھے طبقوں کے لئے پیغامِ قرآن ایک ایسی عمدہ کتاب ثابت ہو سکتی ہے جس کے از خود مطالعہ سے ایک نئے عزم اور نئی فکر کے ساتھ قرآن مجید کا پیغام خاصی حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔اور جہاں کہیں کوئی بات سمجھنے میں مشکل ہو، وہاں قرآن کے دیگر تراجم، تفاسیر یا کسی محقق، مفسر اور عالم دین سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پیغامِ قرآن کے کے ہر پیرا گراف کے متن کے آخر میں سورۃ اور آیت کا حوالہ بھی موجود ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب یوسف ثانی او جملہ کارکنان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کی کتاب سے پوری دنیا کو فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ (۲۵ جون  ۲۰۰۹ ء )
 
پیغامِ حدیث: بخاری شریف کی جملہ کتب کی تلخیص کو بنیاد بنا کر’ پیغامِ حدیث ‘ مرتب کی گئی ہے کیونکہ احادیث کے چھ صحیح ترین مجموعوں ، صحاحِ ستہ میں سرِ فہرست ہونے کے ناطے بخاری شریف کو قرآن کے بعد مستند ترین کتاب یعنی اصح الکتب کا درجہ حاصل ہے۔ پیغامِ حدیث میں بخاری شریف کی جملہ کتب کی اصل ترتیب کو برقرار رکھتے ہوئے ابواب کے عنوانات کو حذف کر دیا گیا ہے تاہم کتب اور ابواب میں موجود احادیث کی اصل ترتیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ احادیث کے تذکرے میں غیر ضروری تفاصیل اور مکرر بیانات کو حذف کر دیا گیا ہے۔اسی طرح بعد میں آنے والی تمام مکرر احادیث کو بھی حذف کر دیا گیا ہے۔ صرف انہی راویوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے براہِ راست نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔طویل احادیث کو موضوعات کی مناسبت سے ذیلی عنوانات کے تحت تقسیم کر کے احادیث کا لفظی ترجمہ کرنے کی بجائے بامحاورہ اور رواں اردو مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو حدیث کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔   پیغامِ حدیث کے چار ضمیموں میں صحاحِ ستہ کے دیگر مجموعوں یعنی صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، ابن ماجہ، سنن نسائی،کے علاوہ مسند احمد، سنن دارمی، مؤطا امام مالک، طبرانی، بیہقی اور شرح السنہ سے اُن اضافی احادیث کو شامل کیا گیا ہے جو بخاری شریف میں شامل نہیں ہیں۔   پیغامِ حدیث کے متن میں موجود امر و نہی کو نمایاں کر کے آخر میں جملہ اوامر و نواہی کا اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے۔  پیغام قرآن و حدیث میں موجود امر و نہی کی تعلیمات  پر مبنی کتاب پیش خدمت ہے۔ سیاق و سباق کے لئے اصل کتاب ملاحظہ کیجئے۔

 میں محمد ابراہیم حنیف، استاد التفسیر والحدیث جامعہ حنیفیہ کراچی،  پاکستان  جناب یوسف ثانی کی کتاب پیغامِ حدیث کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ پیغامِ حدیث بے شمار خصوصیات کی حامل ہے مدرسوں اور معلمین تک رسائی نہ رکھنے والے عربی زبان سے ناواقف عام پڑھے لکھے طبقوں کے لئے پیغام حدیث ایک عمدہ کتاب ثابت ہو سکتی ہے۔جناب یوسف ثانی نے سرتاج المحدثین امام بخاری ؒ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’بخاری شریف‘‘ کا ترجمہ آسان ترین انداز میں خوبصورت عنوان قائم کر کے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کے لئے عوام الناس پر عظیم احسان کیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ عوام الناس کے لئے بخاری شریف کا مطالعہ، اس کا سمجھنا، اس پر غور و فکر کرنا، اپنے عقائد اور اعمال کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا اور صراط مستقیم پر چلنے کا راستہ آسان ترین کر دیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ فاضل مصنف نے فنی مباحث سے کنارہ کر کے اور عام فہم الفاظ میں قوم کی خدمت کی ہے۔ میں اسکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹس و دیگر مدارس کے طلباء، علماء، ائمہ مساجد اور خطیب حضرات سے گذارش کروں گا کہ اب بخاری شریف کا سمجھنا بالکل آسان ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یوسف ثانی اور دیگر کارکنان کے دینی مذہبی خدمات کو قبول فرمائے اور ہم سب کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔(۷  فروری  ۲۰۱۰ ء)  ۔۔۔[ شیخ القرآن و الحدیث مفتی محمد ابراہیم حنیف، صدر جمعیت اتحاد العلماء،کراچی شرقی،  پاکستان  کے مکمل تبصرے پیغامِ قرآن ڈاٹ کام پر ملاحظہ کیجئے]
  ٭٭٭



رائے

 پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد زبیری
سابق نائب پرنسپل اردو سائنس کالج (اب اردو یونیورسٹی)، کراچی، پاکستان

 اس بابرکت محفل میں اظہار خیال کو میں نے اپنے لئے باعث سعادت جانا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر بڑا کام کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتے ہیں اور مقام شکر ہے کہ یوسف ثانی کو اللہ نے ہی ایسا بڑا اور مفید کام کرنے کی توفیق عطا کی جو ان کے لئے بہت سے فیوض و برکات کا سبب تو ہو گی ہی، اور بھی بہت سے لوگ ان کے کام سے استفادہ کریں گے۔خرم مراد صاحب نے ’’قرآن کا راستہ‘‘ میں کہا تھا: ’’ اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہو گی کہ قرآن کو اپنی ذات کی شہرت، عزت، حیثیت یا مالی دولت جیسی دنیاوی چیزوں کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ مل بھی جائے مگر اس طرح آپ ایک بیش بہا خزانے کا نہایت حقیر اشیا سے سودا کر رہے ہوں گے‘‘۔ بلا شبہ یوسف ثانی نے یہ کام تو کیا مگر معاوضے میں کسی حقیر شئے کی تمنا نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہی اپنی محنت کا صلہ جانا۔ ان شا ء اللہ انہیں یہ صلہ ضرور حاصل ہو گا۔
پیغام قرآن و حدیث دراصل دو کتابوں کا مجموعہ ہے۔ پہلے پانچ سال قبل ’’پیغامِ قرآن‘‘ شائع ہوئی اور پانچ سال میں اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔ پھر  ۲۰۱۰ ء میں ’’پیغامِ حدیث‘‘ الگ شائع کی گئی۔ پھر   ۲۰۱۱ ء  میں دونوں کتابوں کو ملا کر ’’پیغامِ قرآن و حدیث‘‘ شائع کی گئی۔ دونوں کتابیں الگ الگ پہلے ہی مقبول ہو چکی ہیں اس لیے اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ بھی ان شاء اللہ بہت مقبول ہو گی۔’’پیغامِ قرآن‘‘، قرآن کا ترجمہ نہیں ہے۔ شاید قرآن ہی وہ واحد کتاب ہے، جس کا کم و بیش دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ترجموں کی ابتدا حضور ﷺ کے زمانے ہی میں ہو گئی تھی۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے فارسی میں پہلا ترجمہ کیا تھا۔ اردو میں بھی اس کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ یوسفِ ثانی نے اردو میں ۹۰ ترجموں کی خبر دی ہے۔ مولانا مودودی علیہ رحمۃ نے اپنے ترجمہ قرآن میں بجا طور پر فرمایا تھا:’’ اب کسی شخص کا محض برکت و سعادت کی خاطر ایک نیا ترجمہ شائع  وقت اور محنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں ہے‘‘ تراجم رہتی دنیا تک ہوتے ہی رہیں گے مگر پیغام قرآن میں یوسف ثانی نے خود وضاحت کی ہے ’’ قرآن مجید کا کسی حاشیے اور تشریح کے بغیر با محاورہ اردو مفہوم، بالترتیب آیات کی موضوعاتی درجہ بندی، ذیلی عنوانات اور فہرستِ مضامین کی اضافی خوبیوں کے ساتھ اردو زبان میں پہلی بار پیغام قرآن میں پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اس میں عربی متن نہیں ہے اس لیے اس کو لیٹے بیٹھے، گاڑی میں کسی بھی فرصت کے وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ وضو کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہو تو قرآن کریم سے رجوع کیا جائے۔
پیغام حدیث کی خوبی بھی یہی ہے کہ عام پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں ،  کیونکہ اس میں بہت ایسی تفصیل کو حذف کر دیا گیا ہے جو سب کے لیے ضروری نہیں ہیں۔   ان ہی راویوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے براہ راست حضور ﷺسے روایت کی ہے۔ طویل احادیث کو چھوٹے چھوٹے پیراگراف میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ قارئین سہولت سے پڑھ سکیں اور یاد بھی رکھ سکیں۔   یہاں بھی یہی درست ہے کہ کسی مزید وضاحت کے لیے اصل مآخذ اور راویوں کے تسلسل سے استفادہ کے لیے بخاری شریف سے رجوع کیا جائے۔
یوسف صاحب نے مسلمانوں کے عروج و زوال دونوں کا سبب قرآن کریم کو ہی قرار دیا ہے۔ یعنی جب ہم قرآن سے پوری طرح استفادہ کر رہے تھے تو صدیوں تک علم و دانش، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم دنیا کے امام تھے۔ اقبال نے بھی یہی کہا تھا ع وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر ۔۔۔ اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر۔  یعنی جب ہم نے قرآن کریم کی سچی رہبری اور رہنمائی سے اغماض برتنا شروع کیا تو بربادی ہمارا مقدر ہو گئی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک اہلِ یورپ اپنے تحریف شدہ مذہب سے جڑے رہے، ان کا تاریک دور جاری رہا۔ جب انہوں نے اس سے چھٹکارا پایا تو کامرانیوں کے در وَا ہو گئے۔اب اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یوں تو ہر دور میں قرآن  پر غور و فکر اور عمل کی ضرورت تھی مگر فی الوقت ہم جس بربادی اور تباہی سے دوچار ہیں ،  اس دور میں قرآن سے جڑنے کی ضرورت اہم سے اہم تر اور اہم ترین ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن کے مفہوم سمجھنے سمجھانے کے لیے جو بھی کوشش کی جائے، اس کی بہت ہمت افزائی کی جانی چاہئے۔ یوسف ثانی نے یہی کام کیا ہے۔
آج کل مسلمانوں میں اور بطور خاص نوجوانوں میں اس ضرورت کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ قرآن کو سمجھا جائے، اس کے اسرار و رموز پر غور و فکر کیا جائے۔ترکی کے ڈاکٹر ہلوک نورباقی نے قرآن کی آیات کے معنی کو گلاب کے پھولوں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآنی آیات کے معنی ایسے ہی پنکھڑیوں سے ڈھکے ہوتے ہیں کہ ہر پنکھڑی الگ ہونے پر ایک نیا جہانِ معنی کھول دیتی ہے۔ یعنی جتنا غور و فکر کیا جائے، نئے نئے مفہوم سامنے آتے جاتے ہیں ،  جیسے کسی بحر ذخار میں ہر غواص کو کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔یوسف ثانی نے بھی نہایت تابدار موتی تلاش کر لیے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ڈاکٹر ہلوک نے یہ بھی کہا تھا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہر تحریر کا بے اثر ہونا اس کی قسمت ہے مگر قرآن کسی فرد کی تحریر نہیں ہے اس لیے آج بھی تر و تازہ ہے۔ اگر پوری توجہ اور انہماک سے مسلمان قرآن کی طرف رجوع کریں تو قرآن کریم ان کو ایسی قوت فراہم کرے گا جو مسلمانوں کی رہنمائی اعلیٰ کارناموں کے حصول کی طرف کرے گی۔ یوسف ثانی نے اپنا کام کر دیا ہے۔
اب جس کے دل میں آئے، وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ راہ رکھ دیا
میں برادرم یوسف ثانی کو ا س عظیم کام کو انجام دینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ اس کا فیض تا دیر جاری رہے۔ ( کراچی پاکستان میں پیغامِ قرآن و حدیث  کی تعارفی تقریب منعقدہ  ۲۴  جولائی   ۲۰۱۱  ء کے موقع پر پڑھا گیا) 
٭٭٭


۱۔۔۔ آ لٓ م ٓ  میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔   (فاتحہ ۔۔۔۵)
۲۔ ہدایت ہے ان پرہیزگار لوگوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ (البقرۃ ۔۔۔۲)
 ۳۔نماز قائم کرتے ہیں۔ (البقرۃ ۔۔۔۳)
 ۴۔جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (البقرۃ ۔۔۔۳)
۵۔اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔  (البقرۃ۔۔۔۴)
۶۔بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تم سب کا خالق ہے۔ (البقرۃ۔۔۔۲۱)
۷۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ (البقرۃ۔۔۔۴۱)
۸۔ حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔(البقرۃ۔۔۔۴۲)
۹۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو۔(البقرۃ۔۔۔۴۳)
۱۰۔ تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو۔  (البقرۃ۔۔۔۵۴)
۱۱۔ جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے۔  (البقرۃ۔۔۔۸۱)
۱۲۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔(البقرۃ۔۔۔۸۳)
۱۳۔ماں باپ،  رشتے داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔(البقرۃ۔۔۔۸۳)
۱۴۔ نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا۔(البقرۃ۔۔۔۸۳)
۱۵۔ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا (البقرۃ۔۔۔۸۴)
۱۶۔  ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پُشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔  (البقرۃ۔۔۔۱۰۱)
۱۷۔تم عفو و درگزر سے کام لو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۰۹)  نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔(البقرۃ۔۔۔۱۱۰)
۱۸۔جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے(البقرۃ:۱۲۱)
۱۹۔ وہ قرآن پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں۔  (البقرۃ۔۔۔۱۲۱)
۲۰۔ ابراہیمؑ  جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو۔(البقرۃ۔۔۔۱۲۵)
۲۱۔ میرے اس گھر کو طواف، اعتکاف، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو(البقرۃ۔۔۔۱۲۵)
۲۲۔ اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔ (البقرۃ۔۔۔۱۳۲)
۲۳۔اللہ کا رنگ اختیار کرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ (البقرۃ۔۔۔۱۳۸)
٭٭


۲۔۔۔ سیقول میں امر و نہی  کی تعلیمات

 ۱۔تم جہاں کہیں بھی ہو، مسجد حرام ہی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۵۰)
۲۔ ظالموں کی زبان کسی حال میں بند نہ ہو گی۔ تم اُن سے نہیں بلکہ مجھ سے ڈرو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۵۰)
۳۔ تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میرا شکر ادا کرو، کُفران نعمت نہ کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۵۲)
۴۔ صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ۔۔۔۱۵۳)
۵۔جو شخص بیت اللہ کا حج یا عُمرہ کرے، وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے۔(البقرۃ۔۔۔۱۵۸)
۶۔ حلال اور پاک چیزیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو۔(البقرۃ۔۔۔۱۶۸)
۷۔ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۷۲)
۸۔ مُردار نہ کھاؤ، خون سے اور سؤر کے گوشت سے پرہیز کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۷۳)
۹۔ کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۷۳)
۱۰۔ اپنا مال رشتے داروں ، یتیموں ،  مسکینوں ، مسافروں اور مانگنے والوں پر خرچ کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۷۷)
 ۱۱۔ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔(البقرۃ۔۔۔۱۷۷)
۱۲۔ جب عہد کرو تو اُسے وفا کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۷۷)
 ۱۳۔ تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۷۷)
۱۴۔ قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔(البقرۃ۔۔۔۱۷۸)
۱۵۔ قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔(البقرۃ۔۔۔۱۷۸)
۱۶۔ والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۸۰)
۱۷۔تم پر روزے فرض کیے گئے  ہیں۔ (البقرۃ۔۔۔۱۸۳)
۱۸۔ کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔(البقرۃ۔۔۔۱۸۴)
۱۹۔ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ البقرۃ۔۔۔۱۸۴)
۲۰۔ اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۸۵)
۲۱۔ روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔(البقرۃ۔۔۔۱۸۷)
۲۲۔ روزہ میں سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری تک راتوں کو کھاؤ پیو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۸۷)
۲۳۔ جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۸۷)
۲۴۔ آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے نہ کھاؤ۔(البقرۃ۔۔۔۱۸۸)
۲۵۔نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ (البقرۃ۔۔۔۱۸۹)
۲۶۔اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو۔  (البقرۃ۔۔۔۱۹۰)
۲۷۔مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ، تم بھی نہ لڑو۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۱)
۲۸۔ جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۴)
۲۹۔ اللہ سے ڈرتے رہو۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۴)
۳۰۔اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حُدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ (البقرۃ۔۔۔۱۹۴)
۳۱۔اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور احسان کا طریقہ اختیار کرو۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۵)
۳۲۔ جب حج اور عُمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۱۹۶)
۳۳۔حج میں اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۶)
۳۴۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر رکھو۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۶)
۳۵۔ دورانِ حج کوئی شہوانی فعل، بد عملی، یا لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔(البقرۃ۔۔۔۱۹۷)
۳۶۔ حج کے ساتھ رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔  (البقرۃ۔۔۔۱۹۸)
۳۷۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو۔(البقرۃ۔۔۔۲۰۳)
۳۸۔ پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو(البقرۃ۔۔۔۲۰۸)
۳۹۔ اپنے والدین،  رشتے داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں پر مال خرچ کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۱۵)
۴۰۔شراب اور جوا،ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔(البقرۃ۔۔۔۲۱۹)
۴۱۔ جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو، اُسے راہِ خدا میں خرچ کیا کرو۔(البقرۃ۔۔۔۲۱۹)
۴۲۔تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۲۰)
۴۳۔ یتیموں کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرو جس میں ان کے لیے بھلائی ہو۔(البقرۃ۔۔۔۲۲۰)
۴۴۔تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرو۔(البقرۃ۔۔۔۲۲۱)
۴۵۔ اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا۔(البقرۃ۔۔۔۲۲۱)
۴۶۔ حیض ایک تکلیف دہ حالت ہے، اس میں عورتوں سے الگ رہو۔(البقرۃ۔۔۔۲۲۱)
۴۷۔تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔  جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ۔(البقرۃ۔۔۔۲۲۳)
۴۸۔ نیکی، تقویٰ اور بھلائی کے خلاف کاموں میں اللہ کی قسمیں نہ کھا یا کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۲۴)
۴۹۔جو بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے (البقرۃ:۲۲۶)
۵۰۔جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔  (البقرۃ۔۔۔۲۲۸)
۵۱۔ اللہ نے مطلقہ عورتوں کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپانا جائز نہیں ہے۔ (البقرۃ۔۔۔۲۲۸)
۵۲۔ جو کچھ تم اپنی بیوی کو دے چکے تھے، طلاق کے بعد اُسے واپس لینا جائز نہیں۔  (البقرۃ۔۔۔۲۲۹)
۵۳۔ اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۲۹)
۵۴۔عورتوں کو طلاق دے چکو تو بعد از عدت اُن کے نکاح کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالو(البقرۃ۔۔۔۲۳۲)
۵۵۔ مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال تک دودھ پلائیں۔  (البقرۃ۔۔۔۲۳۳)
۵۶۔شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روکے رکھے۔ (البقرۃ۔۔۔۲۳۴)
۵۷۔ عدت پوری ہونے تک عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو۔(البقرۃ۔۔۔۲۳۵)
۵۸۔بعد از نکاح عورت کو ہاتھ لگانے سے قبل طلاق دینے میں کوئی گناہ نہیں۔ (البقرۃ۔۔۔۲۳۶)
۵۹۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں نصف مہر دینا ہو گا۔ (البقرۃ۔۔۔۲۳۷)
۶۰۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔(البقرۃ۔۔۔۲۳۷)
۶۱۔اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو۔(البقرۃ۔۔۔۲۳۸)
۶۲۔ بیوہ عورتوں کو ایک سال تک شوہر کے گھر سے نہ نکالا جائے۔(البقرۃ۔۔۔۲۴۰) 
۶۳۔ جنہیں طلاق دی جائے انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے(البقرۃ۔۔۔۲۴۱) 
۶۴۔مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۴۴) 
٭٭


۳۔۔۔تلک الرسل میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۵۴)
۲۔جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ (البقرۃ۔۔۔۲۶۱)
۳۔ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے احسان نہیں جتاتے، نہ دُکھ دیتے ہیں۔  (البقرۃ:۲۶۲)
۴۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دُکھ ہو (البقرۃ:۲۶۳)
۵۔اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر۔(البقرۃ۔۔۔۲۶۴)
۶۔ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں (البقرۃ:۲۶۴)
۷۔ جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش نہ کرنے لگو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۶۷)
۸۔اگر اپنے صدقات عَلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے۔ لیکن اگر چھُپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔(البقرۃ۔۔۔۲۷۰) 
۹۔ راہِ خیر میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے۔(البقرۃ۔۔۔۲۷۲) 
۱۰۔خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔(البقرۃ۔۔۔۲۷۲)
۱۱۔ جو لوگ سود کھاتے ہیں ، اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھُو کر باؤلا کر دیا ہو۔ لہٰذا جسے یہ نصیحت پہنچے وہ آئندہ کے لیے سُود خوری سے باز آ جائے۔(البقرۃ۔۔۔۲۷۵۔۲۷۴)
۱۲۔اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔(البقرۃ۔۔۔۲۷۷)
۱۳۔ نیک عمل کریں ،  نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ (البقرۃ۔۔۔۲۷۷)
۱۴۔خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔(البقرۃ۔۔۔۲۷۸)
۱۵۔نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ (البقرۃ۔۔۔۲۷۹)
۱۶۔قرض دار تنگدست ہو تو اُسے مہلت دو۔ اگر صدقہ کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے (البقرۃ:۲۸۰)
۱۷۔ جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔(البقرۃ۔۔۔۲۸۱)
۱۸۔پھر دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔  (البقرۃ:۲۸۲)
۱۹۔گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہُل نہ کرو۔ (البقرۃ۔۔۔۲۸۲)
۲۰۔ تم لوگ جو لین دین دست بدست آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔  مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے۔(البقرۃ۔۔۔۲۸۲)
۲۱۔ اور دستاویز لکھنے کے لیے کوئی کاتب نہ ملے تو رہن بالقبض پر معاملہ کرو۔(البقرۃ۔۔۔۲۸۳)
۲۲۔ جس پر بھروسہ کیا گیا ہے، وہ امانت ادا کرے، رب سے ڈرے اور شہادت ہرگز نہ چھپائے۔ (البقرۃ:۲۸۳)
۲۳۔ ’’ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے‘‘۔ (البقرۃ۔۔۔۲۸۵)
۲۴۔اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کر نے والوں کو یقیناً سخت سزا ملے گی۔(آلِ عمران۔۔۔۴)
۲۵۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(آلِ عمران۔۔۔۷)
۲۶۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں ، راست باز ہیں ، فرماں بردار اور فیاض ہیں۔  اور رات کی آخری گھڑیوں  میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔ (آلِ عمران۔۔۔۱۷)
۲۷۔ ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں جو خلقِ خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں۔ 
 ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنا دو۔(آلِ عمران:۲۲)
۲۸۔اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق و مددگار ہرگز نہ بناؤ۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ 
 ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جاؤ۔(آلِ عمران:۲۸)
۲۹۔ اے نبیﷺ! لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ (آلِ عمران۔۔۔۳۲)
۳۰۔ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی کریں گے نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں گے۔(آلِ عمران:۶۴)
۳۱۔ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا۔(آلِ عمران:۷۶)
۳۲۔وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کے لیے آخرت میں  کوئی حصہ نہیں ہے۔(آلِ عمران۔۔۔۷۶)
٭٭


۴۔۔۔  لن تنالو۱ میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی عزیز چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو۔(آلِ عمران۔۔۔۹۲)
۲۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے (آلِ عمران۔۔۔۹۷)
۳۔ اگر اہلِ کتاب میں سے کسی کی بات مانی تو یہ تمہیں کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔ (آلِ عمران:۱۰۰)
۴۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آلِ عمران۔۔۔۱۰۲)
۵۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔(آلِ عمران۔۔۔۱۰۲)
۶۔ نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔  (آلِ عمران۔۔۔۱۰۴)
۷۔ کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔(آلِ عمران۔۔۔۱۰۵)
۸۔اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو۔ (آلِ عمران:۱۱۰)
۹۔ اے ایمان والو! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔(آلِ عمران۔۔۔۱۱۸)
۱۰۔ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔(آلِ عمران۔۔۔۱۲۰)
۱۱۔ اللہ کی ناشکری سے بچو۔ (آلِ عمران۔۔۔۱۲۳)
۱۲۔ یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو۔ اللہ اور رسولؐ کا حکم مان لو(آلِ عمران:۱۳۱۔۱۳۰)
۱۳۔ جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال۔(آلِ عمران:۱۳۴) 
۱۴۔ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔  (آلِ عمران:۱۳۴) 
۱۵۔ وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے۔وہ اس سے اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔  اور وہ کبھی دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔ (آلِ عمران۔۔۔۱۳۶)
۱۶۔ دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔(آلِ عمران۔۔۔۱۳۹)
۱۷۔ شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے۔(آلِ عمران۔۔۔۱۴۶)
۱۸۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے۔(آلِ عمران۔۔۔۱۴۶)
۱۹۔ اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اسے معاف کر دے۔(آلِ عمران۔۔۔۱۴۷)
۲۰۔ اگر تم اُن لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہو جاؤ گے۔(آلِ عمران۔۔۔۱۴۹)
۲۱۔جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔(آلِ عمران۔۔۔۱۵۳)
۲۲۔ کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں  تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔(آلِ عمران:۱۵۶)
۲۳۔ جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں اور منافق کون۔(آلِ عمران۔۔۔۱۶۶)
۲۴۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں۔ (آلِ عمران۔۔۔۱۶۹)
۲۵۔ جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بُخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے۔(آلِ عمران۔۔۔۱۸۰)
۲۶۔ تم ہر حال میں صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔ (آلِ عمران:۱۸۶)
۲۷۔ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہو گا، انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہو گا۔(آلِ عمران:۱۸۷)
۲۸۔ جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کر دوں گا (آلِ عمران:۱۹۵)
۲۹۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں۔ (آلِ عمران۔۔۔۱۹۸)
۳۰۔ اللہ کے آگے جھُکے ہوئے ہیں ، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے (آلِ عمران:۱۹۹)
۳۱۔ صبر سے کام لو اور باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔ (آلِ عمران۔۔۔۲۰۰)
۳۲۔۔یتیموں کے مال ان کو واپس دو۔ اچھے مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو۔ اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء۔۔۔۲) 
۳۳۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک
 ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں۔  (النساء۔۔۔۳) 
۳۴۔ عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو۔(النساء۔۔۔۴) 
۳۵۔ اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو (النساء:۵) 
۳۶۔ یتیم کا مالدار سرپرست پرہیزگاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔ (النساء:۶) 
۳۷۔ ترکہ کی تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو ان کو بھی کچھ دو۔(النساء۔۔۔۸) 
۳۸۔ جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں ،وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں (النساء:۱۰)
۳۹۔ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔ اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔ اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے۔ اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے۔ اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہو گی۔(النساء۔۔۔۱۱)
۴۰۔ اور تمہاری بیوی تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو۔ ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا۔(النساء۔۔۔۱۲)
۴۱۔ اور اگر وہ مرد یا عورت بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے۔ (النساء۔۔۔۱۳)
۴۲۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا۔  (النساء۔۔۔۱۴)
۴۳۔تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو۔ (النساء۔۔۔۱۶۔۱۵)
۴۴۔ مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو بُرے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی۔(النساء۔۔۔۱۸)
۴۵۔ تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔ اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مَہر کا کچھ حصہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔(النساء۔۔۔۱۹)
۴۶۔ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں  نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔(النساء۔۔۔۲۰)
۴۷۔ جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو۔(النساء۔۔۔۲۲)
۴۸۔ تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں ، بیٹیاں ، بہنیں ، پھوپھیاں ، خالائیں ، بھتیجیاں ، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں ، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔ (النساء۔۔۔۲۲)
۴۹۔ اور اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شَو ہو چکا ہو۔(النساء۔۔۔۲۲)
۵۰۔ تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صُلب سے ہوں۔  اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں  دو بہنوں کو جمع کرو۔(النساء۔۔۔۲۳) 	٭٭

۵۔۔۔ والمحصنٰت  میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں۔  (النساء۔۔۔۲۴)
۲۔ جو ازدواجی لطف تم ان سے اُٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو۔(النساء۔۔۔۲۴)
۳۔ جب وہ لونڈیاں حصارِ نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر  آدھی سزا ہے، جو خاندانی عورتوں (مُحصَنات) کے لیے مقرر ہے۔(النساء۔۔۔۲۴)
۴۔ ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ۔ لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔(النساء۔۔۔۲۸)
۵۔۔  اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی بُرائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے۔(النساء۔۔۔۳۱)
۶۔ جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ہاں ! اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو۔ (النساء۔۔۔۳۲)
۷۔ وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ اُنہیں دو۔(النساء۔۔۔۳۳)
۸۔ جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔   (النساء۔۔۔۳۴)
۹۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیٰحدہ رہو اور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔ (النساء۔۔۔۳۴)
۱۰۔ اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو۔ (النساء۔۔۔۳۵)
۱۱۔ تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔(النساء۔۔۔۳۶)
۱۲۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں ، احسان کا معاملہ رکھو۔ (النساء۔۔۔۳۶)
۱۳۔ اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔(النساء۔۔۔۳۶)
۱۴۔ اللہ کو ایسے لوگ بھی پسند نہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دُوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں (النساء:۳۷)
۱۵۔اللہ کو وہ لوگ بھی ناپسند ہیں جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔  (النساء۔۔۔۳۸)
۱۶۔ جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، جب تک غسل نہ کر لو۔(النساء۔۔۔۴۳)
۱۷۔ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفعِ حاجت کر کے آئے، یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔(النساء۔۔۔۴۳)
۱۸۔ تمہاری حمایت و مددگاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ (النساء۔۔۔۴۴)
۱۹۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا تو اُس نے بڑے سخت گناہ کی بات کی۔ (النساء:۴۸)
۲۰۔ کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ (النساء:۵۴)
۲۱۔امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو۔لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔(النساء۔۔۔۵۸)
۲۲۔ اطاعت کرو اللہ کی، اطاعت کرو رسولؐ کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں صاحبِ امر ہوں۔ (النساء:۵۸)
۲۳۔ کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو۔ (النساء۔۔۔۵۸)
۲۴۔ ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔(النساء۔۔۔۶۳)
۲۵۔ مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو۔ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ نکلو یا اکٹھے ہو کر۔(النساء۔۔۔۷۱)
۲۶۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں۔  (النساء۔۔۔۷۵) 
۲۷۔ شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔  (النساء:۷۷) 
۲۸۔ اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔ (النساء۔۔۔۷۹)
۲۹۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ (النساء۔۔۔۸۰)
۳۰۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔ (النساء۔۔۔۸۲)
۳۱۔ یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سنتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں (النساء۔۔۔۸۳)
۳۲۔ جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو بُرائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں  سے حصہ پائے گا۔ (النساء۔۔۔۸۵)
۳۳۔ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو اس کو بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح۔(النساء:۸۶)
۳۴۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہو جائیں۔  لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔(النساء۔۔۔۸۸)
۳۵۔ لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے اُن پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔(النساء۔۔۔۹۰)
۳۶۔ کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے،ا لّا یہ کہ اُس سے چُوک ہو جائے۔ (النساء:۹۲)
۳۷۔ جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے۔(النساء۔۔۔۹۲)
۳۸۔ جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ توبہ کرنے کا طریقہ ہے۔ (النساء:۹۳)
۳۹۔ جو کسی مومن کو جان بُوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے۔ (النساء۔۔۔۹۳)
۴۰۔ جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو۔(النساء۔۔۔۹۴)
۴۱۔ جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا۔ (النساء۔۔۔۹۹)
۴۲۔ اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو۔ (النساء۔۔۔۱۰۱)
۴۳۔ نماز پابندی ٔ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر فرض کیا گیا ہے۔(النساء۔۔۔۱۰۳)
۴۴۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔ (النساء۔۔۔۱۰۸)
۴۵۔ اگر کوئی شخص بُرا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا۔ (النساء۔۔۔۱۱۱)
۴۶۔ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ (النساء۔۔۔۱۱۴)
۴۷۔ بس شرک ہی کی بخشش نہیں ، اس کے سوا سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ (النساء:۱۱۶)
۴۸۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبُود بناتے ہیں۔  وہ اُس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے۔(النساء۔۔۔۱۱۷)
۴۹۔ جس نے اللہ کے بجائے اپنا سرپرست شیطان کو بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا۔ (النساء۔۔۔۱۱۹)
۵۰۔ جو بھی بُرائی کرے گا اس کا پھل پائے گا۔ (النساء۔۔۔۱۲۳)
۵۱۔ جو مومن مرد یا عورت نیک عمل کریں گے تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے(النساء۔۔۔۱۲۴)
۵۲۔ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو۔(النساء۔۔۔۱۲۷)
۵۳۔اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں۔ (النساء۔۔۔۱۲۸)
۵۴۔ ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھُک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔(النساء۔۔۔۱۲۹)
۵۵۔ اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا۔(النساء۔۔۔۱۳۰)
۵۶۔ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔ (النساء۔۔۔۱۳۱)
۵۷۔ جو شخص محض ثوابِ دنیا کا طالب ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے پاس ثوابِ دُنیا بھی ہے اور ثوابِ آخرت بھی۔ (النساء۔۔۔۱۳۴)
۵۸۔، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔(النساء۔۔۔۱۳۵)
۵۹۔ جو منافق اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں انہیں یہ مژدہ سُنا دو کہ ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے۔(النساء۔۔۔۱۳۸)
۶۰۔جہاں اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور مذاق اُڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو۔(النساء:۱۴۰)
۶۱۔ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔(النساء۔۔۔۱۴۴)
٭٭



۶۔۔۔لایحب اللہ  میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے، الاّ یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔(النساء۔۔۔۱۴۸)
۲۔ اگر تم بھلائی کرو یا کم از کم بُرائی سے درگزر کرو تو اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ (النساء۔۔۔۱۴۹)
۳۔ جو کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ پکے کافر ہیں۔ (النساء۔۔۔۱۵۱)
۴۔ جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور اُن کے درمیان تفریق نہ کریں۔ (النساء۔۔۔۱۵۲)
۵۔ درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے۔ (النساء۔۔۔۱۵۵)
۶۔ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، سود لیتے ہیں اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں۔  (النساء:۱۵۸)
۷۔ ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روزِ آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے (النساء:۱۶۱)
۸۔ جن لوگوں نے کفر و بغاوت کی اور ظلم و ستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا (النساء:۱۶۸)
۹۔ اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسُوب نہ کرو۔(النساء۔۔۔۱۷۱)
۱۰۔ جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبُّر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے۔ (النساء۔۱۷۳)
۱۱۔ جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا۔ (النساء۔۔۔۱۷۵)
۱۲۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہو گا۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہو گا۔ (النساء۔۔۔۱۷۶)
۱۳۔ احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کر لو۔(المائدۃ۔۔۔۱)
۱۴۔ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال نہ کر لو۔ نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو۔(المائدۃ:۲)
۱۵۔ تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔  (المائدۃ۔۔۔۲)
۱۶۔جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو۔  (المائدۃ۔۔۔۲)
۱۷۔ جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ (المائدۃ۔۔۔۲)
۱۸۔ تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سؤر کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گھُٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، سوائے اُس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کر لیا۔ اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔(المائدۃ۔۔۔۳)
۱۹۔ یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ (المائدۃ۔۔۔۳)
۲۰۔ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی حرام  چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا۔ (المائدۃ۔۔۔۳)
۲۱۔ تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ (المائدۃ۔۔۔۴)
۲۲۔ شکاری جانور جس شکار کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے تم اللہ کا نام لے کر کھا سکتے ہو (المائدۃ۔۔۔۴)
۲۳۔  اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال اور تمہارا کھانا ان کے لیے۔(المائدۃ۔۔۔۵)
۲۴۔ محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔(المائدۃ۔۔۔۵)
۲۵۔ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں  ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔(المائدۃ۔۔۔۶)
۲۶۔ پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو۔مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔(المائدۃ:۶)
۲۷۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ، عدل کرو۔(المائدۃ۔۔۔۸)
۲۸۔ اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا۔(المائدۃ۔۔۔۱۲)
۲۹۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔ (المائدۃ۔۔۔۱۳)
۳۰۔جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ (المائدۃ۔۔۔۳۲)
۳۱۔اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو۔ (المائدۃ:۳۵)
۳۲۔اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔(المائدۃ۔۔۔۳۸)
۳۳۔ کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں (المائدۃ:۴۱)
۳۴۔ ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(المائدۃ:۴۲)
۳۵۔ تم لوگوں سے نہیں بلکہ مجھ سے ڈرو۔ میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ (المائدۃ:۴۴)
۳۶۔جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ،  ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے(المائدۃ:۴۵)
۳۷۔تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے، اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔(المائدۃ۔۔۔۴۸)
۳۸۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔  اور اگر تم میں  سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے۔ (المائدۃ۔۔۔۵۱)
۳۹۔جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ (المائدۃ۔۔۔۵۵)
۴۰۔ جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ (المائدۃ۔۔۔۵۶)
۴۱۔ اہل کتاب اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ۔(المائدۃ۔۔۔۵۷)
۴۲۔ بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں (المائدۃ:۶۲)
۴۳۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے (المائدۃ:۷۲)
۴۴۔ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ (المائدۃ:۷۵)
۴۵۔ اُنہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔(المائدۃ۔۔۔۷۹)
٭٭


۷۔۔۔ واِذا سَمِعوا  میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں تو حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں (المائدۃ:۸۳)
۲۔ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں (المائدۃ:۸۶)
۳۔ جو پاک چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو( المائدۃ۔۔۔۸۷)
۴۔ اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو، جس پر تم ایمان لائے ہو۔(المائدۃ۔۔۔۸۸)
۵۔ تم لوگ جو مُہمل قسمیں کھا لیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا۔(المائدۃ۔۔۔۸۹)
۶۔قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، ایک غلام آزاد کرنا یا تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ (المائدۃ:۸۹)
۷۔ یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں۔ (المائدۃ۔۔۔۹۰)
۸۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ (المائدۃ۔۔۔۹۱)
۹۔ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی بات مانو اور باز آ جاؤ۔ (المائدۃ۔۔۔۹۲)
۱۰۔ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں  (المائدۃ۔۔۔۹۳)
۱۱۔احرام کی حالت میں شکار نہ مارو۔ اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے گا تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہو گایا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا، یا اُس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے۔(المائدۃ۔۔۔۹۵)
۱۲۔ احرام کی حالت میں سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال جبکہ خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے (المائدۃ:۹۶)
۱۳۔ اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو (المائدۃ:۱۰۵)
۱۴۔ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی گواہ بنائے جائیں۔ (المائدۃ۔۔۔۱۰۶)
۱۵۔ جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں  اپنے سے دُور نہ پھینکو۔ (الانعام۔۔۔۵۱)
۱۶۔ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے‘‘۔ (الانعام۔۔۔۵۵)
۱۷۔جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ۔ (الانعام:۶۸)
۱۸۔ چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں  مبتلا کیے ہوئے ہے۔ ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو۔(الانعام۔۔۔۶۹)
۱۹۔مالکِ کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دو، نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ (الانعام:۷۲) 
۲۰۔ تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔(الانعام۔۔۔۱۰۲)
٭٭


۸۔۔۔ ولواننا میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔یہ کتاب حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔(الانعام۔۔۔۱۱۵)
۲۔اگر تم زمین پر بسنے والوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ (الانعام:۱۱۶)
۳۔جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ۔(الانعام۔۔۔۱۱۸)
۴۔ بکثرت لوگ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں۔ (الانعام۔۔۔۱۱۹) 
۵۔تم کھُلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی۔(الانعام۔۔۔۱۱۹) 
۶۔ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ۔(الانعام۔۔۔۱۲۰) 
۷۔بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے۔ (الانعام:۱۳۷)
۸۔ خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا۔  (الانعام:۱۴۰)
۹۔ کھاؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں۔  یہ آٹھ نر و مادہ ہیں : دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے۔ دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے۔ (الانعام۔۔۔۱۴۴۔۱۴۳)
۱۰۔ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے (الانعام:۱۴۴)
۱۱۔ حرام ہے خواہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اورکے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔(الانعام۔۔۔۱۴۵)
۱۲۔تمہارے رب نے تم پر پابندیاں عائد کی ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ (الانعام۔۔۔۱۵۱)
۱۳۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ (الانعام۔۔۔۱۵۱)
۱۴۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔ (الانعام:۱۵۱) 
۱۵۔ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھُپی۔(الانعام۔۔۔۱۵۲)
۱۶۔ کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔(الانعام۔۔۔۱۵۲)
۱۷۔ مالِ یتیم کے قریب نہ جاؤ مگر حسن طریقہ سے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے۔ (الانعام:۱۵۲)
۱۸۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔ (الانعام۔۔۔۱۵۳)
۱۹۔ اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔ (الانعام۔۔۔۱۵۳)
۲۰۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔(الانعام۔۔۔۱۵۳)
۲۱۔ اُس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو۔ (الانعام۔۔۔۱۵۳)
۲۲۔یہ ایک برکت والی کتاب ہے۔ تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو(الانعام۔۔۔۱۵۵)
۲۳۔جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ درگروہ بن گئے۔ (الانعام۔۔۔۱۵۹)
۲۴۔ نیکی کے لیے دس گنا اجر ہے،  جبکہ بدی کا اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا۔(الانعام۔۔۔۱۶۰)
۲۵۔ کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ کے لیے ہے (الانعام:۱۶۳)
۲۶۔ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ (الاعراف۔۔۔۳)
۲۷۔ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔(الاعراف:۳۱)
۲۸۔ کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا۔(الاعراف:۳۲)
۲۹۔ میرے رب نے یہ چیزیں حرام کی ہیں : بے شرمی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے۔گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو۔(الاعراف۔۔۔۳۳)
۳۰۔جو جھُوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے؟( الاعراف:۳۷)
۳۱۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ (الاعراف۔۔۔۵۵)
۳۲۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (الاعراف۔۔۔۵۵)
۳۳۔اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔(الاعراف۔۔۔۷۴)
۳۴۔ فحش کام کرتے ہو؟عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔(الاعراف۔۔۔۸۲)
۳۵۔ وزن اور پیمانے پورے کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (الاعراف۔۔۔۸۵)
۳۶۔ ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ۔(الاعراف۔۔۔۸۶)
٭٭



۹۔۔۔ قال الملا  میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔(الاعراف۔۔۔۹۶)
۲۔ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو۔ (الاعراف۔۔۔۹۹)
۳۔اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ (الاعراف۔۔۔۱۲۷)
۴۔ وہ سرکشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔(الاعراف۔۔۔۱۳۳)
۵۔ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔(الاعراف۔۔۔۱۴۲)
۶۔ پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجا لا۔(الاعراف۔۔۔۱۴۴)
۷۔ جس کسی نے آخرت کی پیشی کا انکار کیا، اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے۔ (الاعراف۔۔۔۱۴۷)
۸۔ جو لوگ بُرے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے۔ (الاعراف۔۔۔۱۵۳)
۹۔جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے(الاعراف:۱۵۶)
۱۰۔وہ نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے۔ پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے (الاعراف:۱۵۷)
۱۱۔ کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں۔  (الاعراف۔۔۔۱۶۰)
۱۲۔ ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے۔ (الاعراف۔۔۔۱۶۵)
۱۳۔ ہماری دی ہوئی کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو (الاعراف:۱۷۱)
۱۴۔ جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا۔ (الاعراف۔۔۔۱۷۴)
۱۵۔ اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے۔ اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو۔  (الاعراف۔۔۔۱۸۰)
۱۶۔ تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔(الاعراف۔۔۔۱۹۳)
۱۷۔ نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔ (الاعراف:۱۹۹)
۱۸۔ جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو۔ (الاعراف۔۔۔۲۰۴)
۱۹۔ رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ(الاعراف:۲۰۵)
۲۰۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔ (الانفال:۲)
۲۱۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (الانفال:۴)
۲۲۔جب تم لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔ (الانفال۔۔۔۱۵)
۲۳۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔(الانفال۔۔۔۲۰)
۲۴۔ ا للہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر لبیک کہو۔ (الانفال۔۔۔۲۴)
۲۵۔اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو(الانفال:۲۷)
۲۶۔ اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا۔  (الانفال۔۔۔۲۹)
۲۷۔ حق کو ماننے سے انکار کر نے والے اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں (الانفال:۳۵)
۲۸۔ ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ (الانفال۔۔۔۳۹)
٭٭



۱۰۔۔۔ واعلمو میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اُس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ اور رشتہ داروں 
 اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔(الانفال۔۔۔۴۱)
۲۔ جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الانفال۔۔۔۴۵)
۳۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی (الانفال:۴۵)
۴۔ اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلنے والوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو  (الانفال:۴۶)
۵۔ انہوں نے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے گناہوں کی پاداش میں ا نہیں ہلاک کیا (الانفال۔۔۔۵۴)
۶۔ کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو عَلانیہ اس کے آگے پھینک دو(الانفال۔۔۔۵۸)
۷۔ زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو (الانفال:۵۹)
۸۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا۔  (الانفال:۶۰)
۹۔ جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔(الانفال:۶۹)
۱۰۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں (الانفال:۷۲)
۱۱۔ جو ایمان لائے، اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جنہوں نے پناہ دی،  مدد کی وہی سچے مومن ہیں (الانفال:۷۴)
۱۲۔ اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۳)
۱۳۔اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو۔(اسورۃ التوبۃ۔۔۔۵)
۱۴۔ اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے  تو اسے پناہ دے دو (التوبہ:۶)
۱۵۔ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۷)
۱۶۔ اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہو گئے(التوبہ:۹)
۱۷۔ پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔  ( التوبۃ۔۔۔۱۰)
۱۸۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔(سورۃ التوبۃ۔۔۔۱۴)
۱۹۔ اللہ کی مسجدوں کے آبادکار (مُجاور و خادم) تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخر کو مانیں ، اور نماز قائم کریں ، زکوٰۃ دیں ، اور ا للہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۱۸)
۲۰۔ اللہ کے ہاں تو اُنہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا، وہی کامیاب ہیں۔  (سورۃ التوبۃ۔۔۔۲۱)
۲۱۔ اپنے باپ بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۲۲)
۲۲۔ مشرکین ناپاک ہیں ، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجدِ حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ (التوبہ۔۔۔۲۸)
۲۳۔انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۳۰)
۲۴۔ دردناک سزا کی خوشخبری دو اُن کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔(سورۃ التوبۃ۔۔۔۳۴)
۲۵۔ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۳۸)
۲۶۔ نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔ جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ (التوبہ:۴۱)
۲۷۔ نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں۔  (سورۃ التوبۃ۔۔۔۵۴)
۲۸۔ یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں ، اور اُن کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرضداروں کی مدد کرنے میں اور راہِ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔  (سورۃ التوبۃ۔۔۔۶۰)
۲۹۔ منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔  برائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۶۷)
۳۰۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ ( التوبۃ۔۔۔۷۱)
۳۱۔ جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا تو وہ بخل پر اتر آئے۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۷۵)
٭٭


۱۱ ۔۔۔یعتذرون میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسولﷺ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔  (سورۃ التوبۃ۔۔۔۹۹)
۲۔ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے۔ ( التوبۃ۔۔۔۱۰۴)
۳۔ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو۔( التوبۃ:۱۰۹)
۴۔ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ (التوبۃ۔۔۔۱۱۱)
۵۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اس کی بندگی بجا لانے والے،اس کی تعریف کے گُن گانے والے، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے۔( سورۃ التوبۃ۔۔۔۱۱۲)
۶۔ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا نہ کرو چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ( التوبۃ۔۔۔۱۱۲)
۷۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔(سورۃ التوبۃ۔۔۔۱۱۹)
۸۔ آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے۔ (سورۃ التوبۃ۔۔۔۱۲۲)
۹۔ یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے۔(التوبۃ۔۔۔۱۳۰)
۱۰۔ ہر اس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غلط روی سے بچنا چاہتے ہیں۔ (سورۃ یونس۔۔۔۶)
۱۱۔ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں ، اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہو گا۔  (سورۃ یونس۔۔۔۷)
۱۲۔انسان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے،  بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے۔ مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔( یونس:۱۲)
۱۳۔ تم سے پہلے کی قوموں کو ہم نے ہلاک کر دیا، جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی۔ ( یونس۔۔۔۱۴)
۱۴۔ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھُوٹا قرار دے۔(سورۃ یونس۔۔۔۱۷)
۱۵۔یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔( یونس۔۔۔۱۸)
۱۶۔لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم اُن کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالبازیاں شروع کر دیتے ہیں۔ (سورۃ یونس۔۔۔۲۱)
۱۷۔ لوگو! تمہاری یہ بغاوت تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے۔ دنیا کی زندگی کے مزے چند روزہ ہیں (سورۃ یونس:۲۳)
۱۸۔ جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔( یونس۔۔۔۲۶)
۱۹۔ جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اُن کی برائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے۔(یونس۔۔۔۲۷)
۲۰۔ وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔(سورۃ یونس۔۔۔۳۴)
۲۱۔ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (سورۃ یونس۔۔۔۴۲)
۲۲۔ فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا۔ (سورۃ یونس۔۔۔۴۴)
۲۳۔ تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔(یونس۔۔۔۵۷)
۲۴۔ تقویٰ کا رویہ اختیار کرنے والے مومنوں کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔( یونس:۶۳)
۲۵۔ جو لوگ اللہ کے سوا کچھ شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں۔  ( یونس۔۔۔۶۶)
۲۶۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پا سکتے۔(سورۃ یونس۔۔۔۶۹)
۲۷۔ ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیتے ہیں۔  ( یونس۔۔۔۷۴)
۲۸۔ ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے(سورۃ یونس۔۔۔۸۹)
۲۹۔ شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے۔ ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔(سورۃ یونس۔۔۔۹۵)
۳۰۔ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اللہ اُن پر گندگی ڈال دیتا ہے۔ (سورۃ یونس۔۔۔۱۰۰)
۳۱۔ یکسو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کر دے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو۔ اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان۔(سورۃ یونس۔۔۔۱۰۵)
۳۲۔ تم اُس ہدایت کی پیروی کیے جاؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جا رہی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔ اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس۔۔۔۱۰۹)
۳۳۔ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اُس کا فضل عطا کرے گا۔(سورۃ ھود۔۔۔۳)
٭٭



۱۲۔۔۔ومآمن دآبۃ میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔(سورۃ ھود۔۔۔۶)
۲۔ ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اُس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔(سورۃ ھود۔۔۔۹)
۳۔ جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں۔  (سورۃ ھود۔۔۔۱۵)
۴۔ اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ (سورۃ ھود۔۔۔۱۸)
۵۔ خدا کی لعنت ہے ظالموں پر۔  اُن ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت سے انکار کرتے ہیں۔   (سورۃ ھود۔۔۔۱۹)
۶۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں ( ھود:۲۲)
۷۔ اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اُس کی طرف پلٹو۔(سورۃ ھود۔۔۔۵۱)
۸۔ اللہ کی بندگی کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔(سورۃ ھود۔۔۔۶۱)
۹۔ وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے اُن کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔(سورۃ ھود۔۔۔۶۸)
۱۰۔ ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔(سورۃ ھود۔۔۔۸۵)
۱۱۔ اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رُجوع کرتا ہوں۔ (ھود۔۔۔۸۹)
۱۲۔ نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ (سورۃ ھود۔۔۔۱۱۴)
۱۳۔ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیئے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے۔(سورۃ ھود۔۔۔۱۱۷)
۱۴۔ پیغمبروں کے قصوں کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور مومنوں کو نصیحت نصیب ہوئی۔( ھود۔۔۔۱۲۰)
۱۵۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔( یوسف۔۔۔۴)
٭٭



۱۳۔۔۔ومآابرّیٔ میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الّا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو(سورۃ یوسف۔۔۔۵۳)
۲۔ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔ (یوسف:۹۲)
۳۔اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہیں ( یوسف:۱۰۵)
۴۔آخرت کا گھر اُن کے لیے زیادہ بہتر ہے جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی۔ (یوسف۔۔۔۱۰۹)
۵۔ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔( الرعد۔۔۔۱۱)
۶۔ اُسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔   (سورۃ الرعد۔۔۔۱۴)
۷۔ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔  (سورۃ الرعد۔۔۔۲۰)
۸۔اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں ،اسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے( الرعد:۲۱)
۹۔ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۲۱)
۱۰۔ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۲۲)
۱۱۔ ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے عَلانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۲۲)
 ۱۲۔اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۲۲)
 ۱۳۔وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں۔  (سورۃ الرعد۔۔۔۲۵)
۱۴۔جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔(سورۃ الرعد۔۔۔۲۵)
۱۵۔جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، وہ لعنت کے مستحق ہیں۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۲۵)
 ۱۶۔اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۲۹)
۱۷۔ خدا کے ساتھ کفر کرنے والوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے( الرعد:۳۱)
 ۱۸۔خدا ترس انسانوں کے لیے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (سورۃ الرعد۔۔۔۳۵)
۱۹۔منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔(سورۃ الرعد۔۔۔۳۵)
۲۰۔قرآنی واقعات میں ہر اُس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو صابر و شاکر ہو۔(سورۃ ابراہیم۔۔۔۵) 
۲۱۔ شکرگزار بنو گے تو اور زیادہ نوازوں گا۔ اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔( ابراہیم:۷) 
 ۲۲۔اذیتوں پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔ ( ابراہیم:۱۲) 
 ۲۳۔اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں ؟(ابراہیم۔۔۔۲۹)
 ۲۴۔نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھُپے خرچ کریں (ابراہیم:۳۱)
۲۵۔اگر تم اللہ کی نعمتوں کا  شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے۔(سورۃ ابراہیم۔۔۔۳۴) 
۲۶۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشُکرا ہے۔ (سورۃ ابراہیم۔۔۔۳۴) 
 ۲۷۔مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا، پروردگار۔ ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے( ابراہیم:۳۵) 
 ۲۸۔اے میرے پروردگار! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا۔(سورۃ ابراہیم۔۔۔۴۰)
٭٭


 
۱۴ ۔۔۔ربما   میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔  (سورۃ الحِجر۔۔۔۵۶)
۲۔ہم نے قرآن عظیم عطا کیا ہے جس کی آیتیں بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں۔   (الحِجر۔۔۔۸۴)
۳۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔( الحِجر۔۔۔۹۹)
۴۔سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے تر و تازہ گوشت لے کر کھاؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۴)
۵۔تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۴)
۶۔ اس نے دریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۶)
۷۔اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔( النحل:۲۱)
۸۔اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔ (سورۃ النحل۔۔۔۳۶)
۹۔ مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں۔  ( النحل۔۔۔۴۲)
۱۰۔دو خدا نہ بنا لو۔خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو۔(سورۃ النحل۔۔۔۵۱)
۱۱۔ رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے( النحل:۵۵)
۱۲۔ شیطان نے اُن کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بنا کر دکھائے۔  (سورۃ النحل۔۔۔۶۳)
۱۳۔ اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے۔ ( النحل۔۔۔۷۳)
۱۴۔اس نے تمہیں کان، آنکھیں اور سوچنے والے دل دیئے تا کہ تم شکرگزار بنو۔(سورۃ النحل:۷۸)
۱۵۔ وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرمانبردار بنو۔ (سورۃ النحل۔۔۔۸۲)
۱۶۔جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا۔ (سورۃ النحل۔۔۔۸۸)
۱۷۔اللہ عدل، احسان اور صلۂ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی، بے حیائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔( النحل:۹۰)
۱۸۔اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو۔(سورۃ النحل۔۔۔۹۰)
۱۹۔ اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو۔ (سورۃ النحل۔۔۔۹۰)
 ۲۰۔تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و  فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔(سورۃ النحل۔۔۔۹۱)
 ۲۱۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا بُرا نتیجہ دیکھو گے اور سزا بھگتو گے۔(سورۃ النحل۔۔۔۹۴)
۲۲۔ اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو۔(سورۃ النحل۔۔۔۹۴)
۲۳۔ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔(سورۃ النحل۔۔۔۹۸)
۲۴۔ جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا۔  ( النحل۔۔۔۱۰۵)
۲۵۔ جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۰۶)
۲۶۔ وہ ستائے گئے تو گھر بار چھوڑ دیئے، ہجرت کی، راہ خدا میں سختیاں جھیلیں اور صبر سے کام لیا( النحل:۱۱۰)
۲۷۔ اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو( النحل:۱۱۲)
۲۸۔اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے، وہ ہے مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۱۵)
۲۹۔ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کی خواہش کے بغیر اور حد ضرورت سے تجاوز نہ کر کے اگر کوئی حرام چیزوں کو کھا لے تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۱۶)
۳۰۔یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگاکر اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۱۷)
۳۱۔ البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر لی تو یقیناً توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب ان کے لیے غفور اور رحیم ہے۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۱۹)
 ۳۲۔یک سُو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقے پر چلو۔ (سورۃ النحل۔۔۔۱۲۲)
۳۳۔ اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اُسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے۔(سورۃ النحل۔۔۔۱۲۲)
٭٭



۱۵۔۔۔سبحٰن الذی  میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔(  بنی اسرائیل۔۔۔۲) 
۲۔کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔(  بنی اسرائیل۔۔۔۸)
۳۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔(  بنی اسرائیل۔۔۔۱۱)
۴۔ جو کوئی جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہشمند ہو، اسے ہم یہیں دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں۔ پھر اس کی قسمت میں جہنم لکھ دیتے ہیں۔ (سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۱۸) 
۵۔ اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہو گی۔(سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۱۹) 
۶۔اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یارومددگار بیٹھا رہ جائے گا۔(  اسرائیل:۲۲)
۷۔والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔( بنی اسرائیل۔۔۔۲۳)
۷۔ رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق۔(سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۲۶)
۸۔ فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔ (سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۲۶)
۹۔ نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ عاجز بن کر رہ جاؤ(  بنی اسرائیل:۲۹)
۱۰۔اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔(سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۳۱)
۱۱۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ۔(سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۳۲)  
۱۲۔ قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ (  بنی اسرائیل۔۔۔۳۳)  
۱۳۔ ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس قتل میں حد سے نہ گزرے( بنی اسرائیل:۳۴)  
۱۴۔ مالِ یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے۔(سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۳۵)  
۱۵۔ پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو۔ (سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۳۶)  
۱۶۔ زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو( بنی اسرائیل۳۷)  
۱۷۔ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔( بنی اسرائیل۔۔۔۳۹)  
۱۸۔زبان سے بہترین بات نکالا کرو۔  شیطان انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے(  بنی اسرائیل:۵۳)  
۱۹۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے۔ (سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۶۷) 
۲۰۔ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے۔(سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۶۹)  
۲۱۔ نماز قائم کرو زوالِ آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک( سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۷۸)
 ۲۲۔ فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآنِ فجر مشہود ہوتا ہے۔( سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۷۸)
 ۲۳۔اور رات کو تہجد پڑھو۔ ( سورۃ  بنی اسرائیل۔۔۔۷۹)  
۲۴۔جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا ہے اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔(بنی اسرائیل۔۔۔۸۳)
۲۵۔ اگر انسان اور جن سب مل کر قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے۔ (  بنی اسرائیل:۸۸)  
۲۶۔ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں۔ (بنی اسرائیل:۱۱۰)
۲۷۔ نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھو نہ بہت پست آواز سے بلکہ اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔(بنی اسرائیل:۱۱۰)
۲۸۔ آسمانوں اور زمین کا رب ہی ہمارا رب ہے۔ ہم کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے( الکھف:۱۴)
۲۹۔اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ (سورۃ الکھف۔۔۔۱۵)
۳۰۔ کسی چیز کے بارے میں کبھی نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا،۔ الاّ یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو۔(سورۃ الکھف۔۔۔۲۳)
۳۱۔ خواہشِ نفس کی پیروی کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو،جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہو (الکھف:۲۸)
۳۲۔ انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔ (سورۃ الکھف۔۔۔۴۴) 
۳۳۔ قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔( الکھف:۵۴)
۳۴۔ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سُنا کر نصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے۔(سورۃ الکھف۔۔۔۵۷)
٭٭



۱۶ ۔۔۔ قال الم   میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ (سورۃ الکھف۔۔۔۱۰۱)
۲۔جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں ؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔(سورۃ الکھف۔۔۔۱۰۲)
۳۔ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ وہ ہیں جن کی دنیا کی زندگی میں ساری جدو جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ (سورۃ الکھف۔۔۔۱۰۴)
۴۔ جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُ س کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ( الکھف:۱۰۵)
۵۔ مومنین جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے۔ ( الکھف:۱۰۷)
۶۔ جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ (سورۃ الکھف۔۔۔۱۱۰)
۷۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو،یہی سیدھی راہ ہے۔ ( مریم:۳۵)
۸۔ آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ کوئی کام بناسکتی ہیں ؟ ( مریم:۴۲)
۹۔ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ، شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔(سورۃ مریم۔۔۔۴۴)
۱۰۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا۔ (سورۃ مریم۔۔۔۵۳)
۱۱۔ جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی۔ (سورۃ مریم۔۔۔۵۹)
۱۲۔ توبہ کر کے ایمان لانے اور نیک عمل اختیار کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے۔ ( مریم۔۔۔۶۰)
۱۳۔ہر اس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا۔( مریم۔۔۔۶۹)
۱۴۔ ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو متقی تھے۔  (سورۃ مریم۔۔۔۷۲)
۱۵۔ اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے پشتیبان ہوں گے۔ کوئی پشتیبان نہ ہو گا ( مریم:۸۱)
۱۶۔ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو۔ (سورۃ مریم۔۔۔۹۷)
۱۷۔ تم چاہے پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اُس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے۔( طٰہٰ۔۔۔۷)
۱۸۔ تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ (سورۃ طٰہٰ۔۔۔۱۴)
۱۹۔ تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔(سورۃ طٰہٰ۔۔۔۱۵)
۲۰۔ سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے۔  (طٰہٰ۔۔۔۴۸)
۲۱۔ اللہ پر جھوٹی تہمتیں نہ باندھو ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کر دے گا۔ (طٰہٰ۔۔۔۶۱)
۲۲۔ کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو۔(سورۃ طٰہٰ۔۔۔۸۱)
۲۳۔ جو توبہ کر لے، اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے اس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔  (سورۃ طٰہٰ۔۔۔۸۲)
۲۴۔ اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔(سورۃ طٰہٰ۔۔۔۱۱۴)
۲۵۔جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گانہ بدبختی میں مبتلا ہو گا۔ اور جو میرے ’’ذکر‘‘ سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔( طٰہٰ۔۔۔۱۲۲)
۲۶۔ صبر کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی۔ (سورۃ طٰہٰ۔۔۔۱۲۹)
۲۷۔ تیرے رب کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔(سورۃ طٰہٰ۔۔۔۱۳۱)
٭٭


۱۷۔۔۔اقترب للناس میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ( الانبیاء:۱)
۲۔ تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔ (سورۃ الانبیاء۔۔۔۲۵)
۳۔ ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ (سورۃ الانبیاء۔۔۔۳۵)
۴۔ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو حساب کی گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو۔ (الانبیاء۔۔۔۴۹)
۵۔ انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی۔ (الانبیاء:۷۳)
۶۔ یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے آگے جھُکے ہوئے تھے۔ (سورۃ الانبیاء۔۔۔۹۰)
۷۔انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے(الانبیاء:۹۳)
۸۔ جو مومن نیک عمل کرے گا تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہو گی۔ (سورۃ الانبیاء۔۔۔۹۴)
۹۔ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہونگے۔ (الانبیاء۔۔۔۱۰۶)
۱۰۔ جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطانِ سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں (الحج:۳)
۱۱۔ بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر گردن اکڑائے ہوئے، خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں۔  (سورۃ الحج۔۔۔۸)
۱۲۔ پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ۔ (سورۃ الحج۔۔۔۱۲)
۱۳۔ہم نے کھلی باتوں کے ساتھ قرآن کو نازل کیا اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔(الحج:۱۶)
۱۴۔ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں۔  (سورۃ الحج۔۔۔۲۰)
۱۵۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے،  اللہ انہیں جنتوں میں داخل کرے گا (الحج:۲۳)
۱۶۔ مسجد حرام میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں۔  (الحج۔۔۔۲۵)
۱۷۔ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو۔  (سورۃ الحج۔۔۔۲۶)
۱۸۔ اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کعبہ کا طواف کریں۔ (سورۃ الحج۔۔۔۲۹)
۱۹۔ تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ماسوا ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں۔ ( الحج:۳۱)
۲۰۔ پس بتوں کی گندگی سے بچو۔یکسو ہو کر اللہ کے بندے بنو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔(الحج:۳۱) 
۲۱۔ ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے۔  (سورۃ الحج۔۔۔۳۱) 
۲۲۔ بشارت دے دو، عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو۔  (سورۃ الحج۔۔۔۳۴)
۲۳۔ہر مصیبت پر صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔  (الحج:۳۵)
۲۴۔ اللہ کونہ قربانی کے گوشت پہنچتا ہے نہ خون، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔(الحج۔۔۔۳۷)
۲۵۔ اللہ کسی خائن کافرِ نعمت کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ الحج۔۔۔۳۸)
۲۶۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے،زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے۔ (سورۃ الحج۔۔۔۴۱)
۲۷۔ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔( الحج۔۔۔۵۰)
۲۸۔جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں۔ (الحج۔۔۔۵۰)
۲۹۔شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی ان لوگوں کے لیے کو فتنہ بنا دے گی جن کے دل کھوٹے ہیں۔  (الحج:۵۳)
۳۰۔ ایمان کے ساتھ عمل صالح کرنے والے نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے۔(الحج۔۔۔۵۷)
۳۱۔ جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہو گا ان کے لیے رسوا کن عذاب ہو گا (الحج:۵۷)
۳۲۔ جنہوں نے راہِ خدا میں ہجرت کی،  پھر قتل کر دیئے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا( الحج:۵۸)
۳۳۔ بدلہ ویسا ہی لو جیسا تمہارے ساتھ کیا گیا ہو۔ زیادتی ہوئی ہو تو اللہ ضرور مدد کرے گا( الحج:۶۰)
۳۴۔ اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں۔  (سورۃ الحج۔۔۔۶۲)
۳۵۔ اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو۔ (الحج۔۔۔۷۷)
۳۶۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔(سورۃ الحج۔۔۔۷۷)
۳۷۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ۔۔ (سورۃ الحج۔۔۔۷۸)
٭٭



۱۸۔۔۔قد افلح میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون۔۔۔۲)
۲۔ لغویات سے دور رہتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون۔۔۔۳)
 ۳۔زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون۔۔۔۴)
۴۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیویوں اور ان عورتوں کے جو مِلک یمین میں ہوں۔ ( المؤمنون:۵)
۵۔ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔  (سورۃ المؤمنون۔۔۔۸)
۶۔ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون۔۔۔۹)
۷۔ انہوں نے تکبر کیا اور بڑی سرکشی کی۔(سورۃ المؤمنون۔۔۔۴۶)
۸۔ کھاؤ پاک چیزیں اور صالح عمل کرو۔ (سورۃ المؤمنون۔۔۔۵۱)
۹۔ اللہ نے تمہیں سننے، دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیئے مگر تم کم ہی شکرگزار ہوتے ہو( المؤمنون:۷۸)
۱۰۔زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ (سورۃ النور۔۔۔۲)
۱۱۔زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ۔اور زانیہ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک کے ساتھ۔ اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہل ایمان پر۔(سورۃ النور۔۔۔۳)
۱۲۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والے چار گواہ لے کر نہ آئیں تو انہیں ۸۰ کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔(سورۃ النور۔۔۔۴)
۱۳۔اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ سچا ہو۔ (سورۃ النور۔۔۔۶۔۸)
۱۴۔ مومنین کے گروہ میں فحش پھیلانے والے دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔ (النور:۱۹)
۱۵۔ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ (النور۔۔۔۲۰)
۱۶۔ رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ کی مدد نہ کرنے پر صاحبِ فضل لوگ قسم نہ کھا بیٹھیں ( النور:۲۲)
۱۷۔ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگا نے والوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ( النور:۲۳)
۱۸۔خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ ( النور۔۔۔۲۵)
۱۹۔پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ ( النور۔۔۔۲۵)
۲۰۔ دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اُن سے اجازت نہ لے لو اور اُن پر سلام نہ بھیج لو (النور:۲۷)
۲۱۔ جب تک اجازت نہ دیدی جائے، داخل نہ ہو۔واپس جانے کو کہا جائے تو واپس ہو جاؤ (النور:۲۸)
۲۲۔ کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں۔  (النور۔۔۔۲۹)
۲۳۔مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ ( النور:۳۰)
۲۴۔ مومن عورتیں اپنی نظریں بچا کر رکھیں ،اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں۔  ( النور:۳۱)
۲۵۔ وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں ،ا پنے لونڈی غلام، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہو، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ ( النور:۳۱)
۲۶۔ وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت کا لوگوں کو علم ہو جائے( النور:۳۱)
۲۷۔ جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ، ان کے نکاح کر دو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا۔ (سورۃ النور۔۔۔۳۲)
۲۸۔ جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیں کہ عفت مآبی اختیار کریں۔ (سورۃ النور۔۔۔۳۳)
۲۹۔ تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کر لو۔ (النور۔۔۔۳۴)
۳۰۔ اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو۔ (سورۃ النور۔۔۔۳۴)
۳۱۔ ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی ہے۔(سورۃ النور۔۔۔۳۷)
۳۲۔ جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا
اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا۔(سورۃ النور۔۔۔۳۹)
۳۳۔ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔  (سورۃ النور۔۔۔۵۶)
۳۴۔ نماز قائم کرو،زکوٰۃ دو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔(سورۃ النور۔۔۔۵۶)
۳۵۔لونڈی غلام اور چھوٹے بے عقل بچے تمہارے پاس پردے کے ان تین اوقات میں اجازت 
لے کر آیا کریں۔  صبح کی نماز سے پہلے، دوپہر کو اور عشاء کی نماز کے بعد۔(سورۃ النور۔۔۔۵۸)
۳۶۔ان کے بعد وہ بلااجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔تمہیں ایک دوسرے کے پاس
 بار بار آنا ہی ہوتا ہے۔(سورۃ النور۔۔۔۵۸)
۳۷۔ جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو بڑوں کی طرح اجازت لے کر آیا کریں (النور:۵۹)
۳۸۔ جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں ، نکاح کی امیدوار نہ ہوں ، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں 
 تو ان پر کوئی گناہ نہیں ، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ (سورۃ النور۔۔۔۶۰)
۳۹۔ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے،یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان کے گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں ، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (النور۔۔۔۶۱)
۴۰۔ کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔(سورۃ النور۔۔۔۶۲)
۴۱۔ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو۔(سورۃ النور۔۔۔۶۲)
۴۲۔ لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو اپنے لیے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں۔  نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں۔  (الفرقان:۳)
۴۳۔ ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ کیا تم صبر کرتے ہو؟( الفرقان:۲۰)
٭٭



۱۹۔۔۔ وقال الذین میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ (الفرقان:۵۰)
۲۔ کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔(الفرقان:۵۲)
۳۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔(سورۃ الفرقان۔۔۔۵۸)
۴۔رحمن کے بندے زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔( الفرقان:۶۳)
۵۔ جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ (سورۃ الفرقان۔۔۔۶۴)
۶۔ فضول خرچی کرو نہ بُخل بلکہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہو۔(الفرقان۔۔۔۶۶)
۷۔جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔(سورۃ الفرقان۔۔۔۶۷)
۸۔ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے۔(سورۃ الفرقان۔۔۔۶۷)
۹۔ اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (سورۃ الفرقان۔۔۔۶۸)
۱۰۔جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔(سورۃ الفرقان۔۔۔۷۲)
۱۱۔اور کسی لغو چیز پران کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ (الفرقان۔۔۔۷۲)
۱۲۔ تم اللہ سے ڈرو۔(سورۃ الشعراء۔۔۔۱۲۴)
۱۳۔ پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو(الشعراء:۱۷۷)
۱۴۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔(سورۃ الشعراء۔۔۔۱۷۸)
۱۵۔ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ (سورۃ الشعراء۔۔۔۲۱۴)
۱۶۔ شعراء کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔  وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔ (الشعراء:۲۲۴)
۱۷۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے نیک مومنین پر جب ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا (الشعراء:۲۲۶)
۱۸۔ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ (سورۃ النمل۔۔۔۳)
۱۹۔ آخرت کو نہ مانتے والوں کیلئے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا گیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں ( النمل:۴)
٭٭



۲۰۔۔۔امن خلق میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔(سورۃ النمل۔۔۔۷۳)
۲۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ (سورۃ النمل۔۔۔۷۸)
۳۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا۔ (سورۃ النمل۔۔۔۸۸)
۴۔ جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے (النمل:۸۹)
۵۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ شہر مکہ کے رب کی بندگی کروں۔ (سورۃ النمل۔۔۔۹۱)
 ۶۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں اور یہ قرآن پڑھ کر سُناؤں۔ (سورۃ النمل۔۔۔۹۲)
۷۔ اے میرے رب، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے؟۔(القصص۔۔۔۱۶)
۸۔ زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا۔ (سورۃ القصص۔۔۔۳۹)
۹۔ وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں ( القصص:۵۳)
۱۰۔ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔(سورۃ القصص۔۔۔۵۵)
۱۱۔ ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔( القصص:۵۹)
۱۲۔ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا۔(سورۃ القصص۔۔۔۶۶)
۱۳۔ وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ (سورۃ القصص۔۔۔۶۹)
۱۴۔ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ شاید کہ تم شکرگزار بنو۔ (سورۃ القصص۔۔۔۷۳)
۱۵۔پھُول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ القصص۔۔۔۷۷)
۱۶۔اللہ کے عطا کردہ مال سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔( القصص:۷۷)
۱۷۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔(سورۃ القصص۔۔۔۷۷)
 ۱۸۔اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔ اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔(القصص۔۔۔۷۷)
۱۹۔ نیک عمل کرنے والے مومن کے لیے اللہ کا ثواب بہتر ہے مگر یہ دولت صابرین ہی کو ملتی ہے۔(القصص۸۰)
۲۰۔ جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ (سورۃ القصص۔۔۔۸۳)
۲۱۔ جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے۔(سورۃ القصص۔۔۔۸۴)
۲۲۔ برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔(سورۃ القصص۔۔۔۸۴)
۲۳۔ اپنے رب کی طرف دعوت دو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔(القصص۔۔۔۸۷)
۲۴۔ انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔(العنکبوت۔۔۔۸)
۲۵۔اللہ کی بندگی کرو اور اُسی سے ڈرو۔(سورۃ العنکبوت۔۔۔۱۶)
۲۶۔ اللہ سے رزق مانگو، اُسی کی بندگی کرو اور اُس کا شکر ادا کرو۔ (سورۃ العنکبوت۔۔۔۱۷)
۲۷۔ انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا۔ (سورۃ العنکبوت۔۔۔۳۹)
٭٭



۲۱۔۔۔اتل مآاوحی میں امر و نہی کی تعلیمات


۱۔ نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔(سورۃ العنکبوت۔۔۔۴۵)
۲۔ اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے۔  (سورۃ العنکبوت۔۔۔۴۵)
۳۔ ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔ (سورۃ العنکبوت۔۔۔۴۷)
۴۔باطل کو ماننے اور اللہ سے کفر کرنے والے خسارے میں رہنے والے ہیں۔ (العنکبوت۔۔۔۵۲)
۵۔ تم میری ہی بندگی بجا لاؤ۔(سورۃ العنکبوت۔۔۔۵۶)
۶۔جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (سورۃ العنکبوت۔۔۔۵۹)
۷۔کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کُفران کرتے ہیں۔ (العنکبوت۔۔۔۶۷)
۸۔جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔  (سورۃ الروم۔۔۔۱۵)
۹۔ صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو اور تیسرے پہر اور جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔( الروم۔۔۔۱۸۔۱۷)
۱۰۔تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو۔(الروم:۲۰)
۱۱۔ رات کو سونا اور دن کو اللہ کا فضل کو تلاش کرنا ہے۔(الروم۔۔۔۲۳)
۱۲۔یک سُو ہو کر اپنا رُخ اس دین کی سمت میں جما دو۔(سورۃ الروم۔۔۔۳۰)
۱۳۔ اُن مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے۔(سورۃ الروم۔۔۔۳۲)
۱۴۔ کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں۔ (الروم۔۔۔۳۴)
۱۵۔  رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافر کو اس کا حق۔ (سورۃ الروم۔۔۔۳۷)
۱۶۔ مال میں اضافہ سود سے نہیں بلکہ زکوٰۃ سے ہوتا ہے۔(سورۃ الروم۔۔۔۳۹)
۱۷۔ رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو۔ (سورۃ الروم۔۔۔۴۷)
۱۸۔ جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔  ( سورۃ الروم۔۔۔۵۳)
۱۹۔ جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (سورۃ لقمان۔۔۔۴)
۲۰۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رُخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں۔ (سورۃ لقمان۔۔۔۷)
۲۱۔ جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے۔(سورۃ لقمان۔۔۔۱۲)
۲۲۔ اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز ہے۔(سورۃ لقمان۔۔۔۱۲)
۲۳۔ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔(سورۃ لقمان۔۔۔۱۳)
۲۴۔ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا۔(سورۃ لقمان۔۔۔۱۴)
۲۵۔ بیٹا، نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر(لقمان:۱۷)
۲۶۔ لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند شخص کو پسند نہیں کرتا۔(لقمان:۱۸)
۲۷۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ۔(لقمان۔۔۔۱۹)
۲۸۔جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کر دے اور عملاً وہ نیک ہو۔(سورۃ لقمان۔۔۔۲۲)
۲۹۔ اللہ ہی حق ہے اور اُسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ ( لقمان:۳۰)
۳۰۔ بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔(سورۃ لقمان۔۔۔۳۱)
۳۱۔  غدار اور ناشکرا ہی اللہ کی  نشانیوں کا انکار کرتا ہے۔ (سورۃ لقمان۔۔۔۳۲)
۳۲۔ لوگو! بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو قیامت کے دن سے۔(سورۃ لقمان۔۔۔۳۳)
۳۳۔ یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے۔(سورۃ لقمان۔۔۔۳۴)
۳۴۔ یہ آیات سُنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔(سورۃ السجدہ۔۔۔۱۵)
۳۵۔رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ( السجدہ:۱۶)
۳۶۔  انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے۔(سورۃ السجدہ۔۔۔۲۴)
۳۷۔ اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۱)
۳۸۔اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۳)
۳۹۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں  تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ (سورۃ الاحزاب۔۔۔۵)
۴۰۔ عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ (الاحزاب۔۔۔۶)
۴۱۔ اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا۔(الاحزاب۔۔۔۱۶)
۴۲۔ جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۲۱)
٭٭



۲۲  ۔۔۔ و من یقنت میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں  پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۳۲)
 ۲۔اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سَج دھج نہ دکھاتی پھرو۔(الاحزاب۔۔۔۳۲)
۳۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۳۳)
۴۔ جو مرد اور عورتیں مسلم ہیں ،مومن ہیں ، مطیع فرمان ہیں ، راست باز ہیں ، صابر ہیں (الاحزاب:۳۵)
۵۔،اللہ کے آگے جھُکنے والے، صدقہ دینے والے اور روزے رکھنے والے ہیں۔ (الاحزاب۔۔۔۳۵)
۶۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں (الاحزاب:۳۵)
۷۔مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہیں جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں۔ (سورۃ الاحزاب۔۔۔۳۷)
۸جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (احزاب:۳۹)
۹۔ اے مومنو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۴۱)
۱۰۔ کفار و منافقین سے ہرگز نہ دبو،ان کی اذیت رسانی کی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ کر لو(احزاب:۴۷)
۱۱۔ اے مومنو!اگر تم مومن عورتوں سے نکاح کے بعد انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو ان پر کوئی
 عدت لازم نہیں ہے۔(الاحزاب۔۔۔۴۹)
۱۲۔ جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۵۸)
۱۳۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ (الاحزاب۔۔۔۵۹)
۱۴۔مومنو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔(سورۃ الاحزاب۔۔۔۷۰)
۱۵۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔( الاحزاب۔۔۔۷۱)
۱۶۔ عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں۔  (سورۃ سبا۔۔۔۱۳)
۱۷۔رب جسے چاہتا ہے، کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے۔ (سبا۔۔۔۳۶)
۱۸۔ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو۔ ( سورۃ فاطر۔۔۔۱۲)
۱۹۔ اللہ کو چھوڑ کر جن دُوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پر کاہ کے مالک بھی نہیں ہیں۔ ( فاطر۔۔۔۱۴)
۲۰۔ انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سُن نہیں سکتے اور سُن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے(  فاطر:۱۴)
۲۱۔ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (سورۃ فاطر۔۔۔۱۷)
۲۲۔ جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (سورۃ فاطر۔۔۔۲۹)
۲۳۔ اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھُپے خرچ کرتے ہیں۔ (فاطر۔۔۔۲۹)
۲۴۔ کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے( فاطر:۳۳)
۲۵۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ (سورۃ فاطر۔۔۔۳۶)
۲۶۔ یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور بُری بُری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے
 چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ (سورۃ فاطر۔۔۔۴۲) 
۲۷۔اے لوگو! رسولوں کی پیروی اختیار ک رلو۔(سورۃ یٰسین۔۔۔۲۱)
٭٭


۲۳ ۔۔۔ و مالی میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (یٰسین۔۔۔۲۲)
۲۔  پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟ (سورۃ یٰسین۔۔۔۳۵)
۳۔  اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو۔(یٰسین۔۔۔۴۶)
۴۔ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(سورۃ یٰسین۔۔۔۶۰)
۵۔میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔(سورۃ یٰسین۔۔۔۶۱)
۶۔ صاف پڑھی جانے والی یہ کتاب ایک نصیحت ہے تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو ( یٰسین:۷۰)
۷۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ (سورۃ  صٰفّٰت۔۔۔۱۱۰)
۸۔ ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس 
کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔(سورۃ  صٓ۔۔۔۲۵)
۹۔ بہترین بندہ وہ ہے جو کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔(سورۃ  صٓ۔۔۔۳۰)
۱۰۔ بے شک اے اللہ! تو ہی اصل داتا ہے۔ (سورۃ  صٓ۔۔۔۳۶)
۱۱۔ ہم نے ایوبؑ  کو صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔(صٓ۔۔۔۴۴)
۱۲۔ ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔(سورۃ  صٓ۔۔۔۷۲)
۱۳۔ میں جہنم کو ابلیس سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ابلیس کی پیروی کریں گے۔ ( صٓ:۸۴)
۱۴۔ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں۔ (الزُمر۔۔۔۲)
۱۵۔ اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا(  الزُمر:۷)
۱۶۔ اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ (سورۃ  الزُمر۔۔۔۷)
۱۷۔ رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا (الزُمر:۸)
۱۸۔ جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے۔ (سورۃ  الزُمر۔۔۔۹)
۱۹۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں۔ (سورۃ  الزُمر۔۔۔۱۱)
۲۰۔ جنہوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا ان کیلئے خوشخبری ہے۔( الزُمر:۱۷)
۲۱۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بلند عمارتیں ہیں۔  (سورۃ  الزُمر۔۔۔۱۹)
۲۲۔کلام اللہ سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ 
 پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ (سورۃ  الزُمر۔۔۔۲۳)
٭٭



۲۴ ۔۔۔ فمن اظلم میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟(سورۃ  الزُمر۔۔۔۴۳) 
۲۔ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ (سورۃ  الزُمر۔۔۔۵۳)
۳۔ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔ (الزُمر۔۔۔۶۵)
۴۔تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔(سورۃ  الزُمر۔۔۔۶۶)
۵۔وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے۔ (سورۃ  الزُمر۔۔۔۷۱)
۶۔جو لوگ رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا(الزُمر:۷۳)
۷۔ سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔(سورۃ  المومن۔۔۔۱۳)
۸۔ اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے۔ (سورۃ  المومن۔۔۔۱۹)
۹۔ اللہ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکّی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں۔  (سورۃ  المومن۔۔۔۳۴) 
۱۰۔ اللہ ہر متکبر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔ (سورۃ  المومن۔۔۔۳۵)
۱۱۔ جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے(المومن:۶۰)
۱۲۔ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ (سورۃ  المومن۔۔۔۶۱)
۱۳۔مجھے تو ان ہستیوں کی عبادت سے منع کر دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو(المومن:۶۵)
۱۴۔ تم زمین میں غیر حق پر مگن تھے اور پھر اس پر اتراتے تھے۔(سورۃ  المومن۔۔۔۷۴)
۱۵۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں۔ ( حٰمٓ السجدہ:۷)
۱۶۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔(سورۃ  حٰمٓ السجدہ۔۔۔۱۴)
۱۷۔ تم بدی کو بہترین نیکی سے دفع کرو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ مگر یہ صفت صبر کر نے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ (حٰمٓ السجدہ۔۔۔۳۵)
۱۸۔ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو (حٰمٓ السجدہ:۳۶)
۱۹۔سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے (حٰمٓ السجدہ:۳۷)
۲۰۔ جو لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھُپے ہوئے نہیں ہیں (حٰمٓ السجدہ:۴۰)
۲۱۔ جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا۔ ( حٰمٓ السجدہ۔۔۔۴۶)
۲۲۔جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہو گا۔ ( حٰمٓ السجدہ۔۔۔۴۶)
٭٭


۲۵۔۔۔ الیہ یرد میں امر و نہی کی تعلیمات


۱۔ ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار۔ (الشوریٰ۔۔۔۸)
۲۔ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔(سورۃ الشوریٰ۔۔۔۱۳)
۳۔ لوگوں میں تفرقہ اس لئے رُو نما ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔( الشوریٰ:۱۳)
۴۔اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور بُرائیوں سے درگزر فرماتا ہے( الشوریٰ:۲۵)
۵۔جو بڑے گناہوں اور بے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں (الشوریٰ:۳۵)
۶۔ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں۔ (سورۃ الشوریٰ۔۔۔۳۷)
۷۔ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں۔ (سورۃ الشوریٰ۔۔۔۳۷)
۸۔ ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (سورۃ الشوریٰ۔۔۔۳۸)
۹۔ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔   بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے۔ پھر جو کوئی معاف کر دے تو اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔(سورۃ الشوریٰ۔۔۔۳۹)
۱۰۔ جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کی ملامت نہیں کی جا سکتی۔(سورۃ الشوریٰ۔۔۔۴۰)
۱۱۔ ملامت کے مستحق وہ ہیں جو ظلم کرتے ہیں اور ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔  (سورۃ الشوریٰ۔۔۔۴۱)
۱۲۔ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اُولو العزمی کے کاموں میں سے ہے۔ ( الشوریٰ:۴۳)
۱۳۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے۔   (سورۃ الشوریٰ۔۔۔۴۶)
۱۴۔تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پُشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو۔  (سورۃ الزُخرف۔۔۔۱۲)
۱۵۔جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں۔ (سورۃ الزُخرف۔۔۔۳۶)
۱۶۔  اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔(سورۃ الدُخان۔۔۔۱۹)
۱۷۔جو اللہ کی آیات کو سُنتا ہے پھر پُورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اَڑا رہتا ہے ایسے شخص کے لئے دردناک عذاب ہے۔(سورۃ الجاثیہ۔۔۔۸)
۱۸۔ تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو۔(سورۃ الجاثیہ۔۔۔۱۲)
۱۹۔ جو نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی خمیازہ بھُگتے گا۔( الجاثیہ:۱۵)
۲۰۔ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ (الجاثیہ:۳۵)
٭٭



۲۶۔۔۔ حٰمٓ میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ اُس سے زیادہ بہکا ہوا کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُنہیں پکارے جو قیامت تک جواب نہیں دے سکتے۔الاحقاف:۵
۲۔ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے۔(الاحقاف۔۔۔۱۵)
۳۔جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں۔   (الاحقاف۔۔۔۲۰)
۴۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ (سورۃ الاحقاف۔۔۔۲۱)
۵۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا۔ (سورۃ محمد۔۔۔۱)
۶۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔ (سورۃ محمد۔۔۔۲)
۷۔ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی (محمد:۳)
۸۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔(محمد:۶)
۹۔ اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جمادے گا( محمد:۷)
۱۰۔  اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔  ( محمد۔۔۔۱۹)
۱۱۔ معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ ( محمد۔۔۔۱۹)
۱۲۔تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ (سورۃ محمد۔۔۔۳۳)
 اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو۔ کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا۔(محمد۔۔۔۳۴)
۱۳۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا۔( محمد۔۔۔۳۷)
۱۴۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔(محمد۔۔۔۳۸)
۱۵۔کچھ لوگ بخل کر رہے ہیں حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔(محمد:۳۸)
۱۶۔ منافق و مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں ( الفتح۔۔۔۶)
۱۷۔ تم اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور رسول کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو۔(الفتح:۸)
۱۸۔ اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔(سورۃ الفتح۔۔۔۸)
۱۹۔ اگر تم نے حکمِ جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا۔ (سورۃ الفتح۔۔۔۱۶)
۲۰۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔ (سورۃ الحجرات۔۔۔۱)
۲۱۔ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔(سورۃ الحجرات۔۔۔۶)
۲۲۔ اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔( الحجرات:۹)
۲۳۔ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو۔  (سورۃ الحجرات۔۔۔۹)
۲۴۔نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں (الحجرات:۱۱)
۲۵۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو ( الحجرات:۱۱)
۲۶۔بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسُس نہ کرو۔ (الحجرات:۱۲)
۲۷۔کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کون ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا(الحجرات:۱۲)
۲۸۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔ (سورۃ الحجرات۔۔۔۱۲)
۲۹۔ تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔(الحجرات:۱۳)
۳۰۔اللہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اُس کے وسوسوں تک کو جانتا ہے۔( قٓ۔۔۔۱۶)
۳۱۔دو کاتب انسان کے دائیں بائیں بیٹھے اس کی زبان سے نکلے ہر لفظ کو محفوظ کر لیتے ہیں ( ق:۱۸۔۱۷)
۳۲۔ اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔ (سورۃ قٓ۔۔۔۴۵)
۳۳۔مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں۔  الذاریات:۱۰
۳۴۔ متقی لوگ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اور رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے ( الذاریات:۱۸)
۳۵۔ اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے۔ (سورۃ الذاریات۔۔۔۱۹)
٭٭



 ۲۷۔۔۔ قال فما خطبکم میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ۔(سورۃ الذاریات۔۔۔۵۰)
۲۔ جنوں اور انسانوں کو اللہ کی بندگی کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔( الذاریات۔۔۔۵۶)
۳۔ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حصے کا بھی عذاب تیار ہے۔ (سورۃ الذاریات۔۔۔۵۶)
۴۔ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں (النجم:۲۳)
۵۔ جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا اور بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے رہے (النجم:۳۲)
۶۔ ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو؟ جھُک جاؤ اللہ کے آگے۔( النجم۔۔۔۶۲)
۷۔ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟ (القمر:۱۷)
۸۔میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔ (الرحمٰن: ۹۔۸)
۹۔ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (سورۃ الرحمٰن۔۔۔۱۳)
۱۰۔ پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے؟ (سورۃ الواقعہ۔۔۔۷۰)
۱۱۔ اپنے ربِ عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ (سورۃ الواقعہ۔۔۔۷۴)
۱۲۔ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر۔(سورۃ الواقعہ۔۔۔۷)
۱۳۔ اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔(سورۃ الواقعہ۔۔۔۷)
۱۴۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔  (سورۃ الحدید۔۔۔۱۰)
۱۵۔ جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔(سورۃ الحدید۔۔۔۱۰)
۱۶۔کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے۔(سورۃ الحدید۔۔۔۱۱)
۱۷۔ جنہوں نے صدقات دے کر اللہ کو قرض حَسَن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ (الحدید:۱۸)
۱۸۔ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہوا اس پر تم دل شکستہ نہ ہو۔(سورۃ الحدید۔۔۔۲۳)
۱۹۔ اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھُول نہ جاؤ۔(سورۃ الحدید۔۔۔۲۳)
۲۰۔ اللہ نے کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔  (سورۃ الحدید۔۔۔۲۵)
۲۱۔ اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لاؤ۔ (سورۃ الحدید۔۔۔۲۸)
٭٭



 ۲۸۔۔۔ قد سمع اللّہ میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں۔  ( المجادلہ۔۔۔۲)
۲۔ جو اپنی بیوی سے ظِہار کرے اور پھر رجوع کرے تو پہلے انہیں ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔ غلام نہ پائے تو دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ (المجادلہ۔۔۔۴)
۳۔جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار کر دیے جائیں گے۔ (المجادلہ:۵)
۴۔ آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو( المجادلہ:۹)
۵۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے۔(سورۃ المجادلہ۔۔۔۹)
۶۔ نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرتے رہو(المجادلہ:۱۳)
۷۔ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں اُن لوگوں سے محبت نہیں کرتے جو اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کرتے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ۔۔۔۲۲)
۸۔ جو کچھ رسولﷺ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ روک دے اس سے رُک جاؤ۔ (الحشر:۷)
۹۔ اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ (سورۃ الحشر۔۔۔۱۸)
۱۰۔جہاد کرنے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔(الممتحنہ:۱)
۱۱۔ اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی (الممتحنہ:۸)
۱۲۔  جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال۔(سورۃ الممتحنہ۔۔۔۹)
۱۳۔ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم اُن کے مہر اُن کو ادا کر دو۔(الممتحنہ:۱۰)
۱۴۔ تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ (سورۃ الممتحنہ۔۔۔۱۱)
۱۵۔جو مہر تُم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ (سورۃ الممتحنہ۔۔۔۱۱)
۱۶۔ مومن عورتیں اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی(الممتحنہ:۱۲)
۱۷۔ چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔(سورۃ الممتحنہ۔۔۔۱۲)
۱۸۔ اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی۔(سورۃ الممتحنہ۔۔۔۱۲)
۱۹۔ اور کسی امرِ معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی۔(سورۃ الممتحنہ۔۔۔۱۲)
۲۰۔ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر۔(سورۃ الصف۔۔۔۱۰)
۲۱۔ اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔(سورۃ الصف۔۔۔۱۰)
۲۲۔اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بنو۔ (سورۃ الصف۔۔۔۱۴)
۲۳۔جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔(الجمعہ:۹)
۲۴۔ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔(سورۃ الجمعہ۔۔۔۱۰)
۲۵۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو۔(سورۃ الجمعہ۔۔۔۱۰)
۲۶۔ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔ (سورۃ المنافقون ۔۔۔۹)
۲۷۔جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ (سورۃ المنافقون ۔۔۔۹)
۲۸۔ جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا۔ (سورۃ التغابن ۔۔۔۹)
۲۹۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہوں گے۔ (سورۃ التغابن ۔۔۔۱۰)
۳۰۔ اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو۔ (سورۃ التغابن ۔۔۔۱۱)
۳۱۔ جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ سنو اور اطاعت کرو اور اپنے مال خرچ کرو(التغابن :۱۶)
۳۲۔ اگر تم اللہ کو قرض دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ (التغابن :۱۷)
۳۳۔ عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدّت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو۔( الطلاق :۱)
۳۴۔ عدت کے دوران نہ تم اُنہیں گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔  (سورۃ الطلاق ۔۔۔۱)
۳۵۔ عدت کی مدت کے خاتمہ پر یا انہیں بھلے طریقے سے اپنے نکاح میں روک رکھو، یا بھلے طریقے سے
 اُن سے جدا ہو جاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔ ( الطلاق ۔۔۔۲)
۳۶۔جو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا، اللہ اس کیلئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا(الطلاق :۳)
۳۷۔ عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اُن کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں 
 ابھی حیض نہ آیا ہو۔(سورۃ الطلاق ۔۔۔۴)
۳۸۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے۔(سورۃ الطلاق ۔۔۔۴)
۳۹۔ مطلقہ عورتوں کو عدت میں اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو(الطلاق :۶)
 ۴۰۔اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔(سورۃ الطلاق ۔۔۔۶)
۴۱۔اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے۔ (الطلاق:۶)
۴۲۔پھر اگر وہ تمہارے بچے کو دُودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو۔(سورۃ الطلاق ۔۔۔۶)
۴۳۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اُس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا۔(سورۃ الطلاق ۔۔۔۷)
۴۴۔جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔(سورۃ الطلاق ۔۔۔۱۱) 
۴۵۔ تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟(سورۃ التحریم ۔۔۔۱)
۴۶۔ ایسی بیویاں جو سچی مسلمان، باایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار ہو، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ۔(سورۃ التحریم ۔۔۔۵)
۴۷۔ بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔(التحریم :۶)
۴۸۔ اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ۔(سورۃ التحریم ۔۔۔۸)
۴۹۔ مریم بنت عمران نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں 
 میں سے تھی۔ ( التحریم ۔۔۔۱۲)
٭٭



۲۹۔۔۔تبٰرک الذی میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔اللہ نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے( الملک:۴)
۲۔جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔(سورۃ الملک ۔۔۔۶)
۳۔ جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (سورۃ الملک ۔۔۔۱۲)
۴۔ اُسی پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔(سورۃ الملک ۔۔۔۲۸)
۵۔ ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے۔(سورۃ القلم ۔۔۔۱۵)
۶۔ طعنے دیتا ہے، چُغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے۔(سورۃ القلم ۔۔۔۱۵)
۷۔ ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے۔(سورۃ القلم ۔۔۔۱۵)
۸۔ ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا( الحاقہ :۱۰)
۹۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔( الحاقہ :۳۳)
۱۰۔ انسان پر جب مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے(المعارج :۲۰)
۱۱۔ جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں ، جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے ( المعارج:۲۵)
۱۲۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔  (سورۃ المعارج ۔۔۔۲۷)
۱۳۔ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ،  بجز اپنی بیویاں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔ (سورۃ المعارج ۔۔۔۳۳)
۱۴۔جو امانتوں کی حفاظت اور عہد کا پاس کرتے ہیں اور گواہیوں میں راست باز رہتے ہیں (المعارج :۳۴)
۱۵۔ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو،  اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔(سورۃ نوح ۔۔۔۳)
۱۶۔ اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ (سورۃ نوح ۔۔۔۸)
۱۷۔ اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔(سورۃ نوح ۔۔۔۱۰)
۱۸۔ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں ، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اورکو نہ پکارو۔(سورۃ الجن ۔۔۔۱۸)
۱۹۔ رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو۔ (سورۃ المزمل ۔۔۔۱)
۲۰۔ قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ (سورۃ المزمل ۔۔۔۵)
۲۱۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اُسی کے ہو رہو۔ (سورۃ المزمل ۔۔۔۸)
۲۲۔اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو۔(سورۃ المزمل ۔۔۔۱۰)
۲۳۔ جتنا قرآن بآسانی پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو۔(سورۃ المزمل ۔۔۔۲۰)
۲۴۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ (سورۃ المزمل ۔۔۔۲۰)
۲۵۔جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے(سورۃ المزمل ۔۔۔۲۰)
۲۶۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور گندگی سے دور رہو۔(سورۃ المدثر ۔۔۔۵)
 ۲۷۔اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔(سورۃ المدثر ۔۔۔۶)
 ۲۸۔اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔(سورۃ المدثر ۔۔۔۷)
۲۹۔ دوزخی کہیں گے:ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔(المدثر ۔۔۔۳۸)
۳۰۔مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔(المدثر ۔۔۔۳۸)
۳۱۔ حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔(المدثر :۳۸)
۳۲۔ اور روزِ جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے۔(المدثر ۔۔۔۳۸)
۳۳۔ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز یعنی دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔(القیامہ :۲۰)
۳۴۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا۔ اب خواہ یہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔( الدہر ۔۔۔۳)
۳۵۔ اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی۔(سورۃ الدہر ۔۔۔۸)
۳۶۔ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (سورۃ الدہر ۔۔۔۹)
۳۷۔ تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو۔(سورۃ الدہر ۔۔۔۲۴)
۳۸۔ کسی بد عمل یا منکر حق کی بات نہ مانو۔(سورۃ الدہر ۔۔۔۲۵)
۳۹۔ اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو۔ رات کو اس کے حضور سجدہ ریز ہو اس کی تسبیح کرتے رہو۔ (الدہر:۲۶)
٭٭



۳۰۔۔۔عمّ میں امر و نہی کی تعلیمات

۱۔تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔(سورۃ النبا :۱۰)
۲۔تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں ،
اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔ (سورۃ المطففین ۔۔۔۳)
۳۔ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایما ن نہیں لاتے، جب قرآن سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟(انشقاق:۲۰)
۴۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے ( انشقاق :۲۵)
۵۔ مومن مردوں اور عورتوں پر ستم توڑا اور پھر تائب نہ ہوئے یقیناً ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے(البروج :۱۰)
۶۔ تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا۔  (سورۃ الاعلیٰ ۔۔۔۱۲)
۷۔ اور جو نصیحت سے گریز کرے گا وہ بڑی آگ میں جائے گا، پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا۔ ( الاعلیٰ :۱۳)
۸۔فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔ ( الاعلیٰ ۔۔۔۱۴)
۹۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا۔(الغاشیہ ۔۔۔۲۵)
۱۰۔جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا۔(الفجر ۔۔۔۱۳)
۱۱۔ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے؟ مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اُکساتے؟(الفجر:۱۹)
۱۲۔اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو، اور مال کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہو(الفجر :۲۰)
۱۳۔ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا(البلد :۱۲)
۱۴۔ جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی۔ (سورۃ البلد ۔۔۔۱۵)
۱۵۔ فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔ (الشمس ۔۔۔۱۰)
۱۶۔ جس نے راہ خدا میں مال دیا اور خدا کی نافرمانی سے پرہیز کیا، اور بھلائی کو سچ مانا۔(الیل ۔۔۔۷)
۱۷۔ جس نے بُخل کیا اور اپنے خدا سے بے نیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا۔(سورۃ الیل ۔۔۔۱۰)
۱۸۔ یتیم پر سختی نہ کرو اور نہ سائل کو جھڑکو۔ اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔ (الضحیٰ ۔۔۔۱۱)
۱۹۔ جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ۔ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو (الم نشرح:۸)
۲۰۔ تم نے دیکھا اُس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟(سورۃ العلق ۔۔۔۸)
۲۱۔ سجدہ کرو اور اپنے رب کا قرب حاصل کرو۔ (سورۃ العلق ۔۔۔۱۹)
۲۲۔ اللہ کی بندگی کریں۔ ا پنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یک سُو ہوکر۔(البینہ۔۔۔۴)
۲۳۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔(سورۃ البینہ۔۔۔۵)
۲۴۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(سورۃ العٰدیٰت۔۔۔۸)
۲۵۔انسان مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مُبتلا ہے۔(سورۃ العٰدیٰت۔۔۔۸)
۲۶۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھُن نے تمہیں غفلت میں ڈال رکھا ہے۔ (التکاثر:۲)
۲۷۔ جو ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (العصر:۳)
۲۸۔ جو منہ در منہ لوگوں پر طعن اور پیٹھ پیچھے برائیاں کرنے کا خوگر ہے، مال جمع کیا اور اُسے گن گن کر رکھا۔( الہمزہ:۴)
۲۹۔ رب کعبہ کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو اور خوف میں امن عطا کیا ( القریش:۴)
۳۰۔وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اُکساتا۔(سورۃ الماعون:۳)
 ۳۱۔پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ (الماعون:۵)
۳۲۔جو ریاکاری کرتے ہیں اور ضرورت معمولی کی چیزیں لوگوں کو دینے سے گریز کرتے ہیں۔  (الماعون:۷)
۳۳۔ نماز پڑھو اور قربانی کرو۔(سورۃ الکوثر۔۔۔۳)
۳۴۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو۔ (سورۃ النصر۔۔۔۳)
۳۵۔میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی، ہر اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔(الفلق:۲۔۱)
۳۶۔ اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے۔(سورۃ الفلق۔۔۔۳)
۳۷۔ اور گروہوں میں پھونکنے والوں یا والیوں کے شر سے۔(سورۃ الفلق۔۔۔۴)
۳۸۔ اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے۔ (سورۃ الفلق۔۔۔۵)
 ۳۹۔میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ، انسانوں کے حقیقی معبُود کی(الناس:۲)
۴۰۔ اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ
 جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ (سورۃ الناس۔۔۔۶)
٭٭٭


پیغامِ حدیث،   اوامر و نواہی

 کتبِ صحیح بخاری: ۱۔کتاب  بدء  الوحی، ۲۔کتاب الایمان، ۳۔کتاب العلم، ۴۔کتاب الوضوئ، ۵۔کتا ب ا لغسل، ۶۔کتاب الحیض، ۷۔کتاب التیمم، ۸۔کتاب الصّلاۃ، ۹۔کتاب سترہ، ۱۰۔کتاب مواقیۃ الصلاۃ، ۱۱۔کتاب الاذان،  ۱۲۔کتاب صفۃ الصلاۃ، ۱۳۔کتاب الجمعۃ، ۱۴۔ کتاب صلاۃ الخوف، ۱۵۔کتاب العیدین، ۱۶۔کتاب الوتر، ۱۷۔کتابُ الاستسقاء،  ۱۸۔کتابُ الکسوف، ۱۹۔  کتاب سجود القرآن، ۲۰۔کتاب تقصیر الصلاۃ، ۲۱۔کتاب التَّہَجُّد، ۲۲۔کتاب العمل فی الصلاۃ، ۲۳۔کتابُ الجنائز، ۲۴۔کتاب الزکاۃ، ۲۵۔کتاب صدقۃ الفطر، ۲۶۔کتاب الحج، ۲۷۔کتاب العمرۃ، ۲۸۔ممنوعات حج، ۲۹۔ کتاب شکار، ۳۰۔کتاب فضائلِ مساجدِ مکہ مدینہ، ۳۱۔کتاب الصوم، ۳۲۔کتاب صلاۃ التراویح، ۳۳۔کتاب الاعتکاف، ۳۴۔کتاب البیوع، ۳۵۔ کتاب السلم،  ۳۶۔کتاب الا جارہ،  ۳۷۔کتاب الحولات، ۳۸۔کتاب الوکا لۃ، ۳۹۔کتاب المزاراعۃ، ۴۰۔کتاب المساقاۃ الشرب، ۴۱۔کتاب فی الخصومات، ۴۲۔کتاب فی اللقطۃ، ۴۳۔کتاب فی المظالم، ۴۴۔کتاب الشرکۃ، ۴۵۔کتاب الرہن،  ۴۶۔کتاب العتق، ۴۷۔کتاب الھبۃ و فضلھا، ۴۸۔کتاب الشہادات، ۴۹۔کتاب الصلح، ۵۰۔کتاب الشروط، ۵۱۔کتاب الوصایا، ۵۲۔کتاب الجہاد والسیر، ۵۳۔کتاب بدء الخلق، ۵۴۔کتاب احادیث الانبیاء، ۵۵۔کتا ب المناقب،  ۵۶۔کتاب فضائل الصحابۃ،  ۵۷۔ فضائل انصار، ۵۸۔کتاب المغازی، ۵۹۔کتاب التفسیر، ۶۰۔کتاب فضائل القرآن، ۶۱۔کتاب النکاح، ۶۲۔کتاب الطلاق، ۶۳۔کتاب النفقات، ۶۴۔کتاب الاطعمۃ، ۶۵۔کتاب العقیقہ،   ۶۶۔کتاب الذبائح والصید، ۶۷۔کتاب  الاضاحی، ۶۶۔کتاب الاشربہ، ۶۹۔کتاب المرض، ۷۰۔کتاب الطّب، ۷۱۔کتاب اللباس،   ۷۲۔ کتاب الادب، ۷۳۔کتاب  الاستئذان، ۷۴۔کتاب الدعوات، ۷۵۔کتاب الرقاق، ۷۶۔کتاب القدر، ۷۷۔کتاب الایمان والنذور،  ۷۸۔کتاب الفرائض، ۷۹۔ کتاب الحدود، ۸۰۔کتاب المحاربین،  ۸۱۔کتاب الدیات، ۸۲۔ کتاب التعبیر، ۸۳۔کتاب الفتن، ۸۴۔ کتاب الاحکام، ۸۵۔کتاب التمنی، ۸۶۔ اعتصام بالکتاب والسنۃ، ۸۷۔ کتاب التوحید

بخاری کے جملہ کتب کے علاوہ  مسلم،  ترمذی، ابی داؤد،  ابن ماجہ، نسائی، مسند احمد، سنن دارمی،مؤطا امام مالک، اوسط للطبرانی، شعب الایمان، بیہقی اور شرح السنہ سے اضافی منتخب احادیث کے ضمیمے

ضمیمہ۔۱:۱۔ کتاب الایمان، ۲۔ کتاب الرقاق، ۳۔ کتاب الاخلاق
ضمیمہ۔۲ : ۱۔ کتاب الطہارت، ۲۔ کتاب الصلوٰۃ، ۳۔ کتاب الزکوٰۃ، ۴۔کتاب الصوم، ۵۔ کتاب الحج
ضمیمہ۔۳:  ۱۔ کتاب الاذکار والدعوات، ۲۔ کتاب المعاملات و المعاشرت
ضمیمہ۔۴: ۱۔ نکاح و ازدواج اور اسکے متعلقات، ۲۔کتاب المعاملات،  ۳۔ کتابُ العلم، ۴۔کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ۵۔ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، ۶۔کتاب الفتن،   ۷۔ علاماتِ قیامت، ۸۔کتاب المناقب والفضائل

 مذکورہ بالا کتب کی احادیث سے اوامر و نواہی کا انتخاب اگلے صفحات میں پیش کیا جا رہا ہے۔  حدیث کے مکمل متن اور سیاق و سباق کے لئے انہی کتب و ضمیموں پر مشتمل اصل کتاب ’پیغامِ حدیث‘ ملاحظہ کیجئے۔



۱۔کتاب بد ء الوحی

۱۔ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ 
۲۔ رسول اﷲ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں مزید سخی ہو جایا کرتے تھے۔
۳۔اسلام لاؤ گے تو قہر الہٰی سے بچ جاؤ گے۔

۲۔کتاب الایمان

۱۔ اسلام کی عمارت کے پانچ ستون: (۱) شہادت دینا کہ اﷲ تعا لیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ محمد ؐ اﷲ کے رسول ہیں (۲) نماز پڑھنا( ۳) زکوٰۃ دینا  (۴) حج کرنا(۵) رمضان کے روزے رکھنا۔
۲۔ پکا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان ایذا نہ پائیں۔ 
۳۔ سب کو سلام کرو خواہ تم اسے جانتے ہویا نہیں جانتے ہو۔
۴۔ وہ ایمان کی شیرینی کا مزہ پائے گا،جس کے نزدیک اﷲ اور اس کا رسول ﷺ سب سے زیادہ محبوب ہو۔جس کسی سے محبت کرے تو اﷲ ہی کے لیے محبت کرے۔ اور کفر میں واپس جانے کو ایسا بُرا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو سمجھتا ہے۔
۵۔اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور چوری نہ کرنا اور زنانہ کرنا اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا
۶۔ ایسا بہتان کسی پر نہ باندھنا جس کو تم دیدہ و دانستہ اپنے سامنے بناؤ۔  
۷۔کسی اچھی بات میں اﷲ و رسول کی نافرمانی نہ کرنا۔
۸۔سب سے افضل عمل اﷲ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا ہے۔ پھر اس کے بعد اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا اور اس کے بعد حجِ مبرور ہے۔
۹۔جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب: شوہر کا کفر کرنا اور اُن کا احسان نہ ماننا۔  
۱۰۔ غلاموں سے ایسا کام کرنے کو نہ کہو جوان پر شاق ہو۔ اگر کبھی ایسا کرو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔
۱۱۔ پکے منافق کی چار پہچان: جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے،   جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب لڑے تو بیہودہ گوئی کرے۔
۱۲۔شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب جان کر عبادت کرنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ 
۱۳۔ میں یقیناً اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں۔ 
۱۴۔ ماہِ رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب سمجھ کر روزے رکھنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ 
۱۵۔ دین بہت آسان ہے۔ جو شخص دین میں سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا۔ 
۱۶۔ تم لوگ راست و میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہو جاؤ کہ تمہیں ایسا آسان دین ملا ہے۔ 
۱۷۔ نیکی کا بدلہ دس گُنا سے سات سو گُنا تک ہے۔
۱۸۔ بُرائی کا  بدلہ اسی کے موافق دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اﷲ تعا لیٰ اس سے درگزر فرمائے۔
۱۹۔  اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب دین کا وہ کام ہے،جسے ہمیشہ کیا جائے۔
۲۰۔ لا الٰہ الا اﷲ کہنے والے کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو تو وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔
۲۱۔ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ 
۲۲۔ کسی مسلمان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت پر اُحد پہاڑ کے برابر کادو حصہ ثواب ملتا ہے۔ 
۲۳۔ مسلم کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔
۲۴۔ شب قدر کو رمضان کی۲۵ویں ، ۲۷ ویں اور ۲۹ ویں تاریخوں میں تلاش کرو۔
۲۵۔ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ 
۲۶۔ اﷲ کی عبادت اس خشوع و خضوع سے کرو کہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ اور اگر یہ حالت نصیب نہ ہو تو یہ خیال کرو کہ وہ تو تمہیں دیکھتا ہی ہے۔
۲۷۔ سیاہ اونٹوں کو چرانے والے اونچی اونچی عمارتوں میں رہنے لگیں تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے۔
۲۸۔ حلال اور حرام دونوں ظاہر ہیں۔  ان دونوں کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہ کی چیزوں سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا۔
۲۹۔ پانچ باتوں کا حکم دیا: گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں نماز پڑھنا اور زکوٰۃ دینا۔ رمضان کے روزے رکھنا اور مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں دینا۔
۳۰۔چار قسم کے برتنوں میں پانی یا مشروب نہ پینا۔(۱) سبز لاکھی مرتبان (حنتم)۔ ( ۲) کدو کے تونبے (الُّدبَّا)۔(۳) کریدے ہوئے لکڑی کے برتن (النَّقْیِر)( ۴) اور روغنی برتن (الَمزَفتَّ یامقیر)۔
 ۳۱۔اعمال کے نتیجے نیت کے موافق ہوتے ہیں ، ہر شخص کے لئے وہی ہے جو وہ نیت کرے۔ 
 ۳۲۔جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب سمجھ کر خرچ کرے تو وہ اس کے حق میں صدقہ کا حکم رکھتا ہے۔
 ۳۳۔ نماز قائم کرنے،  زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کے اقرار پر نبی ﷺ سے بیعت کی گئی۔

۳۔کتاب العلم

۱۔ جب معاملہ نااہل لوگوں کے سپرد کر دیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔
۲۔وضو میں خشک رہ جانے والے پیروں کے ٹخنوں کو آگ کے عذاب سے خرابی ہونے والی ہے۔
۳۔ صدقہ مال داروں سے لیں اور اسے مستحقین پر تقسیم کریں۔ 
 ۴۔ مسلمانوں کے خون، مال اور عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔  
۵۔ نبی ﷺ  صحابہ کے اُکتا جانے کے خیال سے ہر روز وعظ نہ فرماتے تھے۔
۶۔دین میں آسانی پیدا کرو،  سختی نہیں۔  لوگوں کو خوشخبری سناؤ،  انہیں ڈرا ڈرا کر متنفر نہیں۔ 
۷۔رشک کرنا صرف دو قسم کے افراد پر جائز ہے۔ایک وہ مالدار جو اپنا مال راہِ حق میں صرف کرتا ہو اور دوسرا وہ صاحبِ علم و حکمت جو لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔
۸۔ قیامت کی علامات: علم اُٹھ جائے، جہالت باقی رہ جائے۔ شراب نوشی کی کثرت اور زنا کا اعلانیہ  ہونا۔
۹۔قربِ قیامت میں عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت ہو گی۔ پچاس عورتوں پر صرف ایک مرد ہو گا۔
۱۰۔دورانِ حج کسی نے بھولے سے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب ذبح کر لے۔  
۱۱۔ نماز یوں کے امام کو چاہیے کہ ہر رکن کے ادا کرنے میں تخفیف کر کے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرے
۱۲۔ لا وارث چیز کا حکم:سال بھر اس کی تشہیر کر کے اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا۔ پھر اگر مالک نہ ملے تو اس  
چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اگر سال بھر بعد بھی مالک آ جائے تو اس کے حوالے کرنا ہو گا۔
۱۳۔نبی ﷺ جب چند لوگوں کے پاس تشریف لاتے اور ان کو سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے۔
 ۱۴۔اُس غلام  کے لئے دُگنا ثواب ہے جب کہ وہ اﷲ کے حق کو اور اپنے مالکوں کے حق کو ادا کرتا رہے۔
 ۱۵۔ جس نے لونڈی کو اچھی تعلیم و تربیت دی پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا، اُس کے لئے دُ گنا ثواب ہے۔
 ۱۶۔نبی ﷺ نے عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے صدقہ دینے کا حکم دیا۔ 
۱۷۔لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا کر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
 ۱۸۔مکہ میں جنگ و جدل وغیرہ کو اﷲ نے حرام کیا ہے 
 ۱۹۔ یہ جائز نہیں کہ مکہ میں خون ریزی کی جائے اور نہ یہ جائز ہے کہ وہاں کوئی درخت کاٹا جائے۔
۲۰۔ جو شخص نبی ﷺ جھوٹ بولے تو اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
 ۲۱۔میرے نام پر اپنا نام رکھ لو مگر میری کنیت یعنی ابوالقاسم پر اپنا نام نہ رکھو۔
۲۲۔ مکہ میں قتال کرنا نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا ہے اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔
۲۳۔مکہ کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ اس کا درخت کاٹا جائے۔ 
۲۴۔ مکہ میں گری ہوئی لا وارث چیز کو سوائے اعلان کرنے والے کے کوئی اور نہ اٹھائے۔
۲۵۔ اے لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو۔
۲۶۔ جو شخص اس لئے لڑے کہ اﷲ کا کلمہ بلند ہو جائے اور اسی کا بول بالا ہو تو وہی اﷲ کی راہ میں لڑتا ہے۔
۲۷۔احتلام کی وجہ سے اگر کوئی عورت اپنے کپڑے یا شرمگاہ پر پانی دیکھے تو اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔
 ۲۸۔جریانِ مذی (پیشاب کے ساتھ منی نکلنے)سے صرف وضو فرض ہوتا ہے، غسل نہیں۔ 
۲۹۔حج و عمرہ کا احرام: مدینہ کے لوگ ذو الحلیفہ سے، شام کے لوگ حجفہ سے، نجد کے لوگ مقامِ قرن سے اور یمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں۔ 
۳۰۔حج یا عمرہ کرنے والا محرم نہ کرتا پہنے، نہ عمامہ۔ نہ پائجامہ پہنے، نہ ٹوپی اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران (خوشبو) لگی ہو۔ اگر چپلیں نہ ملیں تو موزے پہن کر انہیں کاٹ دے تاکہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ 

۴۔کتاب الوضوء

۱۔حَدَث یعنی پیشاب پاخانہ یا ہوا خارج ہونے کے بعد نماز کے لئے وضو کرنا۔
۲۔ وضو کر نے والوں کے اعضاء مثلاً ہاتھ پاؤں وغیرہ قیامت کے دن چمک رہے ہوں گے۔
 ۳۔محض شک کی وجہ سے کوئی نماز نہ توڑے یہاں تک کہ ریح کی آواز سن لے یا بو پائے۔
۴۔بیت الخلاء میں داخل ہونے کی دُعا: ’’اے اﷲ میں خبیث جنوں اور جنّیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔
۵۔کوئی پاخانے میں جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ اس کی طرف اپنی پشت کرے۔
۶۔ نبی کریمﷺ پانی سے استنجاء فرماتے تھے۔
۷۔ مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کرنا لیکن ہڈی اور گوبر سے نہیں۔ 
۸۔وضو میں اعضاء کو تین تین بار دھونا۔ کلی اور ناک صاف کرنا۔ چہرے کو تین مرتبہ اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھونا۔ پھر سرکا مسح کرنا اور پھر دونوں پیر ٹخنوں تک تین بار دھونا۔
۹۔جو کوئی پتھر سے استنجاء کرے تو اُسے چاہیئے کہ طاق پتھروں سے کرے۔
۱۰۔رسول اﷲ ﷺ نے کعبہ کے دونوں یمانی رکنوں کے سوا اور کسی رکن کو مَس نہیں کیا۔
۱۱۔جوتی پہننے، کنگھی کرنے، وضو اور غسل وغیرہ میں دا ہنی جانب سے ابتداء کرنا اچھا ہے۔
۱۲۔کسی برتن میں سے کتا پانی وغیرہ پی لے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھو ڈالو۔
۱۳۔دور رسالت میں میاں بیوی ایک برتن سے اکٹھے وضو کر لیتے تھے۔
 ۱۴۔نبی ﷺ ایک صاع سے پانچ مد(۶ لٹر) پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے۔
۱۵۔ نبی ﷺ وضو صرف ایک مد ( سَوا لٹر)پانی سے کر لیا کرتے تھے۔
۱۶۔ اگر کسی کو نماز کے دوران اونگھ آ جائے تو اسے چاہیئے کہ نماز توڑ کر سو جائے۔ 
 ۱۷۔اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے اور چغلی کھا نے پر قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ 
 ۱۸۔تم لوگ دین میں آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور سختی کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے ہو۔
۱۹۔ دودھ پیتا بچہ نے کپڑے پر پیشاب کر دیاتو آپ ﷺ نے کپڑے پر پانی چھڑک دیا، اسے دھویا نہیں۔ 
 ۲۰۔نبی ﷺ کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ کے قریب تشریف لائے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ 
۲۱۔کپڑے میں حیض آئے تو اسے کھرچ ڈالے۔ پانی ڈال کر رگڑے اور مزید پانی سے دھو ڈالے۔ 
۲۲۔جب حیض کا زمانہ آ جائے تو نماز چھوڑ دو اور جب گزر جائے تو اپنے جسم کو دھو ڈالو۔
 ۲۳۔ استحاضہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہے،  لہٰذا مستحاضہ نماز نہ چھوڑے۔
 ۲۴۔ گھی میں چوہا وغیرہ گر جائے تو چوہا اور اس کے گرنے کی جگہ کے اردگرد کا گھی نکال دو اورباقی گھی کھالو
۲۵۔کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو، پیشاب نہ کرے۔ 
 ۲۶۔زخم کے علاج کے لئے چٹائی جلا کر اس کی راکھ کو زخم میں بھر دینا۔ 
۲۷۔ نبیﷺ رات کو اٹھتے تو اپنے دانتوں کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے تھے۔
 ۲۸۔جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ تو نماز کی طرح وضو کر لیا کرو۔ پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاؤ۔

۵۔کتا ب ا لغسل

۱۔ نبیﷺ جنابت کا غسل فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر وضو فرماتے۔
۳۔جنابت سے غسل فرماتے تو کوئی چیز مثل حلاب (خوشبو) وغیرہ لگاتے تھے۔ 
 ۴۔ حضرت عائشہؓ نبیﷺ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپﷺ اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور ہم بستری فرماتے۔
۵۔ایک دن موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنا لباس پتھر پر رکھ دیا۔
۶۔ایک مرتبہ حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ نہا رہے تھے۔ 
 ۷۔ نبیﷺ غسل  فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ الزہرہؓ آپﷺ پر پردہ کئے ہوئے تھیں۔  
 ۸۔مومن کسی حال میں ) نجس نہیں ہوتا۔
۹۔جب تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ وضو کر کے سوئے۔
 ۱۰۔جماع کی کوشش کے دوران جب ختان، ختان سے تجاوز کر جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
۱۱۔ غسل کی فرضیت کے لیے صرف دخولِ ذکر کافی ہے، انزالِ منی ضروری نہیں۔ 

۶۔کتا ب ا لحیض

۱۔ جو مناسک حج کرنے والا ادا کرتا ہے، حیض میں تم بھی کرو مگر کعبہ کا طواف نہ کرنا۔
 ۲۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں اور نبیﷺ ایک ظرف سے غسل کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے تھے 
۳۔ اے عورتو! صدقہ دو اس لئے کہ میں (نبیﷺ ) نے تمہیں معراج میں زیادہ دوزخی دیکھا ہے۔ وہ اس لئے کہ تم لعن طعن کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔
 ۴۔نبیﷺ کے ہمراہ آپﷺ کی کسی بیوی نے بھی اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ 
۵۔ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کی ممانعت کی جاتی تھی۔
۶۔ شوہر کی وفات پر چار مہینہ دس دن تک سوگ۔  سرمہ، خوشبو اور رنگین کپڑوں سے اجتناب کرنا۔
۷۔عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔
۸۔دورانِ حیض نہ پڑھی جانے والی نماز کی قضا نہیں ہے۔
۹۔ اُمُّ المومنین اُمِّ ٍسلمہؓ حالتِ حیض ہوتیں اور نبیﷺ روزہ کی حالت میں آپؓ  کے بوسے لیتے تھے۔ 
۱۰۔ عورتیں باہر نکل کر مجالسِ خیر اور اجتماعی دعا میں شریک ہوں۔  البتہ حائضہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں۔  
۱۱۔حضرت میمونہؓ حالتِ حیض میں نماز نہ پڑھتی تھیں اور نبیﷺ کی نماز کی جگہ کے سامنے برابر لیٹی ہوتی تھیں۔  

۷۔کتاب التیمم

۱۔  پوری زمین مسجد اور پاک بنا دی گئی ہے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے وہیں نماز پڑھ لی جائے۔ 
۲۔تیمم کے لئے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارو۔ ہاتھوں میں پھونک دو پھر ان سے اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کر لو
۳۔ حالتِ جنابت میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمّم کر لو، یہی کافی ہے۔ 

۸۔کتاب الصّلاۃ

۱۔معراج میں پانچ نمازیں مقرر کی گئیں جو ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔ 
 ۲۔کوئی بھی شخص ایسے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس میں اس کے شانے پر کچھ نہ ہو۔
۳۔نماز کے لئے اگر کپڑا وسیع ہو تو اس سے التحاف کر لیا کرو اور اگر تنگ ہو تو اس کی ازار یعنی تہبند بنا لو۔
۴۔کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ ہو کر طواف کرے۔
 ۵۔ نبیﷺ بچھونے پر نماز پڑھتے اور  حضرت عائشہؓ آپؐ کے اور سجدہ کی جگہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھیں۔ 
۶۔صحابہ کرامؓ   گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کی جگہ پر اپنے کپڑے کا کنارہ بچھا لیتے تھے۔
۷۔رسول اﷲﷺ اپنے جوتوں سمیت بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔
 ۸۔نبیﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی رکھتے تھے۔
۹۔جو کوئی ہمارے جیسی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہی مسلمان ہے۔
۱۰۔نبیﷺ مدینہ سے تشریف لائے تو سات مرتبہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور صفا و مروہ کے درمیان سعی فرمایا۔
۱۱۔نبیﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام گوشوں میں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی۔
 ۱۲۔نبیﷺ اپنی سواری پر جس سمت بھی وہ رخ کرتی، اسی سمت نفل نماز پڑھتے رہتے اور جب فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیتے۔
 ۱۳۔ نماز میں شک ہو جائے تو ٹھیک بات سوچ کر اسی پر نماز مکمل کر لو اور سلام پھیر کر دو سجدہ سہو کر لو۔
۱۴۔دورانِ نماز اپنے قبلہ کے سامنے نہ تھوکو۔ تھوکنا ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکو۔
 ۱۵۔مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کر دینا اس کا کفارہ ہے۔
 ۱۶۔جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں تصویریں بنا دیتے۔ یہ لوگ اﷲ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہیں۔ 
 ۱۷۔جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہیں نماز پڑھ لو۔نبیﷺ بکریوں کے رہنے کی جگہ میں بھی نماز پڑھ لیتے 
۱۸۔اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں میں ادا کیا کرو اور انہیں قبریں نہ بناؤ۔
۱۹۔یہود و نصاریٰ پر اﷲ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ 
۲۰۔جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔
۲۱۔میں فتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں۔ 
۲۲۔جو اﷲ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد بنائے، اﷲ اس کے لیے جنت میں مکان بنا دیتا ہے۔
۲۳۔جو مسجدوں یا بازاروں میں تیر (ہتھیار) کے ساتھ گزرے تو اسے چاہیے کہ اس کی پیکانوں کو پکڑ لے 
۲۴۔نبیﷺ نے شراب کی تجارت حرام کر دی۔
۲۵۔ اگر تم بیمار ہو تو سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرو۔
۲۶۔ نبیﷺ نے کعبہ کے اندر دونوں ستونوں کے درمیان میں نماز پڑھی۔ 
۲۷۔نمازِ تہجد کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیئے۔
 ۲۸۔رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔
۲۹۔سیدنا عبد اﷲ بن زید انصاریؓ نے نبیﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا۔
۳۰۔جماعت کی نماز، اپنے گھر اور بازار کی نماز سے ثواب میں پچیس درجے فوقیت رکھتی ہے۔
۳۱۔ مومن، مومن کے لئے عمارت کے مثل ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے۔

۹۔کتاب سترہ

 ۱۔نبیﷺ نے بطحا میں اس حالت میں نماز پڑھائی کہ آپﷺ کے سامنے ایک نیزہ گڑا ہوا تھا اور آپﷺ کے سامنے سے عورتیں اور گدھے نکل رہے تھے۔
۲۔نبیؐ  نے کعبہ کے اندر ایک ستون کو بائیں جانب،  ایک ستون کو داہنی جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کر کے نماز پڑھی
۳۔ کسی چیز کی آڑ میں نماز پڑھنے والے کے سامنے سے کوئی نکلنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ اسے ہٹا دے۔
 ۴۔اگر نماز ی کے سامنے سے نکلنے والا یہ جان لیتا کہ اس پر کس قدر گناہ ہے تو بے شک اسے چالیس دن تک کھڑا رہنا بھلا معلوم ہوتا اس بات سے کہ اس کے سامنے سے نکل جائے۔
 ۵۔نبیﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور حضرت عائشہؓ عرضاً آپؐ کے سامنے بستر پر سو رہی ہوتی تھیں۔ 
۶۔نبیﷺ اس حالت میں نماز پڑھ رہے ہوتے کہ اپنی نواسی امامہ بنت زینبؓ کو گود میں اٹھائے ہوتے۔ 

۱۰۔کتاب مواقیۃ الصلاۃ
۱۔
نماز، روزہ، صدقہ،  امر بالمعروف و نہی عن المنکر، بیوی بچوں اور مال میں موجود فتنہ کو مٹا دیتا ہے۔
۲۔بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔   ہر ایک صغیرہ گناہ کار کے لیے یہ کفارہ ہے۔
۳۔ اﷲ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہ نماز ہے جو اپنے وقت پر پڑھی جائے۔
 ۴۔ پھر اس کے بعد والدین کی اطاعت کرنا اور اس کے بعد اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا۔ 
 ۵۔ اللہ پانچوں نمازوں کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
۶۔نماز میں کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے۔ 
 ۷۔ گرمی کی شدت ہو تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے یعنی ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
 ۸۔نبیﷺ فجر کی نماز ایسے وقت پڑھتے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا۔ 
 ۹۔ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب آفتاب ڈھل جاتا تھا۔
۱۰۔ عصر کی نماز ایسے وقت کہ کوئی مدینہ کے کنارے تک جا کر لوٹ آئے اور آفتاب متغیر نہ ہو۔
۱۱۔عشاء کی تاخیر میں تہائی رات تک آپﷺ کچھ پرواہ نہ کرتے تھے۔
 ۱۲۔عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو بُرا جانتے تھے۔
۱۳۔ جس کی نمازِ عصر جاتی رہے، وہ ایسا ہے گویا کہ اس کا گھر اور مال ضائع ہو گیا۔
۱۴۔نمازِ عصر کا ایک سجدہ آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے پا لے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز پوری کر لے
 ۱۵۔ نمازِ فجر کا ایک سجدہ طلوعِ آفتاب سے پہلے پا لے تو اسے بھی چاہیئے کہ اپنی نماز پوری کر لے۔
 ۱۶۔مغرب کی نماز پڑھ کے ایسے وقت لوٹ آتے کہ تیر کے گرنے کے مقام کو دیکھ سکتے۔
۱۷۔نماز فجر کے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھنا منع  ہے۔
۱۸۔ جب آفتاب کا کنارہ نکل آئے تو نماز موقوف کر دو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو جائے۔ 
۱۹۔ جب آفتاب کا کنارہ چھپ جائے تو نماز موقوف کر دو یہاں تک کہ پورا آفتاب چھپ جائے۔
۲۰۔جو شخص کسی نماز کو بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے، پڑھ لے۔

۱۱۔کتاب الاذان

۱۔ جب اذان کہو تو اپنی آواز بلند کرو۔ مؤذن کی آواز سننے والا جن یا انسان روزِ قیامت گواہی دے گا۔
۲۔جو شخص اذان سن کر اذان کی دعا پڑھے تو اس کو قیامت کے دن نبیﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی۔
۳۔اگر اذان اور پہلی صف کا ثواب معلوم ہو جائے اور لوگ قرعہ ڈا لے بغیر اسے نہ پائیں تو ضرور قرعہ ڈالیں 
۴۔جب صبح کی اذان ہو جاتی تو دو رکعتیں ہلکی سی فرض کے قائم ہونے سے پہلے پڑھ لیتے تھے۔
 ۵۔ہر دو اذانوں یعنی اذان و اقامت کے درمیان ایک نماز ہے۔ اگر کوئی چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔
۶۔ اچھی باتوں کا حکم دو اور نماز قائم کرو۔
۷۔جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے۔
 ۸۔ اور جو تم میں سے سب سے بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے۔
 ۹۔ نماز کے لیے نہایت اطمینان سے آؤ۔  جس قدر نماز پاؤ پڑھ لو، جس قدر جاتی رہے اس کو پورا کر لو۔
۱۰۔جماعت کی نماز، تنہا نماز پر ستائیس درجہ ثواب میں زیادہ ہے۔
۱۱۔راستے میں پڑی کانٹوں کی ایک شاخ کو ہٹانے پر اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو معاف کر دیا۔
 ۱۲۔منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ کوئی نماز گراں نہیں گزرتی۔
۱۳۔سات قسم کے آدمی اﷲ کے سائے میں ہوں گے۔  عادل حاکم، عبادت میں بڑا ہونے والا نوجوان، جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہو، جو صرف اﷲ کے لیے دوستی کریں۔   جسے کوئی عورت بدکاری کے لیے بلائے اور وہ اللہ کے خوف سے انکار کر دے،  جو چھپا کر صدقہ دے، جو خلوت میں اﷲ کو ایسے یاد کرے کہ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جائیں 
 ۱۴۔جب کھانا آگے رکھ دیا جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو۔
۱۵۔اگر با جماعت نماز میں کوئی بات پیش آ جائے تو سبحان اﷲ کہے۔  تالی بجانا صرف عورتوں کے لئے ہے۔
 ۱۶۔کیا نماز میں اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لینے والے کو یہ خوف نہیں کہ اﷲ اس کے سر کو گدھے کا سا سر بنا دے؟
 ۱۷۔سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کوئی حبشی  ہی تم پر حاکم بنا دیا جائے۔ 
۱۸۔امام کو نماز میں تخفیف کرنا چاہیے۔ مقتدیوں میں ضعیف، بوڑھے اور صاحبِ حاجت بھی ہوتے ہیں۔ 
 ۱۹۔صفوں کو بَرابَر کر لو ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہارے چہروں میں تغیر کر دے گا۔
 ۲۰۔ نفل نمازوں میں افضل نماز وہ ہے جو اپنے گھر میں ادا ہو۔ 

۱۲۔کتاب صفۃ الصلاۃ

۱۔نبیﷺ جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی رفع الیدین کرتے۔
۲۔ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں۔ 
 ۳۔نماز میں ادھر ادھر دیکھنا شیطان کی جھپٹ ہے۔
۴۔ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔
۵۔ نبیﷺ پہلی رکعت میں لمبی قرأت کرتے تھے اور دوسری میں اس سے چھوٹی سورت پڑھتے۔ 
۶۔ نماز میں اگر سورۂ فاتحہ سے زیادہ نہ پڑھو تو بھی کافی ہے۔ اور اگر زیادہ پڑھ لو تو بہتر ہے۔
۷۔ پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں مزید پڑھتے۔ آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے 
۸۔ امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جس کی آمین ملائکہ کی آمین سے مل جائے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
۹۔سجدہ، سجدوں کے درمیان کی نشست اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کی حالت تقریباً برابر برابر ہوتے تھے 
۱۰۔امام سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے تو تم اَللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد کہو۔
۱۱۔ فجر و مغرب کی نماز کی آخری رکعت میں سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ ٗ کے بعد قنوت نازلہ پڑھا جاتا تھا۔
۱۲۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو دنیا میں جس کی پرستش کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہولے۔
۱۳۔ اﷲ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔
 ۱۴۔سجدہ سات ہڈیوں پر کرو: پیشانی بمعہ ناک کی نوک،  دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں۔ 
۱۵۔نبیﷺ نماز کی طاق رکعت میں جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے تھے، کھڑے نہ ہوتے تھے۔
 ۱۶۔نماز میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا داہنا پیر کھڑا کر لو اور بایاں دہرا کر لو۔
۱۷۔آپﷺ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو سیدھے ہو گئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر چلی گئی۔ 
۱۸۔ جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھ دیئے نہ ان کو بچھایا اور نہ سمیٹا، پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کر لیں۔ 
 ۱۹۔پھر جس وقت دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے اور داہنے پیر کو کھڑا کر لیا۔
۲۰۔ جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پیر کو آگے کر دیا، داہنے پیر کو کھڑا کر لیا اور اپنی سرین پر بیٹھ گئے۔
 ۲۱۔پہلی دو رکعتوں کے اختتام پر بھولے سے کھڑے ہو گئے، بیٹھے نہیں تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کئے 
 ۲۲۔قرض سے پناہ مانگو۔جب آدمی قرض دار ہو جاتا ہے تو تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔
 ۲۳۔ فرض نماز سے فراغت کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبیﷺ کے دَورِ اقدس میں رائج تھا۔
۲۴۔ ہر نماز کے بعد ۳۳، ۳۳ مرتبہ  سُبْحَانَ اﷲِ، الْحَمْدُﷲِ  اور ۳۴ مرتبہ اﷲ ُ اَکْبَرُ پڑھا کرو۔

۱۳۔کتاب الجمعۃ

۱۔ ہر بالغ پر جمعہ کے دن نہانا ضروری ہے۔ 
۲۔ اچھی طرح غسل کر کے نماز جمعہ کے لیے پہلی گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا۔
۳۔جمعہ کے دن غسل کرے،  بالوں کو تیل لگائے،  خوشبو استعمال کرے پھر اس کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے نکلے
 تو اس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
۴۔میں اپنی امت پر اگر شاق نہ سمجھتا تو بے شک انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔
۵۔تم سب لوگ مسؤل یعنی ذمہ دار ہو اور تم سب لوگوں سے تمہاری رعیت کے بارے میں باز پرس ہو گی۔
 ۶۔امام بھی مسؤل ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہو گی۔
 ۷۔مرد اپنے گھر میں مسؤل ہے اور اس سے اس کی رعیت کی باز پرس ہو گی 
۸۔ عورت اپنے شوہر کے گھر میں مسؤلہ ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہو گی۔ 
۹۔ خادم اپنے آقا کے مال میں مسؤل ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہو گی۔ 
۱۰۔ جب خوب سردی ہوتی تھی تو نبیﷺ جمعہ کی نماز سویرے پڑھتے تھے۔ 
۱۱۔اور جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو جمعہ کی نماز کو ٹھنڈا کر کے یعنی ٹھنڈے وقت پڑھتے تھے۔ 
۱۲۔ جس کے دونوں پیر اﷲ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں تو اس کو اﷲ نے دوزخ کی آگ پر حرام کر دیا ہے 
۱۳۔ کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔
۱۴۔ انصار میں سے نیکو کار کی نیکی کو قبول کرو اور ان میں بدکار کی بدی سے  درگذر کرو۔
۱۵۔مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھو۔
۱۶۔ امام خطبہ پڑھ رہا ہو اور تو اپنے پاس والے سے یہ کہے کہ چپ رہ تو بے شک تو نے لغو حرکت کی۔

۱۴۔ کتاب صلاۃ الخوف

۱۔  اگر دشمن زیادہ ہوں تو مسلمان سپاہی پیادہ اور سوار جس طرح ممکن ہو نماز پڑھ لیں۔ 

۱۵۔کتاب العیدین

۱۔ نمازِ عید سے پہلے رسول اللہﷺ طاق کھجوریں کھاتے تھے۔
۲۔عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلے نماز پڑھیں۔  اس کے بعد واپس آ کر قربانی کریں۔ 
۳۔ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کی قربانی نہیں ہوئی۔
۴۔ رسول اﷲﷺ کے عہد میں عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن نمازِ عید کی اذان نہ کہی جاتی تھی۔
۵۔ یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھتے تھے۔
۶۔ ایّام تشریق کے دس دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں۔ 
۷۔ تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہہ لیتا تھا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہہ لیتا تھا۔  کسی کو بھی ممانعت نہ کی جاتی تھی۔
۸۔نبیﷺ ایک راستے سے عیدگاہ جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے۔

۱۶۔کتاب الوتر

۱۔ نمازِ شب کی دو دو رکعتیں ہیں۔ 
۲۔رات کے ہر حصہ میں نبیﷺ نے نمازِ وتر پڑھی ہے۔
۳۔تم رات کے وقت اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔
۴۔ نبیﷺ سفر میں نمازِ وتر اپنی سواری پر پڑھا کرتے تھے۔

۱۷۔کتابُ الاستسقاء

۱۔نبیﷺ اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کسی دعا میں نہ اٹھاتے تھے جتنے دعا استسقاء میں۔ 
۲۔ اے اﷲ! فائدہ دینے والا پانی برسا۔
۳۔غیب کی پانچ کنجیاں اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا؟ عورتوں کے رحموں میں کیا چیز ہے؟ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور وہ کس مقام میں مرے گا؟ کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہو گی؟

۱۸۔کتابُ الکسوف

۱۔جب تم گرہن کو دیکھو تو نماز پڑھو اور اﷲ سے دعا کرو۔
۲۔ تم جب گرہن دیکھو تو اﷲ سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو۔ 
۳۔میں نے عورتوں کو دوزخ میں زیادہ پایا کیونکہ وہ شوہر کا کفر کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں۔ 
۴۔نبیﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔
۵۔ سورج گرہن دیکھو تو اﷲ کا ذکر کرو، اُس سے دعا مانگو اور استغفار کرنے کی طرف جھک جاؤ۔
۶۔نمازِ کسوف یعنی گرہن کی نماز میں آپﷺ نے دو رکعتوں کے اندر چار رکوع اور چار سجدے کئے۔

۱۹۔  کتاب سجود القرآن

۱۔جب نبیﷺ آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی وقت سجدہ کرتے تھے۔
۲۔ہجوم کی وجہ سے آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کے لئے ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ پاتا تھا۔

۲۰۔کتاب تقصیر الصلاۃ

۱۔ نبیﷺ نے مکہ میں اُنیس دن قیام فرمایا اور برابر قصر کرتے رہے۔(اڑتالیس میل سے زائد کی مسافت
 اور پندرہ دن سے کم قیام کی نیّت ہو تو نماز قصر پڑھی جاتی ہے)۔
 ۲۔رسول اﷲﷺ ،  امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر بن خطابؓ نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ 
۳۔عورت کے لیے جائز نہیں کہ محرم کے بغیر ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے۔
 ۴۔نبیﷺ سفر میں عجلت کے سبب مغرب کی تین رکعات کی نماز میں تاخیر کرتے اور پھر تھوڑی ہی دیر ٹھہر کر 
عشاء کی نماز پڑھ لیتے اور اس کی دو رکعتیں پڑھتے۔ 
۵۔نبیﷺ نفل نماز سواری پر پڑھ لیتے تھے حالانکہ آپﷺ قبلہ کی سمت نہیں جا رہے ہوتے۔ آپﷺ کو سفر میں سنتیں پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔
۶۔ نبیﷺ سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر جمع کر لیتے اور مغرب اور عشاء کو بھی جمع کر کے ادا فرماتے تھے۔ (امام ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق اول نماز آخری وقت میں اور ثانی نماز اول وقت میں اس طرح پڑھی جا سکتی ہے۔ گویا دونوں نمازیں الگ الگ پڑھی جاتی ہیں مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملا کر پڑھی گئیں ہیں )
۷۔کھڑے ہو نے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔
۸۔ جب عمر مبارک زیادہ ہو گئی تو نبیﷺ بیٹھ کر قرأت کرتے پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔

۲۱۔کتاب التَّہَجُّد

۱۔نبیﷺ جب بیمار ہوئے تو ایک رات یا دو رات آپﷺ تہجد کے لیے نہیں اٹھے۔
۲۔ رسول اﷲﷺ نے نمازِ چاشت کبھی نہیں پڑھی اور میں اسے پڑھتی ہوں ، حضرت عائشہؓ ۔
۳۔ رسول اﷲﷺ کو وہ عمل پسند تھا جو ہمیشہ کیا جائے۔ 
۴۔نبیﷺ رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے،  جس میں وتر اور سنتِ فجر کی دو رکعتیں بھی ہوتی تھیں۔ 
۵۔ نبیﷺ کو رات کے وقت نماز پڑھتے بھی دیکھا جا سکتا تھا اور سوتے ہوئے بھی۔
۶۔سونے والے کی گردن کے پیچھے گدی پر شیطان تین گرہ دے دیتا ہے۔ بیدار ہونے، وضو کرنے اور نماز فجر پڑھنے سے یہ تینوں گرہیں کھل جاتی ہیں۔ 
۷۔ جو نماز کے لیے اٹھنے کی بجائے صبح تک سوتا ر ہے تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے۔
 ۸۔ہمارا پروردگار ہر رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کر لوں۔ 
۹۔ رسول اللہﷺ شروع رات میں سوتے تھے اور اخیر رات میں اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ نماز کے بعد پھر اپنے بستر کی طرف لوٹ آتے تھے پھر جب مؤذن اذان  فجر دیتا تو آپﷺ اٹھتے۔ 
 ۱۰۔رسول اﷲﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہ پڑھتے تھے
۱۱۔ ہر ایک اپنی طبیعت کے خوش رہنے تک نماز پڑھے پھر جب تھک جائے تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے۔
۱۲۔تم اُس شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا تھا پھر اُس نے رات کا اٹھنا اور نماز پڑھنا ترک کر دیا۔ 
۱۳۔ رسول اﷲﷺ ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم فرمایا کرتے تھے۔
۱۴۔ نبیﷺ فجر کی دو رکعات سنتوں کی بڑی حفاظت فرمایا کرتے تھے۔
 ۱۵۔رسول اﷲﷺ نمازِ فجر سے پہلے پڑھی جا نے والی دونوں رکعتیں بہت ہلکی پڑھتے تھے
۱۶۔نبیﷺ کی وصیت: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، نماز چاشت پڑھنا۔ اور وتر پڑھ کر سونا۔

۲۲۔کتاب العمل فی الصلاۃ

۱۔ نماز میں اﷲ کے ساتھ مشغولی ہوتی ہے اس لئے نماز میں اور کسی طرف مشغول نہ ہونا چاہیئے۔
۲۔سجدہ کرتے وقت مٹی وغیرہ برابر کرنا ہو تو ایک مرتبہ سے زیادہ نہ کرو۔
۳۔ نبیﷺ نے نماز کے دوران سلام کا جواب نہیں دیا۔
۴۔ نبیﷺ نے  اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی کولہے پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے۔
۵۔ آپﷺ نے غلطی سے پانچ رکعتیں پڑ ھ لیں تو سلام کے بعد دو سجدے سہو کے کئے۔

۲۳۔کتابُ الجنائز (  نمازِ جنازہ)

۱۔جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ ا ﷲ کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔
 ۲۔اﷲ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، حالانکہ میں اﷲ کا رسول(ﷺ) ہوں۔ 
 ۳۔ نجاشی کی وفات پر آپﷺ نے لوگوں کو کھڑا کر کے چار تکبیریں کہیں اور غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی۔
 ۴۔جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پا جائیں تو اﷲ اسے جنت عطا کرے گا۔
۵۔میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اخیر میں کافور ملا دو۔
۶۔ رسول اﷲﷺ کو یمن کے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ 
۷۔ہم عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے سے منع کر دیا گیا تھا،  اُمِّ عطیہؓ 
 ۸۔ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں مگر بیوی شوہر کا سوگ چار مہینے اور دس د ن کرے۔
۹۔صبر شروع صدمہ کے وقت معتبر ہوتا ہے۔
۱۰۔ جو شخص رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولے اسے چاہیئے کہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈ لے۔
 ۱۱۔اگر کسی نے مرنے والے پر نوحہ کیا تو نوحہ کرنے کی وجہ سے اُس پر عذاب کیا جائے گا۔
۱۲۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو غم میں اپنے رخساروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے۔
۱۳۔اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاؤ۔ یہ اُس سے بہتر ہے کہ انہیں فقیر چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں 
 ۱۴۔جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔
۱۵۔نبیﷺ نے غم میں چِلا نے،  سر منڈوانے اور گریبان وغیرہ پھاڑنے والی عورت سے برأت ظاہر فرمائی۔
۱۶۔اﷲ تعالیٰ آنسو بہانے پر عذاب نہیں کرتا اور نہ ہی دل کے رنج کی وجہ سے عذاب کرتا ہے۔ 
۱۷۔میت پر اس کے اقربا کے ناجائز طور پر رونے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے۔
۱۸۔ رسول اﷲﷺ نے ہم لوگوں سے بیعت کے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہ کریں گی،اُمِّ عطیہؓ 
۱۹۔جب تم میں سے کوئی شخص جنازہ کو دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہ جا رہا ہو تو کم از کم کھڑا ہو جائے۔
۲۰۔ جو شخص جنازہ کے ہمراہ جائے اس کو ایک قیراط ثواب ملے گا 
 ۲۱۔اﷲ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کیونکہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا، محمدﷺ
۲۲۔سورۂ فاتحہ کا نمازِ جنازہ میں پڑھنا سنت ہے۔
۲۳۔ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا کیا جاتا ہے مگر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں 
اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں بات یوں ہوئی تو میں یہودی ہوں تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ہے۔ 
 ۲۴۔ عالم بے عمل کو قیامت تک اس کا سر بار بار پھوڑے جانے کا عذاب دیا جاتا رہے گا۔
۲۵۔ زنا کار مردوں اور عورتوں کو تنور جیسے گڑھے کی آگ میں برہنہ جلا یا جائے گا۔
۲۶۔سود خور شخص کو خون کی نہر میں عذاب دیا جائے گا۔
۲۷۔ مُردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا بھی عمل کیا تھا اس کا بدلہ پا لیا۔

۲۴۔کتاب الزکاۃ 

 ۱۔اﷲ نے رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔  
۲۔ اﷲ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کیا ہے۔ 
 ۳۔اﷲ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر و۔
۴۔ نماز پڑھا کرو، زکوٰۃ دیا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو۔
۵۔ رمضان کے روزے رکھا کرو
 ۶۔حضرت بو بکرؓ  کا فرمان:اﷲ کی قسم میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق سمجھے گا
۷۔جو اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے تو اس کا مال روزِ قیامت گنجے سانپ کے ہم شکل کر دیا جائے گا۔ 
۸۔پانچ اوقیہ (ساڑھے باون تولے چاندی) سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
 ۹۔پانچ اونٹ سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
 ۱۰۔ پانچ وسق (ساڑھے چار یا پانچ من) سے کم کھجور پر بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
 ۱۱۔ اے لوگو! صدقہ دو۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ آگ سے بچے اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے صدقہ دینے سے سہی۔ پھر اگر کھجور کا ٹکڑا بھی میسر نہ ہو تو عمدہ بات کہہ کر۔
۱۲۔غریب صحابہ ؓ  مزدوری کرتے اور مزدوری کے عوض ملنے والے غلہ وغیرہ کو صدقہ میں دے دیتے۔
۱۳۔جو شخص بیٹیوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوا تو وہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے حجاب ہو جاتی ہیں 
 ۱۴۔صدقہ دینے میں اتنی دیر مت کر کہ جان حلق میں پہنچ جائے۔
۱۵۔گھر کو بگاڑنے کی نیت کے بغیر اگر کوئی عورت گھر کے کھانے میں سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا
۱۶۔صدقہ کی ابتداء اہل و عیال اور قریبی رشتہ داروں سے کرو۔ 
۱۷۔ عمدہ صدقہ وہ ہے جو فاضل مال سے دیا جائے۔
۱۸۔ جو شخص سوال کرنے سے بچے گا تو اﷲ بھی اسے سوال کرنے سے بچائے گا۔ 
۱۹۔ صدقہ دینے والا ہاتھ، صدقہ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ 
۲۰۔ خیرات کو مت روکو، ورنہ تمہارے رزق میں سے خیر و برکت کو بھی روک لیا جائے گا۔
۲۱۔مال و دولت کو گن گن کر مت رکھو ورنہ اﷲ بھی تجھے گن گن کر دے گا۔
۲۲۔فرشتوں کی ندا:’’اے اﷲ !ہر خرچ کرنے والے کو اس کے خرچ کرنے کا نعم البدل عنایت فرما‘‘۔
۲۳۔فرشتے ندا دیتے ہیں :’’اے اﷲ! ہر بخل کرنے والے کے مال کو تباہ و برباد کر دے‘‘۔
 ۲۴۔ہر مسلمان پر صدقہ دینا ضروری ہے۔
۲۵۔ صاحبِ  حاجت مظلوم کی فریاد رسی بھی صدقہ ہے۔
۲۶۔ اچھی بات پر عمل کرنا اور برائی سے باز رہنا بھی صدقہ ہے۔
۲۷۔صدقہ کے خوف سے متفرق مال یکجا نہ کیا جائے اور یکجا مال متفرق نہ کیا جائے۔
۲۸۔جو مال دو شراکت داروں کا ہو وہ دونوں زکوٰۃ دینے کے بعد آپس میں برابر برابر سمجھ لیں۔ 
۲۹۔چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری ہے۔ (پانچ سے کم پر زکوٰۃ نہیں ) 
۳۰۔ پچیس سے پینتیس اونٹوں کی زکوٰۃ ایک برس کی ایک اونٹنی ہے۔
۳۱۔چھتیس سے پینتالیس اونٹوں پر دو برس کی ایک اونٹنی اور چھیالیس سے ساٹھ اونٹوں تک کی زکوٰۃ میں تین برس کی اونٹنی جفتی کے لائق دینا ہو گی۔
 ۳۲۔ اکسٹھ سے پچھتر اونٹوں کی زکوٰۃ میں چار برس کی ایک اونٹنی دینا ہو گی۔
۳۳۔چھہتر سے نوے  اوں ٹوں کی زکوٰۃ میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں دینا ہو گی۔
۳۴۔ اکیانوے سے ایک سو بیس اونٹوں کے لئے تین تین برس کی دو اونٹنیاں جفتی کے لائق دینا ہوں گی۔
 ۳۵۔۱۲۰ سے زیادہ پر ہر ۴۰؍ اونٹوں پر دو برس کی ایک اونٹنی اور ہر پچاس پر تین برس کی ایک اونٹنی دینی ہو گی 
۳۶۔ جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکوٰۃ فرض نہیں۔  
 ۳۷۔ جنگل میں چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ : چالیس سے ایک سو بیس بکریوں پر ایک بکری فرض ہے۔ 
۳۸۔ ایک سو بیس سے دو سو بکریوں تک دو بکریاں فرض ہیں۔ 
 ۳۹۔ دو سو سے تین سو بکریوں تک تین بکریاں فرض ہیں۔ 
۴۰۔ تین سو سے زیادہ پر ہر سو میں ایک بکری فرض ہے۔
 ۴۱۔چالیس سے کم چرنے والی بکریوں پر کچھ زکوٰۃ  فرض نہیں ، ہاں اگر ان کا مالک دینا چاہے تو دے دے۔
۴۲۔زکوٰۃ صرف ان ہی اونٹوں ، گائے اور بکریوں پر فرض ہے جو چھ ماہ سے زیادہ جنگل میں چرتی ہوں۔ 
 ۴۳۔اگر چھ ماہ سے زیادہ اپنے پاس سے چارہ وغیرہ کھلانا ہو تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
 ۴۴۔ان تین جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور پر زکوٰۃ فرض نہیں ، البتہ بھینس گائے ہی کی ایک قسم ہے۔
 ۴۵۔ دوسو درہم چاندی میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔  اگر ایک سو نوے درہم ہیں تو اس میں کچھ زکوٰۃ نہیں 
۴۶۔ زکوٰۃ میں بوڑھا، عیب دار اور نر جانور نہ لیا جائے۔ 
 ۴۷۔عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری ہی دیکھی ہے کیونکہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کے حسن معاملت کا انکار کرتی ہو۔
۴۸۔تمہارے شوہر اور تمہارے بچے سب سے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ تم انہیں صدقہ دو۔
 ۴۹۔خدمت گزار غلام اور اس کی سواری کے گھوڑے پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ 
 ۵۰۔مسلمان کا کہ وہ مال اچھا ہے جس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دیا جائے۔
۵۱۔لکڑیاں توڑ کر اور انہیں اپنی پیٹھ پر لاد کر فروخت کرنا کسی سے سوال کرنے سے بہتر ہے۔ 
 ۵۲۔تم اسے لے لو جب اس مال میں سے کچھ تمہارے پاس آئے اور تم کو لالچ نہ ہو۔
۵۳۔ قیامت کے دن مسلسل سوال کر نے والے کے منہ پر گوشت کی کوئی بوٹی نہ ہو گی۔ 
۵۴۔جس چیز کو بارش کا پانی سینچے اور چشمے سینچیں یا خودبخود پیدا ہو اس میں عُشر واجب ہوتا ہے۔
۵۵۔ جو چیز کنوئیں کے پانی سے سینچی جائے اس میں نصف عُشر ہے۔
 ۵۶۔اپنے صدقہ کا واپس کر لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی قے کا کھانے والا۔
 ۵۷۔مری ہوئی بکری،  مویشی  وغیرہ کے کھال سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
۵۸۔صدقہ میں ملے مال و اسباب کو آگے ہدیہ کرنا جائز ہے۔
۵۹۔مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کی بددعا اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔
 ۶۰۔جانور سے جو زخم پہنچے اس پر کچھ بدلہ نہیں۔ 
۶۱۔ کنویں میں گر کر اور  معدنیات کے کان میں کام کرتے ہوئے مر جائے تو کچھ بدلہ نہیں۔ 
۶۲۔ معدنیات میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
۶۳۔نبیﷺ اس سے صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے۔

۲۵۔کتاب صدقۃ الفطر

۱۔صدقہ فطر مسلمانوں میں سے ہر غلام و آزاد، مرد، عورت اور بچے سب پر فرض ہے۔
۲۔صدقہ فطر نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دینے کا حکم ہے۔
۳۔صدقہ فطر کھجور یا ’’جو‘‘ کا ایک ’’صاع‘‘ (تقریباً دو کلو گرام) ہے۔

۲۶۔کتاب الحج 

۱۔ سب سے افضل جہاد ’’حجِ مقبول‘‘ ہے۔
۲۔ ضعیف والدین کی طرف سے حج بدل کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ حج کے دوران کوئی گناہ نہ کرے تو اس طرح واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے بے گناہ جنم دیا ہو
۴۔نبیﷺ کو عقیق کی مبارک وادی میں نماز پڑھنے کا حکم ملا۔
 ۵۔خوشبو لگے احرام کو تین مرتبہ دھو  نا ہی کافی ہے۔ 
۶۔نبیﷺ نے احرام باندھا اور مسجد ذو الحلیفہ کے قریب پہنچے تو تلبیہ پڑھی۔
۷۔ صحابہؓ  نے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈا لے۔
۸۔ کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کریں ، اس کے بعد اپنے بال کتروا ڈالیں اور احرام کھول دیں۔ 
۹۔سیدنا عبد اﷲ بن عمرؓ جب حج کے لئے مکہ جانے کا ارادہ کرتے تو بغیر خوشبو والا تیل لگاتے۔
۱۰۔بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ 
 ۱۱۔نبیﷺ نے فرمایا کہ حطیم بھی کعبہ کا حصہ ہے۔
۱۲۔ رمضان میں روزہ فرض ہوا تو نبیﷺ نے فرمایا:عاشورے کا روزہ رکھنا چاہو تو رکھ لو اور نہ چاہو تو نہ رکھو
۱۳۔ اگر نبیﷺ کو حجر اَسود کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ حضرت عمرؓ 
۱۴۔کوئی مشرک حج نہ کرے نیز کوئی برہنہ شخص بھی کعبہ کا طواف نہ کرے۔
۱۵۔رسول اﷲﷺ نے زم زم کا پانی کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔
 ۱۶۔رسول اﷲﷺ طوافِ کعبہ کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل یعنی دوڑ کر چلا کرتے تھے اور اگلے چار چکروں میں مشی یعنی معمولی چال سے چلا کرتے تھے
۱۷۔رسول اﷲﷺ  صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو  بطن المسیل میں  تیز دوڑا کرتے تھے۔
۱۸۔عرفہ یعنی نویں ذوالحجہ کے دن نبیﷺ روزہ سے نہیں ہی تھے۔ 
۱۹۔ جب رسول اﷲﷺ حجۃ الوداع میں عرفات سے روانہ ہوئے تو ہجوم میں بھی تیز تیز چل رہے تھے۔ 
 ۲۰۔مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں۔   ہر نماز کے صرف فرض پڑھے۔
۲۱۔ قربانی کے دن جمرۃ العقبہ کو کنکریاں مار نے کے بعد تلبیہ پڑھنا موقوف کر دیا۔
 ۲۲۔سیدنا عمرؓ نے فجر کی نماز مزدلفہ میں پڑھی اور آفتاب کے نکلنے سے پہلے ہی کوچ کر دیا۔
۲۳۔ پوچھا:یہ تو قربانی کا جانور ہے اس پر کیسے سوار ہو سکتا ہوں ؟ نبیﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ۔
 ۲۴۔جسے قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے گھر واپس لوٹ کر رکھے۔ 
۲۵۔جب ذو الحلیفہ پہنچے تو نبیﷺ نے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالا۔ 
۲۶۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ  فرماتی ہیں کہ میں نے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار بنائے تھے۔
۲۷۔رسول اﷲﷺ نے قربانی کے جانوروں کے جھولوں اور ان کی کھالوں کو خیرات کر نے کا حکم دیا۔
۲۸۔ رسول اﷲﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی۔ 
۲۹۔ اونٹ کو نحر کرنے کے لیے کھڑا کر کے اس کا پیر باندھ دو پھر اس کو نحر کرو کیونکہ یہی سنت نبویﷺ ہے۔
۳۰۔ قربانی کے جانوروں کی بنوائی کی اجرت میں قصاب کو گوشت یا کھال وغیرہ نہ دینے کا حکم ہے۔
۳۱۔رسول اللہﷺ نے دو مرتبہ فرمایا:اے اﷲ! سر منڈوانے والوں پر اپنی رحمت فرما۔ اور تیسری بار فرمایا کہ اے اﷲ!بال کتروانے والوں پر بھی رحمت فرما۔
 ۳۲۔بڑے جمرے کے پاس کعبہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو داہنی طرف کر کے سات کنکریوں سے رمی کی۔ 
۳۳۔پہلے جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے۔ ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے تھے۔ 
۳۴۔مکہ سے واپسی کے وقت کعبہ کا طواف کر کے جانا چاہئے۔ تاہم حائضہ عورت کو یہ معاف ہے۔
۳۵۔نبیﷺ نے مقامِ محصب میں ظہر، عصر، مغرب، اور عشاء کی نماز پڑھی اس کے بعد تھوڑی دیر تک نیند فرمائی۔
۳۶۔محصب میں اترنا حج کے ارکان میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی عبادت ہے۔
۳۷۔ طوافِ زیارت کے بعد حائضہ ہونے والی کے لیے جائز ہے کہ وہ طوافِ وداع کیے بغیر مکہ سے چلی جائے۔
 ۳۸۔نبیﷺ جب مکہ جاتے تو ذی طویٰ میں اترتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی پھر مکہ میں داخل ہوتے اور
 جب مکہ سے واپس ہوتے تب بھی ذی طویٰ میں اترتے اور رات پھر وہاں ٹھہرتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی

۲۷۔کتاب العمرہ ؛ ۲۸۔ممنوعاتِ حج

۱۔یک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان ہو گئے ہوں۔ 
 ۲۔رسول اﷲﷺ نے حج سے پہلے عمرہ ادا فرمایا تھا۔
 ۳۔عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور تمہاری مشقت کے مطابق ملے گا۔
 ۴۔نبیﷺ جب جہاد یا عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلند زمین پر تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے۔ 
 ۵۔نبیﷺ سفر سے واپسی پر رات کو گھر والوں کے پاس نہ جاتے۔ صبح کے وقت تشریف لاتے یا زوال کے بعد۔
 ۶۔سفر تو ایک طرح کا عذاب ہے۔ آدمی کو کھانے، پینے اور سونے کا آرام نہیں ملتا

۲۹۔ کتابِ شکار

۱۔ احرام کی حالت میں موذی جانور جیسے بچھو، چوہا،  کاٹنے والا کتا اور چھپکلی  وغیرہ مارے جا سکتے ہیں۔ 
۲۔نبیﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے سر کے بیچ میں مقامِ لحی جمل میں پچھنا لگوایا تھا۔
۳۔ نبیﷺ نے حضرت میمونہؓ سے احرام میں نکاح کیا۔ ( احرام میں صرف ہم بستری کرنا منع ہے)
 ۴۔رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔
۵۔ کوئی عورت بغیر اپنے شوہر یا محرم کے دو دن تک کا سفر نہ کرے۔ 
۶۔ عیدالفطر اور عید الضحیٰ  کے دن روزہ نہ رکھا جائے۔
 ۷۔عصر کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب ہو جائے، کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔
 ۸۔فجر کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع  نہ ہو جائے، کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔
۹۔کعبۃ اللہ،مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لیے سفر (شدر حال ) نہ کیا جائے۔
 ۱۰۔ اہلِ مدینہ کے ساتھ فریب کرنے والا اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

۳۰۔کتاب فضائلِ مساجدِ مکہ مدینہ

 ۱۔مسجد نبویﷺ کی نماز بیت اللہ کے سوا باقی تمام مسجدوں کی نماز ایک ہزار درجے افضل ہے۔
 ۲۔رسول اﷲﷺ مسجدِ قبا کی زیارت کو سوار اور پیدل جایا کرتے تھے۔
۳۔میرے گھر اور منبر کے درمیان ایک جنت کا ٹکڑا (ریاض الجنہ) ہے۔ میرا منبر میرے حوض پر ہے۔

۳۱۔کتاب الصوم  ; ۳۲۔ صلاۃ التراویح

 ۱۔روزہ دار بیہودہ بات اور جاہلانہ افعال سے باز رہے۔
۲۔روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ 
۳۔روزہ دار اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے لہٰذا میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ 
۴۔جنت میں ایک دروازہ ’’ریان‘‘ صرف روزہ داروں کے لیے مختص ہے۔
۵۔ جو کوئی نماز قائم کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ نماز کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا۔
 ۶۔ جو کوئی جہاد کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ جہاد کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا۔
۷۔ جو کوئی صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا۔
۸۔ماہِ رمضان میں آسمان یعنی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ 
۹۔ رمضان میں شیاطین مضبوط ترین زنجیروں سے جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ 
 ۱۰۔ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور عید ا لفطر کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا ترک کر دو۔ 
۱۱۔ روزہ میں جھوٹ بولنا،  دھوکہ دینا نہ چھوڑا تو اﷲ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تو اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
 ۱۲۔جو نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو وہ نکاح کر لے۔ نکاح  نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا باعث ہے۔
۱۳۔جو نکاح کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ سے شہوت ختم ہو جاتی ہے۔
۱۴۔ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو۔  اگر مطلع ابرآلود ہو اور چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن کی گنتی پوری کرو
 ۱۵۔ایک بار نبیﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا۔
۱۶۔کوئی شخص رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھے۔
۱۷۔سحری اور اذان کا درمیانی وقفہ پچاس آیتوں کی تلاوت کے دورانیہ جتنا تھا۔
۱۸۔روزہ کے لئے سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
۱۹۔کبھی کبھی اس حالت میں صبح ہو جاتی تھی کہ نبیﷺ جنبی ہوتے تھے حالانکہ آپؐ روزہ سے ہوتے تھے۔
 ۲۰۔نبیﷺ روزہ کی حالت میں ازواجِ مطہرات کے بوسے لے لیا کرتے اور معانقہ بھی کر لیتے تھے۔
۲۱۔جب کوئی شخص بھول کر کھا لے یا پی لے تو وہ اپنے روزہ کو پورا کر لے۔
 ۲۲۔روزہ میں بیوی سے ہم بستری کرنے والے کو نبیﷺ نے فرمایا : ایک غلام آزاد کرے یا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔
۲۳۔ سفر میں اگر چاہو تو روزہ رکھو اور نہ چاہو تو نہ رکھو۔
۲۴۔حالت میں سفر میں روزہ رکھ کر تکلیف اٹھانا کوئی نیکی نہیں ہے۔
۲۵۔ سفر میں روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو بُرا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو بُرا نہیں سمجھتا  تھا۔
۲۶۔مشرق کی طرف آثارِ شب نمودار ہو جائیں تو روزہ افطار کر دو۔ 
 ۲۷۔لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک کہ وہ جلد میں افطار کیا کریں گے۔
۲۸۔نبیﷺ شعبان سے بڑھ کر کسی اور مہینہ میں نفلی روزے نہ رکھتے تھے۔
 ۲۹۔اسی قدر عبادتیں اپنے ذمہ لو جنہیں تم برداشت کر سکو۔
۳۰۔جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے گویا روزہ رکھا ہی نہیں۔  
 ۳۱۔صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا منع  ہے۔ جمعرات یا سنیچر کا دن ملا کر دو دن روزہ رکھ سکتے ہیں۔ 
۳۲۔عید الضحیٰ کے فوراً بعد اگلے دو تین دن (ایام تشریق) میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
۳۳۔جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا گیا جس کا جی چاہا اس نے عاشورہ کا روزہ رکھ لیا اور جس نے چاہا اس نے نہ رکھا۔
۳۴۔ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ 
 ۳۵۔رمضان کے آخری عشرہ میں نبیﷺ خود بھی شب بیداری فرماتے اور گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے۔

۳۳۔کتاب ا لاعتکاف

۱۔نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے۔ 
 ۲۔جب نبیﷺ اعتکاف میں ہوتے تو بلا ضرورت گھر میں تشریف نہ لاتے۔ 
۳۔نبیﷺ نے فرمایا تم اپنی (جائز) نذروں کو پورا کرو۔

۳۴۔کتاب البیوع  ( تجارت کا بیان)  ؛  ۳۵۔کتاب السّلم

۱۔ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔
۲۔جس نے اس چیز کو ترک کر دیا جس میں گناہ کا شبہ ہو تو وہ اس کو بھی چھوڑ دے گا جو صاف اور کھلا ہوا گناہ ہو۔
 ۳۔ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس بات کی پرواہ نہ ہو گی کہ مال حلال طریقہ سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقہ سے۔
۴۔اپنے قرابت داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔
۵۔کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ پاک کھانا نہیں کھایا
۶۔ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت،  خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اختیار کرے۔
۷۔ تنگ دست کو ادائے قرض معاف کرے اور مالدار سے تقاضہ کرنے میں نرمی اختیار کرے۔ 
۸۔بیچنے والے اور خریدار دونوں کو جدا ہو نے سے قبل بیع کو ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
 ۹۔ اگر دونوں گروہ سچ بولیں ،  مال کا عیب و ہنر ظاہر کر دیں تو اس خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی۔ 
۱۰۔اور اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب پوشی کریں گے تو ان کی تجارت میں سے برکت ختم کر دی جائے گی۔
۱۱۔کتے اور خون کی قیمت لینا منع ہے۔
۱۲۔ گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت ہے۔
۱۳۔نبیﷺ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے۔
۱۴۔ جھوٹی قسم مال کو کھوٹا کر دیتی ہے اور برکت کو مٹا دیتی ہے۔
 ۱۵۔رسول اﷲﷺ کو کدو بہت پسند تھے۔
۱۶۔ نبیﷺ کا سوال:کسی کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ 
 ۱۷۔رسول اﷲﷺ نے ایک مرتبہ پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ 
 ۱۸۔ جاندار کی تصویریں بنانے والوں پر قیامت کے روز عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو صورتیں تم نے بنائی ہیں ان کو زندہ کرو۔ 
۱۹۔نبیﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں وہاں فرشتے نہیں جاتے۔
 ۲۰۔جب تم خرید و فروخت کیا کرو تو کہہ دیا کرو کہ دھوکہ کوئی نہ ہو۔
 ۲۱۔نبیﷺ  کی دعا: اے اﷲ! تو حسنؓ سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اُس سے بھی محبت فرما۔
 ۲۲۔ خریدے گئے اناج کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لینے سے قبل اسے فروخت کرنا منع ہے۔
 ۲۳۔اپنے غلہ کو ناپ لیا کرو۔ تمہارے لیے اس میں برکت ہو گی۔
 ۲۴۔ سونا، سونے کے عوض۔ گندم، گندم کے عوض کھجور، کھجور کے عوض اور جَو، جَو کے عوض فروخت کرنا سود ہے۔ مگر برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو تو درست ہے۔ 
 ۲۵۔کوئی شہری کسی دیہاتی آدمی کا مال و اسباب فروخت نہ کرے یعنی اس کا دلال نہ بنے۔
۲۶۔کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع (بزنس ڈیل)میں مداخلت نہ کرے۔ 
۲۶۔کسی عورت کا رشتہ طے ہو جانے کے بعد اُسی عورت کو اپنا رشتہ نہ بھجواؤ۔ 
۲۷۔ کوئی عورت اپنی سوتن مسلمان بہن کو طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو بھی خود حاصل کر لے۔
 ۲۸۔دَورِ جاہلیت کی بیع حبل الحبلہ منع ہے۔یعنی کوئی شخص ایک اونٹنی خریدے اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کر ے کہ یہ اونٹنی بچہ جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر بچہ جنے، تب قیمت دوں گا۔
 ۲۹۔اونٹنی اور بکری وغیرہ کو فروخت کرنے کی غرض سے اس کا دودھ تھن میں روک کر رکھنا منع ہے۔ 
۳۰۔جب لونڈی زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے ملامت نہیں بلکہ کوڑے لگوانے چاہیے۔ اگر وہ تیسری بار بھی زنا کرے تو اس کو فروخت کر دے اگرچہ ایک رسی کے بدلے ہی سہی۔
۳۱۔نبیﷺ نے پھل کے پک جانے سے قبل ان کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
۳۲۔نبیﷺ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ،  منابذہ اور مزابنہ(مختلف اقسام کے خرید و فروخت )سے منع فرمایا۔  
 ۳۳۔ بخیل شوہر کے مال سے بقدر ضرورت پوشیدہ طور پر کچھ لے لینا جائز ہے۔ 
۳۴۔ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گا جو میرا نام لے کر عہد کرے مگر پھر اس کے خلاف کرے۔
۳۵۔ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گا جو کسی آزاد آدمی کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا جائے۔
۳۶۔ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گاجو کسی مزدور سے اجرت پر کام لے اور پھر مزدوری نہ دے۔
۳۷۔ شراب، مردہ جانور اور بتوں کو فروخت کرنا حرام کر دیا ہے۔
 ۳۸۔کتے کی قیمت، زنا کی اُجرت اور کہانت کی اُجرت لینے سے منع فرمایا گیا ہے۔
 ۳۹۔جو شخص کھجور میں سلم کرے اس کو چاہیے کہ ایک معین پیمانہ اور معین وزن کے حساب سے کرے۔ 
۴۰۔ معین پیمانہ میں اور مدتِ معین تک کے لیے سلم کی کرو۔ 
 ۴۱۔پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے۔ 
 جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو، ا سے تحفہ تحائف بھیجنے میں اولیت دو۔

۳۶۔کتاب الا جارہ 

۱۔اُجرت لے کر سانپ کے کاٹے کا علاج سورۂ فاتحہ کی جھاڑ پھونک سے کیا گیا اور نبیﷺ نے پسند کیا۔
۲۔ نبیﷺ نے نر جانور کا مادہ جانور سے ملاپ کرانے کی اُجرت لینے سے منع فرمایا۔

۳۷۔کتاب الحولات(قرض کا بیان)

۱۔ مالدار کی جانب سے قرض ادا کرنے میں دیر کرنا ظلم ہے۔ 
۲۔ نبیﷺ کا مقروض کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے گریز کرنا۔
 ۳۔جس سے نبیﷺ کا کچھ وعدہ ہو یا آپؐ پر کسی کا کچھ قرض ہو وہ میرے پاس آئے۔ابو بکر صدیقؓ 

۳۸۔کتاب الوکا لۃ

۱۔ مرتے ہوئے بکری کو نوکدار پتھر سے ذبح  کیا گیا تو نبیﷺ نے اس ذبیحہ کو حلال قرار دیا۔
 ۲۔تم میں اچھا شخص وہ ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے یعنی  اصل قرض سے کچھ بہتر ادا کرے۔
 ۳۔آیۃ الکرسی پڑھ کر سونے سے اﷲ کی طرف سے ایک نگہبان صبح تک پاس رہتا ہے جو شیطان کو قریب نہیں آنے دیتا۔
۴۔ دو صاع گھٹیا کھجوروں کے بدلہ ایک صاع عمدہ کھجوریں خریدنا بھی سود ہے۔
۵۔ نبیﷺ کی موجودگی میں شرابی کی جوتیوں اور چھڑیوں سے پٹائی کی گئی۔

۳۹۔کتاب  المزاراعۃ  (زراعت کا بیان)

۱۔ کسی فصل سے اگر کوئی پرندہ، مویشی یا انسان کچھ کھا لے تو کاشتکار کو صدقہ دینے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
۲۔ بیل سواری کرنے کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
۳۔کسی دوسرے کے باغ میں محنت کر کے پھلوں میں شریک ہونا جائز ہے۔
۴۔ کھیت کے کسی متعین حصہ کی پیداوار مالک کے لیے مقرر کر کے کھیت کو کاشتکاری کے لیے دینا منع ہے۔
 ۵۔نبیﷺ نے اہل خیبر سے کھیتی اور پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا تھا۔ 
 ۶۔نبیﷺ نے مزارعت سے منع نہیں فرمایا۔
۷۔ لیکن اگر کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت ہی دیدے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر کچھ کرایہ لے۔
۸۔ جس شخص نے کوئی ایسی زمین آباد کی جس پر کسی کا حق نہیں تھا تو آباد کرنے والا اس کا زیادہ حق دار ہے
 ۹۔ کھیتوں کو کرایہ پر نہ دو۔خود زراعت کرو یا کسی سے ان کی زراعت کروا لو یا ان کو اپنے پاس روک رکھو۔

۴۰۔کتاب المساقاۃ الشرب (پانی کی تقسیم)

۱۔مجلس میں اشیا کی تقسیم دائیں طرف سے کرنی چاہئے۔
۲۔ اپنی ضرورت سے زیادہ پانی نہ روکا جائے کہ گھاس اور دیگر پودوں کی نمو بھی رکی رہے۔
۳۔جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارنا اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔
۴۔ سفر میں موجود فاضل پانی کے استعمال سے کسی دوسرے مسافر کو روکنے پر سخت عذاب ملے گا۔
۵۔ کسی امام سے محض مالِ دنیا کے لیے بیعت کرنے والے کو سخت عذاب ملے گا۔
۶۔ ’اﷲ کی قسم مجھے اس مال کی اتنی قیمت مل رہی تھی‘ کہہ کر مال بیچنے والے پر عذاب ہو گا۔
۷۔ہر جاندار کی خدمت میں ثواب ملتا ہے۔
۸۔ فخر و ریا کی غرض سے یا اہل اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا پالنے والے پر وہی گھوڑا وبال ہو گا۔
۹۔ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہوئے دیکھو تو صبر کرنا۔
۱۰۔اگر کوئی قرض لے کر اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس سے ادا کرا دے گا۔ 
۱۱۔اگر کوئی قرض لے کر اسے ضائع کر دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کو ضائع کر دے گا۔
۱۲۔ مالداروں کے پاس نیکیاں بہت کم ہیں سوائے اُس شخص کے جو مال کو فراخدلی سے خرچ کرے۔ 
۱۳۔نبیﷺ نے قرض ادا کیا اور قرض سے زیادہ دیا۔
۱۴۔ اﷲ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور لڑکیوں کا زندہ درگور کرنا حرام کر دیا ہے۔
۱۵۔ اور حق ادا نہ کرنا اور ناحق چیز کا لینا بھی حرام کر دیا ہے۔ 
۱۶۔ فضول بحث کرنے، کثرت سے سوال کرنے اور مال کے ضائع کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔

۴۱۔کتاب فی الخصومات

۱۔بلا وجہ اختلاف نہ کرو۔ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اسی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔ 
 ۲۔کسی یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تو قصاص میں اس یہودی کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔

۴۲۔کتاب فی اللقطۃ (گمشدہ اشیاء)

۱۔ ابی بن کعبؓ کو سو دینار کی ایک تھیلی پڑی ہوئی ملی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔
 اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے واپس کر دینا ورنہ اپنے خرچ میں اسے استعمال کر لو۔

۴۳۔کتاب فی المظالم 

۱۔جب مومنوں کو حساب کے بعد دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دوسرے پلِ صراط پر ان مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔
 ۲۔حشر میں اﷲ تعالیٰ کے سامنے بندہ مومن جب اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا تو اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کی اور آج بھی تمہاری مغفرت کرتا ہوں۔ 
۳۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے پس اس پر نہ ظلم کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔
۴۔کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرنے پر اﷲ روزِ حشر اس کی ایک مصیبت کو دور فرمائے گا۔  
۵۔جو شخص مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، اﷲ تعالیٰ قیامت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔
 ۶۔ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسے ظلم کر نے سے روکنے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔
۷۔ اگر کسی شخص نے کسی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی معاف کرا لے۔ 
۸۔ جس نے کسی کی زمین ظلماً لے لی اسے سات زمین کا طوق پہنا یا جائے گا۔
۹۔جب بہت سے لوگ مشترکہ طریقہ پر کھا رہے ہوں تو دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا منع ہے۔
۱۰۔اﷲ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔
۱۱۔کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے نہ روکے۔ 
۱۲۔راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ اگر بیٹھو تو راستے پر بیٹھنے کے حقوق ادا کرو۔ نگاہ نیچی رکھو، ایذا رسانی سے بچو، سلام کا جواب دو، اچھی باتوں کی تلقین اور بری باتوں سے روکو۔
۱۴۔جب راستے کی زمین کے بارے میں جھگڑا کھڑا ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے۔
۱۵۔جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا، وہ شہید ہے۔

۴۴۔کتاب الشرکۃ

۱۔جو چیز بھی کاٹنے کے قابل ہو اور خون بہا دے اور ذبیحہ پر اﷲ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔  البتہ دانت اور ناخن سے نہ ذبح کرنا چاہئے۔ 
۲۔حدود اﷲ پر قائم رہنے والے منحرف ہو جانے والوں کو نہ روکیں تو ساری قوم تباہ ہو جائے گی۔

۴۵۔کتاب الرہن ؛ ۴۶۔ کتاب العتق

۱۔ رہن جب تک مرہون ہے اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلہ میں سوار ہوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ بھی اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلے میں پیا جا سکتا ہے۔
۲۔اگر مدعی گواہی پیش نہ کر سکا  تو مدعی علیہ سے صرف قسم لی جائے گی۔
 ۳۔ غلام مسلمان کو آزاد کرنے والے شخص کے ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کر دیا جائے گا۔
۴۔افضل ترین عمل اﷲ پر ایمان لانا، اس کے راستے میں جہاد کرنا اور پسندیدہ غلام کو آزاد کرنا ہے۔
۵۔کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی بے ہنر کو کوئی کام سکھا دو۔
 ۶۔لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ و مامون کر دو کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے۔ 
۷۔دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسے معاف ہیں جب تک کہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائے۔ 
۸۔کوئی شخص یہ نہ کہے ’’میرا بندہ، میری بندی‘‘ بلکہ یوں کہنا چاہئے:’’میرا آدمی، میری لونڈی‘‘۔
۹۔ خادم کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ کھانا کھلا نہ سکے تو ایک یا دو لقمہ ضرور کھلانا چاہئے۔
۱۰۔جب کوئی کسی سے جھگڑا کرے تو چہرے پر مارنے سے بہر حال پرہیز کرنا چاہئے۔

۴۷۔ کتاب الھبۃ و فضلھا(تحفہ کا بیان)

۱۔ جو بھی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اﷲ میں موجود نہ ہو تو وہ ناقابل عمل ٹھہرے گی۔ 
 ۲۔کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے معمولی ہدیہ کو بھی حقیر نہ سمجھے۔ 
۳۔اگر مجھے دست یا پائے کے گوشت پر بھی بلایا جائے تو میں قبول کر لوں گا، نبیﷺ
 ۴۔ایک خرگوش شکار کر کے ذبح کیا گیا تو نبیﷺ نے بھی اس کا گوشت تناول بھی فرمایا۔ 
 ۵۔رسول اﷲﷺ کے دسترخوان پر گوہ کا گوشت بھی کھایا گیا۔
 ۶۔ صدقہ وصول کرنے والا اسے دوسروں کو ہدیہ بھی کر سکتا ہے۔
۷۔ نبی کریمﷺ خوشبو کا تحفہ کبھی واپس نہیں کیا کرتے تھے۔
۸۔رسول اﷲﷺ ہدیہ قبول فرما لیا کرتے تھے لیکن ہدیہ کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے۔
۹۔ اﷲ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھو۔
۱۰۔اُمُّ المومنین حضرت میمونہؓ  نے اپنی ایک باندی نبی کریمﷺ سے اجازت لئے بغیر آزاد کر دی تو آپؐ   نے فرمایا: اگر تم نے یہ باندی اپنے ماموں کو دے دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ اجر ملتا۔
۱۱۔ رسول اﷲﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے۔ 
۱۲۔ حضرت علیؓ نے ہدیہ میں ملا ریشمی لباس پہن لیا تو نبیﷺ کا غصہ دیکھ کر عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کر دیا۔
۱۳۔ مشرک والدین کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرو۔
۱۴۔ نبیﷺ نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔(عمریٰ میں کوئی شخص اپنا گھر وغیرہ کسی کو تا حیات استعمال کے لیے دیتا ہے جب کہ رقبیٰ میں یوں کہا جاتا ہے کہ یہ گھر میرا ہے لیکن اگر میں پہلے مرگیا تو تمہارا ہو گا اور تم پہلے مر گئے تو میرا ہی رہے گا)
۱۵۔سب سے اعلیٰ و ارفع خصلت دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ کرنا ہے۔

۴۸۔کتاب الشہادات (گواہی کا بیان)

 ۱۔ نبیﷺ نے فرمایا:  میرے عہد کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔  پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے۔
۲۔ سب سے بڑا گناہ اﷲ کا کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ 
۳۔ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنا ناگزیر ہی ہو جائے تو یوں کہنا چاہیئے کہ میں فلاں شخص کو
 ایسا سمجھتا ہوں۔  ویسے اﷲ اس کے لیے کافی ہے۔ 
۴۔گر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو وہ اﷲ کی قسم کھائے ورنہ پھر اسے خاموش رہنا چاہئے۔

۴۹۔کتاب الصلح 

۱۔لوگوں میں صلح کرانے کی کوشش میں کوئی اچھی بات کی چغلی کھانے والا شخص جھوٹا نہیں ہے۔ 
۲۔ خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے۔ 

۵۰۔کتاب الشروط (شرائط کا بیان)

۱۔تیرے بیٹے پر سو دُرے اور ایک سال کی جلاوطنی کا حکم دیا جائے گا اور اے انیس تم اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔ 
 ۲۔اﷲ کے ننانوے (۹۹)ناموں کو یاد کرنے والا جنت میں داخل ہو گا۔

۵۱۔کتاب الوصایا (وصیت کا بیان)

۱۔ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ دو شب بھی اس طرح رہے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔
۲۔ بحالتِ  صحت جب مالداری کی خواہش اور تنگدستی کا خوف ہو، اس وقت صدقہ دو اور صدقہ میں تاخیر نہ کرو۔
 ۳۔سات تباہ کن گناہوں سے بچو: اﷲ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی جان کو ناحق مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ سے بھاگنا اور پاک دامن و بے خبر مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔
۴۔ وصیت کے وقت دو انصاف والے تم میں سے یا تمہارے غیروں میں گواہ ہونے چاہئیں۔ 

۵۲۔کتاب الجہاد والسیر (جہاد و سِریہ کا بیان)

۱۔ سب لوگوں میں افضل مومن وہ ہے جو اپنی جان سے اور اپنے مال سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرتا ہو۔
 ۲۔جو شخص اﷲ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے، اﷲ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔
۳۔جب تم اﷲ سے دعا مانگو تو اس سے فردوس طلب کرو کیونکہ وہ جنت کا افضل اور اعلیٰ حصہ ہے۔
۴۔ طاعون ہر مسلمان کی شہادت کا سبب ہے۔ 
۵۔ جو شخص اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کر دے تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ 
۶۔ درہم و دینار کا غلام ہلاک ہو۔ اسے کچھ دیا جائے تو خوش اور اگر نہیں دیا جائے تو ناخوش ہو جاتا ہے۔
۷۔ اﷲ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دینا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
۸۔مالداروں کو رزق کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے دی جاتی ہے۔
۹۔ ریشمی کپڑے کا تانا بانا دونوں ریشمی ہوں تو قطعاً حرام ہے۔ اگر صرف تانا ریشمی ہو تو حلال اور
 اگر صرف بانا ریشمی ہو تو مجبوراً اجازت ہے۔
۱۰۔ اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔
۱۱۔امام کی بات سننا اور ماننا ہر شخص پر ضروری ہے، جب تک خلاف شرع نہ ہو۔
 ۱۲۔جس نے نبیﷺ کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔ 
۱۳۔ جس نے نبیﷺ کی نافرمانی کی اس نے اﷲ کی نافرمانی کی۔ 
۱۴۔ جس نے شرعی امیر کی اطاعت کی اس نے نبیﷺ کی اطاعت کی۔
۱۵۔ جس نے شرعی امیر کی نافرمانی کی اس نے نبیﷺ کی نافرمانی کی۔
۱۶۔ نبیﷺ کے بعد کسی سے شرطِ موت پر بیعت نہ کریں گے۔
۱۷۔ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
۱۸۔جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے یا سفر کرتا ہے تو جس قدر عبادت وہ گھر میں رہ کر یا حالتِ صحت میں کیا کرتا تھا،  وہ سب اس کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ 
 ۱۹۔اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ تنہائی میں کیا خرابی ہے تو کوئی مسافر رات کے وقت تنہا سفر نہ کرے۔
۲۰۔کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور نہ کوئی عورت بغیر اپنے محرم رشتہ دار کے سفر کرے۔ 
۲۱۔نبیﷺ کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیا  تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور اس کو قتل کر دو۔ 
۲۲۔نبیﷺ نے مالِ  غنیمت میں خیانت کو سخت گناہ بتلایا۔
۲۳۔ جو شخص کسی ذمی کافر کو ناحق قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔

۵۳۔کتاب بدء الخلق (آغازِ خلق کا بیان)

۱۔ روح پھونکے جانے سے قبل بچہ کا  عمل، اس کا رزق، اس کی عمر، اور خوش بختی یا بدبختی لکھ دی جاتی ہے۔ 
۲۔ جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کر دے اور خاوند اس پر غصہ ہو کر سو جائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ 
 ۳۔نبیﷺ نے جنت کے لوگوں میں اکثر غریبوں کو اور دوزخ والوں میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔
۴۔ بخار جہنم کے جوش سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔
۵۔اچھی باتوں کا حکم دینے اور بُری باتوں سے منع کر نے والا اگر خود اِن پر عمل نہ کرے تو اسے آگ میں 
 ڈالا جائے گا جہاں اس کی آنتیں نکل پڑیں گی۔ وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کو لے کر گھومتا ہے
۶۔ اگر کسی کو شیطان وسوسہ ڈا لے اعوذ باﷲ پڑھے اور شیطانی خیال چھوڑ دے۔
۷۔ اگر یہ کہہ دے اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم تو اس کا غصہ جاتا رہے
۸۔جمائی شیطانی حرکات میں سے ہے۔لہٰذا جب کسی کو انگڑائی آئے تو وہ اسے حتی الامکان روکے۔ 
۹۔کوئی بُرے خواب سے ڈر جائے تو جاگتے ہی بائیں طرف تھوکے اور اس بُرائی سے اﷲ کی پناہ مانگے۔
۱۰۔ سو کر جاگو اور وضو کر نے لگو تو ناک میں تین بار پانی ڈالو۔
۱۱۔ سانپ جہاں دیکھو مار ڈالو۔ دو سفید دھاری والے اور دُم کٹے سانپ کو زندہ نہ چھوڑو کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی ختم کر دیتے ہیں اور پیٹ والی عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔  
۱۲۔گھروں میں رہنے والے سانپ میں جنات بھی ہو سکتے ہیں۔  ابو سعید خدریؓ کی روایت کردہ ایک حدیث کے مطابق انہیں پہلے تین مرتبہ وارننگ دینی چاہیے پھر بھی اگر وہ نہ جائیں تو انہیں مار دینا چاہیے۔
۱۳۔ فخر اور تکبر گھوڑے والوں ، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے۔
 ۱۴۔ مرغ کو بانگ دیتے سنو تو اﷲ سے اس کے فضل کی دعا کرو کیونکہ مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے۔
 ۱۵۔ جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر چیختا ہے۔
۱۶۔مکھی کے ایک پَر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے۔پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو کر نکال دو۔

۵۴۔کتاب احادیث الانبیاء

 ۱۔رسول اﷲﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ ابراہیمؑ  کی آگ پر پھونکتا تھا۔ 
۲۔جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہیں فوراً ادا کر لو کہ فضیلت اسی میں ہے۔
 ۳۔اﷲ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ذریعے سے ہر شیطان اور زہریلے، ہلاک کرنے والے جانور سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ 
۴۔قریش کی عورتیں بہتر ہیں ،اولاد پر بہت مہربان اور شوہر کے مال کا بہت خیال رکھنے والیاں۔ 
۵۔ میرا پیغام لوگوں تک پہنچاؤ اگرچہ ایک آیت ہی سہی۔ 
۶۔جو شخص قصداً میرے اوپر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
 ۷۔یہود اور نصاریٰ بالوں میں خضاب نہیں کرتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو۔
۸۔ سابقہ امتوں میں ایک زخمی شخص نے چھری لے کر اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا اور مرگیا تو اﷲ نے فرمایا کہ اس شخص نے جلدی کر کے جان دی۔ میں نے بھی جنت اس پر حرام کر دی۔
۹۔جہاں طاعون پھیلا ہو، وہاں مت جاؤ۔ اگر تمہارے ملک میں پھیلے تو وہاں سے مت نکلو۔
۱۰۔ ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سے گھسٹتا ہوا جا رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔

۵۵۔کتا ب المناقب 

 ۱۔حکومت اور سرداری کے زیادہ لائق تم اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو۔
۲۔ سب سے بُرا اس کو پاؤ گے جو ایک طرف ایک طرح بات کرے اور دوسری طرف دوسری طرح کی۔
۳۔ جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہو گیا اور جو شخص
 اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا بتلائے، جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
۴۔ رسول اﷲﷺ جس بات میں کوئی حکم نہ آتا تو مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے پھر اس کے بعد آپﷺ سر میں مانگ نکالنے لگے۔
۵۔تم میں بہتر وہ شخص ہے، جن کے اخلاق اچھے ہوں۔ 
۶۔نبیؐ نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا۔  جب کوئی اﷲ کے حکم کو ذلیل کرتا تو اس سے بدلہ لیتے۔
۷۔نبیﷺ نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر دل چاہتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ 
۸۔رسول اﷲﷺ اس طرح جلدی جلدی باتیں نہ کیا کرتے تھے جیسے عام لوگ کرتے ہیں۔ 

۵۶۔کتاب فضائل الصحابہ

۱۔مسلمانوں کی جماعت اور برحق امام کے پیچھے رہو۔ اگر جماعت یا امام نہ ہو تو سب فرقوں سے الگ رہو
۲۔ غرورو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا لٹکانے والے کو اﷲ تعالیٰ قیامت کے روز رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔
 ۳۔نبیﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ  کو بُرا نہ کہو۔ 
۴۔  تو روزِ قیامت انہی کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے۔
۵۔ جب تم لیٹو تو ۳۳ مرتبہ سبحان اﷲ، ۳۳ مرتبہ الحمد ﷲ اور ۳۴ مرتبہ اﷲ اکبر پڑھو۔
۶۔بنی اسرائیل کا کوئی با اثر شخص چوری کرتا تو چھوڑ دیتے اور کوئی عام شخص چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے

۵۷۔کتاب  فضائل انصار

۱۔ انصار کے ساتھ سوائے مومن کے کوئی دوستی نہ رکھے گا اور سوائے منافق کے کوئی دشمنی نہ رکھے گا۔ 
۲۔اپنے ساتھ حق تلفی ہوتا دیکھو تو صبر کئے رہنا یہاں تک کہ تم روزِ قیامت مجھ سے حوضِ کوثر پر ملو۔
۳۔انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کی نیکی کو قبول کرنا اور ان کی برائی سے درگزر کرنا۔
۴۔ اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ کیونکہ اﷲ کے سوا اور کسی کی قسم کھا نا منع ہے۔
۵۔ مہاجر کو منیٰ سے لوٹنے کے بعد جب حج ختم ہو جائے تو تین دن تک مکہ میں رہنا درست ہے۔

۵۸۔کتاب المغازی (غزوات کا بیان)

 ۲۔رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا ہو یا جانداروں کی تصویریں ہوں۔ 
۳۔جو کوئی رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے وہ اسے کفایت کرتی ہیں۔ 
 ۴۔ عزل کرنے میں نہ کچھ فائدہ ہے اور نہ کچھ خوف ہے۔ کیونکہ جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی۔
 ۵۔کلمہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ  جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
۶۔امُّ المومنین حضرت صفیہؓ کے ولیمہ میں روٹی یا گوشت نہ تھا بلکہ صرف کھجوریں ، پنیر اور گھی ڈال دی گئی تھیں۔ 
۷۔ خیبر کے دن متعہ (مخصوص دورانیہ کے لیے نکاح کرنا) اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ 
۸۔جو کوئی جان بوجھ کر اپنے اصلی باپ کے سِوا کسی اور کا بیٹا بنے تو اس پر جنت حرام ہے۔
 ۹۔اطاعت کرنا صرف اچھے کاموں میں لازم ہے۔  گناہ کے کام میں امام کی فرمانبردار ی ضروری نہیں۔ 
۱۰۔ شہد اور جو کی شرابوں سمیت ہر نشہ کرنے والی چیز حرام ہے۔
۱۱۔اﷲ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھوں۔  
۱۲۔ کسی بات پر قسم کھا لینے کے بعد اگر دوسری بات مناسب لگے تو دوسری بات پر عمل کرو اور قسم کا کفارہ ادا کرو۔
۱۳۔ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور ر جب حرمت والے چار مہینے ہیں۔ 
۱۴۔حجۃ الوداع میں بعض اصحاب نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے قصر کیا یعنی سرکے کچھ بال کٹوائے۔
۱۵۔جو قوم اپنے اوپر عورت کو حکمراں بنائے گی وہ ہرگز فلاح حاصل نہ کر سکے گی۔
۱۶۔ نبیؐ جب بیمار ہوتے تو معوذات یعنی سورۃ اخلاص،سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے اوپر دَم کیا کرتے اور اپنے بدن پر ہاتھ پھیرتے۔

۵۹۔کتاب التفسیر

۱۔ کسی کو اﷲ کا شریک بنانا سب سے بڑا گناہ ہے۔
۲۔دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ اس کو کھلانا پڑے گا۔
۳۔ تیسرا بڑا گناہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنا ہے۔
۴۔کھمبی جو ایک خودرَو پودا ’’مَنّ‘‘ کی قسم میں سے ہے،  اس کا پانی آنکھ کے لیے دوا ہے۔
۵۔موجودہ توراۃ کو بالکل سچ بھی نہ مان لو اور بالکل جھوٹ بھی نہ کہو۔
۶۔جو لوگ متشابہ آیتوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں ،  ان کی صحبت سے بچتے رہو۔
۷۔قسم مدعی علیہ پر ہے۔
۸۔سیدنا ابراہیمؑ کو جب آگ میں ڈالا گیا تھا تو آپ نے کہا تھا: حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْم الْوَ کِیْل۔
 ۹۔جو شخص دنیا میں جس کی عبادت کرتا ہے، آخرت میں اسی کے ساتھ ہو گا۔
۱۰۔جو کچھ میں جانتا ہوں اگر اس کو تم جانتے تو ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ، نبیﷺ 
 ۱۱۔اﷲ سے بڑھ کر غیرت مند کوئی نہیں۔ اسی لئے اُس نے ظاہری اور باطنی سب فحش باتوں کو حرام کیا۔ 
۱۲۔ مشرکوں کے پاس کوئی مسلمان جاتا تو فتنہ میں پڑ جاتا۔
۱۳۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو خرچ کر تو میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا۔
۱۴۔ اﷲ ظالموں کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ 
۱۵۔اے اﷲ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی، سُستی،بڑھاپے کی محتاجی زندگی والی  بدترین عمر سے۔
۱۶۔اے اﷲ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب، دجال کے فتنے اور زندگی و موت کے دیگر فتنوں سے۔
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : ابنِ آدم زمانہ کو بُرا کہہ کر مجھے ایذا دیتا ہے کیونکہ زمانہ میں ہی تو ہوں۔  
۱۷۔ اگر کوئی جوا کھیلنے کی دعوت دے تو وہ اپنے اِس گناہ کے کفارہ کے طور پر صدقہ دے۔
 ۱۸۔جنتی دنیا والوں کی نظر میں حقیر و ذلیل ہے مگر وہ اﷲ کے بھروسے پر کسی بات کی قسم کھا لے تو اﷲ اس کو پورا کرتا ہے
۱۹۔دوزخی شریر، مغرور اور متکبر لوگ ہوتے ہیں۔ 
۲۰۔کوئی مومن اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کوڑے سے نہ مارے۔ 
۲۱۔ گوز لگانے یعنی ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ 

۶۰۔کتاب فضائل القرآن

۱۔ جسے اﷲ نے قرآن دیا اور وہ اسے رات اور دن میں پڑھتا رہتا ہو، ایسے فرد پر رشک کرنا جائز ہے۔ 
۲۔ جسے اﷲ نے مال عطا کیا ہو اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرتا ہو، ایسے فرد پر بھی رشک کرنا جائز ہے۔ 
۳۔تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
 ۴۔ یوں نہ کہو کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یہ کہو کہ وہ آیت مجھے بھلا دی گئی۔
۵۔ قرآن پڑھ کر اس پر عمل کرنے والے مومن کی مثال ترنج کی سی ہے۔ اس کا مزا بھی اچھا ہے اور خوشبو بھی اچھی۔
۶۔جب تک تمہارا دل لگا رہے تم قرآن مجید پڑھتے رہو۔
۷۔ جب تم میں اختلاف پڑ جائے تو قرآن کی تلاوت موقوف کر دو۔
۸۔ جو میری سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ سے نہیں۔ 

  ۶۱۔کتاب النکاح

۱۔ نکاح کے وقت عورتوں کے مال، نسب یا خوبصورتی کی بجائے اس کی دینداری کو فوقیت دینی چاہئے۔
۲۔ مَردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ ضرر رساں نہیں ہے۔
۳۔جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ دودھ پینے سے بھی حرام ہیں۔ 
 ۴۔ دو بہنوں کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔ 
۵۔دودھ کا رشتہ جب ہی ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی غذا دودھ ہو۔
 ۶۔کوئی عورت اپنی پھوپھی یا اپنی خالہ کے شوہر سے نکاح نہ کرے۔
۷۔ بیوہ عورت کا نکاح ا س کی اجازت کے بغیر کنواری کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہ کیا جائے۔
 ۸۔کوئی شخص کسی دوسرے کے بھاؤ پر بھاؤ (بزنس ڈیل) نہ کرے۔
۹۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے۔
 ۱۰۔کسی عورت کو اپنے خاوند سے یہ درخواست کرنا درست نہیں کہ وہ اس کی سوکن کو طلاق دیدے۔ 
 ۱۱۔جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو ضرور جائے۔
۱۲۔ عورتوں سے بھلائی کرتے رہنا کیونکہ عورتوں کی پیدائش پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی اوپر ہی کی طرف سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے۔
۱۳۔ شوہر کی موجود گی میں اُس کی اجازت کے بغیر کسی عورت کا نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔ 
۱۴۔ کوئی عورت شوہر کی مرضی کے بغیر کسی کو اپنے گھر میں آنے نہ دے۔
۱۵۔جب کوئی بیوہ عورت پر کنواری سے نکاح کرے تو اُس کے پاس سات دن رہے پھر باری باری رہے۔
۱۶۔ جب کسی کنواری پر بیوہ عورت سے نکاح کرے تو اُس کے پاس تین دن رہے پھر باری باری سے رہے۔
 ۱۷۔نہ دی ہوئی چیز کا ظاہر کرنا ایسا ہے جیسے کوئی دو کپڑے مکر و فریب کے پہنے ہوئے ہو۔
۱۸۔ غیر عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے پرہیز کرو۔
۱۹۔ کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی غیر عورت کی تعریف ایسے نہ کرے جیسے وہ اسے کھلم کھلا دیکھ رہا ہو۔
۲۰۔ عرصہ دراز تک دور رہنے کے بعد رات کو گھر واپس نہ آیا کرو۔

۶۲۔کتاب الطلاق

۱۔طلاق دورانِ حیض نہیں بلکہ ایامِ طہر میں مباشرت کئے بغیر دینا چاہئے۔
۲۔ طلاق بائنہ (غیر رجعی) کے بعد حلالہ کیے بغیر عورت پہلے شوہر کے پاس لوٹ نہیں جا سکتی۔
۳۔ عورت اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہے تو اُسے مہر واپس کرنا ہو گا۔
۴۔ یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں نبیؐ  سے ایسے قریب ہو گا جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی۔
۵۔ بیوہ کے لئے سرمہ لگانا جائز بھی نہیں جب تک چارہ ماہ دس دن کی عدت نہ گزر جائے۔

۶۳۔کتاب النفقات  (نان نفقہ کا بیان)

۱۔ اپنے اہل و عیال پر اﷲ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرنے والے کو اس میں صدقہ کا ثواب ملے گا۔
۲۔ بیوہ اور مسکین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ 
۳۔ نبیﷺ اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کا سامان لے کر جمع کر لیتے۔ 

۶۴۔کتاب الاطعمۃ (کھانا کھانے کا بیان)

۱۔بسم اﷲ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
۲۔ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔
۳۔نبیﷺ نے کھانے کو کبھی بُرا نہیں کہا اور کبھی تکیہ لگا کر نہیں کھا نا نہیں کھایا۔
 ۴۔ریشم اور دیباج نہ پہنو اور کھانے پینے کے لئے سونے چاندی کے برتن استعمال نہ کرو۔
۵۔جو صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے، اس دن اسے زہر اور جادو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
۶۔تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے جب تک انگلیاں نہ چاٹ لے۔

۶۵۔کتاب العقیقہ 

۱۔ نبیﷺ نے کھجور چبا کر نومولود کے منہ (تالو) میں لگا دی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔
۲۔لڑکے کا عقیقہ کرنا لازم ہے۔ اس کی طرف سے خون گراؤ اور تکلیف دُور کرو۔

۶۶۔کتاب الذبائح والصید (ذبیحہ اور شکار کا بیان)

 ۱۔جس جانور کو تیر دھار کی طرف سے لگے، صرف وہی حلال ہے۔جسے تیر عرضاً لگے وہ حلال نہیں۔ 
۲۔ اہل کتاب کے برتنوں کے سوا اور برتن نہ ملیں تب انہی برتنوں کو دھو کر اُن میں کھا سکتے ہیں۔  
۲۔ کتا پالنے سے نیکی کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی ہے اگر کتا شکاری یا مویشیوں کا رکھوالا نہ ہو۔ 
۳۔ صحابہ کرامؓ  رسول اللہﷺ کے ساتھ ٹڈیاں کھایا کرتے تھے۔
۴۔ نبیﷺ نے مرغی وغیرہ کو باندھ کر نشانہ لگانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
۵۔ رسول اﷲﷺ نے کیچلیوں والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔

۶۷۔کتاب  الاضاحی (قربانی کا بیان)
۱۔ قربانی کا گوشت خود کھانا، دوسروں کو کھلانا اور جمع کر کے رکھنا سب جائز ہے۔
۲۔ رسول اﷲﷺ نے عید ین کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ 

۶۸۔کتاب الاشربہ (مشروبات کا بیان)

 ۱۔جس نے دنیا میں شراب پی لی پھر توبہ نہ کی تو اُس کو آخرت میں شرابِ طہور سے محروم کر دیا جائے گا۔
 ۲۔زانی زنا کرتے وقت، شرابی شراب پیتے وقت اور چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔
۳۔میری اُمت کی چند قومیں زنا کرنے کو، ریشم پہننے کو، شراب پینے کو اور باجوں کو حلال سمجھیں گی۔
۴۔ نبیﷺ نے کچی اور پکی کھجوروں کو یا کھجور اور انگور کو ملا کر شربت بنانے سے منع فرمایا ہے۔ 
۵۔ زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کسی کو فی سبیل اللہ دودھ پینے کے لیے دینا عمدہ صدقہ ہے۔ 
۶۔ نبیﷺ نے آبِ زم زم کھڑے ہو کر پیا۔ آپﷺ پانی پیتے ہوئے تین دفعہ سانس لیا کرتے تھے۔

۶۹۔کتاب المرض

۱۔مومن کی مثال تازہ کھیتی کے مانند ہے کہ جس طرف سے ہوا آتی ہے اسے جھکا دیتی ہے اور ہوا کے نہ ہونے کے وقت سیدھی ہو جاتی ہے۔ پس مومن اس طرح بلا سے بچا رہتا ہے۔
 ۲۔گنہگار کی مثال صنوبر کے پیڑ کی سی ہے کہ سیدھا سخت کھڑا رہتا ہے اﷲ جب چاہتا ہے اسے اکھیڑ دیتا ہے
۳۔ اﷲ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
۴۔مسلمان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس تکلیف کے عوض اﷲ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
۵۔ مرگی کی مریضہ سے نبیؐ  نے فرمایا: تو صبر کر لے تو تجھے جنت ملے گی ورنہ میں تیری صحت کی دعا کروں گا
۶۔کوئی رنج و مصیبت پر موت کی آرزو ہرگز نہ کرے۔
۷۔اے اﷲ جب تک میرے لئے بہتر ہو مجھ کو زندہ رکھ اور جب مرنا میرے لئے بہتر ہو تو مجھ کو اٹھا لے۔
 ۸۔تمہیں چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرو اور اﷲ کا قرب حاصل کرو 

۷۰۔کتاب الطّب

۱۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کوئی بیماری ایسی نہیں نازل کی جس کی دوا نہ اتاری ہو۔
۲۔شہد پینے، پچھنے لگوانے اور آگ سے داغ لگوانے میں شفا ہے مگر میں داغ دلوانے سے منع کرتا ہوں۔ 
۳۔ پیٹ کی تکلیف میں آپﷺ نے فرمایا کہ شہد پلا دو۔
۴۔کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔
۵۔تم عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ یہ سات بیماریوں کی دوا ہے۔ حلق کے ورم یعنی خناق کے لیے ناک میں ڈالی جاتی ہے اور پسلی کے درد کے لیے منہ میں رکھی جاتی ہے۔
 ۶۔اُمت محمدیہؐ میں سے ایسے ستر ہزار افراد بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ جو نہ دَم کریں ، نہ کسی شے میں بدفالی سمجھیں اور نہ علاج کے لیے آگ سے داغیں بلکہ اﷲ ہی پر بھروسہ رکھیں۔ 
 ۷۔ایک کی بیماری دوسرے کو لگنا، بد شگونی لینا، اُلو کو منحوس سمجھنا اور صفر کو منحوس سمجھنا لغو خیالات ہیں۔ 
۸۔البتہ جذام والے سے اس قدر علیحدہ رہنا چاہیے جیسے شیر سے جدا رہتے ہیں۔ 
 ۹۔بخار کو پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
 ۱۰۔جو مسلمان طاعون کی وبا سے فوت ہو جائے وہ بھی شہید ہے۔
 ۱۱۔نظر بد کا دَم کیا جائے تو جائز ہے۔
۱۲۔نبیﷺ نے سانپ، بچھو اور دیگر زہریلے جانور کے کاٹنے میں دَم کرنے کی اجازت دی ہے۔
۱۳۔حاملہ عورت کے پیٹ پر پتھر مارا جس سے بچہ مرگیا۔ تو آپؐ دیت میں باندی یا غلام دینے کا حکم دیا۔
۱۴۔کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے ڈبو کر پھینک دو۔ ا س کے ایک پَر میں بیماری ہے تو دوسرے میں شفا ہے

 ۷۱۔کتاب اللباس ؛  ۷۲۔ کتاب ا لا دب

۱۔ جس نے ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنا تو وہ کپڑا اپنے پہننے والے کو جہنم میں لے جائے گا۔
۲۔جس نے کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کہا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
۳۔ جس مرد نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا۔
۴۔ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا منع ہے۔
۵۔ ریشمی کپڑا حریر اور دیباج وغیرہ پہننا یا ان کو بستر بنانا منع ہے۔
۶۔نبیﷺ نے مرد کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے۔
۷۔آپﷺ جوتے سمیت نماز پڑھ لیتے تھے۔
۸۔ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلویا تو دونوں جوتے پہنو یا دونوں اتار دو۔
۹۔ پہلے داہنی طرف کا جوتا پہنیں اور جب اتاریں تو پہلے بائیں طرف کا جوتا اتاریں۔ 
۱۰۔ نبیﷺ نے زنانے مخنث مَردوں پر اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ فرمایا کہ ان کو گھر سے نکال دو۔
۱۱۔ داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں کترواؤ کیونکہ مشرکین داڑھی کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں۔  
۱۲۔ آپﷺ نے سر کے بعض حصہ کے بال کٹوانے اور بعض کے نہ کٹوانے سے منع فرمایا۔
۱۳۔حضرت عائشہؓ  نبیﷺ کو اپنے ہاتھوں سے اس وقت کی سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی۔ 

۷۳۔کتاب الاستئذان  (اجازت لینے کا بیان)

۱۔کم عمر والا بڑی عمر والے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کریں۔  
۲۔ اسلام میں بہتر کام محتاجوں کو کھانا کھلانا اور ہر جاننے نہ جاننے والوں کو سلام کرنا ہے۔
۳۔نظر بد آنکھ کا زنا اور زنا کی بات کرنا زبان کا زنا ہے۔ نفس خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے
 ۴۔ نبیﷺ کھیلتے ہوئے بچوں کے سامنے سے گزر تے تو انہیں سلام کیا کرتے تھے۔
۵۔ مجلس میں کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا منع ہے۔۔ 
 ۶۔جب تین آدمی ایک جگہ جمع ہوں تو تیسرے کو بغیر شریک کئے آپس میں آہستہ کوئی بات نہ کرو۔

۷۴۔کتاب الدعوات (مانگنے کا بیان)

۱۔ رسول اﷲﷺ جب سونے کے لیے بستر پر تشریف لے جاتے تو داہنی کروٹ پر لیٹتے۔ 
۲۔جب کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو معاف فرما۔  اﷲ سے قطعی طور پر مانگنا چاہئے۔
۳۔ ہر کسی کی دعا قبول ہوتی ہے اگر وہ جلدی نہ کرے۔ یوں نہ کہو کہ میں نے دعا مانگی تھی لیکن وہ قبول نہیں ہوئی
 ۴۔اے اﷲ! میں بخیلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
۵۔ یا اﷲ میں نامردی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
۶۔ یا اﷲ میں نکمی عمر تک زندہ رہنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
۷۔ اے اﷲ! میں سستی اور بے انتہا بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
۸۔ اور گناہ اور قرض و تاوان سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
 ۹۔قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔  
۱۰۔دوزخ کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
۱۱۔ مالداری کے فتنے اور غربت کے فتنے سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 
۱۲۔ مسیح دجال کے فتنے سے بھی یا اﷲ میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔  
۱۳۔یا اﷲ میرے اگلے پچھلے چھپے اور کھلے سب گناہوں کو معاف فرما دے۔
۱۴۔ جس نے سُبْحَانَ اﷲِ وَبَحَمْدِ ہِ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا اس کے تمام گناہ مٹا دیئے جائیں گے
۱۵۔جو شخص اﷲ کا ذکر کرے اور جو ذکر نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ 

۷۵۔کتاب الرقاق (دل کو نرم کرنے کا بیان)

۱۔دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔ صحت و تندرستی اور فرصت کے لمحات۔ 
۲۔ جس کو اﷲ نے لمبی عمر عطا کی حتیٰ کہ ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ گیا۔ پھر اﷲ اس کے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا۔
۳۔جو اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔  
۴۔اگر کوئی اﷲ کی رضا کی بات کہہ کر اسے اہمیت نہ دے تو اﷲ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔ 
۵۔اسی طرح کوئی بات اﷲ کی ناراضگی کی کہہ کر اسے کوئی بڑا گناہ نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے جہنم گر جاتا ہے
 ۶۔دوزخ نفسانی خواہشات سے اور جنت نفس کو بُری معلوم ہونے والی باتوں سے ڈھانک دی گئی ہے۔ 
۷۔ جنت اور دوزخ  انسان کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔
۸۔جب کوئی اپنے سے زیادہ امیر کی طرف دیکھے تو پھر اپنے سے غریب کی طرف بھی خیال کرے۔
۹۔ نیکی کے ارادہ پر ہی پوری نیکی اور عمل بھی کر لیا تو دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ 
 ۱۰۔ بُرائی کا ارادہ کر کے خوف سے عمل نہیں کیا تو ایک نیکی کا ثواب ملے گا۔  اگر برائی کر لی تو ایک ہی گناہ ملے گا۔
۱۱۔جو دکھانے کے لیے کوئی نیک کام کرے گا تو اﷲ قیامت کے دن اس کی بدنیتی سب کو سنا دے گا۔
۱۲۔ قیامت کے دن سب سے پہلے خون خرابے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ 
۱۳۔ دوزخ میں عذاب پانے کے بعد جنت میں داخل ہو نے والوں کو اہل جنت جہنمی کہہ کر پکاریں گے۔

۷۶۔کتاب القدر  (تقدیر کا بیان)

۱۔نذر ابن آدم کے پاس وہ چیز نہیں لاتی ہے جو میں نے اس کی تقدیر میں نہ رکھی ہو۔
۲۔خلیفہ کے دو باطنی مشیر ہوتے ہیں۔  ایک اس کو خیر کی طرف اور دوسرا برائی کی طرف راغب کرتا ہے۔
۳۔ نبیﷺ اکثر یہ قسم کھایا کرتے تھے لَا وَ مُقَلِّبِ الْقُلُوْبِ یعنی قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی۔

۷۷۔کتاب ا لا یمان و ا لنذور  (نذروں کا بیان)

 ۱۔ عہدہ کا مطالبہ کرو گے تو ساری ذمہ داری تم پر ہو گی۔لیکن اگر بن مانگے ملی تو پھر تمہاری مدد کی جائے گی۔ 
 ۲۔ قسم کھا نے کے بعد کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔
 ۳۔ بعض اوقات قسم توڑ کر اس کا کفارہ دینے سے زیادہ گناہ کی بات اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا ہے۔
۴۔ زیادہ مال والے ہی سب سے زیادہ نامراد ہیں الّا یہ کہ جو اس مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ 
۵۔ اگر کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اور اسے اپنے اعمال کے سبب جہنم میں جانا ہوا تو آگ صرف قسم پوری کرنے کے لیے اسے چھوئے گی۔
۶۔جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے معصیت نہ کرنی چاہئے۔
۷۔ مرحوم والدین کی مانی گئی نذروں کو پورا کیا جانا چاہئے۔

۷۸۔کتابُ الفرائض

۱۔ میراث اس کے مستحقوں تک پہنچا دو۔  جو کچھ بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے۔
۲۔ جس نے  جان بوجھ کر اپنے باپ دادا کے سِوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تو اس پر جنت حرام ہے۔

۷۹۔کتاب الحدود

۱۔ ایک شخص کو شراب پینے پر نبی کریمﷺ نے مارا۔ مگر لوگوں کو اُس شرابی پر لعنت کرنے سے منع کیا۔
۲۔ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری پر ہاتھ کاٹ لیا جائے۔

۸۰۔کتاب المہاربین

۱۔حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی اور جرم کی سزا میں مجرم کو دس کوڑے سے زیادہ نہ مارے جائیں۔  
۲۔ جس نے اپنے غلام پر جھوٹی تہمت لگائی تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔

۸۱۔کتاب الدیات  (خون بہا، دیت کا بیان)

۱۔قاتل،  شادی شدہ زانی اور مرتد کے علاوہ کسی اور مسلمان کا خون حلال نہیں ہے۔ 
۲۔ کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو اس کی کوئی سزا نہیں ہے۔

۸۲۔کتاب التعبیر  (خوابوں کی تعبیر کا بیان)

 ۱۔کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
۲۔ناپسندیدہ خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس کے شر سے پناہ مانگو اور ایسے خواب کا ذکر نہ کرو۔
۳۔ جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا۔
۴۔ جھوٹا خواب بیان کرنے والے کو روزِ قیامت دو جَو کے دانوں کو جوڑنے کے لیے کہا جائے گا۔ 

۸۳۔کتابُ الفتن (فتنہ کا بیان)

۱۔ جو شخص اپنے امیر میں کوئی نا پسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے۔ 
۲۔حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک صاف کفر نہ دیکھ لیں۔ 
 ۳۔کوئی شخص اپنے دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ 
 ۴۔قتل بڑھ جائے گا۔ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا۔ 
۵۔لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں اکڑیں گے۔

۸۴۔کتابُ الا حکام

۱۔سنو اور اطاعت کرو خواہ تم پر کسی حبشی غلام کو ہی عامل بنا دیا جائے۔
۲۔ جماعت کا ذمہ دار اگر معاملات میں خیانت کرے اور اسی حالت میں مر جائے تو اس پر جنت حرام ہے۔
۳۔ جو دکھاوے کے لیے کام کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کر دے گا۔
۴۔ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا۔
۵۔کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو۔

۸۵۔کتابُ التمنی  (تمنا کا بیان)

 ۱۔تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے۔ 
۲۔ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ اس کی نیکی میں اضافہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے رُک جائے۔

۸۶۔کتاب الا عتصام  بالکتاب و السنۃ

 ۱۔جو نبیؐ کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو نافرمانی کرے گا، گویا اس نے انکار کیا۔
۱۔جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دُہرا ثواب ملتا ہے۔

۸۷۔کتاب التوحید

۱۔ میں اللہ اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔  جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔  
۲۔ اے میرے رب! میں نے گناہ کیا ہے، تو مجھے معاف کر دے۔
۳۔سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم زبان پر ہلکے لیکن قیامت کے دن ترازو پر بھاری ہوں گے۔

========================================
پیغامِ حدیث کے مآخذ: صحیح بخاری اور صحاح ستہ سمیت بارہ مجموعہ احادیث
پیغامِ حدیث میں بخاری شریف کی جملہ کتب کی تلخیص کے علاوہ صحاح ستہ (۱۔ صحیح بخاری ۲۔ صحیح مسلم  ۳۔جامع ترمذی  ۴۔ سنن ابوداؤد  ۵۔ سنن نسائی  ۶۔ سنن ابن ماجہ)  سمیت  مسند احمد، سنن دارمی، مؤطا امام مالک، اوسط للطبرانی، بیہقی اور شرح السنہ سے اضافی احادیث کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔
========================================



 ضمیمہ۔۱
کتب:۱۔ الایمان، ۲۔ الرقاق، ۳۔الاخلاق

۱۔عبادت اور بندگی کرتے رہو صرف اﷲ کی اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ کرو ( مسلم)
۲۔ نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور صلۂ رحمی کرو۔ ( مسلم)
۳۔ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو، جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔(مسند احمد)
۴۔ دوسروں کے لیے بھی اُنہی چیزوں کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔(مسند احمد)
۵۔مسلم وہ ہے جس کی زبان درازیوں اور دست درازیوں سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔ (ترمذی،  نسائی)
۶۔ مومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کے جان و مال کو کوئی خوف و خطرہ نہ ہو۔ (ترمذی،  نسائی)
۷۔ خلاف شرع باتوں کو ہاتھ سے اور اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے بدلنے کی کوشش کرو۔ (مسلم)
۸۔مسلمان بزدل اور بخیل ہو سکتا ہے لیکن مسلمان کذاب یعنی بہت جھوٹا نہیں ہو سکتا۔(رواہ مالک و بیہقی )
۹۔ جس نے نہ تو کبھی جہاد کیا اور نہ ہی جہاد کی تمنا کی تو وہ نفاق کی ایک صفت میں مرا۔ ( مسلم)
۱۰۔ دل کے برے خیالات اور وسوسوں پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا جب تک اُن پر عمل نہ کیا جائے۔ ( مسلم)
۱۱۔ تقدیر پر ایمان لانا بہت ضروری ہے۔ تقدیر پر ایمان لائے بغیر مرنے والا یقیناً دوزخی ہے۔(ترمذی)
۱۲۔ قضا و قدر کے مسئلہ میں ہرگز حجت اور بحث نہ کرنا۔ (ترمذی)
۱۳۔ قبر کے سوالات: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے ؟یعنی حضرت محمدؐ کون ہیں ؟ (مسند احمد، ابوداؤد)
۱۴۔ نیک مردہ کی قبر میں جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے جنت کی خوشبو دار ہوائیں آتی ہیں  اور اس کے لئے منتہائے نظر تک کشادگی کر دی جاتی ہے۔(مسند احمد، ابوداؤد)
۱۵۔کافر مردہ کے لئے دوزخ کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے دوزخ کی گرمی اور جلانے  جھلسانے والی ہوائیں اس کے پاس آتی رہیں گی اور اس کی قبر اس پر نہایت تنگ کر دی جائے گی۔(مسند احمد، ابوداؤد)
۱۶۔ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔یہاں سے نجات پا گیا تو آگے کی منزلیں نسبتاً آسان ہیں۔ (ترمذی)
۱۷۔ قبر و دوزخ کے عذاب، ظاہری و باطنی فتنوں اور دجال کے فتنے سے اﷲ کی پناہ مانگو۔ (مسلم)
۱۸۔حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘  اور اَللّٰھُمَّ حَا سِبْنِیْ حِسَاباً یَّسِیْرًا کہتے رہا کرو۔ (ترمذی)
۱۹۔  اے اﷲ! میرا حساب آسان فرما کیونکہ جس کے حساب میں جرح ہوئی وہ ہلاک ہو گیا۔ (مسند احمد)
۲۰۔ اﷲ اُس بندہ کو شاداب رکھے جو میری حدیث کو یاد کرے اور دوسروں تک پہنچائے(ترمذی، ابو داؤد)
۲۱۔ لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو زیادہ یاد کرو تو وہ تمہیں غفلت میں مبتلا نہ ہونے دے۔(ترمذی)
۲۲۔ جو روزے رکھتے،  نمازیں پڑھتے اور صدقہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی یہ عبادتیں قبول نہ کی جائیں۔  یہی لوگ بھلائیوں کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں۔  (ترمذی و ابن ماجہ)
۲۳۔ اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے موت کے دن تک برابر اﷲ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے سجدہ میں پڑا رہے تب بھی قیامت کے دن اپنے اس عمل کو وہ حقیر ہی سمجھے گا۔ (مسند احمد)
 ۲۴۔اُن گناہوں سے بچنے کی خاص طور سے کوشش کرو جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
۲۵۔ دنیا مومنوں کے لئے قید خانہ اور کافروں کے لئے جنت ہے۔ (مسلم)
۲۶۔ فنا ہو جانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو۔ (مسند احمد،بیہقی)
۲۷۔ دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ (بیہقی)
۲۸۔جب اﷲ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے پرہیز کراتا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
۲۹۔ میری اُمت کی خاص آزمائش مال ہے۔ (ترمذی)
۳۰۔انسان کا مال صرف وہی ہے جو اُس نے کھا کے ختم کر دیا۔ دوسرے وہ جو پہن کر پُرانا کر ڈالا اور تیسرے وہ جو اُس نے راہِ خدا میں دے کر اپنی آخرت کے واسطے ذخیرہ کر لیا۔ (مسلم)
۳۱۔ جب مجھے بھوک لگے تو اللہ کو یاد کر کے عاجزی اور گریۂ و زاری کروں اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے تو میں آپ کی حمد اور آپ کا شکر کروں۔  (مسند احمد، ترمذی)
۳۲۔انسان موت کو پسند نہیں کرتا حالانکہ موت اس کے لئے فتنہ سے بہتر ہے۔(مسند احمد)
۳۳۔ انسان مال کی کمی کو پسند نہیں کرتا حالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو ہلکا کرتی ہے۔  (مسند احمد)
۳۴۔ اﷲ وہ مومن بہت محبوب ہے جو غریب اور عیال دار ہو نے کے باوجود با عفّت ہو۔  ( ابن ماجہ)
۳۵۔جو اپنی حاجت لوگوں سے چھپائے تو اﷲ اس کو حلال طریقے سے ایک سال کا رزق عطا فرماتا ہے۔ (بیہقی)
۳۶۔دنیا کی طرف سے بے رُخی اختیار کر لو تو اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
۳۷۔ لوگوں کے مال سے بے رُخی ختیار کر لو تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
۳۸۔حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے اور اپنے مال کو برباد کرنے کا نام زُہد نہیں ہے۔(ترمذی و ابن ماجہ)
۳۹۔اصل زُہد یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے تمہارے پاس ہے، اِس سے زیادہ اُس پر بھروسہ جو اﷲ کے پا س ہے(ترمذی ) 
۴۰۔ جب کوئی تکلیف پیش آئے تو اس تکلیف کے اُخروی ثواب کی رغبت تمہارے دل میں زیادہ ہو بہ نسبت اس خواہش کے کہ وہ تکلیف دہ بات تم کو پیش ہی نہ آتی۔ (ترمذی و ابن ماجہ) 
۴۱۔ جو شخص اﷲ تعالیٰ سے ڈرے اُس کے لئے مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (مسند احمد)
۴۲۔صاحب تقویٰ کے لئے صحت مندی، دولت مندی سے بھی بہتر ہے۔ (مسند احمد)
۴۳۔ اﷲ تعالیٰ اُس متقی دولت مند بندہ سے محبت کرتا ہے جو غیر معروف اور چھپا ہوا ہو۔ (مسلم)
۴۴۔جو سوال سے بچنے،اہل و عیال کے لئے رزق و آسائش کا سامان فراہم کرنے اور پڑوسیوں کے ساتھ
 حسن سلوک کی غرض سے حلال دولت حاصل کرنا چاہے تو روزِ قیامت اُس کا چہرہ منور ہو گا۔(بیہقی)
۴۵۔ جو حلال دولت اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے کہ وہ بہت بڑا مالدار ہو جائے اور دوسروں کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھا سکے تو قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔ (بیہقی)
 ۴۶۔کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا۔(ترمذی)
 ۴۷۔اگر مظلوم بندہ صبر کرے تو اﷲ تعالیٰ اس ظلم کے بدلہ اُس کی عزت بڑھا دیتا ہے۔ (ترمذی)
۴۸۔ اگر کوئی بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اﷲ اُس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(ترمذی)
۴۹۔جن کو اﷲ نے مال اور زندگی کا علم دیا ہے۔ وہ اس مال کے استعمال میں اﷲ سے ڈرتے ہیں اور اس کے ذریعہ صلۂ رحمی کرتے ہیں۔ ایسے بندے سب سے اعلیٰ و افضل مرتبہ پر فائز ہیں۔  (ترمذی)
۵۰۔ جن کو اﷲ نے مال کے بغیر صحیح علم دیا ہے اور وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں کہ ہمیں مال مل جائے تو ہم بھی فلاں نیک بندے کی طرح اس کو کام میں لائیں۔  پس ان دونوں کا اجر برابر ہے۔ (ترمذی)
۵۱۔ جو اﷲ کے عطا کردہ مال کو نادانی کے ساتھ اور خدا سے بے خوف ہو کر اندھا دھُند غلط راہوں میں  خرچ کرتے ہیں ،  یہ لوگ سب سے بُرے مقام پر ہیں۔ (ترمذی)
۵۲۔ کسی نعمت یا خوش حالی کی وجہ سے کسی بدکار پر کبھی رشک نہ کرنا۔ (شرح السنۃ)
۵۳۔ دین کے معاملے میں اُن بندوں پر نظر رکھو جو دین میں تم سے فائق اور بالاتر ہوں۔ (ترمذی)
۵۴۔ دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر اور خستہ حال بندوں پر نظر رکھو اور اﷲ کا شکر ادا کرو۔ (ترمذی)
۵۵۔ہر برائی کے بعد نیکی کرو تو وہ اس کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ (ترمذی )
 ۵۶۔ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالو جس کی کل تم کو معذرت اور جواب دہی کرنی پڑے۔ (مسند احمد)
 ۵۷۔خلوت و جلوت میں خوفِ خدا، خوشی و غصہ میں حق بات کہو، خوشحالی و تنگدستی میں میانہ روی اختیار کرو۔ (بیہقی)
۵۸۔ خواہش نفس کی پیروی، بخل کی اطاعت اور خود پسندی کی عادت ہلاک کرنے والی چیزیں ہیں۔  (بیہقی)
 ۵۹۔دنیا کے ہاتھ نہ آنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی گھاٹا نہیں۔  اگر امانت کی حفاظت، باتوں میں سچائی، حسن اخلاق اور کھانے میں احتیاط اور پرہیز گاری ہو۔ (مسند احمد، بیہقی)
۶۰۔جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے، فراغت کو
 ۶۱۔مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے غنیمت جانو۔ (جامع ترمذی)
۶۲۔روز قیامت کے پانچ سوال : زندگی کن کاموں میں گذاری، جوانی کی توانائی کن مشاغل میں خرچ کی، مال کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن کاموں میں صرف کیا اور جو کچھ معلوم تھا اُس پر کتنا عمل کیا؟ (جامع ترمذی)
 ۶۳۔اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بہت بڑے عبادت گذار ہو گے۔( ترمذی)
۶۴۔جو تمہاری قسمت میں لکھا ہے اُس پر راضی اور مطمئن ہو جاؤ تو تم بڑے دولت مند ہو جاؤ گے۔( ترمذی)
۶۵۔اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو تم کامل مومن ہو جاؤ گے۔( ترمذی)
۶۶۔جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسرے لوگوں کے لیے پسند کرو تو پورے مسلمان ہو جاؤ گے۔( ترمذی)
 ۶۷۔زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔  ( ترمذی)
۶۸۔مساکین اور غرباء سے محبت رکھنے اور اُن سے قریب رہنے کا حکم ہے۔(مسند احمد)
۶۹۔ دنیا میں اپنے سے نچلے درجہ کے لوگوں پر نظر رکھو، اُن پر نظر نہ کرو جو اوپر کے درجہ میں ہیں (مسند احمد)
۷۰۔ اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرو، قرابتی رشتوں کو جوڑو خواہ وہ تمہارے ساتھ ایسا نہ کریں۔ (مسند احمد)
۷۱۔کسی آدمی سے کوئی چیز نہ مانگو۔(مسند احمد)
 ۷۲۔ہر موقع پر حق بات کہو خواہ وہ لوگوں کے لیے کڑوی ہی کیوں نہ ہو۔ (مسند احمد)
۷۳۔ اﷲ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو۔(مسند احمد)
۷۴۔ کلمۂلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ کثرت سے پڑھا کرو۔(مسند احمد)
۷۵۔روزِ حشر میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزنی چیز مومن کے اچھے اخلاق ہوں گے (ابو داؤد، ترمذی)
۷۶۔صاحبِ ایمان بندہ اپنے اچھے اخلاق سے رات بھر نفلی نمازیں پڑھنے والے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے لوگوں کا سا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔  (ابوداؤد)
۷۷۔تم زمین پر رہنے والی مخلوق پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (سنن ابی داؤد،ترمذی)
۷۸۔اللہ کے سوا کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دے۔ (سنن ابو داؤد)
۷۹۔کنجوس شخص اﷲ،انسان اور جنت سے دور جب کہ دوزخ سے قریب ہے۔ (جامع ترمذی)
۸۰۔بلاشبہ ایک سخی آدمی اﷲ تعالیٰ کو عبادت گذار کنجوس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی)
  ۸۱۔اپنے خادم کا قصور دن میں ستر دفعہ بھی معاف کرنا پڑے تو معاف کرو۔  ( ترمذی)
۸۲۔ حسن سلوک کی کسی قسم کو بھی حقیر نہ جانو۔ اِس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ ملو اور یہ بھی کہ تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دو۔ (جامع ترمذی)
۸۳۔دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو، کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو۔ ( مسلم)
۸۴۔اور جاسوسوں کی طرح کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو۔( مسلم)
 ۸۵۔نہ بغض و کینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو۔ ( مسلم)
۸۶۔ مسلمان کو ستانے اور اُنہیں شرمندہ کرنے سے باز رہو۔(جامع ترمذی)
۸۷۔ کینہ و دشمنی ختم کر کے دلوں کے صاف ہونے تک مومن کی معافی کا فیصلہ روک لیا جاتا ہے ( مسلم)
۸۸۔ اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو ہو سکتا ہے کہ اﷲ اُس کو اِس 
مصیبت سے نجات دیدے اور تمہیں اس میں مبتلا کر دے۔ ( ترمذی)
۸۹۔جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہئے کہ بیٹھ جائے،  پس اگر بیٹھنے سے غصہ فرو ہو جائے تو فبہا اور اگر پھر بھی غصہ باقی رہے تو چاہئے کہ لیٹ جائے۔  (مسند احمد، جامع ترمذی)
۹۰۔ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کر لے۔ ( ابو داؤد)
۹۱۔ طاقت رکھنے کے باوجود اپنے غصہ کو پی جانے والے کو اﷲ روزِ قیامت سب کے سامنے اسے یہ اختیار دیں گے کہ حورانِ جنت میں سے جسے چاہے اپنے لئے منتخب کر لے۔  (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
۹۲۔جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے۔( ترمذی)
۹۳۔جو چُپ رہا وہ نجات پاگ یا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، مسند دارمی،بیہقی)
 نجات حاصل کرنے کا گُر :زبان پر قابو رکھنا اور اپنے گناہوں پر اﷲ کے حضور میں رونا۔ (جامع ترمذی)
۹۴۔ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے۔ (بیہقی)
۹۵۔چھ باتوں پر جنت کی گارنٹی: ہمیشہ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی، حرام کاری سے شرمگاہوں کی حفاظت، منع کردہ چیزوں کی طرف نظر نہ کرنا۔ ہاتھ روک لینا جہاں حکم ہو۔(مسند احمد، بیہقی )
۹۶۔اس کے لیے دوزخ واجب کر دی گئی جس نے قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق ناجائز طور پر مار لیا۔ (مسلم)
۹۷۔ بوڑھا زانی،  جھوٹا فرما نروا اور نادار متکبر کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ (صحیح مسلم)
۹۸حیا ایمان کی ایک شاخ ہے اور ایمان کا مقام جنت ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
۹۹۔بے حیائی و بے شرمی بدکاری میں سے ہے جو دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی)
۱۰۰۔ خوشی ملنے پر رب کا شکر ادا کرو اور رنج پہنچنے پر صبر کرو تو یہ سراسر خیر اور موجبِ برکت ہے۔ (مسلم)
۱۰۱۔اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے آغازِ صدمہ میں ہی صبرا کرنے کا اجر جنت ہے۔(ابن ماجہ)
۱۰۲۔اللہ پر توکل کرو اور شگونِ  بد و منتروں سے گریز کرو۔ ( صحیح مسلم)
۱۰۳۔ کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کر لے۔ بیہقی)
۱۰۴۔ تلاشِ رزق کے سلسلہ میں نیکی اور پرہیزگاری کا رویہّ اختیار کرو۔ (شرح السنۃ، بیہقی)
۱۰۵۔اﷲ تعالیٰ تمہارے مال کو نہیں بلکہ اعمال کو دیکھتا ہے۔  (صحیح مسلم)
۱۰۶۔ دکھاوے کی نماز، دکھاوے کا روزہ رکھا اور دکھاوے کا صدقہ بھی شرک ہے۔ (مسند احمد)
۱۰۷۔ شرکِ خفی دجّال سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔جیسے لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز کو لمبا کرنا۔( ابن ماجہ)
۱۰۸۔ بہادری کے چرچے کی خاطر مرنے والا جھوٹا شہید ہے۔اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(مسلم)
۱۰۹۔نام و شہرت کے لئے علم دین حاصل کرنے والا عالم، قاری اور عابد بھی جہنمی ہے۔ (مسلم)
 ۱۱۰۔ سخی مشہور ہو نے کے لئے فیاضی کرنے والا جھوٹا سخی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
٭٭


ضمیمہ۔۲ 
کتب:۱۔ الطہارت ۲۔الصلوٰۃ، ۳۔الزکوٰۃ ۴۔الصوم، ۵۔الحج

 ۱۔طہارت و پاکیزگی جزو ایمان ہے۔ (صحیح مسلم)
۲۔ کلمہ الحمد ﷲ میزان عمل کو بھر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم)
۳۔سبحان اﷲ والحمد ﷲ آسمان کو اور زمین کو بھر دیتے ہیں۔  (صحیح مسلم)
۴۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل و برہان ہے اور صبر اُجالا ہے۔ (صحیح مسلم)
۵۔رفع حاجت کے لیے قبلہ کی طرف منہ یا پُشت کر کے نہ بیٹھو۔( ابن ماجہ و دارمی)
۶۔ استنجے کے لئے تین پتھروں کو استعمال کرو۔( ابن ماجہ و دارمی)
۷۔استنجے میں لید یا ہڈی استعمال نہ کرو نہ ہی داہنے ہاتھ سے استنجا کرو۔ ( ابن ماجہ و دارمی)
۸۔تم میں سے کوئی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد و سنن نسائی)
۹۔بیت الخلاء جانے کی دُعا: میں اﷲ کی پناہ لیتا ہوں نر و مادہ خبیث مخلوقات سے۔ ( ابی داؤد و ابن ماجہ)
۱۰۔ بیت الخلاء سے باہر آ کر پڑھو ’’اَلْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ‘‘۔ (سنن نسائی)
۱۱۔ وضو سے فارغ ہونے والا گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
۱۲۔ جو کوئی مکمل وضو کرے، پھر کہے ’’اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ الاﷲُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْ لُہ‘‘ تو لازمی طور پر
 اُس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے۔(صحیح مسلم)
 ۱۳۔تکلیف اور ناگواری کے باوجود پوری طرح کامل وضو کرنا،مسجدوں کی طرف قدم زیادہ پڑنا اور ایک نماز کے 
بعد دوسری نماز کا منتظر رہنا، گناہوں کو مٹانے والے اعمال ہیں۔ (صحیح مسلم)
 ۱۴۔ سب سے بہتر عمل نماز ہے۔ وضو کی پوری نگہداشت بس مومن ہی کر سکتا ہے۔ (مؤطا امام مالک)
۱۵۔ جبرئیلؑ  نے ہر ملاقات میں نبیﷺ کو مسواک کے لئے ضرور کہا۔(مسند احمد، سنن ابی داؤد)
۱۶۔نبیﷺ جب بھی سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے۔  (مسند احمد، سنن ابی داؤد)
۱۷۔حیاء،  خوشبو،،مسواک اور نکاح  پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں۔  (جامع ترمذی)
۱۸۔مونچھوں کو ترشوانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا،
 بغل اور زیر ناف بالوں کی صفائی اور پانی سے استنجا کرنا امور فطرت میں سے ہیں۔  (مسلم)
۱۹۔وہ نماز جس کے لیے مسواک کی جائے، بلا مسواک نماز کے مقابلہ میں ستر گنی فضیلت رکھتی ہے۔ (بیہقی)
۲۰۔ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور یعنی وضو ہے۔ (مسند احمد)
۲۱۔جب تم وضو کرو تو ’’بسم اﷲ و الحمدﷲ‘‘ کہہ لیا کرو۔ (معجم سغیر  طبرانی)
۲۲۔جب لباس پہنو یا وضو کرو تو اپنے داہنے اعضاء سے ابتداء کرو۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)
۲۳۔ اﷲ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا۔ (سنن ابن ماجہ)
۲۴۔ جس نے  جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی تو اس کے بارے میں وہ ذمہ داری ختم ہو گئی جو اﷲ کی طرف سے صاحب ایمان بندوں کے لئے ہے۔(سنن ابن ماجہ)
۲۵۔ خبردار شراب کبھی نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
۲۶۔ تین کام ایسے ہیں جن میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ نماز جب اس کا وقت آ جائے۔ جنازہ جب تیار ہو کر آ جائے اور بے شوہر والی کا نکاح جب اس کے لیے مناسب جوڑ مل جائے۔ (جامع ترمذی)
۲۷۔اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر دیا کرو اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو۔(جامع ترمذی)
۲۸۔ اذان دیتے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کرو۔(سنن ابن ماجہ)
۲۹۔قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
۳۰۔اﷲ اور اپنے آقا کا حق ادا کرنے والا نیک غلام،کسی جماعت کا وہ امام جس سے لوگ خوش رہے اور پانچوں وقت اذان دینے والا قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی)
۳۱۔جس نے سات سال تک اﷲ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے آتش دوزخ سے برأت لکھ دی جاتی ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
۳۲۔مسلمان یہود و نصاریٰ کی طرح مسجدوں کی آرائش و زیبائش کرنے لگیں گے۔ (سنن ابی داؤد)
۳۳۔ گھر کے اندرونی حصے میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، اُس نماز سے بہتر ہے جو بیرونی دالان یا صحن میں 
پڑھی جائے۔ گھر میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، مسجد میں پڑھی جانے والی نماز سے بہتر ہے۔ ( مسند احمد)
 ۳۴۔ اگر نبیﷺ عورتوں کی موجودہ حالت دیکھ لیتے تو انہیں مسجدوں میں جانے سے روک دیا جاتا جیسے 
سابق انبیاؑ نے بنی اسرائیل کی عورتوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے روک دیا تھا، حضرت عائشہؓ ۔  ( مسلم)
۳۵۔بستی میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز با جماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقیناً قابو پا لے گا۔ (مسند احمد)
 ۳۶۔ جس کی چالیس دن تک ہر با جماعت نماز کی تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو تو اس کیلئے دو براتیں لکھ دی جاتی ہیں (ترمذی)
۳۷۔کھانا سامنے ہو تو نماز کا حکم نہیں ہے اور نہ ایسی حالت میں کہ پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو۔ (مسلم)
۳۸۔حضرت انسؓ اور اُن کے بھائی نے رسول اﷲﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں اس طرح نماز پڑھی کہ اُن کی والدہ اُم سلیم اُن دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔  (صحیح مسلم)
۳۹۔ جب تم نماز کو آؤ اور امام سجدے میں ہو تو تم سجدے میں شریک ہو جاؤ اور اس کو کچھ شمار نہ کرو۔ 
جس نے امام کے ساتھ رکوع پا لیا اُس نے نماز کی وہ رکعت پالی۔ (سنن ابی داؤد)
۴۰۔ نبیؐ دونوں سجدوں کے درمیان  رَبِّ اغْفِرْلِی(اے اﷲ!میری مغفرت فرما) کہا کرتے تھے(نسائی)
۴۱۔ آخری تشہد پڑھ کر جہنم و قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور دجال کے شر سے پناہ مانگو ( مسلم)
 ۴۲۔جو فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کیلئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا۔ ۴ رکعات ظہر سے پہلے، ۲ رکعات ظہر کے بعد، ۲ رکعات مغرب کے بعد، ۲رکعات عشاء کے بعد اور ۲رکعات فجر سے پہلے۔ ( ترمذی)
۴۳۔نماز و تر حق ہے۔ جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد)
۴۴۔ تم تہجد ضرور پڑھا کرو۔ (جامع ترمذی)
۴۵۔کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو وضو کر کے نماز پڑھو اور معافی مانگو۔  اﷲ معاف فرما دیتا ہے۔( ترمذی)
۴۶۔ تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو۔ (بیہقی)
۴۷۔ جمعہ کی با جماعت نماز غلام، عورت، کمسن اور بیمار کے علاوہ ہر مسلمان پر لازم ہے۔ (ابو داؤد) 
۴۸۔عیدالفطر کی نماز کیلئے کچھ کھا کے جانا اور  عید الاضحی کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہ کھانا۔  (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
 ۴۹۔عید الاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اﷲ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں۔ (جامع ترمذی)
۵۰۔ قربانی کرنے والا یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے۔ (صحیح مسلم)
۵۱۔ موت مومن کا تحفہ ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
 ۵۲۔مرنے والوں کو کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کی تلقین کیا کرو۔ (صحیح مسلم) 
۵۳۔تم اپنے مرنے والوں پر سورۃ یٰسین پڑھا کرو۔ (مسند احمد، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ)
 ۵۴۔جب کسی کا بچہ انتقال کر جاتا ہے ا ور وہ  بندہ اللہ کی حمد بیان کر کے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اﷲ اس کے لئے جنت میں بیت الحمد نامی ایک عالیشان گھر تیار کرواتا ہے۔  (مسند احمد، ترمذی)
۵۵۔ جس مسلمان کی نماز جنازہ چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے پاک ہو اور وہ نماز میں  اس میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو اﷲ ان کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔ (مسلم) 
 ۵۶۔ کسی مسلم میت کی نماز جنازہ میں تین صفیں ہوں تو اﷲ اس کی مغفرت اور جنت واجب کر دیتا ہے۔ (ابی داؤد)
 ۵۷۔ قبروں کو پختہ کر نے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر بیٹھنے کی ممانعت ہے۔ ( مسلم)
۵۸۔ نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔ ( مسلم)
۵۹۔ گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔  (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
۶۰۔ دو سو درہم پورے ہو جائیں تو چاندی کی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم زکوٰۃ ادا کرو۔  (ترمذی، ابی داؤد)
۶۱۔ہر اس چیز میں زکوٰۃ نکالیں جو تجارت کے لیے مہیا ہو۔ (سنن ابی داؤد)
۶۲۔ زکوٰۃ اس وقت تک واجب نہ ہو گی جب تک مال پر سال نہ گزر جائے۔ ( ترمذی)
۶۳۔ غنی آدمی کو اور توانا و تندرست آدمی کو سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ (ترمذی)
۶۴۔ اُسے سوال کرنا جائز ہے جو افلاس زدہ ہو یا قرض و تاوان وغیرہ کا کوئی بوجھ پڑگیا ہو۔(ترمذی)
۶۵۔ ممکنہ حد تک سوال نہ کرو۔ اگر مجبور ہی ہو جاؤ تو اﷲ کے نیک بندوں سے سوال کرو ( ابی داؤد،  نسائی)
۶۶۔جو اﷲ کے بندوں سے اپنی کوئی حاجت نہ مانگنے کا عہد کرے تو اس کے لئے جنت کی ضمانت ہے۔( ابی داؤد)
۶۷۔ ضرورت سے فاضل دولت کو راہِ خدا میں صرف کرنا بہتر اور روکنا برا ہے۔البتہ گزارے کے بقدر رکھنے
 پر کوئی ملامت نہیں اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہے۔ (صحیح مسلم)
۶۸۔ صدقہ اﷲ کی غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے۔ (جامع ترمذی)
۶۹۔ قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہو گا۔ (مسند احمد)
۷۰۔ صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی اور قصور معاف کر دینے سے آدمی نیچا نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم)
۷۱۔ ضرورت مند مسلمان بھائی کو کپڑا پہنانے والے کو اﷲ جنت کا سبز لباس پہنائے گا( ابی داؤد،  ترمذی)
 ۷۲۔بھوکے مسلمان بھائی کو کھانا کھلا نے والے کو اﷲ جنت کے پھل و میوے کھلائے گا۔( ابی داؤد،  ترمذی)
۷۳۔پیاسے مسلمان کو پانی پلانے والے کو اﷲ جنت کی سر بمہر شراب طہور پلائے گا۔ ( ابی داؤد،  ترمذی)
 ۷۴۔پہلے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پر خرچ کرو،پھر ملازمین پر پھر مستحق اہل قرابت پر۔ (ابی داؤد، نسائی)
۷۵۔ قریبی عزیز کو کچھ دینے میں دو طرح کا ثواب ہے۔ ایک صدقہ ہے اور دوسرے صلہ رحمی۔( ترمذی)
۷۶۔ معتکف نہ تو مریض کی عیادت کو جائے اور نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے باہر نکلے۔ ( ابی داؤد)
۷۷۔معتکف عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار۔(سنن ابی داؤد)
 ۷۸۔ رفع حاجت وغیرہ کے علاوہ معتکف اپنی دیگر ضرورتوں کے لئے بھی مسجد سے باہر نہ جائے۔( ابی داؤد)
۷۹۔ اعتکاف روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں ہوتا۔ (سنن ابی داؤد)
۸۰۔ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھو۔ ۲۹ شعبان کو چاند دکھائی نہ دے تو ۳۰ دن کا شمار پورا کرو۔(ابی داؤد)
 ۸۱۔اﷲ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے۔ ( ترمذی)
 ۸۲۔ کھجور سے افطار کرو،  کھجور نہ ملے تو پھر پانی ہی سے افطار کرو۔(مسند احمد، ابی داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)  
۸۳۔روزہ دار کو افطار کرانے اور مجاہد کو جہادی سامان دینے سے روزہ دار اور مجاہد کے مثل ہی ثواب ملے گا۔ (بیہقی )
۸۴۔حیض کے دنوں کے قضا شدہ روزے رکھنے کا حکم ہے لیکن قضا نماز پڑھنے کا حکم نہیں۔  (صحیح مسلم)
۸۵۔روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لیا اپنا روزہ پورا کرو کیونکہ اﷲ نے کھلایا پلایا ہے۔  ( صحیح مسلم)
۸۶۔ پچھنے لگوانے، قے ہو جانے اور احتلام  سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ( ترمذی)
۸۷۔روزہ کی حالت میں سرمہ لگا یا جا سکتا ہے۔(جامع ترمذی)
۸۸۔روزے کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کی وجہ سے نہانا جائز ہے (مؤطا امام مالک،  ابی داؤد)
۸۹۔روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روزہ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ (سنن ابی داؤد)
۹۰۔ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
۹۱۔ رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے بھی رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے ( مسلم)
۹۲۔عاشورہ کا روزہ،یکم تا نو ذی الحجہ کے روزے، ہر مہینے کے تین روزے نبیﷺ کا معمول تھا۔(نسائی)
۹۳۔ ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں کو روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (ابی داؤد)  
۹۴ شعبان کی پندرھویں رات میں اﷲ کے حضور میں نوافل پڑھو اور اس دن کو روزہ رکھو۔ ( ابن ماجہ)
۹۵۔جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان اور بیت اللہ تک پہنچنے کی سواری میسر ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔(جامع ترمذی)
۹۶۔ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں  جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔  (جامع ترمذی، سنن نسائی)
۹۷۔حاجی کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام و مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لئے کہو۔ 
کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ (مسند احمد)
۹۸۔حالت احرام میں قمیض، پاجامہ، عمامہ اور موزے نہ پہنو۔ حرام میں خوشبو بھی نہ لگا ہو۔ (صحیح مسلم)
۹۹۔عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانے،  نقاب اور خوشبو کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ جو وہ چاہیں پہن سکتی ہیں۔  وہ زیور، شلوار، قمیض اور موزے بھی پہن سکتی ہیں۔  (سنن ابی داؤد)
۱۰۰۔بیت اﷲ کا طواف نماز جیسی عبادت ہے البتہ طواف میں باتیں کرنے کی اجازت ہے۔ جو کوئی طواف کی حالت میں کسی سے بات کرے تو نیکی اور بھلائی کی بات کرے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)
۱۰۱۔ حجر اسود اور رکن یمانی ان دونوں پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کے کفار ہ کا ذریعہ ہے۔(ترمذی)
۱۰۲حالتِ طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْا خِٰرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (سنن ابی داؤد)
۱۰۳۔حج وقوف عرفہ ہے۔ جو حاجی مزدلفہ والی رات یعنی ۹اور۱۰ ذی الحجہ کی درمیانی شب میں بھی صبح صادق سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج پا لیا اور اس کا حج ہو گیا۔
۱۰۴۔منیٰ میں قیام کے تین دنوں ( ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی کی جاتی ہے) میں اگر کوئی صرف دو دن یعنی۱۱، ۱۲ ذی الحجہ کو رمی کر کے منیٰ سے چل دے تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ ( ترمذی، ابی داؤد، نسائی) 
۱۰۵۔اﷲ تعالیٰ عرفہ کے دن سب سے زیادہ بندوں کے لئے جہنم سے آزادی کا فیصلہ کرتا ہو۔ (مسلم)
۱۰۶۔ اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن۱۰؍ ذی الحجہ (عید الاضحیٰ) کا دن ہے۔ (مسند احمد)
۱۰۷۔ طواف زیارت کو دسویں ذی الحجہ کی رات تک موخر کرنے کی اجازت ہے۔ (مسند احمد)
۱۰۸۔ حج یا عمرہ کرنے والے کی آخری حاضری بیت اﷲ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد)
۱۰۹۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (صحیح مسلم)
۱۱۰۔ مدینہ کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کرو نہ ہتھیار اٹھاؤ۔ چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑو۔ ( مسلم)
۱۱۱۔جو اس کی کوشش کر سکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ میں مرے۔ میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے۔  (مسند احمد، جامع ترمذی)
۱۱۲۔روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اپنی قبر کا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔(موطا امام مالک)
 ۱۱۳۔مسجد نبویؐ میں مسلسل ۴۰ نمازیں پڑھنے پر دوزخ سے نجات اور نفاق سے برأت لکھ دی جائے گی(مسند احمد)
۱۱۴۔ جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (بیہقی )۔ 
۱۱۵۔ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔(دار قطنی،  بیہقی)
٭٭٭


ضمیمہ۔۳
۱۔ کتاب الاذکار والدعوات، ۲۔ کتاب المعاملات و المعاشرت

 ۱۔جب بندگانِ خدا، اﷲ کا ذکر کرتے ہیں تو رحمت الہٰی ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے۔ (صحیح مسلم)
۲۔جب لوگ زمین پر اللہ کی حمدو ثناء کرتے ہیں تو اﷲ فخر کے ساتھ فرشتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے۔ ( مسلم)
 ۳۔اﷲ کا ذکر راہِ خدا میں سونا چاندی خرچ کرنے اور جہاد سے بھی زیادہ افضل ہے (مسند احمد،ترمذی، ابن ماجہ)
۴۔ اﷲ کا ذکر اتنا اور اس طرح کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔ (رواہ احمد وابو یعلی)
۵۔’’سُبْحَانَ اﷲِ‘‘ اور ’’اَلْحَمْدُﷲِِ ‘‘اور ’’لاَ اِلہ اِلَّا اﷲُ‘‘ اور ’’اَﷲُ اَکْبَرُ‘‘ افضل ترین کلمے ہیں ( مسلم)
۶۔ روزانہ سو دفعہ  سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہ کہنے والے کے قصور معاف کر دیئے جائیں گے خواہ کثرت 
میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ (مسلم)
۷۔سب سے افضل ذکر’’لَا اِلہ اِلَّا اﷲُ‘‘ ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن داؤد)
۸۔ کلمہ  لَا ھَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَا بِاﷲ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔( مسلم) جس نے اﷲ کے نناوے نام کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا۔(جامع ترمذی)
۹۔جب اﷲ سے اُس کے اِسم اعظم کے وسیلہ سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔ (جامع ترمذی ابی داؤد)
۱۰۔اِسم اعظم آیت ’’والٰھُکُمْ اِلٰہ واحِد لاَ اِلٰہَ الّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرّحِیْم‘‘ اور ’’اٰل عمران کی ابتدائی آیت ’’الٓمّٓ اَﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم‘‘ میں موجود ہے۔( ترمذی،  ابو داؤد، ابن ماجہ،  دارمی)
۱۱۔ قرآن کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی اور مزہ لے لے کر پڑھا کرو۔(شعب الایمان للبیہقی)
۱۲۔ قرآن کے ایک حرف پڑھنے پر ایک نیکی  ملتی ہے۔ ’’الٓم‘‘ ایک نہیں بلکہ تین حروف ہیں۔  (ترمذی، دارمی)
۱۳۔انسان کے دل پربھی زنگ چڑھ جاتا ہے جسے موت کی یاد اور تلاوتِ قرآن سے دور کیا جا سکتا ہے۔ (بیہقی)
۱۴۔جو جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اس کے لئے نور روشن ہو جائے گا دو جمعوں کے درمیان۔ (بیہقی)
۱۵۔جس نے اﷲ کی رضا کے لئے سورۂ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ (بیہقی)
۱۶۔جو ہر رات سورۂ واقعہ پڑھے اسے کبھی فقر و فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی۔ (بیہقی)
۱۷۔ سورۃ ’’الھاکم التکاثر‘‘ پڑھنے کا ثواب ایک ہزار آیتیں پڑھنے کے برابر ہے۔(بیہقی)
۱۸۔ثواب میں سورۃ ’’اذازلزلت‘‘ نصف قرآ ن،  ’’قل ھو اﷲ احد‘‘ تہائی قرآن  اور ’’قل یٰٓا یھا الکٰفرون‘‘ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ (جامع ترمذی)
۱۹۔اﷲ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔  (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
۲۰۔جو اﷲ سے نہ مانگے اس سے اﷲ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ (جامع ترمذی)
۲۱۔عافیت اور خوش حالی کے زمانہ میں زیادہ دعا کیا کرو۔ (جامع ترمذی)
۲۲۔اپنی اولاد اور مال و جائیداد کے حق میں کبھی بد دعا نہ کرو۔ مبادا وہ وقت دعا کی قبولیت کا ہو۔ (مسلم)
۲۳۔ ہاتھ اُٹھا کے دُعا مانگنے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیر لینا مسنون ہے۔ (سنن ابی داؤد ) 
۲۴۔نمازِ مغرب کے بعد کوئی بات چیت کئے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو۔’’اللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار‘‘ 
۲۵۔ نماز فجر کے بعد پڑھو کوئی بات چیت کئے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو’’اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ‘‘۔
۲۶۔ اگر اُس رات یا دن تمہاری موت مقدر میں ہوئی تو اس وظیفہ(اے اﷲ! مجھے دوزخ سے پناہ دے)  
کی بدولت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تم کو دوزخ سے بچانے کا حکم ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد)
۲۷۔صبح و شام  قل ھو اﷲ احد،  قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس تین بار پڑھ لیا کروتو یہ ہر چیز کے واسطے تمہارے لئے کافی ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد)
۲۸۔جب کوئی گھر سے نکلتے وقت پڑھے:’’بِسْمِ اﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اﷲِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲ۔‘‘  
تو عالمِ غیب میں کہا جاتا ہے :’’تیرا یہ عرض کرنا تیرے لئے کافی ہے۔ تیری حفاظت کا فیصلہ ہو گیا۔‘‘ اور شیطان مایوس و نامراد ہو کر اس سے دور ہو جاتا ہے۔ (جامع ترمذی،  سنن ابی داؤد)
۲۹۔’جب کوئی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لائے تو یہ دعا کرے:’’اَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ تاوَشَرِّمَا جَبَلْتَھَا عَلَیْہِ‘‘ اے اﷲ! اس میں اور اس کی فطرت میں جو خیر اور بھلائی ہو، میں تجھ سے اس کی استدعا کرتا ہوں اور اس میں  اور اس کی فطرت میں جو شر اور برائی ہو اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔  (ابو داؤد، ابن ماجہ)
۳۰۔ رسول اﷲﷺ کو فکر اور پریشانی لاحق ہوتی تو یہ دعا پڑھتے۔’’یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَ حْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ۔‘‘ اے حی و قیوم! بس تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں۔ (جامع ترمذی)
۳۱۔خطا کاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو خطا کے بعد مخلصانہ تو بہ کریں اور اﷲ کی طرف رجوع ہو جائیں۔  ( ترمذی)
۳۲۔جو مسلمان عام اہلِ ایمان کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مغفرت مانگے گا، اس کے لئے ہر مومن مرد و عورت 
کے حساب سے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔  (معجم کبیر للطبرانی)
۳۳۔جو نبیﷺ پر ایک صلوٰۃ بھیجے اﷲ تعالیٰ اس پر دس صلوٰاتیں بھیجتا ہے، اس کی دس خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں۔  (سنن نسائی)
۳۴۔ مجھ پر زیادہ صلوٰۃ بھیجنے والا قیامت کے دن مجھ سے قریب ترین اور مجھ پر زیادہ حق رکھنے والا ہو گا۔ ( ترمذی)
۳۵۔جب تک کہ نبیﷺ پر درود نہ بھیجا جائے،  دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی ہے۔  (ترمذی)
۳۶۔ جو میری قبر پر مجھ پر درود بھیجتا ہے، وہ میں خود سنتا ہوں۔  جو دُور سے بھیجتا ہے وہ مجھ پر پہنچا یا جاتا ہے (بیہقی)
۳۷۔عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرو۔ ( ابی داؤد، نسائی)
۳۸۔ نبیؐ نے حسنؓ کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی اور بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔(ترمذی)
۳۹۔اﷲ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبد اﷲ اور عبدالرحمن ہیں۔ ( مسلم)
۴۰۔ بچے سات سال کے ہو جائیں تو نماز کی تاکید کرو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کو سزا دو اور ان کے بستر بھی الگ کر دو۔ (سنن ابی داؤد)
۴۱۔ جو اپنے ہاں پیدا ہونے والی لڑ کی کی توہین اور ناقدری نہ کرے اور برتاؤ میں لڑکوں کو اس پر ترجیح نہ دے تو اﷲ تعالیٰ لڑکی کے ساتھ اس حسنِ سلوک کے صِلے میں اس کو جنت عطا فرمائے گا۔ (مسند احمد)
۴۲۔جس بندے نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو ہی بیٹیوں یا بہنوں کا بار اٹھایا اور ان کی اچھی تربیت کی اور ان کا نکاح بھی کر دیا تو اﷲ کی طرف سے اُس بندے کے لیے جنت کا فیصلہ ہے۔ ( ابو داؤد، ترمذی)
۴۳۔ جسے ا ﷲ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت کرے(بیہقی)
۴۴۔ اگر شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی اولاد کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں  مبتلا ہو گیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔ (بیہقی)
۴۵۔ ماں کی خدمت کرتے رہو کہ ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔ (مسند احمد، سنن نسائی)
۴۶۔ ماں باپ کی خدمت و فرمانبرداری کروتو تمہاری اولاد تمہاری فرمانبردار اور خدمت گزار ہو گی۔ (طبرانی) 
۴۷۔تم پاک دامنی کے ساتھ رہو تو تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی۔ (معجم اوسط للطبرانی)
۴۸۔عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے۔ (مستدرک حاکم)
۴۹۔ اگر میں کسی مخلوق کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (ترمذی)
۵۰۔ جس عورت کا اس حال میں انتقال ہو کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔( ترمذی)
۵۱۔لوگو! اپنی بیویوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ جس کا گھر میں آنا تمہیں ناپسند ہو وہ اس کو گھر آنے کا موقع نہ دیں۔  اگر وہ ایسی غلطی کریں تو ان کو تم سزا دے سکتے ہو جو زیادہ سخت نہ ہو۔ تمہارے ذمہ مناسب طریقے پر ان کے کھانے کپڑے کی ضروریات کا بندوبست کرنا ہے۔ (مسلم)
۵۲۔وہ جنت میں داخل نہ ہو سکے گا جس کی ایذاء رسانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں۔  (مسلم)
 ۵۳۔بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور بد ترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ)
۵۴۔ اپنی باندیوں کو برتن توڑنے پر سزا نہ دو کیونکہ برتنوں کی بھی عمریں مقرر ہیں۔  (مسند الفردوس للدیلمی)
۵۵۔ اپنے غلاموں میں زِیر دستوں کے بارے میں خدا سے ڈرو۔ (ابو داؤد)
 ۵۶۔ مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے، اس کے پیچھے اس کی پاسبانی کرتا ہے ( ترمذی)
۵۷۔ کسی کے گھر جاؤ تو گھر والوں کو سلام کرو اور جب گھر سے نکلو تو وداعی سلام کر کے نکلو۔ (بیہقی)
۵۸۔ سلام کی تکمیل مصافحہ ہے۔ ( ترمذی) تم باہم مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ کی صفائی ہوتی ہے۔  
ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے تم میں باہم محبت پیدا ہو گی اور دشمنی دور ہو گی۔ (موطا امام مالک)
۵۹۔ عجمی لوگوں کی طرح ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد)
۶۰۔ ایسی چھت پر سونا منع ہے جو دیواروں سے گھری ہوئی نہ ہو۔ (جامع ترمذی)
۶۱۔ آدمی چت لیٹنے کی حالت میں اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کے دوسری ٹانگ پرنہ رکھے۔ ( مسلم)
۶۲۔پیٹ کے بل اوندھا  لیٹنے کا طریقہ اﷲ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ (جامع ترمذی)
۶۳۔جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ سائے میں ہو جائے تو ایسی جگہ سے اُٹھ جاؤ۔ (ابو داؤد)
۶۴۔ جب تم بہت زیادہ تعریف کرنے والے مداحین کو دیکھو تو ان کے مُنہ پر خاک ڈال دو۔ (مسلم)
۶۵۔ بلی کا گوشت اور اس کی قیمت کھانا منع ہے۔ ( ابی داؤد، ترمذی)
۶۶۔ نجاست کھانے والے جانوروں کا گوشت کھانا اور دودھ پینا منع ہے۔ (جامع ترمذی)
۶۷۔کسی زندہ جانور میں سے کاٹا گیا گوشت مردار ہے، اس کا کھانا جائز نہیں۔  (ترمذی، ابو داؤد)
۶۸۔ مردہ مچھلی اور مردہ ٹڈی حلال ہیں۔  خون کی دو اقسام کلیجی اور تلی بھی حلال ہیں۔  (مسند احمد، ابن ماجہ )
 ۶۹۔ہر نشہ آور چیز خمر اور حرام ہے۔ توبہ کئے بغیر مرنے والا شرابی جنت کی شرابِ طہور سے محروم رہے گا۔ (مسلم)
۷۰۔شرابی کو آخرت میں ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال‘‘ (دوزخیوں کے جسم کا پسینہ، لہو یا پیپ ) پلایا جائے گا۔ (مسلم)
۷۱۔شراب دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ (صحیح مسلم)
۷۲۔ کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اور منہ کا دھونا باعث برکت ہے۔ (جامع ترمذی،ابوداؤد)
۷۳۔کھانے سے پہلے بسم اﷲ پڑھو، اگر بھول جاؤ تو بعد میں بِسْمِ اﷲِ اَوَّلَہ وَآخِرَہ پڑھ لو۔(ابو داؤد ترمذی)
۷۴۔ جوتے اُتار کر کھانا کھایا کرو۔ اس طرح پاؤں کو زیادہ راحت ملے گی۔ (مسند دارمی)
۷۵۔کچھ ٹھنڈا کر کے کھانا زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے۔ (مسند دارمی)
۷۶۔اﷲ کو یہ بات پسند ہے کہ کسی بندے پر اس کی طرف سے جو انعام ہو تو اس کا اثر نظر آئے۔ ( ترمذی)
۷۷۔ خوب کھاؤ پیو،  صدقہ کرو یا کپڑے بنا کر پہنو بس اسراف اور تکبر نہ ہو۔ (مسند احمد نسائی، ابن ماجہ)
۷۸۔ مونچھیں ترشوانے، ناخن لینے، بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے لئے ۴۰ دن کی حد مقرر ہے۔ ( مسلم)
۷۹۔ عورت مہندی لگا کر اپنے ہاتھو ں کی صورت بدلے۔ (سنن ابی داؤد)
۸۰۔ نہ خود اپنی ران کھولو اور نہ کسی زندہ یا مردہ آدمی کی ران کی طرف نظر کرو۔ (ابی داؤد، ابن ماجہ)
۸۱۔مر د دوسرے مرد کے ستر کی طرف اور عورت دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر نہ کرے۔ ( مسلم)
۸۲۔رفع حاجت اور میاں بیوی کی صحبت کے علاوہ تنہائی میں بھی برہنگی سے پرہیز کرو۔ 
فرشتے تمہارے ساتھ برابر رہتے ہیں لہٰذا ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو۔ (ترمذی)
۸۳۔ عورت سترکی مانند ہے۔  جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیاطین اس کو اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں۔  ( ترمذی)
۸۴۔ کسی نامحرم پر پہلی بلا ارادہ نظر تو جائز ہے لیکن دوسری نظر جائز نہیں۔  (مسند احمد، ترمذی، ابی داؤد)
۸۵۔مومن مرد کی کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کر لے تو اﷲ تعالیٰ اس کو
 ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی وہ لذت و حلاوت وہ محسوس کرے گا۔ (مسند احمد)
۸۶۔ غیر عورت اچھی لگے تو آدمی کو چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اپنی نفسانی خواہش پوری کرے۔ (مسلم)
 ۸۷۔اُن خواتین کے گھروں میں نہ جایا کرو جن کے شوہر کہیں باہر گئے ہوئے ہوں۔  کیونکہ شیطان سب
 میں اس طرح جاری ساری رہتے ہیں جس طرح رَگوں میں خون رَواں دَواں رہتا ہے۔( ترمذی)
٭٭


ضمیمہ۔۴
کتب: ۱۔ نکاح،  ۲۔المعاملات،  ۳۔ُ العلم، ۴۔الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ۵۔ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، ۶۔ الفتن،   ۷۔علاماتِ قیامت، ۸۔ المناقب والفضائل

 ۱۔کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینا ہو تو اسے ایک نظر دیکھ لینا گناہ نہیں۔  (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
۲۔ شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ )عورت کو اپنے نفس پر اپنے ولی سے زیادہ حق اور اختیار ہے۔ (صحیح مسلم)
۳۔ کنواری کے نکاح سے قبل اس سے اجازت حاصل کی جائے، خاموشی بھی اجازت ہے۔ (صحیح مسلم)
۴۔قرابت داروں کی حق تلفی سے ڈرو اور ہمیشہ سیدھی بات بولو۔ ( ابی داؤد،ترمذی نسائی،ابن ماجہ)
۵۔نبیﷺؐ نے اپنی بیویوں کا مہر پانچ سو درہم(مساوی چالیس پچاس بکریاں ) مقرر فرمایا تھا۔ ( مسلم)
۶۔وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا خرچ کم سے کم ہو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
۷۔ اﷲ کے ہاں وہ بدترین درجہ میں ہو گا جو بیوی سے ہم بستری کے بعد اس کا راز فاش کرے۔ (مسلم)
۸۔ اگر چاہو تو عزل (حمل سے بچنے کے لئے مباشرت کے دوران منی فرج سے باہر خارج کرنا)کر لو لیکن جو بات مقدر ہو چکا ہے وہ ہو کے رہے گا۔ (صحیح مسلم)
۹۔جو اپنی بیویوں کے ساتھ عدل نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا۔ ( ترمذی، نسائی )
۱۰۔حلال اور جائز چیزوں میں اﷲ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ  چیز طلاق ہے۔ (سنن ابی داؤد)
۱۱۔ سخت تکلیف کے بغیر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے والی پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (مسند احمد،ترمذی )
 ۱۲۔عورتوں کو طلاق نہ دو ا لّا یہ کہ چال چلن مشتبہ ہو۔ ذائقہ چکھنے کے شوقین مردو زن نا پسندیدہ ہیں۔   (طبرانی)
۱۳۔ نکاح،طلاق اور رجعت(ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع کرنا)تین ایسی چیزیں ہیں جن کا ہنسی مذاق 
کے طور پر کہنا بھی حقیقت ہی کے حکم میں ہے۔ (جامع ترمذی،سنن ابی داؤد)
۱۴۔ زبردستی کی طلاق اور زبردستی کے ’’عتاق‘‘(غلام آزاد کرنا) کا اعتبار نہیں۔  ( ابی داؤد ابن ماجہ)
۱۵۔تین دن سے زیادہ سوگ منع ہے البتہ شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ کا حکم ہے۔ ( مسلم)
۱۶۔ دورانِ عدت بیوہ رنگین کپڑے، زیورات نہ پہنے نہ خضاب، مہندی یا سرمہ لگائے۔  ( ابی داؤد، نسائی)
۱۷۔ حلال روزی حاصل کرنے کی فکر ا ور کوشش فرض (نماز روزہ وغیرہ)کے بعد فریضہ ہے۔ (بیہقی)
۱۸۔ اﷲ کے صالح بندہ کے لئے جائز مال و دولت اچھی چیز ہے۔ (مسند احمد)
۱۹۔حرام مال سے کیا گیا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔(مسند احمد )
۲۰۔ جو مرنے کے بعد حرام مال پیچھے چھوڑ کے جائے گا۔ وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہو گا۔(مسند احمد )
۲۱۔ اﷲ بدی کو بدی سے نہیں بلکہ بدی کو نیکی سے مٹا تا ہے۔ کیونکہ گندگی کبھی گندگی کو نہیں دھو سکتی۔ (مسند احمد )
 ۲۲۔صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا اجر اٹھارہ گنا ہے۔  (معجم کبیر طبرانی)
۲۳۔ قرض کی ادائیگی کا سامان چھوڑے بغیر مقروض مرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ (مسند احمد،ابی داؤد)
۲۴۔مومن کی رو ح قرضہ ادا نہ ہونے تک بیچ میں معلق رہتی ہے۔(مسند شافعی، ترمذی، ابی داؤد)
۲۵۔ مقروض کی نیت اگر قرض ادا کرنے کی ہو تو اﷲ اس کا قرضہ دنیا ہی میں ادا کرا دے گا۔ (سنن نسائی)
۲۶۔نبیﷺ نے قرض ادا کیا تو واجبی رقم سے زیادہ عطا فرمایا۔( یہ جائز بلکہ مستحب ہے) (ابو داؤد)
۲۷۔ سات مہلک اور تباہ کن گناہ :اﷲ کی عبادت یا صفات میں کسی کو شریک کرنا، جادو کرنا، قتلِ ناحق،سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد میں لشکر کا ساتھ چھوڑ جانا، پاک دامن بندیوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ (مسلم)
۲۸۔ سود خور لوگوں کے پیٹ میں سانپ بھرے ہوں گے ہیں۔ (مسند احمد، ابن ماجہ)
۲۹۔سود خوری کے ستّر حصوں میں ادنیٰ ترین ایسا ہے کہ جیسے اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کرنا (ابن ماجہ، بیہقی)
۳۰۔نبیﷺ نے سود لینے، سود دینے، سودی دستاویز لکھنے اور اس کے گواہوں پر لعنت فر مائی۔ (مسلم)
۳۱۔ رسول اﷲﷺ نے باغ یا کھیت کو چند سالوں کے لئے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔(صحیح مسلم)
۳۲۔ جو چیز پاس موجود نہ ہو، اس کی بیع فروخت کا کسی سے معاملہ کرنا منع ہے۔ (جامع ترمذی)
۳۳۔ مہنگا کر کے بیچنے کے لیے غلہ وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والا تاجر گنہگار ہے۔ (صحیح مسلم)
۳۴۔گھر یا جائداد بیچنے میں کوئی برکت یا فائدہ نہیں الّا یہ کہ یہ دام کسی جائداد میں لگا دو۔( ابن ماجہ)
۳۵۔آپس میں ہدیے تحفے بھیجا کرو۔ ہدیے تحفے دِلوں کے کینے ختم کر دیتے ہیں۔  (ترمذی)
۳۶۔ مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے کنواں کھدوانا احسن کام ہے۔ ( ابو داؤد،سنن نسائی)
۳۷۔ جو انتقال سے قبل وصیت کر گیا تو اس کا انتقال ٹھیک راستہ پر اور شریعت پر چلتے ہوئے ہوا۔لہٰذا اس کی موت تقویٰ اور شہادت والی موت ہوئی اور اس کی مغفرت ہو گئی۔ (سنن ابنِ ماجہ)
۳۸۔ ساٹھ سال تک اﷲ کی فرمانبرداری والی زندگی گزارنے والا اگر موت کے وقت وصیت میں حق داروں کو نقصان پہنچا دے تو اُس کے لئے دوزخ واجب ہو جاتی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی،ابی داؤد، ابنِ ماجہ)
۳۹۔ اگر کوئی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اُس کی نہیں تو اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ ( مسلم)
۴۰۔ ظالم حکمراں کے سامنے کلمۂ حق کہنا افضل جہاد ہے۔( ترمذی، ابو داؤد،  ابنِ ماجہ)
۴۱۔وہ علم (کتاب و سنت کا)جس سے اﷲ کی رضا چاہی جاتی ہے، اگر اسے کوئی دنیا کی دولت کمانے کے لئے حاصل کرے تو وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔ (مسند احمد،ابی داؤد، ابن ماجہ)
۴۲۔ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہو گا جس کو اس کے علم دین نے نفع نہیں پہنچایا یعنی اس نے اپنی عملی زندگی کو علم کے تابع نہیں بنایا۔ (مسند ابو داؤد،شعب الایمان للبیہقی)
۴۳۔ اولوالامر یعنی خلیفہ یا امیر کا حکم مانو خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی ہو۔ (مسند احمد، ابی داؤ، ترمذی)
۴۴۔ تم میرے اور میرے خلفاء کے طریقے کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کر لینا اور دین میں نئی نکالی ہوئی باتوں  سے اپنے آپ کو الگ رکھنا۔(مسند احمد، ابی داؤ، ترمذی، ابن ماجہ)
۴۵۔ دین میں نکالی ہوئی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(مسند احمد، ابی داؤ، ترمذی)
۴۶۔میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں۔  ایک کتاب اﷲ اور دوسری میری سنت۔ تم جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ (مؤطا امام مالک)
۴۷۔ اﷲ کے رسولﷺ کی حرام کردہ چیزیں بھی انہیں چیزوں کی طرح حرام ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)
۴۸۔میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔یہ سب فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے جو اُس راستے پر ہو گا جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔  (جامع ترمذی)
۴۹۔ جس نے میری کوئی ایسی سنت زندہ کی جو میرے بعد ختم کر دی گئی تھی تو اس شخص کو ان پر عمل کرنے والے تمام بندگان خدا کے اجر و ثواب کے برابر اجر و ثواب ملے گا۔(جامع ترمذی)
۵۰۔جس نے نیکی کے راستہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی تو اسے ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کراس راستہ پر عمل کریں گے۔ اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہو گی (مسلم)
۵۱۔ جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا جو اس کی دعوت پر بد عملی کے مرتکب ہوں گے اور ان لوگوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ (مسلم)
۵۲۔دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی۔ ایک وہ آنکھ جو اﷲ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ آنکھ جس نے جہاد میں جاگ کر پہرہ داری کی ہو۔ (جامع ترمذی)
۵۳۔جو راہِ خدا میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ جس کا طاعون میں انتقال ہوا، وہ بھی شہید ہے اور جس کا پیٹ کے امراض ( ہیضہ، اسہال وغیرہ) میں مبتلا ہو کر انتقال ہوا،  وہ بھی شہید ہے۔ (صحیح مسلم)
۵۴۔ وہ خوش نصیب ہے جو فتنوں سے دور رکھا گیا قابل مبارک ہے وہ جو بندہ فتنوں میں مبتلا ہوا اور ثابت قدم رہا (ابو داؤد)
۵۵۔نبیﷺ اپنے ذاتی کام خود کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنی ٹوٹی جوتی مرمت کر لیتے،  خود ہی اپنا پھٹا ہوا کپڑا سی لیتے، اپنے کپڑوں میں جوئیں دیکھتے اور بکری کا دودھ بھی آپ خود ہی دوہ لیتے تھے۔( ترمذی)
٭٭٭




 سات سَو گُنامنافع بخش تجارت 


اللہ کے ساتھ تجارت کر نے کا ایک بہترین موقعہ حاصل کیجئے۔ اللہ کے کلام پر مبنی کتاب پیغامِ قرآن کی اشاعت میں حصہ لے کرایک کے بدلہ سات سو  (ستر ہزار فیصد) حاصل کیجئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:  جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ (سورۃ البقرہ۔۲۶۱) پیغامِ قرآن پبلی کیشن، پیغامِ قرآن کوعوام الناس تک پہنچانے کے لیے قرآن کے بامحاورہ مفہوم کو بلا حاشیہ و تبصرہ، موضوعاتی درجہ بندی،  امر و نہی کی نشاندہی اورذیلی عنوانات کی اضافی خوبی کے ساتھ شائع کرنے میں آپ کی مدد کرتاہے۔ قرآن کے روایتی ناشر ان حصولِ رزق و ثواب دونوں کے لیے قرآن پاک شائع کرتے ہیں جو یقیناً ایک نیک کام ہے۔لیکن ہم پیغامِ قرآن کو عام کرنے کے منصوبوں پر فی سبیل اللہ کام کرتے ہیں اورلوگوں کو اس جانب مائل کرتے ہیں کہ وہ پیغامِ قرآن کو حسبِ توفیق شائع کر کے تحفتاً یا ہدیتاً اپنے عزیز و اقارب اور احباب کو فراہم کریں۔ 

 قرآن دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ مگر یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ یہ دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جوبلا سمجھے بوجھے بار بار پڑھی جاتی ہے اور یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ اس اُم الکتاب کے جملہ فوائد اسے سمجھے بغیر ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ آپ یقیناً یہ چاہتے ہوں گے کہ آپ کے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور دوست احباب قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھیں۔  انہیں پیغامِ قرآن و حدیث کا تحفۃ عنایت کیجئے۔آپ پیغامِ قرآن و حدیث کو کسی بھی چھاپہ خانہ سے چھپوا سکتے ہیں کہ اس کتاب کے جملہ حقوق آپ ہی کے نام محفوظ ہیں۔  اگر آپ چھپائی کے لیے درکار کم از کم پانچ سو نسخے کا خرچ تنہا برداشت نہیں کر سکتے تو اپنے کسی ساتھی کو شریک کر کے ڈھائی ڈھائی سو نسخوں کے اخراجات باہم تقسیم کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ ہم سے ٹائٹل اور کمپوزنگ کی سافٹ کاپی سمیت ہر قسم کی معاونت مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ اسٹاک میں موجود ہونے کی صورت میں آپ ہم سے بھی  پچاس، سَو یا زائد کتابیں خصوصی رعایتی نرخوں پر حاصل کر کے اپنے احباب میں تقسیم کر سکتے ہیں۔  چند ایک نسخوں  کے لیے کتب فروشوں سے رابطہ کیجئے۔ جب تک آپ کا فراہم کردہ نسخہ پڑھا جاتا رہے گا، آپ کو اور آپ کے مرحومین کو ثوابِ جاریہ ملتا رہے گا۔ ان شا اللہ تعالیٰ

پیغامِ قرآن و حدیث کوکتاب اور سی ڈی کے علاوہ انٹر نیٹ پر بھی آن لائن ریڈنگ اور ڈاؤن لوڈنگ کی سہولیات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث کے پیغام کو خود بھی پڑھئے اور اسے عوام الناس تک پھیلانے کے مشن میں شامل ہوکر اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوارئیے۔  ہر قسم کی مفت معاونت کے لیے رابطہ کیجئے۔  (  مدیرِ منتظم :  محمد یو نس  )
٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اجازت کے ساتھ فائل بھی فراہم کی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
